Pages

Wednesday, 1 May 2002

Al Risala | May 2002 (الرسالہ،مئی)

4

- بھوپال کا سفر

44

- ایک خط


بھوپال کا سفر

مدھیہ پردیش الرسالہ اکیڈمی کی دعوت پر بھوپال کا سفر ہوا۔ ۳ نومبر ۲۰۰۱ کو انڈین ایرلائنز کی فلائٹ نمبر 7134 کے ذریعہ دہلی سے بھوپال پہنچا۔ اور سات نومبر کو بھوپال سے دوبارہ انڈین ایر لائنز کے ذریعہ دہلی کے لیے واپسی ہوئی۔ اس سفر کی مختصر روداد یہاں درج کی جاتی ہے۔
اس سفر کا پہلا قابلِ ذکر تجربہ وہ ہے جو دہلی ایر پورٹ پر پیش آیا۔ میںنے اپنا ٹکٹ کاؤنٹر پر دیا تو پیچھے بیٹھی ہوئی خاتون نے اس کو دیکھنے کے بعد کہا کہ اس ٹکٹ پر آپ کو مزید رقم ادا کرنا ہے، ایک طرف کے سفر کے لئے ۱۹۰ روپئے اور دونوں طرف کے سفر کے لئے ۳۸۰ روپئے۔ یہ اضافہ یکم نومبر سے کیا گیا ہے۔
یہ میرے لئے ایک عجیب صورت حال تھی، کیوں کہ میں سفر میںعام طورپر اپنے ساتھ رقم نہیں رکھتا۔ میں نے کہا کہ میرے پاس رقم موجود نہیں ہے، پھر مجھے کیا کرنا چاہئے۔ خاتون نے مجھے ڈیوٹی آفیسر کے پاس بھیج دیا۔ وہاں مسٹر کے۔ سی گاندھی موجود تھے جو دہلی ایر پورٹ پر شفٹ مینیجر ہیں۔ ان سے میں نے اپنا مسئلہ بتاتے ہوئے کہا کہ آپ مجھے بورڈنگ کارڈ ایشو کردیں۔ واپسی میں بھوپال ایر پورٹ پر میں مطلوب رقم جمع کردوں گا۔ انہوں نے کہا کہ ایسا کوئی پراویزن موجود نہیں اس لئے ہم مجبور ہیں کہ ہم آپ سے یہیں رقم وصول کریں۔
میں نے پریشانی کے انداز میں اپنے بیگ کے کاغذات کو الٹ پلٹ کر دیکھا تو اس میں ۱۵۰ روپئے رکھے ہوئے مل گئے۔ میں نے مسٹر گاندھی سے کہا کہ میرے پاس اس وقت صرف ۱۵۰ روپئے ہیں۔ انہوں نے جواب دیا کہ کوئی حرج نہیں، اور پھر انہوں نے اپنی طرف سے چالیس روپئے شامل کر کے ۱۹۰ روپئے کی رسید بنائی اور میرا بورڈنگ کارڈ مجھے دے دیا۔ میں نے کہا کہ آپ اپنا پورا پتہ بتا دیں تا کہ یہ رقم میںآپ کو پہنچا دوں۔ مگر اصرار کے باوجود انہوں نے اپنا پتہ نہیں بتایا۔ دہلی واپسی کے بعد میں نے یہ رقم ونگ کمانڈر یوسف خان صاحب کے ذریعہ انہیں پہنچا دی۔
اس مزید رقم کا راز یہ تھا کہ انڈیا کی دونوں ایر لائنز کے پاس جو ہوائی جہاز ہیں وہ زیادہ تر لیز(lease) پر ہیں۔ ۱۱ ستمبر ۲۰۰۱ کو امریکہ میں چار ہوائی جہازوں کو ہائی جیک کرکے جو ٹکرایا گیا، یہ اضافہ اس کے بہت سے منفی نتائج میں سے ایک نتیجہ ہے۔ اس حادثہ کے بعد مالک کمپنیوں نے انشورنس کی رقم بہت زیادہ بڑھا دی تاکہ متوقع نقصان کی تلافی کی جاسکے۔ اب انڈین ایر لائنز نیز ایرانڈیا کے لئے اس کے سوا کوئی صورت نہ تھی کہ وہ انشورنس کے نام پر کرایہ میں اضافہ کریں۔ یہ ان بے شمار مسائل میں سے ایک چھوٹا سا مسئلہ ہے جو ۱۱ ستمبر کے ناعاقبت اندیشانہ فعل کے بعد پیش آیا۔
انسانی تاریخ میں غالباً یہ پہلا واقعہ تھا کہ کوئی ایک حادثہ ایسا ہو جس کے اثرات کسی نہ کسی طرح دنیا کے تمام انسانوں تک پہنچ جائیں۔
سنن ابی داؤد (کتاب الفتن) اور مسند احمد میں یہ روایت آئی ہے کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا کہ آخری زمانہ میں جو فتنے اٹھیں گے ان میں سے ایک فتنہ دُھَیما ہوگا جو اس وقت کے کسی بھی شخص کو نہیں چھوڑے گا مگر یہ کہ اس کو اس کا ایک تھپڑ لگ جائے(ثم فتنۃ الدھیما لا تدع احدا من ھذہ الامۃ الا لطمتہ لطمۃً )۔ خدا ہی بہتر جانتا ہے کہ فتنۂ دھیما سے مراد یہی موجودہ فتنہ ہے یا مستقبل میں آنے والا کوئی دوسرا فتنہ۔
انڈین ایر لائنز کی فلائٹ میگزین سواگت (نومبر ۲۰۰۱) کا شمارہ راستہ میں دیکھا۔ اس کے ایک مضمون کا عنوان تھا ــــــ’’دوسرا چانس نہیں‘‘۔
There is no second chance.
مضمون نگار نے یہ بات سڑکوں کے سفر کے بارے میں لکھی تھی، مگر یہی بات وسیع تر معنوں میں زندگی کے سفر کے لئے بھی درست ہے۔ موجودہ دنیا میں انسان کو صرف ایک بار آنے کا موقع ملا ہے۔ آدمی خواہ اس موقع کو درست طورپر استعمال کرکے جنت میں داخلہ کا استحقاق حاصل کرلے یاوہ اپنے آپ کو ابدی طورپر ناکام بنالے۔
بھوپال ایر پورٹ پر ساڑھے تین بجے پہنچا، یہاں الرسالہ کے قارئین کی بڑی تعداد موجود تھی۔ مسٹر الطاف صدیقی اور دوسرے بہت سے ساتھیوں کے علاوہ شہر کے ایک ممتاز صنعت کار مسٹرراجیندر سنگھ، وغیرہ بھی ایر پورٹ پر موجود تھے۔ ایر پورٹ سے روانہ ہوئے تو ہمارا قافلہ دور تک ایک خوبصورت سڑک سے گذرتا رہا۔ یہ نو تعمیر سڑک گویا مستقبل کے ہندستان کی علامت تھی۔ آخر کار ہم لوگ ڈاکٹر حمید اللہ ندوی کے مکان پر پہنچے۔ یہاںبہت سے لوگ جمع ہوگئے، جن سے دیر تک باتیں ہوتی رہیں۔
مسٹر راجیندر سنگھ اس دور کی ایک مثال ہیں جب کہ ہندستان میں ہندو ۔مسلم تفریق موجود نہ تھی۔ دونوں ایک دوسرے کے ساتھ عزت و احترام سے رہتے تھے۔ مسٹر راجندر سنگھ نے بتایا کہ جب وہ تقریباً چھ سال کے تھے تو ان کے گھر پران کے کچھ رشتہ دار آئے۔ اس وقت ایک مسلمان (ڈاکٹر مقبول) بھی وہاں موجود تھے۔ مسٹر راجیندر سنگھ نے ہندو روایت کے مطابق، سب کے پاؤں چھوئے، مگر انہوں نے مسلمان کا پاؤں نہیں چھوا۔ اس بنا پر ان کے والد صاحب نے انہیں ہلکے ہاتھ سے مارا۔ اور کہا کہ یہ سب تمہارے بزرگ ہیں، اورتم کو سب کے پاؤں چھونا چاہئے۔ اس کے بعد انہوں نے دوسروں کی طرح مسلمان کا بھی پاؤں چھوا۔
گفتگو کے دوران مسٹر الطاف احمد صدیقی نے کام کی اہمیت کو بتاتے ہوئے کہا کہ کام عبادت ہے(work is worship) ۔ اس پر مسٹر راجیندر سنگھ نے مسکراتے ہوئے کہا کہ ہندوؤں کے لئے تو یہ مقولہ درست ہے، مگر کیا مسلمانوں کے لئے بھی ایسا ہی ہے۔ میں نے کہا کہ ہاں، صرف اس اضافہ کے ساتھ کہ انسان جو کام کرے وہ رضائے الٰہی کی نیت اوراس کے حکم کی پیروی میں کرے۔
شام کی اس مجلس میں ملاقات کے لئے جو لوگ آئے ان میں سے ایک انور حسین آزاد صاحب تھے۔ وہ ۱۹۹۱ سے الرسالہ کا مطالعہ کررہے ہیں۔ ان سے میں نے پوچھا کہ الرسالہ سے آپ نے اپنی ذات کے لئے کیا سیکھا؟ انہوں نے کہا کہ یہ سیکھا کہ ’’مجھے زمین پر چلنا آگیا‘‘۔ اب میں الرسالہ کی تعلیم کے مطابق، صبر کے فارمولا کو استعمال کرتا ہوں، اور اللہ کے فضل سے مجھے کوئی مشکل پیش نہیں آتی۔ میں نے کہا کہ صبر کا فارمولا الرسالہ کا فارمولا نہیں ہے، وہ فطرت کا فارمولا ہے۔ اور فطرت کا فارمولاایک اٹل قانون ہے جس کو اختیار کئے بغیر چارہ نہیں۔ صبر کو اگر آپ اصول کے طورپر اختیار نہ کریں تو آپ کو منافقانہ طورپر اسے اختیار کرنا پڑے گا، کیوں کہ صبر کے بغیر آپ اس دنیا میں جی نہیں سکتے۔
آنے والوں میں اس علاقہ کےS.H.O. مسٹر ڈنڈوتیا(9826088602) بھی تھے۔ ان سے بات کرتے ہوئے میں نے کہا کہ لوگوں کو عام طورپر پولس سے شکایت ہوتی ہے، مگر مجھے پولس سے کوئی شکایت نہیں۔ ان شکایتوں کو غلط فہمی کہنا زیادہ صحیح ہوگا ۔ میرے نزدیک پولس کے لوگ بھی انسان ہیں۔ ان کو بھی خدا نے پیدا کیا ہے۔ وہی انسانی فطرت ان کے اندر بھی ہے جو دوسرے انسانوں کے اندر ہے۔ اس سلسلہ میں میں نے اپنا ایک سبق آموز تجربہ بتایا۔
میں نے کہا کہ دہلی میںایک بار ایک بڑے پولس افسر مجھ سے ملنے کے لئے آئے۔ وہ نہایت احترام کے ساتھ مجھ سے ملے، اور اپنا ٹیلی فون نمبر دیتے ہوئے کہا کہ جب بھی میری کوئی ضرورت ہو تو مجھے اس نمبر پر یاد کرلیں۔ اس ملاقات کے کچھ دنوں بعد میںنے اخلاقی طورپر انہیں ایک ٹیلی فون کیا۔ جب وہ لائن پر آئے تو خلاف عادت میری زبان سے یہ جملہ نکل گیا: میںآپ کا فرینڈ بول رہا ہوں۔ یہ الفاظ سنتے ہی وہ نہایت سخت اور درشت الفاظ میں بولنے لگے۔ میں نے کوئی جواب نہیں دیا۔حیرانی کے ساتھ ریسیور رکھ دیا۔
میرا مزاج اللہ کے فضل سے یہ ہے کہ انتہائی ناخوشگوار تجربہ بھی میری مثبت سوچ کو درہم برہم نہیں کرتا۔ چنانچہ میںنے غیر متاثر ذہن کے تحت اس عجیب واقعہ پر سوچنا شروع کیا۔ جلد ہی میں اس نتیجہ پر پہنچا کہ پولس افسر کے مذکورہ غیر متوقع رد عمل کا غالباً سبب یہ ہے کہ انہیں مجرم قسم کے لوگ ٹیلی فون کرتے ہوں گے اور اپنے آپ کو فرینڈ بتا کر انہیں اپنے مقصد کے لئے استعمال کرنے کی کوشش کرتے ہوں گے۔ اس نتیجہ پر پہنچنے کے بعد میں نے انہیں دوبارہ ٹیلی فون کیا۔ اب میں نے فوراً ان کو اپنا نام بتادیا۔ میرا نام سنتے ہی وہ نہایت احترام کے ساتھ بولنے لگے۔ انہوں نے ادب کے انداز میں کہا: مولانا صاحب، میں آپ کی کیا سیوا کرسکتا ہوں۔
حقیقت یہ ہے کہ ہر انسان اسی طرح ایک انسان ہے جس طرح کوئی دوسرا شخص ہوسکتا ہے۔ آپ ہر انسان کوانسان سمجھئے۔ ہر انسان کے ساتھ انسان والا معاملہ کیجئے۔ اور پھر آپ کو کسی سے کوئی شکایت نہ ہوگی۔
۷؍اکتوبر کی شام کو یہاں اچاریہ نریندر دیو لائبریری کے ہال میں ایک جلسہ ہوا۔ اس میں شہر کے تعلیم یافتہ لوگ شریک ہوئے۔ حاضرین کی تعداد ناظمین جلسہ کی توقع سے زیادہ تھی۔ چنانچہ موجود کرسیاں سب بھر گئیں، اور درمیان میں مزید کرسیوں کا انتظام کرنا پڑا۔
یہ جلسہ اسکول ٹوڈے میگزین کی طرف سے کیا گیا تھا۔ تقریر کا موضوع تھا: مذہب اور تعلیم۔ میں نے تقریباً ایک گھنٹہ کی تقریر میں موضوع کی وضاحت کی ۔ میںنے کہا کہ تعلیم کو عام طورپر جاب حاصل کرنے کا ذریعہ سمجھا جاتا ہے۔ مگر یہ تعلیم کا ثانوی فائدہ ہے۔ تعلیم کا اصل مقصد انسان کو باشعور بنا نا ہے۔ اسی طرح مذہب محض رسمی اعمال کا نام نہیں ، مذہب در اصل زندگی کی سائنس ہے۔ اس طرح مذہب اور تعلیم ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں۔ تعلیم آدمی کو اس قابل بناتی ہے کہ وہ مذہب کو زیادہ گہرائی کے ساتھ سمجھ سکے، اور مذہب آدمی کو اس قابل بناتا ہے کہ وہ سچی اسپرٹ کے ساـتھ تعلیم یافتہ بنے۔
اخیر میں سوال و جواب کا وقفہ تھا۔ ایک سوال یہ تھا کہ آپ نے تعلیم کی اہمیت اجاگر کی ہے، لیکن اگر تعلیم کا بھگوا کرن ہو تو آپ نئی نسل کو کیا مشورہ دیں گے۔ میں نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ ’’اگر‘‘ کی بنیاد پرکوئی رائے نہیں دی جاتی۔ ابھی تو ہمارے ملک میں بھگوا تعلیم رائج نہیں ہوئی، اور میرے اندازے کے مطابق، وہ کبھی رائج ہونے والی نہیں۔ لیکن بالفرض اگر کبھی عملاً ایسا ہو تو اس وقت اس کا جواب دیا جاسکتا ہے۔ ابھی یہ سوال قبل ازوقت ہے۔ انڈیا میں اصل مسئلہ امریکی کَرن کا ہے، نہ کہ بھگوا کرن کا۔
ایک اور سوال یہ تھا کہ ورتمان میں راج نیتی میں دھرم کا جو مشرن کرکے راج نیتی کو دوشت کیا جارہا ہے اس کے بارے میںکوئی اپائے بتائیے۔ اس کے جواب میں میں نے کہا کہ یہ بات غلط ہے کہ سیاست میں مذہب کو شامل کیا جارہا ہے۔ اگر ایسا ہوتا تو سب سے پہلے اس کا جو نتیجہ نکلتا وہ یہ تھا کہ بھرشٹا چار اس ملک سے ختم ہو جاتا۔ جو چیز ہورہی ہے وہ مذہب کو سیاست میں شامل کرنا نہیں ہے، بلکہ سیاسی مقاصد کے لئے مذہب کو استعمال کرنا ہے۔
جناب محمد انور جمال صاحب سے ایک گفتگو کے دوران میں نے کہا کہ کسی سوال کا جواب دیتے ہوئے صرف یہ نہیں دیکھنا ہے کہ آپ کے نزدیک اس کا جواب کیا ہے۔ بلکہ اس سے زیادہ اہم بات یہ ہے کہ آپ یہ دیکھیں کہ سننے والے پر اس کا اثر کیا پڑے گا۔ میں نے اس معاملہ کی ایک مثال دیتے ہوئے کہا کہ ہجرت کے موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت ابو بکر جب مکہ سے نکل کر مدینہ کے لئے روانہ ہوئے تو مشرکین نے اپنے آدمی دوڑائے کہ وہ آپ کو پکڑیں۔ اس سلسلہ میں ایک آدمی آپ دونوں کے قریب آگیا۔ وہ غالباً دونوں میں سے کسی کو پہچانتا نہ تھا۔ اس نے حضرت ابو بکر سے پوچھا کہ تمہارے ساتھ کون ہے۔ اس سوال کا صحیح جواب یہ تھا کہ محمد بن عبداللہ۔ مگر حضرت ابو بکر نے یہ جواب نہیں دیا۔ انہوں نے کہا کہ رجل یہدینی (ایک شخص جو مجھ کو راستہ دکھاتا ہے)۔ ان الفاظ کو سن کرسائل نے یہ سمجھاکہ یہ راستہ دکھانے والا کوئی گائڈ ہے اور وہ واپس چلا گیا۔
اس واقعہ سے اندازہ ہوتا ہے کہ کلام کرتے ہوئے صرف یہ نہیں دیکھنا ہے کہ آپ کے اپنے نزدیک درست بات کیا ہے بلکہ یہ بھی دیکھنا ہے کہ سننے والے پر اس کا کیا اثر پڑے گا۔ ۳ نومبر کی شام کو آچاریہ نریندر دیو لائبریری کے ہال میں جو پروگرام تھا، اس میں میرے علاوہ ایک ممتاز ہندو نے تقریر کی جو اعلیٰ حکومتی عہدوں پر رہ چکے ہیں۔ انہوں نے اپنی تقریر میں کہا کہ میں اپنی ایک رائے بار بار پیش کر چکا ہوں لیکن اسے قبول نہیں کیا جاتا۔ اس کو میں اس مجمع میں پیش کرنا چاہتا ہوں، وہ یہ کہ ہندستان کے فرقہ وارانہ مسائل کا حل یہ ہے کہ لوگ ’’بہو دھرمی‘‘ بن جائیں، یعنی بیک وقت کئی مذہب کو ماننے والے۔ وہ ایک ہی وقت میں کئی مذاہب کو تسلیم کریں۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ میرا ذاتی مسلک یہی ہے۔ میں نے مسجد میں نماز بھی پڑھی ، گرجا گھر بھی جاتا ہوں اور مندر بھی۔ انہوں نے اپنے اس مسلک کو اپنی تقریر میں کھلے لفظوں میں بیان کیا۔
جلسہ کے حاضرین میںبیشتر تعداد مسلمانوں کی تھی۔ ایک مقامی بزرگ نے بتایا کہ جو مسلمان اس جلسہ میں شریک تھے وہ بھوپال کے وہ لوگ تھے جن کے بارے میں مشہور ہے کہ وہ سب سے زیادہ دینی حمیّت رکھنے والے لوگ ہیں۔ان کی تاریخ یہ رہی ہے کہ وہ دین کے معاملہ میں کسی مخالفانہ بات کو بالکل برداشت نہیں کرتے بلکہ جرأتمندی کے ساتھ فوراً اس کے خلاف کھڑے ہو جاتے ہیں۔ مگر آج کے اس جلسہ میں مذکورہ ہندو مقرر کی بظاہر ’’اشتعال انگیز بات‘‘ کو انہوں نے اس طرح اعتدال کے ساتھ سنا جیسے کہ وہ کوئی قابلِ اعتراض بات نہیں۔ حتیٰ کہ مذکورہ ہندو مقرر کی بات پر صرف ایک شخص نے سوال کیا اور وہ ایک ہندو نوجوان تھا۔
یہ میرے نزدیک مسلمانوں میںایک خوشگوار تبدیلی کی علامت ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ آج کے مسلمانوں میں وہ صحت مند تبدیلی آچکی ہے جو قانون فطرت کے تحت موجودہ دنیا میں ترقی کے لئے ضروری ہے۔ یعنی ناخوشگوار بات کو بھی معتدل انداز میں سننا، خلاف ِ مزاج معاملہ میں بھی ضبط و تحمل کا رویہ اختیار کرنا۔
مولانا محمد صدیق قاسمی سے گفتگو کے دوران میں نے کہا کہ اکثر لوگوں کی ناکامی کا سبب صرف ایک ہوتا ہے، اور وہ عدم قناعت ہے۔ زندگی میں کامیابی کا راز یہ ہے کہ آدمی اپنے حالات کے اعتبار سے ممکن دائرہ میں اپنے عمل کا آغاز کرے، اور آج جو کچھ اس کو مل رہا ہے اس پر راضی رہتے ہوئے مزید کے لئے مستقبل کا انتظار کرے۔ مگر اکثر لوگوں کا حال یہ ہے کہ وہ اس قناعت کو اختیار نہیں کرتے۔ مستقبل میں ملنے والی چیز کو حال میں پانے کے لئے وہ ایک ایسی چھلانگ لگادیتے ہیں جو آخرکار انہیں مایوسی اور ناکامی کے سوا کہیں اور پہنچانے والی نہیں۔
ہندی روزنامہ دینک بھاسکر (۴؍ نومبر ۲۰۰۱ء) میں کل شام کی تقریر کی رپورٹنگ ہوئی۔ یہ رپورٹ اطمینان بخش تھی۔ وہ تقریباً بالکل صحیح تھی جو عام اخباری مزاج کے خلاف ہے۔ میرا اندازہ یہ ہے کہ کوئی اخبار خواہ وہ اردو کا ہویا ہندی کا یا انگریزی کا، اپنی پالیسی کے اعتبار سے متعصب یا غیرمتعصب نہیں ہوتا۔ اصل چیز جو اخباروں کی رپورٹنگ میں فرق پیدا کرتی ہے وہ اس کااسٹاف ہے۔ اگر اخبار میں زیادہ تعلیم یافتہ لوگ ہوں تو اس کی رپورٹنگ درست ہوگی اور اگر کم تعلیم یافتہ لوگ ہوں تو اس کی رپورٹنگ ناقص ہو جائے گی۔
مسٹر راجیندر سنگھ بھوپال کے ایک صنعتکار ہیں۔ انہوں نے بھوپال میں زندگی کا آغاز اس طرح کیا کہ انہوں نے بھوپال کی سڑکوں پر تھری وہیلر چلایا تا کہ وہ اپنی تعلیم کے اخراجات حاصل کرسکیں۔ اس طرح انہوں نے ذاتی محنت سے سول انجینئرنگ کا امتحان پاس کیا۔ اس کے بعد مختلف مراحل سے گزرتے ہوئے وہ موجودہ ترقی تک پہنچے۔ انہوں نے اپنی بزنس کا اصول یہ بتایا: دوسروں سے کم قیمت مگر دوسروں سے بہتر کوالیٹی۔
مسٹر راجیندر سنگھ نے ایک ملاقات میں کہا کہ اگر آج کے مسلمانوں کا ذہنی کینواس(canvas) بڑا ہوجائے تو کوئی ان کی ترقی کو روک نہیں سکتا۔ انہوں نے مزید کہا کہ آج کل کے مسلمانوں کا مزاج یہ ہے کہ تھوڑی معلومات کے باوجود وہ اسلام کی بات کرتے ہوئے مدعیانہ انداز میں بولنے لگتے ہیں۔ وہ اپنے خیال میں اتنا گم رہتے ہیں کہ ان کو یہ احساس نہیں ہوتا کہ سننے والے پر ان کے اس انداز کا الٹا اثر پڑے گا۔
میرے نزدیک یہ بات بالکل درست ہے۔ اسلام ایک آفاقی مذہب ہے۔ وہ اپنے ماننے والوں کے اندر آفاقی ذہن بناتا ہے۔ مگر آج کل کے مسلمان اپنی زوال یافتہ نفسیات کی بنا پر تنگ نظری کا شکار ہوگئے ہیں۔ وہ خود اپنی بنائی ہوئی دنیا میں جیتے ہیں۔ انہیں اپنے سے باہر کی دنیا کی کوئی خبر نہیں۔ مسلمانوں کا یہی مزاج، موجودہ زمانہ میںاسلام کی بدنامی کا سبب ہے، نہ کہ اسلام کی اصولی تعلیمات ۔ اسلام کے اشاعتی سیلاب کو جس چیز نے روک دیا ہے وہ مسلمانوں کا یہی غیر آفاقی مزاج ہے۔ موجودہ زمانہ کے مسلمانوں کی تحریروں اور تقریروںسے ایسا اندازہ ہوتا ہے کہ صرف ان کی اپنی کمیونٹی ہی ان کا کنسرن (concern)ہے۔ وسیع تر انسانیت ان کا کنسرن ہی نہیں۔
مولانا محمد مسیح عالم جامعی بھوپال کی ایک مسجد کے امام ہیں۔ گفتگو کے دوران انہوں نے ایک مضمون کا حوالہ دیا جس میں میری طرف یہ رائے منسوب کی گئی ہے کہ مسلمان بابری مسجد سے دستبردار ہوجائیں۔ میں نے کہا کہ استغفر اللہ ، میں نے کبھی بھی مسجد سے دستبرداری کی بات نہیں کی۔ اور نہ ہوش وہواس کے ساتھ میں ایسا کہہ سکتا ہوں۔ میں نے جو بات کہی تھی وہ مسلمانوں کے طریقۂ کار سے دستبرداری کی ہے، نہ کہ مسجد سے دستبرداری کی۔ میں نے ۶دسمبر سے پہلے بھی یہی کہا تھا اور اب بھی یہی کہتا ہوں کہ مسلمان بابری مسجد کے مسئلہ کو پر امن دائرہ میں حل کریں۔ وہ اس مسئلہ پر مظاہرہ کا انداز اختیار نہ کریں جو فریق ثانی میں اشتعال پیدا کرکے مسئلہ کو مزید پے چیدہ کرنے کا سبب بنتا ہے۔
مولانا محمد مسیح عالم نے میری بات کو سن کر کہا کہ ہندستان میں جمہوریت کا نظام ہے اور جب تک جمہوری طریقہ پر اس کا مظاہرہ نہ کیا جائے، ایوان بالا تک وہ بات نہیں پہنچتی ۔ اس لئے موجودہ زمانہ میں مظاہروں کا طریقہ اختیار کرنا ضروری ہے۔ میں نے کہا کہ جو لوگ مظاہرہ کے طریقہ کو درست سمجھتے ہیںوہ اس پر عمل کرنے کے لئے آزاد ہیں۔ مگر کسی کو بھی اس کی آزادی نہیں کہ وہ میرے اوپر جھوٹا الزام لگائے۔ یعنی میں طریقۂ کار کو چھوڑنے کی بات کروں اور وہ یہ مشہور کرے کہ میں خود مسجد کو چھوڑنے کی بات کررہا ہوں۔
ایک صاحب ملاقات کے لئے تشریف لائے۔ ان کاتعارف کراتے ہوئے بتایا گیا کہ یہ مولانا نور الہدیٰ قاسمی ہیں۔ وہ جامعہ اسلامیہ عربیہ کے استاذ ہیں اور آپ کے ناقد بھی ہیں۔ میںنے کہا کہ عربی مقولہ ہے کہ:’’من ھو ناصحک خیرلک ممن ھو مادحک‘‘جو شخص تم کو نصیحت کرنے والا ہے وہ اس سے بہتر ہے جو تمہاری تعریف کرنے والاہے۔ میں نے کہا کہ تنقید اور تنقیص میں فرق ہے۔ تنقید ایک صحت مند عمل ہے۔ اس کے برعکس تنقیص ایک گناہ ہے۔ تنقید نام ہے علمی تجزیہ کا، جب کہ تنقیص عیب جوئی اور الزام تراشی کانام ہے۔
مولانا نور الہدیٰ صاحب نے فرمایا کہ آپ کی تحریروں سے یہ اندازہ ہوتا ہے کہ آپ جہاد بمعنٰی قتال کو ضروری نہیں سمجھتے، حالانکہ جہاد مسلمانوں کے لئے فرض ہے۔ خاص طورپر افغانستان جیسے ملکوں میں۔
میں نے کہا کہ جہاد بلاشبہہ ایک شرعی حکم ہے۔ مگر جہاد فرض مطلق نہیں۔ تمام علماء کے نزدیک جہاد بمعنیٰ قتال حسن لغیرہ ہے، وہ حسن لذاتہ نہیں۔ جہاد کا عمل شروع کرنے سے پہلے یہ دیکھا جائے گا کہ اس کا نتیجہ کیا نکلے گا۔ اگر جہاد کے عمل کا نتیجہ اُلٹی صورت میں نکلے تو حکماً فرض ہونے کے باوجود عملاً جہاد نہیں کیا جائے گا۔
مثال کے طورپر مکی دور میں مسلمانوں پر جو حالات تھے وہ افغانستان سے بھی زیادہ سخت تھے۔ چنانچہ جب بیعت عقبہ ثانیہ ہوئی تو اس وقت کے مسلمانوں نے رسول اللہ ﷺسے قریش کے خلاف جنگ کی اجازت طلب کی۔ مگرآپ نے اس کی اجازت نہ دی اور فرمایا: إنی لم أومر بالقتال۔
اسلام میں جہاد ایک اعلیٰ عمل ہے۔ مگرجہاد برائے مقصد ہے، جہاد برائے جہاد نہیں۔ مثال کے طورپر افغانستان میں جب روسیوں سے جنگ ختم ہوگئی اور روسی فوج افغانستان سے واپس چلی گئی تواس کے بعد افغانی مسلمانوں کو وہی کرنا چاہئے تھا جو دور اول کے مسلمانوں نے مدینہ میں کیا۔ یعنی ایک فریق کو سیاسی عہدہ دے کر دوسرے فریق کا پیچھے ہٹ جانا۔ اس وقت مدینہ میں دو گروہ تھیــــــ مہاجرین اور انصار۔ ابتداء ً دونوں گروہ خلافت کے دعوے دار تھے۔ مگر جب انہیں بتایا گیا کہ خلافت کا نظام صرف اس وقت قائم ہوتا ہے جب کہ ایک فریق دوسرے فریق کے حق میں دستبردار ہوجائے۔ جیسا کہ معلوم ہے، انصار کا پہلے یہ کہنا تھا کہ : منا امیر و منکم امیر۔ مگر عملی حقائق کی بنا پر وہ ’’الأئمۃ من قریش‘‘ کے فارمولا پر راضی ہوگئے ۔ انصار کے لیڈر سعد بن عبادہ نے یہ قربانی دی کہ وہ مدینہ چھوڑ کر شام چلے گئے اور وہاں دس سال تک رہ کر وہیں وفات پاگئے۔ ان کی اس سیاسی ہجرت کا سبب یہ تھا کہ اگر وہ مدینہ میں مقیم رہتے تو وہ ’’اپوزیشن‘‘ کی علامت بنے رہتے اور خلافت کا استحکام مشکل ہوجاتا۔ میں نے کہا کہ جہاد فی سبیل اللہ، حدیث کے الفاظ میں اہل فراست کا کام ہے، وہ اہل جذبات کا کام نہیں۔
جمال صاحب سے بات کرتے ہوئے میں نے کہا کہ زندگی نام ہے معیار سے کم (less than ideal) پر راضی ہونے کا۔ اکثر ناکامیاں، خواہ فرد کی ہوں یا قوم کی، اس لئے پیش آتی ہیں کہ لوگ اپنے ذہن میں جو خیالی معیار بنا لیتے ہیں اس سے کم پر وہ راضی نہیں ہوتے۔ جب کہ موجودہ دنیا میں معیار کا حصول ممکن ہی نہیں۔ اس لئے ایسے لوگوں کے لئے کامیابی کا حصول بھی ممکن نہیں ہوتا۔
سعودی عرب میںاس وقت جو نظام ہے وہ معروف اصطلاح کے مطابق، ملوکیت کا نظام ہے۔ یہ نظام یقینی طورپر خلافت کے معیاری نظام سے کمتر ہے۔ مگر سعودی عرب کے مسلمان اور دنیا بھر کے مسلمان اس نظام پر راضی ہوگئے۔ اس کا یہ نتیجہ ہے کہ سعودی عرب موجودہ زمانہ میں اسلام اور مسلمانوں کے لئے زبردست فائدہ کا سبب بن گیا۔ موجودہ زمانہ میں جب صنعتی دور آیا تو مسلمان معاشی اعتبار سے ساری دنیا میںپچھڑ گئے۔ کیوں کہ مخصوص اسباب سے وہ صنعتی دور میں داخل نہ ہوسکے۔ ایسی حالت میں سعودی عرب کا مستحکم نظام مسلمانوں کی اس عالمی پسماندگی کی تلافی بن گیا۔ اگرسعودی عرب میں مستحکم نظام نہ ہوتا تو اس کا وہی انجام ہوتا جو تیل کی بے پناہ دولت کے باوجود لیبیا اور نائجیریا اور عراق جیسے ملکوں کا ہوا۔
۴نومبر کی صبح کو ساڑھے دس بجے اردو اکیڈمی کے ہال میں ایک پروگرام تھا۔ اس کا عنوان تھا: اسلام میں امن کی آئیڈیالوجی۔ اس موضوع پر میں نے ایک مختصر تقریر کی۔ قرآن وحدیث کی روشنی میں میںنے بتایا کہ اسلام کی اصل پالیسی امن کی پالیسی ہے۔ اسلام میں جنگ صرف دفاع کے لئے جائز ہے اور وہ بھی اس وقت جب کہ جنگ سے اعراض کی تمام کوششیں ناکام ہوگئی ہوں۔
جلسہ کے آغاز میں اس قرآنی آیت کی تلاوت کی گئی تھی: لاتستوی الحسنۃ ولاالسیئۃ ادفع بالتی ھی أحسن فاذا الذی بینک وبینہ عداوۃ کأنہ ولی حمیم(حٰم السجدہ) اس آیت کی روشنی میں میں نے کہا کہ اس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ اسلام میں دشمن اور حملہ آور میں فرق کیا گیا ہے۔ جہاں تک حملہ آور کا تعلق ہے، قرآن میں ارشاد ہوا ہے کہ وقاتلوا فی سبیل اللہ الذین یقاتلونکم (البقرہ ۱۹۰) مگر دشمن کے معاملہ میں جو حکم ہے وہ اس سے مختلف ہے۔ اس کے مطابق، مسلمان ایسا نہیں کرسکتے کہ وہ کسی کو دشمن بتا کر اس کے خلاف جنگ چھیڑ دیں۔ آپ کے نزدیک کوئی فرد یا گروہ دشمن ہے تب بھی اس کے مقابلہ میں پُر امن نصیحت کا طریقہ اختیار کرنا ہوگا، نہ کہ پُر تشدد کارروائی کا۔
ایک صاحب نے ایک گفتگو کے دوران کہا کہ مسلمان کبھی دہشت گرد نہیں ہوسکتا۔ یہ کہہ کر انہوں نے قرآن وحدیث کے حوالے بیان کرنا شروع کئے۔ مسلمان کیا ہے، اس کو بتانے کے لئے انہوں نے قرآن کی آیتیں پیش کیں۔ اس کے برعکس دوسری قوموں کو بتانے کے لئے انہوں نے ان کے عمل کا نمونہ پیش کیا۔ یہ ایک غیر منصفانہ تقابل تھا۔ اس میں عمل کا تقابل آئیڈیل سے کیا گیا تھا۔ صحیح تقابل یہ ہے کہ یا تو دونوں کے عمل کو لیا جائے یا دونوں کے نظریات کو۔
انہوں نے پرجوش طورپر کہا کہ مسلمان ایک پُر امن امت ہیں۔ البتہ ان کے خلاف دہشت گردی کی جارہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ تم جیو اور ہمیں بھی جینے دو۔ ایسا نہیں ہوسکتا کہ تم خود تو جیو اور ہمیں ہلاک کرو۔ میرے نزدیک یہ صرف ایک جوشیلا بیان ہے۔ موجودہ صورت حال کے مطابق، یہ کہنا درست ہوگا کہ تم کو ہمیں مارنے کی ضرورت نہیں بلکہ ہم تو خودکشی کرکے اپنے آپ کو خود ہی ہلاک کررہے ہیں۔
۴نومبر کی شام کو مسٹر راجیندر سنگھ کی رہائش گاہ پر ایک خصوصی اجتماع ہوا۔ اس اجتماع میں شہر کے اعلیٰ طبقہ کے لوگ شریک تھے۔ اس میں زیادہ تر ہندو حضرات تھے۔ لوگوں کی فرمائش پر پہلے میںنے ایک مختصر تقریر کی اور اس کے بعد سوال وجواب کی صورت میں یہ مجلس دیر تک چلتی رہی۔
میں نے اپنی تمہیدی تقریر میں جو باتیں کہیں ان میں سے ایک یہ تھی کہ اپنے مطالعہ و تجربہ سے میں نے زندگی کا ایک سادہ فارمولا بنایا ہے۔ وہ یہ کہـــــاپنے آپ کو جانو، او رپھر تم تمام دنیا کو جان لوگے۔
Discover yourself and you will be able to discover the whole world.
یہاں لوگوں نے جو سوالات کئے ان میں سے ایک سوال یہ تھا کہ امریکہ اور افغانستان کے جھگڑے میں ہندستانی مسلمانوں کی پالیسی کیا ہونا چاہئے۔ میں نے کہا کہ اس طرح کے معاملہ میں ہندستانی مسلمانوں کی پالیسی وہی ہوگی جو ہماری نیشنل پالیسی ہے۔ اگر کسی مسلمان کی رائے نیشنل پالیسی سے الگ ہو تو اس کو ایسا نہیں کرنا چاہئے کہ وہ اپنے اختلاف کو لے کر عوامی سیاست چلائے۔ اس کو صرف یہ حق ہے کہ وہ ان لوگوں سے ملے جو نیشنل پالیسی بناتے ہیں، اور ان کے سامنے اپنی رائے کا اظہار کرے۔ اختلافی رائے کو لے کر ہنگامہ آ رائی کرنانہ شرعی اعتبار سے درست ہے اور نہ عقلی اعتبار سے۔
ایک ہندو تاجر نے یہ سوال کیا کہ میں مرغی فارم چلاتا ہوں ، مرغیوں کا معاملہ یہ ہے کہ ایک عمر کے بعد وہ ناکارہ ہو جاتی ہیں۔ ایسی مرغیوں کو ہم بازار میں بیچ دیتے ہیں۔ حالانکہ ہم کو یہ پتہ ہوتا ہے کہ ان مرغیوں کا انجام کیا ہونے والا ہے۔ میںنے کہا کہ میں خود طبعی طورپر ایک وجیٹیرین ہوں۔ مگر اصل مسئلہ یہ ہے کہ ہم فطرت کی جس دنیا میں رہتے ہیں وہ ویجیٹیرین نہیں۔ میں وجیٹیرین ہوتے ہوئے پانی اور ہوا اور سبزی ، غرض ہر چیز کے ساتھ بے شمار زندگیوں کو اپنے اندر داخل کرتا رہتا ہوں۔ میں نے کہا کہ اس دنیا میں آپ اپنی پسند کے مطابق نہیں رہ سکتے۔ یہاں آپ کے لئے پسند اور ناپسند کا چوائس نہیں ہے بلکہ قابل عمل اور ناقابل عمل کے درمیان چوائس ہے۔ اس لئے میں کہوں گا کہ آپ ناکارہ مرغیوں کو مارکیٹ میں بیچ دیں۔ کیوں کہ اس کے سواکوئی اور قابل عمل صورت آپ کے لئے ممکن نہیں۔
میں نے کہا کہ مہاتما گاندھی پورے معنوں میں اہنسا وادی تھے۔ ان کے آشرم میں ایک گائے زخمی ہوگئی۔ علاج کے باوجود وہ اچھی نہ ہوسکی۔ یہاں تک کہ زندگی اس کے لئے ایک مستقل مصیبت بن گئی۔ مہاتما گاندھی سے لوگوں نے اس کے بارے میں رائے پوچھی تو انہوں نے کہا کہ اس کو گولی مار کر ہلاک کر دو کیوں کہ اس کو زندہ رکھنا اس کو زیادہ بڑی مصیبت کے لئے چھوڑنا ہے۔
جناب الطاف احمد صدیقی صاحب (۷۰ سال) جو ہم سب لوگوں کے لئے بڑے بھائی کی حیثیت رکھتے ہیں، وہ ۱۹۶۰ سے پان کھانے کے عادی تھے۔ وہ رات دن میں تقریباً چوبیس پان کھاتے تھے۔ پان کا ڈبہ ہمیشہ ان کے ہاتھ میں رہتا تھا۔ میں نے ان سے کہا کہ اگر اجازت دیں تو میں آپ سے ایک گذارش کروں اور وہ یہ کہ آپ پان کھانا چھوڑ دیں۔ انہوں نے کہا کہ دھیرے دھیرے چھوڑ دوں گا۔ میں نے کہا کہ عادت یا تو فوراً چھوڑی جاتی ہے یا وہ کبھی نہیں چھوٹتی۔ اس لئے آپ اس انگریزی مقولہ پر عمل کیجئے۔
There is no better time to start than this very minute.
میں نے کہا کہ پان کھانے میں کوئی ثواب نہیں ہے۔مگر پان چھوڑنا آپ کے لئے بہت بڑا ثواب ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ وہ کیسے؟
میںنے کہا کہ قرآن میں مال کے اسراف سے منع کیا گیا ہے اور اسراف یہ ہے کہ غیر ضروری مد میں اپنا مال خرچ کیا جائے۔ اسی طرح حدیث میں آیا ہے کہ: من حسن اسلام المرء ترکہ مالا یعنیہ‘‘ (آدمی کے اچھے مسلمان ہونے کی ایک پہچان یہ ہے کہ وہ بے فائدہ چیزوں کو چھوڑ دے) ایسی حالت میں اگر آپ خدا اور رسول کے حکم کی تعمیل میں پان کوچھوڑ دیں تو بلاشبہہ وہ آپ کے لئے ثواب بن جائے گا۔ جب کہ پان کھانا صرف ایک غیر ضروری عادت ہے اور غیر ضروری عادت پر ثواب ملنے کا کوئی سوال نہیں ۔ اللہ کا شکر ہے کہ انہوں نے اس مشورہ کو مان لیا، اور اس مجلس میں پان کو چھوڑ دینے کا فیصلہ کیا۔ اور اپنا پان کا ڈبہ میرے حوالہ کردیا۔ اللہ تعالیٰ انہیں اس فیصلہ پرثابت قدم رکھے۔
۴نومبر کی شام کو کھانے کا دستر خوان بچھایا گیا تو میں نے ایک صاحب سے کہا کہ دیکھئے دسترخوان پر کھانے کے کتنے آئیٹم ہیں۔ انہوں نے فوراً جواب دیا کہ دو، پھر کچھ دیر بعد جواب دیا کہ تین، اور پھر آخر میں کہا کہ چھ۔ میں نے کہا کہ بولنے کا آغاز چپ رہنا ہے۔ پہلے چپ رہ کر سوچئے اور اس کے بعد بولیے۔ ایک مجلس میں میں نے کہا کہ روایتوں میں آتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فلاں فلاں کھانا پسند تھا۔ اس سلسلہ میں میرے ذہن میں عرصہ سے یہ سوال تھا کہ ان روایات میں ہر اس کھانے کا ذکر ہے جو اس زمانہ میں مدینہ میں رائج تھے۔پھر جب رسول اللہ کو ہر کھانا پسند تھا تو وہ کون سا کھانا ہے جو آپ کو پسند نہ تھا۔ پسند ایک انتخابی پسند کا نام ہے۔ جب ہر موجود چیز کے بارے میں پسند کی روایت ہو تو وہ انتخابی پسند نہیں بنتی۔
یہ سوال عرصہ سے میرے ذہن میں تھا۔ پھر میرے ساتھ ایک تجربہ گذرا۔ اس تجربہ کے بعد ان روایتوں کا مفہوم میری سمجھ میں آیا۔ عرصہ ہوا میںایک مرتبہ راجستھان کے علاقہ ’میرات‘ گیا۔یہاں مسلمانوں کی ایک آبادی تھی۔ وہ لوگ نہ صرف جاہل تھے بلکہ کلچر کے اعتبار سے نہایت پسماندہ تھے۔ میرے ساتھ دو اور عالم تھے۔ ہم لوگ وہاں پہنچے تو مغرب کا وقت ہو چکا تھا۔ تلاش کے بعد وہ آدمی ملا جس کے یہاں ہم لوگ مہمان بننے والے تھے۔ وہ ہم لوگوں کو ایک گھر کی چھت پر بٹھا کر چلا گیا۔ ہم لوگوں نے مغرب کی نماز پڑھی او رچھت پر بیٹھ گئے۔ میرے ساتھیوں کا خیال تھا کہ وہ آدمی چائے لینے کے لئے گیا ہے۔ مگر کافی دیر ہوگئی وہ چائے لے کر نہ آیا۔ یہاں تک کہ عشاء کا وقت ہوگیا اورہم لوگوں نے عشاء کی نماز پڑھی۔ مگر اب بھی آدمی کا پتہ نہ تھا۔ کافی دیر کے بعد وہ ہمارا کھانالے کر آیا ۔ یہ کھانا صرف دو چیزوں پر مشتمل تھاــــــارہر کی سادہ دال اور گلگلہ۔ یہ عجیب و غریب کھانا دیکھ کر میرے دونوں ساتھی غصہ ہوگئے۔ انہوں نے کہا کہ بندۂ خدا اتنی دیر کے بعد کھانا لایا ہے اور وہ بھی ارہر کی دال اور گلگلہ جن کا ایک دوسرے کے ساتھ کوئی جوڑ نہیں۔اس وقت میری فطرت نے رہنمائی کی اور میں اچانک خوب تعریف کرکے اس کو کھانے لگا۔ میری زبان سے بے ساختہ یہ الفاظ نکلے۔ یہ بہترین کھانا ہے۔ اس سے اچھا کوئی کھانا نہیں۔ یہ گویا فطرت کی زبان سے میرے سوال کا جواب تھا۔ اس تجربہ کے بعد میں نے سمجھا کہ اصل حقیقت کیا ہے۔ اصل یہ ہے کہ اس وقت مدینہ میں کھانے کی چیزوں کی شدید قلت تھی۔ خاص طورپر مہاجرین کو اکثر بھوکا رہنا پڑتا تھا۔ اب یہ ہوتا تھا کہ کسی انصاری کو معلوم ہوا کہ لوگ بھوکے ہیں۔ وہ رسول اللہ کے پاس آتا۔ آپ کو اور کچھ دوسرے صحابہ کو لے کر اپنے گھر جاتا تاکہ ان کو کھانا کھلائے۔ وہاں گھر میں اکثر صرف ایک یا دو سادہ آئیٹم ہوتا تھا۔ وہ انصاری شرمندگی کے ساتھ اپنا سادہ کھانا اندر سے لے کر آتا اور رسول اللہ کے سامنے رکھ دیتا۔ اب رسول اللہﷺ تعریف کرکے اس کو کھانا شروع کردیتے۔ یہ حقیقتاً کھانے کی تعریف نہ ہوتی تھی بلکہ وہ صاحب خانہ کی شرمندگی کو دور کرنے کا ایک انداز تھا۔ یہ در اصل ایک اخلاقی کلمہ ہوتا تھا، نہ کہ تعریف طعام کا کلمہ۔ اس راز کو نہ سمجھنے کی وجہ سے لوگوں نے اس کو پسندیدہ کھانے کے ساتھ جوڑ دیا اور خود اپنے غیر مطلوب شوقِ طعام کے لئے اس کو ایک شرعی جواز بنا لیا۔
مولانا شمس الدین ندوی نے مجلس میںایک سوال کیا کہ احادیث میں آتا ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی شکم سیر ہو کر کھانا نہیں کھایا۔ اس کا مطلب کیا ہے۔ میں نے کہا کہ جہاں تک میرا خیال ہے، عام طورپر اس کے دو اسباب ہوتے تھے۔ ایک یہ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم معمولاً کم کھانا پسند کرتے تھے۔ جیسا کہ ایک حدیث میں آیا ہے کہ آپ نے فرمایا کہ پیٹ کے تین حصے کرو۔ ایک حصہ کھانے کے لئے، ایک حصہ پانی کے لئے اور ایک حصہ خالی۔دوسرا سبب یہ ہے کہ مدینہ میں ہجرت کے بعد آبادی میںاچانک اضافہ ہوگیا تھا۔ اس کے نتیجہ میں کھانے کی چیزوں کی قلت ہوگئی تھی۔ اس بنا پروہاں کی آبادی کے لئے عمومی طورپر قلتِ خوراک کا مسئلہ پیدا ہوگیا تھا۔ دوسروں کی طرح رسول اللہ اور مہاجرین بھی اس مسئلہ سے دوچار ہوئے۔
مولانا اختر قاسمی نے فرمایا کہ الرسالہ کا یہ پیغام ہے کہ مسلمانوں کے اندر داعیانہ ذہن پیدا ہو۔ اب ہم یہ محسوس کرتے ہیں کہ ہندستان کی مسلم جماعتوں کے ذمہ دار بھی الرسالہ کی زبان ہی میں بات کرنے لگے ہیں۔ جب صورت حال یہ ہے تو کیوں نہ ہم دعوت کے عنوان پر کوئی مشترک لائحہ عمل تیار کریں اور اس کی پہل کیوں نہ اسلامی مرکز کی جانب سے ہو۔
میں نے کہا کہ یہ تجویز بظاہر اچھی ہے۔ مگر موجودہ حالات میں وہ قابل عمل نہیں۔ ہماری قوم میں وہ عملی صلاحیت موجود نہیں جو متحدہ عمل کے لئے ضروری ہوتی ہے۔ اس کی ایک مثال یہ ہے کہ ملک کے تمام دینی مدارس کا مقصد ایک ہے مگر بار بار کی کوشش کے باوجود ان کے درمیان متحدہ لائحہ عمل تیار نہ کیا جاسکا۔ یہی انجام آپ کی تجویز کردہ کوشش کا بھی ہوگا۔
میں نے اپنا ایک ذاتی تجربہ بتاتے ہوئے کہا کہ حیدرآباد میں ملک کے مختلف دینی مدارس کے ذمہ داروں کا ایک مشاورتی اجتماع ہوا ۔ میں بھی ا س میں شریک تھا۔ وہاں یہ تجویز پیش کی گئی کہ تمام مدارس کے درمیان اتحاد کی فضا قائم کی جائے۔ مثلاً نصابِ تعلیم میں یکسانیت تاکہ اسکول و کالجوں کی طرح مدارس کے طلبہ بھی ایک مدرسہ کو چھوڑ کر دوسرے مدرسہ میں بآسانی داخلہ لے سکیں۔ اساتذہ کی تنخواہوں کے درمیان یکسانیت ہو۔ مالیات کی فراہمی کا مشترک بورڈ ہو۔ مختلف مدارس کے درمیان وفاقی تنظیم ہو، وغیرہ۔ مگر دو دن کی بحث کے باوجود ان تجویزوں پر اتفاق نہ ہوسکا۔
آخر میں مجھے بولنے کا موقع دیا گیا۔ جب میں کھڑا ہوا تو میرا حال یہ تھا کہ میرا دل تڑپ رہا تھا اور میری آنکھوں میں آنسو بھرے ہوئے تھے۔ میں نے کہا کہ لوگوں کے درمیان اتفاق نہ ہونا کوئی سادہ بات نہیں۔ یہ اس بات کی علامت ہے کہ لوگوں کے سینوں میں اللہ کا خوف نہیں۔ پھر میں نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ اگر ایسا ہو کہ یہاں لوگوں کے درمیان اچانک ایک کالا سانپ نکل آئے تو ہر شخص متفق ہو کر یہ کہے گا کہ سانپ سے بچو، سانپ سے بچو۔ میں نے لرزتی ہوئی آواز میں کہا کہ شدت خوف رایوں کے تعدد کو ختم کردیتا ہے۔ اگر لوگوں کے اندر اللہ کا خوف ہوتا تو یقینا رایوں کا اختلاف اپنے آپ ختم ہو جاتاجس طرح کوئی بڑا دنیوی خطرہ دیکھ کر رایوں کا اختلاف ختم ہوجاتا ہے۔ ایسی حالت میں اتحاد کی کوشش کا آغاز ’اتحاد کانفرنس‘ کے ذریعہ نہیں ہوسکتا۔ اس کے لئے ضرورت ہے کہ لوگوں کے اندر سب سے پہلے اللہ کا خوف اور آخرت کی پکڑ کا احساس پیدا کیا جائے۔ اس کے بعد ہی کوئی حقیقی اتحاد وجود میں آسکتا ہے۔
مولانا اختر قاسمی نے پوچھا کہ فتویٰ کی شرعی حیثیت کیا ہے۔ موجودہ زمانہ میں طرح طرح کے فتوے جاری کئے جاتے ہیں جن میں لوگوں کو یہ ہدایت کی جاتی ہے کہ وہ ایسا کریں، ایسا نہ کریں۔ ایسے فتوے کس حد تک درست ہیں۔
میںنے کہا کہ فتویٰ کا مطلب رائے (opinion) ہے۔ فتویٰ کا مطلب یہ ہے کہ کوئی شخص ایک عالم کے پاس آیا۔ اس نے عالم کے سامنے اپنا ایک مسئلہ بیان کیا۔ اور اس مسئلہ کے بارے میں شریعت کا حکم جاننا چاہا۔ اس طرح کے سوال پراپنے علم کے مطابق، شرعی حکم بتانا یہ فتویٰ ہے۔
مگر ہمارے یہاں فتویٰ کی ایک اور قسم رائج ہوگئی ہے جو یقینی طورپر غیر شرعی ہے۔ وہ یہ کہ کوئی مفتی یا مفتیوں کا کوئی بورڈ بطور خود یہ فتویٰ جاری کرتا ہے کہ جس کی داڑھی ایک مشت سے چھوٹی ہو اس کے پیچھے لوگوں کے لئے نماز پڑھنا جائز نہیں۔ فلاں ملک اسلام دشمن ہے اس کی مصنوعات کو خریدنا جائز نہیں، وغیرہ۔ یہ دوسری قسم کا فتویٰ حقیقتاً فتویٰ نہیں، وہ یکطرفہ طورپر ہدایت جاری کرنا ہے اور اس قسم کی ہدایت جاری کرنے کا اختیار ایک قائم شدہ حکومت کو ہے، نہ کہ کسی مفتی کو۔
صحابہ اور تابعین کی مثال بتاتی ہے کہ وہ حاکمانہ ہدایت کبھی جاری نہیں کرتے تھے۔ اس کے بجائے وہ دعوت و تبلیغ کا کام کرتے تھے۔ مثلاً اگر لوگ داڑھی کی سنت میں غفلت برت رہے ہوں تو صحابہ و تابعین کی سنت کے مطابق، ایسے لوگوں کے درمیان دعوت و تبلیغ کا کام کرنا چاہئے، نہ کہ بائیکاٹ کا فتویٰ صادر کرنا۔ مزید یہ کہ باعتبار نتیجہ اس قسم کا فتویٰ سراسر لاحاصل ہے۔ انسان کی اصلاح قلب و ذہن کے بدلنے سے ہوتی ہے، نہ کہ فتاویٰ جاری کرنے سے۔ خود ہندستان کی مثال بتاتی ہے کہ اہل بدعت کے خلاف لمبی مدت تک فتاویٰ جاری کرنے کے باوجود کوئی مسلمان بدعت سے تائب نہیں ہوا، مگر تبلیغی جماعت کی دعوتی کوششوں سے بہت سے بدعتی اپنے فعل سے تائب ہوگئے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ تبلیغی جماعت والوں نے فتویٰ کے بجائے نصیحت و تربیت کا انداز اختیار کیا۔ اس کے نتیجہ میں لوگوں کے دل بدلے اور وہ بدعات سے تائب ہوگئے۔
مولانا محمد صدیق قاسمی نے بتایا کہ ان کی ملاقات بھوپال کے ایک عالم سے ہوئی۔ گفتگو کے دوران انہوں نے الرسالہ اور صاحب الرسالہ کے خلاف سخت رائے کا اظہار کیا۔ انہوں نے صاحب الرسالہ کے بارے میں کہا کہ انہوں نے امت کے سواد اعظم سے الگ اپنا ایک تصور دین بنا یا ہے۔ اور دین میں اس قسم کی انفرادیت بلاشبہہ گمراہی ہے۔
مولانا صدیق قاسمی نے یہ سن کر نہایت نرم انداز میں ان سے پوچھا کہ کیا آپ نے الرسالہ کے کچھ شمارے پڑھے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ نہیں۔ پھر مزید سوال و جواب کے بعد معلوم ہوا کہ انہوں نے ادھر ادھر کی باتیں سن کر یا اردو کے بعض اخبارات میں تنقیدی مضامین پڑھ کر یہ رائے بنائی ہے۔ مولانا صدیق قاسمی نے ان سے کہا کہ کسی کے بارے میں رائے قائم کرنے کا یہ انداز سراسر اسلامی تعلیم کے خلاف ہے۔ آپ متعین و محدد اندازمیں بتائیں کہ الرسالہ میں کون سی بات قرآن و سنت کے خلاف ہے۔ وہ کوئی ایک بھی متعین و محدد مثال نہ دے سکے۔
موجودہ زمانہ کے لوگوں میں یہ عام مزاج بن گیا ہے کہ وہ کسی کے خلاف رائے زنی کے لئے صرف یہ کافی سمجھتے ہیں کہ اس کے بارے میں کچھ مخالفانہ الفاظ بول دیں۔ وہ تنقید اور تنقیص کا فرق نہیں سمجھتے، وہ الزام اور استدلال کے درمیان فرق کو نہیں جانتے۔ یہ بلاشبہہ تمام برائیوں سے زیادہ بڑی برائی ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ آج کے لوگ زوال کے کس درجہ تک پہنچ چکے ہیں۔ دلیل کے ساتھ اعتراف کسی شخص کے زندہ ہونے کی پہچان ہے۔ اسی طرح بے دلیل انکار کسی شخص کے مردہ ہونے کی سب سے بڑی پہچان ہے۔
۵ نومبر ۲۰۰۱ء کو صبح کی نماز میں ہمارے امام صاحب نے سورہ ’’البیّنہ‘‘ کی تلاوت کی۔ اس میں انہوں نے قرآن کی یہ آیت پڑھی’’وما تفرق الذین اوتوا الکتاب إلا من بعد ما جاٲتھم البینۃ (اور اہل کتاب متفرق نہیں ہوئے مگر بعد اس کے کہ جب ان کے پاس کھلی دلیل آگئی)۔
اس آیت کو سن کر میں نے سوچا کہ تفرق کو بتانے کے لئے قرآن میں یہ خاص انداز کیوں اختیار کیا گیا۔ اس پر غور کرتے ہوئے سمجھ میں آیا کہ بیّنہ کے ظہور کا فطری نتیجہ یہ ہونا چاہئے تھا کہ لوگوں کا تفرق ختم ہوجائے۔ وہ متحد ہو کر ثابت شدہ حق کے گرد اکٹھا ہوجائیں۔ مگر جو چیز ہوئی وہ بالکل اس کے برعکس تھی۔
حقیقت یہ ہے کہ بیّنہ (ثابت شدہ حق) کاظہور ایک ایسی چیز ہے جو اہل کتاب، بالفاظ دیگر، حق پرستی کے مدعیوں کے لئے ایک فیصلہ کن آزمائش بن جاتا ہے۔ اس کے بعد ایسا ہوتا ہے کہ سچے حق پرست یہ کہہ کر اس کے ساتھ جڑ جاتے ہیں کہ یہ تو وہی چیز ہے جس کا ہم پہلے سے انتظار کررہے تھے۔ اس کے برعکس جھوٹے مدعیوں کے لئے وہ انہیں اکسپوز (expose) کرنے کا ذریعہ بن جاتا ہے۔ ٹھیک اسی طرح جیسے آنچ سونے کو سونا ثابت کرنے کا ذریعہ بن جاتی ہے اور جو غیر سونا ہے وہ غیر سونا ثابت ہو کر رہ جاتا ہے۔
جناب انور حسین آزاد (۵۲ سال) سے ۵؍اکتوبر کی صبح کو ملاقات ہوئی۔ وہ ۱۹۹۱ سے الرسالہ پڑھ رہے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ پہلے میں صرف جذباتی انداز میں سوچنا جانتا تھا۔ الرسالہ کے مطالعہ نے مجھے سوچنے کا صحیح طریقہ بتایا۔ اس وقت میرے سامنے آج کا ہندی اخبار دینک بھاسکر تھا۔ اس کی مثال دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ ہندی اخبارات پہلے سادہ زبان میں نکلتے تھے جو گویا ہندی اسکرپٹ میں اردو ہوتی تھی۔ مگر آج وہ شدھ ہندی زبان میں نکلتے ہیں۔ اس تبدیلی کا راز یہ ہے کہ ہمارے درمیان ایسے مسلم مقرر پیدا ہوئے جو پرجوش انداز میں لاؤڈاسپیکر پر چیختے تھے اور ہندوؤں کو خطاب کرتے ہوئے کہتے تھے کہ تم کو کچھ نہیں آتاتھا ہم نے تم کو مہذب بنایا، ہم نے تم کوآزادی کا لفظ دیا، ہم سے تم نے انقلاب کا لفظ پایا، ہم سے تم نے زندہ باد و مردہ باد کہنا سیکھا، وغیرہ۔ مسلم مقررین کی اس طرح کی تقریروں کا رد عمل ہونا بالکل فطری تھا۔ چنانچہ رد عمل کے طورپر ہندی اخبارات کی زبان دھیرے دھیرے بدل گئی۔ پہلے اگر حالات نے اس کا اردو کرن کیا تھا تو اب ضد کی نفسیات کے تحت اس کا سنسکرت کرن ہوگیا۔ انہوں نے کہا کہ اس معاملہ میں ہمارے اوپر ایک اردو شاعر کا شعر صادق آتا ہے:
ہم الزام ان کو دیتے تھے قصور اپنا نکل آیا
۵ نومبر کی صبح کو قیام گاہ پر بہت سے لوگ اکٹھا ہوگئے۔ ان سے مختلف موضوعات پر باتیں ہوتی رہیں۔ جناب محمد عمران بھوپال کے ایک تاجر ہیں ان سے بات کرتے ہوئے میں نے کہا کہ صحیح تفکیر کا راز یہ ہے کہ آپ ذہنی انتشار اور سوال کے فرق کو جانیں۔
You have to differentiate between question and confusion.
میں نے کہا کہ میرے تجربے کے مطابق، بیشتر تعلیم یافتہ لوگ شاید اس فرق کو نہیں سمجھتے۔ وہ ساری زندگی ایسے سوالوں کے حل میں گذار دیتے ہیں جو دراصل سوال ہی نہیں ۔ وہ صرف ذہنی انتشار کی حیثیت رکھتے ہیں۔ اپنی اس غلطی کی بناپر وہ سچائی کی دریافت سے محروم رہتے ہیں۔ موجودہ دنیا میں ہماری عمر اتنی مختصر ہے کہ ہم اس ذہنی تعیش کا تحمل نہیں کرسکتے۔
میں نے کہا کہ سوال اور ذہنی انتشار میں فرق یہ ہے کہ حقیقی سوال اپنی ذہنی محدودیت کے اعتراف کے ساتھ کیا جاتا ہے اور ذہنی انتشار یہ ہے کہ آدمی اپنی محدودیت سے بے خبر رہ کر ایسے سوالوں کے حل میں الجھ جائے جس کی آخری حقیقت تک پہنچنا انسان کے لئے اس دنیا میں ممکن ہی نہیں۔ حقیقی یقین کی بنیاد اپنی محدودیت کا اعتراف ہے۔ ا س کے مقابلہ میں ذہنی انتشار یہ ہے کہ آدمی اپنی محدودیت سے بے خبر بنا ہوا ہو۔
۵نومبر ۲۰۰۱ ء کو گیارہ بجے بھوپال کے ایک ادارہ کو دیکھنے کا اتفاق ہوا۔ اس کا نام ’’شُوبھم وکلانگ سماج سیوا سمیتی‘‘ ہے۔ یہ ادارہ معذور بچوں کے لئے قائم کیا گیا ہے۔ اس وقت یہاں مختلف مذاہب کے ۷۵ بچے اور بچیاں موجود ہیں۔ یہاں ان کو تعلیم دلائی جاتی ہے اور انہیں مختلف قسم کے ہنر سکھائے جاتے ہیں تاکہ وہ خود کفیل ہو کر سماج میں معمول کی زندگی گذار سکیں۔ یہ ادارہ 1980 سے قائم ہے۔ وہ پہلے کرایہ کی عمارت میں تھا۔ اب وہ ایک خوبصورت ذاتی بلڈنگ میں قائم ہے۔ اب تک بہت سے بچے اور بچیاں اس ادارہ میں تعلیم وتربیت پاکر کامیابی کے ساتھ خود کفیل زندگی گذاررہے ہیں۔
بچوں اور اساتذہ کے سامنے میری ایک تقریر ہوئی۔ اس کا خلاصہ یہ تھا کہ معذور بچوں کے لئے قرآن میں ’محروم‘‘ (الذاریات ، المعارج) کا لفظ آیا ہے۔ یہ معذور بچے اللہ کے خاص بندے ہیں۔ وہ گویا دنیا میں اللہ کے سفیر ہیں۔ وہ واقعہ کی زبان میں کہہ رہے ہیں کہ اے لوگو، میری طرح تم بھی معذور ہوسکتے ہو۔ تم کو اللہ کا شکر ادا کرنا چاہئے کہ اس نے تم کو معذور نہیں بنایا۔ اس شکر کی ایک عملی صورت یہ ہے کہ تم ان معذور بچوں کی مدد کرکے ان کی معذوری کی تلافی کرو۔ دوسری بات میں نے یہ کہی کہ معذوری سادہ طورپر صرف محرومی نہیں بلکہ وہ ایک ایڈوانٹج ہے۔ معذوری آدمی کو یہ موقع دیتی ہے کہ وہ بے فائدہ مشغولیتوں سے بچ کر اپنے آپ کو صرف کار آمد قسم کی مشغولیت میں لگائے۔
وکلانگ سماج سیوا سمیتی کے ایک طالب علم آنندی سنگھ راجپوت ہیں۔ ان کی عمر ۲۲ سال ہے۔ وہ ہائی اسکول پاس کر چکے ہیں۔ وہ ایک ٹانگ سے معذور ہیں اور لاٹھی کے سہارے چلتے ہیں۔ انہوں نے اسی حالت میں محنت کرکے ہائی اسکول پاس کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ میں ہر وقت ہر چیلنج کا سامنا کرنے کے لئے تیار رہتا ہوں۔ میں کسی سے اپنے کو کم نہیں سمجھتا۔ وہ ایک پاؤں سے معذور ہونے کے باوجود نہایت مصروف زندگی گذارتے ہیں۔
۵ نومبر کو دوپہر کا کھانا جناب محمد حسین صاحب کے یہاں تھا۔ انہوں نے کافی لوگوں کو کھانے پر مدعو کیا تھا۔ صاحب خانہ نے کہا کہ میں نے خاص طورپر ایسے لوگوں کو بھی مدعو کیا تھا جو اکثر آپ کی مخالفت کرتے ہیں۔ یہاں تقریباً ۱۵ منٹ تک لوگوں کو خطاب کرنے کا موقع ملا۔ ڈاکٹر حمیداللہ ندوی نے بعد میں بتایا کہ وہاں آنے والے کئی نوجوانوں سے ان کی گفتگو ہوئی۔ ان نوجوانوں نے کہا کہ یہاں آنے سے پہلے تک ہم مولانا اور الرسالہ کے مخالف تھے۔ ان کے بارے میں ہم منفی رائے رکھتے تھے۔ مگر آج تھوڑے وقت میں انہوں نے جو بات کہی اس نے ہماری سوچ کو بدل دیا اور ہمارے اختلاف کو ختم کردیا۔ ان میں سے ایک نوجوان جو مقامی طورپر ایک ٹی وی چینل چلاتے ہیں انہوں نے کہا کہ رمضان کے پورے مہینہ میں وہ الرسالہ سے اقتباس لے کر اس کو ٹی وی کے ذریعہ لوگوں تک پہنچائیں گے۔
آج شام کو تین بجے ڈاکٹر حمید اللہ ندوی کی رہائش گاہ پر خواتین کا جلسہ ہوا۔ کافی خواتین اس میں شریک ہوئیں۔ ان کے گھر کے نیچے کا حصہ اور اوپر کا حصہ دونوں بھر گیا۔ لاؤڈ اسپیکر کے ذریعہ نیچے اوپر دونوں جگہ آواز پہنچانے کا انتظام کیا گیا تھا۔
تقریر سے پہلے قرآن کی تلاوت کی گئی۔ اس میں یہ آیت تھی۔ ’’والذین آمنوا أشد حبا للّٰہ (البقرہ ۱۶۵) میںنے اس آیت کو لے کر تقریر شروع کی ۔ میں نے کہا کہ اس کے مطابق، حُبِّ شدید صرف ایک اللہ سے ہونا چاہئے۔ میں نے کہا کہ اگر آپ اپنی سب سے قیمتی چیز ’’محبت‘‘ اللہ کو نہ دیں تو اللہ اپنی قیمتی چیز ’’جنت‘‘ آپ کو کیوں دے گا۔اگر آپ کو اپنے ایمان کا اندازہ کرنا ہو تو اس کا معیار یہ ہے کہ آپ یہ دیکھیں کہ آپ کے دل میں سب سے زیادہ محبت کس کے لئے ہے، اللہ کے لئے یا کسی اور کے لئے۔ اگر سب سے زیادہ محبت بیٹے یا بیٹی یا کسی اور چیز کے لئے ہے تو سمجھ لیجئے کہ اس آیت کے مطابق، آپ کا ایمان مطلوب معیار پر پورا نہیں اترتا۔
اس کے بعد میں نے کچھ احادیث کی روشنی میں بتایا کہ آپ کو کس اخلاق اور کردار کے ساـتھ دنیا میں رہنا چاہئے، گھر کے اندر بھی اور گھر کے باہر بھی۔
میں نے کہا کہ مشہور سنگر محمد رفیع کا ایک گانا ہے جو سارے ماں باپ کو بہت پسند آتا ہے۔ اس گانے کو سن کر لوگوں کی آنکھوں میں آنسو آجاتے ہیں۔ اس گانے میں ایک باپ اپنی بیٹی کو شادی کے بعد رخصت کرتا ہے۔ اس وقت وہ اپنے جذبات کا اظہار کرتے ہوئے اپنی بیٹی سے یہ کہتا ہے:
بابل کی دعائیں لیتی جا، جا تجھ کو سکھی سنسار ملے
میکے کی کبھی نہ یاد آئے سسرال میں اتنا پیار ملے
عام طور پر ماں اور باپ اس کو بہت پسند کرتے ہیں۔ مگر میں اس شعر کو غیر فطری سمجھتا ہوں۔ ہرماں باپ کی یہ تمنا ہوتی ہے کہ اپنی بیٹی کو جو پیار انہوں نے اپنے گھر میں دیا ہے وہی پیار اسے غیر کے گھر میں بھی ملے، یہ فطرت کے خلاف ہے۔ اس کا ایک ثبوت یہ ہے کہ خود یہی ماں باپ دوسرے گھر کی بیٹی کو وہ پیار نہیں دیتے جو اسے اپنے گھر میں شادی سے پہلے ملا ہوا تھا۔
زیادہ صحیح بات یہ ہے کہ ماں باپ اپنی بیٹی کو یہ سکھائیں کہ اپنے میکے میں جو محبت تم کو ملی تھی وہ خونی رشتے کی بنا پر اپنے آپ ملی تھی۔ سسرال میں یہ محبت تم کو اپنے حسن عمل کی بنا پر ملے گی۔ جو شادی شدہ لڑکی اس فرق کو سمجھ لے اس کو اپنے سسرال سے کبھی شکایت نہیں ہوسکتی۔
۵نومبر کی شام کو ’’ہندی بھون‘‘ میں اس سفر کا سب سے بڑا اجتماع ہوا۔ شہر کے تعلیم یافتہ ہندو اور مسلمان بڑی تعداد میں شریک ہوئے۔ یہاں تقریر کا عنوان تھا ’’جہاد، ایک پری چرچا‘‘۔ مجھ سے پہلے ایک مقرر نے اپنی تقریر میں یہ کہا کہ قرآن میں بہت سی آیتوں میں یہ حکم دیا گیا ہے کہ کافروں سے جنگ کرو۔ اس تقریر نے وہاں کے ماحول میں ایک زبردست تجسس کی فضا قائم کردی۔ نیز افغانستان اور امریکہ کے حالیہ واقعات کے نتیجہ میں جہاد مسلسل طورپر نیوز میں آگیا ہے۔ اس طرح جہا د کا موضوع گویا وقت کا ایک برننگ اشو بن گیا۔
اس طرح کے ماحول میں جہاد کے موضوع پر یہ تقریر ہوئی۔ اللہ کی توفیق سے میں نے خالص قرآن وسنت کی روشنی میں جہاد کی تشریح کی۔ ایک بات میں نے یہ کہی کہ کچھ لوگ قرآن کی چند آیتوں کو لے کر یہ ظاہر کرتے ہیں کہ قرآن جنگ و جدال کی کتاب ہے۔ مثال کے طورپر لندن کے اخبار ٹائمس نے اسلام کے بارے میں اپنے ایک مضمون کا عنوان ان الفاظ میں قائم کیاـــایک مذہب جو تشدد کو جائز قرار دیتا ہے۔
A religion that sanctions violence.
میں نے کہا کہ قرآن میں کل ۶۶۶۶ آیتیں ہیں ، جب کہ قتال سے تعلق رکھنے والی آیتیں تقریباً چالیس ہیں۔ گویا ایک فیصد سے بھی کم۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ۶۶۰۰ سے زیادہ قرآنی آیتیں وہ ہیں جن میں سچائی، اخلاق، امانتداری، عدل، انسانیت اور روحانیت جیسی اعلیٰ قدروں کی تعلیم ہے۔ اورایک فیصد سے بھی کم وہ آیتیں ہیں جن میں قتال کی بات کی گئی ہے۔ مزید یہ کہ قتال کی یہ آیتیں دفاع کے مسئلہ سے تعلق رکھتی ہیں۔ اسلام میں صرف دفاعی جنگ ہے۔ جارحانہ جنگ یا ’’مصلحانہ جنگ‘‘ اسلام میں نہیں۔ اسلام میں مصلحانہ دعوت ہے، نہ کہ مصلحانہ جنگ۔اصلاح بلاشبہہ اسلام میں مطلوب ہے مگر اسلام میں اصلاح کے لیے تبلیغ کا طریقہ ہے ، نہ کہ جنگ کا طریقہ۔
بھوپال کے مسٹر وِنَے ترپاٹھی (Tel.: 0755 766244) ایک فری لانسر ہیں۔ انہوں نے ہسٹری میںاور جنرلزم میں ایم اے کیا ہے۔ ۶نومبر کی صبح کو وہ میری قیام گاہ پر آئے اور تفصیلی انٹرویو لیا۔ ذاتی مطالعہ اور تجربے سے لے کر اسلام اور مسلمانوں کے موجودہ مسائل تک انہوں نے مختلف سوالات کئے، جن کا میں نے اپنے انداز میں جواب دیا۔
ایک سوال کے جواب میں میں نے کہا کہ آج کل ہر آدمی آتنک واد (ٹریرزم) کا نام لیتا ہے۔ مگر ٹریرزم کیا ہے، اس کو شاید ابھی تک واضح انداز میں بتایا نہیں گیا۔ یہی وجہ ہے کہ آتنک واد کے خلاف ساری کوششیں بے فائدہ ثابت ہو رہی ہیں۔ لوگ سمجھتے ہیں کہ یہ گن ورسس گن کا معاملہ ہے۔ اس لئے وہ چاہتے ہیں کہ گن کو گن کے ذریعہ کچل دیں۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ یہ گن ورسس آئیڈیالاجی کا مسئلہ ہے۔ آپ اس کو جوابی آئیڈیالاجی ہی سے کچل سکتے ہیں۔ گن اور بم آتنک واد کو ختم کرنے کا ذریعہ نہیں بن سکتے۔
میں نے کہا کہ اسلام کی روشنی میں، آتنک واد در اصل غیر حکومتی افراد یا تنظیموں کا ہتھیار اٹھا نا ہے۔ اسلام کے مطابق، صرف قائم شدہ حکومت ہی کو اسلحہ کے استعمال کاحق ہے۔ غیر حکومتی اداروں کو کسی بھی عذر کی بنا پر ہتھیار کے استعمال کاحق حاصل نہیں۔ غیر حکومتی اداروں کو اپنے حق کے لئے پر امن طریق کار کے دائرہ میں رہتے ہوئے اپنی جدوجہد چلانا چاہئے۔
آتنک واد یہ ہے کہ غیر حکومتی تنظیمیں اپنے حقوق کے نام پر ہتھیار اٹھا لیں اور اس کو جہاد فی سبیل اللہ کا نام دے کر جائز ٹھہرا ئیں۔ ان لوگوں کو آتنک واد سے روکنے کی ایک ہی صورت ہے اور وہ یہ کہ ان کی سوچ کو بدلا جائے۔ انہیں یقین دلایا جائے کہ جہاد کا نام دینے سے آپ کی ملیٹنسی جائز نہیں ہوجاتی۔
۶؍ نومبر کی صبح کو گیارہ بجے عارف عزیز صاحب (۶۰ سال) میری قیام گاہ پر آئے۔ وہ اردو روزنامہ ’’ندیم‘‘ میں نمائندہ خصوصی ہیں۔ انہوں نیتفصیلی انٹرویو لیا۔ ان کے ایک سوال کے جواب میں میں نے یہ آیت پڑھی : و إن تصبروا وتتقوا لا یضرکم کیدھم شیئا (آل عمران ۱۲۰) اس قرآنی اصول سے ثابت ہوتا ہے کہ آج ہم جس مسئلہ سے دوچار ہیں اس کا سبب سازش کی موجودگی نہیں بلکہ صبروتقویٰ کی غیر موجودگی ہے۔
اس قرآنی آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ مسائل پیدا کی صورت میں ان لوگوں کے خلاف شکایت و احتجاج کرنا جو بظاہر مسائل پیدا کرنے کے ذمے دار ہیں، یہ سراسر قرآنی تعلیم کے خلاف ہے۔ قرآن کا بتایا ہوا صحیح طریقہ یہ ہے کہ ہم خود اپنا جائزہ لیں۔ اور لوگوں کو یہ بتائیں کہ شکایت اور احتجاج میں مشغول ہونا اپنے نقصان میں مزید اضافہ کرنا ہے۔ اصل کام یہ ہے کہ اپنے اندر تقویٰ و صبر کی صفت پیدا کی جائے۔ یہی اس مسئلہ کا واحد حل ہے۔
ایک سوال کی وضاحت کرتے ہوئے میںنے کہا کہ لمبے عرصے سے کچھ نا اہل مسلم رہنما مسلمانوں کو یہ کہہ کر ڈراتے تھے کہ ہندستان میں کٹر وادی ہندو دوسرا اسپین بنا نا چاہتے ہیں۔ آزادی کے بعد جب یہاں فرقہ وارانہ فسادات ہونے لگے تو ان لوگوں نے کہنا شروع کیا کہ دیکھو ملک میں دوسرا اسپین بننے کا عمل شروع ہوگیا۔ اس وقت میں نے مسلمانوں کو بتایا کہ یہ بات سراسر بے بنیاد ہے۔ ۱۹۴۷ میں یہاں مسلمانوں کی تعداد چھ کروڑ تھی، اب یہاں مسلمانوں کی تعداد بھوپال کے دینک بھاسکر (۱۷ اکتوبر ۲۰۰۱ء) کے جائزہ کے مطابق، ۲۲ کروڑ چونسٹھ لاکھ ہوچکی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ دوسرا اسپین بنانے کا منصوبہ یا تو تھا ہی نہیں یا وہ عملاً ناکام ہوگیا۔
۶؍نومبر کی دوپہر کو ہندی روزنامہ ’’دینک بھاسکر‘‘ (بھوپال) کے نمائندہ وید ورت گری میری قیام گاہ پر آئے (Tel.: 0855 551601, 02, 03) ۔ انہوں نے تفصیلی انٹرویو ریکارڈ کیا۔ میں نے کہا کہ میرا مشن یہ ہے کہ ملک میں ہندو ؤں اور مسلمانوں کے درمیان جو تناؤ ہے وہ ختم ہو۔ اس تناؤ کی موجودگی میں کوئی بھی تعمیری کام نہیں ہوسکتا۔ ملک کی تعمیر یا ملک کے مستقبل کو بہتر بنانے کے لئے بہت سے تعمیری کام ضروری ہیں۔ اور تعمیری کام درست طورپر صرف اس وقت ہوسکتا ہے جب کہ ملک میں میل ملاپ اور باہمی خوشگواری کا ماحول پیدا ہو۔
میں نے کہا کہ میں نے غور کرنے کے بعد پایا کہ ہندستان میں باہمی کشیدگی کا سب سے بڑا سبب جلوس ہیں۔ ہندو کلچر میں اور ہندو روایات میں جلوس کی بہت اہمیت ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہندوؤں کے مذہبی جلوس نکلتے رہـتے ہیں۔ یہ جلوس سڑکوں سے گذرتے ہوئے کسی ایسے مقام پر پہنچتے ہیں جہاں مسلمانوں کی مسجد ہے۔ اب مسلمانوں کو محسوس ہوتا ہے کہ جلوس کے گانے اور باجے سے مسجد کا تقدس مجروح ہورہا ہے۔ جلوس کے نعرے مسلمانوں کو مشتعل کردیتے ہیں۔ وہ جلوس والوں سے مانگ کرتے ہیں کہ اپنا روٹ بدلو۔ اور جب وہ روٹ نہیں بدلتے تو دونوں میں ٹکراؤ کی نوبت آجاتی ہے جس کا نام فرقہ وارانہ فساد ہے۔
میں نے مسلسل کوشش کے ذریعہ یہ فارمولا دیا کہ فساد کا روک اعراض ہے۔ یعنی جلوس کو نہ روکو، اور فساد بھی نہ ہوگا۔ اب مسلمانوں نے اس فارمولا کواختیار کر لیا ہے اور یہی وجہ ہے کہ اب ملک میں فرقہ وارانہ فساد تقریباً ختم ہوگیا ہے۔
۶؍نومبر کی دوپہر کو ہندی ماہنامہ شکھر وارتا (بھوپال) کے اگزیکیٹیو ایڈیٹر مسٹر منوہر چورے آئے (Tel. 554951) ۔ انہوں نے اپنے میگزین کے لئے تفصیلی انٹرویو لیا۔ گفتگو کے دوران انہوں نے کہا کہ مسلمانوں میں لیڈر شپ ختم ہوگئی ہے۔ ایسا کیوں ہے اور اس کا علاج کیا ہے۔ میں نے کہا کہ مسلمانوں میں لیڈر شپ ختم نہیں ہوئی ہے بلکہ بدل گئی ہے۔ یعنی پرانی لیڈر شپ کی جگہ نئی لیڈر شپ آگئی ہے۔
مزید وضاحت کرتے ہوئے میں نے کہا کہ اس سے پہلے کچھ نااہل پولیٹکل لوگ ان کے لیڈر بنے ہوئے تھے۔ مسلمان اب ان لیڈروں کو چھوڑ چکے ہیں۔ اب پولیٹکل لیڈر کی جگہ نیچر لیڈر ان کا رہنما بن گیا ہے۔ پولیٹکل لیڈر ان کو بہکاتا تھا، نیچر لیڈر ان کو فطرت کے مطابق رہنمائی دے رہا ہے۔ اب مسلمانوں نے فطرت کی رہنمائی میںاپنا سفر شروع کر دیا ہے۔ انسان کی فطرت اپنے آپ ترقی کرنا چاہتی ہے۔ اس کے اندر اپنے آپ یہ مزاج ہے کہ مواقع کو استعمال کرکے اپنا مقصد حاصل کرو۔ مسلمانوں کے نااہل لیڈر مسلمانوں کی اس فطرت کو دبائے ہوئے تھے۔ اب نااہل لیڈروں سے نجات پانے کے بعد ان کی فطرت جاگ اٹھی ہے اور ان کو حقیقت پسندانہ انداز میں رہنمائی دے رہی ہے۔ چنانچہ مسلمان آزادی کے بعد چالیس سال تک جو ترقی نہ کرسکے تھے وہ ترقی انہوں نے پچھلے پندرہ سالوں میں حاصل کرلی۔ تعلیم، اقتصادیات اور دوسرے تعمیری شعبوں میں وہ تیزی سے آگے بڑھ رہے ہیں۔ میں نے کہا کہ آج ہندستان کا مسلمان ہر لحاظ سے ترقی کررہا ہے۔ اس کا منظر آپ ہندستان کے ہر شہر، ہر گاؤں میں دیکھ سکتے ہیں۔ بھوپال کو جن لوگوں نے ۱۹۴۷ کے وقت دیکھا تھا، ان سے پوچھئے، وہ بتائیں گے کہ ۱۹۴۷ کے مقابلہ میں آج بھوپال سو گنا ترقی کر چکا ہے ۔
یہ کوئی سادہ بات نہیں۔ اصل یہ ہے کہ ۱۹۴۷ سے پہلے جب یہاں ریاست قائم تھی اس وقت یہاں مبنی بر زمین اقتصادیات کا دور تھا۔ زمین چونکہ حاکم ریاست کے قبضہ میں تھی، اس لئے تمام اقتصادی امکانات ایک شخص یا ایک خاندان کے پاس تھے۔ بقیہ لوگوں کے لئے صرف یہ صورت تھی کہ وہ ریاست کے ملازم بن جائیں، اور ملازمت میں کبھی بھی زیادہ ترقی ممکن نہیں۔
آزادی کے بعد سارے ملک کی طرح بھوپال میں بھی ایک نئی تبدیلی ہوئی۔ اب یہاں مبنی برصنعت اقتصادیات کا دور آگیا۔ صنعتی دور حقیقتاً اقتصادی انفجار (economic explosion) کازمانہ تھا۔ سابق نظام کے برعکس اب اقتصادی ترقی ہر ایک کے لئے اتنی ہی قابلِ حصول ہوگئی جتنی کہ پہلے وہ حاکم فیملی کے کسی فرد کے لئے قابلِ حصول ہوتی تھی۔ یہ ہے جدید بھوپال میں عمومی ترقی کا راز۔
۶ نومبر کی شام کو ڈاکٹر حمیداللہ ندوی کی رہائش گاہ پر لوگ جمع ہوگئے۔ یہاں لوگوں کے سامنے مختلف مسائل پر اظہار خیال جاری رہا۔
ایک مسئلہ کی وضاحت کرتے ہوئے میں نے کہا کہ موجودہ زمانہ کے مسلمان بہت سے اسلامی احکام کو بھول گئے ہیں۔ انہی میں سے ایک تالیف قلب ہے۔ تالیف قلب کی اتنی اہمیت ہے کہ اس کو اموال زکوٰۃ کے آٹھ حصوں میں سے ایک حصہ قرار دیا گیا۔ تالیف قلب کا تعلق صرف مال سے نہیں ہے بلکہ اخلاق اور برتاؤ جیسی چیزوں سے بھی ہے۔
بھوپال میں جن لوگوں سے ملاقاتیں ہوئیں ان میں سے دو نوجوان یہ تھیـــــ زاہد محمد خاں اور عابد محمد خاں۔ یہ لوگ زینتھ ایجوکیشن اینڈ کیریر پرموشن سوسائٹی چلاتے ہیں اور اس کے علاوہ ایک میگزین نکالتے ہیں جس کا نام ’’صالحہ‘‘ ہے۔ یہ دونوں سنجیدہ اور صالح نوجوان ہیں اور ملت کے لئے کام کرنے کا جذبہ رکھتے ہیں۔ یہ لوگ میری مجلسوں میں برابر آتے رہے۔ ان دونوں نوجوانوں کی ایک صفت مجھے بہت پسند آئی۔ وہ خاموشی کے ساتھ میری باتوں کو سنتے تھے۔ وہ نہ سوال کرتے تھے، اور نہ کسی بات پر حجت کرتے تھے۔ میں نے کہا کہ ہماری قوم کے اندر اگر صرف ایک صفت آجائے، وہ زندگی کے اس راز کو سمجھ لیں کہ نہ بولنے کا نام بھی بولنا ہے اور نہ کرنے کا نام بھی کرنا ہے تو ہماری ملت کے مسائل پچاس فیصد اپنے آپ حل ہوجائیں۔ یہ ایک تاریخی حقیقت ہے کہ سب سے زیادہ نقصان ملّت کو ان لوگوں نے پہنچایاہے جو نہ بولنے کے وقت بولے اور نہ کرنے کے وقت کرنے کے لئے کھڑے ہوگئے۔
۷ نومبر کی صبح برادرم محمد محفوظ فلاحی (پیدائش ۱۹۶۲) سے ملاقات ہوئی۔ وہ ایک ذہین اور فعّال نوجوان ہیں۔ وہ جامعۃ الحکمت کے بانی بھی ہیں اور اس کے استاذ بھی۔ ان سے بات کرتے ہوئے میں نے کہا کہ حکمت کی تعریف بتائیے۔ انہوں نے کہا کہ زندگی گذارنے کا دانشمندانہ طریقہ، اسی کا نام حکمت ہے۔
میں نے کہا کہ آپ نے حکمت کی صحیح تعریف کی۔ پھر میں نے اس پر اضافہ کرتے ہوئے کہا کہ علم کے دو پہلو ہیں۔ اس کا ایک پہلو معلومات ہے اور اس کا دوسرا پہلو وہی ہے جس کوآپ نے دانش کے لفظ سے تعبیر کیا ہے۔معلومات سے مراد وہ چیزیں ہیں جن کو ہر آدمی سادہ کوشش کے ذریعہ جان لیتا ہے۔ مگر دانش سے مراد وہ چیز ہے جس کو جاننے کے لئے خصوصی محنت کرنی پڑتی ہے۔ معلومات کی حیثیت اگر خام مال کی ہے تو دانش کی حیثیت تیار شدہ سامان کی۔
میں نے کہا کہ ظاہری سطح پر جو چیزیں ہوتی ہیں ان کو جاننے کا نام معلومات ہے۔ مثلا آج کل اخبارات معلومات کا ذریعہ بنے ہوئے ہیں۔ ہر آدمی اخبارات یا میڈیا کے ذریعہ دنیا کے بارے میں واقفیت حاصل کرتا ہے۔ اس سے تمام لوگوں کے اندر اخباری ذہن بن گیا ہے۔ اخباروں میں جو رپورٹیں آتی ہیں اسی کو وہ جانتے ہیں اور اسی سے وہ اپنی رائے بناتے ہیں۔
یہ میرے نزدیک ایک خطرناک حالت ہے۔ اس لئے کہ اخبار یا میڈیا کی حیثیت انڈسٹری کی ہے۔ ان کا مقصد نیوز کو فروخت کرنا ہے۔ ایسی حالت میں وہ انہی خبروں کو سامنے لاتے ہیں جو زیادہ سے زیادہ قابل فروخت ہوں۔ اور عام انسانی مزاج یہ ہے کہ اس کو سنسنی خیز باتوں سے زیادہ دلچسپی ہوتی ہے۔ وہ اچھی خبروں سے کم دلچسپی لیتے ہیں اور بری خبروں کو زیادہ شوق کے ساتھ سنتے اور پڑھتے ہیں۔ عوام کے اس مزاج نے اخبار اور میڈیا کو بری خبروں کی اشاعت کی ایجنسی بنا دیا ہے۔
اس سلسلہ میں میں نے اپنا ایک دلچسپ تجربہ بیان کیا۔میںاکثر بی بی سی لندن کی ہندی سروس کو سنتا ہوں۔ وہ اپنی خبروں کے اخیر میں اپنے سامعین کے منتخب خطوط پڑھ کر سناتے ہیں۔ ایک دن انہوں نے ایک خط پڑھ کر سنایا۔ یہ خط ماریشش کے ایک ہندو نے لکھا تھا۔ اس نے شکایت کرتے ہوئے لکھا تھا کہ آپ ہندی بولنے والے علاقے کی خبریں نشر کرتے ہیں مگر آپ کے ہندی پروگرام میں ماریشش کی کوئی خبر نہیں ہوتی حالانکہ یہاں ہندی بولنے والے لوگ بہت ہیں۔بی بی سی کے اناؤنسر نے خط کو سنانے کے بعد کہا کہ ہم تو بری خبروں کو جمع کرکے آپ تک پہنچاتے ہیں۔ ماریشش میں سب اچھی خبریں ہوتی ہیں اور میڈیا کے اصول کے مطابق، اچھی خبر کوئی خبر نہیں:
Good News is not news.
میں نے کہا کہ موجودہ مسلم دنیا میں ہمارے جو قائدین ہیں وہ میڈیا کی خبروں کی بنیاد پر اٹھے ہیں۔ میرے علم کے مطابق، کوئی بھی مسلم قائد نہیں جو قرآن کی دی ہوئی بڑی خبر(النبأ العظیم) کی بنیاد پر اٹھا ہو۔ ایسی حالت میں آپ سمجھ سکتے ہیں کہ ہماری مسلم قیادتیں کس قدر بے حقیقت ہیں۔ وہ میڈیا کی دی ہوئی بری خبروں کو لے کر لیڈری کر رہے ہیں جو صرف ایک فیصد خبر کی حیثیت رکھتی ہیں۔ ننانوے فیصد خبریں اچھی ہیں مگر وہ میڈیا میں نہیں آئیں، اس لئے وہ لیڈری کا اشو بھی نہیں بنتیں۔
یہی وہ صورت حال ہے جس نے پوری دنیا میںــــــانڈیا سے لے کر عرب تک ہر مسلمان کو منفی سوچ میں مبتلا کر دیاہے۔ اور منفی سوچ سے زیادہ مہلک کوئی چیز کسی فرد یا قوم کے لئے نہیں۔
محمد محفوظ فلاحی صاحب نے کہا کہ آپ کی کتابوں کو پڑھ کر یہ اندازہ ہوتا ہے کہ امت میں کام کا موجودہ نہج زیادہ تر جذباتی سوچ پر چل رہا ہے۔ آپ کے نزدیک امت کے احیاء کا نہج اس سے مختلف ایک اور انداز میں ہونا چاہئے۔
اس مسئلہ پر کلام کرتے ہوئے میں نے کہا کہ مطالعہ اور تفکیر کے دو طریقے ہیں۔ ایک ہے، الف سے آغاز اور دوسرا ہے یاء سے آغاز۔ اس فرق کو نہ جاننے کی وجہ سے اکثر لوگ یاء سے اپنے ذہنی سفر کا آغاز کردیتے ہیں، اور وہ پھر بھٹکاؤ کے سوا اور کہیں نہیں پہنچتے۔
میں نے کہا کہ خواہ عبادت کو سمجھنے کا معاملہ ہو یا سیاست کو سمجھنے کا ۔صحیح طریقہ یہ ہے کہ سب سے پہلے قرآن کا مطالعہ کیا جائے۔ قرآن کا مطالعہ کرکے اصولی احکام کو متعین کیا جائے۔ اس کے بعد حدیث کا مطالعہ کرکے ان اصولوں کی مزید مستند تفصیل متعین کی جائے۔ اس کے بعد سیرت کا مطالعہ کرکے مستند عملی نظیر معلوم کی جائے۔ اس طرح ان تینوں قسم کے مطالعہ کے ذریعہ اسلام کا بنیادی معیار مقرر کیا جائے اور پھر اس معیار کی روشنی میں بعد کی اسلامی تاریخ کو سمجھا جائے۔
مگر اکثر لوگ یہ غلطی کرتے ہیں کہ وہ بعد کے نظائر کو لے کر اسلام کی تصویر بنانے لگتے ہیں۔ یہ معکوس طریقۂ مطالعہ کبھی درست نتیجہ تک پہنچانے والا نہیں ہوسکتا۔
ایک گفتگو کے دوران ایک تعلیم یافتہ مسلمان نے کہا کہ ۱۱ ستمبر ۲۰۰۱ ء کو امریکہ میں جہاز کو بلڈنگ سے ٹکرانے کا جو واقعہ ہوا اس کے نتیجہ میں ساری دنیا میں اسلام اور مسلمانوں کے خلاف نفرت پھیل گئی۔ انہوں نے کہا کہ اس کی ذمہ داری امریکی ٹی وی سی این این پر ہے۔ کیوں کہ یہ سی این این ہی تھا جس نے نیویارک کے ایک مقامی حادثہ کو ٹی وی کے ذریعہ ساری دنیا میں ایک ایک گھر میں پہنچا دیا۔
میں نے کہا کہ یہ اپنی ذمہ داری کو دوسرے کے اوپر ڈالنا ہے۔ یہ ایک قسم کی بددیانتی (dishonesty) ہے۔ میںنے کہا کہسی این این کوئی خبر بنانے کی فیکٹری نہیں ہے، وہ وقوع میں آنے والی خبروں کو نشر کرنے کا ایک نظام ہے۔ آپ جب ایک خبر کی تخلیق کریں گے تو سی این این ضرور اس کو لے گا۔ کیوں کہ اسی پر اس کی انڈسٹری کا انحصار ہے۔ سی این این کا مقصد خبر کو رپورٹ کرنا ہے۔ آپ ایک خبرکو وجود میں لائیں گے تو سی این این ضرور اس کو لے کر اس کی رپورٹ کرے گا تاکہ وہ اپنی انڈسٹری کو چلا سکے۔ اگر آپ چاہتے ہیں کہ سی این این ایسا نہ کرے تو آپ خود اپنے آپ کو ایسی خبر کی تخلیق سے روکیں۔ موجودہ قسم کی شکایت کا کوئی فائدہ نہیں۔
ایک مسلم نوجوان نے کہا کہ میں آپ کا الرسالہ پڑھتا ہوں مگر آپ کی ایک بات میری سمجھ میں نہیں آتی۔ آپ ہمیشہ یہ کہتے ہیں کہ جہاد سے پہلے تیاری ضروری ہے۔ آپ یہ بتائیے کہ اسلام کے دور اول میں جو غزوہ ٔ بدر ہوا اس کے لئے مسلمانوں نے کیا تیاری کی تھی۔ دشمنوں کے مقابلہ میں یہ غزوہ گویا بلا تیاری کے ہوا۔
میںنے کہا کہ آپ نے برعکس بات کہی۔ غزوہ ٔ بدر تو سُپر تیاری کے بعد ہوا تھا۔ آپ اس سلسلہ میں سورہ آل عمران اور سورہ أنفال کی متعلق آیتوں کا مطالعہ کیجیے۔اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ جب یہ خبر پہنچی کہ مشرکین کی فوج مدینہ کی طرف بڑھ رہی ہے، اس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے مقابلہ کے لئے نکلنے کا ارادہ فرمایا۔ مگر سازو سامان کی کمی کی بنا پر مسلمانوں کی ایک جماعت راضی نہ تھی۔ حتیٰ کہ قرآن کے مطابق، انہوں نے رسول اللہ سے اس معاملہ میں جدال کیا۔وہ سمجھتے تھے کہ موجودہ حالت میں مشرک فوج سے لڑنے کے لئے نکلنا موت کے لئے نکلنا ہے۔ پھر اللہ نے وحی کے ذریعہ فرمایا کہ تم لوگ مقابلہ کے لیے نکلو۔ ہم اس مہم میں تمہاری مدد کے لئے بڑی تعداد میں فرشتے لگاتار بھیجیں گے۔
اس سے معلوم ہوا کہ بدر کی لڑائی معروف خیال کے مطابق، تین سو تیرہ کی تعداد نے نہیں لڑی بلکہ ان کے ساتھ بڑی تعداد میں فرشتوں کا لشکر بھی مدد کے طورپر شامل تھا۔ فرشتوں کی یہی مدد ہے جس نے بدر کی جنگ میںکامیابی کو یقینی بنا دیا۔ موجودہ زمانہ میں جو مسلمان کمتر تیاری کے ذریعہ طاقت ور قوموں سے جنگ چھیڑے ہوئے ہیں ان کے لئے اس قسم کی کوئی خدائی بشارت موجود نہیں، اس لئے موجودہ عدم تیاری کی حالت میں ان کے لئے لڑنا بھی جائز نہیں۔
میرا یہ جواب دو اور دو چار کی طرح واضح تھا، مگر مذکورہ مسلم نوجوان نے سننے کے بعد آخر میں کہا کہ دعا کیجئے میرا یہ خلجان رفع ہوجائے۔ میں نے کہا کہ اتنی واضح دلیل سامنے آنے کے بعد اب آپ کے لئے اعتراف ہے، نہ کہ رفع خلجان کی دعا۔
ڈاکٹر حمید اللہ ندوی (ریڈر شعبۂ عربی، بھوپال یونیورسٹی) کا مکان جہاں میں ٹھہرا تھا، وہ صرف ایک مکان نہیں بلکہ وہ ایک پیغام بھی ہے۔ یہ ایک خوبصورت نو تعمیر مکان ہے۔ ڈاکٹر حمید اللہ ندوی نے یہاں ایک پلاٹ خریدا اور کسی صاحب سے اس کا ایک نقشہ نبوایا۔ اس نقشہ کو انہوں نے مشورہ کے لئے مسٹر راجیندر سنگھ کو دکھایا۔ وہ سِول انجینئر بھی ہیں اور یہاں کے ایک ممتاز صنعت کار بھی۔ مسٹر راجیندر سنگھ نے کہا کہ کیا یہ آپ کے مکان کا نقشہ ہے۔ ڈاکٹر حمید اللہ ندوی نے کہا کہ ہاں۔ مسٹر راجیندر سنگھ نے کہا کہ پھر آپ کو اس کے لئے سوچنے کی ضرورت نہیں۔ اب یہ میرا کام ہے اور میں ہی اس کو انجام دوں گا۔
مسٹر راجیندر سنگھ نے اس کے بعد نیا بہتر نقشہ بنایا اور پھر اپنے آدمیوں کو تعمیر کے کام پر لگا دیا۔ انتہائی مصروفیت کے باوجود وہ خود اس کی نگرانی کرنے لگے۔ انہوں نے اپنے ماربل کے ساتھ اس کے لئے بھی ماربل منگوایا ۔ انہوں نے نہ صرف اپنا پورا ہنر مکان کی تعمیر میں لگایا بلکہ اپنا پیسہ بھی اس میں خرچ کیا۔ کسی بھی قسم کے معاوضہ کے بغیر انہوں نے یہ کام اس طرح کیا جیسے کہ وہ ان کا اپنا کام ہو۔ یہاں تک کہ انہوں نے چھوٹے سے پلاٹ میں خوبصورت دو منزلہ مکان تیار کردیا۔ یہ سارا کام انہوں نے اس قدر بے لوثی کے ساتھ کیا کہ لفظی طورپر بھی انہوں نے کبھی اس کا اظہار کرنا پسند نہیں کیا۔
اس کو دیکھ کر میں نے کہا کہ ڈاکٹر حمید اللہ ندوی اگر کسی معیاری مسلم ملک میں ہوتے اور کوئی مسلم ماہر تعمیر بلا معاوضہ ان کی مدد کرنا چاہتا تو اس سے زیادہ وہ اور کیا کرسکتا تھا۔حقیقت یہ ہے کہ ہندستان انسانوں کا ایک ملک تھا مگر کچھ نا اہل لیڈروں نے اس کو غلط طورپر مسلم دشمنوں کا ملک سمجھ لیا۔ یہی وہ غلطی ہے جس نے ان بھیانک نتائج کی صورت اختیار کی جس کی شکایت مسلمان ۱۹۴۷ سے لے کر اب تک کررہے ہیں۔
بھوپال کی ایک مسجد میں اپنے ساتھیوں کے ہمراہ فجر کی نماز ادا کی۔ دوسری رکعت کے آخر میں امام صاحب نے قنوت نازلہ پڑھی۔ اس میں ’’کفار‘‘ کے لئے بد دعا تھی۔وہ بددعا کے کلمات کہتے ہوئے یہاں پہنچے: اللھم دمر دیارھم، اللھم أھلکھم کما أھلکت عاداًوثموداً۔
یہ عربی الفاظ سن کر میں تھرا اٹھا۔ میرے بدن کے رونگٹے کھڑے ہوگئے۔ اس لیے کہ اس قسم کی دعا کرنے کے نہایت ہولناک تقاضے ہیں۔ اس قسم کی دعا کا وقت وہ ہے جب کہ اہل ایمان اتمام حجت کے بعد کفارومشرکین کی بستیوں سے ہجرت کرکے باہر چلے گئے ہوں۔ میںنے سوچا کہ مسلمانوں کے اصاغر و اکابر لمبی مدت سے اپنی مسجدوں میں اس قسم کی بددعائیں کر رہے ہیں۔ یہ اللہ کی رحمت ہے کہ ان کی یہ بد دعا قبول نہیں ہوئی۔ اگر یہ بد دعا قبول ہو جاتی تو تدمیر اور اہلاک کا عذاب آنے کی صورت میں خود بد دعا کرنے والے مسلمان بھی ہلاکت کا نشانہ بن جاتے۔ کیوں کہ وہ خود بھی انہی بستیوں میں مخلوط طورپر آباد ہیں۔
ایک صاحب نے کہا کہ میں نے الرسالہ والوں اور غیر الرسالہ والوں کے درمیان ایک عجیب فرق پایا ہے۔ الرسالہ کے قارئین دوسروں کے بارے میں ہمیشہ مثبت باتیں کرتے ہیں۔ اس کے برعکس جولوگ الرسالہ کے قاری نہیں ہیں وہ دوسروں کے بارے میں ہمیشہ منفی باتیں کرتے ہیں۔ ایسا کیوں ہے۔
میں نے کہا کہ اس معاملہ کو آپ ایک مثال سے سمجھئے۔ ایک لڑکی جب اپنے میکے میں ہو جہاں صرف اس کا باپ، اس کی ماں، اس کا بھائی اور اس کی بہن ہو، ایسی حالت میں اگر آپ لڑکی سے گھر کی کوئی برائی کریں تو وہ فوراً اس کا دفاع کرے گی۔ وہ کہے گی کہ ہمارے گھر میں سب ٹھیک ہے، یہاں شکایت کی کوئی بات نہیں۔ مگر یہی لڑکی جب شادی ہونے کے بعد اپنے سسرال میں جاتی ہے اور وہاں ساس اور بہو کا جھگڑا پیدا ہوتا ہے۔ اس کے بعد اس لڑکی سے سسرال کی کوئی شکایت کیجئے تو فوراً وہ اس کو درست مان لے گی۔
میں نے کہا کہ اس مثال سے آپ دونوں کے درمیان فرق کے معاملہ کو سمجھ سکتے ہیں۔ الرسالہ کے علاوہ مسلمانوں کے جو پرچے نکلتے ہیں، خواہ وہ ہندستان کے ہوں یا ہندستان کے باہر کے، خواہ وہ اردو کے پرچے ہوں یا اردو کے علاوہ دوسری زبانوں کے مسلم پرچے، تمام پرچوں کا یہ حال ہے کہ وہ غیر مسلم قوموں کی شکایت سے بھرے رہتے ہیں۔ جو عورت یا مرد ان پرچوں کو پڑھتے ہیں ان کا ذہن وہی بنتا ہے جو ایک خاتون کا ذہن سسرال کے ماحول میں بنتا ہے۔ الرسالہ کا معاملہ اللہ کے فضل سے اس سے مختلف ہے۔ الرسالہ اپنے قارئین میں مثبت سوچ پیدا کرتا ہے۔ وہ واقعات میں نفرت کے بجائے محبت کے پہلو ابھارتا ہے۔ الرسالہ کی کوشش یہ ہوتی ہے کہ لوگ اپنی قوم اور غیر قوم کی نظر سے دیکھنے کے بجائے تمام لوگوں کو انسان کی نظر سے دیکھیں۔ اس بنا پر الرسالہ کے قاری کے اندر وہ مزاج بنتا ہے جو ایک خاتون کے اندر اس وقت ہوتا ہے جب کہ وہ اپنے میکے میںاپنے خونی رشتوں کے درمیان ہو۔
بھوپال سے انگریزی زبان میں ایک ماہانہ میگزین نکلتا ہے۔ اس کا نام ایوریسیا ٹائمس (Eurasia Times) ہے۔ ایک صاحب نے اس کا شمارہ (نومبر ۲۰۰۱) دیا۔اس شمارہ میں ایک مضمون کا عنوان یہ تھاـــــــــدہشت گردی کا مقابلہ اسرائیل کے انداز میں:
Fighting terrorism, Israel style.
اس میںبتایا گیا تھا کہ دہشت گردی سے مقابلہ کا ایک طریقہ وہ ہے جو اسرائیل نے اختیار کیا ہے، یعنی دہشت گردی کے جواب میں دہشت گردی۔ میں نے ایک صاحب سے کہا کہ آپ ایک مضمون لکھئے جس کا عنوان ہوــــــــدہشت گردی کا مقابلہ اسلام کے انداز میں :
Fighting terrorism, Islam style.
آپ اس مضمون میں بتائیے کہ اسلام کا طریقہ دہشت گردی کے بم کو ڈیفیوز کرنے کا ہے،نہ کہ بم کے اوپر بم مارنے کا۔ رسول اللہ ﷺ نے اپنی پوری زندگی میں یہی حکیمانہ طریقہ اختیار فرمایا۔
بھوپال کے قیام کے دوران وہاں تقریباً دس پروگرام ہوئے۔ ایک پروگرام میں میں نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ صحیح بخاری کی ایک روایت کے مطابق، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی عام پالیسی یہ تھی کہ جب دو میں سے ایک کا انتخاب کرنا ہو تو آپ کا طریقہ اختیار أیسر (easier option) کا ہوتا تھا، نہ کہ اختیار أعسر (harder option) کا۔ موجودہ زمانہ میں مسلمان جہاں جہاں جہاد کے نام سے متشددانہ لڑائی چھیڑے ہوئے ہیں، ہر جگہ ان کے لیے پُر امن طریقِ کار کا انتخاب ممکن تھا۔ مگر انہوں نے ہر جگہ پرتشدد طریق کار کا انتخاب کیا جو سراسر سنت نبوی کے خلاف تھا۔ اسی لیے ان کے حصہ میں تباہی کے سوا اور کچھ نہ آیا۔
میں نے کہا کہ بیسویں صدی میں گاندھی اور نیلسن منڈیلا نے اسلام کا طریقہ (اختیار أیسر) اپنا کر شاندار کامیابی حاصل کی۔ عین اُسی وقت اس کے برعکس طورپر مسلمانوں نے یہ کیا کہ اسلام کے طریقہ کے خلاف (اختیار اعسر ) کو اپنا کر اپنے آپ کو تباہی میں ڈال دیا۔
بھوپال کے دوران قیام میں جو پروگرام ہوئے وہ برابر میڈیا میںآتے رہے۔ اخبارات میں بھی اور ٹیلی ویزن میں بھی۔ مثلاً دینک نئی دنیا (۶نومبر ۲۰۰۱) میں ایک تقریر کی رپورٹنگ چھپی۔ اس کا عنوان یہ تھا ــــــــسچائی کی تلاش کے لیے کوشش کرتے رہنا ہی جہاد ہے:
lPpkbZ dh ryk'k ds fy, dksf'k'k djrs jguk gh ftgkn gSA
اسی طرح دینک بھاسکر کے شمارہ (۴ نومبر ۲۰۰۱) میںایک پروگرام کی رپورٹ چھپی۔ اس کا عنوان یہ تھاـــــاسلام لڑائی کا مذہب نہیں:
bLyke yM+kbZ dk et+gc ughaA
بھوپال میں میں ۳ نومبر کو پہنچا تھا۔ ۷ نومبر کو وہاں سے واپسی ہوئی۔ اس دوران بار بار شہر کے مختلف حصوں میں جانے کا موقع ملا۔ ان مشاہدات اور تجربات سے اندازہ ہوا کہ نوابی دور کے مقابلہ میں آج یہاں کے مسلمان ہر اعتبار سے کئی گنا زیادہ ترقی کر چکے ہیں۔ اس ترقی کا نتیجہ یہ ہونا چاہئے تھا کہ یہاں کے مسلمانوں کے سینے میں شکر کا چشمہ رواں ہو، مگر اپنے تجربہ کے مطابق، میں نے یہاں کے کسی مسلمان کو شکر خداوندی کے جذبہ سے سرشار نہیں پایا۔
ریاست کے دور میں نواب کی تعمیر کی ہوئی تاج المساجد کی قدیم تصویر آج بھی موجود ہے۔ اس تصویر میں یہ مسجد ایک کھنڈر کی مانند نظر آتی ہے مگر آج یہ تاج المساجد ایک عظیم کامپلیکس کی صورت اختیار کرچکی ہے۔ ہر مسجد اور ہر مدرسہ اور ہر مسلم ادارہ پہلے کے مقابلہ میں بہت زیادہ ترقی کر چکا ہے۔ آج یہاں کے مسلمانوں کے پاس اتنی زیادہ کاریں ہیں جن کا تصور بھی ۱۹۴۷ میں نہیں کیا جاسکتا تھا۔ سر وسوں اور تجارتوں میں مسلمان پہلے کے مقابلہ میں نمایاں حد تک زیادہ جگہ حاصل کرچکے ہیں۔ ایک مسلم اجتماع میں میں نے کہا کہ کیا آپ میں سے کوئی شخص یہ کہہ سکتا ہے کہ آپ کا خاندان ۱۹۴۷ میں جہاں تھا اب وہ اس سے پیچھے چلا گیا ہے۔ مگر کوئی ایک شخص بھی یہ کہنے کے لئے تیار نہیں ہوا۔ میرا احساس ہے کہ موجودہ زمانہ کے مسلمانوں میں ساری دنیا میں جو چیز مفقود ہے وہ شکر کا جذبہ ہے۔ ہر آدمی کا سینہ فرضی شکایتوں سے بھرا ہوا ہے۔ کسی مسلمان کے سینے میں شکر کا دریا بہتا ہوا نظر نہیں آتا، جب کہ شکر سب سے بڑی عبادت ہے۔
۷ نومبر کو جب میں واپسی کے لئے روانہ ہوا تو میری قیام گاہ (مکان ڈاکٹر حمید اللہ ندوی) پر کچھ خواتین اکٹھا ہوگئیں۔ ان سے خطاب کرتے ہوئے میں نے کہا کہ آپ سب کو میری ایک نصیحت ہے۔ وہ یہ کہ آپ لوگ بے شکایت زندگی گذاریں۔ میں نے کہا کہ زندگی نام ہے، شکایتوں کے درمیان شکایت سے خالی ہوکر رہنا۔
میں نے کہا کہ موجودہ دنیا کو اس طرح بنایا گیا ہے کہ یہاں بار بار ایک کو دوسرے سے شکایتیں پیدا ہوں۔ شکایت خدا کے تخلیقی نقشہ کا ایک حصہ ہے۔ ایسا اس لیے کیا گیا ہے تاکہ آپ کا امتحان لیاجائے۔ جب بھی آپ کو کسی سے شکایت پیدا ہو تو اُس کو انسان سے نہ جوڑیئے بلکہ یہ سمجھ لیجئے کہ وہ امتحان کا ایک پرچہ ہے جو براہِ راست اللہ کی طرف سے آپ کے پاس آیا ہے۔ اس جانچ میں کامیاب ہونے کا واحد راز یہ ہے کہ آپ شکایت کو بے شکایت میں تبدیل کردیں۔ شکایت کو شکایت کے طورپر لینا امتحان میں ناکام ہونے کا ثبوت ہے اور شکایت کو بے شکایت بنا دینا امتحان میں کامیابی کا ثبوت ۔
واپسی کے وقت میں بھوپال ایر پورٹ پر اپنے ساتھیوں کے ہمراہ بیٹھا ہوا تھا۔ اتنے میں ایرپورٹ کے ایک کارکن مسٹر عبد الغفور خاں(Tel.: 548121) میرے پاس آئے۔ انہوں نے کہا کہ آج کے اخبار میں آپ کے بھوپال کے پروگرام کی رپورٹ چھپی ہے۔ میں نے اس با تصویر رپورٹ کو پڑھا ہے۔ اس سے میںنے آپ کو پہچانا۔ اس کے بعد انہوں نے بھوپال سے چھپنے والے اُس ہندی اخبار کی مذکورہ کاپی دی اور کہا کہ میرے لائق کوئی خدمت ہو تو بتائیے۔ میں نے کہا کہ آپ کا شکریہ، کوئی ضرورت ہوئی تو ان شاء اللہ آپ کو زحمت دی جائے گی۔
میں اپنے ساتھیوں سے کچھ دینی باتیں کر رہا تھا۔ ایک سردارجی ہمارے پاس آئے اور کھڑے ہوکر میری باتیں سننے لگے۔ انہوں نے کہا کہ آپ مجھ کو خدا کے ایک سچے بندے دکھائی دیتے ہیں۔ میںآپ کی باتوں سے بہت پربھاوت ہواہوں۔ اس کے بعد انہوں نے اپنا کارڈ دیا۔ وہ بھوپال میں رہتے ہیں۔ ان کا نام مسٹر تَرُن سنگھ نام دھاری (Tel.: 0755 -465511) ہے۔ انہوں نے اپنا کارڈ دیتے ہوئے کہا:
I am a bearer cheque for you.
سات نومبر ۲۰۰۱ کو بھوپال سے دہلی کے لئے واپسی ہوئی۔ شہر سے روانہ ہوکر ایر پورٹ پہنچا۔ یہاں بہت سے لوگ اکٹھا ہوگئے۔ ایک اجتماع کی صورت بن گئی۔ جہاز کسی قدر لیٹ تھا۔ چنانچہ یہ غیر رسمی اجتماع دیر تک جاری رہا۔
یہاںایک سوال کے جواب میں میںنے کہا کہ دنیا میں ہر چیز جو آدمی کو ملی ہوئی ہے وہ اس کے لئے ایک پرچۂ امتحان ہے۔ یہی جاب (job) کا معاملہ بھی ہے۔ جاب بھی حقیقتہً ذریعۂ رزق نہیں ہے بلکہ وہ ایک پرچۂ امتحان ہے۔ میں نے کہا کہ اگر کوئی آدمی آپ کا جاب چھینے تو وہ صرف آپ کا ایک ٹیسٹ پیپر چھینے گا، وہ آپ کا فیوچر آپ سے چھین نہیں سکتا۔
بھوپال سے انڈین ایر لائنس کی فلائٹ کے ذریعہ دہلی واپس آیا۔ دوران پرواز ایک بار سنائی دیا کہ ایک مسافر خاتون پریشانی کے عالم میں چیخ رہی ہے۔ وہ انگریزی میں بار بار کہہ رہی تھی:
O God, any doctor, help me, please.
یہ سات نومبر ۲۰۰۱ء کا واقعہ ہے۔ قصہ یہ ہے کہ مذکورہ خاتون کا چھوٹا بچہ دورانِ پرواز اچانک بے ہوش ہوگیا۔ یہ دیکھ کر مذکورہ خاتون چیخنے چلانے لگی۔ دوران پرواز جہاز کے اندر کچھ نہیں ہوسکتا تھا۔ مگر جہاز کے کارکنوں نے خاتون سے کہا کہ آپ پریشان نہ ہوں، ایر پورٹ پر پہنچتے ہی آپ کے لیے طبّی انتظام کردیا جائے گا۔ چنانچہ انہوں نے دورانِ پرواز ہی ٹیلی فون کے ذریعہ ایر پورٹ پر خبر کر دی۔ جہاز جب دلّی ایر پورٹ پر اُترا تو وہاں پہلے ہی سے ایک کار کھڑی ہوئی تھی۔ جہاز کے رُکتے ہی فوراً مذکورہ خاتون اوراُس کے بچہ کو اتار کر گاڑی میں بٹھایا گیا اور اس کو تیزی سے قریب کے اسپتال میں پہنچا دیا گیاــــــ یہ اُس چیز کا کرشمہ تھا جس کو جدید کمیونیکیشن کہا جاتا ہے۔
سفر سے واپسی کے بعد بھوپال سے ڈاکٹر حمید اللہ ندوی کا خط مورخہ ۲۹ نومبر ۲۰۰۱ ء ملا۔ اس کا کچھ حصہ یہاںنقل کیا جاتا ہے۔
اجتماع کے بہت خوشگوار نتائج پیدا ہوئے ان میں سے کچھ کو یہاں مختصراً لکھتا ہوں:
جب رمضان آیا تو ہمارے نئے نوجوان ساتھی عابد خان، زاہد خان صاحبان جو ایک ٹی وی چینل سے جڑے ہوئے ہیں، ان لوگوں نے رمضان میں روزانہ میری تفسیر ریکارڈ کرواکر نشر کرنا شروع کر دیا ۔ یہ بات پہلے سے ذہن میں تھی مگر مجھے زیادہ یقین نہیں تھا۔ آپ کی تشریف آوری سے کچھ دن پہلے اندور کے ایک جلسہ میں میری تقریر تھی۔ اتفاق سے اس میں ٹی وی چینل کے مسلمان مالک بھی شریک تھے تب بات اور زیادہ پختہ ہوگئی۔ یہ سلسلہ خدا نے بہت کامیاب کیا۔
تأثرات کا عالم یہ ہے کہ ہمارے مشرّف حسین صاحب جو تأثر دینے میں بہت غیر جانبدار ہیں، انہوں نے کہاکہ اس سفر میں ایسا ہوا کہ مولانا صاحب نے گویا سرداران قریش کو دعوت پیش کردی۔ الطاف صدیقی صاحب نے کہا کہ ہر سیکنڈ اور ہر منٹ فائدہ سے بھر پور تھا اور ہر طبقہ کے خواص نے اس بار مولانا سے جتنا فائدہ اٹھایا اتنا کبھی نہیں اٹھایا۔ ڈاکٹر گوتم نے کہا کہ مولانا نے پورے شہر کو ہلا کر رکھ دیا۔ سارنگ جی کا آپ کے پروگرام کے بارے میں کہنا ہے کہ شہر کے ہر ورگ کا کِریم اور انٹیلیکچول طبقہ بھوپال میں میرے سامنے کبھی اس طرح اکٹھا نہیں ہوا نہ اتنا زیادہ پربھاوت ہوا۔ محمد حسین صاحب شیلٹر (شاہجہاں باد) نے تو آپ کے سامنے ہی اپنا تأثر بیان کر دیا تھا کہ جن مخالفین کو ہم نے کھانے پر بلایا تھا وہ آئے ہی نہیں (جاء الحق و زھق الباطلکی سی کیفیت ہو گئی)۔ اشفاق مشہدی ندوی جو کہ راشٹریہ سہارا اخبار کے نمائندہ ہیں وہ میرے گھر پر مبارکباد دینے آئے۔ انہوں نے کہا کہ اب میں لوگوں سے کہتا ہوں کہ ’’مولانا‘‘ دعوت کا اسی طرح ماحول بناتے ہیں جس طرح کسان پہلے زمین پر محنت کرتا ہے پھر وہ بیج ڈالتا ہے۔ پھر اس حکمت کے ساتھ پوری فصل تیار ہوجاتی ہے۔ راجیندر سنگھ صاحب نے کہا کہ اس بار میںمولانا کا پورے طورپر مرید ہوگیا۔ انہوں نے کہا کہ میری رہائش گاہ پر جتنے لوگ آئے تھے سب متاثر ہوئے خاص طور پر کمشنر صاحب نے کہا کہ ایسے ہوتے ہیں صحیح سوچ بنانے والے۔
راجیندر سنگھ صاحب وہ باتیں بھی دہراتے ہیں جو آپ نے ان کے گھر کی خواتین سے کہی تھیں۔ انہوں نے مجھ سے کہا کہ آپ بھی اسی اصلاحی انداز کو اختیار کیجئے۔ انہوں نے کہا کہ پہلے ہی جملہ میں آپ نے ایسی بات کہہ دی جو خواتین کو بہت زیادہ پربھاوت کرنے والی تھی ۔
پریم نرائن گپتا جی نے کہا کہ مولانانے بھوپال کو ایک پوتر ماحول میں نہلا دیا۔جناب شکیل رضا صاحب کا تاثر بھی آپ کے سامنے ہے جنہوں نے دعوت کی تھی۔ عمران صاحب اس بار اور زیادہ متاثر ہوئے۔
یہ پروگرام ہم نے بہت زیادہ اندیشوں اور خطرات کے ماحول میں کیا تھا۔ ہم نے آپ کی آمد اور آپ کے پروگرام کے لئے کبھی اتنے اندیشے اور خطرے محسوس نہیں کئے جتنا کہ اس بار۔ واقعہ یہ ہے کہ مخالفین نے طے کر لیا تھا کہ وہ ضرور کوئی بڑی گڑبڑی پیدا کریں گے، مگر خدا نے وہ قدرت دکھائی کہ ألقیٰ فی قلوبھم الرعب کا معاملہ ہوگیا۔
اس میں ایک اور بڑا اہم فائدہ جو ہوا وہ بھی ذکر کروں گا۔ زینتھ ایجو کیشن اینڈ کیریر ویلفیر سوسائٹی کے لڑکے جیسا کہ پہلے میں نے ذکر کیا تھا، بھوپال کے نوجوانوں کے ایک بڑے طبقہ پر اثر رکھتے ہیں، وہ دو سال پہلے تک پُر تشدد طریقہ کے قائل تھے۔ وہ میرے پاس اس نیت سے آئے کہ علماء ان کا ساتھ کیوں نہیں دیتے اور نہ ہی انہیں مطمئن کر پاتے ہیں۔ قریب چھ ماہ کی محنت کے بعد اللہ نے ان کو بدل دیا تھا۔ وہ مثبت طریقہ پر کام کرنے لگے۔ اور پھر پہلے میرے نام کے ساتھ میرے مضامین چھاپنے لگے۔ جو میگزین (ہندی) وہ نکالتے ہیں اس میں صلاح کار کے طورپر میرا نام دے دیا اور آپ کے مضمون صرف مأخوذ لکھ کر (میری اجازت سے) چھاپنے کی جرأت کر لی۔ اب آپ کے دورہ کے بعدکیا ہوا، اب وہ ہوا جس کی میں امید نہیں کر سکتا تھا۔ وہ یہ کہ دعوت نامے میں انہوں نے دعاۃ کے نام کے ساتھ سوسائٹی کے نام میں اپنا نام شامل کروادیا۔ آپ کی مخالفت پروگرام سے پہلے ۲۸؍ اکتوبر کو صوفیہ مسجد کے علاقہ میں تالاب کے کنارے محلہ کھانوں گاؤسا میں ہوئی تب وہ اندور میں تھے۔ انہوں نے اندور سے ہی مجھے مطلع کیا کہ اس طرح کی مخالفانہ میٹنگ ہورہی ہے۔ پھر آپ کی آمد کے ایک دن پہلے محلّہ بدھوارہ میں میٹنگ ہوئی۔ وہ لوگ براہِ راست سیدھے میٹنگ میں پہنچ گئے اور کہا کہ ہم ہیں مولانا حمیداللہ اور مولانا وحید الدین خاں کے ساتھ۔ سوچ لو کہ کیا تم کو گڑبڑ کرنا ہے۔ اِدھر یا اُدھر فیصلہ ہوجائے گا۔ وائس چانسلر مسٹر ہرش وردھن تیواری کی بات تو آپ نے سن لی۔ انہوں نے کہا تھا کہ جو کتابیں آپ نے ان کو دیں اسے انہوں نے تین گھنٹے تک پڑھااور اسلام کو سمجھ لیا۔عابد خاں اور زاہد خاں صاحبان نے بھی اس اجتماع سے بہت اچھا اثر قبول کیا۔ عورتوں کا جلسہ بہت زیادہ کامیاب رہا۔ یہ جلسہ Women Islamic Studies Circle کی طرف سے تھا جس کی صدر میری اہلیہ اور ذمہ دار تینوں بیٹیاں اور خاص طورپر سیما، سعدیہ، صائمہ اور ان کی کچھ سہیلیاں ہیں۔ ایک رکن سہیلی کا نام بھی سیما ہے۔
خواتین کے جلسہ میں میرے مکان کے اوپر نیچے دونوں ہال اور سارے کمرے بھرے ہوئے تھے۔ لوگوں نے اپنی زندگی میں پہلی بار دیکھا کہ عورتوں نے کامل خاموشی کے ساتھ پوری تقریر سنی۔ زیادہ تر عورتوں کا تأثر یہ تھا کہ دین کی باتیں اس طرح فطری انداز میں کوئی نہیں سمجھاتا۔ مولانا اختر قاسمی صاحب کی خوش دامن صاحبہ اپنے گھر پر جاکر روئیں کہ یہ باتیں ہیں عمل کرنے کی۔ اور آپ نے دیکھا کہ جلسے کے بعد سب عورتیں کتنی خاموشی کے ساتھ بغیر شور کے کس طرح باوقار طریقے سے گئیں ۔ آپ اندر کے کمرہ میں جہاں تشریف رکھتے تھے آپ نے کوئی شور کی آواز نہیں سنی۔ یہ سب اللہ کا فضل وکرم اور احسان ہے۔

(حمید اللّٰہ ندوی)
واپس اوپر جائیں

ایک خط

برادر محترم شمشاد محمد خاں صاحب السلام علیکم ورحمۃ اللہ
محترمہ مریم صاحبہ نے اپنا خط مورخہ ۱۶جنوری ۲۰۰۲ آپ کے نام لکھا تھا جس کو آپ نے بذریعہ فیکس میرے پاس بھیج دیا ہے۔ یہ انگریزی خط انہوں نے میرے کچھ مضامین کے خلاف سخت ردّعمل کے طورپر لکھا ہے۔ مگر ان کا یہ منفی ردّعمل تمام تر غلط فہمی پر مبنی ہے۔ان کا یہ پورا خط اس قدیم عربی مقولہ کے مصداق ہے کہ : الناس أعداء ما جہلوا (لوگ اس چیز کے دشمن ہو جاتے ہیں جس سے وہ بے خبر ہوں)۔ بظاہر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ موصوفہ نے میرے صرف کچھ مضامین کو سرسری طورپر پڑھا ہے۔ اگر وہ میری تمام تحریروں کو پڑھتیں تو ہر گز وہ ایسا بے بنیاد خط نہ لکھتیں۔
۱۔ موجودہ زمانہ کے مسلمان مختلف مقامات پر جہاد کے نام سے جو مسلح جنگ کررہے ہیں، اس کی بابت راقم الحروف کا کہنا ہے کہ ان میں سے کوئی بھی اسلامی جہاد نہیں۔ جہاد بلا شبہہ اسلام کی ایک تعلیم ہے مگر موجودہ زمانہ کے مسلمانوں کا جہاد اسلامی جہاد نہیں۔ اس پر وہ اپنے خط میں فرماتی ہیں کہ یہ نظریہ قرآن اور سنت سے مکمل انکار کے ہم معنیٰ ہے۔ اپنے نقطۂ نظر کے حق میں انہوں نے قرآن کی ایک آیت کو بطور حوالہ پیش کیا ہے۔ اس آیت کا ترجمہ یہ ہے: کیا تم نے بنی اسرائیل کے سرداروں کو نہیں دیکھا موسیٰ کے بعد، جب کہ انہوں نے اپنے نبی سے کہا کہ ہمارے لئے ایک بادشاہ مقرر کر دو تاکہ ہم اللہ کی راہ میں لڑیں۔ نبی نے جواب دیا: ایسا نہ ہو کہ تم کو لڑائی کا حکم دیاجائے تب تم نہ لڑو۔ انہوں نے کہا یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ ہم نہ لڑیں اللہ کی راہ میں۔ حالاں کہ ہم کواپنے گھروں سے نکالا گیا ہے اور اپنے بچوں سے جدا کیا گیا ہے۔ پھر جب ان کو لڑائی کا حکم ہوا تو تھوڑے لوگوں کے سوا سب پھر گئے۔ اور اللہ ظالموں کو خوب جانتا ہے۔(البقرہ ۲۴۶)
قرآن کی اس آیت سے عین وہی بات ثابت ہوتی ہے جس کا میں اظہار کرتا رہا ہوں۔ اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ قتال یا مسلّح جہاد کے لئے ضروری ہے کہ وہ ایک باضابطہ حاکم کے تحت ہو۔ غیر حکومتی افراد یا تنظیموں کا آزادانہ طورپر مسلح جہاد کرنا جائز نہیں۔ موجودہ زمانہ کے مسلمان مختلف مقامات پر جو مسلح جہاد چھیڑے ہوئے ہیں وہ سب کا سب غیر حکومتی تنظیموں کے تحت ہورہا ہے، اس لئے ان میں سے کوئی بھی اسلامی جہاد نہیں۔ کشمیر کی جنگ کے بارے میں کہا جاسکتا ہے کہ پاکستان کی حکومت اس میں شریک ہے۔ مگر پاکستانی حکومت کی یہ شرکت درپردہ اور بلا اعلان ہے، اور قرآن سے ثابت ہے کہ بلا اعلان جنگ اسلام میں نہیں(الانفال ۵۸)۔
۲۔ موصوفہ نے اپنے خط میں تحریر فرمایا ہے کہ جہاد کے بارے میں میرے خیالات شاید حکومت ہند کے صیہونی مشیروں کے زیر اثر بنے ہیں۔ یا یہ کہ رائٹر (راقم الحروف) رسول اللہﷺ کا پیرو نہیں ہے بلکہ وہ مہاتما گاندھی کا پیرو ہے۔ یا یہ کہ راقم الحروف کا میڈیا نے برین واش کردیا ہے۔
موصوفہ کی یہ بات عجیب و غریب غلط فہمی پر مبنی ہے۔ اس سے بھی زیادہ عجیب با ت یہ ہے کہ انہوں نے اتنا بڑا الزام میرے اوپر کسی حوالہ کے بغیر عائد کردیا ہے۔ جن لوگوں نے میری تحریریں پڑھی ہیں وہ جانتے ہیں کہ اللہ کے فضل سے میںایک انتہائی غیر مرعوب انسان ہوں۔ کوئی صیہونی مشیر یا کوئی میڈیا مجھے متاثر نہیں کرسکتا۔ میرا تو حال یہ ہے کہ میںانڈیا میںرہتے ہوئے یہاں کی انتہائی اعلیٰ شخصیتوں پر کھُلی تنقید کرتا ہوں۔ مثال کے طورپر مہاتما گاندھی کے بارے میں میر ی ایک مفصل تنقید نئی دہلی کے انگریزی روزنامہ دی پانیر (۲۶ جنوری ۱۹۹۷) میں دیکھی جاسکتی ہے۔ میری اس تنقید کا ایک حصہ امریکی روزنامہ نیو یارک ٹائمس (۳۱ جنوری ۱۹۹۷) میں بھی نقل کیا گیا تھا۔
۳۔ موصوفہ نے ایک عجیب و غریب بات یہ لکھی ہے کہ وہ میرے مضمون کا ایک ایک پیراگراف لے کر اس کی مکمل تنقید لکھنا چاہتی تھیں۔ مگر انہوں نے ایسا نہیں کیا۔ اور صرف ایک مختصر خط لکھنے پر اکتفا کیا۔ انہوں نے لکھا ہے کہ مفصل تنقید سے میں اس لئے رُک گئی کہ مجھے محسوس ہوا کہ یہ شیطان ہے جو یہ چاہتا ہے کہ میں اس میں اپنا اتنا زیادہ وقت ضائع کروں:
I realized that only Satan would want me to waste so much time.
اس سلسلہ میں میں کہوں گا کہ موصوفہ کے لئے اس معاملہ میں صرف دو میں سے ایک کا انتخاب (option) تھا۔ وہ یہ کہ وہ یا تو کتاب وسنت کے حوالوں کے ذریعہ میرے نقطۂ نظر کی مدلّل تردید کریں یاوہ اس معاملہ میں بالکل خاموش رہیں۔ مگر انہوں نے ناقابلِ فہم طورپر یہ تیسرا طریقہ اختیار کیا کہ انہوں نے الزام کی زبان کو میری تردید کے لئے کافی سمجھا۔ یہ تیسری پوزیشن یقینی طورپر نہ عقل کے مطابق ہے اور نہ شریعت کے مطابق۔
۴۔ محترمہ مریم صاحبہ نے اپنے تبصرے میں لکھا ہے کہ میرا مضمون ’’اسلامک فنڈامنٹلزم‘‘ بتاتا ہے کہ میں اس کی حقیقت سے بالکل بے خبر ہوں۔ وہ لکھتی ہیں کہ فنڈامنٹلزم کی اصطلاح مغرب میں وضع ہوئی‘ نہ کہ مسلم دنیا میں۔ اور یہ کہ اسلامک فنڈامنٹلزم یا مسلم فنڈامنٹلزم کا لفظ غیر مسلموں کا دیا ہوا لفظ ہے‘ وہ خود مسلمانوں کا اپنا لفظ نہیں۔ مگر یہ عین وہی بات ہے جو خود میں نے اپنے مضمون میں لکھی ہے۔ عجیب بات ہے کہ موصوفہ خود میری لکھی ہوئی بات سے مجھ کو بے خبر بتا رہی ہیں۔ اس معاملہ کی وضاحت کے لئے ملاحظہ ہو راقم الحروف کی انگریزی کتاب ’’اسلام ری ڈسکورڈ ‘‘کا بارہواں باب: اسلامک فنڈامنٹلزم‘ صفحہ ۱۳۱۔
۵۔ موصوفہ نے لکھا ہے کہ اسلام میں کوئی فنڈامنٹلزم نہیں۔ اس سلسلہ میں میرا کہنا ہے کہ مسلمانوں کی وہ روش جس کو اہل مغرب اسلامک فنڈامنٹلزم کہتے ہیں ‘وہ بطور واقعہ موجودہ مسلمانوں کے اندر یقینا پائی جاتی ہے۔ یہ وہی چیز ہے جس کو قرآن وحدیث میں غلو کہا گیا ہے اور اس سے منع فرمایا گیا ہے۔ موجودہ زمانہ کے مسلمانوں میں یہ غلو بلا شبہہ پایا جاتا ہے اور مجھے اندیشہ ہے کہ خود محترمہ مریم صاحبہ بھی شعوری یا غیر شعوری طورپر غلو کی اس نفسیات میں مبتلا ہیں‘ اوراس کا ایک ثبوت خود ان کا موجودہ غلو آمیز تبصرہ ہے۔
۲۲ جنوری ۲۰۰۲ دعا گو
وحید الدین
واپس اوپر جائیں

Monday, 1 April 2002

Al Risala | April 2002 (الرسالہ،اپریل)

4

- ربانی تعقّل

12

- انسانی مصائب کیوں

14

- جنگ اور امن اسلام میں

23

- سلطانی ماڈل، دعوتی ماڈل

31

- فتحِ مبین کا راز

34

- سوال وجواب

43

- خطوط


ربّانی تعقل

قرآن میں بنیادی طورپر دو قسم کی تعلیمات ہیں۔ ایک وہ جن کو احکام کہا جاتا ہے۔ اور دوسرے وہ جو تفکر اور تدبر سے تعلق رکھتی ہیں۔ اوّل الذکر کی حیثیت اگر عملی ہے تو ثانی الذکر کی حیثیت فکری ۔
قرآن میں دونوں ہی قسم کی تعلیمات اجمالی انداز میں آئی ہیں۔ یہ کام علماء اسلام کا ہے کہ وہ قرآن و حدیث کی رہنمائی میں اس اجمال کی تفصیل کریں۔ جہاں تک احکام کا تعلق ہے، اُن کی تفصیل اور تدوین فقہ کی صورت میں کی گئی ہے۔ یہ کام بہت بڑے پیمانے پر ہوا ہے۔ اس کو بنیادی طورپر ایک کامیاب کوشش کہا جاسکتا ہے۔جہاں تک تفکر اور تدبر والے حصہ کاتعلق ہے، اُن کے سلسلہ میں بھی پچھلے ہزار سال کے دوران مقدار کے اعتبار سے کافی کام ہوا ہے۔مگر وہ بڑی حد تک غیر اطمینان بخش ہے۔ یہ کہنا غالباً درست ہوگا کہ اس پہلو سے جو لٹریچر تیار ہوا ہے وہ زمانی افکار سے اتنا زیادہ متاثر ہے کہ قرآن کی حقیقی روح اُس میں اوجھل ہوگئی ہے۔
اس موضوع پر کام کرنے والوں کا پہلا گروہ وہ ہے جن کو متکلمین کہا جاتا ہے۔ یہ گروہ ابتداء ً عباسی خلافت کے زمانہ میں پیدا ہوا۔ اس گروہ کے مشہور ناموں میں سے الفارابی (وفات ۹۵۰ ء) ابن رُشد (وفات ۱۱۹۸ء) الرازی (وفات ۱۲۱۰ء)، وغیرہ ہیں۔ متکلمین کے اس گروہ نے قرآنی تفکر اور تدبر کے اظہار کے لئے جس فکری ماڈل کو اپنایا، وہ یونانی فلسفہ کا ماڈل تھا۔ یہ فلسفہ قیاسی منطق کے اصول پر قائم تھا۔ اس لیے وہ بذات خود ایک غیر حقیقی ماڈل تھا۔ اس ماڈل پر قرآن کے فکری اجمال کی جو تفصیل کی گئی وہ بڑی حد تک من تمنطق تزندق کی مصداق تھی۔ اس پورے مجموعے پر فارسی شاعر کا یہ شعر صادق آتا ہے:
فلسفی سِرِّ حقیقت نتوانست کشود گشت رازِ دِگر آں راز کہ افشامی کرد
اس سلسلہ کا دوسرا گروہ وہ ہے جس نے وحدتِ وجود کے تصور پر قرآنی عقلیت کو واضح کرنا چاہا۔ اس کو ایک لفظ میں وحدانی تعقل کہا جاسکتا ہے۔ اس طبقہ کی چند مشہور کتابیں یہ ہیںــــابن العربی کی کتاب الفتوحات المکیۃ، مولاناروم کی مثنوی، علامہ اقبال کی تشکیل جدیدالٰہیات اسلامیہ (Reconstruction of Religious Thought in Islam) ۔
یہ طریقہ جس کو ہم نے وحدانی تعقل کا نام دیا ہے، وہ اول الذکر یونانی تعقل سے بھی زیادہ غلط تھا۔ اوّل الذکر کو اگر عقلی چیستاں کہا جائے تو یہ دوسرا طریقہ کھلی ہوئی ذہنی گمراہی تھا۔ اس طریقہ میں توحید کے عقیدہ کو وحدتِ وجود (Monism)کے تصور پر ڈھال دیا گیا۔ جب کہ اسلام میں توحید کا عقیدہ وحدتِ خدا (monotheism)کے اصول پر قائم ہے۔ وحدت وجود کا نظریہ سراسر ضلالت ہے اور وحدتِ خدا کا نظریہ سراسر ہدایت۔
موجودہ زمانہ میں مسلم اہلِ قلم کا ایک اور گروہ پیدا ہوا جس نے اسلامی عقلیت کو سیاسی تعقل کے ہم معنٰی بنا دیا۔ اس گروہ نے اسلام کی تعلیمات کو سیاسی اصطلاحوں میں بیان کرنے کی کوشش کی۔ انہوں نے لا الٰہ الا اللہ کو لا حاکم الا اللہ کے ہم معنٰی قرار دیا۔ اس گروہ میں مصر کے سید قطب اور پاکستان کے سید ابوالاعلیٰ مودودی، وغیرہ شامل ہیں۔
سیاسی تعقل کا یہ طریقہ، اپنی حقیقت کے اعتبار سے اسلامی تعقل کی تصغیر تھا۔ اس تشریح میں عقیدۂ اسلامی کی آفاقی وسعت سیاست کے محدود دائرہ میں سمٹ کر رہ گئی۔ اسلامی تعقل کی اس سیاسی تشریح کے نتیجہ میںایک اور ہلاکت خیز انجام سامنے آیا۔ جو لوگ اس تشریح سے متاثر ہوئے انہیں کرنے کا کام صرف یہ نظر آیا کہ وہ وقت کے سیاسی ڈھانچہ کو توڑیں اور اس کی جگہ اپنے مزعومہ نقشہ کے مطابق، نیا نظام بنائیں۔ اس طرح اس سیاسی تشریح نے مسلم دنیا میں اُس تخریبی سیاست کومزید شدت کے ساتھ جنم دیا جس کا ایک نمونہ کمیونزم کو ماننے والوں کے درمیان پایا جاتا ہے۔
قرآن کے مطابق، تفکر اور تدبر کی تشریح کا صحیح طریقہ وہ ہے جس کو ربانی تعقل کہا جاسکتا ہے۔ یعنی قرآن کے اشارات کو رہنمابنا کر تخلیق خدا وندی کا مطالعہ کرنا اور حقائق فطرت کی روشنی میں اُن کی تشریح و تفصیل کرنا۔ مطالعہ کا یہی اسلوب حقیقی اسلوب ہے۔ اس سے وہ اہل ایمان پیدا ہوتے ہیں جو معرفتِ الٰہی اور خشیتِ ربانی کی نعمت سے سرشار ہوں۔ قرآن کی سورہ آل عمران کے آخری رکوع میں یہی حقیقت بیان ہوئی ہے۔ قرآن کے دوسرے مقامات پر بھی اس حقیقت کی طرف بار بار اشارہ کیا گیا ہے۔ اس سلسلہ کی دو قرآنی آیتوں کا ترجمہ یہ ہے: کیا تم نہیں دیکھتے کہ اللہ نے آسمان سے پانی اُتارا۔ پھر ہم نے اُس سے مختلف رنگوں کے پھل پیدا کردیئے۔ اور پہاڑوں میں بھی سفید اور سرخ مختلف رنگوں کے ٹکڑے ہیںاور گہرے سیاہ بھی۔ اور اسی طرح انسانوں اور جانوروں اور چوپایوں میں بھی مختلف رنگ کے ہیں۔ اللہ سے اُس کے بندوں میں سے صرف وہی ڈرتے ہیں جو علم والے ہیں۔ بے شک اللہ زبردست ہے، بخشنے والا ہے (فاطر ۲۷۔۲۸)
ربانی تعقل کی تشریح کے لئے موجودہ زمانہ میں نئے وسیع امکانات کھل گئے ہیں۔ جدید سائنس کی تحقیقات نے موجودہ زمانہ میں فطرت کی جن چھپی ہوئی حقیقتوں کو دریافت کیا ہے وہ گویا اسی ربّانی تعقل کی تفصیل ہیں۔ ربانی تعقل کے ان جدید امکانات کو پیشگی طورپر قرآن میں بتادیا گیا تھا۔ اس سلسلہ میں قرآن کی ایک متعلق آیت کا ترجمہ یہ ہے: ہم عنقریب اُن کو اپنی نشانیاں دکھائیں گے آفاق میں بھی اورخود ان کے اندر بھی۔ یہاں تک کہ اُن پر ظاہر ہو جائے گا کہ یہ قرآن حق ہے (حٰم السجدہ آیت نمبر ۵۳)۔
احمد اور الترمذی نے حضرت انس بن مالک کے حوالہ سے ایک حدیث نقل کی ہے۔ اس کے مطابق، رسول اللہ ﷺنے فرمایا: مثل امتی مثل المطر، لا یُدریٰ اولہ خیرأم آخرہ (مشکوٰۃ المصابیح ۳؍ ۱۷۷۰) ۔یعنی میری امت کی مثال بارش کی مانند ہے۔ نہیں معلوم کہ اس کا اوّل بہتر ہوگا یا اُس کا آخر۔
بارش جب ہوتی ہے تو اُس کے ابتدائی دور میں بھی انسان کو بہت سی برکتیں حاصل ہوتی ہیں۔ مگر بعد کے مرحلہ میںجب بارش سے سیراب ہو کر زمین سبزہ اور درخت اُگاتی ہے تو اس دوسرے مرحلہ میں اُس کی برکتیں اور زیادہ بڑھ جاتی ہیں۔ اب فصل اور پھول اور پھل، وغیرہ پیدا ہوتے ہیں جو انسان کے لئے بے پناہ خیر وبرکت کا ذریعہ ہیں۔
یہی معاملہ دین محمدی کا ہے۔ دین محمدی کا ظہور ہوا تو اُس وقت دنیا اپنے روایتی دور میں تھی۔ اُس دور میںبھی اس دین کے پیروؤں کو اُس سے بے پایاں فائدے حاصل ہوئے۔ بعد کے زمانہ میں جب کہ دنیا سائنسی دو رمیں داخل ہوگی تو اُس وقت بھی اس دین کے پیروؤں کو نئے امکانات کے اعتبار سے عظیم فائدے حاصل ہوں گے۔ دین کی علمی و فکری عظمت از سرِ نو نئی شان کے ساتھ لوگوں کے ذہنوں پر قائم ہوجائے گی۔اس حدیث میں امت کے دورِ آخر میں جس عظیم خیر کی پیشین گوئی کی گئی ہے اُس سے مراد غالباً وہی سائنسی حقیقتیں ہیں جنہوں نے نئے وسیع تر انداز میں اس امکان کا دروازہ کھول دیا کہ انسان اُن کواستعمال کرکے یقین کے اعلیٰ درجات حاصل کرے۔ اور اسلام کی صداقت کو نئے دلائل و براہین کے ذریعہ لوگوں کے اوپر ثابت شدہ بنائے۔
ایک سادہ مثال
مذکورہ حدیث میں جس حقیقت کو بتایا گیا ہے اُس کو اگرلفظ بدل کر کہا جائے تو وہ یہ ہوگی کہ انسانی تاریخ کے دو بڑے دور ہیں۔ ایک قبل از سائنس دور (pre-scientific period) اور دوسرا بعد ازسائنس دور (post-scientific period) ۔اس تقسیم کے مطابق، پہلے دور کا انسان روایتی معلومات کی روشنی میں سوچتا تھا۔ اور دوسرے دور میں وہ سائنسی معلومات کی روشنی میں سوچنے لگا۔ اس حدیث کے مطابق، امت محمدی کے افراد کے لیے روایتی دور بھی ایمانی خوراک کا ذریعہ تھا۔ اسی طرح سائنسی دور میں بھی وہ اپنے ایمانی اضافہ کے لیے علمی خوراک حاصل کرتے رہیں گے۔ اس معاملہ کو سمجھنے کے لیے یہاں ایک سادہ مثال درج کی جاتی ہے۔
قرآن میں بار بار زمین کی نعمتوں کا ذکر آیا ہے۔ اس سلسلہ کی ایک قرآنی آیت یہ ہے: اللّٰہ الذی جعل لکم الأرض قراراً (المؤمن ۶۴) یعنی وہ اللہ ہے جس نے بنایا تمہارے لیے زمین کو ٹھہراؤ۔ اس آیت میں روایتی دور کے مؤمنین کو بھی ایمان کی غذا ملی تھی۔ یہ سوچ کر اُن کا سینہ شکر خداوندی کے جذبہ سے سرشار ہوگیا تھا کہ زمین کس طرح اُن کے لیے پر سکون جائے قیام بنی ہوئی ہے۔ اگر زمین ہلتی رہتی یا وہ ہچکولے کھاتی تو اس کے اوپر پُر سکون زندگی گذارنا کس قدر دشوار ہو جاتا۔
جدید سائنسی دور میں نئے ذرائع سے جو مطالعہ کیا گیا اس سے معلو م ہوا کہ زمین ، سابق تصور کے خلاف ساکن اور بے حرکت نہیں ہے بلکہ وہ مسلسل حرکت میں ہے۔ نئی تحقیقات بتاتی ہیں کہ زمین بیک وقت دو طریقہ سے گردش کررہی ہے۔ ایک اپنے مدار (orbit)پر سورج کے گرد، اور دوسرے خود اپنے محور (axis) کے اوپر۔ اس نئی سائنسی تحقیق نے مذکورہ آیت کی معنویت کو اور زیادہ بڑھا دیا۔ نئے حالات میں یہ آیت گویا مزید اضافہ کے ساتھ یہ کہہ رہی ہے کہ ـــــــــــکیسا مہربان ہے وہ اللہ جس نے زمین کو تمہارے لیے جائے سکون بنایا، باوجودیکہ زمین مسلسل طورپر دہرا حرکت کر رہی ہے:
It is Allah who made the earth a stable home for you.
(Inspite continous doulbe movement of the earth)
حدیث کی تمثیل کے مطابق، ’’بارش‘‘ کے پہلے دور میں اگر انسان سادہ طورپر یہ سمجھ کر زمین کو اپنے لیے خدا کی رحمت جانتا تھا کہ وہ اُس کے لیے پُر سکون جائے قیام بنی ہوئی ہے، تو اب بارش کے دوسرے دور میں وہ اس اضافہ کے ساتھ اس معاملہ میں خدا کا شکر کرے گا کہ دہرا طور پر مسلسل حرکت میں ہونے کے باوجود خدا نے زمین کو اُس کے لیے سکون کا مقام بنا دیا ہے۔
کائنات کا ابتدائی دھماکہ
ربانی تعقل کی ایک مثال یہاں نقل کی جاتی ہے۔ قرآن کی سورہ نمبر ۲۱ میںایک کائناتی واقعہ کا ذکر کیا گیا ہے۔ اس آیت کا ترجمہ یہ ہے: کیا انکار کرنے والوں نے نہیں دیکھا کہ آسمان اور زمین بند تھے پھر ہم نے ان کو کھول دیا۔ اور ہم نے پانی سے ہر جاندار چیز کو بنایا۔ کیا پھر بھی وہ ایمان نہیں لاتے۔
اس آیت میں رتق اورفتق کا لفظ ہے۔ رتق کے معنٰی ہیںکسی مجموعہ کا مخلوط یا منضم ہونا۔ اس سے مراد کائنات کا اصل مادّہ ہے جو ابتدائی وقت میںایک منضم الاجزاء مجموعہ کی صورت میں تھا۔ پھر اس ابتدائی مجموعہ میں دھماکہ ہوا جس کے بعد اس کے اجزاء وسیع خلا میں بکھر گئے اور پھر ایک لمبے عمل کے بعد موجودہ کائنات بنی۔قرآن کی اس آیت کو قدیم مفسرین اس کے سادہ لفظی مفہوم کے اعتبار سے لیتے تھے۔ اپنے سادہ لفظی مفہوم کے اعتبار سے بھی یہ آیت اہل حق کے لئے عظیم ایمانی فائدے رکھتی ہے۔ مگر موجودہ زمانہ میں جو تحقیقات ہوئی ہیں ان سے قرآن کے اس مجمل بیان کی تفصیل سامنے آئی ہے جو گویا یقین اور معرفت کا نیا دروازہ کھولنے والی ہے۔
جدید فلکیاتی سائنس بتاتی ہے کہ تقریباً بیس بلین سال پہلے خلا میں ایک سپرایٹم تھا۔ اس میں اچانک دھماکہ ہوا۔ اس کے بعداس کے اجزاء وسیع خلا میں پھیل گئے اور آخر کار انہوں نے موجودہ کائنات کی صورت اختیار کی۔ اسی سے موجودہ تمام اجرام بنے جن میںسے ایک ہماری یہ زمین بھی ہے۔
دھماکہ (explosion) کی دو قسمیں ہیں ــــــمنصوبہ بند دھماکہ، اور منصوبہ کے بغیر خود بخود ہونے والا دھماکہ۔ تجربہ بتاتا ہے کہ دونوں قسم کے دھماکوں میں بہت بڑا فرق ہے۔ بلا منصوبہ جو دھماکے ہوتے ہیں وہ صرف تخریب کا سبب بنتے ہیں۔ مثلاً کسی بم یا بم کے ذخیرے کا اپنے آپ پھٹ جانا۔ اس قسم کا دھماکہ ہمیشہ تخریبی نتیجہ پیدا کرتا ہے۔ دوسرا دھماکہ وہ ہے جو سوچے سمجھے منصوبہ کے تحت کیا جائے۔ مثلاً پہاڑ کے درمیان سے سرنگ نکالنے کے لئے منصوبہ بند طورپر چٹانوں میں دھماکہ کرنا۔ اس دوسری قسم کا دھماکہ ہمیشہ مفید اور تعمیری نتیجہ پیدا کرتا ہے۔
جیسا کہ معلوم ہے ،کائنات کے آغاز میں، سائنس کی تحقیق کے مطابق،بگ بینگ (big bang) کی صورت میں جو دھماکہ ہوا، اس سے انتہائی مفید اور بامعنٰی نتائج پیدا ہوئے۔ یہ واقعہ ثابت کرتا ہے کہ یہ دھماکہ یقینی طورپر ایک منصوبہ بند دھماکہ تھا۔ ایک منصوبہ ساز ہستی نے اپنے متعین منصوبہ کے تحت اپنے نقشہ کے مطابق، بالقصد یہ دھماکہ کیا۔ چنانچہ اس سے عین وہی با معنٰی نتائج ظاہر ہوئے جو منصوبہ کے مطابق اس سے مطلوب تھے۔
اس جدید تشریح کے مطابق، مذکورہ آیت کے یہ الفاظ کہ کیا انکار کرنے والوں نے نہیں دیکھا (أوَلَم یَرالذین کفروا) نہایت بامعنٰی ہو جاتے ہیں۔ کائنات کا یہ ثابت شدہ آغاز خالص علم انسانی کی سطح پر اس حقیقت کو ثابت کر رہا ہے کہ اس کائنات کا ایک خالق ہے۔ اس نے نہایت با معنیٰ منصوبہ کے تحت اس کائنات کو بنایا ہے۔ اس حقیقت کے ثابت ہونے کے بعدیہ بات اپنے آپ ثابت ہوجاتی ہے کہ انسان اور کائنات کی تخلیق بے مقصد نہیںہوسکتی۔ جیسا کہ قرآن میں دوسری جگہ فرمایا: ربنا ما خلقت ھذا باطلاً (آل عمران ۱۹۱)۔ اس کھلی حقیقت کے باوجود جو لوگ کائنات کی معنویت کاانکار کریں ان کے لئے اپنے اس انکار کی کوئی بھی معقول وجہ موجود نہیں۔
ربانی تعقل کا مطلب یہ نہیں ہے کہ یہ ثابت کیا جائے کہ سائنس کے تمام مضامین قرآن میں موجود ہیں، یا یہ کہ ساری کی ساری سائنس خود قرآن سے أخذ کی گئی ہے۔ اس قسم کی باتیں اسلام اور سائنس دونوں سے بے خبری کا نتیجہ ہیں۔ اس قسم کی بات اصلاً قرآن کی تفسیر نہیں ہے بلکہ وہ قرآن کے حوالہ سے اپنے قومی فخر کو ثابت کرنے کی ایک بے فائدہ کوشش ہے۔ اس سے زیادہ اس کی کوئی اور حیثیت نہیں۔
ربانی تعقل کا مطلب یہ ہے کہ قرآن کے وہ بیانات جن کے بارے میں جدید سائنسی تحقیقات کے ذریعہ نئی حقیقتیں دریافت ہوئی ہیں، ان کی روشنی میں قرآن کے اشارات کو تفصیلی انداز میں بیان کرنا۔ یہ وہی چیز ہے جس کی بابت حدیث میں آیا ہے کہ: لا تنقضی عجائبہ۔یعنی قر آن کے عجائب (wonders)کبھی ختم نہ ہوں گے۔ اس حدیث میں مستقبل کے بارے میں جو پیشین گوئی کی گئی ہے ان میں سے ایک یقینی طورپر یہ بھی ہے کہ بعد کے زمانہ میں دریافت ہونے والے سائنسی حقائق قرآن کی معنویت کو مزید نمایاں کریں گے۔ اس طرح قرآن کے کمالات کا سلسلہ کبھی ختم نہ ہوگا، یہاں تک کہ قیامت آجائے۔
زوجین کی مثال
قرآن کی سورہ نمبر ۵۱ میںارشاد ہوا ہے: ومن کل شیٔ خلقنا زوجین لعکم تذکرون (الذاریات ۴۹) یعنی ہم نے ہر چیز کو جوڑا جوڑا بنایا تاکہ تم نصیحت حاصل کرو۔ قرآن کی اس آیت میں موجودہ دنیا کے ایک ظاہرہ کا ذکر کرکے انسان کو متوجہ کیا گیا ہے کہ وہ اس پر سوچے اور اس سے نصیحت حاصل کرے۔ اس ظاہرہ کی طرف قرآن میں زوجین کے لفظ سے اشارہ کیا گیا ہے۔
اس آیت میں زوجین کی تفسیر پچھلے مفسرین نے مختلف انداز سے کی ہے۔ ان تفسیروں میں بہرحال نصیحت کا سامان ہے۔ مگر موجودہ زمانہ میں جو تحقیقات ہوئی ہیں ان کا اضافہ کرتے ہوئے اس آیت کا مطالعہ کیا جائے تو اس سے نیا یقین حاصل ہوتا ہے۔ اور یہ آیت، قرآن کے الفاظ میں، ایمان کے ساتھ ایمان میں اضافہ (الفتح ۴) کا سبب بن جاتی ہے۔
جدید تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ زوجین کا اصول جو انسانوں میں ہے وہی دنیا کی ہر چیز میں پایا جاتا ہے۔ ہر چیز اپنے زوج کے بغیر نامکمل ہے، وہ اسی وقت مکمل ہوتی ہے جب کہ اس کے زوج کے ساتھ اس کو شامل کیا جائے ــــمادّی ایٹم میں منفی ذرّہ (negative particle) کے ساتھ مثبت ذرّہ (positive particle) کا ہونا ۔ اسی طرح نباتات میں بھی زوجین یا نر اور مادہ کا اصول ہے۔ ان میں سے ایک کو میل فلاور (staminate flower) کہا جاتا ہے۔ اور دوسرے کو فیمیل فلاور (pistillate flower) ۔اسی طرح حیوانات میں بھی جوڑے ہیں۔ ان میں سے نر کو ہی میل (he-male) اور مادہ کو شی میل(she-male) کہا جاتا ہے۔ اسی طرح انسانوں میں بھی جوڑے ہیںجن کو ہم عورت اور مرد کے نام سے جانتے ہیں۔
زوجین کے اس عمومی اصول کو لے کر غور کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ اس عموم میں ایک استثناء ہے، اور وہ ہماری انسانی دنیا ہے۔ انسانی دنیا اپنے سارے ہنگاموںکے باوجود ایک نامکمل دنیا ہے۔ اس کی تکمیل کے لئے اس کا ایک جوڑا ( زوج )درکارہے۔ مگر یہ جوڑا موجودہ دنیا میں ملتا ہوا نظر نہیں آتا۔
تجربہ بتاتا ہے کہ موجودہ انسانی دنیا ایک مبنی بر مفاد دنیا ہے۔ یہاں سارے انسانی تعلقات مفاد کے اصول پر قائم ہیں۔ انسان اپنی فطرت کے اعتبار سے ایک بااصول معیاری دنیا (ideal world) چاہتا ہے۔ مگر موجودہ دنیا میں وسائل کی محدودیت اور انسان کی آزادی جیسے مختلف اسباب ہیں جو فیصلہ کن طور پر اس میں رکاوٹ ہیں کہ یہاں وہ معیاری دنیا بن سکے جو انسان اپنے فطری تقاضے کے تحت چاہتا ہے۔
اس کمی کا تقاضا ہے کہ موجودہ دنیا کا ایک جوڑا (زوج) ہو جو اس کی کمی کو پورا کرکے اس کی تکمیل کرے۔ موجودہ دنیا مبنی بر مفاد دنیا ہے۔ اب اس کا جوڑا (زوج) ایک ایسی دنیا ہے جو مبنی براقدار (value based) دنیا ہو۔ ایسی ایک دنیا ہی موجودہ دنیا کی کمی کی تلافی کرکے اس کی تکمیل کرسکتی ہے۔ اسی تکمیلی دنیا کا نام آخرت ہے۔ آخرت میں خدا نے جنت کی جو دنیا بنائی ہے وہ ہر قسم کی کمیوں اور محدودیتوں سے پاک ہے۔ وہ خوف اور حزن سے مکمل طور سے خالی ہے۔ وہاں وہ تمام اسباب کامل طورپر موجود ہیں جو انسان کو یہ موقع دیں کہ وہ بھر پور آسودگی (complete fulfillment) کے ساـتھ زندگی گزار سکے۔
موجودہ دنیا میں ہر چیز کا جوڑا ہونا اور صرف ایک چیز کا جوڑا نہ ہونا اس بات کا قرینہ ہے کہ یقینی طورپر اس کا بھی ایک جوڑا موجودہے۔ بقیہ چیزوں کے جوڑے کو موجودہ دکھائی دینے والی دنیا میںرکھ دیا گیا ہے مگر امتحان کی مصلحت کی بنا پر انسانی دنیا کے اس جوڑے کو نہ دکھائی دینے والی دنیا میں رکھا گیا ہے۔ مرنے کے بعد تمام انسان اسی اگلی دنیا میں پہنچ جاتے ہیں۔ اور وہاں وہ اس جوڑے کو عملی طور پر پا لیتے ہیں۔
ربانی تعقل کا موضوع ایک بے حد وسیع موضوع ہے۔ اس کے مختلف پہلو ہیں۔ یہاں چندمثالیں صرف موضوع کی وضاحت کے طور پر درج کی گئی ہیں۔ ربانی تعقل کے موضوع پر راقم الحروف نے اپنی دوسری کتابوں میں اس کے دیگر پہلوؤں کی وضاحت کی کوشش کی ہے۔ وہاں اس موضوع کی تفصیل دیکھی جاسکتی ہے۔
واپس اوپر جائیں

انسانی مصائب کیوں

یہ ایک معلوم حقیقت ہے کہ انسان ہمیشہ مختلف قسم کی مصیبتوں (sufferings) سے دوچار رہتا ہے۔ کبھی کوئی بچہ ماں کے پیٹ سے ناقص الاعضاء پیدا ہوتا ہے۔ کبھی کسی حادثہ کی بنا پر کوئی شخص اپاہج ہوجاتا ہے۔ کبھی اور کسی قسم کی آفت میں مبتلا ہو کر وہ دکھ کا تجربہ کرتا ہے، ایسا کیوںہے۔ مذہبی عقیدہ کے مطابق، خدا اگر تمام خوبیوں کا مالک ہے، اور وہ رحیم وکریم ہے تو وہ اپنے بندوں کو اس قسم کی مصیبتوں میں کیوں مبتلا کرتا ہے۔ معیاری کائنات میں یہ غیر معیاری واقعات کیوں۔
اس سوال کا جواب معلوم کرنے کے لئے ضروری ہے کہ خدا کے تخلیقی نقشہ کو سمجھا جائے۔ مصائب کا معاملہ انسان کی تخلیق کی مجموعی اسکیم کا ایک جزء ہے، اور جب تک مجموعی اسکیم کو نہ سمجھا جائے، جزء کے معاملہ کو سمجھنا ممکن نہیں۔قرآن سے معلوم ہوتا ہے کہ انسان کی تخلیق کا اصل مقصد جانچ (test) ہے۔ یعنی مختلف حالات میں ڈال کر یہ دیکھنا کہ کون شخص اچھا ہے اور کون شخص برا۔ قرآن میں ارشاد ہوا ہے کہ اللہ نے موت اور زندگی پیدا کی تاکہ لوگوں کو جانچ کر دیکھے کہ ان میں سے کون اچھے عمل والا ہے اور کون برے عمل والا (الملک ۲)
جانچ کے اس مقصد کے لئے ضروری تھاکہ انسان کو قول و عمل کی مکمل آزادی دی جائے ۔ آزادی کے بغیر نہ کسی کو جانچنا ممکن ہے اور نہ یہ فیصلہ کرنا ممکن ہے کہ وہ کس سیرت و کردار کا آدمی ہے۔ اس آزادی کو قرآن میں امانت کہاگیا ہے۔ چنانچہ قرآن میںارشاد ہوا ہے : ہم نے امانت کو آسمانوں اور زمین اور پہاڑوں کے سامنے پیش کیا تو انہوں نے اس کو اٹھانے سے انکار کیا اور وہ اس سے ڈر گئے۔ اورانسان نے اس کو اٹھا لیا۔ بے شک وہ ظالم و جاہل تھا۔ تاکہ اللہ منافق مردوں اور منافق عورتوں کواور مشرک مردوں اور مشرک عورتوں کو سزا دے۔ اور مومن مردوں اور مومن عورتوں پر توجہ فرمائے۔ اور اللہ بخشنے والا مہربان ہے۔ (الاحزاب ۷۲۔ ۷۳)
یہ آزادی بے حد نازک چیز ہے ،کیوں کہ یہ یقینی اندیشہ ہے کہ جب کسی مخلوق کو کام کی آزادی دی جائے تو وہ اپنی آزادی کا غلط استعمال کرے گا۔ اسی اندیشہ کا اظہار فرشتوں نے انسان کی پیدائش کے وقت کیا تھا۔ اس کا ذکر قرآن میںان الفاظ میںآیا ہے: اورجب تیرے رب نے فرشتوں سے کہا کہ میں زمین میںایک خلیفہ (بااقتدار) بنانے والا ہوں۔ فرشتوں نے کہا: کیا تو زمین میںایسے لوگوں کو بسائے گا جواس میں فساد کریں اور خون بہائیں اور ہم تیری حمد کرتے ہیں اور تیری پاکی بیان کرتے ہیں۔ اللہ نے کہا میں جانتا ہوں جو تم نہیں جانتے (البقرہ ۳۰)
انسان کو آزادی دینے کے اسی منصوبہ کا وہ نتیجہ ہے جس کو فلاسفہ بُرائی کا مسئلہ (problem of evil) کہتے ہیں۔ اسی حقیقت کو قرآن میں ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے کہ یقینا ہم نے انسان کو مشقت میں پیدا کیا ہے (البلد ۴)یہی بات قرآن میں ایک اور انداز سے اس طرح بیان ہوئی ہے: اور ہم ضرور تم کو آزمائیں گے کچھ ڈر اور بھوک سے اور مالوں اور جانوروں اور پھلوں کی کمی سے۔ اور ثابت قدم رہنے والوں کو خوش خبری دے دو جن کا حال یہ ہے کہ جب ان کو کوئی مصیبت پہنچتی ہے تو وہ کہتے ہیں: ہم اللہ کے ہیں اور ہم اسی کی طرف لوٹنے والے ہیں (البقرہ ۱۵۵۔۱۵۶)
موجودہ دنیا میں جو مسائل یا مصائب نظر آتے ہیں وہ در حقیقت اسی تخلیقی نظام کا فطری نتیجہ ہیں۔ انسانی زندگی میں جب حقیقی معنوں میں آزادی کا ماحول قائم کیاجائے تو لازماً ایسا ہوگا کہ کبھی کوئی انسان آزادی کا غلط استعمال کرکے مسئلہ پیدا کرے گا۔ کبھی کوئی انسان اپنی ذمہ داری کی ادائیگی میں کوتاہی کرے گا اور اسباب و علل کے نظام کی بنا پر اس کے انجام سے دوچار ہوگا۔ کبھی مسابقت اور ایک دوسرے کے مقابلہ میںآگے بڑھ جانے کی دوڑ کے نتیجہ میں کوئی کھوئے گا اور کوئی پانے کا تجربہ کرے گا۔ اس قسم کے واقعات کا پیش آنا ضروری ہے۔ ان کے بغیر آزادی کاحقیقی ماحول قائم ہی نہیں ہوسکتا۔
تاہم خالق کی رحمت ہر ایک کے ساتھ ہے۔ آزادی کے اس ماحول کے نتیجہ میں جو لوگ بظاہر کامیاب ر ہیں وہ زیادہ سخت انداز میں جانچے جائیں گے اور جو لوگ بظاہر نقصان اٹھائیں ان کے ساتھ خصوصی رعایت کا معاملہ کیاجائے گا۔ اس لحاظ سے دیکھا جائے تو پہلے گروہ کے مقابلہ میں دوسرا گروہ زیادہ خوش قسمت نظر آتا ہے۔
واپس اوپر جائیں

جنگ اور امن اسلام میں

اسلام میں جنگ اور امن کی حیثیت کیا ہے، اس سوال کا جواب پانے کے لئے یہ دیکھنا چاہئے کہ اسلامی مشن کا نشانہ کیا ہے۔ جنگ اور امن دونوں دو مختلف طریقِ کار ہیں، وہ بذات خود مقصد نہیں ہیں۔ ایسی حالت میں اگر اس کا تعین ہو جائے کہ اسلامی مشن کا نشانہ کیا ہے تو اس کے بعد اپنے آپ اس کا تعین ہوجائے گا کہ اسلام کا طریقہ جنگ کاطریقہ ہے یا امن کاطریقہ۔
قرآن میں اس سوال کا واضح جواب دیا گیا ہے۔ اس سلسلہ کی ایک متعلق آیت یہ ہے۔ قرآن میں پیغمبر اسلام کو خطاب کرتے ہوئے ایک عمومی حکم ان الفاظ میں دیا گیا ہے: وجاھدھم بہ جہادًا کبیرا (الفرقان ۵۲) یعنی اے محمد، لوگوں کے ساتھ تم قرآن کے ذریعہ جہاد کبیر کرو۔
قرآن ایک کتاب ہے، وہ کوئی گن یا تلوار نہیں۔ ایسی حالت میں قرآن کے ذریعہ جہاد کا مطلب واضح طورپر پر امن جدو جہد (peaceful struggle) ہے، نہ کہ مسلح جدوجہد(armed struggle)۔
قرآن جب ایک نظریاتی کتاب ہے تو اس کے ذریعہ پر امن جدوجہد کا مطلب یہی ہو سکتا ہے کہ لوگوں کے ذہنوں کو بدلا جائے۔ لوگوں کی سوچ کو قرآنی سوچ بنایا جائے۔ دوسرے لفظوں میں، قرآن کا مشن زمین پر قبضہ کرنا نہیںہے بلکہ انسان کے ذہن پر قبضہ کرناہے۔ اسلام کا نشانہ ذہنی انقلاب ہے، نہ کہ لوگوں کو جسمانی اعتبار سے مغلوب کرنا۔
قرآن کا مطالعہ کیا جائے اور یہ دیکھا جائے کہ پیغمبراسلام نے اپنے مشن کو کس طرح جاری کیا تو واضح ہوتا ہے کہ آپ نے اپنا پورا مشن جس نشانہ پر چلایا وہ یہی تھا کہ لوگوں کے دل ودماغ کو بدلا جائے۔ قرآن میں بتایا گیا ہے کہ خدا نے اپنے پیغمبر پراپنا کلام اس لئے اتارا تا کہ وہ لوگوں کو افکار کے اندھیرے سے نکال کر افکار کی روشنی میں لے آئے (الحدید ۹) ۔ ایک روایت کے مطابق، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ انسان کی اصلاح کے سلسلہ میں اصل اہمیت صرف ایک چیز کی ہے اور وہ اس کے دل کی اصلاح ہے (ألا وھی القلب) انسان کے دل کو بدل دو اور پھر اس کی پوری زندگی بدل جائے گی۔ پیغمبر اسلام کو مکہ میں جب پہلی وحی ملی تو اس وقت آپ نے وہاں کے لوگوں کو جمع کرکے فرمایا کہ اے لوگو، میں اس لئے بھیجا گیا ہوں کہ موت کے بعد آنے والے معاملہ کی تمہیں خبر دوں(أنا النذیر العریان) ۔اسی طرح مدینہ میں جب آپ غالب حیثیت میں داخل ہوئے اس وقت بھی آپ نے وہاں کے لوگوں سے یہی کہا کہ اے لوگو، اپنے آپ کو آگ سے بچاؤ خواہ چھوہارے کے ایک ٹکڑے کے ذریعہ ہی کیوں نہ ہو(اتقوا النار و لو بشق تمرۃ)۔
قرآن اور سیرت کا مطالعہ بتاتا ہے کہ اسلام کا اصل نشانہ انسان کے ذہن کو بدلنا ہے۔ یہی اسلامی مشن کا اول بھی ہے اور یہی اس کا آخر بھی۔ مگر دنیا میں ہر قسم کے لوگ ہوتے ہیں اور خودتخلیقی نقشہ کے مطابق، ہر ایک کو مکمل آزادی حاصل ہے۔ اسی آزادی کی بنا پر ایسا ہواکہ کچھ لوگ پیغمبر اسلام کے مخالف بن گئے۔ حتیٰ کہ کچھ لوگ اس آخری حد تک گئے کہ انہوں نے آپ کے مشن کو ختم کرنے کے لئے آپ کے خلاف جنگی کارروائی شروع کردی۔ یہی وہ مسئلہ تھا جس کی بنا پر پیغمبر اور آپ کے اصحاب کو اپنے دفاع میں وقتی طورپر ہتھیار اٹھانا پڑا۔ اس اعتبار سے یہ کہنا صحیح ہوگا کہ اسلام میں امن کی حیثیت عموم (rule) کی ہے اور جنگ کی حیثیت صرف ایک استثناء (exception) کی۔
پیغمبر اسلام کی پیغمبرانہ عمر ۲۳ سال ہے۔ اس ۲۳ سال میں قرآن وقفہ وقفہ سے حسب حالات اترتا رہا۔اس اعتبار سے اگر مدت کی تقسیم کی جائے تو معلوم ہوگا کہ قرآن کا ایک حصہ وہ ہے جو تقریبًا ۲۰ سال کی مدت تک پھیلا ہوا ہے اور اس کا دوسرا حصہ وہ ہے جو مجموعی طورپر تقریبًا تین سال پر مشتمل ہے۔ ۲۰ سالہ مدت میں قرآن میں جو آیتیں اتریں وہ سب کی سب پر امن تعلیمات سے تعلق رکھتی تھیں، مثلاً عقیدہ، عبادت، اخلاق، انصاف، انسانیت، وغیرہ۔ جہاںتک جنگ کی آیتوں کا تعلق ہے، وہ صرف تین سال کی اس مدت میں اتاری گئیں جب کہ اہل اسلام کو عملاًمسلح جارحیت کا مسئلہ در پیش تھا۔
قرآن میں کل ۱۱۴ سورتیں ہیں۔ مجموعی طور پر قرآن میں کل آیتوں کی تعداد ۶۶۶۶ ہے۔ ان میں بمشکل چالیس آیتیں ایسی ہیں جو براہ راست یا بالواسطہ طورپر جنگ (قتال) سے تعلق رکھتی ہیں۔ اس تناسب کے اعتبار سے قرآن میں جنگ سے تعلق رکھنے والی آیتوں کی تعداد ایک فیصد سے بھی کم ہے (precisely 0.6 percent) ۔
اس قسم کا فرق ہر ملک کے دستور میں اور ہر مذہبی کتاب میں پایا جاتا ہے۔ مثلاً بائبل (New Testament) میں بہت سی پر امن تعلیمات ہیں۔ اسی کے ساتھ مسیح کی زبان سے اس میں یہ قول بھی موجود ہے کہ میں صلح کروانے نہیں آیا ہوں بلکہ تلوار چلوانے آیا ہوں:
I do not come to bring peace but a sword.
اسی طرح بھگوت گیتا میں بہت سی اخلاق اور حکمت کی باتیں ہیں۔ مگراسی کے ساتھ گیتا میں یہ بھی موجود ہے کہ کرشن نے ارجن سے اصرار کے ساتھ کہا کہ اے ارجن، آگے بڑھ اور جنگ کر۔ مگر ظاہر ہے کہ بائبل اور گیتا میںان اقوال کی حیثیت استثناء کی ہے، نہ کہ عموم کی۔
اسلام کی امن پسندی کا ایک اہم پہلو یہ ہے کہ اسلام میں دشمن اور حملہ آور کے درمیان فرق کیا گیا ہے۔ اسلام کی تعلیم یہ ہے کہ اگر کوئی گروہ یکطرفہ حملہ کے ذریعہ عملی طورپر جارحیت کی صورت پیدا کر دے تو اس وقت ایک ناگزیر برائی(necessary evil) کے طورپر دفاع کی ضرورت کے تحت جنگ کی جائے گی۔ قرآن میں ارشاد ہوا ہے: اُذنَ للذین یقاتلون بأنھم ظلموا (الحج ۳۹) یعنی جنگ کرنے کی اجازت دی گئی ان لوگوں کو جن کے خلاف جنگ چھیڑ دی گئی ہے۔
مگر جہاں تک دشمن کا تعلق ہے، ان کے خلاف محض دشمنی کی بنا پر جنگی کارروائی کی اجازت نہیں۔ اس سلسلہ میں قرآن کی ایک آیت اہل اسلام کو ایک واضح ہدایت دیتی ہے: اور بھلائی اور برائی دونوں برابر نہیں۔ تم جواب میں وہ کہو جو اس سے بہتر ہو، پھر تم دیکھو گے کہ تمہارے اور جس کے درمیان دشمنی تھی وہ ایسا ہوگیا جیسے کوئی دوست قرابت والا (فصّلت ۳۴)۔
اس آیت میں یہ تعلیم دی گئی ہے کہ کوئی شخص تم کو دشمن نظر آئے تو اس کو اپنا ابدی دشمن نہ سمجھ لو۔ ہر دشمن انسان کے اندر تمہارا ایک دوست انسان چھپا ہوا ہے۔ اس دوست انسان کو دریافت کرو اور اس امکان (potential) کو واقعہ (actual) بناؤ، اس کے بعد تمہیں کسی سے دشمنی کی شکایت نہ ہوگی۔
اس معاملہ کی مزید وضاحت ایک روایت سے ہوتی ہے۔ اس روایت میں پیغمبر اسلام کی جنرل پالیسی کو بتاتے ہوئے آپ کی اہلیہ عائشہ نے کہا: ماخیر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بین امرین إلا اختار أیسرھما (صحیح البخاری) یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جب بھی دو امر میں سے ایک کا انتخاب کرنا ہوتا تو آپ ہمیشہ دونوں میں سے آسان کا انتخاب فرماتے تھے۔
یہ واضح ہے کہ طریق کار کی دو قسمیں ہیں۔ پرتشدد طریقِ کار (violent method) اور پر امن طریق کار (peaceful method)۔ اب دونوں کا تقابل کیا جائے تو معلوم ہوگا کہ کسی نزاعی معاملہ کے وقت پر تشدد طریق کار کو اپنانا مشکل انتخاب (harder option) ہے اور پر امن طریق کار کو اپنانا آسان انتخاب (easier option) ہے۔ اس کے مطابق، اسلام کی جنرل پالیسی یہ قرار پاتی ہے کہ جب بھی کسی فریق سے کوئی نزاع پیدا ہو تو اس سے مقابلہ کے لئے ہمیشہ پرامن طریق کار کا انتخاب کیا جائے، نہ کہ پر تشدد طریقِ کار کا۔ موجودہ زمانہ میں جب کہ آزادی کو انسان کاایک ناقابل تنسیخ حق مان لیا گیا ہے تواب صرف پر امن طریق کار ہی کا انتخاب کیا جائے گا۔ کیوں کہ وقت کے مسلّمہ اصول کے مطابق، پر تشدد طریق کار کو اختیار کرنے میں تو یقینًا رکاوٹیں ہیں مگر پر امن طریق کار کو اختیار کرنے میںکوئی رکاوٹ نہیں۔
یہاں یہ اضافہ کرنا مناسب ہوگا کہ پیغمبر اسلام کے زمانہ میں محدود نوعیت کی جو چند لڑائیاں پیش آئیں ان میں دراصل زمانی عامل (age-factor) کام کررہا تھا۔ یہ لڑائیاں ساتویں صدی عیسوی کے نصف اول میں ہوئیں۔ یہ زمانہ مذہبی جبر اور مذہبی ایذا رسانی (religious persecution) کا زمانہ تھا۔ اس زمانہ میں موجودہ قسم کا مذہبی ٹالرنس نہیں پایا جاتا تھا۔ اس بنا پر توحید کے مخالفوں نے پیغمبراسلام کے خلاف جارحانہ کارروائی کرکے آپ کو لڑنے پر مجبور کردیا۔ موجودہ زمانہ میں مذہبی آزادی ہر فرد اور ہر گروہ کا ایک مسلّم حق بن چکی ہے ۔ اس لئے موجودہ زمانہ میں مذہبی حقوق کے لئے جنگ کا کوئی سوال نہیں۔
اسلام میں امن کی اہمیت اتنی زیادہ ہے کہ ہر ناخوش گوار صورت حال کو برداشت کرتے ہوئے حالت امن کو برقرار رکھنے کا حکم دیا گیاہے۔ فریقِ مخالف کی ایذا رسانی پر صبر و اعراض کا طریقہ اختیار کرنا اور اس کو ہر قیمت پر یک طرفہ تدبیر کے ذریعہ باقی رکھنا اسلام کا اہم اصول ہے۔ یہ حکم اس لئے دیا گیا کیوں کہ اسلام کی تعمیری سرگرمیاں صرف پر امن اور معتدل ماحول ہی میں انجام دی جاسکتی ہیں۔ اس معاملہ میں صرف ایک استثناء ہے، اور وہ فریق ثانی کی طرف سے عملی جارحیت ہے۔
پیغمبر اسلام نے قدیم مکہ میں اپنے پیغمبرانہ مشن کا آغاز کیا۔ اس سلسلہ میں آپ تیرہ سال تک مکہ میں رہے۔ اس مدت میں مکہ کے مخالفین کی طرف سے بار بار زیادتیاں کی گئیں۔ مگر پیغمبر اسلام اور آپ کے ساتھیوں نے ان زیادتیوں کو یک طرفہ طورپر برداشت کیا۔ اسی صبر و اعراض کی ایک صورت یہ بھی تھی کہ پیغمبراور آپ کے اصحاب نے جنگ سے بچنے کے لئے یہ کیا کہ مکہ سے ہجرت کرکے مدینہ چلے گئے۔ مکہ اور مدینہ کے درمیان تین سو میل کا فاصلہ ہے۔ مگر مکہ کے مخالفین نے خاموشی اختیار نہ کی بلکہ انہوں نے باقاعدہ طورپر مدینہ پر اقدامی حملے شروع کردئے۔ ان حملوں کو سیرت کی کتابوں میں غزوہ کہا جاتا ہے۔ چھوٹے اور بڑے غزوات کی تعداد ۸۳ شمار کی گئی ہے۔ مگر پیغمبر اسلام اور مخالفین کے درمیان صرف تین بار باقاعدہ جنگ(fullfledged war) ہوئی۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ۸۰ غزوات میں پیغمبر اسلام نے اعراض اور حسن تدبیر کے ذریعہ دونوں فریقوں کے درمیان عملی مقابلہ کو ٹال دیا۔ صرف تین بار (بدر، احد، حنین) میں مجبورانہ حالات کی بنا پر آپ کوجنگی مقابلہ کرنا پڑا۔
جنگی مقابلہ سے اعراض کی اسی پالیسی کی ایک مثال وہ ہے جس کو صلح حدیبیہ کہا جاتا ہے۔ جب پیغمبر اسلام اور آپ کے مخالفین کے درمیان جنگی صورت حال پیدا ہوگئی تو آپ نے یہ کوشش شروع کی کہ یک طرفہ تدبیر کے ذریعہ جنگی حالات کو ختم کر دیا جائے اور دونوں فریقوں کے درمیان پر امن فضا کو بحال کیا جائے۔
اس مقصد کے لئے آپ نے اپنے مخالفین سے صلح کی گفت و شنید شروع کی جو دو ہفتہ تک جاری رہی۔ یہ گفت وشنید مکہ کے قریب حدیبیہ کے مقام پر ہوئی اس لئے اس کو صلح حدیبیہ کہا جاتا ہے۔ یہ دراصل دونوں فریقوں کے درمیان ایک امن معاہدہ تھا۔ گفت وشنید کے دوران پیغمبر اسلام نے دیکھا کہ فریقِ ثانی اپنی ضد کو چھوڑنے پر تیار نہیں۔ چنانچہ آپ نے فریقِ مخالف کی یک طرفہ شرطوں کو مان کر ان سے امن کامعاہدہ کر لیا۔
اس معاہدہ کا مقصد یہ تھا کہ دونوں فریقوں کے درمیان تناؤ کو ختم کیا جائے اور نارمل فضا کو قائم کیا جائے تا کہ معتدل حالات میں دعوت و تعمیر کا وہ کام کیا جاسکے جو اصلاً اسلامی مشن کا مقصود تھا۔ چنانچہ حدیبیہ کا معاہدہ ہوتے ہی حالات معمول پر آگئے اور اسلام کی تمام تعمیری سرگرمیاں پوری طاقت کے ساتھ جاری ہوگئیں جس کا نتیجہ بالآخر یہ نکلا کہ اسلام پورے علاقہ میں پھیل گیا۔
یہاں یہ اضافہ کرنا ضروری ہے کہ اسلام کی تعلیمات کے مطابق، جنگ صرف باقاعدہ طورپر قائم شدہ حکومت کا کام ہے، وہ غیرحکومتی افراد یااداروں کا کام نہیں۔ غیر حکومتی ادارے اگر کسی اصلاح کی ضرورت محسوس کریں تو وہ صرف امن کے دائرے میں رہ کر اپنی تحریک چلا سکتے ہیں ،تشدد کی حد میں داخل ہونا ان کے لئے ہر گز جائز نہیں۔
اس سلسلہ میں دو باتیں بے حد اہم ہیں۔ ایک یہ کہ غیر حکومتی تنظیموںکے لئے کسی بھی عذر کی بنا پر مسلح تحریک چلانا جائز نہیں۔ دوسرے یہ کہ قائم شدہ حکومت کے لئے اگر چہ دفاعی جنگ حکماًجائز ہے مگر اس کے لئے بھی اعلان کی شرط ہے، اسلام میں بلا اعلان جنگ قطعًا جائز نہیں ۔ ان دو شرطوں کو ملحوظ رکھا جائے تو معلوم ہوگا کہ گوریلاوار اور پراکسی وار دونوں ہی اسلام میں ناجائزہیں۔ گوریلا وار اس لئے کہ وہ غیر حکومتی تنظیموں کی طرف سے کی جاتی ہے اور پراکسی وار اس لئے کہ اس میں اگر چہ حکومت بھی شامل رہتی ہے مگراس کی شمولیت بغیر اعلان کے ہوتی ہے۔ اور اعلان کے بغیر جنگ کا جواز اسلامی حکومت کے لئے بھی نہیں۔ قرآن میں ارشاد ہوا ہے: فانبذ إلیھم علی سواء (الانفال ۵۸)۔
موجودہ دنیا کا نظام اس طرح بنا ہے کہ یہاں لازمًا دو افراد یا دو گروہوں کے درمیان نزاع کی صورت پیدا ہوتی ہے۔ ایسی حالت میں اسلام کا حکم یہ ہے کہ نزاع کو متشددانہ ٹکراؤتک نہ پہنچنے دیا جائے۔ اسی پالیسی کو قرآن میں صبر واعراض کا نام دیا گیا ہے۔ قرآن میںایک مستقل اصول کے طورپر فرمایا کہ الصلح خیر (النساء ۱۲۸)۔ یعنی باہمی نزاع کے وقت صلح کرکے نزاع کو ختم کر دینا نتیجہ کے اعتبار سے زیادہ بہتر ہے۔ اس کا سبب یہ ہے کہ صلح یا مصالحت کا طریقہ اختیار کرنے سے یہ موقع مل جاتا ہے کہ اپنی طاقت کو ٹکراؤ میں ضائع کرنے سے بچایا جائے اور ان کو پوری طرح تعمیری کاموں میں لگایا جائے۔ اسی مصلحت کی بنا پر پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لاتتمنوا لقاء العدو واسئلوا اللہ العافیۃ (البخاری) یعنی تم لوگ دشمن سے مڈبھیڑ کی تمنا نہ کرو اور اللہ سے امن مانگو۔
اس سلسلہ میں قرآن کی ایک آیت یہ ہے: کُلَّما اوقدوا نَارًا للحرب اطفاھا اللّٰہ (المائدہ ۶۴) یعنی جب کبھی وہ لڑائی کی آگ بھڑکاتے ہیں تو اللہ اس کو بجھا دیتا ہے۔
اس قرآنی آیت سے جنگ اور امن کے بارے میں اسلام کی اصل روح معلوم ہوتی ہے۔ وہ یہ کہ موجودہ دنیا میں مختلف اسباب سے لوگ باربار جنگ پر آمادہ ہوجاتے ہیں۔ یہ دنیا کے مخصوص نظام کا تقاضا ہے جو مسابقت (competition) کے اصول پر بنایا گیا ہے۔ مگر اہل اسلام کا کام یہ ہے کہ دوسرے لوگ جب جنگ کی آگ بھڑکائیں تو وہ یکطرفہ تدبیر کے ذریعہ اس آگ کو ٹھنڈا کردیں۔ گویا اہل اسلام کا طریقہ جنگ نہیں ہے بلکہ اعراض جنگ ہے۔ انہیں ایک طرف یہ کرنا ہے کہ جنگ کی حد تک جائے بغیر اپنے مفادات کا تحفظ کریں۔ دوسری طرف ان کی ذمہ داری یہ بھی ہے کہ وہ امن کے پیغامبر بنیں۔ وہ دنیا میںامن کے تاجر ہوں، نہ کہ جنگ کے تاجر۔
اسلام کی یہی اسپرٹ ہے جس کی بنا پر ہم دیکھتے ہیں کہ پیغمبر اسلام کو جب مدینہ میں اقتدار ملا تو آپ نے ایسا نہیں کیا کہ لوگوں کو اپنا ماتحت بنانے کے لئے ان سے جنگ چھیڑ دیں۔ اس کے بجائے آپ نے یہ کیا کہ عرب میں پھیلے ہوئے قبائل سے گفت و شنید کرکے ان سے معاہدے کئے۔ اس طرح آپ نے پورے عرب میں پھیلے ہوئے قبائل کو معاہدات کے ایک شیرازۂ امن میں باندھ دیا۔
اسلام کی تعلیم کا گہرا مطالعہ کیا جائے تو معلوم ہوگا کہ اسلام ان اسباب کی جڑ کاٹ دینا چاہتا ہے جوجنگ کی طرف لے جانے والے ہیں۔جنگ کرنے والا جنگ کیو ں کرتا ہے۔ اس کے دو بنیادی سبب ہیں۔ ایک ہے دشمن کو ختم کرنے کی کوشش کرنا۔ اور دوسرا سبب ہے سیاسی طاقت کو حاصل کرنے کی کوشش کرنا۔ ان دونوں مقاصد کے لئے اسلام میں جنگ کا کوئی جواز موجود نہیں۔
جہاں تک دشمن کا معاملہ ہے، اس معاملہ میںجیسا کہ عرض کیا گیا، قرآن کی ایک آیت ابدی رہنما کی حیثیت رکھتی ہے۔ اس آیت کا ترجمہ یہ ہے: اور بھلائی اور برائی دونوں برابر نہیں۔ تم جواب میں وہ کرو جو اس سے بہتر ہو پھر تم دیکھو گے کہ تم میں اور جس میں دشمنی تھی، وہ ایسا ہوگیا جیسے کوئی دوست قرابت والا (فصلت ۳۴)۔
اس سے معلوم ہوا کہ دشمن کے مقابلہ میںاسلام کی تعلیم یہ ہے کہ اس کی دشمنی کو ختم کیا جائے، نہ کہ خود دشمن کو۔ اس کے مطابق، کوئی دشمن حقیقی دشمن نہیں ہوتا۔ ہر دشمن انسان کے اندر بالقوۃ طورپر ایک دوست انسان چھپا ہوا ہے۔ اس لئے اہل اسلام کو چاہئے کہ وہ یک طرفہ حسن سلوک کے ذریعہ اس چھپے ہوئے انسان تک پہنچنے کی کوشش کریں۔ وہ حسن سلوک کے ذریعہ اپنے دشمن کو اپنا دوست بنالیں۔
قرآن کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ قرآن میں دشمن اور حملہ آور کے درمیان فرق کیا گیا ہے۔دشمن کے بارے میں یہ حکم ہے کہ اس سے نفرت کا معاملہ نہ کیا جائے بلکہ حسن تدبیر کے ذریعہ اس کو اپنا دوست بنانے کی کوشش کی جائے۔ البتہ اگر کسی کی طرف سے یک طرفہ طورپر حملہ کر دیا جائے تو ایسے حملہ آور کے مقابلہ میںدفاع کے طورپر جنگ کرنا جائز ہے۔ یہ حکم قرآن کی جن آیتوں سے معلوم ہوتا ہے ان میں سے ایک آیت یہ ہے: وقاتلوا فی سبیل اللہ الذین یقاتلونکم ولاتعتدوا (البقرہ ۱۹۲) یعنی اور اللہ کی راہ میں ان لوگوں سے لڑوجو تم سے لڑتے ہیں ، اورزیادتی نہ کرو۔
اس طرح کی آیتوں سے معلوم ہوتا ہے کہ جنگ کی اجازت صرف اس وقت ہے جب کہ کوئی فریق یک طرفہ طورپر اہل اسلام کے خلاف جارحانہ حملہ کردے۔ اس قسم کی عملی جارحیت کے بغیر اسلام میںجنگ کی اجازت نہیں۔
جنگ اور امن کے معاملہ میں اسلام کا جو بنیادی اصول ہے وہ قرآن کے ان الفاظ سے معلوم ہوتا ہے: فما استقاموا لکم فاستقیموا لھم (التوبہ ۷) یعنی پس جب تک وہ تم سے سیدھے رہیں تم بھی ان سے سیدھے رہو۔ اس قرآنی حکم سے معلوم ہوتا ہے کہ قوموں کے درمیان باہمی تعلقات کااصول یہ ہے کہ اگر دوسرا فریق امن پر قائم ہو تو اہل اسلام کو بھی لازماً امن کی روش اختیار کرنی ہوگی۔ اہل اسلام ایسا نہیں کرسکتے کہ فریقِ ثانی کی پر امن روش کے باوجود کوئی عذر لے کر اس کے خلاف جنگی کارروائی کرنے لگیں۔ اس معاملہ میں عملی جارحیت کے سوا کوئی بھی دوسرا عذر قابل قبول نہیں۔
جیسا کہ معلوم ہے، پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی پیدائش ۵۷۰ء میں مکہ میںہوئی۔ ۶۱۰ء میں آپ کو نبوت ملی۔ اس کے بعد آپ ۲۳ سا ل تک پیغمبر کی حیثیت سے دنیا میں رہے۔ اس ۲۳ سالہ مدت کے ابتدائی ۱۳ سال آپ نے مکہ میں گزارے اور بعد کے ۱۰ سال مدینہ میں۔ قرآن کی کچھ سورتیں مکی دو رمیں نازل ہوئیں اور کچھ سورتیں مدنی دور میں ۔ اس پیغمبرانہ مدت میں آپ نے کیا کیا۔
آپ نے لوگوں کو اقرأ باسم ربک الذی خلق(العلق) اور اس قسم کی دوسری غیر حربی آیتیں سنائیں۔ آپ لوگوںسے یہ کہتے رہے کہ ایھا الناس قولوا لا الٰہ الا اللّٰہ تفلحوا۔
آپ نے لوگوں کو دعا اور عبادت کے طریقے بتائے۔ لوگوں کو اخلاق اورانسانیت کی تعلیم دی۔ لوگوں کو بتایا کہ دوسرے لوگ جب تم کو ستائیں تب بھی تم صبر واعراض کے ساتھ زندگی گزارو۔ آپ نے قرآن کوایک اصلاحی کتاب اور ایک دعوتی کتاب کے طور پر لوگوں کے درمیان عام کیا۔ آپ نے یہ نمونہ قائم کیا کہ دار الندوہ (مکہ کی پارلیمنٹ) میں اپنی سیٹ حاصل کرنے کے بجائے جنت میں اپنی سیٹ حاصل کرنے کی کوشش کرو۔ آپ نے لوگوں کواپنے عمل سے یہ سبق دیا کہ کعبہ جیسی مقدس عمارت میں ۳۶۰ بت رکھے ہوئے ہوں تب بھی ٹکراؤ کا طریقہ اختیار کئے بغیر تم اپنامشن پُرامن طورپر شروع کر سکتے ہو۔ آپ نے یہ نمونہ قائم کیا کہ کس طرح یہ ممکن ہے کہ آدمی اشتعال انگیز حالات کے درمیان اپنے آپ کو لوگوں کے خلاف نفرت سے بچائے اور پر امن رہ کر لوگوں کی خیرخواہی کا کام انجام دے، وغیرہ۔
پیغمبر اسلام نے اپنی زندگی میں اس قسم کے جو غیر متشددانہ کام کئے وہ سب بلا شبہہ عظیم اسلامی کام تھے۔بلکہ یہی نبوت کا اصل مشن ہے۔ اور جہاں تک جنگ کا تعلق ہے وہ صرف ایک استثنائی ضرورت ہے، اسی لئے فقہاء نے جنگ کو حسن لغیرہ بتایا ہے۔
Not for the sake of Islam, but due to some practical reasons.
واپس اوپر جائیں

سلطانی ماڈل، دعوتی ماڈل

موجودہ زمانہ کے مسلمان ساری دنیا میںتباہی اور ذلّت سے دوچار ہو رہے ہیں۔ تباہی کی یہ مدت پوری انیسویں صدی اور بیسویں صدی تک پھیلی ہوئی ہے۔ سلطان ٹیپو سے لے کر یاسر عرفات تک دو سو سال سے تباہی کا سلسلہ جاری ہے اور ابھی تک بظاہر اس کے خاتمہ کے کوئی آثار نہیں۔
مسلمانوں کی اس تباہی کا سبب بے عملی نہیں ہے بلکہ وہ مکمل طورپر ہنگامہ خیز عمل کے درمیان ہورہی ہے۔ یہ کہنا مبالغہ نہ ہوگا کہ ان دوسو سالوں میں دُنیا بھر کے مسلمانوں نے جان و مال کی جو قربانی دی ہے وہ مقدار کے اعتبار سے اسلام کی بقیہ پوری تاریخ کی قربانیوں سے بھی زیادہ ہے۔
کیا وجہ ہے کہ عمل اور قربانی کے مسلسل ہنگاموں کے باوجود مسلمان دور جدید میں عزت وغلبہ کا مقام حاصل نہ کرسکے۔ جب کہ قرآن و حدیث میں واضح یقین دہانیاں موجود ہیں کہ اہل ایمان کی کوششوں کواللہ ضائع نہیں کرے گا، اُن کے حریفوں کے مقابلہ میں ضرور اُنہیں سرفرازی عطا فرمائے گا۔
اس سوال کا جواب یہ ہے کہ موجودہ زمانہ کے مسلم رہنماؤں نے اپنی کوششوں کے لیے غلط منہج اختیار کیا۔اُنہوں نے اپنی کوششوں کو اُس مطلوب طریقہ پر جاری ہی نہیں کیا جس کو اختیار کرکے خدا کی نصرت حاصل کی جاسکتی ہے۔ اور یقینا اس دنیا میں کامیابی اُس کے لیے ہے جس کو خدا اپنی نصرت سے نوازے۔اللہ کی نصرت کے بغیریہاں کامیابی ممکن نہیں۔
اصل یہ ہے کہ خدا نے اپنی نصرت کا وعدہ اُن لوگوں سے کیا ہے جو اپنی کوششوں کے لیے پیغمبرانہ ماڈل کو اختیار کریں۔ یہ پیغمبرانہ ماڈل وہی ہے جس کو ہم نے دعوتی ماڈل کا نام دیا ہے۔ اہل ایمان کی حقیقی کامیابی پیغمبر کے قائم کئے ہوئے اسی دعوتی ماڈل سے وابستہ ہے۔ مگر موجودہ زمانہ کے مسلم رہنما بعد کے دور میں مسلم سلاطین کے قائم کئے ہوئے سلطانی ماڈل سے اتنا متاثر تھے کہ انہوں نے اپنی تمام تحریکیں اسی سلطانی ماڈل پر چلا دیں۔ موجودہ زمانہ میں مسلمانوں کی تمام تباہیوں کا اصل سبب یہی انحراف ہے۔
مسلم رہنماؤں نے دیکھا کہ بعد کے زمانہ میں مسلم سلاطین مسلّح فوجوں کو لے کر مختلف علاقوں میں گھس گئے۔ وہاںانہوں نے قائم شدہ حکومت کی فوجوں کو زیر کر کے اپنی حکومت قائم کر لی۔یہ سلطانی ماڈل اتنا زیادہ عام ہوا کہ بعد کے زمانہ میں لکھی جانے والی مسلم تاریخیں تقریباً سب کی سب اسی سلطانی ماڈل پر ڈھال دی گئیں۔ موجودہ زمانہ کے مسلم رہنماؤں نے ان تاریخی کتابوں کو پڑھا اور یہ سمجھ لیا کہ اسلامی تحریک کا ماڈل بس یہی سلطانی ماڈل ہے۔ انہوں نے شعوری یا غیر شعوری طور پراسی سلطانی ماڈل کو معیاری ماڈل سمجھا اور مسلّح جہاد کے نام پر اس کو ہر جگہ جاری کر دیا۔ یہی غلطی موجودہ زمانہ کے مسلمانوں کی تباہی کا اصل سبب ہے۔
اسلامی عمل کا صحیح ماڈل وہ ہے جو پیغمبر اسلام ﷺ نیز دوسرے پیغمبروں کی مثال سے معلوم ہوتا ہے۔ یہ ماڈل دعوتی ماڈل ہے۔ دعوتی ماڈل سے مراد یہ ہے کہ اپنے عمل کی بنیاداسلام کی نظریاتی اشاعت پر رکھی جائے۔ اُس کو مخاطب کے معیار فہم کے مطابق مدلّل کرتے ہوئے پیش کیا جائے۔ تشدد سے مکمل پرہیز کرتے ہوئے صرف پُر امن ذرائع سے کام کو آگے بڑھایا جائے۔ فریقِ ثانی اگر زیادتی کرے تب بھی یک طرفہ صبر کرتے ہوئے پُر امن اشاعتی مہم کو جاری رکھا جائے۔ ہر قیمت پر یہ کوشش کی جائے کہ داعی اور مدعو کے درمیان نفرت اور کشیدگی کا ماحول ہرگز قائم نہ ہونے پائے۔ معتدل ماحول ہمیشہ اسلام کے لیے مفید ہوتا ہے اور غیر معتدل ماحول ہمیشہ اسلام کے لئے غیرمفید۔ یہی دعوتی ماڈل ہے اور اسی طریقہ کو اختیار کرکے پیغمبر اسلام ﷺ نے خدا کے دین کو عزت اور غلبہ کے مقام تک پہنچایا۔
پیغمبرانہ ماڈل میں اصل عمل دعوت کے اصول پر جاری ہوتا ہے۔ وہ آغاز میں بھی دعوت ہے اور آخر میں بھی دعوت۔ بعض اوقات بطور استثناء محدود طورپر کسی سے دفاعی ٹکراؤ پیش آسکتا ہے، وہ بھی اس وقت جب کہ اعراض کی تمام کوششیں ناکام ہوگئی ہوں اور یک طرفہ جارحیت کی بنا پر اہل ایمان کو وقتی طورپر اپنے دفاع میں لڑنا پڑے۔اس وقتی دفاع کے پہلے بھی دعوت ہے اور اس کے بعد بھی دعوت۔ پیغمبرانہ ماڈل میں دعوت کی حیثیت اقدام کی ہے اور جنگ کی حیثیت محدود معنوں میں صرف وقتی دفاع کی۔
موجودہ زمانہ میں ساری دنیا میں نئے انقلابات ہوئے ہیں۔ اس کے نتیجہ میںعالمی صورت حال مکمل طورپر بدل گئی ہے۔ ان تبدیلیوں نے مسلّح جنگ کو بالکل غیر ضروری قرار دے دیا ہے۔ اب یہ ممکن ہوگیا ہے کہ صرف دعوتی عمل کے ذریعہ وہ سب کچھ حاصل کر لیا جائے جو اسلام اور اہل اسلام کو عزت اور غلبہ کے مقام تک پہنچانے کے لیے درکار ہے۔
قدیم زمانہ میں اہل ایمان کو مذہبی جبر کے ماحول میں اپنا دعوتی کام کرنا پڑا تھا، اب یہ دعوتی کام پوری طرح مذہبی آزادی کے ماحول میں کیا جاسکتا ہے۔ پہلے زمانہ میں حق کی پیغام رسانی کے لیے داعی کو پُر مشقت سفر کرنا پڑتا تھا، اب جدید کمیونیکیشن نے اس کو ممکن بنا دیا ہے کہ خود دعوتی پیغام تیزی سے سفر کرکے دنیا بھر کے تمام لوگوں تک پہنچ سکے۔ قدیم زمانہ کے داعیوں کو مختلف قسم کے توہمات کا سامنا کرتے ہوئے حق کا پیغام پھیلانا پڑتا تھا، مگر اب سائنسی انقلاب نے توہمات کا تقریباً خاتمہ کر دیا ہے، اب یہ ممکن ہو گیا ہے کہ کھلی ذہنی فضا میں حق کے پیغام کو عام بنایا جاسکے۔ پہلے زمانہ میں معیشت کا انحصار صرف زراعت پر تھا، اس لیے داعیوں کو بہت کم وسائل کے ساتھ اپنا مشن چلانا پڑتا تھا، اب صنعتی انقلاب کے بعد ساری دنیا میں اقتصادی انفجار(economic explosion) کا زمانہ آگیا ہے، اب وہ کام معاشی فراوانی کے ساتھ کیا جاسکتا ہے جو پچھلے لوگوں کو صرف معاشی تنگی کے ساتھ کرنا پڑا تھا،وغیرہ وغیرہ۔
یہ ایک حقیقت ہے کہ جدید تبدیلیوں نے دعوتی ماڈل کی افادیت اور اہمیت کو بہت زیادہ بڑھا دیا تھا۔ مگر موجودہ زمانہ کے مسلم رہنما صرف سلطانی ماڈل سے آشنا تھے، وہ دعوتی ماڈل کو یکسر فراموش کرچکے تھے۔انہوں نے انتہائی بے دانشی کا مظاہرہ کرتے ہوئے پوری ملت کو سلطانی ماڈل کے طریقہ پر ڈال دیا، اور پھر ملت کو بھی تباہ کیا اور خود اپنے آپ کو بھی۔
دوگونہ غلطی
جدید دور میں سلطانی ماڈل تباہ کن حد تک غیر مفید بن چکا تھا۔ مگر دو سو سال کا ناکام تجربہ بھی نااہل مسلم رہنماؤں کی بے خبری کو توڑنے والا ثابت نہ ہوسکا۔ انیسویں صدی اور بیسویں صدی کو مکمل طورپر کھونے کے باوجود اکیسویں صدی میں بھی وہ سلطانی دور کے اس فرسودہ ماڈل ہی کو بظاہر معیاری ماڈل سمجھ رہے ہیں۔
دور جدید میں ناکام سلطانی ماڈل کو دہرانے کی دو قسمیں ہیں۔ اس کی پہلی قسم ہے، حکمراں کے ذریعہ سلطانی ماڈل کواپنا نا اور اُس کی دوسری قسم ہے، غیر حکومتی افراد یا جماعتوں کے ذریعہ اس ماڈل پر عمل کرنا۔
سلطان ٹیپو پہلی قسم کی ایک مثال ہیں جنہوں نے حکمراں کی سطح پر اُسے ناکام طورپر دہرایا۔ وہ قدیم سلطانی ماڈل سے باہر آکرمعاملہ کو سمجھ نہ سکے۔ ۱۷۹۹ء میں وہ انگریزوں کے خلاف ایک نا عاقبت اندیشانہ جنگ لڑکر ہلاک ہوگئے۔ موجودہ زمانہ میں عراق کے صدر صدام حسین کی زندگی بھی اسی سلطانی ماڈل کو اختیار کرنے کی ایک ناکام مثال ہے۔
اس کے بعد اس سلطانی ماڈل کے نام پر تجربہ کی دوسری قسم شروع ہوتی ہے۔ یہ دوسری قسم وہ ہے جب کہ غیر حکومتی تنظیموں نے اپنے مفروضہ دشمنوں کے خلاف لڑائی شروع کردی۔ دوسری قسم کی اس لڑائی کا غالباً پہلا واقعہ وہ ہے جو ۱۸۳۱ء میں پیش آیا۔ جب کہ مولانا سید احمد بریلوی اوراُن کے ساتھیوں کا قافلہ مہاراجہ رنجیت سے لڑکر بالا کوٹ میں تباہ ہوگیا۔
اس کے بعد ۱۸۵۷ء میں اس نوعیت کا دوسرا بڑا واقعہ وہ ہوا جب کہ علماء ہند کی جماعت نے انگریزوں کے خلاف مسلح جہاد شروع کیا۔ اس کے بعد غیر حکومتی تنظیموں کے ذریعہ سلطانی ماڈل کے ناکام تجربہ کا ایک طویل سلسلہ قائم ہوگیا جو تادمِ تحریر جاری ہے۔ فلسطین، کشمیر ، بوسنیا، چیچنیا، فلپائن، اراکان اور دوسرے بہت سے مقامات پر جہاد کے نام پر جو تباہ کن مسلح ٹکراؤ ہورہا ہے وہ سب اسی دوسرے قسم کے تجربہ کی مثالیں ہیں۔
سلطانی ماڈل کے تجربہ کی دوسری قسم جو غیر حکومتی تنظیموں کے ذریعہ گوریلا وار، پراکسی وار ، وغیرہ کی صورت میں شروع ہوئی، وہ پہلی قسم سے بھی زیادہ مہلک تھی۔ اس میں بیک وقت دو غلطیاں شامل ہوگئیں ــــــ دعوتی دور میں سلطانی ماڈل کے طریقے کو اختیار کرنے کی خلافِ زمانہ کوشش، دوسری اس سے زیادہ سنگین بات یہ کہ یہ طریقہ شرعی اعتبار سے سراسر غلط تھا۔
کیوں کہ ثابت شدہ طورپر مسلح جنگ صرف قائم شدہ حکومت کا حق ہے، غیر حکومتی تنظیموں کے لئے یہ جائز ہی نہیں کہ وہ کسی کو دشمن بتا کر اُس کے خلاف مسلح ٹکراؤ شروع کردیں۔ پہلی قسم میں سلطانی ماڈل کا تجربہ اگر صرف نادانی تھا تو دوسری قسم میں سلطانی ماڈل کا تجربہ نادانی کے ساتھ شریعت سے انحراف کے ہم معنیٰ بن گیا۔
یہی وہ دو گونہ غلطی ہے جس نے موجودہ زمانہ میں مسلم رہنماؤں کے مسلّح جہاد کو سراسر ناکام بنادیا۔ اس کا سبب کسی غیر قوم کی سازش نہیں جیسا کہ اکثر علماء اور دانشور بے دلیل طورپر اعلان کرتے رہتے ہیں۔
سلطانی ماڈل ہر اعتبار سے دعوتی ماڈل سے مختلف ہے۔ دعوتی ماڈل مکمل طورپر اسلام کے موافق مزاج بناتا ہے۔ اس کے برعکس سلطانی ماڈل ایسا مزاج بناتا ہے جو ہر پہلو سے اسلامی تقاضوں کے بالکل خلاف ہو۔
اس معاملہ کی ایک مثال کشمیر اور پاکستان کا مسئلہ ہے۔ پاکستان کا تصور مکمل طورپر سلطانی طرزِفکر کا نتیجہ تھا۔ پاکستانی لیڈروں کے ذہن میں اگر دعوتی ماڈل ہوتا تو وہ ہرگز جغرافی تقسیم کی بات نہ کرتے۔ ایسی صورت میں وہ اس کو خدا کی ایک رحمت سمجھتے کہ متحد ہندستان کی صورت میں ان کو گویا ایک پورا برّاعظم میدان کارکے طور پر مل رہا ہے۔ان کے ذہن میں ماضی کا سلطانی ماڈل بسا ہوا تھا۔ سلطانی ماڈل میں سارا فوکس صرف سیاسی اقتدار پر ہوتاہے، مواقع دعوت یا مواقع کار کی سلطانی ماڈل میں کوئی اہمیت ہی نہیں۔ اس بے شعوری کا نتیجہ یہ ہوا کہ انہوں نے تقسیم کی تحریک چلاکر سارے بر صغیر ہند میں نفرت (بالفاظ دیگر، مخالف دعوت) کا جنگل اگا دیا۔ سارے دعوتی امکانات مسدود ہو کر رہ گئے۔
اس غیر اسلامی اور غیر حکیمانہ سیاست کادوسرا دور ۱۹۴۷ء سے شروع ہوتا ہے۔ پندرہ اگست ۱۹۴۷ کو جب یہ علاقہ انگریزی اقتدار سے آزاد ہوا تو یہاں دو بڑے ریاستی مسئلے تھے۔ ایک حیدر آباد کا اور دوسرا کشمیر کا۔ ریاست حیدر آباد میں ہندو اکثریت تھی مگر حکمراں مسلمان تھا۔ اس کے برعکس ریاست کشمیر میں مسلم اکثریت تھی مگر حکمراں ہندو تھا۔ اب یہ سوال تھا کہ ان دونوں ریاستوں کا سیاسی مستقبل کیا ہو۔ حیدر آباد کے نواب نے اپنا رسمی الحاق پاکستان سے کرلیا اس کے برعکس کشمیر کے راجہ نے ہندستان کے ساتھ الحاق کے کاغذات پر دستخط کر دئے۔
اس نزاع کو ختم کرنے کے لیے نئی دہلی کی لیڈر شپ نے ایک حقیقت پسندانہ پیشکش کی۔ اُس نے پاکستانی لیڈروں سے کہا کہ تم حیدر آباد سے اپنا دعویٰ واپس لے لو اورہم کشمیر سے اپنا دعویٰ واپس لے لیں۔ اس طرح یہ نزاع ختم ہوجائے گی اور دونوں ملک معتدل انداز میں ترقی کے راستہ پر اپنا سفر شروع کردیں گے۔
ہندستانی لیڈروں کی اس پیش کش کی تائید میں قرآن میں یہ واضح ہدایت موجود تھی: وإن جنحوا للسلم فاجنح لھا (الأنفال ۶۱) یعنی اگر فریقِ ثانی صلح کی پیش کش کرے تو تم فوراً اس پیشکش کو قبول کرلو۔ مگر پاکستان کے لیڈر جو سلطانی ماڈل سے مسحور کن حد تک متاثر ہونے کی وجہ سے حاکمانہ نفسیات کا شکار تھے، وہ اس قیمتی پیشکش کو قبول نہ کرسکے۔ اس کے بعد جو بے پناہ تباہی آئی وہ ہر ایک کے لیے ایک معلوم واقعہ ہے۔
کشمیر کے بارے میں پاکستانی لیڈروں کی یہ ناقابلِ فہم نادانی تاریخی ریکارڈ سے ثابت ہے۔ اس معاملہ کو حسب ذیل کتابوں میں تفصیل کے ساتھ دیکھا جاسکتا ہے:
1. Looking Back, by Mehrchand Mahajan.
2. Witness to an Era, by Frank Morris.
3. Emergence of Pakistan, by Chaudhary Mohd. Ali.
4. The Nation that Lost Its Soul, by Sardar Shaukat Hayat Khan
پاکستانی لیڈروں کی سلطانی نفسیات اس میں رکاوٹ بن گئی کہ وہ کشمیر کے مسئلہ کو میز کی گفت وشنید کے ذریعہ حل کر سکیں۔ اس کے بعد انہوں نے شدید تر غلطی یہ کی کہ وہ فوجی طاقت کو استعمال کرکے اس مسئلہ کے حل کا خواب دیکھنے لگے۔ پہلے انہوں نے براہِ راست مسلح اقدام کے ذریعہ ہندستان سے فوجی ٹکراؤ کیا۔ مگر اس اقدام میں انہیں مکمل ناکامی ہوئی۔ اُن کی سلطانی نفسیات اب بھی حقیقت پسندی کا راستہ اختیار نہیں کرسکتی تھی۔ چنانچہ انہوں نے کشمیر میںہندستان کے خلاف وہ خفیہ جنگ شروع کر دی جس کو پراکسی وار (proxy war) کہا جاتا ہے۔ حالانکہ یہ پراکسی وار نہ صرف پاکستان اور کشمیر دونوں کی تباہی کا ذریعہ تھی بلکہ وہ اسلامی شریعت کے اعتبار سے یقینی طورپر ناجائز بھی تھی۔ کیوں کہ اسلام میں کسی کے خلاف جنگ چھیڑنے کے لیے اعلان ضروری ہے: فانبذ الیھم علی سواء (الأنفال ۵۸)۔
ہندستان کے خلاف اس غیر اسلامی اور غیر دانش مندانہ جنگ کو درست ٹھہرانے کے لیے پاکستان نے دوسری بہت سی شدید ترغلطیاں کیں۔ مثلاً پاکستان نے اپنی خارجہ سیاست اور اپنے میڈیا کو مکمل طورپر ہندستان کو بدنام کرنے اوراُس کے خلاف نفرت پھیلانے کا کارخانہ بنا دیا۔ کشمیر کی گوریلاوار یا پراکسی وار میں پوری طرح شامل ہونے کے باوجود وہ مسلسل طورپر اس قول زور کا سہارا لیتا رہا کہ اس جنگجوئی سے ہمارا کوئی عملی تعلق نہیں۔ حالانکہ ساری دنیا جانتی ہے کہ کشمیریوں کی جنگجوئی پوری طرح پاکستان کی مدد سے جاری ہے۔ اسی طرح ظاہری طورپر اپنے آپ کو پُرامن قوم بتانے کے لیے پاکستانی لیڈروں نے بار بار امن کے معاہدہ پر دستخط کئیــــــمعاہدۂ تاشقند (۱۹۶۵) معاہدۂ شملہ (۱۹۷۲) معاہدۂ لاہور (۱۹۹۸)۔
اس قسم کے تمام معاہدے اور اعلانات بھی پاکستانی لیڈروں کے غیر دعوتی ذہن کا شکار ہوتے رہے۔ کاغذ کے اوپر انہوں نے بار بار یہ لکھا کہ کشمیر کے مسئلہ کو جنگ کے بجائے پُر امن گفت وشنید کے ذریعہ حل کیا جائے۔ مگر یہ معاہدے غالباً دنیا کو دکھانے کے لیے تھے۔ کیوں کہ انہوں نے کسی بھی معاہدہ کے بعد اپنی خفیہ جنگی کارروائی کو بند نہیں کیا۔ حالانکہ قرآن کے مطابق، معاہدہ کی لفظی اور معنوی پابندی اہلِ اسلام کے لیے ضروری ہے: وأوفوا بالعہد إنّ العہد کان مسئولا (الإسراء ۳۴)
پاکستان کے لیڈر اگر اپنے سلطانی ماڈل سے باہر آئیں اور دعوتی ماڈل کو بنیاد بنا کر سوچیں تو انہیں معلوم ہوگا کہ اُن کے لیے قرآن میں واضح رہنمائی موجودہے۔ قرآن میں بتایا گیا ہے کہ موجودہ دنیا میں بہر حال ہر فرد اور قوم کو مصیبت کا تجربہ ہوتا ہے۔ یہاں انسان کھوتا بھی ہے اور پاتا بھی ہے۔ یہ دونوں قسم کے تجربے امتحان کے لئے ہیں۔ ایسی حالت میں انسان کو کیا کرنا چاہئے اس کا جواب قرآن کی اس آیت سے معلوم ہوتا ہے: لکیلا تأسوا علی مافاتکم ولاتفرحوا بما اٰ ٰتکم (الحدید ۲۳)
قرآن کی اس آیت میں پاکستانی لیڈروں کے لیے یہ رہنمائی ہے کہ کشمیر کو وہ اُسی طرح اختیارانہ طورپر کھوئے ہوئے خانہ میں ڈال دیں، جس طرح وہ ۱۹۷۱ میں مشرقی پاکستان کو مجبورانہ طورپر کھوئے ہوئے خانہ میں ڈال چکے ہیں۔ کشمیر میں وہ اپنی موجودہ مایوسانہ سیاست کو ختم کردیں۔ دوسرے لفظوں میں یہ کہ وہ کشمیر کے معاملہ میں صورت موجودہ (status quo) کو مان کر ہندستان سے معتدل تعلقات قائم کرلیں اور منفی سیاست کا طریقہ چھوڑ کر مثبت سیاست کا طریقہ اختیار کریں۔ اس طرح ان کی ترقی کا وہ دروازہ کھُل جائے گا جوآدھی صدی سے بھی زیادہ مدت سے اُن کے اوپر بند پڑا ہوا ہے۔
خلاصۂ بحث
اکیسویں صدی میں پہنچ کر اب آخری وقت آگیا ہے کہ تمام مسلم رہنما توبہ کے شرعی اُصول پر عمل کریں۔ وہ اپنی دو سو سالہ غلطی کا کھلے طورپر اعتراف کریں۔ اور دعوتی ماڈل کے اصول پر اپنے اسلامی عمل کی از سرِ نو منصوبہ بندی کریں۔ اس اعتراف اور تصحیح عمل سے کم کوئی چیز موجودہ تباہ کن صورت حال کو بدلنے والی نہیں۔
واپس اوپر جائیں

فتحِ مبین کا راز

پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ کا ایک واقعہ وہ ہے جس کو صلح حدیبیہ کہا جاتا ہے۔ آپ اپنے اصحاب کے ساتھ عمرہ کے لئے مکہ میں داخل ہونا چاہتے تھے مگر مکہ کے سرداروں نے سراسر ناحق طورپر آپ کو مکہ میں داخل ہونے سے روک دیا۔ اس طرح دونوں فریقوں کے درمیان نزاع کی صورت قائم ہوگئی۔ آپ نے اس کا حل اس طرح نکالا کہ مکہ میں اپنے داخلہ کے حق کو واپس لے لیا۔ اس کے جواب میں اہل مکہ نے آپ کو یہ ضمانت دی کہ وہ آپ کے خلاف جنگ کو ختم کر دیں گے تا کہ دونوں کے درمیان پر امن ماحول قائم ہوسکے۔
صلح حدیبیہ کی تکمیل کے فورًا بعد قرآن کی سورہ نمبر ۴۸ نازل ہوئی۔ اس سورہ میںاعلان کیا گیا کہ صلح حدیبیہ تمہارے لئے فتح مبین (کھلی فتح) کی حیثیت رکھتی ہے۔ اس قرآنی بیان سے ایک اہم اصول اخذ ہوتا ہے۔ وہ یہ کہ نزاع کا خاتمہ ہمیشہ لو اور دو (give and take) کے طریقہ پر ہوتا ہے۔ پیغمبر اور آپ کے اصحاب نے اپنے مخالفین کے اس مطالبہ کو مانا کہ وہ مکہ میں داخلہ کے بارے میں اپنے حق کوچھوڑ دیں۔ اس کے جواب میں مخالفین اس پر راضی ہوئے کہ وہ اہل اسلام کے خلاف اپنی جنگی کارروائی کو ترک کر کے انہیں امن کے ساتھ کام کرنے کا موقع دیں گے۔
اس بات کو دوسرے لفظوں میں اس طرح بھی کہا جاسکتا ہے کہ موجودہ دنیا میں کامیابی ان لوگوں کے لئے ہے جو احساس شکست کے بغیر پیچھے ہٹنے کے لئے تیار ہوں۔ اس دنیا میں پانا صرف اس انسان کے لئے مقدر ہے جو دوسروں کو دینے کے لئے راضی ہو جائے۔ اس دنیا میںکامیاب اقدام کی خوش قسمتی صرف اس کو ملتی ہے جو دوسروں کو راستہ دینے کا حوصلہ اپنے اندر رکھتا ہو۔
اب اس اصول کی روشنی میںکشمیر کے مسئلہ کو سمجھئے۔پاکستان کے لیڈروں نے کشمیر کے نزاع کو حل کرنے کے لئے جو پالیسی اختیار کی، وہ مکمل طورپر ناکام ثابت ہوئی ہے۔ اس کا واحد سبب یہ ہے کہ وہ اس معاملہ میں مذکورہ قرآنی اصول کو اختیار کرنے میں ناکام رہے۔ انہوں نے اپنے آپ کو جانا مگر انہوں نے فطرت کے قانون کو نہیں جانا۔
۱۹۴۷ء میں یہ مسئلہ بالکل سادہ تھا۔ جیسا کہ الرسالہ میں ایک سے زیادہ بار لکھا جاچکا ہے، اس وقت یہ مسئلہ اپنی فطری حالت میں تھا۔ اس وقت پاکستانی لیڈروں کے لئے یہ ممکن تھا کہ وہ حیدرآباد پر اپنے دعویٰ کو چھوڑدیںاور اس کے نتیجہ میں پورا کشمیر انہیں حاصل ہوجائے۔ مگر پاکستان کے لیڈراپنی ناقابل فہم نادانی کی بناپر ایسا نہ کرسکے اور یہ مسئلہ دونوں ملکوں کے درمیان ایک تباہ کن نزاع کے طورپر باقی رہا۔
بنگلہ دیش کی جنگ کے بعد ۱۹۷۱ء میں پاکستان کے ۹۳ ہزار فوجی انڈیا کے قبضہ میں آگئے۔ اس وقت یہ ممکن تھا کہ ان ۹۳ ہزار فوجیوں کو دے کر پاکستان سے کشمیر کے معاملہ کا مستقل تصفیہ کر لیا جائے مگر دوبارہ دونوں ملکوں کی قیادت ناکام رہی اور اس قیمتی موقع کے باوجود کشمیر کا مسئلہ بدستور غیرحل شدہ صورت میں پڑا رہا۔
۲۰۰۱ء کے آخر میںآگرہ میں کشمیر کے سوال پر دونوں ملکوں کے لیڈروں کی کانفرنس ہوئی۔ اس موقع پر راقم الحروف نے یہ تجویز پیش کی تھی کہ صورت موجودہ (statusquo) کو مان کر اس کا تصفیہ کر لیا جائے۔ یعنی کشمیر کا جو حصہ پاکستان کے قبضہ میںہے وہ پاکستان کا حصہ بن جائے اور اس کا جو حصہ انڈیا کے زیر انتظام ہے، اس کو انڈیا کا مستقل حصہ مان لیا جائے۔ مگر اس بار بھی دونوں ملکوں کے لیڈروں کے درمیان کوئی سمجھوتہ نہ ہوسکا اور یہ نزاعی معاملہ پہلے جہاں تھا وہیں اب بھی باقی رہا۔
آخری صورت کے طورپر راقم الحروف نے الرسالہ میں یہ تجویز پیش کی تھی کہ اس معاملہ میں ایک قسم کی ڈی لنکنگ پالیسی (delinking policy) اختیار کر لی جائے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ کشمیر کے سیاسی سوال کو دوسرے اہم تر انسانی سوالات سے الگ کر دیا جائے۔ کشمیر کے مسئلہ کوسختی کے ساتھ پرامن بات چیت کی میز پر رکھ دیا جائے اوراس کے سوا جو اہم تر غیر سیاسی معاملات ہیں ان میں پوری طرح نارمل پالیسی اختیار کر لی جائے۔ مثلاً تجارت، تعلیم، آمد ورفت، سیاحت، ثقافتی تعلقات اور دوسرے انسانی معاملات میںاسی طرح معتدل تعلقات قائم کر لئے جائیں جس طرح انڈیا اورنیپال کے درمیان یا یورپ کے ایک ملک اور دوسرے ملک کے درمیان ہیں۔ اس پالیسی کا یہ فائدہ ہوگا کہ کشمیر کا مسئلہ دوسری انسانی اور قومی ترقیوں میںرکاوٹ نہ رہے گا جیسا کہ وہ اب بنا ہوا ہے۔
کشمیر کے معاملہ میں پاکستانی لیڈروں کی سب سے بڑی غلطی یہ ہے کہ وہ ابھی تک ماضی میں جی رہے ہیں۔ وہ اپنی غلطی کی قیمت دوسرے فریق سے وصول کرنا چاہتے ہیں۔ وہ فطرت کے ناقابلِ تغیر اصول کو نظر انداز کرکے اپنے خود ساختہ مفروضات کی بنیاد پر اپنی ایک دنیا بنانا چاہتے ہیں۔ مگرعالم حقیقت میں ایسا ہونا ممکن نہیں۔
کشمیر کے بارے میں پاکستان کی موجودہ غیر حقیقت پسندانہ روش نے پاکستان کو سخت نقصان پہنچایا ہے۔ اب اگر پاکستان اپنی اس غیر حقیقت پسندانہ روش پر باقی رہتا ہے تو اس کا آخری نتیجہ دونوں ملکوں کے درمیان تباہ کن جنگ ہے۔ خدا نخواستہ اگر یہ جنگ ہوتی ہے تو وہ دونوں ملکوں کے لئے سخت نقصان کا باعث ہوگی۔ اگر چہ دونوں ملکوں کے درمیان یہ فرق ہے کہ انڈیا ایک بڑا ملک ہونے کی بنا پر پھر بھی اس کو سہار لے گا۔ مگر جہاں تک پاکستان کا تعلق ہے، وہ نسبتاً بہت چھوٹا ملک ہے۔ جنگ کی صورت میںاس کا انجام یقینی طورپر یہ ہوگا کہ اب تو وہ کشمیر پر انڈیا کی بالادستی ماننے پر راضی نہیں لیکن جنگ کے بعد وہ اتنا تباہ ہوگا کہ وہ اپنی بحالی کے لئے کئی دوسرے ملکوں کی بالا دستی قبول کر لے گا تاکہ وہ ان کے تعاون کے ذریعہ زندہ رہ سکے۔ اور جہاں تک کشمیر کا تعلق ہے، اس کا سیاسی نقشہ کسی تبدیلی کے بغیر وہی رہے گا جو کہ آج ہمیں نظر آتاہے۔
واپس اوپر جائیں

سوال وجواب

سوال
میں نے آپ کی کچھ تحریریں پڑھی ہیں۔ میںنے دیکھا ہے کہ آپ اکثر صلح حدیبیہ کا ذکر کرتے ہیں۔صلح حدیبیہ تو قدیم زمانہ میں ایک خاص وقت کے لحاظ سے تھی۔ موجودہ زمانہ کے مسلمانوں کے لئے اس کی مناسبت (relevance) کیا ہے۔ اس کی وضاحت فرمائیں۔ (خالد انصاری، نئی دہلی)
جواب
صلح حدیبیہ کوئی منفرد تاریخی واقعہ نہیں۔ وہ فطرت کا ایک عام اصول ہے۔ اس کا تعلق ہر زمانہ سے ہے۔ وہ فرد کی زندگی کے لئے بھی کار آمد ہے اور قوم کی زندگی کے لئے بھی۔
اصل یہ ہے کہ موجودہ دنیا میںاکثر دو فریقوں کے درمیان نزاع قائم ہو جاتی ہے۔ یہ نزاع بظاہر کسی حق یا کسی انصاف کے لیے ہوتی ہے۔ مگر زندگی کا قانون یہ ہے کہ آپ اپنا حق فریقِ ثانی سے نہیں لے سکتے۔ آپ کا مطلوب حق خود آپ کے تعمیری عمل کا نتیجہ ہوتا ہے، نہ کہ فریقِ ثانی سے ملا ہوا عطیہ۔ حدیبیہ پرنسپل یہ بتاتا ہے کہ جب کسی سے نزاع قائم ہو جائے تو نزاع کو حق یا انصاف کا سوال نہ بناؤ بلکہ اس کو امن کا سوال بناؤ۔ یعنی ہر قیمت پر جلد سے جلد نزاع کو ختم کردو۔ نزاع کو ختم کرنے کا مطلب حالات کو نارمل بنانا ہے۔ نزاع کے وقت یہ ہوتا ہے کہ آپ کی ساری طاقت فریقِ ثانی سے لڑنے میں ضائع ہونے لگتی ہے۔ عین اسی وقت آپ کے لئے مواقع کا ر موجود ہوتے ہیں۔ مگر آپ ان مواقع کو استعمال نہیں کر پاتے۔ جب کہ کامیابی ہمیشہ مواقع کو استعمال کرنے سے ملتی ہے، نہ کہ حقوق کی لڑائی لڑنے سے۔
حدیبیہ پرنسپل ایک ابدی پرنسپل ہے۔ یہ ایک حکیمانہ تدبیر ہے۔ اس تدبیر کا خلاصہ یہ ہے کہـــ ٹکراؤ کو اوائڈ کرکے نارمل حالات پیدا کرو، تاکہ تمہیں موجود امکانات کواستعمال کرنے کا موقع مل جائے۔
نزاع کو غیر مشروط طورپر ختم کرنا بظاہر نقصان کاایک معاملہ دکھائی دیتا ہے۔ مگر نقصان کوئی مطلق چیز نہیں، نقصان ایک تقابلی چیز ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ نزاع کو باقی رکھنے میں بھی نقصان ہے اور نزاع کو ختم کرنے میں بھی نقصان۔ اب آپ کو یہ کرنا چاہئے کہ دونوں قسم کے نقصان کے درمیان موازنہ کریں۔ اگر آپ اس طرح موازنہ کریں تو آپ کو معلوم ہوگا کہ نزاع کو باقی رکھنے میں زیادہ نقصان ہے اور نزاع کو ختم کرنے میں کم نقصان۔ ایسی حالت میں حدیبیہ پرنسپل کو اختیار کرنا گویا زیادہ نقصان کے مقابلہ میں کم نقصان کو اختیار کرنا ہے۔ اور بلا شبہہ دانش مندی کا تقاضا یہ ہے کہ زیادہ نقصان والی صورت کوچھوڑ دیا جائے، اور کم نقصان والی صورت کو اختیار کر لیا جائے۔
مزید یہ کہ حدیبیہ اصول پر نزاع کو ختم کرنے والے لوگ اگر دانش مند ہوں تو یہ تدبیر ان کے لیے اس سے بھی زیادہ بڑے فائدہ کا باعث بن سکتی ہے۔ اور وہ ہے وقتی نقصان کو گوارا کرکے مستقبل کے عظیم تر فائدہ کو محفوظ کر لینا۔
سوال
اسلام کے مطابق، جنت اس کو ملے گی جو خدا کی شریعت پر عمل کرتاہو۔ مگر یہ نظریہ ایک محدود نظریہ معلوم ہوتا ہے۔ ہم دیکھتے ہیں کہ بہت سے لوگ جو خدا کی شریعت کی بات نہیں کرتے مگر وہ ایک با اخلاق زندگی گزارتے ہیں۔ وہ جھوٹ نہیں بولتے، وہ کسی کو نقصان نہیں پہنچاتے، وہ دوسروں کی خدمت کرتے ہیں، وغیرہ۔ اس قسم کے بہت سے اچھے لوگ ہیں۔ آخر وہ خدا کی جنت سے محروم کیوں رہیں گے۔ یہ بات کچھ سمجھ میں نہیں آتی۔ (رجت ملہوترا، نئی دہلی)
جواب
یہ صحیح ہے کہ غیر خدا ترس لوگوں میں بھی بظاہرکچھ اخلاقی خوبیاں نظر آتی ہیں۔ لیکن گہرائی کے ساتھ دیکھئے تو یہ صحیح معنوں میںاخلاق نہیں ہوتا۔ زیادہ درست طورپر اس کو سماجی برتاؤ (social manners) کہا جاسکتا ہے۔ کوئی آدمی اس قسم کی اخلاقی روش اس لئے اختیار کرتا ہے تاکہ سماج میںاس کو اچھا سمجھا جائے۔ یہ خود پرستی کی ایک صورت ہوتی ہے، نہ کہ حقیقۃ ًخدا پرستی کی صورت۔
اس سماجی اخلاق کی اصلیت اس وقت کھل جاتی ہے جب کہ کوئی حقیقی جانچ کا موقع آجائے، جب آدمی کو اپنا کوئی بڑا مفاد خطرہ میں جاتا ہوا نظر آئے، جب کسی اخلاقی تقاضہ کو پورا کرنے کے لئے اس کو اپنی انا کو قربان کر دینا پڑے۔ اس قسم کا اخلاق ذاتی انٹرسٹ کے تابع ہوتاہے، وہ مستقل اصول کے تابع نہیں ہوتا۔ کثرت سے اس کی مثالیں موجود ہیں کہ اچھے لوگ بھی اس وقت بدل گئے جب کہ انہیں کسی کڑی اخلاقی جانچ سے گذرنا پڑا۔ ایسے موقع پر یہ بظاہر با اخلاق لوگ اچانک بے اخلاق بن جاتے ہیں۔
حقیقت یہ ہے کہ خدا سے ڈرنے والا انسان ہی ہر حال میں اخلاقی اصول پر قائم رہ سکتا ہے۔ خدا کے سامنے حساب دینے کا اندیشہ خود انٹرسٹ کے تصور کو بدل دیتا ہے۔ اب انسان کا انٹرسٹ یہ بن جاتا ہے کہ وہ خدا کے سامنے اچھا انسان ٹھہرے، نہ یہ کہ دنیا کی زندگی میں وہ لوگوں کو ایک اچھا انسان دکھائی دے۔
سوال
خدا کے وجود کو ماننا بظاہر ایک معقول بات معلوم ہوتی ہے۔ لیکن ایک سوال یہ ہے کہ اگر اس دنیا کا ایک خداہے تو یہاں اتنی زیادہ مصیبتیں (sufferings) کیوں۔ ہم دیکھتے ہیں کہ بہت سے انسان طرح طرح کی تکلیفوں میں مبتلا رہتے ہیں۔ اگر خدا ہی خالق ہے اور وہ خیر مطلق کی حیثیت رکھتا ہے تو دنیا میں پائی جانے والی مصیبتوں کی توجیہ کیا ہوگی۔ (پِریا ملک، نئی دہلی)
جواب
یہ سوال بہت پُرانا ہے۔ فلاسفہ اس کو بُرائی یا خرابی کا مسئلہ (problem of evil) کہتے ہیں۔ جو لوگ خدا کے وجود کو نہیں مانتے، ان کا خیال یہ ہے کہ ان کے نظریہ کے حق میں سب سے بڑی دلیل یہی ہے۔ مگر یہ ایک مغالطہ ہے جوسطحی مطالعہ کے نتیجہ میں پیدا ہوا ہے، اس کی کوئی گہری بنیاد نہیں۔
اس سوال کو وسیع تر تناظر میں دیکھئے تو معلوم ہوگا کہ ہماری دنیا کے دو حصے ہیں۔ ایک، انسانی دنیا جو مجموعی دنیا کا بہت چھوٹا حصہ ہے۔ دوسرے، وسیع خلا میں پھیلی ہوئی کائنات، یہ بقیہ کائنات اتنی زیادہ وسیع ہے کہ انسانی دنیا کمیت کے اعتبار سے اس کے مقابلہ میں کوئی نسبت نہیں رکھتی۔
مطالعہ بتاتا ہے کہ یہ دونوں دنیائیں بنیادی طورپر ایک دوسرے سے مختلف ہیں۔ وسیع کائنات کا معاملہ یہ ہے کہ وہ آخری حد تک ایک معیاری کائنات ہے۔ اس میں کسی بھی قسم کی کوئی خرابی یا نقص نہیں۔ مثال کے طورپر سورج کے گرد زمین کی گردش کو دیکھئے۔ یہ گردش بیک وقت دو انداز سے جاری ہے۔ ایک، خود اپنے محور (axis) پر۔ اور دوسرے، سورج کے گرد بیضوی شکل میں اپنے مدار (orbit) پر۔
زمین کی یہ دوطرفہ گردش اتنی زیادہ صحت کے ساتھ مسلسل ہورہی ہے کہ کروڑوں سال کے اندر بھی اس میںکوئی فرق نہیں آتا۔ زمین گویا ایک بہت بڑا ہوائی جہاز ہے جو دوطرفہ اصول پر مسلسل گردش میں ہے۔ مگر ہم نہایت سکون کے ساتھ اس کے اوپر زندگی گذار رہے ہیں۔ اگر ہوائی جہاز کی مانند اس میں شور اور جنبش ہونے لگے تو زمین کے اوپر ہمارا رہنا محال ہو جائے۔
کچھ انتہا پسند منکرین خدا نے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی ہے کہ مادّی دنیا نقص سے خالی نہیں۔ مثلاً ان کے نزدیک، زمین کی کشش غیر متناسب طورپر زیادہ ہے۔ اس کی وجہ سے چند کلو کے وزن کی چیز ہاتھ میں لے کر چلنا بھی سخت مشکل ہو جاتا ہے۔ مگر یہ نقص کا مسئلہ نہیں بلکہ یہ توازن کا مسئلہ ہے۔ زمین میں کشش اگر کم ہوجائے تو بے شمار نا قابلِ حل مسئلے پیدا ہوجائیں گے۔ مثلاً انسان کا زمین پر ہموار انداز میں چلنا ممکن نہ رہے گا، زمین پر مکانات کھڑے کرنا سخت دشوار ہو جائے گا، وغیرہ۔
مادی کائنات انسان کے مقابلہ میںناقابلِ قیاس حد تک بڑی ہے۔ اس کے مقابلہ میں انسانی دنیا اتنی زیادہ چھوٹی ہے کہ بقیہ کائنات سے اس کو کوئی نسبت نہیں۔ اب جب کہ ایسا ہے کہ خرابی کا مسئلہ صرف انسان کی محدود دنیا کے ایک چھوٹے سے حصہ میںہے، اور وسیع کائنات خرابی سے مکمل طورپر پاک ہے تو یہ ماننا ہوگا کہ خرابی کا مسئلہ عموم میںاستثناء کا مسئلہ ہے۔ اور جب ایسا ہے تو استثناء کی توجیہہ عموم کی روشنی میں کی جائے گی، نہ کہ عموم کی توجیہہ استثناء کی روشنی میں کی جانے لگے۔
اس فرق کو ملحوظ رکھتے ہوئے غور کیجئے تو معلوم ہوگا کہ انسانی زندگی میںخرابی کا مسئلہ آزادی کے غلط استعمال کی بنا پر پیدا ہوا ہے، نہ کہ تخلیق میں کسی نقص کی بنا پر۔ اگر وہ تخلیق میںنقص کی بنا پر ہوتا تو اس کی مثالیں وسیع کائنات میں ہر طرف موجود ہوتیں، نہ کہ وسیع کائنات کے صرف ایک بے حد چھوٹے حصہ میں۔
اصل یہ ہے کہ خالق نے اپنے تخلیقی نقشہ کے مطابق، وسیع کائنات کو جبری نظام (determinism) کے تحت براہِ راست اپنے کنٹرول میںرکھا ہے۔ اس لئے وہ کسی تبدیلی کے بغیر ایک مقرر حالت پر قائم رہتی ہے۔اس کے برعکس انسان کو امتحان کی مصلحت کے تحت آزادی دی گئی ہے۔ اسی فرق نے مذکورہ بالا مسئلہ پیدا کیا ہے۔ انسان اپنی آزادی کا بار بار غلط استعمال کرتا ہے۔ اسی غلط استعمال نے وہ مسائل پیدا کئے ہیں جن کو خرابی کا مسئلہ کہا جاتا ہے۔ انسان اگر اپنی آزادی کا غلط استعمال نہ کرے تو انسانی دنیا بھی اسی طرح بے نقص دنیا بن جائے گی جس طرح بقیہ کائنات بے نقص دنیا بنی ہوئی ہے۔
سوال
ایک صاحب نے لاہور کے ماہنامہ اشراق کے شمارہ ستمبر ۲۰۰۱ میں شائع شدہ مضمون (مولانا وحید الدین کا اسلوب تنقید) کی طرف توجہ دلائی ہے۔ اس شائع شدہ مضمون کا ایک حصہ یہ ہے:
’’آج اس خطے کا کون سا مسلمان ایسا ہے جو شاہ ولی اللہ، شیخ احمد سرہندی، سید احمد شہید، مولانا ابو الکلام آزاد، مولانا شبلی نعمانی، علامہ محمد اقبال، مولانا مودودی، ٹیپو سلطان، محمد علی جناح جیسی تمام شخصیات یا ان میں سے بہت سے لوگوں سے تعلق خاطر نہیں رکھتا یا ان کی فکر اور اخلاص کا مداح نہیںہے؟ جب آپ ان سب پرایسے اسلوب میں تنقید کریں گے جن سے ان کے جذبات کو ٹھیس پہنچے تو پھر یہ لوگ آپ کے مخاطب کیسے بن سکتے ہیں۔
یہ واقعہ ہے کہ مولانا وحید الدین نے اپنے تنقیدی اسلوب کی بنا پر مسلمانوں کے قریباً تمام قابلِ ذکر طبقات میں اپنے لیے ایک ناپسندیدہ فضا پیدا کردی ہے۔ چنانچہ ان کے قلم سے نکلنے والی بہت سی مثبت اور قابل قدر باتیں بھی ان حلقوں میںنہیں پہنچ پاتیں اور یوں خود مولانا وحید الدین کا اپنا اسلوبِ تحریر ان کی دعوت کے فروغ کے راستے میں رکاوٹ بن گیاہے۔ اگر ہم مولانا وحید الدین کی ایسی تحریروں کے اقتباسات نقل کریں تو یہ مضمون غیر معمولی طورپر طویل ہوجائے گا…صرف ایک اقتباس یہاں درج کیا جارہا ہے جس سے اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ ان کا قلم زورِ تنقید کے کیا نمونے پیش کرتا ہے۔ حضرت عبد اللہ ابن زبیر نے یزید بن معاویہ کے عہد میںجو طرزِ عمل اختیار کیا، وہ مولانا کے تصور دین کے مطابق، چونکہ درست نہیں تھا، اس لیے دیکھیے کہ وہ ان کا اور ان کی والدہ کا ذکر کیسے کرتے ہیں:
’’میں اپنے قریبی رشتہ داروں میں سے ایک سے زیادہ ایسے افراد کو جانتا ہوں جو کم عمری میں ماں کی سرپرستی سے محروم ہوگئے۔ نتیجہ یہ ہوا کہ ان کی پوری زندگی بربادی کا نشان بن گئی۔ حقیقت یہ ہے کہ ماں کے روپ میں عورت کا رول انسانی زندگی میں بہت زیادہ ہے۔ عبد اللہ بن زبیر کی ماں (اسما) نے ان کو ایک بڑے اقدام پر ابھارا۔ چنانچہ ایک شخص جو اقدام کا ارادہ چھوڑ چکا تھا، وہ دوبارہ اقدام کے لیے آمادہ ہوگیا۔ شہنشاہِ اکبر کی ماں (مریم مکانی) نے اکبر کو ملا عبدالنبی کے خلاف کارروائی سے روکا۔ چنانچہ اکبر ان کے خلاف سخت کارروائی سے باز رہا، وغیرہ وغیرہ۔
راقم الحروف اگر بچپن میںماں سے محروم ہوجاتا یا اگر مجھ کو ایسی ماں ملتی جو مجھے اپنے ’’دشمنوں‘‘ کے خلاف لڑنے جھگڑنے پر اُکساتی رہتی تو یقینی طورپر میری زندگی کا رخ دوسرا ہوتا۔ اللہ تعالیٰ کا شکر ہے کہ اس نے مجھے ایسے انجام سے بچایا اور مجھ کواپنی ایک صداقت کے اظہار کا ذریعہ بنایا۔‘‘
مولانا وحید الدین کے نزدیک صحابہ پر تنقید کرنا جائز نہیں۔ سوال یہ ہے کہ کیا یہ عبد اللہ ابن زبیر پر تنقید نہیں؟ کیا یہ حضرت اسما بنت ابی بکر پر تنقیدنہیں…؟ ہم اس بات سے صرفِ نظر کرتے ہیں کہ مولانا وحید الدین خاں کی رائے میںصحت کا امکان کتنا ہے، ہم صرف یہ عرض کرنا چاہتے ہیں کہ حضرت اسما کا ذکر اس اسلوب میں اور اس تقابل کے ساتھ، کیا تنقید کا کوئی قابلِ تحسین اسلوب ہے؟‘‘ (ایک قاری الرسالہ، لاہور)
جواب
پاکستانی ماہنامہ کے مذکورہ مضمون میں جو بات کہی گئی ہے وہ بلاشبہہ غیر علمی بھی ہے اور غیر ذمہ دارانہ بھی۔ یہ اعتراض راقم الحروف کی کتاب (خاتونِ اسلام) کے ایک باب سے لیا گیا ہے۔کوئی بھی شخص اس باب کو غیر جانبدارانہ انداز سے پڑھے تو یقینا وہ جان لے گا کہ اس باب کا موضوع صحابہ یا صحابیہ کی روش پر تبصرہ نہیں ہے، جس کی ایک مثال ’’خلافت و ملوکیت‘‘ نامی کتاب ہے۔ میری کتاب کا موضوع اس کے برعکس صرف ایک مغربی پروپیگنڈہ کاجواب ہے۔ میں نے اس کتاب میں یہ بتانے کی کوشش کی ہے کہ اسلامی نقطۂ نظر سے خانہ نشین عورت بھی بڑے بڑے کارنامے انجام دے سکتی ہے۔ جس کو مغربی لوگ صرف غیر خانہ نشین عورتوں کے لیے ممکن سمجھتے ہیں۔ اس نکتہ کو ثابت کرنے کے لئے میں نے کتاب میں تین خواتین کی مثالیں دی ہیںــــحضرت اسماء، مریم زمانی، زیب النساء۔
میری کتاب کی مذکورہ عبارت میں نعوذ باللہ کسی صحابی یا صحابیہ پر تنقید ہر گز نہیں ہے اور نہ ہوسکتی ہے۔ اس میں سادہ طور پر، تین خواتین کا، خاتون کی حیثیت سے رول بتایا گیا ہے۔ عبارت کے مدعا کے مطابق، اس مثال میں مذکورہ خاتون کا صحابیہ ہونا ایک اتفاقی امر ہے۔
بلاغت کا مسلّم اصول ہے کہ تمثیل کے طریقہ میں ہمیشہ ایسا ہوتا ہے کہ پیش نظر مثال کا متعلق پہلو ہی مقصود ہوتا ہے۔ اور اس کے علاوہ دیگر پہلو وہاں غیر متعلق قرار پاتے ہیں۔
In employing the method of anology, it should always be possible to show that the resemblances noted bear relevance on the point to be established whereas the differences are irrelevant. (I/337)
مذکورہ تنقید میں دو واضح غلطیاں کی گئی ہیں۔ ایک یہ کہ ناقد نے اس علمی نکتہ کو ملحوظ نہیں رکھا کہ اس مثال میں حضرت اسماء کا نام صحابیہ کی حیثیت سے مراد نہیں ہے بلکہ دوسری دو خواتین کی طرح، ان کا نام بھی یہاں ایک خانہ نشین خاتون کی حیثیت سے مراد ہے۔ دوسری بات یہ کہ میری کتاب میں ان خواتین کا نام تنقید کے مقصد سے نہیں لایا گیا ہے بلکہ ان کے تعریفی کارنامہ کی حیثیت سے لایا گیا ہے۔ مذکورہ ناقد نے اپنے ایک ذہنی تخیل کو شامل کرکے غیر ضروری طور پر اس کو قابل اعتراض بنانے کی کوشش کی ہے۔ اور اس طرح انہوں نے ایک تعریفی حوالہ کو خلاف واقعہ طورپر تنقیدی حوالہ بنادیا ہے۔
سوال
ہندستان کی کئی یونیورسٹیوں میںاور باہر کی کچھ یونیورسٹیوں میںبھی اسلامک اسٹڈیز کے نام سے شعبے قائم ہیں۔ ہمارے مدارس میں بھی اسلام کے مطالعہ کا انتظام ہے۔ یہ دونوں ایک ہیں یا ان میںکوئی فرق ہے۔ سیکولر یونیورسٹیوں میں اور دینی مدارس میںاس اعتبار سے اگر کوئی فرق ہے تو وہ کیا ہے۔ (ندیم احمد سنابلی، دہلی)
جواب
سیکولر یونیورسٹیوں میں اسلام کے مطالعہ کا تصور اس سے مختلف ہے جو ہمارے دینی مدارس میں پایا جاتا ہے۔ دینی مدارس میںاسلام کا مطالعہ ایک مقدس الہامی مذہب کے طورپر کیا جاتاہے۔ جب کہ سیکولر یونیورسٹی میںاسلام یا کسی اور مذہب کا مطالعہ صرف اس لیے کیاجاتا ہے کہ وہ ایک تاریخی ظاہرہ یا ایک تاریخی واقعہ ہے۔ دوسرے لفظوں میں یہ کہ اصحاب مدارس کے مطالعہ کا طریقہ داخلی (subjective)ہے، اوراصحاب یونیورسٹی کا طریقہ خارجی (objective) ہے۔ اس کو ایک عملی مثال سے سمجھئے۔ مثلاً اسلام کے دور اول میںحسین ابن علی اور یزید ابن معاویہ کی فوجوں کے درمیان مسلح ٹکراؤ ہوا۔ یزید ابن معاویہ کی فوج نے حسین ابن علی کو شہیدکردیا۔ اس واقعہ کو اہل مدرسہ اس نظر سے دیکھیں گے کہ حسین ابن علی پیغمبر اسلام کے نواسے تھے اور پھر اسی جذباتی وابستگی کے تحت اپنی رائے قائم کریں گے۔ اس کے برعکس سیکولر ذہن کے لوگ اس کو سادہ طورپر صرف ایک تاریخی واقعہ کی حیثیت سے لیں گے اور بے لاگ خارجی معلومات کی روشنی میں اس کا اندازہ (assessment) کریں گے۔
اس فرق کا نتیجہ یہ ہوگا کہ صاحب مدرسہ سارے معاملہ کو حسین کی معصومیت اور یزید کے ظلم کے نقطۂ نظر سے دیکھیں گے۔ اس کے برعکس یونیورسٹی کے لوگ خالص خارجی حقائق کی روشنی میںاس پر رائے قائم کریں گے۔ اس فرق کا نتیجہ یہ ہوگا کہ اہل مدرسہ یہ کہیں گے کہ ’’یزید پلید کی فوجوں نے نواسۂ رسول کو مظلومانہ طورپر شہید کیا‘‘ اس کے برعکس دوسرا فریق یہ کہے گا کہ حسین ابن علی کے اقدام کی حیثیت دمشق کی خلافت کے نزدیک بغاوت کی تھی، اس لئے خلافتِ دمشق کی فوجوں نے حسین ابن علی کے خلاف جو اقدام کیا وہ وہی تھا جو ہر قائم شدہ حکومت کرتی ہے۔
سوال
اسلام چونکہ ایک دین فطرت ہے۔ اور رب العزت نے اس کو انسان کی طبیعت کے عین مطابق بنایا ہے۔ یہ دین باقی ماندہ ادیان پر غالب ہے۔ آپ متشددانہ طرز عمل کے خلاف ہیں۔ ایسی حالت میں چوری کرنے والے یا شراب پینے والے کو شرعی سزا کیسے دی جائے گی۔ (محمد ادریس ٹاک، کشمیر، پن 192 303 )
جواب
اسلام بلاشبہہ دین فطرت ہے۔ مگر اس کا یہ مطلب نہیں کہ دوسرے ادیان خلافِ فطرت تھے۔ اصل یہ ہے کہ اللہ کا بھیجا ہوا ہر دین فطرت کے مطابق ہی تھا مگر بعد کی تحریفات نے اس کو بدل دیا۔ اسلام اور دوسرے آسمانی مذاہب میں جو فرق ہے وہ افضل اور غیر افضل کا نہیں ہے۔ وہ فرق یہ ہے کہ پچھلے آسمانی مذاہب تبدیلیوں کی بنا پر غیر مستند ہوگئے۔ جب کہ اسلام آج بھی اپنی ابتدائی حالت پر باقی ہے۔
مجرم کو شرعی سزا دینا عوام کا کام نہیں۔ یہ ایک قائم شدہ حکومت کا کام ہے جوحالات پر مکمل کنٹرول رکھتی ہو۔ عوام کے لیے پُر امن تبلیغ واصلاح ہے، نہ کہ شرعی قوانین کو طاقت کے ذریعہ نافذ کرنا۔
واپس اوپر جائیں

خطوط

ایک قدیم خط
محترمہ صدیقہ آپا السلام علیکم ورحمۃ اللہ
آپ کا خط ملا۔ میری لڑکی بنت الاسلام کا انتقال میری زندگی کا پہلا واقعہ ہے جب کہ میںنے موت کے منظر کو اپنی آنکھوں سے دیکھا۔ سانس اکھڑنا، آنکھ پتھرا جانا اورعالم نزع کی ہچکیاں یہ سب میرے لئے ابھی تک صرف الفاظ تھے جو میں نے کتابوں میں پڑھے تھے یا زبانوںسے سنے تھے۔ مگر اس مرتبہ بنت الاسلام کی موت میں ان الفاظ کو میںنے حقیقت بنتے ہوئے دیکھا۔جب آخر وقت ہوا تو پہلے اس کی آنکھیں اوپر کو چڑھ گئیں۔ایسا معلوم ہوتا تھا کہ ایک شخص آخرت کی طرف جاتے ہوئے پیچھـے مڑ کر دنیا کو دیکھ رہا ہے۔ پھر اکھڑی اکھڑی سانسیں آنے لگیں جواس بات کی علامت تھی کہ جسم کا نظام اپنی صحیح حالت میں باقی نہیںرہا۔ اسی کے ساتھ اس کا بولنا بند ہوگیا۔ آخر میں ہچکی کی سی کیفیت پیدا ہوگئی۔ بالکل ایسے ہی جیسے کوئی چراغ بجھنے کے وقت بھڑکنے لگتا ہے۔ یہ کیفیات چند گھنٹے تک باقی رہیں۔ بالآخر ۱۹؍ستمبر کو صبح آٹھ بجے ڈاکٹر کے کمرے میںاس کا انتقال ہوگیا۔ إنا للہ وإنا الیہ راجعون۔جس وقت میرے ساتھی محمد عبد الحئی صاحب اس کو کپڑے میں لپیٹ کر ڈاکٹر کے کمرے سے نکلے اور ہم رکشے میں بیٹھ کر گھر کی طرف روانہ ہوئے تو مجھے ایسا محسوس ہوا گویا دنیا کی بساط لپیٹ دی گئی ہے اور فرشتے تمام انسانی روحوں کو لے کر خدا کے دربار کی طرف چلے جارہے ہیں۔ میری آنکھوں میں بے اختیار آنسو آگئے اور میں نے کہا خدایا، میرے لئے بھی یہی دن آنے والا ہے۔ اس دن سے پہلے تو مجھے بخش دے ورنہ میرا کوئی انجام نہیں ہوسکتا۔
حقیقت یہ ہے کہ آدمی اگر نصیحت لینا چاہے تو صرف موت کا واقعہ اس کی آنکھ کھولنے کے لئے کافی ہے۔ موت بچے کو بھی آتی ہے اور بڑے کو بھی۔ یہ اس بات کا اظہار ہے کہ موت کا کوئی وقت نہیں۔ وہ عمر کے کسی بھی حصے میں آسکتی ہے۔ روس کے وزیر اعظم سٹالن اور امریکہ کے وزیر خارجہ ڈلیز بیمار ہو کر مرے اور لارڈ ماؤنٹ بیٹن کی بیوی ایک سفر میںرات کو سوئی تو نیند ہی میں اس کا خاتمہ ہوگیا۔اس سے معلوم ہوا کہ موت کبھی خبر دار کرکے آتی ہے اور کبھی اچانک آجاتی ہے۔ اس کی زد سے نہ امیر بچ سکتا ہے اور نہ غریب اور نہ کسی قسم کا علاج اسے روک سکتا ہے۔ یہ حقیقت اگر آدمی کے سامنے ہو تو دنیا کے تمام ہنگامے اسے بے معنٰی نظر آنے لگـتے ہیں۔ دنیا میں عزت اور خوش حالی حاصل کرنے کے لئے انسانوں کی تمام دوڑ بالکل احمقانہ حرکت معلوم ہوتی ہے۔ کسی مسافر کی ٹرین سامنے کھڑی ہو اور وہ اس میں سوار ہونے کے بجائے پلیٹ فارم کی بینچ پر جگہ حاصل کرنے کے لئے کش مکش شروع کردے توہر آدمی اس کو بے وقوف کہے گا۔ مگر آج ساری دنیا اسی نادانی میں مبتلا ہے۔ ہر روز لاکھوں آدمی مرکر ہم کو یہ بتاتے ہیں کہ تمہاری زندگی آخرت کا ایک سفر ہے اس کے لئے تیاری کر لو۔ مگر انسان دنیا کی دلچسپیوں میں اور دنیا میں عزت ڈھونڈنے میں اتنا گم ہے، وہ دنیوی مسائل میں اس قدر الجھا ہوا ہے کہ اسے کچھ احساس نہیں رہتا۔ اسی حال میں آدمی زندگی گزارتا رہتا ہے۔ یہاں تک کہ جب اسے موت آتی ہے تو اچانک اسے معلوم ہوتا ہے کہ اس نے اپنے آپ کو ایک گڑھے میں لا کر گرادیا ہے۔
رام پور، ۳۰ ستمر ۱۹۶۱ء دعا گو وحید الدین
نوٹ : یہ یادگار خط مرحومہ صدیقہ خانم کے صاحبزادے مسٹر حسین احمد خاں (مقیم بمبئی) کے ذریعہ حاصل ہوا۔
ایک خط
برادر محترم عبد السلام اکبانی صاحب السلام علیکم ورحمۃ اللہ
۱۲ نومبر ۲۰۰۱ء کو ٹیلی فون پر آپ سے گفتگو ہوئی۔ ۱۲ نومبر ہی کو ہمدرد یونیورسٹی (نئی دہلی) میں ایک بڑا اجتماع ہوا۔ اس میں ہندو اور مسلمان دونوں شریک تھے۔ یہ جلسہ صرف میری تقریر کے لئے ہوا تھا۔ اس میں بولنے کے لئے مجھ کو جو عنوان دیا گیا تھا وہ یہ تھا: جہاد کا تصور اسلام میں۔حاضرین کی اکثریت نے میری تقریر کو بہت پسند کیا۔
جلسہ میں کچھ مسلم نوجوان بھی تھے جو اپنے آپ کو اسلام پسند کہتے ہیں۔ ان مسلم نوجوانوں نے تقریر کے بعد بہت سے سوالات کئے، تقریباً پچیس سوالات۔ یہ سوالات زیادہ تر مخالفانہ انداز میں تھے۔ میں نے اللہ کی توفیق سے ہر سوال کا واضح اور مدلّل جواب دیا۔ آخر میں، بظاہر سوچے سمجھے منصوبہ کے تحت، ایک نوجوان نے نہایت جوش کے ساتھ یہ سوال کیا۔’’ آپ کہتے ہیں کہ جہاد کے لئے تیاری ضروری ہے۔ یہ بتائیے کہ غزوۂ بدر میںکون سی تیاری تھی، جب کہ ایک ہزار مشرکین کا مقابلہ صرف تین سو تیرہ مسلمانوں نے کیا اور فتح حاصل کی‘‘۔ اس سوال کے فورًا بعد مذکورہ نوجوانوں نے فاتحانہ انداز میں پُر شور تالیاں بجائیں۔ شاید ان کا خیال تھا کہ یہ سوال ایک ایٹم بم ہے اور میرے پاس اس کا کوئی جواب نہ ہوگا۔
میں نے سنجیدگی کے ساتھ جواب دیتے ہوئے کہا کہ غزوہ ٔ بدر کی تیاری تو اتنی بڑی تھی کہ اس کو سُپر تیاری کہا جاسکتا ہے۔ آپ قرآن میں سورہ الانفال کا پہلا رکوع پڑھیے۔ اس میں بتایا گیا ہے کہ جب یہ اطلاع ملی کہ مسلح مشرکین ایک ہزار کی تعداد میں مدینہ پر حملہ کرنے کے لیے آرہے ہیں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے مقابلہ کے لئے نکلنے کا ارادہ کیا۔ مگر آپ کے اصحاب میں ایک فریق کا وہ حال تھا جس کو قرآن میں کار ھون سے تعبیر کیا گیا ہے۔ اس وقت اللہ تعالیٰ نے وحی کے ذریعہ یہ بشارت دی کہ تم لوگ آگے بڑھو، ہم ایک ہزار فرشتوں کے ذریعہ تمہاری مدد کریں گے۔
اس خدائی بشارت کے بعد لوگ آگے بڑھے اور بدرکے مقام پر اپنے مخالفوں کو شکست دی۔ روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ جب یہ مسلمان بدر سے کامیاب ہو کر مدینہ واپس ہوئے تو شہر کے لوگوں نے ان کو مبارک باد دی۔ اس کے جواب میں ایک بدری صحابی نے کہا، تم ہمیں کس چیز کی مبارک باد دیتے ہو۔ خدا کی قسم، ہم جن سے ملے وہ توگویا کہ قربانی کے بندھے ہوئے اونٹ تھے جن کو ہم نے ذبح کردیا۔ (سیرت ابن ہشام، الجزء الثانی، صفحہ ۲۸۶)
میں نے کہا کہ آج جو لوگ تیاری کے بغیر جہاد کے لئے بدر کا حوالہ دیتے ہیں، کیا ان کے پاس اس قسم کی کوئی بشارت خدا کی طرف سے آئی ہے۔ اگر آپ کو ایسی خدائی بشارت حاصل ہو تو بے شک آپ جہاد کیجئے ورنہ اپنے خود ساختہ جہاد کے لئے ہر گز بدر کا حوالہ نہ دیجئے۔
عجیب بات ہے کہ ہماری قوم ڈیڑھ سو سال سے اسی غلط فہمی میں مبتلا ہے۔ ۱۸۵۷ میں ہندستان کے جن علماء نے انگریزوں کے خلاف مسلح جہاد کیا اس وقت ایک عالم نے ان سے کہا تھا کہ آپ کے پاس کوئی تیاری نہیں ہے۔ ایسی حالت میں آپ کا طاقتور انگریز سے مسلح ٹکراؤ کرنا جائز نہیں۔ ان لوگوں نے کہا کہ کیا ہمارے پاس اتنی بھی تیاری نہیں جتنی غزوہ ٔ بد ر کے موقع پر اس وقت کے اہل ایمان کو تھی۔ اسی غلط تصور کی بنا پر وہ لوگ انگریزوں سے لڑ گئے۔ اور زبردست نقصان اٹھا کر شکست کھائی۔
علمی اعتبار سے اس کا تجزیہ کیجئے تو یہ غلط تقابل (wrong comparison) کا ایک کیس ہے۔ بدر کے واقعہ کو یہ لوگ ایک ہزار اور ۳۱۳ کے درمیان ٹکراؤ کا معاملہ سمجھتے ہیں۔ حالانکہ اصل حقیقت کے اعتبار سے یہ خدائی فوج اور انسانی فوج کے درمیان ٹکراؤ کا معاملہ ہے۔
موجودہ زمانہ کے مسلمانوں کی سب سے بڑی کمی یہ ہے کہ ان کے اندر صحتِ فکر (right thinking) کا کامل فقدان ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مذکورہ غلطی کو وہ ڈیڑھ سو سال سے قولاً اور عملاً دہرا رہے ہیں ۔ ابھی تک وہ شعوری طورپر یہ معلوم نہ کرسکے کہ اس مدت میں بار بار پیش آنے والے ناکام جہاد کا سبب کیا ہے۔ وہ ہے جہاد کو جاننا، مگر فکر جہاد سے مکمل طورپر بے خبر رہنا۔
۱۴نومبر ۲۰۰۱ء دعا گو وحید الدین
ایک خط
برادر محترم عبدالسلام اکبانی صاحب السلام علیکم ورحمۃ اللہ
۱۳ مئی ۲۰۰۱ کو ٹیلی فون پر گفتگو کے بعد یہ خط لکھ رہا ہوں۔ میرے ایک بھائی اے ایم خان ہیں۔ انہوں نے ۱۹۵۵ میں بنارس ہندو یونیورسٹی سے انجینئرنگ کی ڈگری حاصل کی، اب وہ فیض آباد میں رہتے ہیں۔ چند دن پہلے وہ دہلی آئے۔ ایک گفتگو کے دوران انہوں نے اپنا ایک ذاتی تجربہ بیان کیا۔
ہندویونیورسٹی میں ان کو لمڈی ہاسٹل (LIMDI Hostel) میں رکھاگیا۔ اس ہاسٹل کے ہر کمرے میں دو طالب علم کے رہنے کا انتظام تھا۔ ہمارے بھائی کا داخلہ ہوا تو وہاں کے وارڈن مسٹر وی ۔ پی پانڈے (V.P. Panday) نے کہا کہ تم مسلمان ہو۔ تم کو نماز اور قرآن پڑھنا ہوگا اس لئے میں تم کو ایک غیر مشترک کمرہ دیتا ہوں، تاکہ تم کو کوئی پریشانی نہ ہو۔ یونیورسٹی کے قاعدہ کے مطابق، صرف مانیٹر کو تنہا اورغیر مشترک کمرہ دیا جاتا تھا۔ چنانچہ مسٹر پانڈے نے ہمارے بھائی کو مانیٹر بنا دیا۔ اس پر انہوں نے کہا کہ میں تو پڑھنے لکھنے والا آدمی ہوں، مانیٹری میں کیسے کروں گا۔ مسٹر پانڈے نے کہا تم کچھ مت کرنا،صرف رجسٹر پر دستخط کر دینا اور بس۔ بقیہ کام دوسرے لوگ کردیں گے۔چنانچہ ہمارے بھائی تعلیم کی پور ی مدت میںاس کمرہ میں غیر مشترک طورپر رہے۔
میرے بھائی نے بتایا کہ اس واقعہ کا ذکر انہوں نے یوپی کے ایک تعلیم یافتہ مسلمان سے کیا۔ انہوں نے یہ بات سن کر میرے بھائی سے کہا کہ مسٹر خان، پانڈے نے نہایت ہوشیاری سے آپ کواچھوت بنا دیا۔
یہ کوئی اتفاقی بات نہیں۔ یہی موجودہ زمانہ کے مسلمانوں کا عام مزاج ہے۔ موجودہ زمانہ کے مسلمان اپنی زوال یافتہ نفسیات کی بنا پر منفی مزاج (negative mentality) کا شکار ہو گئے ہیں۔ ان کو ہر واقعہ میں صرف منفی پہلو دکھائی دیتا ہے۔ حتیٰ کہ مثبت واقعات میں بھی وہ کوئی نہ کوئی منفی پہلو تلاش کر لیتے ہیں۔ اس کی ایک مثال اوپر کا واقعہ ہے۔
یہ زوال یافتہ قوم کا حال ہے۔ مگر جب کوئی قوم عروج کی حالت میں ہو تو اس کا معاملہ اس سے بالکل مختلف ہوتا ہے۔ اس کو ہر واقعہ میں مثبت پہلو دکھائی دیتا ہے۔ حتیٰ کہ وہ اپنے ایجابی مزاج کی بنا پر اس قابل ہوجاتی ہے کہ وہ منفی واقعہ میں بھی مثبت پہلو دریافت کرلے۔
دور اول کے مسلمانوں کے اندر یہ صفت کامل طورپر موجود تھی۔ اس کی ایک تاریخی مثال یہ ہے کہ خلیفہ ٔ ثانی عمر فاروق کے زمانہ میں مسلم فوجیں ایران میں داخل ہوئیں۔ ان کے اقدامات اتنے کامیاب تھے کہ ایرانی فوجی اپنا حوصلہ کھو بیٹھے۔ وہ ان کے بارے میں کہنے لگے کہ دیواں آمدند، دیواں آمدند (دیو آگئے، دیو آگئے)۔ اس وقت ایرانی حکومت نے جنگ کو روک کر گفت وشنید (negotiation) کا سلسلہ شروع کیا۔ اس دوران مسلم فوج کے کئی وفد ایرانیوں سے ملے۔ آخری وفد عاصم بن عمرو کا تھا۔ انہوں نے شاہ ایران یزدگرد کے دربار میں پہنچ کر جس بے باکی کا مظاہرہ کیا اس سے شاہ ایران غصہ ہوگیا۔ اس نے حکم دیا کہ مٹی کاایک ٹوکرا لایا جائے۔ اس کے بعد اس نے صحابی کے سرپر مٹی کا یہ ٹوکرا رکھوایا اور حکم دیا کہ ان کو اسی حال میں شہر کے باہر نکال دو۔
صحابی اپنے گھوڑے پر سوار ہوکر واپس روانہ ہوئے۔ وہ اسلامی فوج کے سردار سعد بن ابی وقاص کے خیمہ میں پہنچے اور مٹی کا ٹوکرا ان کے سامنے رکھ کر پورا قصہ بتایا۔
شاہ ایران کا یہ سلوک بلاشبہہ سخت اشتعال انگیز تھا۔ مگر حضرت سعد غصہ نہیں ہوئے۔ اس کے بجائے انہوں نے کہا کہ تم لوگوں کو خوش خبری ہو کیوں کہ خدا کی قسم انہوں نے اپنے ملک کی کنجیاں ہمارے حوالے کر دیں۔(مٹی کا ٹوکرا دینے سے انہوں نے یہ فال لیا کہ ایرانیوں نے خود ہی اپنا ملک ہمارے حوالہ کردیا ہے) البدایۃ والنہا یۃ ۷؍۳۸۔۳۹۔
اس تقابل سے واضح ہوتا ہے کہ زوال کی نفسیات اور عروج کی نفسیات میںکیا فرق ہے۔ زوال کی نفسیات میں مبتلا لوگ محرومی کے احساس میں جیتے ہیں، چنانچہ وہ ہر واقعہ سے منفی غذا لینے لگتے ہیں۔ اس کے برعکس جو لوگ عروج کی نفسیات میں جیتے ہوں، وہ ہر واقعہ سے مثبت غذ۱ لیتے ہیں۔ وہ اس قابل ہوتے ہیں کہ انتہائی ناموافق حالات میں بھی موافق پہلو تلاش کرلیں، حتیٰ کہ اپنے minus کو بھی اپنے plus میں تبدیل کرلیں۔۱۴ مئی ۲۰۰۱ دعا گو وحید الدین
واپس اوپر جائیں