Pages

Saturday, 1 March 2003

Al Risala | March 2003 (الرسالہ،مارچ)

2

- حیدرآباد کا سفر


حیدر آبادکا سفر

حیدرآباد میں۷۔۸ دسمبر ۲۰۰۲ کو تھنکرس میٹ (Thinkers’ Meet) کے نام سے ایک سیمینار ہوا۔اس کا اہتمام وگیان بھارتی مہارشی بھاردواج سوسائٹی اے۔پی کی طرف سے کیا گیا تھا۔ اس میں اعلیٰ تعلیم یافتہ لوگ شریک ہوئے۔ اس کی دعوت پر راقم الحروف نے اس میںشرکت کی۔ ۷دسمبر کی صبح کو میں حیدر آباد پہنچا اور ۱۱دسمبر ۲۰۰۲ کو میری واپسی ہوئی۔
دہلی سے حیدر آباد کے لیے یہ سفر ۷ دسمبر ۲۰۰۲ کی صبح کو انڈین ایر لائنزکے ذریعہ ہوا۔ ایر پورٹ پر کوئی خاص قابلِ ذکر واقعہ پیش نہیں آیا۔ البتہ سفر کے دوران یہ احساس ہوا کہ انڈین ایر لائنز میں پچھلے ایک سال کے اندر کئی چیزوں میں بہتری آئی ہے۔ مثلاً پہلے کے مقابلہ میں اب جہاز وقت پرروانہ ہونے لگے ہیں۔ اسی طرح کئی اور چیزوں میں پہلے کے مقابلہ میں فرق نظر آیا۔ یہ فرق یا تو ہوائی پرواز میں کامپٹیشن کی وجہ سے ہو یا وہ موجودہ نوجوان وزیر ہوابازی کا کارنامہ ہو۔
دہلی سے حیدرآباد کے لیے دو گھنٹے کا سفر تھا۔ اس دوران مختلف اخبارات کا مطالعہ کرنے کا موقع ملا۔ دہلی اور حیدر آباد کے سفر کے دوران انڈین ایر لائنز کا فلائٹ میگزین سواگت دیکھا۔ یہ اُس کا شمارہ دسمبر ۲۰۰۲ تھا۔ اس میں مختلف سفری دلچسپی کے مضامین تھے۔ اس میں ایک مضمون چائے (tea) کے بارہ میں تھا۔ اس کے مضمون نگار کا نام سُجاتا پانڈے (Sujata Pandey) تھا۔ موضوع سے متعلق مختلف معلومات دیتے ہوئے اُس میں بتایا گیا تھا کہ چائے میںاگرچہ کیلوریز (calories) نہیں ہوتیں مگر دودھ والی چائے کے اندر کئی مفید اجزاء، خاص طورپر کچھ منرل (minerals) شامل ہوجاتے ہیں۔ اس کے علاوہ چائے کے ذریعہ ہمیں بڑی مقدار میں فلورائڈ(fluoride) حاصل ہوتا ہے۔ سروے سے معلوم ہوا ہے کہ برابر چائے لینے والے لوگ بوسیدہ دانت(carious teeth) کا کم شکار ہوتے ہیں۔ مشہور مقولہ ہے کہ:
An apple a day keeps the doctor away.
اس مقولہ پر ڈھالتے ہوئے مضمون نگار نے چائے کے بارہ میں یہ جملہ لکھا تھا کہ ہر دن چائے کی ایک پیالی لو اور دانت کے ڈاکٹر کو دور بھگاؤ:
A cup a day keeps the dentist's drill away.
مجھے یاد آیا کہ پروفیسر کلیم اللہ خاں کشمیری کچھ دنوں کے لیے امریکہ گئے۔ وہاں اُنہوں نے قرآن کا روزانہ درس شروع کیا۔ اس درس میں اُنہوں نے لوگوں کو یہ سلوگن دیا کہ قرآن کی ایک آیت روزانہ پڑھو اور شیطان کو دور بھگاؤ:
One verse a day keeps the Satan away.
۷ دسمبر ۲۰۰۲ کے ٹائمس آف انڈیا کے صفحہ ۱۴ پر ایک رپورٹ دیکھی۔ یہ رپورٹ ایک انٹرنیشنل سیمینار کے بارہ میں تھی جو پچھلے دن (۶دسمبر) کو نئی دہلی کے وگیان بھون میں ہوا تھا۔ اس کا افتتاح صدر جمہوریہ ڈاکٹر عبد الکلام نے کیا تھا۔ مجھے بھی تاکید کے ساتھ اس سیمینار میں بلایا گیا تھا۔ اُس کے مطبوعہ پروگرام میں میرا نام بھی دوسرے اسپیکروں کے ساتھ شامل کردیا گیا تھا۔ مگر بعض وجوہ سے میں اُس میں شریک نہ ہوسکا۔ اس سیمینار کا اہتمام پونا کے ایک ادارہ ورلڈ فاؤنڈیشن آن ریورینس فار آل لائف(World Foundation on Reverence for All Life) کی طرف سے کیا گیا تھا۔ اس فاؤنڈیشن کے پریزیڈنٹ مسٹر باہری بی۔آر ملہوترا (Bahri B.R. Malhotra) ہیں ۔ دعوت نامہ مورخہ ۴ دسمبر ۲۰۰۲ کے علاوہ اُن کے کئی ٹیلیفون بھی آئے۔ مگر میںخواہش کے باوجود اُ س میں شرکت نہ کرسکا (Tel.: 91-20-6111485) ۔
اس انٹرنیشنل سیمینار کی جو مختصر رپورٹ ٹائمس آف انڈیا (۷دسمبر) میں یونیورسل ہارمنی کے عنوان سے چھپی ہے اُس کو یہاں صفحہ کے نیچے نقل کیا جارہا ہے۔ اس رپورٹ سے اندازہ ہوتا ہے کہ وسیع پیمانہ پر انٹر نیشنل سیمینار کا اہتمام کرنے کے باوجود، مقررین پیس اور ہارمنی کا کوئی قابل عمل فارمولا پیش نہ کرسکے۔ رپورٹ کے مطابق، صدر جمہوریہ نے اپنے خطبہ میں کہا کہ مذہب کو روحانیت کا درجہ دینا چاہئے، اسی سے عالمی اتحاد پیدا ہوگا۔ میں سمجھتا ہوں کہ اس موضوع پر یہ کوئی واضح بات نہیں۔ صدر صاحب غالباً مذہب کو کلچر یا رسومات کے مجموعہ کے معنیٰ میں لے رہے ہیں۔ حالانکہ مذہب اپنی اصل کے اعتبار سے روحانیت ہی کا دوسرا نام ہے۔ یہی اسلام کی روح بھی ہے۔ موجودہ زمانہ کے لوگوں نے رسوم و ظواہر کا اہتمام اتنا زیادہ کیا کہ مذہب کی اصل روح اوجھل ہو کر رہ گئی۔
انڈین ایر لائنز کی فلائٹ کے ذریعہ دہلی سے حیدر آباد پہنچا۔ ابھی ہم جہاز کے اندر ہی تھے کہ میرے پاس کے ایک مسافر کی جیب میں رکھے ہوئے موبائل ٹیلیفون کی گھنٹی بجی۔ اُنہوں نے بات کرتے ہوئے کہا کہ ہماری فلائٹ حیدر آباد پہنچ چکی ہے۔ میںنے سوچا کہ موجودہ زمانہ میں کمیونیکیشن کی ترقی نے اُس چیز کو گویا ایک عینی مشاہدہ بنا دیا ہے جس کو پہلے زمانے میں صرف غیبی ایمان کے طورپر ماننا پڑتا تھا۔ یعنی فاصلہ کے باوجود دوشخصوں کے درمیان رابطہ قائم ہونا۔ میرا اپنا حال یہ ہے کہ جب میں ایک شخص کو موبائل ٹیلی فون کے ذریعہ دور کے ایک شخص سے بات کرتے ہوئے دیکھتا ہوں تو مجھے ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے اس حقیقت کاایک امکانی مظاہرہ کیا جارہا ہے کہ خدا اور انسان کے درمیان وحی یا الہام کے ذریعہ کس طرح ربط قائم ہوتا ہے۔
Peace can only come from reverence for all life... Religions must graduate to spirituality to bring about universal harmony.(APJ Abdul Kalam, President of India) Reverence to all life begins with reverence to oneself... we need to first stop violating our bodies by stuffing it with junk food and violating our minds by harbouring desires and cravings.(Sri Sri Ravi Shankar) Every human being is worthy of reverence because of the divine element within. (Swami Jitatmananda, Ramakrishna Mission) A scientist who explores space and beyond, searching the cosmos for truth, must also learn to look within for universal harmony. (R A Mashelkar, Director; CSIR) Each man is a microcosm of the universe. Your body is made of all the elements of the world. Nature supplied all the ingredients that make your body, which means that the universe made you by donating itself. If nature demanded that you refund everything that nature loaned you, would there be anything left of you? You can feel that the universe gave you birth and made you, so nature is your first parent. Do you feel good that you are a microcosm of the universe? (Sun Myung Moon)
دو گھنٹہ کی پرواز کے بعد ۷ دسمبر کو صبح ۹ بجے ہمارا جہاز حیدر آباد ایر پورٹ پر اُتر گیا۔ پورا سفر بالکل ہموار (smooth) طور پر طے ہوا۔ ہوائی جہاز کا سفر ہوا کے تابع ہوتا ہے۔ ہوا اگر پر سکون ہے تو سفر بھی پُر سکون ہوگا اور ہوا میں اگر اضطراب ہے تو سفر میں بھی اضطراب کی حالت جاری رہے گی۔ انسان ہوائی جہاز بنا سکتا ہے مگر انسان کو ہوا کے اوپر کوئی قدرت نہیں۔ اسی مثال سے جبر و اختیار کے معاملہ کو سمجھا جاسکتاہے۔ ہوا کی مثال انسان کی مجبوری کو بتاتی ہے اور ہوائی جہاز کی مثال انسان کے اختیار کو۔ اس دنیا میں انسان کا معاملہ بین بین کا معاملہ ہے۔ یعنی انسان ایک اعتبار سے مجبور ہے اور دوسرے اعتبار سے بااختیار۔
حیدر آباد ایر پورٹ پر ڈاکٹر شیزان صاحب اور مولانا عمر عابدین صاحب موجود تھے۔ کانفرنس والوں نے یہاں میرے قیام کا انتظام تولپ منوہر ہوٹل میں کیا تھا جو ایر پورٹ سے قریب ہے۔ ایرپورٹ پر ہوٹل کا ایک نمائندہ موجودتھا۔ اُس نے اپنی گاڑی میں بٹھا کر ہم لوگوں کو ہوٹل میں پہنچایا۔ یہاں میرا قیام ہوٹل کے کمرہ نمبر ۲۱۱ میں تھا۔
ڈاکٹر شیزان صاحب اور مولانا عمر عابدین صاحب سے تفصیلی گفتگو ہوئی۔ میں نے کہا کہ موجودہ زمانہ میں مسلمانوں کی اصلاح اور اسلام کے احیاء نو کا جو کام کرنا ہے وہ تقلیدی انداز میں نہیں ہوسکتا۔ آج ہزاروں تحریکیں اس مقصد کے لیے سرگرم ہیں مگر مطلوب نتیجہ بر آمد نہیں ہورہا ہے۔ اُس کا خاص سبب یہی ہے۔ آج ضرورت ہے کہ اسلام کی تعلیمات کو وقت کے فکر ی مستویٰ (intellectual level) پر پیش کیا جائے تاکہ وقت کا کارفرما طبقہ اُس کو اپنا سکے۔ ہماری موجودہ تحریکیں اسلام کو وقت کے فکری مستویٰ پر پیش نہیں کررہی ہیں اس لیے عوامی طبقہ کے کچھ لوگ تو ضرور اُن کے گرد اکٹھا ہو رہے ہیں مگر اعلیٰ طبقہ کے لوگ اُنہیں قابل توجہ نہیں سمجھتے۔ حالاں کہ جب تک اعلیٰ طبقہ کے لوگ متوجہ نہ ہوں اسلام کی نئی تاریخ بنائی نہیں جاسکتی۔
حیدر آباد ایر پورٹ سے روانہ ہو کر سب سے پہلے منوہر ہوٹل پہنچا۔ یہاں الرسالہ کے کئی قارئین اکٹھا ہوگئے۔ اُن سے دیر تک باتیں ہوتی رہیں۔ اس مجلس میں میںنے جو باتیں کہیںاُن میں سے ایک یہ تھی کہ معرفت کس طرح آدمی کوایک نیا انسان بنادیتی ہے۔ میںنے کہا کہ ایک انگریزی شاعر نے لکھا ہے کہ میں نے اپنی زندگی میں سب سے عجیب چیز یہ دیکھی کہ مِس ٹی جو کچھ کھاتی ہے وہ مِس ٹی بن جاتا ہے:
What ever miss T eats turns into miss T.
میں نے کہا کہ یہ واقعہ جو مِس ٹی کے ساتھ مادی غذا کے معنیٰ میں ہوتاہے وہی مومن کے ساتھ روحانی معنیٰ میں ہوتا ہے۔ یعنی ایک عورت یا مرد جو مادی غذا کھاتے ہیں وہ اُن کے جسم میں داخل ہو کر اُن کے گوشت اور خون اور ہڈی کی صورت اختیار کر لیتی ہے۔ اسی طرح مومن اس دنیا میں جو کچھ دیکھتا ہے یا سنتا ہے یا تجربہ کرتا ہے وہ سب اُس کے مومنانہ ذہن کی وجہ سے اُس کے لیے معرفتِ حق میں تبدیل ہوجاتا ہے۔ اسی مومنانہ صفت کو قرآن میں توسّم کہا گیا ہے۔ یہاں سلطان محمود صاحب، احمد سعید صاحب اور ضیاء الدین نیّر صاحب سے بھی ملاقات ہوئی۔
ہوٹل میںقیام کے دوران بہت سے اعلیٰ تعلیم یافتہ ہندوؤں سے ملاقات ہوئی۔ اُن میں سے ایک قابلِ ذکر نام آرایس ایس کے چیف کے ایس سدرشن کا ہے۔ ۷دسمبر کو کھانے کی میز پر اُن سے تفصیلی گفتگو ہوئی۔ میںنے کہا کہ الیکشن کی سیاست سے واضح ہوچکا ہے کہ ’’سنگھ پریوار‘‘ کے لیے یہ ممکن نہیں کہ وہ مرکز میں مطلق اکثریت کے ساتھ آسکے۔ آپ حضرات کا یہ اندازہ درست ثابت نہیں ہوا کہ ہندو لوگ بڑی تعداد میں آپ کو ووٹ دیں گے اور اس طرح آپ پارلیمنٹ میںاکثریت حاصل کرلیں گے۔ آپ کا مسئلہ صرف یہ نہیں ہے کہ مسلمان آپ کو ووٹ دینے کے لیے تیار نہیں بلکہ خود ہندوؤں کے اندر ذات کی بنیاد پر سیاسی تفریق اتنی بڑھ چکی ہے کہ خود ہندوؤں کی اکثریت آپ کے ساتھ نہیں ۔ آپ جانتے ہیں کہ خود ہندوؤں میں ایسے لوگ ہیں جو آپ کے کلچرل نیشنلزم کو ہندو ٹیررزم کے ہم معنٰی بتاتے ہیں۔ ایسی حالت میں آپ مرکزی حکومت پر کس طرح قبضہ کریں گے اوراپنے سیاسی ایجنڈا کو کس طرح نافذ کریں گے جب کہ مرکزی اقتدار پر قبضہ کیے بغیر آپ کے لیے اپنے سیاسی ایجنڈے کا نفاذ ممکن نہیں۔
سُدرشن جی نے میری بات کے وزن کو تسلیم کیا اور کہا کہ اب ہم اپنی حکمت عملی بدل رہے ہیں۔ ہم نے ریجنل بنیاد پر بہت سے کام شروع کردیے ہیں اور اس میں ہمیں کامیابی کی پوری اُمید ہے۔ غالباً ان حضرات کا یہ خیال ہے کہ علاقائی سطح پر کام کرکے لوگوں کے ذہن کو ہموار کیا جائے اوراُس کے بعد مرکزی اقتدار تک پہنچا جائے۔ اُن کے جدید فارمولا کو شاید اس طرح بیان کیا جاسکتا ہے کہ—نئی دہلی کا وہ راستہ زیادہ قریب ہے جو گاؤں سے ہو کر جاتا ہے۔
حیدرآباد کے اس سیمینار کا عنوان یہ تھا: انڈیا نائزیشن آف ایجوکیشن (Indianisation of Education) ، یعنی تعلیم کو بھارتیہ بنانا۔ اس سلسلہ میں پروفیسر جے۔ایس۔ راجپوت (J.S. Rajput) نے مجھے ایک انگریزی کتابچہ دیا۔ یہ کتابچہ ۸۶ صفحات پر مشتمل تھا۔ ڈاکٹر راجپوت کا دفتر نئی دہلی میں ہے۔(Tel.: 6519154, 6964712)
اس کتابچہ میں سپریم کورٹ کا وہ مشہور فیصلہ مکمل طورپر شائع کیا گیا تھا جو ۱۲ ستمبر ۲۰۰۲ کو دیا گیا۔ سیمینار کے منتظمین کے نزدیک سپریم کورٹ کا یہ فیصلہ ان کے نظریہ (انڈیانائزیشن آف ایجوکیشن) کی تائید کرتا ہے۔ میںنے سپریم کورٹ کے اس فیصلہ کو مکمل طورپر پڑھا۔ اس کے بعد میںنے حیدر آباد کے سیمینار کے ایک ذمہ دار سے بات کرتے ہوئے کہا کہ سپریم کورٹ کا فیصلہ آپ لوگوں کے نظریہ کی تائید نہیں کرتا۔
میںنے کہا کہ آپ اپنے نظریہ کوانڈیانائیزیشن آف ایجوکیشن کہتے ہیں۔ جب کہ سپریم کورٹ کے فیصلہ میں یہ لفظ سرے سے موجود ہی نہیں۔ اس فیصلہ میں جس چیز کی ضرورت بتائی گئی ہے وہ اسکول کی تعلیم کے نصاب میں مشترک اخلاقی قدروں کو شامل کرنا ہے، نہ کہ تعلیم کا انڈیا نائزیشن یا بھارتیہ کرن۔میںنے کہا کہ آپ اس فیصلہ کو دوبارہ پڑھیے اور دیکھئے کہ اُس کا ریشیو آف دی ججمینٹ (ratio of the judgement) کیا ہے۔ اُس میں صاف طورپر کہاگیا ہے کہ اس فیصلہ کا مطلب ہر گز یہ نہیں ہے کہ کسی خاص مذہب یا تہذیب کو نصاب میں شامل کیا جائے۔ اس فیصلہ کا مقصد صرف یہ ہے کہ مختلف مذاہب میں جو مشترک اخلاقی تعلیمات موجود ہیں اُن کو اسکول کے نصاب میں داخل کیا جائے۔ یہ کام سیکولر انداز میں ہونا چاہئے، نہ کہ مذہبی انداز میں۔ فیصلہ میں واضح طورپر کہا گیا ہے کہ سیکولرزم ہمارے دستور کی بنیاد ہے:
Secularism is the basic structure of the Indian constitution. (p. 52)
ایک تعلیم یافتہ ہندو نے گفتگو کے دوران کہا کہ آپ لوگ خدا اور روحانیت کی بات کرتے ہیں لیکن آج کا ایک انسان جس کے پاس پیسہ ہے اور جس کو مادّی سہولتیں حاصل ہیں وہ کہتا ہے کہ ہم کو خدا اور روحانیت کی کیا ضرورت ۔ ہم جو کچھ چاہتے ہیں وہ سب کچھ ہم کو اس کے بغیر ملا ہوا ہے۔ پھر کیوں خدا اور روحانیت جیسی چیزوں میںاپنے دماغ کو الجھائیں۔
میںنے کہا کہ آپ کو جوچیز ملی ہوئی ہے وہ کیا ہے۔ وہ صرف وہ چیزیں ہیں جو آپ کے جسم کو آرام دے سکیں۔ مگر یہ تو زندگی کی حیوانی سطح ہے۔ کوئی بھی حیوان اس قسم کی زندگی حاصل کرسکتا ہے۔ انسان کی اصل عظمت یہ ہے کہ وہ دماغ رکھتا ہے۔ جسم تو صرف اس دماغ کی سواری ہے۔ انسان کی اصل ترقی اس میں ہے کہ اُس کا دماغ ترقی کرے۔ اگر جسم فربہ ہوجائے اور دماغی سطح پر کوئی ترقی نہ ہو توایسی ترقی کی کوئی قیمت نہیں۔ خدا اور روحانیت کا راستہ اسی دماغی ترقی کو حاصل کرنے کا ذریعہ ہے۔
میںنے کہا کہ آپ جیسے لوگ یہ کرتے ہیں کہ وہ مخصوص تعلیم اور ٹریننگ کے ذریعہ دماغ کے ایک حصہ کو ترقی یافتہ بنا لیتے ہیں۔ یہ دماغ کا پروفیشنل حصہ ہے۔ ایسے لوگ پروفیشنل اعتبار سے ذہین معلوم ہوتے ہیں۔ مگر دماغ کے دوسرے فکری پہلوؤں کے اعتبار سے وہ بالکل غیر ترقی یافتہ حالت میں پڑے رہتے ہیں۔
ایک سابق وائس چانسلر سے بات کرتے ہوئے میںنے کہا کہ انڈیا کے مسائل کی اصل جڑ تعلیمی پچھڑا پن ہے۔ سب سے پہلا کام یہ ہے کہ ملک کی پوری آبادی کو تعلیم یافتہ بنایا جائے۔ اس کے بعد ہی یہاں کے مسائل ختم ہوں گے۔ اُنہوں نے کہا کہ صرف تعلیم کافی نہیں۔ ہم دیکھتے ہیں کہ تعلیم یافتہ افراد بھی کتنے زیادہ غلط کام کرتے ہیں۔
میںنے کہا کہ جب میں تعلیم کو بنیادی اہمیت کی چیز بتاتا ہوں تومیں تعلیم کے بالواسطہ فائدوں کو شامل کرکے ایسا کہتا ہوں۔ آپ جیسے لوگ صرف تعلیم کے رسمی پہلو کو دیکھتے ہیں۔ حالانکہ تعلیم کے بہت سے اضافی پہلو ہیں۔
میں نے کہا کہ تعلیم کا ایک فائدہ یہ ہے کہ اُس کے ذریعہ آدمی جاب کے قابل بنتا ہے۔ اس سے بھی زیادہ بڑا فائدہ یہ ہے کہ تعلیم آدمی کو باشعور بناتی ہے۔ وہ آدمی کو اس قابل بناتی ہے کہ وہ باتوں کو گہرائی کے ساتھ سمجھ سکے۔ دوسرے لفظوں میں یہ کہ تعلیم آپ جیسے مصلحین اور نوجوانوں کے درمیان ذہنی بُعد (intellectual gap) کو ختم کرتی ہے۔ آپ جیسے رہنماؤں کے لیے یہ ممکن ہوجاتا ہے کہ وہ لوگوں کی قابلِ فہم زبان میں اُن سے کلام کر سکیں۔
کچھ اخبار نویسوں سے بات کرتے ہوئے میں نے کہا کہ انسان کی ایک عام کمزوری یہ ہے کہ وہ اپنے مخالف کی بات کو صحیح شکل میںرپورٹ نہیں کرتا۔ اس کی ایک مثال یہ ہے کہ ۱۹۴۷ سے پہلے لارڈ ٹی۔بی میکالے(وفات ۱۸۵۹) نے غیر منقسم ہندستان میں انگریزی تعلیم کے بارے میں اپنا مشہور خاکہ پیش کیا جس کو اُس وقت کی برطانی حکومت نے منظور کرکے اُسے ملک میں جاری کیا۔
لارڈ میکالے کے اس خاکہ کے بارے میںاپنی نوجوانی کی عمر میں میںصرف یہ جانتا تھا کہ اُس کا مقصد ایک ایسی قوم بنانا ہے جو پیدائش کے اعتبار سے انڈین اور خیالات کے اعتبار سے انگلش ہو۔ اُس وقت کے لیڈر یہی بات لکھتے اور بولتے تھے۔ مگر بعد کو جب میں پختگی کی عمر کو پہنچا تو میںنے یہ سوچنا شروع کیا کہ انگریزی تعلیم کا یہی وہ نظام تھا جس سے ملک کے تمام اعلیٰ افراد پیدا ہوئے—سوامی وویکا نند، آروندو، ٹیگور، ڈاکٹر رمن، مہاتما گاندھی، جواہر لال نہرو، جے پرکاش نرائن، راجیندر پرشاد، رادھا کرشنن، راج گوپال اچاری، ڈاکٹر ذاکر حسین، وغیرہ وغیرہ۔ اس کے برعکس آزادی کے بعد ہماری قومی حکومت نے جو تعلیمی نظام ملک میں رائج کیا اُس سے مذکورہ قسم کی شاید کوئی ایک بھی اعلیٰ شخصیت پیدا نہ ہوسکی۔
اس کے بعد جب میں نے اس معاملہ کا ازسرِ نو مطالعہ کیا تو معلوم ہوا کہ لارڈ میکالے کی ایک تقریر کے ایک جملہ کو لے کر مذکورہ بات پھیلائی گئی۔ جب کہ انگریزی تعلیم کے منصوبہ کا اصل مقصد یہ تھا کہ ملک کے نوجوانوں کو جدید علوم اور جدید معیار کے مطابق، تعلیم یافتہ بنایا جائے اور ماڈرن ایجوکیشن کو ملک میں عام کیا جائے۔
وائس آف امریکہ کے ایک نشریہ میں ایک بار میں نے سُنا کہ امریکہ میں ہندستان کے لوگ انفارمیشن ٹیکنالوجی اور دوسرے شعبوں میں زیادہ کامیاب کیوں ہیں۔ جواب میں بتایا گیا کہ وہ انگریزی زبان بہت اچھی جانتے ہیں:
They speak very good English, and this is their advantage.
یہ طریقہ آج بھی ہمارے یہاں رائج ہے۔ صحیح انداز یہ ہے کہ جب بھی کسی کی بات کو پیش کیا جائے تو اُس کو ٹھیک ویسا ہی پیش کیا جائے جیسا کہ وہ ہے۔ اس کے بغیر لوگوں کے اندر حقیقت پسندانہ سوچ پیدا نہیں ہوسکتی جو ملکی تعمیر کے لیے بے حد ضروری ہے۔
ہندوؤں کی ایک مجلس میںمیں نے اسلامی تعلیمات کا تعارف پیش کیا۔ لوگوں نے بہت غور سے سُنا۔ آخر میں ایک تعلیم یافتہ ہندو نے کہا کہ آپ اسلام کو اس طرح پیش کرتے ہیں کہ وہ لوگوں کے لیے سہج سوئکاریہ ہو جائے۔ یعنی اسلام کو ماننا اُن کے لیے آسان ہوجائے۔
۷ دسمبر ۲۰۰۲ کی شام کو وہ سیمینار تھا جس میں شرکت کے لیے میرا یہ سفر ہوا۔ اس سیمینار کا موضوع انڈیانائیزیشن آف ایجوکیشن تھا۔ میںنے اپنی تقریر میںایک بنیادی بات کہی۔ وہ یہ کہ ہمارا ملک جس مسئلہ سے دوچار ہے وہ اسکول ایجوکیشن کے انڈیانائزیشن سے حل ہونے والا نہیں۔ اُس کے لیے زیادہ وسیع پیمانہ پر مسلسل محنت کی ضرورت ہے۔ ہمیں تمام وسائلِ ابلاغ کو استعمال کرکے ملک میں ایک فکری اور اخلاقی انقلاب لانا ہوگا۔ اُس کے بعد ہی ہمارا مطلوب مقصد حاصل ہوسکتا ہے۔
۷ دسمبر کی شام کے سیمینار میں ہونے والی میری تقریر کی رپورٹ مختلف اخبارات میں چھپی ۔ حیدرآباد کے اُردو روزنامہ منصف (۱۲ دسمبر ۲۰۰۲) میں یہ رپورٹ اس عنوان کے ساتھ شائع ہوئی— ’’ مولانا وحید الدین خاں کے ساتھ ایک شام‘‘۔ اس رپورٹ کا کچھ حصہ یہاں نقل کیا جاتا ہے:
’’عید کے دوسرے دن، ادارہ ادبیاتِ اردو کے ایک صاحبعبدالنعیم نے دعوت نامہ پیش کیاکہ مولانا وحید الدین خاں کا لکچر ہے اور آپ کا چلنا ضروری ہے۔ یہ وگیان بھارتی مہارشی بھاردواج سوسائٹی آندھرا پردیش کی جانب سے مختلف مذاہب کے مفکرین کا سیمینار تھا جس کا مقصد قومی یکجہتی اور ترقی تھا۔ عثمانیہ یونیورسٹی پہنچے تو شام کے پانچ بج رہے تھے۔ سرمئی اجالے میں وسیع سبزہ زار پر اسٹیج وکرسیوں کا انتظام تھا۔ تیز روشنی میں سیکورٹی کا غیر معمولی اہتمام کیاگیا تھا۔ معلوم ہوا کہ مرکزی وزیر برائے فروغ انسانی وسائل مرلی منوہر جوشی اور آر ایس ایس کے سَر سنچالک سدرشن جی بھی تشریف لارہے ہیں۔ جب ہم پہنچے تھے تو اسٹیج پر تین چار حضرات موجود تھے اور سیمینار کے پہلے مقرر ڈاکٹرڈیوڈ فرالے (David Frawlay) انگریزی میںویدک نالج دے رہے تھے۔ اُنہوں نے ہندو دھرم کی خصوصیات پر روشنی ڈالی اور تالیوں کی گونج میں اپنی کرسی پر دوبارہ بیٹھ گئے۔ دوسرے مقرر مولانا وحید الدین خاں تھے جنہوں نے ناسازی ٔ مزاج کی بنا پر مختصر خطاب کیا لیکن لوگوں نے اس کو بہت پسند کیا۔
مولانا وحید الدین خاں نے انگریزی میں بولتے ہوئے بتایا کہ ہندستان بہتر کیوں ہے۔ مذہبی آزادی اور روحانی ماحول کی وجہ سے ہندستان، ساری دنیا میں اپنی انفرادیت رکھتا ہے۔ یہ صوفیوں اور سَنتوں کا ملک رہا ہے۔ موجودہ حالات کی روشنی میں اُنہوں نے یہاںکے لوگوں کو آپسی رواداری برتنے اور ایک دوسرے کا لازمی احترام کرنے کی تلقین کی۔ اُنہوں نے حالات حاضرہ کو پیش کرتے ہوئے بتایا کہ بچپن میں اُنہوں نے اسمٰعیل میرٹھی کی ایک نظم ’’گائے‘‘ پڑھی تھی جو گھاس کھا کر دودھ پیدا کرتی ہے۔ اس کا ایک شعر یہ تھا:
کل جو گھاس چری تھی بن میں دو دھ بنی وہ گائے کے تھن میں
گائے تمام لوگوں کے لیے قدرت کا یہ پیغام ہے کہ نان مِلک کو مِلک میں تبدیل کرو۔ منفی جذبات کا جواب مثبت انداز میں دو۔ دنیا کے مختلف ممالک مادی، فوجی اور دیگر طاقتیں رکھتے ہیں مگر ہندستان روحانی سپر پاور کی حیثیت سے اپنا منفرد مقام رکھتا ہے۔ مولانا وحید الدین خاں نے سیمینار سننے والے ننانوے فیصد ہندو بھائیوں اور بہنوں کو بتایا کہ میں مسلمان ہونے کے ناطے ’’میر عرب کو آئی ٹھنڈی ہوا جہاں سے‘‘ پرعقیدہ رکھتا ہوں۔ ہندستان ایک ایسا ملک ہے جو روحانی طورپر ساری دنیا کی قیادت کرے، تشدد کے ذریعہ نہیں بلکہ امن و یکجہتی کے ذریعہ۔ تاریخ گواہ ہے کہ ہندستان ہمیشہ سپر پاور رہا ہے، روحانی طورپرنہ کہ سیاسی طور پر ‘‘۔ (صفحہ ۴)
میری تقریر کے بعد سدرشن جی کی تقریر تھی۔ میری طبیعت ٹھیک نہ تھی۔ چنانچہ میںاُن کی تقریر کے درمیان ہی اُٹھ گیا۔ اسٹیج سے اُتر کر میں نیچے پہنچا تھا کہ سدرشن جی اپنی تقریر کوروک کر آئے اور مجھے رخصت کیا۔
حیدر آباد سے ایک انگریزی ماہنامہ نکلتا ہے۔ اس کا نام بھارتیہ پرجنا (Bharatiya Pragana) ہے۔ اس کا شمارہ دسمبر ۲۰۰۲ دیکھا۔ اُس کے صفحہ ۵۸ پرایک رپورٹ درج تھی۔ حیدر آباد میں ۱۸ نومبر ۲۰۰۲ کو کنورژن پر ایک راؤنڈ ٹیبل کانفرنس ہوئی جس میںہندو اور کرشچین شریک ہوئے۔ یہ رپورٹ اسی سے متعلق تھی۔ اُس کا عنوان یہ تھا:
Conversions—Issues and Need for legislation
رپورٹ کے مطابق، ہندو اسپیکروں نے کنورژن (تبدیلی ٔ مذہب) کو مکمل طورپر کنڈم کیا اور اس پر زور دیاکہ سارے ملک میں کنورژن پر بَین لگانے کے لیے قانون بننا چاہئے۔ بھارتیہ پرجنا کے شمارہ جنوری ۲۰۰۳ میں مذکورہ سیمینار کی رپورٹ بھی شائع ہوئی ہے۔
ایک ہندو سے بات کرتے ہوئے میں نے کہا کہ کنورژن پر پابندی لگائی جائے یا نہ لگائی جائے، یہ ایک الگ سوال ہے۔ مگر ایک بات میری فہم سے بالاتر ہے۔ ایک طرف تمام ہندو دانشور یہ کہتے ہیں کہ ہر مذہب سچا ہے۔ ہر مذہب نجات کی طرف لے جاتا ہے۔ حتٰی کہ اُن کا یہ کہنا ہے کہ ہم اپنے سوا دوسرے مذہبوں کو صرف ٹالریٹ نہیں کرتے بلکہ اُن کو ایکسیپٹ(accept) کرتے ہیں۔ دوسری طرف یہی لوگ شدت سے کنورژن کے مخالف ہیں۔ میرے نزدیک یہ دونوں باتیں ایک دوسرے کی ضد ہیں۔ جب آپ لوگ ہر مذہب کو سچامانتے ہیں تو ایسی حالت میں کنورژن کا مطلب صرف یہ ہے کہ آدمی سچائی اے کو چھوڑ کر سچائی بی میںچلا گیا۔ خود آپ کے نظریہ کے مطابق، یہ کوئی برائی نہیں۔ پھر اس کی مخالفت کرنے کی کیا ضرورت۔
۷دسمبر کی رات منوہر ہوٹل میں گذری۔ ایک تعلیم یافتہ ہندو سے میڈیٹیشن (meditation) پر گفتگو ہوئی۔ اُنہوں نے کچھ سوامی لوگوں کا ذکر کیا جو اُن کے الفاظ میں، اسٹریس (stress) کو ڈی اسٹریس کرنے کا آرٹ جانتے ہیں۔ وہ لوگوں کے ذہنی تناؤ کو دور کرکے لوگوں کو شانتی بانٹ رہے ہیں۔
میں نے کہا کہ میں ایسے کچھ سوامی لوگوں سے ملا ہوں اور اس آرٹ کو سمجھنے کی کوشش کی ہے۔ یہ لوگ یہ کرتے ہیں کہ جو آدمی ذہنی تناؤ میں مبتلا ہو اُس کو میڈیٹیشن کے مخصوص کورس سے گزارتے ہیں۔ اس کورس کا مقصد تناؤ کو سپریس (suppress)کرنا ہوتا ہے، نہ کہ اُس کو ختم کرنا۔ جن لوگوں نے یہ کورس کیا ہے وہ بتاتے ہیں کہ چند گھنٹے کے لیے جب کہ وہ اس کورس میں ہوتے ہیں، بظاہر اُن کا ذہنی تناؤ دور ہو جاتا ہے۔ مگرجب وہ اس کورس سے نکل کر اپنی زندگی میں واپس آتے ہیں تو تناؤ کی وہی کیفیت دوبارہ لوٹ آتی ہے۔
میں نے کہا کہ اسٹریس کو دور کرنے کا یہ طریقہ مسئلہ کا علاج نہیں بلکہ وہ پین کِلر گولی کے مانند ہے جو وقتی طورپر درد کو دبا دیتی ہے اور اُس کے بعد درد بدستور اُبھر آتا ہے یا اُس کو ایک ذہنی تحذیر(intellectual anesthesia) کہا جاسکتا ہے۔ اور اگر بالفرض ایسا کوئی طریقہ ہو جو فکری عمل کو مستقل طورپر روک کر تناؤ کو دور کرسکے تووہ انسان کو باشعور انسان کی سطح سے اُتار کر بے شعور انیمل کی سطح پر لانا ہوگا۔ یہ ڈی ہیومینائزنگ (de-humanising) ہوگا، نہ کہ ڈی اسٹریسنگ (de-stressing) ۔
میں نے کہا کہ ذہنی تناؤ کوئی برائی نہیں۔ وہ ذہنی ترقی کا ذریعہ ہے۔ تاریخ میں تمام بڑے بڑے کام اُنہی لوگوں نے کیے ہیں جو ذہنی تناؤ کا شکار ہوئے۔ وہ لوگ جن کی پوری زندگی سکون و عافیت میں گذری اُنہوں نے کبھی کوئی تخلیقی کام نہیںکیا۔ کسی پُر سکون ذہن نے کبھی کوئی سائنسی دریافت نہیںکی۔ کسی پُرعافیت آدمی نے کبھی کوئی تخلیقی کتاب نہیں لکھی۔
ایک مجلس میںمیں نے اپنا ایک واقعہ بتایا۔ حال میں دہلی کے شری پال جین (Tel.: 2248920, 2215617) مجھ سے ملنے کے لئے میرے آفس میں آئے۔ وہ اپائنٹمنٹ کے بغیر اچانک آگئے تھے۔ اس وقت میںایک ضروری کام میں مصروف تھا۔ مجبوراً کام چھوڑکر اُن سے ملنے کے لیے ملاقات کے کمرہ میںجانا پڑا۔ جب ملاقات ہوئی تو انہوں نے بتایا کہ انہوں نے اہنسا پرِ یَا سماج کے نام سے ایک ادارہ قائم کیا ہے۔ اس کے تحت وہ مہاشکتی اہنسا ٹائمس چھاپنا چاہتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ اس کے لئے آپ کا ایک آرٹیکل چاہئے۔ آج کل ہنسا بہت بڑھ گئی ہے۔ آپ ہمیں ہنسا کے خلاف ایک آرٹیکل دیجئے۔ میں نے کہا کہ میرا آرٹیکل آپ کو سوٹ نہیں کرے گا۔ اس لئے کہ میں اس میں لکھوں گا کہ اہنسا وادی بھی ہنسا کرتے ہیں۔ میرے نزدیک ہنسا صرف گولی یابم مارنے کا نام نہیں ہے۔ ہنسا وہ بھی ہے جو اس وقت آپ نے کیا ۔ میںنے کہا کہ اپائنٹمنٹ کے بغیر کسی کے یہاں جانا اس کو ڈسٹرب کرناہے۔ اور ڈسٹرب کرنا بھی ایک قسم کی ہنسا ہے۔
میںنے کہا کہ انڈیا میں صرف دو اہنسا وادی پیدا ہوئے ہیں—مہاتما گاندھی اور اس کے بعد یہ آدمی جو اس وقت آپ کے سامنے بیٹھا ہوا ہے۔ میں نے کہا کہ میرا طریقہ یہ ہے کہ میں پوری طرح ایک نوپرابلم انسان بن کر رہتا ہوں، حتیٰ کہ خود اپنے گھرمیں بھی۔ باہر کے سفروں میں لوگ مجھے اپنے گھر ٹھہراتے ہیں تو میں کبھی کسی چیز کی فرمائش نہیں کرتا۔ چائے کی ایک پیالی بھی ایک جگہ سے اٹھا کر دوسری جگہ نہیں رکھتا۔ کبھی زور سے نہیں بولتا، کبھی خود سے نہ لائٹ جلاتا ہوں اور نہ اے۔ سی چلاتا۔
میں نے کہا کہ ہنسا صرف یہ نہیں ہے کہ آپ کسی کو جسمانی طورپر تکلیف پہنچائیں۔ ذہنی اور روحانی تکلیف پہنچانا بھی ہنسا ہے۔ کسی کے لئے غیر ضروری طورپر مسئلہ پیدا کرنا بھی ہنسا ہے ۔ کسی کو غلط مشورہ دینا بھی ہنسا ہے۔ کسی کے خلاف بری بات پھیلانا بھی ہنسا ہے۔ کسی سے نفرت کرنا بھی ہنسا ہے۔
۸ دسمبر ۲۰۰۲ کی صبح کو میںاپنے چند ساتھیوں کے ہمراہ منوہر ہوٹل سے روانہ ہوکر مدینہ ایجوکیشن سنٹر پہنچا۔ یہاں میرا قیام اُس کے گیسٹ ہاؤس میںتھا۔ یہ گیسٹ ہاؤس وسطِ شہر میں واقع ہے۔ اس لیے لوگ رات دن مسلسل آتے رہے اور لوگوں سے ملاقاتیں جاری رہیں۔ ایک صاحب نے کہا کہ میں الرسالہ پڑھتا ہوں۔ مگر الرسالہ میں تکرار ہوتی ہے۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اب آپ بوڑھے ہوگئے ہیں اور زیادہ باتیں آپ کے پاس نہیں ہیں اس لیے آپ پچھلی کہی ہوئی باتوں کو دہراتے رہتے ہیں۔
میںنے کہا کہ اگر آپ دہلی آئیں تو میںآپ کو ایک سوٹ کیس دکھاؤں گا۔ اس میںہزاروں لکھے ہوئے صفحات موجود ہیں جوسب کے سب غیر مطبوعہ ہیں۔ اگر آپ چاہیں تو آپ ہمارے رفیق کار مولانا ندیم احمد سے خط یا ٹیلی فون کے ذریعہ پوچھ لیجئے۔ وہ آپ کو بتائیں گے۔ کیو ں کہ آج کل میںاِملا کے ذریعہ انہیں سے مضامین لکھواتا ہوں۔
میںنے کہا کہ آپ جانتے ہیں کہ قرآن میں مضامین کی تکرار ہے۔ مثلاً آدم اور ابلیس کے قصہ کو قرآن میں کئی بار دہرایاگیا ہے۔ اس کا مقصد بات کو ذہن نشین کرنا ہے۔ جب کوئی بات ماحول کے خلاف کہی جائے تو لوگ اُس کو ایک بار کہنے سے سمجھ نہیں سکتے۔ مثلاً سو سال سے مسلمانوں کا ذہن احتجاج اور شکایت کی باتوں سے بھر دیا گیا تھا۔ اب میںلوگوں کی سوچ کو بدل کر اُنہیں صبر و اعراض کے اُصول پر سوچنے والا بنانا چاہتا ہوں۔ اسی طرح سو سال سے مسلمانوں کا ذہن قومی طرز فکر سے بھر دیا گیا تھا اب ہم اُن کے اندر دعوتی طرز فکر لانا چاہتے ہیں۔ یہ لوگوں کی کنڈیشننگ (conditioning) کو توڑنا ہے اور کنڈیشننگ کو توڑنے کا کام اس طرح نہیں ہوسکتا کہ بات کو قانون کی زبان میںایک بار کہہ دیا جائے۔
۸ دسمبر کی شام کا کھانا ڈاکٹر شیزان صاحب کے یہاں تھا۔ کھانے پر کئی لوگ اکٹھا ہوئے۔ یہاں لوگوں سے مختلف موضوعات پر گفتگو کرنے کا موقع ملا۔ ایک بات میںنے یہ کہی کہ موجودہ زمانہ کے مسلمان لمبی مدت سے بڑی بڑی تحریکیں چلا رہے ہیں۔ مگر مطلوب نتیجہ ابھی تک نہیں نکلا۔ اس صورت حال کا تقاضا ہے کہ پورے معاملہ پر ازسرِ نو غور کیا جائے۔وہ کام کیا جائے جس کو ری اسسمنٹ re-assessment) ( کہا جاتا ہے۔ مثال کے طورپر اگر سلطان ٹیپو کی شہادت (۱۷۹۹) سے شمار کیا جائے تو نہ صرف ہندستان بلکہ دوسرے مقامات کے مسلمان تقریباً تین سو سال سے مسلّح جہادکررہے ہیں۔ مگر نتیجہ یک طرفہ طورپر مسلمانوں کی تباہی کی صورت میں نکلا ہے۔ اس صورت حال کا تقاضا ہے کہ مسلّح جہاد کو یک طرفہ طورپر اور مکمّل طور پر بند کردیا جائے اور ساری کوشش پُرامن عمل میںلگادی جائے۔
۹ دسمبر کی صبح ہوئی تو کئی ساتھی بالکل سویرے ہی مدینہ ایجوکیشن سینٹر آگئے۔ مثلاً عبدالغفار صاحب، عبد الرؤف صاحب، معین بھائی، وغیرہ۔ مدینہ ایجوکیشن سینٹر کے اوپر کی چھت پر باجماعت نماز کا انتظام ہے۔ یہاں ہم لوگوں نے دوسرے طلبہ کے ساتھ با جماعت فجر کی نماز ادا کی۔ نماز کے بعد میں نے کہا کہ پنج وقتہ نماز اصلاً اللہ کی عبادت ہے مگر اسی کے ساتھ وہ کتاب موقوت ہے۔ نماز کا یہ نظام ہمارے اوقاتِ کار کو منظم کرتا ہے۔ اگر ہم اپنے کام کو پانچ وقتوں میں تقسیم کریں اور ہر کام ایک نماز اور دوسری نماز کے درمیان انجام دیں تو یہ بہت مفید ہوگا۔ اس طرح پانچ وقت کی نماز ہمارے لیے ٹائم مینیجمنٹ کا ایک فطری ذریعہ بن جائے گی۔
ایک مسلم نوجوان نے اپنی ڈائری پیش کی اور کچھ نصیحت لکھنے کے لیے کہا۔ میںنے ڈائری میں یہ الفاظ لکھ دیے کہ زندگی کا ہر لمحہ ایک تجربہ ہے اور ہرتجربہ ذہنی ارتقاء کا ذریعہ:
Every moment is an experience and every experience is a source of intellectual development.
ایک صاحب نے اپنی روداد بتائی۔اس سے موجودہ زمانہ کے تعلیم یافتہ مسلمانوں کے مزاج کا اندازہ ہوتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ٹرین کے ایک سفر میںان کی ملاقات ہندو انتہا پسند لیڈر ڈاکٹر پروین توگڑیا سے ہوئی ۔ اس طرح انہیں ڈاکٹر توگڑیا سے تقریباً تین گھنٹہ بات چیت کرنے کا موقع ملا۔ اسلام کی امتیازی حیثیت کو بتاتے ہوئے انہوں نے ڈاکٹر توگڑیا سے کہا کہ:
Islam was the culmination of the evolution of religion.
میںنے کہا کہ یہ بات صحیح نہیں۔ اسلام ارتقائی مذہب نہیں ہے بلکہ وہ مذہب کا محفوظ ایڈیشن ہے۔ قرآن میں کئی مقامات پر پیغمبر اسلام کو مخاطب کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ تم پچھلے نبیوں کی پیروی کرو۔ مثلاً فبہداہم اقتدہ۔ اگر اسلام مذہب کی ارتقائی صورت ہو تو پچھلے پیغمبروں کی پیروی کا حکم ایک ناقابل فہم حکم بن جائے گا۔
اسی طرح اسلام کی خصوصیت بتاتے ہوئے انہوں نے ڈاکٹر توگڑیا سے کہا کہ محمدﷺ کا ظہور اس وقت ہوا جب کہ زمانہ میں مکمل تبدیلی آگئی تھی اور انسانی ذہن اتنا ترقی کر چکا تھا کہ خالص تعقل کی سطح پر وہ خدا کی معرفت حاصل کرسکے:
Human intelligence had developed sufficiently enough to recognize God through reason.
میں نے کہا کہ یہ ایک مغالطہ آمیزبات ہے ۔اس لئے کہ ساتویں صدی عیسوی میں انسانی علم ابھی روایتی دور میں تھا۔ انسانی علم کا روایتی دور سے نکل کر سائنسی دور میں پہنچنا مسلّمہ طورپر بہت بعد کو ہوا۔ اب اس معیار کے مطابق، کہنے والا کہہ سکتا ہے کہ اسلام دور قدیم کا مذہب ہے، وہ دور جدید کا مذہب نہیں۔
اُنہوں نے بتایا کہ گفتگو کے دوران ڈاکٹر توگڑیا نے کہا کہ اسلام تشدد کا مذہب ہے اور مسلم تاریخ خون سے لکھی گئی ہے۔ یہ سُن کر مذکورہ مسلمان نے اس کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ کیاآپ اس معاملہ میں دوسرے مذاہب کی تاریخ کو جانتے ہیں۔ اُن کی تاریخ بھی اگر زیادہ نہیں تو اس سے کم خونی نہیں۔ ان کے الفاظ یہ تھے:
I countered by asking if he was aware of the history of other religions. They too were not less bloody if not more.
یہ جواب کا وہ طریقہ ہے جس کو الزامی جواب کہا جاتا ہے۔ وہ اُس آدمی کے لیے مفید نہیں جو دین حق کی نمائندگی کر رہا ہو۔ اسلام ہر حال میں با اصول کردار کا حکم دیتا ہے۔ دوسروں کا غلط رویّہ اسلام کے لیے کبھی مثال نہیں بن سکتا۔ ڈاکٹر توگڑیا کے مذکورہ بیان کا صحیح جواب یہ تھا کہ—اسلام اصولی حیثیت سے ایک پُر امن مذہب ہے۔ البتہ مسلمان، خاص طور پر مسلم حکمراں، تشدد کے مرتکب ہوئے ہیں۔ مگر آپ کو چاہئے کہ اسلام اور مسلمان میں فرق کریں۔ اسلام کو سمجھنے کے لیے اسلام کی تعلیمات کو دیکھیں، نہ کہ مسلمانوں کے عمل کو۔
انہوں نے اپنی گفتگو کیتفصیلی رپورٹ دینے کے بعد آخر میں کہا کہ جب میںنے مسلمانوں میں ریفارم کی ضرورت کو تسلیم کیا تو اس موقع پر ڈاکٹر توگڑیا نے آپ کا نام لیا اور آپ کی کوششوں کے بارہ میں اپنی پسندیدگی کا اظہار کیا۔ اس موقع پر مذکورہ مسلمان کے الفاظ یہ تھے:
Dr. Togadia asked me about you. He said he had not met Maulana Wahiduddin but his colleagues had. He was aware of your views and appreciated them.
اپنے تجربہ کے مطابق، میں ایسے بہت سے مسلمانوں کو جانتا ہوں۔ اسلام کے بارے میں ان کا علم محدود ہے۔ وہ اسلام کے بارے میں جب بولتے ہیں تو وہ اسلام کی یا تو غلط نمائندگی کرتے ہیں یا ناقص نمائندگی۔ ایسے مسلمانوں سے میں کہتا ہوں کہ وہ دو میں سے ایک کا انتخاب کریں۔ یا تو وہ اپنے دوسرے کاموں کو چھوڑ کر ساری زندگی مطالعہ اور تحقیق میں لگائیں تا کہ وہ اسلام کی صحیح نمائندگی کے قابل ہوسکیں۔ اور اگر ان کے پاس اتنا وقت نہیں ہے تو دوسری صورت ان کے لئے یہ ہے کہ اگر کسی عالم نے اپنی پوری زندگی صرف کرکے اسلام پر ایسا لٹریچر تیا رکیا ہے جس کا اعتراف دوسرے بھی کرتے ہوں تو وہ اس لٹریچر کو استعمال کریں اور خود لکھنے اور بولنے کے بجائے اُس کی کتابیں دوسروں کو پڑھنے کے لئے دیں۔ مگر بدقسمتی سے ان لوگوں نے تیسری صورت کا انتخاب کر رکھا ہے۔ اور اس طرح کے معاملہ میں تیسرا انتخاب ہمیشہ غلط ہوتا ہے۔
کچھ مسلم نوجوانوں سے بات کرتے ہوئے میںنے کہا کہ دعوت کاکام آدمی کو فطرت کے راستہ پرلے آنا ہے۔ اس کا مقصد کنڈیشننگ کو ختم کرکے انسان کو اپنی فطرت پرقائم کرنا ہے، مسلم وغیرمسلم دونوں کا مسئلہ یہی ہے:
Dawah is de-conditioning, both of Muslims as well as of non-Muslims.
حدیث میںبتایا گیا ہے کہ ہر انسان اپنی فطرت پر پیدا ہوتا ہے۔ پھر اُس کے ماں باپ اُس کو یہودی اور نصرانی اور مجوسی بنا دیتے ہیں (کل مولودٍ یولد علی الفطرۃ فابواہ یہودانہ اوینصرانہ او یمجسانہ) اس حدیث سے معلوم ہوا کہ عام انسان اپنے ماحول سے متاثر ہو کر سچائی سے ہٹ جاتا ہے۔ اسی طرح مسلمانوں کے بارہ میں قرآن و حدیث سے ثابت ہے کہ بعد کے زمانہ میں وہ، دوسری امتوں کی طرح خود ساختہ دین کو دین سمجھ کر اُس پر قائم ہوجائیں گے۔ اس اعتبار سے دونوں ہی گروہوں کا کیس اپنے اپنے لحاظ سے کنڈیشننگ کا کیس ہے۔ اور دونوں ہی کے سلسلہ میں یہ کرنا ہے کہ اُن کی کنڈیشننگ کو ختم کر کے اُنہیں اپنی اصل حالت کی طرف لوٹایا جائے۔یہاں جن لوگوں سے ملاقات ہوئی اُن میں سے چند نام یہ ہیں: مولانا فیروز عادل قاسمی صاحب، حافظ و قاری اعجاز عادل صاحب، مفتی احتشام صاحب، خالد بھائی، حمزہ بھائی، انور خاں صاحب، مفتی اشرف علی قاسمی ، وغیرہ۔
ایک بار میں ایک صاحب کے ساتھ ان کی کار میں سفر کر رہا تھا۔ وہ ایک کمپنی میں مینیجر ہیں۔ ان کی کار میں اسٹیریو سسٹم لگا ہواتھا۔ وہ گاڑی چلاتے ہوئے اس سے میوزک سنتے رہتے ہیں۔ میںنے ان سے کہا کہ اگر آپ ایک کسٹمر سے ایک بڑے سودے کے لئے سنجیدہ گفتگومیںمشغول ہوں اور عین اسی وقت کوئی شخص آپ کی میز پرایک ٹیپ ریکارڈر لا کر رکھ دے اور پوری آواز کے ساتھ اس پر میوزک بجانے لگے۔ ایسے وقت میں آپ کا احساس کیا ہوگا۔ انہوں نے کہا اس کو میںایک غیر مطلوب مداخلت (unwanted distraction) سمجھوں گا اور فوراً اس کو بند کردوں گا۔
میںنے کہا کہ گاڑی چلاتے ہوئے جب آپ اپنا میوزک ریکارڈر بجاتے ہیں تو یہ اس سے بھی زیادہ بڑی غیر مطلوب مداخلت ہوتی ہے۔ اس قسم کی چیز آپ کے اندر تفکیری عمل (thinking process) کو رخ سے بے رخ کردیتی ہے۔ گاڑی چلاتے ہوئے آپ کو اعلیٰ تفکیری عمل میں مشغول ہونا چاہئے۔ مثلاً آپ کو یہ سوچنا چاہئے کہ خدا کتنا عظیم ہے جس نے اس امکان کو پیدا کیا کہ غیر متحرک مادہ موٹر کار کی صورت میں متحرک مادہ بن کر سڑک پر دوڑنے لگے۔ اس طرح کی سیکڑوں باتیں آپ سوچ سکتے ہیں۔ مگر آپ ذہنی ترقی کے اس عظیم امکان سے محروم ہو کر کچھ پیشہ وروں کے میوزک اور سانگ میںمشغول ہوجاتے ہیں۔
ایک بار میں لوگوں کے ساتھ کھانے کے دستر خوان پر تھا۔ میںنے چمچہ مانگا۔ دوسرے لوگوں نے ہاتھ سے کھانا کھایا اور میں نے چمچہ سے۔ یہ دیکھ کر ایک صاحب بولے: ایسا معلوم ہوتا ہے کہ آپ یورپ اور امریکہ کا سفر کرتے کرتے مغربی کلچر سے مرعوب ہوگئے ہیں۔ اس لئے آپ چمچہ سے کھانا پسند کرتے ہیں۔ میں نے کہا کہ اس قسم کی چیز کو اسلام میںبُرا گمان کہا گیا ہے۔ برا گمان اسلام میں سخت گناہ ہے (الحجرات ۱۲)
میں نے کہا کہ یہ میرا پیدائشی مزاج ہے۔ چنانچہ جب میں گاؤں میں رہتا تھا اور یورپ اور امریکہ کے بارے میں کچھ بھی نہیں جانتا تھا تب بھی میں چمچے سے کھانا پسند کرتا تھا۔
ایک اور موقع پر ایک بزرگ نے کہا کہ میںنے سنا ہے کہ آپ انگریزوں کی اور لارڈ میکالے کی تعریف کرتے ہیں۔ میں نے کہا کہ آپ کا یہ تبصرہ تاویل القول بما لا یرضٰی بہ قائلہ کا مصداق ہے۔ میںنے کہا کہ میرے بارے میں جو بات آپ نے سنی وہ در اصل بخاری کی ایک روایت (ان اللہ لیؤید ہذا الدین بالرجل الفاجر) کی تشریح تھی۔ اگر آپ خالی الذہن ہو کر اُس پر غور کریں تو اس میں آپ کو کوئی قابلِ اعتراض بات نظر نہ آئے گی۔
انگریزی زبان کے ایک مسلم ہفت روزہ (۱۶ دسمبر ۲۰۰۲) میں حیدر آباد کے مسلمانوں کے بارہ میں ایک رپورٹ دیکھی۔ اُس کو لکھنے والے ایک حیدر آبادی مسلمان تھے۔ اُنہوں نے اپنی پوری رپورٹ منفی انداز میں لکھی تھی۔ اُس کی چند سطریں یہ تھیں:
Andhra Pradesh may be progressing under the able leadership of chief minister Chandrababu Naidu, but the state of Muslims there is as bad as in other parts of the country.... At the time of Independence of the country, the ratio of Muslims in government jobs was about 30 per cent, which has now dropped to mere two per cent.
یہ بلا شبہہ ایک غلط رپورٹ ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ حیدر آباد میں مسلمانوں کی حالت ہر اعتبار سے ۱۹۴۷ کے مقابلہ میں آج بہت زیادہ بہتر ہے۔ حتیٰ کہ خود مضمون نگار اگر اپنا جائزہ لیں تو یقینا وہ پائیں گے کہ ۱۹۴۷ میںاُن کے خاندان کی جو اقتصادی حالت تھی، اُس کے مقابلہ میں اب وہ بہت زیادہ بہترہو چکی ہے ۔
جہاں تک سرکاری ملازمتوں میںکمی کا سوال ہے، اُس کی ذمہ داری تمام تر یہاں کے نام نہاد مسلم لیڈروں پر ہے۔ ۱۹۴۷ میں یہاں کی انتہائی حد تک ناعاقبت اندیش قیادت نے علیٰحدہ حیدر آباد کی جو تحریک چلائی اُس کی وجہ سے یہاں کے مسلمانوں کا ذہن غلط طور پریہ ہو گیا کہ انڈیا کا حصہ بننے کے بعد حیدر آباد میں مسلمان ہر قسم کے مواقع سے محروم ہوجائیںگے۔ اس بے بنیاد سوچ کا نتیجہ یہ ہوا کہ ۱۹۴۸ میں جب حیدرآباد انڈیا کا حصہ بنا تو بیشتر تعلیم یافتہ افراد غیر ضروری طور پر مایوسی کا شکار ہو کر حیدر آباد چھوڑ کر باہر کے ملکوںمیں چلے گئے۔ انہی باہر جانے والوں میں خود تحریک حیدر آباد کے قائد بھی شامل تھے۔ ظاہر ہے کہ جب تعلیم یافتہ لوگ حیدر آباد چھوڑ کر چلے جائیں تو ملازمتوں میں اُن کا تناسب اپنے آپ گھٹ جائے گا۔
میں ذاتی طورپر ہر اُس تحریک کو دیوانگی کی تحریک سمجھتا ہوں جو شکایت اور احتجاج اور پڑوسیوں کو دشمن بتانے کی بنیاد پر چلائی جائے۔ اس قسم کی تحریک کے دو لازمی نقصانات ہیں۔ اوّل یہ کہ اُس سے منفی سوچ پیدا ہوتی ہے۔ اور منفی سوچ بلا شبہہ ایک ذہنی خود کُشی ہے۔ دوسرے یہ کہ تحریک اگراپنے نشانہ کو پورا کرنے میں ناکام ہوجائے تو اُس سے متاثر لوگ سخت مایوسی کا شکار ہوجاتے ہیں۔ اُن کا حال یہ ہوتا ہے کہ مواقع کی فراوانی کے درمیان بھی وہ مواقع کو دیکھنے سے محروم رہ جاتے ہیں۔ یہی واقعہ ابتدائی طورپر حیدر آباد میں ۱۹۴۷ کے بعد ہوا۔ اور یہی واقعہ پورے ملک میںاس طرح پیش آیا کہ آزادی کے بعد ہندستان کے مسلمان تقریباً تیس سال تک مایوسی کی حالت میں رہے۔ ۱۹۷۱ میں بنگلہ دیش کا قیام اور پاکستان میں مسلمانوں کی باہمی خونریزی کے بعد اُن کی آنکھ کھلی اور پھر اُنہوں نے ہندستان میںاپنی جگہ بنانا شروع کیا۔
مدرسہ کے طلبہ کی ایک مجلس میںمیںنے کہا کہ ’’بڑوں‘‘ کے بارے میں قوموں کے اندر دو قسم کے نظریات ہوتے ہیں۔ ایک وہ جس کی نمائندگی کرتے ہوئے عنترہ نے کہا: ہل غادر الشعراء من متردم(پچھلے شعراء نے کیا کوئی جگہ پیوند لگانے کی باقی چھوڑی ہے)۔ یعنی وہ سب کچھ کہہ گئے ہیں- اب کسی شاعر کے لیے کوئی چیز باقی نہیں رہی کہ اس پر وہ کچھ کہے۔
اس معاملہ میں دوسرا نقطۂ نظر وہ ہے جس کی نمائندگی کرتے ہوئے ایک فارسی شاعر نے کہا کہ دنیا کا کام کسی نے مکمل نہیں کیا جو بھی آیا اس نے نئی عمارت بنائی:
کار دنیا کسے تمام نہ کرد ہر کہ آمد عمارتِ نو ساخت
بد قسمتی سے ہمارے یہاں کسی کو بڑا سمجھنے کا مطلب یہ ہے کہ اس کو تنقید سے بالا تر سمجھ لیا جائے۔ حالانکہ بڑے کی صحیح تعریف یہ ہے کہ اس کا عمل ایک بوسٹ (boost) کا کام کرے۔ میں نے کہا کہ اس معاملہ میں صحت مند نقطۂ نظر وہ ہے جس کو برناڈ شا نے ان الفاظ میں کہا تھا کہ میرا قد شیکسپئر سے کم ہے مگر میں شیکسپئر کے کندھوں پر کھڑا ہوا ہوں:
I am smaller in stature than Shakespeare but I stand upon his shoulder.
میں نے کہا کہ موجودہ زمانہ میں شبلی نعمانی اور حمید الدین فراہی نے اپنے اپنے میدان میں بڑے کام انجام دئے ہیں۔ مگر یہ سمجھ لینا غلط ہوگا کہ ان کے کام میںکوئی بات قابل تنقید نہیں۔ صحیح مزاج یہ ہے کہ آپ اس طرح سوچیں کہ شبلی اور فراہی، ابن تیمیہ اور شاہ ولی اللہ کے کندھے پر کھڑے ہوئے۔ اب آپ شبلی اور فراہی کے کندھے پر کھڑے ہوں اور اگلی نسل آپ کے کندھے پر کھڑی ہو۔ اس طرح ترقی کا یہ سلسلہ چلتا رہے، یہاں تک کہ علم کا وہ قطب مینار بن جائے جس کی بلندی آسمان تک پہنچی ہوئی ہو۔
مسلمانوں کی ایک مجلس میںایک صاحب نے کہا کہ میں اور میرے گھر والے ہر سال شوّال کے مہینے کے چھ روزے پابندی کے ساتھ رکھتے ہیں۔ میں نے کہا کہ شوّال کے چھ روزے کا ذکر اگرچہ حدیث میںآیا ہے مگر اُس کا زیادہ اہتمام مجھے اپنے مطالعہ کے مطابق، درست نظر نہیں آتا۔ صحابہ سے اُس کا یہ اہتمام ثابت نہیں۔ یہ سُن کر ایک صاحب بگڑ گئے۔ اُنہوں نے پُرجوش انداز میں کہنا شروع کیا کہ آج آپ شوّال کے روزہ کے بارے میں ایساکہہ رہے ہیں، کل آپ کہیں گے کہ رمضان کے مہینہ کے روزے میرے نزدیک ضروری نہیں۔ اس کے بعد آپ کہیں گے کہ روزانہ پانچ وقت کی نماز میرے نزدیک ضروری نہیں۔ اس طرح آپ ہر چیز کو ختم کرتے جائیں گے۔ یہاں تک کہ آخر میں صرف آپ کا الرسالہ رہ جائے گا۔
اُن کی اس نامنصفانہ بات پر مجھے غصہ آگیا۔ مگر میں دل ہی دل میں استغفراللہ کہہ کر خاموش ہوگیا۔ میرا طریقہ ہے کہ جب مجھے غصہ آتا ہے تو میں چُپ ہوجاتا ہوں۔ میرے تجربہ کے مطابق، غصہ کا بہترین علاج یہ ہے کہ جب غصہ آئے تو آدمی چپ ہوجائے اور اپنی جگہ سے ہٹ جائے۔ اورغصہ والی بات کو بھلا کر دوسری بات سوچنا شروع کردے۔
جہاں تک شوّال کے چھ روزوں کا معاملہ ہے تو میں نے جو بات کہی وہ شرعی طورپر بالکل درست تھی۔ یہ روایت ترمذی، ابن ماجہ اور مسلم میں آئی ہے۔ صحیح مسلم کی روایت کے الفاظ یہ ہیں: عن ابی ایوب الانصاری، ان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قال: من صام رمضان ثم اَتبعہ ستاً من شوّال کان کصیام الدہر(صحیح مسلم، کتاب الصیام، باب استحباب صوم ستۃ أیام من شوال اتباعاً لرمضان) یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس نے رمضان کے مہینہ کے روزے رکھے، پھر اس کے بعد اُس نے شوّال کے چھ روزے اور رکھے تو یہ اُس کے لیے پورے سال روزہ رکھنے کے برابر ہوگا۔
یحییٰ بن شرف النووی (وفات ۶۷۶ھ) شام میں پیدا ہوئے۔ وہ مشہور عالم دین ہیں۔ فقہ اور حدیث میںامام کا درجہ رکھتے ہیں۔ اُنہوں نے مختلف دینی موضوعات پر بہت سی کتابیں لکھی ہیں۔ اُن میں سے ایک المنہاج فی شرح صحیح مسلم ہے جو پانچ جلدوں پر مشتمل ہے۔ النووی اپنی اس کتاب میںمذکورہ حدیث کی شرح کرتے ہوئے لکھتے ہیں: فیہ دلالۃ صریحۃ لمذہب الشافعی و أحمد و داؤد وموافقیہم فی استحباب صوم ہذہ الستۃ وقال ابو مالک وابوحنیفۃ یکرہ ذلک۔ قال مالک ما رأیت احداً من اہل العلم یصومہا قالوا فیکرہ لئلا یظن وجوبہ۔ (۵۶)
ترجمہ: اس میںشافعی اور احمد اور داؤد اور اُن کے موافقین کے مسلک کی کھُلی دلیل ہے۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ یہ چھ روزے مستحب ہیں۔ اور مالک اور ابو حنیفہ کا قول ہے کہ یہ روزے مکروہ ہیں۔ امام مالک نے مؤطا میںکہا ہے کہ میںنے کسی اہل علم کو نہیں دیکھا کہ وہ یہ روزے رکھتا ہو۔ اُنہوں نے کہا کہ یہ مکروہ اس لیے ہیں کہ کہیں اُس کو واجب نہ سمجھ لیا جائے۔
یہ معاملہ در اصل شفٹ آف ایمفیسس (shift of emphasis) کا ہے۔ یعنی زیادہ اہم کو کم اہم اور کم اہم کو زیادہ اہم بنا لینا۔ مثلاً روزہ میںاُس کی روح کے مقابلہ میں تعداد کو زیادہ اہم سمجھ لینا۔ اسی طرح دعوت حق کے مقابلہ میں سوشل سروس کو زیادہ بڑا درجہ دے دینا۔ رسول کی اتباع کے مقابلہ میں رسول کی نعتخوانی کو زیادہ اہم سمجھ لینا۔ قرآن میں تدبّر کے مقابلہ میں قرآن کی لفظی تلاوت کو زیادہ بڑا درجہ دے دینا۔ کلمۂ توحید کی حقیقت کو اپنے اندر اتارنے کے بجائے کلمہ کے الفاظ کی تکرار کو زیادہ اہم بنا لینا۔افراد کی اصلاح کے مقابلہ میں حکومت کی اصلاح کے نام پر سیاسی تحریک چلانا، وغیرہ۔
صبح کے وقت ریڈیو پاکستان پر وہاں کے کسی وزیر کی تقریر آرہی تھی۔ اُنہوں نے پُر جوش طورپر کہا کہ کشمیر کے ایشو کو لے کر بھارت ہمارے خلاف جھوٹا پروپیگنڈا کرتا ہے۔ حالاں کہ ہمارا کہنا صرف یہ ہے کہ کشمیر کے معاملہ کو اقوام متحدہ کے رزولیوشن (۱۹۴۸) کی روشنی میں طے کیا جائے۔ اس پُر جوش تقریر کو سن کر میں نے اپنے ساتھی سے کہا کہ یہ ایک غیر عملی اور غیر حقیقت پسندانہ مطالبہ ہے۔ پاکستان کے لیڈر لمبی مدت سے اس قسم کا مطالبہ کررہے ہیں۔ مگر اس کا کوئی نتیجہ نہ اب تک نکلااور نہ آئندہ اس کا کوئی امکان ہے کہ اس کا کوئی مثبت نتیجہ اُن کے حق میں نکلے۔
پھر میں نے کہا کہ یہود کو مخاطب کرتے ہوئے اللہ نے اپنے پیغمبر کی زبان سے فرمایا تھا: یٰقوم ادخلوا الارض المقدسۃ التی کتب اللہ لکم (المائدہ ۲۱)۔ یعنی اے میری قوم، اس پاک زمین میں داخل ہوجاؤ جو اللہ نے تمہارے لیے لکھ دی ہے۔ اب اگر فلسطین کے یہودی اس قرآنی آیت کو لے کر یہ کہیں کہ ہم اپنے وطن سے باہر ڈائس پورا(diaspora)میں تھے، پھر خود تمہارے قرآن کے مطابق، ہم واپس آکر فلسطین میںآباد ہوگئے۔ خود تمہارے قرآن کے مطابق، یہ ہمارا قومی حق تھا۔ اب تمہارے لیے جائز نہیں کہ تم ہمیںاپنے قومی حق سے محروم کرنے کی کوشش کرو۔ ظاہر ہے کہ موجودہ یہودی اگر اس قدیم نوشتہ کا حوالہ دے کر فلسطین میںاسرائیل کے قیام کو جائز قرار دیں تو کوئی بھی مسلمان اس کو تسلیم نہیں کرے گا۔
اسی طرح رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں مدینہ میں کچھ یہود قبائل آباد تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہجرت کے بعد ایک اعلانیہ (declaration) جاری کیا جس کو عام طورپر صحیفۃ المدینہ کہا جاتا ہے۔ اس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ کے لوگوں کے بارہ میں یہ اعلان فرمایا تھا کہ للیہود دینہم وللمسلمین دینہم (سیرت ابن کثیر ۲؍۳۲۲) یعنی یہاں کے یہود کے لیے اُن کا دین اور یہاں کے مسلمانوں کے لیے اُن کا دین۔
پیغمبر اسلام کا جاری کردہ یہ صحیفہ ٔمدینہ تاریخ اور سیرت کی کتابوں میں موجود ہے۔ ڈاکٹر محمد حمید اللہ نے پُر فخر طورپر اُس کو تاریخ عالم کا پہلا تحریری دستور قراردیا ہے۔ اب اگر آج کے یہود یہ کہیں کہ یہ پیغمبرانہ صحیفہ مدینہ میں ہمارے وجود اور ہمارے حقوق کو تسلیم کرتا ہے اس لیے ہم کو حق ملنا چاہئے کہ ہم مدینہ میں داخل ہو کر دوبارہ وہاں اپنی بستیاں بنائیںاور دوسرے لوگوں کے ساتھ وہاں رہیں تومسلمان کبھی اس قسم کے مطالبہ کو ماننے کے لیے تیار نہ ہوں گے۔
حقیقت یہ ہے کہ اس قسم کے معاملات قدیم تاریخی دستاویزات کی بنیاد پر طے نہیں ہوتے بلکہ وہ وقت کے حقائق کی بنیاد پر طے ہوتے ہیں۔ قرآن کی مذکورہ آیت یا صحیفۂ مدینہ کی مذکورہ دفعہ اب یہود کے لیے ایک غیر متعلق چیز بن چکی ہے۔ آج کے یہود ان قدیم الفاظ کا حوالہ دے کر اپنے لیے کچھ نہیں پاسکتے۔ ٹھیک اسی طرح اقوام متحدہ کے قدیم رزولیوشن کا حوالہ پاکستان کے لیڈروں کے لیے سراسر غیر مفید ہے۔ خود اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل کوفی عنان کہہ چکے ہیں کہ یہ قدیم رزولیوشن اب اپنا ریلیونس (relevence) کھو چکا ہے۔ ایسی حالت میں پاکستانی لیڈروں کو جاننا چاہئے کہ اقوام متحدہ کے رزولیوشن کے بیس سال بعد ہونے والا شملہ ایگریمنٹ (۱۹۷۲) اس معاملہ میں پچھلی کاغذی دستاویزات کو منسوخ کرچکا ہے۔ اب اُن کے پاس قابلِ حوالہ چیز شملہ ایگریمنٹ ہے، نہ کہ اقوام متحدہ کا رژولیوشن۔
ایک اخبار میںایران کے بارہ میں ایک رپورٹ دیکھی۔ اس میں بتایاگیا تھا کہ آج کل ایران کے نوجوانوں میں ایک نیا ذہن اُبھر رہا ہے۔ وہ مانگ کر رہے ہیں کہ ہم کو مذہبی ریاست نہیں چاہئے بلکہ ہم کو ترقی پسند ریاست چاہئے۔ مغربی نیوز ایجنسی کی اس رپورٹ میں بظاہر یہ تاثر دیا گیا تھا کہ اسلام دور قدیم کا ایک مذہب تھا، دور جدید میں اب وہ ایک غیر متعلق چیز بن کر رہ گیا ہے، حتیٰ کہ خود مسلمانوں کی نئی نسلیں اب اس قدیم نظام سے بیزار ہورہی ہیں۔
اس اخباری رپورٹ کو لے کر ایک صاحب نے کہا کہ مغربی نیوز ایجنسیاں اسی طرح اسلام کو بدنام کرتی رہتی ہیں۔ وہ اسلام کو ایک فرسودہ نظام ثابت کرنے کی کوشش کر رہی ہیں۔ اس طرح وہ یہ تاثر دیتی ہیں کہ اسلام کے مقابلہ میں جدید مغربی نظام زیادہ بہتر ہے۔ میںنے کہا کہ اس نامطلوب صورت حال کی ذمہ داری خود مسلم لیڈروں پر ہے، نہ کہ مغربی میڈیا پر۔
اصل یہ ہے کہ موجودہ زمانہ میں اکثر مسلم ملکوں میں یہ ہوا کہ وہاں کے انتہا پسند (radical) رہنما اسلامی نظام قائم کر نے کے شوق میں اچانک سخت تبدیلیاں نافذ کرنے لگے۔ جب کہ یہ کام صرف تدریجی طورپر انجام دیا جاسکتا ہے۔ صحیح البخاری میںحضرت عائشہ کی روایت ہے کہ اسلام میں پہلے ذہن بنایا گیا، اُس کے بعد احکام اتارے گئے۔ اس کے برعکس اگر شروع ہی میں یہ حکم آتا کہ تم لوگ زنا کو چھوڑ دو اور شراب کو چھوڑ دو تو لوگ کہتے کہ : لا ندع الزنا ابداً و لا ندع الخمر ابداً۔ (کتاب فضائلالقرآن، باب تالیف القرآن) یعنی ہم تو کبھی زنا نہ چھوڑیں گے اور ہم کبھی شراب نہ چھوڑیں گے۔
عین یہی بات موجودہ زمانہ کے مسلم ملکوں میں پیش آئی ہے۔ نا عاقبت اندیش مسلم لیڈروں نے افراد سازی اور معاشرہ سازی سے پہلے شرعی قوانین نافذ کردیے۔ اس غیر حکیمانہ طریقہ کا نتیجہ یہ ہوا کہ لوگوں نے یہ کہنا شروع کردیا کہ ہم کو اسلام نہیں چاہیے، ہم کو ترقی پسند ریاست چاہئے۔
شام کا کھانا مولانا اسحق کمال قادری کے گھر پر تھا۔ یہاں لوگوں سے مختلف دینی اور ملّی موضوعات پر گفتگو ہوئی۔ یہاں مولانا اسحق صاحب کی رہائش ایک صاف ستھرے فلیٹ میں ہے۔ یہ معلوم کرکے خوشی ہوئی کہ یہ فلیٹ ایک مسلمان تاجر کاہے۔ اُنہوں نے کسی کرایہ یا معاوضہ کے بغیر اس کو مولانا اسحق صاحب کے استعمال کے لیے دے دیا تھا۔ وہ یہاں اپنے بچوں کے ساتھ رہتے ہیں۔ اس فلیٹ میں ٹیلی فون بھی موجود تھا۔ معلوم ہوا کہ یہ ٹیلی فون بھی ایک مسلمان تاجر نے اپنی طرف سے اُن کے یہاں لگوایا ہے۔ مسلمان تاجروں میں اہلِ دین کی خدمت کا یہ مزاج اگر ہر جگہ پیدا ہوجائے تو وہ بہت زیادہ مفید ہوگا۔
مولانا اسحق کمال قادری کے اندر تقریر کا اچھا ملکہ ہے۔ وہ ٹکراؤ کے بغیر کام کرنے کا اچھا سلیقہ رکھتے ہیں۔ وہ تنقید بھی کرتے ہیں تو اُن کی تنقید بھی ایسے خوبصورت انداز میں ہوتی ہے کہ کوئی اُس کو بُرا نہیں مانتا۔ اُنہوں نے ایک رنگین تولیہ مجھے تحفہ میں پیش کیا۔ میں نے اُسی وقت یہ تولیہ اُن کے چھوٹے بچے کو اوڑھا دی اور اُس کو دعائیں دیں۔
حیدر آباد میںکئی اردو اخبارات نکلتے ہیں۔ اُردو اخبارات کے لحاظ سے غالباً صرف حیدر آباد کو یہ خصوصیت حاصل ہے کہ وہاں ایک قسم کا صحافت کلچر وجود میںآچکا ہے۔ یہ بات شاید کسی اور ہندستانی شہر میں موجود نہیں۔ یہاں کئی اردو اخبارات نکلتے ہیں۔ مثلاً رہنمائے دکن، سیاست، منصف، عوام، وغیرہ۔ حیدر آباد میں قیام کے دوران ان اخبارات کا مطالعہ جاری رہا۔
روزنامہ عوام کے شمارہ ۱۰ دسمبر ۲۰۰۲ کے آخری صفحہپر حیدر آباد کی ایک دردناک خبر پڑھنے کو ملی۔ اس خبر کاعنوان یہ تھا:بیٹے کو عید کے کپڑے دلانے سے محروم والد کی خود سوزی۔ یہ خبر یہاں نقل کی جاتی ہے:
’’حیدر آباد۔ ۹دسمبر (عوام نیوز) عیش وعشرت اور شادی بیاہ کے موقعوں پر لاکھوں روپیوں کا اسراف کرنے والوں کے اس شہر میں ایک ایسا خاندان بھی موجود ہے جوعید الفطر کے موقع پر اپنے اکلوتے فرزند کے لیے نئے کپڑے خرید نہ سکا اور اُس سے دل برداشتہ ہو کر اس خاندان کے ایک فرد نے خود سوزی کر لی۔ پولیس نے اس دردناک واقعہ کی تفصیل بتاتے ہوئے کہا کہ ۳۵ سالہ حمید خان ساکن بہادر پورہ جن کو خانگی ملازم بتایا جاتا ہے، عید الفطر کی رات ہی اپنے جسم پر کیروسین چھڑک کر خود سوزی کی کوشش کی تھی کیوں کہ وہ اپنے اکلوتے فرزند کو نئے کپڑے نہ دلانے کے باعث بہت افسردہ تھے۔ اُنہیں شدید جھلسی ہوئی حالت میں دواخانہ عثمانیہ میںشریک کروایاگیا تھا جہاں وہ آج جانبر نہ ہوسکے‘‘۔ (صفحہ ۱۲)
اس طرح کے دردناک واقعات مسلم سماج کے اندر مختلف شکلوں میں ہر روز ہوتے رہتے ہیں۔ مگر مسلمانوں کے اندر اُن کو لے کر کوئی تحریک نہیں اُٹھتی۔ البتہ اگر کوئی غیر مسلم کسی مسلمان کے خلاف ایسا واقعہ کردے تو تمام مسلمانوں میںایک ہنگامہ کھڑا ہو جائے گا۔ یہ صورت حال ثابت کرتی ہے کہ موجودہ زمانہ کے مسلمان قومی مذہب پر ہیں، نہ کہ خدائی مذہب پر۔ اُن کی سوچ ذاتی عصبیتوں کے تابع ہے، نہ کہ احکام دین کے تابع۔
روزنامہ عوام کو کے ۔ایم۔عارف الدین ایڈوکیٹ نے سات سال پہلے جاری کیا تھا۔ موصوف نے حیدر آباد میںتعلیم کے میدان میں قابل قدر خدمات انجام دی ہیں۔ حیدر آباد شہر میں ایک قدیم وقف تھا جو لوگوں کے بیان کے مطابق، بڑی حد تک اجاڑ ہو چکا تھا۔ عارف الدین صاحب نے اس وقف کو اپنے ہاتھ میں لیا اور ایک ٹیم بنا کر اُس کو آباد کرنا شروع کیا۔ اس ٹیم میں بشیر الدین ایڈوکیٹ جیسے کئی لوگ شامل ہیں۔یہ کہنا صحیح ہوگا کہ اب یہ ایک تعلیمی ایمپائر کی صورت اختیار کرچکا ہے۔ اس سے ہزاروں نوجوان تعلیمی فائدہ حاصل کررہے ہیں۔ یہ ایک مثال ہے جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ کس طرح یہ ممکن ہے کہ ماضی کے کھنڈر پر مستقبل کا نیا محل تعمیر کیا جائے۔ حیدر آباد کے اس سفر میں مجھے اس تعلیمی ادارہ کو بھی دیکھنے کا موقع ملا۔ اُس کی مرکزی بلڈنگ کے اوپر قائم شدہ مسجد میں باجماعت نماز پڑھنے کی توفیق بھی خدا کے فضل سے حاصل ہوئی۔
ایک صاحب سے بات کرتے ہوئے میںنے کہا کہ اخباری رپورٹر عام طورپر غلط رپورٹ کرتے ہیں۔ مگر اُن کی غلط رپورٹنگ کسی کے خلاف دشمنی کی بنا پر نہیںہوتی بلکہ یہی اُن کا مزاج ہے۔ اُن لوگوں پر فارسی کا یہ شعر صادق آتا ہے:
نیش عقرب نہ از پئے کین است مقتضائے طبیعتش این است
اصل یہ ہے کہ اخبار کے لیے سنسنی خیز خبریں مفید ہیں۔ اس لیے خبروں کو اپنے مفید مطلب بنانے کے لیے وہ اُس کو سنسنی خیزی کا رنگ دے دیتے ہیں۔مثلاً ایک اُردو اخبار نے میری ایک پریس کانفرنس کی رپورٹ دیتے ہوئے یہ لکھا کہ—مولانا وحید الدین خاں نے دعویٰ کیا کہ بحیثیت ملت ہندستانی مسلمانوں نے بابری مسجد کے مسئلہ سے دستبرداری حاصل کرلی ہے (راشٹریہ سہارا؍۲۳ دسمبر ۲۰۰۲)۔ یہ میری بات کی صحیح ترجمانی نہیں۔ میں جو بات کہتا ہوں وہ یہ ہے کہ ۶دسمبر ۱۹۹۲ کے حادثہ کے فوراً بعد (دسمبر ۱۹۹۲۔ جنوری ۱۹۹۳) تو مسلمانوں نے کچھ جوش دکھایا مگر جلدہی بعد وہ اپنے ذاتی کاموں میں مصروف ہوگئے۔ خود ساختہ مسلم رہنماؤں نے یہ کا ل دی کہ ہر سال مسلمان ۶دسمبر کو یوم بابری مسجد منائیں۔ مگر ۱۹۹۳ سے لے کر ۲۰۰۲ تک کسی بھی سال ہندستانی مسلمانوں نے ایسا نہیں کیا۔ اب بابری مسجد کا ایشو صرف اُن افراد کا ایشو ہے جو اسی قسم کی چیزوں کے نام پر سطحی لیڈر ی کرتے ہیں۔ جہاں تک مسلم عوام کا معاملہ ہے، وہ عملاً اس سے بے تعلق ہوچکے ہیں۔ میںنے اپنے بیان میں مسلمانوں کی عملی طور پر بے تعلقی کی بات کہی تھی، نہ کہ اصولی طور پرمسجد سے دستبرداری کی بات۔
ایک صاحب نے نئی دہلی کے انگریزی ماہنامہ مسلم انڈیا کا ذکر کیا۔ میں نے کہا کہ مجھے کبھی بھی مسلم انڈیا سے دلچسپی نہ تھی۔ میں صرف اُس کام کو کام سمجھتا ہوں جو قابل بقا (sustainable) ہو۔ مسلم انڈیا مسلمانوں کی احتجاجی سیاست کا نمائندہ تھا اور احتجاجی سیاست میرے نزدیک نہ مفید ہے اور نہ قابلِ بقا۔ برصغیر ہند میںاحتجاجی صحافت کی لمبی تاریخ ہے—ہمدرد، کامریڈ، الہلال، ڈان، قائد، ندائے ملت، وغیرہ۔ یہ سب احتجاجی صحافت کے علم بردار تھے۔ مگر یہ تمام صحافتی تحریکیں تھوڑے دن تک زور وشور دکھا کر فضا میں تحلیل ہوگئیں۔
ماہنامہ مسلم انڈیا ۲۰ سال جاری رہ کر دسمبر ۲۰۰۲ میں ختم ہوگیا۔ اُس کے بانی اور ایڈیٹر نے دسمبر ۲۰۰۲ میں اپنا الوداعی ایڈیٹوریل ان الفاظ میں شروع کیا:
As I pen my last editorial, my mind goes back to the spade work done before the Muslim India was launched and the trepidations with which it began the long journey. Today I am satisfied that it has fulfilled its purpose. (p. 530)
اس ایڈیٹوریل میں یہ دعویٰ کیا گیا ہے کہ مسلم انڈیا نے اپنا مقصد پورا کرلیا۔ مگر خود یہی ایڈیٹوریل یہ ثابت کرنے کے لیے کافی ہے کہ اُس کا جو مقصد تھا وہ پورا نہیں ہوا۔ اس ایڈیٹوریل کی یہ سطریں پڑھیے:
The Muslim India, thus became the record of the community's struggle for dignity, equality and justice, shirking fanaticism and engaging chauvinism, at the same time. (p. 530)
ان مطبوعہ الفاظ سے معلوم ہوتا ہے کہ مسلم انڈیا کا مقصد یہ تھا کہ مسلمانوں کو عظمت اور مساوات اور انصاف ملے۔ اسی کے ساتھ وہ ہندو کٹّر واد کے خطرے سے بچ سکیں۔ مگر جیساکہ ہر آدمی جانتا ہے، یہ مقاصد کسی بھی درجہ میں پورے نہیں ہوئے۔ اس اعتبارسے بیس سال پہلے مسلمانوں کی جو حالت تھی وہی آج بھی برقرار ہے۔ ایسی حالت میں مسلم انڈیا کے بانی اور ایڈیٹر کو یہ اعلان کرنا چاہئے تھا کہ ہم اپنے مقصد میں کامیاب نہ ہوسکے۔ اس لیے اب ہم اس میدان سے ہٹ رہے ہیں۔ اس کے برعکس اُنہوں نے یہ دعویٰ کردیا کہ ہمارا مقصدپورا ہوچکا ہے اس لیے اب ہم اپنا آخری ایڈیٹوریل لکھ رہے ہیں۔
۹ دسمبر کو جب کہ میں مدینہ ایجوکیشن سینٹر کے گیسٹ ہاؤس میںمقیم تھا، دو تعلیم یافتہ مسلمان ملاقات کے لیے آئے۔ بیٹھتے ہی اُن میں سے ایک شخص نے کہا: آپ کو معلوم ہے کہ آج کے اخبار میں یہ خبر چھپی ہے کہ امریکہ ایک مہینہ کے بعد عراق پر حملہ کرنے والا ہے۔ میں نے کہا کہ عراق پر امریکہ کا حملہ تو ایک مہینہ کے بعد ہوگا مگر ہر ایک شخص کے اوپر شیطان نے تو آج ہی حملہ کررکھا ہے۔ پھر اس بڑے حملہ کے خلاف آپ جیسے لوگ کیا کررہے ہیں۔
عام طورپر یہ حال ہے کہ لوگ خبر کے نام پر اسی طرح کی خبروں کو جانتے ہیں۔ جب بھی چند آدمی کسی مجلس میں اکٹھا ہوں تو یہ ہوتا ہے کہ ایک آدمی اس قسم کی کوئی خبر بیان کرتا ہے اور دوسرے لوگ اُس کو مان کرفوراً اُس پر رائے زنی شروع کردیتے ہیں اور پھر پوری مجلس اسی قسم کی اخباری باتوں کا چرچا بن کر رہ جاتی ہے۔ مصلح کا کام یہ ہے کہ جب کوئی شخص اس قسم کی بے فائدہ باتوں کو چھیڑے تو فوراً وہ گفتگو کو مثبت اور تعمیری رُخ پر موڑ دے۔ اسی کا نام تزکیہ اورتربیت ہے۔
میں نے کہا کہ موجودہ زمانہ کے مسلمانوں کا سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ اُن کے اندر اسلامی سوچ موجود نہیں۔ اسلام چاہتا ہے کہ لوگ اپنے بارہ میں سوچیں مگر آج کل کے مسلمانوں کا حال یہ ہے کہ ہر ایک دوسروں کے بارہ میں تقریر کررہا ہے۔ اسلام چاہتا ہے کہ داخلی تعمیر پر زور دیا جائے۔ مگر مسلمان خارجی تخریب کو اپنا نشانہ بنائے ہوئے ہیں۔ اسلام چاہتا ہے کہ دوسروں کے ساتھ خیر خواہی کا انداز اختیار کیا جائے۔ مگر مسلمان دوسروں کو دشمن قرار دے کر اُن کو بُرا بھلا کہنے میں مشغول ہیں۔ اسلام چاہتا ہے کہ اسپرٹ پر زور دیا جائے۔ مگر آج کل کے مسلمان ظواہر کی دھوم مچائے ہوئے ہیں۔ اسلام کے نزدیک پہلا بنیادی کام تعلیم یا شعوری بیداری ہے۔ چنانچہ قرآن میں پہلی آیت اقراء اُتری۔ مگر موجودہ مسلمانوں کا حال یہ ہے کہ وہ ہر جگہ سیاست کا ہنگامہ کھڑا کیے ہوئے ہیں، وغیرہ۔
۹دسمبر کی شام کو مسجد عثمان غنی میںتقریر تھی۔ اس تقریر کے لیے مجھے جو موضوع دیا گیا وہ یہ تھا کہ حیدر آباد کے مسلمان موجودہ حالات میںکیا کریں۔ میں نے اپنی تقریر شروع کی تو میں نے کہا کہ حیدرآباد کے مسلمان یہ کریں کہ وہ خدا کا شکر ادا کریں۔ حقیقت یہ ہے کہ مسلمانوں کی اپنی کسی منصوبہ بندی کے بغیر یہاں کے مسلمان عمومی طور پرآج بہت زیادہ ترقی کرچکے ہیں۔ مسلم دور کے مقابلہ میںتقریباً سوگنا زیادہ۔ ایسی حالت میں آپ لوگوں کو شکر کے جذبہ کے تحت سجدہ میں گر جانا چاہیے۔ تاکہ آپ کواور بھی زیادہ خدا کی نعمتیں حاصل ہوں (لئن شکرتم لأزید نکم)۔
میںنے کہا کہ میں غالباً ۱۹۴۳ میں پہلی بار حیدر آباد آیا تھا۔ مجھے یاد ہے کہ ایک دن میں یہاں کی ایک سڑک سے گذر رہا تھا۔ اچانک میں نے دیکھا کہ سڑک پر پولیس کے لوگ آگئے ہیں اور سیٹیاں بجارہے ہیں۔ سیٹی کی آواز سُن کر لوگ تیزی سے سڑک کے دونوں طرف کی گلیوں میں چلے گئے۔ مجھے بھی ایسا ہی کرنا پڑا۔جب سڑک پوری طرح صاف ہوگئی تو میںنے دیکھا کہ تین کاریں آئیں اور تیزی سے گذرتی ہوئی آگے چلی گئیں۔ معلوم ہوا کہ یہ سابق حیدرآباد کے نواب کی سواری تھی۔ وہ روزانہ اسی طرح اپنی رہائش گاہ سے کسی مقام پر جاتے تھے اور ہر دن سڑک اُن کے لئے خالی کردی جاتی تھی۔
میں نے کہا کہ ۱۹۴۳ میں حیدر آباد میں صرف چند کاریں تھیں اور یہ کاریں صرف نواب یا کسی بڑے جاگیر دار کے پاس تھیں۔ آج یہ حالت ہے کہ مسلمانوں کے پاس ہزاروں کی تعداد میں کاریں موجودہیں۔ لوگ پہلے سے زیادہ اچھے مکانات میں رہتے ہیں۔ مسجد اور مدرسے اور اسلامی ادارے پہلے کے مقابلہ میں بہت زیادہ بہتر حالت میں ہیں۔ آج امام اور مدرّس کے جیب میں بھی موبائل ٹیلی فون ہوتا ہے جو گذشتہ دور میں نواب کے پاس بھی نہیں ہوتا تھا۔ آج کے مسلمان پہلے کے مقابلہ میں بہت زیادہ دھوم کے ساتھ شادی وغیرہ کی تقریب مناتے ہیں۔ آج پہلے سے زیادہ تعدادمیں یہاں کے لوگ حج کے لیے جاتے ہیں، وغیرہ۔
ایسی حالت میں حیدر آباد کے مسلمانوں کے لیے شکایت اور احتجاج کی بولی بولنا گناہ ہے۔ اُن پر فرض ہے کہ وہ یا تو شکر کی بولی بولیں یا چپ رہیں۔ (من کان یؤمن باللہ والیوم الآخر فلیقل خیراً اولیصمت)۔
تقریر کے بعد کچھ سوالات کیے گئے جن کا میںنے مختصر جواب دیا۔ ایک صاحب نے کہا کہ آپ غیر مسلموں میں دعوت کی بات کرتے ہیں۔ غیر مسلموں میں دعوت کا کام کس طرح کیا جائے۔ میں نے کہا کہ دعوت کا عمل گہری خیر خواہی کے جذبہ کے تحت انجام پاتا ہے۔ اور جہاںگہری خیر خواہی ہووہاں یہ پوچھنے کی ضرورت نہیں ہوتی کہ ہم یہ کام کیسے کریں۔
میں نے کہا کہ کیا کوئی ماں کسی سے پوچھنے جائے گی کہ میںاپنے بیٹے کی خدمتکس طرح کروں۔ کیا کوئی باپ کسی سے پوچھنے جائے گا کہ میں اپنی اولاد کے ساتھ پدری حقوق کس طرح ادا کروں۔ ماں اور باپ خود اپنی قلبی محبت کے تحت یہ جان لیتے ہیں کہ اُنہیں اپنے بیٹے اور بیٹی کے ساتھ کیا کرنا ہے۔ اسی طرح جو لوگ انسان کی محبت میں تڑپیں، جن کے دل میںیہ درد ہوکہ اُن کے آس پاس کے لوگ جہنم میں نہ جائیں، اُنہیں کسی سے یہ پوچھنے کی ضرورت نہیں کہ وہ لوگوں کی اصلاح و دعوت کا کام کس طرح کریں۔ اُن کا داخلی جذبہ ہی اُنہیں یہ بتانے کے لیے کافی ہو گاکہ اُنہیں اپنی دعوتی ذمّہ داری کو کس طرح ادا کرنا چاہئے۔ مگر بد قسمتی کی بات یہ ہے کہ موجودہ زمانہ کے مسلمان اکرام مسلم کو جانتے ہیں، اکرام انسان کی اہمیت سے شعوری طورپر وہ باخبر ہی نہیں۔
ایک صاحب کی عیادت کرنے کا موقع ملا۔ وہ لمبی بیماری سے کافی پریشان ہوچکے تھے۔ میںنے اُن کا حال پوچھاتو اُنہوں نے گانے کے انداز میں کہا: تڑپنا اور مرجانا۔
میںنے سوچا کہ تڑپنا اور مرجانا یہی ہر آدمی کا کیس ہے۔ ہر آدمی تڑپ کر ہی مرتا ہے۔ لوگ اپنی تڑپ کو جانتے ہیں مگر دوسروں کی تڑپ سے وہ واقف نہیں۔ اس لیے وہ سمجھتے ہیں کہ اس دنیا میں میں ہی ہوں جس کو تڑپ کا تجربہ ہورہا ہے۔ حالانکہ خود خالقِ فطرت نے تڑپ کو ہر ایک کا مقدر بنا دیا ہے(لقد خلقنا الانسان فی کبد)۔
۱۰ دسمبر کو تقریباً آدھا دن یہاں کی ایک کورٹ میںگذرا۔ ایک کیس کے سلسلہ میں مجھے وہاں جانا پڑا تھا۔ اس سے پہلے بھی چند بار مجھے بادلِ ناخواستہ کورٹ میں جانے کا اتفاق ہوا ہے۔ اپنے علم اور تجربہ کی بنا پر میں نے پایا ہے کہ موجودہ عدالتیں قانونی پہلوانی کے ادارے ہیں۔ ان عدالتوں میں حقائق کی بنیاد پر فیصلہ نہیں ہوتا بلکہ ساری بحث فنّی بنیاد (technical ground) پر ہوتی ہے۔ میرے تجربہ کے مطابق، اس نظام میں جج ایک بے اختیار مشین کی طرح کام کرتا ہے۔ وہ مجبور ہے کہ وکیلوں کے نکالے ہوئے فنّی نکتوں پر فیصلہ دے۔ چنانچہ اکثر ایسا ہوتا ہے کہ فیصلہ میں فنّی نکتہ کی رعایت تو ضرور ہوتی ہے مگر اصل حقیقت سے اُس کا کوئی تعلق نہیںہوتا۔
۱۰ دسمبر کے اس تجربہ کے بعد میںنے سوچا کہ آخر میرے جیسے بے ضرر انسان کے ساتھ ایسے حالات کیوں پیش آئے کہ اُس کو مجبورانہ طورپر عدالت میںجانا پڑا۔ اس پر غور کرتے ہوئے مجھے حضرت علیؓ کا قول یاد آیا کہ: الخیر فیما وقع۔ اور پھر میرے دل نے کہا کہ شاید میرے لیے یہ مقدر تھا کہ میرے ساتھ وہ تجربہ گذرے جس کو حضرت مسیح نے ان الفاظ میں بیان کیا تھا: ابن آدم کو عدالت میں لے جاتے ہیں۔
۱۰ دسمبر کو عدالت کے کمرہ میں جناب مجاہد الدین احمد ایڈوکیٹ سے ملاقات ہوئی۔ اُنہوں نے بتایا کہ وہ میری کتابیں پڑھ چکے ہیں اور ہمارے مشن سے پوری طرح اتفاق رکھتے ہیں۔
ایک تعلیم یافتہ ہندو نے انگریزی میں چھپاہوا ایک آرٹیکل دیا جو ستیہ سائی بابا کے بارہ میں تھا۔ اُس میں بتایا گیا تھا کہ ستیہ سائی بابا کا طریقہ بے کُچھ آدمی کو سب کچھ دے دیتا ہے۔ اس کا عنوان یہ تھا:
Sai Baba and theory of Everything
اُس میں بتایا گیا تھا کہ خدا نے ہم کو دماغ کی صورت میں ایک سُپر کمپیوٹر دیا ہے۔ مگر ہم اس کو دس فیصد سے بھی کم استعمال کرپاتے ہیں۔ سادھنا کے روحانی طریقہ کے ذریعہ یہ ممکن ہے کہ ہم اپنے مائنڈ کو زیادہ بہتر بنا سکیں۔ تاکہ ہم اپنے دماغ کے غیر استعمال شدہ طاقت کو بڑھا سکیں:
This places a ceiling on the proportion in use of the God-given super computer—our brain— we use less than ten per cent of its capacity. By spiritual discipline (Sadhana) it is possible to reprogramme our minds to increase the unused capacity of our brain.
میں نے کہا کہ یہ ایک بے دلیل دعویٰ ہے۔ سائی بابا اور اُن کے ہزاروں معتقدین نے سادھنا کے اس طریقہ کو بھر پور استعمال کیا مگر وہ دماغی ترقی کے اعلیٰ درجہ تک نہ پہنچ سکے۔ سائی بابا سمیت اُن کے کسی معتقد نے کوئی سائنٹفک ڈسکوری نہیں کی اور نہ کوئی اعلیٰ درجہ کی کتاب لکھی۔ پھر میں نے اپنا ذاتی واقعہ بیان کیا۔ ایک بار سائی بابا کے ایک معتقد مجھ کو سائی بابا کے آشرم میں لے گئے۔ اُنہوں نے کہا کہ سائی بابا ہر چیز کو جانتے ہیں، یہاں تک کہ آپ کے دل کا حال بھی۔ میںنے جاتے ہوئے ایک کاغذ پر یہ جملہ لکھا:
What is the future of my mission
میں نے مذکورہ معتقد کو وہ کاغذ دکھاتے ہوئے کہا کہ میں آپ کے ساتھ آشرم میں چلتا ہوں۔ میں اُن سے زبانی طورپر کچھ سوال نہیں کروں گا۔ وہ خود سے جان کر میرے اس سوال کا جواب دیں۔ ہم دونوں وہاں پہنچ کر مجمع میں بیٹھ گئے۔ سائی بابا اپنے راؤنڈ پر نکلے۔ وہ چلتے ہوئے میرے پاس پہنچے۔ وہ چند سیکنڈ کے لیے میرے پاس ٹھہرے اور پھر کچھ بولے بغیر آگے بڑھ گئے۔ میں نے مذکورہ معتقد سے کہا کہ آپ نے تو کہا تھا کہ سائی باباخود سے میرے سوال کا جواب دے دیں گے۔ مگر اُنہوں نے کوئی جواب نہیں دیا۔ مذکورہ معتقد لاجواب ہو کر خاموش رہے۔
ایک مجلس میں ایک صاحب نے کہا کہ ہندوؤں اور مسلمانوں دونوں میں سماجی اصلاح کی تحریکیں کثرت سے اُٹھائی گئیں مگر اُن کا مطلوب نتیجہ نہیں نکلا۔میںنے کہا کہ میرے تجربہ کے مطابق، تحریکیں اُٹھانے والے بطور پروفیشن تحریک اُٹھاتے ہیں، نہ کہ بطور مشن۔ اُن میں نہ گہر ا دردہوتا اور نہ گہری سنجیدگی۔ ظاہر ہے کہ ایسی تحریکوں کا کوئی مثبت انجام نکلنے والا نہیں۔
اُن کا حال یہ ہے کہ مسلمان اگر انسانیت کے نام پر کوئی تحریک اُٹھاتے ہیں تو عملاً اس کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ وہ مسلمانوں کے ایڈوکیٹ بن کر ہندوؤں کو انسانیت کا سبق دیں۔ اور ہندو اگر مانوتا کے نام پر کوئی تحریک اُٹھاتے ہیںتو اس کا مقصد بھی یہ ہوتا ہے کہ وہ ہندوؤں کے ایڈوکیٹ بن کر مسلمانوں کو مانوتا کا سبق دیں۔اس قسم کی تحریکوں کا کوئی حقیقی فائدہ نہیں ہوسکتا۔ صحیح اور موثر طریقہ یہ ہے کہ مسلم قائدین مسلمانوں کو نصیحت کریں اور ہندو قائدین ہندوؤں کو نصیحت کریں۔ مگر موجودہ رہنما ایسا نہیں کرتے۔
اس کا سبب یہ ہے کہ اُنہیں یہ خوف ہوتاہے کہ ایساکرنے کی صورت میں وہ اپنی قوم کے اندر اپنی مقبولیت کھو دیں۔ عوامی نفسیات یہ ہے کہ اگر آپ اپنی قوم کے وکیل بن کر دوسروں کی مذمت کریں تو آپ اپنی قوم کے اندر ہیرو بن جاتے ہیں اور اگر آپ خوداپنی قوم کے خلاف بولیں توآپ اپنی قوم میں زیرو ہو جائیں گے۔
ایک تعلیم یافتہ مسلمان سے گفتگو ہوئی۔ میں نے اُنہیں انگریزی میں چھپا ہوا ایک انویٹیشن دکھایا۔ اس میں مجھے تقریر کرنے کے لیے بلایا گیا تھا۔ یہ دعوت نامہ دی انلائٹنمنٹ فاؤنڈیشن (The Enlightenment Foundation) کی طرف سے تھا۔ نئی دہلی میں اُس کا کنٹیکٹ نمبر یہ ہے: (Tel.: 26916696)۔
اس میٹنگ کا موضوع یہ تھا کہ میںکون ہوں( Who Am I) میںنے کہا کہ اس طرح کے ادارے بڑی تعداد میں تقریباً ہر شہر میں قائم ہیں۔اس میں شرکت کرنے والوں کو پوری آزادی ہوتی ہے کہ وہ اپنے نقطۂ نظر سے زیر بحث موضوع پر بولے۔ اور اپنے علم کے مطابق، سوال کا جواب دے۔ اس طرح گویا ہر شہر میںایک قسم کا دعوتی میدان کھلا ہوا ہے۔ تعلیم یافتہ مسلمان وہاں جاکر آزادانہ طور پر اپنی بات پیش کرسکتے ہیں، بشرطیکہ اُن کا انداز خالص علمی ہو۔ مناظرہ کا انداز، سیاسی پروپیگنڈے کا انداز یا قومی وکالت کا انداز نہ ہو۔ اس امکان کو اگر استعمال کیا جائے تو ہر شہر میں خاموش انداز میں دعوت کا کام شروع ہوجائے گا۔ مگر موجودہ مسلمانوں میں چونکہ دعوتی جذبہ نہیں اس لیے اُنہوں نے نہ اس جدید امکان کو جانا اور نہ اُس کو استعمال کیا۔
کچھ مسلمانوں سے بات کرتے ہوئے میں نے کہا کہ قرآن میں مومن کی تصویر ان الفاظ میں دی گئی ہے: ولم یخش الا اللہ (اُس کو اللہ کے سوا کسی اور کا ڈر نہیں ہوتا)۔ اس کے مقابلہ میں منافق کی تعریف یہ کی گئی ہے: یحسبون کل صیحۃ علیہم (وہ ہر چیخ کو اپنے ہی خلاف سمجھتے ہیں)۔
موجودہ زمانہ کے مسلمانوں کو دیکھئے یا اُن کی تقریروں اور تحریروں کا جائزہ لیجئے تو تقریباً سارے ہی مسلمان اس کا مصداق نظر آئیں گے۔ آج تقریباً ساری دنیا کے مسلمان ایک ہی مشترک بولی بول رہے ہیں۔ وہ دنیا کی تمام قوموں کو اپنا دشمن سمجھتے ہیں۔ دوسری قوموں کی سرگرمیوں کو بتانے کے لیے اُن کے پاس ایک ہی مشترک لفظ ہے اور وہ ہے سازش، موامرہ، کانسپریسی (conspiracy)۔ اُن کونظر آتا ہے کہ دنیا کے تمام غیر مسلم لوگ صرف ایک ہی کام کررہے ہیں اور وہ مسلمانوں کے خلاف سازش ہے۔
موجودہ مسلم دنیا میں شاید میںاکیلا مسلمان ہوں جو اعلان کے ساتھ اس نظریہ کے خلاف ہے۔ میں یہ کہتا ہوں کہ آج کی دنیا ہمارے لیے مواقع (opportunities) کی دنیا ہے، نہ کہ دشمنی اور سازش کی دنیا۔ میری یہ بات موجودہ مسلمانوں کو اتنی عجیب معلوم ہوتی ہے کہ وہ مجھ کو مسلم دشمن طاقتوں کا ایجنٹ سمجھتے ہیں۔اعوذ باللہ من ذالک۔
ایک صاحب نے کہا کہ تعلیم یافتہ طبقہ عام طورپر یہ سوال کرتا ہے کہ آخر کیا وجہ ہے کہ ساری دنیا کے مسلمان جہادی مزاج رکھتے ہیں۔ وہ جہاد کے نام پر صرف لڑنا بھڑنا جانتے ہیں۔ پُر امن جدو جہد جیسے اُن کے مزاجی خانہ میں فٹ نہیں ہوتی۔
میں نے کہا کہ غور کیجئے تو اس کا سبب نہایت گہرا ہے۔ اسلام کی تاریخ میں بعد کے زمانہ میں وہی ریورس کورس (reverse course)مطلوب تھا جو دوسری عالمی جنگ کے بعد جاپان نے اختیار کیا۔ مگر پچھلے ہزار سال میں مسلمانوں میں کوئی ایسا عالم پیدا نہ ہو سکا جو مسلمانوں کو ریورس کورس کا سبق دیتا۔ نتیجہ یہ ہوا کہ گاڑی ایک ہی رُخ پر دوڑتی رہی۔
میں نے کہا کہ اسلام کے ابتدائی دور میں تقریباً ہزار سال تک پُر امن جدو جہد ہی کا طریقہ رائج تھا۔ اس کے بعد مخالفین کی جارحیت کے نتیجہ میں ہجرت کے بعد جنگیں شروع ہوگئیں جو خلافت راشدہ کے زمانہ تک جاری رہیں۔
تاریخ بتاتی ہے کہ خلافت راشدہ کے آخری زمانہ میں جارحانہ طاقتوں کا مکمل خاتمہ ہوگیا۔ اب وقت آگیا تھا کہ مکی دور والے پُر امن طریق کا رکی طرف واپسی اختیار کی جائے۔ مگر سیاسی حوصلہ مندوں نے اپنے سیاسی عزائم کی تکمیل کے لیے جنگ وقتال کا سلسلہ جاری رکھا جواب تک مختلف صورتوں میں جاری ہے۔
خلافت راشدہ کے بعد ضرورت تھی کہ کوئی بڑا عالم اور رہنما اٹھے جو جہاد کی پُر امن تعبیر پیش کرکے مسلمانوں کو ریورس کورس پر ڈال سکے۔ یعنی پُر تشدد طریقِ کار کے بجائے پُر امن طریقِ کار۔مگر ہزار سال کے دوران ایساکوئی رہنما پیدا نہ ہوسکا۔ چنانچہ قومی رُخ بھی بدلا نہ جاسکا۔
۱۰ دسمبر کی شام کو یہاں کے المعہد العالی الاسلامی کو دیکھا اور اُس کے بانی مولانا خالد سیف اللہ رحمانی کے ساتھ شام کا کھانا کھایا۔ اس موقع پر کئی لوگ میرے ساتھ تھے—ڈاکٹر شیزان صاحب، عمر عابدین صاحب، عبد الرؤف صاحب، عبد الغفار صاحب، وغیرہ۔
یہ ادارہ ۱۴۲۰ھ میں قائم کیا گیا۔ اس میں مدارس دینیہ کے فارغین کو داخل کیا جاتا ہے۔ اس کا مقصد اُس کے تعارف نامہ میں یہ بتایا گیا ہے: مختلف علوم اسلامی میں افراد کار کی تیاری، زمانہ شناس داعیوں کی تربیت، علماء کو انگریزی زبان اور جدید علوم سے با خبر کرنا، تحقیق وتالیف۔
یہ ادارہ ایک پہاڑی کے اوپر قائم کیا گیا ہے۔ یہاں بالکل سکون کا ماحول ہے۔ فضائی کثافت بھی یہاں تقریباً موجود نہیں۔ تعلیم وتحقیق کے لیے یہ ادارہ اپنے جائے وقوع کے اعتبار سے بہت موزوں ہے۔ اس ادارہ کی جو چیزیں میں نے دیکھیں اُن میں سے ایک اُس کی لائبریری تھی۔ یہ لائبریری بہت جامع اور خوبصورت نظر آئی۔ اس لائبریری کی ایک قابل ذکربات یہ تھی کہ اُس کی ایک الماری میں ماہنامہ الرسالہ کے تمام شمارے نمبر ۱ سے لے کر اب تک مجلد صورت میں رکھے ہوئے تھے۔ معلوم ہوا کہ یہ مکمل فائل مسٹر کشن جیونت راؤ پاٹل (ناندیڑ) نے دیا ہے۔
کشن جَیونت راؤ پاٹل ۱۹۷۶ میں اُردو زبان بالکل نہیں جانتے تھے۔ اُن کے ایک ساتھی محمدعثمان چاؤش نے اُنہیں الرسالہ کے کچھ مضامین پڑھ کر سنائے۔ اُنہیں اس سے اتنی زیادہ دلچسپی ہوئی کہ اُنہوں نے الرسالہ کو خود پڑھنے کے لیے اُردو زبان سیکھنا شروع کردیا۔ ایک بار اُنہوں نے بتایا کہ اُردو الفاظ کا مراٹھی ترجمہ یادکرتے کرتے اُن کا منھ دُکھنے لگتا ـتھا۔ مگر اُنہوں نے اپنی کوشش جاری رکھی۔ یہاں تک کہ اب وہ الرسالہ کی اُردو زبان مکمل طورپر سمجھ لیتے ہیں۔ وہ پابندی سے ہر ماہ الرسالہ کا باقاعدہ مطالعہ کرتے ہیں۔ اُن کے پاس الرسالہ کے تمام شمارے محفوظ حالت میں موجود تھے۔ اُنہوں نے ان شماروں کی جلد بندی کروائی اور اُن کو المعہد میں بطور عطیہ دے دیا۔ اُنہوں نے کہا کہ میرے گھر کے مقابلہ میں یہ جلدیں المعہد کی لائبریری میں زیادہ محفوظ رہیں گی۔
مولانا خالد سیف اللہ رحمانی سے اُن کی رہائش گاہ پر تفصیلی گفتگو ہوئی۔ میں نے کہا کہ المعہد کے مقاصد نہایت اہم ہیں اور عین زمانہ کے مطابق ہیں۔ میرا مشورہ ہے کہ آپ المعہد میںانگریزی زبان کو ذریعۂ تعلیم بنادیں۔ یہاں عربی اور دینی علوم انگریزی زبان میں پڑھائے جائیں۔ طلبہ کو تاکید کی جائے کہ وہ المعہد کے احاطہ میں صرف انگریزی زبان بولیں۔ کوئی اور زبان بولنے کی صورت میں اُن پر جُرمانہ عائد کیا جائے۔
میں نے کہا کہ المعہد کے موجودہ اساتذہ کو بظاہر یہ مشکل معلوم ہوگا۔ وہ سوچیں گے کہ ہم تو انگریزی زبان بہت کم جانتے ہیں۔ پھر ہم انگریزی زبان میں تعلیم کس طرح دیں۔ مگر میرے نزدیک اصل اہمیت زبان جاننے کی نہیں ہے بلکہ اپنے مقصد کے بارہ میں مجنونانہ جذبہ کی ضرورت ہے۔میں نے کہا کہ سرسیّد احمد خاں انگریزی زبان نہیں جانتے تھے۔ مگر اُنہوں نے ہندستان میں مسلمانوں کا سب سے بڑا انگریزی ادارہ قائم کیا۔ میں نے کہا کہ سرسید کا حال یہ تھا کہ اُنہوں نے ایک انگریزمستشرق کی انگریزی میں لکھی ہوئی سیرت کی کتاب کا جواب دیاتو پہلے اُس کا ترجمہ اردو زبان میں کروایا۔ اسی طرح ایک بار اُنہوں نے ’’انگریزی‘‘ میں تقریر کی۔ یہ انگریزی تقریر اُردو الفاظ میں کاغذ پر لکھ دی گئی تھی۔ پھر اس اُردو تحریر کی مدد سے اُنہوں نے اپنی انگریزی تقریر کی۔
میںنے کہا کہ آج ساری دنیا میں ایسے علماء کی ضرورت ہے جو انگریزی زبان میں اسلام کی بات کہہ سکیں۔ میںنے کانفرنسوں میں دیکھا ہے کہ کچھ غیر عالم مسلمان انگریزی میںاسلام کی نمائندگی کرتے ہیں مگر غیر عالم ہونے کی بنا پر اُن کی نمائندگی صحیح نہیں ہوتی۔ دوسرے مذہبوں میں ایسے علماء کثرت سے موجود ہیں۔ مگر مسلمانوں میںایسے علماء کی شدید کمی ہے جو انگریزی زبان میں درست طورپر اسلام کی نمائندگی کرسکیں۔ اگر المعہد اس ضرورت کو پورا کرے تو بلا شبہہ یہ اُس کا ایک تاریخی کارنامہ ہوگا۔
المعہد کے کچھ طالب علموں سے بات کرتے ہوئے میں نے کہا کہ آپ لوگ آج ہی سے انگریزی بولنا شروع کردیجئے۔ میں نے افریقہ کے ایک تاجر کی مثال دی۔ انہوں نے تجارتی ضرورت کے تحت انگریزی بولنا شروع کیا۔ ابتدا میں اُن کی انگریزی بہت غلط ہوتی تھی مگر بعد کو وہ صحیح انگریزی بولنے لگے۔ ابتدائی دور میں اُنہوں نے اس سلسلہ میں ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا تھا کہ میں غلط انگریزی بولتا ہوں تاکہ مجھے صحیح انگریزی بولنا آجائے:
I speak incorrect English, so that I may be able to speak correct English.
میںنے کہا کہ انسان کو اللہ تعالیٰ نے لامحدود صلاحیت دی ہے۔ ضرورت صرف یہ ہے کہ منصوبہ بند اور منظّم انداز میں اپنی صلاحیت کو برروئے کار لانے کی کوشش کی جائے۔ اس سلسلہ میں میںنے مالیگاؤں کے مولانا انیس لقمان ندوی کی مثال دی۔ وہ ماشاء اللہ بیک وقت عربی اور انگریزی دونوں زبان روانی کے ساتھ بولتے ہیں۔ ایسا کیوں کر ممکن ہوا۔ اُس کا راز یہ ہے کہ اُنہوں نے خود اپنے گھر کو تربیت گاہ بنا دیا۔ وہ اپنے بھائی کے ساتھ ہمیشہ انگریزی میں بولتے تھے اور اپنے برادر نسبتی کے ساتھ ہمیشہ عربی میں۔ اس طرح اُنہوں نے خود اپنے گھر میں دونوں زبان میں بولنے کی عمدہ مشق پیدا کرلی۔ یہی طریقہ ہر نوجوان اپنے حالات کے اعتبار سے استعمال کرسکتا ہے۔
مولانا خالد سیف اللہ صاحب نے ۱۰ دسمبر کی ملاقات کے موقع پراپنی کچھ کتابیں تحفہ کے طورپر عطا کیں۔ مثلاً خطباتِ بنگلور اورشمع فروزاں، وغیرہ۔مولانا خالد سیف اللہ رحمانی بر صغیر ہند کے ممتاز علماء میں سے ایک ہیں۔ اللہ نے اُنہیں عالم بھی بنایا ہے اور حکیم بھی۔ مولانا خالد سیف اللہ رحمانی سے ملاقات کے بعد ہم لوگ آگے کے لیے روانہ ہوئے۔ ہم کو حبیب بھائی کے مکان پر پہنچنا تھا۔ یہاں پہنچے تو رات کے گیارہ بجے کا وقت ہوچکا تھا۔ حبیب بھائی اور کچھ دوسرے ساتھیوں کے ہمراہ یہاں دیرتک باتیں ہوتی رہیں۔ ایک سوال کے جواب میں میںنے کہا کہ اولمپک کے کھیلوں کے موقع پر کھلاڑیوں کی ایک ٹیم کے کیپٹن نے کہا کہ میں غلطی کا تحمل نہیں کرسکتا:
I can not afford to make a mistake.
یہ بات آخرت کے مسافر کے لیے مزید اضافہ کے ساتھ اہم ہے۔ کھیل کے مقابلہ کا کیپٹن اگر غلطی کر جائے تو وہ صرف ایک کھیل کو وقتی طورپر کھوئے گا، لیکن آخرت کا مسافر اگر غلطی کرے تو وہ ابدی جنت کو کھو دے گا۔ اس سنگینی کا تقاضا ہے کہ کھیل کے کیپٹن کے مقابلہ میںآخرت کا مسافر مزید اضافہ کے ساتھ یہ کہے کہ میںغلطی کا تحمل نہیں کرسکتا۔
ایک اور بات میںنے یہ کہی کہ سچائی کے مشن میںاپنا واجبی حصہ ادا کرنے کے لیے ایک ضروری شرط یہ ہے کہ آدمی کا سینہ شکایتوں سے خالی ہو۔ عام طورپر ایسا ہوتا ہے کہ ایک شخص سچائی کا ارادہ لے کر کچھ لوگوں کے ساتھ سفر شروع کرتا ہے۔ ا س کے بعد شکایتوں کا عذر لے کر وہ قافلہ سے الگ ہوجاتا ہے۔ یہ مزاج بے حد خطرناک ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ دنیا کا معاملہ ہویا آخرت کا معاملہ، کامیابی کا واحد فارمولا یہ ہے کہ اگر تمہارے پاس ایک اچھا عذر ہو تب بھی تم اُس کو استعمال نہ کرو:
If you have a good excuse, don't use it.
۱۰ دسمبر کی رات کو ہم لوگوں کا قیام حبیب بھائی کے مکان پرتھا۔ حبیب بھائی کے والدبابو بھائی (غلام محمدمرحوم) الرسالہ کے زبردست شیدائی تھے۔ وہ آخروقت تک پوری طرح الرسالہ مشن سے جڑے رہے۔ ۲۱ جولائی ۱۹۸۷ کو ان کا انتقال ہوگیا جب کہ ان کی عمر صرف ۵۳ سال کی تھی۔
حبیب بھائی نے بتایا کہ بابو بھائی کے انتقال کے کچھ پہلے انہوں نے ایک خواب دیکھا۔ یہ اتنا واضح تھا کہ ابھی تک وہ انہیں اچھی طرح یاد ہے۔ انہوں نے دیکھا کہ ایک سیدھی چوڑی سڑک ہے۔اس پر وہ کھڑے ہوئے ہیں۔ اتنے میں پیچھے سے ایک بہت بڑا سانپ آیا۔ اس کو دیکھ کر حبیب بھائی آگے کی طرف دوڑنے لگے۔ سانپ تیزی سے انہیں دوڑا رہا تھا اور حبیب بھائی پوری طاقت کے ساتھ اس کے آگے بھاگ رہے تھے۔ وہ اسی طرح دوڑتے رہے۔ یہاں تک کہ ایک مقام آیا جہاں انہوں نے دیکھا کہ میں تنہا سڑک کے بیچ میںکھڑا ہواہوں۔ میرے پاس پہنچ کر حبیب بھائی رک گئے۔ سانپ بھی رک گیا۔ حبیب بھائی نے گھبراہٹ کے لہجے میں کہا کہ دیکھئے ،یہ سانپ مجھے دوڑا رہا ہے، میںکیا کروں۔ حبیب بھائی کے بیان کے مطابق ،میں نے پُر سکون طور پرکہا: آپ دعوت کیجئے۔
حبیب بھائی نے بتایا کہ یہ خواب ٹھیک اسی طرح انہیں بار بار آتا رہا۔ غالباً چھ بارسے زیادہ انہیں یہ خواب ٹھیک اسی طرح دکھائی دیا۔ انہوںنے بابو بھائی سے کہا کہ اس قسم کا خواب مجھے بار بار دکھائی دیتا ہے۔ میں کیا کروں۔ بابو بھائی نے کہا کہ اس کا مطلب یہ ہے کہ تم مولانا کے ساتھ مل کر دعوت کا کام کرو۔
حبیب بھائی نے اپنا یہ خواب بتایا تو میں نے اس پر غور کرنا شروع کیا۔میری سمجھ میں آیا کہ اس خواب میں حبیب بھائی کی حیثیت ملت مسلمہ کے نمائندہ کی ہے۔ یہ خواب گویا پوری ملت کو یہ پیغام دے رہا ہے کہ تم دعوت اسلامی کا کام کرو ورنہ مسائل کا سانپ تم کو دوڑاتا رہے گا۔ وہ کبھی تمہارا پیچھا نہیں چھوڑے گا۔
میں یہ بات بار بار لکھ چکا ہوں کہ موجودہ زمانہ میں مسلمانوں کو جو مسائل پیش آرہے ہیں وہ سادہ طورپر صرف مسائل نہیں ہیں۔ وہ خدا کی تنبیہہ (warning) ہیں۔ یہ مسائل مسلمانوں کو جھنجھوڑ کر یاد دلا رہے ہیں کہ تم اگر تباہی سے بچنا چاہتے ہو تو اپنی دعوتی ذمہ داری کو پورا کرو۔ یہ حقیقت میں نے قرآن سے اخذ کی ہے۔ جیسا کہ قرآن میںآیا ہے، اہل ایمان کے لئے عصمت من الناس کا راز تبلیغ ما انزل اللہ میںہے (المائدہ ۶۷)
موجودہ زمانہ کے مسلمان نہایت جوش و خروش کے ساتھ ’’تحفظ ختم نبوت‘‘ کی تحریک چلاتے ہیں۔ مگر اس قسم کی تحریکیں مضحکہ خیز حد تک بے معنٰی ہیں۔ ختم نبوت کے تحفظ کی ذمہ داری تو خود اللہ نے لے رکھی ہے پھر مسلمان اس میںکیا رول ادا کرسکتے ہیں۔ اس قسم کی تحریک اتنا ہی بے معنٰی ہے جتنا کہ شمس و قمر کے تحفظ کی تحریک چلانا۔
حقیقت یہ ہے کہ مسلمانوں کی ذمہ داری ختم نبوت کا تحفظ نہیںہے بلکہ ختم نبوت کی دعوتی ذمہ داریوں کو ادا کرنا ہے۔ ختم نبوت کے بعد وہ مقام نبوت پر ہیں۔ مسلمانوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ دعوت الی اللہ کا وہ کام کریں جو پہلے پیغمبر کے ذریعہ انجام پاتا تھا: لیکون الرسول شہیدا علیکم و تکونوا شہداء علی الناس (الحج ۷۸)
قرآن اور حدیث اور سیرت کا میں نے جو گہرا مطالعہ کیا ہے اس کی بنیاد پر میں پورے یقین کے ساتھ کہہ سکتا ہوں کہ امت محمدی صرف نماز روزہ کی ادائیگی سے خدا کے یہاں بری الذمہ نہیں ہوسکتی۔ حتیٰ کہ خود ساختہ نظریات کے تحت موجودہ زمانہ میں اسلامی جہاد اور اسلامی سیاست کے جو ہنگامے مسلم دنیا میں جاری ہیں وہ بھی ہر گز اس کی نجات کا ضامن نہیں بن سکتے۔ مسلمانوں پر فرض کے درجہ میں ضروری ہے کہ وہ غیر مسلموں تک اسلام کا پیغام پہنچائیں۔ اور اس کے تمام آداب و شرائط کے ساتھ اس کو مسلسل انجام دیں۔ دعوتی فرض کی انجام دہی کے بغیر مسلمانوں کا امت محمدی ہونا ہی مشتبہ ہے۔اور جب اصل حیثیت ہی مشتبہ ہو تو انعامات کس بنیاد پر دیے جائیں گے۔
ایک گفتگو کے دوران ایک نکتہ کی وضاحت کرتے ہوئے میں نے کہا کہ دہلی میں ایک صاحب اکثر ہمارے دفتر میں آتے ہیں۔ وہ دیکھتے تھے کہ گرمیوں کے موسم میں میںاے۔ سی استعمال نہیں کرتا۔اب وہ سردی کے موسم میںہمارے یہاں آئے تو اُنہوں نے دیکھا کہ میرے کمرے میں ہیٹر لگا ہوا ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ آپ تو اے ۔سی استعمال نہیں کرتے۔پھر آپ ہیٹر کیوں استعمال کرتے ہیں۔ کیا یہ تضاد نہیں۔
میںنے کہا کہ میرے بھائی، آپ ایک چیز اور دوسری چیز کے درمیان فرق نہ کرسکے۔ اے۔سی آرام کے لیے ہوتا ہے اور ہیٹر ایک ضرورت کی چیز ہے۔ میرا تجربہ ہے کہ گرمی کا موسم مجھے بیمار نہیں کرتا۔ اے ۔سی لگانے سے جسمانی آرام تو ملتا ہے مگر اس کا تعلق بیماری سے نہیں۔ اس کے برعکس میرا بار بار کا تجربہ ہے کہ اگر مجھے سردی لگ جائے تو میں بیمار ہوجاتا ہوں۔ زکام، کھانسی، بخار کی وجہ سے ہفتوں کے لیے کام کا نقصان برداشت کرنا پڑتا ہے۔ اس لیے سخت سردی میں میں ہیٹر کا استعمال کرتا ہوں۔ آپ آرام اور ضرورت میں فرق نہ کرسکے۔ اس لیے آپ کو یہ شبہہ لاحق ہوا۔
یہ حکمت (wisdom) کی بات ہے کہ آدمی ایک چیز اور دوسری چیز کے درمیان فرق کرنا جانے۔ میرا تجربہ ہے کہ موجودہ زمانہ کے پڑھے لکھے لوگ عام طورپراس حکمت سے بے بہرہ ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ یہ لوگ باتوں کو واضح انداز میں سمجھ نہیںپاتے۔ وہ خود بھی کنفیوژن میں مبتلا رہتے ہیں اور اپنے تحریر و تقریر کے ذریعہ دوسروں کو بھی کنفیوژن میں مبتلا کرتے ہیں۔
۱۱ دسمبر کی صبح کو حبیب بھائی کے گھر سے ایر پورٹ کے لیے روانہ ہوا۔ اُن کے گھر سے ایر پورٹ بہت قریب ہے۔ ساتھیوں سے رخصت ہو کر ایر پورٹ کے اندر داخل ہوا ۔ حیدر آباد سے دہلی کے لیے واپسی دوبارہ انڈین ایر لائنز کی فلائٹ سے ـتھی۔ جہاز ٹھیک اپنے وقت پر حیدر آباد سے روانہ ہوا۔
حیدر آباد اوردہلی کے درمیان سفر کرتے ہوئے کچھ اخبارات دیکھے۔ انڈین ایکسپریس کے بمبئی ایڈیشن (۱۱ دسمبر، ۲۰۰۲) میں صفحہ ۶ پر ایک مضمون تھا۔ مضمون نگار کا نام مسٹر عندلیب اختر چھپا ہوا تھا۔ عنوان کے الفاظ یہ تھے:
IN TIMES OF STRIFE, REMEMBER IQBAL
یعنی نزاع کے وقت اقبال کو یاد کرو۔ مضمون میں کہا گیا تھا کہ اجودھیا میں بابری مسجد اور رام جنم بھومی کی جو نزاع ہے اُس کا حل اقبال کے کلام میں موجود ہے۔ اس مقصد کے لیے مضمون میںاقبال کی ایک نظم (نیا شوالہ) کے حسب ذیل اشعار نقل کیے گئے تھے:
سچ کہہ دوں اے برہمن گر تو برا نہ مانے
تیرے صنم کدوں کے بُت ہوگئے پرانے
اپنوں سے بیر رکھنا تو نے بتوں سے سیکھا
جنگ و جدل سکھایا واعظ کو بھی خدا نے
پتھر کی مورتوں میں سمجھا ہے تو خدا ہے
خاک وطن کا مجھ کو ہر ذرّہ دیوتا ہے
شکتی بھی، شانتی بھی بھکتوں کی گیت میں ہے
دھرتی کے واسیوں کی مُکتی پِر ِیت میں ہے
اس مضمون سے یہ واضح نہ ہوسکا کہ اجودھیا کے نزاعی مسئلہ کا حل اقبال کے مذکورہ شعروں میں کس طرح ہے۔ مضمون نگار کے عقیدت مندانہ ذہن میں تو یہ حل ضرور موجود ہوگا مگر چھپے ہوئے اشعار کے اندر یقینی طورپر اس کا حل موجود نہیں ۔ مزید انوکھی بات یہ ہے کہ اقبال نے بر صغیر ہند کی مذہبی تقسیم کا فارمولہ پیش کر کے خود ہی موجودہ نزاعات کی بنیاد رکھ دی۔ اس کے باوجود اُن کے عقیدت مند اُن کے کلام میںبرعکس طورپر اس مسئلہ کا حل دریافت کر رہے ہیں۔
انگریزی میگزین انڈیا ٹوڈے (۲ دسمبر ۲۰۰۲)دیکھا۔ اُس کے صفحہ ۶۶۔۶۷ پر برطانی جرنلسٹ َسرمارک ٹلی (Mark Tully) کی تازہ کتاب پر تبصرہ شائع ہوا تھا۔ ۳۰۲ صفحہ کی یہ کتاب پنگوئن بُکس نے چھاپی ہے۔ کتاب کا نام یہ ہے:
INDIA IN SLOW MOTION (2002)
اس کتاب میں انٹروڈکشن کے علاوہ گیارہ ابواب ہیں۔ اس کا پہلا باب رام کی نئی دریافت کے بارے میں ہے اور آخری باب کاعنوان ہے، گم شدہ جنت (Paradise Lost) ۔ کتاب کا ایک باب صوفیوں اور اُن کے عقائد کے بارے میں ہے۔ اس باب کا عنوان یہ ہے:
The Sufies and a Plain Faith
اس کتاب کی ترتیب کے دوران سَرمارک ٹلی نے راقم الحروف کا دوبار انٹرویو لیا تھا۔ کتاب کے مذکورہ باب میں اُنہوں نے تفصیل کے ساتھ میرے خیالات کا ذکر کیا ہے جو کتاب کے صفحہ ۱۵۶ سے لے کر ۱۶۱ تک موجودہے۔
سر مارک تلی نے اپنی کتاب میں لکھا ہے کہ اُن کو یہ خیال ہوا کہ وہ اپنی کتا ب میں اسلامی تصوف (Sufi Faith) پر ایک باب شامل کریں۔ اس سلسلہ میں انہوں نے سب سے پہلے یہ کوشش کی کہ تبلیغی جماعت کے مرکز میں جاکر موضوع کے بارے میں معلومات حاصل کریں۔ مگر وہ لوگ اس سلسلہ میں انتہائی حد تک غیر معاون (unhelpful)ثابت ہوئے۔ حتیٰ کہ انہوں نے یہ بتانے سے بھی انکار کردیا کہ دوسرا کون مسلمان اس معاملہ میں ان کے لئے مدد گار ہوسکتا ہے۔ (صفحہ ۱۵۵)
سرمارک ٹلی نے لکھا ہے کہ اس کے بعد اُنہوں نے مجھ سے کہا کہ آپ کوشش کیجئے تاکہ تبلیغ کاکوئی آدمی مل جائے جس سے میںتبلیغ کے بارے میں معلومات لے سکوں۔ ان کے کہنے پر میںنے کوشش کی لیکن مجھے کامیابی نہ ہوسکی۔ میںنے ان کو ٹیلیفون کیا اور اس سلسلہ میں معذوری ظاہر کی۔ اس کی رپورٹ سر مارک ٹلی نے ان الفاظ میں لکھی ہے:
(Maulana) agreed but a few days later rang me back to confess failure. ‘These people are not living in this century’, he said. ‘They don't know what the media is.’ (p. 161)
اس کے بعد وہ میرے پاس آئے اور مجھ سے صوفی ازم پر تفصیلی انٹرویو لیا۔ اس سلسلہ میںانہوں نے جو کچھ لکھا ہے اس کے چند جملے یہ ہیں:
Maulana Wahiduddin Khan proved far more approachable. When we rang him he willingly agreed to see us both, and there was no question of Gilly (wife) not being welcome. (P. 156)
موجودہ زمانہ کے مسلم مصلحین نے تقریباً مشترک طورپر یہ غلطی کی ہے کہ اُنہوں نے عوام کو اپنی کوششوں کا نشانہ بنایا۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ موجودہ زمانہ میں اسلام کی نمائندگی صرف عوام کی سطح پر ہوسکی۔ جہاں تک خواص کا تعلق ہے، وہ اسلام سے تقریباً بے بہرہ ہو کر رہ گئے۔
میں اپنے ذاتی تجربہ کی بنا پر کہہ سکتا ہوں کہ موجودہ زمانہ کے خواص (تعلیم یافتہ طبقہ) میں اسلام کا پیغام انتہائی حد تک قابلِ قبول بن چکا ہے بشرطیکہ اس طبقہ کے سامنے اسلام کو اُس کی قابلِ فہم زبان میں پیش کیا جائے۔ بد قسمتی سے موجودہ زمانہ کے مسلم مصلحین لسانِ قوم میں بولنے کی صلاحیت نہیں رکھتے۔ اس معاملہ میں اُن کی بے خبری کا حال یہ ہے کہ اُنہوں نے اکبر الٰہ آبادی جیسے ایک شاعر کو لسان العصر کا خطاب دے دیا۔ حالاں کہ اکبر الٰہ آبادی نہ تو عصر کو جانتے تھے اور نہ اُن کی زبان لسان العصر کا مصداق تھی۔
اس سلسلہ میں ایک سبق آموز ذاتی تجربہ یہ ہے کہ میںنے انگریزی اخبار کے لیے ایک مضمون تیار کیا۔ یہ مضمون واضح طورپر موجودہ زمانہ کے ہندو گروؤں اور سوامیوں کے خلاف تھا۔ اس مضمون کا عنوان یہ تھا:The Role of Spirituality in De-stressing the Human Mind.
آج کل ہندو سوامی اور ہندو گرو ملک میں اور ساری دنیا میں بہت بڑے بڑے آشرم چلا رہے ہیں۔ یہاں میڈیٹیشن کے مخصوص تکینک کے ذریعہ لوگوں کے ذہنی تناؤ کو دور کیا جاتا ہے۔ میرا مضمون اس کے سراسر خلاف تھا۔ انگریزی اخبار کے دفتر میںجب میرا مضمون پہنچا تو وہاں کے ذمہ داروں کے درمیان اس پر بحث ہوئی۔ ایک ہندو صحافی نے کہا کہ یہ مضمون تو ہماری بنیاد کو ڈھارہا ہے۔ دوسرے ہندو صحافیوں نے جواب دیا کہ ہمیں اس سے بحث نہیں۔ یہ مضمون سائنسی اور منطقی دلائل سے بھر پور ہے۔ اس لیے ہم اُس کو اپنے اخبار میں چھاپیں گے۔ چنانچہ یہ مضمون بعینہٖ دہلی کے مشہور انگریزی اخبار میں شائع ہوا۔
میرا یہ مضمون نئی دہلی کے مشہور انگریزی اخبار ہندستان ٹائمس کے انٹرنیٹ ایڈیشن میںموجود ہے۔ کوئی بھی شخص اپنے کمپیوٹر پر ڈاؤن لوڈ کرکے ہندستان ٹائمس کے شمارہ ۳۱ دسمبر ۲۰۰۲ میں اُس کو دیکھ سکتا ہے۔ اس اخبار کا انٹر نیٹ نمبر یہ ہے :www.hindustantimes.com
دو گھنٹہ کی پرواز کے بعد نو بجے میں دہلی پہنچ گیا۔ حیدر آباد میں موسم بالکل معتدل تھا جب کہ دہلی میں عین اُسی دن سردی کا موسم تھا۔ زمین کے اوپر موسم کا یہ فرق زمین کے مخصوص جھکاؤ (tilt) سے پیدا ہوتا ہے۔یہ جھکاؤ ایک انتہائی غیر معمولی اور استثنائی قسم کا شعوری واقعہ ہے اور شعوری واقعہ صاحبِ شعور کے وجود کا ایک زندہ ثبوت ہے۔
واپسی کے بعد مجھے ایک خط ملا۔ یہ خط یہاںنقل کیا جاتا ہے:
’’۵ دسمبر ۲۰۰۲ کا روزنامہ انقلاب نظر سے گذرا ۔اس میںایک خط شائع ہوا تھا جس میںمکتوب نگار نے گجرات اسمبلی الیکشن اور الیکشن کمیشن کے متعلق ایک خط لکھا تھا جس کا ایک حصہ یہ ہے:’اور اب ’بی جے پی‘ کو دنیا کی پروا بھی نہیں۔ تمام اخلاق و آداب اور آئین اور دستور کو بالائے طاق رکھ دئے گئے ہیں اور کھلّم کھلّا زہر افشانی کی جارہی ہے۔ اس دوران سابق جج حضرات کی تحقیقاتی کمیٹی کی رپورٹ بھی شائع ہوگئی مگر سنگھ پریوار ہے کہ اس کے سامنے اس کی بھی کوئی وقعت نہیں، لیکن اس عُسر میںالیکشن کمیشن کی صورت میں یُسر نظر آرہا ہے کہ الیکشن پروپیگنڈے کے نام پر ’زہر افشانی‘ لنگڈوہ کی عقابی نگاہ سے بچ نہ سکے گی۔‘ یہ فکر آپ کی ہی دی ہوئی ہے اور اب ہماری اُمّت کا ہرلکھنے والا اور بولنے والا اسی طرح کی باتیں لکھنے اور بولنے لگا ہے۔ اسی اخبار میں ایک دوسری سُرخی ان الفاظ میں تھی ’’۶ دسمبر کو مشتعل نہ ہوں‘‘۔ اوّل روز سے آپ اسی صبر و اعراض اور مشتعل نہ ہونے کی تعلیم دے رہے ہیں۔ جس کو بعد از خرابی ٔ بسیار قوم کا ہر ’دانش ور‘ اُمّت کو اختیارکرنے کا مشورہ دے رہا ہے۔ یعنی اب پوری امّت الرسالہ کے نقطۂ نظرسے اتفاق کرنے لگی ہے۔اب وہ حالت بھی نہیں جب بابری مسجد کے انہدام کے بعدبعض پڑھے لکھے لوگوں کی مجلس میں میں نے دیکھی تھی کہ اپنے آپ کو ’دانشور‘ یا ’انٹلیکچول‘ ثابت کرنے کے لئے مولانا وحید الدین خاں صاحب پر تنقید کی جائے۔ یعنی اب مخالفت کی بنیاد ہی ختم ہوگئی اور ہر ایک نے اعلان کے ساتھ یا بلا اعلان الرسالہ کی پالیسی سے اتفاق کر لیا ۔یہی وجہ ہے کہ آپ کی فکر سے متاثر جُملے اکثر سننے یا پڑھنے میں آرہے ہیں۔جب ساری امت آپ کی پالیسی سے متفق ہوچکی ہے، پھر یہ بے بنیاد مخالفت کیوں۔دسمبر کا الرسالہ پڑھ کرایک وجہ جو میری سمجھ میں آئی ہے وہ یہ ہے کہ ہماری قوم اکابر پرستی کا شکار ہے اور آپ اکابر شکنی کے مرتکب ہورہے ہیں۔ مولانا مودودی کے بارے میں آپ نے جو کچھ لکھا وہ بالکل برحق ہے۔ آپ نے مولانا مودودی کی ذات پر کچھ نہیں لکھا۔ جو بھی تنقید کی وہ اُن کے معلوم افکار پر کی۔ جو کہ اسلام میں عین جائز بات ہے۔لیکن یہ جائز چیز بھی ہمارے عوام ہی نہیں بلکہ خواص کی نظروں میں بھی’شجر ممنوعہ‘ کی حیثیت رکھتی ہے۔ آپ کا دو ٹوک بات کرنے کا انداز کچھ لوگوں کو بہت گراں گذرتا ہے۔ مثلاً آپ نے لکھا ہے: ’’میرے نزدیک موجودہ زمانہ کی مسلم شخصیتوں میں سے کوئی بھی شخصیت (بشمول مولانامودودی) ان شرائط پر پوری نہیں اترتی۔ اس لئے ان میں سے کوئی بھی مفکر کہے جانے کا مستحق نہیں۔ (الرسالہ ، دسمبر ۲۰۰۲)۔یہاں مجھے مرحوم محی الدین صدیقی ایم ۔اے یاد آتے ہیں۔ وہ جناح کے زبردست پرستار ہونے کے باوجود آپ کی کسی تنقید پر برا نہیں مانتے تھے، بلکہ آپ کی تعریف کرتے تھے۔ اُنہوں نے کہاکہ مولانا نے جناح کے ذاتی کردار کے قابل اعتراض پہلو پر کبھی نہیں لکھا، نہ ہی اُن کی شراب نوشی کا ذکر کیا، نہ ہی خنزیر خوری کا تذکرہ کیا۔بہت پہلے کی بات ہے جب الرسالہ لوگوں میںاپنی پہچان بنا رہا تھا۔ ایک ملاقات میں مرحوم حامد الانصاری غازی نے آپ کے بارے میں کہا تھا: ’’بہت خوب! مولانا بہت اچھے جارہے ہیں‘‘۔ (فاروق فیصل، بمبئی)
واپس اوپر جائیں

Saturday, 1 February 2003

Al Risala | February 2003 (الرسالہ،فروری)

2

- ایمانی کیفیات

3

- شدت پسندی نہیں

5

- اسلامی انقلاب میں عمومی تائید

6

- عالی شان مسجدیں

7

- عورت کا درجہ

8

- کامیاب زندگی

9

- بیماری سے تطہیر

10

- مصیبت بھی رحمت ہے

11

- حقیقی اہمیت

12

- زوال کیاہے

13

- نصیحت پذیری

14

- سب سے بڑی قربانی

15

- ہر حال میں خیر

16

- تشدد کا سبب عدم قناعت

17

- مدح، تنقید

20

- کیرلا کا سفر


ایمانی کیفیات

ایک روایت کے مطابق، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عرض علی ربی عزو جل لیجعل لی بطحاء مکۃ ذہبا فقلت لا یا رب، ولکن اشبع یوماً و اجوع یوماً فاذا جعت تضرعت الیک وذکرتک واذا شبعت حمدتک وشکرتک (مسند احمد ۵؍۲۵۴) یعنی اللہ نے یہ پیشکش فرمائی کہ تمہارے لیے مکہ کی وادی کو سونابنا دیا جائے۔ میںنے کہا کہ اے میرے رب، نہیں۔ بلکہ میں چاہتاہوں کہ میں ایک دن سیر ہوکر کھاؤں اورایک دن بھوکا رہوں۔ پھرجب مجھے بھوک لگے تو میں تجھ سے تضرع کروں اورتجھ کو یاد کروں اور جب مجھے سیری حاصل ہو تو میں تیری حمد کروں اور تیرا شکر کروں۔
حقیقت یہ ہے کہ ایمانی کیفیات کاتعلق براہ راست طورپر حالات سے ہے۔ زندگی میں جب بھی کوئی صورت حال پیش آتی ہے تو اس کے لحاظ سے مومن کے لیے ایمانی کیفیات کا سرمایہ موجود رہتا ہے۔ جس طرح احوال کی بہت سی قسمیں ہیں اسی طرح ایمانی کیفیات کی بھی بہت سی قسمیں ہیں۔ اور ہر قسم میںاُس کے مطابق، آدمی کے اندر ایمانی کیفیات پیدا ہوتی ہیں۔موجودہ دنیا میں آدمی کو امتحان کے لیے رکھا گیا ہے۔ اسی لیے یہاں ہر عورت اور مرد کے ساتھ طرح طرح کے احوال پیش آتے ہیں۔ ایسا اسی لیے ہوتا ہے تاکہ یہ دیکھا جائے کہ کون اپنی جانچ پرپورا اُترا اور کون اس میںناکام ہوگیا۔
اس دنیا میں آرام کی حالت ہو یا تکلیف کی حالت ہو، دونوں حالتیں اضافی ہیں۔ دونوں حالتوں میںاصل اہمیت اس بات کی ہے کہ اُس کے اندر کسی عورت یا مرد سے جومطلوب رویہ درکار تھا اس کا ثبوت اُس نے دیا یا نہیں دیا۔ اصل اہمیت حالات کے مقابلہ میںردعمل کی ہے، نہ کہ خود حالات کی۔یہ حقیقت جس عورت اور مرد پر واضح ہوجائے اُس کا حال یہ ہوجائے گا کہ اُس کی نظر آرام اور تکلیف پر نہ ہوگی بلکہ اس بات پر ہوگی کہ ملے ہوئے حالات میں اس نے کس قسم کے رد عمل کا ثبوت دیا۔ شکر کا یا ناشکری کا، صبر کا یا بے صبری کا۔ ایسے لوگ ہر حال میں اپنا احتساب کریںگے، نہ کہ خارجی حالات کا شکوہ کرتے رہیں۔
واپس اوپر جائیں

شدت پسندی نہیں

حدیث میں آیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لا تشددوا علی أنفسکم فیشدد علیکم، فإنَّ قوما شددوا علی أنفسھم فشدَّد اللہ علیھم، فتلک بقایاھم فی الصوامع والدیار (سنن أبی داؤد، کتاب الادب، باب فی الحسد) یعنی تم اپنے آپ پرسختی نہ کرو ورنہ تمہارے اوپر سختی کی جائے گی۔ کیوں کہ ایک قوم نے اپنے آپ پر سختی کی۔ پھر اللّٰہ نے بھی ان پر سختی کی۔ تو انہی لوگوں کے باقیات ہیں گرجوں میں اور خانقاہوں میں۔
اس حدیث میں تشدد سے مرادمحدود طور پر صرف مذہبی تشدد یا انتہا پسندانہ رہبانیت نہیں ہے، بلکہ اس کا تعلق انسانی زندگی کے تمام معاملات سے ہے۔ جس معاملہ میں بھی اعتدال کا طریقہ چھوڑ کر شدت کا طریقہ اختیار کیا جائے گا وہ سب اس حدیث کے حکم میں شامل ہوگا۔
اعتقادی شدت پسندی یہ ہے کہ جزئی اختلافات کی بنا پر ایک دوسرے کی تکفیر اور تفسیق کی جانے لگے۔ اسی طرح عبادتی شدت پسندی یہ ہے کہ فروعی مسالک کی بنیاد پر الگ الگ مسجدیں بنائی جائیں اور اس کو امت میں تفریق کی حدتک پہنچادیا جائے۔ اسی طرح معاملاتی شدت پسندی یہ ہے کہ رخصت کوکم تر سمجھ کر ہر معاملہ کو عزیمت کا سوال بنا دیا جائے۔
شدت پسندآدمی اپنے آپ میں جیتا ہے۔ وہ صرف اپنی امنگوں کو جانتا ہے۔ اس بنا پر اس کی حیثیت اس انسان جیسی ہو جاتی ہے جو سڑک کو خالی سمجھ کر اس کے اوپر اپنی گاڑی دوڑانے لگے۔ ایسا آدمی کبھی کامیابی کی منزل تک نہیں پہنچ سکتا۔ اس دنیا میں کامیابی کا راز اعتدال پسندی ہے، نہ کہ شدت پسندی۔ شدت پسندی گویا خدا کے تخلیقی نقشہ کے خلاف جینے کی کوشش کرنا ہے اوراعتدال پسندی خدا کے تخلیقی نقشہ کے مطابق اپنی زندگی کی تعمیر کرنا۔شدت پسندی اپنی ذات کے اعتبار سے تواضع کے خلاف ہے اور دوسروں کے اعتبار سے رعایتِ انسانی کے خلاف۔ اور یہ دونوں چیزیں بلاشبہہ اسلام میں مطلوب نہیں۔
شدت پسندی اللہ کو پسند نہیں۔ جو لوگ شدت پسندی کا طریقہ اختیار کرتے ہیں اُن کا انجام یہ ہوتا ہے کہ متشددانہ طریقہ اُن کی روایات میںشامل ہو کر اُن کے دین کا جزء بن جاتا ہے۔ اس طرح اُن کی بعد کی نسلیں مجبور ہو جاتی ہیں کہ وہ اُن کی پیروی کریں۔ کیوں کہ ایسا نہ کرنے کی صورت میں اُن کو محسوس ہوتا ہے کہ وہ اعلیٰ معیار سے کم تر درجہ کی دین داری اختیار کیے ہوئے ہیں۔
اس شدت پسندی کا تعلق محدود طورپر صرف رہبانیت سے نہیں ہے بلکہ اُس کاتعلق ہر دینی شعبہ سے ہے۔ مثلاً قومی اور سیاسی حقوق کی جدوجہد کے لیے دو ممکن طریقے ہیں۔ ایک پُر امن جدوجہد، اور دوسری پُر تشدد جد وجہد۔ اس معاملہ میں صحیح طریقہ یہ ہے کہ پُرامن اور غیر متشددانہ طریقِکار کے ذریعہ اپنے مقصد کے حصول کی جدوجہدکی جائے۔ اس کے برعکس اگر متشددانہ طریقِ کار کا انداز اختیار کیا جائے تو اس کا بیک وقت دو نقصان ہوگا۔ ایک یہ کہ قوم کو غیر ضروری سختیاں برداشت کرنی پڑیں گی۔ دوسرے یہ کہ جب ایک بار متشددانہ طریقِ کار کی روایت قائم ہوجائے گی تو اُسی کو جدوجہد کے اعلیٰ معیار کی حیثیت حاصل ہوجائے گی۔ متشددانہ طریقِ کار کو بے نتیجہ سمجھتے ہوئے بھی لوگ اس پر قائم رہیں گے، کیوں کہ اس سے ہٹنے کے بعد لوگوں کو محسوس ہوگا کہ انہوں نے خود دین کے مطلوب معیار کو چھوڑ دیا ۔ اُنہوں نے عزیمت کے بجائے رخصت کا راستہ اختیار کرلیا۔ اُنہوں نے اقدام کے بجائے پسپائی کو اپنا طریقہ بنالیا۔
شدت پسندی ہی کی ایک صورت وہ ہے جس کو انتہاپسندی (extremism) کہا جاتا ہے۔ انتہا پسندی یہ ہے کہ آدمی حقائق اورامکانات کو نظر انداز کرکے اپنے عمل کا نقشہ بنائے۔ وہ عقل کے بجائے اپنے جذبات کی رہنمائی میں چلنے لگے۔ وہ دور اندیشی کے بجائے عجلت پسندی کی روش اختیار کر لے۔ وہ تدریج کے بجائے چھلانگ کے ذریعہ اپنا سفر طے کرنا چاہے۔
ایساآدمی یہ کرتا ہے کہ وہ شوق کو اپنے آگے رکھ دیتا ہے اور دور اندیشی کو اپنے پیچھے۔ وہ بھول جاتاہے کہ ہر ایک کی ایک حد ہے، خواہ وہ کوئی فرد ہو یا کوئی گروہ۔ حد کو نظرانداز کرنا ایسا ہی ہے جیسے کوئی شخص جلتے ہوئے انگارے کی گرمی کا اندازہ کرنے کے لیے اُس کو اپنے ہاتھ میں لے لے۔ یا پتھر کو توڑنے کے لیے اپنے سر کو ہتھوڑا بنا لے۔ اس قسم کا ہر فعل حد سے تجاوز کرنا ہے۔ اور حد سے تجاوز کرنے والے لوگ اس دنیا میں کبھی کامیاب نہیں ہوسکتے۔
واپس اوپر جائیں

اسلامی انقلاب میں عمومی تائید

پیغمبر اسلام ﷺکے زمانہ کا ایک واقعہ حدیث کی مختلف کتابوں میں آیا ہے۔ ایک غزوہ (جنگ) میںایک شخص نے حصہ لیا اور زبردست جنگی کارنامہ انجام دے کر جنگ کو جیتنے میںمدد دی۔ لیکن جنگ کے آخرمیںپیغمبر اسلام ﷺنے اعلان فرمایا کہ یہ شخص اہل جنت میں سے نہیں ہے بلکہ اہل نار میں سے ہے۔ جن لوگوں نے اس جنگ میں اس کے بہادرانہ کارنامے دیکھے تھے، انہیں آپ کے اس ارشاد پر تعجب ہوا۔ مگر جب تحقیق کی گئی تو معلوم ہوا کہ اس آدمی نے بہادرانہ قتال تو ضرور کیا تھا مگر آخر میں اس نے خود اپنی تلوار سے اپنے کو ہلاک کر لیا۔ گویا کہ اس کا معاملہ خود کشی کا معاملہ تھا، نہ کہ شہادت کا معاملہ۔
اس واقعہ کے بعد پیغمبر اسلام ﷺنے حضرت بلال سے فرمایا کہ اے بلال، اٹھو اور یہ اعلان کردو کہ جنت میں صرف وہی شخص جائے گا جو مؤمن ہواوراللہ بے شک اس دین کی مدد فاجر آدمی سے بھی کرے گا (لایدخل الجنۃ الا مومن، وان اللہ لیوید ہذاالدین بالرجل الفاجر) فتح الباری ۱۱؍۵۰۷۔ پیغمبر اسلام ﷺکے اس ارشاد سے ایک اہم اصول معلوم ہوتا ہے۔ وہ یہ کہ اسلام نے انسانی زندگی میں جو ہمہ گیر انقلاب برپا کرنا چاہا تھا، اس کا آغاز اگرچہ مخلص اہل ایمان کریں گے مگر اس کی آخری تکمیل نسل در نسل کے تاریخی عمل کے ذریعہ ہوگی۔ اس تاریخی عمل میں نہ صرف مسلمان بلکہ غیر مسلم بھی مؤثر طورپر اپنا کردار ادا کریں گے۔ پیغمبر اسلام کایہ ارشاد آپ کے بعد کی تاریخ میں مسلسل واقعہ بنتا رہا ہے۔ مثال کے طورپر قرآن میں یہ اعلان کیا گیا تھا کہ آئندہ آفاق و انفس میںایسی حقیقتیں ظاہر ہوں گی جو اسلام کی صداقت کو خالص علمی سطح پر ثابت شدہ بنا دیں (حٰم السجدہ ۵۳)
موجودہ زمانہ میں سائنسی تحقیق کے بعد جو دریافتیں ہوئی ہیں، انہوں نے اس پیشین گوئی کو حرف بحرف ایک ثابت شدہ حقیقت بنا دیا ہے۔ یہ جدید دریافتیں غیر مسلم قوموں کے ذریعہ ظہور میں آئی ہیں۔ مسلم افرادکا حصہ ان میں تقریباً نہ ہونے کے برابر ہے۔
واپس اوپر جائیں

عالی شان مسجدیں

سنن ابی داؤد (کتاب الصلٰوۃ، با ب فی بناء المساجد) میںعبد اللہ بن عباس کی ایک روایت ان الفاظ میںآئی ہے: ’’قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ما امرت بتشئید المساجد‘‘ قال ابن عباس لتزخرفنہا کما زخرفت الیہود والنصاریٰ۔ رسول اللہ نے فرمایا کہ مجھے بلند و بالا مسجدیں بنانے کا حکم نہیں دیا گیا ہے۔ (یہ حدیث بیان کرنے کے بعد) عبداللہ ابن عباس نے کہا کہ تم لوگ ضرور مسجدوں کو مزین کروگے جس طرح یہود اور نصاریٰ نے اپنی عبادت گاہوں کو مزین کیا۔ایک اور روایت میںایک صحابی کہتے ہیں کہ ہم کو بلند وبالا مسجدیں بنانے سے منع کیا گیا ہے۔ (نہینا عن تشئید المساجد)
یہ پیشین گوئی موجودہ زمانہ میں ایک واقعہ بن چکی ہے۔ اورہر ملک میںاس کے مناظر دیکھے جاسکتے ہیں۔ جہاں بھی کچھ مسلمان آبادہیں وہاں عالی شان مسجدیں بنائی جارہی ہیں۔ کہیں قصر نما، کہیں قلعہ نما، اور کہیں تاج محل نما۔ شاندار مساجد تعمیر کرنے کا یہ کام امریکہ اور یورپ میں مزید اضافہ کے ساتھ ہورہا ہے۔ کیوں کہ اس سلسلہ میں وہاں زیادہ بہتر ٹکنیکی سہولتیں حاصل ہیں۔ یہاں یہ سوال ہے کہ عالیشان مسجدیں بنانے کو اسلام میںکیوں ناپسند کیا گیا ہے۔ اس کا سبب یہ ہے کہ مسجدوں کی عالیشان تعمیرات امت کے روحانی زوال کی علامت ہیں۔ کیوں کہ جب روح (اسپرٹ) ختم ہوتی ہے تو اس کی تلافی کے لیے مظاہر میںاضافہ ہوجاتاہے۔
عالیشان مسجدوں کا ایک اور پہلو یہ ہے کہ وہ نمود ونمائش والی دینداری کی علامت ہیں۔ شاندار عمارتوں میںنمود ونمائش کے جذبہ کو بے حد تسکین ملتی ہے۔ وہ شکست خوردہ نفسیات کے لئے عظمت و فخر کی تسکین کا سامان ہیں۔موجودہ زمانہ کے مسلمانوں کی عام نفسیات یہ ہے کہ انہوں نے پولٹیکل گلوری کو کھو دیا ہے۔ ایسی حالت میں درودیوار کی عظمت انہیں یہ فرضی تسکین دیتی ہے کہ اب بھی انہوں نے زمین پر اپنی عظمت کا نشان قائم کررکھا ہے۔
واپس اوپر جائیں

عورت کا درجہ

اسلام میں عورت کادرجہ کیا ہے، اس کا اندازہ ایک حدیث سے ہوتا ہے۔ امام بخاری نے حضرت عبد اللہ ابن عباس سے یہ روایت نقل کی ہے: حضرت بریرہ کے شوہر ایک غلام تھے جن کا نام مغیث تھا۔ گویا کہ میں دیکھ رہا ہوں کہ مغیث اپنی بیوی کے پیچھے چل رہے ہیں اور ان کی آنکھوں سے آنسو جاری ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اے عباس، کیا تم کو اس پر تعجب نہیں کہ مغیث کو کتنی زیادہ محبت ہے بریرہ سے اور بریرہ کو کتنا زیادہ بغض ہے مغیث سے۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بریرہ سے فرمایا کہ کیا ہی اچھا ہو کہ تم مغیث کی طرف رجوع کرلو۔ بریرہ نے کہا کہ اے خدا کے رسول، کیا آپ مجھے اس کا حکم دیتے ہیں۔ آپ نے فرمایاکہ میں صرف سفارش کررہاہوں۔ بریرہ نے جواب دیا: تو مجھے اس کی ضرورت نہیں (لاحاجۃ لی فیہ) فتح الباری ۹؍۳۱۹۔
بریرہ نے اپنے شوہر مغیث سے تفریق کرالی تھی۔ رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بریرہ کو مشورہ دیا کہ تم رجوع کرلو اور مغیث کے ساتھ زندگی گزارو مگر بریرہ نے آپ کے اس مشورہ کو قبول نہیں کیا۔ اور مغیث سے رجوع پر راضی نہیں ہوئیں۔
اس واقعہ سے اندازہ ہوتا ہے کہ اسلام میں عورت کو کتنی زیادہ آزادی حاصل ہے۔ اس کے مطابق، عورت نہ صرف مرد کے برابر ہے بلکہ اس کو یہ حق بھی حاصل ہے کہ خود پیغمبر اگر وحی کی بنیاد پر کوئی مطالبہ کرے تو وہ اس کو ماننے پر مجبور ہے، لیکن پیغمبر کے ذاتی مشورہ کو ماننا اس کے لیے ضروری نہیں۔
حقیقت یہ ہے کہ اسلام میں اس اعتبار سے عورت اور مرد کے درمیان کوئی فرق نہیں۔ جو حقوق و فرائض مرد کے ہیں وہی حقوق و فرائض عورت کے بھی ہیں۔ اگر کوئی فرق ہے تووہ فطری سبب کی بنا پر ہے، نہ کہ دونوں جنسوں میں تفریق کی بناپر۔ اس قسم کا فطری فرق جس طرح عورت اور مرد کے درمیان ہے اسی طرح وہ خود مرداور مرد کے درمیان بھی ہمیشہ موجود رہتاہے۔ یہ فطرت کامعاملہ ہے، نہ کہ فرق کا معاملہ۔
واپس اوپر جائیں

کامیاب زندگی

پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک شخص آیا۔ اس نے کہا کہ اے اللہ کے رسول، مجھے کوئی ایسی بات بتائیے جس کے ساتھ میں جیوں، اور وہ لمبی نہ ہو کہ میں اسے بھول جاؤں۔ آپ نے فرمایا: لا تغضب (مؤطا امام مالک، ۶۵۲) یعنی تم غصہ نہ کرو۔ یہ موجودہ دنیا میں کامیاب زندگی حاصل کرنے کا سب سے زیادہ یقینی اصول ہے۔ ایک فرد کے لئے بھی اور پوری قوم کے لیے بھی۔
غصہ کیا ہے۔ غصہ در اصل ناپسندیدہ صورتِ حال کا منفی جواب (negative response) ہے۔ موجودہ دنیا میں مختلف اسباب سے ہر لمحہ کسی نہ کسی ناپسندیدہ صورت حال سے سابقہ پیش آتا ہے۔ کبھی کوئی ایسی بات پیش آجاتی ہے جس سے آپ کی انا بھڑک اٹھتی ہے۔ کبھی کسی کی ایک روش سے آپ کے اندر انتقام کا جذبہ پیدا ہوجاتا ہے۔ کبھی مفاد کا ٹکراؤ آپ کے اندر مخالفانہ جذبات کو جگا دیتا ہے۔ کبھی ایسا ہوتا ہے کہ کسی سے آپ کی امیدیں پوری نہیں ہوتیں اور آپ کے اندر اس کے خلاف نفرت کے جذبات بھڑک اٹھتے ہیں۔ یہی سب وہ چیزیں ہیں جن کو انسانی زبان میں غصہ کہا جاتاہے۔
یہ غصہ آدمی کے لیے بے حد مہلک ہے۔ وہ آدمی سے اس کی سوچنے کی صلاحیت کو چھین لیتا ہے۔ وہ آدمی کو اس قابل نہیں رکھتا کہ وہ حقیقت پسندانہ انداز میں اپنے عمل کا نقشہ بنائے۔ وہ اس کو تعمیر کے بجائے تخریب کے راستہ پر ڈال دیتا ہے۔ غصہ آدمی دوسرے کے خلاف کرتا ہے، مگر اپنی حقیقت کے اعتبار سے وہ ہمیشہ آدمی کے اپنے نقصان کا باعث بنتا ہے۔
موجودہ دنیا آزمائش کی دنیا ہے۔ یہاں ہر ایک کے ساتھ ایسے واقعات پیش آتے ہیں جو اُس کو مشتعل کردیں، جو اُس کے اندر منفی نفسیات کو جگا دیں۔ اس صورت حال کو بدلنا کسی کے لیے ممکن نہیں۔ ایسی حالت میںکامیاب زندگی کی تعمیر کا طریقہ صرف یہ ہے کہ آدمی صبر وتحمل کی روش اختیار کرے۔ وہ اشتعال کے باوجود مشتعل نہ ہونے کا آرٹ سیکھ لے۔ وہ اُن حالات کے ساتھ ایڈجسٹ کرکے رہ سکے جن کو بدلنے کی قدرت اُس کو حاصل نہیں۔
واپس اوپر جائیں

بیمار ی سے تطہیر

حدیث میں آیا ہے کہ مدینہ میں ایک شخص بیمار ہوا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اُس کی عیادت کے لیے اُس کے گھر گئے۔ وہاں پہنچ کر آپ نے کہا کہ: لا بأس، طہور إن شاء اللہ (صحیح البخاری، کتاب المرضٰی، باب ما یقال للمریض) یعنی کوئی حرج نہیں، انشاء اللہ یہ پاکی حاصل کرنے کا ذریعہ ہے۔
اس کا مطلب یہ نہیں کہ جب کوئی شخص بیمار ہوتا ہے تو پُر اسرار طورپر اس کے گناہ دھل جاتے ہیں، وہ خود بخود ایک پاکیزہ انسان بن جاتا ہے۔ یہ در اصل ایک معلوم شعوری واقعہ ہے جو ایک سچے مومن کے ساتھ پیش آتا ہے۔
کوئی آدمی اگر بیمار نہ ہو، اُس کا جسم مکمل طورپر ایک صحت مند جسم ہو تو اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ اُس کے اندر شعوری یا غیر شعوری طورپر فخر و ناز کے جذبات پیدا ہوجاتے ہیں۔ اُس کے سینہ میں دردمندانہ احساسات کی پرورش نہیں ہوتی۔ یہاں تک کہ وہ ایک بے حس انسان بن کر رہ جاتا ہے۔
لیکن جب ایک مومن بیماری میںمبتلا ہوتا ہے تو وہ اپنے عجز کو دریافت کرتاہے۔ اُس کے اندر دردمندی کی کیفیت پیدا ہو جاتی ہے۔ وہ اپنے بندہ ہونے کی حقیقت کا تجربہ کرتا ہے۔
اس طرح بیماری اُس کو دوسری چیزوں سے دور کرکے اللہ سے قریب کردیتی ہے۔ وہ اللہ کی طرف متوجہ ہوجاتاہے۔ وہ اللہ کو یاد کرنے لگتا ہے۔ اُس کے دل سے دعائیں اور التجائیں نکلنے لگتی ہیں۔ بیماری اُس کے لیے اللہ سے قربت کا ذریعہ بن جاتی ہے۔
بیماری بظاہر ایک غیر مطلوب چیز ہے۔ لیکن اگر صحیح اسلامی ذہن ہو تو جسمانی بیماری آدمی کے لیے روحانی صحت کا ذریعہ بن جائے گی۔اس دنیا میںاصل اہمیت ذہنی بیداری کی ہے۔ بیدارذہن ہی اس قابل ہوتا ہے کہ وہ واقعات سے سبق لے۔ اور ذہن کو بیدار کرنے والی سب سے بڑی چیز اس دنیا میںصرف ایک ہے، اور وہ مشکل حالات ہیں۔
واپس اوپر جائیں

مصیبت بھی رحمت ہے

ایک روایت صحیح البخاری (کتاب الجہاد) سنن ابی داؤد (کتاب الجہاد) اور مسند امام احمد میںآئی ہے۔ البخاری کے الفاظ یہ ہیں: عجب اللہ من قوم یدخلون الجنۃ فی السلاسل (فتح الباری ۶؍۱۶۸)یعنی اللہ ان پر متعجب ہوتا ہے جو جنت میں زنجیروں میں (بندھے ہوئے) داخل ہوں گے۔ بعض اور روایتوں میں یقادون اور یساقون کے الفاظ آئے ہیں۔ یعنی وہ کھینچتے ہوئے اور ہانکتے ہوئے لے جائے جائیں گے۔
اس حدیث میں کچھ اہل ایمان کے ساتھ جس معاملہ کا ذکر ہے وہ آخرت میں پیش آنے والا معاملہ نہیں ہے بلکہ آخرت سے پہلے اسی دنیا میں پیش آنے والا معاملہ ہے۔ یہاں زنجیر کا لفظ در اصل مجبور کن حالات (compulsive situation) کی تعبیر ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ کچھ لوگوں کے ساتھ ایسے مجبورانہ حالات پیش آئیں گے کہ اُن کے لیے اس کے سوا کوئی راستہ باقی نہ رہے گا کہ وہ خدا پرستی اور آخرت پسندی کی زندگی اختیار کریں اور اس طرح گویا بندھے بندھے جنت میں پہنچ جائیں۔
یہ خوش قسمتی اُن افراد کے حصہ میں آئے گی جن کے دل میں اخلاص اور حسن نیت کی چنگاری موجود ہو۔ اللہ تعالیٰ جن لوگوں کے دل میں اس قسم کی استعداد دیکھے گا اُن کی قدر افزائی اس طرح کرے گا کہ اُن کے لیے ایسے حالات پیدا کردے گا جو اُنہیں طوعاً و کرہاً خدا پرستانہ اعمال کی طرف لے جانے والے ہوں۔مصیبت کا جنتی زنجیر بن جانا اُس شخص کے حصہ میںآتا ہے جس کے اندر یہ صلاحیت ہو کہ وہ مصیبت کے وقت اللہ کی طرف رجوع کرے۔ مصیبت جس کے دل کو اس طرح نرم کرے کہ وہ اللہ کی یاد کرنے والا بن جائے۔
مصیبت اگر لوگوں کے اندر فریاد اورشکایت کا ذہن بنائے تو مصیبت صرف تباہی ہے۔اور اگر مصیبت لوگوں کے اندر محاسبۂ خویش کاذہن پیدا کرے تو وہ اُن کے لیے رحمت کا سبب بن جائے گی۔
واپس اوپر جائیں

حقیقی اہمیت

پیغمبر اسلام کے طریقہ کا ایک پہلو یہ تھا کہ آپ کی نظر ہمیشہ حقائق پر ہوتی تھی،نہ کہ ظواہر پر۔ ظواہر میں اگر بے خبری کی بنا پر کوئی فرق ہوجائے تو اس کو آپ ناقابل لحاظ سمجھتے تھے۔ البتہ حقیقی اہمیت والی باتوں کے بارے میں آپ کا رویہ ہمیشہ بہت سخت ہوتا تھا۔
پیغمبر اسلام کے آخری حج کا ایک واقعہ بخاری ، مسلم، ابو داؤد میںتھوڑے تھوڑے لفظی فرق کے ساتھ آیا ہے۔ یہ آپ کی زندگی کا آخری سال تھا۔ آپ حج کا فریضہ ادا کرنے کے بعد منیٰ میں بیٹھے ہوئے تھے۔ لوگ آپ کے پاس آتے اور حج کے مسائل دریافت کرتے۔ کوئی کہتا کہ مجھے مسئلہ معلوم نہ تھا چنانچہ میںنے ذبح کرنے سے پہلے بال منڈا لیا۔ کوئی کہتاکہ میںنے رمی سے پہلے نحر (قربانی) کرلی، وغیرہ۔ آپ ہر ایک سے کہتے کہ کرلو، کوئی حرج نہیں۔ اسی طرح بار بارلوگ آتے رہے اور تقدیم اور تاخیر کی بابت سوال کرتے رہے۔ آپ ہر ایک سے یہی کہتے کہ کوئی حرج نہیں، کوئی حرج نہیں، (افعل ولاحرج) (سنن ابی داؤد ۲؍۲۱۷،۲۱۸)
ابو داؤد کی روایت میں مزید ان الفا ظ کا اضافہ ہے: کر لو کوئی حرج نہیں۔ حرج تواس شخص کے لیے ہے جو ایک مسلمان کو بے عزت کرے۔ ایسا ہی شخص ظالم ہے۔ یہی وہ شخص ہے جس نے حرج کیا اور ہلاک ہوا۔
دین میں اصل اہمیت معانی کی ہے، نہ کہ ظواہر کی۔ ایک شخص ظاہری چیزوں کا زبردست اہتمام کرے مگر معنوی پہلو کے معاملہ میں وہ غافل ہو تو ایسا شخص اسلام کی نظر میں بے قیمت ہوجائے گا۔اللہ ہمیشہ آدمی کی نیت کو دیکھتا ہے۔ نیت اگر اچھی ہے تو ظاہری چیزوں میںکمی یا فرق کو نظر انداز کردیا جاتا ہے۔ لیکن اگر آدمی کی نیت اچھی نہ ہو تو اللہ کی نظر میں اُس کی کوئی قیمت نہیں، خواہ اُس نے ظواہر کے معاملہ میں کتنا ہی زیادہ اہتمام کررکھا ہو۔ ظاہری خوش نمائی سے انسان فریب میں آسکتا ہے مگر ظاہری خوش نمائی کی خدا کے نزدیک کوئی وقعت نہیں۔
واپس اوپر جائیں

زوال کیا ہے

قرآن میں بتایا گیا ہے کہ یہود ونصاریٰ کو جو آسمانی تعلیم دی گئی تھی اس کا بڑاحصہ انہوں نے بھلا دیا (ونسوا حظاً مما ذکروا بہ…، فنسوا حظّا مما ذکروا بہ … المائدہ۱۳۔۱۴)اس بھلانے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ یہود و نصاریٰ نے کوئی کانفرنس کرکے اس میں باقاعدہ یہ طے کیاہو کہ آج سے ہم فلاں چند باتیں یادر رکھیں گے اور بقیہ باتوں کو بھلا دیں گے۔ ایسا کبھی نہیںہوتا۔ اس قسم کا بھولنا ہمیشہ تاریخی اور نفسیاتی اسباب کے تحت ہوتا ہے۔ تاریخی طورپر دھیرے دھیرے یہ صورت حال پیدا ہوتی ہے کہ کچھ چیزیں لوگوں کے زندہ حافظے میں باقی رہتی ہیں اور دوسری چیزیں ان کے زندہ حافظہ سے نکل جاتی ہیں۔ کچھ چیزوں کی اہمیت انہیں یاد رہتی ہے اور کچھ چیزوں کی اہمیت سے وہ بے خبر ہوجاتے ہیں۔
حدیث میں پیش گوئی کی گئی تھی کہ یہود و نصاری نے بگاڑ پیدا ہونے کے بعدجوکچھ کیا وہی سب مسلمان بھی بعد کے زمانے میں کریں گے (لتتبعن سنن من کان قبلکم) اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ امت محمدی پر بھی ایسا وقت آسکتا ہے۔ ایسا ہوسکتا ہے کہ لوگ دین کے ایک حصہ سے واقف ہوں اور انہیں دین کے دوسرے حصے کی خبر نہ رہے۔ دین کے بعض حصوں کی ان کے یہاں دھوم ہو اور دوسرے زیادہ بڑے حصہ کو انہوں نے اس طرح چھوڑ رکھا ہو جیسے کہ وہ جانتے ہی نہیں کہ یہ بھی اس دین کا حصہ ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے پیغمبرعربی کے ذریعہ ان کے پاس بھیجا تھا۔
کسی قوم پر جب بھی یہ حالت آتی ہے تو وہ مزاج میں بگاڑ کی بنا پر آتی ہے۔ سب سے پہلے قوموں کا مزاج بگڑتا ہے پھر اس کے نتیجہ کے طورپر ان کا اخلاق و کردار بھی بدلتا چلا جاتا ہے۔
مثلاً مختلف اسباب کے تحت ظواہر کو روح کا بدل سمجھ لینا ۔ اب ایسا ہوتا ہے کہ دین کی ا صل روح کو جاننے اور اپنانے کی فکر نہیں ہوتی بلکہ اس کے خارجی مظاہر ہی کو سب کچھ سمجھ لیا جاتا ہے۔یہ زوال کی علامت ہے اور یہ زوال ہر امت کے ساتھ بہر حال پیش آتا ہے۔
واپس اوپر جائیں

نصیحت پذیری

کسی انسان کو جب حق کی معرفت حاصل ہوتی ہے اور اس کی سوچ ایمانی سوچ بن جاتی ہے تو فطری طورپر ایسا ہوتا ہے کہ وہ ایک سنجیدہ انسان بن جاتا ہے۔ اسی ایمانی سنجیدگی کا ایک پہلو وہ ہے جس کو نصیحت پذیری کہا جاسکتا ہے۔ قرآن میں اس کے لیے مختلف الفاظ آئے ہیں۔ مثلاً تذکّر (الزمر ۹) اعتبار (المؤمنون ۲۱) توسم (الحجر ۷۵) ، وغیرہ۔اسی طرح حدیث میں بھی اسی قسم کے الفاظ وارد ہوئے ہیں۔ مثلاً وصمتی فکرا ونظری عبرۃً (مشکاۃ المصابیح ۳؍۱۴۷۲) یعنی میری خاموشی سوچ کی خاموشی ہواور میرا دیکھنا عبرت کا دیکھنا ہو۔
ایمان یا حق کی معرفت بھی بذات خود اسی نوعیت کی ایک چیز ہے۔ ایمانی معرفت کیا ہے۔ وہ یہ ہے کہ آدمی مخلوقات پر غور کرکے خالق کو دریافت کرے۔ وہ دیکھنے والی دنیا کے اندر غیب کی دنیا کو پالے۔ قرآن کے الفاظ میں، وہ آیات(خارجی نشانیوں) کے ذریعہ داخلی حقیقتوں کو جان لے۔وہ بصارت کے ساتھ بصیرت کی استعداد حاصل کرلے۔
تدبر و تفکر مومن کا عام مزاج ہوتا ہے۔ اُس کا یہ مزاج ہمیشہ اور ہر جگہ قائم رہتا ہے۔ یہ مزاج اُس کو دائمی طورپر اللہ کی یاد کرنے والا بنا دیتا ہے۔ وہ ہر دن ایسی باتیں دریافت کرتا رہتا ہے جو اُس کے ایمان ویقین میںاضافہ کرنے والی ہوں۔ دوسرے لوگ ظواہر میںصرف ظواہر کو دیکھتے ہیں، مگر مومن اپنے اس مزاج کی بنا پر ظواہر میں حقائق کو دریافت کرلیتا ہے۔ تدبر اور تفکر کے اس عمل کے لیے کسی تنہائی یا مخصوص مقام کی ضرورت نہیں۔ یہ عمل مومن کے دماغ میں ہر لمحہ جاری رہتا ہے ، حتیٰ کہ دنیا کے بھرے ہوئے ہنگاموں میں بھی وہ اُس سے منقطع نہیں ہوتا۔
نصیحت پذیری مومن کی روحانی خوراک ہے۔ مومن کے لیے مادی غذا اگر جسمانی تقویت کا ذریعہ ہے تو عبرت و نصیحت اُس کے لیے روحانی غذا کی حیثیت رکھتی ہے۔مادی غذا کے بغیر جسم صحت مند نہیں رہ سکتا،اسی طرح فکری غذا کے بغیر روحانیت کا ارتقاء ممکن نہیں۔
واپس اوپر جائیں

سب سے بڑی قربانی

عبداللہ بن وابصہ العبسی اپنے باپ سے اپنے دادا کی یہ روایت نقل کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حج کے موسم میں ہماری قیام گاہ پر منیٰ میںآئے۔ ہم جمرۂ اولیٰ پر مسجد الخیف کے قریب ٹھہرے ہوئے تھے۔ آپ اپنے اونٹ پر تھے اور اپنے پیچھے زید بن حارثہ کو بٹھائے ہوئے تھے۔ آپ نے ہم کو توحید کی طرف دعوت دی۔ خدا کی قسم، ہم نے آپ کو کوئی جواب نہیں دیا اور ہم نے اچھا نہیں کیا۔ہم آپ کے بارے میں سن چکے تھے اور یہ بھی سن چکے تھے کہ آپ حج کے موسم میں لوگوں کو اپنے دین کی دعوت دیتے ہیں۔ آپ ہمارے پاس کھڑے ہوکر ہمیں دعوت دیتے رہے اور ہم چپ چاپ سنتے رہے۔اس وقت ہمارے ساتھ میسرہ بن مسروق العبسی بھی تھے۔ انہوں نے ہم سے کہا کہ میں خدا کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ اگرہم اس آدمی کی تصدیق کریں اور اس کو لے جاکر اپنے قافلہ کے بیچ ٹھہرائیں تو یہ بڑا اہم فیصلہ ہوگا۔ خدا کی قسم، اس کا دین غالب ہوکر رہے گا۔ یہاں تک کہ وہ ہر جگہ پہنچ جائے گا۔ قبیلہ کے لوگوں نے کہا کہ اس کو چھوڑو، تم ایسی بات کیوں کہتے ہو جس کو ہم میں سے کوئی ماننے والا نہیں۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہ بات سن کر میسرہ کے بارے میں پُر امید ہوگئے۔ آپ نے ان سے مزید گفتگو کی۔ میسرہ نے جواب دیا کہ آپ کا کلام کتنا اچھا اور کتنا روشن کلام ہے۔ لیکن اگرمیں اس کو مان لوں تو میری قوم میری مخالف ہوجائے گی۔ اور آدمی ہمیشہ اپنی قوم کے ساتھ ہوتا ہے۔ کیوں کہ قوم اگر مدد نہ کرے تو دشمنوں سے مدد کی کیا امید کی جاسکتی ہے ۔ ۱؍۹۳۔
سب سے بڑی قربانی یہ ہے کہ کوئی شخص اپنی قوم کی روش کے خلاف ایک روش اختیار کرے۔ وہ اپنی قوم کے عام مزاج کے خلاف کام کرے۔ وہ ایسی بات کہے جو قوم کے وقار سے ٹکراتی ہو۔ وہ ایسی پالیسی کی تبلیغ کرے جو قومی پالیسی سے مطابقت نہ رکھتی ہو۔ایساآدمی اپنی قوم سے کٹ جاتاہے۔ وہ خود اپنوں کے درمیان اجنبی بن کر رہ جاتا ہے۔
واپس اوپر جائیں

ہر حال میں خیر

حدیث میں آیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عجباً لامر المؤمن! إنّ امرہ کلہ لہ خیر، ولیس ذلک لأحد الا للمؤمن، إن أصابتہ سراء شکر فکان خیرا لہ، وإن أصابتہ ضراء صبر فکان خیرا لہ، (صحیح مسلم، کتاب الزہد) یعنی مومن کا معاملہ عجیب ہے۔ اُس کے لیے اُس کے ہر معاملہ میں بھلائی ہے۔ اور یہ مومن کے سوا کسی اور کے لیے نہیں۔ اگر اُس کو کوئی خوشی ملتی ہے تو وہ شکر کرتا ہے پھر وہ خوشی اُس کے لیے بھلائی بن جاتی ہے۔ اور اگر اُس کو کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو وہ صبر کرتا ہے پھر وہ تکلیف اس کے لیے بھلائی بن جاتی ہے۔
غیر مومنانہ روش یہ ہے کہ اگر کسی آدمی کو خوشی ملے تو وہ اُس پر فخر کرے۔ اور اگر اُس کو تکلیف پہنچے تو وہ مایوسی کا شکار ہوجائے۔ یہ دونوں حالتیں یکساں طور پر بُرائی کی حالتیں ہیں۔ اس کے برعکس مومنانہ روش یہ ہے کہ آدمی کو خوشی ملے تو اُس کا سینہ شکر کے جذبہ سے بھر جائے۔ اور اگر اُس کو تکلیف کا تجربہ ہو تو وہ اُس کو اللہ کا فیصلہ سمجھ کر اُ س پر راضی رہے۔ یہی وہ چیز ہے جس کی طرف قرآن میں اس طرح تنبیہ کی گئی ہے: پس انسان کا حال یہ ہے کہ جب اُس کا رب اُس کو آزماتا ہے اور اُس کو عزت اور نعمت دیتا ہے تو وہ کہتا ہے کہ میرے رب نے مجھ کو عزت دی۔ اور جب وہ اُس کو آزماتا ہے اور اُس کا رزق اُس پر تنگ کر دیتاہے تو وہ کہتاہے کہ میرے رب نے مجھ کو ذلیل کردیا۔ (الفجر ۱۵۔۱۶)
موجودہ دنیا میں اصل اہمیت یہ نہیں ہے کہ آدمی نے بظاہر کس حال میں زندگی گزاری، اچھے حال میں یا بُرے حال میں۔ اصل اہمیت کی بات یہ ہے کہ آدمی جس حال میں بھی ہو اُس سے وہ تعلق باللہ کی غذا لے سکے۔ زندگی کا ہر تجربہ اُس کو اللہ سے قریب کرنے والا ثابت ہو۔ اُس کی روح ہر صورتِ حال سے ربّانی غذا لیتی رہے۔ کائنات کے ہر مشاہدہ میں وہ اللہ کا جلوہ دیکھ سکے۔ زندگی کا ہر خوش گوار تجربہ اُس کو اللہ کی رحمت کی یاد دلائے، اور زندگی کا ہر تلخ تجربہ اُس کے لیے تقویٰ کا سبب بنتا رہے۔ ناکامی بھی اُس کو خدا کی یاد دلائے اور کامیابی بھی اُس کو خدا سے قریب کردے۔
واپس اوپر جائیں

تشدد کا سبب عدم قناعت

پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک حدیث ان الفاظ میں آئی ہے: قد افلح من أسلم ورزق کفافاً وقنعہ اللہ بما آتاہ (مسلم، کتاب الزکاۃ، الترمذی، کتاب الزہد، مسند احمد ۲؍۱۶۸؍۱۷۳) یعنی وہ شخص کامیاب ہوا جواسلام لایا اور جس کو بقدر ضرورت رزق ملا اور وہ اُس پر قانع ہوگیا جواللہ نے اُس کو دیا۔
اس حدیث میں قناعت کا ذکر ہے۔ قناعت کی نفسیات اگر کسی کے اندرپوری طرح پیدا ہوجائے تو وہ اُس کو مکمل طورپر امن پسند بنادے گی۔ اس کے برعکس جن لوگوں کے اندر قناعت کی نفسیات نہ ہو وہ اپنی حالت پر غیر مطمئن رہیں گے اور آخر کار جھنجھلاہٹ میں مبتلا ہو کرمتشددانہ کارروائی شروع کردیں گے تاکہ جس چیزکو وہ پُر امن طورپر حاصل نہ کرسکے اُس کو وہ تشدد کی طاقت سے حاصل کرلیں۔ حقیقت یہ ہے کہ قناعت سے امن کا مزاج پیدا ہوتا ہے اور عدم قناعت سے تشدد کامزاج۔
قناعت کا جذبہ آدمی کے اندر یہ نفسیات پیدا کرتا ہے کہ وہ ایک پایا ہوا انسان ہے۔ اور جو آدمی اپنے آپ کو پایا ہواانسان سمجھے وہ کبھی جھنجھلاہٹ اور تشدد کا شکار نہیں ہوسکتا۔
اس کے برعکس معاملہ اس انسان کا ہے جو عدم قناعت کی نفسیات میںمبتلا ہو۔وہ ہمیشہ احساس محرومی کا شکار رہے گا۔ اُس کا یہ احساس اُس کو مسلسل اُکسائے گا کہ جو کچھ اُس نے نہیں پایا اُس کو وہ حاصل کرنے کی کوشش کرے۔ اب اگر اُس نے دیکھا کہ وہ اپنی نہ پائی ہوئی چیز کو پر امن طریقہ سے حاصل نہیںکرسکتا تو وہ تشدد کے طریقوں کو استعمال کرکے اُس کو حاصل کرنا چاہے گا۔
وہ اُن تمام لوگوں کو اپنا دشمن سمجھ لے گا جن کووہ اپنے خیال کے مطابق، اپنی خواہش کی راہ میں رکاوٹ سمجھتا ہے۔ وہ اُن لوگوں سے نفرت کرے گا۔ وہ اُن لوگوں کے خلاف لڑنے کے لیے ہتھیار جمع کرے گا۔ حالانکہ یہ سب نتیجہ ہوگا اس بات کا کہ وہ خدا کے دیے ہوئے پر راضی نہ ہوسکا، وہ قناعت کے بجائے عدم قناعت کا شکار ہوگیا۔
واپس اوپر جائیں

مدح، تنقید

احادیث میںکثرت سے یہ تلقین کی گئی ہے کہ تم کسی کی مدح نہ کرو۔ مثلاً رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ : اذا رأیتم المداحین فاحثوا فی وجوہہم التراب (صحیح مسلم، کتاب الزہد) یعنی جب تم مدح کرنے والوں کو دیکھو تو اُن کے منہ پر مٹی ڈال دو۔ اسی طرح ایک روایت میںآیا ہے: سمع النبی صلی اللہ علیہ وسلم یثنی علی رجلٍ و یطریہ فی مدحہ، فقال: أہلکتم او قطعتم ظہر الرجل (صحیح بخاری، کتاب الشہادات) یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سُنا کہ ایک شخص دوسرے شخص کی تعریف کررہا ہے اور اُس کی تعریف میں وہ مبالغہ کررہا ہے۔ آپ نے فرمایا کہ تم نے اس شخص کو ہلاک کردیا یا یہ فرمایا کہ تم نے اُس کی کمر توڑ دی۔
اسی طرح خلیفۂ ثانی عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے بارہ میںایک روایت میں آیا ہے کہ اُنہوں نے کہا: المدح الذبح (الأدب المفرد، باب ما جاء فی التمادح)۔یعنی مدح کرنا آدمی کو ذبح کرنا ہے۔ اسی طرح ایک روایت میں آیا ہے کہ حضرت عمر نے ایک شخص کو دوسرے شخص کی تعریف کرتے ہوئے سُنا تو اُنہوں نے کہا: عقرت الرجل، عقرک اللہ(الأدب المفرد، باب ماجاء فی التمادح) یعنی تم نے اُس شخص کو ذبح کردیا، اللہ تمہارے ساتھ بھی ایسا ہی کرے۔
حدیث اور آثارکی کتابوںمیں اس طرح کی بہت سی روایتیں آئی ہیں۔ اُن سے معلوم ہوتا ہے کہ مدح کا طریقہ دینی مزاج کے خلاف ہے۔ بعض اوقات اعتراف واقعہ یا اورکسی مصلحت سے کسی کی تعریف کی جاسکتی ہے۔ مگر عمومی طورپر اسلام میںاُس چیز کو سخت نا پسند کیا گیا ہے جس کو مدح خوانی یا قصیدہ گوئی کہا جاتاہے۔ اس قسم کی تعریف مادح کے لیے مصلحت پرستی ہے اورممدوح کے لیے اُس کو عُجب کی غذا دینا ہے۔ اس لیے یہ فعل مادح اورممدوح دونوں کے لیے ہلاکت خیز ہے۔
تاہم یہ بات قابل غور ہے کہ احادیث میں تعریف کی مذمت تو کی گئی ہے مگر تنقید کی مذمت نہیں کی گئی ۔ غالباً کوئی بھی صحیح حدیث ایسی نہیں جس میںتنقید کے فعل کو اُس طرح مطلق طورپر مذموم قرار دیا گیا ہو جس طرح مدح کو مذموم قرار دیا گیا ہے۔ بلکہ اس کے برعکس تنقید کی حوصلہ افزائی کی گئی ہے۔ مثلاً بہت سی حدیثوں میں لسان کے ذریعہ نہی عن المنکر کا حکم آیا ہے اوراُس کوایمان کی لازمی علامت بتایا گیاہے۔ اسی طرح حدیث میں بتایا گیا ہے کہ سلطان کے سامنے کلمۂ حق کہنا ایک افضل جہاد ہے، وغیرہ۔
ظاہر ہے کہ اس قسم کا کام تنقید ہی کی زبان میںہوگا، نہ کہ تعریف کی زبان میں۔ جب بھی ایک شخص کسی برائی کو دیکھے، خواہ برائی کرنے والا کوئی عام آدمی ہو یا خاص آدمی، اور پھر وہ اُس کے خلاف لسانی جہاد کرے تو یہ لسانی جہاد عین وہی فعل ہوگا جس کو تنقید کہا جاتاہے۔ نقد یا تنقید در اصل لسانی جہاد کا ہی دوسرا نام ہے۔
اب سوال یہ ہے کہ شریعت میں مدح اور تنقید کے درمیان یہ فرق کیوں کیا گیا ہے۔ اس فرق کا سبب یہ ہے کہ مدح ایک اخلاقی برائی ہے جب کہ تنقید ایک اعلیٰ درجہ کی علمی اور اخلاقی خوبی ہے۔ کسی معاشرہ میں مدح کا رواج پورے معاشرہ کو منافقت کامعاشرہ بنادیتا ہے۔ اس کے مقابلہ میں جس سماج میںتنقید اور اختلاف کو سننے کا مزاج ہو وہ معاشرہ ذہنی اور فکری ترقی کی طرف رواں دواں رہتا ہے۔
تنقید ایک مسلسل احتساب کا عمل ہے۔ تنقید زندہ معاشرہ کی علامت ہے۔ کسی معاشرہ میں تنقید کا عمل نہ ہونا یا تنقید کو بُرا سمجھنا صرف اُس وقت ہوتا ہے جب کہ معاشرہ زوال کا شکار ہوگیا ہو۔ وہ زندگی کی حرارت کھو بیٹھا ہو۔ کھلے ذہن کے ساتھ سوچنے کی صلاحیت اُس کے اندر باقی نہ رہی ہو۔ تنقید کی حیثیت ایک علمی اور فکری چیلنج کی ہے۔ چیلنج ہر قسم کی ترقی کی واحد ضمانت ہے۔ جس معاشرہ میںچیلنج نہ ہو وہ معاشرہ کبھی ترقی نہیں کرسکتا۔ اسی طرح جو معاشرہ تنقید سے محروم ہوجائے وہ علمی اور فکری ترقی سے بھی محروم ہوجائے گا۔
اس معاملہ کی تفصیل میںنے اپنی کتاب دین انسانیت کے باب ’’حریت فکر‘‘ میں بیان کی ہے اور اسلام کے دور اول کی مثالوں سے اُس کو واضح کیا ہے۔ تاہم تنقید اور تنقیص میں بہت زیادہ فرق ہے۔ یہاںتک کہ یہ کہنا درست ہوگا کہ تنقید مکمل طورپر جائز ہے اور تنقیص مکمل طورپر ناجائز ۔ تنقید بلاشبہہ ایک مطلوب چیز ہے اور تنقیص بلا شبہہ ایک غیر مطلوب چیز۔
تنقید در اصل علمی اختلاف کا دوسرا نام ہے۔ حقائق و واقعات کی روشنی میںخالص موضوعی انداز میںکسی معاملہ کا تجزیہ کرنا وہ چیز ہے جس کو تنقید کہا جاتا ہے۔ تنقید خواہ بظاہر کسی شخص کے افکار و آراء کے حوالہ سے ہو، مگراپنی حقیقت کے اعتبار سے وہ معاملہ کی اصولی وضاحت ہوتی ہے۔ اُس میں غلط اور صحیح کے درمیان تقابل ہوتا ہے، نہ کہ ایک شخص اور دوسرے شخص کے درمیان۔
اس کے برعکس تنقیص ایک شخصی عیب جوئی ہے۔ تنقیص کرنے والے کے سامنے اصلاً کسی امرِحق کی وضاحت نہیں ہوتی بلکہ ایک شخص کی تذلیل اورتحقیر ہوتی ہے جس کو اُس نے کسی وجہ سے اپنا مخالف سمجھ لیا ہے۔ تنقیص صرف ایک غیر اخلاقی فعل ہے، وہ کسی درجہ میں بھی کوئی علمی واقعہ نہیں۔ تنقید کا عمل اگر علمی اصول کی بنیاد پر ہوتا ہے تو تنقیص کا عمل کسی شخص کے خلاف ذاتی سبّ وشتم کی بنیاد پر۔
واپس اوپر جائیں

کیرلا کا سفر

کیرلا میں ٹریونڈرم سے تقریباً ۲۰ کلومیٹر کے فاصلہ پر ایک بڑا آشرم ہے جس کا نام شانتی گری آشرم ہے۔ اس آشرم کے بانی اور گروکانام برہما شری کروناکراگرو ہے۔ بوقت تحریر ان کی عمر ۷۳ سال تھی۔ یہ آشرم ۱۹۶۸ میں قائم کیاگیا۔ اس آشرم میںہر سال اس کا سالانہ جلسہ ہوتا ہے۔
اس جلسہ کے منتظمین کی طرف سے مجھے اس میں شرکت کے لیے مدعو کیاگیا۔ اس کے مطابق، میںنے کیرلا کا سفر کیا۔ ۲۸فروری ۱۹۹۹ کی صبح کو دہلی سے روانگی ہوئی۔
۲۸ فروری ۱۹۹۹ ء کی صبح کو ساڑھے پانچ بجے دہلی ایرپورٹ پہنچا۔ نیا ائر پورٹ اس طرح بنایا گیا ہے کہ وہ ایک بہت بڑے ہال کی مانند ہے۔ میں اُس کے اندر کھڑا ہوا تو اُس کی وسعت میرے ذہن میں صحرائے حیات کی وسعت میں تبدیل ہوگئی۔
میں نے سوچا کہ موجودہ دنیا میں انسان گویا ایک عظیم صحرا میںکھڑا ہوا ہے۔ وہ راز حیات جاننا چاہتا ہے مگر کوئی درخت یا پہاڑ اُس سے نہیں بولتا۔ کوئی ستارہ یا سیّارہ اُس سے ہم کلام نہیں ہوتا۔ اس خاموش دنیا میں وہ حیران کھڑا ہوا ہے۔ اس کے بعد اس کے سامنے خدا کا پیغمبر آتا ہے۔ وہ کہتا ہے کہ میں خدا کا فرستادہ ہوں اور تم کوخدا کا یہ پیغام دیتا ہوں۔
انسان کے لیے یہ کیسی عجیب راحت ہے۔ عقیدہ کے اعتبار سے یہاں بہت سے پیغمبر آئے۔ مگر ان کی شخصیت اور ان کا پیغام تاریخ کے اندھیروں میں گم ہے۔ یہاں صرف ایک ہی قابل یقین پیغمبر ہے اور وہ محمد بن عبداللہ بن عبد المطلب ہیں۔ ایک متلاشی روح کے لیے یہ بلا شبہہ ایک عظیم نعمت ہے۔
ڈاکٹر نشی کانت چٹوپادھیائے نے لمبی تلاش کے بعد جب پیغمبر اسلام کو پایا تو وہ چیخ اٹھے:
What a relief to find after all a truly historical Prophet to believe in.
دہلی سے انڈین ائر لائنز کی فلائٹ کے ذریعہ روانگی ہوئی۔ یہ جہاز بمبئی ہوتے ہوئے ٹریونڈرم جاتا ہے۔
فلائٹ نمبر ۱۶۷ کے اندر میںبیٹھا ہوا تھا۔ ابھی جہاز ائر پورٹ پر کھڑا تھا۔ جہاز کے اندر لوگ آتے اورجاتے ہوئے دکھائی دے رہے تھے۔ ہر ایک اپنی سیٹ تک پہنچنے کے لیے سر گرم تھا۔ اس درمیان میں ایک آدمی کا بیگ دوسرے آدمی سے ٹکرا گیا۔ پیچھے والے نے کہا: sorry ، دوسرے نے کہا: no problem ، اور بات ختم ہوگئی۔ یہ پڑھے لکھے لوگوں کاکلچر ہے۔ اس کے برعکس بے پڑھے لکھے لوگوں کا کلچر یہ ہے کہ ایسے موقع پر ایک شخص کہے گا ’’اندھے ہو‘‘ دوسرا بولے گا ’’گدھے ہو‘‘۔ اور پھر دونوں ایک دوسرے سے لڑنے لگیں گے۔ ہر آدمی کے لیے سب سے پہلی اہم چیز یہ ہے کہ وہ تعلیم حاصل کرے۔ مگر عجیب بات ہے کہ ہندستان میں یہی چیز سب سے کم ہے۔ نئے ہندستان کی تمام خرابیوں کی جڑ ہماری قوم کا تعلیم میں پچھڑا ہوا ہونا ہے۔
۱۹۴۷ سے پہلے ایک اعلیٰ تعلیم یافتہ شخص نے مہاتما گاندھی سے کہا کہ آپ پہلے لوگوں کو شکچھا دلائیے۔ اس کے بعد آزادی لائیے۔ ورنہ آزادی آپ کے لیے بے معنیٰ ہو کر رہ جائے گی۔ گاندھی جی نے جواب دیا کہ میرے دیش کے لوگ اشکچھت ہیں مگر وہ اگیانی نہیں ہیں۔ لیکن تجربہ نے بتایا کہ اشکچھت لوگ ہمیشہ اگیانی ہی ہوتے ہیں۔
جہاز کے اندرایک صاحب نے اپنی جیب سے سیلولر ٹیلی فون نکالا اورایک لمحہ میںربط قائم کرکے باہر کسی سے بات کرنے لگے۔ اس وقت ایک عجیب احساس میرے دل میں پیدا ہوا۔ میرے سامنے پوری جدید دنیا اپنی تمام ترقیوں کے ساتھ گھوم گئی۔ میں نے سوچا کہ یہ تمام ترقیاں زمین کے اندر چھپی ہوئی تھیں۔ غیر معمولی کوشش سے جن لوگوں نے ان امکانات کو باہر نکالا اور ان کو قابل استعمال بنایا وہ سب کی سب مغربی قومیں تھیں۔ اس کے بعد قدرتی طورپرایسا ہوا کہ وہ دنیا کے تمام مواقع پر قابض ہوگئیں۔ ایک شخص کے الفاظ میں وہ تمام دنیا کا مکھن کھا گئے۔ مسلمان پچھلے سو سال سے بھی زیادہ عرصہ سے ان قوموں سے ان کی یہ حیثیت چھیننے کے لئے قربانی کی حد تک جاکر کوشش کررہے ہیں، مگروہ صد فی صد ناکام ہیں۔
میں نے سوچا کہ یہ جو کچھ ہورہا ہے، قانون فطر ت کے تحت ہورہا ہے۔ وہ ان تمام مادی ترقیوں کو وجود میں لائے ہیں اس لئے قانون فطرت کے مطابق، وہ طیبات دنیا کے مالک بنے ہوئے ہیں۔ قرآن کے مطابق، آخرت میں ایسے لوگوں کو کچھ ملنے والا نہیں ہے (الاحقاف ۲۰) ۔
ہمارے نام نہاد انقلابی مفکرین نے یہ چاہا کہ وہ انہیں ان طیبات دنیا سے محروم کردیں۔ ایسا ہونا ممکن نہ تھا۔مسلمانوں کو کچھ کئے بغیر دونوں دنیا کی طیبات حاصل ہوجائیں اور ان مادی قوموں کو ساری محنت کے باجود دنیا کی طیبات بھی نہ ملیں، ایساہوناخود قانون الٰہی کے تحت ممکن نہ تھا۔ اس لیے مسلم رہنماؤں کی کوششیں حبط اعمال کا شکار ہوکر رہ گئیں۔
اس معاملہ کی ایک علامتی مثال فلسطین ہے۔ مسلمان سیکڑوں سال سے اس علاقہ پر قابض تھے۔ مگر وہ فلسطین کو وہ مادی ترقی نہ دے سکے جو یہودیوں نے اس کو دی۔ اب یہ کیسے ممکن تھا کہ مسلمانوں کو نفع بخشی کے بغیر سب کچھ مل جائے اور یہودیوں کو نفع بخشی کے باوجود کچھ نہ ملے۔
۲۸ فروری ۱۹۹۹ کی دوپہر کو جہاز ٹریونڈرم پہنچا۔ یہاں ٹمپریچر ۳۱ ڈگری سنٹی گریڈ تھا جب کہ ۳۵ ہزار فٹ کی بلندی پر اڑتے ہوئے جہاز کا درجۂ حرارت زیرو سے بھی نیچے تھا۔ جو لوگ بلند فکری کے حامل ہوں وہ ہمیشہ ٹھنڈے مزاج کے ہوتے ہیں اورجو پست ذہن ہوں وہ گرم مزاج کے۔
۲۸ فروری کی دوپہر کو ساڑھے گیارہ بجے جب میں ٹریونڈرم پہنچا تو یہاں بڑی تعداد میںلوگ ائر پورٹ پرموجود تھے، ڈاکٹر گوپی ناتھن، پروفیسر کریم، وغیرہ۔ ائر پورٹ سے روانہ ہو کر آشرم پہنچا۔
کیرلا بے حد سر سبز ریاست ہے۔ سڑک کے دونوں طرف باغ جیسے مناظر ہیں۔ اس سرسبز ماحول میں ۲۰ کیلو میٹر کا سفر طے کرکے ہم لوگ آشرم پہنچے۔ سادگی اور امن کا ماحول تھا ۔ ہر طرف روحانیت جیسی فضا تھی۔ کیرلا کے لوگ بہت سادہ مزاج ہوتے ہیں۔ ان میں منافقت والی برائی نہیں۔ وہ پر امن شہری کی مثال نظر آتے ہیں۔ یہاں کے خوبصورت گسٹ ہاؤس میں مجھے ٹھہرایا گیا تھا۔ چاروں طرف سرسبز ماحول تھا۔ یہاں بہت سے لوگ ملے۔ اعلیٰ تعلیم یافتہ، اعلیٰ عہدیدار اور بڑے تاجر سب یکساں طورپر بالکل سادہ نظر آتے تھے۔ تعارف سے پہلے کوئی پہچان نہیں سکتا کہ وہ کوئی بڑے آدمی ہیں۔
آشرم کے گسٹ ہاؤس میں ضیافت کے طورپر سب سے پہلے ناریل کا پانی پیش کیا گیا۔ ناریل کا پانی ایک قدرتی مشروب ہے۔ ناریل کا درخت پورا کا پورا ایک عجیب قسم کا قدرتی کارخانہ ہے۔ اس کی ہر چیز مفید اور کار آمد ہے۔ ناریل کے درخت کی صفات اگر بیان کی جائیں تو پورا سفرنامہ اسی سے بھر جائے۔ ناریل کے جس خول کے اندر اس کا پانی رہتا ہے اس کی پیکنگ حیرت انگیز حد تک بامعنٰی ہوتی ہے۔ کئی تہہ کے اندر یہ پانی ہوتا ہے۔ اس کے اوپر کا خول نہایت سخت ہوتا ہے۔ وہ بہت مشکل سے ٹوٹتا ہے۔ مگر اس نہایت سخت خول کے سرے پر حیرت انگیز طورپر ایک نرم سوراخ ہوتا ہے جو نہایت آسانی سے کھل جاتا ہے اور اس کے ذریعہ پانی نکال کر پیا جاسکتاہے۔ یہ سوراخ اس بات کا یقینی ثبوت ہے کہ اس کائنات کا خالق ایک عاقل اور باشعور ہستی ہے۔ اس سوراخ میںجو حکمت ہے وہ باشعور خالق کے بغیر ممکن نہیں ہوسکتی۔ موجودہ زمانہ میں مشروبات کے پیک میں عین یہی تکنیک استعمال کی جاتی ہے۔ اوراس کے ایک کنارے چھوٹی سی نرم جگہ بنائی جاتی ہے جہاں سے سوراخ کرکے مشروبات کو استعمال کیا جاسکے۔
۲۸ فروری کو ظہر کی نماز سے فارغ ہوکر میں آشرم کے گسٹ ہاؤس میں بیٹھا ہوں۔ چاروں طرف دوردور تک سبزہ ہی سبزہ دکھائی دے رہا ہے۔ یہاں نہ شور ہے اور نہ دھواں اور نہ جدید صنعتی زندگی کے اعصاب شکن مسائل۔ ایک لمحہ کے لئے خیال آیا کہ اس خوبصورت اور پرسکون ماحول میںرہنا کتنا اچھاہے۔ مگر جلد ہی بعد مجھے محسوس ہوا کہ یہ سوچ درست نہیں۔ اس قسم کے پرسکون ماحول میں آرام کی زندگی گزارنا کوئی بہت اچھی چیز نہیں۔ نفسیاتی مطالعہ بتاتا ہے کہ ذہنی سکون کے مقابلہ میں ذہنی اضطراب زیادہ اعلیٰ حالت ہے۔ ذہنی سکون کی حالت میں رہنا بظاہر بہت اچھا ہے مگر وہ اس قیمت پر ہوتا ہے کہ آدمی کی ذہنی ترقی رک جائے۔ فکری ارتقاء ہمیشہ طوفانی حالات میں ہوتا ہے، نہ کہ پرسکون حالات میں۔
ڈاکٹر گوپی ناتھن نے آشرم کے قریب گھر بنا لیا ہے۔ وہ یہاں ایک پرسکون زندگی گزار رہے ہیں۔ میں نے سوچا کہ اگر میں یہاں ایک گھر بنا کر پرسکون زندگی گزار رہا ہوتا تو میں کبھی اس فکر ی انقلاب تک نہ پہنچتا جس کا نتیجہ میری زندگی میںالرسالہ مشن کی صورت میں ظاہرہوا ۔
کیرلا کے ایک تعلیم یافتہ ہندو سے میںنے پوچھا کہ کیرلا میں بھی کیا اس طرح کی سیاسی علیٰحدگی کی تحریک چل رہی ہے جو پنجاب یا کشمیر یا آسام میں چل رہی ہے۔ انہوں نے فوراً کہا کہ نہیں(Not at all) ۔ اس اعتبار سے کیرلا ایک قابل تقلید ریاست ہے۔ دنیا کے جن ملکوں میںسیاسی علیٰحدگی کی تحریکیں چل رہی ہیں وہ سب کی سب صرف تباہی کی تحریکیں ہیں۔ ایک بڑے ملک کا حصہ رہ کرجو ترقی کی جاسکتی ہے وہ چھوٹا بننے کی صورت میں ممکن نہیں۔ اس طرح چھوٹا ملک بنانے کا واحد فائدہ یہ ہے کہ ایک لیڈر صاحب کو پرائم منسٹر کہا جانے لگے۔
میرا عام تجربہ ہے کہ اسکالر لوگوں میںفکری ارتقاء مسلسل جاری رہتا ہے جب کہ مذہبی لوگوں میںاس طرح فکری ارتقاء نہیں ہوتا۔ مذہبی طبقہ کے لوگ عام طورپر ذہنی ٹھہراؤ کا شکار رہتے ہیں۔ میںاکثر سوچتا رہا ہوں کہ ا س کا سبب کیا ہے، یہاں مجھے اس کا سبب معلوم ہوا۔ وہ یہ کہ سیکولر لوگوں میںمسلسل فری ڈائلاگ جاری رہتاہے جب کہ مذہبی لوگوں میں فری ڈائلاگ کاعمل جاری نہیںہوتا۔
یہاں بہت سے تعلیم یافتہ ہندوؤں سے ملاقات ہوئی جو گرو جی کے گہرے طورپر معتقد تھے۔ میںنے ا ن سے جب بھی کسی مسئلہ پر سوال جواب کرنا چاہا تو گفتگو ایک حد سے آگے جاری نہ رہ سکی۔ مثلاً اس آشرم میں ۲۴ گھنٹہ کے اندر آٹھ بار عبادت ہوتی ہے۔ یہ عبادت منتر جاپ کی صورت میں ہوتی ہے۔ مگر کئی لوگوں کو گرونے اس عبادت سے مستثنیٰ کر دیا ہے ۔ میںنے اس استثناء پر سوال کیا تو کوئی اس پر زیادہ گفتگو کے لیے تیار نہیں ہوا۔ ہر ایک نے یہ کہہ کر بات ختم کردی کہ ہر آدمی کا کیس الگ ہوتا ہے۔ اور گروجی ہر آدمی کو پہچان کر اس کو ہدایت دے دیتے ہیں۔ اس پر مزید گفتگو کے لیے وہ تیار نہیں ہوئے۔
اسی طرح میںنے کئی لوگوں سے پوچھا کہ گروجی جب اپنی زبان سے خودیہ نہیں کہتے کہ میں پیغمبر ہوں تو آپ لوگ ان کے بارہ میں ایسے الفاظ کیوں بولتے ہیں۔ مگرکوئی بھی اس سوال پرتفصیلی گفتگو کے لیے تیار نہ ہوا۔
ٹھیک یہی معاملہ مسلمانوں کے یہاں بھی پایا جاتا ہے۔ آپ کسی بھی جماعت یا کسی بھی ادارہ میںجائیے۔ آپ اگر وہاں ان کی مسلّمہ شخصیتوں پر تفصیلی گفتگو کرنا چاہیں تو ایسا ناممکن ہوگا۔ یا تو لوگ بات نہیں کریں گے یا بہت جلد بگڑ جائیںگے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ سنجیدہ گفتگو ناممکن ہوجائے گی۔
اس کے برعکس آپ سیکولر لوگوں سے بات کیجئے تو وہ کبھی غصہ نہیں ہوں گے۔ مثلاً یہاں ایک صاحب ملے جویونیورسٹی میں پڑھاتے ہیں۔ انہوں نے اپنا مضمون پولیٹکل سائنس بتایا۔ میں نے کہا کہ آپ لوگ سیاسی موضوع کو پولیٹکل سائنس کہتے ہیں۔ حالانکہ گہرائی کے ساتھ دیکھا جائے تو پالی ٹکس کامضمون کوئی سائنسی مضمون ہی نہیں۔ سائنسی مضمون وہ ہے جو قابل تصدیق (verifiable) ہو۔ جب کہ پولیٹکل سائنس میںکوئی بھی نظریہ یا فارمولا قابل تصدیق (verifiable) نہیں۔ اس طرح ان سے دیر تک گفتگو ہوئی مگر وہ غصہ نہیںہوئے اور معتدل طورپر بات کرتے رہے۔اسی فرق کا یہ نتیجہ ہے کہ مذہبی طبقہ میں فکری ارتقاء رک جاتا ہے جب کہ سیکولر طبقہ میںفکری ارتقاء کا عمل جاری رہتا ہے۔
یہاں میکسیکو کے ایک نوجوان مسٹر جان میکسیکو سے ملاقات ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ میںنے میکسیکو میںمیڈیٹیشن کے دوران ایک گروجی کی امیج دیکھی۔ میں ان کوجانتا نہیں تھا۔ پھر میںنے مراقبہ کیا تو ہندستان کا نقشہ میرے سامنے آگیا۔ پھر میںپوچھتے پوچھتے اس آشرم تک پہنچا۔
اس قسم کے قصے کثرت سے ہندوگروؤں کے یہاں پھیلے ہوئے ہیں۔ اسی طرح ٹھیک اسی قسم کے قصے مسلم بزرگوں کے یہاں بھی پھیلے ہوئے ہیں۔مسلمان ہندو گروؤں کے قصوں کو غلط بتاتے ہیں اور اپنے بزرگوں کے قصے کو صحیح سمجھتے ہیں۔ مگر یہ طریقہ سراسر غیر منطقی ہے۔ آپ یا تو دونوں جگہ کی کہانیوں کو درست بتائیں یا دونوں جگہ کی کہانیوں کو بے بنیاد قرار دیں۔ ایک کو ماننا اوردوسرے کو رد کرنا درست نہیں۔
یہاں اردو سمجھنے والا کوئی نہ تھا۔ اس لیے گفتگو ہمیشہ انگریزی میں ہوتی رہی۔ ایک صاحب سے گفتگو کرتے ہوئے میں نے کہا کہ میری زندگی کے تجربات میں سے ایک تلخ تجربہ یہ ہے کہ فطرت سے انحراف اس دنیا میں سب سے زیادہ مہلک غلطی ہے۔ فطرت سے انحراف کی بدترین سزا ہر ایک کو لازمی طور پر بھگتنا پڑتا ہے، فرد کو بھی اور قوم کو بھی۔
عشاء کا وقت ہوا تو الگ الگ اذانوں کی آوازیں سنائی دیں۔ معلوم ہوا کہ یہاں کئی مسجدیں ہیں۔ یہ آواز لاؤڈاسپیکر کی تھی اورکافی دور سے آرہی تھی۔ یہ مسجدیں آشرم کے وسیع علاقہ کے باہر ہیں۔ دور ہونے کی وجہ سے ان کی لاؤڈاسپیکر پر دی ہوئی اذان صرف رات کو سنائی دیتی ہے، دن کو نہیں۔
ٹریوینڈرم ائر پورٹ سے شانتی گری آشرم آتے ہوئے درمیان کے علاقہ میں مجھے بتایا گیا کہ وہاں مسلمانوں کی اکثریت ہے۔ تاہم یہاں کوئی ہندو اور مسلم مسئلہ نہیں۔ دونوں ایک ہی زبان بولتے ہیں۔ کلچرل مشابہت بھی ہے۔ یہاں غیریت کا وہ ذہن نہیں پایا جاتا جوشمالی ہند کے علاقوں میں پایا جاتا ہے۔
کے وشو ناتھن سے میںنے پوچھا کہ ہندوگروؤں کے یہاں پاؤں پوجا پائی جاتی ہے۔ اس کی اصل کہاں ہے۔ میںنے کہا کہ جہاں تک میری معلومات کا تعلق ہے، وہ ویدوں میں یا گیتا میں نہیںہے۔ وہ اس کی اصل نہ بتاسکے۔ گروورشپ کے رواج نے غالباً فُٹ ورشپ (foot worship) پیدا کی ۔ اکثر مذاہب کے موجودہ رواج خود ان کی اپنی کتابوں میں بھی موجود نہیں۔
یکم مارچ ۱۹۹۹ کی صبح کو ساڑھے نو بجے اصل پروگرام شروع ہوا۔ آشرم کی مین بلڈنگ کے سامنے وسیع میدان میں ہزاروں کی تعداد میں عورت اور مرد سفید کپڑے پہنے ہوئے تھے۔ پہلے ملیالم میںایک گیت گایا گیا جس کو میں سمجھ نہ سکا۔ پھر گروجی نے ملیالم میںکچھ کہا۔ یہاں ترجمہ کا انتظام نہ تھا، اس کو بھی میں سمجھ نہ سکا۔ یہاں یا تو ملیالم زبان بولی جارہی تھی یا انگریزی۔
اس فنکشن میں گروجی آکر اسٹیج پر بیٹھے۔ سب سے پہلے ان کے سامنے ہولی فیٹ سونے کا بنا ہوا پیش کیا گیا۔ پوچھنے پر معلوم ہوا کہ یہ خود گروجی کے پاؤں کی نقل ہے۔ ایک تعلیم یافتہ ہندو نے کہا کہ یہ گروجی کی فرمائش پرنہیں ہے بلکہ ان کے عقیدت مندلوگ خود اپنے جذبہ کے تحت اس کو پیش کررہے ہیں۔
میںنے پایا کہ اکثر مذاہب میںجورسوم ہوتی ہیں ان کے بارہ میں سوال کیا جائے تو وہ فوراً معذرت خواہانہ انداز اختیار کرلیتے ہیں۔ اسلام کے سوا ہر مذہب میں اس قسم کی چیزیں ہیں جوغیرعقلی ہیں اور سائنٹفک دور میں ان کی معنویت لوگوں کے لیے ناقابل فہم ہوگئی ہے۔ میں صرف عقیدہ کی بنا پر نہیں بلکہ ذاتی علم کی بنا پر کہتا ہوں کہ یہ صرف اسلام ہے جو سائنٹفک دور کے معیار پر پورا اترتا ہے۔ میں نے یہ بات مذکورہ ہندو سے کہی تو وہ خاموش رہے۔
جلسہ گاہ میںاسٹیج پر لوبان وغیرہ جلایا گیا۔ اس سے پورے ہال میں ایک خاص قسم کا دھواں پھیل گیا۔ میں نے اپنے پاس بیٹھے ہوئے ہندو سے پوچھا کہ اس دھوئیں کا مقصد کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ماحول کو پاک کرنے کے لیے (to purify the atmosphere) ۔ میں نے کہا کہ سائنٹفک دور کا انسان اس کو ایک قسم کا air pollution کہے گا۔ انہو ں نے جواب دیا کہ وہ مادی لوگ ہیں۔ وہ روحانی باتوں کونہیں سمجھتے ۔ اس کا دوسرا مطلب یہ ہے کہ مذہب ناقابل فہم ہے اور علم قابل فہم۔
میرے قریب دو تعلیم یافتہ ہندو آپس میں بات کررہے تھے۔ان میں سے ایک کوئلون کا تھا۔ گفتگو کے دوران ایک پیپر مل کا ذکر ہوا۔ دوسرے نے کہا کہ کوئلون کی پیپر مل جو کہ برلا گروپ کی ہے، لیبر پرابلم کی وجہ سے بند ہوگئی:
It is now closed down because of labour problem.
یہ صورت حال سارے ملک میںہے۔ پچھلے ۴۰ سال سے پورے ملک میںیہ مسئلہ ہے۔ لوگ اقتصادی عمل کی معکوس ترقی کا ذکر کرتے ہیں۔ مگر کوئی یہ نہیں بتاتا کہ اس کی وجہ کیا ہے۔ اس کی وجہ غیر فطری لیبر قوانین میں ہے۔ ان قوانین نے لوگوں کو آخری حد تک حقوق شناس (right-conscious) بنا دیا ہے۔
نہرو اور ان کے ساتھیوں نے آزادی کے بعد ہندستان میںسوشلسٹ اکانومی کے اصول کو اختیار کیا۔ اس کے تحت ایک طرف اقتصادی عمل میں سرکاری لوگوں کو غیر معمولی اختیارات دے دئے گئے۔ دوسری طرف لیبر حقوق کے نام پر بے شمار قانون اور ضابطے بنائے گئے۔ یہ مارکسی فلسفہ کے زیراثر تھا۔ مارکسی فلسفہ کے مطابق، اقتصادی نزاعات میں نام نہاد سرمایہ دار طبقہ ہمیشہ ناحق پر ہوتا ہے اور مزدور طبقہ ہمیشہ حق پر۔ سرمایہ دار ہمیشہ ظالم ہوتاہے اور مزدور ہمیشہ مظلوم۔ اس بے بنیاد نظریہ نے پورے ملک کی اقتصادیات کو تباہ کر کے رکھ دیا ۔
چند ہندوؤں کی ایک مجلس میں میںنے کہا کہ میرا مشن ہندو۔مسلم کے درمیان میل ملاپ پیدا کرنا ہے۔ میں ایک پختہ مسلمان ہوں اور اسلام کو کامل صداقت سمجھتا ہوں۔ مگر سماجی اور قومی زندگی میںمعتدل تعلقات کی فضا ہونا ضروری ہے۔ اس کے لیے میںجس طرح مسلمانوں کے جلسوں میںجاتا ہوں اسی طرح دوسرے مذہبوں کے جلسہ میں بھی جاتا ہوں۔ لیکن زرد صحافت نے اس کو شوشہ بنادیا۔ میرے خلاف جھوٹی باتیں چھاپ کر پھیلائی گئیں۔ حتیٰ کہ کچھ جاہل قسم کے لوگوں نے یہ اعلان کردیا کہ میں خدانخواستہ سلمان رشدی جیسا ہوچکا ہوں اور میرے ساتھ اس کا جیسا سلوک کیا جانا چاہئے۔ اس پر ایک تعلیم یافتہ ہندو نے کہا کہ گھبرائیے نہیں، یہ بھارت ہے یہاں کوئی خمینی نہیں، آپ انڈیا میں محفوظ ہیں:
Do not fear. It is India. Here is no Khomeini. You are safe in India.
یہ سن کر مجھے سخت جھٹکا لگا۔ موجودہ زمانہ میں ایک مسلمان ایک غیر مسلم ملک میںزیادہ محفوظ ہے۔ مگر وہ مسلم ملک میں محفوظ نہیں ۔ یہ کیسی عجیب بات ہے۔ جب کہ اسلام میںکامل آزادی ہے۔ میںنے ان لوگوں سے کہا کہ اس کی بنیاد پر آپ اسلام کے بارے میں رائے قائم نہ کریں۔ یہ مسلمانوں کا فعل ہے، یہ اسلام کی تعلیم نہیں۔ پھر میںنے قرآن کی ایک آیت سنائی۔ اس کو سن کر وہ بہت خوش ہوئے۔ میںنے کہا کہ انڈیا کی حکومت نے سلمان رشدی کو ویزا دیا ہے اس پر کچھ مسلمان شور کر رہے ہیں کہ سلمان رشدی کو یہاں نہ آنے دو۔
مگر اس قسم کی صورت حال قدیم مدینہ میں پیدا ہوئی۔ اس وقت عرب میں مشرک تھے جو اسلام کے دشمن بن گئے تھے۔ وہ اسلام پر حملے کرتے تھے۔ ان میں سے کچھ مشرکین نے مدینہ آنا چاہا۔ اس پر بعض مسلمانوں کو اختلاف ہوا۔ اس وقت قرآن میں یہ آیت اتری کہ اگر مشرکین میں سے کوئی تمہارے یہاں آنا چاہے تو اس کو آنے دو… (التوبہ ۶)
یکم مارچ کی دوپہر کو میری تقریر تھی۔مجھ کو پیس اور ہارمنی کا موضوع دیا گیا تھا۔ میں نے انگریزی میںایک تقریر کی۔ اس میں قرآن اور حدیث کے حوالہ سے بتایاکہ اسلام امن اور محبت اور انسانیت کا مذہب ہے۔ خدا نے جو مذہب عالمِ کائنات میںقائم کیا ہے اُسی کواس نے قرآن کی صورت میں بھیجا ہے۔
Peaceful co-existence is the only religion for both man and the universe.
یکم مارچ کو جلسہ گاہ سے نکل کر رہائش گاہ کی طرف جانا تھا۔ کار لا کر کھڑی کی گئی۔ اس وقت میرے پاؤں میں جوتا نہیں تھا۔ میںنے کہا کہ میں پیدل جاؤں گا۔ اور کار چھوڑ کر رہائش گاہ کی طرف پیدل روانہ ہوا۔ راستہ میںسنگریزے تھے۔ مگر مجھے ان سنگریزوں میں ایک قسم کا نیچرل ٹچ (لمس فطری) محسوس ہورہا تھا۔ چنانچہ میں ننگے پاؤں اس پر چلتا رہا۔ ایک ساتھی نے کہا کہ آپ ان سنگریزوں پر ننگے پاؤں چل رہے ہیں۔ میں نے کہا کہ یہ نیچرل کارپٹ ہے اور مصنوعی کارپٹ سے زیادہ بہتر ہے۔ میںنے کہا کہ یہ سنگریزے مجھے پھول جیسے معلوم ہوتے ہیں:
These stones are like flowers.
یہ بات میںنے نیچر کی حیثیت سے کہی تھی، نہ کہ آشرم کی نسبت سے۔ اب کوئی خوش عقیدہ آدمی اس کو آشرم سے جوڑدے تووہ کہے گا کہ دیکھو، فلاں مسلم مولانا اس آشرم میں آئے تھے۔ ان کویہاں کے سنگریزے تک پھول کے روپ میں دکھائی دیے۔ میرا خیال ہے کہ بزرگوں کے بارے میں کراماتی قصے اسی طرح بنے ہیں۔
بزرگوں کی کرامات کی جو طلسماتی کہانیاں مسلمانوں میں مشہور ہیں، ٹھیک اُسی قسم کی کہانیاں ہندوؤں میںبھی مزیداضافہ کے ساتھ مشہور ہیں۔ مسلمان ان کہانیوں کواپنے بزرگوں کی عظمت کی دلیل سمجھتے ہیں۔ اگر یہ دلیل صحیح ہو تو اسی دلیل سے انہیں ہندوؤں کے اکابر کو بھی طلسماتی شخصیت کا حامل ماننا چاہئے۔ ذاتی طورپر میں دونوں ہی طرح کے قصوں کو بے اصل سمجھتاہوں۔ اگر وہ فرضی ہیں تب تو ان کا بے اصل ہونا واضح ہے۔ تاہم اگر وہ بالفرض درست ہوں تب بھی وہ کسی شخص کی عظمت کا ثبوت نہیں۔
شانتی گری آشرم کا رقبہ بہت بڑا ہے۔ دور دور تک درخت اور سبزہ کا ماحول ہے۔ یہاںانسانوں کی آوازیں بہت کم سنائی دیتی ہیں، البتہ چڑیوں کی آوازیں اکثر کانوں میں آتی ہیں۔ میںنے سوچا کہ دہلی میں لاؤڈاسپیکر سے بلند ہونے والی انسانی آوازمجھے سخت نا پسند ہوتی ہے۔پھر چڑیوں کی آوازیں کیوں مجھ کو پسند ہیں۔ اس کی وجہ غالباً یہ ہے کہ انسانوں کی آوازمیں سرکشی کا لہجہ ہوتاہے جب کہ چڑیاں ہمیشہ خدا کی حمد کے نغمے گاتی ہیں۔
شانتی گری آشرم کے گرو کی عمر ابھی ۷۲ سال ہے۔ مگر وہ کافی کمزور ہوگئے ہیں۔ وہ زیادہ تر اپنے بستر پر لیٹے ہوئے رہتے ہیں۔ وہ جلسہ گاہ میںآئے تووہاں بھی تھوڑی دیر سہارا لے کر بیٹھنے کے بعد لیٹ گئے۔ وہ دو آدمیوں کا سہارا لے کر مشکل سے چلتے ہیں۔ میںان کے مخصوص کمرہ میں اُن سے ملا تووہ اس وقت فرش پر اپنے بستر کے اوپر لیٹے ہوئے تھے۔ اسی لیٹے ہوئے حالت میں انہوں نے مجھے ایک نارنگی پیش کی۔ میںاس وقت ان کے قریب کھڑا ہوا تھا۔ نارنگی لینے کے لیے قدرتی طورپر مجھے کچھ جھکنا پڑا۔
ایک فوٹو گرافر نے اس وقت کی تصویر کھینچ لی۔ بعد کو اس نے تصویر دکھائی تو اس میں سنترہ تو دکھائی نہیں دیتا تھا البتہ یہ نظر آتا تھا کہ میں گرو جی کے سامنے جھکا ہوا ہوں۔ میںنے فوٹو گرافر سے کہا کہ اس تصویر کو آپ ضائع کردیجئے۔ ورنہ اگر ہماری ’’زرد صحافت‘‘ نے اس کو پالیا تو مزید رنگ آمیزی کرکے اس کو چھاپے گی جس کے نیچے لکھاہوا ہوگا ’’ایک مسلمان عالم ایک ہندو گرو کے آگے جھکا ہوا‘‘۔ (۶ مئی ۱۹۹۹ کو گروجی کا انتقال ہوگیا)۔
گروجی مورتی پوجا کو نہیں مانتے ۔ حتیٰ کہ میںنے آشرم کے مختلف حصوں کو دیکھا تو کہیں خود گروجی کی بھی کوئی تصویر نہیں ملی۔ پورے آشرم میں کہیں نہ کوئی مورتی ہے اور نہ کوئی تصویر۔
میرے ساتھ اللہ تعالیٰ کا یہ عجیب فضل ہے کہ میں اکثر نہایت سچے خواب دیکھتا ہوں۔ میں نے بہت سی ایسی چیزوں کے بارہ میں واضح خواب دیکھے ہیں جن کے متعلق مجھے کچھ بھی معلوم نہ تھا۔ مگر بعد کو معلوم ہوا کہ میرا خواب عین اصل واقعہ کے مطابق تھا۔ مثال کے طورپر اپنے سفروں کے بارہ میں اکثر میں پیشگی طورپر خواب دیکھ لیتا ہوں۔ اور عین اسی خواب کے مطابق سفر پیش آتا ہے۔
مثلاً ستمبر ۱۹۹۵ میںفلسطین کے سفر کے بارہ میں مجھے پیشگی طورپر کچھ بھی معلوم نہ تھا۔ مگر میںنے خواب دیکھا کہ میںاپنے ایک ساتھی کے ساتھ ہوائی جہاز میں بیٹھا ہوا ہوں۔ بعد کو عین ویسا ہی ہوا۔ اسی طرح ۲۸ فر وری اور یکم مارچ کی درمیانی شب میںمیں نے شانتی گری آشرم میںخواب دیکھا کہ میں دہلی کے انٹرنیشنل ائر پورٹ میںہوں اور ابتدائی مراحل سے گزرکرآخری گیٹ کی طرف بڑھ رہا ہوں۔
میں نے بار بار ایسی کانفرنسوں میں شرکت کی ہے جہاں ساری کارروائی انگریزی میں ہوئی ہے۔ ایسے مواقع پر زیادہ تر میں اپنی تقریر لکھے ہوئے پیپر کی صورت میں کرتا تھا اور جزئی طورپر انگریزی میں کلام کرتا تھا۔ شانتی گری آشرم میں لوگ یا تو ملیالم جانتے ـتھے یا انگریزی۔ اس لیے یہاں پوری مدت میں انگریزی ہی میں بولنا اور گفتگو کرنا پڑا۔ اس موقع پر پہلی بار مجھے اپنی اس استعداد کا تجربہ ہوا کہ میںخدا کے فضل سے انگریزی میںبے تکلف بول سکتا ہوں اور بے تکلف تقریر کرسکتا ہوں۔ اس ذاتی تجربہ نے میرے دعوتی جذبہ میں ایک نیاحوصلہ پیدا کردیا۔
یہاں کانفرنس کی وجہ سے تعلیم یافتہ ہندو بڑی تعداد میںاکٹھا تھے۔ ان سے بڑے پیمانہ پر انٹرایکشن ہوا۔ اندازہ ہوا کہ لوگ عجیب عجیب قسم کی غلط فہمیوں میں پڑے ہوئے ہیں۔ موسیٰ کی ابتدائی عمر فرعون کے محل میں گزری۔ اس لیے موسیٰ کے بارے میں یہ لوگ سمجھتے ہیں کہ وہ اعلیٰ نسل میںپیدا ہوئے۔ مسیح نے مچھیروں کے درمیان کام کیا اس لیے اُنہوں نے سمجھ لیا کہ وہ نچلے طبقہ میں پیدا ہوئے۔
اسی طرح پیغمبر اسلام کو اپنے وطن مکہ سے ہجرت کرنا پڑا اس لیے اُنہوں نے سمجھ لیا کہ پیغمبراسلام نے مظلوم اور ناکام حالت میں وفات پائی۔ ضرورت ہے کہ اسلام کے بارے میں ہر قسم کی معلوماتی کتابیں بڑے پیمانہ پر تیار کرکے پھیلائی جائیں۔ اسی کے ساتھ بڑے پیمانہ پر مسلم اور غیر مسلم کا انٹرایکشن ہو۔ ڈائیلاگ کئے جائیں۔ تعلیمی اداروں میںدونوں گروہ کے لوگ بڑی تعداد میں تعلیم حاصل کریں۔ تاہم صرف کتابیں چھاپنا کافی نہیں۔ زندگی کی سرگرمیوں میں دونوں کی شرکت ضروری ہے۔
آشرم میںرہنے والے ایک صاحب جو انجینئر ہیں انہوں نے بروکن انگریزی میں کہا ’’آپ مجھے اپنا کپڑا دے دیجئے تاکہ میں اس کو دھودوں‘‘۔ میںنے سینہ پرہاتھ رکھتے ہوئے کہا:
Please wash my heart, that's more important. Clothes are washed by water. But the heart is washed by the tears.
وہ اس غیر متوقع جواب کو سن کر خاموش ہوگئے۔ ان کی سمجھ میں نہیں آیا کہ اس کے بعد وہ کیا کہیں۔ ایک صاحب جووہاں موجود تھے انہوں نے میرے اس جواب کی وضاحت پوچھی۔ میں نے کہا کہ بعض باتیں متکلم کے صیغہ میں کہی جاتی ہیں مگر وہ غائب کے صیغہ میںمطلوب ہوتی ہیں۔ مثلاً غالب کا ایک شعر ہے:
ہوا ہے شہ کا مصاحب پھرے ہے اتراتا وگرنہ شہر میں غالب کی آبرو کیا ہے
اسی طرح میر کا شعر ہے:
میر کے دین و مذہب کی کیا پوچھ رہے ہو اُن نے تو قشقہ کھینچا دیر میں بیٹھا کب کا ترک اسلام کیا
یہ اشعار اگر چہ متکلم کے صیغہ میں ہیں مگر وہ غائب کے صیغہ میں مطلوب ہیں۔ اسی اسلوب کی روشنی میں میرے مذکورہ جملہ کو سمجھا جاسکتا ہے۔
یکم مارچ کوشام کے سمّیلن میںتھوڑی دیر کے لیے گیا۔ لوگ بڑی تعداد میں اکٹھا تھے۔ کچھ لوگ گارہے تھے اور کچھ لوگ مخصوص باجا بجارہے تھے۔ گانا بجانا میرے ذوق کے مطابق نہیں۔ مگر دعوتی مصلحت کے تحت اس کو گوارا کیا جاسکتا ہے۔ لیکن ایک چیزمیرے لئے ذاتی طورپر قابل برادشت نہ تھی۔ وہ یہ کہ پورے وسیع پنڈال میں دھواں پھیلا ہوا تھا۔ پہلے میری سمجھ میں نہیںآیا کہ یہ دھواں کیا ہے۔ مگر سیکڑوں قمقموں کے باوجود یہاں بہت کم اجالا تھا۔ اس وقت محسوس ہوا کہ یہ بلب نہیں بلکہ موم بتیاں ہیں۔ موم بتیوں کے جلنے سے پوری فضا میںدھواں پھیلا ہوا تھا۔ یہ ذوق بھی بڑا عجیب ہے۔
تمام مذہبوں میں صرف اسلام ایسا مذہب ہے جس میں ہر چیز فطری ہے۔ اسلام کی عبادت گاہ، اسلام کی مجالس، اسلام کے اجتماعات، ہر ایک میںاسلام کا مقرر کیاہوا اصول عین فطرت کے اوپر قائم ہے۔اگر چہ موجودہ زمانہ میں اغیار کے کلچر سے متاثر ہو کر مسلمانوں نے اسلام کا حلیہ بگاڑ دیا ہے۔ اسلام کا فطری نقشہ آج شاید کسی بھی مسلم ادارہ میں دکھائی نہیں دیتا۔ اگر کہیں عملی اعتبار سے ہے تو نظری اعتبار سے نہیں۔ اوراگر کہیں نظری اعتبار سے ہے تو عملی اعتبار سے نہیں۔
گروجی کے ہزاروں نہیں بلکہ لاکھوں معتقدین ہیں۔ اس کا راز کم ازکم ایک یہ ہے کہ لوگوں کوان سے مادی فائدے ملتے ہیں۔ ایک شخص نے گروجی سے کہا کہ میںاسکوٹر خریدنا چاہتا ہوں۔ میںنے اس کا پیسہ بھی جمع کرلیا ہے۔ گروجی نے کہا کہ تم اسکوٹر مت خریدو۔ اس نے خرید لیا۔ جلد ہی ایکسیڈنٹ ہوا اور وہ مرگیا۔ ایسا ہی واقعہ ایک اور شخص کے ساتھ ہوا۔ اس نے کار کا پیسہ جمع کیا۔ اور گروجی کے منع کرنے کے باوجود کارخرید لی۔ وہ بھی روڈ ایکسیڈنٹ میںمرگیا۔
بہت سے لوگوں نے اس طرح کے قصے سنائے۔ اس سے لوگوں کو یقین ہوگیا کہ گروجی کو خاص نظر(vision) حاصل ہے۔ چنانچہ وہ جو کہہ دیتے ہیں اس پر لوگ آنکھ بند کرکے عمل کر تے ہیں۔
شانتی گری آشرم کے اس فنکشن کو اٹینڈکرنے کے لیے جو لوگ دہلی سے گئے تھے ان میں سے دو صاحبان میرے ساتھ اسی جہاز میںتھے۔ مسٹر گوپی ناتھن اور ایک خاتون ڈاکٹر۔ میرے سفر کا انتظام شانتی گری آشرم کی طرف سے کیا گیا تھا۔ مگر مذکورہ دونوں صاحبان خوداپنے خرچ پر وہاں گئے تھے۔ یہ دونوں مڈل کلاس کے لوگ تھے۔ مگر انہوں نے ہوائی جہاز سے سفر کیا جب کہ فی کس ہوائی جہاز کا ریٹرن ٹکٹ تقریباً ۳۵ ہزار تھا۔ وہاں کی تقریبات میں ان کاکوئی حصہ نہ تھا۔ میںنے پوچھا کہ آپ لوگ کس جذبہ کے تحت یہاں آئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ گرو کے درشن اور آشیرواد کے لیے۔اس طرح ہزاروں لوگ صرف درشن اور آشیرواد کے لیے دو ردور سے یہاں آئے تھے۔
ٹھیک یہی مزاج خود مسلمانوں میں بڑے پیمانہ پر پایا جاتاہے۔ وہ کچھ لوگوں کو ’’بزرگ‘‘ سمجھ لیتے ہیں۔ اور ان کے لیے لمبے لمبے سفر کرتے ہیں۔ فرق صرف یہ ہے کہ انہوں نے درشن اور آشیرواد کے بجائے اس کا نام زیارت اور برکت رکھ لیا ہے۔
۱۹۸۰ کے لگ بھگ زمانہ کی بات ہے۔ ایک مسلم بزرگ مدینہ سے دہلی آئے۔ یہاں کی ایک بڑی مسجد میںان کا قیام تھا۔ یہاں سیکڑوں لوگ اکٹھا ہوگئے۔ عوام کے علاوہ کالج اور مدرسہ کے لوگ بھی شامل تھے۔ کچھ لوگ مجھ کو بھی وہاں لے گئے۔ میں نے دیکھا کہ وہاں تقریر ہو رہی ہے مگر لاؤڈاسپیکر اچھا نہ ہونے کی وجہ سے مقرر کی بات صاف سنائی نہیںدے رہی ہے۔ ایک صاحب علی گڑھ سے آئے تھے۔ ان سے میں نے کہا کہ یہاں اتنے سارے لوگ جمع ہیں۔ ایسے موقع پر اچھے لاؤڈ اسپیکر کا انتظام کرنا چاہئے تھا تاکہ لوگ مقرر کی بات کو صحیح طورپر سن سکیں۔ انہوں نے میری بات کو ایک غیر اہم بات کی طرح نظر انداز کرتے ہوئے کہا۔ ’’ہم یہاں تقریر سننے کے لیے نہیں آئے ہیں۔ ہم تو حضرت کی زیارت کے لیے آئے ہیں‘‘۔
یہ مزاج ہندوؤں کے لئے جتنا بے معنٰی ہے، مسلمانوں کے لیے بھی اتنا ہی بے معنٰی ہے۔ کسی حضرت یا کسی گرو کی زیارت اور برکت کا کچھ بھی تعلق مذہب سے نہیں اور نہ اس سے کسی شخص کو کچھ مل سکتاہے۔ پانے کا تعلق تمام تر خدا سے ہے۔ یہ سمجھنا کہ خدا کا عطیہ کسی بزرگ کے واسطے سے ملتا ہے سراسر بے اصل ہے۔ اس کی کوئی حقیقت نہیں۔
یکم مارچ کی شام کو مغرب کی نماز کے بعد کئی تعلیم یافتہ لوگ میری قیام گاہ پراکٹھا ہوگئے۔ ان کی فرمائش پر میں نے اپنی ذاتی زندگی کے بارے میں کچھ باتیں بتائیں۔میں نے کہا کہ میں پیدائشی طورپر فلسفی جیسا مزاج رکھتاہوں۔ میں کسی بات کو صرف اس وقت مانتا ہوں جب کہ وہ دلائل و حقائق سے ثابت ہوجائے۔ میں نے کئی مثالیں دیتے ہوئے کہا کہ مثلاً میںسنتاتھاکہ آدمی اگر کئی وقت تک کھانا نہ کھائے تو آنکھوں میں دھند آجاتی ہے اور غشی طاری ہوجاتی ہے۔ اس بات کو جاننے کے باوجود میں نے اس کا تجربہ کیا۔
ایک بار جب میں ایک لمبے سفر پر تھا تو دو دن تک مسلسل میںنے کچھ نہیںکھایا۔ حالانکہ اس وقت میری جیب میں کافی پیسے موجود تھے۔ دو دن کے بعد جب میں کافی کمزوری محسوس کرنے لگا تو میںایک ہوٹل کے اندر کھانے کے لیے داخل ہوگیا۔ اس وقت میری آنکھوں میں اندھیرا چھایا ہوا تھا۔ چنانچہ میںایک ایسی کرسی پر بیٹھنے لگا جس پر پہلے سے ایک شخص بیٹھا ہوا تھا۔میری یہ حالت دیکھ کرلوگوں نے سمجھا کہ خدانخواستہ میں پئے ہوئے ہوں۔ میںنے کہا کہ مذہب کے ساتھ بھی میرا معاملہ یہی ہے۔
پیدائشی طورپر میںایک مسلم خاندان میں پیدا ہوا۔ گویا میراآبائی مذہب اسلام تھا۔ مگر جب میںسن شعور کو پہنچا تو میںنے اسلام کو چھوڑ دیا۔ میں ملحد بن گیا۔ اس کے بعد کئی برس تک میںسچائی کی تلاش میںادھر ادھر پھرتارہا۔ بہت سی کتابیں پڑھیں۔ اس طرح کئی برسوں کے تلاش ومطالعہ کے بعد میںنے شعوری طورپر از سر نو اسلام قبول کیا۔
غالباً ۱۹۴۹ میں میں نے اعظم گڑھ کی جامع مسجد میں ماسٹر عبد الحکیم انصاری کے سامنے کلمۂ شہادت ادا کیا۔ وہاں اور بھی کئی مسلمان موجود تھے۔ جب میںنے اشہد ان لا الہ الا اللّٰہ و اشہد ان محمداً عبدہ ورسولہ کہا تو بے اختیار میری آنکھوں سے آنسو بہہ رہے تھے۔ اس طرح میںایک نو مسلم ہوں۔ اسلام میری ڈسکوری ہے۔
یہ ایک لمبی گفتگو تھی۔ لوگ بے حد دلچسپی کے ساتھ اس کو سن رہے تھے۔ اس سلسلہ میںمیں نے کہا کہ کچھ نادان لوگ میرے بارے میں کہتے ہیں کہ میں اینٹی مسلم لابی کاایک آدمی ہوں۔ حتیٰ کہ بعض لوگوں نے میرے خلاف فتویٰ بھی دے دیا ہے۔ مگر اس قسم کی باتیں لغویت کی حد تک بے اصل ہیں۔
حقیقت یہ ہے کہ یہ میری نیچر کے خلاف ہے کہ میں صرف مصلحت کے لیے یا کسی کو خوش کرنے کے لیے کوئی بات کہوں یا کروں۔ فطر ی طورپر میرا یہ مزاج ہے کہ میں صرف وہی بات کہتاہوں جو عقلی اور منطقی طورپر مجھے درست نظرآئے۔حتیٰ کہ اگر مجھے ایک بات درست نظر آئے تو میںساری دنیا کو نظرانداز کرکے اس کا اعلان کروں گا۔ یہ میرے بس سے باہر ہے کہ کوئی بات صرف اس لیے کہوں کہ لوگ ایسا چاہتے ہیں۔ اس سلسلہ میںمیںنے کئی عملی مثالیں دیں۔
میںنے کہا کہ ۱۹۹۰ میںایران کے رہنماآیت اللہ خمینی نے سلمان رشدی کے قتل کا فتویٰ دیا تو دنیا بھر کے تمام مسلمان اس کی تائید کرنے لگے۔ اس وقت میںنے تنہا یہ اعلان کیا کہ یہ فتویٰ غلط ہے۔ اسلام کی تعلیم کے مطابق، ہمیں قلم کا جواب قلم سے دینا ہے۔ قلم کا جواب گولی سے دینا ایک غیر اسلامی بات ہے۔ یہ اسلام کی توہین ہے کہ اس کی طرف ایسا نظریہ منسوب کیا جائے۔
اسی طرح انڈیاکے تقریباً تمام ہندو کامن سول کوڈ کے حامی ہیں۔ مگر میں نے اس کے خلاف تفصیلی مقالہ لکھا اوراس کو ملک کے بہت سے اخبارات اور میگزین میں چھپوایا۔ اس کو کتاب کی صورت میں بھی مختلف زبانوںمیں چھپوایا۔ جلسوں میں اس موضوع پر تقریریں کیں۔
اسی طرح انڈیا کے تقریباً تمام ہندو حسّاسیت کی حد تک کنورژن کے خلاف ہیں۔ مگر میں نے ہندو مزاج کے خلاف کنورژن کے مسئلہ پر اخباروں میں بیانات دئے۔ ٹی وی پر اس کے خلاف کہا۔ جلسوں میںاس کے خلاف تقریر کی۔ کنورژن کی حمایت میںمیںنے ایک تفصیلی مقالہ لکھا جس کو دوسرے کئی میگزین کے علاوہ خودآر ایس ایس کے انگریزی میگزین پرجنا (Parajna) میں چھپوایا۔ ملاحظہ ہو پرجنا (Parajna) کا شمارہ اپریل۔جون، ۱۹۹۹۔
میں نے کہا کہ میںکسی ملکی یا غیر ملکی لابی کا ترجمان نہیں۔ البتہ میںسچائی کا ترجمان ہوں۔ میں عین اپنے مزاج کے مطابق، ہر بات کو دلائل و حقائق کی روشنی میں دیکھتا ہوں۔ اس کا علمی تجزیہ کرتا ہوں۔ ہر اعتبار سے اس کا بے لاگ جائزہ لیتا ہوں۔ اور پھر جو بات مجھے حق نظرآتی ہے اس کو لکھتا اور بولتا ہوں۔ اپنے ضمیر کے خلاف کسی کا حامی یا ترجمان بننا میرے لئے ممکن ہی نہیں۔
کیرلا ایک بے حد سرسبز اور خوبصورت علاقہ ہے۔ شانتی گری آشرم میں کیرلا کی تمام خصوصیات موجود ہیں۔ کیرلا کی اسی خوبصورتی کی بنا پر کہا جاتا ہے کہ کیرلا خدا کا اپنا ملک ہے:
Kerala is God's own country.
مگر ساحلی علاقہ ہونے کی وجہ سے یہاں کی فضا میں رطوبت(moisture) ہے۔ اس کی وجہ سے یہاں کے پھول میںگویا ایک کانٹا لگا ہوا ہے۔ یہی موجودہ دنیا کی تمام اچھی چیزوں کا حال ہے۔ کامل آرام یا کامل خوشی کسی کو اس دنیا میں نہیں مل سکتی ۔ کامل مسرت صرف آخرت ہی میں ممکن ہے۔
۲ مارچ ۱۹۹۹ کو صبح چار بجے کا وقت ہے۔ میںبستر سے اٹھ کر یہ سطریں لکھ رہا ہوں۔ میرے چاروں طرف کامل سناٹا چھایا ہوا ہے۔ بظاہر اس وسیع دنیا کے تمام لوگ اپنے بستروں پر سورہے ہیں۔ اتنے میں دور سے چڑیا کی آواز سنائی دی۔ میںنے سوچا کہ اس طرح ایک دن آئے گا جب کہ زمین پر بسنے والے تمام انسان اپنے گھروں میںسکون کی سانس لے رہے ہوں گے کہ اچانک خدا کی آواز آئے گی۔ قیامت کا زلزلہ پوری دنیا کو ہلا دے گا۔ لوگ پکار اٹھیں گے۔ یہ کیا ہوگیا، کیا نجات کی کوئی صورت ہے۔ مگر جب قیامت آجائے گی تو وہ دوبارہ واپس نہ ہوسکے گی۔ آج کے سرکش اس دن سراپا عجز کی تصویر دکھائی دیں گے۔ آج حقیقت کااعتراف نہ کرنے والے اس دن اعلان کے ساتھ حقیقت کااعتراف کریں گے۔ آج جو لوگ دوسروں کا احتساب لینے کے چیمپئن بنے ہوئے ہیں اس دن انہیں اپنے احتساب کے سوا اورکچھ بھی یا د نہ ہوگا۔ اس دن ہر آدمی مان رہاہوگا، مگر اب ماننے کا کیا فائدہ۔
۲۸ فروری کی شام کو آشرم میںکئی مسلم نوجوانوں سے ملاقات ہوئی۔ ان میں سے ایک مسٹر محی الدین خاں تھے۔ وہ ٹریونڈرم کے ایک اسکول میں استاد ہیں۔ انہوں نے میری کتاب خاتون اسلام انگریزی میں پڑھی ہے۔ انہوںنے اپنا تعارف کراتے ہوئے کہا کہ میں مارکسسٹ ہوں۔ میںنے پوچھا کہ سوویت یونین کے ٹوٹنے کے بعد بھی آپ مارکس کے نظریہ پر یقین رکھتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہاں۔ سوویت یونین میںجس چیز کا خاتمہ ہوا ہے وہ مارکسی آئیڈیا لوجی نہیںہے بلکہ روسی کمیونسٹ پارٹی کی غلط پالیسیاں ہیں۔ میں نے کہا کہ مگر ایک بات بالکل واضح ہے۔ وہ یہ کہ مارکس نے تاریخی ناگزیریت کانظریہ پیش کیا ۔ اس نے لکھا کہ خود تاریخ کے ناگزیر عمل کے نتیجہ میںایسا ہوگا کہ سرمایہ دارانہ نظام ٹوٹ جائے گا اور اس کی جگہ اشتراکی نظام قائم ہوگا۔ یہ سب خود ناگزیر تاریخی قانون کے تحت ہوگا۔ ایسی حالت میں کمیونسٹ فلسفہ کے تحت سرمایہ دارانہ نظام کو ٹوٹنا چاہئے تھا۔ مگربرعکس طورپر خود اشتراکی نظام ٹوٹ گیا۔ یہ واقعہ مارکس کے نظریہ کو غلط ثابت کر رہا ہے۔ انہوں نے اس کاکوئی جواب نہیں دیا۔ انہوں نے کہا کہ مجھے ذرا فلاں پروگرام میںجانا ہے۔ اس کے بعد وہ اپنے ساتھیوں کے ہمراہ چلے گئے۔ وہ اردو نہیں جانتے تھے۔ یہ گفتگو انگریزی زبان میں ہوئی۔
عام طورپر لوگوں کا حال یہ ہے کہ وہ اپنی محبوب شخصیتوں کو غلط نہ ماننے کے لیے بھول جاتے ہیں کہ اس طرح وہ شخصیتوں سے برتر ایک چیز—قانون فطرت کاانکار کررہے ہیں۔ یہی حال موجودہ زمانہ کے بعض مسلم مفکرین کے پرستاروں کا ہے۔ ان مسلم مفکرین کے نظریات مکمل طورپر فیل ہوگئے ۔ مثلاً ریلوے انجن پر قبضہ کرنے کے باوجود ٹرین کا اپنی سابقہ سمت پر چلتے رہنا۔ مگر ان شخصیتوں کے پرستار مختلف قسم کی بے اصل توجیہیں کرکے کوشش کرتے ہیں کہ ان کی محبوب شخصیت بدستور محفوظ رہے۔
یہاں بڑی تعداد میںلوگوں سے ملاقات ہوئی۔ ان میں زیادہ تر ہندو تھے۔ تا ہم ان میں مسلمان بھی قابل لحاظ تعدا د میں تھے۔ ہر گفتگو کے بعد میںنے محسوس کیا کہ لوگ عام طورپر ذہنی جمود میں مبتلا ہیں۔ اس کی مشترک وجہ یہ ہے کہ ہر ایک نے کسی نظریہ یا کسی شخصیت کو نوجوانی میںاپنایا۔ پھر وہ اس پر جم گیا۔ اب وہ نظر ثانی کے لیے تیار نہیں۔ اس طرح ہر ایک یہ یقین لئے ہوئے ہے کہ ’’میرا انتخاب درست تھا‘‘ مگر یہی یقین ہر ایک کے لیے زیادہ بہتر سچائی کو پانے میںرکاوٹ بن گیا۔
ایک نوجوان سردار سکھبیر سنگھ سے ملاقات ہوئی۔ وہ راجستھان کے رہنے والے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سکھ ازم اسلام کے زیادہ نزدیک ہے۔ کیوں کہ یہ کسی دیوی دیوتا، وغیرہ کی پوجا نہیںکرتے۔ یہ کسی دوسرے کے آگے سر نہیں جھکاتے۔ یہ دونوں اپنے دھارمک گرنتھ قرآن اور گرو گرنتھ صاحب کے حکم کے مطابق ہی کام کرتے ہیں۔ سکھ دھرم کے گرنتھ (گرو گرنتھ صاحب) میں صرف دھارمک پریچرس، مہاپرشوں اور صوفی سنتوں (ہندو اور مسلم) کے قول ہی دئے ہیں۔ یہ دونوں دھرم انسانیت کے بارے میں بات کرتے ہیں۔ سکھ گروؤں کے شاگردوں میںہندو اور مسلم دونوں تھے۔ سکھوں کے سب سے پوتر دھارمک استھان امرتسر کے ہر مِندَر صاحب کا سنگ بنیاد ایک مسلم پیر (پیر میاں میر) نے رکھا تھا۔
ایک صاحب جاپان سے آئے تھے۔ ان کا نام آنند کے نہاری تھا۔ ان سے میں نے کہا کہ جاپانی لوگ پیدائشی طور پر اسپریچول ہوتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ نسل ایسی نہیں ہے۔ اب امریکن کلچر تیزی سے نئی نسل میںپھیل رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جاپان اپنی ترقی کی پیک(peak) پر پہنچنے کے بعداب نیچے جارہا ہے، روحانی اور اقتصادی ہر اعتبار سے۔ لوگ مقصدیت کااحساس کھوتے جارہے ہیں۔ جاپان کی نئی نسل اپنی آئڈنٹیٹی کھوچکی ہے۔
کیرلا میں مائسچر کا سبب یہ ہے کہ یہاں کی زمین کا ایک تہائی حصہ گھنے جنگلوں سے ڈھکا ہوا ہے۔ ہر طرف سبزہ کی کثرت ہے، اس نے یہاں کی فضا کو مرطوب بنا دیا ہے۔
کیرلا کے لوگ (اور اسی طرح پورے جنوبی ہند کے لوگ) بے حد صفائی پسندہیں۔ صفائی ان کے کلچر میںشامل ہے۔ یہاںکے گھراور راستے بے حد صاف ہوتے ہیں۔ آپ اگر اچانک کسی گھر یاکسی بستی میںجائیں تو آپ اس کو ہمیشہ صاف ستھرا پائیں گے۔ وہ گھروں کے اندر جوتا پہننا پسند نہیں کرتے۔ چنانچہ گھر میں داخل ہونے سے پہلے جوتا اتار دیاجاتاہے۔ میںنے یہاں کی ایک مجلس میں اس کا ذکر کرـتے ہوئے پیغمبر اسلام کی یہ حدیث سنائی: الطہور شطر الایمان۔ اس کا ترجمہ میںنے اس طرح کیا:
Cleanliness is a part of religion.
لوگ اس حدیث کو سن کر بہت خوش ہوئے۔ ان کے چہرے سے ایسا محسوس ہوا جیسے وہ خوش ہو رہے ہوں کہ خدا بھی ان کی تائید کر رہاہے۔
یہاں صرف ایک چیز میرے ذوق کے خلاف تھی۔ وہ فضا میں مسلسل طورپر نمی (moisture) ہے۔ گھروں میں عام طور پر کارپٹ نہیں ہوتے۔ چکنا فرش ہوتا ہے۔ کیرلا کے لوگوں میں کچھ چیزیں پیدائشی طورپر ہیں۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ وہ لوگ ابھی تک اپنے نیچر پر ہیں۔ ایک بار میںنے دو آدمیوں کو تیز تیز بحث کرـتے ہوئے دیکھا۔ میرے ساتھی اس کو دیکھ کر ہنس رہے تھے۔ میںنے سبب پوچھا تو انہوں نے کہا کہ تھوڑا انتظار کیجئے۔ چنانچہ کچھ دیر کے بعد اپنے آپ ان کی بحث ختم ہوگئی۔ تیز بحث کے باوجود کسی نے دوسرے کے خلاف ہاتھ نہیں اٹھایا۔ کچھ دیر کے بعد دونوں آدمی نارمل ہوگئے اور دونوں اپنے اپنے راستہ پر آگے بڑھ گئے۔ دہلی میں ایسا ہو تو دونوں آدمی ایک دوسرے کے خلاف غرّاتے ہوئے جائیں گے۔ مگر یہاں دونوں اس طرح نارمل انداز سے چلے گئے جیسے کہ ان کے درمیان کچھ نہیں ہوا تھا۔
یہاں کے ٹیکسی ڈرائیور اور اسکوٹر ڈرائیور مشین کی طرح کام کرتے ہیں۔ وہ مسافر کو نہ ستاتے ہیں اور نہ زیادہ کرایہ لیتے ہیں۔ ایک بار کچھ لوگوں نے ایک اسکو ٹر ڈرائیور کو پکڑا۔ وہ مسافر کو پریشان کررہا تھا اور اس سے زیادہ رقم لیناچاہتا تھا۔ وہ اس کو کیرلا میں لے آیا۔ اس نے اسے ایک اسکوٹر پر بٹھایا اور کہا کہ اس کو لے کر فلاں جگہ چھوڑ دینا۔ وہ اسکوٹر والا اس کو لے گیا۔ ٹھیک مقام پر پہنچا کر ٹھیک مقرر نرخ کے مطابق، اس سے کرایہ لے کر اس کو اتار دیا۔ اس کے بعد مذکورہ اسکوٹر ڈرائیور کویہ فرق دیکھ کر سخت شرمندگی ہوئی۔ وہ بالکل بدل گیا۔
کیرلا کے مردوں اور عورتوں کو دیکھئے توایسا معلوم ہوتا ہے کہ وہ براہ راست فطرت کے کارخانے سے نکل کر چلے آرہے ہیں۔ معصومیت، دیانت داری، اطاعت شعاری، نرم گفتاری، تواضع، فرض شناسی، اپنے کام سے کام رکھنا، بحث و تکرار کے بغیر بات کو مان لینا۔ اس قسم کی صفات گویا ان کی شخصیت کا جزء ہیں۔ وہ پوری طرح خدا کی فطرت پر قائم ہیں۔مجھے کبھی کبھی خیال آتا ہے کہ آخرت میںخدا کی رحمت کو پانے کے لیے غالباً دو معیار ہوں گے۔ ایک اخلاقی اور دوسرے شرعی۔ اخلاقی معیار پیدائشی فطرت کے تابع ہے اور شرعی معیار وحی الٰہی کے تابع۔ جو لوگ خدا کی دی ہوئی فطرت پر قائم ہوں، جو معلوم احکام الٰہی سے انحراف نہ کریں وہ خدا کے غیر باغی بندے ہیں۔ اور جو لوگ وحی الٰہی کے ذریعہ ملی ہوئی ہدایت پر اخلاص کے ساتھ قائم ہوں وہ خدا کے مخصوص بندے ہیں۔ درجہ بدرجہ غالباً دونوں ہی خدا کی رحمت کے مستحق قرار پائیں گے۔
تاہم شمالی ہند کے لوگوں کا معاملہ اس سے بالکل مختلف ہے۔ یہاں ان لوگوں کے مزاج کوایک لفظ میں بیان کرنا ہو تو غالباً وہ سرکشی ہوگا۔ ان کے اندر سرکشی اور انانیت (arrogance) اتنا زیادہ ہے کہ ان کو دیکھ کر مجھے خیال آتا ہے کہ اس قسم کے لوگ تو شاید اخلاقی معیار ہی پر قابلِ رد قرار پا جائیں اور شرعی معیار کوان کے اوپر استعمال کرنے کی نوبت ہی نہ آئے۔ دونوں گروہوں کے فرق کواس دنیا میں دیکھا جاسکتا ہے۔ پہلی قسم کے لوگوں کو دیکھئے توان کے چہرے پر ایک معصومانہ حسن ہوگا اوردوسری قسم کے لوگوں کو دیکھئے تو ان کے چہرے پر ایک مغرورانہ بدصورتی دکھائی دے گی۔
مجھے ذاتی طورپر ایسے لوگوں سے سخت وحشت ہوتی ہے جن کے کلام میںمغرورانہ انداز پایا جاتا ہو۔ اس کے برعکس جن لوگوں کے کلام میں تواضع اور سادگی کا انداز ہو ان سے بات کرنا میرے لئے ہمیشہ خوشی کا باعث ہوتا ہے، خواہ وہ غریب اور جاہل ہی کیوں نہ ہوں۔ شمالی ہندکی سڑکوں پر چلتے ہوئے اکثر میںنے کار اور ٹرک کوسڑک کے کنارے الٹا پڑا ہوا دیکھا ہے۔ روڈ ایکسیڈنٹ وہاں روزانہ کی ایک بات ہے۔ مگر کیرلا کی سڑکوں پر شاید ہی ایسا منظر کبھی دکھائی دیتا ہو۔ یہاں کے لوگوں میں ڈسپلن ہے۔ وہ قانون شکنی سے بچتے ہیں۔ وہ دوسروں کی رعایت کرتے ہیں۔ وہ دوسروں کو راستہ دینے کے لیے خود پیچھے ہٹ جاتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ الیکشن کے زمانہ میں یہاں وہ توڑ پھوڑ اور ہنگامے نہیں ہوتے جو شمالی ہند میں الیکشن کے زمانے میں دیکھے جاتے ہیں۔ الیکشن کے موقع پر ہندو، مسلم، عیسائی اکثر متفقہ طورپر کسی نمائندے کے حق میںووٹ دیتے ہیں۔ حال میں الامۃ اورآئی ایس ایس کے کچھ شورش پسند نوجوانوں نے یہاں کے امن کو توڑنے کی کوشش کی مگر سماج کا تعاون نہ ملنے کی وجہ سے وہ کامیاب نہ ہوسکے۔
کیرلا کی ریاست خلیل جبران کے اس مقولہ کی ایک عملی مثال ہے کہ درخت کی اجازت کے بغیر اس کا ایک پتہ بھی زمین پر نہیںگرتا:
Not a single leave falls down without the silent consent of the tree.
کیرلا کے امن پسند سماج نے شورش پسند نوجوانوں کی حمایت نہ کی اس لئے وہ غبارہ کی طرح پھٹ کر رہ گئے۔ دوسرے مقام پر جہاں شورش پسند نوجوان تباہی پھیلانے میںکامیاب ہوئے اس کا سبب یہی تھا کہ وہاں کے سماج سے ان کو حمایت ملی۔
اس سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ کیا وجہ ہے کہ کچھ لوگوں کے غلط فعل پر سب لوگوں پر عذاب آتاہے۔ اس کی وجہ یہ ہوتی ہے کہ کچھ لوگ اگر اپنے غلط فعل کے براہ راست ذمہ دار ہوتے ہیں تو بقیہ لوگ اس کے بالواسطہ ذمہ دار۔ شورش زدہ مقام پر جب وہاں کا حاکم طبقہ جوابی کارروائی کرتا ہے تو وہاں کے لکھنے اور بولنے والے اجتماع کرتے ہیں کہ حکمراں طبقہ بے گناہ لوگوں کو اپنے ظلم کا نشانہ بنا رہا ہے۔ مگر یہ قانون فطرت کے مطابق ہے۔ یہ دراصل اس بات کی سزا ہے کہ وہاں کے عوام نے بالواسطہ انداز میں ان شورش پسندوں کا ساتھ دیا۔
یہاںایک سردار جی سے ملاقات ہوئی۔ انہوں نے اس قسم کے بعض مقامات کا نام لے کر کہا کہ دیکھئے، مغرب میںقائم شدہ انسانی حقوق کی تنظیموں نے بھی ان کی مذمت کی ہے۔ میں نے کہا کہ جو لوگ مغرب کی ان رپورٹوں کو لے کر تقریر یں کرتے ہیںوہ باتوں کو گہرائی کے ساتھ نہیں سمجھتے۔ مغرب میںقائم شدہ انسانی حقوق کے ادارے در اصل مغربی تہذیب کی برتری ثابت کرنے کے ادارے ہیں۔ ہمیں چاہئے کہ ہم حقیقت پسندی سے کام لیں اورایسے واقعات کو مغرب کی عینک سے دیکھنے کے بجائے قانون فطرت کی روشنی میں دیکھیں۔
ایک ہندو فیملی جو ارنا کولم سے یہاں آئی تھی۔ ۲ مارچ کی صبح کو واپس جاتے ہوئے وہ لوگ مجھ سے آخری ملاقات کے لیے میری قیام گاہ پر آئے۔ وہ بذریعہ کار واپس جا رہے تھے۔ آخری ملاقات میں میں نے کچھ نصیحت آمیز باتیں کہیں۔ ان میں سے ایک یہ تھی کہ خداکی مہربانی کے ساتھ واپس جائیے (With the grace of God) ۔ انہوںنے اس کو دہراتے ہوئے کہا: خدا کی مہربانی سے، گرو کی مہربانی سے۔
یہ ہندو عقیدہ کا خاص جزء ہے۔ وہ اپنے عقیدہ کے خدا اورگرو میںفرق نہیں کرتے۔ وہ گرو کو اس طرح مانتے ہیں جیسے کہ وہی ان کا خدا ہو۔ بد قسمتی سے بر صغیر ہند کے مسلمانوں میںیہی عقیدہ بدلے ہوئے الفاظ کے ساتھ آگیاہے۔ یہ لوگ بھی اپنے مفروضہ اکابر یا بزرگوں کو بڑائی کاعملاً وہی درجہ دئے ہوئے ہیں جو خدا کا درجہ ہے:یحبونہم کحب اللہ۔ ان مسلمانوں میںیہ غیر موحدانہ جذبہ اتنی گہرائی کے ساتھ سرایت کئے ہوئے ہے کہ اس کی اصلاح کرنا تو درکنار اس کے خلاف بولنے کی ہمت بھی کوئی مصلح نہیں کرپاتا۔ صرف سلفی لوگ اس کے خلاف کچھ بولتے ہیں۔ مگر سلفی لوگوں میںسب سے بڑی کمی یہ ہے کہ ان میں داعیانہ شفقت نہیں، ان کے مزاج میں مناظرانہ کٹر پن ہوتا ہے۔
اس غیر موحدانہ مزاج کی اصلاح میںوہ کامیاب نہ ہوسکے۔ غیر سلفی علماء عام طورپر اس عوامی مزاج سے مصالحت کئے ہوئے ہیں، شاید اس لئے کہ اگر وہ اس کے خلاف بولیں تو عوامی نمائندگی کا اسٹیج ان سے چھن جائے گا۔اس خاموشی کے پیچھے شاید یہ خوف چھپا ہوا ہے کہ یہ لوگ اگر اس غیرموحدانہ روش کے خلاف بولیں تو وہ عوام سے کٹ جائیںگے اور ان کو وہ فائدے نہ مل سکیں گے جوعوام کا نمائندہ (بالفاظ دیگر بھیڑ کا نمائندہ) سمجھے جانے کی بنا پر انہیں حاصل ہو رہے ہیں۔
اس کا تجربہ مجھے ذاتی طورپر ہوا۔ میرے کئی ہمدرد اکثر مجھ سے یہ کہتے رہے ہیں کہ فلاں بات نہ کہیئے ،ورنہ آپ عوام سے کٹ جائیں گے۔
اس معاملہ میں جماعت اسلامی کے لوگوں نے زبردست ہوشیاری کا ثبوت دیا ہے۔ کوئی ڈبل اسٹینڈرڈ ہوتا ہے، یہ لوگ ملٹی اسٹینڈرڈ ہیں۔اپنے لٹریچر کے اعتبار سے وہ ایک اصولی جماعت ہے۔ مگر وہ مسلمانوں کے ہر اس اسٹیج پر جا کر بیٹھ جاتے ہیں جونام نہاد ملی اشوز پر سجایا گیا ہو۔ ان کا نام نہاد پریس اس قسم کی ہر ملی سرگرمی کواپنے کالم میںجگہ دیتاہے۔ اس طرح وہ عوام سے نہ کٹنے کا زبردست اہتمام کررہے ہیں۔ مگرشاید انہیں یہ معلوم نہیںکہ دو کشتی کی اس سوار ی میں دونوں ہی حیثیت کو کھو دینا ہے۔ ملٹی اسٹینڈ رڈکی یہ پالیسی چونکہ محض ظاہری تھی اس لیے وہ مسلم عوام میںمقبولیت نہ پاسکے اور اپنی اصول پسندی کو تو وہ پہلے ہی کھو چکے تھے۔ اس طرح ان کی پوزیشن ’’نہ خدا ہی ملا نہ وصال صنم‘‘ جیسی ہوگئی۔ موجودہ جماعت اسلامی صرف اپنی اسٹیبلشمنٹ کی بنیاد پر قائم ہے، نہ کہ حقیقۃً اپنے اصولی موقف کی بنا پر۔
شانتی گری آشرم کا رقبہ ایک سو ایکڑ سے زیادہ ہے۔ یہاںتقریباً ایک ہزار آدمی رہتے ہیں۔ یہ لوگ یہاںکے مختلف شعبوں میںکام کرتے ہیں۔ اسپتال، اسکول گارڈن، ایگری کلچرل فارم، دواسازی، وغیرہ۔ان لوگوں کی کوئی تنخواہ مقرر نہیں۔ مگر ہر ایک نہایت خوش دکھائی دیتاہے۔ میںنے کچھ لوگوں سے پوچھا کہ آپ کا ماہانہ خرچ کس طرح چلتا ہے۔ سب کا ایک ہی جواب تھا۔ گروجی کے آشیرواد سے ،سب اچھی طرح ہو جاتاہے۔
۲ مارچ کوآشرم کا اسپتال دیکھا۔ یہاں آیورویدک اصول پر علاج ہوتا ہے۔ ایک آدمی ۴۷ سال کی عمر کا تھا۔ وہ سنگا پور کا شہری ہے۔ اس کا نام سیتا رام ہے۔ اس پر فالج کاحملہ ہوگیا ،وہ چل نہیں سکتا تھا۔یہاں کے دوماہ کے علاج کے بعد اب وہ چل پھر سکتا ہے۔ اس کو امید ہے کہ وہ جلد ہی سنگا پور واپس جا کر نارمل زندگی گزارے گا۔ سنگا پور اسپتال میں تقریباً ایک ماہ علاج کے لئے ۱۰ ہزار ڈالر خرچ کرنے کے باوجود اس کو کوئی فائدہ نہیں ہوا تھا۔ یہاں بہت سستے علاج میںاس کو فائدہ ہوگیا۔
۲ مارچ کومیں آشرم میںشام کو ٹہل رہا تھا۔ ایک صاحب آئے اور السلام علیکم کہا۔ انہوں نے اپنا نام ایم سلیمان بتایا۔ میںنے پوچھا کہ کیا آپ مجھ کو جانتے ہیں۔ انہوں نے کہا۔ یہاں بہت سے لوگ آپ کو جانتے ہیں۔ اس زمانہ میں کمیونی کیشن کی ترقی نے کتنا فرق پیدا کردیا ہے۔
یکم مارچ کوہولی کا دن تھا۔ اخبار سے معلوم ہواکہ فاروق عبداللہ نے ہولی کھیلی۔ مگر آشرم کے پورے علاقے میں زندگی بالکل نارمل تھی۔ یہاں ہولی کا کوئی نشان نہ تھا۔ شانتی گری آشرم کے گروجی ہندو دھرم پر کھلی تنقید کرتے ہیں۔ وہ ہندو شخصیتوں، کرشن اور رام وغیرہ کا نام لے کر ان پر تنقید کرتے ہیں۔ اس کے باوجود ہزاروں ہندو ان کے زبردست معتقد ہیں۔ ہندو ازم عجیب وغریب مذہب ہے۔
گروجی کے فلسفہ کا خلاصہ یہ ہے: فلکیاتی نظام اور انسان کے تعامل (interaction) سے شخصیتیں بنتی ہیں۔ رام کرشن اور مننو وغیرہ چھٹے آسمان تک پہنچے۔ محمدنبی ساتویں آسمان تک پہنچے۔ مگر اس کے صرف تین ماہ بعد وہ مرگئے۔ اس لئے وہ آگے نہ جاسکے، وغیرہ۔ میںنے پوچھا کہ ان باتوں کا ماخذ کیا ہے۔ مجھے بتایاگیا کہ ان باتوں کا ماخذ کوئی کتاب نہیں ہے بلکہ روحانی فقیر ان کو انسپریشن (inspiration) کے ذریعہ معلوم کرتے ہیں۔ ’’محمد نبی آگے نہ بڑھ سکے‘‘ یہ سب speculation ہے۔ اس کی تاریخی یا سائنٹفک بنیاد نہیں ہے۔
صوفیوں نے بھی اسی طرح قیاس کے ذریعہ بے بنیاد باتیں کہی ہیں۔ گروجی کاکہنا ہے کہ آٹھویں آسمان کے اوپر اور بہت سے آسمان ہیں۔ میںنے سوال کیا کہ گروجی اپنے بارے میں کیا کہتے ہیں۔ ان کے ایک شاگرد(disciple) نے جواب دیا کہ گروجی کو خدا نے بہت کچھ دکھایا ہے۔ انہوں نے اس کو لوگوں کو بتایا۔گروجی کا کہنا ہے کہ انسانی دنیااور فلکیاتی دنیا ایک دوسرے پر منحصر ہیں۔ دونوں ایک دوسرے پر اثر انداز ہوتے ہیں۔
آشرم سے واپسی میں ہم لوگ ڈاکٹر گوپی ناتھ کے مکان میں تھوڑی دیر کے لئے ٹھہرے۔ اس وقت میری آنکھوں سے مسلسل آنسو جاری تھے۔ کئی لوگ وہاں موجود تھے۔ لوگ چاہتے تھے کہ میںکچھ کہوں۔ مگر میں جذبات سے اتنازیادہ مغلوب تھا کہ میںکچھ نہ بول سکا۔ میں سوچ رہا تھا کہ موجودہ زمانہ اتنا زیادہ مختلف زمانہ ہے کہ آج شاید ایک شخص صرف ’مہدی‘‘ بن سکتا ہے وہ ’’ہادی‘‘ نہیں بن سکتا۔ میرے دل میںانسانیت کی تڑپ طوفان بن کر ہلچل برپا کئے ہوئے تھی۔ مگر سمجھ میں نہیں آتا کہ آج کے انسان کو کس طرح خدا سے ملایا جائے۔ آج کے انسان کو کس طرح خدا کا پیغام پہنچایا جائے۔
موجودہ زمانہ میںغیر مسلم تو کیا، مسلمان بھی سچائی سے آخری حد تک دو رہیں۔ ہر آدمی مادیات میں گم ہے۔ ربانیات کی نہ کسی کو معرفت ہے اور نہ کسی کو سننے کی فرصت۔
ڈاکٹر گوپی ناتھ نے اپنے گھر میںایک میز پر طرح طرح کے کھانے کی چیزیں اور مشروب رکھے مگر میں نہ کھا سکا اورنہ کچھ پی سکا۔ میری آنکھوں سے مسلسل آنسو بہہ رہا تھا۔ میں سوچ رہا تھا کہ کاش میرے پاس طاقت ہوتی اور میں انسانوں کے اجتماع میں داخل ہو کر امریکی سائنس داں کی طرح مائک چھین لیتا اور چلّا کر کہتا کہ :
Stop everything, I want to inform you the law of universe.
وہ لوگ بھی کیسے عجیب ہوں گے جوہادی بننے کے دعویدار ہوں حالانکہ وہ مہدی بھی نہ ہوں۔ جو معلم بنے ہوئے ہوں حالانکہ وہ متعلم بھی نہ ہوں۔ جو اپنے کو پانے والے کے روپ میں ظاہر کرتے ہوں حالانکہ وہ ڈھونڈنے والے بھی نہ ہوں۔ جو خدا کو جاننے کے دعویدار ہوںحالانکہ انہوں نے اپنے آپ کو بھی نہ جانا ہو۔
آشرم سے ٹریونڈرم ائر پورٹ آتے ہوئے ایک صاحب نے کہا: یہاں ٹریفککا نظام بہت اچھا ہے۔
Here the traffic is well-disciplined.
دہلی سے بالکل مختلف، جہاں کی سڑکوں پر چلتے ہوئے یہ محسوس ہوتا ہے گویا یہاں ٹریفک کاکوئی قانون نہیں۔
راستہ میں کاجو کے باغات تھے۔ کیرلا میں نقدی اجناس (cash corps)کثرت سے ہیں۔ یہ قدرتی اعتبار سے ایک دولت مند ریاست ہے۔ مگر اس کی نسبت سے بڑی صنعتیں یہاںکم ہیں۔
۲ مارچ کی سہ پہر کو آشرم سے چل کر ٹریونڈرم ائر پورٹ پہنچا۔ تعمیری اعتبار سے ایک معمولی قسم کا ائر پورٹ نظر آیا۔ ہندستان ایک دولت مند ملک ہے۔ مگر اس کی دولت چند خاندانوں میںسمٹی ہوئی ہے۔ نام نہاد سوشلسٹ نظام نے دولت کے اس سمٹاؤ میں صرف اضافہ کیا ہے۔ کیسا عجیب ہے یہ واقعہ۔ جان ماتھن (John Mathan) شانتی گری آشرم میںاول سے آخر تک میرے ساتھ رہے۔ وہ میرے مددگار تھے مگر ان سے میں نے بہت کچھ سیکھا۔
ایک صاحب جو اس موقع پر یہاں آئے تھے اور اب واپس جارہے تھے، ان سے میں نے پوچھا کہ اتنے لوگ جو یہاں آئے ہیں ان کا مشترک سبب کیا ہے۔ انہوں نے کہا frustration ۔
ایک صاحب نے بتایا کہ مجھ پر جن سوار تھا۔ وہ اس مقصد کے لیے یہاں آئے۔ وہ آدمی جرمنی میںتھا۔ اس کا بھائی جرمنی آیا، اس کے اوپر جن سوار تھا۔ بھائی وہاں آیا اورگرو سے کہا۔ گرو نے یہیں سے دھیان کرکے جن کو ہٹا دیا۔
میرا خیال ہے کہ ہندو گرو اور مسلمان بزرگ دونوں کے یہاں جو بھیڑ ہوتی ہے اُس کا سبب مشترک طورپر ’’برکت‘‘ کا پر اسرار تصور ہے۔ لوگ سمجھتے ہیں کہ بزرگ یا گرو کی برکت سے میرا فلاں مسئلہ حل ہوجائے گا۔بہت سے لوگ بتاتے ہیں کہ ان کا مسئلہ حل ہوگیا۔ ایسا واقعہ ہمیشہ اتفاقی ہوتا ہے۔ یعنی ایک ہونے والے واقعہ کو غلط طورپر کسی گرو یا بزرگ سے منسوب کردینا۔ یہ عین وہی چیز ہے جس کو سائنس میں لا آف چانس کہا جاتا ہے۔
ٹریونڈرم سے انڈین ائر لائنز کی فلائٹ کے ذریعہ ٹریونڈرم سے بمبئی کے لئے ساڑھے چار بجے روانگی ہوئی۔ جہاز جب بلند ہو کر فضا میں اڑنے لگا تو مجھے ایک عجیب خیال آیا۔ جہاز زمین پر کھڑا ہو تو وہ کھڑا رہ سکتا ہے۔ مگر جب اڑ رہا ہو تو اس کو مسلسل حرکت میں اڑتے رہنا ہے۔ وہ سفر کے دوران کہیں مقام نہیں کرسکتا۔ یہ زمینی سفر اور فضائی سفر کے درمیان فرق کا معاملہ ہے۔
یہی معاملہ زندگی کے سفر کا بھی ہے۔ زندگی کے سفر میں آپ ٹھہر نہیں سکتے۔ اگر ٹھہرے تو اس
کے بعدجو چیز آپ کے حصہ میںآئے گی وہ سفر کو کھونا ہوگا،نہ کہ سفر کا جاری رہنا۔
واپس اوپر جائیں