Pages

Monday, 1 September 2003

Al Risala | September 2003 (الرسالہ،ستمبر)

2

- ڈی کنڈیشننگ

3

- اقامت دین

7

- رسولؐ اللہ کا پیغامِ امن

10

- اسلامک تھنک ٹینک

13

- ایک ملاقات

18

- سوال وجواب

33

- سہ ماہی السّلام (نئی دہلی) کے سوال نامہ کا جواب

33

- ایک خط

35

- ایک خط

38

- خبر نامہ اسلامی مرکز ۱۵۹


ڈی کنڈیشننگ

پیاز کے اوپر ایک کے بعد ایک پرت ہوتی ہے۔ اگر ان پرتوں کو ہٹائیں تو ہٹاتے ہٹاتے اس کا آخری حصہ آجائے گا جو پیاز کا داخلی مغز ہے۔ یہی معاملہ انسان کا بھی ہے۔ انسان جب پیدا ہوتا ہے تو وہ فطرت صحیح پر ہوتا ہے۔ اس کے بعد ماحول کے اثر سے اس کے اوپر خارجی افکار چھانے لگتے ہیں۔ یہاں تک کہ آدمی کی داخلی فطری شخصیت بالکل ڈھک جاتی ہے۔ یہاں پہنچ کر آدمی متعصبانہ طرزفکر کا کیس بن جاتا ہے۔ اس کے بعد آدمی اپنی ساری عمر انہی تعصبات کے تحت سوچتارہتا ہے اور آخرکار مر جاتا ہے۔ اسی لیے کہا گیا ہے کہ من شبّ علی شیٔ شاب علیہ (آدمی جس چیز پر جو ان ہوتا ہے اسی پر وہ بوڑھا ہوتا ہے)
یہ صورت حال ہر آدمی کومطابق واقعہ سوچ (as it is thinking) سے محروم کردیتی ہے۔ اس کا علاج صرف ایک ہے۔ ہر آدمی پختہ عمر کو پہنچنے کے بعد گہرائی کے ساتھ اپنا جائزہ لے۔وہ اپنی کنڈیشننگ کی دوبارہ ڈی کنڈیشننگ کرے۔ وہ اپنی شخصیت پر چڑھی ہوئی اوپری پرتوں کو ہٹائے، یہاں تک کہ اس کی اصل فکری شخصیت اس طرح کھل جائے کہ وہ تعصبا ت سے پاک ہو کر سوچنے لگے۔ یہ اپنی مصنوعی شخصیت کو دوبارہ حقیقی شخصیت بنانے کا عمل ہے جو ہر شخص کی ایک لازمی ضرورت ہے۔
اپنی کنڈیشننگ کی ڈی کنڈیشننگ کرنے کا یہ عمل بے حد مشکل کام ہے۔ اس میں آدمی کو خود اپنے خلاف ایک ذہنی محنت (intellectual labour) کرنا پڑتا ہے۔ اس میں آدمی کو اپنی مانوس اور محبوب سوچ کو ذبح کرنا پڑتا ہے۔ اس میں آدمی کو خود اپنے آپ پر بلڈوزر چلانا پڑـتا ہے۔ تاہم یہی واحد عمل ہے جو آدمی کو متعصبانہ یا غیر حقیقت پسندانہ طرز فکر سے پاک کرنے کے لیے ضروری ہے۔ یہ عمل گویا اپنافکری آپریشن کرنے کا عمل ہے۔ یہ بلا شبہہ ایک مشکل ترین کام ہے۔ مگر اس کام کے بغیرکوئی بھی شخص بے آمیز سوچ کا مالک نہیں بن سکتا۔ اس معاملہ میںکوئی بھی دوسری چیز فکری تطہیرکا بدل نہیں۔
واپس اوپر جائیں

اقامت دین

قرآن کی سورہ نمبر ۴۲ کی ایک آیت کا ترجمہ یہ ہے : اللہ نے تمہارے لئے وہی دین مقرر کیا ہے جس کا اس نے نوح کو حکم دیا تھا اور جس کی وحی ہم نے تمہاری طرف کی ہے اور جس کا حکم ہم نے ابراہیم او رموسیٰ کو اور عیسیٰ کو دیا تھا کہ دین قائم رکھو اور اس میں اختلاف نہ ڈالو(الشوریٰ ۱۳) ایک طرف قرآن میں یہ آیت ہے اور دوسری طرف قرآن میںایک اور آیت ہے، اس کا ترجمہ یہ ہے: ہم نے تم میں سے ہر ایک کے لیے ایک شریعت اور ایک منہاج ٹھہرایا (المائدہ ۴۸)
قرآن کی ان دونوں آیتوں پر غور کیجئے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ خدا نے انسان کے لیے پیغمبروں کے ذریعہ مختلف زمانوں میں جو الہامی ہدایت بھیجی ہے اس کے دو حصے ہیں ۔ایک حصّہ کو قرآن میںالدین کہا گیا ہے اور اس کے دوسرے حصّہ کو شریعت اور منہاج کہا گیا ہے۔ قرآن کے بیان سے معلوم ہوتا ہے کہ الدین خدائی ہدایت کا غیر مختلف اور مشترک حصہ ہے۔ مگر جہاں تک شریعت اور منہاج کا تعلق ہے، اس میں ایک پیغمبر کی تعلیم اور دوسرے پیغمبر کی تعلیم کے درمیان ثابت شدہ طورپر فرق پایا جاتا ہے۔
الدین کیا ہے۔ الدین سے مراد خدائی ہدایت کا وہ ابدی حصہ ہے جو ہر حال میں اور ہر شخص سے یکساں طورپر مطلوب ہے ۔اس سے مراد ہے—توحید، اخلاص، فکر آخرت، ذکر و عبادت، حسن اخلاق، انسان سے خیر خواہی اور دعوت الی اللہ، وغیرہ۔ یہ وہ چیزیں ہیں جو اہل ایمان سے ہمیشہ مطلوب ہوتی ہیں، خواہ اہل ایمان تھوڑے ہوں یا زیادہ۔ امیر ہوں یا غریب، بے اقتدار ہوں یا بااقتدار، سفر میں ہوں یا حضر میں، مسلم ملک میں ہوں یا غیر مسلم ملک میں، کسی بھی صورت حال میں یہ چیزیں اہل ایمان سے ساقط نہیں ہوتیں۔
اس کے برعکس شریعت اور منہاج کا معاملہ اس سے مختلف ہے۔ شریعت سے مراد قانون اور منہاج سے مراد طریقِ کارہے۔ ان دونوں چیزوں کا تعلق تمام تر حالات سے ہے۔ کیوں کہ مختلف پیغمبروں کے حالات ایک دوسرے سے الگ تھے۔ اس لئے انہیں الگ الگ شریعت اور منہاج دیے گیے۔ اسی طرح خود امت مسلمہ کے حالات ہمیشہ یکساں نہیں رہ سکتے۔ اس لیے اس امت کے لیے بھی مختلف حالات کے اعتبار سے اس کی وہ ذمّہ داریاں مختلف ہوں گی جو شریعت اور منہاج کی نسبت سے اس سے مطلوب ہیں۔
مثلاً امت مسلمہ کا کوئی گروہ بے اقتدار ہو تو اس پر صرف دین کے مذکورہ بنیادی تقاضے ہی فرض ہوں گے۔ قانون اور حدود شرعی کا نفاذ اس وقت اس سے مطلوب نہ ہوگا۔اسی طرح اگر امت پر کھلی جارحیت کی جائے اور اعراض کی تدبیریں ناکام ہوجائیں تو اس وقت بشرط استطاعت دفاع اس پر فرض ہوجائے گا۔ لیکن اگر حالات معتدل ہوں تو اس سے یہ مطلوب ہوگا کہ وہ پر امن طریقِ کا ر کے دائرہ میں رہتے ہوئے اپنا کام کرے۔
کچھ لوگوں نے قرآن کی سیاسی تفسیر کرکے یہ نظریہ بنایا کہ اسلام ایک مکمّل نظام ہے اور اہل ایمان پر فرض ہے کہ وہ اس کے مختلف حصوں میں فرق نہ کرتے ہوئے اس کے سارے احکام کو بہ تمام وکمال زمین پر نافذ کریں۔ ان لوگوں کو اپنے اس خود ساختہ ’’انقلابی‘‘ نظریہ کے لیے قرآن میںکوئی آیت نہیںملی۔اس کے بعد انہوں نے یہ کیا کہ لفظی مناسبت کا سہارا لے کر سورہ الشوریٰ کی مذکورہ آیت کو لے لیا اور اس کے حوالہ سے یہ دعویٰ کرنے لگے کہ اس آیت میںاقامت دین سے مراد اقامت نظام ہے۔ اقیمواالدین کا مطلب یہ ہے کہ دین کے تمام احکام کو مکمّل طورپر زمین کے اوپرنافذ کیا جائے۔
یہ بلاشبہہ غیر سنجیدگی کی حد تک ایک غیر علمی بات ہے۔ جب یہاں دینِ مشترک کی اقامت کا ذکر ہے تو سارے دینی احکام کو اس آیت کے حکم میں شامل نہیں کیا جاسکتا۔کیوں کہ جیسا کہ عرض کیا گیا، شریعت اور منہاج کا دینی حصہ تمام انبیاء کے یہاں یکساں نہیںہے(تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو، دین وشریعت)
اس معاملہ میں ان سیاسی مفسرین کا طریقہ یہ ہوتا ہے کہ وہ یہ کرتے ہیں کہ وہ دین کو جزئی اور کلّی حصوں میں تقسیم کرتے ہیں اور پھر کہتے ہیں کہ اگر اقامت دین میں سارے دینی احکام کانفاذ مراد نہ لیا جائے تو یہ صرف جزئی احکام کی اطاعت کے ہم معنٰی ہوگا جب کہ مطلوب یہ ہے کہ کلّی احکام کی اطاعت کی جائے۔
مگر جزئی اور کلّی کی یہ تقسیم صرف ایک مغالطہ کی حیثیت رکھتی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ یہاں جو تقسیم مراد ہے وہ مطلق اور مشروط کی ہے۔ یعنی مذکورہ آیت میں الدین سے مراد دین کا وہ حصہ ہے جو مطلق طورپر مطلوب ہوتا ہے اور شریعت اور منہاج سے مراد دین کا وہ حصہ ہے جو حالات کی نسبت سے مطلوب ہوتا ہے۔
اس سیاسی تفسیرکے بعض حامی یہ کرتے ہیں کہ وہ غیر متعلق مثالوں سے اپنی بات ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں حالاں کہ تمام اہل علم جانتے ہیں کہ فرضی مثالوں سے کوئی بات ثابت نہیںہوتی۔ اسی لیے کہا گیا ہے کہ:
Analogy is the weakest form of argument.
مثلاً اقامت کا لفظ لے کر وہ کہتے ہیں کہ اگر خیمہ گرا ہوا ہے تو اسے کھڑا کیا جائے گا اور اگر کھڑا ہے تو کھڑا رکھا جائے گا۔ اگر آندھی آرہی ہے تو اس کی ہر طرح سے حفاظت کی جائے گی کہ خیمہ گر نہ جائے ۔ اس کے کھونٹے خوب اچھی طرح مضبوط کردیے جائیں گے، اس کی رسیاں خوب کس دی جائیں گی۔ کوئی رسی کمزور ہو تو اس کو بدل دیا جائے گا۔ ایسا بھی ہوسکتاہے کہ جھکّڑ بہت زور دار آرہا ہو تو لوگ خیمے کی طنابیںاور بانس پکڑ کر کھڑے رہیں۔ یہ سارے کام اس لیے ہیں کہ خیمے کو کھڑا رکھنا ہے۔ اور اگر وہ گر جائے تو لا محالہ اب اس کو از سر نو کھڑا کرنا ہوگا۔
یہ مثال مکمّل طورپر ایک غیر متعلق (irrelevant) مثال ہے۔ الدین خیمہ کی طرح کوئی خارجی ڈھانچہ نہیں۔ الدین مکمّل طورپر داخلی ربّانی صفات سے تعلق رکھتاہے۔ یہ الدین کی تصغیر ہے کہ اس کو خیمہ جیسی چیز کے مشابہ قرار دیا جائے۔
الدین کی اقامت کا مطلب کسی خارجی خیمہ کو کھڑا کرنا نہیں ہے بلکہ خود اپنے آپ کو اللہ کے اوپر کھڑا کرنا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ آدمی اس طرح خدا کی معرفت حاصل کرے کہ اس کے احساس سے اس کا دل دہل اٹھے، اس کی سوچ کامل طورپر خدا رخی سوچ بن جائے، آخرت کا تصوراس کی نظر میںدنیا کو بے وقعت بنادے، خداکی یاد اورخدا کی عبادت اس کی روح کی غذا بن جائے، اس کا اخلاق پوری طرح تواضع میں ڈھل جائے، وہ یک طرفہ طورپر سارے انسانوں کی خیر خواہی کرنے لگے، جنت اور جہنم کا یقین اس پر اتنا چھا جائے کہ وہ اس کا تحمّل نہ کرسکے کہ وہ لوگوں کو ان اخروی حقیقتوں سے آگاہ نہ کرے۔ حقیقت یہ ہے کہ الدین کی اقامت شخصیتِ انسانی کو اللہ کے رنگ میں رنگنا ہے، نہ کہ خارجی دنیا میں رسّی اور کپڑے کا کوئی خیمہ کھڑا کرنا۔
ان حضرات کا کہنا ہے کہ دین صرف عقائد و عبادات کا نام نہیں۔ دین میں ہر قسم کے اجتماعی اور سیاسی اور معاشی اور عدالتی احکام شامل ہیں۔ دین ایک مکمّل نظام زندگی کا نام ہے۔ اس لیے ان سارے ہی احکام کو اقامت دین میں شامل کرنا ہوگا۔ مگر یہ ایک غیر علمی بات ہے۔ یہاں مسئلہ یہ نہیں ہے کہ دین کے کیا کیا اجزاء ہیں اور دین کا لفظ قرآن میں کن کن معنوں میں آیا ہے۔ بلکہ اُصولی اعتبار سے صرف یہ دیکھا جائے گا کہ سورہ الشوریٰ کی مذکورہ آیت میں سیاق و سباق کے اعتبارسے الدین کا مفہوم کیا ہے۔
مذکورہ نام نہاد جامع تفسیر کی غلطی اسی سے ثابت ہے کہ قرآن میں دین جزاء کے معنٰی میں بھی آیا ہے(مالک یوم الدین)۔ اگر مذکورہ قسم کی جامع تفسیر کو درست مانا جائے تو اُس میں یہ بھی شامل کرنا پڑے گا کہ اہل ایمان یوم الدین کو قائم کریں اور لوگوں کو اُن کے عمل کے مطابق، جزاء و سزا دیں۔ ظاہر ہے کہ اقامتِ دین میں اقامتِ یوم الدین کے مفہوم کو شامل کرنا لغویت کی حد تک بے معنٰی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ قرآن کے تمام مفسرین نے بلا استثناء سورہ الشوریٰ کی آیت میںاقامتِ دین کا وہی مفہوم لیا ہے جس کا اوپر ذکر کیا گیا۔ موجودہ زمانہ کے نام نہاد سیاسی مفسرین کے سوا کوئی ایک بھی مفسر ایسا نہیں جس نے یہ لکھا ہو کہ قرآن کی مذکورہ آیت کا مطلب یہ ہے کہ اسلام کو مکمل نظام زندگی کی حیثیت سے نافذ کیا جائے۔ یہ ایک مبتدعانہ تفسیر ہے جو بلا شبہہ قابلِ رد ہے۔ (تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو ،تعبیر کی غلطی)۔
واپس اوپر جائیں

رسولؐ اللہ کا پیغامِ امن

قرآن میں بتایا گیا ہے کہ ہر پیغمبر نے اپنی قوم کی لسان (ابراہیم ۴) میں کلام کیا ۔ مشہور صحابی عبداللہ بن مسعود نے کہا :کلم الناس علی قدر عقولہم (لوگوں سے ان کے عقلی درجہ کے مطابق بات کرو)۔ اس بات کو دوسرے لفظوں میں اس طرح کہا جاسکتاہے کہ داعی کا کلام ایسا ہونا چاہئے جو مدعو کے ذہن کو ایڈرس (address) کرے۔ جس میں مدعو اپنے سوالات کا جواب پارہا ہو۔ ایسا کلام جو داعی کے خود اپنے ذہن کی نمائندگی کرے ، اس میں مدعو کے ذہن کی رعایت نہ ہو، داعیانہ کلام نہیں ہے۔ اس معاملہ کی وضاحت کے لیے یہاں ایک سادہ مثال درج کی جاتی ہے۔
کئی سال پہلے کی بات ہے۔ میں مسلمانوں کے ایک جلسہ میں ان کی دعوت پر شریک ہوا۔ اس کا موضوع سیرت رسول تھا۔ میں نے وہاں سیرت کے موضوع پر کسی قدرتفصیلی تقریر کی۔ تقریر کے بعد ایک باریش بزرگ مجھ سے ملے۔ انہوں نے کہا کہ سیرت پر تو آپ کچھ بولے نہیں۔ میںنے تعجب کے ساتھ جواب دیاکہ میری ساری تقریر تو سیرت ہی پر تھی۔ میں نے اپنی تقریر میں صرف رسول اللہﷺ کے اقوال اور آپ کے واقعات بیان کئے، یہی تو سیرت ہے۔ انہوں نے کہا کہ نہیں۔ آپ کو معجزات اور کرامات اور فضائل اور فتوحات جیسی چیزیں بیان کرنا چاہئے۔
اپنے اس تجربہ سے میں نے ایک بہت بڑی حقیقت دریافت کی۔ میں اکثر سوچتا تھا کہ ہزاروں کی تعداد میں سیرت کے جلسے ہو رہے ہیں مگر لقد کان لکم فی رسول اللہ اسوۃ حسنۃ ( الأحزاب ۲۱) کے معیار پر جانچا جائے تو معلوم ہوگا کہ اس پہلو سے سیرت کے جلسوں کا کوئی فائدہ نہیں ۔ اس قرآنی آیت کے مطابق، سیرت کی تقریروں کا یہ فائدہ ہونا چاہئے کہ لوگ رسول کے اسوہ کو جانیں اور اُس کو اپنی زندگی میںاختیار کریں۔مگرمیں نے اب تک ایساکوئی شخص نہیں دیکھا جو یہ کہے کہ اس نے ان جلسوں سے اسوۂ رسول کا سبق پایا ہے اور اس کو اپنی زندگی میں اپنا لیا ہے۔ ان جلسوں میں بس مخصوص روایتی ذہن کے مسلمان شریک ہوتے ہیں اور ان سے فخر کی غذا لے کر اپنے گھروں کو واپس ہو جاتے ہیں۔ جب کہ سیرت کے جلسوں کا مقصد یہ ہے کہ لوگ ان سے اسوہ اخذ کریں ،نہ کہ فخر۔ظاہر ہے کہ جب سیرت کی تقریروں میں فخر کی غذا دی جارہی ہو تو لوگ اُن سے فخر ہی لیں گے، نہ کہ اُسوہ۔ کیوں کہ اُنہیں اُسوہ کی خوراک تو دی ہی نہیں گئی۔
موجودہ انسان جن خیالات میں جیتا ہے وہ مذکورہ ذہن سے بالکل مختلف ہے۔ آج کا تعلیم یافتہ انسان یہ جاننا چاہتا ہے کہ موجودہ حالات میں پیغمبر اسلام کا ریلیوینس (relevance) کیا ہے۔ آج کے مسائل کے بارے میں اسلام کیا رہنمائی دیتا ہے۔ مثلاً آج تمام سوچنے والے ذہن تشدد کے مسئلہ سے پریشان ہیں۔ جنگ اور امن کاموضوع آج کا سب سے بڑا فکری چیلنج بنا ہواہے۔ ایسی حالت میں لوگ جاننا چاہتے ہیں کہ اس معاملہ میںپیغمبر اسلام کی زندگی سے کیا رہنمائی ملتی ہے۔ مگر مذکورہ قسم کی تقریروں میں اس کا کوئی جواب نہیں۔اس پہلو سے یہاں میں چند باتیں عرض کروں گا۔
اہل علم امن کی تعریف عدم جنگ (absence of war) کے الفاظ میں کرتے ہیں۔ یہ تعریف خالص فنّی اعتبار سے درست ہوسکتی ہے مگر وہ آج کے انسان کو بہت زیادہ اپیل نہیں کرتی۔ آج کے انسان کے نزدیک اس قسم کا امن صرف ایک انفعالی امن (passive peace) ہے۔ امن کی اس تعریف میں اس سوال کا جواب نہیںہے کہ تشدد کے بغیر اپنے مسائل کا حل کس طرح نکالا جائے۔ اس اعتبار سے یہ انسان کے لیے پیغمبر اسلام کی بہت بڑی دین ہے۔ انہوں نے ربّانی ہدایت کے تحت یہ کیا کہ انفعالی امن کو فعّال امن (active peace) میں تبدیل کردیا۔اُنہوں نے امن برائے امن کے اصول کو امن برائے عمل کے اصول کی حیثیت دے دی۔ دوسرے لفظوں میں یہ کہ اُنہوں نے امن کو ایک وقفۂ تعمیر (constructive interlude)کے طورپر استعمال کرنا سکھایا:
The policy of the Prophet in bilateral matters was based on the principle of buying time.
پیغمبر اسلام نے ربّانی ہدایت کے تحت یہ دریافت کیا کہ جنگ اور ٹکراؤ کا سب سے بڑا نقصان یہ ہے کہ کام کے مواقع یکسر ختم ہوجاتے ہیں۔ اس کے مقابلہ میں امن سے کام کے تمام مواقع کھلتے ہیں۔ چنانچہ انہوں نے یہ فارمولا دیا کہ یکطرفہ تحمل کے ذریعہ جنگ سے اوائڈ کرو اور امن کی حالت میں پیدا ہونے والے مواقع کو اپنی تعمیر اور استحکام کے لیے استعمال کرو۔
پیغمبر اسلام کی پوری زندگی اسی اعلیٰ حکمت کی مثال ہے۔ مکہ کے ابتدائی زمانہ میں کعبہ (بیت اللہ) میں ۳۶۰ بت رکھے ہوئے تھے۔ پیغمبر اسلام نے بت کے سوال پر عملی ٹکراؤ سے بچتے ہوئے پرامن انداز میں دعوت توحید کا کام شروع کردیا۔ مکہ کے آخری زمانہ میں جب کہ وہاں کے سردار آپ کو قتل کرنے کے درپے ہوگئے تب بھی آپ نے اُن سے ٹکراؤ نہیں کیا بلکہ خاموشی کے ساتھ مکہ کو چھوڑ کر مدینہ چلے گئے اور وہاں اپنا دعوتی مرکز قائم کیا۔ ہجرت کے بعد قریشِ مکہ نے آپ کے خلاف باقاعدہ جنگ چھیڑ دی مگر آپ نے حسن تدبیر کے ذریعہ اُن سے دس سال کا ناجنگ معاہدہ کرلیا جو صلح حدیبیہ کے نام سے مشہور ہے۔اس صلح نے آپ کو اپنے دعوتی کام کے لیے وسیع مواقع دے دیے۔
پیغمبر اسلام نے اس طرح امن کو ایک مستقل پالیسی کی حیثیت دے دی۔ اس حکیمانہ پالیسی کا نتیجہ یہ ہوا کہ صرف ۲۳ سال میں پورے عرب میں اسلامی انقلاب آگیا۔ یہ انقلاب اتنا زیادہ پرامن تھا کہ اس کو بجا طور پر غیر خونی انقلاب (bloodless revolution) کہا جاسکتا ہے۔
اس مثال سے اندازہ ہوتا ہے کہ دعوت کا سائنٹفک اسلوب کیا ہے، وہ ہے بات کو اس انداز میں کہنا کہ آج کا انسان محسوس کرے کہ اُس کے ذہن کو ایڈرس کیا جارہا ہے۔ اُس میں اُس کو اپنے سوال کا جواب ملنے لگے۔ وہ سوال دیگر، جواب دیگر کا مصداق نہ ہو بلکہ سائل کے ذہن میں جو سوال ہو، عین اُسی کا جواب اُس کو سننے کو ملے۔
اس مقصد کے لیے بیک وقت دو باتوں کی گہری واقفیت ضروری ہے۔ ایک یہ کہ داعی دین کی حقیقی تعلیمات سے بخوبی طورپر واقف ہو اور دوسرے یہ کہ اُس نے مدعو کے ذہن کا غیر جانبدارانہ مطالعہ کیا ہو۔ اسی کے ساتھ یہ کہ داعی کے دل میں مدعو کے لیے سچی خیر خواہی موجود ہو۔ ان شرطوں کی کامل یکجائی کے بعد داعی کے اندر کلام کا جو اُسلوب بنے اُسی کا نام سائنٹفک اسلوب ہے۔ (۱۴ مئی ۲۰۰۳)
واپس اوپر جائیں

اسلامک تھنک ٹینک

مولانا اقبال اعظمی قاسمی (۶۵ سال) لِسٹر (برطانیہ) میں رہتے ہیں۔ ۳۱ مئی ۲۰۰۳ کو ان سے اور ان کے ساتھیوں سے ملاقات ہوئی۔اس ملاقات میں یہ مسئلہ زیر بحث آیا کہ کیا وجہ ہے کہ موجودہ زمانہ کے مسلمان ایک بے منزل (directionless) قوم بن گئے ہیں۔ آخر اس کا سبب کیا ہے۔ اس سوال کا جواب میں نے قرآن کی ایک آیت کی روشنی میں دینے کی کوشش کی۔ پھر یہی موضوع یکم جون ۲۰۰۳ کو ہمارے ہفتہ وار درس میں بھی زیر بحث رہا۔ اس گفتگو کاخلاصہ یہاں درج کیا جاتاہے۔
قرآن کی سورہ نمبر ۹ میں ایک نہایت اہم ہدایت دی گئی ہے۔ اس آیت کا ترجمہ یہ ہے: اور یہ تو نہ تھا کہ سارے اہل ایمان نکلتے تو ایسا کیو ںنہ ہوا کہ ان کے ہر گروہ میں سے ایک حصہ نکل کر آتا تاکہ وہ دین میں سمجھ پیدا کرتا اور واپس جاکر اپنی قوم کے لوگوں کو آگاہ کرتا تاکہ وہ بھی پرہیز کرنے والے بنتے (التوبہ ۱۲۲)
اس آیت کا مصداق بوقت نزول یہ تھا کہ مختلف قبیلوںسے منتخب افراد نکل کر مدینہ آئیں اور کچھ دن پیغمبر کی صحبت میں رہ کر تفقہ فی الدین کا ملکہ پیدا کریں۔ پھر واپس جاکر وہ اپنے لوگوں میں دعوت و اصلاح کا کام کریں۔
اس قرآنی ہدایت سے معلوم ہوتا ہے کہ اسلام میں یہ مطلوب ہے کہ مسلمانوں کے درمیان ایک غیر سیاسی قسم کی مرکزی دینی شخصیت یا غیر سیاسی مرکزی ادارہ موجود ہو۔ یہ شخصیت یا ادارہ لوگوں کے لیے تفقہ فی الدین کا مرجع ہو۔ لوگ اس سے رجوع ہو کر دینی بصیرت حاصل کریں۔ اور یہ کہ اس کے تحت تربیت پا کر ایسے اصحاب بصیرت تیار ہوں جو پیش آمدہ امور میں مسلمانوں کی صحیح دینی رہنمائی کریں۔ اس قرآنی آیت سے واضح طورپر معلوم ہوتا ہے کہ امت کے درمیان ایک فقیہ المسلمین ہونا چاہئے۔ فقیہ المسلمین کا یہ تصور گویا کہ زیادہ بہتر طورپر اس اجتماعی مقصد کو حاصل کرنا ہے جو دوسرے مذہبوں میں پوپ یا گرو یا امام معصوم کی صورت میں پایا جاتا ہے۔ پوپ یا گرو یا امام معصوم کی تعلیم کو مقدس عقیدہ کی حیثیت دے دی گئی ہے، جب کہ قرآن کے مطابق، فقیہ المسلمین کے ادارہ کی اہمیت عقیدہ کے اعتبار سے نہیںہے بلکہ اس کی اہمیت عملی ضرورت کے اعتبار سے ہے۔
فقیہ المسلمین کا یہ ادارہ اہل اسلام کے لیے فکری اعتبار سے ابدی رہنما کی حیثیت رکھتا تھا مگر بعد کے زمانہ میں یہ سیاسی غلطی ہوئی کہ فقیہ المسلمین کے بجائے خلیفۃ المسلمین کو اجتماعی ادارہ سمجھ لیا گیا۔ اور جب خلیفۃ المسلمین کا سیاسی ادارہ مسلمانوں میں موجود نہ رہا تو خلیفۃ المسلمین کے ادارہ کو دوبارہ قائم کرنے کے لیے لڑائی شروع کر دی گئی جو آج تک ختم نہ ہوئی۔
اس سلسلہ میں دوسری غلطی یہ ہوئی کہ عباسی خلافت کے زمانہ میں علماء نے تفقہ کا عمل شروع کیا تو تفقہ کے تصور کو گھٹا کر اس کو جزئی شرعی مسائل کی تحقیق کے ہم معنٰی بنا دیا گیا۔ جزئی مسائل کی یہ بحث بجائے خود اہم ہوسکتی ہے مگر وہ تفقہ فی الدین کے مدعا کی تکمیل ہر گز نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ تفقہ فی الدین کے اسی ادارہ کی غیر موجودگی کا نتیجہ ہے کہ موجودہ زمانہ کے مسلمان ایک بے منزل اور بے نشان قوم بن گئے ہیں۔ ہر جگہ وہ بے مقصد جدال و قتال میںمصروف ہیں۔ ان کے درمیان کوئی ایسا فکری ادارہ نہیں جو انہیں ان کے مسائل میں صحیح اور بروقت رہنمائی دے اور ان کی سرگرمیوں کو نتیجہ خیز رخ کی طرف موڑ دے۔ تفقہ فی الدین کے ادارہ کو دوسرے لفظوں میں اسلامک تھنک ٹینک کہا جاسکتا ہے۔
مثال کے طورپر ۲۰۰ سال پہلے مسلمانوں کو نو آبادیاتی قوموں کے مقابلہ میں شکست ہوئی۔ اس وقت اگر فقیہ المسلمین کا ادارہ زندہ حالت میںموجود ہوتا تو وہ انہیں بتاتا کہ یہ سازش اور دشمنی کا مسئلہ نہیں ہے بلکہ طاقت کا توازن بدل جانے کا مسئلہ ہے اس لیے تم نئے معیار کے مطابق اپنے آپ کو مستحکم بنانے کی کوشش کرو۔ اسی طرح موجودہ زمانہ میں جہاد کے نام پر بہت سی تباہ کن سرگرمیاں جاری ہیں۔ اگر فقیہ المسلمین کا ادارہ زندہ ہوتا تو وہ بتاتا کہ جہاد حکومت کا کام ہے وہ عوام کا کام نہیں۔ اسی طرح موجودہ زمانہ کے مسلمان دوسری قوموں کو دشمن قرار دے کر ان سے نفرت کرنے لگے ہیں۔ اگر فقیہ المسلمین کا ادارہ زندہ ہوتا تو وہ مسلمانوں کو بتاتا کہ یہ غیر مسلم تمہارے مدعو ہیں اور مدعو سے نفرت کرنا جائز ہی نہیں۔ اسی طرح موجودہ زمانہ کے مسلمان مغربی تہذیب کو اسلام کے حریف کے طورپر دیکھتے ہیں۔ اگر فقیہ المسلمین کاادارہ زندہ ہوتا تو وہ بتاتا کہ مغربی تہذیب اسلام کی حریف نہیں، وہ نئے مواقع کی نقیب ہے۔ تم ان مواقع کو پہچانو اور ان کو اسلام کے حق میں استعمال کرو۔
ضرورت ہے کہ فقیہ المسلمین کے ادارہ کو ایک غیر سیاسی ادارہ کی حیثیت سے دوبارہ زندہ کیا جائے اور خلیفۃ المسلمین کے سیاسی ادارہ سے الگ کرکے اس کو ڈیولپ (develop) کیا جائے۔ موجودہ زمانہ میں مسلمانوں کے احیاء (revival) کا یہی واحد نقطۂ آغاز ہے۔
قرآن کی سورہ نمبر ۴ کی ایک آیت کا ترجمہ یہ ہے: اور جب اُن کو کوئی بات امن یا خوف کی پہنچتی ہے تو وہ اُس کو پھیلادیتے ہیں۔ اور اگر وہ اُس کو رسول تک یا اپنے ذمّہ دار لوگوں تک پہنچاتے تو اُن میں سے جو لوگ تحقیق کرنے والے ہیں وہ اس کی حقیقت جان لیتے۔ اور اگر تم پر اللہ کا فضل اور اُس کی رحمت نہ ہوتی تو تھوڑے لوگوں کے سوا تم سب شیطان کے پیچھے لگ جاتے (النساء ۸۳)
قرآن کی اس ہدایت سے معلوم ہوتا ہے کہ اہم اجتماعی امور میں ایسا نہیں ہونا چاہئے کہ ہر آدمی اُن پر اظہار خیال کرنا شروع کردے۔ بلکہ صحیح طریقہ یہ ہے کہ اس طرح کے معاملہ کو ذمہ دار افراد تک پہنچایا جائے اور وہ غور و فکر کرنے کے بعداُس پر اپنے فیصلہ کا اعلان کریں۔ یہی معاملات کی درستگی اور اصلاح کا واحد یقینی طریقہ ہے۔
قرآن کے مطابق، خلافت یا سیاسی اقتدار ایک امتحان کی چیز ہے، وہ کسی ایک گروہ کے پاس ہمیشہ نہیں رہتا اورنہ رہ سکتا ۔ اس لیے مذکورہ قسم کی فکری تنظیم کے لیے سیاسی ادارہ پر انحصار نہیں کیا جاسکتا۔ ضروری ہے کہ اس کے لیے غیر سیاسی ادارہ ہو جو مستقل طورپر اور ہر حال میں باقی رہے۔ فقیہ المسلمین کا ادارہ اسی قسم کاایک مستقل ادارہ ہے۔ وہ ہمیشہ اورہر حال میں مسلمانوں کی فکری رہنمائی کا ضامن ہے۔ اس لیے فقیہ المسلمین کے ادارے کے قیام کی کوشش سیاسی ادارہ کے قیام سے بھی زیادہ کی جانی چاہئے۔ (۲جون ۲۰۰۳)
واپس اوپر جائیں

ایک ملاقات

۱۷مئی ۲۰۰۳ کو دہلی میں ایس آئی او (SIO) کے دفتر میں میرا ایک پروگرام تھا۔ یہاں مجھے اسلام پسند نوجوانوں سے گفتگو کا موقع ملا۔ ایک نوجوان مسٹر شمشاد احمد نے سوال کیا کہ آج کے تعلیم یافتہ طبقہ کو کس طرح موثر انداز میں اسلام کا پیغام پہنچایا جائے۔ یہی سوال زیادہ تر گفتگو کا موضوع رہا۔ میںنے کہا کہ عام طور پر یہ محسوس کیا جارہا ہے کہ اسلام آج کی دنیا میں کمتر ذہنی سطح کے لوگوں کی دلچسپی کا موضوع بن کر رہ گیا ہے۔ اعلیٰ ذہنی سطح کے لوگ اسلام کی طرف متوجہ نہیں ہوتے۔ اس کا سبب مدعو کے اندر نہیں بلکہ داعی کے اندر ہے۔
دعوت کے نام پر موجودہ زمانہ میں بہت سی سرگرمیاں جاری ہیں۔ مگر یہ سرگرمیاں وقت کے اعلیٰ فکر ی مستویٰ(intellectual level) کے مطابق نہیں۔ ان دعوتی سرگرمیوں میں کوئی فضائل کی کہانیاں سنا رہا ہے۔ کوئی فخر پسندی کی غذا دے رہا ہے۔ کوئی اسلام کو سیاسی غلبہ کا موضوع بنائے ہوئے ہے۔ کوئی ملی مسائل پرتقریر کرنے کو دعوت سمجھے ہوئے ہے۔ کوئی کمیونٹی ورک میںمشغول ہے اور اس کو دعوہ ورک کا نام دئے ہوئے ہے۔ اس قسم کا انداز اعلیٰ ذہنی سطح کے لوگوں کو اپیل نہیں کرسکتا اس لیے وہ اس کی طرف متوجہ بھی نہیں ہوتے۔
قرآن میںدعوتی کلام کا معیار یہ بتایا گیا ہے کہ وہ قولاً بلیغاً فی انفسہم (النساء ۶۳) کا مصداق ہو۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ مخاطب کے ذہن کو ایڈریس کرے۔ موجودہ زمانہ کے داعیوں کا کلام جدید انسان کے ذہن کو ایڈریس نہیں کرتا۔ اس لیے اسلام ان کے لیے قابل غور چیز بھی نہیں بنتا۔ آج دنیا میں ہر جگہ لوگ اسلام قبول کررہے ہیں مگر یہ زیادہ تر متوسط طبقہ کے لوگ ہیں۔ بہت کم ایسے افراد ہوں گے جو مثبت معنوں میںذہنی انقلاب کے بعد اسلام میں داخل ہوئے ہوں۔ جدید تاریخ میں ایسے قلیل افراد کی ایک مثال مجھے ڈاکٹر نشی کانت چٹوپادھیائے میں ملتی ہے۔ وہ ایک سچے متلاشی ٔ حق تھے۔انہوں نے اپنے گہرے ذاتی مطالعہ سے اسلام کو سمجھا اور اس کو قبول کیا۔ ان کا واقعہ میں نے اپنی کتاب (Islam Rediscovered) میں نقل کیا ہے۔
پچھلی صدیوں میں اور موجودہ زمانہ میں بڑی تعداد میں لوگ اسلام کے دائرہ میں داخل ہوئے۔ مگر یہ لوگ اسلام کی جدید تاریخ بنانے کا باعث نہ ہوسکے۔ مسلمانوں کی جدید نسلوں کا سفر بدستور زوال کی طرف جاری رہا۔ اس کا بنیادی سبب یہ ہے کہ یہ تمام نو مسلم رد عمل کی نفسیات کے تحت اسلام میں داخل ہوئے۔مثال کے طورپر ڈاکٹر بی آر امبیڈکر اعلیٰ ذہنی صلاحیت کے آدمی تھے۔ وہ اسلام قبول کرنا چاہتے تھے۔ لیکن مہاتما گاندھی اوردوسرے ہندو لیڈروں کی مداخلت سے ایسا نہ ہوسکا۔ تاہم اگر وہ اسلام قبول کرتے تو مجھے اُمید نہیں کہ ان کا قبول اسلام مثبت معنوں میں کسی جدید اسلامی تاریخ کے آغاز کا سبب بن سکتا تھا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اسلام کی طرف ان کا میلان برہمنزم کے خلاف رد عمل کے تحت ہواتھا۔ایسی حالت میں اگر وہ اسلام قبول کر لیتے تب بھی صرف یہ ہوتا کہ وہ اسلام کے اسٹیج سے برہمنزم کے خلاف ایک محاذ کھول دیتے۔ مثبت معنوں میں وہ اسلام کی کوئی انقلابی خدمت نہ کر پاتے۔ جیسا کہ بدھزم کو قبول کرنے کے بعد اُنہوں نے کیا۔
اس معاملہ کی ایک مثال وہ تعلیم یافتہ نو مسلم افرادہیں جنہوں نے موجودہ زمانہ میں اسلام قبول کیا ہے۔ میرے علم کے مطابق، یہ سب کے سب ردّ عمل کی نفسیات کے تحت اسلام کی طرف آئے۔ اس لیے وہ مثبت معنوں میں اسلام کی جدید تاریخ بنانے کا ذریعہ نہ بن سکے۔ان میں سے کوئی مسلمانوں کے کسی کمیونٹی ورک میں لگا ہوا ہے اور کوئی مفروضہ مسلم دشمنوں کے خلاف تقریر کررہا ہے۔موجودہ زمانہ کے معروف نو مسلموں میں سے اکثر کو یا تو میںنے سنا ہے یا پڑھا ہے یا ان سے ملاقات کی ہے۔ مگر میرے تجربہ کے مطابق، یہ سب لوگ کسی نہ کسی طور پر رد عمل کی نفسیات کے تحت اسلام کی طرف آئے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ قبول اسلام کے بعد بھی ان کے سینہ میں غیر قوموں کے خلاف کدورتیں ختم نہیں ہوئیں۔ وہ اب بھی ردّ عمل کی بولی بول رہے ہیں۔ مثلاً امریکا کے حمزہ یوسف اور سراج وھّاج، جرمنی کے مرادہاف مین، برطانیہ کے یوسف اسلام، ہندستان (کیرلا) کی ڈاکٹر ثریا ، وغیرہ۔
میرے مطالعہ کے مطابق،موجودہ زمانہ کے خود مسلم داعیوں اوررہنماؤں کا حال بھی تقریباً یہی ہے۔ موجودہ زمانہ میں جتنے بھی عرب یا غیر عرب علماء اور مفکرین اسلام کی خدمت کے لیے اُٹھے وہ کسی نہ کسی اعتبار سے رد عمل کی نفسیات کے تحت اُٹھے۔ کوئی استعمار کے مسئلہ سے بھڑ ک اُٹھا۔ کوئی صہیونیت کی زمین سے اُبھرا۔ کسی کو مغربی تہذیب کے غلبہ نے بے چین کردیا۔ کوئی ہندو خطرہ یا غیرہندو خطرہ کے خلاف مجاہد بن گیا۔ کوئی مسلمانوں کی سیاسی مغلوبیت پر بے برداشت ہو کر تحریک چلانے لگا، وغیرہ۔ جب کہ داعی وہ ہے جو ابدی حقائق کی دریافت سے اُبھرے، نہ کہ وقتی مسائل کے ہنگاموں سے۔
دعوت کے مسئلہ کی وضاحت کرتے ہوئے میں نے کہا کہ دعوت کے دو مختلف اسلوب ہیں— مقلدانہ اسلوب اور مجتہدانہ اسلوب ۔ اس وقت دنیا کے مختلف حصوں میں جو دعوتی کوششیں ہورہی ہیں وہ سب کی سب مقلدانہ اسلوب پر ہو رہی ہیں۔ اس قسم کے اسلوب سے صرف تقلیدی مزاج کے لوگ ہی متاثر ہوسکتے ہیں اور وہی اس سے متاثر ہورہے ہیں۔ جدید طبقہ مجتہدانہ اسلوب چاہتا ہے مگر مجتہدانہ اسلوب میں دعوتی کام سرے سے نہیں ہو رہا ہے اس لیے جدید طبقہ اسلام کی طرف مائل بھی نہیں ہو رہا ہے۔اس بنا پر اسلامی دعوت اور جدید طبقہ کے درمیان ایک قسم کا ذہنی بُعد (intellectual gap) پیدا ہوگیا ہے۔ دعوتی عمل کو تعلیم یافتہ طبقہ کے درمیان موثر بنانے کے لیے اس بُعد کو ختم کرنا ضروری ہے۔
پچھلے دنوں میری ملاقات بہار کے ایک صاحب ڈاکٹر اکرام الحق سے ہوئی۔ وہ ایم ڈی کی ڈگری لیے ہوئے تھے۔ انہیں اسلامیات کے مطالعہ کا شوق ہے۔ انہوں نے کہاکہ میں نے انگریزی اور اردو کی تقریباً تمام تفسیریں پڑھی ہیں مگر مجھے ان تفسیروں سے اطمینان نہیں ہوا۔ اس قسم کا احساس موجودہ زمانہ کے اکثر اعلیٰ تعلیم یافتہ لوگوں میں ہوتا ہے۔ اس کا سبب یہ ہے کہ تفسیریں زیادہ تر تقلیدی اسلوب میں لکھی گئی ہیں۔ میرے علم کے مطابق، حقیقی معنوں میں مجتہدانہ اسلوب میں کوئی تفسیر ابھی تک لکھی نہیں گئی ۔
میں نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ قرآن کی ایک آیت ہے: کلما اوقدوا ناراً للحرب اطفأھا اللہ (المائدہ ۶۴) اس آیت میں جو بات کہی گئی ہے وہ جدید امن پسند طبقہ کے لیے بے حد پرکشش ہے مگر کسی بھی عربی یا اردو یا انگریزی تفسیر میں اس کی معنویت کو کھولا نہیں گیا ہے۔ عام طورپر اس آیت میں قدیم یہود کے معاملہ کو بتایا جاتا ہے۔ گویا کہ تمام مفسرین اس آیت کو زمانی مفہوم میں لے رہے ہیں۔ اس طرح یہ آیت بظاہر قدیم زمانہ کی ایک گزری ہوئی داستان بن کر رہ گئی ہے۔ نتیجۃً خود قرآن بھی غیر جانبدار قاری کو زمانۂ ماضی کا ایک قصہ معلوم ہوتا ہے جس میں آج کے لیے کوئی رہنمائی موجود نہ ہو۔
قرآن کو سمجھنے کے لیے ایک اہم نکتہ یہ ہے کہ اس میں جو بات قدیم ریفرنس میں کہی گئی ہو اس کوآج کا ایک مفسر جدید حوالہ (modern context) میں دیکھ سکے، وہ اس آیت کا نیاانطباق (reapplication) دریافت کرسکے۔اس اعتبار سے غور کیجئے تو قرآن کی مذکورہ آیت میں ایک ابدی اصول بتایا گیا ہے۔ وہ یہ کہ اہل اسلام کی پالیسی یہ ہونا چاہئے کہ دوسرے لوگ جنگ چھیڑیں تو وہ حسن تدبیر سے اس کو اوائڈکرنے کی کوشش کریں، نہ یہ کہ خود بھی جنگ میں الجھ جائیں:
Muslims must adopt the policy of avoiding war rather than of indulging in war.
موجودہ زمانہ میں ہم دیکھتے ہیں کہ مسلم اور نو مسلم دونوں کے درمیان کمیونٹی کاز (community cause) کی دھوم ہے۔ مگر ان میں سے کوئی بھی حقیقی معنوں میں ڈوائن کاز (divine cause) کے لیے تڑپنے والا ، اس کے لیے کام کرنے والا نظرنہیں آتا۔ حتیٰ کہ ہزاروں کتابیں ہرجگہ چھپ رہی ہیں مگر میرے علم کے مطابق، کوئی بھی کتاب انسانیت عامہ کو موثر انداز میں خطاب کرنے والی نہیں۔
موجودہ زمانہ کا سب سے زیادہ اندوہناک واقعہ یہ ہے کہ مسلمانوں میںدعوت الی اللہ کا عمل سرے سے وجود ہی میںنہ آسکا۔ کچھ مسلمان یا مسلم جماعتیں بظاہر دعوت کے نام پر سرگرم ہیں مگر یقینی طورپر وہ دعوت الی اللہ کا عمل نہیں۔ یہ لوگ اصلاًکوئی اور کام کررہے ہیں جس کا دعوت الی اللہ سے کوئی تعلق نہیں ہے اور اس کوانہوں نے دعوت کاعنوان دے دیا ہے۔
مسلمانوں کی موجودہ تاریخ کا دعوت الی اللہ سے خالی ہونا کوئی سادہ بات نہیں۔ اس کے اسباب نہایت گہرے ہیں۔ اصل یہ ہے کہ بعد کے زمانہ میں قرآن کی جو تفسیریں لکھی گئیں یا جو اسلامی لٹریچر تیار ہوا ان میںدعوت الی اللہ کو سرے سے حذف کردیا گیا۔ دعوت الی اللہ کیا ہے اور اس کے لازمی اجزاء کیا ہیں، یہ قرآن میںنہایت واضح طورپرموجود ہے۔ مگر بعد کے زمانہ میں جو تفسیریں لکھی گئیں ان میں یہ سب چیزیں یا تو منسوخ کردی گئیں یا ان کی تفسیر درست طورپر نہ ہوسکی۔
مثلاً دعوت کے لیے ضروری ہے کہ داعی دوسرے لوگوں کو اپنی قوم سمجھے، جیسا کہ قرآن کے بیان کے مطابق پیغمبروں نے سمجھا۔ مگر بعد کے زمانہ میں دوسرے گروہوں کو کافر قرار دے کر انہیں غیر قوم کے خانہ میں ڈال دیاگیا۔ اسی طرح دعوت کے لیے ضروری ہے کہ مدعوکی زیادتیوں پر یک طرفہ صبر کیا جائے۔مگر تفسیروں میں صبر کے حکم کو جہاد سے پہلے کے دور کی چیز قرار دے دیا گیا۔ اسی طرح دعوت کے لیے تالیف قلب لازمی طورپر ضروری ہے۔ مگر بعد کی تفسیروں میں تالیف قلب کے اصول کو ہمیشہ کے لیے منسوخ قرار دے دیاگیا۔ دعوت کے لیے ضروری ہے کہ اس کو لا اسئلکم علیہ من اجر کے اصول پر چلایا جائے۔ مگر موجودہ زمانہ میں دعوت کے ساتھ ملّی حقوق کی مطالباتی مہم کو جوڑ دیا گیا، وغیرہ۔شکایتی اور احتجاجی باتیں قاتل دعوت ہیں نہ کہ معاونِ دعوت۔
دعوت الی اللہ کے لیے قرآن کی شرطوں کو ملحوظ رکھے بغیر دعوت کا کام کرنا ایک مضحکہ خیز عمل ہے۔ اس کو دعوت الی اللہ کا مقدس نام ہر گز نہیں دیا جاسکتا۔ اس صورت حال کو بدلنے کے لیے ضروری ہے کہ مقلدانہ ذہن کو توڑ کر مجتہدانہ ذہن کے تحت سوچا جائے۔ اس کے بغیر دعوت الی اللہ کاعمل کبھی زندہ نہیں ہوسکتا۔ (۳۰ مئی ۲۰۰۳)
واپس اوپر جائیں

سوال وجواب

سوال
جون ۲۰۰۳ء کا الرسالہ ملا۔ اس الرسالہ میںمیرے نام ایک خط شائع ہوا ہے۔ آپ کا اصرار ہے کہ میں اپنا نقطۂ نظر تحریری طورپر بھیجوں آپ ضرور اس پر غور کریں گے۔ آپ ہمیشہ تنقید کو wel come کرتے ہیں۔ آپ کی اس یقین دہانی کے پیش نظر آپ کو اپنا opinion لکھ رہا ہوں۔ امید کرتا ہوں آپ اس پر positive یا negative جو بھی آپ کی رائے ہوگی اس سے مجھے ضرور باخبر کریں گے۔
قبولیت تنقید کی بنیادی شرط ہے، فرد کو معاملہ سمجھنے کے لیے اپنے آپ کو خود فریبی کے حصار سے نکالنا، جو بات کہی جارہی ہے اس پر اپنے کامن سنس کو اپلائی کرنا، ورنہ خود فریبی معاملہ میں پیچیدگی پیدا کردیتی ہے اور فرد سمپل لاجک کو سمجھنے سے محروم ہوجاتاہے۔
الرسالہ جون ۲۰۰۳ء کے سرِ ورق پر حسب معمول آپ کے قلم سے نکلا ہوا حسب ذیل جملہ نقل کیا گیا ہے۔
’’کوئی آدمی کیا ہے، اس کو جاننے کا ذریعہ یہ نہیں ہے کہ وہ کیا باتیں کرتا ہے بلکہ یہ ہے کہ اس کا حقیقی کردار کیا ہے۔‘‘ یہ جملہ منفی سوچ کا آئینہ ہے۔ اس جملہ میں منفی سوچ ہے یہ کیسے معلوم کیا جائے۔ اس لیے ہم ایک تجربہ کرتے ہیں آپ بھی غور کریں۔
کوئی آدمی یہ کہے کہ ’’مولانا وحید الدین خاں کیا ہے، اس کو جاننے کا ذریعہ یہ نہیں ہے کہ وہ کیا باتیں کرتے ہیں۔ بلکہ یہ ہے کہ مولانا وحید الدین خان کا حقیقی کردار کیا ہے‘‘۔ یہ یقینا منفی سوچ negative thinking ہے۔
با اخلاق انسان کے لیے منفی سوچ سے پرہیز لازم ہے۔ الرسالہ جیسے تعمیری جریدہ میں منفی سوچ کو کیسے جگہ مل گئی حیرت ہے؟ الرسالہ جون ۲۰۰۳ کے صفحہ نمبر ۳۳ اور ۳۴ پر آپ کا میرے نام لکھا ہوا جو خط شائع ہوا ہے اس کے پہلے پیراگراف میںآپ نے آگے آنے والی بحث کے لیے ایک ڈسپلن مقرر کیا ہے کہ:
’’بنیادی سوال یہ ہے کہ کس کو کس کے تابع کیا جائے۔ حوصلہ کو برداشت کے تابع کیا جائے یا برداشت کو حوصلہ کے تابع۔ اسی راز کو جاننے کا نام کامیابی ہے‘‘۔
اس کے بعد پیراگراف نمبر ۲۔۳۔۴ اور ۵ میں بحث کو پوری کرتے ہوئے نتیجہ نکالا ہے۔ اس پوری بحث کو میںانٹلکچول ڈس اونسٹی (intellectual dishonesty) کا کیس کہوں گا، کیوں کہ لفظ کی شکل بگاڑ کر بات کرنا اور اپنی بات ثابت کرنا intellectual dishonesty کے سوا کچھ بھی نہیں۔
حوصلہ زندگی کی ایک اہم قدر ہے، یہ آپ مانتے ہیں۔ لیکن پوری بحث میںلفظ حوصلہ کی شکل بگاڑ کر بات کرتے ہیں۔ مثلاً انگریزی کا لفظ confidence جو ایک نفسیاتی علامت ہے اس کی تشریح کوئی شخص لفظ over confidence کا استعمال کرکے لفظ confidence کی نفسیاتی علامت کی اہمیت گھٹائے کیا آپ اسے علمی تجزیہ کہیں گے؟ اردو لفظ حوصلہ کی ٹرم: پختہ ارادہ، احساس یافت، اپنے مقصد کو حاصل کرنے کی جدو جہد میں مدد گار نفسیات کے لیے لفظ حوصلہ کی ٹرم (term) استعمال کی جاتی ہے۔ اورہمیشہ مثبت (positive) نفسیات کے لیے بولا جاتا ہے۔
اس کے برخلاف منفی (negative) نفسیات کے لئے لفظ حوصلہ کی شکل بگاڑ کر نہیں بولا جاتا بلکہ اس کے لیے خود فریبی، مایوسی، اندھی چھلانگ، انتقام، ظلم، تکبر وغیرہ الفاظ کا استعمال کیا جاتا ہے۔
لفظ کو اس کے مقام سے ہٹانا یا اس کی شکل بگاڑنا intellectual dishonesty کا کیس ہے۔ اس کو سمجھنے کے لیے چند مثالیں نقل کر رہا ہوں۔ آپ بھی غور کریں۔ مثلاً:
سوسائیڈائیکر کو شہید کہنا یا لکھنا
معصوم لوگوں کے قاتل کو مجاہد کہنا یا لکھنا
ڈاکو کو بہادر کہنا یا لکھنا
چور کو عقل مند کہنا یا لکھنا
سود کو تجارت کہنا یا لکھنا
ان تمام مثالوں میںخط کشیدہ الفاظ کو اس کے مقام سے ہٹا یا گیا ہے جو صد فی صد intellectual dishonesty کا کیس ہے۔
آپ اپنی تحریر کی خامی کو پرکھنے کے لیے پرائمری اسکول کا بنیادی سبق ’’جملہ بنانے کی مشق کرو‘‘ اس سے رجوع کریں ۔اس مشق سے جملہ میں استعمال کیے گئے الفاظ کا فہم طالب علم کے ذہن پر نقش ہوتاہے جس کی وجہ سے طالب علم لفظ کو سن کر یا پڑھ کر اس کے صحیح ادراک کو پالیتا ہے۔ اگر آپ لفظ حوصلہ کا استعمال کرتے ہوئے جملہ بنائیں گے تو آپ جان لیں گے کہ حوصلہ اس نفسیات کا نام ہے جس کے تابع برداشت۔ سچ بولنا، در گزر، اخلاق، سخاوت، انصاف ، رواداری وغیرہ۔ ایسی کئی مثبت سوچ و عمل پر انسان کو ٹھہرائے رکھنے کی وجہ حوصلہ کی نفسیات ہے۔
میں نے آپ سے جو بات ٹیلی فون پر کہی تھی وہ قرآن شریف کی عربی لغت میں لفظ صبر کے فہم کے متعلق تھی۔ میںنے آپ سے کہا تھا کہ قرآنک عربک لغت میںلفظ صبر کا فہم اردو لفظ حوصلہ میں پورا ہوتا ہے۔ اردو کا لفظ برداشت قرآن شریف کے لفظ صبر کا کمزور ترین مفہوم ہے۔ ایک صاحب نے کہا کہ آڑ میںآپ نے خط میں پورے معاملہ کو ہی بدل کر رکھ دیا۔ اس خط میںآپ نے پہلے پیراگراف میںجن انگریزی الفاظ courage (حوصلہ)، patience (برداشت) کو نقل کیا ہے۔ میری معلومات کے مطابق یہاں پر بھی آپ سے سہو ہوا ہے۔
انگریزی لفظ courage کے لیے اردو لفظ جرأت، ہمت، بہادری قریب ترین لفظ ہیں۔ اردو لفظ برداشت کے لیے صحیح انگریزی لفظ tolerate یا tolerance ہیں۔ آپ اکثر اپنی تحریروں میںلفظ برداشت کے لیے ان ہی انگریزی لفظوں کا استعمال کرتے ہیں۔
انگریزی کا لفظ patience فہم کے اعتبار سے اردو لفظ برداشت سے بہت بلند ہے۔ اردو لفظ برداشت اس کا احاطہ نہیں کرسکتا۔
انگریزی لفظ confidence + patience کا فہم قرآنک عربک لغت کے لفظ صبر سے قریب ترین ہے اور اردو لفظ حوصلہ کے بھی۔
یہ الفاظ انسانی نفسیات کی علامت کے بطور بولے اور لکھے جاتے ہیں اور یہی نفسیات انسان کی سوچ میں مددگار ہوتی ہے اوراسی سے انسانی نفسیات کو تولا اور پرکھا جاتا ہے۔ (عبد السلام اکبانی، ناگپور، ۴ جون ۲۰۰۳)
جواب
۱۔ خود فریبی کیا ہے اور کون شخص خود فریبی میں مبتلا ہے۔ اس کا تحقق کسی شخص کے مدعیانہ ریمارک سے نہیں ہوسکتا۔ اس کو معلوم استدلالی اصول کے مطابق موضوعی طورپر ثابت کیا جانا چاہئے۔ اس سے پہلے کسی کو خود فریبی کا شکار بتانا ایک غیر ذمّہ دارانہ بیان ہے نہ کہ کوئی علمی بیان۔ میں نے آپ کی تحریر کو کئی بار پڑھا مگر میراا حساس ہے کہ آپ نے اس سلسلہ میں اپنے بیان کی کوئی بھی علمی دلیل نہیں دی۔
۲۔ الرسالہ ماہ جون ۲۰۰۳ میںسرِورق پر جو جملہ نقل کیا گیا ہے وہ در اصل مؤطا الامام مالک کی ایک روایت کا تقریباً ترجمہ ہے۔ یہ روایت حدیث کے اس مشہور مجموعہ میں کتاب الجامع کے تحت آئی ہے۔ اس روایت کے الفاظ یہ ہیں: قال مالک وبلغنی ان القاسم بن محمّدٍ کان یقول: ادرکت الناس وما یعجبون بالقول، قال مالک: یُرید بذلک العملَ، إنما یُنظر إلی عملہ ولا ینظر إلی قولہ (ص ۷۰۲) آپ نے الرسالہ کے جس شائع شدہ جملہ کو منفی سوچ کا آئینہ بتایا ہے اس کی زَد ان مقدّس لوگوں تک جاتی ہے جوثابت شدہ طور پر پوری امت کے لیے قُدوہ کی حیثیت رکھتے ہیں۔ پھر کیا آپ اپنے مذکورہ تبصرہ کی اس توسیع کو پسند کریں گے۔
۳۔ آپ نے الرسالہ جون ۲۰۰۳ میں میری چھپی ہوئی ایک عبارت کو انٹیلکچول ڈس اونسٹی intellectual dishonesty) (قرار دیا ہے مگرآپ نے اس کا کوئی ثبوت نہیںدیا۔ بات صرف اتنی تھی کہ صبر کا لغوی مفہوم کیا ہے اوراس کا استعمالی مفہوم کیا۔ میرا کہنا یہ ہے کہ صبر کا لغوی مفہوم برداشت یا اپنے آپ کو روکنا ہے۔ مشہور عربی لغت لسان العرب میں صبر کا مفہوم ان الفاظ میںبتایا گیا ہے: اصَلُ الصبر الحبسُ، الصبر نقیض الجزع (۴؍۴۳۸) جس طرح بیش تر الفاظ کے استعمالی مفہوم میں توسیع ہوتی ہے اسی طرح صبر کے استعمالی مفہوم میںبھی توسیع ہوئی ہے۔ میں نہیں سمجھتا کہ خالص علمی اعتبار سے میرے اس نقطۂ نظر میںاعتراض کا پہلو کیا ہے۔
آپ نے جس چیز کو انٹلکچول ڈس اونسٹی کہا ہے وہ میرے لیے ناقابل فہم ہے۔ میںالرسالہ میںاکثر اس طرح کی مثالیں دیتا رہا ہوں کہ تاریخ کی کئی بڑی شخصیتوں میں حوصلہ اور ہمت کی زبردست صلاحیت تھی مگر وہ ناکام ہوگئے کیوں کہ انہوں نے یہ نہیں سمجھا کہ جس صورت حال کے مقابلہ میں وہ اپنے حوصلہ کا استعمال کررہے ہیں وہ در اصل برداشت کا معاملہ ہے۔
مثال کے طورپر ہندستان کی دو شخصیتوں کو لیجئے—سبھاش چندر بوس اور مہاتما گاندھی۔ دونوں یکساں طورپر با حوصلہ شخص تھے۔ دونوں نے برٹش ایمپائر کے خلاف اقدام کیا۔ اس اقدام میںسبھاش چندر بوس مبینہ طورپر ناکام رہے اور مہاتما گاندھی کامیاب ۔ اس کا سبب یہی تھا کہ سبھاش چندر بوس کے پاس حوصلہ تھا مگر ان کے پاس صابرانہ منصوبہ بندی نہ تھی۔ جب کہ گاندھی کے پاس حوصلہ کے ساتھ صابرانہ منصوبہ بندی بھی موجود تھی۔ اس فرق نے ایک کو ناکام بنا دیا اور دوسرے کوکامیاب کردیا۔ میںنے اپنی تحریر میں حوصلہ کے مفہوم کو بگاڑا نہیں بلکہ یہ لکھا ہے کہ حوصلہ کو برداشت کے تابع رکھا جائے نہ کہ برداشت کو حوصلہ کے تابع بنا یا جائے۔ یہ واضح طورپر تدبیر کار کا معاملہ ہے نہ کہ انٹلکچول ڈس آنسٹی کا معاملہ۔
۴۔ آپ نے جو مثالیں نقل کی ہیں وہ سب فرضی مثالیں ہیں۔ کسی ڈسکشن میں اسی مثال کا تجزیہ کرنا چاہئے جو پیش کرنے والے نے پیش کی ہے۔ مفروضہ مثال سے ڈسکشن میںکوئی مدد نہیں ملتی۔ مثلاً آپ نے confidence اور over confidence کا تقابل کیا ہے۔ اسی طرح آپ نے ڈاکو کو بہادر اور چور کو عقلمند کہنے کی مثالیں دے کر اپنا نقطۂ نظر ثابت کرنے کی کوشش کی ہے جو میری تحریر میں موجود نہیں۔ آپ کو میری تحریر میں وارد شدہ الفاظ یا مثال کا تجزیہ کرکے اپنی بات ثابت کرنا چاہئے، نہ یہ کہ آپ کچھ مفروضہ مثالوں کو لے کر اپنا نقطۂ نظر ثابت کریں۔ اس قسم کی مثالیں اصل بحث کی نسبت سے ارریلیوینٹ(irrelevant) ہیں۔
۵۔ آپ نے اپنی تحریر میںایک عجیب وغریب نصیحت مجھے یہ کی ہے کہ ’’آپ اپنی تحریر کی خامی کو پرکھنے کے لیے پرائمری اسکول کے بنیادی سبق کی مشق کریں‘‘۔ میں نہیں سمجھ سکتا کہ آپ کی ان سطروں کا زیر بحث مسئلہ سے کیا تعلق ہے۔یہ ایک مجرّد ریمارک ہے اور مجرّد انداز میں منفی ریمارککسی بھی شخص کے بارے میں کیا جاسکتا ہے۔ مگر اس قسم کے ریمارک سے کوئی بات ثابت نہیںہوتی۔
۶۔ آپ کی کچھ سطریں لسانیات سے متعلق ہیں۔ مثلاً آپ نے لکھا ہے کہ انگریزی لفظ پیشنس (patience) فہم کے اعتبار سے اردو لفظ برداشت سے بہت بلند ہے۔ آپ کا یہ بیان صرف ایک دعویٰ ہے جس کے لیے آپ نے کوئی دلیل نہیں دی۔ انگریزی کے مشہور لغت ویبسٹر (Webster's) میں پیشنس (patience) کا مفہوم ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے:
The will or ability to wait or endure without complaint. (p. 1314)
ٹھیک یہی مفہوم برداشت کا بھی ہے، پھر دونوں میںکیا فرق۔
۷۔ آپ نے پورے خط میںایک عجیب و غریب انداز اختیار کیا ہے۔ آپ نے میرے خلاف کئی سخت بیانات دئے ہیں۔ مگر آپ نے اپنی تائید میں کوئی دلیل نہیں دی اور نہ کسی بات کا علمی اصول کے مطابق تجزیہ کیا۔ آپ نے صرف خود اپنے بیان پر انحصار کیا ہے۔ مگر ظاہر ہے کہ شعر و شاعری میں ’’مستند ہے میرا فرمایا ہوا‘‘ کا انداز تو ضرور چل سکتا ہے مگر علمی بحث میں یہ انداز بالکل بے فائدہ ہے۔آپ کو مدعیانہ کلام کے بجائے مدلّل کلام کا طریقہ اختیار کرنا چاہئے۔
۸۔ آپ کے خط میںایک اور بڑی عجیب بات ہے اور وہ ہے مجھ پر انٹلکچول ڈس آنسٹی کا الزام لگانا۔ آپ کو شاید یہ بات معلوم نہیں کہ متعین اور مشخص طورپر کسی پر اس قسم کا ذاتی الزام لگانا بے حد سنگین بات ہے۔ایسے الزام کے لئے ناقابل تردید دلائل درکار ہیں۔محض قیاسی اندازہ اس کے لیے کافی نہیں۔ میں آپ کو مشورہ دوں گا کہ آپ اس قسم کی باتوں کو اختلاف رائے کے خانہ میں ڈالیں نہ کہ انٹلکچول ڈس آنسٹی کے خانہ میں۔ انٹلکچول ڈس آنسٹی کا تعلق نیت سے ہے اور نیت کا علم صرف خدا کوہے۔ یہ بے حد غیر ذمہ دارانہ بات ہے کہ قطعی دلائل کے بغیر کسی متعین شخص پر انٹلکچول ڈس آنسٹی کا الزام لگایا جائے۔
۹۔ آپ کا ایک ارشاد یہ ہے کہ میںنے لفظ حوصلہ کی شکل بگاڑ کر اپنا نقطۂ نظر پیش کرنے کی کوشش کی ہے۔ یہ بلا شبہہ ایک غیر علمی بات ہے۔ اگر میں کہوںکہ زندگی میں کامیابی کے لیے صرف حوصلہ کافی نہیں ہے بلکہ اسی کے ساتھ ضروری ہے کہ آدمی اپنے جذبات کو تھام کر اپنے اقدام کی دوراندیشانہ منصوبہ بندی کرے تو یہ حوصلہ کے مفہوم کو بگاڑنا نہیں ہوا بلکہ یہ زندگی کی وسیع تر حقیقتوں کو سامنے رکھ کر اس کا مفہوم متعین کرنا ہے۔ آپ کو غالباً معلوم ہوگا کہ حضرت عمر نے خالد بن ولید کو سپہ سالار کے مقام سے ہٹایا تھا تو اس کا ایک خاص سبب یہ تھا کہ حضرت خالد ایک بے حد حوصلہ مند آدمی تھے اوراپنے اس جذبہ کے تحت ایسا اقدام کردیتے تھے جو حضرت عمر فاروق کے نزدیک سنگین رسک لینے کے ہم معنیٰ تھا۔
۱۰۔ تنقید کو قبول کرنے کی شرط وہ نہیں ہے جو آپ نے اپنے خط میں تحریر فرمائی ہے۔ آپ کی زیر نظر تحریر کی نسبت سے اس کی شرط یہ ہوگی کہ تنقید علمی طورپر درست ہے۔ جیسا کہ اوپر کے تجزیہ سے واضح ہوتاہے، آپ کی تنقید علمی اعتبار سے درست ہی نہیں۔ ایسی حالت میں اس کو کس طرح قبول کرلیا جائے گا۔
یہاں میں یہ عرض کرنا چاہوں گا کہ تنقید ایک بے حد مشکل کام ہے۔ صحیح تنقید کے لیے کئی ضروری شرطیں درکار ہیں۔ مثلاً ناقد متعلقہ موضوع پر عالمانہ نظر رکھتا ہو۔ اس کو معلوم ہو کہ علمی فریم ورک کیا چیز ہے۔ وہ ریلیوینٹ (relevant) اور ارریلیونٹ (irrelevant) کے فرق کو بخوبی جانتا ہو۔ وہ عقل پر مبنی استدلال (reason based argument) سے بخوبی طورپر واقف ہو۔ وہ جانتا ہو کہ لفظی الزام اور مدلّل تنقید میںکیا فرق ہے، وغیرہ۔ جس آدمی کو ان باتوں کا گہرا علم نہ ہو اس کو اس حدیث رسول کو اپنا رہنما بنانا چاہئے: من کان یؤمن باللہ والیوم الآخر فلیقل خیراً أو لیصمت۔
سوال
آپ سے الرسالہ کے متعلق دو سوال عرض کرتاہوں، شاید آپ جواب دے سکیں۔ کیوں کہ آپ کی تو عادت ہے جواب سے کترانا اور ایسا جواب دینا جس سے سائل متفق نہ ہوسکے۔
۱۔ آپ نے الرسالہ فروری ۲۰۰۳ء کے صفحہ ۳۵ پر لکھا ہے کہ میں ملحد ہوگیا۔ اور پھر ۱۹۴۹ء میں دوبارہ اعظم گڑھ کی جامع مسجد میں ماسٹر عبد الحکیم انصاری کے سامنے کلمۂ شہادت ادا کیا۔ آپ کو کس خیال نے منکر بنایا؟ اور آپ نے پھر دوبارہ اسلام قبول کیسے اور کیوں کیا؟ دوسرا سوال اسی سے متعلق یہ ہے کہ آپ نے الرسالہ ستمبر ۱۹۹۹ ء میں لکھا ہے کہ میری شادی ۱۹۴۲ ء میں ہوئی۔ یعنی منکر کی حالت میںآپ نے شادی کی تو کیا اسلام لانے کے بعد دوبارہ نکاح کیا؟ جب کہ آپ نے نکاح حرام کیا تھا؟
۲۔ آپ نے ’’صدام حسین کے لیے انتخاب‘‘ کے تحت الرسالہ جون ۲۰۰۳ء میں لکھا ہے صدام حسین کو وہاں سے ہٹ جانا چاہئے۔ یہ ایک ایسا پاگل پن مشورہ ہے جسے کوئی بھی با شعور انسان قبول نہیں کرسکتا۔ اگر آپ کے ساتھ امیریکا کہے کہ آپ اپنے مشن کو ختم کرڈالیں اور ہندستان سے نکل جائیں ورنہ آپ کو تباہ کر ڈالا جائے گا تو آپ کا کیا جواب ہوگا؟ شاید آپ جواب دیں مجھے تو امید نہیں ہے۔ (شاہ عمران حسن، دلاورپور، مونگیر )
جواب
سائل کا سوال یہاں سائل کے اپنے الفاظ میں پورا نقل کردیا گیا ہے۔ مذکورہ سوالات کا جواب مختصر طورپر عرض ہے۔
۱۔ الرسالہ فروری ۲۰۰۳ میں جس معاملہ کا ذکر ہے وہ وقتی طورپر اسلام کے بارے میں کچھ شکوک و شبہات کا ذہن میں پیداہونا ہے۔ اس قسم کے شکوک و شبہات ہمیشہ ان لوگوں کے ذہن میں پیدا ہوتے ہیں جو تخلیقی فکر کے مالک ہوں۔ یہ شکوک و شبہات کسی سنجیدہ انسان کے لیے عظیم تر یقین تک پہنچانے کا ذریعہ ہوتے ہیں۔ جیسا کہ اللہ کی توفیق سے میرے ساتھ پیش آیا۔ شکوک و شبہات کا یہ وقتی معاملہ تاریخ میں بہت سے بڑے بڑے علماء کو پیش آیا ہے۔ مثلاً امام ابو الحسن اشعری، امام الغزالی، امام الرّازی، مولانا عبد الماجد دریا آبادی، مولانا ابوالکلام آزاد وغیرہ۔ اس قسم کا مرحلہ پیش آنا کوئی عیب کی بات نہیں، حقیقت یہ ہے کہ یہ روایتی عقیدہ سے گزر کر اعلیٰ معرفتِ حق تک پہنچنے کا ایک مرحلہ ہے۔ وہ لوگ بہت خوش نصیب ہیں جن کو اللہ کی رحمت سے یہ مرحلہ پیش آئے۔
۲۔ میرے ساتھ جو مذکورہ مرحلہ پیش آیا وہ خدا نخواستہ ترک اسلام یا انکار اسلام کا مرحلہ نہ تھا۔ وہ صرف تحقیق مزید کا معاملہ تھا۔ چنانچہ ان سالوں میں بھی میں مسلسل اللہ سے دعا کرتا تھا۔ میں حسب معمول دوسرے مسلمانوں کی طرح نماز و روزہ اداکرتا تھا۔ اور خصوصیت سے قرآن کے ان الفاظ پر غور کیاکرتا تھا جو ایک پیغمبر کے حوالہ سے آئے ہیں: قال اَو لم تُؤمن قال بلیٰ ولکن لیطمئن قلبی (البقرہ ۳۶۰ )
۳۔ جہاں تک صدّام حسین کے بارے میں میرے مشورہ کا معاملہ ہے تو اس میںسائل کی حیثیت ایک فارسی مقولہ کے مطابق، مدّعی سست گواہ چست کی مانند ہے۔ صدام حسین صاحب کویہ مشورہ میںنے آغاز جنگ سے تقریباً ایک مہینہ پہلے دیا تھا۔ مگر جیسا کہ معلوم ہے، صدّام حسین صاحب نے یہ مشورہ اس وقت نہیں مانا مگر جب امریکہ نے شدید بمباری کے ذریعہ صدّام حسین کے محلوں اور بنکروں اور پناہ گاہوں کو تباہ کردیا تو انہوں نے وہی کیا جس کا مشورہ میںنے پہلے دیا تھا۔ یعنی وہ خاموشی کے ساتھ اپنی سیاسی گدّی کو چھوڑ کر بغداد سے باہر چلے گئے۔ یہ کہنا درست ہوگا کہ صدّام حسین صاحب کا یہ فعل فارسی شاعر کے اس شعر کا مصداق ہے کہ جو دانشمند کرتا ہے وہی نادان بھی کرتاہے لیکن کافی تباہی کے بعد :
آنچہ دانا کند کند ناداں لیک بعد از خرابیٔ بسیار
۴۔ کلمہ شہادت کو بار بار ادا کرنا ایک اہم اسلامی تعلیم ہے اور وہ تمام علماء صالحین کا طریقہ رہا ہے۔ جیسا کہ حدیث میںآیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جدِّدوا ایمانکم بقول لا الٰہ الا اللہ (تم لاالہ الا اللہ کہہ کر اپنے ایمان کی تجدید کیا کرو)۔
سوال
یہاں دو سوالات درج کرتا ہوں۔میرے نزدیک یہ دونوں سوال بہت اہم ہیں۔ براہِ کرم دونوں سوالوں کے واضح جواب عنایت فرمائیں۔ایک یہ کہ جماعت اسلامی کے ایک سینئر عالم نے اپنے ایک مقالہ میں لکھا ہے کہ ’’اس امت کی ایک تاریخ ہے، عظیم الشان تاریخ، ایسی تاریخ کہ جس کی کوئی مثال نہیںملتی، اس تاریخ پر ہم فخر کرتے ہیں اور بجا طورپر کرتے ہیں‘‘۔ (سہ ماہی تحقیقات اسلامی، علی گڈھ، جنوری۔ مارچ ۲۰۰۳، صفحہ ۶) کیا تاریخ پر فخر کرنا اسلامی نقطۂ نظر سے صحیح ہے۔ دوسرا سوال یہ ہے کہ جماعت اسلامی کے موجودہ امیر کا ایک تفصیلی انٹرویو چھپا ہے۔ انٹرویور کا ایک سوال یہ تھا کہ ملک کی فسطائی طاقتوں کے بڑھتے ہوئے قدموں کو کیسے روکا جائے۔ اس سلسلہ میں امت کے لئے جماعت کی رہنمائی کیا ہے۔ امیر جماعت نے اس کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ’’جماعت مسلمانوں سے کہتی ہے کہ انہیں آگے بڑھ کر اپنا رول ادا کرنا چاہئے۔ جو لوگ جمہوری فضا کو ختم کرنا چاہتے ہیں، جو مذہبی آزادی پر قدغن لگانا چاہتے ہیں، انہیں ہر قیمت پر اقتدار میں آنے سے روکیں۔ اس کا مشورہ ہم مسلمانوں کو دیتے ہیں۔‘‘ (ماہنامہ افکار ملّی، نئی دہلی، مئی ۲۰۰۳، صفحہ ۲۶) کیا آپ کے خیال سے ہندستانی مسلمانوں کے لیے یہ سیاسی پالیسی درست ہے۔ (ڈاکٹر ایس اے صدیقی، نئی دہلی)
جواب
۱۔ پہلے سوال کے جواب میں عرض ہے کہ تاریخ پر فخرکرنا ایک بدعت ہے۔ صالحین امت میں اس کی کوئی مثال نہیں۔ صحابہ، تابعین اور تبع تابعین میںسے کوئی بھی شخص نہیں ہے جس نے یہ کہا ہو کہ مجھے امت کی تاریخ پر فخر ہے۔ اسی طرح محدثین اور فقہاء اور مفسرین نے کبھی ایسا نہیں کہا۔ امت کی مشہور شخصیتوں میں سے کسی نے بھی کبھی ایسی بات نہیںکہی۔ مثلاً حسن بصری، عمر بن عبد العزیز، الغزالی، ابن تیمیہ، شاہ ولی اللہ وغیرہ۔ان میں سے کسی نے بھی ایسا نہیں لکھا۔ یہ بلا شبہہ ایک مبتدعانہ کلام ہے۔ یہ قوم پرستی کے مزاج کے تحت نکلے ہوئے الفاظ ہیں، نہ کہ خدا پرستی کے تحت نکلے ہوئے الفاظ۔ امت کی تاریخ بالفرض عظیم الشان تاریخ ہو تب بھی وہ ہمارے لیے شکر کی بات ہے نہ کہ فخر کی بات۔
تاریخ چونکہ کبھی معیاری نہیں ہوتی اس لیے تاریخ کو فخر کا موضوع بنانے کا یہ نقصان ہوتا ہے کہ اس سے قومی تعصب کا مزاج پیدا ہوتا ہے۔ فخر کی نفسیات یہ چاہتی ہے کہ جس چیز پر فخر کیا جارہا ہے وہ نقص سے پاک ہو۔ اس لیے ایسے لوگوں کے اندر شعوری یا غیر شعوری طورپر یہ مزاج بن جاتا ہے کہ میری قوم ہر حال میں صحیح ہے اور دوسری قوم ہر حال میں غلط۔ اپنی قوم کے خلاف تنقید سن کر اُنہیں ایسا محسوس ہوتاہے کہ اُن کا فخر ٹوٹ رہا ہے۔ اس لیے نزاعی معاملات میںوہ ہمیشہ دوسری قوم پر الزام دیتے ہیں اور اپنی قوم کو بری الذمہ ثابت کرتے ہیں۔ یہاں پہنچ کر ایسے لوگوں میں ایک شدید تر برائی پیدا ہوجاتی ہے، وہ ہے اپنے قومی احتساب سے محروم ہوجانا۔
۲۔ دوسرے سوال کے بارہ میں عرض ہے کہ یہ کوئی نیا فارمولا نہیں۔ آزادی (۱۹۴۷) کے بعد مسلمانوں نے اپنے رہنماؤں کی پیروی میں بار بار ایسا کیا ہے کہ ہر الیکشن کے موقع پر وہ مفروضہ فُسطائی پارٹیوں کے خلاف ووٹ دے کر اُنہیں ہرائیں اور اُنہیں اقتدار میں آنے نہ دیں۔ اس سیاسی طریقِ کا ر کی پشت پر ماضی میں بڑی بڑی مسلم شخصیتوں کے نام شامل رہے ہیں۔
مگر یہ تجربہ مکمل طورپر ناکام ثابت ہوا ۔ مسلمانوں کی یہ ہرانے کی پالیسی مسلسل طورپر ’’فُسطائی طاقتوں‘‘ کو جِتاتی رہی۔ آزادی کے بعد مفروضہ فُسطائی پارٹی کے صرف دو ممبر مرکزی پارلیمنٹ میں ہوتے تھے۔آج یہ لوگ مرکز میں حکمراں کی حیثیت حاصل کیے ہوئے ہیں۔ کئی ریاستوں میںاُن کی حکومت قائم ہے۔ حتیٰ کہ پچھلے سال گجرات میںاسی قسم کی ہرانے کی پالیسی کے نتیجہ میں مفروضہ فسطائی پارٹی کو ایسی جیت حاصل ہوئی کہ ریاست میں اُس کی حکومت قائم ہوگئی۔
اس تجربہ کی روشنی میں اب اصل مسئلہ سیاسی پالیسی پر نظر ثانی کا ہے، نہ کہ اس کو مزید جاری رکھنے کا۔ مذکورہ سیاسی پالیسی کو جاری رکھنے کا مشورہ دینا، فارسی مثل کے مطابق، آزمودہ را آزمودن جہل است کے ہم معنٰی ہے۔ یعنی آزمائے ہوئے کو آزمانا صرف ایک نادانی ہے۔
ایسی حالت میں آدمی کو یہ کرنا چاہئے کہ اگر اُس کے پاس مسئلہ کا کوئی واقعی حل نہیں ہے تو وہ کم ازکم یہ کرے کہ وہ اس سوال پرچپ ہوجائے۔
ایک اور پہلو سے دیکھئے تو مفروضہ فسطائی طاقتوں کو ہرانے کی پالیسی سراسر غیر اسلامی ہے۔ مسلمان اس ملک میں داعی ہیں اور تمام ہندو اُن کے لیے مدعو کی حیثیت رکھتے ہیں۔ داعی اور مدعو کا یہ تعلق مذکورہ قسم کی تفریقی پالیسی کا تحمل نہیں کرسکتا۔ داعی کی حیثیت سے ہمارے اوپر فرض ہے کہ ہم تمام ہندوؤں کو یکساں طورپر امتِ دعوت کی نظر سے دیکھیں۔
واپس اوپر جائیں

سہ ماہی السّلام (نئی دہلی) کے سوال نامہ ۱۲؍جون ۲۰۰۳ کا جواب

۱۔ مختلف مذہبوں اور تہذیبوں کے سماج میں ہم آہنگی کیسے لائی جائے۔ اس کا ایک فارمولا یہ پیش کیا جاتا ہے کہ اس قسم کے اختلافات کو بلڈوز کر کے پورے سماج کو ایک مذہب اور ایک کلچر کا سماج بنایا جائے۔ مگر یہ کوئی فارمولا نہیں۔ کیوں کہ ایسا ہونا سرے سے ممکن ہی نہیں۔ فطرت کا نظام جو خالق نے بنایا ہے وہ یکسانیت کے اصول پر نہیں بنایا بلکہ تعدد اور تنوع کے اصول پربنایا ہے۔ یہی تعدد اورتنوع مذہبی اور تہذیبی دنیا میں بھی موجود ہے۔ یہ خالق کے تخلیقی نقشہ کا ایک حصہ ہے اور جو چیز خود خالق کے تخلیقی نقشہ کا حصہ ہو اس کو مٹانا کسی کے لیے بھی ممکن نہیں۔ ایسی حالت میں انسانی دنیا میں مذہبی یکسانیت یا کلچرل یکسانیت کی بات کرنا اتنا ہی بے معنٰی ہے جتنا کہ مادّی دنیا کے تنوع کو ختم کرکے یکساں مادّی نظام قائم کرنے کا منصوبہ بنانا۔
اس سلسلہ میں دوسرا فارمولا یہ پیش کیا جاتا ہے کہ تمام مذاہب یکساں ہیں۔ اس نظریہ کے حامی، لوگوں کو یہ یقین دلانے کی کوشش کررہے ہیں کہ مختلف مذاہب میں کوئی اختلاف ہی نہیں۔ اس لئے لوگوں کو چاہئے کہ وہ فرق اور اختلاف کے ذہن کو ختم کردیں، اس طرح اپنے آپ اتحاد قائم ہوجائے گا۔ یہ بات بھی سراسر بے معنٰی ہے۔حقیقت یہ ہے کہ مختلف مذہبوں اور مختلف تہذیبوں میں فرق اور اختلاف اتنا زیادہ حتمی صورت میں موجود ہے کہ کسی بھی دلیل سے اس کو غیر موجود ثابت کرنا ممکن نہیں ۔ یہ فارمولا یقینی طورپر ایک غیر حقیقی فارمولا ہے۔ وہ عملی طورپر نہ کبھی ممکن ہوا اور نہ آئندہ وہ کبھی ممکن ہوسکتا ہے۔ مزید یہ کہ فرق کوئی عیب نہیں، بلکہ وہ ایک خوبی ہے۔ وہ مذہبی فکر میں ارتقاء کا ذریعہ ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ اس معاملہ میں صرف ایک ہی فارمولا ہے جو مفید اور قابل عمل ہے، اور وہ فارمولا وہ ہے جو رواداری(tolerance) کے اصول پر مبنی ہے۔ اس اصول کا خلاصہ یہ ہے کہ — ایک کی پیروی کرو اور سب کا احترام کرو:
Follow one and respect all.
۲۔ ہندوؤں اور مسلمانوں کے درمیان جو غلط فہمیاں موجود ہیں ان کی ذمہ داری ہندو اور مسلمان دونوں طرف کے رہنماؤں کے اوپر یکساں طور پر عائد ہوتی ہے۔ مختلف اسباب کے تحت دونوں طرف کے رہنماؤںنے اپنے اپنے عوام کو وہ ذہن دیا جس کو شناخت(identity) کہا جاتا ہے۔ دونوں ہی نے اپنے قومی وجود کے لیے شناخت کو اہم ترین مسئلہ قرار دیا۔ اس کو پختہ کرنے کے لیے ہندو رہنماؤں نے یہ نظریہ بنایا کہ مسلمان مَلچھ ہیںاور مسلم رہنماؤں نے یہ نظریہ وضع کیا کہ ہندو کافر ہیں۔ میرے نزدیک یہ دونوں نظریے یکساں طورپر غلط ہیں۔ ہندو کو دل سے یہ ماننا چاہئے کہ مسلمان انہی کی طرح انسان ہیں۔ اسی طرح مسلمانوں کو دل سے یہ ماننا چاہئے کہ ہندو انہی کی طرح انسان ہیں۔ جب تک سوچ میںیہ تبدیلی نہ آئے ہماری سماجی زندگی میںمعتدل تعلقات کا ماحول قائم نہیں ہوسکتا۔
اس معاملہ کا ایک اور پہلو ہے، اور اس کا تعلق زیادہ تر مسلمانوں سے ہے۔ مسلمان اپنے عقیدہ کی رو سے داعی ہیں اورہندو ان کے لیے مدعو کی حیثیت رکھتے ہیں۔ داعی۔مدعو کے اس رشتہ کا تقاضہ ہے کہ مسلمان یک طرفہ طورپر یہ ذمہ داری لیں کہ انہیں شرعی حکم کے مطابق، تالیف قلب کے اصول پر عمل کرنا ہے۔ انہیں یہ کرنا چاہئے کہ وہ ہندوؤں کی شکایتوں کو یک طرفہ طورپر اپنے آپ پر لے لیں تاکہ دونوں فرقوں کے درمیان وہ معتدل ماحول قائم ہو جو دعوتی عمل کے لیے ضروری ہے۔
یہاں میں یہ اضافہ کروں گا کہ ہندوؤں کی کئی شکایتیں جن کو مسلمان’’ غلط فہمی‘‘ قرار دیتے ہیں اور غلط فہمی دور کرنے کے نام پر ایک غیر مؤثر مہم لمبی مدت سے چلارہے ہیں۔ اس کو انہیں مکمل طورپر ترک کردینا چاہئے۔ کیوں کہ جو معاملہ ہندوؤں کے نزدیک صحیح فہمی کاہو اس کا خاتمہ اس طرح نہیں ہوسکتا کہ ہم اس کو غلط فہمی کہہ کر نظر انداز کردیں۔ مثال کے طور پر مسلم بادشاہوں کی کئی کارروائیوں پر ہندوؤں کو بجا طورپر شکایت ہے۔ مسلمانوں کو چاہئے کہ وہ کھلے طورپر ان کارروائیوں کی مذمّت کریں ۔ وہ کھلے طورپر یہ کہیں کہ ہندستان کی مسلم حکومتیں خاندانی حکومتیں تھیں نہ کہ اسلامی حکومتیں۔ اس کے سوا کسی اور طریقہ سے اس معاملہ کا خاتمہ ممکن نہیں۔
۳۔ اقلیت و اکثریت کے تعلقات کو کس طرح بہتر بنایا جائے۔میں سمجھتا ہوں کہ اس معاملہ میں پہل مسلمانوں کو کرناچاہئے۔ مثلاً مسلمانوں کے اندر دو قومی نظریے کے بجائے ایک قومی نظریہ کو فروغ دینا۔ مسلمانوں کے اندر فرقہ وارانہ سوچ کو ختم کرکے قومی سوچ (national thinking) پیدا کرنا، اسی طرح مسلمانوں کے اندر سے اس ذہن کو مکمل طورپر ختم کرنا کہ وہ ہندوؤں کے ایک طبقہ کو دشمن ہندو اور دوسرے طبقہ کو سیکولر ہندو سمجھتے ہیں۔ وہ الیکشن میںدھوم مچاتے ہیں کہ مفروضہ دشمن ہندو ہاریں اور سیکولر ہندو جیتیں۔ اس قسم کی سیاست دین اور عقل دونوں کے خلاف ہے۔ مسلمان اس قسم کی تفریقی سیاست کا تحمّل نہیں کرسکتے۔ اب آخری وقت آگیا ہے کہ اس غیر دانشمندانہ سیاست کا مکمل طورپر خاتمہ کردیا جائے۔
اس سلسلہ میں دوسری ضروری چیز یہ ہے کہ ہندوؤں اور مسلمانوں کے درمیان میل ملاپ (interaction) زیادہ سے زیادہ بڑھایا جائے۔ قدیم زرعی دور میں یہ میل ملاپ فطری طورپر موجود تھا۔ مگر اب صنعتی دور میں یہ خطرناک حد تک کم ہوگیا ہے۔ اس مسئلہ کا حل یہ ہے کہ مسلمان زیادہ سے زیادہ تعلیم حاصل کریں۔ وہ ہندو اسکول اور مسلم اسکول کی تفریق کے بغیر ہر تعلیمی ادارہ میں داخلہ لے کر پڑھیں۔
مسلمانوں میں اگر بھر پور طور پر اس قسم کی تعلیمی سرگرمیاں جاری ہو جائیں تو اس کا دو یقینی فائدہ حاصل ہوگا۔ اوّل یہ کہ تعلیمی اداروں میں تعلیم کے دوران ہندوؤں سے ان کاinteraction بڑھے گا اور interaction اپنے آپ میں ہر مسئلہ کا حل ہے۔ دوسرے یہ کہ مسلمان جب تعلیم میں آگے بڑھیںگے تو اس کے بعد فطری طورپر وہ دفتروں اور کمپنیوں اور تجارتی اداروں میںبڑی تعداد میں پہنچیں گے ۔ اس طرح وہ بُعداپنے آپ ختم ہوجائے گا جو زمانی تبدیلی کے نتیجہ میں پیدا ہوگیاہے۔
۴۔ پُر امن بقائے باہم کی اہمیت اسلام میں اتنی زیادہ ہے کہ مسلمانوں پر یہ لازم کردیاگیا کہ وہ یک طرفہ قربانی کے ذریعہ پر امن بقائے باہم کا ماحول سماج میں قائم رکھیں۔اسی قربانی کا نام صبر ہے۔
صبر کا مطلب یہ ہے کہ دوسروں کی طرف سے اشتعال انگیزی ہو تب بھی مشتعل نہ ہونا۔ دوسرے اگر نادانی کریں تب بھی اس سے اعراض کرنا۔ دوسرے اگر ستائیں تب بھی اس کو برداشت کرلینا۔ دوسرے اگر نزاع کھڑی کریں تو پہلے ہی مرحلے میں صلح کرکے اس کا خاتمہ کردینا ۔ دوسرے اگر نقصان پہنچائیں تو دوسروں سے لڑنے کے بجائے خدا سے اس کی تلافی کی امید رکھنا۔ دوسرے اگر فساد کریں تب بھی ان کے لیے اصلاح کی دعائیں کرنا۔ دوسرے اگر کاٹنے کی کوشش کریں تب بھی ان سے جڑے رہنا۔ دوسرے اگر نہ دیں تب بھی ان کو دینے کی کوشش کرنا۔ دوسرے اگر ظلم کریں تب بھی انہیں معاف کردینا۔
پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم اس معاملہ میںاس آخری حد تک گئے کہ ہجرت کے بعد مدینہ میںآپ تقریباً سولہ ماہ تک کعبہ کے بجائے بیت المقدس کی طرف رخ کرکے نماز پڑھتے رہے تاکہ وہاں بسنے والے یہودیوںسے غیر ضروری ٹکراؤ نہ پیش آئے۔ قرآن میںاس معاملہ میں یہ اصول مقرر کیا گیا کہ تمہارے لیے تمہارا دین اورہمارے لیے ہمارا دین۔ مدینہ میں ہجرت کے بعد پیغمبر اسلام نے جو منشور جاری کیا اس میں آپ نے یہ درج فرمایا کہ مسلمانوں کے لیے مسلمان کا دین اور یہود کے لیے یہود کا دین(للیہود دینہم وللمسلمین دینہم) وغیرہ۔
اس مقصد کے لیے یہ اعلان کیا گیا کہ تمام انسان ایک ہی جوڑے کی اولادہیں۔ تمام انسان آپس میں بھائی اور بہن ہیں۔ تمام انسان خدا کی عیال ہیں۔ ایک انسان اور دوسرے انسان میں دنیوی تعلقات کے اعتبارسے کوئی فرق نہیں۔ یہی وہ حقیقت ہے جس کو مولانا الطاف حسین حالی نے اپنی مسدّس میں اس طرح نظم کیا ہے:
یہ پہلا سبق تھا کتاب ہدیٰ کا کہ ہے ساری مخلوق کنبہ خدا کا
۲۵ جون، ۲۰۰۳
واپس اوپر جائیں

ایک خط

برادر محترم و مکرم ڈاکٹر عزیز احمد خاں ایڈوکیٹ السلام علیکم ورحمۃ اللہ
آپ کا خط مورخہ ۲۸ جون ۲۰۰۳ ملا۔ اللہ تعالیٰ آپ کو صحتِ کامل عطا فرمائے۔آپ کو ہر طرح امن اور عافیت کے ساتھ رکھے اور تمام اہل خانہ کا ہر طرح مددگار ہو۔
آپ نے لکھا ہے کہ عزیزہ شاذان کی شادی ۶ جولائی ۲۰۰۳ کو ہونے والی ہے۔ اس خبر سے خوشی ہوئی۔ اللہ تعالیٰ اس رشتہ کو مبارک کرے اورکامیاب زندگی عطا فرمائے۔ میری طرف سے عزیزہ کو دعا اور مبارک باد۔
شادی زندگی کا ایک ایسا مرحلہ ہے جو ہر مرد اور عورت کے ساتھ پیش آتا ہے۔ یہ فطرت کا قانون ہے۔ اور جب شادی خود فطرت کا قانون ہو تو خود فطرت کے اندر یہ انتظام ہونا چاہئے کہ شادی طرفین کے لیے پُر سکون زندگی کی ضمانت بنے۔
میرے نزدیک شادی شدہ زندگی کی کامیابی کا راز صرف ایک ہے اور وہ ایڈجسٹمنٹ ہے۔ ایڈجسٹمنٹ شادی شدہ زندگی کی کامیابی کی یقینی ضمانت ہے۔ اصل یہ ہے کہ خالق نے ہر مرد اور عورت کو مسٹر ڈفرنٹ اور مِز ڈفرنٹ کے روپ میں پیدا کیا ہے۔ ڈفرینس خود فطرت کالازمی حصہ ہے اور جب دو ڈفرنٹ پرسن باہم ملیں تو کامیاب زندگی کی ضمانت صرف یہ ہو سکتی ہے کہ دونوں ایک دوسرے کے ساتھ ایڈ جسٹ کرکے زندگی گذاریں۔ اس معاملہ میں فریقین کے لیے ایڈجسٹمنٹ کے سوا کوئی اورآپشن نہیں۔
یہ ڈفرینس ایک عظیم نعمت ہے۔ اسی ڈفرینس کی وجہ سے یہ ممکن ہوتا ہے کہ دو شخصوں کے درمیان تبادلۂ خیال ہو اور تبادلۂ خیال کے ذریعہ ذہنی ارتقاء کا عمل جاری رہے۔ میرے تصور میں بہترین بیوی اور بہترین شوہر وہ ہے جو ایک دوسرے کے لیے انٹیلکچول پارٹنر بن سکے۔ اگر فریقین میں مثبت مزاج ہو تو ڈفرینس سے انٹلیکچول ایکسچینج پیداہوگا اور انٹیلیکچول ایکسچینج سے انٹیلیکچول ڈیولپمنٹ کا عمل جاری رہے گا۔
قدیم روایتی تصور کے مطابق، عورت اور مرد دونوں ایک دوسرے کے لیے ہاؤس پارٹنر سمجھے جاتے تھے۔ موجودہ زمانہ میں اس میں توسیع ہوئی تو یہ سمجھا جانے لگا کہ دونوں ایک دوسرے کے لیے جاب پارٹنر ہیں۔ مگر میںسمجھتا ہوں کہ یہ شادی شدہ زندگی کی ایک تصغیر ہے کہ اس کو ہاؤس پارٹنر یا جاب پارٹنر کے دائرہ میں محدود کردیا جائے۔
میںسمجھتا ہوں کہ شادی شدہ زندگی کا زیادہ بڑا پہلو یہ ہے کہ اس طرح عورت اور مرد دونوں کو اپنے لیے ایک قابل اعتماد انٹیلکچول پارٹنر مل جاتاہے، ایک ایسا ساتھی جس کے ذریعہ وہ اپنے ذہنی ارتقاء کا سامان کرسکیں۔
کسی انسان کی سب سے بڑی ضرورت یہ ہے کہ اس کے اندر ذہنی ارتقاء کا عمل مسلسل جاری رہے۔ یہ ذہنی ارتقاء مطالعہ اور مشاہدہ اور تجربہ کے ذریعہ بھی جاری رہتا ہے۔ مگر اسی کے ساتھ ضروری ہے کہ آدمی کے ذہن میں جو بات آئے اُس پر تبادلۂ خیال کرنے کے لیے اُس کے پاس ایک قریبی معاون موجود ہو۔ اُس پر وہ اس سے ڈسکشن کرے۔ ڈسکشن کے دوران غیر واضح افکار واضح ہوتے ہیں۔ اُس سے ذہنی سفر کو آگے بڑھانے میں مدد ملتی ہے۔ ڈسکشن کے دوران نئے افکار ایمرج کرتے ہیں جو کسی اور طریقہ سے ممکن نہیں ہوتے۔
اس تبادلۂ خیال کے لیے عورت اورمرد دونوں کو ایسا ساتھی چاہیے جو مسلسل طورپر اُنہیں حاصل رہے۔ جس سے اعتماد کے ساتھ گفتگو کی جاسکتی ہو۔ جس سے رزرویشن کے بغیر ڈسکشن ہوسکے۔ اس قسم کا ساتھی صرف شوہر اور بیوی ایک دوسرے کے لیے ہوسکتے ہیں۔
حقیقت یہ ہے کہ کسی انسان کی سب سے بڑی منزل ذہنی ارتقاء ہے، اس ذہنی ارتقاء کے لیے بیوی اور شوہر دونوں ایک دوسرے کے لیے بہترین انٹلیکچول پارٹنر کی حیثیت رکھتے ہیں۔ اس طرح دونوں کے اندر تھنکنگ پراسس بلا روک جاری رہے گا،اور بلاشبہہ کسی مرد یا عورت کے لیے اس سے بڑی کوئی نعمت نہیں کہ اس کا تھنکنگ پراسس کسی رکاوٹ کے بغیر جاری رہے۔ عزیزہ شاذان کواُن کی زندگی کا یہ نیا دور مبارک ہو۔
یکم جولائی ۲۰۰۳ دعا گو وحید الدین
واپس اوپر جائیں

ایک خط

برادر محترم پریذیڈنٹ پرویز مشرف صاحب السلام علیکم ورحمۃ اللہ
انڈیا کے لئے آپ کا دورہ (۱۵۔۱۶ جولائی) ہم سب کے لئے خوشی کا باعث ہے۔ اللہ تعالیٰ اس اقدام کو مکمل کامیابی عطا فرمائے۔
۱۲ اکتوبر ۱۹۹۹ کو جب اللہ تعالیٰ نے آپ کو ایک امکانی ہوائی حادثہ سے بچایا اور پاکستان کے سیاسی اقتدار پر سرفراز کیا تو مجھے رابرٹ کلایو کا واقعہ یاد آیا۔ ایک امکانی حادثہ سے بچنے کے بعد کلایو کی زبان سے یہ الفاظ نکلے تھے: خدانے تم کو کسی بڑے کام کے لئے بچایا ہے۔ اور اس کے بعداس نے واقعۃً برطانی تاریخ میں ایک بڑا کام انجام دیا۔ میں سمجھتا ہوں کہ یہی تاریخ آپ کے ساتھ دہرائی جانے والی ہے۔ مجھے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ اللہ نے آپ کو اپنی خصوصی مدد سے بچایا ہے تاکہ آپ برصغیر ہند میں قیام امن کا وہ ضروری کردار ادا کر سکیں جس کا تاریخ کو نصف صدی سے انتظار ہے۔
جب یہ خبر آئی کہ آپ حکومت ہند کی دعوت پر انڈیا کا دورہ کرنے والے ہیں تو اس دورہ کے بارے میں میں نے کئی مضمون لکھے جو یہاں کے اردو، ہندی اور انگریزی اخباروں میں شائع ہوئے۔ مثال کے طور پر ساؤتھ انڈیا کے کثیر الاشاعت انگریزی روزنامہ ہت واد (The Hitavada) میںمیرا ایک تفصیلی انٹرویو اس کے شمارہ ۳۰ جون ۲۰۰۱ میں چھپا ۔ اس میں ملٹری رولر کی حیثیت سے میں نے آپ کا پرزور دفاع کیا تھا۔ چنانچہ اخبار نے اس انٹرویو کو چھاپتے ہوئے اس کا یہ عنوان دیا:
Military ruler is a blessing for Pakistan
اگر آپ اجازت دیں تو میں کہنا چاہوں گا کہ کشمیر کے معاملہ میں پاکستان کو وہی پالیسی اختیار کرنا چاہئے جو مشہور انگریزی مقولہ میں اس طرح بیان کی گئی ہیــــــسیاست ممکن کا آرٹ ہے:
Politics is the art of the possible.
میں ایک بہی خواہ کی حیثیت سے کشمیر کے مسئلہ پر اس کے آغاز ہی سے غور کرتا رہا ہوں۔ ۱۹۶۸ سے میں نے اس موضوع پر لکھنا شروع کیا اور اردو اور ہندی اور انگریزی پریس میں بار بار لکھتا رہا ہوں۔ اس مسئلہ کا غیر جانبدارانہ جائزہ لیتے ہوئے میری قطعی رائے ہے کہ کشمیر کے بارے میں پاکستان کے لئے صرف دو ممکن انتخاب (options) ہیں۔ ایک یہ کہ اس معاملہ میں پاکستان ڈی لنکنگ پالیسی (delinking policy) اختیار کرے۔ یعنی کشمیر کے اشو کو پر امن گفت و شنید کے خانہ میں ڈالتے ہوئے بقیہ تمام امور میں ہندستان سے نارمل تعلقات قائم کرلے۔ اور دوسرے یہ کہ جموں و کشمیر میں جغرافی اعتبار سے جو اسٹیٹس کو (statusquo) بن گیا ہے اس کو مستقل سرحد کے طورپر مان کر اس مسئلہ کو ہمیشہ کے لئے ختم کر دے۔ اس کے سوا کوئی تیسرا انتخاب عملی طورپرممکن نہیں۔ تیسری صورت یقینی طور پرصرف تباہی کی صورت ہے، نہ کہ ترقی اور کامیابی کی صورت ۔
اس معاملہ کا ایک اور نہایت اہم پہلو ہے۔آپ جانتے ہیں کہ موجودہ زمانہ میں مختلف مقامات پر جہاد کے نام سے مِلیٹنسی (militancy) چلائی جارہی ہے، ان میں سے ایک نمایاں نام کشمیر کا ہے۔ اس مِلیٹنسی کا فائدہ تو کچھ نہیں ہوا۔ البتہ اس کا ایک عظیم نقصان یہ ہوا کہ اسلام کی امیج ایک وائلنٹ مذہب (violent religion) کی ہوگئی۔ اس بدنامی نے موجودہ زمانہ میں اسلام کے آئیڈیالاجیکل مارچ (ideological march) کوروک دیا جو ایک ہزار سال سے مسلسل ساری دنیا میں چلا آرہا تھا۔
مجھے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ اللہ نے آپ کے لئے یہ رول مقدر کیا ہے کہ آپ اسلام کے اس دعوتی سفر کو دوبارہ جاری کریں۔ اگر آپ انڈیا کے ساتھ مستقل قسم کا ایک پیس ٹریٹی (peace treaty) کر لیں تو اس کا فائدہ نہ صرف پاکستان کو ملے گا بلکہ اس کے نتیجہ میں پوری مسلم دنیا میں ایک نیا صحت مند پراسس جاری ہو جائے گا۔ اس کے بعد یہ ہوگا کہ موجودہ متشددانہ رجحان ایک پر امن دعوتی رجحان میں بدل جائے گا۔ لوگ نارمل فضا میں اسلام کا مطالعہ کرنے لگیں گے۔
موجودہ مبصرین پاکستان کو امکانی طورپر نیو کلیر فلیش پائنٹ (nuclear flashpoint) کے طور پر دیکھتے ہیں۔ لیکن اگر آپ جرأت و ہمت سے کام لے کر حدیبیہ جیسا ایک پیس ٹریٹی کر لیں تو پاکستان برعکس طورپر دعوہ فلیش پائنٹ(dawah flashpoint) بن جائے گا۔
مجھے اندازہ ہے کہ کشمیر کے معاملہ میں مصالحت کی پالیسی اختیار کرنا آپ کی مقبولیت کے لیے ایک رِسک (risk) کی حیثیت رکھتا ہے۔ مگر اس اندیشہ کا جواب قرآن میں یہ دیا گیا ہے کہ: والصلح خیر (النساء ۱۲۸)۔ یعنی صلح بہتر ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اختلافی معاملات میں ٹکراؤ کی پالیسی کو چھوڑ کر مصالحت کی پالیسی اختیار کی جائے تو نتیجہ کے اعتبار سے وہ زیادہ بہتر ثابت ہوگی۔
زندگی میں ہر بڑی کامیابی کا تعلق رسک سے ہوتا ہے۔ آپ جانتے ہیں کہ افریقہ میں فرانس کی نو آبادیاتی پالیسی نے فرانس کو بے حد کمزور کردیاتھا۔ جنرل ڈیگال نے جرأت کرکے یک طرفہ طورپر اس پالیسی کو ختم کردیا۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ فرانس میں جنرل ڈیگال کی مقبولیت بہت کم ہوگئی۔ مگر آج اِس ڈیگال ازم کو ایک کامیاب خارجہ پالیسی سمجھا جاتا ہے۔ کیوں کہ اسی پالیسی کے نتیجہ میں دوسری عالمی جنگ کے بعد فرانس کو نئی طاقت ملی۔
اس خط کے ساتھ میں دو چیزیں بھیج رہا ہوں۔ ایک اپنی کتاب Islam Rediscovered اور دوسرے، ماہنامہ الرسالہ کا شمارہ اگست ۲۰۰۱۔ مجھے امید ہے کہ آپ اس کو پڑھنے کے لئے کچھ وقت نکال سکیں گے۔ اس مطالعہ سے میرا مدعا مزید واضح ہوجائے گا۔ اللہ تعالیٰ ہر طرح آپ کا مددگار ہو۔
نئی دہلی ۹ جولائی ۲۰۰۱ دعا گو وحید الدین
نوٹ: یہ خط صدر پرویز مشرف کے دورۂ ہند سے پہلے لکھا گیا اور اسلام آباد میں اُنہیں دستی طورپر پہنچایا گیا۔
واپس اوپر جائیں

خبر نامہ اسلامی مرکز ۱۵۹

۱ سہارا ٹی وی (نئی دہلی) میں ۱۸ اپریل ۲۰۰۳ کو ایک پینل ڈسکشن تھا۔ اس میں دہلی کے ۱۲ اعلیٰ تعلیم یافتہ افراد شریک ہوئے۔ ونود دوا اس کے اینکر تھے۔ موضوع یہ تھا کہ بحران کے وقت کیوں ایسا ہوتا ہے کہ لوگ لوٹ پاٹ شروع کردیتے ہیں۔ یہ واقعہ نیویارک، لاس اینجلیز، گجرات، بغداد، دہلی، وغیرہ میں بڑے پیمانہ پر پیش آیا ہے۔ اس کی دعوت پر صدر اسلامی مرکز نے اس میں شرکت کی۔ انہوں نے اس موقع پر جو کچھ کہا اس کا خلاصہ یہ ـتھا کہ یہ انسان کی انا والی نفسیات کا نتیجہ ہوتاہے۔ لوگ اس بنا پر اتھارٹی کو قبول کرنے کے لیے تیار نہیں ہوتے۔ وہ پہلا موقع پاتے ہی بغاوت کردیتے ہیں۔ اس کا علاج دو چیز ہے۔ اچھا ایڈمنسٹریشن اور اچھی ایجوکیشن۔
۲ ای۔ ٹی وی (نئی دہلی) میں ۲۳ اپریل ۲۰۰۳ کو ایک پینل ڈسکشن ہوا۔ اس کا موضوع تھا— امن ، انسانیت اور توہم پرستی کے بارہ میں مذہب کی تعلیمات۔ اُس کی دعوت پر صدر اسلامی مرکز نے اُس میں شرکت کی اور اس موضوع پر اسلام کی روشنی میں کلام کیا۔ اُنہوں نے بتایا کہ اسلام امن اور انسانیت کا مذہب ہے۔ جہاں تک توہم پرستی کا تعلق ہے، اسلام میں اس کی گنجائش نہیں۔اسلام کے مطابق، موثر حقیقی صرف خدا ہے۔ نفع کا ملنا یا نقصان کا پہنچنا دونوں صرف خدا کے اختیار سے ہوتا ہے۔ خدا کے سوا کسی اورکو نافع یا ضار سمجھنا اسلام کی تعلیمات کے خلاف ہے۔
۳ سائی انٹرنیشنل سینٹر (نئی دہلی) میں ۲۷ اپریل ۲۰۰۳ کی شام کو توسیعی لکچر کاایک پروگرام تھا۔ اس میں دہلی کی خاتون چیف منسٹرمسز شیلا دکشت چیف گیسٹ تھیں اور صدر اسلامی مرکز اُس کے واحد اسپیکر تھے۔ وسیع ہال پوری طرح بھرا ہوا تھا۔ اس میں تقریر کاعنوان یہ تھا:
Spirituality and Spiritual Power
تقریر میں تفصیل سے بتایا گیا کہ اسپریچولٹی ایک اعلیٰ انسانی صفت ہے۔ اسپریچولٹی آدمی کو ذہنی سکون دیتی ہے۔ اسی کے ساتھ وہ ایک عظیم طاقت ہے۔ یہ پروگرام انگریزی میں تھا اور اُس میںاعلیٰ تعلیم یافتہ لوگ شریک ہوئے۔ سامعین بہت زیادہ متاثر ہوئے۔ چیف گیسٹ مسز شیلادکشت نے آخر میں کہا کہ میں بولنے کی پوزیشن میں نہیں ہوں۔ مولانا صاحب کی تقریر نے ہم لوگوں کو اتنا زیادہ مسحور کردیا ہے کہ ہمارے پاس اب بولنے کے لیے کچھ نہیں ہے۔
۴ جین ٹی وی میں ۲ مئی ۲۰۰۳ کو ایک پروگرام تھا۔ اس میں صدر اسلامی مرکز کی تقریر ریکارڈ کی گئی۔ اس کا موضوع تھا: پیغمبر اسلام کی سیرت اور تعلیم۔ قرآن وحدیث کی روشنی میں موضوع کی وضاحت کی گئی ۔
۵ ہندی ہفت روزہ پَروکتا کے نمائندہ مسٹر راجیو شرما (Tel. 26711954/955) نے ۴ مئی ۲۰۰۳ کو صدر اسلامی مرکز کا تفصیلی انٹرویو لیا۔ کشمیر کے بارے میں ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ وہ ۱۹۶۸ سے جو بات کہتے رہے ہیں وہ اب بعد از خرابیٔ بسیار پاکستانی لیڈروں کی سمجھ میںآئی ہے۔ وہ یہ کہتے رہے ہیں کہ اس معاملہ میں ڈی لنکنگ (delinking) پالیسی اختیار کی جائے۔ یعنی کشمیر کے سوال کو الگ رکھ کر اس کو شملہ ایگریمنٹ کے تحت پر امن گفت و شنید کے ذریعہ حل کرنے کی کوشش کی جائے اور اسی کے ساتھ تجارت، سیاحت اور اس طرح کے دوسرے معاملات میں دونوں ملکوں کے درمیان نارمل تعلق قائم کر لیا جائے۔ اب پاکستانی لیڈر اس پر راضی ہوگئے ہیں۔ امید ہے کہ جلد ہی اس پر عمل ہوگا اور دھیرے دھیرے انشاء اللہ کشمیر کا جھگڑا ختم ہو جائے گا۔
۶ اسٹار نیوز (نئی دہلی) کی اسپیشل کرسپانڈنٹ اَپرنا دویدی (Aparna Dwivedi) نے ۵ مئی ۲۰۰۳ کو صدر اسلامی مرکزکا انٹرویو لیا۔ اُ ن کے سوالات کا تعلق زیادہ تر مدرسہ کے ماڈرنائزیشن سے تھا۔ جواب میں بتایا گیا کہ مدرسہ میں بلا شبہہ بہت کچھ کرنے کی ضرورت ہے۔ مگر اُس کو ماڈرنائزیشن کہنا درست نہیں۔ مثلاً مدرسہ میں ضرورت ہے کہ قدیم منطق کی جگہ جدید منطق پڑھائی جائے۔ عربی زبان کے ساتھ انگریزی زبان کو باقاعدہ طورپر داخل نصاب کیا جائے۔ کمپیوٹر کی تعلیم دی جائے۔ نئے طریقہ سے کام کرنے کی تربیت دی جائے۔ ایک سوال کے جواب میں کہا گیا کہ یہ کہنا درست نہیں کہ مدرسہ میں جنگجوئی سکھائی جاتی ہے۔ البتہ یہ کہنا صحیح ہوگا کہ مدرسہ میں ٹالرنس اور ایڈجسٹمنٹ کا مزاج بنانے کا اہتمام نہیںکیا جاتا، حالاں کہ ایسا کرنا چاہئے (Tel: 91 11 51502000) ۔
۷ جین ٹی وی (نئی دہلی) میں ۱۰ مئی ۲۰۰۳ کو ایک پروگرام ہوا۔ اس پروگرام میں مختلف اصحاب نے حصہ لیا۔ مسلمان بھی، ہندو بھی اور سکھ بھی۔ اس کا موضوع سیرتِ رسول کا عالمی پیغام تھا۔ صدر اسلامی مرکز نے اُس کی دعوت پر اُس میںشرکت کی۔ اُنہوں نے قرآن و حدیث کی روشنی میں بتایا کہ پیغمبر اسلام کی تعلیمات ساری انسانیت کے لیے ہیں۔ اس کے مطابق، سارے انسان ایک خاندان کی مانند ہیں۔ ہر ایک دوسرے کے لیے بھائی اور بہن کی حیثیت رکھتا ہے۔ دوسری بات یہ کہ دنیا میںانسان دوسروں کے ساتھ جو معاملہ کرے گا اُس کے بارہ میں خدا کے یہاں اُس سے باز پرس ہوگی۔ یہ دو چیزیں پیغمبر کی تعلیمات میں بنیادی حیثیت رکھتی ہیں۔
۸ ادھیاتمک جاگرتی منچ کے زیر اہتمام ۱۳ ،ساؤتھ اوینیو، نئی دہلی میں ۱۳ مئی ۲۰۰۳ کو ایک میٹنگ ہوئی۔ اس کی دعوت پر صدر اسلامی مرکز نے اس میں شرکت کی۔ انہوں نے اپنی تقریر میںکہا کہ ملک میں تبدیلی لانے کے لیے صرف سیاسی طریقِ کار کافی نہیں۔ اسی کے ساتھ ضروری ہے کہ روحانی انقلاب لانے کے لیے باقاعدہ کوشش کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ عوامی تحریک سیاسی مقصد کے حصول کے لیے کافی ہو سکتی ہے۔ مگر تعمیری سماج بنانے کے لیے فرد فرد میں اخلاقی اور روحانی تبدیلی لانا ضروری ہے۔ اس میٹنگ میں ہندو، عیسائی، سکھ اور مسلمان شریک ہوئے۔
۹ نئی دہلی کے انڈیا انٹرنیشنل سنٹر میں ۱۸ مئی ۲۰۰۳ کو محفل میلاد کا پروگرام ہوا۔ اس پروگرام کا اہتمام ایک خاتون تنظیم نے کیا تھا۔ یہ ایک سالانہ پروگرام ہے جو ہر سال بڑے پیمانہ پر کیا جاتا ہے ۔ اس میں دہلی کے ممتاز اور تعلیم یافتہ مسلمان شریک ہوتے ہیں۔ صدر اسلامی مرکز نے اس کی دعوت پر اس میں شرکت کی اور سیرت کے موضوع پر ایک تقریر کی۔ بقیہ مقررین یہ تھے: سفیر ایران، سفیر عرب امارات، ڈاکٹر نجمہ ہبت اللہ، رفیعہ حسین۔ یہ پورا پروگرام انگریزی زبان میں ہوا۔
۱۰ نئی دہلی کا مشہور تعلیمی ادارہ این سی ای آر ٹی (NCERT) نے اپنے ہال میں ایک پروگرام منعقد کیا جس میں ادارہ کے تمام ٹیچر، پروفیسر اور کارکن بڑی تعداد میں شریک ہوئے۔ ڈاکٹر جے ایس راجپوت (ڈائرکٹر این سی ای آر ٹی) نے اس کی صدارت کی۔ اس میںایکسٹنشن لکچر کے پروگرام کے تحت صدر اسلامی مرکز کوتقریر کرنے کی دعوت دی گئی۔ انہوں نے روحانیت کے موضوع پر ایک گھنٹہ خطاب کیا۔ خطاب کے بعد سوال و جواب کا پروگرام تھا۔ تقریر کا خلاصہ یہ تھا کہ ہر انسان پیدائشی طورپر الفطرۃ پر پیدا ہوتا ہے۔ یہ روحانیت کا آغاز ہے۔ اس کے بعد وہ نیچر میں غور وفکر سے اپنی روحانیت کو بڑھاتا ہے۔ اور پھر خدا سے تعلق قائم کرکے اس سے انسپریشن (inspiration) لیتا ہے۔ اس طرح انسان کی روحانی شخصیت ترقی کرتی رہتی ہے۔ یہ پروگرام ۲۱ مئی ۲۰۰۳ کو منعقد کیا گیا۔ پروگرام کے آخر میں ڈاکٹر راجپوت نے اپنے صدارتی کلمات کے درمیان یہ تجویز پیش کی کہ میں تقریباً سو صفحہ کی ایک کتاب انگریزی میں تیار کرکے اُنہیں دوں جس کو وہ بڑی تعداد میں چھاپ کر پورے ملک کے تمام اسکول ٹیچروں تک پہنچائیں گے۔ حاضرین نے پر جوش طورپر اس تجویز سے اتفاق کیا۔ ڈاکٹر راجپوت نے اس کتاب کا نام یہ تجویز کیا:
The Basics of Islam
۱۱ جین ٹی وی (نئی دہلی)کے تحت ۲۱ مئی ۲۰۰۳ کو پینل ڈسکشن ہوا۔ اس کی دعوت پر صدر اسلامی مرکز نے اس میں شرکت کی۔ ڈسکشن کا موضوع یہ تھا کہ مسلمانوں کی یہ تصویر ساری دنیا میںکیوں بن گئی ہے کہ وہ لڑنے بھڑنے والی قوم ہیں۔ وہ دوسروں کے ساتھ ایڈجسٹ کرکے نہیں رہ سکتے۔ اس سوال کے جواب میں بتایا گیا کہ اس کا سبب مسلم رہنماؤں کا دیا ہوا سیاسی ذہن ہے۔ اس بنا پر مسلمان اپنے آپ کو پولیٹکل پاور کے ساتھ آئڈنٹفائی (identify) کرنے لگے ہیں۔ ان کا ماڈل مسلمانوں کا دور اقتدار بن گیا ہے جس کو وہ دوبارہ حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ مگر یہ تصور غلط ہے۔ اسلام کی تعلیم یہ ہے کہ جب تک جارحیت نہ ہو اس وقت تک ہر ماحول میںوہ امن کے ساتھ رہیںخواہ وہاں مسلم اقتدار ہو یا غیر مسلم اقتدار۔
۱۲ نئی دہلی کے انگریزی ہفت روزہ آرگنائزر نے ۲۱ مئی ۲۰۰۳ کو ٹیلی فون پر صدر اسلامی مرکز کا انٹرویو لیا۔ دہلی کی خاتون فرزانہ کے کیس کی روشنی میں یہ سوال تھا کہ جہیز کے بارے میں اسلامی شریعت کا حکم کیا ہے۔ جواب میں کہا گیاکہ اسلام میں موجودہ قسم کا جہیز ہر گز جائز نہیں۔ علماء یہ فتوے دیتے رہے ہیں کہ انگریزی مال کا بائیکاٹ کرو، یہودی مال کا بائیکاٹ کرو اور امریکی مال کا بائکاٹ کرو۔ اس کے بجائے ان علماء کو یہ فتویٰ دینا چاہئے کہ جو آدمی اپنی بیوی کو ستائے اس کا بائیکاٹ کرو، جو مرد جہیز کے لیے اپنی بیوی کو اور اس کے خاندان کو پریشان کرے اس کا بائیکاٹ کرو، جوآدمی اپنی بیوی کے حقوق ادا نہ کرے اس کا بائیکاٹ کرو، وغیرہ۔
۱۳ موونگ پکچر کمپنی (نئی دہلی) نے آستھاٹی وی چینل کے لیے ۲۲ مئی ۲۰۰۳ کو صدر اسلامی مرکز کا ایک ویڈیو انٹرویو ریکارڈ کیا۔ سوالات کا تعلق زیادہ تر اجودھیا کی بابری مسجد سے تھا۔ جوابات کا خلاصہ یہ تھا کہ ۶ دسمبر ۱۹۹۲ کو بابری مسجد کا ڈھایا جانا نااہل مسلم لیڈروں کی ناعاقبت اندیشانہ سیاست کا نتیجہ تھا۔ حقیقت یہ ہے کہ اگر اس اشو کو جلسوں اور تقریروں کا موضوع نہ بنایا جاتا اور خاموش تدبیر کے ذریعہ اس مسئلہ کو حل کرنے کی کوشش کی جاتی تو یقینی طورپر بابری مسجد نہ ڈھائی جاتی۔ اب مسلم عوام اس اشو سے اپنا انٹرسٹ کھو چکے ہیں۔اب عدالت جو بھی فیصلہ دے گی مسلم عوام اس کو قبول کرلیں گے۔ اس لیے اب عدالت کو مزید تاخیر کے بغیر اپنا فیصلہ دے دینا چاہئے۔
۱۴ ایران نیوز ایجنسی (IRNA) نے ۲۵ مئی ۲۰۰۳ کو صدر اسلامی مرکز کا ایک انٹرویو لیا۔ سوالات کا تعلق زیادہ تر میلاد النبی سے تھا۔ جواب میں بتایا گیا کہ میلاد النبی نماز روزہ کی طرح کوئی شرعی فریضہ نہیں۔ یہ مسلم کلچر کا ایک حصہ ہے جو بعد کے زمانہ میں شروع ہوا۔ تاہم اس کا ایک فائدہ یہ ہوا ہے کہ میلاد النبی کے موقع پر مسلمان بڑی تعداد میں اکٹھا ہوتے ہیں اور علماء کو یہ موقع ملتاہے کہ وہ اس موقع پر لوگوں کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت کے حوالہ سے اسلام کا پیغام پہنچائیں۔
۱۵ ہندی ماہنامہ سرو شانتی (نئی دہلی ) کے ایڈیٹر مسٹر اعجاز شاہین نے ۲۸ مئی ۲۰۰۳ کو صدر اسلامی مرکز کا ایک تفصیلی انٹرویو ریکارڈ کیا۔ سوالات کاتعلق زیادہ تر موجودہ سماج میں عورتوں کے مسائل سے تھا۔جوابات کا خلاصہ یہ تھا کہ موجودہ سماج میں عورتوں کو جو مسائل در پیش ہیں وہ زیادہ تر مساوات مرد وزن کے غیر فطری اصول کی بنا پر ہیں۔صحیح طریقہ یہ ہے کہ عوئرت اور مرد کا دائرہ کار الگ الگ ہو۔ دوسری بات یہ کہ آزادیٔ نسواں کے نام پر برہنگی کا جو کلچر چلایا گیا ہے اس کو بند ہونا چاہئے ورنہ عورتوں کے مسائل کبھی ختم نہ ہوںگے۔
۱۶ ۳۱ مئی ۲۰۰۳ کی رات کو ایک خصوصی پروگرام ہوا۔ سویڈن کی راجدھانی اسٹاک ہام میں مقیم جناب رشید شمس الحسن زیدی اور ان کے ساتھیوں کے تعاون سے ٹیلی فون پر خطاب کا یہ پروگرام رکھا گیا۔ یہ پروگرا م اسٹاک ہام کے ایک ہال میںتھا۔ صدر اسلامی مرکز نے دہلی میںاپنے دفتر سے ساڑھے بارہ بجے رات کو ٹیلی فون پرآدھ گھنٹہ کی تقریر کی جس کو پانچ ہزار کیلومیٹر دور اسٹاک ہام کے مسلمانوں نے سنا۔ یہ تقریر سیرت رسول کے موضوع پر تھی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات اور واقعات کی روشنی میں اسلامی تعلیمات کی وضاحت کی گئی ۔ رپورٹ کے مطابق ہال میںجمع شدہ حاضرین بہت متاثر ہوئے۔ بہت سے لوگوں کی آنکھوں میںآنسو آگئے۔ ان لوگوں کی فرمائش ہے کہ اس تقریر کو لکھ کر انہیں دیا جائے تاکہ وہ اسے سویڈش زبان میں چھاپ سکیں۔ تقریر کا خلاصہ یہ تھا کہ اہل اسلام کے لیے قابلِ اتباع نمونہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں ہے۔
۱۷ نئی دہلی میںانڈیا انٹرنیشنل سنٹر (انکسی) میں انٹرنیشنل فیڈریشن فار ورلڈپیس کے تحت ۵ جون ۲۰۰۳ کی شام کو ایک خصوصی فنکشن ہوا۔ اس میں صدر اسلامی مرکز کو فیڈریشن کی طرف سے امبیسڈر فارپیس (Ambassador for Peace) کا ایوارڈ دیا گیا۔اس موقع پر صدر اسلامی مرکز نے پیس اور اسلام کے موضوع پر ایک تقریر کی۔ یہ پورا پروگرام انگریزی میںہوا۔ غیر ملکی افراد بھی اس فنکشن میں شریک تھے۔
۱۸ ایک فرانسیسی تنظیم (Latitude de Paix) کی طرف سے ایک بین اقوامی سیمینار کا اہتمام کیا گیا۔ یہ سیمینار ۲۷۔۲۸ جون ۲۰۰۳ کو ہوا۔ اس کا مقام سوئزر لینڈ کے ایک قدیم محل (Chateau de Coux) میں تھا۔ اس کا موضوع فلسطین کے مسئلہ کا حل تلاش کرنا تھا:
Reconciliation between Israelies and Palestinian People.
اس سیمینار میں شرکت کے لیے صدر اسلامی مرکز کے نام دعوت نامہ موصول ہواتھا اور سفر کا انتظام بھی ہوچکا تھا۔ مگر بعض اسباب سے وہ اس میں شرکت نہ کر سکے۔ البتہ انہوں نے موضوع کے بارے میں اپنے خیالات تحریری طورپر لکھ کر سیمینار کے منتظمین کو بھیج دئے۔
۱۹ دھروفلمس (Dhruv Filams) نے دور درشن کے لیے صدر اسلامی مرکز کا ایک تفصیلی انٹرویو ریکارڈ کیا۔ یہ انٹرویو ۲۱ جون ۲۰۰۳ کو ریگل اسٹوڈیو (نوئڈا) میں ریکارڈ کیا گیا۔ اس پروگرام کااہتمام مسٹر او۔پی ۔سہگل (Tel. 7658100) نے کیا تھا۔ اس کا موضوع تھا— کشمیر کی خواتین کے مسائل اور کشمیر کی تعمیر و ترقی میں ان کا حصہ۔ اس پروگرام کے تحت چھ ایپی سوڈ(Episode) تیار کیے گیے۔ اس موقع پر جو کچھ کہا گیا اس کا خلاصہ یہ تھا کہ کشمیر اور دوسرے مقامات پر پر جوش مسلمان جوکچھ کر رہے ہیں وہ اسلامائزیشن نہیں ہے۔ مثال کے طورپر اسلام لرننگ پر زور دیتا ہے اور یہ لوگ (de-learning)کاکام کررہے ہیں۔ اس سلسلہ میں بتایا گیا کہ موجودہ حالات میں سب سے پہلی ضرورت یہ ہے کہ کشمیر کی خواتین کو تعلیم یافتہ بنایا جائے۔ تعلیم کے بغیر تعمیر و ترقی کا کوئی بھی کام نہیں ہوسکتا۔
۲۰ سہارا گروپ (اردو، ہندی، انگریزی) کے نمائندہ مسٹر سونیل تیواری نے ۲۰ مئی ۲۰۰۳ کو ٹیلی فون پرصدر اسلامی مرکز کا تفصیلی انٹرویو لیا۔ اس قسم کے انٹرویو تینوں زبان کے سہارا میں بیک وقت چھپتے ہیں۔ سوالات کا تعلق زیادہ تر اس سے تھا کہ ہندستان میںمذہب کی پکڑ سماج سے ختم ہوتی جارہی ہے۔ جواب میں بتایا گیا کہ صرف جزئی طورپر یہ بات درست ہے۔ آج بھی ہندستانی سماج پر مذہب اور روحانیت کی پکڑ کافی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کٹرواد یہاں زیادہ بڑھ نہیں پاتا۔ ۷۵ سال کی کوشش کے باوجود ابھی تک وہ مین اسٹریم نہ بن سکا۔
۲۱ مسٹر ودود ساجد نے ۱۳ جون ۲۰۰۳ کو نئی دہلی کے روز نامہ راشٹریہ سہارا (اردو) کے لیے ٹیلی فون پر صدر اسلامی مرکز کا انٹرویولیا۔ سوالات کا تعلق زیادہ تر اجودھیاکی بابری مسجد کے مسئلہ سے تھا۔ سوالات کا خلاصہ یہ تھا کہ اس اشو کو نام نہاد مسلم لیڈروں نے بگاڑا ہے ورنہ یہ کوئی مسئلہ ہی نہ تھا۔
۲۲ مسٹر وید ویاس اور ان کے ساتھیوں نے ۱۷ جون ۲۰۰۳ کو گاندھی سمیتی( نئی دہلی )کے لیے صدر اسلامی مرکز کا ایک انٹرویو ریکارڈ کیا۔ سوالات کا تعلق زیادہ تر اس مسئلہ سے تھا کہ مہاتما گاندھی نے اخلاقی افکار پر مبنی صحافت کی وکالت کی تھی۔ مگر آزادی کے بعد اس قسم کی صحافت وجود میںنہ آسکی۔ اس کا سبب کیاہے۔جوا ب میں کہا گیا کہ صحافت ریڈر شپ کے تابع ہوتی ہے۔ جیسی ریڈر شپ ویسی صحافت۔ اخلاق پر مبنی صحافت کو وجود میں لانے کے لیے پہلے اس کے مطابق ریڈر شپ تیار کرنا ہوگا۔
۲۳ نئی دہلی کے آؤٹ لک میگزین کے نمائندہ مسٹر بھودیپ کانگ (Bhavdeep Kang)نے ۱۷ جون ۲۰۰۳ کو صدر اسلامی مرکز کا انٹرویو لیا۔ سوالات کا تعلق زیادہ تر اجودھیا کے مسئلہ سے تھا۔ ایک سوال کے جواب میں کہا گیا کہ کچھ لوگ یہ کہتے ہیں کہ مسلمان بابری مسجد کو گفٹ میں ہندوؤں کو دے دیں۔ یہ ایک خیالی تجویز ہے۔ مسلمان مسجد کے مالک نہیں، پھر وہ گفٹ کیسے کر سکتے ہیں۔ اصل یہ ہے کہ سب سے پہلے اس معاملہ میں ایک فریم ورک بنانا چاہئے۔ فریم ورک بنائے بغیر غیر متعلق باتیں ہوتی رہیں گی اور مسئلہ حل نہ ہوگا۔
۲۴ گاندھی سمیتی کے تحت انڈین انسٹی ٹیوٹ آف ماس کمیونیکیشن (نئی دہلی) میں ۱۱ جون ۲۰۰۳ کو ایک ریڈیو پروگرام ہوا۔ یہ امن کے موضوع پر تھا۔ مختلف اسکول کے تقریباً ۲۰ طلبہ اور طالبات اس میں شریک ہوئے۔ اینکر (Anchor) کے فرائض ایک طالبہ نے انجام دیے۔ ایر کموڈور جگجیت سنگھ اور راہل دیو جی نے تقریریں کیں۔قرآن و حدیث کی روشنی میںصدر اسلامی مرکز نے اسلام میںامن پر ایک تقریر کی۔ اس کے بعد طلبہ اور طالبات نے موضوع سے متعلق سوالات کئے۔ اس کے جوابات دیے گیے۔ یہ پروگرام تقریباً دو گھنٹہ جاری رہا۔
واپس اوپر جائیں

Tuesday, 1 July 2003

Al Risala | July 2003 (الرسالہ،جولائی)

2

- عراق ڈائری


عراق ڈائری

تمہید
۱۹۹۱ میںعراق کے صدر صدّام حسین نے کویت میں اپنی فوجیں داخل کرکے اُس پر قبضہ کرلیا۔ اس کے بعد امیر کویت کی درخواست پر امریکا نے عراق پر حملہ کردیا اور کویت کو آزاد کرایا۔ اس واقعہ پر میںنے تاریخ وار ڈائری لکھی تھی جو ماہنامہ الرسالہ کے شمارہ مئی ۱۹۹۱ میں چھپی۔ بعد کو یہ مجموعہ پمفلٹ کی صورت میں اُردو میںخلیج ڈائری اور عربی میں یومیّات حرب الخلیج کے نام سے شائع ہوا۔
عراق تیل کی دولت کے اعتبار سے دنیا کا دوسرا سب سے بڑا ملک ہے۔ عراقی صدر نے تیل کی اس دولت کا بہت بڑا حصہ فوجی تیاری میں خرچ کردیا۔ یہاں تک کہ ایک اندازہ کے مطابق، عراق دنیا کی چوتھی سب سے بڑی فوجی طاقت بن گیا۔ یہ فوجی طاقت عراق کے کچھ کام نہ آئی۔ پہلے اقوام متحدہ کے دباؤ کے تحت عراق کو مجبوراً اپنے ہتھیار وںکے ذخیرہ کو خود ہی تباہ کرنا پڑا۔ یہ گویا وہی معاملہ تھا جس کو قرآن میںان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے : یخربون بیوتہم بایدیہم (الحشر ۲)
عراقی صدر کی انتہا پسندانہ سیاست مغربی قوتوں کے لیے اشتعال انگیز ثابت ہوئی۔ امریکا نے پہلے صدر صدام حسین کو یہ الٹی میٹم دیا کہ وہ عراق کو چھوڑ کر ملک کے باہر چلے جائیں۔ راقم الحروف نے ۱۵ فروری ۲۰۰۳ کوایک اخباری مضمون لکھا تھا۔ اس میں صدر صدام حسین کو یہ مشورہ دیاگیا تھا کہ وہ حالات کی نزاکت کو سمجھیں اور اہون البلیتین کے فقہی اُصول پر عمل کرتے ہوئے اقتدار چھوڑ کر عراق کے باہر چلے جائیں۔ اس مضمون کا عنوان یہ تھا:
Option for Saddam Husain
کئی عرب ملکوں نے صدام حسین کو یہ پیشکش کی کہ وہ اپنے ملک میںاُن کی میزبانی کے لیے تیار ہیں۔ مگر صدّام حسین بغداد کے اقتدار پر جمے رہے۔ یہاں تک کہ امریکا نے عراق پر حملہ کرکے صدر صدّام حسین کے اقتدار کا خاتمہ کردیا۔ میںنے دوبارہ اس جنگ کی ڈائری لکھنا شروع کیا تھا۔ اس ڈائری کو ماہنامہ الرسالہ میںایک خصوصی شمارہ کے طورپر شائع کیاجارہا ہے۔ اس ڈائری کے لکھنے میں حسبِ معمول میرا رہنما اصول وہی رہا ہے جس کو شیخ سعدی نے ان الفاظ میں نظم کیا ہے—ہر ایک غیر کے خلاف فریاد کرتا ہے۔ مگر سعدی کو خود اپنے آپ سے شکایت ہے:
ہر کس از دستِ غیر نالہ کُند سعدی از دستِ خویشتن فریاد
قرآن کی سورہ نمبر ۱۷ کی ابتدائی آیتوں کا ترجمہ یہ ہے: پاک ہے وہ جو لے گیا ایک رات اپنے بندے کو مسجدِ حرام سے دور کی اُس مسجد تک جس کے ماحول کو ہم نے بابرکت بنایا ہے تاکہ ہم اُس کو اپنی کچھ نشانیاں دکھائیں۔ بے شک وہ سننے والا، دیکھنے والا ہے۔ اور ہم نے موسیٰ کو کتاب دی اور اُس کو بنی اسرائیل کے لیے ہدایت بنایا کہ میرے سوا کسی کو اپنا کار سازنہ بناؤ۔ تم اُن لوگوں کی اولاد ہو جن کو ہم نے نوح کے ساتھ سوار کیا تھا، بے شک وہ ایک شکر گزار بندہ تھا۔ اور ہم نے بنی اسرائیل کو کتاب میں بتادیا تھا کہ تم دو مرتبہ زمین (شام) میں فساد برپا کروگے اور بڑی سرکشی دکھاؤ گے۔ پھر جب اُن میں سے پہلا وعدہ آیا تو ہم نے تم پر اپنے بندے بھیجے، نہایت زور والے۔ وہ گھروں میں گھس پڑے اور وہ وعدہ پورا ہو کر رہا۔ پھر ہم نے تمہاری باری اُن پر لوٹا دی اور مال اور اولاد سے تمہاری مدد کی اور تم کو زیادہ بڑی جماعت بنا دیا۔ اگر تم اچھا کام کروگے تو تم اپنے لیے اچھا کرو گے اور اگر تم برا کام کروگے تب بھی تم اپنے لیے برا کروگے۔ پھر جب دوسرے وعدے کا وقت آیا تو ہم نے اور بندے بھیجے کہ وہ تمہارے چہرے کو بگاڑ دیں اور مسجد میں گھس جائیں جس طرح وہ اس میں پہلی بار گھسے تھے اورجس چیز پر اُن کا زور چلے اُس کو وہ برباد کردیں۔ بعید نہیں کہ تمہارا رب تمہارے اوپر رحم کرے۔ اور اگر تم پھر وہی کروگے تو ہم بھی وہی کریں گے اور ہم نے جہنم کو منکرین کے لیے قید خانہ بنا دیا ہے (بنی اسرائیل ۱۔۸)
قرآن کے اس حصہ میں مکہ کی مسجد حرام سے یروشلم کی مسجد اقصیٰ تک پیغمبرانہ سفر کا ذکر ہے۔ یہ واقعہ ہجرت سے ایک سال پہلے غالباً ۶۲۱ء میں پیش آیا۔ یہاں یہ سوال ہے کہ پیغمبر اسلام ﷺ کو اس میں یروشلم کی جو نشانی دکھائی گئی وہ کون سی نشانی تھی۔ نشانی (آیت) کا لفظ قرآن میں تاریخی کھنڈروں کے لیے استعمال ہوا ہے (الحجر ۷۵)۔ اس سے بظاہر معلوم ہوتا ہے کہ یروشلم کی نشانی سے مراد مسجدِ اقصیٰ تھی جو اس سفر کے وقت ایک کھنڈر کی حالت میں تھی۔ جیسا کہ تاریخ سے معلوم ہوتا ہے ، مسجداقصیٰ کو دوسری بار ٹائٹس (Titus) رومی نے ۷۰ء میں مکمل طورپر ڈھا دیا ـتھا۔ پیغمبر اسلام کے سفر کے وقت مسجد اقصیٰ اسی کھنڈر کی حالت میں تھی۔ مسجد اقصیٰ کی موجودہ عمارت بعد کو بنو امیہ کی خلافت کے زمانہ میں بنائی گئی۔
یروشلم کی نشانی کو دکھانے کے اس واقعہ کا ذکر کرنے کے بعد فوراً بنی اسرائیل کی تاریخ بتائی گئی جو مسجد اقصیٰ کے کھنڈر سے جڑی ہوئی تھی۔ وہ تاریخ یہ تھی کہ بنی اسرائیل کو خدا نے پیغمبروں کے ذریعہ اپنا ہدایت نامہ دیا تاکہ وہ اس پر عمل کریں اور دوسری قوموں کو اس سے آگاہ کریں مگر بنی اسرائیل کی بعد کی نسلوں میں بگاڑاورسرکشی آگئی۔ اس کے بعد ان پر خدا کی مختلف تنبیہات آئیں۔ ان تنبیہات کا انتہائی ظہور ۵۸۶ ق م میںہوا جب کہ بابل کے حکمراں بخت نصر(Neouchadnezzar) نے مرکزِیہود یروشلم پر حملہ کرکے مسجدِ اقصیٰ (ہیکل سلیمانی) کو تباہ کردیا۔
مذکورہ قرآنی بیان کے مطابق، اس صدمہ کے بعد یہود کو اپنی غلطی کا احساس ہوا۔ انہوں نے توبہ واصلاح کی۔ اس کے بعد خدا نے ان کی مددکی اور ان کو دوبارہ ایک ترقی یافتہ قوم بنا دیا۔ چند نسلیں گزرنے کے بعد بنی اسرائیل میں پھر بگاڑ شروع ہوا۔ دوبارہ اُن کو مختلف تنبیہات بھیجی گئیں۔ مگر ان کا بگاڑ جاری رہا۔آخر کار دوبارہ ۷۰ ء میں رومی حکمراں نے یروشلم پر حملہ کیا اور ہیکل سلیمانی (مسجد اقصیٰ) کو تباہ کردیا جو کہ یہودیوں کے لیے عزت اور سرفرازی کی علامت کی حیثیت رکھتا تھا۔ قرآنی بیان کے مطابق، اس کے بعد دوبارہ یہود کو اپنی غلطی کا احساس ہوا۔ انہوں نے اپنی اصلاح کی اور پھر دوبارہ وہ خدا کی رحمت کے مستحق قرار پائے۔
یہود کی تاریخ میںاس طرح زوال کے بعد تنبیہات کا آنا اور پھر تباہی سے دوچار ہونے کے بعد ان کا دوبارہ ترقی کرنا ایک ایسا واقعہ ہے جو یہود کی تاریخ میں واضح طورپر دیکھا جاسکتا ہے۔
انسائیکلو پیڈیا برٹانیکا میں اس کا ذکر ان الفاظ میں کیا گیا ہے کہ یہ تباہی یہود کی تاریخ اور ان کے ادب میں ایک تاریخ ساز واقعہ بن ِگئی:
The disaster became the great epoc-making event in Jewish history and literature. (13/48)
غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ مذکورہ قرآنی بیان میں لنریہ من آیاتنا (بنی اسرائیل ۱) میں ایک اہم حقیقت کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔ وہ یہ کہ قدیم اہل کتاب (بنی اسرائیل) کی تاریخ میںجس طرح دوبار تنبیہی حادثہ کا واقعہ پیش آیااسی طرح امت مسلمہ میں بھی دو بار تنبیہی حادثہ کا واقعہ پیش آئے گا۔جب ایسا ہوتو امت مسلمہ کے لیے بھی ضروری ہوگا کہ اس کے اندر احتساب اور اصلاح کی تحریکیں اٹھیں۔ اسی احتساب اور اصلاح کے ذریعہ ممکن ہوگا کہ امت مسلمہ دوبارہ خدا کی رحمت کی مستحق بنے جس طرح قدیم اہل کتاب ایسے ہی عمل کے ذریعہ مستحق بنے تھے۔
قدیم اہل کتاب (یہود) پر دوبار جو تنبیہی عذاب آیا وہ اُن کے مرکزی مقام یروشلم میں آیا۔ واقعات ظاہر کرتے ہیں کہ امتِ مسلمہ کے ساتھ اسی طرح دوبار جو تنبیہی واقعہ پیش آنے والا ہے وہ بھی امت مسلمہ کے تاریخی مرکز بغداد میں پیش آئے گا۔ پہلی بار مرکزِ اقتدار کے طورپر، اور دوسری بار مرکزِدولت کے طور پر۔یہ تنبیہی واقعہ امت کے استیصال کے لیے نہیں ہوگابلکہ یہ دھماکہ خیز واقعہ امت کو جگانے کے لیے اور اس کو دوبارہ زندہ امت بنانے کے لیے ہوگا۔ واضح ہو کہ ایسا واقعہ حجاز کے علاقہ میں نہیں ہوسکتا۔ کیوں کہ حدیث کی صراحت کے مطابق، حجاز کو اللہ تعالیٰ نے قیامت تک کے لیے محفوظ علاقہ قرار دے دیا ہے۔( مشکاۃ المصابیح ۱؍۴۰)
جیسا کہ قرآن سے معلوم ہوتا ہے کہ طولِ امد (الحدید ۱۶) سے لوگوں میں قساوت آتی ہے، یعنی قوم کی بعد کی نسلوں میں بگاڑ آجاتاہے۔ یہ بگاڑ بڑھتے بڑھتے جب اپنی آخری حد پر پہنچ جاتا ہے تو خدا کی طرف سے وہ واقعہ پیش آتا ہے جس کو قرآن میں بعثنا علیکم عباداً لنا اولی باسٍ شدید (بنی اسرائیل ۵) کے الفاظ میں بیان کیا گیا ہے۔ امت مسلمہ میں یہ واقعہ پہلی بار تیرہویں صدی عیسوی میں پیش آیا۔ یہ وہ وقت تھا کہ جب امت مسلمہ سے حقیقی دینی اسپرٹ نکل چکی تھی اور وہ ایک بے روح ڈھانچہ بن گئی تھی۔ اس وقت چنگیز خاں اور ہلاکو خاں کی قیادت میں وحشی تاتاریوں کی فوج اٹھی اور اُس نے اس وقت کی عباسی سلطنت کو تباہ کردیا جس کا مرکز بغداد تھا۔
اس تباہی کے بعد مسلمانوں میں احتساب کا جذبہ جاگا۔ انہوں نے اپنی دینی اصلاح کی۔ اس کے نتیجہ میں اللہ تعالیٰ کی رحمت دوبارہ متوجہ ہوئی اور تاتاریوں کی قوم کو اسلام کی توفیق دی گئی۔ اس کے بعد اسلام کی عظمت کی ایک نئی تاریخ شروع ہوئی جو نو آبادیاتی دور کے آغاز تک قائم رہی۔
اب پچھلے دو سو سال سے دوبارہ مسلمان زوال کی حالت میں مبتلا ہیں۔ اسلام کی اصل روح بے حد کمزور ہو گئی ہے۔ بظاہر مسلمانوں میں دین کے نام پر بہت سی سرگرمیاں دکھائی دیتی ہیں مگر تقریباً سب کی سب اسلام کی حقیقی روح سے خالی ہیں۔ وہ آج کل کی اصطلاح میں کمیونٹی ورک کی حیثیت رکھتی ہیں وہ حقیقی معنوں میں اسلامی ورک یا دینی عمل کی حیثیت نہیں رکھتیں۔
پچھلے دو سوسال میںجب سے مسلمانوں میں یہ بگاڑ آیا اُن پر خداکی طرف سے چھوٹی چھوٹی تنبیہات نازل ہوتی رہیں۔ نو آبادیاتی دور میں انگریزوں اور فرانسیسیوں کے ذریعہ ،فلسطین میں یہود کے ذریعہ ،پاکستان، بنگلہ دیش اور کشمیر میںہندوؤں کے ذریعہ، افغانستان میںامریکا کے ذریعہ، وسط مسلم ایشیا میں روس کے ذریعہ، وغیرہ۔ مگر یہ تنبیہات مسلمانوں کی اصلاح کے لیے کافی نہ ہوسکیں۔ آخرکار مارچ ۲۰۰۳ میں یہ ہوا کہ دنیا کی واحد سپر پاور امریکا کے ذریعہ مسلمانوں پر سخت حملہ شروع کردیا گیا۔ دوبارہ اس حملہ کا مرکز بغداد تھا۔ اس کے مقابلہ میں مسلمانوں کی تمام دفاعی قوت بھی عاجز ہوگئی۔
عراق کے خلاف امریکا کی فوجی کارروائی کا جو واقعہ پیش آیا وہ بہت غیر معمولی تھا۔ اس جنگ کے آغاز سے پہلے لمبے عرصہ تک امریکا یہ مانگ کرتا رہا کہ صدر صدام حسین اگر عراق کو چھوڑ دیں اور کسی دوسرے ملک میں چلے جائیں تو اُن کے خلاف فوجی کارروائی نہیں کی جائے گی۔ کئی عرب ملکوں نے پیش کش کی کہ وہ صدام حسین کی میزبانی کے لیے تیار ہیں۔ مگر صدام حسین نے اس پیش کش کو قبول نہیںکیا۔ حالانکہ قریبی تاریخ میں ایسی بہت سی مثالیں موجود ہیں جب کہ مسلم حکمراں نے جلاوطنی کو قبول کرلیا اور باہر کے ملک میں جاکر آرام سے رہنے لگے۔ مثلاً افغانستان کے ظاہر شاہ، مصر کے شاہ فاروق، پاکستان کے نواز شریف، وغیرہ۔ صدام حسین جو فوجی انقلاب کے ذریعہ عراق پر قابض ہوئے تھے وہ بھی ایسا ہی کرسکتے تھے۔ مگر اس معاملہ میں اُن کا دل اتنا سخت ہوگیا کہ وہ اس پیش کش کو قبول کرنے کے لیے راضی نہیں ہوئے۔ یہاں تک کہ امریکا نے عراق پر حملہ کردیا۔
دوسری طرف صدر امریکا جارج بش کا معاملہ بھی تقریباً یہی ہے۔ دنیا کے بیشتر مدبرین اور بہت سے لوگوں نے عراق کے خلاف امریکا کی فوجی کارروائی کی مخالفت کی۔ خود راقم الحروف نے اس معاملہ میں امریکا کو اس اقدام کے خلاف کھلے طور پر متنبہ کیا تھا۔ گیارہ ستمبر ۲۰۰۱کو نیویارک کے ورلڈٹریڈ ٹاور کے حادثہ کے صرف ایک ہفتہ بعد میںنے ایک اخباری انٹرویو دیا تھا جو نئی دہلی کے انگریزی روزنامہ The Times of India کے شمارہ ۱۶ ستمبر ۲۰۰۱ میںچھپا تھا۔ اس میں میںنے واضح طورپر کہا تھا کہ امریکا کو پر امن ذرائع سے اپنا عمل کرنا چاہئے۔ اگر اس نے فوجی کارروائی کی تو اس کا نتیجہ آخر کار الٹا نکلے گا۔
US aggression would be counter-productive
مگر امریکی صدر جارج بُش نے کسی کے مشورہ کو نہیں مانا اور عراق پر حملہ کردیا۔
ان غیر موافق اسباب کے باوجود عراق کی ہولناک جنگ شروع ہوئی۔ اس جنگ کی ایک امتیازی صفت یہ تھی کہ اس کو ساری دنیا کے مسلمانوں نے اپنے T.V.Set پر شروع سے آخر تک دیکھا۔ چونکہ دنیا بھر کے مسلمان اس معاملہ میں صدام حسین کے حامی تھے اور اپنے آپ کو پوری طرح صدام حسین اور عراق کے ساتھ وابستہ کئے ہوئے تھے اس لیے یہ حملہ عملاً ساری دنیا کے مسلمانوں کے خلاف حملہ بن گیا۔ ہر مسلمان مرد اور عورت نے اس کی زد کو اپنے اوپر محسوس کیا۔
یہ مسلمانوں کی تاریخ میں غالباً پہلا موقع تھا کہ ساری دنیا کے مسلمانوں کی آبادی بیک وقت اپنے اوپر تباہی کو ٹوٹتا ہوا دیکھے مگر وہ اُس کے خلاف کچھ نہ کرسکے۔ میں سمجھتا ہوں کہ یہ کوئی اتفاقی بات نہیں۔ یہ دراصل ایک قسم کا شاک ٹریٹمنٹ(shock treatment) ہے جو خدائی فیصلہ کے تحت پیش آیا۔ اس کا مقصد مسلمانوں کو جگانا اور اُن کے اندر نظر ثانی کی تحریک چلا کر انہیں دوبارہ صحت مند حالت کی طرف لے جانا ہے۔
شاک ٹریٹمنٹ ہی فطرت کا واحد اصلاحی طریقہ ہے۔ فطرت کا اس طرح کے معاملات میں یہ ابدی اصول ہے کہ تعمیر سے پہلے تخریب کی جائے۔ نیا ڈھانچہ بنانے سے پہلے پر انے بے روح ڈھانچہ کو توڑ دیا جائے۔ یہی وہ حقیقت ہے جس کو مولاناروم نے اپنے ایک شعر میں اس طرح بیان کیا ہے کہ جب کسی تعمیر کو دوبارہ بنانا ہوتا ہے تو پہلے پرانی تعمیر کو ڈھا دیا جاتا ہے:
چوں بنائے کہنہ آباداں کنند اولاً تعمیر را ویراں کنند
تیرہویں صدی میں بغداد پر تاتاری حملہ کی صورت میں جو تنبیہی واقعہ پیش آیا وہ ایک اعتبار سے امتِ مسلمہ کے لیے خدائی تازیانہ تھا۔ دوسرے اعتبار سے اس واقعہ میںیہ سبق بھی موجود ہے کہ اس تازیانہ کے بعد اُمت کی سرگرمیوں کا رُخ کس سمت میں ہوناچاہئے۔
عام مسلم تاریخوں میں اگرچہ یہ پہلو تقریباً غیر مذکور ہے۔ مگر انگریز مستشرق ٹی ڈبلیو آرنلڈ نے غیر معمولی تحقیق کے بعداس کو نمایاں کیا ہے۔ اُن کی یہ تحقیق اُن کی کتاب دعوتِ اسلام (The Preaching of Islam) میںتفصیل کے ساتھ دیکھی جاسکتی ہے۔
یہ تاریخ بتاتی ہے کہ اُس زمانہ کے مسلمانوں کے لیے جب سیاسی اور فوجی راستے عملاً بند ہوگئے تو اُنہوں نے دعوتی رُخ پر اپنی جدوجہد شروع کردی۔ مسلم مردوں اور مسلم عورتوں نے بڑے پیمانہ پر اور خاموش طورپر اسلام کی دعوت کا کام شروع کردیا۔ اس کا نتیجہ جلد ہی مثبت انداز میں نکلنے لگا۔ یہاں تک کہ صرف پچاس سال کے اندر یہ انقلابی واقعہ پیش آیا کہ تاتاریوں کی اکثریت نے خدا کے دین کو اپنا دین بنا لیا۔ مسلمانوں کے سب سے بڑے دشمن مسلمانوں کے سب سے بڑے دوست بن گئے۔
مجھے یقین ہے کہ جس طرح تیرہویں صدی میں تاتاری حملہ کے بعد اسلام کی تاریخ کا ایک نیا دور آگیا تھا اُسی طرح اکیسویں صدی میں دوسری بار امریکی حملہ کے بعد یقینی طور پر اسلام کی نئی زندہ تاریخ شروع ہوگی، وہ تاریخ جس کاپوری انسانیت کو انتظار ہے۔
نئی دہلی، ۷ مئی ۲۰۰۳ وحید الدین
۱۸ مارچ ۲۰۰۳
عراق میںالٹی گنتی (count down) کا عمل شروع ہوگیا۔ آج کے تمام اخباروں کی پہلی سرخی صرف ایک ہے—امریکی صدر جارج بُش کا الٹی میٹم عراقی صدر صدام حسین کے نام، عراق چھوڑو یا جنگ کا سامنا کرو:
Leave Iraq or face war
امریکا کے اس الٹی میٹم میںکہا گیا ہے کہ صدر صدام حسین کو ۴۸ گھنٹہ کے اندر عراق چھوڑ دینا چاہیے۔ ورنہ امریکا اپنے اتحادیوں (برطانیہ،اسپین، وغیرہ) کے ساتھ عراق پر شدید بمباری شروع کردے گا۔
عجیب بات ہے کہ دنیا بھر کے عوام، بشمول امریکی اور برطانوی عوام، اس حملہ کے خلاف ہیں۔ کوئی کہہ رہا ہے کہ امریکا کو اقوام متحدہ کے فیصلہ کی پابندی کرنا چاہئے۔ کوئی کہہ رہا ہے کہ عراق پر یہ حملہ امریکا کی سنگین غلطی ہوگی۔ کوئی کہہ رہا ہے کہ جارج بُش نے اپنے آپ کو دنیا کا گارجین بنا لیا ہے مگر خود اس گارجین کا گارجین کون ہوگا:
Bush has appointed himself as the guardian of the world, but who will guard the world against the guardian.
۱۹ مارچ ۲۰۰۳
عراق پر امریکی حملہ کے بارے میں سیاسی مبصّرین کاعام طورپر یہ کہنا ہے کہ اگر یہ جنگ ہوئی تو اس میں امریکا کے مجموعی طورپر سو بلین ڈالر خرچ ہوں گے۔ یہ جنگ نہ صرف عراق کے لیے تباہ کن ہوگی بلکہ خود امریکا کی اقتصادیات بھی اس کے نتیجہ میں شدید نقصان سے دوچار ہو گی۔تاہم امریکا کے لیے یہ ایک وقتی صدمہ ہوگا۔ آخری نتیجہ کے اعتبار سے یہ جنگ امریکا کے لیے ٹھیک اُسی طرح نفع بخش ثابت ہوگی جس طرح دوسری عالمی جنگ امریکا کے لیے بے حد مفید ثابت ہوئی تھی۔ عراق پر قبضہ کے بعد امریکا وہاں کے تیل کے ذخائر کا اجارہ دار بن جائے گا۔ اس جنگ میں امریکا کو یہ موقع ملے گا کہ وہ اپنے جدید ترین ہتھیاروں کا تجربہ کرسکے۔ وہ اپنے مہلک ہتھیاروں کا مظاہرہ کرکے اسلحہ کی عالمی منڈی میں اپنی تجارت کو بڑھالے، وغیرہ۔
۲۰ مارچ ۲۰۰۳
۲۰ مارچ ۲۰۰۳ کو امریکا کے فضائی بمباروں نے عراق پر ہوائی حملہ کرکے جنگ کا آغاز کردیا۔ اس جنگ کی تیاری بہت دنوں سے جاری تھی۔آخرمیں امریکا نے عراقی صدر صدام حسین کو یہ الٹی میٹم دیا کہ ۴۸ گھنٹہ میں عراق کو چھوڑ کر باہر چلے جاؤ یا جنگ کا سامنا کرو۔ صدام حسین نے اس الٹی میٹم کو رد کردیا۔ آج صبح الٹی میٹم کا وقت ختم ہونے کے ۹۵ منٹ بعد امریکی صدر جارج بُش کے حکم سے عراق پر ہوائی حملہ کردیا گیا۔
۲۱ مارچ ۲۰۰۳
انگلینڈسے ایک اعلیٰ تعلیم یافتہ مسلمان کا ٹیلی فون آیا۔ اُنہوں نے عراق پر امریکی حملہ کی مذمت کی۔ میںنے کہا کہ امریکا کا عراق پر حملہ بلا شبہ قابلِ مذمت ہے مگر آپ کو یا میرے سوا دوسرے مسلمانوں کو اس مذمّت کا حق نہیں۔ میںنے کہا کہ پچھلے سیکڑوں سال کے درمیان مختلف مسلم حکمراں مثلاً بابر، غزنوی اور غوری، وغیرہ اسی قسم کے حملے کرتے رہے مگر کسی بھی مسلمان نے نہ پہلے اُس کی مذمت کی اور نہ آج وہ اس کی مذمت کررہے ہیں۔ میںاکیلا مسلمان ہوں جو ان واقعات کی تبریر(justification) نہیں کرتا۔ آپ لوگوں کو یا تودونوں حملوں کو جائز بتانا ہوگا یا دونوں حملوں کو ناجائز قرار دینا ہوگا۔ تضاد فکری کے لیے اسلام میں کوئی گنجائش نہیں۔ میں چونکہ مسلم حکمرانوں کے اس قسم کے جارحانہ حملوں کو قابلِ مذمت سمجھتا ہوں اس لیے مجھے یہ حق ہے کہ میں جارج بُش کے جارحانہ حملہ کی مذمت کروں۔
۲۲مارچ ۲۰۰۳
امریکا نے عراق پر جو حملہ کیا ہے، اس حملہ کو شاک اینڈ آ (Shock and Awe) کا نام دیا گیا ہے۔ یعنی حیرانی کا جھٹکا۔ آج کے اخباروں میںبتایا گیا ہے کہ صدام حسین اپنے قریبی ساتھیوں اور فوجی جنرلوں کے ساتھ بغداد کے باہر ایک خصوصی میٹنگ کررہے تھے۔یہ میٹنگ نہ کسی بنکر میں تھی اور نہ صدام حسین کے بہت سے محلوں میں سے کسی محل میں۔ اس میٹنگ کو صیغۂ راز میں رکھنے کے لیے اُس کا انتظام ایک نجی مکان میں کیا گیا تھا۔ یہ لوگ یہاں صرف چند گھنٹہ کے لیے جمع ہوئے تھے۔ مگر امریکا کے خفیہ محکمہ کو اس کا علم ہوگیا اور عین وقت پر ٹھیک اُس مقام پر بم گرایا گیا جس سے وہ مکان تباہ ہوگیا۔ امریکی ذرائع کا دعویٰ ہے کہ اس حملہ میں صدام حسین یا تو مرگئے یا شدید زخمی ہوگئے۔ عراقی ذرائع نے خود حملہ کی تردید نہیں کی۔ البتہ وہ اس کی تردید کررہے ہیں کہ صدام حسین اُس کی زد میں آئے۔ آزاد ذرائع کا کہنا ہے کہ صدام حسین یقینی طورپر اس ہوائی حملہ میں زخمی ہوئے ہیں۔ البتہ یہ فیصلہ کرنا مشکل ہے کہ یہ زخمی ہونے والا انسان ریل (real)صدام تھا یا ڈبل (double) صدام۔
۲۳ مارچ ۲۰۰۳
بی بی سی لندن نے ایک رپورٹ نشر کی۔ آج کل مختلف ملکوں میں مسلمان بہت بڑے پیمانہ پر اینٹی امریکا جلوس نکال رہے ہیں۔ بی بی سی کے نمائندے نے اُردن کے ایک جلوس میںشرکت کی۔ وہاں عرب نوجوانوں نے نہایت جوش کے ساتھ جلوس نکالا تھا۔ ایک عرب نوجوان سے بی بی سی لندن کے نمائندہ نے بات کی۔ عرب نوجوان نے کہا کہ صدام ہمارا ہیرو ہے۔ صدام ہی اسرائیل کو کُچل سکتا ہے۔
یہی وہ نفسیات ہے جس کے تحت تمام دنیا کے مسلمان صدام حسین کے حامی بن گئے ہیں۔ ایک بلین مسلمانوں میں شاید میں اکیلا ہوں جو صدام حسین کا حامی نہیں۔ یہ عجیب بات ہے کہ مسلمانوں نے صدام حسین کے غلط کاموں پر اُس کی مذمت نہیںکی۔ صدام حسین بعث پارٹی کے ممبر ہیں جو کہ ایک قومی پارٹی ہے، نہ کہ دینی پارٹی۔ صدام حسین نے اپنے فوجی منصب کا غلط استعمال کرکے عراق پر قبضہ کرلیا۔ وہ عراق کے تیل کی دولت میںبے جا طورپر تصرف کررہے ہیں۔ صدام حسین نے بہت سے سیاسی مخالفین کو کسی عدالتی کارروائی کے بغیر ہلاک کردیا۔ صدام حسین نے ایران اور کویت کے خلاف جارحانہ کارروائی کی۔ رپورٹوں کے مطابق، دین سے اُن کا کوئی تعلق نہیں، وغیرہ۔ ان سب کے باوجود ساری دنیا کے مسلمان صدام کو اپنا ہیرو بنائے ہوئے ہیں۔ یہ اُسی نفسیات کے تحت ہے جس کو لا لحب علیّ بل لبغض معاویۃ کہا گیا ہے۔
موجودہ زمانہ کے مسلمان، تقریباً سب کے سب، دوسری قوموں کی نسبت سے منفی نفسیات میں مبتلا ہوگئے ہیں۔ اس منفی نفسیات کا یہ نتیجہ ہے کہ مسلمانوں نے اپنے مفروضہ دشمن کی ضد میں صدام حسین کو اپنا ہیرو بنالیا۔
۲۴ مارچ ۲۰۰۳
امریکا نے عراق کے خلاف جنگ یہ کہہ کر شروع کی تھی کہ ہم نے پچھلے مہینوں کے اندر اتنی زیادہ تیاری کر لی ہے کہ ایک ہفتہ کے اندر ہماری فتح کی صورت میں یہ جنگ ختم ہوجائے گی۔ مگر ابھی تک جنگ کے خاتمہ کا کوئی واضح نقشہ دکھائی نہیں دیتا۔ ٹائمس آف انڈیا (۲۴ مارچ ۲۰۰۳) میں ایک سیاسی مبصّر کا تبصرہ چھپا ہے۔ اُس نے کہا کہ جنگ شروع کرنا آسان ہے مگر اُس کے کورس کے بارہ میں پیشین گوئی کرنا سخت مشکل ہے:
It is easy to start a war but very difficult to predict its course. (p. 11)
ایک مبصّر نے کہا کہ امریکا نے صدام حسین کی فوجی طاقت کا اندازہ کرکے ایساکہا تھا۔ مگر حملہ کے بعد ایک غیر متوقع صورت پیش آگئی،اور وہ ہے عراقی نیشنلزم کا بھڑک اٹھنا:
US attack has managed to provoke Iraqi nationalism.
یہ مسئلہ صرف عراقی نیشنلزم کا نہیں ہے بلکہ وہ عرب نیشنلزم کا، حتیٰ کہ پوری دنیا کے مسلم نیشنلزم کا ہے۔ ساری دنیا کے مسلمان امریکا کی نفرت میں جی رہے تھے۔ اس لیے جب اُنہوں نے دیکھا کہ امریکا نے ایک مسلم ملک پر حملہ کر دیا ہے تو اُن کی منفی نفسیات پوری طرح بھڑک اُٹھی۔ وہ تقریباً متفقہ طورپر اس معاملہ میں امریکا کے مخالف اور عراق کے حامی بن گئے۔ یہ کہنا مبالغہ نہ ہوگا کہ امریکا نے جو لڑائی چھیڑی ہے وہ صرف عراق کے خلاف نہیں ہے بلکہ پوری مسلم دنیا اُس کی زد میں ہے۔ گویا امریکا نے بھڑ کے چھـتّہ میںہاتھ ڈال دیا۔ اس جنگ میں امریکا کی جیت ہو یا ہار، اُس کو آئندہ اس کی بنا پر سنگین مسائل کا سامنا پیش آئے گا۔
۲۵ مارچ ۲۰۰۳
آج عراقی جنگ کا چھٹا دن ہے۔ اقوام متحدہ اور دنیا بھر کی عوام کی اکثریت امریکا کے اس فوجی اقدام کی مخالف تھی۔ ایسی حالت میں امریکا کی حکومت نے کیوں عراق پر حملہ کیا۔ اُس کا ایک خاص سبب ہے۔ امریکا کے مدبّرین یہ سمجھتے تھے کہ عراق کے عوام صدام حسین کی آمرانہ حکومت کے مخالف ہوچکے ہیں۔ وہ امریکی فوج کو نجات دہندہ سمجھ کر اُس کا استقبال کریں گے مگر غالباً ایسا نہیں ہوا۔ ٹائمس آف انڈیا (۲۵ مارچ ۲۰۰۳) کی ایک رپورٹ میں یہ الفاظ چھپے ہوئے ہیں:
The earlier expectation was that the Iraqi towns would welcome the Americans as liberators and not require any pacification. (p. 12)
ہزار سال پہلے مسلم فوجوں نے ایشیا اور افریقہ کے اکثر ملکوں میں نہایت تیزی سے فتح حاصل کرلی تھی۔ اس کاایک سبب یہ تھا کہ ان ملکوں کے عوام اپنے حکمرانوں سے ناراض تھے۔ چنانچہ اُنہوں نے مسلم فوجوں کا استقبال نجات دہندہ کی حیثیت سے کیا مگر آج ایسا نہ ہوسکا۔ اس کا بڑا سبب زمانی فرق ہے۔ قدیم زمانہ کی جنگ صرف میدان جنگ میں دو فوجوں کے درمیان ہوتی تھی۔ عوام براہ راست طور پر اُس کی زد میں نہیں آتے تھے۔ آج کی جنگ نئے ہتھیاروں سے ہوتی ہے۔ اُس کے برے اثرات فوراً ہی عوام تک پہنچنے لگتے ہیں۔ اس بنا پر عوام کو محسوس ہونے لگتا ہے کہ اُن کے ملک پر حملہ کرنے والے لوگ مصیبت دہندہ ہیں،نہ کہ نجات دہندہ۔
۲۶ مارچ ۲۰۰۳
رپورٹ کے مطابق، امریکا کی فوج میں پندرہ ہزار مسلمان ہیں۔ یہ لوگ ایک قسم کے نفسیاتی بحران میں مبتلا ہیں۔ وہ یہ کہ وہ امریکا کی فوج میں شامل ہو کر ایک مسلم ملک عراق کے خلاف جنگ کریں یا نہ کریں۔ بتایا گیا ہے کہ ایک امریکی مسلمان جس کا نام اکبر تھا اور کویت میں امریکی فوج کے ساتھ تھا، اُس نے ذہنی پریشانی کے عالم میں امریکی فوجیوں کے ایک کیمپ پر گرینیڈ سے حملہ کردیا اور چھ امریکیوں کو مارڈالا۔
میرے نزدیک اس معاملہ میں امریکی مسلمانوں کے لیے جو چوائس ہے وہ یہ نہیں ہے کہ وہ امریکی فوج میں شامل ہو کر مسلم ملک کے خلاف لڑیں یا نہ لڑیں۔ حقیقی چوائس صرف یہ ہے کہ وہ امریکی شہریت کو قبول کریں یا شہریت کو چھوڑ کر امریکا سے باہر آجائیں۔ میرے نزدیک یہ ایک دوعملی (duplicity) کی روش ہے کہ امریکا کی شہریت لے کر وہاں کی مادّی سہولتوں سے فائدہ اٹھایا جائے اور جب امریکا کو کوئی قومی لڑائی پیش آئے تو اُس لڑائی میںامریکا کا ساتھ نہ دیا جائے۔
آج کل اُمّہ کا جو تصور مسلمانوں میں پھیلا ہوا ہے مجھے ذاتی طور پراُس سے اتفاق نہیں۔ میرے نزدیک مسلمان اپنے مذہب کے اعتبار سے عالمی امت ہیں مگر وطن کے اعتبار سے اُن کی وفاداریاں اُسی طرح اپنے وطن کے ساتھ ہونی چاہئیں جس طرح دوسری قوموں کے لوگ اپنے مذہب کے اعتبار سے الگ تشخص رکھنے کے باوجود وطنی معاملات میں بقیہ اہل وطن کے ساتھ ہوتے ہیں۔
۲۷ مارچ ۲۰۰۳
نئی دہلی کے انگریزی اخبار ہندستان ٹائمس (۲۷ مارچ) میں مسٹر اشوانی کمار کا ایک آرٹیکل چھپا ہے۔ اس آرٹیکل میںوہ عراق کے خلاف امریکا کی جنگ کا تجزیہ کرتے ہوئے یہ سوال اٹھاتے ہیں کہ کیا یہ جنگ ۱۱ ستمبر ۲۰۰۱ میں امریکا کی عمارتوں پر حملہ کا متناسب جواب ہے:
Does the war represent a proportionate response to 9/11. (p. 12)
میرے نزدیک یہ ایک غیر متعلق سوال ہے۔ اس طرح کے معاملات میں کبھی کوئی حکومت برابر کا جواب یا متناسب جواب نہیں دیتی۔ حقیقت یہ ہے کہ تناسُب کا مذکورہ اصول صرف معمول کے حالات میں قابلِ عمل ہے۔ غیرمعمولی حالات میں کوئی بھی تناسُب کے اس اُصول پر قائم نہیں رہ سکتا۔ انتقامی کارروائی کرنے والا ہمیشہ اپنی طاقت کے اعتبار سے جوابی کارروائی کرتا ہے، نہ کہ تناسب کے اعتبار سے۔
۲۸ مارچ ۲۰۰۳
صدر امریکا جارج بُش نے جب عراق پر حملہ کیا تو اُن کا اندازہ تھا کہ یہ جنگ صرف چند دن میں ختم ہوجائے گی۔ اُن کی انٹلی جنس نے اُنہیں بتایا تھا کہ عراق کے عوام صدّام حسین سے نفرت کرتے ہیں۔ اس لیے جب امریکی فوجیں عراق میں داخل ہوں گی تو وہ اُن کا استقبال کریں گے۔ عراقیوں نے امریکی اور برطانوی فوجوں کے خلاف کم ازکم وقتی طور پر گوریلا وار چھیڑ دی ہے۔ اُنہوں نے امریکی اور برطانوی فوجو ں کو کچھ نقصان بھی پہنچایا ہے۔ یہ عین ممکن ہے کہ عراق کے لوگ صدام حسین کی سخت گیر ڈکٹیٹر شپ کی بنا پر اُن سے نفرت کرتے ہوں۔ مگر اس کا یہ مطلب نہیں کہ وہ حملہ آور امریکیوں سے ضرور پیار کریں گے۔
دوسری بات جو عراق پر امریکی حملہ کے بعد سامنے آئی ہے۔ وہ یہ کہ ساری دنیا کے مسلمان امریکا کے خلاف ہوگئے ہیں۔ ہر مسلم ملک میں امریکا کے خلاف مظاہرے کیے جارہے ہیں۔ حتٰی کہ صدام حسین اس وقت ساری دنیا کے مسلمانوں کے ہیرو بن گئے ہیں۔ نئی دہلی کے انگریزی اخبار ہندستان ٹائمس (۲۸ مارچ ۲۰۰۳) میں مسٹر پریم شنکر جھَا کا ایک مضمون چھپا ہے۔ اس کا عنوان ہے: Stuck in Iraq ۔ اس مضمون میں وہ موجودہ صورت حال کا جائزہ لیتے ہوئے لکھتے ہیں کہ صدام حسین داخلی طورپر عراقیوں میں بہت زیادہ غیر مقبول ہوسکتے ہیں مگر وہ مسلمانوں کے لیے خارجی حملہ کے خلاف مقاومت کی علامت بن گئے ہیں:
While Saddam may be highly unpopular within the domestic Iraqi context, he has become a symbol of resistance to foreign aggression. (p. 16)
۲۹ مارچ ۲۰۰۳
آج امریکا۔ عراق جنگ کا دسواں دن ہے۔ یہ جنگ امریکا کے لیے بظاہر مشکل ثابت ہورہی ہے۔ مثلاً صدام حسین نے چھاپہ مار دستوں کو حرکت میں لاکر امریکی فوج کی رسد کو وقتی طورپر کاٹ دیا ۔ امریکی فوج کو ضروری سامان پہنچنے میں مشکل پیش آرہی ہے۔ اس بنا پر اُن کی پیش قدمی وقتی طور پرسُست ہوگئی ہے۔ ۲۹ مارچ کے انگریزی روزنامہ پانیر(The Pioneer)نے اپنی پہلی خبر کی سرخی ان الفاظ میں قائم کی ہے کہ بُش ویتنا م کے راستہ پر:
Bush goes Vietnam way.
اسی طرح ہندستان ٹائمس کے آج کے اداریہ کا عنوان یہ ہے کہ سنگین نوعیت کا کمتر اندازہ (Grave Misunderestimation)
میڈیا میں جو رپورٹیں آرہی ہیں اُن کے اعتبار سے بظاہر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اب امریکی صدر جارج بُش کے لیے شاید دومیں سے ایک کا چوائس ہے۔ یا تو وہ ویتنام کی طرح عراق سے واپسی کا فیصلہ کریں۔ یا وہ بھاری بم گرا کر عراق کو بالکل تباہ کردیں۔ مگر جارج بُش کے لیے دونوں ہی چوائس یکساں طورپر سخت مشکل ہے۔ اگر وہ عراق سے واپسی کا فیصلہ کرتے ہیں تو یہ اُن کے لیے اور امریکہ کے لیے بدترین رسوائی کے ہم معنٰی ہوگا۔ یہ قومی رُسوائی اُن کے لیے غالباً شکست سے زیادہ بُری ثابت ہوگی۔ اور اگر وہ بھاری بم باری کرکے عراق کو تباہ کریں تو جارج بُش کوامریکی عوام کے اس سوال کا جواب دینا ہوگا کہ امریکی تاریخ کی یہ سب سے بڑی قربانی کیوں دی گئی۔ مگر تجربہ بتاتا ہے کہ اس طرح کے معاملہ کو آدمی عزت کا سوال بنا لیتا ہے۔ اور پھر وہ کسی بھی حال میں پیچھے ہٹنے کے لیے تیار نہیں ہوتا۔
۳۰ مارچ ۲۰۰۳
قدیم زمانہ میں کسی جنگ کی خبر بقیہ دنیا کو برسوں کے بعد پہنچتی تھی۔ مگر آج کمیونیکیشن کا زمانہ ہے۔ عراق کے خلاف امریکا کی جنگ کی خبریں ہر لمحہ ساری دنیا تک پہنچ رہی ہیں۔ حتیٰ کہ لوگ اپنے گھروں میں بیٹھے ہوئے اپنے ٹی وی سیٹ پر جنگ کا حقیقی منظردیکھ رہے ہیں۔
اسی کا ایک نتیجہ یہ ہے کہ ساری دنیا کے مسلمانوں میں غم اور غصہ کی کیفیت پیدا ہوگئی ہے۔ مختلف ملکوں سے مسلمان سفر کرکے عراق پہنچ رہے ہیں تاکہ عراقی مسلمانوں کی مدد کریں۔ ایک خبر کے مطابق، ہندستان سے ۶ مسلم نوجوانوں کی ایک ٹیم عراق پہنچی ہے۔ اس ٹیم کی قیادت سعید نوری کررہے ہیں جو بمبئی کی رضا اکیڈمی کے صدر ہیں۔
اس قسم کے امدادی دستوں کا تجربہ بہت پُرانا ہے۔ بیسویں صدی کے آغاز میں ہجرت کی تحریک چلی۔ اس میںہندستان کے مسلمان ہزاروں کی تعداد میں سفر کرکے کابل پہنچے۔ اسی طرح پچھلی امریکا ۔عراق جنگ میں مختلف ملکوں سے لوگ عراق پہنچے تھے۔ اسی طرح طالبان کی تحریک کے زمانہ میں ہزاروں مسلمان افغانستان میںداخل ہوئے تھے۔ مگر یہ تمام مہاجر مجاہدین ایک ہی انجام سے دوچار ہوئے۔ وہ یہ کہ وہ یا تو ہلاک ہوگئے یا بھاگ کر اپنے وطن واپس آئے۔ یقینی طورپر یہی انجام اُن لوگوں کا بھی ہونے والا ہے جو موجودہ جنگ میں عراق پہنچ رہے ہیں۔ اس قسم کے غیر منظم اور غیرتربیت یافتہ لوگ موجودہ جنگ میں کوئی بھی کردار ادا نہیں کر سکتے۔وہ دوسروں کے لیے بھی مصیبت ہیں اور خود اپنے لیے بھی مصیبت۔
۳۱ مارچ ۲۰۰۳
امریکی انتظامیہ کا خیال ہے کہ عراق کے خلاف جنگ میں اُس کی جیت یقینی ہے۔ چنانچہ اُس نے مختلف کمپنیوں کو دعوت دی ہے کہ وہ عراق کی بعد از جنگ تعمیر میں حصہ لیں۔ خاص طور پر عراق کی تیل کی صنعت کو دوبارہ منظّم کرنے کے لیے۔ امریکی انتظامیہ نے اس مقصد کے لیے جن کمپنیوں کو چنا ہے وہ سب امریکی کمپنیاں ہیں۔ اس پر امریکی اخبار نیو یارک ٹائمز نے اپنا تبصرہ شائع کیا ہے۔ ٹائمس آف انڈیا (۳۱ مارچ) کے مطابق، نیو یارک ٹائمز نے لکھا ہے کہ امریکی حکومت کا یہ فیصلہ کہ وہ صرف امریکی کمپنیوں کو عراق کی تعمیر نو کے لیے مدعو کرے، اُس بین اقوامی تقسیم میں مزید اضافہ کرے گا جو کہ پہلے ہی سے بڑے پیمانہ پر موجود ہے:
The (US) government's decision to invite only American Corporations... has added to the profound international divisions that already surround the war. (p. 14)
امریکا اس جنگ میں اقوام متحدہ کی تائید حاصل نہ کرسکا۔ بڑی طاقتیں مثلاً فرانس، روس، چین سب اس معاملہ میں امریکا کے خلاف تھیں ۔ ساری دنیا کے عوام تقریباً ۷۰ فیصد تک امریکا کے مخالف ہوگئے۔ اب اگر تجارتی مفاد کے معاملہ میں بھی امریکا سب سے الگ ہوگیا تو جنگ کے بعد امریکا کو ایسے مسائل پیش آسکتے ہیںجن کا حل آسان نہ ہوگا۔
اپنے آپ کو سُپر پاور سمجھنے کے باوجود، بظاہر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ امریکا نے عراق کے خلاف لڑائی چھیڑ کر اپنے آپ کو ایک مشکل میں پھنسا لیا ہے۔ اب اگر وہ ویتنام کی طرح عراق چھوڑ کر لوٹ جائے تو یہ امریکا کے لیے بہت بڑی بے عزّتی کے ہم معنٰی ہوگا۔ اور اگر وہ اپنی بڑھی ہوئی فوجی طاقت سے عراق کو تباہ کردے تب بھی اندیشہ ہے کہ امریکا کی یہ فتح پِرک فتح (pyrrhic victory) ثابت ہو جو ہار سے کچھ ہی مختلف ہو۔
یکم اپریل ۲۰۰۳
عراق میں جب سے امریکا کی فوجی کارروائی شروع ہوئی ہے، میرے پاس اکثر لوگوں کے ٹیلی فون آتے رہتے ہیں۔ ملک کے اندر سے بھی اور ملک کے باہر سے بھی۔ وہ پوچھتے ہیں کہ صدام حسین کا کیا قصور تھا جس کی بنا پر امریکا نے اُس کے اوپر فوجی حملہ کردیا اور ساری مسلم دنیا کو ذلت اور مصیبت کے غار میں ڈھکیل دیا۔
اس مسئلہ میں سوچنے کا یہ آغاز صحیح نہیں۔ صحیح آغاز یہ ہے کہ اس سوچ کو قرآن سے شروع کیا جائے۔ قرآن میں بار بار مسلمانوں کو خطاب کرتے ہوئے یہ کہا گیا ہے کہ تم ہی غالب رہو گے اگر تم ایمان والے ہو (و انتم الاعلون ان کنتم مومنین)۔ اسی طرح فرمایا کہ اللہ منکروں کو مومنین کے اوپر ہر گز راہ دینے والا نہیں( ولن یجعل اللہ للکافرین علی المؤمنین سبیلا)۔اس طرح کی کثیر آیتیں جو قرآن میں ہیں اُ ن کی روشنی میں غور کیا جائے تو یقینی طورپر کہا جا سکتاہے کہ موجودہ قسم کی صورت حال میںہمارے سوچنے کا رُخ یہ نہیں ہونا چاہئے کہ فلاں غیر مسلم طاقت نے مسلمانوں کو کیوں ذلیل و مغلوب کیا۔ بلکہ یہ سوچنا چاہئے کہ خود مسلمانوں میں وہ کون سی کمزوری آگئی تھی جس کی بنا پر غیرمسلم طاقتوں کو یہ موقع ملا کہ وہ مسلمانوں کو ذلت اور مغلوبیت سے دوچار کریں۔
اصل یہ ہے کہ صدام حسین کا یا اُن کے حامیوں کا قصور امریکا کی نسبت سے نہیں ہے بلکہ وہ خدا کی نسبت سے ہے۔ اس اعتبار سے مجھے ایسا معلوم ہوتا ہے کہ امریکا کی فوجی کارروائی در اصل اُن کے اوپر ایک خدائی آپریشن ہے (بنو اسرائیل ۵)۔ اپنی حقیقت کے اعتبار سے، یہ ایک خدائی تازیانہ ہے، نہ کہ محض ایک امریکی کارروائی۔
حقیقت یہ ہے کہ عراقی لیڈر اس برائی کی علامت بن گئے ہیں جو اس وقت ساری دنیا کے مسلمانوں میں پھیلی ہوئی ہے۔ یہی سبب ہے کہ اس وقت ساری دنیا کے مسلمانوں نے صدام حسین کو اپنا ہیرو بنالیا ہے۔ یہ گویا اس مسلم سیاست کا ایک انتہائی اظہار ہے جو پچھلے تقریباً دوسو سال سے مسلمانوں کے اندر چل رہی تھی ۔ موجودہ زمانہ میں جب مغربی کولونیلزم کا مسئلہ پیدا ہوا تو ساری دنیا کے مسلمانوں میں ایسے لیڈر اُبھرے جو کسی نہ کسی اعتبار سے عداوتی نعروں پر کھڑے ہوئے ـتھے۔ نعرہ کے الفاظ مختلف تھے مگر سب کی اسپرٹ ایک تھی—پان اسلامزم، عرب نیشنلزم، اسلامک فنڈامنٹلزم، مسلم ریوائیولزم، جہاد ایکٹیوزم، اسلامک ریڈیکلزم، ٹوٹل اسلامزم، وغیرہ سب اس کے مظاہر ہیں۔
یہ تحریکیں جو پچھلے دو سو سال کے اندر ساری مسلم دنیا میں پھیل گئیں وہ مشترک طورپر عداوت پر مبنی سیاست کا نتیجہ تھیں۔ جب کہ مسلمانوں کے لیے فرض کے درجہ میں ضروری تھا کہ وہ دعوت پر مبنی سیاست کا طریقہ اختیار کریں۔ اس غیر اسلامی ذہن کا نتیجہ یہ ہوا کہ مسلمانوں نے ساری دنیا کو اپنا دشمن فرض کرلیا ۔ اور تمام قوموں سے متنفر ہو کر اُن کے خلاف نظری یاعملی طورپر منفی جہاد چھیڑ دیا۔
۲ اپریل ۲۰۰۳
ایک حدیث میں دریائے فرات کا ذکر آیا ہے جو عراق میں واقع ہے اور جہاں آج کل جنگ ہو رہی ہے۔ اس حدیث کے الفاظ یہ ہیں: یوشک الفرات ان یحسر عن کنز من ذہب فمن حضرہ فلا یاخذ منہ شیئا (صحیح مسلم، کتاب الفتن و اشراط الساعۃ)۔ یعنی قریب ہے کہ فرات میں سونے کا ایک خزانہ نکلے، جو کوئی وہاں ہو تو وہ اس میں سے کچھ نہ لے۔
اس حدیث میں واضح طورپر تیل کے ذخائر کی طرف اشارہ ہے جس کو سیّال سونا (liquid gold) کہا جاتا ہے۔ اس سیّال سونے کا بہت بڑا حصہ خدا نے عرب کی سرزمین کے نیچے رکھ دیا تھا۔ اس حدیث کے مطابق، اس سیّال سونے کا خزانہ اس لیے تھا کہ اُس کو خدائی مشن میںاستعمال کیا جائے۔ مگر مسلمانوں نے اس سیّال سونے کو یا تو اپنے ذاتی عیش کے لیے استعمال کیا یا اپنی مہنگی عداوتی سیاست کا بل ادا کرنے کے لیے۔
یہ مہنگی عداوتی سیاست موجودہ زمانہ میں تقریباً تمام مسلم ملکوں میں چل رہی ہے۔ مثلاً مصر، پاکستان، افغانستان، لیبیا، سوڈان، شام، ایران، وغیرہ۔ اس فہرست میں صدام حسین کی قیادت میںعراق نے اس وقت نمبر ایک کی حیثیت حاصل کر لی ہے۔ عداوتی نفسیات کی بنا پر ساری دنیا کے مسلمانوں نے اپنے آپ کو صدام حسین کے ساتھ بریکیٹ کرلیاہے۔ ساری دنیا کے مسلمانوں نے اپنے آپ کو عراق سے منسوب کررکھا ہے۔ اُن کی اولاد اور اُن کے رشتہ دار خواہ امریکا میں ڈالر کمارہے ہوں مگر وہ تقریباً سب کے سب براہ راست یا بالواسطہ طورپر اینٹی امریکا ا ور پرو عراق بولی بول رہے ہیں۔
یہ صورت حال مسلمانوں کے لیے ایک جرم کی حیثیت رکھتی ہے۔ مسلمان نبی آخر الزماں کی امت ہونے کے اعتبار سے ایک داعی گروہ کی حیثیت رکھتے ہیں۔ اُن کی لازمی ذمہ داری یہ ہے کہ وہ دنیا کی قوموں کو دین کی دعوت دیتے رہیں۔ اسی ذمہ داری کو ادا کرنے کے لیے اُنہیں تیل کی دولت دی گئی تھی تاکہ وہ دعوتی عمل کی ہر ممکن قیمت ادا کرتے ہوئے اس کو نسل در نسل جاری رکھ سکیں۔
مگر موجودہ زمانہ کے مسلمانوں نے یہ عظیم جرم کیا کہ نہ صرف یہ کہ دعوت کا کام نہیںکیا بلکہ داعی اور مدعو کے درمیان نفرت کا جنگل اُگا کر دعوت کے امکانات کو برباد کردیا۔ بظاہر کچھ مسلم گروہ دعوت کا نام لیتے ہوئے نظر آتے ہیںمگر یہ اُن کے جرم میںصرف اضافہ کے ہم معنٰی ہے۔ ان لوگوں کا حال یہ ہے کہ کوئی دعوت کے نام پر سیاست چلا رہا ہے۔ کوئی دعوت کے نام پر بزنس کر رہا ہے۔ کوئی جزئی اصلاح کررہا ہے اور بطور خود اس کو دعوت کا نام دے رکھا ہے۔ کچھ لوگ کمیونٹی ایکٹوزم جیسی قومی تحریکیں چلا رہے ہیں اور اُس کو دعوت کا نام دیے ہوئے ہیں، وغیرہ۔
۳ اپریل ۲۰۰۳
عراق کے خلاف امریکا کی جنگ کے معاملہ میں ساری دنیا کے مسلمان لکھنے اور بولنے میں مشغول ہیں۔ مگر میرے تجربہ کے مطابق، ہر ایک بس ردّ عمل کی زبان استعمال کررہا ہے۔ اس واقعہ پر کوئی مثبت تبصرہ ابھی تک میرے علم میں نہ آسکا۔ اس معاملہ کی ایک انوکھی مثال یہ ہے کہ ایک مسلم ادارہ جو اسلامک ریسرچ فاؤنڈیشن کے نام سے قائم ہے اُس نے ۶ صفحہ کا ایک پمفلٹ چھاپا ہے جس کا عنوان ہے—اسلام اینڈ ٹیررزم:
Islam and Terrorism
اس پمفلٹ میں بتایا گیا ہے کہ امریکا اوراُس کے ساتھی مسلمانوں کو دہشت گرد (terrorist) کہتے ہیں۔ مگر یہ صحیح نہیں۔ مسلمان متشدد ہوسکتاہے مگر اُس کا تشدد صرف سماج دشمن عناصر کے خلاف ہوتاہے تاکہ وہ سماج میں امن اور انصاف قائم کرے:
He should be terrorist only towards the anti-social elements in order to promote peace and justice in society.
یہ بات بلاشبہہ عقل اور اسلام دونوں کے خلاف ہے۔ کسی مسلم فرد یا مسلم تنظیم کو ہر گز یہ حق حاصل نہیں کہ وہ امن اور انصاف قائم کرنے کے نام پر کسی کے خلاف تشدد کرنے لگے۔ وہ صرف پُرامن نصیحت کرسکتا ہے، نہ کہ متشددانہ کارروائی۔
اگر امن اور انصاف کے نام پراس قسم کی متشددانہ کارروائی جائز ہو تو وہ صرف مسلمان کے لیے جائز نہ ہوگی بلکہ وہ ہر ایک کے لیے جائز قرار پائے گی۔ مثلاً امریکا نے عراق کے خلاف جو فوجی کارروائی کی ہے اُس کو وہ آپریشن عراقی فریڈم(Operation Iraqi Freedom) کہتا ہے۔ اب اگر مذکورہ اُصول کو درست مان لیاجائے تو کس دلیل سے کہا جائے گا کہ عراق کے خلاف اُس کا یہ آپریشن غلط ہے۔ اگر مسلمان کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ امن و انصاف قائم کرنے کے نام پر متشددانہ آپریشن کرے تو امریکا کے اس موقف کو بھی جائز تسلیم کرنا ہوگا کہ وہ اپنے دعوے کے مطابق، عراق کی نجات کے لیے جو متشددانہ آپریشن کررہا ہے وہ درست ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ مسلم ہو یا غیر مسلم، ہر ایک کے لیے یہ مشترک اُصول ہے کہ کسی بھی عذر کی بنا پر کسی کو تشدد کاطریقہ اختیار کرنے کا حق نہیں۔ پُر امن عمل ہر ایک کے لیے جائز ہے لیکن پُر تشدد عمل کسی کے لیے بھی جائز نہیں۔
۴ ؍اپریل ۲۰۰۳
آج کی خبروں سے اندازہ ہوتاہے کہ امریکا کی قیادت میںاتحادی فوجوں (Allied Forces) نے صدام ایر پورٹ پر کنٹرول حاصل کر لیا ہے اور اُس کا نام صدّام ایر پورٹ کے بجائے بغداد ایرپورٹ رکھ دیا ہے۔ یہ ایر پورٹ بغداد شہر سے صرف بیسکیلو میٹر کے فاصلہ پر ہے۔ اب بظاہر یقینی ہے کہ جلد ہی امریکی فوجیں بغداد پر قبضہ کرلیں گی اور جلد ہی پورا عراق اُن کے ماتحت ہوجائے گا۔
اس معاملہ کا ایک بے حد سبق آموز پہلو ہے۔ اقوام متحدہ کا عالمی ادارہ اس حملہ کے خلاف تھا۔ روس، جرمنی، فرانس چین، وغیرہ ممالک امریکا کو اس سے روک رہے تھے۔ تمام دنیا کے مسلمان تقریباً متفقہ طورپر اس معاملہ میں عراق کے حامی اور امریکا کے مخالف بنے ہوئے تھے۔ اس کے باوجود امریکا نے عراق پر حملہ کردیا اور دنیا کی کوئی ’’رائے عامہ‘‘ اس کا راستہ روکنے میں کامیاب نہیں ہوئی۔
اس تجربہ میںایک بہت بڑا سبق ہے۔ اکثر مسلم رہنماؤں کی طرف سے کہا جاتا ہے کہ ہمیں اپنے مسائل کے حق میں دنیا کی رائے عامہ کو ہموار کرناہے اور انٹرنیشنل سپورٹ حاصل کرنا ہے۔ کشمیر اور فلسطین اور افغانستان جیسے متعدد مسائل پر ان لوگوں نے اربوں ڈالر صرف اس لیے خرچ کیے کہ اپنے قومی کاز کے لیے انٹر نیشنل حمایت حاصل کریں۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ عالمی رائے عامہ کا ملنا بھی اتنا ہی بے فائدہ ہے جتنا کہ اس کا نہ ملنا۔عراق کی مثال بتاتی ہے کہ کسی مسئلہ کو انٹرنیشنلائز کرنا صرف ایک نادان خوش فہمی ہے۔ اس کا کوئی بھی حقیقی فائدہ نہیں۔ اگر اس میں فائدہ ہوتا تو عراق کو یہ فائدہ بخوبی طورپر حاصل ہوچکا ہوتا۔
ایک عوامی مثل ہے کہ: بَل تو اپنا بَل۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ کسی بھی قسم کا فائدہ کسی کو خود اپنی طاقت کے ذریعہ ملتا ہے، نہ کہ کسی دوسرے کی طاقت کے ذریعہ۔
ہمارے لیڈر جو طاقت کسی مسئلہ کو انٹرنیشنلائز کرنے میں لگاتے ہیں اُس کو اگر وہ اپنے داخلی استحکام میںلگائیں تو یقینی طورپر وہ زیادہ مفید ہوگا۔
۵ اپریل ۲۰۰۳
صبح کو میںنے ریڈیو کھولا تو اُس پر امریکا کے صدر جارج بُش کی تقریر آرہی تھی۔ اُنہوں نے پُر جوش طورپر کہا کہ عراق میں ہمارا آپریشن کامیابی کے ساتھ چل رہا ہے۔ ہم اپنے منصوبہ کے مطابق، مسلسل آگے بڑھ رہے ہیں۔ عراقی حکومت کے دن اب ختم ہونے والے ہیں:
The days of Iraqi regime are coming to an end.
میں نے یہ الفاظ سنے تو میں نے سوچا کہ زیادہ گہرائی کے ساتھ دیکھا جائے تو یہ مسئلہ صرف صدام حسین کا نہیں ہے بلکہ وہ خود جارج بُش کا بھی ہے۔ اس دنیامیں ہر انسان کاکاؤنٹ ڈاؤن (countdown) ہورہا ہے۔ ہر انسان کی مدت آخر کار ختم ہونے والی ہے۔ ہر انسان آخر کار موجودہ دنیا سے نکل کر آخرت کی دنیا میںپہنچنے والا ہے۔ وہاں ہر آدمی کو اپنے قول و عمل کاحساب دینا ہوگا۔ وہاں ہر آدمی یکساں طورپر خدا کے فیصلہ کو قبول کرنے پر مجبور ہوگا۔
مگر عجیب بات ہے کہ ہر مرد اور عورت کو صرف دوسروں کے اوپر گذرنے والے معاملہ کی خبر ہے۔ خود اپنی ذات پر جو کچھ گذرنے والا ہے اُس کی کسی کو خبر نہیں۔ یہ ایک ایسی بھول ہے جس میں شاید آج کا ہر انسان مبتلا ہے، خواہ وہ پڑھا لکھا ہو یا جاہل، خواہ وہ امیر ہو یا غریب، یہاںتک کہ اس معاملہ میںمذہبی اور غیر مذہبی کے درمیان بھی شاید کوئی فرق نہیں۔
۶ ؍اپریل ۲۰۰۳
عراق پر امریکی حملہ سے پہلے میںنے ایک مضمون انگریزی میںلکھا جس میںصدام حسین کو یہ مشورہ دیا گیا تھا کہ وہ اقتدار سے ہٹ جائیں اور عراق چھوڑ کر کسی عرب ملک میں چلے جائیں۔ اس طرح وہ اپنے آپ کو اور عراقی عوام کو بچالیں گے۔ اس مضمون کا عنوان یہ تھا:
Option for Saddam Husain.
کئی عرب ملکوں نے بھی صدام حسین کو خاموشی کے ساتھ یہی مشورہ دیا تھا۔ مگر صدام حسین نے اس مشورہ کو قبول نہیں کیا اور نادانی کی لڑائی لڑ کر اپنا خاتمہ کرلیا۔ عام طورپر مسلمان اس قسم کے فعل کو عزیمت کہتے ہیں اور اُس پر فخر کرتے ہیں۔ مگر میں اُس کو نادانی کی سیاست سمجھتاہوں۔ اس قسم کی سیاست کا آغاز جدید دور میں سلطان ٹیپو سے ہوا جو بے سروسامانی کے باوجود خود ساختہ طورپر شیر کی لڑائی لڑے اور ۱۷۹۹ میں انگریز کی گولی کا شکار بن گئے۔ اس کے بعد سید احمد بریلوی، جمال الدین افغانی، سید قطب، یاسر عرفات، جیسے بہت سے لوگ اسی قسم کی بے فائدہ قربانی کی مثالیں ہیں۔
اس طرح کے معاملہ میں پوری مسلم قوم اتنا زیادہ جذباتی ہوگئی ہے کہ اب کسی لیڈر کے لیے اس کے سوا کوئی دوسری صورت ممکن نہیںرہی کہ وہ بطور خود عزیمت سمجھ کر اپنی جان دے دے۔ کیوں کہ اگر وہ ایسا نہ کرے تو وہ مسلمانوں میں بزدل شمار ہوگا اور اچانک مسلمانوں کے اندر اپنی مقبولیت کھو دے گا۔
صدام حسین اس غلط روایت کو توڑ سکتے تھے۔ اگر وہ ایسا کرتے کہ اقتدارسے ہٹ کر کسی دوسرے ملک میں جا کر مقیم ہو جاتے اور وہاں ایک انٹرنیشنل یونیورسٹی قائم کرتے تو یہ امت کے لیے اُن کا ایک عظیم کارنامہ ہوتا۔ صرف اس اعتبار سے نہیں کہ اُنہوں نے مسلمانوں کوایک یونیورسٹی دی بلکہ اس اعتبار سے بھی کہ اُنہوں نے اس تباہ کن روایت کو توڑ کر نئی صحت مند روایت قائم کی جس کے مطابق، لوگ خواہ مخواہ اپنے آپ کو ہلاک کررہے ہیں اور عزیمت کا غلط نمونہ قائم کررہے ہیں۔
اسلام کے مطابق، حقیقی عزیمت یہ ہے کہ آدمی غیر نزاعی طریقہ اختیار کرکے اپنے آپ کو بچائے اور اپنی قوتوں کو تعمیر و استحکام کے عمل میں لگا دے۔
۷ ؍اپریل ۲۰۰۳
آج کل عراقی جنگ کے بارہ میں تعلیم یافتہ مسلمانوں کے مضامین کثرت سے مسلم اخباروں اور مسلم جرائد میںآرہے ہیں۔ ان مضامین میںتقریباً مشترک طورپر یہ ہورہا ہے کہ یہ لوگ ڈکشنری کے تمام الفاظ امریکا کی مذمت میں استعمال کررہے ہیں۔ ہر ایک امریکا کے بارہ میں یہ ثابت کرنے میںمشغول ہے کہ اُس کی پالیسی دوہرا معیار پر مشتمل ہے۔ امریکا نے خود تو ہتھیاروں کا ذخیرہ اپنے ملک میںاکٹھا کر رکھا ہے اور عراق سے مطالبہ کرتا ہے کہ تم اپنے ہتھیاروں کو ختم کردو۔وہ خود تو ظالمانہ پالیسی اختیار کیے ہوئے ہے اور عراقی عوام سے مانگ کرتا ہے کہ تم اپنے یہاں سے ظالم حکمراں کو ہٹاؤ۔ وہ خود تو عراق اور دوسرے مسلم ملکوں کے خلاف تشدد کی کارروائی کرتا ہے اور دوسروں سے کہتا ہے کہ وہ امریکا کے اداروں پر متشددانہ حملے نہ کریں۔مسلم میڈیا آج کل اس قسم کے مضامین سے بھرا ہوا نظر آتا ہے۔
مگر یہ ایں گناہے است کہ در شہر شما نیز کنند کا معاملہ ہے۔ میرے تجربہ کے مطابق، امریکا کی بے تکان مذمت کرنے والے ان مسلمانوں کا اپناحال یہ ہے کہ اُ ن میںسے جس کے بھی بَس میں ہے وہ اپنے بیٹے اور بیٹی اور اپنے رشتہ داروں کو امریکا میں سٹل کیے ہوئے ہے۔ یہ لوگ جس دوہرے معیار کا الزام امریکا کو دے رہے ہیں اُسی دوہرے معیار میں وہ خود مبتلا ہیں۔ ان لوگوں کو چاہئے کہ وہ اس مسئلہ میں یا چپ رہیں یا اُصول پسندی کا طریقہ اختیار کرتے ہوئے اپنے عزیزوں کو امریکا سے واپس بلا لیں۔
جو لوگ امریکا یاغیر امریکا کو دشمن قرار دے کر اُن کے خلاف اس قسم کے الفاظ بکھیر رہے ہیں اُن کے اوپر قرآن کے یہ الفاظ صادق آتے ہیں کہ: ہم العدو فاحذرہم (المنافقون ۴) یعنی وہ خود دشمن ہیں، تم اُن سے بچو۔ حقیقت یہ ہے کہ دوسری قوموں کو عدو قرار دے کر مسلمانوں کے اندر اُن کے خلاف نفرت اور عداوت کی نفسیات پیدا کرنا اسلام کے منصوبہ کے سراسر خلاف ہے۔ مسلمانوں کو حکم دیا گیا ہے کہ وہ اپنے عدو کے ساتھ بھی بہتر سلوک کریں، وہ اپنے عدو کو بھی اپنا دوست بنانے کی کوشش کریں۔ (حٰم السجدہ ۳۴)
قرآن کے اس بیان کے مطابق، یہ خود سب سے بڑی اسلام دشمنی ہے کہ ایسی باتیں کی جائیں جن سے مسلمانوں کے اندر دوسری قوموں کے خلاف نفرت اور عداوت کے جذبات بھڑک اُٹھیں۔ اور پھر اس کا نتیجہ یہ ہو کہ مسلمانوں اور غیر مسلموں کے درمیان اتنی تلخی بڑھے کہ دعوتی عمل کے امکانات ختم ہوجائیں۔ جب کہ دعوتی عمل ہی اسلام کی سب سے بڑی طاقت ہے۔
۸ اپریل ۲۰۰۳
عراق کی جنگ میںپہلے امریکی فوج فضائی بمباری کرر ہی تھی۔ اُس وقت جنگ کا معاملہ یکطرفہ تھا۔ امریکی مارنے والے تھے اور عراقی مرنے والے۔ لیکن صرف فضائی بمباری سے جنگ کا فیصلہ نہیں ہو سکتا تھا۔ چنانچہ امریکا اور برطانیہ کی فوج زمین پر اُتر گئی اور عراق کے شہروں میںزمینی راستہ سے گھسنا شروع کیا۔ اب لڑائی دو طرفہ ہوگئی ۔ رپورٹ کے مطابق، دونوں طرف کے ہزاروں فوجی مارے جاچکے ہیں۔
میںنے وائس آف امریکا (ریڈیو) پر امریکا کے صدر جارج بُش کی تقریر سُنی۔ اُنہوں نے پُرجوش طورپر کہا کہ صدّام ختم ہوگیا: (Saddam is finished) ۔ مگر عراق کی جنگ میںصدام حسین کی حیثیت صرف ایک علامت کی ہے۔ در حقیقت اس جنگ میں ساری دنیا کے مسلمان براہِ راست طورپر یا بالواسطہ طورپر شامل تھے۔ موجودہ صورت ِ حال کے مطابق، تمام دنیا کے مسلمان اس احساس میں جی رہے ہیں کہ امریکا اور دوسری قومیں مسلم دشمن یا اسلام دشمن بن چکی ہیں۔ وہ ہمارا وجود مٹا دینا چاہتی ہیں۔ ایسے حالات میں اصل مسئلہ جنگ کا نہیں ہے بلکہ مذکورہ قسم کی منفی سوچ کا ہے۔ جب تک یہ سوچ نہ بدلے جنگ و تشدد کسی نہ کسی صورت میں جاری رہے گا، خواہ صدام حسین زندہ ہوں یا زندہ نہ ہوں۔
میںذاتی طورپر اس نظریہ کو بے بنیاد سمجھتا ہوں کہ امریکا یا دوسری قومیں اسلام دشمن ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ پیدائشی طورپر ہر آدمی اسلام دوست ہے۔ یہ مسلمانوں کی غیر حقیقی سوچ ہے جس کی بنا پر دوسرے لوگ اُن کو منفی صورت میں دکھائی دیتے ہیں۔
۹ اپریل ۲۰۰۳
آج کل دنیا بھر کامسلم پریس ایک ہی بولی بول رہا ہے،اور وہ ہے مذمت کی بولی۔ میرے علم کے مطابق، کوئی بھی مسلم اخبار یا جریدہ ایسا نہیں جو ایسی بات لکھے جس میں مسلمانوں کو حوصلہ ملتا ہو۔ مثال کے طورپر ایک مسلم ہفت روزہ نے عراق کی جنگ پر ایک مضمون شائع کیا ہے جس کا عنوان یہ ہے—عراق کی آزادی کا آپریشن یا انسانیت کو غلام بنانے کی مہم:
Operation Iraqi freedom or Enslaving Mankind?
اس مضمون میں بار بار اس قسم کی بات کہی گئی ہے کہ یہ ایک غیر منصفانہ جنگ ہے جس کو بے شرمی کے ساتھ ایک کمزور قوم کے اوپر مسلط کر دیا گیاہے۔ یہ امریکن کولونیلزم (American colonialism) ہے، یہ امریکی امپیریلزم (American Imperialism)ہے۔ آئیے ہم ظالم امریکا کی مخالفت کریں اور مظلوم عراق کی حمایت کریں:
Let us oppose the oppressor and support the oppressed Iraqies
مگر قرآنی نقطۂ نظر سے اصل سوال یہ ہے کہ ایساکیوں ہوا۔ میں سمجھتا ہوں کہ یہ مسلمانوں کے لیے ایک شاک ٹریٹمنٹ (shock treatment) ہے۔ موجودہ زمانہ کی مسلم نسلوں میں تقریباً دوسوسال سے سخت جمود (stagnation) آگیا تھا۔ خدا کے قانون کے مطابق، یہ ان کے لیے ایک تازیانہ ہے۔ اس کا مقصد یہ ہے کہ مسلمانوں کا تقلیدی خول ٹوٹے۔ اُن کے ذہن کی کھڑکیاںکھلیں۔ اُن کے اندر احتساب خویش کا جذبہ جاگے۔ وہ نئے زمانہ کی حقیقتوں کو سمجھیں اور دورِ جدید میں اپنا مقام متعین کرنے کی از سرِ نو منصوبہ بندی کریں۔
خدا کایہ قانون ایک عالمی اور عمومی قانون ہے۔ لیکن مسلمانوں کے لیے وہ دُگنا اہمیت کا حامل ہے۔ مسلمان آخری نبی کی امت ہیں۔ اپنے اس منصب کی ذمہ داری سے وہ آخری حد تک غافل ہوگئے تھے۔ اب قت آگیا تھا کہ اُنہیں جھنجھوڑ کر جگایا جائے۔ اُن کے بے روح ڈھانچہ میں دوبارہ اسلام کی زندہ روح ڈال دی جائے۔ مسلمانوں کے موجودہ تاریک حال میں مجھے اُن کے اسی روشن مستقبل کی تصویر دکھائی دیتی ہے۔
آج صبح کو حسب معمول میں بی بی سی ورلڈ رسروس پر خبریں سن رہا تھا۔ خبروں میں بتایا گیا کہ عراق کی راجدھانی بغداد امریکی فوجوں نے قبضہ کرلیا اور صدام حسین کی ۲۴ سالہ حکومت کا خاتمہ ہوگیا۔ ریڈیو پر بار بار اس قسم کے الفاظ سُنائی دے رہے تھے:
Saddam is gone.
Rule of Saddam is over.
The regime of Saddam is no more.
The power of Saddam is wrecked forever.
Saddam’s authority is collapsed.
خبروں میںبتایا گیا کہ بغداد کے مرکز میں واقع صدام حسین کا دیو پیکر اسٹیچو ٹینک سے توڑ کر گرادیا گیا۔ یہ دیو پیکر اسٹیچو ۲۰ فٹ اونچا تھا اور اُس کو ۲۰۰۱ میںالفردوس اسکوائر میں نصب کیا گیا تھا۔ اس قسم کی مختلف خبریں مسلسل آرہی تھیں۔ خبروں کے درمیان اناؤنسر نے کہا:
The whole Muslim world has plunged into despair.
اُس وقت میں اپنے مطالعہ کے کمرہ میں تنہا کرسی پر بیٹھا ہوا تھا۔ یہ الفاظ سنتے ہی بے اختیار میری آنکھوں میں آنسو آگئے۔ میںنے روتے ہوئے کہا کہ کیا خدا اب مسلمانوں کا مددگار نہیں۔ کیا خدا نے موجودہ زمانہ کے مسلمانوں کو رد کردیا ہے۔ میں سوچتا رہا، یہاں تک کہ میری سمجھ میں آیا کہ یہ مسلمانوں کو رد کرنے کا معاملہ نہیں ہے بلکہ اس بے فائدہ طریقِ کار کو رد کرنے کا معاملہ ہے جو پچھلے دو سو سال سے مسلمان اپنے قائدین کی رہنمائی میں اختیار کیے ہوئے تھے۔
موجودہ زمانہ میں جب دوسری قوموں کے مقابلہ میں مسلمانوں کے لیے مغلوبیت کا مسئلہ پیداہوا تو قائدین نے اس کا مقابلہ کرنے کے لیے جو طریقہ تجویز کیا وہ یہ تھا کہ مسلمان پولیٹیکل اسلام اور ملیٹنٹ جہاد کے لیے اُٹھ کھڑے ہوں۔ یہ نعرہ مسلمانوں کے اندر خوب مقبول ہوا۔ تقریباً ساری دنیا کے مسلمانوں نے اُسے اختیار کرلیا۔ کسی نے قولی طورپر اور کسی نے عملی طورپر۔
اس پولیٹیکل اسلام اور ملیٹنٹ جہاد میں دنیا بھر کے مسلمانوں نے جو جان و مال کی قربانیاں دی ہیں وہ پوری تاریخ کی تمام مسلم قربانیوں سے بھی زیادہ ہیں۔ مگر واقعات بتاتے ہیں کہ یہ تمام قربانیاں حبطِ اعمال کا شکار ہوگئیں۔ اُن کاکوئی بھی مثبت نتیجہ بر آمد نہیں ہوا۔ عراق کا حادثہ جس میں تمام دنیا کے مسلمانوں کے جذبات شامل ہوگئے تھے اس معاملہ کی آخری کڑی ہے۔ میںسمجھتا ہوں کہ خدا نے مسلمانوں کو رد نہیں کیا البتہ اُس متشددانہ طریقِ کار کو مکمل طور پر رد کر دیا ہے جو انقلابی اسلام اور مسلّح جہاد کی صورت میں مسلمانوں نے ساری دنیا میں جاری کر رکھا تھا۔
اب مسلمانوں کے لیے کامیابی کا صرف ایک ہی راستہ ہے۔ وہ پولیٹکل ایکٹوزم اور وائلنٹ ایکٹوزم کو مکمل طورپر چھوڑ دیں اور امن کے دائرہ میں رہتے ہوئے دعوہ ایکٹوزم کو اختیار کرلیں۔ عراق کا حادثہ اُن کو یہی ربّانی پیغام دے رہا ہے۔
۱۱ اپریل ۲۰۰۳
نئی دہلی کے انگریزی اخبار ہندستان ٹائمس (۱۱ اپریل ۲۰۰۳) میںڈاکٹر کرن سنگھ کا ایک مضمون چھپا ہے ۔ اس میں وہ عراق کی جنگ کا تذکرہ کرتے ہوئے آخر میں لکھتے ہیں کہ امریکی سینیٹ کے ممبر رابرٹ بائرڈ نے سینٹ میں تقریر کرتے ہوئے کہا کہ وہ اپنے ملک کے لیے روتے ہیں۔ عراقی بھی یقینا اپنی مصیبت پر رورہے ہیں۔ بقیہ دنیا عراق اور امریکا دونوں پر رو رہی ہے۔
Senator Robert Byrd said in his speech in the US Senate that he weeps for his country. The Iraqis of course are weeping in agony. The rest of the world, is weeping both for Iraq and for the U.S. (p. 10)
میرے نزدیک عراق کی جنگ کا معاملہ رونے کا معاملہ نہیں ہے بلکہ وہ تجزیہ کرنے کا معاملہ ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ یہ غیر معمولی جنگ سادہ طورپر صرف ایک جنگ نہیں تھی بلکہ وہ ایک عالمی امتحان تھا جس میں تمام قومیں فیل ہوگئیں۔ امریکا اور برطانیہ کا کیس یہ ہے کہ اُنہوں نے نعمت کا بھرپوراستعمال کیا مگر انہوں نے منعم کا اعتراف نہیں کیا۔ خدا کی نعمتوں کا اعتراف کیا جائے تو اُس سے تواضع (modesty) پیدا ہوگی اور اگر خدا کی نعمتوں کااعتراف نہ کیا جائے تو اُس سے گھمنڈ اور سرکشی پیدا ہوتی ہے۔ یہی صورت امریکا اور اُس کے حلیفوں کے ساتھ پیش آئی۔ اُنہوں نے اپنی سرکشی کو عراق کے اوپر انڈیل دیا۔
دوسری طرف عراق کا معاملہ یہ ہے کہ اُس کی زمین کے نیچے تیل کے قیمتی ذخائر موجود ہیں۔ صدر صدّام حسین اس قیمتی دولت کے ذریعہ بہت بڑے بڑے تعمیری کام کرسکتے تھے۔ مگر اُنہوں نے اس دولت کا بہت بڑا حصہ ہتھیار اکٹھا کرنے میں لگا دیا۔ یہاں تک کہ عراق دنیا کی چوتھی سب سے بڑی فوجی طاقت بن گیا۔ اس کے بعد صدام حسین نے مزید یہ کیا کہ وہ ہر ایک کے خلاف دھمکی کی زبان استعمال کرنے لگے۔ وہ جنگجوؤں کے سرپرست بن گئے۔ اسی کا رد عمل تھا جو امریکی حملہ کی صورت میں اُن کے اوپر ٹوٹ پڑا۔
تیسری طرف بقیہ ملکوں کا معاملہ ہے۔ ان میں سے کسی بھی ملک نے اس معاملہ میں اصول پسندی کا ثبوت نہیں دیا۔ کسی کا مفاد امریکا سے وابستہ تھا تو وہ امریکا کے ساتھ متحد ہوگیا۔ کسی کا مفاد عراق کے تیل سے جڑا ہوا تھا تو وہ عراق کا حامی بن گیا۔ دنیا کے ۱۹۱ ملکوں میں سے شاید کوئی بھی ملک ایسا نہ تھا جو اس معاملہ میں بااُصول سیاست کا ثبوت دے۔
۱۲ اپریل ۲۰۰۳
لاہور کے اُردو روزنامہ نوائے وقت کا شمارہ ۳ اپریل ۲۰۰۳ مجھے آج کی ڈاک سے ملا۔ اس کے پہلے صفحہ پر ’’ملین مارچ‘‘ (کوئٹہ) کی رپورٹ شائع ہوئی ہے۔ یہ ملین مارچ پاکستان کے متحدہ مجلس عمل کے زیر انتظام کیا گیا تھا۔ اخبار میں اس کی تفصیلی رپورٹ شائع ہوئی ہے۔ اس کا عنوان یہ ہے: جہاد فرض ہوگیا۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اس موقع پر مولانا فضل الرحمن، مولانا شاہ احمد نورانی، قاضی حسین احمد، پروفیسرساجد میر، مولانا سمیع الحق، علاّمہ ساجد نقوی، حافظ حسین احمد، وغیرہ نے تقریر کی۔
اس جلسہ میں پاکستانی رہنماؤں نے جو تقریریں کیں اُن کا خلاصہ اخباری رپورٹ کے مطابق، یہ تھا کہ امریکا نے نہتّے عراقی عوام پر شدید گولہ باری کررکھی ہے۔ امریکا ایک ایک کرکے تمام اسلامی ممالک کو ختم کرنا چاہتا ہے۔ امریکا اور برطانیہ مسلمانوں کے خون کی ہولی کھیل رہے ہیں۔ امریکا اور اُس کے حواریوں کے خلاف تمام مسلمانوں پر جہاد فرض ہوگیاہے (صفحہ ۶)
مذکورہ اقتباس میں جو بات کہی گئی وہ ایک ادھوری بات ہے۔ ’’تمام دنیا کے مسلمانوں‘‘ پر اگرجہاد فرض ہوگیا ہو تو ایسا نہیں ہوگا کہ دوسرے مسلمانوں پر تو جہاد فرض ہو اور مقررین پر جہاد فرض نہ ہو۔حقیقت یہ ہے کہ جب یہ کہا جائے کہ جہاد فرض ہوگیا ہے تو اس میں اپنے آپ ایک اور چیز شامل ہوجاتی ہے۔ وہ یہ کہ اب میدانِ جہاد سے باہر رہ کر تقریر کرنا حرام ہوگیا ہے۔ جب جہاد فرض ہو جائے تو سب کچھ چھوڑ کر میدانِ جہاد کی طرف بھاگنا چاہئے، نہ کہ میدان جہاد سے الگ رہ کر لفظی تقریر کرنا۔ اسی طرح کی صورت حال میںشاعر نے کہا تھا:
گئے وہ دن کہ تھی مقبول اک دنبے کی قربانی متاع جاں اب ادنیٰ ہدیہ ہے سرکارِ جاناں کا
جیسا کہ معلوم ہے، عراق کی جنگ قدیم انداز کی جنگ نہیںہے۔ یہ میڈیا کے دور کی جنگ ہے۔ آج ہر مسلمان اپنے گھر میں ٹی وی کے سیٹ پر نہ صرف جنگ کی خبریں سُن رہا ہے بلکہ وہ جنگ کے مناظر دیکھ رہا ہے۔ ایسی حالت میں عمومی جہاد کے لیے نہ کسی مارچ کی ضرورت ہے اور نہ کسی تقریر کی۔ اگر واقعتا یہ اسلامی جہاد کا مسئلہ ہو تو ہر مسلمان کو اُسی طرح میدانِ کارزار کی طرف بھاگنا چاہئے جس طرح کوئی باپ اپنے بیٹے پر حملہ ہوتاہوا دیکھے اور اُس کو بچانے کے لیے فوراً بھاگ کھڑا ہو۔ ایسا باپ اپنے بیٹے کی مدد پر دوڑنے کے لیے کسی تقریر کا انتظار نہیں کرے گا۔ اسی طرح اگر یہ اسلامی جہاد کا مسئلہ ہو تو مقررین سمیت تمام مسلمانوں کواپنے آپ میدانِ جہاد کی طرف دوڑ پڑنا چاہئے۔ مگر ایسا نہیں ہورہا ہے۔ کیوں کہ اس معاملہ میںنہ مقررین سنجیدہ ہیں اور نہ سامعین۔
۱۳ ؍ اپریل ۲۰۰۳
قرآن کی سورہ نمبر ۲۷ میںحضرت سلیمان اور ملکۂ سبا کا قصہ بیان ہوا ہے۔ حضرت سلیمان کواللہ تعالیٰ نے عظیم سلطنت عطا فرمائی تھی۔ اُنہوں نے ملکۂ سبا (یمن) سے مطالبہ کیا کہ تم ہماری سیاسی اطاعت (النمل ۳۱) قبول کرو۔ اس موقع پر ملکۂ سبا کے درباریوں نے کہا کہ ہم اطاعت قبول نہیں کریں گے بلکہ ہم لڑیں گے۔ ملکہ ٔ سبا نے اس سے اختلاف کرتے ہوئے اپنے درباریوں سے کہا کہ: بادشاہ لوگ جب کسی بستی میں داخل ہوتے ہیں تو وہ اُس میں فساد کرتے ہیں اور اس کے عزت والوں کو ذلیل کردیتے ہیں۔ اور یہی یہ لوگ کریں گے۔ (۳۴)
قرآن میں ملکۂ سبا کا یہ قول تردید کے بغیر نقل کیا گیا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ قرآن ملکۂ سبا کی روش کی تصدیق کررہا ہے۔ اس قرآنی آیت کو عراق کے صدر صدام حسین پر منطبق کیا جائے تو یہ کہنا صحیح ہوگا کہ صدام حسین کو امریکی صدر کے مطالبہ کو ماننے کا راستہ اختیار کرنا چاہئے تھا، نہ کہ وہ مطالبہ کو ٹھکرا کر ٹکراؤ کا راستہ اختیار کریں۔ صدام حسین نے امریکا کے مقابلہ میں جوراستہ اختیار کیا وہ بہادری کا راستہ نہیں تھا بلکہ بے دانشی کا راستہ تھا۔ اور تاریخ بتاتی ہے کہ بہادری کے نام پر بے دانشی کا طریقہ اختیار کرنا ہمیشہ بدترین بزدلی پر ختم ہوتا ہے۔ یہی صدام حسین کے ساتھ پیش آیا۔ آغاز میں وہ بہادری کے نام پر لڑنے کی باتیں کرتے تھے مگر جب امریکا نے صدام حسین کے محلوں اور بنکروں پر شدید بمباری کی تو وہ بزدل کی طرح روپوش ہوکر بھاگ گئے۔
اصل یہ ہے کہ اس طرح کے معاملات میں ناقابل عمل اُصول کا حوالہ دینے کے بجائے حقیقی نتیجہ کو دیکھنا چاہئے۔ اس اعتبار سے یہاں صدام حسین کے لیے یہ ایک کم تر برائی (lesser evil) تھی کہ وہ شخصی اقتدار کو چھوڑ کر ملک کو تباہی سے بچا لیں۔ مگر بد قسمتی سے اُنہوں نے زیادہ بڑی برائی (greater evil) کا طریقہ اختیار کیا۔ نتیجہ یہ ہوا کہ وہ خود بھی تباہ ہوئے اور ملک بھی تباہ ہوگیا۔
۱۴ اپریل ۲۰۰۳
امریکی فوج کے مسلسل حملہ کے نتیجہ میں بغداد کا انتظامیہ درہم برہم ہوگیا۔ صدام حسین اور ان کے ساتھی شہر چھوڑ کر بھاگ گئے۔ پولیس کاپورا نظام ختم ہوگیا۔ اس کے بعد یہ ہوا کہ شہر میں زبردست لوٹ مار شروع ہوگئی۔ بغداد کے جن محلوںاور بڑی بڑی عمارتوں کو لوٹ لیا گیا اُن میں سے ایک بغداد کا نیشنل میوزیم تھا۔ اس میوزیم میں انمول قسم کے تاریخی نوادر کثیر تعداد میں موجود تھے۔ اس واقعہ کی خبر دیتے ہوئے ٹائمس آف انڈیا (۱۴ اپریل ۲۰۰۳) نے لکھا ہے کہ سات ہزار سال کے تاریخی نوادرات کو صرف ۴۸ گھنٹہ میں تباہ کر دیا گیا:
The National Museum of Iraq recorded a history of civilizations that flourished in Mesopotamia more than 7000 years ego. But it took only 48 hours for it to be destroyed. (p. 1)
میسوپوٹامیا اُس زرخیز علاقہ کو کہا جاتا ہے جوعراق کی دو دریاؤں، دجلہ اور فرات کے درمیان واقع ہے۔ مورخین کے مطابق، پہلی انسانی تہذیب اسی علاقہ میں بنی۔ یہ علاقہ سات ہزار سال سے تہذیبوں کا گہوارہ بنا رہا ہے۔ چنانچہ عراق میں کثرت سے تاریخی یادگار یںہیں۔ تیل کے بعد عراق کی سب سے بڑی آمدنی سیاحوں کے ذریعہ ہوتی تھی جو ان تاریخی یادگاروں کو دیکھنے کے لیے آتے تھے۔ انہی میں سے ایک بغداد کا نیشنل میوزیم تھا۔
عملی اقدام کو ہمیشہ نتیجہ رخی (result oriented) ہونا چاہئے۔ صرف وہی اقدام درست ہے جو مثبت نتیجہ پیدا کرے۔ جو اقدام اپنے عملی نتیجہ کے اعتبار سے تباہ کُن یا غیر مفید ہو، وہ موت کی چھلانگ ہے، نہ کہ زندگی کی طرف اقدام۔ کوئی بھی عذر خواہ بظاہر وہ کتنا ہی خوش نُما ہو بے نتیجہ اقدام کو جائز ٹھہرانے کے لیے کافی نہیں۔
۱۵ اپریل ۲۰۰۳
کل تک اخباروں کی پہلی سرخی عراق سے متعلق ہوتی تھی۔ آج عراق سُرخیوں کی فہرست میں نمبر دو پر چلا گیا ہے۔ ٹائمس آف انڈیا (۱۵ اپریل ۲۰۰۳) کے پہلے صفحہ کی دوسری سُرخی یہ ہے کہ عراق میںامریکا کا سیاسی مقصد حاصل ہوگیا:
Job done in Iraq.
۱۸ مارچ کوامریکا کی قیادت میں اتحادیوں (US-led coalition) نے عراق پر حملہ شروع کیا تو ساری دنیا کے مسلمان زبردست خوش فہمی میںمبتلا تھے۔ ہر طرف یہ کہا جارہا تھا کہ عراق کا صحرا امریکیوں کا قبرستان بنے گا۔ مسلمان اس بھرم میں تھے کہ صدر صدام حسین نے گھر گھر ہتھیار بانٹ دیے ہیں۔ چالیس دن کے لیے کھانے پینے کا سامان گھروں میں بھَر دیا ہے۔ امریکی فوجیں جب بغداد میں داخل ہوں گی تو شہر کی سڑکوں اور گلیوں میں ہر طرف امریکیوں کی لاش نظر آئے گی۔ مگر عملًاجو کچھ ہوا وہ اس کے برعکس تھا۔ امریکا اور برطانیہ کی فوجوں نے بہت کم وقت میں اور کسی بڑی مزاحمت کے بغیر عراق پر قبضہ کرلیا۔
اصل یہ ہے کہ صدام حسین کے ۲۴ سالہ زمانۂ حکومت میں تیل کی بے پناہ دولت عراق کو حاصل ہوئی۔ مگر اس کا زیادہ حصہ یا تو صدام حسین اور اُن کے قریبی لوگوں کے قبضہ میں چلا گیا یا فوجی مدوں میں خرچ ہوا۔ عوام کی بڑی اکثریت مفلس بنی رہی۔ عراق میں کچھ لوگ تو بہت امیر تھے اور زیادہ لوگ بے حد غریب۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ عراقیوں کی اکثریت کے اندر قومی جذبہ ہی پورے طورپر پیدا نہ ہوسکا۔
جب امریکا اور برطانیہ کی فوجیں بغداد میں داخل ہوئیں تو یہاں کی غریب عوام جو پہلے ہی سے عراقی حکومت سے بیزار تھے، اُنہوں نے یہاں کے امیروں کو لوٹنا شروع کردیا۔ صدام حسین اور اُن کے دولت مند ساتھیوں کے شاندار مکانوں کو لوٹ کر جلا دیا۔ امیروں کے گھروں سے کھانے پینے کا سامان لوٹ لیا گیا۔ نفرت سے بھرے ہوئے عوام نے نہ صرف سرکاری عمارتوں کو لوٹا بلکہ وہ بغداد کے عظیم تاریخی میوزیم میں گھس گئے اور اُس کے نہایت قیمتی نوادرات کو لوٹ لیا۔ کہا جاتا ہے کہ ایک لاکھ سے زیادہ قیمتی چیزیں لوٹی گئیں۔ ان لوٹنے والوں میں پولیس کے لوگ بھی شامل تھے۔
امریکی حملہ کے بعد عراق میں انارکی پھیل گئی۔ حقیقی قومی جذبہ نہ ہونے کی وجہ سے عراقی قوم نے دفاع میںزیادہ حصہ نہ لیا۔ یہی وجہ ہے جس کی بنا پر امریکی اوربرطانوی فوجیں بہت جلد عراق پر قابض ہوگئیں۔ تاہم فتح کے بعد کے مسائل ابھی عراق میں باقی ہیں۔ کسی نے صحیح کہا ہے کہ جنگ جیتنا آسان ہے مگر امن قائم کرنا مشکل ہے:
It is easy to win a war, but it is difficult to win peace.
۱۶ اپریل ۲۰۰۳
عراق پر جب سے امریکی حملہ شروع ہوا ، ساری دنیا کے مسلم پریس میں اُس کے خلاف مضامین چھپنے لگے۔ ان مضامین میںاکثر وانتم الاعلون ان کنتم مؤمنین (آل عمران ۱۳۹) جیسی قرآنی آیتوں کاحوالہ دے کر پُرجوش طورپر کہا گیاکہ مسلمانوں کو چاہئے کہ وہ اپنے ایمان کی دولت کو ڈھال بنائیں اور پھر اُنہیں کسی کا کوئی خطرہ نہ ہوگا۔
مثلاً ایک پاکستانی ماہنامہ میں بتایا گیا ہے کہ امریکا کا حملہ در اصل گریٹر اسرائیل کی راہ ہموار کرنے کے لیے ہے۔ اور یہ کہ امریکا کا اگلا ہدف پاکستان ہے۔ اور یہ کہ امریکا کی مہم در اصل پورے عالم اسلام کے خاتمہ کی مہم ہے۔ اس کے بعد وہ لکھتے ہیں: امریکا جیسے پاگل ہاتھی سے لڑائی مول لینے کے ساتھ اگر ہم بحیثیت قوم اللہ کا دامن رحمت تھام لیں تو دنیا کی واحد سُپر پاور کے مقابلہ میں کائنات کی واحد سُپریم پاور ہمارے لیے کافی ہوجائے گی۔ (حکمتِ قرآن، لاہور، اپریل ۲۰۰۳، صفحہ ۲)
یہ بڑ ی عجیب بات ہے ۔ یہ حضرات ایک طرف مسلم ملکوں کی یہ تصویر پیش کرتے ہیں کہ وہاں چند حکمرانوں کو چھوڑ کر مسلمانوں کی عظیم اکثریت اسلام کی شیدائی ہے۔ کسی جماعت کا یہ کہنا ہے کہ اُس نے ساری دنیا میں دین کی ہوائیں چلا دی ہیں۔ کوئی مسلم تنظیم یہ دعویٰ کررہی ہے کہ اُس کی کوششوں سے آج کا عہد اسلامی عہد بن چکا ہے۔ کسی ادارہ نے ایسے افراد تیار کرلیے ہیں جن کے لیے مفکّر اعظم اور شیخ العالم جیسے خطابات بھی ناکافی ہیں۔ گویا وہ کام بالفعل انجام پا چکا ہے جس کو کرنے کی تلقین یہ حضرات کررہے ہیں۔ ایسی حالت میں اصل مسئلہ کام کا نتیجہ نہ نکلنے کا ہے، نہ کہ خود کام نہ ہونے کا۔
اصل یہ ہے کہ موجودہ زمانہ میں مسلمانوں کے اندر دین کے نام پر جو کام ہورہا ہے وہ در اصل ملّی کام (community work) ہے اور اس قسم کی سرگرمیاں جو مسلمانوں کے درمیان جاری ہیں وہ ملِّی سرگرمیوں(community activities)کی حیثیت رکھتی ہیں۔ اگر مسلمانوں کی موجودہ سرگرمیاں حقیقی معنوں میں دین خدا وندی کی سرگرمیاں ہوتیں تو اُن کے اندر وہی صفات پیدا ہوتیں جو رسول اور اصحاب رسول میںپیدا ہوئیں۔ مثلاً خدا کے بندوں کو مدعو سمجھنا اور یک طرفہ بنیاد پر اُن کا خیر خواہ بننا۔ اپنی قومی اور مادّی مصلحتوں پر دعوتی مصلحت کو غالب کرنا۔ اسی طرح دو عملی کی روش سے مکمل طورپر پاک ہونا۔ دشمنی کے باوجود عدل کے طریقہ سے نہ ہٹنا۔ قول اور عمل میںتضاد نہ ہونا۔ دیانت داری (honesty)اور اُصول پسندی پر ہر حال میں قائم رہنا، لین دین کے معاملات میں ہمیشہ ذمہ داری کا ثبوت دینا، وغیرہ۔ یہی چیزیں اسلام کا معیار ہیں۔ مفروضہ دشمن کے خلاف تقریر کرنا اسلام کا معیار نہیں۔
۱۷ اپریل ۲۰۰۳
صبح کو میں بی بی سی ورلڈ سروس پر خبریں سُن رہا تھا۔ اس درمیان دو آدمیوں کا مکالمہ نشر کیا گیا۔ ایک اسلام پسند نوجوان کہہ رہا تھا کہ امریکا اسلام دشمن ہے۔ اُس نے اسلام کو مٹانے کے لیے موجودہ جنگ چھیڑ رکھی ہے۔ اس سلسلہ میں اُس نے ہنٹنگٹن کی مشہور کتاب کا حوالہ دیا۔ دوسرا آدمی ایک امریکی جرنلسٹ تھا۔ اُس نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ امریکا کی لڑائی ٹیررزم کے خلاف ہے، نہ کہ اسلام کے خلاف:
America is fighting against terrorism and not against Islam.
مجھے امریکی جرنلسٹ کے جواب سے بالکل اتفاق ہے۔ امریکا کی پالیسی حقیقۃً پرو امریکا پالیسی ہے، نہ کہ اینٹی اسلام پالیسی۔ عراق پر امریکا کا حملہ اسلام کو مٹانے کے لیے نہیں ہے بلکہ اُس ٹیررزم کو مٹانے کے لیے ہے جو اعلان کے ساتھ یہ کہہ رہا ہے کہ اُس کا مقصد امریکی مفادات پر ضرب لگانا ہے اور عملاً وہ ایسا ہی کررہا ہے۔
کچھ عرصہ پہلے میرے پاس دو مسلم نوجوان آئے۔ دونوں امریکا کے خلاف بول رہے تھے۔ میںنے کہا کہ اگر آپ کو دو اسکالر شپ ملے۔ایک، عراق کااور دوسرا امریکا کا تو آپ کہاں جائیں گے۔ دونوں نے پُر جوش طورپر کہا کہ ہم عراق جائیں گے۔ اب جب کہ میںیہ سطریں لکھ رہا ہوں۔ یہ دونوں مسلم نوجوان امریکا جاچکے ہیں اور وہاں اطمینان کے ساتھ رہ رہے ہیں۔ اسی طرح ایک بار میری ملاقات چھ پاکستانی نوجوانوں سے ہوئی۔ میں نے اُن سے پوچھا کہ پاکستان کے نوجوان امریکا کے بارے میں کیا رائے رکھتے ہیں۔ اُنہوں نے کہا کہ سب کے سب امریکا کے خلاف بولتے ہیں۔ اُس کے بعد ایک شخص بولاکہ مگر اُن کاحال یہ ہے کہ اگر ایک کمرہ میں دس پاکستانی نوجوان بیٹھے ہوں اور آپ باہر کی کھڑکی سے ایک گرین کارڈ اندر پھینکیں تو سب کے سب اُس کو لینے کے لیے ٹوٹ پڑیں گے۔
میرا تجربہ یہ ہے کہ آج تمام دنیا کے مسلمانوں کا یہی حال ہے۔ ہر ایک امریکا کے خلاف لکھتا اور بولتا ہے مگر جب ذاتی فائدہ کا معاملہ ہو تو ہر ایک فوراً ہوائی جہاز کا ٹکٹ لے کر امریکہ روانہ ہو جاتا ہے۔ ہر ایک اپنے بیٹے اور بیٹی کو امریکا بھیج کر فخر کے ساتھ یہ کہتا ہے کہ وہ اب امریکا میں سٹل ہوگئے ہیں۔ یہ بلا شبہہ منافقت ہے۔ اور منافقت کی روش پر کبھی کسی گروہ کو خدا کی مدد نہیں مل سکتی۔
۱۸ اپریل ۲۰۰۳
بی بی سی ورلڈ سروس اپنے سامعین کو کوئی سوال دیتا ہے جس کا جواب وہ ٹیلی فون یا ای میل کے ذریعہ بی بی سی لندن کو بھیجتے ہیں۔ یہ جوابات روزانہ صبح کے نشریہ میں سنائے جاتے ہیں۔ اب چونکہ عراق کی صدام حکومت ختم ہوگئی ہے اور یہ سوال سامنے ہے کہ آئندہ عراق میں کس قسم کی حکومت بنے۔ بی بی سی لندن نے لوگوں کے سامنے یہ سوال رکھا:
Who should rule Iraq in the future?
صبح کے نشریہ میں لوگوں کے جوابات بتائے گئے۔ یہ جوابات دنیا کے مختلف حصوں سے آئے۔ زیادہ تعداد نے یہ کہا کہ عراق میں ڈیماکریٹک رول قائم کیا جائے۔ یعنی عراق پر خود عراق کے لوگ حکومت کریں۔ یعنی وہی نظام جو برطانیہ اور امریکا میںقائم ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ یہ خالص آئیڈیلزم ہے، اور دنیا میںکبھی آئیڈیلزم چلتا نہیں۔
Ideal cannot be achieved.
خالص اصول کا تقاضا خواہ جو بھی ہو مگر زمینی حقیقت یہ ہے کہ پوری مسلم دنیا کی حمایت کے باوجود صدام حسین کی حکومت کو امریکا اور برطانیہ نے فوج کشی کرکے ختم کردیا۔ ایسی حالت میں عملی حقیقت یہ ہے کہ فاتح نقشہ بنائے نہ کہ مفتوح۔ اسی حقیقت کو فارسی شاعر نے اس طرح کہا ہے کہ جو تلوار چلاتا ہے اسی کے نام کا سکّہ چلتا ہے۔
ہر کہ شمشیر زند سکہ بنامش خوانند
میں سمجھتا ہوں کہ اس وقت اہل عراق کے لیے جن دو کے درمیان انتخاب ہے وہ امریکا کے ماتحت حکومت اور آزاد جمہوری حکومت کے درمیان نہیں ہے بلکہ ان کے لیے انتخاب امریکا کے ماتحت حکومت یا مزید تباہی کے درمیان ہے، ایسی حالت میں شریعت کا اصول اہون البلیتین کا ہے۔
۱۹ اپریل ۲۰۰۳
بی بی سی لندن نے ورلڈ نیوز میں بتایا کہ جمعہ (۱۸ اپریل) کو بغداد کی سڑکوں پر مسلمانوں کا ایک بڑا جلوس نکلا۔ اس جلوس کی قیادت نام نہاد اسلام پسند لوگ کر رہے تھے۔ بغداد کی سڑکوں پر گزرتے ہوئے جلوس اپنے لیڈروں کا دیا ہوا یہ نعرہ لگا رہا تھا—نہ بُش نہ صدام، بلکہ صرف اسلام:
No Bush, No Saddam
Yes yes to Islam
یہ نعرہ بظاہر خوشنما معلوم ہوتا ہے مگر میرے نزدیک وہ ایک خطرہ کی گھنٹی ہے۔ عراق میں اسلام پسند (الاخوان المسلمون جیسی جماعتوں کے لوگ) موجود تھے۔ سابق صدر صدام حسین نے اپنی سخت گیر پالیسی کے تحت انہیں دبا رکھا تھا۔مگر سابق صدر صدام حسین کے خاتمہ کے بعد یہ لوگ دوبارہ عراق میں سرگرم ہوگئے ہیں۔ اور اگر یہ لوگ زیادہ ابھرے تو یقینی طورپر وہ اسی طرح عراق کو دوبارہ برباد کریں گے جس طرح یہ لوگ مصر، پاکستان، شام، سوڈان، ترکی اور پاکستان جیسے ملکوں کو تباہ کرچکے ہیں۔ میرے نزدیک مذکورہ نعرہ عراق کے لیے ایک خطرہ کی گھنٹی ہے نہ کہ کسی نئے اور بہتر دور کے آنے کی علامت۔ موجودہ زمانہ میں نام نہاد اسلام پسندوں نے اپنی سیاسی تحریکوں کے ذریعہ مسلمانوں کے ذہن کو تخریبی بنا دیا ہے۔ ہر مسلم ملک میں وہ یہ کررہے ہیں کہ حکمراں طبقہ کے خلاف مسلم عوام کو بھڑکاتے ہیں۔ بظاہر اسلام کے نام پر وہ یہ سنگین برائی کررہے ہیں کہ وہ حکمراں اورعوام دونوں کوایک دوسرے کے خلاف محاذ آرا کردیتے ہیں۔ اس خود ساختہ اسلامی سیاست نے ہر مسلم ملک کے بہترین امکانات کو برباد کردیا ہے۔
۲۰ اپریل ۲۰۰۳
دہلی کے ایک مسلمان کبھی کبھی میرے پاس آتے ہیں۔ ان کے اندر وہی منفی سوچ ہے جو عام مسلمانوں کے اندر پائی جاتی ہے۔ وہ ڈگری والی تعلیم حاصل کئے ہوئے ہیں مگر ان کا مطالعہ بہت زیادہ نہیں ہے۔ عام مسلمانوں کی طرح ان کی معلومات کا زیادہ تر ماخذ اردو اخبارات ہیں۔ ایک دن گفتگو کے دوران انہوں نے ایسی باتیں کہیں جو علمی اعتبار سے درست نہ تھیں۔ مثلاً ان کو یہ معلوم نہ تھا کہ قدیم عہد نامہ (Old Testament) اور نیا عہد نامہ (New Testament) میںکیا فرق ہے۔ تیرہویں صدی میں جب تاتاری لشکر نے بغداد کو تباہ کیا تو اس کا سبب کیا تھا، وغیرہ ۔اس کم علمی کے باوجود وہ عراق اور امریکا کے مسائل پر پورے اعتماد کے ساتھ بول رہے تھے۔ وہ صدام حسین کے صد فی صد حامی تھے اور جارج بش کے صد فی صد مخالف۔ میں نے کہا کہ آپ کی علمی استعداد اتنی کم ہے اس کے باوجود آپ عالمی سیاست پر اتنے اعتماد کے ساتھ تبصرہ کررہے ہیں۔ انہوںنے پر جوش طورپر کہا: ہم عالمی سیاست کو خوب جانتے ہیں۔
میرے تجربہ کے مطابق، یہی موجودہ زمانہ کے مسلمانوں کاعام مزاج ہے۔ نہ صرف سیکولر علوم بلکہ دینی علوم کے بارے میں بھی ان کی معلومات بہت ناقص ہیں۔ اس کے باوجود ہر آدمی زبان اور قلم کا بادشاہ بنا ہوا ہے۔ اپنے خیال کے مطابق، وہ عالمی سیاست کا ماہر ہے۔ مگر کسی کو یہ مسئلہ معلوم نہیں کہ آدمی کو چاہئے کہ وہ جس بات کو جانتاہو اسی پر وہ بولے اور جس بات کو وہ نہ جانتا ہو اس کے بارے میں وہ کہہ دے کہ میں نہیں جانتا۔
فارسی کاایک مقولہ ہے —یک من علم را دہ من عقل می باید (ایک من علم کے لئے دس من عقل چاہئے) آج کل بیشتر لوگوں کا حال یہ ہے کہ یاتو اُن کے پاس ایک من علم نہیں یا اگر ان کے پاس ایک من علم ہے تو ان کے پاس دس من عقل نہیں۔ موجودہ زمانہ میں علمی ذوق نہ ہونے کی وجہ سے بیشتر لوگوں کا حال یہ ہے کہ وہ اپنے مادی مفادات کو تو خوب جانتے ہیں مگر علمی اور تاریخی باتوں کے بارے میں ان کی واقفیت بے حد ناقص ہے۔ علم کی اس کمی کا مزید نقصان یہ ہے کہ وہ فن تفکیر (art of thinking) کے بارے میں کچھ نہیں جانتے۔ یہاں تک کہ ان کے خواص بھی فن تفکیر سے نابلد ہیں۔ حالانکہ فن تفکیر سے آگہی تبصرہ اور تجزیہ کے لیے لازمی طورپر ضروری ہے۔
عراق کی سیاست یا عالمی تناظر میں مسلم سیاست کے بارے میں بظاہر ہر ایک لکھ اور بول رہا ہے مگر یہ سب بیشتر خطابت اور شاعری کی زبان میں ہوتا ہے۔ واقعات کا گہرا تجزیہ کرکے درست رائے تک پہنچنا جیسے کہ ان کا نہ تو کنسرن ہے اور نہ ان کے اندر اس کی استعداد موجود ہے۔
۲۱ اپریل ۲۰۰۳
عراق کے خلاف امریکا کی جنگ ختم ہوگئی ۔ اس جنگ میںجو نقصانات ہوئے ان کا اندازہ کرنا ابھی مشکل ہے۔ بی بی سی لندن نے بتایا کہ اس جنگ میںاب تک امریکی حکومت کے ۲۰ بلین ڈالر خرچ ہوئے۔ ۱۱ ستمبر ۲۰۰۱ سے لے کر اب تک امریکا کی اقتصادیات پر جو زبردست اثرات پڑے ہیں ان میں سے ایک یہ ہے کہ امریکا کے تین سو ہوائی جہاز گراؤنڈ کردئے گئے ہیں۔ امریکا کی ہوائی کمپنیوں کو روزانہ ۵ملین ڈالر کا نقصان ہو رہا ہے، وغیرہ۔
دوسری طرف عراق ہر اعتبار سے تباہ ہوچکا ہے۔ صدر صدام حسین کی ۲۴ سالہ حکومت اچانک ختم ہوگئی۔ صدام حسین نے عراق میں اپنے لیے ۸ عالیشان محل بنائے تھے۔ اُن میں سے ایک، خبر کے مطابق ، ایسا زمین دوز محل تھا جس کے اندر بیس میٹر موٹی زمینی چھت تھی۔ یہ چھت اعلیٰ ٹیکنیک کے ذریعہ لوہے اور دوسرے معدنی اجزاء سے اس طرح بنائی گئی تھی کہ ایٹم بم کے سوا کوئی اور بم اس کو توڑ نہ سکے۔ مگر امریکی فوج نے اُس پر ۲۰۰۰ سے زیادہ تباہ کُن بم برسائے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ پہاڑ جیسی چھت اور پورا محل پگھل کر ایک جامد چٹان کی طرح ہوگیا۔ اس کے اندر جو لوگ چھپے ہوئے ـتھے ان کا کوئی نام و نشان تک باقی نہ رہا۔
اس سلسلہ میں عجیب بات یہ ہے کہ امریکا کے زبردست اقتصادی نقصان اور عراق کی غیرمعمولی تباہی کے باوجود صدام کا ابھی تک پتا نہیں۔ حتیٰ کہ یہ بھی نہیںمعلوم کہ وہ مرگئے یا زندہ ہیں۔
امریکی حکومت نے اعلان کیا ہے کہ جو شخص صدام حسین کا سرلائے گا اسے دو لاکھ ڈالر انعام دئے جائیں گے۔
میںسمجھتا ہوں کہ عراق کی یہ جنگ متشددانہ طریقِ کار کا آخری تجربہ ہے۔ ایک طرف صدام حسین نے عراق کی تیل کی دولت کو مسرفانہ حد تک خرچ کرکے زبردست جنگی تیاری کی۔ یہ کہنا صحیح ہوگا کہ صدام حسین کی قیادت میں عراق پوری مسلم تاریخ کی سب سے بڑی طاقت بن گیا۔ دوسری طرف امریکا نے جدید ترین ٹکنالوجی کو جنگی سازوسامان کے لیے بھر پور استعمال کیا یہاں تک کہ وہ واحد سپر پاور بن گیا۔ اس طرح دو بڑی طاقتیں ایک دوسرے سے ٹکراگئیں۔ مگر نتیجہ کے اعتبار سے دیکھئے تو جنگ کا کوئی حقیقی فائدہ کسی کے حصہ میں نہیں آیا۔
عراق کی اس جنگ پر بہت کچھ لکھا گیا ہے اور بہت کچھ لکھا جائے گا۔ جہاں تک میرا خیال ہے، میں سمجھتا ہوں کہ دو جنگی طاقتوں کا یہ ٹکراؤ غالباً اس پیشین گوئی کے مطابق تھا جو حدیث میں آئی ہے۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ فرات کے علاقہ میں سونے کا پہاڑ نکلے گا جس پر قومیں جنگ کریں گی۔ یہ جنگ قیامت کی قربت کی ایک علامت ہوگی۔ میں سمجھتا ہوں کہ شاید یہی وہ جنگ تھی اور اب غالباً قیامت کے آنے میں زیادہ دیر نہیں۔
۲۲ اپریل ۲۰۰۳
صدام حکومت میں ناجی صبری عراق کے وزیرخارجہ تھے۔ بی بی سی لندن نے ۳۱ مارچ ۲۰۰۳ کواُن کا ایک انٹرویو نشر کیا۔ اس میںاُنہوں نے کہا تھا کہ اتحادی ذہنی طورپر جنگ ہارچکے ہیں۔ بغداد کے داخلی دروازوں پر یقینی موت امریکی اور برطانوی فوجیوں کا انتظار کررہی ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ اتحادی فوجیوں کی پیش قدمی روک دی گئی ہے اور ہم اُنہیں اب ایک آخری موقع دیتے ہیں کہ اتحادی فوج تیزی کے ساتھ پسپا ہوجائے ورنہ وہ بہت نقصان میں رہے گی۔ اتحادیوں کی عراق میں مکروہ خواہشات پوری نہیں ہوسکیں، جارحیت ناکام ہوگئی ہے۔ عراقی فوجی، فدائین اور عراقی عوام نے اُن پر جو کاری ضرب لگائی ہے اُسے وہ بہت دیر تک بلکہ صدیوں تک یادرکھیں گے۔ عراق کے خلاف جارحیت میں بہت سے اتحادی مارے گئے ہیں، بہت سے زخمی ہوئے ہیںاور بہت سے اتحادی جنگ سے راہ فرار اختیار کررہے ہیں۔ اتحادیوں نے جوجھوٹ بولا عراقی فوج نے اُس کا پول کھول دیا۔ شکست اُن کا مقدر اور فتح ہمارا مقدّر بن چکی ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ امریکا عراق میں شکست کے بعد اب سُپر پاور نہیں رہا (نوائے وقت، یکم اپریل ۲۰۰۳)
یہ ایک مثال ہے جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ موجودہ زمانہ کے مسلم لیڈر کس طرح خیالی بنیاد پر اپنا سیاسی قلعہ تعمیر کرتے ہیں۔ وہ شکست کی خبر کو فتح کی خبر بناتے ہیں۔ وہ پسپائی کو اقدام کی زبان میں بیان کرتے ہیں۔ وہ عجیب و غریب طورپر ناکامی کو بیان کرنے کے لیے کامیابی کے الفاظ پالیتے ہیں۔ یہی واقعہ موجودہ زمانہ میں بار بار ہر جگہ پیش آیا ہے اور یہی واقعہ عراق میں بھی پیش آیا۔
۲۳ اپریل ۲۰۰۳
عراق کی جنگ کا ایک نتیجہ یہ سامنے آیا ہے کہ مسلم ممالک میں نیٹو (NATO) کے انداز کی ایک دفاعی تنظیم بنائی جارہی ہے۔ خبر میں بتایا گیا ہے کہ عالمی چیلنجوں کا مقابلہ کرنے کے لیے اسلامی ممالک کا مشترکہ دفاعی نظام تشکیل دینے کا فیصلہ کرلیا گیا ہے۔ نیٹو کی طرز پر میٹو (MATO) کا قیام عمل میں لایا جائے گا۔ ملیشیا کے وزیر اعظم اور عرب لیگ کے سکریٹری جنرل نے میٹو کی تشکیل کے لیے رابطے شروع کردیے ہیں۔ اس معاہدے کے تحت مسلم ممالک کی ایک کثیر تعداد میں فوج تیار کی جائے گی اور کسی بھی میٹو ملک پر حملہ تمام ملکوں پر حملہ تصور کیا جائے گا۔ ایک مسلم ملک کے سربراہ کے مطابق، اس معاہدے پر دستخط کے لیے مسلم ممالک کے سربراہان حرم شریف میں جمع ہوں گے جب کہ اس کا صدر مقام بھی مکہ میں ہی ہوگا۔ اطلاعات کے مطابق، میٹو کا نام اور بنیادی تصور بین الاقوامی سیاسی و سفارتی امور کے ایک پاکستانی نژاد رہنما اور عرب لیگ سے تعلق رکھنے والی دو اہم شخصیات نے پیش کیا ہے۔ (نوائے وقت، لاہور، اپریل ۲۰۰۳، صفحہ ۳)
میرے نزدیک یہ محض ایک رژمیہ شاعری ہے، اس سے زیادہ اور کچھ نہیں۔ اس طرح کا معاملہ پہلے عمل کے اندر ظہور میں آتا ہے اور پھراُسے کاغذ پر لکھ دیا جاتا ہے۔ اس طرح کے معاملہ میںکبھی ایسا نہیں ہوا کہ پہلے وہ کاغذ پر لکھا جائے اور پھر یہ کاغذی الفاظ عمل کی صورت میںڈھل جائیں۔
موجودہ صورت حال یہ ہے کہ اس وقت دنیا میں ۵۷ مسلم ملک ہیں۔ مگر ایسا کبھی نہیں ہوا کہ یہ تمام ملک کسی مسلم ایشو پر متحد ہوگئے ہوں۔ جو لوگ اتنے نازک مسئلہ پر متحد ہو کر رائے بھی نہ دے سکیں وہ آخر متحد ہو کر عمل کس طرح کریں گے۔
۲۴ اپریل ۲۰۰۳
پاکستان کے اُردو روزنامہ نوائے وقت (لاہور) کے شمارہ ۱۳ اپریل ۲۰۰۳ میں پاکستان کے سابق وزیر اعظم محمد نواز شریف (حال مقیم ریاض) کا ایک بیان چھپا تھا۔ اس میں وہ کہتے ہیں کہ سقوط بغداد عالم اسلام کے خلاف ایک گہری سازش ہے۔ یہ ثابت ہوگیاہے کہ امریکا اور برطانیہ اسلام کے خلاف جنگ کررہے ہیں۔ امریکا اور برطانیہ نے سلامتی کونسل اور عالمی رائے عامہ کو مکمل طورپر نظر انداز کرکے عراق پر حملہ کیا اور معصوم بے گناہ شہریوں کا قتل عام کیا جو کھلی دہشت گردی ہے۔ امریکا نے عراق پر حملہ کرکے ہلاکو خاں اورچنگیز خاں کی یاد تازہ کردی ہے۔ عالم اسلام امریکا اور برطانیہ کی مصنوعات کا مکمل بائیکاٹ کرے۔ (صفحہ ۱۶)
یہی بات آج کل تمام دنیا کے مسلمان مختلف الفاظ میں کررہے ہیں۔ مگر میرے نزدیک یہ بالکل بے بصیرتی کی بات ہے۔ اگر بالفرض امریکا اور برطانیہ چنگیز اور ہلاکو کی تاریخ دہرارہے ہیں تو اُس کے مقابلہ میں سبّ و شتم کاکوئی فائدہ نہیں۔ اس کے بجائے لوگوں کو کہنا چاہئے کہ ہم بھی اُس تاریخ کو دہرائیں گے جو چنگیز اور ہلاکو کے معاصر مسلمانوں کی تاریخ ہے۔ اُس زمانہ کے مسلمانوں نے یہ کیا تھا کہ اُنہوں نے جواب میںاسلامائزیشن آف تاتار کی مہم چلائی۔ یہاں تک کہ تاریخ کو برعکس طورپر بدل دیا۔ اسی طرح آج کے مسلمانوں کو یہ کرنا چاہئے کہ وہ اسلامائیزیشن آف امریکا کی مہم چلائیں اور دوبارہ تاریخ کے دھارے کو اپنی موافقت میں بدل دیں۔ یہی اسلام کی تاریخ ہے۔ سبّ و شتم کرنا یا مال کے بائیکاٹ کی دھمکی دینا، اس طرح کی باتیں محض بے سود ہیں۔ یہ اپنے آپ کو دھوکہ دینا ہے، نہ کہ پیش آمدہ صورت حال کا سامنا کرنا۔
۲۵ ؍اپریل ۲۰۰۳
امریکا اور عراق کی موجودہ جنگ کو عراق کے صدر صدام حسین نے معرکۃ الحواسم کا نام دیا تھا۔ یعنی فیصلہ کن جنگی معرکہ۔ صدر صدام حسین نے یہ کہا تھا تو اُن کے نزدیک اس کا مطلب یہ تھا کہ یہ جنگ امریکا کی شکست پر ختم ہوگی۔ عراق کی سرزمین امریکی فوجوں کے لیے قبرستان ثابت ہوگی۔ آخرکار امریکا مجبور ہوگا کہ وہ اپنے فوجیوں کی لاشوں کو لے کر عراق سے بھاگ جائے۔
مگر عملاً اس کے برعکس ہوا۔ امریکا نے نہ صرف فضائی حملہ میں بلکہ زمینی جنگ میں بھی عراق کی فوجوں کو بری طرح شکست دی۔ صدر صدام حسین نے اتنی زبرست تیاری کی تھی کہ وہاں کے جنگی ماہرین کو فخر کے ساتھ میزائل حسین اور کیمیکل علی کہا جانے لگا۔ مگر یہ ساری تیاریاں محض غبارہ ثابت ہوئیں۔ صدر صدام حسین اور ان کے ساتھیوں کے بڑے بڑے دعووں کے باوجود عراقی حکومت کو فیصلہ کن شکست ہوئی۔ صدر صدام حسین اس طرح ختم یا روپوش ہوگئے جس طرح اسامہ بن لادن یا ملّا عمر ہوگئے تھے۔
موجودہ زمانہ کے مسلمانوں کی شاید سب سے بڑی کمزوری یہ ہے کہ وہ الفاظ کو حقیقت سمجھ لیـتے ہیں۔ وہ بڑے بڑے الفاظ بولنے والے کو اپنا لیڈر بنا لیتے ہیں۔ غالباً موجودہ مسلمانوں کی یہی سب سے بڑی کمزوری ہے جس نے اُنہیں صحیح قیادت سے محروم کر رکھا ہے۔
۲۶ اپریل ۲۰۰۳
عراق کی جنگ شروع ہونے کے بعد مسلم خطباء اور مقررین بڑے بڑے الفاظ بول رہے ہیں۔ اُن کو یقین ہے کہ اُن کے یہ الفاظ امریکا کے بم کے خلاف سپر بَم ثابت ہوں گے اور امریکا اور اُس کے ساتھیوں کو شرمناک انجام سے دوچار کریں گے۔ کچھ لوگ فیاضی کے ساتھ اقبال کے وہ اشعار دہرارہے ہیں جو مسلمانوں کی ناقابلِ تسخیر طاقت کا شاعرانہ اعلان ہیں۔ مثلاً:
وہ سحر جس سے لرزتا ہے شبستانِ وجود
ہوتی ہے بندۂ مومن کی اذاں سے پیدا
دو نیم اُن کی ٹھوکر سے صحرا و دریا
سمٹ کر پہاڑ اُن کی ہیبت سے رائی
پاکستان کے قاضی حسین احمد صاحب نے لاہور میں ایک تقریر کرتے ہوئے کہا کہ: اسلام کا مستقبل روشن ہے اور یہی پوری دنیا کے لیے ورلڈ آرڈر ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ امریکا پوری دنیا پر حکمرانی کا خواب دیکھ رہا ہے لیکن امت مسلمہ کے اندر پیدا ہونے والی بیداری کی لہر اس خواب کو شرمندۂ تعبیر نہیں ہونے دے گی۔ (نوائے وقت: ۲۱ اپریل ۲۰۰۳ صفحہ ۲)
یہ انداز کلام بلا شبہہ اسلام کی روح کے خلاف ہے۔ رسول اور اصحاب رسول کے زمانہ میں ہر طرح کے ناموافق واقعات پیش آئے۔ مگر کبھی ایسا نہیں ہوا کہ رسو ل اور اصحاب رسول ایسے موقع پر مذکورہ قسم کے الفاظ بولیں۔ اس کے برعکس اُن کا طریقہ یہ تھا کہ جب بھی ایساکوئی حادثہ گذرتا تو وہ داخلی احتساب کرتے۔ لفظی جوش دکھانے کے بجائے وہ اس فکر میں لگ جاتے کہ ہماری وہ کون سی داخلی کوتاہی تھی جس کی بنا پر ہمیں ایسی مصیبت سے دوچار ہونا پڑا۔
حقیقت یہ ہے کہ مذکورہ قسم کی شاعری اور خطابت صرف اس بات کی علامت ہے کہ ملّت زوال کا شکار ہو چکی ہے۔ دور زوال میںیہ ہوتا ہے کہ لوگوں کے اندر عملی قوتیں کم ہوجاتی ہیں۔ اُس وقت ایسے شعراء اور خطباء اُبھرتے ہیں جو بڑے بڑے الفاظ بول کر اُنہیں اس خوش فہمی میں مبتلا کریں کہ وہ اب بھی پہلے کی طرح زندہ حالت میں موجود ہیں۔
۲۷ اپریل ۲۰۰۳
عراق کی جنگ کے زمانہ میں مسلم دانشوروں نے بے شمار مضامین لکھے۔ ان مضامین کا خلاصہ یہ تھا کہ عراق میں ہونے والی ٹریجڈی کی ذمہ داری اُنہوں نے دو چیزوں پر ڈالی—مغربی قوموں کی سازش، اور مسلم حکمرانوں کی غیر جمہوری پالیسی۔ جہاں تک مغربی قوموں کی سازش کا تعلق ہے، وہ پہلے ہی نظر میں قابلِ رد ہے۔ قرآن میں مختلف الفاظ میں یہ اعلان کیا گیا ہے کہ اہلِ اسلام کے لیے اغیار کی سازش کوئی مسئلہ نہیں کیوں کہ اللہ اس قسم کی سازشوں کے خلاف اہل اسلام کے لیے کافی ہے۔ ایسی حالت میں اصل سوال یہ نہیں ہے کہ مغربی قوموں نے مسلمانوں کے خلاف سازش کی بلکہ اصل سوال یہ ہے کہ کیوں ایسا ہوا کہ خدا نے اپنے وعدہ کے باوجود ان سازشوں کو ناکام نہیں بنایا۔
اس معاملہ میں دوسری توجیہہ مسلم حکمرانوں کا غیر جمہوری رویہ بتایا جاتا ہے۔ مثلاً کچھ لوگوں نے لکھا ہے کہ موجودہ زمانہ کے مسلم حکمراں اختلاف کو برداشت کرنے کے لیے تیار نہیں۔ ان مسلم حکمرانوں نے اپنے ملکوں میں بیشتر اعلیٰ صلاحیت کے لوگوں کو صرف اس لیے قید یا ہلاک کردیا کہ وہ اسلام پسند تھے اور اُنہوں نے مسلم حکمرانوں کی سیکولر پالیسی کے خلاف آواز اٹھائی۔ اس مخالفانہ پالیسی کا اثر یہ ہوا کہ مسلم ممالک سے ڈاکٹر، انجینئر، قانون داں، سائنٹسٹ، مفکرین اور سوشل سائنٹسٹ کی ایک بڑی تعداد ہجرت کرکے امریکا اور یورپ، وغیرہ میں پناہ گزیں ہوگئی۔ اس کا نتیجہ علمی، سائنسی اور ٹیکنالوجیکل افلاس تھا۔ اور ظاہر ہے کہ جو ملک اپنے اعلیٰ صلاحیت کے افراد کو کھو دے وہ اس قابل نہیں رہتا کہ وہ کسی چیلنج کا جواب دے سکے۔
میں کہوں گا کہ یہ صحیح تصویر نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ اس معاملہ میں اصل غلطی خود اسلام پسند لوگوں کی ہے۔ یہ لوگ اپنے ملکوں سے نکل کر مغربی ملکوں میں جس طرح پُر امن اور غیر سیاسی انداز میں رہ رہے ہیں، اگر وہ اسی طرح اپنے ملکوں میں رہتے تو ہر گز اُنہیں ترکِ وطن نہ کرنا پڑتا۔ اُن کے لیے صحیح یہ تھا کہ وہ حکمرانوں سے سیاسی ٹکراؤنہ کرتے ہوئے تعلیم اور اصلاح اور دعوت جیسے میدانوں میں پُرامن کام کریں۔ وہ اُسی طرح سیاسی اعتبار سے بے ضرر بن کر تعمیری شعبوں میں اپنا حصہ ادا کریں جس طرح وہ مغربی ملکوں میں کررہے ہیں تو یقینا اُنہیں اپنے ملکوں میں کوئی رکاوٹ نہ پیش آتی۔
اگر وہ ایسا کرتے تو یقینا اُن کی صلاحیتیں اُن کے ملک کے لیے بھر پور طورپر کام آتیں۔ مگر ان اسلام پسندوں کی نام نہاد انقلابی پالیسی کا نتیجہ برعکس صورت میں برآمد ہوا۔ حقیقت یہ ہے کہ اس قسم کی نام نہاد انقلابی پالیسی ہمیشہ دو میں سے ایک انجام پر ختم ہوتی ہے۔ یا تو اپنے اصول پر اصرار کرنے کی وجہ سے آدمی اپنے آپ کو ہلاک کرلیتا ہے یا ایساہوتا ہے کہ اپنے اصول کو غیر حقیقت پسندانہ سمجھ کر وہ دو عملی کا شکار ہوجاتا ہے۔ یعنی دل میں ایک اصول کو صحیح ماننا اور عملی زندگی میں اُس کے خلاف روش اختیار کرنا۔
۲۸ اپریل ۲۰۰۳
آج کل کثرت سے امریکا کے خلاف مضامین چھپ رہے ہیں۔ ان میں امریکا کو کنڈم کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ امریکا تاریخ کا سب سے بڑا دہشت گرد (terrorist) ہے۔ امریکا کی آبادی اگرچہ عالمی آبادی کا چار فیصد حصہ ہے مگر وہ دنیا کی ۸۰ فیصد دولت پر قبضہ کرنا چاہتا ہے۔ جان رسکن(John Ruskin) نے بجا طور پر کہا تھا کہ مغرب جنون کی حد تک دولت کا پرستار ہے۔ اُس کے لیے انسانیت یا محبت میں کوئی اپیل نہیں ہے:
The West madly worships Mammon, the God of wealth. For them humanity or love has no appeal.
ٹیررزم کی تعریف یہ کی جاتی ہے کہ متشددانہ طاقت کا ناجائز استعمال جس میں بے گناہ لوگ مارے جائیں۔ ٹیررزم کی اس تعریف کے مطابق، پریزیڈنٹ جارج بُش ٹھیک یہی کام کررہے ہیں:
George Bush has been doing just that.
لوگ امریکا کی مذمت کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ صدام حسین کو صدام کس نے بنایا۔ یہ امریکا ہی تھا جس نے صدام حسین کو ہتھیار دیے۔ یہ امریکا ہی تھا جس نے صدام حسین کو ایران اور کویت کے خلاف حملہ کے لیے اکسایا۔ یہ امریکا ہی تھا جس نے دنیا کو یہ خبر دی کہ صدام حسین فوجی اعتبار سے چوتھی سب سے بڑی طاقت بن چکا ہے۔ اور جب یہ سب کچھ ہو چکا تو امریکا صدام حسین کی سرکوبی کے لیے آگیا۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ امریکا قدیم ٹیررسٹ ہے۔ انیسویں اور بیسویں صدی میں اُس کا ٹیررزم پڑوسی ملکوں کے خلاف تھا۔ مگر سوویت یونین کے ٹوٹنے کے بعد امریکا نے اپنے ٹیررزم کو دنیا کے دوسرے حصوں تک پہنچا دیا، وغیرہ۔
میرے نزدیک اس قسم کی باتیں بے سود ہیں۔ اصل مسئلہیہ نہیں ہے کہ امریکا دہشت گرد ہے۔ بلکہ اصل مسئلہ یہ ہے کہ عراق نے اس حقیقت کو جانتے ہوئے اُس سے بچنے کی تدبیر کیوں نہ کی۔ صدام حسین کے لیے صحیح طریقہ یہ تھا کہ وہ امریکا سے ٹکراؤ کو اعراض کریں مگر اُنہوں نے غیر ضروری جرأت دکھاتے ہوئے امریکا سے ٹکراؤ کا طریقہ اختیار کیا۔ یہ وہی سیاست ہے جس کو عام زبان میں آبیل مجھے مار کہا جاتا ہے۔
دہشت گرد افراد ہر دور میں پائے گئے ہیں۔ ایسے لوگوں سے نپٹنے کا طریقہ یہ نہیں ہے کہ اُن سے لڑائی چھیڑ دی جائے۔ بلکہ صحیح طریقہ یہ ہے کہ اُن کے وار کو خالی کردیا جائے اور وار کو خالی کرنے کی یہ پالیسی ہمیشہ کامیاب ہوتی ہے۔ اُس کی کامیابی کی ضامن صرف ایک چیز ہے اور وہ ہے دانشمندی۔
۲۹ اپریل ۲۰۰۳
صدر صدام حسین کی پہلی غلطی یہ تھی کہ اُنہوں نے اس سادہ حل کو استعمال نہیں کیا کہ پولیٹکل گدّی کو چھوڑ کر امریکا کے وار کو خالی کردیں۔ اس کے بعد جب امریکا نے عراق پر بمباری شروع کردی تو وہ خود تو کسی بنکر میں داخل ہوگئے اور وہاں سے ایک پیغام بھیجا جو اُن کی طرف سے ٹی وی پر سُنایا گیا۔ اُنہوں نے عراقیوں کو للکارا کہ تم لوگ امریکی فوجوں کی گردنیں کاٹ دو۔ اب جب کہ عراق کی جنگ ختم ہوگئی ہے، صدام کی طرف سے ایک خط سامنے آیا ہے۔ یہ خط عربی اخبار القدس میں چھپا ہے جس پر ۲۸ اپریل ۲۰۰۳ کی تاریخ درج ہے۔ اُس میں کہا گیا ہے کہ عراقیو اُٹھو اور امریکا اور برطانیہ کے قبضہ کو ختم کردو۔
یہ خط اگر بالفرض صحیح ہو تب بھی وہ ناقابل لحاظ ہے۔ اس لیے کہ وہ صرف ایک بزدلی کا مظاہرہ ہے۔ صدر صدام حسین اگر زندہ ہیں تو وہ کیوں چھپے ہوئے ہیں۔ خود کسی محفوظ مقام پر روپوش رہنا اور عراقی عوام کو لڑنے کے لیے اُبھارنا نہ قیادت ہے اور نہ بہادری۔ بہادر قائد وہ ہے جو اپنے عوام کے ساتھ لڑے، نہ کہ اپنے آپ کو محفوظ رکھ کر دوسروں کو لڑائی کے میدان میں جھونک دے۔
۳۰ اپریل ۲۰۰۳
امریکا کا مشہور طیارہ بردار جہاز (ایر کرافٹ کیریر) ایس ایس ابراہم لنکن خلیج سے واپس ہو کر امریکا پہنچا اور لاس اینجلیز کے ساحل پر ٹھہرا۔ یہاں اُس کے اوپر ایک خصوصی پروگرام منعقد کیا گیا۔ اس پروگرام میں امریکا کے صدر جارج بُش نے اپنی ’’تاریخی تقریر‘‘ کی۔ اُنہوں نے اعلان کیا کہ عراق کی جنگ اب ختم ہوچکی ہے:
War in Iraq is now over.
میں نے یہ تقریر بی بی سی ورلڈ نیوز پر سُنی۔ بظاہر یہ تقریر عراق کے خلاف تھی۔ لیکن چونکہ دنیا کے تمام مسلمان اپنے آپ کو عراق کی اس جنگ سے جذباتی حد تک وابستہ کیے ہوئے ـتھے اس لیے جارج بُش کی تقریر کا رُخ گویا تمام دنیا کے مسلمانوں کی طرف تھا۔ میںنے سوچا کہ یہ مسلمانوں کی تاریخ کا پہلا واقعہ ہے جب کہ ایک شخص جس کو تمام دنیا کے مسلمان اپنا دشمن سمجھ رہے ہوں، وہ اُنہیں مغلوب کرکے اپنی فتح کا اعلان کرے اور ساری دنیا کے مسلمان بے بسی کے ساتھ اُس کو سننے پر مجبور ہوں۔ میںنے سوچا کہ آج شاید ساری دنیا میں میں اکیلا مسلمان ہوں جو اللہ کے فضل سے اس نفسیات سے خالی ہے۔ کیوں کہ میں نہ امریکا کو اسلام کا دشمن سمجھتا ہوں اور نہ مسلمانوں کو مظلوم اور مقہور گروہ۔
۷ مئی ۲۰۰۳
آج تمام اخبارات میںایک خبر چھپی ہے اُس کو بغیر تبصرہ یہاں نقل کیا جاتا ہے۔ صدام حسین کے بیٹے قصّی حسین نے عراق پر امریکی حملہ کے چند گھنٹہ پہلے عراق کے سنٹر ل بینک سے تقریباً ایک بلین ڈالر نکلوالیے ـتھے۔ اتنی بڑی رقم کو لے جانے کے لیے تین ٹریکٹر ٹریلر استعمال کیے گئے تھے۔ اس رقم کو نکالنے کے لیے خود صدام حسین نے اپنے دستخط کے ساتھ حکم دیا تھا۔
اس رقم کو نکلوانے کے لیے صدام حسین کا حکم نامہ اُن کا بیٹا قصی حسین اور ایک پرسنل اسسٹنٹ عابدالحامد محمود لے کر بینک گئے تھے۔ ایک سوال کے جواب میں بینک کے ایک افسر نے کہا کہ صدام حسین کے حکم کا مطلب یہ ہوتا تھا کہ اُس کو بے چوں و چرا مان لیا جائے:
When you get an order from Saddam Hussain, you do not discuss it.
جن امریکی افسروں اور عراقی حکام سے نیویارک ٹائمز نے انٹرویو لیے ہیں اُن کا کہنا ہے کہ اُنہیں یہ نہیں معلوم کہ یہ رقم کہا ں گئی ہے۔ البتہ بعض امریکی افسروں کا کہنا ہے کہ اُنہیں شبہہ ہے کہ یہ رقم شام لے جائی گئی تھی۔
واپس اوپر جائیں