Pages

Sunday, 1 January 2006

Al Risala | January 2006(الرسالہ،جنوری)

2

- دعوت اور صبر

3

- دارالعمل دار الجزاء

4

- مسلم اور غیر مسلم کے تعلقات

5

- سچائی—ایک مطالعہ

9

- سیاسی اصطلاحیں

11

- شرعی عدالتیں، ہندستانی عدلیہ کے متوازی نہیں

16

- یہ قیادت

17

- خادم الحرمین کا انتقال

21

- سوال جواب

40

- خبر نامہ اسلامی مرکز


دعوت اور صبر

اسلامی مشن کا پروگرام بنیادی طورپر دونکات پر مشتمل ہے۔ دعوت اور صبر۔ دعوت کا مطلب ہے، قرآن کے خدائی پیغام کو تمام انسانوں تک پہنچانا، اور صبر کا مطلب یہ ہے کہ بقیہ تمام امور میں حالتِ موجودہ پر رضامندی کا طریقہ اختیار کرنا۔ جس کو اسٹیٹس کو ازم کہاجاتا ہے۔
یہ صبر بے حدضروری ہے۔ اس لیے کہ موجودہ دنیا میں خود فطری قانون کے تحت ،ہمیشہ ناخوشگوار واقعات پیش آتے ہیں اگر ایسا ہو کہ آدمی ہر ناپسندیدہ صورتِ حال پر لوگوں سے ٹکرانے لگے تو اس کے پاس دعوت کے کام کے لیے وقت ہی نہیں رہے گا۔ دوسری طرف داعی اور مدعو کے درمیان وہ معتدل فضا ختم ہو جائے گی جو دعوت الی اللہ کے کام کے لیے ضروری ہے۔
دعوت کا کام ہمیشہ قربانی پر ہوتا ہے۔ اس قربانی کا تعلق جان ومال کی قربانی سے زیادہ جذبات کی قربانی پر ہے۔ دوسرے انسانوں کی طرف سے بار بار ایسے ناموافق تجربے ہوتے ہیں جو داعی کے اندر منفی نفسیات پیدا کرنے والے ہیں، جو داعی کو نفرت اور انتقام کی طرف لے جانے والے ہیں۔ اگر داعی اس منفی نفسیات سے مغلوب ہوجائے تو دعوت کے کام کی مطلوب فضا ہی ختم ہوجائے گی۔
اس لیے ہر داعی کو جذبات کی قربانی دے کر اپنے آپ کو مثبت نفسیات پر قائم رکھنا پڑتا ہے۔ یہ دعوت کی لازمی شرط ہے۔ اس کے بغیر دعوت کا کام نہیںہوسکتا۔ اسی کو اسٹیٹس کو ازم کہاجاتا ہے اور شریعت میں اسی کا نام صبر ہے۔ صبر کی اسی قربانی پر دعوت کا کام ہمیشہ انجام پاتا ہے۔ صبر نہیں تو دعوت بھی نہیں۔
صبر دراصل دعوت کی قیمت ہے۔ صبر کی یہ قیمت ادا کرنے کے بعد ہی وہ چیز ظہور میں آتی ہے جس کو دعوت کہا جاتا ہے۔ صبر دوسرے لفظوں میں وہی چیز ہے جس کو تجارت کی اصطلاح میں کسٹمرفرینڈلی بہیویر (customer friendly behaviour) کہا جاتا ہے۔ تاجر اپنے کسٹمر کے ساتھ یک طرفہ طورپر تحمل کا طریقہ اختیار کرتا ہے۔ اسی طرح داعی اپنے مدعو کے معاملے میں یک طرفہ طورپر تحمل کا طریقہ اختیار کرتا ہے۔ اسی مدعو فرینڈلی سلوک کا نام صبر ہے۔
واپس اوپر جائیں

دار العمل دارالجزاء

دنیا دار العمل ہے اور آخرت دار الجزاء۔ یعنی دنیا عمل کرنے کی جگہ ہے اور آخرت اس عمل کے مطابق بدلہ پانے کی جگہ۔ ہر عورت اور مرد اپنی زندگی کا ابتدائی بہت تھوڑا حصہ موجودہ دنیا میں گزارتے ہیں اور پھر موت کے بعد وہ اگلی دنیا میں پہنچا دیے جاتے ہیں جہاں ان کو اپنے عمل کے مطابق، یا جنت میں جگہ ملے گی یا جہنم میں۔
اس اعتبار سے موجودہ دنیا امتحان کی جگہ ہے۔ امتحان حال ہمیشہ ٹسٹ کے لیے ہوتا ہے نہ کہ ٹسٹ کا رزلٹ پانے کے لیے۔ جو طالب علم امتحان حال میں جاب حاصل کرنا چاہے وہ یقینی طورپر ناکام رہے گا۔ اسی طرح جو شخص موجودہ دنیا میں اپنے لیے خو شیوں کا ابدی محل بنانا چاہے وہ بھی اپنے مقصود کو نہیں پائے گا۔ کیوں کہ موجودہ دنیا اس مقصد کے لیے بنائی ہی نہیں گئی۔
عقلمند آدمی وہ ہے جو اس فرق کو سمجھے اور وہ دنیا میں وہ کرے جو اس کو یہاں کرنا ہے، اور آخرت کے لیے وہ چیز چاہے جو وہاں کسی خوش نصیب شخص کو ملنے والی ہے۔
اس معاملے میں عقلمند آدمی ٹھیک اسی اصول کو اختیار کرتا ہے جس کو طالب علم اختیار کرتا ہے۔ طالب علم جب امتحان حال میں ہوتا ہے تو وہ اپنی ساری توجہ اس طرف لگا دیتا ہے کہ وہ اپنے ٹسٹ پیپر کو صحیح طورپر کر سکے وہ امتحان حال میںاپنا معاشی محل بنانے کی کوشش نہیں کرتا۔
ٹھیک یہی حال ہر انسان کا دنیا اور آخرت کی نسبت سے ہونا چاہیے۔ ہر انسان کو چاہیے کہ وہ موت سے پہلے کی مختصر زندگی کو آخرت کی تیاری میں لگائے تاکہ موت کے بعد کے دورِ حیات میں وہ اپنے لیے خوشیوں کی دنیا پاسکے۔ اگر کوئی عورت یا مرد موجودہ دنیا میں اس اعتبار سے غافل رہے تو اگلی دنیا میں اس کی تلافی ممکن نہ ہوگی، حتی کہ یہ بھی ممکن نہ ہوگا کہ وہ لوٹ کر دوبارہ موجودہ دنیا میں آئے اور آخرت کی نسبت سے دوبارہ اپنی تعمیر کرے۔
واپس اوپر جائیں

مسلم اور غیر مسلم کے تعلقات

مسلمانوں اور غیر مسلموں کے درمیان تعلقات کی اصولی بنیاد کیا ہے۔ اس کو مسلم اور ذمّی یا مسلم اور حربی جیسی اصطلاحوں میں بیان نہیں کیا جاسکتا۔ اس قسم کے فقہی الفاظ صرف وقتی تعلق کو بتاتے ہیں، وہ دونوں کے درمیان مستقل یا اصولی تعلق کو نہیں بتاتے۔
مسلمانوں اور غیر مسلموں کے درمیان تعلق کی فطری بنیاد یہ ہے کہ دونوں یکساں طورپر انسان ہیں۔ دونوں کے درمیان انسانیت کا ابدی رشتہ قائم ہے۔ انسانیت کا تعلق دونوں کے درمیان وہ فطری تعلق ہے جو کبھی اور کسی حال میں ٹوٹنے والا نہیں۔ ہر سماج میں اور ہر ملک میں یہ انسانی رشتہ یکساں طورپر برقرار رہتا ہے۔ یہ رشتہ وہ ہے جو پیدائش کے ساتھ ہی دونوں گروہوں کے درمیان اپنے آپ قائم ہوجاتا ہے۔ یہ ایک ایسا اٹل رشتہ ہے جو کبھی ٹوٹنے والا نہیں۔
مسلمانوں اور غیر مسلموں کے درمیان دوسرا رشتہ وہ ہے جو عقیدے کی بنیاد پر قائم ہوتا ہے۔ اسلامی عقیدے کے مطابق، مسلمان ایک صاحب مشن گروہ ہے۔ یہ مشن وہی ہے جو پیغمبرکا مشن تھا۔ یعنی خدا کے پیغام کو پُر امن طورپر دوسرے لوگوں تک پہنچانا۔ اس اعتبار سے زیادہ صحیح طورپر، مسلمانوں اور غیر مسلموں کے درمیان تعلق کو ان الفاظ میں بیان کیا جاسکتا ہے—داعی اور مدعو، شاہد اور مشہود، ناصح اور منصوح۔
انسان کی نسبت سے مسلمانوں کے اوپر دوسرے لوگوں کے لیے وہ تمام فرائض عائد ہوتے ہیں جو اخلاق کے عنوان سے ضروری سمجھے جاتے ہیں۔ انسانی اخلاقیات کی پابندی جس طرح دوسرے لوگوں کے لیے ضروری ہے اسی طرح مسلمانوں کے لیے بھی ضروری ہے۔ داعی کی حیثیت سے مسلمانوں کی اخلاقی ذمے داری مزید بڑھ جاتی ہے۔ اب ضروری ہوجاتا ہے کہ وہ دوسروں کے ساتھ یک طرفہ طورپر حسن اخلاق کا ثبوت دیں، تاکہ داعی اور مدعو کے درمیان معتدل تعلقات قائم رہیں جو کہ مؤثر دعوتی عمل کے لیے لازمی طورپر ضروری ہے۔
واپس اوپر جائیں

سچائی —ایک مطالعہ

کہاجاتا ہے کہ سچائی مطلق چیز نہیں—ہر آدمی کی سچائی الگ الگ ہے۔ جو چیز کسی ایک کے لیے سچائی ہو وہی دوسرے کے لیے سچائی نہیں ہوسکتی۔ دوسرے لفظوں میں یہ کہ سچائی ایک ریلیٹیو (relative) چیز ہے، وہ کوئی رِیَل (real)چیز نہیں۔ اس بات کو ایک فلسفی نے ان الفاظ میں بیان کیا ہے:
There is no full stop in truth, but only commas.
کچھ لوگ اس طرح سوچتے ہیں۔ مگر یہ ایک ایسی سوچ ہے جو بداہتاً ہی غلط ہے۔ اس قسم کے مفروضے کے پیچھے کوئی لاجک یاکوئی ریشنل گراؤنڈ نہیں۔
اس دنیا میں آدمی جن چیزوں کو بھی مانتا ہے اُن کو وہ مطلق مفہوم میں مانتا ہے۔ یہی انسان کی فطرت ہے۔ اگر انسان کسی چیز کو اس کے مطلق مفہوم میں دریافت نہ کرے تو وہ مسلسل اُس وقت تک اپنی تلاش جاری رکھتا ہے جب تک وہ اُس چیز کو اُس کی مطلق صورت میں دریافت نہ کرلے۔
مثال کے طورپر قدیم زمانے میں انسان سورج اور شمسی نظام کے بارے میں بہت کم جانتا تھا۔ وہ ہزاروں سال تک اُس کی کھوج میں لگا رہا۔ یہاں تک کہ انسان نے سورج اور اس کے تابع سیاروں کے پورے نظام کو دریافت کرلیا۔ جب تک انسان اس دریافت تک نہیں پہنچا تھا وہ برابر اس کی تلاش میں لگا رہا۔
یہی معاملہ علم کے دوسرے شعبوں کا ہے۔ ہزاروں سال سے انسان علم کے مختلف شعبوں میں بحث وتحقیق میں مشغول رہا ہے اور بدستور مشغول ہے۔وہ اُس وقت تک اپنی تحقیق جاری رکھتا ہے جب تک اُس کی اصل حقیقت کو معلوم نہ کرلے۔ گویا انسان کے نزدیک ہر چیز کی ایک مطلق صورت ہے۔ ستاروں سے لے کر ایٹم تک کسی چیز کا اس میں استثناء نہیں۔
گویا انسانی ذہن کے مطابق، ہر چیز اپنی ایک مطلق صورت رکھتی ہے۔ یہی وہ یقین ہے جس کی بنا پر ہزاروں سال سے تحقیق اور جستجو کا عمل جاری ہے۔ اگر انسان یہ مان لے کہ چیزوں کا کوئی مطلق فارم نہیں تو اچانک تمام سائنسی سرگرمیاں ٹھپ ہوجائیں گی۔ علم کا سفر ہمیشہ کے لیے رُک جائے گا۔
یہی اُصول ذاتی معاملات کا ہے۔ انسان اپنے آپ کو مطلق سمجھتا ہے۔ اگر وہ ایسا نہ سمجھے تو وہ ایک دن بھی زندہ نہ رہ سکے۔ انسان اپنی ماں، اپنی بیوی، اپنی اولاد کو مطلق سمجھتا ہے۔ اسی تصور پر خاندان کا نظام قائم ہے۔ اگر ایسا نہ ہو تو انسانی زندگی کا سارا نظام بکھر کر رہ جائے۔ اسی طرح انسان اپنی پراپرٹی، مثلاً گھر اور کار اور بزنس اور بینک بیلنس کو مطلق سمجھتا ہے۔ اگر وہ ایسا نہ سمجھے تو اس کی معاشی زندگی کبھی تشکیل نہ پاسکے گی۔
ایسی حالت میں یہ ماننا کہ سچائی مطلق نہیں، گویا یہ ماننا ہے کہ سچائی کی حیثیت ایک استثناء کی ہے۔ گویا کہ سچائی مطلق دنیا میں ایک غیر مطلق (non-absolute) کی حیثیت رکھتی ہے۔ مگر اس قسم کے عقیدے کے لیے کوئی منطقی بنیاد موجود نہیں۔ یہ بات ناقابلِ فہم ہے کہ اس وسیع دنیا میں دوسری تمام چیزیں تو مطلق ہوں، مگر سچائی استثنائی طورپر مطلق نہ ہو۔ یہ ایک منطقی تضاد ہے اور اس قسم کا منطقی تضاد عقل وفہم والے انسان کے لیے قابلِ قبول نہیں ہوسکتا۔
یہ کوئی سادہ بات نہیں۔ غور کیجئے تو انسان ایک دہرا وجود ہے—جسم اور روح ۔سچائی کے سوا جتنی چیزیں ہیں وہ سب کی سب انسان کی جسمانی ضرورت سے تعلق رکھتی ہیں۔ سچائی واحد چیز ہے جو انسان کو اپنی روحانی ضرورت کے طورپر مطلوب ہے۔ اب یہ ناقابلِ فہم ہے کہ جسم کی ضرورت پوری کرنے کے لیے جو چیزیں اس دنیا میں ہیں وہ تو سب کی سب مطلق ہوں۔ مگر سچائی، جو انسان کی روحانی ضرورت کو پورا کرتی ہے وہ مطلق نہ ہو۔
اس تقسیم کو ماننے کے لیے یہ ماننا پڑے گا کہ اس دنیا میں ایک بہت بڑا تضاد ہے۔ یہاں مادی ضرورتوں کا سامان مطلق حیثیت سے موجود ہے۔ مگر روحانی ضرورت کا سامان استثنائی طورپر ایک ایسی چیز ہے جس کی تکمیل کا سامان مطلق حیثیت سے دنیا میں موجود ہی نہیں۔
ایک فلسفی جو سچائی کو مانتا تھا، اُس نے اپنے نقطۂ نظر کے حق میں دلائل پیش کرتے ہوئے کہا کہ سچائی انسان کی سب سے بڑی ضرورت ہے۔ سچائی کے بغیر انسان سر تا سر نامکمل ہے۔ سچائی انسان کی اتنی بڑی ضرورت ہے کہ اگر وہ مطلق نہ ہو تو ہم کومفروضہ طورپر یہ یقین کرنا پڑے گا کہ سچائی مطلق ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ سچائی کو مطلق نہ ماننا ایک ذہنی خود کُشی ہے۔ جو لوگ ایسا کہتے ہیں وہ اپنے اس قول میں سنجیدہ نہیں ہوتے۔ اگر وہ سنجیدہ ہوں تو کبھی وہ ایسا لفظ اپنے منھ سے نہ نکالیں۔
سچائی کو مطلق نہ ماننا ایسا ہی ہے جیسے کوئی شخص یہ کہے کہ میں اپنی ماں کو مطلق مفہوم میں اپنی ماں نہیںمانتا۔ دوسرے لفظوں میں یہ کہ ہوسکتا ہے کہ وہ میری ماں ہو،اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ وہ میری ماں نہ ہو۔ ظاہر ہے کہ کوئی بھی سنجیدہ انسان غیر مطلقیت(non-absolution) کے اس نظریے کا تحمل نہیں کرسکتا۔ ٹھیک اسی طرح کوئی سنجیدہ انسان اس کا بھی تحمل نہیں کرسکتا کہ وہ کہے کہ سچائی میرے نزدیک کوئی مطلق چیز نہیں۔سچائی تو صرف ایک ریلیٹیو چیز ہے۔ یعنی A بھی سچائی ہوسکتی ہے اور B بھی اور اسی طرح C اور D بھی۔ یہاں تک کہ Z تک ہر چیز سچائی ہوسکتی ہے۔
یہاں تک کہ یہ بھی ممکن ہے کہ اے سے زیڈ تک کوئی بھی سچائی نہ ہو۔ بلکہ سچائی ان کے سوا کوئی اور ہو، یاسچائی، سرے سے کوئی چیز ہی نہ ہو۔ یہ بلا شبہہ ایک ایساذہنی تعیش (intellectual luxury) ہے جس کا کوئی سنجیدہ انسان کبھی تحمل نہیں کرسکتا۔
سنجیدہ طورپر کوئی شخص یہ تو کہہ سکتا ہے کہ میںنے ابھی سچائی کو نہیں پایا۔ میں ابھی صرف متلاشی (seeker) ہوں۔ مگر کوئی شخص سنجیدہ طورپر یہ نہیں کہہ سکتا کہ سچائی کوئی مطلق چیز ہی نہیں۔
انسان جس کائنات میںرہتا ہے وہاں ہر چیز مطلق ہے۔ یعنی ایک اسٹار اسٹار ہے وہ کوئی ہاتھی نہیں۔ اسی طرح ایک ہاتھی ہاتھی ہے وہ کوئی اسٹار نہیں۔ اسی طرح ہر چیز معلوم طور پر ایک مطلق چیز کی حیثیت رکھتی ہے۔ اور اگر کوئی چیز مطلق حیثیت سے معلوم نہ ہوئی ہو تو انسان لگاتار اس کوشش میں رہتا ہے کہ وہ اس کو مطلق حیثیت میں دریافت کرلے۔
یہی معاملہ خود انسان کی شخصیت کا ہے۔ انسان اپنی فطرت کے اعتبار سے مطلق پسند انسان ہے۔ وہ یقین میں جینا چاہتا ہے۔ وہ چاہتا ہے کہ جب وہ ایک عورت کو ماں کی حیثیت سے جانے تو وہ مطلق طورپر اس کے ماں ہونے پر یقین کرسکے۔ اسی طرح جب وہ ایک پراپرٹی کو اپنی پراپرٹی کی حیثیت سے جانے تو وہ مطلق مفہوم میں یقین کرسکے کہ وہ اسی کی پراپرٹی ہے۔ اگر ایسا نہ ہو تو انسان ہرچیز کے بارے میں غیر یقینیت (uncertainty) میں مبتلا رہے گا۔ اور یہ ایک حقیقت ہے کہ انسان غیر یقینیت میںنہیں جی سکتا۔یہ حقائق واضح طورپر بتاتے ہیں کہ مطلق کا تصور انسانی فطرت کے عین مطابق ہے۔ اس کے برعکس یہ سمجھنا فطری تقاضے کے خلاف ہے کہ اس دنیا میں کوئی چیز مطلق نہیں۔
سچائی کو مطلق نہ سمجھنا گویا یہ کہنا ہے کہ میں کسی چیز کے سچّاہونے پر یقین نہیں رکھتا۔ اس قسم کے کسی تصور کو لے کر کوئی آدمی صرف متشکک (sceptic)بن سکتا ہے، اور متشکک بننا کسی بھی انسان کے لیے قابل عمل پوزیشن نہیں۔
واپس اوپر جائیں

سیاسی اصطلاحیں

دار الاسلام، دار الکفر اور دار الحرب کی اصطلاحیں بعد کے زمانے میںاس وقت وضع کی گئیں جب کہ مسلمانوں کا ایک پولیٹکل امپائر بن چکا تھا۔ زمین کے ایک بڑے حصے پر مسلمانوں کا سیاسی غلبہ قائم ہوچکا تھا۔ اس سیاسی ماحول میں فقہ کی تشکیل ہوئی۔ اس صورت حال کا نتیجہ قدرتی طورپر یہ ہوا کہ فقہ کی تدوین وتشکیل میںسیاسی نقطۂ نظر غالب آگیا۔ فقہ عملاً مسلمانوں کے دور سلطنت کا اظہار بن گئی۔
اس کی ایک مثال دار الاسلام، دار الکفر اور دار الحرب کی اصلطلاحیں ہیں۔ ان اصطلاحات میں شعوری یا غیر شعوری طورپر یہ مفروضہ کام کررہا تھا کہ مسلمان سیاسی طور پر غالب پوزیشن میں ہیں اور وہ اپنی اس سیاسی پوزیشن کے حوالے سے دوسروں کے ساتھ اپنے تعلقات کو متعین کررہے ہیں۔ یہ ایک معلوم حقیقت ہے کہ سیاسی اقتدار کسی گروہ کا ایک وقتی مرحلہ(temporary phase) ہوتا ہے۔ اس اعتبار سے بعد کے دور میں بننے والی فقہ، اسلام کے ابدی تقاضوں کا اظہار نہ تھی، وہ زیادہ تر وقتی ضرورتوں کے تحت مدون کی گئی ۔
قرآن و سنت کے مطالعے سے معلوم ہوتا ہے کہ مسلمانوں اور دوسری قوموں کے درمیان جو تعلق ہے وہ داعی اور مدعو کا تعلق ہے۔ خدا کے رسول کے ذریعے مسلمانوں کو خدا کا پیغام ملا ہے اوراس پیغام کو انھیں تمام قوموں تک پہنچانا ہے۔ مسلمانوں پر فرض ہے کہ وہ اس عمل کو نسل درنسل جاری رکھیں۔ دوسری قوموں کی نسبت سے مسلمانوں کا تعلق متعین کرنے کے لیے مرکزی تصور یہی ہے۔ یہ تصور مسلمانوں کو ہمیشہ کے لیے مدعو فرینڈلی بناتا ہے۔ اس کا تقاضا ہے کہ داعی اور مدعو کے درمیان ہمیشہ نارمل تعلق قائم ہو، تاکہ دعوت کا عمل مؤثر انداز میں جاری رہے۔
مگر فقہ کی تدوین کے وقت مسلم دنیا میں جو سیاسی ماحول تھا، اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ سیاسی ابواب تو فقہ کی کتابوں میں تفصیل کے ساتھ شامل ہوگئے مگر دعوت اورتبلیغ کا باب سرے سے اس میں شامل نہ ہو سکا۔ یہی وجہ ہے کہ فقہ کی تماتم کتابیں کتاب الدعوۃ والتبلیغ سے خالی نظر آتی ہیں۔
فقہ کی کتابوں کے ان ابواب کو پڑھتے ہوئے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ دنیا حاکم اور محکوم میں تقسیم ہے۔ ایک طرف مسلم حکمراں ہیں اور دوسری طرف محکوم غیر مسلم۔ مسلمانوں کے لیے مطلوب حالت یہ ہے کہ زمین پر ان کا سیاسی اقتدار قائم ہو، یعنی وہ حالت جس کو فقہ میں دارالاسلام کہا گیا ہے۔ اس کے بعد جو بقیہ دنیا ہے وہ یا تو ’’غیر‘‘ کی حیثیت رکھتی ہے جس کو فقہ کی تقسیم میں دار الکفر بتایا گیا ہے۔ یا پھر یہ کہ مسلمانوں کے لیے وہ خطہ دار الحرب کی حیثیت رکھتا ہے۔ یعنی مسلمان ان سے برسرِ جنگ ہیں تاکہ وہاں اپنا سیاسی اقتدار قائم کریں۔
اسلام کا یہ تصور بلاشبہہ اسلامی تاریخ کی سیاسی تعبیر کے ہم معنی ہے۔ اقتدار مسلمانوں کی مستقل وراثت نہیں۔ قرآن کے مطابق ، اقتدار دوسرے تمام سامانِ حیات کی طرف صرف ایک ٹسٹ پیپر ہے اور وہ ہر قوم کو باری باری دیا جاتا ہے۔ اس معاملے میں مسلمانوں کی کوئی خصیوصیت نہیں۔ اس اصول کو مان لیا جائے تو دار الاسلام، دار الکفر اور دارلحرب کی اصطلاحیں اپنے آپ غیر متعلق (irrelevant)ہو جاتی ہیں۔
دار الاسلام، دار الکفر اور دارالحرب کی اصطلاحوں کے پیچھے یہ سیاسی مفروضہ شامل ہے کہ مسلمان اور دوسری قوموں کے درمیان حاکم اور محکوم کا رشتہ ہے، مگر یہ تصور سراسر بے بنیاد ہے۔ قرآن و سنت میںاس کے لیے کوئی حقیقی دلیل موجود نہیں۔ صحیح بات یہ ہے کہ مسلمانوں اور غیر مسلم کے درمیان داعی اور مدعو کا رشتہ ہے۔ اس رشتے کو قرآن میں شاہد اور مشہور (البروج ۳) کے الفاظ میں بیان کیا گیا ہے۔
ایک مسلم پروفیسر نے ایک بار اپنی تقریر میں کہا کہ اسلام میں پوزیشن آف اسٹرنتھ (position of strength) کا ماڈل موجود ہے، مگر اسلام میں پوزیشن آف ماڈسٹی کا ماڈل موجود نہیں۔ یہ بات انھوں نے اس لیے کہی کہ انھوں نے اسلام کا ماڈل بعد کے مسلم دورِ اقتدار سے اخذ کیا۔ اس سے پہلے اسلام کے نبوی دور میں اسلام کا جو ماڈل تھا وہ تمام تر پوزیشن آف ماڈسٹی ہی کا ماڈل تھا۔ حالاں کہ اسلام میں اصل ماڈل کی حیثیت دَور دعوت کی ہے نہ کہ دور اقتدار کی۔
واپس اوپر جائیں

شرعی عدالتیں، ہندستانی عدلیہ کے متوازی نہیں

ہر قانونی نظام میں قانون کے دو حصے مانے گیے ہیں۔ ایک، اَحوالِ اجتماعی ۔ دوسرا، احوالِ شخصی۔ احوالِ اجتماعی سے مراد وہ احوال ہیں جو دو یا زیادہ شخصوں کے درمیان پیدا شدہ معاملات سے تعلق رکھتے ہیں۔ احوالِ شخصی سے مراد وہ معاملات ہیں جو کسی فرد کی ذات سے تعلق رکھتے ہیں۔
ہر قانونی نظام میں ایسا ہوتا ہے کہ احوالِ اجتماعی کا تعلق ریاست یا عدالت سے ہوتا ہے۔ مگر جہاں تک احوالِ شخصی کا تعلق ہے، اس معاملے میں لوگوں کو یہ رخصت دی جاتی ہے کہ وہ اپنے ذاتی دائرے والے معاملات کو بطورِ خود ثالث یا کسی اور طریقے سے طے کریں۔ اگر یہ فیصلہ سماج کے دوسرے لوگوں کے حقوق پر اثر انداز نہ ہوتا ہو تو اس کو ایک جائز فیصلہ تسلیم کرلیا جاتا ہے۔
برّ صغیر ہند میں یہ نظام ماضی قدیم سے چلا آرہا تھا۔مسلم عہدِ حکومت سے پہلے ہندستان میں راجاؤں کی حکومت تھی۔ آٹھویں صدی عیسوی میں مسلمان ہندستان میں آئے، اور مختلف راجاؤں کے حدودِ سلطنت میں آباد ہوئے۔ تاریخ بتاتی ہے کہ ان ہندو راجاؤں نے اپنی مسلم رعایا کی مذہبی ضرورتوں کی تکمیل کے لیے ایک مخصوص قانونی عہدہ قائم کرنے کی اجازت دے دی۔ اس مسلم عہدے دار کا نام ’’ہُنر من‘‘ ہوتا تھا۔ اس کا کام یہ تھا کہ وہ مسلمانوں کے شخصی معاملات میں انھیں شریعت کے مطابق فیصلہ دے۔
ہندستان میں جب مسلم عہد سلطنت شروع ہوا تو اس روایت کو باقی رکھتے ہوئے حکومت کی طرف سے ذمے دار افراد مقرر کیے گیے۔ ان کو قاضی کہا جاتا تھا۔ یہ گویا آزاد قانونی ادارہ تھا۔ اس کا کام یہ تھا کہ وہ مسلم افراد کے شخصی یا خاندانی معاملات میں شریعت کی رہنمائی میں فیصلے دے۔ یہ قاضی احوالِ اجتماعی میں دخل نہیں دیتے تھے۔ وہ محدود طور پر صرف شخصی احوال میں مسلمانوں کی ایک دینی ضرورت کو پورا کرتے تھے۔
انیسویں صدی کے وسط میںہندوستان میں برٹش راج قائم ہوا تو برٹش حکمرانوں نے قاضی کے عہدے کو باقی رکھا۔ یہ قاضی ہندستان کے اکثر شہروں میں موجود ہوتے تھے اور وہ مسلمانوں کے شخصی احوال میںان کی شرعی رہنمائی کرتے تھے۔
۱۹۴۷میں ہندستان آزاد ہوا تو اُس وقت مولانا ابوالکلام آزاد حکومتِ ہند میں وزیرِ تعلیم کے عہدے پر تھے۔ مولانا آزاد کے مشورے سے حکومت نے اِس مقصد کے لیے دہلی میں ایک مسلم جج مقرر کیا۔ ان کا نام محمد شفیع تھا۔ جب تک وہ زندہ رہے یہ نظام چلتا رہا۔ وہ خاص طورپر نکاح وطلاق کے معاملات میں اپنا فیصلہ دیتے تھے۔ مگر محمد شفیع صاحب کے انتقال کے بعد یہ نظام عملاً ٹوٹ گیا۔
اس کے بعد مختلف مدارس اور مسلم اداروں میں قائم شدہ دار الافتاء اور دار القضاء مسلمانوں کی اس ضرورت کو پورا کرنے لگے۔ دار الافتاء اور دار القضاء کا یہ نظام کامیابی کے ساتھ چلتا رہا اور اب بھی چل رہا ہے۔ پچھلی نصف صدی میں ان اداروں نے بہت بڑے پیمانے پر مسلمانوں کی شرعی رہنمائی کی ہے۔ ہندستان کی ریاست یا یہاں کے سیاسی نظام نے اس کو تسلیم کیا۔ کیوں کہ وہ دستورِ ہند میں دی ہوئی مذہبی آزادی کے مطابق تھا۔
۴ جون ۲۰۰۵ کو مظفر نگر کے ایک گاؤں میں ایک واقعہ ہوا۔ جس نے غالباً پہلی بار نئی صورت حال پیدا کردی۔ واقعہ یہ تھا کہ ایک مسلم خاتون (عمرانہ )کے ساتھ خود اس کے خاندان کے ایک ممبر نے زنا بالجبر کا فعل کیا۔ اس پس منظر میں کچھ لوگوں نے ملوث افراد کا نام لیے بغیر بالواسطہ انداز میں ایک استفتاء مرتّب کیا، اور اس کو دیوبند کے دار الافتاء میں بھیج دیا۔ دالافتاء والوں نے اس معاملے میں اپنے فقہی اصول کے مطابق، ایک فتویٰ جاری کردیا۔ اس فتوے سے اصل مجرم کو تو کوئی سزا نہیں ملی ، البتہ اس نے عمرانہ اور اس کے پورے خاندان کے لیے ناقابلِ بیان مسائل پیدا کردیے۔ ایسے مسائل جن کا کوئی حل مفتی صاحبان کے پاس نہ تھا۔ کیوں کہ مفتی صاحبان کے پاس فتویٰ تحریر کرنے کا اختیار ضرور موجود تھا مگراس فتوے کو نافذ کرنے کا کوئی اختیار انھیں حاصل نہ تھا۔
مزید یہ کہ دیوبند کے اس فتوے نے ایک سنگین نوعیت کا قانونی بحران پیدا کردیا۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ یہ مسئلہ سپریم کورٹ تک پہنچا۔ سپریم کورٹ نے اس کی سماعت کرکے مختلف ریاستوں کے نام یہ نوٹس جاری کردیے کہ وہ مسلمانوں کے اس نظامِ فتویٰ پر پابندی لگائیں، کیوں کہ یہ لوگ اپنی حد سے تجاوز کرکے ملک کے عدالتی نظام میں مداخلت کررہے ہیں۔
میں سمجھتا ہوں کہ اس معاملے میں سپریم کورٹ کا یہ اقدام اصولی طورپر درست ہے۔ یہ ایک واقعہ ہے کہ فتوے کا نظام چلانے والوں نے غالباً نادانستہ طورپر یہ غلطی کی کہ وہ اپنی جائز حد سے باہر چلے گیے۔ انھوں نے زنا بالجبر کے ایک واقعے میں بالواسطہ طورپر ایک فتویٰ جاری کردیا۔ حالاں کہ زنا بالجبر مسلّمہ طورپر ایک فوجداری کیس ہے، اور فوجداری کیس سرکاری عدالت کی عمل داری میں آتا ہے۔ وہ دارالافتاء یا دارالقضاء کے دائرۂ عمل سے باہر کی چیز ہے۔
سپریم کورٹ کے اس اقدام نے ایک سنگین قسم کا قانونی بحران پیدا کردیا ہے۔ تاہم سپریم کورٹ کے اس اقدام کا تعلق موجودہ نظامِ فتویٰ کے وجود سے نہیں ہے بلکہ اس کا تعلق صرف ایک، یا بعض غلط فتووں سے ہے۔ اس معاملے کا سادہ حل یہ ہے کہ فتوے کا نظام چلانے والے ایک عرضی انڈیا کی سپریم کورٹ میں داخل کریں۔ اس عرضی میں غیر مشروط طورپر یہ کہا گیا ہو کہ زنا بالجبر کا مذکورہ کیس ایک فوج داری کیس تھا۔ ایسے معاملے میں فتویٰ دینا عملاً ملک کے عدالتی نظام میں ایک قسم کی مداخلت تھی۔ اب وہ اپنی اس غلطی کا اعتراف کرتے ہوئے اپنے فتوے کو واپس لیتے ہیں اور آئندہ کے لیے عہد کرتے ہیں کہ وہ اپنے فتوے کا نظام مسلمانوں کے شخصی امور تک محدود رکھیں گے۔ وہ کسی بھی ایسے معاملے میں ہرگز کوئی فتویٰ نہ دیں گے جس کا تعلق دستورِ ہند کے مطابق، ملک میں قائم شدہ عدالت سے ہو۔ میں سمجھتا ہوں کہ اس قسم کی عرضی سپریم کورٹ کے لیے یقینا قابلِ قبول ہوگی اور وہ اپنا جاری کردہ نوٹس واپس لے لے گی۔
میری اس تجویز پر کچھ لوگوں کو اعتراض ہوسکتا ہے۔ وہ کہہ سکتے ہیں کہ یہ تو پسپائی ہے۔ اور پسپائی مسلمان کا طریقہ نہیں۔ ہمیں اقدام کرکے سامنے آنا چاہیے اور سپریم کورٹ سے لڑ کر اپنا حق منوانا چاہیے۔
میں کہوں گاکہ یہ پسپائی کی بات نہیں، بلکہ یہ اعترافِ خطا کی بات ہے۔ اور اعتراف اور پسپائی دونوں ایک دوسرے سے بالکل الگ ہیں۔ مسلمان انڈیا میں دستورِ ہند کو مان کر رہ رہے ہیں۔ اور یہ ایک حقیقت ہے کہ فوج داری نوعیت کے کیس میں فتویٰ دینا دستورِ ہند کے مطابق، ملک کے قانونی نظام میں مداخلت ہے۔ اور دستورِ ہند کے مطابق اِس قسم کی مداخلت جائز نہیں۔ ایسی حالت میں مسلمانوں کے لیے دو میں سے ایک کا اختیار ہے یا تو وہ دستورِ ہند سے بغاوت کا اعلان کردیں اور پھر اپنے اس عمل کی ہر قیمت کو ادا کریں، یا پھروہ کھُلے طورپر یہ اعتراف کرلیں کہ مفتی صاحبان نے اس معاملے میں ملک کے قانونی نظام کی خلاف ورزی کی ہے۔ ان دو کے سوا کوئی تیسرا انتخاب عملی طورپر ان کے لیے ممکن نہیں۔
یہاں میں یہ اضافہ کروں گا کہ مسلمانوں کو دوسری بار وہ غلطی نہیں کرنا چاہیے جو انھوں نے ۱۹۸۶ میں شاہ بانو بیگم کے مشہور کیس میں کی تھی۔ شاہ بانو کے کیس میں سپریم کورٹ نے جو فیصلہ دیا تھا، اس کی ذمّے داری واضح طور پر خود مسلمانوں پر عائد ہوتی تھی۔ اس معاملے میں جو ہُوا وہ یہ تھا کہ ایک مسلم خاتون (شاہ بانو بیگم) اپنے طلاق کے کیس کو ملکی عدالت میں لے گئیں۔ ان کا مطالبہ تھا کہ سابقہ شوہر مجھے ماہانہ گذارہ(maintenance) ادا کرے۔ اپنے مطالبے کے حق میں انھوں نے عدالت میں عبد اللہ یوسف علی کا ترجمۂ قرآن پیش کیا جس میں قرآن کی ایک متعلق آیت (البقرہ: ۲۴۱) کے تحت، متاع کا ترجمہ گذارہ (maintenance) کیاگیا تھا۔ انگریزی کا یہ ترجمۂ قرآن جو ساری دنیا کے مسلمانوں میں سب سے زیادہ مقبول تھا اس کو لے کر سپریم کورٹ نے شاہ بانو کے حق میں اپنا فیصلہ دے دیا۔
اصولی بات یہ تھی کہ عبد اللہ یوسف علی نے آیت کا جو ترجمہ کیا تھا وہ غلط تھا۔ قرآنی لفظ متاع کا صحیح ترجمہ پراویجن (provision) ہے نہ کہ مینٹیننس (maintenance) ۔
اس معاملے میں شرعی مسئلہ یہ ہے کہ مطلّقہ عورت کے خاوند کو چاہیے کہ وہ بوقت طلاق حسب حیثیت عورت کو کچھ رقم وغیرہ دے دے۔ بعد از طلاق ماہانہ گذارہ ادا کرنے کی ذمے داری سابقہ شوہر پر نہیں۔ ایسی حالت میں سپریم کورٹ کا فیصلہ خالص شرعی اعتبار سے درست نہ تھا۔ مگر اس نادرست فیصلے کی اصل ذمے داری دو مسلمانوں پر تھی— شاہ بانو بیگم (مدّعیّہ) اور عبد اللہ یوسف علی (مترجم قرآن) ایسی حالت میں اس معاملے میں مسلمانوں کی تحریک کا رُخ شاہ بانو بیگم اور عبد اللہ یوسف علی یا اُن کے ترجمۂ قرآن کے ناشر کی طرف ہونا چاہیے تھا نہ کہ سپریم کورٹ کی طرف۔
مگر اس معاملے میں مسلم علماء اور رہنماؤں نے یہ کھلی غلطی کی کہ انھوں نے اپنی پوری تحریک سپریم کورٹ اور حکومتِ ہند کے خلاف چلا دی۔ شاہ بانو یا عبد اللہ یوسف علی کے مذکورہ غلط ترجمے سے انھوں نے کوئی تعرض نہیں کیا۔
یہ روش بلاشبہہ خلافِ عدل تھی۔ چناںچہ انڈیا کے مسلمانوںکو اس غیر عادلانہ روش کی قیمت ادا کرنی پڑی۔ تمام لوگ جانتے ہیں کہ دراصل شاہ بانو تحریک ہی کا یہ نتیجہ تھا کہ انڈیا میں پہلی بار وہ عناصر سیاسی اقتدار پر قابض ہوگیے، جن کو مسلمان مسلم دشمن عناصر کہتے ہیں۔ (واضح ہو کہ مسلم دشمن عناصر کا نظریہ راقم الحروف کا نظریہ نہیں۔ راقم الحروف کے نزدیک کوئی بھی ہمارا مستقل دشمن نہیں۔ کیوں کہ قرآن کے مطابق، دشمن بھی ہمارے لیے امکانی دوست (potential friend) کی حیثیت رکھتا ہے۔ حم السجدہ: ۳۴)
آخری بات یہ کہ غیر عادلانہ تحریک ہمیشہ نقصان کا باعث ہوتی ہے۔ نتیجے کے اعتبار سے وہ ہمیشہ کاؤنٹر پروڈکٹیو (counter-productive) ثابت ہوتی ہے۔ مسلمان نہ صرف ہندستان میں بلکہ پوری دنیا میں اس قسم کے ناعاقبت اندیشانہ تجربے کر چکے ہیں۔ اب آخری طورپر وہ وقت آگیا ہے کہ اس قسم کی غلطی کو مزید نہ دہرایا جائے کیوں کہ حدیث میں آیا ہے: لا یلدغ المؤمن من جُحرٍ واحدٍ مرّتین، البخاری (مومن ایک سوراخ سے دوبار نہیں ڈسا جاتا)
واپس اوپر جائیں

یہ قیادت

پانچویں صدی عیسوی میں یونان میں کچھ سیاسی لیڈر ابھرے جنھوںنے لوگوں کے وقتی اور سطحی جذبات کو بھڑکا کر مقبولیت حاصل کی۔ ایسے لیڈر کو اس زمانہ میں ڈیماگاگ (Demagogue) کہا گیا۔ ان میں سے ایک مشہور نام کلیون (Cleon) کا ہے۔ وہ ایک بلند آواز آدمی تھا۔ اسی کے ساتھ اس کے اندر اس بات کی خصوصی صلاحیت تھی کہ وہ عوام پسند زبان میں کلام کرسکے۔ اس نے وقت کے نظام حکومت کے خلاف پرجوش تقریریں کرکے عوام کے اندر مقبولیت حاصل کر لی ۔(8/357)
موجودہ زمانے میں ڈیماگاگ کا لفظ اس سیاسی لیڈر کے لئے بولا جاتا ہے جو لوگوں کے جذبات اور تعصبات کو مخاطب کرے اوراس طرح ان کے درمیان لیڈری اور مقبولیت حاصل کرنے کی کوشش کرے۔ وہ عوامی خواہشات کا نمائندہ بن کر لوگوں کی بھیڑ اپنے گرد اکھٹا کرلے (111/454-55) ویبسٹر کی ڈکشنری میں ڈیماگاگ کی تشریح اس طرح کی گئی ہے: ایک شخص جو عوام کے جذبات اوران کے تعصبات وغیرہ کو بھڑکائے اور اس طرح ان کا لیڈر بن کر اپنے ذاتی مفادات کو پورا کرے:
A person who tries to stir up the people by appeals to emotion, prejudice, etc., in order to become a leader and achieve selfish ends.
قیادت کی دو قسمیں ہیں۔ ایک قائد وہ ہے جو عوام کے پیچھے چلے۔ جوعوامی جذبات کی ترجمانی کرے۔ دوسرا قائد وہ ہے جو عوام کو خود اپنے پیچھے چلائے، جو اصولوں کی نمائندگی کرنے والا ہو۔ پہلی قسم کے قائد کو موجودہ زمانے میںڈیماگاگ کہا جاتا ہے۔ اس قسم کے قائدکو ہمیشہ زبردست مقبولیت حاصل ہوتی ہے۔ ایسا قائد عوام کو اپنا وکیل معلوم ہوتا ہے۔ اس لیے اس کے گرد بہت جلد عوام کی بھیڑ اکھٹاہو جاتی ہے۔
اس کے برعکس معاملہ دوسری قسم کی قیادت کا ہے۔ ایسا قائد اپنے اعلیٰ ترین اوصاف کے باوجود عوام کے اندر اجنبی بن جاتا ہے ۔اس کے گرد لوگوں کی بھیڑ جمع نہیں ہوتی۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ لوگوں کی خواہشوں کے پیچھے نہیں چلتا بلکہ وہ برتر اصولوں کا ترجمان ہوتا ہے۔ ایسے قائد کو اکثر یہ کام کرنا پڑتا ہے کہ وہ بولنے والوں کو چپ کرائے اور چلنے والوں کو روکے۔
واپس اوپر جائیں

خادم الحرمَین کا انتقال

سعودی عرب کے حُکمراں شاہ فہد ۲؍ اگست ۲۰۰۵ء کو انتقال کرگئے۔ شاہ فہد ۱۹۲۳ء میں پیدا ہوئے۔ وہ مختلف عُہدوں پر فائز رہے۔ ۱۹۸۲ میں وہ سعودی عرب کے حکمراں بنے۔ اُن کا زمانۂ حکومت سعودی عرب کی تاریخ میں نہایت اہم سمجھا جاتا ہے۔ اسی زمانے میں سعودی عرب تیل کی پیداوار میںدنیا کا سب سے بڑا ملک (oil super power) بنا۔ ساری دنیا کے لوگ تیل کی دَولت کے حصول کے لیے سعودی عرب کی راجدھانی ریاض آنے لگے۔ اسی زمانے میں امریکی میگزین ٹائم نے ایک مضمون میں لکھا تھا کہ قدیم زمانے میں کہا جاتا تھا کہ تمام سڑکیں روم کی طرف جاتی ہیں، اب یہ کہنا صحیح ہوگا کہ تمام سڑکیں ریاض کی طرف جاتی ہیں:
All roads lead to Riyadh.
شاہ فہد کا دَورِ حکومت نہایت جاہ وجلال کا دورِ حکومت تھا۔ مگر ۱۹۹۵ میں اُن پر دل کا دورہ پڑا۔ اُن کی صحت نہایت کمزور ہوگئی۔ اُنھیں کنگ فیصل اسپتال میں داخل کردیاگیا۔ اِس کے بعد وہ مسلسل زیرِ علاج رہے۔ دس سال پہلے انھیں حکومت کے کاموں سے عملی طورپر الگ ہوجانا پڑا۔ چنانچہ حکومت کے کام ان کی نیابت میں ان کے سوتیلے بھائی شہزادہ عبد اللہ انجام دینے لگے۔ شاہ فہد کے انتقال کے بعد شہزادہ عبد اللہ سعودی عرب کے حکمراں مقرر کیے گئے ہیں۔ ۱۹۹۵ میں شاہ فہد کے صاحبِ فراش ہوجانے کے بعد سے، حکومت کا روز مرّہ کا کام شاہ عبد اللہ ہی سنبھالے ہوئے تھے۔
شاہ فہد کے زمانۂ حکومت میں سعودی عرب کو غیر معمولی ترقی حاصل ہوئی۔ حرم مکّی اور حرم مدنی دونوں میں غیر معمولی توسیع کی گئی۔ ان کو جدید ترین سہولتوں سے آراستہ کیا گیا۔ قرآن کی توسیع واشاعت کے لیے بہت بڑا ادارہ قائم ہوا، جس کے تحت دنیا کی تمام زبانوں میں قرآن کے ترجمے کرکے کروڑوں کی تعداد میں ساری دنیا میں پھیلا دیے گیے۔ دنیا بھر کے مسلم اداروں اور مسلم تنظیموں کو مسلسل مدد ملتی رہی۔ مسلم حکومتوں کو مختلف قسم کی امداد فراہم کی جاتی رہی۔ انھوںنے اپنے لیے خادم الحرمین الشریفین کا لقب اختیار کیا، اس کی وجہ سے وہ مسلم دنیا کے لیے جذباتی طورپر خلیفۃ المسلمین کا بدل بن گئے۔ عرب شہروں کی نئی منصوبہ بند تعمیر کی گئی۔ ملک میں بہترین انفراسٹرکچر قائم کیا گیا، وغیرہ۔
شاہ فہد کے انتقال کے بعد ان کے بارے میں جو رپورٹیں اخباروں میں چھپی ہیں، ان میں کئی سبق آموز پہلو موجود ہیں۔ مثلاً رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ شاہ فہد عرب کے ایک سادہ اور بے نشان قبرستان میں دفن کیے گیے:
King Fahad was buried in a simple unmarked grave. (TOI, Agust 3, 2005)
یہ کوئی سادہ بات نہیں۔ یہ واقعہ سعودی سلطنت کی ایک عظیم تاریخ کی یاددلاتا ہے۔ اصل یہ ہے کہ عرب کے علاقہ نجد میں مشہور مُصلح محمد بن عبد الوہاب نجدی ظاہر ہوئے۔ وہ ۱۷۰۳ میں پیدا ہوئے اور ۱۷۹۲ میں ان کی وفات ہوئی۔ انھوں نے مجاہدانہ انداز میں توحید خالص کے احیاء کا عمل شروع کیا۔ اُس زمانے میں نجد کے امیر محمد بن سعود (وفات: ۱۷۶۵)تھے۔ اُنھوںنے محمد بن عبد الوہاب کی پوری مدد کی۔
اس کے بعد محمد بن سعود (حاکم) اور محمدبن عبد الوہاب (مصلح) کے تعاون سے عرب میں زبردست تحریک چلی۔ اس تحریک کے نتیجے میں یہ ہوا کہ محمد بن سعود کو تقریباً پورے عرب میں اقتدار حاصل ہوگیا۔ اس کے بعد سے جزیرہ نمائے عرب کا نام سعودی عرب یا سعودی مملکت پڑ گیا۔ شاہ فہد اسی شاہی خاندان سے تعلق رکھتے تھے۔یہ تحریک عام طور پر وہابی تحریک کے نام سے مشہور ہوئی۔ اس تحریک کا خاص نشانہ یہ تھا کہ شرک کے تمام مظاہر اور علامتوں کو بالکل مٹا دیا جائے۔ یہ لوگ پختہ قبروں کے سخت خلاف تھے۔ چنانچہ انھوں نے عرب میں قدیم پختہ قبروں کو ختم کردیا۔ اس کے بعد عرب میں بڑے بڑے لوگوں کی قبریں بھی سادہ انداز میں بنائی جانے لگیں۔ اسی کا ایک نمونہ یہ تھا کہ شاہ فہد کو عام قبرستان میں بالکل سادہ طور پر دفن کیاگیا۔
شاہ فہد کو عام طورپر امریکا نواز سمجھا جاتا تھا۔ چنانچہ شاہ فہد کی موت کی خبر کو اخباروں میںاس طرح کی سرخی کے ساتھ شائع کیا گیا ہے—امریکا کے دوست، شاہ فہد کا انتقال:
America's friend, King Fahad, dead.
میرے نزدیک شاہ فہد کے لیے یہ لقب درست لقب نہیں۔ آج کل عام طورپر یہ مزاج ہے کہ لوگوں کو پروامریکا یا اینٹی امریکا کے الفاظ میں یاد کیا جاتا ہے۔ مگر صحیح بات یہ ہے کہ کہ لوگوں کو حقیقت پسند (pro-reality) اور غیر حقیقت پسند(anti-reality) کی اصطلاحوں میں یاد کیا جائے۔
جہاں تک میں سمجھتا ہوں، شاہ فہد نہایت ذہین اور حقیقت پسند آدمی تھے۔ انھوں نے حالات کے مطالعے سے یہ سمجھا کہ امریکا سے ٹکراؤ کرنا ان کو یا مسلمانوں کو کوئی فائدہ نہیں دے گا، بلکہ یقینی طورپر وہ معکوس نتیجہ (counter-productive) کا سبب بن جائے گا۔ اس لیے انھوںنے یہ پالیسی اختیار کی کہ امریکا سے بے فائدہ ٹکراؤ نہ کیا جائے بلکہ امریکا کے ساتھ ایڈجسٹمنٹ کا طریقہ اختیار کیا جائے۔
واقعہ یہ ہے کہ امریکا اس وقت دنیا کی سب سے بڑی طاقت کی حیثیت رکھتا ہے۔ چنانچہ اس کو واحد سپر پاور کہا جاتا ہے۔ ایسی طاقت سے ٹکراؤ کرنا عقل اور دین دونوں کے خلاف ہے۔ اس کی ایک مثال خود قرآن میں موجود ہے۔ حضرت سلیمان جو اپنے زمانے کے عظیم حکمراں تھے، ان کے مقابلے میں ملکۂ سبا نے ٹکراؤ نہ کرنے کی پالیسی اختیار کی اور اس کو کامیابی حاصل ہوئی(النمل ۳۴)۔ یہ واقعہ قرآن میں جس طرح بیان کیا گیا ہے وہ اصولِ تفسیر کے مطابق قرآنی تصدیق کے ہم معنی ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ شاہ فہد نے اسی دانش مندانہ پالیسی کو اختیار کیا۔ یہ منفی طرزِ فکر کا نتیجہ تھا کہ لوگوں نے اس پالیسی کو غلط طور پر امریکا نواز پالیسی کا نام دے دیا۔
عربی زبان کی ایک بامعنی مثل ہے: تعرف الأشیاء بأضدادہا (چیزیں اپنے ضد سے پہچانی جاتی ہیں) اس تاریخی اصول کی روشنی میں شاہ فہد کے معاملے کو سمجھئے۔ امریکا کے مقابلے میں حکومتی پالیسی کا جو مسئلہ ہے، اس کے بارے میں موجودہ زمانے میں دو متضاد مثالیں ملتی ہیں۔ ایک، عرب کے حکمراں شاہ فہد کی مثال، جنھوں نے امریکا کے ساتھ صُلح کا طریقہ اختیار کیا۔ دوسری مثال عراق کے حکمراں صدام حسین کی ہے۔ جیسا کہ معلوم ہے، شاہ فہد کی حقیقت پسندانہ پالیسی کے نتیجے میں نہ صرف عرب کو بلکہ ساری مسلم دنیا کو بے شمار فائدے حاصل ہوئے۔ آج مسلم دنیا نیز یورپ اور امریکا میں ہر جگہ شان دار مسلم ادارے دکھائی دیتے ہیں۔ اس کے بنانے والے مسلمان اگرچہ زبان سے کھلے طورپر اس کا اعتراف نہیں کرتے مگر جاننے والے جانتے ہیں کہ ان کی شان دار کامیابی کا راز سعودی حکومت کا عظیم تعاون ہے ۔ سعودی حکومت اس عالمی تعاون کے قابل اس لیے بنی کہ اس نے مغربی طاقتوں کے مقابلے میں عدم ٹکراؤ کی پالیسی اختیار کی۔
عراق کے حکمراں صدام حسین کی زندگی اس کے برعکس مثال پیش کرتی ہے۔ انھوںنے امریکا کو مسلم دشمن قرار دے کر اس کے خلاف جنگ (اُمُّ المعارک) کا اعلان کردیا۔ بہت سے جذباتی مسلمان اس معاملے میں صدام حسین کے ہم نوا بن گئے، مگر نتیجہ کیا نکلا۔ صدام حسین اور عراق دونوں تباہ ہوگیے۔ عراق میں تیل کی دولت بڑی مقدار میں موجود تھی، مگر اس خداد اد دولت کا فائدہ نہ عراق کو ملا اور نہ عراق کے باہر دوسری مسلم دنیا کو۔
سعودی عرب کے قدیم حکمراں شاہ فیصل (وفات: ۱۹۷۵)اپنی جرأت اور بے باکی کے لیے مسلمانوں میں بہت مقبول ہوئے۔ مگر ذاتی طورپر میرا خیال ہے کہ شاہ فہد کی مفاہمت کی پالیسی اس سے بھی زیادہ عرب کے لیے نیز ساری دنیا کے مسلمانوں کے لیے غیر معمولی طورپر مفید ثابت ہوئی۔
اس معاملے میں ایک تقابلی مثال لیبیا کے حکمراں کرنل قذّافی کی ہے۔ لیبیا کے پاس تیل کی بہت بڑی دولت موجود تھی۔ مگر کرنل قذافی نے امریکا مخالف پالیسی اختیار کی۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ لیبیا میں کوئی ترقی نہ ہوسکی، اس کی دولت نہ لیبیا کے کام آئی اور نہ باہر کی مسلم دنیا کو اس سے کوئی فائدہ پہنچا۔ لیبیا ، فارسی مقولے کے مطابق ’’نہ خود خورد نہ بہ کس دہد‘‘ کا مصداق بن گیا۔
کرنل معمّر قذافی کی مخالفِ امریکا پالیسی کی بنا پر امریکا نے لیبیا کے خلاف سخت کارروائی کی۔ چند سال یہ معاملہ چلتا رہا۔ یہاں تک کہ کرنل معمر قذافی نے مجبور ہوکر امریکا کے مقابلے میں ہتھیار ڈال دیے۔ گویا کرنل قذافی نے وہی حقیقت پسندانہ پالیسی بعد کو اختیارکی جو حقیقت پسندانہ پالیسی شاہ فہد بہت پہلے اختیار کرچکے تھے:
آں چہ دانا کند، کُند ناداں لیک بعد از خرابی ٔ بسیار
واپس اوپر جائیں

سوال جواب

سوال
آپ کا ایک خط ماہنامہ تذکیر کے مئی ۲۰۰۴ کے شمارے میں شائع ہوا ہے جو آپ نے عبدالسلام اکبانی صاحب کو لکھا ہے۔ اس میں آپ نے اس تقریر کا حوالہ دیا ہے جو آپ نے دہلی میں کانسٹی ٹیوشن کلب کے ایک سیمینار میں کی۔ اس میں آپ نے دو قومی نظریے کو علامہ اقبال اور جناح صاحب کے ذہن کی پیداوار قرار دیا اور یہ دلیل دی کہ ہر پیغمبر نے اپنے زمانے کے لوگوں سے خطاب کرتے ہوئے ’’اے میری قوم‘‘ کہا۔یعنی حاضرین کا عقیدہ یا مذہب چاہے الگ الگ ہو، ایک بستی یا ایک جغرافیائی وحدت میں رہائش پذیر ہونے کی وجہ سے وہ ایک قوم تھے۔
آپ نے یہ بھی بتایا کہ آپ کے بعد بلراج مدھوک کی تقریر تھی۔ انھوں نے دو قومی نظریے کا قرآن میں موجود ہونا بتایا کہ مسلمانوں نے یہ نظریہ قرآن ہی سے لیا ہے اور یہ کہ قرآن انسانوں کے درمیان تفریق سکھاتا ہے اور یہ کہ وحید الدین صاحب قرآن کے اس چہرے پر وہائٹ واش کررہے ہیں۔ تبصرہ کرتے ہوئے آپ نے الزام لگایا کہ مدھوک صاحب نے قرآن کا کوئی حوالہ دلیل کے طور پر پیش نہیں کیا۔ مدھوک صاحب سے لوگ دلیل مانگنا چاہتے تھے مگر وہ دامن چھڑا کر غائب ہوگئے۔
اس سلسلے میں بندہ کچھ عرض کرنے کی جسارت کرتا ہے۔ قرآن تو جگہ جگہ ایمان والوں کو یاایُّہا الذین آمنوااور کفر والوں کو یا ایُّہا الکٰفرونکہہ کر پکارتا ہے۔وہ کہتا ہے کہ کیا مؤمن اور فاسق برابر ہوسکتے ہیں۔ پھر قرآن خود جواب دیتا ہے ہرگز نہیں (سورہ السجدہ) ۔ وہ کہتا ہے تم جس کو پوجتے ہو اس کو ہمارا رسول نہیں پوجتا اور جس کو وہ پوجتا ہے اس کو تم نہیں پوجتے۔ ہمارے رسول اور اس کے ساتھیوں کا اپنا دینِ خالص، اورتمہارے لیے تمہارا دین (سورہ الکٰفرون)۔قرآن کہتا ہے کہ مسلمین اور مجرمین کو کیا ہم ایک سطح پر رکھیں؟تمہیں کیا ہوگیا کیسا غلط گمان ہے تمہارا (سورہ القلم)۔ قرآن میںاللہ کافروں کو حزبُ الشیطٰن کہتا ہے اور مومنوں کو حزب اللہ کہہ کر ان کو انعام کی بشارت دیتا ہے (سورہ مجادلہ) اور سورہ توبہ میں اعلان کرتا ہے کہ مشرکین نجس ہیں اور یہ جو اپنے آپ کو حرم کعبہ کا متولّی سمجھتے تھے ان کو اگلے سال سے حرم کعبہ کے قریب بھی نہ آنے دینا اور جو ایمان نہیں لاتے ان سے قتال کریں اور آپ ہیں کہ کافروں اور مومنوں کو ایک ہی قوم ثابت کرنے کی سعی لاحاصل میں ہلکان ہورہے ہیں۔ (محمد صدیق، اسلام آباد)
جواب
۱۔ قرآن سے جب یہ ثابت ہوجائے کہ پچھلے نبیوں نے اپنے غیر مسلم مخاطبین سے کہا تھا کہ:’’اے میری قوم‘‘ تو یہی اسوہ خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا اُسوہ قرار پائے گا۔ کیوں کہ قرآن میں رسول اللہ کو خطاب کرتے ہوئے کہاگیا ہے کہ: تم بھی وہی کرو جو پچھلے انبیا نے کیا — فبہداہم اقتدہ (الأنعام ۹۰)
روایات سے ثابت ہوتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عملاً بھی یہی کیا۔ چنانچہ غزوہ اُحد کے موقع پر آپ کے مخالفین نے آپ کے اوپر پتھر مارا جو آپ کے چہرے پَر لگا، اس سے آپ کے چہرے سے خون جاری ہوگیا۔ اُس وقت آپ نے ایک پچھلے رسول کے اُسوہ پر عمل کیا۔ عبد اللہ بن مسعود اس واقعے کا حال بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں: کأنی أنظر إلی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یحکی نبیّا من الأنبیاء ضَرَبہُ قَومُہ وہو یمسح الدَّم عن وجہہ ویقول: ربّ اغفر لقومی فإنہم لا یعلمون (صحیح مسلم، بشرح النووی جلد ۱۲ ، ۱۵۰)یعنی ’’میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھ رہا ہوں۔ وہ نبیوں میں سے ایک نبی کا حال بیان کررہے ہیں جس کو اُس کی قوم نے مار کر زخمی کیا۔ وہ اپنے چہرے سے خون پونچھ رہے تھے اور یہ کہہ رہے تھے: اے اللہ! تو میری قوم کو معاف فرمادے کیوں کہ وہ جانتے نہیں‘‘۔
اس معاملے میں جو کچھ میں نے کہا ہے وہ نص پر مبنی ہے۔ جب کہ آپ نے جو کچھ تحریر فرمایا ہے وہ تمام تر قیاس اور استنباط پر مبنی ہے۔ اور یہ کھلی ہوئی بات ہے کہ قیاس اور استنباط کے ذریعے کسی نص کی تردید نہیں ہوتی۔
۲۔ اس معاملے میں آپ جیسے لوگوں کی اصل مشکل یہ ہے کہ آپ نے انسانیت کو مستقل طورپر دو گروہوں میں بانٹ دیا ہے— مسلم اور کافر۔ اس تقسیم کی بنا پر آپ لوگوں کے نزدیک ایک طرف ابدی معنوں میں ایک قوم، مسلم قوم بن گئی ہے اور دوسری طرف ابدی معنوں میںایک قوم، غیرمسلم قوم۔ یہ تقسیم سراسر غلط ہے۔ نہ مسلمان کسی نسلی گروہ کا نام ہے اور نہ کافر کسی نسلی گروہ کا نام۔ دونوں ہی کا مدار اس پر ہے کہ کس کو معرفتِ خداوندی ملی اور کس کو معرفتِ خداوندی نہیں ملی۔ اس لیے مسلسل ایسا ہوگا کہ مسلمانوں کی بعد کی نسلیں اسلام سے دور ہوتی رہیں گی اور غیر مسلموں میں سے لوگ سچائی کی دریافت کرکے مسلم بنتے رہیں گے۔ اس لیے یہ بالکل فطری بات ہے کہ قومیت کا مدار مذہب پر نہ ہو بلکہ ہوم لینڈ پرہو ۔ کیوں کہ مذہب کی تقسیم بدلتی رہتی ہے، جب کہ ہوم لینڈ کی تقسیم عموماً نہیں بدلتی۔
۳۔ آپ جیسے بہت سے لوگ یہ کہتے ہیں کہ پیغمبر اسلام کے زمانے میں ’’نسل آدم تمدنی عروج پر پہنچ گئی تھی‘‘۔ یہ ایک فرضی دعویٰ ہے، جس کی تصدیق نہ قرآن سے ہوتی ہے اور نہ تاریخ سے۔ قرآن میں پچھلی اُمتوں کے بارے میں یہ الفاظ آئے ہیں: وعمروہا اکثر ممّا عمروہا (الروم ۹) اس سے ثابت ہوتا ہے کہ زمانۂ رسالت کے مقابلے میں پچھلے زمانے کے لوگ زیادہ بڑے پیمانے پر تمدنی ترقی حاصل کر چکے تھے۔
جہاں تک تاریخ کی بات ہے تو اِس قسم کا دعویٰ واضح طورپر بے بنیاد دعویٰ ہے۔ رسول اللہ کا زمانہ قبل سائنس دور(pre-scientific era) سے تعلق رکھتا ہے۔ اس کے بعد وہ حالات پیش آئے جن کو بعد سائنس دَور (post-scientific era) کہا جاتا ہے۔ یہ ایک معلوم حقیقت ہے کہ قبل سائنس دور میںانسانی تمدن جس درجے پر تھا، اُس کے مقابلے میں بعد سائنسی دور میں انسانی تمدن سیکڑوں گُنا زیادہ ترقی کرچکا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ’’تمدنی عروج‘‘ کا مذکورہ دعویٰ ایک ایسا دعویٰ ہے جس کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں۔
سوال
میں کافی عرصے سے تقریباً جب سے ہوش سنبھالا تب ہی سے حق کی تلاش میں سرگرداں ہوں۔ یقینا کسی چیز کو پانے کے لیے محنت پہلی شرط ہے۔ اس حق کی تلاش میں تمام دینی جماعتوں کو دیکھنے سمجھنے کا موقع ملا مگر کہیں بھی دل پوری طرح مطمئن نہ ہوا۔ میری عادت ہے کہ میں خاموش مطالعہ کیا کرتا ہوں، بے جا بحث ومباحثہ اور طعن وتشنیع میرا مزاج نہیں۔ اس طرح میں نے کچھ وقت تبلیغی جماعت کے ساتھ لگا کر دیکھنا چاہا کہ یہ جماعت کیا چاہتی ہے، ان کے کیا عزائم ہیں، ان میں اصولوں کی کتنی پابندی ہے۔ الغرض یہاں آکر میرا مجھے مقصود حاصل ہوا۔ مطالعے کا شوق بہت ہے۔ اسی طرح ہر قسم کا لٹریچر، کتابیں وغیرہ پڑھتا ہوں۔ پھر ایک روز ایک کتابوں کی دکان پر آپ کی کتاب ’’صراط مستقیم‘‘ نظر سے گزری تو فوراً خرید لی۔ کتاب کا مطالعہ کرتے ہوئے محسوس ہوتا تھا کہ شاید میں انھیں باتوں کی تلاش میں تھا۔ آپ کی اور کتابیں بھی مطالعہ کی ہیں۔ آپ کی تحریروں میں غزوۂ بدر کی مدد و نصرت ظاہر ہوتی نظر آتی ہے۔ اور پڑھتے ہوئے محسوس ہوتا ہے جیسے انسان اپنی فطرت سے باتیں کررہا ہو۔ محترم! میری باتوں کا ضرور جواب دیں۔ (محمد اسحاق بلوچ، پاکستان)
جواب
آپ کے ساتھ جو معاملہ پیش آیا اُس کا سبب یہ ہے کہ موجودہ زمانے میں مسلمانوں کی جتنی بھی تحریکیں ہیں وہ سب ردّ عمل کی تحریکیں ہیں۔ یعنی کسی مخصوص صورت حال کا ردّعمل۔ مثلاً ایک جماعت کے لوگ کسی مقام پر دیکھیں کہ وہاں کے لوگوں کو کلمہ بھی یاد نہیں اور اس سے متاثر ہو کر کلمہ اور نماز کی تحریک چلا دیں تو ایسی تحریک صرف اُن لوگوں کے ذہن کو ایڈریس کرے گی جو خود بھی اِسی قسم کے مسلمانوں کے بارے میں سوچتے رہے ہوں۔ ایسی کسی تحریک میں اعلیٰ تعلیم یافتہ لوگوں کو کوئی دلچسپی نظر نہیں آئے گی۔ اسی طرح کچھ لوگ دیکھیں کہ مسجدوں میں لوگ نماز تو پڑھتے ہیں مگر وہ مسائل نماز سے واقف نہیں اور پھر اس پر وہ مسائل عبادت میں اصلاح کی تحریک چلادیں تو ایسی تحریک صرف اُن لوگوں کو اپیل کرے گی جو خود بھی فقہی مسائل میں مسلمانوں کی بے شعوری کا احساس اپنے دل میں لیے ہوئے ہوں۔ اس کے بجائے وہ لوگ جو جدید الحادی افکار کو سب سے بڑا مسئلہ سمجھتے ہوں اُنھیں اصلاح مسائل کی تحریک سے کوئی دل چسپی نہیں ہوگی۔ اسی طرح کچھ لوگ یہ دیکھیں کہ کسی مسلم ملک میں وہاں کے مسلم حکمراں شرعی قانون کا نفاذ نہیں کررہے ہیں اور وہ اس معاملے کو لے کر اِن مسلم حکمرانوں سے سیاسی ٹکراؤ شروع کردیں تو ایسی کوئی تحریک صرف اُن لوگوں کے لیے پُر کشش ثابت ہوگی جن کا ذہن خودبھی روزانہ اخبارات پڑھ پڑھ کر اس قسم کے سیاسی مسائل میں الجھا ہوا ہو۔ اس کے برعکس جو لوگ فطرت کی سطح پر جیتے ہوں، جو اپنے فطری سوالا ت کا جواب پانا چاہتے ہوں اُنھیں مذکورہ قسم کی سیاسی تحریک کی طرف کو ئی رغبت نہ ہوگی۔
الرسالہ مشن مذکورہ قسم کی تحریکوں سے بالکل مختلف ہے۔ الرسالہ مشن کسی قسم کے ردّ عمل کے طور پر نہیں اٹھا۔ وہ فطرت کے ابدی تقاضوں کی بنیاد پر اُٹھا ہے۔ اس لیے الرسالہ مشن میں صرف اُن لوگوں کو دل چسپی ہوگی جو اسلام کو اُس کی ابدیت کے تناظر میں سمجھنا چاہتے ہوں۔ جواُس اسلام کو جاننا چاہتے ہوں جو اُن کی فطرت میں چھپے ہوئے ابدی احساسات کو مطمئن کرسکے۔ اِس لیے یہی ہوگا کہ ہر تحریک میں کچھ مخصوص لوگ ہی آئیں گے۔تمام لوگ نہ الرسالہ مشن میں شامل ہوسکتے ہیں اور نہ دوسری مسلم تحریکوں میں۔
الرسالہ کی جو لوگ مخالفت کرتے ہیں، اُن کی مخالفت کا سبب عام طور پر یہ ہوتا ہے کہ الرسالہ میں مسلمانوں کے مفروضہ اکابر پر تنقید کیوں ہوتی ہے۔ اس مخالفت کا سبب کسی شرعی تعلیم پر مبنی نہیں ہے۔ اس کا سبب صرف یہ ہے کہ موجودہ زمانے کے مسلمانوں کی بڑی تعداد ’’دینِ اکابر‘‘ پَر جی رہی ہے۔ انھوں نے دین کو اپنے مفروضہ اکابر کے واسطے سے پایا ہے۔ اُن کا یہی خود ساختہ ذہن ان کی مخالفت کا اصل سبب ہے۔ مگر امت میں ایسے لوگ بھی ہیں جن کا ذہن اکابر اور غیر اکابر کی تقسیم سے آزاد ہے۔ یہ وہ لوگ ہیں جو دین کو اس کی ابدی تعلیمات کی روشنی میں سمجھنا چاہتے ہیں۔ جو اکابر اور غیر اکابر سے اوپر اُٹھ کر یہ جاننا چاہتے ہوں کہ خدااور رسول کی سطح پر کیا چیز حق ہے اور کیا چیزباطل ہے۔ ایسے لوگوں کو صرف الرسالہ میں تسکین ملے گی۔ الرسالہ کے سوا کہیں اور اُنھیں تسکین ملنے والی نہیں۔
سوال
’’فقہی مقالات‘‘ کے نام سے مفتی محمد تقی عثمانی صاحب کی ایک کتاب ہے۔ اس کتاب میں ایک مقالہ ’’جہاد دفاعی یا اقدامی‘‘ کے عنوان سے ہے۔ اس مقالے کو میں نے غائر نگاہ کے ساتھ پڑھا بھی ہے۔ اس کو پڑھنے کے بعد جو نتیجہ سامنے آیا وہ یہ کہ اسلام میں جہاد اقدامی ہے۔ اور ایک مومن ومسلم کے لیے جہاد بمعنٰی قتال اس وقت تک فرض ہے جب تک کہ دنیا میں غیرقوموں کا غلبہ موجود ہے۔ تقی عثمانی صاحب لکھتے ہیں:
’’آپ نے جہاد کے بارے میں جو کچھ تحریر فرمایا، اس کا حاصل میں یہ سمجھتا ہوں کہ اگر کوئی غیر مسلم حکومت اپنے ملک میں تبلیغ کی اجازت دے دے تو اس کے بعد اس سے جہاد کرنا جائز نہیں رہتا۔ اگر یہی آپ کا مقصد ہے تو احقر کو اس سے اتفاق نہیں۔ تبلیغ اسلام کے راستے میں رکاوٹ صرف اس کا نام نہیں کہ غیر مسلم حکومت تبلیغ پر قانونی پابندی عائد کردے، بلکہ کسی غیر مسلم حکومت کا مسلمانوں کے مقابلے میں زیادہ پر شوکت ہونا بذات خود دین حق کی تبلیغ کے راستے میں بہت بڑی رکاوٹ ہے‘‘ آگے چل کر لکھتے ہیں : ’’لہٰذا کفار کی اس شوکت کو توڑنا جہاد کے اہم ترین مقاصد میں سے ہے‘‘۔ (ص۔ ۳۰۱، فقہی مقالات، جلد سوم) (حافظ ابو الحِکم محمددانیال، بہار)
جواب
جہاد (بمعنٰی قتال) کا کوئی تعلق نہ مانعین دعوت کے خلاف لڑنے سے ہے اور نہ اس کا مقصد یہ ہے کہ جو لوگ شوکتِ اسلام (بالفاظ دیگر شوکتِ مسلمین) کے قیام کی راہ میں حائل ہوں ان کے خلاف لڑائی کی جائے۔ یہ سب جہاد کی خود ساختہ تعبیریں ہیں جن کا قرآن وحدیث سے کوئی تعلق نہیں۔
جہاد اصلاً پُر امن دعوتی جدوجہد کا نام ہے۔ یہ بات قرآن کی اِس آیت سے واضح طورپر ثابت ہوتی ہے: وجاہدہم بہ جہاداً کبیراً (الفرقان: ۵۲ ) یعنی غیر مسلموں پر قرآن کے ذریعے دعوت و تبلیغ کی پُر امن جدوجہد کرو۔ جہاں تک قتال (جنگ) کا تعلق ہے، وہ اسلام میں صرف ایک مقصد کے لیے جائز ہے، اور وہ حملے کی صورت میںدفاع ہے۔ اس دفاع کی بھی دو لازمی شرطیں ہیں۔ ایک یہ کہ دفاع کا کام صرف ایک قائم شدہ حکومت کرے گی۔ کسی غیر حکومتی گروہ کو کسی بھی حال میں مسلّح جہاد کی اجازت نہیں۔
آج کل لوگوں کا حال یہ ہے کہ وہ شوکتِ اسلام کا لفظ بولتے ہیں، حالاں کہ اس سے مراد صرف شوکتِ مسلمین ہوتا ہے۔ جہاں تک شوکتِ اسلام کا تعلق ہے، وہ ابدی طور پر بالفعل قائم ہوچکا ہے۔ اس سلسلے میں ہمارا کام صرف یہ ہے کہ اسلام کے موافق جو دلائل ظاہر ہوچکے ہیں اُن کو ہر زمانے میں استعمال کرتے رہیں۔ اور جہاں تک شوکتِ مسلمین کا تعلق ہے، وہ سیاسی اعتبار سے آج ۵۷ مسلم ملکوں میں قائم ہے۔ مگر یہ ۵۷ مسلم ملک، بشمول پاکستان، شوکتِ اسلام کا ذریعہ نہ بن سکے۔
سوال
جناب کی ہر تحریر ہر اورجملہ سبق آموز ہے۔ صرف مسلمان ہی کے لیے نہیں بلکہ ہر قوم ، ہر ملت کے افراد کے لیے ۔ قرآن مبین کے علاوہ روئے زمین پر جتنی کتابیں سطور نگار نے پڑھیں، آخر کتاب ختم کرنے کے بعد بات کی وضاحت ہوتی ہے یا پھر خلاصہ کلام پر ۔لیکن اس کے برعکس جناب کا ہر پیراگراف نصیحت سے لبریز ہے۔ سطور نگار آںجناب سے التجا کرتا ہے کہ جناب کے سارے مقالات جو آپ نے اجتماعات میں پڑھے ہیں وہ سب بھی ایک کتابی شکل میں منظر عام پر آجائیں تو نوع انسانی کے لیے مفید ثابت ہوں (محمد ہاشم رنگونی، لندن)
جواب
آپ نے جو تجویز پیش کی ہے وہ پہلے ہی عمل میں آچکی ہے۔ راقم الحروف کے مقالات اور مضامین، انفرادی اصلاح اور اجتماعی اصلاح، دونوں کے بارے میں چھپ چکے ہیں۔ آپ ان کو حاصل کرکے ان کا مطالعہ کرسکتے ہیں۔
حقیقت یہ ہے کہ اس معاملے میں اصل چیز کتاب چھاپنا نہیں ہے، بلکہ کتاب کو پھیلانا ہے۔ آپ جیسے لوگ اپنی ذمّے داری صرف یہ سمجھتے ہیں کہ کتاب چھاپنے کی تجویز پیش کرتے ہیں مگر یہ صحت مند سوچ نہیں۔ صحت مند سوچ یہ ہے کہ آپ یہ سوچیں کہ کتابیں تو چھپ چکی ہیں۔ اب ہماری یہ ذمّے داری ہے کہ ہم ان کتابوں کو لوگوںمیں پھیلائیں۔
میرا تجربہ ہے کہ لوگ دوسروں کے سامنے تجویزیں تو خوب پیش کرتے ہیں مگر یہ نہیںسوچتے کہ اس معاملے میں خود اُن کی اپنی ذمّے داری کیا ہے۔ ایک تعلیم یافتہ مسلمان میرے پاس آئے۔ انھوں نے کہا کہ آپ فلاں موضوع پر کتاب تیارکرکے اس کو چھاپئے۔ میں نے کہا کہ میںنے بہت سے دینی موضوعات پر کتابیں تیار کرکے چھاپی ہیں، ان کے سلسلے میں آپ نے کیا کیا۔ انھوں نے کہا کہ میں نے تو کچھ نہیں کیا۔ میںنے کہا کہ آپ پہلے چھپی ہوئی کتابوں کو پھیلا کر اپنی ذمے داری ادا کیجئے۔ اس کے بعد نئی کتابوں کی تجویز پیش کیجئے۔ اس قسم کا ذہن کوئی صحت مند ذہن نہیں۔
سوال
عرب سے واپس آنے کے بعد میری دلی خواہش تھی کہ میں الرسالہ مشن کے لیے کام کروں۔ یہاں آکر ایک صاحب سے کاروبار میں شرکت کی تو رہی سہی پونجی بھی گنوا بیٹھا۔ ۱۹۹۰ میں شوگر (ذیابیطس) ہوگئی، ساتھ ہی بعض دیگر عوارض نے گھیر لیا، مالی پریشانیوں کے ساتھ ساتھ صحت بھی متاثر ہوئی۔ ان دنوں سخت نقاہت اور کمزوری کا شکار ہوں۔ یہ ضروری محسوس ہوتا ہے کہ کسی مشن کے ساتھ دامے، درمے اور قدمے چلنے کے لیے اچھی صحت اور کسی حد تک معاشی حالت بہتر ہونا ضروری ہے، ورنہ سخنے تک ہی محدود ہونا پڑتا ہے۔
بحمدا للہ تعلیم یافتہ طبقے میںآپ کے قدردانوں کی تعداد برابر بڑھ رہی ہے۔ جن لوگوں نے گیارہ ستمبر (۹؍۱۱) کے بعد پاکستانی صدر پرویز مشرف کا قوم سے خطاب سنا ہے۔ دہشت گردی، انتہا پسندی کی مذمت، جہاد اکبر اور جہاد اصغر کی اصطلاحات وغیرہ کے بارے میں آپ نے جو لکھا یا تلقین کی، کم وبیش الفاظ کے نئے جامے کے ساتھ دہرایا گیا تھا۔ جو بھی معتدل مزاج کے ساتھ سوچے گا اور ملت کا حقیقی خیر خواہ ہوگا وہ تسلیم کرے گا کہ آپ کی سوچ اور فکر ہی صحیح اسلامی سوچ ہے۔ (ماشاء اللہ) اور اس پر عمل ہی سے مسلمانوں کے موجودہ مصائب اور پسماندگی کا خاتمہ ممکن ہے۔ اس کے علاوہ دیگر راستے بربادی کی طرف جاتے ہیں۔ یہاں بہت سے لوگ الرسالہ کے باقاعدہ قاری ہیں۔ (حفیظ الرحمن قریشی، لاہور)
جواب
اکثر لوگ یہی غلطی کرتے ہیں کہ وہ سروس وغیرہ کے ذریعے پیسے کماتے ہیں اور پھر کوئی ایسا شخص اُنھیں مل جاتا ہے جو اُن سے کہتا ہے کہ پیسہ تمہارا، اور محنت ہماری۔ اس طرح آؤ ہم دونوں مل کر کاروبار کریں۔مگر یہ طریقہ تقریباً ہمیشہ ناکام ثابت ہوتا ہے۔ اور پھر صاحب سرمایہ طرح طرح کی بیماریوں میں مبتلا ہو جاتے ہیں اور مایوسی کا شکار ہو کر رہ جاتے ہیں۔
اس طرح کی تجارتی شرکت کو میں عملی طور پر درست نہیں سمجھتا۔ ایسی شرکت ہمیشہ ناکامی پر ختم ہوتی ہے۔ اصل یہ ہے کہ تجارت ہر شخص نہیں کرسکتا۔ اور جو شخص عرصے تک سروس کرکے اس سے ریٹائر ہو وہ تو تجارت جیسے کام کے لیے بالکل نااہل ہوجاتا ہے۔
اب یہ ہوتا ہے کہ جب ایک سروس والا آدمی سرمایہ دیتا ہے اور تجارتی ذہن والا آدمی کام کرتا ہے تو بہت جلد غیر شعوری طورپر محنت کرنے والے آدمی کے اندر یہ ذہن بنتا ہے کہ سارا کام میںکرتاہوں اور یہ شخص صرف ایک بار کچھ پیسے لگا کر کاروبار میں مستقل حصّے دار بن گیا ہے۔ اس طرح دونوں میں دوری کا بیج پڑ جاتا ہے جو بڑھتے بڑھتے اختلاف اور علیٰحدگی کا سبب بن جاتا ہے۔ یہ علیٰحدگی ہمیشہ محنت کرنے والے کی موافقت میں ہوتی ہے اور پیسہ لگانے والے کے خلاف۔ اس بنا پر میری رائے ہے کہ اگر کسی کے پاس مذکورہ قسم کا سرمایہ ہوتووہ اپنے سرمایے کو بینک میں رکھ دے مگر وہ اس سے کاروباری شرکت کا معاملہ ہر گز نہ کرے۔
سوال
میںنے بہت ساری کتابیں، دینی رسالے، بخاری شریف، صحیح مسلم شریف، تاریخ اسلام اور معنٰی سے قرآن بھی پڑھا ہے۔لیکن میں اُن کو سمجھ نہیں پاتی تھی ۔ صرف عقیدے کے اعتبارسے میں اسلام میں شامل تھی لیکن الرسالہ پڑھنے کے بعد اسلام میرے لیے re-discover ہوا، اور میں سنجیدگی سے اسلام کو سمجھنے کی کوشش کرنے لگی۔ گویا مجھے معرفت الٰہی کا راستہ مل گیا۔
آپ کی کتاب پڑھنے سے پہلے میں بن لادن اور صدام جیسے لوگوں کو Islamic Hero اور Terrorist کو اسلامی مجاہدین سمجھتی تھی۔ غیر مسلم سے نفرت کرتی تھی۔ حالانکہ میری 60 فیصدسہیلیاں غیر مسلم ہیں۔ جب میں Hostel میں تھی تب وہ لڑکیاں میرے ساتھ نماز ادا کرتیں، کبھی کبھار رمضان کے ایک دو روزے بھی رکھ لیتی تھیں۔ وہ لوگ قرآن مجھ سے مانگتیں تو میں ہاتھ بھی لگانے نہیں دیتی۔لیکن الرسالہ سے مجھے پتہ چلا کہ اسلام کیا ہے، اس کا اصل مقصد کیا ہے۔ حدیث کو سمجھنے میں مدد ملی۔Dawah & Community Work میں فرق سمجھ میں آیا۔ رسول کی سیرت سمجھ میں آئی۔ اللہ تعالیٰ کے ظاہری صفات کو دیکھنے اور اُن پر غور کرنے کا ذہن بنا۔ انشاء اللہ جب بھی میں practice شروع کروں گی تو میں اپنی سہیلیوں کو ہندی قرآن اور الرسالہ ہندی کی کاپیاں دوں گی۔ میری سہیلیاں اسلام کے بارے میں پوچھتی ہیں۔ الرسالہ کے ذریعے اُن کو جواب دینے کی capability آئی۔ صحیح میں اللہ کے فضل سے میری de-conditioning ہوگئی۔ اللہ تعالیٰ آپ کو جزائے خیر دے۔ آپ کے مشن میں بے انتہا آپ کی مدد کرے اور مجھے خشوع والا ایمان نصیب کرے اور اُس پر خاتمہ کرے، آمین۔ دادا جان کی پُرانی الماری سے مجھے ۱۹۸۰ سے لے کر ۱۹۹۶ تک کا الرسالہ ملا ہے۔ آپ کی مزید کچھ کتابیں مجھے منگوانا ہے۔ (ڈاکٹر رابعہ، مہاراشٹر)
جواب
دوسری دینی کتابیں جو آپ نے پڑھیں اور ان میں آپ کو اطمینان حاصل نہیں ہوا اور ماہنامہ الرسالہ کے مطالعے سے آپ کو اطمینان حاصل ہوا۔ اس کا سبب یہ نہیں تھا کہ ماہنامہ الرسالہ میں دینی بات ہے اور دوسری کتابوںمیں دینی بات نہیںہے۔ حقیقت یہ ہے کہ دونوں ہی جگہ دینی باتیں ہیں۔ دونوں میں جو فرق ہے وہ خود دینی بات کے اعتبار سے نہیں ہے بلکہ وہ اسلوب کے اعتبار سے ہے۔ دوسرے علماء کی دینی کتابوں میں بھی دین ہی کی بات ہوتی ہے۔ مگر وہ قدیم روایتی انداز میں ہوتی ہے جب کہ ماہنامہ الرسالہ میں دین کی بات جدید عصری اسلوب(modern idiom) میں ہوتی ہے۔
اس فرق کی بنا پر ایسا ہے کہ دوسرے علماء کی کتابیں ان لوگوں کو خوب پسند آتی ہیں جو قدیم روایتی ذہن رکھتے ہیں۔ لیکن جو لوگ عصری افکار سے واقف ہیں اور اسلام کو جدید انداز میں سمجھنا چاہتے ہیں اُن کو اپنے ذہن کی تسکین صرف ماہنامہ الرسالہ میںہوتی ہے۔ کیوں کہ ماہنامہ الرسالہ میں جو مضامین چھپتے ہیں وہ سب کے سب زمانی تقاضوں کو سامنے رکھ کر لکھے جاتے ہیں۔اُن میں بالقصد ایسا انداز اختیار کیا جاتا ہے جو آج کے ذہن کو ایڈریس کرنے والا ہو۔
قدیم اسلوب کیا ہے اور جدید اسلوب کیا۔ اس فرق کو سادہ طورپر اس طرح سمجھا جاسکتا ہے کہ قدیم اسلوب کے مطابق، یہ بھی پورے معنوں میں ایک دلیل ہے کہ لکھنے والا یہ لکھے کہ ’’حضرت کا یہ ملفوظ ہے، علماء نے ایسا لکھا ہے، اکابر کی یہ رائے ہے‘‘ وغیرہ۔ اس کے مقابلے میں جدید اسلوب یہ ہے کہ جو بات کہی جائے وہ جدید معیار کے مطابق، دلیل کی زبان میں کہی جائے۔ گویا کہ دونوں میں جو فرق ہے وہ مغزِ کلام کے اعتبار سے نہیں بلکہ اسلوب کلام کے اعتبار سے ہے۔
سوال
قرآن کریم میں ہے کہ غیب کا علم سوائے خدا کے کسی کو نہیں معلوم۔ مگر فرعون کو معلوم تھا کہ ایک لڑکا اس کو ختم کرنے والا ہے۔ کیا یہ بات صحیح ہے (انیس فضل، سکندر آباد)
جواب
روایاتمیںیہ بات آئی ہے کہ فرعون نے ایک خواب دیکھا تھا یا نجومیوں نے اس کو بتایا تھا کہ بنی اسرائیل میں ایک لڑکا پیدا ہونے والا ہے جو فر عون کی سلطنت کو ختم کردے گا۔ مگر یہ بات درست نظر نہیں آتی۔ واضح ہو کہ قرآن یا حدیث میں ایسے کسی خواب یا نجومی کی پیشین گوئی کا حوالہ موجود نہیں ہے۔ یہ بات صرف اسرائیلی روایات (بائبل، تالمود) میں آئی ہے۔ انھیں اسرائیلی روایت سے نقل ہوکر وہ ہماری تفسیروں میں بھی آگئی ہے۔ مگر علمی طورپر یہ بنیاد اس کو ماننے کے لیے کافی نہیں۔
بظاہر جو بات صحیح ہے وہ یہ تھی کہ حضرت یوسف نے اپنے زمانے میں اپنے خاندان کو کنعان سے بلایا اور مصر آکر وہ وہاں کے زرخیز علاقوں میں آباد ہوگئے۔ ان کی نسل بڑھتی رہی یہاںتک کہ چند صدیوں میں وہ لوگ نہایت زور آور ہوگئے۔ حضرت یوسف کے تقریباً پانچ سو سال بعد مصر میں قومی انقلاب ہوا اور وہاں قبطی حکومت قائم ہوگئی۔ اس کے بادشاہ نے فرعون کا لقب اختیار کیا۔
بظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ فرعون کو بنی اسرائیل کا فروغ اپنے لیے ایک سیاسی خطرہ نظر آیا۔ اس نے مختلف طریقوں سے بنی اسرائیل کے زور کو توڑنے کی کوشش کی۔ ان میں سے ایک بنی اسرائیل کی محدود نسل کشی بھی ہے۔ اگر یہ نسل کشی مطلوب نوعیت کی ہوتی تو جلد ہی بنی اسرائیل کا وجود مٹ جاتا، اور حضرت موسیٰ کے زمانے میں خروج کی نوبت ہی نہ آتی۔
سوال
میںآپ کے الرسالہ کا قریب پانچ سال سے مطالعہ کررہا ہوں۔ آپ کے positive approach کا قائل ہی نہیں بلکہ موجودہ حالات میں اس کو بہت ضروری سمجھتا ہوں۔
لیکن کیا کسی چیز کو صحیح ٹھہرانے کے لیے کسی اور کو غلط کہنا ضرور ی ہے۔ کیا کسی کی تعریف کرنے کے لیے یہ ضروری ہے کہ دوسرے کی برائی کی جائے۔ جولائی ۲۰۰۴ کا الرسالہ میرے مطالعے میں ہے۔ کچھ سوالات ہمارے ذہن میں آئے ہیں۔ امید کرتا ہوں آپ الرسالہ ہی کے ذریعے جواب دیں گے،مشکور ہوں گا۔
۱۔کیا آپ اپنے صحیح مشن کی طرف بغیر مولانا مودودی، ڈاکٹر اقبال اور علّامہ یوسف القرضاوی کو بُرا بھلا کہے آگے نہیں بڑھ سکتے۔
۲۔ کیا دین اسلام کو صرف آپ ہی نے ٹھیک ٹھیک سمجھا ہے، باقی علماء گمراہ ہیں۔
۳۔ کسی جماعت کو کریڈٹ یا discredit دینے کا حق کس کو ہے۔ ایک شخص کو، عوام کو یا کسی ایجنسی کو۔
ہوسکتا ہے یہ سوالات آپ کی نظر میں اہمیت نہ رکھتے ہوں لیکن وہ ہمارے لیے کافی اہمیت کا باعث ہیں (سید غیاث الدین، رانچی)
جواب
یہ میرے اوپر ایک بے بنیاد الزام ہے کہ میں کسی کو برا بھلا کہتا ہوں۔ میری کسی بھی تحریر سے یہ ثابت نہیں کیا جاسکتا کہ میں نے کبھی وہ کام کیا ہے جس کو برا بھلا کہنا بتایا جاتا ہے۔ میں جو کچھ کرتا ہوں وہ تجزیاتی تنقید ہوتی ہے اور دونوں میں اتنا زیادہ فرق ہے کہ ایک سر تا سر ناجائزہے اور دوسرا جائز۔ حقیقت یہ ہے کہ میری تحریروں پر اس قسم کا تبصرہ وہی شخص کرسکتا ہے جو یہ نہ جانتا ہو کہ برا بھلا کہنے اور تجزیاتی تنقید کرنے میں کیا فرق ہے۔
کسی کو برا بھلا کہنا ایک حرام فعل ہے۔ اس فعل کو وہی شخص کرسکتا ہے جو خدا کی پکڑ کا خوف نہ رکھتا ہو۔ جہاں تک علمی تنقید کا تعلق ہے، وہ زندہ لوگوں کی علامت ہے۔ چنانچہ علمی تنقید اسلام کے ہر دور میں جاری رہی ہے۔ اصحاب رسول، تابعین، تبع تابعین، فقہاء، علماء، رہنما اور مفکرین اور مصنفین، ہر گروہ میں اور ہمیشہ علمی تنقید کارواج رہا ہے۔ آپ چاہیں تو اس کی تاریخی تفصیل راقم الحروف کی کتاب دین انسانیت میں دیکھ سکتے ہیں۔ حتٰی کہ آپ نے اپنے سوال میں جن شخصیتوں کے نام لیے ہیں خود ان کی نثر ونظم میں بھی کثرت سے تنقید کی مثالیں موجود ہیں۔ مثال کے طور پر اقبال کے بہت سے تنقیدی اشعار میں سے ایک شعر یہ ہے:
وضع میںتم ہو نصاریٰ تو تمدّن میں ہُنود یہ مسلماں ہیں جنھیںدیکھ کے شرمائیں یہود
سوال
ایک بڑی جماعت ہے جس کا نام ’’جماعت المسلمین‘‘ ہے۔ مسلمانوں کی یہ جماعت اس بات پر بہت زور دیتی ہے کہ اسلام میں فرقہ بندی نہیں بلکہ فرقہ بندی شرک ہے، لعنت ہے، کفر ہے اور عذاب ہے بلکہ فرقہ بندی حرام بھی ہے— ولاتفرقوا (القرآن)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میری امت کے ۷۲ فرقے جہنم میں جائیںگے اور ایک فرقہ جنتی ہے ،اور وہ ’’الجماعۃ‘‘ ہے۔
کتاب اللہ اور فرمانِ رسول کے مطابق، ـتمام مسلمانوں کو جماعت المسلمین سے جڑنا چاہیے اور اُس کے امیر کی اطاعت کرنی چاہیے اور تمام فرقوں سے علیٰحدہ رہنا چاہیے۔
تلزم جماعۃ المسلمین و امامہم۔ فاعتزل تلک الفرق کلہا (متفق علیہ) مزید برآں جماعت المسلمین کہتی ہے کہ اسلام نے اجتماعیت کو فر ض قر ار دیا ہے۔ علیکم بالجماعۃ وإیاکم والفرقۃ (ابو داؤد)
اور امیر کی بیعت نہ کرنے والا جاہلیت (کفر) کی موت مرتا ہے۔ لہٰذا ہر مسلم کو جماعت المسلمین کے امیر کے ہاتھ پر بیعت کرنی چاہیے۔ من مات ولیس فی عنقہ بیعۃ مات میتۃ جاہلیۃً (صحیح مسلم)
لہذا حکم رسول کے بموجب، جماعت المسلمین کے علاوہ تمام فرقوں سے دینی معاملات میں علیٰحدگی اختیار کرنی چاہیے۔ تاکہ ہر مسلم کی موت اسلام پر ہو نہ کہ فرقہ وارانہ مذاہب پر۔ مزید براں کہ جماعت المسلمین کے افراد اپنی جماعت کے علاوہ کسی مسلمان کو مسلم نہیں سمجھتی اور تمام دینی امور مثلاً صلوٰۃ، نمازِ جنازہ، شادی بیاہ اور رویت ہلال وغیرہ میںامت سے الگ رہتی ہے۔
براہِ کرم آپ کتاب وسنت کی روشنی میں وضاحت کریں کہ آیا اس قسم کا عقیدہ اسلامی تعلیمات کے مطابق ہے یا یہ عقیدہ غُلو میں داخل ہے جس سے قرآن نے سختی سے روکا ہے (لا تغلوا فی دینکم) (عبد اللطیف، کراچی)
جواب
مجھ کو قرآن وحدیث کا جو علم ہے اس کی روشنی میں میں کہوں گا کہ یہ خود سب سے بڑا گناہ ہے کہ کچھ لوگ بطورِ خود ایک جماعت بنائیں اور اس کا نام’’الجماعت ‘‘ رکھ کر یہ کہیں کہ یہی وہ’’الجماعت‘‘ ہے جس کا ذکر حدیثِ رسول میںآیا ہے۔ جو شخص ہماری جماعت میں شامل ہو وہ حق پر ہے اور جو اس میں شامل نہ ہو وہ باطل پر ہے۔ اس قسم کا فعل جماعت بندی یا فرقہ بندی ہے، اور یہی وہ تفرق ہے جس سے قرآن اور حدیث میں منع کیا گیا ہے۔
اس سلسلے میں مختلف حدیثوں کا مطالعہ کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ اسلام میں یہ مطلوب ہے کہ لوگ ہمیشہ اُمت کے مجموعے سے جُڑے رہیں، وہ امت کے مجموعے کو مختلف ٹکڑوں میں تقسیم نہ کریں۔ میرے نزدیک امت سے وابستہ رہنے کی تاکید جو حدیث میں کی گئی ہے وہ دُنیوی اتحاد کے اعتبار سے ہے۔ دنیا میں مسلمان ٹکڑے ٹکڑے ہو کر بحیثیت امت کمزور نہ ہوجائیں، اِس کے لیے ضروری ہے کہ لوگ اختلاف کے باوجود متحد ہو کر رہیں۔ اختلاف کی حالت میں اُس کے اوپر کوئی دینی فتویٰ نہ لگائیں بلکہ اجتماعیت کو برقرار رکھتے ہوئے اس کے معاملے کو خدا کے اوپر ڈال دیں۔ اسی لیے علماء نے یہ فتویٰ دیا ہے کہ: لا نکفّر من أہل القبلۃ۔ یعنی جو شخص قبلے کی طرف رُخ کرکے نماز ادا کرے اس کی تکفیر نہیں کی جائے گی۔
جہاں تک اُس ’’الجماعت‘‘ کی بات ہے جو آخرت میں جہنم سے محفوظ رہے گی اور جنت میں جگہ پائے گی، اُس کا تعلق کسی خود ساختہ جماعت یا فرقے سے نہیں بلکہ اس کا تعلق ایک ایسے گروہ ِ افراد سے ہے جو اللہ تعالیٰ کے نزدیک ’’الجماعۃ‘‘ قرار پائے۔
مذکورہ حدیث میں جس ’’الجماعۃ‘‘ کا ذکر ہے اس سے مراد معروف معنوں میں کوئی تنظیم نہیںہے۔ کسی خود ساختہ جماعت کو ’’الجماعۃ‘‘ کہنا اپنے آپ کو اِس خطرے میں ڈالنا ہے کہ ایسے لوگ کبھی ’’الجماعت‘‘ (فرقۂ ناجیہ) میں شامل نہ کیے جائیں۔ حقیقت یہ ہے کہ اس حدیث میںالجماعت سے مراد متفرق افراد کا گروہ ہے نہ کہ کوئی منظم جماعت، جو صدر اور سکریٹری کے تحت وجود میں آتی ہے۔ اس مطلوب الجماعت کی پہچان یہ ہے کہ وہ مَن کان علی ما أنا علیہ وأصحابی(ابوداؤد) کا مصداق ہو۔ یعنی وہ پوری سنجیدگی اور دیانت داری کے ساتھ رسو ل اور اصحاب رسول کو اپنا اُسوہ بنائے۔ وہ ہر معاملے میں یہ دیکھے کہ دورِ اوّل میں جب اس قسم کی صورت حال پیدا ہوئی تو رسول اور اصحابِ رسول نے اُس موقع پر کس قسم کی روش اختیار کی۔ اورپھر رسول اور اصحاب رسول کے یہاں جو روش ملے اُس کو کسی تاویل کے بغیر اختیار کرلے۔
آپ نے اپنے خط میں جس جماعت کا ذکر کیا ہے وہ بلاشبہہ اُس برائی کا شکار ہے جس کو قرآن اور حدیث میں غُلو کہا گیا ہے۔ جب آپ کسی کو ایسی حالت میں دیکھیں جو آپ کے نزدیک بُرائی ہے تو آپ کو صرف یہ حق ہے کہ پوری خیر خواہی اور دل سوزی کے ساتھ اس کو نصیحت کریں، اور اپنی تنہائیوں میں اس کے لیے رو کر دعا کریں۔ ضروری دلائل کے ساتھ اس کو مطمئن کرنے کی کوشش کریں تاکہ وہ اپنی بری روش کو چھوڑ دے۔ اس قسم کی پُر امن اور خیر خواہانہ نصیحت کا حق ہر شخص کو ہے۔ لیکن جب کوئی شخص نصیحت سے آگے بڑھ کر یہ کرے کہ وہ برائی کرنے والے پر حُکم لگانے لگے، وہ برائی کرنے والے کا بائیکاٹ کرے، وہ برائی کرنے والے کے خلاف تشدد کو جائز سمجھے تو یہ دوسری صورت غلو کی صورت ہوگی اور غلو بلا شبہہ اسلام میں جائز نہیں۔
سوال
ایک مقرر صاحب نے دورانِ خطاب آپ کے بارے میں کہا کہ آپ جہاد کے بارے میں کہتے ہیں کہ محدثین کرام نے کتاب الجہاد وغیرہ باب باندھے لیکن کتاب الدعوات وغیرہ جیسے باب نہیں باندھے۔ یہ ایک آپ کا تنقیدی پہلو ہے اورعلماء سوء وغیرہ کہہ رہے تھے کہ ایسے عالم کا اعتراض کوئی معمولی نہیں ۔ گویا ان کی تنقید کا انکاری پہلو انکار جہاد ہے اور رسول ﷺ پر تنقید کرنا ، آپ پر عیب لگانے کے برابر، اور آپؐ پر تنقید کرنے کے برابر ہے۔
ہم اس کی وضاحت چاہتے ہیں۔ چونکہ آپ دین اسلام کی خاطر اتنی کتابیں تالیف وتصنیف کرتے ہیں۔ پھربھی آپ پر یہ الزام حقیقی ہے یا آپ سے سہو ہوا ہے اور آپ بتقاضۂ بشریت تسلیم کرتے ہیں کہ مجھ سے فلاں غلطی ہوئی۔ (عتیق الرحمن قریشی، کرناٹکی)
جواب
میں نے جو بات لکھی ہے اس کا تعلق حدیث سے نہیں ہے بلکہ اُس کا تعلق تدوین حدیث سے ہے۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی جو احادیث ہیں خود اُن میں کثرت سے دعوت یا دعوت کے متعلق موضوعات کا بیان موجود ہے۔ مگر تدوین کا تعلق ان لوگوں سے ہے جن لوگوں نے احادیث کو مرتب اور مدوّن کیا۔ اس اعتبار سے یہ ایک واقعہ ہے کہ حدیث کے موجودہ مجموعوں میں اُن کے مرتبین نے کتاب الدعوۃ والتبلیغ کا باب قائم نہیں کیا۔ ان مجموعوں کے اندر ہم کثرت سے ایسی حدیثیں پاتے ہیں جن میں دعوت کا پہلو موجود ہے۔ میں نے اپنی کتابوں اور تحریروں میں ایسی احادیث کو کثرت سے نقل کیا ہے۔ مگر جہاں تک مرتبین حدیث کی بات ہے، اُنھوں نے احادیث کو مرتب کرتے ہوئے دوسرے ابواب تو قائم کیے مگر کتاب الدعوہ والتبلیغ کی فصل قائم نہیں کی۔
اس معاملے میں جو کچھ میںنے کہا ہے وہ ایک علمی بات ہے۔ اگر کسی صاحب کا خیال ہے کہ میرا قول درست نہیں تو وہ حدیث کے مجموعوں کا حوالہ دیکھ کر بتائیں کہ ان میں کتاب الدعوۃ والتبلیغ کہاں ہے۔ ایسا کہنا صرف بے بنیاد (سب وشتم) ہے۔ وہ کوئی علمی اعتراض نہیں۔
سوال
الرسالہ جولائی ۲۰۰۴ ’’واردھا کا سفر‘‘ ابھی ابھی تمام ہوا۔ صفحہ ۲۰ پرآپ نے لکھا ہے کہ ’’گوتم بدھ دراصل ذو الکفل کی بدلی ہوئی صورت ہے‘‘۔ مگر بظاہر یہ نظریہ ناقابل فہم معلوم ہوتا ہے۔‘‘…
میرے نزدیک قصہ یوں ہے کہ گوتم بدھ کا تعلق کپل وستو سے تھا۔ دہلی یا دلی کی نسبت سے دہلوی، دلی والی یا دلی والا بولنا سمجھنا عام ہے اسی طرح کپل والا کو ذوالکفل کا مترادف سمجھ کر گوتم بدھ کی طرف بعض علماء و مفسرین کا ذہن گیا ہے۔ دوسرے گوتم بدھ کی سیرت اور تعلیمات پر نگاہ رکھتے ہوئے مولانا گیلانی (مؤلف سوانح قاسمی) ’’النبی الخاتم‘‘ میںیہ تحریر فرماتے ہیں کہ ’’اللہ پاک نے طلوع اسلام سے پہلے ایشیا کے بہت بڑے خطے کو مشرکانہ افکار سے پاک کرنے اور توحید کا پیغام عام کرنے کے لیے گوتم بدھ سے کام لیا تاکہ اسلام کے لیے مستقبل کی زمین ہموار ہورہے اور تاریخی اعتبار سے ایسا ہی ہوا‘‘ اس لیے استنباطاً یا قیاساً انھیں (گوتم بدھ کو) اس زمرے میں شامل ہونے کا امکان ظاہر کیا جاتا ہے جس کی طرف آپ نے مذکورہ بالا صفحے پر اشارہ فرماتے ہوئے اسے ناقابل فہم قرار دیا ہے۔ براہِ مہربانی اس کی وضاحت کریں۔ (محمد رضوان احمد خاں، شیخ پورہ، بہار)
جواب
جو لوگ گوتم بدھ کو پیغمبر بتاتے ہیں ان کے پاس اس کے لیے کوئی تاریخی دلیل موجود نہیں۔ ذوالکفل سے دور کی لفظی مشابہت کوئی قابل قبول ثبوت نہیں ہوسکتی۔ مزید یہ کہ گوتم بُدھ کے یہاں صرف انسانی اخلاقیات کی تعلیم ہے۔ خدا کے وجود یا توحید کا تصور ان کے یہاں موجود نہیں ہے۔ ایسی حالت میں گوتم بُدھ کو پیغمبر بتانا محض ایک لفظی نکتہ ہے، نہ کہ کوئی دلیل۔
اس قسم کی دلیل کو اگر معتبر مانا جائے تو یہ کوئی سادہ بات نہ ہوگی۔ آپ ایسا نہیں کرسکتے کہ ایک اُصولِ استدلال کو آپ اپنے لیے استعمال کریں اور جب اس اصول استدلال کو لے کر دوسرا شخص اپنے حق میں کوئی دلیل قائم کرے تو اس کو ماننے سے انکار کردیں۔ غالباً آپ کو معلوم ہوگا کہ لفظی مشابہت کے اس طریقۂ استدلال کو لے کر لوگوں نے ہر غلط عقیدے کو قرآن میں دریافت کرلیا ہے اور مزید اس قسم کی دریافت کا سلسلہ جاری ہے۔
سوال
پوجیہ ور مولانا صاحب! آداب وتسلیمات
کتاب ’’تذکرۃ الاولیاء‘‘ میں حضرت با یزید بُسطامی ؒ کا جیون چرتّر پڑھا۔اس میں آیا ہے: ’’کسی نے آپ سے پوچھا کہ آپ رات کو نماز کیوں نہیں پڑھتے؟ فرمایا کہ مجھے عالَمِ مَلکوت (یعنی عالم ارواح) کے چکر لگانے سے فرصت نہیں ملتی۔ اس کے علاوہ لوگوں کی اعانت کرتا رہتا ہوں۔‘‘
اس جواب سے یہ پتہ نہیں چلتا کہ آپ عالم ملکوت کے چکر رات بھر کیوں لگاتے رہتے تھے؟ کِرپا کرکے اس کو سمجھانے کی مہربانی کریں۔ اس کی پرارتھنا ہے۔ کَسٹ کے لیے چھما چاہتا ہوں۔ سب کو سادَر سلام، پَرنام۔
آپ کا کرپا پاتر رام دیو
GH-4/276, Paschim Vihar
New Delhi- 110063
جواب
بھائی رام دیو جی! آداب وتسلیمات
آپ کا خط مورخہ ۱۴ جولائی ۲۰۰۵ ملا۔ یہ جان کر خوشی ہوئی کہ آپ کو روحانیت کے سبجیکٹ میں انٹرسٹ ہے۔ خدا اس معاملے میں آپ کی بھرپور مدد کرے۔
میں بھی روحانیت کا ایک طالب علم ہوں۔ اگر چہ میں کوئی پروفیشنل صوفی نہیں ہوں۔ مگر روحانیت میری فطرت میں بسی ہوئی ہے۔ اگر میں یہ کہوں تو غلط نہ ہوگا کہ میں روحانیت میں جیتا ہوںاور روحانیت میں صبح و شام کرتا ہوں۔
میرا تجربہ ہے کہ لوگ روحانیت کے نام پر ایک اور چیز کو لیے ہوئے ہیں۔ وہ روحانیت کے نام سے روحانیت کی صرف ایک کمتر صورت (reduced form) کو جانتے ہیں۔
تذکرۃ الاولیاء اور اس طرح کی دوسری تمام کتابیں روحانیت کو جاننے کا صرف ناقص ذریعہ ہیں۔ یہ کتابیں دو قسم کی غیر متعلق باتوں سے بھری ہوئی ہیں—فرضی تمثیلات، اور فرضی کہانیاں۔ آپ نے ایک صوفی کے ’’ملکوتی سفر‘‘ کے بارے میں جو بات لکھی ہے، وہ محض ایک بے بنیاد کہانی ہے۔ اُس کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں۔
اصل یہ ہے کہ پرنٹنگ پریس اور جدید میڈیا کے زمانے سے پہلے ہر جگہ قصہ گو (story tellers) ہوا کرتے تھے۔ یہ لوگ انوکھی کہانیاں بنا بنا کر لوگوں کو سنایا کرتے تھے۔ یہ گویا قدیم زمانے میں تفریح (entertainment) کا ایک سادہ ذریعہ تھا۔ بعد کو یہ کہانیاں لکھ لکھ کر کتابوں میں جمع ہو گئیں۔ پھر وقت گذرنے کے بعد وہ مقدس ہوگئیں۔ مسیحی روایات میں اِن کہانیوں کو ’’مقدس فریب‘‘ (pious fraud)کہا جاتا ہے۔ اور اسلام میں ان کو ’’موضوعات‘‘ کہاگیا ہے۔ ہندو کلچر میں بھی اس قسم کی بے اصل کہانیاں بھری ہوئی ہیں جن کو ’’دیومالائی کہانیاں‘‘ کہا جاتا ہے۔
ہم سینٹر فار پیس اینڈ اسپریچولٹی (CPS)کے تحت صحیح روحانیت کو زندہ کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔ اس روحانیت کو آپ سائنٹفک روحانیت (Scientific spirituality) کہہ سکتے ہیں۔ اس سلسلے میں ہم نے بہت سی کتابیں شائع کی ہیں۔ اس کے علاوہ ہر ہفتے ہمارے یہاں اسپریچول کلاس نیز دوسرے پروگرام ہوتے ہیں۔ ہماری اس تحریک کے ساتھ بہت سے لوگ جڑے ہوئے ہیں۔ خدا کے فضل سے روحانی احیاء کا یہ کام مسلسل آگے بڑھ رہا ہے۔
واپس اوپر جائیں

خبرنامہ اسلامی مرکز ۱۷۲

۱۔ نئی دہلی میںانڈیا انٹرنیشنل سینٹر کے نام سے ایک ادارہ ہے جو ایشیا کا سب سے بڑا ادارہ سمجھا جاتا ہے۔ حال میں اُس کے تحت صدر اسلامی مرکز کے تین پروگرام ہوئے۔ ایک خود انڈیا انٹرنیشنل سینٹر کے زیر انتظام اور دو گڈورڈ بکس(Goodword Books) کے زیرِ انتظام ۔ ان کی تفصیل یہ ہے:
۱۔ دی مسیج آف قرآن (The Message of Quran) یکم مئی ۲۰۰۵۔
۲۔ اسنس آف اسلام (Essence of Islam) ۵ جولائی ۲۰۰۵۔
۳۔ گاڈ اینڈ ہز کرییشنپلان(God and His Creation Plan) ۱۰ جولائی ۲۰۰۵۔
یہ تینوں پروگرام کافی کامیاب رہے۔ ہر ایک میں ہندو اور مسلمان دونوں طبقے کے تعلیم یافتہ افراد نے شرکت کی۔ تینوں پروگراموں کے موقع پر اسلامی مرکز کا بک اسٹال رکھا گیا۔ لوگوں نے بڑی تعداد میں کتابیں اور پمفلٹ اور بروشر حاصل کیے۔
۲۔ مظفر نگر کے ایک گاؤں میں ۴ جون ۲۰۰۵ کو ایک واقعہ ہوا۔ اخباری رپورٹ کے مطابق، ایک مسلم خاتون عمرانہ کے خسر علی محمد نے عمرانہ کے ساتھ جنسی زیادتی کی (شوہر کا نام نور محمد ہے)۔ یہ واقعہ میڈیا میں بہت زیادہ پھیلا۔ یہ واقعہ انگریزی میگزین آؤٹ لُک کے شمارہ ۱۸ جولائی ۲۰۰۵ میں تفصیل کے ساتھ شائع ہوا ہے۔ اسٹار نیوز نے اس واقعے پر ۶ جون ۲۰۰۵ کو صدر اسلامی مرکز کا انٹرویو لیا۔ جوابات کا خلاصہ یہ تھا کہ دستیاب معلومات کے مطابق، اس معاملے میں عمرانہ قصور وار نہیں ہے بلکہ اُس کا خُسر قصور وار ہے۔ دوسری بات یہ کہ ہندستان میں سزا دینے کا اختیار کسی دارالافتاء یا دار القضاء کو نہیں ہے۔ اُس کا اختیار تمام تر صرف ملکی عدالت کو ہے۔
۳۔ اسٹار نیوز (نئی دہلی) نے عمرانہ کے واقعہ (۴ جون ۲۰۰۵) پر صدر اسلامی مرکز کا دوسرا انٹرویو لیا۔ یہ انٹرویو لائیو ٹیلی کاسٹ ہوا۔ اس میں جو بات کہی گئی اس میں سے ایک یہ تھی کہ ہم کو اس معاملے میں میڈیا سے شکایت نہیں ہونی چاہیے۔ اس کا کوئی فائدہ نہیں۔ اصل ضرورت یہ ہے کہ مسلمانوں کے اندر اصلاح معاشرہ کی تحریکیں چلائی جائیں اور مسلمانوں کو زیادہ سے زیادہ تعلیم یافتہ بنایا جائے۔
۴۔ نئی دہلی کے ہندی روزنامہ مہا میگھا کے نمائندہ مسٹر سنجے کمار شاہ نے ۱۰ جون ۲۰۰۵ کو صدر اسلامی مرکز کا تفصیلی انٹرویو ریکارڈ کیا۔ سوالات کا تعلق زیادہ تر مسلم تہذیب اور مسلم عورتوں کے مسائل سے تھا۔ جوابات کا خلاصہ یہ تھا کہ اسلام میںعورتوں کو پورے معنوں میں مرد کے برابر درجہ دیا گیا ہے۔ موجودہ زمانے میں اگر اِس اعتبار سے مسلم سماج میں کچھ کمی نظر آتی ہے تو وہ خود مسلمانوں کے اپنے عمل کی بنا پر ہے۔ اس کا تعلق اسلامی تعلیمات سے نہیں۔
۵۔ ۲۵ جون ۲۰۰۵ کو ای ٹی وی (نئی دہلی) کی ٹیم نے صدر اسلامی مرکز کا انٹرویو ریکارڈ کیا۔ اس کا تعلق مظفر نگر کے واقعہ (۴جون ۲۰۰۵) سے تھا۔ جواب میں کہا گیا کہ اس معاملے میں مسلم علماء کی طرف سے جو رویّہ سامنے آیا وہ درست نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ اس معاملے میں عمرانہ بے قصور ہے۔ سارا قصور اس کے خسر کا ہے۔ مگر علماء نے برعکس فتوے دے کر خواہ مخواہ اسلام کو بدنام کیا ہے۔ یہ فتویٰ تمام مسلم علماء کا نہیں ہے۔ بلکہ صرف دیوبندکے علماء کا فتویٰ ہے۔ جہاں تک سلفی علماء کا تعلق ہے، وہ اس فتوے سے اتفاق نہیں کرتے۔
۶۔ بی بی سی لندن کے کرسپانڈنٹ مسٹر شکیل اختر نے ۲۹ جون ۲۰۰۵ کو صدر اسلامی مرکز کا تفصیلی انٹرویو ریکارڈ کیا۔ سوالات کا تعلق زیادہ تر آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ سے تھا۔ جوابات کا خلاصہ یہ تھا کہ ۱۹۴۷ کے بعد ہندستان میں دو آل انڈیا مسلم تنظیمیں بنی ہیں، آل انڈیا مسلم مجلس مشاورت اور آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ۔ یہ دونوں تنظیمیں حالات کے ری ایکشن کے تحت ہی بنیں۔ آل انڈیامسلم مجلس مشاورت فرقہ وارانہ فساد کے ردّ عمل کے تحت بنی اور آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ شاہ بانو کے کیس پرسپریم کورٹ کے فیصلے کے ردّ عمل میں بنا۔ یہ دونوں تنظیمیں ’’میری تعمیر میںمضمر ہے ایک صورت خرابی کی‘‘ کا مصداق تھیں۔ اس لیے دونوں تنظیمیں بے نتیجہ رہیں۔ یہ فطرت کا قانون ہے کہ اس دنیا میں منفی عمل سے کبھی کوئی مثبت نتیجہ نہیں نکلتا۔
۷۔ فاؤنڈیشن فار یونٹی آف ریلیجنز اینڈ انلائٹنڈ سٹیزنشپ (FUREC) کے زیر اہتمام نئی دہلی میں ایک دھرم سمّیلن ہوا۔ اس کی کارروائی اَدھیاتم سادھنا کیندر (مہرولی) میں ہوئی۔ اس میں مختلف مذاہب کے نمائندوں نے شرکت کی۔ اس کی دعوت پر صدر اسلامی مرکز اس میں شریک ہوئے اور روحانیت کے موضوع پر ایک تقریر کی۔ انھوں نے کہا کہ ہماری آج کی دنیا امتحان کے لیے بنائی گئی ہے۔ اس لیے یہاں پھول کے ساتھ کانٹے ہیں۔ یہاں ہر قسم کے مسائل ہیں جن کو قرآن میں کبد کہا گیا ہے۔ انسان کو یہ کرنا ہے کہ وہ ان مسائل کے خلاف چیخ پکار نہ کرے۔ بلکہ وہ ان مسائل کے درمیان مثبت زندگی گزارے۔ اسی کا نام روحانیت ہے۔ یہ سیمینار ۳۰ جون ۲۰۰۵ کو مہرولی میں ہوا۔ اس کے کوآرڈینیٹر بریگیڈئر پی کے لنگر تھے۔
۸۔ گاڈس گریس فاؤنڈیشن (God's Grace Foundation) دہلی کا ایک تعمیری ادارہ ہے۔ اس کے ڈائریکٹر ڈاکٹر سید ظفر محمود ہیں۔ اس ادارے کے تحت، یکم جولائی ۲۰۰۵ کو ایک انٹرنیشنل سیمینار ہوا۔ اس میں امریکا کے آٹھ پروفیسر شریک ہوئے۔ انڈیا سے ہر مذہب کے نمائندوں نے شرکت کی۔ اس کی دعوت پر صدر اسلامی مرکز بھی اس میں شریک ہوئے۔ اِس سیمینار کا موضوع یہ تھا:
Interfaith Bridge-building Session
صدر اسلامی مرکز نے اپنی تقریر میں قرآن اور حدیث کی روشنی میں مذکورہ موضوع پر خطاب کیا۔ اس سیمنار کی کارروائی سردار پٹیل بھون (نئی دہلی) میں ہوئی۔ صدر اسلامی مرکز کے ساتھ اسپریچول کلاس کے گیارہ اَفراد شریک ہوئے۔ اِن اَفراد نے سیمینار کے شُرکاء سے ملاقاتیں کیں اور ان کو اسلامی لٹریچر دیا۔ لوگوں نے بہت شوق سے اسلامی لٹریچر کو لیااور کہا کہ وہ ضرور اس کا مطالعہ کریں گے۔
۹۔ یو۔ این ۔ آئی (نئی دہلی) کی نمائندہ ناز اصغر نے ٹیلیفون پر ۲؍ جولائی ۲۰۰۵ کو صدر اسلامی مرکز کا انٹرویو لیا۔ سوالات کے جواب میں بتایا گیا کہ مسلمانوں میں پانچ بڑے فقہی اسکول ہیں—مالکی، حنبلی، شافعی، حنفی اور جعفری۔ ہر مکتب فکر کے علماء اپنے مسلک پر فتوے دیتے رہتے ہیں۔ ان میں سے کسی کے فتوے کو شرعی فتویٰ نہیں کہا جاسکتا ۔ ہر فتویٰ اپنے فقہی اسکول کی طرف منسوب رہے گا اور لوگوں کو یہ حق باقی رہے گا کہ وہ قرآن و حدیث کی روشنی میں اس کو جانچیں اور اگر وہ پائیں کہ یہ فتویٰ قرآن و حدیث سے مطابق نہیں ہے تو وہ اس کو ردّ کردیں۔
۱۰۔ نئی دہلی کے انگریزی اخبار وجے ٹائمس (Vijay Times) کی نمائندہ دیکشا چوپڑا نے ۲ جولائی ۲۰۰۵ کو صدر اسلامی مرکز کا تفصیلی انٹرویو لیا۔ اس انٹرویو کا تعلق زیادہ تر انڈیا کے مسلمانوں کے مسائل سے تھا۔ جوابات کا خلاصہ یہ تھا کہ یہ بات اپنی جگہ صحیح ہے کہ انڈیا کے مسلمان مختلف قسم کے مسائل سے دوچار ہیں مگر ان مسائل کے بارے میں یہ سمجھنا غلط ہے کہ ان کا سبب مذہب اسلام ہے۔ ان مسائل کے اسباب کچھ اور ہیں۔ مثلاً عمرانہ (۴ جون ۲۰۰۵) کے واقعے کا سبب جہالت ہے۔ جس کا اظہار اس سے ہوتا ہے کہ عمرانہ کا شوہر نور محمد ایک رکشہ چلانے والا ہے۔ تعلیم یافتہ مسلمانوں کے درمیان اس قسم کے مسائل نہیں ہیں۔ اسی طرح کٹر پن بھی کم پڑھے لکھے مسلمانوں کا ظاہرہ ہے۔ تعلیم یافتہ مسلمانوں میں یہ چیز موجود نہیں ہے۔ ایک اور سوال کے جوا ب میں بتایا گیا کہ مسلمانوں کے مسائل کا حل کامن سول کوڈ نہیں۔ کامن سول کوڈ جیسا ایک ایکٹ (سول میرج ایکٹ) آج بھی موجود ہے مگر ہندستانی سماج پر اس کا اثر ایک فی صد بھی نہیں۔ ان مسائل کو صحیح طورپر سمجھنے کے لیے ضروری ہے کہ اسلام اور مسلمانوں میں فرق کرتے ہوئے ان کو دیکھا جائے۔
۱۱۔ روزنامہ دَینک جاگرن (نئی دہلی) کے نمائندہ ارشد فریدی نے ۲ جولائی ۲۰۰۵ کو صدر اسلامی مرکز کا انٹرویو لیا۔ سوالات کا تعلق مظفر نگر کے واقعہ (۴ جون) سے تھا۔ جواب میں بتایا گیا کہ اس معاملے میں علماء اور جماعتوں کا فتویٰ غلط ہے۔ اسلام کے مطابق، سزا برا فعل کرنے والے کو ملے گی نہ کہ بالجبر برے فعل کا شکار ہونے والے کو۔ میرے نزدیک اس معاملے میں عمرانہ بے قصور ہے۔ اس معاملے کی تفصیلی روداد انگریزی میگزین آؤٹ لُک (Out Look) کے شمارہ ۱۸ جولائی ۲۰۰۵ میں دیکھی جاسکتی ہے۔
۱۲۔ اٹلی میں ایک تنظیم ایسوشیزون کلچریل ارمونیا(Associazione Culturale Armonia) کے نام سے ہے۔ اُس کا صدر دفتر نوالے (Noale) میں قائم ہے۔ اس تنظیم کا ایک وفد اُس کے صدر ایٹمبری ماریو (Atombri Mario) کی قیادت میں ۳ جولائی ۲۰۰۵ کو نئی دہلی آیا اور صدر اسلامی مرکز سے ملاقات کی۔ اُنھوں نے تقریباً دو گھنٹے تک اسلام اور روحانیت کے موضوع پر گفتگو کی۔ اسلام کے روحانی تصور سے وہ بہت متاثر ہوئے۔ اُنھیں اسلامی مرکز کی انگریزی مطبوعات دی گئیں۔ اس کے علاوہ ان کی فرمائش پر اُن کو یہ دعا لکھ کر دی گئی: اَللہم أنت السلام ومنک السلام وإلیک یرجع السلام، اللہم حیینا بالسلام وادخلنا دارک دار السلام۔ تبارکت ربنا وتعالیت یا ذا الجلال والاکرام۔ اس دعا کو اُنھیں رومن رسم الخط میں لکھ کر دیا۔ اُنھوں نے کہا کہ یہ دعا ہم کو بہت پسند ہے اور ہم اس کو اپنے کارکنوں کی مجلس میں باقاعدہ وِرد کے انداز میں پڑھیں گے۔
۱۳۔ ۵ جولائی ۲۰۰۵ کو اجودھیا میں قدیم بابری مسجد کے علاقے میں خود کُش حملہ ہوا۔ اس سلسلے میں نئی دہلی کے آج تک ٹی وی اور انڈیا ٹی وی نے صدر اسلامی مرکز کا انٹرویو لیا۔ دونوں میں یہ کہاگیا کہ اس قسم کا واقعہ ہر حال میں قابل مذمت ہے۔ اسلام میں تشدد جائز نہیں۔ صرف حکومت یا عدالت تحقیق وتفتیش کے بعد بقدر ضرورت تشدد کا فیصلہ کرسکتی ہے۔ عوام کو کسی حال میں تشدد کی اجازت نہیں۔
۱۴۔ ہندی روزنامہ مہامیگھا ¼egkes?kk½ کے نئی دہلی کے نمائندہ مسٹر سنجے کمار شاہ نے ۱۳ جولائی ۲۰۰۵ کو صدر اسلامی مرکز کا تفصیلی انٹرویو لیا۔ سوالات کا تعلق زیادہ تر ’’آتنک واد اور اسلام‘‘ سے تھا۔ جواب میں تفصیل کے ساتھ بتایا گیا کہ آتنک واد کا فعل جو آج آپ دیکھ رہے ہیں وہ مسلمانوں کا فعل ہے وہ اسلام کی تعلیمات کا نتیجہ نہیں۔
۱۵۔ اسلامی مرکز کے تحت اسپریچول کلاس کا ہفتے وار سلسلہ جنوری ۲۰۰۱ سے جاری ہے۔ اب تک یہ کلاس سی۔۲۹ نظام الدین ویسٹ میں ہورہی تھی۔ ۱۷ جولائی ۲۰۰۵ سے اس کا سلسلہ سی ۔۱، نظام الدین ویسٹ مارکٹ میں شروع کیا گیا ہے۔ اس کلاس میں ہندو اور مسلمان دونوں فرقوں کے تعلیم یافتہ لوگ شریک ہوتے ہیں۔ چوں کہ شرکاء کی تعداد کافی بڑھ گئی تھی اس لیے جگہ بدلنے کا فیصلہ کیا گیا۔
۱۶۔ ایک نئی کتاب زیر ترتیب ہے۔ یہ رسول اللہ ﷺ کے اصحاب کے حالات پر مشتمل ہوگی۔
۱۷۔ مالدیپ میں عرصے سے ماہنامہ الرسالہ جارہا ہے۔ نیز الرسالہ مطبوعات بھی وہاں بڑی تعداد میں پہنچی ہیں۔ اب مالدیپ کے کچھ لوگ الرسالہ مطبوعات کا ترجمہ وہاں کی مقامی زبان میں شائع کررہے ہیں۔ اب تک اس قسم کے کئی ترجمے شائع ہوچکے ہیں۔ اس سلسلے میں ہمیں مالدیپ سے ایک خط موصول ہوا ہے۔ اس کو یہاں نقل کیا جاتا ہے:
واپس اوپر جائیں

Tuesday, 1 November 2005

Al Risala | November 2005 (الرسالہ،نومبر)

2

- انسانی شخصیت

4

- انسان کا اَلْمیہ

7

- انسان کی منزل

11

- انسان اور حیوان

14

- یہ نمبر موجود نہیں!

16

- تقدیر انسانی

18

- انسان کی دریافت

20

- خدا کا کریشن پلان

23

- جیسا بونا ویسا کاٹنا

26

- پھول اور کانٹا

29

- کائناتی ماڈل

31

- جنت کا پیشگی تعارف

33

- آئیڈیل دنیا

35

- جنت کے دروازے پر

44

- حادثہ توجیہہ کے لیے کافی نہیں

47

- روحانی ترقی

48

- آج کی دنیا اور اگلی دنیا


انسانی شخصیت

کیمسٹری کا پہلا سبق جو ایک طالب علم سیکھتا ہے وہ یہ ہے کہ کوئی چیز فنا نہیں ہوتی۔ وہ صرف اپنی صورت بدل لیتی ہے:
Nothing dies, it only changes its form.
اس عالمی کلیہ سے انسان کے مستثنیٰ ہونے کی کوئی وجہ نہیں۔ جس طرح مادہ کے بارے میں ہم جانتے ہیں کہ جلنے یا پھٹنے یا کسی اور حادثہ سے وہ فنا نہیں ہوتا بلکہ شکل بدل کر دنیا کے اندر اپنے وجود کو باقی رکھتا ہے۔ اسی طرح ہم مجبور ہیں کہ انسان کو بھی ناقابل فنا مخلوق سمجھیں اور موت کو اس کے خاتمہ کے ہم معنیٰ قرار نہ دیں۔
یہ محض بالواسطہ قیاس نہیں بلکہ یہ ایک ایسا واقعہ ہے جو براہ راست تجربہ سے ثابت ہوتا ہے۔ مثال کے طور پرعلم الْخَلِیَّہ (cytology) بتاتا ہے کہ انسان کا جسم جن چھوٹے چھوٹے خلیوں (cells) سے مل کر بنا ہے وہ مسلسل ٹوٹتے رہتے ہیں۔ ایک متوسط قد کے انسان میں ان کی تعداد تقریباً ۲۶ ٹریلین ہوتی ہے۔ یہ خلیے کسی عمارت کی اینٹوں کی طرح نہیں ہیں جو ہمیشہ وہی کے وہی باقی رہتے ہوں۔ بلکہ وہ ہر روز بے شمار تعداد میں ٹوٹتے ہیں اور غذا ان کی جگہ دوسرے تازہ خلیے فراہم کرتی رہتی ہے۔ یہ ٹوٹ پھوٹ ظاہر کرتی ہے کہ اوسطاً ہر دس سال میں ایک جسم بدل کر بالکل نیا جسم ہو جاتا ہے۔ گویا دس برس پہلے میں نے اپنے جس ہاتھ سے کسی معاہدہ پر دستخط کئے تھے وہ ہاتھ اب میرے جسم پر باقی نہیں رہا۔ پھر بھی ’’پچھلے ہاتھ‘‘ سے دستخط کیا ہوا معاہدہ میرا ہی معاہدہ رہتا ہے۔ جسم کی تبدیلی کے باوجود اندر کا انسان پہلے کی طرح اپنی اصل حالت میں موجود رہتا ہے۔ اس کا علم، اس کا حافظہ، اس کی تمنا ئیں، اس کی عادتیں، اس کے خیالات بدستور اس کی ہستی میں شامل رہتے ہیں۔ اسی لئے ایک حیاتیاتی عالم نے کہا ہے کہ انسانی شخصیت تغیر کے اندر عدم تغیر کا نام ہے:
Personality is changelessness in change.
اگر صرف جسم کے خاتمہ کا نام موت ہو تو ایسی موت تو ’’زندہ‘‘ انسانوں کے ساتھ بھی ہر روز پیش آتی رہتی ہے۔ ساٹھ سا ل کی عمر کا ایک شخص جس کو ہم اپنی آنکھوں کے سامنے چلتا پھرتا دیکھتے ہیں، وہ جسمانی خاتمہ کے معنیٰ میں چھ بار مکمل طور پر مرچکا ہے۔ اب چھ بار کی جسمانی موت سے اگر ایک انسان نہیں مرا تو ساتویں بار کی موت سے کیوں اس کا خاتمہ ہو جائے گا۔
حقیقت یہ ہے کہ انسان ایک ایسی مخلوق ہے جو موت کے بعد بھی زندہ موجود رہتاہے۔ دوسری چیزیں اگر گیس کی صورت میں باقی رہتی ہیں تو انسان اپنے شعوری وجود کی صورت میں اپنی شخصیت کو باقی رکھتا ہے۔
موت کے بعدزندگی کے اور بھی بہت سے استدلالی قرائن ہیں ان میں سے ایک نُطْق (speech)ہے۔ انسان کا بولنا ایک انتہائی عجیب ظاہرہ ہے۔ نطق آدمی کی پوری شخصیت کی علامت ہے۔ یہ نطق حیرت انگیز طورپر اس بات کا ثبوت ہے کہ انسان موت کے بعد بھی زندہ رہتا ہے۔
آواز کی ریکارڈنگ کے جدید طریقو ں نے اس حقیقت کو ایک معلوم اور معروف چیز بنا دیا ہے۔۲۴؍ اگست ۲۰۰۰ کی صبح کی خبروں میں میں نے ریڈیو پر سنا کہ ہندستان کے مرکزی وزیر مسٹر کمار منگلم کا آج صبح سویرے دہلی میں انتقال ہوگیا۔ اس کے بعد رات کو آٹھ بجے دوبارہ جب میں نے ریڈیو کو کھولا تو اس میں اس کی تفصیلی خبر کے ساتھ وفات یافتہ وزیر کا ایک بیان ان کی اپنی آواز میں سنایا جارہا تھا جو انہوں نے اپنی موت سے کچھ پہلے دیا تھا۔ جب میں نے ان کی آواز کو سنا تو اچانک ایسا محسوس ہوا جیسے ایک شخص جو مر گیا ـتھا وہ دوبارہ زندہ ہو گیا ہے اور اٹھ کر لوگوں کے سامنے بول رہا ہے۔
نطق کے بارہ میں یہ ایک ایسا تجربہ ہے جو جدید ریکارڈنگ کے دور میں ہر ایک کے سامنے آرہا ہے۔ یہ ایک نشانی ہے جو انسان کو بتارہی ہے کہ موت زندگی کا خاتمہ نہیں، وہ زندگی کے اگلے مرحلے میں داخل ہونا ہے۔ وہ موجودہ دنیا میں مر کر موت کے بعد کی اگلی دنیا میں دوبارہ جی اُٹھنا ہے۔ انسانی زندگی کی درست منصوبہ بندی وہی ہو سکتی ہے جو موت کے بعد کی اگلی دنیا میں انسان کے ابدی دورِ حیات تک محیط ہو۔
واپس اوپر جائیں

انسان کا اَلْمیہ

فطرت کے قانون کے مطابق، انسان کو ایسے حالات میں پیدا کیا گیاہے کہ اس کو اپنی پوری زندگی مشقتوں میں گزارنی پڑے۔ اس کے مطابق، مشقت اور رنج خالق کے تخلیقی منصوبہ کا ایک لازمی حصہ ہے۔ کوئی بھی انسان اس پر قادر نہیں کہ وہ اپنے آپ کو زندگی کے اِس پُرمشقت کورس سے بچا سکے۔
دنیا کی زندگی میں رنج و مشقت خالق کے تخلیقی منصوبہ کا حصہ ہیں۔ یہ نظام اس لیے ہے کہ آدمی کو یاد دلایا جائے کہ موجودہ دنیا تمہارے لیے عیش گاہ کے طورپر نہیں بنائی گئی بلکہ وہ امتحان گاہ کے طورپر بنائی گئی ہے۔ موجودہ دنیا اس لیے ہے تاکہ آدمی مختلف احوال سے گزرے۔ انہی احوال کے درمیان یہ فیصلہ ہوتا ہے کہ کوئی شخص جنت کی ابدی دنیا میں بسائے جانے کے قابل ہے یا نہیں۔ جو شخص ان احوال کے دوران صحیح اور مطلوب رد عمل نہ پیش کرے وہ اِس قابل ہے کہ اس کو الگ کرکے جہنم کے کوڑے خانے میں ڈال دیا جائے۔
موجودہ ترقی یافتہ دنیا میں بھی ’’مَشقّت‘‘ (toil) کی یہ صورتِ حال بدستور باقی ہے۔ لیکن خدا کے تخلیقی نقشہ سے بے خبری کی بنا پر لوگ اس کی نوعیت کو سمجھ نہیں پاتے اور غلط رد عمل پیش کرکے اپنے آپ کو خدا کی نظر میں ایسا انسان ثابت کرتے ہیں جو امتحان کے کورس سے گزرا مگر وہ اپنے آپ کو کامیاب نہ کرسکا۔
موجودہ زمانے میں اس مسئلے کو لے کر بڑے بڑے ادارے کھُلے ہیں جو اپنے دعوے کے مطابق ڈی اسٹریسنگ(de-stressing) کا کام کرتے ہیں۔ یعنی دماغی سوچ کو معطّل کرکے آدمی کو سکون عطا کرنا۔ مگر یہ ایک قسم کا وقتی عملِ تخدیر(anesthesia) ہے، نہ کہ مسئلے کا کوئی حقیقی حل۔ اِس مسئلے کا حقیقی حل صرف ایک ہے، اور وہ ہے اسٹریس مینیجمنٹ(stress management) ۔
یہ ایک عام مشاہدہ ہے کہ جو لوگ اپنی زندگی میں مصیبت کا شکار رہتے ہیں وہ اکثر اپنے آپ کو اُس چیز میں مشغول کرلیتے ہیں جس کو انسانی خدمت یا سوشل سروس کہا جاتا ہے۔ یہ گویا غم غلط کرنے کی ایک تدبیر ہے مگر وہ بھی ’’مشقت‘‘ کی صورت حال کا صحیح اور مطلوب رد عمل نہیں۔
سوشل سروس ایک انسانی خدمت ہے اور اس اعتبارسے وہ بلاشبہہ ایک قابل تعریف عمل ہے۔ مگر زندگی کے بارے میں فطرت کے تخلیقی نقشہ کی اہم تر نسبت سے دیکھا جائے تو اس کے اندر ایک غیرمطلوب پہلو چھپا ہواہے۔ غور کیجئے کہ جو شخص کسی مصیبت کا تجربہ کرتا ہے اور پھر وہ سوشل سروس میں مشغول ہوجاتا ہے، اس کی نفسیات کیا ہوتی ہے۔ اس کی نفسیات ایک جملہ میں یہ ہوتی ہے کہ—جو کچھ میں نے بھُگتا وہ دوسروں کو نہ بھگتنا پڑے:
Let no other suffer what I have suffered.
یہ نفسیات بتاتی ہے کہ آدمی سارے معاملہ کو بس دنیا کا معاملہ سمجھتا ہے۔ اس کے نزدیک مصیبت صرف دنیا کی مصیبت ہے اور سب سے بڑا کام یہ ہے کہ دنیا کو بے مصیبت جگہ بنا یا جائے۔ حالاںکہ یہ سوچ فطرت کے تخلیقی نقشہ کے خلاف ہے، اس لیے وہ یہاں واقعہ بننے والی ہی نہیں۔
جب بھی دنیا میں کسی کو کوئی ناخوشگوار تجربہ ہو تو وہ اس لیے ہوتا ہے کہ آدمی اس سے صحیح سبق لے۔ وہ اس حقیقت کو یاد کرے کہ موجودہ دنیا امتحان کی دنیا ہے۔یہاں کسی کو بھی آرام کی زندگی ملنے والی نہیں۔ انسان کو چاہیے کہ وہ دنیا کے منفی تجربات سے سبق لے۔ وہ اپنے اندر اس شعور کو جگائے کہ اس محدود دنیا میں مجھے اپنی مطلوب زندگی ملنے والی نہیں ۔ مجھے اپنی مطلوب زندگی اگلے دَورِ حیات کی لامحدود دنیا میں تلاش کرنی چاہیے۔
ایسی حالت میں ناخوشگوار تجربات کا صحیح سبق یہ ہے کہ آدمی اگلی دنیا کی جنت کو یاد کرے، وہ اپنے اندر اس سوچ کو بیدار کرے کہ —جو کچھ میں نے آج کی عارضی دنیا میں بھُگتاوہ مجھے کل کی ابدی دنیا میں نہ بھگتنا پڑے:
Let me not suffer in the Hereafter that which I have suffered in this world.
کامیاب وہ ہے جس نے عارضی دنیا میں ابدی دنیا کو پہچانا۔ جس نے موجودہ دنیا کی ناکامی میں اگلے دورِ حیات کی ابدی کامیابی کا راز دریافت کرلیا۔
خدا نے موجودہ دنیا کو ایک ایسے نقشہ کے مطابق بنایا ہے کہ یہاں ہر انسان ’’مشقت‘‘ میں رہے۔ دوسری طرف یہ ایک حقیقت ہے کہ موت کے بعد آنے والی دوسری دنیا غم سے پاک ہوگی جو صرف خدا کے پسندیدہ لوگوں کو ملے گی۔ زندگی کے بارے میں یہی وہ بنیادی نکتہ ہے جس کو نہ سمجھنے کی وجہ سے مذکورہ قسم کے تمام مسائل پیدا ہوتے ہیں۔
اس تخلیقی تقسیم کی روشنی میں دیکھئے تو تمام انسانی مسائل کی جَڑ یہ ہے کہ لوگ موت سے پہلے کی دنیا میں اپنی جنت بنانا چاہتے ہیں جب کہ یہاں فطرت کے نظام کے تحت وہ حالات ہی موجود نہیںکہ کوئی شخص یہاںاپنی جنت بنا سکے۔ جس طرح ریت یا دلدل کے اوپر کوئی عمارت کھڑی نہیں ہوسکتی ہے اسی طرح موجودہ دنیا میں کسی کے لیے یہ ممکن نہیں کہ وہ یہاں اپنا عیش محل تعمیر کرسکے۔ اور جب فطری قانون کے تحت آدمی اس ناکامی سے دوچار ہوتا ہے تو وہ مختلف قسم کے منفی ردّ ِعمل کا شکار ہوکر اپنے کو مزید تباہی میں ڈال لیتا ہے۔
صحیح یہ ہے کہ آدمی اس تخلیقی قانون کا اعتراف کرے اور اس کے مطابق، وہ اپنی زندگی کا منصوبہ بنائے۔ یہ منصوبہ صرف ایک ہے— موجودہ دنیا میں اپنے آپ کو وہ مطلوب انسان بنانا جو موت کے بعد کی دنیا میںجنت میں داخلہ کا مستحق قرار پائے۔ فطرت کے تخلیقی نقشہ کے مطابق، موت سے پہلے کی دنیا میں انسان کے لیے قناعت ہے، اور موت کے بعد کی دنیا میں انسان کے لیے جنت۔ دَور قناعت میں جنت نہیں، اور دَورِ جنت میں قناعت نہیں۔
واپس اوپر جائیں

انسان کی منزل

ڈاکٹر الکسس کیرل (Alexis Carrel) ۱۸۷۳ میں فرانس میں پیدا ہوئے۔ اعلیٰ سائنسی تعلیم کے بعد انہوں نے اپنے کیرئر کا بیشتر حصہ امریکا میں گزارا۔ ۱۹۱۲ میں ان کو میڈیسن کا نوبل پرائز ملا۔ ۱۹۴۴ میں ان کا انتقال ہوا اور فرانس میں ان کے وطن میں ان کی تدفین ہوئی۔
ڈاکٹر الکسس کیرل کی ایک کتاب ۱۹۳۵ میںانسان نامعلوم (Man The Unknown) کے نام سے چھپی۔ یہ کتاب بہت مقبول ہوئی۔ مختلف زبانوں میںاس کے ترجمے شائع ہوئے۔ اس کتاب کے بارے میں اس کے ایک تبصرہ نگار نے درست طورپر لکھا ہے کہ: یہ کتاب خالص سائنسی اعتبار سے انسان اور اس کی زندگی کے بارے میں مصنف کے تجربات کا خلاصہ پیش کرتی ہے:
This book sums up much of his experience of man and his life seen from the purely scientific aspect.
۳۱۲ صفحہ کی اس کتاب میں ڈاکٹرا لکسس کیرل انسانی زندگی کی حقیقت معلوم کرنے میں ناکام رہے۔ چنانچہ اپنی اس کتاب کا ٹائٹل انہوں نے ان الفاظ میں مقرر کیا : انسان نامعلوم (Man The Unknown)
اس کتاب کا مطالعہ بتاتا ہے کہ جہاں تک انسان بحیثیت ایک سائنسی وجود کا معاملہ ہے اس کو ڈاکٹرالکسس کیرل بڑی حد تک دریافت کرچکے تھے۔ اس کے باوجود انہوں نے اپنی کتاب کا نام انسان نامعلوم کیوں رکھا۔ ایسا ایک کنفیوژن کی بنا پر ہوا۔ الکسس کیرل نے ’’انسان‘‘ کو تو معلوم کرلیا تھامگر ان کا مطالعہ ان کو یہ نہ بتا سکا کہ اس انسان کی منزل کیا ہے۔ ان کو محسوس ہوا کہ ایک معلوم انسان ایک غیر معلوم منزل کی طرف جارہا ہے۔ اور یہی ان کی عدم معرفت کا اصل سبب ہے۔اس اعتبار سے کتاب کا زیادہ صحیح ٹائٹل یہ ہوگا: نامعلوم منزل (Goal The Unknown)
یہ صرف ڈاکٹر الکسس کیرل کا مسئلہ نہیں۔ یہی تمام فلاسفہ اور مفکرین کا مسئلہ ہے۔ انسان بظاہر ان کے لیے ایک معلوم چیز تھی۔ مگر اس معلوم انسان کی منزل کیا ہے، وہ ان کے لیے آخری حد تک غیر معلوم رہی۔ انسان اور اس کی منزل کے درمیان یہی فکری خلا ہے جو ہزاروں سال سے انسان کو سرگرداں کئے ہوئے ہے۔ مگر آخر میںکنفیوژن کے سوا کسی کو کچھ نہیں ملا۔یہ ایک لائف ڈیفائننگ (life defining) سوال ہے اور اس کی اہمیت کا تقاضا ہے کہ اس کا تشفی بخش جواب دریافت کیا جائے۔
اصل یہ ہے کہ یہ فلاسفہ اور مفکرین انسان کی منزل اِسی آج کی دنیا میں ڈھونڈھ رہے ہیں۔ جب کہ آج کی دنیا میں وہ سرے سے موجودہی نہیں۔ یہ دنیا ایک نامکمل دنیا ہے، جب کہ انسان اپنی فطرت کے اعتبار سے ایک مکمل دنیا کا طالب ہے۔ انسان حیاتِ ابدی چاہتا ہے، جب کہ موت سے پہلے کی اس دنیا میں حیات ابدی کسی کے لیے ممکن ہی نہیں۔ انسان مسرتوں کی دنیا چاہتا ہے مگر اِس دنیا میں طرح طرح کے ناموافق حالات ہیں جو اس دنیا کو پرمسرت دنیا بنانے میں لازمی رکاوٹ ہیں۔ انسان آئیڈیل دنیا چاہتا ہے مگر یہاں وہ ایک غیر آئیڈیل دنیا میں رہنے پر مجبور ہے۔ انسان پیدائشی طورپر پرفیکشنسٹ (perfectionist)ہے۔ وہ ایک پرفیکٹ دنیا چاہتا ہے مگر ساری کوششوں کے بعد وہ صرف یہ دریافت کرتا ہے کہ یہاں پرفکٹ دنیا کا ملنا سرے سے ممکن ہی نہیں۔
حقیقت یہ ہے کہ جوچیز غیر معلوم ہے وہ انسان نہیں ہے۔ غیر معلوم چیز دراصل انسان کی منزل ہے۔ دوسرے لفظوں میں، وہ دنیا جو انسان کے خوابوں کی تعبیر ہو، جو ہر قسم کے تضاد سے خالی ہو، جہاں انسان پورے فُل فِلمنٹ(fulfilment) کے ساتھ ہمیشہ کے لیے جی سکے۔
یہ بظاہر ناقابلِ حل مسئلہ اس وقت واضح طورپر حل ہوجاتا ہے جب کہ انسان کا مطالعہ خدائی اسکیم کی روشنی میں کیا جائے۔ یعنی مخلوق کو سمجھنے کے ساتھ خالق کی منشا کو بھی سمجھا جائے۔ یہی اس معاملہ میں سائنٹفک طریقہ ہے۔ جب اِس حیثیت سے غور کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ یہ سارا مسئلہ صرف اس لیے ہے کہ خدا کے کریشن پلان (creation plan) کو سامنے رکھے بغیر انسان کو سمجھنے کی کوشش کی جارہی ہے۔
انسان ایک مخلوق ہے، وہ خود خالق نہیں، جس طرح مشین ایک مصنوع (make) ہے، وہ خود اپنی صانع (maker) نہیں ۔ ایسی حالت میں انسان کی حقیقت کو جاننے کے لیے خالق کے تخلیقی نقشہ کو جاننا ضروری ہے۔ انجینئر کے منصوبہ کو جانے بغیر مشین کی توجیہہ نہیںکی جاسکتی۔ اسی طرح خالق کے تخلیقی نقشہ کو جانے بغیر انسان کی توجیہہ کرنا ممکن نہیں۔ اس تخلیقی نقشہ کو سامنے رکھے بغیر انسان کی زندگی اور اس کی معنویت ناقابل فہم رہتی ہے۔ لیکن اس تخلیقی نقشہ کو سمجھنے کے بعد ہر چیز پوری طرح قابل فہم بن جاتی ہے۔ ہر چیز اپنا صحیح مقام پالیتی ہے:
Everything falls into place.
اصل یہ ہے کہ اس دنیا کو بنانے والے نے اپنے تخلیقی نقشہ کے مطابق، اُس کو ایک جوڑا دنیا (pair world) کی شکل میں بنایا ہے۔ ایک وہ دنیا جس میں ہم پیدا ہونے کے بعد رہتے ہیں۔ دوسری وہ دنیا جہاں ہم موت کے بعد چلے جاتے ہیں۔ اس طرح انسانی زندگی کے دو حصے ہیں،ایک قبل از موت پیریڈ (pre-death period) اور دوسرا بعد از موت پیریڈ (post-death period) ۔ انسانوں کو اُس کے پیدا کرنے والے نے ایک ابدی مخلوق کی حیثیت سے پیدا کیا ہے۔ مگر اُس نے اس کی زندگی کو دو مرحلوں میں تقسیم کردیا ہے۔ قبل ازموت دور اور بَعد از موت دور۔
موت سے پہلے کی دنیا آزمائشی مقام(testing ground) کے طورپر بنائی گئی ہے اور موت کے بعد کی دنیا دارُالجَزاء (world of reward) کے طورپر۔ موجودہ دنیا چونکہ ٹسٹ کے لیے بنا ئی گئی ہے اس لیے یہاںہر ایک کو آزادی حاصل ہے۔ یہاں ہر چیز ناقص اور محدود صورت میں ہے۔ گویا کہ موجودہ دنیا ایک قسم کا اگزامینیشن ہال(examination hall) ہے۔ یہاں ٹسٹ دینے کے بقدر ضروری سامان موجود ہیں مگر پُرمسرت زندگی گزارنے کے لیے جو اعلیٰ چیزیں درکار ہیں وہ یہاں موجود نہیں۔ اگزامنیشن ہال کے اندر کوئی طالب علم اپنی مطلوب زندگی کی تعمیر کرنا چاہے تو اس کو صرف مایوسی ہوگی۔ یہی مایوسی ان لوگوں کو ہورہی ہے جو موجودہ ٹسٹ کی دنیا میں اپنے مطلوب مستقبل کی تعمیر کرنا چاہتے ہیں۔
قبل از موت دنیا میں کسی عورت یا مرد کو کیا کرنا ہے کہ وہ بعد از موت دنیا میں اپنی مطلوب دنیا (desired world) پاسکے، اس کا جواب یہ ہے کہ وہ اپنی آزادی کو خالق کے منشا کے مطابق استعمال کرے۔
بعد از موت زندگی کے لیے خدا نے ایک مکمل دنیا بنائی ہے جس کا نام جنت ہے۔ یہ جنت ہر اعتبار سے آئیڈیل اور پرفکٹ ہے۔ اس جنت میں بسانے کے لیے خدا کو ایسے انسان درکار ہیں جو جنت کی اس دنیا میں بسائے جانے کے اہل ہوں۔ موجودہ دنیا میں جو آدمی اپنے آپ کو خدائی معیار کے مطابق کوالیفائی (qualify) کرے گا وہ جنت کی معیاری دنیا میں بسایا جائے گا۔
یہ کوالیفائڈ عورت اور مرد کون ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جو اپنی ذہنی صلاحیتوں کو استعمال کرکے خدا کی معرفت حاصل کریں۔ جو فکری کنفیوژن سے باہر آکر سچائی کو دریافت کریں۔ جو غیر خدا کی پرستش کو چھوڑ کر خدا کے پَرستار بنیں۔ جو آزادی کے باوجود اپنے آپ کو خدائی ڈسپلن میں دینے کے لیے تیار ہوجائیں۔ جو منفی حالات میںاپنے اندر مثبت شخصیت کی تعمیر کریں۔ جو دوسروں کے ساتھ بھی وہی اخلاقی معاملہ کریں جو وہ اپنے ساتھ چاہتے تھے۔
خدا کے کریشن پلان کے مطابق، یہی معیار (criterion) ہے۔ جو عورت یا مرد اس معیار پر پورے اتریں وہ موت کے بعد ابدی جنت میں بسائے جائیں گے۔ اور جو لوگ اِس معیار پر پورے نہ اتریں وہ موت کے بعد ابدی جہنم (hell) میں ڈال دئے جائیں گے جہاں ان کے لیے حسرت اور مایوسی کے سوا اور کچھ نہ ہوگا۔ اہلِ جنت کا کیس ان لوگوں کا کیس ہے جنہوں نے آج کی دنیا کے مواقع (opportunities) کواستعمال (avail) کیا اور اہلِ جہنم کا کیس ان لوگوں کا کیس ہے جو موجودہ دنیا کے مواقع کو استعمال (avail) نہ کرسکے۔ ان کا کیس محروم مواقع (missed opportunities) کا کیس قرار پائے گا۔
کہا جاتا ہے کہ کوئی موقع صرف ایک بار تمہارا دروازہ کھٹکھٹاتا ہے۔ ابدی کامیابی کے معاملہ میں یہ قول پوری طرح درست ہے۔ کیوں کہ یہ موقع کسی کو بھی دوسری بار ملنے والا نہیں۔ جن لوگوں کا کیس مواقع کو استعمال کرنے والے (opportunities availed) کا کیس قرار پائے گا وہ بھی ہمیشہ کے لیے ہوگا اور جن لوگوں کا کیس مواقع کو کھونے والے (opportunities missed) کا کیس ہوگا وہ بھی ہمیشہ کے لیے ہوگا۔اِس معاملہ میں ہر ایک کے لیے ناکامی بھی ابدی ہوگی اور کامیابی بھی ابدی۔
واپس اوپر جائیں

انسان اور حیوان

معلوم کائنات میں صرف انسان وہ مخلوق ہے جو ذہن (intelligence) رکھتا ہے۔ معلوم طورپر کوئی بھی دوسری مخلوق اس معاملے میں انسان کی شریک نہیں۔ حیوان بظاہر ایک زندہ مخلوق ہے۔ مگر حیوانات کی تمام سرگرمیاں اُن کی جِبِلَّت(instinct) سے کنٹرول ہوتی ہیں۔ جبلت کو سادہ زبان میں بے شعور ذہانت کہہ سکتے ہیں۔ با شعور ذہانت صرف انسان کی خصوصیت ہے کسی اور کی نہیں۔
جدید تحقیقات نے بتایا ہے کہ انسان کا ذہن لامحدود امکانات کا حامل ہے:
Human brain contains about hundred million billion billion particles.
انسان اپنی صلاحیت کے اعتبار سے لامحدود امکانات لے کر پیدا ہوتا ہے مگر تجربہ بتاتا ہے کہ ہر انسان اس احساس کے ساتھ مرتا ہے کہ وہ جو کچھ پانا چاہتا تھا اس کو وہ نہ پاسکا۔ فُل فِل مِنٹ (fulfilment) ہر انسان کی ایک گہری تمنا ہے۔ مگر ہر انسان فُل فِل منٹ کی منزل کو پائے بغیر مرجاتا ہے۔ یہ ایک ایسی ٹریجڈی ہے جو اس دنیا میں ہر عورت اور مرد کا مقدر بنی ہوئی ہے۔
اس دنیا میں بے شمار حیوانات ہیں۔ وہ بھی انسان کی طرح پیدا ہوتے ہیں اور مرتے ہیں ، مگر مذکورہ قسم کی عدم آسودگی کسی حیوان کا مسئلہ نہیں۔ ٹریجڈی کا لفظ صرف انسان کی ڈکشنری میں پایا جاتا ہے، وہ حیوان کی ڈکشنری میں موجود نہیں۔
انسان اور حیوان میں اس تضاد کا جواب ایک سادہ واقعے میں ملتا ہے۔ انسان اور حیوان کا تقابلی مطالعہ بتاتا ہے کہ انسان کے اندر استثنائی طور پرآئندہ کَل (tomorrow) کا تصور پایا جاتا ہے۔گویا انسان کی فطرت میں یہ شامل ہے کہ وہ اپنے آج کو کل تک وسیع کرناچاہتا ہے، وہ اپنے آج میں جوکچھ نہ پاسکا اس کو وہ اپنے کل میں پانا چاہتا ہے۔
حیوانات کا معاملہ اس سے مختلف ہے۔ حیوانات کا مطالعہ بتاتا ہے کہ وہ آئندہ کل (tomorrow) کا کوئی تصور نہیں رکھتے۔ وہ صرف آج میں جیتے ہیں اور آج ہی میں مرجاتے ہیں۔ حتیٰ کہ حیوانات کا بعض کام جو بظاہر کل پر مبنی معلوم ہوتا ہے مثلاً، چیونٹی کا آئندہ موسم کے لیے خوراک جمع کرنا، وہ بھی جبلت کے تقاضے کے تحت ہوتا ہے نہ کہ کَل یا مستقبل کے شعور کے تحت۔
انسان کی اس منفرد صفت کو لے کر جب غور کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ انسان کا فُل فِل مِنٹ کے درجے کو پانے کا جذبہ کَل کی نسبت سے ہے۔ یعنی وہ کَل حاصل ہونے والا ہے۔ آج کا حیاتیاتی اسپین (span) بہت مختصر ہے، اس لیے اس کے حصول کو فطرت نے اس کو کَل کے دورِ حیات میں رکھ دیا ہے۔
اس لحاظ سے انسان کی زندگی کے دو مرحلے ہیں، ایک قبل ازموت مرحلۂ حیات اور دوسرا بعد از موت مرحلۂ حیات۔ قبل از موت مرحلۂ حیات عارضی ہے اور بعد ازموت مرحلۂ حیات ابدی۔ یہ تقسیم اس لیے ہے کہ انسان جو کچھ آج نہ پاسکا اس کو وہ کل کے مرحلۂ حیات میں پاسکے۔
جیسا کہ اوپر عرض کیاگیا، انسانی برین (brain)کے اندر ایک سو ملین، بلین بلین پارٹکل ہیں۔ دوسرے لفظوں میں انسانی ذہن لامحدود پوٹینشیل رکھتا ہے۔یہ پوٹینشیل اتنا زیادہ ہے کہ انسان کی طبعی عمر جو لگ بھگ سو سال ہے، وہ اس پوٹینشیل کو کام میں لانے کے لیے بالکل ناکافی ہے۔ حتیٰ کہ اگر انسان کی عمر اس سے بہت زیادہ ہو تب بھی زمین کے حالات اتنے محدود ہیں کہ اس محدود زمین پر انسان اپنے لامحدود ذہن کا استعمال نہیں پاسکتا۔ انسانی ذہن کے لامحدود امکان کے مقابلے میں انسان کی عمر بھی ناکافی ہے اور موجودہ زمینی قیام گاہ کی عمر بھی ناکافی۔
اس حقیقت پر غور کیا جائے تو ہم یہ ماننے پر مجبور ہوں گے کہ انسان کو اپنے مکمل فُل فِل منٹ کے لیے ایک اور طویل تَر عمر اورایک اور زیادہ بڑی دنیا درکار ہے۔ موجودہ حالت میں انسانی ذہن کے امکانات ہمیشہ غیر استعمال شدہ ہو کر رہ جاتے ہیں۔
اس حقیقت کو سامنے رکھ کر زندگی کی توجیہہ کی جائے تو ہم یہ ماننے پر مجبور ہوں گے کہ انسان کی زندگی آئس برگ کی مانند ہے۔ اس آئس برگ کا بہت چھوٹا حصہ قبل از موت مرحلۂ حیات میں نظر آتا ہے اور اس کا زیادہ بڑا حصہ بعد ازموت مرحلۂ حیات میں چھپا ہوا ہے۔ یہ مانے بغیر انسانی زندگی کی توجیہہ نہیں ہوتی اور جب کوئی تصور کسی مشاہدے کی توجیہہ کے لیے ایک ہی امکانی تصور بن جائے تو یہ اس بات کا علمی ثبوت ہوتا ہے کہ وہ تصور عین حقیقت ہے۔ یہی اس معاملے میں درست علمی موقف ہے۔
مذکورہ حقیقتوں کو سامنے رکھ کر انسانی زندگی کی توجیہہ کی جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ موجودہ دنیا انسان کی صرف عارضی قیام گاہ ہے۔ وہ اس کی ابدی منزل نہیں۔
ہر انسان لازمی طورپر موت سے دوچارہوتا ہے۔ یہ موت کیا ہے؟ موت دراصل ایک درمیانی پُل ہے۔ موت عارضی زندگی سے ابدی زندگی کی طرف منتقل ہونا ہے۔ موجودہ دنیا وہ دنیا ہے جہاں آدمی گویا اپنی تربیت کرتا ہے۔ موت سے پہلے کا مرحلۂ حیات گویا ایک ٹریننگ پریڈ ہے۔ یہاں وقتی قیام کے دوران اپنے آپ کو تربیت یافتہ بنا کر اگلی مستقل دنیا میں جانا ہے، جہاں یہ موقع ملے گا کہ آدمی اپنے ذہن کے تمام امکانات کو استعمال کرے اور مکمل فُل فِل مینٹ کی خوشی حاصل کرسکے۔
تاہم دوسرے مرحلۂ حیات میں اُنہیں لوگوں کو جگہ ملے گی جنہوں نے پہلے مرحلۂ حیات میں اپنی باقاعدہ تربیت کی ہوگی۔ جو لوگ غیر تربیت یافتہ حالت میں وہاں پہنچیں گے وہ وہاں کے مواقع استعمال کرنے سے محروم رہ جائیں گے۔ وہ قبل از موت دورِ حیات میں بھی محروم رہیں گے اور وہ بعد ازموت مرحلۂ حیات میں بھی فُل فِل مینٹ سے مکمل طورپر محروم رہیں گے۔ یہ محرومی بلا شبہہ ان کے لیے ایک ایسی سزا ہوگی جس سے زیادہ سخت سزا کا تصور نہیں کیا جاسکتا۔
انسان اگر صرف اپنے آج میں جئے اور اپنے آج میں مَر جائے تو وہ گویا حیوان کی زندگی جِیا اور حیوان کی زندگی مرگیا۔ حقیقی انسان وہ ہے جو اپنے آج سے گذر کر اپنے کل تک پہنچ جائے۔ جو اپنی محدود دنیوی عمر کو ختم کرکے اس طرح مرے کہ اس میں اپنے کل کی تعمیر کرلی ہو، وہی حقیقت میں انسان ہے اور وہی اس قابل ہے کہ اس کو کامیاب انسان کا ٹائٹل دیا جائے۔
واپس اوپر جائیں

یہ نمبر موجود نہیں!

آپ اگر اپنے ٹیلی فون پر کسی شخص کا نمبر ڈائل کریں اور کوئی غلط بٹن دب جائے تو آپ کی کال مطلوب شخص تک نہیں پہنچے گی۔ آپ کو دوسری طرف سے ہیلو کی آوازنہیں آئے گی بلکہ کمپیوٹرائزڈ سسٹم کے تحت یہ ہوگا کہ ٹیلی فون ایکسچینج سے ریکارڈ کی ہوئی ایک آواز سنائی دے گی۔ ۳۱ ؍اکتوبر ۲۰۰۴ کو میرے ساتھ ایسا ہی ہوا۔ میںنے اپنے ٹیلی فون پر دہلی کے ایک صاحب کا نمبر ڈائل کیا۔ دوسری طرف سے یہ آواز سنائی دی—یہ نمبر موجود نہیں:
This number does not exist.
ایکسچینج کی یہ آواز سن کر اچانک میرے ذہن میں خیالات کا ایک طوفان بَرپا ہوگیا۔ میںنے سوچا کہ اس مادی واقعہ میں ایک بہت بڑا روحانی سبق موجود ہے۔ وہ یہ کہ اگر کوئی انسان خدا سے ربط قائم کرنا چاہے اور وہ اپنے غلط ذہن کی بنا پر خدا کے سوا کسی اور کو اپنا خدا سمجھ بیٹھے اور خدا سمجھ کر اس کو پکارنے لگے تو اس کے ساتھ بھی یہی ہوگا کہ براہِ راست خدا کی طرف سے تو اس کو کوئی جواب نہیں ملے گا۔ البتہ ایک اور آواز اس کو سنائی دے گی جو اس سے کہہ رہی ہوگی کہ تم نے جس خدا کو پکارا ہے وہ خدا سرے سے موجود نہیں:
This God does not exist
خدا کی طلب انسان کی فطرت میں موجود ہے۔ ہر انسان پیدائشی طورپر خدا کو پانا چاہتا ہے۔ مگر تاریخ میں ہمیشہ یہ ہوا ہے کہ لوگوں نے یہ غلطی کی کہ خدا کے سوا کسی اور کو خدا کا درجہ دے دیا۔حقیقی خدا سے رشتہ قائم ہونا انسان کے لیے سب سے بڑی رحمت ہے۔ جس عورت یا مرد کا رشتہ خدا کے ساتھ قائم ہوجائے اس کی زندگی میں ہدایت کی روشنی آجائے گی۔ اس کے اندر روحانی شخصیت پیدا ہوگی۔ اس کو ذہنی ارتقاء کا اعلیٰ درجہ حاصل ہوگا۔ اس کے برعکس جو شخص کسی غیرِ خدا کو خدا کا درجہ دے دے وہ ہمیشہ اندھیروں میں بھٹکتا رہے گا۔
موجودہ زمانہ میں ہم دیکھتے ہیں کہ ہر آدمی خدا کا نام لیتا ہے۔ ہر آدمی کسی نہ کسی چیز کو خدا کا درجہ دے کراس کو اپنائے ہوئے ہے۔ مگر جہاں تک روحانی شخصیت کا تعلق ہے، اس کا حقیقی معنوں میںکہیں وجود نہیں۔ اس کا سبب واضح طورپر یہی ہے کہ لوگ غیرخداؤں کو اپنا خدا بنائے ہوئے ہیں۔وہ کسی نہ کسی غیر خدا کو ٹیلی فون کررہے ہیں۔ مگر جواب میں ہر ایک کے پاس یہ آواز آرہی ہے کہ جو نمبر تم نے ڈائل کیا ہے وہ نمبر موجود نہیں، جس کو تم خدا سمجھ کر پکاررہے ہو اس خدا کا کہیں وجود ہی نہیں، اس لیے تم کو اس کی طرف سے کوئی جواب بھی ملنے والا نہیں۔
ہر آدمی کی یہ پہلی ذمہ داری ہے کہ وہ حقیقی خدا کو دریافت کرے اور پھر یہ معلوم کرے کہ اس خدا سے ربط قائم کرنے کا ذریعہ اس کے لیے کیا ہے۔ اس دریافت کے بغیر انسانی زندگی نہ صرف نامکمل ہے بلکہ وہ یقینی طور پر تباہی کے انجام سے دوچار ہونے والی ہے۔ یہی کسی انسان کا سب سے بڑا مقصد ہے، یہی انسان کی جدوجہد کا سب سے بڑا نشانہ ہے۔ یہی وہ چیز ہے جو انسانی زندگی کو بامعنی بناتی ہے۔ جس انسان کی زندگی اس دریافت سے خالی ہو وہ بلاشبہہ سب سے بڑا مفلس ہے، خواہ بظاہر اس نے مادی چیزوں کا ڈھیر اپنے گرد اکھٹا کرلیا ہو۔
خدا کی دریافت سے مُراد بَرتَر سچائی (higher truth) کی دریافت ہے۔ اور اس بَرتَر سچائی کی دریافت اور اس سے تعلق قائم کرنا ہی وہ چیز ہے جو انسان کی زندگی کو با معنٰی بناتی ہے۔ یہ دریافت نہیں تو زندگی بامعنٰی بھی نہیں۔
مزید سنگین بات یہ ہے کہ کسی انسان کو یہ موقع صرف قبل ازموت مدت حیات میں ملتا ہے۔ بعد ازموت کی مدت حیات میں کسی انسان کو یہ موقع ملنے والا نہیں۔ انسان کے لیے اُس کے خالق کا بنایا ہوا قانون یہ ہے—موت سے پہلے کی زندگی میں کرنا، اور موت کے بعد کی زندگی میں اُس کا انجام پانا۔
واپس اوپر جائیں

تقدیرِ انسانی

مشہور مسیحی مشنری بلی گراہم (Billy Graham) نے بتایا ہے کہ ایک بار وہ سفر میں تھے۔ اس دوران اُن کو ایک دولت مند امریکی کا پیغام ملا۔ اس پیغام میں کہاگیا تھا کہ فوراً مجھ سے ملو۔ بلی گراہم اپنا سفر ملتوی کرکے مذکورہ امریکی دولت مند کے پاس پہنچے۔
امریکی دولت مند کے گھر پہنچتے ہی اُن کو ایک علیٰحدہ کمرہ میں لے جایا گیا۔ یہاں مذکورہ امریکی دولتمند اُن کا انتظار کررہا تھا۔ ملاقات ہوئی تو امریکی دولت مند نے بلی گراہم سے کہا کہ تم دیکھتے ہو کہ میں بوڑھا ہوگیا ہوں۔ زندگی نے اپنی تمام معنویت کھو دی ہے۔ میں جلد ہی ایک نامعلوم دنیا کی طرف چھلانگ لگانے والا ہوں۔ نوجوان !کیا تم مجھ کو امید کی ایک کرن دے سکتے ہو:
You see, I am an old man. Life has lost all meaning. I am going to take a fateful leaf into the unknown. Young man, can you give me a ray of hope.
یہ صرف ایک امریکی دولت مند کی کہانی نہیں، بلکہ یہ تمام انسانوں کی کہانی ہے۔ ہر آدمی خواہ وہ امیر ہو یا غریب، خواہ وہ چھوٹا آدمی ہو یا بڑا آدمی۔ ہر شخص آخر کار اِسی احساس سے دوچار ہوتا ہے۔ ہر شخص اپنے لیے ایک پسندیدہ دنیا بنانا چاہتا ہے۔ وہ اپنا سارا وقت اس میں لگا دیتا ہے۔ یہاںتک کہ اس کی مختصر زندگی کا آخری وقت آجاتا ہے اور وہ اِس احساسِ مجبوری کے ساتھ اس دنیا سے چلا جاتا ہے کہ وہ جو کچھ پانا چاہتا تھا اس کو وہ پا نہ سکا۔
ایسا کیوں ہے۔ اس وسیع کائنات میں انسان واحد مخلوق ہے جو اپنے سینے میں بے شمار خواہشیں (desires) رکھتا ہے۔ کیا یہ خواہشیں اسی لیے ہیں کہ وہ کبھی پوری نہ ہوں اور ہر انسان خود اپنی خواہشوں کے قبرستان میں دفن ہو کر رہ جائے۔ ہر عورت اور مرد کے ذہن میں خوابوں کی ایک دنیا بَسی ہوئی ہے۔ کیا سُہانے خوابوں کی یہ دنیا صرف اس لیے ہے کہ وہ محض خواب بن کر رہ جائے اور کبھی اُس کی تعبیر نہ نکلے۔ ہر انسان تمنّاؤں کا ایک باغ اپنے سینے میں اُگاتا ہے، مگر کسی انسان کو یہ خوشی نہیں ملتی کہ وہ اس خوبصورت باغ میں داخل ہوسکے۔
فطرت میں یہ تضاد کیوں ہے۔ انسان کے سوا وسیع کائنات میں ایسا تضاد کہیں موجود نہیں۔ نباتات، جمادات اور حیوانات کی پوری دنیا اس قسم کے تضاد سے مکمل طورپر خالی ہے۔ پھر یہ تضاد استثنائی طورپر صرف انسان کی زندگی میں کیوں پایا جاتا ہے۔اس کا سبب یہ ہے کہ انسان اور کائنات کی دوسری چیزوں کے درمیان ایک بے حد بنیادی فر ق ہے۔ وہ یہ کہ انسان کی زندگی کے دو مرحلے ہیں— موت سے پہلے کا مرحلۂ حیات اور موت کے بعد کا مرحلہ ٔ حیات۔ اس کے برعکس کائنات کی بقیہ تمام چیزوں کا صرف ایک مرحلہ ہے۔ یعنی وجود میں آنا اور پھر ایک دن مٹ جانا، پیدا ہونا اور پھر مَر کر ہمیشہ کے لیے ختم ہوجانا۔
اصل یہ ہے کہ انسان جو کچھ اپنے پہلے مرحلۂ حیات میں پانا چاہتا ہے وہ اس کے لیے دوسرے مرحلۂ حیات میں مقدر کیا گیا ہے۔ اور جو چیز سفرِ حیات کے اگلے مرحلے میں ملنے والی ہو وہ سفرِ حیات کے ابتدائی مرحلے میں کبھی کسی کو نہیں ملتی۔اس صورت حال کا سبب یہ ہے کہ انسان کے لیے فطرت کا ایک خصوصی قانون ہے جو اس کائنات کی دوسری چیزوں کے لیے نہیں۔ وہ یہ کہ انسان کی زندگی کو عمل اور جزا کے اُصول کے تحت رکھا گیا ہے۔ یعنی موت سے پہلے کے مرحلۂ حیات میں عمل کرنا اور موت کے بعد کے مرحلۂ حیات میںاس کا انجام پانا۔
یہی قانون انسان کی زندگی کے معاملے کو سمجھنے کے لیے کلید کی حیثیت رکھتا ہے۔ اس قانون کو سمجھنے کے بعد انسان کی پوری زندگی با معنٰی بن جاتی ہے۔ یہ قانون انسان کی زندگی کے تمام سوالات کا کامل جواب فراہم کرتا ہے۔ اس قانون کو جاننے کے بعد پوری انسانی زندگی کی تشفی بخش توجیہہ مل جاتی ہے۔ اس قانون کے مطابق مو ت سے پہلے کی دنیا انسان کے بیج ڈالنے کا مرحلہ ہے اور موت کے بعد کی دنیا اس کے نتیجے میں ہَرا بھرا درخت اور پھول و پھل پانے کا مرحلہ ہے۔ آدمی کو چاہیے کہ وہ موجودہ دنیا میں پھول اور پھل حاصل کرنے کی لا حاصل کوشش نہ کرے بلکہ وہ اپنی ساری توجّہ بہترین طورپر تخم ریزی میں لگا دے۔ یہ وہ انسان ہے جو موت کے بعد کی دنیا میں جنت کی صورت میں وہ سب کچھ پالے گا جس کو وہ موت سے پہلے کی دنیا میں نہ پاسکا تھا۔
واپس اوپر جائیں

انسان کی دریافت

خدا تمام خوبیوں کا سرچشمہ ہے—
God is the eternal source of all kinds of beauty and goodness.
خدا نے انسان کو بنایا۔ انسان اپنی ذات میں ایک مکمل وجود ہے۔ اس کے اندر ہر قسم کی اعلیٰ صلاحیتیں کمال درجہ میں موجود ہیں۔ انسان کے دماغ (brain) میں 100 million billion billion پارٹیکل ہیں۔ یہ واقعہ اس بات کی علامت ہے کہ انسان کے خالق نے انسان کے اندر لامحدود صلاحیتیں رکھ دی ہیں۔
اسی کے ساتھ انسان کو ایک ایسی انوکھی چیزدی گئی ہے جو وسیع کائنات میں کسی کو حاصل نہیں۔ یہ ہے احساسِ مسرَت۔ انسان اس کائنات میں واحد مخلوق ہے جو pleasure کا احساس رکھتا ہے اور pleasure سے انجوائے کرنے کی لامحدود capacity کا مالک ہے۔ انسان کے لیے ہر چیز امکانی طور پَر خوشی کا ذریعہ ہے۔
خدا نے اسی قسم کی انوکھی صلاحیتوں کے ساتھ انسان کو پیدا کیا ۔ اس کے بعد خدا نے ایک حسین دنیا بنائی جس کا نام اس نے جنت رکھا۔ جنت ایک perfect world ہے جس میں ہر قسم کا pleasure اپنی آخری perfect صورت میں موجود ہے۔ انسان اور یہ جنت دونوں گویا ایک دوسرے کا مثنیٰ (کاؤنٹر پارٹ) ہیں۔ انسان جنت کے لیے ہے اور جنت انسان کے لیے۔ جنت وہ جگہ ہے جہاں انسان کو پورا fulfilment ملے۔ جنت گویا انسان کی تکمیل ہے۔ جنت کے بغیر انسان بے معنی ہے اور انسان کے بغیر جنت بے معنٰی۔ جنت کے بغیر انسان کی زندگی ادھوری ہے اور انسان کے بغیر جنت ادھوری۔
انسان اس جنت کا امکانی باشندہ ہے مگر یہ جنت کسی انسان کو پیدائشی یا نسلی حق کے طورپر نہیں ملتی۔ جنت میں داخلہ کی شرط یہ ہے کہ انسان یہ ثابت کرے کہ وہ اپنی خصوصیات کے اعتبار سے اس کا مستحق ہے۔
موجودہ دنیا کو خدا نے اسی مقصد کے لیے selection ground کے طور پر بنایا ہے۔ موجودہ دنیا کے حالات اس طرح بنائے گئے ہیں کہ یہاں کا ہر جزء انسان کے لیے ایک ٹسٹ پیپر کی حیثیت رکھتا ہے۔ یہاں انسان ہر لمحہ trial پر ہے۔ خدا ہر انسان کے قول و عمل کا record تیار کر رہا ہے۔ اسی recordکی بنیاد پر یہ فیصلہ کیا جائے گا کہ وہ کون عورت اور مرد ہیں جو جنت میں بسانے کے لیے اہل باشندہ کی حیثیت رکھتے ہیں۔
انسان کو اس دنیا میں مکمل آزادی ملی ہوئی ہے۔ یہ آزادی انعام کے طورپر نہیں بلکہ test کے طور پر ہے۔ خدا یہ دیکھ رہا ہے کہ انسان اپنی آزادی کو کس طرح استعمال کرتا ہے۔ جو عورت اور مرد اپنی آزادی کو خدا کے نقشہ کے مطابق درست طورپر استعمال کریں ان کو جنّت میں بسانے کے لیے چُنا جائے گا اور جو لوگ آزادی کو misuse کریں وہ day of judgement میںقابلِ رد (rejected lot) قرار پائیں گے۔
انسان کی زندگی دو دوروں میں تقسیم ہے۔ قبل ازموت دور (pre-death period) اور بعد ازموت دور (post-death period) ۔قبل از موت دور امتحانی دور (trial period) ہے اور بعد ازموت دور انعام پانے کا دور (reward period) ۔ یہی وہ سب سے بڑی حقیقت ہے جس کو جاننے اور اختیار کرنے میں انسان کی کامیابی اور ناکامی کا راز چھپا ہوا ہے۔
واپس اوپر جائیں

خدا کا کِریشَن پلان

ایک مغربی فلسفی نے لکھا ہے کہ بظاہر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ انسان اس وسیع کائنات میں ایک اجنبی مخلوق ہے۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ نہ انسان اِس دنیا کے لیے بنایا گیا اور نہ دنیا اِس انسان کے لیے۔ انسان اورکائنات دونوں ایک دوسرے کے لیے بے جوڑ معلوم ہوتے ہیں۔
انسان لامحدود صلاحیتوں کو لے کر پیدا ہوا ہے۔ مگر موجودہ دنیا میں وہ اپنی ان صلاحیتوں کا صرف محدود استعمال پاتا ہے۔ انسان اپنی فطرت کے اعتبار سے ہمیشہ جینا چاہتا ہے مگر بہت جلد موت اُس سے پوچھے بغیر آتی ہے اور یکطرفہ فیصلے کے تحت اس کا خاتمہ کردیتی ہے۔ انسان خواہشوں (desires) کا ایک سمندر اپنے سینے میں لیے ہوئے ہے، مگر اس کی یہ خواہشیں کبھی پوری نہیں ہوتیں۔ ہر آدمی کے دماغ میں خوابوں کی ایک دنیا بَسی ہوئی ہے، مگر یہ خواب کبھی اپنی تعبیر نہیں پاتے۔ اس معاملہ میں چھوٹے انسان اور بڑے انسان میں کوئی فرق نہیں۔ مذکورہ فلسفی کے الفاظ میں، بظاہر ایسا محسوس ہوتا ہے کہ انسان ایک ایسی دنیا میں آگیا ہے جو اس کے لیے بنائی نہیں گئی۔
انسان اور موجودہ دنیا دونوں ایک دوسرے کے لیے اس طرح غیر مطابق کیوں ہیں۔ اس سوال کا جواب پانے کے لیے ہم کو خدا کے کریشن پلان (creation plan) کو جاننا ہوگا۔ یہ سوال دراصل خدا کے کریشن پلان کو نہ جاننے کی وجہ سے پیداہوا۔ اور خدا کے کریشن پلان کو جان کر ہی اس سوال کا تشفی بخش جواب معلوم ہوسکتا ہے۔
اصل یہ ہے کہ خدا نے انسان کو اپنے ایک منصوبے کے تحت پیدا کیا ہے۔ اس منصوبے کو جاننا انسان کی درست توجیہہ کے لیے ضروری ہے۔ جس طرح کسی مشین کی معنویت صرف اُس وقت معلوم ہوتی ہے جب کہ اس کے بنانے والے انجینیئر کا منصوبہ معلوم ہوجائے۔ انجینیئر کے ذہن کے سوا کوئی دوسری چیز نہیں جو مشین کی معنویت کو واضح کرسکے۔ یہی معاملہ انسان کا ہے۔
انسان کو بنانے والے نے اس کو ایک خاص منصوبے کے تحت بنایا۔ وہ منصوبہ یہ ہے کہ موجودہ غیر معیاری دنیا میں آدمی ایک آزمائشی مدّت گذارے، اور اس کے بعد وہ اپنے عمل کے مطابق معیاری دنیا میں رہائش کا حق پاسکے، جس کا دوسرا نام جنت ہے۔
موجودہ دنیا ایک آزمائشی دنیا ہے۔ یہاں کسی عورت یا مَرد کو جنت کا مستحق بننے کے لیے جس اہلیت کا ثبوت دینا ہے، اس کے دو بڑے اَجزاء ہیں— حق کا اعتراف اور با اُصول زندگی۔ جو عورت یا مرد اس جانچ میں پورے اُتریں اُن کو جنت کی معیاری دنیا میں جگہ ملے گی۔ اور جو لوگ اس جانچ میں فیل ہو جائیں وہ ابدی طورپر محرومی کی زندگی گذاریں گے۔
موجودہ دنیا میںآدمی اپنے آپ کو پوری طرح آزاد پاتا ہے، مگر یہ آزادی بطورِ حق نہیں بلکہ وہ ہر ایک کے لیے آزمائش کا ایک پَرچہ ہے۔ انسان کو یہ کرنا ہے کہ وہ کسی دباؤ کے بغیر سچائی کااعتراف کرے۔ وہ کسی جَبر کے بغیر حق کے آگے جھُک جائے۔ وہ اپنی آزادی کو خود اپنے اختیار سے پابندی بنا لے۔ حق کے آگے جُھکنا بلا شبہہ کسی انسان کے لیے سب سے بڑی قربانی ہے۔ حق کا اعتراف کرنا بظاہر اپنے آپ کو دوسرے کے مقابلے میں چھوٹا کرنا ہے، مگر یہی وہ چیز ہے جو آدمی کو سب سے زیادہ اونچا درجہ دینے والی ہے۔ وہ آدمی کو جنّت کے دروازے تک پہنچانے والی ہے۔
اس سلسلے میں دوسری چیز بااصول زندگی ہے۔ عام طور پر یہ ہوتا ہے کہ آدمی کا کردار اُس کے جذبات کے تحت بنتا ہے۔ غصہ، انتقام، حسد، نفرت، مقابلہ پرستی وغیرہ۔ یہ وہ منفی احساسات ہیںجو کسی آدمی کی شخصیت کی تشکیل کرتے ہیں۔ مگر آدمی کو چاہیے کہ وہ اس معاملے میںبااُصول بنے۔ وہ خارجی محرکات کے تحت اپنا کیریکٹر نہ بنائے بلکہ اصول کے تحت اپنے کردار کا تعیّن کرے۔ وہ خود اپنے فیصلے کے تحت اپنی شخصیت کی تشکیل اعلیٰ اصولوں کی روشنی میںکرے۔ یہی وہ چیز ہے جس کو جنتی کردار کہا جاتا ہے۔
تخلیق کا یہی منصوبہ ہے جس کے تحت انسان کو بنایا گیا ہے۔ انسان پوری کائنات کی سب سے اعلیٰ مخلوق ہے۔ انسان کا وجود ایک ایسا انوکھا وجود ہے جس کی کوئی دوسری مثال وسیع کائنات میں نہیں ملتی۔ انسان کو بجا طور پر اشرف المخلوقات کہا جاتا ہے۔ یعنی تمام پیدا کی ہوئی چیزوں میں سب سے زیادہ بہتر اور بامعنی وجود۔
جنت وہ دنیا ہے جہاں انسان جیسی مخلوق اپنی کامل تسکین پاسکے۔ جہاں انسان اُس طرح سوچے جس طرح وہ سوچنا چاہتا ہے۔ جہاں وہ اُن چیزوں کو دیکھے جن کو دیکھنا اُسے مرغوب ہے۔ جہاں وہ اُن آوازوں کو سُنے جو حقیقی معنوں میں اُس کو لذتِ سماعت عطا کرنے والی ہو۔ جہاں وہ اُن چیزوں کو چھوئے جن کو چھونا اُس کو اعلیٰ درجے کی لذّتِ لَمس عطا کرتا ہے۔ جہاں اُس کو ایسے لوگوں کی صحبت مِلے جن کی صحبت میں رہنا اُس کی زندگی کو آخری حد تک بامعنی بنانے والا ہے۔ جہاں کی ہوائیں اُس کے لیے حیات بخش جھونکے کی حیثیت رکھتی ہوں۔ جہاں وہ اُن چیزوں کو کھائے جن کو اُس کا ابدی ذَوق کھانا چاہتا ہے، اور اُن چیزوں کو پئے جن کو پینا آج اُس کے لیے صرف ایک حَسین تصور بنا ہُوا ہے۔
اس معیاری دنیا کا نام جنت ہے۔ یہی وہ جنت ہے جس کی تمنا ہر عورت اور مَرد کے دل میں بسی ہوئی ہے۔ یہی وہ جنت ہے جہاں انسان کی شخصیت پورے معنوں میں فل فِل مینٹ (fulfilment) حاصل ہوگا۔ انسان اپنے پورے وجود کے ساتھ اسی جنت کا طالب ہے۔ اور جنت اپنے پورے وجود کے ساتھ ایسے ہی انسان کا انتظار کررہی ہے۔ وہ وقت آنے والا ہے جب کہ جنت اور انسان ایک دوسرے سے ملیں اور دونوں ایک دوسرے کو اپنا لیں جیسے کہ دونوں نے اپنے اُس جوڑے کو پالیا جو اُن کے لیے بنایاگیا تھا۔
واپس اوپر جائیں

جیسا بونا ویسا کاٹنا

انسان کی زندگی دو دوروں میں تقسیم ہے۔ قبل از موت دور (pre-death period) اور بعد ازموت دور (post-death period) ۔ موت سے پہلے کا محدود دور ٹسٹ کے لیے ہے اور موت کے بعد کا ابدی دور ٹسٹ کے مطابق اچھا یا بُرا انجام پانے کے لیے۔ ٹسٹ میں پورا اترنے والوں کے لیے جنت ہے اور ٹسٹ میں فیل ہونے والوں کے لیے جہنم۔
خالق کے مطابق، یہی اس دنیا کے لیے تخلیق کا نقشہ ہے۔ مگر جنت اور جہنم دونوں کی نوعیت یکساں نہیں۔ تخلیق کا اصل مقصود اہلِ جنت ہیں۔ جہاں تک اہلِ جہنم کا تعلق ہے، وہ تخلیق کا صرف اضافی جزء ہیں، وہ اس کا حقیقی جزء نہیں۔ اہل جہنم کا اصل رول یہ ہے کہ وہ اُس ماحول کو بناتے ہیں جس میں لوگوں کا ٹسٹ لیا جاسکے اور اس کے مطابق اہل جنت کا سلیکشن ہوسکے۔
موت سے پہلے کی دنیا ٹسٹ کے تقاضوں کے مطابق بنائی گئی ہے۔ ٹسٹ کی مدت پور ی ہونے کے بعد نہ اس دنیا کی ضرورت رہے گی اور نہ اس ٹسٹ میں فیل ہوجانے والوں کی۔ اس مدت کے پورا ہونے کے بعد کائنات میں صرف جنت باقی رہے گی اور وہ لوگ جو جنت کی معیاری دنیا میں بسائے جانے کے لیے منتخب کئے گئے ہوں۔
اس تخلیقی اسکیم سے لوگوں کو باخبر کرنے کے لیے خالق نے مختلف انتظامات کئے ہیں۔ پہلا انتظام یہ کہ خود انسان کی فطرت میںاس کا گہرا شعور رکھ دیا گیا ہے۔ہر انسان کا یہ تجربہ ہے کہ موجودہ دنیا میں اس کو کامل تسکین نہیں ملتی۔یہاں نہ غریب آدمی اپنی مطلوب تسکین حاصل کرتا ہے اور نہ امیر آدمی۔ یہاں نہ کمزور آدمی کو اطمینان حاصل ہوتا ہے اور نہ طاقت ور آدمی کو۔ یہاں ہر آدمی بے تسکینی کی حالت میں جیتا ہے اور تھوڑے دنوں کے بعد اسی حال میں مرجاتا ہے۔ یہ عمومی بے تسکینی کی حالت ہر عورت اور مرد کو یاد دلاتی ہے کہ تمہاری منزل کوئی اور ہے۔ تمہاری مطلوب دنیا قبل از موت دورِ حیات میں موجود نہیں۔ اس لیے اس کو بعد از موت دور حیات میں حاصل کرنے کی کوشش کرو۔
اس تخلیقی نقشے سے باخبر کرنے کے لیے خالق نے بہت سے انتظامات اس دنیا میں کئے ہیں۔ مثلاً موجودہ دنیا کو اس طرح بنایا ہے کہ یہاں کوئی آرام کی زندگی نہ پاسکے۔ یہاں مسائل ہیں، یہاں بیماری ہے، یہاں حادثات ہیں، یہاں بورڈَم ہے، یہاں طرح طرح کے نقصانات ہیں اور پھر تھوڑی مدت کے بعد اچانک مرجانا ہے۔ اس طرح دنیا کے ناموافق حالات بار بار آدمی کو یہ یادد لاتے رہتے ہیں کہ تم اپنی مطلوب دنیا یہاں نہیں بنا سکتے۔ یہ دنیا تمہاری تمناؤں کی تکمیل کے لیے فیصلہ کن طورپر ناکافی ہے۔ یہ ناموافق صورت حال آدمی کو مسلسل حقیقت کی تلاش پر مجبور کرتی ہے۔
اسی طرح موجودہ دنیا میں بہت سے لوگ مصیبت (suffering) میں مبتلا ہو کر لوگوں کے لیے نمونۂ عبرت بن جاتے ہیں۔ ایک شخص مفلوج ہو کر وھیل چِیئر پر جی رہا ہے، یا کسی لا علاج بیماری میں مبتلا ہو کر زندگی کی کشش کھو دیتا ہے۔ اس طرح کے مختلف لوگ گویا خالق کی طرف سے نشان منزل (sign post) کا کام کررہے ہیں۔ وہ بتاتے ہیں کہ موجودہ دنیا کی زندگی کتنی بے حقیقت ہے۔ ایسے لوگ گویا خاموش زبان میں بتا رہے ہیں کہ انسان کے لیے ممکن نہیں کہ وہ خود سے اپنی مرضی کی دنیا اپنے لیے بنا سکے۔
حالات کے کورس میں جن لوگوں کو اس طرح سائن پوسٹ کا رول اداکرنے کا موقع ملے وہ لوگ اگر چہ بظاہر مصیبت میں دکھائی دیتے ہیں مگر ان کے لیے ایک بہت بڑی خوش خبری ہے۔ موت کے بعد آنے والے فیصلہ کے دن ان سے چھوٹے عمل کو قبول کرلیا جائے گا۔ اپنی مصیبت کی بنا پر وہ جسمانی اعتبار سے اس قابل نہیں تھے کہ وہ کوئی بڑا عمل کرسکیں۔ اس بنا پر ان کے لیے صرف یہی کافی ہوجائے گا کہ وہ اپنے اس رول پر راضی ہوجائیں جو سائن پوسٹ کی حیثیت سے ان کے لیے مقدر ہوا تھا۔ وہ جس مصیبت میں مبتلا ہوئے ہیں اس پر صبرکرلیں۔ صبر اور رضا مندی ہی کی بنا پر کسی مزید عمل کے بغیر ان کو جنت میں داخلہ مل جائے گا۔
اِس حقیقت کا علم انسان کے لیے کوئی اجنبی چیز نہیں۔ مختلف ذرائع سے یہ بات انسان کے علم میں آچکی ہے کہ وہ موت سے پہلے کے دَورِ حیات میں اپنی پسند کی دنیا نہیں بنا سکتا۔ یہاں جوکوئی اچھّا عمل کرے گا وہ بعد از موت دَورِ حیات میں اپنی پسند کی دنیا پاسکے گا۔ جنّت اگلی دنیا میں بنے گی مگر جنّتی انسان آج ہی کی دُنیا میں بَن رہا ہے۔
جنت کیا ہے۔ موجودہ دنیا کو دیکھ کر جنت کا اندازہ کیا جاسکتا ہے۔ موجودہ دنیا ایک اعتبار سے گویا جنت کا تعارف ہے۔ یہ جنت کا ایک بہت چھوٹا نمونہ ہے۔ جنت در اصل موجودہ دنیا کا تکمیلی ایڈیشن ہے۔ موجودہ دنیا میں جو نعمتیں ہیں وہی تمام نعمتیں جنت میں بھی ہیں ، فرق یہ ہے کہ موجودہ دنیا ناقص ہے اور جنت اس کے مقابلہ میں کامل۔ موجودہ دنیا غیر معیاری ہے اور جنت کی دنیا معیاری۔ موجودہ دنیا فانی ہے اور جنت کی دنیا ابدی۔ موجودہ دنیا میں خوف اورحُزن ہے، یہاں شور اور تکلیف ہے جب کہ جنت وہ جگہ ہے جہاں نہ خوف ہوگا اور نہ حزن، جہاں نہ شور ہوگا اور نہ تکلیف۔ موجودہ دنیا محدود یت اور ڈس ایڈوانٹج سے بھری ہوگی۔ جب کہ جنت وہ جگہ ہے جہاں نہ محدودیت ہوگی اور نہ کسی قسم کا ڈس ایڈوانٹج۔ جنت میں انسان کو فل فلمنٹ (fulfilment)حاصل ہوگا جب کہ موجودہ دنیا میں کسی کو بھی فُل فِلمنٹ حاصل نہیں ہوتا۔
جہنم وہ جگہ ہے جو اِس کے بالکل بَرعکس ہوگی۔ جہنم کی دنیا میں وہ تمام تکلیفیں مزید اضافہ کے ساتھ جمع کردی جائیں گی جن کا تجربہ ہم موجودہ دنیا میں کرتے ہیں۔
موت سے پہلے کا دَوراور موت کے بعد کا دور، دونوں ایک دوسرے کے ساتھ جُڑے ہوئے ہیں۔ دونوں کے درمیان وہی نسبت ہے جو بونے اور فصل کاٹنے میں ہوتی ہے۔ موت سے پہلے کا زمانہ گویا بونے کا زمانہ ہے، اور موت کے بعد کا زمانہ گویا فصل کاٹنے کا زمانہ۔ جیسا بونا ویسا کاٹنا، یہ ایک ابدی اُصول ہے۔ یہ اُصول بعد ازموت دَورِ حیات پر بھی اتنا ہی منطبق ہوتا ہے جتنا کہ قبل ازموت دَورِ حیات پَر۔
واپس اوپر جائیں

پھول اور کانٹا

انسان کا عرصۂ حیات (life span) بلین سال سے بھی زیادہ ہے۔ مگر یہ عرصۂ حیات دو مختلف دوروں میں بٹا ہوا ہے—موت سے پہلے تقریباً سو سال اور بقیہ پوری مدت موت کے بعد۔ پہلے دور کی زندگی آج کی دنیا میں گزرتی ہے اور بعد کے دور کی زندگی کل کی دنیا میں گزرے گی۔
آج کی دنیا ایک مخلوط جنگل کی مانند ہے۔ یہاں پھول بھی ہیں اور اسی کے ساتھ کانٹے بھی۔ کل کی دنیا میں پھول اور کانٹے ایک دوسرے سے الگ کردئیے جائیں گے۔ اس کے بعد ایک ایسی ابدی دنیا بنے گی جس کے ایک حصے میں کانٹے ہی کانٹے ہوں گے اور دوسرے حصے میں پھول ہی پھول۔ آج کی دنیا میں ہر آدمی کے لیے یہ موقع ہے کہ وہ اپنے ابدی مستقبل کی تشکیل کرے۔ وہ اپنی زندگی کے ریکارڈ سے بتائے کہ کل کی دنیا میں وہ کانٹوں کے جنگل میں بسائے جانے کے قابل ہے یا پھولوں کے باغ میں۔
آج کی دنیا میں یہی گروپ بندی ہورہی ہے۔ ہرآدمی اپنی زندگی کے ریکارڈ سے یہ بتا رہا ہے کہ وہ دونوں گروپوں میں سے کس گروپ میں شامل کئے جانے کے لائق ہے۔ کانٹوں والے گروپ میں یا پھولوں والے گروپ میں۔آج کی دنیا کے حالات در اصل اسی شخصیت سازی کا ذریعہ ہیں۔ ہر عورت اور مرد اسی عمل سے گزر رہے ہیں۔ کوئی اپنے اندر کانٹوں والی شخصیت بنا رہا ہے اور کوئی اپنے اندر پھولوں والی شخصیت کی تعمیر کررہا ہے۔ آج کی دنیا میں یہ دونوں قسم کے لوگ بظاہر الگ الگ دکھائی نہیں دیتے مگر کل کی دنیا میں دو نوں قسم کے لوگ ایک دوسرے سے پوری طرح الگ ہوجائیں گے۔ وہاں پھولوں والی شخصیت صرف پھول کے روپ میں دکھائی دے گی اور کانٹوں والی شخصیت صرف کانٹے کے روپ میں۔
شخصیت سازی کے اس دوطرفہ عمل کو دوسرے لفظوں میں مثبت شخصیت اور منفی شخصیت کہہ سکتے ہیں۔ آج کی دنیا میں ہر آدمی کو منفی تجربات پیش آتے ہیں۔ اب ایک شخص وہ ہے جو ان منفی تجربات کو منفی حیثیت ہی سے لے لے۔ ایسے آدمی کے اندر منفی شخصیت بنے گی، دوسرا آدمی وہ ہے جو منفی تجربہ کو مثبت غذا میں تبدیل کرسکے۔مثلاً ایک شخص آپ کو برا کہتا ہے۔ ایک شخص آپ کوستاتا ہے۔ ایک شخص آپ کے ساتھ اشتعال انگیزی کرتا ہے۔ ایک شخص آپ کو نقصان پہنچاتا ہے۔ ایک شخص آپ کے خلاف تخریب کاری کرتا ہے۔اب آپ کے لیے جواب (response) کے دو طریقے ہیں۔ ایک یہ کہ آپ ویسا ہی کریں جیسا کہ دوسرے شخص نے آپ کے ساتھ کیا۔ یعنی جو شخص آپ کو برا کہے آپ بھی اس کو برا کہیں، جو شخص آپ کو ستائے آپ بھی اس کو ستائیں۔ جو شخص آپ کو نقصان پہنچائے آپ بھی اس کو نقصان پہنچائیں جو شخص آپ کے خلاف تخریب کاری کرے آپ بھی اس کے خلاف تخریب کاری کریں۔ جو شخص آپ کو اشتعال دلائے آپ بھی اس کے مقابلہ میں مشتعل ہوجائیں، وغیرہ۔
جو آدمی ایسا کرے اس نے اپنے اندر منفی شخصیت بنائی۔ اس نے اپنے سینہ میں کانٹوں کی فصل اگائی۔ ایسے آدمی کی شخصیت کانٹوں والی شخصیت ہے۔ وہ موت کے بعد کی اگلی دنیامیں کانٹوں والی شخصیت کے طورپر اٹھے گا اور پھر کانٹوں سے بھرے ہوئے جنگل کے اندر اس کو ڈال دیا جائے گاتاکہ ابد تک وہ حسرت اور غم کی زندگی گزارتا رہے۔
اس کے برعکس دوسرا انسان وہ ہے جس نے دوسروں کی منفی روش کا مقابلہ مثبت رسپانس (response) سے کیا۔ جس کو دوسروں نے برا کہا مگر خود اس نے کسی کو برا نہیں کہا۔ دوسروں نے اس کو ستایا مگر اس نے کسی کو نہیں ستایا۔ جس کے خلاف دوسروں نے انتقامی کارروائی کی مگر اس نے دوسروں کے خلاف کوئی انتقامی کارروائی نہیں کی۔جس کے خلاف دوسروں نے تخریب کاری کی مگر اس نے اپنی طرف سے کسی کے خلاف تخریب کاری نہیں کی۔ جس کو دوسروں نے نقصان پہنچایا مگر اس نے کبھی کسی کو نقصان نہیں پہنچایا۔ جس کے خلاف دوسروں نے اشتعال انگیزی کی مگراس نے کسی کے خلاف کبھی اشتعال کے تحت کوئی کارروائی نہیں کی۔
یہ دوسرا انسان وہ ہے جو کانٹوں کے درمیان پھول بن کررہا۔ اس نے اپنے اندر پھول جیسی شخصیت کی تعمیر کی۔ ایسے انسان کو اگلی دنیا میں یہ موقع دیا جائے گا کہ وہ پھولوں کے باغ میں رہے۔ آج کی کانٹوں بھری دنیا میں پھول والی شخصیت بنانے کی تدبیر کیا ہے۔ اس کے لیے فطرت نے آج کی دنیا میں کچھ زندہ نمونے قائم کردیے ہیں۔ گائے اِسی قسم کا ایک نمونہ ہے۔ گائے فطرت کی ایک انڈسٹری ہے جس کو باہر کی دنیا سے گھاس کھانے کو ملتی ہے مگر وہ اپنے داخلی میکانزم کے تحت گھاس کو دودھ میں کنورٹ کرتی ہے۔ یہی معاملہ ہر عورت اور مرد کو اس دنیا میں کرناہے۔ ہر عورت اور مرد کو مسلسل یہ کرنا ہے کہ وہ ’’گھاس‘‘ کو ’’دودھ‘‘ کی صورت میں تبدیل کرتا رہے۔
انسان کے ذہن کے دوبڑے خانے ہیں۔ ایک شعوری ذہن (conscious mind) دوسرا لاشعوری ذہن (unconscious mind) ۔ جب بھی کوئی بات آدمی کے ذہن میںآتی ہے تو پہلے وہ اس کے ذہن کے شعور کے خانہ میں آتی ہے۔ اس کے بعد دھیرے دھیرے وہ آگے بڑھ کر اس کے ذہن کے لاشعور کے خانہ میں پہنچ جاتی ہے۔ لاشعور آدمی کے ذہن کا وہ خانہ ہے جہاں ہر بات دوامی طورپر محفوظ رہتی ہے مگر وہ آدمی کے شعور کی گرفت میں نہیں رہتی۔ جو آدمی پھول والی شخصیت بننا چاہے اس کو یہ کرنا ہوگا کہ جب بھی کوئی منفی آئٹم اس کے شعوری ذہن میں آئے تو اُسی وقت وہ اپنی سوچ کو متحرک کرکے اس منفی آئٹم کو مثبت آئٹم میں تبدیل کرے تاکہ جب آگے بڑھ کر یہ آئٹم آدمی کے لاشعور کے اسٹور میں محفوظ ہوتو وہاں وہ مثبت آئٹم کے طورپرمحفوظ ہو نہ کہ منفی آئٹم کے طور پر۔ مثلاً کوئی بات اس کے شعور میں نفرت کے احساس کے طورپر آئے تو وہ اس کو diffuse کرکے وہ اس کو محبت کے احساس میں تبدیل کرے۔ کوئی بات حسد کے احساس کے طورپر اس کے دماغ میں آئے تووہ اس کو بدل کر اعتراف کے احساس میں تبدیل کرلے۔کسی بات پر اس کا ایگو (ego) بھڑکے تو وہ اس کو بدل کر تواضع کی صورت دے دے۔ کوئی تجربہ اس کے اندر خود غرضی کا احساس پیدا کرے تو وہ بدل کر اس کو بے غرضی کا احساس بنادے۔ کسی واقعہ میںاس کو اپنی حق تلفی دکھائی دے تو اس کو وہ بدل کر شکر کے احساس میں ڈھال لے۔
جو عورت یا مرد اپنے اندر اس طرح کی شخصیت تعمیر کریں ان کا حال یہ ہوگا کہ ان کے شعور کا اسٹور مکمل طور پر مثبت آئٹم کا خزانہ بن جائے گا۔ وہ منفی آئٹم سے پوری طرح خالی ہوگا۔ ایسی مثبت شخصیت والے لوگ ہی موت کے بعد کی ابدی دنیا میں پھولوں والے باغ میں جگہ پائیں گے۔ جہاں وہ ابدی طورپر خوشی اور آرام کی زندگی گزاریں۔
واپس اوپر جائیں

کائناتی ماڈل

انسان اپنے آپ کو ایک وسیع کائنات میں پاتا ہے۔ یہ کائنات گویاایک بہت بڑا سماج ہے۔ انسان اس سماج کا صرف ایک چھوٹا سا حصہ ہے۔ انسان کو بھی اپنی زندگی میں اُسی روش کو اپنانا ہے جس روش کو کائنات کے دوسرے اجزا عملاً اپنائے ہوئے ہیں۔ یہی انسان کے لیے صحیح فطری طریقہ ہے اور اسی طریقہ میں انسان کی کامیابی کار از چھپا ہوا ہے۔
یہ کائناتی ماڈل کیا ہے۔ آپ خلا میں پھیلے ہوئے ستاروں اور سیاروں کو دیکھئے۔ ہر ستارہ اور سیارہ نہایت پابندی کے ساتھ اپنے اپنے مدار میں چل رہا ہے۔ ان میں سے کوئی کسی دوسرے کے مدار میں داخل نہیں ہوتا۔ اِسی ڈسپلن کی وجہ سے خلا میں ہر طرف امن قائم ہے۔ انسان کو بھی اپنے سماج میں عدم مداخلت (non-interference) کی اسی پالیسی کو اختیار کرنا ہے۔ ہر ایک کے اندر یہ زندہ شعور ہونا چاہیے کہ اس کی آزادی وہاں ختم ہوجاتی ہے جہاں سے دوسرے کی آزادی شروع ہوتی ہے۔
اسی طرح درختوں کی دنیا کو دیکھئے۔ درختوں نے خاموشی کے ساتھ یہ نظام اختیار کررکھا ہے کہ وہ زندہ اجسام کی ضرورت پورا کرنے کے لیے مسلسل آکسیجن سپلائی کرتے ہیں اور زندہ اجسام سے نکلی ہوئی غیر مطلوب کاربن ڈائی آکسائڈ کو اپنے اندر لے لیتے ہیں۔ یہ ایک بے غرضانہ نفع بخشی کا نظام ہے۔ انسان پر بھی لازم ہے کہ وہ بھی اسی نظام کو اپنی زندگی میں اختیار کرے۔
اسی طرح آپ دیکھتے ہیں کہ پہاڑوں سے پانی کے چشمے اوپر سے نیچے کی طرف جاری ہوتے ہیں۔ ان چشموں کے ساتھ بار بار ایسا ہوتا ہے کہ راستہ میں ان کے سامنے ایسے پتھر آتے ہیں جو بظاہر ان کے سفر کے لیے رکاوٹ ہوتے ہیں۔ مگر چشمہ ایسا نہیں کرتا کہ وہ پتھر کو ہٹا کر اپنا راستہ بنانے کی کوشش کرے۔ اس کے بجائے وہ یہ کرتا ہے کہ وہ پتھرکے کنارے سے اپنا راستہ بنا کر آگے چلا جاتا ہے۔ یہ گویا اس بات کا پیغام ہے کہ —رکاوٹوں سے نہ ٹکراؤ بلکہ رکاوٹوں سے ہٹ کر اپنی سرگرمی جاری کرو۔
اسی طرح حیوانات کی دنیا میں ہم دیکھتے ہیں کہ بار بار ان کے درمیان کوئی نزاعی اِشو پیدا ہوتا ہے مگر ہمیشہ ایسا ہوتا ہے کہ وقتی طور پر کچھ غُرّا کر یا سینگ مار کر وہ اس کو بھُلا دیتے ہیںاور جلد ہی وہ ایسے نارمل ہو جاتے ہیں جیسے کہ کچھ نہیں ہوا۔ اسی طرح انسان کو اپنے سماج میں رہنا ہے۔ سماجی زندگی میں بار بار ایسی چیزیں پیش آتی ہیں جو کسی عورت یا مرد کو ناگوار ہوتی ہیں۔ مگر ہر ایک کو یہ کرنا ہے کہ وہ اس ناگواری کو وقتی بنا دے۔ وہ اس کو مستقل تلخی کی صورت نہ اختیار کرنے دے۔
فطرت کی دنیا کا مطالعہ بتاتا ہے کہ یہاں ہر چیز دوسروں کو کچھ دیتی ہے مگر وہ دوسروں سے اپنے لیے کچھ نہیں لیتی۔ مثلاً سورج یکطرفہ طور پَر اہلِ دنیا کو روشنی دیتا ہے مگر وہ اس کی کوئی قیمت وصول نہیں کرتا۔ ہَوا مسلسل طورپر آکسیجن سپلائی کرنے کا کام کررہی ہے مگر وہ اس کا کوئی معاوضہ نہیں لیتی۔ اسی طرح موجودہ دنیا کی تمام چیزیں بلا معاوضہ لوگوں کی خدمت میں لگی ہوئی ہیں، حالاں کہ ان میں سے کوئی بھی چیز اپنی خدمت کے لیے اپنا بِل اُن لوگوں کے پاس روانہ نہیں کرتی جو اس سے فائدہ اٹھارہے ہیں۔
اِس سے معلوم ہوا کہ آس پاس کی جو دنیا ہے وہ پوری دنیا ایک دینے والی دنیا (giver world) ہے، وہ لینے والی دنیا (taker world) نہیں ۔ گویا کہ اس دنیا کا کلچر دینے والا کلچر(giver culture) ہے۔ اس دنیا کی ہر چیز مسلسل یہ پیغام دے رہی ہے کہ دوسروں سے لیے بغیر دوسروں کو دینے والے بنو۔
انسان کو یہی دینے والا کلچر اپنانا ہے۔ اس کو اپنے معاشرے میں دینے والا بن کر رہنا ہے نہ کہ لینے والا۔انسان کے لیے اس کے گِردوپیش کی کائنات ایک وسیع ماڈل ہے۔ انسان کی کامیابی کا راز یہ ہے کہ وہ اس ماڈل کو اپنی زندگی میںاختیار کرے، صِرف اِس فرق کے ساتھ کہ انسان کے سوا بقیہ کائنات میں یہ ماڈل قانونِ فطرت کے تحت مجبورانہ طورپر قائم ہے۔ جب کہ انسان اِس کائناتی ماڈل کو اپنی زندگی میںشعوری طور پر خود اپنے اختیار کے تحت قائم کرے گا۔
اپنے آزادانہ اختیار کو کائناتی ڈسپلن کے تحت لانا، گویا اختیار رکھتے ہوئے اپنے آپ کوبے اختیار کرلینا ہے۔ قانونِ فطرت کے مقابلے میں یہی سپردگی (submission) کا رویہ انسان کے لیے صحیح ترین رویّہ ہے۔ یہی وہ رویہ ہے جو انسان کو اپنے ابدی دورِ حیات میںکامیابی کا ضامن ہوگا۔
واپس اوپر جائیں

جنت کا پیشگی تعارف

انسان بے شمار خواہشیں لے کر پیدا ہوتا ہے۔ یہ خواہشیں اس کی زندگی کا سب سے زیادہ حسین سرمایہ ہوتی ہیں۔ آدمی ان خواہشوں کی تکمیل کے لیے ساری عمر دوڑتا رہتا ہے۔ آخر کارہر آدمی صرف یہ دریافت کرتا ہے کہ وہ اپنی خواہشوں کو پورا نہ کرسکا۔ ہر آدمی کا یہ مقدر ہے کہ وہ خواہشوں کی تکمیل سے پہلے بھی غیر مطمئن ہو اور بظاہر خواہشوں کی تکمیل کے بعد بھی غیر مطمئن رہے۔یہ انجام ہر ایک کے لیے مقدر ہے، خواہ وہ امیر ہو یا غریب۔
اس کا سبب یہ ہے کہ انسان کی خواہشیں لامحدود ہیں، جب کہ موجودہ دنیا ایک محدود دنیا ہے۔ اس فرق نے اس بات کو ناممکن بنا دیا ہے کہ کوئی شخص موجودہ دنیا میں اپنی خواہشوں کا محل تعمیر کرسکے۔ اس دنیا میں خواہشوں کے ہر محل کا انجام یہی ہونا ہے کہ آخر کار وہ خواہشوں کا قبرستان ثابت ہو۔ تاہم انسانی خواہشوں کا ایک مثبت رول ہے۔ یہ خواہشیں در اصل جنت کا پیشگی تعارف ہیں۔ یہ خواہشیں بتاتی ہیں کہ جنت کی وہ دنیا کتنی پُر مسرت دنیا ہوگی جہاں یہ تمام حسین خواہشیں مکمل طورپر پوری ہوں۔
موجودہ دنیا میں کامیابی کا راز خواہشوں کی تنظیم (desire management) ہے نہ کہ خواہشوں کی تکمیل کی ناکام کوشش۔ موجودہ دنیا اس لیے نہیں ہے کہ یہاں آدمی اپنی جنت تعمیر کرے۔ یہ دنیا صرف اس لیے ہے کہ یہاں آدمی اپنے حسنِ عمل سے اپنے آپ کو جنت میں داخلہ کا اہل ثابت کرے۔ ان خواہشوں کو اگر مثبت مفہوم میں لیا جائے تو وہ جنتی عمل کے لیے گہرے محرک کا کام کرنے والی ثابت ہوںگی۔
ہماری خواہشیں (desires) ہماری کوشش کے رُخ کو بتاتی ہیں، وہ ہماری کوشش کی منزل کو نہیں بتاتیں۔ تاریخ کا تجربہ بتاتا ہے کہ یہ منزل قابلِ حُصول ہی نہیں۔ ہر آدمی کی زندگی کی ایک ہی داستان ہے۔ اوروہ ہے خواہشوں کی تکمیل کے پیچھے دوڑنا اور خواہشوں کی تکمیل کے بغیر مرجانا۔
مزید مطالعہ بتاتا ہے کہ کسی خواہش کی تکمیل کے لیے اتنے زیادہ عوامل درکار ہیں کہ اُن عوامل کو یکجا کرنا انسان کے بس ہی میں نہیں، خواہ اس کوایک ہزار سال کی عمر مل جائے اور ساری دنیا کی دولت اور اقتدار اس کے کنٹرول میں ہوں۔ مثلاً انسان ایک گھر بنا سکتا ہے مگر وہ یہ نہیں کرسکتا کہ زمین میںزلزلے کی آمدکو روک دے۔ انسان اعلیٰ اہتمام کے ذریعے صحت مند جسم بنا سکتا ہے مگر اس کے لیے یہ ممکن نہیں کہ وہ موت کے قانون کو بدل دے۔ انسان ہر قسم کی لذّتوں کو اپنے گرد جمع کرسکتا ہے، مگر اس کے لیے یہ ممکن نہیں کہ لذتوں سے محظوظ ہونے کے بارے میں وہ اپنی محدودیت کو ختم کردے۔ انسان آسودگی کے ظاہری سامان اپنے گرد اکھٹاکر سکتا ہے مگروہ فطرت کے اُس قانون کو بدل نہیں سکتا جس کے تحت انسان کو بیماری اور حادثات جیسی چیزوں سے دوچار ہونا پڑتا ہے۔
اس تجربے سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ انسان کے بس میں صرف کرنا ہے، انسان کے بس میں نتیجہ نہیں۔ کرنے کا اختیار انسان کو ہے مگر کرنے کے نتیجے میں ایک نئی دنیا کی تعمیر کا اختیار خالق کے سوا اور کسی کو نہیں۔ ایسی حالت میں جو شخص کرنے کے ساتھ یہ چاہتا ہے کہ وہ نتیجے کا محل بھی بنا ڈالے، وہ صرف غیر حقیقت پسندی کا ثبوت دے رہا ہے اور حقیقت پسندانہ سوچ کے تحت دنیا میں کوئی حقیقی نتیجہ برآمد ہونے والا نہیں۔
اِس حقیقت کو سامنے رکھ کر سوچیے تو صحیح بات یہ نظر آتی ہے کہ انسان اپنے اور خالق کے درمیان اس تقسیم پر راضی ہوجائے کہ کرنا میرا معاملہ ہے اور اس کا نتیجہ پیدا کرنا خالق کا معاملہ۔ اِس قانون کے مطابق، موت سے پہلے کا زمانہ انسان کے لیے عمل کرنے کا زمانہ ہے اور موت کے بعد کا زمانہ خالق کی طرف سے عمل کا انجام پانے کا زمانہ۔
آدمی اگر اس حقیقت کا اعتراف کرلے تو اس کو بیک وقت دو فائدے حاصل ہوں گے۔ اوّل یہ کہ اس کا ٹینشن ہمیشہ کے لیے ختم ہوجائے گا۔ ٹینشن نام ہے عمل اور نتیجے کے درمیان فرق کا۔ اور جب یہ فرق ختم ہوجائے تو ٹینشن بھی اپنے آپ ختم ہوجاتا ہے۔ اس کا دوسرا فائدہ یہ ہے کہ آدمی کو اس امر کی یقینی ضمانت حاصل ہوجائے کہ موت کے بعد وہ اپنے عمل کا مطلوب انجام اس طرح پالے گا کہ ہمیشہ کے لیے وہ خوشیوں کے ایک صَدا بہار باغ کا مالک بن جائے۔
واپس اوپر جائیں

آئیڈیل دنیا

جٹ ایر ویز کی فلائٹ میگزین (Jet Wings) کے شمارہ اپریل ۲۰۰۵ء میں ایک مضمون چھپا تھا،جس کا عنوان یہ تھا—روڈ ٹو پَیراڈائز:
The Road to Paradise
سات صفحے کے اس با تصویر مضمون میں اُس کے رائٹرس (Gustasp and Jeroo Irani) نے بتایا ہے کہ انہوں نے انڈیا کے اَرونا چَل پردیش کے خوبصورت پہاڑی علاقے کاسفر کیا۔ انہوں نے بتایاکہ ہمالیہ کی اِس بلنددنیا میں ہر طرف فطرت کا حسن وافر مقدار میں موجود ہے۔ مگر اس علاقے میں سفر کرتے ہوئے بار بار تلخ تجربے بھی ہوتے ہیں۔ یہ علاقہ دُور سے دیکھنے میں تو بہت حسین معلوم ہوتا ہے لیکن وہاں کے راستوں میں چلنا اور وہاں کے مسائل سے نمٹنا پھول میں کانٹے کی طرح معلوم ہوتا ہے۔ ان تجربات کاتذکرہ کرتے ہوئے اُنہوں نے لکھا تھاکہ ’’ہر جنت کا ایک سانپ ہوتا ہے:
Every Paradise has its serpent.
یہ مَثل بائبل کی ایک کہانی پَر مبنی ہے۔ اِس کہانی کے مطابق آدم کی جنت میں ایک سانپ بھی موجود تھا۔ مگر یہ کہانی درست نہیں۔ خدا کی بنائی ہوئی ابدی جنت میںکوئی ’’سانپ‘‘ نہیں۔ البتہ انسان بطورِ خود اپنے لیے جو عارضی جنتیں بناتا ہے ان میں سے ہر جنت میں ضرور ’’سانپ‘‘ موجود ہوتے ہیں۔ انسان کی بنائی ہوئی کوئی بھی جنت سانپ سے خالی نہیں۔
اصل یہ ہے کہ خدا کی بنائی ہوئی ابدی جنت تو ایک آئیڈیل جنت ہے۔ وہاں نہ حال کی کوئی تکلیف ہے اور نہ مستقبل کا کوئی اندیشہ۔ وہاں نہ کوئی ڈِس ایڈوانٹیج ہے اور نہ کوئی محدودیت۔ وہاں نہ شور ہے اور نہ کسی قسم کی کثافت (pollution) ۔وہاں نہ فساد ہے اور نہ کوئی تشدّد۔ یہ مکمل معنوں میں ایک معیاری جنت ہے۔
یہ ابدی جنت اس لیے بنائی گئی ہے تاکہ منتخب لوگوں کو وہاں بسایا جائے۔ انسانوں میں سے جو افراد اعلیٰ خدائی معیار پَر پورے اُتریں اُن کو یہ جنت مَوت کے بَعد کے مرحلۂ حیات میں انعام کے طورپر دی جائے گی۔ جہاں وہ ہمیشہ رہیں گے اور کبھی اس سے نکلنا نہ چاہیں گے۔اس ابدی جنت کی طلب ہر انسان کے اندر پیدائشی طورپر موجود ہے۔ ہر آدمی عین اپنی فطرت کے زور پر اس جنت کا طالب ہے۔ وہ ہر قیمت پر اس کو پانے کے لیے بے تاب رہتا ہے۔موت سے پہلے کی زندگی میں ہر عورت اور مرد اسی خوابوں والی ’’جنت ‘‘ کو بنانے میں لگے رہتے ہیں۔ ہر عورت اور مرد کی سب سے بڑی خواہش یہ ہوتی ہے کہ وہ اپنے خوابوں میں بسی ہوئی جنت کو بنائے اور اس کے اندر زندگی گذارے۔
مگر عملاً یہ ہوتا ہے کہ ہر عورت اور مرد کے حصے میں صرف جدوجہد آتی ہے، اس کا مطلوب نتیجہ کسی کے حصے میں نہیں آتا۔ ہر عورت اور مرد اپنی خوابوں والی جنت کو پانے میں اپنی ساری طاقت لگا دیتے ہیں مگر اس سے پہلے کہ وہ اپنے ڈریم لینڈ کو پائیں، اچانک ان کی موت آتی ہے اور وہ ناتمام آرزوؤں (unfulfilled wishes) کے ساتھ اگلی دنیا کی طرف چلے جاتے ہیں۔
کامیابی کا سب سے بڑا راز یہ ہے کہ ہر آدمی یہ جانے کہ اس کی زندگی کے دو مَرحلے ہیں— قبل ازموت مرحلۂ حیات اور بعد از موت مرحلۂ حیات۔ خالق نے جس چیز کو بعد از موت مرحلۂ حیات میں رکھ دیاہو اس کو کوئی شخص قبل ازموت مرحلۂ حیات میں پانے والا نہیں۔
یہی وہ حقیقت ہے جس کو جاننے کا نام سچائی کی دریافت ہے۔ ہر عورت اور مرد کے لیے بہترین عقل مندی یہ ہے کہ وہ حیاتِ انسانی کے اِن دو مرحلوں کو جانیں اور اس کے مطابق اپنی زندگی کی تعمیر کریں۔ آج کی دنیا اپنے آپ کو مستحق بنانے کی جگہ ہے اور کَل کی دنیا اپنے استحقاق کے مطابق اپنا انجام پانے کی جگہ۔ہر عورت اور مرد کے کرنے کا کام یہ ہے کہ وہ آج کی زندگی کو تیاری کا ایک موقع سمجھے۔ وہ اپنے وقت اور طاقت کا سب سے بڑا استعمال یہ سمجھے کہ وہ ابدی جنت میں داخلے کا خدائی معیار دریافت کرے۔ اور اِس دریافت کے مطابق اپنی زندگی کا نقشہ بنائے تاکہ جب اس کو موت آئے تو وہ خدا کی ابدی جنت کا لائق امیدوار (qualified candidate) قرار پائے۔
واپس اوپر جائیں

جنت کے دروازے پر

On the Threshold of Paradise
جنت کیا ہے۔ جنت کوئی پراسرار چیز نہیں۔ جنت دوسرے معلوم سائنسی واقعات کی طرح ایک معلوم سائنسی واقعہ ہے۔ جنت دراصل زمین کا کنورژن ہے۔ جیسا کہ معلوم ہے، زمین پہلے آگ کی صورت میں تھی۔ پھر وہ ٹھنڈی ہوکر موجودہ زمین بنی۔ گویا غیر زمین نے کنورٹ ہو کر زمین کی صورت اختیار کی۔ اسی طرح مستقبل میں ایک اور اعلیٰ درجے کا کنورژن ہوگا۔ اس وقت غیر جنتی زمین کنورٹ ہو کر جنتی زمین بن جائے گی۔
موجودہ دنیا میں تمام چیزیں کنورژن کے ذریعے وجود میں آتی ہیں۔ پانی کیا ہے، دو گیسوں کا کنورژن۔ درخت کیا ہے، غیر درخت کا کنورژن۔ مشین کیا ہے ، لوہے کا کنورژن۔ صنعتی دنیا کیا ہے، غیرصنعتی دنیا کا کنورژن۔ اسی طرح مستقبل میں ایک زیادہ بڑا کنورژن پیش آئے گا۔ اس وقت موجودہ غیرمعیاری زمین بدل کر معیاری زمین بن جائے گی، اسی کا نام مذہبی زبان میں جنت ہے۔ اس واقعے کی طرف قرآن میں ان الفاظ میں اشارہ کیا گیاہے: یوم تبدل الارض غیر الارض (ابراہیم ۴۸)
When the earth is turned into another earth.
زمین پر کنورژن کا یہ عمل بار بار پیش آیا۔ زمین کے لیے کنورژن ایک معلوم فطری پراسس ہے۔ وہ ایک معلوم فطری واقعہ ہے۔ ایسی حالت میں جنت کو ماننا صرف ایک ہونے والے واقعے کو ماننا ہے۔ یہ ایسا ہی ہے جیسے کسی فیکٹری کے بارے میں کہا جائے کہ اس سے ۹۹۹ پروڈکٹ نکل چکے ہیں اور اب اس سے ہزارواں پروڈکٹ نکلنے والا ہے۔
جنت صرف ایک مذہبی عقیدہ نہیں۔ خود فطرت کے محکم قانون کے مطابق، جنت ایک ہونے والا واقعہ ہے۔ فطرت کا نظام جس قانون کے تحت چل رہا ہے اُس کا مطالعہ بتاتا ہے کہ موجودہ دنیا مسلسل ایک ارتقائی عمل سے گذر رہی ہے۔ جنت گویا اسی ارتقائی عمل کی آخری اور انتہائی صورت ہے۔ جنت ایک تخلیقی آغاز کی فطری انتہا ہے۔
مطالعہ بتاتا ہے کہ کائنات بے حد وسیع ہے، اتنی زیادہ وسیع کہ انتہائی طاقتور دور بینوں کی دریافت کے باوجود ابھی تک اس کی وسعتوں کا اندازہ نہ ہوسکا۔ اس ناقابلِ پیمائش حد تک وسیع کائنات میں زمین ایک بے حد چھوٹا سیارہ ہے۔ کائنات کے مقابلے میں ہماری زمین اُس سے بھی زیادہ چھوٹی ہے جتنا کہ پوری زمین کے مقابلے میں ایک ذرّہ۔
زمین کا یہ کُرہ وسیع کائنات کے اندر ایک انتہائی نادر استثناء ہے۔ پوری کائنات میں زمین واحد ایسا مقام ہے جہاںاستثنائی طورپر پانی ، سبزہ ، ہوا اور آکسیجن جیسی چیزیں موجود ہیں۔ زمین پر زندگی ہے اور اسی کے ساتھ وہ چیز بھی موجود ہے جس کو لائف سپورٹ سسٹم کہا جاتا ہے۔ زمین کے اندر وہ ساری قیمتی چیزیں رکھ دی گئی ہیں جن کو استعمال کرکے انسان تہذیب و تمدن کی تعمیر کرتا ہے۔ زمین کے اندر تہذیب کے تمام اجزاء امکانی طور پر موجود ہیں۔ انسان کا کام صرف یہ ہے کہ وہ اِس پوٹینشیل (potential) کو ایکچول (actual) بنائے۔
اس اعتبار سے دیکھیے تو تہذیب کی تاریخ مسلسل طورپر ایک حالت سے دوسری حالت کی طرف جارہی ہے۔ وہ ترقی کے ابتدائی مرحلے سے گذرکر ترقی کے اعلیٰ مرحلے کی طرف اپنا سفر طے کررہی ہے۔ تہذیب کے اس سفر کی تفصیل اقوامِ متحدہ کے زیر اہتمام تیار کردہ کتاب تاریخ البشریّۃ(The History of Mankind) میں دیکھی جاسکتی ہے۔
تہذیبِ انسانی کے اس سفر کا ذکر قرآن میں موجود ہے۔ قرآن کی سورہ الانشقاق میں بتایا گیا ہے کہ زمین پر رات اور دن کی صورت میں بار بار تبدیلی کا واقعہ ہوتا رہتا ہے۔ اسی طرح زمین پر زیادہ بڑا واقعہ بھی پیش آئے گا۔ چنانچہ فرمایا کہ : تم کو ضرور ایک حالت کے بعد دوسری حالت پر پہنچنا ہے۔ تو انہیں کیا ہوگیا ہے کہ وہ ایمان نہیں لاتے۔ اور جب ان کے سامنے قرآن پڑھا جاتا ہے تو وہ خدا کی طرف نہیں جھکتے:
You will surely move from one stage to another stage. What then is the matter with them, that they believe not? and when the Qur'an is read to them, they don't surrender before God. (84: 19-21)
قرآن کی ان آیات میں انسان کی اسی تہذیبی تاریخ کی طرف اشارہ کیاگیا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ تاریخ کا ارتقاء معلوم طورپر بتا رہا ہے کہ انسانی تہذیب مسلسل ترقی کی طرف بڑھ رہی ہے۔ اس ترقی کا آخری نمونہ وہی ہوگا جس کو روحانی تہذیب یا جنت کہاگیا ہے۔
تہذیب کی تاریخ بتاتی ہے کہ معلوم طورپر، انسانی تہذیب تین بڑے اَدوار سے گزر چکی ہے۔ تمام قرائن بتا رہے ہیں کہ اب وہ اپنے سفر کے چوتھے اور آخری مرحلے میں داخل ہوگئی ہے۔ تہذیب کے یہ تین بڑے ادوار حسب ذیل ہیں:
۱۔حَجری تہذیب (Stone Civilization)
۲۔ زرعی تہذیب (Agricultural Civilization)
۳۔ صنعتی تہذیب (Industrial Civilization)
ہر شخص جانتا ہے کہ تہذیب کے یہ تین ادوار وقوع میں آچکے ہیں۔ تاہم فیوچر شاک (Future Shock) کے مصنف الوِن ٹافلر(Alvin Taffler) کا کہنا ہے کہ تہذیب کا چوتھا، اور شاید آخری دور مستقبل میں ظاہر ہونے والا ہے۔ اس چوتھے دور کو الون ٹافلر نے سُپر انڈسٹریل ایج (Super Industrial Age) کہا ہے۔ یہ چوتھا دور، پچھلے ادوار کے مقابلے میں، مادّی سے زیادہ غیر مادی ہوگا۔ اس لیے زیادہ بہتر ہے کہ اس چوتھے دور کو روحانی تہذیب (Spiritual Civilization) کا نام دیا جائے۔
۱۔ اب پہلی تہذیب، حجری تہذیب کو لیجئے۔یہ تہذیب کا وہ دور ہے جب کہ انسان صرف یہ کرسکا تھا کہ زمین کی سطح پر بروقت جوچیزیںموجود ہیں ان کو اسی خام صورت میں استعمال کرے۔ ان موجودہ چیزوں میں پتھر سب سے زیادہ نمایاں حیثیت رکھتا تھا۔ اس لیے علامتی طورپر اس دور کو حجری دورکہاگیا۔ اگر چہ ابتدائی تہذیب کے اس دور میں پتھر کے علاوہ دوسری بہت سی چیزیں استعمال میں آئیں جو پہلے سے زمین کی سطح پردستیاب تھیں۔ مثلاً لکڑی، حیوانات، باقاعدہ زراعت کے بغیر ملنے والی پیداوار، وغیرہ۔
جہاں تک انسان کا تعلق ہے، حجری تہذیب کے زمانے میں بھی انسان وہی تمام فطری اوصاف رکھتا تھا جو وہ آج رکھتا ہے۔ مثلاً بعد کی تحقیقات نے بتایا ہے کہ انسان کے برین میں ایک سو ملین بلین بلین پارٹیکل موجود ہیں۔ حجری دور کے انسان کے دماغ میں بھی اتنے ہی پارٹکل موجود تھے۔ مگر تعلیم و تربیت کی کمی کی بنا پر انسان ابھی اس قابل نہیں بنا تھا کہ وہ اپنے اندر چھپے ہوئے ان فطری امکانات کو استعمال کرسکے۔
۲۔ اس کے بعد دھیرے دھیرے وہ زمانہ آیا جس کو زرعی دو رکہاجاتا ہے۔ یعنی وہ د ور جس کو ہم نے زرعی تہذیب (Agricultural Civilization) کا نام دیا ہے۔ اس دور میں انسان نے مزید آگے بڑھ کر نیچر میںتصرف کا طریقہ دریافت کیا۔ اس دور میں آب پاشی، زراعت، مویشی کی پرورش، لوہے کا استعمال، پہیے دار گاڑی اور اس قسم کی دوسری چیزیں دریافت کیں۔ اس طرح یہ ممکن ہوا کہ وہ پہلے کے مقابلے میں زیادہ بہتر زندگی گزار سکے۔
۳۔ اس کے بعد تیسرا دور وہ ہے جس کو صنعتی دور یا صنعتی تہذیب کہا جاتا ہے۔ یہ تیسرا دور اُس وقت شروع ہوا جب کہ انسان نے حیوانی طاقت سے آگے بڑھ کر میکانیکل پاور کو دریافت کیا۔ اب انسان نے پانی کو اسٹیم پاور میں تبدیل کیا اور اسٹیم انجن بنائے۔ اسی طرح انسان نے پٹرول کو دریافت کیا اور پٹرول سے چلنے والی مشینیں بنائیں۔ اسی طرح اُس نے کمیونیکیشن کے نئے ذرائع دریافت کیے جس نے پوری دنیا کو ایک گلوبل ولیج بنا دیا۔
صنعتی دور میں انسان نے میکانیکل پاور کو استعمال کرکے بہت سی چیزیں بنائیں۔ مثلاً تیزرفتار سواری، تیز رفتار خبر رسانی، کاغذ اور چھَپائی کے طریقے، نئے اصولوں پر شہری تعمیر، تعلیم وترقی کا نیا نقطۂ نظر، وغیرہ۔ اس طرح حسن اور معنویت کی ایک نئی دنیا وجود میں آئی جس کو صنعتی تہذیب کہا جاتا ہے۔
تہذیب کا چوتھا دور وہ ہے جس کوالون ٹافلر نے سُپر انڈسٹریل ایج کا نام دیاہے۔ الون ٹافلر کے بیان کے مطابق، سُپر انڈسٹریل ایج کی خاص صفت یہ ہوگی کہ وہاں مکمل طورپر آٹو میشن (automation)کا رواج ہوگا۔ یعنی الیکٹرانکس کا استعمال اتنا زیادہ بڑھ جائے گا کہ بیش تر کام خود بخود ہونے لگیں گے۔ عام حالات میں انسان کا چاہنا ہی اِس مقصد کے لیے کافی ہوجائے گا کہ اس کی تمام ضرورتیں خود بخود معیاری طورپر پوری ہوتی رہیں۔
آٹومیشن کا یہ نظام عین وہی چیز ہے جس کی پیشگی اطلاع جنت کے بارے میں دی گئی ہے۔ قرآن میں جنت کے بارے میں بتایاگیا ہے : ولکم فیہا ماتشتہی انفسکم ولکم فیہا ما تدعون (حٰم السجدہ ۳۱) یعنی تمہارے لیے جنت میں ہروہ چیز ہے جس کو تمہارا دل چاہے اور تمہارے لیے اس میں ہر وہ چیز ہے جو تم طلب کرو گے۔
الون ٹافلر نے مستقبل کے اس دورکو سُپر انڈسٹریل ایج کہا ہے۔ وہ گویا جنتی کلچر کا دوسرا نام ہے۔یہ گویا جنت کی پیشگی خبر ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ مذکورہ سُپر انڈسٹریل ایج مستقبل کے اُس معیاری دور کو علمی اعتبار سے قابلِ فہم بنا دیتا ہے جس کو اوپر کی تقسیم میں اسپریچول سویلائزیشن کا نام دیاگیا ہے۔
بظاہر تہذیب کا یہ چوتھا دور زیر تعمیر ہے۔ یہی چوتھا دور وہ دور ہے جس میں غالباً اُس معیاری دنیا کا ظہور ہوگا جس کو مذہبی اصطلاح میں جنت (paradise) کہاگیا ہے۔ موجودہ تحویلی دَور (Transitional Period) گویا وہ حالت ہے جس کوزیرِ تعمیر جنت(Paradise in the making) کہا جاسکتا ہے۔
جنت گویا تہذیبی سفر کے آخری دور کا نام ہے۔ قانونِ فطرت کے تحت بننے والی یہ دنیا یقینا اپنے وقت پر بنے گی۔ یہ دنیا ایک معیاری دنیا ہوگی۔ اس دنیا میں ہر قسم کی محدودیت (limitation) اور ڈس ایڈوانٹیج (disadvantage) کا خاتمہ ہوجائے گا۔ یہاں نہ خوف ہوگا اور نہ حُزن۔ یہاں نہ شور ہوگا اور نہ تکلیف۔ جنت کی یہ دنیا انسان کے اُن خوابوں کی تعبیر ہوگی جن کو وہ پہلے دن سے دیکھتا رہا ہے۔
اِسی کے ساتھ انسان کی ہستی میں نئی ترقیاں ظہور میںآئیں گی۔ یہ انسان کا نقطۂ عروج ہوگا، جہاں پہنچ کر انسان ایک کامل انسان بن جائے گا۔ اس کو وہ ابدی زندگی مل جائے گی جو بڑھاپا ،حادثہ، بیماری اور موت سے خالی ہوگی۔ یہ وہ معیاری دنیا ہوگی جہاں انسان اس پوزیشن میںہوگا کہ وہ اپنی ہستی کے تمام امکانات کو استعمال کرے۔ وہ کامل فُل فِل منٹ کا اعلیٰ تجربہ کرسکے۔
جنت گویا انسانی تہذیب کے ارتقائی عمل کا نقطۂ عروج (culmination) ہے۔ جنت اُس پرفیکٹ اور آئیڈیل دنیا کا ظہور ہے جس کا خواب ہمیشہ سے انسان دیکھتا رہا ہے۔ جنت میں پہنچ کر انسان تمام مصائب اور تمام مصیبتوں سے نجات پاجائے گا۔ جنت راحتوں اور خوشیوں کا وہ معیاری مقام ہوگا جس کے لیے کوئی فنا نہیں۔
مزید یہ کہ جنت کوئی ٹھہراؤ کی جگہ نہ ہوگی(الکہف: ۳۱)۔ جنت میں انسان کو ہر وقت نئی نئی دریافتیں ہوں گی، ایسی دریافتیں جن کا سلسلہ کبھی ختم نہ ہو۔ یہی وجہ ہے کہ جنت میں بورڈم نہیں ہوگا۔ کیوں کہ بورڈم وہاں ہوتا ہے جہاں نئی دریافتیں نہ ہو رہی ہوں۔ انسان کے لیے نئی دریافت خوشی کا سب سے بڑا ذریعہ ہے۔ جنت میں ہر روز لامحدود حقائق کا کوئی نیا دروازہ کھُلتا رہے گا۔ اسی لیے جنت کی خوشی ایک ابدی خوشی ہوگی، نہ کہ صرف ایک وقتی خوشی۔
اس جنت کا بننا اتنا ہی ممکن ہے جتنا کہ زمین کا بننا اور زمین پر مختلف تہذیبوں کا وجود میں آنا۔ قدیم حجری دَور کے اندر زیادہ ترقی یافتہ زرعی دَور چھپا ہوا تھا جو اپنے وقت پر ظاہر ہوا۔ اسی طرح زرعی دور کے اندر زیادہ ترقی یافتہ صنعتی دَور چھپا ہوا تھا جو اپنے وقت پر ظاہر ہو کر سامنے آیا۔ اسی طرح صنعتی دَور کے اندر زیادہ ترقی یافتہ ، لطیف اور روحانی دور چھپا ہوا ہے جو اپنے وقت پر ظاہر ہو کر لوگوں کے سامنے آجائے گا۔ اس روحانی دَور یا جنتی دور کا ظہور میں آنا عملی طور پر اتنا ہی ممکن ہے جتنا کہ پچھلے اَدوار کا ظہور میںآنا۔
جب جدید صنعتی دو رآیا تو زمین کو دوبارہ سجایا گیا۔ منصوبہ بند انداز میں اس کی تعمیر کی گئی۔ تمدنی ترقیوںنے زمین کو ایک نئی، زیادہ بہتر زمین بنادیا۔ اسی طرح جب تہذیبی ترقی کا آخری دور، روحانی دور آئے گا تو زمین کو مزید زیادہ بہتر اور زیادہ مکمل بنا دیا جائے گا۔ اس حقیقت کی طرف قرآن میں واضح اشارے موجود ہیں۔ مثلاً فرمایا کہ: اُس وقت زمین زیادہ کشادہ کردی جائے گی(الانشقاق ۳) زمین کے صالح باشندے آزادانہ طورپر اس کے مالک بن جائیں گے (الزمر: ۷۴) حتیٰ کہ پوری کائنات اپنی تمام وسعتوں کے ساتھ اہلِ جنت کے چارج میں دے دی جائے گی (الحدید: ۲۱)
اسلامی روایات کے مطابق، زمین اپنی ابتدا میں جنوں کے چارج میں تھی۔ اس کے بعد وہ انسانوں کے چارج میں دی گئی۔ اب وہ آخری دور آنے والا ہے جب کہ زمین مکمل طورپر فرشتوں کے چارج میں دے دی جائے ۔ اُس وقت زمین میں ایسی تبدیلیاں لائی جائیں گی کہ وہ پورے معنوں میں ایک آئیڈیل ورلڈ اور پرفیکٹ ورلڈ بن جائے۔ زمین کے اس ارتقائی دور کی بابت قرآن میں اشارات موجود ہیں۔ مثلاً فرمایا کہ : یہ وہ دن ہوگا جب کہ زمین خدا کے نور سے جگمگا اُٹھے گی(الزمر ۶۹) آج زمین امکانی معنوں میں جنت ہے۔ کل یہ امکان واقعہ بن جائے گا۔ اور پھر زمین خوشیوں اور راحتوں کا ابدی مقام بن جائے گی۔
مطالعہ بتاتا ہے کہ زمین کی موجودہ حالت آئیڈیل حالت نہیں ہے۔ زمین پر نیچر کا قائم کیاہوا لائف سپورٹ سسٹم بہترین حالت میں موجود ہے۔ زمین پر ہر قسم کے سامانِ حیات بہترین حالت میں موجود ہیں، مگر اسی کے ساتھ زمین پر ایک غیر آئیڈیل حالت پائی جاتی ہے۔ یہاںاچھے لوگوں کے ساتھ بُرے لوگ بھی موجود ہیں۔ برے لوگوں کی یہ موجودگی زمین پر ہر قسم کے فسادات کا سبب ہے۔ جب تہذیبی سفر کا آخری مرحلہ سامنے آئے گا تو زمین کی آبادی سے تمام برے لوگ چھانٹ کر الگ کر دیے جائیں گے۔ اس کے بعد زمین صرف اچھے لوگوں کے چارج میں آجائے گی۔ یہی وہ حقیقت ہے جس کو قرآن میں ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے:
’’اور ہم نے زبور میں موعظت کے بعد لکھ دیا ہے کہ زمین کے وارث میرے نیک بندے ہوں گے‘‘ (الانبیاء ۱۰۵) یہ بات جو قرآن میں بتائی گئی ہے وہ اب بھی تفصیل کے ساتھ بائبل (زبور) میں موجود ہے۔ اس کا ایک جُزو یہ ہے— پَر شریروں کی نسل کاٹ ڈالی جائے گی۔ صادق زمین کے وارث ہوں گے۔ اس میں وہ ہمیشہ رہیں گے:
The righteous shall inherit the land, and dwell in it forever (Psalm 37:29)
خلاصۂ کلام
مطالعہ بتاتا ہے کہ وسیع کائنات میں ہماری زمین ایک نادر استثناء ہے۔ وسیع خلا میں انتہائی بڑے بڑے ستارے اس سے زیادہ تعداد میں موجود ہیں جتنا کہ تمام سمندروں کے کنارے ریت کے ذرے۔ مگر یہ تمام ستارے صرف آگ کے گولے ہیں۔معلوم طورپر ۱۳ بلین سال سے اب تک وہ اسی ایک حالت میں پڑے ہوئے ہیں۔ اس بظاہر ’’جامد‘‘ کائنات میں صرف ایک چیز غیر جامد ہے اور وہ ہماری زمین ہے۔ زمین میں استثنائی طورپر ایک ارتقائی عمل (evolutionary process) جاری ہے۔ زمین پر ایک کے بعدایک مختلف اسٹیج آرہے ہیں— ۱۰ بلین سال پہلے زمین صرف ایک آگ کا گولا (fire ball) تھی۔ اس کے بعد وہ سرد ہو کر ٹھنڈا سیارہ (cool planet) بنی۔ اس کے بعد اس کے اوپر پانی کا دور آیا۔ پھر زمین کی سطح پر سبزہ اور درخت اگے۔ پھر اس میں حیوانات پیدا ہوئے۔ اس کے بعد انسان کا ظہور ہوا۔ انسان کے ظہور کے بعد زمین پر تہذیبی ارتقاء کے ادوار آنے شروع ہوئے۔ انسان نے پہلے کم ترقی یافتہ دنیا(underdeveloped world) بنائی۔ اس کے بعد انسان ترقی یافتہ دنیا (developed world) بنانے میں کامیاب ہوگیا۔ یہ ارتقائی عمل مسلسل جاری ہے۔ اور یہ کہنا بالکل فطری ہے کہ ابھی زمین پر ایک اور زیادہ بہتر دور آنے والا ہے جس کے بعد یہ زمین ایک معیاری دنیا (perfect world) کی صورت اختیار کرلے گی:
It is but natural to believe that one more stage is in the ofting, that of a perfect world.
جنت کوئی پر اسرار چیز نہیں، جنت معلوم ارتقائی پراسس کا آخری اسٹیج ہے۔ جہاں تک حیوانات میں عضویاتی ارتقاء (organic evolution) کی بات ہے وہ تو بلاشبہہ ایک بے بنیاد مفروضہ ہے۔ مگر غیر ذی روح دنیا میں دَوری ارتقاء (periodic evolution) ایک ثابت شدہ واقعہ ہے جس میں کوئی شک نہیں۔ اس فطری قانون کے مطابق جنت پوری طرح ایک قابل فہم واقعہ ہے۔ مطالعہ بتاتا ہے کہ تقریباً ۱۰ ملین سال پہلے ہماری زمین آگ کا ایک گولا (fireball) تھی۔ اس کے بعد وہ ایک سرد سیارہ(cool planet) بنی۔ پھر انسانی آبادی کے بعد یہاں وہ دنیا بنی جس کو زیرِ تعمیردنیا (underdeveloped world) کہا جاتا ہے۔ اس کے بعد اس میں ایک اور ارتقائی مرحلہ آیا اور صنعتی انقلاب کے بعد وہ دنیا بنی جس کو ترقی یافتہ دنیا (developed world) کہا جاتا ہے۔
یہ چار دَور (periods) زمین پر آچکے ہیں۔ اب خود ارتقائی قانون کے مطابق زمین ایک اعلیٰ تر مرحلے کی طرف بڑھ رہی ہے۔ یہ گویا زمین کا آخری ارتقائی مرحلہ ہوگا۔ اس اعتبار سے اس کو معیاری دنیا (perfect world) کہا جاسکتا ہے۔ اس معیاری دنیا میں ہرقسم کی محدودیتیں (limitations) ختم ہوجائیں گی۔ خدائی اہتمام کے تحت یہاں کامل معنوں میں عادلانہ سماج (just order) بنایا جائے گا۔ برے لوگوں کو زمین سے ہٹا دیا جائے گا اور صرف اچھے لوگوں کو یہاں بسنے کی آزادی ہوگی۔ کثافت (pollution) کی تمام صورتیں ختم ہوجائیں گی۔ مصیبتوں (calamities) کا خاتمہ ہوجائے گا۔بیماری ،حادثہ ، بڑھاپا اور موت جیسے تمام ڈس اڈوانٹیج (disadvantage) ہمیشہ کے لیے ختم ہوجائیں گے۔
موجودہ دنیا میں ہر کام سخت محنت کے ذریعے انجام پاتا ہے۔ موجودہ دنیا میں محنت اور کامیابی دونوں ایک دوسرے کے ساتھ جُڑے ہوئے ہیں۔ جنت میں یہ صورت حال ختم کردی جائے گی۔ جنت میں ایسی نفیس تبدیلیاں واقع ہوں گی، جس میں ہر کام ایک پُر لطف مشغلے کی حیثیت اختیار کرلے گا (یٰس ۵۵)۔ جنت میں الگ سے تفریح (entertainment) کی ضرورت نہ ہوگی۔ کیوں کہ خود روزمرّہ کا کام ہی تفریح کا ذریعہ بن جائے گا۔
انسان فطرت کے زور پر ہزاروں سال سے جس مطلوب دنیا (desired world) کی ناکام تلاش کررہا تھا وہ دنیا اپنی کامل صورت میں اس کو مل جائے گی۔ انسان اس دنیا میں ہمیشہ کے لیے خوشیوں اور راحتوں بھری زندگی کو پالے گا۔ جسمانی محنت(physical labour) کی ضرورت باقی نہ رہے گی۔ صرف خوشگوار ذہنی سرگرمیاں (pleasant intellectual activities) تمام مطلوب نتائج کے حصول کے لیے کافی ہوجائیں گی۔
واپس اوپر جائیں

حادثہ، توجیہہ کے لیے کافی نہیں

Predictable Universe
اپنی کتاب ’’مذہب اور جدید چیلنج‘‘ (God Arises) مَیں نے ۱۹۶۴میں لکھی تھی۔ اس کتاب میں دکھایا گیا تھا کہ یہ کائنات بے حد بامعنٰی کائنات ہے۔ ایسی بامعنٰی کائنات کسی بنانے والے کے بغیر نہیں بن سکتی۔ اس میں جو باتیں درج تھیں، اُن میں سے ایک بات یہ تھی کہ:
’’۱۱؍اگست ۱۹۹۹ء میں ایک سورج گرہن واقع ہوگا جو کارنوال (Cornwall) میں مکمل طور پر دیکھا جاسکے گا :
On August 11, 1999, there will be a Solar eclipse that will be completely visible at Cornwall". (p. 99)
میں نے یہ بات ۱۱؍اگست ۱۹۹۹ سے ۳۵ سال پہلے لکھی تھی۔ اس تحریر کے ۳۵ سال بعد جب ۱۱؍اگست ۱۹۹۹ء کی تاریخ آئی تو اس پیشگی بیان کے عَین مطابق ٹھیک مقرّرہ وقت پر سورج گرہن ہوا۔ اِس کے واقع ہونے میں ایک منٹ کا بھی فرق نہیں ہُوا۔
میں نے یہ بات بطور خود نہیں لکھی تھی، بلکہ وہ علمائے فلکیات کے حسابات (calculations) کی بنیاد پر لکھی تھی۔ علمائے فلکیات پیشگی طورپَر اتنا صحیح اندازہ کرنے میں اس لیے کامیاب ہوئے کہ کائنات انتہائی محکم قوانین پر چل رہی ہے۔ کروروں سال گذرنے پر بھی اس میں کوئی تغیرو تبدل نہیں ہوتا۔ اِسی دریافت کی بنا پر ایک سائنس داں (سر جیمس جینز) نے اپنی کتاب ’’ مسٹیریس یُونیوَرس‘‘ میں لکھا ہے کہ :کائنات کے مطالعے سے ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اس کا بنانے والا ایک ریاضیاتی دماغ (Mathmetical Mind) ہے۔
کسی چیز کے بامعنٰی ہونے کا سب سے بڑا پہلو یہ ہے کہ وہ قابِل پیشین گوئی یا قابِلُ التَّنَبُّؤ (predictable) ہو۔ یہ صفت موجودہ کائنات میں مکمل طورپَر موجود ہے۔ جس کا ایک ثبوت اوپر کی مثال میں نظر آتا ہے۔
جو لوگ خدا کے وجود کا انکار کرتے ہیں اُن کا کہنا ہے کہ موجودہ کائنات ایک اتفاقی حادثہ (accident) کے طورپر وجود میں آئی ہے نہ کہ کسی خالق کے ارادے کے تحت۔ یہ جملہ گریمر کے اعتبار سے درست ہے مگر حقیقت کے اعتبار سے وہ درست نہیں۔ اگر یہ مانا جائے کہ موجودہ با معنٰی کائنات ایک حادثے کے طورپر ظہور میں آئی ہے تو اس کے لازمی نتیجے کے طور پر یہ بھی ماننا پڑے گا کہ بے شعور حادثہ بھی ایک ایسا عامل ہے جو بامعنٰی چیز کو وجود میں لاسکتا ہے۔ ایسی حالت میں حادثے کو لازمی طَور پَر قابلِ تکرار (repeatable) ہونا چاہیے۔ اُس کو بار بار وقوع میں آنا چاہیے۔ جس طرح بے شعور حادثے نے ایک بار ایک بامعنٰی کائنات بنائی، اسی طرح دوبارہ ایسا ہونا چاہیے کہ حادثات کے ذریعے کوئی بامعنی چیز وجود میں آجائے۔
مگر جیسا کہ معلوم ہے، دوبارہ کبھی ایسا نہیں ہوا۔ سائنسی اندازے کے مطابق، کائنات کی عمر تقریباً پندرہ بلین سال ہے۔ کیا وجہ ہے کہ اس لمبے عرصے میں کوئی بامعنٰی کائنات استثنائی طور پر صرف ایک بار وجود میں آئی، اس کے بعد کبھی نہیں، حتیٰ کہ جُزئی طورپر بھی نہیں۔ مثلاً ایسا نہیں ہُوا کہ دوبارہ کوئی نیا شمسی نظام بن جائے، دوبارہ کسی سیّارے پَر پانی اور ہَوا اَور سبزہ جیسی چیزیں وجود میں آجائیں، دوبارہ کوئی ایسی زمین بن جائے جہاں انسان اور حیوان پیدا ہو کر چلنے پھرنے لگیں۔یہ استثناء واضح طورپر ارادی تخلیق کا ثبوت ہے۔
تمام انسانی عُلوم کے مطابق، موجودہ دنیا کامل طور پر ایک استثنائی واقعہ ہے۔ وہ تاریخِ موجودات میں ایک نادر استثناء ہے۔ کائنات کا استثناء ہونا منکرین خدا کے مذکورہ نظریے کی یقینی تردید ہے۔ کائنات اگر صرف ایک حادثے کا ظہور ہوتی تو یقینی طورپر وہ قابلِ تکرار ہوتی۔ اور جب وہ قابلِ تکرار نہیں تو حادثے کی اصطلاح میں اس کی توجیہہ کرنا بھی سراسر بے بنیاد ہے۔ ایسی توجیہہ علمی طورپر قابلِ قبول نہیں ہوسکتی۔
حقیقت یہ ہے کہ خدا کا وجود اتنا ہی یقینی ہے جتنا کہ کسی انسان کے لیے خود اُس کا اپنا وجود۔ کوئی شخص اگر اپنے وجود کو مانتا ہے تو ٹھیک اسی دلیل سے اُس کو خدا کے وجود کو بھی ماننا پڑے گا۔ اپنے وجود کو ماننا اور خدا کے وجود کو نہ ماننا ایک فکری تضاد ہے۔ کوئی بھی سنجیدہ آدمی اس فکری تضاد کا تحمّل نہیں کرسکتا۔
سترہویں صدی کے مشہور فرانسیسی فلسفی ڈیکارٹ (René Descartes 1596-1650) نے کہاتھا کہ : ’’میں سوچتا ہوں، اس لیے میں ہوں:
“I think, therefore I exist.”
یہ اصول بلا شبہہ ایک محکم اصول ہے۔ اس اصول کے مطابق، خود شناسی آدمی کو خدا شناسی تک پہنچاتی ہے۔ اس اصول کے مطابق، یہ کہنا درست ہوگا کہ ’’میرا وجود ہے، اس لیے خدا کا وجود بھی ہے‘‘:
I exist, therefore God exists.
کائنات کا قابلِ تکرار نہ ہونا واضح طور پر یہ ثابت کرتا ہے کہ اس کائنات کو ایک باشعور وجودنے اپنے ارادے کے تحت بنایا ہے۔ اس طرح پوری کائنات میں زمین ایک نادر استثناء ہے۔ لائف سپورٹ سسٹم جو زمین پَر موجودہے وہ وسیع کائنات میں کہیں بھی موجود نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ جب پہلا انسان چاند پر گیا اور وہاں یہ دیکھا کہ چاند ایک خشک چٹان کے سوا اور کچھ نہیں تو اس کا یہ حال ہُوا کہ جب وہ دوبارہ زمین پر اُترا تو وہ جذباتی ہجوم کے تحت زمین کے اوپر سجدے میں گر پڑا۔ کیوں کہ اُس نے زمین جیسی کوئی موافقِ حیات (pro-life) چیز خَلا میں کہیں اور نہیں دیکھی۔ خدا ایک ثابت شدہ وجود ہے، خدا کو ماننا ایک ثابت شدہ چیز کو ماننا ہے اور خدا کا انکار کرنا ایک ثابت شدہ چیز کا انکار کرنا۔
واپس اوپر جائیں

روحانی ترقی

روحانی ترقی کیا ہے۔ روحانی ترقی اپنی داخلی شخصیت میں ربّانی بیداری لانے کا دوسرا نام ہے۔ مادی خوراک انسان کے جسمانی وجود کو صحت مند بناتی ہے۔ اسی طرح انسان کا روحانی وجود ان لطیف تجربات کے ذریعہ صحت مند بنتا ہے جن کو قرآن میں رزقِ رب (ربّانی خوراک) کہا گیا ہے۔
۱۶ جولائی ۲۰۰۴ کا واقعہ ہے۔ اس دن دہلی میں سخت گر می تھی۔ دوپہر بعد دیر تک کے لیے بجلی چلی گئی۔ چھت کا پنکھا بند ہوگیا۔ میں اپنے کمرے میں سخت گرمی کی حالت میں بیٹھا ہوا تھا۔ دیر تک میں اسی حالت میں رہا یہاں تک کہ بجلی آگئی اور پنکھا چلنے لگا۔
یہ ایک اچانک تجربہ کا لمحہ تھا۔ پنکھا چلتے ہی جسم کو ٹھنڈک ملنے لگی۔ ایسا محسوس ہوا جیسے اچانک مصیبت کا دور ختم ہوگیا اور اچانک راحت کا دوسرا دور آگیا۔ اس وقت مجھے پیغمبر اسلام کی وہ حدیثیں یاد آئیں جن میں بتایا گیا ہے کہ دنیا مومن کے لیے مصیبت کی جگہ ہے۔ جب مومن کی موت آئے گی تو اچانک وہ اپنے آپ کو جنت کے باغوں میں پائے گا۔ دنیوی زندگی کا پر مصیبت دور اچانک ختم ہوجائے گا اور عین اسی وقت پُر راحت زندگی کا دور شروع ہوجائے گا۔
جب یہ تجربہ گز را تو میری فطرت میں چھپے ہوئے ربّانی احساسات جاگ اٹھے۔ مادی واقعہ روحانی واقعہ میں تبدیل ہوگیا۔ میرے دل نے کہا کہ کاش، خدا میرے ساتھ ایسا ہی معاملہ فرمائے۔ جب میرے لیے دنیا سے رخصت ہونے کا وقت آئے تو وہ ایک ایسا لمحہ ہو جو اچانک دور مصیبت سے دور راحت میں داخلہ کے ہم معنٰی ہوجائے۔
روحانیت در اصل ایک ذہنی سفر ہے، ایک ایسا سفر جو آدمی کو مادیت سے اوپر اُٹھا کر معنویت تک پہنچا دے۔ یہ سفر داخلی سطح پر ہوتا ہے۔ دوسرے لوگ بظاہر اس سفر کو نہیں دیکھتے لیکن خود مسافر انتہائی گہرائی کے ساتھ اس کو محسوس کرتا ہے۔ روحانیت انسان کو انسان بناتی ہے۔ جس آدمی کی زندگی روحانیت سے خالی ہو اُس میں اور حیوان میں کوئی فرق نہیں۔
واپس اوپر جائیں

آج کی دُنیا اور اگلی دُنیا

بیج ڈالنے کے دن جو کسان فصل کاٹنا چاہے ، وہ بیج کو بھی کھوئے گا اور فصل سے بھی محروم رہے گا۔ یہی معاملہ آج کی دنیا اور موت کے بعد آنے والی کل کی دنیا کا ہے۔ آج کی دنیا عمل کرنے کی جگہ ہے اور کل کی دنیا انعام پانے کی جگہ۔ جو شخص آج کی دنیا ہی میں ’’انعام‘‘ حاصل کرنا چاہے تو وہ اس قیمت پر ہوگا کہ وہ مطلوب عمل انجام نہ دے سکے گا۔ وہ اگلی دنیا کی تعمیر کے واحد موقع کو کھو دے گا۔
جو چیز اگلی دنیا میں ملنے والی ہے اس کو آدمی موجودہ دنیا میں پانا چاہتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ دونوں ہی کو کھو دیتا ہے۔ عقل مند انسان وہ ہے جو آج کی دنیا کے ذریعہ کل کی دنیا کو خریدے، نہ کہ وہ آج کی دنیا میں پھنس کر اگلی دنیا میں اپنے آپ کو محروم بنا لے۔
آپ سفر کے دوران وہ سکون حاصل کرنا چاہیں جو صرف گھر پر کسی آدمی کو ملتا ہے تو آپ کبھی اپنی اس طلب میں کامیاب نہیں ہوسکتے۔ اسی مثال سے آج کی دنیا اور کل کی دنیا کے معاملے کو سمجھا جاسکتا ہے۔ آج کی دنیا کو خدا نے عمل کرنے کی جگہ بنایا ہے اور کل کی دنیا کو عمل کا انجام پانے کی جگہ۔ آج کی دنیا سفر کا راستہ ہے اور کل کی دنیااس کی آخری منزل۔
اب اگر آپ چاہیں کہ آج کی دنیا ہی میں اپنا انجام پالیں تو آپ کے عمل کی منصوبہ بندی بالکل غلط ہو جائے گی۔ اِسی طرح اگر آپ راستے میں منزل والا سکون حاصل کرنا چاہیں تو آپ اپنے راستے کو کھوٹا کر لیں گے۔ عقل مند آدمی وہ ہے جو آج کی دنیا اور کل کی دنیاکے اِس فرق کو سمجھے۔ وہ موت سے پہلے اُس چیز کی خواہش نہ کرے جو صرف موت کے بعد والی زندگی میں کسی کو مل سکتی ہے۔
آدمی کو چاہئے کہ وہ حقیقت پسند بنے ۔ وہ خواہشوں کے پیچھے نہ دوڑے۔ کیوں کہ خواہشیں آدمی کو تباہی کے سوا کسی اور انجام تک پہنچانے والی نہیں۔
ہر آدمی اپنے سینے میں خواہشات کا ایک سمندر لئے ہوئے ہے۔ یہ خواہشات بجائے خود غلط نہیں۔ مگر ان خواہشات کی تکمیل کا مقام کَل کی دنیا ہے نہ کہ آج کی دنیا۔
واپس اوپر جائیں