Pages

Saturday, 1 April 2006

Al Risala | April 2006 (الرسالہ،اپریل)

2

- تصوّف اور صوفی ازم

7

- عورت اور مرد کا فرق

10

- نان وائلنس (عدم تشدد)

14

- دولت اور خوشی

15

- صحیح تدبیر

18

- اسلام کا میکانائزیشن

19

- عادت کو چھوڑنا

20

- سچائی کی طرف

21

- نیے سال کے لیے مسلم ایجنڈا

25

- ایک خط

32

- ایک خط اور اس کا جواب

37

- ایک خط

43

- خبر نامہ اسلامی مرکز ۱۷۴


تصوّف اور صوفی ازم

چند سال پہلے امریکاکے ایک سفر میں مجھے ایک صوفی سنٹر کو دیکھنے کا اتفاق ہوا۔ یہ نیویارک کے آؤٹ اسکرٹ میں واقع تھا۔ جب میں وہاں پہنچا تو میں نے دیکھا کہ اس کے اندر دیوار پر ایک مسلم صوفی کی بڑی تصویر لگی ہوئی ہے اور ریکارڈنگ کے ذریعے کچھ صوفی گیت نشر ہورہے ہیں۔ یہ گیت تامل زبان میںتھے۔ لیکن وہ اتنی پُر سوز اور سریلی آواز میں تھے کہ وزٹر تامل زبان کو نہ جانتے ہوئے بھی محو ہوکر اس کو سننے لگتا تھا۔
معلوم ہوا کہ امریکا کے کچھ سفید فام سیّاح سری لنکا گیے۔ وہاں سیاحت کے دوران انھوں نے ایک جنگل میں دیکھا کہ ایک نابینا صوفی تامل زبان میں روحانی گیت گار ہا ہے۔ یہ امریکی سیّاح اگر چہ تامل زبان نہیں جانتے تھے مگر گانے والے کے پُر سوز لہجے نے ان کو متاثر کیا۔ وہ اس نابینا صوفی کو اپنے ساتھ امریکا لے آئے، اور صوفی سنٹر قائم کرکے اس کو یہاں رکھا۔ یہ سنٹر اب مستقل طورپر صوفیانہ سرگرمیوں کا مرکز بنا ہوا ہے۔ سری لنکا کے یہ صوفی اگر چہ اب مرچکے ہیں لیکن یہاں کے سنٹر میں دیوار پر لگی ہوئی مذکورہ مسلم صوفی کی بڑی تصویر آنے والوں کو اب بھی شدت کے ساتھ اپنی طرف متوجہ کرتی ہے۔ ان کے ریکارڈ کیے ہوئے پُر اثر گیت یہاں کی فضا میں ہرروز گونجتے رہتے ہیں۔
اس طرح کے تجربات مجھے اپنے بیرونی سفروںمیں بار بار پیش آئے ہیں۔ اس سے میں نے اندازہ کیا ہے کہ صوفی ازم کے اندر ایک عالمی اپیل ہے۔ وہ ہر جگہ اور ہر زمانے کے لوگوں کو گہرائی کے ساتھ متاثر کرتا ہے۔ صوفی ازم یا صوفی کلچر انسان کی گہری نفسیات کو چھوتا ہے۔ یہی وجہ ہے جس نے صوفی کلچر کو ایک عالمی حیثیت دے دی ۔
صوفی ازم کی ابتدا اسلام کے ظہور کے سو سال بعد، دَور اقتدار میں ہوئی۔ اس وقت لوگ بڑی تعداد میں سیاسی اور مادّی چیزوں میں مشغول ہوگیے تھے۔ ان حالات میں مسلم صوفیوں نے یہ کوشش کی کہ لوگوں کے اندر روحانی اور انسانی قدروں کو جگایا جائے۔ چنانچہ انھوں نے یہ کیا کہ سیاسی دائرے سے باہر اپنی خانقاہیں بنائیں اور ان میں ذکر اور مراقبے وغیرہ کے ذریعے لوگوں کے اندر روحانیت کو بیدار کرنے کی کوشش کی۔
صوفی ازم کی تاریخ دیکھنے سے معلوم ہوتا ہے کہ صوفی ازم آٹھویں صدی عیسوی میں اُس وقت پیدا ہوا جب کہ مسلمانوں کو زمین کے بڑے حصے پر اقتدار حاصل ہوگیا۔ اور لوگ بڑی تعداد میںسیاسی اور مادّی چیزوں میںمشغول ہوگیے۔ اس وقت مسلم صوفیوں نے سیاست سے الگ رہ کر یہ کوشش کی کہ وہ مسلمانوں کے اندر از سرِ نو روحانی بیداری لائیں اور انسانی قدروں کو لوگوں کے اندر پھیلائیں۔
ابتدائی دور کے صوفیوں میں سب سے زیادہ مشہور نام حسن البصری (۷۲۸۔۶۴۲) کا ہے۔ اُس زمانے میں صوفی ازم ایک سادہ ڈسپلن کا نام تھا۔ یہ لوگ صرف یہ کرتے تھے کہ سیاسی اور مادّی سرگرمیوں کے مقابلے میں عبادت اور ذکر جیسی چیزوں کی اہمیت بتاتے تھے۔ وہ لوگوں کو دنیا کی جنت کے مقابلے میں آخرت کی جنت کی طرف متوجہ کرتے تھے۔ وہ کوشش کرتے تھے کہ لوگ زیادہ سے زیادہ عبادت الٰہی میںمشغول رہیں۔
دھیرے دھیرے صوفی ازم میں دوسرے طریقے شامل ہونے لگے۔ یہ نیے طریقے، مسلم صوفیوں نے ایران کی قدیم روایات سے لیے۔ جیسا کہ معلوم ہے، اسلام سے پہلے ایران میں مراقبے کے کچھ طریقے رائج تھے ۔ مگر اس زمانے میں صوفی ازم کو ایک باقاعدہ منظم قسم کے ادارے کی حیثیت حاصل نہیں تھی۔
اس کے بعد مغل بادشاہ ہمایوں (۱۵۵۶۔۱۵۰۸)کے زمانے میں ایران کے علماء اور صوفیاء بڑی تعداد میں، غیر منقسم ہندستان میںداخل ہوئے۔ یہاں انھوں نے جگہ جگہ خانقاہیں قائم کیں۔ اس طرح اُن کا اختلاط ہندستان کے ہندو جوگیوں اور گروؤں سے ہوا۔ اس اختلاط کے دَوران یہ واقعہ پیش آیا کہ ہندو پیشوا مسلم صوفیوں سے متاثر ہوئے اور مسلم صوفی ہندو پیشوا سے متاثر ہوئے۔
اس اختلاط کے دَوران صوفی ازم کا ایک نیا اڈیشن تیار ہوا۔ اس اڈیشن میںکئی ایسی چیزیں مسلم صوفی ازم میں شامل ہوگئیں جو ہندوؤں کے یہاں عرصے سے رائج تھیں، مگر وہ مسلم صوفی ازم میں پہلے نہیں پائی جاتی تھیں۔ مثلاً ہندوؤں کے بھجن کی جگہ قوّالی وغیرہ۔
صوفی ازم ہمیشہ سے روحانی اور اخلاقی قدروں پر زور دیتا رہا ہے۔ مثلاً انسانوں سے محبت، یا انسانوں کے درمیان پُر امن طورپر رہنا، جس کو صوفی لوگ اپنے الفاظ میں صلح کُل (peace with all) سے تعبیر کرتے تھے۔ ایک صوفی شاعر نے اپنے ایک فارسی شعر میں صوفی مذہب کو اس طرح بیان کیا:
ما قصۂ سکندر و دارا نہ خواندہ ایم
از ما بجز حکایتِ مہر و وفا مپرس:
We don’t know the stories of kings and generals. We know only the stories of love and compassion.
قرآن میں روحانیت کے لیے ربّانیت کا لفظ آیا ہے (آل عمران: ۷۹) ۔ دوسری جگہ قرآن میں بتایا گیا ہے کہ خدا کی یاد ہی سے دلوں کو اطمینان ہوتا ہے (الرعد: ۲۹)۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جب ایک آدمی خدا کی معرفت حاصل کرتا ہے تو یہ معرفت اس کے لیے برتر سچائی کے حصول کے ہم معنی بن جاتی ہے۔ وہ ہر دوسری چیز سے اوپر اٹھ جاتا ہے۔ وہ محدود دنیا سے نکل کر لامحدود دنیا میں جینے لگتا ہے۔ وہ نفسیاتی طورپر ایک ایسے عالم میں پہنچ جاتا ہے جہاں وہ ابدی سکون کا تجربہ کر سکے۔ اسلامی تصوف کا مقصد انسان کو اسی برتر دنیا میں پہنچانا ہے۔
خواجہ فرید الدین گنج شکر (۱۲۶۵۔۱۱۷۵)ہندستان کے مشہور صوفی تھے۔ کہا جاتا ہے کہ ایک بار کسی شہر سے ان کا ایک مرید ان سے ملنے کے لیے آیا۔ وہ اپنے ساتھ تحفے کے طور پر قینچی لایا تھا۔ اس کے شہر میں قینچی بنتی تھی۔ اس لیے اس نے شیخ کے لیے قینچی کا انتخاب کیا۔ وہ سمجھتا تھا کہ جب میں شیخ کے سامنے اپنے شہر کا یہ خصوصی تحفہ پیش کروں گا تو وہ خوش ہو ں گے اور مجھے دعائیں دیںگے۔ مگر جب اس نے شیخ کے سامنے قینچی پیش کی تو انھوں نے اس کو دیکھ کر کہا کہ یہ تو ہمارے کام کی چیز نہیں۔ ہمارا کام کاٹنا نہیں، ہمارا کام تو جوڑنا ہے۔ اور یہ کام قینچی کے ذریعے نہیں ہوتا۔ تم کو اگر تحفہ لانا تھا تو ہمارے لیے سوئی لے آتے۔ کیوں کہ سوئی سینے اور جوڑنے کی چیز ہے۔ اور قینچی کاٹنے اور پھاڑنے کی چیز۔
خواجہ فرید الدین گنج شکر کے خلیفہ خواجہ نظام الدین اولیا ء (۱۳۲۵۔۱۲۳۸)تھے۔ وہ دہلی سلطنت کے زمانے کے مشہور صوفی تھے۔ ان کی کتاب ’’فوائد الفوائد‘‘ بہت زیادہ مشہور ہے اور تصوف کے لٹریچر میں اس کی حیثیت مرجع کی سمجھی جاتی ہے۔ انھوںنے اپنی ایک مجلس میں فرمایا کہ عام لوگوں کا طریقہ یہ ہے کہ سیدھے کے ساتھ سیدھا اور ٹیڑھے کے ساتھ ٹیڑھا۔ لیکن ہمارے بزرگوں کا یہ کہنا ہے کہ سیدھوں کے ساتھ سیدھا اور ٹیڑھوں کے ساتھ بھی سیدھا۔ اگرکوئی شخص ہمارے سامنے کانٹا ڈالے اور ہم بھی کانٹا ڈالیں تو کانٹے ہی کانٹے ہوجائیں گے۔ اگر کسی نے کانٹا ڈالا ہے تو تم اس کے سامنے پھول ڈالو۔ پھر پھول ہی پھول ہوجائیں گے۔
بیسویں صدی کے نصف آخر میں صوفی ازم کو ایک نئی اہمیت حاصل ہوگئی۔ صنعتی تہذیب کے ذریعے اس زمانے میں بڑے پیمانے پر مادّی ترقیاں ہوئیں، مگر اس کے ساتھ صنعتی کلچر ایک پرابلم بھی لے آیا۔ یہ پرابلم وہی ہے جس کو ٹنشن یا اسٹریس کہاجاتا ہے۔ صنعتی تہذیب نے انسان کی دوڑ دھوپ کا دائرہ بہت زیادہ بڑھا دیا۔ ٹنشن یا اسٹریس اسی کا نتیجہ ہے۔
قدیم زرعی دَور میںزندگی کا دائرہ بہت محدود تھا۔ انسان جسمانی اعتبار سے محدود صلاحیت کا مالک ہے۔ زرعی دور میں انسان کی دوڑ دھوپ بھی محدود دائرے میں ہوتی تھی، اس لیے دونوں میں کوئی ٹکراؤ نہیں ہوتا تھا۔ گویا کہ اس زمانے میں انسانی صلاحیت بھی محدود تھی اور خارجی دنیا میںاس کے مواقع عمل بھی محدود تھے۔ اس لیے زیادہ تر لوگ اپنی زندگی پر مطمئن رہتے تھے۔ وہ ٹنشن اور اسٹریس کا شکار نہیں ہوتے تھے۔
مگر جدید صنعتی دو رمیں مواقعِ کار بہت زیادہ بڑھ گیے ہیں۔ انسان اب بھی محدود پیدا ہورہا تھا مگر اس کو غیر محدود مواقع میں اپنا رول ادا کرنا تھا۔ یہی وہ چیز ہے جس نے موجودہ زمانے میں ذہنی تناؤ یا اسٹریس کے مسائل پیدا کیے ہیں۔ پہلے زمانے کا انسان ہر چیز کو اپنے دائرۂ اختیار کے اندر سمجھتا تھا۔ اب گلوبل ولیج اور ورلڈ کلچر کے نتیجے میں ایسا ہوا کہ انسان بار بار یہ محسوس کرنے لگا کہ حالات کا دائرہ اتنا زیادہ وسیع ہوچکا ہے کہ اس کو اپنے کنٹرول میں رکھنا اس کے لیے ممکن نہیں۔
اس صورت حال نے موجودہ زمانے میں ایک نیا پروفیشن پیدا کیا ہے، جس کو ڈی اسٹریسنگ کہا جاتا ہے۔ یعنی ٹنشن یا اسٹریس والی سوچ کو مخصوص تکنیک کے ذریعے دبانا اور کم ازکم وقتی طورپر انسانی ذہن کو ٹنشن فری بنانا۔ اس معاملے میں ہندو میڈیٹیشن کا طریقہ جدید دنیا میں کافی مقبول ہوا ہے۔ چنانچہ ۲۰۰۵ کا نوبل پیس پرائز انڈیا کے شری شری روی شنکر کو دیاگیا ہے جو اپنے آرٹ آف لونگ کے لیے مشہور ہیں۔ (ٹائمز آف انڈیا، نئی دہلی، ۲۵ ستمبر ۲۰۰۵)
جدید دور کے صوفی بھی اپنے انداز پر یہ کام کررہے ہیں۔ وہ ذکر اور مراقبہ(meditation) جیسی تدبیروں کے ذریعے یہ کوشش کرتے ہیں کہ انسان مادّی تفکرات سے اوپر اٹھے، اور ذہنی سکون کا تجربہ کرے۔
مسلم صوفی اس مقصد کو حاصل کرنے کے لیے مختلف طریقے اختیار کرتے ہیں۔ مثلاً انسان کو مادّی دنیا سے نکال کر خانقاہ کے الگ تھلگ ماحول میں لے جانا، انسان کو ذکر اور مراقبہ جیسے اعمال میں مشغول کرکے اس کے ذہن کو موڑنا۔ سِماع یعنی ساز اور گانے کے ذریعے انسانی ذہن کو ایک تصوراتی دنیا میں لے جانا۔ بعض صوفیا مثلاً ترکی کے درویش اِن اعمال میں رقص کو بھی شامل کرتے ہیں۔ میں نے اپنے بعض بیرونی سفروں میں ساز ونغمہ پر رقص کرنے والے صوفیوں کے اس منظر کو خود اپنی آنکھ سے دیکھا ہے۔
صوفی ازم کے مروّجہ اعمال کے ذریعہ آدمی کو جو داخلی کیفیت ملتی ہے، اس کو مسلم صوفیا وجْد (ecstacy) کانام دیتے ہیں۔ صوفیا نہ اعمال کے ذریعے جب کسی انسان کو وجد آتا ہے تو اُس وقت اس کے ذہنی تدبر اور تفکر والے احساسات دَب جاتے ہیں۔ اُس وقت وہ اپنے اندر ایک قسم کی بے فکری کا تجربہ کرتا ہے۔ یہ بے فکری اس کو ذہنی سکون دیتی ہے۔
صوفی ازم کا زور جو سائنسی دَور سے پہلے تھا وہ اب کسی ملک میں دکھائی نہیں دیتا۔ میرا خیال یہ ہے کہ آج نیو(neo) صوفی ازم کی تحریک چلائی جائے تاکہ صوفی ازم لوگوں کو دورِ جدید سے پوری طرح ریلوینٹ نظر آنے لگے اور اس طرح صوفی ازم کو دوبارہ عظمت کا وہ مقام مل جائے جو اس کو ماضی میں حاصل تھا (۲۹ ستمبر ۲۰۰۵)
واپس اوپر جائیں

عورت اور مرد کا فرق

انگریز مستشرق ایڈورڈ ولیم لین(Edward William Lance) ۱۸۰۱ میں پیدا ہوا، اور ۱۸۷۶ میںاس کی وفات ہوئی۔ وہ انگریزی کے علاوہ عربی زبان میں مہارت رکھتا تھا۔ اس نے ایک کتاب منتخب ترجمۂ قرآن(Selections From Kuran) تیار کی۔ جو پہلی بار لندن سے ۱۸۴۳ میں چھپا۔ اِس کتاب کے دیباچے میں لین نے لکھا تھا کہ —اسلام کا تباہ کُن پہلو عورت کو حقیر درجہ دینا ہے:
The fatal point in Islam is the degradation of woman. (p. 90)
مستشرق لین نے ۱۸۴۳ میں جوبات کہی تھی۔ اُس سے اس کی خاص مراد یہ تھی کہ اسلام کے قانونِ شہادت (evidence) میں دو عورتوں کی گواہی کو ایک مرد کی گواہی کے برابر ماناگیا ہے۔ یہ دونوں صنفوں کے درمیان کُھلی ہوئی نابرابری ہے۔ اِس کے بعد بطور مسلّمہ یہ بات مان لی گئی کہ اسلام عہدِ جاہلیت کا مذہب ہے، وہ سائنسی دَور کا مذہب نہیں بن سکتا۔
اسلام کے خلاف یہ نظریہ ڈیڑھ سو سال تک چلتا رہا۔ اس کہ بعد مختلف اسباب سے سائنسی حلقوں میں یہ ضرورت محسوس کی گئی کہ عورت اور مرد کے دماغ کے بارے میں ازسرِ نو تحقیق کی جائے، اور یہ معلوم کیا جائے کہ کیا دونوں کی دماغی بناوٹ میں کوئی فرق ہے۔ اِس تحقیق کا ایک محرک یہ تھا کہ کیاوجہ ہے کہ ایک عورت اور ایک مرد کے درمیان لَو میریج (love marriage) ہوتی ہے اور پھر بیش تر واقعات میں ایسا ہوتا ہے کہ دونوں لڑ بھڑ کر ایک دوسرے سے الگ ہوجاتے ہیں۔
اِس سلسلے میں بڑی بڑی یونیورسٹیوں اور اداروں کے تحت، سائنسی انداز میں مختلف تحقیقات کی گئیں۔ یہاں تک کہ خالص سائنسی طریقِ تحقیق کے بعد یہ معلوم ہوا کہ عورت اور مرد کے دماغ میں فطری بناوٹ کے اعتبار سے ایک ناقابلِ تغیر فرق پایا جاتا ہے۔ وہ فرق یہ ہے کہ مرد پیدائشی طور پر سنگل ٹریک مائنڈ (single track mind) کاحامل ہوتا ہے اور اس کے مقابلے میں عورت فطری طورپر ملٹی ٹریک مائنڈ(multi track mind) رکھتی ہے۔
دونوں صنفوں کے درمیان یہ فرق اتنا عام ہے کہ اس کا مشاہدہ ہر گھر میں کیا جاسکتا ہے۔ ہر گھر جہاں عورت اور مرد دونوں رہتے ہوںوہاں آپ دیکھ سکتے ہیں کہ مرد کا ذہن کسی ایک پوائنٹ پَر مرتکز رہے گا۔ جب کہ عورت کا یہ حال ہو گا کہ اس کا ذہن ایک ہی وقت میں کئی چیزوں کی طرف متوجہ رہے گا۔ مثلاً مرد اگر ایک کتاب پڑھ رہا ہے تو اس کا سارا دھیان کتاب میں لگا رہے گا۔ حتی کہ پاس کے کمرے میں اگر ٹیلی فون کی گھنٹی بجے تو وہ اس کو سننے سے قاصر رہے گا۔ حالاں کہ اسی کمرے میں بیٹھی ہوئی عورت دوسرے کمرے میں بجنے والی ٹیلی فون کی گھنٹی کو بخوبی طورپر سن لے گی۔
عورت کے ذہن اور مرد کے ذہن کا یہ فطری فرق بتاتا ہے کہ گواہی کے قانون میں دونوں کے درمیان فرق رکھنے کا سبب کیا ہے۔ اس کا سبب یہ ہے کہ ایک واقعہ جس کو عورت اور مرد دونوں دیکھ رہے ہوں اس کو مرد جب دیکھے گا تو وہ اس کو ترکیزی ذہن کے تحت دیکھے گا۔ اِس بنا پر وہ اس قابل ہوگا کہ واقعے کے تمام اَجزاء اس کے حافظے میں محفوظ ہوسکیں۔ اس کے مقابلے میں عورت اپنے ذہن کی فطری ساخت کی بنا پر، غیر ترکیزی انداز میں دیکھے گی۔ اس کے ذہن کا ایک حصہ واقعے کی طرف متوجہ ہوگا اور اس کے ذہن کا دوسرا حصہ کسی اور چیز کی طرف متوجہ ہوجائے گا۔ اِس بنا پر ایک گواہ عورت کے ساتھ دوسری گواہ عورت رکھی گئی تاکہ دونوں مل کر واقعے کی پوری تصویر بنا سکیں۔
مذکورہ سائنسی تحقیق کی روشنی میں قرآن کی متعلقہ آیت زیادہ قابلِ فہم بن جاتی ہے۔ یہ آیت قرآن میں اِس طرح آئی ہے: واستشہدوا شہیدَین من رجالکم فإن لم یکونا رجلین فرجل وامرأتان ممن ترضون من الشہداء أن تضلّ إحداہما فتذکّرإحداہما الأخریٰ (یعنی تم اپنے مردوں میں سے دومَردوں کوگواہ بنالو، اور اگر دو مرد نہ ہوں تو پھر ایک مرد اور دو عورتیں، اُن لوگوں میں سے جن کو تم پسند کرتے ہو۔ تاکہ اگر ایک عورت (گواہی دینے میں بھول) چوک جائے تو دوسری عورت اس کو یاد دہانی کرادے۔ (البقرہ: ۲۸۲)
قرآن کی مذکورہ آیت میں ضلَّ کا صیغہ استعمال ہوا ہے۔ ضلّ کے معنی عربی زبان میں اِدھراُدھر بھٹکنے (go astray) کے ہوتے ہیں۔ یہ لفظ اِس معاملے میں عَین سائنسی ہے۔ اِس حقیقت کو سامنے رکھتے ہوئے اگر مذکورہ آیت کا مفہوم متعین کیا جائے تو وہ یہ ہوگا کہ —اگر ذہنی بناوٹ کی بنا پر ایک عورت کی توجہ اصل واقعے سے کچھ ہٹ جائے تو دوسری عورت اس کو یاد دلا کر پہلی عورت کی کمی پوری کردے۔
حقیقت یہ ہے کہ یہ آیت اِس بات کا واضح ثبوت ہے کہ قرآن عالمِ الغیب کی طرف سے آئی ہوئی کتاب ہے۔ خدائے عالم الغیب نے اپنے علم کلّی کی بنا پر دونوں صنفوں کے درمیان فطری فرق کو اُس وقت جانا جب کہ عام انسان اِس فرق سے بالکل ناواقف تھا۔ اِس علم کی بنا پر خدا نے گواہی کا مذکورہ اُصول مقرر کیا۔ مذکورہ آیت اِس بات کا ایک علمی ثبوت ہے کہ قرآن ایک ایسی کتاب ہے جو ابدی صداقت کی حامل ہے۔ قرآن خدائے برتر کی کتاب ہے نہ کہ عام معنوں میں کوئی انسانی کتاب۔
واپس اوپر جائیں

نان وائلنس (عدم تشدد)

Non-Violence— A Way of Life
نان وائلنس ایک وے آف لائف ہے۔ نان وائلنس کا تعلق پوری زندگی سے ہے۔ نان وائلنس کا مطلب دوسرے لفظوں میں یہ ہے کہ ناموافق حالات کی اس دنیا میں موافق ذہن کے ساتھ زندگی گذار دی جائے۔ اجتماعی زندگی میں ٹکراؤ کے بجائے مصالحت کا انداز اختیار کیا جائے۔ اس روش کا تعلق انفرادی زندگی سے بھی ہے اور اجتماعی زندگی سے بھی۔
دنیا کی مثال گلاب کے پودے جیسی ہے۔ گلاب کے پودے میں پھول بھی ہوتا ہے اور کانٹا بھی۔ کانٹے گلاب کے پودے کا لازمی حصہ ہیں۔ یہ نیچر کا قانون ہے۔ ہم اس قانون کو بدل نہیں سکتے۔ اس معاملے میں ہمارے لیے صرف ایک آپشن ہے اور وہ یہ کہ کانٹے کو نظر انداز کرکے پھول کو حاصل کریں۔ پھول کا خوبصورت رنگ اور اس کی خوشبو صرف اُس انسان کے لیے قابلِ حصول ہے، جو کانٹے کے باوجود اُس کو حاصل کرنے کا حوصلہ رکھتا ہو۔ اس حوصلے کے بغیر کوئی بھی اس دنیا میں گلاب کے پھول کا مالک نہیں بن سکتا۔
نیچر کا یہ ظاہرہ بتاتا ہے کہ انسان کے لیے دنیا میں زندگی گذارنے کا حقیقت پسندانہ طریقہ کیا ہے۔ وہ ہے ناخوشگوار باتوں کو نظر انداز کرتے ہوئے خوش گوارباتوں کو لے لینا۔ دُنیا ہر انسان کے لیے خوش گوار اور ناخوش گوار دونوں قسم کی چیزوں سے بھری ہوئی ہے۔ یہ صورت حال کسی انسان کی بنائی ہوئی نہیں ہے بلکہ یہ خود خالق کی بنائی ہوئی ہے۔ اُن کا وجود اُسی طرح حتمی ہے، جس طرح آگ اور پانی کا وجود۔ کوئی بھی شخص اتنا طاقت ور نہیں جو ان دونوں چیزوں کو ایک دوسرے سے جُدا کرسکے۔
ایسی حالت میں ہمارے لیے حقیقی آپشن صرف ایک ہے اور وہ ہے جس کو نان وائلنس کہا جاتا ہے۔ نان وائلنس سادہ معنوں میں صرف عدم تشدد نہیں، نان وائلنس در اصل یہ ہے کہ آدمی وائلنس کے حالات میں پیس (peace) کے ساتھ رہ سکے۔ پیس فُل رویّے کا دوسرا نام نان وائلنس ہے۔
عام طور پر نان وائلنس کو جنگ کے ساتھ جوڑ دیا گیا ہے۔ یعنی متشددانہ لڑائی کے مقابلے میں پُر امن مقابلے کا طریقہ۔ مگر یہ نان وائلنس کا بہت محدود مفہوم ہے۔ نان وائلنس کا تعلق پوری زندگی سے ہے اور وہ ٹھیک اُسی وقت سے شروع ہوجاتا ہے جب کہ انسان دنیا میں قدم رکھتا ہے۔ نان وائلنس کا تعلق گھریلو زندگی سے لے کر انٹرنیشنل لائف تک ہے۔
میں پیدائشی طورپر نان وائلنٹ ہوں۔ اس لیے نان وائلنس میرے لیے صرف ایک نظریہ نہیں، بلکہ وہ میرا ذاتی تجربہ ہے۔ میں اپنی پوری زندگی شعوری یا غیر شعوری طورپر نان وائلنس کی زندگی گذارتا رہا ہوں۔مجھے یاد ہے کہ بچپن میں کہ میں یوپی کے ایک گاؤں میں رہتا تھا۔ میری عمر تقریباً ۱۰ سال تھی۔ میں اپنے گھر کے باہر کھڑا ہوا تھا۔ اتنے میں گاؤں کا ایک بچہ میرے سامنے سے گذرا۔ حسب عادت اس نے مجھے گالی دی۔ میں نے اسے سُنا تو مجھے غصہ نہیں آیا اور نہ میرے اندر انتقام کا جذبہ پیدا ہوا۔ میں نے صرف یہ کہا کہ تم خود! یہ کہہ کر میں اپنے گھر کے اندر چلا گیا۔ میرا یہی رویّہ بعد کو میری پوری زندگی میں قائم رہا۔
مثال کے طورپر ۱۹۴۷ ء کے بعد انڈیا میں کمیونل رائٹس کا سلسلہ شروع ہوا۔ اخبارات آگ اور خون کے واقعات سے بھرے رہنے لگے۔ تمام لوگ احتجاج اور انتقام کی بولی بول رہے تھے۔ مگر میں کسی منفی ایکشن میںمبتلا نہیں ہوا۔ میں نے اس مسئلے کا یہ سادہ حل پیش کیا کہ مسلمان اپنے مذہب کی تعلیم کے مطابق اعراض (اَوائڈنس) کا طریقہ اختیار کریں اور پھر کمیونل رائٹس ختم ہوجائیں گے—یہ اجتماعی نزاع کے معاملے میں نان وائلنس کے طریقے کو اپنانا تھا۔
اسی طرح جب ۲۰۰۳ میں امریکی صدر جارج بش اور عراقی صدر صدام حسین کے درمیان نزاع پیدا ہوئی اور یہ خطرہ پیدا ہوگیا کہ امریکا بمباری کرکے عراق کو تباہ کردے گا تو میں نے اس مسئلے کا یہ حل پیش کیا کہ صدام حسین جنہوں نے فوجی انقلاب کے ذریعہ عراق پر سیاسی قبضہ کیا تھا، وہ صدر کا عہدہ چھوڑ دیں اور پھر امریکا کو عراق کے خلاف تشدد کا موقع نہیں ملے گا— یہ انٹر نیشنل معاملے میں نان وائلنس کے طریقے کو اپنانا تھا۔
اسی طرح جب پاکستان کے صدر ضیاء الحق کے زمانے میں کشمیر اور پنجاب میں آزادی کی تحریکیں زور وشور کے ساتھ اُٹھیں تو میں نے ۱۹۹۰ میں ہندستان ٹائمس میں ایک آرٹیکل شائع کیا جس کا عنوان تھا:Acceptence of reality
اس آرٹیکل میں بتایا گیا تھا کہ پنجاب اور کشمیرکے لوگ پولیٹکل اسٹیٹس کو(status quo) کو مان لیں۔ اس مسئلے پر ٹکراؤ کرنے کے بجائے وہ یہ کریں کہ پولیٹکل اسٹیٹس کے باہر دوسرے میدانوں میں پُر امن تعمیر و ترقی کے جو مواقع ہیں اُن کو استعمال کریں جیسا کہ دوسری عالمی جنگ کے بعد جاپان نے کیا —میری یہ تجویز گویا سیاسی نزاعات کے معاملے میں نان وائلنس کے طریقے کو اپنانا تھا۔
آپ کسی پہاڑ کے دامن میں کھڑے ہوں تو آپ دیکھیں گے کہ پہاڑ کے ا وپر برف پگھلنے سے چشمے جاری ہوتے ہیں وہ بہتے ہوئے میدان تک پہنچتے ہیں۔ آپ غور کریں تو درمیان میں بار بار چشمے کے بہاؤ کو ایک مسئلہ پیش آتا ہے وہ یہ کہ اس کے راستے میں بار بار پتھر کے تودے آتے ہیں یہ گویا چشمے کے بہاؤ کے راستے میں رکاوٹیں ہیں۔ چشمہ یہ نہیں کرتا کہ وہ پتھر کو توڑنے کی کوشش کرے تاکہ وہ اپنے سفر کے لیے سیدھا راستہ پا سکے۔ اس کے برعکس چشمہ یہ کرتا ہے کہ وہ پتھر کو اپنی جگہ چھوڑ کر اس کے دائیں یا بائیں سے گذر کر آگے نکل جاتا ہے یہی نان وائلنس ہے۔
نان وائلنس کا مطلب دوسرے لفظوں میں نان کنفرنٹیشن ہے۔ اس دنیا میں نان کنفرنٹیشن اپروچ ہی واحد صحیح اپروچ ہے۔ نان کنفرنٹیشن کا مطلب پسپائی یا بزدلی نہیں ہے۔ یہ در اصل وہی تدبیر ہے جس کو buying time کہا جاتا ہے۔ یعنی اپنے وقت کو بے فائدہ مشغولیت سے بچا کر اس کو نتیجہ خیز کام میں لگانا۔ نان وائلنس یہ ہے کہ آدمی ناپسندیدہ صورت حال کے مقابلے میں منفی ردّ عمل میں نہ پڑے بلکہ وہ مثبت ردّعمل کا طریقہ اختیار کرے۔ نان وائلنس در اصل وائز پلاننگ ہے۔ اس دنیا کی تمام کامیابیاں اسی وائز پلاننگ کے ساتھ جڑی ہوئی ہیں۔ وائز پلاننگ نہیں تو کوئی کامیابی بھی نہیں۔
خلاصہ
نان وائلنس سادہ طور پر صرف یہ نہیںہے کہ نزاعات کی صورت میں ہتھیار اٹھانے سے پرہیزکیا جائے۔ بلکہ نان وائلنس یا عدم تشدد ایک مکمل طرزِ حیات کا نام ہے۔ نان وائلنس کا تعلق انسان کی سوچ سے بھی ہے اور اس کے بول سے بھی اور اس کے عمل سے بھی۔ نان وائلنس کا مطلب یہ ہے کہ آدمی ہر موقع پر ٹھنڈے ذہن کے ساتھ سوچے، وہ معتدل انداز میں کلام کرے، وہ ٹکراؤ سے مکمل طورپر بچتے ہوئے اپنے عمل کا نقشہ بنائے۔ نان وائلنس کو ایک لفظ میں پُر امن طرزِ حیات کہا جاسکتا ہے۔ اس دنیا کے لیے اس کے خالق کا قانون یہ ہے کہ پُر امن اصول پر زندگی گذارنے والا انسان ہمیشہ کامیاب ہو، اور پُر تشدد اصول پر زندگی گذارنے والا انسان صرف ناکام ہو کر رہ جائے، وہ تباہی کے سوا کوئی اور تاریخ اپنے پیچھے نہ چھوڑے۔
واپس اوپر جائیں

دولت اور خوشی

معروف صنعت کار مسٹر گوتم سنگھانیا (Gautam Singhania) کے چہرے پر لیکوڈرما کے نشانات ہیں۔ کافی علاج کے باوجودیہ داغ ختم نہ ہوسکے۔ انھیں اپنے باپ سے ایک ہزار کروڑ روپیے کابزنس ایمپائر وراثت میں ملا ہے۔ مگر چہرے کے لیکوڈرما کی وجہ سے وہ لوگوں کے سامنے بہت کم آتے ہیں۔ وہ بہت ذہین اور بااصول آدمی ہیں۔ انھوں نے اپنے مسائل کے ساتھ رہنا سیکھ لیا ہے۔ گوتم سنگھانیا کی عمر ۳۹ سال ہے۔ وہ بمبئی میں رہتے ہیں۔ ایک انٹرویو میںانھوں نے کہا:
Oh, see how bad my life is, I wish it were different. But, you have to have the wisdom to accept what you can’t change.
’’اُف، دیکھو کہ میری زندگی کتنی بُری ہے۔ کاش ایسانہ ہوتا۔ لیکن آدمی کے اندر یہ ہوش مندی ہونی چاہیے کہ وہ اس چیز کو قبول کرسکے، جس کو وہ بدل نہیں سکتا‘‘۔
گوتم سنگھانیا نے اپنی بیماری کا بہت علاج کیا مگر مرض کچھ اور بڑھ گیا۔ وہ اب اس بیماری کو اپنا مقدر سمجھ کر اس کے ساتھ جینے کی کوشش کررہے ہیں۔ انھوں نے اپنے تأثرات بتاتے ہوئے کہا کہ: میرا ماننا ہے کہ دولت کے ذریعے آپ خوشی خرید نہیں سکتے۔ دنیا میں ہزاروں ایسے لوگ ہیں جو مجھ سے زیادہ دولت مندہیں۔ مگر وہ اپنی زندگی سے خوش نہیں۔ میں دس ایسے آدمیوں کا نام بتا سکتا ہوں جو بے شمار دولت رکھتے ہیںمگر وہ نہایت بُری حالت میں ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ دولت، شہرت، اقتدار— یہ چیزیں آپ کو خوشی نہیں دے سکتیں۔ خوشی خود اپنے آپ سے ملتی ہے نہ کہ کسی خارجی چیز سے:
“I believe money can't buy you happiness. There are hundreds and thousands of people in the world who are much richer than I am, but they are not happy with themselves. I can name 10 people who have all the money in the world, but are miserable. So, money, fame, power—these things can’t make you happy. Happiness comes from within, from being at peace with oneself.”
The Times of India (Life!) Bombay, August 22, 2004
واپس اوپر جائیں

صحیح تدبیر

۴ نومبر ۲۰۰۴ کی صبح کو میں نئی دہلی میں اپنے دفتر میں تھا۔ حسب معمول میں نے بی بی سی لندن سے خبریں سننے کے لیے اپنے ریڈیو سیٹ کو کھولا۔ پہلی خبر ان الفاظ میں تھی: امریکا کے صدارتی الیکشن میں جان کیری کے مقابلے میں جارج بش جیت گئے۔ بش کو اتنازیادہ ووٹ ملے کہ امریکا کی تاریخ میں کسی بھی صدر کو تعداد کے اعتبار سے اتنے زیادہ ووٹ نہیں ملے تھے۔
یہ خبر سن کر بے اختیار میری آنکھوں سے آنسو جاری ہوگیے۔ میں رورہا تھا اور میری زبان پر یہ الفاظ تھے:
امریکا کے اس الیکشن نے ثابت کردیا ہے کہ موجودہ زمانے کے مسلم رہنما اور دانشور آخری حد تک عقلی دیوالیہ پن کا شکار ہوچکے ہیں۔ یہ لوگ خود بھی بے دانشی میں مبتلا ہیں اور انھوں نے ساری دنیا کے مسلمانوں کو بے دانشی میں مبتلا کردیا ہے۔ یہاں تک کہ اب لوگوں کے اندر بظاہر یہ صلاحیت ہی نہیں کہ وہ معاملات کو گہرائی کے ساتھ سمجھیں اور صحیح فیصلہ لے سکیں۔ ٹائمس آف انڈیا کے شمارہ ۳ نومبر ۲۰۰۴ نے امریکی تاریخ میں آنے والے اس دن کو فیصلے کا دن(Judgement Day) کہا تھا۔ مگر یہ دن امریکا سے زیادہ موجودہ مسلمانوں کے حق میںفیصلے کا دن بن گیا۔
یہ الیکشن امریکا کے ۲۶ ویں صدر کے انتخاب کے لیے تھا مگر ساری دنیا کے مسلمانوں میں اس کا اتنا چرچا تھا جیسے وہ مسلم ملکوں کا اپنا الیکشن ہو۔ تمام دنیا کے مسلمان، مغرب سے لے کر مشرق تک اور عرب سے لے کر عجم تک بش کے خلاف متحد ہوگیے۔ پوری مسلم دنیا میں شاید میں اکیلا مسلمان تھا جو اس منفی اتحاد میں شریک نہ تھا۔ الیکشن سے صرف ایک دن پہلے ۳ نومبر کی صبح کو بی بی سی لندن پر بولتے ہوئے سعودی عرب کے ایک سینئر صحافی نے کہا تھا کہ اس وقت تمام کے تمام مسلمان یہ سمجھ رہے ہیں کہ جارج بش اسلام کا دشمن نمبر ایک ہے۔ آج تمام مسلمان بش سے نفرت کرتے ہیں اور الکشن میں اس کی ہار کا شدت سے انتظار کررہے ہیں۔
امریکی اور غیر امریکی مسلمانوں کی یہ پالیسی بلا شبہہ عقلی دیوالیہ پن کے ہم معنی تھی۔ اس لیے کہ امریکا کا صدر کون بنے اس کا فیصلہ امریکی ووٹروں کو کرنا تھا نہ کہ مختلف ملکوں میں بسنے والے مسلمانوں کو۔ ایسی حالت میں اصل اہمیت یہ تھی کہ امریکی ووٹر وں کے ذہن کو سمجھا جائے اور اس کے مطابق، اپنی منصوبہ بندی کی جائے۔ جارج بش سے نفرت کرنا یا جارج بش کے خلاف لفظی غوغا کرنا ایک ایسی غیر متعلق بات تھی جس کا امریکی الیکشن کے نتائج سے کوئی تعلق نہیں۔
میں ذاتی طورپر اس نظریے کو بالکل بے معنٰی سمجھتا ہوں کہ کوئی فرد اسلام کا دشمن نمبر ایک ہوتا ہے۔ اور اسلام کی حفاظت کا طریقہ یہ ہے کہ اس فرد کو کسی نہ کسی طرح زیر کردیا جائے۔ تاہم جو لوگ یہ چاہتے تھے کہ اس الیکشن میں جارج بش کو شکست ہو، انھیں صورت حال کا جائزہ لے کر یہ سمجھنا چاہیے تھا کہ جمہوری نظام کے اعتبار سے کسی امیدوار کو شکست دینے کا طریقہ کیا ہے۔
اصل یہ ہے کہ امریکی انتخاب میں فیصلہ کن حیثیت صرف امریکی ووٹروں کی ہے۔ اب بے لاگ مطالعے کے ذریعے یہ جاننے کی ضرورت تھی کہ امریکی ووٹروں کی سوچ کیا ہے۔ ایک مبصر نے درست طورپر کہا ہے کہ ۱۱ ستمبر ۲۰۰۱ کو نیویارک کے ورلڈ ٹاور کے ساتھ جو واقعہ ہوا اس کے بعد امریکی ووٹروں کی ساری سوچ اس واقعے سے جڑ گئی۔ اب امریکی ووٹریہ سمجھنے لگے کہ وہ خود اپنے ملک میں غیر محفوظ ہیں اور ان کو اس طرح غیر محفوظ بنانے والے وہ لوگ ہیں جن کو وہ مسلم ٹررسٹ (Muslim terrorist) کہتے ہیں۔ امریکی ووٹروں کی اس سوچ نے ان کے لیے اقتصادی اِشو کو ثانوی اشو بنا دیا اور قومی تحفظ کے اشو کو ان کے لیے نمبر ایک اشو بنا دیا۔ مبصر کے الفاظ میں ، وہ اپنے لیے ایک ایسا صدر چاہتے ہیں جو مضبوط اور فیصلہ کن (strong and decisive) شخصیت کا حامل ہو اور عام طورپر امریکیوں کی یہ متفقہ رائے تھی کہ اس صفت کے اعتبار سے جارج بش ان کے لیے قابل انتخاب ہیں نہ کہ جان کیری۔
ایسی حالت میں اگر مسلمان یہ چاہتے تھے کہ جارج بش الیکشن میں ہارے تو انھیں جاننا چاہیے تھا کہ یہ مقصد اس طرح حاصل نہیں ہوسکتا کہ وہ جارج بش کے خلاف براہ راست لفظی غوغا شروع کردیں۔ اس طرح کی غوغا آرائی امریکی ووٹروں کے مائنڈ کو ایڈریس کرنے والی نہیں تھی۔ اس کی صورت صرف یہ تھی کہ دنیا بھر کے مسلمان خود اپنی قوم کے ان لوگوں کو کنڈم کرتے جو امریکا کے خلاف متشددانہ جہاد چھیڑے ہوئے ہیں۔ ایسی حالت میں امریکی ووٹروں کو یہ یقین دلانے کی ضرورت تھی کہ جو مسلم ٹررسٹ ان کے خلاف تشدد کی کارروائیاں کررہے ہیں ان کو خود مسلمانوں نے کنڈم کرنا شروع کردیا ہے۔ وہ مسلم سماج میں بے جگہ ہو کر رہ گیے ہیں۔ اور آئندہ کے لیے اپنا حوصلہ کھو بیٹھے ہیں۔
مسلمانوں کے لکھنے اور بولنے والے لوگ اگر ایسا کرتے تو وہ امریکی ووٹروں کی سوچ کو بدل سکتے تھے۔ اس کے بعد امریکیوں کا ووٹنگ پیٹرن یقینا بدل جاتا اور خود امریکی ووٹروں کے ذریعے مسلمانوں کو وہ مطلوب انتخابی مقصد حاصل ہوجاتا جس کو وہ بے فائدہ طورپر جارج بش کے خلاف غوغاآرائی کرکے حاصل کرنا چاہتے ہیں۔
واپس اوپر جائیں

اسلام کا میکانائیزیشن

دبئی کی ایک کمپنی نے ایک نیا سیلولر فون بنیایا ہے جس کا نام اسلامک موبائل فون ہے۔ اس فون میں اسلام سے متعلق مختلف قسم کی معلومات بھر ی ہوئی ہیں۔ اس میں پورا قرآن ریکارڈ کیا ہوا محفوظ ہے۔ آپ کسی بھی وقت اس کو ایک بٹن دبا کرسن سکتے ہیں۔ اسی طرح اس کے ذریعے روزانہ پانچ وقت اذان سنی جاسکتی ہے۔ اِسی کے ساتھ اس میں قرآن کا انگریزی ترجمہ بھی شامل ہے۔ اس طرح کی بہت سی معلومات اِس اسلامک موبائل فون میں محفوظ کردی گئی ہیں۔
ایک بیرونی سفر کے دوران ایک صاحب نے مجھے یہ ’’اسلامک موبائل فون‘‘ تحفے کے طور پر دیا۔ وہ بہت خوش نظر آرہے تھے۔ مگر میں نے موبائل کا یہ تحفہ فوراً ہی انھیں لوٹا دیا۔ میں نے کہا کہ مجھے اس سے کوئی دلچسپی نہیں، میںاس کو زوال کی ایک علامت سمجھتا ہوں۔ میرے نزدیک اسلامک موبائل دراصل اسلامک کنزیومرازم ہے، اس سے زیادہ اس کی کوئی حقیقت نہیں۔ موجودہ زمانے میں اس قسم کے میکانائزیشن کا بہت رواج ہوا ہے۔ مگر یہ صرف اِس بات کی علامت ہے کہ موجودہ زمانے کے مسلمان اسلام کی اسپرٹ کے بجائے اس کے فارم کو اصل سمجھنے لگے ہیں۔ حالاں کہ اسپرٹ کے بغیر فارم ایسا ہی ہے جیسے کہ نارنگی کے بغیر اس کا چھلکا۔
موجودہ زمانے میں کمیونکیشن بہت بڑی نعمت ہے، مگر اس نعمت کا اصل استعمال یہ ہے کہ اس کو اسلامی دعوت کے لیے استعمال کیا جائے۔ بدقسمتی سے جدید کمیونکیشن کو اب تک اسی اصل کام کے لیے استعمال نہ کیا جاسکا۔ اسلامی دعوت یہ ہے کہ اسلام کے مثبت پیغام کو قومی اور سیاسی آلائشوں سے پاک کرکے خالص ربّانی انداز میں پھیلایا جائے۔ جدید کمیونکیشن نے پہلی بار اس کو ممکن بنایا ہے کہ دعوت کا کام عالمی سطح پر انجام دیا جاسکے۔ جدید کمیونکیشن کا اصل استعمال یہی ہے۔ جدید کمیونکیشن کے دعوتی استعمال کے بعد، اس کے دوسرے استعمالات بھی جائز ہوسکتے ہیں۔ مگر دعوتی استعمال کے بغیر اس کے دوسرے استعمالات کا کوئی جواز نہیں۔
واپس اوپر جائیں

عادت کو چھوڑنا

اسلام کا کلمہ ہے: لا الٰہ الّا اللّٰہ۔ اِس کلمے کے مطابق، پہلے نفی کا درجہ ہے اور اس کے بعد اثبات کا درجہ۔ کوئی آدمی جب تک غیر اللہ کی نفی نہ کرے، اُس کو اللہ کے اقرار کا درجہ نہیں مل سکتا۔دونوں یکساں طورپر کلمۂ توحید کا جُز ہیں۔ اُن میں سے کسی ایک کو دوسرے سے جدا نہیں کیا جاسکتا۔
یہ فطرت کا قانون ہے۔ یہ فطرت کا ابدی اصول ہے کہ ایک چیز کو چھوڑنے کے بعد ہی آدمی کو دوسری چیز ملے۔ خدا کی بنائی ہوئی اِس دنیا میں کسی انسان کو کوئی حقیقی چیز اُسی وقت مل سکتی ہے جب کہ وہ اس سے پہلے غیر حقیقی چیزوں کو چھوڑ چکا ہو۔ غیر حقیقی چیز کو نہ چھوڑنا اور حقیقی چیز کو پانے کی امید رکھنا، یہ دونوں چیزیں صرف ایک خوش فہم انسان کے دماغ میں فرضی طورپر اکھٹا ہوسکتی ہے، مگر حقیقت کی دنیا میں اِس طرح کی یکجائی ممکن نہیں۔
جو عورت یا مرد سچائی کا مسافر بننا چاہے اس کے لیے ضروری ہے کہ وہ فطرت کے اِس قانون کو جانے۔ مثلاً اکثر ایسا ہوتا ہے کہ لوگوں کی زندگی میں غلط عادتیں شامل ہوجاتی ہیں۔ یہ عادتیں مختلف قسم کی ہوتی ہیں۔ مثلاً ہنسی مذاق کی باتیں ، پان سگریٹ کا استعمال۔ فضول خرچی، نمائشی کام، تفریحی مشغلے، لطیفہ گوئی، گپ شپ ، رواجی تکلّفات، اور رسمی تحفے تحائف کی بے معنٰی دھوم۔
اِس قسم کی مختلف عادتیں ہیں جن میں لوگ مبتلا ہوجاتے ہیں۔ اِن عادتوں کا بیک وقت دو بڑا نقصان ہے۔ ایک، یہ کہ یہ عادتیں انسان کے اندر سطحیت پیدا کرتی ہیں۔ وہ آدمی کو اعلیٰ ذوق سے محروم کردیتی ہیں۔ اور دوسرے یہ کہ یہ عادتیں آدمی کے وقت اور اس کے وسائل کا بڑا حصہ کھا جاتی ہیں۔ آدمی اِس قابل نہیں رہتا کہ وہ کسی سنجیدہ کام میں اپنے آپ کو بھر پور طور پر لگا سکے۔ حقیقت یہ ہے کہ غلط عادتیں قاتل عادتیں ہیں۔ وہ انسان کو انسان کے درجے سے گرا کر حیوان کے درجے تک پہنچا دیتی ہیں۔
واپس اوپر جائیں

سچائی کی طرف

خالد بن ولید مکّہ میں پیدا ہوئے۔ پہلے وہ پیغمبر اسلام کے مخالف تھے۔ وہ پیغمبر اسلام کے خلاف کئی لڑائیوں میں شریک رہے۔ فتحِ مکّہ (۸ہجری) سے کچھ پہلے انھوں نے مدینہ آکر اسلام قبول کرلیا۔ انھوں نے اپنے اسلام کا قصہ بتاتے ہوئے کہا کہ قبولِ اسلام سے پہلے میں اسلام کے خلاف سرگرمیوں میں مشغول تھا، مگر مجھے بار بار یہ احساس ہوتا تھا کہ میں اپنے آپ کو غلط جگہ پر رکھے ہوئے ہوں (أنّی موضع فی غیر شییٔ، البدایۃ والنہایۃ، جلد ۴، صفحہ ۲۳۸)
اِس واقعے میں ایک نفسیاتی حقیقت بتائی گئی ہے۔ خدا نے ہر انسان کو فطرت پر پیدا کیا ہے۔ یعنی اُس فطرت پر جو خالق کو مطلوب ہے۔ اِس بنا پر ایسا ہوتا ہے کہ ہر آدمی جو خدا کے راستے پر نہ ہو، وہ کہیں نہ کہیں اِس احساس سے دوچار ہوتا ہے کہ میں جس راستے پر چل رہا ہوںوہ میرا راستہ نہیں۔ میں اِس کے سوا کسی اور چیز کے لیے پیدا کیا گیا ہوں۔یہ احساس، فطرت کا انتباہ ہوتا ہے۔ یہ احساس آدمی کو موقع دیتا ہے کہ وہ اپنی روش پر نظر ثانی کرے، اور صحیح راستے کو دریافت کرکے اُس پر چلنے لگے۔ مگر انسان اِس انتباہ پر چَوکنا نہیں ہوتا، وہ بدستور اپنے غلط راستے پر چلتا رہتا ہے یہاں تک کہ وہ مَر جاتا ہے۔
مذکورہ احساس دراصل انسان کی زندگی میں ایک نقطۂ آغاز کی حیثیت رکھتا ہے۔ یہ نقطۂ آغاز ہر آدمی کو یہ موقع دیتا ہے کہ وہ اپنی سمتِ سفر کو درست کرکے اپنی حقیقی منزل کی طرف چل پڑے۔ مگر خواہشات کا غلبہ، مفادات کی فکر، سماجی تعصّبات، خاندانی دَباؤ وغیرہ رُکاوٹ بن جاتے ہیں۔ آدمی جاگنے کے باوجود دوبارہ سوجاتا ہے۔
ہر آدمی ایک ایسے کام میں مشغول ہے جس کے بارے میں اس کا دل مسلسل یہ کہہ رہا ہے کہ تم غلط جگہ پر ہو۔ کچھ لوگ اِسی حالت میں جیتے ہیں اور اسی حالت میں مرجاتے ہیں، اور کچھ لوگ اس فکر ی دلدل سے نکلنے میں کامیاب ہوجاتے ہیں اور اپنے آپ کو اس راستے کا مسافر بنا لیتے ہیں جس کا تقاضا ان کی فطرت کررہی تھی۔
واپس اوپر جائیں

مسلم ایجنڈا

ایجنڈا ہمیشہ دو چیزوں کی بنیاد پر بنتا ہے۔ ماضی کا تجربہ اور حال و مستقبل کے امکانات۔ ان دونوں پہلوؤں کو دیکھتے ہوئے مسلمانوں کا ایجنڈا یہ ہونا چاہیے کہ وہ ماضی کی غلطیوں کو دوبارہ نہ دہرائیں اور نئے امکانات کو جان کر ان کو بخوبی طورپر استعمال کریں۔
اس اعتبار سے غور کیجئے تو ہندستانی مسلمانوں کے لیے پہلا کام یہ ہے کہ وہ منفی طرزِ فکر کو ہمیشہ کے لیے چھوڑ دیں اور پوری طرح مثبت طرزِ فکر کو اختیار کرلیں۔ ۱۹۴۷ کے بعد بعض اسباب کی بنا پر مسلمانوں کا ذہن یہ رہا ہے کہ انڈیا ان کے لیے ایک پرابلم کنٹری ہے۔ یہ سوچ پہلے بھی غلط تھی اور اب تو وہ آخری طورپر بے بنیاد ثابت ہوچکی ہے۔ اس لیے مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ شعوری طورپر نہ کہ مجبوری کے تحت، منفی سوچ اور منفی بولی کو بھُلا دیں۔ وہ شعوری فیصلے کے تحت مثبت طرز فکر کو پوری طرح اپنا لیں۔
نئے حالات کی سب سے پہلی خوش آئند علامت یہ ہے کہ لبرلائزیشن کی پالیسی نے اور بیرونی دنیا سے انڈیا کے تعلقات کے اضافے نے ملک کے سیاسی اور معاشی اور سماجی حالات کو یکسر بدل دیا ہے۔ اس تبدیلی کا سب سے زیادہ امید افزا پہلو یہ ہے کہ ہر قسم کے مواقع لا محدود حد تک کھل گئے ہیں۔ اس کی ایک علامت یہ ہے کہ جمعہ اور عید کے موقع پر مسجدوں کے سامنے کا روں کی بھیڑ لگ جاتی ہے۔ اور ٹھیلے والوں کی جیب میں موبائیل ٹیلی فون بج کر یہ اعلان کرتا ہے کہ معاشی مواقع اب اتنے زیادہ بڑھ گیے ہیں کہ خواص سے لے کر عوام تک ہر ایک کو اس کا فائدہ پہنچ رہا ہے۔ اسی طرح سیاسی اور سماجی شعبوں میں بھی حالات پوری طرح بدل گیے ہیں۔
ان تبدیلیوں کا پہلا نتیجہ یہ ہوا ہے کہ مسلمانوں کے لیے اب خارجی حالات کے مقابلے میں دفاع یا تحفظ کا کوئی مسئلہ باقی نہیں رہا۔ اب مسلمانوں کوصرف یہ کرنا ہے کہ وہ نئے حالات اور نئے مواقع کو پہچانیں اور اپنے اندر وہ صفات پیدا کریں جن کے ذریعے وہ نئے مواقع کو استعمال کرسکیں۔ تمثیل کی زبان میں یہ کہا جاسکتا ہے کہ بارش ہوچکی ہے۔ اب کسی کسان کو صرف اس کی بے عملی ہی محروم رکھ سکتی ہے، عمل کرنے والے کسان کے لیے اب محرومی کا کوئی سوال نہیں۔ یہاں اس سلسلے میں چند ضروری پہلوؤں کی طرف اشارہ کیا جاتا ہے۔
۱۔ نئے حالات نے انگریزی زبان اور کمپیوٹر لٹریسی کی اہمیت بہت زیادہ بڑھا دی ہے۔ اب ترقی کے لیے انگریزی زبان اور کمپیوٹر لازمی ہوچکے ہیں۔ دار العلوم دیوبند نے اِس اہمیت کو محسوس کیا اور اپنے یہاں انگریزی اور کمپیوٹر کا کورس باقاعدہ طورپر جاری کردیا۔ میں سمجھتا ہوں کہ ملک کے تمام مدرسوں اور دینی اداروں کو بلاتاخیر ایسا ہی کرناچاہیے۔
۲۔ اب تک مسلم نوجوانوں میں یہ رجحان رہا ہے کہ وہ زیادہ تر آرٹ سائڈ (Humanities) میں داخلہ لے کر پڑھتے تھے۔ یہ رجحان اب زمانے کے خلاف رجحان بن چکا ہے۔ آرٹ سائڈ میں بی اے اورایم اے کرنے کی معاشی اعتبار سے اب بہت کم افادیت رہ گئی ہے۔ مسلم نوجوانوں کو اب بلا تاخیر یہ کرنا ہے کہ وہ انگریزی زبان اور ٹیکنیکل سَبجیکٹس میں اچھی لیاقت پیدا کریں۔ خوش قسمتی سے آج کل ہر جگہ اس کی سہولتیں پیدا ہوگئی ہیں۔مسلم نوجوانوں کو ان سہولتوں سے بھر پور فائدہ اٹھانا چاہیے۔
۳۔ یہ ایک عام مشاہدہ ہے کہ مسلمان شادیوں میں اور دوسری تقریبات میں بہت زیادہ خرچ کرتے ہیں۔ اس قسم کا خرچ فکری پس ماندگی کی علامت ہے۔ قدیم زمانے میں جب کہ خرچ کی مدیں بہت محدود تھیں تو لوگ شادیوں اور تقریبات میں اپنا پیسہ خرچ کیا کرتے تھے۔ اب پیسے کے استعمال کی دوسری زیادہ بڑی اور تعمیری مدیں وجود میں آچکی ہیں۔ مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ اپنے پیسے کو جدید تعمیری مدوں میں خرچ کرنا سیکھیں۔ مثلاً اعلیٰ معیار کے اسکول، ٹیوشن بیوروز، پروفیشنل ٹریننگ سنٹر، ٹیکنیکل انسٹی ٹیوٹس ،وغیرہ۔
۴۔ موجودہ زمانے میں ہر چیز کا معیار بدل گیا ہے۔ مثلاً پچھلے دَور میں خاندانی منجن کی اہمیت ہوا کرتی تھی۔ اب سائنسی طریقوں سے بنائے ہوئے منجن نے اہمیت حاصل کرلی ہے۔ پچھلے دَور میں شاہی نسخے بڑی چیز سمجھے جاتے تھے۔ اب ساری اہمیت سائنٹفک فارمولے کی ہوگئی ہے۔ پہلے زمانے میں بیل گاڑی لوہے کے دُھرے پر چلتی تھی، اب بیل گاڑی بال بیرنگ کے اوپر دوڑتی ہے۔ مسلمانوں کو چاہیے کہ زمانے کی اس تبدیلی کوسمجھیں اور نئی تکنیک کو سیکھ کر ہر میدان میں اعلیٰ ترقی حاصل کریں۔
۵۔ ۱۹۴۷ کے بعد مختلف اسباب سے مسلمان رزرویشن کو اپنے لیے کامیابی کا ذریعہ سمجھتے تھے۔ جدید حالات نے ساری اہمیت کامپٹیشن کو دے دی ہے۔ اس کانتیجہ یہ ہوا ہے کہ اب رزرویشن کی بات ایک خلافِ زمانہ نعرہ بن چکا ہے۔ اب مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ اپنی ملّی ڈکشنری سے رزرویشن کا لفظ نکال دیں۔ اور ساری توجہ محنت اور منصوبہ بندی پر لگائیں۔ موجودہ زمانے میں یہی ترقی کا واحد راستہ ہے۔
۶۔ ۱۹۴۷ کے بعد مسلمانوں میں سیاسی اعتبار سے نگیٹیو پالیسی کا طریقہ رائج ہوگیا۔ یہ طریقہ مستقل ملّی مفاد کے لیے سخت مہلک ہے۔ وہ جمہوری تقاضوں کے سراسر خلاف ہے۔ مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ پازیٹیو سیاسی پالیسی کو اختیار کریں۔ یہی موجودہ زمانے میں اُن کے لیے کامیابی کاواحد راستہ ہے۔
۷۔ انتخابی پالیسی کے معاملے میں مسلمانوں کو اپنا ذہن مکمل طورپر بدلنا ہے۔ اب تک ان کا رجحان اِس معاملے میں یہ رہا ہے کہ پورے ملک کے لیے ایک ملّی پالیسی اختیار کریں۔ موجودہ حالت میں اِس قسم کی انتخابی پالیسی مسلمانوں کے لیے مفید نہیں۔ مفید سیاسی پالیسی صرف یہ ہے کہ مسلمان مقامی حالات کے اعتبارسے الگ الگ اپنی انتخابی پالیسی بنائیں۔ وہ ملکی پالیسی کا طریقہ ختم کردیں۔
۸۔ ۱۹۴۷ کے بعد سے مسلمانوں کے اوپر تحفظاتی ذہن غالب رہا ہے۔ وہ ملّی شناخت کے تحفظ کو سب سے بڑی چیز سمجھتے رہے ہیں۔ موجودہ گلوبلائزیشن کے دَور میں اِس قسم کی تحفظاتی پالیسی غیر مفید ہے۔ مسلمانوں کے لیے صحیح پالیسی یہ ہے کہ وہ ملّی شناخت کے بجائے دعوت کے اِحیاء کو اپنا نشانہ بنائیں۔ وہ ملک میں ایک داعی گروہ کی حیثیت سے اپنا مقام حاصل کرنے کی کوشش کریں۔
۹۔ دَورِ جدید کی خصوصیات میں سے ایک خصوصیت یہ ہے کہ اس نے میل ملاپ اور اختلاط (interaction)کو بہت زیادہ بڑھا دیا ہے۔ یہ تبدیلی ترقیاتی سرگرمیوں سے بہت زیادہ جڑی ہوئی ہے۔ ایسی حالت میں اب ’’علاحدہ مسلم پاکیٹ‘‘ کا تصور ایک فرسودہ تصور بن چکا ہے۔ اب مسلمانوں کو علاحدہ مسلم پاکٹ جیسی تفریقی پالیسی کو مکمل طورپر ختم کردینا چاہیے۔ دورِ جدید میں ترقی کے اعلیٰ مقام پر پہنچنے کے لیے یہ بے حد ضروری ہے۔
۱۰۔ پچھلے سَوسال سے بھی زیادہ مدت سے تمام دنیا کے مسلمان اپنی آفاقیت کو ملّت سے جوڑے ہوئے تھے۔ دورِ جدید کا تقاضا ہے کہ وہ اِس محدودیت کو ختم کردیں۔ وہ اپنی آفاقیت کو پوری انسانیت کے ساتھ جوڑیں۔ وہ جدید اصلاح کے مطابق، اپنے آپ کو گلوبل ولیج کا ایک حصہ سمجھیں۔ وہ بین الملّی سیاست کے بجائے بین الانسانی سیاست کو اختیار کریں۔ اِسی آفاقیت میں ان کی دینی اور ملّی ترقی کا راز چھپا ہوا ہے۔
اس سلسلے میں سب سے زیادہ اہم بات یہ ہے کہ موجودہ زمانہ منصوبہ بندی (planning) کے ساتھ کام کرنے کا زمانہ ہے۔ نہ صرف ہندستانی مسلمان بلکہ ساری دنیاکے مسلمان موجودہ زمانے میں منصوبہ بندی کے ساتھ کام کرنے میں ناکام رہے ہیں۔ اس کا بنیادی سبب یہ ہے کہ منصوبہ بندی عملی امکانات کو سامنے رکھ کر کی جاتی ہے جب کہ مسلمانوں کا حال یہ ہے کہ وہ صرف اپنے جذبات کو جانتے ہیں۔ وہ اپنے جذبات اور امنگوں کی بنیاد پر اپنے عمل کا نقشہ بناتے ہیں۔ اپنے اس مزاج کی بنا پر وہ جذباتی اقدام تو بہت کرتے ہیں مگر منصوبہ بند عمل میں وہ ناکام رہتے ہیں۔ مسلمانوں کو اپنے اس مزاج کو بدلنا ہوگا۔ اگر انھوں نے اپنے اس مزاج پر قابو نہ پایا تو مستقبل میں بھی وہ اسی طرح ناکامی کی مثال قائم کریں گے جس طرح وہ ماضی میں ناکامی کی مثالیں قائم کرتے رہے ہیں۔
موجودہ مسلمانوں کو اگر مجھے ایک مشورہ دینا ہو تو میں کہوں گا کہ — جذباتی کارروائیوں سے بچئے اور سوچے سمجھے عمل کا طریقہ اختیار کیجئے، اور پھر کامیابی آپ کے لیے اتنا ہی یقینی بن جائے گی جتنا کہ آج کی شام کے بعد کل کی صبح کو سورج کا نکلنا۔
واپس اوپر جائیں

ایک خط

محترمہ نور باجی صاحبہ! السلام علیکم ورحمۃ اللہ
آپ سے ٹیلی فون پر چند بار گفتگو ہوئی ہے۔ اس کے علاوہ مولانا محمد ذکوان ندوی سے اکثر آپ کا ذکر ہوتا رہتا ہے جو سویڈن(ا سٹاک ہوم ) میں تین سال تک آپ سے قریب رہے ہیں، اور اب دہلی میں مقیم ہیں۔ میں نے آپ کے بارے میںجو اندازہ کیا ہے اس کے مطابق، آپ ایک اعلیٰ تعلیم یافتہ خاتون ہیں۔ آپ کو خدا نے بہترین صلاحیت عطا فرمائی ہے۔ مگر جب بھی آپ کا خیال آتا ہے مجھے یہ احساس ہونے لگتا ہے کہ:
She is underutilizing her great potential.
دور سے میں آپ کو جتنا پڑھ سکا ہوں اُس کے مطابق، غالباً آپ کا کیس اُس نوعیت کا کیس ہے، جو خالد بن ولیدؓ کا اسلام سے پہلے تھا۔ خالد بن ولید ایک سلیم الفطرت انسان تھے۔ خالد بن ولید نے فتحِ مکّہ سے کچھ پہلے اسلام قبول کیا تھا۔ انھوں نے ایک بار کہا کہ میں اسلام سے پہلے قریش کے ساتھ اُن کی اسلام مخالف سرگرمیوں میں قائدانہ طورپر شریک رہتا تھا۔ مگر اندر سے میں محسوس کرتاتھا کہ میں اپنے آپ کو غلط جگہ پر رکھے ہوئے ہوں (إنّی مُوضع فی غیر شییٔ)
میرا احساس ہے کہ آپ مسلسل طورپر عدم اطمینان میں مبتلا رہتی ہیں۔ میرے اندازے کے مطابق، اس عدم اطمینان کا سبب یہ ہے کہ آپ نے ابھی تک اپنے آپ کو اُس کام میں نہیں لگایا جس کے لیے آپ پیدا کی گئی ہیں، اور یہ دعوت الی اللہ کا کام ہے۔ غالباً آپ کی ضرورت یہ ہے کہ آپ کو وہ چیز حاصل ہوجائے جس میں مشغول ہوکر آپ کو داخلی طورپر پوری طرح فُل فِل مینٹ (fulfillment) ملنے لگے۔یعنی آپ کا داخلی جذبہ اور آپ کا خارجی عمل دونوں ایک ہوجائیں۔
آپ کے لیے غالباً وہ کام مقدّر ہے جو دوراوّل میں صحابہ اور صحابیات نے کیا تھا۔ آپ کو معلوم ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی آخر عمر میں حجۃ الوداع میں اپنے اَصحاب کو خطاب فرماتے ہوئے کہا تھا: اللہ نے مجھے تمام دنیا کے لیے پیغمبر بنا کر بھیجا ہے۔ تم لوگ میری طرف سے، اس ذمّے داری کو اداکرو۔ آپ نے فرمایا کہ پس جو لوگ یہاں موجود ہیں وہ میرا پیغام اُن لوگوں تک پہنچا دیں جو یہاں موجود نہیں ہیں (فلیبلغ الشاہد الغائب)
یہ بات آپ نے اپنی وفات سے تقریباً دو مہینے پہلے اپنے ایک خطاب میں فرمائی تھی۔ اس کے بعد یہ ہوا کہ اصحابِ رسول کی بیش تر تعداد مکّہ اور مدینہ سے باہر چلی گئی۔ یہ لوگ مختلف بیرونی ملکوں میں پھیل گیے۔ ہر جگہ انھوں نے اسلام کے پیغام کو پہنچایا۔ اِن میں صحابہ کے علاوہ صحابیات بھی شامل تھیں۔ اِس کا تاریخی ریکارڈ یہ ہے کہ قَبرص (Cyprus) میںایک صحابیہ کی قبر اب تک موجود ہے۔ وہ اپنے شوہر کے ساتھ سمندری سفر کرکے وہاں پہنچی تھیں۔
اس صحابی خاتون کا نام اُمِّ حرام بنت ملحان ہے۔ یہ واقعہ صحیح البخاری میں تین مقام پر آیا ہے۔ کتاب الجہاد میں باب غزو المرأۃ فی البحرکے تحت، وہ اِس طرح نقل ہوا ہے:
’’عبداللہ بن عبدالرحمن انصاری روایت کرتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ میں نے انس رضی اللہ عنہ کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم (ام حرام) بنتِ ملحان کے گھر آئے۔ آپ نے وہاں ٹیک لگائی(اور آپ سو گیے) پھر آپ ہنسے ۔ اُمّ حرام نے کہا: اے خدا کے رسول! آپ کیوں ہنسے۔ آپ نے کہا کہ میری امت کے کچھ لوگ اللہ کے راستے میں بحرِ اخضر (Mediterranean Sea) کا سفر کریں گے۔اُن کا درجہ (جنت میں) ایسا ہوگا جیسے تخت پر بادشاہ۔ ام حرام نے کہا کہ اے خدا کے رسول! اللہ سے دعا کیجیے کہ وہ مجھ کو اُن لوگوں میں سے بنائے۔ آپ نے کہا کہ اے اللہ! ام حرام کو اُن میں سے بنا۔ آپ دوبارہ لیٹ گیے، اور پھر (اُٹھ کر) دوبارہ ہنسے۔ اُمّ حرام نے دوبارہ ویسا ہی سوال کیا۔ آپ نے دوبارہ ویسا ہی جواب دیا۔ امّ حرام نے کہا کہ اللہ سے دعا کیجیے کہ وہ مجھ کو اُن لوگوں میں سے بنائے۔ آپ نے کہا کہ تم پہلے والوں میں سے ہو۔ اور تم بعد والوں میں سے نہیں ہو۔ (أنتِ من الأولین ولستِ من الآخرین)۔ انس نے کہا کہ پھر امّ حرام نے عُبادہ بن صامت انصاری سے نکاح کیا۔ پھر انھوں نے (اپنے شوہر اور) بنتِ قَرَظہ (زوجہ معاویہ بن سفیان) کے ساتھ سمندری سفر کیا۔ پھر واپسی میں وہ اپنی سواری پر بیٹھیں۔ پھر وہ سواری سے گر پڑیں اور ان کی وفات ہوگئی‘‘۔ (۶؍۹۰)
شارح کہتے ہیں کہ: دُفنت فی قبرص، و یسمّی قبرہا ہناک ’’قبر المرأۃ الصالحۃ‘‘۔ یعنی قبرص میں وہ دفن کی گئیں اور وہاں ان کی قبر کو ایک نیک خاتون کی قبر کہا جاتا ہے (حیاۃ الصحابۃ ۱؍۵۹۲)
اس حدیث میں دو ایسے مسلم قافلوں کا ذکر ہے جو دعوت الی اللہ کے لیے بیرونی سفر کریں گے۔ میں سمجھتا ہوں کہ اس سے مراد، دو مسلم ڈائسپورا (Muslim diaspora) ہے۔ پہلا ڈائسپورا وہ ہے جو صحابہ کے زمانے میں پیش آیا، جس کی ایک ممبر ام حرام تھیں۔ اور دوسرا ڈائسپورا وہ ہے جو موجودہ زمانے میں پیش آیا ہے، اور آپ جس کا ایک حصہ ہیں۔ میرا دل کہتاہے کہ اس حدیث میں آپ کے لیے ایک بشارت ہے۔ آپ گویا اسلامی تاریخ کی دوسری امّ حرام ہیں۔ آپ رسول اللہ کی اُس پیشین گوئی کا ایک حصہ ہیں جس میں بعد کے زمانے میں پیش آنے والے دوسرے قافلے کا ذکر کیاگیا ہے۔ امّ حرام اگر پہلے قافلے میں شامل تھیں تو آپ دوسرے قافلے میں شامل ہیں۔
مذکورہ حدیث کے مطابق، آپ کا سویڈن میں ہونا آپ کو یہ موقع دے رہا ہے کہ آپ اپنی دعا میں یہ کہہ سکیں کہ خدایا! مجھے اُس دوسرے دعوتی قافلے کا ایک ممبر بنا جو تیرے رسول کی پیشین گوئی کے مطابق، بیرونی سفر کرے گا اور بیرونی دنیا کے لوگوں کو تیرا پیغام پہنچائے گا۔ ایسی دعا بہت اہم دعا ہے جس میںآدمی کو دعا کرنے کے لیے کوئی ریفرنس مل رہا ہو۔ اور یہ حدیث آپ کو اس قسم کا ایک بہترین ریفرنس دے رہی ہے۔
دعا کے سلسلے میں ریفرنس کے معاملے کو سمجھنے کے لیے میں یہاں دو واقعہ نقل کروں گا۔ ایک واقعہ وہ ہے جو حدیث کی کتاب صحیح البخاری میں آیا ہے۔ یہ واقعہ بتاتا ہے کہ تین اللہ کے بندوں نے اپنے ایک عمل کو بطور ریفرنس استعمال کرکے خدا سے دعا کی۔ یہ دعا اس طرح مقبول ہوئی کہ اس کی وجہ سے ایک پہاڑی پتھر کھسک گیا۔ اور اُن کے لیے راستہ نکل آیا(فتح الباری، کتاب الادب، باب اجابۃ دعاء من بَرَّ والدیہ، ۱۰؍۴۱۸)
دوسرا واقعہ خود میری ذات سے تعلق رکھتا ہے۔ یہ واقعہ میں نے اپنی کتاب سفر نامۂ اسپین وفلسطین میںلکھا ہے۔ اس واقعے کو یہاں نقل کیا جاتا ہے:
’’۲۹؍ اگست ۱۹۹۵کو میں دوسری بار مسجد اقصیٰ میں داخل ہوا، اور وہاں دو رکعت نماز ادا کی۔ اُس وقت اسرائیل کے اعتبار سے ۹ بجے صبح کا وقت تھا اور ہندستان کے لحاظ سے ساڑھے گیارہ بجے کا وقت۔ نماز پڑھتے ہوئے میرا دل بھر آیا جب میں نے سجدہ کرتے ہوئے زمین پر سر رکھا تو اُس وقت میری زبان سے دعا کے یہ الفاظ نکلے: خدایا! زمانے کا فرق تیرے نزدیک کوئی فرق نہیں۔ تو میرے لیے زمانی دُوری کو ختم کردے اور مجھ کو اُس مقدس جماعت کی صف میں شریک کردے جب کہ رسول اللہ یہاں امامت کررہے تھے اور اُن کے پیچھے انبیاء صف باندھ کر نماز ادا کررہے تھے‘‘۔ (صفحہ ۱۳۴)
آپ جیسے لوگ جو مغربی ملکوں میں رہتے ہیںوہ وہاں کے بظاہر ناموافق ماحول سے اکثر پریشان رہتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ ’’ہم کس اندھیرے میں یہاں آکر پھنس گیے‘‘ مگر یہ منفی احساس درست نہیں۔ زیادہ صحیح بات یہ ہے کہ آپ لوگوں کے اندر مثبت شعور پیدا ہو۔ آ پ یہ سوچیں کہ خدا نے ہم کو یہاں بھیج کر ہمارے ساتھ خصوصی رحمت کا معاملہ فرمایا ہے۔ یہاں بھیج کر اُس نے ہم کو یہ قیمتی موقع دیا ہے کہ ہم خدا کے بندوں کو خدا کا پیغام پہنچائیں اور خدا کی ابدی جنت کے مستحق بنیں۔
میرا مشورہ ہے کہ آپ اِس قسم کی نگیٹیو سوچ کو پازیٹیو سوچ میں بدلیں۔ آپ یہ سوچیں کہ یہ وہ خصوصی معاملہ ہے جو خدا نے پیغمبرکے ساتھ کیا تھا۔ خدا نے اپنے پیغمبر کو بھٹکے ہوئے لوگوں کے پاس بھیجا تاکہ وہ انھیں سیدھے راستے کی طرف رہنمائی کرے۔اِس رحمت کے معاملے کو قرآن میں اِن الفاظ میں بیان کیا گیا ہے: لتخرج الناس من الظلمات إلی النور (ابراہیم ، ۱)
صحابی خاتون ام حرام بنت ملحان کے زمانے میں ڈائسپورا کا جو واقعہ پیش آیا وہ اسلام کی تاریخ میں مسلمانوں کا پہلا ڈائسپورا تھا۔ ڈائسپورا کا لفظ عام طورپر اُن یہودیوں کے لیے بولا جاتا ہے جو اپنے وطن فلسطین سے نکل کر باہر کے ملکوں میں گیے، اور وہاں غیر یہودیوں کے ساتھ رہنے لگے۔ اس اعتبار سے اسلامک ڈائسپورا یہ ہے کہ مسلمان اپنے وطن سے نکل کر باہر کے ملکوں میں جائیں اور وہاں ایسے مقامات پر رہائش اختیار کریں جہاں اُن کا انٹریکشن (interaction) غیر مسلموں سے ہونے لگے۔ یہی انٹریکشن دعوت کا اصل ذریعہ ہے۔ سویڈن یا دوسرے مغربی ملکوں میں جو مسلمان، تارکین وطن کی حیثیت سے رہتے ہیں، وہ یہی لوگ ہیں۔ یہ لوگ گویا کہ— مسلمس اِن ڈائسپورا (Muslims in Diaspora) کی حیثیت رکھتے ہیں۔یہ لوگ امکانی طورپر خدا کے سفیر (ambassadors of God) ہیں۔ اور آپ یقینی طورپر اُن میں سے ایک ہیں۔
آپ اور آپ جیسے دوسرے مسلمان عورت اور مرد جو یورپ اور امریکا میں رہتے ہیں اُن کو اَصحابِ رسول کی یہی نسبت حاصل ہوگئی ہے۔ ان کا معاملہ اِس پہلو سے اصحابِ رسول جیسا معاملہ ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم گویا کہ آپ جیسے لوگوں سے دوبارہ یہ فرمارہے ہیں کہ اے میری امت کے لوگو! تم میری امت کے ’’آخرین‘‘ میں سے ہو۔ حالات نے تم کو جن غیر مسلم ملکوں میں پہنچایا ہے، وہاں کے لوگوں کو تم میرا پیغام پہنچا دو تاکہ اُن لوگوں کے سلسلے میں میری جو پیغمبرانہ ذمے داری ہے وہ تمہارے ذریعے ادا ہوجائے۔
یہ تفصیل میں نے اس لیے بیان کی تاکہ آپ پر یہ واضح کروں کہ ایک مسلمان کی حیثیت سے آپ کا فریضہ کیا ہے، اور خدا اور رسول کی طرف سے آپ کے اوپر کیا ذمے داری عائد ہوتی ہے۔ وہ ذمّے داری ایک لفظ میں، دعوت الی اللہ ہے۔ یعنی اللہ کے پیغام کو اُس کی بے آمیز صورت میں تمام لوگوں تک پہنچا دینا۔
اس وقت آپ جن لوگوں کے درمیان ہیں اُن میں غیر مسلم بھی ہیں اور مسلمان بھی۔ غیر مسلم کا کیس اسلام سے بے خبری کا کیس ہے، اور مسلمانوں کا کیس اسلام سے غفلت کا کیس۔ غیر مسلم سِرے سے اِس بات کو نہیں جانتے کہ خدا نے اپنے پیغمبر کے ذریعے جو دین ،انسانیت کے لیے بھیجا ہے وہ کیا ہے۔ اور موجودہ مسلمانوں کا حال یہ ہے کہ وہ رسمی طور پر اسلام سے آشنا ہیں مگر زندہ شعور کی حیثیت سے خدا کادین اُن کے ذہن کا حصہ نہیں۔ اب آپ جیسے لوگوں کی ذمے داری یہ ہے کہ وہ دین حق کو غیر مسلموں کے لیے اُن کی ڈسکوری بنائیں اور مسلمانوں کے لیے دین حق کو اس حیثیت سے متعارَف کریں کہ وہ ان کے لیے ری ڈسکوری (re-discovery) بن جائے۔
میں عرض کروں گا کہ اگر آپ اِس کا فیصلہ کریں کہ آپ کو تاریخ اسلام کی دوسری ’’اُمّ حرام ‘‘ بننا ہے، تو آپ کے عمل کا نقطۂ آغاز صرف ایک ہے۔ اور وہ ہے دعا اور مطالعہ۔ ہمارے یہاں جو کتابیں اردو اور انگریزی میں چھپی ہیں وہ سب براہِ راست یا بالواسطہ طورپر اسی سے متعلق ہیں کہ موجودہ زمانے میں دعوتِ اسلام کا کام کس طرح کیا جائے۔ اِن تمام کتابوں کا مشترک موضوع صرف ایک ہے، اور وہ یہ کہ اسلام کی تعلیمات کو عصری اسلوب (modern idiom) میں بیان کرنا۔
آپ اگر سنجیدگی کے ساتھ یہ فیصلہ کریں کہ آپ کو اپنی بقیہ زندگی دعوت الی اللہ کے کام میں لگانا ہے تو سب سے پہلے آپ کو اپنے آپ کوپوری طرح تیار کرنا ہوگا۔ دعوت کا کام منصوبہ بندی کا کام ہے۔ منصوبہ بندی کے بغیر دعوت کا کام مؤثر طورپر انجام نہیں دیا جاسکتا۔ ماہ نامہ الرسالہ کے شمارہ اگست ۲۰۰۳ میں سوئزرلینڈ کا سفر نامہ شائع ہوا تھا۔ اس کے ٹائٹل پر میں نے لکھا تھا—’’اپنی زندگی کا پہلا نصف حصہ ہر آدمی کھوچکا ہے۔ کامیاب وہ ہے جو اپنی زندگی کے دوسرے نصف حصے کو نہ کھوئے‘‘۔ آپ اگر اِس جملے پر غور کریں تو آپ اس میں اپنے تمام سوالات کا جواب پالیں گی۔
میری ایک کتاب خواتین سے متعلق ہے۔ اس کا نام ’’عورت، معمارِ انسانیت‘‘ ہے۔ اس کتاب میں دکھایا گیا ہے کہ اسلام کے نقطۂ نظر سے بہترین ازدواجی زندگی وہ ہے جس میں شوہر اور بیوی دونوں ایک دوسرے کے لیے انٹلکچول پارٹنر(intellectual partner) بن جائیں۔ میرا مشورہ ہے کہ آپ اس اصول کو اپنی زندگی میں پوری طرح اختیار کرلیں۔ آپ اور آپ کے شوہر دونوں ایک دوسرے کے لیے انٹلکچول پارٹنر بن جائیں۔ ازدواجی زندگی کی بلاشبہہ سب سے زیادہ معیاری صورت یہی ہے۔
میں نے دیکھا ہے کہ اکثر لوگ ایک خاص احساس میں مبتلا رہتے ہیں۔ اس لیے وہ اپنی زندگی کے ساتھی کو اپنا انٹلکچول پارٹنر نہیں بنا پاتے۔ کبھی ایسا ہوتا ہے کہ مرد زیادہ تعلیم یافتہ ہے اورعورت کم تعلیم یافتہ۔ اب مرد یہ سوچتا ہے کہ کم تعلیم یافتہ بیوی کو میں کس طرح اپنا انٹلکچول پارٹنر بناؤں۔ اسی طرح کبھی ایسا ہوتا ہے کہ عورت نے یونیورسٹی کی اعلیٰ تعلیم حاصل کی ہے اور مرد رسمی نوعیت کی اعلیٰ تعلیم حاصل نہ کرسکا۔ ایسی حالت میں عورت کے اندر شعوری یا غیر شعوری طورپر یہ احساس پیدا ہوجاتا ہے کہ اپنے کم تعلیم یافتہ شوہر کو کیسے اپنا انٹلکچول پارٹنر بناؤں۔ اس طرح بہت سے عورت اور مرد ایک عظیم نعمت سے اپنے آپ کو محروم کرلیتے ہیں۔
میں کہوں گا کہ کسی کو انٹلکچول پارٹنر بنانے کے لیے یونیورسٹی کی ڈگری کی ضرورت نہیں۔ قرآن میں بتایا گیا ہے کہ: علّم اٰدم الاسماء کلہا (البقرہ: ۳۱) قرآن کی اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ ہر انسان پیدائشی طورپر تمام اشیاء کا علم رکھتا ہے۔ جدید تحقیقات سے اس کی تصدیق ہوتی ہے۔ جدید تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ ہر فرد کے برین (brain) میں ہزاروں بلین سے بھی زیادہ پارٹکل ہوتے ہیں۔ یہ پارٹکل کیا ہیں۔ یہ دراصل انفارمیشن پارٹکل ہیں، یعنی علم کے پارٹکل۔
اس حقیقت کو سامنے رکھیے تو یہ کہنا صحیح ہوگا کہ ایک شخص اگر یونیورسٹی آف سویڈن کا سند یافتہ نہیں ہے تب بھی وہ یونیورسٹی آف گاڈ سے سند لے کر اس دنیا میں آیا ہے۔ ایسی حالت میں ہر انسان یکساں طورپر تعلیم یافتہ ہے۔ ہر عورت اور ہر مرد کے لیے یہ امکان پوری طرح موجود ہے کہ وہ اپنی زندگی کے ساتھی کو اپنا انٹلکچول پارٹنر بنائے۔ اور ذہنی ارتقاء کے اُن عظیم فائدوں میں حصے دار بنے جو خالقِ فطرت نے ہر عورت اور مرد کے لیے مقدر کردیا ہے۔
میں کہوں گا آپ اس معاملے میں میرے مشورے کو مزید غور وفکر کے بغیر فوراً اختیار کرلیں اور آج ہی سے اپنے گھر کو انٹلکچول پارٹنر شِپ کا ایک نمونہ بنادیں۔ اس سے ایک طرف خود آپ کو غیر معمولی فائدے حاصل ہوں گے اور اس کے ساتھ آپ کا یہ عمل دوسروں کے لیے ایک قابلِ تقلیدمثال بن جائے گا۔ انٹلکچول پارٹنر شپ کے اس اصول کے بہت سے فائدوں میں سے ایک فائدہ یہ ہے کہ آپ کا گھر آپ کے لیے ایک جائے سُکون (peace haven) بن جاتا ہے۔
نئی دہلی ۳۰ نومبر ۲۰۰۵ دعا گو وحید الدین
واپس اوپر جائیں

ایک خط اور اس کا جواب

ایک ضروری بات یہ عرض کرنا ہے کہ ماہ نامہ الرسالہ کے شمارہ نومبر 2005 میں جو مضمون ’جنت کے دروازے پر‘کے عنوان سے ہے شاید سہواً اس میں کئی باتیں نظر انداز ہوگئی ہیں۔
۱۔ اس میں جنت کو انسانی تہذیب کا ایک ارتقائی مرحلہ بتایا گیا ہے۔ جو انسانی ہاتھوں سے وجود میں آنے والا ہے۔ اور یہ سب سائنسی کرشموں سے ہوگا۔ گویا جنت صرف ان لوگوں کے لیے ہے جو کبھی بھی سائنسی سہولتوں کے ذریعے زمین کو جنت کی طرح بنا لیں۔ اس خیال کے تحت تو آج بھی بہت سے لوگ جنت ہی کے مالک کہلائیں۔ اور ماضی میں بھی رہے۔ اس مسئلے کا تعلق اللہ کی ہدایات اور قرآن اور رسالت سے قطعاً نہیں رہا۔
۲۔ برے لوگ الگ کر دئیے جائیں گے یعنی برے لوگ وہ ہوں گے جو اس سائنسی انقلاب میں کوئی رول ادا نہیں کرپائیں گے۔ اس طرح کفر وایمان کے مسئلے کے بجائے مسئلہ سائنسی سہارے کا ہوگیا۔
۳۔ بَعث بعد الموت کا مسئلہ سرے سے ختم ہی ہوگیا۔
۴۔ اس قسم کی سائنسی جنت میں اللہ کے وہ بندے جن میں انبیاء و رسل بھی ہیں وہ کیسے داخل ہوں گے۔
۵۔ قرآن کا وما أمر الساعۃ الا کلمح البصر کے عقیدے کاکیا ہوگا۔
۶۔ حشر ونشر نامۂ اعمال حساب وکتاب اور برزوا للہ الواحد القہار اور کل یأتیہ یوم القیامۃ فرداً۔ اور نفخ فی الصور وغیرہ ان تمام آیات کا کیا ہوگا۔
۷۔ زندگی جو موجودہ ہے، اس کا ابتلاء کے لیے عارضی ہونا اور اس دنیا میں اہل جنت کاسلیکشن ہونا جو سب کچھ آپ نے لکھا ہے اس کا کیا ہوگا۔ اور کیا سائنسی جنت جو انسان کے موجودہ تسلسل سے وجود میں آئے گی۔ اس میں موت وپیدائش کا موجودہ تسلسل رہے گا یا ختم ہوجائے گا۔ یہ سب باتیں اپنے انداز میں عنایت اللہ خاں مشرقی نے بھی لکھی ہیں۔ اسی الرسالہ کے دوسرے مضامین بھی اس مضمون کی نفی کرتے ہیں۔ یہ مضمون کیسے تحریر ہوگیا خدا کے لیے فوری طورپر اس پر غور فرمائیں۔ ایک اور مضمون لکھا جائے اور اس میںبات واضح کی جائے اور اس بات کو تمثیل قرار دیا جائے۔ (ڈاکٹر حمید اللہ ندوی، بھوپال)
جواب
آپ کے اس خط (۲۶؍ اکتوبر ۲۰۰۵) میں الرسالہ نومبر ۲۰۰۵ کے بارے میں منفی تأثر کا اظہار کیا گیا ہے۔ عجیب بات ہے کہ اسی پرچے کو پڑھ کر بہت سے لوگوں نے برعکس طورپر نہایت مثبت تاثر قبول کیا ہے۔ کئی ہندوؤں نے اس مضمون کا انگریزی ترجمہ پڑھ کر مزید اسلامی لٹریچر کے مطالعے کی خواہش ظاہر کی ۔ ایک تعلیم یافتہ مسلمان نے کہا کہ اس کو پڑھنے کے بعد مجھے ایسا محسوس ہوا کہ جیسے میں جنت کے دروازے پر پہنچ گیا ہوں، وغیرہ۔
۱۹ نومبر ۲۰۰۵ کی صبح کو دہلی میں میرے دفتر میں ٹیلی فون کی گھنٹی بجی۔ رسیور اٹھایا تو مہتاب احمد صاحب بول رہے تھے۔ وہ ضلع بجنور کے دھام پور میں رہتے ہیں۔ (Tel: 01344-220 361) انھوں نے ٹیلی فون پر بات کرتے ہوئے کہا: مجھے آپ کی تحریروں نے خدا سے ملا دیا۔ الرسالہ (نومبر ۲۰۰۵) کو پڑھ کر آپ کے لیے میر دل سے بہت زیادہ دعائیں نکلیں۔ سائنس اور ٹکنالوجی کے اِس دَور میں جدید ذہن کو مطمئن کرنے کے لیے آپ کی تحریریں بہت مؤثر ہیں۔ روایتی قسم کے لکھنے والے آج کے ذہن کو مطمئن نہیں کرسکتے تھے۔ یہ کام صرف آپ کی تحریریں کررہی ہیں۔
آپ الرسالہ کے مذکورہ مضمون کو دوبارہ پڑھیں تو مجھے یقین ہے کہ آپ کا اشکال اپنے آپ ختم ہوجائے گا۔ آپ یقینی طورپر یہ جان لیں گے کہ عنایت اللہ خاں مشرقی کی بات اور الرسالہ کی بات ایک دوسرے سے اتنی زیادہ مختلف ہے کہ دونوں کو ایک کہنا، آدمی کو مائنس مارکنگ کا مستحق بناتا ہے۔ آپ نے لکھا ہے کہ اِس مضمون کو دوبارہ تمثیل کے طورپر لکھنا چاہیے۔ میں عرض کروں گا کہ نومبر ۲۰۰۵ کے الرسالہ میںچھپنے والا یہ مضمون خود ہی ایک تمثیلی مضمون ہے۔ اس میں ایک سے زیادہ بار ’’گویا کہ‘‘کا لفظ آیا ہے۔ یہ لفظ واضح طورپر بتا رہا ہے کہ یہ مضمون بطور تمثیل ہی لکھا گیا ہے۔ اسی طرح یہ بات بھی نہایت واضح ہے کہ اِس مضمون کا مقصد متشکک ذہن کے لیے آخرت کی جنت کو ’’قابلِ فہم‘‘ بنانا ہے۔ اِس مضمون میںکہیں بھی ’’سائنسی جنت‘‘ یا ’’انسان کی تعمیر کردہ جنت‘‘کا لفظ استعمال نہیں ہوا ہے۔ اس کے برعکس، اس میں صاف طور پر یہ بات موجود ہے کہ یہ جنت براہِ راست خدا کے حکم سے بنے گی (الزمر: ۶۹) اور خدا کے ’’فرشتے‘‘ اس کو اعلیٰ صورت میں بنائیں گے۔ اس مضمون میں بار بار قرآن کی آیتوں کے حوالے دیے گیے ہیں۔ اِس سے اندازہ ہوتا ہے کہ یہ مضمون قرآنی آیات کی تفسیر کے طورپر لکھا گیا ہے نہ کہ کسی الگ نظریے کے تحت۔ اِس مضمون کو سمجھنے کے لیے نہ صرف خود مضمون کو گہرائی کے ساتھ پڑھنا ضروری ہے بلکہ یہ بھی ضروری ہے کہ قرآن کی محوّلہ آیتوں کا از سرِ نو مطالعہ کیا جائے۔
الرسالہ ماہ نومبر ۲۰۰۵ میں شائع شدہ مضمون کا مقصد خود جنت کو بتانا نہیں ہے بلکہ ایک معلوم واقعے کو لے کر غیر معلوم واقعے پر استدلال قائم کرنا ہے۔ یعنی مشہود (seen) کے حوالے سے غیرمشہود (unseen) کو قابل فہم بنانا۔ مذہبیّات میں یہ ایک معروف استدلالی اسلوب ہے۔
استدلال کا یہ اسلوب خود قرآن میں موجود ہے۔ قرآن میں ایک سے زیادہ مقامات پر بَعث بعد الموت کو ثابت کرنے کے لیے یہ اسلوب اختیار کیا گیا ہے کہ زمین پر ہونے والے ایک طبیعی واقعے کا حوالہ دیا گیا ہے۔ وہ یہ کہ خشک زمین پر بارش ہوتی ہے اور پھر وہاں سرسبز درخت اور پَودے اُگ آتے ہیں۔ خشک زمین پر سبزہ اُگنے کے اِس واقعے کو لے کر فرمایا کہ: اِسی طرح مردہ انسان دوبارہ زندہ ہوجائیں گے۔ (کذٰلک النشور، فاطر: ۹ ،کذلک الخروج، ق: ۱۱)
اِس طرح کی آیتوں پر غور کیجئے۔ خشک زمین سے پودے کا اُگنا واضح طور پر اسبابِ طبیعی کے تحت پیش آنے والا واقعہ ہے۔ اس کے برعکس، بعث بعد الموت ایک ایسا واقعہ ہے جو اسباب طبیعی کو توڑ کر بر اہِ راست حکمِ خداوندی کے تحت پیش آئے گا۔ اِس تشبیہہ کا مطلب یہ نہیں ہے کہ دونوں واقعے کی نوعیت بالکل ایک ہے۔ یہ تشبیہہ صرف تقریبِ فہم کے لیے ہے نہ کہ اصل صورتِ حال کو اس کی حقیقی نوعیت کے اعتبار سے بتانے کے لیے—قرآن کی اِس مثال سے مذکورہ معاملے کو بخوبی طورپر سمجھا جاسکتا ہے۔ ایک لفظ میں، یہ اسلوبِ بیان دعوتی ضرورت کے طورپر ہے نہ کہ بیانِ حقیقت کے طورپر۔
الرسالہ نومبر ۲۰۰۵ میں جنت کے بارے میں جو مضمون شائع ہوا ہے وہ جنت کی اصل حقیقت کو بتانے کے لیے نہیں ہے۔ اس کا مقصد صرف یہ ہے کہ جدید ذہن کے لیے وقوعِ جنت کا امکان (probability) ثابت کیا جائے۔ اِس مضمون کا مقصد جنت کی واقعی حیثیت کو بتانا نہیںہے بلکہ منکر اور متشکک لوگوں کے لیے جنت کے تصور کو قابل فہم بنانا ہے۔ اس مضمون کا مقصد جنت پر سائنسی استدلال ہے نہ کہ خود جنت کو سائنسی جنت ثابت کرنا۔ اس مضمون کا مقصد صرف یہ ہے کہ متشکک ذہن، اسلامی نقطۂ نظر کو قابلِ توجہ سمجھے اور پھر مزید مطالعہ کرکے وہ حقیقی تصوّر جنت کو دریافت کرسکے۔
قدیم مکّہ میں ایک مشرک پہلوان تھا اُس کا نام رُکانہ تھا۔ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کا انکار کرتا تھا۔ رسول اللہ نے ایک بار اس سے کہا کہ اے رُکانہ!اگر میں تم کو کُشتی میں پچھاڑ دوں تو کیا تم مجھے پیغمبر مان لوگے۔ اس نے کہا کہ ہاں۔ (قال رسول اللہ ﷺ: أفرأیت إن صرعتک أتعلم أنّ ما أقول حق، قال: نعم!) اس کے بعد دو بار کشتی ہوئی اور رسو ل اللہ نے دونوں بار رکانہ کو پچھاڑ دیا۔ ( سیرت ابن ہشام، جلد اول، صفحہ ۶۱۵)
اس کا مطلب یہ نہیں تھا کہ جو شخص کسی پہلوان کو کشتی میں پچھاڑ دے وہ پیغمبر ہے۔ یہ صرف تقریبِ فہم کی بات تھی۔ اس کا مطلب صرف یہ تھا کہ رکانہ کے ذہنی سانچے کے مطابق، اس کو نبوت کے معاملے پر سوچنے کے لیے مجبور کیاجائے۔ یہ بات مخاطب کی نسبت سے تقریبِ فہم کے لیے تھی نہ کہ خود اصل واقعے کی نسبت سے حقیقتِ نبوت کا بیان۔
قدیم روایتی منطق میں استدلال کا مطلب صرف یہ ہوتا تھا کہ انکار کے مقابلے میں اقرار کو ثابت کرنا۔ اب سائنسی منطق کے مطابق، استدلال کا مطلب یہ ہوگیا ہے کہ کسی واقعے کے امکان (probability) کو ثابت کیا جائے۔ مذکورہ مضمون کو اسی اعتبار سے دیکھنا چاہیے۔ مذکورہ مضمون کے مخاطب مومنینِ جنت نہیںہیں بلکہ اس کے مخاطب وہ لوگ ہیں جن کے دلوں میں جنت کے بارے میں شکوک اور شبہات ہیں۔
جہاں تک جنت کے بارے میں میرے ذاتی نقطۂ نظر کی بات ہے۔ اس میں کسی کے لیے شک کا کوئی موقع نہیں۔ میرے ہزاروں شائع شدہ مضامین سے اور تذکیر القرآن سے دو اور دو چار کی طرح ثابت ہوتا ہے کہ جنت کے بارے میں میرا عقیدہ عین وہی ہے جو تمام صلحاء امت کا ہمیشہ رہا ہے۔
مولانا محمد ذکوان ندوی مجھ کو بہت عرصے سے نہایت قریب سے جانتے ہیں۔ انھوں نے میری دوسری تحریروں کے علاوہ الرسالہ نومبر ۲۰۰۵ کے مذکورہ مضمون کو بھی پڑھا ہے۔ اُن سے میں نے پوچھا کہ ذاتی معلومات کے ذریعے آپ کو میرا جو تعارف حاصل ہوا ہے اس کے مطابق، اِس پہلو سے میرے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے۔ انھوں نے کہا —’’میرے نزدیک آپ کو جنت کی قرآنی معرفت (محمد: ۶) حاصل ہے۔ یعنی آپ کا تصورِ جنت قرآنی تصور جنت ہے نہ کہ سائنسی تصور جنت۔ مزید یہ کہ آپ کے اِس مضمون نے جدید ذہن کے لیے جنت کو آخری حد تک قابل فہم (understandable) بنادیا ہے‘‘۔
واپس اوپر جائیں

ایک خط

برادرِ محترم مولانا محی الدین غازی! السلام علیکم ورحمۃ اللہ
ماہنامہ رفیقِ منزل (نئی دہلی) کا شمارہ دسمبر ۲۰۰۵ دیکھا۔ اس شمارے میں آپ کا ایک مضمون چھپاہے۔ اس مضمون کاعنوان ہے—فقہ الاقلیات:ایک تعارف۔ اس مضمون کو دیکھنے کے بعد میںآپ کو یہ خط لکھ رہاہوں۔ اس سلسلے میں مجھے آپ سے دوباتیں کہنا ہے۔
موجودہ زمانے میں فقہ الاقلیات کے نام سے ایک نیا موضوع سامنے آیا ہے۔ اس سلسلے میں بہت سی تحریریں اردو، عربی اور انگریزی میں شائع ہوئی ہیں۔ اِن تحریروں میں اکثر تحریروں سے مجھے واقف ہونے کا موقع ملا ہے۔ اس سلسلے میں اپنا تأثر آپ تک پہنچانے کے لیے آپ کو یہ خط لکھ رہا ہوں۔
پہلی بات یہ کہ غیر مسلم ملکوں میں رہنے والے مسلمانوں کا مطالعہ ’’اقلیت‘‘ کی حیثیت سے کرنا، میرے نزدیک، اصولی طورپر ہی غلط ہے۔ مسلمان کی اصل حیثیت یہ ہے کہ وہ داعی گروہ ہیں نہ کہ محض اقلیتی یا اکثریتی گروہ۔ مسلمان کو داعی گروہ کا درجہ دیا جائے تو اس سے مسلمانوں کی دعوتی ذمے داری سامنے آتی ہے۔ اس کے برعکس، اگر مسلمانوں کو معروف معنوں میں اقلیت کہاجائے تو اُس سے یہ تأثر پیدا ہوتا ہے کہ مسلمان ایک ایسا گروہ ہیں جن کو غیر مسلم اکثریت کی طرف سے کچھ مسائل درپیش ہیں، اور ضرورت یہ ہے کہ اِن مسائل کو حل کیا جائے۔ مثلاً دینی شناخت کو برقرار رکھنے کا مسئلہ۔ گویا کہ یہ مسلمان صرف ایک متأثر گروہ ہیں نہ کہ ایک مؤثّر گروہ۔
اقلیتی مسائل کا یہ نظریہ مسلمانوں کے اندر وہ ذہن بناتا ہے جس کو قرآن کی تعبیر کے مطابق، غیر ناصح اور طالبِ اجر ذہن کہا جاسکتا ہے، اور اس قسم کا ذہن یقینی طورپر اسلامی مزاج سے مطابقت نہیں رکھتا۔ یہ ذہن مسلمانوں کے اندر بیک وقت دو نقصان کا سبب بنتا ہے۔ ایک یہ کہ مسلمانوں کے اندر فکری ارتقاء(intellectual development) کا عمل رُک جاتا ہے، کیوں کہ فکری ارتقاء کھلے ماحول میں ہوتا ہے نہ کہ بندش کے ماحول میں۔ اور اپنے آپ کو اقلیت سمجھنا، آدمی کے اندر کھلی تفکیر کا مزاج ختم کردیتا ہے۔ اور دوسری بات یہ کہ اس قسم کا ذہن حقیقی دعوتی عمل کے لیے قاتل کی حیثیت رکھتا ہے۔کیوں کہ اقلیت کا تصور حریفانہ نفسیات پیدا کرتا ہے۔ جب کہ دعوت کے لیے ضروری ہے کہ دونوں کے درمیان دوستانہ تعلق پایا جارہا ہوں۔
اس کی ایک مثال مشہور عرب عالِم ڈاکٹر یوسف القرضاوی ہیں۔ میںنے ان کی تحریریں پڑھی ہیں۔ ڈاکٹر صاحب موصوف کا حال یہ ہے کہ مسلمانوں کے اپنے مسائل کا معاملہ ہو تو وہ تیسیر کے اصول پر فتویٰ دیتے ہیں، اور اگر غیر مسلموں کی نسبت سے کوئی معاملہ ہو، مثلاً غیر مسلموں کے خلاف مسلمانوں کی خود کُش بم باری، تو وہ بَرعکس طورپر، تَعسیر کے اصول پر اپنا فتویٰ جاری کرتے ہیں۔ یہ فرق اس لیے ہے کہ اِس قسم کے لوگ اپنے مذکورہ ذہن کی بنا پر مسلم کے بارے میں ہمدرد، اور نان مسلم کے بارے میں غیرہمدرد بن جاتے ہیں۔
آپ جیسے لوگ ’’اقلیت‘‘ کے نام سے مسلمانوں کو جو سوچ دے رہے ہیں اُس کا یہ نتیجہ ہے کہ ساری دنیا میں مسلمانوں کے اندر شعوری یا غیر شعوری طورپر،شکست خوردہ ذہنیت پرورش پارہی ہے۔ ہر معاملے میں اُن کی سوچ غیر تعمیری سوچ بن گئی ہے۔ مگر قرآن ’’اقلیت‘‘ کو جو ذہن دیتا ہے وہ اس سے بالکل مختلف ہے۔ قرآن ایسے لوگوں کے اندر مفتوح نفسیات کے بجائے فاتح نفسیات پیدا کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ یہ نقطۂ نظر قرآن کی اس آیت سے واضح طورپر معلوم ہوتا ہے: کم من فئۃ قلیلۃ غلبت فئۃ کثیرۃً بإذن اللہ (البقرۃ: ۲۴۹)
اِس آیت میں اِذن سے مراد خدا کا قائم کیا ہوا قانونِ فطرت ہے۔ یہ دنیا جس قانون کے تحت چل رہی ہے وہ یہ ہے کہ سماج میں جو اقلیتی گروہ ہو اُس کے اندر تحدّیاتی حالات کے نتیجے میں تخلیقی صلاحیتیں ابھریں۔ وہ بڑے بڑے کام کرنے کے قابل ہوسکے۔ اِس اصول کا مظاہرہ خوداسلام کی ابتدائی تاریخ میں ہوا ہے۔ قدیم مکّہ میں جن لوگوں نے اسلام کی صورت میں سچّائی کو دریافت کیا وہ عددی اعتبار سے وہاں اقلیتی گروہ کی حیثیت رکھتے تھے۔ مگراسی اقلیتی گروہ نے وہ عظیم کارنامہ انجام دیا جس کی کوئی دوسری مثال معلوم تاریخ میں نہیں ملتی۔
اس سلسلے میں ایک اور بات نہایت قابل ذکر ہے۔ وہ یہ کہ ڈاکٹر یوسف القرضاوی، ڈاکٹر طٰہ جابر علوانی، خالد محمد عبدالقادر اور اِس طرح کے دوسرے لوگ اس موضوع پر جس انداز سے لکھتے ہیں اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ان لوگوں کے نزدیک یہ مسئلہ صرف مسلم اقلیت کا مسئلہ ہے، مگر یہ بات درست نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ موجودہ زمانے میں یہ مسئلہ مسلم اکثریت کے لیے بھی اُسی طرح ایک سنگین مسئلہ ہے جس طرح وہ مسلم اقلیت کے لیے ایک سنگین مسئلہ نظر آتا ہے۔ صرف اِس فرق کے ساتھ کہ مسلم اقلیت کے علاقوں میں یہ مسئلہ اگر ہمسائیگی کے نتیجے میں پیش آیا ہے تو مسلم اکثریت کے علاقوں میں خود مسلمانوں نے اس کو باہر سے امپورٹ کرلیا ہے۔ شاعر کے الفاظ میں:
کیوں نہ ٹھہریں ہدفِ ناوکِ بیداد،کہ ہم خود اُٹھا لاتے ہیں، گر تیر خطا ہوتا ہے
میں نے ایک عربی جریدے میں ایک مضمون پڑھا۔ اس میں بتایا گیا تھا کہ مسلم اقلیتوں کو یہ خطرہ درپیش ہے کہ وہ غیر مسلم تہذیب میں گھُل مل جائیں (الأقلیات المسلمۃ تواجہ خطر الذَوبان) یہ مضمون ہندستان جیسے ملکوں میں بسنے والے مسلمانوں کو سامنے رکھ کر لکھا گیا تھا۔ مگر ’’ذَوبان‘‘ کا یہی خطرہ خود مسلم اکثریت کے علاقوں میں بھی یکساں طورپر موجود ہے۔ وہ اس طرح کہ ایسے علاقے کے مسلمان بہت بڑے پیمانے پر مغربی کلچر کوخود مغربی ملکوں سے در آمد کررہے ہیں اور یہ ایک مسلّمہ حقیقت ہے کہ مغربی کلچر کسی بھی حال میں انڈین کلچر سے کم ضرر رساں نہیں۔ عرب اور دوسرے مسلم اکثریت کے اہل علم اس موضوع پر اس طرح لکھتے ہیں جیسے وہ خود اس فتنے سے محفوظ ہوں۔ حالاں کہ جاننے والے جانتے ہیں کہ غیر مسلم تہذیب کا فتنہ بارش کی طرح خود اُن کے اوپر بھی برس رہا ہے، اور یہ تمام لوگ عملاً اس میں غرق ہوچکے ہیں۔
وہ چیز جس کو اقلیت کا مسئلہ کہاجاتا ہے، وہ عملی طورپر سوسال سے بھی زیادہ مدت سے دنیا میں موجود ہے۔ لیکن فقہ الاقلیات کی اصطلاح اکیسویں صدی کے آغاز میں شروع ہوئی۔ ابتداء ً اِس طرزِ فکر کا آغاز معربی ملکوں میں رہنے والے مسلمانوںکے مسائل سے ہوا۔ مثلاً ذبیحہ اور غیر ذبیحہ کا مسئلہ، اوقاتِ عبادت کا مسئلہ، نکاح وطلاق کا مسئلہ، بینکوں سے مالی لین دین کا مسئلہ وغیرہ۔ گویا کہ فقہ الاقلیات کا موضوع حالات کے ردّ عمل کے تحت وجود میں آیا، وہ کسی مثبت فکر کی پیداوار نہ تھا۔
جیسا کہ معلوم ہے، پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد صحابہ و تابعین بڑی تعداد میں عرب علاقے سے نکلے اور بیرونی ملکوں میں جاکر آباد ہوگیے۔ اِن ملکوں میں اُس وقت غیر مسلموں کی اکثریت تھی اور صحابہ وتابعین کی حیثیت اقلیت کی۔ مگراُس وقت ایسا نہیں ہوا کہ ان کا مطالعہ فقہ الاقلیات کے تحت کیاجائے۔ ان کے لیے بھی بلا شبہہ وہ جزئی مسائل پیدا ہوئے جو آج مسلم اقلیتوں کی نسبت سے پیدا ہوئے ہیں۔ مگر اُس وقت کے علماء اور فقہاء نے ان کے معاملات کے مطالعے کے لیے فقہ الاقلیات کی اصطلاح استعمال نہیں کی۔ یہی وجہ ہے کہ اس زمانے کی فقہی کتابوں میں سے کسی بھی کتاب میں فقہ الاقلیات کا باب موجو نہیں۔
اس کا سبب یہ ہے اس زمانے کے صحابہ وتابعین جس ذہن کے تحت بیرونی ملکوں میں جاکر بسے تھے، وہ مکمل طورپر مثبت قسم کا دعوتی ذہن تھا۔ مثبت ذہن وہ ہے جو اصولِ عام کے تحت بنے، اور ردِّعمل کا ذہن وہ ہے جو وقتی حالات کے تحت بنے۔ اس مثبت ذہن کی بنا پر ایسا ہوا کہ ان کی ساری سوچ دعوت رُخی (Dawah Oriented) سوچ بنی۔ بقیہ تمام چیزیں ان کے لیے سکنڈری درجے میں چلی گئیں۔ اسی فرق کا یہ نتیجہ ہے کہ موجودہ زمانے کی مسلم اقلیتیں صرف اپنے ’’ملّی‘‘ مسائل کے حل میں مصروف ہے۔ جو کہ آج تک حل نہیں ہوئے اور نہ وہ کبھی حل ہونے والے ہیں۔ اس کے برعکس، صحابہ و تابعین کے دعوتی مزاج کا یہ نتیجہ ہواکہ انھوں نے بیرونِ عرب کے ان ملکوں کو اسلامائزکردیا۔ اسی کا یہ نتیجہ تھا کہ وہ جغرافی علاقہ وجود میں آیا جس کو بلادِ عرب یا بلادِ مسلمین کہا جاتا ہے۔
اس پہلو سے غور کیجئے تو معلوم ہوگا کہ فقہ الاقلیات کی اصطلاح ایک مبتدعانہ اصطلاح ہے۔ صحابہ وتابعین کے نمونے کو دیکھتے ہوئے صحیح بات یہ ہوگی کہ فقہ الدعوۃ کی اصطلاح وضع کی جائے۔ اور اس موضوع کے تحت اس بات کا مطالعہ کیا جائے کہ صحابہ و تابعین نے کس طرح پورے پورے علاقے کے لوگوں کو اسلام میں داخل کردیا۔ غیر مسلم ملکوںمیں آباد مسلمانوں کے لیے فقہ الاقلیات کی اصطلاح ایک تباہ کن اصطلاح ہے۔ یہ اصطلاح اِن مسلمانوں کے اندر ایک غیر مطلوب قومی ذہن بناتی ہے۔ جب کہ فقہ الدعوہ کی اصطلاح ان کے اندر داعیانہ ذہن بنانے والی ہے جو کہ ایک آفاقی ذہن ہے نہ کہ کسی قسم کا محدود ذہن۔
آج کل مسلمانوں کے لکھنے اور بولنے والوں میں ایک بات بہت عام ہے۔ وہ بہت جوش کے ساتھ یہ کہتے ہیں کہ اسلام ایک مکمل دین ہے (الإسلام دین شامل وکامل) مگر عجیب بات ہے کہ ان لوگوں کو قرآن میں مفروضہ طورپر سیاسی ہنگامہ آرائی کے لیے توآیتیں مل جاتی ہیں مگر مسلم اقلیت کی رہنمائی کے لیے انھیں قرآن میں کوئی آیت نہیں ملتی۔ یہ لوگ اپنی نام نہاد انقلابی سرگرمیوں کے لیے تو فقہُ السیاسۃ کا موضوع ایجاد کرلیتے ہیں مگر مسلمانوں کی دعوتی ذمّے داریوں کو بتانے کے لیے انھیں فقہ الدعوہ کی تعلیمات قرآن اور حدیث میں دکھائی نہیں دیتیں۔
قرآن کو آپ اس نظر سے پڑھیں تو آپ کو قرآن میں اس موضوع پر واضح رہنمائی ملے گی۔ مثال کے طورپر قرآن میں سورہ البقرہ کی آیت ۲۴۹ ،جس کا حوالہ اس تحریر میں اوپر آچکا ہے۔ قرآن کی اس آیت کی روشنی میں مسلم اقلیات کے مسئلے پر غور کیجیے تو اس سے مثبت قسم کا ایک صحت مند ذہن بنتا ہے۔ یہ آیت ان کو دفاعی نفسیات سے اٹھاکر اقدام کی نفسیات عطا کرتی ہے۔ اِس آیت میں انھیں تعمیرِمستقبل کا ذہن ملتا ہے نہ کہ صرف تحفّظِ حال کا ذہن۔ یہ آیت انھیں یاد دلاتی ہے کہ وہ اپنے سماج میں نافع بن کررہ سکتے ہیں۔ وہ اپنے سماج میں صرف رسیونگ اینڈ پر نہیں ہیں۔ وہ اپنے سماج میں دینے والے گر وہ (giver group) بن کر رہ سکتے ہیں نہ کہ صرف لینے والے گروہ (taker group) ۔ قرآن کی یہ آیت اُن کے اندر وہ اعلیٰ صفت پیدا کرنے والی ہے جس کو تخلیقیت(creativity) کہاجاتا ہے۔
میرے نزدیک، فقہ الاقلیات کے نام سے نئی اصطلاح وضع کرنا ایک نا سمجھی کی بات ہے۔ جب قرآن میں اس سلسلے میں واضح ہدایت موجود ہے اور جب صحابہ وتابعین کی زندگی میں اس سلسلے میں واضح تاریخی نمونہ پایا جاتا ہے تو ہم کو چاہیے کہ اسی کی رہنمائی میں مسلمانوں کا رویّہ معلوم کریں نہ کہ غیرضروری طورپر ایک نئی اصطلاح وضع کرکے مسلمانوں کو کنفیوژن میں مبتلا کردیں۔
دوسری بات کا تعلق آپ کی ذات سے ہے۔ آپ نے اپنے اِس مضمون میں اُس غیر اسلامی فعل کا ارتکاب کیا ہے جس کو قرآن میں کِتمانِ حق کہا گیا ہے۔ وہ یہ کہ آپ نے فقہ الاقلیات کے موضوع پر لکھتے ہوئے ان لوگوں کا تذکرہ تو نمایاں انداز میں کیا ہے جو غیر مسلم اکثریت کے علاقے میں رہنے والے مسلمانوں کوصرف ’’اقلیت‘‘ کا درجہ دیتے ہیں اور اقلیت کی حیثیت سے ان کے مسائل کا حل تلاش کرتے ہیں، مثلاً ڈاکٹر یوسف القرضاوی اور ڈاکٹر طٰہ جابر علوانی وغیرہ۔ مگراسی کے ساتھ آپ نے اس موضوع کے ایک اہم جُز کا سرے سے نام ہی نہیں لیا، اور وہ ہے الرسالہ کا نقطۂ نظر۔
یہ ایک معلوم اور معروف واقعہ ہے کہ اقلیات کے موضوع پر یہاں ایک اور مستقل نقطۂ نظر موجود ہے۔ اور وہ الرسالہ کا نقطۂ نظر ہے۔ ماہنامہ الرسالہ جو ۱۹۷۶ سے شائع ہورہا ہے، اس میں بار بار نہایت واضح انداز میں یہ بات کہی گئی ہے کہ غیر مسلم اکثریت کے علاقے میںجو مسلمان رہتے ہیں ان کی حیثیت اسلامی تعلیم کے مطابق، اقلیتی گروہ کی نہیں ہے بلکہ ان کی حیثیت داعی گروہ کی ہے۔ گویا کہ ہندستان دارِ دعوت ہے نہ کہ دارِ غیرمسلمین۔ اقلیتی گروہ کا لفظ یہ تصور دیتا ہے کہ ان علاقوں کے مسلمان دفاعی پوزیشن کی حیثیت رکھتے ہیں۔ اس کے برعکس، داعی گروہ کا لفظ مسلمانوں کو اقدامی گروہ کا درجہ دے رہا ہے۔ پہلا نقطۂ نظر اگر منفی نطقۂ نظر ہے تو دوسرا نقطۂ نظر مثبت نقطۂ نظر۔ پہلا نقطۂ نظر اگر سلبی نقطۂ نظر کی حیثیت رکھتا ہے تو دوسرے نقطۂ نظر کی حیثیت ایجابی نقطۂ نظر کی ہے۔ پہلا نقطۂ نظر اگر قومی نقطۂ نظر ہے تو دوسرا نقطۂ نظر آفاقی نقطۂ نظر۔
’’فقہ الاقلیات‘‘ کا معاملہ میرے نزدیک کوئی سادہ معاملہ نہیں، بلکہ یہ ایک سنگین معاملہ ہے۔ اور اس سنگینی کا سب سے اہم پہلو یہ ہے کہ اس سے مسلمانوں کے اندر غیر صحت مند ذہن بنتا ہے، اور یہ ایک حقیقت ہے کہ کسی گروہ کے لیے اس سے زیادہ تباہ کُن کوئی چیز نہیں کہ اُس کے اندر غیر صحت مند فکر پیدا کی جائے۔
نئی دہلی ۳۰ نومبر ۲۰۰۵ دعا گو وحید الدین
واپس اوپر جائیں

خبر نامہ اسلامی مرکز ۱۷۴

۱۔ جَین ٹی وی (نئی دہلی) نمائندہ مسٹر انظر نے ۵؍ اکتوبر ۲۰۰۵ کو صدر اسلامی مرکز کاویڈیو انٹرویو ریکارڈ کیا۔ اس انٹرویو کا تعلق روزہ اور رمضان سے تھا۔ جواب میں بتایا گیا کہ قرآن کے مطابق، قرآن کو رمضان کے مہینے میں اتارا گیا، اور پھر اس ماہِ رمضان میں روزے فرض کیے گیے۔ اس لیے روزہ اور قرآن میں گہری مناسبت ہے۔ روزے کا مقصد یہ ہے کہ مخصوص عبادت میں مشغول ہوکر زیادہ سے زیادہ قرآن کا مطالعہ کیا جائے۔ اور یہ سمجھا جائے کہ قرآن کس قسم کا انسان بنانا چاہتا ہے اور پھر ویسا ہی انسان بننے کے کوشش کی جائے۔
۲۔ ملیالم زبان کے پندرہ روزہ میگزین تھیجس (Thejus) کے نمائندہ مسٹر ایم نوشاد نے اپنے میگزین کے لیے صدر اسلامی مرکز کا تفصیلی انٹرویو لیا۔ یہ انٹرویو ۲۶ ؍نومبر ۲۰۰۵ کو لیا گیا۔ انٹرویور ملاپورم(Malappuram) میں رہتے ہیں۔ انٹرویو دہلی میں ریکارڈ کیا گیا۔ سوالات کا تعلق زیادہ تر مسلمانوں کے ملکی اور غیر ملکی مسائل سے تھا۔ جوابات کا خلاصہ یہ تھا کہ موجودہ زمانے کے مسلمانوں کا سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ ان کی سوچ رد عمل کے تحت بنی ہے۔ مثبت غور وفکر کے تحت ان کی سوچ نہیں بنی۔ موجودہ زمانے کے مسلمانوں کی اصلاح کا نقطۂ آغاز یہ ہے کہ ان کی منفی سوچ کو مثبت میں تبدیل کیاجائے۔ اِسی سے ان کی دینی اصلاح ہوگی اور اسی سے ان کے دنیوی مسائل حل ہوں گے۔ ایک سوال کے جواب میں کہا گیا کہ رزرویشن مسلمانوں کے مسائل کا حل نہیں ہے، یہ دَور مقابلے کا دَورہے۔ مسلمانوں کی خیر خواہی یہ ہے کہ مسلم نوجوانوں میں یہ صلاحیت پیدا کی جائے کہ وہ مقابلے کا سامنا کرکے آگے بڑھیں۔ رزرویشن کا مطلب یہ ہے کہ مقابلے کا سامنا کیے بغیر ترقی کی جائے۔ مگر موجودہ حالات میں رزرویشن کا فارمولاسرے سے قابل عمل ہی نہیں۔
۳۔ ای۔ ٹی۔وی(نئی دہلی) کے نمائندہ مسٹر قاسم نے ۶؍اکتوبر کو صدر اسلامی مرکز کا ویڈیو انٹرویوریکارڈ کیا۔ اِس انٹرویو کا تعلق روزے سے تھا۔ احادیث کے حوالے سے بتایا گیا کہ روزہ صرف بھوک پیاس کانام نہیں بلکہ وہ تقویٰ کی ٹریننگ ہے۔ روزے کا مقصد یہ ہے کہ لوگوں کے اندر یہ صلاحیت پیدا ہو کہ وہ اپنی خواہشات پر کنٹرول کرتے ہوئے زندگی گذاریں۔ روزہ در اصل اسی چیز کی ایک سالانہ تربیت ہے۔
۴۔ پی۔ ٹی۔ آئی (P.T.I.) کے نمائندہ سرمیت سنگھ نے ۲۲؍ اکتوبر ۲۰۰۵ کو صدر اسلامی مرکز کاانٹرویو لیا۔ یہ انٹرویو ٹیلیفون پر ریکارڈ کیاگیا۔ سوالات کا تعلق اس مسئلے سے تھا کہ حکومت سماج کے پچھڑے طبقوں کی فلاح کے لیے جو اسکیمیں چلاتی ہے، وہ سماج کے لیے کتنی مفید ہیں۔ جواب میں بتایا گیا کہ انڈیا جیسے ملک میں ان کا کوئی فائدہ نہیں۔ یہاں کرپشن اتنا زیادہ بڑھا ہوا ہے کہ ہر سماجی اسکیم کا نتیجہ صرف یہ ہوتا ہے کہ اسکیم چلانے والوں کو لوٹ کا ایک اور موقع مل جاتا ہے۔ میرے نزدیک اصل کام صرف دو ہے۔ ایک، یہ کہ لوگوں کو زیادہ سے زیادہ تعلیم یافتہ بنایا جائے۔ دوسرے یہ کہ ملک میں بہترین انفراسٹرکچر تیار کیا جائے۔ یہ دونوں کام پرائیویٹ سیکٹر کے تحت انجام دیا جانا چاہیے۔ جیسا کہ ترقی یافتہ ملکوں میں ہوتا ہے۔ سرکاری سیکٹر کبھی حقیقی معنوں میں ترقی کا ذریعہ نہیں بن سکتا۔
۵۔ نئی دہلی کے ہندی روزنامہ نَو بھارت ٹائمس کے نمائندہ مسٹر ندیم اختر نے صدر اسلامی مرکز کا تفصیلی انٹرویو لیا۔ ۱۱ نومبر ۲۰۰۵ء کوبذریعہ ٹیلی فون یہ انٹرویو ریکارڈ کیا گیا۔ سوالات کا تعلق زیادہ تر ہندستانی مسلمانوں کے مسائل سے تھا۔ مثلاً رزرویشن، وغیرہ۔ جوابات کا خلاصہ یہ تھا کہ انڈیا میں بیس کروڑ سے زیادہ مسلمان ہیں۔ ان کا مسئلہ کبھی رزرویشن سے حل نہیں ہوسکتا۔ ان کا مسئلہ صرف داخلی کوشش سے حل ہوگا۔ اور داخلی کوشش کا سب سے زیادہ صحیح آغاز یہ ہے کہ مسلمان تعلیم میں آگے بڑھیں۔ مسلمان ہر جگہ اعلیٰ معیار کے اسکول کھولیں اور دوسروں کے قائم کیے ہوئے اچھے اسکولوں میں داخل ہو کر تعلیم حاصل کریں۔ مسلم نوجوانوں میں رزرویشن کے بجائے محنت کا جذبہ پیدا کرنا چاہیے۔ ایک سوال کے جواب میں کہا گیا کہ معاشیات میں لبرل پالیسی اختیار کرنے کے بعد مسلمان معاشی اعتبار سے بہت ترقی کررہے ہیں۔ مگر یہ لوگ اپنے پیسے کا استعمال زیادہ تر نمائشی چیزوں میں کرتے ہیں۔ صحیح یہ ہے کہ یہ لوگ اپنے پیسے کو اپنے بچوں کو اعلیٰ تعلیم دلانے میں خرچ کریں، اور اگر ممکن ہو تو کم آمدنی والے بچوں کی تعلیم میں مدد کریں۔ یہی مسلمانوں کے لیے ترقی کی طرف سفر کا آغاز ہے۔
۶۔ دور درشن (نئی دہلی) میں ۳ نومبر ۲۰۰۵ کی صبح کو لائیو ٹیلی کاسٹ کے تحت، صدر اسلامی مرکز کا ایک پروگرام ہوا۔ اِس پروگرام کا موضوع تھا: روزہ اور رمضان۔ یہ پروگرام دور درشن کے ہندی شعبے کے تحت کیاگیا۔ اس میں بتایا گیا کہ روزہ محض بھوک پیاس کانام نہیں، بلکہ وہ ایک اخلاقی اور روحانی تربیت کا خدائی کورس ہے:
Roza is a training for a life of patience.
روزے میں افطار پارٹی گویا انٹریکشن پارٹی ہے۔ افطار پارٹی اگر بامقصد انداز میں کی جائے تووہ ایک اچھا طریقہ ہے۔ اس کے ذریعے یہ موقع ملتا ہے کہ لوگوں کے درمیان مذہب کا صحیح تعارف پیش کیا جائے۔ افطار پارٹی لوگوں کو اسلام کے موضوع پر ڈائیلاگ کا موقع دیتی ہے۔
۷۔ ٹائمس آف انڈیا (نئی دہلی) کی نمائندہ مز حمراء قریشی (Tel: 25646745) نے ۶نومبر ۲۰۰۵ کو صدر اسلامی مرکز کا تفصیلی انٹرویو لیا۔ سوالات کا تعلق اسلام کے مختلف پہلوؤں سے تھا۔ مثلاً عید، روزہ، نماز اور جہاد وغیرہ۔ ایک سوال کے جواب میں کہاگیا کہ ہندستان میںمسلمانوں کے جو فرقے وارانہ مسائل بتائے جاتے ہیں وہ سب فرضی ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ انڈیا میں مسلمانوں کے لیے، تمام مسلم ملکوں سے بھی زیادہ مواقع موجود ہیں۔ اصل غلطی مسلم رہنماؤں کی ہے۔ انھوں نے ہندستانی مسلمانوں کے معاملے کو مجارٹی ورسز مائنارٹی کا مسئلہ سمجھا۔ حالاں کہ موجودہ زمانے میں اصل مسئلہ لیاقت اور عدم لیاقت (competance versus incompetance) کاہے۔ یہ دنیا مقابلے کی دنیا ہے۔ آپ لیاقت کے ذریعے یہاں سب کچھ حاصل کرسکتے ہیں اور لیاقت کے بغیرکچھ بھی نہیں۔ ایک اور سوال کے جواب میں بتایا گیا کہ مسلمانوں کی ترقی کے لیے اصل ضرورت صرف ایک چیز کی ہے اور وہ ہے اعلیٰ تعلیم۔
۸۔ دہلی کے ہندی میگزین سہارا سمے کے نمائندہ مسٹر لئیق احمد رضوی نے ۱۷؍اگست ۲۰۰۵ کوصدر اسلامی مرکز کا تفصیلی انٹرویو لیا۔ یہ انٹرویو ٹیلی فون پر ریکارڈ کیا گیا۔ سوالات کا تعلق زیادہ تر اس خبر سے تھا کہ سپریم کورٹ نے مسلمانوں کے متوازی عدالتی نظام(Parallel Islamic Judiciary) کے خلاف نوٹس جاری کرنے کا فیصلہ کیاہے (ٹائمس آف انڈیا ۱۷ اگست ۲۰۰۵) ۔ سوالات کے جواب میں بتایا گیاکہ یہاں کوئی متوازی شرعی عدالت کا وجود نہیں ہے۔ یہ صرف ذاتی نوعیت کے مذہبی معاملات میں علماء کی رائے معلوم کرنا ہے۔ انڈیا میںاس قسم کا نظام ہزاروں سال سے چلا آرہا تھا۔ ہندو راجاؤں کے زمانے میں خود راجاؤں کی اجازت سے ہُنرمَن ہوا کرتے تھے۔ مغل دور میں قاضی مقرر کیے گیے۔ برٹش دور میں بھی قاضیوں کا سلسلہ جاری رہا۔ آزادی کے بعد دار القضا وغیرہ کے نام سے اس مقصد کے لیے ادارے بنائے گئے۔ یہ کوئی متوازی عدالتی نظام نہ تھا۔ البتہ حال میں کچھ مفتی صاحبان نے اپنی حدکو نہیں سمجھا۔ انھوں نے ایسے معاملات میں فتوے دینا شروع کئے جوفوجداری نوعیت کے تھے۔ اور اس بنا پر پر وہ مفتی صاحبان کے دائرے سے باہر تھے۔ اب ضرورت صرف یہ ہے کہ یہ مفتی صاحبان اپنی غلطی کو مانیں اور آئندہ سختی کے ساتھ یہ اہتمام کریں کہ وہ فوجداری نوعیت کے معاملات میں کسی بھی قسم کا فتویٰ نہ دیں۔
واپس اوپر جائیں

Sunday, 1 January 2006

Al Risala | January 2006(الرسالہ،جنوری)

2

- دعوت اور صبر

3

- دارالعمل دار الجزاء

4

- مسلم اور غیر مسلم کے تعلقات

5

- سچائی—ایک مطالعہ

9

- سیاسی اصطلاحیں

11

- شرعی عدالتیں، ہندستانی عدلیہ کے متوازی نہیں

16

- یہ قیادت

17

- خادم الحرمین کا انتقال

21

- سوال جواب

40

- خبر نامہ اسلامی مرکز


دعوت اور صبر

اسلامی مشن کا پروگرام بنیادی طورپر دونکات پر مشتمل ہے۔ دعوت اور صبر۔ دعوت کا مطلب ہے، قرآن کے خدائی پیغام کو تمام انسانوں تک پہنچانا، اور صبر کا مطلب یہ ہے کہ بقیہ تمام امور میں حالتِ موجودہ پر رضامندی کا طریقہ اختیار کرنا۔ جس کو اسٹیٹس کو ازم کہاجاتا ہے۔
یہ صبر بے حدضروری ہے۔ اس لیے کہ موجودہ دنیا میں خود فطری قانون کے تحت ،ہمیشہ ناخوشگوار واقعات پیش آتے ہیں اگر ایسا ہو کہ آدمی ہر ناپسندیدہ صورتِ حال پر لوگوں سے ٹکرانے لگے تو اس کے پاس دعوت کے کام کے لیے وقت ہی نہیں رہے گا۔ دوسری طرف داعی اور مدعو کے درمیان وہ معتدل فضا ختم ہو جائے گی جو دعوت الی اللہ کے کام کے لیے ضروری ہے۔
دعوت کا کام ہمیشہ قربانی پر ہوتا ہے۔ اس قربانی کا تعلق جان ومال کی قربانی سے زیادہ جذبات کی قربانی پر ہے۔ دوسرے انسانوں کی طرف سے بار بار ایسے ناموافق تجربے ہوتے ہیں جو داعی کے اندر منفی نفسیات پیدا کرنے والے ہیں، جو داعی کو نفرت اور انتقام کی طرف لے جانے والے ہیں۔ اگر داعی اس منفی نفسیات سے مغلوب ہوجائے تو دعوت کے کام کی مطلوب فضا ہی ختم ہوجائے گی۔
اس لیے ہر داعی کو جذبات کی قربانی دے کر اپنے آپ کو مثبت نفسیات پر قائم رکھنا پڑتا ہے۔ یہ دعوت کی لازمی شرط ہے۔ اس کے بغیر دعوت کا کام نہیںہوسکتا۔ اسی کو اسٹیٹس کو ازم کہاجاتا ہے اور شریعت میں اسی کا نام صبر ہے۔ صبر کی اسی قربانی پر دعوت کا کام ہمیشہ انجام پاتا ہے۔ صبر نہیں تو دعوت بھی نہیں۔
صبر دراصل دعوت کی قیمت ہے۔ صبر کی یہ قیمت ادا کرنے کے بعد ہی وہ چیز ظہور میں آتی ہے جس کو دعوت کہا جاتا ہے۔ صبر دوسرے لفظوں میں وہی چیز ہے جس کو تجارت کی اصطلاح میں کسٹمرفرینڈلی بہیویر (customer friendly behaviour) کہا جاتا ہے۔ تاجر اپنے کسٹمر کے ساتھ یک طرفہ طورپر تحمل کا طریقہ اختیار کرتا ہے۔ اسی طرح داعی اپنے مدعو کے معاملے میں یک طرفہ طورپر تحمل کا طریقہ اختیار کرتا ہے۔ اسی مدعو فرینڈلی سلوک کا نام صبر ہے۔
واپس اوپر جائیں

دار العمل دارالجزاء

دنیا دار العمل ہے اور آخرت دار الجزاء۔ یعنی دنیا عمل کرنے کی جگہ ہے اور آخرت اس عمل کے مطابق بدلہ پانے کی جگہ۔ ہر عورت اور مرد اپنی زندگی کا ابتدائی بہت تھوڑا حصہ موجودہ دنیا میں گزارتے ہیں اور پھر موت کے بعد وہ اگلی دنیا میں پہنچا دیے جاتے ہیں جہاں ان کو اپنے عمل کے مطابق، یا جنت میں جگہ ملے گی یا جہنم میں۔
اس اعتبار سے موجودہ دنیا امتحان کی جگہ ہے۔ امتحان حال ہمیشہ ٹسٹ کے لیے ہوتا ہے نہ کہ ٹسٹ کا رزلٹ پانے کے لیے۔ جو طالب علم امتحان حال میں جاب حاصل کرنا چاہے وہ یقینی طورپر ناکام رہے گا۔ اسی طرح جو شخص موجودہ دنیا میں اپنے لیے خو شیوں کا ابدی محل بنانا چاہے وہ بھی اپنے مقصود کو نہیں پائے گا۔ کیوں کہ موجودہ دنیا اس مقصد کے لیے بنائی ہی نہیں گئی۔
عقلمند آدمی وہ ہے جو اس فرق کو سمجھے اور وہ دنیا میں وہ کرے جو اس کو یہاں کرنا ہے، اور آخرت کے لیے وہ چیز چاہے جو وہاں کسی خوش نصیب شخص کو ملنے والی ہے۔
اس معاملے میں عقلمند آدمی ٹھیک اسی اصول کو اختیار کرتا ہے جس کو طالب علم اختیار کرتا ہے۔ طالب علم جب امتحان حال میں ہوتا ہے تو وہ اپنی ساری توجہ اس طرف لگا دیتا ہے کہ وہ اپنے ٹسٹ پیپر کو صحیح طورپر کر سکے وہ امتحان حال میںاپنا معاشی محل بنانے کی کوشش نہیں کرتا۔
ٹھیک یہی حال ہر انسان کا دنیا اور آخرت کی نسبت سے ہونا چاہیے۔ ہر انسان کو چاہیے کہ وہ موت سے پہلے کی مختصر زندگی کو آخرت کی تیاری میں لگائے تاکہ موت کے بعد کے دورِ حیات میں وہ اپنے لیے خوشیوں کی دنیا پاسکے۔ اگر کوئی عورت یا مرد موجودہ دنیا میں اس اعتبار سے غافل رہے تو اگلی دنیا میں اس کی تلافی ممکن نہ ہوگی، حتی کہ یہ بھی ممکن نہ ہوگا کہ وہ لوٹ کر دوبارہ موجودہ دنیا میں آئے اور آخرت کی نسبت سے دوبارہ اپنی تعمیر کرے۔
واپس اوپر جائیں

مسلم اور غیر مسلم کے تعلقات

مسلمانوں اور غیر مسلموں کے درمیان تعلقات کی اصولی بنیاد کیا ہے۔ اس کو مسلم اور ذمّی یا مسلم اور حربی جیسی اصطلاحوں میں بیان نہیں کیا جاسکتا۔ اس قسم کے فقہی الفاظ صرف وقتی تعلق کو بتاتے ہیں، وہ دونوں کے درمیان مستقل یا اصولی تعلق کو نہیں بتاتے۔
مسلمانوں اور غیر مسلموں کے درمیان تعلق کی فطری بنیاد یہ ہے کہ دونوں یکساں طورپر انسان ہیں۔ دونوں کے درمیان انسانیت کا ابدی رشتہ قائم ہے۔ انسانیت کا تعلق دونوں کے درمیان وہ فطری تعلق ہے جو کبھی اور کسی حال میں ٹوٹنے والا نہیں۔ ہر سماج میں اور ہر ملک میں یہ انسانی رشتہ یکساں طورپر برقرار رہتا ہے۔ یہ رشتہ وہ ہے جو پیدائش کے ساتھ ہی دونوں گروہوں کے درمیان اپنے آپ قائم ہوجاتا ہے۔ یہ ایک ایسا اٹل رشتہ ہے جو کبھی ٹوٹنے والا نہیں۔
مسلمانوں اور غیر مسلموں کے درمیان دوسرا رشتہ وہ ہے جو عقیدے کی بنیاد پر قائم ہوتا ہے۔ اسلامی عقیدے کے مطابق، مسلمان ایک صاحب مشن گروہ ہے۔ یہ مشن وہی ہے جو پیغمبرکا مشن تھا۔ یعنی خدا کے پیغام کو پُر امن طورپر دوسرے لوگوں تک پہنچانا۔ اس اعتبار سے زیادہ صحیح طورپر، مسلمانوں اور غیر مسلموں کے درمیان تعلق کو ان الفاظ میں بیان کیا جاسکتا ہے—داعی اور مدعو، شاہد اور مشہود، ناصح اور منصوح۔
انسان کی نسبت سے مسلمانوں کے اوپر دوسرے لوگوں کے لیے وہ تمام فرائض عائد ہوتے ہیں جو اخلاق کے عنوان سے ضروری سمجھے جاتے ہیں۔ انسانی اخلاقیات کی پابندی جس طرح دوسرے لوگوں کے لیے ضروری ہے اسی طرح مسلمانوں کے لیے بھی ضروری ہے۔ داعی کی حیثیت سے مسلمانوں کی اخلاقی ذمے داری مزید بڑھ جاتی ہے۔ اب ضروری ہوجاتا ہے کہ وہ دوسروں کے ساتھ یک طرفہ طورپر حسن اخلاق کا ثبوت دیں، تاکہ داعی اور مدعو کے درمیان معتدل تعلقات قائم رہیں جو کہ مؤثر دعوتی عمل کے لیے لازمی طورپر ضروری ہے۔
واپس اوپر جائیں

سچائی —ایک مطالعہ

کہاجاتا ہے کہ سچائی مطلق چیز نہیں—ہر آدمی کی سچائی الگ الگ ہے۔ جو چیز کسی ایک کے لیے سچائی ہو وہی دوسرے کے لیے سچائی نہیں ہوسکتی۔ دوسرے لفظوں میں یہ کہ سچائی ایک ریلیٹیو (relative) چیز ہے، وہ کوئی رِیَل (real)چیز نہیں۔ اس بات کو ایک فلسفی نے ان الفاظ میں بیان کیا ہے:
There is no full stop in truth, but only commas.
کچھ لوگ اس طرح سوچتے ہیں۔ مگر یہ ایک ایسی سوچ ہے جو بداہتاً ہی غلط ہے۔ اس قسم کے مفروضے کے پیچھے کوئی لاجک یاکوئی ریشنل گراؤنڈ نہیں۔
اس دنیا میں آدمی جن چیزوں کو بھی مانتا ہے اُن کو وہ مطلق مفہوم میں مانتا ہے۔ یہی انسان کی فطرت ہے۔ اگر انسان کسی چیز کو اس کے مطلق مفہوم میں دریافت نہ کرے تو وہ مسلسل اُس وقت تک اپنی تلاش جاری رکھتا ہے جب تک وہ اُس چیز کو اُس کی مطلق صورت میں دریافت نہ کرلے۔
مثال کے طورپر قدیم زمانے میں انسان سورج اور شمسی نظام کے بارے میں بہت کم جانتا تھا۔ وہ ہزاروں سال تک اُس کی کھوج میں لگا رہا۔ یہاں تک کہ انسان نے سورج اور اس کے تابع سیاروں کے پورے نظام کو دریافت کرلیا۔ جب تک انسان اس دریافت تک نہیں پہنچا تھا وہ برابر اس کی تلاش میں لگا رہا۔
یہی معاملہ علم کے دوسرے شعبوں کا ہے۔ ہزاروں سال سے انسان علم کے مختلف شعبوں میں بحث وتحقیق میں مشغول رہا ہے اور بدستور مشغول ہے۔وہ اُس وقت تک اپنی تحقیق جاری رکھتا ہے جب تک اُس کی اصل حقیقت کو معلوم نہ کرلے۔ گویا انسان کے نزدیک ہر چیز کی ایک مطلق صورت ہے۔ ستاروں سے لے کر ایٹم تک کسی چیز کا اس میں استثناء نہیں۔
گویا انسانی ذہن کے مطابق، ہر چیز اپنی ایک مطلق صورت رکھتی ہے۔ یہی وہ یقین ہے جس کی بنا پر ہزاروں سال سے تحقیق اور جستجو کا عمل جاری ہے۔ اگر انسان یہ مان لے کہ چیزوں کا کوئی مطلق فارم نہیں تو اچانک تمام سائنسی سرگرمیاں ٹھپ ہوجائیں گی۔ علم کا سفر ہمیشہ کے لیے رُک جائے گا۔
یہی اُصول ذاتی معاملات کا ہے۔ انسان اپنے آپ کو مطلق سمجھتا ہے۔ اگر وہ ایسا نہ سمجھے تو وہ ایک دن بھی زندہ نہ رہ سکے۔ انسان اپنی ماں، اپنی بیوی، اپنی اولاد کو مطلق سمجھتا ہے۔ اسی تصور پر خاندان کا نظام قائم ہے۔ اگر ایسا نہ ہو تو انسانی زندگی کا سارا نظام بکھر کر رہ جائے۔ اسی طرح انسان اپنی پراپرٹی، مثلاً گھر اور کار اور بزنس اور بینک بیلنس کو مطلق سمجھتا ہے۔ اگر وہ ایسا نہ سمجھے تو اس کی معاشی زندگی کبھی تشکیل نہ پاسکے گی۔
ایسی حالت میں یہ ماننا کہ سچائی مطلق نہیں، گویا یہ ماننا ہے کہ سچائی کی حیثیت ایک استثناء کی ہے۔ گویا کہ سچائی مطلق دنیا میں ایک غیر مطلق (non-absolute) کی حیثیت رکھتی ہے۔ مگر اس قسم کے عقیدے کے لیے کوئی منطقی بنیاد موجود نہیں۔ یہ بات ناقابلِ فہم ہے کہ اس وسیع دنیا میں دوسری تمام چیزیں تو مطلق ہوں، مگر سچائی استثنائی طورپر مطلق نہ ہو۔ یہ ایک منطقی تضاد ہے اور اس قسم کا منطقی تضاد عقل وفہم والے انسان کے لیے قابلِ قبول نہیں ہوسکتا۔
یہ کوئی سادہ بات نہیں۔ غور کیجئے تو انسان ایک دہرا وجود ہے—جسم اور روح ۔سچائی کے سوا جتنی چیزیں ہیں وہ سب کی سب انسان کی جسمانی ضرورت سے تعلق رکھتی ہیں۔ سچائی واحد چیز ہے جو انسان کو اپنی روحانی ضرورت کے طورپر مطلوب ہے۔ اب یہ ناقابلِ فہم ہے کہ جسم کی ضرورت پوری کرنے کے لیے جو چیزیں اس دنیا میں ہیں وہ تو سب کی سب مطلق ہوں۔ مگر سچائی، جو انسان کی روحانی ضرورت کو پورا کرتی ہے وہ مطلق نہ ہو۔
اس تقسیم کو ماننے کے لیے یہ ماننا پڑے گا کہ اس دنیا میں ایک بہت بڑا تضاد ہے۔ یہاں مادی ضرورتوں کا سامان مطلق حیثیت سے موجود ہے۔ مگر روحانی ضرورت کا سامان استثنائی طورپر ایک ایسی چیز ہے جس کی تکمیل کا سامان مطلق حیثیت سے دنیا میں موجود ہی نہیں۔
ایک فلسفی جو سچائی کو مانتا تھا، اُس نے اپنے نقطۂ نظر کے حق میں دلائل پیش کرتے ہوئے کہا کہ سچائی انسان کی سب سے بڑی ضرورت ہے۔ سچائی کے بغیر انسان سر تا سر نامکمل ہے۔ سچائی انسان کی اتنی بڑی ضرورت ہے کہ اگر وہ مطلق نہ ہو تو ہم کومفروضہ طورپر یہ یقین کرنا پڑے گا کہ سچائی مطلق ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ سچائی کو مطلق نہ ماننا ایک ذہنی خود کُشی ہے۔ جو لوگ ایسا کہتے ہیں وہ اپنے اس قول میں سنجیدہ نہیں ہوتے۔ اگر وہ سنجیدہ ہوں تو کبھی وہ ایسا لفظ اپنے منھ سے نہ نکالیں۔
سچائی کو مطلق نہ ماننا ایسا ہی ہے جیسے کوئی شخص یہ کہے کہ میں اپنی ماں کو مطلق مفہوم میں اپنی ماں نہیںمانتا۔ دوسرے لفظوں میں یہ کہ ہوسکتا ہے کہ وہ میری ماں ہو،اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ وہ میری ماں نہ ہو۔ ظاہر ہے کہ کوئی بھی سنجیدہ انسان غیر مطلقیت(non-absolution) کے اس نظریے کا تحمل نہیں کرسکتا۔ ٹھیک اسی طرح کوئی سنجیدہ انسان اس کا بھی تحمل نہیں کرسکتا کہ وہ کہے کہ سچائی میرے نزدیک کوئی مطلق چیز نہیں۔سچائی تو صرف ایک ریلیٹیو چیز ہے۔ یعنی A بھی سچائی ہوسکتی ہے اور B بھی اور اسی طرح C اور D بھی۔ یہاں تک کہ Z تک ہر چیز سچائی ہوسکتی ہے۔
یہاں تک کہ یہ بھی ممکن ہے کہ اے سے زیڈ تک کوئی بھی سچائی نہ ہو۔ بلکہ سچائی ان کے سوا کوئی اور ہو، یاسچائی، سرے سے کوئی چیز ہی نہ ہو۔ یہ بلا شبہہ ایک ایساذہنی تعیش (intellectual luxury) ہے جس کا کوئی سنجیدہ انسان کبھی تحمل نہیں کرسکتا۔
سنجیدہ طورپر کوئی شخص یہ تو کہہ سکتا ہے کہ میںنے ابھی سچائی کو نہیں پایا۔ میں ابھی صرف متلاشی (seeker) ہوں۔ مگر کوئی شخص سنجیدہ طورپر یہ نہیں کہہ سکتا کہ سچائی کوئی مطلق چیز ہی نہیں۔
انسان جس کائنات میںرہتا ہے وہاں ہر چیز مطلق ہے۔ یعنی ایک اسٹار اسٹار ہے وہ کوئی ہاتھی نہیں۔ اسی طرح ایک ہاتھی ہاتھی ہے وہ کوئی اسٹار نہیں۔ اسی طرح ہر چیز معلوم طور پر ایک مطلق چیز کی حیثیت رکھتی ہے۔ اور اگر کوئی چیز مطلق حیثیت سے معلوم نہ ہوئی ہو تو انسان لگاتار اس کوشش میں رہتا ہے کہ وہ اس کو مطلق حیثیت میں دریافت کرلے۔
یہی معاملہ خود انسان کی شخصیت کا ہے۔ انسان اپنی فطرت کے اعتبار سے مطلق پسند انسان ہے۔ وہ یقین میں جینا چاہتا ہے۔ وہ چاہتا ہے کہ جب وہ ایک عورت کو ماں کی حیثیت سے جانے تو وہ مطلق طورپر اس کے ماں ہونے پر یقین کرسکے۔ اسی طرح جب وہ ایک پراپرٹی کو اپنی پراپرٹی کی حیثیت سے جانے تو وہ مطلق مفہوم میں یقین کرسکے کہ وہ اسی کی پراپرٹی ہے۔ اگر ایسا نہ ہو تو انسان ہرچیز کے بارے میں غیر یقینیت (uncertainty) میں مبتلا رہے گا۔ اور یہ ایک حقیقت ہے کہ انسان غیر یقینیت میںنہیں جی سکتا۔یہ حقائق واضح طورپر بتاتے ہیں کہ مطلق کا تصور انسانی فطرت کے عین مطابق ہے۔ اس کے برعکس یہ سمجھنا فطری تقاضے کے خلاف ہے کہ اس دنیا میں کوئی چیز مطلق نہیں۔
سچائی کو مطلق نہ سمجھنا گویا یہ کہنا ہے کہ میں کسی چیز کے سچّاہونے پر یقین نہیں رکھتا۔ اس قسم کے کسی تصور کو لے کر کوئی آدمی صرف متشکک (sceptic)بن سکتا ہے، اور متشکک بننا کسی بھی انسان کے لیے قابل عمل پوزیشن نہیں۔
واپس اوپر جائیں

سیاسی اصطلاحیں

دار الاسلام، دار الکفر اور دار الحرب کی اصطلاحیں بعد کے زمانے میںاس وقت وضع کی گئیں جب کہ مسلمانوں کا ایک پولیٹکل امپائر بن چکا تھا۔ زمین کے ایک بڑے حصے پر مسلمانوں کا سیاسی غلبہ قائم ہوچکا تھا۔ اس سیاسی ماحول میں فقہ کی تشکیل ہوئی۔ اس صورت حال کا نتیجہ قدرتی طورپر یہ ہوا کہ فقہ کی تدوین وتشکیل میںسیاسی نقطۂ نظر غالب آگیا۔ فقہ عملاً مسلمانوں کے دور سلطنت کا اظہار بن گئی۔
اس کی ایک مثال دار الاسلام، دار الکفر اور دار الحرب کی اصلطلاحیں ہیں۔ ان اصطلاحات میں شعوری یا غیر شعوری طورپر یہ مفروضہ کام کررہا تھا کہ مسلمان سیاسی طور پر غالب پوزیشن میں ہیں اور وہ اپنی اس سیاسی پوزیشن کے حوالے سے دوسروں کے ساتھ اپنے تعلقات کو متعین کررہے ہیں۔ یہ ایک معلوم حقیقت ہے کہ سیاسی اقتدار کسی گروہ کا ایک وقتی مرحلہ(temporary phase) ہوتا ہے۔ اس اعتبار سے بعد کے دور میں بننے والی فقہ، اسلام کے ابدی تقاضوں کا اظہار نہ تھی، وہ زیادہ تر وقتی ضرورتوں کے تحت مدون کی گئی ۔
قرآن و سنت کے مطالعے سے معلوم ہوتا ہے کہ مسلمانوں اور دوسری قوموں کے درمیان جو تعلق ہے وہ داعی اور مدعو کا تعلق ہے۔ خدا کے رسول کے ذریعے مسلمانوں کو خدا کا پیغام ملا ہے اوراس پیغام کو انھیں تمام قوموں تک پہنچانا ہے۔ مسلمانوں پر فرض ہے کہ وہ اس عمل کو نسل درنسل جاری رکھیں۔ دوسری قوموں کی نسبت سے مسلمانوں کا تعلق متعین کرنے کے لیے مرکزی تصور یہی ہے۔ یہ تصور مسلمانوں کو ہمیشہ کے لیے مدعو فرینڈلی بناتا ہے۔ اس کا تقاضا ہے کہ داعی اور مدعو کے درمیان ہمیشہ نارمل تعلق قائم ہو، تاکہ دعوت کا عمل مؤثر انداز میں جاری رہے۔
مگر فقہ کی تدوین کے وقت مسلم دنیا میں جو سیاسی ماحول تھا، اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ سیاسی ابواب تو فقہ کی کتابوں میں تفصیل کے ساتھ شامل ہوگئے مگر دعوت اورتبلیغ کا باب سرے سے اس میں شامل نہ ہو سکا۔ یہی وجہ ہے کہ فقہ کی تماتم کتابیں کتاب الدعوۃ والتبلیغ سے خالی نظر آتی ہیں۔
فقہ کی کتابوں کے ان ابواب کو پڑھتے ہوئے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ دنیا حاکم اور محکوم میں تقسیم ہے۔ ایک طرف مسلم حکمراں ہیں اور دوسری طرف محکوم غیر مسلم۔ مسلمانوں کے لیے مطلوب حالت یہ ہے کہ زمین پر ان کا سیاسی اقتدار قائم ہو، یعنی وہ حالت جس کو فقہ میں دارالاسلام کہا گیا ہے۔ اس کے بعد جو بقیہ دنیا ہے وہ یا تو ’’غیر‘‘ کی حیثیت رکھتی ہے جس کو فقہ کی تقسیم میں دار الکفر بتایا گیا ہے۔ یا پھر یہ کہ مسلمانوں کے لیے وہ خطہ دار الحرب کی حیثیت رکھتا ہے۔ یعنی مسلمان ان سے برسرِ جنگ ہیں تاکہ وہاں اپنا سیاسی اقتدار قائم کریں۔
اسلام کا یہ تصور بلاشبہہ اسلامی تاریخ کی سیاسی تعبیر کے ہم معنی ہے۔ اقتدار مسلمانوں کی مستقل وراثت نہیں۔ قرآن کے مطابق ، اقتدار دوسرے تمام سامانِ حیات کی طرف صرف ایک ٹسٹ پیپر ہے اور وہ ہر قوم کو باری باری دیا جاتا ہے۔ اس معاملے میں مسلمانوں کی کوئی خصیوصیت نہیں۔ اس اصول کو مان لیا جائے تو دار الاسلام، دار الکفر اور دارلحرب کی اصطلاحیں اپنے آپ غیر متعلق (irrelevant)ہو جاتی ہیں۔
دار الاسلام، دار الکفر اور دارالحرب کی اصطلاحوں کے پیچھے یہ سیاسی مفروضہ شامل ہے کہ مسلمان اور دوسری قوموں کے درمیان حاکم اور محکوم کا رشتہ ہے، مگر یہ تصور سراسر بے بنیاد ہے۔ قرآن و سنت میںاس کے لیے کوئی حقیقی دلیل موجود نہیں۔ صحیح بات یہ ہے کہ مسلمانوں اور غیر مسلم کے درمیان داعی اور مدعو کا رشتہ ہے۔ اس رشتے کو قرآن میں شاہد اور مشہور (البروج ۳) کے الفاظ میں بیان کیا گیا ہے۔
ایک مسلم پروفیسر نے ایک بار اپنی تقریر میں کہا کہ اسلام میں پوزیشن آف اسٹرنتھ (position of strength) کا ماڈل موجود ہے، مگر اسلام میں پوزیشن آف ماڈسٹی کا ماڈل موجود نہیں۔ یہ بات انھوں نے اس لیے کہی کہ انھوں نے اسلام کا ماڈل بعد کے مسلم دورِ اقتدار سے اخذ کیا۔ اس سے پہلے اسلام کے نبوی دور میں اسلام کا جو ماڈل تھا وہ تمام تر پوزیشن آف ماڈسٹی ہی کا ماڈل تھا۔ حالاں کہ اسلام میں اصل ماڈل کی حیثیت دَور دعوت کی ہے نہ کہ دور اقتدار کی۔
واپس اوپر جائیں

شرعی عدالتیں، ہندستانی عدلیہ کے متوازی نہیں

ہر قانونی نظام میں قانون کے دو حصے مانے گیے ہیں۔ ایک، اَحوالِ اجتماعی ۔ دوسرا، احوالِ شخصی۔ احوالِ اجتماعی سے مراد وہ احوال ہیں جو دو یا زیادہ شخصوں کے درمیان پیدا شدہ معاملات سے تعلق رکھتے ہیں۔ احوالِ شخصی سے مراد وہ معاملات ہیں جو کسی فرد کی ذات سے تعلق رکھتے ہیں۔
ہر قانونی نظام میں ایسا ہوتا ہے کہ احوالِ اجتماعی کا تعلق ریاست یا عدالت سے ہوتا ہے۔ مگر جہاں تک احوالِ شخصی کا تعلق ہے، اس معاملے میں لوگوں کو یہ رخصت دی جاتی ہے کہ وہ اپنے ذاتی دائرے والے معاملات کو بطورِ خود ثالث یا کسی اور طریقے سے طے کریں۔ اگر یہ فیصلہ سماج کے دوسرے لوگوں کے حقوق پر اثر انداز نہ ہوتا ہو تو اس کو ایک جائز فیصلہ تسلیم کرلیا جاتا ہے۔
برّ صغیر ہند میں یہ نظام ماضی قدیم سے چلا آرہا تھا۔مسلم عہدِ حکومت سے پہلے ہندستان میں راجاؤں کی حکومت تھی۔ آٹھویں صدی عیسوی میں مسلمان ہندستان میں آئے، اور مختلف راجاؤں کے حدودِ سلطنت میں آباد ہوئے۔ تاریخ بتاتی ہے کہ ان ہندو راجاؤں نے اپنی مسلم رعایا کی مذہبی ضرورتوں کی تکمیل کے لیے ایک مخصوص قانونی عہدہ قائم کرنے کی اجازت دے دی۔ اس مسلم عہدے دار کا نام ’’ہُنر من‘‘ ہوتا تھا۔ اس کا کام یہ تھا کہ وہ مسلمانوں کے شخصی معاملات میں انھیں شریعت کے مطابق فیصلہ دے۔
ہندستان میں جب مسلم عہد سلطنت شروع ہوا تو اس روایت کو باقی رکھتے ہوئے حکومت کی طرف سے ذمے دار افراد مقرر کیے گیے۔ ان کو قاضی کہا جاتا تھا۔ یہ گویا آزاد قانونی ادارہ تھا۔ اس کا کام یہ تھا کہ وہ مسلم افراد کے شخصی یا خاندانی معاملات میں شریعت کی رہنمائی میں فیصلے دے۔ یہ قاضی احوالِ اجتماعی میں دخل نہیں دیتے تھے۔ وہ محدود طور پر صرف شخصی احوال میں مسلمانوں کی ایک دینی ضرورت کو پورا کرتے تھے۔
انیسویں صدی کے وسط میںہندوستان میں برٹش راج قائم ہوا تو برٹش حکمرانوں نے قاضی کے عہدے کو باقی رکھا۔ یہ قاضی ہندستان کے اکثر شہروں میں موجود ہوتے تھے اور وہ مسلمانوں کے شخصی احوال میںان کی شرعی رہنمائی کرتے تھے۔
۱۹۴۷میں ہندستان آزاد ہوا تو اُس وقت مولانا ابوالکلام آزاد حکومتِ ہند میں وزیرِ تعلیم کے عہدے پر تھے۔ مولانا آزاد کے مشورے سے حکومت نے اِس مقصد کے لیے دہلی میں ایک مسلم جج مقرر کیا۔ ان کا نام محمد شفیع تھا۔ جب تک وہ زندہ رہے یہ نظام چلتا رہا۔ وہ خاص طورپر نکاح وطلاق کے معاملات میں اپنا فیصلہ دیتے تھے۔ مگر محمد شفیع صاحب کے انتقال کے بعد یہ نظام عملاً ٹوٹ گیا۔
اس کے بعد مختلف مدارس اور مسلم اداروں میں قائم شدہ دار الافتاء اور دار القضاء مسلمانوں کی اس ضرورت کو پورا کرنے لگے۔ دار الافتاء اور دار القضاء کا یہ نظام کامیابی کے ساتھ چلتا رہا اور اب بھی چل رہا ہے۔ پچھلی نصف صدی میں ان اداروں نے بہت بڑے پیمانے پر مسلمانوں کی شرعی رہنمائی کی ہے۔ ہندستان کی ریاست یا یہاں کے سیاسی نظام نے اس کو تسلیم کیا۔ کیوں کہ وہ دستورِ ہند میں دی ہوئی مذہبی آزادی کے مطابق تھا۔
۴ جون ۲۰۰۵ کو مظفر نگر کے ایک گاؤں میں ایک واقعہ ہوا۔ جس نے غالباً پہلی بار نئی صورت حال پیدا کردی۔ واقعہ یہ تھا کہ ایک مسلم خاتون (عمرانہ )کے ساتھ خود اس کے خاندان کے ایک ممبر نے زنا بالجبر کا فعل کیا۔ اس پس منظر میں کچھ لوگوں نے ملوث افراد کا نام لیے بغیر بالواسطہ انداز میں ایک استفتاء مرتّب کیا، اور اس کو دیوبند کے دار الافتاء میں بھیج دیا۔ دالافتاء والوں نے اس معاملے میں اپنے فقہی اصول کے مطابق، ایک فتویٰ جاری کردیا۔ اس فتوے سے اصل مجرم کو تو کوئی سزا نہیں ملی ، البتہ اس نے عمرانہ اور اس کے پورے خاندان کے لیے ناقابلِ بیان مسائل پیدا کردیے۔ ایسے مسائل جن کا کوئی حل مفتی صاحبان کے پاس نہ تھا۔ کیوں کہ مفتی صاحبان کے پاس فتویٰ تحریر کرنے کا اختیار ضرور موجود تھا مگراس فتوے کو نافذ کرنے کا کوئی اختیار انھیں حاصل نہ تھا۔
مزید یہ کہ دیوبند کے اس فتوے نے ایک سنگین نوعیت کا قانونی بحران پیدا کردیا۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ یہ مسئلہ سپریم کورٹ تک پہنچا۔ سپریم کورٹ نے اس کی سماعت کرکے مختلف ریاستوں کے نام یہ نوٹس جاری کردیے کہ وہ مسلمانوں کے اس نظامِ فتویٰ پر پابندی لگائیں، کیوں کہ یہ لوگ اپنی حد سے تجاوز کرکے ملک کے عدالتی نظام میں مداخلت کررہے ہیں۔
میں سمجھتا ہوں کہ اس معاملے میں سپریم کورٹ کا یہ اقدام اصولی طورپر درست ہے۔ یہ ایک واقعہ ہے کہ فتوے کا نظام چلانے والوں نے غالباً نادانستہ طورپر یہ غلطی کی کہ وہ اپنی جائز حد سے باہر چلے گیے۔ انھوں نے زنا بالجبر کے ایک واقعے میں بالواسطہ طورپر ایک فتویٰ جاری کردیا۔ حالاں کہ زنا بالجبر مسلّمہ طورپر ایک فوجداری کیس ہے، اور فوجداری کیس سرکاری عدالت کی عمل داری میں آتا ہے۔ وہ دارالافتاء یا دارالقضاء کے دائرۂ عمل سے باہر کی چیز ہے۔
سپریم کورٹ کے اس اقدام نے ایک سنگین قسم کا قانونی بحران پیدا کردیا ہے۔ تاہم سپریم کورٹ کے اس اقدام کا تعلق موجودہ نظامِ فتویٰ کے وجود سے نہیں ہے بلکہ اس کا تعلق صرف ایک، یا بعض غلط فتووں سے ہے۔ اس معاملے کا سادہ حل یہ ہے کہ فتوے کا نظام چلانے والے ایک عرضی انڈیا کی سپریم کورٹ میں داخل کریں۔ اس عرضی میں غیر مشروط طورپر یہ کہا گیا ہو کہ زنا بالجبر کا مذکورہ کیس ایک فوج داری کیس تھا۔ ایسے معاملے میں فتویٰ دینا عملاً ملک کے عدالتی نظام میں ایک قسم کی مداخلت تھی۔ اب وہ اپنی اس غلطی کا اعتراف کرتے ہوئے اپنے فتوے کو واپس لیتے ہیں اور آئندہ کے لیے عہد کرتے ہیں کہ وہ اپنے فتوے کا نظام مسلمانوں کے شخصی امور تک محدود رکھیں گے۔ وہ کسی بھی ایسے معاملے میں ہرگز کوئی فتویٰ نہ دیں گے جس کا تعلق دستورِ ہند کے مطابق، ملک میں قائم شدہ عدالت سے ہو۔ میں سمجھتا ہوں کہ اس قسم کی عرضی سپریم کورٹ کے لیے یقینا قابلِ قبول ہوگی اور وہ اپنا جاری کردہ نوٹس واپس لے لے گی۔
میری اس تجویز پر کچھ لوگوں کو اعتراض ہوسکتا ہے۔ وہ کہہ سکتے ہیں کہ یہ تو پسپائی ہے۔ اور پسپائی مسلمان کا طریقہ نہیں۔ ہمیں اقدام کرکے سامنے آنا چاہیے اور سپریم کورٹ سے لڑ کر اپنا حق منوانا چاہیے۔
میں کہوں گاکہ یہ پسپائی کی بات نہیں، بلکہ یہ اعترافِ خطا کی بات ہے۔ اور اعتراف اور پسپائی دونوں ایک دوسرے سے بالکل الگ ہیں۔ مسلمان انڈیا میں دستورِ ہند کو مان کر رہ رہے ہیں۔ اور یہ ایک حقیقت ہے کہ فوج داری نوعیت کے کیس میں فتویٰ دینا دستورِ ہند کے مطابق، ملک کے قانونی نظام میں مداخلت ہے۔ اور دستورِ ہند کے مطابق اِس قسم کی مداخلت جائز نہیں۔ ایسی حالت میں مسلمانوں کے لیے دو میں سے ایک کا اختیار ہے یا تو وہ دستورِ ہند سے بغاوت کا اعلان کردیں اور پھر اپنے اس عمل کی ہر قیمت کو ادا کریں، یا پھروہ کھُلے طورپر یہ اعتراف کرلیں کہ مفتی صاحبان نے اس معاملے میں ملک کے قانونی نظام کی خلاف ورزی کی ہے۔ ان دو کے سوا کوئی تیسرا انتخاب عملی طورپر ان کے لیے ممکن نہیں۔
یہاں میں یہ اضافہ کروں گا کہ مسلمانوں کو دوسری بار وہ غلطی نہیں کرنا چاہیے جو انھوں نے ۱۹۸۶ میں شاہ بانو بیگم کے مشہور کیس میں کی تھی۔ شاہ بانو کے کیس میں سپریم کورٹ نے جو فیصلہ دیا تھا، اس کی ذمّے داری واضح طور پر خود مسلمانوں پر عائد ہوتی تھی۔ اس معاملے میں جو ہُوا وہ یہ تھا کہ ایک مسلم خاتون (شاہ بانو بیگم) اپنے طلاق کے کیس کو ملکی عدالت میں لے گئیں۔ ان کا مطالبہ تھا کہ سابقہ شوہر مجھے ماہانہ گذارہ(maintenance) ادا کرے۔ اپنے مطالبے کے حق میں انھوں نے عدالت میں عبد اللہ یوسف علی کا ترجمۂ قرآن پیش کیا جس میں قرآن کی ایک متعلق آیت (البقرہ: ۲۴۱) کے تحت، متاع کا ترجمہ گذارہ (maintenance) کیاگیا تھا۔ انگریزی کا یہ ترجمۂ قرآن جو ساری دنیا کے مسلمانوں میں سب سے زیادہ مقبول تھا اس کو لے کر سپریم کورٹ نے شاہ بانو کے حق میں اپنا فیصلہ دے دیا۔
اصولی بات یہ تھی کہ عبد اللہ یوسف علی نے آیت کا جو ترجمہ کیا تھا وہ غلط تھا۔ قرآنی لفظ متاع کا صحیح ترجمہ پراویجن (provision) ہے نہ کہ مینٹیننس (maintenance) ۔
اس معاملے میں شرعی مسئلہ یہ ہے کہ مطلّقہ عورت کے خاوند کو چاہیے کہ وہ بوقت طلاق حسب حیثیت عورت کو کچھ رقم وغیرہ دے دے۔ بعد از طلاق ماہانہ گذارہ ادا کرنے کی ذمے داری سابقہ شوہر پر نہیں۔ ایسی حالت میں سپریم کورٹ کا فیصلہ خالص شرعی اعتبار سے درست نہ تھا۔ مگر اس نادرست فیصلے کی اصل ذمے داری دو مسلمانوں پر تھی— شاہ بانو بیگم (مدّعیّہ) اور عبد اللہ یوسف علی (مترجم قرآن) ایسی حالت میں اس معاملے میں مسلمانوں کی تحریک کا رُخ شاہ بانو بیگم اور عبد اللہ یوسف علی یا اُن کے ترجمۂ قرآن کے ناشر کی طرف ہونا چاہیے تھا نہ کہ سپریم کورٹ کی طرف۔
مگر اس معاملے میں مسلم علماء اور رہنماؤں نے یہ کھلی غلطی کی کہ انھوں نے اپنی پوری تحریک سپریم کورٹ اور حکومتِ ہند کے خلاف چلا دی۔ شاہ بانو یا عبد اللہ یوسف علی کے مذکورہ غلط ترجمے سے انھوں نے کوئی تعرض نہیں کیا۔
یہ روش بلاشبہہ خلافِ عدل تھی۔ چناںچہ انڈیا کے مسلمانوںکو اس غیر عادلانہ روش کی قیمت ادا کرنی پڑی۔ تمام لوگ جانتے ہیں کہ دراصل شاہ بانو تحریک ہی کا یہ نتیجہ تھا کہ انڈیا میں پہلی بار وہ عناصر سیاسی اقتدار پر قابض ہوگیے، جن کو مسلمان مسلم دشمن عناصر کہتے ہیں۔ (واضح ہو کہ مسلم دشمن عناصر کا نظریہ راقم الحروف کا نظریہ نہیں۔ راقم الحروف کے نزدیک کوئی بھی ہمارا مستقل دشمن نہیں۔ کیوں کہ قرآن کے مطابق، دشمن بھی ہمارے لیے امکانی دوست (potential friend) کی حیثیت رکھتا ہے۔ حم السجدہ: ۳۴)
آخری بات یہ کہ غیر عادلانہ تحریک ہمیشہ نقصان کا باعث ہوتی ہے۔ نتیجے کے اعتبار سے وہ ہمیشہ کاؤنٹر پروڈکٹیو (counter-productive) ثابت ہوتی ہے۔ مسلمان نہ صرف ہندستان میں بلکہ پوری دنیا میں اس قسم کے ناعاقبت اندیشانہ تجربے کر چکے ہیں۔ اب آخری طورپر وہ وقت آگیا ہے کہ اس قسم کی غلطی کو مزید نہ دہرایا جائے کیوں کہ حدیث میں آیا ہے: لا یلدغ المؤمن من جُحرٍ واحدٍ مرّتین، البخاری (مومن ایک سوراخ سے دوبار نہیں ڈسا جاتا)
واپس اوپر جائیں

یہ قیادت

پانچویں صدی عیسوی میں یونان میں کچھ سیاسی لیڈر ابھرے جنھوںنے لوگوں کے وقتی اور سطحی جذبات کو بھڑکا کر مقبولیت حاصل کی۔ ایسے لیڈر کو اس زمانہ میں ڈیماگاگ (Demagogue) کہا گیا۔ ان میں سے ایک مشہور نام کلیون (Cleon) کا ہے۔ وہ ایک بلند آواز آدمی تھا۔ اسی کے ساتھ اس کے اندر اس بات کی خصوصی صلاحیت تھی کہ وہ عوام پسند زبان میں کلام کرسکے۔ اس نے وقت کے نظام حکومت کے خلاف پرجوش تقریریں کرکے عوام کے اندر مقبولیت حاصل کر لی ۔(8/357)
موجودہ زمانے میں ڈیماگاگ کا لفظ اس سیاسی لیڈر کے لئے بولا جاتا ہے جو لوگوں کے جذبات اور تعصبات کو مخاطب کرے اوراس طرح ان کے درمیان لیڈری اور مقبولیت حاصل کرنے کی کوشش کرے۔ وہ عوامی خواہشات کا نمائندہ بن کر لوگوں کی بھیڑ اپنے گرد اکھٹا کرلے (111/454-55) ویبسٹر کی ڈکشنری میں ڈیماگاگ کی تشریح اس طرح کی گئی ہے: ایک شخص جو عوام کے جذبات اوران کے تعصبات وغیرہ کو بھڑکائے اور اس طرح ان کا لیڈر بن کر اپنے ذاتی مفادات کو پورا کرے:
A person who tries to stir up the people by appeals to emotion, prejudice, etc., in order to become a leader and achieve selfish ends.
قیادت کی دو قسمیں ہیں۔ ایک قائد وہ ہے جو عوام کے پیچھے چلے۔ جوعوامی جذبات کی ترجمانی کرے۔ دوسرا قائد وہ ہے جو عوام کو خود اپنے پیچھے چلائے، جو اصولوں کی نمائندگی کرنے والا ہو۔ پہلی قسم کے قائد کو موجودہ زمانے میںڈیماگاگ کہا جاتا ہے۔ اس قسم کے قائدکو ہمیشہ زبردست مقبولیت حاصل ہوتی ہے۔ ایسا قائد عوام کو اپنا وکیل معلوم ہوتا ہے۔ اس لیے اس کے گرد بہت جلد عوام کی بھیڑ اکھٹاہو جاتی ہے۔
اس کے برعکس معاملہ دوسری قسم کی قیادت کا ہے۔ ایسا قائد اپنے اعلیٰ ترین اوصاف کے باوجود عوام کے اندر اجنبی بن جاتا ہے ۔اس کے گرد لوگوں کی بھیڑ جمع نہیں ہوتی۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ لوگوں کی خواہشوں کے پیچھے نہیں چلتا بلکہ وہ برتر اصولوں کا ترجمان ہوتا ہے۔ ایسے قائد کو اکثر یہ کام کرنا پڑتا ہے کہ وہ بولنے والوں کو چپ کرائے اور چلنے والوں کو روکے۔
واپس اوپر جائیں

خادم الحرمَین کا انتقال

سعودی عرب کے حُکمراں شاہ فہد ۲؍ اگست ۲۰۰۵ء کو انتقال کرگئے۔ شاہ فہد ۱۹۲۳ء میں پیدا ہوئے۔ وہ مختلف عُہدوں پر فائز رہے۔ ۱۹۸۲ میں وہ سعودی عرب کے حکمراں بنے۔ اُن کا زمانۂ حکومت سعودی عرب کی تاریخ میں نہایت اہم سمجھا جاتا ہے۔ اسی زمانے میں سعودی عرب تیل کی پیداوار میںدنیا کا سب سے بڑا ملک (oil super power) بنا۔ ساری دنیا کے لوگ تیل کی دَولت کے حصول کے لیے سعودی عرب کی راجدھانی ریاض آنے لگے۔ اسی زمانے میں امریکی میگزین ٹائم نے ایک مضمون میں لکھا تھا کہ قدیم زمانے میں کہا جاتا تھا کہ تمام سڑکیں روم کی طرف جاتی ہیں، اب یہ کہنا صحیح ہوگا کہ تمام سڑکیں ریاض کی طرف جاتی ہیں:
All roads lead to Riyadh.
شاہ فہد کا دَورِ حکومت نہایت جاہ وجلال کا دورِ حکومت تھا۔ مگر ۱۹۹۵ میں اُن پر دل کا دورہ پڑا۔ اُن کی صحت نہایت کمزور ہوگئی۔ اُنھیں کنگ فیصل اسپتال میں داخل کردیاگیا۔ اِس کے بعد وہ مسلسل زیرِ علاج رہے۔ دس سال پہلے انھیں حکومت کے کاموں سے عملی طورپر الگ ہوجانا پڑا۔ چنانچہ حکومت کے کام ان کی نیابت میں ان کے سوتیلے بھائی شہزادہ عبد اللہ انجام دینے لگے۔ شاہ فہد کے انتقال کے بعد شہزادہ عبد اللہ سعودی عرب کے حکمراں مقرر کیے گئے ہیں۔ ۱۹۹۵ میں شاہ فہد کے صاحبِ فراش ہوجانے کے بعد سے، حکومت کا روز مرّہ کا کام شاہ عبد اللہ ہی سنبھالے ہوئے تھے۔
شاہ فہد کے زمانۂ حکومت میں سعودی عرب کو غیر معمولی ترقی حاصل ہوئی۔ حرم مکّی اور حرم مدنی دونوں میں غیر معمولی توسیع کی گئی۔ ان کو جدید ترین سہولتوں سے آراستہ کیا گیا۔ قرآن کی توسیع واشاعت کے لیے بہت بڑا ادارہ قائم ہوا، جس کے تحت دنیا کی تمام زبانوں میں قرآن کے ترجمے کرکے کروڑوں کی تعداد میں ساری دنیا میں پھیلا دیے گیے۔ دنیا بھر کے مسلم اداروں اور مسلم تنظیموں کو مسلسل مدد ملتی رہی۔ مسلم حکومتوں کو مختلف قسم کی امداد فراہم کی جاتی رہی۔ انھوںنے اپنے لیے خادم الحرمین الشریفین کا لقب اختیار کیا، اس کی وجہ سے وہ مسلم دنیا کے لیے جذباتی طورپر خلیفۃ المسلمین کا بدل بن گئے۔ عرب شہروں کی نئی منصوبہ بند تعمیر کی گئی۔ ملک میں بہترین انفراسٹرکچر قائم کیا گیا، وغیرہ۔
شاہ فہد کے انتقال کے بعد ان کے بارے میں جو رپورٹیں اخباروں میں چھپی ہیں، ان میں کئی سبق آموز پہلو موجود ہیں۔ مثلاً رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ شاہ فہد عرب کے ایک سادہ اور بے نشان قبرستان میں دفن کیے گیے:
King Fahad was buried in a simple unmarked grave. (TOI, Agust 3, 2005)
یہ کوئی سادہ بات نہیں۔ یہ واقعہ سعودی سلطنت کی ایک عظیم تاریخ کی یاددلاتا ہے۔ اصل یہ ہے کہ عرب کے علاقہ نجد میں مشہور مُصلح محمد بن عبد الوہاب نجدی ظاہر ہوئے۔ وہ ۱۷۰۳ میں پیدا ہوئے اور ۱۷۹۲ میں ان کی وفات ہوئی۔ انھوں نے مجاہدانہ انداز میں توحید خالص کے احیاء کا عمل شروع کیا۔ اُس زمانے میں نجد کے امیر محمد بن سعود (وفات: ۱۷۶۵)تھے۔ اُنھوںنے محمد بن عبد الوہاب کی پوری مدد کی۔
اس کے بعد محمد بن سعود (حاکم) اور محمدبن عبد الوہاب (مصلح) کے تعاون سے عرب میں زبردست تحریک چلی۔ اس تحریک کے نتیجے میں یہ ہوا کہ محمد بن سعود کو تقریباً پورے عرب میں اقتدار حاصل ہوگیا۔ اس کے بعد سے جزیرہ نمائے عرب کا نام سعودی عرب یا سعودی مملکت پڑ گیا۔ شاہ فہد اسی شاہی خاندان سے تعلق رکھتے تھے۔یہ تحریک عام طور پر وہابی تحریک کے نام سے مشہور ہوئی۔ اس تحریک کا خاص نشانہ یہ تھا کہ شرک کے تمام مظاہر اور علامتوں کو بالکل مٹا دیا جائے۔ یہ لوگ پختہ قبروں کے سخت خلاف تھے۔ چنانچہ انھوں نے عرب میں قدیم پختہ قبروں کو ختم کردیا۔ اس کے بعد عرب میں بڑے بڑے لوگوں کی قبریں بھی سادہ انداز میں بنائی جانے لگیں۔ اسی کا ایک نمونہ یہ تھا کہ شاہ فہد کو عام قبرستان میں بالکل سادہ طور پر دفن کیاگیا۔
شاہ فہد کو عام طورپر امریکا نواز سمجھا جاتا تھا۔ چنانچہ شاہ فہد کی موت کی خبر کو اخباروں میںاس طرح کی سرخی کے ساتھ شائع کیا گیا ہے—امریکا کے دوست، شاہ فہد کا انتقال:
America's friend, King Fahad, dead.
میرے نزدیک شاہ فہد کے لیے یہ لقب درست لقب نہیں۔ آج کل عام طورپر یہ مزاج ہے کہ لوگوں کو پروامریکا یا اینٹی امریکا کے الفاظ میں یاد کیا جاتا ہے۔ مگر صحیح بات یہ ہے کہ کہ لوگوں کو حقیقت پسند (pro-reality) اور غیر حقیقت پسند(anti-reality) کی اصطلاحوں میں یاد کیا جائے۔
جہاں تک میں سمجھتا ہوں، شاہ فہد نہایت ذہین اور حقیقت پسند آدمی تھے۔ انھوں نے حالات کے مطالعے سے یہ سمجھا کہ امریکا سے ٹکراؤ کرنا ان کو یا مسلمانوں کو کوئی فائدہ نہیں دے گا، بلکہ یقینی طورپر وہ معکوس نتیجہ (counter-productive) کا سبب بن جائے گا۔ اس لیے انھوںنے یہ پالیسی اختیار کی کہ امریکا سے بے فائدہ ٹکراؤ نہ کیا جائے بلکہ امریکا کے ساتھ ایڈجسٹمنٹ کا طریقہ اختیار کیا جائے۔
واقعہ یہ ہے کہ امریکا اس وقت دنیا کی سب سے بڑی طاقت کی حیثیت رکھتا ہے۔ چنانچہ اس کو واحد سپر پاور کہا جاتا ہے۔ ایسی طاقت سے ٹکراؤ کرنا عقل اور دین دونوں کے خلاف ہے۔ اس کی ایک مثال خود قرآن میں موجود ہے۔ حضرت سلیمان جو اپنے زمانے کے عظیم حکمراں تھے، ان کے مقابلے میں ملکۂ سبا نے ٹکراؤ نہ کرنے کی پالیسی اختیار کی اور اس کو کامیابی حاصل ہوئی(النمل ۳۴)۔ یہ واقعہ قرآن میں جس طرح بیان کیا گیا ہے وہ اصولِ تفسیر کے مطابق قرآنی تصدیق کے ہم معنی ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ شاہ فہد نے اسی دانش مندانہ پالیسی کو اختیار کیا۔ یہ منفی طرزِ فکر کا نتیجہ تھا کہ لوگوں نے اس پالیسی کو غلط طور پر امریکا نواز پالیسی کا نام دے دیا۔
عربی زبان کی ایک بامعنی مثل ہے: تعرف الأشیاء بأضدادہا (چیزیں اپنے ضد سے پہچانی جاتی ہیں) اس تاریخی اصول کی روشنی میں شاہ فہد کے معاملے کو سمجھئے۔ امریکا کے مقابلے میں حکومتی پالیسی کا جو مسئلہ ہے، اس کے بارے میں موجودہ زمانے میں دو متضاد مثالیں ملتی ہیں۔ ایک، عرب کے حکمراں شاہ فہد کی مثال، جنھوں نے امریکا کے ساتھ صُلح کا طریقہ اختیار کیا۔ دوسری مثال عراق کے حکمراں صدام حسین کی ہے۔ جیسا کہ معلوم ہے، شاہ فہد کی حقیقت پسندانہ پالیسی کے نتیجے میں نہ صرف عرب کو بلکہ ساری مسلم دنیا کو بے شمار فائدے حاصل ہوئے۔ آج مسلم دنیا نیز یورپ اور امریکا میں ہر جگہ شان دار مسلم ادارے دکھائی دیتے ہیں۔ اس کے بنانے والے مسلمان اگرچہ زبان سے کھلے طورپر اس کا اعتراف نہیں کرتے مگر جاننے والے جانتے ہیں کہ ان کی شان دار کامیابی کا راز سعودی حکومت کا عظیم تعاون ہے ۔ سعودی حکومت اس عالمی تعاون کے قابل اس لیے بنی کہ اس نے مغربی طاقتوں کے مقابلے میں عدم ٹکراؤ کی پالیسی اختیار کی۔
عراق کے حکمراں صدام حسین کی زندگی اس کے برعکس مثال پیش کرتی ہے۔ انھوںنے امریکا کو مسلم دشمن قرار دے کر اس کے خلاف جنگ (اُمُّ المعارک) کا اعلان کردیا۔ بہت سے جذباتی مسلمان اس معاملے میں صدام حسین کے ہم نوا بن گئے، مگر نتیجہ کیا نکلا۔ صدام حسین اور عراق دونوں تباہ ہوگیے۔ عراق میں تیل کی دولت بڑی مقدار میں موجود تھی، مگر اس خداد اد دولت کا فائدہ نہ عراق کو ملا اور نہ عراق کے باہر دوسری مسلم دنیا کو۔
سعودی عرب کے قدیم حکمراں شاہ فیصل (وفات: ۱۹۷۵)اپنی جرأت اور بے باکی کے لیے مسلمانوں میں بہت مقبول ہوئے۔ مگر ذاتی طورپر میرا خیال ہے کہ شاہ فہد کی مفاہمت کی پالیسی اس سے بھی زیادہ عرب کے لیے نیز ساری دنیا کے مسلمانوں کے لیے غیر معمولی طورپر مفید ثابت ہوئی۔
اس معاملے میں ایک تقابلی مثال لیبیا کے حکمراں کرنل قذّافی کی ہے۔ لیبیا کے پاس تیل کی بہت بڑی دولت موجود تھی۔ مگر کرنل قذافی نے امریکا مخالف پالیسی اختیار کی۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ لیبیا میں کوئی ترقی نہ ہوسکی، اس کی دولت نہ لیبیا کے کام آئی اور نہ باہر کی مسلم دنیا کو اس سے کوئی فائدہ پہنچا۔ لیبیا ، فارسی مقولے کے مطابق ’’نہ خود خورد نہ بہ کس دہد‘‘ کا مصداق بن گیا۔
کرنل معمّر قذافی کی مخالفِ امریکا پالیسی کی بنا پر امریکا نے لیبیا کے خلاف سخت کارروائی کی۔ چند سال یہ معاملہ چلتا رہا۔ یہاں تک کہ کرنل معمر قذافی نے مجبور ہوکر امریکا کے مقابلے میں ہتھیار ڈال دیے۔ گویا کرنل قذافی نے وہی حقیقت پسندانہ پالیسی بعد کو اختیارکی جو حقیقت پسندانہ پالیسی شاہ فہد بہت پہلے اختیار کرچکے تھے:
آں چہ دانا کند، کُند ناداں لیک بعد از خرابی ٔ بسیار
واپس اوپر جائیں

سوال جواب

سوال
آپ کا ایک خط ماہنامہ تذکیر کے مئی ۲۰۰۴ کے شمارے میں شائع ہوا ہے جو آپ نے عبدالسلام اکبانی صاحب کو لکھا ہے۔ اس میں آپ نے اس تقریر کا حوالہ دیا ہے جو آپ نے دہلی میں کانسٹی ٹیوشن کلب کے ایک سیمینار میں کی۔ اس میں آپ نے دو قومی نظریے کو علامہ اقبال اور جناح صاحب کے ذہن کی پیداوار قرار دیا اور یہ دلیل دی کہ ہر پیغمبر نے اپنے زمانے کے لوگوں سے خطاب کرتے ہوئے ’’اے میری قوم‘‘ کہا۔یعنی حاضرین کا عقیدہ یا مذہب چاہے الگ الگ ہو، ایک بستی یا ایک جغرافیائی وحدت میں رہائش پذیر ہونے کی وجہ سے وہ ایک قوم تھے۔
آپ نے یہ بھی بتایا کہ آپ کے بعد بلراج مدھوک کی تقریر تھی۔ انھوں نے دو قومی نظریے کا قرآن میں موجود ہونا بتایا کہ مسلمانوں نے یہ نظریہ قرآن ہی سے لیا ہے اور یہ کہ قرآن انسانوں کے درمیان تفریق سکھاتا ہے اور یہ کہ وحید الدین صاحب قرآن کے اس چہرے پر وہائٹ واش کررہے ہیں۔ تبصرہ کرتے ہوئے آپ نے الزام لگایا کہ مدھوک صاحب نے قرآن کا کوئی حوالہ دلیل کے طور پر پیش نہیں کیا۔ مدھوک صاحب سے لوگ دلیل مانگنا چاہتے تھے مگر وہ دامن چھڑا کر غائب ہوگئے۔
اس سلسلے میں بندہ کچھ عرض کرنے کی جسارت کرتا ہے۔ قرآن تو جگہ جگہ ایمان والوں کو یاایُّہا الذین آمنوااور کفر والوں کو یا ایُّہا الکٰفرونکہہ کر پکارتا ہے۔وہ کہتا ہے کہ کیا مؤمن اور فاسق برابر ہوسکتے ہیں۔ پھر قرآن خود جواب دیتا ہے ہرگز نہیں (سورہ السجدہ) ۔ وہ کہتا ہے تم جس کو پوجتے ہو اس کو ہمارا رسول نہیں پوجتا اور جس کو وہ پوجتا ہے اس کو تم نہیں پوجتے۔ ہمارے رسول اور اس کے ساتھیوں کا اپنا دینِ خالص، اورتمہارے لیے تمہارا دین (سورہ الکٰفرون)۔قرآن کہتا ہے کہ مسلمین اور مجرمین کو کیا ہم ایک سطح پر رکھیں؟تمہیں کیا ہوگیا کیسا غلط گمان ہے تمہارا (سورہ القلم)۔ قرآن میںاللہ کافروں کو حزبُ الشیطٰن کہتا ہے اور مومنوں کو حزب اللہ کہہ کر ان کو انعام کی بشارت دیتا ہے (سورہ مجادلہ) اور سورہ توبہ میں اعلان کرتا ہے کہ مشرکین نجس ہیں اور یہ جو اپنے آپ کو حرم کعبہ کا متولّی سمجھتے تھے ان کو اگلے سال سے حرم کعبہ کے قریب بھی نہ آنے دینا اور جو ایمان نہیں لاتے ان سے قتال کریں اور آپ ہیں کہ کافروں اور مومنوں کو ایک ہی قوم ثابت کرنے کی سعی لاحاصل میں ہلکان ہورہے ہیں۔ (محمد صدیق، اسلام آباد)
جواب
۱۔ قرآن سے جب یہ ثابت ہوجائے کہ پچھلے نبیوں نے اپنے غیر مسلم مخاطبین سے کہا تھا کہ:’’اے میری قوم‘‘ تو یہی اسوہ خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا اُسوہ قرار پائے گا۔ کیوں کہ قرآن میں رسول اللہ کو خطاب کرتے ہوئے کہاگیا ہے کہ: تم بھی وہی کرو جو پچھلے انبیا نے کیا — فبہداہم اقتدہ (الأنعام ۹۰)
روایات سے ثابت ہوتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عملاً بھی یہی کیا۔ چنانچہ غزوہ اُحد کے موقع پر آپ کے مخالفین نے آپ کے اوپر پتھر مارا جو آپ کے چہرے پَر لگا، اس سے آپ کے چہرے سے خون جاری ہوگیا۔ اُس وقت آپ نے ایک پچھلے رسول کے اُسوہ پر عمل کیا۔ عبد اللہ بن مسعود اس واقعے کا حال بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں: کأنی أنظر إلی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یحکی نبیّا من الأنبیاء ضَرَبہُ قَومُہ وہو یمسح الدَّم عن وجہہ ویقول: ربّ اغفر لقومی فإنہم لا یعلمون (صحیح مسلم، بشرح النووی جلد ۱۲ ، ۱۵۰)یعنی ’’میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھ رہا ہوں۔ وہ نبیوں میں سے ایک نبی کا حال بیان کررہے ہیں جس کو اُس کی قوم نے مار کر زخمی کیا۔ وہ اپنے چہرے سے خون پونچھ رہے تھے اور یہ کہہ رہے تھے: اے اللہ! تو میری قوم کو معاف فرمادے کیوں کہ وہ جانتے نہیں‘‘۔
اس معاملے میں جو کچھ میں نے کہا ہے وہ نص پر مبنی ہے۔ جب کہ آپ نے جو کچھ تحریر فرمایا ہے وہ تمام تر قیاس اور استنباط پر مبنی ہے۔ اور یہ کھلی ہوئی بات ہے کہ قیاس اور استنباط کے ذریعے کسی نص کی تردید نہیں ہوتی۔
۲۔ اس معاملے میں آپ جیسے لوگوں کی اصل مشکل یہ ہے کہ آپ نے انسانیت کو مستقل طورپر دو گروہوں میں بانٹ دیا ہے— مسلم اور کافر۔ اس تقسیم کی بنا پر آپ لوگوں کے نزدیک ایک طرف ابدی معنوں میں ایک قوم، مسلم قوم بن گئی ہے اور دوسری طرف ابدی معنوں میںایک قوم، غیرمسلم قوم۔ یہ تقسیم سراسر غلط ہے۔ نہ مسلمان کسی نسلی گروہ کا نام ہے اور نہ کافر کسی نسلی گروہ کا نام۔ دونوں ہی کا مدار اس پر ہے کہ کس کو معرفتِ خداوندی ملی اور کس کو معرفتِ خداوندی نہیں ملی۔ اس لیے مسلسل ایسا ہوگا کہ مسلمانوں کی بعد کی نسلیں اسلام سے دور ہوتی رہیں گی اور غیر مسلموں میں سے لوگ سچائی کی دریافت کرکے مسلم بنتے رہیں گے۔ اس لیے یہ بالکل فطری بات ہے کہ قومیت کا مدار مذہب پر نہ ہو بلکہ ہوم لینڈ پرہو ۔ کیوں کہ مذہب کی تقسیم بدلتی رہتی ہے، جب کہ ہوم لینڈ کی تقسیم عموماً نہیں بدلتی۔
۳۔ آپ جیسے بہت سے لوگ یہ کہتے ہیں کہ پیغمبر اسلام کے زمانے میں ’’نسل آدم تمدنی عروج پر پہنچ گئی تھی‘‘۔ یہ ایک فرضی دعویٰ ہے، جس کی تصدیق نہ قرآن سے ہوتی ہے اور نہ تاریخ سے۔ قرآن میں پچھلی اُمتوں کے بارے میں یہ الفاظ آئے ہیں: وعمروہا اکثر ممّا عمروہا (الروم ۹) اس سے ثابت ہوتا ہے کہ زمانۂ رسالت کے مقابلے میں پچھلے زمانے کے لوگ زیادہ بڑے پیمانے پر تمدنی ترقی حاصل کر چکے تھے۔
جہاں تک تاریخ کی بات ہے تو اِس قسم کا دعویٰ واضح طورپر بے بنیاد دعویٰ ہے۔ رسول اللہ کا زمانہ قبل سائنس دور(pre-scientific era) سے تعلق رکھتا ہے۔ اس کے بعد وہ حالات پیش آئے جن کو بعد سائنس دَور (post-scientific era) کہا جاتا ہے۔ یہ ایک معلوم حقیقت ہے کہ قبل سائنس دور میںانسانی تمدن جس درجے پر تھا، اُس کے مقابلے میں بعد سائنسی دور میں انسانی تمدن سیکڑوں گُنا زیادہ ترقی کرچکا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ’’تمدنی عروج‘‘ کا مذکورہ دعویٰ ایک ایسا دعویٰ ہے جس کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں۔
سوال
میں کافی عرصے سے تقریباً جب سے ہوش سنبھالا تب ہی سے حق کی تلاش میں سرگرداں ہوں۔ یقینا کسی چیز کو پانے کے لیے محنت پہلی شرط ہے۔ اس حق کی تلاش میں تمام دینی جماعتوں کو دیکھنے سمجھنے کا موقع ملا مگر کہیں بھی دل پوری طرح مطمئن نہ ہوا۔ میری عادت ہے کہ میں خاموش مطالعہ کیا کرتا ہوں، بے جا بحث ومباحثہ اور طعن وتشنیع میرا مزاج نہیں۔ اس طرح میں نے کچھ وقت تبلیغی جماعت کے ساتھ لگا کر دیکھنا چاہا کہ یہ جماعت کیا چاہتی ہے، ان کے کیا عزائم ہیں، ان میں اصولوں کی کتنی پابندی ہے۔ الغرض یہاں آکر میرا مجھے مقصود حاصل ہوا۔ مطالعے کا شوق بہت ہے۔ اسی طرح ہر قسم کا لٹریچر، کتابیں وغیرہ پڑھتا ہوں۔ پھر ایک روز ایک کتابوں کی دکان پر آپ کی کتاب ’’صراط مستقیم‘‘ نظر سے گزری تو فوراً خرید لی۔ کتاب کا مطالعہ کرتے ہوئے محسوس ہوتا تھا کہ شاید میں انھیں باتوں کی تلاش میں تھا۔ آپ کی اور کتابیں بھی مطالعہ کی ہیں۔ آپ کی تحریروں میں غزوۂ بدر کی مدد و نصرت ظاہر ہوتی نظر آتی ہے۔ اور پڑھتے ہوئے محسوس ہوتا ہے جیسے انسان اپنی فطرت سے باتیں کررہا ہو۔ محترم! میری باتوں کا ضرور جواب دیں۔ (محمد اسحاق بلوچ، پاکستان)
جواب
آپ کے ساتھ جو معاملہ پیش آیا اُس کا سبب یہ ہے کہ موجودہ زمانے میں مسلمانوں کی جتنی بھی تحریکیں ہیں وہ سب ردّ عمل کی تحریکیں ہیں۔ یعنی کسی مخصوص صورت حال کا ردّعمل۔ مثلاً ایک جماعت کے لوگ کسی مقام پر دیکھیں کہ وہاں کے لوگوں کو کلمہ بھی یاد نہیں اور اس سے متاثر ہو کر کلمہ اور نماز کی تحریک چلا دیں تو ایسی تحریک صرف اُن لوگوں کے ذہن کو ایڈریس کرے گی جو خود بھی اِسی قسم کے مسلمانوں کے بارے میں سوچتے رہے ہوں۔ ایسی کسی تحریک میں اعلیٰ تعلیم یافتہ لوگوں کو کوئی دلچسپی نظر نہیں آئے گی۔ اسی طرح کچھ لوگ دیکھیں کہ مسجدوں میں لوگ نماز تو پڑھتے ہیں مگر وہ مسائل نماز سے واقف نہیں اور پھر اس پر وہ مسائل عبادت میں اصلاح کی تحریک چلادیں تو ایسی تحریک صرف اُن لوگوں کو اپیل کرے گی جو خود بھی فقہی مسائل میں مسلمانوں کی بے شعوری کا احساس اپنے دل میں لیے ہوئے ہوں۔ اس کے بجائے وہ لوگ جو جدید الحادی افکار کو سب سے بڑا مسئلہ سمجھتے ہوں اُنھیں اصلاح مسائل کی تحریک سے کوئی دل چسپی نہیں ہوگی۔ اسی طرح کچھ لوگ یہ دیکھیں کہ کسی مسلم ملک میں وہاں کے مسلم حکمراں شرعی قانون کا نفاذ نہیں کررہے ہیں اور وہ اس معاملے کو لے کر اِن مسلم حکمرانوں سے سیاسی ٹکراؤ شروع کردیں تو ایسی کوئی تحریک صرف اُن لوگوں کے لیے پُر کشش ثابت ہوگی جن کا ذہن خودبھی روزانہ اخبارات پڑھ پڑھ کر اس قسم کے سیاسی مسائل میں الجھا ہوا ہو۔ اس کے برعکس جو لوگ فطرت کی سطح پر جیتے ہوں، جو اپنے فطری سوالا ت کا جواب پانا چاہتے ہوں اُنھیں مذکورہ قسم کی سیاسی تحریک کی طرف کو ئی رغبت نہ ہوگی۔
الرسالہ مشن مذکورہ قسم کی تحریکوں سے بالکل مختلف ہے۔ الرسالہ مشن کسی قسم کے ردّ عمل کے طور پر نہیں اٹھا۔ وہ فطرت کے ابدی تقاضوں کی بنیاد پر اُٹھا ہے۔ اس لیے الرسالہ مشن میں صرف اُن لوگوں کو دل چسپی ہوگی جو اسلام کو اُس کی ابدیت کے تناظر میں سمجھنا چاہتے ہوں۔ جواُس اسلام کو جاننا چاہتے ہوں جو اُن کی فطرت میں چھپے ہوئے ابدی احساسات کو مطمئن کرسکے۔ اِس لیے یہی ہوگا کہ ہر تحریک میں کچھ مخصوص لوگ ہی آئیں گے۔تمام لوگ نہ الرسالہ مشن میں شامل ہوسکتے ہیں اور نہ دوسری مسلم تحریکوں میں۔
الرسالہ کی جو لوگ مخالفت کرتے ہیں، اُن کی مخالفت کا سبب عام طور پر یہ ہوتا ہے کہ الرسالہ میں مسلمانوں کے مفروضہ اکابر پر تنقید کیوں ہوتی ہے۔ اس مخالفت کا سبب کسی شرعی تعلیم پر مبنی نہیں ہے۔ اس کا سبب صرف یہ ہے کہ موجودہ زمانے کے مسلمانوں کی بڑی تعداد ’’دینِ اکابر‘‘ پَر جی رہی ہے۔ انھوں نے دین کو اپنے مفروضہ اکابر کے واسطے سے پایا ہے۔ اُن کا یہی خود ساختہ ذہن ان کی مخالفت کا اصل سبب ہے۔ مگر امت میں ایسے لوگ بھی ہیں جن کا ذہن اکابر اور غیر اکابر کی تقسیم سے آزاد ہے۔ یہ وہ لوگ ہیں جو دین کو اس کی ابدی تعلیمات کی روشنی میں سمجھنا چاہتے ہیں۔ جو اکابر اور غیر اکابر سے اوپر اُٹھ کر یہ جاننا چاہتے ہوں کہ خدااور رسول کی سطح پر کیا چیز حق ہے اور کیا چیزباطل ہے۔ ایسے لوگوں کو صرف الرسالہ میں تسکین ملے گی۔ الرسالہ کے سوا کہیں اور اُنھیں تسکین ملنے والی نہیں۔
سوال
’’فقہی مقالات‘‘ کے نام سے مفتی محمد تقی عثمانی صاحب کی ایک کتاب ہے۔ اس کتاب میں ایک مقالہ ’’جہاد دفاعی یا اقدامی‘‘ کے عنوان سے ہے۔ اس مقالے کو میں نے غائر نگاہ کے ساتھ پڑھا بھی ہے۔ اس کو پڑھنے کے بعد جو نتیجہ سامنے آیا وہ یہ کہ اسلام میں جہاد اقدامی ہے۔ اور ایک مومن ومسلم کے لیے جہاد بمعنٰی قتال اس وقت تک فرض ہے جب تک کہ دنیا میں غیرقوموں کا غلبہ موجود ہے۔ تقی عثمانی صاحب لکھتے ہیں:
’’آپ نے جہاد کے بارے میں جو کچھ تحریر فرمایا، اس کا حاصل میں یہ سمجھتا ہوں کہ اگر کوئی غیر مسلم حکومت اپنے ملک میں تبلیغ کی اجازت دے دے تو اس کے بعد اس سے جہاد کرنا جائز نہیں رہتا۔ اگر یہی آپ کا مقصد ہے تو احقر کو اس سے اتفاق نہیں۔ تبلیغ اسلام کے راستے میں رکاوٹ صرف اس کا نام نہیں کہ غیر مسلم حکومت تبلیغ پر قانونی پابندی عائد کردے، بلکہ کسی غیر مسلم حکومت کا مسلمانوں کے مقابلے میں زیادہ پر شوکت ہونا بذات خود دین حق کی تبلیغ کے راستے میں بہت بڑی رکاوٹ ہے‘‘ آگے چل کر لکھتے ہیں : ’’لہٰذا کفار کی اس شوکت کو توڑنا جہاد کے اہم ترین مقاصد میں سے ہے‘‘۔ (ص۔ ۳۰۱، فقہی مقالات، جلد سوم) (حافظ ابو الحِکم محمددانیال، بہار)
جواب
جہاد (بمعنٰی قتال) کا کوئی تعلق نہ مانعین دعوت کے خلاف لڑنے سے ہے اور نہ اس کا مقصد یہ ہے کہ جو لوگ شوکتِ اسلام (بالفاظ دیگر شوکتِ مسلمین) کے قیام کی راہ میں حائل ہوں ان کے خلاف لڑائی کی جائے۔ یہ سب جہاد کی خود ساختہ تعبیریں ہیں جن کا قرآن وحدیث سے کوئی تعلق نہیں۔
جہاد اصلاً پُر امن دعوتی جدوجہد کا نام ہے۔ یہ بات قرآن کی اِس آیت سے واضح طورپر ثابت ہوتی ہے: وجاہدہم بہ جہاداً کبیراً (الفرقان: ۵۲ ) یعنی غیر مسلموں پر قرآن کے ذریعے دعوت و تبلیغ کی پُر امن جدوجہد کرو۔ جہاں تک قتال (جنگ) کا تعلق ہے، وہ اسلام میں صرف ایک مقصد کے لیے جائز ہے، اور وہ حملے کی صورت میںدفاع ہے۔ اس دفاع کی بھی دو لازمی شرطیں ہیں۔ ایک یہ کہ دفاع کا کام صرف ایک قائم شدہ حکومت کرے گی۔ کسی غیر حکومتی گروہ کو کسی بھی حال میں مسلّح جہاد کی اجازت نہیں۔
آج کل لوگوں کا حال یہ ہے کہ وہ شوکتِ اسلام کا لفظ بولتے ہیں، حالاں کہ اس سے مراد صرف شوکتِ مسلمین ہوتا ہے۔ جہاں تک شوکتِ اسلام کا تعلق ہے، وہ ابدی طور پر بالفعل قائم ہوچکا ہے۔ اس سلسلے میں ہمارا کام صرف یہ ہے کہ اسلام کے موافق جو دلائل ظاہر ہوچکے ہیں اُن کو ہر زمانے میں استعمال کرتے رہیں۔ اور جہاں تک شوکتِ مسلمین کا تعلق ہے، وہ سیاسی اعتبار سے آج ۵۷ مسلم ملکوں میں قائم ہے۔ مگر یہ ۵۷ مسلم ملک، بشمول پاکستان، شوکتِ اسلام کا ذریعہ نہ بن سکے۔
سوال
جناب کی ہر تحریر ہر اورجملہ سبق آموز ہے۔ صرف مسلمان ہی کے لیے نہیں بلکہ ہر قوم ، ہر ملت کے افراد کے لیے ۔ قرآن مبین کے علاوہ روئے زمین پر جتنی کتابیں سطور نگار نے پڑھیں، آخر کتاب ختم کرنے کے بعد بات کی وضاحت ہوتی ہے یا پھر خلاصہ کلام پر ۔لیکن اس کے برعکس جناب کا ہر پیراگراف نصیحت سے لبریز ہے۔ سطور نگار آںجناب سے التجا کرتا ہے کہ جناب کے سارے مقالات جو آپ نے اجتماعات میں پڑھے ہیں وہ سب بھی ایک کتابی شکل میں منظر عام پر آجائیں تو نوع انسانی کے لیے مفید ثابت ہوں (محمد ہاشم رنگونی، لندن)
جواب
آپ نے جو تجویز پیش کی ہے وہ پہلے ہی عمل میں آچکی ہے۔ راقم الحروف کے مقالات اور مضامین، انفرادی اصلاح اور اجتماعی اصلاح، دونوں کے بارے میں چھپ چکے ہیں۔ آپ ان کو حاصل کرکے ان کا مطالعہ کرسکتے ہیں۔
حقیقت یہ ہے کہ اس معاملے میں اصل چیز کتاب چھاپنا نہیں ہے، بلکہ کتاب کو پھیلانا ہے۔ آپ جیسے لوگ اپنی ذمّے داری صرف یہ سمجھتے ہیں کہ کتاب چھاپنے کی تجویز پیش کرتے ہیں مگر یہ صحت مند سوچ نہیں۔ صحت مند سوچ یہ ہے کہ آپ یہ سوچیں کہ کتابیں تو چھپ چکی ہیں۔ اب ہماری یہ ذمّے داری ہے کہ ہم ان کتابوں کو لوگوںمیں پھیلائیں۔
میرا تجربہ ہے کہ لوگ دوسروں کے سامنے تجویزیں تو خوب پیش کرتے ہیں مگر یہ نہیںسوچتے کہ اس معاملے میں خود اُن کی اپنی ذمّے داری کیا ہے۔ ایک تعلیم یافتہ مسلمان میرے پاس آئے۔ انھوں نے کہا کہ آپ فلاں موضوع پر کتاب تیارکرکے اس کو چھاپئے۔ میں نے کہا کہ میںنے بہت سے دینی موضوعات پر کتابیں تیار کرکے چھاپی ہیں، ان کے سلسلے میں آپ نے کیا کیا۔ انھوں نے کہا کہ میں نے تو کچھ نہیں کیا۔ میںنے کہا کہ آپ پہلے چھپی ہوئی کتابوں کو پھیلا کر اپنی ذمے داری ادا کیجئے۔ اس کے بعد نئی کتابوں کی تجویز پیش کیجئے۔ اس قسم کا ذہن کوئی صحت مند ذہن نہیں۔
سوال
عرب سے واپس آنے کے بعد میری دلی خواہش تھی کہ میں الرسالہ مشن کے لیے کام کروں۔ یہاں آکر ایک صاحب سے کاروبار میں شرکت کی تو رہی سہی پونجی بھی گنوا بیٹھا۔ ۱۹۹۰ میں شوگر (ذیابیطس) ہوگئی، ساتھ ہی بعض دیگر عوارض نے گھیر لیا، مالی پریشانیوں کے ساتھ ساتھ صحت بھی متاثر ہوئی۔ ان دنوں سخت نقاہت اور کمزوری کا شکار ہوں۔ یہ ضروری محسوس ہوتا ہے کہ کسی مشن کے ساتھ دامے، درمے اور قدمے چلنے کے لیے اچھی صحت اور کسی حد تک معاشی حالت بہتر ہونا ضروری ہے، ورنہ سخنے تک ہی محدود ہونا پڑتا ہے۔
بحمدا للہ تعلیم یافتہ طبقے میںآپ کے قدردانوں کی تعداد برابر بڑھ رہی ہے۔ جن لوگوں نے گیارہ ستمبر (۹؍۱۱) کے بعد پاکستانی صدر پرویز مشرف کا قوم سے خطاب سنا ہے۔ دہشت گردی، انتہا پسندی کی مذمت، جہاد اکبر اور جہاد اصغر کی اصطلاحات وغیرہ کے بارے میں آپ نے جو لکھا یا تلقین کی، کم وبیش الفاظ کے نئے جامے کے ساتھ دہرایا گیا تھا۔ جو بھی معتدل مزاج کے ساتھ سوچے گا اور ملت کا حقیقی خیر خواہ ہوگا وہ تسلیم کرے گا کہ آپ کی سوچ اور فکر ہی صحیح اسلامی سوچ ہے۔ (ماشاء اللہ) اور اس پر عمل ہی سے مسلمانوں کے موجودہ مصائب اور پسماندگی کا خاتمہ ممکن ہے۔ اس کے علاوہ دیگر راستے بربادی کی طرف جاتے ہیں۔ یہاں بہت سے لوگ الرسالہ کے باقاعدہ قاری ہیں۔ (حفیظ الرحمن قریشی، لاہور)
جواب
اکثر لوگ یہی غلطی کرتے ہیں کہ وہ سروس وغیرہ کے ذریعے پیسے کماتے ہیں اور پھر کوئی ایسا شخص اُنھیں مل جاتا ہے جو اُن سے کہتا ہے کہ پیسہ تمہارا، اور محنت ہماری۔ اس طرح آؤ ہم دونوں مل کر کاروبار کریں۔مگر یہ طریقہ تقریباً ہمیشہ ناکام ثابت ہوتا ہے۔ اور پھر صاحب سرمایہ طرح طرح کی بیماریوں میں مبتلا ہو جاتے ہیں اور مایوسی کا شکار ہو کر رہ جاتے ہیں۔
اس طرح کی تجارتی شرکت کو میں عملی طور پر درست نہیں سمجھتا۔ ایسی شرکت ہمیشہ ناکامی پر ختم ہوتی ہے۔ اصل یہ ہے کہ تجارت ہر شخص نہیں کرسکتا۔ اور جو شخص عرصے تک سروس کرکے اس سے ریٹائر ہو وہ تو تجارت جیسے کام کے لیے بالکل نااہل ہوجاتا ہے۔
اب یہ ہوتا ہے کہ جب ایک سروس والا آدمی سرمایہ دیتا ہے اور تجارتی ذہن والا آدمی کام کرتا ہے تو بہت جلد غیر شعوری طورپر محنت کرنے والے آدمی کے اندر یہ ذہن بنتا ہے کہ سارا کام میںکرتاہوں اور یہ شخص صرف ایک بار کچھ پیسے لگا کر کاروبار میں مستقل حصّے دار بن گیا ہے۔ اس طرح دونوں میں دوری کا بیج پڑ جاتا ہے جو بڑھتے بڑھتے اختلاف اور علیٰحدگی کا سبب بن جاتا ہے۔ یہ علیٰحدگی ہمیشہ محنت کرنے والے کی موافقت میں ہوتی ہے اور پیسہ لگانے والے کے خلاف۔ اس بنا پر میری رائے ہے کہ اگر کسی کے پاس مذکورہ قسم کا سرمایہ ہوتووہ اپنے سرمایے کو بینک میں رکھ دے مگر وہ اس سے کاروباری شرکت کا معاملہ ہر گز نہ کرے۔
سوال
میںنے بہت ساری کتابیں، دینی رسالے، بخاری شریف، صحیح مسلم شریف، تاریخ اسلام اور معنٰی سے قرآن بھی پڑھا ہے۔لیکن میں اُن کو سمجھ نہیں پاتی تھی ۔ صرف عقیدے کے اعتبارسے میں اسلام میں شامل تھی لیکن الرسالہ پڑھنے کے بعد اسلام میرے لیے re-discover ہوا، اور میں سنجیدگی سے اسلام کو سمجھنے کی کوشش کرنے لگی۔ گویا مجھے معرفت الٰہی کا راستہ مل گیا۔
آپ کی کتاب پڑھنے سے پہلے میں بن لادن اور صدام جیسے لوگوں کو Islamic Hero اور Terrorist کو اسلامی مجاہدین سمجھتی تھی۔ غیر مسلم سے نفرت کرتی تھی۔ حالانکہ میری 60 فیصدسہیلیاں غیر مسلم ہیں۔ جب میں Hostel میں تھی تب وہ لڑکیاں میرے ساتھ نماز ادا کرتیں، کبھی کبھار رمضان کے ایک دو روزے بھی رکھ لیتی تھیں۔ وہ لوگ قرآن مجھ سے مانگتیں تو میں ہاتھ بھی لگانے نہیں دیتی۔لیکن الرسالہ سے مجھے پتہ چلا کہ اسلام کیا ہے، اس کا اصل مقصد کیا ہے۔ حدیث کو سمجھنے میں مدد ملی۔Dawah & Community Work میں فرق سمجھ میں آیا۔ رسول کی سیرت سمجھ میں آئی۔ اللہ تعالیٰ کے ظاہری صفات کو دیکھنے اور اُن پر غور کرنے کا ذہن بنا۔ انشاء اللہ جب بھی میں practice شروع کروں گی تو میں اپنی سہیلیوں کو ہندی قرآن اور الرسالہ ہندی کی کاپیاں دوں گی۔ میری سہیلیاں اسلام کے بارے میں پوچھتی ہیں۔ الرسالہ کے ذریعے اُن کو جواب دینے کی capability آئی۔ صحیح میں اللہ کے فضل سے میری de-conditioning ہوگئی۔ اللہ تعالیٰ آپ کو جزائے خیر دے۔ آپ کے مشن میں بے انتہا آپ کی مدد کرے اور مجھے خشوع والا ایمان نصیب کرے اور اُس پر خاتمہ کرے، آمین۔ دادا جان کی پُرانی الماری سے مجھے ۱۹۸۰ سے لے کر ۱۹۹۶ تک کا الرسالہ ملا ہے۔ آپ کی مزید کچھ کتابیں مجھے منگوانا ہے۔ (ڈاکٹر رابعہ، مہاراشٹر)
جواب
دوسری دینی کتابیں جو آپ نے پڑھیں اور ان میں آپ کو اطمینان حاصل نہیں ہوا اور ماہنامہ الرسالہ کے مطالعے سے آپ کو اطمینان حاصل ہوا۔ اس کا سبب یہ نہیں تھا کہ ماہنامہ الرسالہ میں دینی بات ہے اور دوسری کتابوںمیں دینی بات نہیںہے۔ حقیقت یہ ہے کہ دونوں ہی جگہ دینی باتیں ہیں۔ دونوں میں جو فرق ہے وہ خود دینی بات کے اعتبار سے نہیں ہے بلکہ وہ اسلوب کے اعتبار سے ہے۔ دوسرے علماء کی دینی کتابوں میں بھی دین ہی کی بات ہوتی ہے۔ مگر وہ قدیم روایتی انداز میں ہوتی ہے جب کہ ماہنامہ الرسالہ میں دین کی بات جدید عصری اسلوب(modern idiom) میں ہوتی ہے۔
اس فرق کی بنا پر ایسا ہے کہ دوسرے علماء کی کتابیں ان لوگوں کو خوب پسند آتی ہیں جو قدیم روایتی ذہن رکھتے ہیں۔ لیکن جو لوگ عصری افکار سے واقف ہیں اور اسلام کو جدید انداز میں سمجھنا چاہتے ہیں اُن کو اپنے ذہن کی تسکین صرف ماہنامہ الرسالہ میںہوتی ہے۔ کیوں کہ ماہنامہ الرسالہ میں جو مضامین چھپتے ہیں وہ سب کے سب زمانی تقاضوں کو سامنے رکھ کر لکھے جاتے ہیں۔اُن میں بالقصد ایسا انداز اختیار کیا جاتا ہے جو آج کے ذہن کو ایڈریس کرنے والا ہو۔
قدیم اسلوب کیا ہے اور جدید اسلوب کیا۔ اس فرق کو سادہ طورپر اس طرح سمجھا جاسکتا ہے کہ قدیم اسلوب کے مطابق، یہ بھی پورے معنوں میں ایک دلیل ہے کہ لکھنے والا یہ لکھے کہ ’’حضرت کا یہ ملفوظ ہے، علماء نے ایسا لکھا ہے، اکابر کی یہ رائے ہے‘‘ وغیرہ۔ اس کے مقابلے میں جدید اسلوب یہ ہے کہ جو بات کہی جائے وہ جدید معیار کے مطابق، دلیل کی زبان میں کہی جائے۔ گویا کہ دونوں میں جو فرق ہے وہ مغزِ کلام کے اعتبار سے نہیں بلکہ اسلوب کلام کے اعتبار سے ہے۔
سوال
قرآن کریم میں ہے کہ غیب کا علم سوائے خدا کے کسی کو نہیں معلوم۔ مگر فرعون کو معلوم تھا کہ ایک لڑکا اس کو ختم کرنے والا ہے۔ کیا یہ بات صحیح ہے (انیس فضل، سکندر آباد)
جواب
روایاتمیںیہ بات آئی ہے کہ فرعون نے ایک خواب دیکھا تھا یا نجومیوں نے اس کو بتایا تھا کہ بنی اسرائیل میں ایک لڑکا پیدا ہونے والا ہے جو فر عون کی سلطنت کو ختم کردے گا۔ مگر یہ بات درست نظر نہیں آتی۔ واضح ہو کہ قرآن یا حدیث میں ایسے کسی خواب یا نجومی کی پیشین گوئی کا حوالہ موجود نہیں ہے۔ یہ بات صرف اسرائیلی روایات (بائبل، تالمود) میں آئی ہے۔ انھیں اسرائیلی روایت سے نقل ہوکر وہ ہماری تفسیروں میں بھی آگئی ہے۔ مگر علمی طورپر یہ بنیاد اس کو ماننے کے لیے کافی نہیں۔
بظاہر جو بات صحیح ہے وہ یہ تھی کہ حضرت یوسف نے اپنے زمانے میں اپنے خاندان کو کنعان سے بلایا اور مصر آکر وہ وہاں کے زرخیز علاقوں میں آباد ہوگئے۔ ان کی نسل بڑھتی رہی یہاںتک کہ چند صدیوں میں وہ لوگ نہایت زور آور ہوگئے۔ حضرت یوسف کے تقریباً پانچ سو سال بعد مصر میں قومی انقلاب ہوا اور وہاں قبطی حکومت قائم ہوگئی۔ اس کے بادشاہ نے فرعون کا لقب اختیار کیا۔
بظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ فرعون کو بنی اسرائیل کا فروغ اپنے لیے ایک سیاسی خطرہ نظر آیا۔ اس نے مختلف طریقوں سے بنی اسرائیل کے زور کو توڑنے کی کوشش کی۔ ان میں سے ایک بنی اسرائیل کی محدود نسل کشی بھی ہے۔ اگر یہ نسل کشی مطلوب نوعیت کی ہوتی تو جلد ہی بنی اسرائیل کا وجود مٹ جاتا، اور حضرت موسیٰ کے زمانے میں خروج کی نوبت ہی نہ آتی۔
سوال
میںآپ کے الرسالہ کا قریب پانچ سال سے مطالعہ کررہا ہوں۔ آپ کے positive approach کا قائل ہی نہیں بلکہ موجودہ حالات میں اس کو بہت ضروری سمجھتا ہوں۔
لیکن کیا کسی چیز کو صحیح ٹھہرانے کے لیے کسی اور کو غلط کہنا ضرور ی ہے۔ کیا کسی کی تعریف کرنے کے لیے یہ ضروری ہے کہ دوسرے کی برائی کی جائے۔ جولائی ۲۰۰۴ کا الرسالہ میرے مطالعے میں ہے۔ کچھ سوالات ہمارے ذہن میں آئے ہیں۔ امید کرتا ہوں آپ الرسالہ ہی کے ذریعے جواب دیں گے،مشکور ہوں گا۔
۱۔کیا آپ اپنے صحیح مشن کی طرف بغیر مولانا مودودی، ڈاکٹر اقبال اور علّامہ یوسف القرضاوی کو بُرا بھلا کہے آگے نہیں بڑھ سکتے۔
۲۔ کیا دین اسلام کو صرف آپ ہی نے ٹھیک ٹھیک سمجھا ہے، باقی علماء گمراہ ہیں۔
۳۔ کسی جماعت کو کریڈٹ یا discredit دینے کا حق کس کو ہے۔ ایک شخص کو، عوام کو یا کسی ایجنسی کو۔
ہوسکتا ہے یہ سوالات آپ کی نظر میں اہمیت نہ رکھتے ہوں لیکن وہ ہمارے لیے کافی اہمیت کا باعث ہیں (سید غیاث الدین، رانچی)
جواب
یہ میرے اوپر ایک بے بنیاد الزام ہے کہ میں کسی کو برا بھلا کہتا ہوں۔ میری کسی بھی تحریر سے یہ ثابت نہیں کیا جاسکتا کہ میں نے کبھی وہ کام کیا ہے جس کو برا بھلا کہنا بتایا جاتا ہے۔ میں جو کچھ کرتا ہوں وہ تجزیاتی تنقید ہوتی ہے اور دونوں میں اتنا زیادہ فرق ہے کہ ایک سر تا سر ناجائزہے اور دوسرا جائز۔ حقیقت یہ ہے کہ میری تحریروں پر اس قسم کا تبصرہ وہی شخص کرسکتا ہے جو یہ نہ جانتا ہو کہ برا بھلا کہنے اور تجزیاتی تنقید کرنے میں کیا فرق ہے۔
کسی کو برا بھلا کہنا ایک حرام فعل ہے۔ اس فعل کو وہی شخص کرسکتا ہے جو خدا کی پکڑ کا خوف نہ رکھتا ہو۔ جہاں تک علمی تنقید کا تعلق ہے، وہ زندہ لوگوں کی علامت ہے۔ چنانچہ علمی تنقید اسلام کے ہر دور میں جاری رہی ہے۔ اصحاب رسول، تابعین، تبع تابعین، فقہاء، علماء، رہنما اور مفکرین اور مصنفین، ہر گروہ میں اور ہمیشہ علمی تنقید کارواج رہا ہے۔ آپ چاہیں تو اس کی تاریخی تفصیل راقم الحروف کی کتاب دین انسانیت میں دیکھ سکتے ہیں۔ حتٰی کہ آپ نے اپنے سوال میں جن شخصیتوں کے نام لیے ہیں خود ان کی نثر ونظم میں بھی کثرت سے تنقید کی مثالیں موجود ہیں۔ مثال کے طور پر اقبال کے بہت سے تنقیدی اشعار میں سے ایک شعر یہ ہے:
وضع میںتم ہو نصاریٰ تو تمدّن میں ہُنود یہ مسلماں ہیں جنھیںدیکھ کے شرمائیں یہود
سوال
ایک بڑی جماعت ہے جس کا نام ’’جماعت المسلمین‘‘ ہے۔ مسلمانوں کی یہ جماعت اس بات پر بہت زور دیتی ہے کہ اسلام میں فرقہ بندی نہیں بلکہ فرقہ بندی شرک ہے، لعنت ہے، کفر ہے اور عذاب ہے بلکہ فرقہ بندی حرام بھی ہے— ولاتفرقوا (القرآن)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میری امت کے ۷۲ فرقے جہنم میں جائیںگے اور ایک فرقہ جنتی ہے ،اور وہ ’’الجماعۃ‘‘ ہے۔
کتاب اللہ اور فرمانِ رسول کے مطابق، ـتمام مسلمانوں کو جماعت المسلمین سے جڑنا چاہیے اور اُس کے امیر کی اطاعت کرنی چاہیے اور تمام فرقوں سے علیٰحدہ رہنا چاہیے۔
تلزم جماعۃ المسلمین و امامہم۔ فاعتزل تلک الفرق کلہا (متفق علیہ) مزید برآں جماعت المسلمین کہتی ہے کہ اسلام نے اجتماعیت کو فر ض قر ار دیا ہے۔ علیکم بالجماعۃ وإیاکم والفرقۃ (ابو داؤد)
اور امیر کی بیعت نہ کرنے والا جاہلیت (کفر) کی موت مرتا ہے۔ لہٰذا ہر مسلم کو جماعت المسلمین کے امیر کے ہاتھ پر بیعت کرنی چاہیے۔ من مات ولیس فی عنقہ بیعۃ مات میتۃ جاہلیۃً (صحیح مسلم)
لہذا حکم رسول کے بموجب، جماعت المسلمین کے علاوہ تمام فرقوں سے دینی معاملات میں علیٰحدگی اختیار کرنی چاہیے۔ تاکہ ہر مسلم کی موت اسلام پر ہو نہ کہ فرقہ وارانہ مذاہب پر۔ مزید براں کہ جماعت المسلمین کے افراد اپنی جماعت کے علاوہ کسی مسلمان کو مسلم نہیں سمجھتی اور تمام دینی امور مثلاً صلوٰۃ، نمازِ جنازہ، شادی بیاہ اور رویت ہلال وغیرہ میںامت سے الگ رہتی ہے۔
براہِ کرم آپ کتاب وسنت کی روشنی میں وضاحت کریں کہ آیا اس قسم کا عقیدہ اسلامی تعلیمات کے مطابق ہے یا یہ عقیدہ غُلو میں داخل ہے جس سے قرآن نے سختی سے روکا ہے (لا تغلوا فی دینکم) (عبد اللطیف، کراچی)
جواب
مجھ کو قرآن وحدیث کا جو علم ہے اس کی روشنی میں میں کہوں گا کہ یہ خود سب سے بڑا گناہ ہے کہ کچھ لوگ بطورِ خود ایک جماعت بنائیں اور اس کا نام’’الجماعت ‘‘ رکھ کر یہ کہیں کہ یہی وہ’’الجماعت‘‘ ہے جس کا ذکر حدیثِ رسول میںآیا ہے۔ جو شخص ہماری جماعت میں شامل ہو وہ حق پر ہے اور جو اس میں شامل نہ ہو وہ باطل پر ہے۔ اس قسم کا فعل جماعت بندی یا فرقہ بندی ہے، اور یہی وہ تفرق ہے جس سے قرآن اور حدیث میں منع کیا گیا ہے۔
اس سلسلے میں مختلف حدیثوں کا مطالعہ کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ اسلام میں یہ مطلوب ہے کہ لوگ ہمیشہ اُمت کے مجموعے سے جُڑے رہیں، وہ امت کے مجموعے کو مختلف ٹکڑوں میں تقسیم نہ کریں۔ میرے نزدیک امت سے وابستہ رہنے کی تاکید جو حدیث میں کی گئی ہے وہ دُنیوی اتحاد کے اعتبار سے ہے۔ دنیا میں مسلمان ٹکڑے ٹکڑے ہو کر بحیثیت امت کمزور نہ ہوجائیں، اِس کے لیے ضروری ہے کہ لوگ اختلاف کے باوجود متحد ہو کر رہیں۔ اختلاف کی حالت میں اُس کے اوپر کوئی دینی فتویٰ نہ لگائیں بلکہ اجتماعیت کو برقرار رکھتے ہوئے اس کے معاملے کو خدا کے اوپر ڈال دیں۔ اسی لیے علماء نے یہ فتویٰ دیا ہے کہ: لا نکفّر من أہل القبلۃ۔ یعنی جو شخص قبلے کی طرف رُخ کرکے نماز ادا کرے اس کی تکفیر نہیں کی جائے گی۔
جہاں تک اُس ’’الجماعت‘‘ کی بات ہے جو آخرت میں جہنم سے محفوظ رہے گی اور جنت میں جگہ پائے گی، اُس کا تعلق کسی خود ساختہ جماعت یا فرقے سے نہیں بلکہ اس کا تعلق ایک ایسے گروہ ِ افراد سے ہے جو اللہ تعالیٰ کے نزدیک ’’الجماعۃ‘‘ قرار پائے۔
مذکورہ حدیث میں جس ’’الجماعۃ‘‘ کا ذکر ہے اس سے مراد معروف معنوں میں کوئی تنظیم نہیںہے۔ کسی خود ساختہ جماعت کو ’’الجماعۃ‘‘ کہنا اپنے آپ کو اِس خطرے میں ڈالنا ہے کہ ایسے لوگ کبھی ’’الجماعت‘‘ (فرقۂ ناجیہ) میں شامل نہ کیے جائیں۔ حقیقت یہ ہے کہ اس حدیث میںالجماعت سے مراد متفرق افراد کا گروہ ہے نہ کہ کوئی منظم جماعت، جو صدر اور سکریٹری کے تحت وجود میں آتی ہے۔ اس مطلوب الجماعت کی پہچان یہ ہے کہ وہ مَن کان علی ما أنا علیہ وأصحابی(ابوداؤد) کا مصداق ہو۔ یعنی وہ پوری سنجیدگی اور دیانت داری کے ساتھ رسو ل اور اصحاب رسول کو اپنا اُسوہ بنائے۔ وہ ہر معاملے میں یہ دیکھے کہ دورِ اوّل میں جب اس قسم کی صورت حال پیدا ہوئی تو رسول اور اصحابِ رسول نے اُس موقع پر کس قسم کی روش اختیار کی۔ اورپھر رسول اور اصحاب رسول کے یہاں جو روش ملے اُس کو کسی تاویل کے بغیر اختیار کرلے۔
آپ نے اپنے خط میں جس جماعت کا ذکر کیا ہے وہ بلاشبہہ اُس برائی کا شکار ہے جس کو قرآن اور حدیث میں غُلو کہا گیا ہے۔ جب آپ کسی کو ایسی حالت میں دیکھیں جو آپ کے نزدیک بُرائی ہے تو آپ کو صرف یہ حق ہے کہ پوری خیر خواہی اور دل سوزی کے ساتھ اس کو نصیحت کریں، اور اپنی تنہائیوں میں اس کے لیے رو کر دعا کریں۔ ضروری دلائل کے ساتھ اس کو مطمئن کرنے کی کوشش کریں تاکہ وہ اپنی بری روش کو چھوڑ دے۔ اس قسم کی پُر امن اور خیر خواہانہ نصیحت کا حق ہر شخص کو ہے۔ لیکن جب کوئی شخص نصیحت سے آگے بڑھ کر یہ کرے کہ وہ برائی کرنے والے پر حُکم لگانے لگے، وہ برائی کرنے والے کا بائیکاٹ کرے، وہ برائی کرنے والے کے خلاف تشدد کو جائز سمجھے تو یہ دوسری صورت غلو کی صورت ہوگی اور غلو بلا شبہہ اسلام میں جائز نہیں۔
سوال
ایک مقرر صاحب نے دورانِ خطاب آپ کے بارے میں کہا کہ آپ جہاد کے بارے میں کہتے ہیں کہ محدثین کرام نے کتاب الجہاد وغیرہ باب باندھے لیکن کتاب الدعوات وغیرہ جیسے باب نہیں باندھے۔ یہ ایک آپ کا تنقیدی پہلو ہے اورعلماء سوء وغیرہ کہہ رہے تھے کہ ایسے عالم کا اعتراض کوئی معمولی نہیں ۔ گویا ان کی تنقید کا انکاری پہلو انکار جہاد ہے اور رسول ﷺ پر تنقید کرنا ، آپ پر عیب لگانے کے برابر، اور آپؐ پر تنقید کرنے کے برابر ہے۔
ہم اس کی وضاحت چاہتے ہیں۔ چونکہ آپ دین اسلام کی خاطر اتنی کتابیں تالیف وتصنیف کرتے ہیں۔ پھربھی آپ پر یہ الزام حقیقی ہے یا آپ سے سہو ہوا ہے اور آپ بتقاضۂ بشریت تسلیم کرتے ہیں کہ مجھ سے فلاں غلطی ہوئی۔ (عتیق الرحمن قریشی، کرناٹکی)
جواب
میں نے جو بات لکھی ہے اس کا تعلق حدیث سے نہیں ہے بلکہ اُس کا تعلق تدوین حدیث سے ہے۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی جو احادیث ہیں خود اُن میں کثرت سے دعوت یا دعوت کے متعلق موضوعات کا بیان موجود ہے۔ مگر تدوین کا تعلق ان لوگوں سے ہے جن لوگوں نے احادیث کو مرتب اور مدوّن کیا۔ اس اعتبار سے یہ ایک واقعہ ہے کہ حدیث کے موجودہ مجموعوں میں اُن کے مرتبین نے کتاب الدعوۃ والتبلیغ کا باب قائم نہیں کیا۔ ان مجموعوں کے اندر ہم کثرت سے ایسی حدیثیں پاتے ہیں جن میں دعوت کا پہلو موجود ہے۔ میں نے اپنی کتابوں اور تحریروں میں ایسی احادیث کو کثرت سے نقل کیا ہے۔ مگر جہاں تک مرتبین حدیث کی بات ہے، اُنھوں نے احادیث کو مرتب کرتے ہوئے دوسرے ابواب تو قائم کیے مگر کتاب الدعوہ والتبلیغ کی فصل قائم نہیں کی۔
اس معاملے میں جو کچھ میںنے کہا ہے وہ ایک علمی بات ہے۔ اگر کسی صاحب کا خیال ہے کہ میرا قول درست نہیں تو وہ حدیث کے مجموعوں کا حوالہ دیکھ کر بتائیں کہ ان میں کتاب الدعوۃ والتبلیغ کہاں ہے۔ ایسا کہنا صرف بے بنیاد (سب وشتم) ہے۔ وہ کوئی علمی اعتراض نہیں۔
سوال
الرسالہ جولائی ۲۰۰۴ ’’واردھا کا سفر‘‘ ابھی ابھی تمام ہوا۔ صفحہ ۲۰ پرآپ نے لکھا ہے کہ ’’گوتم بدھ دراصل ذو الکفل کی بدلی ہوئی صورت ہے‘‘۔ مگر بظاہر یہ نظریہ ناقابل فہم معلوم ہوتا ہے۔‘‘…
میرے نزدیک قصہ یوں ہے کہ گوتم بدھ کا تعلق کپل وستو سے تھا۔ دہلی یا دلی کی نسبت سے دہلوی، دلی والی یا دلی والا بولنا سمجھنا عام ہے اسی طرح کپل والا کو ذوالکفل کا مترادف سمجھ کر گوتم بدھ کی طرف بعض علماء و مفسرین کا ذہن گیا ہے۔ دوسرے گوتم بدھ کی سیرت اور تعلیمات پر نگاہ رکھتے ہوئے مولانا گیلانی (مؤلف سوانح قاسمی) ’’النبی الخاتم‘‘ میںیہ تحریر فرماتے ہیں کہ ’’اللہ پاک نے طلوع اسلام سے پہلے ایشیا کے بہت بڑے خطے کو مشرکانہ افکار سے پاک کرنے اور توحید کا پیغام عام کرنے کے لیے گوتم بدھ سے کام لیا تاکہ اسلام کے لیے مستقبل کی زمین ہموار ہورہے اور تاریخی اعتبار سے ایسا ہی ہوا‘‘ اس لیے استنباطاً یا قیاساً انھیں (گوتم بدھ کو) اس زمرے میں شامل ہونے کا امکان ظاہر کیا جاتا ہے جس کی طرف آپ نے مذکورہ بالا صفحے پر اشارہ فرماتے ہوئے اسے ناقابل فہم قرار دیا ہے۔ براہِ مہربانی اس کی وضاحت کریں۔ (محمد رضوان احمد خاں، شیخ پورہ، بہار)
جواب
جو لوگ گوتم بدھ کو پیغمبر بتاتے ہیں ان کے پاس اس کے لیے کوئی تاریخی دلیل موجود نہیں۔ ذوالکفل سے دور کی لفظی مشابہت کوئی قابل قبول ثبوت نہیں ہوسکتی۔ مزید یہ کہ گوتم بُدھ کے یہاں صرف انسانی اخلاقیات کی تعلیم ہے۔ خدا کے وجود یا توحید کا تصور ان کے یہاں موجود نہیں ہے۔ ایسی حالت میں گوتم بُدھ کو پیغمبر بتانا محض ایک لفظی نکتہ ہے، نہ کہ کوئی دلیل۔
اس قسم کی دلیل کو اگر معتبر مانا جائے تو یہ کوئی سادہ بات نہ ہوگی۔ آپ ایسا نہیں کرسکتے کہ ایک اُصولِ استدلال کو آپ اپنے لیے استعمال کریں اور جب اس اصول استدلال کو لے کر دوسرا شخص اپنے حق میں کوئی دلیل قائم کرے تو اس کو ماننے سے انکار کردیں۔ غالباً آپ کو معلوم ہوگا کہ لفظی مشابہت کے اس طریقۂ استدلال کو لے کر لوگوں نے ہر غلط عقیدے کو قرآن میں دریافت کرلیا ہے اور مزید اس قسم کی دریافت کا سلسلہ جاری ہے۔
سوال
پوجیہ ور مولانا صاحب! آداب وتسلیمات
کتاب ’’تذکرۃ الاولیاء‘‘ میں حضرت با یزید بُسطامی ؒ کا جیون چرتّر پڑھا۔اس میں آیا ہے: ’’کسی نے آپ سے پوچھا کہ آپ رات کو نماز کیوں نہیں پڑھتے؟ فرمایا کہ مجھے عالَمِ مَلکوت (یعنی عالم ارواح) کے چکر لگانے سے فرصت نہیں ملتی۔ اس کے علاوہ لوگوں کی اعانت کرتا رہتا ہوں۔‘‘
اس جواب سے یہ پتہ نہیں چلتا کہ آپ عالم ملکوت کے چکر رات بھر کیوں لگاتے رہتے تھے؟ کِرپا کرکے اس کو سمجھانے کی مہربانی کریں۔ اس کی پرارتھنا ہے۔ کَسٹ کے لیے چھما چاہتا ہوں۔ سب کو سادَر سلام، پَرنام۔
آپ کا کرپا پاتر رام دیو
GH-4/276, Paschim Vihar
New Delhi- 110063
جواب
بھائی رام دیو جی! آداب وتسلیمات
آپ کا خط مورخہ ۱۴ جولائی ۲۰۰۵ ملا۔ یہ جان کر خوشی ہوئی کہ آپ کو روحانیت کے سبجیکٹ میں انٹرسٹ ہے۔ خدا اس معاملے میں آپ کی بھرپور مدد کرے۔
میں بھی روحانیت کا ایک طالب علم ہوں۔ اگر چہ میں کوئی پروفیشنل صوفی نہیں ہوں۔ مگر روحانیت میری فطرت میں بسی ہوئی ہے۔ اگر میں یہ کہوں تو غلط نہ ہوگا کہ میں روحانیت میں جیتا ہوںاور روحانیت میں صبح و شام کرتا ہوں۔
میرا تجربہ ہے کہ لوگ روحانیت کے نام پر ایک اور چیز کو لیے ہوئے ہیں۔ وہ روحانیت کے نام سے روحانیت کی صرف ایک کمتر صورت (reduced form) کو جانتے ہیں۔
تذکرۃ الاولیاء اور اس طرح کی دوسری تمام کتابیں روحانیت کو جاننے کا صرف ناقص ذریعہ ہیں۔ یہ کتابیں دو قسم کی غیر متعلق باتوں سے بھری ہوئی ہیں—فرضی تمثیلات، اور فرضی کہانیاں۔ آپ نے ایک صوفی کے ’’ملکوتی سفر‘‘ کے بارے میں جو بات لکھی ہے، وہ محض ایک بے بنیاد کہانی ہے۔ اُس کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں۔
اصل یہ ہے کہ پرنٹنگ پریس اور جدید میڈیا کے زمانے سے پہلے ہر جگہ قصہ گو (story tellers) ہوا کرتے تھے۔ یہ لوگ انوکھی کہانیاں بنا بنا کر لوگوں کو سنایا کرتے تھے۔ یہ گویا قدیم زمانے میں تفریح (entertainment) کا ایک سادہ ذریعہ تھا۔ بعد کو یہ کہانیاں لکھ لکھ کر کتابوں میں جمع ہو گئیں۔ پھر وقت گذرنے کے بعد وہ مقدس ہوگئیں۔ مسیحی روایات میں اِن کہانیوں کو ’’مقدس فریب‘‘ (pious fraud)کہا جاتا ہے۔ اور اسلام میں ان کو ’’موضوعات‘‘ کہاگیا ہے۔ ہندو کلچر میں بھی اس قسم کی بے اصل کہانیاں بھری ہوئی ہیں جن کو ’’دیومالائی کہانیاں‘‘ کہا جاتا ہے۔
ہم سینٹر فار پیس اینڈ اسپریچولٹی (CPS)کے تحت صحیح روحانیت کو زندہ کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔ اس روحانیت کو آپ سائنٹفک روحانیت (Scientific spirituality) کہہ سکتے ہیں۔ اس سلسلے میں ہم نے بہت سی کتابیں شائع کی ہیں۔ اس کے علاوہ ہر ہفتے ہمارے یہاں اسپریچول کلاس نیز دوسرے پروگرام ہوتے ہیں۔ ہماری اس تحریک کے ساتھ بہت سے لوگ جڑے ہوئے ہیں۔ خدا کے فضل سے روحانی احیاء کا یہ کام مسلسل آگے بڑھ رہا ہے۔
واپس اوپر جائیں

خبرنامہ اسلامی مرکز ۱۷۲

۱۔ نئی دہلی میںانڈیا انٹرنیشنل سینٹر کے نام سے ایک ادارہ ہے جو ایشیا کا سب سے بڑا ادارہ سمجھا جاتا ہے۔ حال میں اُس کے تحت صدر اسلامی مرکز کے تین پروگرام ہوئے۔ ایک خود انڈیا انٹرنیشنل سینٹر کے زیر انتظام اور دو گڈورڈ بکس(Goodword Books) کے زیرِ انتظام ۔ ان کی تفصیل یہ ہے:
۱۔ دی مسیج آف قرآن (The Message of Quran) یکم مئی ۲۰۰۵۔
۲۔ اسنس آف اسلام (Essence of Islam) ۵ جولائی ۲۰۰۵۔
۳۔ گاڈ اینڈ ہز کرییشنپلان(God and His Creation Plan) ۱۰ جولائی ۲۰۰۵۔
یہ تینوں پروگرام کافی کامیاب رہے۔ ہر ایک میں ہندو اور مسلمان دونوں طبقے کے تعلیم یافتہ افراد نے شرکت کی۔ تینوں پروگراموں کے موقع پر اسلامی مرکز کا بک اسٹال رکھا گیا۔ لوگوں نے بڑی تعداد میں کتابیں اور پمفلٹ اور بروشر حاصل کیے۔
۲۔ مظفر نگر کے ایک گاؤں میں ۴ جون ۲۰۰۵ کو ایک واقعہ ہوا۔ اخباری رپورٹ کے مطابق، ایک مسلم خاتون عمرانہ کے خسر علی محمد نے عمرانہ کے ساتھ جنسی زیادتی کی (شوہر کا نام نور محمد ہے)۔ یہ واقعہ میڈیا میں بہت زیادہ پھیلا۔ یہ واقعہ انگریزی میگزین آؤٹ لُک کے شمارہ ۱۸ جولائی ۲۰۰۵ میں تفصیل کے ساتھ شائع ہوا ہے۔ اسٹار نیوز نے اس واقعے پر ۶ جون ۲۰۰۵ کو صدر اسلامی مرکز کا انٹرویو لیا۔ جوابات کا خلاصہ یہ تھا کہ دستیاب معلومات کے مطابق، اس معاملے میں عمرانہ قصور وار نہیں ہے بلکہ اُس کا خُسر قصور وار ہے۔ دوسری بات یہ کہ ہندستان میں سزا دینے کا اختیار کسی دارالافتاء یا دار القضاء کو نہیں ہے۔ اُس کا اختیار تمام تر صرف ملکی عدالت کو ہے۔
۳۔ اسٹار نیوز (نئی دہلی) نے عمرانہ کے واقعہ (۴ جون ۲۰۰۵) پر صدر اسلامی مرکز کا دوسرا انٹرویو لیا۔ یہ انٹرویو لائیو ٹیلی کاسٹ ہوا۔ اس میں جو بات کہی گئی اس میں سے ایک یہ تھی کہ ہم کو اس معاملے میں میڈیا سے شکایت نہیں ہونی چاہیے۔ اس کا کوئی فائدہ نہیں۔ اصل ضرورت یہ ہے کہ مسلمانوں کے اندر اصلاح معاشرہ کی تحریکیں چلائی جائیں اور مسلمانوں کو زیادہ سے زیادہ تعلیم یافتہ بنایا جائے۔
۴۔ نئی دہلی کے ہندی روزنامہ مہا میگھا کے نمائندہ مسٹر سنجے کمار شاہ نے ۱۰ جون ۲۰۰۵ کو صدر اسلامی مرکز کا تفصیلی انٹرویو ریکارڈ کیا۔ سوالات کا تعلق زیادہ تر مسلم تہذیب اور مسلم عورتوں کے مسائل سے تھا۔ جوابات کا خلاصہ یہ تھا کہ اسلام میںعورتوں کو پورے معنوں میں مرد کے برابر درجہ دیا گیا ہے۔ موجودہ زمانے میں اگر اِس اعتبار سے مسلم سماج میں کچھ کمی نظر آتی ہے تو وہ خود مسلمانوں کے اپنے عمل کی بنا پر ہے۔ اس کا تعلق اسلامی تعلیمات سے نہیں۔
۵۔ ۲۵ جون ۲۰۰۵ کو ای ٹی وی (نئی دہلی) کی ٹیم نے صدر اسلامی مرکز کا انٹرویو ریکارڈ کیا۔ اس کا تعلق مظفر نگر کے واقعہ (۴جون ۲۰۰۵) سے تھا۔ جواب میں کہا گیا کہ اس معاملے میں مسلم علماء کی طرف سے جو رویّہ سامنے آیا وہ درست نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ اس معاملے میں عمرانہ بے قصور ہے۔ سارا قصور اس کے خسر کا ہے۔ مگر علماء نے برعکس فتوے دے کر خواہ مخواہ اسلام کو بدنام کیا ہے۔ یہ فتویٰ تمام مسلم علماء کا نہیں ہے۔ بلکہ صرف دیوبندکے علماء کا فتویٰ ہے۔ جہاں تک سلفی علماء کا تعلق ہے، وہ اس فتوے سے اتفاق نہیں کرتے۔
۶۔ بی بی سی لندن کے کرسپانڈنٹ مسٹر شکیل اختر نے ۲۹ جون ۲۰۰۵ کو صدر اسلامی مرکز کا تفصیلی انٹرویو ریکارڈ کیا۔ سوالات کا تعلق زیادہ تر آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ سے تھا۔ جوابات کا خلاصہ یہ تھا کہ ۱۹۴۷ کے بعد ہندستان میں دو آل انڈیا مسلم تنظیمیں بنی ہیں، آل انڈیا مسلم مجلس مشاورت اور آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ۔ یہ دونوں تنظیمیں حالات کے ری ایکشن کے تحت ہی بنیں۔ آل انڈیامسلم مجلس مشاورت فرقہ وارانہ فساد کے ردّ عمل کے تحت بنی اور آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ شاہ بانو کے کیس پرسپریم کورٹ کے فیصلے کے ردّ عمل میں بنا۔ یہ دونوں تنظیمیں ’’میری تعمیر میںمضمر ہے ایک صورت خرابی کی‘‘ کا مصداق تھیں۔ اس لیے دونوں تنظیمیں بے نتیجہ رہیں۔ یہ فطرت کا قانون ہے کہ اس دنیا میں منفی عمل سے کبھی کوئی مثبت نتیجہ نہیں نکلتا۔
۷۔ فاؤنڈیشن فار یونٹی آف ریلیجنز اینڈ انلائٹنڈ سٹیزنشپ (FUREC) کے زیر اہتمام نئی دہلی میں ایک دھرم سمّیلن ہوا۔ اس کی کارروائی اَدھیاتم سادھنا کیندر (مہرولی) میں ہوئی۔ اس میں مختلف مذاہب کے نمائندوں نے شرکت کی۔ اس کی دعوت پر صدر اسلامی مرکز اس میں شریک ہوئے اور روحانیت کے موضوع پر ایک تقریر کی۔ انھوں نے کہا کہ ہماری آج کی دنیا امتحان کے لیے بنائی گئی ہے۔ اس لیے یہاں پھول کے ساتھ کانٹے ہیں۔ یہاں ہر قسم کے مسائل ہیں جن کو قرآن میں کبد کہا گیا ہے۔ انسان کو یہ کرنا ہے کہ وہ ان مسائل کے خلاف چیخ پکار نہ کرے۔ بلکہ وہ ان مسائل کے درمیان مثبت زندگی گزارے۔ اسی کا نام روحانیت ہے۔ یہ سیمینار ۳۰ جون ۲۰۰۵ کو مہرولی میں ہوا۔ اس کے کوآرڈینیٹر بریگیڈئر پی کے لنگر تھے۔
۸۔ گاڈس گریس فاؤنڈیشن (God's Grace Foundation) دہلی کا ایک تعمیری ادارہ ہے۔ اس کے ڈائریکٹر ڈاکٹر سید ظفر محمود ہیں۔ اس ادارے کے تحت، یکم جولائی ۲۰۰۵ کو ایک انٹرنیشنل سیمینار ہوا۔ اس میں امریکا کے آٹھ پروفیسر شریک ہوئے۔ انڈیا سے ہر مذہب کے نمائندوں نے شرکت کی۔ اس کی دعوت پر صدر اسلامی مرکز بھی اس میں شریک ہوئے۔ اِس سیمینار کا موضوع یہ تھا:
Interfaith Bridge-building Session
صدر اسلامی مرکز نے اپنی تقریر میں قرآن اور حدیث کی روشنی میں مذکورہ موضوع پر خطاب کیا۔ اس سیمنار کی کارروائی سردار پٹیل بھون (نئی دہلی) میں ہوئی۔ صدر اسلامی مرکز کے ساتھ اسپریچول کلاس کے گیارہ اَفراد شریک ہوئے۔ اِن اَفراد نے سیمینار کے شُرکاء سے ملاقاتیں کیں اور ان کو اسلامی لٹریچر دیا۔ لوگوں نے بہت شوق سے اسلامی لٹریچر کو لیااور کہا کہ وہ ضرور اس کا مطالعہ کریں گے۔
۹۔ یو۔ این ۔ آئی (نئی دہلی) کی نمائندہ ناز اصغر نے ٹیلیفون پر ۲؍ جولائی ۲۰۰۵ کو صدر اسلامی مرکز کا انٹرویو لیا۔ سوالات کے جواب میں بتایا گیا کہ مسلمانوں میں پانچ بڑے فقہی اسکول ہیں—مالکی، حنبلی، شافعی، حنفی اور جعفری۔ ہر مکتب فکر کے علماء اپنے مسلک پر فتوے دیتے رہتے ہیں۔ ان میں سے کسی کے فتوے کو شرعی فتویٰ نہیں کہا جاسکتا ۔ ہر فتویٰ اپنے فقہی اسکول کی طرف منسوب رہے گا اور لوگوں کو یہ حق باقی رہے گا کہ وہ قرآن و حدیث کی روشنی میں اس کو جانچیں اور اگر وہ پائیں کہ یہ فتویٰ قرآن و حدیث سے مطابق نہیں ہے تو وہ اس کو ردّ کردیں۔
۱۰۔ نئی دہلی کے انگریزی اخبار وجے ٹائمس (Vijay Times) کی نمائندہ دیکشا چوپڑا نے ۲ جولائی ۲۰۰۵ کو صدر اسلامی مرکز کا تفصیلی انٹرویو لیا۔ اس انٹرویو کا تعلق زیادہ تر انڈیا کے مسلمانوں کے مسائل سے تھا۔ جوابات کا خلاصہ یہ تھا کہ یہ بات اپنی جگہ صحیح ہے کہ انڈیا کے مسلمان مختلف قسم کے مسائل سے دوچار ہیں مگر ان مسائل کے بارے میں یہ سمجھنا غلط ہے کہ ان کا سبب مذہب اسلام ہے۔ ان مسائل کے اسباب کچھ اور ہیں۔ مثلاً عمرانہ (۴ جون ۲۰۰۵) کے واقعے کا سبب جہالت ہے۔ جس کا اظہار اس سے ہوتا ہے کہ عمرانہ کا شوہر نور محمد ایک رکشہ چلانے والا ہے۔ تعلیم یافتہ مسلمانوں کے درمیان اس قسم کے مسائل نہیں ہیں۔ اسی طرح کٹر پن بھی کم پڑھے لکھے مسلمانوں کا ظاہرہ ہے۔ تعلیم یافتہ مسلمانوں میں یہ چیز موجود نہیں ہے۔ ایک اور سوال کے جوا ب میں بتایا گیا کہ مسلمانوں کے مسائل کا حل کامن سول کوڈ نہیں۔ کامن سول کوڈ جیسا ایک ایکٹ (سول میرج ایکٹ) آج بھی موجود ہے مگر ہندستانی سماج پر اس کا اثر ایک فی صد بھی نہیں۔ ان مسائل کو صحیح طورپر سمجھنے کے لیے ضروری ہے کہ اسلام اور مسلمانوں میں فرق کرتے ہوئے ان کو دیکھا جائے۔
۱۱۔ روزنامہ دَینک جاگرن (نئی دہلی) کے نمائندہ ارشد فریدی نے ۲ جولائی ۲۰۰۵ کو صدر اسلامی مرکز کا انٹرویو لیا۔ سوالات کا تعلق مظفر نگر کے واقعہ (۴ جون) سے تھا۔ جواب میں بتایا گیا کہ اس معاملے میں علماء اور جماعتوں کا فتویٰ غلط ہے۔ اسلام کے مطابق، سزا برا فعل کرنے والے کو ملے گی نہ کہ بالجبر برے فعل کا شکار ہونے والے کو۔ میرے نزدیک اس معاملے میں عمرانہ بے قصور ہے۔ اس معاملے کی تفصیلی روداد انگریزی میگزین آؤٹ لُک (Out Look) کے شمارہ ۱۸ جولائی ۲۰۰۵ میں دیکھی جاسکتی ہے۔
۱۲۔ اٹلی میں ایک تنظیم ایسوشیزون کلچریل ارمونیا(Associazione Culturale Armonia) کے نام سے ہے۔ اُس کا صدر دفتر نوالے (Noale) میں قائم ہے۔ اس تنظیم کا ایک وفد اُس کے صدر ایٹمبری ماریو (Atombri Mario) کی قیادت میں ۳ جولائی ۲۰۰۵ کو نئی دہلی آیا اور صدر اسلامی مرکز سے ملاقات کی۔ اُنھوں نے تقریباً دو گھنٹے تک اسلام اور روحانیت کے موضوع پر گفتگو کی۔ اسلام کے روحانی تصور سے وہ بہت متاثر ہوئے۔ اُنھیں اسلامی مرکز کی انگریزی مطبوعات دی گئیں۔ اس کے علاوہ ان کی فرمائش پر اُن کو یہ دعا لکھ کر دی گئی: اَللہم أنت السلام ومنک السلام وإلیک یرجع السلام، اللہم حیینا بالسلام وادخلنا دارک دار السلام۔ تبارکت ربنا وتعالیت یا ذا الجلال والاکرام۔ اس دعا کو اُنھیں رومن رسم الخط میں لکھ کر دیا۔ اُنھوں نے کہا کہ یہ دعا ہم کو بہت پسند ہے اور ہم اس کو اپنے کارکنوں کی مجلس میں باقاعدہ وِرد کے انداز میں پڑھیں گے۔
۱۳۔ ۵ جولائی ۲۰۰۵ کو اجودھیا میں قدیم بابری مسجد کے علاقے میں خود کُش حملہ ہوا۔ اس سلسلے میں نئی دہلی کے آج تک ٹی وی اور انڈیا ٹی وی نے صدر اسلامی مرکز کا انٹرویو لیا۔ دونوں میں یہ کہاگیا کہ اس قسم کا واقعہ ہر حال میں قابل مذمت ہے۔ اسلام میں تشدد جائز نہیں۔ صرف حکومت یا عدالت تحقیق وتفتیش کے بعد بقدر ضرورت تشدد کا فیصلہ کرسکتی ہے۔ عوام کو کسی حال میں تشدد کی اجازت نہیں۔
۱۴۔ ہندی روزنامہ مہامیگھا ¼egkes?kk½ کے نئی دہلی کے نمائندہ مسٹر سنجے کمار شاہ نے ۱۳ جولائی ۲۰۰۵ کو صدر اسلامی مرکز کا تفصیلی انٹرویو لیا۔ سوالات کا تعلق زیادہ تر ’’آتنک واد اور اسلام‘‘ سے تھا۔ جواب میں تفصیل کے ساتھ بتایا گیا کہ آتنک واد کا فعل جو آج آپ دیکھ رہے ہیں وہ مسلمانوں کا فعل ہے وہ اسلام کی تعلیمات کا نتیجہ نہیں۔
۱۵۔ اسلامی مرکز کے تحت اسپریچول کلاس کا ہفتے وار سلسلہ جنوری ۲۰۰۱ سے جاری ہے۔ اب تک یہ کلاس سی۔۲۹ نظام الدین ویسٹ میں ہورہی تھی۔ ۱۷ جولائی ۲۰۰۵ سے اس کا سلسلہ سی ۔۱، نظام الدین ویسٹ مارکٹ میں شروع کیا گیا ہے۔ اس کلاس میں ہندو اور مسلمان دونوں فرقوں کے تعلیم یافتہ لوگ شریک ہوتے ہیں۔ چوں کہ شرکاء کی تعداد کافی بڑھ گئی تھی اس لیے جگہ بدلنے کا فیصلہ کیا گیا۔
۱۶۔ ایک نئی کتاب زیر ترتیب ہے۔ یہ رسول اللہ ﷺ کے اصحاب کے حالات پر مشتمل ہوگی۔
۱۷۔ مالدیپ میں عرصے سے ماہنامہ الرسالہ جارہا ہے۔ نیز الرسالہ مطبوعات بھی وہاں بڑی تعداد میں پہنچی ہیں۔ اب مالدیپ کے کچھ لوگ الرسالہ مطبوعات کا ترجمہ وہاں کی مقامی زبان میں شائع کررہے ہیں۔ اب تک اس قسم کے کئی ترجمے شائع ہوچکے ہیں۔ اس سلسلے میں ہمیں مالدیپ سے ایک خط موصول ہوا ہے۔ اس کو یہاں نقل کیا جاتا ہے:
واپس اوپر جائیں