Pages

Monday, 1 January 2007

Al Risala | January 2007 (الرسالہ،جنوری)

1

- ایک علمی بُرائی— دعویٰ بلا دلیل

2

- مراسلت نمبر — ۱

5

- مراسلت نمبر — ۲

8

- مراسلت نمبر — ۳

14

- مراسلت نمبر — ۴

18

- مراسلت نمبر — ۵

20

- مراسلت نمبر — ۶

21

- مراسلت نمبر — ۷

23

- مراسلت نمبر — ۸

28

- مراسلت نمبر — ۹

30

- مراسلت نمبر — ۱۰

32

- مراسلت نمبر — ۱۱

39

- مراسلت نمبر — ۱۲


ایک علمی بُرائی— دعویٰ بلا دلیل

بینک کی اصطلاح میں ڈَڈچیک(Dud Cheque) ایسے چیک کو کہا جاتا ہے جس کے پیچھے بینک کے کھاتے میں ضروری سرمایہ موجود نہ ہو۔ مثلاً آپ کے بینک کے کھاتے میں صرف ایک ہزار روپیہ موجود ہو اور آپ پچاس ہزار روپیے کا چیک لکھ کر کسی کو دے دیں تو یہ ڈڈ چیک ہوگا۔ کیوں کہ یہ چیک جب بینک میں جائے گاتو بینک یہ کہہ کر ایسے چیک کو رد کردے گا کہ لکھنے والے کے کھاتے میں بقدر ضرورت سرمایہ موجود نہیں۔
بہت سے لوگ اپنے نقطۂ نظر کی حمایت میں جو دلیل پیش کرـتے ہیں وہ ڈڈ چیک کی مانند ہوتی ہے۔ وہ بڑی بڑی باتیں لکھتے اور بولتے ہیں لیکن جب ان سے ان کے دعوے کی دلیل مانگی جائے تو وہ ایسی باتیں لکھتے اور بولتے ہیں جو علمی اعتبار سے بالکل بے وزن اور دلیل کے سرمایے سے خالی ہوتی ہیں۔
مجھے بار بار اس قسم کے تلخ تجربات پیش آئے ہیں۔ مزید یہ کہ جب میں نے ایسے حضرات کو متنبّہ کیا اور ان سے ان کے قول کی دلیل مانگی تو وہ یا تو چپ ہوگیے یا ایک اور بے دلیل بات اپنی تائید میں پیش کردی۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ لوگوں کے اندر نہ تو علمی ذوق ہے اور نہ علمی جرأت۔ وہ بظاہر ڈگری یافتہ یا سند یافتہ ہونے کے باوجود مدلّل بات کہنے سے قاصر ہیں، اور مزید یہ کہ ان کے اندر اِس اعتراف کی جرأت بھی نہیں کہ وہ کھلے طورپر یہ کہہ سکیں کہ —ہم غلطی پر تھے۔میں نے اِس معاملے میں کئی حضرات سے خط وکتابت کی۔ اِس سلسلے میں کچھ خط وکتابت اگلے صفحات میں نقل کی جارہی ہے۔
واپس اوپر جائیں

مراسلت نمبر— ۱

سہ ماہی مجلّہ تحقیقاتِ اسلامی (علی گڈھ) کے معاون مدیر اور ادارہ تحقیق و تصنیف اسلامی کے رُکن ڈاکٹر محمد رضی الاسلام ندوی نے ۱۶ صفحات کی ایک کتاب لکھی، جو مرکزی مکتبہ اسلامی پبلشرز، نئی دہلی سے ۲۰۰۵ میں چھپی۔ مصنف محترم نے اپنی اس کتاب کا ایک نسخہ میرے پاس بھیجا۔ اس سلسلے میں اُن سے درج ذیل مراسلت ہوئی:
برادرِ محترم ڈاکٹر رضی الاسلام ندوی! السلام علیکم ورحمۃ اللہ
آپ کی بھیجی ہوئی کتاب ’’اقامتِ دین اور نفاذِ شریعت‘‘ بذریعے ڈاک ملی۔ یہ کتاب آپ نے۲۲ رمضان ۱۴۲۶کو روانہ کی تھی۔ میں نے اس کتاب کو پڑھا۔ آپ نے اپنی اِس کتاب میں ’’بعض حضرات‘‘ کے ایک نقطۂ نظر پر تنقید فرمائی ہے۔ میں اپنے مطالعے کے مطابق، اِن بعض حضرات کو نہیں جانتا۔ براہِ کرام اِن بعض حضرات کے نام اور ان کی کتابوں کے نام تحریر فرمائیں۔ جن کی طرف آپ نے اپنے اِس نقطۂ نظر کو منسوب فرمایا ہے۔ امیدہے کہ آپ اِس سلسلے میں واضح جواب سے ممنون فرمائیں گے۔
نئی دہلی ، ۶ نومبر ۲۰۰۵ء جواب کا منتظر وحید الدین
جواب میں تاخیر ہوئی تو میں نے انھیں یاد دہانی کے لیے دوبارہ ایک خط لکھا۔ میرا یہ دوسرا خط یہاں نقل کیا جاتا ہے:
برادرِ محترم ڈاکٹر رضی الاسلام ندوی ! السلام علیکم ورحمۃ اللہ
عرض یہ ہے کہ اس سے پہلے ایک خط مؤرخہ ۵ نومبر ۲۰۰۵ ء میں نے آپ کی خدمت میں روانہ کیا تھا۔ یہ خط آپ کی اس کتاب کے بارے میں تھا جو آپ نے مجھے اپنے دستخط کے ساتھ ۲۲ رمضان ۱۴۲۶ کو روانہ فرمائی تھی۔ آپ نے اپنی اِس کتاب میں ’’بعض حضرات‘‘ کے نقطۂ نظر پر تنقید فرمائی ہے، لیکن آپ نے اپنی کتاب میں نہ ان بعض حضرات کا نام لکھاہے اور نہ ان کی کسی کتاب کا حوالہ دیا ہے۔ میں نے اپنے خط میں آپ سے پوچھا تھا کہ یہ بعض حضرات کون ہیں اور ان کا نام کیا ہے۔ ابھی تک مجھے آپ کی طرف سے کوئی جواب نہیں ملا۔ براہِ کرم اپنا جواب بھیج کر شکریے کا موقع دیں۔
نئی دہلی، ۳۰ نومبر۲۰۰۵ء دعا گو وحید الدین
میرے ان دو خطوں کے بعد موصوف کا ایک خط ملا ، جو یہاں نقل کیا جاتا ہے:
محترمی ومکرمی جناب مولانا وحید الدین خاں صاحب مد ظلہ العالی! السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ آپ جملہ متعلقین کے ساتھ بعافیت ہوں۔ آںجناب سے معذرت ہے کہ میری طرف سے جواب میں تاخیر کے سبب دوسرا خط لکھنے کی زحمت کرنی پڑی، والعفو عند کرام الناس مقبول۔
ماہ نامہ زندگی ٔ نَو میں قارئین کی طرف سے جو سوالات اور استفسارات آتے ہیں ان میں سے کچھ، محترم مدیر زندگی میرے پاس بھیج دیتے ہیں۔ تقریباً چار سال قبل ’’اقامتِ دین‘‘ کے موضوع پر ایک صاحب کے سوالات کے جواب میں مذکورہ تحریر لکھی تھی۔ مگر مدیر محترم کے مشورے پر سوالات اور سائل کا نام حذف کردیاگیا اور تحریر کا جوابی انداز بھی بدل دیاگیا اور ایک معروضی تحریر کے طورپر یہ اگست ۲۰۰۱ ء کے شمارے میں شائع ہوئی تھی۔
آں جناب کی خدمت میں یہ تحریر بھیجنے کا مقصد یہ تھا کہ اِس موضوع پر الرسالہ میںآپ مستقل لکھتے رہتے ہیں۔ کچھ عرصہ قبل الرسالہ کا ایک خصوصی شمارہ’’دین وشریعت‘‘ کے عنوان سے نکلا تھا۔ اس میں بھی یہی بحثیں اٹھائی گئی تھیں۔ پاکستان میں ماہ نامہ ’اشراق‘ میںبھی وقتاً فوقتاً اس موضوع پر تحریریں شائع ہوتی رہتی ہیں۔آں جناب سے گذارش ہے کہ میری تحریر میں استدلال کی کوئی غلطی ہو تو مطلع فرمائیں۔ والسلام
۱۴ دسمبر ۲۰۰۵ء دعاؤں کا طالب محمدرضی الاسلام ندوی
مصنف محترم کا یہ خط میرے سوال کا جواب نہ تھا بلکہ وہ وہی چیز تھی جس کو ٹالنے والا جواب(evasive reply) کہا جاتا ہے۔یہ جواب علمی اعتبار سے غیر تشفی بخش تھا۔ اس لیے میں نے انھیں دوبارہ درج ذیل خط روانہ کیا:
برادر محترم ڈاکٹر رضی الاسلام ندوی! السلام علیکم ورحمۃ اللہ
آپ کا خط مؤرخہ ۱۴دسمبر ۲۰۰۵ ملا۔ عرض یہ ہے کہ آپ کا یہ خط میرے استفسار کا جواب نہیں ہے۔ اصل یہ ہے کہ آپ نے جو کچھ لکھا ہے وہ آپ کے بیان کے مطابق، ’’بعض حضرات‘‘ کے نقطۂ نظر کے جواب میں ہے۔ چوں کہ مجھے ایسے بعض حضرات کا علم نہیں ہے، اس لیے میں بالتصریح ان کا نام یا ان کی کسی کتاب کا نام جاننا چاہتا ہوں، تاکہ یہ متعین کیا جاسکے کہ جن مفروضہ بعض حضر ات کے نقطۂ نظر کی تردید میں آپ نے یہ تحریر لکھی ہے وہ ان کے نقطۂ نظر کی واقعی تردید ہے، یا ایسا ہے کہ آپ نے بعض حضرا ت کے نقطۂ نظر کو بطور خود غلط صورت میں پیش کیا ہے۔ اگر یہ دوسری صورت ہو توآپ کی تنقید خود آپ کی اپنی مفروضہ صورت پر ہوگی نہ کہ بعض حضرات کے واقعی نقطۂ نظرپر۔
میںدوبارہ آپ سے گذارش کروں گا کہ آپ مذکورہ بعض حضرات کا نام اور ان کی کتاب کا نام بصراحت تحریر فرمائیں تاکہ دونوں نقطۂ نظر کا تقابل کرکے معاملے کو سمجھا جاسکے۔ آپ نے اپنی کتاب اپنے دستخط سے میرے پاس روانہ فرمائی تھی، اس لیے یہ خط لکھنے کی ضرورت پیش آئی، ورنہ اِس قسم کی خط وکتابت کی کوئی ضرورت نہ تھی۔
نئی دہلی ، ۱۹ دسمبر ۲۰۰۵ دعا گو وحید الدین
کافی انتظار کے بعد جب ان کا جواب موصول نہیں ہوا تو میں نے حسب ذیل خط ان کو روانہ کیا:
برادرِ محترم ڈاکٹر رضی الاسلام ندوی ! السلام علیکم ورحمۃ اللہ
عرض یہ کہ آپ کی کتاب ’’اقامتِ دین اور نفاذ شریعت‘‘ کے سلسلے میں آپ کو میں نے کئی خطوط لکھے، مگر آپ کی طرف سے اس کا کوئی واضح جواب مجھے نہیں مل سکا۔ میں نے یہ جاننا چاہا تھا کہ آپ نے اپنی اِس کتاب میں جن ’’بعض حضرات‘‘ کا حوالہ دیا ہے وہ کون لوگ ہیں۔میں متعین طورپر ان کا نام یاان کی کتاب کا نام جاننا چاہتا تھا۔ مگر آپ نے اِس سلسلے میں واضح اور متعین جواب دینے سے اعراض فرمایا۔ آپ کی اِس روش کے بعد میں یہ سمجھنے پر مجبور ہوں کہ آپ نے جن بعض حضرات کا تذکرہ اپنی کتاب میں فرمایا تھا وہ محض ایک فرضی حوالہ تھا۔ ایسے حضرت کا یا تو حقیقت میں کوئی وجود نہیں، یا آپ نے مفروضہ بعض حضرات کی طرف ایک ایسی بات منسوب کردی ہے جو خود انھوں نے نہیںکہی تھی۔
میں عرض کروں گا کہ یہ طریقہ سراسر غیر علمی ہے۔ ایک تعلیم یافتہ آدمی کو چاہیے کہ وہ ایسا غیر علمی طریقہ اختیار نہ کرے۔ اور اگر کسی وجہ سے اُس نے ایسا کیا تھا تو اب توجہ دلانے کے بعد کھُلے طور پر وہ اپنی غلطی کا اعتراف کرلے۔ اس طرح کی روش آدمی کے اندر غیر علمی مزاج پیدا کرتی ہے، اور آپ یقینا اِس اصولِ عام سے مستثنیٰ نہیں ہوسکتے۔
نئی دہلی، ۷مارچ ۲۰۰۶ء دعاگو وحید الدین
اس کے بعد ان کی طرف سے کوئی جواب نہ آیا۔ انھوں نے اپنے مذکورہ خط میں لکھا تھا کہ ’’میری تحریر میں استدلال کی کوئی غلطی ہو تو مطلع فرمائیں‘‘۔ میرے نزدیک یہ بات مغالطہ آمیز بھی ہے اور سخت غیر علمی بھی۔ اس لیے کہ جب صاحبِ کتاب ’’بعض حضرات‘‘ کا تعین نہ کریں تو کس بنیاد پر ان کے استدلال کا تجزیہ کیا جائے گا۔ بنائِ دعویٰ کے تعیّن کے بعد ہی ان کے خلاف، تردیدی بیان کا علمی تجزیہ کیا جاسکتا ہے۔
میرے اِس خط کے بعد دوبارہ موصوف کی طرف سے کوئی جواب مجھے وصول نہیں ہوا۔ میرے نزدیک یہ ایک غیر علمی طریقہ ہے کہ آدمی ’’بعض حضرات‘‘ کا متعین حوالہ تو نہ دے سکے مگر ان کے نام پر ایسی تنقید چھاپے جو علمی اعتبار سے سراسر بے وزن ہو۔ تنقید کے لیے علمی جرأت ضروری ہے۔ جو لوگ اپنے اندر علمی جرأت نہ رکھتے ہوں انھیں ہر گز تنقید کاکام نہیں کرنا چاہیے۔
واپس اوپر جائیں

مراسلت نمبر — ۲

ماہ نامہ الفرقان (لکھنؤ) کے مرتّب مولانا محمد یحییٰ نعمانی کا ایک مضمون الفرقان کے شمارہ دسمبر ۲۰۰۵ء میں شائع ہوا۔ اس کا عنوان یہ تھا:’’امام الہند حضرت شاہ ولی اللہ کا ایک عظیم کارنامہ، شریعتِ اسلامیہ کی حکیمانہ ترجمانی‘‘۔
اس مضمون میں ایک ذیلی عنوان کے تحت، انھوں نے ایک ایسی بات لکھی تھی جو میرے نزدیک علمی اعتبار سے بے بنیاد تھی۔ ان کے اِس مضمون کو پڑھ کر صاحبِ مضمون سے درج ذیل مراسلت ہوئی:
مکرمی مولانا محمد یحییٰ نعمانی ! السلام علیکم ورحمۃ اللہ
ماہ نامہ الفرقان کے شمارہ دسمبر ۲۰۰۵میں آپ کا اداریہ دیکھا۔ یہ اداریہ شاہ ولی اللہ دہلوی کے بارے میں ہے۔ اس کا ایک ذیلی عنوان یہ ہے:’’حکمتِ ولی اللہ کی عصری معنویت‘‘۔
اِس مضمون میں میں نے اس کے عنوان کے مطابق، شاہ ولی اللہ کی تعلیمات میں ’’عصری معنویت‘‘ کو تلاش کرنے کی کوشش کی، مگر یہ عصری معنویت مجھے اِس تحریر کے اندر نہیں ملی۔ پورا مضمون بیانیہ انداز میں ہے۔ آپ نے کوئی ایک بھی مثال ایسی نہیں دی جس سے آپ کے دعوے کے مطابق، یہ اندازہ ہو کہ شاہ ولی اللہ کی تحریروں میں عصری معنویت موجود ہے۔ براہِ کرم اس سلسلے میں صرف ایک متعین مثال تحریر فرمائیں جس سے معلوم ہو کہ شاہ ولی اللہ کو عصرِ جدید کا عرفان حاصل تھا اور اس کے مطابق، انھوں نے عصری رہنمائی فرمائی۔ آپ کا مضمون دعوے کی زبان میں ہے، مگر متعین مثال کے بغیر صرف دعوے سے کوئی بات علمی طورپر ثابت نہیں ہوتی۔
نئی دہلی، ۶ دسمبر ۲۰۰۵ء دعا گو وحید الدین
یہ خط بذریعے ڈاک روانہ کرنے کے بعد میں اس کے جواب کا انتظار کرتا رہا۔ جواب نہیں آیا تو میں نے انھیں دوسرا خط روانہ کیا۔ یہ دوسرا خط یہاں نقل کیا جاتا ہے:
برادرِمحترم مولانا محمد یحییٰ نعمانی! ا لسلام علیکم ورحمۃ اللہ
عرض یہ کہ آپ کے ایک مضمون شائع شدہ الفرقان دسمبر ۲۰۰۵ کے حوالے سے میں نے اپنے خط مؤرخہ ۶ دسمبر ۲۰۰۵ میں آپ سے ایک سوال کیا تھا۔ آپ نے اپنے مضمون میں لکھا تھا کہ شاہ ولی اللہ کی تعلیمات ’’عصری معنویت‘‘ کی حامل ہیں۔ مجھے شاہ ولی اللہ کی کتابوں میں یہ عصری معنویت نہیں ملی۔ میں نے آپ سے اس کا متعین حوالہ پوچھا تھا، مگر اب تک آپ کی طرف سے مجھے اس کا کوئی جواب نہیں ملا۔ براہِ کرم واضح جواب روانہ فرمائیں۔
نئی دہلی، ۷ جنوری۲۰۰۶ء دعا گو وحید الدین
محترم مضمون نگار کی طرف سے میرے دوسرے خط کا جواب بھی نہیں آیا۔ کافی انتظار کے بعد میںنے یہ تیسرا خط ان کوروانہ کیا:
برادرِ محترم مولانا محمد یحییٰ نعمانی! السلام علیکم ورحمۃ اللہ
عرض یہ کہ ماہ نامہ الفرقان کے شمارہ دسمبر ۲۰۰۵ میں آپ نے شاہ ولی اللہ دہلوی کے ایک ’’عظیم کارنامہ‘‘ کا ذکر کرتے ہوئے ان کی تعلیمات میں ’’عصری معنویت‘‘ کا تذکرہ فرمایا تھا۔ اِس سلسلے میں میں نے آپ سے شاہ ولی اللہ کی کسی تحریرکا حوالہ دریافت کیا تھا جس سے ان کا یہ کارنامہ متعین طورپر معلوم ہوتا ہو، مگر آپ نے اپنے دعوے کے ثبوت میں کوئی حوالہ روانہ نہیں فرمایا۔
ایسی حالت میں میں یہ ماننے پر مجبور ہوں کہ آپ نے محض زورِ ادب کے تحت ایسا لکھ دیا تھا۔ آپ کو خود ایسے کسی متعین حوالے کا علم نہیں۔ اگر آپ کو اِس سلسلے میں کسی واضح اور متعین حوالے کا علم ہوتا تو آپ ضرور اس کو تحریر فرماتے۔
میںعرض کروں گا کہ یہ طریقہ بے حد غیر علمی ہے۔ آپ کے لیے اِس معاملے میں صرف دو میں سے ایک کا انتخاب تھا۔ یا تو آپ متعین حوالہ تحریر فرماتے یا یہ اعتراف کرتے کہ میںنے غلط طور پر ایسا لکھ دیا تھا۔ اِن دو طریقوں کو چھوڑ کر خاموشی کا طریقہ اختیار کرنا سخت غیر علمی بات ہے۔ جو لوگ اِس قسم کی غیر علمی روش اختیار کریں وہ خود اپنے علمی اور فکری ارتقا کو روک رہے ہیں۔ ایسی روش کا نقصان آدمی کے اپنے حصّے میں آتا ہے نہ کہ کسی دوسرے کے حصّے میں۔
نئی دہلی، ۷ مارچ ۲۰۰۶ دعا گو وحید الدین
میرے نزدیک یہ نہ کوئی سادہ بات ہے ا ور نہ وہ کسی ایک شخص کا معاملہ ہے۔ وہ موجودہ زمانے کے مسلمانوں کی عمومی نفسیات کو بتاتا ہے۔ موجودہ زمانے کے مسلمان عام طورپر ’’دینِ اکابر‘‘ پر قائم ہیں۔ ایسے لوگ شعوری یا غیر شعوری طورپر یہ فرض کرلیتے ہیں کہ ان کے اکابر انھیں فکری عظمتوں کے مالک ہیں جو رسول اور اصحابِ رسول کو حاصل تھیں، وہ اُن ابدی صفات سے متصف ہیں جو رسول اور اصحابِ رسول کو ملی ہوئی تھیں۔ اِس بنا پر ان کے لیے ضروری ہوجاتا ہے کہ وہ اپنے اکابر کے بارے میں مذکورہ قسم کے بڑے بڑے دعوے کریں۔ اگر وہ ایسے بڑے بڑے دعوے نہ کریں توان کے نزدیک ان کے اکابر کی مفروضہ عظمت ہی مشتبہ ہوجائے گی۔
مگر اس طریقے کا ایک عظیم نقصان یہ ہے کہ ایسے لوگوں کا ذہنی ارتقا رُک جاتا ہے۔ اکابر کی عظمت کا مفروضہ عقیدہ ان کے ذہنی سفر پر فل اسٹاپ لگا دیتا ہے۔ شاہ ولی اللہ دہلوی (وفات ۱۷۶۲) بلاشبہہ ایک بڑے عالمِ دین تھے۔ اپنے زمانے کے اعتبار سے انھوں نے بہت قابلِ قدر خدمات انجام دیں مگر یہ سمجھنا کہ شاہ ولی اللہ کی تحریریں ’’عصری معنویت‘‘ کی حامل ہیں، اِس بات کا ثبوت ہے کہ صاحبِ مضمون کو عصرِ جدید کی معرفت حاصل نہیں۔ کیوں کہ شاہ ولی اللہ دہلوی کی تحریروں میں نہ عصر جدید کا عرفان موجود ہے اور نہ عصرِ جدید کی نسبت سے اسلامی رہنمائی۔ اِس قسم کا بیان ایک مہلک خوش فہمی کے سوا اور کچھ نہیں۔
واپس اوپر جائیں

مراسلت نمبر— ۳

ماہ نامہ افکارِ ملّی کے سب ایڈیٹر مولانا غطریف شہباز ندوی کا ایک مضمون ماہ نامہ زندگی ٔ نو (نئی دہلی) کے شمارہ جنوری ۲۰۰۶ میں شائع ہوا۔ اس کا عنوان یہ تھا: ’’اجتہاد، عصرِ حاضر کی ایک دعوتی ضرورت‘‘۔
اِس مضمون میں انھوں نے ایک ایسی بات لکھی تھی جو میرے مطالعے کے مطابق، بالکل فرضی تھی۔ میں نے انھیں اس سلسلے میں ایک خط بھیجا۔ اس خط کا مضمون یہ تھا:
برادرِ محترم مولانا غطریف شہباز ندوی! السلام علیکم ورحمۃ اللہ
عرض یہ کہ ماہ نامہ زندگیٔ نو کے شمارہ جنوری ۲۰۰۶ میں آپ کا ایک مضمون بعنوان: ’’اجتہاد، عصرِ حاضر کی ایک دعوتی ضرورت‘‘ چھپا ہے۔ اپنے اس مضمون میں آپ نے دار الدعوہ کا ذکر کیا ہے اور اس کے تحت آپ نے یہ الفاظ لکھے ہیں: ’’ڈاکٹر یوسف القرضاوی پوری دنیا کو دار الدعوۃ قرار دیتے ہیں۔ محمد محروس مدرس الاعظمی بھی اسی نظریے سے اتفاق کرتے ہیں‘‘۔ (صفحہ ۳۲ )
میں نے مذکورہ دونوں صاحبان کی کئی تحریریں پڑھی ہیں۔ اپنے مطالعے کے مطابق، میں نے ان کی کسی تحریرمیں دار الدعوہ کا تصوّر نہیں پایا۔ براہِ کرم اِن دونوں صاحبان کی اُن کتابوں کے نام اور ان کا صفحہ نمبرتحریر فرمائیں جن میں انھوں نے دار الدعوہ کے تصور کا ذکر کیا ہے، تاکہ اس سے رجوع کرکے اس بات کو معلوم کیا جاسکے۔
نئی دہلی ، ۴ جنوری ۲۰۰۶ء دعاگو وحید الدین
کافی انتظار کے باوجود اُن کی طرف سے اِس خط کا کوئی جواب نہیںآیا۔ اس کے بعد انھیں یاد دہانی کے طورپر دوسرا خط روانہ کیا گیا۔ اِس دوسرے خط کا مضمون یہاں نقل کیا جاتا ہے:
برادرِ محترم مولانا غطریف شہباز ندوی! السلام علیکم ورحمۃ اللہ
اس سے پہلے آپ کو ایک خط مؤرخہ ۴جنوری ۲۰۰۶ روانہ کرچکا ہوں۔ مگر ابھی تک اس کا کوئی جواب نہیںآیا۔ آپ نے لکھا تھا کہ ڈاکٹریوسف القرضاوی اور محمد محروس مدرس الاعظمی پوری دنیا کو دار الدعوہ قرار دیتے ہیں۔ میرے مطالعے کے مطابق، یہ ایک بے بنیاد دعویٰ ہے۔ اِن حضرات نے یا کسی اور عالم نے صراحتاً ایسا نہیں لکھاہے۔ اگر آپ کے علم میں ایسے علماء ہیں تو بر اہِ کرم مطلع فرمائیں کہ انھوں نے ایسا کس کتاب میںلکھا ہے۔براہِ کرم اس سلسلے میں اپنے جواب سے مطلع فرمائیں۔
نئی دہلی ، یکم فر وری ۲۰۰۶ دعا گو وحید الدین
میرے دو خط روانہ کرنے کے بعد ان کا ایک خط مجھ کو ملا۔ وہ خط یہاں نقل کیا جاتا ہے:
محترم المقام جناب حضرت مولانا وحید الدین خاں صاحب حفظہ اللہ وتولاہ السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
چند دن پہلے والا نامہ موصول ہوا، جس میں آپ نے موجودہ دنیا کو دار الدعوۃ قرار دینے سے متعلق، ڈاکٹر یوسف القرضاوی اور محمد محروس مدرس الاعظمی کے حوالے کے سلسلے میں استفسار فرمایا ہے۔ عرض یہ ہے کہ یوسف القرضاوی صاحب کے فتاویٰ کی دو جلدیں (اردو ترجمہ) مرکزی مکتبہ اسلامی نے شائع کی ہیں۔ پہلی جلد پر مولانا جلال الدین عمری کا مقدمہ ہے۔ مقدمہ میںانھوںنے یہ بات ڈاکٹر قرضاوی کے بارے میں لکھی ہے کہ وہ موجودہ پوری دنیا کو دار الدعوہ قرار دیتے ہیں اور دار الاسلام اور دار الحرب کی فقہی تقسیم پر نظر ثانی کی رائے رکھتے ہیں۔
مولانا عمری کے اس بیان پر تکیہ کرکے راقم نے زندگی ٔنو والے مضمون میں ڈاکٹرقرضاوی کی طرف یہ بات منسوب کردی ہے۔ محمد محروس مدرس الاعظمی کا تذکرہ راقم کی غلطی ہے۔ اور مجھے اپنی غلطی کا اعتراف ہے۔ ان کا حوالہ دار الاسلام اور دار الحرب کے سلسلے میں دیا جانا تھا۔
عید الاضحی کی وجہ سے جواب میں تاخیر ہوگئی ہے اس کے لیے معذرت خواہ ہوں۔ آپ کی بیش قیمت تالیفات سے برابر استفادہ کرتا رہتا ہوں۔ اگر چہ کہیں کہیں اختلاف کی جسارت بھی کرڈالی ہے لیکن اس سے انشاء اللہ آپ کبیدہ خاطر نہ ہوںگے۔ حاشا و کلا یہ ہر گز مقصود بھی نہیں۔ اگر کہیں سوئے ادب ہوگیا ہو تو میں اُس کے لیے معافی کا خواستگار ہوں۔
۱۶ جنوری ۲۰۰۶ء والسلام غطریف شہباز ندوی
ان کے اِس خط کو پڑھ کر میںنے انھیں درج ذیل خط روانہ کیا:
برادرِ محترم مولانا غطریف شہباز ندوی! السلام علیکم ورحمۃ اللہ
آپ کا خط مؤرخہ ۱۴ فروری ۲۰۰۶ ملا۔ اللہ تعالیٰ ہر طرح آپ کی مدد فرمائے اور آپ کو آپ کی اعلیٰ صلاحیت کے مطابق، دینی خدمت کا موقع عطا فرمائے۔
مولانا جلال الدین عُمری کی تحریر کا جو حوالہ آپ نے دیا ہے، وہ مکمل نہیں ہے۔ براہِ کرم ان کے اصل الفاظ اور کتاب کا صفحہ نمبر دونوں روانہ فرمائیں۔اللہ تعالیٰ آپ کو جزائے خیر عطا فرمائے۔
نئی دہلی، ۱۸ فروری ۲۰۰۶ دعاگو وحید الدین
ان کے پہلے خط کو پڑھ کر میں نے مذکورہ کتاب میں اس کا کوئی حوالہ نہ پایا تو میں نے انھیں دوبارہ درج ذیل خط روانہ کیا:
برادرِ محترم مولانا غطریف شہباز ندوی! السلام علیکم ورحمۃ اللہ
آپ نے اپنے خط مؤرخہ ۱۶ جنوری ۲۰۰۶ میں لکھا تھا کہ: ’’یوسف القرضاوی صاحب کے فتاوی کی دو جلدیں (اردو ترجمہ) مرکزی مکتبہ اسلامی، نے شائع کی ہیں۔ پہلی جلد پر مولانا جلال الدین عمری کا مقدمہ ہے۔ مقدمے میں انھوں نے یہ بات ڈاکٹر قرضاوی کے بارے میں لکھی ہے کہ وہ موجودہ پوری دنیا کو دار الدعوہ قرار دیتے ہیں‘‘۔
میں نے ’’فتاویٰ یوسف القرضاوی‘‘ نامی مذکورہ کتاب کی پہلی جلد حاصل کی اور اس میں مولانا جلال الدین عمری کے پیش لفظ کو دیکھا، مگر اس میں نہ تو دار الدعوہ کا لفظ موجود ہے اور نہ یہ بات کہ ڈاکٹر یوسف القرضاوی موجودہ پوری دنیا کو دار الدعوہ قرار دیتے ہیں۔ براہِ کرم مطلع فرمائیں کہ آپ نے یہ بالکل بے اصل بات آخر کس طرح لکھ دی۔
۲۰فروری ، ۲۰۰۶ دعا گو وحید الدین
میرے اِس خط کے بعد ان کا ایک خط مجھے ملا، جو یہاں نقل کیا جاتا ہے:
محترم المقام حضرت مولانا وحید الدین خاں صاحب! السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
ادھر آپ کے کئی والا نامے ملے۔ امید ہے کہ میرا جواب بھی آپ کو موصول ہوا ہوگا۔ حال ہی میں میرے مطالعے میں ایک کتاب آئی ہے: ’’الإسلام والتعایش السلمی مع الآخر‘‘۔ (للدکتور طٰہٰ جابر علوانی) صدر ادارہ المعہد العالمی للفکر الاسلامیواشنگٹن، امریکا، صفحات ۱۰۲) اِس کے اخیر کے دو صفحات آپ کی خدمت میں فیکس کررہا ہوں،ان میں تقریباً وہی بات کہی گئی ہے جو دنیا کے ’’دار دعوت‘‘ ہونے کے سلسلے میںآپ کا موقف ہے اور خاکسار بھی اسی سے اتفاق رکھتا ہے۔
۲۱ فروری، ۲۰۰۶ نئی دہلی والسلام غطریف شہباز ندوی
ان کے اس خط کے بعد میں نے انھیں درج ذیل خط روانہ کیا:
برادرِ محترم مولانا غطریف شہباز ندوی! السلام علیکم ورحمۃ اللہ
آپ کا خط مؤرخہ ۲۱ فروری ۲۰۰۶ ملا۔ اس کے ساتھ آپ نے ایک عربی کتاب کے ایک صفحے کی فوٹو کاپی روانہ کی ہے۔ اِس صفحے کو پڑھنے سے بات واضح نہیں ہوتی۔ میںاصل کتاب دیکھنا چاہتا ہوں۔ براہِ کرم اصل عربی کتاب مجھے عاریتاً عنایت فرمائیں۔ آپ مولانا محمد حسان ندوی کو یہ کتاب دے دیں۔ وہ مجھ کو کتاب پہنچا دیںگے۔ میں اس کو پڑھنے کے بعد کتاب آپ کو لوٹا دوں گا۔
نئی دہلی، ۲۷ فروری ۲۰۰۶ دعا گو وحید الدین
کافی انتظار کے بعد جب مجھے ان کا کوئی جواب نہیں ملا تو میں نے درج ذیل خط انھیںروانہ کیا:
برادرِ محترم مولانا غطریف شہباز ندوی ! السلام علیکم ورحمۃ اللہ
عرض یہ کہ آپ نے اپنے مطبوعہ مضمون میں یہ دعویٰ کیا تھا کہ ڈاکٹر یوسف القرضاوی پوری دنیا کو دار الدعوہ قرار دیتے ہیں۔ میںنے حوالے کے ساتھ یہ واضح کیا کہ آپ کا یہ دعویٰ بے بنیاد ہے۔ موصوف کی کسی کتاب میں دار الدعوہ کا یہ تصور نہیں پایا جاتا ۔ مگر آپ نے اپنی غلطی کا اعتراف کیے بغیر ایک اور ناقص حوالہ پیش کردیا۔یہ ڈاکٹر طٰہٰ جابر العلوانی کی کتاب ’’الإسلام والتّعایش السّلمی مع الآخَر‘‘ کے دوصفحات (صفحہ نمبر درج نہیں) کی فوٹو کاپی ہے۔
مجھے ابھی تک اصل عربی کتاب نہیں ملی۔ تاہم آپ نے کتاب کے دو صفحات کی جو فوٹو کاپی بھیجی ہے اس کو میں نے بغور پڑھا ۔دوبارہ میں کہوں گا کہ ان مُرسَلہ صفحات سے آپ کا یہ دعویٰ ثابت نہیں ہوتا کہ ڈاکٹر العلوانی کے یہاں دار الدعوہ کا تصور پایا جاتا ہے۔ یہ صحیح ہے کہ اِس کتاب میں ایک مقام پردارِ دعوت کا لفظ موجود ہے، مگر صرف لفظ کی موجودگی سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ مصنف کے یہاں وہ تصور موجود ہے جس کو دار الدعوہ کہاگیا ہے۔
آپ نے مرسلہ صفحات کے حسب ذیل جملے کی طرف اشارہ کیا ہے: ثم تنقسم الأرض من حیث کونہا داراً إلیٰ ’’دار إجابۃ‘‘ و ’’دار دعوۃ‘‘ وکلاہما ’’دارإسلام‘‘ (پھر زمین بحیثیت ایک دار کے، دو حصوں میں تقسیم ہوجاتی ہے، دارِ اجابت اور دارِ دعوت، اور دونوں دارِ اسلام ہیں)۔
مصنف کے اِس جملے میں دارِ دعوت کا لفظ ضرور ہے، لیکن اصل عبارت میں اس کا مفہوم بالکل واضح نہیں۔ مصنف کا کہنا ہے کہ زمین دارِ اجابت اور دار دعوت میں منقسم ہے، اور یہ دونوں ہی دار، بیک وقت دار اسلام ہیں۔ یہ جملہ صرف مصنف کے کنفیوژن کو بتاتا ہے۔ دار دعوت اور دار اسلام کی اصطلاحیں دو مختلف مِنطقوں کے درمیان فرق کو بتانے کے لیے ہیں، لیکن جب دونوں اصطلاحوں کو ایک کہہ دیا جائے تو دونوں کے درمیان فرق سِرے سے ختم ہو جاتا ہے۔ اِسی کا نام کنفیوژن ہے۔
ایسا معلوم ہوتا ہے کہ مصنف نے کسی مفروضہ مفہوم کے تحت، دار دعوت کا لفظ تو استعمال کیا، مگر اُن پر یہ واضح نہیں تھا کہ دارِ دعوت حقیقتاً کیا ہے۔ دارِ دعوت یا دار الدعوہ در اصل یہ بتانے کے لیے ہے کہ غیر مسلموں کی نسبت سے مسلمانوں کی جو ذمّے داری ہے وہ یہ ہے کہ مسلمان ان کے اوپر دعوت الی اللہ کے عمل کو انجام دیں۔ لیکن جب دارِ دعوت اور دار اسلام دونوں کو ایک کہہ دیا جائے تو دار الدعوہ کی وہ نوعیت ہی گُم ہوجاتی ہے جس کی وضاحت کے لیے یہ اصطلاح وضع کی گئی ہے۔
اصل یہ ہے کہ دماغ میں جب وضوح (clarity) ہو تو آدمی ایک چیز کو دوسری چیز سے الگ کرکے دیکھنے کے قابل ہوتا ہے، لیکن جب دماغ میں کنفیوژن ہو تو آدمی فرق کو نہیں سمجھ پاتا اور وہ ایک قسم کے فکری تضاد میں مبتلا رہتا ہے۔ مثلاً ایسا آدمی یہ کہہ سکتا ہے کہ برّ صغیر ہند، دو منطقوں میںتقسیم ہے۔ انڈیا دارِ دعوت ہے اور پاکستان دار اسلام، اور پھر دونوں بیک وقت دار الاسلام ہیں۔ اِس قسم کی بات کہنے والے کے بارے میں یہ کہنا صحیح ہوگا کہ وہ امتحان کی اصطلاح میں مائنس مارکنگ (minus marking) کا مستحق ہے۔ یعنی وہ انڈیا کی شرعی نوعیت سے بھی بے خبر ہے اور پاکستان کی شرعی نوعیت سے بھی بے خبر۔
میںعرض کروں گا کہ یہ کوئی صحیح علمی طریقہ نہیںکہ آدمی ایک بیان دے اور پھر جب وہ بیان غلط ثابت ہوجائے تو وہ اپنی غلطی کا کھُلا اعتراف نہ کرے بلکہ غیر متعلق باتیں بول کر یہ ظاہر کرے کہ اس کا بیان درست تھا۔ اس قسم کی روش نفسیات کی اصطلاح میں، کمزور شخصیت(weak personality) کا ثبوت ہے۔ جو آدمی کمزور شخصیت کا حامل ہو اس کو اپنی اِس روش کی یہ بھاری قیمت دینی پڑتی ہے کہ اس کا علمی ارتقا مستقل طورپر رُک جائے اور وہ اعلیٰ فکری ترقی کا تجربہ نہ کرسکے۔
نئی دہلی، ۹مارچ ۲۰۰۶ دعا گو وحید الدین
اِس خط کے بعد مولانا غطریف شہباز ندوی کی طرف سے ان کا ایک خط ملا۔ اپنے اس خط میں انھوں نے اعتراف کرکے اِس بحث کو ختم کردیا تھا۔ ان کا یہ خط یہاں نقل کیا جاتا ہے:
محترم المقام حضرت مولانا وحید الدین خاں صاحب مد ظلہم العالی السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
گرامی نامہ موصول ہوا۔ اس ناچیز کے لیے آپ نے زحمت اٹھائی اس کا شکریہ۔ آپ نے جو کچھ تحریر فر مایا ہے میں اس کے لفظ لفظ سے متفق ہوں۔ اس سے پہلے ایک خط میں اپنی یہ غلطی صاف طور پر قبول کرچکا ہوں کہ دنیا کے دار دعوت ہونے کے سلسلے میں یوسف القرضاوی وغیرہ کی طرف جو بات میں نے منسوب کردی تھی وہ میری غلطی تھی۔ ہاں ایسا ضرور محسوس ہوتا ہے کہ بعض علما، قدیم فقہاء و علماء کے برعکس، دنیا کو دو داروں دار الاسلام و دار الحرب میں تقسیم کرنے کے سلسلے میں کچھ نئے انداز سے سوچنے لگے ہیں۔ اس کے ثبوت کے طور پر محمد محروس مدرس الاعظمی کے مضمون کی اردو تلخیص کا ایک تراشہ بھی آپ کی خدمت میں راقم نے روانہ کیا تھا۔ اس مسئلے میں آپ کے استثناء کے ساتھ باقی اکثر علماء کوئی نئی بات کہنی بھی چاہتے ہیں تو گول مول انداز میں کہتے ہیں۔ ایسی ہی بعض تحریروں کے مطالعہ سے غلطی سے راقم نے یہ نتیجہ نکال لیا کہ بعض علماء دنیا کو دار الدعوہ سمجھنے اور کہنے لگے ہیں۔ یہ بات اگر بعض علماء کی نسبت سے صحیح بھی ہو تب بھی بغیر حوالہ کے ایسا کہنا درست نہ تھا۔
بذریعہ فیکس طٰہ جابر العلوانی کی تحریر کا جو صفحہ میں نے روانہ کیا تھا اُس کا مقصد اپنی کسی بات کی پچ کرنا نہیں تھا بلکہ آپ کے سامنے صرف یہ رکھنا تھا کہ بعض جدید عرب علماء بھی اِس انداز میں سوچتے ہیں۔ باقی علوانی کی اِس تحریر پر آپ کا نقد نہایت مضبوط ہے۔ آپ کا یہ فرمانا بھی بالکل بجا ہے کہ موجودہ دور کے تمام علماء و فقاء اس موضوع پر کنفیوژن کا شکار ہیں۔ خاکسار کے نزدیک اس کا سبب یہ ہے کہ ان کی اکثریت قدیم فقہی لٹریچر اور مصطلحات کی اسیر ہے۔ وہ اس نپے تلے فقہی چوکھٹہ سے باہر آنے کی ہمت نہیں کرپاتے، لہذا ان کی ساری بحث دار الکفر دارالاسلام، پھر دار الکفر کی مزید تقسیمات دار العہد، دار الامن ودار الحرب وغیرہ کے گرد ہی گھومتی ہے۔ نتیجہ میں کنفیوژن پیدا ہوجاتا ہے۔
آپ چوںکہ نئے انداز سے سوچنے کی ہمت اور اجتہادی بصیرت رکھتے ہیں اور عصری اسلوب میں اپنی بات کہنے کا فن بھی جانتے ہیں۔ لھٰذا آپ کی تحریروں میں غموض اور ابہام کی جگہ شجاعت اور وضاحت پائی جاتی ہے۔ جو ایک پڑھے لکھے قاری کو اپیل بھی کرتی ہے۔ لیکن اس کو کیا کیجئے کہ عرب ہوں یا عجم، مسلم امت ان چیزوں کو ابھی تک محض روایتی انداز میں دیکھنے اوربرتنے کی عادی ہے۔ عام علماء اور وہ لوگ جو مزعومہ تحریکات اسلامیہ سے وابستہ ہیں دعوت دعوت تو ضرور چلاتے ہیں، لیکن وہ دعوت کو آخرت سے جوڑنے اور اسے ہر صاحبِ ایمان کی ذاتی، دینی ، انسانی و اخلاقی ذمہ داری کے بجائے ’’امامتِ عالم اورقیادت عالم‘‘ کے مزعومہ تصورات سے ہی جوڑ کر دیکھنے کے عادی ہیں۔ لھٰذا دعوت ان کے ہاں بھی ذمہ داری سے زیادہ فخر و مباہات کی نفسیات کی علامت بن کر رہ گئی ہے۔ ’’ہم ہی خیر امت ہیں‘‘ ایک دعوے کے طور پر دہرایا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ موجودہ انقلابی تحریکات، اسلام سے زیادہ مسلم قومیت کے خود ساختہ تصور کی نمائندگی کرتی ہیں۔ اسلامی دعوت کی صحیح اور واضح ترین نمائندگی صرف آپ کی فکر کرتی ہے۔
مسلمان ،تحریکی لوگ ہوں یا علماء سب آپ سے مخاصمانہ رویہ برتتے ہیں اِس لیے وہ آپ کی دعوت اور فکر سے بھی عام مسلمانوں کو کاٹ دینے کی کوشش دانستہ کرتے رہتے ہیں۔
آپ اسے مبالغہ یا کذب بیانی خیال نہ فرمائیں۔ موجودہ علماء و مفکرین میں مجھے سب سے زیادہ آپ کی ہی تحریریں پسند ہیں۔ مسلم -سیاسی فکر، قانون بین الاقوامی، مسلمانوں کے غیر مسلم دنیا سے تعلقات کی نوعیت (مسالمہ یا محاربہ) وغیرہ، مختلف موضوعات پر خاکسار کچھ نہ کچھ پڑھتا رہتا ہے۔ آپ بھی رہنمائی فرمائیں۔
والسلام غطریف شہبار ندوی
ان کا یہ خط ملنے کے بعد میںنے انھیں ایک مختصر تحریر روانہ کی جو یہاں نقل کی جاتی ہے:
بر ادرِ محترم مولانا غطریف شہباز ندوی! السلام علیکم ورحمۃ اللہ
آپ کا خط مؤرخہ ۳۱ مارچ ۲۰۰۶ ملا، شکریہ۔ اب اِس موضوع پر آپ سے خط وکتابت کا سلسلہ ختم ہوگیا۔ اللہ تعالیٰ آپ کو جزائے خیر عطا فرمائے۔
۷؍ اپریل ۲۰۰۶ء دعا گو وحید الدین
واپس اوپر جائیں

مراسلت نمبر— ۴

ڈاکٹر محمد فاروق خان پاکستان کے ایک مسلم دانشور ہیں۔ ان کی ایک کتاب لا ہور سے ۲۰۰۵میں چھپی ہے۔ اس کتاب کے باب پنجم میں ایک ذیلی عنوان ’’دار الدعوۃ‘‘ کے تحت، انھوں نے یہ تحریر کیا ہے کہ اخوانی رہنما حسن الہُضیبی کے یہاں دار الدعوۃ کا تصور پایا جاتا ہے۔ میرے مطالعے کے مطابق، یہ ایک بے بنیاد دعویٰ تھا۔ چنانچہ میں نے صاحبِ کتاب کو ایک خط لکھا۔ اس خط کا مضمون یہ تھا:
برادرِ محترم ڈاکٹر محمد فاروق خان! السلام علیکم ورحمۃ اللہ
آپ کی تازہ کتاب ’’جہاد، قتال اور عالم اسلام‘‘ نظر سے گذری۔ اِس کتاب کے ایک ذیلی عنوان ’’دارالدعوۃ‘‘ کے تحت، آپ نے لکھا ہے:
’’دَور حاضر میں ایک نئی اصطلاح ’’دار الدعوۃ‘‘ استعمال کی گئی ہے۔ جس کا مطلب یہ ہے کہ غیر مسلم ممالک نہ دار الحرب ہیں اورنہ دار الکفر، بلکہ وہ ’’دار الدعوۃ‘‘ ہیں۔ یعنی یہ وہ ممالک ہیں جنھیں اسلام کی دعوت پہنچانا ہمارا کام ہے۔ یہ اصطلاح...... اخوان المسلمون کے مُرشدِ عام امام حسن الہُضیبی نے استعمال کی ہے۔ امام حسن الہضیبی نے اپنی کتاب ’’دُعاۃ... لاقُضاۃ‘‘ ’’یعنی ہم داعی ہیں نہ کہ قاضی‘‘ میں وضاحت اور تفصیل کے ساتھ اپنے موقف کو بیان کیا ہے کہ ہمارا کام کسی کو کافر اور دشمن قرار دینا نہیں، بلکہ تمام غیر مسلم ہمارے مدعو ہیں اور ہم داعی۔ یعنی ہم اُن کو اسلام کی دعوت پہنچانے کے مکلّف ہیں‘‘۔ (صفحہ ۹۵)
میںنے شیخ حسن الہضیبی کی کتاب ’’دعاۃ...لاقضاۃ‘‘پڑھی ہے، مگر میںنے اس میں وہ بات نہیں پائی جو آپ نے اُن کی بابت تحریر فرمائی ہے۔ حتی کہ اس کتاب میں ’’دار الدعوۃ ‘‘ کا لفظ بھی موجود نہیں۔ براہِ کرم مطلع فرمائیں کہ ’’دار الدعوۃ‘‘ کی یہ بات مذکورہ کتاب کے کس صفحے پر موجود ہے۔
نئی دہلی، ۱۹ جنوری ۲۰۰۶ دعا گو وحید الدین
میرے اِس خط کا کوئی جواب صاحبِ کتاب کی طرف سے نہیں ملا۔ کافی انتظار کے بعد میں نے دوبارہ اُنھیں ایک خط روانہ کیا۔ میرے اس دوسرے خط کا مضمون یہ تھا:
برادرِ محترم ڈاکٹر محمد فاروق خان! السلام علیکم ورحمۃ اللہ
عرض یہ کہ میںنے آپ کے نام ایک خط مؤرخہ ۱۹ جنوری ۲۰۰۶ روانہ کیا تھا، مگر اب تک مجھے اس کا جواب نہیں ملا۔میں نے اپنے خط میں لکھا تھا کہ آپ نے اپنی کتاب میں مصری عالم، حسن الہضیبی کا ذکر کیا ہے اور لکھا ہے کہ انھوں نے اپنی کتاب ’’دُعاۃ…لاقضاۃ ‘‘ میں تفصیل کے ساتھ لکھا ہے کہ غیر مسلم اقوام ہماری مدعو ہیں اور ہم اُن کے لیے داعی ہیں، غیر مسلم ممالک کی حیثیت دار الدعوۃ کی ہے نہ کہ دارالحرب اور دار الکفر کی۔
میں نے لکھا تھا کہ مذکورہ کتاب میں نے پڑھی ہے، مگر اس میں دار الدعوہ کا لفظ کہیں موجود نہیں۔آپ کے قریبی جواب کا انتظار ہے۔
نئی دہلی، ۶ فروری ۲۰۰۶ دعا گو وحید الدین
محترم مولانامحمدذکوان ندوی صاحب السلام علیکم ورحمۃ اللہ
امید ہے آپ بخیر وعافیت ہوں گے۔ محترم ومکرم مولانا وحید الدین خاں صاحب کا خط چند روز پہلے مجھے موصول ہوا تھا۔ ’المورد‘ کی لائبریری شفٹ کرنے کے دوران میں مطلوبہ کتاب کہیں misplace ہوگئی۔ میں نے سوچا تھا کہ وہ کتاب مل جائے تو میں اپنی معروضات پیش کروں گا تاہم ابھی تک وہ کتاب نہیں مل سکی۔ میرے نزدیک اس کتاب کا لب لباب وہی ہے جو میں نے تحریر کیا ہے۔ کتاب کے نام سے بھی یہی ظاہر ہے۔
۱۲ فروری، ۲۰۰۶ والسلام ، مخلص ڈاکٹر محمد فاروق خان
موصوف کے اس خط کے بعد میں نے انھیں ایک خط روانہ کیا جس کی نقل یہاں درج کی جاتی ہے:
برادرِ محترم ڈاکٹر محمد فاروق خان صاحب! السلام علیکم ورحمۃ اللہ
آپ کا خط مؤرخہ ۱۲ فروری ۲۰۰۶ ملا۔ آپ کا یہ خط اصلاً میرے خط کے جواب میں ہے۔ لیکن کسی غلط فہمی کی وجہ سے اس میں مولانا محمد ذکوان ندوی کو ایڈریس کیاگیا ہے۔
آپ نے اپنے اِس خط میں میرے سوال کا جواب نہیں دیا ہے بلکہ براہِ راست جواب سے اعراض فرمایا ہے۔ مسئلہ یہ ہے کہ آپ نے اپنی کتاب میں مصری عالم استاذ حسن الہضیبی کا ذکر کیا ہے، اور بتایا ہے کہ انھوں نے اپنی کتاب ’’دُعاۃ…لا قضاۃ‘‘ میں غیر مسلم ممالک کو دار الدعوۃ قراردیا ہے۔
میرا سوال مذکورہ کتاب کے صرف اس حوالے کے بارے میں تھا۔ میں نے پوچھاتھا کہ استاذ حسن الہضیبی نے اپنی مذکورہ کتاب کے کس صفحے پر غیرمسلم ممالک کے لیے ’’دار الدعوۃ‘‘ کا لفظ استعمال کیا ہے اور یہ لکھا ہے کہ غیر مسلم ممالک دار الحرب اور دار الکفرنہیں بلکہ وہ ’’دار الدعوۃ‘‘ ہیں۔ میں نے یہ کتاب پڑھی ہے اور میں نے اس میں کہیں بھی دار الدعوۃ کا لفظ نہیں پایا۔ آپ کا مذکورہ جواب علمی اعتبار سے مکمل طورپر غیر تشفی بخش ہے۔
آپ کا یہ کہنا کہ —’’کتاب کا لبّ لباب وہی ہے، اور کتاب کے نام سے بھی یہی ظاہر ہے‘‘۔ یہ دونوں باتیں سخت غیر علمی ہیں۔ کیوں کہ میںنے آپ سے یہ نہیں پوچھاتھا کہ کتاب کا لب لباب کیا ہے، بلکہ یہ پوچھا تھا کہ آپ کے دعوے کے مطابق، کتاب میں متعیّن طورپر ’’دارالدعوۃ‘‘ کی اصطلاح کہا ں استعمال ہوئی ہے۔ آپ کا یہ عذر کہ کتاب مِس پلیس(misplace) ہوگئی ہے، موجودہ پریس اور کمیونکیشن کے دَور میں مضحکہ خیز حد تک ناقابل قبول ہے۔ شریعت کا اصول ہے کہ: البیّنۃ علی المدّعی۔ چوں کہ آپ نے ایک دعویٰ کیا ہے، اِس لیے اب آپ ہی کی یہ ذمّے داری ہے کہ آپ اپنے اس دعوے کے حق میں مطلوب ثبوت پیش فرمائیں۔
نئی دہلی، ۱۶فروری ۲۰۰۶ دعا گو وحید الدین
میرے اِس خط کے بعد ان کا ایک خط مجھے ملا، جو یہاں نقل کیا جاتا ہے:
محترم ومکرم مولانا وحید الدین خاں صاحب السلام علیکم ورحمۃ اللہ
امید ہے مزاج گرامی بخیر ہوں گے۔ میں آپ کا نہایت شکر گزار ہوں کہ آپ نے ایک اہم غلطی کی طرف میری توجہ دلائی۔ میں اپنے پبلشر کو پیغام دے رہا ہوں کہ ان کے پاس جتنے نسخے بھی موجود ہیں، ان کے متعلقہ صفحے سے استاذ حسن الہضیبی کا نام کاٹ دیں۔ فی الوقت یہ کتاب صرف پانچ سو کی تعداد میں چھپی ہے اور میرا خیال ہے کہ اس کے کم ہی نسخے نکلے ہوں گے۔ انشاء اللہ جب اس کتاب کا اگلا ایڈیشن شائع ہوگاتو اس میں نہ صرف یہ کہ اس غلطی کی اصلاح کردی جائے گی بلکہ اس میں جناب حسن الہضیبی کے بارے میں تبصرہ بھی اس موضوع سے علیحدہ درج کیا جائے گا۔ انشاء اللہ اگلے ایڈیشن میں موجودہ ایڈیشن کی اس غلطی کا تذکرہ بھی ہوگا تاکہ زیادہ سے زیادہ قارئین تک یہ بات پہنچ جائے۔
آپ نے میرا عذر قبول نہیں فرمایا حالانکہ میری بات بالکل حقیقت پر مبنی تھی۔ میںایک دور افتادہ چھوٹے سے شہر میں رہتا ہوں جہاں پریس اور کمیونیکیشن کا وہ حال نہیں ہے جو بڑے شہروں میں ہوتا ہے۔ جب بھی آپ کا کوئی نمائندہ لاہور آئے تو وہ کتاب مس پلیس ہونے سے متعلق ذمے دار افراد سے خود اس بات کی تصدیق کرسکتے ہیں۔
والسلام
۱۹ فروری ، ۲۰۰۶ آپ کا مخلص ڈاکٹر محمد فاروق خان
ان کے اس خط کے بعد میں نے حسب ذیل خط ان کو روانہ کیا:
برادرِ محترم ڈاکٹر محمد فاروق خان! السلام علیکم ورحمۃ اللہ
آپ کا خط مؤرخہ ۱۹ فروری ۲۰۰۶ ملا۔ آپ نے اپنی تحریر کے متعلق وضاحت کرتے ہوئے جو کچھ لکھا ہے، اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ آپ اس کو صرف ’’ایڈیشن کی غلطی‘‘ سمجھتے ہیں۔ ایڈیشن کی غلطی کا لفظ ایک مبہم لفظ ہے۔ اِس سے غلطی کی اصل نوعیت معلوم نہیں ہوتی۔آپ کو غیر مبہم انداز میں یہ لکھنا چاہیے کہ جو الفاظ آپ کی کتاب میں چھپے ہیں وہ آپ نے غلط طور پر لکھ دیے تھے، یا آپ کے کسی قصد کے بغیر وہ اتفاقاً اپنے آپ ہی اس میں چھپ گیے۔ میرے نزدیک، آپ کی کتاب میں جو غلطی کی گئی ہے وہ یقینی طورپر طباعت کی غلطی نہیں ہے بلکہ وہ خود مصنف کی اپنی تحریری غلطی ہے۔ میں دوبارہ عرض کروں گا کہ آپ متعیّن الفاظ میں اِس معاملے کی وضاحت تحریر فرمائیں۔
نئی دہلی، ۲۰ فروری ۲۰۰۶ دعاگو وحید الدین
کافی انتظار کے بعد جب ان کا کوئی جواب مجھے نہیں ملا تو میں نے ان کی خدمت میں درج ذیل خط روانہ کیا:
برادرِ محترم ڈاکٹر محمد فاروق خان! السلام علیکم ورحمۃ اللہ
عرض یہ کہ آپ کی کتاب ’’جہاد، قتال اور عالمِ اسلام‘‘ کے بارے میں میں نے آپ سے ایک خط وکتابت کی تھی مگر آپ نے واضح اور متعین جواب سے اعراض فرمایا۔ حقیقت یہ ہے کہ اِس معاملے میں آپ کے لیے صرف دو میں سے ایک کا انتخاب ہے، یا تو آپ بتائیں کہ آپ کے دعوے کے مطابق، کتاب ’’دعاۃ…لاقضاۃ‘‘ کے کس صفحے پر ’’دار الدعوۃ‘‘ کی اصطلاح استعمال ہوئی ہے، یا پھر صاف طورپر یہ اعتراف کریں کہ آپ نے جو حوالہ دیا وہ ایک غلط حوالہ تھا۔ آپ کے لیے یہ کوئی درست طریقہ نہیں کہ آپ اصل سوال کا براہِ راست جواب نہ دے کر ٹالنے والے جواب (evasive reply) کا انداز اختیار کریں۔
میں عرض کروں گا کہ آپ کا یہ طریقہ سخت غیر علمی طریقہ ہے۔ اِس قسم کی روش کا نتیجہ آدمی کے حصّے میں یہ آتا ہے کہ اس کی علمی ترقی رُک جائے اور وہ اعلیٰ فکری ارتقاء کے درجے تک نہ پہنچ سکے۔
نئی دہلی،۸مارچ ۲۰۰۶ دعا گو وحید الدین
واپس اوپر جائیں

مراسلت نمبر— ۵

ڈاکٹر فضل الرحمن فریدی مدیر ماہ نامہ زندگی ٔ نَو (نئی دہلی) کا ایک مضمون زندگی ٔ نَو میں ’’اشارات‘‘ کے طور پر چھپا ۔ اس کا تعلق ڈنمارک میں شائع ہونے والے حالیہ کارٹون سے تھا۔ اِس مضمون کو پڑھنے کے بعد میں نے انھیں ایک خط روانہ کیا جس کا متن یہ تھا:
برادر محترم ڈاکٹر فضل الرحمن فریدی! السلام علیکم ورحمۃ اللہ
ماہ نامہ زندگی ٔ نو کا شمارہ اپریل ۲۰۰۶ دیکھا۔ اس کے ’’اشارات‘‘ میں آپ نے ڈنمارک کے ایک اخبار میں شائع شدہ کارٹون پر تبصرہ فرمایا ہے۔ اِس تحریر کے آخر میں آپ نے ’’ایک معروف مفکّر‘‘ کے حوالے سے ان کی طرف کچھ باتیں منسوب کی ہیں، مگرآپ نے اِس معروف مفکر کا نام نہیں لکھا اور نہ یہ حوالہ دیا کہ انھوں نے اپنی کس تحریر یا کتاب میں وہ بات لکھی ہے جو آپ نے ان کی طرف منسوب فرمائی ہے۔
براہِ کرم مذکورہ معروف مسلم مفکر کا نام تحریرفرمائیں، نیز یہ کہ انھوں نے اپنی کس تحریر میں وہ بات لکھی ہے جو آپ نے ان کی طرف منسوب کی ہے، تاکہ یہ معلوم کیا جاسکے کہ آپ نے جوبات اُن کی طرف منسوب کی ہے وہ خود انھوں نے لکھی ہے یا آپ نے ان کی بات کو بطور خود بگڑی ہوئی صورت میں پیش کیا ہے۔ براہِ کرم نام اور حوالہ دونوں تحریر فرمائیں، تاکہ اِس معاملے کو متعین طورپر سمجھا جاسکے۔
نئی دہلی، ۳۱ مارچ ۲۰۰۶ دعا گو وحید الدین
مذکورہ خط کا جواب موصول نہیں ہوا تواس کے بعد میںنے بطور یاد دہانی انھیں دوسرا خط روانہ کیا۔ تاہم ان کی طرف سے میرے خط کا کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔ میرے مذکورہ خط کا متن درج ذیل ہے:
برادرِ محترم ڈاکٹر فضل الرحمن فریدی! السلام علیکم ورحمۃ اللہ
عرض یہ کہ ۳۱ مارچ ۲۰۰۶ کو میں نے آپ کی خدمت میں ایک جواب طلب خط روانہ کیا تھا مگر اس سلسلے میں آپ کی طرف سے ابھی تک کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔ براہِ کرم اس سلسلے میں اپنا جواب ارسال فرمائیں۔
مسئلہ یہ ہے کہ آپ نے ماہ نامہ زندگی ٔ نو (اپریل ۲۰۰۶) میں ’’اشارات ‘‘کے تحت، ڈنمارک کے اخبار میں چھپنے والے حالیہ کارٹون کے بارے میں اپنے خیالات کا اظہار کیا تھا۔ اس سلسلے میں آپ نے مزید لکھا تھا کہ : ’’شیطانی کارٹون کے خلاف امتِ مسلمہ کے عالم گیر اضطراب اور احتجاج کے دوران ملتِ اسلامیہ کے بعض مسلم ناصحین بھی میدانِ کار میں اتر آئے ہیں۔ یہ سب نصیحت فرمانے لگے ہیں کہ ’’مسلمانو! صبر کا رویّہ اختیار کرو، جیسا کہ دُشنام طرازی کہ مابَین خود رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا۔ قرآن کریم نے خود حریفوں کی الزام تراشی اور ہرزہ گوئی کے درمیان صبر کا رویّہ اختیار کرنے کی تعلیم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دی تھی:فاصبر علیٰ ما یقولون، وسبّح بحمد ربّک۔ (یہ لوگ جو کچھ کہتے ہیں آپ اس پر صبر کیجئے اور اپنے رب کی تسبیح و پاکی بیان کیجئے اور حمد و ثنا کیجئے)۔اس لیے مسلمانوں کو بھی صبر کرنا چاہیے‘‘۔ یہ نصیحت ہندستان کے ایک معروف مفکر اکثر ہندی مسلمانوں کو ہدیہ کرتے رہتے ہیں اور اس طرح ارشاد فرماتے ہیں کہ گویاگناہ گار خود مسلمان ہیں‘‘۔ (صفحہ ۱۵)
آپ نے اپنی اِس تحریر میں جن صاحب کا حوالہ دیا ہے ان کا نام آپ نے ذکر نہیں فرمایا۔ براہِ کرم نام کی تصریح کے ساتھ مطلع فرمائیں کہ یہ کون صاحب ہیں، اور انھوں نے اپنی کس کتاب یا مضمون میں وہ نقطۂ نظر تحریر کیا ہے جس کو آپ نے اپنے ’’اشارات‘‘ میں ان کی طرف منسوب فرمایا ہے۔
نئی دہلی، ۱۳؍ اپریل ۲۰۰۶ء طالب جواب وحید الدین
واپس اوپر جائیں

مراسلت نمبر — ۶

ڈاکٹر اشتیاق احمد ظلّی، مدیر مجلّہ علوم القرآن (علی گڈھ) کا مولانا حمید الدین فراہی کے بارے میں ایک مضمون چھپا تھا۔ اس مضمون کو پڑھ کر میں نے انھیں درج ذیل خط روانہ کیا:
برادرِ محترم ڈاکٹر اشتیاق احمد ظلی! السلام علیکم ورحمۃ اللہ
عرض یہ کہ علی گڈھ سے شائع ہونے والے ششماہی مجلّہ علو م القرآن (جنوری۔دسمبر ۱۹۹۱) میں آپ کا ایک مضمون دیکھا، اس کا عنوان یہ تھا:
’’ترجمان القرآن، مولانا حمید الدین فراہی کی فکری اور اصلاحی تحریک‘‘۔
اپنے اس مضمون میں آپ نے یہ لکھا تھا کہ مولانا حمید الدین فراہی علی گڈھ کے زمانۂ قیام میں ’’نہ صرف عصری علوم سے آشنا ہوئے بلکہ عصری اسلوب ومزاج اور عصری اندازِ تحقیق وترسیل سے پوری واقفیت بہم پہنچائی۔ یہیں انگریزی زبان پر عبور حاصل کیا اور فلسفۂ جدید کے ذوق آشنا ہوئے…یہ امر واقعہ ہے کہ قدیم و جدید کا جیسا مجمع البحرین اُن کی ذات والا صفات میں نظر آتا ہے اس کی مثال ملنی مشکل ہے‘‘۔ (صفحہ ۸۷)
اس کے بعد مجھے سرائے میر (اعظم گڑھ) سے شائع ہونے والے سہ ماہی مجلّہ نظام القرآن کا شمارہ ستمبر، اکتوبر، نومبر ۲۰۰۵ ملا۔ اس میںآپ کا ایک مضمون اِس عنوان کے ساتھ چھپا ہے: فکرِفراہی، مرض اور علاج۔
اپنے اِس مضمون میں آپ نے دوبارہ لکھا ہے کہ مولانا حمید الدین فراہی نے علی گڑھ میں ’’جدید نظریات اور فلسفے سے واقفیت ہی حاصل نہیں کی بلکہ اُن کا گہرا مطالعہ کیا اور علمی اور ذہنی سطح پر اپنے آپ کو اس کام کے لیے تیار کیا جو اُن کے پیش نظر تھا... وہ جدید تعلیم سے بر اہِ راست واقف تھے‘‘۔ (صفحہ ۶۹)
آپ کے اِن دونوں مضامین میں آپ کے دعوے کے حق میں مولانا فراہی کی کسی تحریر کا کوئی متعلق حوالہ موجود نہیں۔میں نے خود مولانا حمید الدین فراہی کی تحریریں دیکھی ہیں، مگر ان کی کسی بھی تحریر یا کتاب میں ان کی وہ تصویر مجھے نہیں ملی جس کاذکرآپ نے اپنے مذکورہ دونوں اقتباس میں فرمایا ہے۔ ان کی تحریروں سے قدیم میں ان کی دست گاہ کا ثبوت تو ملتا ہے لیکن عصری افکار اور جدید علوم میں ان کی مہارت کا کوئی ثبوت نہیں ملتا۔
براہِ کرم متعین طور پر بتائیں کہ مولانا حمید الدین فراہی کی کس کتاب یا کتاب کے کس صفحے سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ وہ عصری افکار اور جدید علوم میں تبحر کا درجہ رکھتے تھے، جیسا کہ آپ نے اپنے مضامین میں تحریر فرمایا ہے۔
نئی دہلی، ۳۰؍اپریل ۲۰۰۶ دعا گو و حید الدین
ان کی طرف سے کوئی جواب نہیں ملا تو میں نے انھیں یاددہانی کے طور پر درج ذیل خط لکھا:
برادرِ محترم ڈاکٹر اشتیاق احمد ظلّی! السلام علیکم ورحمۃ اللہ
عرض یہ کہ ۳۰ ؍اپریل ۲۰۰۶ کو میں نے آپ کی خدمت میں ایک خط روانہ کیا تھا۔ یہ خط آپ کے ایک مطبوعہ مضمون سے متعلق تھا۔ میں نے آپ سے آپ کی لکھی ہوئی ایک بات کی وضاحت طلب کی تھی، مگر ابھی تک آپ کی طرف سے اس کا کوئی جواب مجھے نہیں ملا۔براہِ کرم جلدجواب روانہ فرماکر شکریے کا موقع دیں۔
نئی دہلی، ۲۶ مئی ۲۰۰۶ دعا گو وحید الدین
واپس اوپر جائیں

مراسلت نمبر — ۷

مولانا محمد کلیم صدیقی، سرپرست ماہ نامہ ارمغان شاہ ولی اللہ (پھُلت، ضلع مظفر نگر) کا ایک مضمون مولانا عبد اللہ عباس ندوی کے متعلق، ارمغان میں چھپا تھا۔ اس مضمون کو پڑھ کر میںنے انھیں یہ خط لکھا:
برادرِ محترم مولانا محمد کلیم صدیقی! السلام علیکم ورحمۃ اللہ
عرض یہ کہ ماہ نامہ ارمغان ولی اللہ کا شمارہ اپریل-مئی ۲۰۰۶ دیکھا۔اس میں آپ کاایک مضمون چھپا ہے، اس کا عنوان یہ ہے:’’حضرت مولانا عبد اللہ عباس ندوی، چند یادیں چند باتیں‘‘
اس مضمون میںآپ نے مولانا عبد اللہ عباس ندوی کے تذکرے کے ذیل میں لکھا ہے کہ:
’’حق و باطل کو قریب سے دیکھنے اور ان کے درمیان تحقیقی تقابل کے بعدحق کی عظمت آشکارا ہوتی ہے اور ایسی شخصیات جن کو مشرق و مغرب کے مے خانوں سے استفادے کا موقع ملتا ہے تو وہ حق کی عظمت اور اعتراف کے سلسلے میں صاحب تقلید نہیں رہتے بلکہ صاحب تحقیق ہوجاتے ہیں۔ اور پھر ان کی زبان و قلم سے جو بھی نکلتا ہے اس سے حق پر اُن شخصیات کا تحقیقی اعتماد ظاہر ہوتا ہے۔ مولانا عبد اللہ عباس ندوی کو اللہ نے اِس کا موقع دیا تھا…انھوں نے مغرب کی راجدھانی انگلینڈ میںمغربی علوم، تہذیب ومعاشرت کا تحقیقی وتقابلی نظر سے مطالعہ کیا تھا۔وہ وہاں کے محققین میںشمار کیے جاتے تھے‘‘۔ (صفحہ ۹)
آپ کے اِس اقتباس سے ظاہر ہوتا ہے کہ مولانا عبداللہ عباس ندوی، مغربی علوم میں صاحبِ تحقیق کا درجہ رکھتے تھے۔ ان کاشمار ’’مغرب کے محققین‘‘ میں کیا جاتا تھا۔ جہاں تک مشرقی موضوعات کا تعلق ہے، ان میں مولانا عبد اللہ عباس ندوی بلاشبہہ دست رس رکھتے تھے،لیکن میںان کی کسی ایسی تحریر کو نہیں جانتا جس سے معلوم ہوتا ہو کہ وہ مغربی علوم میں محقق کا درجہ رکھتے تھے اور ان کا شمار مغرب کے محققین میں ہوتا تھا۔
براہِ کرم مولانا عبد اللہ عباس ندوی کی کسی ایسی کتاب یا مقالے کا حوالہ تحریر فرمائیں جس سے یہ معلوم ہوتا ہو کہ وہ مغربی علوم میں تحقیقی دست گاہ رکھتے تھے۔ اِس قسم کا کوئی متعین حوالہ بھیج کر ممنون فرمائیں۔
نئی دہلی، ۱۰؍اپریل ۲۰۰۶ء دعا گو
وحیدالدین
کافی انتظار کے بعد جب مولانا موصوف نے میرے خط کا کوئی جواب اور اپنے دعوے کے حق میں کوئی حوالہ نہیں فرمایا تو میں نے دوبارہ انھیں ایک خط روانہ کیا۔ اس خط کا مضمون یہ تھا:
برادرِ محترم مولانا محمد کلیم صدیقی! السلام علیکم ورحمۃ اللہ
عرض یہ کہ ۱۰؍ اپریل ۲۰۰۶ کو میں نے آپ کی خدمت میں ایک خط روانہ کیا تھا۔ یہ خط آپ کے ایک مطبوعہ مضمون سے متعلق تھا۔ میں نے آپ سے آپ کی تحریر کردہ ایک بات کا حوالہ دریافت کیا تھا، مگر ابھی تک آپ کی طرف سے اس کا کوئی جواب مجھے نہیں ملا۔
براہِ کرم میرے خط کا جواب جلد روانہ فرماکر شکریے کا موقع دیں۔
نئی دہلی، ۲۵ مئی ۲۰۰۶ دعا گو وحید الدین
طویل انتظار کے بعد جب کوئی جواب مجھے نہیں ملا تو میں نے ان کو درج ذیل خط روانہ کیا:
برادرِ محترم مولانا محمد کلیم صدیقی! السلام علیکم ورحمۃ اللہ
یہ عریضہ میںاپنے سابقہ خط کے ضمن میں آپ کو لکھ رہا ہوں۔ آپ نے اپنے ماہ نامہ ارمغان شاہ ولی اللہ (اپریل۔مئی ۲۰۰۶) میں لکھا تھا کہ مولانا عبد اللہ عباس ندوی مغربی علوم میں صاحبِ تحقیق کا درجہ رکھتے تھے۔ اُن کا شمار مغرب کے محققین میںہوتا تھا۔ مگر میں ان کی کسی ایسی تحریر کو نہیں جانتا جس سے معلوم ہوتا ہو کہ مولانا عبد اللہ عباس ندوی مغربی علوم میں محقق کا درجہ رکھتے تھے۔ میں نے آپ سے آپ کے اِس بیان کا متعین حوالہ دریافت کیا تھا، مگر ابھی تک آپ کی طرف سے اِس سلسلے میں کوئی جواب موصول نہیںہوا۔
اب میں اِس سلسلے میں اپنا آخری خط آپ کو لکھ رہا ہوں۔ اگر آپ نے اس کا جواب روانہ نہیں فرمایا تو میں یہ سمجھوں گا کہ مولانا عبداللہ عباس ندوی کے متعلق، آپ کایہ بیان صرف قصیدہ نگاری کے طورپر تھا، وہ ایک امرِ واقعہ کا بیان نہ تھا۔ کیوں کہ امرواقعہ کا ہمیشہ ایک متعین حوالہ ہوتا ہے۔ جب کہ مدحیّہ قصیدے کی حیثیت صرف ایک شاعرانہ مبالغے کی ہوتی ہے، وہ کسی ایسی حقیقت پر مبنی نہیں ہوتا جس کا حوالہ دینا ممکن ہو۔
نئی دہلی، ۳۰؍ اگست ۲۰۰۶ء دعاگو وحید الدین
واپس اوپر جائیں

مراسلت نمبر— ۸

ماہ نامہ زندگیٔ نو (نئی دہلی) کے شمارہ جون ۲۰۰۶ میں ’’رسائل ومسائل‘‘ کے تحت، مولانا محمد شاہد خان ندوی (دوحہ، قطر)کا ایک مراسلہ چھپا۔ اپنے اِس مراسلے میں انھوں نے ڈاکٹر یوسف القرضاوی کے بارے میں ایک ایسی بات لکھی تھی جو میرے نزدیک علمی اعتبار سے بے بنیاد تھی۔ اس سلسلے میں ان سے درج ذیل مراسلت ہوئی:
برادرِ محترم مولانا محمد شاہد خان ندوی! السلام علیکم ورحمۃ اللہ
عرض یہ کہ آپ کا ایک مراسلہ ماہ نامہ زندگی ٔ نو (جون ۲۰۰۶) میںچھپا ہے۔ اس مراسلے میں آپ نے ڈاکٹر یوسف القرضاوی کے بارے میں لکھا ہے کہ—’’عصرِ حاضر اور اسلام پر شاید ہی کوئی دوسرا عالم اتنا لکھتا اور بولتا ہو جتنا کہ علامہ یوسف القرضاوی لکھتے اور بولتے ہیں‘‘ ۔ (صفحہ ۸۰)
اِس بیان سے آپ کی مراد اگریہ ہو کہ ڈاکٹر یوسف القرضاوی نے عصرِ حاضر میں پیدا شدہ بعض جُزئی فقہی مسائل کے متعلق کلام کیا ہے تو یہ بجائے خود درست ہے، لیکن اگر آپ کا مطلب یہ ہے کہ ڈاکٹر یوسف القرضاوی نے عصرِ حاضر اور اسلام کے موضوع کو اس کے عمیق معنوں میں سمجھا ہے اور اسلامی نقطۂ نظر سے اس کا علمی تجزیہ کیا ہے تو مجھے ان کی ایسی کسی کتاب کا علم نہیں۔ ڈاکٹر یوسف القرضاوی نے اپنی کس کتاب میں اسلام اور عصرِ حاضر کے موضوع پر اِس عمیق مفہوم میں اس کاگہرا علمی تجزیہ کیا ہے۔ براہِ کرم متعیّن طور پر صفحہ نمبر کے ساتھ اُن کی متعلقہ تحریر کا حوالہ روانہ فرمائیں۔
نئی دہلی، ۱۳ جون ۲۰۰۶ دعا گو وحید الدین
جواب میں تاخیر ہوئی تو میں نے یاد دہانی کے لیے دوبارہ درج ذیل خط روانہ کیا:
برادرِ محترم مولانا محمد شاہد خان ندوی! السلام علیکم ورحمۃ اللہ
عرض یہ کہ میں نے اپنے خط مؤرخہ ۱۳ جون ۲۰۰۶ میں، آپ سے ڈاکٹر یوسف القرضاوی کی کسی ایسی تحریر کا ایک متعین حوالہ دریافت کیا تھا جس سے آپ کے دعوے کے مطابق، یہ معلوم ہو کہ انھوں نے اسلام اور عصرِ حاضر کے موضوع کو اس کے عمیق معنوں میں سمجھا ہے اور اس کا علمی تجزیہ کیا ہے۔ مگر ابھی تک آپ نے اس کا کوئی جواب روانہ نہیں فرمایا۔براہِ کرم جلد میرے خط کا متعین جواب روانہ فرمائیں۔
نئی دہلی، ۱۳ جولائی ۲۰۰۶ء جواب کا منتظر وحید الدین
میرے ان دو خطوں کے بعد مراسلہ نگار کا درج ذیل خط مجھے بذریعے ای میل موصول ہوا:
فضیلۃ الاستاذ مولانا وحید الدین خاں صاحب اطال اللہ بقاء کم وادام فیوضکم السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
امید کہ مزاج گرامی بخیر ہوگا!
آپ کاای میل نظر نواز ہوا۔ پہلی بار انٹرنٹ کی برکت سے آپ سے شرف ہم کلامی حاصل ہورہا ہے، میں آپ کے مؤقر جریدہ –الرسالہ– کا تقریباً بارہ تیرہ سال سے شیدائی ہوں، آپ کی تحریروں کو بڑے شوق سے پڑھتا ہوں، زمانہ طالب علمی ہی میں آپ کی کتاب –مذہب اور جدید چیلنج، تعبیر کی غلطی– اور چند دوسری کتابیں پڑھ لی تھیں، اُسی زمانہ سے الرسالہ مطالعہ کے لیے اِدھر اُدھر سے حاصل کرتا تھا نہ ملنے کی صورت میں لکھنؤ شہر کے بعض مکتبوں سے خرید کر پڑھتا تھا، جب میں قطر آگیا تو یہاں اردو داں حلقے سے جس حد تک بھی میری واقفیت تھی کسی کے پاس بھی الرسالہ نہیں آتا تھا، آپ کے افکار سے واقفیت رک گئی، شوق نے پھر مہمیز کیا اور میں نے الرسالہ یہاں کے پتہ پر جاری کروایا جو میری سستی اور بعض دوسری مشغولیات کی بنا پر تجدید اشتراک نہ کرسکنے کی وجہ سے پچھلے سال جون میں بند ہوگیا۔
ماشاء اللہ آپ کا مطالعہ بہت وسیع ، آپ کا اسلوب نگارش بہت عمدہ اور طریقۂ استنتاج بہت منفرد ہے۔ آپ کا ذہن تقلیدی نہیں، آپ اوریجینل چیزیں پیش کرتے ہیں اور زمینی حقائق کو سامنے رکھ کر مسائل کا حل تلاش کرتے ہیں اور ان کی سائنٹفک توجیہ کرتے ہیں، عصر حاضر میںاسلام کی خدمت کے حوالے سے آپ کی کوششیں اور کاوشیں قابل قدر ہیں۔
جب بھی ہندستان میں مسلمانوں کو کوئی نیا مسئلہ در پیش ہوتا ہے آپ کی ذات گرامی سے توقع ہوتی ہے کہ کوئی عمدہ چیز سامنے آئے گی اور عام تقلیدی مزاج سے ہٹ کر آپ کوئی مجتہدانہ رائے دیں گے لیکن معذرت کے ساتھ بعض مسائل میںآپ کی طرف سے ہم لوگوں کو شدید مایوسی ہوئی، مثلاً گڑیا کا معاملہ، آپ لوگوں نے فیصلہ پہلے شوہر کے حق میں دیا۔ اس دن زی ٹیلی ویژن کے اسکرین پر ہم لوگ آپ کو سن رہے تھے، ایک عام آدمی نے اس دن اس فیصلہ کو آپ سے درایۃً جاننا چاہا تو آپ نے اسے اطمینان بخش جواب دینے کے بجائے اس سے کچھ اسی طرح کے الفاظ فرمائے کہ شریعت میں عقل کا گھوڑا دوڑانا چاہتے ہو؟
اسی طرح سے عمرانہ کا مسئلہ جس کے ساتھ اس کے خسر نے زنا کیا، اور ایک قدیم فقہی فیصلہ کو مد نظر رکھتے ہوئے اسے باپ کی موطوء ۃ قرار دیاگیا حالاں کہ حدیث شریف کہتی ہے کہ —الولد للفراش وللعاہر حجر– اس موقع پر آپ سے توقع تھی کہ آپ روح شریعت کو صحیح طورپر پیش کریں گے، اور شریعت کی روشنی میں ایسا معقول اور دل لگنے والا فیصلہ دیں گے جس سے تمام لوگ مطمئن ہوں گے۔ لیکن مایوسی ہوئی، یقین مانئے کہ اس طرح کے فیصلوں سے اسلام کی بدنامی ہوتی ہے اور میڈیا کے اس دور میں دوسرے لوگ یہ سمجھنے لگتے ہیں کہ قصور اسلام میں ہے اور وہ اس دور کے تقاضوں کو پورا کرنے سے عاجز ہے، میری ان معروضات کا مقصد تنقید ہرگز نہیں بلکہ یہ باتیں میں نے آپ سے اس لیے عرض کی ہیں کہ آپ ایک بلند پایہ روشن دماغ عالم دین ہیں، اور آپ کا ایک حلقہ اثر ہے، اور لوگوں کے مقام و مرتبہ کے مطابق ہی ان سے امیدیں قائم کی جاتی ہیں۔ ہم جیسے لوگ آپ کی تحریروں کو بڑی قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں، بہت ممکن ہے کہ آپ لوگوں کا فیصلہ درست بھی ہو لیکن اس دور میں ایک عام عقل کو اس طرح کی چیزیں مطمئن کرنے والی نہیں ہیں۔
جہاں تک ڈاکٹر علامہ یوسف القرضاوی صاحب کے سلسلہ میں آپ کے استفسار کا سوال ہے تو یہ بات اپنی جگہ بالکل درست ہے کہ انھوںنے عصر حاضر میں پیدا شدہ بے شمار فقہی مسائل پر مجتہدانہ گفتگو کی ہے لیکن انہوں نے صرف فقہی مسائل کو ہی اپنا موضوع نہیں بنایا ہے بلکہ عصر حاضر کے سیاسی، سماجی، اور دیگر مسائل کو گہرائی سے دیکھا اور اسلامی نقطۂ نظر سے ان پر کلام کیا ہے، کتاب وسنت کی روشنی میں عصر حاضر میں دین کی تفہیم و تشریح اور اسلام کو عصری تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کی کوشش کی ہے، جیسا کہ میں نے اپنا مراسلہ (زندگی نو، جون ۲۰۰۶) میں لکھا ہے کہ، انٹرنٹ ویب سائٹ موقع القرضاوی islamonline، اور الجزیرہ سیٹلائٹ چینل کے ہفتہ واری پروگرام الشریعۃ والحیاۃ، قطر ٹیلی ویژن کے ہفتہ واری پروگرام ہدی الاسلام میں ان کی سرگرمیوں کو دیکھا جاسکتا ہے، ان پروگراموں کے ذریعہ اسلام کو عصری انداز میں پیش کیا جاتا ہے، عصر حاضر کے مسائل اٹھائے جاتے ہیں اور مختلف چیلنجز کا اسلامی حل پیش کیا جاتا ہے، علامہ موصوف انتہائی مصروف انسان ہیں، خدمت دین ان کی زندگی کا اوڑھنا بچھونا ہے، اس عمر میں بھی وہ انتھک محنت کرتے ہیںمختلف عالمی کانفرنسوں میں شرکت کرتے ہیں جس میں ایک موضوع حوار الادیان بھی ہے، جمعہ کا ان کا خطبۂ ثانیہ (جو قطر سے ٹیلی کاسٹ کیا جاتا ہے) ہمیشہ حالاتِ حاضرہ پر ہوا کرتا ہے جس میں تنقید بھی ہوتی ہے اور توجیہہ بھی۔
ان کی مکمل فکر کو کسی ایک اقتباس سے نہیں سمجھا جاسکتا، ان کے افکار بے شمار کتابوں میں پھیلے ہوئے ہیں، ان کو یکجا کرنے کے بعد ہی ان کی مکمل فکر سامنے آسکتی ہے، یہاں میں ان کی چند کتابوں کی طرف اشارہ کررہا ہوں۔
۱ ۔ فقہ الاولویات دراسۃ جدیدۃ فی ضوء القرآن والسنۃ۔
۲۔ این الخلل۔
۳۔ الاسلام والعلمانیۃ وجہا لوجہ۔
۴۔ شریعۃ الاسلام صالحۃ للتطبیق فی کل زمان ومکان۔
۵۔ الحلول الاسلامی وکیف جنت علی امتنا۔
۶۔ بینات الحل الاسلامی وشبہات العلمانیین والمغتربین۔
۷۔ الاسلام حضارۃ الغد۔
۸ لقاء ات ومحاورات حول قضایا الاسلام والعصر (جزء ان)
۹۔ قضایا معاصرۃ علی بساط البحث۔
۱۰۔ الدین فی عصر العلم۔
۱۱۔ مستقبل الاصولیۃ الاسلامیۃ۔
۱۲۔ القدس قضیۃ کل مسلم۔
۱۳۔ حاجۃ البشریۃإلی الرسالۃ الحضاریۃ لأمتنا۔
۱۴۔ العولمۃ۔
۱۵۔ الاجتہاد فی الشریعۃ الاسلامیۃ۔
۱۶۔ أمّتنا بین قرنین۔
لیکن مجھے نہیں معلوم کہ—اسلام اور عصر حاضر پر اسلامی نقطہ نظر سے گہرا علمی تجزیہ— کے آپ کے مطلوبہ معیار پر ان کی تحریریں یا ان کے افکار و نظریات پورا اترتے ہیں یا نہیں، اس لیے کہ مسائل کو دیکھنے کا ہر آدمی کا اپنا نقطہ نظر ہوتا ہے۔اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ ہمیں عملِ خیر اور خیر عمل کی زیادہ سے زیادہ توفیق نصیب فرمائے۔
۷ اگست ۲۰۰۶ طالب دعا
محمد شاہد خان ندوی، دوحہ، قطر
مراسلہ نگار کا یہ طویل خط میرے اصل سوال کا جواب نہ تھا، اس لیے میںنے دوبارہ ان کو ایک خط روانہ کیاجس کا کوئی جواب موصوف کی طرف سے مجھے نہیں ملا۔ میرے اُس خط کی نقل یہاں درج کی جاتی ہے:
برادرِ محترم مولانا محمد شاہد خان ندوی! السلام علیکم ورحمۃ اللہ
آپ کاخط مؤرخہ۷؍اگست ۲۰۰۶ملا۔ عرض ہے کہ آپ کا یہ مکتوب میرے سوال کی نسبت سے غیر متعلق (irrelevant) ہے۔ اس لیے دوبارہ میں آپ کو اپنا یہ خط لکھ رہا ہوں۔
اصل یہ ہے کہ’’عصری مسائل‘‘ کی دو قسمیں ہیں۔ ایک وہ جو دورِ جدید میں مسلمانوں کی فقہی ضرورت کی نسبت سے پیدا ہوئے ہیں۔ اور دوسرے وہ جو وقت کے جدید عالمی ذہن کی پیداوار ہیں۔ موجودہ زمانے میں مسلمانوں کو بہت سے فقہی نوعیت کے مسائل پیش آئے ہیں۔ مثلاً اسکینڈی نیویا کے ملکوں میں نماز اور روزے کے اوقات کا مسئلہ، مغربی ممالک میں ذبیحہ اور غیر ذبیحہ کا مسئلہ، بینک انٹرسٹ اور انشورنس پالیسی کا مسئلہ، وغیرہ۔ یہ سب خالصتاً مسلم مسائل ہیں۔ ان مسائل پر ڈاکٹر یوسف القرضاوی اور دوسرے لوگوں نے بہت کچھ لکھا ہے۔
مگر میرے سوال کا تعلق، اِس قسم کے ’’عصری مسائل‘‘سے نہیں۔ میرے سوال کا تعلق، ایک اور بات سے ہے۔ وہ یہ کہ موجودہ زمانے میں انسانی ذہن میں انقلابی تبدیلی آئی ہے۔ جدید عالمی ذہن سائنٹفک فریم ورک میں اسلام کی صداقت کو سمجھنا چاہتا ہے۔ میرا سوال صرف یہ ہے کہ کیا جدید سائنٹفک فریم ورک کی نسبت سے ڈاکٹر یوسف القرضاوی نے کوئی علمی کام کیا ہے۔ اگر آپ کی مراد یہ ہے کہ ڈاکٹر یوسف القرضاوی نے بعض جدید فقہی ضرورتوں کی نسبت سے کچھ مسائل میںمسلمانوں کی رہنمائی کی ہے تو یہ بات بجائے خود درست ہے، لیکن اگر آپ کی مرادیہ ہے کہ وقت کے فکری مستویٰ کے مطابق، اسلام کو جدید عالمی ذہن کے لیے قابلِ فہم بنانے کی نسبت سے انھوں نے کوئی علمی کام کیا ہے تو مجھے اس کا علم نہیں۔ اگر آپ سمجھتے ہیں کہ جدید سائنٹفک فریم ورک کی نسبت سے بھی انھوں نے کوئی علمی کام انجام دیا ہے تو براہِ کرم ایسے کسی کام کا متعین حوالہ، کتاب کے نام اور صفحہ نمبر کے ساتھ روانہ فرمائیں۔
نئی دہلی، ۹ ؍اگست ۲۰۰۶ء دعا گو وحید الدین
واپس اوپر جائیں

مراسلت نمبر — ۹

مولانا محمد رابع حسنی ندوی (ناظم ندوۃ العلما، لکھنؤ) کی ایک کتاب شائع ہوئی۔ اِس کتاب میں انھوں نے مولانا ابوالحسن علی ندوی کی کتاب’’نبی رحمت‘‘ کا تعارف لکھتے ہوئے کہا تھا کہ یہ کتاب جدید ذہن کو سامنے رکھتے ہوئے عصری اسلوب میں لکھی گئی ہے۔اِس سلسلے میں مولانا موصوف سے درج ذیل مراسلت ہوئی:
مکرمی و محترمی مولانا محمد رابع حسنی ندوی! السلام علیکم ورحمۃ اللہ
عرض یہ کہ آپ نے اپنی کتاب ’’مولانا سید ابو الحسن علی ندوی: عہد ساز شخصیت‘‘ (مطبوعہ: مجلس تحقیقات و نشریات اسلام، لکھنؤ) میں مولانا ابو الحسن علی ندوی کی کتاب ’’نبی رحمت‘‘ کے بارے میں لکھا ہے کہ:
’’اِس میں سیرتِ نبوی کو اپنے ذوق اوررجحان اور رائج الوقت علمی نظریات کا تابع بنانے اور زندہ حقیقتوں اور منہ بولتی صداقتوں میں فلسفہ آرائی اور رنگ آمیزی سے کام لینے کے بجائے، اپنی حقیقی اور واقعی شکل میں پیش کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔نئی نسل کے فہم اور نفسیات کی موجودہ سطح اور عصری اور علمی اسلوب کا پورا خیال رکھا گیا ہے‘‘۔ (صفحہ ۳۰۴)
میںنے مولانا ابوالحسن علی ندوی کی مذکورہ کتاب عربی اور اردو دونوں زبانوں میں پڑھی ہے، مگر مجھے اس میں آپ کے مذکورہ بیان کی کوئی تصدیقی مثال نہیں ملی۔ مولانا علی میاں کی اِس کتاب کے کس صفحے سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ نئی نسل کے فہم کی موجودہ سطح کو سمجھتے تھے، اور انھوں نے عصری اسلوب میں اس کا علمی تجزیہ کیا ہے۔ نیز ان کی کس تحریر سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ وقت کے فکری مستویٰ اور عصری اسلوب سے گہرائی کے ساتھ واقف تھے۔ براہِ کرم صفحہ نمبر کی تعیین کے ساتھ اس کے مکمل حوالے سے آگاہ فرمائیں۔
نئی دہلی، ۱۵ جون ۲۰۰۶ء دعا گو وحید الدین
میرے اِس خط کے بعد جب مولانا موصوف کی طرف سے میرے خط کا کوئی جواب موصول نہیں ہوا تو میں نے دوبارہ یاددہانی کے لیے انھیں درج ذیل خط روانہ کیا:
مکرمی ومحترمی مولانا محمد رابع حسنی ندوی! السلام علیکم ورحمۃ اللہ
عرض یہ کہ میں نے اپنے خط مؤرخہ ۱۵ جون ۲۰۰۶ میں ، مولانا ابوالحسن علی ندوی کی کتاب ’’نبی ٔرحمت‘‘ کے متعلق، آپ سے یہ دریافت کیا تھا کہ مولانا علی میاں کی اس کتاب کے کس صفحے سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ نئی نسل کے فہم کی موجودہ سطح کو سمجھتے تھے، اور انھوں نے عصری اسلوب میں اس کا علمی تجزیہ کیا ہے۔
مجھے ابھی تک آپ کی طرف سے اس کا کوئی جواب نہیں ملا۔ براہِ کرم متعین طور پر جلد اس کا جواب ارسال فرماکر شکریے کا موقع عنایت فرمائیں۔
نئی دہلی، ۱۵ جولائی ۲۰۰۶ء جواب کا منتظر وحید الدین
میرے ان دو خطوط کے بعد مولانا موصوف کا ایک خط مجھے ملا، جو یہاں نقل کیا جاتا ہے:
محترم المقام جناب مولانا وحید الدین خاں صاحب زیدت معالیہ
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
امید ہے کہ مزاج بخیر ہوگا۔عنایت نامہ ملا، اس بات سے مسرت ہوئی کہ میری مرتب کردہ کتاب آپ کی نظر سے گذری، اس میں آپ نے ایک جگہ میری تحریر کردہ بات سے اختلاف کیا ہے، وہ بات حضرت علی میاں صاحب رحمۃ اللہ کی کتاب ’’نبی ٔ رحمت‘‘ کی افادیت اور خوبی کے سلسلہ میں ہے، اس میں آپ کی رائے میرے اظہار کردہ خیال کے خلاف ہے، آپ کے عنایت نامہ سے اس کا علم ہوا۔
اختلاف رائے ہونا کوئی قابل اعتراض بات نہیں۔ بہر حال میں نے جو سمجھا وہ لکھا، اور صحیح سمجھ کر لکھا۔ امید ہے کہ میری اختیار کردہ رائے کے اظہار کو آپ غلط معنی نہ دیں گے۔ میں نے کسی دوسرے سے تقابل نہیں کیا ہے، اور میں حتی الوسع شخصیتوں کے درمیان اختلاف کو اپنی تحریر یا تقریر کا موضوع بھی نہیں بناتا، ہر ایک شخصیت کی صرف خوبیوں تک اپنے اظہار رائے کو رکھنے کی کوشش کرتاہوں، اور اختلافی معاملات سے اجتناب کی بھی کوشش کرتا ہوں، الا یہ کہ اسلام اور کفر کے مابین کی بات ہو۔ میںاس میں کہاں تک کامیاب ہوتا ہوں، کہہ نہیں سکتا، لیکن ایسے معاملات میں کسی سے ردّوقدح کرنا پسند نہیں کرتا۔آپ سے مجھ کو عرصہ سے تعارف حاصل ہے، اور اچھے انداز کا ربط و تعلق رہا ہے، دعا ہے کہ وہ باقی رہے۔ دعا میں یاد رکھیں۔
۰۲؍۰۸؍۲۰۰۶ء مخلص محمد رابع حسنی ندوی
ندوۃ العلماء، لکھنؤ
مولانا موصوف کے اس خط کے بعد میںنے دوبارہ ان کی خدمت میں ایک خط روانہ کیا۔ میرے اس خط کا ان کی طرف سے کوئی جواب نہیں آیا۔ مذکورہ خط کی نقل یہاں درج کی جاتی ہے:
مکرمی ومحترمی مولانا محمد رابع حسنی ندوی! السلام علیکم ورحمۃ اللہ
آپ کا خط مؤرخہ ۲ ؍اگست ۲۰۰۶ ملا۔میرا پچھلا خط واضح طور پر ردّ و قدح کی نوعیت کا خط نہیں تھا۔مولانا ابو الحسن علی ندوی کی کتاب ’’نبی ٔ رحمت‘‘ کی افادیت اور خوبی سے بھی مجھے کوئی انکار نہیں، نیز یہ کہ میں نے اس کتاب کا تقابل کسی اور کتاب سے نہیں کیا تھا۔ میں نے آپ سے متعین طور پرصرف ایک بات دریافت کی تھی۔ وہ یہ کہ آپ نے لکھا ہے کہ—اس کتاب میں نئی نسل کے فہم اور نفسیات کی موجودہ سطح اور عصری اور علمی اسلوب کا پورا خیال رکھاگیا ہے۔ آپ کے اس بیان کے مطابق، میرا سوال صرف یہ ہے کہ آپ متعین طورپر اس کتاب کے کسی ایک صفحے کی نشان دہی فرمائیں جس میں عصری اسلوب کی واضح مثال ملتی ہے۔
نئی دہلی، ۸ ؍اگست ۲۰۰۶ء دعا گو وحید الدین
واپس اوپر جائیں

مراسلت نمبر — ۱۰

مولانا بلال عبد الحی حسنی ندوی (ناظم مدرسہ ضیاء العلوم، رائے بریلی) کی ایک کتاب شائع ہوئی۔ یہ کتاب مولانا ابوالحسن علی ندوی کے بارے میں لکھی گئی تھی۔ میں نے اس کتاب کو پڑھ کر اس سلسلے میں مصنف کو ایک خط لکھا۔ اس خط کی نقل یہاں درج کی جاتی ہے:
برادرِ محترم مولانا بلال عبد الحی حسنی ندوی! السلام علیکم ورحمۃ اللہ
عرض یہ کہ آپ نے اپنی کتاب ’’سوانح مفکر اسلام‘‘ (مطبوعہ: سید احمد شہید اکیڈمی، رائے بریلی) میں برصغیر ہندوپاک میں مغربی تہذیب پر ’نکتہ چینی‘ کرنے والوں کا ذکر کرتے ہوئے لکھا ہے کہ:
’’بر صغیر میں اِس سلسلے کا سب سے نمایاں نام ڈاکٹر محمد اقبال کا ہے جن کو جدید مشرق کا سب سے زیادہ بالغ نظر مفکّر قرار دیا جاسکتا ہے۔ انھوں نے مغربی تہذیب و افکار کا بھر پور مطالعہ کیا اور پوری جرأت وقوّت کے ساتھ اس پر تنقید کی۔ جدید تعلیم یافتہ نسل نے اس کا گہرا اثر قبول کیا‘‘۔ (صفحہ ۳۹)
میرے علم کے مطابق، ڈاکٹر محمد اقبال نے مغرب پر منفی انداز اور شاعرانہ زبان میں تو ضر ور طنز و تعریض کیا ہے، لیکن ان کی مطبوعہ تحریروں سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ انھوں نے مغربی تہذیب اور مغربی افکار کا’’ بھرپور مطالعہ‘‘ کیا تھا، اور نہ اِس کا کوئی ثبوت موجود ہے کہ انھوں نے جدید مغربی افکار کا علمی اسلوب میں گہرا تجزیہ کیا۔ اگر آپ کے نزدیک ان کی ایسی کوئی تحریر ہے تو صفحہ نمبر کے ساتھ اس کے مکمل حوالے سے مطلع فرمائیں۔
اسی طرح آپ نے مولانا ابوالحسن علی ندوی کے بارے میں لکھا ہے کہ:
’’عالمی سطح پر حضرت نے جو اصلاحی و تجدیدی کارنامے انجام دیے اُن میں سب سے بڑا اور بنیادی کارنامہ، عالمِ اسلام کو مغربی تہذیب و فکر سے صحیح طریقے پر آزاد کرکے ان کے سامنے اسلام کی صحیح تعلیمات پیش کرنے کا تجدیدی کام ہے۔
حضرت نے خود مغربی تہذیب کا مطالعہ کیا اس کی خوبیوں او ر خامیوں کو سمجھا، اس کی شاطرانہ چالوں کا جائزہ لیا، پھر اس کی حقیقت واضح فرمائی۔ حضرت نے نہ دفاعی پوزیشن اختیار کی اور نہ محض تنقیدکا کام کیا۔ بلکہ اس کا پورا تجزیہ فرماکر اس کے نقصانات کی نشاندہی فرمائی، اس کا تقابلی مطالعہ فرمایا، پھر تہذیب وتمدن پر اسلام کے اثرات و احسانات کو اُجاگر کیا، اور عالمِ اسلام ہی نہیں بلکہ پوری دنیا پر پڑنے والے مغربی تہذیب کے مہلک اثرات کو واضح فرمایا اور اس کے نتیجے میں جس طرح اخلاقی قدریں پامال ہورہی تھیں اور دنیا اخلاقی دیوالیہ پن کا شکار ہورہی تھی اس کو پیش کیا۔
حضرت کے اِس اصلاحی وتجدیدی فکر و عمل کا گہرا اثر پڑا۔ خاص طور پر عالمِ عربی جس طرح مغرب کے شکنجے میں جکڑتا چلا جارہا تھا اور یہ ڈر پیدا ہوچلا تھا کہ یہ عملی ارتداد کہیں ذہنی و فکری ارتداد کا پیش خیمہ نہ بن جائے، اِس خطرے کے بادل چھٹنے لگے اور امید کی کرن پھوٹی‘‘۔ (صفحہ۵۵۷۔۵۵۸)
میرے علم کے مطابق، مولانا ابوالحسن علی ندوی نے اپنے ادبی اسلوب اور خطیبانہ انداز میں مغرب کے خلاف کچھ منفی ریمارک ضرور دیے ہیں، لیکن ان کی کسی تحریر سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ انھوں نے مغربی تہذیب اور افکار کو گہرائی کے ساتھ سمجھا تھااور وقت کی موجودہ علمی سطح کے مطابق، اس کا عمیق تجزیہ کیا تھا۔ اگر آپ کے علم میں ان کی ایسی کوئی تحریر ہے تو براہِ کرم متعین طورپر صفحہ نمبر کے ساتھ اس کا حوالہ روانہ فرمائیں۔
نئی دہلی، ۱۵ جون ۲۰۰۶ دعا گو وحید الدین
میرے اس خط کا موصوف کی طرف سے کوئی جواب موصول نہیں ہوا تو میں نے دوبارہ ان کودرج ذیل خط روانہ کیا، مگر موصوف کی طرف سے میرے خط کا کوئی جواب نہیں آیاا:
برادرِ محترم مولانا بلال عبد الحی حسنی ندوی! السلام علیکم ورحمۃ اللہ
عرض یہ کہ میں نے اپنے خط مؤرخہ ۱۵ جون ۲۰۰۶ میںآپ سے دوبات دریافت کی تھی:
۱۔ ڈاکٹر محمد اقبال کی کس تحریر سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ انھوں نے مغربی تہذیب اور مغربی افکار کا بھرپور مطالعہ کیا تھا، اور انھوں نے جدید افکار کا علمی اسلوب میں تجزیہ کیا ہے۔
۲۔ مولانا ابوالحسن علی ندوی کی کس کتاب سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ انھوں نے مغربی تہذیب اور افکار کو گہرائی کے ساتھ سمجھا تھا، اور وقت کی موجودہ علمی سطح کے مطابق، انھوں نے اس کا عمیق تجزیہ کیاہے۔
آپ نے ابھی تک میرے خط کا کوئی جواب روانہ نہیں فرمایا۔ براہِ کرم متعین طورپر صفحہ نمبر کے ساتھ مذکورہ دونوں باتوں کا حوالہ روانہ فرمائیں۔
نئی دہلی، ۱۵ جولائی ۲۰۰۶ء جواب کا منتظر وحید الدین
واپس اوپر جائیں

مراسلت نمبر— ۱۱

ماہ نامہ ’’جامِ نور‘‘ میں مولانا منظر الاسلام ازہری (اسلامک سنٹر آف ہائی پوائنٹ، امریکا)کا ایک مضمون شائع ہوا۔ اِس کو پڑھ کر میں نے مضمون نگار کو ایک خط لکھا۔ اس سلسلے کی مراسلت یہاں درج کی جاتی ہے:
برادرِ محترم مولانا منظر الاسلام ازہری! السلام علیکم ورحمۃ اللہ
ماہ نامہ جامِ نور (دہلی) کے شمارہ جولائی ۲۰۰۶ء میں آپ کا ایک مضمون چھپا ہے۔ اِس کا عنوان یہ ہے: ’’یورپ و امریکا کے ممالک دار الدعوہ ہیں‘‘۔ اپنے اس مضمون میں آپ نے یہ بتانے کی کوشش کی ہے کہ مختلف ممالک کی فقہی حیثیت کیا ہے۔ اِس سلسلے میں آپ نے فقہا کی معروف اصطلاحوں، دار الاسلام، دار الحرب، دارالکفر، نیز دارالامان اور دار العہد کا ذکر کیا ہے۔ آپ نے لمبی بحث کے بعد یہ بتایا ہے کہ امریکا اور یورپ کے ممالک پر یہ فقہی اصطلاحات منطبق نہیں ہوتیں۔ اس کے بعد آپ نے ایک اور اصطلاح ’’دار الدعوہ‘‘ کا ذکر کیا ہے اور لکھا ہے کہ— ’’امریکا اور یورپ کے ممالک کو دارالدعوہ کہا جائے تو بہترہوگا‘‘۔ (صفحہ ۱۳)
دریافت طلب امر یہ ہے کہ دوسری فقہی اصطلاحوں کے ضمن میں تو آپ نے متعلقہ فقہی کتابوں اور علماء کے حوالے دیے ہیں جس سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ نے یہ دوسری اصطلاحیں کہاں سے نقل کی ہیں، لیکن دار الدعوہ کی اصطلاح کے بارے میں آپ نے کوئی حوالہ نہیں دیا۔ براہِ کرم مطّلع فرمائیں کہ آپ نے دار الدعوہ کی اصطلاح کہاں سے اخذ کی ہے۔ صفحہ نمبر کی تعیین کے ساتھ کتاب کے مکمل حوالے سے آگاہ فرمائیں۔
نئی دہلی، ۱۷ جون ۲۰۰۶ء دعاگو وحیدالدین
کافی انتظار کے بعد جب مضمون نگار کا کوئی جواب مجھے نہیں ملا تو میں نے دوبارہ انھیں یاددہانی کا ایک خط لکھا۔ وہ خط یہاں نقل کیا جاتا ہے:
برادرِ محترم مولانا منظر الاسلام ازہری! السلام علیکم ورحمۃ اللہ
عرض یہ کہ میںنے اپنے خط مؤرخہ ۱۷ جون ۲۰۰۶ میں، آپ کے مضمون میں مذکور اصطلاح ’’دارالدعوہ‘‘ کے متعلق، آپ سے دریافت کیا تھا کہ اس اصطلاح کا ماخذ کیا ہے، مگر ابھی تک آپ نے اس کا کوئی حوالہ مجھے ارسال نہیں فرمایا۔براہِ کرم مذکورہ اصطلاح کے اصل ماخذ کا متعین حوالہ روانہ فرماکر شکریے کا موقع دیں۔
نئی دہلی، ۱۷ جولائی ۲۰۰۶ جواب کا منتظر وحید الدین
میرے ان دو خطوں کے بعد صاحب مضمون کا درج ذیل ایک خط مجھے بذریعے ای میل موصول ہوا:
مکرمی مولانا وحید الدین خاں صاحب السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اٹھارہ جولائی اور پھر چودہ کا بھیجا ہوا آپ کا مراسلہ ملا، مصروفیت کے سبب میں فی الفور جواب نہیں لکھ سکا۔ آپ نے ’’دار الدعوۃ‘‘ سے متعلق ماخذ کے بارے میں لکھا ہے، اس سلسلہ میں آپ سے یہ کہنا ہے کہ بشمول مذاہب اربعہ کسی قدیم فقہی کتاب میں میری نگاہ سے یہ اصطلاح نہیں گذری، میں اس موضوع پر بار بار سوچا کرتا تھا، یہاں امریکا پہنچنے کے بعد کئی دانشوروں کے ساتھ لمی نشست ہوئی جہاں یہ مسئلہ بھی زیر بحث رہا، میں نے ان کے سامنے اپنی رائے پیش کی تو انھوں نے اس سے اتفاق کیا، اسی دوران مجھے ہندستان کے ایک ادارہ کی جانب سے منعقد سیمینار میںاس موضوع پر لکھنے کے لیے کہاگیا، میں نے اپنی فکر کو عملی شکل دے کر یہ مقالہ ترتیب دے دیا، جو بعد میں ’’جام نور‘‘ میں بھی شائع ہوا۔
اس ضمن میں ایک خاص نکتہ میری نگاہ میں نبی اکرم ﷺ کی مکی زندگی کاہے جہاں میری سمجھ کے مطابق نہ تو ’’دارالحرب‘‘ کی اصطلاح فٹ ہوسکتی ہے نہ ہی ’’دار الاسلام‘‘ اور ’’دار العہد‘‘ کی کیوں کہ یہ زمانہ آپ کی دعوت رسانی کا ہے، اس کے ساتھ ساتھ زمانہ کے بدلتے ہوئے حالات کی روشنی میں فقہاء کی مشہور اصطلاح ’’عُرف‘‘ کا بھی سہارا لیا ہے۔ انھیں دو چیزوں کو اپنی فکر کی بنیاد بنا کر میں نے مقالہ تحریر کیا، اس کے علاوہ اور کوئی ماخذ میری نگاہ میں نہیں۔
۲۶جولائی ۲۰۰۶ والسلام
منظر الاسلام، نارتھ کیرولینا، امریکا
مضمون نگار کا یہ خط میرے سوال کا واضح جواب نہیں تھا، اس لیے میں نے دوبارہ انھیں درج ذیل خط لکھا:
برادرِ محترم مولانا منظر الاسلام ازہری! السلام علیکم ورحمۃ اللہ
آپ کا خط مؤرخہ ۲۶جولائی ۲۰۰۶ء ملا۔ مگر آپ نے اپنے خط میں میری اصل بات کا جواب نہیں دیا۔ یہ با ت میں خود اپنے مطالعے کے تحت، پہلے سے جانتا ہوں کہ عبّاسی دور سے لے کر اب تک کے پورے مسلم لٹریچر میں دارالدعوہ کی اصطلاح استعمال نہیں ہوئی ہے۔ میرا اصل سوال یہ تھا کہ آپ پر استثنائی طورپر دار الدعوہ کی اصطلاح کیسے منکشف ہوگئی۔اگر یہ آپ کی اپنی دریافت ہے تو میں یہ جاننا چاہتا ہوں کہ آپ کو یہ ذاتی دریافت کیسے ہوگئی۔ جو چیز ہزار سال تک کسی عالمِ نے نہیں جانا تھا، اس کو آپ نے استثنائی طورپر کیسے جان لیا۔ اگر یہ آپ کی اپنی ذاتی دریافت ہے تو آپ سے میں نے یہ معلوم کرنا چاہا تھا کہ یہ ذاتی دریافت آپ کو استثنائی طورپر کیسے ہوگئی۔ میںاسی خاص نکتے کی بابت آپ کا جواب معلوم کرنا چاہتا تھا۔
اِس معاملے میں میرے اشکال کی بنیاد یہ ہے کہ میںاس کو اجتہادِ مطلق کی نوعیت کا ایک واقعہ سمجھتا ہوں۔ جیسا کہ معلوم ہے، اب تک کی پوری مسلم تاریخ میں کسی نے دار الدعوہ کی اصطلاح استعمال نہیں کی۔ پچھلے ہزار سالہ عمل کے نتیجے میں مسلم کمیونٹی تقلید کے اصول پر قائم ہوگئی ہے۔ متفقہ طورپر یہ مان لیا گیا ہے کہ اب اجتہادِ مطلق کا دروازہ بند ہوچکا ہے۔ ایسی حالت میں کسی کا دار الدعوہ کی اصطلاح استعمال کرنا کوئی سادہ بات نہیں۔ اجتہادِ مطلق کا یہ واقعہ اُسی استثنائی شخص کی زندگی میں پیش آسکتا ہے جو لمبی مدت تک اُس علمی اور فکری پراسس سے گذرا ہو جو کسی کو اجتہادِ مطلق کے مقام پر پہنچاتا ہے۔ دار الدعوہ جیسا مجتہدانہ قول اتفاقاً کسی کی زبان پر جاری نہیں ہوسکتا۔ یہ ماضی کے معلوم فکری پس منظر اور معلوم مجتہدانہ سفر کا کلمنیشن ہے۔ وہ کسی شعر کا کوئی مصرعہ یا اچانک پیش آجانے والا کوئی واقعہ نہیں۔
آپ نے اپنے خط میں دارالدعوہ کے متعلق، اپنے فکری ماخذ کو بتاتے ہوئے لکھا ہے کہ ’’زمانے کے بدلتے ہوئے حالات کی روشنی میں، فقہاء کی مشہور اصطلاح’’عرف‘‘ کا بھی سہارا لیا ہے‘‘ ۔ آپ کی یہ بات میری سمجھ میں نہیں آئی۔ کیوں کہ اصطلاح فقہ میں عُرف کسی قوم کے معمولاتِ عام کو کہا جاتا ہے (عادۃ جمہور قومٍ فی قولٍ أو عملٍ)۔ اس اعتبار سے عرف کے تصور کا کوئی تعلق، دار الدعوہ سے نظرنہیں آتا۔ براہِ کرم اِس معاملے کی وضاحت فرمائیں۔
نئی دہلی، ۲۹ جولائی ۲۰۰۶ء دعاگو وحید الدین
میرے اِس خط کے بعد صاحبِ مضمون کا ایک طویل خط مجھے ملا، جو یہاں نقل کیا جاتا ہے:
مکرمی مولانا وحید الدین خاں صاحب السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
آپ کا مکتوب ۲ ؍اگست کو ملا، میں نے اپنے مکتوب مورخہ ۲۴ جولائی میں اس امر کی وضاحت کردی تھی کہ ’’دارالدعوہ‘‘ کے سلسلہ میں میرا اصل ماخذ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی مکی زندگی اور فقہاء امت کی وضع کردہ اصطلاح’’ضرورت‘‘ ہے مگر آپ کو میرے جواب سے تشفی نہیں ہوسکی اور آپ نے اسے اجتہاد مطلق کی نوعیت سمجھ کر مجھ جیسے باحثین کے لیے اس فکر تک رسائی تقریباً محال قرار دیا۔ بحمدہ تعالیٰ میں نے ہندستان کے مدارس میں درس نظامیہ پر کامل عبور حاصل کرنے کے بعد جامعہ ازہر شریف میں بھی ساڑھے پانچ سال گذارا ہے، جہاں مجھے ایسے عظیم اساطین ملت سے استفادہ کا موقع ملا جو اپنی فقہی بصیرت، اجتہادی افکار اور دانشورانہ نظریات کے اعتبار سے موجودہ عالم اسلام کی ناک سمجھے جاتے ہیں اور آج کسی بھی زبان بالخصوص اردو میں علمی وفکری مضامین پر قلم اٹھانے والے اکثر مفکرین بھی میرے انہیں اساتذہ کے افکار کے مرہون منت ہیں، پھر قدرت نے کچھ اور ہی نظارہ دکھایا کہ عالمی منظر نامہ پر اسلام کے خلاف جن نظریات کی طرف میرے اساتذہ نے اشارہ کیا تھا اس کو عملی شکل میں ملاحظہ کرنے کے لیے امریکا کا سفر کرنا پڑا، جہاں ہر آن ٹریڈیشنل اور نیو مسلم کے مابین ’’تجدید فی الفقہ الاسلامی‘‘ اور ’’تجدید فی المصطلحات الفقہیہ’’ ہی کی بحث چھڑی رہتی ہے، اسی طرح کی ایک مجلس ’’معائیر التجدید فی الفقہ الاسلامی‘‘ کا راقم نائب صدر بھی ہے، ایسے ماحول میں رہنے والا انسان پہلے سے موجود کسی لفظ کو حسن ترتیب کے ساتھ اگر پیش کرے تو مجھے نہیں معلوم کہ اس میں اشکال کیوں کر ہوسکتا ہے، کیا حالات اور زمانہ کے شکست و ریخت کی وجہ سے الفاظ و اصطلاحات میں تبدیلی نہیں آتی؟ جہاں سیکڑوں افکار و نظریات ہر آئے دن جنم لے رہے ہوں ایسے ماحول میں بسنے والا انسان خواہ کسی بھی عمر کا ہو اسلام میں موجود مفرد الفاظ کو ترکیب کا جامہ پہنا کر بیان کردے تو اس میں کون سا تعجب ہے؟ کیا اگر کسی نے ایسا کردیا تو وہ مجتہد مطلق ہوجاتا ہے؟ کیا اجتہاد مطلق کی یہی تعریف ہے کہ دو لفظوں کو ایک کردیا جائے؟
میری یہ فکر بھی آپ کے اشکال کا باعث بن سکتی ہے کہ حادثہ سنامی کے وقت عالم اسلام کے تمام فقہاء، مجتہدین، دانشوران اور مفکرین نے بیک زبان کہا کہ یہ عذاب الٰہی ہے، جب کہ راقم کا موقف یہ تھا کہ اس طرح کے حادثات کو عذاب الٰہی سے جوڑنا دانشمندی نہیں، سورۂ طور اور سورۂ تکویر کی آیتوں کی تفسیر میں قدیم تمام مفسرین کی آراء سے اختلاف کرتے ہوئے ان آیتوں کو میںنے قرب قیامت کی ہولناکیوں پر محمول کرنے کے بجائے حقیقت پر محمول کیا، جس کی یہاں پورے امریکا میں زبردست پذیرائی ہوئی، تو کیا اسے بھی اجتہاد مطلق کی نوعیت کا واقعہ سمجھ لیا جائے؟ الازہر میں تعلیم کے دوران اپنے ایک استاذ ڈاکٹر عبد المعطی بیومی جو فلسفہ کے ہیڈ آف ڈیپارٹمنٹ ہونے کے ساتھ ساتھ فقیہ اعظم سمجھے جاتے ہیں اور مصری پارلیمنٹ کے ممبر بھی ہیں،سے شہادت کے مسئلہ پر سیکڑوں عربی و عجمی طلبہ کی موجودگی میں مسلسل تین دن گفتگو کرتا رہا جہاں تمام فقہاء سے میرا نظریہ بالکل الگ تھا اور بعد میں جس کی میرے استاذ نے مجھے مبارک باد بھی دی تو کیا اسے بھی اجتہاد مطلق سمجھ لیا جائے؟ آپ کی رائے میںاگر اس طرح کے واقعات کا تعلق اجتہاد مطلق سے ہے تو الحمد للہ راقم مجتہد مطلق ہے۔
علم وتحقیق کے میدان میں میرا نہیں خیال کہ عمر سے بحث کی جاتی ہے، اگر عمر کا دخل مان لیا جائے تو سیکڑوں وہ علماء جو بارہ، اٹھارہ اور بیس سال کی عمر میں ہی قوم مسلم کے امام بن چکے تھے، کے بارے میں آپ کیا کہیں گے؟ امام غزالی کی ’’المنقذ من الضلال‘‘ آپ کے مطالعہ میں یقینا آئی ہوگی، کیا انہوں نے اپنے فکری سفر کا آغاز بیس سال سے قبل کی عمر میں نہیں کیا تھا؟ اگر عمر ہی مقیاس ہے تو آج سیکڑوں مسلم فلاسفہ اور مستشرقین بیس سال سے پہلے فکری سفر شروع کرنے والے غزالی کے ’’منہج شک‘‘ پر کیوں پی، ایچ، ڈی کررہے ہیں؟ پھر عجیب تضاد بیانی بھی ہے جب ’’متفقہ طورپر یہ مان لیا گیا ہے کہ اب اجتہاد مطلق کا دروازہ بند ہوچکا ہے‘‘ تو پھر استثنائی طورپر بڑی عمر کے تجربہ کار لوگوں کو ان کی علمی کاوش کے نتیجہ میں کیوں مجتہد مطلق مانا جارہا ہے؟
ویسے میں اس نظریے سے خود بھی اتفاق نہیں کرتا کہ اس بات پر اتفاق ہوچکا ہے کہ اب کوئی مجتہد مطلق پیدا نہیں ہوگا، اس سلسلہ میں درجنوں علماء کے مواقف موجو ہیں، خاص طور پر علامہ سیوطی کلا رسالہ ’’الرد علی من اخلد الی الأرض وجہل أن الاجتہاد فی کل عصر فرض‘‘ شاہدعدل ہے۔
میں نے اپنے مکتوب مورخہ ۲۶ جولائی میں یہ لکھا تھا کہ یہاں مجھے ’’ضرورت‘‘ لکھنا تھا جو ’’عرف‘‘ لکھ گیا ہے، مگر آپ نے اس جانب کوئی توجہ ہی نہیں دی۔ یہ چند الفاظ ذہن میں آئے تھے جو آپ کے جواب میں تحریر کردیا ہوں، اگر میری بات میں کہیں سختی آگئی ہو تو در گذر کیجئے گا۔ والسلام
۶؍اگست ۲۰۰۶ء منظر الاسلام ازہری
مضمون نگار کے اِس طویل خط کو پڑھنے کے بعد میں نے دوبارہ ان کو اپنا درج ذیل خط روانہ کیا:
برادرِ محترم مولانا منظر الاسلام ازہری۱ السلام علیکم ورحمۃ اللہ
آپ کا خط مؤرخہ ۶؍اگست ۲۰۰۶ء ملا۔ اس کو تین بار پڑھنے کے بعد میں اپنا یہ خط تحریر کررہا ہوں۔ عرض یہ ہے کہ آپ نے اپنے تفصیلی خط میں جو باتیں لکھی ہیں، وہ سب میرے سوال کی نسبت سے بالکل غیر متعلق (irrelevant) ہیں۔ ان باتوں سے میرے سوال پر کوئی روشنی نہیں پڑتی۔
میرا سوال سادہ طور پر صرف یہ ہے کہ دار الدعوہ کی اصطلاح، آپ کی خود اپنی ذاتی دریافت ہے، یا آپ نے اس کو کسی کتاب میں پڑھا ہے، یا اس کو کسی عالم سے سُنا ہے۔ دونوں میں سے جو بات بھی ہو، اس کو آپ پوری صراحت کے ساتھ تحریر فرمائیں۔
ایسی حالت میں آپ کے لیے صرف دو میں سے ایک کا انتخاب ہے۔ یا تو آپ واضح الفاظ میں یہ کہیں کہ— دار الدعوہ کی اصطلاح مجھے کہیں اور سے نہیں ملی، بلکہ میں نے اس کو خود اپنے طور پر بطور ذاتی دریافت کے پایا ہے۔ یا پھر متعیّن طور پر صفحہ نمبر کے ساتھ آپ یہ بتائیں کہ— میںنے فلاں مصنّف کی فلاں کتاب میں اس کو پڑھا، یا اس کو فلاں عالمِ یا فلاں مصنف سے سُنا ہے اور پھر میںنے اس کو اختیار کرلیا۔
میں نے آپ سے صرف یہی بات دریافت کی تھی، اور اِسی کا واضح جواب میں آپ سے معلوم کرنا چاہتا ہوں۔ مجھے امید ہے کہ آپ میرے اصل سوال کو سمجھ کر متعین الفاظ میں اس کا جواب روانہ فرمائیں گے۔
نئی دہلی، ۱۰؍ اگست ۲۰۰۶ء دعا گو وحید الدین
میرے اس خط کے جواب میں موصوف نے جو کچھ لکھا، اس کی نقل یہاں درج کی جاتی ہے:
مکرمی مولانا وحیدالدین خاں صاحب السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
آپ کا خط مورخہ ۱۲؍اگست کو ملا، فرمائش کے مطابق ایک لفظ میں اس کا جواب یہ ہے کہ میں نے کسی کتاب یا کسی عالم کی زبان سے سن کر اسے نہیں لکھا ہے، بلکہ یہ میری اپنی ایجاد ہے۔ والسلام
۱۲؍ اگست ۲۰۰۶ء منظر الاسلام
مضمون نگار کی اِس غیر واضح تحریر کو پڑھ کر میں نے دوبارہ ان کو اپنا درج ذیل خط ارسال کیا:
برادرِ محترم مولانا منظر الاسلام ازہری! السلام علیکم ورحمۃ اللہ
آپ کا خط مؤرخہ ۱۲؍ اگست ۲۰۰۶ ملا۔ آپ نے میرے استفسا ر کے جواب میں صرف یہ مختصر جملہ تحریر فرمایا ہے—’’فرمائش کے مطابق، ایک لفظ میں اس کا جواب یہ ہے کہ میں نے کسی کتاب یا کسی عالم کی زبان سے سُن کر اسے نہیں لکھا ہے۔ بلکہ یہ میری اپنی ایجاد ہے‘‘۔
میں عرض کروں گا کہ آپ کا مذکورہ جملہ ایک مبہم جملہ ہے۔ ایسا مبہم اور غیر واضح جملہ میرے متعین سوال کا جواب نہیں۔ آپ کا یہ جملہ صرف ایک ٹالنے والا جواب (evasive reply) ہے، وہ میرے سوال کا کوئی واضح اور متعین جواب نہیں۔ آپ کے اس جملے میں ’’یہ‘‘ کا لفظ ہے۔ اِس سے واضح طورپر معلوم نہیں ہوتا کہ یہاں لفظ ’’یہ‘‘ سے آپ کی کیا مراد ہے۔ اِسی طرح آپ نے اپنے جملے میں ’’ایجاد‘‘ کا لفظ استعمال کیا ہے۔ ایجاد کا لفظ بھی اِس موقع پر ایک غیرمتعلق اور مبہم لفظ ہے۔ جیسا کہ آپ کو معلوم ہے، میں نے آپ سے یہ پوچھا تھا کہ دار الدعوہ کی اصطلاح آپ نے خود وضع کی ہے، یا اس کو آپ نے کہیں اور سے اخذ کیا ہے۔ مگر آپ کا مذکورہ مبہم جملہ میرے متعین سوا ل کا واضح جواب نہیں۔
اس لیے گذارش ہے کہ آپ دوبارہ زحمت فرمائیں، اور بالکل واضح اور غیر مبہم الفاظ میں یہ بتائیں کہ — دار الدعوہ کی اصطلاح آپ نے خود وضع کی ہے، یا آپ نے اس کو کہیں اور سے لیا ہے۔
نئی دہلی، ۱۵ ؍ اگست ۲۰۰۶ء دعا گو وحید الدین
میرے اس خط کے بعد موصوف کی طرف سے کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔ چنانچہ میرے درج ذیل خط پر ان سے خط و کتابت کا سلسلہ بند ہوگیا:
برادرِ محترم مولانا منظر الاسلام ازہری! السلام علیکم ورحمۃ اللہ
یہ خط مَیں آپ کے ساتھ اپنی سابقہ مراسلت کے ضمن میں لکھ رہا ہوں۔ میں نے اپنے خط مؤرخہ ۱۵؍اگست ۲۰۰۶ میں لکھا تھا کہ آپ کے جواب کے الفاظ مبہم ہیں، آپ صریح الفاظ میں معاملے کی وضاحت فرمائیں۔ مثلاً آپ یہ تحریر فر مائیں کہ— دار الدعوہ کی اصطلاح میںنے خود اپنے ذہن سے وضع کی ہے، کسی اور کی تقریر یا تحریر سے اخذ کرکے میں نے دار الدعوہ کی اصطلاح وضع نہیں کی۔ امید ہے کہ آپ اِس سلسلے میں جلد اپنا واضح جواب ارسال فرمائیں گے۔
نئی دہلی، ۳۰ ؍اگست ۲۰۰۶ء دعا گو وحید الدین
واپس اوپر جائیں

مراسلت نمبر— ۱۲

مولانا علی میاں کے خطوط کا ایک مجموعہ معروف عالمِ دین اور مفسّر قرآن مولانا عبد الکریم پاریکھ (ناگ پور) نے شائع کیا۔ اِس مجموعے میںایک خط مجھ سے متعلق تھا۔ اِس خط کو پڑھ کر میںنے مولانا موصوف کی خدمت میں ایک خط روانہ کیا۔ اس سلسلے کی مراسلت یہاں درج کی جاتی ہے:
مکرمی ومحترمی مولانا عبد الکریم پاریکھ صاحب! السلام علیکم ورحمۃ اللہ
آپ کی صحت اور عافیت کے لیے دعا گو ہوں۔عرض یہ کہ آپ کی شائع کردہ کتاب نظر سے گذری جس کا پورا نام یہ ہے— ’’مرشد روحانی، مصلح امت حضرت مولانا سید ابوالحسن علی ندوی صاحب عُرف علی میاں صاحب کے خطوط، حضرت مولانا عبدالکریم پاریکھ صاحب کے نام‘‘۔
آپ کی اِس کتاب کا مکتوب نمبر ۱۱۳ میرے لیے ناقابلِ فہم ہے۔ چوں کہ کاتبِ محترم کی وفات ہوچکی ہے، اس لیے اس کی وضاحت کے لیے آپ کو یہ خط لکھ رہا ہوں۔ آپ کے نام حضرت مولانا کے مذکورہ مکتوب کے الفاظ یہ ہیں:
’’اپنی خیرت کی اطلاع کے علاوہ میں یہ خط اِس ضرورت سے بھی لکھ رہاہوں کہ میرے پاس حیدر آباد سے ایک فہیم وسنجیدہ دوست کا خط آیا ہے کہ ’ندوہ ایجنسی‘ کے نام سے، سید جمیل الدین صاحب کی طرف سے جو اشتہار شائع ہوا ہے اس کا تعارف کرایا گیا ہے۔ اس میں میری کتابوں کے علاوہ جہاں بعض اور دوسرے حضرات کی تصنیفات کا تذکرہ ہے، اُن میں مولوی وحید الدین خاں صاحب کی کتابوں کے دستیاب ہونے کا بھی اعلان ہے۔ مَیں سید جمیل الدین صاحب کو براہِ راست نہیں لکھنا چاہتا۔آپ اشارہ کردیں کہ اُن کے بہت سے خیالات سے اتفاق نہیں۔ اور ہماری اور اُن کی کتابوں کا جوڑ نہیں۔ اِس لیے آئندہ وہ اِس کا لحاظ رکھیں۔ آپ اپنے انداز میں مناسب طریقے سے لکھ دیجئے گا۔ مجھے مولوی وحید الدین خاں صاحب سے کوئی ذاتی خصومت نہیں۔ لیکن اُن کے خیالات میں سخت ناہمواری اور بے اعتدالی ہے، اور سَلف ومجاہدین اور شہدائے اسلام سے بدعقیدگی پیدا ہوتی ہے‘‘۔ (صفحہ ۲۰۳)
حضرت مولانا علی میاں کے اِس مکتوب کے بارے میں آپ سے دو باتیں قابلِ دریافت ہیں۔ ایک یہ کہ مکتوب کے مطابق، میرے خیالات میں سخت ناہمواری اور بے اعتدالی ہے، مگر اِس مکتوب میں، اور نہ اِس مجموعۂ خطوط میں اور نہ صاحبِ مکتوب کی دوسری کسی تحریر میں ایسی کوئی وضاحت یا حوالہ موجود ہے، جس سے معلوم ہوتا ہو کہ وہ کیا چیز ہے جس کو اس مکتوب میں ’’سخت ناہمواری اور بے اعتدالی‘‘ قرار دیاگیا ہے۔ اپنی کتاب میں اِس مکتوب کی اشاعت اور حضرت مولانا سے خصوصی قربت کی بنا پر آپ ضرور اس بات سے واقف ہوں گے۔ براہِ کرم مطلع فرمائیں کہ وہ کیا چیز ہے جس کو اِس مکتوب میں سخت ناہمواری اور بے اعتدالی قرار دیاگیا ہے۔
اِس مطبوعہ مکتوب میںدوسری بات یہ کہی گئی ہے کہ راقم الحروف کی کتابوں سے اَسلاف کے بارے میں بد عقیدگی پیدا ہوتی ہے۔ اِس کے بارے میںبھی اِس مکتوب میں کوئی وضاحت یا حوالہ موجود نہیں۔ میں جاننا چاہتا ہوں کہ میری کتابوں میں وہ کون سی بات ہے جو اسلاف کے بارے میں بدعقیدگی پیدا کرتی ہے۔
حضرت مولاناعلی میاں کا یہ بیان بلاشبہہ ایک بے دلیل بیان ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ۱۹۵۹ء میں حضرت مولانا علی میاں کی ایک عربی کتاب چھپی۔ اس کا نام یہ تھا: ردّۃ ولا أبا بکر لہا۔ اِس کتاب میں امت کے اندر ایک خطرے کی نشاندہی کرتے ہوئے بتایا گیا تھا کہ امت کا جدید تعلیم یافتہ طبقہ ذہنی ارتداد کا شکار ہوگیاہے۔ میں نے اِس مسئلے کی تحقیق کی تو میں اِس نتیجے پر پہنچا کہ جدید تعلیم یافتہ طبقے کا کیس، ذہنی ارتداد (intellectual apostasy) کا کیس نہیں ہے۔ یہ لوگ ذہنی عدم اطمینان (intellectual discontent) کا شکار ہیں۔ موجودہ زمانے میں جو اسلامی لٹریچر تیار ہوا وہ ان کے مائنڈ کو ایڈریس نہیں کرتا۔ اِس بنا پر وہ اسلام کی صداقت کے بارے میں ذہنی بے اطمینانی میں مبتلا ہوگیے ہیں۔
اِس دریافت کے بعد میں نے اِس مسئلے کو اپنا موضوع بنالیا۔ میں نے قدیم اور جدید دونوں علوم کا گہرا مطالعہ کرکے عصری اسلوب میں بہت سی اسلامی کتابیں لکھیں، اور ان کو مختلف زبانوں میںشائع کیا۔ یہ خدا کا فضل ہے کہ یہ کتابیں نہایت مفید ثابت ہوئیں۔ اور مختلف ملکوں میں لاکھوں لوگوں کو اس سے ایمان اور یقین کا سرمایہ ملا۔ اِسی بنا پر ایک عرب شیخ نے میری کتاب الاسلام یتحدّی کا سکنڈٹائٹل یہ تجویز کیا تھا— مدخل علمی إلی الإیمان۔
حضرت مولانا علی میاں کو خوش ہونا چاہیے تھا کہ انھوں نے جس خطرے کی نشاندہی کی تھی، میں نے اس کو گہرائی کے ساتھ سمجھا، اور وقت کے فکری مُستوی کے مطابق، طاقت ور علمی انداز میں اس کا سدّ باب کیا۔ ایسی حالت میں میری کتابوں کے متعلق، حضرت مولانا کا مذکورہ بیان میرے لیے سخت ناقابلِ فہم ہے۔
چوں کہ آپ نے حضرت مولانا کے اِس خط کو اپنی کتاب میں شائع فرمایا ہے۔ اس لیے یقینا آپ اِس کی نوعیت کو پوری طرح سمجھتے ہوں گے۔ میری گذارش ہے کہ آپ اپنے علم کے مطابق، متعین صورت میں مذکورہ دونوں باتوں کی وضاحت فرمائیں۔
نئی دہلی، ۲۵ ؍اگست۲۰۰۶ دعاگو وحیدالدین
میرے اس خط کے بعد مولانا موصوف کا درج ذیل خط مجھے ملا:
محترم المقام، عالم ربّانی حقانی، صاحب ِ قلم، مشہور شخصیت ،حضرت مولانا وحید الدین خاںصاحب مد ظلہ العالی وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
۲۵؍ اگست ۲۰۰۶ کا عنایت نامہ موصول ہوا، جزاک اللہ۔ میں پچھلے تین سالوں سے گلوکوما آپریشن ناکام ہونے کے سبب دونوں آنکھوں کی بینائی سے محروم ہوں۔ صاحب فراش بھی ہوں۔ سارے کام کاج بند ہیں۔ لیکن خطوط بڑی تعداد میں آتے رہتے ہیں۔ جواب دینا مشکل پڑتا ہے۔ آپ کا خط اہم تھا، آپ کو دکھ پہنچا، اس لیے جواب کے لیے حاضر خدمت ہوں۔
میرے بزرگ، آپ نے جس خط کاحوالہ دیا ہے، وہ ۲؍ اگست ۱۹۸۷ کا ہے۔ اور حضرت مولاناسید ابوالحسن علی ندویؒ کوانتقال فرمائے ۷،۸ برس ہوگیے ہیں۔ اور اس مذکورہ خط کو ۲۰ سال کا عرصہ ہوگیا ہے۔ اس خط کے شائع ہونے کا مجھے افسوس ہے۔ جس کی وجہ سے آپ کو دکھ پہنچا۔ اللہ مجھے معاف فرمائے۔
میرے بزرگ، مجھ سے زیادہ دین کا فہم، علم اور گہرائی اللہ نے آپ کو دی ہے۔ یہ ۲۰ سال پہلے کی بات ہے۔ جمیل الدین صاحب سے میری ملاقات ہوئے ۱۰، ۱۵ سال ہوگئے۔ ندوہ ایجنسی ہے بھی یا نہیں، مجھے لگتا ہے شاید ختم ہو گئی ہو۔ در اصل ندوہ ایجنسی مولانا ؒ کا خود کا ادارہ تھا اور ساتھ ہی جمیل الدین صاحب کے گھر پر ہی ادارہ میںایک مدرسہ بھی چلتا تھا۔ مولاناؒ اپنی کتابیں اس میں رکھتے تھے۔
آپ کا خط سننے کے بعد تقریباً ۲۵ نسخے مجموعۂ خطوط کے میرے پاس تھے۔ اُن تمام نسخوں سے خط نمبر ۱۱۳ پھاڑ کر نکلوا دیا ہے۔ آئندہ ایڈیشن جب چھپے گا، جس کی امید تو کم ہے، کیوں کہ میں اب اس حال میںنہیںہوں، لیکن اگر چھپنے کی نوبت آئی اوراحباب کا تقاضا رہا تو اس خط کو دوبارہ شائع نہیں کیا جائے گا۔
مجھے امید ہے کہ میرے اس سہو کو میرے تعلق سے معاف فرمائیں گے۔ اب رہا مولانا ؒ کے تعلق سے، تو دیر یا سویر ہم کو بھی اللہ کے دربار میں پہنچنا ہے۔ وانما توفون اُجورکم یوم القیامۃ (آخرت میںتمہارے ’’اجور‘‘ پورے پورے دیے جائیں گے) آپ کو بھی آپ کے کاموں کا اجر اللہ تعالیٰ مجھ سے زیادہ دے گا۔ آپ کے سامنے میری کیا ہستی ہے۔ لیکن آپ کو تکلیف پہنچی اس کے لیے معافی چاہتا ہوں۔
مجھے امید ہے کہ آپ حسن ظن سے کام لیں گے۔ میری دھندلی یادداشت میںآپ کی اور حضرت مولانا ؒ کی برسہا برس پہلے مجھ سے کہیں زیادہ وابستگی رہی ہے، ایسا سنا ہے۔ واللہ اعلم۔ ہاں جو جملے مولانا نے ہم آہنگی نہ ہونے کے استعمال کیے۔ میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ میں نے اس خط سے متعلق جمیل الدین صاحب کو کچھ بھی ہدایت نہیں دی تھی۔ میرا یہ مزاج بھی نہیں ہے۔
ایک بات کی طرف آپ کو متوجہ کرنا چاہتا ہوں کہ جن جملوں سے آپ کو تکلیف پہنچی وہ صفحہ ۲۰۳ کے دوسری جانب صفحہ ۲۰۴ میں ہے۔ میری نظر سے نہ گذرا ہو ایسا بھی ہوسکتا ہے۔ بہر حال بندہ بشر ہے۔ حضرت مولاناؒ ہوں یا میں ہوں یا کوئی اور ہو، غلطی کا امکان ہے۔
آپ کے خط سے یہ بھی معلوم ہوا کہ تعلیم یافتہ طبقہ کی ذہنی بے اطمینانی پر ان کی اصلاح کو آپ نے اپنا موضوع بنا کر محنت کی اور الحمد للہ اس کا نتیجہ، بقول آپ کے ’’اس سے لاکھوں لوگوںکو ایمان اور یقین کا سرمایہ ملا‘‘۔ اسی بنا پر آپ کی تحریریں عرب دنیا میں الحمد للہ مقبول عام و خاص ہوئیں، اس پر مجھے بڑی مسرت ہوئی۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کی اس محنت کو قبول فرمایا۔
آپ کے یہ جملے ’’مگر اس مکتوب میںایسی کوئی وضاحت یا حوالہ موجود نہیں ہے جس سے معلوم ہوتاہو کہ وہ کیا چیز ہے جس کو اس مکتوب میں ’’سخت ناہمواری اور بے اعتدالی‘‘ قرار دیاگیا ہے‘‘۔ صاحب مکتوب (حضرت مولانا علی میاں) کو اس کا حوالہ دینا ضروری تھا۔
ایک عرصہ پہلے میں نے الحمد للہ آپ کی کتابیں پڑھی ہیں اور خود اس ملک میں اور ملک کے باہر آپ کے قلم سے بے شمار لوگوں کو دینِ حق کی واقفیت ہوئی ہے۔ اللہ تعالیٰ اس میں مزید اضافہ فرمائے۔ آپ کی تشریف آوری ناگپور کبھی کبھار ہوتی رہتی ہے۔ بھائی عبد السلام اکبانی جو میرے بھانجے ہیں، آپ کے بہت مدّاح ہیں، کبھی آنا ہوا تو اس نابینا کو ملاقات کا شرف عنایت فر مائیں۔ جزاک اللہ۔
آپ کے ترجمہ و تشریح قرآن (تذکیر القرآن) کا ایک نسخہ وی پی کے ذریعہ ارسال فرمائیں، عنایت ہوگی۔ مجھے امید ہے کہ اس خط کا آپ اچھا اثر لیں گے اور میرے لئے دعا کریں گے۔ ہم سب اللہ کی رضا کے لیے کام کرتے ہیں اس میںاجر کا زیادہ حصہ آپ ہی کا ہے۔ آپ کے لیے دعا کرتا ہوں اللہ تعالیٰ آپ کی محنت کو شرف قبولیت بخشے۔ آمین۔ والسلام
۱۸؍ ستمبر ۲۰۰۶ء طالب دعا عبد الکریم پاریکھ
مولانا موصوف کے خط کو پڑھ کر میں نے ان کی خدمت میںاپنا درج ذیل خط روانہ کیا:
محترمی و مکرمی مولانا عبد الکریم پاریکھ صاحب! السلام علیکم ورحمۃ اللہ
آپ کا عنایت نامہ مؤرخہ ۱۸ ستمبر ۲۰۰۶ ملا۔ حالات معلوم ہوئے۔ اللہ تعالیٰ آپ کو ہر طرح صحت اور عافیت میں رکھے۔ اور آپ کو شفا عطا فرمائے۔ آپ کے ذریعے اللہ تعالیٰ نے دین کا بہت کام لیا ہے۔ اللہ کی ذات سے امید ہے کہ آئندہ بھی وہ آپ کی دینی خدمات کو جاری رکھے گا۔ مجھے یقین ہے کہ آپ کا یہ مکتوب بھی آپ کے مراتبِ عالیہ میں اضافے کا ذریعہ ہوگا۔ آپ نے جس طرح کھُلے دل کے ساتھ معاملے کی وضاحت فرمائی ہے، وہ آپ کی ایمانی عظمت اور اخلاقی جرأت کا ایک مزید ثبوت ہے۔اللہ تعالیٰ آپ کو جزائے خیر عطا فرمائے۔
حدیث میں آتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک بیمار آدمی کے پاس عیادت کے لیے گیے۔ وہ تکلیف کی حالت میں تھا۔ اس کو دیکھ کر آپ نے فرمایا: لابأس طہورإن شاء اللہ۔ اِس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ صحت جس طرح ایک نعمت ہے اسی طرح بیماری بھی ایک نعمت ہے۔ مومن جب صحت مند ہو تو صحت کی حالت اس کے لیے شکر کے جذبات پیدا کرنے میں معاون بنتی ہے، اور مومن کو جب بیماری کا تجربہ ہوتا ہے تو بیماری اس کے عجز کے جذبات میں اضافے کا سبب بن جاتی ہے۔ اور جیسا کہ معلوم ہے، عجز اللہ سے قربت کا سب سے بڑا ذریعہ ہے۔ جیسا کہ حدیث میں آیا ہے: أنا عند المنکسرۃ قلوبہم۔ میری دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ آپ کو ہر قسم کی رحمت اور نصرت اور عافیت عطا فرمائے۔
نئی دہلی، ۲۵ستمبر ۲۰۰۶ دعا گو وحیدالدین
میرے اِس خط کے بعد مولانا موصوف کا ایک اورخط مجھے ملا، جو یہاں نقل کیا جاتا ہے:
محترم المقام، صاحب قلم، عالمِ ربّانی، حضرت مولانا وحید الدین خاں صاحب مدظلہ العالی!
وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
آپ کے خط کے جواب میں میرا عریضہ الحمد للہ آپ کو مل گیا۔ آپ نے اس کے جواب میں جو تحریر فرمایا اس سے مجھے بڑی تسکین، خوشی، اور راحت محسوس ہوئی۔ الحمد للہ دل پوری طرح مطمئن ہوا۔اس عاجز کے خط کا آپ نے مؤمنانہ اثر لیا۔ آپ مطمئن ہوئے۔ اس پر آپ کے حق میں اللہ تعالیٰ سے دعا کی۔ اور اپنے حق میں بھی دعا کی کہ اللہ تعالیٰ آپ کو ہم کو راہِ ہدایت پر قائم رکھے۔ اور ہم سبھوں کو ایک دوسرے کا معاون بنائے۔
آپ نے جن احادیثِ مبارکہ کا تذکرہ فرمایا اسے پڑھوا کر سنا، بڑی تسلی ہوئی۔ بعض احادیث کا استحضار بھی ہوا۔ آپ کے یہ جملے— ’’مومن جب صحت مند ہو تو صحت کی حالت اس کے لیے شکر کے جذبات پیدا کرنے میں معاون بنتی ہے، اور جب مومن کو بیماری کا تجربہ ہوتا ہے تو بیماری اس کے لیے عجز کے جذبات میںاضافے کا سبب بن جاتی ہے‘‘۔الحمد للہ ان جملوں سے مزید تقویت پہنچی۔ آپ کا یہ تحریرفرمانا کہ — ’’مجھے یقین ہے کہ آپ کا یہ مکتوب بھی آپ کے مراتب عالیہ میں اضافے کا ذریعہ ہوگا۔ آپ نے جس طرح کھلے دل کے ساتھ معاملے کی وضاحت فرمائی، وہ آپ کی ایمانی عظمت کا ایک مزید ثبوت ہے‘‘۔یہ جملے آپ نے میرے لیے استعمال کئے، اس کا مستحق تو نہیں ہوں لیکن اس پر الحمدللہ آمین آمین کہتا ہوں۔ اللہ تعالیٰ نے میرے تعلق سے آپ کا ذہن حسن ظن کی طرف ڈالا۔ میںاللہ سے دعا کرتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ مجھے اس کا مستحق بنادے۔ آپ کے جملے سن کر میرا دل بھر آیا۔ اللہ تعالیٰ آپ کو جزائے خیر کثیر عطا فرمائے۔جو دعائیں آپ نے میرے حق میں فرمائی ہیں، میں اللہ سے دعا کرتا ہوں کہ وہی دعائیں لاکھوں گنا آپ کے حق میں بھی قبول فرمائے۔ آمین۔
آں جناب کی گراں قدر تفسیر ’’تذکیر القرآن‘‘ الحمد للہ موصول ہوئی۔ تھوڑا تھوڑا پڑھوا کر روزانہ اس کو سنتا ہوں۔ اللہ آپ کے درجات بلند فرمائے۔ اور آپ کی محنتوں کو قبول فرمائے۔ والسلام
۱۰؍ اکتوبر ۲۰۰۶ طالب دعا عبد الکریم پاریکھ،ناگ پور
خاتمۂ کلام
اِس قسم کا تجربہ مجھے بار بار ہوا ہے۔ بار بار ایسا ہوا ہے کہ ایک شخص اپنی تقریر یا تحریر میں ایک بہت بڑی بات بظاہر پورے یقین کے ساتھ کہتا ہے، لیکن جب اُس سے اس کا حوالہ دریافت کیا جائے تو وہ اس کا کوئی حوالہ نہیں دے پاتا، اور نہ وہ اس کا کھلا اعتراف کرتا ہے۔ اِس قسم کے بیانات نہایت غیر علمی ہیں۔ علمی اعتبار سے ان کا کوئی وزن نہیں۔
مگر یہ معاملہ اتنا سادہ نہیں۔ اس قسم کا مزاج بتاتا ہے کہ آدمی اپنے حق میں ایک بہت بڑے نقصان کو برداشت کررہا ہے۔ اس قسم کا مزاج ذہنی ترقی کے راستے میں مستقل رکاوٹ ہے۔ جو آدمی ذہنی ترقی کا حریص ہو، اس کو چاہیے کہ وہ کبھی بھی ایسی کوئی بات نہ کہے جس کے حق میں اس کے پاس ضروری دلیل موجود نہ ہو۔ اگر وہ کبھی بھول کر کوئی بے بنیاد بات کہہ دے تو وضاحت کے بعد اس کو چاہیے کہ وہ فوراً ہی اپنی غلطی کا کھلا اعتراف کرے۔ ان دو کے سوا کوئی تیسرا طریقہ انسان کے لیے درست نہیں۔ تیسرا طریقہ ہلاکت کا طریقہ ہے نہ کہ زندگی کا طریقہ۔
اہلِ علم کا طبقہ ذہن سازطبقہ(opinion-maker class) ہوتا ہے۔ اہلِ علم کی تقریروں اور تحریروں سے لوگ اپنا ذہن بناتے ہیں۔ یہ پہلو مزید تقاضا کرتا ہے کہ اہلِ علم مذکورہ معاملے میں بہت زیادہ محتاط ہوں۔ کیوں کہ اِس پہلو سے ان کی پکڑ دُگنا ہو جاتی ہے۔ وہ اپنے ساتھ عوام کی بے راہ روی کے بھی ذمے دار قرار پاتے ہیں۔ کتنازیادہ سنگین ہے یہ معاملہ۔ حقیقت یہ ہے کہ غلطی کا اعتراف ایسے لوگوں کے لیے اَہون البلیّتین (lesser evil) کی حیثیت رکھتا ہے۔
غلطی کا اعتراف سادہ معنوں میں صرف غلطی کا اعتراف نہیں ہے، وہ اس سے زیادہ ہے۔ غلطی کے اعتراف کا معاملہ آدمی کی خود اپنی علمی اور دینی شخصیت کی تعمیر سے جُڑا ہوا ہے۔ غلطی کا اعتراف نہ کرنا آدمی کے اندر روحانی اور ذہنی ارتقاء کو روک دیتا ہے۔ اِس کے برعکس، غلطی کا اعتراف آدمی کے اندر روحانی اور ذہنی ارتقاء کے عمل کو بڑھاتا ہے۔غلطی کا اعتراف نہ کرنے کا مطلب یہ ہے کہ آدمی کے ذہن میں صحیح اور غلط دونوں ملی جُلی حالت میں پڑے رہیں۔ اِسی کا نام کنفیوژن ہے۔ لیکن جب آدمی اپنی غلطی کو کھلے طورپرمان لے تو اس کے ذہن میں صحیح اور غلط دونوں ایک دوسرے سے الگ ہوجاتے ہیں۔ اب آدمی اس قابل ہوجاتا ہے کہ وہ صحیح کو صحیح سمجھے، اور جو غلط ہے وہ اس کو غلط نظر آئے۔ یہ عمل آدمی کو کنفیوژن سے نکال کر فکرِ صحیح کے درجے میں پہنچا دیتا ہے۔
غلطی کا اعتراف در اصل فکری تطہیر کا عمل ہے۔ جس آدمی کے ذہن میں فکری تطہیر کا یہ عمل جاری نہ ہو وہ گویا ایک بہت بڑا خطرہ مول رہا ہے۔ یہ خطرہ کہ وہ فکری آلودگی کا شکار ہو کر رہ جائے، اس کو کبھی معرفت کا اعلیٰ درجہ حاصل نہ ہوسکے۔
مذکورہ خط و کتابت سے واضح ہوتا ہے کہ میرے حالیہ تجربے کے مطابق، اِس معاملے میں صرف دو حضرات کا استثنا ہے۔ ایک، مولانا عبد الکریم پاریکھ صاحب کا، اور دوسرے، مولانا غطریف شہباز ندوی کا۔ مولانا غطریف شہباز ندوی نے اِس معاملے میں صحیح اسلامی اسپرٹ کا ثبوت دیا ہے۔ اور مولانا عبد الکریم پاریکھ صاحب نے جس طرح کھلے دل کے ساتھ معاملے کی وضاحت فرمائی ہے، وہ بلا شبہہ ان کی ایمانی عظمت کا ثبوت ہے۔ میری دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ان حضرات کی ہر طرح مدد فرمائے اور ان کو دنیا اور آخرت کی ابدی سعادتوں سے نوازے۔
اس خط و کتابت کے دَوران ایک اور نہایت اہم حقیقت واضح ہوئی۔ وہ یہ کہ ہمارا تعلیم یافتہ طبقہ تقریباً بلا استثنا، شعوری یا غیر شعوری طور پر ایک بہت بڑی کمزوری میں مبتلا ہے، اور وہ ہے قصیدے کی زبان میں کلام کرنا۔ قدیم زمانے میں بادشاہوں کے لیے مدحیّہ قصیدے لکھے جاتے تھے۔ ان قصیدوں میں محض خیالی اور فرضی طورپر بہت بڑی بڑی باتیں اپنے ممدوح کے ساتھ منسوب کردی جاتی تھیں۔ یہ شعراء کبھی یہ نہیں سوچتے تھے کہ اُن کی باتیں حقائق سے تعلق رکھتی ہیں یا نہیں۔ یہی اندازِ کلام بعد کو ہمارے یہاں نثر میں بھی رائج ہوگیا۔ اور عربی اور فارسی تینوں زبانوں میں قصیدے کی زبان میں مدحیہ نثر لکھی جانے لگی۔ اپنی پسندیدہ شخصیتوں کے لیے لوگ ایسے الفاظ لکھنے اور بولنے لگے جن کا حقیقتِ واقعہ سے کوئی تعلق نہ تھا۔
زیر نظر خط وکتابت ایک چشم کُشا خط وکتابت ہے۔ یہ خط و کتابت لوگوں کو بتا رہی ہے کہ وہ کس طرح نثر میں مدحیہ قصائد لکھنے میں مشغول ہیں۔ ایسے لوگوں کو چاہیے کہ وہ اپنے اسلوب پر نظر ثانی کریں، اور مدح نگاری کے بجائے حقیقت نگاری کو اپنا اسلوب بنائیں۔
واپس اوپر جائیں

Friday, 1 December 2006

Al Risala | December 2006 (الرسالہ،دسمبر)

2

- مسلم تاریخ ایک جائزہ

8

- انسان کی دریافت

19

- مذہب اور سائنس

26

- نقطۂ آغاز

31

- رمضان اور جنگ

34

- احساس محرومی کیوں

37

- خبرنامہ الرسالہ ۱۷۷


مسلم تاریخ ایک جائزہ

پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم مکہ میں ۵۷۰ عیسوی میں پیدا ہوئے۔ آپ پر پہلی وحی ۶۱۰ عیسوی میں نازل ہوئی۔ یہی وہ سال ہے جب کہ اسلام کا آغاز ہوا۔ مبصرین کا اِس پر اتفاق ہے کہ آغاز کے بعد جس طرح اسلام کی عالمی توسیع ہوئی، وہ انسانی تاریخ کا ایک انوکھا واقعہ تھا۔ مثال کے طور پر انڈیا کے ایک بنگالی اسکالر ایم این رائے (وفات ۱۹۵۴) کی ایک کتاب دہلی (اَجنتا پبلکیشنز) سے پہلی بار ۱۹۳۹ میں چھپی۔ اس کتاب کا نام یہ تھا:
The Historical Role of Islam
اِس کتاب میں مصنف نے اسلام کے اِس تاریخی پہلو کا اعتراف کرتے ہوئے لکھا ہے کہ— اسلام کی توسیع تمام معجزات میں سب سے بڑا معجزاتی واقعہ ہے:
The expansion of Islam is the most miraculous of all miracles (p. 4)
یہ ایک تاریخی حقیقت ہے کہ آغاز کے بعد اسلام اور اہلِ اسلام کو بہت کم مدّت میں عالمی غلبہ حاصل ہوگیا۔ یہ غلبہ تقریباً ایک ہزار سال تک جاری رہا۔ اِس واقعے کو بیان کرتے ہوئے ایک شاعر نے بجا طور پر کہا ہے:
ہمیںچھائے ہوئے تھے شرق سے تا غرب دنیا میں نہ تھا پَلّہ کسی ملّت کا دنیا میں گراں ہم سے
اسلام کی یہ توسیع رومن ایمپائر اور برٹش ایمپائر کی طرح محض ایک سیاسی توسیع نہ تھی، توسیع کا یہ معاملہ مکمل طورپر ایک خدائی معاملہ تھا، وہ ایک خدائی منصوبے کے تحت پیش آیا۔ چنانچہ وہ اس خدائی منصوبے کی تکمیل تک باقی رہا، اور جب یہ منصوبہ مکمل ہو گیا اور اس کی براہِ راست ضرورت نہ رہی تو مسلمانوں کا پورا سیاسی محل تاش کے پتّوں کی طرح بکھر گیا۔
اس معاملے کو سمجھنے کے لیے قرآن کی اِس آیت پر غور کیجئے: إنّا نحن نزّلنا الذکر وإنّا لہ لحافظون (الحجر۹) یعنی وہ خدا ہے جس نے اِس قرآن کو اتارا اور خدا ہی یقینی طورپر اس کی حفاظت کرے گا۔
اِس قرآنی آیت کا پس منظر یہ ہے کہ انسانوں کی رہنمائی کے لیے خدا نے اپنے پیغمبروں کے ذریعے بار بار اپنا کلام اُتارا ، مگر یہ خدائی کلام تاریخ میں محفوظ نہ رہ سکا۔ خدا نے پیغمبر آخر الزماں کے ذریعے انسان کی اِس محرومی کو ختم کرنا چاہااور یہ فیصلہ فرمایا کہ قرآن آخری خدا ئی کلام کے طورپر محفوظ ہوجائے تاکہ اس کے بعد دوبارہ کوئی پیغمبر اور کوئی کتاب بھیجنے کی ضرورت پیش نہ آئے۔
سنت اللہ کے مطابق، یہ کام معجزاتی طورپر نہیں کیا جاسکتا تھا۔ چنانچہ اِس مقصد کے لیے ملکِ عرب میں ایک لمبی منصوبہ بندی کی گئی۔ اِس منصوبے کا آغازاُس وقت ہوا جب کہ چار ہزار سال پہلے ہاجرہ کو اپنے چھوٹے بچے اسماعیل کے ساتھ مکّہ کے صحرا میںآباد کردیاگیا۔ اُس کے بعد ڈھائی ہزار سالہ تاریخی عمل کے نتیجے میں وہ ٹیم بنی جس کو ایک مستشرق اسکالر نے ہیروؤں کی قوم (a nation of heroes) کہا ہے۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم اس گروہ کے اندر پیدا ہوئے۔ آپ پر قرآن اتارا گیا۔ آپ نے قرآن کی بنیاد پر تحریک چلائی۔ اِس قرآنی تحریک کی بنیاد پر انسانوں کی ایک جماعت بنی، پھر ایک غیر معمولی جدوجہد کے ذریعے اسلامی اقتدار کا وہ نظام بنا جس کو خلافت کا نظام کہاجاتا ہے۔
زمین کے تقریباً تمام آباد حصے براہِ راست یا بالواسطہ طورپر خلافت کے اِس نظام کے زیرِ اثر آگیے۔ خلافت کا یہ تصور خود قرآن سے اخذ کیا گیا تھا، کیوں کہ قرآن میں بتایا گیا ہے کہ جو لوگ ایمان اور عملِ صالح کی صفات سے متصف ہوں گے، ان کو خدا زمین میں خلافت عطا فرمائے گا (النور ۵۵)
اب فطری طورپر ایسا ہوا کہ قرآن کا تصور اِس نظامِ خلافت کی اساس بن گیا۔ یہ قرآن سے اخذ کردہ تصور، نظامِ خلافت کے قیام کے لیے وجہِ جواز فراہم کرتاتھا۔ یہ قرآن کا تصور تھا جس پر عقیدہ رکھنے والوں کی حمایت، یا مین ڈیٹ (mandate) کے ذریعے کوئی خلیفہ اقتدار کی سیٹ پر بیٹھتا تھا۔ اِسی کی ایک علامت وہ چیز تھی جس کو بیعت کہاجاتا ہے۔
قرآن کی اس حیثیت کا نتیجہ یہ ہوا کہ قرآن کے اندر ایک سیاسی اہمیت، یا سیاسی قدر (political value) پیدا ہوئی۔ اب قرآن، خلافت کے تصور کے تحت قائم شدہ سیاسی ادارے کا اپنا انٹر سٹ بن گیا۔ اب خود سیاسی اقتدار کے لیے ضروری ہوگیا کہ وہ قرآن کا سرپرست بن کر اس کی مسلسل حفاظت کرتا رہے۔ قرآن کے محفوظیت ، سیاسی ادارے کی محفوظیت تھی اور قرآن کا غیر محفوظ ہونا یہ معنی رکھتا تھا کہ خود سیاسی ادارہ بھی غیر محفوظ ہوجائے۔
قدیم زمانے کے سماج میں صرف سیاسی ادارہ ہی واحد طاقت ور ادارہ ہوا کرتا تھا۔ اُس زمانے میں کوئی بھی دوسرا ادارہ نہیں ہوتا تھا جو کوئی مؤثر سماجی رول ادا کرنے کی پوزیشن میں ہو۔ قرآن سے پہلے جو کتابیں آئیں وہ قدیم روایتی دور میں آئیں۔ اِن کتابوں میں سے کسی کتاب کی حمایت میں سیاسی ادارے کا زور شامل نہ ہوسکا۔ عالمِ اسباب کے لحاظ سے یہی سبب تھا جس کی بنا پر قدیم کتابیں محفوظ نہ رہ سکیں۔
قرآن کے ساتھ استثنائی طورپر ایساہوا کہ اس کی حفاظت کے لیے مسلسل طورپر سیاسی ادارے کی طاقت حاصل رہی۔ عالمِ اسباب کے اعتبار سے یہی سب سے بڑی وجہ ہے جس کی بنا پر قرآن استثنائی طورپر ایک محفوظ کتاب بن گیا۔اسی کا ایک مظہر یہ تھا کہ حکمراں طبقے کے افراد بھی قرآن کو حفظ کرنے اور قرآن کی کتابت کرنے کو اپنے لیے فخر کی چیز سمجھتے تھے۔
قرآن کی حفاظت کا یہ سیاسی انتظام آغازِ اسلام کے بعد تقریباً ایک ہزار سال تک جاری رہا۔ یہ نظام صرف اُس وقت ختم ہوا جب کہ دنیا میں پرنٹنگ پریس کا زمانہ آگیا۔ پرنٹنگ پریس کی ایجاد نے قرآن کی حفاظت کے لیے سیاسی اقتدار کی اہمیت ختم کردی۔ پرنٹنگ پریس کی ایجاد سے پہلے یہ ہوتا تھا کہ قرآن کا ہر نسخہ الگ الگ تیار کرنا پڑتا تھا، مگر پرنٹنگ پریس نے اِس بات کو ممکن بنادیا کہ قرآن کی ایک کاپی نہایت صحیح طورپر لکھ کر تیار کی جائے اور پھر چھاپ کر اس سے ملین اور بلین کاپیاں تیار کر لی جائیں۔ اِس زمانی تغیرنے قرآن کی حفاظت کو سیاسی دائرے سے نکال کر صنعتی دَور میں پہنچا دیا۔ اِس تبدیلی کے بعد یہ ناممکن ہوگیا کہ کوئی مخالف قوّت، قرآن کو ایک غیر محفوظ کتاب بنا سکے۔
پرنٹنگ پریس کے ظہور کے ساتھ نَو آبادیاتی دَور (colonialism) کا بھی ظہور ہوا۔ اِس نَو آبادیاتی دَور نے خلافت، یا مسلمانوں کی سیاسی بالا دستی کا خاتمہ کردیا۔ اُنیسویں صدی عیسوی میں خلافت کا یہ محل تاش کے پتّوں کی طرح بکھر گیا۔ اس کے بعد سے مسلمان تمام دنیا میں کسی نہ کسی عنوان سے احیائِ خلافت کے لیے لڑ رہے ہیں، مگر انھیں اِس معاملے میں ایک فیصد کے بقدر بھی کامیابی حاصل نہیں ہوئی۔
اِس کا سبب کیا ہے۔ راقم الحروف کے تجزیے کے مطابق، نظامِ خلافت کا انہدام اتفاقی نہیں تھا، اور نہ وہ کسی کی سازش کے تحت انجام پایا۔ یہ واقعہ مکمل طورپر خدا کی منصوبہ بندی کے تحت تھا۔ مسلمانوں کے ہزار سالہ سیاسی اقتدار کا اصل مقصدصرف ایک تھا، اور وہ ہے قرآن کی حفاظت۔ بقیہ چیزیں جو اِس مدت میں مسلمانوں کو حاصل ہوئیں، وہ اپنی نوعیت کے اعتبار سے ضمنی تھیں۔ قرآن کی حفاظت جب تک سیاسی اقتدار پر منحصر تھی، اُس وقت تک مسلمانوں کو سیاسی اقتدار حاصل رہا، اور جب اِس حفاظت کی ذمّے داری پرنٹنگ پریس نے لے لی تو اب سیاسی اقتدار نے اپنی اہمیت کھودی۔ چنانچہ خدا نے اُس سے اپنی مدد واپس لے لی۔ یہی اصل سبب ہے جس کی بنا پر مسلمانوں کا سیاسی اقتدار اپنی قدیم شکل میں باقی نہ رہا۔
خلافت کے سیاسی اقتدار کے ٹوٹنے کا ایک اورپہلو بھی تھا۔ اصل یہ ہے کہ آغازِ اسلام کے بعد ہزار سال تک جو سیاسی اقتدار قائم تھا، وہ روایتی دور میں قائم ہوا تھا۔ اس روایتی دور کی نسبت سے اسلامی فکر اور اسلامی عمل کا ایک ماڈل بن گیا تھا۔ اِس ماڈل کی تشکیل روایتی ماحول میں ہوئی تھی۔ اپنی حقیقت کے اعتبار سے یہ ایک عارضی ماڈل تھا، مگر وہ لمبی مدّت تک باقی رہا۔ اِس بنا پر شعوری یا غیر شعوری طورپر عوام اور خواص دونوں نے یہ سمجھ لیا کہ یہی ماڈل اسلام کا حقیقی ماڈل ہے۔ حالاں کہ اس کے حق میں قرآن اور حدیث میں کوئی بنیاد موجود نہ تھی۔
مغربی نو آبادیات کا دَور اپنے ساتھ سائنسی انقلاب کا دور لے آیا تھا۔جدید سا ئنسی حالات نے قدیم روایتی نظام کو آج کے لیے مکمل طورپر غیر متعلق (irrelevant) بنا دیا تھا۔ ماقبل سائنس دَور(pre-scientific era) میں بننے والا ماڈل اب مابعد سائنس دور (post-scientific era) میں کار آمد نہیں رہا تھا۔ ضرورت تھی کہ اب اس کی نئی تشکیل کی جائے اور روایتی فریم ورک میں بننے والے ماڈل کی جگہ سائنسی فریم ورک میں نیا ماڈل بناجائے۔
قُرونِ وسطیٰ کے مسلمان اپنے عمل سے ثابت کررہے تھے کہ وہ تشکیلِ نَوکے اِس کام کے لیے بالکل نااہل ہیں۔ اِس طرح مسلمان عملاً اسلام کی راہ میں ایک رُکاوٹ بن گیے۔ وہ اسلام کو دَور جدید میں داخل کرنے کے لیے نااہل ثابت ہوئے۔
یہی وہ موقع تھا جب کہ خدا نے انیسویں صدی عیسوی میں مغربی قوموں کو یہ موقع دیا کہ وہ روایتی دور میں بنے ہوئے مسلمانوں کے قدیم ڈھانچے کو توڑ دیں اور اسلامی فکر اور اسلامی عمل کا نیا ڈھانچہ بنانے کی راہ ہموار کریں۔
مگر پچھلے دو سوسال کی تاریخ بتاتی ہے کہ مسلمان اِس منصوبۂ الٰہی کو سمجھ نہ سکے۔ مسلمانوں کی تمام طاقت پچھلے دو سو سال سے اِس بے نتیجہ کام میں لگی ہوئی ہے کہ وہ قدیم کھنڈر کی اینٹوں کو اکھٹا کرکے دوبارہ قدیم روایتی انداز کا ڈھانچہ کھڑا کریں، مگر ایسا کرنا غیر مفید بھی ہے اور غیر ممکن بھی۔ اس لیے وہ کبھی واقعہ بننے والا نہیں۔ پچھلے دو سو سال کی ناکام کوشش اِس کے ثبوت کے لیے کافی ہے۔
مسلمان پچھلے دوسو سال سے سیاسی اقتدار کی بازیابی کے لیے لڑ رہے ہیں، مگر وہ اپنے اِس مقصد میں کامیاب نہ ہوسکے۔ یہ اِس بات کا اشارہ ہے کہ اسلام میں سیاسی اقتدار کی وہ اہمیت ہی نہیں جو مسلم رہنماؤں نے بطور خود سمجھ لیا تھا۔ قدیم زمانے میں مسلمانوں کو طویل مدّت تک سیاسی اقتدار اس لیے ملاکیوں کہ قدیم زمانے میں آخری کلامِ الٰہی (قرآن) کی کامل حفاظت کے لیے سیاسی اقتدار کی حمایت ضروری تھی۔ پرنٹنگ پریس کی ایجاد کے بعد خود پرنٹنگ پریس قرآن کی حفاظت کا ضامن بن گیا، اس کے بعد سیاسی اقتدار کی حیثیت اِس پہلو سے ایک اضافی (relative)چیز بن گئی۔ اِس بنا پر یہ ہوا کہ سیاسی اقتدار کے حق میں خدا کی خصوصی حمایت باقی نہ رہی۔
اب سیاسی اقتدار کا معاملہ اُسی طرح صرف مسابقت کا معاملہ ہے، جس طرح اقتصادیات کا معاملہ مسابقت کا معاملہ۔ تاریخ میں اِس تبدیلی کے بعد اب ایسا ہونے والانہیں کہ سیاسی اقتدار کے قیام و بقا کے لیے مسلمانوں کو خصوصی خدائی مدد ملے۔ اب اِس پہلو سے مسلمانوں کا معاملہ دوسری قوموں جیسا ہے۔ اب مسلمانوں کا معاملہ بھی دوسری قوموں کی طرح اسباب و علل کے تحت ہے۔ جو قوم بھی اسباب و علل کے اعتبار سے اپنے کو اہل ثابت کرے گی وہی سیاسی اقتدار کی مالک ہوگی۔
اب قانونِ فطرت کے تحت، مسلمانوں کو یہ کرنا چاہیے کہ وہ اقتدار کی لڑائی لڑنا چھوڑ دیں، وہ اُس نیے امکان سے فائدہ اٹھائیں جس کو موجودہ زمانے میں اداراتی دَور(institutionalization) کہاجاتا ہے۔ یہ نیا امکان قدیم دَور سے بھی زیادہ بڑا ہے۔ مسلمانوں کو چاہیے کہ پہلے جس طرح سیاسی اقتدار کو قائم کرنے کے لیے وہ اپنی ساری طاقت لگا دیتے تھے، اُسی طرح اب وہ مختلف غیر سیاسی شعبوں میںادارہ بنانے میں اپنی ساری طاقت لگا دیں ۔ مثلاً تعلیم، دعوت، سماجیات، صحافت، پبلشنگ، صنعت اورتجارت، وغیرہ۔
موجودہ زمانے کے مسلمان اگر اِس جدید تقاضے کو سمجھیں اور اداراتی تنظیم کے میدان میں پُرامن طورپر سرگرم ہوجائیں تو وہ غیر سیاسی میدان میں زیادہ بڑے پیمانے پر اُس مقصد کو حاصل کرلیں گے، جس کو وہ سیاسی میدان میں صرف ناکام طورپر حاصل کرنے کی کوشش کررہے تھے اور جس میں انھیں یک طرفہ تباہی کے سوا اور کچھ حاصل نہ ہوسکا۔
واپس اوپر جائیں

انسان کی دریافت

ایک فلسفی نے کہا ہے کہ—انسان کی تاریخ اندھیرے میں بھٹکنے کی تاریخ ہے۔ یہ تبصرہ بالکل درست ہے۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ انسان پوری تاریخ میں بے خبری کے اندھیروں میں بھٹکتا رہا ہے۔ انسان کی اِس بے خبری کو تین عنوان کے تحت بیان کیا جاسکتا ہے۔
۱۔ آئڈیل ازم(Idealism)
۲۔ بہیویر ازم(Behaviourism)
۳۔ یوٹلیٹرین ازم (Utilitarianism)
یہاں میںنے آئڈیل ازم کا لفظ اس کے کلاسکل معنی میں استعمال نہیں کیا ہے، بلکہ اس کے لغوی معنی میں اس کو استعمال کیا ہے۔ انسان کا مطالعہ بتاتا ہے کہ ہر انسان پیدائشی طورپر اپنے اندر آئڈیل کا ایک تصور لیے ہوئے ہے، ہر انسان اس آئڈیل کو پانا چاہتا ہے۔ اِس معاملے میں عوام اور خواص کا کوئی فرق نہیں۔ عوام کی اکثریت اپنی غفلت کی بناپر آئڈیل کی تلاش کے بارے میں شعوری طورپر باخبرنہیں ہوگی، تاہم غیر شعوری طورپر اس کا کیس پوری طرح یہی ہے۔ البتہ خواص، یعنی فلسفی اور مفکر اور رفارمر سب کے سب اِس میں مبتلا رہے ہیں۔
مگر دوسری طرف تاریخ یہ بتاتی ہے کہ تمام لوگ، بلا استثناء آئڈیل کے بارے میں اپنی تلاش میںناکام رہے ۔ آئڈیل سماج، آئڈیل اسٹیٹ، آئڈیل ادارہ، آئڈیل نظام، یہی ہر ایک کا محبوب نشانہ رہا ہے۔ مگر واقعات بتاتے ہیں کہ ہر ایک اپنے نشانے کو پورا کرنے میں ناکام رہا، اور آخر کار وہ مایوسی کے عالم میں مرگیا۔
۱ — قدیم یونان کا مشہور فلسفی افلاطون(Plato) ۴۲۷ قبل مسیح میں پیدا ہوا، اور ۳۴۷ قبل مسیح میں اس کی وفات ہوئی۔ اس نے سُقراط (Socrates) سے تعلیم و تربیت حاصل کی تھی۔ مشہور فلسفی ارسطو(Aristotle) اس کا شاگرد تھا۔ افلاطون کو اپنے زمانے میں اتنا بڑا درجہ ملا کہ وہ اُس زمانے کے شاہی خاندان کامعلم بن گیا۔ لیکن اس کی سوانح عمری میںہمیں یہ الفاظ لکھے ہوئے ملتے ہیں کہ— وہ ایک مایوس انسان کی طرح مرا:
He died as a disappointed person.
ایسا کیوں ہوا۔ اس کا سبب یہ تھا کہ افلاطون نے یونان میں آئڈیل اسٹیٹ قائم کرنے کو اپنا مقصد بنایا۔ اس نے اِس موضوع پر کتاب لکھی۔ اس نے وقت کے شاہی خاندان کی اپنے آئڈیل نظریے کے مطابق، تعلیم و تربیت کی۔ اُس کے نزدیک اس کا آئڈیل اسٹیٹ اتنا کامل تھا کہ اس نے اِس موضوع پر اپنی کتاب میں سزا (punishment) کا قانون شامل نہیںکیا۔
مگر عملاً یہ ہوا کہ اس کا آئڈیل اسٹیٹ سرے سے قائم ہی نہ ہوسکا، نہ کسی شہر میں اور نہ پورے ملک میں۔ آخر کار وہ سخت مایوسی میں مبتلا ہوا، اور اِسی مایوسی کے عالم میں حسرت کے ساتھ مر گیا۔
یہی انجام، بلا استثناء ہر فلسفی اور ہر مفکر اور ہر رفارمر کا ہوا ہے۔ ہر ایک نے اپنے ذہن میںایک آئڈیل دنیا بنانے کا خواب دیکھا۔ مگر کوئی بھی شخص اپنی آئڈیل دنیا نہ بنا سکا۔ آپ کسی بھی مشہور آدمی کی سوانح عمری پڑھیے تو آخر میں ہر ایک کے بارے میں یہ لکھا ہوا ملے گا کہ وہ اپنے نشانے کو پانے میں ناکام رہا اور آخر کار مایوسی کے عامل میں مرگیا—روسو، مارکس، ڈارون، جان آسٹن، لارڈ کرزن، وغیرہ ہر ایک کا خاتمہ محرومی کے احساس کے ساتھ ہوا۔
انسان کی اِس عمومی ناکامی کا سبب یہ تھا کہ ہر ایک نے یہ غلطی کی کہ اس نے خدا کی تخلیقی اسکیم (creation plan) کو سمجھے بغیر خود اپنے ذہن سے اپنا ایک آئڈیل نقشہ بنایااور وہ اس کو حاصل کرنے کے لیے دوڑ پڑا۔ حالاں کہ خالق کے تخلیقی پلان کو سمجھے بغیر اِس قسم کی کوشش سراسر عبث تھی۔ ایسی کوشش کبھی اِس دنیا میں کامیاب نہیں ہوسکتی۔ اسی ناکام تجربے کی بنا پر لوگوں میںعمومی طورپر وہ تصور رائج ہوگیا جس کو ایک جملے میں اِس طرح بیان کیا جاتا ہے کہ— آئڈیل کبھی حاصل نہیں ہوسکتا:
Ideal can't be achieved.
مگر حقیقتِ واقعہ کے اعتبارسے یہ قول درست نہیں۔ انسان کے دماغ میں جو آئڈیل بسا ہوا ہے وہ یقینی طورپر قابلِ حصول ہے، مگر موت سے پہلے کی دنیا میں نہیںبلکہ موت کے بعد کی دنیا میں۔ خالق کے تخلیقی پلان کے مطابق، یہ آئڈیل دنیا جنت ہے، اور وہ مستحق افراد کو صرف موت کے بعد کی زندگی میں حاصل ہوگی۔ انسان کی غلطی یہ ہے کہ وہ آئڈیل دنیا کو موت سے پہلے کی زندگی میں پانا چاہتا ہے۔ حالاں کہ خدا کے تخلیقی منصوبے کے مطابق، یہ آئڈیل دنیا صرف موت کے بعد کی زندگی میں حاصل ہونے والی ہے۔
خدا کے تخلیقی پلان سے اِس بے خبری کا نتیجہ یہ ہوا کہ ہر انسان کا یہ کیس بن گیا کہ وہ امید کے ساتھ اپنی زندگی کا آغاز کرے اور محرومی کا احساس لے کر مرجائے۔ حالاں کہ اگر وہ خدا کے تخلیقی پلان کو جانے اور اس کے مطابق عمل کرے تو اس کے لیے موت سے قبل کی زندگی میں بھی امید ہے اور موت کے بعد کی زندگی میں بھی امید۔ ایسا آدمی فطری طورپر کبھی ذہنی تناؤ(tension) میں مبتلا نہیںہوگا اور وہ اِس المیے سے بھی بچ جائے گا کہ محرومی کے احساس پر اس کا خاتمہ ہو۔
تاریخ میں بہت سے مفکر اور رفارمر گذرے ہیں جو یہ چاہتے تھے کہ موجودہ دنیا میں آئڈیل اسٹیٹ، آئڈیل نظام، آئڈیل سماج، آئڈیل ادارہ بنے، مگر بلا استثنا ہر ایک اپنے مقصد میںناکام رہا۔ اس کا سبب یہ ہے کہ موت سے پہلے کی یہ موجودہ دنیا اِس مقصد کے لیے بنائی ہی نہیں گئی۔
اصل یہ ہے کہ خالق نے اپنے تخلیقی نقشے کے مطابق، ہر انسان کو مکمل آزادی دی ہے۔ اِس دنیا میں ایسا کوئی میکانزم نہیں جو لوگوں کو مجبور کرے کہ وہ اپنی آزادی کاغلط استعمال نہ کریں۔ چنانچہ پوری تاریخ میں ہمیشہ یہ ہوتا رہا کہ افراد نے اپنی آزادی کا غلط استعمال کرکے پورے نظام کو غلط رُخ پر ڈال دیا اور ابتدائی مُصلح کے پورے نقشے کو تباہ کرڈالا۔
فلسفی افلاطون نے اپنے زمانے کے بادشاہ سکندر اعظم(Alexander the Great) کو شہزادگی کے زمانے میں تربیت دے کر تیار کیا کہ وہ افلاطون کے آئڈیل اسٹیٹ کو قائم کرے۔ لیکن سکندر اعظم جب بڑا ہوا تو اس نے افلاطون کی تعلیم کو چھوڑ کر اپنی پسند کا راستہ اختیار کر لیا۔ جرمن فلسفی کارل مارکس (وفات ۱۸۸۳) کے اقتصادی نظریات کی بنیاد پر کمیونسٹ پارٹی بنی۔ لینن اور اسٹالن کی قیادت کے تحت، کمیونسٹ پارٹی کی حکومت بھی زمین کے بڑے رقبے پر قائم ہوگئی۔ لیکن یہ حکومت مکمل طورپر ناکام رہی۔ کمیونسٹ لیڈر ٹراٹسکی (Trotsky leon) نے کمیونسٹ نظام کی اِس ناکامی کو خود کمیونسٹ لیڈروں کی غدّاری کا نتیجہ قرار دیا ہے۔ اِس موضوع پر ٹراٹسکی نے ایک کتاب شائع کی جس کا ٹائٹل یہ تھا: Revolution — Betrayed
جرمن سائنس داں آئن سٹائن(Albert Einstein) نے جوہری توانائی (atomic energy)کو دریافت کیا۔اِس دریافت میں عظیم مثبت فائدہ چھپا ہوا تھا، لیکن پولٹکل لیڈروں نے جوہری توانائی کی دریافت کو لے کر ایٹم بم بنا ڈالا اور ساری دنیا میں جنگی تیاری کا جنون پیدا کردیا۔
انڈیا کے لیڈر مہاتما گاندھی نے زبردست جدوجہد کے ذریعے انڈیا کوانگریزوں سے آزاد کرایا۔ان کا نظریہ یہ تھا کہ آزادی کے بعد انڈیا میں ایسا سماج بنایا جائے گا جوانسانی خدمت اور سیوا پر مبنی ہوگا۔ اِس مقصد کے لیے انھوںنے ایک ماڈل بستی کے طور پر مہاراشٹر میں ’’سیوا گرام‘‘بنایا۔ مگر آزادی کے بعد مہاتما گاندھی کے تمام ساتھی، سیوا کے نظریے کو چھوڑ کر سیاسی اقتدار حاصل کرنے کی طرف دوڑ پڑے۔ انھوں نے گاندھی کی نصیحتوں کو مکمل طور پر نظر انداز کردیا۔ چنانچہ اِس منظر کو دیکھ کر مہاتما گاندھی نے کہا—اب میری کون سنے گا
اِس قسم کے واقعات تمام مصلحین کے ساتھ پیش آئے۔ اِن تمام واقعات کا مشترک سبب یہ تھا کہ انسان نے اپنی آزادی کا غلط استعمال کرکے ہر اصلاحی اسکیم کو تہہ وبالا کردیا۔ تاریخ بتاتی ہے کہ کبھی بھی کوئی اصلاحی اسکیم اپنے مطلوب معیاری معنوں کامیاب نہ ہوسکی۔
۲ — انسان کا دوسرا المیہ یہ ہے کہ قانونِ فطرت کے تحت، ہر انسان کنڈیشننگ کا کیس ہے۔ اِس بنا پر ہر انسان درست سوچ (right thinking) سے محروم رہتاہے۔ وہ کنڈیشنڈ شخصیت کے ساتھ جیتا ہے اور کنڈیشنڈ شخصیت کے ساتھ ہی مرجاتا ہے۔ اپنی عدم واقفیت کی بنا پر اس کو کبھی اس کی ضرورت محسوس نہیںہوتی کہ وہ اپنے کنڈیشنڈ مائنڈ کی ڈی کنڈیشننگ کرے۔ ہر آدمی اپنی سوچ اور اپنے جذبات کے اعتبارسے ماحول کی پیداوار ہوتا ہے، مگر اپنی بے خبر کی بنا پر وہ اِسی مصنوعی شخصیت کو اصل شخصیت سمجھ لیتا ہے۔
بیسویں صدی کے آغاز میں پہلی بار انسان نے کنڈیشننگ کے اِس معاملے کو جانا۔ امریکا کے پروفیسر جے بی واٹسَن (John Broadus Watson)نے لمبی تحقیق کے بعد ۱۹۲۵ میں اپنی کتاب بہیویر ازم(Behaviourism) شائع کی۔ اِسی کتاب کے نام پر نفسیات میں بہیویر سٹ اسکول(Behaviourist School) قائم ہوا، جو اتنا عام ہوا کہ عرصے تک دنیا کی تمام یونیورسٹیوں میں وہ علم النفس کے نصاب کے طورپر پڑھایا جاتا رہا۔
لیکن پروفیسر واٹسن کی یہ دریافت صرف ایک ادھوری دریافت تھی۔ اِس دریافت کے مطابق، کنڈیشنڈ انسان ہی اصل انسان تھا۔ اِس نفسیاتی اسکول میں یہ مان لیاگیا کہ جو چیز انسان کی شخصیت کی تشکیل کرتی ہے وہ اس کا پیدائشی نیچر نہیں ہے، بلکہ وہ بعد از پیدائش اس کے ماحول کا نرچر (nurture) ہے،مگر اصل حقیقت یہ ہے کہ کنڈیشننگ کا یہ معاملہ انسان کے لیے ایک امتحان ہے۔ ہر انسان کو اپنی تعمیرشخصیت کے لیے یہ کرنا ہے کہ وہ اپنے کنڈیشنڈ مائنڈ کی ڈی کنڈیشننگ کرے۔ قدرت نے پیاز کی صورت میں اِس معاملے کا ایک نمونہ انسان کے لیے رکھ دیا ہے ۔ جیسا کہ معلوم ہے، پیاز میں ایک کے بعد ایک پرتیں(layers) ہوتی ہیں۔ اِن پرتوں کو ہٹایا جائے تو آخر کار اس کا اصل مغز سامنے آجائے گا۔
ایسا ہی معاملہ انسان کا ہے۔ انسان کی اصل شخصیت وہ ہے جو فطرت کی طرف سے اس کو پیدائشی طورپر ملتی ہے، پھر خارجی ماحول سے اس کے اوپر کنڈیشننگ کی پرت چڑھتی رہتی ہے۔ آدمی کو چاہیے کہ باشعور ہونے کے بعد اپنی ڈی کنڈیشننگ کرکے وہ ان خارجی پرتوں کو ہٹائے، یہاں تک کہ فطری انسان سامنے آجائے۔
ہر انسان پیدائشی طور پر مسٹر نیچر ہے، لیکن ماحول کے اثر سے وہ مسٹر کنڈیشنڈ بن جاتا ہے۔ ایسا خدا کے تخلیقی نظام کے تحت ہوتا ہے۔ انسان کو خدا نے شعور اور آزادی کی صلاحیت بخشی ہے۔ انسان سے یہ مطلوب ہے کہ وہ اپنے شعوری فیصلے کے تحت، اپنی ڈی کنڈیشننگ کرے۔ وہ اپنے آپ کو دوبارہ انسانِ فطری (Mr. Nature) بنائے۔ یہی انسان کا امتحان ہے، اور اِس امتحان میں کامیاب ہونے والوں ہی کے لیے خدا نے اپنے ابدی انعامات کا اعلان کیا ہے۔
یہ ایک حقیقت ہے کہ ہر انسان کی کنڈیشننگ ہوتی ہے، مگر پوری معلوم تاریخ میں ڈی کنڈیشننگ کا نظریہ کبھی موجود نہیں رہا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ قانونِ فطرت کے تحت، ہر زمانے میں لوگوں کی کنڈیشننگ ہوتی رہی، لیکن عدم واقفیت کی بنا پر وہ اپنی ڈی کنڈیشننگ نہ کرسکے۔ ایسی حالت میں محفوظ طورپر کہا جاسکتا ہے کہ پوری تاریخ ایسے افراد سے خالی ہے جو اپنی ڈی کنڈیشننگ کرکے اپنے آپ کو مسٹر نیچر بنا سکے ہوں۔ دوسرے لفظوں میں یہ کہ تاریخ کے تمام مفکرین اور فلاسفہ اپنے اصلاحی یا فکری کردار کو ادا کرنے کے لیے نااہل تھے۔ وہ اِس مقصد کے لیے تیار ذہن (prepared mind) کی حیثیت نہیں رکھتے تھے۔
تمام فکری نظاموں میں اسلام اِس معاملے میں ایک استثناکی حیثیت رکھتا ہے۔ اسلام کی تعلیمات میں سے ایک بنیادی تعلیم وہ ہے جس کو تزکیہ(purification) کہاجاتا ہے۔ تزکیہ کسی پُراسرار چیز کا نام نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ تزکیہ اُسی عمل کا نام ہے جس کے لیے ہم نے ڈی کنڈیشننگ کا لفظ استعمال کیا ہے۔ تزکیہ سے مراد یہ ہے کہ آدمی اپنا محاسبہ(introspection) کرے۔ وہ اپنی فکری اور نظریاتی غلطیوں کو ڈھونڈ کر نکالے اور ان کی اصلاح کرے۔ یہ عمل تمام تر ایک ذہنی عمل ہے۔ آدمی بے لاگ طورپر اپنے اوپر نظر ثانی کرتا ہے۔ یہ عمل مسلسل طورپر ساری عمر جاری رہتا ہے۔ اِس طرح آدمی تزکیہ کے عمل کے ذریعے اپنی اصلاح کرتا رہتا ہے، یہاں تک کہ وہ ایک مزکّٰی اور مطہّر شخصیت (purified personality)بن جاتا ہے۔
موجودہ زمانے میں ڈی کنڈیشننگ (de-conditioning) کے لفظ کو ڈی اسٹریسنگ (de-stressing) کے ہم معنیٰ لفظ کے طورپر استعمال کیا جاتا ہے۔ اِس استعمال کے اعتبار سے ڈی کنڈیشننگ کا مطلب ہوتا ہے—ذہنی تناؤ کو ختم کرنا۔
مگر میرے نزدیک یہ ڈی کنڈیشننگ کے لفظ کا نادرست استعمال ہے۔ میرے نزدیک ڈی کنڈیشننگ سے مراد یہ ہے کہ پروفیسر واٹسن کے تصور کے مطابق، کنڈیشننگ کے ساتھ برعکس عمل کیا جائے۔ جس کنڈیشننگ کو پروفیسر واٹسن نے حتمی سمجھ لیا تھا، اس کو حتمی نہ سمجھتے ہوئے فکری عمل کے ذریعے اس کو ختم کرنے کی کوشش کی جائے ،اسی کانام ڈی کنڈیشننگ ہے۔ میرے علم کے مطابق، مفکرین نے اگر چہ ڈی کنڈیشننگ کو اِس مخصوص معنی میں استعمال نہیں کیا ہے، لیکن میرے نزدیک ڈی کنڈیشننگ کا صحیح ترین مفہوم یہی ہے۔
اِس موضوع پر ایک بار میری گفتگو ایک کمیونسٹ پروفیسر سے ہورہی تھی۔ انھوںنے کہا کہ ڈی کنڈیشننگ کو ہم بھی مانتے ہیں، مگر ہم اس کو ڈی کلاسنگ (de-classing) کہتے ہیں۔ میںنے کہا کہ ڈی کنڈیشننگ، اور ڈی کلاسنگ دونوں بالکل الگ الگ اصطلاحیں ہیں۔ ڈی کلاسنگ ایک سماجی اصطلاح ہے۔ اس کا مطلب ہے— بے طبقاتی سماج(classless society) بنانا۔ مگر ڈی کنڈیشننگ مکمل طورپر ایک نفسیاتی اصطلاح ہے۔ اس کا مطلب ہے—ذہن کی فکری آلودگی کو دور کرکے ذہن کو دوبارہ خالص فطری حالت پر لے جانا۔
۳ — اِس معاملے میںتیسری چیز وہ ہے جس کو اِفادی نظریہ (Utilitarianism) کہا جاتا ہے۔ انسان ہمیشہ سے مادّی مفادات کا طالب رہا ہے۔ مگر موجودہ زمانے میں اِس تصور نے باقاعدہ فلسفے کی حیثیت اختیار کرلی ہے۔ اِسی فلسفے کو یوٹلٹیرین ازم کہاجاتا ہے۔ اِس افادی فلسفے کو پہلے برطانوی فلسفی بنتھم (Jeremy Bentham) نے پیش کیا تھا۔ بنتھم ۱۷۴۸ میں انگلینڈ میں پیدا ہوا، اور ۱۸۳۲ میںاس کی وفات ہوئی۔ اس کے بعد اِس افادی فلسفے کو انیسویں صدی کے مشہور فلسفی جان اسٹوارٹ مِل (John Stuart Mill) نے، اور دوسرے فلسفیوں نے آگے بڑھایا، یہاں تک کہ عملاً یہ فلسفہ جدید دنیا کا سب سے بڑا فلسفہ بن گیا۔ آج شعوری یا غیر شعوری طورپر تمام انسان اِسی فلسفے کے تحت سوچتے ہیں اور عمل کرتے ہیں۔
یوٹلٹیرین اسکول میں بہت سے نام شمار کیے جاتے ہیں، اور ان کے درمیان بعض ظاہری اختلافات بھی ہیں، مگر عملاً یہی فلسفہ آج کی دنیا کا سب سے بڑا فلسفہ ہے۔ شعوری یا غیر شعوری طورپر آج تمام دنیا کے لوگ اس فلسفے کو قبول کیے ہوئے ہیں۔ وہ چیز جس کو مادّیت (materialism) کہاجاتا ہے، وہ دراصل یوٹلیٹرین ازم ہی کا دوسرا نام ہے۔
یوٹلیٹرین اسکول، یامٹیریلسٹ اسکول کے مطابق، موجودہ دنیا ہی وہ جگہ ہے جہاں آدمی اپنی تمناؤں اور خواہشوں کو پورا کرسکتا ہے۔ ویبسٹر کے مطابق، اس نظریے کی سادہ تعریف یہ ہے:
The doctrine that the worth or value of anything is determined solely by its utility.
یوٹلیٹرین ازم کا نظریہ کوئی نیا نظریہ نہیں ہے۔ اپنی حقیقت کے اعتبار سے یہ وہی چیز ہے جس کو عوامی زبان میںاِس طرح بیان کیا جاتا ہے کہ— کھاؤ، پیو اور خوش رہو:
Eat, drink and be merry.
یہ تصور دنیا کی ہر زبان میں پایا جاتا ہے۔ اِسی تصور کو ہندستان کے شہنشاہ بابر (وفات ۱۵۳۰) نے اپنے ایک شعر میں اِس طرح بیان کیا تھا:
بابر بہ عیش کوش کہ عالَم دوبارہ نیست!
مگر پوری تاریخ کا تجربہ بتاتا ہے کہ یہ نشانہ قابلِ حصول نہیں ۔جیسا کہ معلوم ہے، ہر آدمی سوسال سے کم مدّت کے لیے موجودہ دنیا میں جینے کا موقع پاتا ہے۔ اِس محدود مدّت میںاس کے لیے ممکن نہیں ہوتا کہ وہ اپنی آرزوؤں کے مطابق، یہاں اپنی مطلوب دنیا بنا سکے ، ایسی آرزوئیں جو کہ اپنی نوعیت کے اعتبار سے لامحدود حیثیت رکھتی ہیں۔ طرح طرح کی رکاوٹیں اس کا راستہ روک دیتی ہیں۔ حادثات اور بیماری اور دوسرے ناموافق اسباب اس کے لیے اپنے منصوبے کی تکمیل میں فیصلہ کُن رکاوٹ بن جاتے ہیںاور اگر بالفرض کوئی شخص اپنی خواہشوں کا ایک محل بنا لے، تب بھی بہت جلد ایسا ہوتا ہے کہ اس کی مرضی کے بغیر موت آتی ہے اور یک طرفہ فیصلے کے تحت، اس کی خواہشوں کے محل کو ڈھا دیتی ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ یہ نظریہ فطرت کے قانون کے خلاف ہے۔ فطرت کے مقرر نقشے کے مطابق، انسان کی زندگی دو دَورں میں تقسیم ہے— موت سے پہلے، اور موت کے بعد۔ موت سے پہلے کا زمانہ عمل کرنے کا زمانہ ہے اور موت کے بعد کا زمانہ اپنے عمل کے مطابق، اس کا انجام پانے کا زمانہ۔ یہ ایسا ہی ہے جیسے کہ امتحان ہال، کسی اسٹوڈنٹ کے لیے ٹسٹ دینے کی جگہ ہے، اور امتحان ہال کے باہر کی دنیا جاب(job) حاصل کرنے کی دنیا۔ جو لوگ موت سے قبل کی دنیا میں اپنی تمناؤں کا محل بنانا چاہتے ہیں وہ اُس طالبِ علم کی مانند ہیں جو امتحان ہال کے اندر اپنے لیے جاب تلاش کرنے لگے، حالاں کہ ایسا ہونا کبھی ممکن نہیں۔
پہلی عالمی جنگ جب ہوئی تو اُس وقت انگریز، انڈیا کے اوپر حکومت کررہے تھے۔پہلی عالمی جنگ کے بعد انھوں نے نئی دہلی کے علاقے میں ایک شان دار دنیا تعمیر کی۔ اس میں وہ وسیع محل بھی شامل تھا جس کا نام اُس وقت ’’وائس رِگل لاج‘‘ رکھا گیا تھا، اور اب اس کو ’’راشٹرپتی بھون‘‘ کہا جاتا ہے۔ انگریزوں کا خیال تھا کہ وہ اِس شان دار دنیا میں ابدی طورپر پُر عیش زندگی گذار سکیں گے، مگر ایسا نہ ہوسکا۔ دوسری عالمی جنگ نے ان کے سنہرے خواب کو درہم برہم کردیا۔ پہلی عالمی جنگ کے بعد ایک فرانسیسی مدبّر نئی دہلی آیا تھا۔ اس نے انگریزوں کی بنائی ہوئی اِس خوش نما دنیا کو دیکھا تو اس نے کہا کہ— انھوں نے کیسی شاندار دنیا بنائی، صرف اس لیے کہ ایک دن وہ اس کو چھوڑ دیں:
What a magnificent world they built to leave.
انگریزوں سے پہلے دہلی میں مغل خاندان کا راج تھا۔ ۱۸۵۷ء میں ان کی حکومت ختم ہوگئی۔ دہلی میں ان کی چھوڑی ہوئی شان دار عمارت ’’لال قلعہ‘‘ کی شکل میں موجود ہے۔ لال قلعہ کے ایک حصے میں میوزیم ہے۔ اِس میوزیم میں جو چیزیں موجود ہیں، اُن میں سے ایک وہ ٹوٹا ہوا پتھر ہے جس کے اوپر یہ فارسی شعر کَندہ ہے— آسمان کے نیچے ان کی سلطنت ہمیشہ باقی رہے:
ہمیشہ باد بہ زیرِ سپہر بُو قلموں!
اس ٹوٹے ہوئے پتھر کے ساتھ جو تشریحی عبارت لکھی ہوئی ہے، اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ یہ پتھر ایک قدیم محل میں نصب تھا۔ وہ محل اب بالکل مٹ چکا ہے۔ اس کا یہ پتھر یادگار کے طورپر لال قلعہ کے میوزیم میںرکھ دیا گیا ہے۔
یہی معاملہ پوری تاریخ میں تمام انسانوں کا ہوا ہے۔ ہر چھوٹے بڑے انسان نے اپنی آرزوؤں کی تکمیل کے لیے اپنا محل بنانے کی کوشش کی، مگر کسی کے لیے بھی اس کا محل آرزوؤں کی تکمیل کا محل نہ بن سکا۔ یہ تاریخی تجربہ بتاتا ہے کہ یوٹلیٹرین ازم کا نظریہ ایک غیر فطری اور غیر واقعی نظریہ ہے۔ یہ ایک ناممکن کو حاصل کرنے کی کوشش ہے، جو موجودہ دنیا میں کبھی کسی کے لیے واقعہ نہیں بنی اور نہ آئندہ وہ کسی کے لیے واقعہ بن سکتی ہے۔
اصل یہ ہے کہ یوٹلیٹرین ازم کا نظریہ خدا کے تخلیقی نقشے کے خلاف ہے۔ خدا نے انسان کو ابدی مخلوق کی حیثیت سے پیدا کیا۔ پھر اس کی مدتِ حیات(life span) کو اس نے دو مختلف حصوں میں بانٹ دیا۔ اس کا مختصر حصہ، قبل از موت دنیا میں رکھا گیااور اس کا بقیہ تمام حصہ، بعد از موت کی زندگی میں رکھ دیا گیا ہے۔ قبل از موت کا عرصۂ حیات ٹسٹ کے لیے ہے اور بعداز موت کا عرصۂ حیات اپنی کارکردگی کے مطابق، انعام پانے کے لیے۔
یہ ٹسٹ کیا ہے۔ یہ ٹسٹ بنیادی طورپر یہ ہے کہ آدمی اختیار کے باوجود اپنے کو بے اختیار بنا لے، وہ آزادی کے باوجود اپنی آزادی کا غلط استعمال نہ کرے۔ وہ سب کچھ کرنے کی طاقت رکھنے کے باوجود خدا کی مرضی کے خلاف کچھ نہ کرے۔
دنیا میں انسان کو اگرچہ کامل آزادی دی گئی ہے، لیکن اِسی کے ساتھ وہ ایک کمزور مخلوق کی حیثیت رکھتا ہے۔ مثلاً وہ حادثے کا شکار ہوتا ہے، وہ بیمار ہوتا ہے، وہ بوڑھا ہوتا ہے، وہ لامحدود طور پر اپنی خواہشوں کو پورا نہیں کرپاتا۔ طرح طرح کے ناموافق حالات اس کے لیے رُکاوٹ بن جاتے ہیں، یہاں تک کہ آخر کار وہ بے بسی کے ساتھ مرجاتا ہے۔ یہی تمام انسانوں کی کہانی ہے۔ ہر انسان، خواہ وہ کوئی بھی ہو، بیک وقت کمزوری اور آزادی دونوں کا مجموعہ بنا رہتا ہے۔ کوئی بھی ایسا نہیں کرپاتا کہ وہ اپنی آزادی سے اپنی کمزوری کو جدا کرسکے۔
جنت نہ صرف ابدی ہوگی بلکہ وہ ایک ایسی کامل جگہ ہوگی جہاں ہر قسم کی محدودیت (limitations) کو ختم کردیا گیا ہوگا، جہاں آدمی نہ صرف آزاد ہو بلکہ وہ اپنی ہر قسم کی آرزوؤں کو پورا کرنے کے مواقع بھی رکھتا ہو۔قرآن میں بتایا گیا ہے کہ اہلِ جنت کو جنت میں عظیم اقتدار (great kingdom) حاصل ہوگا (الدھر ۲۰) اسلامی تصور کے مطابق، جنت مکمل طورپر فساد سے پاک ہوگی۔ ایسی حالت میں یہ بات بالکل واضح ہے کہ جنت میں کوئی ایسا شخص جگہ نہیں پاسکتا جو اپنے اقتدار کو فساد کے لیے استعمال کرے۔ حقیقت یہ ہے کہ جنت کے اِس ماحول میں صرف اُن لوگوں کو داخل کیا جائے گا جو موت سے پہلے کے عرصۂ حیات میں یہ ثابت کرچکے ہوں کہ وہ اتنے زیادہ با شعور ہیں کہ کوئی بڑی سے بڑی چیز بھی انھیں اِس پر آمادہ نہیں کرسکتی کہ وہ اپنے اقتدار کو کسی معمولی درجے میں بھی فساد کے لیے استعمال کرسکتے ہیں۔
قرآن میں بتایا گیا ہے کہ ہر انسان کے ساتھ دو فرشتے ہر لمحہ موجودرہتے ہیں جو اس کی زندگی کے ہر واقعے کو رکارڈ کرتے رہتے ہیں، خواہ وہ نیت ہو، یا قول، یا عمل۔ اس معاملے کو اِس طرح کہا جاسکتا ہے کہ فرشتے ہر لمحہ انسان کی نگرانی کررہے ہیں۔ اگر وہ صحیح کام کرتا ہے تو وہ اپنے رجسٹر پر اس کا حوالہ دیتے ہوئے لکھ دیتے ہیں کہ یہ شخص جنت کا مستحق ہے:
He is a deserving candidate for Paradise.
اس کے برعکس، اگر وہ دیکھتے ہیں کہ آدمی غلط کام کررہا ہے تو وہ اپنے رجسٹر میں یہ اندراج کرلیتے ہیں کہ— یہ شخص جنت میں داخلے کا استحقاق نہیں رکھتا:
He is not a deserving candidate for Paradise.
یہی تمام انسانوں کی کہانی ہے۔ ہر عورت اور مرد کا معاملہ اسی قانونِ الٰہی کے تحت ہے۔ کامیاب انسان وہ ہے جو اِس حقیقت کو ہر وقت اپنے سامنے رکھے اور دنیا میں انتہائی محتاط زندگی گذارے۔ اِس کے برعکس، وہ لوگ ناکام ہیں جو اِس حقیقت کو بھلا کر زندگی گذاریں اور نتیجۃًٌ ابدی تباہی میں مبتلا ہو کر رہ جائیں۔
واپس اوپر جائیں

مذہب اور سائنس

مذہب کیا ہے۔ مذہب زندگی کی سائنس ہے۔ اس کے مقابلے میں معروف سائنس، طبیعیات کی سائنس ہے۔ جیسا کہ معلوم ہے، طبیعیات کی سائنس یا فزیکل سائنس میں پچھلے پانچ سو سال کے اندر بہت ترقی ہوئی ہے، جب کہ اِس مدت میں مذہب میں کوئی ترقی نہ ہوسکی۔
مثلاً پانچ سوسال پہلے انسان سادہ قسم کی اونٹ گاڑی یا گھوڑا گاڑی پر سفر کرتا تھا، مگر پچھلے کئی سو سال کی مسلسل ترقی کے نتیجے میںاب انسان، سواری کے میدان میں بہت زیادہ ترقی کر چکا ہے—بائسکل، اسٹیم شِپ، موٹر کار، ہوائی جہاز، وغیرہ، اِس ترقی کے نمونے ہیں۔
اس کے مقابلے میں مذہب کا معاملہ بالکل مختلف ہے۔ مذہب پر جُمود کا عالم طاری ہے۔ بظاہر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ مذہب، پانچ سو سال پہلے جہاں تھا وہیں وہ آج بھی پایا جاتا ہے۔ مذہب میں کوئی حقیقی ترقی دکھائی نہیں دیتی۔ یہ حالت ہر مذہب کی ہے۔ اس معاملے میں کسی مذہب کا کوئی استثنا نہیں۔ طبیعیاتی ترقیوں کے سیلاب میں مذہب ایک غیر ترقی یافتہ ڈسپلن بنا ہوا ہے۔
اس کا سبب یہ ہے کہ طبیعیات کی دنیا میںپچھلے پانچ سو سال سے انکوائری(inquiry) کا عمل جاری ہے۔ ہر چیز کی تحقیق ہورہی ہے۔ ہر چیز کھلے ڈائلاگ کا موضوع بنی ہوئی ہے۔ اس کے نتیجے میں طبیعیات کے شعبوں میں ردّوقبول کا عمل جاری ہے۔ مثلاً پہلے یہ سمجھا جاتا تھا کہ زمین مرکز میں ہے اور سورج اس کے گرد گھوم رہا ہے، مگر مشاہدہ اور تحقیق کے ذریعے معلوم ہوا کہ ایسا نہیں، بلکہ سورج درمیان میں ہے اور زمین اور دوسرے سیّارے وسیع خلا میں اس کے گرد گھوم رہے ہیں۔ جب یہ نئی دریافت ہوئی تو اس کے فوراً بعد علما ئے فلکیات نے قدیم روایتی نظریے کو ترک کرکے جدید سائنسی نظریے کو اختیار کرلیا۔
یہی انکوائری کا عمل ترقی کا اصل سبب ہے۔ لیکن مذہب کے میدان میں انکوائری کا یہ عمل جاری نہ ہوسکا۔ اس کا نقصان یہ ہوا کہ مذہب کی دنیا میں جُمود آگیا۔ مذہب کا عمل ایک مقام پررُک کر رہ گیا۔
موجودہ زمانے میں مذہب کو ٹریڈیشن (tradition) کہاجاتا ہے۔ مثلاً مذہب یہودیت کو یہودی ٹریڈیشن، مذہب عیسائیت کو عیسائی ٹریڈیشن اور مذہب اسلام کو اسلامی ٹریڈیشن، وغیرہ۔ ایسا اس لیے ہوا کہ مذہب کو ایک جامد روایت مان لیا گیا، ایک ایسی روایت جو نسل در نسل ایک ہی حالت پر چلی جارہی ہے، حالاں کہ سائنس میں ایسا نہیں ہوا۔ سائنس کی دنیا میں ایسا نہیں ہوا کہ برٹش سائنس کو برٹش ٹریڈیشن، جرمن سائنس کو جرمن ٹریڈیشن اور امریکن سائنس کو امریکن ٹریڈیشن کہا جانے لگے۔
حقیقت یہ ہے کہ جس طرح معروف سائنس ایک سائنس ہے، اسی طرح مذہب بھی ایک سائنس ہے۔ مذہب کی ترقی کے لیے ضروری ہے کہ مذہب میںبھی آزادانہ انکوائری اور کھُلا ڈائلاگ اُسی طرح جاری کیا جائے جس طرح وہ سائنس میںعملاً جاری ہے۔ اِس طرح کی انکوائری یا ڈائلاگ جاری نہ ہونے کی وجہ سے ایسا ہوا کہ مذہب میں قدیم زمانے میں کم تر واقفیت کی بنا پر جو باتیں مان لی گئیں، وہی بدستور آج تک جاری ہیں۔ ضرورت تھی کہ بعد کی تحقیقات کو لیتے ہوئے قدیم بے اصل نظریات کو ترک کردیا جائے اور ان کی جگہ اُن باتوں کو مان لیا جائے جو بعد کی تحقیقات سے انسان کے علم میں آچکی ہیں۔
مذاہب کے حلقے میں باشعور لوگوں کے اندر خود بھی اس کا احساس پایا جاتا ہے۔ چنانچہ ان کے درمیان بار بار اِس قسم کی تحریکیں اٹھتی رہی ہیں، اگر چہ موافق فضا نہ ہونے کی وجہ سے یہ تحریکیں زیادہ کامیاب نہ ہوسکیں۔ مثلاً ہندو ازم میں آریہ سماج کی تحریک، جو مورتی پوجا کے خلاف اٹھی۔ اس کا دعویٰ ہے کہ مورتی پوجا ویدوں میں نہیں ہے، یہ بعد کا اضافہ ہے۔ اِسی طرح بھکتی موومنٹ، جو ہندوازم میں بڑھی ہوئی ریچول ازم (Ritualism) کے خلاف اٹھی۔ اُس نے رسمی اعمال کے بجائے ڈووشن (devotion) پَر زور دیا۔ اِسی طرح بُدھ ازم میں، نیو بدھ ازم(neobuddhism) کی تحریک ۔ اس کا مقصد یہ ہے کہ بعد کو پیدا ہونے والے رسم ورواج سے پاک کرکے بدھ ازم کو ابتدائی دور کے بدھ ازم کی طرف واپس لے جانا۔
یہی معاملہ مسیحیت کا ہے۔ ۳۲۵ء میں ہونے والی نیقیا کاؤنسل (Nicaea Council) کے بعد مسیحیت میں کافی تبدیلی آئی۔ اب مسیحی تعلیمات کے بجائے چرچ کی روایات، مسیحیت کا ماخذ بن گئیں۔ اس کے بعد مسیحی حلقے میں سولھویں صدی میں رفارمیشن (Reformation) کی تحریک اٹھی جو گویا چرچ سے بائبل کی طرف واپسی کی تحریک تھی، مگر وہ زیادہ کامیاب نہ ہوسکی۔ اس طرح، ڈی ہیلی نائزیشن(Dehellenization) کی تحریک، جو انیسویں صدی کے آخر میں اٹھی۔ اس کا مقصد یہ تھا کہ یونانی اور رومی اثرات سے مسیحیت کو پاک کیا جائے، اگرچہ یہ تحریک زیادہ کامیاب نہ ہوسکی۔
اس معاملے میں اسلام کا معاملہ مختلف ہے۔ دوسرے مذاہب کے برعکس، اسلام میں اصل متن کامل طورپر محفوظ ہے۔ یہاں جو بگاڑ آتا ہے وہ مسلم قوم میں آتا ہے نہ کہ خود اسلام میں۔ اس لیے اسلام میں رفارمیشن جیسی تحریک کی ضرورت نہیں۔ البتہ اسلام میں احیاء (Revivalism) کی ضرورت ہوتی ہے، تاکہ مسلم اضافوں سے پاک کرکے اسلام کو اس کی اصل صورت میں سامنے لایا جائے۔
مثلاً مانزم(monism) کے عقیدے کو لیجئے، جس کو اَدوئت واد ،یا وحدت الوجود کہا جاتا ہے۔ یعنی حقیقت کو ایک سنگل وحدت کے روپ میں دیکھنا۔ پانچ ہزار سال پہلے یونانی فلسفیوں نے آئڈنٹٹی کرائسس کے سوال پر غور کرنا شروع کیا۔انھوں نے یہ فرض کیا کہ انسان ایک کُلی حقیقت کا حصہ ہے۔ وہ صرف اِس لیے اُس سے الگ ہوا ہے کہ ایک دن دوبارہ وہ اس سے مل جائے۔ انسان ایک الگ وجود کی حیثیت سے اپنی شناخت نہیں پارہا تھا، لیکن جب اس نے یہ مان لیا کہ وہ ایک عظیم تر حقیقتِ کُلّی کا ذاتی جُز ہے، تو اس نے گویا اپنی شناخت پالی۔ کائنات کے اندر اس کو اپنی پہچان معلوم ہوگئی۔ یہ نظریہ بہت بڑے پیمانے پر پھیلا۔
مگر اب یہ ثابت ہوچکا ہے کہ مانزم کا نظریہ صرف ایک فلسفیانہ تخیل تھا، اس سے زیادہ اور کچھ نہیں۔ بیسویں صدی میں فلکیاتی سائنس میں جو تحقیق ہوئی ہے، اس نے اِس مفروضے کو بے بنیادثابت کردیا ہے۔ بِگ بینگ(Big Bang) کا نظریہ جو سائنسی حلقے میں اب ایک مسلّمہ بن چکا ہے، وہ ثابت کرتا ہے کہ خالق اور مخلوق دونوں ایک نہیں ہوسکتے۔ خالق بلا شبہہ تخلیق سے الگ ہے، اسی لیے وہ تخلیق کا واقعہ ظہور میںلا سکتا ہے۔ اگر خالق خود تخلیق کا حصہ ہو تو تخلیق کا واقعہ کبھی وجود ہی میں نہ آئے اور تخلیق ہمیشہ کے لیے غیر موجود بنی رہے۔
بگ بینگ کا نظریہ یہ بتاتا ہے کہ تیرہ بلین سال پہلے پوری کائنات ایک واحد سپر ایٹم کی صورت میں تھی۔ پھر خارجی مداخلت کے ذریعے اس کے اندر انفجار (explosion) ہوا۔ اِس انفجارکے بعد سپر ایٹم کے ذرّات خلامیں پھیل گیے اور موجودہ دنیاوجود میں آئی۔ سپر ایٹم کے اندر یہ انفجار، داخلی سبب کے ذریعے نہیںہوا، بلکہ وہ واضح طورپر ایک خارجی مداخلت کار (intervener) کے ذریعے ہوا۔ اور جب یہ مان لیا جائے کہ زیرِ مداخلت(entervened) سپر ایٹم الگ تھا اور مداخلت کار (intervener) الگ، تو اپنے آپ ادوئت واد یا مانزم کا نظریہ ختم ہوجاتا ہے۔
قدیم زمانے میں انسان نے چاند کو چمکتا ہوا دیکھا تو اس نے فرض کرلیا کہ چاند ایک دیوتا ہے۔ اِس طرح چاند کو ایک آسمانی دیوتا مان لیا گیا اور اس کی پرستش کی جانے لگی۔ بعد کو جب مزید تحقیق کی گئی تو معلوم ہوا کہ چاند کوئی روشن وجود نہیں۔ وہ سورج کی روشنی پڑنے سے چمکتا ہے۔ بعد کو جب خلائی سفر میںترقی ہوئی تو انسان چاند کی طرف پرواز کرنے کا منصوبہ بنانے لگا۔ یہاں تک کہ امریکی خلا باز نیل آرم اسٹرانگ(Neil Armstrong) ۲۱جولائی ۱۹۶۹ کو چاند کی سطح پر اتر گیا۔ یہ پہلا انسان تھا جو چاند کی سطح پر اُترا۔
اِس براہِ راست مشاہدے کے بعد معلوم ہوا کہ چاند صرف ایک خشک چٹان ہے، وہ نہ تو روشن ہے اور نہ گول، اور نہ اس کے اندر کوئی امتیازی صفت ہے۔ اِس دریافت نے چاند کے تقدّس کا نظریہ علمی طورپر ختم کردیا۔ ضرورت تھی کہ اس کے بعد چاند کو دیوتا سمجھنے کے عقیدے کو مکمل طورپر ترک کر دیا جائے، لیکن ابھی تک ایسا نہ ہوسکا۔
یہی معاملہ آوا گَون(cycle of life) کے نظریے کا ہے۔ یہ نظریہ اِس تصور پر قائم ہے کہ آدمی اپنے پچھلے جنم کے اعمال کے مطابق، دوبارہ زمین پر پیدا ہوتا ہے اور پھر اپنے کَرم کی سزا بھُگت کر مر جاتا ہے، تاکہ اسی طرح دوبارہ پیدا ہو اور اپنے کرم کا نتیجہ بھُگتے۔ یہ سلسلہ ۸۰ لاکھ سال سے بھی زیادہ مدت تک بار بار جاری رہتا ہے، یہاں تک کہ وہ نِروان (نجات) کے درجے تک پہنچ جاتا ہے۔
یہ عقیدہ ہزاروں سال پہلے ایک فلسفیانہ نکتے کے طورپر لوگوں کے سامنے آیا۔ فلسفی نے دیکھا کہ لوگ پیدا ہوتے ہیں تو اُن میںسے کوئی امیر ہوتا ہے اور کوئی غریب، کوئی محروم ہوتا ہے اور کوئی پائے ہوئے ہوتا ہے۔ اس معاملے کو اس نے انسان کے’’ کرم‘‘ سے جوڑ کر آواگون کا فلسفہ بنا لیا۔ دھیرے دھیرے یہ فلسفیانہ نکتہ ایک باقاعدہ مذہبی عقیدہ بن گیا اور کروڑوں لوگ اِس کو درست سمجھنے لگے۔
مگر موجودہ زمانے میں جو تحقیقات ہوئی ہیں، انھوں نے بتایا ہے کہ محروم اور غیر محروم (haves and have nots) کا فرق انسانی عمل (کرم) کا نتیجہ نہیں ہے، بلکہ وہ ایک قانونِ فطرت ہے۔ فطرت کے نظام میں عدم مساوات (inequality) کا طریقہ رکھا گیا ہے۔ اِس کی وجہ سے انسانی سماج میں چیلنج اور کامپٹیشن کا ماحول قائم ہوتا ہے۔ تمام ترقیاں اِس چیلنج اور کامپٹیشن کی وجہ سے وجود میںآئی ہیں۔ (ملاحظہ ہو—آرنلڈ ٹائن بی کی ضخیم کتاب: دی اسٹڈی آف ہسٹری)
اِس کا مطلب یہ ہے کہ انسانوں کے درمیان امیر اور غریب، پس ماندہ اور ترقی یافتہ کا فرق کوئی برائی کی بات نہیں، بلکہ وہ ایک مطلوب فطری نظام ہے، وہ تمام انسانی ترقی کا ضامن ہے۔ اِس تحقیق کے سامنے آنے کے بعد ضرورت ہے کہ آواگون کے مفروضے کو مکمل طورپر ترک کردیا جائے۔ اور یہ مان لیا جائے کہ آواگون کا نظریہ محض ایک فلسفیانہ لطیفہ (joke) تھا، نہ کہ کوئی حقیقی نظریہ۔
اِسی طرح روحانیت کے میدان میں ہزاروں سال سے یہ سمجھا جاتا رہا ہے کہ انسان کا دل(heart) رُوحانی معرفت کا خزانہ ہے۔ دل کا مراقبہ (meditation) کرکے اِس روحانی خزانے کو حاصل کیا جاسکتا ہے۔ یہ نظریہ اتنا پھیلا کہ تمام روحانی اسکول نے اس کو اختیار کرلیا۔ مگر موجودہ زمانے میں انسانی جسم پر جو تحقیقات ہوئی ہیں، اُن سے یقینی طورپر ثابت ہوجاتا ہے کہ دل کسی بھی قسم کے معارف کا خزانہ نہیں، وہ صرف گردشِ خون (cirulation of blood) کا ذریعہ ہے۔ فکر اور جذبات دونوں کا مرکز یکساں طورپر انسان کا ذہن (mind) ہے۔ اب اہلِ علم کے درمیان اِس معاملے میں کوئی اختلاف نہیں۔
اِس تحقیق کے بعد اب ضروری ہوگیا ہے کہ اِس پورے معاملے پر نظر ثانی کی جائے، اور پھر مبنی بَر قلب روحانیت(heart-based spirituality) کے نظریے کو مکمل طورپر ترک کردیا جائے اور اس کے بجائے مبنی بَر ذہن روحانیت(mind-based spirituality) کے نظریے کو اختیار کرلیا جائے۔
قدیم زمانے میں مذہب کو ایک مقدس چیز سمجھا جاتا تھا۔ اِس بنا پر مذہب کا تنقیدی جائزہ ایک امرِ ممنوع بنا ہوا تھا، مگر موجودہ زمانے میں سائنسی انقلاب کے اثر سے یہ ہوا کہ جس طرح دوسرے تمام شعبوں کا تنقیدی جائزہ لیاجارہا تھا، اسی طرح مذہب کا بھی تنقیدی جائزہ لیا جانے لگا۔ اِس شعبۂ تحقیق کو اب تاریخی انتقاد (historical criticism) کہاجاتا ہے۔ اِس تحقیق و تنقید کے بعد یہ ثابت ہوا ہے کہ تمام مذاہب بعد کی تبدیلیوں کے نتیجے میں اب غیر تاریخی بن چکے ہیں، ہر مذہب گویا کہ ایک میتھا لوجی ہے۔ جس کے پیچھے کوئی تاریخی سند(historical credibility) موجود نہیں۔
مذاہب کے اِس عموم میں صرف ایک استثنا ہے، اور وہ مذہبِ اسلام کا ہے۔ خالص علمی جائزے سے یہ ثابت ہوا ہے کہ تمام مذاہب میں صرف اسلام ایک ایسا مذہب ہے جس کو پورے معنوں میں تاریخی مذہب کہاجاسکتا ہے۔ ایسی حالت میں علم کا تقاضا ہے کہ دوسرے مذاہب کو قابلِ احترام اثاثہ سمجھتے ہوئے یہ مان لیا جائے کہ عملی طورپر صرف اسلام قابلِ اعتبار مذہب ہے، الہامی سچائی کو جاننے کے لیے اسلام ہی واحد مستند ذریعے کی حیثیت رکھتا ہے۔
مسیحی پوپ(Pope Benedict XVI) نے ۱۲ستمبر ۲۰۰۶ کو ویسٹ جرمنی کی یونیورسٹی ریجنس برگ(Regensburg) میںایک لکچر دیا۔ یہ لکچر سات صفحات پر مشتمل تھا۔سات صفحے کے اِس لکچر کا عنوان یہ تھا:
Faith and Reason
مسیحی پوپ نے اپنے اِس لکچر میں چودھویں صدی عیسوی کے بازنطینی کنگ، مینویل دوم (Manual II) کے ایک قول کو نقل کیا تھا۔ وہ قول یہ تھا—مجھے محمد کی لائی ہوئی کوئی ایسی بات بتاؤ جو نئی ہو:
Show me just what Muhammad brought that was new.
بازنطینی کنگ کی یہ بات پوپ نے کسی تنقید کے بغیر نقل کی ہے۔ مگر بلا شبہہ یہ ایک ایسی بات ہے جو خلافِ واقعہ بھی ہے اور غیر سنجیدہ بھی۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ دعویٰ نہ تھا کہ وہ کوئی نئی چیز لائے ہیں، یا انھوں نے کوئی نیا مذہب پیش کیا ہے۔انھوں نے جو کیا وہ صرف یہ تھا کہ پچھلے مذاہب، جو ملاوٹ کا شکار ہوگیے تھے اور اِس بنا پر اصل خدائی مذہب ان کے یہاں گم ہوکر رہ گیا تھا، پیغمبر اسلام نے اس کی تصحیح کی۔ انھوںنے خدا کی مددسے خدا کے دین کا اصل ورژن(version) دنیا کے سامنے پیش کیا۔ یہی پیغمبرِ اسلام کا اصل کنٹری بیوشن ہے۔ یہ کنٹری بیوشن اتنا بڑا ہے کہ اس سے بڑا ور کوئی کنٹری بیوشن نہیںہوسکتا۔
خدا نے پچھلے زمانوں میں بہت سے پیغمبر بھیجے۔ یہ تمام پیغمبر ایک ہی خدائی دین کو لے کر آئے، لیکن قدیم زمانے میں کسی متن (text) کو اس کی اصل صورت میں محفوظ رکھنے کاکوئی باقاعدہ نظم نہ تھا۔ اس لیے پچھلے پیغمبروں کا لایا ہوا دین، تبدیلی اور ملاوٹ کا شکار ہوگیا۔ پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے خدا کی وحی کے مطابق، خدا کے اصل دین کو جانا اور اس کو اس کی اصل صورت میں محفوظ کردیا۔
خدائی مذہب کا محفوظ متن نہ ہونے کی وجہ سے انسان گمراہی کی حالت میں پڑا ہوا تھا۔ تلاش کے باوجود اس کو سچائی نہیں ملتی تھی۔ پیغمبر اسلام کی لائی ہوئی ہدایت الٰہی نے تاریخ بشری کے اِس خلا کو پُر کردیا۔ اب یہ ممکن ہوگیا کہ کوئی مُتلاشی روح جب حق کی دریافت کرنا چاہے تو وہ اس کو یقین کے ساتھ دریافت کرسکے۔ یہ ایک عظیم خدائی تحفہ ہے جو پیغمبرِ اسلام کے ذریعے انسانیت کو ملا۔
واپس اوپر جائیں

نقطۂ آغاز

ایک سفر میں میری ملاقات ایک عرب شیخ سے ہوئی۔ گفتگو کے دوران انھوںنے کہا کہ موجودہ زمانے میں اسلام کا کام کرنے کے لیے سب سے پہلا سوال یہ ہے کہ: من أین نبدأ (عمل کا آغاز کہاں سے کیا جائے)۔
یہ سوال مجھ سے کئی بار کیا گیا ہے۔ اِس سوال کا جواب پانے کے لیے میں نے تقابلی مطالعے کا طریقہ اختیار کیا۔ میںنے سوچا کہ اصحابِ رسول نے کبھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ایسا سوال نہیں کیا تھا۔ اوّل دن سے انھیں معلوم تھا کہ ان کو کیا کرنا ہے اور آخر وقت تک وہ اس پر یقین کے ساتھ کار بند رہے۔ موجودہ زمانے میں پورا قرآن ہمارے سامنے موجودہے اس کے باوجود کیوں لوگ یہ سوال کرتے ہیں کہ عمل کا آغاز کہاں سے کیاجائے۔
غور کرتے ہوئے میری سمجھ میں آیا کہ دورِ اول میں قرآن کی خود ترتیبِ نزول ہی یہ بتانے کے لیے کافی تھی کہ کہاں سے شروع کرنا ہے اور پھر کیا کام کرتے ہوئے آگے بڑھنا ہے۔ موجودہ زمانے میں صورتِ حال یہ ہے کہ تیئس سال میں نجماً نجماً اترنے والا قرآن ایک کامل مجموعے کی شکل میں ہمارے سامنے موجود ہے۔ ایسی حالت میں یہ ضروری ہوگیاہے کہ ہم خود دریافت کریں کہ اپنے زمانے میں ہم کو اپنے عمل کا آغاز کس طرح کرنا چاہیے۔ گویا کہ دورِاول میںبغیر تحقیق کیے ہوئے ہر قدم پر ہم کو فطری طورپر بتایا جارہا تھا کہ اب ہمیں کیا کرنا ہے، جب کہ آج یہ صورت حال ہے کہ تقریباً ساڑھے چھ ہزار آیتوں کے مجموعے میں ہم کو خود یہ دریافت کرنا ہے کہ اِن آیتوں میں نقطۂ آغاز کی آیت کون سی ہے۔ دوسرے لفظوں میں یہ کہ بعد کے زمانے میں طالبِ حق کو بہت سے انتخابات(options)میں سے کسی ایک انتخاب (option)کو ڈھونڈھ کر نکالنا ہے، جب کہ دورِ اوّل میں ایک کے سوا کوئی اور انتخاب سِرے سے موجو ہی نہ ہوتا تھا۔
یہی مسئلہ ہے جس کی بنا پر ہم یہ دیکھتے ہیں کہ بہت سے مسلم گروہ ہیں اور ہر ایک قرآن کے حوالے سے اپنی تحریک چلا رہا ہے، مگر سب ایک دوسرے سے مختلف ہیں۔ کسی کے نزدیک احیائِ اسلام کے عمل کا آغاز یہ ہے کہ فضائل کی کہانیاں سُنا کر لوگوں کو نمازی بنایا جائے ۔ کوئی سمجھتا ہے کہ اقتدار حاصل کرکے اسلامی قوانین کو نافد کیا جائے۔ کسی کا خیال ہے کہ قومی فخر کا احساس پیدا کرکے مسلمانوں کو بیدار کیا جائے۔ کسی کا ماننا یہ ہے کہ قرآن کی آیتوں اور سورتوں کے اندر چھپے ہوئے نظم کو کھولا جائے۔ کسی کا کہنا یہ ہے کہ جغرافی تقسیم کرکے مسلمانوں کا علیٰحدہ پاکٹ بنایا جائے، اِس طرح مسلمان خیرِ امت کا کردار اداکرنے کے قابل ہوجائیں گے۔ کچھ لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ عشقِ رسول کی دھوم مچائی جائے اور پھر سارا مسئلہ اپنے آپ حل ہوجائے گا۔ اسی طرح کچھ لوگ مسائلِ اسلام اور مظاہرِ اسلام کو اصل سمجھ کر اس کی دھوم مچائے ہوئے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ یہی نجات کا واحد ذریعہ ہے۔ کچھ اور لوگ ہیں جو حصولِ برکت کو سب سے زیادہ اہم چیز سمجھتے ہیں اور اسی کو تمام سعادتوں کا سرچشمہ سمجھتے ہیں۔ کچھ لوگ کمیونٹی ورک یا ملّی خدمت کو اصل کام سمجھے ہوئے ہیںاور اس کو نجات کا ذریعہ قرار دیتے ہیں۔ کچھ لوگ شوکتِ اسلام کے نام پر تقریر اور تحریر کی سرگرمیاں جاری کیے ہوئے ہیںاور اس کو دنیا اور آخرت کی کامیابی کا ذریعہ سمجھتے ہیں۔ کچھ لوگ جہاد کی آیت کا حوالہ دیتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ جہادی سرگرمیاںجاری کرنا ہی اسلام کا سب سے زیادہ مطلوب کام ہے، وغیرہ۔
حدیث میں پیشین گوئی کی گئی ہے کہ بعد کے زمانے میں امتِ مسلمہ میںتہتّر فرقے ہوجائیں گے (ابوداؤد، کتاب السنّۃ) میرا خیال ہے کہ یہ تہتر فرقے، دراصل وہ تہتر گروہ ہوں گے جو قرآن کی تہتر آیتوں سے اپنے لیے الگ الگ نقطۂ آغاز دریافت کریں گے اور پھر امتِ واحدہ کو امتِ متفرقہ میں تبدیل کردیں گے۔ یہ ایک واقعہ ہے کہ نقطۂ آغاز کا فرق پورے معاملے میں فرق پیدا کردیتا ہے۔
اس مسئلے کا حل یہ ہے کہ ترتیبِ کار کے سوال کا جواب اصحابِ رسول کی تاریخ میں تلاش کیاجائے۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے عملی طورپر اپنے اصحاب کو کیا نقطۂ آغاز دیا اور کس رخ پر انھیں چلایا، یہی اِس مسئلے کاواحد حل ہے۔ نقطۂ آغاز یا ترتیب کار کا سوال ایک عملی سوال ہے، اور اس کو عملی تاریخ ہی کے ذریعے معلوم کیا جاسکتا ہے۔
حدیث میںآیاہے کہ: إنّ اللہ یبعث لہذہ الأمۃ علیٰ رأس کلّ مائۃ سنۃ من یجدّد لہا دینہا (ابوداؤد، کتاب الملاحم) اور دوسری طرف حدیث میں یہ خبر دی گئی ہے کہ خیر القرون قرنی، ثم الذین یلونہم، ثمّ الذین یلونہم(صحیح البخاری)۔ اِس دوسری حدیث کے مطابق، ابتدائی تین زمانوں (عہدِ رسالت، عہدِ صحابہ، عہدِ تابعین) کو قرونِ مشہود لہا بالخیر کہاگیا ہے۔
اِس قسم کی حدیثوں پر غور کرتے ہوئے میری سمجھ میں آتا ہے کہ پہلے دَور سے مراد وہ دور ہے جب کہ صحیح نقطۂ آغاز کو لے کر کام کیا گیا اور اس کے مطابق، ایک نسل تیار ہوئی۔ فطرت کے قانون کے مطابق، دوسری نسل پہلی نسل سے گہرے طورپر متاثر ہوتی ہے۔ یہ اثر تیسری نسل تک کم و بیش باقی رہتا ہے۔ اس کے بعد حالات بدل جاتے ہیںاور ضرورت ہوتی ہے کہ صحیح نقطۂ آغاز سے کام شروع کرکے دوبارہ پہلے گروہ کے مانند ایک گروہ بنایا جائے۔
اِس سلسلے میں حدیث میں ’سَو سال‘ کا ذکر کیاگیا ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ سو سال سے مراد مذکورہ تین نسلوں کا زمانہ ہے۔ سوسال کے اندر تربیت یافتہ تین نسلوں کا خاتمہ ہوجاتا ہے۔ اس کے بعد ضرورت ہوتی ہے کہ دوبارہ پہلے کی طرح ایک تربیت یافتہ نسل بنائی جائے ۔تربیت یافتہ نسل بنانے کے اِسی کام کو حدیث میں ’تجدید‘ کہا گیا ہے۔ حدیث کے مطابق، تجدید کا یہ کام بار بار سوسالہ وقفے کے ساتھ جاری رہے گا، یہاںتک کہ قیامت آجائے۔
احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ آخری زمانے میں امتِ مسلمہ میں ایک شخص پیدا ہوگا جس کو المہدی کا نام دیاگیا ہے۔ المہدی کوئی سیاسی لیڈر نہیںہوگا۔ وہ حکومت قائم کرنے کے لیے نہیں اٹھے گا، بلکہ اس کا کام یہ ہوگا کہ دورِ آخر کے زیادہ بدلے ہوئے حالات میں از سرِ نو صحیح نقطۂ آغاز کو دریافت کرے اور اس کے مطابق، اصلاح اور دعوت کا عمل جاری کرکے اسلام کو دوبارہ اس کی اصل صورت میں قائم کردے۔
صحیح نقطۂ آغاز سے مراد صحیح ترتیبِ کار ہے۔ صحابہ کے حالا ت کا مطالعہ کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کی زندگی کا آغاز سچائی کی تلاش سے ہوا۔ ابتداء ً وہ سچائی کی تلاش میںسرگرداں ہوئے۔ اس کے بعد یہ ہوا کہ ان کو سچائی کی ڈسکوری ہوئی۔ اس کے بعد ان کی زندگی میںایک اور عمل جاری ہوا جس کو قرآن میں تزکیہ کہاگیا ہے۔ تزکیہ سے مراد کوئی پُر اسرار چیز نہیں۔اس کا مطلب ہے ذہن کی ڈی کنڈیشننگ (de-conditioning) ، ذہن کی ری انجینئرنگ(re-engineering) ، اور وہ چیز جس کو تزکیۂ نفس (purification of soul) کہا جاتا ہے۔
اسی کے ساتھ ہر صحابی کی زندگی میں دعوت کا عمل شامل ہوگیا۔ معرفت اور دعوت دونوں باہم اس طرح جُڑے ہوئے ہیں کہ ان کو ایک دوسرے سے الگ نہیں کیا جاسکتا۔ معرفت اور دعوت دونوں اپنی حقیقت کے اعتبارسے وہی کام ہیں جو دورِ اول میں پیش آئے تھے، لیکن جدید سائنسی دور میں جو نیے فکری مواقع ظہور میں آئے ہیںوہ بھی حسبِ امکان اس کا حصہ بنتے چلے جائیں گے۔ گویا کہ موجود زمانے میں حق کی اعلیٰ معرفت کسی کو سائنسی فریم ورک میں حاصل ہوگی، اور اسی طرح دعوت کا کام بھی سائنسی فریم ورک کے مطابق، انجام پائے گا۔ سائنسی فریم ورک سے مراد عین وہی چیز ہے جس کو قرآن میں لسانِ قوم، یعنی لسانِ عصر کہاگیا ہے (ابراہیم ۴)۔ اپنی نوعیت کے اعتبار سے یہ قدیم اور جدید کا امتزاج نہیں ہوگا بلکہ وہ قدیم کا صرف ایک نیا اظہار ہوگا، اس سے زیادہ اور کچھ نہیں۔
یہ ایک نفسیاتی حقیقت ہے کہ جب کوئی آدمی ایک بڑی سچائی کو دریافت کرے تو فوراً وہ چاہتا ہے کہ دوسروں کو وہ اس سچائی میں حصے دار بنائے۔ عین فطری تقاضے کے طورپر اس کے اندر یہ تڑپ جاگ اٹھتی ہے کہ وہ چیز جو اس نے اپنے نسخٔہ نجات کے طورپر دریافت کی ہے، اس سے کوئی بھی عورت اور مرد محروم نہ رہے، اس طرح دعوت ، معرفت کے ساتھ جڑی ہوئی ہے۔ گویا کہ دعوت، معرفت ہی کی توسیعی صورت ہے۔ جہاں معرفت ہوگی وہاں دعوت ضرور ہوگی۔ اگر کوئی شخص حصولِ معرفت کا دعویٰ کرے، لیکن اس کی زندگی میں دعوت شامل نہ ہو تو یقینی طور پر یہ سمجھا جائے گا کہ وہ ابھی تک معرفت سے آشنا نہیںہوا۔
حقیقت اپنی ذات میں ایک ناقابلِ تقسیم اکائی ہے۔ حقیقت کے مختلف مظاہر ہوسکتے ہیں، لیکن خود حقیقت ہمیشہ ایک ہی رہتی ہے۔ یہی معاملہ معرفت حق کا ہے۔ جب ایک آدمی کو لمبی مدت تک سنجیدہ تلاش کے بعد سچائی کی دریافت ہوتی ہے تو وہ یونانی فلسفی اَرشیمیدس (Archimedes) کی طرح چیخ کر بھاگتا ہے تاکہ وہ لوگوں کو بتائے کہ اس کی دریافت کے مطابق، سچائی کیا ہے۔
یہ ایک نفسیاتی حقیقت ہے کہ معرفت اور دعوت دونوں ایک دوسرے سے جُڑے ہوئے ہیں۔ معرفت اپنے داخل کے اعتبار سے معرفت ہے، اور اپنے خارج کے اعتبار سے دعوت۔
دین کا نقطۂ آغاز دریافت کرنے کا تعلق، بیک وقت دو چیزوں سے ہے۔ ایک، خود اپنی دینی زندگی کی تعمیر اور دوسرے، قرآن کو صحیح طورپر سمجھنا۔
نقطۂ آغاز جاننے کی اہمیت اتنی زیادہ ہے کہ جب تک آدمی کو نقطۂ آغاز معلوم نہ ہو، اُس وقت تک وہ بظاہر جاننے کے باوجود کچھ بھی جاننے سے محروم رہے گا، وہ بے یقینی اور کنفیوژن میں جیے گا، وہ بے نتیجہ کام اور نتیجے والے کام میں فرق نہ کرسکے گا، اس کی روح سچے یقین سے محروم رہے گی، وہ فارم والے دین کو جانے گا لیکن حقیقت والے دین کو وہ نہ جان سکے گا، دین اس کے لیے ایک قسم کا خارجی کلچر ہوگا نہ کہ وہ گہری حقیقت جو اس کی زندگی کا جز بن جائے، وہ سطح کی کچھ باتوں کو جانے گا، لیکن وہ گہری باتوں کو جاننے سے بے خبر رہے گا۔
یہی معاملہ قرآن فہمی کا ہے۔ وہ قرآن کے مرکزی تصور کو نہ جان سکے گا، اور جو آدمی قرآن کے مرکزی تصور سے بے خبر ہو اس کو اعلیٰ سطح پر قرآن کی بصیرت بھی حاصل نہ ہوگی۔ بظاہر وہ قرآن کو پڑھے گا، لیکن وہ اس کی گہرائی میں نہ اتر سکے گا، وہ گہرے معنوں میں قرآن کی تفسیر و تشریح نہ کرسکے گا۔
واپس اوپر جائیں

رمضان اور جنگ

کچھ لوگوں کا یہ کہنا ہے کہ رمضان کا مہینہ شہر الفرقان ہے، یعنی یہ مہینہ فتح کا مہینہ ہے۔ اُن کے نزدیک رمضان کے مہینے میں اگر جہاد (بمعنی قتال) کیا جائے تو فتح یقینی ہوجاتی ہے۔ چنانچہ پچھلے برسوں میں کچھ لوگوں نے اس خیال کو لے کر رمضان کے مہینے میں اپنے مفروضہ دشمن کے خلاف جنگ چھیڑ دی۔ لیکن یہ جنگ یک طرفہ طورپر’’مجاہدین‘‘ کی تباہی پر ختم ہوئی۔ عجیب بات ہے کہ اِس معکوس تجربے کے باوجود لوگوں کے نظریے میں فرق نہیں آیا۔ وہ اب بھی رمضان کے مہینے میں جنگ کی باتیں کررہے ہیں۔
رمضان کے مہینے کو فتح کا مہینہ سمجھنے کا ماخذ کیا ہے۔ اس کا ماخذ یہ ہے کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں جنگِ بدر پیش آئی۔ یہ جنگ ۱۷ رمضان ۲ ہجری کو ہوئی۔ اِس جنگ میں رسول اور اصحابِ رسول کو فتح حاصل ہوئی۔ اس لیے یہ سمجھ لیا گیا کہ رمضان کا مہینہ فتح کا مہینہ ہے،مگر یہ ایک بے اصل بات ہے۔ بدر کی لڑائی کا رمضان کے مہینے میں پیش آنا، پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کا اپنا انتخاب(choice) نہ تھا۔ بدر کی جنگ ایک دفاعی جنگ تھی۔ وہ رمضان کے مہینے میں اس لیے پیش آئی کہ فریقِ مخالف کا لشکر اسی مہینے میں اقدام کرکے مدینے کے قریب بدر کے مقام پر پہنچا۔ یہ فریقِ مخالف کی طرف سے یک طرفہ اقدام تھا او راس مسلّح اقدام کی بنا پر بدر کی دفاعی جنگ پیش آئی۔
اس کا ایک ثبوت یہ ہے کہ اسلام کی ابتدائی تاریخ میں بدر کی لڑائی کے علاوہ بھی کچھ اور لڑائیاں پیش آئی ہیں۔ مثلاً غزوۂ اُحد اور غزوۂ حُنین۔ مگر یہ د وسری لڑائیاں رمضان کے مہینے میں نہیںہوئیں۔ احد کی لڑائی مدینہ کے پاس ۶شوال ۳ ہجری میں پیش آئی، اورحنین کی لڑائی ۱۱ شوال ۸ ہجری میں ہوئی۔ اگر ایسا ہوتا کہ بدر کی لڑائی کا رمضان کے مہینے میں پیش آنا، پیغمبر اسلام کا اپنا انتخاب ہوتا تو احد اور حنین کی لڑائیاں بھی رمضان کے مہینے میں پیش آتیں۔ مگر جب ایسا نہیں ہوا تو یہ اِس بات کا واضح ثبوت ہے کہ رمضان کے مہینے کا کوئی تعلق قتال اورجنگ سے نہیں۔
حقیقت یہ ہے کہ جنگ کبھی بھی اہلِ اسلام کا اپنا انتخاب (choice) نہیں ہوتا۔ اسلام میں جب بھی کوئی جنگ پیش آتی ہے تو وہ فریقِ مخالف کے مسلّح اقدام کے نتیجے میں صرف دفاعی طورپر پیش آتی ہے۔ اور یہ واضح بات ہے کہ اقدام کرنے والے کے لیے تو تاریخ کا تعین اس کا اپنا انتخاب ہوتا ہے، مگر دفاع کرنے والے کے لیے تاریخ کا تعین اس کا اپنا انتخاب (choice) نہیں ہوسکتا۔
حدیث میں آیا ہے کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لا تتمنّوا لقاء العدوّ وسئلوا اللہ العافیۃ( صحیح البخاری) یعنی تم لوگ دشمن سے مدبھیڑ کی تمنا نہ کرو اور اللہ سے عافیت (امن) مانگو۔ اِس حدیثِ رسول سے جنگ کے بارے میں اسلام کا بنیادی اصول معلوم ہوتا ہے۔ اسلام میں امن کی حیثیت عموم (rule) کی ہے اور جنگ کی حیثیت استثنا (exception) کی۔ اسلام میں جنگ ایک مجبورانہ فعل ہے نہ کہ اختیارانہ فعل۔ اسلام میں جنگ کی صورتِ حال خود اسلام کی طرف سے پیدا نہیں کی جاتی۔ یہ دراصل فریقِ مخالف ہے جو جنگ کی صورتِ حال پیدا کرکے اہلِ اسلام کو دفاعی طورپر مسلّح ٹکراؤ کے لیے مجبور کرتا ہے۔
جہاں تک رمضان کے مہینے کی بات ہے تو حدیث میں رمضان کو شہر الصبر (البیہقی) کہاگیا ہے، یعنی صبر کا مہینہ۔ رمضان کا مہینہ اِس بات کی تربیت کا مہینہ ہے کہ لوگ اپنے آپ پر کنٹرول کرکے رہنا سیکھیں۔ وہ اپنی خواہشوں پر لگام لگائیں۔ وہ اشتعال کے باوجود مشتعل نہ ہوں۔ وہ بھوک اور پیاس کی شدت برداشت کرکے اپنے اندر روحانیت پیدا کریں۔ ذکر اور تلاوت اور نماز کی کثرت سے وہ خدا کی قربت حاصل کرنے کی کوشش کریں۔ رمضان کے مہینے کا مقصد یہ ہے کہ آدمی اپنے آپ کو آخری حد تک خدا سے قریب کرے۔ اور یہ قربت اُسی وقت ممکن ہے جب کہ آدمی اپنے آپ کو انسانوں کی دنیا سے دور لے جائے اور اپنے آپ کو خدا کی دنیا سے قریب کرے۔
اِن حقیقتوں کو سامنے رکھا جائے تو یہ کہنا صحیح ہوگا کہ رمضان کا مہینہ امن کا مہینہ ہے، وہ جنگ کا مہینہ نہیں۔ رمضان کا مہینہ اپنی داخلی فطرت کو جگانے کا مہینہ ہے، وہ خارجی نزاعات میں سرگرم ہونے کا مہینہ نہیں۔ رمضان کا مہینہ خدا کی یاد میں گم ہونے کا مہینہ ہے، وہ انسانوں سے الجھنے اور خون بہانے کا مہینہ نہیں۔حدیث میں آتا ہے کہ جب رمضان کا مہینہ آیا اور رمضان کا نیا چاند آسمان پر دکھائی دیا تو پیغمبر اسلام کی زبان سے یہ الفاظ نکلے: اللہمّ أہلّہ علینا بالأمن والإیمان، والسّلامۃ والاسلام۔ (الترمذی:کتاب الدعوات، الدارمی:کتاب الصوم، مسند احمد)یعنی اے خدا، تو رمضان کے چاند کو ہمارے اوپر امن اور ایمان کے ساتھ اور سلامتی اور اسلام کے ساتھ ظاہر فرما۔
اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے رمضان کے مہینے کا استقبال اس احساس کے ساتھ فرمایا کہ وہ اہلِ اسلام کے لیے امن اور سلامتی کا پیغام لے کر آئے اور اہلِ اسلام کے درمیان امن اور سلامتی کا ماحول بنائے۔ پیغمبر اسلام کے یہ الفاظ اِس بات کا قطعی ثبوت ہیں کہ رمضان کے مہینے کا کوئی تعلق قتال اور جنگ سے نہیں، بلکہ وہ اس لیے ہے کہ لوگوں کے اندر امن کے جذبات پیدا کرے اور سماج میں امن کو فروغ دے۔
قرآن میں روزے کا حکم دیتے ہوئے اس کا یہ فائدہ بتایاگیا ہے کہ: لعلکم تتّقون (البقرہ: ۱۸۳)یعنی رمضان کے مہینے کا روزہ اس لیے فرض کیاگیا ہے تاکہ لوگوں کے اندر تقویٰ پیدا ہو۔ لوگ متّقیانہ زندگی گذارنا سیکھیں، وہ برائیوں سے بچ کر زندگی گذارنے کی تربیت حاصل کریں۔
تقویٰ کیا ہے۔ اس کی وضاحت ایک حدیث سے ہوتی ہے۔ خلیفۂ ثانی عمر فاروق نے ایک سینئر صحابی اُبی بن کعب سے پوچھا کہ تقویٰ کیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ اے امیر المؤمنین، کیا آپ کسی ایسے راستے سے گذرے ہیں جہاں دونوں طرف کانٹے دار جھاڑیاںہوں۔ انھوںنے کہا کہ ہاں۔ ابی بن کعب نے پوچھا کہ اُس وقت آپ نے کیا کیا۔ انھوں نے کہا کہ میں نے اپنے کپڑے سمیٹ لیے اور بچتا ہوا اُس سے گذر گیا۔ ابی بن کعب نے کہا : ذلک التّقویٰ ۔ یعنی اِسی روش کا نام تقویٰ ہے۔ (القرطبی، جلد اوّل، صفحہ ۱۶۲)
رمضان کا مہینہ تقویٰ کا مہینہ ہے۔ اب مذکورہ قولِ صحابی کی روشنی میں اس معاملے کی وضاحت کی جائے تو یہ کہنا صحیح ہوگا کہ رمضان کا مہینہ کانٹوں سے نہ الجھنے کا مہینہ ہے۔ ایسی حالت میں کتنا عجیب ہوگا کہ رمضان کے مہینے کو کانٹوں سے الجھنے کا مہینہ بنا دیا جائے۔
واپس اوپر جائیں

احساسِ محرومی کیوں

ایک آدمی کا قصہ ہے۔ وہ غریب گھر میں پیدا ہوا۔ سفر کرنے کے لیے اس کے پاس اپنے دو پیروں کے سوا کچھ اور نہ تھا۔ اس کو کہیںجانا ہوتا تو وہ پیدل سفر کرکے جاتا۔ وہ دیکھتا تھا کہ دوسرے لوگ سواریوں پر چل رہے ہیں۔ وہ اکثر سوچتا کہ کاش میرے پاس ایک بائسکل ہوتی تو میں بھی سواری پر چلنے کے قابل ہوجاتا۔
اس نے پیسہ اکھٹا کرکے اپنے لیے ایک بائسکل خریدی۔ اب وہ بائسکل پر سفر کرنے لگا۔ مگر کہانی یہاں ختم نہیں ہوئی۔ وہ دیکھتا کہ دوسرے بہت سے لوگ ہیں جن کے پاس سفر کرنے کے لیے موٹر سائکل ہے۔ اس نے سوچا کہ کاش، میرے پاس بھی موٹر سائکل ہوتی تو سفر کرنا زیادہ آسان ہوجاتا۔ اس نے دوبارہ کوشش کی۔ آخر کار اس کے پاس دو پہیوں والا اسکوٹر ہوگیا۔
شروع کے چند دن اس کے لیے بہت خوشی کے دن تھے۔ لیکن جلد ہی اس کے دل میںایک اور خواہش جاگ اٹھی۔ اس نے سوچا کہ دوسرے کئی لوگ ہیں جن کے پاس سفر کرنے کے لیے موٹر کار ہے، لیکن میرے پاس نہیں۔ اب اس نے ایک نئی کوشش شروع کردی۔ ایک عرصے کے بعد اس کی یہ کوشش کامیاب ہوئی، یہاں تک کہ اس نے ایک چھوٹی موٹر کار خریدلی۔
مگر اب بھی اس کی خواہشوں کی حد نہیں آئی۔ اب وہ بڑی موٹر کار کی تمنا کرنے لگا۔ آخر کار وہ دن آیا جب کہ اس کے گھر کے سامنے ایک بڑی کار آکر کھڑی ہوگئی۔ اِسی کے ساتھ اس کا کاروبار بھی بڑھا۔ یہاں تک کہ اس نے دوسری کار اور تیسری کار بھی خرید لی، مگر اب وہ بوڑھا ہوچکا تھا۔ آخر کار وہ بیمار ہو کر بستر پر پڑ گیا اور پھر اپنی طبعی عمر کو پہنچ کر مرگیا۔
موت سے ایک دن پہلے اس کا ایک دوست اس سے ملا۔ وہ دیر تک اس کے پاس رہا۔ گفتگو کے دوران دوست نے اس سے کہا کہ تم ایک غریب خاندان میں پیدا ہوئے۔ پھر تم نے کاروبار کیا۔ تمھارا کاروبار ترقی کرتا گیا، یہاں تک کہ آج تمھہارے پاس مادّی اعتبار سے بہت سی چیزیں ہیں۔ کیا تم یہ کہہ سکتے ہو کہ دنیا میں میری سب خواہشیں پوری ہوگئیں۔ بسترِ مرگ پر لیٹے ہوئے آدمی نے کہا کہ نہیں۔ سچ تو یہ ہے کہ اب میںایک محرومِ تمنا آدمی کی حیثیت سے مررہا ہوں:
Now I am dying as a case of unfulfilled desires.
یہ کہانی صرف ایک انسان کی کہانی نہیں، بلکہ وہ ہر انسان کی کہانی ہے۔ ہر آدمی کا یہ حال ہے کہ وہ اپنی پوری عمر اِس کوشش میں گذار دیتا ہے کہ اس کے دل میں جو خواہشیں چھپی ہوئی ہیں وہ پوری ہوں۔ مگر ہر انسان اس احساس کے ساتھ مر جاتا ہے کہ اس کی خواہشیں پوری نہیں ہوئیں۔ اِس معاملے میں کسی بھی عورت یا مرد کا کوئی استثناء نہیں۔
دوسری طرف حیوانات کو دیکھیے۔ حیوانات بھی انسانوں کی طرح ہوتے ہیں۔ وہ بھی کچھ دن جیتے ہیں اور پھر مرجاتے ہیں، لیکن کوئی بھی حیوان اِس دنیا میں احساسِ محرومی کے ساتھ نہیںمرتا۔ وہ پیدا ہوکر کچھ دن جیتا ہے اور پھر اِس طرح مرجاتا ہے کہ اس کو اپنی زندگی کے بارے میں کسی بھی قسم کا غم یا افسوس نہیںہوتا۔
انسان اور حیوان میںیہ فرق کیوں ہے۔ اس کا سبب دونوں کے ذہنوں کے فرق میں پایا جاتا ہے۔ حیوان کا ذہن، انسان کے ذہن سے مکمل طورپر مختلف ہوتا ہے۔ حیوان خواہ کوئی بھی ہو، اس کا ذہن حال رُخی ذہن(present-oriented mind) ہوتا ہے۔ اِس بنا پر حیوان کو جو کچھ مل جائے اُسی کو وہ کافی سمجھتا ہے۔ ہر حیوان صرف آج میںجیتا ہے۔ حیوان کے ذہن میںکَل یا مستقبل کا کوئی تصور نہیں۔ اس لیے حیوان کو ملے ہوئے سے زیادہ کی کوئی فکر بھی نہیں۔
اِس کے مقابلے میں انسان کا ذہن مستقبل رُخی ذہن (future-oriented mind) ہے۔ وہ آج پر قانع نہیںہوتا، بلکہ وہ کَل کے بارے میں بھی فکر مند رہتا ہے۔ اور وہ حال کے ساتھ مستقبل تک کامیاب رہنا چاہتا ہے۔ چوں کہ موجودہ دنیا میں انسان کو یہ طویل کامیابی حاصل نہیں ہوتی، اس لیے ہر انسان کا مقدّر بن گیا ہے کہ وہ احساسِ محرومی کے ساتھ دنیا سے چلا جائے۔
تاہم یہ مسئلہ حقیقی نہیں، وہ صرف بے خبری کا نتیجہ ہے۔ اصل حقیقت یہ ہے کہ ہر انسان کا عرصۂ حیات(life span) ابد تک پھیلا ہوا ہے۔ جب آدمی مرتا ہے تو وہ ختم نہیںہوتا، بلکہ وہ اگلے مرحلۂ حیات میںداخل ہوجاتا ہے۔خالق کے کریشن پلان (creation plan) کے مطابق، موت سے قبل کی زندگی ٹسٹ دینے کی زندگی ہے، اور موت کے بعد کی زندگی ٹسٹ کے مطابق، اپنا انجام پانے کی زندگی۔ انسان کا ذہنی تناؤ، یا اس کا احساس محرومی صرف اس لیے ہے کہ وہ خالق کے تخلیقی نقشے کو سمجھ کر اپنی رائے نہیں بناتا۔ وہ ایسا کرتا ہے کہ جو کچھ خالق نے اس کے لیے بعد ازموت مرحلۂ حیات میں مقدّر کیاہے، اس کو وہ قبل از موت مرحلۂ حیات میں پالینا چاہتا ہے۔
اِس مسئلے کا حل صرف ایک ہے، اور وہ یہ کہ آدمی حقیقتِ واقعہ کو سمجھے۔ وہ ایسا نہ کرے کہ جو کچھ اس کو کَل ملنے والا ہے، وہ اس کو آج ہی پالینا چاہے۔ جو آدمی درخت لگانے کے دن پھل کا طالب بن جائے اس کے حصے میں صرف مایوسی آئے گی۔ اس کے برعکس، جو آدمی درخت کی تکمیل پر اس کا پھل لینے پر راضی ہوجائے، اس کے لیے نہ کوئی تناؤ ہے اور نہ کوئی افسوس۔
ذہنی تناؤ دراصل چاہنے اور پانے کے درمیان فرق کا نتیجہ ہوتا ہے۔ اِس فرق کو مٹا دیجئے اور پھر ذہنی تناؤ کا مسئلہ بھی ختم ہوجائے گا۔
واپس اوپر جائیں

خبر نامہ اسلامی مرکز ۱۷۷

۱۔ بی بی سی (لندن) کے نمائندہ مسٹر صلاح الدین زَین نے ۴؍اگست ۲۰۰۶ء کوصدر اسلام مرکز کا ایک انٹرویو رکارڈ کیا ۔ سوالات کا تعلق، اس مسئلے سے تھا کہ اسلام میں انٹر کاسٹ شادی کے بارے میں کیا حکم ہے۔ جوابات کے دوران بتایا گیا کہ یہ شرعی مسئلہ نہیں ہے بلکہ سماجی مسئلہ ہے۔ اسلام میں مذہبی بنیاد پر کوئی کاسٹ سسٹم نہیں ہے۔ ایک کاسٹ اور دوسری کاسٹ کے درمیان شادی بالکل جائز ہے۔ فقہِ حنفی میں کُفو کی بنیاد پر جو مسئلہ ہے وہ بھی کوئی شرعی مسئلہ نہیں ہے بلکہ وہ سماجی ضرورت کے تحت بنا ہے۔ انڈیا کے مشہور عالم مولانا مفتی کفایت اللہ صاحب کُفو کے مسئلہ کے سخت مخالف تھے۔
۲۔ اٹلی (روم) سے ۵۵ عورتوں اور مَردوں کی ایک ٹیم نئی دہلی آئی۔ دوسری مصروفیات کے علاوہ انھوں نے کنا ٹ پلیس (نئی دہلی) میں ۵؍اگست ۲۰۰۶ کو ایک خصوصی اجتماع کیا۔ یہ اجتماع پارک ہوٹل کے ہال میں ہوا۔ ان کی دعوت پر صدر اسلامی مرکز نے اس میں شرکت کی۔ اور تقریباً ایک گھنٹہ امن اور اسلام کے موضوع پر خطاب کیا۔ اس کے بعدآدھ گھنٹہ سوال اور جواب کا پروگرام تھا۔ اِس خطاب میں اسلام کا تعارف پیش کیا گیا۔ سوال جواب کے دوران،اسلام کے مختلف پہلوؤں کی وضاحت کی گئی۔ تقریر کے بعد ان لوگوں نے خود سے یہ کیا کہ ترانے کے انداز میں ان کے لیڈر مسٹر ماریہ یہ کہتے— بسم اللہ الرحمن الرحیم، اللہ، اللہ، اور لا الٰہ الا اللہ اور مجمع میں بیٹھے ہوئی تمام اطالوی عورت اور مرد اس کو بلند آواز سے دہراتے۔ یہ پورا پروگرام انگریزی زبان میں تھا۔ اور پورے پروگرام کی ویڈیو رکارڈنگ کی گئی۔ اس کا کیسٹ ہمارے دفتر میں موجودہے۔ ان لوگوں نے اسلام کی تمام تعلیمات سے اتفاق ظاہر کرتے ہوئے آخر میں یہ سوال کیا کہ اسلام جب اتنا پُرامن اور فطری صداقتوں کا حامل مذہب ہے تو پھر مسلمان اسلامی تعلیمات کے برعکس کیوں ہیں۔ جواب میں بتایا گیا کہ اسلام اور مسلمانوں میں فرق ہے۔ اسلام کو جاننے کے لیے قرآن اور حدیث کا مطالعہ کرنا چاہیے نہ کہ موجودہ مسلم کمیونٹی کا۔
۳۔ نئی دہلی میں مقیم رٹائرڈ جنرل ڈاکٹر چھبّر نے اپنے طور پر اسلامی مرکز کی کتابیں پاکستان کے کچھ لوگوں کو بھجوائیں۔ ان میں سے ایک، جماعتِ اسلامی پاکستان کے امیر قاضی حسین احمد صاحب تھے۔ قاضی موصوف کو یہ کتابیں مل گئیں۔ ا س کے بعد انھوں نے جنرل چھبّر کے نام اپنے خط مؤرخہ ۵؍اگست ۲۰۰۶ میں اس کو اکنالیج کرتے ہوئے یہ الفاظ لکھے ہیں:
Kindly convey my heartly gratitude to Maulana Wahiduddin Khan sahib for sending his scholarly piece "Mutala-e-Seerat" to me, Indeed, this book is an invaluable addition to my reading shelf.
۴۔ جرمنی سے ایک خط اسلامی مرکز کے دفتر میں آیا ہے۔ وہ یہاں نقل کیا جاتا ہے۔
I wrote you few years back and I wanted to translate the book “Moral Vision of Islam” in German. Today I found someone who wants to publish the book “Islam and Peace”. Could you kindly send me a detailed biodata of Maulana Wahiduddin Khan, so I can pass it to the publishers. The link, which says something about Maulana Wahiduddin Khan cannot be opened. Please could you pass this on, after asking Maulana Sahib, whether he wants me to translate his book “Islam and Peace” in German. Few years ago he gave me the authority to translate his book “Vison of Islam”.
I would be very thankful, if you could answer me as quick as possible. 8, August 2006
(Samina Khan (Germany)
۵۔ دہلی میں دوردرشن پر ایک اردو چینل کا افتتاح کیاگیا ہے ۔۱۶؍اگست ۲۰۰۶ کو اس کا پہلا پروگرام ریکارڈ کیاگیا۔ یہ رکارڈنگ خان پور مارکیٹ کے ایک اسٹوڈیو میں ہوئی۔ اس میں تین افراد کو بلایا گیا تھا۔ میرے سوا، مولانا جلال الدین عمری اور تیسرے ایک ہندو تھے جن کا نام موہن جی داس تھا۔ یہ ایک پینل ڈسکشن تھا جس کا عنوان یہ تھا: مسلمان اور دہشت گردی۔ اینکر کا فریضہ ماجد دیوبندی صاحب نے ادا کیا۔ میںنے جو کچھ کہا اس کا خلاصہ یہ تھا کہ مسلمانوں کی ایک حقیقی امیج ہے، اور دوسری میڈیا امیج۔ یہ مسلمانوں کی میڈیا امیج ہے کہ وہ دہشت گرد ہوتے ہیں۔ مگر حقیقی امیج ایسی نہیں۔ کچھ لوگ تشدد کا طریقہ ضرور اختیار کرتے ہیں لیکن بقیہ مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ کھلے طورپر ان کی مذمت کریں۔ تاکہ تشدد کا فعل صرف چند مسلمانوں کا فعل سمجھاجائے نہ کہ پوری مسلم کمیونٹی کا۔
۶۔ بی بی سی لندن کے نمائندہ مسٹر شکیل اختر نے ۲۲؍اگست ۲۰۰۶ کو صدر اسلامی مرکز کا انٹرویو رکارڈ کیا۔ سوالات کا تعلق زیادہ ترمسلم مسائل سے تھا۔ جوابات کا خلاصہ یہ ـتھا کہ مسلمانوں کے مسائل کی جڑ ان کی اپنی نااہل قیادت ہے۔ اور نااہل قیادت مسلمانوں کے اوپر اس لیے مسلط ہوئی کہ مسلمان تعلیم میں پچھڑ گئے۔ اس لیے وہ صحیح اور غلط میں فرق کرنے کی پوزیشن میں نہیں تھے۔ وہ جذباتی نعروں کے پیچھے دوڑتے رہے۔ اِس مسئلے کا واحد حل یہ ہے کہ مسلمانوں کو تعلیم میں آگے بڑھایا جائے، خاص طور پر جدید تعلیم میں۔
۷۔ سائی انٹرنیشنل سنٹر (نئی دہلی) میں ۲۳؍ اگست ۲۰۰۶ کو ایک پروگرام ہوا۔ اس میں مختلف اسکولوں کے پرنسپل شریک ہوئے۔ اِس موقع پر صدر اسلامی مرکز کو خطاب کی دعوت دی گئی۔ خطاب کا موضوع یہ تھا:
Basic Human Values in Islam
اِس موضوع پر پہلے ۴۵ منٹ کا خطاب ہوا۔ اس کے بعد ۱۵ منٹ تک سوال وجواب ہوا۔ پروگرام کے آخر میں لوگوں کو اسلامی کتابیں تقسیم کی گئیں۔ اور یہ بتایا گیا کہ ویب سائٹ کے علاوہ آپ لوگ زی جاگرن ٹی وی پر روزانہ صبح کو سات بج کر بیس منٹ پر صدر اسلامی مرکز کی تقریر سن سکتے ہیں۔
۸۔ نئی دہلی کے ہندی روزنامہ راشٹریہ سہارا کے نمائندہ مسٹر رمیش شرما نے صدر اسلامی مرکز کا انٹرویو لیا۔ یہ تفصیلی انٹرویو ۲۵؍ اگست ۲۰۰۶ کو ٹیلی فون پر رکارڈ کیا گیا۔ سوالات کا تعلق زیادہ تر وندے ماترم کے مسئلے سے تھا۔ چوں کہ مختلف تنظیموں نے یہ اعلان کیا ہے کہ ۷ ستمبر ۲۰۰۶ کو پورے ملک میں وندے ماترم گایا جائے، اور ہر فرقے کے لوگ اس میں شریک ہوں۔ ۷ ستمبر ۲۰۰۶ کو اِس نظم کی اشاعت پَر سو سال پورے ہوجائیں گے۔ جوابات کا خلاصہ یہ تھا کہ اِس معاملے میں ہندو اور مسلمان دونوں غلو کا شکار ہورہے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ وندے ماترم گانے کا نہ کوئی فائدہ ہے اور نہ کوئی نقصان۔ اِس کے مؤیّدین یہ کہتے ہیں کہ وندے ماترم دیش بھگتی کی اسپرٹ جگانے کے لیے ضروری ہے۔ سوال یہ ہے کہ وندے ماترم ایک سو سال سے برابر گایا جارہا ہے۔ ریڈیو، ٹیلی ویژن، اسکول اور جلسے ہر جگہ ،مگر نتیجہ برعکس ہے۔ اِس مدت میں دیش بھکتی تو نہیں بڑھی، البتہ دولت بھکتی خطرناک حدتک بڑھ گئی ہے۔ ایسی حالت میں ۷ستمبر کا دن اِس معاملے پر ری اسیس منٹ(reassessment) کے طور پر منایا جانا چاہیے نہ کہ خوشی کے طور پر۔
۹۔ نئی دہلی کے بہائی ہاؤس آف ورشپ (لوٹس ٹمپل میں ۲۷؍اگست ۲۰۰۶ کو ایک اجتماع ہوا جس میں مختلف مذاہب کے نمائندے شریک ہوئے۔ اس کا موضوع یہ تھا:
Human being: The Living Dwelling Place of the Divine
اس کی دعوت پر اسلام کے نمائندہ کی حیثیت سے صدر اسلامی مرکز نے اس میں شرکت کی۔ انھوں نے اسلامی تعلیمات کی روشنی میں اِس موضوع پر خطاب کیا۔ ایک بات انھوںنے یہ کہی کہ مذہبوں کے درمیان جھگڑا زیادہ تر کٹّر پن کی وجہ سے ہوتا ہے۔ اس کو اسلام میں غلو کہاگیا ہے۔ غلو کا مطلب ہے انتہا پسندی(extremism) ۔
۱۰۔ دور درشن (نئی دہلی) کے اسٹوڈیو میں ۲۹؍ اگست ۲۰۰۶ کو ایک خصوصی پروگرام تھا۔ اس میں کئی لوگوں کو شرکت کی دعوت دی گئی تھی۔ اس کا موضوع ’کمیونل ہارمنی‘ تھا۔ صدر اسلامی مرکز نے بھی اس کی دعوت پر اس پروگرام میں شرکت کی۔ انھوں نے اسلامی تعلیمات کی روشنی میں بتایا کہ ہندستان میں فرقہ وارانہ ہم آہنگی کیسے لائی جاسکتی ہے۔ ان میں سے ایک بات یہ تھی کہ کسی بھی سماج میں اختلاف کا پیدا ہونا بالکل فطری ہے۔ اس لیے لوگوں کو چاہیے کہ وہ اختلاف سے ٹکرانے کے بجائے اس کو نظر انداز کریں۔ وہ ڈفرنس مینجمنٹ کے اصول پر اس مسئلے کو حل کریں۔ وہ کسی بھی حال میں احتجاج اور مظاہرہ اور تشدد کا طریقہ نہ اختیار کریں۔ اِس پروگرام میں سوامی اگنی ویش، تارا بھٹا چاریہ، پروفیسر کمار، وغیرہ شریک ہوئے۔
۱۱۔ جَن مت ٹی وی (نئی دہلی) کی نمائندہ مزورمانی (Jyoti Virmani) نے ۳۰؍اگست ۲۰۰۶ کو صدر اسلامی مرکز کا انٹرویو لیا۔ انٹرویو اِس سوال پر تھا کہ انشورنس کروانا، مسلمان کے لیے جائز ہے کہ نہیں۔ جواب میں بتایا گیا کہ ہر چیز کو جائز اور ناجائز کا مسئلہ بنانا، یہ خود اسلامی تعلیم کے خلاف ہے۔ سب سے پہلے حالات کو دیکھا جاتا ہے۔ حالات کے مطابق، جو چیز قابل عمل ہو اس پر فتویٰ دیا جاتا ہے۔ جو چیز قابل عمل نہ ہو اس پر فتویٰ دینا یہ خود اسلام کے خلاف ہے۔ کیوں کہ ایسا فتویٰ اپنے نتیجے کے اعتبار سے کوئی اصلاح کی بات نہیں ہے بلکہ وہ اسلام کی تصغیر کے ہم معنیٰ ہے۔
۱۲۔ بی بی سی لندن کے نمائندہ مسٹر صلاح الدین نے ۳۱ ؍ اگست ۲۰۰۶ کو ٹیلی فون پر صدر اسلامی مرکز کا انٹرویو رکارڈ کیا۔ انٹرویو کا موضوع ’حج سبسڈی، تھا۔ جواب میں بتایا گیا کہ حج سبسڈی، جو گورنمنٹ کی طرف سے دی جاتی ہے وہ بالکل جائز ہے، اس میں ناجائز کی کوئی بات نہیں ہے۔ تمام مسلم ملکوں میں یہ طریقہ رائج ہے۔ حالاں کہ مسلم رہنما ہر مسلم ملک کے بارے میں کہتے ہیں کہ وہاں کے حکمراں اسلامی اصولوں پر حکومت کا نظام نہیں چلاتے۔ مسلمان اپنے دنیوی حقوق کے معاملے میں جمہوریت کا حوالہ دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ ہندستان کی حکومت اُسی طرح ہماری حکومت ہے جس طرح وہ ملک کے دوسرے باشندوں کی حکومت ہے۔ ایسی حالت میں حج سبسڈی کے بارے میں مسلم ممالک اور ہندستان کے درمیان فرق کرنے کی کوئی وجہ نہیں۔
۱۳۔ جَین ٹی وی (نئی دہلی) کی ٹیم نے ۳ ستمبر ۲۰۰۶ کی شام کو صدر اسلامی مرکز کا انٹرویو ریکارڈ کیا۔ سوالات کا تعلق، وندے ماترم سے تھا۔ ایک سوال کے جواب میں کہاگیا کہ اِس اشو پر شور وغل کرنا اور اس کو شرعی مسئلہ بنانا درست نہیں۔ ڈاکٹر محمد اقبال نے اپنی ایک نظم میں برہمن کو خطاب کرتے ہوئے کہا تھا:
پتھر کی مورتی میں سمجھا ہے تو خدا ہے خاکِ وطن کا مجھ کو ہر ذرّہ دیوتا ہے
جب مسلمانوں سے کہا جاتا ہے کہ اقبال کا یہ شعر بھی اتنا ہی قابل اعتراض ہے جتنا کہ وندے ماترم، تو مسلمان کہتے ہیں کہ اقبال نے جو کہا تھا وہ تو شعر وشاعری کی بات ہے۔ مگر سوال یہ ہے کہ بنکم چندر چٹرجی نے اپنے ناول ’آنند مٹھ‘ میں وندے ماترم کی شکل میں جو گیت شامل کیا وہ بھی تو ناول اور شعر و شاعری کی بات ہے۔ ایسی حالت میں مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ یا تو دونوں کے خلاف ہنگامہ کریں یا دونوں کو نظر انداز کردیں۔
۱۴۔ شانتی گِری آشرم (نئی دہلی) کا سالانہ فنکشن ۳ ستمبر ۲۰۰۶ کو تھا۔ شانتی گری آشرم کا مرکز کیرلا (تری وندرم) میں ہے۔ اس کے فاؤنڈر کُروناکراگرو ہیں۔ وہ ایک مسلم صوفی قریشیہ فقیر کے شاگرد مانے جاتے ہیں۔ اس کی دعوت پر صدر اسلامی مرکز نے اس میں شرکت کی۔ یہاں کئی ممتاز افراد کی تقریر یں ہوئی۔ صدر اسلامی مرکز نے اپنی تقریر میں قرآن اور حدیث کی روشنی میںبتایا کہ امن اور انسانیت کے بارے میں اسلام کی تعلیمات کیا ہیں۔ اِس موقع پر تعلیم یافتہ افراد بڑی تعداد میں شریک تھے۔ ان لوگوں کے درمیان اسلامک لٹریچر اور دعوہ بروشر تقسیم کیا گیا۔ کئی لوگوں سے اسلام کے موضوع پر گفتگو ہوئی۔
۱۵۔ بی بی سی کے نمائندہ مسٹر عبد الباقی مرزا نے ۳ ستمبر ۲۰۰۶ کی شام کو ایک انٹرویو رکارڈ کیا۔ یہ انٹرویو کار پر سفر کے دوران رکارڈ کیا گیا۔ سوالات کا تعلق، وندے ماترم سے تھا۔ جواب میں ایک بات یہ کہی گئی کہ وندے ماترم نہ گیتا میں آیا ہے اور نہ ویدوں میں۔ وہ صرف بنکم چندرچٹر جی کے ناول ’آنند مَٹھ‘ میں آیا ہے۔ اس لیے وہ کوئی مذہبی اِشو نہیں۔ یہ ایک پولٹکل اِشو ہے۔ ایسی حالت میں وندے ماترم پڑھنے کو مذہبی اہمیت دے کر اس کے خلاف ہنگامہ کرنا درست نہیں۔
۱۶۔ ۵ستمبر ۲۰۰۶ کو دور درشن (اردو) کی ٹیم نے صدر اسلامی مرکز کے تفصیلی انٹرویو کی ویڈیو رکارڈنگ کی۔ یہ انٹرویو تقریباً ڈیڑھ گھنٹے تک جاری رہا۔ انٹرویور مسٹر تحسین منور تھے۔ یہ پورا انٹرویو نظام الدین ویسٹ کے پارک میں رکارڈ کیا گیا۔ سوالات کا تعلق، اسلام کے مختلف پہلوؤں سے تھا۔ ایک سوال کے جواب میں کہا گیا کہ اسلام اوردورِ جدید میںکوئی ٹکراؤ نہیں ہے۔ اسلام ایک ابدی مذہب ہے۔ ضرورت صرف یہ ہے کہ اسلام کی تعلیمات کو عصری اسلوب میںبیان کیا جائے۔
۱۷۔ ہندی اخبار کے نمائندہ مسٹر کرشن موہن مشرا نے ۷ستمبر ۲۰۰۶ کو صدر اسلامی مرکز کا انٹرویو لیا۔ ان کے سوالات کا تعلق، وندے ماترم سے تھا۔ ایک سوال کے جواب میں کہاگیا کہ وندے ماترم کو پڑھانے پر اس لیے زور دیا جاتا ہے کہ اس سے ملک میں دیش بھکتی آئے گی۔ مگر سو برس سے وندے ماترم پڑھا جارہا ہے، مگر اب تک ملک میں دیش بھکتی کو فروغ حاصل نہ ہوسکا۔ ایسی حالت میں ضرورت ہے کہ اِس معاملے پر نظرِ ثانی کی جائے، نہ کہ اس کو پڑھانے کی دھوم مچائی جائے۔
۱۸۔ این ڈی ٹی وی (نئی دہلی) نے ۱۴ ستمبر ۲۰۰۶ کو ٹیلی فون پر صدر اسلامی مرکز کا انٹرویو لیا۔ یہ انٹرویو اسی دن صبح ۹ بجے کے لائیوٹیلی کاسٹ میںنشر کیاگیا۔ آج ہی ۱۴ ستمبر کے اخباروں میںیہ خبر آئی ہے کہ مسیحی پوپ نے اپنی تقریر میںکہا کہ اسلام کے پیغمبر نے یہ تعلیم دی ہے کہ اسلام کو تلوار کے ذریعے پھیلاؤ۔ اس سلسلے میں بتایا گیا کہ یہ بات بالکل غلط ہے۔ اسلام میں تلوار کا استعمال صرف وقتی اور استثنائی طورپر دفاع کے لیے کیاگیا۔ اسلام کی اشاعت کے لیے کبھی تلوار کا استعمال نہیں کیا گیا۔ حضرت مسیح نے کہا تھا کہ: ’’یہ نہ سمجھو کہ میں زمین پر صلح کرانے آیا ہوں۔ صلح کرانے نہیں، بلکہ تلوار چلوانے آیا ہوں‘‘۔ (متّٰی: ۳۵) حضرت مسیح کے اِس قول کا یہ مطلب نہیں ہے کہ وہ تلوار کا مذہب لے کر آئے تھے۔ اسی طرح پیغمبر اسلام بھی تلوار کا مذہب لے کر نہیں آئے، بلکہ وہ امن کا مذہب لے کر آئے۔
۱۹۔ این ڈی ٹی وی (نئی دہلی) کی ٹیم ۱۴ ستمبر ۲۰۰۶ کو اسلامی مرکز کے دفتر میں آئی اور صدر اسلامی مرکز کا انٹرویو لیا۔ انٹرویور مسٹر شارق تھے۔ یہ انٹرویو پوپ کے اُس بیان سے متعلق تھا جو ۱۴ ستمبر کے اخبارات میں چھپا ہے۔ اس سلسلے میں بتایا گیا کہ پوپ کا بیان ایک کنفیوژن پر مبنی ہے۔ قرآن میں قتال کی بات ضرور کی گئی ہے مگر وہ صرف دفاع کے لیے ہے۔ پوپ نے یہ کیا کہ قتال کی بات کو اسلام کی تبلیغ سے جوڑ دیا۔
۲۰۔ بی بی سی لندن (اُردو سروس) کے نمائندہ مسٹر ثقلین امام نے ۱۵ ستمبر ۲۰۰۶ کو ٹیلی فون پر صدر اسلامی مرکز کا انٹرویو لیا۔ سوالات کا تعلق زیادہ تر مسیحی پوپ کے اُس بیان سے تھا، جو ۱۴ ستمبر ۲۰۰۶ کو مختلف اخباروں میں شائع ہوا۔ جواب میں بتایا گیا کہ اسلام کوئی نیا مذہب نہیں، وہ پچھلے مذاہب کا محفوظ ایڈیشن ہے۔ اسلام میں یہ اصول نہیں ہے کہ تلوار کے ذریعے اسلام کو پھیلایا جائے، بلکہ اسلام کا اصول یہ ہے کہ— لاإکراہ فی الدین(البقرہ ۲۵۶) اسلام میں تلوار کا استعمال صرف دفاع کے لیے ہے، کسی اور مقصد کے لیے نہیں۔
۲۱۔ این ڈی ٹی وی (نئی دہلی) نے ’’مقابلہ‘‘ چینل پر ۱۵ ستمبر ۲۰۰۶ کو صدر اسلامی مرکز کا انٹرویو لیا۔ یہ انٹرویو لائیو ٹیلی کاسٹ تھا ۔ ان کا موونگ اسٹوڈیو دفتر کے سامنے روڈ پر آیا اور اِس طرح انٹرویو لیا۔ انٹرویو کا موضوع مسیحی پوپ کا بیان تھا جو ۱۴ ستمبر ۲۰۰۶ کو میڈیا میں آیا ہے۔ جوابات کا خلاصہ یہ تھا کہ پوپ کا بیان ایک فکری چیلنج ہے، وہ کوئی مسلح حملہ نہیں۔ اس لیے اس کا جواب بھی فکری سطح پر دینا چاہیے۔ سڑکوں پر مظاہرہ کرنا، یا متشددانہ ردّ عمل ظاہر کرنا اس کا جواب نہیں۔
۲۲۔ ہندی روزنامہ دینک جاگرن (نئی دہلی) کے نمائندہ نے ۱۵ ستمبر ۲۰۰۶ کو ٹیلی فون پر صدر اسلامی مرکز کا انٹرویو لیا۔ سوالات کا تعلق مسیحی پوپ کے حالیہ بیان سے تھا۔ جواب میں بتایا گیا کہ اِس قسم کی باتوں کے جواب میں یہ کہا جاتا ہے کہ یہ زمانہ آزادیٔ تقریر کا زمانہ ہے۔ یہ بات اپنی جگہ درست ہے، لیکن اسی کے ساتھ یہ بھی ایک واقعہ ہے کہ یہ زمانہ سائنٹفک استدلال کا زمانہ ہے۔ پوپ، یا اس قسم کے لوگ اپنی آزادیٔ رائے کے حق کو تو استعمال کرتے ہیں، لیکن وہ اس بات کو بھول جاتے ہیں کہ یہ زمانہ سائنٹفک استدلال کا زمانہ ہے۔ علمی دلیل کے بغیر رائے کا اظہار، زمانے کی اسپرٹ کے سراسر خلاف ہے۔
۲۳۔ ہندی روزنامہ دینک بھاسکرن کے نمائندہ مسٹر دویدی نے ۱۵ ستمبر ۲۰۰۶ کو صدر اسلامی مرکز کا انٹرویو ٹیلی فون پر رکارڈ کیا۔ سوالات کا تعلق، پوپ کے حالیہ بیان سے تھا۔ جواب کے تحت بتایا گیا کہ پوپ نے یہ بات اپنی ایک تقریر میں کہی، جس کا عنوان تھا— فیتھ اینڈ ریزن:
Faith and Reason
یہ عجیب بات ہے کہ انھوں نے اپنے سات صفحے کے لکچر میں یہ کہا کہ مذہب کی تعلیمات کو عقلی دلائل کی روشنی میں بیان کرنا چاہیے، لیکن خود انھوں نے اسلام پر جو منفی ریمارک دیا اس کی کوئی علمی دلیل اپنے طویل لکچر میں انھوںنے پیش نہیں کی۔
۲۴۔ انگریزی روزنامہ دکن ، ہیرالڈ کی نمائندہ مز شو بھا مکھرجی نے ۱۶ ستمبر ۲۰۰۶ کو صدر اسلامی مرکز کاانٹرویو لیا۔ یہ انٹرویو ٹیلی فون پر ریکارڈ کیاگیا۔ سوالات کا تعلق ، زیادہ تر اِس سے تھا کہ پوپ بینڈکٹ نے اپنے بیان پر معافی مانگ لی ہے۔ اس کے بعد اس معاملے میں مسلمانوں کا رویہ کیا ہونا چاہیے۔ جواب میں بتایا گیا کہ مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ اب پوپ کے خلاف اپنی احتجاجی مہم کوختم کردیں۔ البتہ یہ کام بدستور باقی ہے کہ پوپ نے اسلام کی نسبت سے جوسوالات اٹھائے ہیں ان کی مدلّل وضاحت کی جائے۔ مثلاً یہ کہ تشدد کا کوئی تعلق، اسلام سے نہیں۔ جو مسلمان متشددانہ تحریک چلاتا ہے وہ اسلام سے انحراف کرکے ایسا کررہا ہے۔
۲۵۔ زی نیوز (نئی دہلی) کی ٹیم نے ۱۶ ستمبر ۲۰۰۶ کو صدر اسلامی مرکز کا ویڈیو انٹرویو رکارڈ کیا۔ سوالات کا تعلق پوپ بینڈکٹ کے حالیہ بیان سے تھا جس میں انھوںنے کہا تھا کہ اسلام کا کوئی مثبت کنٹری بیوشن انسانی تاریخ میں نہیں۔ اس کے جواب میں یہ بتایا گیا کہ پوپ کا یہ دعویٰ بالکل بے اصل ہے۔ اپنے سات صفحے کے پیپر میں انھوں نے اس کی کوئی دلیل نہیںدی۔ ان کا ایک دعویٰ یہ تھا کہ اسلام تلوار کے ذریعے پھیلایا گیا۔ بتایا گیا کہ اصل واقعہ اس کے برعکس ہے۔ اسلام اپنی نظریاتی طاقت سے پھیلا، نہ کہ تلوار کی طاقت سے۔ خود مغربی مصنفین نے اس کا اعتراف کیا ہے۔ مثلاً ٹامس کارلائل، اور ٹی ڈبلو آرنلڈ، وغیرہ۔ اس کے انٹرویور مسٹر راجیو (Rajeev Ranjan) تھے۔
۲۶۔ اسٹار نیوز (نئی دہلی) کی ٹیم نے ۱۶ ستمبر ۲۰۰۶ کو صدر اسلامی مرکز کا انٹرویو لیا۔سوال کا تعلق ، زیادہ تر اس مسئلے سے تھا کہ مسیحی پوپ نے اسلام کے خلاف جو ریمارک دیا تھا اس پر اس نے غیر مشروط معافی مانگ لی ہے۔ ایسی حالت میں اب اِس معاملے میں مسلمانوں کی پوزیشن کیا ہونی چاہیے۔ جواب میں بتایا گیا کہ اسلام کا طریقہ یہ ہے کہ معافی کو فوراً قبول کرلیا جائے اور معاملے کو بالکل ختم کردیا جائے۔
۲۷۔ اسٹار نیوز (نئی دہلی) کی ٹیم نے ۱۶ ستمبر ۲۰۰۶ کو صدر اسلامی مرکز کا ویڈیو انٹرویو رکارڈ کیا۔ انٹرویور مسٹر رائے (Amritanshu Rai) تھے۔ سوالات کا تعلق اِس مسئلے سے تھا کہ شریعت میں فتویٰ کیا ہے۔ جوابات کا خلاصہ یہ تھا کہ فتویٰ کا مطلب ایک مفتی کی ذاتی رائے ہے۔ کوئی مفتی اپنی یہ ذاتی رائے اُس وقت دیتا ہے جب کہ کوئی شخص خود اپنے ذاتی معاملے سے متعلق، مفتی کی رائے جاننا چاہے۔ ۔ یہ طریقہ، فتویٰ کا غلط استعمال ہے کہ مسئلہ کسی اور کا ہو اور سوال کوئی اور شخص کرے۔ اِسی طرح یہ بھی فتویٰ کا غلط استعمال ہے کہ مفتی اپنی حد سے باہر جاکر ایسے مسئلے میں فتوے جاری کرے جس کا تعلق، عدالت اور حکومت سے ہو۔
۲۸۔ دہلی کے ٹی وی چینل ۷ نے ۱۶ ستمبر ۲۰۰۶ کو صدر اسلامی مرکز کا انٹرویو لیا۔ انٹرویور مسٹر جتارتھ (Jitarth) تھے۔ سوالات کا تعلق مسیحی پوپ کے حالیہ بیان سے تھا۔ جوابات کے تحت جو بات کہی گئی ان میں سے ایک بات یہ تھی کہ پوپ کے اِس بیان کے خلاف ویسا سخت رد عمل ہونے والا نہیں ہے جو ڈنمارک کے کارٹون کے خلاف ہوا تھا۔ ۱۵ ستمبر کو جمعہ کے عبادتی اجتماع کی وجہ سے وقتی طورپر کچھ مظاہرہ ہوگیا، لیکن الگ سے اِس اِشو پر کچھ ہونے والا نہیں۔
۲۹۔ الامین پبلک اسکول (کوچن) کے تحت، ۱۶ستمبر ۲۰۰۶ کو ایک انٹراسکول اسلامک کوئز (InterSchool Islamic Quiz) منعقد کیا گیا۔ اسکول کی فرمائش پر ان کو گُڈ ورڈ کی اسلامی کتابیں بھیجی گئیں۔ جو وہاں کامیاب طلبا کو بطور انعام دی گئیں ۔ اس سلسلے میں اسکول کی طرف سے ایک خط موصول ہوا ہے جو یہاں نقل کیا جاتا ہے:
We are gald to inform you that the Inter-School Religious Quiz, which was held on 16th Sept. 2006, was a grand success with three senior students from around 30 schools participating from various districts of Kerala. Al-Ameen Public School, Edappally, sponsored the individual trophies and the trophy for the winning schools along with cash prizes. Apart from these above prizes, all participants were given gift hampers consisting of the Quran with Malayalam translation, Islamic Books, World Atlas and Parker Pen. Escorting teachers of the various schools were given a set of Parker Pen.
Further an Islamic Quiz Competition was also held for the parents and escorting teachers of various schools and prizes were distributed for the winners.
We take this opportunity to thank your good self for your wholehearted contribution for this noble cause without which we would not have been able to make this programme a grand success.
May Allah Almighty reward you and give the best in this life and hereafter.
With regards,
(Mrs. Fahmida Fiaz) (Mrs. Jayaprabha Pradeep)
Religious Quiz Coordinator Principal
۳۰۔ بی بی سی لندن کے نمائندہ مسٹر صلاح الدین نے ۲۰ ستمبر ۲۰۰۶ کو صدر اسلامی مرکز کا انٹرویو لیا۔ یہ انٹرویو ٹیلی فون پر رکارڈ کیاگیا۔ سوالات کا تعلق، فتویٰ اور شریعت کے مسئلے سے تھا۔ جواب میںبتایا گیا کہ آج کل جس طرح فتوے کا استعمال کیا جارہا ہے وہ درست نہیں۔ آج کل کی زبان میں یہ فتویٰ ایکٹوزم ہے، اور اسلام کی تعلیم کے مطابق، کرنے کا اصل کام ایجوکیشن ایکٹوزم ہے نہ کہ فتویٰ ایکٹوزم۔
۳۱۔ ۲۳ستمبر ۲۰۰۶ کو انڈیا ہبی ٹیٹ سنٹر (لودھی روڈ) میں ایک سیمنار ہوا۔ یہ سیمنار خدا کے موضوع پر تھا۔ اس سیمنار میںموضوع کے تین پہلو زیرِ بحث آئے— خدا کا وجود، خدا اورنیچر، عقیدۂ خدا کا اثر زندگی پر۔ اس کی دعوت پر صدر اسلامی مرکز نے اس میں شرکت کی، اور وہاں مذکورہ موضوع پر ایک تقریر کی۔ یہ پورا پروگرام انگریزی زبان میں تھا۔ یہاں اعلیٰ تعلیم یافتہ لوگ شریک ہوئے۔ سی پی ایس کی ٹیم نے یہاں لوگوں سے دعوتی ملاقات کی اور ان کے درمیان دعوتی بروشر تقسیم کیے۔
۳۲۔ انڈیا ہیبی ٹیٹ سنٹر (نئی دہلی) میں لائف پازیٹیو کے تحت، ایک نمائش (Expo) منعقد کی گئی۔ وہ ۲۲ـ۲۴ ستمبر ۲۰۰۶ کو ہوئی۔ اِس موقع پر مختلف اداروں کے اسٹال وہاں لگائے گیے۔ سی پی ایس انٹرنیشنل کی طرف سے بھی یہاں اسٹال لگایا گیا۔ کتابوں کے ساتھ یہاں ایک ٹی وی سیٹ بھی رکھا گیا تھا جس میں صدر اسلامی کی تقریر مسلسل دکھائی جاری تھی۔ کافی لوگوں نے اس سے فائدہ اٹھایا، اور اپنی دل چسپی کا اظہار کیا۔
۳۳۔ جھارکھنڈ کے ہندی روزنامہ ’’پربھات خبر‘‘ کے نمائندہ مسٹر نشانت بھاردواج نے اپنے اخبار کے لیے صدر اسلامی مرکز کا انٹرویو لیا۔ ۲۸ ستمبر ۲۰۰۶ کو یہ انٹرویو ٹیلی فون پر رکارڈ کیاگیا۔ یہ انٹرویو مسٹر گُرائینم کی کتاب کے بارے میں تھا۔ اِس کتاب میں کئی باتیں مسلم نقطۂ نظر کے خلاف لکھی گئی ہیں، مثلاً کامن سوِل کوڈ اور وندے ماترم وغیرہ۔ جواب میں کہاگیا کہ موجودہ دستور کی موجودگی میں اِس طرح کی باتیں قابلِ عمل نہیں۔ اور جو بات قابلِ عمل نہ ہو اُس پر لکھنا اور بولنا، صرف منفی نتیجہ پیدا کرتا ہے۔ اس سے صرف لوگوں کی سوچ بگڑتی ہے، لیکن حالات میں کوئی تبدیلی نہیں آتی۔ اسی لیے کہا گیا ہے کہ بعض اوقات یہ ضروری ہوتا ہے کہ آدمی بولنے کے بجائے چُپ رہے۔
واپس اوپر جائیں