Pages

Thursday, 2 October 2008

Al Risala | October 2008 (الرسالہ،اکتوبر)

2

- روزہ:شکر اور تقویٰ کی تربیت

4

- روزہ: اسلام کا ایک رکن

5

- روزہ کی حقیقت

6

- ایمان اور احتساب

7

- روزہ: عجز کی تربیت

8

- روزہ کی عظمت

10

- صبر کا مہینہ

11

- روزہ اور انسانی ہمدردی

12

- روزہ اور دعا

13

- لامحدود اجر

14

- موافقِ اصلاح ماحول

15

- روزہ اور اخلاقی ڈسپلن

16

- رمضان میں خطاؤں کی معانی

17

- اسپرٹ، نہ کہ فارم

18

- رحمتِ الٰہی کا مستحق کون

19

- حلال سے روزہ، حرام سے افطار

20

- حقیقتِ صوم

21

- نیت کی اہمیت

22

- روزہ: ایک زندہ عمل

23

- دورِ زوال کا ظاہرہ

24

- فارم اور اسپرٹ کا فرق

26

- روزہ اور تزکیہ نفس

27

- بے روح عبادت

28

- قولِ زور، عملِ زور

29

- روزہ کو چھوڑنا

30

- اسپرٹ، یا ٹکنکل مسائل

31

- روزہ اور قیام لیل

32

- روزہ اور قرآن

33

- روزہ اور تراویح

34

- ختم قرآن، یا تدبر قرآن

35

- روزہ: خدا کی یاد کا ذریعہ

36

- روزہ اور اعتکاف

38

- عبادت کا اظہار

39

- حالتِ محرومی کی دریافت

40

- حساسیت کی سطح پر

41

- اللہ کے زیر حکم ہونے کا تجربہ

42

- جذباتِ شکر کی بیداری

43

- روزہ دارانہ زندگی

44

- روزہ کا تعلق پوری زندگی سے

45

- مسائل رمضان

46

- انعام کی رات

47

- عید الفطر کا دن


روزہ: شکر اور تقویٰ کی تربیت

قرآن کی سورہ نمبر 2 میں صومِ رمضان کے احکام آئے ہیں۔ اِن آیتوں کا ترجمہ یہ ہے: ’’اے ایمان والو، تم پر روزہ فرض کیا گیا ہے، جس طرح وہ تم سے پہلے کے لوگوں پر فرض کیا گیا تھا، تا کہ تم متقی بنو،گنتی کے چند دن۔ پھر جو کوئی تم میں بیمار ہو، یا سفر میں ہو تو وہ دوسرے دنوں میں تعداد پوری کرلے۔ اور جو لوگ اُسے بہ مشقت برداشت کرسکیں، تو ایک روزے کا بدلہ ایک مسکین کا کھانا ہے، جو شخص مزید نیکی کرے تو وہ اس کے لیے بہتر ہے۔ اور تم روزہ رکھو تو یہ تمھارے لیے زیادہ بہتر ہے، اگر تم جانو۔ رمضان کا مہینہ جس میں قرآن اتارا گیا ، ہدایت ہے لوگوں کے لیے اور کھلی نشانیاں راستے کی، اور حق اور باطل کے درمیان فیصلہ کرنے والا۔ پس تم میں جو شخص اِس مہینے کو پائے، وہ اس کے روزے رکھے۔ اور جو بیمار ہو، یا سفر پر ہو تو وہ دوسرے دنوں میں اُس کیگنتی پوری کرلے۔ اللہ تمھارے لیے آسانی چاہتا ہے، وہ تمھارے ساتھ سختی کرنا نہیں چاہتا۔ اور وہ چاہتا ہے کہ تم گنتی پوری کر لو اور اللہ کی بڑائی کرو اِس بات پر کہ اُس نے تم کو راہ بتائی اور تاکہ تم اللہ کے شکر گزار بنو‘‘ (البقرۃ: 183-185 )۔
روزہ بیک وقت دو چیزوں کی تربیت ہے۔ایک، شکر اور دوسر ے، تقویٰ۔ کھانا اور پانی اللہ کی بہت بڑی نعمتیں ہیں، مگر عام حالات میں آدمی کو اِس کا احساس نہیں ہوتا۔ روزے میں جب آدمی دن بھر اِن چیزوں سے رُکا رہتا ہے اور سورج ڈوبنے کے بعد شدید بھوک، پیاس کی حالت میں وہ کھانا کھاتا ہے اور پانی پیتا ہے، تو اُس وقت اس کو معلوم ہوتا ہے کہ یہ کھانا اور پانی، اللہ کی کتنی بڑی نعمتیں ہیں۔ اِس تجربے سے آدمی کے اندر اپنے رب کے شکر کا بے پناہ جذبہ پیدا ہوتا ہے۔
دو سری طرف، روزہ آدمی کے لیے تقویٰ کی تربیت ہے۔ تقویٰ یہ ہے کہ آدمی دنیا کی زندگی میں خدا کی منع کی ہوئی چیزوں سے بچے، وہ اُن چیزوں سے رکا رہے جن سے خدا نے اُس کوروکا ہے اور وہ وہی کرے جس کے کرنے کی خدا نے اس کو اجازت دی ہے۔ روزے میں صرف رات کو کھانا اور دن کو کھانا، پینا چھوڑ دینا، گویا اللہ کو اپنے اوپر نگراں بنانے کی مشق ہے۔ مومن کی پوری زندگی ایک قسم کی روزہ دارانہ زندگی ہے۔ رمضان کے مہینے میں وقتی طور پر چند چیزوں کو چھڑا کر، آدمی کو یہ تربیت دی جاتی ہے کہ وہ ساری عمر کے لیے اُن چیزوں کو چھوڑ دے جو اُس کے رب کو ناپسند ہیں۔
قرآن، بندے کے اوپر اللہ کا انعام ہے اور روزہ بندے کی طرف سے اِس انعام کا عملی اعتراف۔ روزے کے ذریعہ بندہ اپنے آپ کو اللہ کی شکر گزاری کے قابل بناتا ہے اور اپنے اندر یہ صلاحیت پیدا کرتا ہے کہ وہ قرآن کے بتائے ہوئے طریقے کے مطابق، دنیا میں متقیانہ زندگی گزارسکے۔
روزہ رکھنے سے دل کے اندر نرمی اورشکستگی آتی ہے۔ اِس طرح، روزہ آدمی کے اندر یہ صلاحیت پیدا کرتا ہے کہ وہ اُن کیفیتوں کو محسوس کرسکے جو اللہ کو اپنے بندوں سے مطلوب ہیں۔ روزے کی پُرمشقت تربیت، آدمی کو اِس قابل بناتی ہے کہ اللہ کی شکر گزاری میںاس کا دل تڑپے، اور اللہ کے خوف سے اس کے اندر کپکپی پیدا ہو— جب آدمی اِس نفسیاتی حالت کو پہنچتا ہے، اُسی وقت وہ اِس قابل بنتا ہے کہ وہ اللہ کی نعمتوں پر ایسا شکر ادا کرے جس میں اُس کے د ل کی دھڑکنیں شامل ہوں، وہ ایسے تقویٰ کا تجربہ کرے جو اُس کے بدن کے رونگٹے کھڑے کردے، وہ اللہ کو ایک ایسے بڑے کی حیثیت سے پائے جس میں اس کا اپنا وجود بالکل چھوٹا ہوگیاہو۔
رمضان کا مہینہ وہ مہینہ ہے جس میں قرآن اتارا گیا۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ روزہ اور قرآن کے درمیان گہرا تعلق ہے، وہ تعلق یہ ہے کہ قرآن اپنے ماننے والوںکو ایک مشن دیتا ہے، دعوت الی اللہ کا مشن ۔ اِس دعوتی مشن کو کامیابی کے ساتھ چلانے کے لیے صبر وتحمل کی لازمی طورپر ضرورت ہے۔ روزہ اِسی صبر کی تربیت کا ذریعہ ہے۔ حدیث میں آیا ہے کہ — رمضان کا مہینہ صبر کا مہینہ ہے (ہوشہر الصبر، البیہقی، جلد 2، صفحہ 305)۔ دعوت الی اللہ کا مشن صرف وہی لوگ کامیابی کے ساتھ چلاسکتے ہیں جواس کو یک طرفہ صبر کے ساتھ چلانے کے لیے تیار ہوں۔ روزہ آدمی کے اندر اِسی یک طرفہ صبر کی صلاحیت پیدا کرتا ہے۔ اِس طرح، روزے کا تربیتی مہینہ آدمی کو اِس قابل بناتا ہے کہ وہ صبر وتحمل کے ساتھ دعوت الی اللہ کے مشن کو چلائے اور اس کو کامیابی کی منزل تک پہنچا سکے۔
واپس اوپر جائیں

روزہ :اسلام کا ایک رُکن

حضرت عبد اللہ بن عمر سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بُنی الإسلام علی خمس: شہادۃِ أن لا إلٰہ إلاّ اللّٰہ وأن محمداً عبدُہ ورسولُہ، وإقام الصلاۃِ وإیتاء الزکاۃ والحجّ وصوم رمضان (صحیح البخاری، کتاب الإیمان، باب: الإیمان) یعنی پانچ چیزیں اسلام کی بنیاد ہیں— اِس بات کی گواہی دینا کہ اللہ کے سوا کوئی الٰہ نہیں اور یہ کہ محمد، اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں، اور نماز قائم کرنا، اور زکات ادا کرنا، اور حج کرنا، اور رمضان کے روزے رکھنا۔
اِس حدیث میں پانچ چیزوں کو اسلام کی بنیاد قرار دیا گیا ہے۔ پہلی چیز کلمۂ شہادت ہے جو اسلام کے اعتقادی رکن کی حیثیت رکھتاہے۔ دوسری چیز ہے، نماز کو قائم کرنا۔ تیسری چیز ہے، اپنے مال میں سے زکات دینا۔ چوتھی چیز ہے، حج ادا کرنا۔ اور پانچویں چیز ہے، رمضان کے مہینے کے روزے رکھنا۔
اسلام کو اگر ایک عمارت سے تشبیہہدی جائے تو اِس عمارت کی بنیاد پانچ چیزوں پر قائم ہے۔ اِن میں سے ایک روزہ ہے۔ روزے کی حقیقت صبر ہے۔ روزے کا مقصد آدمی کے اندر صبر وتحمل کی استعداد پیدا کرنا ہے۔ صبر اسلامی زندگی کی لازمی ضرورت ہے۔ صبر کے بغیر کوئی شخص اسلام پر قائم نہیں رہ سکتا— نفس کی خواہشوں کے مقابلے میں صبر، شیطان کے بہکاوے کے مقابلے میں صبر، لوگوں کی ایذاؤں کے مقابلے میں صبر، جان ومال کے نقصان کے مقابلے میں صبر، ناخوش گوار تجربات کے مقابلے میں صبر، محرومی کے واقعات پر صبر، مصیبتوں کے مقابلے میں صبر، وغیرہ۔
موجودہ دنیا میں ہر آدمی کو بار بار منفی تجربات پیش آتے ہیں۔ ایسی حالت میں مثبت نفسیات کے ساتھ دنیا میں رہنا صرف اُس انسان کے لیے ممکن ہے جو صبر کے ساتھ دنیا میں رہنے کے لیے تیار ہو۔ روزہ اِسی صبر کی تربیت ہے۔ سچا روزہ آدمی کو اِس قابل بناتا ہے کہ وہ ناخوش گوار واقعات سے غیرمتاثر رہ کر زندگی گزارے، وہ منفی تجربات کے باوجود مثبت سوچ (positive thinking)پر قائم رہے۔ صبر آدمی کو حوصلہ مند بناتا ہے۔ اور روزہ اِسی قسم کی حوصلہ مندانہ زندگی کی تربیت ہے۔
واپس اوپر جائیں

روزہ کی حقیقت

روزہ کے لیے عربی لفظ صوم ہے۔ صوم کے معنیٰ ہیں، رُکنا(abstinance)۔ زندگی میں صرف اقدام کی اہمیت نہیںہوتی، بلکہ رُکنا بھی زندگی میںایک بے حد اہم پالیسی کی حیثیت رکھتا ہے۔ اقدام اگر خارجی توسیع کی علامت ہے تو رُکنا داخلی استحکام کی علامت۔ اور زندگی کی حقیقی تعمیر کے لیے بلا شبہہ دونوں ہی یکساں طورپر ضروری ہیں۔
مشہور صحابی خالد بن الولید کو پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے سیف اللہ کا لقب عطا کیا تھا۔ تاریخ بتاتی ہے کہ پیغمبر اسلام نے خالد بن الولید کو یہ لقب کسی اقدام یا جنگی پیش قدمی پر نہیں دیا تھا، بلکہ آپ نے سیف اللہ کا لقب اُنھیں اُس وقت دیا تھا جب کہ غزوۂ مُوتہ (8 ہجری) کے موقع پر انھوں نے یک طرفہ طورپر اپنی تلوار میان میں رکھ لی تھی اور تمام صحابہ کو جنگ کے میدان سے ہٹا کر مدینہ واپس آگئے تھے۔
روزہ اس بات کا سبق ہے کہ تم چند دنوں کے لیے کھانا چھوڑ دو، تاکہ تم بقیہ دنوں میں زیادہ اچھے کھانے والے بنو۔ تم چند دنوں کے لیے اپنی سرگرمیوں کو داخلی تعمیر کے محاذ پر لگا دو، تاکہ اس کے بعد تم زیادہ بہتر طورپر خارجی سرگرمی کے قابل بن جاؤ۔ چند دنوں کے لئے تم اپنے بولنے پر پابندی لگا لو، تاکہ اس کے بعد تم زیادہ بہتر بولنے والے بن سکو۔ چند دنوں کے لیے تم اپنے مقام پر ٹھہر جاؤ، تاکہ اس کے بعد تم کامیاب پیش قدمی کے قابل بن سکو۔
روزے کا مہینہ مومن کے لیے تیاری کا مہینہ ہے— اپنی سوچ کے معیار کو بلند کرنا، اپنی عبادت میںتقویٰ کی اسپرٹ بڑھانا ، اپنی روحانیت میںاضافہ کرکے زیادہ سے زیادہ اللہ کی قربت حاصل کرنا، بھوک اور سیری کا تجربہ کرکے اپنے اندر شکر کا احساس جگانا، مادی مشغولیت کو کم کرکے آخرت کی طرف زیادہ سے زیادہ متوجہ ہونا، خارجی سفر کو روک کر داخلی سفر کی طرف رواں ہونا، ایک مہینے کے تربیتی کورس سے گزر کر پورے ایک سال کے لیے شکر و تقویٰ کی غذا حاصل کر لینا، وغیرہ۔یہی روزے کا مقصد ہے اوریہی روزے کی مقبولیت کا اصل معیاربھی۔
واپس اوپر جائیں

ایمان اور احتساب

حضرت ابو ہریرہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مَن صام رمضان إیماناً واحتساباً، غُفِر لہ ما تقدم من ذنبہ، ومن قام رمضان إیماناً واحتساباً غُفرلہ ما تقدم من ذنبہ۔ ومن قام لیلۃَ الْقدر إیمانًا واحتسابًا غُفر لہ ما تقدم من ذنبہ(صحیح البخاری، کتاب الصوم، باب: من صام رمضان) یعنی جس نے ایمان اور احتساب کے ساتھ رمضان کے روزے رکھے، اس کے پچھلے گناہ معاف کردیے جائیں گے۔ جس نے رمضان کے مہینے میں ایمان اور احتساب کے ساتھ قیامِ لیل کیا، اس کے پچھلے گناہ معاف کردیے جائیں گے۔ اور جس نے شب ِ قدر میںایمان اور احتساب کے ساتھ قیام کیا، اس کے پچھلے گناہ معاف کردیے جائیں گے۔
اِس حدیث میں رمضان کی تین عبادتوں کا ذکر ہے۔ تینوں کے ساتھ حدیث میں ’ایمان‘ اور ’احتساب‘ کے الفاظ آئے ہیں۔ ایمان سے مراد اللہ پر عارفانہ یقین ہے۔ اور احتساب (anticipation of God’s reward)سے مراد خالص رضائِ الہی کے حصول اور طلب اجر کی نیت سے عمل کرنا ہے(طلب الأجر من اللہ تعالیٰ، لا لقصد اٰخر من ریاء أو نحوہ)۔ دوسرے لفظوں میں یہ کہ روزہ اور دوسری عبادات کو صرف اس کے ظاہری فارم (form) کے اعتبار سے نہ کرنا، بلکہ اس کی سچی روح (spirit) کے ساتھ اس کو انجام دینا۔
ایمان اور احتساب کے ساتھ ادا کیا جانے والا یہ روزہ اور عبادت وہ ہے جس میں بندہ گویا کہ آنسوؤں سے وضو کرتا ہے، جس میں بھوک کا مطلب یہ ہوتا ہے، گویا کہ آدمی نے اپنے اور اللہ کے درمیان سے ہر دوسری چیز کو ہٹا دیا ہے، جس میں رکوع اور سجدہ خدا کی موجودگی (presence of God) کا تجربہ کرنے کے ہم معنیٰ ہوتا ہے، جس میںانسان الہامی الفاظ میں دعا کرنے لگتا ہے— جو شخص اِن اعلیٰ ربانی کیفیات کے ساتھ روزہ اور عبادت کا تجربہ کرے، وہی وہ انسان ہے جو رمضان کے مہینے سے اِس طرح نکلتا ہے کہ اس کے تمام گناہ معاف ہوچکے ہوتے ہیں۔
واپس اوپر جائیں

روزہ :عجز کی تربیت

قرآن میں بتایا گیا ہے کہ روزہ تمھارے اوپر اس لیے فرض کیا گیا، تاکہ تمھارے اندر خدا کا ڈر پیدا ہو (البقرۃ: 183) خدا سے ڈرنا کیا ہے۔ خدا سے ڈرنے کا مطلب یہ ہے کہ آدمی خدا کی عظمت کے مقابلے میں اپنے عجز کا اعتراف کرے۔
حقیقت یہ ہے کہ عجز کا اعتراف ہی ایمان کا آغاز ہے۔ جب کسی آدمی کو خدا کی معرفت حاصل ہوتی ہے تو اُس کے اندر سب سے زیادہ جو احساس پیدا ہوتا ہے، وہ یہی عجز ہے۔ خدا پر ایمان در اصل خدا کی بے پناہ عظمت کو دریافت کرنا ہے۔ اور جو آدمی خدا کی بے پناہ عظمت کو دریافت کرے، اس کا حال یہ ہوگا کہ وہ عجز کے احساس میں ڈوب جائے گا۔ اُس کے اندر جو سب سے بڑی صفت پیدا ہوگی، وہ یہی عجز کی صفت ہے۔
ایمان، خدا کی معرفت کا دوسرا نام ہے، اُس خدا کی معرفت جو اتھاہ کائنات کا خالق و مالک ہے، جو حیرت ناک قدرت کے ساتھ اس اتھاہ کائنات کو کنٹرول کررہا ہے۔ یہ شعور جس عورت یا مرد کے اندر پیدا ہو جائے، اُس کا حال یہی ہوگا کہ اس کو تمام عظمتیںخدا کی طرف دکھائی دیں گی اور اپنی طرف اس کو عجز کے سوا کچھ اور دکھائی نہ دے گا۔
عجز سادہ طور پر صرف ایک احساس کا نام نہیں ہے، عجز کسی انسان کی زندگی میں سب سے بڑی قوتِ محرکہ (motivational force)ہے۔ عجز آدمی کی پوری شخصیت میں ایک بھونچال پیدا کرنے کا سبب بن جاتا ہے۔ عجز آدمی کے ذہن و فکر میں کامل انقلاب برپاکردیتا ہے۔
عجز کے احساس کاتعلق خدا سے ہے، مگر جب کسی آدمی کے اندر حقیقی معنوں میں عجز کا احساس پیدا ہوجائے تو انسانی تعلقات میں بھی اس کا اظہار ہونے لگتا ہے۔ جو آدمی اپنے آپ کو خدا کے سامنے عاجز بناتا ہے، وہ اپنی اسی اسپرٹ کے تحت انسانوں کے سامنے متواضع (modest)بن جاتا ہے۔عجز، خدا کی نسبت سے عجز ہے اور انسان کی نسبت سے تواضع۔
واپس اوپر جائیں

روزہ کی عظمت

حضرت ابوہریرہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے روزہ کے بارے میں فرمایا: کل عمل ابن آدم یضاعف الحسنۃ بعشر أمثالھا إلی سبع مأۃ ضعف، قال اﷲ تعالیٰ: إلا الصوم، فإنہ لی وأنا أجزی بہ، یدع شہوتہ وطعامہ من أجلی، للصائم فرحتان: فرحۃ عند فطرہ، و فرحۃ عند لقاء ربہ، و لخُلوف فم الصائم أطیب عند اﷲ من ریح المسک، والصیام جُنۃ، و إذا کان یوم صوم أحدکم فلا یرفُث و لایصخَب، فإن سابّہ أحد أو قاتلہ فلیقل: إنی امرؤ صائم (صحیح مسلم، کتاب الصّیام، باب: فضل الصیام)۔
انسان کے ہر عمل کی نیکی دس گنا سے سات سو گنا تک بڑھائی جاتی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ مگر روزہ، پس وہ میرے لئے ہے اور میں ہی اس کا بدلہ دوں گا۔ روزہ دار میرے لئے اپنی شہوت کو اور اپنے کھانے کو چھوڑتا ہے۔ روزہ دار کے لیے دو خوشیاں ہیں۔ ایک خوشی اس کے افطارکے وقت، اور ایک خوشی اپنے رب سے ملاقات کے وقت۔ اور روزہ دار کے منہ سے نکلنے والی بو اللہ کے نزدیک مشک کی خوشبو سے بھی زیادہ بہتر ہے۔ اور روزہ ڈھال ہے۔ جب تم میں سے کسی کے روزے کا دن ہو تو وہ نہ بد گوئی کرے اور نہ جھگڑا کرے۔ اگر کوئی شخص اس کو گالی دے یا اس سے لڑائی کرے تو وہ کہہ دے کہ میں روزے دار ہوں۔
یہ روایت صحیحین میں اور حدیث کی دوسری کتابوں میں آئی ہے۔اس سلسلے میں پہلا سوال یہ ہے کہ روزہ اللہ کے لئے ہے، اس کا مطلب کیا ہے۔ اس کا جواب قرآن سے معلوم ہوتا ہے۔ قرآن میں روزہ کا حکم دیتے ہوئے ارشاد ہوا ہے: رمضان کا مہینہ جس میں قرآن اتارا گیا، ہدایت ہے لوگوں کے لیے اور کھلی نشانیاں راستہ کی اور حق و باطل کے درمیان فیصلہ کرنے والا۔ پس تم میں سے جو کوئی اس مہینہ کو پائے وہ اس کے روزے رکھے (البقرۃ: 185)۔ اس کے مطابق، نزول قرآن کے مہینہ میں روزہ رکھنے کا حکم اس لیے دیا گیا کہ لوگ خصوصی تربیت کے ذریعہ اپنے آپ کو تیار کریں کہ وہ قرآن کے حامل اور مبلغ بن سکیں۔
قرآن کو تمام لوگوں تک پہنچانا کوئی آسان کام نہیں۔ اس کے لیے ایسے انسان درکار ہیں جو اپنی ذات کے لئے جینے والے نہ ہوں، بلکہ وہ تمام تر اللہ کے لیے جینے والے ہوں۔ جن میں یہ حوصلہ ہو کہ وہ ایک ربانی مشن کے لئے اپنی خواہشات پرر وک لگادیں۔ جو پر رونق زندگی کے بجائے خشک زندگی پر راضی ہوجائیں۔ جن کے اندر یہ برداشت ہو کہ وہ لوگوں کی منفی باتوں کا بھی مثبت جواب دے سکیں۔ جو شعوری اعتبار سے اتنا بلند ہوں کہ لوگوں کی مخالفتیں ان کو قرآنی مشن سے ہٹانے میں کامیاب نہ ہوسکیں۔
قرآن کے پیغام ہدایت کو اللہ کے تمام بندوں تک پہنچانا خالص اللہ کا کام ہے۔ اس میں کسی قسم کا کوئی دنیوی فائدہ نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اللہ نے اس کو صرف اپنا کام قرار دیا اور اس پر خصوصی انعام کا اعلان فرمایا۔
جو لوگ قرآن کا علم حاصل کریں، وہ اپنے اندر داعیانہ کردار پیدا کریں، وہ قرآن کے پیغام کو لوگوں کے لیے قابلِ قبول بنانے میں اپنی ساری کوشش صرف کر ڈالیں ، جو یک طرفہ طورپر اس ذمہ داری کو قبول کریں کہ انھیں ہر قسم کی ناخوش گواریوں کو برداشت کرنا ہے، تا کہ اللہ کا پیغام لوگوں کے لیے قابل قبول ہو سکے، حتی کہ اس مقصد کے لیے وہ بھوک اور پیاس کی مشقت برداشت کرنے کے لیے راضی ہو جائیںـــایسے لوگ اللہ کے خاص بندے ہیں، وہ اس کے مستحق ہیں کہ اللہ اُن پر اپنی خصوصی نوازشوں کی بارش کرے۔
روزے دار کا اللہ کے لیے اپنی خواہشوں کو چھوڑنا یہ ہے کہ وہ ذاتی کامیابی کے بجائے اللہ کے دعوتی مشن کو اپنا مقصد بنائے۔ وہ خدا کی کتاب کے نزول کے مہینہ میں خصوصی تربیتی کورس کے ذریعہ اپنے آپ کو اس کے لئے تیار کرے کہ وہ خدا کے پیغام کو تمام انسانوں تک پہنچائے گا۔ وہ قرآن کی دعوت وتبلیغ کو اپنی زندگی کا مشن بنائے گا، نہ کہ ذاتی مفاد کے حصول کو۔ اس کی زندگی کا مرکز و محور قرآن ہوگا اور صرف قرآن۔
واپس اوپر جائیں

صبر کا مہینہ

حضرت سلمان فارسی کی ایک روایت حدیث کی کتابوںمیں آئی ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ— شعبان کے مہنیے کے آخری دن، رسول اللہ ﷺنے ہم کو خطاب فرمایا۔ یہ ایک تفصیلی حدیث ہے۔ اس کے کچھ حصے یہ ہیں: یا أیہا الناس، قد أظلّکم شہرٌ عظیمٌ، شہرٌ مبارکٌ، شہرٌ فیہ لیلۃٌ خیر من ألف شہر، جعل اللہ صیامہ فریضۃً وقیام لیلہ تطوّعا… ہو شہر الصبر، والصبرثوابُہ الجنّۃ (رواہ البیہقی فی شعب الإیمان، جلد2 ، صفحہ 305 ) یعنی اے لوگو، ایک عظیم مہینہ تمھارے اوپر سایہ فگن ہورہا ہے۔ یہ ایک بابرکت مہینہ ہے۔ اللہ نے اِس مہینے کے روزے کو فرض قرار دیا ہے اور اِس مہینے کی رات می ںقیام کو تطوع قرار دیا ہے…رمضان کا مہینہ صبر کا مہینہ ہے۔ اور صبر کا بدلہ جنت ہے۔
’’صبر کا مہینہ‘‘ کا مطلب ہے — مشقت کا مہینہ۔ رمضان کے مہینے میں آدمی کو اپنے معمولات کو توڑنا پڑتا ہے۔ اس کو یہ کرنا پڑتا ہے کہ وہ پیاس کے باوجود پانی نہ پئے، اور بھوک کے باوجود کھانا نہ کھائے، وہ اپنی خواہشات (desires) کو کنٹرول میں رکھے۔ رمضان کو اگر درست طور پر گزارا جائے توپورا کا پورا مہینہ مشقتوں کا مہینہ بن جائے گا۔ سچے روزہ دار کے لیے رمضان کا مہینہ مسلسل صبر کا مہینہ ہے، دن کے اوقات میں بھی اور رات کے اوقات میں بھی۔
جو عمل صبر کی قیمت پر کیا جائے، وہ اللہ کے نزدیک سب سے زیادہ قیمتی عمل ہوتاہے۔ عام حالات میں انسان جو عمل کرتا ہے، اُس میںاُس کی شخصیت کا صرف جزئی حصہ شامل ہوتا ہے۔ لیکن جس عمل کو انجام دینے کے لیے صبر کرنا پڑے، اُس میں آدمی کی پوری شخصیت فعّال (active)طورپر شامل ہوجاتی ہے۔ یہی فرق ہے جس کی بنا پر ایسا ہوتا ہے کہ عام عمل کے مقابلے میں، صابرانہ عمل کی اہمیت بہت زیادہ بڑھ جاتی ہے اور اس بنا پر اُس کی جزا بھی۔ رمضان کو پانے والا وہ ہے جس کے لیے رمضان کا مہینہ حقیقی معنوںمیں صابرانہ زندگی کی تیاری کا مہینہ بن جائے، ایسی صابرانہ زندگی جو پورے سال کے لیے آدمی کو صبر کے راستے پر قائم رکھنے والی بن جائے۔
واپس اوپر جائیں

روزہ اور انسانی ہمدردی

حضرت سلمان فارسی سے ایک طویل روایت آئی ہے۔ اِس روایت میں رمضان کے بارے میں رسول اللہ ﷺ کے یہ الفاظ آئے ہیں: ہو شہر المواساۃ (رواہ البیہقی فی شعب الإیمان، باب فی الصیام، فصل فی فضائل شہر رمضان) یعنی رمضان کا مہینہ انسانی ہمدردی کا مہینہ ہے۔
مذکورہ حدیثِ رسول میں رمضان کو مواسات (philanthropy) کا مہینہ کہا گیاہے۔ مواسات کا مطلب یہ ہے کہ انسان کے ساتھ مالی، یا غیر مالی مدد کا معاملہ کیا جائے۔ اِس کے لیے قرآن میں ’مَرحمۃ‘ (البلد: 17 ) کا لفظ آیا ہے۔ مرحمہ کے معنیٰ بھی تقریباً وہی ہیں جو مواسات کے معنی ہیں، یعنی انسان کے ساتھ ہمدردی اور مہربانی کا معاملہ کرنا (الرحمۃُ علی الخَلق) ۔ مواسات ایک اخلاقی فریضہ ہے جو ہمیشہ اور ہر حال میں اہلِ ایمان سے مطلوب ہوتا ہے، لیکن رمضان کے مہینے میں اِس اخلاقی ذمے داری کی اہمیت بہت زیادہ بڑھ جاتی ہے۔
رمضان کے مہینے میںروزہ رکھنے کا ایک پہلو یہ ہے کہ وہ لوگوں کے اندر انسانی ہمدردی کے احساس کو جگاتا ہے۔ روزہ گویا کہ اُس محتاجی کی حالت کو اختیاری طورپر اپنے اوپر طاری کرناہے جو دوسروں کے ساتھ مجبورانہ طورپر پیش آتی ہے۔ اِس طرح، روزہ یہ کرتا ہے کہ وہ ایک اخلاقی ذمّے داری کو روزے دار کے لیے اُس کا ایک ذاتی تجربہ بنا دیتاہے۔ اِس ذاتی تجربے کی بنا پر وہ زیادہ گہرائی کے ساتھ انسانی ہمدردی کے معاملے کو سمجھتا ہے اور اُس پر عمل کرنے کے لیے کھڑا ہوجاتا ہے۔
روزہ ایک طرف، انسان کے اندر اللہ سے تعلق کو بڑھاتا ہے، اور دوسری طرف، وہ روزے دار کے اندر انسانی خدمت کا جذبہ مزید اضافے کے ساتھ پیدا کرنے کا سبب بنتا ہے۔ رمضان کے مہینے کے بعد انسان زیادہ بہتر طورپر خدا کا عبادت گزار بن جاتا ہے اور اِسی کے ساتھ وہ زیادہ بہتر طورپر انسان کا خدمت گزار بھی۔روزہ ایک اعتبار سے، عبادت ِ خداندی کا تجربہ ہے اور دوسرے اعتبار سے، خدمتِ انسانی کی تربیت کا ذریعہ۔
واپس اوپر جائیں

روزہ اور دعا

قرآن کی سورہ نمبر 2 میں اللہ تعالیٰ نے دعا کے متعلق ارشاد فرمایا ہے: وإذا سألک عبادی عنّی فإنی قریب ، أجیب دعوۃ الدّاع إذا دعانِ فلیستجیبوا لی ولیؤمنوا بی لعلہم یرشد ون (البقرۃ: 186 )۔ یعنی جب میرے بندے تم سے میرے متعلق پوچھیں، تو میں نزدیک ہوں، پکارنے والے کی پکار کا جواب دیتا ہوں، جب کہ وہ مجھے پکارتا ہے۔ تو چاہیے کہ وہ میرا حکم مانیں اور مجھ پر یقین رکھیں، تاکہ وہ ہدایت پائیں۔
دعا کسی قسم کے متعین الفاظ کو دہرانے کا نام نہیں، دعادراصل دل کی پکار کا نام ہے۔ جب کسی انسان کے دل میں اعلیٰ ربانی جذبات پیدا ہوں اور وہ دل کی گہرائیوں کے ساتھ اللہ کو پکارنے لگے، تو یہی وہ چیز ہے جس کو اسلام میں دعا کہاگیا ہے۔ اِس قسم کی دعا اُس انسان کے اندر سے نکلتی ہے جو دل شکستگی کے تجربے سے دوچار ہو۔ اور روزے کی مشقت آدمی کو اِسی دل شکستگی کا تجربہ کراتی ہے۔ اِس طرح ، آدمی اِس قابل ہوجاتا ہے کہ وہ مطلوب نوعیت کی سچی دعا کرسکے۔حقیقی دعا وہ ہے جس میں عجز کا تجربہ شامل ہوجائے۔
خدا، انسان کے بالکل قریب ہے۔ وہ ہر لمحہ انسان کے قریب رہتا ہے، لیکن اِس قربتِ الہٰی کاتجربہ صرف اُس انسان کو ہوتا ہے جو عاجزانہ روح کے ساتھ اللہ کو پکارے۔ حقیقی روزہ آدمی کو اِسی عجز اور عبدیت کا تجربہ کراتا ہے۔ اِس طرح، سچا روزہ آدمی کو اِس قابل بناتا ہے کہ وہ خدا کی قربت کا تجربہ کرے، وہحقیقی معنوں میں خداسے دعا کرنے والا بن جائے۔
سچی دعا وہ ہے جس کے ساتھ سچا عمل شامل ہو۔ سچے عمل سے مراد مطابقِ دعا عمل ہے۔ سچی دعا اور سچے عمل کو ایک دوسرے سے جدا نہیں کیا جاسکتا ۔ جس آدمی کو خدا کی سچی قربت ملے، وہ یقینا ایک باعمل انسان بن جائے گا۔ اور باعمل انسان ہی وہ انسان ہے جس کی دعا اللہ تک پہنچتی ہے اور قبولیت کا درجہ حاصل کرتی ہے۔ جس دعا کے ساتھ مطابقِ دعا عمل شامل نہ ہو، وہ دعا قابلِ رد ہے، نہ کہ قابلِ قبول۔
واپس اوپر جائیں

لامحدود اجر

حضرت ابو ہریرہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کلُّ عمل ابن آدم یضاعف الحسنۃُ بعشر أمثالہا إلی سبع مأۃ ضِعْف، قال اللہ تعالی: إلاّ الصوم، فإنہ لی وأنا أَجزی بہ، یَدَع شہوتہ وطعامَہ من أجلی (صحیح مسلم، کتاب الصیام، باب: فضل الصیام) یعنی انسان کے ہر عمل کا اجر، دس گُنا سے لے کر سات سوگنا تک بڑھایا جاتا ہے۔ اللہ تعالی نے فرمایا: سوائے روزہ کے، کیوں کہ وہ میرے لیے ہے اور میں ہی اس کا اجر دوں گا۔ بندہ اپنی خواہش کو اور اپنے کھانے کو میرے لیے چھوڑتا ہے۔
انسان جب کوئی صالح عمل کرتا ہے، تو اللہ کی رحمت کا تقاضا ہوتا ہے کہ اُس کے عمل کا اجر اُس کو زیادہ بڑھا کر دیا جائے۔ عام حالات میںآدمی کے اجر میں یہ اضافہ دس گنا سے سات سو گنا تک ہوتا ہے، لیکن روزہ ایک ایسا عمل ہے جس کا اجر ایک سچے روزے دار کو بے حساب گنا اضافے کے ساتھ دیا جاتا ہے۔
صالحعمل کی دو قسمیں ہیں۔ ایک، وہ جو نارمل حالت میں کیا جائے۔ مثلاً معمول کے مطابق، پانچ وقت کی نماز ادا کرنا، یا سال پورا ہونے پر اپنے مال میں سے زکات نکالنا۔ ذی الحجہ کا مہینہ آنے پر حج کی عبادت کو انجام دینا، وغیرہ۔ یہ عبادتیں وہ ہیں جو معمول کے حالات میں ادا کی جاتی ہیں۔ اِن پر بھی بلا شبہہ اجر ملتا ہے، لیکن ان کا اجر،اضافے کے باوجود، ایک محدود اجر ہوتا ہے، نہ کہ لامحدود اجر۔
عبادت کی دوسری قسم وہ ہے جو غیر معمولی حالات میں ادا کی جاتی ہے۔ یہ وہ عبادت ہے جس میں انسان کو ایک قسم کے بھونچال سے دوچار ہونا پڑتا ہے، جس میںآدمی کو خود اپنے خلاف جہاد کرنا پڑتا ہے، جس میں آدمی کو اپنی خواہشوں (desires)سے لڑ کر آگے بڑھنا پڑتا ہے، یہ وہ عبادت ہے جو قربانی (sacrifice) کی سطح پر ادا کی جاتی ہے۔ پہلی قسم کی عبادت اگر ہموار راستے کا سفر ہے، تو دوسری قسم کی عبادت پہاڑ کی چڑھائی کے ہم معنیٰ۔ یہی وہ فرق ہے جس کی بنا پر دوسری قسم کی عبادت کا اجر پہلی قسم کی عبادت کے مقابلے میں، بہت زیادہ بڑھ جاتا ہے۔ایک، معمول کی عبادت ہے اور دوسری، غیر معمولی حالات میں کی ہوئی عبادت۔
واپس اوپر جائیں

موافقِ اصلاح ماحول

حضرت ابوہریرہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: إذا کان أوّلُ لیلۃٍ من شہر رمضان، صُفّدت الشیاطینُ ومَرَدۃُ الجنّ، وغُلّقت أبواب النّار فلم یُفتح منہا بابٌ۔ وفُتحت أبواب الجنّۃ فلم یُغلق منہا باب۔ وینادی مُنادٍ: یا باغیَ الخیرِ أقبِلْ، ویا باغی الشرّ أقصِرْ۔ وللّٰہ عُتقاء من النار، وذلک کلّ لیلۃ ( الترمذی،کتاب الصوم، باب: فضل شہر رمضان) یعنی جب رمضان کے مہینے کی پہلی رات آتی ہے، تو شیاطین اور بھٹکانے والے سرکش جن قید کردیے جاتے ہیں، اور جہنم کے دروازے بند کردیے جاتے ہیں، اس کا کوئی دروازہ کھلا نہیں رہتا۔ جنت کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں، اُس کا کوئی دروازہ بند نہیں کیا جاتا۔ ایک پکارنے والا پکارتا ہے کہ — اے خیر کے طالب، آگے بڑھ اور اے شر کے طالب، رک جا۔ اور اللہ لوگوں کو جہنم سے بَری کرتاہے، اور ایسا ہر رات کو ہوتا ہے۔
اِس حدیث میں ایک مخصوص اسلوب میں یہ بات بتائی گئی ہے کہ رمضان کا مہینہ اپنے اعمال کے اعتبارسے، روزے داروں کے لیے ایک موافقِ اصلاح ماحول پیدا کرتاہے۔ جو لوگ اِس ماحول سے حقیقی معنوں میں فائدہ اٹھائیں، وہ اللہ کی رحمت کے نتیجے میں جنت سے قریب ہوجائیں گے اور وہ جہنم سے دور ہوجائیں گے۔ ان کے اندر ایسی شخصیت کی تعمیر ہوگی جو اُن کے لیے رمضان کی برکتوں کے حصول کا ذریعہ بن جائے گی۔
رمضان میںزیادہ سے زیادہ، قرآن کا چرچا ہوتاہے۔ رمضان میں، اللہ کے ذکر اور اللہ کی عبادت میںاضافہ ہوجاتا ہے۔ رمضان کے مہینے میں کم کھانا، کم سونا، مادّی چیزوں میںکم سے کم مشغول ہونا، اِس قسم کی چیزیں رمضان میں بڑے پیمانے پردین کے موافق ماحول پیدا کردیتی ہیں۔ اِس ماحول کا حقیقی فائدہ اُن لوگوں کے حصے میں آتا ہے جو اِس موقع کو اپنی اصلاح کے لیے استعمال کریں۔رمضان کا یہ فائدہ کسی کو اپنی استعداد کی بنیاد پر ملتا ہے، نہ کہ کسی مہینے کی پُراسرار فضیلت کی بنیاد پر۔
واپس اوپر جائیں

روزہ اور اخلاقی ڈسپلن

حضرت ابوہریرہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: إذا کان یومُ صومِ أحدکم فلا یرفُث، ولا یَصخَب، فإن سابَّہ أحدٌ أوقاتلہ فلیقل: إنّی امرئٌ صائم(البخاری، کتاب الصوم) یعنی جب تم میں سے کسی شخص کے روزے کا دن ہو تو وہ بے ہودہ گوئی نہ کرے اورنہ شور کرے۔ اگر کوئی شخص اس کو گالی دے، یا اُس سے لڑائی کرے تو وہ کہہ دے کہ میںایک روزے دار آدمی ہوں۔
اِس حدیثِ رسول سے معلوم ہوتا ہے کہ روزہ صرف کھانا اور پینا چھوڑ دینے کا نام نہیں ہے، بلکہ روزے کا تقاضا یہ بھی ہے کہ آدمی بُرے اخلاق کوچھوڑ دے، وہ کسی معاملے میں شور و غل کا طریقہ اختیار نہ کرے۔ یہاں تک کہ اگر دوسرا شخص اُس کو اشتعال دلائے، تب بھی وہ ایسا نہ کرے کہ وہ مشتعل ہو کر خود بھی وہی کرنے لگے جو دوسرا شخص اس کے خلاف کررہا ہے۔
اِس سے اندازہ ہوتا ہے کہ روزہ صرف ایک رسمی عمل کا نام نہیں ہے، بلکہ روزے کا مقصد آدمی کے اندر گہری اسپرٹ پیدا کرنا ہے، ایسی اسپرٹ جو اس کی سوچ کو بدل دے، جو اس کے مزاج میں تبدیلی پیداکردے، جو اس کے کردار میںانقلاب برپاکردے ۔ سچاروزے دار وہ ہے جس کا روزہ اس کی پوری شخصیت کو ربانی شخصیت بنادے۔
سچا روزہ انسان کو آخری حد تک ایک سنجیدہ انسان بنا دیتا ہے۔ اس کی زندگی کے ہر پہلو میں سنجیدگی کا رنگ غالب آجاتاہے۔ اس کا یہ مزاج اتنا گہرا ہوتا ہے کہ دوسروں کا اشتعال انگیز رویّہ بھی اس کو سنجیدگی کے راستے سے نہیں ہٹاتا۔ وہ سماج کا ایک پُر سکون ممبر (peaceful member)ہوتا ہے، وہ سماج میں لوگوں کے لیے کسی طرح کا کوئی پرابلم کھڑا کرنے کا سبب نہیں بنتا۔ سچا روزے دار ایک متواضع (modest)انسان ہوتا ہے، نہ کہ سرکش انسان۔سچا روزے دار اِس کا تحمل نہیں کرسکتا کہ وہ کھانے پینے کی چیزوں کو تو چھوڑے، لیکن وہ بُرے اخلاق کو نہ چھوڑے۔ وہ کھانے پینے کے معاملے میں اپنے معمول کو بدلے، لیکن وہ اپنی زندگی کی روش میں کوئی تبدیلی نہ کرے۔
واپس اوپر جائیں

رمضان میں خطاؤں کی معافی

حضرت ابو سعید الخدری سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مَنْ صام رمضان وعرَفَ حدودَہ، وتحفَّظَ مما کان ینبغی لہ أن یتحفّظ منہ، کُفّر ما قبلہ (مسند احمد، جلد 3 ، صفحہ 55 ) یعنی جس شخص نے رمضان کے روزے رکھے اور اُس کی حدود کو پہچانا، اور جن چیزوں سے بچنا ضروری تھا، اُس نے روزے میںاُن چیزوں سے اپنے آپ کو بچایا، تو ایسا روزہ اس کے لیے اس کی خطاؤں کی معافی کا ذریعہ بن جاتا ہے۔
رمضان کا مہینہ دراصل محاسبہ (introspection) کا مہینہ ہے۔ سچا روزہ، آدمی کے اندر محاسبہ کی نفسیات کو جگاتا ہے۔ وہ اپنے ماضی اور اپنے حال کا جائزہ لینے لگتا ہے۔ روزہ آدمی کے اندر مزید اضافے کے ساتھ یہ احساس بیدار کرتا ہے کہ وہ مرنے والا ہے اور مرنے کے بعد وہ خدا کے سامنے کھڑا ہونے والا ہے۔ اِس احساس کے تحت، وہ چاہنے لگتا ہے کہ وہ قیامت کی عدالت میں پیش ہونے سے پہلے اپنا حساب کرلے، تاکہ وہ آخرت میں خدا کی پکڑ سے بچ جائے۔
رمضان کے مہینے میں روزہ رکھنا، بلا شبہہ آدمی کی خطاؤں کی معافی کا ذریعہ ہے، مگر خطاؤں کی یہ معافی پُر اسرار طورپر خود بخود نہیں ہوتی، یہ اُس شعوری عمل کے ذریعے ہوتی ہے جس کو شریعت میں محاسبہ کہاگیا ہے۔ روزہ آدمی کے اندر شدت کے ساتھ محاسبہ کی نفسیات جگاتا ہے۔ آدمی ایک ایک کرکے اپنی خطاؤں کو یاد کرتا ہے اور اپنی تنہائیوں میں اُس پر وہ خدا سے معافی کی دعائیں کرتا ہے۔ یہ احساس اُس پر اتنی شدت کے ساتھ طاری ہوتاہے کہ اس کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگتے ہیں۔
دراصل روزے دار کے یہی آنسو ہیںجو خدا کی رحمت کے تحت، اُس کی خطاؤں کو دھودیتے ہیں۔ مذکورہ حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ خطاؤں کی معافی، کیفیات سے بھرے ہوئے روزے کا نتیجہ ہوتی ہے، نہ کہ سالانہ رسم کے طورپر بے روح روزے داری کا نتیجہ۔
واپس اوپر جائیں

اسپرٹ، نہ کہ فارم

حضرت انس بن مالک سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جاء ثلاثۃُ رَہْطٍ إلی بیوتِ أزواج النبیّ صلی اللہ علیہ وسلم یسألون عن عبادۃ النبیّ صلی اللّٰہ علیہ وسلم، فلمّا أُخبروا کأنہم تقالُّوہا۔ فقالوا: وأین نحن من النبیّ صلی اللّٰہ علیہ وسلم، قد غفر اللّٰہ لہ ما تقدم من ذنبہ وما تأخر۔ قال أحدُہم: أمّا أنا، فأُصلّی اللیلَ أبداً، وقال اٰخر: أنا أصوم الدہرَ ولا أُفْطِر، وقال اٰخر: أنا أعتزل النسائَ فلا أتزوّج أبداً، فجاء رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فقال: أنتم الّذین قلتم کذا وکذا، أما واللہ إنّی لأخشاکم للّٰہ وأتقاکم لہ، لٰکنّی أصوم وأفطر، وأصَلّی وأرقُد، وأتزوّج النساء، فمن رغب عن سنّتی فلیس منّی (صحیح البخاری، کتاب النکاح، باب: الترغیب فی النکاح) ۔
یعنی صحابہ میں سے تین شخص ازواجِ رسول کے گھر پر آئے۔ انھوںنے آپ کی ازواج سے آپ کی عبادت کے بارے میں پوچھا۔ جب اُن کو آپ کی عبادت کے بارے میں بتایا گیا، تو گویا کہ انھوںنے اس کو کم سمجھا۔ انھوں نے کہا کہ ہمارا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا کیا مقابلہ، اللہ نے آپ کی اگلی اور پچھلی خطاؤں کو بخش دیا ہے۔ اُن میں سے ایک نے کہا: میںتو اپنی رات کو ہمیشہ نماز پڑھنے میں گزاروں گا۔ دوسرے نے کہا: میںہمیشہ روزہ رکھوںگا۔ اور تیسرے نے کہا: میں ہمیشہ عورتوں سے دور رہوں گا اور کبھی نکاح نہیں کروں گا۔ اِسی دوران رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آگئے۔ آپ نے فرمایا: کیا تمھیں لوگوں نے ایسا اور ایسا کہا ہے۔ میں، خدا کی قسم، تم میں سب سے زیادہ خدا سے ڈرتا ہوں اور تم میں سب سے زیادہ خدا کا تقویٰ رکھنے والا ہوں، لیکن میں روزہ بھی رکھتا ہوں اور روزہ نہیں بھی رکھتا، اور میں قیامِ لیل بھی کرتا ہوں اور سوتا بھی ہوں، اور عورتوں سے نکاح بھی کرتا ہوں۔ پس جو میری سنت سے اعراض کرے، وہ مجھ سے نہیں۔
اِس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ عبادت کا تعلق کیفیت سے ہے، نہ کہ کمیت سے۔ یہی معاملہ روزے کا ہے۔ اللہ کے نزدیک اصل اہمیت روزے کی اسپرٹ کی ہے، نہ کہ اس کے ظاہری فارم کی۔
واپس اوپر جائیں

رحمتِ الٰہی کا مستحق کون

حضرت ابوہریرہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: إذا دخل شہرُ رمضان فُتحت أبواب السماء۔ وفی روایۃ: فُتحت أبواب الجنّۃ، وغُلّقت أبواب جہنّم، وسُلسِلت الشیاطین۔ وفی روایۃ: فُتحت أبواب الرحمۃ (صحیح البخاری، کتاب الصّوم، باب: ہل یُقال رمضان) یعنی جب رمضان کا مہینہ آتا ہے تو آسمان کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں۔ اور دوسری روایت میں یہ الفاظ ہیں کہ جنت کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں، اور جہنم کے دروازے بند کردیے جاتے ہیں، اور شیاطین کو قید کردیا جاتا ہے۔ ایک اور روایت میں یہ الفاظ ہیں کہ رحمت کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں۔
اِس حدیث میں جنت اور جہنم، یا شیاطین کی نسبت سے جو بات کہی گئی ہے،وہ دراصل تمثیل کی زبان (symbolic language) میں ہے۔ کلام کا اصل مقصود وہی ہے جس کو ’فتحت أبواب الرحمۃ‘ کے الفاظ میں بیان کیا گیا ہے، یعنی رحمت کے دروازوں کا کھل جانا، یا رحمتِ خداوندی کے حصول کے مواقع میںاضافہ ہوجانا۔
رمضان کے مہینے کے یہ فوائد جو اِس حدیث میں بیان کیے گئے ہیں، وہ پُراسرار طورپر خود بخود مل جانے والے فوائد نہیں ہیں، بلکہ وہ پوری طرح معلوم فوائد ہیں۔
اِس کا مطلب یہ ہے کہ رمضان کے مہینے میںاگر اس کی مطلوب اسپرٹ کے ساتھ روزہ رکھا جائے، تو ایسا روزہ آدمی کے لیے اُن فوائد کے حصول کا سبب بن جاتا ہے، جن کا ذکر مذکورہ حدیث میں کیا گیا ، یعنی ر وزے دار کے اندر اُن صفات کا پیدا ہونا جو اس کو خدا کی رحمت کا مستحق بنادیں۔ اس کے برعکس، جو لوگ صرف فارم کے اعتبار سے روزہ رکھیں، اُن کا روزہ اُس حدیثِ رسول کا مصداق ہے جس میں آپ نے فرمایا کہ— کچھ روزے دار وہ ہیں جن کو اپنے روزے سے بھوک اور پیاس کے سوا کچھ اور نہیں ملتا (کم من صائمٍ لیس لہ من صیامہ إلا الجوع والعطش۔النسائی، ابن ماجہ)۔
واپس اوپر جائیں

حلال سے روزہ، حرام سے اِفطار

حضرت انس بن مالک کہتے ہیںکہ دو عورتوں نے روزہ رکھا اور دونوں نے ایک ساتھ بیٹھ کر دوسروں کی غیبت کی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اُن کے بارے میں معلوم ہوا، تو آپ نے فرمایا: إنّہما لم یصوما، وکیف صام مَن ظلَّ ہذا الیوم یأکل لُحومَ الناس۔یعنی اُن دونوں نے روزہ نہیں رکھا۔ بھلااُس کاروزہ کیسے ہوگا جو روزہ رکھے اور غیبت کرکے لوگوں کا گوشت کھائے۔ ایک اور روایت میں رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے یہ الفاظ نقل ہوئے ہیں: إن ہاتَین صامتا عمّا أحلّ اللہ لہما وأفطرَتا علی ما حرّم اللّٰہ علیہما (مجمع الزوائد، کتاب الصیام، باب الغیبۃ للصائم) یعنی انھوں نے اُس چیز سے روزہ رکھا جو اللہ نے اُن کے لیے حلال کیا تھا، اور پھر انھوںنے اُس چیز سے افطار کرلیا جواللہ نے اُن کے لیے حرام کیا تھا۔
اِس حدیثِ رسول سے معلوم ہوتا ہے کہ روزے میں صرف یہ حرام نہیں ہے کہ آدمی دن کے اوقات میں کھانا کھالے اور پانی پی لے، اِس کے سوا بھی کچھ چیزیں حرام ہیں اور وہ روزے کو باطل کرنے والی ہیں۔ مثلاً دوسروں کی برائی بیان کرنا۔جو آدمی روزہ رکھے اور کھانے پینے کی چیزوںسے بچا رہے، لیکن اِسی کے ساتھ وہ دوسروں کی برائی بیان کرے، تو اُس کا روزہ مطلوب روزہ نہ ہوگا، اُس کا روزہ صرف بھوکا اور پیاسا رہنے کے ہم معنی ہوگا۔
روزہ توڑنے کی ایک شکل یہ ہے کہ آدمی روزہ رکھتے ہوئے جان بوجھ کر مادّی ممنوعات پر عمل کرنے کا ارتکاب کرے، مثلاً وہ کھانا کھالے، یا پانی پی لے۔ اِسی طرح، روحانی اور اخلاقی اعتبار سے بھی کچھ ممنوعات ہیں، مثلاً دوسروں کی بُرائی اور غیبت کرنا۔ اگر آدمی روزہ رکھ کر روحانی اور اخلاقی ممنوعات کا ارتکاب کرے، تو ایسے ارتکاب سے بھی اس کا روزہ باطل ہوجائے گا، بظاہر روزہ رکھ کر بھی وہ روزے کے ثواب سے محروم رہے گا۔روزہ غذائی پرہیزگاری کا نام بھی ہے، اور اخلاقی پرہیزگاری کا نام بھی۔ روزے میںاخلاقی پرہیزبھی اُسی طرح ضروری ہے، جس طرح غذائی پرہیز۔
واپس اوپر جائیں

حقیقت ِصوم

قرآن اور حدیث میں روزہ کے لیے صوم کا لفظ آیا ہے۔ صوم کے لفظی معنیٰ ہیں— رُکنا (abstinence) ، کسی چیز سے پرہیز کرنا۔ انسان جیسی مخلوق کے لیے اِس کی بے حد اہمیت ہے۔ انسان کا معاملہ ففٹی پرسنٹ رکنا ہے، اور ففٹی پرسنٹ کرنا۔ آدمی جب ایک غیر مطلوب چیز سے رکتا ہے، اُسی وقت وہ ایک مطلوب کام کو کرپاتا ہے۔ یہی وہ ضروری استعداد ہے جس کی تربیت انسان کو روزے کے ذریعے دی جاتی ہے۔
مثلاً توحید کو لیجیے۔ انسان جب غیر اللہ کو بڑا بنانے سے اپنے کو روکتا ہے، اُس کے بعد ہی اس کے لیے ممکن ہوتا ہے کہ وہ اللہ کو اپنا بڑا بنا سکے۔ ۔ انسان جب غیر پیغمبرانہ رہ نمائی کو چھوڑتا ہے، اس کے بعد ہی وہ پیغمبرانہ رہ نمائی کو قبول کرتا ہے۔ انسان جب قرآن کے سوا دوسری کتابوں کے غیر مستند ہونے کو دریافت کرتاہے، اس کے بعد ہی وہ قرآن کو مستند ہدایت نامہ کی حیثیت سے اختیار کرتا ہے۔
اِسی طرح، انسان جب شیطان کی صحبت کو ترک کرتا ہے، اس کے بعد ہی وہ اپنے آپ کو فرشتوں کی صحبت کے قابل بناتا ہے۔ انسان جب اپنی خواہش کی پیروی کو ترک کرتا ہے، اس کے بعد ہی وہ مرضیاتِ الہی کی پیروی کے قابل بنتا ہے۔ انسان جب اپنے اندر سے فخر وغرور کے مزاج کو ختم کرتا ہے، اس کے بعد ہی وہ تواضع (modesty) کے مزاج کا حامل بنتا ہے۔ انسان جب اپنے مال میں اِسراف سے کامل پرہیز کرتا ہے، اس کے بعد ہی وہ سادگی اور قناعت کے طریقے کو اپناتا ہے۔ انسان جب غیر ذمے دارانہ روش کو ترک کرتا ہے، اس کے بعد ہی وہ اِس قابل بنتا ہے کہ وہ سنجیدگی اور متانت کی روش کو اپنی روش بنا سکے۔
ترک واختیار کا یہ معاملہ پوری زندگی سے تعلق رکھتا ہے۔ اِس طریقے کو اختیار کیے بغیر کوئی شخص اپنی زندگی کو اسلامی زندگی نہیں بنا سکتا۔ روزے کے ذریعے آدمی کے اندر یہی اسپرٹ پیدا کرنا مقصود ہے۔ جو آدمی ’’ترک‘‘ کے اِس اصول کو نہ مانے، وہ ’’اختیار‘‘ کی سعادت کا تجربہ بھی نہیں کرسکتا۔
واپس اوپر جائیں

نیت کی اہمیت

حضرت حفصہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: من لم یُجمعِ الصیامَ قبلَ الفجر فلاصیامَ لہ (التّرمذی، کتاب الصوم، باب: لا صیامَ لمن لم یعزم) یعنی جس شخص نے طلوعِ فجر سے پہلے، روزہ رکھنے کا پختہ عزم نہیںکیا، اس کا روزہ نہیں۔
اِس حدیثِ رسول سے روزے کے عمل میںنیت کی اہمیت معلوم ہوتی ہے۔ اِس کا مطلب یہ ہے کہ روزے کا وقت شروع ہونے سے پہلے آدمی کو چاہیے کہ وہ شعوری طورپر اپنے اندر یہ ارادہ پیدا کرے کہ میرا آنے والا دن روزے کا دن ہوگا۔ گویا کہ باقاعدہ ارادے کے بغیر صرف بھوکا رہ جانے کا نام روزہ نہیں۔
دوسرے شرعی اعمال کی طرح، روزہ ایک باشعور دینی عمل ہے، یعنی ایک ایسا عمل جس کو آدمی زندہ شعور کے ساتھ انجام دے۔ عمل کے دوران وہ اُسی کے لیے سوچے، وہ اُسی کی کیفیات میںجیے، وہ اُن ربانی احساسات کو اپنے اوپر طاری کرے جو روزے کے دنوں میں ایک مومن سے خدا کو مطلوب ہیں۔ گویا کہ اس کا روزہ صرف جسمانی روزہ نہ ہو، بلکہ اُس کا شعور اور اس کے جذبات بھی اُس کے عمل کی روح کی حیثیت سے اس میں شامل ہوگئے ہوں۔
ایک سچا مومن جب زندہ نیت کے ساتھ اپنے روزے کا آغاز کرتا ہے، تو اس کی سوچ بھی اُسی رخ پر متحرک ہوجاتی ہے۔ وہ روزے کے بارے میں سوچتا ہے۔ بھوک اور پیاس کے تجربات کے دوران وہ اعلیٰ روحانی حقیقتوں کا تجربہ کرتا رہتا ہے۔ جب وہ قرآن کی تلاوت کرتا ہے ، یا نماز ادا کرتا ہے، تو اس کی روزہ دارانہ زندگی اس کی تلاوت اور اس کی نماز میں ایک نئی روح پیدا کرنے کا سبب بن جاتی ہے۔ روزے کی حالت میں دن گزارنا اور قیام کی حالت میں رات گزارنا، اس کے لیے خدا سے خصوصی قربت کا ذریعہ بن جاتا ہے۔ حقیقی روزہ وہ ہے جو آدمی کی پوری زندگی کو روزہ رخی زندگی (Roza-oriented life) بنادے۔
واپس اوپر جائیں

روزہ: ایک زندہ عمل

حضرت ابو ہریرہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مَن نَسِیَ وہو صائم فأکل أو شرب، فلیُتِمَّ صومَہ۔ فإنما أطعمہ اللہ وسقاہ (صحیح مسلم، کتاب الصیام، باب: أکلُ النّاسی) یعنی جو شخص روزہ رکھے اور وہ بھول کر کچھ کھالے یا پی لے، تو اس کو چاہیے کہ وہ اپنا روزہ پورا کرے، کیوں کہ یہ اللہ ہے جس نے اس کو کھلایا اور پلایا۔
روزہ اگر خالص قانونی نوعیت کی چیز ہو تو بظاہر ایسا ہونا چاہیے کہ اگر کوئی شخص روزے کی حالت میں ہو اور دن کے اوقات میں کبھی وہ بھول کر کچھ کھالے یا پی لے، تو اس کا روزہ ٹوٹ جانا چاہیے۔ روزہ اگر صرف ایک ظاہری صورت کا نام ہو تودن کے وقت کچھ کھانے یا پینے سے ہر حال میں اس کا روزہ ٹوٹ جانا چاہیے، خواہ اس نے جان کر کھایا ہو، یا بھول کر کھایا ہو۔ قانونی نوعیت کی چیزوں کے بارے میں مشہور مقولہ ہے کہ — قانون سے بے خبری کسی کے لیے عذر نہیں:
Ignorance of law has no excuse.
پھر کیا وجہ ہے کہ حدیث میں یہ بتایا گیاہے کہ بھول کر کھانے پینے سے روزہ نہیں ٹوٹتا۔ اِس کا سبب یہ ہے کہ روزہ کوئی ٹکنکل نوعیت کا قانونی فعل نہیں، روزہ ایک زندہ انسان کا عمل ہے۔ زندہ انسان کا معاملہ یہ ہے کہ اگر اُس سے کوئی غلطی ہوجائے تو فوراً اس کے اندر ایک نئی سوچ جاگ اٹھتی ہے۔ یہ نئی سوچ اس کی بھول کو ایک مثبت عمل بنا دیتی ہے۔ وہ اِس بھول میں اپنے عجز اور خدا کی قدرت کو دریافت کرلیتا ہے۔ وہ سوچتا ہے کہ انسان کتنا زیادہ کم زور ہے، اُس کے مقابلے میں خدا کتنا زیادہ قوی اور عزیز ہے کہ وہ کبھی کسی چیز کو نہیں بھولتا (لایضلُّ ربّی ولا ینسیٰ)۔ یہ دریافت ایک زندہ انسان کو خدا سے اور زیادہ قریب کردیتی ہے۔ وہ مزید اضافے کے ساتھ خدا کی رحمتوں کا مستحق بن جاتا ہے—جو غلطی، معرفت میں اضافے کا سبب بن جائے، وہ غلطی نہیں ہے، بلکہ وہ ایک زندہ ربانی تجربہ ہے۔
واپس اوپر جائیں

دورِ ز وال کا ظاہرہ

حضرت ابو ذر غفاری کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لا تزال أمّتی بخیر ما عَجَّلُوا الإفطارَ وأخَّرُوا السَّحور(مسند احمد، جلد 5، صفحہ 147) یعنی میری امت کے لوگ اُس وقت تک خیر پر قائم رہیں گے جب تک کہ وہ افطار میں جلدی کریں گے اور سحری میں تاخیر کریں گے۔
اِس حدیث میں خیر سے مراد دین کی روح (spirit) ہے۔ اِس حدیث کے مطابق، رمضان کے مہینے میںافطار میں تعجیل اور سحری میں تاخیر اِس بات کی علامت ہے کہ امت خیر پر ہے، یعنی امت کے اندر دین کی حقیقی روح زندہ ہے۔ اور جب معاملہ اِس کے برعکس ہوجائے، یعنی لوگ افطار میں ’’احتیاطی تاخیر‘‘ کرنے لگیں، اور وہ سحری میں ’’احتیاطی تعجیل‘‘ کرنے لگیں، تو یہ اِس بات کی علامت ہوگی کہ امت کے اندر سے خیر نکل گیا ہے، یعنی امت دین کی روح (spirit) پر قائم نہیںہے، بلکہ وہ صرف دین کی شکل (form) پر قائم ہے۔ اور اِس قسم کی حالت اللہ کے نزدیک مطلوب حالت نہیں۔ تعجیل یا تاخیر سے مراد تعجیل یا تاخیر نہیں ہے، بلکہ وقت کی ٹھیک ٹھیک پابندی ہے۔
افطار میں دیر کرنے کا مزاج کیوں ہوتا ہے، اور سحری میں جلدی کرنے کا مزاج کب پیدا ہوتا ہے۔ ایسا اُس وقت ہوتا ہے، جب کہ امت کے افراد میں روحِ دین باقی نہ رہے، وہ محض شکل کی بجاآوری کو دین سمجھنے لگیں۔ ’’احتیاط‘‘ کا ذہن ہمیشہ ظاہری صورت، یا فارم کے بارے میں پیدا ہوتا ہے۔ لوگ ظاہری صورت کے اہتمام کو اہم چیز سمجھنے لگتے ہیں۔ ظاہری پہلو میں کمی اُن کے نزدیک، دین کو ناقص بناتی ہے، اور ظاہری پہلو میں اضافہ کرکے وہ سمجھتے ہیں کہ انھوں نے اپنے دین کو کامل کرلیا۔ مذکورہ حدیث میں اِسی زوال یافتہ مزاج کی نشان دہی کی گئی ہے۔
زندہ دین داری، آدمی کو اسپرٹ کانشس (spirit-conscious) بناتی ہے، اورجب زندہ دین داری باقی نہ رہے، تو لوگ فارم کانشس (form-conscious) بن جاتے ہیں۔ اِ س حقیقت کا تعلق، صرف روزے سے نہیںہے، بلکہ تمام دینی اعمال سے ہے۔
واپس اوپر جائیں

فارم اور اسپرٹ کا فرق

قرآن کی سورہ نمبر 2 میں رمضان کے مہینے میں روزے کا حکم ایک پورے رکوع میںبیان ہوا ہے۔ اِس میں روزے کے بارے میں دو قسم کی رخصتوں کا ذکر ہے۔ ایک رخصت (concession) مستقل رخصت ہے جو اِن الفاظ میں بیان ہوئی ہے: وعلی الذین یطیقونہ فدیۃٌ طعامُ مسکین (البقرۃ: 184 ) یعنی جو لوگ اُسے مشکل ہی سے برداشت کرسکیں، اُن کے ذمّے فدیہ ہے ایک مسکین کا کھانا (ترجمہ: مولانا عبد الماجد دریابادی)۔ اِس سے مراد وہ لوگ ہیں جو کسی عذرِ شرعی کی بنیاد پر مستقل طورپر روزہ رکھنے کے قابل نہ رہیں، ایسے لوگوں کے لیے شریعت میں یہ رخصت ہے کہ وہ رمضان کے مہینے میں روزہ نہ رکھیں اور روزہ کے بجائے اُس کے کفارہ کے طورپر اُس کا فدیہ ادا کریں۔
رخصت کی دوسری صورت، قرآن میں اِن الفاظ میں بیان ہوئی ہے: ومَن کان مریضاً أو علی سفرٍ فعدّۃٌ من أیامٍ اُخر (البقرۃ: 185 ) یعنی جو کوئی بیمار ہو، یا سفر میں ہو تو اُس کو گنتی پوری کرنی چاہیے اور دنوں میں۔ یہ عارضی رخصت کا معاملہ ہے، یعنی آدمی روزہ رکھنے کے قابل ہواور وقتی طورپر اُس کو عذرِ شرعی لاحق ہو جائے، تو وہ عذر کے بقدرروزہ چھوڑ دے اور رمضان کے بعد اپنے چھوٹے ہوئے روزے کو دوبارہ پورا کرلے۔
اِن دو رخصتوں کے بیان کے بعد قرآن میں یہ آیت آئی ہے: یرید اللہ بکم الیسر ولا یرید بکم العُسر، ولتکملوا العدّۃ ولتکبّروا اللّٰہ علی ما ہداکم، ولعلّکم تشکرون (البقرۃ:185 ) یعنی اللہ تم پر آسانی چاہتا ہے، وہ تم پر دشواری نہیں چاہتا، اور چاہتا ہے کہ تم تعداد پوری کرو اور تاکہ تم بڑائی کرو اللہ کی، اِس بات پرکہ اُس نے تم کو ہدایت دی اور تاکہ تم اُس کا شکر ادا کرو۔
قرآن کی اِن آیتوں پر غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ دینی احکام کے دو حصے ہیں۔ ایک حصہ وہ ہے جو متعلقہ حکم کے فارم کی حیثیت رکھتا ہے۔ روزے کا فارم یہ ہے کہ آدمی دن کے اوقات میں کھانا، پینا اور دوسری ممنوعات کو ترک کردے۔ روزے کی اسپرٹ تکبیر اور شکر ہے، یعنی آدمی کے اندر اللہ کی کبریائی کا احساس طاری ہونا، اور اللہ کے انعامات پر گہرے شکر کا جذبہ پیدا ہونا۔
مذکورہ آیتوں پر غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ قرآن میں فارم اور اسپرٹ کے درمیان فرق کیا گیا ہے۔ اِس فرق کو مذکورہ آیت میں ’عُسر‘ اور ’یُسر‘ کے الفاظ میں بیان کیاگیا ہے۔ اگر روزے کے فارم کو مطلق حیثیت دے کر، اُس کو ہر حال میں لازم کردیا جائے تو یہ اہلِ ایمان کے لیے عُسر (دشواری) کا باعث ہوجائے گا، اِس لیے فارم کے معاملے میں عسر کے بجائے، یُسر (آسانی) کا طریقہ اختیار کیا گیا ہے، یعنی رخصت کا طریقہ۔
مگر جہاں تک دینی احکام کے دوسرے پہلو، یعنی اسپرٹ کا معاملہ ہے، اُس میں کسی قسم کی رخصت نہیں، اسپرٹ کا پہلو ہر حال میں اور مطلق طورپر اہلِ ایمان سے مطلوب ہے۔ دوسرے لفظوں میں یہ کہ جب فارم کی ادائیگی میں عُسر (دشواری) کی صورت پیدا ہوئے جائے، تو اُس وقت شریعت کا تقاضا ہوگا کہ فارم کے معاملے میں ایڈجسٹ مینٹ کا طریقہ اختیار کیا جائے، تاکہ اسپرٹ کا پہلو کسی نَقص کے بغیر مسلسل طورپر باقی رہے۔
روزے میں بھوک، پیاس کا تعلق فارم سے ہے، اس لیے اُس میں رخصت کا طریقہ اختیار کیاگیا۔ اِس کے مقابلے میں، تکبیرِ رب اور شکر الٰہی کا تعلق، روزے کی اسپرٹ سے ہے، اِس لیے اس کو مطلق حیثیت دے کر مسلسل طورپر باقی رکھا گیا ہے۔
یہ اسلامی شریعت کا ایک اہم اصول ہے۔ اِس اصول کا تعلق، صرف روزے سے نہیں، بلکہ دوسرے تمام دینی معاملات سے بھی ہے۔ جب بھی ایسا ہو کہ کسی دینی حکم کی ادائیگی میں عُسر کا مسئلہ پیدا ہوجائے تو اُس وقت متعلقہ حکم کے فارم میں ایڈجسٹ مینٹ کیا جائے گا، تاکہ متعلقہ حکم سے جو اسپرٹ مطلوب ہے، وہ اسپرٹ کسی قسم کے خلل کے بغیر پوری طرح باقی رہے۔
یہ شریعت کا ایک تخلیقی اصول (creative principle) ہے۔ یہ اصول اِس بات کا ضامن ہے کہ شریعت کی اصل روح مسلسل طورپر اہلِ ایمان کے درمیان باقی رہے، اور اُس میں کسی بھی حال میں کوئی کمی نہ آنے پائے۔
واپس اوپر جائیں

روزہ اور تزکیۂ نفس

روزہ ایک سچے انسان کے لیے ایک قسم کی یاد دہانی (reminder) ہے، اِس بات کی یاددہانی کہ— تم خدا کی دنیا میں ہو۔ تم ایک ایسی دنیا میں ہو جس کو خدا نے بنایا ہے۔ اِس دنیا کے مالک تم نہیںہو، بلکہ خدا اُس کا مالک ہے۔ یہاں تم اپنی مرضی کے ساتھ نہیں رہ سکتے، یہاں تم اپنی مرضی سے نہیں کھاسکتے، یہاں تم اپنی مرضی سے نہیں پی سکتے، یہاںتم اپنی مرضی سے نہیں بول سکتے، یہاں تم کو خدا کی مرضی کے مطابق رہنا ہے، نہ کہ خود اپنی مرضی کے مطابق،
یہ کوئی سادہ بات نہیں۔ اِس قسم کی روزہ دارانہ زندگی صرف اُس وقت ممکن ہے، جب کہ انسان، خدا کو معرفت (realization) کے درجے میں پائے۔ وہ اِس حقیقت کو دریافت کرے کہ خدا کی اِس دنیا میں بے قید زندگی گزارنے والوں کے لیے کوئی جگہ نہیں۔ خدا کی اِس دنیا میں کامیابی کا راز پابند زندگی میںہے، نہ کہ بے قید زندگی میں۔
رمضان کا مہینہ در حقیقت تزکیۂ نفس (purification of soul)کا مہینہ ہے۔ رمضان کے مہینے کا یہ تقاضا ہے کہ آدمی اپنی زندگی پر پھر سے غور(reassessment) کرے، وہ اپنے معاملات کا ازسرِ نو جائزہ لے، وہ اپنی دینی اور دعوتی زندگی کی ازسرِ نو منصوبہ بندی (replanning) کرے، وہ اپنے دل ودماغ کی پھر سے تطہیر کرے، وہ اپنے اندر ایک نئی شخصیت کی تعمیر کرے، وہ دینی اور روحانی اعتبار سے، پورے معنوں میں، اپنا اوور ہال(overhaul) کرے۔
یہی تزکیۂ نفس ہے اور یہی رمضان کا اصل مقصد ہے۔ جو شخص اِس طرح رمضان کے شب و روز گزارے، وہی وہ شخص ہے جس نے رمضان کے مہینے کو پایا۔ اُسی شخص کا روزہ حقیقی روزہ ہے جو اِس معنیٰ میںاُس کے لیے تزکیۂ نفس کا ذریعہ بن جائے۔تزکیۂ نفس مومن کے لیے ایک مستقل عمل ہے۔ وہ مومن کی زندگی میں روزانہ جاری رہتا ہے۔ لیکن رمضان کے مہینے میں مزید شدت کے ساتھ تزکیۂ نفس کے اِس عمل کو انجام دینا ممکن ہوجاتا ہے۔
واپس اوپر جائیں

بے روح عبادت

حضرت ابو ہریرہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کَم مِن صائمٍ لیس لہ من صیامہ إلاّ الظَّمَأ، وکم من قائمٍ لیس لہ من قیامہ إلا السَّہرَ (سنن الدّارمی، کتاب الصوم) یعنی بہت سے روزے دار ایسے ہیں جن کو اپنے روزے سے( بھوک اور)پیاس کے سوا اور کچھ نہیں ملتا، اور بہت سے قیامِ لیل کرنے والے وہ ہیں جن کو اپنے قیامِ لیل سے ،جاگنے کے سوا کچھ اور نہیں ملتا۔
روزے میں ترکِ طعام،روزے کی ایک ظاہری صورت ہے۔ اِسی طرح، رمضان کی راتوں میں قیام کرنا اس کی ایک ظاہری صورت ہے، مگر ہر ظاہری صورت کے ساتھ ایک حقیقت شامل رہتی ہے۔ جس چیز کا حال یہ ہو کہ اُس میں اُس کی ظاہری صورت موجود ہو، لیکن اس کی داخلی حقیقت اُس میں نہ پائی جاتی ہو، تو ایسی چیز کی کوئی قیمت نہیں۔ اس کی مثال ایسے پھل کی ہے جس کا ظاہری چھلکا تو موجود ہو، لیکن اس کے اندر کا مغز ا س میں نہ پایا جاتا ہو۔
روزے کا مقصد یہ ہے کہ آدمی کے اندر خوفِ خدا کی صفت پیدا ہو، اس کے اندر تقویٰ کا شعور جاگے، ا س کے اندر اخلاقی ڈسپلن پایا جائے، وہ حقیقی معنوں میں اپنے خالق اور رازق کا شکر کرنے والا بن جائے۔ یہی روزے کا اصل مقصد ہے اور کسی کے روزے کو اِسی اعتبار سے جانچا جائے گا کہ اس کے اندر روزے کی یہ مطلوب صفات پیدا ہوئیں یا نہیں۔اِسی طرح، روزے کا ایک اہم مقصد یہ ہے کہ مومن کو قرآن سے وابستہ کیا جائے۔ اِسی لیے روزے کے مہینے میں مختلف انداز سے، قرآن کا زیادہ سے زیادہ چرچا کیا جاتا ہے۔ سچا روزہ آدمی کے اندر گہرائی اور سنجیدگی پیدا کرتا ہے۔ اِس طرح کے ذہن کو لے کر آدمی جب قرآن کو سنتا ہے اور پڑھتا ہے تو وہ عام دنوںسے زیادہ، قرآن سے نصیحت لینے کے قابل ہوجاتا ہے۔ یہی وہ چیزیں ہیں جو کسی کے روزے کو جانچنے کا اصل معیار ہیں۔جس آدمی کے روزے میں یہ داخلی کیفیات شامل نہ ہوں، اُس کا روزہ ایک بے روح روزہ ہے، نہ کہ حقیقی روزہ۔
واپس اوپر جائیں

قولِ زُور، عملِ زُور

حضرت ابوہریرہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مَن لم یَدعْ قولَ الزّور والعملَ بہ، فلیس للّٰہ حاجۃٌ فی أن یَدَعَ طعامَہ وشرابَہ (صحیح البخاری، کتاب الصوم، باب: من لم یدع قول الزور والعمل بہ) یعنی جو شخص جھوٹ بولنااور جھوٹ پر عمل کرنا نہ چھوڑے، تو اللہ کو اِس کی حاجت نہیں کہ وہ اپنا کھانا اور اپنا پانی چھوڑ دے۔
روزہ بظاہر مخصوص اوقات میں کھانا اور پینا چھوڑ دینے کا نام ہے، مگر کھانے اور پینے کا یہ ترک ایک علامتی ترک (symbolic abstinence)ہے۔ روزہ کے مہینے میں چند چیزوں کو چھوڑ کر روزے دار اپنے آپ کو اِس مقصد کے لیے تیار کرتا ہے کہ وہ خدا کی منع کی ہوئی تمام چیزوں کو چھوڑ دے۔ گویا کہ ترکِ طعام اگر جسمانی روزہ ہے تو ترکِ مَنہیَّات، روحانی روزہ۔ جس آدمی کی زندگی میں ترکِ طعام ہو، لیکن اس کی زندگی میں ترکِ منہیات نہ ہو، تو اس کا روزہ خدا کے یہاں قبولیت کا درجہ پانے والا نہیں۔
دین میں دو قسم کی تعلیمات شامل ہیں۔ ایک، وہ جن میں کسی چیز کے کرنے کا حکم دیاگیا ہے اور دوسرے، وہ جن میں کسی چیز کے چھوڑنے کا حکم دیاگیا ہے۔ روزہ ترکِ منہیات والی تعلیمات کے لیے تربیت کی حیثیت رکھتا ہے۔ روزہ کے مہینے میں وقتی طورپر کچھ چیزوں کے ترک کا حکم دے کر یہ سبق دیا جاتا ہے کہ اِسی طرح پورے سال دوسری تمام منہیات کو ترک کردینا ہے، اِس کے بغیر دین کے تقاضے پورے نہیں ہوسکتے۔
اِن منہیّات (prohibitions) میں سے ایک چیز وہ ہے جس کو حدیث میں، جھوٹ بولنا اور جھوٹ پر عمل کرنا کہاگیا ہے۔ جھوٹ بولنا یہ ہے کہ آدمی کسی چیز کے بارے میں خلافِ واقعہ بیان دے۔ مثلاً وہ رات کے وقت کو دن کا وقت بتائے۔ اِسی طرح، جھوٹ پر عمل کرنا یہ ہے کہ آدمی ایک غلط کام کرے اور وہ اس کو خلافِ واقعہ طورپر صحیح کانام دے۔ وہ اپنے ذاتی انٹرسٹ کے لیے ایک کام کرے اور لوگوں کو بتائے کہ میں یہ کام خالص حق کے لیے کررہا ہوں۔ جو لوگ اِس طرح کے جھوٹ میں مبتلا ہوں، اُن کا روزہ خدا کے یہاں قابلِ رد قرار پائے گا، نہ کہ قابلِ قبول۔
واپس اوپر جائیں

روزہ کو چھوڑنا

حضرت ابو ہریرہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مَن أفطر یوماً من رمضان من غیر رُخصۃٍ ولا مَرَضٍ، لم یقضِ عنہ صومُ الدّہر کُلّہ وإن صامہ (التّرمذی،کتاب الصوم، باب الإفطار متعمّداً) یعنی جو شخص رمضان کے دنوں میں کسی دن روزہ ترک کردے، جب کہ اُس کے لیے کوئی شرعی عذر اور بیماری نہ ہو، تو اس کے بعد خواہ وہ ساری عمر روزے رکھے، وہ اس کے لیے رمضان میں چھوڑے ہوئے روزے کا بدل نہیںہوسکتا۔
رمضان کے مہینے میں روزہ رکھنے کی اہمیت یہ ہے کہ خود اللہ تعالیٰ نے صراحت کے ساتھ اُس کا حکم دیا ہے۔ ایسی حالت میں رمضان کے کسی ایک روزے کو بھی قصداً چھوڑنااپنی نوعیت کے اعتبار سے نہایت سنگین جرم کی حیثیت رکھتا ہے۔ اِس کے بعد آدمی اگر ساری عمر روزہ رکھے، تو وہ اس کے اپنے فیصلے کے تحت ہوگا، نہ کہ براہِ راست حکمِ خداوندی کی تعمیل میں۔ اور بلاشبہہ کوئی بھی دوسرا عمل، خدا کے حکم کی قصداً خلاف ورزی کی تلافی نہیں بن سکتا۔
اِس دنیا میں پانی کا جو ذخیرہ ہے، اس کی ایک ایک بوند کا مالک خداہے۔ اِس دنیا میں مختلف قسم کی جو غذائیں ہیں، ان کا غیر مشترک مالک بھی صرف ایک خدا ہے۔ اِس قسم کی تمام چیزیں جو دنیا میں موجود ہیں، ان کو پیدا کرنے والا بھی خدا ہے اور یہ بھی خدا وند ِ ذوالجلال ہی ہے جو یہ تمام چیزیں انسان کو عطا کرتا ہے۔
ایسی حالت میں جب خدا خودیہ حکم دے کہ فلاں مہینے کے دنوں میں تم میرا پانی اور میری پیداکی ہوئی غذائیں استعمال نہیں کروگے، تو یہ انسان کی انسانیت کے سر تا سر خلاف ہے کہ وہ رزق کے خالق و مالک کی ممانعت کے باوجود اس کے دیے ہوئے رزق کا ایک دانہ بھی استعمال کرے۔ حکمِ خداوندی کی ایسی خلاف ورزی کے بعد انسان اپنے آپ کو اِس دنیا میں بے جگہ بنالیتا ہے۔ اِس کے بعد وہ انسان کی سطح سے گر کر غیر انسان کی سطح پر آجاتا ہے۔
واپس اوپر جائیں

اسپرٹ، یا ٹکنکل مسائل

حضرت ابو ہریرہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: إذا سمع النّدائَ أحدُکم والإنائُ علیٰ یدہ، فلا یضعْہ حتی یقضی حاجتَہ منہ(مسند احمد، جلد5 ، صفحہ 431 ) یعنی تم میں سے جب کوئی (روزے دار) فجر کی اذان کی آواز سنے اور کھانے کا برتن اُس کے ہاتھ میں ہو، تو وہ اُس وقت تک اس کو اپنے منہ سے نہ ہٹائے، جب تک کہ وہ اپنی حاجت پوری نہ کرلے۔
اِس حدیثِ رسول کا مطلب یہ ہے کہ ایک شخص سحری کررہا ہے۔ ابھی وہ اپنی سحری پوری نہیں کرسکا تھا کہ اس کو فجر کی اذان کی آواز سنائی دی۔ اگر کبھی ایسا ہوجائے تو وہ ایسا نہ کرے کہ وہ فوراً کھانا یا پینا چھوڑ دے، بلکہ اس کو چاہیے کہ وہ اپنی سحری کو پورا کرلے۔ اور پھر فجر کی نماز کے لیے مسجد میں جائے۔
اِس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ روزہ کسی ٹکنکل (technical)عمل کانام نہیں ہے۔ روزے میں ٹکنکل مسائل کی حیثیت ثانوی (secondary) ہے۔ روزے میں اصل اہمیت اس کی روح یا اس کی اسپرٹ کی ہے۔ جس عمل میں روح پر زور دیا جائے، اُس میں ٹکنکل مسائل کا درجہ وہی ہوجائے گا جس کی ایک علامتی مثال مذکورہ حدیث میں نظر آتی ہے۔
روزہ جیسے زندہ عمل میں ٹکنکل مسائل پر زور دینا، ہمیشہ اِس قیمت پر ہوتا ہے کہ اس کی اسپرٹ کا پہلو مجروح ہوجائے۔ اِسی معاملے کو واضح کرنے کے لیے پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے مذکورہ بات ارشاد فرمائی۔ اِس حدیث کا مطلب یہ ہے کہ تمھارا سارا دھیان روزے کی اسپرٹ پر ہونا چاہیے، نہ کہ اس کے ٹکنکل مسائل پر۔ اسلامی عبادات میں سب سے زیادہ اُس کی اسپرٹ کی اہمیت ہوتی ہے، نہ کہ اس کے ٹکنکل مسائل کی۔روزہ اگر ٹکنکل نوعیت کا کوئی عمل ہوتا، تو اذان کی آواز سنتے ہی کھانے پینے کو فوراً چھوڑدینا لازم ہوجاتا۔مگر اِس معاملے میں رخصت دینے سے معلوم ہوا کہ عبادت میںاس کی روح، اس کا اصل حصہ ہے اور اس کا فارم اس کا اضافی حصہ۔
واپس اوپر جائیں

روزہ اور قیامِ لیل

حدیث میں بتایا گیاہے کہ رمضان کے مہینے میں قیام لیل ایک اہم عبادت ہے (مَن قام رمضانَ إیماناً و احتساباً غُفرلہ ما تقدّم من ذنبہ، صحیح البخاری، کتاب الصوم) قیام لیل سے مراد یہ نہیں ہے کہ آدمی ساری رات کھڑے ہو کر نماز پڑھتا رہے۔ قیام لیل کا مطلب رات کے محدود اوقات میں نماز پڑھنا ہے، نہ کہ ساری رات جاگ کر نماز پڑھنا۔
قیامِ لیل کا صحیح طریقہ یہ ہے کہ آدمی عشا کی نماز سے فارغ ہونے کے بعد سوجائے، پھر اپنی فطری نیند پوری کرنے کے بعد رات کے آخری حصے میں وہ فجر سے پہلے اٹھے۔ اُس وقت کے پر سکون لمحے میں وہ وضو کرکے نماز کے لیے کھڑا ہوجائے اور حسب توفیق، کچھ رکعتیں قرآن کی لمبی قرأت کے ساتھ پڑھے۔ اور پھر اِلحاح اور دعا پر اِس نماز کو ختم کرے۔ رات کی یہی وہ نماز ہے جس کو تہجد (الإسراء: 79 ) یاقیامِ لیل کہا گیا ہے۔
اہلِ ایمان چوبیس گھنٹے کے دوران روزانہ پانچ وقت کی نماز باجماعت ادا کرتے ہیں۔ یہ نماز اجتماعی نماز (congregational prayer) ہے۔ اِس کے اپنے خصوصی فائدے ہیں۔ اِسی لیے اُس کو شریعت میں فرض قرار دیا گیاہے۔ یہ اجتماعی نماز بیک وقت عبادت بھی ہے اور اِسی کے ساتھ وہ امت میںاتحاد قائم رکھنے کا ایک ذریعہ بھی۔
تاہم مومن فطری طور پر اپنے اندر ایک اور نماز کی طلب پاتا ہے، یہ انفرادی نماز ہے، یعنی وہ نماز جب کہ مومن اپنی تنہائیوں میںاللہ کے سامنے اپنی عبودیت کا اظہار کرے، ایک ایسا لمحہ جہاں صرف وہ ہو اور اس کا رب ہو، جب کہ اُس پر وہ تجربہ گزرے جس کو حدیث میں ’یُناجی ربَّہ‘ کے لفظ سے تعبیر کیا گیا ہے، یعنی اپنے رب کے ساتھ سرگوشی۔ رات کے پچھلے پہر کے پرسکون لمحے میں اِس قسم کی انفرادی عبادت کرنا، یہی تہجد اور قیامِ لیل ہے۔ تہجد کی یہ نماز رمضان کے مہینے میں خصوصی طورپر مطلوب ہے اور سال کی بقیہ راتوں میں عمومی طورپر۔
واپس اوپر جائیں

روزہ اور قرآن

قرآن کی سورہ نمبر 2 میں بتایا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن کو رمضان کے مہینے میں اتارا (البقرۃ: 185 ) ۔اِس سے معلوم ہوتا ہے کہ قرآن میںاور رمضان کے مہینے میں خصوصی مناسبت ہے۔ رمضان کے مہینے میں روزہ کے عمل کے ذریعے رزقِ مادّی کی اہمیت کو ذہن نشین کرایا جاتا ہے۔ روزے کا مقصد یہ ہے کہ لوگوں کے اندر رزقِ مادّی کے بارے میں حقیقی شکر کا جذبہ پیدا ہو۔
قرآن ، انسان کے لیے رزقِ روحانی کا دستر خوان ہے (القرآن مأدُبۃ اللہ فی الأرض)۔ قرآن کے نزول کا مقصد یہ ہے کہ انسان رزقِ روحانی کی اہمیت کو محسوس کرے اور قرآن سے دریافت کرکے اُس کو وہ اپنی زندگی میں شامل کرے، وہ زیادہ سے زیادہ قرآن میںتدبر کرکے اپنا ذہنی تزکیہ کرے۔
رمضان میں پورے مہینہ روزہ رکھا جاتا ہے اور ذکر وعبادت کا خصوصی اہتمام کیا جاتا ہے۔ اِس طرح، رمضان کا مہینہ پورے معنوں میں ایک روحانی مہینہ بن جاتا ہے۔ ایسے ماحول میں قرآن کی تلاوت کرنا، تراویح میں قرآن کو سننا، مختلف صورتوں میں قرآن کا چرچا کرنا، یہ چیزیں لوگوں کو یہ موقع دیتی ہیں کہ وہ رمضان میں زیادہ سے زیادہ قرآن سے قریب ہوں، وہ زیادہ سے زیادہ قرآن کو سمجھیں۔ رمضان کا مہینہ، تاریخی اعتبار سے، قرآن کے نزول کا مہینہ ہے، اور تربیت کے اعتبار سے وہ قرآن کو اپنے دل و دماغ میں اتارنے کا مہینہ۔
قرآن میںارشاد ہوا ہے: لا یمسُّہُ إلاّ المُطَہَّرون (الواقعۃ:79 )۔ اِس آیت میں تلاوتِ قرآن کے لیے وضو کا مسئلہ بیان نہیں ہوا ہے، بلکہ یہاں فہمِ قرآن کے لیے تطہیر ِنفس کی اہمیت بتائی گئی ہے۔ اِس آیت کی صحیح تشریح وہ ہے جو امام راغب الاصفہانی (وفات: 1108 ء) نے کی ہے۔ وہ لکھتے ہیں: أی إنّہ لا یبلغ حقائقَ معرفتہ إلاّ مَنْ طہَّر نفسَہ (المفردات فیغریب القرآن) یعنی صرف وہ شخص قرآن کے حقائق کا ادراک کرسکے گا جو اپنے نفس کی تطہیر کرے، صرف فنّی مہارت، قرآن کو سمجھنے کے لیے کافی نہیں، اور روزہ اِسی تطہیر نفس کا ایک موثّر ذریعہ ہے۔
واپس اوپر جائیں

روزہ اور تراویح

حضرت عائشہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قراء ۃُ القرآن فی الصلاۃ أفضلُ من قراء ۃ القرآن فی غیر الصلاۃ (البیہقی، جلد2 صفحہ413 ) یعنی نماز کے بغیر قرآن پڑھنے کے مقابلے میں، نماز کی حالت میں قرآن پڑھنا زیادہ بہتر ہے۔
تراویح کیا ہے۔ تراویح یہ ہے کہ رمضان کے مہینے میں حالتِ نماز میںکھڑے ہوکر قرآن کو سنا جائے۔ یہی تراویح کی اصل حقیقت ہے، اور حضرت عائشہ کی مذکورہ روایت سے اِس طریقے کی اہمیت معلوم ہوتی ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں تراویح کا عام رواج نہ تھا۔ بعد کے زمانے میں تراویح کا رواج بڑھ گیا۔ نہ صرف عرب میں، بلکہ ساری دنیا میں، عشاکی نماز کے بعد تراویح کی نماز بڑے پیمانے پر پڑھی جانے لگی۔
تراویح کے اِس عمومی رواج کا ایک مزید سبب یہ تھا کہ بعد کے زمانے میں حفاظتِ قرآن کی سرگرمیاں بہت زیادہ بڑھ گئیں۔ لوگ بہت زیادہ قرآن کو یاد کرنے لگے۔ اِس ماحول میںفطری طورپر ایسا ہوا کہ رمضان کی راتوں میںتراویح کے دوران پورے قرآن کو پڑھنے اور سننے کا عمومی رواج ہوگیا۔اِس طرح ایسا ہوا کہ پرنٹنگ پریس (printing press)کے دور سے پہلے تراویح، قرآن کی حفاظت کا ایک موثر ذریعہ بنی رہی۔
تراویح میں یہ ہوتا ہے کہ ایک حافظِ قرآن، امام کی جگہ پر کھڑا ہو کر مختلف رکعتوں میں بلند آواز کے ساتھ قرآن پڑھتا ہے۔ اور تمام مقتدی، امام کے پیچھے صف باندھ کر کھڑے ہوتے ہیں اور وہ خاموشی کے ساتھ قرآن کو سنتے ہیں۔ قرآن کو سنتے ہوئے فطری طورپر ایسا ہوتا ہے کہ لوگوں کا ذہن، قرآن کے معانی پر سوچنے لگتا ہے۔ اِس طرح، تراویح گویا کہ اجتماعی تدبر ِ قرآن کا ایک طریقہ ہے۔ تراویح کو اگر صرف ایک سالانہ رسم کے طورپر نہ ادا کیا جائے، بلکہ اُس کو قرآنپر اجتماعی غور وفکر کا موقع سمجھا جائے تو تراویح، امت کے اندر قرآنیفکر کی بیداری کا ایک انقلابی ذریعہ بن جائے۔
واپس اوپر جائیں

ِختم قرآن، یا تدبّر ِقرآن

رمضان کے مہنیے میں ہر جگہ ختم قرآن کا اہتمام کیاجاتا ہے۔ روزانہ تلاوت میں پڑھ کرقرآن کو ختم کرنا، تراویح میں ِقرآن کو ختم کرنا، وغیرہ۔ اِس کی آخری صورت وہ ہے جس کو ’شبینہ‘ کہاجاتا ہے، یعنی ایک رات میں تراویح کے دوران پورے قرآن کو ختم کرنا۔ اِس قسم کا ختم قرآن یقینی طورپر رسول اور اصحابِ رسول کے زمانے میں موجود نہ تھا۔ یہی واقعہ اِس بات کا ثبوت ہے کہ یہ صرف ایک بدعت ہے، نہ کہ کوئی مطلوب اسلامی عمل۔
حدیث سے ثابت ہے کہ بدعت کے ذریعے کبھی خیر کا ظہور نہیںہوسکتا (مسند احمد، جلد 4 ، صفحہ 105) ۔ یہی وجہ ہے کہ ساری دنیامیں رمضان کے مہینے میں قرآن کو ختم کرنے کی دھوم ہوتی ہے، لیکن کہیں بھی اِس قسم کا ختم قرآن، لوگوں کے اندر قرآنی اسپرٹ کو زندہ کرنے کا ذریعہ نہیںبنتا۔ قرآن کی سورہ نمبر 38 میں اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا: کتاب أنزلناہ إلیک مبارک لیدّبّروا اٰیاتہ ولیتذکر اولوا الألباب (صٓ: 29 ) یعنی قرآن ایک برکت والی کتاب ہے جو ہم نے تمھاری طرف اتاری ہے، تاکہ لوگ اُس کی آیتوں پر غور کریں اور تاکہ عقل والے اُس سے نصیحت حاصل کریں۔
اِس آیت سے واضح طورپر معلوم ہوتا ہے کہ قرآن کے نزول کا مقصد انسانی عقل کو ایڈریس کرنا ہے، تاکہ انسان سوچے اور وہ اُس کے گہرے معانیتک پہنچ سکے۔ اِس طرح کی آیتیں قرآن میں کثرت سے ہیں، لیکن سارے قرآن میں کوئی ایک آیت بھی ایسی موجود نہیں جس میں یہ بتایا گیا ہو کہ قرآن اِس لیے اتارا گیا ہے کہ تم اُس کے الفاظ کو دہرا کر اُس کو ختم کرتے رہو اور کم سے کم مدت میں قرآن کو ختم کرکے اُس کا جشن مناؤ۔
رمضان کا مہینہ، قرآن پر غور کرنے کا مہینہ ہے، نہ کہ اس کے الفاظ کو تیز رفتاری کے ساتھ دہرا کر اُس کو ختم کرنے کا مہینہ۔ قرآن ، انسان کے لئے ایک ربانی غذا ہے، نہ کہ محض لسانی ورزش کا ذریعہ۔ یہ قرآن کی تصغیر (underestimation) ہے کہ اُس کو شبینہ جیسی خود ساختہ رسموں کا موضوع بنادیا جائے۔
واپس اوپر جائیں

روزہ: خدا کی یاد کا ذریعہ

قرآن کی سورہ نمبر 14 میںاللہ تعالی نے انسان کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا: واٰتاکم من کلّ ما سألتموہ (إبراہیم: 34 ) یعنی اللہ نے تم کو وہ سب کچھ دیا جس کا تم نے اُس سے سوال کیا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ انسان کی فطرت اپنی تخلیق کے اعتبار سے جن جن چیزوں کی طالب تھی، وہ تمام چیزیں اللہ تعالیٰ نے انسان کو کامل طورپر عطا کردیں۔
اب ایک مومن کا تصور کیجیے۔ روزہ کے مہینے میں اُس نے اپنا پورا دن بھوک، پیاس میں گزارا۔ اس کے بعد شام ہوئی اور افطار کا وقت آیا، تو اس کے سامنے کھانے اور پینے کی چیزیں رکھی گئیں، اُن کو دیکھ کر مومن کو قرآن کی مذکورہ آیت یاد آئی۔ اُس کی آنکھیں آنسوؤں سے بھر گئیں۔ اس نے کہا کہ —خدایا، تو نے اپنی کتاب میں ارشاد فرمایا ہے کہ تو نے انسان کو وہ سب کچھ دیا جس کا اس نے تجھ سے سوال کیا۔ یہ تیری رحمت کا اظہار ہے اور یقینا اِس رحمت میں انسانی فطرت کا کوئی سوال ایسا نہیں ہو سکتا جو پورا نہ ہوا ہو۔
خدایا، انسان کی فطرت نے پانی مانگا، تو نے اُس کو پانی عطا کیا۔ انسان کی فطرت نے کھانا مانگا، تونے اس کو کھانا عطاکیا۔ انسان کی فطرت نے ہوا او ر روشنی کا سوال کیا، تو نے اس کو ہوا اور روشنی عطا فرمائی۔ اِسی طرح، مادّی ضرورت کی تمام چیزیں تو نے انسان کو بھر پور طور پر عطا فرمائیں۔
خدایا، انسانی فطرت اپنی تخلیق کے اعتبار سے، اِسی طرح ایک اور چیز کی طالب ہے، اور وہ ہے تیری غیر مادّی رحمتیں۔ وہ یہ کہ انسان گناہ کرے اور تو اس کو معاف کردے۔ انسان سے کوتاہیاں سرزد ہوں اور تو اُن کی تلافی فرمائے۔ انسان صراطِ مستقیم سے بھٹک جائے اور تو اس کو دوبارہ صراطِ مستقیم پر قائم کردے۔ انسان اپنے عمل کے اعتبار سے جنت کا مستحق نہ ہو، لیکن تو اس کو اپنی رحمتِ خاص سے جنت میں داخلہ عطافرمادے—یہ اللہ کی رحمت سے بعید ہے کہ وہ انسانی فطرت کی مادّی طلب کو پورا کرے اور وہ اس کی فطرت کی غیر مادّی طلب کو پورا کیے بغیر چھوڑ دے۔
واپس اوپر جائیں

روزہ اور اعتکاف

رمضان کے مہینے میں، عام طورپر آخری عشرہ میں، مسجد کے اندر اعتکاف کیاجاتا ہے۔ جو لوگ اعتکاف کرتے ہیں، وہ اِن دنوں میں دوسرے تعلقات کو منقطع کرکے مسجد میں بیٹھ جاتے ہیں۔ناگزیر انسانی ضرورت کے سوا، وہ کسی اور مقصد سے باہر نہیں نکلتے۔ مسجد میں خلوت نشیں ہوکر ، وہ اپنا زیادہ وقت عبادت اور ذکر اور دعا اور تلاوتِ قرآن میں گزارتے ہیں۔
اعتکاف کا لفظی مطلب — خلوت نشینی (seclusion) ہے۔ یہ اعتکاف کس لیے کیا جاتا ہے۔ حدیث میں اعتکاف کرنے والے کے بارے میں آیا ہے کہ: ہو یعتکف الذُّنوب ( مشکاۃ المصابیح ، رقم : 2108 ) یعنی وہ گناہوں سے اعتکاف کرتا ہے۔ گناہوں سے اعتکاف کرنے کا مطلب کیا ہے۔ اس کی وضاحت کرتے ہوئے محدث ناصر الدین الالبانی (وفات : 1999 ) نے لکھا ہے کہ : أی یحتبس عن الذّنُوب (مشکاۃ، جلد 1 ، صفحہ 650 ) یعنی وہ اپنے آپ کو گناہوں سے روک لیتا ہے۔ اعتکاف کا مطلب سادہ طور پر صرف گناہ سے رکنا نہیںہے، بلکہ روزے کی اسپرٹ کو بھر پور طورپر اپنانے کے لیے اپنے آپ کو خلوت نشیں بنا لینا ہے۔ دوسرے لفظوں میں یہ کہ اعتکاف کا مطلب ہے— اپنے آپ کو مواقعِ گناہ سے ہٹا کر پوری طرح عملِ خیر میں مشغول کرلینا۔
اِس پر غور کرتے ہوئے یہ سمجھ میں آتا ہے کہ اعتکاف کا اصل مقصد اپنے آپ کو ڈسٹریکشن (distraction) سے بچانا ہے۔ گناہ خود بھی ایک قسم کا ڈسٹریکشن ہے۔ فطرت کی صراطِ مستقیم سے ہٹنا، آدمی کو گناہ کی طرف لے جاتا ہے۔ اعتکاف ایک خصوصی تدبیر ہے جس کے ذریعہ آدمی چند دنوں کے لیے مجبوری کی حالت پیدا کرکے اپنے آپ کو ڈسٹریکشن سے بچاتا ہے، تاکہ وہ بعد کے دنوں میںاختیارانہ طورپر اپنے آپ کو ہر قسم کے ڈسٹریکشن سے بچا کر صراطِ مستقیم پر قائم رہنے والا انسان بناسکے۔
ترک واختیار کایہ معاملہ پوری زندگی سے تعلق رکھتا ہے۔ اِس طریقے کو اختیار کیے بغیر، کوئی شخص اپنی زندگی کو اسلامی زندگی نہیں بنا سکتا۔ روزے کے ذریعے آدمی کے اندر یہی اسپرٹ پیدا کرنا مقصود ہے۔
اعتکاف بظاہر اپنے آپ کو اللہ کی عبادت کے لیے خاص کرنے کا نام ہے۔ لیکن اسلام میں عبادت اور رَہبانیت (Monasticism) میں فرق کیا گیاہے۔ اسلام کے مطابق،رہبانیت ایک قسم کا غلو ہے اور غلو اسلام میں جائز نہیں (لاغلو فی الإسلام)۔ایک صحابی ٔ رسول کا حسب ذیل واقعہ اِس معاملے میں شریعت کی صحیح روح کو بتاتا ہے:
طَبرانی اور بیہقی نے حضرت عبد اللہ بنِ عباس کا ایک واقعہ نقل کیا ہے۔ روایت کے مطابق، حضرت عبد اللہ بن عباس، مدینہ کی مسجد ِ نبوی میںاعتکاف کی حالت میں تھے۔ اُن کے پاس ایک آدمی آیا اور سلام کرکے بیٹھ گیا۔ عبد اللہ بن عباس نے کہا: تم مجھ کو افسردہ اور غمگین دکھائی دیتے ہو۔ اُس آدمی نے کہا: اے اللہ کے رسول کے چچا زاد بھائی، میرے اوپر فلاں شخص کا حق ہے، اور اِس صاحبِ قبر (یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم) کی عزت کی قسم، میںاُس کی ادائیگی پر قادر نہیں۔ عبد اللہ بن عباس نے کہا: کیا میں تمھارے بارے میں اُس آدمی سے بات کروں(أفلا أکلّمہ فیک)۔ اُس شخص نے کہا: ہاں، اگر آپ پسند فرمائیں۔ اِس کے بعد عبد اللہ بن عباس نے اپنے جوتے پہنے اور مسجد سے باہر نکل کر روانہ ہوگئے۔ اُس آدمی نے کہا: شاید آپ بھول گئے کہ آپ اِس وقت حالتِ اعتکاف میں ہیں۔ عبد اللہ بن عباس نے کہا: نہیں، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ کہتے ہوئے سنا ہے (اور یہ کہتے ہوئے عبداللہ بن عباس کی آنکھوں میں آنسو آگئے) کہ: مَن مشیٰ فی حاجۃِ أخیہ وبلغ فیہا، کان خیراً لہ من اعتکاف عشْرِ سنین (الترغیب، والترہیب، کتاب الصوم، جلد 2، صفحہ 96) یعنی جو شخص اپنے بھائی کی حاجت براری کے لیے چلا اور اُس نے اُس کے لیے کوشش کی، تو یہ اُس کے لیے دس سال کے اعتکاف سے بہتر ہے۔
حضرت عبد اللہ بن عباس کے اِس واقعے سے اسلامی عبادت ا ور اعتکاف کی روح معلوم ہوتی ہے۔ اِس سے معلوم ہوتا ہے کہ بوقتِ ضرورت عبادت کے فارم میں ایڈجسٹ مینٹ کیا جائے گا، لیکن عبادت کی روح کو ہر حال میں باقی رکھا جائے گا۔
واپس اوپر جائیں

عبادت کا اظہار

حضرت نُفیع بن حارث ابوبکرہ الثقفی سے روایت ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لا یقولنّ أحدکم إنّی صُمتُ رمضان کُلّّہ، وقمتہ کلّہ (سنن أبی داؤد، کتاب الصّوم) یعنی تم میں سے کو ئی شخص ہر گز یہ نہ کہے کہ میں نے ماہِ رمضان کے پورے روزے رکھے، اور میں نے رمضان کی تمام راتوں میں قیام کیا۔ اِس حدیث کو بیان کرنے کے بعد راوی نے کہا: لا أدری، أَخَشِی التزکیۃَ علیٰ أمتہ، أوقال: لا بُدّ مِن نومٍ أو غفلۃ (مسند احمد، جلد5، صفحہ 48 ) یعنی میںنہیں جانتا کہ آپ نے ایسا اپنی امت پراُس کے اظہارِتزکیہ کرنے کے خوف سے کہا، یا نیند یا غفلت کے خوف سے۔
اِس حدیث کا مطلب یہ نہیںہے کہ رمضان میں تمام روزے رکھنا آدمی کے لیے ضروری نہیں ہے، یا قیامِ لیل ضروری نہیں۔ اِس حدیث میں فوکس حقیقتاً خود صیام اور قیام پر نہیں ہے، بلکہ لوگوں کے سامنے اپنے صیام اور قیام کا اظہار کرنے پر ہے۔ عبادت کے بارے میں اِس قسم کا اظہار، اخلاص کی اسپرٹ کے خلاف ہے۔آدمی جب خداوند ِ ذوالجلال کی عبادت کرتا ہے تو اس کے اندر عجز کا احساس پیدا ہوتا ہے۔ عظمتِ خداوندی کے احساس کی بنا پر اس کا یہ حال ہوتا ہے کہ سب کچھ کرنے کے بعد بھی وہ یہ سمجھتا ہے کہ میں نے کچھ نہیں کیا۔ اس کایہ احساس پورے معنوں میں حقیقی ہوتا ہے، نہ کہ مصنوعی۔
ایک آدمی اگر لوگوں کے سامنے یہ کہے کہ — الحمد للہ میرے تمام روزے پورے ہوئے، ماشاء اللہ میںنے رمضان کی تمام راتوں میں قیام کیا، تو یہ اِس بات کا ثبوت ہوگا کہ کہنے والے نے عبادت کو صرف اس کے فارم کی سطح پر پایا ہے، نہ کہ اسپرٹ کی سطح پر۔ عبادت کا فارم چوں کہ ایک معلوم چیز ہوتی ہے، اِس لیے اس کے فارم کے بارے میں ایسا کہا جاسکتا ہے۔ لیکن عبادت کی روح ایک داخلی چیز ہے، اس کاحقیقی علم اللہ کے سوا کسی اور کو نہیں۔ اس لیے جس شخص نے عبادت کو اس کی اسپرٹ کی سطح پایا ہو، وہ ہمیشہ اپنی عبادت کے بارے میں اندیشے میں مبتلا رہے گا۔ اس کو یہ احساس ہوگا کہ معلوم نہیں، خدا کے نزدیک میری عبادت مطلوب عبادت تھی یا نہیں۔
واپس اوپر جائیں

حالتِ محرومی کی دریافت

حضرت ابو ذر غفاری سے ایک طویل روایت نقل ہوئی ہے۔ یہ حدیث ِ قُدسی ہے۔ اس حدیث کا ایک حصہ یہ ہے: یا عبادی، کلّکم جائعٌ إلاّ من أطعمتُہ، فاستطْعِمُونی أُطْعِمْکم (صحیح مسلم، کتاب البرّ، باب: تحریم الظلم) یعنی اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اے میرے بندو، تم میں سے ہر شخص بھوکا ہے، سوا اُس شخص کے جس کو میںکھلاؤں۔ پس تم مجھ سے کھانا طلب کرو، میں تم کو کھانا دوں گا۔
اِس حدیث میں جو بات کہی گئی ہے، وہ عین وہی بات ہے جو روزے سے مطلوب ہے۔ روزے کا مقصد آدمی کے اندر یہ زندہ شعور پیدا کرنا ہے کہ رزق کا دینے والا صرف خدا ہے، خدا اگر رزق نہ دے تو کہیں اور سے انسان کو رزق ملنے والا نہیں۔
روزے میں یہ ہوتاہے کہ آدمی صبح سے شام تک اپنے آپ کو کھانے سے دور رکھتاہے۔ اِس طرح، وہ اِس حقیقت کا تجربہ کرتا ہے کہ وہ خود رزق کا مالک نہیں۔ اِس کے بعد شام کو جب اس کے سامنے کھانا آتا ہے، تو وہ اس کو خدا کی طرف سے دیا ہوا رزق سمجھ کر کھاتا ہے۔ اُس وقت وہ یہ کہہ اٹھتا ہے کہ— خدایا، میں بھوکا تھا، تیرا شکر کہ تو نے مجھے کھانا دیا اور اِس طرح اپنی رحمتِ خاص سے میری محرومی کی تلافی کا انتظام فرمایا۔
رمضان کے مہینے میں دن کا وقت آدمی کو اُس کے محروم ہونے کا تجربہ کراتا ہے، اور رات کا وقت اللہ تعالیٰ کے رازق ہونے کا تجربہ۔ اِس دنیا کا نظام اِس طرح بنا ہے کہ بظاہر یہاں ایک کے دینے سے دوسرے کو ملتا ہے۔ لیکن صاحبِ معرفت انسان وہ ہے جو اِس ظاہر سے اوپر اٹھ جائے، وہ بظاہر انسان کی طرف سے ملنے والی چیز کو خدا کی طرف ملنے والی چیز سمجھنے لگے۔ جو شخص اِس حالتِ احتیاج کو دریافت کرے، وہی وہ انسان ہے جس کو حقیقی روزہ ملا، اس کا روزہ اس کے لیے رحمتِ الٰہی کے دروازے کھولنے کا ذریعہ بن گیا۔
واپس اوپر جائیں

حسّاسیت کی سطح پر

غذا انسان کی ایک لازمی ضرورت ہے، لیکن متوازن غذا (balanced diet) کا نام صحیح غذا ہے۔ متوازن غذا وہ ہے جس میں حسب ذیل اجزا شامل ہوں— کاربو ہائڈریٹ، پروٹین، فَیٹ، وٹامن، منرل سالٹ، فائبر:
A balanced diet is one which contains carbohydrate, protein, fat, vitamins, mineral salts and fibre in the correct proportions.
اگر آپ غذا کے موضوع پر کوئی کتاب پڑھیںاور اُس سے متوازن غذا کا علم حاصل کرکے اپنی فہرستِ طعام (menu) بنائیںاور اس کے مطابق کھانا کھائیں، تو یہ علم کی بنیاد پر غذا کی دریافت ہوگی۔ لیکن جب آپ بھوک سے تڑپ رہے ہوں اور اِس حالت میں کھانا کھا کر غذا کی اہمیت کو جانیں، تو یہ حساسیت (sensitiveness) کی سطح پر غذا کی اہمیت کو دریافت کرنا ہوتا ہے۔
دونوں صورتوں میںانسان، کھانے کی چیز کو اپنی خوراک بناتا ہے، لیکن دونوں میںاتنا زیادہ فرق ہے کہ پہلی صورت کا مطلب اگر کھانے سے صرف پیٹ بھرنا ہے، تو دوسری صورت کا مطلب کھانے سے معرفتِ خداوندی کا تجربہ حاصل کرنا۔
سچا روزہ، آدمی کو یہی ربانی نعمت عطا کرتاہے سچے روزہ کے ذریعے آدمی، رازقِ حقیقی کی معرفت حاصل کرتا ہے۔ سچاروزہ کسی آدمی کے لیے غذا کو اعلیٰ معرفت کا ذریعہ بنادیتا ہے۔ عام حالت میں خوراک صرف مادّی خوراک ہے، لیکن روزہ اِس خوراک کو ایک سچے مومن کے لیے کامل معنوں میں ایک روحانی خوراک بنادیتا ہے، ایک ایسی خوراک جو اُس کے لیے رازقِ حقیقی کی دریافت کے ہم معنیٰ بن جائے، جو اُس کو سچائی کے اعلیٰ مقام پر کھڑا کردے۔
جو آدمی حساسیت کی سطح پر غذا کی اہمیت کو در یافت کرے، اُسی کا روزہ روزہ ہے۔ اِس کے بغیر روزہ ایک حیوانی عمل ہے، نہ کہ حقیقی معنوں میں انسانی عمل۔
واپس اوپر جائیں

اللہ کے زیر حکم ہونے کا تجربہ

روزہ آدمی کو یہ تجربہ کراتا ہے کہ وہ خدائے برتر کے ماتحت ہے۔ روزہ کے دوران آدمی یہ کرتا ہے کہ وہ اپنی خواہش کے خلاف، اللہ کے حکم کو اپنے اوپر نافذ کرتا ہے۔ اس طرح وہ شعوری طورپر اس حقیقت کا تجربہ کرتا ہے کہ — میں خداوند ِ ذوالجلال کے ماتحت ہوں۔
رمضان کے مہینے میں روزہ رکھنے کا یہ سب سے بڑا تجربہ ہے۔اس طرح گویا کہ ایک بھولا ہوا انسان اپنے رب کے بارے میں زندہ شعورحاصل کرتا ہے۔ وہ لمبی غفلت کے بعد اپنے خالق اور مالک کو دریافت کرتا ہے۔ وہ اس حقیقت کو اپنے ذہن میں تازہ کرتا ہے کہ یہاں ایک عظیم خدا ہے جو میرا معبود ہے اور میںاس کا ایک عاجز بندہ ہوں۔ میںاِس دنیا میں آزاد نہیں ہوں، بلکہ میں ایک عظیم ہستی کے حکم کے ماتحت ہوں۔ مجھے اس عظیم ہستی کی اطاعت کرنا ہے، حتی کہ اس وقت بھی جب کہ اس کی اطاعت کے لئے اپنی خواہشوں کو دبانا پڑے،اپنی آزادی کو ختم کرنا پڑے، اختیار رکھتے ہوئے خود اپنے ارادے سے اپنے آپ کو محکوم بنالینا پڑے—یہ رمضان کے روزہ کا سب سے بڑا پہلو ہے اور اسی کو قرآن میں تقویٰ کہاگیا ہے۔ تقویٰ کا مطلب خدا شناسی (God-consciousness) ہے اور روزہ اس خدا شناسی کو بیدار کرنے کا ایک مؤثر ذریعہ۔روزے کا عمل جسمانی سطح پر کیا جاتا ہے، مگر اپنی حقیقت کے اعتبار سے وہ ذہنی اور روحانی سطح پر کیا جانے والا ایک عمل ہے۔ روزہ آدمی کے شعور کو تجربہ بناتا ہے۔ روزہ آدمی کے اندر گہرے احساس کو بیدار کرتاہے۔ روزہ آدمی کے اندر چھپے ہوئے ربانی جذبات کو متحرک کرتا ہے۔ روزہ آدمی کی سوئی ہوئی روح کو جگا کر اس کو خدا سے قربت کا تجربہ کراتا ہے۔ روزہ قادرِ مطلق کے مقابلے میں،اپنے عاجز ِ مطلق ہونے کے واقعاتی ادراک کا سبب بنتا ہے۔
روزہ، آدمی کے قلب و دماغ کی تطہیر کا ذریعہ ہے۔ روزہ متقیانہ زندگی کا ایک سالانہ ریہرسل (rehearsal) ہے۔ روزہ ایک تطہیری کورس ہے، جس سے گزر کر آدمی دوبارہ اُس پاکیزہ فطری حالت پر پہنچ جاتا ہے جب کہ وہ اپنی ماں کے پیٹ سے پیدا ہوا تھا۔
واپس اوپر جائیں

جذباتِ شکر کی بیداری

حضرت عبد اللہ بن عمر سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے روزہ رکھ کر شام کو پانی سے افطار کیا تو آپ کی زبان سے یہ الفاظ نکلے: ذہب الظماء وابتلّت العروق وثبت الأجر إن شاء اللّٰہ (سنن أبی داؤد، کتاب الصیام، باب القول عند الإفطار) یعنی پیاس چلی گئی اور رگیں تر ہوگئیں اور روزے کا اجر ان شاء اللہ ثابت ہوگیا۔
پانی ایک غیر معمولی قسم کی نعمت ہے۔ پانی پر انسانی زندگی کا انحصار ہے۔ پانی نہیں تو زندگی نہیں۔ مگر عام حالات میں پانی کی اِس خصوصی نعمت کا احساس نہیں ہوتا۔ مگر ایک آدمی جب روزہ رکھ کر سارے دن پانی کا استعمال نہ کرے اور اُس پر پیاس کا تجربہ گزرے، اُس وقت جب آدمی پانی پیتا ہے تو اس کو محسوس ہوتا ہے کہ پانی کیسی عجیب نعمت ہے۔
اُس وقت آدمی کے تمام احساسات جاگ اٹھتے ہیں۔ وہ سوچتا ہے کہ کس طرح دو گیسوں کے ملنے سے سیال (liquid)پانی بن گیا۔ اتھاہ مقدارمیں پانی کے ذخیرے زمین کے اوپر جمع ہوگئے، پھر پانی سے زندگی کی تمام ضرورتیں پوری ہوگئیں۔ انھیں میں سے ایک یہ ہے کہ پانی آدمی کی پیاس کو بجھاکر اس کے لیے زندگی کا سبب بنتا ہے۔یہ احساسات جب جاگتے ہیں تو نہ صرف یہ ہوتا ہے کہ آدمی کی پیاس بجھتی ہے، بلکہ اِسی کے ساتھ شکر ِخداوندی کا ایک دریا آدمی کے اندر رواں ہوجاتا ہے۔
اللہ، انسان کا منعمِ حقیقی ہے۔ اللہ نے انسانوں کو ان گنت نعمتیں عطا کی ہیں۔ ان نعمتوں پر اللہ کا حقیقی شکر ادا کرنا، اللہ کی سب سے بڑی عبادت ہے۔ روزہ کے ذریعہ جب انسان کے اندران نعمتوں کا احساس جگایا جاتا ہے تو آدمی کا شعور بیدار ہوجاتا ہے۔ وہ غفلت سے باہر آجاتا ہے۔ وہ احساسِ نعمت سے سرشار ہوکر حقیقی معنوں میں اللہ کا شکر گزار بندہ بن جاتا ہے۔روزہ ،جذباتِ شکر کی بیداری کا ذریعہ ہے۔ انسان ہر وقت انعاماتِ خداوندی کے سمندر میںرہتا ہے، مگر عام حالات میں اس کو ان نعمتوں کا زندہ احساس نہیںہوتا۔ روزہ آدمی کو اس قابل بناتا ہے کہ وہ اِن نعمتوں کو ازسرِ نو دریافت کرکے اپنے رب کی اعلیٰ معرفت حاصل کرے۔
واپس اوپر جائیں

روزہ دارانہ زندگی

ایک فارسی شاعر نے روزہ اور رمضان کے بارے میں اپنے تجربات کو اِن الفاظ میں بیان کیاہے— روزے کا مقصد لوگوں کے اندر ریاضت کا مزاجپیدا کرنا تھا، مگر رمضان آیا تو ریاضت کے بجائے، لوگوں کے یہاں کھانے پینے کی دھوم میں اور اضافہ ہوگیا:
تن پروریِ خَلق فُزوں شد، نہ ریاضت جُز گرمی ٔ افطار، نہ دارد رمضاں ہیچ
رمضان کے مہینے میں یہ منظر ہر جگہ دکھائی دیتا ہے، مشرق اور مغرب اور عرب اورعجم کے درمیان اس معاملے میں کوئی فرق نہیں۔ ہر جگہ رمضان کا مہینہ کھانے پینے کی مزید سرگرمیوں کا مہینہ بن گیا ہے۔ایسا کیوںہے۔ اس کا جواب یہ ہے کہ رمضان کا مہینہ صرف اُن لوگوں کے لیے روزے کا مہینہ بنتا ہے جو سال بھر روزہ دارانہ زندگی (Roza-oriented life)گزار رہے ہوں۔ جو لوگ سال کے بقیہ مہینوں میں غیر روزہ داربنے ہوئے ہوں، ان کے درمیان جب، رمضان کا مہینہ آئے گا تووہ اُسی کلچر میں اضافے کا سبب بنے گا جس کلچر میں وہ اس سے پہلے زندگی گزار رہے تھے۔
آج کل لوگوں کی زندگی کا مقصد یہ بن گیا ہے کہ — خوب کماؤ اور اچھے اچھے کھانے کھاؤ۔ یہی تقریباً تمام لوگوں کی سوچ ہے اور یہی عملی طورپر لوگوں کا کلچر ہے۔ اسی قسم کی زندگی کے وہ پوری طرح عادی بنے ہوئے ہیں، وہ اس کے سوا زندگی کے کسی اور پیٹرن کو جانتے ہی نہیں۔ ایسی حالت میں جب ان کے درمیان رمضان کا مہینہ آتا ہے تو وہ ان کے کھانے پینے کے کلچر کی ایک توسیع کے ہم معنی ہوتا ہے۔ رمضان ان کے اُسی ذوق میں مزید اضافہ کردیتا ہے جس کے وہ اب تک عادی بنے ہوئے تھے۔ یہی سبب ہے کہ جب رمضان کا مہینہ آتاہے تو وہ ان کے لیے صرف افطار اور سحری کی دھوم کے ہم معنیٰ بن جاتا ہے۔ رمضان کا مہینہ اس لیے آتا ہے، تاکہ لوگوں کے اندر سادگی اور قناعت کا مزاج پیداہو۔ لوگوں کا اشتغال انسانوں کے درمیان کم ہو، اور اللہ کے ساتھ ان کے تعلق میں اضافہ ہوجائے، مگر عملاً یہ سب نہیں ہوتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ جو لوگ سال بھر روزہ دارانہ زندگی گزاریں، وہی رمضان کے مہینے میں سچے روزے دار بنیں گے۔
واپس اوپر جائیں

روزہ کا تعلق پوری زندگی سے

رمضان کے مہینے کا روزہ کسی قسم کی سالانہ رسم (annual custom) نہیں، وہ ایک زندہ تخلیقی (creative)عمل ہے۔ روزے کا تعلق انسان کی پوری زندگی سے ہے۔ روزے کا مقصد دراصل یہ ہے کہ آدمی کی پوری زندگی روزہ رخی زندگی (Roza-oriented life) بن جائے۔
روزے کی اصل حقیقت خواہشات (desires) پر روک لگانا ہے۔ اسی کو حدیث میں یَدَع شہوتَہ (خواہش کو چھوڑنا) بتایا گیا ہے۔ پیاس ایک خواہش ہے، بھوک ایک خواہش ہے، نیند ایک خواہش ہے،معمول کے مطابق زندگی گزارنا ایک خواہش ہے۔ روزے کے مہینوں میں ان سب خواہشوں پر قانوناً روک لگائی جاتی ہے،تاکہ آدمی اسی طرح اپنی دوسری خواہشوں پر ارادتاً روک لگائے۔ وہ خود اپنے فیصلے کے تحت ایک پابند زندگی گزارنے لگے۔
انسان کی زندگی میں جتنے بھی اعمال ہیں، ان سب میں ففٹی ففٹی کا تناسب ہے، یعنی ففٹی پرسنٹ کسی چیز سے رکنا ہے، اور اس کا ففٹی پرسنٹ کسی چیز پرعمل کرنا۔ اسلامی شریعت میں إلاّ اللّٰہسے پہلے لا إلٰہ آتاہے۔ منفی اور ایجابی پہلو کا یہی تناسب تمام دینی اعمال میں پایا جاتا ہے۔ اس اعتبار سے دیکھئے تو روزے کا مقصد یہ ہے کہ آدمی اپنی تمام خواہشات پر بریک لگائے، تاکہ وہ اِس دنیا میں اپنے آپ کو مطلوب اعمال پر قائم کرسکے۔
تمثیل کی زبان میں کہاجائے تو روزے کی حیثیت انسانی زندگی میں انجن میں لگے ہوئے بریک (brake) جیسی ہے۔ بریک گاڑی کے انجن کو قابو میں رکھتا ہے،اسی لیے گاڑی درست طورپر اپنا سفر طے کرتی ہے۔ اگر کسی انجن میں بریک نہ ہو تو انجن درست طورپر کام نہیں کرے گا۔
یہی معاملہ مومن کی زندگی میں روزے کا ہے۔ آدمی کو چاہیے کہ وہ روزے کو اپنی زندگی میں بریک کا مقام دے ، تاکہ وہ خدا کے راستے پر درست طورپر اپنا سفر طے کرسکے۔اُسی آدمی کا روزہ حقیقی روزہ ہے جس کا روزہ اس کے لیے ممنوعاتِ خداوندی کے مقابلے میں بریک کے ہم معنی بن جائے۔
واپس اوپر جائیں

مسائلِ رمضان

مسائلِ رمضان سے مراد، رمضان یا روزے کے فقہی یا قانونی مسائل ہیں۔ اِن مسائل کا چرچا ہر مسجد اور ہر مدرسے میں ہوتا ہے، اِس بنا پر لوگ عام طورپر روزہ اور رمضان کے فقہی مسائل سے واقف ہوتے ہیں۔ اِسی واقفیت کا یہ نتیجہ ہے کہ لوگ ہر سال رمضان کے مہینے میں آسانی کے ساتھ روزہ رکھتے ہیںاور اُس کے ضروری احکام کی پابندی کرتے ہیں۔ اِس لیے اِن مسائل کی تفصیلات بیان کرنے کی ضرورت نہیں، البتہ یہاں اس کے کچھ بنیادی پہلوؤں کا ذکر کیا جاتا ہے۔
روزے کا وقت طلوعِ فجر سے شروع ہوتا ہے اورغروبِ آفتاب پر ختم ہوجاتا ہے۔ روزہ ہر بالغ عورت اور مرد پر فرض ہے، الا یہ کہ اُس کو کوئی ایسا عذر لاحق ہو جس کو شریعت میںمعتبر ماناگیا ہو۔ روزے کا آغاز نیت سے ہوتا ہے۔ یہ نیت آدمی کو طلوعِ فجر سے پہلے، یا سحری کھانے کے وقت کرناچاہیے۔
رمضان کے مہینے میںاگر کوئی شخص سفر کرے، یا بیمار ہوجائے تو وہ رخصت کے طورپر اُن دنوں میں روزہ ترک کرسکتا ہے۔ لیکن اُس کو رمضان کے بعد چھوٹے ہوئے دنوں کے بقدر روزہ رکھ کر اس کی تکمیل کرنی ہوگی۔ البتہ اگر کوئی شخص بڑھاپے، یا کسی طبّی سبب سے مستقل طورپر معذور ہوجائے اور روزہ رکھنا اُس کے لیے ممکن نہ رہے تو وہ روزہ ترک کردے اور کفارہ کے طورپر مساکین کو کھانا کھلادے، یعنی ایک روزے کے بدلے ایک مسکین کے دو وقت کے کھانے کا انتظام کرنا۔
شریعت، آدمی کے اوپر کوئی غیر فطری پابندی عائد نہیں کرتی۔ روزے میں دن کے اوقات میں کھانے پینے اور دیگر ممنوعات کے باوجود، رات کے اوقات میں اُس کی اجازت، سحری اور افطار کا وقتجاننے کے لیے کیلنڈر کا پابند کرنے کے بجائے، عام مشاہدے کو بنیاد قرار دینا، اِسی قسم کی چیزیں ہیں۔ جزئی تفصیلات میں بندوں کو گنجائش دیتے ہوئے، اللہ تعالیٰ نے عمومی حدیں واضح فرمادی ہیں۔ آدمی کو چاہیے کہ وہ اِن مقرر حدوں کا پوری طرح پابند رہے اور تفصیلی جزئیات میں وہ اُس روش کو اختیار کرے جو تقویٰ کی اسپرٹ کے مطابق ہے۔
واپس اوپر جائیں

انعام کی رات

حضرت ابو ہریرہ کی ایک طویل روایت حدیث کی کتابوں میں آئی ہے۔ اِس روایت کا ایک حصہ یہ ہے: یُغفر لہم فی اٰخر لیلۃ من رمضان۔ قیل: یا رسول اللہ، أہی لیلۃ القدر۔ قال: لا، ولکنّ العاملَ إنّما یُوفی أجرہ إذا قضیٰ عملہ (مسند احمد، جلد 2، صفحہ 292) یعنی رمضان کی آخری رات میں روزے دار بندوں اور بندیوں کی مغفرت کردی جاتی ہے۔ کہاگیا کہ اے اللہ کے رسول، کیا اِس رات سے مراد شبِ قدر ہے۔ آپ نے فرمایا کہ نہیں، بلکہ عمل کرنے والا جب عمل کرتا ہے، تو عمل کے پورا ہونے کے بعداُس کو اُس کاپورا اجر دے دیا جاتا ہے۔
اِس حدیث کا مطلب یہ ہے کہ امتِ محمدی کے وہ افراد جو روزے کی مطلوب اسپرٹ کے ساتھ روزہ رکھیں، مہینے کی آخری رات میں ان کے عمل کا پورا اجر ان کے ریکارڈ میں لکھ دیا جاتاہے ۔ رمضان کے مہینے کی اِس آخری رات کو دوسری حدیث میں ’لیلۃ الجائزۃ‘ (البیہقی) کہاگیا ہے، یعنی انعام کی رات۔ ہر نیک عمل پر اللہ اپنے بندوں کو انعام دیتا ہے۔ رمضان کی عبادت کی اہمیت کی بناپر اس حدیث میں اس کے انعام کا ذکر خصوصی انداز میں کیا گیا۔
عام طورپر ایسا ہوتاہے کہ جب رمضان کا مہینہ ختم ہوجاتا ہے، تو عید سے پہلے کی رات کو لوگ غفلت میں یا تماشے میں گزارتے ہیں۔ وہ اس میں شاپنگ کی دھوم مچاتے ہیں۔ یہ حدیث اِس قسم کی غفلت کے لیے ایک انتباہ (warning) کی حیثیت رکھتی ہے۔انعام کی اِس رات کا بہتر استعمال یہ ہے کہ اُس رات کو زیادہ سے زیادہ دعا اور عبادت میں گزارا جائے، اور پورے مہینے کا محاسبہ کیا جائے، اور نئے سال کی دوبارہ منصوبہ بندی کی جائے۔ اِس رات کو مسرفانہ شاپنگ جیسی چیزوں میں گزارنا، اِس بابرکت موقع کا ضیاع بھی ہے اور اُس کی ناقدری بھی۔حقیقت یہ ہے کہ جو لوگ رمضان کے مہینے کو اُس کی مطلوب اسپرٹ کے ساتھ گزاریں، وہ کبھی اِس کا تحمل نہیں کرسکتے کہ رمضان کی آخری رات کو وہ غفلت اور تماشے میں گزار دیں۔ ان کے لیے مہینے کی آخری رات دعا اور عبادت کی رات ہوگی، نہ کہ غفلت کی رات۔
واپس اوپر جائیں

عید الفطر کا دن

رمضان اور روزہ اور عید الفطر کے بارے میں حضرت انس بن مالک سے ایک طویل روایت نقل ہوئی ہے۔ اُس روایت کا ایک حصہ یہ ہے:
’’… فإذا کان یومُ عیدِہم، یعنی یومَ فِطرہم، باہیٰ بہم ملائکتَہ، فقال: ملائکتی، ماجزائُ أجیرٍ وفّیٰ عملَہ۔ قالوا: ربّنا، جزائُہ أن یُوفّیٰ أجرُہ۔ قال: ملائکتی، عبیدی وإمائی قضَوا فریضتی علیہم، ثمّ خرجوا یعُجُّون إلی الدّعاء، وعزّتی وجَلالِی وکَرمی وعُلوّی وارْتفاعِ مکانی لأجیبنَّہم۔ فیقول: ارجعوا فقد غفرتُ لکم، وبدّلتُ سیّئاتکم حسنات۔ قال: فیرجعون مغفوراً لہم۔ (رواہ البیہقی فی شعب الإیمان، باب الصیام، فصل فی لیلۃ العید ویومہما)۔
یعنی جب عید کا دن آتا ہے، یعنی عید الفطر کا دن، تو اللہ تعالیٰ فرشتوں کے سامنے روزے دار بندوں اور بندیوںپر فخر کرتا ہے۔ وہ کہتا ہے: اے میرے فرشتو، اُس کی جزا کیا ہے جس نے اپنے عمل کو پورا کردیا۔ فرشتے کہتے ہیںکہ اے ہمارے رب، اُس کی جزا یہ ہے کہ اُس کو اُس کے عمل کا پورا بدلہ دے دیا جائے۔خدا کہتاہے کہ اے میرے فرشتو، میرے بندو ں اور میری بندیوں نے میرے اُس فرض کو ادا کردیاجو اُن پر عائد تھا، پھر وہ نکلے ہیں دعا کے ساتھ مجھ کو پکارتے ہوئے۔ میری عزت اور میرے جلال کی قسم ، میرے کرم ، میرے عُلو ِ شان اور میرے بلند مقام کی قسم، میں ضرور اُن کی پکار کو سنوں گا۔ پھر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ: تم لوگ واپس جاؤ، میں نے تم کو بخش دیا اور میں نے تمھارے سیّاٰت کو حسنات میں تبدیل کر دیا۔ پس وہ لوگ اِس طرح لوٹتے ہیں کہ اُن کی مغفرت ہوچکی ہوتی ہے۔
رمضان کے خاتمے کے بعد عید الفطر کا دن ایک عظیم خوش خبری بن کر آتا ہے، ابدی انعام کی خوش خبری۔ یہ ابدی انعام اللہ کے اُن بندوں اور بندیوںکے لیے ہے جو رمضان کے مہینے میں مطلوب روزے کے ذریعے اپنے لیے اُس کا استحقاق ثابت کریں۔
واپس اوپر جائیں

Saturday, 2 August 2008

Al Risala | August 2008 (الرسالہ،اگست)

2

- اضافۂ ایمان

3

- ذکر ِ کثیر

4

- قرآن کا توسیعی مفہوم

5

- دو آیتیں

6

- شکر سے اضافہ

7

- یہ بھی شرک ہے

8

- سنّت کیا ہے

9

- دعا ایک عبادت

10

- فہمِ دین کے لیے تدبّر ضروری

11

- اسلام کیا ہے

12

- ربّانی معیار، اَخلاقی معیار

13

- سوچئے، سوچئے، سوچئے

15

- اسلام کا مستقبل

16

- درمیانی شخص کا رول

23

- جدید الحاد— ایک تجزیہ

30

- یہ اخلاقی بحران کیوں

37

- مہارت کا زمانہ

38

- بھولنا ایک مثبت عمل

39

- زیادہ عمر ،زیادہ عقل

40

- خوش نما فریب

41

- ایک خط

43

- سوال وجواب

46

- خبرنامہ اسلامی مرکز187


اضافۂ ایمان

سورج ہماری زمین سے نو کرورتیس لاکھ میل دور ہے۔سورج ہماری زمین سے ایک لاکھ تیس ہزارگنا بڑا ہے۔ سورج زمین کی مانند ٹھوس نہیں ہے، بلکہ وہ پورا کا پورا ایک عظیم دہکتا ہوا شعلہ ہے۔ اس کی گرمی گیارہ ہزار ڈگری فارن ہائٹ ہے۔ یہ گرمی اتنی زیادہ ہے کہ سخت ترین مادہ بھی اس میں پگھلے بغیر نہیں رہ سکتا۔ زمین اگر اس کے قریب کی جائے تو وہ ایک سکنڈ سے بھی کم عرصے میں پگھل کر گیس بن جائے گی۔
سورج کیسے چمکتا ہے اور کیسے اتنی بڑی مقدار میں وہ روشنی اور گرمی دے رہا ہے۔ قدیم خیال یہ تھا کہ سورجمسلسل جل رہا ہے، جیسے کوئی لکڑی یا کوئلہ جلتا ہے۔ مگر جب فلکیاتی تحقیق سے معلوم ہوا کہ وہ ہزاروں ملین سال سے اسی طرح روشن ہے تو یہ خیال غلط ثابت ہوگیا۔ سورج میںاگر کوئی مادہ جل رہا ہوتا تو اب تک سورج بجھ چکا ہوتا، کیوں کہ کوئی چیز اتنی زیادہ لمبی مدت تک جلتی ہوئی حالت میں نہیںرہ سکتی۔
اب سائنس دانوں کا نظریہ یہ ہے کہ سورج کی گرمی اُسی قسم کے ایک عمل (process) کا نتیجہ ہے جو ایٹم بم کے اندر وقوع میں آتا ہے، یعنی سورج، مادہ کو توانائی میں تبدیل کرتا ہے۔ یہ عمل جلنے سے مختلف ہے۔ جلنا مادہ کو ایک صورت سے دوسری صورت میں تبدیل کرتا ہے، مگر جب مادہ کو توانائی میں بدلا جائے تو بہت زیادہ توانائی صرف تھوڑے سے مادہ کے ذریعہ حاصل کی جاسکتی ہے۔ مادہ کا ایک اونس اتنی زیادہ توانائی پیدا کرسکتا ہے جو ایک ملین ٹن سے زیادہ چٹان کو پگھلا دے:
The sun changes matter into energy. This is different from burning. Burning changes matter from one form to another. But when matter is changed into energy, very little matter is needed to produce a tremendous amount of energy. One ounce of matter could produce enough energy to melt more than a million tons of rock.
کائنات میںاس قسم کی ان گنت نشانیاں پائی جاتی ہیں۔ یہ نشانیاں بتاتی ہیں کہ کائنات کے پیچھے ایک عظیم خالق کی ہستی کام کررہی ہے۔ عظیم خالق کے بغیر کبھی اس قسم کی عظیم تخلیق ظہور میں نہیں آسکتی۔قرآن میں بار بار کائناتی نشانیوں پر غور کرنے کے لیے کہا گیا ہے۔ یہ غور وفکر ایک خالص دینی عمل ہے، وہ مومن کے ایمان میں غیر معمولی اضافے کا سبب بنتا ہے، وہ مومن کے یقین کو بے پناہ حد تک بڑھا دیتا ہے۔
واپس اوپر جائیں

ذکر ِ کثیر

قرآن میںبتایا گیاہے کہ — اللہ کی یاد بلا شبہہ سب سے بڑی چیز ہے (ولذکر اللّٰہ أکبر) دوسرے لفظوں میں یہ کہ کسی انسان کے لیے سب سے بڑی عبادت یہ ہے کہ وہ اللہ کو یاد کرے:
And rememberance of God is the greatest thing. (29:45)
انسان سے یہ ذکر سب سے زیادہ مطلوب ہے۔ چناں چہ قرآن میں بار بار کہاگیا ہے کہ اللہ کو بہت زیادہ یاد کرو (اذکروا اللہ ذکراً کثیرا) الأحزاب: 41
ذکر ِکثیر سے کیا مراد ہے۔ اِس سے مراد کوئی عدد، یا شمار یاتی نصاب نہیں ہے، بلکہ اُس سے مراد ایک ذہنی کیفیت ہے۔ ایک روایت کے مطابق، حضرت عائشہ نے کہا: کان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یذکر اللہ علی کلّ أحیانہ (صحیح البخاری، کتاب الٔاذان) یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہر موقع (occasion) پر اللہ کو یاد کرتے تھے۔ اِس روایت سے ذکر ِ کثیر کا مفہوم سمجھا جاسکتا ہے۔
أحیانہ میں ہ کی ضمیر اللہ کی طرف راجع ہے۔ اِس کا مطلب ہے— أحیان اللہ، جیسے کہ قرآن میں آیا ہے: أیّام اللہ۔ اصل یہ ہے کہ کوئی بھی معاملہ جو انسان کے ساتھ پیش آتا ہے، اُس میںآلاء اللہ کا پہلو شامل رہتا ہے۔ آلاء اللہ سے مراد، اللہ کے کرشمے ہیں جو ہر چیزمیں شامل ہیں، کوئی بھی چیز اُس سے خالی نہیں۔
ذکر ِ کثیر کا مطلب یہ ہے کہ آدمی جس چیز کو بھی دیکھے، یا اُس پر جو بھی تجربہ گزرے، وہ اس کو اللہ کی یاد کے لیے ایک پوائنٹ آف ریفرنس بنالے:
Make every experience a point of reference for the remebrance of God.
ہر چیز اس کو خدا کی یاد دلائے۔ ہر تجربہ اس کے ایمان میں اضافے کا سبب بنتا رہا۔ ہر مطالعہ اور مشاہدہ، اس کے لیے خدا سے قربت کے ہم معنٰی بن جائے۔
واپس اوپر جائیں

قرآن کا توسیعی مفہوم

قرآن ایک آفاقی کتاب ہے۔ قرآن کا پیغام ایک ابدی پیغام ہے۔ قرآن کی آیتوںکا ایک ابتدائی مفہوم ہوتا ہے اور دوسرا ، اس کا توسیعی مفہوم (extended meaning)۔ قرآن کو گہرائی کے ساتھ سمجھنے کے لیے اِس حقیقت کو جاننا بہت ضروری ہے۔
قرآن کی سورہ نمبر 17 میں نمازِ فجر کا ذکر کرتے ہوئے ارشاد ہوا ہے: وقرآنَ الفجر،إنّ قرآن الفجر کان مشہوداً (الإسراء: 78 ) یعنی نمازِ فجر میں قرآن کی طویل قرأت کرو۔ کیوں کہ فجر کی قرأت حضوری کی قرأت، ہوتی ہے۔ اِس کا مطلب یہ ہے کہ فجر کا وقت سکون اور یک سوئی کا وقت ہوتا ہے۔ اِس لیے اُس وقت کی قرأت خصوصی کیفیات کی حامل بن جاتی ہے۔
اِس آیت کا ایک توسیعی مفہوم یہ ہوسکتا ہے کہ آدمی صبح کی نماز اول وقت ادا کرے، اور پھر واک (walk) کرنے کے لیے وہ کسی پارک میں جائے، یا ایسے مقام پر جائے جہاں نیچر کی ہریالی ہو۔ ایسے مقام پر صبح کے وقت ایک قسم کا ملکوتی ماحول ہوتا ہے۔ اِس ماحول میں آدمی، خدا کی نشانیوں پر غور کرے۔ وہ قرآن کی آیتوں کو پڑھے۔ وہ تخلیق میں خالق کی معرفت حاصل کرے۔
اِس کی ایک صورت یہ ہے کہ نمازِ فجر کی ادائیگی کے بعد کچھ لوگ اجتماعی طورپر ایسے مقامات پر جائیں۔ وہاں فطرت کے ماحول میں وہ ذکر کا حلقہ قائم کریں۔ وہ خدا کی باتوں کا چرچا کریں۔ وہ درسِ قرآن، یا درسِ حدیث کی صورت میں نصیحت حاصل کریں۔ وہ فطرت کے مناظر میں خدا کے کمالات کا ذکر کریں۔ وہ روحانیت کی فضا میں اپنے لیے دینی غذا حاصل کرنے کی کوشش کریں۔ یہ گویا کہ تذکیر ِ فجر ہے، جو قرآنِ فجر کی ایک توسیعی صورت ہے۔ اِس قسم کا عمل بلاشبہہ اضافۂ ایمان کا باعث ہے، خواہ وہ انفرادی طورپر ہو یا اجتماعی طورپر۔
یہی قرآن کی ہر آیت کا معاملہ ہے۔ قرآن کی کسی آیت کا ایک مفہوم وہ ہے جو اس کے شانِ نزول، یا سببِ نزول کے ذریعے معلوم ہوتا ہے۔ یہ آیت کا ابتدائی مفہوم ہے۔ اِسی کے ساتھ قرآن کی ہر آیت کاایک توسیعی مفہوم ہے۔ اِس توسیعی مفہوم کے اعتبار سے ہر دور میں قرآن کے نئے معانی لوگوں پر کھلتے چلے جائیں گے۔
واپس اوپر جائیں

دو آیتیں

قرآن کی سورہ نمبر 42 کی ایک آیت کا ترجمہ یہ ہے: ’’اللہ نے تمھارے لیے وہی دین مقرر کیا ہے جس کا اس نے نوح کو حکم دیا تھا اور جس کی وحی ہم نے تمھاری طرف کی ہے اور جس کا حکم ہم نے ابراہیم کو اور موسیٰ کو اور عیسیٰ کو دیا تھا کہ دین کو قائم رکھو اور اس میں اختلاف نہ ڈالو‘‘( الشوریٰ : 13)۔
قرآن کی سورہ نمبر 5 میں مختلف پیغمبروں کی امتوں کا حوالہ دیتے ہوئے اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ’’ہم نے تم میں سے ہر ایک کے لیے ایک شریعت اور ایک طریقہ ٹھہرایا۔ (المائدہ: 48)۔
قرآن کی ان دونوں آیتوں پر غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ خدا نے پیغمبروں کے ذریعہ انسان کے لیے جو ہدایت نامہ بھیجا ہے اس کے دو حصے ہیں۔ اس کا ایک حصہ وہ ہے جس کو ’الدین‘ کہا گیا ہے۔ اور اس کا دوسرا حصہ وہ ہے جس کو ’شریعت‘ اور ’منہاج‘ کا نام دیا گیا ہے۔
غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ’الدین‘ سے مراد خدا کی ہدایت کا وہ حصہ ہے جو حضرت نوح سے لے کر پیغمبر اسلام تک سب کو یکساں طورپر دیا گیا ہے۔ یہ خدا کی ہدایت کا ابدی حصہ ہے۔ اس حصۂ ہدایت میں نہ پہلے کبھی کوئی تبدیلی ہوئی اور نہ آئندہ اس میں کوئی تبدیلی ہوسکتی ہے۔ مگر خدائی ہدایت نامے کا دوسرا حصہ جس کو شریعت کہا گیا ہے، وہ جیسا کہ قرآن سے واضح ہے، ہر نبی کی امت کو مختلف صورت میں دیاگیا ہے۔ گویا کہ ’الدین‘ کے برعکس ’شریعت‘ تبدیلی کا موضوع ہے۔
تعلیمات کے درمیان اِس تقسیم کا مطلب یہ ہے کہ خدا کے دین کا جو ابدی پیغام ہے، وہ ہرزمانے میں یکساں رہا ہے۔ لیکن اِس پیغام کو جب عملی طورپر وقت کی صورتِ حال پر منطبق کیا جائے تو یہ ’شریعت‘ کا معاملہ بن جاتا ہے۔ اور شریعت کے معاملے میں ہمیشہ حالات کا اعتبار کیا جائے گا۔ اِسی حکمت کی بنا پر مختلف شریعتوں کے درمیان فرق رہا ہے۔ چوں کہ حالات بدلتے رہتے ہیں، اس لیے کوئی شریعت اپنی پوری تفصیل کے ساتھ دوامی نہیں ہوسکتی، وہ ہمیشہ اجتہاد کا موضوع بنی رہے گی۔ اِس اجتہاد میں پچھلے نبیوں کا عمل ایک رہ نما نمونے کی حیثیت رکھتا ہے (الأنعام: 90 ) ۔
واپس اوپر جائیں

شکر سے اضافہ

قرآن کی سورہ نمبر 14 میںارشاد ہوا ہے: وإذ تأذن ربّکم لئن شکرتم لأزیدنّکم، ولئن کفرتم إنّ عذابی لشدید (إبراہیم: 7) اور جب تمھہارے رب نے تم کو آگاہ کردیا کہ اگر تم شکر کروگے، تو میں تم کو زیادہ دوں گا۔ اور اگر تم ناشکری کروگے، تو میرا عذاب بڑا سخت ہے:
And remember also the time when your Lord declared: ‘If you are grateful, I will surely bestow more favours on you; but if you are ungrateful, then know that My punishment is severe indeed’. (14:7)
قرآن کی اِس آیت میں نعمت میں اضافہ سے مراد یہ ہے کہ دنیا کی زندگی میں جو انسان، خدا کی نعمتوں کا سچا شکر ادا کرے گا، اُس کو آخر ت میں جنت کی صورت میں زیادہ بڑا انعام دیا جائے گا۔ شکر دراصل اعتراف (acknowledgement) کا دوسرا نام ہے۔ نعمت کے ملنے پر منعم کا اعتراف سب سے بڑی عبادت ہے۔ اور یہی عبادت وہ چیز ہے جو کسی انسان کو جنت کا مستحق بنائے گی۔
نعمت کیا ہے، نعمت دراصل احساسِ لذت (sense of enjoyment) کا دوسرا نام ہے۔ کوئی چیز پُرلذت اِسی لیے ہے کہ ہمارے اندر لذت کا احساس موجود ہے۔ اگر لذت کا احساس نہ ہو، تو کوئی بھی چیز لذت کا ذریعہ نہیں بن سکتی۔
کائنات میں انسان واحد مخلوق ہے جو لذت کا احساس رکھتا ہے۔ موجودہ دنیا میں انسان کو عارضی طورپر اِسی لیے رکھا گیا ہے کہ وہ لذتوں کو محسوس کرکے، خدا کاشکر اداکرے۔ جو انسان اِس دنیا میں حقیقی شکر کا ثبوت دے گا، وہ اگلی دنیا میںابدی جنت میں بسایا جائے گا، جہاں وہ اپنے احساسِ لذت کی کامل تسکین پاسکے۔
موجودہ دنیا انسان کے لیے عارضی شکر کا مقام ہے۔ یہی عارضی شکر وہ قیمت ہے جو کسی انسان کو ابدی جنت میں داخلے کا مستحق بناتی ہے۔
واپس اوپر جائیں

یہ بھی شرک ہے

پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مَن صلّیٰ یُرائی فقد أشرک، ومن صام یرائی فقد أشرک، ومن تصدّق یُرائی فقد أشرک (مسند احمد، جلد 4، صفحہ 126 ) یعنی جس شخص نے نماز پڑھی دکھانے کے لیے، اس نے شرک کیا۔ جس نے روزہ رکھا دکھانے کے لیے، اس نے شرک کیا۔ جس نے صدقہ کیا دکھانے کے لیے، اس نے شرک کیا۔
نماز اور روزہ اور صدقہ، خدا کی عبادتیں ہیں، پھر وہ شرک کیسے بن جاتے ہیں۔ ایسا اُس وقت ہوتا ہے، جب کہ مسلمانوں کا ایک معاشرہ بن جائے۔ معاشرہ ایک دنیوی تنظیم ہے۔ ایسی تنظیم جب وجود میں آتی ہے، تو وہ کوئی سادہ بات نہیں ہوتی۔ اب تمام مادّی روابط اِس سماجی تنظیم کے ساتھ جُڑجاتے ہیں۔ قیادت، مادّی فائدے، انسانی تعلقات، تمام دنیوی نوعیت کی چیزیں سماج کے اندر وجود میں آجاتی ہیں، جس طرح وہ عام قسم کے سیکولر سماج میں موجود ہوتی ہیں۔
یہی وہ وقت ہے، جب کہ مسلمانوں کے درمیان مذکورہ قسم کا ’’شرک‘‘ وجود میں آتا ہے۔ اِس کو سماجی شرک بھی کہہ سکتے ہیں۔ اِس سماج سے وابستہ ہر شخص کے لیے ضروری ہوجاتا ہے کہ وہ اس کے اندر اپنے سماجی اسٹیٹس کو برقرار (maintain) رکھے۔ اِس نفسیات کے تحت، یہ ہوتا ہے کہ لوگ دین کی اسپرٹ (spirit) کو الگ الگ کرکے صرف اس کا ظاہری ڈھانچہ (form) لے لیتے ہیں، اور اِسی ظاہری ڈھانچہ کی دھوم مچاتے ہیں۔
اِس ماحول میں لوگ ظاہری دین داری کا خصوصی اہتمام کرتے ہیں۔ کیوں کہ وہ جانتے ہیں کہ اپنے آپ کودین دار ثابت کرنے کے بعد ہی وہ مسلمانوں کے اندر اپنی مطلوب جگہ بنا سکتے ہیں، وہ مسلمانوں کے اندر موجود تمام سماجی فائدے اپنے گرد اکھٹا کرسکتے ہیں، وہ مسلمانوں کے نمائندے بن کر اُن کے درمیان ہر قسم کے قیادتی مناصب پر قابض ہوسکتے ہیں۔ اِس قسم کی ظاہری عبادت میں رضائِ الٰہی کی اسپرٹ موجود نہیں ہوتی، اِس لیے حدیث میں اِس کو شرک کانام دیاگیا ۔
واپس اوپر جائیں

سنّت کیا ہے

حضرت انس بن مالک کی ایک روایت الدارمی میں اِن الفاظ میں آئی ہے: إذا وُضع الطّعام فاخلعوا نِعالکم، فإنہ أروح لأقدامکم (سُنن الدَّارمی، کتاب الأطعمۃ؛ مشکاۃ المصابیح، رقم الحدیث:4240 )۔ یعنی جب کھانا رکھا جائے تو تم اپنے جوتے اتار دو، کیوں کہ ایسا کرنے میں تمھارے پاؤں کے لیے راحت ہے۔
اِس حدیث میں کھانے کے وقت جوتا اتارنے کی مصلحت یہ بتائی گئی ہے کہ یہ تمھارے لیے زیادہ پُر راحت طریقہ ہے۔ اِس سے معلوم ہوا کہ کھانے کے وقت جوتا اتارنا، کوئی مطلق نوعیت کی سنت نہیں، اس کا مقصد صرف راحت ہے۔ یہی معاملہ اُن تمام ’’سنتوں‘‘ کا ہے جن میں آدابِ حیات کو بتایا گیا ہے۔ آدابِ حیات کے بارے میں کوئی طریقہ مطلق طورپر اچھا، یا بُرا نہیں ہوتا، بلکہ اُس کا تعلق تمام تر راحت سے ہوتا ہے۔ جس وقت جس طریقے میں انسان کے لیے راحت ہو، وہی طریقہ سنت کا طریقہ قرار پائے گا۔
مثال کے طورپر آپ کو کار میں بیٹھنا ہے۔ جیسا کہ معلوم ہے، کار میں دائیں اور بائیں دونوں طرف دروازے ہوتے ہیں۔ اگر آپ کار میں اُس کے دائیں طرف کے دروازے سے بیٹھ رہے ہوں، تو سہولت یہ ہوگی کہ آپ پہلے اپنا بایاں پاؤں کار میں داخل کریں۔ اِسی طرح اگر آپ کار کے بائیں دروازے سے اس میں بیٹھ رہے ہوں، تو آپ کے لیے سہولت یہ ہوگی کہ آپ پہلے اپنا دایاں پاؤں کار میں داخل کریں۔ اس کے برعکس طریقہ اختیار کرنا، آپ کے لیے غیر ضروری مشقت کا باعث ہوگا۔ ٹھیک یہی معاملہ کار سے اترنے کا بھی ہے۔
ایسی حالت میں اگر کوئی شخص کار میں بیٹھنے کی سنت یہ بتائے کہ اُس میں داخل ہوتے ہوئے ہرحال میں اپنا دایاں پاؤں کارکے اندر داخل کرو، اور اترتـے ہوئے ہر حال میں اپنا بایاں پاؤں اس کے اندر سے نکالو، تو ایسا کرنا راحت کے بجائے زحمت کا باعث بن جائے گا۔ جب کہ آدابِ زندگی کے بارے میں سنت ہمیشہ راحت پر مبنی ہوتی ہے، نہ کہ غیرضروری مشقت پر۔
واپس اوپر جائیں

دعا ایک عبادت

میں نے 1982 میں حج کیا۔ اس سفر میں ایک عرب پروفیسربھی میرے ساتھ تھے۔ہم دونوں جدہ ائر پورٹ پر اترے اور پھر وہاں سے روانہ ہوکر مکہ پہنچے۔ مکہ پہنچ کر میرے عرب ساتھی کو اچانک معلوم ہوا کہ وہ اپنا ہینڈ بیگ جدہ میںائر پورٹ پر چھوڑ آئے ہیں جس میں اُن کے بیس ہزار ریال تھے۔ اس کے بعد وہ مجھ کو مکہ میں چھوڑ کر دوبارہ جدہ کے لیے روانہ ہوگئے تاکہ وہاں اپنا کھویا ہوا ہینڈ بیگ تلاش کریں۔ ان کے جانے کے بعد میںنے دو رکعت نماز پڑھی۔ میں نے دعا کے لیے ہاتھ اٹھایا تو میری زبان سے یہ الفاظ نکلے— خدایا، تو اس کو ہمارے لیے سبق بنادے، تو اس کو ہمارے لیے نقصان نہ بنا۔
آدمی کو پوری کوشش کرنا چاہیے کہ وہ غلطی یا نقصان سے بچے، لیکن جب نقصان ہوجائے تو دوسری چیز جس سے آدمی کو بچنا چاہیے، وہ ہونے والے واقعہ پر غم اور افسوس ہے۔ جب ایک غلطی ہوجائے تو وہ گویاکمان سے نکلا ہوا ایک تیر ہے جو واپس نہیں آتا۔ ایسی غلطی کے لیے افسوس نہیں کرنا ہے، بلکہ اللہ سے دعا کرنا ہے کہ وہ اس کے بُرے انجام سے آدمی کو بچائے۔
غلطی نہ کرنا اچھا ہے، مگر غلطی کرنا بھی اس وقت اچھا بن جاتا ہے جب کہ غلطی کا احساس آدمی کو اللہ کی طرف متوجہ کردے۔ وہ اپنے رب سے دعائیں کرنے لگے۔ ایسی غلطی آدمی کے لیے عبادت کا سبب بن جاتی ہے۔ حدیث میں آیا ہے کہ دعا ایک عبادت ہے: (الدعاء ہوالعبادۃ)۔
نقصان کے بعد اس پر غم کرنا گویا کھوئے ہوئے میں جینا ہے۔ اور نقصان کے بعد اللہ کی طرف رجوع ہوجانا گویا نقصان کے بعد اس کی بہتر تلافی کا طالب بننا ہے۔ اور بلا شبہہ اللہ یہ اختیاررکھتا ہے کہ وہ آدمی کے نقصان کو دوبارہ عظیم تر فائدے میں تبدیل کردے۔
ہر نقصان کے دو پہلو ہیں۔ ایک، نقصان اوردوسرے، سبق۔ اگر کوئی نقصان ہوجائے، تو آدمی کو چاہیے کہ وہ اُس سے سبق لے۔ اِس طرح نقصان، فائدے میںتبدیل ہوجائے گا۔
واپس اوپر جائیں

فہمِ دین کے لیے تدبّر ضروری

دین کو سمجھنے کے لیے صرف یہ کافی نہیں ہے کہ آدمی عربی زبان جانے، یا وہ قرآن اور حدیث کا ترجمہ پڑھ لے۔ اِسی کے ساتھ لازمی طورپر ضروری ہے کہ آدمی پوری سنجیدگی کے ساتھ اُس پر تدبّر کرے۔ سنجیدہ غور وفکر کے بغیر کوئی بھی شخص دین کو حقیقی طورپر سمجھ نہیں سکتا، خواہ وہ تمام دینی علوم اور دُنیوی علوم کا ماہر ہو۔ مثال کے طورپر قرآن میں اہلِ ایمان کو یہ دعا سکھائی گئی ہے: ربّنا آتنا فی الدنیا حسنۃً، وفی الآخرۃ حسنۃً، وقنا عذابَ النّار (البقرۃ: 201 )
ظاہر ِ الفاظ کو لے کر اگر آپ اس دعاکا یہ مطلب سمجھ لیں کہ اے رب، ہم کو دنیا کی اچھی چیزیں دے دے اور ہم کو آخرت کی اچھی چیزیں دے دے، تو ایسا سمجھنا غلط ہوگا۔ اِس دعا میں جو بات کہی گئی ہے، وہ خدا کی نسبت سے ہے، نہ کہ انسان کی نسبت سے۔ اِس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ ہماری اپنی خواہشوں کے مطابق، خدا ہم کو دونوں جہان کی اچھی چیزیں دے دے، بلکہ اِس دعا کا مطلب یہ ہے کہ خدایا، تیرے نزدیک دنیا کا جو حسنہ ہے، وہ تو ہم کو دے، اور تیرے نزدیک آخرت کا جو حسنہ ہے، وہ ہم کو دے دے۔
اِسی طرح ایمانِ مفصّل کے کلمہ میں مومن جو الفاظ ادا کرتا ہے، اُس میں سے ایک چیز یہ ہے: وبالقدر خیرہ وشرّہ (میںایمان لایا تقدیر پر، وہ خیر ہویا شر ہو) اِن الفاظ کا معاملہ بھی یہ ہے کہ وہ خدا کی نسبت سے نہیں ہیں، بلکہ وہ انسان کی نسبت سے ہیں، اِس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ خدا کسی کے لیے خیر مقدر کردیتا ہے اور کسی کے لیے شر۔ گویا کہ بندہ یہ کہہ رہا ہے کہ دنیا کی زندگی میں جو کچھ میرے ساتھ پیش آئے، خواہ وہ میری اپنی سمجھ کے مطابق، خیر ہو یا وہ میری اپنی سمجھ کے مطابق شر ہو، میں ہر حال میں اُس پر راضی ہوں۔
گویا کہ پہلی مثال میں’حسنہ‘ کی جو بات ہے، اُس کو صرف اُس وقت سمجھا جاسکتا ہے جب کہ اُس کو خدا کی نسبت سے دیکھا جائے۔ اگر اُس کوانسان کی نسبت سے دیکھا جانے لگے تو اُس کا مفہوم بالکل غلط ہوجائے گا۔ اِسی طرح دوسری مثال میں خیر و شرکی جو بات ہے، وہ انسان کی نسبت سے ہے، نہ کہ خدا کی نسبت سے۔ اگر اِس نسبت کو بدل دیا جائے تو اُس کے مفہوم کو صحیح طور پر سمجھا نہیں جاسکتا۔
واپس اوپر جائیں

اسلام کیا ہے

اسلام کا آغاز کلمہ ٔ شہادت سے ہوتا ہے، یعنی زبان سے اِن الفاظ کو ادا کرنا: أشہد أن لا إلٰہ إلاّ اللّہ، وأشہد أنّ محمداً عبدُہ ورسولہُ (میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی اور الٰہ نہیں، اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد، اللہ کے بندے اور اُس کے رسول ہیں)۔گواہی یہ ہے کہ آدمی اپنے ذاتی علم کی بنیاد پر ایک بیان دے:
Giving a statement on the basis of direct knowledge.
اسلام کا آغاز معرفت سے ہوتا ہے۔ ایک انسان جو سچائی کا متلاشی ہو، وہ تلاش وجستجو کے بعد سچائی کی دریافت کرتا ہے۔ اُس کا دل اِس یقین سے بھر جاتا ہے کہ جو چیز میں نے دریافت کی ہے، وہ کامل سچائی ہے۔ اُس وقت فطری طورپر وہ یہ کرتا ہے کہ جس حقیقت کو اُس نے دل و دماغ کی سطح پر پایا ہے، اُس کا اعلان وہ اپنی زبان سے کرے۔ کلمہ ٔ شہادت اعلانِ معرفت ہے، نہ کہ محض تکرارِ الفاظ۔اللہ کے سوا کوئی اور الٰہ نہیں، صرف معبودیت کے معنیٰ میں ہے، یعنی خدا ہی معبودِ حقیقی ہے۔ وہی اِس قابل ہے کہ اس کی عبادت کی جائے، وہی روزِ جزا کا مالک ہے، کسی بھی اعتبار سے کوئی اس کا شریک و سہیم نہیں۔
لا إلٰہ إلاّ اللّہکا مطلب ہے: لا معبودَ إلّا اللّہ، لیکن کچھ لوگوں نے خود ساختہ طورپر اُس میں نئے معانی شامل کرنے کی کوشش کی ہے۔ مثلاً کچھ لوگ وحدتِ وجود (monism) کے نظریے سے متاثر ہوئے۔ انھوں نے اپنے اِس تصور کو اسلامی عقیدے میں شامل کرنے کے لیے کہا: لاَ موجودَ إلاّ اللّٰہ، یعنی جس طرح خدا کے سوا کوئی معبود نہیں، اُسی طرح خدا کے سوا کوئی اور موجود نہیں۔ اِسی طرح کچھ اور لوگوں نے اِس عقیدے میں سیاست کو شامل کرنا چاہا تو انھوں نے کہہ دیا کہ : لا حاکم إلاّ لِلّٰہ، یعنی خدا جس طرح فوق الفطری معنیٰ میں معبود ہے، اِسی طرح وہ سیاسی معنیٰ میں حاکم بھی ہے۔
اس طرح کے تمام اضافے بلاشبہہ باطل ہیں، یہ اسلام میں تحریف کے ہم معنیٰ ہیں۔ لا الٰہ إلاّ اللّٰہ کا کلمہ، عقیدے سے تعلق رکھتا ہے۔ اور عقیدے میں قیاس اور استنباط اور اجتہاد سرے سے جائز نہیں۔
واپس اوپر جائیں

ربّانی معیار، اَخلاقی معیار

میںاپنے مطالعے سے یہ سمجھا ہوں، واللّٰہ أعلم بالصّواب، کہ غالباً آخرت کی نجات کے دو معیار ہیں— ایک، ربّانی معیار اور دوسرا، اخلاقی معیار۔ ربّانی معیار پر پورا اُترنے والے لوگ جنت میں اعلیٰ مقام پائیں گے۔ اخلاقی معیار پر پورا اترنے والے لوگ بھی جنت میں جاسکتے ہیں، لیکن وہ عام درجے کی جنت میں جگہ پائیں گے، نہ کہ اعلیٰ درجے کی جنت میں۔
ربّانی معیار اور اخلاقی معیار کو دوسرے لفظوں میں، شرعی معیار اور فطری معیار کہاجاسکتا ہے۔ شرعی معیار پر پورا اترنے والے وہ لوگ ہیں جنھوں نے پیغمبر کے ذریعے اترنے والی سچائی کو دریافت کیا، اور پھر دل کی پوری آمادگی کے ساتھ اُس کو اپنی زندگی میںاختیار کرلیا۔ یہ وہ لوگ ہیں جو معیارِ اوّل پر پورے اترے۔ وہ حسبِ اخلاص، جنت میںاعلیٰ درجات پائیں گے۔
فطری معیار پر پورا اُترنے والے وہ لوگ ہیں جنھوں نے اپنی فطرت، یا اپنے ضمیرکی آواز کو سنا اور اُس پر پوری دیانت داری کے ساتھ قائم ہوگئے۔ انھوںنے اپنی آزادی کا کوئی غلط استعمال نہیں کیا۔ معروف اخلاقیات کے اوپر وہ سنجیدگی کے ساتھ قائم رہے۔ جن کا حال یہ تھا کہ جو سچائی اُن کے علم میں آئی، اُس کا انھوں نے انکار نہیں کیا۔ ایسے لوگ بھی غالباً جنت میں جگہ پائیں گے۔
ایک عالم سے اِسی طرح کا سوال پوچھا گیا تو انھوں نے مختصر انداز میں اس کا جواب اِس طرح دیا: جیسا علم ویسا مواخذہ، یعنی آدمی کی ذمے داری یہ ہے کہ وہ جتنا جانے، اُس پرعمل میں کوتاہی نہ کرے۔ جو بات اس کے علم میں نہیں آئی، اس میں اگر وہ کوتاہی کرتا ہے، تو خدا اس کو بے خبری کے خانے میں ڈال دے گا، نہ کہ باخبری کے خانے میں۔حدیث میں آیا ہے کہ: إنما الأعمال بالنیات (صحیح البخاری)یعنی عمل کا دارومدار نیت پر ہے۔ نیت (intention) ہی خدا کے یہاں اصل اہمیت کی چیز ہے۔ آدمی جب ایک صحیح بات کو جانے اور جانتے بوجھتے اس کے خلاف کرے، تو اِس قسم کی خلاف ورزی بلا شبہہ وہ چیز ہے جس پر انسان کی پکڑ ہوگی۔
واپس اوپر جائیں

سوچئے، سوچئے، سوچئے

اگر پہاڑ کی کھوہ (cave) سے کسی دن ایک زندہ انسان نکل آئے، تو سارے دیکھنے اور جاننے والے لوگ اس کو حیرت ناک واقعہ سمجھیں گے۔ تمام لوگ یہ سوچنے لگیں گے کہ ایسا کیوں کر ہوا۔ ماں کے پیٹ سے ایک انسان کا پیدا ہونا بھی اسی قسم کا ایک واقعہ ہے جو دہشت ناک حد تک عجیب ہے۔ لوگ ماں کے پیٹ سے زندہ انسان کو پیدا ہوتے ہوئے دیکھتے ہیں، لیکن وہ اس کے متعلق کچھ نہیں سوچتے۔
یہ فرق کیوں ہے۔ اِس کا سبب یہ ہے کہ ماں کے پیٹ سے انسان کا پیدا ہونا روزانہ کا ایک واقعہ ہے۔ بار بار دیکھنے کی وجہ سے لوگ اس واقعے کے عادی (used to) ہوگئے ہیں، اِس لیے وہ اس کا کو فار گرانٹیڈ(for granted) طورپر لیے رہتے ہیں۔ وہ اس معاملے میں سوچنے کی ضرورت نہیں سمجھتے ۔لوگ اگر اِس معاملے سنجیدگی کے ساتھ سوچیں تو وہ انسان کی پیدائش کے واقعے میں خالق کے وجود کو دریافت کرلیں۔ جب وہ دیکھیں کہ ایک زندہ اور باشعور انسان پیدا ہو کر زمین پرچل پھر رہا ہے، وہ دیکھتا ہے اور سنتا ہے اور بولتا ہے، تو ان کو محسوس ہوکہ ہر انسان خالق کے وجود کا ایک چلتا پھرتا نشان (sign) ہے۔ ہر انسان لوگوں کو اپنے خالق کا ایک زندہ تعارف معلوم ہونے لگے۔
اِسی طرح انسان جب پیدا ہو کر موجودہ زمین (planet earth) پر آتا ہے، تو وہ پاتا ہے کہ یہاں اس کے لیے ایک پورا لائف سپورٹ سسٹم موجود ہے۔ یہ لائف سپورٹ سسٹم اتنا مکمل ہے کہ کوئی قیمت دیے بغیر وہ انسان کی ہر چھوٹی اور بڑی ضرورت کو نہایت اعلیٰ صورت میں پورا کررہا ہے۔ زمین سے لے کر سورج تک پوری دنیا استثنائی طورپر انسان کی خدمت میں لگی ہوئی ہے۔
اس کے بعد وہ دن آتا ہے جب کہ انسان اچانک مرجاتا ہے۔ انسان اپنے مزاج کے اعتبار سے ابدی زندگی چاہتا ہے، لیکن سو سال کے اندر ہی یہ واقعہ پیش آتا ہے کہ ہر عورت اور مرد اپنی مرضی کے خلاف اِس دنیا کو ہمیشہ کے لیے چھوڑ کر چلے جاتے ہیں۔
زمین پر پیدا ہونے والا ہر انسان دو چیزوں کا تجربہ کرتاہے۔ پہلے زندگی کا تجربہ، اور اس کے بعد موت کا تجربہ۔ اگر انسان سنجیدگی کے ساتھ ان واقعات پر سوچے تو وہ یقینی طورپر ایک بہت بڑی حقیقت کو دریافت کرے گا، وہ یہ کہ انسان کو پیدا کرکے اِس زمین پر آباد کرنا بطور انعام نہیں ہے، بلکہ وہ بطور امتحان ہے۔موجودہ دنیا میں انسان اپنے آپ کو آزاد محسوس کرتا ہے۔ یہ آزادی اِس لیے ہے تاکہ یہ معلوم کیا جائے کہ کون شخص اپنی آزادی کا صحیح استعمال کرتا ہے اور کون شخص اپنی آزادی کا غلط استعمال کرتا ہے۔ کون شخص بااصول زندگی گزارتا ہے اور کون شخص بے اصول زندگی کا طریقہ اختیار کرتا ہے۔
آدمی اگر سنجیدگی کے ساتھ غور کرے تو وہ اِس حقیقت کو پالے گا کہ موت دراصل خالق کے سامنے حاضری کادن ہے۔ انسان اپنی حقیقت کے اعتبار سے ایک ابدی مخلوق ہے، لیکن اس کی مدتِ حیات (life span) کو دو حصوں میں بانٹ دیاگیا ہے— موت سے قبل کی مدتِ حیات (pre-death period)، اور موت کے بعد کی مدتِ حیات(post-death period) ۔ موت سے پہلے کی مدتِ حیات امتحان (test) کے لیے ہے، اور موت کے بعد کی مدتِ حیات اُس کے سابقہ ریکارڈ کے مطابق، انعام یا سزا پانے کے لیے۔
انسان آج اپنے آپ کو اِس دنیا میں ایک زندہ اور باشعور وجود کی صورت میں پاتاہے۔ یہ زندہ اور باشعور وجود ایک مستقل وجود ہے۔ موت وہ دن ہے جب کہ یہ زندہ اور باشعور وجود اپنی اِسی موجودہ صورت میں عارضی دنیا سے نکالا جاتا ہے اوراس کو اِسی زندہ اور باشعور وجود کی حالت میں اگلی مستقل دنیا کی طرف منتقل (transfer) کردیاجاتا ہے۔
یہ لمحہ ہر عورت اور مرد پر لازماً آنے والا ہے۔ وہ ناقابلِ قیاس حد تک سنگین لمحہ ہوگا۔ موت کے بعد آنے والے اِس دورِ حیات میں یہی موجودہ انسان ہوگا، لیکن اس کے تمام اسباب اس سے ہمیشہ کے لیے چھوٹ چکے ہوں گے۔ اس کے پیچھے وہ دنیا ہوگی جو اس سے ہمیشہ کے لیے چھوٹ گئی، اور اس کے آگے وہ دنیا ہوگی جہاں اس کو کامل بے سروسامانی کے ساتھ ابدی طورپر رہنا ہے— دانش مند وہ ہے جو اِس آنے والے دن کے لیے اپنے آپ کو تیار کرے۔
واپس اوپر جائیں

اسلام کا مستقبل

مسلم اخباروں اور مسلم جرائد میں آج کل کثرت سے ایسے مضامین چھپتے ہیں، جن کا عنوان اِس قسم کا ہوتا ہے— مستقبل اسلام کا ہے، وغیرہ۔ اِس قسم کی سوچ ایک بے بنیاد سوچ ہے۔ اسلام کے غلبہ کے لیے کسی مستقبل کے انتظار کی ضرورت نہیں۔ اسلام آج بھی پوری طرح غالب اور قائم ہے۔
اسلام کے غلبہ سے مراد اس کا فکری غلبہ (اظہار) ہے، یعنی دلائل وبراہین کے ذریعے اسلام کی حقانیت کا ثابت شدہ رہنا۔ اِس اعتبار سے، اسلام ابدی طورپر ایک غالب دین کی حیثیت رکھتا ہے۔ مذکورہ قسم کی باتیں صرف وہ لوگ کرتے ہیں جو مسلمانوں کے سیاسی غلبہ کو، اسلام کے غلبہ کے ہم معنیٰ سمجھتے ہیں۔ یہ دونوں باتیں ایک دوسرے سے بالکل مختلف ہیں۔
اسلام اصلاً ایک آئڈیا لوجی (ideology) کا نام ہے۔ جب دلائل کی تائید اسلام کے حق میں ہو، تو اسلام کو غالب سمجھا جائے گا۔ دلائل کی یہ تائید پہلے بھی اسلام کے حق میں تھی، اور اب سائنسی حقائق کے ظہور کے بعد مزید اضافے کے ساتھ دلائل کی یہ تائید اسلام کو حاصل ہوچکی ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ اب مسئلہ اسلام کے غلبہ کا نہیں ہے، کیوں کہ اسلام کا فکری غلبہ تو اپنے آپ ہر حال میں قائم ہے۔ اب جو سوال ہے، وہ صرف ایک ہے، اور وہ مسلمانوں کی اپنی ذمے داری کا ہے۔ اب یہ مسلمانوں کا کام ہے کہ وہ ایک طرف، اسلام کو گہرائی کے ساتھ سمجھیں اور دوسری طرف، وقت کے حالات کا پوری طرح اندازہ لگائیں اور پھرجدید ذہن کے مطابق، اسلام کی تعلیمات کو مدلل انداز میں پیش کریں۔ اِس عمل کا نام دعوتِ اسلام ہے۔
فکری غلبہ، اسلام کی اپنی ایک صفت ہے، لیکن اسلام کے پیغام کو تمام انسانوں تک پہنچانا، یہ مسلمانوں کے کرنے کا کام ہے۔ مسلمان اگر اپنی اِس ذمے داری کو انجام نہ دیں، تو اِس قسم کی باتوں کا کوئی فائدہ پہنچنے والا نہیں۔ اسلام کے ’’مستقبل‘‘ کا انحصار حال میں اپنی ذمے داری کو ادا کرنے پر ہے، نہ کہ اس کے بارے میں مذکورہ قسم کا پُر فخر اعلان کرنے پر۔
واپس اوپر جائیں

درمیانی شخص کا رول

زندگی کی حکمتوں میںسے ایک حکمت یہ ہے کہ وسیط یا درمیانی شخص (middleman) کی اہمیت کوسمجھا جائے اور اس کو تعمیری مقاصد کے لیے استعمال کیا جائے۔ یہ ایک عالمی اصول ہے۔ ہرزمانے میں اِس کی مثالیں پائی جاتی ہیں، قدیم تاریخ میں بھی اور جدید تاریخ میں بھی۔
1 - قرآن میں اِس معاملے کی کئی مثالیں موجود ہیں۔ ایک مثال حضرت یوسف علیہ السلام کی ہے۔ حضرت یوسف اٹھارھویں صدی قبل مسیح میںفلسطین میں پیداہوئے، پھر وہ مخصوص اسباب کے تحت مصر پہنچے۔ اُس وقت مصر میںایک بادشاہ کی حکومت تھی۔ اس کا نام یہ تھا— اپوفِس (Apophis)۔ حضرت یوسف کو یہ موقع ملا کہ وہ مصر میں وہ پوزیشن حاصل کرلیں جس کوقرآن میں خزائنِ ارض (یوسف: 55) پر اقتدار کہاگیا ہے۔
حضرت یوسف کو یہ غیر متوقع کامیابی کیسے ملی۔ اِس کا سبب یہ تھا کہ بعض اسباب کے تحت وہاں ایک شخص سامنے آیا جس نے اُن کے اور بادشاہ کے بیچ، درمیانی شخص (intermediary) کارول ادا کیا۔ اِس طرح حضرت یوسف جیل سے نکل کر اقتدار کے منصب پر پہنچ گئے۔ اِس معاملے کی تفصیل قرآن کی سورہ نمبر 12 میں، اور بائبل کی کتاب پیدائش (Genesis) میں دیکھی جاسکتی ہے۔
2 - حضرت موسیٰ علیہ السلام ایک اسرائیلی پیغمبر تھے۔ وہ پندرھویں صدی قبل مسیح میں مصر میں پیدا ہوئے۔ اُن کی زندگی میںایک سے زیادہ ایسے واقعات ملتے ہیں، جب کہ کسی درمیانی شخص نے ان کے لیے بوسٹر (booster) کا رول ادا کیا۔ مثلاً حضرت موسیٰ بچپن میںایک خاتون کے رول (القصص:12 ) کے ذریعے وقت کے بادشاہ کے محل میں پہنچے۔ اِسی طرح فرعون نے جب حضرت موسیٰ کے قتل کا فیصلہ کیا تو اچانک اس کے دربار کا ایک شخص کھڑا ہوا۔ اس نے درمیانی شخص کا رول اداکرکے فرعون کو حضرت موسیٰ کے خلاف قتل کی کارروائی کرنے سے باز رکھا (المؤمن:28 ) ۔
3 - پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میںبھی اِس حکمت کی کئی مثالیں موجود ہیں۔ ایک واضح مثال وہ ہے جو غزوۂ خندق کے موقع پر سامنے آئی۔ غزوۂ خندق یا غزوۂ احزاب 5 ہجری میںپیش آیا۔ اُس وقت بے حد سنگین صورت حال تھی۔ مخالفین کی طرف سے بارہ ہزار کا طاقت ور لشکر مدینہ کی سرحد تک پہنچ چکا تھا۔ مسلمان اِس لشکر کا مقابلہ کرنے سے اپنے آپ کوعاجز پارہے تھے۔ اِس واقعے کی تصویر قرآن میں اِس طرح دی گئی ہے:
’’اُس وقت کو یاد کرو، جب کہ وہ تم پر چڑھ آئے، تمھارے اوپر کی طرف سے اور تمھارے نیچے کی طرف سے۔ اور جب آنکھیں کھُل گئیں اور دل گلوں تک پہنچ گئے، اور تم اللہ کے بارے میں طرح طرح کے گمان کرنے لگے۔ اُس وقت ایمان والے امتحان میں ڈالے گئے اور بالکل ہلا دئے گئے‘‘۔ (الأحزاب: 10-11 )
تاریخ بتاتی ہے کہ مخالفینِ اسلام کی طرف سے پیش آنے والا یہ سنگین خطرہ ،جنگ اور قتال کے بغیر ختم ہوگیا۔ بارہ ہزار کا یہ طاقت ور لشکر تقریباً ایک مہینے کے محاصرے کے بعد خود ہی مدینہ کے خلاف کوئی اقدام کئے بغیر واپس چلا گیا۔ یہ معجزہ(miracle) کیسے پیش آیا۔ اِس کا جواب ہم کو سیرت کی کتابوں سے ملتا ہے۔ سیرت کی کتابوں میںیہ واقعہ تفصیل کے ساتھ موجود ہے۔
اِس کا خلاصہ یہ ہے کہ اُس وقت مدینہ میں ایک صاحب تھے جن کا نام نُعیم بن مسعود بن عامر الاشجعی (وفات 650 ء) تھا۔ وہ اگر چہ دل سے مسلمان ہوچکے تھے، لیکن مخالفِ اسلام گروہ کو ابھی تک اِس کا علم نہ تھا۔ اِس بنا پر ان کے قبیلے کے اندر، یا مخالفِ اسلام گروہ کے اندر ان کو بدستور معتمد علیہ (trustworthy) شخص کی حیثیت حاصل تھی۔ اِس بنا پر وہ اُس وقت دو طرفہ رول ادا کرنے کی پوزیشن میںتھے۔
محاصرے کے دوران نُعیم بن مسعود الاشجعی رات کے وقت پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور اپنے بارے میں بتایا کہ میں دل سے اسلام کو مان چکا ہوں، لیکن ابھی دوسرے لوگ اِس سے واقف نہیں۔ اِس بنا پر ابھی تک مجھ کو اُن کا اعتماد حاصل ہے۔ اگر آپ اجازت دیں تو میں مخالفانہ محاصرے کو ختم کرنے کے سلسلے میں اہم رول ادا کرسکتا ہوں۔ پیغمبر اسلام نے اُس وقت ایسا نہیں کیا کہ وہ نعیم بن مسعود پر شک کریں اور ان کو دشمنوں کا ایجنٹ (agent) بتا کر اپنے اصحاب سے کہیں کہ یہ شخص خطرناک آدمی ہے، تم لوگ اِس سے بچو۔ اِس کے برعکس، پیغمبر اسلام نے اُن کی قدر دانی کی۔ آپ نے فرمایا کہ تم ضرور اپنے منصوبے کے مطابق کوشش کرو۔ کیوں کہ: إنما أنت فینا رجلٌ واحد (سیرت ابنِ ہشام، جلد 3 ، صفحہ 247) یعنی تم تو ہمارے درمیان ایک ہی ایسے آدمی ہو:
You are only one man among us. So go and awake distrust among the enemy to draw them off us, if you can, war is deceit.
نعیم بن مسعود الاشجعی نے اِس موقع پر مدینہ کے محاصرے کو ختم کرنے کے لیے جو رول ادا کیا، اس کی تفصیل سیرت کی کتابوں میں دیکھی جاسکتی ہے۔ یہ عین وہی رول تھا جس کو درمیانی شخص کا رول (intermediary role) کہاجاتا ہے۔ انھوںنے جنگ کے بغیر ایک جنگی اقدام کا خاتمہ کردیا۔ یہ بارہ ہزار کا لشکر جو اُس وقت مدینہ کے خلاف حملہ کرنے کے لیے آیا تھا، وہ سب بعد کو اسلام کے دائرے میں داخل ہوگیا۔
اِس اعتبار سے دیکھئے تو نعیم بن مسعود کا یہ رول اپنے اندر بہ یک وقت دو عظیم پہلو رکھتا تھا۔ ایک، جنگ اور خون کے بغیر دشمنانہ محاصرے کا خاتمہ اور دوسرے، اُن لوگوں کو ہلاکت سے بچانا جو اُس وقت متوقع اہلِ ایمان (expected believers) کی حیثیت رکھتے تھے۔
4 - اِس معاملے کی ایک مثال رجاء بن حَیوہ بن جرول الکِندی (وفات: 730 ء) کی ہے۔وہ بنو امیہ کے دور میںخلیفہ سلیمان بن عبد الملک (وفات: 717 ء) کے مصاحب تھے۔وہ خلیفہ کے معتمد شخص بن گئے تھے۔ اپنی اِسی حیثیت کی بنا پر رجاء بن حیوہ کو یہ موقع ملا کہ وہ ایک نازک صورتِ حال میں ایک اہم رول ادا کرسکیں۔ اِسی اہم رول کا یہ نتیجہ تھا کہ اسلام کی ابتدائی تاریخ میں پانچویں خلیفۂ راشد عمر بن عبد العزیز (وفات: 720 ء) کا اضافہ ہوا۔ اِس معاملے کی تفصیل تاریخ کی کتابوںمیں دیکھی جاسکتی ہے۔
اِس کا خلاصہ یہ ہے کہ خلیفہ سلیمان بن عبد الملک ایک سفر میں تھے کہ وہ بیمار ہوگئے ، ان کے بچنے کی امید نہ رہی۔ اُس وقت رجاء بن حیوہ، خلیفہ کے ساتھ تھے۔ خلیفہ کے براہِ راست وارث موجود تھے، لیکن وہ لائق نہ تھے۔ رجاء بن حیوہ نے سلیمان بن عبد الملک کو راضی کیا کہ وہ ایک وصیت نامہ لکھیں اور اِس وصیت نامے میں عمر بن عبد العزیز کو وہ اپنے جانشین کی حیثیت سے نام زد کردیں۔ یہ اُس وقت ایک خلافِ روایت بات تھی، لیکن رجاء بن حیوہ کے کہنے پر سلیمان بن عبد الملک نے اُس وقت ایک تحریری وصیت تیار کی اور اس پر اپنی شاہی مُہر ثبت کردی۔ سلیمان بن عبد الملک ابھی سفر ہی میں تھے کہ ان کا انتقال ہوگیا۔ چناں چہ ان کی تحریری وصیت کے مطابق، ان کی جگہ عمر بن عبد العزیز کو اموی سلطنت کا خلیفہ مقرر کیا گیا۔
5 - برصغیر ہند میں انگریزوں کا سیاسی غلبہ ہوا تو 1857 میں علماء نے انگریزوں کے خلاف باقاعدہ طورپر مسلح جنگ کی۔یہ جنگی اقدام علماء کے نزدیک اسلامی جہاد تھا، لیکن انگریزوں کے نزدیک اِس جنگی اقدام کی حیثیت بغاوت (mutiny) کی تھی۔ چناں چہ انگریزوں نے اِن علماء کو حکومتِ وقت کا باغی قرار دے کر ان کے خلاف سخت دار وگیر شروع کردی۔ چوں کہ مسلم عوام نے عام طورپر علماء کے اِس جنگی اقدام کو غلط نہیں سمجھا تھا، اور اُس سے اظہارِ برأت (disown) نہیں کیا تھا، اِس لیے تمام مسلمان، انگریزوں کی نظر میں غدّار قرار پاگئے۔انگریز حکم راں، مسلمانوں کی وفاداری پرشک کرنے لگے۔ اِس کا بھاری نقصان مسلمانوں کو اٹھانا پڑا۔
یہ ایک بے حد نازک معاملہ تھا۔ اُس وقت برصغیر ہند میں صرف ایک نمایاں مسلمان تھے، جو اِس مسئلے کے حل کے لیے اٹھے۔ یہ سرسید احمد خاں (وفات: 1898 ) تھے۔ انھوںنے اپنی مسلسل کوشش کے ذریعے مسلمانوں کے بارے میںانگریزوں کے شکوک وشبہات کو دور کیا۔ انھوںنے علی گڑھ میںمحمڈن کالج (موجودہ مسلم یونی ورسٹی) قائم کیا، تاکہ مسلمان انگریزی تعلیم حاصل کریں اور انگریزوں کے دورِ حکومت میںاُن کو باعزت مقام حاصل ہوسکے۔ سرسید احمد خاں کا مشن اتنا زیادہ مفید ثابت ہوا کہ آج مسلم یونی ورسٹی کو انڈیا میں مسلمانوں کے وجود و بقا کی علامت سمجھا جاتا ہے۔
سرسید احمد خاں کو یہ اہم رول ادا کرنے کا موقع کس طرح ملا۔ اُس کا سبب صرف ایک ہے، اور وہ یہ کہ مخصوص حالات کے نتیجے میں سرسید کو انگریزی حکومت اور مسلمانوں کے بیچ میںدرمیانی شخص (middleman) کا درجہ حاصل ہوگیا تھا۔ ایک طرف ان کا معاملہ یہ تھا کہ وہ ایک مسلمان تھے۔ استثنائی طورپر ان کی نمایاں قسم کی شرعی داڑھی ان کے باعمل مسلمان ہونے کی کھلی علامت تھی۔ دوسری طرف یہ کہ انگریزوں کے بارے میں اُن کا رویہ نرم اور معتدل تھا۔ سرسید کی اِن دو طرفہ خصوصیات نے ان کو اِس قابل بنا دیا کہ وہ انگریزوں کے شدید رد عمل (backlash) کو روک سکیں۔ تاریخ بتاتی ہے کہ سرسید کے ذریعے سے یہ کام بخوبی طورپر انجام پایا۔
6 - اِسی طرح کا ایک نام مولانا ابو الکلام آزاد (وفات: 1958 ) کا بھی ہے۔ 1947 میں برصغیرہند میں ملک کی تقسیم کا واقعہ پیش آیا۔ ایک طرف انڈیا بنا، اور دوسری طرف پاکستان ۔ ملک کی یہ تقسیم مسلمانوں کے مطالبے کے تحت انجام پائی تھی، اِس لیے ہندوؤں نے تقسیم کا سارا الزام مسلمانوں کے اوپر ڈال دیا۔ تقسیم کے بعد بننے والے نئے انڈیا میںمسلمانوں کو عام طورپر شک وشبہہ کی نظر سے دیکھا جانے لگا۔
اِس نازک وقت میں مولانا ابو الکلام آزاد نے نہایت اہم رول ادا کیا۔ مخصوص اسباب کے تحت، مولانا ابوالکلام آزاد کو اُس وقت کے ہندستان میںدرمیانی شخص (middleman) کا درجہ حاصل ہوگیا تھا۔ ایک طرف وہ ایک ممتاز مسلم فرد کی حیثیت رکھتے تھے، اور دوسری طرف آزادی کے بعد قائم ہونے والی کانگریسی حکومت میں مولانا ابو الکلام آزاد کو کامل اعتماد کا درجہ حاصل ہوگیا تھا۔ اِس مخصوص پوزیشن کی بنا پر مولانا ابوالکلام آزاد کویہ موقع ملا کہ وہ ہندو اور مسلم کے بیچ درمیانی شخص کا رول ادا کریں۔
1947 کے بعد دہلی اور دوسرے مقامات پر ہندو مسلم فسادات شروع ہوگئے تھے۔ مولاناابوالکلام آزاد نے اُس وقت کے وزیر اعظم جواہر لال نہرو (وفات: 1964 ) کی مدد سے اِن فسادات کو روکنے میں کامیابی حاصل کی۔ انھوںنے لکھنؤ میں1948 میں آل انڈیا مسلم کنونشن بلایا۔ اِس کنونشن میں پورے ہندستان سے مسلم نمائندے شریک ہوئے۔ یہ کنونشن نہایت کامیاب رہا۔ اِس موقع پر مولانا ابولکلام آزاد نے جو تقریر کی، اس کو کتابوں میںدیکھا جاسکتا ہے۔ یہ کہنا صحیح ہوگا کہ اِس کنونشن نے انڈیا کے مسلمانوں کے لیے ایک نئے دور کا آغاز کیا۔ آزادی (1947) کے بعد مولانا ابو الکلام آزاد گیارہ سال تک زندہ رہے۔ انھوںنے مذکورہ قسم کے بہت سے کام کیے۔ درمیانی شخص کا جو مثبت رول ہوتا ہے، اِس پہلو سے مولانا ابو الکلام آزاد بلا شبہہ ایک کامیاب مثال کی حیثیت رکھتے ہیں۔
تاریخ کے ہر دور میں درمیانی شخص (middleman) کا رول بہت اہم رہا ہے۔ مگر عجیب بات ہے کہ ہر زمانے میں درمیانی شخص کو شبہہ کی نظر سے دیکھا گیا ہے۔ اِس کا سبب یہ ہے کہ درمیانی شخص ایک طرف، اپنی قوم سے وابستہ ہوتا ہے اور دوسری طرف، وقت کے حکم راں اُس سے قریب ہوجاتے ہیں۔ اِسی دو طرفہ تعلق کی بنا پر وہ اِس قابل ہوتا ہے کہ وہ درمیانی شخص کا اہم رول ادا کرسکے۔
لیکن قوموں کی نفسیات یہ ہے کہ ہمیشہ اربابِ اقتدار کے بارے میں ان کی رائے منفی ہوتی ہے۔ اربابِ اقتدار کے خلاف اِس منفی ذہن کو اینٹی انکمبینسی فیکٹر (anti-incumbency factor) کہا جاتا ہے۔ اِس مزاج کی بنا پر جمہوری ملکوں میں ایسا ہوتا ہے کہ اربابِ اقتدار کے مقابلے میں ایک اپوزیشن گروپ بن جاتا ہے۔
یہی مزاج درمیانی شخص کا رول ادا کرنے والے افر اد کے مقابلے میں بھی کام کرتا ہے۔ ایسا کسی عقلی فیصلے کی بناپر نہیں ہوتا، بلکہ وہ تمام تر اینٹی انکمبینسی مزاج کے تحت ہوتا ہے۔ اِس قومی مزاج نے پہلے بھی کسی درمیانی شخص کو پسندیدگی کی نظر سے نہیں دیکھا۔ اور آج بھی ایسے افراد پسندیدگی کی نظر سے نہیں دیکھے جاتے۔ درمیانی شخص کے رول کو ہر آدمی اپنے ذاتی معاملے میں بھر پور طورپر استعمال کرتا ہے، لیکن قومی معاملے میں وہ اس کی اہمیت کو بھول جاتا ہے۔
عام طورپر قوموں کا مزاج یہ ہے کہ جو لوگ اُن کے مفروضہ حریف کے خلاف پُرجوش تقریریں کریں، ان کو قومیں اپنا دوست سمجھ لیتی ہیں، اور جو شخص ان کے مفروضہ حریف کے بارے میں معتدل انداز میں کلام کرے، اس کو دشمن کا ایجنٹ سمجھ کر نظر انداز کردیا جاتا ہے۔ ایسا تاریخ میں بار بار ہوا ہے۔ یہ بلاشبہہ ایک تباہ کن مزاج ہے۔ جو قومیں اِس مزاج کا شکار ہوں، وہ اپنے گرد وپیش موجود مواقع کو استعمال کرنے میں ناکام رہتی ہیں۔ مثبت امکانات کے درمیان منفی انجام کے سوا کچھ اور ان کے حصے میں نہیں آتا۔
تجربہ بتاتا ہے کہ جو لوگ مفروضہ حریف کے خلاف منفی تقریریں کریں، ان کو قوموں کے درمیان خوب مقبولیت حاصل ہوتی ہے۔ ان کے لیے پرجوش تالیاں بجائی جاتی ہیں۔ لیکن نتیجے کے اعتبار سے ایسے لوگ اپنی قوم کی تباہی میں اضافے کے سوا کچھ اور نہیں کر پاتے۔ وہ قوم کی جذباتیت میںاضافہ کرکے اُس کواِس قابل بنا دیتے ہیں کہ وہ مثبت سوچ کے ساتھ اپنی تعمیری منصوبہ بندی نہ کرسکے۔
اِس کے برعکس، جو شخص حریف سے نفرت میںمبتلا نہ ہو، وہ معتدل انداز میں سوچنے کے قابل ہوتا ہے۔ وہ حالات کا حقیقت پسندانہ اندازہ کرکے تعمیری منصوبہ بناتا ہے، اور قوم کو از سرِ نو نئی زندگی دینے میں کامیاب ہوجاتا ہے۔ تاریخ میں دونوں قسم کے کردار پائے جاتے ہیں۔ لیکن نتیجہ بتاتا ہے کہ پہلی قسم کے کردار نے صرف تباہی میں اضافہ کیا، اور دوسری قسم کے کردار نے اپنی قوم کو نئی زندگی دینے میںکامیابی حاصل کی۔
واپس اوپر جائیں

جدید الحاد— ایک تجزیہ

فکری اعتبار سے انسان کی تاریخ کو دو بڑے دوروں میں تقسیم کیا جاسکتا ہے— قبل سائنس دور، اور بعد سائنس دور۔قبل سائنس دور میں فکری اعتبارسے، مذہب انسان کے لیے رُجحان ساز بنا ہوا تھا۔ماڈرن سائنس کے ظہور کے بعد یہ صورت حال بد ل گئی۔ اب سائنس کو عمومی طورپر رجحان ساز (trendsetter) کا درجہ حاصل ہوگیا۔ سائنس بذاتِ خود نہ مذہب کے موافق ہے اور نہ مذہب کے خلاف، لیکن بعض وجوہ سے اس کا یہ عملی نتیجہ نکلا کہ موجودہ زمانے میں تقریباً تمام فکری معاملات میں الحادی نظریہ غالب آگیا۔ ایسا کیوں کر ہوا، یہاں اس کا ایک جائزہ پیش کیا جارہا ہے۔
موجودہ سیارۂ ارض پر انسان ہزاروں سال سے رہ رہا ہے۔ وہ روزانہ بہت سی چیزوں کو ہوتے ہوئے دیکھتا ہے۔ مثلاً سورج کا نکلنا، بارش کا برسنا اور ہواؤں کا چلنا، وغیرہ۔ روایتی طورپر انسان یہ سمجھتا تھا کہ یہ سب کچھ براہِ راست طورپر خدا کی طرف سے کیا جارہا ہے۔ یہ عقیدہ انسان کے لیے ایک مسلّمہ یا ایک بدیہی صداقت (axiom) بن چکا تھا۔ مؤحّد انسان اور مشرک انسان، دونوں کسی نہ کسی طورپر اس کو بطور ایک مسلّمہ حقیقت کے مانتے تھے۔ دوسرے لفظوں میں یہ کہ خالق (مُسبِّب) اور نتیجے کے درمیان کسی سبب (cause) کا تصور فکری یا عملی طور پر موجود نہ تھا۔
جدید سائنس کے ظہور کے بعد یہ معلوم ہوا کہ ہر نتیجے سے پہلے بظاہر اس کا ایک مادّی سبب (material cause) موجود ہے۔ مثال کے طور پر جدید سائنس کا بانی سرآئزاک نیوٹن (وفات: 1727ء) اپنے باغ میں بیٹھا ہوا تھا۔ اس کے سامنے سیب کا ایک درخت تھا۔ درخت سے ایک سیب ٹوٹ کر نیچے گرا۔ نیوٹن سوچنے لگا کہ پھل درخت سے ٹوٹ کر نیچے کیوں آیا، وہ اوپر کی طرف کیوں نہیں چلا گیا۔ آخر کار اُس نے دریافت کیا کہ ہماری زمین میں قوتِ کشش (gravitational pull) ہے، اِس بنا پر ایسا ہوتاہے کہ چیزیں اورپر سے نیچے کی طرف آتی ہیں، وہ نیچے سے اوپر کی طرف نہیں جاتیں۔
یہ سائنسی مطالعہ بڑھا، یہاں تک کہ سائنس دانوں نے دریافت کیا کہ اِس دنیا میں جو واقعات ہوتے ہیں، اُن سب کے پیچھے ہمیشہ ایک سبب (cause) موجود رہتا ہے، ہر نتیجہ کسی سبب کے تحت ظہورمیں آتا ہے۔ سائنس دانوں نے اپنی اِس دریافت کو قانونِ تعلیل (principle of causation) کا نام دیا۔ واقعات کو مبنی بَراسباب سمجھنے کا یہ ذہن پھیلتا رہا، یہاں تک کہ وہ انسان کی تمام علمی اور فکری سرگرمیوں پر چھا گیا۔ واقعات کی توجیہہ کے لیے پہلے، خدا کا حوالہ دیا جاتا تھا، اب واقعات کی توجیہہ کے لیے خدا کے بجائے، سبب (cause) کا حوالہ دیا جانے لگا۔
سائنس کی یہ دریافت ابتدائی طوپر اپنے اندر صرف ایک طبیعی مفہوم رکھتی تھی۔ خدا کے حوالے سے واقعات کی توجیہہ نہ کرنے کے باوجود وہ خدا سے انکار کے ہم معنی نہ تھی۔ مگر ملحد مفکرین نے، نہ کہ سائنس دانوں نے، نظریاتی ہائی جیک(hijack) کے ذریعے اس کو خدا سے انکار کے ہم معنیٰ بنا دیا۔ یہیں سے وہ نظریہ شروع ہوا جس کو جدید الحاد (modern atheism) کہاجاتا ہے۔
سائنس کی اِس دریافت کو لے کر جدید ملحدین نے لوگوں کو یہ یقین دلانے کی کوشش کی کہ اب ہمیں واقعات کی توجیہہ کے لیے خدا کو ماننے کی ضرورت نہیں، کیوں کہ واقعات اگر طبیعی اسباب کا نتیجہ ہیں، تو وہ مافوق الطبیعی اسباب کا نتیجہ نہیں ہوسکتے:
If events are due to natural causes, they are not due to supernatural causes.
جیسا کہ آئندہ ہم واضح کریں گے کہ اِس استدلال میں واضح طورپر ناقابلِ حل منطقی خلا (logical gap) موجود تھا، اس کے باوجود جدید اہلِ علم کے درمیان اس کو غیر معمولی مقبولیت حاصل ہوئی۔ شعوری یا غیر شعوری طورپر اس کو خدا کا بدل سمجھا جانے لگا، یہاں تک کہ یہی طرزِ فکر تمام جدید علمی شعبوں میں چھا گیا۔ چند مثالوں سے اِس کی وضاحت ہوتی ہے۔
1 - اِن میں سے ایک ماڈرن میٹریل ازم (modern materialism) ہے۔ مٹیریل ازم ایک فلسفہ بھی ہے، اور ایک کلچر بھی۔ عملی طورپر دیکھیے تو میٹریل ازم کا خلاصہ یہ ہے کہ— اپنی آرزوؤں کی جنت کے حصول کے لیے اب اِس کا انتظار کرنے کی ضرورت نہیں کہ اگلی دنیا (آخرت) برپا ہو اور وہاں خدا اپنی خصوصی عنایت کے طورپر ہمیں جنت عطا کرے۔ اب ہم کو وہ سبب معلوم ہوگیا ہے جس کے ذریعے اِسی دنیا میں جنت کی تعمیر ممکن ہے، یہ سبب جدید ٹکنالوجی ہے۔
چناں چہ جدید ٹکنالوجی اور جدید انڈسٹری کے ذریعے اِس جنتِ ارضی کی تعمیر کا سلسلہ شروع کردیا گیا۔ مادّیت (materialism) کے نام سے ایک پوری تہذیب ظہور میں آگئی۔ آج کا انسان، خدا سے غافل ہو کر اس تہذیبی جنت کے حصول کے لیے ٹوٹ پڑا۔ جدید انداز کے مکانات اور جدید انداز کے شہر اور جدید انداز کا لائف اسٹائل ہر طرف وجود میں آنے لگا۔ تہذیبِ جدید کے تحت اِس مادّی جنت کی تعمیر ابھی مکمل نہیں ہوئی تھی کہ بعد کی تحقیقات نے خود اُس کی تعمیر ہی کو سرے سے ناممکن ثابت کردیا۔ طبیعیاتی سائنس نے مزید مطالعے کے بعد بتایا کہ ہماری دنیا میں ضابطۂ ناکارگی (law of entropy) نافذ ہے۔ اِس کے تحت، دنیا مسلسل طورپر خاتمے کی طرف جارہی ہے، اور ایک دن آئے گا جب کہ وہ مکمل طورپر ختم ہوجائے۔
اکیسویں صدی میں پہنچ کر اِس میں مزید اضافہ ہوا۔ اب معلوم ہوا کہ خاتمے کی یہ مدت بہت قریب آگئی ہے۔ عین ممکن ہے کہ صرف پچاس سال کے اندر وہ تمام ذرائع اور وسائل بالکل تباہ ہوجائیں، جن کی مدد سے مفروضہ مادّی جنت تعمیر کی جارہی تھی۔ دوسرے لفظوںمیں یہ کہ عن قریب وہ اسباب ہی ختم ہوجائیں گے، جن کی بنیاد پر مادّی جنت کی تعمیر کامنصوبہ بنایا گیا تھا۔
2 - اِس معاملے کی ایک مثال ڈارون ازم (Darwinism) ہے۔ پچھلے ہزاروں سال سے انسان یہ مانتا چلا آرہا تھا کہ انواعِ حیات، بہ شمول انسان، کو پیدا کرنے والا خدا ہے۔ یہ خداوندِ عالم ہے جو براہِ راست اپنی تخلیق کے ذریعے تمام انواعِ حیات کو وجود میں لاتا ہے۔ مگر چارلس ڈارون (وفات: 1802 ) نے مفروضہ طورپر یہاں بھی ایک ’’سبب‘‘ کو دریافت کرلیا، جو مختلف انواعِ حیات کووجود میں لانے کا ذمے دار تھا۔ یہ سبب، ڈارون کے الفاظ میں، نیچرل سلیکشن (natural selection) تھا، یعنی حیاتیاتی عمل کے دوران طبیعی اسباب کے تحت مختلف انواعِ حیات ظہور میں آتی چلی گئیں۔ گویا کہ انواعِ حیات، یا انسان کو وجود میں لانے والا عُنصر ایک مادّی سبب (material cause) ہے، نہ کہ غیر مادّی خدا۔
ڈارون کا دریافت کردہ یہ سبب (cause) کبھی بھی علمی اعتبار سے ثابت شدہ نہ تھا، وہ صرف ایک مفروضہ تھا۔ مزید یہ کہ خود علمائِ حیاتیات اِس کو ایک ثابت شدہ نظریے کے بجائے صرف ایک کام چلاؤ نظریہ (workable theory) کا درجہ دیتے ہیں۔ حتی کہ خود چارلس ڈارون کو اپنے اِس دریافت کردہ مفروضہ پر آخری عمر میں شک پیدا ہوگیا تھا، چناں چہ وہ مایوسی کی حالت میں مرا۔
اِس واضح منطقی خامی کے باوجود، ڈارون کے نظریے کو جدید علمی حلقوں میں عمومی مقبولیت (general acceptance) کا درجہ حاصل ہوگیا۔ حتی کہ آج بھی یہ غیر ثابت شدہ نظریہ تمام دنیا کی یونی ورسٹیوں میں پڑھایا جاتا ہے۔
3 - اِسی کی ایک مثال مارکس ازم (Marxism)بھی ہے۔ کارل مارکس (وفات: 1883 ) نے سماجی معاشیات(social economy) کے معاملے میں بھی اِسی مفروضہ اصول کو منطبق کیا۔ بطورخود اس نے اُس سبب (cause) کو دریافت کیا جس کے تحت، انسانی سماج کے اندر انقلابی تبدیلی پیدا ہوتی ہے اور سماج ایک خود کار مادّی عمل کے تحت، ایک حالت سے ترقی کرکے دوسری حالت تک پہنچ جاتا ہے۔
کارل مارکس نے اِس سبب کو تاریخی ناگزیریت (historical determinism) یا جَدلیاتی مادّیت (dialectical materialism) کا نام دیا۔ اُس نے یہ بتانے کی کوشش کی کہ سماج کے اندر ناگزیر داخلی اسباب کے تحت، دو طبقے (classes) پیدا ہوتے ہیں۔ تاریخی اسباب کے تحت، اِن طبقوں کے درمیان ٹکراؤ پیش آتا ہے، اِس کے بعد ایک طبقہ مٹ جاتا ہے اور دوسرا طبقہ اس کی جگہ لے لیتا ہے۔ اِس طرح داخلی اسباب کے تحت، انسانی سماج ترقی کرتا رہتا ہے۔
کارل مارکس اور اس کے ساتھیوں کا دریافت کردہ یہ سبب (cause) بھی صرف مفروضہ ثابت ہوا۔ مارکس کی پیشین گوئیوں کو غلط ثابت کرتے ہوئے، وہ کبھی واقعہ نہ بن سکا۔ جیسا کہ معلوم ہے، سوویت روس میں 1917میں مصنوعی طورپر یہ انقلاب لایا گیا، مگر عملاً صرف یہ ہوا کہ یہ نظریہ سوویت روس میں پیدا ہوا، اور سوویت روس ہی کے قبرستان میں وہ ہمیشہ کے لیے دفن ہوگیا (تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو، راقم الحروف کی کتاب: ’’مارکس ازم — تاریخ جس کو رد کر چکی ہے‘‘)۔
4 - جدید کنزیومرازم (modern consumerism) بھی اسی نوعیت کی ایک مثال ہے۔ انسان کے اندر بے پناہ حد تک یہ خواہش ہے کہ وہ اپنے لیے ہر قسم کی راحت اور آسائش کا سامان حاصل کرے۔ جدید صنعتی ترقیوں نے بظاہر اِس کو ممکن بنا دیا۔ گویا کہ جدید صنعت وہ سبب (cause) تھا جس کے نتیجے کے طورپر انسان کو ہر قسم کی استعمالی اشیا (consumer goods) حاصل ہوسکتی تھیں۔ چناں چہ لوگ ہر جگہ قائم ہونے والے شاپنگ سنٹروں پر ٹوٹ پڑے۔ لیکن آخر میں معلوم ہوا کہ یہ ’’سبب‘‘بھی صرف ایک غلط مفروضہ تھا۔ سامانِ استعمال کی تیاری صرف اِس قیمت پر ہوئی کہ موجودہ دنیا انسان کے لیے قابلِ استعمال ہی نہ رہی۔
مثال کے طورپر کاروں اور ہوائی جہازوں نے بظاہر سفر کو آسان کردیا، مگر اس کا ناقابلِ برداشت حد تک منفی نتیجہ کاربن ایمیشن (carbon emissions) اور گر ین ہاؤس گیس (green house gases) کی شکل میں نکلا، جس کا حل تلاش کرنے میں تمام سائنس داں عاجز ہورہے ہیں۔ ائر کنڈیشننگ کے سامانوں کی تیاری کا یہ بھیانک نتیجہ نکلا کہ زندگی بخش اوزون لیئر(Ozone layer) میں بہت بڑا سوراخ (hole) پیدا ہوگیا، جو خود انسانی زندگی کے لیے ایک ناقابلِ حل چیلنج بن گیا، وغیرہ۔ معلوم ہوا کہ غیر مضر انداز میں استعمالی اشیا بنانے کے لیے پلوشن فری انڈسٹری (pollution free industry) درکار ہے، اور پلوشن فری انڈسٹری کو قائم کرنا سرے سے انسان کے بس ہی میں نہیں۔
5 - اِسی معاملے کی ایک مثال بدھ ازم میں پائی جاتی ہے۔ بدھ ازم کو موجودہ زمانے میں تعلیم یافتہ طبقے کے درمیان بہت مقبولیت حاصل ہوئی۔ اِس مقبولیت کا راز بھی وہی چیز ہے، جس کو اوپر ہم نے قانونِ تعلیل (principle of causation) کے تحت بیان کیا ہے۔
جدید سائنس کے زیراثر موجودہ زمانے میں وہ ذہن بنا، جو ہر چیز کو سبب اور علّت (cause and effect) کی اصطلاح میں سمجھنے کی کوشش کرتاہے۔ بدھ ازم نے زندگی اور موت کے ظاہرہ کے بارے میں اِس اصول کو منطبق کیا۔ اگر چہ یہ انطباق تمام تر قیاسی تھا، لیکن بظاہر اسباب پر مبنی ہونے کی بنا پر وہ جدید مغربی ذہن کے درمیان بہت زیادہ مقبول ہوگیا۔
موجودہ دنیا میں ہم دیکھتے ہیں کہ کوئی غریب خاندا ن میں پیدا ہوتا ہے اور کوئی امیر خاندان میں، کوئی مصیبت میں جیتا ہے اور کوئی آرام میں۔ بدھ ازم نے مفروضہ طورپر اس کا ایک سبب دریافت کرلیا، وہ یہ کہ ہر آدمی اپنے پچھلے کرم (عمل) کے لازمی نتیجے کے طورپر اپنے عمل کے انجام کو بھگت رہا ہے۔ یہ توجیہہ چوں کہ بظاہر ’’سبب‘‘کے اصول پر مبنی تھی، اِس لیے وہ جدید ذہن کو پسند آگئی اور ان کے درمیان بہت زیادہ مقبول ہوگئی۔ گویا کہ یہاں بھی مادّی سبب نے غیر مادّی خدا کی جگہ لے لی۔
لیکن بدھ ازم کی یہ توجیہہ خود سائنسی تحقیق کے مطابق، سر تاسر غیر ثابت شدہ تھی۔ علمِ نفسیات کے شعبے میں جو تحقیقات ہوئی ہیں، ان سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ انسان کا حافظہ (memory) انسانی شخصیت کا ناقابلِ تقسیم حصہ ہے۔ اِس کا مطلب یہ ہے کہ جب کوئی انسان اپنے پچھلے جنم کے اعمال کے مطابق، ایک خاص صورت میں نیا جنم لیتاہے تو اس کو اپنے پچھلے جنم کی ساری باتیں یاد رہنا چاہئیں۔ کیوں کہ یہ اُس کی پچھلی شخصیت (personality) ہی ہے، جو نئی شخصیت کی صورت میں ظاہر ہوئی ہے۔ مگر جیسا کہ معلوم ہے، کسی بھی انسان کو اپنے پچھلے جنم کا معاملہ یاد نہیں۔ بدھ ازم کے نظریے کے مطابق، ہر عورت اور مرد جس کو آج ہم دیکھتے ہیں، خواہ وہ کسی بھی مذہب یا کمیونٹی سے تعلق رکھتا ہو، وہ خود اپنے پچھلے جنم کا نیا جنم ہے، مگر اِن میں سے کسی کوبھی اپنے پچھلے جنم کی بات یادنہیں۔
کبھی کبھی ایسا ہوتا ہے کہ کسی ہندو عورت یا کسی ہندو مرد کو پُر اسرار طورپر سامنے لایا جاتا ہے، جو اپنے پچھلے جنم کے احوال بتاتا ہے، مگر اِس قسم کا شعبدہ کوئی دلیل نہیں۔ کیوں کہ علمی اعتبار سے ایسا واقعہ صرف اُس وقت دلیل بن سکتا ہے، جب کہ تمام ہندوؤں اور غیر ہندوؤں کو اپنے پچھلے جنم کی بات یاد ہو، نہ کہ صرف چند پُراسرار افراد کو۔
یہ بھی کہا جاتا ہے کہ گوتم بدھ نے جب سمادھی لگائی تھی تو انھو ںنے ماضی میں سفر کیا تھا، اور اپنے پچھلے تما جنموں کو دیکھ لیا تھا، مگر یہ دعویٰ تمام تر صرف ایک بے بنیاد دعویٰ ہے۔ تاریخی ریکارڈ کے مطابق، اِس کا کوئی ثبوت نہیں کہ گوتم بدھ نے خود اپنی زبان سے ایسا کہا تھا۔ یہ صرف بعد کے شارحین ہیں، جنھوں نے اپنے قیاس اور استنباط کے ذریعے اِس قسم کی بات کہی ہے، اور بعد کے شارحین کا استنباط اِس معاملے میں ہر گز کوئی دلیل نہیں بن سکتا۔
حقیقت یہ ہے کہ قانونِ تعلیل (principle of causation) اپنی ابتدا ہی میں صرف ایک مفروضے کی حیثیت رکھتا تھا، وہ کوئی علمی دلیل نہ تھا۔ اس کی شہرت یا مقبولیت اس کے علمی وزن کی بنیاد پر نہیں ہوئی، بلکہ صرف جذباتیت کی بنیاد پر ہوئی۔ لوگوں نے جلد بازی میں ایک ایسے مفروضے کو حقیقت سمجھ لیا، جو اپنے آغازکے پہلے دن ہی صرف ایک مفروضہ تھا، نہ کہ کوئی واقعی حقیقت۔
جدید ملحدین کے اس استدلال میںواضح طورپر ایک بہت بڑا منطقی خلا تھا، وہ یہ کہ کسی واقعے کا جو سبب (cause) سائنس بتارہی ہے، وہ اپنے آپ میں کوئی آخری بات نہیں، اس کے بعد بھی یہ سوال باقی رہتا ہے کہ یہ سبب کیوں کر وقوع میں آیا۔ حقیقت یہ ہے کہ سبب (cause) اصل معاملے کی توجیہہ نہیں کرتا، سبب خود اِس کا محتاج ہے کہ اُس کی کوئی توجیہہ تلاش کی جائے:
Cause does not explain, cause itself is in need of an explanation.
(تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو راقم الحروف کی کتاب ’’مذہب اور جدید چیلنج‘‘ (God Arises)۔
واپس اوپر جائیں

یہ اخلاقی بحران کیوں

مسٹر رجَت ملہوترا ایک انٹرنیشنل بینک میں مینیجر ہیں۔ بینک نے اپنے اعلیٰ عہدے داروں کو مختلف ملکوںمیں سیاحت کے لیے بھیجا۔ اِس ٹیم میں مسٹر رجت ملہوترا بھی شامل تھے۔ 15 دسمبر 2007 کو تھائی لینڈ سے اُن کا ٹیلی فون آیا۔ انھوںنے کہاکہ میں ایک خدا پر عقیدہ رکھتا ہوں۔ میں دوسری زندگی کو اور جنت، دوزخ کو مانتا ہوں۔ سفر میں اکثر میں اپنے ساتھیوں سے خدائی موضوعات پر بات کرتا ہوں، مگر میںنے دیکھا کہ اِن لوگوں کو اِس طرح کے موضوعات سے کوئی دل چسپی نہیں۔
لیکن جب ہم لوگ کسی بڑے شہر میں پہنچتے ہیں تو میں دیکھتا ہوں کہ یہ لوگ شاپنگ کے لیے ٹوٹ پڑتے ہیں۔ میرے سوا، ٹیم کا ہر آدمی نہایت دل چسپی کے ساتھ خریداریاں کرتا ہے۔ میں سوچتا ہوں کہ یہ فرق کیوں ہے۔ کیوں ایسا ہے کہ وہ خدا کے موضوع پر بات کرنے میںکوئی دل چسپی نہیں لیتے ، لیکن جب شاپنگ کا موقع آتا ہے تو یہ لوگ نہایت دھوم کے ساتھ شاپنگ کرتے ہیں۔ میں جب اُن سے اِس کا سبب پوچھتا ہوں تو وہ یہ کہتے ہیں کہ جب ہم واپس ہو کر گھر پہنچیں گے تو ہمارے گھر والے ہم سے پوچھیں گے کہ تم فلاں فلاں ملک میں گئے، وہاں سے تم ہمارے لیے کیا لائے۔ انھوںنے کہا کہ میں دیکھتا ہوں کہ یہ لوگ ٹیلی فون پر برابر اپنے گھر والوں سے بات کرتے رہتے ہیں اور خوشی کے لہجے میں یہ کہتے ہیں کہ ہم تمھارے لیے یہ چیز لارہے ہیں اور وہ چیز لا رہے ہیں۔
اس موضوع پر میں نے غور کیا تو مجھے ایک عرب عالم کی بات یاد آئی۔ یہ محمد العارف ہیں۔ وہ اِس وقت مانچسٹر (برطانیہ) میں رہتے ہیں۔ ایک سفر کے دوران اُن سے ملاقات ہوئی تو انھوںنے کہا کہ برطانیہ آکر مجھے یہ دریافت ہوئی کہ موجودہ زمانے کی اخلاقی بُرائیوں کی جڑ کیا ہے۔ وہ ہے— انعام کو مُنعم سے الگ کردینا۔ آج کا انسان، خدا کے انعامات کو تو خوب خوب استعمال کررہا ہے، لیکن وہ خدا کا اعتراف نہیںکرتا جو کہ منعم ہے، جو اِن تمام انعامات کو دینے والا ہے۔ یہ تجزیہ بلا شبہہ درست ہے اور یہی موجودہ زمانے کی تمام برائیوں کی اصل جڑ ہے۔
موجودہ زمانے کی سب سے بڑی فکری بُرائی یہ ہے کہ اِس زمانے میںخالق کو مخلوق سے الگ کردیا گیا۔ انسان کا اپنا وجود اور اس کے باہر کی تمام چیزیں خدا کی پیدا کی ہوئی ہیں۔ انسان اِن چیزوں کو آخری ممکن درجے تک استعمال کررہا ہے، لیکن وہ اپنے آپ کو اِس سے بے نیاز سمجھتا ہے کہ وہ خدا کا اعتراف کرے، جو تمام موجودات کا خالقِ حقیقی ہے۔ خالق اور مخلوق کے درمیان اِسی تفریق کے نتیجے میں موجودہ زمانے کی تمام برائیاں پیدا ہوئی ہیں۔
دونوں قسم کے ذہن سے دو الگ الگ کلچر پیدا ہوتے ہیں۔ خالق کااعتراف آدمی کے اندرذمّے داری کا ذہن پیدا کرتا ہے۔ اِس سے مسئولیت (accountability) کا احساس جاگتا ہے۔ یہ احساس آدمی کو مجبور کرتا ہے کہ وہ دنیا میںاخلاقی ڈسپلن کے ساتھ زندگی گزارے، کیوں کہ اس کو یہ ڈر ہوتا ہے کہ اگر اس نے اپنی اخلاقی ذمے داری کو پورا نہیں کیا تو لازمی طورپر وہ خدا کی پکڑ میں آجائے گا۔ خدائی قانون کے مطابق، وہ سخت سزا کا مستحق بن جائے گا جس سے بچنا اُس کے لیے ممکن نہ ہوگا۔ اِس کے برعکس معاملہ اُس انسان کا ہے جو اپنے آپ کو خدا کی پکڑ سے آزاد سمجھتا ہو۔ایسے آدمی کا حال یہ ہوگا کہ وہ انسانوں کی بستی میں خوش پوش حیوان کی مانند رہنے لگے گا، اُس کا پورا کردار غیرذمے دارانہ کردار بن کر رہ جائے گا۔
موجودہ زمانے میں یہ غیر ذمّے دارانہ کلچر اپنی آخری حد تک پہنچ چکا ہے۔ آج کا انسان اپنے آپ ہی کو سب کچھ سمجھتا ہے۔ وہ اِس نفسیات میںجیتا ہے کہ میں جو چاہوں کروں، مجھے کسی اور سے ڈرنے کی ضرورت نہیں۔ اِس غیر ذمے دارانہ کلچر کے نمونے ہر روز سماج میں اور میڈیا میں سامنے آتے رہتے ہیں۔ بطور نمونہ یہاں میں صرف دو حوالے نقل کروں گا۔
اگر آپ آج کل کے کسی بڑے انگریزی اخبار کو پڑھیں تو آپ اُس کے ہر شمارے میں جدید سماج کے نمونے اس کے تقریباً ہر صفحے پر پائیں گے۔ ہر شمارے میں برہنگی (nudity) اتنی زیادہ نمایاں ہوگی کہ آپ کا جی چاہے گا کہ آپ اخبار پڑھنا ہی بند کردیں۔ مثال کے طور پر 17 دسمبر 2007 کے ٹائمس آف انڈیا (Delhi Times) کے صفحۂ اوّل کو دیکھیے۔ اُس میںایک فلم ایکٹریس کی رنگین تصویر چھپی ہے۔ اِس کے ساتھ جو خبر شائع ہوئی ہے، اس کے اوپر جلی حرفوں میں یہ عنوان درج ہے— مجھے اپنے کسی فیصلے پر ندامت نہیں ہوتی:
I don’t regret any decision.
فلم ایکٹریس کا یہ جملہ نمائندہ طورپر یہ بتارہا ہے کہ آج کے انسان کا اصل اخلاقی مسئلہ کیا ہے۔ وہ یہ ہے کہ جدید افکار و نظریات کے تحت، ایسا ہوا ہے کہ انسان کے اندر ضمیر (conscience) کا عمل تقریباً ختم ہوگیا۔ ضمیر ایک فطری آواز ہے جوانسان کو صحیح اور غلط کا احساس دلاتی ہے، لیکن موجودہ زمانے میں جدید افکار و نظریات کے تحت، انسان کی ایسی کنڈیشننگ ہوئی ہے کہ اس کے اندر ضمیر کا عمل تقریباً ختم ہوگیا۔ اور جب ضمیر کا عمل ختم ہوجائے تو اس کے بعد عملی طورپر یہی ہوگا کہ انسان اور حیوان کے درمیان اخلاقی اعتبار سے کوئی فرق باقی نہ رہے۔
جنگل کے حیوان اپنی جِبلّت (instinct) پر قائم رہتے ہیں۔ ان کی جبلت میںصحیح اور غلط، یا حق اور باطل کا فرق موجود نہیں، اِس لیے وہ اِس قسم کے احساسات سے خالی ہو کر زندگی گزارتے ہیں۔ لیکن انسان پیدائشی طورپر صحیح اور غلط، یا حق اور باطل کے درمیان فرق کرنے کا احساس لے کر پیدا ہوتا ہے۔ جدید افکار و نظریات کے تحت، اِباحیت(permissiveness) کا جو کلچر پیدا ہوا، اس میں اور اس انسانی احساس میں ایک تضاد پایا جاتاتھا۔ اِس تضاد کو دور کرنے کے لیے نہایت خوب صورت نظریات گھڑے گئے اور پرنٹ میڈیا اور الیکٹرانک میڈیا کے ذریعے اس کو تمام لوگوں میں پھیلا دیا گیا۔ بطور نمونہ یہاں اِس کی ایک مثال درج کی جاتی ہے۔
نئی دہلی کے مشہور انگریزی اخبار ٹائمس آف انڈیا(16 دسمبر2007) میں مسٹر جیمس (Mames P Krehbiel) کے نام سے اخبار کے صفحہ 27 پر ایک مضمون چھپا ہے۔ اُس کے مندرجات کے مطابق، اس کا عنوان یہ ہے— اپنے آپ کو خطا کار نہ سمجھو:
Don’t feel guilty
اِس مضمون میں جدید ذہن کی نمائندگی کرتے ہوئے یہ کہاگیا ہے کہ خطا کا احساس آدمی کے اندر سیلف بلیم (self-blame) کی نفسیات پیدا کرتاہے، ایسا آدمی شکست خوردہ ذہنیت کا شکار ہو کر رہ جاتا ہے، اس کا کانفڈینس لیول (confidence level) بہت گر جاتا ہے، ایسے آدمی کے اندر غیرضروری طورپر منفی مزاج پیدا ہوجاتا ہے، وہ حالات کا مقابلہ کرنے کا حوصلہ کھو بیٹھتا ہے، ماں باپ کی روک ٹوک اور اخلاقی پابندیوں کی بات کو اِس مضمون میں نگیٹیو پیرنٹنگ (negative parenting) بتایا گیا ہے، کیوں کہ اِس سے بچے کے اندر اپنے بارے میں کم تری کا احساس پیداہوتا ہے، وغیرہ۔
یہ بلا شبہہ صورتِ حال کا غلط تجزیہ ہے۔ آدمی کے اندر جب غلطی کا احساس پیدا ہوتا ہے تو وہ اس کے اندر اپنی اصلاح (self-correction) کا جذبہ ابھارتا ہے، نہ کہ سیلف ڈفیٹ (self-defeat) کا جذبہ۔یہ ایک حقیقت ہے کہ انسان کے اندر اس کا ضمیر کم زور ہونے کے باوجود ہمیشہ زندہ رہتا ہے۔ ایسی حالت میں جو آدمی اپنی غلطی کا اعتراف نہ کرے، وہ ہمیشہ بے یقینی کے احساس میں مبتلا رہے گا۔ اِسی کا دوسرا نام بے حوصلگی ہے۔ اِس کے برعکس، جو آدمی غلطی کرنے کے بعد اس کا اعتراف کرلے، وہ اپنی اصلاح کرکے اپنے اندر مزید یقین پیدا کرلے گا، وہ زیادہ حوصلے کے ساتھ عمل کرنے کے قابل ہوجائے گا۔
یہ ایک حقیقت ہے کہ یقین اور اعتماد کا سر چشمہ آدمی کا یہ احساس ہے کہ میں سچائی کے راستے پر ہوں۔ میں اپنے ضمیر کے مطابق چل رہا ہوں۔ میں نے فطرت کے نظام سے بغاوت نہیں کی ہے۔ میں اُن اصولوں کا پابند ہوں جن کے اوپر پوری کائنات قائم ہے۔ برسرِ حق ہونے کا احساس آدمی کے حوصلے کو بڑھاتا ہے۔ اِس کے برعکس، جو آدمی غلطی کرنے کے باوجود اپنے کو غلط نہ مانے، وہ داخلی بے یقینی کا شکار ہو کر رہ جائے گا۔ یہ واقعہ کبھی شعوری طور پر ہوتا ہے اور کبھی غیر شعوری طور پر، مگر جہاں تک نتیجے کا تعلق ہے، دونوں کے درمیان کوئی فرق نہیں۔
فکری اعتبار سے اِس غلطی کا آغاز بہت پہلے سے ہوتا ہے۔ جیسا کہ معلوم ہے، اِس دور میں عالمی افکار پر سب سے زیادہ جو لوگ اثر انداز ہوئے ہیں، وہ مغربی علما اور سائنس داں ہیں۔ چناں چہ اِس معاملے میں بھی جو صورتِ حال عالمی سطح پر پیدا ہوئی، اِس کی ذمے داری زیادہ تر مغربی علما پر جاتی ہے۔ یہ در اصل مغربی علما ہی تھے جنھوں نے انسانی فکر کی دنیا میں وہ حالات پیدا کیے جس کے نتیجے میں ارادی یا غیرارادی طورپر، وہ صورتِ حال پیدا ہوئی جس کواخلاقی بحران (moral crisis) کہا جاتا ہے۔
اِس معاملے میں سب سے زیادہ نمایاں نام اٹلی کے مشہور سائنس داں گلیلیو (Galileo)کا ہے۔ گلیلیو 1564 میں پیدا ہوا، اور 1642 میں اِس کی وفات ہوئی۔ کہا جاتا ہے کہ گلیلیو وہ شخص ہے جس نے ماڈرن سائنس کی بنیاد رکھی۔ گلیلیو پہلا شخص ہے جس نے دور بین کے ذریعے ستاروں اور سیاروں کا اور شمسی نظام مشاہدہ کیا۔ اگر چہ آخری عمر میں وہ اندھا ہوگیا تھا، لیکن سائنس کے مختلف شعبوں میں اس کی خدمات بہت زیادہ اہم سمجھی جاتی ہے۔
گلیلیو نے ایک طرف یہ تاریخی کام کیا کہ اس نے میتھ میٹکس اور فزکس کو ایک دوسرے سے ہم آہنگ کیا، جب کہ اس سے پہلے دونوں الگ الگ شعبے بنے ہوئے تھے:
Galileo was the first man who perceived that mathematics and physics, previously kept in separate compartments, were going to join forces. (EB,7/853)
گلیلیو کے اِس عمل سے فزکس کو بہت ترقی ہوئی۔لیکن اِس مثبت کام کے ساتھ گلیلیو نے ایک ایسا کام بھی کیا، جس کے دور رس منفی نتائج برآمد ہوئے۔ وہ یہ کہ گلیلیو نے چیزوں کے کمّیاتی پہلو (quantitative aspect) کو چیزوں کے کیفیاتی پہلو (qualititative aspect) سے جدا کردیا۔ اِس طرح اس نے سائنس کی تحقیقات کو صرف اُن چیزوں تک محدود کردیا جو ناپی اور تولی جاسکتی تھیں، دوسری چیزیں اپنی تمام اہمیت کے باوجود سائنسی تحقیق کا موضوع نہ رہیں، اِس کا یہ نتیجہ ہوا کہ وہ انسان کے لیے غیر اہم قرار پاگئیں، کیوں کہ موجودہ زمانے میں فکری اعتبار سے سائنس کا غلبہ ہے۔ آج کا انسان اُنھیں چیزوں کو اہمیت دیتا ہے، جو سائنس کے اعتبار سے اہم قرار پائیں۔اِس مسئلے کا ذکر کرتے ہوئے ڈاکٹر الیکسس کیرل (وفات: (1944 نے اپنی کتاب: انسانِ نامعلوم (Man the Unknown, 1935) میں لکھا ہے:
’’یہ غلطی جو ہماری تمام مصیبتوں کی ذمے دار ہے، گلیلیو کے تولیدی نظریہ (genial idea) کی ایک غلط تعبیر کا نتیجہ ہے۔ گلیلیو نے چیزوں کی ابتدائی صفات کو، جو اَبعاد اور وزن پر مشتمل ہیں اور جن کی آسانی سے پیمائش کی جاسکتی ہے، اُن ثانوی صفات سے الگ کردیا، جو شکل، بُو اور رنگ وغیرہ سے تعلق رکھتی ہیںاور جن کی پیمائش نہیں کی جاسکتی۔ کمّیت کو کیفیت سے جدا کردیاگیاہے۔ اِس غلطی سے غیر معمولی نتائج پیدا ہوئے۔ انسان کے اندر وہ چیزیں، جن کی پیمائش نہیں کی جاسکتی، اُن چیزوں سے زیادہ اہمیت رکھتی ہیں جن کی پیمائش کی جاسکتی ہے۔ مثلاً فکر اور خیال کاوجود اتنا ہی اہم ہے، جتنا خوں ناب (blood serum) کے طبیعی کیمیاوی توازن کا وجود اہم ہے۔ کمّی اور کیفی اشیا کے درمیان یہ فرق اور وسیع ہوگیا، جب ڈیکارٹ نے جسم اور روح کے درمیان فرق کرنا شروع کیا۔ اِس کے بعد سے دماغ کے مظاہر ناقابلِ تشریح بن گئے۔ مادّی اشیا کو روحانی اشیا سے بالکل الگ کردیاگیا‘‘ (Religion and Science, p. 73)
انسانی فکر میں اِس تبدیلی کا سب سے بڑا نقصان یہ ہوا کہ خالق اور مخلوق کے درمیان تعلق ختم ہوگیا، یا صرف رسمی طورپر باقی رہا۔انسان دنیا میں اِس طرح رہنے لگا، جیسے کہ وہ کسی کے سامنے جواب دہ نہیں، وہ اپنی قسم کا مالک آپ ہے، اُس کو یہ حق ہے کہ وہ جو چاہے کرے اور جو چاہے نہ کرے۔ اِسی سے ہیومن ازم (Humanism) کا فلسفہ پیدا ہوا، جس کا خلاصہ یہ تھا کہ— خدا کی سیٹ پر اب خود انسان کو قبضہ حاصل ہوگیا ۔ چناں چہ ہیومن ازم کے نظریے کو اِن الفاظ میں بیان کیا جاتا ہے:
Transfer of seat from God to man.
انسان جب اپنے آپ کو خدا کی نسبت سے دیکھے تو اس کے اندر اللہ اکبر کی نفسیات پیدا ہوتی ہے، یعنی ہر قسم کی بڑائی صرف خدا کے لیے ہے۔ میں اُس کے مقابلے میں صرف ایک عاجز مخلوق کی حیثیت رکھتا ہوں۔ ایسا انسان خدا کو کبیر مان کر، اپنے آپ کو اس کے مقابلے میں صغیر بنا لیتا ہے۔ اِس سے انسان کے اندر تواضع (modesty) کی نفسیات پیدا ہوتی ہے۔ اور یہ ایک حقیقت ہے کہ عجز اور تواضع کا احساس ہی تمام اعلیٰ اخلاقی اقدار کا سر چشمہ ہے۔
اِس کے برعکس معاملہ اُس انسان کا ہے جو خدا کو حذف کرکے سوچے۔ ایسے انسان کے پاس تقابل کے لیے صرف دوسرے انسان ہوتے ہیں۔ فطری طور پر اس کے اندر یہ احساس ابھرتا ہے کہ کوئی مجھ سے بڑا نہیں، دوسرے جو لوگ ہیں، وہ یا تو میرے برابر ہیں، یا مجھ سے چھوٹے ہیں۔ ہر آدمی کے اندر کوئی نہ کوئی خاص صفت ہوتی ہے، اِس لیے ہر آدمی کو یہ موقع مل جاتا ہے کہ وہ اپنے آپ کو بڑا سمجھے۔ وہ اِس کی ضرورت نہ سمجھے کہ اُس کو کسی کے آگے جھکنا چاہیے۔ اِس قسم کا احساس بلا شبہہ تمام اخلاقی اقدار کی نفی کے ہم معنیٰ ہے۔
مثال کے طورپر برطانیہ کا مدبّر لارڈ کَرزن (وفات:1925 ) غیر معمولی ذہین آدمی تھا۔ اس کا مطالعہ بھی کافی وسیع تھا۔ چناں چہ جب وہ لوگوں سے ملتا تو اس کو محسوس ہوتا کہ دوسرے لوگ اُس سے کم ہیں۔ اس کے اندر اپنے بارے میں برتری کا احساس پیدا ہوگیا۔ لارڈکرزن کے ایک سوانح نگار نے لکھا ہے کہ — اُس کے معاصرین میں کوئی اس کے برابر کا نہ تھا:
He had no equal
اِس احساسِ برتری کی بنا پر لارڈ کرزن کا پورا رویّہ غیر متوازن بن گیا۔ وہ دوسرے تمام لوگوں کے لیے منفی احساس میں جینے لگا، یہاں تک کہ سخت مایوسی کے عالم میں وہ مرگیا۔ یہی کم وبیش اُن تمام انسانوں کا حال ہوتا ہے جو خدا کو حذف کرکے اپنا فکر بنائیں۔ جن کی اخلاقیات کا سرچشمہ خدا نہ ہو، وہ اپنے آپ میں جئیں گے اور اپنے آپ ہی میں مرجائیں گے۔
واپس اوپر جائیں

مہارت کا زمانہ

آل انڈیا ریڈیو پر ایک سینئر پروفیسر کی تقریر تھی۔ اپنی تقریر میں وہ بتارہے تھے کہ قدیم زمانے میں صرف چند جاب (job) ہوا کرتے تھے)۔ موجودہ زمانہ جاب ایکسپلوژن(job explosion) کا زمانہ ہے۔ موجودہ زمانے میں ہر طرف جاب کی کثرت ہے، لیکن یہ جاب صرف اُن لوگوں کے لیے ہے جو کسی فن میں مہارت رکھتے ہوں، غیر ماہرین کے لیے موجودہ دنیا میں کوئی بڑا جاب نہیں۔ یہ بتاتے ہوئے انھوں نے کہا:
Our world is a world of skilled man power.
اصل یہ ہے کہ جدید سائنسی دور سے پہلے چیزوں کی معیار بندی (standardization) نہیںہوئی تھی، اِس لیے ہر قسم کے لوگوں کو آسانی سے روزگار مل جاتا تھا۔ لیکن موجودہ زمانے میں ہر شعبے میں معیار بندی کا عمل ہوا ہے۔ اب اُسی چیز کی قیمت ہے جو تسلیم شدہ معیار کے مطابق ہو، جو چیز تسلیم شدہ معیار کے مطابق نہ ہو، آج کی دنیا میں اس کی کوئی قیمت نہیں۔
معیار بندی کا یہ معاملہ ہر چیز میں ہوا ہے۔ قلم سے لے کر موٹر کار تک، ٹیچنگ سے لے کر مینج مینٹ تک، ایک بلڈنگ کی تعمیر سے لے کر سٹی پلاننگ تک، ہر چیز کا ایک تسلیم شدہ معیار بن گیا ہے۔ ہر چیز کو اِسی معیار پر جانچا جاتا ہے۔ ایسی حالت میں یہ ایک فطری بات ہے کہ اُسی آدمی کو روزگار ملے جو اِس معیاری کارکردگی پر پورا اترتا ہو۔
ایسی دنیا میں جو آدمی اپنے لیے روزگار حاصل کرنا چاہے، اُس کو جاننا چاہیے کہ یہاں معیاری کارکردگی کا ثبوت دے کر اس کو روزگار ملے گا، نہ کہ شکایت اور احتجاج میں غیر ضروری طورپر مشغول ہونے سے۔مہارت کی اہمیت پہلے بھی تھی اور آج بھی ہے، لیکن فرق یہ ہے کہ موجودہ زمانے میں مقابلہ (competition ) بہت زیاہ بڑھ گیا ہے۔ اِس بنا پر موجودہ زمانے میں مہارت کی اہمیت ہمیشہ سے زیادہ ہوگئی ہے— کسی فن میں مہارت پیدا کرلیجیے، اور آپ خود دنیا کی ایک ضرورت بن جائیں گے۔
واپس اوپر جائیں

بھولنا ایک مثبت عمل

موجودہ دنیا میں ہر انسان کو کسی نہ کسی قسم کے نقصان سے دوچار ہونا پڑتا ہے۔نقصان کا یہ تجربہ ایک تلخ یاد بن کر اس کے ذہن میں بیٹھ جاتا ہے۔ یہ ایک ایسا مسئلہ ہے جو ہر عورت اور ہر مرد کے ساتھ عام طورپر پیش آتا ہے۔ اس مسئلے کا حل کیا ہے۔ ایک اردو شاعر نے کہا:
یادِ ماضی عذاب ہے یا رب چھین لے مجھ سے حافظہ میرا
یہ نقصان کے مسئلے کا ایک منفی حل (negative solution) ہے، اور منفی حل صرف دل کی تسکین کے لیے ہوتا ہے، وہ اصل مسئلے کا حقیقی حل نہیں ہوتا۔ اِس مسئلے کا ایک حل جارج برناڈ شا (وفات: 1950 ) نے بتایا ہے۔ اُس نے کہا کہ — سب سے زیادہ غیر تعلیم یافتہ انسان وہ ہے جس کے پاس بھلا دینے کے لیے کچھ نہ ہو:
The most uneducated person is one who has nothing to forget in his life.
نقصان، زندگی کا ایک لازمی حصہ ہے۔ وہ مختلف صورتوں میں ہر ایک کے ساتھ پیش آتا ہے۔ اِس مسئلے کا بے ضرر حل صرف یہ ہے کہ اُس کوبھلا دیا جائے۔ فراموشی اِس مسئلے کا سیکولر حل ہے۔ اِس کا مذہبی حل یہ ہے کہ اِس قسم کے تجربات کو خدا کے خانے میں ڈال دیا جائے۔
مزید یہ کہ اِس دنیا میں ہر چیز کا ایک مثبت پہلو ہوتا ہے۔ نقصان کے تجربے کا مثبت پہلو یہ ہے کہ وہ آدمی کے سوئے ہوئے ذہن کو جگاتا ہے۔ وہ آدمی کی سوچنے کی صلاحیت میںاضافہ کرتا ہے۔ وہ آدمی کو نئے نئے تجربات سے آشنا کرکے اس کے ذہنی اُفق (intellectual level) کو وسیع کرتا ہے۔ تلخ تجربہ ایک شاکنگ تجربہ (shocking experience)بن جائے، جب کہ بے حسی کسی انسان کے لیے نفسیاتی موت(psychological death) کی حیثیت رکھتی ہے۔
واپس اوپر جائیں

زیادہ عمر ،زیادہ عقل

امریکا کی مختلف یونی ورسٹیوں میں اِس موضوع پر رسرچ ہوئی ہے کہ زیادہ عمر کے لوگ، کیا کم عمر کے لوگوں سے زیادہ دانش مند (wise)ہوتے ہیں۔ اِن تحقیقات کے نتائج ایک کتاب کی صورت میں چھپے ہیں۔ اِس کتاب کا نام یہ ہے:
Progress in Brain Research (2008).
اِس کتاب کے بارے میں ایک رپورٹ نئی دہلی کے انگریزی اخبار ٹائمس آف انڈیا کے شمارہ 21 مئی 2008 میں چھپی ہے۔ کتاب کے خلاصہ کے طورپر اِس رپورٹ کا عنوان حسب ذیل الفاظ میں قائم کیا گیا ہے— زیادہ عمر کے لوگوں کا دماغ زیادہ دانائی کا حامل ہوتا ہے:
Older brain really may be a wiser brain (p. 37)
آج کل ہر چیز کو رسرچ کا موضوع بنایا جاتا ہے، لیکن مذکورہ حقیقت انسان کو بہت پہلے سے معلوم تھی۔ یہ ایک واقعہ ہے کہ کم عمر والوں کے مقابلے میں، زیادہ عمر کے لوگ زیادہ عاقل اور دانا (wise) ہوتے ہیں۔ اِس کا سبب یہ ہے کہ زیادہ عمر والوں کے پاس دو چیزیں مزید ہوتی ہیں۔ ایک، پختگی (maturity) ، ا ور دوسرے، تجربہ (experience)۔
فطرت میں یہ نظام اِس لیے ہے، تاکہ اگلی نسل کے لوگ، پچھلی نسل والوں سے فائدہ اٹھائیں۔ کم عمر کے لوگ زیادہ عمر والوں سے رہ نمائی لیتے رہیں، تاکہ مجموعی اعتبار سے زندگی کا سفر زیادہ بہتر طورپر جاری رہے۔ کم عمر والوں اور زیادہ عمر والوں کے درمیان جو فرق ہوتا ہے، وہی فرق آج بھی موجود ہے۔ یہ فرق فطرت پر مبنی ہے، اور فطرت زمانے کی رفتار سے نہیں بدلتی۔ موجودہ زمانے کے نوجوانوں کو چاہیے کہ وہ اپنے بڑوں سے اُسی طرح فائدہ اٹھائیں، جس طرح پچھلے زمانے کے لوگ فائدہ اٹھاتے تھے۔اگلی نسل کے لوگ اگر پچھلی نسل کے لوگوں سے فائدہ نہ اٹھائیں، تو یہ ان کے لیے فطرت کے نظام سے بغاوت کے ہم معنیٰ ہوگا، اور اِس دنیا میں کوئی بھی شخص فطرت کے نظام سے بغاوت کرکے کامیاب نہیںہوسکتا۔
واپس اوپر جائیں

خوش نما فریب

ہر زبان میں مثلیں (sayings)اور کہاوتیں ہوتی ہیں۔ یہ کہاوتیں انسانی زندگی کا تجربہ ہوتی ہیں۔ ہر مثل لمبے انسانی تجربے کے بعد بنتی ہے۔ اِسی قسم کی ایک انگریزی مثل یہ ہے— یہ اتنا زیادہ اچھا ہے کہ وہ سچ نہیں ہوسکتا:
It is too good to be true.
یہ ایک حقیقت ہے کہ سچ کے مقابلے میں، جھوٹ ہمیشہ خوش نما ہوتا ہے۔ حقیقی نفع کے مقابلے میں، فرضی نفع ہمیشہ زیادہ دکھائی دیتا ہے۔ مخلصانہ بات کے مقابلے میں ، منافقانہ بات ہمیشہ خوب صورت ہوتی ہے۔ نصیحت کے مقابلے میں، خوش کرنے والی بات سننے میں زیادہ اچھی معلوم ہوتی ہے۔ حقیقی تاریخ کے مقابلے میں، فرضی قصہ کہانیاں زیادہ دل چسپ ہوتی ہیں۔ حقیقت پسندانہ کلام کے مقابلے میں، رومانوی کلام ہمیشہ زیادہ دل کش نظر آتا ہے۔ کار آمد بات کے مقابلے میں، بے فائدہ بات آدمی کو زیادہ پرکشش معلوم ہوتی ہے۔
یہی وہ چیز ہے جو آدمی کو دھوکے میں ڈال دیتی ہے۔ ایسی حالت میں آدمی ہر وقت امتحان کی حالت میں ہے۔ ہر وقت اس کو چوکنا بن کر رہنا ہے، تاکہ ایسا نہ ہو کہ وہ جھوٹ کے فریب میں پھنس کر، سچائی سے دور ہوجائے۔ وہ ہوائی باتوں سے مسحور ہو کر، حقیقت پسندی کے راستے سے ہٹ جائے۔ وہ منافقانہ باتوں کے فریب میںآکر، مخلصانہ بات کو قبول نہ کرسکے۔
اِس دنیا میں ہر وقت یہ خطرہ ہے کہ آدمی سونے کے ملمّع کو سونا سمجھ کر لے لے اور پھر وہ سخت نقصان میں پھنس جائے۔ وہ جھوٹے الفاظ کے فریب میںآکر ایسی چھلانگ لگا دے، جو اس کوایسے گڑھے میںگرادے، جس سے نکلنے کی کوئی صورت اس کے لیے نہ ہو۔
اِس دنیا میں کامیابی کے لیے ضروری ہے کہ آدمی خوش نما باتوں سے متاثر نہ ہو، وہ ٹھوس حقائق کی روشنی میں اپنی رائے بنائے۔ دانش مند صرف وہ شخص ہے جو اِس معیار پر پورا اترے۔
واپس اوپر جائیں

ایک خط

برادرِ محترم مولانا سیدنور ابراہیم! السلام علیکم ورحمۃاللہ
آپ کا خط مؤرخہ 2 جون 2008 ملا۔ اِس کو میں نے دوبار پڑھا۔ میں آپ کو مرتد نہیں سمجھتا۔ زیادہ صحیح لفظوں میں، آپ عقلی (rationalist) ہیں، یعنی: معتقد بکفایۃ العقل دُون الوحی۔آپ کے متعلق، میری رائے یہ ہے کہ آپ کے ذہن میں عقل کا ایک تصور بنا ہے اور اس کی بنیاد پر آپ نے ایک رائے قائم کی ہے۔ مجھے یقین ہے کہ اگر کوئی اورنقطۂ نظر آپ کے سامنے آئے جو عقل کے معیار پر پورا اترتاہو توآپ اپنے موجودہ موقف سے رجوع کرلیں گے، جیسا کہ آپ نے اپنے پچھلے روایتی موقف سے رجوع کرلیا۔میںنے اِس موضوع پر بہت پڑھا ہے۔ میں یہ کہہ سکتا ہوں کہ جو لوگ عقل کو مطلق معیار کی حیثیت دیتے ہیں، وہ سب کے سب ثانوی درجے کے مفکرین ہیں۔ اول درجے کے فلاسفہ اور مفکرین میں سے کوئی بھی نہیں جو عقل کو مطلق معیار کی حیثیت دیتا ہو۔ یہی وجہ ہے کہ تمام عقلی مفکرین اصلاً مُشکک(sceptic) تھے، نہ کہ مُنکر یا مرتد۔
مجھے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ آپ نے جدید فلاسفہ اور مفکرین کی کتابیں نہیں پڑھیں۔ آپ نے صرف رَجنیش (Osho) کو پڑھا ہے۔ اور رجنیش (وفات: 1999)کا معاملہ یہ ہے کہ وہ نہ فلسفی تھے اور نہ سائنٹسٹ، وہ صرف ایک خطیب تھے۔ خطابت کا فن ان کو آتا تھا۔ رجنیش سے صرف وہی لوگ متاثر ہوئے ہیں جو خطیبانہ استدلال اور سائنٹفک استدلال کا فرق نہیں جانتے۔ اور غالباً آپ کا کیس اِس معاملے میں استثنا (exception) کا نہیں۔خالص عقلی اعتبار سے اس معاملے میں اصل بات یہ ہے کہ سائنس نے صرف یہ معلوم کیا ہے کہ اکثرواقعات میں کسی سبب کا کیا نتیجہ برآمد ہوتا ہے۔ مگر کوئی سائنس یا کوئی عقلی سسٹم اب تک یہ معلوم نہ کرسکا کہ کوئی سبب مؤثر کیوں ہوتا ہے۔ مثلاً سائنس نے یہ دریافت کیا ہے کہ ہائڈروجن کے دوایٹم اور آکسیجن کے ایک ایٹم کے ملنے سے پانی وجود میں آتا ہے۔ لیکن کوئی بھی سائنس یا کوئی بھی عقلی سسٹم اب تک یہ نہ بتا سکا کہ سبب میں یہ تاثیر کیسے پیدا ہوگئی۔
سائنس نے سبب اور نتیجے کو تو معلوم کیا ہے، لیکن یہ سبب کیوں مؤثر ہوتا ہے، اُس کو سائنس دریافت نہ کر سکی۔ گویا کہ سبب اور نتیجے کے درمیان ایک مِسنگ لنک (missing link) ہے جو ابھی تک غیر معلوم ہے۔ فلسفیوں نے اِس مسنگ لنک کو دریافت کرنے کی کوشش کی، مگر وہ ناکام رہے۔
خالص عقلی اعتبار سے یہ کہنا بالکل درست ہے کہ کسی سبب اور اس کے نتیجے کے درمیان کوئی حقیقی لازمہ نہیں۔ دوسرے لفظوں میں یہ کہ اشیا کا اسباب کے ذریعہ وجود میں آنا جتنا ممکن ہے، اتنا ہی ممکن یہ بھی ہے کہ اشیا کسی ظاہری سبب کے بغیر وجود میںآجائیں۔ یہی اِس معاملے میں صحیح ترین عقلی موقف ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ کوئی شخص لا ادریّہ(agnostic) تو بن سکتا ہے، لیکن عقلی (rationalist) ہونے کا دعویٰ کرتے ہوئے، وہ اس کے سوا کوئی اور موقف اختیار نہیں کرسکتا۔ اگر آپ اِس معاملے میں سنجیدہ ہوں تو میں عرض کروں گا کہ آپ مندرجہ ذیل دو کتابیںضرور پڑھ لیں:
1. Human Knowledge, by Bertrand Russel.
2. Appearance and Reality, by Francis Herbert Bradeley.
آپ کے خط کا خلاصہ یہ ہے کہ آپ ظاہری سبب کے بغیر کسی چیز کے وقوع کو نہیں مانتے۔ لیکن اگر آپ رجنیش کے علاوہ ،دوسرے بڑے فلاسفہ اور مفکرین کا مطالعہ کریں تو آپ کو معلوم ہوگا کہ خالص عقلی اعتبار سے کسی واقعے کا غیر معجزاتی طورپر وجود میں آنا بھی اتنا ہی عجیب ہے، جتنا کہ ان کا معجزاتی طورپر وجود میں آنا۔ اس لیے اِس معاملے میں صحیح عقلی موقف یہ ہے کہ آدمی اگر ایک ناقابلِ توجیہہ واقعے کو مانتا ہے، تو اُس کو دوسرے ناقابلِ توجیہہ واقعے کو بھی ضرور مان لینا چاہیے۔
آپ نے لکھا ہے کہ اوشو کی کتابوں سے آپ کا ذہن بدل گیا۔ میں نے بھی رجنیش کی کتابیں پڑھی ہیں۔ میںنے پایا کہ رجنیش کے یہاں ’شَبدجنجال‘ کے سوا اور کچھ نہیں۔ عام لوگ چوں کہ خطیبانہ استدلال اور سائنسی استدلال کے فرق کو نہیں جانتے، اس لیے وہ ان کی باتوں سے متاثر ہوجاتے ہیں۔ مگر جس آدمی کے اندر علمی تجزیہ کرنے کی صلاحیت ہو، وہ اُن سے متاثر نہیں ہوسکتا۔ آپ نے اپنے خط میں رجنیش کے کسی استدلال کا ذکر نہیں کیا ہے، ورنہ میں اس کا تجزیہ کرکے بتاتا کہ ان کا استدلال کتنا بے اصل ہوتا ہے۔
نئی دہلی، 5جون 2008 دعا گو وحید الدین
واپس اوپر جائیں

سوال وجواب

سوال
آج کل مسلمانوں کے درمیان ایک نیا ظاہرہ دیکھنے میںآرہا ہے۔ وہ یہ کہ مسلم رہ نما اور مسلم لیڈر بڑے پیمانے پر امن کی باتیں کررہے ہیں۔ وہ جگہ جگہ دہشت گردی مخالف کانفرنسیں منعقد کررہے ہیں، اور میڈیا میں یہ بیان دے رہے ہیں کہ اسلام امن کا مذہب ہے، دہشت گردی سے اسلام کا کوئی تعلق نہیں۔ اِس معاملے میں آپ کا نقطۂ نظر کیا ہے۔ کیا آپ اِس کو کوئی صحت مند ظاہرہ سمجھتے ہیں (محمد ذکوان ندوی، نئی دہلی)۔
جواب
یہ صحیح ہے کہ آج کل دہشت گردی (terrorism) کے خلاف لکھنے اور بولنے کا فیشن ہوگیا ہے۔ اِس موضوع پر مختلف مقامات پر سیمنار اور کانفرنسیں ہوررہی ہیں، انڈیا کے اندر بھی اور انڈیا کے باہر بھی۔ اِسی قسم کی ایک بڑی کانفرنس 30مئی 2008 کو نئی دہلی میں ہوئی۔ میڈیا میں اس کو کافی کور (cover) کیا گیا ۔ نئی دہلی کے انگریزی اخبار ٹائمس آف انڈیا (یکم جون 2008 )میں اِس کانفرنس کی رپورٹ چھپی ہے۔ اس کا عنوان یہ ہے:
Fatwa Against Terrorism
دہشت گردی کے خلاف اِس زمانے میں تقریر و تحریر کی جو دھوم ہے، وہ میرے نزدیک سر تاسر بے فائدہ ہے۔ اِس لیے کہ یہ تمام لوگ ’’دہشت گردی‘‘ کے خلاف بے تکان بولتے ہیں، لیکن وہ یہ نہیں بتاتے کہ دہشت گردی ہے کیا۔ اِن میں سے کسی نے آج تک دہشت گردی کی تعریف (definition) نہیں دی۔ایسی حالت میں ان کی ساری چیخ وپکار بے معنی ہے۔ اِس لیے کہ وہ لوگ جو مختلف مقامات پر تشدد اور خود کش بم باری (suicide bombing) کررہے ہیں، وہ خود اپنے آپ کو دہشت گرد نہیں کہتے، بلکہ وہ یہ کہتے ہیں کہ — ہم آزادیٔ وطن کی لڑائی لڑ رہے ہیں، ہم انسانی حقوق کی لڑائی لڑ رہے ہیں، ہم انصاف کی لڑائی لڑ رہے ہیں، وغیرہ۔ اِس لیے وہ یہ سمجھتے ہیںکہ دہشت گردوں کے خلاف جو کچھ کہاجارہا ہے، وہ ان کے اوپر منطبق (apply) نہیں ہوتا۔
پوری دنیا میں، میں واحد شخص ہوں جس نے بتایا کہ دہشت گردی(terrorism) کیا ہے۔ میں نے بتایا کہ غیرحکومتی تنظیموں (NGOs) کا ہتھیار اٹھانا، یہی دہشت گردی ہے۔ اسلامی شریعت کے اصول کی روشنی میں دہشت گردی کی تعریف (definition) یہ ہے — حکومت کے علاوہ کسی غیرحکومتی تنظیم کا ہتھیار اٹھانا:
Use of arms by agencies, other than state.
غیر حکومتی افراد، یا تنظیموں کو صرف پُر امن جدوجہد کا حق ہے، مسلّح جدوجہد کا اُن کو حق نہیں۔
اِس قسم کے مقررین اور محررین کا طریقہ یہ ہے کہ وہ پُرجوش طورپر یہ کہتے ہیں کہ اسلام میں دہشت گردی نہیں، مگر یہ ایک غیر متعلق (irrelevant) بات ہے۔ اِس معاملے میں لوگوں کا کہنا یہ نہیں ہے کہ اسلام دہشت گردی کی تعلیم دیتا ہے۔ ان کا کہنا یہ ہے کہ کچھ مسلمان، اسلام کے نام پر وہ متشددانہ فعل کررہے ہیں جس کو موجودہ زمانے میں دہشت گردی کہاجاتا ہے۔ اِس لیے اِس معاملے میں اصل کام یہ ہے کہ اِس قسم کے مسلمانوں کو کنڈم (condemn) کیاجائے۔ کھلے طورپر یہ بتایا جائے کہ یہ لوگ اپنے متشددانہ عمل کے لیے غلط طورپر اسلام کا نام لے رہے ہیں۔ اِس معاملے میںاصل کام، اسلام اور مسلمانوں کو ایک دوسرے سے الگ کرنا ہے، نہ کہ مسلمانوں کے بارے میں خاموش رہ کر یہ کہاجائے کہ اسلام میں دہشت گردی نہیں۔ موجودہ صورت میں اِس قسم کے بیان کا کوئی فائدہ نہیں۔
اگر کوئی ناخوش گوار صورتِ حال پائی جائے، تو ایسے وقت میں عمل کرنے کی دو صورتیں ہیں۔ ایک، پُرامن جدوجہد اور دوسرے، مسلّح جدوجہد۔ اسلامی شریعت کے مطابق، مسلح جدوجہد کا حق صرف قائم شدہ حکومت کو ہے، اور وہ بھی اُس وقت ہے، جب کہ کسی طاقت نے اُس پر حملہ کردیا ہو۔ جہاں تک غیر حکومتی عوام کی بات ہے، ان کے لیے ہتھیار اٹھانا کسی بھی حال میں جائز نہیں۔ عوام کے لیے صرف پُر امن جدوجہد ہے، نہ کہ مسلح جدوجہد۔
سوال
ہمارے یہاں تبلیغی جماعت کے بعض حضرات ہر کسی پر یہ فتویٰ لگاتے رہـتے ہیں کہ اُس کے پیچھے نماز نہیں ہوتی۔ براہِ کرم رہ نمائی فرمائیں کہ اِس طرح کے معاملات میں اسلام کا کیا حکم ہے (معاذالدین، بھاگل پور)۔
جواب
موجودہ زمانے کے مسلمانوں میں یہ ایک عام مزاج ہے کہ وہ مسجد کے امام پر ایک شخصی الزام لگائیں گے اور پھر یہ تحریک چلائیں گے کہ اس کے پیچھے نماز جائز نہیں، اِس لیے اس کو ہٹا کر اس کی جگہ دوسرا امام مقرر کیا جائے۔ اِس قسم کی تحریک بلاشبہہ ایک گناہ کا کام ہے۔ یہ اسلام کے نام پر غیر اسلام کا طریقہ اختیار کرنا ہے۔ حدیث میں اِس قسم کے عمل کو صراحت کے ساتھ منع کیاگیا ہے۔
سنن ابی داؤد میں ایک حدیث ِ رسول اِن الفاظ میںآئی ہے: الصلاۃ المکتوبۃ واجبۃٌ خَلْف کلّ مسلم، بَرًّا کان أو فاجراً وإن عمل الکبائر (باب إمامۃ البَرّ والفاجر)یعنی فرض نماز ہر مسلمان کے پیچھے واجب ہے، خواہ وہ نیک ہو یا بد، خواہ اس سے گناہِ کبیرہ کا ارتکاب ہوا ہو۔
اِس حدیثِ رسول کا خطاب اصلاً امام کی طرف نہیں ہے، بلکہ مقتدی کی طرف ہے۔ اِس کا مطب یہ ہے کہ کوئی مقتدی اگر یہ سمجھتا ہوکہ امام کے اندر فلاں فلاں خرابی پائی جاتی ہے، تو اِس کے باوجود اس کو امام کے پیچھے نماز پڑھنا چاہیے۔ کیوں کہ ہر آدمی خود اپنی نماز پڑھتا ہے، نہ کہ امام کی نماز۔ مسجد میںامام کا تقرر صرف تنظیمِ جماعت کے لیے ہوتا ہے، نہ کہ صحتِ نماز کے لیے۔ جہاںتک صحتِ نماز کا معاملہ ہے، اس کا تعلق ہر آدمی کی اپنی نیت سے ہے۔ اِس معاملے میں بنیادی اصول یہ ہے کہ مسجد میں ہر وہ فعل قابلِ ترک ہے جو مسجد کے عبادتی ماحول کو بگاڑے۔ کوئی بھی ایسا فعل جس سے مسجد کا عبادتی ماحول بگڑے، وہ شریعت کے نزدیک فتنہ ہے، اور فتنہ کسی بھی عذر کی بنا پر جائز نہیں۔
بالفرض اگر کسی امام کے اندر کوئی برائی پائی جاتی ہو، تو مقتدی کی ذمے داری صرف یہ ہے کہ وہ اس کے حق میں دعا کرے۔ اور اگر وہ دعا سے زیادہ کرنا چاہتا ہے، تو وہ صرف یہ کرسکتا ہے کہ تنہائی میںامام سے ملے اورخیر خواہی اور دل سوزی کے ساتھ اس کو سمجھانے کی کوشش کرے۔
واپس اوپر جائیں

خبرنامہ اسلامی مرکز— 187

1 - الرسالہ مشن ملک اور بیرونِ ملک میں نہایت تیز رفتاری کے ساتھ مسلسل طور پر پھیل رہا ہے۔ خاص طور پر گذشتہ سالوں میں، الرسالہ کی ریڈر شپ (readership) میںحیرت ناک حد تک اضافہ ہوا ہے۔ الرسالہ سے وابستہ افراد پورے گلوب پر پھیلے ہوئے ہیں۔ یہ لوگ اپنے متعلقین، احباب، با ذوق افراد، اہلِ علم، سربرآوردہ شخصیات، علمی اداروں اور مساجد اور مدارس کے نام مسلسل طورپر اپنی طرف سے الرسالہ اور مطبوعاتِ الرسالہ کا خصوصی تحفہ پیش کررہے ہیں۔ اِس سلسلے میں ایک دل چسپ خبر یہ ہے کہ جون 2008 میں الرسالہ مشن سے وابستہ حیدرآباد (دکن) کے ایک صاحبِ خیر ساتھی نے اپنی طرف سے ایک ہزار افراد کے نام الرسالہ جاری کرایا ہے۔
2 - مولانا محمد ذکوان ندوی کے تعاون سے شمالی یورپ کے مشہور ملک سویڈین (Sweden) میں کافی عرصے سے الرسالہ مشن پھیل رہا تھا۔ گذشتہ کئی سال سے سویڈن کے دارالسلطنت، اسٹاک ہوم(Stockholm) میںالرسالہ کی ایجنسی بھی قائم ہے۔ جون 2008 میں مسٹر اخلاق حسین انصاری نے شہر کے مرکزی مقام پر الرسالہ کی مطبوعات پر مشتمل ایک لائبری بھی قائم کردی ہے۔ اِس لائبریری سے لوگ بڑی تعداد میں استفادہ کررہے ہیں۔
3 - الرسالہ مشن سے وابستہ ایک صاحب ِ خیر جو ویسٹ انڈیز (West Indies) میں مقیم ہیں، جون 2008 میں انھوں نے مولانا وحید الدین خاں صاحب کے ہندی ترجمۂ قرآن کی تین ہزار سے زیادہ کاپیاں انڈیا میں غیر مسلم حضرات کے درمیان مفت تقسیم کرائی ہیں۔
4 - برادر محترم مولانا محمد ذکوان ندوی السلام علیکم ورحمۃ اللہ
الحمد للہ طالبِ عافیت بعافیت ہے۔ دہلی، جے پور، اندور کے سفرسے واپسی کے بعد دعوہ لائبریری کے لیے عنایت کردہ کتابیں دستیاب ہوئیں۔ تذکیر القرآن کا درس بروز اتوار بعد نماز عصر شروع کردیاگیا ہے۔ جس میں اسکول کے استاتذہ، طلباء اور گاؤں کے دیگر افراد شرکت کررہے ہیں۔ سی پی ایس کے پمفلٹس مسلم اور غیر مسلم میں تقسیم کرنے کا عمل جاری ہے۔ جس سے نئی جنریشن اسلام کو عصری اسلوب میں سمجھنے کی کوشش کررہی ہے۔ الرسالہ اور دیگر کتابیں لائبریری سے لے کر لوگ پڑھ رہے ہیں۔ حضرت مولانا وحید الدین خاں اور سی پی ایس کے ارکان کا صدہا شکر گزار ہوں کہ انھوں نے انتہائی مصروفیات کے باوجود مجھ سے ملاقات کی، اپنے قیمتی مشوروں سے نوازا اور لائبریری کے لیے کتابیں فراہم کیں جس کے لیے ایک بار پھر شکریہ ادا کررہا ہوں۔ جزاک اللّٰہ خیراً کثیراً (قاری محمد جابر سراجی، جامعہ محمدیہ (الاقصیٰ لائبریری)گونڈہ، یوپی، 22 مئی 2008 )۔
5 - عالی جناب محترم المقام مولانا وحید الدین خاں صاحب السلام علیکم ورحمۃاللہ
غالباً تین سال قبل ناگ پور میں جناب عبد السلام اکبانی کی رہائش گاہ پر آپ سے ملاقات ہوئی تھی۔ میںنے ہندی روزنامہ ’’نوبھارت‘‘ کے لیے آپ کا انٹرویو بھی لیا تھا۔ آپ کی شخصیت سے بے حد متاثر ہوں۔ ’’الرسالہ‘‘ کے ذریعہ آپ اصلاح اور دعوت کا جو کام انجام دے رہے ہیں، اس کی مثال کہیں نہیں ملے گی۔ اللہ تعالی نے آپ کو علم وحکمت اور دانش وفراست سے خوب نوازا ہے۔ ’’الرسالہ‘‘ میں بیس پچیس سطروں میں آپ وہ بات کہہ دیتے ہیں جو سوصفحات کی کتابوں میںبھی نظر نہیں آتی۔بین الاقوامی وملکی حالات پر نظر، اسلامی اور اسلام مخالف سرگرمیوں کا جائزہ، تاریخ، ادب ،فنونِ لطیفہ ہر ایک کی معلومات اور روز مرّہ کے حالات سے واقفیت، یہ سب کچھ ایک واحد شخص کے پاس ہونا، کسی کرامت سے کم نہیں ہے۔ آپ کے وجود سے مسلمانوں کو بڑی ہمّت اور حوصلہ ہے۔ اللہ آپ کی عمر دراز کرے۔ اہلِ ناگ پور آپ کی آمد کے منتظر ہیں (نثار اختر انصاری (جنرلسٹ)، ناگپور، 8 جون 2008 )۔
6-
Al Risala Forum international (USA) brings to you both audio and text format of Al Risala Urdu Monthly published from the Islamic Centre, New Delhi- India. The Magazine carries very thought provoking articles authored by the Islamic scholar and thinker Maulana Wahiduddin Khan, the preseident of the Islamic Centre, New Delhi. The purpose of the audio format of Al Risala is to provide opportunity to those people who have little or no time to read. Such people can download the Audio Al Risala and burn a CD and listen while driving or otherwise.
Khaja Kaleemuddin (Al Risala Forum International (USA)
واپس اوپر جائیں