Pages

Tuesday, 2 February 2010

Al Risala | February 2010 (الرسالہ،فروری)

2

-نماز کلچر

3

- قیامت قریب آچکی

4

- توکّل کیا ہے

5

- خوفِ خدا کی اہمیت

6

- قرآن کی دو آیتیں

8

- دوسرا اخراج قریب آگیا

10

- فتنۂ دُہیماء

16

- غیر حقیقت پسندانہ سوچ

17

- قیامت کی ایک علامت

18

- ہٹلر ممّی

19

- غلطی کا اعتراف

20

- معکوس تربیت

21

- بات بنانا

22

- اختلاف اور اتحاد

23

- اسلام کے نام پر غیر اسلام

30

- کاغذی تحریر

31

- سائنس کی گواہی

32

- بریک اِن ہسٹری

33

- جھونک اسپرٹ

34

- ایک اچھی مثال

35

- چھوٹی بات پر انتہائی فیصلہ

36

- سوال وجواب

44

- خبر نامہ اسلامی مرکز — 200


نماز کلچر

قرآن کی سورہ نمبر 74 میں بتایا گیا ہے کہ آخرت میںاہلِ جہنم سے پوچھا جائے گا کہ تم لوگوں کو کس چیز نے جہنم میں ڈالا، وہ کہیں گے کہ ہم نماز ادا کرنے والوں میں سے نہ تھے: قالوا لم نک من المصلّین (المدثر: 43 ) اِس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ معروف معنوں میں وہ پانچ وقت کی نماز نہیں پڑھتے تھے۔ ایسا سمجھنا نماز کی تصغیر ہے۔ اِس قول کا مطلب دراصل یہ ہے کہ ہم آدابِ نماز کی پیروی کرنے والے نہ تھے، ہم نے دنیا میں نماز کلچر کو اختیار نہیں کیا تھا۔
قرآن اور حدیث کے مطالعے سے معلوم ہوتاہے کہ نماز کلچر کیا ہے۔ نماز کلچر سے مراد ہے قلبِ خاشع کے ساتھ زندگی گزارنا (المؤمنون: 2 )، وقت کی پابندی (النساء: 103 ) ، فحشاء اور منکر سے رکنا (العنکبوت: 45 )، اجتماعی زندگی گزارنا (البقرۃ: 43 )، صابرانہ مزاج کے ساتھ دنیا میں رہنا (البقرۃ: 153)، قربانی کی اسپرٹ کا حامل ہونا (الکوثر:2 )، سہو کی نفسیات سے بچنا (الماعون: 5 )، یادِ الٰہی میں جینا (طٰہٰ:14 )، اپنے معاملات کا نگراں بن جانا (المعارج:34 )، مستقل مزاج ہونا (المعارج: 23)، پاکیزگی کے ساتھ رہنا (المائدۃ:6 )، مرکز رُخی زندگی گزارنا (البقرۃ:143 )، وغیرہ۔
اِسی طرح حدیث کے مطابق، کئی چیزیں ہیں جو نماز کے جز کی حیثیت رکھتی ہیں۔ مثلاً نماز کے آخر میں سلام پھیرنا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ مصلی کے دل میں دوسروں کے لیے امن اور سلامتی کا جذبہ ہو۔ یہ تمام چیزیں معنوی اعتبار سے بلا شبہہ اجزائِ صلاۃ کی حیثیت رکھتی ہیں۔ اِن کے مجموعے کو آدابِ نماز یا نماز کلچر کہاجاسکتا ہے۔
حقیقی نماز وہ ہے جو مصلی کے اندر اِن تمام صفات کو پیدا کرے۔ جو آدمی اِس طرح نماز ادا کرے کہ یہ تمام چیزیں اس کی زندگی کا جز بن جائیں، وہی حقیقی معنی میں مصلی ہے، اور ایسے ہی مصلی آخرت میں خدا کی ابدی جنت میں داخل کئے جائیں گے۔
واپس اوپر جائیں

قیامت قریب آچکی

ایک روایت اسماء بنت یزید کی سندسے حدیث کی مختلف کتابوں میں آئی ہے۔ یہ ایک لمبی حدیث ہے۔ اس کا پورا متن مشکاۃ المصابیح کی حدیث نمبر 5491 کے تحت دیکھا جاسکتا ہے۔ اِس روایت میں اُن نشانیوں کی پیشین گوئی کی گئی ہے جو قیامت سے قبل ظاہر ہونے والی ہیں۔ اُن میں سے ایک نشانی کا ذکر کرتے ہوئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: إنَّ بین یدیہ ثلاث سنین: سنۃ تمسک السماء فیہا ثلُث قَطْرہا، والأرض ثلث نباتہا۔ والثانیۃ: تمسک السماء ثلثَی قطرہا، والأرض ثلثَی نباتہا۔ والثالثۃ: تمسک السماء قطرہا کلَّہ، والأرض نباتہا کلّہ۔ (المعجم الکبیر للطبرانی، رقم الحدیث: 19926؛ مسند أحمد، رقم الحدیث: 26298 )
یعنی قیامت سے پہلے دجال کے زمانے میں تین دور پیش آئیں گے— پہلا دور جب کہ آسمان ایک تہائی بارش کو روک دے گا، اور زمین اپنی ایک تہائی پیداوار کو روک دے گی۔ اور دوسرے دور میں آسمان اپنی دوتہائی بارش کو روک دے گا، اور زمین اپنی دو تہائی پیداوار کو روک دے گی۔ اور تیسرے دور میں آسمان اپنی ساری بارش کو روک دے گا، اور زمین اپنی ساری پیداوار کو روک دے گی۔
واقعات بتاتے ہیں کہ موجودہ زمانے میں یہ پیغمبرانہ پیشین گوئی بالکل ظاہر ہوچکی ہے۔ موجودہ زمانے میں گلوبل وارمنگ کے نتیجے میں پانی کے منجمد ذخیرے (گلیشئر وغیرہ) پگھل کر بہہ رہے ہیں اور دریاؤں کے راستے سمندر میں جاکر وہ دوبارہ ناقابلِ استعمال کھاری پانی بن رہے ہیں۔ بیسویں صدی کے آخر تک تقریباً ایک تہائی پانی اِس طرح بہہ چکا تھا۔ اب اکیسویں صدی میں دوسرا تہائی پانی تقریبابہہ چکا ہے اور اب آئندہ اس کا تیسرا تہائی پانی بہہ کر ختم ہوجانے والا ہے۔ اس کے اثر سے نباتات اور حیوانات بھی بتدریج معدوم ہورہے ہیں۔ پیغمبرانہ پیشین گوئی کے مطابق، یہ گویا کہ قیامت کا فائنل الارم ہے۔ تقریباً یقین کے ساتھ کہا جاسکتا ہے کہ اب قیامت بہت زیادہ قریب آچکی ہے۔ اب وہ وقت آگیا ہے کہ انسان جاگے اور اپنی اصلاح کرے، اِس سے پہلے کہ توبہ کے تمام دروازے بند ہوجائیں۔
واپس اوپر جائیں

توکّل کیا ہے

پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک شخص نے توکل کے بارے میں پوچھا۔ اُس نے کہا: یا رسول اللہ، أعقِلُہَا وأتوکّل أوأُطلقہا وأتوکل، قال: أعقلْہا وتوکل (الترمذی، کتاب القیامۃ) یعنی اے خدا کے رسول، کیا میں اپنے اونٹ کو باندھ دوں اور توکل کروں یا میں اس کو چھوڑ دوں اور توکل کروں۔ آپ نے فرمایا کہ تم اپنے اونٹ کو باندھو اور پھر توکل کرو۔
اِس حدیثِ رسول سے معلوم ہوتا ہے کہ توکل کیا ہے۔ حقیقی توکل یہ ہے کہ آدمی بقدرِ امکان اسباب کو فراہم کرے اور بقیہ کے لیے اللہ پر بھروسہ کرے۔ ایک طرف وہ اپنی کوشش میں کمی نہ کرے اور دوسری طرف وہ بھروسہ رکھے کہ اِس دنیا میں کسی کام کی تکمیل اللہ کی مدد کے بغیر نہیںہوسکتی۔ یہی وہ حقیقت ہے جس کو عربی زبان کی ایک مثل میں اِن الفاظ میں بیان کیا گیا ہے: السعی منّی، والإتمامُ من اللہ (کوشش میری طرف سے اور تکمیل اللہ کی طرف سے)۔
اصل یہ ہے کہ اِ س دنیا میں ہر کام کے لیے انسان کو خود کوشش کرنا پڑتا ہے، انسان کو خود منصوبہ بنانا پڑتا ہے، انسان کو خود اپنے وسائل کو منظم طور پر استعمال کرنا پڑتا ہے، اپنی عقل کو استعمال کرتے ہوئے انسان کو خود حالات کا حقیقت پسندانہ جائزہ لینا پڑتا ہے، انسان کو خود یہ کرنا پڑتا ہے کہ وہ اپنی صلاحیتوں کو بھر پور طورپر زیر عمل لائے۔ انسان اگر اپنے حصے کا کام نہ کرے تو مطلوب انجام تک پہنچنا کبھی اس کے لیے ممکن نہ ہوگا۔
اِس معاملے کا دوسرا پہلو یہ ہے کہ اِس دنیا میں کسی بھی کام کو کرنے کے لیے انفراسٹرکچر درکار ہوتا ہے۔ یہ انفراسٹرکچر تمام تر خدا کی طرف سے ملتا ہے۔ ہر معاملے میں کوشش انسان کی طرف سے ہوتی ہے اور انفراسٹرکچر کی فراہمی خدا کی طرف سے۔ اِسی انفراسٹرکچر کا تعلق توکل سے ہے۔ گویا کہ ہر معاملے میں انسان کا حصہ پچاس فی صد ہوتا ہے، اور خدا کا حصہ پچاس فی صد— اِسی بات کو مذکورہ حدیث میں اِس طرح کہا گیا ہے کہ اپنے اونٹ کو باندھو اور پھر خدا کی ذات پر بھروسہ کرو۔
واپس اوپر جائیں

خوفِ خدا کی اہمیت

ایمان خدا کی دریافت ہے۔ یہ دریافت آدمی کے اندر جو صفات پیدا کرتی ہے، اُن میں سے ایک اہم صفت وہ ہے جس کو خشوع اور تقویٰ اور خوف، وغیرہ الفاظ میں بیان کیا گیا ہے، یعنی خدا کی پکڑ سے ڈرنا، آخرت میں خدا کے سامنے جواب دہی کو سوچ کر ہمیشہ اپنا محاسبہ کرتے رہنا، یہی سچے ایمان کی علامت ہے۔ سچا مومن صرف وہ انسان ہے جس کا سب سے بڑا کنسرن (concern) خدا بن جائے، جس کی سوچ کا فوکس صرف ایک ہو، اور وہ ہے خوفِ خدا۔
موجودہ زمانے میں احیائِ ملت کے نام سے بہت سی بڑی بڑی تحریکیں اٹھیں، لیکن عملی اعتبار سے سب کی سب بے نتیجہ رہیں۔ اِس ناکامی کا بنیادی سبب یہ ہے کہ اِن تمام مسلم تحریکوں کا فوکس بدلا ہوا تھا— کسی کا فوکس اَغیار سے تحفظ تھا، کسی کا فوکس سیاسی اقتدار تھا، کسی کا فوکس فضائلِ اعمال تھا، کسی کا فوکس ظاہری فارم تھا، کسی کا فوکس ملّی شناخت تھا، وغیرہ، یہ تمام کے تمام بدلے ہوئے فوکس تھے۔ اِس لیے موجودہ زمانے کی تمام مسلم تحریکیں ، ظاہری دھوم کے باوجود، اپنے مطلوب نتیجے کے اعتبار سے سر تا سر ناکام رہیں۔
یہ ایک حقیقت ہے کہ اسلام میںاصل فوکس خوفِ خدا ہے۔ خوفِ خدا تمام مثبت صفات (positive qualities) کا سرچشمہ ہے۔ خوفِ خدا سے آدمی کے اندر سنجیدگی پیدا ہوتی ہے۔ خوفِ خدا آدمی کو متواضع (modest) بناتا ہے۔ خوفِ خدا آدمی کے اندر غلطی کے اعتراف کاجذبہ پیدا کرتا ہے۔ خوفِ خدا اصلاحِ خویش کا سب سے بڑا ذریعہ ہے۔ خوفِ خدا انفرادی بڑائی کو ختم کرکے اتحاد پیدا کرتا ہے۔ خوفِ خدا آدمی کو حقیقت پسند بناتا ہے۔ خوفِ خدا آدمی کے اندر قرآنی سوچ پیدا کرتا ہے۔ خوفِ خدا آدمی کو مجبور کرتاہے کہ وہ ہمیشہ اپنی موت کو یاد کرتا رہے۔ خوفِ خدا آدمی کو کبر اور انانیت کی نفسیات سے بچاتا ہے۔خوفِ خدا کی حیثیت، کیرم بورڈ کی اصطلاح کے مطابق، ماسٹر اسٹروک (master stroke) کی ہے جو آدمی کی پوری شخصیت کو مکمل طورپر بدل دیتی ہے۔
واپس اوپر جائیں

قرآن کی دو آیتیں

سورہ النساء قرآن کی چوتھی سورہ ہے۔ اِس سورہ کا ابتدائی حصہ غزوۂ احد کے فوراً بعد پیش آنے والے حالات کی نسبت سے نازل ہوا۔ غزوۂ احد 6 شوال 3ہجری کو مدینے کی سرحد پر پیش آیا تھا۔ اِس غزوہ میں 70مسلمان مارے گئے تھے۔ اِس کے نتیجے میں قدیم مدینہ کے معاشرے میں ایک بڑا مسئلہ پیدا ہوگیا، اور وہ تھا بیواؤں اور یتیموں کا مسئلہ۔ یتیموں کے باپ اپنے بعد مال اور جائداد چھوڑ گئے تھے۔ اب سوال تھا کہ یہ مال اور جائداد کس طرح یتیم بچوں کے درمیان منصفانہ طورپر تقسیم ہو۔ دوسرا مسئلہ یہ تھا کہ وہ خواتین جو اپنے شوہروں سے محروم ہوگئی ہیں، معاشرے میں اُن کا بندوبست (settlement) کس طرح کیا جائے۔سورہ النساء کی آیت نمبر 2 میں، پہلے مسئلے کا حل بتایا گیا ہے۔اور اس کی آیت نمبر 3 میں دوسرے مسئلے کا حل بیان ہوا ہے۔ آیت نمبر 2 کا ترجمہ یہ ہے:
’’اور یتیموں کا مال اُن کے حوالے کرو۔ اور برے مال کو اچھے مال سے نہ بدلو، اور اُن کے مال کو اپنے مال کے ساتھ ملا کر نہ کھاؤ۔ یہ بہت بڑا گناہ ہے‘‘۔ (النساء:2 )۔ یعنی یتیم بچوں کے مال اور جائداد کے بارے میں انصاف اور خیر خواہی کا طریقہ اختیار کرو، تاکہ اُن کا حق درست طورپر ان کو پہنچ جائے۔
دوسرے مسئلے کے حل کے بارے میں قرآن کے الفاظ یہ ہیں: وإن خفتم ألا تُقسطوا فی الیتامیٰ فانکحوا ما طاب لکم من النساء مَثنیٰ، وثُلٰث، ورُبٰع (النساء: 3)۔ یعنی اگر تم کو اندیشہ ہو کہ تم یتیموں کے معاملے میں انصاف نہ کرسکوگے، تو عورتوں میں سے حسب حال، دو دو، تین تین، چار چار عورتوں سے نکاح کرلو۔
اِس آیت میں ’خفتم‘ کا خطاب قدیم مدینے کے سماج سے ہے، اور ’فانکحوا‘کا خطاب قدیم مدینے کے افراد سے۔ غزوۂ احد کے بعد مدینے میں یتیموں کا جو مسئلہ پیدا ہوا تھا، ابتداء ً اس کا تعلق پورے سماج سے تھا۔ سماج کے مختلف گھروں میں یتیم لڑکے اور لڑکیاں موجود تھے۔ یہ مسئلہ پورے سماج پر پھیلا ہوا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے یہ چاہا کہ اس مسئلے کو افراد کے انٹرسٹ سے وابستہ کردیا جائے۔ سماجی مسئلہ ہونے کی بنا پر، کوئی شخص اس کو اپنا ذاتی مسئلہ نہیں سمجھ سکتا تھا اور نہ فطری طور پر کسی کو اس سے ذاتی تعلق ہوسکتا تھا۔ اِسی صورتِ حال کی طرف قرآن میں ’خفتم‘کے لفظ کے ذریعے اشارہ کیاگیا ہے، یعنی فطری طورپر یہ اندیشہ ہے کہ موجودہ صورتِ حال کے رہتے ہوئے یہ مسئلہ لوگوں کے لیے انفرادی دلچسپی کا مسئلہ نہ بنے اور یتیم بچوں کو غیر ضروری مسائل کا سامنا کرنا پڑے، جیسا کہ عام طورپر سماج میں دیکھا گیا ہے۔
اس مسئلے کا حل قرآن میں یہ بتایا گیا کہ مدینے کے مختلف افر اد اپنے حالات کے لحاظ سے، بیوہ خواتین سے نکاح کرلیں۔ جس شخص کے لیے دو نکاح ممکن ہو، وہ دو نکاح کرلے، اور جس شخص کے لیے تین نکاح ممکن ہو، وہ تین نکاح کرلے، اور جس شخص کے لیے چار نکاح ممکن ہو، وہ چار نکاح کرلے۔ اِس طرح یہ ہوگا کہ بیوہ خواتین کے بچوں کو دوبارہ باپ جیسی سرپرستی حاصل ہوجائے گی۔ بیوہ خواتین کے شوہروں کو اِن خواتین کی اولاد کے ساتھ ذاتی تعلق ہوجائے گا، وہ براہِ راست ان کی ذاتی نگرانی میں آجائیں گے۔ اِ س طرح یہ ہوگا کہ جو مسئلہ سماج کی سطح پر عمومی انداز میں پیدا ہوا ہے،وہ افراد کی سطح پر تقسیم ہو کر فطری انداز میں حل ہوجائے گا۔
سورہ النساء کی آیت نمبر 3 میں نکاح کا جو حکم بیان ہوا ہے، وہ کوئی عمومی حکم نہیں ہے، بلکہ وہ اُس ہنگامی صورتِ حال کی نسبت سے ہے جو کہ مدینہ میں جنگ احد کے بعد پیدا ہوگئی تھی۔ عام حالات میں نکاح کی فطری صورت یہ ہے کہ ایک شخص ایک خاتون سے نکاح کرے۔ مطالعہ بتاتا ہے کہ خدا کا تخلیقی نظام عورت اور مرد کی تعداد میں ہمیشہ ایک توازن (equilibrium) قائم رکھتا ہے۔ اِس لیے قانونِ فطرت کے مطابق، غیر محدود تعدّدِ ازواج عملاًممکن ہی نہیں۔
تعدّد ازواج (polygamy) کا حکم قرآن کی صرف اِسی ایک آیت میں آیا ہے، جو کہ غزوۂ احد کے بعد پیدا ہونے والے حالات کی نسبت سے اتری تھی۔ حقیقت یہ ہے کہ اسلام میں کئی عورتوں سے نکاح کرنے کا حکم لوگوں کو تفریح (entertainment) کا موقع دینے کے لیے نہیں ہے، بلکہ وہ صرف اُس صورتِ حال کے لیے ہے، جب کہ سماج میںکسی حادثے کی بنا پر عورتیں سرپلس (surplus) ہوجائیں۔ قرآن میں یہ حکم بیواؤں اور یتیم بچوں کے مسئلے کے فطری بندوبست کے لیے ہے، جیسا کہ آیت کے سیاق سے واضح ہے۔
واپس اوپر جائیں

دوسرا اخراج قریب آگیا

بیسویں صدی عیسوی کے آخر تک صنعتی ترقی کو صرف ایک مثبت ظاہرہ کے روپ میں دیکھا جاتا تھا۔ اکیسویں صدی عیسوی میں معلوم ہوا کہ صنعتی ترقی کے ساتھ ایک سنگین قسم کا منفی پہلو موجود ہے۔ یہی وہ چیز ہے جس کو کاربن ایمیشن (carbon emission) کہا جاتا ہے۔
صنعتی ترقی اپنے ساتھ، صنعتی کثافت (industrial polution) کا مسئلہ لائی ہے۔ اِس کثافت کے نتیجے میں گلوبل وارمنگ (global warming) کا واقعہ پیش آیا ہے،یعنی موسم میں بگاڑ (weather chaos) ، پانی کے ذخیروں کا پگھلنا، نازک حیوانات (fragile animals) کی موت، سمندر کے پانی کا آلودہ ہوجانا اور لائف سپورٹ سسٹم کا بگڑ جانا، وغیرہ۔
فطرت میں اِن تمام خرابیوں کی جڑ گلوبل وارمنگ ہے۔ اِس مسئلے پر ڈنمارک کی راجدھانی کوپن ہیگن میں 7-18 دسمبر 2009 کو ایک انٹرنیشنل کانفرنس ہوئی جس میں دنیا بھر کے دو سو ملکوں کے ذمے داران شریک ہوئے۔ مگر یہ کانفرنس مکمل طور پر ناکام ہوگئی۔ اِس کا سبب یہ تھا کہ ترقی یافتہ ممالک اپنے اعلیٰ معیارِ زندگی کو ہر حال میں برقرار رکھنا چاہتے تھے، اور زیر ترقی ممالک اعلیٰ معیارِ زندگی کی دوڑ میں کسی بھی حال میں کمی کرنے پر راضی نہ تھے۔
گلوبل وارمنگ کا اصل سبب لائف اسٹائل کا مسئلہ ہے۔ دنیا کے موجودہ ذرائع صرف یہ اجازت دیتے ہیں کہ انسان اپنی حقیقی ضرورت (real need) کے بقدر اس کو استعمال کرے، لیکن آج کے انسان کا نشانہ پُرتعیش لائف اسٹائل (luxurious life style) بن گیا ہے۔ انسان کا یہی غیرحقیقی گول ہے جس نے موجودہ زمانے میں گلوبل وارمنگ کا سنگین مسئلہ پیدا کیاہے۔ گلوبل وارمنگ گویا کہ فطرت کی طرف سے یہ اعلان ہے کہ انسان کا یہ نشانہ موجودہ دنیا میں پورا ہونے والا نہیں، وہ فطرت کے خلاف ہے، اور جو منصوبہ فطرت کے خلاف ہو، اس کی تکمیل اِس دنیا میں ممکن ہی نہیں۔
یہ کوئی سادہ معاملہ نہیں۔ یہ براہِ راست طورپر خدا کے تخلیقی منصوبہ (creation plan)سے جڑا ہوا ہے۔ خدا کے تخلیقی پلان کو سمجھے بغیر اِس معاملے کا درست تجزیہ نہیں کیا جاسکتا۔ یہاں انسان کا منصوبہ خالقِ فطرت کے منصوبہ سے ٹکرا رہا ہے، اور یہ ناممکن ہے کہ اِس دنیا میں خالقِ فطرت کے منصوبے کے خلاف کسی منصوبے کو کامیاب بنایا جاسکے۔
خدا نے انسان (آدم) کو اوران کی بیوی حوا کو پیدا کیا اور اُن کو جنت میں بسایا۔ خدا نے کہا کہ تم لوگ جنت میںآزادی کے ساتھ رہو، لیکن تم لوگ فلاں درخت کے پاس نہ جانا، ورنہ جنت تم سے چھن جائے گی (البقرۃ: 35)، مگر آدم اور حوا اِس ہدایت پر قائم نہ رہ سکے۔ انھوں ے ممنوعہ درخت (forbidden tree) کا پھل کھایا۔ اِس کا نتیجہ یہ ہوا کہ جنت کا لباس اُن سے چھن گیا اور اُن کو جنت چھوڑ کر موجودہ زمین پر آنا پڑا۔
یہ دراصل اِسراف کا معاملہ تھا، یعنی حد سے تجاوز کرنا (to exceed one’s limit) ۔ اِس اسراف کے نتیجے میں آدم کو پہلی بار جنت کو چھوڑنا پڑا۔ اسراف کا یہی معاملہ دوسری بار زیادہ بڑے پیمانے پر انسان کے ساتھ پیش آرہا ہے۔ خدا نے انسان کو موجودہ دنیا میں آباد کیا تو دوبارہ اس کے لیے ایک حد مقرر کردی۔ وہ حد یہ کہ انسان موجودہ دنیا سے بقدر ضرورت فائدہ اٹھائے۔ وہ یہاں پُر تعیش زندگی حاصل کرنے کی کوشش نہ کرے۔
جدید صنعتی ترقی سے پہلے انسان مجبورانہ طورپر اِس حدپر قائم تھا، لیکن جدید صنعتی ترقی کے بعد وہ اِس حد پر قائم نہ رہ سکا۔ وہ پُر تعیش زندگی کی طرف تیزی سے دوڑنے لگا۔ اکیسویں صدی عیسوی میں یہ دوڑ اپنی آخری حد پر پہنچ گئی ہے۔
اب خالق کا فیصلہ انسان کے خلاف ظاہر ہوچکا ہے۔ لائف سپورٹ سسٹم کا لباس اس سے اتارا جارہا ہے۔ پر تعیش زندگی یہاں انسان کے لیے شجرِ ممنوعہ کی حیثیت رکھتی تھی، لیکن انسان اپنی بڑھی ہوئی خواہش کی بنا پر اپنی حد سے باہر چلا گیا۔
اب وہ وقت بہت قریب آچکا ہے جب کہ موجودہ دنیا سے اُسی طرح انسان کا اخراج کردیا جائے، جس طرح آدم کا اخراج جنت سے ہوا تھا۔ اِسی دوسرے اخراج کا نام قیامت ہے۔
واپس اوپر جائیں

فتنۂ دُہیماء

پیغمبر اسلام ﷺنے قیامت سے پہلے کے زمانے کے لیے بہت سی پیشین گوئیاں کی ہیں۔ اُن میں سے ایک پیشین گوئی یہ ہے کہ آخری زمانے میں قیامت سے پہلے ایک سنگین واقعہ پیش آئے گا۔ اِس واقعے کو فتنۂ دہیماء کہا گیا ہے۔ حدیث میں آیا ہے کہ — آخری زمانے میں فتنۂ دُہیماء ظاہر ہوگا۔ اِس امت کا کوئی بھی شخص نہیں بچے گا جو اِس فتنے کی زد میں نہ آجائے (…ثم تکون فتنۃ الدُّہیماء، لا تدع أحداًمن ہذہ الأمۃ إلا لطمتْہ لطْمۃً (سنن أبی داؤد، کتاب الملاحم):
It will hit everyone without any exception.
اِس حدیثِ رسول میں دُہیماء کا لفظ استعمال ہوا ہے۔ دہیماء کے لیے مشہور عربی لغت لسان العرب میں یہ الفاظ آئے ہیں: الفتنۃ السّوداء المُظلمۃ (12/211) ۔ لسان العرب میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ دہیماء کی تصغیر مبالغہ کے لیے ہے، یعنی فتنۂ دہیماء بہت زیادہ سیاہ اور بہت زیادہ تاریکی پیدا کرنے والا فتنہ ہوگا۔اِس حدیث کے مطابق، فتنۂ دہیماء کا زمانہ مکمل تاریکی کا زمانہ (age of total darkness) ہوگا۔
غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ فتنۂ دہیماء سے مراد وہی دور ہے جو بیسویں صدی عیسوی میں پوری طرح آیااور اب تک اس کا سلسلہ جاری ہے۔ اِس قسم کا دور صرف اُس وقت پیدا ہوسکتا تھا، جب کہ پرنٹنگ پریس ظہور میں آچکا ہو اور انسانی علم میں بہت زیادہ ترقی ہوچکی ہو، اوراِسی کے ساتھ دوسرے موافق مواقع پیدا ہوچکے ہوں۔
موجودہ زمانہ اِسی عظیم فتنے کا زمانہ ہے۔ اِس زمانے میں پہلی بار ایسا ہوا ہے کہ مغالطہ آمیز تصورات ایک فلسفے کی صورت میں ظاہر ہوئے ہیں۔ اِس سے پہلے مغالطہ (fallacy)صرف ایک سادہ قسم کا مغالطہ ہوتا تھا۔ موجودہ زمانے میں مغالطہ نے ایک باقاعدہ فلسفے کی صورت اختیار کرلی ہے، حتی کہ لوگوں کے لیے یہ ممکن نہیں رہا ہے کہ وہ تجزیہ کرکے اس کی حقیقت کو سمجھیں۔ آج غلط تعبیرات کا ایک جنگل ہے جس میں انسان زندگی گزار رہا ہے۔ یہ فکری تاریکی (intellectual darkness) کا زمانہ ہے۔ اِس دور کو مغالطہ انگیز فلسفوں کا دور کہا جاسکتا ہے:
Age of deceiving philosophies
فتنۂ دہیماء کا یہ زمانہ بیسویں صدی عیسوی کا زمانہ ہے۔ بیسویں صدی عیسوی میں وہ تمام فلسفے ابھرے جو مغالطہ آمیزی کے فلسفے تھے اور جنھوں نے جدید دور کے اکثر لوگوں کو براہِ راست یا بالواسطہ طورپر متاثر کیا ہے۔ موجودہ زمانے میں مختلف قسم کے جو مفاسد پیداہوئے، وہ بنیادی طورپر اِنھیں فلسفوں کے نتیجے میں پیدا ہوئے۔ اِن فلسفوں کے پیدا کرنے میں بہت سے لوگوں کا حصہ ہے۔ اُن میں سے چار ناموں کا ذکر یہاں علامتی طورپر کیا جاتا ہے:
چارلس ڈارون (وفات: 1882 ) کارل مارکس (وفات: 1883 )
سِگمنڈ فرائڈ(وفات: 1939 ) سید ابوالاعلیٰ مودودی (وفات: 1979 )
ذیل میں اِن چاروں کے افکار کا مختصر تجزیہ کیا جاتا ہے۔
چارلس ڈارون (Charles Darwin) ایک برٹش اسکالر تھا۔ لمبی ریسرچ کے بعد اُس نے وہ نظریہ پیش کیا جس کو عضویاتی ارتقا (organic evolution) کا نظریہ کہاجاتا ہے۔ اپنے نظریے کی حمایت میں اُس نے دو کتابیں لکھیں:
1. On the Origin of Species (1859) 2. The Descent of Man (1871)
ڈار ون کے اِس نظریہ یا مفروضہ کے مطابق، بہت پہلے خدا نے زندگی کا ابتدائی فارم (امیبا) پیدا کیا۔ اس کے بعد خود بخود ایک پراسس چلا۔ اِس پراسس کے دوران طبیعی انتخاب (natural selection) اور بقائِ اصلح (survival of the fittest) کے اصول کے تحت تمام انواعِ حیات اپنے آپ بنتے چلے گئے، اور آخر میں انسان وجود میں آگیا۔
یہ نظریہ مکمل طورپر ایک غیر ثابت شدہ نظریہ تھا۔ اس کی حیثیت ایک قیاسی مفروضہ کے سوا اور کچھ نہ تھی۔ لیکن بعض دیگر اسباب سے وہ اہلِ علم طبقے کے درمیان بہت تیزی سے پھیلا، یہاں تک کہ اس کو جدید تعلیم یافتہ طبقے کے درمیان عمومی قبولیت (general acceptance) کا درجہ حاصل ہوگیا۔
چارلس ڈارون نے اپنے نظریے میں اگرچہ ایک ابتدائی خالق کے طورپر خدا کا وجود تسلیم کیا تھا، لیکن اِس نظریے کے عین تقاضے کی بنا پر ایسا ہوا کہ انسان کی زندگی سے خدا (God) بحیثیت ایک مؤثر عامل کے ختم ہوگیا۔ اب انسان کو اس کی ضرورت نہیں تھی کہ وہ دعاء اور عبادت کے ذریعے خدا سے تعلق قائم کرے، وہ اپنی زندگی میں خدا کو اپنا رہنما بنائے، وہ خدا کے سامنے اپنے آپ کو جواب دہ (accountable) سمجھے، وہ خدا سے خوف کرے اور خدا سے محبت کرے، وہ خدا کی جہنم سے ڈرے اور خدا کی جنت کا حریص بنے— اِس قسم کی تمام چیزیں جدید انسان کے لیے غیر متعلق (irrelevant) ہوگئیں۔ اِس نظریے نے تاریخ میں پہلی بار ایک نیا دور پیدا کیا۔ اِس دور کو مبرَّر برائی کا دور (age of justified evil) کہاجاسکتا ہے۔
اِس سلسلے میں دوسرا نام کارل مارکس (Karl Marx) کا ہے۔ کارل مارکس نے وہ نظریہ پیش کیا جس کو جدلیاتی مادّیت (dialectical materialism) کہاجاتا ہے۔قدیم فلسفی زرتشت (وفات: 551 ق م) نے کہا تھا کہ دنیا اچھی طاقتوں اور بری طاقتوں کے درمیان مسلسل جنگ کا نام ہے:
The world is a perpetual battle ground between good and evil forces.
مارکس نے اِس نظریے کو سیکولر معنوں میں استعمال کرتے ہوئے دکھایا کہ انسانی تاریخ ہمیشہ استحصال کرنے والوں (exploiters) اور استحصال کا شکار ہونے والوں (exploited) کے درمیان بٹی رہی ہے۔ اس نے اس نظریے کو لازمی قانونِ طبیعی کا درجہ دیتے ہوئے کہا کہ اِس قانون کی بنا پر انسانی سماج میں ہمیشہ ایک طبقاتی جنگ (class war) جاری رہتی ہے۔ اور اِس طرح تاریخ ایک حالت سے دوسری حالت کی طرف سفر کرتی رہتی ہے۔
مارکس کا یہ نظریہ مخصوص اسباب سے، انیسویں صدی کے نصف ثانی اور بیسویں صدی کے نصف اول کے درمیان عالمی طورپر پھیلا۔ 1917 میں جب روس میں کمیونسٹ حکومت قائم ہوئی تو حکومت کے زور پر اِس نظریے کو مزید پھیلاؤ ملا۔ اِس طرح ساری دنیا میں ایک ایسا ماحول بنا جس میں مبرّر تصادم (justified conflict) کو بہت زیادہ فروغ ہوا۔ تقریباً پوری دنیا میں تخریبی سیاست، انقلابی عمل کے خوب صورت نام سے رائج ہوگئی۔
اِس سلسلے میں تیسرا نام سگمنڈ فرائڈ (Sigmund Freud) کا ہے۔ سگمنڈ فرائڈ نے وہ نظریہ پیش کیا جس کو دوسرے الفاظ میں، مبرّر اِباحیت (justified permissiveness) کہاجاسکتا ہے۔ اس نے اپنی ’’تحقیق‘‘ کے ذریعے دکھایا کہ خواہشات (desires) کو دبانا شخصیت کے ارتقا میں سخت مہلک ہے۔ اِس لیے ضروری ہے کہ خواہشات کو اظہار کا بے روک ٹوک موقع دیا جائے، تاکہ انسانی شخصیت ترقی کے اعلیٰ درجے تک پہنچ سکے۔ فرائڈ نے دکھایا کہ دبی ہوئی صنفی خواہش (repressed sexual energy) شخصیت کے ارتقاء کے لیے بے حد خطرناک ہے۔ اُس نے اِس بات کی وکالت کی کہ شخصیت کے ارتقاء کے لیے ضروری ہے کہ کم عمری ہی سے صنفی تعلقات قائم ہوں:
Emphasized importance of infantile sexuality in personality's development.
فرائڈ کا نظریہ بہت زیادہ مقبول ہوا، حتی کہ نظریاتی طورپر فرائڈ کو نہ جانتے ہوئے بھی آج کی دنیا کے بیش تر لوگ فرائڈ کے طریقے پر چل رہے ہیں۔ موجودہ زمانے میں بے قید تفریح (unchecked enjoyment) کا طریقہ جو ہر جگہ عام ہوگیا ہے، وہ براہِ راست یا بالواسطہ طورپر فرائڈ کے نظریے کا نتیجہ ہے۔ یہ نظریہ اب اِس حد تک پہنچ چکا ہے کہ ہر شعبے میں کھلے طورپر صنفی باتیں عام ہوگئیں ہیں، حتی کہ اب اخباروں میں جو نئے کالم دکھائی دیتے ہیں، اُن میں سے ایک کالم یہ ہوتا ہے:
Virginity On Sale
اوپر جن تین ناموںکا ذکر ہوا، وہ سیکولر نام تھے، وہ مذہبی رہنما کی حیثیت نہ رکھتے تھے۔ اِس فہرست میں چوتھا نام سید ابو الاعلیٰ مودودی کا ہے۔ مسلمانوں کے درمیان حالیہ زمانے میں سیاسی شکست کے جو واقعات پیش آئے، اُس نے سید ابو الاعلیٰ مودودی کے لیے زرخیز زمین فراہم کردی۔ انیسویں صدی عیسوی کے آخر میں ساری دنیا میں مسلمانوں کا سیاسی زوال شروع ہوا۔ دھیرے دھیرے دو بڑے مسلم ایمپائر ختم ہوگئے— مغل ایمپائر،اور عثمانی ایمپائر۔
مسلم ایمپائر کے بعد مسلمانوں کے درمیان یہ تحریک شروع ہوئی کہ وہ سیاسی اقتدار کو پہلے کی طرح دوبارہ قائم کرسکیں۔ سید جمال الدین افغانی (وفات: 1897 ) کے زمانے تک یہ تحریک خالص سیاسی تحریک تھی۔ سید جمال الدین افغانی کا نعرہ تھا: الشرق للشرقیین۔ مگر سیاسی اقتدار کی بحالی کی یہ تحریک مکمل طور پر ناکام ہوگئی۔
اِس کے بعد ایک نیا دور شروع ہوا۔ اِس نئے دور میں یہ کوشش کی گئی کہ اسلام کی سیاسی تعبیر پیش کی جائے اور اِس طرح سیاسی جدوجہد کو مذہبی عقیدے کا مسئلہ بنا دیا جائے، تاکہ تمام دنیا کے مسلمان اِس سیاسی جدوجہد میں بھر پور طورپر شریک ہوسکیں۔ اِس نئے نظریاتی دور میں جن لوگوں نے کام کیا، اُن میں سید ابوالاعلیٰ مودودی کا نام غالباً سب سے زیادہ نمایاں نام کی حیثیت رکھتا ہے۔
سید ابوالاعلیٰ مودودی نے قرآن کی تفسیر (تفہیم القرآن) لکھی جس کو قرآن کی سیاسی تفسیر کہاجاسکتا ہے۔ قرآن کی اِسی قسم کی سیاسی تفسیر عرب دنیا میں سید قطب مصری (وفات: 1966 ) نے تیار کی جو ’’فی ظلال القرآن‘‘ کے نام سے چھپ چکی ہے۔ اِن لوگوں نے اپنی سیاسی تعبیر کے ذریعے دکھایا کہ— اسلام ایک مکمل نظام ہے۔ قانون اور سیاسی اقتدار اس کا لازمی حصہ ہے۔ مسلمانوں کی یہ ذمے داری ہے کہ وہ پولٹکل اقتدار حاصل کریں، تاکہ اسلام کو اس کے پورے سیاسی اور قانونی نظام کے اعتبار سے غالب اور نافذ کیا جاسکے۔
اِس سیاسی تعبیر کے دوبڑے نقصانات ہوئے۔ ایک، یہ کہ اسلام کی اصل تعلیمات کے نقطۂ نظر سے مسلمان کا اصل تعلق دوسری اقوام سے داعی اور مدعو کا تعلق ہے، لیکن اِس سیاسی تعبیر کے نتیجے میں یہ تعلق حریف اور رقیب کا تعلق بن گیا۔ دعوت کی روح مسلمانوں کے اندر عالمی سطح پر ختم ہوگئی۔
اِس سیاسی تعبیر کا دوسرا نتیجہ یہ ہوا کہ اسلام جو اصلاً اتباع (following) کا موضوع ہے، وہ نفاذ (enforcement) کا موضوع بن گیا۔ مسلم ملکوں میں دعوتی اور تعمیری کام پس پشت ہوکر رہ گئے، البتہ ہر جگہ نفاذِ اسلام کے نام پر مسلم حکمرانوں سے ٹکراؤ شروع ہوگیا۔ اب اِس کی آخری حد یہ ہے کہ اِس سیاسی نظریے نے تمام دنیا کے مسلمانوں کو متشدد (violent) بنا دیا ہے، اِس فرق کے ساتھ کہ کچھ لوگ فعّال تشدد (active violence) میں مبتلا ہیں، اور کچھ لوگ غیر فعال تشدد (passive violence) کا کیس بنے ہوئے ہیں۔ غیر فعال تشدد یہ ہے کہ تشدد پسندوں کو برا نہ سمجھا جائے۔ اُن پر خاموشی اختیار کی جائے، حتی کہ براہِ راست یا بالواسطہ طورپر اس کو جواز (justification) فراہم کیا جائے۔
اِس سیاسی تعبیر کا آخری نتیجہ جو سامنے آیا ہے، وہ خود کش بم باری (suicide bombing) ہے۔ خود کشی کا فعل اسلام میں بلا شبہہ حرام ہے، مگر ساری دنیا کے مسلمان اس کو ’’قربانی‘‘ کا درجہ دئے ہوئے ہیں۔ عرب علماء نے یہ کہہ کر اس کی حوصلہ افزائی کی ہے کہ یہ خود کشی نہیں ہے، بلکہ وہ استشہاد یعنی طلب شہادت (seeking martyrdom) ہے۔
اوپر کے تجزیے سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ وہ چیز جس کو ہم نے مغالطہ آمیز فلسفوں کا دور کہا ہے، اُس کو پیدا کرنے میں سیکولر اسکالر اور غیر سیکولر اسکالر دونوں کا حصہ ہے۔ سیکولرمفکرین نے یہ کیا کہ انھوںنے مغالطہ آمیز طورپر الحاد اور اباحیت کو جواز فراہم کردیا۔ دوسری طرف، مسلم مفکرین نے اسلام کی ایسی تعبیر کی جس کے نتیجے میں تشدد کا فعل مقدس جہاد کا فعل قرار پایا۔ اِنھیں افکار کا نتیجہ ہے کہ آج کی دنیا میں ایک طرف، اخلاقی زوال (immorality) اپنی آخری حد تک پہنچ گیا ہے اور دوسری طرف، تشدد اور بم کلچر بھی روز مرہ کی ایک چیز بن گیا ہے۔ سیکولر تحریکوں نے اگر دنیا سے انسانی قدروں (human values) کا خاتمہ کردیا ہے، تو اسلام کی سیاسی تعبیر پیش کرنے والوں نے بہ ظاہر یہ امکان ختم کردیا ہے کہ دنیا میں امن قائم ہو اور دعوت الی اللہ کا ضروری کام انجام دیا جاسکے۔
واپس اوپر جائیں

غیر حقیقت پسندانہ سوچ

ایک صاحب سے ملاقات ہوئی۔ وہ پیشے کے اعتبار سے انجینئر ہیں۔ اِسی کے ساتھ وہ مذہبیات کے مطالعے میں دل چسپی رکھتے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ میںنے قرآن کا ترجمہ پڑھا ہے۔ قرآن کے مطابق، یہ دنیا امتحان (test) کے لیے بنی ہے۔ اِس دنیا میں پیدا ہونے والا ہر عورت اور مرد امتحان کی حالت میں ہے۔ جولوگ اِس امتحان میں پورے اتریں، وہ جنت میں جائیں گے، اور جو لوگ اس میں پورے نہ اتریں اُن کو جہنم میں ڈال دیا جائے گا۔
انھوںنے کہا کہ یہ تو ناانصافی ہے۔ اِس لیے کہ اِس دنیامیں بہت سے پیدا ہونے والے ابھی بچپن کی عمر میں ہوتے ہیں اور کسی بیماری میںمبتلا ہو کر ان کا انتقال ہوجاتاہے۔ کچھ بچوں کو پیٹ ہی میں ختم کردیا جاتاہے۔ یہ تو انصاف کے خلاف ہے کہ کچھ لوگوں کو عمل کرکے جنت حاصل کرنے کا موقع دیا جائے اور کچھ لوگوں کو اِس موقع سے محروم کردیا جائے۔ میںنے کہا اِس معاملے کا تعلق خدا کے تخلیقی پلان سے نہیں ہے، بلکہ انسان کو دی ہوئی آزادی سے ہے۔ انسان اپنی آزادی کا غلط استعمال کرتا ہے۔ اِس بنا پر اِس قسم کے مسائل پیدا ہوئے ہیں۔ انھوں نے میری وضاحت کو نہیں مانا، وہ بدستور بحث کرتے رہے۔
پھر میں نے کہا کہ دیکھئے، آپ کا طریقہ غیر حقیقت پسندانہ طریقہ ہے۔ اور اِس دنیا میں غیرحقیقت پسندانہ طریقہ ہمیشہ آدمی کو ڈبل اسٹینڈرڈ والا آدمی بنا دیتا ہے۔ میںنے کہا کہ اِس ملک میں انجینئرنگ کے مواقع موجود تھے۔ آپ نے اِس موقع سے فائدہ اٹھایا اور اب آپ ایک اچھی پوسٹ کے مالک ہیں۔ آپ نے یہ نہیں سوچا کہ ملک میں ان گنت لوگ ایسے ہیں جن کے پاس نہ اچھی ڈگری ہے اور نہ اچھا جاب۔ اِس بحث میں پڑے بغیر آپ نے اپنے مستقبل کی تعمیر کی۔ یہی طریقہ آپ کو خدا کے تخلیقی پلان کی نسبت سے کرنا چاہیے۔ آپ کو یہ کرنا چاہیے کہ خدا کے دیے ہوئے مواقع کو استعمال کرکے اپنے آپ کو جنت کا مستحق بنائیں۔ آپ کا موجودہ طریقہ دہرا معیار کا طریقہ ہے، اور دہرا معیار اختیار کرنا کسی کے لیے بھی عذر (excuse) نہیں بن سکتا۔
واپس اوپر جائیں

قیامت کی ایک علامت

نئی دہلی کے وگیان بھون میں 21 نومبر 2009 کو ٹررازم کے موضوع پر ایک انٹرنیشنل کانفرنس ہوئی۔ انڈیا کے مشہور لیڈر مسٹر رام جیٹھ ملانی نے اِس موقع پر ایک تقریر کی۔ میڈیا رپورٹ کے مطابق، انھوںنے جہادی نظریے پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ جہادیوں کے عقیدے کے مطابق، شہید آدمی مرتے ہی جنت میں جگہ پائے گا، جہاں اس کو حوروں کی رفاقت ملے گی۔ انھوں نے خدا کے تصور کا مذاق اڑایا۔ انھوںنے کہا کہ خدا ان کی مدد کے قابل نہیں ہوگا، کیوں کہ اب بوڑھا ہو کر وہ الزمائر کی بیماری میں مبتلا ہوگا، یعنی شدید قسم کی ذہنی بیماری میں:
Ram Jethmalani criticized the jihadi doctrine, which allegedly propagates, in his words, the belief that martyrs would “get a place in heaven and the company of the opposite sex there.” He spokes fun at the idea of God. He said: “God will not help as he is suffering from Alzheimer’s disease”. (The Times of India, New Delhi, November 22, 2009, p. 9)
یہ واقعہ علامتی طورپر بتاتا ہے کہ آج کا انسان گم راہی کے کس درجہ تک پہنچ چکا ہے، وہ درجہ ہے— کھلے طور پر خدا کا استہزا کرنا۔ موجودہ زمانے کے جہادی لوگوں کا نظریہ بلا شبہہ ایک بے بنیاد نظریہ ہے، اُس کا خدا کے دین سے کوئی تعلق نہیں۔ لیکن مسٹر جیٹھ ملانی کی بات اس سے بھی زیادہ بے بنیاد ہے۔ یہ نعوذ باللہ، خدا کا مذاق اڑانا ہے۔
غالباً یہی وہ چیز ہے جس کو حدیث میں اس طرح بیان کیاگیا ہے کہ دجال کی پیشانی پر کفر لکھا ہوا ہوگا (الدّجّال مکتوب بین عینہ: ک، ف، ر۔ صحیح مسلم ، کتاب الفتن، باب ذکر الدجال)۔ پیشانی پر ’’کفر‘‘ کا لکھا ہوا ہونا ایک استعارہ ہے۔ اِس کا مطلب ہے— کھلے طور پر انکار اور استہزا کا رویہ اختیار کرنا۔ یہ خدا کے خلاف کھلی بغاوت ہے، اور جب خدا کے خلاف کھلی بغاوت ہونے لگے تو اس کے بعد لوگوں کو صرف قیامت کا انتظار کرنا چاہیے۔
واپس اوپر جائیں

ہٹلر ممّی

ریڈیو میں ایک پروگرام آتا ہے جو صرف عورتوں کے لیے ہوتا ہے۔ اِس میں عورتوں سے متعلق مختلف عنوانات دیے جاتے ہیں۔ اِسی پروگرام کے تحت، ایک دن ماں اور اس کے بچوں کے درمیان تعلقات کا موضوع زیر بحث تھا۔ کئی ماؤں نے اِس پہلو سے اپنے تجربات کو بیان کیا۔
ایک ماں نے کہا کہ میرے دو بچے ہیں۔ ایک بیٹا اور ایک بیٹی۔ میں ایک ورکنگ وومن (working woman)ہوں۔ مجھے اپنے جاب کے لیے روزانہ گھر سے باہر جانا پڑتا ہے۔ جب میں باہر جاتی ہوں تو اپنے بچوں سے سختی کے ساتھ یہ کہہ کر جاتی ہوں کہ دیکھو، یہ کرنا اور وہ نہ کرنا۔ پھر اس نے ہنستے ہوئے کہاکہ میری بیٹی کہتی ہے کہ— ممی، تم تو ہٹلر ممی ہو۔
یہ گفتگو ٹیلی فون پر ہورہی تھی۔ ریڈیو کی خاتون اناؤنسر نے کہا کہ اِس کا مطلب ہے کہ آپ اپنے بچوں کو آرڈر کرتی ہیں۔ مذکورہ خاتون نے فوراً کہا کہ نہیں نہیں، میں آرڈر نہیں کرتی۔مذکورہ خاتون نے اپنے بچوں کے بارے میں جو بات کہی، وہ بلا شبہہ آرڈر دینے والی بات تھی۔ اِس کی تصدیق خود اس کی اپنی بیٹی کے ریمارک سے ہوتی ہے۔ اِس کے باوجود، مذکورہ خاتون نے کہا کہ نہیں نہیں۔ یہی موجودہ زمانے میں تقریباً تمام عورتوں اور مردوں کا حال ہے۔ وہ ایک بات کہیں گے اور جب اُن سے مزید پوچھا جائے تو وہ فوراً لفظ بدل کر کہہ دیں گے کہ نہیں، میرا یہ مطلب نہیں۔ یہ بھی جھوٹ کی ایک قسم ہے۔ عام جھوٹ اگر کھلا ہوا جھوٹ ہوتا ہے تو یہ جھوٹ ایک چھپا ہوا جھوٹ (کذبِ خفی) ہے۔
اِس قسم کا جھوٹ کسی انسان کے لیے نہایت تباہ کن ہے۔ وہ آدمی کے اندر کم زور شخصیت (weak personality) پیدا کرتا ہے۔ جن لوگوں کے اندر کم زور شخصیت ہو، اُن کا ذہنی ارتقا نہیں ہوسکتا۔ ایسے لوگوں کے اندر جنّتی شخصیت کی تعمیر نہیں ہو سکتی۔ آخرت کی دنیا میں ایسے کم زور شخصیت والے لوگ، خدا کے پڑوس میں جگہ پانے سے محروم رہیں گے— کھلاہوا جھوٹ اگر حرام ہے، تو چھپا ہوا جھوٹ انسانی شخصیت کے لیے ہلاکت خیز ہے۔
واپس اوپر جائیں

غلطی کا اعتراف

غلطی ہر انسان کرتا ہے۔ اِسی کے ساتھ ہر انسان کو اپنے ضمیر کی سطح پر یہ احساس ہوجاتاہے کہ اُس نے غلطی کی ہے، لیکن ایسے لوگ بہت کم ہیں جو غلطی کرنے کے بعد اپنی غلطی کا کھلا اعتراف کریں۔ آدمی اپنے ضمیر کے سامنے مجرم بنا رہتا ہے، لیکن دوسرے لوگوں کے سامنے مجرم بننا اُس کو اتنا زیادہ مشکل معلوم ہوتاہے کہ لوگوں کے سامنے وہ یہ کہنے کی ہمت نہیں کرپاتا کہ میںنے غلطی کی۔
یہ ایک مہلک کم زوری ہے جو بیش تر عورتوں اور مردوں کے اندر پائی جاتی ہے۔ اِس کم زوری کا نقصان اتنا زیادہ ہے کہ اُس کو لفظوں میں بیان نہیں کیا جاسکتا۔ مزید یہ کہ غلطی آدمی کو ایک عظیم موقع فراہم کرتی ہے۔ لیکن بے اعترافی کے مزاج کی بنا پر لوگ اِس موقع کو استعمال کرنے سے محروم رہتے ہیں۔ وہ فرشتے کو اپنے دروازے سے لوٹا دیتے ہیں۔
غلطی کا اعتراف ایک عبادت ہے۔ جب آدمی کھلے طور پر اپنی غلطی کا اعتراف کرتاہے تو اس کے اندر عظیم مثبت قدریں (positive values) پیدا ہوتی ہیں— آدمی اپنے آپ کو ضمیر کے سامنے مجرم ہونے سے بچا لیتا ہے، وہ اپنے اندر تواضع (modesty) کی نفسیات پیدا کرتاہے، وہ اپنے ذہن کے بند دروازوں کو کھول دیتاہے، وہ اپنے اندر مضبوط شخصیت کی پرورش کرتاہے،وغیرہ۔
اعتراف نہ کرنے کی صورت میں اس کے اندر روحانی اور اخلاقی پسپائی کا عمل شروع ہوجاتاہے، جب کہ اعتراف کرنے کے بعد وہ اخلاقی اور روحانی اعتبار سے ترقی کی طرف سفر کرنے لگتا ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ اعتراف اتنا بڑاعمل ہے کہ اس کے بعدانسان کے لیے خیر کے تمام دروازے کھل جاتے ہیں۔ اِس کے برعکس، بے اعترافی اتنی بڑی برائی ہے کہ اس کے بعد انسان کے اوپر خیرکے تمام دروازے بند ہوجاتے ہیں— ظاہری اعتبار سے وہ ایک زندہ انسان معلوم ہوتا ہے، لیکن داخلی اعتبار سے وہ ایک مردہ، انسان بن چکا ہوتا ہے۔
واپس اوپر جائیں

معکوس تربیت

ایک مسلم تاجر کا واقعہ ہے۔ ان کی بیٹی نے اُن سے اپنی کسی ضرورت کے لیے پیسہ مانگا۔ مذکورہ مسلم تاجر نے اپنی بیٹی سے مزید کچھ نہیں پوچھا۔ انھوں نے فوراً اپنی جیب میں ہاتھ ڈالا، اُس وقت ان کی جیب میں جتنے نوٹ تھے، وہ سب نکال کر انھوں نے اپنی بیٹی کے ہاتھ میں رکھ دیا اور کہا کہ یہ لو، تم ہی لوگوں کے لیے تو کماتے ہیں۔
یہ کوئی استثنائی واقعہ نہیں۔ یہی سارے والدین کا حال ہے۔ والدین خود تو محنت کرتے ہیں، وہ مشقت کی کمائی کرتے ہیں، لیکن اپنی اولاد کے بارے میں ان کا ذہن یہ رہتاہے کہ ان کی اولاد کو کوئی تکلیف نہ ہو۔ وہ خود تکلیف اٹھاتے ہیں اور اپنی اولاد کو ہر قسم کی راحت اور سہولت فراہم کرتے ہیں، وہ ان کی ہر خواہش پوری کرنے کے لے تیار رہتے ہیں، خواہ اُنھیں اس کی جو بھی قیمت دینی پڑے۔
والدین کا یہ مزاج ان کی اولاد کی ترقی میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ والدین کا یہ مزاج اولاد کی معکوس تربیت کے ہم معنیٰ ہے۔ ان کی اولاد کو آخر کار جس دنیا میں داخل ہونا ہے، وہ حقائق کی دنیا ہے۔ وہاں کا اصول یہ ہے کہ— جتنا کرو، اتنا پاؤ۔
لیکن والدین گھر کے اندر اپنی اولاد کے اندر جو مزاج پیدا کرتے ہیں، وہ اِس کے بالکل برعکس ہوتا ہے۔ گھر کا ماحول کئے بغیر پانے کا ماحول ہوتا ہے، اور گھر کے باہر کا ماحول کرکے پانے کا ماحول۔
اِسی کا یہ نتیجہ ہے کہ آج کا ہر نوجوان، لڑکے اور لڑکیاں دونوں، منفی ذہن کا شکار ہورہے ہیں۔ اُنھیں دنیا کے ہر شخص سے شکایت ہوتی ہے۔ شعوری یا غیر شعوری طورپر ان کا مزاج یہ ہوتا ہے کہ میرے ماں اور باپ بہت اچھے تھے، بقیہ تمام لوگ نہایت برے ہیں۔
اِس صورت حال نے آج کی دنیا میں دو چیزوں کا خاتمہ کردیا ہے— محنت کے ساتھ اپنا کام کرنا، اور لوگوں کا خیر خواہ (well-wisher) بن کر اُن کے درمیان رہنا۔
واپس اوپر جائیں

بات بنانا

ایک باریش بزرگ ملاقات کے لیے آئے۔ انھوںنے کہا کہ میں بہت دن سے آپ کا ماہ نامہ الرسالہ پڑھتا تھا اور اس کو پسند کرتا تھا۔ آج دہلی آیا تو میری خواہش ہوئی کہ آپ سے ملاقات کروں۔ میںنے اُن سے پوچھا کہ آپ عرصے سے الرسالہ کا مطالعہ کررہے ہیں، تو یہ بتائیے کہ آپ نے الرسالہ کے مطالعے سے کیا پایا۔
وہ تعریفی کلمات بولتے رہے، لیکن وہ متعین طورپر یہ نہ بتاسکے کہ انھوںنے الرسالہ کے مطالعے سے کیا اخذ کیا ہے۔ میں نے اُن سے بار بار کہا کہ کہ آپ کوئی متعین مثال دیجئے، تاکہ میں سمجھ سکوں کہ آپ نے الرسالہ کو پڑھ کر اُس سے کیا اخذ کیا ہے، مگر اصرار کے باوجود وہ ایسی کوئی ایک بات بھی نہ بتا سکے۔ آخر میںانھوں نے اپنے بیگ سے اپنے مدرسے کا ایک چھپا ہوا اشتہار نکالا اور کہا کہ ہم یہ مدرسہ تعمیر کررہے ہیں او رچاہتے ہیں کہ اِس مدرسے کی تعمیر میںآپ بھی اپنا کچھ زرِ تعاون عطا کریں۔
یہ اندازِ گفتگو آج کل بہت زیادہ عام ہے۔ لوگوں کا حال یہ ہے کہ ان کے دل میں کچھ ہوگا، مگر اپنی زبان سے وہ کچھ اور بات بولیں گے۔ اِسی کو بات بنانا کہاجاتاہے۔ موجودہ زمانے میں یہ طریقہ اتنا زیادہ عام ہے کہ مشکل ہی سے اِس میں کوئی استثناء نظر آئے گا۔
بناوٹی انداز میں بات کہنے کا یہ کلچر بلا شبہہ اسلام کی اسپرٹ کے خلاف ہے۔ سچا مومن وہ ہے جو صاف گو ہو، جو باتوں کو اُسی طرح کہے جس طرح کہ وہ ہیں، جس کے سوچنے اور بولنے میں کوئی فرق نہ ہو۔ ایسے ہی لوگ سچے مومن ہیں۔ بناوٹی باتیں کرنا، تکلف کی بولی بولناہے، اور صحابہ کہتے ہیں کہ : نُہینا عن التکلف ( صحیح البخاری، کاب الاعتصام، باب ما یکرہ من کثرۃ السؤال) یعنی ہم کو تکلف کرنے سے منع کیاگیا ہے۔ تکلف کا انداز دراصل ایک قسم کی منافقت ہے، اورمنافقت کے لیے اسلام میں کوئی جگہ نہیں۔
واپس اوپر جائیں

اختلاف اور اتحاد

ہر ایک اتحاد چاہتاہے، لیکن عملاً اتحاد قائم نہیں ہوتا۔ اِس کا سبب کیا ہے۔ اِس کا سبب یہ ہے کہ اتحاد کو قائم کرنے کے لیے جو تدبیر اختیار کی جاتی ہے، وہ غیر فطری ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اتحاد کے نام پر بڑے بڑے جلسے ہوتے ہیں، لیکن عملاً اتحاد قائم نہیں ہوتا۔
اتحاد کے علم برداروں کی مشترک غلطی یہ ہے کہ وہ اختلاف کو مٹا کر اتحاد قائم کرنا چاہتے ہیں۔ ہر ایک یہ سمجھتا ہے کہ اختلاف (differences) کی موجودگی ہی اتحاد قائم نہ ہونے کا اصل سبب ہے۔ ہر ایک کی کوشش یہ ہے کہ اختلافات کو مٹا دیا جائے۔ اُن کا خیال ہے کہ حقیقی اتحاد اُسی وقت قائم ہوسکتاہے، جب کہ لوگوں کے درمیان آپس کے اختلافات کا خاتمہ کردیا جائے۔ مگر اِس قسم کا اتحاد اِس عالم امتحان میں کبھی واقعہ بننے والا نہیں۔
اصل یہ ہے کہ اختلاف (differences) خود فطرت کا ایک لازمی حصہ ہیں، اور جو چیز فطرت کا حصہ ہو، اس کو ختم کرنا کبھی ممکن نہیں ہوتا۔ حقیقت یہ ہے کہ اتحاد قائم کرنے کا ایک ہی ممکن طریقہ ہے، اور وہ ہے— اختلاف کو برداشت کرنا۔ اِس دنیا میں جب بھی اتحاد قائم ہوگا، وہ اختلاف کے باوجود متحد ہونے سے قائم ہوگا۔ اختلاف کو مٹا کر اتحاد قائم کرنا اس دنیا میں عملاً ممکن ہی نہیں۔
خالق نے انسان کو اِس طرح پیدا کیا ہے کہ ان کے درمیان ہمیشہ اختلاف پایا جائے۔ یہ اختلاف انسان کے لیے ایک عظیم رحمت ہے۔ اختلاف کی بنا پر دو شخصوں یا دو گروہ کے درمیان ڈائلاگ ہوتاہے، اور ڈائلاگ دونوں فریقوں کے لیے ذہنی ارتقا (intellectual development) کا ذریعہ بنتا ہے۔ اختلاف کی حیثیت ایک فکری چیلنج کی ہے۔
فکر ی چیلنج کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ بند ذہن کے دروازے کھلتے ہیں، انسان کے اندر چھپے ہوئے امکانات ظاہر ہوتے ہیں، جو چیز بالقوہ (potential) طورپر ذہن میں موجود تھی، وہ بالفعل (actual) وقوع میں آجاتی ہے۔
واپس اوپر جائیں

اسلام کے نام پر غیر اسلام

(Islamization of non-Islam)
مذہب کی تاریخ کایہ ایک عام ظاہرہ ہے کہ بعد کے زمانے میں مذہب کی اصل تعلیم گُم ہوجاتی ہے اور خود ساختہ چیزوں کو مذہب کا درجہ دے دیا جاتا ہے۔ مثلاً مسیحیت (Christianity) دو ہزار سال پہلے حضرت مسیح کی تعلیمات پر مشتمل تھی۔ آج مسیحیت ایک ایسے مذہب کا نام ہے جس کو مسیحی چرچ نے بعد کے زمانے میں بطو خود وضع کیا۔
ٹھیک یہی معاملہ خود مسلمانوں کے ساتھ بھی بعد کے زمانے میں پیش آیا۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے پیشگی طورپر مسلمانوں کو اِس خطرہ سے متنبہ کردیا تھا۔ مثلاً حدیث میں آیا ہے کہ: لتتبعن سنن من کان قبلکم (البخاری، کتاب الاعتصام، باب قول النبی لتتبعن) یعنی تم لوگ ضرور پچھلے مذہبی گروہوں کی پیروی کروگے۔ اِسی طرح آپ نے فرمایا:بدأ الإسلام غریباً وسیعود کما بدأ ( صحیح مسلم، کتاب الإیمان، باب بیان أن الإسلام بدأ غریباً) یعنی اسلام شروع ہوا تو وہ اجنبی تھا، اور بعد کو وہ پھر اجنبی ہوجائے گا۔
اِس کا یہ مطلب نہیں کہ اسلام بعد کے زمانے میں معدوم ہوجائے گا۔ یہ قانونِ فطرت کے خلاف ہے۔ چناں چہ ایسا نہ کسی اور مذہب کے ساتھ ہوا، اور نہ اسلام کے ساتھ ایسا ہوسکتاہے۔ اِس حدیث کا مطلب صرف یہ ہے کہ اسلام کا اصل متن (text) اگر چہ محفوظ رہے گا، لیکن مسلمان عملی طور پر غیر اسلام کو اپنا دین بنا لیں گے۔ ایک لفظ میں، اِس معاملے کو اسلامائزیشن آف اَن اسلام (Islamization of un-Islam) کہا جاسکتا ہے۔
پیغمبر اسلام ﷺنے اسلام کے ابتدائی تین اَدوار کے بارے میں فرمایا کہ مسلمان ان تین ادوار تک خیر پر قائم رہیں گے۔ حدیث میں آیا ہے کہ : خیر أمتی قرنی، ثمّ الذین یلونہم ثم الذین یلونہم (البخاری، کتاب المناقب، باب فضائل أصحاب النبی) یعنی سب سے بہتر مسلمان میرے دور کے مسلمان ہیں، پھر وہ لوگ جو اس کے بعد آئیں، پھر وہ لوگ جو اس کے بعد آئیں۔ اِن تین ادوار کو ’قُرون مشہود لہا بالخیر‘کہاجاتا ہے۔ وہ تین دور یہ ہیں— دورِ رسالت، دورِ صحابہ ، دورِ تابعین۔
تاریخ بتاتی ہے کہ مذکورہ تین دوروں تک مسلم نسلیں کم و بیش، اصل اسلام پر قائم رہیں۔ اس کے بعد اُن کے درمیان بگاڑ شروع ہوا۔ اِس بگاڑ کی فکری بنیاد عباسی خلافت کے زمانے میں پڑی۔ بعد کے زمانے میں جو فکری انحرافات مسلمانوں میں پیدا ہوئے، اُن سب کا آغاز عباسی دو ر میں ہوا۔ یہاں ہم ان انحرافات میں سے کچھ چیزوں کا تذکرہ نمائندہ مثالوں کے طورپر کرتے ہیں۔
دار الاسلام کا نظریہ
فقہاء کی اصطلاح میں دار الاسلام اُس علاقے کو کہا جاتاہے، جہاں مسلمانوں کا سیاسی اقتدار قائم ہو۔ اِس قسم کا واقعہ سب سے پہلے پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں پیش آیا۔ ہجرت کے بعد مدینہ میں اہلِ اسلام کی ایک شہری ریاست (city state) قائم ہوگئی۔ اس کے بعد جلد ہی پورے عرب میں مسلمانوں کا سیاسی اقتدار قائم ہوگیا۔ لیکن پیغمبر اسلام نے مدینہ کو یاعرب کودار الاسلام نہیں کہا۔ آپ کے بعد صحابہ اورتابعین نے بھی اِس علاقے کو دار الاسلام کا نام نہیں دیا۔ دارالاسلام کی یہ سیاسی اصطلاح پہلی بار عباسی دور کے علماء اور فقہاء نے اختیار کی۔
شرعی تعریف کے مطابق، دار الاسلام کی یہ اصطلاح بلا شبہہ ایک سیاسی بدعت تھی۔ جو چیز رسول اور اصحابِ رسول کے زمانے میں نہ ہو، اُس کو دین کے نام پر اختیار کرنا بدعت ہے۔ اور دار الاسلام کی اصطلاح وضع کرنے کے بارے میں ایسا ہی ہوا۔
یہ کوئی سادہ بات نہ تھی۔ جن علاقوں کو دارالاسلام کہاگیا، اُن کو اگر مسلمانوں کے زیر قبضہ علاقہ (Muslim occupied land) کہاجاتا تو وہ صرف ایک سیاسی مسئلہ ہوتا، نہ کہ اعتقادی مسئلہ۔ لیکن جب ایسے علاقے کو دارالاسلام کہا گیا تو اس کو اعتقادی تقدس کا درجہ مل گیا، ایک سیاسی معاملے کو اعتقادی درجہ دینے سے جو خرابیاں پیدا ہوتی ہیں، وہ سب خرابیاں مسلمانوں کے اندر پیدا ہوگئیں۔
مثال کے طورپر جب مسلمانوں کے زیر قبضہ علاقے کو اعتقادی حیثیت دیتے ہوئے اس کو دارالاسلام کہاگیا تو اس کے بعد فطری طور پر یہ فقہی مسئلہ بن گیا کہ جو علاقہ ایک بار دارالاسلام کی حیثیت اختیار کرلے، وہ حُکمی (legal) طورپر ہمیشہ کے لیے دار الاسلام ہے۔ ایسے کسی علاقے پر اگر بعد کو غیر مسلموں کا قبضہ ہوجائے تو مسلمانوں کا یہ فرض ہے کہ وہ قابض گروہ سے لڑ کر دوبارہ اُس کو دارالاسلام بنائیں۔ ایسا کرنا مسلمانوں کے لیے صرف ایک علمی مسئلہ نہیں ہے، بلکہ وہ اُن کے لیے ایک اعتقادی ذمے داری کی حیثیت رکھتا ہے۔
قدیم زمانے میں سیاسی طاقت (political might) کو سب کچھ سمجھا جاتا تھا۔ ایسے ماحول میں دارالاسلام کا مذکورہ نظریہ بظاہر ایک معقول (rational) نظریہ معلوم ہوتا تھا۔ لیکن موجود زمانہ سیاسی آئڈیالوجی (political ideology) کا زمانہ ہے۔
اِن زمانی تبدیلیوں کے نتیجے میں موجودہ دور میں دار الاسلام کا مذکورہ سیاسی نظریہ ایک غیر معقول (irrational) نظریہ بن چکا ہے۔
اِسی نظریے کے مطابق موجودہ زمانے میں سیاسی افکار کا ارتقا ہوا ہے، اور اِسی نظریے کے مطابق، اقوامِ متحدہ (UNO) کے عالمی منشور (Universal Declaration of Human Rights) پر دنیا بھر کی تمام قوموں نے دستخط کیے ہیں جس کے تحت ایک ملک کی دوسرے ملک پر حکم رانی ناقابلِ تسلیم قرار پاچکی ہے۔
موجودہ زمانے میں مختلف مسلم ملکوں میں جو جہادی گروپ سرگرم ہیں، وہ دارالاسلام کے اِسی قدیم فقہی مسئلے سے اپنا نظریہ اخذ کررہے ہیں۔ اُن کا مانناہے کہ مسلم ایمپائر کے زمانے میں جو علاقے مسلمانوں کے زیر اقتدار تھے، وہ اب بھی حُکماً (legally) دار الاسلام کی حیثیت رکھتے ہیں۔ مسلمانوں کی یہ دینی ذمے داری ہے کہ وہ جہاد کرکے اِن علاقوں پر دوبارہ مسلم اقتدار قائم کریں۔ 9 ستمبر 2001 کو نیویارک کے ورلڈ ٹریڈ سنٹر پر حملہ اور 26 نومبر 2008 کو بمبئی کے تاج محل ہوٹل پر کچھ انتہائی پسند مسلم تنظیموں کا حملہ اِسی فقہی طرزِ فکر کی عملی مثالیں ہیں۔
دار الحرب کا نظریہ
عباسی دور میں جو اسلامی فقہ بنی، اُس میں مسلم علاقوں کے علاوہ، دوسرے علاقوں کو دارلحرب کا درجہ دیاگیا۔ یہ بلاشبہہ ایک خود ساختہ نظریہ تھا۔ اس کا مطلب یہ تھا کہ مسلمان اِن علاقوں کے مقابلے میں اصولی طور پر، برسرِ جنگ (at war) کی حالت میں ہیں۔ اِس معاملے کو جدید اصطلاح کے مطابق، سرد جنگ (cold war) کہا جاسکتاہے۔
یہ بلاشبہہ ایک تخریبی نظریہ ہے۔ اِس نظریے نے مسلمانوں کے اندر وہ ذہن پیدا کیا جس کو ہم اور وہ (we and they) کا نظریہ کہا جاتاسکتا ہے۔ اِس کے بعد مسلمانوں کے لیے پوری دنیا، دوست اور دشمن (friends and enemies) کے دو مختلف گروہوں میں بٹ گئی۔ تمام مسلمان شعوری یا غیرشعوری طورپر اِس تقسیمی ذہن کا شکار ہوگئے۔ ان کو مسلمان ’’اپنے‘‘ نظر آئے، اور دوسری قوموں کے لوگ اُن کو ’’غیر‘‘ دکھائی دینے لگے۔
اِس طرح، دارالحرب اور اِس تصور کے تحت پیدا شدہ نظریات نے تمام مسلمانوں کو فکری طور پر غیر معتدل بنا دیا۔ وہ دوسری قوموں کے لیے اَن فرینڈلی (unfriendly) بن گئے، الا یہ کہ کسی ذاتی انٹرسٹ کے سبب سے بظاہر دوسروں کے ساتھ دوستانہ رویّے کا اظہار کیا جائے۔
دار الکفر کا نظریہ
عباسی دور کے علماء اور فقہاء نے جو نظریات بنائے، اُن میں سے ایک بے بنیاد نظریہ دار الکفر کا نظریہ تھا۔ وہ علاقے جہاں کے لوگ مذہبی اعتبار سے اسلام کے دائرے میں داخل نہیں ہوئے، ایسے علاقوں کو انھو ںنے دار الکفر کا نام دیا۔ یہ ایک سنگین قسم کی بدعت تھی۔ قرآن بار بار ایسے لوگوں کے لیے انسان کا لفظ استعمال کرتا ہے۔گویا کہ قرآنی اعتبار سے، ایسے علاقے دار الانسان تھے، نہ کہ دار الکفر، یہ بلا شبہہ ایک بھیانک قسم کا مبتدعانہ فعل تھا جس کا ارتکاب ہمارے علماء اور فقہاء نے کیا۔
اِس فقہی تسمیہ (nomenclature) کے سنگین نتائج برآمد ہوئے۔ اِس تسمیہ کی بنیاد پر بعد کے زمانے میں جو لٹریچر تیار ہوا اور مسجدوں اور مدرسوں میں جس قسم کی باتیں دہرائی جاتی رہیں، اُس کا فطری نتیجہ یہ ہوا کہ تمام دنیا کے مسلمان دوسری قوموں کو ’’کافر‘‘ سمجھنے لگے۔ کافر کے لفظی معنیٰ صرف منکر کے ہیں۔ لیکن اپنے استعمال کے اعتبار سے وہ ایک سخت قسم کا تحقیری لفظ (derogatory word) بن گیا۔ اِس کے فطری نتیجے کے طورپر یہ ہوا کہ مسلمانوں کے دل میں دوسری قوموں کے لیے خیر خواہی کا جذبہ ختم ہوگیا۔ وہ شعوری یا غیر شعوری طور اُن کو قابلِ نفرت سمجھنے لگے۔
دار الکفر کا یہ مبتدعانہ نظریہ اتنا پھیلا کہ تقریباً تمام کتابوں میں وہ کسی نہ کسی طرح شامل ہوگیا، وہ مسلمانوں کی سوچ کا ایک لازمی جز بن گیا۔اس کے نتیجے میں مسلمانوں کے اندر جو تفریقی مزاج (separatist tendency) پیدا ہوا، وہ بلاشبہہ ایک ہلاکت خیز مزاج تھا۔ وہ مسلمانوںکے لیے عالمی برادری کا معتدل حصہ بننے میں مانع ہوگیا۔ اِس بنا پر مسلمانوں کے لیے اِس دنیا میں صرف دو آپشن باقی رہا— یا تو وہ عالمی برادری سے کٹ کر اپنے آپ کو ایک محدود خول میں بند کرلیں، یا مفاد پرستانہ ذہن کے تحت وہ دنیا میں لوگوں کے ساتھ رہیں۔ اِسی دہری روش کا شرعی نام منافقت ہے۔
دار الکفر کا نظریہ سر تاسر ایک خود ساختہ نظریہ ہے۔ قرآن اور حدیث میں اِس نظریے کے حق میں کوئی بنیاد موجود نہیں۔ لیکن وہ مسلمانوں کے اندر اتنا زیادہ پھیلا کہ اب شاید کوئی ایک شخص بھی اِس نفسیات سے خالی نہیں۔ اِس کا سبب غالباً یہ ہے کہ مسلمانوں کو اِس نظریے کے ذریعے ایک فرضی یقین (false conviction) حاصل ہوتا ہے۔ تمام دوسرے لوگوں کو کافر قرار دے کر وہ بالواسطہ انداز میں اپنے لیے یہ یقین حاصل کرتے ہیں کہ دوسرے تمام لوگ بھٹکے ہوئے ہیں اور صرف ہم ہیں جو صحیح راستے پر قائم ہیں، دوسرے تمام لوگوں کے لیے جہنم ہے، اور ہمارے لیے ابدی جنت، وغیرہ۔
اِسی نظریے کا ایک بھیانک نقصان یہ ہے کہ بعد کے دور میں تقریباً تمام مسلمانوں کی سوچ مسلم رُخی سوچ (Muslim-oriented thinking) بن گئی۔ یہ کہنا بلا مبالغہ درست ہوگا کہ بعد کے زمانے میں مسلمانوں کے اندر انسان رُخی سوچ(man-oriented thinking) کا ارتقانہ ہوسکا، اور اِس فکری المیہ کی ذمے داری تمام تر دار الکفر کے اِسی فقہی نظریے پر ہے۔
موجودہ زمانہ ایک اعتبار سے تحریکوںکا زمانہ تھا۔ خاص طورپر پرنٹنگ پریس کا دو آنے کے بعد مسلمانوں کے اندر ہر جگہ ہزاروں کی تعداد میں تحریکیں اٹھیں، مگر یہ ایک حقیقت ہے کہ اِن میں سے کوئی بھی قابلِ ذکرتحریک انسان رخی تحریک نہ تھی۔ تمام کی تمام معلوم تحریکیں، مسلم رُخی تحریکیں تھیں۔ اِس صورتِ حال کا مزید نتیجہ یہ ہوا کہ مسلمان فکر ِ انسانی کے عالمی دھارے (mainstream) میں شامل نہ ہوسکے، وہ عالمی فکر کے اندر ایک محدود جزیرہ بن کر رہ گئے۔
بعد کے زمانے کے مسلم مفکرین نے جن غیر اسلامی نظریات کو اسلامائز کیا اور اُن کو مسلمانوں کے اندر پھیلایا، اُن میں سے ایک مہلک نظریہ وہ تھا جس کو خلافتِ ارضی کا نظریہ کہا جاتا ہے۔ مسلم مفکرین نے خود ساختہ طورپر اپنے لیے یہ ٹائٹل لے لیا کہ وہ خلیفۃ اللّٰہ فی الارض ہیں۔ اِس طرح، مسلمان گویا کہ زمین پر خدا کے نائب ہیں۔ اُن کی یہ ڈیوٹی ہے کہ وہ خدا کی طرف سے ملے ہوئے قانون کو خدا کی نیابت میں زمین پر نافذ کریں۔
خلافت کا یہ نظریہ کسی نہ کسی طورپر بعد کے زمانے کے مسلمانوں کی فکر پر چھاگیا۔ اِسی کی روشنی میں دوسری چیزوں کی توجیہہ وتشریح کی جانے لگی۔ مثلاً حدیث میں آیا ہے کہ بعد کے زمانے میں اسلام کا کلمہ ساری دنیا کے ہر گھر میں داخل ہوجائے گا۔ اِس حدیث کی تشریح مذکورہ نظریۂ خلافت کے تحت کی گئی اور اُس کا یہ مطلب بتایا گیا کہ آخری زمانے میںاسلام کی حکومت ساری دنیا میں قائم ہوجائے گی۔ یہ تشریح بلا شبہہ ایک غیر علمی تشریح ہے، وہ سر تاسر بے بنیاد ہے۔
مذکورہ حدیثِ رسول میں کلمۂ اسلام (word of Islam) کا لفظ ہے، نہ کہ حکومتِ اسلام (rule of Islam) کا لفظ۔ اِس سے واضح طورپر یہ ثابت ہوتا ہے کہ اِس حدیث میں جس واقعے کا ذکر ہے، اُس سے مراد اسلام کے کلمہ (word)، یا اُس کے پیغام کا ساری دنیا کے تمام گھروں میں پہنچ جانا ہے، نہ کہ مسلم اقتدار کا ساری دنیا میں قائم ہوجانا۔ حدیث کی مذکورہ تشریح، حدیث کا سیاسی کَرن (politicization) ہے، وہ حدیث کے اصل مفہوم کی وضاحت نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ حدیث میں جس واقعے کا ذکر ہے، وہ کمیونکشن کے ذریعے ہونے والا واقعہ ہے، نہ کہ فوج کشی کے ذریعے ہونے والا واقعہ ہے۔
اِس سیاسی طرزِ فکر کے بہت سے نقصانات ہیں۔ اُن میں سے ایک نقصان یہ ہے کہ مسلمانوں کے اندر روحانی اور تعمیری طرز فکر کا تقریباً کُلّی خاتمہ ہوگیا۔ داخلی اعتبار سے اُن کے اندر وہ طرزِ فکر موجود نہیں جس کو روحانی طرزِ فکر (spiritual thinking) کہاجاتا ہے۔ اور خارجی اعتبار سے وہ اُس طریقِ کار سے بے خبر ہیں جس کو موجودہ زمانے میں تعمیری طریقِ کار(constructive method) کا نام دیا جاتا ہے۔
مکمل اسلام کا نظریہ
موجودہ زمانے میں مسلمانوں کے اندر ایک لفظ بہت عام ہوگیا ہے، وہ یہ کہ اسلام ایک مکمل نظام ہے۔ عرب مسلمان اور غیر عرب مسلمان دونوں فخر کے ساتھ یہ لفظ بولتے ہیں۔ بظاہر یہ اسلام کی ایک خوب صورت تعریف معلوم ہوتی ہے، لیکن وہ اسلام کی ایک مبتدعانہ تشریح ہے، اور ہر مبتدعانہ تشریح کا نتیجہ بلاشبہہ ہلاکت ہوتا ہے۔ اِس تشریح کے بے اصل ہونے کا واضح ثبوت یہ ہے کہ قرآن اور حدیث میں کہیں بھی اسلام کے لیے یہ تعبیر اختیار نہیں کی گئی کہ اسلام ایک مکمل نظام ہے۔
مکمل اسلام کے اِس نظریے نے موجودہ زمانے کے مسلمانوں کے لیے صرف دو بُرے چوائس (evil choice)کا امکان باقی رکھا ہے— ایک برا چوائس یہ کہ وہ ’’مکمل اسلام‘‘ پر قائم ہونے کے لیے ساری دنیا سے مستقل طورپر لڑتے رہیں۔ کیوں کہ جب تک وہ ساری دنیا کو سیاسی اعتبار سے مغلوب نہ کرلیں، وہ اپنے مفروضہ مکمل اسلام پر قائم نہیں ہوسکتے۔ اُن کے لیے دوسر ابُرا چوائس یہ ہے کہ وہ فکری اعتبار سے تو اسلام کو مکمل نظام سمجھیں، لیکن مفاد پرستانہ ذہن کے تحت، وہ دوسرے نظاموں سے سمجھوتہ (compromise) کرلیں۔ کیوں کہ دوسرے نظاموں سے سمجھوتہ کیے بغیر اُن کے لیے اِس دنیا میں مادّی فوائد کا حصول ممکن نہیں۔
واپس اوپر جائیں

کاغذی تحریر

انڈیا 1947 میں آزاد ہوا۔ آزادی سے پہلے یہاں کے بڑے بڑے لیڈر یہ کہتے تھے کہ آزادی کے بعد انڈیا کی سرکاری زبان (official language) ہندی زبان ہوگی۔
آزادی کے بعد انڈیا کا دستور (constitution) بنایا گیا۔ اِس دستور کے بنانے میں انڈیا کے تمام بہترین دماغ شریک تھے۔ اِس تحریری دستور کے آرٹکل نمبر 343 میں یہ فیصلہ درج کیا گیا کہ مرکزی حکومت کی سرکاری زبان ہندی ہوگی، البتہ ضرورت کے طور پر 15 سال تک انگریزی زبان کا استعمال جاری رہے گا:
The official language of the union shall be Hindi in Devanagri script.....For a period of fifteen years from the commencement of this constitution, the English language shall continue to be used for all the offical purposes of the Union for which it was being used immediately before such commencement.
اس دستوری فیصلے پر اب 60 سال سے زیادہ مدت گزر چکی ہے، مگرحال یہ ہے کہ انڈیا میںانگریزی زبان پہلے سے بھی زیادہ غالب زبان بن چکی ہے اور ہندی زبان پہلے سے بھی زیادہ پیچھے چلی گئی ہے۔ اِس مثال سے اندازہ ہوتا ہے کہ کاغذی تحریریں زندگی کی تشکیل نہیں کرتیں۔ قوموں کی تاریخ حقیقی حالات کی بنیاد پر بنتی ہے، نہ کہ اُن الفاظ کی بنیاد پر جن کو کاغذ پر لکھ دیا گیا ہو۔
بد قسمتی سے موجودہ زمانے کے تمام لیڈر اِس حقیقت سے بے خبر رہے۔ ہر لیڈر کاغذی تحریر کے ذریعے قوم کی قسمت بنانے کی کوشش کرتا رہا۔ آخر میں معلوم ہوا کہ اِن کاغذی تحریروں کی حقیقت پانی کی سطح پر لکھی ہوئی تحریروں سے زیادہ نہ تھی۔
ایسی حالت میں ہندستانی لیڈروں اور پاکستانی لیڈروں کے لیے کرنے کا اصل کام یہ تھاکہ وہ لوگوں کے اندر شعوری بیداری لائیں، وہ لوگوں کے اندر نیشنل اسپرٹ پیدا کریں، وہ ریاست بنانے سے پہلے سماج بنانے کا کام کریں۔ یہ دراصل انسانی سماج ہے جو ریاست کی تشکیل کرتا ہے، نہ کہ کوئی کاغذی دستاویز۔
واپس اوپر جائیں

سائنس کی گواہی

انٹرنیٹ موجودہ زمانے میں معلومات کا عالمی خزانہ ہے۔ انٹرنیٹ کو الکٹرانک انسائکلوپیڈیا کہاجاسکتا ہے۔ اگرآپ انٹرنیٹ پر جائیں اور حسب ذیل الفاظ ٹائپ کریں — تھاٹ کنٹرولڈ وھیل چیئر(Thought-Controlled Wheel Chair) تو اسکرین پر معلومات کا ایک صفحہ کھل جائے گا۔ وہ بتائے گا کہ کسی خارجی آلہ کے بغیر دماغ کے ذریعے وھیل چیئر کو کنٹرول کیا جاسکتا ہے۔
وھیل چیئر پر بیٹھا ہوا ایک شخص اپنے ہاتھ کو استعمال کئے بغیر محض اپنے دماغ کے ذریعے وھیل چیئر کو اپنی مرضی کے مطابق، جس طرح چاہے چلا سکتا ہے۔ جاپان کی موٹر کمپنی (Toyota Motors) نے یکم جولائی 2009 کو لوگوں کے سامنے اِس ٹکنالوجی کا مظاہرہ کیا۔
یہ واقعہ بتاتا ہے کہ کس طرح خدا اپنی مرضی کے تحت پوری کائنات کو کنٹرول کررہا ہے۔ تھاٹ کنٹرولڈ وھیل چیئر کا کامیاب مظاہرہ تھاٹ کنٹرولڈ یونی ورس (thought-controlled universe) کا ایک عملی ثبوت ہے۔
مذکورہ سائنسی دریافت اِس حقیقت کو قابلِ فہم بنادیتی ہے کہ ایک برتر خدائی ذہن (divine mind) ساری کائنات کو مکمل طورپر اپنے قبضے میں لیے ہوئے ہے۔
Thought-Controlled Wheel Chair
Japan’s Toyota Motor said yesterday it had invented a way to allow a person to steer an electric wheelchair through simple thought, using a helmet-like device that measures their brain waves. They said that they have developed a way of steering a wheelchair by just detecting brain waves, without the person having to move a muscle or shout a command. Toyota’s system, developed in collaboration with researchers in Japan, is among the fastest in the world in analyzing brain waves, it said in a release on Monday. (The Times of India, New Delhi, July 1, 2009)
واپس اوپر جائیں

بریک اِن ہسٹری

گورنمنٹ سروس کے اصولوں میںسے ایک اصول وہ ہے جس کو بریک ان سروس (break-in-service) کہاجاتا ہے، یعنی شکستِ ملازمت۔ ایک آدمی گورنمنٹ سروس میں ہے اور دس سال یا بیس سال کے بعد وہ اچانک رخصت لیے بغیر دفتر میں حاضر نہ ہو تو اس کی سینئرٹی (seniority) ختم ہوجائے گی اور دوبارہ وہ اپنی ملازمت کی ابتدائی تاریخ میں پہنچ جائے گا۔ اسی معاملے کو بریک ان سروس کہا جاتاہے۔
اِسی قسم کا ایک اور معاملہ ہے جس کا تعلق صرف سروس سے نہیں ہے، بلکہ ہر انسان سے ہے۔ اس کو بریک اِن ہسٹری (break in history) کہاجاسکتاہے، یعنی شکستِ تاریخ۔اس کا مطلب یہ ہے کہ ایک شخص ایک کام شروع کرے، پھر کچھ دنوں کے بعد ا س کو چھوڑ دے اور کوئی دوسرا کام کرے۔ یہ اس کے لیے بریک ان ہسٹری کے ہم معنی ہوگا۔ اگر کوئی شخص بار بار اپنے کام کو چھوڑے تو اس کی زندگی میں بریک ان ہسٹری کا واقعہ بار بار پیش آئے گا۔ ایسے انسان کی کوئی تاریخ نہ بن سکے گی۔ لوگوں کی نظر میں اُس کی کوئی ایسی پہچان نہیں بنے گی جو اس کو دنیامیں کوئی بڑا مرتبہ دینے والی ہو۔
واقعات بتاتے ہیں کہ بریک اِن سروس کا معاملہ بہت کم کسی کے ساتھ پیش آتا ہے، لیکن بریک اِن ہسٹری کا معاملہ اتنا زیادہ عام ہے کہ بہت کم افراد اُس سے مستثنیٰ نظر آئیں گے۔ بہت سے لوگ جو فطری طور پر نہایت ذہین ہوتے ہیں، مگر بریک ان ہسٹری کی وجہ سے وہ کوئی بڑی ترقی حاصل نہیں کر پاتے۔ آدمی کو چاہیے کہ وہ کام شروع کرنے سے پہلے بہت زیادہ سوچے، بہت زیادہ دعاء کرے، لوگوں سے بہت زیادہ مشورہ کرے، وہ بہت زیادہ مطالعہ کرے، تاکہ وہ اپنے آپ کو ایک ایسے کام میں لگا سکے جس میں بریک اِن ہسٹری کی نوبت نہ آنے والی ہو۔ جب وہ کوئی کام شروع کردے تو وہ کامل صبر کے ساتھ اس کو جاری رکھے۔ صبر ہی واحد چیز ہے جو کسی آدمی کو بریک اِن ہسٹری کے تباہ کن انجام سے بچانے والی ہے۔
واپس اوپر جائیں

جھونک اسپرٹ

ایک مقام پر ایک بڑے ملی ادارے کی ضرورت تھی۔ ایک صاحب نے اِس ادارے کے لیے اپنی طرف سے وسیع رقبے والی ایک زمین وقف کردی، مگر کئی سال تک اِس زمین پر کوئی تعمیر نہ ہوسکی۔ پھر ایک شخص اٹھا۔ اس نے کہا کہ میں اِس کام کو کروں گا۔ اِس ملی ادارے کی تعمیر کے لیے میں اپنے آپ کو پوری طرح جھونک دوں گا:
I will ‘jhonk’ myself in this cuase.
اِس کے بعد مذکورہ شخص نے اپنے آپ کو پوری طرح تعمیر کے اِس کام میں لگا دیا۔وہ رات دن اُس کے لیے محنت کرتا رہا، یہاں تک کہ وہاں ایک شان دار بلڈنگ کھڑی ہوگئی، جہاں پہلے صرف خالی زمین دکھائی دیتی تھی، وہاں اب ایک پُررونق سنٹر قائم ہوگیا۔
ہر بڑے کام کے لیے اِسی قسم کی ’’جھونک اسپرٹ‘‘ درکار ہوتی ہے۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ اپنے آپ کو پوری طرح وقف کیے بغیر کوئی بڑا کام نہیں ہوسکتا۔ کسی بڑے کام کو انجام دینے کے لیے بہت سے تقاضے ہوتے ہیں۔ اِن مختلف تقاضوں کی کامل رعایت کے بغیر کوئی بڑا کام نہیں ہوسکتا۔ اور ان تقاضوں کو سمجھنا اور ان کی کامل رعایت کرنا اُسی شخص کے لیے ممکن ہے جو اپنے آپ کو پوری طرح اس کے لیے وقف کردے۔جھونک کی اِس اسپرٹ کو ڈیڈی کیشن (dedication) کی اسپرٹ یا قربانی (sacrifice) کی اسپرٹ کہہ سکتے ہیں۔ ڈیڈی کیشن اور قربانی سے کم درجے کا لگاؤ رکھنے والے لوگ کوئی چھوٹا کام تو کرسکتے ہیں، لیکن وہ کوئی بڑا کام انجام نہیں دے سکتے۔ ڈیڈی کیشن اور قربانی کے اعتبار سے جتنی کمی ہوگی، اتنی ہی کمی اصل کام کی انجام دہی میں واقع ہوجائے گی۔ جب بھی کسی شخص نے کوئی بڑا کام انجام دیا ہے تو اُس نے یہ بڑا کام اِسی جھونک اسپرٹ کے ساتھ انجام دیا ہے۔ جہاں جھونک اسپرٹ نہیں، وہاں کسی بڑے کام کا وجود بھی نہیں ہوسکتا— بڑا کام کرنا ہو تو اُسی کام کو اپنا سول کنسرن (sole concern) بنالیجئے۔ اور اگر آپ ایسا نہیں کرسکتے تو پھر بڑے کام کا نام مت لیجئے۔
واپس اوپر جائیں

ایک اچھی مثال

ایک بار دہلی کے ایک کالج کے استاد نے بتایا کہ دہلی میں طلبا کا ایک تقریری مقابلہ ہوا۔ اِس میں مختلف کالجوں کے منتخب طلبا اور طالبات نے شرکت کی۔ ہر طالب علم کو انگریزی زبان میں تقریر کرنا تھا۔ اِن تقریروں میں جج کو جو بنیادی چیز دیکھنا تھا، وہ طرز ادا یا طرزِ تقریر (delivery) تھا۔ ڈاکٹر مرچنٹ کی لڑکی کا طرزِ تقریر سب سے زیادہ کامیاب تھا، چناں چہ اُس کو پہلا انعام دیاگیا۔
اِس کامیابی کا راز کیا تھا، اِس کا جواب مجھے 26 اگست 2009 کو ملا۔ نئی دہلی کے سائی انٹرنیشنل سنٹر میں ایک پروگرام کے دوران میری ملاقات ڈاکٹر آر کے مرچنٹ سے ہوئی۔ وہ اعلیٰ تعلیم یافتہ ہیں اور دہلی میں رہتے ہیں۔ اُن سے ملاقات کے دوران رٹائرڈ جنرل چھبّر اور دوسرے کئی لوگ موجود تھے۔ ڈاکٹر مرچنٹ نے کہا کہ میرے گھر میں ٹی وی نہیں ہے، میں ریڈیو کے ذریعے خبریں سنتا ہوں۔ ان کی اِس بات میںمجھے اِس سوال کا جواب مل گیا کہ اُن کے بچے کیوںتعلیم میںاتنا زیادہ کامیاب ہیں۔
اِس سے پہلے میںایک بار ڈاکٹر مرچنٹ کے گھر گیا ہوں۔ وہاں میں نے دیکھا تھا کہ اُن کا گھر بہت سادہ ہے۔ ان کی دو لڑکیاں ہیں۔ دونوں خاموشی کے ساتھ لکھنے پڑھنے میں مشغول رہتی ہیں۔ڈاکٹر مرچنٹ کے پاس ذاتی کار ہے، لیکن ان کی لڑکیاں ہمیشہ بس کے ذریعے اسکول جاتی ہیں۔ ان کے گھر میں ’’ٹی وی کلچر‘‘ کا کوئی نشان مجھے نظر نہیں آیا— یہی سادہ اور با اصول زندگی ڈاکٹر مرچنٹ کے بچوں کی کامیابی کا اصل سبب ہے۔
آج کل ہر باپ اپنی اولاد کی شکایت کرتا ہے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ ہر باپ کو خود اپنی شکایت کرنا چاہیے۔ عام طورپر والدین یہ کرتے ہیں کہ وہ اپنے گھر کے ماحول کو سادہ نہیں بناتے۔ ان کی سب سے بڑی خواہش یہ رہتی ہے کہ وہ اپنے بچوں کے ہر شوق کو پورا کرسکیں۔ وہ اپنے بچوں کو ’’ٹی وی کلچر‘‘ کا عادی بنا دیتے ہیں۔ یہی وہ چیز ہے جو گھروں کے بگاڑ کااصل سبب ہے۔ اِس بگاڑ کی تمام تر ذمے داری والدین پر ہے، نہ کہ اولاد پر۔
واپس اوپر جائیں

چھوٹی بات پر انتہائی فیصلہ

کامیاب زندگی کا ایک راز یہ ہے کہ چھوٹی بات پر انتہائی فیصلہ نہ لیا جائے۔ اجتماعی زندگی میں چھوٹی شکایتیں ہمیشہ پیش آتی ہیں۔ دانش مند وہ ہے جو چھوٹی شکایتوں کو نظر انداز کرے، اور نادان آدمی وہ ہے جو چھوٹی شکایت پر مشتعل ہوجائے اور اس کی بنیاد پر انتہائی فیصلہ لینے لگے۔ اِسی نوعیت کا ایک مشہور واقعہ وہ ہے جو سنڈے ٹائمس، لندن کے حوالے سے نئی دہلی کے انگریزی اخبار ٹائمس آف انڈیا (17 اگست 2009 ) میں شائع ہوا ہے۔
لیبیا کے حکم راں معمّرالقذافی کے 33 سالہ بیٹے ہنی بال (Hannibal) جنیوا (سوئزر لینڈ) گئے۔ وہاں وہ ایک ہوٹل میں ٹھیرے۔ اُن کے ساتھ ان کی بیوی العین (Aline) بھی تھیں۔ ایک بار ایسا ہوا کہ ہوٹل کی ایک تونیسی ملازمہ مونا (Mona) کی کسی بات پر العین کو غصہ آگیا۔ العین نے اُس کو مارا اور دھمکی دی کہ میں تم کو ہوٹل کی کھڑکی سے باہر پھینک دوں گی۔
اِس واقعے کی خبر مقامی پولس کو ہوئی۔ پولس نے ہنی بال اور العین کو گرفتار کرلیا۔ اگرچہ جلد ہی ان کو رہا کردیا گیا، لیکن اِس واقعے کی خبر جب ہنی بال کے والد معمر القذافی کو پہنچیتو اس کو انھوں نے اپنی بے عزتی (humiliation) سمجھا، وہ سخت غضب ناک ہوگئے۔ انھوںنے سوئزر لینڈ کے خلاف کئی سخت اقدامات کئے— سوئزر لینڈ سے ہوائی سروس منقطع کرنا، سوئزر لینڈ کی کئی کمپنیوں کے لیبی دفتروں کو بند کردینا، وغیرہ۔ حتی کہ انھوں نے کہا:
If I had an atomic bomb, I would wipe switzerland off the map.
یہ واقعہ چھوٹی شکایت پر انتہائی اقدام کی ایک مثال ہے۔ اِس قسم کا اقدام ہمیشہ الٹا نتیجہ پیدا کرتا ہے۔ خواہ کوئی معمولی آدمی ہو یا کوئی بڑا آدمی، کوئی بھی اِس قسم کے انتہائی اقدام کے منفی نتائج سے بچ نہیں سکتا۔ جلد یا بدیر آدمی کو اپنی غلطی کا احساس ہوجاتا ہے، لیکن بعد کو اُس کی تلافی ممکن نہیں ہوتی۔ طلاق کے واقعے سے لے کر قومی جنگ تک، ہر معاملے میںاس کی مثالیں موجود ہیں۔
واپس اوپر جائیں

سوال وجواب

سوال
آپ نے اپنی تحریروں میں لکھا ہے کہ:’’حدیث کی کتابوں میں ابواب الفتن کے تحت بیان کردہ روایات میں پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے پیشگی طورپر فرمادیا تھا کہ تم اپنے حکمرانوں کے خلاف خروج (بغاوت) نہ کرنا۔ تم ہر حال میں صبر کے اصول پر قائم رہنا۔ تم کسی بھی عذر کو لے کر حکمرانوں سے لڑائی نہ کرنا، بلکہ اپنی بکری اور اونٹ میں مشغول ہوکر اپنے ضروری دینی فرائض کو ادا کرتے رہنا‘‘ (فکر اسلامی، صفحہ 153 ) لیکن بہت سی روایات میں آپ کے اس نقطہ نظر کے برعکس ہدایات ملتی ہیں۔ مثال کے طورپر صحیح ابن حبان میں ہمیں یہ حدیث پڑھنے کو ملتی ہے:
1۔ عن عبد اللہ بن خبّاب عن أبیہ قال کنّا قعوداً علی باب النبی صلی اللہ علیہ وسلم فخرج علینا، قال اسمعوا، قلنا قد سمعنا، قال اسمعوا، قلنا قد سمعنا، قال اسمعوا، قلنا قد سمعنا، قال إنّہ سیکونُ بعدی أمراء فلا تصدّقوہم بکذبہم و لا تعینوہم علی ظلمہم، فإنّہ مَن صَدَّقہم بکذبہم وأعانہم علی ظلمہم، لم یرد علیّ الحوض (صحیح ابن حِبّان ۔ حدیث نمبر 284، صفحہ 193 )
’’حضرت عبد اللہ بن خبا ب اپنے والد حضرت خباب سے روایت کرتے ہیں کہ انھوں نے کہاکہ ہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم وسلم کے دروازے پر بیٹھے ہوئے تھے کہ آپ ہمارے پاس آئے۔ آپ نے فرمایا سنو، ہم نے عرض کیا یقینا ہم نے سُنا۔ آپ نے فرمایا سنو، ہم نے کہا یقینا ہم نے سُنا۔ آپ نے فرمایا، سنو، ہم نے کہا یقینا ہم نے سنا۔ آپ نے فرمایا، بے شک میرے بعد حکمراں ہوں گے، تم ان کے جھوٹ کی تصدیق نہ کرنا اور نہ ہی ان کے ظلم کی اعانت کرنا، کیوں کہ جس نے ان کے جھوٹ کو سچ قرار دیا اور ان کے ظلم پر ان کی اعانت کی، وہ میرے پا س حوضِ کوثر پر نہیںآئے گا‘‘۔
اِس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ جب بھی کوئی جھوٹی باتوں کا فریب دینے والا اور ظلم کرنے والا حکمراں تمھارے اوپر مسلط ہوجائے تو اس کی کسی طرح کی بھی حمایت واعانت نہ کرو۔
2۔ قرآن میںآیا ہے کہ ایک مظلوم شخص کو اس بات کی اجازت ہے کہ وہ ظالم کے خلاف آوازِ حق بلند کرے اور اس دوران اگر مظلوم کی زبان سے کچھ ناشائستہ الفاظ نکل جائیں تو اللہ تعالیٰ اس کی پکڑ نہیں کرتا ،کیوں کہ وہ مظلوم کی مظلومیت کو جانتا ہے اور اس کی آہ وفغاں کو سنتا ہے، اس لئے وہ درگزر سے کام لیتا ہے اور وہ ظالم کے خلاف اس کی فریاد کو قبول کرتا ہے۔ ارشاد خداوندی ہے:
لا یحب اللہُ الجہرَ بالسّوء مِنَ القولِ الاّ من ظُلم، وکان اللہ سمیعًا علیمًا (النساء:148 ) یعنی اللہ بد گوئی کو پسندنہیں کرتا مگر یہ کہ کسی پر ظلم ہوا ہو، اور اللہ سننے والا، جاننے والا ہے۔
اسی طرح ایک اور حدیث میں ظالم بادشاہ کا ظلم روکنے کے لئے اس کے سامنے انصاف کی بات کہناافضل جہاد بتایا گیاہے: عن أبی سعید الخدری قال قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اَفضلُ الْجہادِ کلمۃ عدل عند سلطان جائر (أبو داؤد، کتاب الملاحم، باب الأمر والنہی؛ الترمذی، کتاب الفتن، باب أفضل الجہاد کلمۃ عدل؛ ابن ماجہ، کتاب الفتن، با ب الأمر بالمعروف)
’’حضرت ابو سعید خدری بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، سب سے افضل جہاد ظالم بادشاہ کے سامنے انصاف کی بات کہنا ہے‘‘۔
کچھ لوگ اِس حدیث کو دعوت الی اللہ کے معنی میں لیتے ہیں مگر حدیث کے سیاق اور الفاظ سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ صحیح نہیں ہے۔ کیوں کہ اگر ایساہوتا تو پھر متنِ حدیث میں کلمۂ عدل ( انصاف کی بات ) کے بجائے ’’کلمۂ حق‘‘ (حق کی بات) کا فقرہ ہوتا۔ نیز حدیث کا آخری فقرہ ’’سلطان جائر‘‘ (ظالم بادشاہ) بھی آیا ہے جو اس بات کو ثابت کرنے کے لئے کافی ہے کہ یہاں ’’کلمۂ عدل‘‘ سے مراد دعوت الی اللہ نہیں، بلکہ ایک ظالم حکمراں کو ظلم سے روکنا مراد ہے اور اس کے سامنے عدل اور انصاف کی بات کہنا ہے تاکہ وہ بھی اپنی رعایاسے عدل اور انصاف کا معاملہ کرے۔
اِس طرح ان واضح دلائل سے ثابت ہوتا ہے کہ ظلم اور بربریت کے خلاف علمِ بغاوت اٹھانا اور حق اور انصاف کی خاطر اٹھ کھڑا ہونا کوئی غیر شرعی مسئلہ نہیں ہے ، بلکہ ایساکرنا عین شریعتِ اسلامی کے مطابق معلوم ہوتاہے۔ لیکن اگر اس ظلم پر خاموشی اختیار کی جائے تو وہ ظلم کی حمایت اور اعانت تصور کی جائے گی۔ نیز ایک اور حدیث میں آیا ہے کہ جو شخص ظالم حکمراں کو تقویت دینے کے لئے اس کے ساتھ چلے، یہ جانتے ہوئے بھی کہ وہ ظالم ہے تو وہ اسلام سے باہر سمجھا جائے گا:
عن أوس بن شرحبیل أنہ سمع رسولَ اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یقول من مشی مع ظالم لیقوّیہ وہو یعلم أنہ ظالم فقد خرج من الاسلام۔ (رواہ البیہقی؛ مشکوۃ، باب الظلم، الفصل الثالث)
حضرت اوس بن شرحبیل سے روایت ہے کہ انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا، جو شخص کسی ظالم کو تقویت پہنچانے کے لیے اس کے ساتھ چلے اور وہ یہ جانتا ہو کہ وہ ایک ظالم ہے تو وہ شخص اسلام سے خارج ہوجاتا ہے۔
اِس ساری تفصیل کے بعد سوال یہ ہے کہ آ پ کی کتاب ’’فکر اسلامی‘‘ کے حوالے سے اوپر دئے گئے اقتباس اور مندرجہ بالا دوسری احادیث کے درمیان جو نمایاں اختلاف نظر آتا ہے، اُن کے درمیان کس طرح تطبیق دی جائے گی (غلام نبی کشافی، سری نگر، کشمیر)
جواب
اگر کوئی حکم راں آپ کو ظالم نظرآئے تو شرعی اعتبار سے، اس کے خلاف عمل کی دو صورتیں ہیں — خروج، اور نصیحت۔ خروج کا مطلب ہے مسلّح بغاوت، اور نصیحت کا مطلب ہے پُرامن خیر خواہی۔ میرے مطالعے کے مطابق، ظالم کے خلاف مسلح بغاوت حرام ہے۔ مگر جہاں تک خیر خواہانہ نصیحت کا معاملہ ہے، وہ عین جائز ہے، بشرطیکہ وہ مثبت نتیجہ پیدا کرنے والی ہو۔
ظالم حکم راں کے خلاف مسلح خروج اِس لیے حرام ہے کہ وہ ہمیشہ کاؤنٹر پروڈکٹیو (counter productive) ثابت ہوتا ہے، اور جو چیز الٹا نتیجہ پیدا کرے، وہ نہ عقل کے مطابق درست ہوسکتی ہے اور نہ دین کے مطابق۔ میں ذاتی طورپر مسلح بغاوت کے خلاف ہوں، مگر جہاں تک خیر خواہانہ نصیحت کی بات ہے، میں ہمیشہ اس پر عامل رہا ہوں۔ مثال کے طورپر ملاحظہ ہو راقم الحروف کی کتاب — ’’ہند-پاک ڈائری‘‘۔
اِس معاملے میں آپ نے جو حدیثیں نقل فرمائیں ہیں، اُن سے آپ کا دعویٰ ثابت نہیں ہوتا۔ اِن حدیثوں میں وہی بات کہی گئی ہے جس کا میں خو د ہمیشہ قائل رہا ہوں۔ قرآن اور حدیث سے آپ نے جو حوالے دئے ہیں، ان کی وضاحت نمبر وار ذیل میں درج کی جاتی ہے:
1۔ ابنِ حبان کی جو روایت آپ نے نقل کی ہے، اُس سے صرف یہ ثابت ہوتا ہے کہ کوئی حکم راںمبینہ طور پر ظالم ہو تو اہلِ ایمان کو یہ نہیں کرنا چاہیے کہ وہ اس کے جھوٹ کو سچ بتانے لگیں، بلکہ اُنھیں اس کے جھوٹ کو جھوٹ بتانا چاہیے۔ یہ واضح طورپر ایک پر امن اظہارِ خیال کا معاملہ ہے، نہ کہ متشددانہ ٹکراؤ کا معاملہ۔ اور اِس قسم کے پر امن اور خیر خواہانہ اظہارِ خیال سے کسی کو اختلاف نہیں ہوسکتا۔ ’’ظلم پر اعانت‘‘ کا مطلب صرف یہ ہے کہ اہلِ ایمان کسی مبینہ ظالم کا آلۂ کا رنہ بنیں، بلکہ وہ اُس سے الگ رہیں اور اس کے لیے اصلاح کی دعا کرتے رہیں۔
2۔ سورہ النساء کی جو آیت آپ نے نقل کی ہے، اس میںواضح طور پر ’’قول‘‘ کی بات کہی گئی ہے، نہ کہ کسی قسم کے عملی تصادم کی بات۔ اِس آیت سے جو کچھ معلوم ہوتا ہے، وہ یہ کہ ایک شخص اگر مظلوم ہے تو اس کو یہ حق ہے کہ وہ پر امن قول کے دائرے میں رہتے ہوئے ظالم کے خلاف بولے ۔ یہ عین وہی بات ہے جس کو میںبار بار لکھتا رہا ہوں۔
3۔ تیسرے نمبر پر آپ نے جو حدیث نقل کی ہے، وہ کسی مبینہ ظالم کے خلاف ’’کلمہ‘‘ یا قول کی اجازت دیتی ہے، نہ کہ عملی تصادم کی اجازت۔ ایک شخص اگر مبینہ طورپر ظالم ہو تو اہلِ ایمان کو بلا شبہہ یہ حق ہے کہ وہ اس کے خلاف امن اور انصاف اور خیرخواہی کی شرائط کے ساتھ اپنے جذبات کا اظہار کریں۔ اِس حدیث میں بھی واضح طورپر ’’کلمہ‘‘ کی اجازت ہے، نہ کہ ٹکراؤ اور جنگ کی اجازت۔
4۔ چوتھے نمبر پر آپ نے جو حدیث نقل کی ہے، وہ بھی واضح طورپر ’’مَشی‘‘کے بارے میں ہے، نہ کہ جنگ کے بارے میں، یعنی اگر کوئی شخص مبینہ طورپر ظالم ہو تو ظلم پر اس کا ساتھ دینا اہلِ ایمان کے لیے جائز نہیں۔ایسے مواقع پر اہلِ ایمان کو صرف یہ کرنا ے کہ وہ ظالم کے حق میں دعا کریں، وہ اس کوخیر خواہانہ انداز میں نصیحت کریں، وہ مکمل طورپر امن کے دائرے میں رہتے ہوئے اس کی اصلاح کی کوشش کریں۔
آپ نے لکھا ہے کہ ’’اگر ظلم پر خاموشی اختیار کی جائے تو وہ ظلم کی حمایت اور اعانت متصور کی جائے گی‘‘۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ خاموشی کا معاملہ نہیں ہے بلکہ حدیث کے مطابق، وہ استطاعت کا معاملہ ہے، یعنی اِس طرح کے معاملے میں دخل دینے کا اصول یہ ہے کہ اس کے نتیجہ (result) کو سامنے رکھا جائے۔ اگر دخل دینے سے نتیجہ برعکس نکلتاہو تو صرف دعا کی جائے گی۔ دعا کے سوا کوئی اور عملی اقدام نہیںکیا جائے گا۔ اِس معاملے کو آپ مشہور حدیث ’’من رأی منکم منکراً الخ‘‘ (صحیح مسلم، کتاب الإیمان، باب کون النہی عن المنکر من الإیمان)کے مطالعے سے بخوبی طورپر سمجھ سکتے ہیں۔
ماہ نامہ جامِ نور (نئی دہلی) کے سوال نامے کا جواب
کیاپارلیمنٹ کو تسلیم کرنا خدا کی حاکمیت کا انکار ہے
موجودہ زمانے میںکچھ لوگوں نے اسلام کی سیاسی تعبیر کرنے کی کوشش کی ہے۔ یہ سیاسی تعبیر بلاشبہہ ایک سیاسی بدعت تھی۔ اِس کے نتیجے میں بہت سے خود ساختہ مسائل پیدا ہوئے۔ مثلاً اِن لوگوں نے اپنی خود ساختہ تعبیر کی بنا پر یہ اعلان کیا کہ — پارلیمنٹ کو تسلیم کرنا خدا کی حاکمیت کا انکار ہے۔
یہ بات بلاشبہہ لغویت کی حد تک غلط ہے۔ اِس نظریے کا ماخذ خود سیاسی تعبیر کرنے والوں کا اپنا ذہن ہے، نہ کہ اسلام کی اپنی تعلیمات۔ اسلام کی وہی تعبیر درست تعبیر ہے جو قرآن اور سنت سے نہ ٹکراتی ہو، اور مذکورہ قسم کا تصور بلا شبہہ قرآن اور سنت سے ٹکراتا ہے۔یہاں میںاِس سلسلے میں تین مثالیں دوں گا۔
حضرت یوسف علیہ السلام کے زمانے میں قدیم مصر میں ایک مشرک بادشاہ حکومت کرتاتھا۔ یہ ایک شاہی خاندان (dynasty) تھا، جس کو ہکساس کنگڈم (Hyksos Kingdom) کہاجاتا تھا۔ پیغمبر یوسف نے اس کے اقتدار (sovereignty) کو تسلیم کیا اور اس کے تحت ایک سرکاری عہدہ قبول کرلیا۔ یہ مثال اہلِ اسلام کے لیے ایک رہنما مثال ہے، کیوں کہ اسلام میں تمام پیغمبروں کو رہنماکی حیثیت سے تسلیم کیا گیا ہے (الأنعام: 90)۔
دوسری مثال یہ ہے کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم جب مکہ میں تھے تو وہاں دار الندوہ کو قبائلی حاکمیت کی حیثیت حاصل تھی۔ آپ نے دار الندوہ کی اِس حیثیت کو عملاً تسلیم کیا۔ اِسی بنا پر آپ کو مکہ میں رہنے کا موقع ملا۔ اگر آپ دار الندوہ کی حاکمانہ حیثیت کا انکار کرتے تو آغازِ نبوت ہی میں مکہ سے آپ کا اخراج کردیا جاتا۔
اِسی طرح مکی دور میں صحابہ کی ایک جماعت نے پڑوسی ملک حبش (Abyssinia)کی طرف ہجرت کی۔ وہاں اُس وقت ایک مسیحی بادشاہ نجاشی (Negus)حکومت کرتا تھا۔ صحابہ کی اِس جماعت نے نجاشی کے اقتدار کو تسلیم کیا۔ اِس بنا پر صحابہ کی جماعت کو حبش میں قیام کرنے کا موقع ملا۔ صحابہ کی اِس جماعت نے حبش کا یہ سفر رسول اللہ صلی اللہ کے حکم سے کیا تھا۔ یہ زمانہ کلی ریاست (totalitarian state) کا زمانہ تھا۔ اُس زمانے میں اِس کے سوا کوئی دوسری صورت ممکن نہ تھی۔
جمہوری حکومتوں میں الیکشن کا بائیکاٹ
اسلام کی سیاسی تعبیر کرنے والے لوگ یہ کہتے ہیں کہ — جمہوری حکومتوں میں الیکشن کا بائیکاٹ کیا جائے۔ یہ بات بھی سر تاسر بے بنیاد ہے۔ اِن حضرات کی غلطی یہ ہے کہ وہ نہیں جانتے کہ جمہوریت کیا ہے، اس کے باوجود وہ اِس قسم کا خود ساختہ مسئلہ بیان کرتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ جمہوریت، اسلام کے عین موافق ہے۔ اس کا بائیکاٹ کرنا دیوانگی کے سوا اور کچھ نہیں۔
رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب ہجرت کرکے مدینہ پہنچے تو آپ نے ایک منشور (declaration) جاری کیا۔ اِس منشور میں رسول اللہﷺنے جو دفعات شامل کی تھیں، اُن میں سے ایک دفعہ یہ تھی: للیہود دینہم وللمسلمین دینہم۔ یہ عین وہی چیز تھی جس کو موجودہ زمانے میں جمہوری اصول کہاجاتاہے۔
جمہوریت، لادینیت کا نام نہیں ہے، بلکہ جمہوریت شرکتِ اقتدار (power-sharing) کا نام ہے۔ جمہوریت کا کوئی تعلق کسی مذہبی عقیدے سے نہیں ہے۔ جمہوریت کی تعریف اکثریتی حکومت (majority rule) کے الفاظ میں کی جاتی ہے۔ اِس کا مطلب یہ ہے کہ مشترک قومی دائرے میں آبادی کی اکثریت کے اعتبار سے فیصلے کیے جائیں، اِس طرح کہ اقلیت کے انسانی حقوق بھی پوری طرح محفوظ رہیں۔
اسلام کی سیاسی تعبیر کرنے والے لوگ یہ بھی کہتے ہیں کہ جمہوری حکومت چوں کہ لادینی حکومت ہوتی ہے، اِس لیے اہلِ اسلام کو اُس کے الیکشن کا بائیکاٹ کرنا چاہیے۔ اِس قسم کی بات نہ صرف دیوانگی ہے، بلکہ وہ مسلمانوں کو سیاسی اچھوت بنانے کے ہم معنی ہے۔ اِس قسم کی بات ہرگز اسلامی تعلیم کے مطابق نہیں۔ اسلام کی تعلیم یہ ہے کہ جہاںتک عقیدے کا معاملہ ہے، آپ کسی سے کوئی سمجھوتہ نہ کریں۔ لیکن جہاں تک سیاسی ڈھانچے کی بات ہے، اس میں مسلمانوں کو آخری حد تک سمجھوتہ کرنا چاہیے۔ کیوں کہ ایسے حالات میں سمجھوتہ نہ کرنا، سیاسی خود کشی کے ہم معنیٰ ہے۔ اور خود کشی کسی بھی اعتبار سے اسلام میں جائز نہیں۔
الیکشن کا بائیکاٹ اور پارلیمنٹ کی مخالفت
جو لوگ الیکشن کا بائیکاٹ کریں اور پارلیمنٹ کی مخالفت کی بات کریں، وہ ہر گز مسلمانوں کے خیر خواہ نہیں ہوسکتے۔ اُن کا کیس اسلام کا کیس نہیںہے، بلکہ بے بصیرتی کاکیس ہے۔ جو لوگ بے بصیرتی کے باوجود رہنمائی کے میدان میں قدم رکھیں، وہ صرف مسلمانوں کی تباہی کا باعث بنیں گے۔ ایسے لوگ ایک عرب شاعر کے اِس شعر کا مصداق ہیں:
إذا کان الغراب رئیس قوم سیہدیہم إلی دار البوار
یعنی جب کوّا کسی قوم کا سردار بن جائے تو یقینا وہ اُن کو لے جاکر تباہی کے گڑھے میں گرا دے گا۔
اب یہ سوال ہے کہ جمہوری حکومتوں میں مسلمان اپنی مذہبی زندگی اور سیاسی پوزیشن کو کسی طرح بہتر بناسکتے ہیں۔ اِس کا جواب یہ ہے کہ مسلمان، اسلام کے اُس اصول کو اپنائیں جس کو قرآن کی سورہ نمبر 94 میںاِس طرح بیان کیاگیا ہے: إنّ مع العسر یُسراً (الإنشراح: 6 ) یعنی مشکل کے ساتھ آسانی ہے۔
اِس کا مطلب یہ ہے کہ مسائل (problems)کے ساتھ ہمیشہ مواقع (opportunities) موجود رہتے ہیں۔ اِس لیے نہ صرف انڈیا میں، بلکہ ہر جگہ مسلمانوں کو یہی اصول اپنانا چاہیے، وہ یہ کہ — وہ مسائل کو نظر انداز کریں اورمواقع کو استعمال کریں:
Ignore the problems and avail the opportunities.
میںاپنے تجربے اور اپنے مطالعے کی بنیاد پر کہہ سکتاہوں کہ جو لوگ انڈیا کو مسائل کا ملک سمجھتے ہیں، وہ صرف اپنے خود ساختہ تصورات کو جانتے ہیں، اُن کو نہ انڈیا کی خبر ہے اور نہ حالاتِ زمانہ کی خبر۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ انڈیا میںمسلمانوں کے لیے ہر قسم کے مواقع کھلے طورپر موجود ہیں، بلکہ میں یہ کہوں گا کہ 57مسلم ملکوں سے بھی زیادہ۔ ضرورت صرف یہ ہے کہ مسلمان اِن مواقع کو جانیں اور اُن کو استعمال کریں۔
اِس پہلو کی تفصیل میں نے اپنی ایک کتاب میں کی ہے۔ اس کا نام ’’ہندستانی مسلمان‘‘ ہے۔ یہ کتاب انگریزی زبان میں بھی شائع ہوچکی ہے۔ اس کا نام یہ ہے:
Indian Muslims: A Positive Outlook
واپس اوپر جائیں

خبر نامہ اسلامی مرکز — 200

1 - جامعہ ہمدرد (نئی دہلی) کے کنونشن سنٹر میں 24 اکتوبر 2009 کی صبح کو ایک سیمنار ہوا۔ یہ سیمنار اسلامک فقہ اکیڈمی (نئی دہلی) کی طرف سے کیا گیا تھا۔ اِس کا موضوع یہ تھا:
ہندستانی مسلمانوں کی معاشی ترقی— امکانات اور مواقع
صدر اسلامی مرکز کو اس سیمنار میں مدعو کیاگیا تھا، مگر وہ کسی وجہ سے اِس میں شرکت نہ کرسکے۔ البتہ سی پی ایس کے کچھ افراد نے اِس سیمنار میں شرکت کی اور وہاں لوگوں کو دعوتی لٹریچر دیا۔
2 - نئی دہلی کے سائی انٹرنیشنل سنٹر (لودھی روڈ) میں 28 اکتوبر 2009 کو ایک پروگرام ہوا۔ اِس کا موضوع یہ تھا:
Basic Human Values in Islam
اس کی دعوت پر ڈاکٹر فریدہ خانم نے اس میں شرکت کی اور انگریزی زبان میں مذکورہ موضوع پر ایک تقریر کی۔ تقریر کے بعد سوال وجواب کا پروگرام ہوا۔ اِس موقع پر سی پی ایس کی جانب سے حاضرین کو مطالعے کے لیے دعوتی لٹریچر اور قرآن کا انگریزی ترجمہ دیا گیا۔
3 - الرسالہ مشن سے وابستہ حلقے اور افراد دنیا کے مختلف مقامات پر قرآن کا انگریزی ترجمہ اور دعوتی لٹریچر بڑے پیمانے پر لوگوں کو پہنچا رہے ہیں۔ اِس سلسلے میں اکتوبر 2009 میں مشن سے وابستہ کئی گروپ اسلامی مرکز (نئی دہلی) آئے اور اپنے کام کی روداد سنائی۔ اِن لوگوں کو ضروری ہدایات اور دعوہ مٹیریل برائے اشاعت دیاگیا۔ اِس موقع پر آئے ہوئے ساتھیوں نے مختلف مقامات پر دعوہ لائبریری کے قیام کے لیے مطبوعات الرسالہ (اردو، انگریزی) کے متعدد سیٹ خرید کر حاصل کئے۔ ان میں سے مختلف لوگوں نے ایک درجن سے زیادہ مکمل مطبوعات الرسالہ کا سیٹ بذریعہ ڈاک اپنے ساتھیوں کے لیے روانہ کیا۔
4 - یکم نومبر 2009 کو مز آمال حمیدی نے صدر اسلام مرکز کا تفصیلی انٹرویو ریکارڈ کیا۔ وہ فرانس کے ریسرچ اینڈ اسٹڈیز سنٹر (European Institute for Humanitarian) کے تحت صدر اسلامی مرکز کے کام پر تحقیق کررہی ہیں۔ اِس سلسلے میں وہ دو ماہ کے لیے دہلی آئی ہوئی تھیں۔ ان کے مقالے کا موضوع یہ ہے:
التجدید فی دراسۃ علم العقیدۃ عند وحید الدین خان: دراسۃ نقدیۃ
5 - نوئڈا کے ہندی نیوز چینل (CNEB)کے نمائندہ مسٹر رگھوویندر ڈویدی نے 3 نومبر 2009 کو صدر اسلامی مرکز کا ایک ویڈیو انٹرویو ریکارڈ کیا۔ انٹرویو کا موضوع — وندے ماترم تھا۔ سوالات کے دوران بتایا گیا کہ مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ اِشو اور نان اِشو میں فرق کریں۔ وہ تعلیم اور دعوت کو اپنا اشو بنائیں۔ اِسی میں ان کی ترقی کا راز چھپا ہوا ہے۔
6 - سی پی ایس کی طرف سے مسلسل طورپر متعدد مقامات پر دعوہ لٹریچر لوگوں تک پہنچایا جارہا ہے۔ مثلاً ہاسپٹل اور کلینک جیسے اجتماعی مقامات پر۔ اِس سلسلے میں 5 نومبر 2009 کو نئی دہلی کے مختلف کلینک اور ہاسپٹل مثلاً ساہی ہاسپٹل (جنگ پورہ) میں لیفلٹ اسٹینڈ رکھا گیا۔ لوگ یہاں سے دعوتی پمفلٹ اور بروشر حاصل کررہے ہیں۔
7 - اسٹار نیوز (نئی دہلی) کی ٹیم نے 6 نومبر 2009 کو صدر اسلامی مرکز کا ایک انٹرویو ریکارڈ کیا۔ یہ انٹرویو ’’وندے ما ترم‘‘ کے خلاف فتویٰ کے بارے میں تھا۔ جواب میں بتایا گیا کہ یہ فتویٰ نہیں ہے، بلکہ فتویٰ ایکٹوزم ہے اور فتویٰ ایکٹوزم اسلام میں نہیں۔ وندے ما ترم کو لے کر مسلمانوں کے اندر منفی ذہن بنانا، مسلمانوں کے خلاف دشمنی ہے، نہ کہ دوستی۔ مسلمانوں کا سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ وہ ایجوکیشن میں پچھڑ گئے ہیں۔ مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ وندے ماترم جیسی رسمی چیزوں کو نظر انداز کرتے ہوئے تعلیم میں آگے بڑھیں، کیوں کہ اچھے مسلم اسکول بہت کم ہیں۔ اچھی تعلیم کے لیے انھیں دوسرے بہتر اسکولوں میں جانا چاہیے۔
8 - شارجہ (عرب امارات) کے ایکسپو سنٹر میں 11-21 نومبر 2009 کے دوران ایک انٹرنیشنل بک فئر لگایا گیا۔ ادارہ گڈورڈ بکس (نئی دہلی) نے بھی اس میں اپنا بک اسٹال لگایا۔ اس موقع پر لوگوں نے ہمارے اسٹال سے کتابیں حاصل کیں۔ غیر مسلم حضرات کو یہاں سے بڑے پیمانے پر قرآن کا انگریزی ترجمہ دیا گیا۔
9 - نوئڈا کے ٹی وی چینل سی این ای بی (Complete News Entertainment Broadcast) کی ٹیم نے 17 نومبر 2009 کو صدر اسلامی مرکز کا ایک ویڈیو انٹرویو ریکارڈ کیا۔ انٹرویور مز مدھو (Madhu Prasad) تھیں۔ یہ انٹرویو اسلام کے بارے میں تھا۔ جوابات میںاسلام کی سادہ تعلیم کو بتایاگیا۔
10 - بمبئی کے ٹرائڈنٹ ہوٹل (ٹاٹا روڈ، نرمان پوائنٹ) میں 17 نومبر 2009 کو ایک پروگرام ہوا۔ یہ پروگرام بمبئی پر 26/11 کے حملے کی فرسٹ انیورسری کے طور پر کیاگیا۔ اِس کا انتظام حسب ذیل دواداروں نے کیا تھا:
Art of Living Foundation, New Delhi; Simon Wiesenthal Center, Los Angeles
اس کی دعوت پر صدر اسلامی مرکز نے دہلی سے سی پی ایس کے ایک ممبر مسٹر رجت ملہوترا کے ذریعے اپنا پیغام روانہ کیا، جو وہاں پڑھ کر سنایا گیا۔ یہاں انٹرنیشنل لیول کے اعلیٰ تعلیم یافتہ اور ٹاپ کے افراد موجود تھے۔ سی پی ایس دہلی، اور سی پی ایس بمبئی کے ممبران نے اِس موقع قرآن کا انگریزی ترجمہ اور اسلامی لٹریچر بڑے پیمانے پر لوگوں کو مطالعے کے لیے دیا۔
11 - نئی دہلی کے سائی انٹرنیشنل سنٹر (لودھی روڈ) میں 18 نومبر 2009 کو انٹروفیتھ (interfaith) کے موضوع پر ایک پروگرام ہوا۔ اِس پروگرام میں مقامی لوگوں کے علاوہ انڈیا کے مختلف مقامات کے انجینئرز نے شرکت کی۔ اس کی دعوت پر صدر اسلامی مرکز نے موضوع پر انگریزی زبان میںایک گھنٹہ تقریر کی۔ تقریر کے بعد سوال وجواب کا پروگرام ہوا۔ اس موقع پر سی پی ایس کی طرف سے حاضرین کو اسلامی لٹریچر اور قرآن کا انگریزی ترجمہ دیاگیا۔
12 - نئی دہلی کے بیورو کریسی (India’s Bureaucracy & Governance News Portal) کی طرف سے 19 نومبر 2009 کو انڈیا انٹرنیشنل سنٹر (نئی دہلی) کے مین آڈی ٹوریم میں اِس موضوع پر ایک پروگرام ہوا:
Global Warming & Disarmament
اِس پروگرام میں ٹاپ کے مذہبی اور سیاسی لوگ شریک تھے۔ مثلاً شنکر اچاریہ، ایمبسٹرس ، بیوروکریٹس ،وغیرہ۔ ہمارے ساتھیوں نے اس پروگرام میں شرکت کی اور حاضرین کو قرآن کا انگریزی ترجمہ اور اسلامی لٹریچر دیا۔
13 - دور درشن (نئی دہلی) کی ٹیم نے 19 نومبر2009 کو صدر اسلامی مرکز کا ایک ویڈیو انٹرویو ریکارڈ کیا۔ یہ انٹرویو قومی ایکتا کے بارے میں تھا۔ جوابات کے دوران بتایاگیا کہ ملک میں قومی ایکتا پیدا کرنے کے لئے سب سے بڑی ضرورت یہ ہے کہ ہمارے پاس ایکتا کا صحیح فارمولا ہو۔ عام طورپر اس کا فارمولا یہ بتایا جاتا ہے کہ انیکتا میں ایکتا کو دیکھنا، مگر یہ فارمولاناقابلِ عمل ہے۔ اس کے بجائے صحیح فارمولا ہے —انیکتا کے ساتھ ایڈجسٹ کرنا:
Art of difference management
14 - ہمارے یہاں سے چھپا ہوا قرآن کا انگریزی ترجمہ، ایشیا کے علاوہ اب یورپ اور امریکا میں بڑے پیمانے پر پھیل رہا ہے۔ یورپ اور امریکا اور کینڈا کے مختلف شہروٍں سے مسلسل طورپر اس کی ڈیمانڈ آرہی ہے:
May Allah reward you for all your good work. A brother here took copies of that small Quran (translated by Maulana Waheeduddin Khan) published by Goodword Books to the UN headquarters and it was well received. Now we need about 2000 copies for da‘wah. (Musaddiq, Toronto, Canada)
15 - موجودہ زمانے میں اشاعتِ افکار کا ایک طریقہ بک اسٹال کا طریقہ ہے۔ ہمارے ساتھی اِس طریقے کو مسلسل طورپر جگہ جگہ استعمال کررہے ہیں، ملک کے اندر بھی اور ملک کے باہر بھی۔ کتابوں کی نمائش میں، جلسوں میں اور کانفرنسوں میں اور دوسرے قسم کے اجتماعات میں ہمارے ساتھی بک اسٹال لگاتے ہیں جس میں ہمارے ادارے کی مطبوعات اور ماہ نامہ الرسالہ وغیرہ رکھاجاتاہے۔ ہر جگہ کی رپورٹ ہے کہ لوگ کثرت سے ان کو حاصل کررہے ہیں۔ بک اسٹال کا طریقہ بہت مفید ہے۔ ہمارے ساتھیوں کو چاہیے کہ وہ ہر اجتماعی موقع کو بک اسٹال کے لیے استعمال کریں۔
16 - نئی دہلی کا ادارہ (Comeback to Truth) صدر اسلامی مرکز کے انگریزی ترجمہ قرآن کو بڑے پیمانے پر غیر مسلموں کے درمیان پھیلانے کا کام کررہا ہے۔ ادارے کے فاؤنڈر مسٹر یاور اقبال الرسالہ کے دعوتی مشن سے کامل اتفاق رکھتے ہیں۔
واپس اوپر جائیں

Saturday, 2 January 2010

Al Risala | January 2010 (الرسالہ،جنوری)


پولینڈ کا سفر

ویٹکن (Vatican) کی سرپرستی میں ایک انٹرنیشنل مسیحی تنظیم قائم ہے۔ یہ تنظیم اعلیٰ تعلیم یافتہ افراد کی تنظیم ہے۔ وہ 1986 میں قائم ہوئی۔ اِس کا نام کمیونٹی آف سینٹ ایجی ڈیو (Community of St. Egidio) ہے۔ اس کا ہیڈ کوارٹر روم (اٹلی) میں ہے۔ اِس تنظیم کی طرف سے ہر سال دنیا کے مختلف مقامات پر اجتماعات کئے جاتے ہیں۔ اِس میں ہر مذہب کے نمائندے شرکت کرتے ہیں۔ اِس سال یہ اجتماع پولینڈ کے شہر کریکو (Krakow) میں 6-8 ستمبر 2009 کو منعقد کیا گیا۔ اِس کی دعوت پر پولینڈ کا سفر ہوا۔ اِس کانفرنس کا موضوع یہ تھا:
70 Years After World War II Faiths and Cultures in Dialogue
پولینڈ کا نام سب سے پہلے 1939 میں میرے علم میں آیا۔ اُس وقت میں اعظم گڑھ (باقی منزل) میں رہتا تھا۔ ہمارے گھر کے سامنے ایک ہندو پرنسپل تھے۔ اُن کا نام مسٹر سَکَل دیپ سنگھ تھا۔ 18 ستمبر 1939 کی صبح کو وہ ایک انگریزی اخبار لے کر ہمارے یہاں آئے۔ یہ غالباً ڈیلی پانئر (Pioneer) تھا جو اُس وقت الٰہ آباد (یوپی) سے نکلتا تھا۔ انھوںنے کہا کہ یورپ میںایک بہت بڑی لڑائی چھڑ گئی ہے۔ جرمنی نے پولینڈ پر حملہ کرکے اُس پر قبضہ کرلیا ہے۔ میں نے دیکھا تو انگریزی اخبار کی پہلی سرخی یہ تھی:
Poland in German Hand
اُس زمانے میں یوپی کے علاقے میں پانئر اخبار کی بہت دھوم تھی۔ مشہور شاعر اکبر الٰہ آبادی (وفات: 1921 ) نے اپنے ایک شعر میں کہا تھا :
بات وہ ہے جو پانئر میں چھپے
یہ دوسری عالمی جنگ کا آغاز تھا۔ یہ جنگ6 سال (1939-1945) تک جاری رہی اور پھر ہولناک تباہی کے بعد ختم ہوئی۔ اِس جنگ میںتقریباً 6ملین انسان مارے گئے۔
میںاُس وقت مدرسۃ الاصلاح (سرائے میر، اعظم گڑھ) میں پڑھتا تھا۔ اُس وقت مجھے ٹکٹ (postage stamp) جمع کرنے کا شوق ہوا۔ غالباً پہلا بیرونی ٹکٹ پولینڈ کا تھا۔ٹکٹ جمع کرنے کا یہ شوق مدرسے کی زندگی میں بالکل اجنبی تھا، لیکن مجھے اُس سے بہت فائدہ ہوا۔ ٹکٹ جمع کرنے کا شوق میرے لیے جغرافیہ اور تاریخ کے بارے میں معلومات حاصل کرنے کا ذریعہ بن گیا۔
یہ جنگ جرمنی کے ڈکٹیٹر ہٹلر (Adolf Hitler) نے شروع کی تھی۔ اُسی زمانے میں ہٹلر کی خود نوشت سوانح عمری کا ترجمہ اردو میں ’’میری جدوجہد‘‘ کے نام سے چھپا تھا۔ میںنے اس کو پڑھا۔ بعد کو بھی میں ہٹلر کے بارے میں بہت کچھ پڑھتا رہا۔
میرا اندازہ ہے کہ ہٹلر غیر معمولی صلاحیتوں کا آدمی تھا۔ واقعات بتاتے ہیں کہ ہٹلر کو آخری زمانے میں یہ احساس ہوگیا تھا کہ جنگ چھیڑنا اس کی غلطی تھی۔ اس نے کہا تھا کہ نئے ہتھیاروں کے وجود میں آنے کے بعد اب جنگ بے فائدہ ہوچکی ہے۔ اگرتیسری جنگ ہوئی تو اُس میںکسی کو جیت حاصل نہ ہوگی، بلکہ صرف یہ ہوگا کہ کچھ لوگ عام تباہی سے بچ جائیں گے:
No victors, only survivors
ہٹلر کے اندر بے پناہ حد تک قوتِ ارادہ (will power) موجود تھی۔ میرا اندازہ ہے کہ ہٹلر اگر زندہ رہتا تو شاید وہ امن کے لیے کوئی بڑا کام کرتا۔ مگر اس کو ڈر تھا کہ الائڈ پاورس (Allied Powers) کی طرف سے اُس پر جنگی مجرم کی حیثیت سے مقدمہ چلایا جائے گا اور اس کو پھانسی دے دی جائے گی۔ اِسی اندیشے کی بنا پر اس نے ایک بنکر میں 30 اپریل 1945 کوخود کشی کرلی۔
پولینڈ کی یہ کانفرنس تین دن کے لیے تھی۔ اِس کا انعقاد ایک مسیحی تنظیم کمیونٹی آف سینٹ ایجی ڈیو (Community of Saint Egidio)کی طرف سے کیاگیا تھا۔ اِس تنظیم کا مقصد یہ ہے کہ مختلف مذہبی گروہوں کے درمیان امن اور دوستانہ تعلقات کو فروغ دیاجائے۔
سینٹ ایجی ڈیو (Saint Egidio) یونان کے ایک قدیم مسیحی راہب تھے۔ وہ 650 ء میں پیدا ہوئے اور 710 ء میں ان کی وفات ہوئی۔ اُنھیں کے نام پر یہ تنظیم قائم کی گئی ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ دنیا کے 70 ملکوں میں ان کے 70 ہزار ممبران موجود ہیں۔ یہ تعلیم یافتہ نوجوانوں کی ایک تنظیم ہے۔ مسٹرآندریہ رکاردی (Andrea Riccardi) اِس تنظیم کے بانی ہیں۔ عالمی اداروں کی طرف سے کمیونٹی کو مختلف قسم کے انعامات دئے گئے۔ مثلاً یونیسکو کی طرف سے 1999 میں اس کو پیس پرائز (Peace Prize) ملا، اور 2002میں اس کو نوبل پیس پرائز (Noble Peace Prize) دیاگیا۔
جس زمانے میں مجھے پولینڈ کا سفر کرنا تھا، اُس زمانے میں سوائن فلو (swine flu) کی خبریں بہت زیادہ آرہی تھیں۔ اِس بنا پر مجھے سفرکرنے میں تردد تھا۔ سمجھ میں نہیں آتا تھا کہ کیا فیصلہ کیا جائے۔ اِس بارے میں میرے ایک ساتھی نے استخارہ کیا۔ اس کے بعد ان کو رات میں ایک خواب آیا۔ یہ خواب خود اُن کے قلم سے میری ڈائری میں اِس طرح موجود ہے:
’’10 اگست 2009 کی رات کو میںنے ایک خواب دیکھا۔ میںنے دیکھا کہ راقم
الحروف اور مولانا وحیدالدین خاں صاحب ایک جگہ فرش پر قعدہ کی حالت میں بیٹھے ہوئے ہیں۔ اِس دوران دو عامل مولانا کے پاس آتے ہیں۔ مولانا اُن سے کہتے ہیں کہ آپ لوگ جو چاہیں پڑھ کر میرے اوپر پھونکیں، ان شاء اللہ مجھ پر اس کا کوئی منفی اثر نہیں ہوگا۔ چناںچہ دونوں عامل کافی دیر تک کچھ پڑھ کر مولانا کے اوپر پھونکتے رہے، مگر مولانا کے اوپر اس کا کوئی منفی اثر نہیں ہوا۔ کافی دیر کے بعد مذکورہ عامل جب پھونک کر فارغ ہوئے تو میں نے دیکھا کہ مولاناکے چہرے پر شکر کے گہرے آثار نمایاں تھے۔ مولانا کہہ رہے تھے کہ یہ سب خدا کی رحمت ہے کہ مجھ پر اِن لوگوں کے عمل کا کوئی منفی اثر نہیں ہوا۔ آخر میںاُن عاملوں نے کہا کہ ہم لوگوں نے ایسی ایسی چیزیں پڑھ کر پھونکی تھیں کہ آدمی کا بدن چھلنی ہوجائے، مگر تعجب ہے کہ مولانا کے اوپر اِس کا کوئی اثر نہیں ہوا۔ اِس کے بعد میری آنکھ کھل گئی۔ یہ فجر سے پہلے کا وقت تھا‘‘۔ (محمد ذکوان ندوی)
ہر بار سفر کے موقع پر میرا معمول رہا ہے کہ میں سفر کے موقع پر یہ دعاء کرتا ہوں: اللہم أنت الصاحب فی السفر والخلیفۃ فی الأہل والمال (أبو داؤد، کتاب الجہاد) مگر پولینڈ کے سفر میں میری زبان سے ایک نئی دعاء نکلی۔ میںنے ایک پائنٹ آف ریفرنس کو لے کر دعا کی۔ کمیونٹی آف سینٹ ایجی ڈیو کے ایک ممبر ہیں ۔ اُن کانام ڈاکٹر لونارڈ و(Leonardo Palombi) ہے۔
کمیونٹی کے پچھلے سالوں کے ایک پروگرام میں ان کا ٹیلی فون آیا تو میںنے کہا کہ میں صرف ایک شرط پر آسکتا ہوں، اور وہ ہے — ائر پورٹ سے ائر پورٹ تک آپ کی موجودگی:
Your availibility from airport to airport
انھوں نے اِس کا وعدہ کیا۔ چناںچہ جب میں رومانیہ کے ائر پورٹ پر اترا تو وہ برابر میرے ساتھ رہے، یہاںتک کہ واپسی میں ائر پورٹ تک وہ ہمیں پہنچانے آئے۔
موجودہ سفر میں میرے اوپر عجز کا احساس غالب تھا۔ اِس احساس کے تحت میری زبان سے دعاء نکلی کہ یا اللہ، تو اِس سفر میں دہلی سے دہلی تک (from Delhi to Delhi) میرا ساتھی بن جا۔ یہ سفر میں صرف تیرے لئے کررہا ہوں، تو ہی اِس سفر میں میرا مددگار بن سکتا ہے۔
عجیب بات ہے کہ یہ دعاء کامل طورپر قبول ہوئی۔ پورے سفر میں اِس کا مشاہدہ ہوتا رہا۔ یہ پورا سفر اتنا آسان بن گیا کہ واپسی کے بعد میرے ساتھیوں نے کہا کہ یہ سفر ہمارے لیے گویا ایک خواب جیسا سفر (dream journey) تھا۔ ہم ابھی دہلی میں تھے کہ اس کے آثار دکھائی دینے لگے۔ ہمارے قافلے میں چارافراد شامل تھے— راقم الحروف، مسٹر رجت ملہوترا، سعدیہ خان، مولانا محمدذکوان ندوی۔ نئی دہلی میں پولینڈ کے سفارت خانے نے نہایت آسانی سے ہم کو ویزا دے دیا اور ہم سے ویزا کی فیس نہیں لی جس کی مجموعی رقم 16 ہزار روپئے تھی۔
4 ستمبر 2009 کی شام کو دہلی سے پولینڈ کے لیے روانگی ہوئی۔ آج کے اخباروں میں سب سے زیادہ نمایاں خبر یہ تھی کہ آندھرا پردیش کے چیف منسٹر ڈاکٹر راج شیکھر ریڈی کا انتقال ہوگیا۔ وہ ایک ہیلی کاپٹر میں سفر کررہے تھے۔ ان کا ہیلی کاپٹر بارش کے طوفان میں پھنس گیا اور ایک پہاڑی سے ٹکرا کر تباہ ہوگیا۔
راج شیکھر ریڈی کی موت کے بعد لوگوں کے تاثرات اِس قسم کے الفاظ میں سامنے آئے— ایک کریسمیٹک لیڈر (charismatic leader)چلا گیا، ایک کامیاب چیف منسٹر چلا گیا، ایک مقبولِ عام لیڈر چلا گیا، وغیرہ۔ میں نے حیدرآباد کے حبیب بھائی سے ٹیلی فون پر بات کرتے ہوئے کہا کہ آندھرا پردیش کے مسلمانوں کو یہ کہنا چاہیے کہ ایک مدعو چلا گیا۔آندھرا پردیش کے مسلمانوں کی یہ ذمے داری تھی کہ وہ اپنے اِس لیڈر تک خدا کا پیغام پہنچائیں، لیکن وہ اپنی اِس ذمے داری کو ادا نہ کرسکے اور جانے والا ہمیشہ کے لیے چلا گیا۔ اِس کوتاہی کی پچاس فی صد ذمے داری اگر جانے والے لیڈر پر ہے تو پچاس فی صد ذمے داری وہاں کے رہنے والے مسلمانوں پر ہے۔
4 ستمبر 2009 کی رات کو 10 بجے ہم لوگ ایک قافلے کی صورت میں ائر پورٹ کے لیے روانہ ہوئے۔راستے میں حسب معمول کاروں کی بھیڑ نظر آئی۔ میںنے سوچا کہ ہمارے ملک میں سڑکیں تو چوڑی نہیں کی گئیں، البتہ موٹر کار بنانے والی کمپنیوں نے تنگ سڑکوں پر کاروں کی بھرمار کردی۔ اب اُس میں مزید اضافہ یہ ہوا ہے کہ ایک بڑی کمپنی نے سستی کار بنائی ہے جس کا نام نینو (Nano) ہے۔ نینو کے آنے کے بعد سڑکوں پر کاروں کی بھیڑ اتنی زیادہ بڑھ جائے گی کہ انڈیا کے شہروںمیں سفر کرنا ہی مشکل ہوجائے گا۔ کوئی کار بنانے والی کمپنی اگر کار بنانے کے بجائے جدید قسم کی بائیسکل بناتی تو یہ غالباً قوم کی زیادہ بڑی خدمت ہوتی۔
جب ہم لوگ ائر پورٹ کے سامنے پہنچے تو وہاں بہت زیادہ بھیڑ دکھائی دی۔ ہمارے ساتھ دو گاڑیاں تھیں۔ اپنی عادت کے مطابق، میںنے کہا کہ اِس بھیڑ میں کہاں گاڑی کھڑی کریں گے اور کس طرح کتابوں کے یہ کارٹن اندر لے جائیں گے۔ یہ سوچ کر میں پریشان ہورہا تھا۔ لیکن ہمارے ساتھی مسٹر رجت ملہوترا بالکل مطمئن تھے۔ انھوں نے اطمینان کے ساتھ کہا:
Maulana, it is angel’s problem.
اور واقعۃً ایسا ہی ہوا۔ تمام مراحل اتنی آسانی سے طے ہوگئے، جیسے کہ ہمارے بدلے فرشتے سارا کام کررہے ہوں۔
ہمارے ساتھ قرآن کا انگریزی ترجمہ دس کارٹن میں موجود تھا۔ دہلی کے اندرا گاندھی انٹرنیشنل ائر پورٹ پر جب اس کو چیک ان (check in) کیا جارہا تھا تو بکنگ آفس پر بیٹھی ہوئی خاتون نے اس کو وزن کرنے کے بعد کہا کہ اِس کا وزن پندرہ کلو زیادہ ہے۔ خاتون نے پہلے کہا کہ یہ پندرہ کلو زیادہ ہے، اس کو آپ کم کیجئے۔ ہمارے ساتھی سوچنے لگے کہ کس طرح اس کو کم کیا جائے۔ مگر تھوڑی دیر کے بعد خاتون نے دوبارہ خود ہی کہا کہ کوئی بات نہیں، جانے دیجئے۔ چناں چہ ہمارے ساتھیوں نے کتابوں کے پیکٹ کو چیک ان کردیا۔
عجیب بات یہ ہے کہ عین اُسی وقت ایک اور مسافر آیا۔ اس کا سامان بھی زیادہ تھا۔ ائرپورٹ کی خاتون نے اس کا سامان صرف اُس وقت چیک اِن کیا جب کہ اُس نے کچھ سامان نکال کر اُس کا وزن کم کیا۔ اِس طرح کے واقعات پورے سفر میں پیش آتے رہے جن کا ذکر ان شاء اللہ اِس سفر نامے کے دوسرے مقامات پر آئے گا۔
ہمارے ساتھیوں کے بیگ میں دعوتی لٹریچر موجود تھا۔ چناں چہ انھوںنے ائر پورٹ ہی سے اُسے لوگوں کو دینا شروع کردیا۔ ائر پورٹ کے عملہ کی ایک خاتون کو ’’ریلٹی آف لائف‘‘ کی ایک کاپی دی گئی۔ بھیڑ کی وجہ سے خاتون نے عجلت کے ساتھ پمفلٹ لے کر رکھ لیا۔ ہم لوگ پملفٹ دے کر امیگریشن کاؤنٹر کی طرف بڑھ گئے۔ تھوڑی دیر کے بعد ہم نے دیکھا کہ وہ خاتون تیزی کے ساتھ چلتی ہوئی ہماری طرف آرہی ہے۔ اس نے قریب آکر کہا کہ — آپ کے اِس خوب صورت پمفلٹ کے لیے آپ لوگوں کا بہت بہت شکریہ:
Thank you very much for this beautiful pamphlet!
’’تھینک یو‘‘ کہنا جدیدکلچر کا ایک لازمی حصہ ہے۔ کوئی آدمی اگر تھینک یو نہ کہے تو جدید معیار کے مطابق، اُس کو پس ماندہ شخص کہا جائے گا۔ اگرآپ کسی کو ایک ایسی کتاب دیں جو اُس کے اپنے مذہب کے علاوہ کسی اور مذہب سے تعلق رکھتی ہو تو جدید مذہب کے مطابق، اُس آدمی کا فرض ہے کہ وہ آپ کو تھینک یو کہے، خواہ وہ اس سے اتفاق رکھتا ہو یا اختلاف۔ یہ ایک نیا دعوتی امکان ہے جو موجودہ زمانے میں ساری دنیا میں پیدا ہواہے۔
ائرپورٹ کے رسمی مراحل سے گزرتے ہوئے ہم لوگ اندر داخل ہوگئے۔یہاں اوپر کی منزل میں شان دار لاؤنج (lounge) موجود تھا۔ یہاں آرام دہ نشست گاہوں کے درمیان کھانے پینے کی مختلف چیزیں موجود تھیں۔ ہم لوگ تقریباً ایک گھنٹہ یہاں بیٹھے۔
دہلی سے زیورک (Zurich) کے لیے ہماری فلائٹ رات کو ڈیڑھ بجے تھی۔ یہاں میرے ساتھیوںنے عملہ کے لوگوں کو قرآن کا انگریزی ترجمہ دیا اور پھر لاؤنج کے ایک حصے میں بیٹھ کر ہم لوگ مختلف موضوعات پر ڈسکشن کرتے رہے۔ یہاں مجھے فارسی شاعر کا ایک شعر یاد آیا۔ میں نے سوچا کہ فارسی شاعر نے جو بات اپنے زمانے کی نسبت سے کہی تھی، وہ موجودہ زمانے میں مزید اضافے کے ساتھ ممکن ہوگئی ہے۔ فارسی کا مذکورہ شعر یہ ہے:
منعم بہ کوہ ودشت وبیاباں غریب نیست ہر جا کہ رفت، خیمہ زد وبارگاہ ساخت
اِس موقع پر لاؤنج میں بیٹھ کر جو باتیں ہوئیں، اُن میں سے ایک بات یہ تھی کہ میں نے ریڈیو کے ایک انٹرویو کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ایک سیاسی لیڈر نے روزے پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ روزہ رکھنا ایک مشکل کام ہے۔ میںنے کہا کہ مشکل (difficult) ایک اضافی لفظ ہے۔ ہر چیز مشکل بھی ہوتی ہے اور آسان بھی۔ یہ آپ کا اپنا ذہن ہے جو کسی چیز کو مشکل سمجھتا ہے اور کسی چیز کو آسان۔
لاؤنج میں ہر طرف لوگ شان دار طورپر چلتے پھرتے دکھائی دے رہے تھے۔ اِس منظر کو دیکھ کر ہمارے ایک ساتھی مولانا محمد ذکوان ندوی نے کہا کہ انسان اپنے پورے وجود کے ساتھ ایک خصوصی مخلوق ہے۔ اس کی ہر چیز سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ پورے معنوں میں ایک جنتی وجود ہے۔ خدا نے انسان کو اصلاً جنت کے لیے پیدا کیا ہے۔ ایسی حالت میں اگر وہ جہنمی راستے پر چلتا ہے تو یہ اس کا اپنا انتخاب (choice)ہے۔ خدا کے تخلیقی پلان کے مطابق، انسان کا اصل مقام جنت ہے۔ جہنم خود انسان کا اپنا چوائس ہے۔
ایک سوال کے جوا ب میں میںنے کہا کہ یہ ایک عام بات ہے کہ لوگوں کو اپنے کارکنوں یا ساتھیوں سے شکایت رہتی ہے۔ ہر ادارے میں، ہر کمپنی میں، حتی کہ ہر گھر میں اِس کا مشاہدہ کیا جاسکتا ہے۔ یہ ایک غیر حقیقت پسندانہ ذہن ہے۔ ہم کو جاننا چاہیے کہ اِس دنیا میںہم کو صرف اضافی اعتبار سے بہتر شخص مل سکتا ہے، نہ کہ معیاری اعتبار سے:
We can find only a relatively better person, and not an ideally better person.
اپنے ساتھیوں سے بات کرتے ہوئے میں نے کہا کہ ایک شخص کو دوسرے شخص سے کچھ ملے تو اس کا اعتراف کرنا بہت بڑی نیکی ہے، خواہ یہ ملنا فکری اعتبار سے ہو یا مادّی اعتبار سے۔ مگر بہت کم انسان ہیں جو اعتراف کی اہمیت کو سمجھیں اور اس پر عمل کریں۔
اِس عام بے اعترافی کا سبب کیا ہے، اس کا سبب یہ ہے کہ ہر آدمی إنما أوتیتہ علیٰ علم عندی (القصص: 78) کی نفسیات میں جیتا ہے، یعنی جو کچھ آدمی کو ملتا ہے، اس کو وہ شعوری یا غیر شعوری طور پر خود اپنا کارنامہ سمجھ لیتا ہے، نہ کہ کسی اور سے ملا ہوا عطیہ۔ وہ دوسرے کے کنٹری بیوشن (contribution) کو بھلا دیتا ہے اور جو کچھ اس کو ملتا ہے، وہ خود اس کو اپنے خانے میں ڈال لیتا ہے۔
دہلی ائر پورٹ پر جب ہم لوگ آخری چیکنگ کے مقام پر پہنچے تو وہاں ایک علاحدہ کیبن بنا ہوا تھا۔ میرے بقیہ ساتھی تو سادہ طورپر گزر گئے، لیکن مجھ سے اُس کیبن میں جانے کے لیے کہا گیا۔یہ کیبن اسکریننگ (screening) کے لیے تھا۔ اِس علاحدہ کیبن میں میری جانچ کی گئی۔
اِس امتیازی جانچ کو میں نے ایک نارمل چیز سمجھا۔ مطالبے کے بغیر میںنے اسکریننگ کے لیے اپنا جوتا بھی اتار دیا اور پھر تھینک یو کہتے ہوئے باہر آگیا۔ میرے ایک ساتھی فوراً آگے بڑھے اور اُس آدمی کو قرآن کے انگریزی ترجمہ کی ایک کاپی پیش کی جس کو اس نے خوشی کے ساتھ قبول کرلیا۔
یہی سادہ واقعہ ہے جو انڈیا کے بعض وی آئی پی (VIP)افراد کے ساتھ پیش آیا تو انڈیا میںایک ہنگامہ کھڑا کردیا گیا۔ یہ ہنگامہ بلا شبہہ سرتاسر لغو تھا— اِس طرح کی چیزیں ہمیشہ رُٹین کے طورپر ہوتی ہیں۔ اُن کو ہمیشہ معتدل انداز میں لینا چاہیے۔
نفرت اور کشیدگی اور تشدد کے واقعات ہمیشہ اِس لیے ہوتے ہیں کہ لوگ کسی سے ایک منفی بات سنتے ہیں اور اس کو ویسا ہی مان لیتے ہیں، جیسا کہ کہنے والے نے کہا تھا۔ مگر یہ ایک شدید قسم کی غلطی ہے۔ اِس طرح کے واقعات کو جب بھی کوئی شخص بیان کرتاہے تو وہ اصل واقعہ (actual event) کو نہیں بیان کرتا، بلکہ وہ اپنے ذاتی احساس (personal feeling) کو بیان کرتا ہے۔ لوگ اِس فرق کو نہیں سمجھتے، اِس لیے وہ نفرت اور تشدد میںمبتلا ہوجاتے ہیں۔
سننے والا اگر ایسا کرے کہ وہ اصل واقعہ اور رپورٹ کرنے والے کے ذاتی احساس میں فرق کرکے دیکھے تو وہ منفی رد عمل کا شکار نہ ہو۔ کیوں کہ رپورٹ کرنے والا کبھی ایسا نہیں کرتا کہ وہ اپنے احساس کو الگ رکھ کر صرف اصل واقعہ کو بیان کرے۔ یہ غلطی یکساں طورپر شخصی رپورٹ میں بھی پائی جاتی ہے اور میڈیا کی رپورٹ میں بھی۔
ائرپورٹ کے مختلف مراحل سے گزرتے ہوئے ہم لوگ جہاز کے اندر داخل ہوئے۔ یہ سوئس انٹرنیشنل ائرویز (Swiss International Airways) کی فلائٹ نمبر LX 147 تھی۔ قرآن میں بتایا گیا ہے کہ سواری کے ذریعے سفر کرنا انسان کی ایک امتیازی صفت ہے (الإسراء: 70 )۔ انسان نے پہلے حیوان کی پیٹھ پر بیٹھ کر سفر کرنا سیکھا، پھر اس نے پہیہ (wheel) ایجاد کی اور وہ پہیہ دار گاڑی پر بیٹھ کر سفر کرنے لگا، پھر اس نے کشتیاں بنائیں، تاکہ وہ دریاؤں اور سمندروںکی سطح پر سفر کرسکے، پھر اس نے موٹر کار اور ہوائی جہاز جیسی سواریاں ایجاد کیں۔
قدیم کہانیوں میں ’’اُڑن کھٹولہ‘‘ کا ذکر ہوتا تھا۔ مگر اُس زمانے میں اڑن کھٹولہ محض ایک خیالی چیز تھی،اس کا کوئی واقعی وجود نہ تھا۔ امریکا کے دو انجینئر جن کو رائٹ بردرس (Wright Brothers) کہا جاتا ہے، انھوںنے لمبی کوشش کے بعد 1903 میں پہلا ہوائی جہاز بنایا۔ وہ اُس پر بیٹھ کر ہوا میں اڑے۔ اِس طرح انھوںنے عملی طور پر ثابت کیا کہ انسان کے لیے یہ ممکن ہے کہ وہ ہوائی سواری کے ذریعے فضا میں پرواز کرسکے— ہوائی جہازخدا کی نسبت سے ایک غیر معمولی معجزہ ہے، اور انسان کی نسبت سے خدا کی دی ہوئی عقل کا غیر معمولی استعمال۔
دہلی سے روانگی کے بعد ہماری اگلی منزل زیورک تھی۔ زیورک سوئزر لینڈ کا ایک شہر ہے۔ دہلی سے زیورک کی مسافت 6155 کلومیٹر تھی۔ دہلی سے زیورک کا سفر 8 گھنٹے میں طے ہوا۔
سفر کے دوران مختلف اخبارات دیکھے۔ نیویارک ٹائمس (5 ستمبر2009) کے گلوبل ایڈیشن کے صفحہ 3 پر ایک خبر تھی۔ یہ خبر چین کے مغربی صوبہ سنکیانگ (xinjiang) کے بارے میں تھی۔ چین کے اِس علاقے میں مسلمان بڑی تعداد میں آباد ہیں۔یہ لوگ زیادہ تر ترکی نسل سے تعلق رکھتے ہیں۔ اِس علاقے کے مسلم لیڈر عرصے سے یہ تحریک چلا رہے ہیں کہ اِس کو بقیہ چین سے الگ کرکے ایک آزاد مسلم ریاست کا درجہ دیا جائے۔
علاحدگی پسندی کی اس سیاست کو پاکستانائزیشن (Pakistanization) کہاجاتاہے۔ اِس قسم کی علاحدگی پسند تحریکیں مختلف ملکوں میں چل رہی ہیں۔ مثلاً برما اور فلپائن، وغیرہ۔ مگر اِن تحریکوں کا نتیجہ صرف مزید تباہی کی صورت میں برآمد ہوا ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ ’’پاکستانائزیشن‘‘ اپنے نتیجے کے اعتبار سے ایک قسم کی سیاسی خود کشی (political Suicide) ہے۔ مگر عجیب بات ہے کہ موجودہ دنیا کے تقریباً تمام مسلم رہنما اِس میں شریک ہیں، کچھ لوگ عملاً اس کا حصہ بنے ہوئے ہیں اور کچھ لوگ لفظی طورپر اس کی حمایت کررہے ہیں۔
جہاز کے اندر مختلف مسافروں کو قرآن کا انگریزی ترجمہ او رلٹریچر دیاگیا۔ اُن میں سے ایک ڈاکٹر لوزیوز(Luzius Wasescha) تھے۔ وہ اگر چہ خدا اور مذہب کے بارے میں لبرل تھے، لیکن انھوںنے شکریہ کے ساتھ قرآن کا انگریزی ترجمہ لیا۔ وہ سوئزر لینڈ کے رہنے والے تھے۔ مولانا محمد ذکوان ندوی کو انھوں نے اپنا جو وزیٹنگ کارڈ دیا، اُس پر یہ الفاظ درج تھے:
Ambassador Permanent Repersentative of Switzerland
Switzerland Deputy director general, Federal Office of Foreign Economic Affairs, Ministry of Economy, Berm. In charge of coordination of WTO affairs in Switzerland, negotiations between Switzerland and the European Union, and coordination of Swiss governmental information policy in the field of biotechnology. Head of the Swiss Delegation in several WTO forums, and the conference of the European Energy Charta Treaty.
یہ رات کا وقت تھا۔ اِس لیے زیادہ وقت سونے میں گزرا۔ یہ سفر بظاہر لمبا تھا، لیکن نیند کی وجہ سے وہ آسانی کے ساتھ طے ہوگیا۔ ہمارا جہاز 40 ہزار فٹ کی بلندی پر اڑ رہا تھا۔ اوپر ستارے جگ مگ کرتے ہوئے دکھائی دے رہے تھے اور نیچے سیاہ بادل تھے جن کے درمیان بجلی چمک رہی تھی۔ اُس وقت ہم بادلوں کے اوپر تھے اور آسمان کے نیچے۔
یہ منظر بڑا عجیب تھا۔ اِس منظر کو دیکھ کر ہمارے ایک ساتھی نے کہا کہ ہماری زمین پر پائے جانے والے مسائل محض اضافی مسائل (relative problems) ہیں۔ یہاں صرف ایک مسئلہ ہے جس کی حیثیت حقیقی مسئلہ (real problem) کی ہے، اور وہ ہے آخرت کا مسئلہ۔ مگر عجیب بات ہے کہ اِسی سب سے بڑے مسئلہ کے متعلق لوگ بے خبری کا شکار ہیں۔
آٹھ گھنٹے کی مسلسل پرواز کے بعد 5 ستمبر 2009 کی صبح کو ہم لوگ مقامی ٹائم کے اعتبار سے ساڑھے چھ بجے زیورک (Zurich) ائر پورٹ پر اتر گئے۔ یہ سوئزر لینڈ کا انٹرنیشنل ائرپورٹ ہے۔ زیورک ائرپورٹ کو کلاٹین ائر پورٹ (Kaloten Airport) بھی کہا جاتاہے۔ کلاٹین یا کینٹن (Canton) ایک صوبہ ہے جو سوئزر لینڈ کے شمال مشرقی حصے میں واقع ہے۔ زیورک اِسی صوبے کا کیپٹل ہے۔ یہاں سے دنیا کے 77 مقامات کے لیے پروازیں روانہ ہوتی ہیں۔
5 ستمبر 2009کو ہم لوگ زیورک (سوئزر لینڈ) کے ائر پورٹ پر تھے۔ اسی دن سوئزر لینڈ کے دوسرے شہر جنیوا میںورلڈ کلائمیٹ کانفرنس ہورہی تھی۔ اِس میں مقررین گلوبل وارمنگ اور اس کے نتیجے میں موسمی تبدیلی کے موضوع پر تقریریں کررہے تھے اور اس کے نقصانات بتارہے تھے۔ میں نے اپنے ساتھیوں سے کہا کہ اِس کانفرنس پر کروروں روپئے خرچ ہوں گے، لیکن پیشگی طورپر یہ بات معلوم ہے کہ عملاً اِس کا کوئی فائدہ ہونے والا نہیں۔ اِس طرح کی کانفرنسیں پچھلے برسوں میں بار بار ہوچکی ہیں، لیکن وہ سب کی سب بے سود ثابت ہوئیں۔
اِس کا سبب یہ ہے کہ گلوبل وارمنگ کے نتیجے میں پیداہونے والے مسائل کا براہِ راست تعلق جدید انسان کے لائف اسٹائل (life style) سے ہے۔ لائف اسٹائل میں تبدیلی کے لیے کوئی شخص تیار نہیں، اِس لیے یہ مسئلہ بھی کبھی حل ہونے والا نہیں۔ مثال کے طورپر ائر کنڈیشنربنانے کے کارخانے نہایت مضر گیس پیدا کرتے ہیں۔ لوگ ائر کنڈیشننگ کا طریقہ چھوڑنے کے لیے تیار نہیں، اِس لیے ائرکنڈیشننگ کے کارخانے بھی بند ہونے والے نہیں۔ اِس طرح کاروں کے ذریعے جو کاربن امیشن (carbon emmission) ہوتا ہے، وہ بے حد مضر ہے۔ مگر لوگ ایسا کرنے والے نہیں کہ وہ کار کو چھوڑکر بائسکل پر سفر کرنے لگیں۔ اِس لیے یہ مسئلہ بھی حل ہونے والا نہیں۔ اِس معاملے میں کوئی جبر کام کرسکتا تھا، لیکن بظاہر اِس معاملے میں جبر کا بھی کوئی امکان نہیں۔
زیورک ائرپورٹ پر اگلی فلائٹ لینے کے لیے میں نے وھیل چئر کا استعمال کیا۔ میری وھیل چئر چلانے والا ایک سوئس نوجوان تھا۔ بات چیت کے درمیان معلوم ہوا کہ یہاں وھیل چئر چلانے والے کو اسپیشل اسسٹنٹ (special assistant) کہاجاتا ہے۔ نوجوان نے بتایا کہ وہ یونی ورسٹی میں ایم اے (اکنامکس) کا اسٹوڈنٹ ہے۔ وہ اپنی معاشی ضرورت کے لیے فارغ اوقات میں وھیل چئر چلاتا ہے۔ ہمارے ساتھیوں نے اِس نوجوان کو اور ائر پورٹ کے عملہ کے مختلف افراد کو قرآن کا انگریزی ترجمہ دیا۔ اِن لوگوں نے تھینک یو کے ساتھ اس کو قبول کیا۔
زیورک سے دوسرا جہاز وارسا (Warsaw) کے لیے تھا۔ زیورک سوئزرلینڈ کا ایک شہر ہے اور وارسا پولینڈ کا ایک شہر۔ زیورک سے وارسا کا فاصلہ تقریباً ڈیڑھ ہزار کلو میٹر ہے، جو سوئس ائرویز کی فلائٹ نمبر LX 1342 کے ذریعے دو گھنٹے میں طے ہوا۔
جہاز میں پرواز کرتے ہوئے سوئزرلینڈ کا ایک طائرانہ منظر دکھائی دیا۔ سوئزر لینڈ پہاڑوں سے گھرا ہوا ملک ہے۔ یہ پہاڑ خشک پہاڑ نہیں ہیں، بلکہ سرسبز پہاڑ ہیں۔ اِس بنا پر سوئزرلینڈ مثالی خوب صورتی کا ملک بن گیا ہے۔ یہاں دور تک پہاڑی سلسلہ پھیلا ہوا دکھائی دے رہا تھا۔ ہمارے نیچے پہاڑی مناظر تھے اور ہم اس کے اوپر تیز رفتار جہاز کے ذریعے پرواز کررہے تھے۔
میں نے سوچا کہ جہاز اپنی اصل کے اعتبار سے صرف مادّہ (matter) ہے، لیکن یہ مادّہ انسان کے لیے متحرک ہوگیا ہے۔ انسانی تاریخ کے ابتدائی زمانے میں حیوان متحرک ہو کر سواری کا کام دیتے تھے۔ اب مادہ متحرک ہو کر زیادہ بہتر طورپر انسان کے لیے سواری کا کام کررہا ہے۔ یہ واقعہ اتنا عجیب ہے کہ انسان اگر اس کو حقیقی طورپر محسوس کرے تو وہ چاہے گا کہ میں ساری عمر خدا کے آگے سجدۂ شکر میں پڑا رہوں۔
5 ستمبر 2009 کی صبح کو 9 بجے ہم لوگ وارسا (Warsaw) پہنچے۔ یہاں ہم کو اگلا جہاز لینے کے لیے تقریباً چار گھنٹے ٹھہرنا تھا۔ میں اور میرے ساتھی جہاز سے اتر کر وارسا ائر پورٹ کے لاؤنج میں پہنچے۔ اُس وقت یہاں ہلکی بارش ہورہی تھی۔ لاؤنج میںہرطرح کا انتظام تھا۔ کھانے پینے کی اشیاء بھی وافر مقدار میں موجود تھیں۔ ہم لوگوں نے یہاں چار گھنٹے کا وقت گزارا۔ یہاں ہمارے ساتھیوں نے ائرپورٹ اور لاؤنج کے عملہ کو قرآن کا انگریزی ترجمہ دیا۔ ان لوگوں نے شکریہ کے ساتھ اس کو لیا اور اپنی خوشی کا اظہار کیا۔
یہاں ائر پورٹ پر ایک واقعہ پیش آیا۔ ہمارے ایک ساتھی نے لاؤنج میں بیٹھے ہوئے چند نوجوانوں کو انگریزی میں چھپا ہوا دعوتی پمفلٹ(The Road to Paradise) دیا۔ اِس کو انھوںنے شکریہ کے ساتھ لیا۔ اس کے بعد اُن میں سے ایک نوجوان نے پمفلٹ کے ٹائٹل کو دیکھتے ہوئے کہا:
We are already in Paradise
جدید مادّی ترقیوں نے جو دنیا بنائی ہے، وہ اتنی پرکشش ہے کہ ہر آدمی اس میں گم ہوگیا ہے، ہر آدمی کی کوشش صرف ایک ہے— زیادہ سے زیادہ پیسہ کمانا اور دنیا میں اپنے لیے ایک جنت بنانا ۔ موجودہ زمانے میں یہ حال تقریباً تمام عورتوں اور مردوں کا ہے، حتی کہ اُن لوگوں کا بھی جو بظاہر جنت پر عقیدہ رکھتے ہیں، لیکن اب ان کا عقیدہ محض ایک رسمی عقیدہ بن چکا ہے۔ عملی طورپر دیکھئے تو جنت کا عقیدہ رکھنے والوں اور جنت کا انکار کرنے والوں کے درمیان کوئی فرق نظر نہیں آتا۔
میں نے اپنے ساتھیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ میرا تجربہ ہے کہ اکثر لوگ گفتگو اور تقریر کا فرق نہیں سمجھتے۔ مثلاً ایک شخص اگر اسٹیج پر دھوم سے تقریر کرتا ہے تو وہ بات چیت (conversation) میں بھی اِسی طرح دھوم کے ساتھ بولنے لگتا ہے۔ وہ تقریر اور گفتگو کے فرق کو ملحوظ نہیں رکھتا ، حالاں کہ تقریر اور گفتگو کے درمیان بہت بڑا فرق ہے۔
ایک شخص جب اسٹیج پر تقریر کے لیے کھڑا ہوتا ہے تو اُس وقت ایک بولنے والا ہوتا ہے اور دوسرا سننے والا۔ یہ گویا کہ یک طرفہ بات (monologue) کا معاملہ ہوتا ہے۔ ایسے موقع پر اگر بولنے والا دھوم سے بولے تو اس میںکوئی حرج نہیں، لیکن جب وہ کسی موضوع پر ایک شخص سے بات کرتا ہے تو وہ دو طرفہ بات (dialogue) کا معاملہ ہوتا ہے۔ یہ ایک تبادلۂ خیال ہے جس میں آدمی کو سنانا بھی ہے اور سننا بھی ہے۔ اِس لیے دوطرفہ گفتگو کے موقع پر آدمی کو نہ تو دھوم سے بولنا چاہیے اور نہ اُس کو ایسا کرنا چاہیے کہ وہ اتنی لمبی گفتگو کرے کہ دوسرے کو اپنی بات کہنے کا موقع ہی نہ ملے۔
وارسا (Warsaw) سولھویں صدی عیسوی سے پولینڈ کی راجدھانی ہے۔ دوسری عالمی جنگ (1939-1945) میں یہ شہر تقریباً پورا تباہ ہوگیا تھا۔ بعد کو اُسے قدیم طرز پر دوبارہ تعمیر کیاگیا:
Warsaw is the capital from 16th century, and largest city of Poland. It is located on the Vistula River, roughly 370 Kilometers from both the Baltic Sea coast and the Carpathian Mountains. Warsaw is the 8th largest city in the European Union by population. Warsaw was severely damaged in World War II, rebuilt on old pattern.
وارسا کی تباہی کے بعد دوبارہ قدیم طرز (old pattern) پر اس کی تعمیر اِس لیے کی گئی تا کہ وارسا کی تاریخی حیثیت کو باقی رکھا جاسکے۔ یورپین قوموں میں تاریخی ذوق کامل طورپر موجود ہے۔ بدقسمتی سے مسلمانوں میں یہ تاریخی ذوق پیدا نہ ہوسکا۔ اِس کا آخری نمونہ یہ ہے کہ بعض انتہا پسند علماء اور رہنماؤں نے ’’ازالۂ بدعت‘‘ کے نام پر حجاز کے ان مقدس تاریخی مقامات کو ڈھا دیا جو بعد کی نسلوں کے لیے ایک عظیم پوائنٹ آف ریفرنس کی حیثیت رکھتے تھے، جو زائرین کے لیے ایک ربانی نقطۂ فیضان (point of inspiration) کے ہم معنیٰ تھے۔
اسلام میں تاریخی مقامات کی اہمیت کا اندازہ حسب ذیل واقعے سے کیا جاسکتا ہے:
عطاء خراسانی ایک تابعی ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ میںنے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں کے گھر دیکھے ہیں۔ وہ کھجور کی ٹہنیوں کے تھے۔ ان کے دروازوں پر ٹاٹ کے پردے پڑے ہوئے تھے جو کالے بال سے تیار کیا جاتا تھا۔ اس کے بعد خلیفہ ولید بن عبد الملک اموی کی طرف سے مدینہ کے حاکم کے پاس خط آیا۔ اس خط میں مسجد نبوی کی نئی تعمیر کا حکم تھا اور یہ ہدایت دی گئی تھی کہ ازواجِ رسول کے حجرے توڑ کر ان کو مسجد نبوی میں شامل کر دیا جائے۔
اِس حکم کو معلوم کرکے مدینہ کے بہت سے لوگ روپڑے۔ حضرت ابو امامہ انصاری نے کہا — کاش ، یہ حجرے اسی طرح چھوڑ دئے جاتے اور گرائے نہ جاتے، تاکہ لوگ بڑی بڑی عمارتیں بنانے سے رک جاتے، اور وہ یہ دیکھ لیتے کہ اللہ اپنے نبی سے کس چیز پر راضی ہوا، حالاںکہ دنیا کے خزانوں کی چابیاں اس کے ہاتھ میں تھیں (لیتہا تُرکت فلم تُہدم حتی یقصر الناس عن البناء، ویروا ما رضی اللہ لنبیہ، ومفاتیح خزائن الدنیا بیدہ۔ طبقات ابن سعد، جلد 1،صفحہ 499)
5 ستمبر2009 کی دوپہر کو دو بجے وارسا سے کریکو (Krakow) کے لیے روانگی ہوئی۔ وارسا سے کریکو کا فاصلہ تقریباً ڈھائی سو کلومیٹر ہے۔ یہ سفر پولش ائرلائنز (Lot Polish Airlines) کی فلائٹ نمبر 3913 کے ذریعے طے ہوا۔ یہ صرف پچاس منٹ کی پرواز تھی اور اس کا جہاز بھی چھوٹا تھا۔ پرواز کرتے ہوئے جب ہمارا جہاز کریکو کے انٹرنیشنل ائر پورٹ جان پال دوئم (John Paul II) پر اترا تو مسافروں نے تالیاں بجائیں۔ اُس وقت میرا دل بھی جذباتِ شکر سے بھرا ہوا تھا، لیکن میرے ہاتھ دوسروں کی طرح تالی بجانے کے لیے نہیں اٹھے۔
میں نے اِس فرق پر غور کیا تو میری سمجھ میں آیا کہ دوسرے لوگ جہاز کے اِس طرح منزل پر پہنچنے کو صرف ایک مادّی واقعہ سمجھتے ہیں، اِس لیے وہ اِس پر مادّی سطح کا رسپانس (response) دے رہے ہیں۔ لیکن میں یہ سمجھتا ہوں کہ یہ خالص ایک خدائی واقعہ ہے جو فرشتوں کے مدد سے اپنی کامیابی تک پہنچا۔ میںنے محسوس کیا کہ جس وقت لوگ تالیاں بجارہے تھے، اُس وقت میں خاموش ہو کر خدا کی یاد میں مشغول تھا اور انسان پر خدا کی رحمتوں کو یاد کرکے شکرِ خداوندی کے جذبات سے مغلوب تھا۔
کریکو ائرپورٹ پر ہم کو ریسیو (receive) کرنے کے لیے کمیونٹی آف سینٹ ایجی ڈیو کے تین افراد موجود تھے۔ ان کے ساتھ سواریاں تھیں۔وہ ہم کو ائر پورٹ سے لے کر چلے اور شہر کے مشہور ہوٹل (Sheraton Krakow) تک پہنچایا۔ یہاں ہمارے لیے اور ہمارے ساتھیوں کے لیے جدید طرز کے دو کمرے پہلے سے رِزرو تھے۔ یہاں دوسری تمام سہولتیں موجود تھیں۔
اِس تجربے سے میرا دل بھر آیا۔میںنے روتے ہوئے کہا — خدایا، اِسی طرح میری زندگی کا جہاز ایک اورمنزل پر پہنچنے والا ہے۔ یہ آخرت کی منزل ہے۔ وہاں بھی تو میرے ساتھ یہ احسان فرماکہ جب میںآخرت کی ابدی منزل پر پہنچوں تو وہاں رحمت کے فرشتے میرا اور میرے ساتھیوں کا استقبال کرنے کے لیے موجود ہوں۔ وہ ہم کو اپنے ساتھ لے کر چلیں اور ہم کو جنت کی ابدی رہائش گاہوں میں پہنچادیں۔
کریکو ائر پورٹ پر جب ہم نے کنویئر بیلٹ (conveyer belt) سے اپنا سامان حاصل کیا تو معلوم ہوا کہ ہمارے پانچ پیکیٹ زیورک ائرپورٹ پر چھوٹ گئے ہیں۔ وہ کریکو آنے والے جہاز کے ذریعے یہاں نہیں پہنچے۔ کریکو ائرپورٹ کے عملہ کو یہ بات بتائی گئی تو انھوں نے کہا کہ ہم آپ کے سامان کو دوسرے جہاز سے منگارہے ہیں اور وہ شام کو سات بجے تک آپ کے ہوٹل میں پہنچا دیا جائے گا۔ چناں چہ ایسا ہی ہوا، شام کو سات بجے یہ پانچ پیکٹ ہمارے ہوٹل کے کمرے میں موجود تھے۔
یہ بلا شبہہ خدا کی خصوصی مدد تھی۔ ہوائی سفر میں سامان چھوٹنے کے واقعات بہت ہوتے ہیں، لیکن اِس طرح ٹھیک وقت پر اس کا واپس ملنا ایک انوکھا واقعہ تھا جو خدا کی خصوصی مدد سے پیش آیا۔ خدا کی خصوصی مدد کے بغیر ایسا ہونا ممکن نہیں۔
کریکو، پولینڈ کا ایک تاریخی شہر ہے۔ کریکو گیارھویں صدی سے سولھویں صدی عیسوی تک پولینڈ کا دارالسلطنت رہا ہے۔ کیتھولک چرچ کے سب سے بڑے مذہبی عہدے دار کو پوپ کہاجاتا ہے۔ پوپ ہمیشہ اٹلی کے کسی مسیحی کو بنایا جاتا رہا ہے۔ جان پال دوئم پہلے غیر اطالوی پوپ ہیں، وہ پولینڈ کے اِسی قدیم شہر کریکو میں پیدا ہوئے تھے ۔ ذیل میں کریکو کے متعلق مختصر معلومات دی جارہی ہے:
Krakow is one of the largest and oldest cities in Poland. Situated on the Vistula river. Krakow has traditionally been one of the leading centres of Polish academic, cultural and artistic life, and is one of Poland's most important economic centres. It was the capital of Poland from 1038 to 1596. After the invasion of Poland by Nazi Germany at the start of the Second World War, Krakow was turned into the capital of Germany’s General Government. Karol Wojtyla, Archbishop of Krakow, was elevated to the papacy as John Paul II, the first non-Italian pope in 455 years, and the first ever Slavic pope.
6 ستمبر 2009 کی شام کو 5 بجے کانفرنس کا افتتاحی اجلاس (opening assembly) تھا۔ یہ اجلاس کریکو شہر کے آڈی ٹوریم میکسمم (Auditorium Maximum) میں ہوا۔ یہ ایک وسیع اور شان دار آڈی ٹوریم تھا۔ اِس پروگرام میں کانفرنس کے شرکاء کے علاوہ بہت بڑی تعداد میں مقامی لوگ موجود تھے۔ اِس اجلاس کے مقررین حسب ذیل تھے:
PART I
Chairperson
Frncoise Riviere
Assistant Director-General for Culture of UNESCO, France
Welcome greetings
Karol Musiol
Rector of the Jagiellonian University, Poland
Inaugral greetings
Stanislaw Dziwisz
Cardinal, Archbishop of Krakow, Poland
Radoslaw sikorski
Minister of Foreign Affairs, Poland
Keynote address
Andrea Riccardi
Community of Sant'Egidio, Italy
Contribution
Michel Camdessus
Honorary Governor of the Bank of France
PART II
Chairperson
Hanna Suchocka
Ambassador of Poland to the Holy See
Keynote address
Jose Manuel Barroso
President of the European Commission, Belgium
Contributions
Henri de Luxembourg
Grand Duke of Luxembourg
Filip Vujanovic
President of the Republic of Montenegro
Yona Metzger
Chief Rabbi of Israel
Walter Kasper
Cardinal, President of the Pontifical Council for Christian Unity, Holy See
Ahmad Al-Tayyeb
Rector of al-Azhar University, Egypt
اِس موقع پر پروفیسر احمد الطیب (ریکٹر، الازہر یونی ورسٹی، قاہرہ) نے مسلم مقرر کی حیثیت سے عربی زبان میں خطاب کیا، جس کو ہیڈ فون کے ذریعے مختلف زبانوں میں سنا گیا۔ انھوںنے اپنی تقریر میں اہلِ مغرب کی شکایت کرتے ہوئے کہا کہ اسلام نے ہر زمانے میں ان کے ساتھ اچھے سلوک کا معاملہ کیا ہے، لیکن اہلِ مغرب ابھی تک اسلام اور مسلمانوں کے ساتھ انصاف کا معاملہ نہ کرسکے۔ انھوںنے مزید کہا کہ مغربی ممالک میں مقیم مسلمانوں کے ساتھ دوسرے درجے کے شہری جیسا سلوک کیا جاتا ہے۔ مذکورہ مسلم مقرر نے اپنی تقریر میں اِس طرح کی متعدد منفی اور شکایتی باتیں کہیں، لیکن عجیب بات ہے کہ مسیحی حضرات نے اِن باتوں کو خاموشی کے ساتھ سن لیا اور اِس کے خلاف کسی قسم کے رد عمل کا اظہار نہیں کیا۔
اِس جلاس کی صدارت ایک مسیحی خاتون (Hanna Suchoka) کر رہی تھیں۔ وہ پولینڈ کی طرف سے ویٹکن میں سفیر ہیں۔ انھوں نے پروفیسر احمد الطیب کی تقریر کے بعد اپنے مختصر ریمارک میں کہا کہ ہم پروفیسر صاحب کا شکریہ ادا کرتے ہیں کہ انھوں ہماری کمی کی طرف ہم کو توجہ دلائی۔ ہم ان کی تنقید کا استقبال کرتے ہیں۔
عجیب بات ہے کہ مسلم مقررین کو بین اقوامی اسٹیج پر اظہار خیال کا موقع ملتا ہے، لیکن وہ اپنے منفی ذہن کی بنا پر اسلام کی صحیح نمائندگی نہیں کرپاتے۔ مثلاً ایک بار مجھے ایک عرب شیخ کو سننے کا موقع ملا۔ وہ ایک بین اقوامی اسٹیج سے بول رہے تھے۔ انھوں نے اپنی تقریر میں، اسلام کی پالیسی کو بتاتے ہوئے قرآن کی اِس آیت کا حوالہ دیا: فما استقاموا لکم فاستقیموا لہم (التوبۃ: 7 ) یعنی جب تک وہ تم سے سیدھے رہیں، تم بھی اُن سے سیدھے رہو۔
عرب شیخ کا یہ حوالہ ایک غیر متعلق (irrelevant) حوالہ ہے۔ قرآن کی اِس آیت میں جس مساویانہ سلوک کا ذکر کیاگیا ہے، وہ اُس صورتِ حال کے لیے ہے جب کہ مسلم سلطنت اور غیر مسلم سلطنت کے درمیان باقاعدہ جنگی حالت قائم ہوگئی ہو۔ جہاں تک عمومی زندگی کا تعلق ہے، اس کے لیے خلقِ عظیم (القلم: 4 ) کا طریقہ مطلوب ہے، یعنی برتر اخلاقیات کا طریقہ۔ اِسی روش کی بابت حدیث میںآیا ہے کہ: لاتکونوا إمّعۃ (الترمذی، کتاب البر )
افتتاحی اجلاس کے اِس موقع پر قرآن کا انگریزی ترجمہ بڑی تعداد میں لوگوں کو دیاگیا۔ جب ہمارے ساتھیوں نے لوگوں تک قرآن پہنچانے کا یہ کام شروع کیا تو وہاں بیٹھے ہوئے ایک بڑے مسیحی پادری نے ہماری ٹیم کی ایک ممبر سعدیہ کو ناراضگی کی نظر سے دیکھا ۔سعدیہ نے الفاظ میں ان کو کوئی جواب نہیں دیا، بلکہ یہ کیا کہ پادری کے سامنے جاکر متواضعانہ انداز میں اپنا سر جھکاتے ہوئے کہا:
Bless me, father!
اِس کے بعد مذکورہ پادری کا لہجہ بالکل نرم پڑ گیا۔ انھوںنے کہا کہ — اوکے، اوکے (Ok, Ok) ۔
اِس مثال سے دعوت کا ایک اصول معلوم ہوتا ہے۔ دعوت کے دوران اگر کسی سے کوئی مسئلہ پیدا ہو تو اس کو ہر گز دلیل دینے کی کوشش مت کیجئے، بلکہ تواضع کا انداز اختیار کیجئے۔ تواضع، دعوت کے بند راستے کو کھولتی ہے اور غیر متواضعانہ روش دعوت کے کھلے دروازے کو بند کردیتی ہے۔
پولینڈ کے شہر کریکو میںہونے والی اِس کانفرنس میں 22 پینل (panel) بنائے گئے تھے۔ ہر پینل الگ الگ موضوع پر تھا۔ ہمارے ساتھی اِن پروگراموں میں دعوتی لٹریچر لے کر جاتے۔ وہ وہاں لوگوں سے انٹرایکشن کرکے انھیں مطالعے کے لیے قرآن کا انگریزی ترجمہ اور اسلامی لٹریچر دیتے۔ لوگ اس کو خوشی سے لیتے اور شکریہ ادا کرتے۔یہاں پینل کے موضوعات نقل کئے جارہے ہیں:
1. Do Not Forget Auschwitz
2. Memory and Prophecy: The Legacy of John Paul II
3. 70 Years After World War II, War is not a Destiny
4. Europe's Mission in the World 20 Years After 1989
5. Latin America in a Globalized World
6. Market Society, Religions and the Challenge of Materialism
7. Dialogue of Faith and Culture
8. Faiths and the Value of Life
9. Fafith s in Asia: Building a World Without Violence
10. Xenophobia and Philoxenia: Europe at a Crossrads
11. Living Together in a Plural World
12. John Paul II and the “Spirit of Assisi”
13.Africa, Land of Opoorunity
14. 1989: A Peaceful Transition
15. Humankind’s Spiritual Quest in a Time of Economic Crisis
16. No to the Death Penalty: No Justice Without Life
17. Religions and Global Health of the World: The Rebirth of Africa
18. Christian Unity, for the World to Believe
19. The Power of Prayer Over History
20. Martyrdom and Resistance to Evil
21. The Scriptures in Monotheistic Faiths
22. Faith and Science
7ستمبر 2009 کو پینل 12میں میری تقریر تھی۔ اِس پینل کا موضوع یہ تھا:
John Paul II and the “Spirit of Assisi”
یہ پینل نسبتاً زیادہ بڑا تھا۔ اس کی کارروائی کریکو کے مشہور تھیئٹرسلوواک نیشنل تھیئٹر (Slovak National Theater) کے کشادہ ہال میں کی گئی۔
سینٹ فرانسس آف اسیسی (St. Francis of Assisi) ایک مشہور مسیحی راہب تھے۔ وہ 1182 ء میں پیدا ہوئے اور 1226 ء میں اٹلی میں ان کی وفات ہوئی۔ انھوں نے اپنی ایک دعاء میں کہا تھا کہ —اے خدا، مجھ کو تو امن کے قیام کا ذریعہ بنا:
O Lord, Make me an instrument of Your peace.
اِس دعاء کو میں نے اپنی تقریر میں کلمۂ سواء (آل عمران: 64 ) کے طورپر استعمال کیا۔ میںنے کہا کہ اسلام اور مسیحیت کے درمیان امن ایک مشترک قدر (common value) کی حیثیت رکھتا ہے۔ اسیسی پیغام بھی امن پر مبنی ہے اور اسلام کا پیغام بھی امن پر مبنی:
Spirit of Assisi and spirit of Makkah both are one and the same.
اِس کے بعد میںنے موقع کی مناسبت سے اسلام کی کچھ مثبت تعلیمات کو بیان کیا۔ یہ اندازِ خطاب بہت موثر ثابت ہوا۔ پینل کے چئر مین مسٹر راجر(Roger Etchegaray) نے بہت اچھے الفاظ کے ساتھ اس کا اعتراف کیا۔ سامعین کے اندر جو فضا بنی، اس کو استعمال کرتے ہوئے ہمارے ساتھیوں نے یہاں قرآن کا انگریزی ترجمہ اور اسلامی لٹریچر لوگوں کو دیا۔ لوگوں نے بہت خوشی کے ساتھ اس کو لیا۔ اِس پینل میں تقریباً 500 لوگ شریک تھے۔ چناں چہ قرآن کے تمام نسخے فوراً ختم ہوگئے۔ہمارے ساتھیوں نے بقیہ لوگوں کا پتہ لکھ لیا، تاکہ دہلی سے اُنھیں بذریعہ ڈاک قرآن کی کاپیاں روانہ کی جاسکیں۔
پینل 12کے آغاز میںمیری طرف سے لوگوں کے درمیان حسب ذیل پیپر تقسیم کیاگیا:
Prayer means establishing a spiritual communion with God or higher reality. This kind of communion is most unique experience for a man or a woman. It is going to the deeper world of inner reality. Prayer is the greatest attainment of higher truth. Prayer is life for soul as well as man.
There is a well known saying that prayer is power. But according to my experience I would like to say that prayer is the greatest power. There are two kinds of power— physical power and spiritual power. Physical power is a limited power, it can work only in space and time. But prayer can go beyond space and time. Prayer is universal in nature. Prayer can engulf both, physical world and non-physical world.
There is a difference between physical power and spiritual power. Physical power is bound to create reaction. Newton’s well known formula applies here: every action has equal and opposite reaction. In other words, physical power always creates some new problem. Even it can prove to be counter-productive. It is not possible to use physical power without facing its reaction. Physical power solves the problem at the cost of creating some new problem.
But the power of prayer in terms of spiritual power is quite different. It is completely different. It is completely positive in nature, it solves the problem without creating any new problem or creating any new kind of reaction. There are ample examples of it in history as well as in the present times.
Prayer is the gist of all religions including Islam. Jesus Christ has said, love your enemy. This saying is the best definition of prayer.
Love can conquer the enemy. There is a verse in the Quran in this regard, it says, “Do good deeds in return for enemy’s bad deeds. And in result you will find that your enemy has become your dearest friend.” (Quran 41:34)
It means that your enemy is your potential friend. So turn this potential into actual.
The most important quality of prayer is that it inculcates positive thinking in your mind and builds a positive personality. Moreover, prayer enables you to convert negativity into positivity. Prayer is a boon for man in terms of theory as well as in practice.
Prayer is not only an individual behaviour, prayer includes the social domain also. Through prayer one can find peace in his mind. prayer can turn an immature person into a mature person.
Prayer has also the power to establish peace in social life as well as in international relationships. United Nations has issued a joint declaration called Universal Declaration of Human Rights. I think prayer can contribute to the humanity better than this and that will be, Universal Declaration of Human Duties. Prayer can build a duty conscious society and it is a fact that duty conscious society is far more important than the right-conscious society.
اِس کانفرنس کے موقع پر کئی گروپ نے انٹرویو لیے۔ ان میں سے ایک ویٹکن ریڈیو کاانٹرویو تھا۔ 7 ستمبر 2009 کو وہ شریٹن (Sheraton) ہوٹل کے میرے کمرے میں آئے اور تفصیلی انٹرویو ریکارڈ کیا۔ انٹرویور کا نام مسٹر اسٹیفینو (Stefano Leszczynsti) تھا۔
ان کا ایک سوال یہ تھا کہ آپ کا مشن کیا ہے۔ میںنے بتایا کہ ہمارا مشن پیس اور اسپریچویلٹی کو فروغ دینا ہے اور اسلام کی مثبت تعلیمات کو لوگوں تک پہنچانا اور اسلام کے بارے میں لوگوں کی غلط فہمیوں کو دور کرنا ہے۔ ان کا ایک سوال یہ تھا کہ یورپ میں اسلام کی جو منفی تصویر بن گئی ہے، وہ کس طرح درست کی جائے۔ میںنے کہا کہ ہم اِس پہلو سے مسلسل کوشش کررہے ہیں۔ ہماری کوشش یہ ہے کہ ہم لوگوں کو یہ بتائیں کہ آپ اسلام اور مسلمانوں میں فرق کریں۔ آپ مسلمانوں کے کسی عمل کو لے کر اسلام کے بارے میں رائے قائم نہ کریں، بلکہ براہِ راست قرآن اور حدیث کی روشنی میں اسلام کو سمجھنے کی کوشش کریں:
You have to differentiate between Islam and Muslims, you have to judge Muslims in the light of Islamic teachings and not vice versa.
اِس معاملے کی ایک مثال یہ ہے کہ میڈیا کی رپورٹ کے مطابق، یکم اگست 2009 کو پاکستانی پنجاب کے شہر گوجرہ میں ’’قرآن کی بے حرمتی‘‘ کے نام پر وہاں کے مشتعل گروہ نے ایک مسیحی آبادی پر حملہ کردیا۔ اِس موقع پر مسیحیوں کے تقریباً 40 گھر نذر آتش کردئے گئے تھے جس میں کئی مسیحی افراد ہلاک ہوگئے۔ ویٹکن آرک بشپ آف کینٹربری اور ورلڈ کونسل آف چرچز (WCC) نے اِن واقعات کی مذمت کی تھی۔
میںنے کہا کہ ’’قرآن کی بے حرمتی‘‘ کے نام پر اِس طرح کا کام بلا شبہہ ایک مجرمانہ کام ہے، وہ کوئی دینی کام نہیں۔ قرآن اور حدیث میںکہیں یہ تعلیم نہیں دی گئی ہے کہ جو لوگ بظاہر قرآن کی بے حرمتی کریں، ان کو مارو اور ان کے گھروں کو جلاؤ۔ قرآن اور حدیث میں اگر کسی کام کو قابلِ سزا قراردیاگیا ہو، تب بھی یہ سزا ایک باضابطہ عدالت دے سکتی ہے۔ عوام کو کسی بھی حال میں اورکسی بھی عذر کی بنا پرقانون کو اپنے ہاتھ میں لینے کی اجازت نہیں۔ جو لوگ ایسا کریں، وہ فساد برپا کرنے والے لوگ ہیں، نہ کہ اسلام کو ماننے والے لوگ۔
دوسری بات یہ کہ اِس طرح کے واقعات کے اصل ذمے دار عوام نہیں، بلکہ علماء ہیں۔ علماء نے مسلسل ایسا کیا ہے کہ وہ ’’قرآن کی بے حرمتی‘‘ اور ’’رسول کی گستاخی‘‘ جیسے موضوعات پر جذباتی تقریر کرکے یا جذباتی تحریریں شائع کرکے لوگوں کو مشتعل کررکھا ہے۔ یہی اشتعال مذکورہ قسم کے واقعات کی شکل میں ظاہر ہوتاہے۔ علماء کی دوسری غلطی یہ ہے کہ وہ اِس قسم کے مسلمانوں کو کھلے طورپر کنڈم نہیں کرتے، وہ ان کا ہاتھ نہیں پکڑتے۔ یہی وہ علماء ہیںجن کو حدیث میں علمائِ سوء کہا گیا ہے۔
انٹرویور کا ایک سوال یہ تھا کہ انڈیا میں فرقہ وارانہ ذہنیت کی موجودگی میں ڈائلاگ کس طرح ممکن ہے۔ اِس کے جواب میں بتایاگیا کہ اختلافات فطری ہیں۔ اصل مسئلہ اختلاف کا ہونا نہیںہے، بلکہ اصل مسئلہ یہ ہے کہ اختلاف کے بارے میں رواداری (tolerance) کا ذہن لوگوں کے اندر موجود نہیں۔میںنے کہا کہ یورپ میں بھی اس طرح کے اختلافات ہیں، لیکن وہاں اختلافات سنگین مسئلہ نہیں بنتے، کیوں کہ وہاں ڈائلاگ کلچر ہے، جب کہ انڈیا میں ڈبیٹ کلچر(debate culture) ہے۔ میں اور میرے ساتھی یہ کوشش کررہے ہیں کہ انڈیا میں بھی لوگوں کے درمیان ڈائلاگ کلچر آجائے۔
انٹرویو کے دوران ایک بات یہ کہی گئی کہ اصلاح کا صحیح طریقہ یہ ہے کہ مسلم کمیونٹی کے افراد خود اپنی کمیونٹی کی غلطیوں کے خلاف بولیں، اور ہندو کمیونٹی کے افراد ہندو کمیونٹی کے غلطی پر تنقید کریں۔ مسلمان اگر ہندو کمیونٹی کے خلاف بولیں یا ہندو، مسلم کمیونٹی کے خلاف بولیں تواصلاح کے نقطۂ نظر سے اِس کا کوئی فائدہ نہیں۔
میں نے ایک بات یہ کہی کہ سیاسی اعتبار سے ویٹکن میں مسلمانوں کے لیے ایک قابلِ تقلید نمونہ موجود ہے۔ انیسویں صدی عیسوی میں پوپ اور اسٹیٹ کے درمیان وہی مسئلہ پیداہوا جو ترکی میں خلیفہ اور سیکولر گورنمنٹ کے درمیان پیدا ہوا۔ پوپ نے دانش مندی سے کام لیتے ہوئے ٹکراؤ کو ختم کردیا اور اُس حکیمانہ فارمولے کو اختیار کیا جس کو کم پر راضی ہونا کہاجاتاہے۔ اِس کا نتیجہ یہ ہوا کہ ویٹکن کے نام سے ان کی ایک چھوٹی سی ریاست قائم ہوگئی اور اِس طرح پوپ کا تاریخی ٹائٹل باقی رہا۔
اِس کے برعکس، ترکی کے معاملے میں یہ ہوا کہ ساری دنیا کے علماء اور غیر علماء خلافت کو اس کی مکمل صورت میں باقی رکھنے پر اصرار کرتے رہے۔ اِس کا اندوہ ناک انجام یہ ہوا کہ ’’خلیفہ‘‘ کا تاریخی ٹائٹل ہمیشہ کے لیے ختم ہوگیا۔ بدقسمتی سے موجودہ زمانے کے مسلم علماء نے مسلمانوں سے تعلق رکھنے والے نزاعی معاملات میں صرف منفی رول ادا کیا، اِس طرح کے کسی بھی معاملے میں وہ مثبت رول ادا نہ کرسکے۔
موجودہ زمانے کا اصل مسئلہ یہ ہے کہ ہمارے علماء، عرب اور غیر عرب دونوں، صرف روایتی مسائل سے واقف تھے، وہ جدید دور کے مسائل سے بے خبر تھے۔ اِس بنا پر یہ ہوا کہ جب بھی کوئی نیا مسئلہ پیش آیا تو انھوں نے فوراً ردّ عمل کا اظہار کیا۔ حالاں کہ صحیح یہ تھا کہ نئے مسائل پیش آنے کے بعد وہ ری ایڈجسٹ مینٹ (re-adjustment) کا طریقہ اختیار کریں۔ مثلاً انھوںنے موجودہ زمانے میں سیکولرازم کو لادینیت کہہ کر رد کردیا، اور جمہوریت کو غیر اسلامی بتا کر وہ اس کے خلاف ہوگئے۔ حالاں کہ اِن دونوں کے معاملے میں علماء کو ری ایڈجسٹ مینٹ کا طریقہ اختیار کرنا چاہیے تھا، نہ یہ کہ وہ اِن جدید نظریات کو غیر اسلامی بتا کر اُن کے مخالف بن جائیں۔
مغربی دنیا کا سفر کرتے ہوئے ایک احساس یہ ہوتاہے کہ اہلِ مغرب ہی وہ لوگ ہیں جن کو قرآن میں یاجوج اور ماجوج (الأنبیاء: 96 ) کہاگیا ہے۔ مغربی قوموں نے جس طرح فطرت میں چھپے ہوئے رازوں کو کھولا اور جدید تہذیب بنائی، وہ تاریخ کا ایک انوکھا واقعہ ہے۔ بظاہر ایسامحسوس ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اہلِ مغرب کو ایک اہم کام کا ذریعہ بنایا، وہ ہے— موجودہ دنیا میں جنت کا تعارف جس کا ذکر قرآن میںاِن الفاظ میں کیاگیا ہے: ویُدخِلہم الجنۃ عرّفہا لہم (محمد: 6 )۔
پُر رونق مغربی تہذیب کے ظہور سے پہلے جنت زیادہ تر ایک اعتقادی چیز تھی۔ اب وہ ایک متعارف چیز بن چکی ہے۔ یہ کام بلاشبہہ اللہ تعالیٰ نے اہلِ مغرب سے لیا ہے۔ مثال کے طورپر قدیم زمانے میںکہا جاتا تھا کہ: السفر کالسقر (سفر جہنم کے مانندہے) جب کہ آج کا مسافر، حدیث کے الفاظ میں، کالملوک علی الأسرّہ (تخت پر بیٹھے ہوئے بادشاہوں کے مانند) ہوتاہے۔
جنت کے بارے میں قرآن میں آیا ہے کہ جنتیں دو ہیں (الرحمن: 46 )۔ قرآن کے مطالعے سے معلوم ہوتا ہے کہ بنیادی طور پر جنت کی دو کیٹگری (category) ہے۔ ایک، وہ جس کو قرآن میں خدا کا پڑوس (التحریم:11 ) کہاگیا ہے۔ جنت کے اِس درجے کو ’’عند اللہ کیٹگری ‘‘ کہہ سکتے ہیں۔ اہلِ جنت کی دوسری قسم وہ ہے جو خدا کے پڑوس میں توجگہ نہیں پائیں گے، لیکن وہ جہنم کے عذاب سے محفوظ رہیںگے (الأنبیاء: 101)۔ جنت کے اِس درجے کو قرآن کے الفاظ میں ’’مبعد عن النارکیٹگری ‘‘ کہا جاسکتا ہے۔
پولینڈ کی یہ کانفرنس ایک انٹرنیشنل کانفرنس تھی۔ اِس کانفرنس میںکئی عرب علماء آئے ہوئے تھے۔ ایک عرب عالم نے اِس کانفرنس کے بارے میں کچھ شکایتی بات کہی۔ میں نے کہا کہ آپ اِس طرح سوچئے کہ کیا آپ کسی عرب ملک میں اِس طرح کی منظم کانفرنس اتنے بڑے پیمانے پر کرسکتے ہیں۔ انھوںنے کہا کہ نہیں۔ میںنے کہا کہ پھر آپ اِس پہلو پر غور کیجئے اور اِس سے سبق لیجئے۔ یہ ایک انٹرنیشنل کانفرنس تھی، لیکن ہر پہلو سے وہ نہایت منظم تھی۔ ایسا منظم اجتماع کسی بھی مسلم ملک میں نہ میںنے دیکھا اور نہ میں نے سنا۔
یہاں میں نے دیکھا کہ کمیونٹی آف سینٹ ایجی ڈیو کے کئی عورت اور مرد روانی کے ساتھ عربی زبان بول رہے تھے۔ ہمارے ایک ساتھی نے ان سے پوچھا کہ آپ نے عربی زبان کیسے سیکھی۔ انھوںنے کہا کہ ہمارا سابقہ بار بار عربوں کے ساتھ پیش آتا ہے، اِس لیے ہم نے باقاعدہ کوشش کرکے عربی زبان سیکھی، تاکہ ہم براہِ راست عربوں سے تعلق قائم کرسکیں۔
قرآن اور حدیث دونوں میں بتایا گیا ہے کہ مسیحی لوگوں میںخصوصی طورپر رافت اور رحمت کی صفت پائی جاتی ہے۔ خود میں نے بار بار اِس کا تجربہ کیا ہے۔ قرآن میں اُن کے متعلق، رافت اور رحمت (الحدید: 27 ) کا لفظ آیا ہے۔ اورحدیث میں اِس معاملے کی مزید تفصیل بیان کرتے ہوئے ارشاد ہوا ہے: إنّہم لأحلم الناس عند فتنۃ، وأجبر الناس عند مصیبۃ، وخیر الناس لمساکینہم وضعفائہم (صحیح مسلم، کتاب الفتن وأشراط الساعۃ)
میں سمجھتا ہوں کہ اِس کا سبب غالباً حضرت مسیح کی ایک استثنائی تعلیم ہے۔ حضرت مسیح نے اپنے ایک بیان میں حواریین سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ —اپنے دشمن سے محبت کرو:
Love your enemies (Luke 6: 35)
میرے علم کے مطابق، مذکورہ الفاظ میں ’’دشمن سے محبت‘‘ کی تعلیم استثنائی طورپر صرف مسیحیت میں پائی جاتی ہے۔ غالباً اِسی تعلیم کا یہ نتیجہ ہے کہ مسیحیوں میں رافت اور رحمت کلچر بہت زیادہ عام ہوا، حتی کہ وہی ان کی پہچان بن گیا۔ مسیحی حضرات کی اِس استثنائی صفت کا تجربہ مجھے اِس کانفرنس کے دوران بھی بار بار ہوا۔
مسلمانوں کی نفسیات اور مسیحی لوگوں کی نفسیات کے تقابلی مطالعے سے معلوم ہوتا ہے کہ دونوں کے درمیان بہت زیادہ فرق پایا جاتاہے۔ بعد کے زمانے میں مسلمانوںکی جو سیاسی تاریخ بنی اور ان کے یہاں جو لٹریچر تیار ہوا، اُس کے نتیجے میں مسلمانوں کا ذہن یہ بنا کہ — دشمن سے لڑو:
Fight your enemy
اِس کے برعکس، مسیحی لوگوں کا ذہن ان کی روایات کے مطابق، یہ بنا کہ— دشمن سے محبت کرو:
Love your enemy
یہی نفسیات دونوں قوموں کے اندر عمومی طورپر پائی جاتی ہے۔ جہاںتک صلیبی جنگوں، یا پہلی عالمی جنگ اور د وسری عالمی جنگ کا معاملہ ہے، وہ مسیحی عوام کی نفسیات کا مظاہرہ نہ تھا، بلکہ وہ کچھ مسیحی لیڈروں کی سیاسی معرکہ آرائی اور کشور کشائی کا نتیجہ تھا۔
کمیونٹی کے ایک ذمے دار ڈاکٹر فیڈرکو (Federico Di Leo) نے مجھ سے کہا کہ آپ چند ایسے مسلم اسکالر کے نام ہمیں دیجئے جو آپ کے نزدیک امن کی واقعی اہمیت کو جاننے والے ہوں۔میںنے اپنے ساتھی کو چند نام بتائے۔ میرے ساتھی نے مسٹر فیڈرکو سے کہا کہ مولانا نے کچھ نام بتائے ہیں، لیکن اِس وقت ہمارے پاس ان لوگوں کا مکمل ایڈریس موجود نہیں ہے۔ ہم انڈیا پہنچ کر آپ کو ان کا پورا ایڈریس روانہ کردیں گے۔
مسٹر فیڈرکو نے کہا کہ نہیں، ہم لوگ لیت ولعل (procrastination) کو پسند نہیں کرتے۔ اگر آپ کو ان لوگوں کے نام معلوم ہیں تو آپ اِس وقت ہم کو صرف ان کے نام لکھوا دیجئے۔ بعد کو ہم آپ سے ان کا مکمل ایڈریس حاصل کرلیں گے۔ کیا معلوم ہم لوگ یہاں سے واپس جاکر بھول جائیں اور یہ اہم کام پورا ہونے سے رہ جائے۔
6 ستمبر 2009 کی شام کو کانفرنس کے شرکاء کو ایک خصوصی رسپشن (reception) دیاگیا۔ یہ رسپشن کریکو کے میئر (Mayor of Krakow) کی طرف سے تھا۔ یہ دعوت نامہ انگریزی اور پولش (Polish) زبان میں تھا۔ اس کے انگریزی الفاظ یہ تھے:
Jacck Majchrowski
Mayor of Krakow
Has the honor of inviting you to a reception on the international meeting for Peace-People and Religions The Spirit of Assisi in Krakow.
اِس کی دعوت پر ہمارے ساتھیوں نے میئر آف کریکو کے پیلیس (Wielopolski Palace) میں رکھے گئے اِس رسپشن میں شرکت کی۔ یہاں شرکائِ کانفرنس کے علاوہ، اعلیٰ تعلیم یافتہ افراد اور مختلف ملکوں کے اعلیٰ عہدے داران موجود تھے۔ ہمارے ساتھیوں نے ان لوگوں کو قرآن کا انگریزی ترجمہ دیا۔ شرکاء نے اس کو نہایت خوشی کے ساتھ قبول کیا اور شکریہ ادا کیا۔
اِس تجربے کے بعدمیرے ایک ساتھی نے کہا کہ قدیم مذہبی جبر کے زمانے میں حاکمِ وقت خود اپنی طرف سے داعی کو اپنے محل میں نہیں بلاتا تھا۔ داعی کو خوف (طٰہٰ: 45 ) کی نفسیات کے تحت وہاں جانا پڑتا تھا۔ اب زمانہ اتنا زیادہ بد ل چکا ہے کہ خود حاکمِ وقت داعی کو اپنے محل میں بلاتا ہے اور وہاں اس کے ساتھ عزت واکرام کا معاملہ کرتا ہے۔ اِس طرح داعی کو یہ موقع ملتاہے کہ وہ خدا کے کلام کو حاکمِ وقت اور اس کے دوسرے ساتھیوں کے سامنے پیش کرے جس کو وہ خوشی کے ساتھ قبول کریں۔
پولینڈ کی یہ کانفرنس تین دن تک جاری رہی۔ اس کے ہر پینل میں ہمارے ساتھیوں نے کھلے طورپر قرآن کا انگریزی ترجمہ لوگوں کو مطالعے کے لیے دیا اور لوگوں نے اس کو شوق سے لیا اور اپنی پسندیدگی کا اظہار کیا۔ خود کمیونٹی کے افراد نے ہمارے ساتھیوں کے ساتھ اِس سلسلے میں تعاون اور حوصلہ افزائی کا معاملہ کیا۔
کانفرنس کے ایک ذمے دار ڈاکٹر فلپو (Philippo Sbrana) نے ہمارے یہاں سے چھپے ہوئے انگریزی ترجمہ قرآن کو اپنے ہاتھ میں لیا اور سب کے سامنے اپنی پسندیدگی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ — یہ قرآن کا پیس فل ترجمہ ہے:
It is a peaceful translation of the Quran.
اِس تجربے سے معلوم ہوا کہ جدید ذہن یا مسیحی ذہن کو نفسِ قرآن سے کوئی الرجی نہیں ہے۔ ان کی الرجی کا سبب مسلم علماء کے اپنے اضافے ہیں جو انھوںنے قرآن کی تفسیر میں یا اپنی کتابوں میں کررکھے ہیں۔ اِن اضافوںسے الگ کرکے اگر قرآن کو اس کی خالص شکل میں پیش کیا جائے تو وہ اس کو خوشی کے ساتھ قبول کریں گے۔
8 ستمبر 2009 کی صبح کو ہم لوگوںکو کریکو شہر کے باہر اُس مقام پر لے جایاگیا جس کو کنسنٹریشن کیمپ (Concentration Camp) کہاجاتاہے۔ یہ کیمپ جس ایریا میں واقع ہے، اس کا نام آشو ِز (Auschsitz Birkenau) ہے۔ کار کے ذریعے یہ تقریباً ایک گھنٹے کا راستہ تھا۔
دوسری عالمی جنگ کے دوران پولینڈ پر قبضہ کرنے کے بعد ہٹلر نے یہ کیمپ بنوائے تھے۔ اِس کو عام طورپر کنسنٹریشن کیمپ(Concentration Camp) کہا جاتا ہے۔ اِس سے مراد وہ مقام ہے جہاں کوئی حکومت اپنے نا پسندیدہ عناصر کو بند کردے، یا ان کو سزا دے کر انھیں ختم کرنے کی کوشش کرے:
Concentration Camp: Institution for detention of undesirable elements of population deemed dangerous by regime.
یہ اصطلاح پہلی بار برٹش ایمپائر کے ذریعے بوئر جنگ (Boer War-1899-1902) کے زمانے میں استعمال کی گئی۔ اس کے بعد دوسری عالمی جنگ کے زمانے میں ہٹلر نے اپنے ناپسندیدہ عناصر (undesirables) کے لیے اس کو استعمال کیا۔مثلاً یہود اور پولینڈ کے کچھ باشندے۔ کہاجاتا ہے کہ ان کیمپوں میں تقریباً 4 ملین انسان گیس چیمبر میں ڈال کر ختم کردئے گئے۔ اِن مرنے والوں میں تقریباً نوے فی صد لوگ یہودی تھے جو مختلف ملکوں سے یہاں لائے گئے تھے۔ یہ گیس چیمبر اب بھی وہاں سیاحوں کی زیارت کے لیے موجود ہیں۔
ہٹلر (Adolf Hitler) اپنے مزاج کے اعتبار سے، ایک غالی نسل پرست (racist) تھا۔ اِسی کے ساتھ وہ ایک شعلہ بیان خطیب (rabble-rouser) تھا۔ مشہور اقتصادی بحران کے زمانے میں اُس کو یہ موقع ملاکہ وہ جذباتی تقریریں کرکے اپنے گرد ایک بھیڑ اکھٹا کرلے اور جرمنی میں سیاسی اقتدار پر قابض ہوجائے:
Economic depression after 1929, brought mass support, making Nazis largest party in Reichstag. Hitler was appointed chancellor and established dictatorship in 1933.
ہٹلر کی سیاسی پارٹی کا نام نازی پارٹی تھا۔ یہ پارٹی 1923 میں قائم ہوئی۔ یہ پارٹی یورپ میں نسلی پیوریٹی کے نام پر بنائی گئی تھی۔ یہ لوگ جرمن آرین نسل کو سب سے بڑا درجہ دیتے تھے۔ اُن کو یہ شکایت تھی کہ غیر آرین لوگ ہمارے لیے غیر وفادار ہیں۔ اِس کا ایک اظہار وہ تھا جو فرسٹ انٹرنیشنل (1866) کے بعد ہوا:
Nazi party was founded on principles of ‘racial purity’, (Aryans representing ‘master race’), allgiance to führer (leader).
ہٹلر نے اپنے اِن نظریات کو اپنی کتاب — میری جدوجہد (Mein Kampf) میں لکھ دیا تھا۔ جرمنی میں سیاسی اقتدار پر قبضہ کرنے کے بعد ہٹلر نے اپنے اِن انتہا پسندانہ نظریات کے تحت یہودی نسل کو ختم کرنے کی کوشش کی، لیکن دوسری عالمی جنگ میں جرمنی کی شکست نے ہٹلر کی اِس تحریک کا خاتمہ کردیا۔
آشو ِز کا یہ وسیع کیمپ دو حصوں میں بٹا ہوا ہے۔ شروع میں ہم لوگ کیمپ کے پہلے حصہ (Auschwitz I) میں گئے۔ یہاں دور تک سرخ اینٹ کی پختہ عمارتیں پھیلی ہوئی تھیں۔ یہعمارتیں قیدیوں کے لیے بطور جیل استعمال کی جاتی تھیں۔ جنگ کے بعد 1947 میں یہاں ایک میوزیم (Auschwitz-Birkenau State Museum) بنا دیاگیا ہے، جہاں سیاح کثرت سے آتے ہیں۔ بتایاجاتاہے کہ اِن سیاحوں کی سالانہ تعداد تقریبا 70 ہزار ہوتی ہے۔
یہ پہلا کیمپ میوزیم اور گیس چیمبرس پر مشتمل ہے۔ اِس میوزیم میں یہاں مارے گئے لوگوں (victims) کی چیزیں مثلاً بال، جوتے، کنگھے، عینک، اور تصاویر وغیرہ موجود ہیں۔ ایک وسیع ہال میں یہاں لائے گئے مردوں اور عورتوں کے سر کے بال شیشہ کے کیس میں رکھے ہوئے تھے، اِسی طرح اور دوسری چیزیں بھی۔
8 ستمبر 2009 کو جب کنسنٹریشن کیمپ میں ہم لوگ گیس چیمبر (gas chambers) دیکھ کر باہر آئے تو وہاں ویٹکن ٹی وی (Rai) کے نمائندہ مسٹر رابرٹو(Roberto Olla) نے مجھ سے پوچھا کہ کنسنٹریشن کیمپ کو دیکھنے کے بعد آپ کا تاثر کیا ہے۔ میںنے کہا کہ یہ ایک دہشت ناک تجربہ تھا۔ اِس تجربے کو بیان کرنے کے لیے میرے پاس الفاظ نہیں ہیں۔ یقین نہیں آتا کہ ایک انسان دوسرے انسان کے ساتھ اتنا زیادہ بے رحمانہ سلوک کرسکتا ہے۔ یہ کہتے ہوئے میری آنکھوں میںآنسو آگئے۔ میری یہ حالت دیکھ کر انٹرویور بھی رونے لگے۔
میںنے کہا کہ اِس وقت میں اپنے آپ کو اسپیچ لیس (speechless) پارہا ہوں۔ میں صرف یہی کہہ سکتا ہوں کہ خدا ہماری مدد کرے اور اِس قسم کا سفاکانہ واقعہ دوبارہ تاریخ میں نہ پیش آئے۔
یہاں میوزیم میںجو مختلف سبق آموز چیزیں تھیں، اُن میں سے ایک یہ تھی کہ ایک جگہ دیوار پر ایک کالا بورڈ لگا ہوا تھا۔ اِس بورڈ پر سفید حروف میں مشہور فلسفی جارج سنٹیانا (وفات: 1952 ) کا ایک قول اِن الفاظ میں لکھا ہوا تھا— جو شخص تاریخ کو یاد نہیں رکھتا، وہ ضرور اس کا اعادہ کرے گا:
“The one who does not remember history, is bound to live through it again.” (George Santayana)
اِس کے بعد ہم کو کیمپ کے دوسرے حصہ (Auschwitz II)میں جانا تھا جو ایک میل کے فاصلے پر واقع تھا۔ یہاں جو پروگرام تھا، اس کی بابت گائڈ بک میںیہ الفاظ درج تھے:
Memorial Ceremony: Ceremony at the Execution wall, silent March along the rail tracks and Memorial ceremony at the Monument for the victims of Nazi-facism
پروگرام کے مطابق، پہلے مختلف مذاہب کے نمائندوں کے ایک وفد نے الگ الگ مقامات پر پھول ڈالا۔ اسلام کے نمائندہ کے طورپر راقم الحروف نے عرب علماء کے ایک وفد کے ساتھ ایک یادگار مقام پر پھول ڈالا۔ یہاں کئی لوگوں کی تقریریں ہوئیں۔ اِن میں سے اکثر لوگ وہ تھے جو دوسری عالمی جنگ کے موقع پر کنسنٹریشن کیمپ میں پکڑ کر لائے گئے تھے، لیکن وہ کسی وجہ سے زندہ بچ گئے۔ اِن مقررین میں سے ایک سابق ربائی مسٹر اسرائیل (Israel Meir Lau) تھے جو اُس وقت آٹھ سال کی عمر میں تھے۔ اب وہ یروشلم میں رہتے ہیں۔ وہاں سے وہ کانفرنس میںشرکت کے لیے آئے تھے۔
اِس موقع پر انھوں نے انگریزی زبان میں تقریرکی۔ہمارے ساتھیوں نے اُن کو انگریز ی ترجمہ قرآن کا ایک نسخہ دیا۔ انھوںنے اس کو خوشی کے ساتھ لیااور کہا کہ آپ لوگوں کا بہت بہت شکریہ کہ آپ نے مجھ کو قرآن کا نسخہ دیا۔ میںقرآن کو پڑھنا چاہتا تھا مگر میں ابھی تک اس کا کوئی نسخہ حاصل نہ کرسکا تھا۔انھوں نے اپنی تقریر میںجو کچھ کہا، اس کو انھیں کے الفاظ میں یہاں نقل کیا جاتاہے:
In September 1993, this week 16 years ago, I had a long talk with Pope John Paul II in Castelgandolfo, in Italy. At the beginning of our long talk he said to me, “I remember your grandfather in the city of Krakow, where I served as a bishop, during World War II. I remember your grandfather, Rabbi Frankel … walking to the synagogue, on Shabbat, on Saturday, surrounded by very many children. [The Pope] asked, “How many grandchildren do you have?” He answered, “47.” So the Pope asked me, “How many survived the Holocaust?” My answer was, “only 5.” Forty-two, including my brother, who was 13 years old, and all my cousins, perished during Holocaust. He lifted up his face to the ceiling and the Pope said to me: “I was visiting already a hundred States. Wherever I go I emphasize that we, all mankind, are obliged and committed for the future and the continuity of our senior brothers, the Jewish people.” I will finish my words very personal, as I have started, with the memories of the Pope. He asked me “Chief Rabbi, do you have children?” I said, “Yes I do.” “Do they live in Israel?” “Yes all of them, my grandchildren as well live in Israel.” He said to me, “This is the way to promise what I spoke about, the future and the continuity of the Jewish people.” When I was, in ’95, at the concentration camp of Buchenwald, in the city of Weimar in Germany, where I was liberated at less than 8 years old, I saw in a window, the wall of the window of the torture room, you can see it today, one word, written with a nail of one of the prisoners, a Jewish one, because it was in Yiddish, in the Jewish language, the word was necume, take revenge. This was the last word of a man tortured in that room, a victim in Buchenwald. Revenge. What revenge can we take?
Amazing. I am a believer, I believe in the Lord almighty, not only because I am a Rabbi or because I am Jewish, but because I am a man, a human being.
I believe from heaven it happened: two or three hours ago, here in the city of Krakow, I arrived last night only for this ceremony, I received a phone call from my granddaughter. “Grandfather — she said — half an hour ago I brought you a great grandchild.” She gave birth to a son at seven o’ clock in the morning today in Israel.
This is my revenge. This is my answer. This is my solution. Live and let live. Live together, in friendship, in love, in peace. Thank you.
یہاں اسلام کے نمائندے کے طورپر پھول ڈالنے کا کام مجھے سونپا گیا۔ جب میں پھول لے کر آگے بڑھ رہا تھا تو میرے ساتھ چلنے والے ایک عرب عالم نے مجھ سے کہا: یا شیخ ، المسیحیون قتلوا الیہود، والیہود قتلوا المسیحیین، ونحن علی طرف (مسیحیوں نے یہود کو قتل کیا اور یہود نے مسیحیوں کو قتل کیا، ہمارا اِس سے کوئی تعلق نہیں)۔ اُس وقت کچھ کہنے کا موقع نہیں تھا۔ بعد کو میں نے اپنے ساتھیوں سے کہاکہ یہ یہودی اور مسیحی کی بات نہیں ہے، بلکہ یہ انسان کی بات ہے اور ہمیں دکھ ہونا چاہیے کہ انسان نے انسان کے ساتھ ایسا سفاکانہ سلوک کیا۔
یہاں میرے پاس جامعۃ الازہر کے ایک استاد دکتور حسن حنفی بیٹھے ہوئے تھے۔ میں نے اُن سے فلسطین کے مسئلے پر بات شروع کی۔ میںنے کہا کہ آپ کا کیا خیال ہے، عرب علماء اور رہنما مسئلۂ فلسطین کا کوئی حل دریافت کرنے کی پوزیشن میں ہیں۔ انھوں نے کہا کہ جب ایک فریق کھلے طور پر جارحیت کر رہا ہو تو پھر ایسی حالت میں اِس مسئلے کا کوئی حل کیسے نکل سکتاہے۔
میںنے کہا کہ مسئلہ فلسطین کاکوئی حل اُس وقت نہیں نکل سکتا، جب تک فلسطین تحریک اپنی مسلم جدوجہد کو یک طرفہ طورپر ختم (disarmed) کرنے کے لیے تیار نہ ہوجائے۔ انھوںنے کہا کہ یہ تو فریقِ مخالف کے سامنے سرینڈر کرنا ہے۔ اِس طرح کے یک طرف سرینڈر کے ذریعے کیسے کوئی حل نکل سکتاہے۔ میںنے کہا کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں اِس کا واضح نمونہ صلح حدیبیہ کی صورت میں موجود ہے۔ حدیبیہ کے موقع پر رسول اور اصحابِ رسول نے اِس یک طرفہ صلح کے ذریعے وہ کامیابی حاصل کی جس کو قرآن میں ’’فتحِ مبین‘‘ کہاگیا ہے۔ ایسی حالت میں یہ ناجنگ معاہدہ فتحِ مبین (الفتح: 1 ) کے دروازے کو کھولنے کے ہم معنیٰ ہے، نہ کہ مفروضہ طورپر دشمن کے سامنے سرینڈر کرنے کے ہم معنی۔ میری بات سن کر وہ خاموش ہوگئے۔
کنسنٹریشن کیمپ سے میں بذریعہ کار سیدھے ہوٹل (Sheraton) لوٹ آیا۔ لیکن دوسرے شرکائِ کانفرنس کو کمیونٹی کی طرف سے آشوز(Austhwitz) کے ایک رسٹورنٹ میںسادہ رسپشن دیا گیا۔ اس میں معروف لنچ(lunch) کے بجائے لوگوں کو صرف جوس اور فروٹ (snack) دیاگیا تھا۔ ایسا انھوں نے رمضان کے احترام میں کیا تھا۔ یہ گویا ترکِ طعام کے بجائے تقلیلِ طعام کا ایک مظاہرہ تھا۔
میںنے اپنے ساتھیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہٹلر کے عروج وزوال میںبہت بڑا سبق ہے۔ ہٹلر کی کتاب میری جدوجہد (My Struggle) پڑھئے تو معلوم ہوگا کہ وہ اپنے سیاسی حوصلے میں سرشار ہے۔ اس کو یقین ہے کہ وہ پورے یورپ میںنازی ازم (Nazism) کو غالب کردے گا۔ اِسی تصور کے تحت اس نے 1939 میں دوسری عالمی جنگ چھیڑ دی، لیکن اس کا انجام صرف یہ ہوا کہ جرمنی تباہ ہوگیا اور خود ہٹلر نے ایک بنکر (bunker) کے اندر خودکشی کرلی۔
یہی انجام اِس قسم کے دوسرے لوگوں کا بار بار ہوا ہے۔ مثلاً اسکندر اعظم، چنگیز خاں، نادر خاں، نپولین، اسٹالن، وغیرہ۔ جب کسی آدمی کو بڑی سیاسی طاقت مل جائے تو وہ شعوری یا غیرشعوری طور پر یہ سمجھ لیتا ہے کہ میں سب کچھ کرسکتا ہوں۔ اِس قسم کے لوگ اپنی طاقت کا غلط اندازہ کرکے اکثر بڑی بڑی سیاسی چھلانگ لگاتے ہیں جس کا نتیجہ ہمیشہ منفی صورت میں نکلتا ہے۔
ایک گفتگو کے دوران میں نے کہا کہ تاریخ کا ایک عجیب المیہ ہے کہ لوگ ہمیشہ ادارہ (institution) کو اہمیت دیتے ہیں، نہ کہ فرد(individual) کو، حالاں کہ یہ ایک حقیقت ہے کہ تمام بڑے بڑے کام افراد نے انجام دئے ہیں، نہ کہ کسی ادارے نے۔
اِس کا سبب کیا ہے۔ اِس کا سبب یہ ہے کہ کسی بڑے کام کے لیے بہت بڑے محرک (incentive) کی ضرورت ہوتی ہے۔ یہ دراصل بڑا محرک ہے جو کسی بڑے کام کا سبب بنتاہے۔ اور یہ ایک حقیقت ہے کہ بڑا محرک ایک فرد کے دماغ میں پیدا ہوتا ہے، نہ کہ کسی ادارے کے مجموعی دماغ میں۔ چناں چہ کہاجاتا ہے کہ کوئی بڑا آرٹ ہمیشہ انفرادی دماغ (individual mind) نے تخلیق کیا ہے۔ کبھی ایسا نہیںہوا کہ کئی لوگوں کے مجموعی دماغ (collective mind) نے کسی بڑے آرٹ کی تخلیق کی ہو۔
سوویت یونین میں بعد کے زمانے میں جب کہ اُن کے یہاں کوئی بڑا لیڈر موجود نہ رہا تو ان کے یہاں ایک نیا تصور پیداہوا جس کو وہ لوگ اجتماعی قیادت (collective leadership) کہتے تھے۔ لیکن یہ ’’اجتماعی قیادت‘‘ سوویت یونین کے زوال کو بچا نہ سکی۔ سوویت یونین کا عظیم ادارہ اب بھی موجودتھا، لیکن لینن (وفات: 1924 ) اور اسٹالن (وفات: 1953 ) جیسا کوئی فرد نہ ہونے کی وجہ سے ظاہری اعتبار سے بڑا سیاسی ادارہ ہونے کے باوجود سوویت یونین منہدم ہو کر رہ گیا۔
8 ستمبر 2009 کی دوپہر کو ہم لوگ آشوز (Auschwitz) سے لوٹ کر اپنی قیام گاہ پر واپس آگئے۔ آج شام کو کانفرنس کا آخری پروگرام تھا۔ یہ پروگرام بہت بڑے پیمانے پر ہوتا ہے۔ اس کو دعائِ امن (prayer for peace) کہاجاتاہے۔
اِس کا طریقہ یہ ہے کہ ہر مذہب کے لوگ مختلف مقامات پر اکھٹا ہو کر اپنے مذہب کے مطابق، عبادت کرتے ہیں۔ وہاں وہ امن کی دعاء کرتے ہیں۔ اِس کے بعد یہ تمام لوگ یکجا ہو کر جلوس کی شکل میں چلتے ہیں۔ سڑک کے دونوں طرف مقامی لوگ بڑی تعداد میںاستقبال کے لیے کھڑے رہتے ہیں، پھر یہ قافلہ چلتا ہوا ایک مقام تک پہنچتا ہے جہاں بہت بڑا اسٹیج بنا ہوا ہوتا ہے۔ یہاں کانفرنس کے لوگ بلند اسٹیج پر بنی ہوئی مخصوص نشستوں پر بیٹھتے ہیں۔ یہاں امن کے موضوع پر تقریر یں ہوتی ہیں، امن کی مشعل جلائی جاتی ہے، امن کے ڈیکلریشن پر دستخط کئے جاتے ہیں، وغیرہ۔ آخر میں پیس پیس (peace, peace) کہتے ہوئے سب لوگ ایک دوسرے سے ملتے ہیں۔
کانفرنس کا یہ آخری اجلاس (final ceremony) جس مقام پر ہوا، اس کو مارکیٹ اسکوائر (Market Square) کہتے ہیں۔یہ ایک وسیع اورکشادہ جگہ ہے۔ یہاں چاروں طرف بڑے بڑے چرچ (Cathedral) اور بڑی بڑی عمارتیں ہیں۔ یہاں لوگ بہت بڑی تعداد میں اکھٹا ہوئے تھے۔ میرے ساتھیوں نے یہاں قرآن کا انگریزی ترجمہ بڑے پیمانے پر لوگوں کو دیا۔
آخری اجلاس کے موقع پر جن لوگوں کو قرآن کا انگریزی ترجمہ دیا گیا، ان میں سے ایک مسٹریوشع(Joshua P. Du Bois) تھے۔ وہ صدر امریکا براک اوباما کے خصوصی معاون ہیں۔ میرے ساتھیوں نے مسٹر یوشع کو قرآن کے انگریزی ترجمے کی مزید کاپیاں دیتے ہوئے کہا کہ براہِ کرم، اِس کو آپ صدر امریکا اور وائٹ ہاؤس کے دیگر افراد تک پہنچانے میں ہمارا تعاون فرمائیں۔ مسٹر یوشع نے خوشی کے ساتھ اِس درخواست کو قبول کیا اور کہا کہ ہم ضرور اِس کو صدر اوبامہ تک پہنچا دیں گے۔ مسٹریوشع نے اپنا جو وزٹنگ کارڈ دیا، اس میں ان کے بارے میں یہ الفاظ درج تھے:
Special Assistant to the President Obama and Executive Director, White House Office of Faith-Based and Neighborhood Partnerships, The White House, Washington, D.C.
اِس اجلاس کے بعد کانفرنس کی رسمی کارروائی ختم ہوچکی تھی۔ آج شام کے کھانے کا انتظام کریکو کے ایک تاریخی مقام (Gardens of the Archeological Museum) پر کیاگیا تھا۔ اِس کا جو دعوت نامہ ہم لوگوں کو ملا، اس کے اوپر یہ الفاظ درج تھے:
The Marshal of the Voivodship of Matopolska is privileged to invite you to a dinner.
یہاں میوزیم کے خوب صورت پارک کے اندر خاص انداز سے سفید کپڑوں کے ذریعے بنایا ہوا ایک بہت بڑا ہال تیار کیاگیا تھا۔ اِسی ہال میں ہم لوگوں کے کھانے کا انتظام تھا۔ اِس موقع پر ہمارے ساتھیوں نے ایک میز پر قرآن کے انگریزی ترجمے کی کاپیاں رکھ دیں۔ وہ حاضرین سے مل کر انھیں قرآن کا انگریز ی ترجمہ اور دعوتی لٹریچر دے رہے تھے۔
عجیب بات ہے کہ اِس کانفرنس میںجو عرب آئے ہوئے تھے، انھوں نے اِس دعوتی کام سے کوئی دل چسپی نہیں لی، بلکہ کانفرنس کے دوران انھوںنے ہمارے ساتھیوں کی اِس دعوتی جدوجہد کی حوصلہ شکنی کی۔ ان لوگوں سے بات کرنے کے بعد اندازہ ہوا کہ ان کے اندر دعوت الی اللہ کا کوئی جذبہ موجود نہیں۔ اسلام کے نام پر جس چیز سے وہ باخبر ہیں، وہ صرف اُن کا قومی فخر ہے، اِس کے سوا کچھ اور نہیں۔
یہاں جن لوگوں سے ملاقات ہوئی، اُن میں سے ایک مز کیتھرین تھیں۔ وہ سویڈن کے شہر اُپسالا (Uppsala) کے چرچ کی نمائندہ تھیں۔ میرے ساتھی مولانا محمد ذکوان ندوی نے اُن سے سویڈش (Swedish)زبان میں بات کی اور اُن کو قرآن کا انگریزی ترجمہ اور دعوتی لٹریچر دیا۔ وہ بہت خوش ہوئیں۔ مولانا محمد ذکوان ندوی اِس سے پہلے سویڈن (یورپ) کے دار السلطنت اسٹاک ہوم (Stockholm) میں چار سال تک رہ چکے ہیں۔ مز کیتھرین نے کہا کہ مجھ کو اِس ترجمہ قرآن کی ایک مزید کاپی چاہیے۔ میںاُسے اپنے ساتھی کو مطالعے کے لیے دوں گی۔ مز کیتھرین کے کارڈ پر اُن کے متعلق یہ الفاظ درج تھے:
Ann-Cathrin Jarl
PhD, Reverend, Chaplain to the Archbishop
وارسا کے ایک ڈیلی نیوز پیپر (Rzeczpospolita)کی نمائندہ مزایوا (Ewa Czaczkowska) نے کانفرنس سے متعلق میرے تأثرات پوچھے۔ میں نے حسب ذیل الفاظ میں اپنے تأثرات کا اظہار کیا:
According to my experience, the International meeting at Kracow organized by the community of St. Egidio, is very important. I see it in term of a process. Karacow meeting is a part of a continued process. It is like reviving the spirit of Assisi. The Community of St. Egidio is trying to mobilize people on the spirit of peace. Such mibilization itself is very important. I have participated in some meeting of this kind. I have found that it always yields positive result, specially in terms of peace and brotherhood. I hope that Kracow meeting will surely boost this peace process.
پولینڈ نسبتاً یورپ کا ایک پس ماندہ ملک ہے، لیکن یہاں کا انفراسٹرکچر (infrastructure) تقریباً اُسی معیار کا نظر آیاجو یورپ کے دوسرے ترقی یافتہ ملکوں میں دکھائی دیتا ہے۔ مثلاً سوئزرلینڈ اور جرمنی، وغیرہ۔اِس کا سبب یہ ہے کہ مسیحی یورپ (بااستثنائِ ترکی) ہر جگہ یہ ذہن پایا جاتاہے کہ انفراسٹرکچر کے مطالعے میں کوئی سمجھوتہ نہیں کرنا ہے۔ یورپ میں دوسری کئی برائیاں پائی جاتی ہیں، لیکن انفراسٹرکچر کے معاملے میں سب کا ذہن ایک ہے، وہ یہ کہ انفراسٹرکچر کو اعلیٰ معیار پر باقی رکھنا ہے۔ وہاں کا کوئی کنٹریکٹر (contractor)اگر کوئی سڑک بنائے یا تعمیرات کرے تو وہ ایسا کبھی نہیں کرے گا کہ اپنے فائدے کے لیے وہ طے شدہ معیار میں کمی کردے۔
انڈیا اور پاکستان کا معاملہ اس کے بالکل برعکس ہے۔ یہاں کی سپریم چیز صرف ایک ہے، اور وہ صرف پیسہ (money) ہے۔ یہاں کا انجینئر اور کنٹریکٹر کم تر معیار کی چیزیں بنائے گا، صرف اِس لیے کہ اس کی اپنی کمائی میںاضافہ ہوسکے۔
کریکو میںایک بار ایساہوا کہ ہم سڑک پر بذریعہ کار سفر کررہے تھے۔ درمیان میں ایک جگہ کار تقریباً 15 منٹ تک آہستہ آہستہ چلتی رہتی رہی۔ میں نے اپنے ساتھی سے پوچھا کہ ایسا کیوںہے۔ انھوںنے بتایا کہ ہماری کار کے آگے ایک گھوڑا گاڑی چل رہی ہے۔
اِس قسم کی گاڑی یہاں سیاحوں کی تفریح کے لیے چلائی جاتی ہے جس کو جوائے رائڈ (joy ride) کہاجاتاہے۔ انڈیا میںاِس طرح کے موقع پر کار کا ڈرائیور مسلسل ہارن بجائے گا، لیکن وہاں ایک بار بھی ڈرائیور نے ہارن نہیں بجایا۔ وہ صبر کے ساتھ چلتا رہا، یہاں تک کہ راستہ صاف ہوگیا، پھر اس نے اپنی گاڑی تیز چلائی۔
ہم لوگ پولینڈ میں تین دن تک رہے۔ ہمیں یہاںکی مختلف سڑکوں پر گزرنے کا موقع ملا، لیکن کہیں کوئی شور وغل یا ہارن کی آواز سنائی نہیں دی، کسی مقام پر ایسا نہیں ہوا کہ بھیک ماننے والے لوگ ہماری گاڑی کو گھیر کر کھڑے ہوجائیں۔ انڈیا میں گانے والے لوگ اِس قسم کے گیت گاتے ہیں:
مرے دیش کی دھرتی سونا اگلے، اگلے ہیرے موتی
لیکن پہلا موقع پاتے ہی وہ اپنے بیٹے اور بیٹی کو یورپ اور امریکا بھیج دیتے ہیں— انڈیا کے سارے بگاڑ کا سبب صرف ایک ہے اور وہ کرپشن (corruption) ہے۔ بظاہر حالات انڈیا میں کرپشن کے خاتمے کی کوئی صورت نظر نہیں آتی۔
ایک عرب عالم سے مجدد اور تجدید دین کے موضوع پر گفتگو کرتے ہوئے میں نے کہا کہ مجدد کون ہے۔ مجدد کوئی پُر اسرار لفظ نہیں۔ مجدد دراصل وہ ہے جو بدلے ہوئے حالات میںاسلام کے ریلونس (relevance) کو دریافت کرے۔ مثلاً موجودہ زمانے میں سیکولرازم اور جمہوریت کے سیاسی نظریات سامنے آئے تو تمام مسلم رہنماؤں نے اس کے خلاف منفی رد عمل کا اظہار کیا، حالاں کہ تجدیدی نقطۂ نظر سے کرنے کا اصل کام یہ تھا کہ وہ سیکولر ازم اور جمہوریت کے مقابلے میں اسلام کی مثبت پوزیشن کو دوبارہ دریافت کریں۔
کریکو سے واپسی کا سفر 9ستمبر 2009 کو شروع ہوا۔ واپسی کا سفر بھی دوبارہ اُسی راستے سے طے ہوا جس راستے سے ہم لوگ دہلی سے کریکو گئے تھے۔ راستے میںایک انگریزی اخبار میں ایک خبر پڑھنے کو ملی۔ یہ خبر نئی دہلی کے انگریزی اخبار ٹائمس آف انڈیا (8 ستمبر 2009) میں بھی چھپی ہے۔ اِس خبر کاعنوان یہ تھا — خدا کا عقیدہ انسان کے دماغ میں پیوست ہے:
Belief in God hardwired in our brain
خبر میں بتایا گیا تھا کہ انگلینڈ کی برسٹول یونی ورسٹی (Bristol University) میںایک رسرچ ہوئی ہے جس کے نتائج ٹائمس آن لائن (Times Online) میں چھپے ہیں۔ اِس رسرچ میں بتایاگیاہے کہ— خدا کا عقیدہ انسان کے اندر پیدائشی طور پر موجود ہوتاہے۔ ارتقاء کے دوران انسان کی اِس طرح پروگریمنگ ہوئی ہے کہ وہ خدا پر عقیدہ رکھے، کیوں کہ اِس سے اُنھیں زندہ رہنے کا زیادہ بہتر موقع ملتاہے:
We are born believers. Human beings are programmed by evolution to believe in God, because it gives them a better chance to survival. (p. 17)
اِس بیان میں عقیدہ خدا کا فطری ہونا تو رسرچ کا حصہ ہے، لیکن ارتقاء (evolution) والی بات رسرچ کرنے والوں کا اپنا اضافہ ہے —حقیقی مشاہدات میںاِسی قسم کے مفروضات کے اضافے سے حیاتیاتی ارتقاء کا پورا نظریہ قائم کیاگیا ہے۔
9 ستمبر 2009 کو پولینڈ سے واپسی تھی۔ائرپورٹ جانے کے لیے ہمیں صبح سویرے چار بجے ہوٹل سے نکلنا تھا۔ کمیونٹی کے ایک ممبر نے کہا کہ میں آپ کو اپنی کار سے ائر پورٹ لے جاؤں گا۔ میںاپنے مزاج کی بنا پر متردد تھا کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ وہ ٹھیک وقت پر ہماری قیام گاہ پرنہ پہنچ سکیں، کیوں کہ وہ کسی دوسری جگہ ٹھہرے ہوئے تھے۔ لیکن صبح کو جب ہم لوگ ہوٹل کے رسپشن سے چیک آؤٹ (check-out) کرکے ہوٹل کے گیٹ پر پہنچے تو ہم نے دیکھا کہ مذکورہ نوجوان وہاں پیشگی طورپر اپنی گاڑی لے کر کھڑے ہوئے ہیں۔ خدمت کرنے والے یہ لوگ کوئی عام لوگ نہ تھے۔ وہ اعلیٰ تعلیم یافتہ تھے اور اچھے عہدوں سے تعلق رکھنے والے تھے۔
ہوٹل سے روانہ ہو کر ہم لوگ کریکو ائر پورٹ پہنچے۔ کریکو ائر پورٹ نسبتاً ایک چھوٹا ائر پورٹ ہے۔ ہم لوگوں نے فجر کی نماز ائر پورٹ پر ادا کی۔ ائر پورٹ کی رسمی کارروائی کے بعد ہم جہاز کی طرف بڑھے۔ یہاں ہمارے ساتھیوں نے کچھ مسافروں اور ائر پورٹ کے عملہ کو قرآن کا انگریزی ترجمہ اور دعوتی لٹریچر دیا۔
مختلف مراحل سے گزرتے ہوئے ہم لوگ جہاز کے اندر داخل ہوئے۔ یہ ایک چھوٹا جہاز تھا۔ کریکو سے وارسا کا یہ سفر پولش ائر لائنز کی فلائٹ نمبر 3910 کے ذریعے ہوا۔ صرف 50 منٹ کی پرواز کے بعد ہم لوگ وارسا ائرپورٹ پر اتر گئے۔ وارسا ائرپورٹ پر ہم لوگ یہاں کے لاؤنج میں چلے گئے۔ وہاں بیٹھنے کے علاوہ کھانے پینے کا بھی انتظام تھا۔
لاؤنج کے مختلف حصوں میں بہت سے لوگ بیٹھے ہوئے تھے، لیکن وہاں کسی قسم کا کوئی شور نہ تھا۔ ہر عورت اور مرد خاموشی کے ساتھ اپنا اپنا کام کررہے تھے۔ مغربی دنیا میں جس طرح ورک کلچر ہے، اسی طرح یہاں خاموشی کلچر ہے۔ یہ لوگ یا تو چپ رہتے ہیں، یا وہ بہت آہستہ آہستہ بات کرتے ہیں، تاکہ آس پاس کے لوگ ڈسٹرب نہ ہوں۔ یہاں بھی ہمارے ساتھیوں نے لاؤنج میں بیٹھے ہوئے مختلف لوگوں کو قرآن کا انگریزی ترجمہ دیا۔
وارسا کے لاؤنج میں تقریباً 2 گھنٹے انتظار کرنے کے بعد ہم لوگ دوپہر کے وقت اگلے جہاز پر سوار ہوئے۔ یہ جہاز وارسا سے زیورک جانے والا تھا۔ وارسا سے زیورک کا جہاز کسی وجہ سے آدھ گھنٹہ لیٹ ہوگیا۔ یہ ہمارے لیے ایک سنگین مسئلہ تھا۔ کیوں کہ زیورک ائرپورٹ پر اگلے جہاز کا وقت اِس طرح تھا کہ جب یہ جہاز وہاں پہنچے گا تو اُس وقت وہ جہاز زیورک سے دہلی کے لیے روانہ ہو چکاہوگا۔
لیکن اس موقع پر ہم لوگوں کے ساتھ خدا کی خصوصی مدد ہوئی۔ زیورک پہنچنے پر معلوم ہوا کہ زیورک سے دہلی جانے والا جہاز آدھ گھنٹہ لیٹ تھا۔ اِس تاخیر کی بنا پر ہم لوگوں کو زیورک ائر پورٹ پر مزید رکنا نہیں پڑا اور آسانی سے اگلا جہاز مل گیا۔ زیورک ائر پورٹ پر جب ہم کو یہ بات بتائی گئی تو ہمارے ساتھیوں نے اللہ تعالیٰ کا خصوصی شکر ادا کیا۔ مجھے ایسامحسوس ہوا کہ دہلی سے چلتے ہوئے میںنے دہلی سے دہلی تک (from Delhi to Delhi) کی جو دعا کی تھی، وہ اللہ تعالیٰ نے قبول فرمائی اور اسی کا یہ کرشمہ ہے کہ ہمیں زیورک میں اگلا جہاز آسانی کے ساتھ مل گیا۔
زیورک ائر پورٹ کی ایک قابلِ ذکر بات یہ ہے کہ یہاں ہمیں ائر پورٹ کی لمبی دوری طے کرکے فوراً جہاز تک پہنچنا تھا۔ اِس کے لیے مجھے یہاں ایک خصوصی وھیل چئر فراہم کی گئی۔ شروع میں ہماری وھیل چئر ائرپورٹ کی ایک خاتون چلا رہی تھیں۔ وہ بہت آہستہ آہستہ چلا رہی تھیں جس کی وجہ سے میں بہت پریشان تھا اور اندر ہی اندر دعا کررہا تھا۔ اتنے میںائر پورٹ کے عملے کا ایک مرد آگیا اور تیزی سے وھیل چئرکو دوڑاتے ہوئے جہاز کے دروازے تک پہنچا دیا۔ ہمارے ساتھیوں نے یہاں بھی ائر پورٹ کے عملے کے لوگوں کو دعوتی لٹریچر دیا۔
زیورک سے دہلی کا یہ سفر 8 گھنٹے کا تھا۔ اِس دوران سوئس انٹرنیشنل ائرلائنز (Swiss International Air Lines) کا فلائٹ میگزین(Swiss Universe) دیکھنے کو ملا۔ یہ میگزین دو زبانوںمیں تھا — سوئس اور انگلش۔ 96 صفحے کے اِس میگزین میں صرف تین موضوعات شامل تھے— فیشن، بزنس، ٹریویل۔ اس کے دوصفحے میں خریداری کے لیے عورتوں کا چوائس اور مردوں کا چوائس الگ الگ بتایاگیا تھا۔ مردوںکا چوائس (Men’s Choice) خاص طورپر تین چیزیں تھیں— cellphone ، bicycle ، motorbike ۔ اِس کے برعکس، عورتوں کا چوائس (Ladies’ Choice) یہ بتایا گیاتھا— White-gold necklace, White-gold ring, Rose-gold watch ۔
قرآن میں عورتوں کے بارے میں آیا ہے: أو من یُنشَّأ فی الحلیۃ (الزّخرف: 18) یعنی عورت آرائش میں پرورش پاتی ہے۔ فلائٹ میگزین کے مذکورہ صفحے کو دیکھ کر میںنے سوچا کہ قدیم عورت کی جو نفسیات تھی، وہی جدید عورت کی بھی نفسیات ہے۔
وارسا کے لاؤنج میںکچھ اخبارات مطالعے کے لیے موجود تھے۔ اُن میں سے ایک لندن کا اخبار ٹائمس (The Times) تھا۔ یہ اخبار 90 صفحات پر مشتمل تھا۔ اخبار کے صفحہ 15 کی ایک سرخی یہ تھی— مسجد پر اسلام مخالف مظاہرہ کی صور ت میں تشدد کا اندیشہ:
Violence fears as anti-Islam protest targets mosque
خبر میں بتایا گیا تھا کہ کچھ شدت پسند عناصر 11 ستمبر 2001 کے واقعے کو لے کر لندن کی سنٹرل مسجد (Harrow Central Mosque) پر مظاہرہ کرنے کا منصوبہ بنارہے ہیں۔ اِس بنا پر یہ اندیشہ کیا جارہا ہے کہ ایسے موقع پر مظاہرین اور مسلمانوں کے درمیان تصادم (clash) ہوسکتاہے۔ مگر یہ ایک بے بنیاد بات ہے۔ اِس قسم کے مظاہرے کا صحیح جواب یہ ہے کہ اس کا جواب ہی نہ دیاجائے۔ ایسے مواقع پر یہ دراصل جوابی رد عمل ہے جو مسئلہ پیدا کرتاہے، نہ کہ خود عمل۔ یہی وہ حکمت ہے جس کو حضرت عمر فاروق نے اِن الفاظ میں بیان کیا تھا۔ أمیتوا الباطل بالصّمت عنہ (باطل کا خاتمہ کرو، اس کے معاملے میں چپ رہ کر)
اخبار کے صفحہ 32 پر کچھ اقوال نقل کئے گئے تھے۔ اُن میں ایک قول یہ تھا— اپنے بچوں کو دیانت کی تعلیم دینے سے پہلے ہمیں دنیاکو دیانت دار بنانا ہوگا:
‘We must make the world honest, before we can honestly say to our children that honesty is the best policy’. George Bernard Shaw
برنارڈ شا کا یہ قول ایک دل چسپ قول ہوسکتاہے، لیکن حقیقت کے اعتبار سے وہ ایک غیر عملی بات ہے۔ دنیا کے تمام لوگوں کو دیانت داربنانا ایک غیر عملی منصوبہ بنانا ہے۔ اِس قسم کا آئڈیل سماج اِس دنیا میں کبھی نہیں بن سکتا۔ لیکن افراد کے لیے یہ ممکن ہے کہ وہ اپنے آپ کو بقدر امکان دیانت دار بنائیں۔ دوسری بات یہ کہ دیانت داری صرف عملی برتاؤ کا نام نہیں ہے۔ دیانت داری سب سے پہلے دیانت دارانہ سوچ (honest thinking) کانام ہے، اور کسی فرد کے لئے دیانت دارانہ سوچ ہمیشہ اور ہر حال میں قابل عمل ہوتی ہے۔
جہاز کے اندر جب مسافروں کے لیے کھانا آیا تو میںنے دیکھا کہ اس کے پیکٹ کے اوپر یہ الفاظ درج تھے— کھانے کا لطف اٹھائیے: Enjoy your meal
یہ بات کھانے کے پیکٹ پر پانچ زبانوں میں لکھی ہوئی تھی۔ عربی زبان میں یہ الفاظ تھے:
بالہنا والشفا
یہ جدید مادّی کلچر کا ایک نمونہ ہے۔ زندگی کا مادّی نقطہ نظر (materialistic concept of life) پورا کا پورا تفریح (entertainment) کے اصول پر مبنی ہے۔ اِس کے مقابلے میں، مومنانہ نقطۂ نظر یہ ہے کہ ہر چیز میں خدا کی رحمت کو دیکھا جائے۔ کھانے کو الحمد للہ کہہ کر کھایا جائے۔ لیکن یہ الحمد للہ صرف لسانی تلفظ نہیںہے، بلکہ وہ شکر سے معمور قلب کا ایک گہرا اظہار ہے۔
9 ستمبر 2009 کی رات کو بارہ بجے ہم لوگ دہلی ائر پورٹ پر اترے۔ایر پورٹ کی طرف سے مجھ کو وھیل چئر مہیا کی گئی۔ میںاِس وھیل چئر پر بیٹھ کر چلا، مگر تھوڑی دیر میں مجھے سخت انقباض ہونے لگا۔ یہ وھیل چئر ایک انڈین آدمی چلا رہا تھا۔ وہ اتنے سست انداز میں وھیل چئر چلا رہا تھا جس کو عوامی زبان میں ’مارے باندھے‘ طریقے پر چلانا کہاجاتا ہے، جب کہ اِس سے پہلے وارسا اور زیورک ائر پورٹ پر یورپین آدمی پورے جوش و خروش کے ساتھ وھیل چئر چلا رہا تھا۔ مجھے یہ بات سخت ناگوار ہوئی اور میں پاؤ ںسے چل کر ائر پورٹ کے باہر آیا۔
دہلی ائر پورٹ پر پہنچنے کے بعد میرے ساتھی نے مسٹر اشوک ڈرائیور کو ٹیلی فون کیا۔ انھوںنے بتایا کہ میںائرپورٹ کے باہر موجود ہوں۔ یہ کرشمہ موبائل ٹیلی فون کا تھا۔ موبائل کے دورسے پہلے مسافر کو یہ معلوم نہیں ہوتا تھا کہ اس کی کار یا اس کو رسیو کرنے والے لوگ ائر پورٹ پر آئے ہوئے ہیں یا نہیں۔ اب موبائل کی بناپر یہ ممکن ہوگیا ہے کہ ہوائی جہاز کے لینڈ کرتے ہی یہ معلوم کرلیا جائے۔ یہ اللہ تعالیٰ کی عجیب نعمت ہے۔ اِس نعمت کو بے شمار لوگ استعمال کررہے ہیں، ریلوے اسٹیشن پر بھی اور ائر پورٹ پر بھی، لیکن میں نے کسی کو نہیں دیکھاجو اس عظیم نعمت پر شکر ِ خداوندی کے جذبے سے سرشار ہورہا ہو۔
جب میں دہلی سے سفر کرکے پولینڈ گیا تھا تو وہاں بھی ائر پورٹ پر مجھ کو رسیو کرنے والے لوگ موجود تھے۔ جب میں وہاں سے دہلی آیا تو یہاں کے ائر پورٹ پر بھی ایسا ہی ہوا۔ میںنے دعا کی کہ خدایا، اِسی طرح میری زندگی کا جہاز ایک دن آخرت کے ائرپورٹ پر اترنے والا ہے۔ تو اپنے فرشتوں کو حکم دے دے کہ وہ وہاں میری مدد کے لیے موجود ہوں اور مجھے اپنے ساتھ لے کر اُس قیام گاہ تک پہنچا دیں جس کے بارے میں قرآن میں بتایا گیا ہے کہ جہاں نہ خوف ہوگا اور نہ حزن۔
(یہ سفرنامہ مولانا محمد ذکوان ندوی کے تعاون سے تیار کیا گیا)
زر تـعـــاون الــرســــالــہ
واپس اوپر جائیں