Pages

Tuesday, 2 March 2010

Al Risala | March 2010 (الرسالہ،مارچ)


قطر کا سفرنامہ

قطر ایک خلیجی ملک ہے۔ قطر کی منسٹری آف فارین افئرس (Ministry of Foreign Affairs) کے تحت ایک ادارہ قائم ہے۔ اُس کا نام یہ ہے: مرکز الدوحۃ الدُولی لحوار الأدیان:
Doha International Center for Interfaith Dialogue
اِس ادارے کے تحت، دوحہ (قطر) میں ساتویں سالانہ انٹرنیشنل کانفرنس 20-21 اکتوبر 2009 کو ہوئی۔ اس کانفرنس کا متعین موضوع یہ تھا:
التضامن الإنسانی(Human Solidarity)
اِس کانفرنس میں شرکت کے لیے دوحہ انٹرنیشنل سنٹر کے صدر الدکتور ابراہیم صالح النعیمی کے دستخط سے ایک دعوت نامہ مورخہ 14 جولائی 2009 ملا۔ اِس کے مطابق، د وحہ کا سفر ہوا۔ میرے ساتھ مددگار کے طورپر میرے دو اور ساتھی اِس سفرمیں شریک تھے۔
باہر کے سفروں میں پہلا مرحلہ ویزا (visa) کا ہوتا ہے۔ عام طورپر ویزا آسانی سے مل جاتا ہے، لیکن اِس بار میرے ایک ساتھی کے ویزا کے حصول میںکافی مشکل پیش آئی، یہاں تک کہ آخری دن آگیا۔ بظاہر ایسا معلوم ہوتا تھا کہ قطر کا سفر نہ ہوسکے گا۔ چناں چہ قطر میں مقیم ہمارے ایک ساتھی مولاناعبدالباسط عمری کو اطلاع دے دی گئی کہ اب میرا سفر نہ ہوسکے گا۔ وہ میرے سفر کے بہت زیادہ مشتاق تھے، اِس لیے وہ مایوس نہیں ہوئے، چناں چہ انھوں نے مسجد میں جاکر نماز پڑھی اور دعاء کی اور تھوڑی دیر کے اندر ای میل کے ذریعے ہمارے ساتھی کا ویزا دہلی میں موصول ہوگیا۔
یہ نماز کے ذریعے استعانت کا ایک انوکھا واقعہ تھا۔ اِس قسم کی نماز کو عام طور پر صلاۃ الحاجۃ کہاجاتا ہے۔ صلاۃ الحاجہ کا ایک انوکھا واقعہ ابھی حال میں میں نے پڑھا۔ یہ ہمالیہ ڈرگ کمپنی (بنگلور) کے فاؤنڈر حکیم محمد منال الدین (وفات: 1986 ) کا واقعہ ہے۔ اِس واقعے کو مختصراً ان کے صاحب زادہ محمد معراج الدین منال کے الفاظ میں یہاں نقل کیا جاتا ہے:
’’ایک مرتبہ والد محترم پر سخت وقت آیا۔ آپ کے کام اور کمپنی کی تاریخ میں یہ نہایت پریشان کن مرحلہ تھا۔ یہ مشکل اتنی شدید نوعیت کی تھی کہ ہمالیہ کمپنی اپنی بقا کے لیے اندیشوں میں آگئی تھی۔ در اصل گورنمنٹ کی طرف سے کمپنی کے خلاف ایک نوٹس آیا تھا، اس میں جو اعتراضات تھے، اس کے مطابق، کمپنی کے لیے بند ہوجانے کے علاوہ کوئی چارۂ کار نہ تھا۔ اِس موقع پر بمبئی میں ممتاز ماہرین قانون کو جمع کیاگیا تھا، مگر ان کے ساتھ طویل مشاورت بھی کسی حل کی طرف لے جانے میں ناکام ثابت ہوئی۔ مگر ٹھیک اُس وقت جب کہ امید کے تمام دروازے بند ہوگئے تھے، ابا جان نے ایک ایسا دروازہ پالیا جہاں صرف امید ہی امید تھی۔ آپ نے ہر بات کا انکار کیا اور نماز میں مشغول ہوگئے۔ آپ نماز سے فارغ ہو کر اُس آفس کو گئے جہاں سے نوٹس آیا تھا۔ آفس کے پاس زینے پر چڑھتے ہوئے ایک دوست سے ملاقات ہوئی۔ انھوں نے تعجب ظاہر کیا کہ منال صاحب آپ یہاں کیسے۔ ابا نے جواب میں وہ نوٹس دکھایا۔ اس دوست نے کہا یہ آفیسر میرا دوست ہے اور میرے بازو میں بیٹھتا ہے۔ میں آپ کے ساتھ چلتا ہوں، پھر انھوں نے آفیسر کو بتایا کہ یہ ایسے لوگوں میں سے نہیں ہیں۔ یہ اچھے آدمی ہیں، خواہ مخواہ کیوں ان کو پریشان کرتے ہو۔ اِس گفتگو اور متعلقہ تحقیق کے بعد اُس وقت آفیسر نے مذکورہ نوٹس کینسل کیا اور دوسرا نوٹس جاری کیا جو کمپنی کے مفاد میں تھا۔ اِس طرح کمپنی پرابلم سے نکل گئی اور الحمد للہ آج بھی کمپنی ترقی کررہی ہے‘‘۔ (ایک قابلِ تقلید اور مثالی شخصیت، صفحہ 21)
یہ طریقہ پیغمبر اسلام ﷺکی سنت کے عین مطابق ہے۔ روایات میں آپ کے بارے میں آیا ہے کہ: إذا حزبہ أمر صلّی (أبو داؤد، کتاب الصلاۃ) یعنی جب آپ کے ساتھ کوئی سخت معاملہ پیش آتا تو آپ نماز کے لیے کھڑے ہوجاتے۔ اِس قسم کی نماز کو عام طور پر صلاۃ الحاجۃ کہاجاتا ہے۔ اِس کی روح یہ ہے کہ آدمی مشکل وقت میںاللہ کو یاد کرے اوراُس سے اپنے لیے مدد مانگے۔
پروگرام کے مطابق، 19 اکتوبر 2009 کی صبح کو روانگی ہوئی۔ سفر کے آغاز میں میںنے یہ دعاء کی کہ خدایا، میں تیرے راستے میں یہ سفر کررہا ہوں، تو اِس سفر میں سی 29 سے سی 29 تک (from C-29 to C-29) میرا ساتھی بن جا۔ یہ دعاء اللہ تعالی نے قبول فرمائی۔ میںنے بہت سے اسفار کئے ہیں، مگر اس سفر میں غالباً پہلی بار ایسا ہوا کہ گھر سے ائر پورٹ تک مسلسل گاڑی چلتی رہی اور تقریباً 25 کلو میٹر کے اِس راستے میں کہیں رکنے کی ضرورت پیش نہیں آئی۔
روانگی سے پہلے دہلی میں حبیب بھائی (حیدرآباد) کا ٹیلی فون آیا۔ انھوں نے کہا کہ ایک چیز مجھے سخت پریشان کرتی ہے۔ جب میں کہیں گفتگو کرتا ہوں یا تقریر کرتا ہوں تو لوگ اکثر غیر متعلق (irrelevant) قسم کے سوالات کرنے لگتے ہیں۔ اِس قسم کا سوال سن کر مجھے اکثر غصہ آجاتا ہے۔ میںنے کہا کہ ایسے موقع پر غصے کی کوئی ضرورت نہیں۔ جب بھی آپ بولتے ہیں تو اُس وقت وہاں ہمیشہ ایسا ہوتا ہے کہ مخاطب اوّل (first audience) کے طورپر فرشتے موجود رہتے ہیں، اور مخاطب ثانی (second audience) کے طورپر انسان وہاں موجود ہوتے ہیں۔ آپ کسی انسان کے ناپسندیدہ رد عمل پر دھیان مت دیجئے۔ آپ صرف یہ سوچئے کہ اِن حاضرین کی وجہ سے آپ کو یہ موقع ملا کہ آپ ایک ایسا ذکرِ اجتماعی کریں جو فرشتوں کے ریکارڈ میں درج ہوجائے۔
قرآن میں مومن کی ایک صفت سیاحت بتائی گئی ہے (التوبۃ: 112 )۔ قرآن کے مطابق، مومن ایک سیّاح انسان ہوتا ہے۔ سیاحت یا سیاحی کے لفظی معنی سفر کے ہیں۔ مومن ایک بامقصد انسان ہوتا ہے، اِس لیے مومن کا سفر یقینی طور پر وہی ہے جو بامقصد سفر ہو۔ مومن کے مقصد کو قرآن میں دعوت الی اللہ کے الفاظ میں بیان کیا گیا ہے۔ اِس لحاظ سے، مومن کا سفر وہ ہے جو دعوتی سفرہو، جس کے سفر میں دعوت ایک لازمی جز کی حیثیت سے شامل ہو۔
واشنگٹن (امریکا) کے ایک ادارہ (Pew Forum on Religion and Public Life) کے ایک حالیہ سروے میں بتایا گیاہے کہ اِس وقت دنیا کی آبادی میں مسلمانوں کی تعداد ڈیڑھ بلین سے زیادہ (1.57 billion) ہے۔ اِس کا مطلب یہ ہے کہ— موجودہ انسانی آبادی میں ہر چار میں سے ایک شخص مسلمان ہے:
World over, 1in 4 persons is a Muslim.
اِس کا مطلب یہ ہے کہ ہر مسلمان اگر یہ فیصلہ کرے کہ وہ کم ازکم چار غیر مسلموں تک خدا کی کتاب (قرآن) پہنچائے گا تو نہایت محدود مدت میں قرآن دنیا کے تمام مردوں اور عورتوں تک پہنچ جائے گا۔ جدید کمیونکیشن کے دور سے پہلے یہ ایک بے حد مشکل کام تھا، لیکن اب جدید کمیونکیشن کے ذرائع نے عالمی سفر کو ممکن بنا دیا ہے۔ عالمی سفر دراصل عالمی انٹر یکشن کا دوسرا نام ہے۔ موجودہ زمانے میں یہ ممکن ہوگیا ہے کہ عالمی سفر کو عالمی دعوت کا ذریعہ بنا دیا جائے۔ مسلمانوں کے اندر اگر دعوت کا جذبہ موجود ہو تو یہ ہوگا کہ ہر مسلمان ون مین، ون مشن (one man, one mission) کا کیس بن جائے گا۔ وہ ایک طرف سفر کرے گا، اور دوسری طرف وہ عالمی سطح پر قرآن کو پھیلانے کا کام کرے گا۔ ’’ادخالِ کلمہ‘‘ کی جو پیشین گوئی حدیث میں آئی ہے، وہ آج پوری طرح قابل عمل بن چکی ہے۔
World over, 1 in 4 persons is a Muslim
Washington: The global Muslim population stands at 1.57 billion, meaning that nearly 1 in 4 people in the world practice Islam, according to a report on Wednesday billed as the most comprehensive of its kind. The Pew Forum on Religion and Public Life report provides a precise number for a population whose size has long been subject to guesswork, with estimates ranging anywhere from 1 billion to 1.8 billion. The project, three years in the making, also presents a portrait of the Muslim world that might surprise some. For instance, Russia has more Muslims than Jordan and Libya combined. “This whole idea that Muslims are Arabs and Arabs are Muslims is really just obliterated by this report,” said Amaney Jamal, a professor of politics at Princeton University. The report also sought to pinpoint the world's Sunni-Shia breakdown, but difficulties arose because so few countries track sectarian affiliation. As a result, the Shia numbers are not as precise; the report estimates that Shias represent between 10% and 13% of the Muslim population.The report provides further evidence that while the heart of Islam might beat in the Middle East, its greatest numbers lie in Asia: More than 60% of the world’s Muslims live in Asia. About 20% live in the Middle East and North Africa, 15% live in Sub-Saharan Africa, 2.4% are in Europe and 0.3% in the Americas. Three-quarters of Muslims living as minorities are concentrated in five countries: India (161 million), Ethiopia (28 million), China (22 million), Russia (16 million) and Tanzania (13 million).
India's immense size is underscored by the fact that it boasts the third-largest Muslim population of any nation - yet Muslims account for just 13% of the population. AP (The Times of India, New Delhi, October 9, p. 21)
ہم لوگ تین آدمی تھے۔ کانفرنس میں لوگوں کو دینے کے لیے ہم قرآن کا انگریزی ترجمہ اور دوسرے اسلامی لٹریچر اپنے ساتھ لے گئے تھے۔ ائر پورٹ پر پہنچ کر ہمارے ساتھیوں نے اس کو چیک ان (check-in) کردیا۔قطر کے اِس سفر میں غیر معمولی قسم کی سہولیات کا تجربہ ہوا۔ حقیقت یہ ہے کہ قطر کے اِس چار روزہ سفر میں ہم کو غیر متوقع طور پر اتنی زیادہ سہولتیں (facilities) حاصل رہیں کہ ان کو اگر شاہانہ سفر کہا جائے تو یہ مبالغہ نہ ہوگا۔
دہلی کے اندرا گاندھی انٹرنیشنل ائر پورٹ پر ہم لوگ داخل ہوئے تو فوراً ہی ائرلائن کی ایک خاتون نے آگے بڑھ کر ہمارا استقبال کیا اور ہم کو ضروری رہنمائی دی۔ یہ منظر دیکھ کر دل سے دعا ء نکلی کہ خدایا، جب میں آخرت کے گیٹ پر پہنچوں تو وہاں بھی رحمت کا ایک فرشتہ اِس عاجزانسان کے استقبال کے لیے موجود ہو۔
ہم لوگ ائر پورٹ کے اندر داخل ہوئے تو حسب معمول یہاں بہت سے مسافر ہر طرف دکھائی دے رہے تھے، ہندستانی بھی اور غیر ہندستانی بھی۔میںنے اُن کو دیکھا تو میںنے محسوس کیا جیسے کہ ہرایک خاموش زبان میں یہ کہہ رہا ہے کہ— میرا واحد کنسرن اپنی دنیا کی زندگی کو بہتر بنانا ہے، میری زندگی کا فارمولا صرف یہ ہے:
Right here, Right now!
ائرپورٹ کی رسمی کارروائی کے بعد ہم لوگ وہاں کے لاؤنج (lounge)میں چلے گئے۔ اِس میں مسافروں کے لیے ہر قسم کا اعلیٰ انتظام موجود تھا۔ لاؤنج میں میری ملاقات ایک عرب سے ہوئی۔ وہ مسقط (عمان) سے تعلق رکھتے تھے۔ گفتگو کے دوران انھوںنے بتایا کے وہ یہاں ’’تبلیغ‘‘ میں آئے تھے۔ وہ عربی زبان کے علاوہ کچھ انگریزی بھی جانتے تھے۔ اُن سے میںنے گفتگو کی کوشش کی، مگر معلوم ہوا کہ وہ سادہ قسم کے آدمی ہیں اور زیادہ علمی بات کے عادی نہیں، ہمارے ساتھیوں نے ان کو سی پی ایس کا دعوتی لٹریچر دیا۔مجھے اِس قسم کے کئی تجربات پیش آئے ہیں۔ اِن تجربات کی بنا پر میرا احساس یہ ہے کہ عرب کے جو لوگ یہاں تبلیغ میںآتے ہیں، وہ دراصل عرب کے ’’میواتی‘‘ ہوتے ہیں، نہ کہ وہاں کے اہلِ علم۔
حبیب بھائی (حیدر آباد) سے دوسری بار ٹیلی فون پر بات ہوئی۔ گفتگو کے دوران میںنے کہا کہ دین میں سب سے زیادہ اہمیت شکر کی ہے۔ ہماری زندگی میں بار بار ایسے واقعات پیش آتے ہیں جو شکر کے جذبے کوگھٹانے والے ہوتے ہیں۔ ایسے موقع پر مومن کو بہت زیادہ با شعور ہونا چاہئے۔ مومن کے لیے شکر کا ایروژن (erosion) ناقابلِ برداشت ہونا چاہئے۔
اصل یہ ہے کہ اگر کسی معاملے میں 99 فی صد شکر کی بات ہو اور صرف ایک فی صد منفی بات تو شیطان یہ کرتا ہے کہ وہ ایک فی صد منفی بات کو اتنا زیادہ بڑھاتا ہے کہ 99 فی صد مثبت بات آدمی کی نظر سے اوجھل ہوجاتی ۔ وہ شکر کے سمندر میں رہتے ہوئے بھی ناشکری کے احساس میں جینے لگتا ہے۔ ایسے موقع پرآدمی کو چاہیے کہ وہ فوراً یہ کہے کہ: اللہم إنی أعوذ بک من ہمزات الشیاطین۔ اِس کے بعد ان شاء اللہ، شیطان بھاگ جائے گا۔ یہ صرف عقیدہ کی بات نہیں، بلکہ یہی میرا تجربہ ہے۔
میں نے کہا کہ ناشکری کی کوئی بات دماغ میں آئے تو آدمی کو چاہئے کہ وہ اس کو سرتاسر بے اصل سمجھے۔ کسی بھی عذر کی بنا پر وہ اس کو اپنے دماغ میں جگہ نہ دے۔ وہ اس کو بداہۃً قابلِ رد (prima facie its stands rejected)سمجھتے ہوئے فی الفور اپنے دماغ سے نکال دے۔
دہلی ائر پورٹ پر میں نے قدم قدم پر خدا کی نصرت اور رحمت کے ایسے مناظر دیکھے کہ میری آنکھوں میں آنسو بھر آئے اور میری زبان پر یہ الفاظ جاری ہوگئے— خدایا، اگر میں دنیا کی تمام زبانیں جانتا اور تمام زبانوں کی ڈکشنریوں کے تمام الفاظ مجھ کو یاد ہوتے اورمیں تیری حمد اور تیرا شکر ادا کرتا تو میں اس کا حق ادا نہیں کرسکتا تھا۔ خدایا، اگر دنیا کے تمام درخت میرے لیے قلم بنا دئے جاتے اور تمام سمندر میرے لیے سیاہی ہوتے اور میں تیرے احسانات کو لکھنے بیٹھتا تو یقینا ایسا ہوتا کہ تمام قلم ختم ہوجائے اور تمام سمندر خشک ہوجاتے، تب بھی تیری حمد کا بیان ختم نہ ہوتا۔
یہ الفاظ جب میری زبان پر آئے تو اُس وقت میںنے سوچا کہ قرآن (لقمان:27 ) میں جو یہ بات کہی گئی ہے ، بظاہر وہ خدا کی طرف سے ہے، لیکن اپنی حقیقت کے اعتبار سے وہ انسانی جذبات کا اظہار ہے۔ وہ علمِ الٰہی کا بیان نہیں، بلکہ وہ بندۂ مومن کا احساس ہے۔ انسان سے یہ مطلوب ہے کہ وہ کائنات میں تدبر کرکے آلائِ خداوندی کو اِس طرح دریافت کرے کہ واقعۃً اس کو یہ محسوس ہونے لگے کہ تمام درختوں کے قلم اور تمام سمندروں کی سیاہی بھی اس کے جذباتِ حمد کو بیان کرنے کے لیے ناکافی ہیں۔
سفر کے دوران میں نے بہت سے لوگوں کو دیکھا، بہت سے لوگوں سے ملاقاتیں ہوئیں ۔ ان میں ہر مذہب کے لوگ شامل تھے۔ اِس تجربے سے میرے اندر ایک عجیب احساس پیدا ہوا، وہ یہ کہ تمام لوگ خدا کی پکڑ سے بالکل بے خوف ہو چکے ہیں۔ ہر مذہبی گروہ نے ایسے فلسفے گھڑ لیے ہیں جس میں سب کچھ ہے، لیکن خدا کی پکڑ (accountability) کا ذکر اس کے اندر موجود نہیں— پنر جنم کے فلسفے نے ہندوؤں کو بے خوف کر دیا، کفّارے کے عقیدے نے عیسائیوں کو بے خوف کردیا، شفاعت کے عقیدے نے مسلمانوں کو بے خوف کردیا، منتخب گروہ (chosen people) کے عقیدے نے یہود کو بے خوف کردیا، شیطان کا سب سے بڑا حربہ اِسی قسم کے مغالطہ آمیز عقائد اور فلسفے ہیں۔
اپنے ایک ساتھی سے بات کرتے ہوئے میںنے کہا کہ غسل (bath) کو مسلمان عام طور پر صرف طہارت کا ایک حصہ سمجھتے ہیں، حالاں کہ غسل، نظافت(cleanness) کا ایک حصہ ہے۔
ایک بار میں اعلیٰ تعلیم یافتہ ہندوؤں کی ایک مجلس میںشریک تھا۔ گفتگو کے دوران ایک ہندو نے کہا کہ مسلمان تو صرف جمعہ جمعہ نہاتے ہیں۔ مسلمانوں کے یہاں صفائی کا کوئی تصور نہیں۔ میںنے کہا کہ یہ بات آج کل کے مسلمانوں کے بارے میں درست ہوسکتی ہے، مگر یہ بات دورِ اوّل کے مسلمانوں کے بارے میں درست نہیں۔ میںنے کہا، خلیفۂ سوم حضرت عثمان بن عفّان کے ایک خادم اُن کے بارے میں کہتے ہیں کہ: کان یغتسل کلّ یوم مرّۃ أو مرّتین (وہ ہر دن ایک بار یا دو بار غسل کرتے تھے)۔ اِس کو سن کر سارے ہندو بہت خوش ہوگئے۔ حاضرین میں سے ایک سوامی چیدانند (رشی کیش) نے کہا کہ ہم کو معلوم نہیں تھا کہ اسلام میں اتنی اچھی اچھی باتیں ہیں۔ آپ ہم کو اسلام اِن ڈیلی لائف (Islam in Daily Life) کے موضوع پر تین سو صفحات کی ایک کتاب تیار کرکے دیجئے۔ ہم اس کو دس زبانوں میں چھاپیں گے اور اس کو ساری دنیا میں پھیلائیں گے۔
19 اکتوبر 2009 کی صبح کو ہم لوگ قطر ائر لائنز کی فلائٹ (QR 233) میں داخل ہوئے۔ دہلی سے قطر کی دوری تقریباً 3 ہزار کلو میٹر ہے۔ یہ سفر تین گھنٹے میں طے ہوا۔ قطر ائرلائنز ایک ٹاپ کی ہوائی کمپنی سمجھی جاتی ہے۔ اس کے اندر جب میں بیٹھا ہو ا تھا تو ایسا معلوم ہورہا تھا جیسے کہ ایک فلائنگ پیلیس (flying palace)ہے اور میں اس کے اندر ایک تخت نما کرسی پر بیٹھا ہوا پرواز کر رہا ہوں۔ یہ منظر دیکھ کر میری زبان پر یہ دعاجاری ہوگئی— خدایا، دنیا میںتو نے مجھ کو سب کچھ دیا، آخرت میں بھی تو مجھ کو سب کچھ دے دے۔ کوئی شریف انسان دینے کے بعد نہیں چھینتا۔ تو تمام شریفوں سے زیادہ اعلیٰ اور عظیم ہے۔ تجھ سے میں یہی امید رکھتا ہوں کہ تو آخرت میں اِس عاجز بندے کے ساتھ اُس سے زیادہ بہتر معاملہ فرمائے گا جو دنیا میں تو نے اس کے ساتھ کیا ہے۔
جہاز کے اندر مختلف قسم کے میگزین اور اخبار مطالعے کے لیے موجود تھے۔ ان میں مختلف قسم کی تصویریں چھپی ہوئی تھیں۔ اِن تصویروں کو دیکھ کر میری زبان پر یہ الفاظ آئے— خدایا، تو نے کچھ لوگوں کو انسانِ قوی بنایا اور کچھ لوگوں کو انسان ضعیف۔ جو انسانِ قوی تھا، وہ ’’ربّی أکرمن‘‘ کی نفسیات میں مبتلا ہوگیا۔ جو انسانِ ضعیف تھا، وہ ’’ربّی أہانن‘‘ کی نفسیات میں جینے لگا۔ قوت اور ضعف دونوں امتحان کی حالتیں تھیں، لیکن قوی اور ضعیف دونوں قسم کے انسان اپنے امتحان میں فیل ہوگئے۔ دونوں کا یہ حال ہوا کہ وہ خدا کے تخلیقی پلان کو سمجھے بغیر زندگی گزارتے رہے، اور آخر کار وہ مر کر اِس دنیا سے چلے گئے۔
جہاز کے اندر نیویارک ٹائمس کے گلوبل ایڈیشن کا شمارہ 17-18 اکتوبر 2009 دیکھا۔ اِس شمارے میں ایک امریکی جنرلسٹ ڈیسٹر فلکنس (Dexter Filkins) کا لکھا ہوا انٹرویو چھپا تھا۔ یہ انٹرویو انھوںنے افغانستان میں مقیم امریکا کے فوجی افسر جنرل میک کرسٹل (Mc Chriystal) سے لیا تھا۔ اِس میں بتایا گیا تھا کہ اِس وقت افغانستان میں امریکا کے 65,000 فوجی موجود ہیں۔ مگر جنرل میک کرسٹل نے مزید 40,000 فوجیوں کا مطالبہ کیا ہے۔ انٹرویو میں امریکا کے مذکورہ فوجی افسر نے اپنی کسی کامیابی کا ذکر نہیں کیا تھا۔ البتہ آخر میں انھوں نے عراق کی حالیہ جنگ کے بارے میں گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ — عراق کا ایک سبق یہ ہے کہ ہمیں کسی بھی حال میں اپنا اعتماد نہیں کھونا چاہیے:
One of the big takeaways from Iraq was that, you have to not lose confidence in what you are doing. (p. 4)
دوسرے لفظوں میں یہ کہ ہمیں مایوسی میں بھی امید پر قائم رہنا چاہیے— عجیب بات ہے کہ اِس سے پہلے سوویت روس نے افغانستان میں فوجی اقدام کرکے اپنے سپر پاور ہونے کی حیثیت کو کھو دیا تھا۔ اب امریکا اِسی علاقے میں فوجی اقدام کرکے دوبارہ اُسی انجام سے دوچار ہورہا ہے۔ شاید تاریخ کا سب سے زیادہ انوکھا سبق یہ ہے کہ کسی نے تاریخ سے سبق نہیں سیکھا۔
فلائٹ کے اندر دوحہ (قطر) سے نکلنے والا ایک اور اخبار (The Peninsula)کا شمارہ 19 اکتوبر 2009 موجود تھا۔ اس کی ایک خبر کا عنوان یہ تھا:
Vodafone Qatar Celebrates Diwali
خبر میں بتایا گیا تھا کہ کمپنی نے دوحہ کے ایک رزورٹ (Sealine Beach Resort) میں دیوالی کا تیوہار منایا۔ اِس رزورٹ کو انڈیا کے انداز میں سجایا گیا اور اس کا نام لٹل انڈیا (Little India) رکھ دیا گیا۔کمپنی نے دوہزار دیوالی گفٹ باکس، برلا پبلک اسکول کے بچوں کو دیا، اور چھ ہزار دیوالی گفٹ باکس وہاں کے سُوق ایریا میں کام کرنے والوں کے درمیان تقسیم کیا۔ اِس موقع پر کمپنی نے اعلان کیا کہ:
Vodafone aims to ‘make a world of difference for all people in Qatar’
قطر ایک مسلم ملک ہے، لیکن وہاں پچاس فی صد سے زیادہ غیر ملکی آباد ہیں۔ یہ لوگ قطر میں اپنے تیوہار مناتے رہتے ہیں۔ یہ جدید گلوبلائزیشن کا ایک ظاہرہ ہے۔ مسلم مبصرین عام طورپر اِس ظاہرے کو منفی معنوں میں لیتے ہیں، لیکن اِس ظاہرے کا ایک عظیم مثبت پہلو ہے، اور وہ دعوت کا پہلو ہے۔ موجودہ زمانے میں گلوبلائزیشن کی وجہ سے ایساہوا ہے کہ مدعو خود داعی کے پاس پہنچ گیاہے۔ اِس لحاظ سے، گلوبلائزیشن بلاشبہہ ایک عظیم نعمت ہے۔
اپنے ایک ساتھی سے بات کرتے ہوئے میںنے کہا کہ زندگی کی کچھ غلطیاں ایسی ہوتی ہیں جن کو ساری عمر بھگتنا پڑتا ہے، کچھ ناخوش گوار چیزوں کو آخری حد تک برداشت کرنا ہوتا ہے۔ کیوں کہ قانونِ فطرت کے مطابق، اُن کاخاتمہ ممکن نہیںہوتا۔ مثلاً ترکی کی عثمانی خلافت 1929 ختم ہوئی تو اس کو برداشت ہی کرنا تھا، تقسیم کے بعد 1947میں پاکستان نے کشمیر کو کھودیا تو اس کو برداشت ہی کرنا تھا، 1948 میں فلسطین کی تقسیم ہوئی تو اس کو برداشت ہی کرنا تھا، 1992 میں بابری مسجد ڈھادی گئی تو اس کو برداشت ہی کرنا تھا، وغیرہ۔ مگر ہمارے رہنما اِن واقعات کو برداشت کے خانے میں نہ ڈال سکے۔ اِس کے نتیجہ میں مزید تباہی کے سوا اور کچھ نہیںملا۔
تقریباً تین گھنٹے کی پرواز کے بعد ہمارا جہاز دوحہ (قطر) کے ائر پورٹ پر اترا۔ مجھے چوں کہ وھیل چیئر استعمال کرکے باہر جانا تھا، اِس لیے مجھ سے کہاگیا کہ آپ سیٹ پر بیٹھے رہیں۔ اِس کے بعد ہوائی جہاز کا ایک مخصوص دروازہ کھولا گیا۔اس دروازے کے پاس وہ گاڑی لائی گئی جس کو ہائی لفٹ (highlift) کہا جاتا ہے۔ ہائی لفٹ اوپر اٹھ کر ہوائی جہاز کے دروازے کے برابر آگئی۔ میں ہوائی جہاز سے نکل کر اس کے اندر داخل ہوگیا اور وھیل چیئر پر بیٹھ گیا۔ اس کے بعد ہائی لفٹ نیچے آئی اور وہاں سے روانہ ہو کر ائر پورٹ کے لاؤنج میں پہنچی۔ یہ منسٹری لاؤنج (ministry lounge) تھا۔ وہ اپنے آپ میں ایک چھوٹے محل کے مانند تھا۔ یہاں ہم لوگوں کو آرام دہ نشستوں پر بٹھا دیا گیا۔ ائر پورٹ کی بقیہ کارروائی اسٹاف کے لوگوں نے انجام دی۔ ائر پورٹ پر ہم لوگوں کو رسیو کرنے کے لیے کانفرنس کے لوگوں کے علاوہ، مولانا عبد الباسط عمری اپنے ساتھیوں کے ہم راہ موجود تھے۔ائر پورٹ سے بذریعہ کار روانہ ہو کر ہم لوگ ہوٹل شیریٹن (Sheraton) پہنچے۔ یہ غیر معمولی طورپر ایک بہت بڑا ہوٹل ہے۔ وہ یہاں کا ٹاپ کا ہوٹل سمجھا جاتا ہے۔
ہوٹل پہنچنے کے بعد پہلے مجھ کو رسپشن (reception) کے ایک حصے میں بٹھا دیاگیا۔ یہ ہوٹل شاہی محل کے انداز میں بنایا گیا ہے۔ وہاں بیٹھتے ہی خصوصی تواضع شروع ہوگئی۔ اس منظر کو دیکھ کر میری زبان پر یہ الفاظ جاری ہوگئے — خدایا، تجھ سے میں نے اپنے عجز کی تلافی کی دعاء کی تھی۔ تو نے اکرام کے درجے میں میرے ساتھ معاملہ فرمایا۔
رسپشن کی ضروری کارروائی کے بعد ہم لوگ ہوٹل کی پانچویں منزل پر واقع تین کمروں میں پہنچا دئے گئے۔ دو عام کمرے اور ایک سوئٹ (Suite 512) ۔ میں نے سوئٹ میں داخل ہوتے ہی فوراً اے سی بند کروادیا۔ یہ ہوٹل بحر عرب کے کنارے بنایا گیا ہے اور سوئٹ بحرِ عرب کے بالکل کنارے واقع تھا۔ سوئٹ کی بالکنی میں بیٹھ کر دور تک سمندر کے مناظر دکھائی دیتے تھے۔
ہوٹل میں ایک صاحب سے ملاقات ہوئی۔ انھوںنے ٹنشن کی شکایت کی۔ میں نے کہا کہ ٹنشن ایک غیر فطری چیز ہے۔ ٹنشن فری لائف کا واحد فارمولا یہ ہے کہ آدمی ٹنشن کے ساتھ جینے کا آرٹ جان لے، وہ ناقابلِ اصلاح مسائل کے ساتھ موافقت کا راز سیکھ لے، وہ ٹنشن کو زندگی کے ایک مثبت حصے کے طوپر دریافت کرلے۔ ایسا کرنے کے بعداُس کا ٹنشن ٹنشن نہ رہے گا، بلکہ وہ نارمل لائف کا ایک فطری حصہ بن جائے گا۔
ہوٹل میں کچھ اہلِ علم جضرات سے بات کرتے ہوئے میں نے کہا کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: خیر القرون قرنی، ثم الذین یلونہم، ثم الذین یلونہم (صحیح البخاری، کتاب المناقب، باب فضائل أصحاب النبی) اِس حدیث کے مطابق، اسلام کی تاریخ میں تین اَدوار مستند ادوار کی حیثیت رکھتے ہیں— دورِ رسالت، دورِ صحابہ، دورِ تابعین۔ اِن تین ادوار (periods) کو ’’قرون مشہود لہا بالخیر‘‘ کہا جاتا ہے، یعنی وہ دور جن کے برسرِ خیر ہونے کی گواہی دی گئی ہے۔
اِس معیار کو سامنے رکھ کر دیکھا جائے تو وہ تمام شخصیتیں جن کو بعد کے مسلمانوں نے اکابر کا درجہ دے دیا، وہ سب کے سب غیر اکابر تھے۔ کیوں کہ وہ قرونِ مشہود لہا بالخیر کے بعد آنے والے زمانے سے تعلق رکھتے ہیں۔ اِس معیار کے مطابق، صرف رسول، اصحابِ رسول اور تابعین، امت میں اکابر کا درجہ رکھتے ہیں۔ بعد کے تمام لوگ، امام ابو حنیفہ کے قول کے مطابق، ہم رجالٌ و نحن رجال کا مصداق ہیں۔ اِس اعتبار سے دیکھئے تو ’’اکابر‘‘ کا تصور امت میںایک تباہ کن بدعت نظر آئے گا۔ کیوں کہ اِس تصور کے مطابق، یہ ہوتا ہے کہ غیر معیاری انسان معیارکا درجہ حاصل کرلیتے ہیں، قابلِ تنقید انسان، تنقید سے بالاتر قرار پاجاتے ہیں۔
کوئی شخص اگر یہ کہے کہ ختم نبوت کے بعد بھی کوئی نبی آسکتا ہے تو تمام علماء اس کی تکفیر و تضلیل میں سرگرم ہوجاتے ہیں، مگر جن لوگوں نے حدیث میں مذکورہ تین مستند ادوار کے بعد ایک نئے مستند دور (دور اکابر) کا اضافہ کیا، اُن کے خلاف بولنے والا کوئی نہیں۔
20اکتوبر 2009 کی شام کو عشاء کے بعد قطر میں مقیم علماء تقریبا ایک درجن کی تعداد میں میرے کمرے میں اکھٹا ہوئے۔ یہ سب عمری علماء تھے، یعنی جامعہ دار السلام ، عمر آباد (تمل ناڈو) کے فارغین۔ قطر میں تقریباً ڈیڑھ سو کی تعداد میں عمری علماء موجود ہیں۔یہاں ان لوگوں کی ایک باقاعدہ تنظیم قائم ہے۔ ہر عمری عالم ہر ماہ اپنی آمدنی کا ایک حصہ اپنی تنظیم کو دیتا ہے۔ یہ رقم دینی اور دعوتی ضرورت کے لیے خرچ کی جاتی ہے۔ یہاں اِن عمری حضرات کا ماہانہ اجتماع ہوتا ہے۔ اِس طرح وہ لوگ آپس میں جڑے رہتے ہیں۔ ہر ایک پابندی کے ساتھ اور رضاکارانہ طورپر اپنی ذمے داری کو ادا کرتا ہے۔ ان کے درمیان مکمل اتحاد ہے۔ مختلف مدارس کے فارغین بڑی تعداد میں مختلف ملکوں میں رہتے ہیں، لیکن میرے علم کے مطابق، کہیں بھی ان کے درمیان اِس قسم کااتحاد موجود نہیں۔
ان حضرات سے دیر تک مختلف موضوعات پر باتیں ہوئیں۔ ایک سوال کے جواب میں میںنے کہا کہ میرا اصل موضوع تحدیاتِ عصریہ ہے، یعنی جدید فکر ی چیلنج کے مقابلے میں اسلام کے نقطۂ نظر کی جدید علمی سطح پر وضاحت۔ اِسی بنا پر مصر کے ایک عالم نے میری کتاب ’’الإسلام یتحدّی‘‘کا سب ٹائٹل (sub title) اِن الفاظ میں مقرر کیا تھا: مدخل علمی إلی الإیمان۔
گفتگو کے دوران ایک عمری عالم نے کہا کہ آپ صبر اور ایڈجسٹمنٹ کی بات بہت زیادہ کرتے ہیں، آخر کب تک ایسا کیا جائے۔ میںنے کہا کہ صبر اور ایڈجسٹ مینٹ (adjustment) کی اہمیت تو آپ خود اپنے تجربے سے سمجھ سکتے ہیں۔ آپ یہاں ایک خلیجی ملک میں ہیں۔ یہاں یقینی طورپر آپ کے لیے ایسے مسائل ہوں گے جن کو آپ پسند نہ کرتے ہوں، لیکن آپ ان کے ساتھ ایڈجسٹ کرکے یہاں رہ رہے ہیں۔ اِس لیے کہ آپ جانتے ہیں کہ ایڈجسٹ کرنے میں آپ کو فائدہ ہے۔ اپنے اِسی تجربے کی بنا پر آپ میرے نقطۂ نظر کی اہمیت سمجھ سکتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ ایڈجسٹ مینٹ ایک عمومی فطری اصول ہے۔ یہ اصول جس طرح آپ کے لیے مفید ہے، اُسی طرح وہ دوسرے تمام لوگوں کے لیے مفید ہے۔
میںنے کہا کہ عرب ملکوں میںباہر کے جو مسلمان رہتے ہیں، وہ عملاً یہاں سکنڈ کلاس کے شہری (second class citizen) بن کررہتے ہیں، جب کہ یہی مسلمان ہندستان میں یہ شکایت کرتے ہیں کہ ہم کو سکنڈ کلاس شہری بنا کر رکھ دیا گیا ہے۔ حالاں کہ میرے تجربے کے مطابق، یہ بات عرب ملکوںکے بارے میں تو ضرور صحیح ہے، مگر وہ ہندستان کے بارے میں یقینی طورپر درست نہیں۔ مثال کے طورپر میں ہندستان میں مہاتما گاندھی اور یہاں کے دوسرے ہندو لیڈروں پر تنقید کرتا ہوں۔ میری یہ تنقید یہاں کے ہندی اور انگریزی اخباروں میں چھپتی ہے، لیکن اِس بنا پر یہاں میرے لیے کوئی مسئلہ پیدا نہیں ہوا، جب کہ اگر کوئی شخص عرب ملکوں میں وہاں کے سربراہِ سلطنت پر تنقید کرے تو وہاں اس کا رہنا ہی سرے سے ناممکن ہوجائے گا۔اِس سلسلے میں ایک واقعہ یہاں قابلِ ذکر ہے۔ یہ واقعہ میں نے اپنی ڈائری میں 25 جولائی 2009 کو اِن الفاظ میں نقل کیا تھا:
’’میرے ایک ساتھی مولانا ابو صالح انیس لقمان ندوی ابو ظبی (امارات) میں رہتے ہیں۔ انھوںنے بتایا کہ ابو ظبی میںکئی ہزار پاکستانی مسلمان غیر قانونی طورپر مقیم تھے۔ حکومت نے اُن کو ملک چھوڑنے کا حکم دے دیا۔ انیس لقمان صاحب نے اِس سلسلے میں حکومت سے استرحام (plea for mercy) کی بنیاد پر حکم کو واپس لینے کی کوشش کی۔ آخر کار، حکومت نے اپنے حکم کو واپس لے لیا۔ ابو ظبی میں پاکستان کے سفیر اِس واقعے پر بہت خوش ہوئے۔ انھوں نے انیس لقمان صاحب سے کہا کہ آپ کو ہم اعزازی طورپر پاکستان کی شہریت (citizenship) دینا چاہتے ہیں۔ انیس لقمان صاحب نے کہا کہ میںاس کو دو شرطوں پر قبول کر سکتا ہوں— ہم انڈیا کے فادر آف دی نیشن مہاتما گاندھی پر تنقید کرتے ہیں اور وہاں ہماری کوئی پکڑ نہیں ہوتی۔کیا آپ اِس کی اجازت دیںگے کہ میں پاکستان میں وہاں کے فادر آف دی نیشن مسٹر محمد علی جناح پر تنقید کروں اور میری کوئی پکڑ نہ ہو۔ پاکستانی سفیر نے کہا کہ نہیں۔ انیس لقمان صاحب نے دوسری بات یہ کہی کہ انڈیا میںایک مسلمان ’’مسلم انڈیا‘‘ کے نام سے میگزین نکالتا ہے۔ کیا آپ پاکستان میں ہندو کو اجازت دیں گے وہ پاکستان میں ’’ہندو پاکستان‘‘ کے نام سے میگزین نکالے۔ پاکستانی سفیر نے کہا کہ نہیں۔ انیس لقمان صاحب نے کہا کہ پھر مجھے ایسے ملک کی شہریت بھی قبول نہیں‘‘۔
ایک عمری عالم نے سوال کیا کہ آپ کا ایک دینی اور دعوتی مشن ہے، پھر آپ سیاسی موضوعات پر کیوں بولتے ہیں۔ میں نے کہا کہ میرا اصل موضوع تحدیاتِ عصریہ ہے، یعنی جدید ذہن کے مطابق، علمی سطح پر اسلام کی تبیین۔ میری تمام تحریریں براہِ راست یا بالواسطہ طورپر اِسی موضوع سے تعلق رکھتی ہیں۔ میںنے کہا کہ اِسی قسم کا اعتراض اِس سے پہلے سرسید پر کیا گیا تھا۔ اُس وقت اِس کا جواب دیتے ہوئے مولانا شبلی نعمانی نے لکھا تھا کہ جو لوگ سرسید کی بعض باتوں پر اعتراض کرتے ہیں، انھوں نے سرسید کے شاہ نامہ میں سے صرف ’’مُنیژہ مَنم‘‘ کو یاد کررکھا ہے۔
آج عرب ملکوں کے شہر مادی ترقی کے اعتبار سے یورپ کا نمونہ معلوم ہوتے ہیں، لیکن اب سے صرف چالیس سال پہلے ایسا نہ تھا۔ اُس وقت عرب کے لوگ معاشی اعتبار سے نہایت پس ماندہ سمجھے جاتے تھے۔ اُس وقت برصغیر ہند کے دولت مند لوگ عربوں کو مالی مدد بھیجا کرتے تھے۔ حیدر آباد دکن میں مدینہ کے نام پر ایک وقف قائم کیاگیا تھا جس کے وقف نامے میںلکھا ہوا تھا کہ اس کی آمدنی مدینہ کے غرباء کے لیے بھیجی جائے گی۔
مولانا شبلی نعمانی (وفات: 1914 ) نے 1892ء میں مصر کا سفر کیا تھا۔ انھوں نے لکھا ہے کہ اسکندریہ میں سڑک کے کنارے عرب لوگ معمولی سامان بیچتے تھے اور اپنے سامان کو بیچنے کے لیے کہتے ـتھے: برأس سیدنا الحسین۔
اِس سلسلے میں مجھے خود اپنا ایک واقعہ یاد آتا ہے۔ میری نوجوانی کے زمانے میں عرب کے فقراء ’’مسافر‘‘ کے نام پر ہندستان آیا کرتے تھے، تاکہ وہ یہاں سے اپنے لیے کچھ تعاون حاصل کرسکیں۔ اِسی قسم کے ایک عرب مسافر ایک بار اعظم گڑھ یوپی میں میرے گاؤں آئے تھے۔ یہ غالباً 1940 کا واقعہ ہے۔ میںنے اُن کو اپنے گھر ٹھہرایا ۔ شام کا کھانا کھانے کے بعد وہ میرے گھر کے مردانہ حصے میں سوگئے۔ اگلے دن صبح کو جب میں اُن سے ملا تو اُنھوں نے کہا کہ: ماکان النوم معنا باللیل (رات کو میں سو نہ سکا)۔ اُن کا مطلب یہ تھا کہ مچھروں کی وجہ سے مجھ کو نیند نہیں آئی۔ صبح کے ناشتے کے بعد وہ پھر کہیں دوسری جگہ چلے گئے۔
اِسی طرح کے ایک عرب مسافر کا واقعہ میرے چچا زاد بھائی مولانا اقبال احمد خاں سہیل (وفات: 1955 ) نے بتایا تھا۔ جس زمانے میں وہ علی گڑھ میں زیر تعلیم تھے، وہاں ایک عرب مسافر آیا۔ اُن لوگوں نے عرب مسافر کو کچھ کھانے کی چیز پیش کی۔ اِس کے بعد مذکورہ عرب مسافر نے کچھ کہا جو اِنھیں اِس طرح سنائی دیا: جِبْ شیطان۔ سہیل صاحب کو اور ان کے ساتھیوں کو اِس کا مطلب سمجھ میں نہ آیا۔ بار بار پوچھنے پر معلوم ہوا کہ عرب مسافر یہ کہہ رہا تھا: جئی بشیٔ ثان،یعنی کوئی دوسری چیز کھانے کے لیے لے آؤ۔
قطر کے بارے میں مجھے بتایاگیا کہ قطر کے حاکم (امیر دولتِ قطر) چالیس سال پہلے خچر پر سواری کرتے تھے۔ یہاں کچھ بھی نہیں تھا۔ مگر یہاں زمین کے نیچے گیس کے ذخیرے دریافت ہوگئے۔ اِس گیس کے ذریعے تقریباً ایک درجن مختلف چیزیں بنتی ہیں۔ قطر گیس کے معاملے میں دنیا میں دوسرے نمبر پر ہے۔ گیس کی دریافت کے بعد صرف چند سالوں کے اندر قطر مغرب جیسا ترقی یافتہ ملک بن گیا۔ دوحہ یہاں کا دار السلطنت ہے۔ دوحہ شہر کو دیکھ کر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ آپ یورپ کے کسی انتہائی ترقی یافتہ علاقے میں پہنچ گئے ہیں۔
ایک عالم سے ملاقات ہوئی۔ گفتگو کے دوران انھوں نے کہا کہ اسلام کے موضوع پر جو قدیم عربی کتابیں ہیں، صرف اُنھیں کو پڑھنا چاہیے۔ موجودہ زمانے میں اسلام کے بارے میں جو کتابیں لکھی گئی ہیں، ان کو پڑھنا غیر ضروری ہے۔ انھوں نے اپنے بارے میں کہا کہ میں صرف قدیم عربی کتابیں پڑھتا ہوں۔ آج کل اسلام کے بارے میں جو کتابیں لکھی گئی ہیں، میں اُن کو پڑھتا ہی نہیں۔ انھوںنے یہ بھی بتایا کہ وہ غیر مسلموں میں دعوت کا کام کرتے ہیں۔
میں نے کہا کہ اسلام اگر صرف تاریخ کا موضوع ہو تو آپ کی یہ روش درست قرار پائے گی۔ لیکن اسلام صرف تاریخ کا موضوع نہیں ہے۔ اسلام کی یہ منشا ہے کہ ہر دور کے لوگ اسلام کو ایک ابدی سچائی کے طورپر دریافت کریں۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ موجودہ زمانہ ایک بدلا ہوا زمانہ ہے۔ قدیم دور اگر روایتی دور تھا تو موجودہ دور سائنٹفک دورہے۔موجودہ دور کے ذہن کو اگر آپ اسلام کی صداقت پر مطمئن کرنا چاہتے ہیں تو آپ کو جدید اسلوب (modern idiom) میں بولنا پڑے گا۔ ایسی حالت میں آپ پر لازم ہے کہ آپ جدید افکار (modern thought) سے واقفیت حاصل کریں، تاکہ آپ جدید انسان کو اس کی قابلِ فہم زبان میں ایڈریس کرسکیں۔
میںنے کہا کہ ایک کام ہے مسلمانوں کو نماز، روزہ کے مسائل بتانا۔ دوسرا کام ہے جدید ذہن کو اسلام کی صداقت پر مطمئن کرنا۔ مسلمانوں کو نماز، روزہ کے مسائل بتانے کے لیے قدیم کتابوں کا مطالعہ کافی ہوسکتا ہے، لیکن اسلام کی دعوت کو موثر اسلوب میں پیش کرنے کے لیے جدید افکار سے واقفیت لازمی طور پر ضروری ہے۔
ایک صاحب جو قطر کی ایک مسجد میںامام ہیں اور اپنی فیملی کے ساتھ یہاں رہتے ہیں، انھوں نے کھانے کے لیے اپنے گھر آنے کی دعوت دی۔ میںنے کہا کہ میں صرف اِس شرط پر آؤں گا کہ آپ بالکل سادہ کھانے کھلائیں۔ پھر میںنے کہا کہ سادہ کھانے کی تعریف یہ ہے کہ آپ روزانہ جو کھانا کھاتے ہیں، وہی کھانا ہم کو کھلائیں۔ اس میں کسی اور آئٹم کا اضافہ نہ کریں۔
انھوں نے کہا کہ مگر حدیث میں آیا ہے کہ:مَنْ کَانَ یُؤْمِنُ بِاللَّہِ وَالیَوْمِ الآخِرِ فَلْیُکْرِمْ ضَیْفَہُ(صحیح البخاری، رقم الحدیث 6018) مَن کان یؤمن باللہ والیوم الآخر فلیکرمیفہ۔ اِس حدیث کے مطابق، مہمان کا اکرام کرنا بھی مومن کی ایک صفت ہے۔ میںنے کہا کہ اکرامِ ضیف دل سے ہوتا ہے، نہ کہ پُر تکلف کھانا کھلانے سے، جس کا آج کل عام رواج ہے۔ اکرامِ ضیف کا مطلب یہ ہے کہ آپ اپنے مہمان سے محبت کے ساتھ ملیں، اس کی سچی محبت کریں، اس کے ساتھ خیر خواہی کا معاملہ کریں۔ ضیف کا اکرام دل سے ہوتا ہے، نہ کہ انواع واقسام کا کھانا کھلانے سے۔
آج کل مسلمانوں میں ایک بات بہت زیادہ کہی جاتی ہے، وہ یہ ہے کہ — اسلاف کی پیروی کرو۔ یہ بات بظاہر درست معلوم ہوتی ہے، لیکن عملی اعتبار سے دیکھئے تو اِس میں پوری امت کے لیے کوئی واضح رہنمائی پائی نہیں جاتی۔ پیروی کا لفظ ایک واحد نقطۂ اتحاد(point of unity) چاہتا ہے، لیکن ’’اسلاف کی پیروی ‘‘ کے لفظ میں کوئی واحد نقطۂ اتحاد موجود نہیں۔
حدیث کی ایک پیشین گوئی موجودہ زمانے میں واقعہ بن چکی ہے، وہ یہ کہ امت مختلف گروہوں میں بٹ گئی ہے۔ مثلاً سلفی گروہ، حنفی گروہ، بریلوی گروہ، شیعہ گروہ، اسی طرح ندوی گروہ، دیوبندی گروہ، وغیرہ۔ اِن میں سے ہر گروہ کے اپنے اپنے اکابر ہیں۔ ہر ایک کے اکابر اس کے لیے اپنے اسلاف کا درجہ رکھتے ہیں۔ مثلاً اہلِ حدیث کے اکابر امام ابن تیمیہ اور امام ابن قیم ہیں، احناف کے اکابر امام ابو حنیفہ اور امام ابو یوسف ہیں۔ اِسی طرح دیوبندیوں کے اکابر مولانا محمد قاسم نانوتوی اور مولانا حسین احمد مدنی ہیں، اور ندویوں کے اکابر مولانا سید سلیمان ندوی اور مولانا سید ابو الحسن علی ندی ہیں، وغیرہ۔
ایسی حالت میں اگر یہ کہا جائے کہ ’’اسلاف کی پیروی کرو‘‘ تو اِس اصول کو جاننے کے باوجود اس کامفہوم ایک نہیں ہوگا، بلکہ کئی ہوجائے گا، ہر ایک اپنے اکابر سلف کو الگ الگ اپنا مقتدا سمجھے گا۔ اِس طرح امت بدستورمختلف گروہوں میں بٹی رہے گی، جیسا کہ وہ اِس وقت بٹی ہوئی ہے۔
اِس کے بجائے اگر لوگوں کو یہ بتایا جائے کہ رسو ل اور اصحابِ رسول کی پیروی کرو تو لوگوں کو واحد نقطۂ پیروی مل جائے گا، کیوں کہ اِس معاملے میں امت کے مختلف گروہوں کے درمیان کوئی اختلاف نہیں۔ ایک ہی رسول ہر ایک کے لیے رسول ہے اور ایک ہی جماعتِ صحابہ ہر ایک کے لیے جماعتِ صحابہ کی حیثیت رکھتی ہے۔ ایسا کہنے کی صورت میںہر ایک کو مشترک طور پر ایک ہی نقطۂ پیروی مل جائے گا، اور وہ ہے رسول اور اصحابِ رسول کی پیروی۔ یہی طریقہ قرآن اور سنت کے مطابق ہے، اور اِس طریقے کے ذریعے امت کے اندر صحیح ذہن اور اتحاد پیدا ہوسکتا ہے۔
ایک صاحب نے حجر اسود کے بارے میں سوال کیا۔ اُن کا سوال ان کے الفاظ میں یہ تھا:
In the last lecture (18 Oct. 2009) you said that Black Stone (Hajar al Aswad) is just a stone and Prophet Ibrahim took from one of the mountains, that it is just a starting point for Tawaf. Why did Prophet Muhammad kiss it and all Muslims want to kiss it, if this is just a stone taken from a mountain?
میںنے اِس سوال کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ حجرِ اسود کوئی پُراسرار پتھر نہیں۔ ایسی کوئی حدیث موجود نہیں جس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لفظاًیہ کہا ہو کہ تم لوگ حجر اسود کو بوسہ دو۔ حجر اسود کی حیثیت صرف طواف کے لیے ایک نقطۂ آغاز (starting point) کی ہے۔ ایک حاجی اگر حجر اسود کی طرف ہاتھ سے اشارہ کرکے اپنا طواف شر وع کرے تو یہ بھی عین درست ہوگا، اِس سے اُس کے حج میں کوئی کمی واقع نہ ہوگی۔ خلیفۂ ثانی حضرت عمر فاروق کے بارے میں روایات میں آیا ہے کہ: أنہ جاء إلی الحجر الأسود فقبّلہ فقال: إنّی أعلم أنّک حجرٌ، لا تضر ولا تنفع، ولولا أنّی رأیتُ النّبیَّ صلی اللہ علیہ وسلم یُقبّلُک، ما قبّلتک (صحیح البخاری، کتاب الحج، باب ما ذُکر فی الحجر الأسود) یعنی عمر فاروق طوافِ کعبہ کے وقت حجر اسود کے پاس آئے۔ انھوں نے اس کو بوسہ دیا، پھر انھوںنے کہاکہ میں جانتا ہوں کہ تو صرف ایک پتھر ہے، تو نہ نقصان پہنچا سکتا ہے اور نہ فائدہ پہنچا سکتا ہے۔ اگر میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بوسہ دیتے ہوئے نہ دیکھا ہوتا تو میں تجھ کو ہر گز بوسہ نہ دیتا۔
حضرت عمر فاروق کے اِس قول سے ثابت ہوتا ہے کہ حجر اسود کوئی پراسرار پتھر نہیں۔اس کے ساتھ یہ عقیدہ وابستہ نہیں کہ وہ کوئی نقصان یا فائدہ پہنچانے کی طاقت رکھتا ہے، جیسا کہ بتوں کے متعلق سمجھا جاتا ہے۔ وہ صرف آغازِ طواف کا ایک نشان ہے، اِس سے زیادہ اور کچھ نہیں۔
اب یہ سوال ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حجر اسود کا بوسہ کیوں دیا۔ اس کا سبب یہ تھاکہ حجر اسود پیغمبر ابراہیم کی ایک یادگار (momento) ہے، وہ ایک عظیم پیغمبرانہ تاریخ کی یاد دلاتا ہے۔ حجر اسود کو بوسہ دینا دراصل پیغمبر ابراہیم کے لیے اپنے جذباتِ محبت کا اظہار ہے، نہ کہ کسی بت کے لیے جذباتِ پرستش کا اظہار۔ یہ انسانی فطرت ہے کہ کسی بچھڑے ہوئے محبوب کی کوئی چیز ملے توآدمی اس کو لے کر مختلف طریقے سے اپنے جذبات کا اظہار کرتا ہے، وہ کبھی اس کو چومتا ہے، کبھی اس کو اپنے سر پر رکھتا ہے، کبھی اس کو اپنے سینے سے لگاتا ہے، حجر اسود کو بوسہ دینا اِسی طرح حضرت ابراہیم کے لیے اپنے جذباتِ محبت کا اظہار ہے، اِس سے زیادہ اورکچھ نہیں۔
قطر کے زمانۂ قیام میں مجھے ہر قسم کی سہولیات (facilities) اعلیٰ معیار پر حاصل تھیں، مگر ایک لمحہ کے لیے وہاں مجھے سکون حاصل نہ تھا۔ اس کا ایک سبب یہ تھا کہ میرے جیسے انسان کو سکون صرف مادّی سامان سے حاصل نہیں ہوسکتا، میرے جیسے انسان کو سکون فکری خوراک سے ہوتا ہے اور وہ یہاں مجھے حاصل نہ تھی۔عربوں کا معاملہ یہ ہے کہ اُن سے صرف رسمی انداز کی بات ہوسکتی تھی۔ عربوں کے ساتھ اعلیٰ نوعیت کا فکری تبادلۂ خیال ممکن نہیں تھا، اور دوسرے ملکوں کے جو لوگ قطر میں آباد ہیں، اُن کا واحد کنسرن پیسہ کمانا ہے۔ عرب دنیا کا سب سے بڑا خلا یہ ہے کہ یہاں فکری آزادی نہیں پائی جاتی۔ فکری آزادی ہی سے علمی ترقی ہوتی ہے۔ جہاں لوگوں کو فکری آزادی حاصل نہ ہو، وہاںکبھی علمی ارتقاء کا ماحول نہیں بن سکتا۔
قطر میںجو ہندستانی ہیں، ان میں زیادہ تر کیرلا کے لوگ ہیں۔ ان میں مسلم بھی ہیں اور غیر مسلم بھی۔ یہ اتفاقی بات نہیں ہے۔ اس کا سبب یہ ہے کہ کیرلا کے لوگ، بلکہ ساؤتھ انڈیاکے لوگ، ہر جگہ آسانی سے قابلِ قبول بن جاتے ہیں۔ اِس کا سبب یہ ہے کہ ان کے اندر پروفیشنل ازم (professionalism) ہوتا ہے۔ پروفیشنل ازم کا مطلب سادہ لفظوں میں یہ ہے کہ —اپنے کام سے کام رکھنا۔ شمالی ہند کے لوگوں کا مزاج سیاسی ہوتا ہے۔ وہ بہت جلد اپنی سیاست شروع کردیتے ہیں۔ اِس کے برعکس، جنوبی ہند کے لوگوں کا مزاج ’’اپنے کام سے کام‘‘ والا ہوتا ہے۔ ان کی اِس صفت نے اُن کو ہر جگہ مقبول بنادیا ہے۔
ایک صاحب سے بات کرتے ہوئے میںنے کہا کہ آپ لوگ اسرائیل کے بارے میں صرف یہ جانتے ہیں کہ وہ فلسطینیوں پر تشدد کرتا ہے۔ اسرائیل کے بارے میں اس کے سوا کوئی اور بات آپ نہیں جانتے۔ میں نے کہا کہ آپ لوگوں کو اس معاملے میں عدل سے کام لینا چاہیے۔ حقیقت یہ ہے کہ اسرائیل یک طرفہ طورپر تشدد نہیں کرتا۔ فلسطینی اُن کو پتھر مارتے ہیں تو اسرائیل اِس کے جوا ب میں اُن کو بم مارتا ہے۔ یہ دو طرفہ معاملہ ہے، نہ کہ یک طرفہ معاملہ۔ مگر عربوں کو یا مسلمانوں کو اسرائیل میں پیش آنے والے اِس واقعے کی کوئی خبر نہیں۔ اِس کا سبب یہ ہے کہ مسلم میڈیا میںاِس کا کوئی چرچا نہیں ہوتا۔
ایک صاحب سے گفتگو کرتے ہوئے میںنے کہا کہ کچھ لوگ کہتے ہیں کہ اسلاف کا لٹریچر ہمارے لیے کافی ہے، ہم کو مزید لٹریچر کی ضرورت نہیں۔ میں نے کہا کہ یہ صرف ایک غیر عملی بات ہے۔ خود ایسا کہنے والے بھی اس پر عمل نہیں کرسکتے۔
میںنے کہا کہ اسلاف کی کتابوں کے دو حصے ہیں— ایک، وہ جو نمازروزہ جیسی عبادات سے متعلق ہیں۔ دوسرے، وہ جو ملی پالیسی سے تعلق رکھتے ہیں۔ نماز روزہ جیسی عبادات کے معاملے میں آپ اسلاف کی پیر وی کرسکتے ہیں، کیوںکہ یہ مسائل اپنی نوعیت کے اعتبار سے ابدی ہیں۔ لیکن جہاں تک اُن باتوں کا تعلق ہے جن کو ملی پالیسی کہا جاتا ہے، ان کا معاملہ بالکل مختلف ہے۔ ان میں حالاتِ زمانہ کی رعایت بہت ضروری ہوتی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ملی پالیسی والا شعبہ اُس مشہور فقہی اصول کے تحت آتا ہے جس کو اِن الفاظ کے تحت بیان کیا جاتا ہے: تتغیّر الأحکام بتغیّر الزمان والمکان۔ اگر آپ ایسا نہ کریں تو آپ کے ملی معاملات بگڑ کر رہ جائیں گے۔
خود ہمارے اسلاف نے یہ فقہی اصول مقرر کیا ہے کہ: تتغیر الأحکام بتغیر الزمان والمکان۔ اب سوال یہ ہے کہ اسلاف کا مقرر کیے ہوئے اِس اصول کا انطباق کیا ہے، عملی طورپر اس کو کن حالات میں منطبق کیا جائے گا۔ جب بھی زمان ومکان بدلیں گے اور مذکورہ اصول کے مطابق، احکام میں تغیر کیا جائے گا تو یہ تغیر یقینی طورپر اسلاف کا اعادہ نہیں ہوگا، بلکہ وہ اسلاف کی کہی ہوئی باتوں کے علاوہ کوئی بات ہوگی۔
20 اکتوبر 2009 کو میری تقریر تھی ۔ تقریر کا موضوع ’’امن اور اسلام‘‘ تھا۔ میری تقریر انگریزی زبان میں تھی۔ میںنے اپنی تقریر میںجو باتیں کہیں، اُن میں سے ایک بات یہ تھی کہ اِس معاملے میں مسلمانوں کا ذہن واضح نہیں ہے۔ وہ اکثر یہ کہتے ہیں کہ ہم امن چاہتے ہیں۔ لیکن ہم انصاف کے ساتھ امن (السلام مع العدل) چاہتے ہیں۔ یہ سوچ غیر فطری ہے۔ اِس سوچ کے تحت کسی کو نہ کبھی امن ملے گا اور نہ انصاف۔ انصاف امن کا حصہ نہیںہے، بلکہ وہ خود اپنی جدوجہد سے کسی کوملتا ہے۔
اصل یہ ہے کہ آپ پہلے یک طرفہ بنیاد(unilateral basis) پر امن قائم کیجئے۔ امن قائم ہوتے ہی ہر قسم کے مواقع (opportunities) کھل جائیں گے۔ اِن موقع کا بھر پور استعمال کرکے آپ انصاف کو حاصل کرسکتے ہیں۔
ایک عالم سے گفتگو کرتے ہوئے میں نے کہا کہ عربی زبان میں قرآن کی جو تفسیریں لکھی گئی ہیں، وہ عام طورپر شانِ نزول یا اسبابِ نزول کی روایتوں کو لے کر لکھی گئی ہیں۔ اِس طرزِ تفسیر نے قرآن کو بہت محدود کردیا ہے۔ اسبابِ نزول کی حیثیت ایک وقتی حوالہ (immediate reference) کی ہوتی ہے۔ صرف اسی کو بنائِ تفسیر قرار دینا، قرآن کو محدود کرنے کے ہم معنیٰ ہے۔
مثال دیتے ہوئے میںنے کہا کہ قرآن (الکہف: 71) میں بتایاگیا ہے کہ خضر نے ایک کشتی کے تختہ کو نکال کر اس کو عیب دار بنادیا۔ شانِ نزول کے مطابق، مفسرین نے اِس واقعے کو صرف ایک مخصوص کشتی کے ساتھ متعلق سمجھا ہے، مگر یہ تفسیر قرآن کو محدود کرنے کے ہم معنیٰ ہے۔ اِس کا مطلب دراصل یہ ہے کہ موجودہ دنیا میں بار بار ایسا ہوتاہے کہ کسی آدمی کی زندگی میں ایک ایسا واقعہ پیش آتا ہے جو بظاہر ناگوار واقعہ ہوتا ہے، لیکن اِس واقعے کے پیچھے اللہ تعالیٰ کا گہرا منصوبہ ہوتا ہے۔ فوری طورپر ایسے واقعے کی توجیہہ سمجھ میں نہیں آتی، لیکن آدمی اگر انتظار کرے تو کچھ دن کے بعد وہ خود سمجھ لے گا کہ ایسا ہونا اس کے حق میں بہتر تھا۔ ایسا واقعہ اس کے لیے زحمت میں رحمت (blessing in disguise) کے ہم معنی تھا۔
20 اکتوبر 2009 کی صبح کو میں ہوٹل کی بالکنی پر بیٹھا ہوا تھا۔ سامنے کی سڑک پر چمک دار کاریں دوڑ رہی تھیں۔ اوپر کی فضا میں کبھی کبھی ہوائی جہاز کے اڑنے کی آواز آتی تھی۔ ہوٹل کے ایک طرف شان دار عمارتیں پھیلی ہوئی تھیں۔ اِس منظر کو دیکھ کر میںنے اپنے ایک ساتھی سے کہا کہ میرا یہ حال ہے کہ جب میں خوب صورت کاروں کو سڑکوں پر دوڑتے ہوئے دیکھتاہوں ، جب میں ہوائی جہاز کو فضا میں اڑتے ہوئے دیکھتا ہوں، جب میں پُر رونق شہروں کو دیکھتا ہوں، تو میں سوچنے لگتا ہوں کہ خدا کی قدرت کتنی عجیب ہے اُس نے مادّی دنیا کے اندر ایسے امکانات رکھے جن کو دریافت کرکے ایک شان دار تہذیب وجود میں لائی جاسکے۔
پھر خدا کی یہ قدرت کتنی عجیب ہے کہ اُس نے انسان کو دماغ عطا کیا جس کو استعمال کرکے انسان یہ تمام کارنامے انجام دے سکے۔ میںنے کہا کہ ہوائی جہاز خدا کی قدرت کا اڑتا ہوا نشان ہے۔ ٹیلی فون خدا کی قدرت کا بولتا ہوا نشان۔ حقیقت یہ ہے کہ پوری تہذیب خدا کی قدرت کا ایک زندہ نشان ہے۔ مگر معرفت سے محرومی کی بنا پر لوگوں کا حال یہ ہے کہ وہ تہذیب کی ترقیوں کو انسان کا کرشمہ سمجھتے ہیں، نہ کہ خدا وند ِ ذوالجلال کا کرشمہ۔
قرآن کی سورہ نمبر 47 میں جنت کے بارے میں کہاگیا ہے: یُدخلہم الجنۃ عرّفہا لہم (محمد: 6 )۔ جنت اگلی دنیا میں انسان کے سامنے آئے گی، لیکن اِس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ جنت کا ابتدائی تعارف موجودہ دنیا ہی میںکردیا جائے گا۔ میں سمجھتا ہوں کہ جدید ٹکنالوجی نے یہی کام انجام دیا ہے۔ جدید ٹکنالوجی نے جو تہذیب پیدا کی ہے، وہ ایک اعتبار سے، آنے والی جنت کا ابتدائی تعارف ہے۔
مولانا ابو صالح انیس لقمان ندوی کا حافظہ بہت اچھا ہے۔ اُن کو واقعات بہت زیادہ یاد رہتے ہیں۔ انھوں نے ایک مصری لطیفہ بتایا۔ انھوںنے بتایا کہ مصری لوگ لطیفہ بنانے کے ماہر ہوتے ہیں۔ انھوںنے بتایا کہ مصر کے سابق شاہ فار وق (وفات: 1965 )نے ایک فورڈ کار منگائی۔ وہ خود ا س کو چلانے لگے۔ اُن کا مصاحب بھی ان کے ساتھ گاڑی میں موجود تھا۔ شاہ فاروق کو ڈرائیونگ کا زیادہ تجربہ نہ تھا۔ گاڑی چلاتے ہوئے انھوں نے گاڑی کو ایک درخت سے ٹکرادیا۔ اُن کا مصاحب اِس کے بعد فوراً گاڑی سے اترا اور اس نے مودبانہ انداز میں شاہ فاروق سے کہا: الخطأ لیس فی قیادتک، وإنما الخطأ فی مَن غرس ہٰذا الشجرۃ فی ہٰذا المکان۔ (جناب، غلطی آپ کی ڈرائیونگ میں نہیں ہے، بلکہ غلطی اُس شخص کی ہے جس نے اِس مقام پر یہ درخت لگایا)۔
اِس لطیفے کا ایک پہلو یہ ہے کہ عرب دنیا میںآزادیٔ فکر نہ ہونے کا یہ عظیم فقدان ہوا ہے کہ عربوںمیں فکری ارتقا(intellectual development) کا عمل جاری نہ ہوسکا۔ لطیفہ بنانا تو وہ جانتے ہیں، لیکن وہ تخلیقی معنوں میں کوئی علمی بات نہیں کہہ سکتے۔ سعودی عرب کے بارے میں ایک شیخ نے کہا تھا: السعودیۃ مقبرۃ لعلماء المسلمین (سعودیہ مسلم علماء کا قبرستان ہے)۔ مذکورہ شیخ نے یہ بات دینی زوال کے معنوں میں کہی تھی، لیکن یہ بات فکری زوال کے بارے میں زیادہ صحیح ہے۔
قطر میں شیریٹن ہوٹل (Sheraton) میں مجھ کو ٹھیرنے کے لیے کافی بڑی جگہ دی گئی تھی۔ میرے دو ساتھیوں کے لیے دو الگ الگ روم تھے۔ میرے قیام کے لیے ماڈرن انداز کا ایک بڑا سوئٹ (Suite) تھا۔ کھانے کا نہایت اعلیٰ انتظام تھا۔ یہ ہوٹل بحرِ عرب کے کناے بنایا گیا ہے۔ اِس طرح میرا سوئٹ ساحل کے بالکل کنارے تھا۔ یہاں کے خارجی مناظر بھی کافی شان دار تھے، مگر مجھے مسلسل طورپر ایک نامعلوم قسم کی بے سکونی لاحق تھی۔ مجھے ایک لمحہ بھی یہاں خوشی محسوس نہیں ہوتی تھی۔
میں نے سوچا کہ اِس کا سبب کیا ہے۔ میری سمجھ میں آیا کہ اِس کا سبب غالباً یہ ہے کہ یہ دنیا ایک محدود اور غیر کامل دنیا ہے، جب کہ انسان ایک لامحدود ذہن لے کر پیدا ہوتا ہے۔ اِس لیے اس دنیا کی کوئی بھی چیز انسان کو کامل معنوں میں مسرت نہیں دے سکتی۔ اِس دنیا میں ہر صورت حال کے ساتھ حزن (sorrow) لازمی طورپر لگا ہوا ہے۔ جنت کی سب سے بڑی نعمت یہ ہوگی کہ وہاں حزن کا خاتمہ ہوجائے گا۔ چناں چہ قرآن میں آیا ہے کہ اہلِ جنت جب جنت میں پہنچیں گے تو وہ کہیں گے: الحمد للہ الذی أذہب عنّا الحزَن (فاطر: 34 ) ۔
اِس آیت سے بلاغت کا ایک نکتہ معلوم ہوتا ہے۔ قرآن کی اِس آیت میں ’’حزَن‘‘ کا لفظ آیا ہے۔ قرآن کی ایک اور آیت میں اِس کے بجائے حُزْن (یوسف: 86 ) کا لفظ استعمال ہوا ہے۔ یہ کوئی پراسرار بات نہیں۔ لغوی اعتبار سے حُزن اور حزن دونوں بالکل ہم معنیٰ الفاظ ہیں۔ مذکورہ دونوں آیتوں میں اُن کا استعمال اصولِ بلاغت کی بنا پر ہے، کیوں کہ صوتی آہنگ کے اعتبارسے، ایک جگہ حُزن کا لفظ زیادہ مناسب ہے اور دوسری جگہ حزَن کا لفظ۔ یہ فرق صرف صوتی آہنگ کی بنا پر ہے، نہ کہ کسی پراسرار سبب کی بنا پر۔
ایک صاحب سے ملاقات ہوئی۔ انھوں نے اپنی ماں کی بہت تعریف کی۔ میں نے کہا کہ یہ آپ کی ماں کی بات نہیں، ہر آدمی اپنی ماں کے ساتھ اُسی طرح حبِّ شدید کا تعلق رکھتا ہے، جس طرح آپ کو اپنی ماں کے ساتھ حب شدید کا تعلق ہے، لیکن میں اِس کو صرف بے خبری کا ایک کیس سمجھتا ہوں۔
میںنے کہا کہ لوگوں کو اپنی ماں کے ساتھ حب شدید کا تعلق کیوں ہوتاہے۔ اِس کا سبب یہ ہے کہ وہ دیکھتے ہیں کہ ان کی ماںکے پیٹ سے ان کا جنم ہوا، پھر وہ دیکھتے ہیں کہ پیداہونے کے بعد ان کی ماں نے ان کو پالا پوسا۔ مگر یہ ایک بے بصیرتی کی بات ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ حب شدید کا تعلق آدمی کو صرف خدا سے ہونا چاہیے۔خدا کے آپ کے اوپر جو احسانات ہیں، وہ بلین ٹریلین سے بھی زیادہ ہیں۔ آپ کو پیدا کرنے والی آپ کی ماں نہیں ہے، یہ دراصل خدا ہے جس نے آپ کی تخلیق کی۔ خدا نے آپ کو صوّرکم فأحسن صُورکم (المؤمن: 64 ) کا درجہ دیا۔ پیدا ہونے کے بعد بھی یہ دراصل خدا ہے جو اِس کی پرورش یا تربیب (upbringing)کرتا ہے۔ یہ خدا ہے جس نے آپ کو لائف سپورٹ سسٹم دیا۔ حقیقت یہ ہے کہ آپ کی زندگی میں 99 فی صد سے زیادہ حصہ خدا کا ہے اور ایک فی صد سے بھی کم حصہ آپ کی ماں کا۔ ایسی حالت میں آپ کے اندر حب شدید کا تعلق خدا سے ہوناچاہئے، نہ کہ اپنی ماں سے۔ مگر عجیب بات ہے کہ اِس معاملے میں تمام دنیا کے لوگ اندھے پن کی حد تک بے خبری میں مبتلا ہیں۔
یہاں مجھ پر عجز کا ایک تجربہ گزرا۔ اس کے بعد میری زبان سے یہ دعاء نکلی— خدایا، تو نے انسان کو عجز کے ساتھ پیدا کیا۔ ساری قدرت تیری طرف اور سارا عجز انسان کی طرف۔ ایسی حالت میں تو انسان کے معاملے میں غیر جانب دار(indifferent) نہیں ہوسکتا۔ یہ تیری شانِ خداوندی کے خلاف ہے کہ تیرے اور انسان کے درمیان عجز اور غیر جانب داری (indifference) کا تعلق ہو۔ ایسا تعلق ’’قسمۃ ضیزیٰ‘‘ کا مصداق بن جائے گا۔ ضروری ہے کہ خدا اور بندے کے درمیان محروم اور معطی کا تعلق ہو۔ یہی تعلق خدائے رحمان اور رحیم کی شان کے مطابق ہے۔
ایک حدیث میں ایک لمبی دعا آئی ہے، اُس کا ایک حصہ یہ ہے: اللہم إنّی أسئلک بحقِّ السائلین علیک (مسند احمد، جلد 3 ، صفحہ 21)۔ اِس پیغمبرانہ دعا ء سے معلوم ہوتا ہے کہ سائل اگر حقیقی سائل ہے تو اس کا بھی کچھ حق ہوتا ہے، جس طرح بندوں کے اوپر اللہ کے حقوق ہیں، اُسی طرح بندوں کا بھی اللہ کے اوپر کچھ حق ہے۔ تاہم یہ ایک بے حد نازک بات ہے۔ اِس حقیقت کو صرف وہ لوگ سمجھ سکتے ہیں جو معرفت کے اعلیٰ درجے پر پہنچ چکے ہوں۔
کئی لوگوں سے قیامت کے بارے میں گفتگو ہوئی۔ مجھے ایسا محسوس ہوا کہ سیکولر لوگ جو سائنس کا علم رکھتے ہیں، وہی اِس بارے میں سوچتے ہیں۔ جہاں تک مسلمانوں کا تعلق ہے، وہ قیامت کے معاملے میں بالکل بے خوف ہیں۔ مسلمانوں کی نفسیات یہ ہوتی ہے کہ ان کے خیال کے مطابق، مہدی اور مسیح تو ابھی آئے نہیں، پھر اِس سے پہلے قیامت کیسے آجائے گی۔ اور اگر قیامت آتی ہے تب بھی مسلمانوں کے لیے وہ کوئی مسئلہ نہیں، کیوں کہ مسلمان امتِ مرحومہ سے نسبت رکھتے ہیں۔
عجیب بات ہے کہ ہالی وڈ(Hollywood) نے ایک فلم بنائی ہے۔ اس کا نام یہ ہے:
2012 End of the world
اِس انگریزی فلم میں قیامت کے مناظر دکھائے گئے ہیں۔ اس فلم میں بتایا گیا ہے کہ قیامت 21 دسمبر 2012 کو آئے گی۔ اس میں بتایا گیا ہے کہ مشہور سائنس داں آئن سٹائن (وفات: 1955) نے بھی کہا تھا کہ 2012 تک قطبین (South Pole, North Pole)کی برف پگھلنے کی وجہ سے زمین پر پول شفٹ (pole shift)کا واقعہ پیش آئے گا۔ اِس فلم میںایک سائنس داں بول کر کہتا ہے کہ — قیامت قریب آرہی ہے، کیوں کہ انسان خدا کے قانون پر نہیں چلا:
Doomsday is coming because man does not follow the path of God.
قرآن میں بتایاگیا ہے کہ قیامت اچانک (بغتۃً) آئے گی (الأعراف:187 ) ۔ اِس لیے 21 دسمبر2012کی محدّد پیشین گوئی درست نہیں ہوسکتی، البتہ یہ بات درست معلوم ہوتی ہے کہ قیامت بہت زیادہ قریب آچکی ہے۔ ممکن ہے کہ وہ اکیسویں صدی عیسوی کے ربع اوّل ہی میں آجائے۔
ایک مجلس میں مسلمانوں کی موجودہ عالمی حالت پر گفتگو ہوئی۔ میںنے کہا کہ موجودہ زمانے کے مسلمان، عرب اور غیر عرب دونوں، ایک ذہنی واہمہ (obsession) میں مبتلا ہیں اور وہ ہے، عظمتِ رفتہ کی واپسی۔ میں نے کہا کہ یہ ایک جاہلی مزاج ہے۔ وسیع تر پہلو سے دیکھا جائے تو انسان کا کیس جنتِ رفتہ کی واپسی کا کیس ہے، نہ کہ دنیوی معنوں میں عظمتِ رفتہ کی واپسی کا کیس۔
ایک عرب خاتون لیما نبیل نے اسپین کا سفر کیا۔ وہاں مسلم عہد کی قدیم عمارتوں میں اُن کو عرب کی عظمتِ رفتہ نظر آئی۔ اس کو دیکھ کر وہ روپڑیں۔ انھوں نے کہا : إلی متی سیستمر ہٰذا اللیل العربی (عرب کی یہ تاریک رات آخر کب تک باقی رہے گی)۔
یہی موجودہ زمانے کے تمام مسلمانوں کا حال ہے۔ ہر ایک قدیم سیاسی عظمت کے تصور میں گم ہے۔ اسپین کی عرب سلطنت1492 میں ختم ہوئی، انڈیا کی مغل سلطنت 1857 میں ختم ہوئی، ترکی کی عثمانی خلافت 1929 میں ہوئی۔ یہ مسلم ایمپائر کے دور کی باتیں ہیں ۔ ساری دنیا کے مسلمان اِن واقعات کو پڑھتے ہیں اور اس کی واپسی کا خواب دیکھتے رہتے ہیں۔
یہ بلا شبہہ ایک جاہلیت ہے۔ نہ صرف مسلمان، بلکہ تمام انسانوں کا اصل مسئلہ یہ ہے کہ انسان کی تخلیق کے بعد اس کو جنت میں رکھا گیا، پھر اس کو وہاں سے نکال دیا گیا۔ اب مسلمان سمیت تمام انسانوں کا اصل مسئلہ یہ ہے کہ ان کو جنت میں دوبارہ واپسی ملے، مگر شیطان نے ہر ایک کو بھٹکا کر ان کو اصل مسئلے سے غافل بنا رکھا ہے۔
ایک صاحب نے کہا کہ آپ اپنے کام کو دعوت الی اللہ کا کام بتاتے ہیں، لیکن مجھے بتایاگیا ہے کہ آپ کلمہ نہیں پڑھاتے۔ آخر یہ کیسی دعوت ہے جس میں کلمۂ شہادت کی ادائیگی نہیں۔ انھوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک داعی تھے۔ آپ کا طریقہ یہ تھا کہ آپ لوگوں کو کلمہ پڑھا کر اسلام میں داخل کرتے تھے، پھر یہ آپ کی کون سی دعوت ہے جس میں کلمہ پڑھانا نہیں۔
میں نے کہا کہ آپ کو یہ غلط فہمی سلیکٹیو رپورٹنگ (selective reporting) کی بنا پر ہے، یعنی کچھ اجزا کو بتانا اور کچھ اجزا کو نہ بتانا۔ میں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے مشن میں کلمہ پڑھانے سے دعوت کا آغاز نہیں کرتے تھے، بلکہ شعوری بیداری سے آغاز کرتے تھے جس کو معرفت کہاجاتا ہے۔ رسول اللہ کی دعوت تمام تر قرآن پر مبنی تھی۔ آپ افراد کے سامنے بھی اور مجمع میں بھی یہی کرتے تھے کہ آپ لوگوں کو قرآن پڑھ کر سناتے تھے (عرض علیہم الإسلام، وقرأ علیہم القرآن)۔ آپ کا اصل دعوتی کام یہی تھا۔ اِس کے بعد جن لوگوں کا ذہن بدل جاتا اور وہ دائرہ اسلام میں داخل ہونے کی خواہش ظاہر کرتے توآپ کلمہ شہادت کی ادائیگی کے بعد ان کو دائرہ اسلام میں داخل کرلیتے۔یہی وجہ ہے کہ سارے قرآن میں دعوت کی باتیں تو ہیں، لیکن قرآن میں یہ نہیں بتایا گیا ہے کہ لوگوں سے کلمہ شہادت پڑھوا کر ان کو دائرہ اسلام میں داخل کرو۔
قطر کے زمانۂ قیام میں جو دعوتی کام ہوئے، اُن میں سے ایک یہ تھا کہ پروفیسر ابراہیم صالح النعیمی کو ہمارے ساتھیوں نے تذکیر القرآن کے عربی ایڈیشن (التذکیر القویم فی تفسیر القرآن الحکیم) کا ایک سیٹ بطور ہدیہ پیش کیا۔ اس کو انھوںنے شکریہ کے ساتھ قبول کیا۔ پروفیسر صالح النعیمی مرکز الدوحۃ الدولی لحوار الأدیان کے ڈائریکٹر ہیں۔
تذکیر القرآن کا یہ عربی ایڈیشن تین جلدوں پر مشتمل ہے۔ وہ 2008 میں دار الوفاء (المنصورہ، مصر) سے چھپا ہے۔ اِس ادارے نے راقم الحروف کی ایک اور کتاب ’’خاتونِ اسلام‘‘ کا عربی ترجمہ (المرأۃ بین شریعۃ الإسلام وحضارۃ الغربالال) شائع کیا ہے۔ ادارے کا مکمل پتہ یہ ہے:
دار الوفاء للطباعۃ والنشر والتوزیع، جمہوریۃ مصر العربیۃ، المنصورۃ
ش الإمام محمد عبدہ المواجہۃ لکلیۃ الآداب، ص ب: 230
Tel: +2050 22 56 230, Fax: +20502260 974
e.mail: darelwafa@hotmail.com
www.darelwafaa.com
دار الوفاء (مصر) کا اپنا ویب سائٹ ہے۔ اِس ویب سائٹ پر تذکیر القرآن کے عربی ایڈیشن کا تعارف اِن الفاظ میں دیکھا جاسکتا ہے:
ں إن الغرض الرئیسی من ہذا التفسیر بصفۃ خاصۃ، ہو (التذکیر بالقرآن) ومن حیث أن القرآن نفسہ إنما جاء من أجل تحقیق ہذہ الغایۃ، أی التذکیر و الموعظۃ، فإن الجانب الذی أولاہ المؤلف القسط الاوفر من إتمامہ، فی طرح مضامین ہذا التفسیر ہو أن یجد فی القاری منہلا فیاضا أومرتعا خصبا یضمن لہ اشباع حاجتہ إلی التذکیر والاعتبار والاتعاظ۔
ں وحاول المؤلف اتباع اسلوب الفقرات فی طرح مضامین ہذا التفسیر أی أنہ عمد إلی فقرۃ من فقرات القرآن، ثم تناول ما یندرج تحتہا من فکرۃ أو توجیہ معنوی بالتفسیر والإیضاح کموضوع متسلسل، وذلک حرصا منہ علی ألاتنقطع من القاریٔ سلسلۃ المعانی والمفاہیم المطروحۃ خلال قراء تہ فی فقرۃ تفسیریۃ معینۃ، ولکی یتمکن من التزود المستمر المتواصل (بالغذاء التذکیری) للقرآن الکریم۔
ں ولقد توخی المؤلف الشیخ وحید الدین خان فی إعداد (تذکیر القرآن) من الحکمۃ، ما جعل کل فقرۃ من فقراتہ، مستقلۃ بذاتہا، وذلک لاحتوائہا علی فکرۃ قرآنیۃ واضحۃ محدّدۃ، فسواء قرأ القاری صفحۃ واحدۃ من التفسیر، أم قرأ مجموعۃ کبیرۃ من الصفحات، فإنہ لا یکد ینتہی من قراء تہ إلا ویکون قد ظفر بنصیب من (الموعظۃ القرآنیۃ) علی أیۃ حال۔
ں وقد توخی الایجاز إلی الحد الممکن، غیر عارض للتفاصیل المتصلۃ بالجانب اللغوی، أو الجانب الفقہی أو الجانب الکلامی، أو ما إلی ذلک من الجوانب والوجوہ الأخری للمدلول القرآنی، وإنما الشیٔ الذی جعلہ نصب عینیہ، ہو أن یتسم تفسیر القرآن بطابع من البساطۃ التی یتمیز بہا القرآن نفسہ، فإن القرآن، من جہۃ یعکس جلال اللہ وعظمتہ، ومن جہۃ أخری، ہو مراٰۃ تنعکس علیہ عبودیۃ الإنسان بجمیع نواحیہا، وہذہ ہی النقاط الجوہریۃ التی یتمحور حولہا ہذا التفسیر، ویحاول تجلیتہا بأسلوب موجز وبسیط، بعیدا عن التعقیدات الفنیۃ۔
تذکیر القرآن کا یہ عربی ترجمہ مولانا ابوصالح انیس لقمان ندوی نے کیا ہے۔ وہ مالے گاؤں (مہاراشٹر)میں 1965 میں پیدا ہوئے۔ اب وہ ابو ظبی (عرب امارات) میں رہتے ہیں۔ ان کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ ان کو عربی زبان سے عشق ہے۔ عربی کے علاوہ، وہ انگریزی زبان میں بھی لکھنے پڑھنے اور بولنے کی پوری صلاحیت رکھتے ہیں۔
موجودہ زمانے میں عام طور پر عربوں کا مزاج یہ ہے کہ وہ لکھنے میں تو فصیح عربی لکھتے ہیں، لیکن بولنے میں اکثر وہ غیر فصیح زبان بولتے ہیں۔ مولانا انیس لقمان ندوی کو عربوں کا یہ مزاج پسند نہیں۔ انھوں نے بتایا کہ 22 جون 1998 کو ابو ظبی میں ڈاکٹر عز الدین ابراہیم سے ان کی ملاقات ہوئی۔ اِس دوران اُن سے مختلف موضوعات پر گفتگو ہوئی۔ ابتدا ہی میں میں نے اُن سے درخواست کی کہ وہ مجھ سے صرف فصیح عربی میں بات کریں، کیوں کہ میں فصیح عربی کے معاملے میں اُس سے زیادہ غیور ہوں جتنا غیور کوئی مرد اپنی بیوی کے معاملے میں ہوتاہے۔ اگر آپ مجھے فصحیٰ میں گالی دیں تو یہ بات مجھے اس سے زیادہ پسند ہے کہ آپ عامی زبان میں میری تعریف کریں (کلّمنی من فضلک بالعربیۃ الفُصحیٰ، فإنّی واللہ أغار علی اللغۃ العربیۃ الفصحیٰ أکثر مما یغار الرجل علی زوجتہ۔ ولو شتمتنی بالفصحیٰ، فإنّہ أحبّ إلیّ من أن تمدحنی بالعامیۃ)۔ اِس بات کو سن کر ڈاکٹر عز الدین ابراہیم بہت محظوظ ہوئے۔ انھوں نے کہا کہ یہ بات آپ نے اتنے خوب صورت پیرائے میں کہی ہے کہ وہ اِس قابل ہے کہ ضرب المثل بن جائے (إنّ کلامک ہٰذا مصوغ صیاغۃ رائعۃ لدرجۃ أنہ لیکاد أن یکون مضرب المثل)۔
ریاض، کویت، بیروت اور قاہرہ سے راقم الحروف کی مختلف عربی کتابوں کے ترجمے شائع ہوچکے ہیں جن کی مجموعی تعداد تقریباً 40 ہوتی ہے۔ تذکیر القرآن کا عربی ترجمہ المنصورہ (مصر) سے چھپا ہے۔ اِس عربی ترجمہ کی تحریک ابتداء ً ایک عرب عالم محمد سلیمان القائد نے کی تھی۔ اس کے بعد مولانا انیس لقمان ندوی نے اس کا عربی ترجمہ کیا اور پھر دو عرب شخصیتوں، استاد صالح شوکات اور دکتور عبد الحلیم عویس، کی کوششوں سے وہ چھپ کر شائع ہوا۔
شیخ سلیمان القائد کا خیال تھا کہ عالمِ عرب میں راقم الحروف کی کتاب ’’الإسلام یتحدّی‘‘ کی اشاعت سے اسلام اور سائنس کے متعلق میرے افکار پھیلے، لیکن ابھی تک وہاں میرے دعوتی افکار عام نہ ہوسکے۔ تذکیر القرآن کے عربی ایڈیشن کی اشاعت ان شاء اللہ دعوتی افکار کی اشاعت میں معاون ہوگی۔ الرسالہ کے دعوتی مشن سے شیخ سلیمان القائد کی گہری وابستگی کا اندازہ ان کے حسب ذیل اقتباس سے کیا جاسکتا ہے۔ یہ اقتباس اسلامی مرکز (نئی دہلی) میں 31 اگست 1984 میں کی گئی ان کی ایک تقریر سے ماخوذ ہے:
’’ولعلک تسئل بعد ہذا، لماذا أحببتَ وحید الدین۔ الحقیقۃ أن اکتشاف الشیخ وحید الدین أعظم اکتشاف فی حیاتی۔ فالفضل یرجع إلی اللہ أوّلاً، ثمّ إلی وحید الدین خان فی اکتشاف حقیقۃ الدعوۃ إلی اللہ۔ فہو أضاء لی الطریق الذی جعل بہ حیاتی ذات معنیٰ۔ وأ کثر من ہٰذا، فإنّنی أحسب نفسی بکلّ تواضع أنّنی مجرّد تلمیذ صغیر جداً فی مدرسۃ ہٰذا لعالم الربانی۔ والمسلمون حالیاً لایعرفونہ، وہٰذا أعظم مأساۃ۔ فالمسلمون یعیشون فی وَہم الشخصیات ذات البریق التاریخی والبہرجۃ الدُنیویۃ فہم ینظرون إلی کثرۃ الأتباع، والشہرۃ، وفخامۃ المؤسسات۔ ولکن ہنیئا لکل امریٔ مَن عرفہ وأدرک قیمۃ رسالتہ۔وإنہا لرحمۃ ربّانیۃ نادرۃ جدا أن یخرج فینا الآن مثلہ فی وقتٍ نحن فی أشدّ الحاجۃ إلی مَن یُبصرنا طریق النجاۃ، فہو المجدد بحق لدین اللہ الذی انتظرناہ منذ مئات السنین۔ واللّٰہ وحدہ یشدہ علی صدق ماأقول، وإنّی أعلن شہادتی ہذا متحدیا بہا العصر الحاضر ومستقبل التاریخ الإسلامی والإنسانی بأسرہ‘‘۔ (محمد سلیمان القائد، المرکز الثقافی الإسلامی بکیجالی، إفریقیا)
ایک صاحب سے گفتگو کرتے ہوئے میں نے کہا کہ بیماری اور صحت انسانی زندگی کا لازمی حصہ ہیں، مگر یہ کوئی سادہ بات نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ اِس معاملے کا ایک بڑا مثبت پہلو ہے۔ ایک شدید بیماری کے بعد جب آدمی کو صحت حاصل ہوتی ہے تو یہ جزئی معنوں میں اُس حقیقت کا تجربہ ہوتا ہے جس کو قرآن میں اِن الفاظ میں بیان کیا گیا ہے: وقد خلقتُک من قبل ولم تک شیئا (مریم: 9)۔
یہ ہر انسان کا معاملہ ہے کہ پیدائش سے پہلے وہ غیر موجود تھا۔ پیدائش کے بعد وہ وجود میں آگیا۔ یہ ایک حیرت ناک واقعہ ہے۔ مگر آدمی اپنے بارہ میں اِس طرح سوچ نہیں پاتا۔ وہ اپنے وجود کو فارگرانٹیڈ (for granted) طورپر لئے رہتا ہے۔ اِسی بنا پر انسان کو شدید بیماری میں مبتلا کیا جاتاہے اور پھر اس کو صحت دی جاتی ہے۔یہ انسان کے ساتھ رحمت کا ایک معاملہ ہے۔ اِس تجربے کی صورت میں خدا یہ چاہتاہے کہ انسان اپنے بارے میںخدا کی اِس عنایت کو دریافت کرے کہ اُس نے ایک غیرموجود انسان کو موجود انسان بنا دیا۔ اِس رحمتِ خداوندی کو شدت کے ساتھ محسوس کرنے کے بعد ہی یہ ممکن ہے کہ آدمی شکر ِخداوندی کا گہرا احساس کرے، وہ شکر کے جذبے سے سرشار ہوجائے۔
ایک صاحب سے میں نے پوچھا کہ کیا آپ نے کبھی اپنی تخلیق کو لے کر سوچا ہے کہ یہ اللہ تعالیٰ کا کیسا عجیب معاملہ ہے کہ میں ایک غیر موجود شخص تھا، پھر میں وجود میں آگیا۔ میں اچانک ایک ایسا زندہ انسان بن کر زمین پر چلنے پھرنے لگا جو سوچتاہے، جو دیکھتا ہے، اور دوسرے بہت سے کام کرتا ہے۔ انھوںنے کہا کہ اِس طرح میں بہت کم سوچتا ہوں۔
میں نے کہا کہ اِس طرح کے معاملے میں کم سوچنے کا مطلب ہوتا ہے نہ سوچنا۔ ایک انسان کی حیثیت سے وجود میں آنا اتنا بڑا واقعہ ہے کہ اُس پر کم درجے میں سوچا نہیں جاسکتا۔ جب بھی کوئی شخص اِس پر سوچے گا تو وہ بڑے درجے میں سوچے گا۔ مثلاً ایک فقیر کو کوئی شخص اچانک ایک بلین ڈالر دے دے اور آپ اُس سے اس کا احساس پوچھیں تو وہ یہ نہیں کہے گا کہ ہاں، تھوڑاتھوڑا محسوس ہورہا ہے، بلکہ وہ سرشاری کے انداز میں اپنی لغت کے تمام الفاظ استعمال کرڈالے گا۔
میںنے کہا کہ ایک مرتبہ میںنے امریکی میگزین ریڈر ڈائجسٹ میںایک مضمون پڑھا تھا۔ اُس میں بتایاگیا تھا کہ سعودیہ میں جب تیل نکلا تو ایک عرب بدو کو اچانک بہت زیادہ دولت حاصل ہوگئی۔ اس کے ایک دوست نے اس کے پیسے سے سوئزر لینڈ میں اس کے لیے شان دار مکان خریدا، پھر وہ اِس عرب کو ہوائی جہاز کے ذریعے سوئزر لینڈ لے گیا اور اُس عرب کو اِس نئے مکان میں داخل کرکے کہا کہ یہ تمھارا مکان ہے۔ اُس وقت اُس عرب کا عجیب حال ہوا۔ مضمون میں بتایاگیا تھا کہ وہ عرب بار بار اپنے آپ کو چھوکر دیکھتا تھا اور پھر اس مکان کو چھوکر دیکھتا تھا اور کہتا تھا کہ کیا واقعی یہ میں ہوں اور یہ مکان میرا مکان ہے۔
زیادہ بڑی معرفت یہ ہے کہ آپ کو خود اپنے بارے میں اِسی قسم کا انوکھا احساس ہونے لگے۔ آپ اپنے آپ کو دیکھیں اور اپنے آس پاس کی دنیا کو دیکھیں اور حیرت کے ساتھ سوچیں کہ کیا یہ واقعی میں ہوں اور کیا یہ دنیا میری دنیا ہے جس میں مجھے رہنے کا موقع دیاگیا ہے— لوگوں کے اندر اعلیٰ معرفت نہیں، اِس لیے لوگوں کے اندر اعلیٰ شکر ِ خداوندی کا جذبہ بھی نہیں۔
قطر کے حوالے سے ایک خبر نگاہ سے گزری۔ اِس خبر میں بتایاگیا تھا کہ تاجکستان کے صدر امام علی رحمانوف کے بیان کے مطابق، تاجکستان کے دار الخلافہ (دوشنبہ) میں دنیا کی سب سے بڑی مسجد تعمیر کی جائے گی۔ بیان کے مطابق، اِس مسجد کو اٹھارہ ایکڑ زمین پر تعمیر کیا جائے گا۔ اِس مسجد میں بیک وقت ڈیڑھ لاکھ نمازیوں کی گنجائش ہوگی۔ آئندہ سال اِس مسجد کی تعمیر کا آغاز کیاجائے گا۔ اِس مسجد کی تکمیل پر پانچ سال درکار ہوں گے۔ اِس مسجد کی تعمیر کے تمام اخراجات دبئی اور قطر کی حکومت نے اداکرنے کا وعدہ کیا ہے۔
آج کل ہر جگہ شان دار مسجدیں تعمیر کی جارہی ہیں۔ فخر کے ساتھ ان کا تذکرہ کیا جارہا ہے، حالاں کہ حدیث کی پیشین گوئی کے مطابق، یہ کوئی فخر کی چیز نہیں۔ ایک روایت کے مطابق، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ: ما اُمرتُ بتشیید المساجد (أبو داؤد، کتاب الصلاۃ، با ب فی بناء المساجد) یعنی مجھ کو بلند وبالا مسجدیں بنانے کا حکم نہیں دیاگیاہے۔ ایک اور روایت کے مطابق، حضرت انس کہتے ہیں کہ میںنے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ میری امت پر ایک ایسا زمانہ آئے گا کہ لوگ مسجدوں پر فخر کریں گے، مگر وہ اس کو (ذکر اور نمازسے) بہت کم آباد کریں گے (یأتی علیٰ أمتی زمان یتباہون بالمساجد، ثم لا یعمّرونہا إلاّ قلیلاً) فتح الباری، جلد 1، صفحہ 642۔
بلند وبالا عمارت اگر آدمی کو جنت کی یاد دلائے، وہ یہ سوچے کہ جب دنیا میں اِس قسم کی خوب صورت عمارت بن سکتی ہے تو جنت کی عمارتیں کتنی زیادہ خوب صورت ہوں گی۔ اگر ایسا ہو تو یہ ایک قابلِ قدر بات ہوگی۔ لیکن اگر بلند و بالا عمارت آدمی کے مادی ذہن میں اضافہ کرے تو وہ بلا شبہہ آدمی کے لیے ایک وبال بن جائے گی۔ جیسا کہ حدیث میں آیا ہے: کلّ بناء وبالٌ علی صاحبہ إلاّ مالا، إلاّ مالا (أبو داؤد، کتاب الأدب، باب ما جاء فی البناء)۔
کرنل شیخ عیسیٰ (77 سال) انڈیا میں پیدا ہوئے، پھر وہ پاکستان چلے گئے۔ آج کل وہ قطر میں رہتے ہیں۔ ان سے ملاقات ہوئی۔ وہ دینی مزاج کے آدمی ہیں۔ انھوں نے کہا کہ میں بہت دن سے مختلف انگریزی ترجموں کی مدد سے قرآن کو پڑھتا تھا، لیکن مجھے کسی ترجمے پر اطمینان نہیں ہوتا تھا۔ اِن ترجموں میں دو چیزیں مجھے پسند نہ تھیں— ایک، ان کی زبان اور دوسرے، ان میں وضوح (clarity) کا نہ ہونا۔ انھوں نے کہا کہ آپ کے ادارے سے قرآن کا جو انگریزی ترجمہ چھپا ہے، وہ اِس معاملے میں ایک استثناء (exception) کی حیثیت رکھتا ہے۔ اِس ترجمے کی زبان بھی وقت کے مطابق ہے، اور اس کے اندر وضوح (clarity) بھی پوری طرح پایا جاتا ہے۔
کرنل شیخ عیسی سے پاکستان کے بارے میں گفتگو ہوئی۔ انھوںنے کہا کہ پاکستان میں قیادت کا فقدان ہے، اور لیاقت علی خاں کے بعد کوئی صحیح لیڈر وہاں پیدا نہیں ہوا۔ میں نے کہا کہ اصل مسئلہ قیادت کے فقدان کا نہیں ہے، بلکہ اصل مسئلہ قبولیت (acceptance) کے فقدان کا ہے۔ پاکستان میں جنرل ایوب خاں بہترین لیڈر تھے، مگر پاکستانی عوام نے ان کو قبول نہیں کیا۔
20 اکتوبر 2009 کی صبح کو ہوٹل کے ایک بڑے ہال میں کانفرنس کے افتتاح کی کارروائی ہوئی۔ یہ ایک بہت بڑا اور شاہانہ انداز کا ہال تھا۔ ہر طرف کیمرے والے دوڑتے ہوئے نظر آتے تھے۔ عربی لباس کے لوگ ہر طرف چلتے ہوئے دکھائی دے رہے تھے۔ ہر طرف السلام علیکم ورحمۃ اللہ، کیف الحال، متی القدوم، أہلاً و سہلاً اور بارک اللّٰہ فیکمجیسے الفاظ سنائی دے رہے تھے۔ اِس پروگرام کی کوآرڈنیٹر ایک سینئر عرب خاتون تھیں۔ اُن کا پورا بدن برقعہ سے ڈھکا ہوا تھا۔ ان کا نام یہ ہے: الأستاذۃ الدکتورۃ عائشۃ یوسف المنّاعی، عمیدۃ کلیۃ الشریعۃ بجامعۃ قطر۔
افتتاحی تقریر قطر کے ایک منسٹر احمد بن عبد اللہ المحمود نے کی۔ انھوں نے اپنی عربی تقریر میں جن باتوں پر زور دیا، وہ مختلف ادیان کے درمیان قدرِ مشترک کی تلاش تھی۔ انھوں نے کہا کہ قرآن اور حدیث وحدانیتِ خلق پر متفق ہیں۔حدیث میں ارشاد ہوا ہے: إنّ ربکم واحد، وإنّ أباکم واحد۔
دوسرے مقررین نے عام طورپر رسمی انداز کی باتیں کیں۔ ایک مقرر نے کہا کہ ادیانِ سماوی کی یہ خصوصی ذمے داری ہے کہ وہ موجودہ زمانے کے انسانی مسائل میں ان کو رہنمائی دیں۔ انھوں نے کہاکہ ادیانِ سماوی سے وابستہ لوگ موجودہ عالمی آبادی کا 60 فی صد حصہ ہیں۔ ان کو چاہئے کہ وہ سب مل کر موجودہ مسائل پر سوچیں اور اس کا حل نکالنے کی کوشش کریں۔
یہاں ہر مقرر نے لکھی ہوئی تقریر پڑھی۔ صرف ایک صاحب نے انگریزی زبان میں تقریر کی۔ اس کے علاوہ تمام تقریریں عربی زبان میں ہوئیں۔ اِس پروگرام میں مسئلہ فلسطین کا بھی ذکر آیا، مگر مقررین کی طرف سے اس کا کوئی متعین حل سامنے نہ آسکا۔
افتتاحی پروگرام کے موقع پرعرب دنیا کے اکثر بڑے بڑے لوگ موجود تھے۔ اِس کے علاوہ شاہی خاندانوں کے کچھ افراد بھی یہاں آئے ہوئے تھے۔ عرب حکومتوں سے متعلق بڑے بڑے افسران اور وزراء بھی اِس کانفرنس میں شریک تھے۔ میرے ساتھیوں نے اِن تمام لوگوں کو قرآن کا انگریزی ترجمہ اور دعوتی لٹریچر دیا۔ لوگوں نے اِس کو خوشی کے ساتھ قبول کیا۔
قطر کی اس کانفرنس میں تقریبا 15 پینل بنائے گئے تھے۔ ان کے عنوانات حسب ذیل ہیں:
ں Human Solidarity:
Human Action in Response to Wars and Disasters
ں Achieving Unity and Solidarity through Spiritual Values
ں Religious Responses to Natural Disasters and Famines
ں Religious Views on Human Solidarity in Response to Wars
ں Human Solidarity and Inter-dependence in Response to Wars
ں Solidarity and Economic Inter-dependence:
Religious Financial Systems and the Economic Crisis
ں Solidarity and Economic Inter-dependence:
Religious Analysis of the Economic Crisis and its Consequences
ں Solidarity in Defense of Religious Rights and Freedom
ں Solidarity in Support of Holy Sites
ں Solidarity and Economic Inter-Dependence:
Religious Responses to the Financial Crisis
ں Responses in Defense of Religious Rights and Freedom
ں Religious Responses for Supporting Holy Sites
ں Round Table Discussion
ں Closing Remarks & Recommendations
اِس کانفرنس میں ڈنمارک کے ایک نو مسلم سے ملاقات ہوئی۔ ان کا نام یہ تھا:
Abdul-Wahid Anderson, Muslim council of Denmark
انھوں نے بتایا کہ ڈنمارک میں کارٹون کا جو واقعہ پیش آیا تھا، اس سے لوگوں کے اندر تجسس پیدا ہوا اور لوگوں نے اسلام کامطالعہ کرنا شروع کردیا۔ اِس کا نتیجہ یہ ہوا کہ کارٹون کے واقعے کے بعد ڈنمارک میں 75 افراد نے اسلام قبول کرلیا۔
میں نے بتایا کہ کارٹون کے واقعہ کے بعد سعودی ٹی وی (عکاظ) کی ایک ٹیم ڈنمارک گئی تھی۔ یہ لوگ سیرتِ رسول کے موضوع پر راقم الحروف کی کتاب ’’پیغمبر انقلاب‘‘ کا انگریزی ترجمہ (Muhammad A Prophet for All Humanity)اپنے ساتھ لے گئے تھے۔ اس کو انھوں نے بڑے پیمانے پر ڈنمارک کے مقامی لوگوں کو مطالعے کے لیے دیا۔
ہمارے یہاں سے چھپے ہوئے انگریزی ترجمہ قرآن کے بارے میں عام طورپر لوگوں نے مثبت رائے دی۔ فرانس کے ایک صاحب کو 20 اکتوبر 2009 کو ہمارے ساتھی مسٹر رجت ملہوترانے قرآن کا انگریزی ترجمہ دیا۔ اس کو پڑھ کر اگلے دن انھوں نے میرے ساتھی مسٹر رامش صدیقی سے اس کے بارے میں اپناتاثر بتاتے ہوئے کہا کہ میں نے اِس سے پہلے قرآن کے دو انگریزی ترجمے پڑھے تھے، لیکن کچھ سمجھ میں نہیں آتا تھا۔ مگر آپ کا یہ ترجمہ قرآن پوری طرح سمجھ میں آرہا ہے۔ ان کا نام یہ ہے:
Alain Micmel, Director General Mommes De Parole Faundation.
اگلے دن انھوں نے ترجمۂ قرآن کا ایک اور نسخہ طلب کیا جو انھیں دے دیا گیا۔
کانفرنس میں ترکی کے ایک پروفیسر الدکتور عبد الحمید براشقسے ملاقات ہوئی۔ قطر یونی ورسٹی میں وہ تفسیر کے پروفیسر ہیں۔ اس سے پہلے وہ پاکستان میں رہ چکے ہیں۔ اِس لیے وہ اچھی اردو جانتے ہیں۔ انھوں نے بتایا کہ ہمارے یہاں دہلی میں ہر اتوار کو جو لیکچر ہوتا ہے اور جس کو لائیو ٹیلی کاسٹ کیا جاتا ہے، اس کو وہ پابندی کے ساتھ انٹرنیٹ پر سنتے ہیں۔ انھوں نے بتایا کہ ہماری یونی ورسٹی کی لائبریری میں آپ کی اردو کتابیں موجود ہیں۔
ہمارے ایک ساتھی مسٹر رجت مہلوترا نے کہا جب میں دعوت الی اللہ کا کام کرتاہوں اور لوگوں سے مل کر انھیں دعوتی لٹریچر اور قرآن دیتا ہوں تو عجیب خوشی محسوس ہوتی ہے۔ میں نے کہا کہ یہ فطری بات ہے۔ دعوت کا کام خدا کا کام ہے۔ اِس کام کو قرآن میں خدا کی نصرت کا کام بتایا گیا ہے۔ اور خدا کی نصرت سے بڑا کون سا کام ہوسکتا ہے۔ یہ احساس کہ میں خدا کے کام میںہوں، بلا شبہہ اِس سے بڑی خوشی اور کسی چیز سے نہیں ہوسکتی۔
یہاں قطر میں ملاقات کے دوران ایک واقعہ معلوم ہوا۔ ایک صاحب نے بتایا کہ ایک ہندستانی عالم جو قطر میں رہتے ہیں، ان کی بیوی نے ان کے بارے میں اپنی ماں سے کہا کہ میںاُن کے نکاح میں ایک سال سے تھی، مگر انھوںنے کبھی خدا اور آخرت کی بات نہیںکی، اگر چہ وہ مدرسہ کے پڑھے ہوئے تھے۔ جب سے انھوں نے الرسالہ مشن کی کتابیں پڑھی ہیں، وہ مجھ سے صرف خدا اور آخرت کی بات کرتے ہیں، جب کہ اِس سے پہلے وہ دوسری دوسری باتیں کیا کرتے تھے۔
یہی عام طورپر لوگوں کا حال ہے۔ میرا تجربہ ہے کہ لوگوں نے اِس حقیقت کو نہیں جانا کہ عورت کا رول ان کی زندگی میں کیا ہے۔لوگ عام طورپر عورت کے صرف کم تر رول کو جانتے ہیں، وہ عورت کے برتر رول کو دریافت نہ کرسکے۔ مثلاً ایک صاحب نے اپنی بیوی کی تعریف کی۔ میں نے پوچھا کہ آپ اپنی بیوی میں کیا خاص بات پاتے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ وہ روزانہ مجھ کو اچھے اچھے کھانے پکا کر کھلاتی ہے۔میںنے کہا کہ آپ نے عورت کو صرف کچن پارٹنر کی حیثیت سے جانا، مگر آپ عورت کو اپنے انٹلکچول پارٹنر کی حیثیت دریافت نہ کرسکے۔
20 اکتوبر 2009 کو ہوٹل کے ’’سلویٰ ہال‘‘ میںایک سیشن کا موضوع یہ تھا:
القیم الروحیۃ وتحقیق الوحدۃ والتضامن:
Achieving Unity and Solidarity Through Spiritual Values
اِس سیشن میں جن لوگوں نے تقریر کی، ان میں ایک صاحب وہ تھے جو یوکے (U.K.)سے آئے ہوئے تھے۔ اُن کانام یہ تھا— ڈونالڈ (Rev.Donald Reeves) ۔ انھوں نے اپنی تقریر کا آغاز ساؤتھ افریقہ کے مشہور لیڈر نیلسن منڈیلا (Nelson Mandela) کے اِس قول سے کیا:
If you want peace, then talk to your enemies & not with your friends.
یعنی اگر تم امن چاہتے ہو تواپنے دشمن سے بات کرو، نہ کہ اپنے دوستوں سے۔
میں نے ایک صاحب سے بات کرتے ہوئے کہا کہ یہ قول ایک غیر فطری قول ہے۔ اصل یہ ہے کہ ’’دوست اور دشمن ‘‘ کی اصطلاح میں سوچنا چھوڑ دیا جائے۔ انسان کو صرف انسان سمجھاجائے۔ میںنے کہا کہ اکثر ایسا ہوتا ہے کہ جس کو آپ اپنا دشمن سمجھ لیتے ہیں، وہی عملی اعتبار سے آپ کا سب سے بڑا دوست ہوتا ہے۔
اِس معاملے کی ایک مثال خود نیلسن منڈیلا کا ملک ساؤتھ افریقہ ہے۔ ساؤتھ افریقہ کو ایک ترقی یافتہ ملک سمجھا جاتاہے۔ ساؤتھ افریقہ کو کس نے ترقی یافتہ ملک بنایا۔ یہ نیلسن منڈیلا یا ان کے ساتھی نہیں تھے، بلکہ وہ باہر سے آئے ہوئے انگریز تھے جن کو نیلسن منڈیلا اور ان کے ساتھی دشمن بتا کر اُن کے خلاف ’’آزادی ‘‘ کی لڑائی لڑتے رہے۔
ہمارے ساتھیوں نے مسٹر ڈونالڈ کو انگریزی ترجمہ کی ایک کاپی دی۔ اس کو دیکھ کر انھوں نے کہا:
It looks very beautiful. It can fit into my pocket very easily.
20 اکتوبر 2009کو میری تقریر سننے کے بعدکانفرنس میں فرنچ زبان کی مترجم مز نفیسہ (Nefissa El Bakly) نے میرے ایک ساتھی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا:
Maulana Wahiduddin Khan has a unique perspective of Islam.
اِس کانفرنس میںعربی، انگریزی اور فرنچ زبان رائج تھی۔ میںنے انگریزی میںتقریر کی۔ میںنے اپنی تقریر میں کہا کہ موجودہ زمانے میں ہر عورت اور مرد پیس (peace) کی بات کرتا ہے، مگریہ لوگ پولٹکل فارمولے کے ذریعے پیس کو حاصل کرنا چاہتے ہیں، جب کہ پولٹکل فارمولا اِس معاملے میں قابل عمل نہیں۔ یہاں اسپریچول فارمولا درکار ہے۔ یہ اسپریچول فارمولا قرآن میں دیاگیاہے، وہ الصلح خیر(النساء: 128) کا فارمولا ہے۔ اسپریچول فارمولے کا مطلب ہے— معاملے کو یک طرفہ بنیا پر حل کرنا:
To solve the problem on unilateral basis
میںنے کہا کہ نزاع کے موقع پر اسپریچول فارمولا ہی قابل عمل فارمولا ہے، نہ کہ پولٹکل فارمولا۔
ایک عرب اسکالر سے ملاقات ہوئی۔ وہ یہودیوں کے بارے میں بہت سخت الفاظ بولنے لگے— وہ ظالم ہیں، وہ سازشی ہیں، وغیرہ۔ میں نے کہا کہ موجودہ زمانے کے مسلمان، عرب اور غیرعرب دونوں، یہود کے بارے میں اِسی قسم کے منفی خیالات رکھتے ہیں، مگر آپ جیسے لوگ یہود کے بارے میں صرف اتنا ہی جانتے ہیں کہ 1948 میں وہ فلسطین میں داخل ہوگئے اور یہاں کے ایک حصے پر اسرائیلی حکومت قائم کرلی، وغیرہ۔
مگر یہ ایک ناقص رائے ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ یہود نے بہت بڑے بڑے علمی کارنامے انجام دئے ہیں، قدیم مسلم اسپین میں بھی اور اِسی طرح موجودہ دور میں بھی۔ اِس وقت میں دورِ جدیدکی نسبت سے ان کے صرف ایک کارنامے کا حوالہ دوں گا۔ یہ ایک ایسا کارنامہ ہے جس کے برابر کارنامہ موجودہ زمانے میں کوئی مسلم عالم بھی انجام نہ دے سکا۔
یہ کام پہلی بار ایک یہودی سائنس داں نے کیا، یعنی آئن اسٹائن (Albert Eienstein) نے۔ آئن اسٹائن نے خالص سائنسی بنیاد پر یہ ثابت کیا کہ موجودہ دنیا میں انسان کسی بھی شعبے میں صرف اضافی علم (relative knowledge) تک پہنچ سکتا ہے، حقیقی علم (real knowledge) تک پہنچنا انسان کے لیے ممکن ہی نہیں۔ ایسی حالت میں انسان کے لیے صرف دو میں سے ایک کا آپشن ممکن ہے — ایک، یہ کہ وہ ہمیشہ تشکیک (scepticism) میں مبتلا رہے۔ دوسرا آپشن یہ ہے کہ وہ علمی امکان (probability) پر اپنے یقین کی بنیاد رکھے۔ چوں کہ اِس دنیا میں تشکیک کوئی قابلِ عمل نظریہ نہیں، اس لیے انسان مجبور ہے کہ وہ علمی امکان کو اپنے یقینی علم کی بنیاد بنائے۔ قرآن کے مطابق، یہی کسی انسان کا ٹسٹ پر پورا اترنا ہے۔ میری بات سن کر مذکورہ عرب اسکالر نے کہا کہ میں نے اِس اعتبار سے کبھی نہیں سوچا تھا، اب میں اِس پر غور کروں گا۔
قرآن میں مومن کی ایک صفت سیاحت (سفر) بتائی گئی ہے (التوبۃ: 112 )۔ مگر موجودہ زمانے میں عام طورپر سفر تفریحی سفر کے ہم معنی بن گیا ہے، جب کہ قرآنی سیاحت کا مطلب معرفت کی سیاحت ہے۔ مگر موجودہ زمانے کے مسلمان معرفت کے سفر سے تقریباً نا آشنا ہوچکے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ حج اور عمرہ کا سفر آج کل صرف آؤٹنگ (outing) کے ہم معنیٰ بن گیا ہے۔ مسلم جرائد میں اکثر مسلمانوں کے سفر نامے چھپتے رہتے ہیں، لیکن وہ جدید اصطلاح میں ٹورازم (tourism) کے ہم معنیٰ ہوتے ہیں۔مثال کے طورپر حال میں ایک معروف عالم کا سفر نامہ ایک ماہ نامہ میں نظر سے گزرا۔ یہ سفر ارضِ اُردن (عمّان) کے لیے تھا۔ اِس سفر نامے کا آغاز کچھ اِس طرح تھا:
’’یہ ایک چمکیلی شام تھی۔ میری بیٹی کے یہاں سب جمع تھے۔ میرے ایک عزیز ابھی ابھی اردن میں بحرِ میت کے کنارے ایک کانفرنس میں شرکت کے بعد واپس لوٹے تھے۔ ان کا بیگ یاد گاری تحائف بانٹنے کا منتظر تھا۔ بیگ کھلتا چلا گیا اور آخر میں پانی سے بھری ہوئی ایک بوتل نکلی۔ میرے عزیز نے کہا: اب کچھ تماشا ہوجائے — بچوں سمیت ہر شخص بحرِ میت کے اِس پانی کو چکھے گا اور اگر وہ اس کا ذائقہ سہار نہ سکا تو گلاس حاضر ہے، وہ اس میں تھوک دے۔ سب سے پہلے بچوں کی باری تھی۔ ایک کے بعد دوسرا اس پانی کا ایک ایک گھونٹ چکھتا گیا اور منہ بنا کر اسے اگلتا رہا۔ میرے بھائیوں میں سے ایک بھائی بھی مع اپنی اہلیہ کے حاضر تھے۔ وہ دونوں بھی اس تجربے سے محظوظ ہوئے۔ آخر میں گھر کے سب سے بزرگ فرد یعنی راقم کی باری تھی۔ میں نے تمغہ شجاعت کا اعزاز حاصل کرنے کے لیے پانی کے دو گھونٹ غٹا غٹ چڑھا لیے۔ بحر مردار کے پانی میں نمک کی مقدار اتنی زیادہ ہے کہ اس کا پینا آفتِ جان ہوسکتا ہے۔ جوں ہی یہ پانی معدہ سے ٹکرایا تو پیٹ میںایک بھونچال برپا ہوگیا۔ اب ایسا معلوم ہوا کہ شعلے بھڑک اٹھے ہیں۔ اپنی بہت سی نادانیوں میں ایک اور کا اضافہ ہوگیا‘‘۔
اول یہ کہ یہ زبان مومنِ سائح کی زبان نہیں ہے۔ مومنِ سائح کے کلام میںجو سنجیدگی ہونی چاہیے، وہ اِس عبارت میں مفقود ہے۔ دوسری بات یہ کہ مومن کی سیاحت عبرت اور نصیحت کے لیے ہوتی ہے، نہ کہ ’’تماشا‘‘ کے لیے۔ مذکورہ عبارت میں جس پانی کا ذکر ہے، وہ بحر مردار(Dead Sea) کا پانی تھا۔ بحرِ مردار اُس خدائی عذاب کے باقیات میں سے ہے جو قومِ لوط پر آیا تھا۔ قرآن میں بتایا گیا ہے کہ اِن آثار میںاہلِ ایمان کے لیے نشانیاں ہیں (الحجر:75-77 )۔ لیکن موجودہ زمانے کے مسلمان وہاں سے گزرتے ہیں اور وہاں انھیں تفریح اور تماشے کے سوا کچھ اور نظر نہیں آتا۔
موجودہ زمانے میں مسلمانوں کے گھرکا جو ماحول ہوتا ہے، اس کی ایک تصویر مذکورہ اقتباس میں نظر آتی ہے۔ اِس اقتباس سے اندازہ ہوتاہے کہ مسلمانوں کے گھروں کا ماحول بے حسی کا ماحول بن گیا ہے۔ یہی وہ ماحول ہے جو موجودہ زمانے میں بچوں کو بگاڑ رہا ہے۔
مسلمان اپنے بچوں کے بگاڑ کے لیے خارجی چیزوں کی شکایت کرتے ہیں، حالاں کہ یہ دراصل اُن کا اپنا گھر ہے جو اُن کے بچوں کے بگاڑ کا اصل ذریعہ ہے۔ بچوں کی اصلاح کے سلسلے میں سب سے زیادہ اہم بات یہ ہے کہ بچوں کے اندر آخرت کا احساس پیدا ہوجائے، جب کہ مذکورہ قسم کے گھر میں بچوں کے اندر احساسِ دنیا پیدا ہوتاہے، نہ کہ احساسِ آخرت۔ جو لوگ آخرت میں خدا کی رحمت سے محروم قرار پائیں گے، ان کے گھروں کی تصویر قرآن میں اِس طرح بتائی گئی ہے کہ وہ اپنے گھروں میں خوش وخرم (الإنشقاق: 13) رہتے تھے— بچوں کی اصلاح کا تعلق خارجی ’’وعظ‘‘ سے نہیں ہے، بلکہ وہ تمام تر گھر کے داخلی ماحول پر منحصر ہے۔
میرے ساتھی اِس سفر میں رات دن صرف ایک کام کے لیے دوڑ رہے تھے، اور وہ ہے— قرآن کا انگریزی ترجمہ اور اسلامی لٹریچر لوگوں تک پہنچانا۔ اِسی کا نام مشنری اسپرٹ ہے۔ مشنری اسپرٹ دراصل اِس احساس سے پیدا ہوتی ہے کہ آپ کے پاس دوسروں کو دینے کے لیے کوئی چیز ہے۔ شاید اِس سے بڑی کوئی قوتِ محرکہ (incentive force) نہیں۔ یہ سادہ بات نہیں، اِس کا مطلب یہ ہے کہ یہی وہ لوگ ہیں جو حدیث کے مطابق، ’’ادخال کلمہ‘‘ کا کام انجام دے رہے ہیں۔
قطر کی اِس کانفرنس میں ہر ملک کے مسلم علماء آئے ہوئے تھے۔ اِس کے علاوہ، ہر مذہب کے نمائندے بھی یہاں موجود تھے۔ مگر کسی بھی ملک کے مسلمان نے یہ نہیں کیا کہ وہ قرآن کا ترجمہ یا اسلامی لٹریچر حاضرین کو مطالعے کے لیے دے۔یہ صرف سی پی ایس کے لوگ تھے جو دوڑ دوڑ کر لوگوں کو قرآن کا انگریزی ترجمہ اور اسلامی لٹریچر دے رہے تھے۔ تمام لوگ اس کو بڑے شوق سے لے رہے تھے اور مزید نسخوں کا مطالبہ کرتے تھے،تاکہ وہ اسے دوسروں کو دے سکیں۔
ہمارے ساتھی ایک صاحب سے ملے۔ وہ مراکو سے آئے ہوئے تھے۔ وہ کئی ملکوں میں مراکو کے سفیر رہ چکے ہیں۔ اُن کو قرآن کے انگریزی ترجمہ کی ایک کاپی دی گئی۔ انھوں نے تین اور کاپی مانگی۔ انھوں نے کہا کہ اِس کو میں شاہی محل میں پہنچاؤں گا۔ اِسی طرح ہر ایک نے نہایت شوق کے ساتھ قرآن کا انگریزی ترجمہ لیا، جیسے وہ پہلے سے اس کے منتظر تھے۔
قدرتی گیس کی دریافت سے پہلے قطر ایک غریب ملک تھا۔ اب وہ یورپ اور امریکا کی مانند ایک ترقی یافتہ ملک بن چکا ہے۔ اِس کا تقاضا تھا کہ لوگوں کے دلوں میں شکر کا دریا موج زن ہوجائے، لیکن مجھے اپنے زمانۂ قیام میں کوئی ایسا شخض نہیں ملا جو حقیقی معنوں میں شکرِ خداوندی کی بات کرتا ہو۔
ایسا کیوں ہوتا ہے کہ انسان اسبابِ شکر کے درمیان ناشکرا بنا رہتا ہے۔ اس کا جواب ایک حدیث رسول میں ملتا ہے۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ینزل بالعبد الأمر فیدعوا اللہ عزّوجل، فیصرفہ عنہ، فیأتیہ الشیطانُ فیضعّف شکرہ (الشکر لابن أبی الدنیا، رقم الحدیث: 25 ) یعنی جب اللہ کسی اسان کو اپنی نعمت عطا فرماتا ہے تو شیطان اس کے پاس آتا ہے اور وہ شکر کے احساس کو کم زور کردیتا ہے۔ یہ ’’تضعیف‘‘ یعنی شکر کے اروژن (erosion) کا عمل کس طرح ہوتا ہے۔ وہ اِس طرح ہوتا ہے کہ شیطان شعوری یا غیر شعوری طورپر انسان کے ذہن میں یہ ڈال دیتا ہے کہ یہ نعمت تم کو خدا کی طرف سے نہیں ملی، بلکہ وہ فلاں سبب سے تم کو ملی ہے۔ مثلاً کسی اتفاق سے، اپنی کسی قابلیت سے، خاندانی وراثت سے، وغیرہ۔ مثال کے طورپر جب عرب کی سرزمین کے نیچے تیل کے ذخائر برآمد ہوئے تو مغربی ’’ماہرین‘‘ نے کہا یہ جغرافی حادثہ (accident of geography) کا نتیجہ ہے، وغیرہ۔ یہی وہ باتیں ہیں جن کو حدیث میں شیطانی تضعیف کہاگیا ہے۔
20 اکتوبر 2009 کو دکتور عبد المجید عمر النجّار سے ملاقات ہوئی۔ انھوں نے بتایا کہ وہ راقم الحروف کی کتاب ’’الاسلام یتحدی‘‘ پڑھ چکے ہیں۔ انھوںنے اپنی کتاب ’’الإیمان باللہ وأثرہ فی الحیاۃ‘‘ (صفحات: 225 ) دار الغرب الاسلامی، بیروت 1997 ) میں ’’الإسلام یتحدی‘‘ کو مصادر میں سے شمار کیا ہے۔ دکتور عمر النجّار کی ایک شاگرد مز آمال حمیدی کے ذریعے مجھ کو یہ کتاب ملی۔ دکتور عمرالنجّار پیرس (فرانس) میں اسلامک اسٹڈیز اینڈ ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کے ڈائرکٹرہیں۔
دکتور النجار کی یہ کتاب قدیم علمِ کلام اور جدید علمِ کلام کی روشنی میں لکھی گئی ہے۔ قدیم علمِ کلام یونانیات کے رد عمل میں پیدا ہوا تھا۔ اِسی طرح مصنف نے لکھا ہے کہ دورِ جدید میں بعث وتجدید کی ایک نئی تحریک شروع ہوئی۔ اس کا محرک غالباً اسلامی عقیدے کے خلاف وہ شدید چیلنج تھا جو مغربی استعمار کے دو رمیں ظاہر ہوا جس نے امت اسلامیہ کو اپنا نشانہ بنایا تھا (منذ حل یقارب القرن من الزّمن بدأت تدبّ فی علم العقیدۃ حرکۃ بعث و تجدید۔ ربّما کان الدارع إلیہا شدّۃ التحدّی للعقیدۃ الإسلامیۃ من قِبل الغرب۔ صفحہ 23 )۔
قدیم علمِ کلام بلا شبہہ یونانیات کے رد عمل میں پیدا ہوا تھا، لیکن جدید علمِ کلام کی نوعیت اس سے مختلف ہے۔ جدید علمِ کلام کی ضرورت اصلاً کسی ’’استعماری حملہ‘‘ کے نتیجے میں نہیں پیدا ہوئی، بلکہ وہ خود علم کے نئے ارتقاء کے نتیجے میں پیداہوئی۔ جدید سائنسی علم اپنی حقیقت کے اعتبار سے اسلامی عقیدے پر کوئی حملہ نہیں ہے، بلکہ وہ اسلامی عقیدے کے لیے علمی تائید کی حیثیت رکھتا ہے۔ یہ ایک مثبت ظاہرہ ہے، نہ کہ منفی ظاہرہ۔ یہ کہنا صحیح ہوگا کہ جدید سائنس موجودہ زمانے میں اسلام کا علمِ کلام ہے۔ عباسی دور کا علمِ کلام ایک دفاعی علم کے طورپر پیدا ہوا تھا، لیکن دورِ جدید کے علمِ کلام کی حیثیت اِس سے مختلف ہے۔ دورِجدید میں علمِ کلام کا مطلب ہے— جدید علمی مسلّمات کی روشنی میں اسلامی عقیدے کا از سرِ نو اظہار۔
22 اکتوبر 2009 کی شام کو مولانا محمد شاہد خان ندوی اپنی اہلیہ کے ساتھ ہوٹل میں ملاقات کے لیے آئے۔ میںنے ان لوگوں سے کہا کہ آپ ہماری چھ کتابیں ضرور پڑھئے —خاتونِ اسلام، عورت معمارِ انسانیت، رازِ حیات، تعمیر ِ حیات، رہنمائے حیات، کتابِ زندگی۔ اس کے بعد میں نے دونوں سے کہا کہ عورت صرف گھر کی رفیقہ نہیںہے، بلکہ عورت اور مرد دونوں ایک دوسرے کے لیے بہترین انٹلکچول پارٹنر کی حیثیت رکھتے ہیں۔ آپ دونوں شعوری طورپر اِس کے لیے اپنے آپ کو تیار کریں۔ دونوں بہت دیر تک ہوٹل میں ہمارے پاس رہے۔ ان سے دعوت الی اللہ کے موضوع پر بھی بات ہوئی۔
22 اکتوبر2009 کی شام کو قطر سے دہلی کے لیے واپسی ہوئی۔ ہوٹل سے روانہ ہو کر ہم لوگ قطر ائر پورٹ پہنچے۔ یہاں انتظار کے طورپر کچھ دیر ائر پورٹ کے لاؤنج میںہمارا قیام تھا۔ یہ لاؤنج محل کے انداز میں بنایا گیا ہے۔ دیگر سہولیات کے علاوہ، یہاں کھانے پینے کا بھی اعلیٰ انتظام تھا۔ لیکن اس کی ایک چیز میرے لیے پریشان کن تھی۔ یہ لاؤنج مکمل طورپر ائر کنڈیشنڈ تھا۔ ائر کنڈیشننگ میرے ذوق کے مطابق نہیں۔ لاؤنج کے باہر لان میں بیٹھنا ممکن تھا، لیکن انتظار کی مجبوری کی بنا پر ہمیں اِسی لاؤنج کے اندر ٹھیرنا پڑا۔
ائرپورٹ کے لاؤنج میں ایک خاص شخص سے ملاقات ہوئی۔ یہ حسن ادریسی الحمادی تھے۔ وہ ابو ظبی (امارات) میں منسٹر آف پریسیڈنشیل ایگزیکٹیو سکریٹری ہیں۔ میرے ساتھیوں نے ان کو قرآن کا انگریزی ترجمہ دیا۔ وہ بہت خوش ہوئے۔ لاؤنج میں مزید کئی ٹاپ کے لوگوں سے ملاقات ہوئی۔ ہمارے ساتھیوں نے سب کو قرآن کا انگریزی ترجمہ اور اسلامی لٹریچر دیا۔
دورانِ پرواز قطر ائر لائنز کے میگزین بازار (Harper’s) کا شمارہ اکتوبر 2009 دیکھا۔ 300 صفحے کے اِس میگزین میں تقریباً تمام آئٹم فیشن سے تعلق رکھتے تھے۔ میگزین کے صفحہ 250 پر ایک لگزری رزورٹ (The Body Holiday) کا اشتہار اِن الفاظ میں چھپا تھا:
Give us your body for a week, And we will give you back your mind.
اِس عنوان کے تحت ساحل پر تفریحی پر وگرام کی تفصیل تھی۔ اس کے آخر میں یہ الفاظ درج تھے:
You are guaranteed a remarkable experience in the persuit of health and well being.
یہ ایک مثال ہے جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ اِس زمانے میں دماغ (mind) کو بھی جسم (body) کے ماتحت بنا دیا گیا ہے۔ جدید کلچر میں یہ ذہن بنا دیا جاتا ہے کہ وہ جسم ہی کو سب کچھ سمجھے۔ چناں چہ اِس زمانے میں پرسنالٹی ڈیولپ مینٹ (personality development) کا مطلب ہوتا ہے: فزیکل ڈیولپ مینٹ یا باڈی ڈیولپ مینٹ (physical development or body development)، ذہنی یا روحانی ارتقا (spiritual development) کا تصور جدید کلچر میں موجود نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ جدید انسان اِس ارشادِ خداوندی کا کامل مصداق بنا ہوا ہے: یتمتّعون ویأکلون کما تأکل الأنعام (محمد: 12 )
23 اکتوبر 2009 کی صبح کو تین بجے ہمارے جہاز نے دہلی ائرپورٹ پر لینڈنگ کی۔ یہ تین گھنٹے کی ایک اسموتھ فلائٹ (smooth flight) تھی ۔ ائر پورٹ کی ضروری کارروائیوں سے فارغ ہو کر ہم لوگ باہر آئے۔ ائرپورٹ کے باہر ہمارے ڈرائیور پیشگی طورپر موجود تھے۔ پہلے زمانے میں ائرپورٹ پر اترنے کے بعد ڈرائیور کو پانا ایک مشکل کام ہوتا تھا، لیکن اب موبائل کی ایجاد نے اِس مسئلے کو بالکل آسان بنا دیا ہے۔ ائرپورٹ کے باہر ہمارے ڈرائیور پیشگی طورپر موجود تھے۔ ائر پورٹ پر اترکر آپ اپنے ڈرائیور کو بتا دیجئے اور باہر نکلتے ہی آپ اس کو گیٹ پر موجود پائیں گے۔ یہ سہولت بھی اُن بے شمار انعاماتِ الٰہیہ میں سے ہے جس کو قرآن میں اِن الفاظ میں بیان کیاگیا ہے: واٰتاکم من کل ماسألتموہ (إبراہیم: 34 )۔
ائرپورٹ سے روانہ ہو کر بذریعہ کار ہم لوگ نظام الدین (ویسٹ) پہنچ گئے۔ دہلی سے قطر کا یہ سفر میرے لیے ایک خواب کی مانند تھا، ایک ایسا خواب جو دہلی سے شروع ہوا اور پھر دہلی پر ختم ہوگیا۔ سفر کے دوران جو کچھ پیش آیا، وہ گویا کہ کسی پر اسرار خارجی طاقت کے ذریعے پیش آیا۔ مجھے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ اِس پورے سفر میں میری حیثیت صرف ایک معمول کی تھی، نہ کہ عامل کی۔
(یہ سفر نامہ مولانا محمد ذکوان ندوی کے تعاون سے تیار کیاگیا)۔
واپس اوپر جائیں

Tuesday, 2 February 2010

Al Risala | February 2010 (الرسالہ،فروری)

2

-نماز کلچر

3

- قیامت قریب آچکی

4

- توکّل کیا ہے

5

- خوفِ خدا کی اہمیت

6

- قرآن کی دو آیتیں

8

- دوسرا اخراج قریب آگیا

10

- فتنۂ دُہیماء

16

- غیر حقیقت پسندانہ سوچ

17

- قیامت کی ایک علامت

18

- ہٹلر ممّی

19

- غلطی کا اعتراف

20

- معکوس تربیت

21

- بات بنانا

22

- اختلاف اور اتحاد

23

- اسلام کے نام پر غیر اسلام

30

- کاغذی تحریر

31

- سائنس کی گواہی

32

- بریک اِن ہسٹری

33

- جھونک اسپرٹ

34

- ایک اچھی مثال

35

- چھوٹی بات پر انتہائی فیصلہ

36

- سوال وجواب

44

- خبر نامہ اسلامی مرکز — 200


نماز کلچر

قرآن کی سورہ نمبر 74 میں بتایا گیا ہے کہ آخرت میںاہلِ جہنم سے پوچھا جائے گا کہ تم لوگوں کو کس چیز نے جہنم میں ڈالا، وہ کہیں گے کہ ہم نماز ادا کرنے والوں میں سے نہ تھے: قالوا لم نک من المصلّین (المدثر: 43 ) اِس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ معروف معنوں میں وہ پانچ وقت کی نماز نہیں پڑھتے تھے۔ ایسا سمجھنا نماز کی تصغیر ہے۔ اِس قول کا مطلب دراصل یہ ہے کہ ہم آدابِ نماز کی پیروی کرنے والے نہ تھے، ہم نے دنیا میں نماز کلچر کو اختیار نہیں کیا تھا۔
قرآن اور حدیث کے مطالعے سے معلوم ہوتاہے کہ نماز کلچر کیا ہے۔ نماز کلچر سے مراد ہے قلبِ خاشع کے ساتھ زندگی گزارنا (المؤمنون: 2 )، وقت کی پابندی (النساء: 103 ) ، فحشاء اور منکر سے رکنا (العنکبوت: 45 )، اجتماعی زندگی گزارنا (البقرۃ: 43 )، صابرانہ مزاج کے ساتھ دنیا میں رہنا (البقرۃ: 153)، قربانی کی اسپرٹ کا حامل ہونا (الکوثر:2 )، سہو کی نفسیات سے بچنا (الماعون: 5 )، یادِ الٰہی میں جینا (طٰہٰ:14 )، اپنے معاملات کا نگراں بن جانا (المعارج:34 )، مستقل مزاج ہونا (المعارج: 23)، پاکیزگی کے ساتھ رہنا (المائدۃ:6 )، مرکز رُخی زندگی گزارنا (البقرۃ:143 )، وغیرہ۔
اِسی طرح حدیث کے مطابق، کئی چیزیں ہیں جو نماز کے جز کی حیثیت رکھتی ہیں۔ مثلاً نماز کے آخر میں سلام پھیرنا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ مصلی کے دل میں دوسروں کے لیے امن اور سلامتی کا جذبہ ہو۔ یہ تمام چیزیں معنوی اعتبار سے بلا شبہہ اجزائِ صلاۃ کی حیثیت رکھتی ہیں۔ اِن کے مجموعے کو آدابِ نماز یا نماز کلچر کہاجاسکتا ہے۔
حقیقی نماز وہ ہے جو مصلی کے اندر اِن تمام صفات کو پیدا کرے۔ جو آدمی اِس طرح نماز ادا کرے کہ یہ تمام چیزیں اس کی زندگی کا جز بن جائیں، وہی حقیقی معنی میں مصلی ہے، اور ایسے ہی مصلی آخرت میں خدا کی ابدی جنت میں داخل کئے جائیں گے۔
واپس اوپر جائیں

قیامت قریب آچکی

ایک روایت اسماء بنت یزید کی سندسے حدیث کی مختلف کتابوں میں آئی ہے۔ یہ ایک لمبی حدیث ہے۔ اس کا پورا متن مشکاۃ المصابیح کی حدیث نمبر 5491 کے تحت دیکھا جاسکتا ہے۔ اِس روایت میں اُن نشانیوں کی پیشین گوئی کی گئی ہے جو قیامت سے قبل ظاہر ہونے والی ہیں۔ اُن میں سے ایک نشانی کا ذکر کرتے ہوئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: إنَّ بین یدیہ ثلاث سنین: سنۃ تمسک السماء فیہا ثلُث قَطْرہا، والأرض ثلث نباتہا۔ والثانیۃ: تمسک السماء ثلثَی قطرہا، والأرض ثلثَی نباتہا۔ والثالثۃ: تمسک السماء قطرہا کلَّہ، والأرض نباتہا کلّہ۔ (المعجم الکبیر للطبرانی، رقم الحدیث: 19926؛ مسند أحمد، رقم الحدیث: 26298 )
یعنی قیامت سے پہلے دجال کے زمانے میں تین دور پیش آئیں گے— پہلا دور جب کہ آسمان ایک تہائی بارش کو روک دے گا، اور زمین اپنی ایک تہائی پیداوار کو روک دے گی۔ اور دوسرے دور میں آسمان اپنی دوتہائی بارش کو روک دے گا، اور زمین اپنی دو تہائی پیداوار کو روک دے گی۔ اور تیسرے دور میں آسمان اپنی ساری بارش کو روک دے گا، اور زمین اپنی ساری پیداوار کو روک دے گی۔
واقعات بتاتے ہیں کہ موجودہ زمانے میں یہ پیغمبرانہ پیشین گوئی بالکل ظاہر ہوچکی ہے۔ موجودہ زمانے میں گلوبل وارمنگ کے نتیجے میں پانی کے منجمد ذخیرے (گلیشئر وغیرہ) پگھل کر بہہ رہے ہیں اور دریاؤں کے راستے سمندر میں جاکر وہ دوبارہ ناقابلِ استعمال کھاری پانی بن رہے ہیں۔ بیسویں صدی کے آخر تک تقریباً ایک تہائی پانی اِس طرح بہہ چکا تھا۔ اب اکیسویں صدی میں دوسرا تہائی پانی تقریبابہہ چکا ہے اور اب آئندہ اس کا تیسرا تہائی پانی بہہ کر ختم ہوجانے والا ہے۔ اس کے اثر سے نباتات اور حیوانات بھی بتدریج معدوم ہورہے ہیں۔ پیغمبرانہ پیشین گوئی کے مطابق، یہ گویا کہ قیامت کا فائنل الارم ہے۔ تقریباً یقین کے ساتھ کہا جاسکتا ہے کہ اب قیامت بہت زیادہ قریب آچکی ہے۔ اب وہ وقت آگیا ہے کہ انسان جاگے اور اپنی اصلاح کرے، اِس سے پہلے کہ توبہ کے تمام دروازے بند ہوجائیں۔
واپس اوپر جائیں

توکّل کیا ہے

پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک شخص نے توکل کے بارے میں پوچھا۔ اُس نے کہا: یا رسول اللہ، أعقِلُہَا وأتوکّل أوأُطلقہا وأتوکل، قال: أعقلْہا وتوکل (الترمذی، کتاب القیامۃ) یعنی اے خدا کے رسول، کیا میں اپنے اونٹ کو باندھ دوں اور توکل کروں یا میں اس کو چھوڑ دوں اور توکل کروں۔ آپ نے فرمایا کہ تم اپنے اونٹ کو باندھو اور پھر توکل کرو۔
اِس حدیثِ رسول سے معلوم ہوتا ہے کہ توکل کیا ہے۔ حقیقی توکل یہ ہے کہ آدمی بقدرِ امکان اسباب کو فراہم کرے اور بقیہ کے لیے اللہ پر بھروسہ کرے۔ ایک طرف وہ اپنی کوشش میں کمی نہ کرے اور دوسری طرف وہ بھروسہ رکھے کہ اِس دنیا میں کسی کام کی تکمیل اللہ کی مدد کے بغیر نہیںہوسکتی۔ یہی وہ حقیقت ہے جس کو عربی زبان کی ایک مثل میں اِن الفاظ میں بیان کیا گیا ہے: السعی منّی، والإتمامُ من اللہ (کوشش میری طرف سے اور تکمیل اللہ کی طرف سے)۔
اصل یہ ہے کہ اِ س دنیا میں ہر کام کے لیے انسان کو خود کوشش کرنا پڑتا ہے، انسان کو خود منصوبہ بنانا پڑتا ہے، انسان کو خود اپنے وسائل کو منظم طور پر استعمال کرنا پڑتا ہے، اپنی عقل کو استعمال کرتے ہوئے انسان کو خود حالات کا حقیقت پسندانہ جائزہ لینا پڑتا ہے، انسان کو خود یہ کرنا پڑتا ہے کہ وہ اپنی صلاحیتوں کو بھر پور طورپر زیر عمل لائے۔ انسان اگر اپنے حصے کا کام نہ کرے تو مطلوب انجام تک پہنچنا کبھی اس کے لیے ممکن نہ ہوگا۔
اِس معاملے کا دوسرا پہلو یہ ہے کہ اِس دنیا میں کسی بھی کام کو کرنے کے لیے انفراسٹرکچر درکار ہوتا ہے۔ یہ انفراسٹرکچر تمام تر خدا کی طرف سے ملتا ہے۔ ہر معاملے میں کوشش انسان کی طرف سے ہوتی ہے اور انفراسٹرکچر کی فراہمی خدا کی طرف سے۔ اِسی انفراسٹرکچر کا تعلق توکل سے ہے۔ گویا کہ ہر معاملے میں انسان کا حصہ پچاس فی صد ہوتا ہے، اور خدا کا حصہ پچاس فی صد— اِسی بات کو مذکورہ حدیث میں اِس طرح کہا گیا ہے کہ اپنے اونٹ کو باندھو اور پھر خدا کی ذات پر بھروسہ کرو۔
واپس اوپر جائیں

خوفِ خدا کی اہمیت

ایمان خدا کی دریافت ہے۔ یہ دریافت آدمی کے اندر جو صفات پیدا کرتی ہے، اُن میں سے ایک اہم صفت وہ ہے جس کو خشوع اور تقویٰ اور خوف، وغیرہ الفاظ میں بیان کیا گیا ہے، یعنی خدا کی پکڑ سے ڈرنا، آخرت میں خدا کے سامنے جواب دہی کو سوچ کر ہمیشہ اپنا محاسبہ کرتے رہنا، یہی سچے ایمان کی علامت ہے۔ سچا مومن صرف وہ انسان ہے جس کا سب سے بڑا کنسرن (concern) خدا بن جائے، جس کی سوچ کا فوکس صرف ایک ہو، اور وہ ہے خوفِ خدا۔
موجودہ زمانے میں احیائِ ملت کے نام سے بہت سی بڑی بڑی تحریکیں اٹھیں، لیکن عملی اعتبار سے سب کی سب بے نتیجہ رہیں۔ اِس ناکامی کا بنیادی سبب یہ ہے کہ اِن تمام مسلم تحریکوں کا فوکس بدلا ہوا تھا— کسی کا فوکس اَغیار سے تحفظ تھا، کسی کا فوکس سیاسی اقتدار تھا، کسی کا فوکس فضائلِ اعمال تھا، کسی کا فوکس ظاہری فارم تھا، کسی کا فوکس ملّی شناخت تھا، وغیرہ، یہ تمام کے تمام بدلے ہوئے فوکس تھے۔ اِس لیے موجودہ زمانے کی تمام مسلم تحریکیں ، ظاہری دھوم کے باوجود، اپنے مطلوب نتیجے کے اعتبار سے سر تا سر ناکام رہیں۔
یہ ایک حقیقت ہے کہ اسلام میںاصل فوکس خوفِ خدا ہے۔ خوفِ خدا تمام مثبت صفات (positive qualities) کا سرچشمہ ہے۔ خوفِ خدا سے آدمی کے اندر سنجیدگی پیدا ہوتی ہے۔ خوفِ خدا آدمی کو متواضع (modest) بناتا ہے۔ خوفِ خدا آدمی کے اندر غلطی کے اعتراف کاجذبہ پیدا کرتا ہے۔ خوفِ خدا اصلاحِ خویش کا سب سے بڑا ذریعہ ہے۔ خوفِ خدا انفرادی بڑائی کو ختم کرکے اتحاد پیدا کرتا ہے۔ خوفِ خدا آدمی کو حقیقت پسند بناتا ہے۔ خوفِ خدا آدمی کے اندر قرآنی سوچ پیدا کرتا ہے۔ خوفِ خدا آدمی کو مجبور کرتاہے کہ وہ ہمیشہ اپنی موت کو یاد کرتا رہے۔ خوفِ خدا آدمی کو کبر اور انانیت کی نفسیات سے بچاتا ہے۔خوفِ خدا کی حیثیت، کیرم بورڈ کی اصطلاح کے مطابق، ماسٹر اسٹروک (master stroke) کی ہے جو آدمی کی پوری شخصیت کو مکمل طورپر بدل دیتی ہے۔
واپس اوپر جائیں

قرآن کی دو آیتیں

سورہ النساء قرآن کی چوتھی سورہ ہے۔ اِس سورہ کا ابتدائی حصہ غزوۂ احد کے فوراً بعد پیش آنے والے حالات کی نسبت سے نازل ہوا۔ غزوۂ احد 6 شوال 3ہجری کو مدینے کی سرحد پر پیش آیا تھا۔ اِس غزوہ میں 70مسلمان مارے گئے تھے۔ اِس کے نتیجے میں قدیم مدینہ کے معاشرے میں ایک بڑا مسئلہ پیدا ہوگیا، اور وہ تھا بیواؤں اور یتیموں کا مسئلہ۔ یتیموں کے باپ اپنے بعد مال اور جائداد چھوڑ گئے تھے۔ اب سوال تھا کہ یہ مال اور جائداد کس طرح یتیم بچوں کے درمیان منصفانہ طورپر تقسیم ہو۔ دوسرا مسئلہ یہ تھا کہ وہ خواتین جو اپنے شوہروں سے محروم ہوگئی ہیں، معاشرے میں اُن کا بندوبست (settlement) کس طرح کیا جائے۔سورہ النساء کی آیت نمبر 2 میں، پہلے مسئلے کا حل بتایا گیا ہے۔اور اس کی آیت نمبر 3 میں دوسرے مسئلے کا حل بیان ہوا ہے۔ آیت نمبر 2 کا ترجمہ یہ ہے:
’’اور یتیموں کا مال اُن کے حوالے کرو۔ اور برے مال کو اچھے مال سے نہ بدلو، اور اُن کے مال کو اپنے مال کے ساتھ ملا کر نہ کھاؤ۔ یہ بہت بڑا گناہ ہے‘‘۔ (النساء:2 )۔ یعنی یتیم بچوں کے مال اور جائداد کے بارے میں انصاف اور خیر خواہی کا طریقہ اختیار کرو، تاکہ اُن کا حق درست طورپر ان کو پہنچ جائے۔
دوسرے مسئلے کے حل کے بارے میں قرآن کے الفاظ یہ ہیں: وإن خفتم ألا تُقسطوا فی الیتامیٰ فانکحوا ما طاب لکم من النساء مَثنیٰ، وثُلٰث، ورُبٰع (النساء: 3)۔ یعنی اگر تم کو اندیشہ ہو کہ تم یتیموں کے معاملے میں انصاف نہ کرسکوگے، تو عورتوں میں سے حسب حال، دو دو، تین تین، چار چار عورتوں سے نکاح کرلو۔
اِس آیت میں ’خفتم‘ کا خطاب قدیم مدینے کے سماج سے ہے، اور ’فانکحوا‘کا خطاب قدیم مدینے کے افراد سے۔ غزوۂ احد کے بعد مدینے میں یتیموں کا جو مسئلہ پیدا ہوا تھا، ابتداء ً اس کا تعلق پورے سماج سے تھا۔ سماج کے مختلف گھروں میں یتیم لڑکے اور لڑکیاں موجود تھے۔ یہ مسئلہ پورے سماج پر پھیلا ہوا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے یہ چاہا کہ اس مسئلے کو افراد کے انٹرسٹ سے وابستہ کردیا جائے۔ سماجی مسئلہ ہونے کی بنا پر، کوئی شخص اس کو اپنا ذاتی مسئلہ نہیں سمجھ سکتا تھا اور نہ فطری طور پر کسی کو اس سے ذاتی تعلق ہوسکتا تھا۔ اِسی صورتِ حال کی طرف قرآن میں ’خفتم‘کے لفظ کے ذریعے اشارہ کیاگیا ہے، یعنی فطری طورپر یہ اندیشہ ہے کہ موجودہ صورتِ حال کے رہتے ہوئے یہ مسئلہ لوگوں کے لیے انفرادی دلچسپی کا مسئلہ نہ بنے اور یتیم بچوں کو غیر ضروری مسائل کا سامنا کرنا پڑے، جیسا کہ عام طورپر سماج میں دیکھا گیا ہے۔
اس مسئلے کا حل قرآن میں یہ بتایا گیا کہ مدینے کے مختلف افر اد اپنے حالات کے لحاظ سے، بیوہ خواتین سے نکاح کرلیں۔ جس شخص کے لیے دو نکاح ممکن ہو، وہ دو نکاح کرلے، اور جس شخص کے لیے تین نکاح ممکن ہو، وہ تین نکاح کرلے، اور جس شخص کے لیے چار نکاح ممکن ہو، وہ چار نکاح کرلے۔ اِس طرح یہ ہوگا کہ بیوہ خواتین کے بچوں کو دوبارہ باپ جیسی سرپرستی حاصل ہوجائے گی۔ بیوہ خواتین کے شوہروں کو اِن خواتین کی اولاد کے ساتھ ذاتی تعلق ہوجائے گا، وہ براہِ راست ان کی ذاتی نگرانی میں آجائیں گے۔ اِ س طرح یہ ہوگا کہ جو مسئلہ سماج کی سطح پر عمومی انداز میں پیدا ہوا ہے،وہ افراد کی سطح پر تقسیم ہو کر فطری انداز میں حل ہوجائے گا۔
سورہ النساء کی آیت نمبر 3 میں نکاح کا جو حکم بیان ہوا ہے، وہ کوئی عمومی حکم نہیں ہے، بلکہ وہ اُس ہنگامی صورتِ حال کی نسبت سے ہے جو کہ مدینہ میں جنگ احد کے بعد پیدا ہوگئی تھی۔ عام حالات میں نکاح کی فطری صورت یہ ہے کہ ایک شخص ایک خاتون سے نکاح کرے۔ مطالعہ بتاتا ہے کہ خدا کا تخلیقی نظام عورت اور مرد کی تعداد میں ہمیشہ ایک توازن (equilibrium) قائم رکھتا ہے۔ اِس لیے قانونِ فطرت کے مطابق، غیر محدود تعدّدِ ازواج عملاًممکن ہی نہیں۔
تعدّد ازواج (polygamy) کا حکم قرآن کی صرف اِسی ایک آیت میں آیا ہے، جو کہ غزوۂ احد کے بعد پیدا ہونے والے حالات کی نسبت سے اتری تھی۔ حقیقت یہ ہے کہ اسلام میں کئی عورتوں سے نکاح کرنے کا حکم لوگوں کو تفریح (entertainment) کا موقع دینے کے لیے نہیں ہے، بلکہ وہ صرف اُس صورتِ حال کے لیے ہے، جب کہ سماج میںکسی حادثے کی بنا پر عورتیں سرپلس (surplus) ہوجائیں۔ قرآن میں یہ حکم بیواؤں اور یتیم بچوں کے مسئلے کے فطری بندوبست کے لیے ہے، جیسا کہ آیت کے سیاق سے واضح ہے۔
واپس اوپر جائیں

دوسرا اخراج قریب آگیا

بیسویں صدی عیسوی کے آخر تک صنعتی ترقی کو صرف ایک مثبت ظاہرہ کے روپ میں دیکھا جاتا تھا۔ اکیسویں صدی عیسوی میں معلوم ہوا کہ صنعتی ترقی کے ساتھ ایک سنگین قسم کا منفی پہلو موجود ہے۔ یہی وہ چیز ہے جس کو کاربن ایمیشن (carbon emission) کہا جاتا ہے۔
صنعتی ترقی اپنے ساتھ، صنعتی کثافت (industrial polution) کا مسئلہ لائی ہے۔ اِس کثافت کے نتیجے میں گلوبل وارمنگ (global warming) کا واقعہ پیش آیا ہے،یعنی موسم میں بگاڑ (weather chaos) ، پانی کے ذخیروں کا پگھلنا، نازک حیوانات (fragile animals) کی موت، سمندر کے پانی کا آلودہ ہوجانا اور لائف سپورٹ سسٹم کا بگڑ جانا، وغیرہ۔
فطرت میں اِن تمام خرابیوں کی جڑ گلوبل وارمنگ ہے۔ اِس مسئلے پر ڈنمارک کی راجدھانی کوپن ہیگن میں 7-18 دسمبر 2009 کو ایک انٹرنیشنل کانفرنس ہوئی جس میں دنیا بھر کے دو سو ملکوں کے ذمے داران شریک ہوئے۔ مگر یہ کانفرنس مکمل طور پر ناکام ہوگئی۔ اِس کا سبب یہ تھا کہ ترقی یافتہ ممالک اپنے اعلیٰ معیارِ زندگی کو ہر حال میں برقرار رکھنا چاہتے تھے، اور زیر ترقی ممالک اعلیٰ معیارِ زندگی کی دوڑ میں کسی بھی حال میں کمی کرنے پر راضی نہ تھے۔
گلوبل وارمنگ کا اصل سبب لائف اسٹائل کا مسئلہ ہے۔ دنیا کے موجودہ ذرائع صرف یہ اجازت دیتے ہیں کہ انسان اپنی حقیقی ضرورت (real need) کے بقدر اس کو استعمال کرے، لیکن آج کے انسان کا نشانہ پُرتعیش لائف اسٹائل (luxurious life style) بن گیا ہے۔ انسان کا یہی غیرحقیقی گول ہے جس نے موجودہ زمانے میں گلوبل وارمنگ کا سنگین مسئلہ پیدا کیاہے۔ گلوبل وارمنگ گویا کہ فطرت کی طرف سے یہ اعلان ہے کہ انسان کا یہ نشانہ موجودہ دنیا میں پورا ہونے والا نہیں، وہ فطرت کے خلاف ہے، اور جو منصوبہ فطرت کے خلاف ہو، اس کی تکمیل اِس دنیا میں ممکن ہی نہیں۔
یہ کوئی سادہ معاملہ نہیں۔ یہ براہِ راست طورپر خدا کے تخلیقی منصوبہ (creation plan)سے جڑا ہوا ہے۔ خدا کے تخلیقی پلان کو سمجھے بغیر اِس معاملے کا درست تجزیہ نہیں کیا جاسکتا۔ یہاں انسان کا منصوبہ خالقِ فطرت کے منصوبہ سے ٹکرا رہا ہے، اور یہ ناممکن ہے کہ اِس دنیا میں خالقِ فطرت کے منصوبے کے خلاف کسی منصوبے کو کامیاب بنایا جاسکے۔
خدا نے انسان (آدم) کو اوران کی بیوی حوا کو پیدا کیا اور اُن کو جنت میں بسایا۔ خدا نے کہا کہ تم لوگ جنت میںآزادی کے ساتھ رہو، لیکن تم لوگ فلاں درخت کے پاس نہ جانا، ورنہ جنت تم سے چھن جائے گی (البقرۃ: 35)، مگر آدم اور حوا اِس ہدایت پر قائم نہ رہ سکے۔ انھوں ے ممنوعہ درخت (forbidden tree) کا پھل کھایا۔ اِس کا نتیجہ یہ ہوا کہ جنت کا لباس اُن سے چھن گیا اور اُن کو جنت چھوڑ کر موجودہ زمین پر آنا پڑا۔
یہ دراصل اِسراف کا معاملہ تھا، یعنی حد سے تجاوز کرنا (to exceed one’s limit) ۔ اِس اسراف کے نتیجے میں آدم کو پہلی بار جنت کو چھوڑنا پڑا۔ اسراف کا یہی معاملہ دوسری بار زیادہ بڑے پیمانے پر انسان کے ساتھ پیش آرہا ہے۔ خدا نے انسان کو موجودہ دنیا میں آباد کیا تو دوبارہ اس کے لیے ایک حد مقرر کردی۔ وہ حد یہ کہ انسان موجودہ دنیا سے بقدر ضرورت فائدہ اٹھائے۔ وہ یہاں پُر تعیش زندگی حاصل کرنے کی کوشش نہ کرے۔
جدید صنعتی ترقی سے پہلے انسان مجبورانہ طورپر اِس حدپر قائم تھا، لیکن جدید صنعتی ترقی کے بعد وہ اِس حد پر قائم نہ رہ سکا۔ وہ پُر تعیش زندگی کی طرف تیزی سے دوڑنے لگا۔ اکیسویں صدی عیسوی میں یہ دوڑ اپنی آخری حد پر پہنچ گئی ہے۔
اب خالق کا فیصلہ انسان کے خلاف ظاہر ہوچکا ہے۔ لائف سپورٹ سسٹم کا لباس اس سے اتارا جارہا ہے۔ پر تعیش زندگی یہاں انسان کے لیے شجرِ ممنوعہ کی حیثیت رکھتی تھی، لیکن انسان اپنی بڑھی ہوئی خواہش کی بنا پر اپنی حد سے باہر چلا گیا۔
اب وہ وقت بہت قریب آچکا ہے جب کہ موجودہ دنیا سے اُسی طرح انسان کا اخراج کردیا جائے، جس طرح آدم کا اخراج جنت سے ہوا تھا۔ اِسی دوسرے اخراج کا نام قیامت ہے۔
واپس اوپر جائیں

فتنۂ دُہیماء

پیغمبر اسلام ﷺنے قیامت سے پہلے کے زمانے کے لیے بہت سی پیشین گوئیاں کی ہیں۔ اُن میں سے ایک پیشین گوئی یہ ہے کہ آخری زمانے میں قیامت سے پہلے ایک سنگین واقعہ پیش آئے گا۔ اِس واقعے کو فتنۂ دہیماء کہا گیا ہے۔ حدیث میں آیا ہے کہ — آخری زمانے میں فتنۂ دُہیماء ظاہر ہوگا۔ اِس امت کا کوئی بھی شخص نہیں بچے گا جو اِس فتنے کی زد میں نہ آجائے (…ثم تکون فتنۃ الدُّہیماء، لا تدع أحداًمن ہذہ الأمۃ إلا لطمتْہ لطْمۃً (سنن أبی داؤد، کتاب الملاحم):
It will hit everyone without any exception.
اِس حدیثِ رسول میں دُہیماء کا لفظ استعمال ہوا ہے۔ دہیماء کے لیے مشہور عربی لغت لسان العرب میں یہ الفاظ آئے ہیں: الفتنۃ السّوداء المُظلمۃ (12/211) ۔ لسان العرب میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ دہیماء کی تصغیر مبالغہ کے لیے ہے، یعنی فتنۂ دہیماء بہت زیادہ سیاہ اور بہت زیادہ تاریکی پیدا کرنے والا فتنہ ہوگا۔اِس حدیث کے مطابق، فتنۂ دہیماء کا زمانہ مکمل تاریکی کا زمانہ (age of total darkness) ہوگا۔
غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ فتنۂ دہیماء سے مراد وہی دور ہے جو بیسویں صدی عیسوی میں پوری طرح آیااور اب تک اس کا سلسلہ جاری ہے۔ اِس قسم کا دور صرف اُس وقت پیدا ہوسکتا تھا، جب کہ پرنٹنگ پریس ظہور میں آچکا ہو اور انسانی علم میں بہت زیادہ ترقی ہوچکی ہو، اوراِسی کے ساتھ دوسرے موافق مواقع پیدا ہوچکے ہوں۔
موجودہ زمانہ اِسی عظیم فتنے کا زمانہ ہے۔ اِس زمانے میں پہلی بار ایسا ہوا ہے کہ مغالطہ آمیز تصورات ایک فلسفے کی صورت میں ظاہر ہوئے ہیں۔ اِس سے پہلے مغالطہ (fallacy)صرف ایک سادہ قسم کا مغالطہ ہوتا تھا۔ موجودہ زمانے میں مغالطہ نے ایک باقاعدہ فلسفے کی صورت اختیار کرلی ہے، حتی کہ لوگوں کے لیے یہ ممکن نہیں رہا ہے کہ وہ تجزیہ کرکے اس کی حقیقت کو سمجھیں۔ آج غلط تعبیرات کا ایک جنگل ہے جس میں انسان زندگی گزار رہا ہے۔ یہ فکری تاریکی (intellectual darkness) کا زمانہ ہے۔ اِس دور کو مغالطہ انگیز فلسفوں کا دور کہا جاسکتا ہے:
Age of deceiving philosophies
فتنۂ دہیماء کا یہ زمانہ بیسویں صدی عیسوی کا زمانہ ہے۔ بیسویں صدی عیسوی میں وہ تمام فلسفے ابھرے جو مغالطہ آمیزی کے فلسفے تھے اور جنھوں نے جدید دور کے اکثر لوگوں کو براہِ راست یا بالواسطہ طورپر متاثر کیا ہے۔ موجودہ زمانے میں مختلف قسم کے جو مفاسد پیداہوئے، وہ بنیادی طورپر اِنھیں فلسفوں کے نتیجے میں پیدا ہوئے۔ اِن فلسفوں کے پیدا کرنے میں بہت سے لوگوں کا حصہ ہے۔ اُن میں سے چار ناموں کا ذکر یہاں علامتی طورپر کیا جاتا ہے:
چارلس ڈارون (وفات: 1882 ) کارل مارکس (وفات: 1883 )
سِگمنڈ فرائڈ(وفات: 1939 ) سید ابوالاعلیٰ مودودی (وفات: 1979 )
ذیل میں اِن چاروں کے افکار کا مختصر تجزیہ کیا جاتا ہے۔
چارلس ڈارون (Charles Darwin) ایک برٹش اسکالر تھا۔ لمبی ریسرچ کے بعد اُس نے وہ نظریہ پیش کیا جس کو عضویاتی ارتقا (organic evolution) کا نظریہ کہاجاتا ہے۔ اپنے نظریے کی حمایت میں اُس نے دو کتابیں لکھیں:
1. On the Origin of Species (1859) 2. The Descent of Man (1871)
ڈار ون کے اِس نظریہ یا مفروضہ کے مطابق، بہت پہلے خدا نے زندگی کا ابتدائی فارم (امیبا) پیدا کیا۔ اس کے بعد خود بخود ایک پراسس چلا۔ اِس پراسس کے دوران طبیعی انتخاب (natural selection) اور بقائِ اصلح (survival of the fittest) کے اصول کے تحت تمام انواعِ حیات اپنے آپ بنتے چلے گئے، اور آخر میں انسان وجود میں آگیا۔
یہ نظریہ مکمل طورپر ایک غیر ثابت شدہ نظریہ تھا۔ اس کی حیثیت ایک قیاسی مفروضہ کے سوا اور کچھ نہ تھی۔ لیکن بعض دیگر اسباب سے وہ اہلِ علم طبقے کے درمیان بہت تیزی سے پھیلا، یہاں تک کہ اس کو جدید تعلیم یافتہ طبقے کے درمیان عمومی قبولیت (general acceptance) کا درجہ حاصل ہوگیا۔
چارلس ڈارون نے اپنے نظریے میں اگرچہ ایک ابتدائی خالق کے طورپر خدا کا وجود تسلیم کیا تھا، لیکن اِس نظریے کے عین تقاضے کی بنا پر ایسا ہوا کہ انسان کی زندگی سے خدا (God) بحیثیت ایک مؤثر عامل کے ختم ہوگیا۔ اب انسان کو اس کی ضرورت نہیں تھی کہ وہ دعاء اور عبادت کے ذریعے خدا سے تعلق قائم کرے، وہ اپنی زندگی میں خدا کو اپنا رہنما بنائے، وہ خدا کے سامنے اپنے آپ کو جواب دہ (accountable) سمجھے، وہ خدا سے خوف کرے اور خدا سے محبت کرے، وہ خدا کی جہنم سے ڈرے اور خدا کی جنت کا حریص بنے— اِس قسم کی تمام چیزیں جدید انسان کے لیے غیر متعلق (irrelevant) ہوگئیں۔ اِس نظریے نے تاریخ میں پہلی بار ایک نیا دور پیدا کیا۔ اِس دور کو مبرَّر برائی کا دور (age of justified evil) کہاجاسکتا ہے۔
اِس سلسلے میں دوسرا نام کارل مارکس (Karl Marx) کا ہے۔ کارل مارکس نے وہ نظریہ پیش کیا جس کو جدلیاتی مادّیت (dialectical materialism) کہاجاتا ہے۔قدیم فلسفی زرتشت (وفات: 551 ق م) نے کہا تھا کہ دنیا اچھی طاقتوں اور بری طاقتوں کے درمیان مسلسل جنگ کا نام ہے:
The world is a perpetual battle ground between good and evil forces.
مارکس نے اِس نظریے کو سیکولر معنوں میں استعمال کرتے ہوئے دکھایا کہ انسانی تاریخ ہمیشہ استحصال کرنے والوں (exploiters) اور استحصال کا شکار ہونے والوں (exploited) کے درمیان بٹی رہی ہے۔ اس نے اس نظریے کو لازمی قانونِ طبیعی کا درجہ دیتے ہوئے کہا کہ اِس قانون کی بنا پر انسانی سماج میں ہمیشہ ایک طبقاتی جنگ (class war) جاری رہتی ہے۔ اور اِس طرح تاریخ ایک حالت سے دوسری حالت کی طرف سفر کرتی رہتی ہے۔
مارکس کا یہ نظریہ مخصوص اسباب سے، انیسویں صدی کے نصف ثانی اور بیسویں صدی کے نصف اول کے درمیان عالمی طورپر پھیلا۔ 1917 میں جب روس میں کمیونسٹ حکومت قائم ہوئی تو حکومت کے زور پر اِس نظریے کو مزید پھیلاؤ ملا۔ اِس طرح ساری دنیا میں ایک ایسا ماحول بنا جس میں مبرّر تصادم (justified conflict) کو بہت زیادہ فروغ ہوا۔ تقریباً پوری دنیا میں تخریبی سیاست، انقلابی عمل کے خوب صورت نام سے رائج ہوگئی۔
اِس سلسلے میں تیسرا نام سگمنڈ فرائڈ (Sigmund Freud) کا ہے۔ سگمنڈ فرائڈ نے وہ نظریہ پیش کیا جس کو دوسرے الفاظ میں، مبرّر اِباحیت (justified permissiveness) کہاجاسکتا ہے۔ اس نے اپنی ’’تحقیق‘‘ کے ذریعے دکھایا کہ خواہشات (desires) کو دبانا شخصیت کے ارتقا میں سخت مہلک ہے۔ اِس لیے ضروری ہے کہ خواہشات کو اظہار کا بے روک ٹوک موقع دیا جائے، تاکہ انسانی شخصیت ترقی کے اعلیٰ درجے تک پہنچ سکے۔ فرائڈ نے دکھایا کہ دبی ہوئی صنفی خواہش (repressed sexual energy) شخصیت کے ارتقاء کے لیے بے حد خطرناک ہے۔ اُس نے اِس بات کی وکالت کی کہ شخصیت کے ارتقاء کے لیے ضروری ہے کہ کم عمری ہی سے صنفی تعلقات قائم ہوں:
Emphasized importance of infantile sexuality in personality's development.
فرائڈ کا نظریہ بہت زیادہ مقبول ہوا، حتی کہ نظریاتی طورپر فرائڈ کو نہ جانتے ہوئے بھی آج کی دنیا کے بیش تر لوگ فرائڈ کے طریقے پر چل رہے ہیں۔ موجودہ زمانے میں بے قید تفریح (unchecked enjoyment) کا طریقہ جو ہر جگہ عام ہوگیا ہے، وہ براہِ راست یا بالواسطہ طورپر فرائڈ کے نظریے کا نتیجہ ہے۔ یہ نظریہ اب اِس حد تک پہنچ چکا ہے کہ ہر شعبے میں کھلے طورپر صنفی باتیں عام ہوگئیں ہیں، حتی کہ اب اخباروں میں جو نئے کالم دکھائی دیتے ہیں، اُن میں سے ایک کالم یہ ہوتا ہے:
Virginity On Sale
اوپر جن تین ناموںکا ذکر ہوا، وہ سیکولر نام تھے، وہ مذہبی رہنما کی حیثیت نہ رکھتے تھے۔ اِس فہرست میں چوتھا نام سید ابو الاعلیٰ مودودی کا ہے۔ مسلمانوں کے درمیان حالیہ زمانے میں سیاسی شکست کے جو واقعات پیش آئے، اُس نے سید ابو الاعلیٰ مودودی کے لیے زرخیز زمین فراہم کردی۔ انیسویں صدی عیسوی کے آخر میں ساری دنیا میں مسلمانوں کا سیاسی زوال شروع ہوا۔ دھیرے دھیرے دو بڑے مسلم ایمپائر ختم ہوگئے— مغل ایمپائر،اور عثمانی ایمپائر۔
مسلم ایمپائر کے بعد مسلمانوں کے درمیان یہ تحریک شروع ہوئی کہ وہ سیاسی اقتدار کو پہلے کی طرح دوبارہ قائم کرسکیں۔ سید جمال الدین افغانی (وفات: 1897 ) کے زمانے تک یہ تحریک خالص سیاسی تحریک تھی۔ سید جمال الدین افغانی کا نعرہ تھا: الشرق للشرقیین۔ مگر سیاسی اقتدار کی بحالی کی یہ تحریک مکمل طور پر ناکام ہوگئی۔
اِس کے بعد ایک نیا دور شروع ہوا۔ اِس نئے دور میں یہ کوشش کی گئی کہ اسلام کی سیاسی تعبیر پیش کی جائے اور اِس طرح سیاسی جدوجہد کو مذہبی عقیدے کا مسئلہ بنا دیا جائے، تاکہ تمام دنیا کے مسلمان اِس سیاسی جدوجہد میں بھر پور طورپر شریک ہوسکیں۔ اِس نئے نظریاتی دور میں جن لوگوں نے کام کیا، اُن میں سید ابوالاعلیٰ مودودی کا نام غالباً سب سے زیادہ نمایاں نام کی حیثیت رکھتا ہے۔
سید ابوالاعلیٰ مودودی نے قرآن کی تفسیر (تفہیم القرآن) لکھی جس کو قرآن کی سیاسی تفسیر کہاجاسکتا ہے۔ قرآن کی اِسی قسم کی سیاسی تفسیر عرب دنیا میں سید قطب مصری (وفات: 1966 ) نے تیار کی جو ’’فی ظلال القرآن‘‘ کے نام سے چھپ چکی ہے۔ اِن لوگوں نے اپنی سیاسی تعبیر کے ذریعے دکھایا کہ— اسلام ایک مکمل نظام ہے۔ قانون اور سیاسی اقتدار اس کا لازمی حصہ ہے۔ مسلمانوں کی یہ ذمے داری ہے کہ وہ پولٹکل اقتدار حاصل کریں، تاکہ اسلام کو اس کے پورے سیاسی اور قانونی نظام کے اعتبار سے غالب اور نافذ کیا جاسکے۔
اِس سیاسی تعبیر کے دوبڑے نقصانات ہوئے۔ ایک، یہ کہ اسلام کی اصل تعلیمات کے نقطۂ نظر سے مسلمان کا اصل تعلق دوسری اقوام سے داعی اور مدعو کا تعلق ہے، لیکن اِس سیاسی تعبیر کے نتیجے میں یہ تعلق حریف اور رقیب کا تعلق بن گیا۔ دعوت کی روح مسلمانوں کے اندر عالمی سطح پر ختم ہوگئی۔
اِس سیاسی تعبیر کا دوسرا نتیجہ یہ ہوا کہ اسلام جو اصلاً اتباع (following) کا موضوع ہے، وہ نفاذ (enforcement) کا موضوع بن گیا۔ مسلم ملکوں میں دعوتی اور تعمیری کام پس پشت ہوکر رہ گئے، البتہ ہر جگہ نفاذِ اسلام کے نام پر مسلم حکمرانوں سے ٹکراؤ شروع ہوگیا۔ اب اِس کی آخری حد یہ ہے کہ اِس سیاسی نظریے نے تمام دنیا کے مسلمانوں کو متشدد (violent) بنا دیا ہے، اِس فرق کے ساتھ کہ کچھ لوگ فعّال تشدد (active violence) میں مبتلا ہیں، اور کچھ لوگ غیر فعال تشدد (passive violence) کا کیس بنے ہوئے ہیں۔ غیر فعال تشدد یہ ہے کہ تشدد پسندوں کو برا نہ سمجھا جائے۔ اُن پر خاموشی اختیار کی جائے، حتی کہ براہِ راست یا بالواسطہ طورپر اس کو جواز (justification) فراہم کیا جائے۔
اِس سیاسی تعبیر کا آخری نتیجہ جو سامنے آیا ہے، وہ خود کش بم باری (suicide bombing) ہے۔ خود کشی کا فعل اسلام میں بلا شبہہ حرام ہے، مگر ساری دنیا کے مسلمان اس کو ’’قربانی‘‘ کا درجہ دئے ہوئے ہیں۔ عرب علماء نے یہ کہہ کر اس کی حوصلہ افزائی کی ہے کہ یہ خود کشی نہیں ہے، بلکہ وہ استشہاد یعنی طلب شہادت (seeking martyrdom) ہے۔
اوپر کے تجزیے سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ وہ چیز جس کو ہم نے مغالطہ آمیز فلسفوں کا دور کہا ہے، اُس کو پیدا کرنے میں سیکولر اسکالر اور غیر سیکولر اسکالر دونوں کا حصہ ہے۔ سیکولرمفکرین نے یہ کیا کہ انھوںنے مغالطہ آمیز طورپر الحاد اور اباحیت کو جواز فراہم کردیا۔ دوسری طرف، مسلم مفکرین نے اسلام کی ایسی تعبیر کی جس کے نتیجے میں تشدد کا فعل مقدس جہاد کا فعل قرار پایا۔ اِنھیں افکار کا نتیجہ ہے کہ آج کی دنیا میں ایک طرف، اخلاقی زوال (immorality) اپنی آخری حد تک پہنچ گیا ہے اور دوسری طرف، تشدد اور بم کلچر بھی روز مرہ کی ایک چیز بن گیا ہے۔ سیکولر تحریکوں نے اگر دنیا سے انسانی قدروں (human values) کا خاتمہ کردیا ہے، تو اسلام کی سیاسی تعبیر پیش کرنے والوں نے بہ ظاہر یہ امکان ختم کردیا ہے کہ دنیا میں امن قائم ہو اور دعوت الی اللہ کا ضروری کام انجام دیا جاسکے۔
واپس اوپر جائیں

غیر حقیقت پسندانہ سوچ

ایک صاحب سے ملاقات ہوئی۔ وہ پیشے کے اعتبار سے انجینئر ہیں۔ اِسی کے ساتھ وہ مذہبیات کے مطالعے میں دل چسپی رکھتے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ میںنے قرآن کا ترجمہ پڑھا ہے۔ قرآن کے مطابق، یہ دنیا امتحان (test) کے لیے بنی ہے۔ اِس دنیا میں پیدا ہونے والا ہر عورت اور مرد امتحان کی حالت میں ہے۔ جولوگ اِس امتحان میں پورے اتریں، وہ جنت میں جائیں گے، اور جو لوگ اس میں پورے نہ اتریں اُن کو جہنم میں ڈال دیا جائے گا۔
انھوںنے کہا کہ یہ تو ناانصافی ہے۔ اِس لیے کہ اِس دنیامیں بہت سے پیدا ہونے والے ابھی بچپن کی عمر میں ہوتے ہیں اور کسی بیماری میںمبتلا ہو کر ان کا انتقال ہوجاتاہے۔ کچھ بچوں کو پیٹ ہی میں ختم کردیا جاتاہے۔ یہ تو انصاف کے خلاف ہے کہ کچھ لوگوں کو عمل کرکے جنت حاصل کرنے کا موقع دیا جائے اور کچھ لوگوں کو اِس موقع سے محروم کردیا جائے۔ میںنے کہا اِس معاملے کا تعلق خدا کے تخلیقی پلان سے نہیں ہے، بلکہ انسان کو دی ہوئی آزادی سے ہے۔ انسان اپنی آزادی کا غلط استعمال کرتا ہے۔ اِس بنا پر اِس قسم کے مسائل پیدا ہوئے ہیں۔ انھوں نے میری وضاحت کو نہیں مانا، وہ بدستور بحث کرتے رہے۔
پھر میں نے کہا کہ دیکھئے، آپ کا طریقہ غیر حقیقت پسندانہ طریقہ ہے۔ اور اِس دنیا میں غیرحقیقت پسندانہ طریقہ ہمیشہ آدمی کو ڈبل اسٹینڈرڈ والا آدمی بنا دیتا ہے۔ میںنے کہا کہ اِس ملک میں انجینئرنگ کے مواقع موجود تھے۔ آپ نے اِس موقع سے فائدہ اٹھایا اور اب آپ ایک اچھی پوسٹ کے مالک ہیں۔ آپ نے یہ نہیں سوچا کہ ملک میں ان گنت لوگ ایسے ہیں جن کے پاس نہ اچھی ڈگری ہے اور نہ اچھا جاب۔ اِس بحث میں پڑے بغیر آپ نے اپنے مستقبل کی تعمیر کی۔ یہی طریقہ آپ کو خدا کے تخلیقی پلان کی نسبت سے کرنا چاہیے۔ آپ کو یہ کرنا چاہیے کہ خدا کے دیے ہوئے مواقع کو استعمال کرکے اپنے آپ کو جنت کا مستحق بنائیں۔ آپ کا موجودہ طریقہ دہرا معیار کا طریقہ ہے، اور دہرا معیار اختیار کرنا کسی کے لیے بھی عذر (excuse) نہیں بن سکتا۔
واپس اوپر جائیں

قیامت کی ایک علامت

نئی دہلی کے وگیان بھون میں 21 نومبر 2009 کو ٹررازم کے موضوع پر ایک انٹرنیشنل کانفرنس ہوئی۔ انڈیا کے مشہور لیڈر مسٹر رام جیٹھ ملانی نے اِس موقع پر ایک تقریر کی۔ میڈیا رپورٹ کے مطابق، انھوںنے جہادی نظریے پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ جہادیوں کے عقیدے کے مطابق، شہید آدمی مرتے ہی جنت میں جگہ پائے گا، جہاں اس کو حوروں کی رفاقت ملے گی۔ انھوں نے خدا کے تصور کا مذاق اڑایا۔ انھوںنے کہا کہ خدا ان کی مدد کے قابل نہیں ہوگا، کیوں کہ اب بوڑھا ہو کر وہ الزمائر کی بیماری میں مبتلا ہوگا، یعنی شدید قسم کی ذہنی بیماری میں:
Ram Jethmalani criticized the jihadi doctrine, which allegedly propagates, in his words, the belief that martyrs would “get a place in heaven and the company of the opposite sex there.” He spokes fun at the idea of God. He said: “God will not help as he is suffering from Alzheimer’s disease”. (The Times of India, New Delhi, November 22, 2009, p. 9)
یہ واقعہ علامتی طورپر بتاتا ہے کہ آج کا انسان گم راہی کے کس درجہ تک پہنچ چکا ہے، وہ درجہ ہے— کھلے طور پر خدا کا استہزا کرنا۔ موجودہ زمانے کے جہادی لوگوں کا نظریہ بلا شبہہ ایک بے بنیاد نظریہ ہے، اُس کا خدا کے دین سے کوئی تعلق نہیں۔ لیکن مسٹر جیٹھ ملانی کی بات اس سے بھی زیادہ بے بنیاد ہے۔ یہ نعوذ باللہ، خدا کا مذاق اڑانا ہے۔
غالباً یہی وہ چیز ہے جس کو حدیث میں اس طرح بیان کیاگیا ہے کہ دجال کی پیشانی پر کفر لکھا ہوا ہوگا (الدّجّال مکتوب بین عینہ: ک، ف، ر۔ صحیح مسلم ، کتاب الفتن، باب ذکر الدجال)۔ پیشانی پر ’’کفر‘‘ کا لکھا ہوا ہونا ایک استعارہ ہے۔ اِس کا مطلب ہے— کھلے طور پر انکار اور استہزا کا رویہ اختیار کرنا۔ یہ خدا کے خلاف کھلی بغاوت ہے، اور جب خدا کے خلاف کھلی بغاوت ہونے لگے تو اس کے بعد لوگوں کو صرف قیامت کا انتظار کرنا چاہیے۔
واپس اوپر جائیں

ہٹلر ممّی

ریڈیو میں ایک پروگرام آتا ہے جو صرف عورتوں کے لیے ہوتا ہے۔ اِس میں عورتوں سے متعلق مختلف عنوانات دیے جاتے ہیں۔ اِسی پروگرام کے تحت، ایک دن ماں اور اس کے بچوں کے درمیان تعلقات کا موضوع زیر بحث تھا۔ کئی ماؤں نے اِس پہلو سے اپنے تجربات کو بیان کیا۔
ایک ماں نے کہا کہ میرے دو بچے ہیں۔ ایک بیٹا اور ایک بیٹی۔ میں ایک ورکنگ وومن (working woman)ہوں۔ مجھے اپنے جاب کے لیے روزانہ گھر سے باہر جانا پڑتا ہے۔ جب میں باہر جاتی ہوں تو اپنے بچوں سے سختی کے ساتھ یہ کہہ کر جاتی ہوں کہ دیکھو، یہ کرنا اور وہ نہ کرنا۔ پھر اس نے ہنستے ہوئے کہاکہ میری بیٹی کہتی ہے کہ— ممی، تم تو ہٹلر ممی ہو۔
یہ گفتگو ٹیلی فون پر ہورہی تھی۔ ریڈیو کی خاتون اناؤنسر نے کہا کہ اِس کا مطلب ہے کہ آپ اپنے بچوں کو آرڈر کرتی ہیں۔ مذکورہ خاتون نے فوراً کہا کہ نہیں نہیں، میں آرڈر نہیں کرتی۔مذکورہ خاتون نے اپنے بچوں کے بارے میں جو بات کہی، وہ بلا شبہہ آرڈر دینے والی بات تھی۔ اِس کی تصدیق خود اس کی اپنی بیٹی کے ریمارک سے ہوتی ہے۔ اِس کے باوجود، مذکورہ خاتون نے کہا کہ نہیں نہیں۔ یہی موجودہ زمانے میں تقریباً تمام عورتوں اور مردوں کا حال ہے۔ وہ ایک بات کہیں گے اور جب اُن سے مزید پوچھا جائے تو وہ فوراً لفظ بدل کر کہہ دیں گے کہ نہیں، میرا یہ مطلب نہیں۔ یہ بھی جھوٹ کی ایک قسم ہے۔ عام جھوٹ اگر کھلا ہوا جھوٹ ہوتا ہے تو یہ جھوٹ ایک چھپا ہوا جھوٹ (کذبِ خفی) ہے۔
اِس قسم کا جھوٹ کسی انسان کے لیے نہایت تباہ کن ہے۔ وہ آدمی کے اندر کم زور شخصیت (weak personality) پیدا کرتا ہے۔ جن لوگوں کے اندر کم زور شخصیت ہو، اُن کا ذہنی ارتقا نہیں ہوسکتا۔ ایسے لوگوں کے اندر جنّتی شخصیت کی تعمیر نہیں ہو سکتی۔ آخرت کی دنیا میں ایسے کم زور شخصیت والے لوگ، خدا کے پڑوس میں جگہ پانے سے محروم رہیں گے— کھلاہوا جھوٹ اگر حرام ہے، تو چھپا ہوا جھوٹ انسانی شخصیت کے لیے ہلاکت خیز ہے۔
واپس اوپر جائیں

غلطی کا اعتراف

غلطی ہر انسان کرتا ہے۔ اِسی کے ساتھ ہر انسان کو اپنے ضمیر کی سطح پر یہ احساس ہوجاتاہے کہ اُس نے غلطی کی ہے، لیکن ایسے لوگ بہت کم ہیں جو غلطی کرنے کے بعد اپنی غلطی کا کھلا اعتراف کریں۔ آدمی اپنے ضمیر کے سامنے مجرم بنا رہتا ہے، لیکن دوسرے لوگوں کے سامنے مجرم بننا اُس کو اتنا زیادہ مشکل معلوم ہوتاہے کہ لوگوں کے سامنے وہ یہ کہنے کی ہمت نہیں کرپاتا کہ میںنے غلطی کی۔
یہ ایک مہلک کم زوری ہے جو بیش تر عورتوں اور مردوں کے اندر پائی جاتی ہے۔ اِس کم زوری کا نقصان اتنا زیادہ ہے کہ اُس کو لفظوں میں بیان نہیں کیا جاسکتا۔ مزید یہ کہ غلطی آدمی کو ایک عظیم موقع فراہم کرتی ہے۔ لیکن بے اعترافی کے مزاج کی بنا پر لوگ اِس موقع کو استعمال کرنے سے محروم رہتے ہیں۔ وہ فرشتے کو اپنے دروازے سے لوٹا دیتے ہیں۔
غلطی کا اعتراف ایک عبادت ہے۔ جب آدمی کھلے طور پر اپنی غلطی کا اعتراف کرتاہے تو اس کے اندر عظیم مثبت قدریں (positive values) پیدا ہوتی ہیں— آدمی اپنے آپ کو ضمیر کے سامنے مجرم ہونے سے بچا لیتا ہے، وہ اپنے اندر تواضع (modesty) کی نفسیات پیدا کرتاہے، وہ اپنے ذہن کے بند دروازوں کو کھول دیتاہے، وہ اپنے اندر مضبوط شخصیت کی پرورش کرتاہے،وغیرہ۔
اعتراف نہ کرنے کی صورت میں اس کے اندر روحانی اور اخلاقی پسپائی کا عمل شروع ہوجاتاہے، جب کہ اعتراف کرنے کے بعد وہ اخلاقی اور روحانی اعتبار سے ترقی کی طرف سفر کرنے لگتا ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ اعتراف اتنا بڑاعمل ہے کہ اس کے بعدانسان کے لیے خیر کے تمام دروازے کھل جاتے ہیں۔ اِس کے برعکس، بے اعترافی اتنی بڑی برائی ہے کہ اس کے بعد انسان کے اوپر خیرکے تمام دروازے بند ہوجاتے ہیں— ظاہری اعتبار سے وہ ایک زندہ انسان معلوم ہوتا ہے، لیکن داخلی اعتبار سے وہ ایک مردہ، انسان بن چکا ہوتا ہے۔
واپس اوپر جائیں

معکوس تربیت

ایک مسلم تاجر کا واقعہ ہے۔ ان کی بیٹی نے اُن سے اپنی کسی ضرورت کے لیے پیسہ مانگا۔ مذکورہ مسلم تاجر نے اپنی بیٹی سے مزید کچھ نہیں پوچھا۔ انھوں نے فوراً اپنی جیب میں ہاتھ ڈالا، اُس وقت ان کی جیب میں جتنے نوٹ تھے، وہ سب نکال کر انھوں نے اپنی بیٹی کے ہاتھ میں رکھ دیا اور کہا کہ یہ لو، تم ہی لوگوں کے لیے تو کماتے ہیں۔
یہ کوئی استثنائی واقعہ نہیں۔ یہی سارے والدین کا حال ہے۔ والدین خود تو محنت کرتے ہیں، وہ مشقت کی کمائی کرتے ہیں، لیکن اپنی اولاد کے بارے میں ان کا ذہن یہ رہتاہے کہ ان کی اولاد کو کوئی تکلیف نہ ہو۔ وہ خود تکلیف اٹھاتے ہیں اور اپنی اولاد کو ہر قسم کی راحت اور سہولت فراہم کرتے ہیں، وہ ان کی ہر خواہش پوری کرنے کے لے تیار رہتے ہیں، خواہ اُنھیں اس کی جو بھی قیمت دینی پڑے۔
والدین کا یہ مزاج ان کی اولاد کی ترقی میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ والدین کا یہ مزاج اولاد کی معکوس تربیت کے ہم معنیٰ ہے۔ ان کی اولاد کو آخر کار جس دنیا میں داخل ہونا ہے، وہ حقائق کی دنیا ہے۔ وہاں کا اصول یہ ہے کہ— جتنا کرو، اتنا پاؤ۔
لیکن والدین گھر کے اندر اپنی اولاد کے اندر جو مزاج پیدا کرتے ہیں، وہ اِس کے بالکل برعکس ہوتا ہے۔ گھر کا ماحول کئے بغیر پانے کا ماحول ہوتا ہے، اور گھر کے باہر کا ماحول کرکے پانے کا ماحول۔
اِسی کا یہ نتیجہ ہے کہ آج کا ہر نوجوان، لڑکے اور لڑکیاں دونوں، منفی ذہن کا شکار ہورہے ہیں۔ اُنھیں دنیا کے ہر شخص سے شکایت ہوتی ہے۔ شعوری یا غیر شعوری طورپر ان کا مزاج یہ ہوتا ہے کہ میرے ماں اور باپ بہت اچھے تھے، بقیہ تمام لوگ نہایت برے ہیں۔
اِس صورت حال نے آج کی دنیا میں دو چیزوں کا خاتمہ کردیا ہے— محنت کے ساتھ اپنا کام کرنا، اور لوگوں کا خیر خواہ (well-wisher) بن کر اُن کے درمیان رہنا۔
واپس اوپر جائیں

بات بنانا

ایک باریش بزرگ ملاقات کے لیے آئے۔ انھوںنے کہا کہ میں بہت دن سے آپ کا ماہ نامہ الرسالہ پڑھتا تھا اور اس کو پسند کرتا تھا۔ آج دہلی آیا تو میری خواہش ہوئی کہ آپ سے ملاقات کروں۔ میںنے اُن سے پوچھا کہ آپ عرصے سے الرسالہ کا مطالعہ کررہے ہیں، تو یہ بتائیے کہ آپ نے الرسالہ کے مطالعے سے کیا پایا۔
وہ تعریفی کلمات بولتے رہے، لیکن وہ متعین طورپر یہ نہ بتاسکے کہ انھوںنے الرسالہ کے مطالعے سے کیا اخذ کیا ہے۔ میں نے اُن سے بار بار کہا کہ کہ آپ کوئی متعین مثال دیجئے، تاکہ میں سمجھ سکوں کہ آپ نے الرسالہ کو پڑھ کر اُس سے کیا اخذ کیا ہے، مگر اصرار کے باوجود وہ ایسی کوئی ایک بات بھی نہ بتا سکے۔ آخر میںانھوں نے اپنے بیگ سے اپنے مدرسے کا ایک چھپا ہوا اشتہار نکالا اور کہا کہ ہم یہ مدرسہ تعمیر کررہے ہیں او رچاہتے ہیں کہ اِس مدرسے کی تعمیر میںآپ بھی اپنا کچھ زرِ تعاون عطا کریں۔
یہ اندازِ گفتگو آج کل بہت زیادہ عام ہے۔ لوگوں کا حال یہ ہے کہ ان کے دل میں کچھ ہوگا، مگر اپنی زبان سے وہ کچھ اور بات بولیں گے۔ اِسی کو بات بنانا کہاجاتاہے۔ موجودہ زمانے میں یہ طریقہ اتنا زیادہ عام ہے کہ مشکل ہی سے اِس میں کوئی استثناء نظر آئے گا۔
بناوٹی انداز میں بات کہنے کا یہ کلچر بلا شبہہ اسلام کی اسپرٹ کے خلاف ہے۔ سچا مومن وہ ہے جو صاف گو ہو، جو باتوں کو اُسی طرح کہے جس طرح کہ وہ ہیں، جس کے سوچنے اور بولنے میں کوئی فرق نہ ہو۔ ایسے ہی لوگ سچے مومن ہیں۔ بناوٹی باتیں کرنا، تکلف کی بولی بولناہے، اور صحابہ کہتے ہیں کہ : نُہینا عن التکلف ( صحیح البخاری، کاب الاعتصام، باب ما یکرہ من کثرۃ السؤال) یعنی ہم کو تکلف کرنے سے منع کیاگیا ہے۔ تکلف کا انداز دراصل ایک قسم کی منافقت ہے، اورمنافقت کے لیے اسلام میں کوئی جگہ نہیں۔
واپس اوپر جائیں

اختلاف اور اتحاد

ہر ایک اتحاد چاہتاہے، لیکن عملاً اتحاد قائم نہیں ہوتا۔ اِس کا سبب کیا ہے۔ اِس کا سبب یہ ہے کہ اتحاد کو قائم کرنے کے لیے جو تدبیر اختیار کی جاتی ہے، وہ غیر فطری ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اتحاد کے نام پر بڑے بڑے جلسے ہوتے ہیں، لیکن عملاً اتحاد قائم نہیں ہوتا۔
اتحاد کے علم برداروں کی مشترک غلطی یہ ہے کہ وہ اختلاف کو مٹا کر اتحاد قائم کرنا چاہتے ہیں۔ ہر ایک یہ سمجھتا ہے کہ اختلاف (differences) کی موجودگی ہی اتحاد قائم نہ ہونے کا اصل سبب ہے۔ ہر ایک کی کوشش یہ ہے کہ اختلافات کو مٹا دیا جائے۔ اُن کا خیال ہے کہ حقیقی اتحاد اُسی وقت قائم ہوسکتاہے، جب کہ لوگوں کے درمیان آپس کے اختلافات کا خاتمہ کردیا جائے۔ مگر اِس قسم کا اتحاد اِس عالم امتحان میں کبھی واقعہ بننے والا نہیں۔
اصل یہ ہے کہ اختلاف (differences) خود فطرت کا ایک لازمی حصہ ہیں، اور جو چیز فطرت کا حصہ ہو، اس کو ختم کرنا کبھی ممکن نہیں ہوتا۔ حقیقت یہ ہے کہ اتحاد قائم کرنے کا ایک ہی ممکن طریقہ ہے، اور وہ ہے— اختلاف کو برداشت کرنا۔ اِس دنیا میں جب بھی اتحاد قائم ہوگا، وہ اختلاف کے باوجود متحد ہونے سے قائم ہوگا۔ اختلاف کو مٹا کر اتحاد قائم کرنا اس دنیا میں عملاً ممکن ہی نہیں۔
خالق نے انسان کو اِس طرح پیدا کیا ہے کہ ان کے درمیان ہمیشہ اختلاف پایا جائے۔ یہ اختلاف انسان کے لیے ایک عظیم رحمت ہے۔ اختلاف کی بنا پر دو شخصوں یا دو گروہ کے درمیان ڈائلاگ ہوتاہے، اور ڈائلاگ دونوں فریقوں کے لیے ذہنی ارتقا (intellectual development) کا ذریعہ بنتا ہے۔ اختلاف کی حیثیت ایک فکری چیلنج کی ہے۔
فکر ی چیلنج کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ بند ذہن کے دروازے کھلتے ہیں، انسان کے اندر چھپے ہوئے امکانات ظاہر ہوتے ہیں، جو چیز بالقوہ (potential) طورپر ذہن میں موجود تھی، وہ بالفعل (actual) وقوع میں آجاتی ہے۔
واپس اوپر جائیں

اسلام کے نام پر غیر اسلام

(Islamization of non-Islam)
مذہب کی تاریخ کایہ ایک عام ظاہرہ ہے کہ بعد کے زمانے میں مذہب کی اصل تعلیم گُم ہوجاتی ہے اور خود ساختہ چیزوں کو مذہب کا درجہ دے دیا جاتا ہے۔ مثلاً مسیحیت (Christianity) دو ہزار سال پہلے حضرت مسیح کی تعلیمات پر مشتمل تھی۔ آج مسیحیت ایک ایسے مذہب کا نام ہے جس کو مسیحی چرچ نے بعد کے زمانے میں بطو خود وضع کیا۔
ٹھیک یہی معاملہ خود مسلمانوں کے ساتھ بھی بعد کے زمانے میں پیش آیا۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے پیشگی طورپر مسلمانوں کو اِس خطرہ سے متنبہ کردیا تھا۔ مثلاً حدیث میں آیا ہے کہ: لتتبعن سنن من کان قبلکم (البخاری، کتاب الاعتصام، باب قول النبی لتتبعن) یعنی تم لوگ ضرور پچھلے مذہبی گروہوں کی پیروی کروگے۔ اِسی طرح آپ نے فرمایا:بدأ الإسلام غریباً وسیعود کما بدأ ( صحیح مسلم، کتاب الإیمان، باب بیان أن الإسلام بدأ غریباً) یعنی اسلام شروع ہوا تو وہ اجنبی تھا، اور بعد کو وہ پھر اجنبی ہوجائے گا۔
اِس کا یہ مطلب نہیں کہ اسلام بعد کے زمانے میں معدوم ہوجائے گا۔ یہ قانونِ فطرت کے خلاف ہے۔ چناں چہ ایسا نہ کسی اور مذہب کے ساتھ ہوا، اور نہ اسلام کے ساتھ ایسا ہوسکتاہے۔ اِس حدیث کا مطلب صرف یہ ہے کہ اسلام کا اصل متن (text) اگر چہ محفوظ رہے گا، لیکن مسلمان عملی طور پر غیر اسلام کو اپنا دین بنا لیں گے۔ ایک لفظ میں، اِس معاملے کو اسلامائزیشن آف اَن اسلام (Islamization of un-Islam) کہا جاسکتا ہے۔
پیغمبر اسلام ﷺنے اسلام کے ابتدائی تین اَدوار کے بارے میں فرمایا کہ مسلمان ان تین ادوار تک خیر پر قائم رہیں گے۔ حدیث میں آیا ہے کہ : خیر أمتی قرنی، ثمّ الذین یلونہم ثم الذین یلونہم (البخاری، کتاب المناقب، باب فضائل أصحاب النبی) یعنی سب سے بہتر مسلمان میرے دور کے مسلمان ہیں، پھر وہ لوگ جو اس کے بعد آئیں، پھر وہ لوگ جو اس کے بعد آئیں۔ اِن تین ادوار کو ’قُرون مشہود لہا بالخیر‘کہاجاتا ہے۔ وہ تین دور یہ ہیں— دورِ رسالت، دورِ صحابہ ، دورِ تابعین۔
تاریخ بتاتی ہے کہ مذکورہ تین دوروں تک مسلم نسلیں کم و بیش، اصل اسلام پر قائم رہیں۔ اس کے بعد اُن کے درمیان بگاڑ شروع ہوا۔ اِس بگاڑ کی فکری بنیاد عباسی خلافت کے زمانے میں پڑی۔ بعد کے زمانے میں جو فکری انحرافات مسلمانوں میں پیدا ہوئے، اُن سب کا آغاز عباسی دو ر میں ہوا۔ یہاں ہم ان انحرافات میں سے کچھ چیزوں کا تذکرہ نمائندہ مثالوں کے طورپر کرتے ہیں۔
دار الاسلام کا نظریہ
فقہاء کی اصطلاح میں دار الاسلام اُس علاقے کو کہا جاتاہے، جہاں مسلمانوں کا سیاسی اقتدار قائم ہو۔ اِس قسم کا واقعہ سب سے پہلے پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں پیش آیا۔ ہجرت کے بعد مدینہ میں اہلِ اسلام کی ایک شہری ریاست (city state) قائم ہوگئی۔ اس کے بعد جلد ہی پورے عرب میں مسلمانوں کا سیاسی اقتدار قائم ہوگیا۔ لیکن پیغمبر اسلام نے مدینہ کو یاعرب کودار الاسلام نہیں کہا۔ آپ کے بعد صحابہ اورتابعین نے بھی اِس علاقے کو دار الاسلام کا نام نہیں دیا۔ دارالاسلام کی یہ سیاسی اصطلاح پہلی بار عباسی دور کے علماء اور فقہاء نے اختیار کی۔
شرعی تعریف کے مطابق، دار الاسلام کی یہ اصطلاح بلا شبہہ ایک سیاسی بدعت تھی۔ جو چیز رسول اور اصحابِ رسول کے زمانے میں نہ ہو، اُس کو دین کے نام پر اختیار کرنا بدعت ہے۔ اور دار الاسلام کی اصطلاح وضع کرنے کے بارے میں ایسا ہی ہوا۔
یہ کوئی سادہ بات نہ تھی۔ جن علاقوں کو دارالاسلام کہاگیا، اُن کو اگر مسلمانوں کے زیر قبضہ علاقہ (Muslim occupied land) کہاجاتا تو وہ صرف ایک سیاسی مسئلہ ہوتا، نہ کہ اعتقادی مسئلہ۔ لیکن جب ایسے علاقے کو دارالاسلام کہا گیا تو اس کو اعتقادی تقدس کا درجہ مل گیا، ایک سیاسی معاملے کو اعتقادی درجہ دینے سے جو خرابیاں پیدا ہوتی ہیں، وہ سب خرابیاں مسلمانوں کے اندر پیدا ہوگئیں۔
مثال کے طورپر جب مسلمانوں کے زیر قبضہ علاقے کو اعتقادی حیثیت دیتے ہوئے اس کو دارالاسلام کہاگیا تو اس کے بعد فطری طور پر یہ فقہی مسئلہ بن گیا کہ جو علاقہ ایک بار دارالاسلام کی حیثیت اختیار کرلے، وہ حُکمی (legal) طورپر ہمیشہ کے لیے دار الاسلام ہے۔ ایسے کسی علاقے پر اگر بعد کو غیر مسلموں کا قبضہ ہوجائے تو مسلمانوں کا یہ فرض ہے کہ وہ قابض گروہ سے لڑ کر دوبارہ اُس کو دارالاسلام بنائیں۔ ایسا کرنا مسلمانوں کے لیے صرف ایک علمی مسئلہ نہیں ہے، بلکہ وہ اُن کے لیے ایک اعتقادی ذمے داری کی حیثیت رکھتا ہے۔
قدیم زمانے میں سیاسی طاقت (political might) کو سب کچھ سمجھا جاتا تھا۔ ایسے ماحول میں دارالاسلام کا مذکورہ نظریہ بظاہر ایک معقول (rational) نظریہ معلوم ہوتا تھا۔ لیکن موجود زمانہ سیاسی آئڈیالوجی (political ideology) کا زمانہ ہے۔
اِن زمانی تبدیلیوں کے نتیجے میں موجودہ دور میں دار الاسلام کا مذکورہ سیاسی نظریہ ایک غیر معقول (irrational) نظریہ بن چکا ہے۔
اِسی نظریے کے مطابق موجودہ زمانے میں سیاسی افکار کا ارتقا ہوا ہے، اور اِسی نظریے کے مطابق، اقوامِ متحدہ (UNO) کے عالمی منشور (Universal Declaration of Human Rights) پر دنیا بھر کی تمام قوموں نے دستخط کیے ہیں جس کے تحت ایک ملک کی دوسرے ملک پر حکم رانی ناقابلِ تسلیم قرار پاچکی ہے۔
موجودہ زمانے میں مختلف مسلم ملکوں میں جو جہادی گروپ سرگرم ہیں، وہ دارالاسلام کے اِسی قدیم فقہی مسئلے سے اپنا نظریہ اخذ کررہے ہیں۔ اُن کا مانناہے کہ مسلم ایمپائر کے زمانے میں جو علاقے مسلمانوں کے زیر اقتدار تھے، وہ اب بھی حُکماً (legally) دار الاسلام کی حیثیت رکھتے ہیں۔ مسلمانوں کی یہ دینی ذمے داری ہے کہ وہ جہاد کرکے اِن علاقوں پر دوبارہ مسلم اقتدار قائم کریں۔ 9 ستمبر 2001 کو نیویارک کے ورلڈ ٹریڈ سنٹر پر حملہ اور 26 نومبر 2008 کو بمبئی کے تاج محل ہوٹل پر کچھ انتہائی پسند مسلم تنظیموں کا حملہ اِسی فقہی طرزِ فکر کی عملی مثالیں ہیں۔
دار الحرب کا نظریہ
عباسی دور میں جو اسلامی فقہ بنی، اُس میں مسلم علاقوں کے علاوہ، دوسرے علاقوں کو دارلحرب کا درجہ دیاگیا۔ یہ بلاشبہہ ایک خود ساختہ نظریہ تھا۔ اس کا مطلب یہ تھا کہ مسلمان اِن علاقوں کے مقابلے میں اصولی طور پر، برسرِ جنگ (at war) کی حالت میں ہیں۔ اِس معاملے کو جدید اصطلاح کے مطابق، سرد جنگ (cold war) کہا جاسکتاہے۔
یہ بلاشبہہ ایک تخریبی نظریہ ہے۔ اِس نظریے نے مسلمانوں کے اندر وہ ذہن پیدا کیا جس کو ہم اور وہ (we and they) کا نظریہ کہا جاتاسکتا ہے۔ اِس کے بعد مسلمانوں کے لیے پوری دنیا، دوست اور دشمن (friends and enemies) کے دو مختلف گروہوں میں بٹ گئی۔ تمام مسلمان شعوری یا غیرشعوری طورپر اِس تقسیمی ذہن کا شکار ہوگئے۔ ان کو مسلمان ’’اپنے‘‘ نظر آئے، اور دوسری قوموں کے لوگ اُن کو ’’غیر‘‘ دکھائی دینے لگے۔
اِس طرح، دارالحرب اور اِس تصور کے تحت پیدا شدہ نظریات نے تمام مسلمانوں کو فکری طور پر غیر معتدل بنا دیا۔ وہ دوسری قوموں کے لیے اَن فرینڈلی (unfriendly) بن گئے، الا یہ کہ کسی ذاتی انٹرسٹ کے سبب سے بظاہر دوسروں کے ساتھ دوستانہ رویّے کا اظہار کیا جائے۔
دار الکفر کا نظریہ
عباسی دور کے علماء اور فقہاء نے جو نظریات بنائے، اُن میں سے ایک بے بنیاد نظریہ دار الکفر کا نظریہ تھا۔ وہ علاقے جہاں کے لوگ مذہبی اعتبار سے اسلام کے دائرے میں داخل نہیں ہوئے، ایسے علاقوں کو انھو ںنے دار الکفر کا نام دیا۔ یہ ایک سنگین قسم کی بدعت تھی۔ قرآن بار بار ایسے لوگوں کے لیے انسان کا لفظ استعمال کرتا ہے۔گویا کہ قرآنی اعتبار سے، ایسے علاقے دار الانسان تھے، نہ کہ دار الکفر، یہ بلا شبہہ ایک بھیانک قسم کا مبتدعانہ فعل تھا جس کا ارتکاب ہمارے علماء اور فقہاء نے کیا۔
اِس فقہی تسمیہ (nomenclature) کے سنگین نتائج برآمد ہوئے۔ اِس تسمیہ کی بنیاد پر بعد کے زمانے میں جو لٹریچر تیار ہوا اور مسجدوں اور مدرسوں میں جس قسم کی باتیں دہرائی جاتی رہیں، اُس کا فطری نتیجہ یہ ہوا کہ تمام دنیا کے مسلمان دوسری قوموں کو ’’کافر‘‘ سمجھنے لگے۔ کافر کے لفظی معنیٰ صرف منکر کے ہیں۔ لیکن اپنے استعمال کے اعتبار سے وہ ایک سخت قسم کا تحقیری لفظ (derogatory word) بن گیا۔ اِس کے فطری نتیجے کے طورپر یہ ہوا کہ مسلمانوں کے دل میں دوسری قوموں کے لیے خیر خواہی کا جذبہ ختم ہوگیا۔ وہ شعوری یا غیر شعوری طور اُن کو قابلِ نفرت سمجھنے لگے۔
دار الکفر کا یہ مبتدعانہ نظریہ اتنا پھیلا کہ تقریباً تمام کتابوں میں وہ کسی نہ کسی طرح شامل ہوگیا، وہ مسلمانوں کی سوچ کا ایک لازمی جز بن گیا۔اس کے نتیجے میں مسلمانوں کے اندر جو تفریقی مزاج (separatist tendency) پیدا ہوا، وہ بلاشبہہ ایک ہلاکت خیز مزاج تھا۔ وہ مسلمانوںکے لیے عالمی برادری کا معتدل حصہ بننے میں مانع ہوگیا۔ اِس بنا پر مسلمانوں کے لیے اِس دنیا میں صرف دو آپشن باقی رہا— یا تو وہ عالمی برادری سے کٹ کر اپنے آپ کو ایک محدود خول میں بند کرلیں، یا مفاد پرستانہ ذہن کے تحت وہ دنیا میں لوگوں کے ساتھ رہیں۔ اِسی دہری روش کا شرعی نام منافقت ہے۔
دار الکفر کا نظریہ سر تاسر ایک خود ساختہ نظریہ ہے۔ قرآن اور حدیث میں اِس نظریے کے حق میں کوئی بنیاد موجود نہیں۔ لیکن وہ مسلمانوں کے اندر اتنا زیادہ پھیلا کہ اب شاید کوئی ایک شخص بھی اِس نفسیات سے خالی نہیں۔ اِس کا سبب غالباً یہ ہے کہ مسلمانوں کو اِس نظریے کے ذریعے ایک فرضی یقین (false conviction) حاصل ہوتا ہے۔ تمام دوسرے لوگوں کو کافر قرار دے کر وہ بالواسطہ انداز میں اپنے لیے یہ یقین حاصل کرتے ہیں کہ دوسرے تمام لوگ بھٹکے ہوئے ہیں اور صرف ہم ہیں جو صحیح راستے پر قائم ہیں، دوسرے تمام لوگوں کے لیے جہنم ہے، اور ہمارے لیے ابدی جنت، وغیرہ۔
اِسی نظریے کا ایک بھیانک نقصان یہ ہے کہ بعد کے دور میں تقریباً تمام مسلمانوں کی سوچ مسلم رُخی سوچ (Muslim-oriented thinking) بن گئی۔ یہ کہنا بلا مبالغہ درست ہوگا کہ بعد کے زمانے میں مسلمانوں کے اندر انسان رُخی سوچ(man-oriented thinking) کا ارتقانہ ہوسکا، اور اِس فکری المیہ کی ذمے داری تمام تر دار الکفر کے اِسی فقہی نظریے پر ہے۔
موجودہ زمانہ ایک اعتبار سے تحریکوںکا زمانہ تھا۔ خاص طورپر پرنٹنگ پریس کا دو آنے کے بعد مسلمانوں کے اندر ہر جگہ ہزاروں کی تعداد میں تحریکیں اٹھیں، مگر یہ ایک حقیقت ہے کہ اِن میں سے کوئی بھی قابلِ ذکرتحریک انسان رخی تحریک نہ تھی۔ تمام کی تمام معلوم تحریکیں، مسلم رُخی تحریکیں تھیں۔ اِس صورتِ حال کا مزید نتیجہ یہ ہوا کہ مسلمان فکر ِ انسانی کے عالمی دھارے (mainstream) میں شامل نہ ہوسکے، وہ عالمی فکر کے اندر ایک محدود جزیرہ بن کر رہ گئے۔
بعد کے زمانے کے مسلم مفکرین نے جن غیر اسلامی نظریات کو اسلامائز کیا اور اُن کو مسلمانوں کے اندر پھیلایا، اُن میں سے ایک مہلک نظریہ وہ تھا جس کو خلافتِ ارضی کا نظریہ کہا جاتا ہے۔ مسلم مفکرین نے خود ساختہ طورپر اپنے لیے یہ ٹائٹل لے لیا کہ وہ خلیفۃ اللّٰہ فی الارض ہیں۔ اِس طرح، مسلمان گویا کہ زمین پر خدا کے نائب ہیں۔ اُن کی یہ ڈیوٹی ہے کہ وہ خدا کی طرف سے ملے ہوئے قانون کو خدا کی نیابت میں زمین پر نافذ کریں۔
خلافت کا یہ نظریہ کسی نہ کسی طورپر بعد کے زمانے کے مسلمانوں کی فکر پر چھاگیا۔ اِسی کی روشنی میں دوسری چیزوں کی توجیہہ وتشریح کی جانے لگی۔ مثلاً حدیث میں آیا ہے کہ بعد کے زمانے میں اسلام کا کلمہ ساری دنیا کے ہر گھر میں داخل ہوجائے گا۔ اِس حدیث کی تشریح مذکورہ نظریۂ خلافت کے تحت کی گئی اور اُس کا یہ مطلب بتایا گیا کہ آخری زمانے میںاسلام کی حکومت ساری دنیا میں قائم ہوجائے گی۔ یہ تشریح بلا شبہہ ایک غیر علمی تشریح ہے، وہ سر تاسر بے بنیاد ہے۔
مذکورہ حدیثِ رسول میں کلمۂ اسلام (word of Islam) کا لفظ ہے، نہ کہ حکومتِ اسلام (rule of Islam) کا لفظ۔ اِس سے واضح طورپر یہ ثابت ہوتا ہے کہ اِس حدیث میں جس واقعے کا ذکر ہے، اُس سے مراد اسلام کے کلمہ (word)، یا اُس کے پیغام کا ساری دنیا کے تمام گھروں میں پہنچ جانا ہے، نہ کہ مسلم اقتدار کا ساری دنیا میں قائم ہوجانا۔ حدیث کی مذکورہ تشریح، حدیث کا سیاسی کَرن (politicization) ہے، وہ حدیث کے اصل مفہوم کی وضاحت نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ حدیث میں جس واقعے کا ذکر ہے، وہ کمیونکشن کے ذریعے ہونے والا واقعہ ہے، نہ کہ فوج کشی کے ذریعے ہونے والا واقعہ ہے۔
اِس سیاسی طرزِ فکر کے بہت سے نقصانات ہیں۔ اُن میں سے ایک نقصان یہ ہے کہ مسلمانوں کے اندر روحانی اور تعمیری طرز فکر کا تقریباً کُلّی خاتمہ ہوگیا۔ داخلی اعتبار سے اُن کے اندر وہ طرزِ فکر موجود نہیں جس کو روحانی طرزِ فکر (spiritual thinking) کہاجاتا ہے۔ اور خارجی اعتبار سے وہ اُس طریقِ کار سے بے خبر ہیں جس کو موجودہ زمانے میں تعمیری طریقِ کار(constructive method) کا نام دیا جاتا ہے۔
مکمل اسلام کا نظریہ
موجودہ زمانے میں مسلمانوں کے اندر ایک لفظ بہت عام ہوگیا ہے، وہ یہ کہ اسلام ایک مکمل نظام ہے۔ عرب مسلمان اور غیر عرب مسلمان دونوں فخر کے ساتھ یہ لفظ بولتے ہیں۔ بظاہر یہ اسلام کی ایک خوب صورت تعریف معلوم ہوتی ہے، لیکن وہ اسلام کی ایک مبتدعانہ تشریح ہے، اور ہر مبتدعانہ تشریح کا نتیجہ بلاشبہہ ہلاکت ہوتا ہے۔ اِس تشریح کے بے اصل ہونے کا واضح ثبوت یہ ہے کہ قرآن اور حدیث میں کہیں بھی اسلام کے لیے یہ تعبیر اختیار نہیں کی گئی کہ اسلام ایک مکمل نظام ہے۔
مکمل اسلام کے اِس نظریے نے موجودہ زمانے کے مسلمانوں کے لیے صرف دو بُرے چوائس (evil choice)کا امکان باقی رکھا ہے— ایک برا چوائس یہ کہ وہ ’’مکمل اسلام‘‘ پر قائم ہونے کے لیے ساری دنیا سے مستقل طورپر لڑتے رہیں۔ کیوں کہ جب تک وہ ساری دنیا کو سیاسی اعتبار سے مغلوب نہ کرلیں، وہ اپنے مفروضہ مکمل اسلام پر قائم نہیں ہوسکتے۔ اُن کے لیے دوسر ابُرا چوائس یہ ہے کہ وہ فکری اعتبار سے تو اسلام کو مکمل نظام سمجھیں، لیکن مفاد پرستانہ ذہن کے تحت، وہ دوسرے نظاموں سے سمجھوتہ (compromise) کرلیں۔ کیوں کہ دوسرے نظاموں سے سمجھوتہ کیے بغیر اُن کے لیے اِس دنیا میں مادّی فوائد کا حصول ممکن نہیں۔
واپس اوپر جائیں

کاغذی تحریر

انڈیا 1947 میں آزاد ہوا۔ آزادی سے پہلے یہاں کے بڑے بڑے لیڈر یہ کہتے تھے کہ آزادی کے بعد انڈیا کی سرکاری زبان (official language) ہندی زبان ہوگی۔
آزادی کے بعد انڈیا کا دستور (constitution) بنایا گیا۔ اِس دستور کے بنانے میں انڈیا کے تمام بہترین دماغ شریک تھے۔ اِس تحریری دستور کے آرٹکل نمبر 343 میں یہ فیصلہ درج کیا گیا کہ مرکزی حکومت کی سرکاری زبان ہندی ہوگی، البتہ ضرورت کے طور پر 15 سال تک انگریزی زبان کا استعمال جاری رہے گا:
The official language of the union shall be Hindi in Devanagri script.....For a period of fifteen years from the commencement of this constitution, the English language shall continue to be used for all the offical purposes of the Union for which it was being used immediately before such commencement.
اس دستوری فیصلے پر اب 60 سال سے زیادہ مدت گزر چکی ہے، مگرحال یہ ہے کہ انڈیا میںانگریزی زبان پہلے سے بھی زیادہ غالب زبان بن چکی ہے اور ہندی زبان پہلے سے بھی زیادہ پیچھے چلی گئی ہے۔ اِس مثال سے اندازہ ہوتا ہے کہ کاغذی تحریریں زندگی کی تشکیل نہیں کرتیں۔ قوموں کی تاریخ حقیقی حالات کی بنیاد پر بنتی ہے، نہ کہ اُن الفاظ کی بنیاد پر جن کو کاغذ پر لکھ دیا گیا ہو۔
بد قسمتی سے موجودہ زمانے کے تمام لیڈر اِس حقیقت سے بے خبر رہے۔ ہر لیڈر کاغذی تحریر کے ذریعے قوم کی قسمت بنانے کی کوشش کرتا رہا۔ آخر میں معلوم ہوا کہ اِن کاغذی تحریروں کی حقیقت پانی کی سطح پر لکھی ہوئی تحریروں سے زیادہ نہ تھی۔
ایسی حالت میں ہندستانی لیڈروں اور پاکستانی لیڈروں کے لیے کرنے کا اصل کام یہ تھاکہ وہ لوگوں کے اندر شعوری بیداری لائیں، وہ لوگوں کے اندر نیشنل اسپرٹ پیدا کریں، وہ ریاست بنانے سے پہلے سماج بنانے کا کام کریں۔ یہ دراصل انسانی سماج ہے جو ریاست کی تشکیل کرتا ہے، نہ کہ کوئی کاغذی دستاویز۔
واپس اوپر جائیں

سائنس کی گواہی

انٹرنیٹ موجودہ زمانے میں معلومات کا عالمی خزانہ ہے۔ انٹرنیٹ کو الکٹرانک انسائکلوپیڈیا کہاجاسکتا ہے۔ اگرآپ انٹرنیٹ پر جائیں اور حسب ذیل الفاظ ٹائپ کریں — تھاٹ کنٹرولڈ وھیل چیئر(Thought-Controlled Wheel Chair) تو اسکرین پر معلومات کا ایک صفحہ کھل جائے گا۔ وہ بتائے گا کہ کسی خارجی آلہ کے بغیر دماغ کے ذریعے وھیل چیئر کو کنٹرول کیا جاسکتا ہے۔
وھیل چیئر پر بیٹھا ہوا ایک شخص اپنے ہاتھ کو استعمال کئے بغیر محض اپنے دماغ کے ذریعے وھیل چیئر کو اپنی مرضی کے مطابق، جس طرح چاہے چلا سکتا ہے۔ جاپان کی موٹر کمپنی (Toyota Motors) نے یکم جولائی 2009 کو لوگوں کے سامنے اِس ٹکنالوجی کا مظاہرہ کیا۔
یہ واقعہ بتاتا ہے کہ کس طرح خدا اپنی مرضی کے تحت پوری کائنات کو کنٹرول کررہا ہے۔ تھاٹ کنٹرولڈ وھیل چیئر کا کامیاب مظاہرہ تھاٹ کنٹرولڈ یونی ورس (thought-controlled universe) کا ایک عملی ثبوت ہے۔
مذکورہ سائنسی دریافت اِس حقیقت کو قابلِ فہم بنادیتی ہے کہ ایک برتر خدائی ذہن (divine mind) ساری کائنات کو مکمل طورپر اپنے قبضے میں لیے ہوئے ہے۔
Thought-Controlled Wheel Chair
Japan’s Toyota Motor said yesterday it had invented a way to allow a person to steer an electric wheelchair through simple thought, using a helmet-like device that measures their brain waves. They said that they have developed a way of steering a wheelchair by just detecting brain waves, without the person having to move a muscle or shout a command. Toyota’s system, developed in collaboration with researchers in Japan, is among the fastest in the world in analyzing brain waves, it said in a release on Monday. (The Times of India, New Delhi, July 1, 2009)
واپس اوپر جائیں

بریک اِن ہسٹری

گورنمنٹ سروس کے اصولوں میںسے ایک اصول وہ ہے جس کو بریک ان سروس (break-in-service) کہاجاتا ہے، یعنی شکستِ ملازمت۔ ایک آدمی گورنمنٹ سروس میں ہے اور دس سال یا بیس سال کے بعد وہ اچانک رخصت لیے بغیر دفتر میں حاضر نہ ہو تو اس کی سینئرٹی (seniority) ختم ہوجائے گی اور دوبارہ وہ اپنی ملازمت کی ابتدائی تاریخ میں پہنچ جائے گا۔ اسی معاملے کو بریک ان سروس کہا جاتاہے۔
اِسی قسم کا ایک اور معاملہ ہے جس کا تعلق صرف سروس سے نہیں ہے، بلکہ ہر انسان سے ہے۔ اس کو بریک اِن ہسٹری (break in history) کہاجاسکتاہے، یعنی شکستِ تاریخ۔اس کا مطلب یہ ہے کہ ایک شخص ایک کام شروع کرے، پھر کچھ دنوں کے بعد ا س کو چھوڑ دے اور کوئی دوسرا کام کرے۔ یہ اس کے لیے بریک ان ہسٹری کے ہم معنی ہوگا۔ اگر کوئی شخص بار بار اپنے کام کو چھوڑے تو اس کی زندگی میں بریک ان ہسٹری کا واقعہ بار بار پیش آئے گا۔ ایسے انسان کی کوئی تاریخ نہ بن سکے گی۔ لوگوں کی نظر میں اُس کی کوئی ایسی پہچان نہیں بنے گی جو اس کو دنیامیں کوئی بڑا مرتبہ دینے والی ہو۔
واقعات بتاتے ہیں کہ بریک اِن سروس کا معاملہ بہت کم کسی کے ساتھ پیش آتا ہے، لیکن بریک اِن ہسٹری کا معاملہ اتنا زیادہ عام ہے کہ بہت کم افراد اُس سے مستثنیٰ نظر آئیں گے۔ بہت سے لوگ جو فطری طور پر نہایت ذہین ہوتے ہیں، مگر بریک ان ہسٹری کی وجہ سے وہ کوئی بڑی ترقی حاصل نہیں کر پاتے۔ آدمی کو چاہیے کہ وہ کام شروع کرنے سے پہلے بہت زیادہ سوچے، بہت زیادہ دعاء کرے، لوگوں سے بہت زیادہ مشورہ کرے، وہ بہت زیادہ مطالعہ کرے، تاکہ وہ اپنے آپ کو ایک ایسے کام میں لگا سکے جس میں بریک اِن ہسٹری کی نوبت نہ آنے والی ہو۔ جب وہ کوئی کام شروع کردے تو وہ کامل صبر کے ساتھ اس کو جاری رکھے۔ صبر ہی واحد چیز ہے جو کسی آدمی کو بریک اِن ہسٹری کے تباہ کن انجام سے بچانے والی ہے۔
واپس اوپر جائیں

جھونک اسپرٹ

ایک مقام پر ایک بڑے ملی ادارے کی ضرورت تھی۔ ایک صاحب نے اِس ادارے کے لیے اپنی طرف سے وسیع رقبے والی ایک زمین وقف کردی، مگر کئی سال تک اِس زمین پر کوئی تعمیر نہ ہوسکی۔ پھر ایک شخص اٹھا۔ اس نے کہا کہ میں اِس کام کو کروں گا۔ اِس ملی ادارے کی تعمیر کے لیے میں اپنے آپ کو پوری طرح جھونک دوں گا:
I will ‘jhonk’ myself in this cuase.
اِس کے بعد مذکورہ شخص نے اپنے آپ کو پوری طرح تعمیر کے اِس کام میں لگا دیا۔وہ رات دن اُس کے لیے محنت کرتا رہا، یہاں تک کہ وہاں ایک شان دار بلڈنگ کھڑی ہوگئی، جہاں پہلے صرف خالی زمین دکھائی دیتی تھی، وہاں اب ایک پُررونق سنٹر قائم ہوگیا۔
ہر بڑے کام کے لیے اِسی قسم کی ’’جھونک اسپرٹ‘‘ درکار ہوتی ہے۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ اپنے آپ کو پوری طرح وقف کیے بغیر کوئی بڑا کام نہیں ہوسکتا۔ کسی بڑے کام کو انجام دینے کے لیے بہت سے تقاضے ہوتے ہیں۔ اِن مختلف تقاضوں کی کامل رعایت کے بغیر کوئی بڑا کام نہیں ہوسکتا۔ اور ان تقاضوں کو سمجھنا اور ان کی کامل رعایت کرنا اُسی شخص کے لیے ممکن ہے جو اپنے آپ کو پوری طرح اس کے لیے وقف کردے۔جھونک کی اِس اسپرٹ کو ڈیڈی کیشن (dedication) کی اسپرٹ یا قربانی (sacrifice) کی اسپرٹ کہہ سکتے ہیں۔ ڈیڈی کیشن اور قربانی سے کم درجے کا لگاؤ رکھنے والے لوگ کوئی چھوٹا کام تو کرسکتے ہیں، لیکن وہ کوئی بڑا کام انجام نہیں دے سکتے۔ ڈیڈی کیشن اور قربانی کے اعتبار سے جتنی کمی ہوگی، اتنی ہی کمی اصل کام کی انجام دہی میں واقع ہوجائے گی۔ جب بھی کسی شخص نے کوئی بڑا کام انجام دیا ہے تو اُس نے یہ بڑا کام اِسی جھونک اسپرٹ کے ساتھ انجام دیا ہے۔ جہاں جھونک اسپرٹ نہیں، وہاں کسی بڑے کام کا وجود بھی نہیں ہوسکتا— بڑا کام کرنا ہو تو اُسی کام کو اپنا سول کنسرن (sole concern) بنالیجئے۔ اور اگر آپ ایسا نہیں کرسکتے تو پھر بڑے کام کا نام مت لیجئے۔
واپس اوپر جائیں

ایک اچھی مثال

ایک بار دہلی کے ایک کالج کے استاد نے بتایا کہ دہلی میں طلبا کا ایک تقریری مقابلہ ہوا۔ اِس میں مختلف کالجوں کے منتخب طلبا اور طالبات نے شرکت کی۔ ہر طالب علم کو انگریزی زبان میں تقریر کرنا تھا۔ اِن تقریروں میں جج کو جو بنیادی چیز دیکھنا تھا، وہ طرز ادا یا طرزِ تقریر (delivery) تھا۔ ڈاکٹر مرچنٹ کی لڑکی کا طرزِ تقریر سب سے زیادہ کامیاب تھا، چناں چہ اُس کو پہلا انعام دیاگیا۔
اِس کامیابی کا راز کیا تھا، اِس کا جواب مجھے 26 اگست 2009 کو ملا۔ نئی دہلی کے سائی انٹرنیشنل سنٹر میں ایک پروگرام کے دوران میری ملاقات ڈاکٹر آر کے مرچنٹ سے ہوئی۔ وہ اعلیٰ تعلیم یافتہ ہیں اور دہلی میں رہتے ہیں۔ اُن سے ملاقات کے دوران رٹائرڈ جنرل چھبّر اور دوسرے کئی لوگ موجود تھے۔ ڈاکٹر مرچنٹ نے کہا کہ میرے گھر میں ٹی وی نہیں ہے، میں ریڈیو کے ذریعے خبریں سنتا ہوں۔ ان کی اِس بات میںمجھے اِس سوال کا جواب مل گیا کہ اُن کے بچے کیوںتعلیم میںاتنا زیادہ کامیاب ہیں۔
اِس سے پہلے میںایک بار ڈاکٹر مرچنٹ کے گھر گیا ہوں۔ وہاں میں نے دیکھا تھا کہ اُن کا گھر بہت سادہ ہے۔ ان کی دو لڑکیاں ہیں۔ دونوں خاموشی کے ساتھ لکھنے پڑھنے میں مشغول رہتی ہیں۔ڈاکٹر مرچنٹ کے پاس ذاتی کار ہے، لیکن ان کی لڑکیاں ہمیشہ بس کے ذریعے اسکول جاتی ہیں۔ ان کے گھر میں ’’ٹی وی کلچر‘‘ کا کوئی نشان مجھے نظر نہیں آیا— یہی سادہ اور با اصول زندگی ڈاکٹر مرچنٹ کے بچوں کی کامیابی کا اصل سبب ہے۔
آج کل ہر باپ اپنی اولاد کی شکایت کرتا ہے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ ہر باپ کو خود اپنی شکایت کرنا چاہیے۔ عام طورپر والدین یہ کرتے ہیں کہ وہ اپنے گھر کے ماحول کو سادہ نہیں بناتے۔ ان کی سب سے بڑی خواہش یہ رہتی ہے کہ وہ اپنے بچوں کے ہر شوق کو پورا کرسکیں۔ وہ اپنے بچوں کو ’’ٹی وی کلچر‘‘ کا عادی بنا دیتے ہیں۔ یہی وہ چیز ہے جو گھروں کے بگاڑ کااصل سبب ہے۔ اِس بگاڑ کی تمام تر ذمے داری والدین پر ہے، نہ کہ اولاد پر۔
واپس اوپر جائیں

چھوٹی بات پر انتہائی فیصلہ

کامیاب زندگی کا ایک راز یہ ہے کہ چھوٹی بات پر انتہائی فیصلہ نہ لیا جائے۔ اجتماعی زندگی میں چھوٹی شکایتیں ہمیشہ پیش آتی ہیں۔ دانش مند وہ ہے جو چھوٹی شکایتوں کو نظر انداز کرے، اور نادان آدمی وہ ہے جو چھوٹی شکایت پر مشتعل ہوجائے اور اس کی بنیاد پر انتہائی فیصلہ لینے لگے۔ اِسی نوعیت کا ایک مشہور واقعہ وہ ہے جو سنڈے ٹائمس، لندن کے حوالے سے نئی دہلی کے انگریزی اخبار ٹائمس آف انڈیا (17 اگست 2009 ) میں شائع ہوا ہے۔
لیبیا کے حکم راں معمّرالقذافی کے 33 سالہ بیٹے ہنی بال (Hannibal) جنیوا (سوئزر لینڈ) گئے۔ وہاں وہ ایک ہوٹل میں ٹھیرے۔ اُن کے ساتھ ان کی بیوی العین (Aline) بھی تھیں۔ ایک بار ایسا ہوا کہ ہوٹل کی ایک تونیسی ملازمہ مونا (Mona) کی کسی بات پر العین کو غصہ آگیا۔ العین نے اُس کو مارا اور دھمکی دی کہ میں تم کو ہوٹل کی کھڑکی سے باہر پھینک دوں گی۔
اِس واقعے کی خبر مقامی پولس کو ہوئی۔ پولس نے ہنی بال اور العین کو گرفتار کرلیا۔ اگرچہ جلد ہی ان کو رہا کردیا گیا، لیکن اِس واقعے کی خبر جب ہنی بال کے والد معمر القذافی کو پہنچیتو اس کو انھوں نے اپنی بے عزتی (humiliation) سمجھا، وہ سخت غضب ناک ہوگئے۔ انھوںنے سوئزر لینڈ کے خلاف کئی سخت اقدامات کئے— سوئزر لینڈ سے ہوائی سروس منقطع کرنا، سوئزر لینڈ کی کئی کمپنیوں کے لیبی دفتروں کو بند کردینا، وغیرہ۔ حتی کہ انھوں نے کہا:
If I had an atomic bomb, I would wipe switzerland off the map.
یہ واقعہ چھوٹی شکایت پر انتہائی اقدام کی ایک مثال ہے۔ اِس قسم کا اقدام ہمیشہ الٹا نتیجہ پیدا کرتا ہے۔ خواہ کوئی معمولی آدمی ہو یا کوئی بڑا آدمی، کوئی بھی اِس قسم کے انتہائی اقدام کے منفی نتائج سے بچ نہیں سکتا۔ جلد یا بدیر آدمی کو اپنی غلطی کا احساس ہوجاتا ہے، لیکن بعد کو اُس کی تلافی ممکن نہیں ہوتی۔ طلاق کے واقعے سے لے کر قومی جنگ تک، ہر معاملے میںاس کی مثالیں موجود ہیں۔
واپس اوپر جائیں

سوال وجواب

سوال
آپ نے اپنی تحریروں میں لکھا ہے کہ:’’حدیث کی کتابوں میں ابواب الفتن کے تحت بیان کردہ روایات میں پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے پیشگی طورپر فرمادیا تھا کہ تم اپنے حکمرانوں کے خلاف خروج (بغاوت) نہ کرنا۔ تم ہر حال میں صبر کے اصول پر قائم رہنا۔ تم کسی بھی عذر کو لے کر حکمرانوں سے لڑائی نہ کرنا، بلکہ اپنی بکری اور اونٹ میں مشغول ہوکر اپنے ضروری دینی فرائض کو ادا کرتے رہنا‘‘ (فکر اسلامی، صفحہ 153 ) لیکن بہت سی روایات میں آپ کے اس نقطہ نظر کے برعکس ہدایات ملتی ہیں۔ مثال کے طورپر صحیح ابن حبان میں ہمیں یہ حدیث پڑھنے کو ملتی ہے:
1۔ عن عبد اللہ بن خبّاب عن أبیہ قال کنّا قعوداً علی باب النبی صلی اللہ علیہ وسلم فخرج علینا، قال اسمعوا، قلنا قد سمعنا، قال اسمعوا، قلنا قد سمعنا، قال اسمعوا، قلنا قد سمعنا، قال إنّہ سیکونُ بعدی أمراء فلا تصدّقوہم بکذبہم و لا تعینوہم علی ظلمہم، فإنّہ مَن صَدَّقہم بکذبہم وأعانہم علی ظلمہم، لم یرد علیّ الحوض (صحیح ابن حِبّان ۔ حدیث نمبر 284، صفحہ 193 )
’’حضرت عبد اللہ بن خبا ب اپنے والد حضرت خباب سے روایت کرتے ہیں کہ انھوں نے کہاکہ ہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم وسلم کے دروازے پر بیٹھے ہوئے تھے کہ آپ ہمارے پاس آئے۔ آپ نے فرمایا سنو، ہم نے عرض کیا یقینا ہم نے سُنا۔ آپ نے فرمایا سنو، ہم نے کہا یقینا ہم نے سُنا۔ آپ نے فرمایا، سنو، ہم نے کہا یقینا ہم نے سنا۔ آپ نے فرمایا، بے شک میرے بعد حکمراں ہوں گے، تم ان کے جھوٹ کی تصدیق نہ کرنا اور نہ ہی ان کے ظلم کی اعانت کرنا، کیوں کہ جس نے ان کے جھوٹ کو سچ قرار دیا اور ان کے ظلم پر ان کی اعانت کی، وہ میرے پا س حوضِ کوثر پر نہیںآئے گا‘‘۔
اِس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ جب بھی کوئی جھوٹی باتوں کا فریب دینے والا اور ظلم کرنے والا حکمراں تمھارے اوپر مسلط ہوجائے تو اس کی کسی طرح کی بھی حمایت واعانت نہ کرو۔
2۔ قرآن میںآیا ہے کہ ایک مظلوم شخص کو اس بات کی اجازت ہے کہ وہ ظالم کے خلاف آوازِ حق بلند کرے اور اس دوران اگر مظلوم کی زبان سے کچھ ناشائستہ الفاظ نکل جائیں تو اللہ تعالیٰ اس کی پکڑ نہیں کرتا ،کیوں کہ وہ مظلوم کی مظلومیت کو جانتا ہے اور اس کی آہ وفغاں کو سنتا ہے، اس لئے وہ درگزر سے کام لیتا ہے اور وہ ظالم کے خلاف اس کی فریاد کو قبول کرتا ہے۔ ارشاد خداوندی ہے:
لا یحب اللہُ الجہرَ بالسّوء مِنَ القولِ الاّ من ظُلم، وکان اللہ سمیعًا علیمًا (النساء:148 ) یعنی اللہ بد گوئی کو پسندنہیں کرتا مگر یہ کہ کسی پر ظلم ہوا ہو، اور اللہ سننے والا، جاننے والا ہے۔
اسی طرح ایک اور حدیث میں ظالم بادشاہ کا ظلم روکنے کے لئے اس کے سامنے انصاف کی بات کہناافضل جہاد بتایا گیاہے: عن أبی سعید الخدری قال قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اَفضلُ الْجہادِ کلمۃ عدل عند سلطان جائر (أبو داؤد، کتاب الملاحم، باب الأمر والنہی؛ الترمذی، کتاب الفتن، باب أفضل الجہاد کلمۃ عدل؛ ابن ماجہ، کتاب الفتن، با ب الأمر بالمعروف)
’’حضرت ابو سعید خدری بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، سب سے افضل جہاد ظالم بادشاہ کے سامنے انصاف کی بات کہنا ہے‘‘۔
کچھ لوگ اِس حدیث کو دعوت الی اللہ کے معنی میں لیتے ہیں مگر حدیث کے سیاق اور الفاظ سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ صحیح نہیں ہے۔ کیوں کہ اگر ایساہوتا تو پھر متنِ حدیث میں کلمۂ عدل ( انصاف کی بات ) کے بجائے ’’کلمۂ حق‘‘ (حق کی بات) کا فقرہ ہوتا۔ نیز حدیث کا آخری فقرہ ’’سلطان جائر‘‘ (ظالم بادشاہ) بھی آیا ہے جو اس بات کو ثابت کرنے کے لئے کافی ہے کہ یہاں ’’کلمۂ عدل‘‘ سے مراد دعوت الی اللہ نہیں، بلکہ ایک ظالم حکمراں کو ظلم سے روکنا مراد ہے اور اس کے سامنے عدل اور انصاف کی بات کہنا ہے تاکہ وہ بھی اپنی رعایاسے عدل اور انصاف کا معاملہ کرے۔
اِس طرح ان واضح دلائل سے ثابت ہوتا ہے کہ ظلم اور بربریت کے خلاف علمِ بغاوت اٹھانا اور حق اور انصاف کی خاطر اٹھ کھڑا ہونا کوئی غیر شرعی مسئلہ نہیں ہے ، بلکہ ایساکرنا عین شریعتِ اسلامی کے مطابق معلوم ہوتاہے۔ لیکن اگر اس ظلم پر خاموشی اختیار کی جائے تو وہ ظلم کی حمایت اور اعانت تصور کی جائے گی۔ نیز ایک اور حدیث میں آیا ہے کہ جو شخص ظالم حکمراں کو تقویت دینے کے لئے اس کے ساتھ چلے، یہ جانتے ہوئے بھی کہ وہ ظالم ہے تو وہ اسلام سے باہر سمجھا جائے گا:
عن أوس بن شرحبیل أنہ سمع رسولَ اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یقول من مشی مع ظالم لیقوّیہ وہو یعلم أنہ ظالم فقد خرج من الاسلام۔ (رواہ البیہقی؛ مشکوۃ، باب الظلم، الفصل الثالث)
حضرت اوس بن شرحبیل سے روایت ہے کہ انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا، جو شخص کسی ظالم کو تقویت پہنچانے کے لیے اس کے ساتھ چلے اور وہ یہ جانتا ہو کہ وہ ایک ظالم ہے تو وہ شخص اسلام سے خارج ہوجاتا ہے۔
اِس ساری تفصیل کے بعد سوال یہ ہے کہ آ پ کی کتاب ’’فکر اسلامی‘‘ کے حوالے سے اوپر دئے گئے اقتباس اور مندرجہ بالا دوسری احادیث کے درمیان جو نمایاں اختلاف نظر آتا ہے، اُن کے درمیان کس طرح تطبیق دی جائے گی (غلام نبی کشافی، سری نگر، کشمیر)
جواب
اگر کوئی حکم راں آپ کو ظالم نظرآئے تو شرعی اعتبار سے، اس کے خلاف عمل کی دو صورتیں ہیں — خروج، اور نصیحت۔ خروج کا مطلب ہے مسلّح بغاوت، اور نصیحت کا مطلب ہے پُرامن خیر خواہی۔ میرے مطالعے کے مطابق، ظالم کے خلاف مسلح بغاوت حرام ہے۔ مگر جہاں تک خیر خواہانہ نصیحت کا معاملہ ہے، وہ عین جائز ہے، بشرطیکہ وہ مثبت نتیجہ پیدا کرنے والی ہو۔
ظالم حکم راں کے خلاف مسلح خروج اِس لیے حرام ہے کہ وہ ہمیشہ کاؤنٹر پروڈکٹیو (counter productive) ثابت ہوتا ہے، اور جو چیز الٹا نتیجہ پیدا کرے، وہ نہ عقل کے مطابق درست ہوسکتی ہے اور نہ دین کے مطابق۔ میں ذاتی طورپر مسلح بغاوت کے خلاف ہوں، مگر جہاں تک خیر خواہانہ نصیحت کی بات ہے، میں ہمیشہ اس پر عامل رہا ہوں۔ مثال کے طورپر ملاحظہ ہو راقم الحروف کی کتاب — ’’ہند-پاک ڈائری‘‘۔
اِس معاملے میں آپ نے جو حدیثیں نقل فرمائیں ہیں، اُن سے آپ کا دعویٰ ثابت نہیں ہوتا۔ اِن حدیثوں میں وہی بات کہی گئی ہے جس کا میں خو د ہمیشہ قائل رہا ہوں۔ قرآن اور حدیث سے آپ نے جو حوالے دئے ہیں، ان کی وضاحت نمبر وار ذیل میں درج کی جاتی ہے:
1۔ ابنِ حبان کی جو روایت آپ نے نقل کی ہے، اُس سے صرف یہ ثابت ہوتا ہے کہ کوئی حکم راںمبینہ طور پر ظالم ہو تو اہلِ ایمان کو یہ نہیں کرنا چاہیے کہ وہ اس کے جھوٹ کو سچ بتانے لگیں، بلکہ اُنھیں اس کے جھوٹ کو جھوٹ بتانا چاہیے۔ یہ واضح طورپر ایک پر امن اظہارِ خیال کا معاملہ ہے، نہ کہ متشددانہ ٹکراؤ کا معاملہ۔ اور اِس قسم کے پر امن اور خیر خواہانہ اظہارِ خیال سے کسی کو اختلاف نہیں ہوسکتا۔ ’’ظلم پر اعانت‘‘ کا مطلب صرف یہ ہے کہ اہلِ ایمان کسی مبینہ ظالم کا آلۂ کا رنہ بنیں، بلکہ وہ اُس سے الگ رہیں اور اس کے لیے اصلاح کی دعا کرتے رہیں۔
2۔ سورہ النساء کی جو آیت آپ نے نقل کی ہے، اس میںواضح طور پر ’’قول‘‘ کی بات کہی گئی ہے، نہ کہ کسی قسم کے عملی تصادم کی بات۔ اِس آیت سے جو کچھ معلوم ہوتا ہے، وہ یہ کہ ایک شخص اگر مظلوم ہے تو اس کو یہ حق ہے کہ وہ پر امن قول کے دائرے میں رہتے ہوئے ظالم کے خلاف بولے ۔ یہ عین وہی بات ہے جس کو میںبار بار لکھتا رہا ہوں۔
3۔ تیسرے نمبر پر آپ نے جو حدیث نقل کی ہے، وہ کسی مبینہ ظالم کے خلاف ’’کلمہ‘‘ یا قول کی اجازت دیتی ہے، نہ کہ عملی تصادم کی اجازت۔ ایک شخص اگر مبینہ طورپر ظالم ہو تو اہلِ ایمان کو بلا شبہہ یہ حق ہے کہ وہ اس کے خلاف امن اور انصاف اور خیرخواہی کی شرائط کے ساتھ اپنے جذبات کا اظہار کریں۔ اِس حدیث میں بھی واضح طورپر ’’کلمہ‘‘ کی اجازت ہے، نہ کہ ٹکراؤ اور جنگ کی اجازت۔
4۔ چوتھے نمبر پر آپ نے جو حدیث نقل کی ہے، وہ بھی واضح طورپر ’’مَشی‘‘کے بارے میں ہے، نہ کہ جنگ کے بارے میں، یعنی اگر کوئی شخص مبینہ طورپر ظالم ہو تو ظلم پر اس کا ساتھ دینا اہلِ ایمان کے لیے جائز نہیں۔ایسے مواقع پر اہلِ ایمان کو صرف یہ کرنا ے کہ وہ ظالم کے حق میں دعا کریں، وہ اس کوخیر خواہانہ انداز میں نصیحت کریں، وہ مکمل طورپر امن کے دائرے میں رہتے ہوئے اس کی اصلاح کی کوشش کریں۔
آپ نے لکھا ہے کہ ’’اگر ظلم پر خاموشی اختیار کی جائے تو وہ ظلم کی حمایت اور اعانت متصور کی جائے گی‘‘۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ خاموشی کا معاملہ نہیں ہے بلکہ حدیث کے مطابق، وہ استطاعت کا معاملہ ہے، یعنی اِس طرح کے معاملے میں دخل دینے کا اصول یہ ہے کہ اس کے نتیجہ (result) کو سامنے رکھا جائے۔ اگر دخل دینے سے نتیجہ برعکس نکلتاہو تو صرف دعا کی جائے گی۔ دعا کے سوا کوئی اور عملی اقدام نہیںکیا جائے گا۔ اِس معاملے کو آپ مشہور حدیث ’’من رأی منکم منکراً الخ‘‘ (صحیح مسلم، کتاب الإیمان، باب کون النہی عن المنکر من الإیمان)کے مطالعے سے بخوبی طورپر سمجھ سکتے ہیں۔
ماہ نامہ جامِ نور (نئی دہلی) کے سوال نامے کا جواب
کیاپارلیمنٹ کو تسلیم کرنا خدا کی حاکمیت کا انکار ہے
موجودہ زمانے میںکچھ لوگوں نے اسلام کی سیاسی تعبیر کرنے کی کوشش کی ہے۔ یہ سیاسی تعبیر بلاشبہہ ایک سیاسی بدعت تھی۔ اِس کے نتیجے میں بہت سے خود ساختہ مسائل پیدا ہوئے۔ مثلاً اِن لوگوں نے اپنی خود ساختہ تعبیر کی بنا پر یہ اعلان کیا کہ — پارلیمنٹ کو تسلیم کرنا خدا کی حاکمیت کا انکار ہے۔
یہ بات بلاشبہہ لغویت کی حد تک غلط ہے۔ اِس نظریے کا ماخذ خود سیاسی تعبیر کرنے والوں کا اپنا ذہن ہے، نہ کہ اسلام کی اپنی تعلیمات۔ اسلام کی وہی تعبیر درست تعبیر ہے جو قرآن اور سنت سے نہ ٹکراتی ہو، اور مذکورہ قسم کا تصور بلا شبہہ قرآن اور سنت سے ٹکراتا ہے۔یہاں میںاِس سلسلے میں تین مثالیں دوں گا۔
حضرت یوسف علیہ السلام کے زمانے میں قدیم مصر میں ایک مشرک بادشاہ حکومت کرتاتھا۔ یہ ایک شاہی خاندان (dynasty) تھا، جس کو ہکساس کنگڈم (Hyksos Kingdom) کہاجاتا تھا۔ پیغمبر یوسف نے اس کے اقتدار (sovereignty) کو تسلیم کیا اور اس کے تحت ایک سرکاری عہدہ قبول کرلیا۔ یہ مثال اہلِ اسلام کے لیے ایک رہنما مثال ہے، کیوں کہ اسلام میں تمام پیغمبروں کو رہنماکی حیثیت سے تسلیم کیا گیا ہے (الأنعام: 90)۔
دوسری مثال یہ ہے کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم جب مکہ میں تھے تو وہاں دار الندوہ کو قبائلی حاکمیت کی حیثیت حاصل تھی۔ آپ نے دار الندوہ کی اِس حیثیت کو عملاً تسلیم کیا۔ اِسی بنا پر آپ کو مکہ میں رہنے کا موقع ملا۔ اگر آپ دار الندوہ کی حاکمانہ حیثیت کا انکار کرتے تو آغازِ نبوت ہی میں مکہ سے آپ کا اخراج کردیا جاتا۔
اِسی طرح مکی دور میں صحابہ کی ایک جماعت نے پڑوسی ملک حبش (Abyssinia)کی طرف ہجرت کی۔ وہاں اُس وقت ایک مسیحی بادشاہ نجاشی (Negus)حکومت کرتا تھا۔ صحابہ کی اِس جماعت نے نجاشی کے اقتدار کو تسلیم کیا۔ اِس بنا پر صحابہ کی جماعت کو حبش میں قیام کرنے کا موقع ملا۔ صحابہ کی اِس جماعت نے حبش کا یہ سفر رسول اللہ صلی اللہ کے حکم سے کیا تھا۔ یہ زمانہ کلی ریاست (totalitarian state) کا زمانہ تھا۔ اُس زمانے میں اِس کے سوا کوئی دوسری صورت ممکن نہ تھی۔
جمہوری حکومتوں میں الیکشن کا بائیکاٹ
اسلام کی سیاسی تعبیر کرنے والے لوگ یہ کہتے ہیں کہ — جمہوری حکومتوں میں الیکشن کا بائیکاٹ کیا جائے۔ یہ بات بھی سر تاسر بے بنیاد ہے۔ اِن حضرات کی غلطی یہ ہے کہ وہ نہیں جانتے کہ جمہوریت کیا ہے، اس کے باوجود وہ اِس قسم کا خود ساختہ مسئلہ بیان کرتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ جمہوریت، اسلام کے عین موافق ہے۔ اس کا بائیکاٹ کرنا دیوانگی کے سوا اور کچھ نہیں۔
رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب ہجرت کرکے مدینہ پہنچے تو آپ نے ایک منشور (declaration) جاری کیا۔ اِس منشور میں رسول اللہﷺنے جو دفعات شامل کی تھیں، اُن میں سے ایک دفعہ یہ تھی: للیہود دینہم وللمسلمین دینہم۔ یہ عین وہی چیز تھی جس کو موجودہ زمانے میں جمہوری اصول کہاجاتاہے۔
جمہوریت، لادینیت کا نام نہیں ہے، بلکہ جمہوریت شرکتِ اقتدار (power-sharing) کا نام ہے۔ جمہوریت کا کوئی تعلق کسی مذہبی عقیدے سے نہیں ہے۔ جمہوریت کی تعریف اکثریتی حکومت (majority rule) کے الفاظ میں کی جاتی ہے۔ اِس کا مطلب یہ ہے کہ مشترک قومی دائرے میں آبادی کی اکثریت کے اعتبار سے فیصلے کیے جائیں، اِس طرح کہ اقلیت کے انسانی حقوق بھی پوری طرح محفوظ رہیں۔
اسلام کی سیاسی تعبیر کرنے والے لوگ یہ بھی کہتے ہیں کہ جمہوری حکومت چوں کہ لادینی حکومت ہوتی ہے، اِس لیے اہلِ اسلام کو اُس کے الیکشن کا بائیکاٹ کرنا چاہیے۔ اِس قسم کی بات نہ صرف دیوانگی ہے، بلکہ وہ مسلمانوں کو سیاسی اچھوت بنانے کے ہم معنی ہے۔ اِس قسم کی بات ہرگز اسلامی تعلیم کے مطابق نہیں۔ اسلام کی تعلیم یہ ہے کہ جہاںتک عقیدے کا معاملہ ہے، آپ کسی سے کوئی سمجھوتہ نہ کریں۔ لیکن جہاں تک سیاسی ڈھانچے کی بات ہے، اس میں مسلمانوں کو آخری حد تک سمجھوتہ کرنا چاہیے۔ کیوں کہ ایسے حالات میں سمجھوتہ نہ کرنا، سیاسی خود کشی کے ہم معنیٰ ہے۔ اور خود کشی کسی بھی اعتبار سے اسلام میں جائز نہیں۔
الیکشن کا بائیکاٹ اور پارلیمنٹ کی مخالفت
جو لوگ الیکشن کا بائیکاٹ کریں اور پارلیمنٹ کی مخالفت کی بات کریں، وہ ہر گز مسلمانوں کے خیر خواہ نہیں ہوسکتے۔ اُن کا کیس اسلام کا کیس نہیںہے، بلکہ بے بصیرتی کاکیس ہے۔ جو لوگ بے بصیرتی کے باوجود رہنمائی کے میدان میں قدم رکھیں، وہ صرف مسلمانوں کی تباہی کا باعث بنیں گے۔ ایسے لوگ ایک عرب شاعر کے اِس شعر کا مصداق ہیں:
إذا کان الغراب رئیس قوم سیہدیہم إلی دار البوار
یعنی جب کوّا کسی قوم کا سردار بن جائے تو یقینا وہ اُن کو لے جاکر تباہی کے گڑھے میں گرا دے گا۔
اب یہ سوال ہے کہ جمہوری حکومتوں میں مسلمان اپنی مذہبی زندگی اور سیاسی پوزیشن کو کسی طرح بہتر بناسکتے ہیں۔ اِس کا جواب یہ ہے کہ مسلمان، اسلام کے اُس اصول کو اپنائیں جس کو قرآن کی سورہ نمبر 94 میںاِس طرح بیان کیاگیا ہے: إنّ مع العسر یُسراً (الإنشراح: 6 ) یعنی مشکل کے ساتھ آسانی ہے۔
اِس کا مطلب یہ ہے کہ مسائل (problems)کے ساتھ ہمیشہ مواقع (opportunities) موجود رہتے ہیں۔ اِس لیے نہ صرف انڈیا میں، بلکہ ہر جگہ مسلمانوں کو یہی اصول اپنانا چاہیے، وہ یہ کہ — وہ مسائل کو نظر انداز کریں اورمواقع کو استعمال کریں:
Ignore the problems and avail the opportunities.
میںاپنے تجربے اور اپنے مطالعے کی بنیاد پر کہہ سکتاہوں کہ جو لوگ انڈیا کو مسائل کا ملک سمجھتے ہیں، وہ صرف اپنے خود ساختہ تصورات کو جانتے ہیں، اُن کو نہ انڈیا کی خبر ہے اور نہ حالاتِ زمانہ کی خبر۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ انڈیا میںمسلمانوں کے لیے ہر قسم کے مواقع کھلے طورپر موجود ہیں، بلکہ میں یہ کہوں گا کہ 57مسلم ملکوں سے بھی زیادہ۔ ضرورت صرف یہ ہے کہ مسلمان اِن مواقع کو جانیں اور اُن کو استعمال کریں۔
اِس پہلو کی تفصیل میں نے اپنی ایک کتاب میں کی ہے۔ اس کا نام ’’ہندستانی مسلمان‘‘ ہے۔ یہ کتاب انگریزی زبان میں بھی شائع ہوچکی ہے۔ اس کا نام یہ ہے:
Indian Muslims: A Positive Outlook
واپس اوپر جائیں

خبر نامہ اسلامی مرکز — 200

1 - جامعہ ہمدرد (نئی دہلی) کے کنونشن سنٹر میں 24 اکتوبر 2009 کی صبح کو ایک سیمنار ہوا۔ یہ سیمنار اسلامک فقہ اکیڈمی (نئی دہلی) کی طرف سے کیا گیا تھا۔ اِس کا موضوع یہ تھا:
ہندستانی مسلمانوں کی معاشی ترقی— امکانات اور مواقع
صدر اسلامی مرکز کو اس سیمنار میں مدعو کیاگیا تھا، مگر وہ کسی وجہ سے اِس میں شرکت نہ کرسکے۔ البتہ سی پی ایس کے کچھ افراد نے اِس سیمنار میں شرکت کی اور وہاں لوگوں کو دعوتی لٹریچر دیا۔
2 - نئی دہلی کے سائی انٹرنیشنل سنٹر (لودھی روڈ) میں 28 اکتوبر 2009 کو ایک پروگرام ہوا۔ اِس کا موضوع یہ تھا:
Basic Human Values in Islam
اس کی دعوت پر ڈاکٹر فریدہ خانم نے اس میں شرکت کی اور انگریزی زبان میں مذکورہ موضوع پر ایک تقریر کی۔ تقریر کے بعد سوال وجواب کا پروگرام ہوا۔ اِس موقع پر سی پی ایس کی جانب سے حاضرین کو مطالعے کے لیے دعوتی لٹریچر اور قرآن کا انگریزی ترجمہ دیا گیا۔
3 - الرسالہ مشن سے وابستہ حلقے اور افراد دنیا کے مختلف مقامات پر قرآن کا انگریزی ترجمہ اور دعوتی لٹریچر بڑے پیمانے پر لوگوں کو پہنچا رہے ہیں۔ اِس سلسلے میں اکتوبر 2009 میں مشن سے وابستہ کئی گروپ اسلامی مرکز (نئی دہلی) آئے اور اپنے کام کی روداد سنائی۔ اِن لوگوں کو ضروری ہدایات اور دعوہ مٹیریل برائے اشاعت دیاگیا۔ اِس موقع پر آئے ہوئے ساتھیوں نے مختلف مقامات پر دعوہ لائبریری کے قیام کے لیے مطبوعات الرسالہ (اردو، انگریزی) کے متعدد سیٹ خرید کر حاصل کئے۔ ان میں سے مختلف لوگوں نے ایک درجن سے زیادہ مکمل مطبوعات الرسالہ کا سیٹ بذریعہ ڈاک اپنے ساتھیوں کے لیے روانہ کیا۔
4 - یکم نومبر 2009 کو مز آمال حمیدی نے صدر اسلام مرکز کا تفصیلی انٹرویو ریکارڈ کیا۔ وہ فرانس کے ریسرچ اینڈ اسٹڈیز سنٹر (European Institute for Humanitarian) کے تحت صدر اسلامی مرکز کے کام پر تحقیق کررہی ہیں۔ اِس سلسلے میں وہ دو ماہ کے لیے دہلی آئی ہوئی تھیں۔ ان کے مقالے کا موضوع یہ ہے:
التجدید فی دراسۃ علم العقیدۃ عند وحید الدین خان: دراسۃ نقدیۃ
5 - نوئڈا کے ہندی نیوز چینل (CNEB)کے نمائندہ مسٹر رگھوویندر ڈویدی نے 3 نومبر 2009 کو صدر اسلامی مرکز کا ایک ویڈیو انٹرویو ریکارڈ کیا۔ انٹرویو کا موضوع — وندے ماترم تھا۔ سوالات کے دوران بتایا گیا کہ مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ اِشو اور نان اِشو میں فرق کریں۔ وہ تعلیم اور دعوت کو اپنا اشو بنائیں۔ اِسی میں ان کی ترقی کا راز چھپا ہوا ہے۔
6 - سی پی ایس کی طرف سے مسلسل طورپر متعدد مقامات پر دعوہ لٹریچر لوگوں تک پہنچایا جارہا ہے۔ مثلاً ہاسپٹل اور کلینک جیسے اجتماعی مقامات پر۔ اِس سلسلے میں 5 نومبر 2009 کو نئی دہلی کے مختلف کلینک اور ہاسپٹل مثلاً ساہی ہاسپٹل (جنگ پورہ) میں لیفلٹ اسٹینڈ رکھا گیا۔ لوگ یہاں سے دعوتی پمفلٹ اور بروشر حاصل کررہے ہیں۔
7 - اسٹار نیوز (نئی دہلی) کی ٹیم نے 6 نومبر 2009 کو صدر اسلامی مرکز کا ایک انٹرویو ریکارڈ کیا۔ یہ انٹرویو ’’وندے ما ترم‘‘ کے خلاف فتویٰ کے بارے میں تھا۔ جواب میں بتایا گیا کہ یہ فتویٰ نہیں ہے، بلکہ فتویٰ ایکٹوزم ہے اور فتویٰ ایکٹوزم اسلام میں نہیں۔ وندے ما ترم کو لے کر مسلمانوں کے اندر منفی ذہن بنانا، مسلمانوں کے خلاف دشمنی ہے، نہ کہ دوستی۔ مسلمانوں کا سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ وہ ایجوکیشن میں پچھڑ گئے ہیں۔ مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ وندے ماترم جیسی رسمی چیزوں کو نظر انداز کرتے ہوئے تعلیم میں آگے بڑھیں، کیوں کہ اچھے مسلم اسکول بہت کم ہیں۔ اچھی تعلیم کے لیے انھیں دوسرے بہتر اسکولوں میں جانا چاہیے۔
8 - شارجہ (عرب امارات) کے ایکسپو سنٹر میں 11-21 نومبر 2009 کے دوران ایک انٹرنیشنل بک فئر لگایا گیا۔ ادارہ گڈورڈ بکس (نئی دہلی) نے بھی اس میں اپنا بک اسٹال لگایا۔ اس موقع پر لوگوں نے ہمارے اسٹال سے کتابیں حاصل کیں۔ غیر مسلم حضرات کو یہاں سے بڑے پیمانے پر قرآن کا انگریزی ترجمہ دیا گیا۔
9 - نوئڈا کے ٹی وی چینل سی این ای بی (Complete News Entertainment Broadcast) کی ٹیم نے 17 نومبر 2009 کو صدر اسلامی مرکز کا ایک ویڈیو انٹرویو ریکارڈ کیا۔ انٹرویور مز مدھو (Madhu Prasad) تھیں۔ یہ انٹرویو اسلام کے بارے میں تھا۔ جوابات میںاسلام کی سادہ تعلیم کو بتایاگیا۔
10 - بمبئی کے ٹرائڈنٹ ہوٹل (ٹاٹا روڈ، نرمان پوائنٹ) میں 17 نومبر 2009 کو ایک پروگرام ہوا۔ یہ پروگرام بمبئی پر 26/11 کے حملے کی فرسٹ انیورسری کے طور پر کیاگیا۔ اِس کا انتظام حسب ذیل دواداروں نے کیا تھا:
Art of Living Foundation, New Delhi; Simon Wiesenthal Center, Los Angeles
اس کی دعوت پر صدر اسلامی مرکز نے دہلی سے سی پی ایس کے ایک ممبر مسٹر رجت ملہوترا کے ذریعے اپنا پیغام روانہ کیا، جو وہاں پڑھ کر سنایا گیا۔ یہاں انٹرنیشنل لیول کے اعلیٰ تعلیم یافتہ اور ٹاپ کے افراد موجود تھے۔ سی پی ایس دہلی، اور سی پی ایس بمبئی کے ممبران نے اِس موقع قرآن کا انگریزی ترجمہ اور اسلامی لٹریچر بڑے پیمانے پر لوگوں کو مطالعے کے لیے دیا۔
11 - نئی دہلی کے سائی انٹرنیشنل سنٹر (لودھی روڈ) میں 18 نومبر 2009 کو انٹروفیتھ (interfaith) کے موضوع پر ایک پروگرام ہوا۔ اِس پروگرام میں مقامی لوگوں کے علاوہ انڈیا کے مختلف مقامات کے انجینئرز نے شرکت کی۔ اس کی دعوت پر صدر اسلامی مرکز نے موضوع پر انگریزی زبان میںایک گھنٹہ تقریر کی۔ تقریر کے بعد سوال وجواب کا پروگرام ہوا۔ اس موقع پر سی پی ایس کی طرف سے حاضرین کو اسلامی لٹریچر اور قرآن کا انگریزی ترجمہ دیاگیا۔
12 - نئی دہلی کے بیورو کریسی (India’s Bureaucracy & Governance News Portal) کی طرف سے 19 نومبر 2009 کو انڈیا انٹرنیشنل سنٹر (نئی دہلی) کے مین آڈی ٹوریم میں اِس موضوع پر ایک پروگرام ہوا:
Global Warming & Disarmament
اِس پروگرام میں ٹاپ کے مذہبی اور سیاسی لوگ شریک تھے۔ مثلاً شنکر اچاریہ، ایمبسٹرس ، بیوروکریٹس ،وغیرہ۔ ہمارے ساتھیوں نے اس پروگرام میں شرکت کی اور حاضرین کو قرآن کا انگریزی ترجمہ اور اسلامی لٹریچر دیا۔
13 - دور درشن (نئی دہلی) کی ٹیم نے 19 نومبر2009 کو صدر اسلامی مرکز کا ایک ویڈیو انٹرویو ریکارڈ کیا۔ یہ انٹرویو قومی ایکتا کے بارے میں تھا۔ جوابات کے دوران بتایاگیا کہ ملک میں قومی ایکتا پیدا کرنے کے لئے سب سے بڑی ضرورت یہ ہے کہ ہمارے پاس ایکتا کا صحیح فارمولا ہو۔ عام طورپر اس کا فارمولا یہ بتایا جاتا ہے کہ انیکتا میں ایکتا کو دیکھنا، مگر یہ فارمولاناقابلِ عمل ہے۔ اس کے بجائے صحیح فارمولا ہے —انیکتا کے ساتھ ایڈجسٹ کرنا:
Art of difference management
14 - ہمارے یہاں سے چھپا ہوا قرآن کا انگریزی ترجمہ، ایشیا کے علاوہ اب یورپ اور امریکا میں بڑے پیمانے پر پھیل رہا ہے۔ یورپ اور امریکا اور کینڈا کے مختلف شہروٍں سے مسلسل طورپر اس کی ڈیمانڈ آرہی ہے:
May Allah reward you for all your good work. A brother here took copies of that small Quran (translated by Maulana Waheeduddin Khan) published by Goodword Books to the UN headquarters and it was well received. Now we need about 2000 copies for da‘wah. (Musaddiq, Toronto, Canada)
15 - موجودہ زمانے میں اشاعتِ افکار کا ایک طریقہ بک اسٹال کا طریقہ ہے۔ ہمارے ساتھی اِس طریقے کو مسلسل طورپر جگہ جگہ استعمال کررہے ہیں، ملک کے اندر بھی اور ملک کے باہر بھی۔ کتابوں کی نمائش میں، جلسوں میں اور کانفرنسوں میں اور دوسرے قسم کے اجتماعات میں ہمارے ساتھی بک اسٹال لگاتے ہیں جس میں ہمارے ادارے کی مطبوعات اور ماہ نامہ الرسالہ وغیرہ رکھاجاتاہے۔ ہر جگہ کی رپورٹ ہے کہ لوگ کثرت سے ان کو حاصل کررہے ہیں۔ بک اسٹال کا طریقہ بہت مفید ہے۔ ہمارے ساتھیوں کو چاہیے کہ وہ ہر اجتماعی موقع کو بک اسٹال کے لیے استعمال کریں۔
16 - نئی دہلی کا ادارہ (Comeback to Truth) صدر اسلامی مرکز کے انگریزی ترجمہ قرآن کو بڑے پیمانے پر غیر مسلموں کے درمیان پھیلانے کا کام کررہا ہے۔ ادارے کے فاؤنڈر مسٹر یاور اقبال الرسالہ کے دعوتی مشن سے کامل اتفاق رکھتے ہیں۔
واپس اوپر جائیں