Pages

Thursday, 2 September 2010

Al Risala | September 2010 (الرسالہ،ستمبر)

2

-اللہ کے منتخب بندے

3

- تقدیر انسانی

4

- شرک کیا ہے

6

- اخراجِ اوّل، اخراجِ ثانی

7

- شہادت علی الناس، متبادل ظام

8

- دعوت الی اللہ

9

- قتل ِ دجال

10

- نماز حقیقت کا اعتراف

11

- معرفت– مقصد ِانسانیت

23

- وحدتِ وجود

24

- مہمان داری کلچر

26

- نیک وبد کی تمیز

28

- موت کا تجربہ

29

- ایک باس درکار ہے

33

- امن اور انصاف

34

- ذہنی تفریح یا ایمانی غذا

35

- ٹنشن کے مسئلے کا حل

36

- عقل کی اہمیت

37

- صبر کی اہمیت

38

- ایک عمومی مسئلہ

39

- سوال وجواب

43

- خبرنامہ اسلامی مرکز

45

- القرآن مشن


اللہ کے منتخب بندے

تخلیقِ آدم کے وقت ابلیس نے جب آدم کے آگے جھکنے سے انکار کردیا، اُس وقت ابلیس نے جو کچھ کہا، اُن میں سے ایک یہ تھا: فبعزّتک لأغوینّہم أجمعین۔ إلا عبادک منہم المخلَصین (صٓ: 82-83 ) یعنی تیری عزت کی قسم، میں اُن سب کو گمراہ کرکے رہوںگا، بجز تیرے اُن بندوں کے جنھیں تو نے خالص کرلیاہے۔
’’مخلَص‘‘ کا لفظ قرآن میں 9 بار آیا ہے۔ یہ مخلص اور منتخب بندے کون ہیں۔ اِس سے مراد وہ انسان ہے جو اپنے شعور کو اتنازیادہ بیدار کرے کہ وہ ابلیس کی ہر تزئین کو گہرائی کے ساتھ سمجھ سکے۔ ابلیس جب بھی کوئی وسوسہ اس کے ذہن میں ڈالے تو وہ اپنے بیدار ذہن کی بنا پر فوراً ہی اس کا تجزیہ کرلے اور اِس بنا پر وہ ابلیس کے فتنے کا شکار ہونے سے بچ جائے۔
اِس معاملے کی ایک مثال سورہ یوسف میں مذکور ہے۔ اس کے مطابق، ایک مصری عورت نے جب حضرت یوسف کو بہکانا چاہا، تو انھوںنے یہ کہہ کہ اپنے آپ کو اس سے بچا لیا: معاذ اللہ، إنّہ ربّی أحسن مثوای (یوسف:23 )۔ کسی انسان کے اندر اس قسم کی شعوری بیداری لانے کا ذریعہ کیا ہے، وہ یہ ہے کہ آدمی قرآن وسنت کا مطالعہ کرے، وہ اپنا محاسبہ کرتا رہے، وہ قول وعمل سے پہلے اس کے بارے میں غور کرے، اور سب سے بڑھ کر یہ کہ وہ مسلسل طور پر اللہ سے دعا کرتا رہے، وہ اپنے معاملے کو اللہ کے حوالے کردے۔
جو شخص اِس طرح اپنی سوچ کو بیدار رکھے، وہ فرشتوں کا ہم نشیں بن جاتا ہے۔ اس کو خدا کا فیضان (inspiration) ملنے لگتا ہے، اس کے اندر مسلسل طورپر ذہنی ارتقا کا عمل جاری ہوجاتا ہے۔ اللہ کی توفیق سے وہ اتنا زیادہ باشعور ہوجاتا ہے کہ فرشتے کی آوازاور شیطان کی آواز کو ممیّز کرکے پہچان سکے۔ ایسا آدمی کبھی شیطان کی تزئین کا شکار نہیں ہوتا، اور اگر کبھی وقتی طورپر وہ اس سے متاثر ہوجائے تو بہت جلد وہ اس کو سمجھ لیتا ہے اور اِس طرح اپنے آپ کو اس کا شکار بننے سے بچا لیتا ہے۔
واپس اوپر جائیں

تقدیر انسانی

قرآن کی سو رہ نمبر 95 کا نام التین ہے۔ پوری سورت کا ترجمہ یہ ہے — گواہ ہے تین، اور گواہ ہے زیتون، اور گواہ ہے طورِ سینین، اور گواہ ہے بلدِ امین۔ ہم نے یقینا پیدا کیا انسان کو احسنِ تقویم پر۔ پھر ہم نے اُس کو ڈال دیا اسفل درجے میں، سوا اُن لوگوں کے جو ایمان لائے اور جنھوں نے عمل صالح کیا، اُن کے لیے ہے غیر منقطع اجر۔ پھر (اے انسان) کیا چیز تجھ کو تکذیب پر آمادہ کرتی ہے۔ کیا اللہ احکم الحاکمین نہیں۔
اِس سورہ میں تین، زیتون، اور بلد امین سے مراد مقاماتِ پیغمبر ہیں، یعنی وہ مقامات جہاں خدا کے پیغمبر آئے اور انسان کو اللہ کے تخلیقی پلان (creation plan of God) سے آگاہ کیا۔
اس کے بعد فرمایا کہ انسان کو بہترین ساخت پر پیدا کیا گیا ہے۔ انسان کو دوسرے تمام عطیات کے ساتھ یہ عطیہ دیاگیا کہ انسان کو عمل کی پوری آزادی دی گئی۔ اس کو یہ اختیار دیاگیا کہ وہ چاہے تو خدا کے تخلیقی پلان کے مطابق، صراطِ مستقیم پر چلے، اور چاہے تو اس سے انحراف کرے۔
آزادی کے نتیجے میں دو صورتیں پیدا ہوتی ہیں۔ ایک یہ کہ انسان اپنی آزادی کا غلط استعمال کرے اور وہ صراطِ مستقیم کو چھوڑ کر خود ساختہ راہوں پر چلنے لگے۔ اور اِس طرح وہ عملاً اسفل ترین درجے میں پہنچ جائے۔
دوسرے انسان وہ ہیں جو خدا کے بتائے ہوئے تخلیقی پلان پر یقین کریں جس کو ایمان کہا گیا ہے، اور اس کے مطابق، عملاً اپنی زندگی گزاریں جس کو عمل صالح کہاگیا ہے۔
اللہ کا احکم الحاکمین ہونا یہ تقاضا کرتاہے کہ دونوں کا یکساں انجام نہ ہو۔ اِس لیے آخرت کی دنیا میں ایک گر وہ کے حصے میں ابدی ناکامی آئے گی، اور دوسرے گروہ کے حصے میں ابدی کامیابی۔ ایسا معاملہ خدا کے اُس تخلیقی نقشہ کے مطابق ہوگا جس کا اعلان بار بار پیغمبروں کے ذریعے کیاگیا ہے۔
واپس اوپر جائیں

شرک کیا ہے

قرآن کی سورہ نمبر 2کی ایک آیت یہ ہے: ومن الناس مَن یتخذ مِن دون اللہ أنداداً یحبونہم کحبّ اللہ، والذین آمنوا أشد حباً للّٰہ، ولو یری الذین ظلموا إذ یرون العذاب أن القوۃ للہ جمیعاً، وأن اللہ شدید العقاب (البقرۃ: 165 ) یعنی کچھ لوگ ایسے ہیں جو اللہ کے سوا دوسروں کو اس کا برابر ٹھہراتے ہیں۔ وہ ان سے ایسی محبت رکھتے ہیں جیسی محبت اللہ سے رکھنا چاہئے۔ اور جو اہلِ ایمان ہیں، وہ سب سے زیادہ اللہ سے محبت رکھنے والے ہیں۔ اور اگر یہ ظالم اس وقت کو دیکھ لیں جب کہ وہ عذاب سے دوچار ہوںگے تو وہ سمجھ لیتے کہ زور سارا کا سارا اللہ کا ہے اور اللہ بڑا سخت عذاب دینے والا ہے۔
اِس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ کے ساتھ شرک کرنا کیا ہے، وہ یہ ہے کہ کسی کو اللہ کا نِدّ ٹھہرایا جائے۔ ند کے معنی مِثل (equal) کے ہیں۔ اللہ کے سوا، کسی اور کو اُس کا ند ٹھہرانا شرک ہے، خواہ وہ کلی معنی میں ہو یا جزئی معنی میں۔
اللہ کا ند ٹھہرانا کن پہلوؤں سے ہوتا ہے، مذکورہ آیت میںاِس کے دو پہلو بیان کئے گئے ہیں— محبت، اور قوت۔ قرآن کی ایک اور آیت کے مطابق، اِس کا تیسرا پہلو خشیت (التوبۃ:18 ) ہے۔ بنیادی طورپر یہی تین چیزیں ہیں جو شرک کی پہچان ہیں۔ مذکورہتینوں معاملے میں جس نے اللہ کے سوا کسی اور کو شریک کیا، اس نے شرک کا ارتکاب کیا۔ حتی کہ اگر کسی شخص نے خود اپنے آپ کو اِس قسم کا درجہ دیا تو اس کا کیس بھی شرک کا کیس بن جائے گا (الجاثیۃ:23 )۔
اِس بات کو دوسرے لفظوں میں اِس طرح کہا جاسکتا ہے کہ— توحید کا مطلب ہے ہر اعتبار سے، صرف ایک اللہ کو اپنا واحد کنسرن (sole concern) بنانا، اور شرک کا مطلب ہے — جزئی یا کلی طورپر کسی غیر اللہ کو اِس کنسرن میں شریک کرنا۔
جب کوئی شخص اللہ کو اِس حیثیت سے دریافت کرے کہ یہ اللہ ہے جس نے اس کو عدم سے وجود بخشا، جس نے اس کو اعلیٰ درجے کی شخصیت عطا فرمائی، جس نے اس کو زمین جیسے نادر سیارے پر آباد کیا، جس نے اُس کے لیے لائف سپورٹ سسٹم کا انتظام کیا، وغیرہ۔ اِس طرح کا احساس آدمی کے اندر اللہ کے ساتھ بے پناہ تعلق پیدا کرتا ہے، وہ اللہ کو اپنا سب کچھ سمجھنے لگتا ہے۔ یہی اللہ کے ساتھ شدید محبت کی بنیاد ہے۔
پھر جب وہ اللہ کی اِس حیثیت کو دریافت کرتا ہے کہ یہ تمام چیزیں اس کا یک طرفہ عطیہ ہیں، کسی بھی وقت اللہ اس کو چھین سکتا ہے۔ پھر یہ کہ ہر عطیہ کے ساتھ جواب دہی (accountability) جڑی ہوئی ہے۔ یہ احساس اس کو مزید اِس اندیشے میں مبتلا کردیتا ہے کہ اگر میںنے ان عطیاتِ الٰہی کا حق ادا نہ کیا تو اللہ کے یہاں میری سخت پکڑ ہوگی۔ یہ احساسات آدمی کے اندر وہ کیفیت پیدا کردیتے ہیں جس کو قرآن میں خوفِ شدید (التوبۃ:18 ) کہا گیا ہے۔
اِسی کے ساتھ آدمی یہ دریافت کرتا ہے کہ اِس دنیا میں سارا اختیار صرف ایک اللہ کو حاصل ہے، اللہ کے سوا کسی اور کو جزئی درجے میں بھی کوئی اختیار حاصل نہیں۔ اللہ ہی دینے والا اور اللہ ہی محروم کرنے والا ہے۔ یہ احساس اُس کو اپنے عجز ِ کامل کی یاد دلاتا ہے۔ وہ اِس کے سوا کوئی اور راستہ نہیں پاتا کہ وہ اللہ کے آگے اپنے آپ کو پوری طرح سرینڈر کردے۔
اِسی دریافت کا نام معرفت (realization) ہے۔ اِس دریافت سے جس کے اندر وہ شخصیت بنے جب کہ ایک اللہ ہی اس کے لیے سب کچھ بن جائے، وہ اُسی کی یاد میں جئے اور یہی سوچ اس کی غالب سوچ بن جائے، ایسا انسان شریعت کی اصطلاح میں مؤحد ہے۔ اِس کے برعکس، اللہ جس کا واحد کنسرن نہ ہو، بلکہ اس کے ساتھ وہ دوسری چیزوں کو بھی اپنا کنسرن بنائے ہوئے ہو، ایسا نسان شریعت کی اصطلاح میں شرک میں مبتلاہے۔ موحد کی شخصیت انٹگریٹیڈ پرسنالٹی (integrated personality) ہوتی ہے، اور مشرک کی شخصیت اسپلٹ پرسنالٹی(split personality) ۔
شریعت کے مطابق، اللہ انسان کی اصل غایت ہے، اور دوسری چیزیں صرف اس کی ضرورت۔ توحید اور شرک دونوں کا تعلق حقیقت سے ہے، نہ کہ صرف مظاہر سے۔
واپس اوپر جائیں

اخراجِ اوّل، اخراجِ ثانی

آدم پہلے انسان تھے۔ آدم کو پیدا کرنے کے بعد اللہ تعالیٰ نے اُن کو جنت میں بسایا۔ اللہ تعالیٰ نے اُن سے کہا کہ اے آدم، تم اور تمھاری بیوی اِس جنت میں رہو اور اس میں کھاؤ پیو، مگر تم اِس شجرِ ممنوعہ کے پاس مت جانا، ورنہ تم ظالم قرار پاؤگے (البقرۃ: 35)
اِس کا مطلب یہ ہے کہ انسان کو جنت میں آزادی حاصل تھی، مگر اِس کے ساتھ وہاں ایک پابندی بھی شامل تھی، یہ کہ وہ نفس کی ترغیب (temptation) کے تحت کوئی کام نہ کرے، بلکہ وہ خدا کے مقرر کردہ طریقے کے مطابق، با اصول زندگی گزارے۔
انسان اِس طریقے پر قائم نہ رہ سکا، اِس لیے ایک عرصے کے بعد اس کو جنت سے نکال دیاگیا۔ یہ انسان کی تاریخ کا پہلا اخراج (first expulsion) تھا۔
اِس کے بعدانسان کو موجودہ زمین پر بسایا گیا ۔ یہاں بھی انسان کے لیے وہی شرط تھی۔ چناں چہ آغاز ہی میں اللہ تعالیٰ نے یہ فرمادیا کہ میرے پیغمبر تمھارے پاس آئیںگے۔ تم اِن پیغمبروں کی پیروی کرنا۔ جو لوگ اِن پیغمبروں کی پیروی کریں گے، ان کو خدا کی رحمت حاصل ہوگی (البقرۃ:38 ) جو لوگ پیغمبروں کی پیروی نہ کریں، ان کو دوبارہ اِس زمین سے نکال دیا جائے گا، جو کہ مثلِ جنت ہے (البقرۃ:25 )۔ یہ انسان کے لیے دوسرا اخراج (second expulsion) ہوگا۔ یہ دوسرا اخراج قیامت کے وقت پیش آئے گا۔
موجودہ دنیا میں انسان آزمائش (test) کے لیے رکھا گیا ہے۔ خدا کے غیر مرئی (invisible) فرشتے ہر عورت اور ہر مرد کا ریکارڈ تیار کررہے ہیں، اِس بات کا ریکارڈ کہ کون شخص آزادی پانے کے باوجود پابند زندگی کے طریقے پر قائم رہا، اور وہ کون لوگ ہیں جنھوں نے اپنی آزادی کا غلط استعمال کیا، جو صراطِ مستقیم سے ہٹ کر منحرف راستوں پر چلنے لگے — قیامت کے بعد آنے والی اگلی دنیا میں ، پہلے گروہ کے لیے جنت ہے اور دوسرے گروہ کے لیے جہنم۔
واپس اوپر جائیں

شہادت علی الناس، متبادل نظام

قرآن میں دو جگہ یہ بات آئی ہے کہ اہلِ ایمان شہداء علی الناس (البقرۃ: 143 ، الحج: 78 ) ہیں۔ شہادت علی الناس سے مراد وہی چیز ہے جس کو قرآن میں دوسرے مقامات پر انذار وتبشیر کہاگیا ہے، یعنی اللہ کے تخلیقی پلان (creation plan of God) سے انسان کو باخبر کرنا، انسان کو معرفتِ رب سے آشنا کرنا، انسان کے اندر مواخذۂ آخرت کی فکر پیدا کرنا، انسان کے اندر اس احساسِ ذمے داری کو جگانا کہ وہ اِس دنیا میں اپنے آپ کو خدا کے سامنے جواب دہ سمجھے اور اس کے مطابق اپنی زندگی گزارے۔ شہادت علی الناس کی تحریک کامل طورپر ایک غیر سیاسی تحریک ہے۔ اس کا سیاست اور اقتدار سے کوئی تعلق نہیں۔
یہ تصور ایک بے بنیاد تصور ہے کہ اسلام ایک متبادل نظام (alternative order) ہے، اور دعوت اور شہادت کا مطلب یہ ہے کہ اسلام کو دنیا کے سامنے ایک متبادل نظام کے طورپر پیش کیا جائے۔ اِس فکر کی کوئی بنیاد قرآن اور حدیث میں موجود نہیں۔ یہ تمام تر مضاہاۃ (التوبۃ: 30 ) کا ایک معاملہ ہے، یعنی اسلام کو اغیار کی پسندیدہ اصطلاح میں بیان کرنا۔ موجودہ زمانے میں کچھ سیکولرمفکرین نے معاشی نظام اور سیاسی نظام کی اصطلاحوں میں کلام کرنا شروع کیا، اِس سے متاثر ہو کر مسلم رہنما بھی اِسی قسم کی بولی بولنے لگے۔ وہ اسلام کو ایسی اصطلاحوں میں بیان کرنے لگے جن کا اسلام سے کوئی تعلق نہ تھا۔
اسلام کوئی متبادل نظام نہیں۔ البتہ یہ کہنا درست ہوگا کہ اسلام ایک متبادل فکر یا متبادل آئیڈیالوجی (alternative ideology) ہے، یعنی وہ شرک کے مقابلے میں توحید کا نظریہ پیش کرتاہے، وہ الحاد کے مقابلے میں ایمان کا نظریہ پیش کرتا ہے، وہ آزادی کے مقابلے میں محاسبہ کا نظریہ پیش کرتا ہے، وہ خواہش پرستی کے مقابلے میں جواب دہی کا نظریہ پیش کرتا ہے، وہ ناشکری کے مقابلے میں شکر گزاری کا نظریہ پیش کرتا ہے، وہ خودرخی زندگی (Self-oriented life)کے مقابلے میں خدا رخی زندگی (God-oriented life) کا نظریہ پیش کرتا ہے۔
واپس اوپر جائیں

دعوت الی اللہ

سورہ الفرقان میں ارشاد ہوا ہے کہ اللہ نے اپنے پیغمبر پر قرآن نازل کیا، تاکہ وہ تمام عالم کے لیے نذیر بنے (24:1 )۔ واقعات بتاتے ہیں کہ عملاً ایسا نہیں ہوا کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم دنیا کے ہر فرد تک قرآن یا اس کا پیغام پہنچا دیں، پھر یہ ذمے داری کس طرح ادا ہوئی۔
اِس پر غور کرتے ہوئے ایک اہم حقیقت معلوم ہوتی ہے، وہ یہ کہ پیغمبر کے مخاطب اول وہ لوگ ہوتے ہیں جو کسی زمانے میں اَعیان یا خواص کا درجہ رکھتے ہوں۔ اعیان یا خواص تک اگر حق کا پیغام پہنچ جائے تو اس کے بعد یہ ان کی ذمے داری ہوتی ہے کہ وہ اِس پیغام کو عوام تک پہنچائیں۔پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے ہرقل کے نام اپنے دعوتی خط میں اِسی حقیقت کو اِن الفاظ میں بیان کیا تھا: فإن تولیتَ فإنّ علیکم إثم الأریسیّین(صحیح البخاری)۔
کچھ لوگ کہتے ہیں کہ دعوت کا کام سب سے پہلے گر اس روٹ لیول (grass root level) میں کیا جانا چاہیے، مگر یہ درست نہیں۔ دعوت الی اللہ میں گراس روٹ کادرجہ خواص کو حاصل ہے، گویا کہ دعوت کا اسلوب یہ ہے کہ خواص سے عوام تک پہنچا جائے ، نہ کہ عوام سے خواص تک۔
اسلامی دعوت اپنے نشانے کے اعتبار سے فکر ی انقلاب کے ہم معنی ہے۔ فکر کا سرچشمہ انسان کا دماغ ہے، خاص طور پر وہ لوگ جو ذہین ہوں اور تعلیم یافتہ ہوں۔ اسلامی انقلاب حقیقۃً یہ ہے کہ اولاً خواص میں فکری انقلاب لایا جائے۔ اس کے بعد عوام میں تبدیلی لائی جائے۔خواص میں فکری تبدیلی لائے بغیر، عوام میں فکری تبدیلی نہیں لائی جاسکتی۔ کیوںکہ عوام ہمیشہ خواص کے تابع ہوتے ہیں۔ اِس کے برعکس، خواص کبھی عوام کے تابع نہیں ہوتے۔ یہی وجہ ہے کہ جو لوگ صرف عوام کو اپنے دعوتی عمل کا نشانہ بناتے ہیں، وہ عملاًصرف ایک قسم کی بھیڑ اکھٹا کرپاتے ہیں۔ ان کی سرگرمیوں سے وہ ربانی شخصیات نہیں بنتیں جو اسلامی دعوت کا اصل مطلوب ہیں۔
بھیڑ جمع کرنے کا طریقہ کسی محدود سیاسی مقصد کو حاصل کرنے کے لیے کار آمد ہوسکتا ہے، لیکن وہ اسلامی دعوت کا مقصد حاصل کرنے کے لیے بالکل کار آمد نہیں۔
واپس اوپر جائیں

قتل ِ دجال

صحیح مسلم میں قتلِ دجال کے بارے میں دو روایتیں آئی ہیں۔ یہ دونوں روایتیں بظاہر ایک ہی حدیث کے دو حصے ہیں۔ تفصیلات سے قطعِ نظر، اِن روایتوں کا خلاصہ یہ ہے قیامت سے پہلے دجال ظاہر ہوگا۔ اس کو ایک شخص قتل کرے گا۔ اِس شخص کے لیے ایک روایت میں ’’امرئٌ من المؤمنین‘‘ کا لفظ آیا ہے، اور دوسر روایت میں ’’رجلٌ من المؤمنین‘‘ کا لفظ۔ امتِ محمدی کا یہ شخص قتلِ دجال کا جو کام انجام دے گا، اُس کے لیے ایک روایت میں یہ الفاظ آئے ہیں: ہٰذا أعظم الناس شہادۃً عند ربّ العالمین (کتاب الفتن وأشراط الساعۃ، باب ذکر الدجال) یعنی یہ رب العالمین کے نزدیک سب سے بڑی شہادت ہوگی۔
یہاں شہادت کا مطلب دعوت ہے۔ شہادت اعظم کا مطلب دعوت اعظم ہے، نہ کہ موتِ اعظم۔ جیسا کہ ایک روایت میں آیا ہے، یہ شہادت یا دعوت بذریعہ حجت انجام پائے گی۔ دجال کو قتل کرنے والے کے لیے مذکورہ روایت میں ’حجیج‘ کا لفظ آیا ہے، یعنی دلیل کے ذریعے غالب آنے والا۔ حدیث میں جس شہادتِ اعظم یا دعوتِ اعظم کا ذکر ہے، وہ کوئی سادہ بات نہیں۔ اس کام کی انجام دہی کے لیے اللہ کی خصوصی توفیق درکار ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ شہادتِ اعظم کا یہ کام ایک ایسا شخص انجام دے گا جس کو اللہ کی خصوصی توفیق سے بنیادی طورپر دو مددگار چیزیں حاصل ہوں گی — معرفتِ اعظم، اور نصرت اعظم۔
دجال یا دجالیت سے مراد دراصل ایک نظریاتی فتنہ ہے۔ اس کو جوابی نظریے ہی کے ذریعے ختم کیا جاسکتا ہے۔ گویا کہ مذکورہ رجل مومن، دجال کا جسمانی قتل (physical murder) نہیں کرے گا، بلکہ وہ اس کا نظریاتی قتل (ideological murder) کرے گا۔ دجال نظریاتی مغالطُوں پر کھڑا ہوگا، اور رجلِ مومن نظریاتی دلائل کے ذریعے اس کو بے اصل ثابت کرے گا۔ یہی وہ واقعہ ہے جس کو حدیث میں قتلِ دجال کے الفاظ سے تعبیر کیا گیا ہے۔
واپس اوپر جائیں

نماز حقیقت کا اعتراف

ایک صاحب نے کہا کہ آپ لوگ نماز اور عبادت کو فرض بتاتے ہیں اور اس کو اللہ کے حقوق میں شمار کرتے ہیں، مگر سوال یہ ہے کہ اللہ کو اس کی کیا ضرورت ہے کہ انسان اُس کی عبادت کرے۔
میں نے کہا کہ نماز دراصل حقیقت کا اعتراف ہے، وہ اللہ کی کسی ضرورت کی تکمیل نہیں۔ کسی انسان کو جب اللہ کی دریافت ہوتی ہے تو یہ اُس کے لیے ایک انوکھا تجربہ ہوتا ہے۔ وہ حقیقت کے اعتراف کے طورپر اپنے خالق کے آگے سجدے میں گرجاتا ہے۔ اِسی کی ایک منظم صورت کا نام صلاۃ یا نماز ہے۔
انسان ہر اعتبار سے اللہ کا عطیہ ہے۔ اس کا وجود اور زمین جیسا موافق سیارہ، سب کچھ اُس کو اللہ کے یک طرفہ عطیہ کے طورپر ملاہے۔ ایک باشعور انسان جب اِس حقیقت کو دریافت کرتا ہے تو بے اختیارانہ طورپر وہ چاہتا ہے کہ اللہ کے سامنے وہ اس کا اظہار کرے۔ یہی اظہار جب عملی صورت اختیار کرلیتاہے تو اِسی کا نام صلاۃ یا نماز ہے۔
نماز کوئی رسمی عمل (ritual)نہیں۔ نماز اپنی حقیقت کے اعتبار سے، مُنعم کے انعام کا اعتراف ہے۔ جو آدمی منعم کے انعام کا اعتراف نہ کرے، اس کو انعام کے استعمال کا حق بھی نہیں۔ یہی احساس آدمی کو مجبور کرتا ہے کہ وہ اللہ کی حمد کرے، وہ اللہ کے آگے جھکے، وہ اللہ کے آگے سجدہ کرے۔ اِنھیں اعمال کے مجموعے کا نام صلاۃ یا نماز ہے۔
ایک انسان کو جب اپنے منعم کی دریافت ہوتی ہے تو فطری طورپر وہ منعم کو اس کا رٹرن (return) دینا چاہتا ہے، لیکن اس کو محسوس ہوتا ہے کہ میرے پاس خالق کو دینے کے لیے کچھ بھی نہیں۔ اِسی احساسِ عجز کے کامل اظہار کا نام سجدہ ہے۔ نماز خود انسانی فطرت کی آواز کے طورپر ظاہر ہوتی ہے، وہ منعم کے مطالبے کا نتیجہ نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ انسان اپنے خالق کو اعتراف کے سوا کچھ اور نہیں دے سکتا، اور نماز بلاشبہہ اِسی اعتراف کی اعلیٰ ترین صورت ہے۔
واپس اوپر جائیں

معرفت — مقصد ِ انسانیت

علماء نے معرفت کو واجبِ اوّل بتایا ہے۔ زیادہ صحیح بات یہ ہے کہ معرفت مقصدِ انسانیت ہے۔ موت سے پہلے کی زندگی آغازِ معرفت کی زندگی ہے، اور موت کے بعد کی زندگی تکمیلِ معرفت کی زندگی۔ موجودہ دنیا میں ایک انسان ابتدائی دریافت کے درجے میں خدا کی معرفت حاصل کرتا ہے۔ آخرت کی دنیا میں وہ کامل دریافت کے درجے میں خدا کی معرفت حاصل کرے گا۔ حقیقت یہ ہے کہ معرفتِ خداوندی ایک فکری عمل (intellectual process) ہے۔ یہ فکری عمل موجودہ دنیا میں شروع ہوتا ہے اور پھر وہ ابدی طورپر آخرت کی دنیا میں جاری رہے گا۔
قرآن کی سورہ نمبر 51 میں بتایا گیا ہے کہ جن اور انس کو صرف اللہ کی عبادت کے لیے پیدا کیا گیا ہے (الذاریات: 56)۔ اِس آیت میں عبادت سے مراد معرفتِ الٰہی ہے۔ آیت کی یہ تفسیر عبداللہ بن عباس اور علی بن ابی طالب کے قول پر مبنی ہے۔یہی جن وانس کا مقصد تخلیق ہے۔ اِس مقصد کا تقاضا تھا کہ جن وانس کو وہ صلاحیت کمال درجے میں عطا کی جائے جس کے ذریعے وہ اعلیٰ درجے میں معرفتِ خداوندی کو حاصل کرسکیں۔ چناں چہ جن وانس کو ایک طرف وہ اعلیٰ دماغی صلاحیت دی گئی جو اِس عظیم مقصد کے لیے مطلوب تھی۔ اور اِسی کے ساتھ خارجی اعتبار سے، اُن کو وہ وسائل دئے گئے جو اِس مقصد کی تکمیل میں مدد گار بن سکیں۔
معرفت کے لفظی معنی ہیں — اِدراک (realisation) ، یعنی کسی چیز کو کامل درجے میں پہچاننا۔معرفت کو دوسرے لفظوں میں شعوری دریافت (intellectual discovery) کہہ سکتے ہیں۔ یہ دریافت کسی وقتی واقفیت کا نام نہیں ہے، یہ ایک لمبے سفر کا نام ہے۔ انسان کو جس خدا کی معرفت حاصل کرنا ہے، اس کی صفت قرآن میں یہ بتائی گئی ہے کہ اگر تمام درخت قلم بنا دئے جائیں اور تمام موجود سمندروں اور مزید سات سمندروں کو روشنائی (ink) بنا دیا جائے اور پھر خدا کے کلمات کو لکھنا شروع کیا جائے تو تمام سمندر ختم ہوجائیں گے، لیکن خدا کے کلمات ختم نہ ہوں گے (لقمان: 27 )۔ جس خدا کے کمالات اتنے زیادہ ہوں، اس کی دریافت ایک وقتی واقفیت نہیں ہوسکتی، یہ بلا شبہہ دریافت کا ایک لامتناہی سفر ہے جس کا آغاز تو متعین ہوسکتا ہے، لیکن اس کا اختتام متعین نہیں۔
خدا کی معرفت کا یہ مطلب نہیں کہ مراقبہ (meditation) کرکے تصور کی دنیا میں ذاتِ الٰہی کی جھلکیاں دیکھنے کی کوشش کی جائے۔ اِسی طرح وجد (ecstasy) بھی معرفت کے ہم معنیٰ نہیں۔ معرفت ایک اعلیٰ شعوری حالت ہے جو تخلیقاتِ الٰہیہ میں غور وفکر کے ذریعے حاصل ہوتی ہے۔ قرآن کے مطابق، معرفت کی تعریف (definition) یہ ہے کہ ایک بندہ، رب العالمین کو اُن عظمتوں کے ساتھ دریافت کرے کہ وہی اُس کے لیے اس کی ساری محبتوں کا مرکز بن جائے (البقرۃ:165 )، اور اس کی خشیت کے جذبات تمام تر اُسی کے ساتھ وابستہ ہو جائیں (التوبۃ:18 )۔
محبت اور خشیت دونوں ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں۔ ایک بندہ جب تدبر اور تفکر کے ذریعے خالقِ کائنات کو اس کی صفاتِ کمال کے ساتھ دریافت کرتا ہے تو اس کے دل میں بے پناہ حدتک اپنے رب کا اعتراف پیدا ہوجاتا ہے۔ اِسی کے ساتھ جب وہ اِس حقیقت کو دریافت کرتا ہے کہ دینے والا خدا ہے، اُس کے سوا کوئی اور دینے والا نہیں تو اس کے دل کی گہرائیوں میں یہ اندیشہ پیدا ہوجاتا ہے کہ اگر میں خدا کی رحمتوں سے محروم ہوجاؤں تو زمین وآسمان میں میرا کوئی ٹھکانا نہ ہوگا۔
اللہ تعالیٰ نے انسان کو احسنِ تقویم (التین:4 ) کے ساتھ پیدا کیا۔ اس کو وہ تمام دماغی صلاحیت عطا کردی جس کے ذریعے وہ رب العالمین کی معرفت حاصل کرسکے۔ دوسری طرف، خارجی دنیا (nature) کے اندر معرفت کے تمام اَجزا مخفی صورت میں رکھ دئے۔ اب انسان کا یہ کام ہے کہ وہ معرفت کے اِن چھپے ہوئے اجزا کو دریافت کرے اور اعلیٰ معرفت کا تجربہ کرکے اپنے اندر ربانی شخصیت (divine personality)بنائے۔
معرفت کا یہ عمل ایک مسلسل دریافت کا عمل تھا۔ اِس کے لیے ضرورت تھی کہ ایک پوری تہذیب (civilization) وجود میں آئے، جو معرفت کے چھپے ہوئے حقائق کو انسان کے لیے کھول دے۔ آج تہذیب کے نام سے ہم جس تاریخی واقعے کو جانتے ہیں، وہ اگرچہ مادّی تہذیب (material civilization) ہے، لیکن اپنی حقیقی نوعیت کے لحاظ سے یہ دراصل ربانی تہذیب (divine civilization) ہے۔ موجودہ تہذیب دراصل اُس واقعے کا ظہور ہے جس کو قرآن کی سورہ نمبر 41 میں اِن الفاظ میں بیان کیا گیاہے: سنریہم آیاتنا فی الآفاق وفی أنفسہم حتّی یتبیّن لہم أنہ الحق (حٰمٓ السجدۃ: 53 )
معرفت کا یہ سفر بہت پہلے جنات کی تخلیق سے شروع ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے کائنات بنائی اور اس کے انتظام (management) کے لیے فرشتوں کو پیدا کیا۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے اُس مخلوق کو پیدا کیا جس کو جن کہاجاتا ہے۔ جیسا کہ قرآن میں بتایا گیا ہے، جن کی تخلیق آگ سے ہوئی (الحجر: 27) جن کوآگ سے پیدا کرنے کا مطلب غالباً یہ ہے کہ جن کی سرگرمیوں کا دائرہ سیاروںکی دنیا سے لے کر ستاروں کی دنیا تک پھیلا ہواہے۔ اِس کے مقابلے میں، بعد کو انسان کی تخلیق مٹی سے ہوئی (الأعراف: 21)۔ اِس کا مطلب غالباً یہ ہے کہ انسان کی سرگرمیوں کا مرکزبنیادی طورپر سیارۂ زمین (planet earth)ہوگا۔
معرفتِ خداوندی کا حصول دراصل تخلیق میں چھپے ہوئے ربانی اسرار کی دریافت پر مبنی تھا۔ یہی دریافت وہ چیز ہے جو انسان کو خالق کائنات کا تعارف کراتی ہے۔ اِس سے بندہ اور خدا کے درمیان وہ اعلیٰ شعوری تعلق قائم ہوتا ہے جس کو معرفت کہاگیا ہے۔ دریافت کا یہی تاریخی عمل ہے جس کو ہم نے تہذیب (civilization) کا نام دیاہے۔
اِس تہذیبِ معرفت کو وجود میں لانے کا کام سب سے پہلے جن کے سپرد کیا گیا۔ مگر جیسا کی روایات میں آیا ہے، جن کے گروہوں نے آپس میں لڑائیاں کیں اور بہت زیادہ فساد برپا کیا۔ وہ تہذیبِ معرفت کا عمل شروع کرنے میں ناکام رہے۔ چناں چہ اللہ تعالیٰ نے ان کو معزول کردیا۔ اور ان کی جگہ انسان کو زمین پر بسایا گیا، تاکہ وہ تہذیبِ معرفت کو وجود میں لانے کا مطلوب عمل شروع کرسکیں۔
تہذیبِ معرفت کو عمل میں لانا مکمل طورپر علم و آگہی کا عمل ہے۔ وہ شعور کی سطح (intellectual level) پر انجام پاتا ہے۔ تمام سمندروں کو سیاہی بنانا اور تمام درختوں کو قلم بنانا، جس کا ذکر قرآن میں کیاگیا ہے، اس میں غالباً اِسی کی طرف اشارہ ہے۔ انسان سے یہ مطلوب تھا کہ وہ ’’مطالعہ اور کتابت‘‘ کے ذریعہ اِس عمل کو شروع کرے۔ پیغمبروں نے انسان کو اِس عمل کی طرف متوجہ کیا۔ اِس کا ذکر غالباً قرآن کی اُس آیت میں موجود ہے جس میں تعلیم بالقلم کو رب کی معرفت کا ذریعہ بتایا گیا ہے (القلم: 4)۔ مگر انسانیت کا قافلہ پیغمبروں کی ہدایت پر چلنے میں ناکام رہا۔
پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعے اللہ تعالیٰ نے ایک بڑی امت برپا کی۔ اِس امت کا اولین کام یہ تھا کہ وہ تہذیبِ معرفت کے اِس مطلوب عمل کو جاری کرے۔ امت کی طویل تاریخ بتاتی ہے کہ امتِ محمدی بہت جلد سیاسی اقتدار کے راستے پر چل پڑی۔ امت کے افراد نے مسلم ایمپائر قائم کیا، لیکن وہ ربانی تہذیب کا مطلوب ایمپائر قائم نہ کرسکے۔
عام طورپر یہ سمجھا جاتا ہے کہ مسلم صوفیا نے معرفت کے حصول کا یہ کام انجام دیا، لیکن یہ ایک غلط فہمی ہے۔ صوفیا نے جو کام کیا، وہ تصوف کا کام تھا، اورتصوف اور معرفت دونوں ایک دوسرے سے بالکل مختلف چیزیں ہیں۔ تصوف ایک مبنی بر قلب (heart-based) عمل ہے، جب کہ معرفت ایک مبنی بر ذہن (mind-based) عمل ہے۔ صوفیا کی یہ اجتہادی غلطی تھی کہ انھوںنے قلب کو معرفت کا خزانہ سمجھ لیا اور وہ قلب پر مفروضہ محنت کرتے رہے، جب کہ قلب صرف گردشِ خون کا مرکز ہے، نہ کہ معرفت کا مرکز۔
اِس اجتہادی غلطی کا نتیجہ یہ ہوا کہ صوفیا کا گروہ خدا کی شعوری معرفت کی دریافت سے محروم رہا۔ انھوں نے بطور خود جس وجد یا دیدارِ الٰہی کو دریافت کیا، وہ صرف ایک واہمہ تھا، نہ کہ حقیقی معنوں میں کوئی دریافت۔ بدقسمتی سے بعد کے زمانے کے اکثر مسلم علماء بھی اِسی صوفیانہ نظریے سے متاثر ہوگئے۔وہ بھی متصوفانہ اشغال کو معرفت کا ذریعہ سمجھتے رہے۔ اِس کا نتیجہ یہ ہوا کہ صوفیا اور علماء دونوں حقیقی معرفت سے بے خبر رہے۔ اِ س کا ثبوت یہ ہے کہ پوری مسلم تاریخ میں غالباً کوئی عالم یا صوفی معرفت کے موضوع پر کوئی قابلِ ذکر کتاب تیار نہ کرسکا۔ جن کتابوں کو لوگ معرفت کی کتاب سمجھتے ہیں، وہ حقیقۃً تصوف کی کتابیں ہیں، نہ کہ معرفت کی کتابیں۔
معرفت کے بنیادی اصول خدا کی کتاب میں دئے گئے تھے اور اس کے تائیدی شواہد (supporting evidences) فطرت(nature) میں رکھ دئے گئے تھے۔ اب یہ انسان کا کام تھا کہ وہ فطرت کے شواہد کو دریافت کرے اور اُس کو لوگوں کے لیے ایک معلوم واقعہ بنائے۔
مگر تاریخ بتاتی ہے کہ اہلِ ایمان (believers) اِس کام کو انجام نہ دے سکے۔ پیغمبروں کے معاملے میں یہ ہوا کہ اُن کے ساتھ کوئی مضبوط ٹیم نہ بن سکی جو اِس کام کو انجام دیتی۔ پیغمبر ِ آخر الزماں صلی اللہ علیہ وسلم کا مشن پھیلا اور ایک پوری امت آپ کے مشن سے وابستہ ہوگئی، لیکن یہاں بھی ایسا ہوا کہ امتِ محمدی بہت جلد سیاسی اقتدار میں مشغول ہوگئی۔ پہلے انھوں نے اپنا سیاسی ایمپائر بنایا اور جب یہ ایمپائر ٹوٹا تو وہ جہاد کے نام پر اُس کو دوبارہ حاصل کرنے میں لگ گئے۔ اِس طرح لمبی تاریخ گزر گئی اور اہلِ ایمان اِس ضروری کام کو انجام نہ دے سکے۔
آیاتِ معرفت کو کھولنے کے کام کے لیے اہلِ ایمان فرسٹ آپشن(first option) کی حیثیت رکھتے تھے۔ لیکن جب انھوں نے یہ کام مطلوب طورپر انجام نہیں دیا تو اس کے بعد غیر اہلِ ایمان (non-believers) کو سکنڈ آپشن (second option) کے طورپر منتخب کیا گیا۔ یہ سکنڈ آپشن مغربی قوموں کا تھا۔غالباً اِنھیں قوموں کو قرآن میں یاجوج اور ماجوج (الأنبیاء: 96) کہاگہا ہے۔ اِس معاملے میں غیر اہلِ ایمان کو بطور سکنڈ آپشن منتخب کرنے کا اشارہ غالباً صحیح البخاری کی ایک روایت میں ملتا ہے۔ اِس روایت کے الفاظ یہ ہیں: إنّ اللہ لیؤیّد ہذا الدین بالرجل الفاجر (صحیح البخاری، کتاب الجہاد والیسر، باب إن اللہ یؤیّد الدین بالرجل الفاجر) یعنی بے شک، اللہ اِس دین کی تائید فاجر انسان سے کرے گا۔
ربانی معرفت: ایک مطالعہ
ایک حدیثِ قدسی اِن الفاظ میں بیان ہوئی ہے: کنتُ کنزاً، فأحببتُ أن أُعرف، فخلقتُ خلقاً، فعرّفتہم بی، فعرفونی (میں ایک خزانہ تھا بغیر پہچانا ہوا، پھر میں نے چاہا کہ میں پہچانا جاؤں، پھر میں نے ایک مخلوق کو پیدا کیا، پھر اُن کو میں نے اپنی پہچان کرائی، تو انھوں نے مجھے پہچان لیا)۔
اِس روایت کو تقی الدین احمد بن تیمیہ (وفات: 728 ھ) اور اُن کے ہم فکر علماء نے ضعیف یا بے اصل بتایا ہے۔ لیکن کچھ دوسرے علماء کا کہناہے کہ اس کو معنی کے اعتبار سے بے اصل نہیں کہا جاسکتا۔ علی بن محمد نور الدین الملا القاری (وفات: 1014 ھ) نے لکھا ہے: معناہ صحیح مستفاد من قولہ تعالیٰ (وما خلقت الجنّ والإنس إلا لیعبدون) أی لیعرفونی، کما فسّرہ ابن عباس رضی اللہ عنہا( کشف الخفاء، 2/1011) یعنی اِس روایت کا مفہوم درست ہے، وہ اللہ تعالیٰ کے اِس قول سے مستفاد ہے کہ ’’میں نے پیدا کیا جن اور انس کو صرف اپنی عبادت کے لیے‘‘۔ یعنی وہ میری معرفت حاصل کریں، جیسا کہ عبد اللہ بن عباس نے اِس آیت کی تفسیر میں کہا ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ اللہ کی معرفت کسی انسان کی سب سے بڑی دریافت ہے۔ بلا شبہہ معرفت کا حصول ہی کسی انسان کا سب سے بڑا گول (goal) ہے۔ اِس کے سوا، کوئی بھی دوسری چیز اتنی بڑی نہیں کہ وہ انسان کا گول بن سکے۔ دوسری مطلوب چیزیں اِس معرفت کے تقاضے کے طورپر پیدا ہوتی ہیں۔ معرفت اصل ہے، اور بقیہ تمام چیزیں اِسی اصل کا نتیجہ۔
معرفت کا یہ سفرانسانِ اول کی پیدائش کے ساتھ شروع ہوا، اور وہ ابدتک مسلسل جاری رہے گا۔ اِس سفر کا آغاز ہے، لیکن اِس کی کوئی انتہا نہیں۔ آدم پہلے انسان بھی تھے اور پہلے پیغمبر بھی۔ آدم کو پیغمبر کا درجہ دے کر، اللہ تعالیٰ نے آدم کو معرفت کا علم بھی دے دیا۔ اِس کے بعد یہ علم نسل درنسل انسانیت کے درمیان جاری رہا۔
خدا کے تمام پیغمبر اِسی کام میں انسان کی رہنمائی کے لیے آئے۔ پیغمبر گویا کہ معرفت ِ الٰہی کے مستند گائڈ(authentic guide) کی حیثیت رکھتے تھے۔ لیکن تاریخ بتاتی ہے کہ قدیم زمانے میں ہزاروں سال تک پیغمبر آتے رہے، مگر بہت کم افراد ایسے تھے جو پیغمبر سے ہدایت لیں یا پیغمبر کا ساتھ دیں۔ لوگ نہ دکھائی دینے والے خدا (unseen god) کی معرفت حاصل نہیں کرپاتے تھے، اِس لیے وہ دکھائی دینے والے خدا (seen god) کو پوجتے رہے۔ انسان کی یہی کمزوری ہے جس نے قدیم زمانے میں فطرت پرستی (nature worship) کا کلچر پیدا کیا۔ یہ معرفت کا پہلا دور تھا جو حضرت آدم سے لے کر حضرت ابراہیم تک جاری رہا۔ اِس قدیم دور کی طرف اشارہ قرآن کی اِس آیت میں موجود ہے: ربّ إنّہنّ أضللن کثیراً (ابراہیم:36 )۔
دوسرا مرحلہ
معرفت کا دوسرا مرحلہ پیغمبر ابراہیم علیہ السلام (وفات:1985 ق م) سے شروع ہوتا ہے۔ وہ قدیم عراق کے شہر اُر (Ur) میں پیدا ہوئے۔ اللہ کی ہدایت کے مطابق، ان کے ذریعے ایک نیا منصوبہ شروع کیا گیا۔ وہ منصوبہ تھا، ایسی نسل تیار کرنا جو ماحول کی کنڈیشننگ سے پاک ہو۔ اِس مقصد کے لیے انھوں نے عرب کے صحرا میں اپنی بیوی ہاجرہ اور اپنے بیٹے اسماعیل کو بسایا۔ یہاں صحرائی ماحول میں تقریباً ڈھائی ہزار سال تک توالد وتناسل کا سلسلہ جاری رہا، یہاں تک کہ وہ نسل تیار ہوئی جس کو بنو اسماعیل کہاجاتا ہے۔ اِسی نسل میں پیغمبر اسلام محمد بن عبد اللہ بن عبدالمطلب 570 عیسوی میں پیدا ہوئے۔ اِس واقعے کا اشارہ قرآن میں اِن الفاظ میں آیا ہے: کنتم خیر أمۃ أخرجت للناس (آل عمران:110 )
ایک مستشرق پروفیسر ڈی ایس مارگولیتھ (وفات: 1940 ) نے اِس اسماعیلی نسل کو ہیروؤں کی نسل (a nation of heroes) کہاہے۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے بنو اسماعیل کے درمیان کام کرکے ان کو تیار کیا اور ان کے ذریعے ایک بڑی ٹیم بنائی۔ یہی وہ ٹیم ہے جس کو اصحابِ رسول کہاجاتا ہے۔ اِس ٹیم نے ساتویں صدی عیسوی میں اگلے دورِ معرفت کا آغاز کیا۔
تیسرا مرحلہ
اصحابِ رسول نے غیر معمولی قربانیوں کے ذریعے تاریخ میں ایک نیا انقلاب برپا کیا۔ اِس انقلاب کو ایک لفظ میں، دورِ شرک کا خاتمہ اور دورِ توحید کا آغاز کہاجاسکتا ہے۔ انھوں نے نہ صرف عرب میں، بلکہ عرب کے باہر دنیا کے دو بڑے ایمپائر، ساسانی ایمپائر اور بازنطینی ایمپائر کا خاتمہ کیا جو انسانی فکر کی ترقی میں رکاوٹ بنے ہوئے تھے۔ انھوںنے فطرت (nature) کو معبودیت کے مقام سے ہٹایا اور اکتشافِ فطرت کا دروازہ کھولا، جس کے نتیجے میں آخر کار جدید سائنسی دور ظہور میں آیا۔
اصحابِ رسول کا دوسرا بڑا کارنامہ یہ ہے کہ انھوں نے وحیِ الٰہی (قرآن) کو ایک محفوظ کلام کی حیثیت دے دی جو کہ اِس سے پہلے کبھی کسی آسمانی کتاب کے ساتھ نہیں ہوا تھا۔ امتِ محمدی کا یہ ایک اہم کارنامہ ہے کہ اس نے ایک ہزار سال تک قرآن کو مستند ترین اندازمیں محفوظ رکھا اور اس کو انیسویں صدی عیسوی تک پہنچا دیا۔ انیسویں صدی میں پرنٹنگ پریس ایجاد ہوگیا اور یہ ممکن ہوگیا کہ قرآن کے نسخے کامل صحت کے ساتھ بڑی تعداد میں چھاپ کر ساری دنیا میں پھیلا دئے جائیں۔ اب اشاعتِ قرآن کا یہ کام اتنے بڑے پیمانے پر ہوچکا ہے کہ اُس میں اب نہ ضیاع کا اندیشہ ہے اور نہ کسی قسم کی تبدیلی کا اندیشہ۔
چوتھا مرحلہ
تہذیبِ معرفت کا چوتھا مرحلہ دراصل تیسرے مرحلے میں پیش آنے والے انقلابی پراسس کی تکمیل (culmination) ہے۔ یہ تکمیل مغربی قوموں کے ذریعے انجام پائی، جن کو قرآن میں یاجوج اور ماجوج (الأنبیاء:96 ) کہاگیا ہے۔ سفرِ معرفت کے تیسرے مرحلے کے ہیرو اہلِ ایمان (believers) تھے۔ معرفت کے چوتھے مرحلے کو انجام دینے کا کام غیر اہلِ ایمان (non-believers) سے لیاگیا۔ اِس واقعے کی طرف اشارہ ایک حدیثِ رسول میں موجود ہے۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا: إنّ اللہ لیؤید ہذا الدین بالرجل الفاجر (صحیح البخاری، کتاب الجہاد والسیر، باب إنّ اللہ یؤید الدین بالرجل الفاجر)
اِس حدیثِ رسول میں ’’فاجر‘‘ سے مراد غیر اہلِ ایمان (non-believers) ہیں۔ غالباً یہی غیر اہلِ ایمان تھے جن کو قرآن اور حدیث میں یاجوج اور ماجوج کے الفاظ میں بیان کیا گیا ہے۔ یہ غیر اہلِ ایمان وہ مغربی قومیں ہیں جو یورپ کی نشاۃِ ثانیہ (Renaissance) کے بعد ابھریں۔ مغرب کی نشاۃِ ثانیہ کروسیڈس (Crusades) کی طویل جنگ میں مغربی قوموں کی ہار کے نتیجے میں پیدا ہوئی۔ کروسیڈس کی طویل جنگ چودھویں صدی عیسوی میں ختم ہوئی۔ اور اِسی چودھویں صدی میں مغرب کی نشاۃِ ثانیہ کا آغاز ہوا۔
کروسیڈس کی طویل جنگ میں ایک طرف مسلم حکومتیں تھیں اور دوسری طرف تقریباً پورا مسیحی یورپ اِس طویل جنگ میں مسیحی قوموں کو ذلت آمیز شکست (humiliating defeat) ہوئی۔ یہ شکست اُن کے لیے ایک عظیم شاک (super shock) کے ہم معنی تھی۔ اِس کے بعد مغربی قوموں میں یہ ذہن پیدا ہوا کہ اُنھیں اپنے عمل کا میدان مسلّح کروسیڈس (armed crusades) کے بجائے، اسپریچول کروسیڈس (spiritual crusades) کی طرف موڑ دینا چاہیے۔ یہ اسپریچول کروسیڈس دھیرے دھیرے فطرت (nature) کی تسخیر تک پہنچ گئی۔
اِس کے نتیجے میں مسیحی قوموں کو سائنس اور صنعت کے میدان میں غیر معمولی طاقت حاصل ہوئی۔ وہ دوبارہ نئی طاقت کے ساتھ نہ صرف مسلم، بلکہ پوری دنیا پر چھاگئے — اکتشافِ معرفت کے پراسس کا آغاز اہلِ ایمان نے کیا تھا، اِس آغاز میں غیر اہلِ ایمان نے تائیدی رول ادا کیا اور اس کو تکمیل کے مرحلے تک پہنچا دیا۔
پچھلے چند سوسالوں میں مغربی محققین اور مغربی سائنس دانوں نے جو کام انجام دیا ہے، وہ سائنس برائے سائنس کے جذبے کے تحت انجام دیاگیا ہے۔ وہ اپنے آپ میں اور براہِ راست طورپر حق کی معرفت نہیں ہے۔ اِس کام کی اہمیت یہ ہے کہ انھوں نے طالبینِ معرفت کے لیے بنیادی معلومات (data) فراہم کردیا ہے۔ اِن معلومات کو لے کر معرفت کی ایک پوری انسائکلو پیڈیا تیار کی جاسکتی ہے، جس کے ذریعے دینی حقائق انسان کے اپنے علمی مسلّمہ کی سطح پر مدلل ہوسکیں۔
موجودہ زمانے میں جو سائنسی دریافتیں ہوئی ہیں، وہ حقیقۃً تخلیقِ خداوندی میں چھپے ہوئے قوانین کی دریافتیں ہیں۔ اِن دریافتوں کا نتیجہ یہ ہوا ہے کہ اسلامی عقائد کا نظام جو پہلے وحی والہام پر مبنی سمجھا جاتا تھا، اب وہ انسان کے خود اپنے علمی مسلّمہ کی بنیاد پر قائم ہوگیا ہے۔
چوتھے دور میں معرفت کا جو سفر طے ہوا، اس کے کئی پہلو تھے — اِکتشافِ فطرت کے ذریعے آفاق وانفس کی نشانیوں کی دریافت، کمیونکیشن کے ذرائع کا ظہور میں آنا، لوگوں میں تجسس کی اسپرٹ (spirit of enquiry) کا پیدا ہونا، عالمی انٹریکشن کا وہ عمل جس کو گلوبلائزیشن کہا جاتا ہے، مذہبی جبر (religious persecution) کا ختم ہونا اور ساری دنیا میں مذہبی آزادی(religious freedom) کا دور شروع ہونا، تاریخی تحقیقات کے ذریعے یہ ثابت ہوجانا کہ دوسری تمام الہامی کتابیں غیر محفوظ اور غیر مستند ہوچکی ہیں، محفوظ اور مستند کتاب کی حیثیت صرف قرآن کو حاصل ہے، ساری دنیا میں مذہبی مفاہمت (religious understanding) کی فضا کا قائم ہونا،قرآن اور اسلام کا بڑے پیمانے پر نیوز(news)میں آنا، پولٹکل ایمپائر نہ ہوتے ہوئے، زیادہ بڑے پیمانے پر فکری ایمپائر (ideological empire) کا قیام ممکن ہوجانا، وغیرہ۔
پانچواں دور
معرفت کا پانچواں دور وہ ہے جب کہ پیدا شدہ انقلابی مواقع کو استعمال کرکے ایک طرف اعلیٰ درجۂ معرفت حاصل کیا جائے اور دوسری طرف اللہ کا پیغام ساری دنیا میں پہنچا دیا جائے۔ یہ کام قیامت سے پہلے آخری دورِ انسانیت میں انجام پائے گا۔ اِس دور کی پیشین گوئی ایک حدیثِ رسول میں اِن الفاظ میں آئی ہے: لا یبقی علیٰ ظہر الأرض بیت مدر ولا وبر إلاّ أدخلہ اللہ کلمۃ الاسلام (مسند احمد، جلد 4، صفحہ 6 ) یعنی زمین کے اوپر کوئی گھر یا خیمہ نہیں بچے گا، مگر اللہ اُس کے اندر اسلام کا کلمہ داخل کردے گا۔
آخری دور کا یہ واقعہ غالباً دو طریقے سے انجام پائے گا۔ ایک، یہ کہ کلمۂ اسلام یا کلامِ الٰہی (word of God) کے اندر اقتصادی مفاد(commercial interest) پیدا کیا جائے گا۔ لوگ عمومی طورپر خدا کی بات کو پھیلانے لگیں گے، حتی کہ اشاعتِ اسلام کے اِس عمل میںغیر مسلم بھی شریک ہوجائیںگے۔موجودہ زمانے میں یہ واقعہ بالفعل پیش آرہا ہے۔ پرنٹ میڈیا اور الیکٹرانک میڈیا کے ظہور میں آنے کے بعد ساری دنیا میں مختلف صورتوں سے اسلام کے پیغام کی اشاعت ہورہی ہے۔ بڑے بڑے پبلشر اسلام کا لٹریچر چھاپ کر پھیلا رہے ہیں، اور ٹی وی کے بڑے بڑے ادارے اسلام کے پروگرام نشر کررہے ہیں۔ سیمناروں اور کانفرنسوں کی صورت میں پوری دنیا میں ہر جگہ بہت بڑے پیمانے پر اسلام کا چرچا ہورہا ہے، وغیرہ۔
کلمۂ اسلام کی اشاعت کا دوسرا ذریعہ امتِ محمدی ہے۔ امتِ محمدی کے افراد جدید معیار پر اشاعتِ اسلام کا کام انجام دیں گے۔ اِس دور میں امت کا ایک منتخب گروہ خصوصی طورپر اشاعتِ اسلام کے اِس عمل کی توفیق پائے گا۔ غالباً یہی وہ گروہ ہے جس کو حدیث میں ’اخوانِ رسول‘ (صحیح مسلم، کتاب الطہارۃ) کا لفظ دیاگیا ہے۔
پانچویں دور میں اعلیٰ معرفت کے حصول کی طرف قرآن میں اشارہ موجود ہے۔ یہ اشارہ قرآن کی اِس آیت میں پایا جاتا ہے: سنریہم آیاتنا فی الآفاق وفی أنفسہم حتی یتبین لہم أنہ الحق (حم السجدۃ:53 ) یعنی آئندہ ہم اُن کو اپنی نشانیاں دکھائیں گے، آفاق میں بھی اور انفس میں بھی، یہاں تک کہ اُن پر بخوبی یہ امر واضح ہوجائے گا کہ یہ (قرآن) حق ہے۔
قرآن کی اِس آیت میں جدید سائنس کی اُن دریافتوں کی طرف اشارہ ہے جو خاص طور پر انیسویں صدی اور بیسویں صدی میں سامنے آئی ہیں۔ یہ دریافتیں فطرت میں چھپے ہوئے قوانینِ الٰہی کی دریافت ہیں۔ اِن دریافتوں نے اِس بات کو ممکن بنا دیا ہے کہ انسان کے خود اپنے علمی مسلمہ (scientific criterion) پر خدائی سچائی کو مدلل کیا جاسکے۔
چھٹا دور
معرفت الٰہی کا چھٹا دور آخرت کا دور ہے۔خدا کے تخلیقی پلان کے مطابق، انسانی زندگی کے دو دور ہیں — قیامت سے پہلے کا دور، اور قیامت کے بعدکا دور۔ قیامت سے پہلے کا دور عارضی دورِ حیات ہے۔ اور قیامت کے بعد کا دورِ حیات ابدی دورِ حیات۔ قیامت سے پہلے کے دور میں انسانوں کا انتخاب کیاجارہا ہے۔ قیامت کے بعد کے دور میں تمام انسانوں کو اُن کے پچھلے ریکارڈ کے مطابق، آخرت کی دنیا میں آباد کیا جائے گا۔
قیامت سے پہلے کے دور میں معرفت کے حصول کا جو پراسس شروع ہوا، اس کی تکمیل آخرت کے دور میں انجام پائے گی۔ موجودہ دنیا میں معرفت کا حصول صرف زمان ومکان (space and time) کے اندر محدود طورپر انجام پاسکتا تھا۔ لیکن آخرت کی دنیا میں معرفت کا سفر زمان ومکان سے ماورا (beyond space and time) لامحدود طورپر انجام پائے گا۔ موجودہ دنیا میں یہ عمل صرف غیرمعیاری (imperfect) درجے میں انجام پاسکتا تھا، آخرت کی دنیا میں یہ عمل معیاری (perfect) طورپر تکمیل کے درجے میں انجام پائے گا۔
معرفت کا حصول انسان کی زندگی کا اصل مقصد ہے۔ اِس سفرِ معرفت کا آغاز موجودہ دنیا میں ہوا، اِس سفرِ معرفت کی تکمیل آخرت میں جنت کی دنیا میں انجام پائے گی۔ موجودہ دنیا میں انسان کو ہر چیز بقدر ضرورت دی گئی تھی (ابراہیم: 34 )، آخرت کی جنت میں انسان کو تمام چیزیں بقدر اشتہاء دی جائیں گی (حم السجدۃ:31 )۔
اِس جنت کی وسعت کو بتاتے ہوئے قرآن میں یہ الفاظ آئے ہیں: وسارعوا إلی مغفرۃ من ربکم وجنۃ عرضہا السموات والأرض، أعدّت للمتقین (آل عمران:133 ) یعنی دوڑو اپنے رب کی بخشش کی طرف اور اُس جنت کی طرف جس کی وسعت آسمان اور زمین جیسی ہے۔ وہ تیار کی گئی ہے اللہ سے ڈرنے والوں کے لیے۔ (30 جنوری 2010 )
واپس اوپر جائیں

وحدتِ وجود

شیخ محی الدین ابن العربی اندلس میں 560 ھ میں پیداہوئے اور 638ھ میں دمشق میں وفات پائی۔ وہ صوفی کی حیثیت سے مشہور ہیں۔ ان کے بارے میں کہاجاتا ہے کہ: کان ظاہریًا فی العبادات، باطنیًا فی الاعتقاد(وہ عبادات میں ظاہری تھے اور عقیدہ میں باطنی تھے)۔ ان کے بارے میں امام ذہبی نے لکھا ہے کہ: قدوۃ القائلین بوحدۃ الوجود (وہ وحدۃ الوجود کے ماننے والوں کے پیشوا ہیں)۔ ابن العربی نے قرآن کی آیت: واعبد ربک حتی یاتیک الیقین(15: 99)کی تفسیر ان الفاظ میں کی ہے: حتی یأتیک حق الیقین، منتہی عبادتک بانقضاء وجودک فیکون ہذا العابد والمعبودجمیعاً لا غیر۔یعنی یہاں تک کہ تجھے حق الیقین حاصل ہو، اور تیرے وجود کے ختم ہونے سے تیری عبادت بھی ختم ہوجائے، پھر عابد ومعبود سب ایک ہوں گے، غیر نہیں۔
یہ ایک مثال ہے جس سے اندازہ ہوتاہے کہ وحدۃ الوجود کا نظریہ کن بے بنیاد دلائل پر قائم کیا گیا ہے، قرآن کی آیت کی مذکورہ تفسیر جو ابن العربی نے کی ہے، وہ بلاشبہہ ایک بے اصل تفسیر ہے، علمی اعتبار سے اُس کی کوئی حیثیت نہیں، یہ تفسیر بالرائے کی ایک بدترین قسم ہے۔ اس طرح کی تفسیر کو اگر درست سمجھا جائے تو اس سے ہر بات ثابت کی جاسکتی ہے، حتی کہ قرآن سے غیر قرآنی نظریہ بھی۔
وحدتِ وجود اصلاً ایک فلسفیانہ نظریہ ہے۔ فلسفیوں نے خدا اور موجودات کو ایک ثابت کرنے کے لئے وحدتِ وجود کا نظریہ پیش کیا۔ اس کو فلسفیانہ اصطلاح میں مانزم (Monism) کہا جاتاہے۔ بعد کو یہ نظریہ آرین مذاہب میں داخل ہوگیا۔ اس کے بعد اکثر مسلم صوفیا نے اس کو اختیار کرتے ہوئے اسلام میں داخل کردیا۔ شیخ احمد سرہندی بظاہر وحدتِ وجود کے خلاف تھے، مگر انھوں نے وحدتِ شہود کے نام سے جو نظریہ پیش کیا ہے، وہ بھی وحدتِ وجود ہی کی ایک بدلی ہوئی شکل ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ وحدتِ وجود (monism)کا نظریہ قرآن اور حدیث میں سرتاسر اجنبی ہے۔ وحدتِ وجود کا نظریہ ایک غیر اسلامی نظریہ ہے، وہ کوئی اسلامی نظریہ نہیں۔
واپس اوپر جائیں

مہمان داری کلچر

دہلی میں اتوار کی صبح کو ہمارا ہفتہ وار کلاس ہوتا ہے۔ جو لوگ اس میں برابر شریک ہوتے ہیں، ان سب کا یہ کہنا ہے کہ دعوتی اور روحانی غذا کے لئے یہ کلاس بہت مفید ہے۔ مگر بعض اوقات ایسا ہوتاہے کہ کوئی شخص اس میں شریک نہ ہوگا۔ بعد میں جب پوچھا جائے کہ آپ اتوار کی کلاس میں کیوں نہیں آئے تو وہ کہے گا کہ گھر میں مہمان آگئے تھے۔
یہ مہمان داری کلچر ہے۔ اور آج کل ہر گھر میں اس کلچر کی مثال دیکھی جاسکتی ہے۔ بہت سے لوگ اس کو سنت کا نام دیتے ہیں، مگر یہ غلطی پر سرکشی کا اضافہ ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں مہمان داری بطور کلچر نہ تھی، بلکہ بطور ضرورت تھی۔
آج کل مہمانوں کا آنا جانا، ان کے کھانے پینے کی دھوم مچانا ایک رواج بنا ہوا ہے۔ قدیم زمانہ میں اس قسم کا رواج ہر گز نہیں تھا۔ قدیم زمانہ میں مہمان کا مطلب صرف یہ تھا کہ اگر اتفاقاً کوئی مہمان اپنی ضرورت کے تحت آجائے تو سادہ طورپر اس کو اپنے یہاں ٹھرایا جائے۔ کھانے پینے کا کوئی اہتمام نہ کیا جائے، یہاں تک کہ مہمان اپنی ضرورت پورا کرنے کے بعد واپس اپنے مقام پر چلا جائے۔
آج کل یہ حال ہے کہ مہمان بطور کلچرل رواج کے آتے ہیں۔ گھر والے ان کے کھانے پینے کی دھوم کرتے ہیں۔ پھر مہمان اور گھر والے بیٹھ کر دیر دیر تک ادھر اُدھر کی باتیں کرتے ہیں۔ یہ بلاشبہہ مہمان داری نہیں ہے بلکہ شیطان داری ہے۔ کیوں کہ اس طرح کی مہمان داری میں دل کھول کر فضول خرچی کی جاتی ہے، اور فضول خرچی کو قرآن میں ایک شیطانی کام کہاگیا ہے(17:27) ۔
مہمان داری کو اگر فطری دائرہ میں رکھا جائے تو مہمان داری کلچر اپنے آپ ختم ہوجائے۔ آنے والوں کو انتہائی سادہ کھانا کھلایا جائے۔ ان کے لئے گھومنے پھر نے کا پروگرام نہ بنایا جائے۔گھر میں بیٹھ کر گھنٹوں گھنٹوں تفریحی باتیں نہ کی جائیں، وغیرہ۔ اگر ایسا کیا جائے تو کوئی مہمانی کرنے کے لئے آپ کے یہاں نہیں آئے گا۔ کسی کو منع کئے بغیر مہمان داری کا کلچر اپنے آپ ختم ہوجائے گا۔
حقیقت یہ ہے کہ مہمان داری کلچر اپنے نتیجے کے اعتبار سے قاتل کلچر ہے۔ اصل ضرورت یہ ہے کہ ہمارے گھروں میں علم اور دین کا چرچا ہو، جنت اور جہنم کی باتیں ہوں، خدا کو زیادہ سے زیادہ یاد کیا جائے۔ لیکن مہمان داری کلچر نے ہمارے گھروں سے ان چیزوں کا خاتمہ کردیا ہے۔ یہ بلاشبہہ سنت کے نام پر سنت کا قتل ہے۔
موجودہ مہمان داری کلچر کا یہ نتیجہ ہوا ہے کہ ہمارے گھر روحانیت کے بجائے مادیت کا کارخانہ بنے ہوئے ہیں۔ ہمارے گھروں میں شیطانی ماحول ہے، نہ کہ ملکوتی ماحول۔ہمارے گھروں میں خدا کا چرچا نہیں۔ ہمارے گھروں میں جنت اور جہنم کا تذکرہ نہیں۔ ہمارے گھروں میں قرآن اور حدیث کی خوشبو نہیں۔ ہر گھر بظاہر بھیڑ بھاڑ کا گھر ہے، لیکن روحانی اعتبار سے ہر گھر ایک سُونا قبرستان بنا ہوا ہے۔
مومن کا گھر وہ گھر ہے جہاں داخل ہونے کے بعد فرشتوں کی صحبت ملے، جہاں ایمان میں اضافے کا سامان ہو، جس کے اندر جینا ایمان میںترقی کا سبب بنتا ہو۔ جہاں خدا اور رسول کی گونج سنائی دیتی ہو۔ ایسا ہی گھر دینی گھر ہے۔ جو گھر ایسا نہ ہو، وہ ایک شیطان خانہ ہے، نہ کہ ایمان خانہ۔
واپس اوپر جائیں

نیک وبد کی تمیز

امریکا میں ایک انٹرنیشنل سائنسی ادارہ قائم ہے۔ اِس ادارے کا مقصد بچوں کے معاملات کی سائنسی تحقیق کرنا ہے۔ اس ادارے کا نام یہ ہے:
Infant Cognition Center, Yale University, Connecticut.
اِس ادارے کے تحت حال میں ایک رسرچ ہوئی ہے۔ یہ رسرچ نفسیات کے پروفیسر پال بلوم (Paul Bloom) کی رہنمائی میں ہوئی ہے۔ اِس رسرچ کے نتائج اخبارات میں شائع ہوئے ہیں۔ اِس کی تفصیل انٹرنیٹ پر دیکھی جاسکتی ہے۔ مقابل کے صفحے پر اِس رسرچ کا وہ خلاصہ شائع کیا جارہا ہے جو نئی دہلی کے انگریزی اخبار ٹائمس آف انڈیا (11 مئی 2010 ) میں چھپا ہے۔
قدیم زمانے سے یہ تصور چلا آرہا تھا کہ انسان کی فطرت میں نیک اور بدکی تمیز موجود ہے۔یہ بات قرآن کی ایک آیت میں اِس طرح بیان ہوئی ہے: فألہمہا فجورہا وتقواہا (الشمس :8 )۔ موجودہ زمانے میں مغرب میں کچھ مفکرین پیدا ہوئے جنھوں نے اِس کے برعکس نظریہ پیش کیا۔ مثال کے طورپر سگمنڈ فرائڈ (وفات:1939 )، وغیرہ۔ اِن لوگوں نے اپنے خود ساختہ نفسیاتی مطالعہ کے حوالے سے بتایا کہ انسان کی فطرت پیدائشی طورپر ایک سادہ پلیٹ کی مانند ہوتی ہے۔ اس کے اندر کسی چیز کو اچھا اور کسی چیز کو برا سمجھنے کا کوئی شعور موجود نہیں ہوتا۔ اِس قسم کاشعور تمام تر سماج کے اثر (social conditioning) سے پیدا ہوتا ہے۔ بیسویں صدی میں یہی نظریہ تعلیم یافتہ طبقے پر چھایا رہا۔
مگر اکیسویں صدی میں جو نفسیاتی تحقیقات ہوئی ہیں،انھوں نے اِس نظریے کو بے بنیادثابت کردیا ہے۔ اِس سے یہ ثابت ہوا ہے کہ انسان اپنے اعمال کے لیے جواب دہ ہے۔ کیوںکہ جب وہ کوئی خلافِ عدل کام کرتا ہے تو وہ اپنے شعورِ فطرت سے انحراف کرکے ایسا کرتا ہے۔ اِس تحقیق سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ انسان کا اخلاقی احساس اس کی داخل فطرت پر مبنی ہے، وہ محض خارجی اثرات کا نتیجہ نہیں— اِس طرح اِس معاملے میں مذہبی نقطۂ نظر دوبارہ تاریخ میں واپس آگیا ہے۔
Infants Can Make Value Judgments, Finds American Research
Contrary to the Freudian theory that humans start their lives with a moral “blank slate”, children may be born with the ability to tell good from bad, according to a new study. Newly born babies apparently start making moral judgments by the time they are six months old, claims a team of psychologists at the infant cognition centre at Yale University in Connecticut. The scientists used the ability to tell helpful from unhelpful behaviour as an indication of moral judgment. Infants can even act as judge and jury in the nursery. Researchers who asked one-year-old babies to take away treats from a “naughty” puppet found they were sometimes also leaning over and smacking the figure on the head. As part of the study, they conducted multiple tests on infants, less than a year old. Firstly, an animated film of simple geometric shapes was screened for the kids to watch. It showed a red ball, with eyes, trying to climb a hill. A yellow square helped, pushing it up, while a green triangle forced it back down. Later, the children were asked to “choose” between the “good guy” square, and the “bad guy” triangle. In 80% of cases the infants chose the square over the triangle. In a second study, the children were shown a toy dog trying to open a box. One teddy bear helped him, while another sat on it to stop him getting inside. The observers found that most babies opted for the friendly teddy bear. To further confirm that the babies were responding to niceness and naughtiness the scientists devised another test. A toy cat played with a ball while a cuddly rabbit puppet stood on either side. When the cat lost the ball, the rabbit on the right side returned it to him, while the rabbit on the left side picked it up and ran away with it. The children were asked to handle anyone one puppet. Most picked the naughty rabbit and smacked it on the head. Paul Bloom, professor of psychology who led the study, said the research counters theories of psychologists such as Sigmund Freud who believed humans began life as “amoral animals” and William James who described a baby’s mental life as “one great, blooming, buzzing confusion”. “There is a growing body of scientific evidence that supports the idea that perhaps some sense of good and evil is bred in the bone,” the Times quoted Bloom as saying. Kiley Hamlin, author of the team’s Infant Morality report, said: “We spend a lot of time worrying about teaching the difference between good guys and bad guys in the world but this might be something that infants come to the world with.” Peter Willatts, a lecturer in psychology at Dundee University, said: “You cannot get inside the mind of the baby. You cannot ask them. You have to go on what most attracts their attention.” “We now know that in the first six months babies learn things much quicker than we thought possible. What they are born with and what they learn is difficult to divide,” he added. (The Times of India, New Delhi, Page 17 May 11, 2010)
واپس اوپر جائیں

موت کا تجربہ

مشہور ٹینس کھلاڑی مارٹینا (Martina Navratoliva) طبی مشورے کے لئے ایک ڈاکٹر کے پاس گئی۔ ڈاکٹر نے اس کا معائنہ کرنے کے بعد کہا کہ تمھارے پھیپھڑے میں کینسر ہوچکا ہے اور وہ اگلے اسٹیج میں ہے۔ ڈاکٹر کی تشخیص (diagnosis)کو بتاتے ہوئے مذکورہ خاتون نے کہا کہ یہ خبر میرے لیے نائن الیون کے برابر ہے:
It was such a shock for me. It was my 9/11.
خاتون نے یہ بات اِس لیے کہی کہ موت اُس کو بالکل قر یب دکھائی دینے لگی۔ لیکن موت کے بعد کا جو مرحلہ ہے، وہ اِس سے بھی زیادہ سنگین ہے۔ موت، قرآن کے الفاظ میں، اسباب کے کامل تقطّع (البقرۃ: 166) کا نام ہے۔ موت کے بعد اچانک آدمی ایک اور دنیا میں پہنچ جاتاہے جو موجودہ دنیا کے مقابلے میں ہر اعتبار سے بالکل مختلف ہوتی ہے۔ موت کے بعد اچانک انسان پر دو سنگین حقیقتیں کھل جاتی ہیں— ایک یہ کہ اب موت سے پہلے والے دو رمیں واپسی ممکن نہیں، جہاں اس نے اپنی ایک دنیا بنائی تھی۔ دوسرے یہ کہ موت کے بعد والے دور میں وہ اپنے لیے ایک اور دنیا نہیں بناسکتا۔ یہ احساس آدمی کو ابدی مایوسی اور ابدی حسرت میں مبتلا کردے گا، اور بلاشبہہ ابدی مایوسی اور ابدی حسرت سے زیادہ اذیت ناک تجربہ اور کوئی نہیں۔
موجودہ دنیا کا معاملہ یہ ہے کہ یہاں اگر ایک چانس کھویا جائے تو اس کے بعد اس کو دوسرا چانس (second chance) مل جاتا ہے جس کے ذریعے وہ اپنی ہاری ہوئی بازی کو دوبارہ جیت میں تبدیل کرسکے۔ لیکن آخرت میں ایسا ہونا ممکن نہیں۔ آخرت میںایسا نہیں ہوسکتا کہ آدمی اپنے لیے دوسرا چانس پالے۔ آخرت میں کسی انسان کے لیے دوبارہ کوئی چانس نہیں۔ پہلے چانس یا دوسرے چانس یا تیسرے چانس کا معاملہ صرف موجودہ دنیا میں پیش آتا ہے۔ آخرت کی دنیا مکمل طورپر اِس سے مختلف ہے۔ آخرت میں صرف انجام ہے، وہاں کسی کو دوبارہ نیا آغاز ملنے والا نہیں۔
واپس اوپر جائیں

ایک باس درکار ہے

قبرص کی کانفرنس (16-18 نومبر 2008) ایک عالمی امن کانفرنس تھی۔ وہاں دنیا بھر کے تعلیم یافتہ لوگ اکھٹا ہوئے اور امن کے موضوع پر پُرجوش تقریریں کیں۔ اِن میں کئی ایسے افراد تھے جنھوں نے امریکا کو امن کا سب سے بڑا دشمن قرار دیا۔ یہ تعلیم یافتہ طبقے کی عام بولی ہے۔ مگر یہ ایک غیر حقیقت پسندانہ طرزِفکر کا نتیجہ ہے۔ اِس قسم کی باتوں سے کبھی دنیا میں امن قائم نہیں ہوسکتا۔
قبرص کی کانفرنس سے واپسی کے جلد ہی بعد 26 نومبر 2008 کی شام کو انڈیا کی کمرشیل راجدھانی بمبئی میں بم دھماکے کی خبریں گونجنے لگیں۔ بمبئی میں تین بڑی عمارتیں، تاج ہوٹل، آبرائے ہوٹل، اور نریمن ہاؤس آگ کی نذر ہوگئے۔ سیکڑوں لوگ یا تو مر گئے یا زخمی ہوگئے۔ اربوں ڈالر کا مالی نقصان ہوا۔ کہا جاتا ہے کہ یہ بم دھماکہ پاکستان کے مسلم انتہا پسندوں کی طرف سے کیا گیا۔ مجھ کو جب یہ خبر معلوم ہوئی تو میں بے اختیار روپڑا۔ میں نے کہا کہ خدایا، تیرے لوگ انسان کے دشمن بن گئے۔ اِس قسم کا تشدد بلا شبہہ شیطان کے کام سے بھی زیادہ براکام ہے۔ شیطان، انسانوںکا دشمن ہے۔ لیکن شیطان صرف بہکانے کا کام کرتاہے، اِس لیے اس کی دشمنی ایک منفعل دشمنی (passive enmity) ہے، جب کہ اِس قسم کا تشدد فعّال دشمنی (active enmity) کی حیثیت رکھتا ہے۔
نئی دہلی کے انگریزی اخبار ٹائمس آف انڈیا (29 نومبر 2008) کے ایڈی ٹوریل پیج پر ایک مضمون چھپا ہے۔ اِس کے لکھنے والے مسٹر گوتم ادھکاری (Gautam Adhikari) ہیں۔ اِس مضمون کا عنوان یہ ہے— پاکستان کو بچاؤ، سب کو بچانے کے لیے:
Save Pakistan to Save us All
میں نے اِس مضمون کو پڑھا تو مجھے محسوس ہوا کہ یہ صرف ایک سطحی سوچ ہے۔ زیادہ گہرائی کے ساتھ غور کیا جائے تو معلوم ہوگا کہ آج کا اصل مسئلہ یہ ہے کہ آج کی دنیا میں کوئی ’’چودھری‘‘ نہیںرہا، جب کہ عالمی امن کے قیام کے لیے ایک عالمی چودھری کا ہونا ضروری ہے۔
یہ سوچ کر میرے ذہن میں ایک متبادل عنوان آیا جو کہ یہ تھا:
Accept the principle of bossism to save the world.
قرآن میں بتایا گیا ہے کہ ہر گھر میں ایک قوّام (النساء: 34 ) ہونا چاہئے۔ قوام سے مراد وہی چیز ہے جس کو موجودہ زمانے میں باس (boss) کہاجاتا ہے۔ قانونِ فطرت کے مطابق، موجودہ دنیا کا نظام قوامیت (bossism) کے اصول پر قائم کیاگیا ہے — گھر کا قوام ، کمپنی کا قوام، سماج کا قوام، یہاں تک کہ قوموں کا قوام۔ جہاں قوام نہ ہو، وہاں نظم کا خاتمہ ہوجائے گا۔ اِس معاملے میں ہمارے لیے جو انتخاب ہے، وہ قوام (boss) اور بے قوام (no-boss) کے درمیان نہیں ہے، بلکہ قوام اور انارکی (anarchy) کے درمیان ہے۔ جہاں قوام نہ ہوگا، وہاں انارکی ہوگی، نہ کہ سادہ طورپرصرف بے قوامی کی حالت۔
معیار پسند (idealist) افرادیقینا اِس سے اختلاف کریں گے۔ لیکن یہ مسئلہ نظریاتی اختلاف کا نہیں ہے، بلکہ عملی امکان کا ہے۔ مشکل یہ ہے کہ فطرت کے قانون کے مطابق، اِس معاملے میں ہمارے لیے کوئی اور انتخاب نہیں۔ حقیقت پسندی (realism) کا تقاضا ہے کہ ہم قوامیت (bossism) کے اصول کو فطرت کے ایک قانون کے طورپر مان لیں۔ عملی اعتبار سے اِس معاملے میں ہمارے لیے کوئی دوسرا انتخاب (choice) سرے سے ممکن نہیں۔
اجتماعی زندگی میں کسی کو قوام ماننے کے بھی بعض مائنس پوائنٹ ہیں، مگر یہ مائنس پوائنٹ چھوٹے شر (lesser evil) کی حیثیت رکھتے ہیں۔ فطرت کا یہ بھی ایک لازمی قانون ہے کہ اگر ہم چھوٹی برائی کو نہ مانیں، تو ہم کو بڑے شر (greater evil) کو ماننا پڑتا ہے۔ اِس معاملے میں ہمارے لیے دانش مندی یہ ہے کہ ہم چھوٹی برائی کو مان لیں، تاکہ ہم کو بڑی برائی کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
اِس اعتبار سے تاریخ کا ایک جائزہ لیجئے۔ ساتویں صدی عیسوی سے پہلے دنیا کے بڑے حصے پر رومن ایمپائر قائم تھا۔ یہ رومن ایمپائر اُس وقت کا سپر پاور تھا۔ اصولِ عام کے مطابق، رومن ایمپائر میں کئی کمیاں تھیں، لیکن اِسی کے ساتھ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ رومن ایمپائر کے دبدبے سے دنیا میں امن کا ماحول قائم تھا۔ مورخین اِس کو پیکس رومانا (Pax Romana) کہتے ہیں۔
ساتویں صدی عیسوی میں اسلامی دور آیا ۔ اِس کے بعد دنیا کے بڑے حصے میں مسلم ایمپائر قائم ہوگیا۔ اِس دور میں بھی بعض کمیاں تھیں، لیکن اِسی کے ساتھ اس کا یہ فائدہ بھی تھا کہ اس کے دبدبے کے تحت، دنیا میں امن قائم ہوگیا۔ اِس کو پیکس اسلامکا (Pax Islamica) کہاجاسکتا ہے۔ اِس دور کا ایک علامتی واقعہ یہ ہے کہ عباسی خلافت کے زمانے میں ایک بار ایک سرحدی مقام کے لوگوں میں مرکز سے بغاوت کا رجحان پیدا ہوا۔ اِس موقع پر خلیفہ نے بغاوت کو فرو کرنے کے لیے ایک فوج بھیجنا چاہی۔ لیکن خلیفہ کے وزیر نے کہاکہ آپ فوج نہ بھیجیں، بلکہ دھمکی کا ایک خط (warning letter) بھیج دیں، وہی بغاوت کو فرو کرنے کے لیے کافی ہوجائے گا۔ چناں چہ خلیفہ نے اِس قسم کا ایک خط باغی لیڈر کے پاس بھیجا اور بغاوت ختم ہوگئی۔ اِس واقعے پر ایک عرب شاعر نے یہ شعر کہا کہ — جہاں دوسرے لوگ دشمنوں کے خلاف فوج بھیجتے ہیں، وہاں ہم صرف ایک خط بھیج دیتے ہیں:
إذا ما أرسل الأمراء جیشاً إلی الأعداء، أرسلنا الکتابا
اٹھارھویں صدی عیسوی کے بعد وہ دور آیا، جب کہ برطانیہ سپر پاور بن گیا۔ برطانوی اقتدار اتنا وسیع تھا کہ یہ کہا جانے لگا کہ اُس میں سورج نہیںڈوبتا :
The Sun never sets on British Empire.
بیسویں صدی عیسوی کے وسط تک برطانیہ دنیا کا قوام (international boss) بنا رہا ۔ بعض کمیوں کے باوجود اِس دور میں عمومی سطح پر امن قائم تھا۔ اِس امن کو مورخین کے یہاں پیکس بریٹانکا (Pax Britannica) کہاجاتا ہے۔
دوسری عالمی جنگ کے بعد ایٹمی طاقت کا دور آیا۔ اب امریکا کو دنیا میں سپر پاور کی حیثیت حاصل ہوگئی۔ جغرافی اعتبار سے اگر چہ امریکا کے زیر اقتدار رقبہ بہت زیادہ بڑا رقبہ نہ تھا۔ لیکن جدید ترقیاتی ذرائع نے امریکا کو یہ موقع دیا کہ وہ بیسویں صدی عیسوی کے نصف آخر میں دنیا کا قوام بن سکے۔ یہی وہ دور ہے جب کہ 1962 میں سوویت روس نے کیوبا (Cuba) میں اپنا میزائل اڈہ (missile installation) بنانے کی کوشش کی۔ اُس وقت امریکا کے صدر جان ایف کینڈی (وفات:1963 ) نے دھمکی دی کہ اِس اڈے کو تباہ کردیاجائے گا۔ اِس کے فوراً بعد فوجی سامانوں سے لدے ہوئے روسی جہاز کیوبا کے ساحل کو چھوڑ کر روس واپس چلے گئے۔
اِس طرح امریکی دور میں جو دبدبہ قائم ہوا، اس کے تحت دنیا میں ہر جگہ امن قائم ہوگیا۔ اِس امن کو عام طورپر پیکس امریکانا (Pax Americana) کہاجاتا ہے۔ اب جو مسئلہ ہے، وہ یہ کہ خلیج جنگ (2003) میں امریکا کی بظاہر ناکامی نے امریکا کے سپر پاور ہونے کی حیثیت کو غیر موثر کردیا ہے۔ اِس جنگ میں امریکا کو پانچ ٹریلین ڈالر کا نقصان ہوا۔ امریکا کی اقتصادی حالت ناقابل تلافی حد تک بگڑ گئی۔ جدید دنیا کا جو مسئلہ ہے، وہ یہ ہے کہ آج کی دنیا میں کوئی عالمی قوام (international boss) موجود نہیں۔ اِس کے نتیجے میں ہر طرف انارکی پھیلی ہوئی ہے۔ اب کوئی ایسی بڑی طاقت نہیں جو اِس انارکی کو کنٹرول کرسکے۔
عالمی قوامیت (international bossism) کا یہ اصول عملاً دو طریقوں سے قائم ہوتا ہے — ایک، یہ کہ باس اتنا طاقت ور ہو کہ وہ بزور لوگوں کو اطاعت پر مجبور کرسکے۔ پیکس بریٹانکا اِسی کی ایک مثال ہے۔ دوسرا طریقہ یہ ہے کہ ماتحت قوم اتنی دانش مند ہو کہ وہ خود اپنے فیصلے سے، باس کی ماتحتی کو قبول کرلے۔ حضرت سلیمان کے مقابلے میں، قدیم یمن کی ملکہ سبا کا رویہ اِس کی ایک تاریخی مثال ہے۔(27 نومبر2008)
واپس اوپر جائیں

امن اور انصاف

11-12 اپریل 2010 کو نئی دہلی میں ایک انٹرنیشنل سیمنار ہوا۔ اِ س سیمنار کا انتظام حسب ذیل تین تنظیموں کے اشتراک سے کیاگیا تھا:
Indo-Iran society, New Delhi. World Peace Forum, Tehran. Iran Culture House, New Delhi
اِس سیمنار کا موضوع یہ تھا: Justice, Peace: A Common Universal Discourse۔ دو دن کے اِس سیمنار میں40 مقالات پیش کئے گئے۔ ایک رپورٹ کے مطابق، اِس سیمنار میںجو باتیں کہی گئیں، ان کا خلاصہ یہ تھا — امن اور انصاف دونوں ایک ساتھ پائے جاتے ہیں۔ انصاف، امن کی شرط ہے۔ جب تک انصاف قائم نہ ہو، امن کا قیام نہیں ہوسکتا:
Peace and justice both go hand in hand with each other, justice is the pretext of the peace, unless justice is established, peace can not be restored or implemented.
یہ اُسی قدیم نظریے کا اعادہ ہے جس کو مسلمان لمبی مدت سے پیش کرتے رہے ہیں۔ اِس کو عرب مسلمان ’’السلام مع العدل‘‘(peace with justice) کہتے ہیں، یعنی تم ہم کو انصاف دو، پھر ہم تم کو امن دیں گے۔
یہ بلا شبہہ ایک غیر فطری اور غیر شرعی نظریہ ہے۔ اِسی لیے یہ نظریہ عملاً کبھی کامیاب نہ ہوسکا۔ اِس معاملے میں صحیح طریقہ یہ ہے کہ ڈی لنکنگ پالیسی (de-linking policy) اختیار کی جائے، یعنی انصاف کے سوال کو امن کے سوال سے الگ کردینا۔ پہلے یہ کیا جائے کہ مصالحانہ انداز اختیار کرتے ہوئے امن قائم کیا جائے۔ جب امن قائم ہوگا تو مواقع (opportunities)کھلیں گے اور پھر مواقع کواستعمال (avail) کرکے انصاف کو حاصل کرنا ممکن ہوجائے گا۔ حقیقت یہ ہے کہ انصاف براہِ راست طورپر امن کا حصہ نہیں ہے، بلکہ وہ استعمالِ مواقع کا حصہ ہے۔ یہی اِس معاملے میں دانش مندی کی بات ہے۔ مگر عجیب بات ہے کہ موجودہ زمانے کے تمام رہنما اور دانش ور اِس دانش مندی سے کامل طورپر بے خبر ہیں۔
واپس اوپر جائیں

ذہنی تفریح یا ایمانی غذا

ایک تعلیم یافتہ مسلمان سے ملاقات ہوئی۔ انھوں نے کہا کہ پہلے میںالرسالہ پڑھتا تھا۔ اُس سے مجھے ایمانی غذا ملتی تھی، مگر اب کچھ عرصے سے وہ میرے مطالعے میں نہیں ہے۔ انھوں نے کہا کہ اِس کا کوئی خاص سبب نہیں۔ غالباً میرا زرِ تعاون ختم ہوگیا اور دفتر والوں نے اس کو میرے نام بھیجنا بند کردیا۔ اس کے بعد میں دوبارہ اس کی خریداری کی تجدید نہ کراسکا۔
اِس طرح کی اور بھی کئی مثالیں میرے علم میں آئی ہیں۔میں نے سوچا کہ اگر سچ مچ کسی کے لیے الرسالہ اس کی ’’ایمانی غذا‘‘ بن چکا ہو، تو وہ ہر گز اِس کا تحمل نہیں کرسکتا کہ وہ ایک مہینہ بھی الرسالہ کے مطالعے سے محروم رہے۔ جو چیز آدمی کے لیے غذا کا درجہ حاصل کرلے، وہ اس کو چھوڑنے کا تحمل نہیں کرسکتا، خواہ یہ غذا آکسیجن کی طرح مادّی ہو، یا الرسالہ کی طرح ایمانی۔ غذا ہمیشہ موت کے ساتھ ترک ہوتی ہے، کوئی شخص حالتِ زیست میں غذا کو ترک کرنے کا تحمل نہیں کرسکتا۔
غور کرنے کے بعد سمجھ میں آتا ہے کہ یہ لوگ اگر چہ ’’ایمانی غذا‘‘ کا لفظ استعمال کرتے ہیں، مگر اِس سے ان کی مراد ایک قسم کی ذہنی تفریح (intellectual luxury) ہوتی ہے۔ اصل یہ ہے کہ الرسالہ میں، دوسرے جرائد کے مقابلے میں، مواد اور اسلوب کے اعتبار سے ایک نیا پن ہوتا ہے۔ یہ نیا پن قارئین کو متاثر کرتا ہے۔ لیکن اِس قسم کے لوگ الرسالہ کے اصل قاری نہیں ۔ الرسالہ کا اصل قاری وہ ہے جس کا مائنڈ سیٹ (mindset) الرسالہ کے مطالعے سے پوری طرح بدل گیا ہو، جو روایتی خول سے باہر آکر الرسالہ کو سمجھ سکے، جو الرسالہ میںاپنے رسمی ایمان کو زندہ ایمان میں تبدیل کرنے کا راز پالے، جس کو الرسالہ کے مطالعے کے دوران خدا کی قربت کا تجربہ ہونے لگے، جس کے لیے الرسالہ حقیقتِ اعلیٰ کی شعوری دریافت کا ذریعہ بن جائے، جس نے الرسالہ کے دعوتی مشن کو اپنی زندگی کا واحد مشن بنا لیا ہو، جس کے لیے الرسالہ کا مطالعہ مثبت شخصیت کی تعمیر کا ذریعہ بن گیا ہو۔ جو لوگ الرسالہ کو جنت کی گائڈ بُک اور معرفتِ الٰہی کے خزانے کی حیثیت سے دریافت کریں، وہی الرسالہ کے اصل قاری ہیں۔
واپس اوپر جائیں

ٹنشن کے مسئلے کا حل

خلیفہ چہارم حضرت علی بن ابی طالب (وفات:661 ء) ایک بلند پایہ صحابی رسول ہیں۔ اُن کے بہت سے حکیمانہ اقوال مشہور کتاب ’’نہج البلاغہ‘‘ میں مذکور ہیں۔ ان کا ایک قول یہ ہے: الخیر فیما وقع، یعنی خیراُسی میں تھا جو واقع ہوا:
Whatever happened, happened for good.
ہر عورت اور مرد کی زندگی میں بار بار ایسا ہوتا ہے کہ کوئی ناخوش گوار واقعہ پیش آتا ہے، کوئی ایسا تجربہ گزرتا ہے جو ہمارے لیے غیر مطلوب تھا۔ ایک طرف یہ تجربہ ہوتاہے اور دوسری طرف ہم کو یہ محسوس ہوا ہے کہ اِس صورتِ حال کو بدلنا بظاہر ہمارے بس میں نہیں۔
یہی وہ ناخوش گوار صورتِ حال ہے جو لوگوں کے اندر منفی سوچ پیدا کرتی ہے اور لوگوں کو ٹنشن یا اسٹریس میں مبتلا کردیتی ہے۔
مذکورہ قول اِس مسئلے کا سادہ حل ہے کہ یہ سمجھ لیا جائے کہ جو کچھ ہوا، وہ محکم قانونِ فطرت کے تحت ہوا۔ اور جو واقعہ وسیع تر قانونِ فطرت کے تحت پیش آئے، وہ یقینا مجموعی خیر کے لیے ہوا ہے، اور جو چیز مجموعی خیر کے تحت ہو، ہمارا انفرادی خیر بھی بہر حال اس میں شامل ہوگا۔
’’جو ہوا وہی خیرتھا‘‘ کا مطلب یہ ہے کہ جو ہوا، وہی ممکنہ طورپر بہتر ـتھا۔ اسباب وعلل کی اِس دنیا میں اس کے سوا کسی اور چیز کا امکان ہی نہ تھا۔ یہی حقیقت پسندانہ نقطۂ نظر ہے۔یہ واحد نقطۂ نظر ہے جو کسی عورت یا مرد کو ٹنشن سے بچا سکتا ہے۔ یہی واحد نقطۂ نظر کسی عورت یا مرد کو اِس قابل بناتا ہے کہ وہ موجودہ دنیا میں پر سکون ذہن (peaceful mind) کے ساتھ رہ سکے۔
اِس مسئلے کے حل کے لئے کوئی دوسرا فارمولا یا تو قابل عمل نہیں یا وہ صرف ایک وقتی قسم کانفسیاتی ریلیف (temporary relief) دیتا ہے، نہ کہ اصل مسئلے کا کوئی واقعی حل— حقیقت یہ ہے کہ ٹنشن ایک فکری مسئلہ ہے اور فکری سطح کی تدبیر کے ذریعے ہی اس کو حل کیا جاسکتا ہے۔
واپس اوپر جائیں

عقل کی اہمیت

کوئی کھیل جب کھیلا جاتا ہے تو بظاہر اُس میں بہت سی چیزیں شامل رہتی ہیں، لیکن اس میں سب سے بڑا حصہ انسانی دماغ (human mind) کا ہوتا ہے۔ اِسی لیے کہا جاتا ہے کہ — نوے فی صد کھیل دماغ میں کھیلا جاتا ہے:
Ninety percent of the game is played in the mind.
یہ معاملہ صرف کھیل کا نہیں ہے، بلکہ یہی زندگی کے تمام امور کا معاملہ ہے۔ جب آپ سوئی کے ناکے میںدھاگا ڈالتے ہیں، تو بظاہر آپ اپنے ہاتھ سے ایسا کرتے ہیں، لیکن حقیقت یہ ہے کہ اِس عمل میں سارا حصہ دماغ کا ہوتا ہے۔ جب ایک انجینئر ایک مشین بناتا ہے تو بظاہر وہ اپنے اعضا کے ذریعے وہ کام انجام دیتا ہے، لیکن اپنی حیثیت کے اعتبار سے یہ دماغ کا ایک فعل ہوتا ہے۔جب آپ ایک کاغذ لے کر اس پر کچھ لکھتے ہیں تو بظاہر آپ قلم کے ذریعے لکھتے ہیں، لیکن یہاں بھی سب کچھ آپ کا دماغ انجام دیتا ہے، وغیرہ۔
یہی وجہ ہے کہ زندگی کی تعمیر میں سب سے بڑا دخل دماغ کا ہوتا ہے۔ لیکن دماغ پیدائشی طورپر تیار شدہ (prepared) حالت میں انسان کو نہیں ملتا۔ انسان کو اسے بنانا پڑتا ہے۔ کتابوں کا مطالعہ، واقعات سے تجربہ حاصل کرنا، آس پاس کی دنیا کا مشاہدہ، لوگوں سے تبادلۂ خیال (exchange) کرکے سیکھنا، اسفار کے ذریعے نئی نئی معلومات حاصل کرنا، تدبر اور تفکر سے کام لینا، وغیرہ۔ یہ وہ چیزیں ہیں جو آدمی کے دماغ کو مسلسل تربیت دیتی ہیں، وہ پیدا ہونے والے دماغ کو ایک تیار شدہ (prepared) دماغ بناتی ہیں، وہ سادہ دماغ کو اعلیٰ دماغ بنادیتی ہیں۔
اِسی کے ساتھ ایک اور عمل بے حد ضروری ہے۔ وہ محاسبہ (introspection) کا عمل ہے۔ آدمی کو چاہئے کہ وہ مسلسل اپنا محاسبہ کرتا رہے، وہ اپنے ہر قول وفعل پر محاسبہ کرے۔ یہی وہ عمل ہے جو انسانی دماغ کو حقیقی طورپر وہ دماغ بناتا ہے جو مقابلہ اور چیلنج کی دنیا میں انسان کو درکار ہے۔
واپس اوپر جائیں

صبر کی اہمیت

مارکسی لیڈر جوزف اسٹالن (Joseph Stalin) نے اشتراکی انقلاب (1917) سے پہلے اپنی ایک تقریر میں کہا تھا: ہم کو انقلاب کے لیے تین چیزوں کی ضرورت ہے— اول ہتھیار، دوم ہتھیار، سوم ہتھیار، آخر میں پھر ہتھیار۔ یہ جھوٹے انقلاب کا فارمولاتھا۔سچے انقلاب کا فارمولا برعکس طورپر یہ ہے — اول صبر، دوم صبر، سوم صبر، آخر میں پھر صبر۔
صبر کیا ہے، صبر دراصل امن پر مبنی دانش مندانہ منصوبہ بندی (planning) کا نام ہے۔ صبر یہ ہے کہ وقت اور طاقت کا کوئی معمولی حصہ بھی بے فائدہ ٹکراؤ میں ضائع نہ کیا جائے، بلکہ ساری حاصل شدہ توانائی کو صرف ایک مقصد کے لیے استعمال کیا جائے، یعنی ٹکراؤ کو نظر انداز کرنا او ردستیاب مواقع کو بھرپور طور پر استعمال کرنا۔
صبر دراصل یہ ہے کہ آدمی رد عمل(reaction) سے اپنے آپ کو بچائے، وہ دانش مندانہ تدبیر کے ذریعے اپنے عمل کی منصوبہ بندی کرے۔ صابرانہ منصوبہ بندی صرف وہ شخص کرسکتا ہے جو حالات سے اوپر اٹھ کر سوچے، جو حالات کا عامل بن جائے، نہ کہ حالات کا معمول۔
تاریخ کے تمام تجربات بتاتے ہیں کہ ہتھیار یا جنگ صرف تخریب کاری کا سبب ہے۔ جب بھی کسی نے حقیقی معنوں میں کوئی کامیابی حاصل کی ہے تو وہ پرامن جدوجہد کے ذریعے حاصل کی ہے۔ اگر نتیجے کی بنیاد پر منصوبہ بنایا جائے تو کوئی بھی شخص مسلح عمل کا منصوبہ نہیں بنا سکتا۔ ہر شخص لازمی طورپر پرامن عمل کی بنیاد پر اپنا منصوبہ بنائے گا۔
صبر کا طریقہ ثابت شدہ طورپر بہتر طریقہ ہے۔ پھر کیوں ایسا ہے کہ لوگ صبر کا طریقہ اختیار کرنے میں ناکام رہتے ہیں۔ اِس کا واحد سبب یہ ہے کہ صبر اپنے آپ پر سیلف کنٹرول کا تقاضا کرتا ہے۔ صبرکا طریقہ اختیار کرنے کے لیے اپنے جذبات پر قابو رکھنا ضروری ہوتاہے۔ صبر دراصل سیلف ڈسپلن کا نام ہے، اور بلا شبہہ سیلف ڈسپلن سے زیادہ مشکل کوئی کام انسان کے لیے نہیں۔
واپس اوپر جائیں

ایک عمومی مسئلہ

اردو شاعر اکبر الٰہ آبادی (وفات: 1921 ) کے زمانے میں حکومتِ برطانیہ نے ہندستان میں انگریزی تعلیم کو رائج کیا۔ اُس زمانے کے علماء عام طورپر انگریزی تعلیم کے بارے میں منفی خیال رکھتے تھے۔ اکبر الٰہ آبادی نے اِس خیال کی نمائندگی کرتے ہوئے کہا:
ہم ایسی کُل کتابیں قابلِ ضبطی سمجھتے ہیں کہ جن کو پڑھ کے لڑکے باپ کو خبطی سمجھتے ہیں
یہ سو برس پہلے کی بات ہے۔ آج یہ معاملہ صرف کچھ درسی کتابوں تک محدود نہیں، بلکہ آج وہ ایک عمومی کلچر بن چکا ہے۔ آج جو لڑکیاں اور لڑکے انگریزی تعلیم حاصل کرتے ہیں، وہ اسی کے ساتھ مغربی کلچر سے شدید طورپر متاثر ہوتے ہیں۔ اِس کا نتیجہ بہت سنگین صورت میں برآمد ہوا ہے۔ ان کے دل سے اپنے والدین کی عظمت نکل جاتی ہے۔ وہ سمجھنے لگتے ہیں کہ ہمارے ماں باپ کچھ نہیں جانتے۔
اصل یہ ہے کہ اِن لڑکوں اور لڑکیوں کے والدین خود تو عام طورپر انگریزی اسکولوں کے پڑھے ہوئے نہیں ہوتے، مگر وہ اپنے بچوں کو نہایت مہنگے قسم کے انگریزی اسکولوں میں پڑھاتے ہیں۔ اِس کا ایک خطرناک نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ یہ بچے جب اسکولوں اور کالجوں سے تعلیم پاکر گھر لوٹتے ہیں تو ان کے اور ان کے والدین کے درمیان ایک واضح نابرابری پیدا ہوچکی ہوتی ہے۔ مثلاً بچے برٹش یا امریکن لہجے میںانگریزی بولتے ہیں، لیکن ان کے والدین یاتو انگریزی جانتے ہی نہیں، یا وہ ناقص لہجے میں انگریزی بولتے ہیں۔ اِس فرق کی بنا پر شعوری یا غیر شعوری طورپر ایساہوتا ہے کہ بچوں کے اندر اپنے بارے میں برتری کا احساس پیدا ہوجاتا ہے۔ وہ اپنے آپ کو زیادہ اور اپنے والدین کو کم سمجھنے لگتے ہیں۔ اِس کے نتیجے میں وہ صورتِ حال پیدا ہوتی ہے جس کو ایک حدیثِ رسول میں پیشین گوئی کے طورپر اِس طرح بتایا گیا ہے کہ اولادخود اپنے آپ کو اپنے والدین کا آقا سمجھنے لگے گی (أن تلد الأمۃ ربَّتَہا)۔
یہ صورت حال مشرق سے لے کر مغرب تک، تمام مسلم خاندانوں میں پیدا ہوچکی ہے۔ اِس کا تقاضا ہے کہ لوگ اپنے آپ پر نظرثانی کریں اور اِس مسئلے کا موثر حل دریافت کریں۔
واپس اوپر جائیں

سوال وجواب

سوال
2003 میں جب عراق اور امریکا کے درمیان تنازع پیدا ہوا، اُس وقت آپ نے عراق کے سابق صدر صدام حسین (وفات:2006 ) کے نام ایک مفصل خط لکھا تھا، جو الرسالہ، جون 2003 میں ’’صدام حسین کے لیے انتخاب‘‘ کے عنوان سے چھپا تھا۔ اِس خط میں آپ نے دوسری باتوں کے علاوہ، صدام حسین کو وقتی طور پر دست برداری کا طریقہ اپنانے کی تلقین کی تھی۔ میرا سوال یہ ہے کہ کیا قرآن اور سیرت میں اِس معاملے کی کوئی مثال موجود ہے (خطیب اسرار الحسن عمری، تمل ناڈو)
جواب
قرآن کی سورہ نمبر 27 میں ملکۂ سبا کا واقعہ بیان ہوا ہے۔ حضرت سلیمان نے ملکہ سبا سے سیاسی دست برداری کا مطالبہ کیا۔ ملکہ سبا نے اِس مطالبے کو مان لیا۔ کیوں کہ مطالبہ نہ ماننے کی صورت میں ذلت اور فساد کا اندیشہ (النمل: 37 ) تھا، جب کہ مطالبہ ماننے کی صورت میں قومِ سبا کے تمام تجارتی مفادات بدستور محفوظ رہتے تھے۔ملکۂ سبا کی اِس روش کو قرآن میں ایک مثبت روش کے طور پر بیان کیا گیا ہے۔ گویا کہ اِس روش کو قرآن کی کھلی ہوئی تائید حاصل ہے۔ اِس سے یہ اصول ملتاہے کہ کسی وقت دست برداری سے اگر ایک بڑا فائدہ ملتاہو تو اس دست برداری کو قبول کرلینا چاہئے، کیوں کہ وہ حضرت عمر کے الفاظ میں، دوشر میں سے بہتر شر (خیر الشرَّین) کے انتخاب کے ہم معنی ہے۔
خود پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی سے اِس اصول کی تصدیق ہوتی ہے۔ مثلاً آپ نے مکہ میں توحید کی دعوت شروع کی تو وہاں کے سرداروں کی طرف سے آپ کے مشن کی سخت مخالفت کی گئی۔ جو لوگ آپ پر ایمان لاتے، اُن کو طرح طرح ستایا جاتا۔ اُس وقت آپ نے 5 نبوی میں اہلِ ایمان کو مشورہ دیا کہ وہ مکہ چھوڑ کر پڑوسی ملک حبش (Abyssinia) چلے جائیں۔ چناں چہ مجموعی طورپر 119 اہلِ ایمان مکہ سے حبش چلے گئے۔ اُس وقت آپ نے یہ نہیں فرمایا کہ مکہ ہمارا وطن ہے، اِس لیے ہم یہاں رہیں گے اور ہر قیمت پر اپنے حق کی لڑائی لڑتے رہیں گے۔
ہجرتِ مدینہ بھی اِسی اصول کی ایک مثال ہے۔ مکہ کے سرداروں نے جب دار الندوہ میں یہ فیصلہ کیاکہ آپ کو قتل کردیا جائے، اُس وقت آپ خاموشی کے ساتھ مکہ کو چھوڑ کر مدینہ چلے گئے۔ آپ نے یہ نہیں فرمایا کہ مکہ میرا وطن ہے اور میں کسی بھی قیمت پر اپنے وطنی حق سے دست بردار ہونے والا نہیں۔ اِس اصول کی حکمت یہ ہے کہ ایک وقتی اور جزئی دست برداری کا یہ فائدہ ہوتا ہے کہ ملک میں امن قائم رہتا ہے اور یہ امکا ن باقی رہتا ہے کہ مواقع (opportunites) کو استعمال کرکے اپنی ترقی کے سفر کو جاری رکھا جائے۔
موجودہ زمانے میں عراق اور افغانستان کے مسئلے کو بہت بڑا مسئلہ سمجھا جاتا ہے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ یہ دونوں مسئلے صرف اِس لیے پیدا ہوئے کہ وہاں کے مسلم لیڈروں نے دانش مندی کا طریقہ اختیار نہیں کیا۔ مذکورہ اصول کے مطابق، اگر عراق اورافغانستان میں ’’خیر الشّرَّین‘‘ کے اصول کو اختیار کیا جاتا تو یہ مسئلہ بہت پہلے ختم ہوچکا ہوتا، اور عراق اور افغانستان اپنی توانائی کو تخریب کے بجائے تعمیر میں استعمال کرنے کے قابل ہوجاتے۔
سوال
The Quran says: ‘Does God have daughters while you have sons?’ (51: 39) So, Maulana, does this mean that women are inferior than men? If not, what does the words of the Quran quoted above, signify? Our society considers women lowly, and accordingly is unjust to women. Maulana, is it just my misconception, or does God also place women inferior to men? If it is my misconception, please clarify it for me, so that I do not sin unknowingly. I just want to know the true interpretation of these verses, and I believe that only you can help me understand it clearly. As I have said earlier, you have given me a new life by erasing the myths about women I had since my childhood.
My other question lies in Chapter 2, verse 281-282 where it states that one man is equal to two women, as a witness. Is this ratio conditional according to the matter because this is the matter between two men where one is lender and another is borrower, here in this case a woman is nowhere in the scene because of this the reason lies behind this motto that two women will be equal to one man? Or will this ratio remain in each and every case? If only one woman is eye-witness to a crime like theft or murder, will she be counted as one evidence or she will be denied of being one evidence because she is the only one? What does our Islamic Shariah say about this? It is an important question for me, and in my surrounding no one can give me the perfect answer, and I am sure you will soothe my mental agony, by giving the answer. (Talat Qadri, Mumbai)
جواب
آپ نے قرآن کے حوالے سے دو سوالات کیے ہیں۔ اِس سلسلے میں آپ نے قرآن کے جو حوالے دئے ہیں، ان حوالوں کا مطلب یہ نہیں ہے کہ عورت کا درجہ مرد کے مقابلے میں کم ہے۔ اِس طرح اِن حوالوں کا یہ مطلب بھی نہیں کہ عورت کا ایمان مرد کے ایمان کے مقابلے میں کم ہوتا ہے۔ آپ کے اِن دونوں سوالوں کی یہاں وضاحت کی جاتی ہے۔
1 - قرآن کی سورہ الطّور اور سورہ النجم میں جو بات کہی گئی ہے، وہ مشرکین کے اپنے عقیدے کی نسبت سے ہے، نہ کہ حقیقتِ واقعہ کی نسبت سے۔ اِن آیتوں میں ایک سادہ منطق (simple logic) کے ذریعے مشرکین کے عقیدے کی تردید کی گئی ہے۔ مشرکین اپنے تصور کے مطابق، بیٹے کی پیدائش پر خوش ہوتے تھے اور بیٹی پیدا ہونے پر افسردہ ہوجاتے تھے۔ (النّحل:58 )، پھر یہی لوگ یہ مانتے تھے کہ فرشتے، خدا کی بیٹیاں ہیں (الزخرف:19 )۔
اِس کو لے کر کہاگیا کہ تم خود اپنے تصور کے مطابق، غیر سنجیدہ ثابت ہورہے ہو۔ اگر تم اِس معاملے میں سنجیدہ ہوتے تو تم ایسا کبھی نہ کہتے، کیوں کہ خدا بیٹا اور بیٹی دونوں کا خالق ہے، پھر ایسا کیوں کر ممکن تھا کہ خالق اپنی مخلوق کے لیے تو تمھارے تصور کے مطابق، بیٹیاں اور خود اپنے لیے بیٹی کا انتخاب کرے جس کی حیثیت تمھارے نزدیک کم تر ہے۔ قرآن کی یہ آیتیں اِس معاملے میں بیانِ واقعہ نہیں ہیں، بلکہ اس میں الزامی جواب کا طریقہ اختیار کیا گیا ہے، یعنی مخاطب کے اپنے مانے ہوئے عقیدے کی بنیاد پر اس کی تردید کرنا۔
جہاں تک عورت اور مرد کے درجے کا تعلق ہے، اس کا بیان قرآن کی سورہ آل عمران میںآیا ہے۔ آیت کے الفاظ یہ ہیں: بعضکم من بعض:
You are members, one of another (3:195)
2 - آپ کا دوسرا سوال عورت کی گواہی کے بارے میں ہے۔ اُس کا بیان قرآن کی سورہ البقرہ کی آیت نمبر 282 میں آیا ہے۔ قرآن کی اِس آیت میں عورت اور مرد کی گواہی کے درمیان جو فرق کیاگیا ہے، وہ امتیاز (discrimnation) کی بنا پر نہیں ہے، بلکہ وہ ایک فطری حقیقت کی بنا پر ہے۔ اصل یہ ہے کہ عورت اور مرد درجے کے اعتبار سے، پوری طرح مساوی ہیں، لیکن زندگی میں رول کے درمیان دونوں کے درمیان فرق ہے۔اِسی مختلف رول (different role)کی بنا پر عورت اور مرد دونوں کی صلاحیتوں میں فرق رکھا گیا ہے۔
حیاتیاتی مطالعہ بتاتا ہے کہ عورت اور مرد کے دماغ کی بناوٹ ایک نہیںہے، بلکہ دونوں میں فرق ہے، وہ یہ کہ عورت کا دماغ متعدد رخی (multi focussed) دماغ ہے۔ اِس کے مقابلے میں، مرد کا دماغ واحد رخی (single focussed) ہے۔ یہ فرق روز مردہ کی زندگی کے لیے بہت اہمیت رکھتا ہے۔ لیکن جب کوئی اتفاقی واقعہ پیش آئے تو وہاں یہ امکان رہتا ہے کہ مرد اپنی دماغی بناوٹ کے تحت مذکورہ واقعے کو پورے ارتکاز (concentration)کے ساتھ دیکھ سکے۔ اِس کے مقابلے میں عورت کے لیے یہ ممکن ہوتا ہے کہ وہ اپنی ذہنی بناوٹ کی بناپر واقعے کو غیر ترکیزی انداز میں دیکھے، اس کا ذہن واقعے کے کسی جز کو ریکارڈ کرے اور اس کے کسی دوسرے جز کو ریکارڈ نہ کرسکے۔
اِسی لیے عورت کی گواہی کی صورت میں دو عورتوں کی شرط رکھی گئی ، تاکہ قرآن کے الفاظ میں، ایک عورت اگر بھول جائے تو دوسری عورت اس کو یاد دلا دے: أن تضلّ إحداہما فتذکر إحداہما الأخری:
So that if one of the two women should forget, the other can remind her. (2:282)
واپس اوپر جائیں

خبرنامہ اسلامی مرکز — 205

1 - سی پی ایس برانچ (سہارن پور، یوپی) کے تحت 30 مئی 2010 کو القرآن مشن لانچ کیا گیا۔ سہارن پور کے اعلیٰ تعلیم یافتہ غیر مسلم حضرت اِس پروگرام میں شریک ہوئے اور انھوں نے اِس مشن میں اپنا بھر پور تعاون دینے کا وعدہ کیا۔ ہندو لوگوں نے یہاں سے خرید کر قرآن حاصل کیا اور کہاکہ ہم اپنے اپنے حلقے میں ایسے لوگوں کو مطالعے کے لیے دیں گے۔ اِس موقع پر غیر مسلموں کو دعوتی لٹریچر اور قرآن کا انگریزی ترجمہ دیاگیا۔
2 - پہل گام (کشمیر) میں یکم جون 2010 کو آرمی آفیسرس کا ایک فنکشن ہوا۔ اِس موقع پر الرسالہ حلقۂ کشمیر کے ساتھیوں نے بڑے پیمانے پر انڈین آرمی افسران کو قرآن کا نگریزی ترجمہ اور دعوتی لٹریچر دیا۔
3 - انڈیا اور انڈیا کے باہر مختلف جیلوں میں الرسالہ مشن کے تحت دعوتی لٹریچر پہنچانے کا کام جاری ہے۔ اِس سلسلے میں یہاں ایک خط ملاحظہ ہو:
پارسل ملا۔ جزاک اللہ! (1) تذکیر القرآن (2) قرآن (انگلش) (3) قرآن ہندی خوبصورت کتابچہ (ہندی اور انگریزی) فولڈر۔ محترم، کتاب کا سرورق اور اس کا گٹ اَپ بہت ہی خوبصورت ہے اوراس کو پڑھنے کے بعد محسوس ہوتا ہے کہ ہم نے اپنا بہت قیمتی وقت برباد کردیا۔ اللہ ہم کو اپنے دین کی طرف لوگوں کو بلانے کی توفیق عطا فرمائے اور اس پر عمل کرنے کی بھی (محمد یعقوب عبد المجید، سنٹرل جیل، ناسک)
1976 -4 میں شروع کیا ہوا ’’الرسالہ‘‘ الحمد للہ آج ایک مینارۂ نور بن چکا ہے۔ صحت مند ثابت اور درست انداز کی سوچ کے ساتھ ساتھ موجودہ ملکی وغیر ملکی حالات کو مد نظر رکھتے ہوئے قارئین کی رہنمائی کے لئے آپ نے اپنے آپ کو وقف کررکھا ہے۔ وہ لوگ جو جوش ہی جوش سے سارے نظام کو خرابیوں کی طرف لے جاتے ہیں، انھیں ہوش اور صبر سے تمام امور کو صحیح طورپر انجام دیتے رہنے کے لیے آپ کی تحریریں ،نیز تقریریں بے مثال اور کارگر ہوتی ہیں۔ اللہ تعالیٰ آپ کو سدا صحت مندرکھے۔ آمین(ایم عبد الحکیم، ملک پیٹ، حیدر آباد)
5 - القرآن مشن کے تحت غیر مسلم حضرات کو قرآن پہنچانے کا کام مسلسل طورپر جاری ہے، اِس سلسلے میں 30 مئی 2010 کو مشن کے کچھ ساتھیوں نے لودھی گارڈن (نئی دہلی) میں بڑے پیمانے پر لوگوں کو قرآن دیا۔ لوگوں نے اس کو شکریے کے ساتھ قبول کیا۔
6 - القرآن مشن کے تحت ہمارے ساتھی مسلسل طورپر غیر مسلم حضرات کو قرآن پہنچا رہے ہیں۔ آج کل ہمارے ساتھی دہلی کے پاش علاقوں کے بڑے بڑے پارک میں جاکر لوگوں کو قرآن کا انگریزی ترجمہ اور دعوتی لٹریچر دیتے ہیں۔ لوگ بہت شوق سے اس کو لیتے ہیں اور شکریہ ادا کرتے ہیں۔
7 - میں، محمد کاظم حکیم ،سورت (گجرات) کا باشندہ ہوں اور کئی سال سے سورت کی عدالتوں میں بطور ایڈووکیٹ وکالت کررہا ہوں۔ میں آپ کا پُرانا پرستار (amirer) ہوں۔ آپ کے تفہیم قرآن سے بہت متاثر ہوں اور آپ کے جو بھی انگریزی مضامین Times of India کے سورت۔ احمد آباد ایڈیشن میں اس سے قبل شائع ہوئے ہیں وہ پڑھتا رہا ہوں۔ آپ کی خوش بیان تحریروں کو پڑھ کر آپ کا معتقد بن گیا ہوں اور یہی میرا آپ سے غائبانہ تعارف ہے۔ اس وقت میرے پاس آپ کی صرف ایک کتاب ہے اور وہ ہے Goodword Books کی انگریزی میں شائع شدہ اور آپ کا ترجمہ کیا ہوا اورفریدہ خانم کا ایڈٹ کیا ہوا “The Quran” ۔ مختصر مگر بہت ہی جامع طریقہ سے لکھا گیا یہ انگریزی ترجمہ اتنا شاندار اور قابلِ تعریف ہے جسے لفظوں میں بیان نہیں کیا جاسکتا۔ آپ کو اس لاجواب ترجمہ کے لیے جتنی بھی مبارک باد دی جائے کم ہے۔ محترم، آج میں نے ایک خاص خبر آپ تک پہنچانے کے لئے یہ خط لکھنا ضروری سمجھا۔ ٹائمز آف انڈیا کے 17 مئی 2010 کے سورت۔ احمد آباد (گجرات) سے شائع ہونے والے ایڈیشن میں پہلے صفحہ پر ایک خبر شائع ہوئی ہے۔ وہ پہلا صفحہ میں آپ کو بھیج رہا ہوں۔ اس میں خاص طورسے آپ کی کتاب “True Jihad” کا ذکر ہے۔ اسلام میں ’’جہاد‘‘ کے مطلب کو سمجھانے کے ریفرنس میں گجرات ہائی کورٹ (احمد آباد) کے دو ججJustice Jayant Patel & Z. K. Saiyed) ( نے اپنے مشترکہ ججمینٹ میں آپ کی اِس کتاب کا خصوصی طور سے حوالہ دیا ہے۔ اصل الفاظ ملاحظہ ہوں:
The Judges cited Maulana Wahiduddin Khan’s book “True Jihad” to explain ‘Jihad’. Islam never permits “use of violence for taking revenge, but power is to be used only as a protective measure. It is only by way of self-defence, attack is permissible. Such principles are interwoven even in the Indian penal Code for invoking the right of self-defence,” the order states. (p. 1)
8 -ٹیلی فون کے ذریعے ٹیلی کانفرنس کا طریقہ دعوہ مشن کے لیے استعمال کیا جارہا ہے۔ اِس سلسلے میں 9 مئی 2010 کو ایک خصوصی پروگرام ہوا۔ 9مئی کی صبح 6 بجے امریکا کے مختلف شہروں سے لوگ ٹیلی فون کے ذریعے مربوط ہوگئے۔ اِس موقع پر دہلی سے صدر اسلامی مرکز نے ایک ٹیلی فونی خطاب کیا۔ اس کو امریکا کے مختلف شہروں میں لوگوں نے ٹیلی فون کے ذریعے سنا۔ خطاب کے بعد سوال وجواب کا پروگرام ہوا۔ اس کا موضوع یہ تھا — امریکا میں دعوت کے کام کی اہمیت اور اس کا طریقِ کار۔ خطاب کے بعد سوال وجواب کا پروگرام ہوا۔6 جون 2010 کو بھی اِسی طرح کی ایک ٹیلی کانفرنس ہوئی۔اس کا موضوع یہ تھا— مغربی ممالک میں موثر دعوہ ورک کس طرح کیا جائے۔
9 -عمر آباد (تمل ناڈو) میں ایک بڑا دینی ادارہ قائم ہے۔ اِس کا نام جامعہ دار السلام ہے۔ اس کی دعوت پر صدر اسلامی مرکز نے مولانا محمد ذکوان ندوی کے ہم راہ جنوبی ہند کا سفر کا کیا۔ یہ سفر 7 جون 2010 کو شروع ہوا اور 11 جون 2010 کو وہاں سے واپسی ہوئی۔ یہ سفر غیر معمولی طورپر کامیاب رہا۔ اس سفر کی روداد ان شاء اللہ الرسالہ میں سفرنامے کے تحت شائع کردی جائے گی۔
واپس اوپر جائیں

Al-Quran Mission

Quran Distribution Centres have started being formed
After the launch of the Al-Quran Mission dayees from India and all over the world have set up Quran Distribution Centres in their own areas. Their aim to spread the Quran translated by Maulana Wahiduddin Khan in English and Hindi and other dawah material.
Goodword, CPS International and dayees all over are receiving requests for more and more free copies of the Quran. Some of the requests received are:
ک Thank you so very much! We would love to have you send us 200 copies of the Quran translated by Maulana Wahiduddin Khan to Chaplaincy Services at Alta Bates Summit Medical Center. We will certainly use these resources not only with our patients and their families, but also as a valuable source of information and healing to the chaplains and hospital staff. Thank you again for your generosity, and may it return to you tenfold! ABSMC (Alta Bates Summit Medical Center, Berkeley, CA 94705)
ک I would like to thank you for this extremely useful website; it is very enlightening to listen to and read Maulana’s works. Jazak Allah khair! (Junaid Hassan, Weidenthal, Germany)
ک I like to read the Qur’an in modern language. (D Dasen, Bangalore, India.)
ک I love Quran. (Bobur Gafurov, Uzbekistan)
ک I Sankar O, completed my B.Ed in EFL university. I request you to send me a copy of Quran since I would like to know about the book. One of my friends cited this web address to me to read the Quran and I find it interesting (also enlightening) to read the simplest) version of Quran, which anybody can read and understand. I welcome your service of providing free copy of Quran; it really helps the students like me. Thanking you. (Sankar Oomaidurai, Hyderabad, India)
ک Hello I am interested in the Muslim faith, and therefore I would like to hear from you the Koran. Thanks! (Yuri Utyanskiy, Russia)
ک Hello, I the Crimean Tatar on a nationality, the Moslem. I wish to read, study the Quran, but unfortunately, I do not know the Arabian language. Send me please the Quran in English. Thankful in advance. (Tsurbin Alexey, Ukraine)
ک I am eager to learn about Islam and I am very impressed by Islam. I agree to the philosophy and Ideology of Maulana Wahiduddin Khan. So please send me a copy of the Quran. (Ramnath, Bangalore, India)
Quran and Dawah Material are being Distributed Worldwide
Dayees are also interacting with people and giving them copies of the Quran and other small dawah material. Some of the responses that have been received are:
ک I always have problem understanding the translation of Quran. It always seemed like it can not be understand without consulting an Alim. But the transliteration done by Maulana Wahiduddin Saheb seems to be the solution to my problem. (Imran Khan, Bangalore, India)
ک “After Gandhiji, it is you who impressed me.” (Bidhya Bhusan Singh)
Programs of Al-Quran Mission Members
ک Maulana Wahiduddin Khan had visited the Mewar Institute on 15th May, 2010 with some of his companions and delivered a lecture on “Islam-Its Teachings and Its Contribution to the Society”. Quran copies and dawah material was distributed after the lecture. The response to this was very positive. In fact Dr Maria from the Institute has responded with the following:
On behalf of Mewar Institute we express our profound gratitude to your good self for your kind visit and gracious presence in our Institute for a Guest Lecture on the topic: “Islam-Its Teachings and Its Contribution to the Society” on 15th May, 2010.” (Dr. Maria Haseen)
ک KIIPS organized a Dawah Camp at 8 Mata Kheer Bhawani Temple in Kashmir on 18th and 19th of June, 2010. While doing Talif-e-Qalb
through cold drinks, juices and biscuits, they distributed 600 copies of the Quran and 2000 leaflets. Booklets were also provided to devotees on the eve of the yearly mela. Adminstrators and Hindu devotees appreciated this gesture a lot. (Hamidullah Hamid, Srinagar)
واپس اوپر جائیں

Monday, 2 August 2010

Al Risala | August 2010 (الرسالہ،اگست)

2

-اضاعت ِ صلوٰۃ

3

- قرآن کی ایک آیت

4

- صادق انسان

5

- قرآن میں تدبر

6

- تزکیہ کی حقیقت

7

- تخلیقی حمد

8

- اسلامی نظریۂ جنگ

10

- مہدی یا مسیح کی پہچان

12

- انتظار کی مدت ختم

13

- طالب اور مطلوب

14

- دعوتی شعور کا فقدان

18

- عارفانہ دعاء

19

- موت، موت کی یاد

20

- کشتی ٔ نوح کی دریافت

22

- فتویٰ اور فتویٰ ایکٹوزم

25

- مسلم ملٹنسی کا مسئلہ

27

- خود کُش بم باری

28

- مسلم پرسنل لا کا مسئلہ

33

- اپنی غلطیوں کو دریافت کیجئے

34

- ذہانت کا منفی پہلو

35

- مشترک خاندانی نظام

36

- وقت کی اہمیت

37

- سوال وجواب

40

- خبرنامہ اسلامی مرکز

43

- القرآن مشن


اضاعت ِ صلوٰۃ

قرآن کی سورہ مریم میں پچھلی امتوں کا ذکر کرتے ہوئے ارشاد ہوا ہے: فخلف من بعدہم خلفٌ أضاعوا الصلوۃ واتبعوا الشہوات، فسوف یلقون غیّا (مریم:59 ) یعنی پھراُن کے بعد ایسے لوگ اُن کے جانشین ہوئے جنھوں نے نماز کو ضائع کردیا اور خوہشات کے پیچھے پڑ گئے، پس عن قریب وہ اپنی خرابی کو دیکھیں گے۔قرآن کی اِس آیت میں بتایا گیا ہے کہ کسی امت کی بعد کی نسلوں میں کس قسم کی خرابی پیدا ہوتی ہے۔ اس کی ایک صورت یہ ہے کہ بعد کی نسلوں میں وہ ظاہرہ پیدا ہوتا ہے جس کو قرآن میں ’’اضاعتِ صلوٰۃ‘‘ کہاگیا ہے۔اضاعتِ صلوۃ صرف ایک ظاہرے کا نام نہیں ہے۔ کسی امت کے دورِ زوال میں جب اس کے افراد کے اندر اضاعتِ صلوۃ کا واقعہ پیش آتا ہے، تو اُس کی نسبت سے ان کی زندگی کے دوسرے مظاہر بھی لازمی طورپر متاثر ہوتے ہیں۔ اضاعتِ صلوۃ عملاً اضاعتِ دین کے ہم معنیٰ بن جاتا ہے۔
قرآن کی اِس آیت میں، اضاعتِ صلوۃ سے مراد ترکِ صلاۃ نہیں، اور نہ اس سے یہ مراد ہے کہ زوال کے زمانے میں نماز کے ظاہری آداب کا اہتمام باقی نہیں رہتا۔ اِس سے مراد یہ ہے کہ نماز کے آداب تو بظاہر پوری طرح باقی رہتے ہیں، لیکن اس کی روح لوگوں کے اندر ختم ہوچکی ہوتی ہے۔ لوگوں کی نماز اُس آدمی جیسی نماز بن جاتی ہے جس کی نماز کو دیکھ کر رسو ل اللہ ﷺنے فرمایا تھا: ارجع فصلّ فإنّک لم تصلّ(الترمذی، رقم: 2636 ) یعنی جاؤ پھر سے نماز پڑھو، کیوں کہ تم نے نماز نہیں پڑھی۔امت کے دور زوال میںایسا نہیں ہوتا کہ لوگ نماز کے ظاہری آداب کو بھی چھوڑ دیں۔ حقیقت یہ ہے کہ ظاہری آداب کے اعتبار سے نماز کبھی کسی امت میں متروک نہیں ہوتی۔ اصل چیز جو متروک ہوجاتی ہے، وہ نماز کی روح (spirit) ہے۔ اِسی روح کو قرآن میں ’’خشوع‘‘ کہا گیا ہے۔ اضاعتِ صلوۃ کی پہچان یہ ہے کہ لوگ وقتی طورپر نماز کے ظاہری آداب کا تو اہتمام کرتے ہوں، لیکن عملی طورپر ان کی دلچسپیاں تمام تر مادی چیزوں سے جڑی ہوئی ہوں۔ اِسی ظاہرہ کو ’’اتباعِ شہوات‘‘ کے لفظ سے تعبیر کیا گیا ہے۔
واپس اوپر جائیں

قرآن کی ایک آیت

قرآن کی سورہ نمبر 89میں ارشاد ہوا ہے: ’’پس انسان کا حال یہ ہے کہ جب اس کا رب اُس کو آزماتا ہے اور اس کو عزت اور نعمت دیتا ہے، تو وہ کہتا ہے کہ میرے رب نے مجھ کو عزت دی۔ اور جب خدا اس کو آزماتا ہے اور اس کا زرق اُس پر تنگ کردیتا ہے، تو وہ کہتا ہے کہ میرے رب نے مجھ کو ذلیل کردیا‘‘ (الفجر:15-16 )
اِس آیت میں انسان کی ایک کمزوری کا ذکر کیا گیا ہے۔ جو شخص اپنی اِس کمزوری کو جانے اور اُس پر کنٹرول رکھے، وہ کامیاب ہوگا، اور جو شخص اپنی اِس کمزوری سے بے خبر ہو اور اُس پر کنٹرول نہ کرسکے، وہ خدا کی اِس دنیا میں ناکام ہو کر رہ جائے گا۔
دنیامیں کسی کے حالات ہمیشہ یکساں نہیں رہتے۔ اُس کو کبھی زیادہ ملتا ہے اور کبھی کم۔ دونوں ہی معاملہ خدا وند ذوالجلال کے فیصلے کے تحت ہوتا ہے۔
مگر انسان کی یہ کمزوری ہے کہ جب اُس کو زیادہ ملے تو وہ اس کو اپنی لیاقت کا نتیجہ سمجھ لیتا ہے اور اُس نفسیات کا شکار ہوجاتا ہے جس کو برتر اندازہ (over-estimation) کہا جاتا ہے۔ اِس کے برعکس، جب آدمی کو کم ملے تو وہ یہ سمجھ لیتا ہے کہ مجھ کو نظر انداز کیاگیا ہے اور پھر وہ اُس نفسیات کا شکار ہوجاتا ہے جس کو کم تر اندازہ (under-estimation) کہاجاتا ہے۔
یہ دونوں ہی قسم کی نفسیات کسی شخص کے لیے قاتل کی حیثیت رکھتی ہیں۔جو آدمی اپنا زیادہ اندازہ کرلے، وہ غیر واقعی طورپر برتری کی نفسیات میں مبتلا ہوجائے گا۔ اِس کے برعکس، جو شخص اپنا کم تر اندازہ کرے، وہ غیر واقعی طورپر کم تری کی نفسیات کا شکار ہوجائے گا۔
صحیح انسان وہ ہے جو اِن دونوں قسم کی نفسیات سے اپنے آپ کو بچائے۔ یہی وہ انسان ہے جس کو قرآن میں النفس المطمئنۃ (الفجر:27 )کہاگیا ہے، یعنی ہر صورت میں یکساں حال پر قائم رہنا۔
واپس اوپر جائیں

صادق انسان

قرآن کی سورہ نمبر 9 میں یہ آیت آئی ہے: یا أیہا الذین آمنوا اتقوا اللہ وکونوا مع الصادقین (التوبۃ:119 ) یعنی اے ایمان والو، اللہ سے ڈرو اور صادقین کے ساتھ رہو۔
اِس آیت میں صادق کا لفظ آیا ہے۔ اِس سے مراد کون لوگ ہیں۔ مفسر القرطبی نے نقل کیا ہے کہ اِس سے مراد وہ لوگ ہیں جن کا ظاہر وباطن یکساں ہو (ہم الذین استوت ظواہرہم وبواطنہم)۔ ظاہر وباطن میں یکسانیت کا مطلب کیا ہے۔
ظاہر وباطن میں یکسانیت کا مطلب یہ ہے کہ آدمی جو سوچے، وہی کرے اور جو کرے، وہی سوچے۔ مثلاً اگر وہ وعدہ کرے تو اس کو مکمل طورپر پورا کرے، اور اگر پورا نہیں کرنا ہے تو وہ وعدہ بھی نہ کرے۔اُس کی شخصیت کو سمجھنا پوری طرح ممکن ہو۔ ایسے انسان کے اندر وہ کردار ہوتا ہے جس کو قابلِ پیشین گوئی کردار (predictable character) کہاجاتا ہے۔
صادق کا لفظ منافق کے لفظ کی ضد ہے۔ صادق انسان کے اندر وہ شخصیت ہوتی ہے جس کو انٹگریٹیڈ شخصیت (integrated personality) کہا جاتا ہے، یعنی وہ انسان جو نفسیاتی پیچیدگی (complex) سے پاک ہو، جس کی شخصیت کے مختلف پہلو کامل توافق کے ساتھ عمل کرتے ہوں۔ انسان فطری طور پر تضادات کا مجموعہ (mixture of opposites) ہوتا ہے۔ جو انسان اپنی شخصیت کے اِن مختلف اور متنوع پہلوؤں کو ایک ہم آہنگ کُل (integrated whole) میں ڈھال سکے، وہی انسان صادق انسان ہے۔
صادق انسان خلقِ عظیم (القلم: (4 کا مالک ہوتا ہے۔ صادق انسان کا ذہنی سانچہ وہ اعلیٰ سانچہ (mould) ہوتا ہے جس کو قرآن میں شاکلۂ خداوندی (الاسراء:84 ) کہاگیا ہے۔ صادق انسان دنیا میں فرشتوں کی صحبت میں رہتا ہے، اور موت کے بعد آخرت میں اس کو انبیاء اور شہداء اور صالحین (النساء:69 ) کی صحبت میں رہنے کی سعادت حاصل ہوگی۔
واپس اوپر جائیں

قرآن میں تدبر

قرآن میں حکم دیاگیا ہے کہ قرآن کی آیتوں پر تدبر کرو (ص:29 )۔ اس کی ایک سادہ مثال یہ ہے۔ قرآن کی سورہ نمبر 2 میں یہ بتایا گیا ہے کہ اہلِ جنت کو جب وہاں کا رزق دیا جائے گا، تو وہ کہیں گے کہ ایسا ہی رزق ہم کو دنیا میں بھی ملا تھا (البقرۃ:25 )۔
اِس آیت میں جنت کی نعمتوں کے لیے رزق کا لفظ استعمال ہوا ہے اور دنیا کی نعمتوں کے لیے بھی رزق کا لفظ ۔ یہاں سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا آخرت کی جنت کا رزق بھی عین وہی ہوگا جو موجودہ دنیا میں انسان کو ملتاہے۔ ظاہر ہے کہ ایسا نہیں ہے—
کیوںکہ جنت کی ہر چیز کامل (perfect) ہوگی اور موجودہ دنیا کی ہر چیز غیر کامل (imperfect) ہوتی ہے۔
اِس سوال پر غور کرتے ہوئے ہم اِس حقیقت تک پہنچتے ہیں کہ ہر لفظ کا ایک ابتدائی مفہوم ہوتا ہے اور دوسرا اس کا انتہائی مفہوم۔ مذکورہ آیت میں دنیا کی نسبت سے، رزق کا لفظ اپنے ابتدائی مہفوم میں آیا ہے، اور جنت کی نسبت سے، رزق کا لفظ اپنے انتہائی مفہوم میں استعمال ہوا ہے۔ اِس سے معلوم ہوا کہ دنیا میں ہر چیز اپنے ابتدائی درجۂ لذت کے اعتبار سے ملتی ہے، جب کہ جنت میں ہر چیز اپنے انتہائی درجۂ لذت کے اعتبار سے ملے گی۔
اِس سادہ مثال سے معلوم ہوتاہے کہ قرآن میں تدبر کا مطلب کیا ہے۔ تدبر کا مطلب اصلاً یہ ہے کہ آپ کسی قرآنی آیت کو لے کر اُس پر سوال قائم کرسکیں۔ جب سوال سامنے آئے گا تو ذہن غوروفکر کے ذریعے اُس کا جواب معلوم کرنے کی کوشش کرے گا۔
اِس طرح آیت کے اندر چھپے ہوئے معانی کھلیں گے، آیت کے گہرے معانی تک آپ کی رسائی ہونے لگے گی۔ اِس طرح آپ کا یقین بڑھے گا، آپ کی معرفت میں اضافہ ہوگا، آپ کے اندر ذہنی ارتقاء کا عمل شروع ہوجائے گا۔
واپس اوپر جائیں

تزکیہ کی حقیقت

پیغمبر کے فرائض میں سے ایک فریضہ وہ ہے جس کے لیے قرآن میں تزکیہ (البقرۃ:129 ) کا لفظ آیا ہے۔ ہر مومن کی یہ لازمی ضرورت ہے کہ وہ اپنا تزکیہ کرے۔ تزکیہ کے بغیر وہ اعلیٰ شخصیت نہیں بنتی جس کو قرآن میں ربانی شخصیت (آل عمران:79 ) کہا گیا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ تزکیہ ہی کسی انسان کے لیے جنت میں داخلے کا ذریعہ بنے گا (طٰہٰ: 76 )۔
تزکیہ کا لفظی مطلب نمو یا افزائش (to flourish) ہے۔ اِس نمو کی ایک مادّی مثال درخت ہے۔ درخت ایک بیج کی نمو پذیری کا نتیجہ ہوتا ہے۔ ایک بیج موافق ماحول پاکر بڑھنا شروع ہوتا ہے، یہاں تک کہ وہ ایک ہرا بھرا درخت بن جاتا ہے۔ یہی معاملہ انسانی تزکیہ کا بھی ہے۔ اِس اعتبار سے،تزکیہ کو روحانی ارتقا یا ذہنی ارتقا (intellectual development) بھی کہا جاسکتا ہے۔
اللہ تعالیٰ نے انسان کو بہت سی امکانیات (potentials) کے ساتھ پیدا کیا ہے۔ اِن امکانیات کو واقعہ(actual) بنانے کا نام تزکیہ ہے۔
آدمی جب ایمان لاتا ہے تو وہ دراصل تزکیہ کے سفر کا آغاز کرتا ہے، یہاں تک کہ دھیرے دھیرے وہ ایک مُزکیّٰ انسان، یا ذہنی اور روحانی اعتبار سے ایک ارتقا یافتہ شخصیت (developed personality) بن جاتا ہے۔ یہی وہ انسان ہے جس کو آخرت کی ابدی جنت میں داخلہ ملے گا۔
تزکیہ کسی پُراسرار چیزکا نام نہیں۔ تزکیہ کا ذریعہ مراقبہ (meditation) نہیں ہے،بلکہ تزکیہ کا ذریعہ غوروفکر (contemplation) ہے۔ اپنی ذات اور کائنات کے بارے میں غور وفکر کرنا اور اُن سے معرفت کا ذہنی یا فکری رزق حاصل کرنا، یہی وہ عمل (process) ہے جس سے آدمی کے اندر مزکّٰی شخصیت بنتی ہے۔ تزکیہ ایک معلوم حقیقت ہے، نہ کہ کوئی مجہول حقیقت۔ یہ تزکیہ انسان کی اپنی کوشش سے حاصل ہوتا ہے، کسی مفروضہ بزرگ کے پُراسرار فیض سے اس کا کوئی تعلق نہیں۔
واپس اوپر جائیں

تخلیقی حمد

حضرت داؤد ایک پیغمبر تھے۔ انھوںنے اللہ تعالیٰ کی حمد ایک خاص انداز میں کی۔ یہ حمد اتنی زیادہ عظیم تھی کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: یا داؤد، اتعبتَ الملائکۃ (الشکرلابن أبی الدنیا، رقم الحدیث 36 ) یعنی اے داؤد، تم نے تو فرشتوں کو تھکا دیا۔
یہ سادہ طورپر صرف حمدِ داؤدی کا معاملہ نہیں ہے، بلکہ وہ حمدِ تفکیری کا معاملہ ہے۔ جب بھی کوئی شخص اللہ کی عظمتوں پر سوچتا ہے، وہ آلاء اللہ میں فکر وتدبر کرتا ہے تو اُ س کے اندر تخلیقی معرفت پیدا ہوتی ہے۔ وہ نئے نئے انداز سے اللہ تعالیٰ کی عظمتوں کو محسوس کرنے لگتا ہے۔ اُس وقت اس کی زبان سے حمدِ خداوندی کے اظہار کے لیے تخلیقی الفاظ (creative words)نکلنے لگتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ اعلیٰ درجے کی معرفت ہمیشہ، اعلیٰ درجے کے تدبر سے کسی بندۂ خدا کو ملتی ہے۔
مثال کے طورپر سورج ایک خدائی کارخانہ ہے جو زمین پر روشنی سپلائی کرتا ہے۔ اِسی طرح درخت بھی خدائی کارخانے ہیں جو انسان کو آکسیجن سپلائی کرتے ہیں۔ سورج دن کے وقت اپنی روشنی زمین پر بھیجتا ہے اور شام کے وقت وہ اس کوموقوف کردیتا ہے۔
اگر درخت بھی یہی کریں کہ وہ دن کے نصف حصے میں آکسیجن سپلائی کریں اور دن کے نصف حصے میں وہ آکسیجن سپلائی کرنا بند کردیں تو موجودہ زمین پر انسان کے لیے زندہ رہنا ناممکن ہوجائے گا۔
اِس طرح کی بے شمار خدائی حکمتیں ہیں۔ یہ حکمتیں واقعاتِ فطرت کے اندر چھپی ہوئی ہیں۔ انسان جب سوچتا ہے تو یہ چھپی ہوئی نشانیاں اُس پر ظاہر ہوجاتی ہیں۔
اُس وقت وہ اِس قابل ہوجاتا ہے کہ اس کی زبان پر حمد کے وہ عظیم الفاظ جاری ہوجائیں جس کی ایک مثال پیغمبر داؤد کے واقعے کی صورت میں بتائی گئی ہے— یہ اعلیٰ حمد ہی وہ چیز ہے جو انسان کو جنت کے اعلیٰ درجات تک پہچانے والی ہے۔
واپس اوپر جائیں

اسلامی نظریۂ جنگ

’’نبی ٔ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا طریقۂ دعوت وتبلیغ اور عصری تحریکات‘‘ کے عنوان کے تحت ایک مشہور عالم کا ایک مقالہ شائع ہوا ہے۔ اِس ضمن میں انھوںنے اسلامی نظریۂ جنگ پر کلام کرتے ہوئے لکھا ہے کہ: ’’اسلامی جہاد کی کارگزاریوں میں اِس کے علاوہ اور کسی بات کی گنجائش نہیں کہ پہلے پہل دشمنوں کو دین کی دعوت دی جائے۔ اگر وہ اسے قبول کرلیتے ہیں، تو اُن کے جان ومال حرام ہیں۔ اور جب اس کا انکار کریں، تو ان سے اسلام اور مسلمانوں کی (سیاسی) ذمے داری میں داخل ہوجانے کا مطالبہ کیا جائے گا۔ لیکن جب وہ لوگ اس کا بھی انکار کردیں، تو پھر جہاد کا حکم ہے، اور اُن سے جنگ کی جائے گی، یہاں تک کہ وہ اسلام لے آئیں، یا اس کے سامنے سرِ تسلیم خم کردیں۔ یہی اسلامی طریقہ ہے‘‘۔ (پندرہ روزہ تعمیر حیات، لکھنؤ، 25 اپریل 2010 ، صفحہ7 )
یہی اکثر علماء کا خیال ہے۔ لیکن یہ سرتاسر ایک بے بنیاد نظریہ ہے۔ اسلام میں انکارِ دعوت پر جنگ نہیں ہے، اسلام میں صرف جارحیت (aggression) پر مدافعانہ جنگ ہے۔ اِس مدافعانہ جنگ کی بھی بہت سی لازمی شرطیں ہیں۔ ان میں سے ایک شرط یہ ہے کہ اِس دفاعی جنگ کا حق بھی صرف ایک قائم شدہ حکومت کو ہے(الرحیل للإمام)۔ غیر حکومتی افراد یا غیر حکومتی تنظیموں (NGOs) کو ہرگز یہ اجازت نہیں کہ وہ کسی کو منکر یا دشمن قرار دے کر اُس کے خلاف مسلح جنگ شروع کردیں۔
اگر کسی مقام پر وہ صورتِ حال ہو جس کو عام طورپر ظلم یا بے انصافی سے تعبیر کیا جاتا ہے، تو وہ ہرگز کسی مسلم فرد یا مسلم تنظیم کے لیے جنگ چھیڑنے کا عذ ر نہیں۔ ایسی صورت حال میں کسی مسلم فرد یا مسلم تنظیم کے لیے ایک ہی انتخاب (choice) ہے، یہ کہ وہ کامل طورپر پُر امن رہتے ہوئے دعوت اور اصلاح کا کام کرے۔ بالفرض اگر فریقِ مخالف کی طرف سے زیادتی کا سلوک کیاجائے تو اس کے بعد بھی مسلمانوں کے لیے صرف ایک ہی انتخاب ہے، اور وہ صبر ہے، یعنی وہ اپنے نزاعی عمل کو یک طرفہ طورپر موقوف کردیں اور فریقِ ثانی کی اصلاح کے لیے اللہ تعالیٰ سے دعا کریں
ایک روایت حدیث کی کتابوںمیں ان الفاظ میں آئی ہے: أمرتُ أن أقاتل الناس حتی یقولوا لاالٰہ إلا اللہ (صحیح مسلم، کتاب الإیمان، باب الأمر بقتال الناس) یعنی مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں لوگوں سے لڑوں ، یہاں تک کہ وہ یہ کہہ دیں کہ اللہ کے سوا کوئی الٰہ نہیں۔
اس حدیث سے کچھ لوگ یہ مطلب نکالتے ہیں کہ اسلام کا نشانہ لوگوں سے اُن کے عقیدے کو بدلوانا ہے، اسلامی دعوت کا آغاز پُر امن تبلیغ سے ہوگا، لیکن اگر وہ پر امن تبلیغ سے اسلام قبول نہ کریں تو اُن سے باقاعدہ جنگ کی جائے گی، تاکہ وہ مجبور ہو کر اسلام کے حلقے میں داخل ہوجائیں۔
اِس حدیث کا یہ مطلب یقینی طورپر درست نہیں ہے۔ پہلی بات یہ کہ اِس حدیث میں ’’الناس‘ کا لفظ عام معنوں میں نہیں ہے، بلکہ وہ خاص معنی میں ہے۔
اِس حدیث میں الناس سے مراد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے معاصر بنو اسماعیل (قریش مکہ) ہیں۔ اِس حدیث کو عمومی معنوں میں لینا ہر گز درست نہیں۔ الناس کے لفظ کا ایسا خصوصی استعمال قرآن میں بھی دیگر مقامات پر موجود ہے۔ مثلاً سورہ النصر (110)میں الناس سے مراد مخصوص طور پر یہی قریشِ مکہ ہیں، نہ کہ عمومی طورپر ساری دنیا کے لوگ۔
اِس سلسلے میں دوسری بات یہ ہے کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی اپنے معاصر الناس سے اِس قسم کی جنگ نہیں کی۔ اِس واقعے کو سامنے رکھئے تو معلوم ہوگا کہ مذکورہ حدیث میں قتال کا لفظ اپنے لغوی معنی میں نہیں ہے، بلکہ وہ شدتِ کلام کا ایک اسلوب ہے۔ دوسرے لفظوں میں، یہ ہیمرنگ کی زبان (language of hammering) ہے، وہ تشریعی حکم کی زبان نہیں۔
اسلامی تعلیم کے مطابق، دعوت وتبلیغ کا کام مکمل طورپر ایک پر امن کام ہے، اپنے آغاز میں بھی اور اپنے انجام میں بھی۔ دعوت کا نشانہ ایک انسان کے ذہن ودماغ کو بدلنا ہے، تاکہ وہ ایک صالح انسان بن سکے۔
اِس قسم کا مقصد صرف پر امن نصیحت کے ذریعے حاصل ہوسکتا ہے، نہ کہ جنگ اور قتال کے ذریعے۔ جنگ اور تشدد کا طریقہ معکوس نتیجہ پیدا کرے گا، نہ کہ مطلوب نتیجہ۔
واپس اوپر جائیں

مہدی یا مسیح کی پہچان

مہدی یا مسیح کی پہچان کے بارے میں پہلی بات یہ ہے کہ اِس سلسلے میں حدیث کی کتابوں میں جو روایات آئی ہیں، اُن میں سے کسی بھی روایت میں یہ نہیں ہے کہ مہدی اور مسیح اعلان کے ساتھ اپنے کام کا آغاز کریں گے، یعنی وہ ایسا نہیں کریں گے کہ لوگوں سے کہیں کہ اے لوگو، میں مہدی ہوں، یا میں مسیح ہوں۔ تم لوگ مجھ کو مانو اور میری پیروی کرو۔ اِس کا واضح مطلب یہ ہے کہ مہدی یا مسیح کو پہچاننے کا ذریعہ ان کا اپنا دعویٰ یا ان کا اپنا اعلان نہ ہوگا، جیسا کہ پیغمبروں کے معاملے میں ہوتا ہے۔
ایسی حالت میں یہ سوال ہے کہ مہدی یا مسیح کے ظہور کے وقت اُن کو پہچاننے کی صورت کیا ہوگی۔ اِس کا ذریعہ یقینی طورپر صرف ایک ہوگا، اور وہ مہدی یا مسیح کا رول ہے۔ دراصل مہدی یا مسیح کے عملی رول کو دیکھ کر لوگ اُن کو پہچانیں گے اور ان کا ساتھ دیں گے۔
مہدی یا مسیح کے اِس رول کو متعین کرنے کے لیے احادیث کا مطالعہ کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ بنیادی طورپر اس کے دو پہلو ہیں۔ اس کا ایک پہلو وہ ہے جس کو صحیح البخاری کی ایک روایت میں ’’یضع الحرب‘‘کے الفاظ میں بتایاگیا ہے: (کتاب أحادیث الأنبیاء، باب نزول عیسی) یعنی مسیح جنگ کو ساقط کردیں گے۔ اس کا دوسرا پہلو وہ ہے جس کو صحیح مسلم کی ایک روایت میں اِن الفاظ میں بیان کیا گیا ہے: ہٰذا أعظم الناس شہادۃً عند رب العالمین (کتاب الفتن، باب ذکر الدجال) یعنی یہ شہادت خدا کے نزدیک عظیم ترین شہادت ہوگی۔
مہدی یا مسیح کے رول کا ایک پہلو وضعِ حرب ہوگا۔ یہ وضع حرب خود مسلمانوں کی نسبت سے ہوگا، نہ کہ سارے عالم کی نسبت سے، یعنی مسلمانوں کے درمیان جنگ کو ساقط کرنا۔ اِس پہلو کا مزید مطالعہ کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ بعد کے زمانے میں مسلمانوں کے درمیان جو لٹریچر تیار ہوگا، وہ بعض زمانی اسباب سے، حرب اور جہاد پر مبنی ہوگا۔ اِس طرح یہ صورت حال پیدا ہوجائے گی کہ مسلمان شعوری طورپر پُرامن دعوت کے تصور سے بے خبر ہوجائیں گے۔ اپنے مائنڈ سیٹ کی بنا پر وہ صرف مسلّح جہاد کو اسلامی عمل کا درجہ دے دیںگے۔
ایسی حالت میں، مہدی یا مسیح کا پہلا کام یہ ہوگا کہ وہ اسلام کی ایک غیر عسکری آئیڈیالوجی دریافت کریں۔ یہ آئیڈیالوجی اتنے طاقت ور دلائل پر مبنی ہو کہ وہ معاصر مسلمانوں کی عسکری سوچ کو دلیل کی سطح پر پوری طرح منہدم کردے۔ مذکورہ حدیث میں اصلاً وضع حرب کا مطلب نظریاتی وضعِ حرب ہے، یعنی فکری سطح پر حرب کے تصور کو غیر متعلق (irrelevant) ثابت کردینا۔
مہدی یا مسیح کے رول کا دوسرا پہلو وہ ہے جس کو حدیث میں عظیم ترین شہادت کے الفاظ میں بیان کیاگیا ہے۔ یہاں شہادت سے مراد جسمانی قربانی نہیں ہے، بلکہ اس سے مراد گواہی (witness) ہے۔ کیوں کہ جسمانی قربانی میں عظیم اور غیر عظیم کا فرق نہیں ہوتا۔ جسمانی قربانی میں داخلی نیت کے اعتبار سے فرق ہوسکتا ہے، لیکن جسمانی اعتبار سے خود ایک شخص کی قربانی اور دوسرے شخص کی قربانی کے درمیان کوئی فرق نہیں۔
عظیم گواہی کا مطلب کیا ہے۔ اس کا مطلب ہے — دلائل کے اعتبار سے طاقت ور ترین گواہی، یعنی دعوت کے پیغام کو ایسے اعلیٰ دلائل کے ساتھ پیش کرنا جس سے مخاطب اپنے آپ کو علمی طورپر بے دلیل محسوس کرنے لگے ، وہ محسوس کرنے لگے کہ وہ دلیل کی زمین پر نہیں کھڑا ہوا ہے، بلکہ وہ خود ساختہ مفروضات کی زمین پر کھڑا ہوا ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ مہدی یا مسیح کا معاملہ کوئی پراسرار معاملہ نہیں ہوگا۔ وہ ’’لیلہا کنہارہا‘‘ کے معیار پر پورا اترنے والا واقعہ ہوگا اوریہ بات بالکل فطری ہے۔ جب مہدی یا مسیح اعلان کے ساتھ اپنے کام کا آغاز نہیں کریں گے تو بلاشبہہ ان کے رول کو اتنا زیادہ واضح ہونا چاہیے کہ ایک سنجیدہ اور متلاشی انسان اس کو دیکھ کر یہ دریافت کرلے کہ بلا شبہہ یہی وہ شخص ہے جس کے لیے حدیث میں مہدی یا مسیح کے الفاظ آئے ہیں۔ اگر اِس قسم کا وضوح نہ ہو تو کسی عورت یا مرد کے بارے میں کس طرح یہ فیصلہ ہوگا کہ اُس نے مہدی یا مسیح کو پہچاننے کا ثبوت دیا، یا وہ اُن کو پہچاننے کے اِس امتحان میں ناکام ہوگیا۔
واپس اوپر جائیں

انتظار کی مدت ختم

بظاہرِ حالات قیامت اب بہت قریب آگئی ہے، اتنا ہی قریب جتنا کہ آج کی شام کے بعد کل کی صبح کا آنا۔ دوسری مادی علامتوں کے علاوہ، ایک معلوم علامت یہ ہے کہ اکیسویں صدی عیسوی میں مسلم اور غیر مسلم دونوں اپنے بگاڑ کی آخری حد پر پہنچ چکے ہیں۔ بظاہر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اکیسویں صدی میں پہنچ کر انسان نے یہ جواز (justification) کھودیا ہے کہ موجودہ زمین پر اس کو مزید بسنے کا موقع دیا جائے۔ یہ معاملہ مسلم اور غیر مسلم دونوں کا ہے۔
مسلمانوں کے بگاڑ کی سب سے بڑی پہچان یہ ہے کہ ان کے درمیان نہی عن المنکر کا عمل بالکل ختم ہوگیا ہے۔ موجودہ زمانے کے مسلمان واضح طورپر محرمات میں مبتلا ہیں، لیکن ان کے خلاف علماء نہی عن المنکر کی مہم نہیں چلاتے۔
مثلاً موجودہ زمانے میں بہت سے مسلم گروپ مسلم حکومتوں کے خلاف خروج کئے ہوئے ہیں جو کہ یقینی طورپر حرام ہے۔ بہت سے مسلم گروپ، غیر حکومتی سطح پر مسلح تنظیمیں بنائے ہوئے ہیں، حالاں کہ اسلام میں اِس قسم کی تنظیم جائز نہیں۔ بہت سے مسلم گروپ، خود کش بم باری (suicide bombing) کے عمل میں مشغول ہیں، حالاں کہ خود کش بم باری اسلام میں سرتا سر حرام ہے، وغیرہ۔ یہ سب محرمات موجودہ زمانے میں کھلے طور پر کئے جارہے ہیں، لیکن ان کے خلاف مذمت کی کوئی مہم نہیں چلائی جاتی۔ یہ صورتِ حال بلاشبہہ اللہ کی رحمت سے محروم کردینے والی ہے۔
دوسری طرف، غیر مسلم قومیں بگاڑ کی آخری حد پر پہنچ چکی ہیں۔ ان کا سب سے زیادہ نمایاں بگاڑ عریانیت (nudity) ہے۔ اِس کی مختلف صورتیں بالکل عام ہوچکی ہیں۔ مثلاً کھلے طورپر غیر شادی شدہ جوڑے کا میاں بیوی کی طرح ایک ساتھ رہنا(live-in relationship)، کھلے طورپر ہم جنس پرستی (homosexuality)، کھلے طورپر ورجنٹی (virginity) کا نیلام کیا جانا، وغیرہ۔ اِس طرح کی کھلی ہوئی برائیوں کے بعد بظاہر انسان کے لیے موجودہ زمین پر رہائش کا کوئی جواز نہیں رہتا۔
واپس اوپر جائیں

طالب اور مطلوب

انسان ایک انتہائی با معنی وجود ہے۔ اگر کوئی شخص اپنے وجود کی اس اعلیٰ معنویت کو دریافت کرسکے تو یہ دریافت اس کے لیے ایک عظیم دعا کا پائنٹ آف ریفرنس (point of reference) بن جائے گی۔ وہ کہہ سکے گا کہ خدایا، تو نے مجھے ایک با معنی وجود کے طورپر پیدا کیا اور پھر اس وجود کوایک ایسی دنیا میں ڈال دیا جس کو ظالموں نے بے معنی بنا دیا تھا۔ خدایا، تو اپنی رحمت سے اِس بامعنیٰ وجود کو ایک زیادہ بہتر اور با معنی دنیا بھی عطا فرما۔ یہ دعا بلاشبہہ اسم اعظم کی دعا ہے۔ لیکن یہ دعا صرف اُس دل سے نکلے گی جس کو دریافت والی معرفت حاصل ہوئی ہو۔ فانی بدایونی (وفات: 1940 ) کو وراثت میں ایک بڑا گھر ملا تھا۔ لیکن اِس بڑے گھر نے ان کو سکون نہیں دیا۔چناں چہ انھوںنے اپنی ایک نظم میں اِس معاملے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا:
اپنے دیوانے پہ اتمامِ کرم کر، یا رب درودیوار دئے، اب انھیں ویرانی دے
فانی بدایونی صرف اپنے گھر کو جانتے تھے۔ اگر وہ اُس تخلیقی معجزہ کو دریافت کرتے جس کا نام فانی بدایونی تھا، تو وہ برعکس طورپر یہ کہتے :
اپنے دیوانے پہ اتمامِ کرم کر، یارب جب دیا ذوقِ طلب، پھر اسے مطلوب بھی دے
فانی بدایونی کو ’’امامِ یاسیات‘‘ کہاجاتا ہے۔ زیادہ بہتر تھا کہ فانی امامِ دریافت ہوتے، پھر وہ اپنی حقیقت کو جانتے۔ وہ جانتے کہ یہ معاملہ طالب کا اپنے مطلوب سے محرومی کا معاملہ ہے۔پھر وہ طالب بن کر اپنے مطلوب کے لیے خدا سے درخواست کرتے۔ وہ کہتے کہ خدایا، اِس تڑپتی ہوئی مچھلی کو دوبارہ پانی کی تلاش ہے۔ مگر اس کو یہ پانی خود اپنے بل پر نہیں مل سکتا۔ خدایا، تو اِس تڑپتی ہوئی مچھلی کو اپنی خصوصی رحمت سے اس کے مطلوب پانی تک پہنچا دے۔بیش تر انسانوں کا مسئلہ یہ ہے کہ وہ صرف رد عمل کے تحت سوچنا جانتے ہیں، رد عمل سے اوپر اٹھ کر سوچنا ان کو نہیں آتا۔ مگر تمام انسانی کامیابی کا راز یہ ہے کہ آدمی اپنے حالات سے اوپر اٹھ کر سوچ سکے۔ اسی طرزِ فکر کا نام صابرانہ سوچ ہے۔
واپس اوپر جائیں

دعوتی شعور کا فقدان

امتِ مسلمہ کا اصل فریضہ شہادت، یعنی دعوت الی اللہ ہے، مگر موجودہ زمانے کے تمام مسلح علماء اور مسلم رہنما اس باب میں انحراف کا شکار ہوگئے۔ یہ انحراف اب اِس درجہ کو پہنچا ہے کہ امتِ محمدی نے اپنی اصل حیثیت ہی کھو دی ہے۔ اب پوری امت عام قوموں کی طرح ایک قوم بن گئی ہے، نہ کہ حقیقی معنوں میں ایک دعوتی جماعت۔ ذیل میں اِس معاملے کا ایک مختصر جائزہ پیش کیا جاتا ہے۔
شیخ محمد عبدہ کی مثال
سید جمال الدین افغانی (وفات:1897 ء) کا زمانہ یورپی نو آبادیات (colonialism) کا زمانہ تھا، اُن کے زمانے میں برطانیہ اور فرانس کی فوجیں مسلم ملکوں میں داخل ہوگئیں اور وہاں اپنا تہذیبی اور سیاسی غلبہ قائم کرلیا۔
سید جمال الدین افغانی غیر معمولی صلاحیت کے آدمی تھے، وہ عربی کے علاوہ کئی عالمی زبانیں جانتے تھے۔ ان کو 59 سال کی عمر ملی، انھوں نے اپنی پوری زندگی برطانوی استعمارکے خلاف سیاسی لڑائی میں گزار دی۔
مصر اور عالمِ عرب میں ان کوکئی اعلیٰ صلاحیت کے ساتھی ملے، ان میں سے ایک ممتاز نام شیخ محمدعبدہ (وفات: 1905 )کا ہے۔ وہ ایک بڑے عرب عالم تھے۔ انھوں نے فرنچ زبان بھی سیکھی تھی۔ یورپی استعمار (colonialism)کے زمانے میں وہ بھی استعمار کے خلاف سیاسی لڑائی میں شامل ہوگئے۔ وہ سید جمال الدین افغانی کے ممتاز شاگردوں میں سے تھے۔
انیسویں صدی کے آخر میں سید جمال الدین افغانی اور مفتی محمد عبدہ سفر کرکے پیرس (Paris) گئے، وہاں سے انھوں نے ایک عربی جریدہ العروۃ الوثقی (The Firmest Bond) جاری کیا۔ یہ جریدہ صرف 18 شماروں کے بعد بند ہوگیا۔
پیرس کے زمانۂ قیام (1884 ء) میں سید جمال الدین افغانی اور شیخ محمد عبدہ کے درمیان اختلاف پیدا ہوگیا۔شیخ محمد عبدہ کا خیال تھا کہ ہم لمبی مدت سے استعمار کے خلاف سیاسی لڑائی میں مصروف ہیں، لیکن اس کا کوئی مثبت نتیجہ نہیں نکلا، اب ہم کو یہ سیاسی کام چھوڑ کر کوئی نتیجہ خیز تعمیری کام کرنا چاہئے۔ سیدجمال الدین افغانی اِس نقطۂ نظر سے اتفاق نہ کرسکے، اس کے بعدشیخ محمد بن عبدہ نے سید جمال الدین افغانی کا ساتھ چھوڑ دیا۔
وہ 1899 ء میں مصر واپس آگئے۔انھوں نے مصر میں قاہرہ کے قریب ایک بڑی جگہ حاصل کی اور جمعیّۃ إحیاء العلوم العربیۃ لنشر المخطوطات کے نام سے وہاں 1900 ء میں ایک ادارہ قائم کیا، مگر وہ زیادہ مدت تک اِس ادارہ کی خدمت نہ کرسکے۔ 56 سال کی عمر میں 1905 میں قاہرہ میں ان کا انتقال ہوگیا۔
سید جمال الدین افغانی اور شیخ محمد عبدہ دونوں نہایت اعلیٰ صلاحیت رکھتے تھے، لیکن ان کی صلاحیتیں صحیح سمت میں استعمال ہونے سے رہ گئیں۔ اِس واقعہ کا جو پہلو زیادہ عبرت ناک ہے، وہ یہ ہے کہ وہ اپنی خداداد صلاحیتوں کو دعوت الی اللہ کے کام میں استعمال نہ کرسکے۔ مغربی قومیں ان کے لئے مدعو گروہ کا درجہ رکھتی تھیں۔ان کا فرض تھا کہ وہ ان قوموں کو اللہ کے دین کی طرف بلائیں، لیکن انھوں نے ان قوموں کو صرف جنگ و جہاد کا موضوع سمجھا، نہ کہ دعوت الی اللہ کا موضوع۔ انھوں نے ان قوموں کو مدعو کے بجائے دشمن کا درجہ دے دیا۔
شیخ محمد عبدہ کے لئے پیرس سے واپسی ایک نیا موڑ بن سکتی تھی، لیکن مغربی قوموں سے سیاسی لڑائی چھیڑنے کے بعد دوسرا کام جو انھیں نظر آیا، وہ صرف اپنی قوم کی اصلاح تھی، نہ کہ مدعو گروہ کو اللہ کا پیغام پہنچانا— یہی وہ غلطی ہے جس میں موجودہ زمانے کے تمام مسلم علماء اور مسلم رہنما مبتلا ہوئے۔
مولانا محمود حسن دیوبندی کی مثال
مولانا محمود حسن (وفات:1920 ء) جن کو شیخ الہند کہاجاتا ہے، وہ دیوبند کے اکابر علماء میں سے تھے۔ ان کے زمانے میں انڈیا میں برطانیہ کا سیاسی اقتدار قائم ہوا۔ دوسرے علماء کی طرح مولانا محمود حسن دیوبندی برطانیہ کے خلاف سرگرم سیاسی لڑائی میں مشغول ہوگئے، یہاں تک کہ برطانوی حکومت نے ان کو گرفتار کرکے مالٹا کے قلعہ میں نظر بند کردیا۔
وہاں وہ 3 سال سے زیادہ مدت تک رہے۔ اس دوران وہ ٹی بی کے مرض میں مبتلا ہوگئے، چناںچہ ان کو رہا کرکے انڈیا واپس بھیج دیا گیا۔ یہ واقعہ جون 1920 کا ہے۔مولانا محمود حسن دیوبندی مالٹا سے واپس آکر دیوبند میں مقیم ہوگئے۔ ان کے شاگرد ِ خاص مفتی محمد شفیع عثمانی (وفات: 1976 )کا بیان ہے کہ :
’’مالٹا کی قید سے واپس آنے کے بعد حضرت ایک رات بعد عشاء دار العلوم میں تشریف فرما تھے، علماء کا بڑا مجمع سامنے تھا، اس وقت فرمایا کہ ہم نے تو مالٹا کی زندگی میں دو سبق سیکھے ہیں۔ یہ الفاظ سن کر سارا مجمع ہمہ تن گوش ہوگیا کہ اس استاذ العلماء درویش نے لمبی مدت تک علماء کو درس دینے کے بعد آخرمیں جو سبق سیکھے ہیں وہ کیا ہیں۔ حضرت شیخ الہند نے فرمایا کہ — میںنے جہاں تک جیل کی تنہائیوں میں اِس پر غور کیا کہ پوری دنیا میں مسلمان دینی اور دنیوی ہر حیثیت سے کیوں تباہ ہورہے ہیں تو اس کے دو سبب معلوم ہوئے، ایک ان کا قرآن کو چھوڑ دینا، دوسرے آپس کے اختلافات اور خانہ جنگی۔ اِس لئے میں وہیں سے یہ عزم لے کر آیا ہوں کہ اپنی باقی زندگی اس کام میں صرف کروں کہ قرآن کریم کو لفظاً اور معناًعام کیا جائے، بچوں کے لئے لفظی تعلیم کے مکاتب ہر بستی میں قائم کئے جائیں، بڑوں کو عوامی درسِ قرآن کی صورت میںاس کے معانی سے روشناس کرایا جائے، اور قرآنی تعلیمات پر عمل کے لئے آمادہ کیا جائے، اور مسلمانوں کے باہمی جنگ وجدال کو کسی قیمت پر برداشت نہ کیا جائے‘‘۔(جماعتِ شیخ الہند اور تنظیم اسلامی، از: ڈاکٹر اسرار احمد، صفحہ 346 )
مولانا محمود حسن دیوبندی جب مالٹا کی اسیری سے واپس آئے تو وہ ٹی بی کے مرض میں مبتلا ہوچکے تھے۔ 1920 میں دیوبند میں ان کا انتقال ہوگیا۔ اس وقت ان کی عمر 69 سال تھی۔
مولانا محمود حسن دیوبندی کا معاملہ بھی وہی تھا جو دوسرے علماء کا تھا۔ اپنے قومی اور سیاسی فکر کی بنا پر وہ بھی ثنائی طرزِ فکر (dichotomic thinking) میں مبتلا تھے۔ وہ صرف دو انتخاب (options) کو جانتے تھے — یا انگریزوں سے سیاسی لڑائی، یا مسلم ملت کی خدمت۔
قرآن اور حدیث کے عالم ہونے کے باوجود ان کو تیسرے انتخاب کا علم نہ تھا، وہ یہ کہ انگریزوں کو ایک مدعو قوم سمجھنا، اور ان کے سامنے حکمت اور خیر خواہی کے ساتھ پر امن طورپر دین حق کا پیغام پہنچانا۔ مذکورہ دو مثالوں میں سے ایک عرب سے تعلق رکھتی ہے اور دوسری عجم سے۔ یہ مثالیں بطور نمونہ ہیں۔ اسی پر موجودہ زمانے کی پوری مسلم ملت کو قیاس کیا جاسکتا ہے۔
موجودہ زمانے کے تمام مسلم علماء اور مسلم رہنما ایک ہی مشترک غلطی میں مبتلا ہوئے، اور وہ ہے دعوت الی اللہ کے فریضہ سے غافل ہوجانا۔ یہ کوئی سادہ بات نہیں، حقیقت یہ ہے کہ امتِ محمدی، پیغمبر کی وفات کے بعد پیغمبر کے قائم مقام کی حیثیت رکھتی ہے۔
امت محمدی کو وہی دعوتی ذمہ داری انجام دینا ہے جس کو پیغمبر نے اپنے زمانے میں انجام دیا تھا۔ قرآن سے معلوم ہوتاہے کہ پیغمبر اگر اپنی دعوتی ذمہ داری کو ادا نہ کرے تو اللہ کی نظر میں اس کی پیغمبرانہ حیثیت ہی غیر متحقق ہوجاتی تھی (المائدۃ: 67 )۔ اسی طرح امتِ محمدی اپنی ذمہ داری کو ادا نہ کرے تو اس کا امت ِ محمدی ہونا غیر متحقق ہوجائے گا۔
واپس اوپر جائیں

عارفانہ دعاء

دعا کی اعلیٰ قسم وہ ہے جب کہ ایک بندۂ مومن کو ایک عارفانہ دریافت ہو اور اِس دریافت کے بعد اس کی زبان سے دعا کے تخلیقی (creative) کلمات نکلیں۔ یہ دعا کی سب سے زیادہ اعلیٰ قسم ہے۔ اِس قسم کی دعا اُن لوگوں کو حاصل ہوتی ہے جو تدبر اور غور فکر میں زندگی گزارتے ہیں، جو مسلسل طورپر معرفت کے روحانی تجربات میں جیتے ہیں۔
مثال کے طورپر ایک بندۂ مومن نے گہرائی کے ساتھ سوچا اور پھر اس پر منکشف ہوا کہ ظاہری اختیار کے باوجود وہ کامل طورپر عاجز ہے۔ پھر اُس نے دریافت کیا کہ اس کے کمالِ عجز کے باوجود اللہ نے اس کو موجودہ دنیا میں زندگی کا تمام سامان عطا کردیا۔
اِس طرح گویا اللہ نے اس کے عجز کی تلافی فرمائی۔ اللہ اس کے اور اس کے عجز کے درمیان حائل ہوگیا۔ اِس طرح اللہ کی خصوصی رحمت کی بنا پر وہ دنیا کی زندگی میںاپنے عجز (helplessness) کے برے انجام سے بچا رہا۔
ایک بندۂ مومن کو جب یہ دریافت ہوتی ہے تو اُسی کے ساتھ وہ ایک اور چیز کی دریافت کرتا ہے، وہ یہ کہ آخرت میں دوبارہ اپنی بے عملی کی بنا پر وہ اِسی قسم کے شدید تر مسئلے سے دوچار ہوگا۔ اُس کو محسوس ہوگاکہ میری بے عملی یقینا وہاں مجھے محروموں کی فہرست میں ڈال دے گی۔
یہ سوچ کر وہ تڑپ اٹھے اور اس کی زبان پر یہ کلمات جاری ہوگئے کہ خدایا، دنیا کی زندگی میں تو میرے اور میرے عجز کے درمیان حائل ہوگیا اور اِس طرح مجھ کو میرے عجز کے برے انجام سے بچا لیا۔ اِسی طرح تو آخرت میں میرے اور میری بے عملی کے درمیان حائل ہوجا اور آخرت میں دوبارہ تو مجھ کو میری بے عملی کے برے انجام سے بچا لے— یہ دعا ایک تخلیقی دعا ہے اور وہ گہری دریافت کے بعد ایک بندۂ مومن کی زبان سے نکلتی ہے۔ یہی وہ عارفانہ دعا ہے جس کے اور قبولیت کے درمیان کوئی فاصلہ حائل نہیں ہوتا۔
واپس اوپر جائیں

موت، موت کی یاد

موت بلاشبہہ ہر انسان کا سب سے بڑا مسئلہ ہے۔ موت گویا ایک انفرادی زلزلہ ہے۔ عام زلزلہ زمین کی سطح پر واقع ہوتا ہے اور موت ایک فرد کی سطح پر پیش آتی ہے۔ جس طرح انسان زلزلے کو روکنے پر قادر نہیں، اُسی طرح کوئی شخص موت کو روکنے پر بھی قادر نہیں۔ زلزلہ بھی یک طرفہ فیصلے کے تحت بلا اطلاع آتا ہے، اِسی طرح موت بھی یک طرفہ فیصلے کے تحت کسی شخص پر وارد ہوتی ہے۔ زلزلے کو لوٹانا ممکن نہیں۔ اِسی طرح موت کو لوٹانا بھی ممکن نہیں۔ زلزلے کے مقابلے میں انسان مکمل طورپر بے بس ہوتا ہے۔ اِسی طرح موت کے مقابلے میں بھی انسان مکمل طورپر بے بس ہے۔ انسان کو کوئی ذاتی اختیار نہ زلزلے کے اوپر ہے اور نہ موت کے اوپر۔
موت قاطعِ حیات ہے، اور موت کا ذکر قاطعِ خودی۔ خودی (ego) کسی انسان کی سب سے بڑی صفت ہے۔ مگر یہی خودی انسان کی تمام خرابیوں کا سبب بن جاتی ہے۔ خودی کی بنا پر کسی انسان کے اندر وہ شخصیت بنتی ہے جس کو خود پسند(self-centered) شخصیت کہاجاتا ہے۔ یہی وہ خود پسند شخصیت ہے جو آدمی کے اندر ذاتی بڑائی کا جذبہ پیدا کرتی ہے، اِسی خود پسندی کا نتیجہ وہ تمام منفی اوصاف ہوتے ہیں جن کو غرور، حسد، ظلم، تشدد پسندی اور انتقام، وغیرہ جیسے الفاظ میں بیان کیا جاتا ہے۔
موت اِن تمام منفی جذبات کے لیے قاتل کی حیثیت رکھتی ہے۔ جس آدمی کو حقیقی معنوں میں موت کا زندہ شعور حاصل ہو، جو اِس حقیقت کو دریافت کرلے کہ مجھے لازماً مرنا ہے اور موت کے بعد مجھے رب العالمین کے سامنے حاضر ہونا ہے، وہ ایک کٹ ٹو سائز (cut to size) انسان بن جاتا ہے۔ ایسا انسان آخری حد تک ایک متواضع (modest) انسان ہوجائے گا۔ ذاتی بڑائی کا احساس اُس سے چھن جائے گا۔ وہ کامل طورپر عجز کے احساس میں جینے لگے گا۔ بے اعترافی کا طریقہ چھوڑ کر وہ اعتراف کا طریقہ اختیار کرلے گا۔ وہ حق کے آگے جھک جائے گا، بجائے اِس کے کہ وہ حق کو خود اپنے سامنے جھکانے کی کوشش کرے۔
واپس اوپر جائیں

کشتی ٔ نوح کی دریافت

حضرت نوح ابتدائی دور کے پیغمبر ہیں۔ ان کی بعثت عراق کے علاقہ میسو پوٹامیہ (Mesopotamia) میں ہوئی۔ لمبی مدت تک دعوت و تبلیغ کے باوجود بہت کم لوگ اُن پر ایمان لائے، یہاں تک کہ ایک عظیم طوفان کے ذریعے پوری قوم کو بتاہ کردیاگیا۔ اُس وقت اللہ کے حکم سے حضرت نوح نے ایک بڑی کشتی بنائی۔ حضرت نوح نے اِس کشتی میں اُس وقت کے تمام اہلِ ایمان کو بٹھایا۔ طوفان میں بہتی ہوئی یہ کشتی آخر کار مشرقی ترکی کے پہاڑ ارارات (Ararat) پر ٹھہر گئی۔ اس کے بعد اس میں بیٹھے ہوئے تمام لوگ کشتی سے نکل کر مختلف علاقوں میں آباد ہوگئے۔
یہ واقعہ پانچ ہزار سال پہلے کا ہے۔ قرآن میں بتایا گیا تھا کہ یہ کشتی محفوظ رہے گی اور بعد کے زمانے میں دریافت ہو کر لوگوں کے لیے نشانی (sign) بن جائے گی۔ قرآن کی سورہ نمبر 54 میں حضرت نوح کے تذکرہ کے بعد یہ آیت آئی ہے: ولقد ترکناہا آیۃً فہل من مدکر (القمر: 15 ) یعنی ہم نے اس ( کشتی ) کو نشانی کے لیے چھوڑ دیا، پھر کوئی ہے سوچنے والا۔ یہی بات قرآن کی سورہ نمبر 29 میں اِن الفاظ میں آئی ہے: وجعلناہا آیۃً للعالمین (العنکبوت:15 ) یعنی پھر ہم نے اس (کشتی) کو دنیا والوں کے لیے ایک نشانی بنا دیا۔
انیسویں صدی کے آخر میں جب ہوائی پرواز کا زمانہ آیا تو کچھ لوگوں نے ارارات پہاڑ کے اوپر پرواز کرتے ہوئے گلیشیر کے اندر چھپی ہوئی ایک کشتی کے آثار دیکھے۔ لیکن بار بار کوشش کے باوجود اِس معاملے میں کچھ زیادہ معلومات حاصل نہ ہوسکیں۔
اکیسویں صدی میں جب گلوبل وارمنگ کے نتیجے میں گلیشئر پگھلنے لگے تو ہوائی پرواز کے دوران معلوم ہوا کہ کوہِ ارارات پر ایک پوری کشتی موجود ہے۔ اِس کے بعد وہاں چین اور ترکی کے مسیحیوں کا ایک گروپ پہنچا۔ ان کے پاس جدید آلات تھے۔ چناں چہ انھوں نے کاربن ڈیٹنگ (carbon dating) کے ذریعے مذکورہ کشتی کی عمر معلوم کی۔ اب معلوم ہوا کہ یہ کشتی عین اُسی زمانے کی ہے، جب کہ یہاں طوفانِ نوح آیا۔ اِس دریافت کی رپورٹ میڈیا میں آچکی ہے۔ نئی دہلی کے انگریزی اخبار ٹائمس آف انڈیا (28 اپریل2010 )میں اِس کی تفصیل حسب ذیل الفاظ میں شائع ہوئی ہے:
HONG KONG: A group of Chinese and Turkish evangelical explorers said they believe they may have found Noah's Ark — four thousand metres up a mountain in Turkey. The team say they recovered wooden specimens from a structure on Mount Ararat in eastern Turkey that carbon dating proved was 4,800 years old, around the same time the ark is said to have been afloat. “It’s not 100% that it is Noah’s Ark but we think it is 99.9% that this is it,” Yeung Wing-cheung, a Hong Kong documentary filmmaker and member of the 15-strong team from Noah’s Ark Ministries International said. The structure had several compartments, some with wooden beams, which were believed to house animals, he said. The group of archaeologists ruled out an established human settlement on the grounds that one had never been found above 3,500 metres in the vicinity.
قربِ قیامت کی نشانیوں میں غالباً یہ سب سے زیادہ واضح نشانی ہے۔ انسان ہزاروں سال سے لکڑی کے ذریعے کشتی بنا رہا ہے۔ قدیم زمانے کی کشتیوں میں سے اب کوئی بھی کشتی دنیا میں محفوظ نہیں، کیوں کہ لکڑی کچھ دنوں کے بعد فطری طورپر بوسیدہ ہو کر ختم ہوجاتی ہے۔ کشتیوں کی تاریخ میں حضرت نوح کی کشتی ایک استثنا (exception) ہے۔ اِس استثنا کا علم صرف اللہ تعالیٰ کو تھا۔ صرف اللہ کو معلوم تھا کہ یہ کشتی طوفان میں بہتی ہوئی پہاڑ کے اوپر پہنچ جائے گی، پھر فطری عمل کے تحت وہ بر ف کے ذخائر (گلیشئر) کے نیچے دب جائے گی اور اِس طرح وہ محفوظ رہے گی۔ یہ بھی صرف اللہ تعالیٰ کو معلوم تھا کہ بیسویں صدی کے آخر میں گلوبل وارمنگ کا معاملہ پیش آئے گا اور پہاڑ کے اوپر برف پگھلنا شروع ہوجائے گی، یہاں تک کہ کشتی نوح صاف دکھائی دینے لگے گی۔ اکیسویں صدی میں کشتی نوح کا سامنے آجانا اِس بات کی علامت ہے کہ جس طرح پانچ ہزار سال پہلے ایک بڑے طوفان کے ذریعے اُس وقت کی آبادی ختم ہوگئی تھی، اسی طرح اب ایک اور زیادہ بڑا طوفان آنے والا ہے جس میں تمام انسان ختم ہوجائیں گے اور صرف وہ لوگ بچیں گے جن کو اللہ اپنی جنت میںآباد کرنے کے لیے منتخب کرے۔
واپس اوپر جائیں

فتویٰ اور فتویٰ ایکٹوزم

فتویٰ کے لفظی معنٰی ہیں— رائے (opinion) ۔ ایک شخص اپنے کسی ذاتی مسئلے کے بارے میں ایک عالم سے اس کی رائے پوچھے اور وہ عالم اپنے علم کے مطابق، اِس مسئلے کے بارے میں شرعی رائے دے، تو اِسی کا نام فتویٰ ہے۔ اسلام کے دورِ اوّل میں اِسی قسم کے فتوے کا رواج تھا۔ موجودہ زمانے میں فتویٰ کی جو توسیع (extention)ہوئی ہے، وہ ایک قسم کی بدعت ہے۔
فتویٰ، اسلام میں قضاء کی طرح، کوئی انسٹی ٹیوشن (institution) نہیں، وہ کسی مسئلے میں صرف ایک عالم کی رائے کااظہار ہے۔ کوئی انسان اگر کسی دوسرے شخص یا کسی دوسری جماعت کے بارے میں فتویٰ پوچھے، تو یہ فتویٰ کا غلط استعمال ہوگا۔ اِس قسم کے استفتاء کا نتیجہ صرف یہ ہوتا ہے کہ برائی میں مزید اضافہ ہوجاتا ہے۔ اصلاحی فتویٰ، اسلام میں کوئی چیز نہیں۔ اسلام میں اصلاح کا طریقہ نصیحت اور تبلیغ ہے، نہ کہ فتویٰ جاری کرنا۔
آج کل یہ حال ہے کہ مسلم معاشرے میں کسی خرابی کے حوالے سے فتوے جاری کیے جاتے ہیں۔ یہ فتویٰ نہیںہے، بلکہ فتویٰ ایکٹوزم (Fatwa Activism) ہے۔ اب چوں کہ میڈیا کا زمانہ ہے، اِس قسم کے فتوے میڈیا میں جگہ پاکر اسلام کی بدنامی کا باعث بن رہے ہیں۔ فتویٰ ایکٹوزم کا نقصان تو ضرور ہے، لیکن اُس کا کوئی مثبت فائدہ نہیں۔
صحیح اسلامی طریقہ یہ ہے کہ اِس طرح کے معاملے میں فتویٰ پوچھنے والے اور مفتی دونوں مصلح کا کردار ادا کریں۔ وہ غلطی میں مبتلا لوگوں کے لیے دعا کریں، وہ ہمدردی کے ساتھ ان کو نصیحت کریں، وہ اُن سے مل کر معلوم کریں کہ ان کی سوچ کیا ہے، ان کا ذہن کہاں اٹکا ہوا ہے اورپھر ان سے اِس طرح کلام کریں جس سے ان کا ذہن ایڈریس ہو، ان کے اندر نئی سوچ جاگے، وہ اپنی زندگی کو بدلیں اور اپنی اصلاح کریں۔ معاشرے کی اصلاح کے لیے اسلام میں تبلیغ ونصیحت کا طریقہ ہے، نہ کہ فتویٰ جاری کرنے کا طریقہ۔
قرآن کی سورہ آل عمران کی ایک آیت میں بتایا گیا ہے کہ وہ ایسے کام کا کریڈٹ لینا چاہتے ہیں جس کام کو انھوں نے کیا ہی نہیں (آلِ عمران: 188) ۔ قرآن کی یہ آیت موجودہ زمانے کے فتویٰ پوچھنے والے اور فتویٰ دینے والے دونوں طرح کے لوگوں پر صادق آتی ہے۔ یہ لوگ کسی دوسرے کی برائی کو بتا کر اُس کے خلاف فتویٰ جاری کرتے ہیں۔
یہ عین وہی روش ہے جس کا ذکر قرآن کی مذکورہ آیت میں کیا گیا ہے، یعنی وہ فتوے جاری کرکے اصلاح کا کریڈٹ لینا چاہتے ہیں، حالاں کہ اصلاح کا کریڈٹ صرف اُس انسان کے لیے مقدر ہے جو ہمدردی اور خیر خواہی کے ساتھ نصیحت کا فریضہ انجام دے۔
فتویٰ ایکٹوزم کی سب سے زیادہ ناپسندیدہ صورت وہ ہے جس کو تکفیر کہا جاتا ہے، امام نووی (وفات:1277 ء) نے لکھا ہے کہ: واعلم أن مذہب أہل الحق أنہ لایکفّر أحد من أہل القبلۃ (صحیح مسلم بشرح النووی، جلد 1، صفحہ 150)
یعنی علمائِ حق کا یہ مسلک ہے کہ اہلِ قبلہ میں سے کسی شخص کی تکفیر نہیں کی جائے گی۔ اِس کا مطلب یہ ہے کہ تکفیر کا طریقہ سرے سے اختیار نہیں کیا جائے گا، کیوں کہ کوئی بھی شخص ایسا نہیں ہوسکتا جو کعبہ کے سوا کسی اور چیز کو اپنا قبلۂ عبادت بنالے۔
اسلام کی تاریخ میں تین دور کو ’’قرون مشہود لہا بالخیر‘‘ کہاگیا ہے، یعنی — دورِ رسالت، دورِ صحابہ، دورِ تابعین۔ یہ تین دور اسلام میں ماڈل کی حیثیت رکھتے ہیں۔ اور اسلام کی تاریخ بتاتی ہے کہ اِن تینوں دور میں فتویٰ ایکٹوزم یا تکفیر کا طریقہ کبھی اختیار نہیں کیا گیا ۔ یہ طریقہ بلاشبہہ اسلام کے ماڈل سے انحراف کے ہم معنی ہے۔
اسلام کے دورِ اول میں سارا زور نصیحت وتبلیغ پر دیا جاتا تھا، کیوں کہ مطلوب نتیجہ صرف نصیحت و تبلیغ کے ذریعے حاصل ہوتا ہے، نہ کہ فتویٰ جاری کرنے سے۔ کسی شخص یا اجتماعی بگاڑ کو لے کر اس کے خلاف فتویٰ دینا، اُس وقت شروع ہوا جب کہ مسلمانوں میں دعوت وتبلیغ کا ذہن ختم ہوگیا۔ لوگ برائی کے خلاف فتویٰ جاری کرنے کو کافی سمجھنے لگے۔ یہ طریقہ بلا شبہہ قابلِ ترک ہے۔ تجربہ بتاتا ہے کہ یہ طریقہ صرف منفی نتیجہ پیدا کررہا ہے، اور جو طریقہ منفی نتیجہ پیدا کرے، وہ بلاشبہہ اِس قابل ہے کہ اس کو مکمل طورپر ترک کردیا جائے۔
نصیحت اور تذکیر (admonition)کے اِس طریقے کو آج کل کی زبان میںایجوکیشنل ایکٹوزم (educational activism)کہا جاسکتا ہے، یعنی تعلیم اور تربیت کے ذریعے لوگوں کی اصلاح کرنا، لوگوں کے ذہن کو بدلنے کی کوشش کرنا۔ یہ کہنا صحیح ہوگا کہ اصلاحِ معاشرہ کے بارے میں اسلام کا اصول ایجوکیشنل ایکٹوزم پر مبنی ہے نہ کہ فتویٰ ایکٹوزم پر۔
اِس معاملے میںایک رہنما مثال وہ ہے جس کا ذکر صحیح البخاری میںآیا ہے۔ حضرت عائشہ کہتی ہیں کہ اسلام کے ابتدائی زمانے میں قرآن کی جو آیتیں اُتریں، ان میں جنت اور جہنم کا ذکر تھا، تاکہ لوگوں کے دلوں میں اسلام کے بارے میںنرم گوشہ پیداہو اور لوگوں کے اندر ذہنی آمادگی آجائے۔ اِس طرح جب قبولیت (acceptance)کی استعداد پیدا ہوگئی تو اس کے بعد قرآن میں اترا کہ زنا چھوڑ دو، اور شراب چھوڑ دو۔ ایسا حکم اگر پہلے اُترتا تو لوگ اس کی تعمیل نہ کرتے، بلکہ وہ یہ کہتے کہ —ہم تو زنا نہ چھوڑیں گے، ہم تو شراب نہ چھوڑیں گے (لاندع الزنا أبداً، ولا ندع الخمرأبداً)۔
اِس سے معلوم ہوا کہ عمومی اصلاح کا کام فتویٰ یا حکم جاری کرنے سے نہیں ہوتا، بلکہ اِس کام کے لیے سب سے پہلے لوگوں کے اندر قبولیت کی استعدادپیدا کی جاتی ہے، اِس کے بعد ان کو حکم دیا جاتا ہے۔ استعداد پیدا کیے بغیر حکم دینا، کسی بھی درجے میں مسئلے کا کوئی حل نہیں۔
واپس اوپر جائیں

مسلم ملٹنسی کا مسئلہ

پہلی عالمی جنگ (world war I)کے بعد روس میں کمیونسٹ رول (communist rule)قائم ہوا۔ اِس رول کا نشانہ اوّل دن سے یہ تھا کہ سرمایہ دارانہ نظام کو ختم کیا جائے۔ اِس کے نتیجے میں امریکا میں عام طورپر یہ ذہن بن گیا کہ — کمیونزم، امریکا کا دشمن نمبر ایک ہے:
Communism is the enemy no. 1 of America.
امریکا نے اِس چیلنج کامقابلہ اتنی کامیابی کے ساتھ کیا کہ 1991 میں کمیونسٹ ایمپائر کا خاتمہ ہوگیا۔ دوسری طرف، مسلمانوں کی ملٹنٹ (militant) تنظیمیں، القاعدہ وغیرہ، نے امریکا کو اسلام کا دشمن نمبر ایک بتایا اور امریکا کے خلاف مسلح جدوجہد شروع کردی، جس کی ایک نمایاں مثال 11 ستمبر 2001 کا واقعہ ہے جو نیویارک میں پیش آیا۔ امریکا نے مسلم ملٹنسی (militancy) کے خلاف زبردست فوجی کارروائی کی، حتی کہ اِس کارروائی میں اُس نے 5ٹریلین ڈالر خرچ کردئے، لیکن مسلم ملٹنسی کے محاذ پر امریکا کو مطلوب کامیابی حاصل نہ ہوسکی۔
اِس فرق کا سبب کیا ہے، اِس فرق کا سبب یہ ہے کہ امریکا نے کمیونسٹ چیلنج کا مقابلہ فکری سطح پر کیا۔ اُس نے مختلف زبانوں میں کمیونزم کے خلاف ہزاروں کتابیں چھپواکر ساری دنیا میں پھیلا دیں۔ مثال کے طورپر ملوون جیلاس (Milovan Djilas) کی کتاب نیو کلاس (The New Class) ۔ یہ کتاب نظریاتی اعتبار سے اتنی طاقت ور تھی کہ اس کے بارے میں مشہور امریکی میگزین ریڈرس ڈائجسٹ میں تبصرہ چھپا تو اس کا عنوان یہ تھا:
The Book that is Shaking the Communist World.
کمیونسٹ چیلنج کے خلاف امریکا کی یہ فکری لڑائی پوری طرح کامیاب رہی، لیکن امریکا نے اپنے اِس تجربے کو مسلم ملٹنسی کے معاملے میں استعمال نہیں کیا۔ یہاں اس نے برعکس طور پر فوجی طاقت کے ذریعے مسلم ملٹنسی کو مٹانے کی کوشش کی، لیکن وہ اِس میں کامیاب نہ ہوسکا۔
حقیقت یہ ہے کہ مسلم ملٹنسی گن ورسز گن (gun vs gun) کا مسئلہ نہیں ہے، بلکہ وہ گن ورسز آئڈیالوجی (gun vs ideology) کا مسئلہ ہے۔ مسلم ملٹنسی ایک معلوم آئڈیالوجی پر کھڑی ہے، اِس لیے مسلم ملٹنسی کو ختم کرنے کے لیے اِس آئڈیالوجی کو ختم کرنا ضروری ہے۔ یہ آئڈیالوجی کیا ہے۔ یہ دراصل اسلام کی سیاسی تعبیر (political interpretation) ہے۔ اسلام کی سیاسی تعبیر مکمل طورپر ایک سیاسی بدعت ہے۔ موجودہ زمانے کے کچھ مسلم رہنماؤں نے اپنی تفسیر ِقرآن اور اپنے لٹریچر میں اسلام کی سیاسی تعبیر پیش کی۔ یہ سیاسی تعبیر موجودہ زمانے کے مسلم مائنڈ کے لیے بہت موافق تھی، اِس لیے انھوں نے اس کو اختیار کرلیا اور جہاد کے نام پر وہ اپنے متشددانہ عمل کو اِس نئی سیاسی تعبیر کے ذریعے درست ثابت کرنے لگے۔
مسلم ملٹنسی کا جواب پُرامن نظریاتی سطح پر دینا پوری طرح ممکن ہے، مسلمان اپنی موجودہ ملٹنسی کو اسلام کے نام پر چلا رہے ہیں۔ اِس طرح وہ خود ایک ایسا معیار (criterion) دے دیتے ہیں جس کو استعمال کرکے اُس کو رد کیا جاسکے۔حقیقت یہ ہے کہ مسلمانوں کی موجودہ ملٹسنی، اسلام کی تعلیمات کی روشنی میں، مکمل طورپر ایک غیر مبرَّر ملٹسنی (unjustified militancy) ہے۔ اسلام میں ملٹنسی یا جنگ کوئی ایجابی عمل نہیں، اسلام میں صرف دفاع کے وقت اضطراری طور پر جنگی طریقے کو استعمال کرنے کی اجازت ہے۔ دوسری بات یہ کہ اسلام میں جنگ استثنائی طورپر صرف ایک باقاعدہ حکومت کے لیے جائز ہے، غیر حکومتی تنظیموں (NGOs) کے لیے صرف دو میں سے ایک آپشن ہے— یا تو وہ خاموش رہیں یا خالص پرامن ذرائع سے اپنی بات لوگوں تک پہنچائیں۔ اِس اصول کی بنا پر گوریلا وار یا پراکسی واریا اور کوئی غیر حکومتی وار اسلام میں جائز نہیں۔
اسلام ایک مشن ہے۔ اسلام کا منشا یہ ہے کہ اس کی مذہبی اور روحانی اور اخلاقی تعلیمات کو لوگوں تک پہنچایا جائے۔ یہ ایک خالص پُرامن مشن ہے، اس میں کسی بھی مرحلے پر ہتھیار کا استعمال جائز نہیں۔ یہ بھی اسلام کی تعلیمات کے خلاف ہے کہ کوئی گروہ عدل (justice) کے حصول کے نام پر کسی کے خلاف جنگ چھیڑ دے۔ اسلام میں عدل کا حصول صرف پرامن کوشش کے ذریعے ہوتا ہے، نہ کہ جنگ اور تشدد کے ذریعے— اسلام پورے معنوں میں امن کا مذہب ہے، وہ کسی بھی اعتبار سے جنگ کا مذہب نہیں۔
واپس اوپر جائیں

خود کُش بم باری

خود کش بم باری (suicide bombing) فلسطین میں عربوں نے اسرائیل کے خلاف شروع کی۔ اُس وقت کچھ علماء نے اس کو جائز قرار دیا اور کچھ علماء اس پر خاموش رہے۔ بروقت کسی نے اس کے حرام ہونے کا اعلان نہیں۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ یہ برائی پھیلتی رہی، اور اب دنیا کے مختلف حصوں میں مسلمان خودکش بم باری کے واقعات کررہے ہیں۔ حالاں کہ خودکشی اسلام میں سر تاسر حرام ہے، کوئی بھی عذر اس کو جائز قرار دینے کے لیے کافی نہیں۔ خود کش بم باری کو جائز قرار دینے کے لیے جو دلیلیں دی جاتی ہیں، اُن میں سے ایک مشہور دلیل ’’الانغماس فی العدوّ‘‘ کی ہے، یعنی دشمن کی صفوں میں گھس پڑنا:
To plunge into enemies.
’’انغماس فی العدو‘‘ کے حق میں ایک واقعہ بیان کیا جاتاہے۔ حضرت ابو بکر صدیق کے زمانہ خلافت میں ایک جنگ پیش آئی۔ یہ جنگ مدعیٔ نبوت مسیلمہ کذاب کے خلاف تھی۔ اِس جنگ میںایک صحابی براء بن مالک خزرجی شریک تھے۔ وہ ایک غیر معمولی بہادر آدمی تھے۔ ایک موقع پر وہ تنہا دشمن کی فوج کے اندر داخل ہوگئے اور اپنا کام پورا کرکے محفوظ واپس آگئے( تفصیل کے ملاحظہ ہو راقم الحروف کی کتاب ’’مسائلِ اجتہاد‘‘، صفحہ 105 )۔
اِس واقعے سے خود کش بم باری کا جواز ہر گز ثابت نہیں ہوتا۔ انغماس فی العدو کا مطلب ہے خطرہ مول لے کر دشمن کی صفوں میں گھس جانا۔ اور خود کش بم باری کا مطلب ہے، اپنے آپ کو ہلاک کرکے مفروضہ دشمن یا اس کی قوم کے افراد کو جانی اور مالی نقصان پہنچانے کی کوشش کرنا۔
اِس قسم کا کمزور استدلال صرف وہ لوگ کرتے ہیں جو ایک چیز اور دوسری چیز کے فرق کو نہ جانتے ہوں، جب کہ حقیقی استدلال کے لیے ضروری ہے کہ آدمی اِس اصول کو پوری طرح جانے۔ اِس اصول سے بے خبری کا نتیجہ یہ ہوگا کہ آدمی بطور خود ایک دلیل پیش کردے گا، حالاں کہ حقیقت کے اعتبار سے وہ صرف الفاظ کا مجموعہ ہوگا، نہ کوئی واقعی دلیل۔
واپس اوپر جائیں

مسلم پرسنل لا کا مسئلہ

مسلم پرسنل لا (Muslim Personal Law)کا لفظ بظاہر ایک عمومی لفظ ہے، لیکن عملاً اُس سے مراد زیادہ تر نکاح و طلاق کے قوانین ہیں۔ اسلامی شریعت کی رُو سے نکاح وطلاق کے قوانین مقدس قوانین کی حیثیت رکھتے ہیں، وہ ناقابلِ تغیر شرعی قوانین پر مبنی ہیں۔ اِس معاملے میں شریعت کے جو قوانین ہیں، وہ ابدی ہیں اور ہر معاشرے اور ہر زمانے میں یکساں طورپر قابلِ انطباق ہیں۔
نکاح و طلاق کے بارے میں شرعی قوانین کی یہی خصوصی نوعیت اِس بات میں مانع ہے کہ اُن کو سیکولر حکومت کے عدالتی نظام کی ماتحتی میں دے دیا جائے۔ سیکولر عدالتی نظام کی بنیاد وضعی قوانین (man-made laws) پر ہوتی ہے، اور وضعی قوانین ہمیشہ تبدیلی کا موضوع (subject to change) ہوتے ہیں۔ اُن کو کسی بھی وقت ممبرانِ اسمبلی کی کثرتِ رائے سے بدلا جاسکتا ہے۔ اِس بنا پر مسلمانوں کے نکاح و طلاق کے مسئلے کو وضعی قوانین کے تابع کرنا اصولاً درست نہیں۔
موجودہ سیکولر دور سے پہلے اِس مسئلے نے کوئی نزاکت اختیار نہیں کی تھی۔ جن ملکوں میں مسلم حکومتیں قائم تھیں، وہاں ہمیشہ قاضی کا عہدہ ہوا کرتا تھا۔ یہ قاضی مسلمانوں کے نکاح و طلاق کے مسائل کا فیصلہ شرعی قوانین کی روشنی میں دیتے تھے۔ یہ نظام اب بھی کسی حد تک مسلم ملکوں میں جاری ہے۔
آٹھویں صدی عیسوی میں مسلمان ہندستان میں آئے۔ اُس وقت یہاں ہندو راجاؤں کی حکومت تھی۔ مسلمانوں نے ہندوراجاؤں سے درخواست کی کہ ایسا نظام بنایا جائے جس کے تحت مسلمان اپنے عائلی مسائل کا فیصلہ شرعی قانون کی روشنی میں حاصل کرسکیں۔ راجاؤں نے اِس درخواست کو قبول کرتے ہوئے مسلم قاضی کا تقرر کیا، جس کو اُس زمانے میں ’’ہنرمن‘‘ کہاجاتا تھا۔ یہ لفظ غالباً ’’ہنر مند‘‘ کی بدلی ہوئی شکل ہے۔
ہندستان میں جب مسلم سلطنتیں قائم ہوئیں تو انھوں نے یہاں مسلم قاضی مقرر کئے۔ یہ قاضی، مسلمانوں کے عائلی مسائل کا فیصلہ شریعت کی روشنی میں دیتے تھے۔ یہ سلسلہ مغل عہد کے خاتمہ اور برٹش عہد کے آغاز تک جاری رہا۔
ہندستان میں برٹش دورِ حکومت باقاعدہ طورپر انیسویں صدی عیسوی کے وسط میں شروع ہوا۔ اِس کے بعد دھیرے دھیرے قاضی کا عہدہ ختم ہوگیا۔ تاہم مسلم رہنماؤں کے مطالبے پر برٹش حکومت نے ایک قانون ’’محمڈن لا‘‘ کے نام سے پاس کیا۔ یہ محمڈن لا زیادہ تر حنفی فقہ کی روشنی میں تیار کیا گیا تھا۔ اِس کے بعد یہ ہوا کہ مسلمانوں کے عائلی مسائل کا فیصلہ محمڈن لا کے تحت کیا جانے لگا۔ اِس کے لیے علاحدہ قاضی نہیں ہوتے تھے، بلکہ عام ملکی عدالتیں ہی یہ کام انجام دیتی تھیں۔
1947 میں جب ہندستان آزاد ہوا تو یہ نظام بھی عملاً معطل ہوگیا۔ اُس وقت مولانا ابوالکلام آزاد (وفات: 1958 ) حکومتِ ہند میں وزیر تعلیم تھے۔ مولانا آزاد کی کوششوں سے، دہلی میں ایک ’’اسپیشل جج‘‘ کا تقرر کیاگیا۔یہ اسپیشل جج با اختیار جج تھا اور وہ مسلمانوں کے نکاح وطلاق کے معاملات کا فیصلہ شریعت کی روشنی میں کرتا تھا۔ آزادی کے بعد پہلے اسپیشل جج کے طورپر سیدعزیز شفیع کا تقرر ہوا۔ ان کی زندگی تک یہ عہدہ جاری رہا۔ لیکن 1979 میں ان کی موت کے بعد اس کا بھی خاتمہ ہوگیا۔
1947 کے بعد اِس سلسلے میں مسلمانوں کے مختلف غیر سرکاری ادارے قائم ہوئے۔ اِن اداروں کو دارالافتاء اور دار القضاء کہا جاتا ہے۔ اِنھیں میں سے ایک آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ بھی ہے۔ اِس کا قیام 1973 میں عمل میں آیا۔ لیکن یہ انتظامات اصل ضرورت کی نسبت سے ناکافی تھے، چناں چہ وہ مطلوب شرعی ضرورت کو پورا نہ کرسکے۔کیوں کہ اُن میں سے کسی ادارے کا فیصلہ قانونی اعتبار سے، بائنڈنگ فیصلے کی حیثیت نہیں رکھتا تھا۔
یہ مسئلہ بلاشبہہ ایک نازک شرعی مسئلہ ہے۔ اُس کا حقیقی حل تلاش کرنا علماء کی ذمّے داری ہے۔ احتجاج اور مطالبات کی نوعیت کی تحریکیں کسی بھی درجے میں اِس مسئلے کا حل نہیں۔ راقم الحروف کے نزدیک، سیکولر ہندستان کے پس منظر میں، اِس مسئلے کے حل کی دو ممکن صورتیں ہیں:
1 - اِس مسئلے کا پہلا حل یہ ہے کہ ملک میں جامع نوعیت کا ایک دار القضاء قائم کیا جائے۔ اِس دار القضاء کا جزئی تجربہ ریاست بہار میں کیاگیا ہے۔ لیکن اصل مسئلہ یہ ہے کہ دار القضاء کا تصور مکمل طورپر ایک رضاکارانہ تصور ہے۔ دارالقضاء کی کامیابی کا انحصار اِس پر ہے کہ مسلمان اُس کے فیصلے کو لازماً قبول کرلیں، خواہ وہ اُن کے موافق ہو، یا اُن کے خلاف۔
اِس نوعیت کا دارالقضاء صرف اُس وقت عملی صورت اختیار کرسکتا ہے، جب کہ ہندستان کے مسلمانوں میں اتنی بیداری لائی جاچکی ہو کہ وہ خود اپنے اختیار سے، دار القضاء کے فیصلے کو برضا ورغبت قبول کرلیں۔ مگرتادمِ تحریر (17 مارچ2010) مسلمانوں میں یہ مزاج پیدا نہیں ہوا، اِس لیے عملاً دار القضاء کا تصور صرف محدود طورپر قابلِ عمل ہوسکتا ہے، وہ عمومی طورپر مسلمانوں کے مسئلے کا حل نہیں۔
2 - دوسری صورت یہ ہے کہ برٹش دور کی طرح، دوبارہ مسلمانوں کے نکاح وطلاق کے مسئلے کوشرعی بنیاد پر حل کرنے کے لیے ہندستانی پارلیامنٹ سے ایک باقاعدہ ایکٹ پاس کرایا جائے، اور تمام ریاستی اسمبلیاں اِس ایکٹ کی تصدیق کردیں۔ موجودہ مسئلے کا یہی موثر قانونی حل ہے۔
جہاں تک میرا اندازہ ہے، ہندستان میں یہ قانون اُسی طرح بن سکتا تھا، جس طرح وہ برٹش دور میں بنا تھا، مگر ہندستان کے علماء نے اِس معاملے میں غیر حقیقت پسندانہ موقف اختیار کیا۔ انھوں نے تحفظِ شریعت کے نام پر ہندستان کے سیکولر نظام کے خلاف پُر شور احتجاجی تحریکیں شروع کردیں۔
یہ طریقہ صرف حالات کو بگاڑنے کا سبب بنا۔ اگر ہندستانی علماء باقاعدہ طورپر یہ کوشش کرتے کہ ہندستان کی پارلیامنٹ اِس معاملے میں محمڈن لا کے پیٹرن پر زیادہ بہتر ایک قانون وضع کردے، تو یقینی طورپر یہاں اِس قسم کا قانون بن سکتا تھا۔
لیکن اِس قسم کی تعمیری کوشش نہ اُس دور میں ہوئی جب کہ ہندستان میں مولانا ابوالکلام آزاد اور جواہر لال نہرو (وفات:(1964 جیسے اعتدال پسند لیڈر موجود تھے، نہ بعد کے زمانے میں اِس رخ پر کوئی سنجیدہ کوشش انجام دی گئی۔
اِس معاملے کی ایک مثال شاہ بانو کیس ہے۔ شاہ بانو کو اس کے شوہر محمد احمد نے طلاق دیا۔ اِس کے بعد شاہ بانو اِس کیس کو ملکی عدالت میں لے گئی۔ کئی سال کی عدالتی کارروائی کے بعد 1985 میں سپریم کورٹ آف انڈیا کے چیف جسٹس مسٹر وی چندرا چوڑ نے اپنا فیصلہ سنادیا۔
اِس فیصلے کے تحت شاہ بانو کو یہ حق دیا گیا تھا کہ شاہ بانو کا سابق شوہر گزارے کے طورپر اس کو 180 روپئے ماہانہ ادا کرے۔ یہ فیصلہ کرمنل پروسیجر کوڈ (criminal procedure code) کی دفعہ 125 کے تحت دیا گیا تھا۔
علماء نے اِس فیصلے کو ’’شریعت میں مداخلت‘‘ قرار دیا۔ آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے تحت اِس کے خلاف ملکی پیمانے پر جلوس واجتجاج کی پرشور تحریک چلائی گئی، یہاںتک کہ علماء کے مطالبے کے تحت 1986 میں انڈیا کی پارلیامنٹ نے ایک ایکٹ پاس کیا۔ اس کانام مسلم مطلقہ ایکٹ تھا۔
اِس ایکٹ کے پاس ہونے کے بعد علماء نے ’’یوم فتح‘‘ منایا، لیکن بہت جلد ان کو معلوم ہوا کہ یہ قانون ان کی توقعات کو پورا نہیں کرت۔ علماء کا مطالبہ یہ تھا کہ مسلم مطلقہ خاتون کو دفعہ 125 کے مذکورہ ملکی قانون سے مستثنی قرار دیا جائے۔ اِس قسم کا استثناء سرے سے ممکن ہی نہ تھا، کیوں کہ وہ واضح طورپر دستورِ ہند کے خلاف تھا۔ اِس کے بعد علماء کو چاہیے تھا وہ اپنی نادانی کا اعلان کرتے ہوئے خاموشی کے ساتھ اپنے حجروں میں واپس چلے جائیں۔ لیکن انھوں نے ایسا نہیں کیا۔ وہ بدستور مسلمانوں کے سیاسی اسٹیج پر اپنا وجود برقرار رکھے ہوئے ہیں۔
یہ کام بلاشبہہ ایک نازک کام ہے اور اُس کو صرف ہوش مندانہ کوشش کے ذریعے انجام دیا جاسکتا ہے، لیکن مسلم علماء اور مسلم رہنماؤں نے انتہائی ناعاقبت اندیشانہ طورپر ایسی سیاسی پالیسی اختیار کر رکھی ہے جو صرف معاملات کو بگاڑنے والی ہے، وہ کسی بھی درجے میں اصلاح کا ذریعہ بننے والی نہیں۔
اِس ناعاقبت اندیشانہ پالیسی میں سرفہرست مسلمانوں کی انتخابی پالیسی ہے۔ 1947کے بعد مولانا ابو الکلام آزاد کے مشورے کی روشنی میں، مسلمانوں نے کانگریس کو انتخابی سپورٹ دینے کی پالیسی اختیار کی۔ یہ پالیسی اصولاً درست تھی، لیکن مسلمانوں نے یہ غلطی کی کہ وہ کانگریس سے غیرحقیقت پسندانہ طور پر بہت زیادہ توقع رکھنے لگے۔ یہ توقع عملاً پوری نہیں ہوسکتی تھی اور نہ وہ پوری ہوئی۔
اِس کے بعد چھٹی دہائی میں مسلمانوں نے دوسری نادانی یہ کی کہ انھوں نے اپوزیشن کے ساتھ مل کر نان کانگریس ازم (non-congressism) کی پالیسی اختیار کی۔ یہ منفی ووٹ (negative voting) کی پالیسی تھی، جو فطری طورپر مسائل میں صرف اضافے کا سبب بنی۔ 1992 میں بابری مسجد کے انہدام کے بعد مسلمانوں نے تقریباً متفقہ طورپر الیکشن کے معاملے میں اینٹی بی جے پی کی انتخابی پالیسی اختیار کی۔ یہ منفی پالیسی بھی فطری طورپر مسلمانوں کو کوئی مثبت فائدہ نہ دے سکی۔
ہندستان ایک سیکولر جمہوری ملک ہے۔ مسلمان یہاں ایک اقلیتی گروہ کی حیثیت رکھتے ہیں۔ ایسی حالت میں، مسلمانوں کے لیے یہاں واحد مفید طریقہ یہ ہے کہ وہ اُس پالیسی کو اختیار کریں جس کو ٹائٹ روب واک (tight-rope walk) کہاجاتا ہے، یعنی کسی کو اپنا دشمن نہ بنانا اور ہر ایک سے بقدرامکان سیاسی فائدہ حاصل کرنے کی کوشش کرنا۔ 1947کے بعد مسلمان اگر اِس تعمیری پالیسی کو اختیار کرتے تو یقینی طورپر یہاں اب تک وہ قانون بن چکا ہوتا جو مسلمانوںکے عائلی مسئلے کا واحد حل ہے۔
واپس اوپر جائیں

اپنی غلطیوں کو دریافت کیجئے

ایک صاحب کا ٹیلی فون آیا۔ انھوںنے بتایا کہ میں ایک مشہور مذہبی شخصیت کے ساتھ وابستہ تھا۔ اب میںنے ان سے اپنا تعلق توڑ لیا ہے۔ انھوں نے بتایا کہ میں ان کی تقریروں سے متاثر ہوا تھا اور یہ سمجھتا تھا کہ وہ دعوت دین کا اعلیٰ جذبہ رکھتے ہیں۔ لیکن چند سال قریب رہنے کے بعد میں نے دریافت کیا کہ اُن کا واحد مقصد مختلف اسٹیج پر نمایاں ہونا ہے۔ چناںچہ ان کی زندگی بس سفر اور تقریر، سفر اور تقریر میں گزرتی ہے۔ حقیقی معنوں میں دعوت دین اُن کا کنسرن (concern)ہی نہیں۔
میں نے کہا کہ آپ کی دریافت (discovery)ابھی بھی نامکمل ہے۔ آپ نے مذکورہ شخصیت کو دریافت کیا، لیکن آپ نے خود اپنے آپ کو دریافت (discover)نہیں کیا۔ اصل غلطی یہ ہے کہ آپ التمییز بین الشیئین (principle of differentiation) کے اصول سے بے خبر تھے۔ آپ کی غلطی یہ ہے کہ ایک شخص جس کا کیس محض خطابت کا کیس تھا، اس کے کیس کو آپ نے داعیٔ دین کا کیس سمجھ لیا۔ اب آپ کو چاہیے کہ آپ خود اپنی غلطی کو دریافت کریں، نہ کہ دوسرے کو غلط بتا کر مزید اپنا وقت ضائع کرتے رہیں۔
اکثر لوگوں کا یہ حال ہے کہ وہ کسی نہ کسی کو غلط بتا کر اس کے خلاف شاکی بنے رہتے ہیں۔ یہ طریقہ بے حد تباہ کن ہے۔ صحیح یہ ہے کہ آدمی ہر منفی واقعہ کو مثبت تجربے میں ڈھالے، وہ دوسرے کی غلطی میں خود اپنی غلطی کو دریافت کرے۔ وہ ہر تجربے کو سبق (lesson) میں کنورٹ کرے۔ ایسا کرنے کا یہ فائدہ ہوگا کہ ہر واقعہ اس کے لیے اپنے ذہنی ارتقا کا ذریعہ بن جائے گا۔
لوگ شکایتوں میں اِس لیے جیتے ہیں کہ وہ مثبت شخصیت کی اہمیت کو نہیں جانتے۔ منفی خیالات آدمی کے اندر منفی شخصیت بناتے ہیں، اور مثبت خیالات آدمی کے اندر مثبت شخصیت کی تعمیر کرتے ہیں۔ آدمی کو چاہئے کہ وہ اِس معاملے میں بے حد حساس رہے۔ وہ کسی بھی حال میں اپنے اندر منفی شخصیت کی پرورش نہ ہونے دے۔ اِس معاملے میں وہ کسی بھی عذر (excuse) کو عذر نہ بنائے۔
واپس اوپر جائیں

ذہانت کا منفی پہلو

ذہانت (intelligence) انسان کی ایک استثنائی صفت ہے۔ انسان جو کچھ ہے، وہ ذہانت ہی کی بنیاد پر ہے۔ ذہانت کے بغیر انسان صرف ایک حیوان ہے، اِس کے سوا اور کچھ نہیں۔ لیکن اِس دنیا کی ہر چیز کی طرح ذہانت کا بھی ایک پلس پوائنٹ ہے اور اس کا ایک مائنس پوائنٹ ہے۔ ذہانت کا پلس پوائنٹ ذہانت کو ایک نعمت بناتا ہے اور ذہانت کا مائنس پوائنٹ آدمی کے لیے ہلاکت کا سبب بن جاتا ہے۔ اِسی لیے خالق (Creator)بہت کم لوگوں کو اعلیٰ ذہانت عطا کرتاہے۔
تجربہ بتاتا ہے کہ اعلیٰ ذہانت آدمی کے اندر بہت جلد ایک خطرناک کم زوری پیدا کردیتی ہے، یہ ضرورت سے زیادہ اعتماد (over-confidence) ہے۔ اعتماد (confidence)بلاشبہہ انسان کے لیے ایک اچھی چیز ہے۔ اعتماد سے آدمی کے اندر یقین اور استقلال پیدا ہوتاہے۔ اعتماد اِس دنیا میں آدمی کو ثابت قدم بناتا ہے، لیکن تجربہ بتاتا ہے کہ اعتماد اگر اچھی چیز ہے تو ضرورت سے زیادہ اعتماد اتنا ہی زیادہ تباہ کن ہے:
Confidence is good, but over-confidence is equally bad.
اعلیٰ ذہانت والا آدمی بہت جلد اِس غلط فہمی میں مبتلا ہوجاتا ہے کہ وہ سب کچھ جانتاہے۔ یہ سوچ اس کو تواضع (modesty) کی صفت سے محروم کردیتی ہے۔ اس کے اندر اپنے بارے میں برتری کا احساس پیدا ہوجاتا ہے۔ اِس احساس کے تحت وہ ایسی باتیں بولتا ہے جس کے لیے وہ اہل (competent) نہیںہوتا۔ وہ ایسے اقدامات کرتا ہے جس کا وہ متحمل نہیں ہوسکتا۔ وہ ایسے نظریات وضع کرتاہے جو حقیقت ِ واقعہ کے خلاف ہوتے ہیں۔
یہی وجہ ہے کہ زیادہ ذہین لوگ اکثر کامیاب نہیں ہوتے۔ اعلیٰ ذہانت اُن کو غیر حقیقت پسند بنا دیتی ہے۔ ایسے لوگ خوش فہمیوں (wishful thinking) میں جیتے ہیں اور آخر کار وہ مایوسی کا شکار ہو کر رہ جاتے ہیں۔
واپس اوپر جائیں

مشترک خاندانی نظام

مشترک خاندانی نظام (joint family system) شرعی طورپر جائز ہے، لیکن عملی تجربہ بتاتا ہے کہ عام طورپر وہ کامیاب نہیں ہوتا۔ شادی کے بعد شوہر اور بیوی کے درمیان نزاعات کا سبب زیادہ تر مشترک خاندانی نظام ہوتا ہے۔ ایسی حالت میں قابلِ عمل طریقہ یہ ہے کہ مشترک خاندانی نظام سے کامل احتراز کیا جائے ۔
مشترک خاندانی نظام کیا ہے۔ مشترک خاندانی نظام دراصل یہ ہے کہ خونی رشتے دار اور غیرخونی رشتے دار ایک ساتھ ایک گھر میں رہیں۔ یہ طریقہ کوئی ناجائز طریقہ نہیں، لیکن یقینی طورپر وہ ایک غیر فطری طریقہ ہے۔ مشترک خاندانی نظام میں جو مسئلے پیدا ہوتے ہیں، وہ تمام تر اِسی غیر فطری زندگی کا نتیجہ ہوتے ہیں۔
کوئی بھی وعظ ونصیحت اِس مسئلے کا حل نہیں۔ اِس مسئلے کا واحد حل یہ ہے کہ اِس غیر فطری نظام کو اختیار ہی نہ کیا جائے۔ اِس کا مطلب یہ ہے کہ اُس وقت تک شادی نہ کی جائے جب تک شادی شدہ جوڑے کے رہنے کے لیے الگ گھر کا انتظام نہ ہوجائے۔ شادی کے بعد لڑکی کی رخصتی اپنے علاحدہ گھر میں ہو، نہ کہ مشترک گھر میں۔ اِس کے سوا اِس مسئلے کا کوئی اور حل نہیں۔
شادی کے بعد علاحدہ گھر کا انتظام کوئی ناممکن چیز نہیں۔ والدین اگر صرف اتنا کریں کہ وہ جہیز اور ولیمہ اور بارات جیسی چیزوں میں جو اخراجات کرتے ہیں، اس کو وہ مکمل طورپر بند کردیں اور ساری رقم صرف گھر کی مد میں لگا دیں تو وہ علاحدہ گھر کا انتظام بآسانی کرسکتے ہیں۔ یہ علاحدہ گھر خواہ چھوٹا ہو، وہ مشترک بڑے گھر سے ہر حال میں زیادہ بہتر ہے۔
اگر والدین کے اندر یہ سوچ پوری طرح موجود ہو تو یقینی طورپر وہ کامیابی کے ساتھ اس کا انتظام کرسکتے ہیں۔ بالفرض اگر کوئی شخص علاحدہ گھر کا انتظام نہیں کرسکتا تو اُس کے لیے صحیح طریقہ یہ ہے کہ وہ شکایتوں میں جینا چھوڑ دے اور صبر وبرداشت کے ساتھ مشترک خاندان میں رہے۔
واپس اوپر جائیں

وقت کی اہمیت

امریکا میں وقت کی پابندی کی بہت زیادہ اہمیت ہے ، ان کا تصور یہ ہے کہ مقرر وقت سے پہلے پہنچنے کی کوشش کرو، تاکہ تمھارا وقت پر پہنچنا یقینی ہوجائے۔ امریکی لوگوں کا تصور یہ ہے کہ کسی میٹنگ میں جانا ہے تو تم طے شدہ وقت سے 15 منٹ پہلے پہنچنے کی کوشش کرو— اگر تم مقرر وقت سے 5 منٹ پہلے پہنچے تو گویا کہ تم دس منٹ لیٹ ہوگئے:
If you are five minutes early, you are ten minutes late.
زندگی میں وقت کی بہت زیادہ اہمیت ہے۔ ہم جو کچھ کرتے ہیں، وقت کے اندر ہی کرتے ہیں۔ وقت ختم تو کام بھی ختم۔ چناں چہ کہاجاتا ہے کہ— وقت، دولت ہے:
Time is money
عربی زبان میں مقولہ ہے کہ: الوقت ہو الحیاۃ، فلا تقتلوہ (وقت ہی کا نام زندگی ہے، تم اس کو ہلاک نہ کرو) ۔ یہ بلاشبہہ نہایت درست ہے۔
زندگی وقت سے بندھی ہوئی ہے۔ انسان کا کوئی بھی کام وقت ہی کے استعمال کی ایک صورت ہوتی ہے۔ کوئی بھی شخص وقت کو جتنا زیادہ استعمال کرسکے، اتنا ہی زیادہ وہ زندگی میں کامیابی حاصل کرے گا۔
وقت کی یہ اہمیت بتاتی ہے کہ وقت کے بارے میں انسان کوبے حد حساس ہونا چاہئے۔ حقیقت یہ ہے کہ جو آدمی جتنا زیادہ ٹائم کانشس (time-conscious) ہو، اتنا ہی زیادہ وہ باشعور انسان کہاجائے گا۔ ٹائم کانشس ہونا، بااصول انسان کی علامت ہے۔
جو آدمی ٹائم کانشس نہ ہو، وہ بلا شبہہ ایک بے اصول انسان ہوگا۔ انسانیت کے اعلیٰ اقدار کی نسبت سے اس کی کوئی اہمیت نہیں۔ موجودہ زمانے میں گھڑی کی ایجاد نے وقت کی پابندی کو بہت زیادہ آسان بنا دیا ہے۔ اِسی لیے گھڑی کو ٹائم کیپر (time keeper) کہاجاتاہے۔
واپس اوپر جائیں

سوال وجواب

سوال
دو سوالات کے جواب مطلوب ہیں۔ ایک یہ کہ ماہ نامہ الرسالہ، جون 2007 میں آپ نے اپنے ایک مضمون میں ’’مسیحی ماڈل کی واپسی‘‘ کا ذکر کیا تھا۔ اِس سے آپ کی مراد کیا ہے۔ دوسرے یہ کہ آپ نے اپنی تحریروں میں کئی مقامات پر اعلیٰ بصیرت اور پریکٹل وزڈم (practical wisdom) کی باتیں لکھی ہیں۔ برائے کرم مثال کے ذریعے اس کو واضح فرمائیں (عبد الباسط عمری، دوحہ، قطر)
جواب
1 - قیامت سے پہلے مسیح کی آمد ثانی کے بارے میں جو روایتیں آئی ہیں، اُس سے مراد غالباً مسیحی ماڈل کی آمد ثانی ہے، نہ کہ جسمانی معنوں میں پیغمبر مسیح کی آمد ثانی۔ یہ مسیحی ماڈل قرآن میں بھی مذکور ہے اور انجیل میں بھی اس کا ذکر آیا ہے۔ یہ مسیحی ماڈل، قرآن اور انجیل دونوں کی تصریحات کے مطابق، یہ ہے کہ یک طرفہ صبر کے ذریعہ غیر سیاسی انداز میں پرامن طورپر دعوت الی اللہ کا کام کرنا۔ یہی مسیحی ماڈل ہے اور اِس کو تاریخ میں دوبارہ واپس آنا ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ مسیحی ماڈل وہی ہے جس کو مکی ماڈل کہاجاتا ہے۔ مسیحی ماڈل کی واپسی دراصل خود پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے مکی ماڈل کی واپسی ہے۔ مگر بعد کے زمانے میں پیغمبر اسلام کے حوالے سے یہ ماڈل مسلمانوں کے لیے قابلِ دریافت نہیں رہے گا۔غالباً اسی لیے آپ نے اس کی واپسی کو مسیح کی واپسی سے تعبیر کیا۔ مسیحی ماڈل دراصل خود پیغمبراسلام کی جامع زندگی کاایک پہلو ہے، نہ کہ اس سے الگ یا اُس سے مغائر کوئی پہلو۔
حدیث اور سیرت کی کتابوں میں اور خود قرآن میںیہ مکی ماڈل واضح طورپر موجود ہے۔ لیکن بعد کو یہ ہوا کہ مسلم علماء نے بطور خود یہ سمجھ لیا کہ ہجرت کے بعد اب مکی ماڈل منسوخ ہوچکا ہے اور اب صرف مدنی ماڈل کی پیروی مسلمانوں سے مطلوب ہے۔ بعد کے زمانے میں مسلم علماء نے جو کتابیں لکھیں، وہ عام طور پر اِسی مفروضہ کے تحت لکھی گئیں، یہاں تک کہ شعوری یا غیر شعوری طورپر یہ سمجھ لیا گیا کہ مدنی ماڈل ہی اب مطلوب معیاری ماڈل ہے۔ بعد کے زمانے میں مسلمانوں کو جس ماڈل کی پیروی کرنا ہے، وہ صرف مدنی ماڈل ہے، بالفاظِ دیگر حاکمانہ ماڈل۔ لمبی تاریخی روایت کے نتیجے میں اب یہ صورت حال پیدا ہوچکی ہے کہ مسلم ذہن پیغمبر اسلام کے حوالے سے اس ماڈل کو سمجھ نہیں پاتے، اِس لیے اِس کو مسیحی ماڈل کے حوالے سے مسلمانوں کے سامنے لایا گیا۔ کیوں کہ بعد کے زمانے میں مکی ماڈل مسلمانوں کے ذہن سے اوجھل ہوگیا اور صرف مدنی ماڈل ان کے زندہ حافظے میں باقی رہا، جب کہ مسیحی ماڈل پر دوسرا مرحلہ پیش نہیںآیا۔ مسیح کے یہاں اول بھی مکی ماڈل تھااور آخر بھی مکی ماڈل۔
2 - پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے آخری زمانہ میں حجۃ الوداع کے موقع پر فرمایا تھا: لافضل لعربی علی عجمی ولا لأحمر علیٰ أسود (کسی عربی کو کسی عجمی کے اوپر کوئی فضیلت نہیں، کسی سفید فام کو کسی سیاہ فام پر کوئی فضیلت نہیں) اِن الفاظ میں بظاہر مطلق مساوات کا اعلان تھا، لیکن آپ کی وفا ت کے بعد جب خلافت کا مسئلہ پیدا ہوا تو اس کو الائمۃ من قریش (مسند احمد، رقم الحدیث: 12657)کی بنیاد پر حل کیاگیا۔ یہ فعل واضح طورپر آئیڈیل مساوات کے خلاف تھا۔
قرآن میں ارشاد ہوا ہے: أمرہم شوریٰ بینہم (اہلِ ایمان کے معاملات اجتماعی مشورے سے طے ہوتے ہیں) الفاظ کے اعتبار سے بظاہر یہ ایک مطلق اصول ہے، لیکن خلیفۂ اوّل حضرت ابو بکر نے خلیفۂ ثانی حضرت عمر کے تقرر میں اِس تعلیم کے خلاف عمل کیا۔ انھوں نے اپنے بعد خلیفہ ثانی کے لئے نام زدگی (nomination) کا طریقہ اختیار کیا۔ آپ نے رائے عامہ کے بغیر بطورخود حضرت عمر کی خلافت کا اعلان کردیا۔ یہ واقعہ واضح طورپر مذکورہ قرآنی اصول کے خلاف تھا۔
پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد مدینہ میں خلافت کے سوال پر مہاجرین اور انصار کے درمیان اختلاف ہوا۔ انصار کا یہ کہنا تھاکہ: منا أمیر ومنکم أمیر (ایک امیر مہاجر ین میںسے اور ایک امیر انصار میںسے)۔بحث کے بعد آخر کار یہ طے ہوا کہ مہاجرین میں سے امیر ہوں اور انصارمیں سے وزیر (نحن الأمراء وأنتم الوزراء)۔ لیکن اس پر عمل نہ ہوسکا اور حضرت عمر فاروق نے اپنے آخری زمانے میں کہا کہ ہم نے انصار سے وعدہ کیا تھا کہ ہم خلافت کے کام میں ان کو وزیر بنائیں گے، لیکن ہم ایسا نہ کرسکے (واللہ ما وفینا لہم کما عاہدناہم علیہ۔ مسند البزّار، رقم الحدیث: 291)۔
اسلام کے دور اول کی تاریخ میں اس طرح کے بہت سے واقعات ہیں۔ یہ واقعات بظاہر یہ بتاتے ہیں کہ اسلام میں اصول اور عمل کے درمیان تضاد ہے، مگر یہ بات درست نہیں۔ یہ فرق خودایک اور مستقل اصول کے تحت پیش آیا— اصول کا تعین ہمیشہ معیار (norm) کی روشنی میں ہوتا ہے، لیکن جب عملی بندوبست (practical settlement) کا معاملہ ہو تو اُس وقت ایک اور اصول اختیار کیا جاتا ہے۔ اُس وقت یہ دیکھا جاتا ہے کہ عملی اعتبار سے کیا چیز ممکن ہے اور کیا چیز ممکن نہیں۔
اصول کا تعین ایک مجرد(abstract) معاملہ ہے، اِس لئے اصول کے تعین کے وقت خالص نظری پہلو کا اعتبار کیا جاسکتا ہے۔ لیکن عملی بندوبست کا تعلق سماج کی واقعی صورت ِ حال سے ہوتا ہے۔ اِس لئے عملی بندوبست کے وقت ضروری ہوتاہے کہ یہ دیکھا جائے کہ موجودہ صورت حال کے مطابق کیا چیز ممکن ہے اور کیا چیز ممکن نہیں۔
مذکورہ مثالوں کے درمیان بظاہر جو فرق نظر آتاہے، وہ اِسی اعلیٰ بصیرت کی بنا پر ہے۔ یہی وہ حقیقت ہے جس کو پریکٹکل وزڈم (practical wisdom) کہاجاتا ہے۔ جو لوگ اصولی معیار اور پریکٹکل وزڈم کے فرق کو نہ جانیں، وہ ذہنی اعتبار سے کنفیوژن (confusion) کا شکار ہوجائیںگے اوروہ عملی اعتبار سے ایسا اقدام کریں گے جو حالات میں مزید خرابی پیدا کرے اور نتیجے کے اعتبار سے کاؤنٹر پروڈکٹیو (counter productive) بن کر رہ جائے — عملی رویّے کا فیصلہ ہمیشہ واقعی صورتِ حال کی بنا پر کیا جاتا ہے، نہ کہ مجرد اصولی معیار کی بنیاد پر۔
واپس اوپر جائیں

خبرنامہ اسلامی مرکز — 204

1 - میں الرسالہ کا ایک قدیم قاری ہوں اور 12 اپریل 2010 آپ کے گھر پر مولانا محمد مصطفی عمری کے ہمراہ آپ سے نصیحت آموز ملاقات کی سعادت حاصل ہوئی تھی۔ آپ کے ساتھ میں نے مغرب کی نماز بھی ادا کی تھی۔ قیمتی وقت دینے کے لئے آپ کا شکریہ۔مولانا محمد ذکوان ندوی سے تعارف کے دوران میںنے بتایا تھا کہ ممبئی کے اہم مقام چرچ گیٹ اسٹیشن پر واقع بُک اسٹال پر میں پچھلے دو سالوں سے آپ کا ترجمہ قرآن اور دیگر دعوتی لٹریچر فروخت (sale) کے لئے رکھوا کر آپ کے مِشن میں کام کررہا ہوں۔ اس اسٹیشن پر روزانہ لاکھوں لوگ آتے اور جاتے ہیں۔ قرآن کے تقریباً 300 ترجمے یہاں سے بِک چکے ہیں جس میں 90% خریدار غیر مسلم حضرات ہیں۔ یہ کام میں جاوید بھائی (ICRA) کے تعاون سے کررہا ہوں۔(محمد اسلم چوغلے، ممبئی)
2 - شانتی گری رسرچ فاؤنڈیشن (مالویہ نگر، نئی دہلی) کے تحت نہرو آڈیٹوریم (تین مورتی ہاؤس) میں 21 اپریل 2010کو ایک سیمنار ہوا۔ اس کا موضوع یہ تھا:
National Workshop on Sustainable Development: Building Alternatives.
اِس کی دعوت پر صدر اسلامی مرکز نے سی پی ایس کی ٹیم کے 6 افراد کے ساتھ اس میں شرکت کی۔ اور موضوع پر انگریزی زبان میں آدھ گھنٹہ تقریر کی۔ اِس موقع پر سی پی ایس کی طرف سے حاضرین کو مطالعے کے لیے دعوتی لٹریچر اور قرآن کا انگریزی ترجمہ دیاگیا۔ لوگوں نے اس کو بہت شوق سے لیا۔
3 - ٹائمس آف انڈیا (نئی دہلی) کی نمائندہ مز سکینہ خان (Deputy Editor Editorial) نے 4 مئی 2010 کو صدر اسلامی مرکز کا انٹرویو ریکارڈ کیا۔ گفتگو کا موضوع یہ تھا کہ اسلام میں ماں کا درجہ کیا ہے۔ اِس سلسلے میں انھیں قرآن اور حدیث کے ضروری ریفرنس میں اسلامی تعلیمات بتائی گئیں۔ اِس کے علاوہ ان کو قرآن کا انگریزی ترجمہ اور صدر اسلامی مرکز کی کتاب Woman in Islamic Shari’ah مطالعے کے لیے دی گئی۔
4 - مئی کا الرسالہ نظر نواز ہوا۔ کافی تحقیق اور وسیع مطالعہ کا نتیجہ لگتا ہے۔ خروجِ دجّال اور یاجوج وماجوج، ظہور مہدی اور نزولِ مسیح جیسے پیچیدہ اور اختلافی مسائل پر آپ نے نہایت ہی عالمانہ اور محققانہ مدلّل ومسبوط نظریہ پیش کیا ہے، جو نہ مافوق الفطرت لگتا ہے اور نہ ہی دیومالائی یا طلسماتی قصہ، بلکہ یہی نظریہ فطرت سے مطابقت بھی رکھتا اور ممکن الوقوع بھی ہے۔ لیکن مجھے نہیں لگتا کہ مسلم علماء اس کو پسند فرمائیں گے یا قبول کریں گے۔ کیوں کہ اس سلسلہ میں وہ اپنے روایتی بند خول سے باہر نہیں نکلنا چاہتے۔ عین ممکن ہے کہ آپ کے اس جرأت مندانہ پیشکش اور اقدام کی وجہ سے آپ کو مطعون کیاجائے۔ (سید ناصر ندیم ، کشمیر)
5 - طالب علمی کے زمانے ہی سے اگر میں کسی مشن سے واقف ہوا تو وہ الرسالہ مشن ہے۔ شہر بھوپال میں الرسالہ کی تقسیم سے میرا آغاز ہوا۔ یہ کام مجھے میرے استاذ ڈاکٹرحمید اللہ ندوی نے سونپا تھا۔ اس وقت میں زیادہ نہیں سمجھتا تھا، مگر جو کام مجھے دیا جائے اسے کرنا ہی میرا طریقہ تھا جو کہ آج تک جاری ہے۔ اب یہی کام میں مدھیہ پردیش کے شہر دیواس میں کررہا ہوں۔ میرا اندازہ ہے کہ 1977 ء یا 1978 ء میں بھوپال سے میں نے یہ کام شروع کیا۔ اور دھیرے دھیرے یہ سمجھنے لگا کہ الرسالہ صرف ایک پرچہ نہیں، بلکہ وہ ایک ایسا مشن ہے جس میں امت کے لیے دین و دنیا کا راز پوشیدہ ہے۔مولانا وحیدالدین خاں صاحب موثر انداز میں مسلمانوں کو زندگی کے راز بھی بتا رہے تھے اور ان کے اندر دینی روح بھی زندہ کررہے تھے۔984 1ء میں میں نے اپنے وطن دیواس میں کام شروع کیا۔ اپنے استاذ مولانا ڈاکٹر حمید اللہ ندوی کے ساتھ عملاً میں یہ دیکھ چکا تھا کہ غیر مسلم افراد سے بھی اپنائیت کا رشتہ قائم کیا جاسکتا ہے- میں اسی راستے پر چلا اور آج اپنے شہر میں آرایس ایس کے مکھیا کے کالج کا ایک بااختیار فرد ہوں اور شہر میں آرایس ایس کے آل انڈیا سرسنچالک ایک بار آئے تو ان سے میری ملاقات کرائی گئی۔ اور ان اصحاب کے زیادہ تر پروگراموں میں مجھے بولنے کے لئے کہاجاتا ہے۔ نیز شہر میں جب حالات کچھ گڑ بڑ ہوئے ہیں، انھیں درست کرنے میں مجھے آگے رکھا جاتا ہے۔ دیواس کے قریب اندور اور اجین میں بھی ہمارے آدمی کام کرتے ہیں۔ اور بھوپال کی سرگرمیوں میں بھی میں ہر طرح سے شریک ہوں۔حضرت مولانا کے سفر بھوپال کے ہر پروگرام میںایک کارکن کے طورپر میری شرکت ہوئی ہے۔ چند سال قبل اس مشن کی مخالفت کرنے والے حیدرآباد کے ایک شخص نے مجھے حضرت مولانا کے خلاف ورغلانے کے لئے ایک خط لکھا، اور حضرت مولانا کے خلاف لکھی ہوئی اپنی کتابیں بھیجیں۔ مگر اللہ کی مہربانی سے میں نے انھیں جواب لکھا اور پھر خطوط کے تبادلہ کا لمبا سلسلہ چلا اور اخیر میں وہ خاموش ہوگئے اور میرے واضح دلائل کا نہ تو جواب دے سکے اور نہ انھیں توبہ کی توفیق نصیب ہوئی۔ ایسے واقعات میرے اِس یقین کو بڑھاتے ہیں کہ مشن کے مخالفین ہٹ دھرمی کے خول کو کسی طرح نہیں توڑ پارہے ہیں۔اس مشن کو جس حد تک میں سمجھا ہوں، اس میں اہم بات یہ ہے کہ امت اپنے ز وال پذیر حالات میں ایسی رہنمائی سے محروم تھی جو اسے تعمیر وترقی کی مثبت فکرطاقتور انداز میں دے سکے اور احساس شکست کے تحت خود کُش اقدامات کو عقل واسلام کے خلاف ثابت کرسکے۔ موجودہ زمانے میں یہ کام صرف اور صرف اعلیٰ ترین سطح پر عصری اسلوب میں مولانا کی تحریروں نے انجام دیا۔ مجھے ہندی علاقہ اور ہندی ماحول میںکام کرنا ہوتا ہے جہاں اردو کی زیادہ کتب نہیں پڑھوائی جاسکتی ہیں۔ ہم مخصوص تحریروں کو ہندی میں پھیلاتے ہیں اور میٹنگوں میں اس کو پڑھ کر سناتے ہیں۔ اردو تحریریں بھی سناتے ہیں۔ اب تک کا تجربہ یہ ہے کہ سنجیدہ ذہن والوں کو لگتا ہے کہ آخری حد تک صبر و برداشت کی تعلیم ہی اسلام کی اصل تعلیم ہے اور حالات کو پر امن بنانے کے لیے آخری حد تک ہمیں اپنا رول ادا کرنے کے بعدہی وہ مواقع میسر آتے ہیں جو ہمارے لیے اسلام کی دعوت اور اپنی ترقی کے راستے کھولتے ہیں۔ میں اللہ سے دعا کرتا ہوں کہ ہماری ساری زندگی ہر قسم کی بے احتیاطیوں سے بچتے ہوئے اس مشن کی تکمیل میں لگی رہے۔(عبد الحمید، دیواس، مدھیہ پردیش)
6 - پنگوئن بکس (Penguin Books)ایک معروف انٹرنیشنل پبلشنگ ادارہ ہے۔ اس نے صدر اسلامی مرکزکی ایک انگریزی کتاب چھاپی ہے، اس کتاب کا نام یہ ہے:
The Prophet of Peace
یہ کتاب دو سال پہلے تیار ہوئی تھی۔ عرب نیوز (جدہ) کے ایڈیٹر مسٹر سراج وہاب کو اِس کتاب کا مسودہ دکھایاگیا۔ انھوں نے کہا کہ یہ کتاب اِس نام کے ساتھ انگریزی دنیا میں چلنے والی نہیں ہے۔ آپ اس کو پھر سے مرتب کیجئے اور اس کا نام یہ رکھئے :
Why Binladen was Wrong?
مگر یہ ٹائٹل ہمارے ذوق کے مطابق نہ تھا۔ اس کے بعد ایسا ہوا کہ پاکستان کے ہندستانی سفارت خانے کے ایک ہندو افسر کی ملاقات لاہور کے مولانا جاوید احمد غامدی سے ہوئی۔ غامدی صاحب نے اُن سے صدراسلامی مرکز کاتعارف کرایا۔ اس کے بعد مذکورہ ہندو افسر اور ان کی اہلیہ رنجنا سین گپتا دہلی میں ان سے ملاقات کے لیے آئے۔ یہ خاتون دہلی کے پنگوئن آفس کی انچارج ہیں۔ اُن سے مذکورہ کتاب کا ذکر ہوا تو وہ اس کا مسودہ پڑھنے کے لیے اپنے ساتھ لے گئیں۔ پڑھنے کے بعد انھوں نے کہا کہ پنگوئن اِس کتاب کو چھاپنے کے لئے تیار ہے۔ اِس طرح یہ کتاب دسمبر 2009میں پنگوئن کی طر ف سے شائع ہوئی۔
صدر اسلامی مرکز کی کتاب (The Prophet of Peace) کو لوگ غیر معمولی طورپر پسند کررہے ہیں۔ ٹائمس آف انڈیا (نئی دہلی) سے تعلق رکھنے والے ایک سینئر جنرلسٹ مسٹر گوتم سدھارتھ نے اِس کتاب کو کسی بک سیلر سے خرید کر حاصل کیا اور اس کو پڑھا۔ اِس کو پڑھنے کے بعد انھوںنے مسٹر رجت ملہوترا سے کہا:
This book gives a new understanding of Islam, it is like a paradigm shift. It is a well-documented book.
موجودہ زمانے میں مسلمانوں کے مسلح جہاد نے اسلام کی تصویر یہ بنادی تھی کہ اسلام تشدد کا مذہب ہے، اور پیغمبر اسلام تشدد کے پیغمبر ہیں۔ یہ کتاب اِس غلط فہمی کو ختم کرتی ہے اور خالص علمی انداز میں یہ ثابت کرتی ہے کہ اسلام امن کا مذہب ہے اور پیغمبر اسلام امن کے پیغمبر ہیں۔ اگر یہ کہا جائے تو غلط نہ ہوگا کہ موجودہ زمانے میں یہ اسلامی دعوت کی نسبت سے ہونے والا سب سے بڑا واقعہ ہے۔ موجودہ زمانے میں عالمی میڈیا نے ساری دنیا میں اسلام کی متشددانہ تصویر بنادی تھی۔ یہ کتاب اِس تصویر کو مکمل طورپر بدل رہی ہے۔ اِس کتاب کا انٹرنیشنل پبلشر کی طرف سے شائع ہونا بھی ایک معجزے سے کم نہیں۔
7 - بیروت (لبنان) سے چھپی ہوئی عربی مصادر ومراجع کی کتابیں ہمارے مکتبہ میں دستیاب ہیں۔ خواہش مند حضرات ان کو گڈورڈ بکس (Goodword Books) سے حاصل کرسکتے ہیں۔
واپس اوپر جائیں

Al-Quran Mission

Quran and Dawah Material Distribution
CPS International and Goodword Books have placed Order Free Quran forms on their websites, www.goodwordbooks.com and www.cpsglobal.org. They are sending Quran copies of the Quran translated by Maulana Wahiduddin Khan in English and dawah material in response to the daily requests coming from people from all over the world. Some of the prominent places are USA, Mexico, Canada, UK, Germany, Sweden, Lithuania, Nigeria, Ghana, Australia, South Africa, Saudi Arabia, Morocco, UAE, Turkey, Singapore, Malaysia, Malta, Philippines, Poland, Russian, Kazakhstan, Ukraine, Uzbekistan, Pakistan and India.
Dayees from all over the world are also spreading the translations of the Quran by Maulana Wahiduddin Khan in English and Hindi and dawah material during interactions or through emails either individually or in groups.
Some of the responses they have received are:
ک Thank you greatly for providing such an opportunity to get the Quran! I have been dreaming to have this book for so long, but it is almost unreal to find it in here. I will be impatiently waiting for the Quran! (Olesya Ponomaryova, Belarus)
ک I would love to have a copy of Holy Quran in English so that i can understand the roots of Islam and its essence. I am Hindu by religion but i have equal respect for all religions and beliefs. Please send me a copy if available and if not, please send me the address of the bookseller, where the book is available. (Mohan Kumar Yadav, N. Delhi)
ک I am happy to acknowledge the receipt of your kind letter No. CPS/238/10-1 dated 18th May 2010, along with the lovely edition of the Holy Quran, so beautifully translated by Maulana Wahiduddin Khan Sahib. (Madan Mohan Mathur, New Delhi)
ک I thank you for sending me the Holy Quran! Praise be to God. I am reading it daily. I would like to know Allah and know the true religion of Prophet Mohammed. (Musa Kioi from Nairobi, Kenya)
ک I gratefully acknowledge the receipt of Quran translated by Maulana Wahiduddin Khan. I am a great admirer of Maulana Wahiduddin Khan and the great work that he and his organization “CPS International” has been doing to spread the message of Quran in the right perspective. It will be my proud privilege to give you my feed back after I have gone through this work of Maulana Wahiduddin Khan. (Wg. Cdr. Ajai Bhalla (Retd.)
Quran Review in Speaking Tree Supplement of Times of India
The ‘Free Quran’ requests are continuing to flow in responses to the Speaking Tree Supplement of Time of India dated Sunday May 16th 2010 that carried a review of translation of Quran by Maulana Wahiduddin Khan, in spite of so many weeks.
The review had stated that the translation is, “Simple and direct and reaches out to a large audience, Muslims as well as non Muslim”, and aptly entitled it, “Not Lost in Translation”. They had also referred to Maulana’s, statement, “The Maulana writes that the Quran is the word of God and it is the duty of believers to communicate the message of the Quran to all human beings so that they may the know reality of life.”
Some of the recent comments from mainly non-Muslims are as follows:
ک Thank you for sending me Quran, which I never expected. I read the article in “Times of India” about the translation of Quran by Maulana Wahiduddin in a simple language. When I approached through internet, I learnt that it was not available. So, I am pleasantly surprised when I received it by courier service. How nice it would be if other organizations too distribute their sacred books in simple language freely to the interested. I am a cosmopolitan from Hindu back ground and I will definitely read and try to understand “Quran”. (V.B. Swamy, Bangalore)
ک I love reading articles authored by Maulana Wahiduddin Khan on Muslin religion. They are secular and not orthodox type. I read a review by Sakina, “Not Lost in Translation” on his translation of the Quran in the Speaking Tree supplement of May 16, 2010. (Dr Krishan Kumar Agarwal, Vaishali, Ghaziabad)
ک I like to study your whole literature. I hope your literature will help me to better understand the philosophy of Islam. Thank you for your honourable service. (Deepak Bisht, Ghaziabad)
ک This is in reference to information in TOI regarding the availability of free handy translation of Quran, my father wishes to go through the holy pages, if you can please forward the same free copy, he will be highly pleased. (Prarina)
ک Read the book review by Sakina Yousuf Khan in the Speaking Tree supplement with Times of India 16th May 2010. I will be grateful for a copy of the holy book. I am a secular person willing to imbibe all that is offered by any and all religions. (Anindya Chaudhury, Gurgaon)
ک It is nice that there is launch of English translation that we all are more comfortable in reading than Urdu. (Agrima Jindal, New Delhi)
ک Respected Sir, In the Times of India, Speaking Tree, Book reviews, dated 16 May 2010, I read about the Quran review by Sakina Yusuf Shan. I request you to send me 100 copies of the Quran which will cost Rs. 2000 only. I want to donate it to an education trust. (Arun Venkatesh, Bangalore)
ک The Society for Peace and Environmental Concerns, Jammu organized an inter-faith Conference on “Religion and Peace” on 6th 0f June 2010 at Jammu in the Seminar hall of Computer Science and I.T. Deptt. University of Jammu. The conference was chaired jointly by Prof. M.R. Puri, former Vice Chancellor University of Jammu as well as Prof. Varun Sahni, the present Vice- Chancellor, university of Jammu. In his address Prof. M.R. Puri, former Vice- Chancellor, university of Jammu made a startling revelation that “I have known it today only through this booklet that Assalam-O-Alaikum means peace be upon you and then he said that today I am concluding my speech with Assalam-O-Alaikum”. A booklet prepared specially for the occasion titled Islam and Peace was distributed among the participants which generated good response. The booklet was based on the Islamic ideology of peace given by Maulana Wahiddudin Khan in his book “Islam and Peace”. Dawah literature and Quran were exhibited during the conference and pocket size Quran translated by Maulana Wahiduddin Khan was distributed among the participants, free of cost. (Ahmad Shanas, President, SPEC)
US Teleconference
To spread the Al-Quran Mission worldwide, Maulana Sahab has started addressing Dayees in the USA through teleconferencing that is being organized by Khwaja Kaleemuddin Sahab. On 6th June, 2010 the talk was on ‘How to do effective dawah work in Western society’. In his talk Maulana Sahab has said, ‘Muslims in the west are playing eastern games in western court’. By this he meant that the Muslims in the West are not trying to read the western mind and undertake dawah work, but are just acting on their eastern mindset. Due to this they have not realized that people in the West are dissatisfied spiritually, ‘They are looking for another version of Truth’. He advised Muslims in the West to utilize this opportunity and present Islam to them in the scientific idiom and they will surely welcome it.
As a result of this advice, Khwaja Kaleemuddin has written:
Following your advice on “How to do an effective Dawah work in Western Society” during our teleconference monthly meeting of CPS-USA, I decided to go to a Church to meet with the Pastor to have an exchange of Ideas. I called up one of my Christian friends who goes to a Greek Orthodox Church and told him that I would like to go to his Church with him today and meet with the Pastor at the end of the Church services. So I went to the Church along with him and met with the Pastor today and at the end of the services. At the end of our talk I presented him with “The Quran Translation” and “The Prophet of Peace”.
Amazingly, he was not only happy to receive these books; he even offered me two things. One, he asked me to bring more books to keep them in the Church library so that his members have an access to read those books and second, he would invite me to give a lecture on Islam to his Church audience in fall season.
Allahu Akbar, this experience of mine confirms what you said during your short talk yesterday that we must shed our hesitation and meet with the various “Intelligentsia” of the society. You are right that they are truly very receptive. In view of this experience, I urge all CPS members here in USA to experiment what I did today and continue doing for the rest of the life.
واپس اوپر جائیں