Pages

Friday, 2 March 2012

Al Risala | March 2012 (الرسالہ,مارچ)


آغازِ کلام

ماہ نامہ الرسالہ، اکتوبر 1976 میں جاری ہوا۔ بالکل شروع ہی سے وہ ریاست جموں وکشمیر میں پھیلنے لگا، یہاں تک کہ یہ کہنا صحیح ہوگا کہ ماہ نامہ الرسالہ کے ذریعے، الرسالہ مشن اب جموں وکشمیر کے تقریباً ہر گھر میں پہنچ چکا ہے۔
اِس سلسلے میں ایک کڑی کے طورپر حال میں تین بار دعوت کے موضوع پر دہلی میں کشمیر میٹ (Kashmir Meet) ہوئی۔ اِس میٹ (اجتماع) کی تاریخی تفصیل یہ ہے:
کشمیر میٹ اول، 5-6 فروری 2011
کشمیر میٹ د وم، 29-30 اکتوبر 2011
کشمیر میٹ سوم، 25-26 نومبر 2011
اِن اجتماعات کا جو موضوع تھا، وہ صرف ایک تھا— کشمیر میں دعوتِ اسلامی کا احیاء۔ اِس موضوع پر جو تقریریں ہوئیں، یا اہلِ کشمیر سے جو گفتگو ہوئی، اس میں کشمیر سے تعلق رکھنے والے تمام موضوعات زیر بحث آئے۔ الرسالہ کے زیر نظر شمارے میں، ان تقریروں اور گفتگو کا خلاصہ شائع کیا جارہا ہے۔
یہ خلاصہ روداد کی شکل میں نہیں ہے، بلکہ وہ شذرات (fragments) کی شکل میں ہے۔ مختلف باتیں اور تاثرات الگ الگ عنوان کے تحت درج کئے جارہے ہیں۔ امید ہے کہ یہ مجموعہ کشمیر میں امن (peace) کے قیام اور دعوتِ اسلامی کے فروغ کے لیے ان شاء اللہ ایک بوسٹر (booster) ثابت ہوگا۔
نئی دہلی، یکم دسمبر 2011 وحید الدین
واپس اوپر جائیں

صبح ِکشمیر

1917 میں روس میں کمیونسٹ پارٹی کی حکومت قائم ہوئی۔ اس کے بعد اِس کمیونسٹ حکومت نے مسلسل یہ کوشش شروع کی کہ وہ اطراف کے علاقوں میں کمیون ازم کو برآمد (export) کرے۔ اِنھیں میں سے ایک نشانہ تاشقند کا ملک تھا جس کا دار السلطنت سمر قند تھا۔ اُس زمانے میں ایک کمیونسٹ رائٹر نے اِس موضوع پر ایک کتاب لکھی تھی، جو ’’صبح سمر قند‘‘ کے نام سے شائع ہوئی:
Joshua Kunitz, Dawn Over Samarkand, 1935, 350 pages, The Van Rees Press, New York
یہ کہنا صحیح ہوگا کہ کشمیر میں اب ایک نئے دور کا آغاز ہوا ہے۔ اِس دور کو درست طور پر ’’صبح کشمیر‘‘ (Dawn Over Kashmir) کہا جاسکتا ہے۔ کشمیر میں یہ دور کسی خارجی سبب سے نہیں، بلکہ خود اہلِ کشمیر کے اندر ابھرنے والی نئی سوچ کے زیر اثر وجود میںآیا ہے۔ اکتوبر 1989میں کشمیر میں مسلح جدوجہد شروع ہوئی۔ اُس کے بعد کشمیر میں جو تباہی پیش آئی، اس کے حوالے سے وہاں ایک کتاب شائع کی گئی تھی۔ اِس کتاب کا نام ’’زخمی کشمیر‘‘ (Wounded Kashmir) تھا۔ اب وقت آگیا ہے کہ وہاں ایک نئی کتاب چھاپی جائے، جس کا نام صحت مند کشمیر (Healthy Kashmir) ہو۔ الرسالہ کا زیر نظر شمارہ، گویا کہ کشمیر کے اِسی نئے صحت مند دور کا ترجمان ہے۔
فطرت کا قانون اور تاریخ کا تجربہ دونوں یہ بتاتے ہیں کہ خدا کی اِس دنیا میں تخریبی آغاز کی ایک حد (end) ہے، لیکن اِس دنیا میں تعمیری آغاز کی کوئی حد نہیں۔ 1947میں تقسیم ہند کے بعد کچھ ناعاقبت اندیش لیڈروں نے خود ساختہ تصورِ جہاد کے تحت کشمیر میں تخریبی جدوجہد کا آغاز کیا تھا۔ قانونِ فطرت کے تحت اب اِس تخریبی جدوجہد کا خاتمہ ہوچکا ہے۔ واقعات بتاتے ہیں کہ اب کشمیر میں، کشمیر کی تاریخ کا نیا سفر شروع ہوچکا ہے۔ قانونِ فطرت کے تحت لازماً یہ واقعہ پیش آنا ہے کہ یہ تعمیری سفر مسلسل جاری رہے، یہاں تک کہ وہ اپنی آخری منزل پر پہنچ جائے۔
تخریب کے بعد تعمیر
پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے 610 عیسوی میں مکہ میں اپنا دعوتی مشن شروع کیا۔ مکہ میں آپ کے مشن کو سخت مزاحمت کا سامنا پیش آیا۔ حالات کے تقاضے کے تحت 622 عیسوی میں آپ نے مکہ سے مدینہ کی طرف ہجرت فرمائی۔ مکہ کے برعکس، مدینہ میں آپ کو نہایت موافق حالات ملے۔ مدینہ میں کسی رکاوٹ کے بغیر اسلام تیزی سے پھیلنے لگا۔ مدینہ میں ایسا کیوں ہوا، اِس کا جواب حضرت عائشہ کی ایک روایت میں ملتا ہے: کان یوم بُعاث یوماً قدّمہُ اللہ لرسولہ (صحیح البخاری، رقم الحدیث: 3777) یعنی جنگ بُعاث، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مشن کے لیے ایک خدائی رحمت کی حیثیت رکھتی تھی:
The battle of Bu’ath was a blessing in disguise for the Prophet of Islam.
مدینہ (یثرب) میں دو بڑے قبیلے تھے — اَوس اور خزرج۔ قبائلی مزاج کے مطابق، اِن دونوں کے درمیان اکثر ٹکراؤ ہوتا رہتا تھا۔ ہجرت کے پانچ سال پہلے دونوں قبیلوں کے درمیان ایک خوں ریز جنگ ہوئی۔ اِس جنگ کو ’’جنگِ بُعاث‘‘ کہا جاتا ہے۔
اِس جنگ میں دونوں قبیلوں کے افراد بڑی تعداد میں مارے گئے۔ اِس کے بعد اہلِ یثرب کے اندر سکنڈ تھاٹ (second thought) پیدا ہوا۔ شعوری یا غیر شعوری طورپر وہ سمجھنے لگے کہ اُنھیں با عزت زندگی حاصل کرنے کے لیے تشدد پرمبنی آئڈیالوجی کے بجائے، امن پر مبنی آئڈیالوجی درکار ہے۔ یہی وہ لمحہ تھا جب کہ اسلام کی دعوت مدینہ پہنچی اور وہ تیزی سے لوگوں کے دلوں میں داخل ہوگئی۔
تقریباً یہی صورتِ حال ریاست جموں وکشمیر میں پیش آئی ہے۔ 1947 میں تقسیم ہند کے بعد اِس ریاست میں جلسوں اور مظاہروں کی صورت میں ’’جہادِ کشمیر‘‘ شروع ہوا۔ ایک عرصے کے بعد اِس تحریک نے تشدد کی صورت اختیار کرلی۔ ایک طرف، کشمیری مجاہدین تھے اور دوسری طرف، انڈین آرمی۔ یہ ایک نامساوی تصادم تھا۔ چناں چہ فطری طور پر ایسا ہوا کہ کشمیر کے لوگ بڑی تعداد میں مارے گئے۔ مسلح تصادم کے نتیجے میں جو حالات پیدا ہوئے، اُس نے کشمیر کو ہر پہلو سے شدید نقصان پہنچایا۔ تعلیم اور سیاحت اور اقتصادیات اور دوسرے سماجی ادارے ناقابلِ تلافی حد تک تباہ ہوگئے۔
اِس صورت حال کو دیکھ کر اہلِ کشمیر کا ضمیر جاگ اٹھا۔ اُن کے اندر بڑے پیمانے پر نظر ثانی (rethinking) کا عمل جاری ہوگیا۔ اِسی کا یہ نتیجہ ہے کہ اب اہلِ کشمیر نے مسلح ٹکراؤ کو چھوڑ دیا، اور انھوں نے پُرامن دعوت کا طریقہ اختیار کرلیا۔
آج صورت حال یہ ہے کہ ریاست جموں و کشمیر میں قدیم طرز کی ملٹنسی (militancy) تقریباً ختم ہوگئی ہے۔ اب اہلِ کشمیر، ون مین ٹو مشن (one man, two mission) کا کلچر اختیار کررہے ہیں۔ ایک طرف، وہ تعلیم اور تجارت جیسے شعبوں میںاپنا مستقبل تلاش کررہے ہیں، اور دوسری طرف، وہ پرامن دعوت کو اپنا دینی فرض سمجھ کر دعوت الی اللہ کا کام کررہے ہیں۔
پیغمبرانہ ماڈل
حضرت یوسف ایک اسرائیلی پیغمبر تھے۔ اُن کا زمانہ ساڑھے تین ہزار سال پہلے کا زمانہ ہے۔ وہ کنعان (فلسطین) میں پیدا ہوئے، پھر مخصوص حالات کے تحت وہ مصر پہنچے۔ یہاں اُس وقت ایک بادشاہ کی حکومت تھی۔ حضرت یوسف کے اِس قصے کو قرآن میںاحسن القصص (best story) کہا گیا ہے۔ اِسی طرح، حضرت محمد ایک اسماعیلی پیغمبر تھے۔ ان کا زمانہ تقریباً ڈیڑھ ہزار سال پہلے کا زمانہ ہے۔ آپ کے زمانے میں ایک مشہور واقعہ پیش آیا۔ اِس واقعے کو اسلام کی تاریخ میں صلح حدیبیہ کہاجاتا ہے۔ قرآن میں اِس واقعہ کو فتح مبین (48: 1) کہاگیا ہے۔
یہ دونوں واقعات دو پیغمبروں کے نمونے ہیں۔ اِن دونوں واقعات سے مشترک طورپر معلوم ہوتاہے کہ زندگی کی جدوجہد کا کامیاب فارمولا کیا ہے۔ وہ فارمولا یہ ہے — سیاسی معاملے میں یک طرفہ صلح، اور دعوت کے میدان میں پُرامن جدوجہد:
Political statusquoism, Dawah activism
حضرت یوسف کے زمانے میں مصر میں ایک بادشاہ کی حکومت تھی۔ بادشاہ نے حضرت یوسف کو یہ پیش کش کی کہ وہ بادشاہ کے اقتدار کو تسلیم کرتے ہوئے ملک کے انتظام (administration) کا عہدہ قبول کرلیں۔ قرآن میں اِس کے لیے دینِ ملِک (12:76) کے الفاظ آئے ہیں، اور بائبل میں اس کی بابت یہ الفاظ ہیں: سو تو میرے گھر کا مختار ہوگا، اور میری ساری رعایا تیرے حکم پر چلے گی۔ فقط تخت کا مالک ہونے کے سبب سے، میں بزرگ تر ہوںگا:
You shall be over my house, and all my people shall be ruled according to your word; only in regard to the throne, will I be greater than you. (Genesis, 41: 40)
پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت مکہ میں 610 عیسوی میںہوئی۔ اُس زمانے میں قریش کو عرب میں قیادت کا مقام حاصل تھا۔ پیغمبر اسلام نے قریش سے امن کا معاہدہ کیا، جو اسلام کی تاریخ میں، معاہدۂ حدیبیہ کہا جاتا ہے۔ اِس معاہدے کے تحت، پیغمبر اسلام نے قریش کی قائدانہ حیثیت کو تسلیم کرلیا، اور قریش کی یک طرفہ شرطوں کو مانتے ہوئے آپ نے اُن سے 10 سال کا ناجنگ معاہدہ (no-war pact) کرلیا۔ اِس معاہدے کے مطابق، قریش کی قائدانہ حیثیت برقرار رہی، اور آپ کو پرامن دعوت کے لیے کھلے مواقع مل گئے۔
یہی اجتماعی کام کا پیغمبرانہ ماڈل ہے۔ اہلِ کشمیر اور تمام دنیا کے مسلمانوں کو اِسی پیغمبرانہ ماڈل کی پیروی کرنی ہے۔ یہی واحد ماڈل ہے جس کی پیروی کرکے مسلمان دنیا میں عزت اور کامیابی حاصل کرسکتے ہیں۔ اِس کے سوا کوئی دوسرا ماڈل اِس دنیا میں قابلِ عمل نہیں۔
اِس کے مطابق، اہلِ کشمیر اور دنیا کے تمام مسلمانوں کے اوپر فرض ہے کہ وہ نفرت اور تشدد کا طریقہ مکمل طورپر چھوڑدیں۔ وہ مسلح جدوجہد (armed struggle) کے لفظ کو اپنی ڈکشنری سے ہمیشہ کے لیے نکال دیں۔ وہ نفرت پر مبنی لٹریچر کو جلا دیں، وہ ٹکراؤ کی سیاست کو کامل طورپر چھوڑ دیں، وہ اپنے تمام ہتھیاروں کو ہمیشہ کے لیے دریا میں پھینک دیں، وہ دوسرے انسانوں کے حریف (rival) بننے کے بجائے، دوسرے انسانوں کے خیر خواہ (well-wisher) بن جائیں، وہ دل سے انسان دوست کلچر (human-friendly culture) کو اختیار کرلیں، ایسا کرنا اپنی خواہش پر چلنے کے بجائے، خدا کی صراطِ مستقیم پر چلناہوگا، اور جو لوگ اپنی خواہش کا اتباع چھوڑ دیںاور وہ خدا کی صراطِ مستقیم کے پیرو بن جائیں، وہی وہ لوگ ہیں جن کے لیے دنیا کی سعادت بھی مقدر ہے اور آخرت کی سعادت بھی۔
سنتِ رسول کے خلاف
1947 کے بعد کشمیر میں پُرشور کشمیری جدوجہد شروع ہوئی۔ ابتداء ً وہ جلسہ جلوس اور پرامن مظاہرہ کی شکل میں تھی، مگر اِن کوششوں کا کوئی نتیجہ نہیں نکلا۔ اِس کے بعد کشمیریوں میں تشدد کا مزاج پیدا ہوگیا۔ اکتوبر 1989 میں کشمیریوں نے پرامن طریقِ کار کو چھوڑ کر مسلح طریقِ کار کا راستہ اختیار کرلیا۔ اب ہر طرف گن کلچر اور بم کلچر نظر آنے لگا۔
کشمیری تحریک کے اِس نئے موڑ سے صرف چند ماہ پہلے میں سری نگر گیا تھا۔ وہاں 29 جون 1989 کو سری نگر کے ٹیگور ہال میں میری ایک تقریر ہوئی۔ اِس تقریر کا آڈیو کیسٹ اب بھی موجود ہے۔ اِس تقریر میں، میں نے پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک واقعہ بیان کیا تھا۔ واقعہ یہ تھا کہ ایک عرب بدو مدینہ آیا۔ وہاں اس نے مسجد نبوی کو گندا کردیا۔ صحابہ نے اس کو پکڑ کر اس کی سرزنش کرنا چاہا، لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کو اس سے منع کردیا۔ آپ نے کہا کہ جہاں اس نے گندا کیا ہے، وہاں تم پانی بہا کر اس کو صاف کردو (صحیح البخاری ، رقم الحدیث: 5679 )۔
پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے اِس سلوک کا عرب بدو پر بہت زیادہ اثر ہوا۔ اِس کے بعد اس نے اپنے قبیلے میں جاکر لوگوں کے سامنے یہ واقعہ بیان کیا تو اس کا قبیلہ اتنا متاثر ہوا کہ جلد ہی پورا قبیلہ اسلام کے دائرے میں داخل ہوگیا۔ اِس واقعے کو بیان کرنے کے بعد میں نے کہا کہ یہ پیغمبر اسلام کا طریقہ ہے۔ پیغمبر اسلام نے اپنا مقصد پانی بہا کر حاصل کیا تھا، آپ یہ چاہتے ہیں کہ آپ اپنا مقصد خون بہا کر حاصل کریں۔ ایسا ہونا خدا کی اِس دنیا میں کبھی ممکن نہیں۔
بعد کے حالات بتاتے ہیں کہ 29 جون 1989 کو اللہ کی توفیق سے جو الفاظ میں نے کہے تھے، وہ کشمیر میں ایک واقعہ بن گئے۔ کشمیریوں کی مسلح جدوجہد سے صرف اُن کے نقصان میں اضافہ ہوا، اس سے ان کو کوئی مثبت فائدہ حاصل نہ ہوسکا۔ اب آخری وقت آگیا ہے کہ کشمیر کے مسلمان یوٹرن (U-turn) لیں، وہ پرتشدد قومی جدوجہد کے بجائے پر امن دعوتی جدوجہد کو اپنا نشانہ بنائیں۔
تاریخ کو انتظار ہے
قرآن کی سورہ یونس میں یہ آیت آئی ہے: واللہ یدعوا إلی دار السلام (10:25) یعنی اللہ بلاتا ہے امن کے گھر کی طرف(And God calls to the home of peace.)
اِسی طرح، قرآن کی سورہ آل عمران میں یہ آیت آئی ہے: أفغیردین اللہ یبغون، ولہ أسلم مَن فی السماوات والأرض طوعاً وکرہاً، وإلیہ یُرجعون (3: 83) یعنی کیا وہ اللہ کے دین کے سوا کوئی اور دین چاہتے ہیں، حالاں کہ اللہ کے دین کے تابع ہے، وہ سب کچھ جو زمین اور آسمان میں ہے، اور سب کو اُسی کی طرف لوٹنا ہے۔
اِس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ کا مطلوب دین امن کا دین ہے۔ ستاروں اور سیاروں کی دنیا میں کامل امن قائم ہے۔ اِسی طرح، نباتات اور حیوانات کی دنیا میں بھی امن کا کلچر موجودہے۔ یہی امن کا کلچر انسان سے بھی مطلوب ہے۔ اسلام کا مدعا یہ ہے کہ لوگ اِس امن کلچر پر قائم ہوں، کیوں کہ تمام مثبت سرگرمیاں اُسی سماج میں کامیابی کے ساتھ جاری ہوتی ہیں جہاں امن کا ماحول قائم ہو۔موجودہ زمانے میں ایک طرف، عالمی میڈیا کا دور آیا۔ دوسری طرف یہ ہوا کہ عین اِسی زمانے میں ساری دنیا کے مسلمان جہاد کے نام پر مسلح جدوجہد (armed struggle) میںمشغول ہوگئے۔ اِن سرگرمیوں کا یہ منفی نتیجہ نکلا کہ ساری دنیا میں اسلام، تشدد کا مذہب (violent religion) سمجھا جانے لگا۔
یہ بے حد سنگین صورتِ حال ہے۔ اِس وقت سب سے بڑی ضرورت یہ ہے کہ اسلام کی اِس منفی تصویر (negative image) کو بدلا جائے۔ عالمی میڈیا کو امیج بلڈنگ (image building) کا ذریعہ بنایا جائے، یعنی اسلام کو اِس حیثیت سے نمایاں کیا جائے کہ وہ لوگوں کو مذہبِ تشدد (religion of violence) کے بجائے، مذہبِ امن (religion of peace) نظر آنے لگے۔
اب آخری وقت آگیا ہے کہ مسلمانو ں میں کم از کم کوئی ایک گروہ ایسا اٹھے جو اسلام کی متشددانہ تصویر کو بدلے، جو اِس بات کا ذریعہ بنے کہ خدا کا دین لوگوں کو امن اور رحمت کا دین دکھائی دینے لگے، جو اب تک لوگوں کو صرف نفرت اور تشدد کا دین نظر آرہا ہے۔ یہ موجودہ زمانے کی ایک عظیم ترین سعادت ہے۔ جو مسلم گروہ اِس سعادت کا حق دار بنے گا، وہ بلاشبہہ دنیا اور آخرت میں اللہ کے عظیم انعامات کا مستحق قرار پائے گا۔اِس مقصد کو کوئی ایسا مسلم علاقہ انجام دے سکتا ہے جو بر وقت عالمی میڈیا میں آچکا ہو۔ موجودہ زمانے میں کئی ایسے مسلم علاقے ہیں جو عملاً عالمی میڈیا میں آچکے ہیں۔ لیکن حالات بتاتے ہیں کہغالباً صرف ایک مسلم علاقہ ہے جو اِس واقعے کو ظہورمیں لاسکتاہے۔
راقم الحروف کے اندازے کے مطابق، یہ علاقہ ریاست جموں وکشمیر ہے۔ مختلف اسباب سے یہ علاقہ بالفعل عالمی میڈیا میں آچکا ہے۔ مگر ابھی وہ متشددانہ اسلام (violent Islam) کے اعتبار سے، عالمی میڈیا میں ہے۔ اب جو کچھ کرنا ہے، وہ صرف یہ کہ اہلِ کشمیر اپنی اِس حیثیت کو دریافت کریں اور اس کو مثبت معنوں میں وہ اسلام کی امیج بلڈنگ کے لیے استعمال کریں۔
یہ عظیم سعادت اہلِ کشمیر کو اُس وقت حاصل ہوگی، جب کہ وہ اپنے ہتھیاروں کو دریا میں پھینک دیں، اور اعلان کے ساتھ دنیا کو یہ بتادیں کہ اب انھوں نے متشددانہ کلچر کو چھوڑ دیا ہے۔ اب انھوںنے سوچ سمجھ کر پُرامن طریقہ اختیار کرلیاہے، جو کہ اصل اسلام کا طریقہ ہے۔ اہلِ کشمیر کا یہ فیصلہ فی الفور عالمی میڈیا کے لیے ایک بریکنگ نیوز (breaking news) بن جائے گا۔ یہ ایک عظیم کریڈٹ ہے جو کسی مستحق گروہ کا انتظار کررہا ہے، اور اہلِ کشمیر بلا شبہہ یہی گروہ بن کر اِس کریڈٹ کا استحقاق حاصل کرسکتے ہیں۔
پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات (632ء) کے بعد وہ حالات پیدا ہوگئے۔ جب کہ عرب میں اسلام کی امیج (image) اُس سے مختلف نظر آنے لگی جو کہ پیغمبر اسلام کے زمانے میں تھی۔ اُس وقت حضرت ابو بکر صدیق اٹھے۔ انھوںنے کہا: أینقص الدین، وأنا حیٌّ (ہدایۃ الرُواۃ لابن حجرالعسقلانی، رقم الحدیث:3031 ) کیا دین میں نقص آئے گا، حالاں کہ میں زندہ ہوں۔ اِس کے بعد اللہ تعالیٰ کی مدد آئی اور حالات بہت جلد درست ہوگئے۔ اب وقت آگیا ہے کہ اہلِ کشمیر کھڑے ہو کر یہ کہیں کہ— ہم اِس بات کو برداشت نہیں کرسکتے کہ اسلام کو تشدد کا مذہب سمجھا جائے۔ ہم دوبارہ دنیا کو بتائیں گے اسلام رحمت اور امن کا مذہب ہے۔ جس دن اہلِ کشمیر متحد ہو کر یہ کہیں گے، اُسی دن اللہ کی مدد ٹوٹ پڑے گی اور اسلام دوبارہ مذہبِ امن کی حیثیت سے عالمی سطح پر اپنی جگہ حاصل کرلے گا۔
کشمیر دھماکہ(Kashmir explosion)
پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے 622 عیسوی میں مکہ سے مدینہ کی طرف ہجرت کی۔ ہجرت سے پہلے آپ نے فرمایا تھا کہ: أمرت بقریۃ تأکل القری، یقولون یثرب، وہی المدینۃ (صحیح البخاری، رقم الحدیث: 1748)یعنی مجھ کو ایک ایسی بستی کا حکم دیا گیاہے جو تمام بستیوں کو کھا جائے گی۔ لوگ اس کو یثرب کہتے ہیں، اور وہ مدینہ ہے۔
دوسرے لفظوں میں یہ کہ مدینہ کے لیے اللہ نے مقدر کیا تھا کہ وہ دعوتِ توحید کے لیے فلیش پوائنٹ (flash-point) بنے۔ چناں چہ ایسا ہی ہوا، مدینہ کی طرف ہجرت کے بعد توحید کا دین (اسلام) بہت جلد ایک عالمی دین بن گیا۔
موجودہ زمانے میں اسلام کی تصویر(image) ایک متشددانہ مذہب کی بن گئی ہے۔ انیسویں صدی اور بیسویں صدی میں، اسلام کی یہی منفی تصویر ساری دنیا میں پھیل گئی۔ اب اکیسویں صدی میںآخری طورپر وہ وقت آگیا ہے جب کہ اسلام کی پرامن تصویر دنیا کے سامنے آئے۔میڈیا کے دور میں اِس مقصد کے لیے ایک بریکنگ نیوز (breaking news) درکار ہے۔ سپربریکنگ نیوز ہی اکیسویں صدی میں، اسلام کو دوبارہ ایک پر امن مذہب کی صورت میں دنیا کے سامنے نمایاں کرسکتی ہے۔
غور کیا جائے تو آج کی دنیا میں کشمیر وہ واحد مقام ہے جہاں سے اِس بریکنگ نیوز کا آغاز ہوسکتا ہے۔ پچھلے برسوں میں کشمیر میں اسلام کے نام پر متشددانہ تحریک چلی، تاہم اس کا ایک مثبت پہلو ہے۔ اس کی وجہ سے یہ ہوا کہ میڈیا کے دور میں کشمیر عالمی نیوز میں آگیا۔ اب اگر کشمیر میں پُر امن اسلام کی دعوت ابھرے تو اچانک یہ ہوگا کہ کشمیر عالمی میڈیا کے لیے ایک بریکنگ نیوز بن جائے گا۔ کشمیر وہ مقامِ تعارف بن جائے گا جہاں سے دنیا کو اِس واقعہ کی خبر ملے کہ اسلام امن کا مذہب ہے، وہ تشدد کا مذہب نہیں۔ حالات بتاتے ہیں کہ کشمیر کے لیے اِس کریڈٹ کا ملنا مقدر ہوچکا ہے۔ آج اسلام کو ایک پُر امن دھماکہ (peaceful explosion) کی ضرورت ہے۔ حالات بتاتے ہیں کہ غالباً کشمیروہ مقام ہے جس کے لیے یہ مقدر ہے کہ وہ اکیسویں صدی میں اسلام کے اِس پر امن دھماکے کا مقام بنے۔ یہ بلاشبہہ ایک ایسا واقعہ ہے جس کا تاریخ کو آج سب سے زیادہ انتظار ہے۔
امن کی اہمیت
قرآن کی سورہ النساء میں ارشاد ہوا ہے: الصلح خیر (4: 128) یعنی صلح زیادہ بہتر ہے۔ صلح کیا ہے، صلح دراصل امن کے نتیجے کا دوسرا نام ہے۔ جہاں صلح ہے، وہاں امن ہے اور جہاں صلح نہیں، وہاں امن بھی نہیں۔ اِس اعتبار سے، یہ کہنا صحیح ہوگا کہ اسلام میں امن کو خیر اعلیٰ کا درجہ حاصل ہے۔
عام طورپر لوگ انصاف(justice) کو بڑی چیز سمجھتے ہیں، مگر اصل حقیقت یہ ہے کہ انصاف کی حیثیت صرف ایک تصوراتی معیار کی ہے۔ اصل سوال یہ ہے کہ یہ تصوراتی معیار عملاً کس طرح حاصل ہو۔ اِس کا جواب صرف ایک ہے، اور وہ یہ کہ امن کے ذریعے۔ امن کا یہ فائدہ ہے کہ اس کے ذریعے مواقع کھلتے ہیں۔ انصاف کسی کو خود بخود نہیں ملتا۔ انصاف کسی گروہ کو صرف اُس وقت ملتاہے، جب کہ وہ مواقع کو پہچانے اور اس کو دانش مندانہ طور پر استعمال (avail) کرے۔
موجودہ زمانے میں بہت سے مقامات ہیں جہاں لوگ انصاف کے لیے لڑ رہے ہیں، مگر اِن میں سے ہر ایک اپنا مطلوب انصاف پانے میں ناکام ہے۔ اِس کا سبب صرف ایک ہے، اور وہ ہے طریقِ کار(method) کی غلطی۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ اِس دنیا میں ساری اہمیت طریقِ کار کی ہے۔ کوئی صحیح مقصد بھی غلط طریقِ کار کے ذریعے حاصل نہیں کیا جاسکتا۔ یہ اصول اتنا زیادہ عام ہے کہ اس میں اہلِ کشمیر یا کسی غیر اہلِ کشمیر کا کوئی استثنا (exception) نہیں۔
کوئی گروہ جو انصاف کا طالب ہو، اُس کو سب سے پہلے اپنے یہاں امن قائم کرنا چاہیے۔ امن کی اہمیت اتنی زیادہ ہے کہ اُس کو ہر حال میں قائم کرنا ضروری ہے، خواہ اس کی کوئی بھی قیمت دینی پڑے۔امن کبھی دو طرفہ بنیاد پر قائم نہیں ہوتا، امن ہمیشہ یک طرفہ صبر کی بنیاد پر قائم ہوتاہے۔ اِس کے سوا، امن کے قیام کا کوئی اور طریقہ نہیں۔
فطرت کا نظام، مواقع (opportunities) پر مبنی ہے۔ فطرت کے نظام کے تحت ہمیشہ ایسا ہوتاہے کہ مواقع وافر مقدار میں موجود رہتے ہیں۔ نفرت اور تشدد کا ماحول اِن فطری مواقع کے لیے ٹریپ ڈور (trap door) کی حیثیت رکھتا ہے۔ فطرت کا تقاضا ہے کہ آدمی سب سے پہلے نفرت اور تشدد کے ٹریپ ڈور کو ہٹائے۔ اِس ٹریپ ڈور کے ہٹتے ہی مواقع ایک سیلاب کی طرح امڈ پڑتے ہیں۔ یہ مواقع اپنی نوعیت کے اعتبار سے، سیکولر بھی ہوتے ہیں اور دینی بھی۔
مواقع کا سیکولر استعمال یہ ہے کہ لوگ تعلیم اور اقتصادیات جیسے تعمیری شعبوں میںسرگرم ہوجائیں اور کھلے ہوئے مواقع کو استعمال کرکے وہ ہر قسم کی ترقیاں حاصل کریں۔ مواقع کا دینی استعمال یہ ہے کہ اہلِ ایمان اِن مواقع کو دعوت الی اللہ کے لیے استعمال کریں، وہ دعوت کے مشن میں سرگرم ہو کر اپنے آپ کو اعلیٰ خدائی انعامات کا مستحق بنائیں— اس معاملے میں اہلِ کشمیر کو خصوصی حیثیت حاصل ہے۔ اُن کے لیے یہ عظیم موقع ہے کہ وہ اپنی ریاست میںامن قائم کریں اور لوگوں کو خدا کا پیغام پہنچا کر، خدا کے عظیم انعامات کے مستحق بنیں۔
کشمیر کا مستقبل
1947 کے بعد ریاست جموں و کشمیر ایک پرابلم اسٹیٹ (problem state) بن گیا۔ انسائکلوپیڈیا برٹانکا (1984) نے اِس واقعے کو تاریخ کا اتفاق (accident of history) بتایا ہے(EB 9/32) ۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ 1947 کے بعد ریاست جموں وکشمیر میں جو کچھ ہوا، وہ سادہ معنوں میں صرف ’’تاریخ کا اتفاق‘‘ نہ تھا، بلکہ وہ خدا کا ایک فیصلہ (verdict of God) تھا۔ بظاہر اِس اتفاقی واقعے کے پیچھے خدا کی ایک عظیم مصلحت نظر آتی ہے۔ وہ یہ کہ اکیسویں صدی میں، ریاست جموں وکشمیر اِس حقیقت کا عنوان بنے کہ اسلام تشدد کا مذہب (religion of violence) نہیں، اسلام پورے معنوں میں، امن کا مذہب (religion of peace) ہے۔
تاریخ بتاتی ہے کہ مسائل (problems) انسانی زندگی میں ہمیشہ مثبت رول ادا کرتے ہیں۔ مسائل کے بغیر انسانی زندگی جمود (stagnation) کا شکار ہوجاتی ہے۔ مسائل کسی انسانی گروہ کو، تخلیقی گروہ (creative group) بناتے ہیں۔ مسائل، انسانوں کے اندر نئی سوچ پیدا کرتے ہیں۔ مسائل ہمیشہ بہتر مستقبل کی تمہید ہوتے ہیں۔ مسائل کی حیثیت زندگی میں، زحمت میں رحمت (blessing in disguise) کی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ریاست جموں وکشمیر کے ساتھ جو مسائل پیش آئے، وہ اس کی بہتری کے لیے تھے، اور یہ بہتری ریاست میں اب واقعہ بنتے ہوئے نظر آرہی ہے۔
واقعات بتاتے ہیں کہ جموں وکشمیر کے حالات نے وہاں کے لوگوں کے اندر اپنے بارے میں نظر ثانی کا ذہن پیدا کیا ہے۔ اب ریاست کے لوگ پہلے کے مقابلے میں، زیادہ حقیقت پسند ہوگئے ہیں۔ انھوںنے تشدد کے بجائے امن کی طرف اپنا نیا سفر شروع کردیا ہے۔ وہ منفی سوچ (negative thinking) سے باہر آگئے ہیں، اور وہ مثبت سوچ (positive thinking) کی اہمیت کو سمجھنے لگے ہیں۔ ماضی کے تجربے کی روشنی میں، انھوںنے رومانوی سیاست کو چھوڑ دیا ہے، اور حقیقت پسندانہ تعمیر کے راستے پر اپنا نیا سفر شروع کردیا ہے۔ انھوں نے بے فائدہ ہنگاموں کے بجائے، نتیجہ خیز عمل کا راز دریافت کرلیا ہے — یہ اعلیٰ اوصاف بلا شبہہ کشمیر کے لیے ایک روشن مستقبل کی ضمانت ہیں۔
امن کی طاقت زیادہ
2 دسمبر 2009 کی شام کو دہلی میں ایک تعلیم یافتہ مسلمان مسٹر بٹ سے ملاقات ہوئی۔ وہ الرسالہ مشن سے پوری طرح متفق ہیں۔ وہ آج کل افغانستان میں رہتے ہیں۔ وہ وہاں اسلام اور امن کے موضوع پر کام کررہے ہیں۔ وہ پشتو اور فارسی زبان اچھی طرح جانتے ہیں۔ اِس لیے وہ کامیابی کے ساتھ وہاں پُر امن دعوت کا مشن پھیلا رہے ہیں۔
انھوںنے بتایا کہ ایک بار ان کی ملاقات کچھ افغانی انتہا پسندوں سے ہوئی۔ گفتگو کے دوران انھوں نے افغانی انتہا پسندوں سے کہا کہ آپ لوگ خود کش بم باری کیوں کرتے ہیں۔ افغانی انتہاپسندوں نے کہاکہ ہمارے دشمن کے پاس جو ہتھیار ہے، اُس کا جواب ہمارے پاس نہیں، اِس لیے ہم مجبور ہو کر خود کش بم باری کرتے ہیں۔انھوںنے کہا کہ معاملہ اِس کے برعکس ہے۔ آپ کے پاس جو ہتھیار ہے، اس کا جواب اُن کے پاس نہیں۔ فارسی زبان میں یہ گفتگو اِس طرح تھی:
افغانی : جوابِ اسلحۂ آنہا پیشِ ما نیست،
مسٹربٹ : جوابِ اسلحۂ شُما پیشِ آنہا نیست
انھوں نے کہا کہ آپ تشدد کی طاقت استعمال کررہے ہیں، لیکن اسلام کے مطابق، امن کی طاقت اُس سے زیادہ ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: إنَّ اللہ یعطی علی الرّفق، مالا یعطی علی العنف (صحیح مسلم، رقم الحدیث: 2593) یعنی خدا پُرامن عمل پر وہ چیز دیتا ہے جو وہ متشددانہ عمل پر نہیں دیتا۔ اِس معاملے کی عملی مثال اسلام کی ابتدائی تاریخ میں موجود ہے۔ احد کا غزوہ 3 ہجری میں پیش آیا۔ اِس میں مسلمانوں کو شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ اِس کے بعد 6ہجری میں آپ نے فریقِ ثانی سے امن کا معاہدہ کرلیا، جو معاہدۂ حدیبیہ کے نام سے مشہور ہے۔ یہ گویا وائلنٹ ایکٹوزم کے بجائے پیس فل ایکٹوزم کو اختیار کرنا تھا۔ اِس کا نتیجہ، قرآن کے الفاظ میں، فتحِ مبین (48: 1)کی صورت میں ظاہر ہوا۔ یہ متشددانہ بم پر نظریاتی بم کی برتری کی ایک مثال ہے۔
چشمے کا سبق
کشمیر کے ایک سفر میں، میرے ساتھ ایک واقعہ پیش آیا۔ میںکچھ کشمیری ساتھیوں کے ہم راہ شہر سے باہر گیا۔ وہاں کھلی ہوئی وادی تھی۔ سامنے کے پہاڑ سے چشمے بہہ کر آرہے تھے اور وادی میں بہتے ہوئے وہ آگے کی طرف چلے جارہے تھے۔ اِن چشموں کے راستے میں بار بار پتھر کے ٹکڑے آرہے تھے، لیکن چشمہ ان پتھروں سے ٹکرائے بغیر اپنا راستہ بدل کر آگے کی طرف بڑھ جاتا تھا۔ میں وہاں بیٹھ گیا اور خاموشی کے ساتھ بہتے ہوئے چشمے کے اِس منظر کو دیکھتا رہا۔ پھر میں نے اپنے کشمیری ساتھیوں سے کہا کہ دیکھئے، پانی کے یہ چشمے ٹکراؤ سے بچتے ہوئے اپنا سفر جاری کئے ہوئے ہیں۔اگر آپ چاہیں کہ اِس کے برعکس، آپ ٹکراؤ کے ذریعے اپنا مقصد حاصل کریں تو آپ کبھی اِس میں کامیاب نہ ہوسکیں گے، یہ خدا کا قانون ہے اور خدا کے قانون میں کبھی کوئی تبدیلی واقع نہیںہوتی(35: 43) ۔
پھر میں نے کہا کہ اِس دنیا میں خدا کا قانون عدم ٹکراؤ کے اصول پر قائم ہے۔ خلاکے تمام ستارے اور سیارے ایک دوسرے سے ٹکرائے بغیر اپنا سفر طے کرتے ہیں۔ اِس دنیا کے لیے خدا کا قانون یہ ہے کہ کوئی تعمیری مقصد صرف پُرامن طریقِ کار کے ذریعے حاصل ہو، اِس دنیا میں پرتشدد طریقِ کار کے ذریعے کوئی بھی مفید نتیجہ حاصل نہیں کیا جاسکتا۔میں نے کہا کہ اہلِ کشمیر نے 1947 کے بعد اپنے مقصد کے حصول کے لیے جو طریقہ اختیار کیا، وہ نفرت اور تشدد کا طریقہ تھا۔ ایسا طریقہ خدا کی اِس دنیا میں مکمل طورپر ایک غیر فطری طریقہ ہے۔ ایسے کسی طریقے کے لیے پیشگی طورپر فطرت کا یہ فیصلہ ہے کہ وہ اِس دنیا میں کبھی کامیاب نہ ہو۔
جمعہ کا دن، فساد کا دن
ایک کشمیری مسلمان سے ایک تعلیم یافتہ ہندو نے کہا کہ میں نے قرآن کو پڑھا ہے۔ قرآن کی سورہ الجمعہ میں بتایا گیا ہے کہ: اے مسلمانو، جب تم جمعہ کی نماز پڑھ لو تو تم زمین میں پھیل جاؤ اور اللہ کا فضل تلاش کرو، اور تم اللہ کو بہت زیادہ یاد کرو، تاکہ تم کامیاب ہو:
When the prayer is ended, then disperse in the land and seek of God's grace, and remember God much, that you may be successful. (62: 10)
قرآن کی اِس آیت کا حوالہ دیتے ہوئے مذکورہ ہندو نے کہا کہ آپ کے قرآن میں یہ لکھا ہوا ہے کہ آپ جمعہ کی نماز پڑھ کر مسجد سے باہر نکلیں تو آپ، لوگوں کو خدا کی رحمت بانٹیں، اور آپ لوگوں کا حال یہ ہے کہ آپ جمعہ کی نماز پڑھ کر نکلتے ہیں تو آپ نعرہ اور جلوس کی سیاست چلاتے ہیں، نفرت کی باتیں کرتے ہیں اور لوگوں کے اوپر پتھر پھینکتے ہیں۔ ایسا کرکے آپ لوگ خود اپنے دین کے خلاف کام کررہے ہیں۔
یہ تبصرہ صرف کشمیر کے مسلمانوں پر نہیں، بلکہ وہ ساری دنیا کے مسلمانوں پر صادق آتا ہے۔ آج کل ہر ملک کے مسلمانوں کا یہ حال ہے کہ انھوںنے جمعہ کے دن کو نفرت اور تشدد کی باتوں کا دن بنالیا ہے۔ اُن کا تقریباً ہر رہنما جمعہ کے اجتماع کو اپنے سیاسی مقصد کے لیے استعمال کررہا ہے۔
یہ بہت خطرناک علامت ہے۔ یہ خدا کے دین کو اپنے قومی اور سیاسی مقصد کے لیے استعمال کرنا ہے۔ یہ عین وہی چیز ہے جس میں یہود اپنے دورِ زوال میں مبتلا ہوئے۔ قرآن کے مطابق، یہ روش یہود کے لیے خدا کے غضب کا سبب بنی۔ اگر مسلمان اِس روش کو اختیار کریں تو وہ یقینی طور پر اس کے شدید انجام سے بچ نہیں سکتے۔ اِس معاملے میں کسی بھی قوم کا کوئی استثنا نہیں۔
عمر ضائع ہوگئی
کشمیر کے ایک مشہور عالم کا واقعہ ہے۔ ان کو ’’مفکر ِ کشمیر‘‘ کہاجاتا تھا۔ وہ کشمیر کی سیاسی تحریک میں ایک رہنما کی حیثیت سے شامل تھے۔ 13 دسمبر 1990 کو کشمیر میں ان کو کچھ مسلم نوجوانوں نے گولی مار کر ہلاک کردیا۔ انتقال کے وقت ان کی عمر 87 سال تھی۔
28 نومبر 2011 کی ایک ملاقات میں کشمیر کے ایک مسلمان نے مجھ کو بتایا کہ مذکورہ عالم کی وفات سے کچھ پہلے انھوںنے راقم الحروف کی کتاب ’’الاسلام‘‘ اُن کوپڑھنے کے لیے دی تھی۔ بعد کی ایک ملاقات میں مذکورہ عالم نے کہا کہ مجھے اِس کتاب سے پورا اتفاق ہے۔ اِس کتاب کو پڑھ کر مجھے احساس ہوا کہ میں نے اپنی ساری عمر ضائع کردی۔ کاش، یہ کتاب مجھے پہلے مل گئی ہوتی۔
مذکورہ عالم کا یہ قول اہل کشمیر کے لیے اُن کی طرف سے ’’کلمٔہ باقیہ‘‘ (آخری نصیحت) کی حیثیت رکھتا ہے۔ مذکورہ عالم کی زندگی میں اہلِ کشمیر نے اُن کے سیاسی مشورے کو اختیار کیا تھا۔ اب اہلِ کشمیر کو چاہیے کہ وہ اسی طرح ان کے اسلامی مشورے کو اختیار کرلیں، یعنی اہلِ کشمیر تشدد کا طریقہ چھوڑ کر امن کا طریقہ اختیار کرلیں۔ وہ سیاست کے طریقے کو چھوڑ کر پُرامن دعوت کا طریقہ اختیار کرلیں۔ ایک فارسی شاعر کی زبان سے مذکورہ عالم کی روح اہلِ کشمیر سے کہہ رہی ہے کہ — میں سیاست سے پرہیز نہ کرسکا، تم لوگ سیاست سے پرہیز کرو:
من نہ کردم، شما حذر بہ کنید!
جنت کا دروازہ
شہنشاہ جہاں گیر (وفات:1627 ) کے بارے میں کہاجاتا ہے کہ ایک بار وہ کشمیر گیا۔کشمیر کے خوب صورت مناظر کو دیکھ کر جہاں گیر نے کہا — دنیا میں اگر کوئی جنت ہے تو وہ صرف کشمیر ہے:
اگر فردوس بر روئے زمین است ہمین است و ہمین است و ہمین است
یہ شعر اس مفہوم میں درست نہیں کہ کشمیر خود جنت الفردوس کی حیثیت رکھتا ہے۔ البتہ ایک اور معنی میں یہ شعر درست ہے، وہ یہ کہ کشمیر قدر ت کی طرف سے مہیا کردہ ایک پوائنٹ آف ریفرنس (point of reference) ہے۔ اِس پوائنٹ آف ریفرنس کے حوالے سے کوئی شخص جنت کی پہچان حاصل کرسکتا ہے اور اس کے حوالے سے کوئی شخص اپنے آپ کو جنت میں داخلے کا مستحق بنا سکتاہے۔
قرآن میں بتایا گیا ہے کہ اہلِ جنت کو جب جنت کی نعمتیں ملیں گی تو وہ کہیں گے کہ ایسا ہی رزق ہم کو دنیا میںملا تھا، اورجنت کا رزق دنیا کے رزق کے متشابہہ ہوگا:
Whenever, they are given fruit to eat, they will say, ‘This is what we were provided with before’, they were given similar things. (2: 25)
موجودہ دنیا اپنی تخلیق کے اعتبار سے، جنت کا تعارف ہے (47: 6) ۔ جنت کی دنیا ایک مکمل دنیا (perfect world) ہے، اور موجودہ دنیا جنت کی مانند ایک غیر مکمل دنیا (imperfect world)۔ یہ بات پورے سیارۂ ارض کے لیے درست ہے۔ تاہم، زمین کے بعض مقامات ایسے ہیں جہاں زمین کی یہ حیثیت بہت زیادہ نمایاں ہے۔ یہ زیادہ ممتاز طور پر جنت کی یاد دلانے والی ہے۔ انھیں مقامات میں سے ایک مقام بلاشبہہ ریاست جموں وکشمیر ہے۔ کشمیر کو درست طورپر ’’کشمیر، جنت نظیر‘‘ کہاجاتا ہے۔
ایک آدمی جس کے اندر جنت کا شعور زندہ ہو، وہ جب کشمیر کے خوب صورت مناظر کو دیکھے گا تو وہ پکار اٹھے گا کہ — خدایا، تو نے مجھے عارضی جنت کا منظر دکھا دیا، اب تو مجھے ابدی جنت میں داخل کردے۔ اِس اعتبار سے، کشمیر بلا شبہہ ایک عظیم پوائنٹ آف ریفرنس ہے۔ کشمیر کو دیکھ کر ایک باشعور انسان وہ دعا کرسکتا ہے جس کو حدیث میں، اسمِ اعظم کے ساتھ دعا کرنا کہاگیاہے۔
مگر اس دعا کے لیے موافق ماحول ضروری ہے۔ نفرت اور تشدد کے ماحول میں کسی کے اندر یہ ربانی دعا ابل نہیں سکتی۔ کشمیر میں نفرت اور تشدد کا کلچر چلانے کا مطلب یہ ہے کہ اہلِ کشمیر کو ایک عظیم نعمت سے محروم کردیا جائے۔ نفرت اور تشدد کے ماحول میں لوگوں کی زبان سے صرف بد دعا نکلے گی، نہ کہ کوئی ربانی دعا۔ ایسے ماحول میں لوگوں کا دماغ منفی افکار کا جنگل بن جائے گا، جب کہ مذکورہ قسم کی اعلیٰ ربانی دعا کے لیے ضروری ہے کہ آدمی کا دماغ مثبت افکار کا باغ بنا ہوا ہو۔
قرآن کے مطابق، جنت کامل معنوں میں ایک امن کی جگہ ہے (10: 25)۔ جنت گویا امن کلچر کا چمنستان ہے۔ ایسی جنت میں تشدد پسند لوگوں کے لیے کوئی جگہ نہیں۔ تشدد اپنی حقیقت کے اعتبار سے ایک نفسیاتی آگ ہے۔ جو لوگ دنیا کی زندگی میںآگ والی نفسیات کے ساتھ جئیں، اُن کے لیے شدید اندیشہ ہے کہ وہ آخرت میں بھی آگ کی دنیامیں ڈال دئے جائیں۔
قرآن کے مطابق، جنت کے باشندے کامل طور پر امن پسند ہوں گے (36: 66)۔ وہاں ہرانسان کے دل میں دوسرے انسان کے لیے صرف امن اور محبت کے جذبات ہوں گے۔ ایسی حالت میں جنت میں بسانے کے لیے صرف انھیں لوگوں کا انتخاب کیاجائے گا جنھوں نے موت سے پہلے کی دنیا میں اِس امن پسندانہ مزاج کا ثبوت دیا ہو۔ موجودہ دنیا ایک انتخاب گاہ (selection ground) ہے۔ موجودہ دنیا میں ایسے لوگوں کا انتخاب کیا جارہا ہے جو کامل طور پر امن پسند ہوں اور جنت کے پرامن سماج میں بسائے جانے کے قابل ہوں۔ یہ وہ سب سے بڑی حقیقت ہے جو اہلِ کشمیر کو بھی سوچنے کی دعوت دیتی ہے، اور اِسی طرح دوسرے مقام کے لوگوں کو بھی۔
ناشکری کا کلچر
تشدد (violence) کیا ہے، تشدد ناشکری کا کلچر ہے۔ شکایت سے تشدد پیدا ہوتا ہے اور تشدد آدمی کے اندر سے شکر کی نفسیات کا مکمل طورپر خاتمہ کردیتاہے۔ ابلیس نے آغازِ حیات میں چیلنج کرتے ہوئے کہاتھا کہ میں انسانوں کو شکر کے راستے سے ہٹا دوں گا اور بیش تر انسانوں کو میں شکر نہ کرنے والا بنا دوں گا: ولا تجد أکثرہم شاکرین (7:17)۔
اِس اعتبار سے دیکھئے تو تشدد کوئی سادہ بات نہیں۔ جس سماج میں تشدد کا کلچر ہو تو سمجھ لیجئے کہ وہاں کے لوگوں پرشیطان غالب آگیا ہے۔ شیطان نے اُن کو بہکا کر، پہلے شکایت اور پھر تشدد کے راستے پر ڈال دیا ہے۔ تشدد ایک شیطانی کلچر ہے، اور تشدد جہنم کا دروازہ کھولنے والا ہے۔
قرآن سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جب انسان کو پیدا کیا تو ابلیس کو حکم دیا کہ وہ انسان کے آگے جھک جائے، مگر ابلیس، انسان کے آگے نہیں جھکا۔ ابلیس، جنات کا سردار تھا۔ ابلیس کو اُس وقت بھی اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی بہت سی چیزیں حاصل تھیں، مگر ایک چیز کے نہ ملنے پر وہ شکر کے راستے سے ہٹ گیا۔ یہی ناشکری ہے، اور ناشکری بلا شبہہ ابلیس کی پیروی ہے۔
جب بھی کوئی فرد یا گروہ شکر کے راستے سے ہٹتا ہے اور نفرت اور تشدد کے راستے پر چلتا ہے تو اس کا سبب ہمیشہ کوئی ایک شکایت ہوتی ہے۔ اُس وقت بھی عملاً ایسا ہوتاہے کہ آدمی کو 99 چیز ملی ہوئی ہوتی ہے، لیکن ایک چیز کے نہ ملنے کو وہ اتنا بڑا مسئلہ بنا لیتا ہے کہ وہی ایک چیز اس کے دماغ پر چھا جاتی ہے۔ اسبابِ شکر کے ہجوم میں وہ شکایت کا جنگل بن جاتاہے۔ یہ طریقہ بلا شبہہ شیطان کا طریقہ ہے، خواہ اس کو کتنے ہی خوب صورت الفاظ میں بیان کیا گیا ہو۔
کشمیر یا اِس طرح کے دوسرے مقامات پر جہاں مسلمان سیاسی شکایت کو لے کر بے فائدہ ٹکراؤ کا طریقہ اختیار کئے ہوئے ہیں، وہ سب اِس کی مثالیں ہیں۔ اِن مقامات پر ایسا نہیں ہے کہ مسلمان کلّی محرومی کا شکار ہوگئے ہوں۔ یہ لوگ کسی جزئی شکایت پر غیر ضروری طور پر حساس ہوگئے ہیں۔ یہی غیرضروری حساسیت ان کا اصل مسئلہ ہے۔ اگر وہ اِس غیر ضروری حساسیت کو ختم کردیں تو اچانک وہ محسوس کریں گے کہ ان کو اتنا زیادہ ملا ہوا ہے کہ انھیں شکر کی تحریک چلانا چاہیے، نہ کہ ناشکری اور شکایت کی تحریک۔
تشدد کی تزئین
تشدد (violence) کامل معنوں میں ایک تخریبی عمل ہے۔ پوری تاریخ بتاتی ہے کہ تشدد کے ذریعے کبھی بھی کسی فرد یا گروہ کو کوئی مثبت کامیابی حاصل نہیں ہوئی۔ جب بھی کسی فرد یا گروہ نے تشدد کا طریقہ اختیارکیا تو اس کے حصے میں صرف تباہی آئی، نہ کہ حقیقی معنوں میں کوئی تعمیر۔اِس کے باوجود کیوں ایسا ہے کہ لوگ بار بار تشدد کا فعل کرتے ہیں، لوگ بار بار متشددانہ کارروائی کرتے ہیں۔ اِ س کا سبب شیطانی تزئین (Satanic beautification) ہے۔ قرآن میں بتایا گیا ہے کہ شیطان کا خاص طریقہ یہ ہے کہ وہ ایک غلط کام کو خوب صورت الفاظ میں پیش کرتا ہے، وہ فساد کو اصلاح کا نام دیتاہے(15: 39)۔ اِس طرح شیطان لوگوں کے ذہن کو متاثر کرتاہے۔ وہ لوگوں کو اِس فرضی یقین میںمبتلا کرتاہے کہ جو کچھ تم کرنے جارہے ہو، وہ تشدد نہیں ہے، بلکہ وہ مقدس جہاد ہے۔ وہ شہادت کا راستہ ہے جو تم کو سیدھے جنت تک پہنچانے والا ہے۔ اِس طرح شیطانی تزئین کا شکار ہو کر لوگ تشدد کا عمل کرنے لگتے ہیں۔ وہ ایک غلط کام کررہے ہوتے ہیں، لیکن شیطان اُن کو بتاتا ہے کہ یہ ایک اچھا کام ہے۔
اِس شیطانی تزئین سے بچنے کا صرف ایک ہی راستہ ہے، وہ یہ کہ اپنے عمل کو نتیجہ (result) کے اعتبار سے جانچا جائے۔ جو متشددانہ عمل تباہی کے انجام تک پہنچ رہا ہو، جس سے ملے ہوئے مواقع برباد ہوتے ہوں، اُس کے بارے میں یہ یقین کرلیا جائے کہ وہ شیطان کی تزئین کا نتیجہ ہے اور پھر توبہ واستغفار کرکے اُس سے دوری اختیار کرلی جائے۔ حقیقت یہ ہے کہ تشدد اپنے آپ میں ایک نا مطلوب فعل ہے۔ تشدد کبھی کوئی اصلاح پیدا نہیں کرتا، وہ صرف مزید نقصان کا سبب بنتاہے۔ تشدد ایک حیوانی فعل ہے، وہ کوئی انسانی فعل نہیں۔ تشدد ہمیشہ نفرت اور عداوت سے پیدا ہوتاہے۔ اپنے اندر سے نفرت اور عداوت کی سوچ کو ختم کردیجئے۔ اِس کے بعد کبھی شیطان آپ کے اوپر قابو نہ پاسکے گا۔ تشدد جیسے فعل سے آپ کامل طورپر محفوظ ہوجائیں گے۔
ملکہ سبا کا قصہ
قرآن کی سورہ النمل میں ملکۂ سبا کا قصہ بیان کیا گیا ہے۔ ملکہ سبا (Queen of Sheba) کا زمانہ حضرت سلیمان کا زمانہ (932 ق م)ہے۔ اس کی حکومت قدیم یمن کے ساحلی علاقے میں قائم تھی۔ حضرت سلیمان، شام وفلسطین کے حکمراں تھے۔ حضرت سلیمان نے ایک مکتوب ملکہ سبا کو لکھا کہ تم یا تو سرینڈر کرو، یا ہماری فوج کشی کا سامنا کرو۔ اِس کے جواب میں ملکہ سبا نے سرینڈر کا طریقہ اختیار کیا۔ اِس کا سبب بتاتے ہوئے اُس نے کہا : ’’بادشاہ لوگ جب کسی بستی میں داخل ہوتے ہیں تو وہ اس کو تباہ کردیتے ہیں اور وہ اس کے عزت والوں کو ذلیل کردیتے ہیں، اور یہی یہ لوگ کریں گے‘‘۔(27:34)
ملکہ سبا کے اِس واقعے سے یہ سبق ملتاہے کہ جب کسی ایسی صورت حال کا سامنا ہو جس میں ممکن انتخاب صرف دو چیزوں کے درمیان ہو— تباہی اور مصالحت، تو ایسی صورتِ حال میں، تباہی کے بجائے، مصالحت (adjustment) کا طریقہ اختیار کیا جائے گا۔ اُس وقت یہی اسلام کا طریقہ ہوگا۔
ملکہ سبا نے معاملے کو خالص حقیقت پسندانہ انداز میں دیکھا۔ اس نے یہ رائے قائم کی کہ اگر ہم سلیمان کی طاقت سے ٹکرائیں تو زیادہ امکان یہ ہے کہ ہم ہاریں گے اور پھر ہمارے ساتھ وہی کیا جائے گا جو ہر غالب قوم، مغلوب قوم کے ساتھ کرتی ہے۔ اِس کے برعکس، اگرہم اطاعت قبول کرلیں تو ہم تباہی سے بچ جائیںگے۔ اِس طرح ہمارے تمام مفادات محفوظ رہیں گے۔
اِس واقعے میں ایسے تمام مسلمانوں کے لیے ایک سبق ہے جو کشمیر جیسی صورت حال سے دوچار ہیں۔ یہ واقعہ بتاتا ہے کہ ایسے مقامات کے مسلمانوں کی سیاسی پالیسی کیا ہونا چاہیے، وہ پالیسی یہ ہونا چاہیے کہ وہ اپنے آپ کو بے فائدہ ٹکراؤ سے بچائیں، تاکہ وہ حاصل شدہ مواقع کو استعمال کرسکیں۔ وہ ایسا نہ کریں کہ جو ملنے والا نہیں ہے، اُس کو پانے کی کوشش میں وہ ملے ہوئے کو بھی برباد کردیں۔
دورِ تشدد کا خاتمہ
دوسری عالمی جنگ (1939-1945) کے زمانے میں کئی ملکوں نے تشدد کا طریقہ اختیار کیا۔ مثلاً برطانیہ، جرمنی، جاپان، وغیرہ۔ مگر جنگ کے خاتمے پر اِن سب ملکوں نے جنگ کا طریقہ چھوڑ دیا اور پُرامن جدوجہد کا طریقہ اختیار کرلیا۔ یہ واقعہ کوئی سادہ واقعہ نہ تھا۔ یہ دراصل اِس بات کا اعلان تھا کہ اب انسانی تاریخ اُس مرحلے میں پہنچی ہے، جب کہ تشدد کا دور ہمیشہ کے لیے ختم ہوچکا ہے۔ اب انسان کے لیے صرف ایک ہی آپشن ہے اور وہ پرامن طریقِ کار کا آپشن ہے۔کوئی بھی عمل نتیجہ کی بنیاد پر کیاجاتاہے۔ جو عمل مثبت نتیجہ نہ پیدا کرے، وہ بلاشبہہ اِس قابل ہے کہ اس کو چھوڑ دیاجائے۔ دوسری جنگ عظیم میں یہی واقعہ پیش آیا۔ جو قومیں اِس جنگ میں شریک تھیں، انھوںنے اِس جنگ میں جان ومال کی بے شمار قربانیاںدیں، مگر نتیجے کے اعتبار سے، یہ قربانیاں ہر ایک کے لیے لا حاصل ثابت ہوئیں۔
یہ ایک حقیقت ہے کہ دورِ جدید میں جو ہتھیار ایجاد کئے گئے، وہ جنگ کے لیے مانع (deterrent) بن گئے ہیں، وہ جنگ کے لیے محرک (incentive) کی حیثیت نہیں رکھتے۔ مثال کے طورپر جرمنی اور جاپان نے دوسری عالمی جنگ میں، جنگ کا طریقہ اختیار کرکے بہت زیادہ نقصان اٹھایا تھا، لیکن دوسری عالمی جنگ کے بعد انھوں نے اپنی قومی جدوجہد کے لیے جنگ کا طریقہ چھوڑ دیا اور اس کے بجائے امن کا طریقہ اختیار کرلیا۔ اِس کے نتیجے میں دونوں ملکوں نے زبردست کامیابی حاصل کی۔ یہ کامیابی اِس کے باوجود ہوئی کہ جرمنی نے اپنے ملک کا ایک حصہ مشرقی جرمنی (East Germany) کھودیا تھا، اور جاپان اپنے ایک بڑے جزیرہ اوکی ناوا (Okinawa) سے محروم ہوگیا تھا۔
کشمیر اور دوسرے علاقے، جہاں مسلمان تشدد کی تحریک چلا رہے ہیں، اُنھیں اِن واقعات سے سبق لینا چاہیے۔ یہ واقعات محض کسی ملک کے واقعات نہیں ہیں، وہ فطرت کے قانون کو بتاتے ہیں۔ فطرت کا قانون یہ ہے کہ جو لوگ نفرت اور تشدد کے راستے پر چلیں،اُن کے حصے میں آخر کار صرف محرومی آئے، اور جو لوگ امن اور محبت کے راستے پر چلیں، اُن کو ہر قسم کی کامیابی حاصل ہو۔
تخریبی سیاست
مغربی دنیا کے ایک مشہور مسلم مقرر نے وہاں کے مسلمانوں کی ایک کانفرنس میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ — ظالم حکمراں کے خلاف بغاوت، خدا کے لیے وفاداری ہے:
Rebellion to a tyrant, obedience to God.
یہ جملہ اسلام کی سیاسی تعبیر (political interpretation) کے تحت بننے والے ذہن کی نمائندگی کرتا ہے۔ مسلمانوں کی جدید نسل عام طور پر، اس سیاسی تعبیر سے متاثر ہے۔ آج کی دنیا میں جگہ جگہ اسلامی انقلاب کے نام پر جو ہنگامے جاری ہیں، وہ اِسی سیاسی فکر کا نتیجہ ہیں۔
اِس قسم کی نام نہاد انقلابی سیاست ہر گز اسلامی سیاست نہیں۔ اگر شدید لفظ استعمال کیا جائے تو یہ کہنا صحیح ہوگا کہ یہ اسلام کے نام پر ایک شیطانی سیاست ہے۔ اِس سیاست کا بانی ٔ اول خود شیطان ہے۔ آج جو لوگ اِس قسم کی سیاست کا جھنڈا اٹھائے ہوئے ہیں، وہ بلا شبہہ شیطان کی پیروی کررہے ہیں، نہ کہ اسلام کی پیروی۔قرآن میں بتایا گیا ہے کہ تخلیقِ انسانی سے پہلے جب اللہ تعالیٰ نے آدم کو پیدا کیا تو اُس وقت وہاں آدم کے سوا دو مخلوق اور موجود تھی — فرشتے اور جنات۔ اللہ نے حکم دیا کہ تم لوگ آدم کے آگے جھک جاؤ۔ فرشتوں نے اللہ تعالیٰ کے اِس حکم کی تعمیل کی، لیکن ابلیس (جنات کا سردار) نے اللہ کے اِس حکم کو ماننے سے انکار کیا، وہ اللہ کا باغی بن گیا۔
یہ انسانی تاریخ میں ، اتھارٹی (authority)کے خلاف بغاوت کا پہلا واقعہ تھا۔ یہ سیاسی بغاوت یا پالٹکس آف اپوزیشن (politics of opposition) بلا شبہہ شیطان کی سنت ہے۔ اتھارٹی سے ٹکرائے بغیر اپنا کام کرنا، یہ ملائکہ کا طریقہ ہے۔ اور اتھارٹی سے ٹکراؤ کرکے پالٹکس آف اپوزیشن کا ہنگامہ کھڑا کرنا، شیطان کا طریقہ۔ عجیب بات ہے کہ شیطان کی یہ منفی سیاست پوری تاریخ میں مسلسل طورپر جاری رہی ہے، اہلِ ایمان کے درمیان بھی اورغیر اہلِ ایمان کے درمیان بھی۔ اِسی منفی سیاست کا یہ نتیجہ ہے کہ انسانی تاریخ، تعمیر کی تاریخ بننے کے بجائے، تخریب کی تاریخ بن گئی۔
فطرت کے خلاف
انسانی زندگی میں تبدیلی لانے کے لیے جو سرگرمیاں کی جاتی ہیں، ان کو تحریک (movement) کہاجاتا ہے۔ اِس دنیا میں تحریک کی دو صورتیں ہیں— مبنی بر ذہن تحریک، مبنی بر نظام تحریک (mind-based activism, system-based activism)
تحریک کا وہ انداز جو فطرت کے مطابق ہے، وہ صرف ایک ہے، اور وہ ہے— مبنی بر ذہن تحریک۔ اِس کے برعکس، مبنی بر نظام تحریک، فطرت کے یا خالق کے تخلیقی منصوبے کے خلاف ہے۔ اِس فرق کی بناپر ہمیشہ ایسا ہوگا کہ مبنی بر نظام تحریک ہمیشہ ناکام ہوگی اور مبنی بر ذہن تحریک ہمیشہ کامیاب۔ آج کی دنیا میں جو نفرت اور تشدد پایا جاتا ہے، وہ صرف اِس قانونِ فطرت سے بے خبری کا نتیجہ ہے۔
موجودہ زمانے میں،کشمیر اور دوسرے مقامات پر جو تحریکیں چلائی گئیں، اُن میں سے کوئی تحریک ایسی نہیں ہے جو ذہن (mind) کو نشانہ بنا کر چلائی گئی ہو۔ وہ سب کی سب نظام (system) کو نشانہ بنا کر چلائی گئیں۔ اِس لیے اُن کا یہ منفی انجام ہوا کہ اِس طرح کی ہر تحریک کا نتیجہ صرف تباہی کی صورت میں برآمد ہوا — سیکڑوں سال کی روایات ٹوٹ گئیں، لوگوں کے درمیان نفرتیں پیدا ہوئیں جو آخر کار تشدد تک جاپہنچیں۔ باہمی خیر خواہی کا ماحول ختم ہوگیا، وغیرہ۔
مبنی برنظام تحریک غیر فطری تحریک ہے۔ صحیح تحریک وہ ہے جو اصلاحِ ذہن کی بنیاد پر چلائی جائے۔ حقیقت یہ ہے کہ نظام کا الگ سے کوئی وجودنہیں۔انسان کے مجموعے ہی کا دوسرا نام نظام ہے۔ انسان اگر فرداً فرداً اصلاح یافتہ ہو جائیں تو اُن کے مجموعے سے جو نظام بنے گا، وہ فطری طورپر ایک اصلاحی نظام ہوگا۔ قانونِ فطرت کے مطابق، اصلاح کی تحریک فرد سے شروع ہوتی ہے، نہ کہ نظام سے۔ جو تحریک نظام کی اصلاح کے نام پر شروع کی جائے، وہ اپنے آغازہی سے دو طبقوں کے درمیان ٹکراؤ پیدا کرے گی، اور جہاں نفرت اور ٹکراؤ پایا جائے وہاں عملاً اصلاح کا امکان ہی ختم ہو جاتا ہے۔
صالح تحریک، غیر صالح تحریک
ہر آدمی کے اندر ایک شیطان چھپا ہوا ہے۔ یہ شیطان، نفرت کا بم (hate bomb)ہے۔ ہر آدمی امکانی طورپر نفرت کا بم اپنے اندر لیے ہوئے ہے۔ نفرت کا یہ بم عام حالات میں، انسان کے اندر سویا ہوا ہوتا ہے۔ لیکن اگر کسی طرح اُس کو جگا دیا جائے، تو اچانک وہ بے پناہ ہو کر بھڑک اٹھتا ہے۔ واقعات بتاتے ہیں کہ اِس معاملے میں کسی عورت یا مرد کا کوئی استثنا نہیں۔
اِس صورتِ حال کا مطلب دوسرے لفظوں میں، یہ ہے کہ ہر انسان ایک انتہائی آتش گیر (highly inflammable) مادّہ کی حیثیت رکھتا ہے۔ کسی سماج میں اگر دس ہزار آدمی ہیں، تو وہ گویا کہ دس ہزار چلتے پھرتے آتش گیر مادّے کا مجموعہ ہیں۔ یہ دراصل ذاتی مفاد (personal interest) ہے جو لوگوں کو مزاجاً متشدد ہونے کے باوجود، مجبورانہ طور پر امن پسند بنائے رہتا ہے۔ ایسی صورت میں قیادت (leadership) کا کام ایک بے حد مشکل کام ہے۔ جس قائد کے پاس صرف شکایت اور احتجاج کا نعرہ ہو، اُس کو ہر گز میدان میںنہیں آنا چاہیے۔ کیوں کہ اس کا منفی نعرہ لوگوں کو بھڑکائے گا اور آخرکار، سماج کا وہ حال ہوجائے گا، جیسے ایک مقام پر بہت سے آتش گیر مادّے ہوں اور وہ اچانک بھڑک اٹھیں۔
قائد پر لازم ہے کہ اگر اس کے پاس محبت کا نعرہ ہے، تب تو وہ اپنی تحریک لے کر سماج میں آئے۔ اور اگر اُس کے پاس صرف نفرت اور شکایت کی باتیں ہوں، تو اس کے لیے فرض کے درجے میں ضروری ہے کہ وہ اجتماعی تحریک ہر گز نہ شرو ع کرے۔ اس کے بجائے، وہ اپنے آپ کو اپنے گھر کے اندر محصور کرلے۔ یہی اس کے لیے نجات کی واحد صورت ہے۔
اجتماعی تحریکیں دو قسم کی ہوتی ہیں— مثبت تحریک، اور منفی تحریک۔ مثبت تحریک وہ ہے جو ذاتی ذمّے داری (duty) کی بنیاد پر اٹھائی جائے۔ ایسی تحریک ایک صالح تحریک ہے۔ منفی تحریک وہ ہے جو حقوق طلبی اور احتجاج کی بنیاد پر اٹھائی جائے۔ ایسی تحریک ایک غیر صالح تحریک ہے۔ صالح تحریک کا نتیجہ ہمیشہ اچھا نکلتا ہے، اور غیر صالح تحریک ہمیشہ بُرے انجام پر ختم ہوتی ہے۔
اصلاحی عمل کا نقطۂ آغاز
قدیم زمانے میں جب یہود پر سیاسی زوال آیا تو اُن کے اندر یہ مزاج پیداہوا کہ وہ لڑکر دوبارہ فلسطین میں اپنا سیاسی اقتدار قائم کریں۔ اُس وقت، بائبل کے بیان کے مطابق، یہود کے پیغمبر یرمیاہ نے اُن سے کہا— بادشاہ اور اس کی والدہ سے کہو کہ عاجزی کرو اور نیچے بیٹھو، کیوں کہ تمھاری بزرگی کا تاج تمھارے سر پر سے اتار لیا گیا ہے:
Say to the king and to the queen mother, “Humble yourselves; sit down, for your rule shall collapse, the crown of your glory.” (Jeremiah 13: 18)
یہاں یہود کی مثال کی صورت میں یہ بتایا گیا ہے کہ قوموں پر عروج کے بعد زوال آتا ہے، سیاسی بالادستی کے بعد انھیں سیاسی زیردستی کا تجربہ ہوتا ہے۔ یہ معاملہ قانونِ فطرت کے تحت پیش آتا ہے۔ اُس وقت قوم کو چاہیے کہ وہ اِس تبدیلی کو تسلیم کرے۔ کیوں کہ اُس وقت اِس تبدیلی کو تسلیم نہ کرنا اپنے آپ کو مزید تباہی کی طرف لے جانے کے ہم معنیٰ ہوتا ہے۔
اصل یہ ہے کہ سیاسی اقتدار (political power)کسی گروہ کی قومی اجارہ داری (monopoly)نہیں۔ سیاسی اقتدار کا حصول اس کی ضروری اہلیت کے ساتھ جڑا ہوا ہے۔ قوم کے اندر جب تک صلاحیت پائی جائے، سیاسی اقتدار بھی اُس کو حاصل رہے گا۔ صلاحیت کے فقدان کے بعد سیاسی اقتدار بھی اس سے چھن جائے گا۔ جب ایسا ہو تو قوم کو چاہیے کہ وہ دوبارہ اپنے اندر ضروری صلاحیت پیدا کرے، نہ کہ وہ فریق ثانی کے خلاف بے فائدہ جنگ چھیڑ دے۔
قرآن میں بتایا گیا ہے کہ ما بقوم میں تغیر ہمیشہ مابأنفس میں تغیر کا نتیجہ ہوتا ہے (13:11)۔ مابقوم سے مراد اجتماعی حالت ہے، اور ما بأنفسسے مراد انفرادی حالت۔ جب بھی کسی قوم کی اجتماعی سطح پر زوال آئے تو اس کو اپنے افراد کی سطح پر اس کا سبب ڈھونڈنا چاہیے۔ کیوں کہ قوم کے افراد کی حالت کو بدلنے کے بعد ہی قوم کی اجتماعی حالت بدل سکتی ہے، اس کے بغیر ہر گز نہیں— عمل کا آغاز افراد کی سطح سے ہوتا ہے، نہ کہ اجتماع کی سطح سے۔اجتماع کی سطح پر جو آغاز ہوتا ہے، وہ صرف لیڈری ہے، نہ کہ کوئی حقیقی عمل۔
کشمیریت کی طرف واپسی
کشمیریت کیا ہے، کشمیریت دراصل صوفیت کا دوسرا نام ہے۔ کشمیری کلچر کا مطلب ہے، صوفی کلچر۔ کشمیر شاید پوری دنیا میں واحد مقام ہے جہاں اسلام صرف صوفیوں کے ذریعے آیا اور صوفیوں کے ذریعے پھیلا۔ اِس لیے کشمیر میں کشمیریت کو قائم کرنا، دراصل صوفیت کو قائم کرنا ہے۔ صوفیت اور روحانیت دونوں ہم معنی الفاظ ہیں۔ صوفیت تمام تر امن اور محبت سے عبارت ہے۔ صوفیت اِس کے سوا کچھ نہیں کہ وہ امن اور محبت کے کلچر کا دوسرا نام ہے۔
صوفی کلچر کیا ہے، خود صوفیوں کی زبان میں، وہ صلحِ کُل (peace with all) کا نام ہے۔ یہی صوفی کلچر، مسلم اور مسلم کے درمیان بھی مطلوب ہے، اور مسلم اور غیر مسلم کے درمیان بھی۔
کشمیر کے لوگ پچھلے سیکڑوں سال سے اِسی صوفی کلچر پر قائم تھے۔ وہاں کا پورا ماحول امن اور محبت اور سماجی ہم آہنگی کے اصول پر مبنی تھا۔ کشمیر کے لوگ نفرت اور تشدد سے بالکل ناآشنا تھے۔ کچھ بیرونی عناصر نے کشمیر کے لوگوں کو بہکا کر اُن کو اِس کشمیری کلچر سے ہٹا دیا۔ نفرت اور تشدد کے کلچر نے کشمیریوں کو کوئی مثبت چیز نہ دی، البتہ اس کا نقصان یہ ہوا کہ کشمیریوں سے اُن کا سب سے زیادہ قیمتی اثاثہ چھن گیا، اور وہ یہی صوفیانہ کلچر تھا جو ہمیشہ سے کشمیر کی علامت بنا ہوا تھا، یعنی امن اور محبت کا کلچر۔
یہ کشمیر کی خوش قسمتی تھی کہ پچھلے چند سو سالوں میں یہاں باہر سے جو مسلم صوفی آئے، یا مقامی طورپر جو صوفی پیداہوئے، وہ سب کے سب امن اور محبت کا پیغام دینے والے تھے۔ اِس کے نتیجے میں کشمیر میں زبردست اِنقلاب آیا۔ کشمیر میں اسلام کو غیر معمولی طورپر فروغ حاصل ہوا۔
مثال کے طور پر شیخ نور الدین نورانی (وفات: 1439 ء)کشمیر کے صوفیوں میں سے ایک صوفی تھے۔ کشمیر کے لوگوں میں عام طورپر وہ ’’علَم دارِ کشمیر‘‘ کے نام سے مشہور تھے۔ ہندو لوگ انھیں پیار سے ’’نند رِشی‘‘ کہتے تھے۔ وہ ہندوؤں اور مسلمانوں میں یکساں طورپر مقبول تھے۔
شیخ نور الدین نورانی سچی کشمیریت کی علامت تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ— اگر تو دانش مند ہے تو ہندو اور مسلمان کو الگ الگ انسان نہ سمجھ، یہی خدا سے ملنے کا راستہ ہے۔ وہ شاعر بھی تھے۔ چناں چہ ان کا کلام کشمیر کے ایک شاعر نے ’رِشی نامہ‘ کے نام سے شائع کیا ہے۔ اس کو دیکھنے سے اندازہ ہوتا ہے کہ شیخ نورالدین نورانی کے نزدیک انسان کی ایک ہی پہچان تھی،وہ یہ کہ انسان انسان سے محبت کرے۔ ان کے نزدیک انسان سے محبت ہی خدا کی پہچان کا راستہ ہے۔
شیخ نور الدین نورانی کے قیمتی اقوال میں سے ایک قول یہ ہے کہ— میں نے تلوار توڑ دی اور اُس سے درانتی بنالی۔ یہ قول شیخ نورانی کے فکر کا خلاصہ ہے۔ اِس کا مطلب یہ ہے کہ خدا نے لوہا بنایا جس میں خصوصی طاقت ہے، مگر لوہا اس لیے نہیں ہے کہ آپ اس کو تشدد کے لیے استعمال کریں، بلکہ آپ کو چاہیے کہ لوہے کو تعمیر انسانیت کے لیے استعمال کریں۔ آپ لوہے سے تلوار کے بجائے درانتی بنائیں جو زراعت کے کام آتی ہے۔لیکن اکتوبر 1989 سے کشمیر میں ایسے لوگ اُبھرے جو برعکس اصول پر یقین رکھتے تھے۔ انھوں نے برعکس طور پر یہ کیا کہ اپنی ’’درانتی‘‘ کو توڑ کر اُس سے ’’تلوار‘‘ بنالی۔ انھوں نے جہاد کے نام پر پوری ریاست میں نفرت اور تشدد پھیلادیا۔
جہاں تک راقم الحروف کا تعلق ہے، میں پہلے دن سے نام نہاد کشمیری تحریک کو بے اصل سمجھتا رہا ہوں۔ میرا کہنا یہ رہا ہے کہ اِس طرح کے واقعات تاریخ کے ذریعے ظہور میں آتے ہیں، نہ کہ موجودہ قسم کی تحریک کے ذریعے۔ میرا ماننا ہے کہ کشمیر کا فیصلہ انڈیا کی آزادی کے وقت ہی ہوچکا ہے۔ اب نہ اُس کو باقاعدہ جنگ کے ذریعے بدلا جاسکتا ہے اور نہ گوریلا وار کے ذریعے۔ اِس قسم کی ہر کوشش مکمل طورپر ناکام ہوچکی ہے۔ اُس کو مزید دہرانا، صرف اپنے نقصان میں اضافے کے ہم معنیٰ ہے۔
تجربہ بتاتا ہے کہ انڈیا ہر اعتبار سے پاکستان سے بہت زیادہ ترقی کررہا ہے۔ ایسی حالت میں کشمیر کے لیے بہترین چوائس انڈیا ہے، نہ کہ پاکستان۔ حقیقت یہ ہے کہ انڈیا کے ساتھ جُڑنا، ایک ترقی یافتہ ملک کے ساتھ جڑنا ہے۔ اور پاکستان کے ساتھ جڑنا، ایک ایسے ملک کے ساتھ جڑنا ہے جو ابھی تک ترقی کی طرف اپنا سفر بھی شروع نہ کرسکا۔
1989 میں ملٹنسی (militancy) شروع ہونے سے پہلے، کشمیر کو وہاں کی زبان میں،’’پیروار‘‘ (صوفیوں کی سرزمین) کہاجاتا تھا۔ کشمیر کے ایک مسلمان نے بڑے درد کے ساتھ کہا کہ —پہلے کشمیریوں کا حال یہ تھا کہ وہ مرغی کو بھی ذبح کرنا نہیں جانتے تھے، مگر 1989 کے بعد ان کا یہ حال ہوا کہ وہ انسان کو ذبح کرنے لگے۔ بلبل شاہ اور شاہ ہمدان جیسے صوفیوں نے کشمیر میں جو کلچر رائج کیا، وہ مکمل طورپر امن کلچر تھا۔ کشمیری لوگ اپنے مزاج کے اعتبار سے تشدد سے بالکل ناواقف تھے۔ کشمیریوں کے اِس امن پسندانہ مزاج کو بتانے کے لیے ایک صوفی کا یہ شعر بالکل درست تھا:
ما قصۂ سکندر ودارا، نہ خواندہ ایم از ما بجز حکایتِ مہر وفا مپرس!
مگر انسان کی ایک کمزوری یہ ہے کہ اگر اس کو بھڑکایا جائے تو وہ بھڑک اٹھتا ہے۔ کچھ لوگوں نے اپنے مفاد کی خاطر کشمیر میں یہی بھڑکانے کا کام کیا، مگر یہ وقتی تھا— واقعات بتاتے ہیں کہ کشمیرکے لوگ اب اپنی اصل فطرت کی طرف واپس آرہے ہیں۔
اب آخری وقت آگیا ہے کہ کشمیر کے لوگ ماضی کی طرف لوٹیں، وہ اپنے بھولے ہوئے سبق کو یاد کریں، وہ اپنی زندگی کو دوبارہ صوفیانہ روایت پر قائم کریں، وہ کشمیر کو دوبارہ امن اور محبت کا کشمیر بنادیں، جیسا کہ وہ اپنے ماضی میں تھا۔ یہی کشمیریت ہے۔ اِسی کشمیریت کی طرف واپسی میں کشمیر کی ترقی کا راز چھپا ہوا ہے۔
مشتے بعد از جنگ
1968 میں راقم الحروف نے کشمیر کی سیاست کے بارے میں ایک مضمون شائع کیا تھا۔ اِس مضمون کا ایک سبق آموز حصہ یہاں نقل کیا جاتا ہے:
’’اپنا حق وصول کرنے کا وقت وہ ہوتا ہے جب کہ فیصلے کا سِرا اپنے ہاتھ میں ہو، مگر ہمارے لیڈر اُس وقت ہوش میںآتے ہیں، جب کہ اُن کا کیس اخلاقی کیس بن چکا ہو— یہ احساس مجھے اکثر اُس وقت ہوتا ہے جب کہ میں کشمیری لیڈر شیخ محمد عبد اللہ کی تقریر پڑھتا ہوں۔ ان کی موجودہ سیاسی مہم مجھے ’مشتے بعد از جنگ‘ سے زیادہ نظر نہیں آتی۔ 1947 میں وہ اِس پوزیشن میں تھے کہ اگر وہ حقیقت پسندی اختیار کرتے تو وہ خود اپنی مرضی کے مطابق، اپنے حق میں فیصلہ لے سکتے تھے۔ مگر انھوں نے فیصلے کے وقت کو غیر حقیقت پسندانہ خوابوں میں کھو دیا۔ اب جب کہ فیصلے کا سرا اُن کے ہاتھ سے نکل چکا ہے تو اب وہ چیخ و پکار کر رہے ہیں، حالاں کہ اب اِس چیخ وپکار کی حیثیت محض اخلاقی دُہائی کی ہے، اور اخلاقی دہائی اِس دنیا میں کوئی وزن نہیں رکھتی۔ قومی معاملات میں جب فیصلے کا سرا ایک بار ہاتھ سے نکل جائے تو مسئلہ بے حد سنگین ہوجاتاہے۔ پھر تو زمین اور آسمان کی گردشیں ہی اُس کو بدل سکتی ہیں۔ قومی قیادت ایک ایسا کام ہے جو صرف اُن لوگوں کے کرنے کا ہے جو حال کے اندر مستقبل کو دیکھ سکیں۔ باقی وہ لوگ جن کی نگاہیں صرف ماضی اور حال تک جاتی ہوں اور مستقبل اُنھیں صرف اُس وقت نظر آئے جب کہ وہ واقعہ بن کر ان کے اوپر ٹوٹ پڑا ہو، ایسے لوگ قوموں کی قیادت نہیں کرسکتے، البتہ وہ اپنے غیر دانش مندانہ اقدامات سے قوموں کو مسائل میں الجھانے کا فرض ضرور انجام دے سکتے ہیں‘‘ ۔(الجمعیۃ ویکلی، دہلی، 8 جون 1968 ، صفحہ 4)
یہ الفاظ تقریباً 45 سال پہلے لکھے گئے تھے۔ اِن الفاظ کی واقعیت اب ایک ثابت شدہ حقیقت بن چکی ہے۔ اہلِ کشمیر کو اِس تجربے سے سبق لینا چاہیے۔ اُن کو یہ غلطی ہرگز نہیںکرنا چاہیے کہ وہ قدیم طرز کی ناکام سیاست کو نئے نئے ناموں کے ساتھ بدستور جاری رکھیں۔ اب آخری وقت آگیا ہے جب کہ اہلِ کشمیر اپنے مستقبل کی تعمیر کے معاملے پر از سرِ نو غور کریں اور حقائق کو ملحوظ رکھتے ہوئے وہ اپنی قومی پالیسی کی از سرِ نو تشکیل کریں۔ پالیسی وہی ہے جو عملاً پائدار (sustainable) ہو، جو پالیسی پائدار نہ ہو، وہ پالیسی ہی نہیں۔ وہ صرف وقت اور توانائی کا ضیاع ہے، نہ کہ حقیقی معنوں میں کوئی نتیجہ خیز عمل۔
زمانے کے خلاف
1947 کے بعد کشمیر میں جو تحریک چلائی گئی، اس کا مقصدتھا کشمیر کو علاحدہ پاکٹ بنانا۔ یہ بلاشبہہ ایک خلافِ زمانہ روش (anachronism) ہے۔ موجودہ زمانہ بین الاقوامی تعلقات کا زمانہ ہے۔ ایسی حالت میں، علاحدہ پاکٹ بنانا ایک خلافِ زمانہ روش کی حیثیت رکھتاہے۔
اِس معاملے میں ایک عبرت ناک مثال پاکستان کی ہے۔ پاکستان اِسی علاحدگی کے تصور پر بنایا گیا۔ 1947 سے پہلے پاکستان کے مسلم لیڈر یہ کہتے تھے کہ علاحدہ پاکٹ بنانا ہمارے قومی وجود کے لیے ضروری ہے۔ مگر جب پاکستان بن گیا تو یہ ہوا کہ پاکستان کے اکثر تعلیم یافتہ افراد ’’مملکتِ خداداد‘‘ (پاکستان) کو چھوڑ کر امریکا اور یورپ کے ملکوںمیں چلے گئے۔ پاکستان میں اُن کو اصرار تھاکہ مسلمان ایک الگ قوم ہیں، لیکن دوسرے ملکوںمیں جاکر انھوںنے وہاں کی قومیت اختیار کرلی— امریکا میں امریکی قومیت، فرانس میں فرانسیسی قومیت، برطانیہ میں برطانی قومیت، جرمنی میں جرمن قومیت، وغیرہ۔
کشمیر میں جو لوگ کشمیر کو علاحدہ سیاسی پاکٹ بنانے کی کوشش کررہے ہیں، انھیں پاکستان کے اِس عبرت ناک انجام سے سبق لینا چاہیے۔ اُنھیں اِس سے بچنا چاہیے کہ وہ غیر حقیقی نعروں پر اپنی تحریک اٹھائیں اور بعد کو حالات کے دباؤ کے تحت وہ خود اپنے نعروں کے خلاف عمل کرنے لگیں۔
گھیٹو ذہنیت کا نقصان
آج کل کے مسلمانوں کا حال یہ ہے کہ تقریباً تمام مسلمان منفی سوچ (negative thinking) میں جی رہے ہیں۔ مذہبی مسلمان اور سیکولر مسلمان دونوں یکساں طورپر اِسی قسم کی منفی سوچ رکھتے ہیں، اُن کے مرد بھی اور ان کی عورتیں بھی۔ کسی مسلمان سے بات کیجیے، مسلمانوں کے کسی جلسے میں جائیے، کسی مسلم ادارے کا معائنہ کیجیے، مسلمانوں کا کوئی اخبار یا میگزین پڑھیے، ہر جگہ آپ کو یہی منفی سوچ دکھائی دے گی۔منفی سوچ ہمیشہ کسی اور کے خلاف ہوتی ہے، مگر یہ ایک سنگین حقیقت ہے کہ منفی سوچ کا نقصان خود منفی سوچ والوں کو ہوتا ہے، نہ کہ اُن لوگوں کو جن کے خلاف منفی انداز میں سوچا جارہا ہے۔ یہ فطرت کا قانون ہے، اور اِس قانون میں کبھی کوئی تبدیلی واقع نہیں ہوتی۔
منفی ذہنیت (negative mentality) کا مطلب ہے، گھیٹو ذہنیت(ghetto mentality)۔ اِس طرزِ فکر کا نتیجہ ہمیشہ یہ ہوتا ہے کہ ایسے لوگ دوسروں سے کٹ جاتے ہیں۔ وہ علاحدگی پسندی کے خول میں جینے لگتے ہیں۔ اِس طرح دوسروں کے ساتھ اُن کا انٹریکشن (interaction) ختم ہوجاتا ہے۔ اِس گھیٹو آئڈیالوجی کا بھیانک نتیجہ پس ماندگی اور پچھڑے پن کی صورت میں ظاہر ہوتا ہے۔
زندگی کا راز علاحدگی پسندی میں نہیں ہے، بلکہ انٹریکشن میں ہے۔ زندگی کا راز لوگوں سے قریب ہونے میں ہے، لوگوں سے دور ہونے میں نہیں ہے۔ زندگی کا راز دوسروں کا خیر خواہ بننے میں ہے، دوسروں سے نفرت کرنے میں نہیں ہے۔ زندگی کا راز مثبت طرزِ فکر میں ہے، منفی طرزِ فکر صرف ہلاکت کا ذریعہ ہے، نہ کہ تعمیر وترقی کا ذریعہ۔
تاریخ کے فیصلے کو بدلنا
کعبہ کو تقریباً چار ہزار سال پہلے حضرت ابراہیم علیہ السلام نے مکہ میں بنایا تھا۔ اُس وقت کعبہ مستطیل (rectangle) صورت میں تھا۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت سے پہلے قریش مکہ نے کعبہ کی نئی تعمیر کی۔ اُس وقت انھوں نے کعبہ کی لمبائی کو کم کرکے اس کو مربّع (square) صورت میں تعمیر کیا۔ کعبہ اِس مربع صورت میں آج تک موجود ہے۔
روایات میں آیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی اہلیہ عائشہ سے کہا کہ میں چاہتا ہوں کہ کعبہ کی عمارت کو دوبارہ میں ابراہیمی بنیاد پر بناؤں، مگر آپ اِس سے باز رہے، کیوں کہ عملی اسباب کے تحت اب ایسا کرنا زیادہ بڑی برائی (greater evil) کا سبب بنتا ہے۔ (صحیح البخاری، رقم الحدیث:1583 )
پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے اِس واقعے سے ایک اہم اصول معلوم ہوتاہے، وہ یہ کہ تاریخ کے پہیے کو دوبارہ الٹی طرف نہیں چلایا جاسکتا:
The wheel of history cannot be put in the reverse gear.
یہ کوئی سادہ بات نہیں۔ اِس پیغمبرانہ واقعے سے فطرت کا ایک قانون معلوم ہوتا ہے، وہ یہ کہ تاریخ کا سفر ہمیشہ ماضی سے حال اور حال سے مستقبل کی طرف ہوتا ہے۔
تاریخ میں یو ٹرن (U turn) لینا ممکن نہیں ہوتا۔ یہ انسان کی طاقت سے باہر ہے کہ وہ تاریخ کے سفر کو مستقبل سے حال کی طرف اور حال سے ماضی کی طرف جاری کردے۔ تاریخ کے معاملے میں موجود صورت حال (statusquo) کو مان کر منصوبہ بنایا جاتا ہے، نہ کہ اس کا انکار کرکے۔
کعبہ کی تاریخ اِس معاملے کی ایک مثال ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فطرت کے اِس قانون کو تسلیم کرتے ہوئے سابق ابراہیمی بنیاد پر کعبہ کو دوبارہ تعمیر کرنے کی کوشش نہیں کی۔ بعد کو عبد اللہ بن زبیر (وفات: 692 ء) کا زمانہ آیا تو انھوں نے کعبہ کی عمارت کو توڑ کر اس کو دوبارہ ابراہیمی بنیاد پر بنایا، لیکن عبد اللہ بن زبیر کی وفات کے فوراً بعد حجاج بن یوسف الثقفی (وفات:714 ء) نے اس کو توڑ دیا اور دوبارہ کعبہ کو اس کی سابق بنیاد پر تعمیر کردیا۔ موجودہ زمانے کے مسلمان اِس سنتِ رسول سے مکمل طور پر بے خبر ہیں۔ اِس لیے وہ بار بار اِس سنتِ رسول کی خلاف ورزی کرتے ہیںاور اس کے نتیجے میں وہ صرف اپنی تباہی میں مزید اضافہ کرلیتے ہیں۔
بیسویں صدی کے ربع اول میں خلافت تحریک، بیسویں صدی کے نصف ثانی میں فلسطینی تحریک، بیسویں صدی کے نصف آخر میں کشمیری تحریک اور اِس قسم کی دوسری تحریکیں اِسی کا ثبوت ہیں۔ اِن تحریکوں کے لیڈروں نے تاریخ کے فیصلے کو بدلنے کی کوشش کی، مگر تاریخ کا فیصلہ نہیں بدلا، البتہ نادانی کی اِس سیاست نے مسلمانوں کی تباہی میں مزید اضافہ کردیا—وہ لمحہ جب کہ تاریخ کا فیصلہ ہورہا ہو، اُس وقت آپ اپنی دانش مندانہ پالیسی کے ذریعے فیصلے پر اثر انداز ہوسکتے ہیں، لیکن جب فیصلہ ہوگیا تو اُس کے بعد فیصلے کو بدلنے کی کوشش کرنا عملاً خود کشی کے سوا اور کچھ نہیں۔
ناممکن کی سیاست
موجودہ زمانے کے مسلم رہنما ہر جگہ سیاست کے ہنگامے جاری کئے ہوئے ہیں۔جہاںبھی کچھ مسلمان ہیں، وہاں اِس کی مثال دیکھی جاسکتی ہے۔ مگر یہ تمام سیاسی ہنگامے مکمل طورپر بے نتیجہ ثابت ہورہے ہیں۔ اِس کا مشترک سبب یہ ہے کہ یہ تمام مسلم رہنما ناممکن کی سیاست چلا رہے ہیں، یعنی ایک ایسی چیز کے نام پر سیاست جو سرے سے قابلِ حصول ہی نہیں۔ ایسی سیاست کا نتیجہ یہی ہوسکتاہے کہ وہ عملاً بے نتیجہ ہو کر رہ جائے۔
موجودہ زمانے میں اِس قسم کی سیاست ہر مسلم علاقے میں دیکھی جاسکتی ہے — فلسطین میں یہ نعرہ کہ فلسطین پر اسرائیلی قبضے کو ختم کرو اور وہاں دوبارہ عرب حکومت قائم کرو۔ اِسی طرح کشمیر میں یہ سیاست کہ وہاں سے انڈیا کا غلبہ ختم کیا جائے اور کشمیر کو پاکستان کا حصہ قرار دیا جائے۔ اِسی طرح سنکیانگ (چین) اور فلپائن جیسے مقامات پر یہ مطالبہ کہ یہاں دوبارہ مسلم رول قائم کرو، جیسا کہ وہ پہلے وہاں قائم تھا، وغیرہ۔
اِس قسم کی ہر سیاست ناممکن کی سیاست ہے۔ اِس کا کوئی مثبت نتیجہ ہر گزملنے والا نہیں۔ اِس قسم کی ناممکن سیاست کا واحد انجام یہ ہے کہ جو کچھ ملا ہوا ہے، وہ بھی چھن جائے اور مزید کچھ حاصل نہ ہو۔ ناممکن کی سیاست عقل کے خلاف بھی ہے اور اسلام کے خلاف بھی۔ سیاست کے معاملے میں عقل اور اسلام دونوں کا تقاضا صرف ایک ہے، وہ یہ کہ اس کو نتیجہ خیز ہونا چاہیے۔ جہاں مثبت نتیجہ ملنے کی امید نہ ہو، وہاں ملے ہوئے پر قناعت کرنا ہے، نہ کہ نہ ملے ہوئے کے لیے لڑائی چھیڑنا۔ ناممکن کی سیاست ہمیشہ صرف لیڈروں کے لیے مفید ہوتی ہے، عوام کے لیے اس کا کوئی فائدہ نہیں۔
ناممکن کی سیاست لیڈر کے لیے استحصال (exploitation) کی سیاست ہے اور عوام کے لیے صرف نادانی کی سیاست۔ ناممکن کی سیاست کے لیے کم سے کم جو لفظ استعمال کیا جاسکتا ہے، وہ خود کشی کی سیاست ہے۔ خود کشی سے کم کوئی لفظ اِس تباہ کن سیاست کو بیان کرنے کے لیے کافی نہیں۔ مزید یہ کہ ناممکن کی سیاست صرف ایک فرد کی خود کشی نہیں ہے، بلکہ وہ پوری قوم کی خود کشی ہے۔
آئڈیل اور پریکٹکل
اکثر لوگوں کا حال یہ ہے کہ ان کو جب کوئی حقیقت پسندانہ مشورہ دیاجائے تو وہ فوراً ایک آئڈیل بات کہہ دیں گے — مگر انصاف کا تقاضا یہ ہے، حقوقِ انسانی (human rights) کا قانون تو یہ کہتا ہے، انسانی اقدار (human values) کے اعتبار سے تو ایسا ہونا چاہیے، وغیرہ۔ اِس قسم کی باتیں صرف آئڈیل ازم (idealism)کی باتیں ہیں۔ اِس دنیا میں کبھی آئڈیل ازم نہیں چلتا، اِس دنیا میں ہمیشہ وہی ہوتاہے جو عملی اعتبار سے قابلِ حصول ہو۔
اِس معاملے میں اصل قابلِ لحاظ بات یہ نہیں ہے کہ ہمارے اپنے معیار کے مطابق، کیا ہونا چاہیے۔اصل قابلِ لحاظ بات یہ ہے کہ خالق کے تخلیقی منصوبے کے مطابق کیا ہوسکتاہے۔ یہ مسئلہ کسی نظری معیار کا مسئلہ نہیں ہے، یہ مسئلہ تمام تر یہ ہے کہ اِس دنیا میں کیاچیز عملاًقابلِ حصول ہے اور کیا چیز عملاً قابلِ حصول نہیں۔ خالق کے تخلیقی منصوبے کے مطابق، اِس دنیا میں ہر انسان کو آزادی حاصل ہے۔ ہم دوسرے کی آزادی کو منسوخ نہیں کرسکتے۔
ہمارے لیے قابلِ عمل بات صرف یہ ہے کہ ہم دوسروں کی رعایت کرتے ہوئے اپنے عمل کا منصوبہ بنائیں، ہم دوسروں کو عمل کا موقع دیتے ہوئے اپنے لیے عمل کا موقع نکالیں۔ یہی زندگی کی حکمت ہے۔ اِس حکمت (wisdom) کی موافقت سے دنیا میں امن قائم ہوتاہے۔ اِس حکمت کی موافقت نہ کرنا، نفرت اور تشدد کو فروغ دینا ہے، اور نفرت اور تشدد صرف مسئلے میںاضافہ کرنے والا ہے، نہ کہ اس کو ختم کرنے والا۔یہ فطرت کا ایک اٹل اصول ہے۔ اِس معاملے میں کسی کا کوئی استثنا نہیں۔ جو لوگ فطرت کے اِس نظام کی خلاف ورزی کریں، ان کے لیے اِس دنیا میں صرف تباہی مقدر ہے، خواہ انھوںنے اپنے غیر فطری عمل کو کتنا ہی زیادہ خوب صورت نام دے رکھا ہو۔
پیغمبر کی رہنمائی
حضرت علی بن ابی طالب چوتھے خلیفہ راشد ہیں۔40 ہجری (661 عیسوی) میں ان کی وفات ہوئی۔ اس کے بعد لوگوں نے حضرت حسن بن علی کے ہاتھ پر خلافت کی بیعت کرلی۔ مگر اُس وقت مسلمان دو گروہ میں بٹ گئے تھے۔ ایک گروہ حضرت حسن کے ساتھ تھا، اور دوسرا گروہ حضرت معاویہ کے ساتھ۔ دونوں گروہوں میں اختلافات اتنے زیادہ بڑھے کہ دونوں گروہوں میں جنگ کی صورت پیدا ہوگئی۔ اُس وقت حضرت حسن کے ساتھ چالیس ہزار مسلح افراد تھے۔ اگر جنگ ہوتی تو دونوں طرف کے ہزاروں آدمی مارے جاتے۔ حضرت حسن نے اِس ٹکراؤ کو پسند نہیں کیا۔ چناں چہ وہ یک طرفہ طورپر عہدے سے دست بردار ہوگئے اور خلافت کا عہدہ حضرت حسن نے معاویہ کے حوالے کردیا۔ حضرت حسن کی یہ روش اُس وقت کے مسلمانوں کو پسند نہیں آئی۔ انھوںنے آپ کے خلاف سخت بیانات دئے۔ ایک مسلمان نے آپ کو خطاب کرتے ہوئے کہا: یا عارَ المسلمین (اے مسلمانوں کے لیے ننگ وعار)۔ حضرت حسن نے اس کے جواب میں کہا: العارُ خیرٌ من النار (ننگ وعار آگ سے بہتر ہے) البدایۃ والنہایۃ، جلد 8، صفحہ 18-19 ۔
حضرت حسن کی اِس مصلحانہ روش کو عام مسلمانوں نے پسند نہیں کیا، کیوںکہ اُن کے نزدیک، یہ ذلت اور پسپائی کی روش تھی۔ مگر پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے پیشگی طورپر اِس روش کی تصدیق فرمائی تھی۔ روایات میں آتا ہے کہ حضرت حسن جب چھوٹے تھے، تو آپ نے اُن کے بارے میں پیشین گوئی کے انداز میں فرمایا تھا: إن ابنی ہٰذا سیّد، ولعل اللہ أن یصلح بہ بین فئتین عظیمتین من المسلمین (صحیح البخاری، رقم الحدیث: 2704) یعنی یہ میرا بیٹا سردار ہے۔ ہوسکتا ہے کہ اللہ اس کے ذریعے مسلمانوں کے دو بڑے گروہ کے درمیان صلح کرادے۔
اِس واقعے سے زندگی کی ایک اہم حقیقت معلوم ہوتی ہے۔ اِس سے معلوم ہوتا ہے کہ ایک روش جو عام مسلمانوں کی نظر میں ذلت اور پسپائی کی روش ہو، وہی روش پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی نظر میں درست قیادت کی ایک اعلیٰ مثال کی حیثیت رکھتی ہو۔ حقیقت یہ ہے کہ اِس طرح کے معاملات میں ذلت اور پسپائی کے الفاظ جاہلیت کے الفاظ ہیں۔ اسلامی طریقہ یہ ہے کہ اِس طرح کے معاملات کو نتیجہ (result) کی روشنی میں دیکھا جائے۔ اسلامی تعلیم کے مطابق، نزاعی معاملات میں صرف وہ طریقہ صحیح طریقہ ہے جو ٹکراؤ اور تشدد سے بچانے والا ہو۔ اِس کے برعکس، جو طریقہ ٹکراؤ اور تشدد کی طرف لے جائے، وہ بلاشبہہ جاہلیت کا طریقہ ہے۔ اہلِ ایمان پر لازم ہے کہ وہ اِس طرح کے معاملے میں ٹکراؤ سے اعراض والا طریقہ اختیار کریں، خواہ ظاہر بیں لوگوں کو وہ ذلت اور پسپائی کا طریقہ دکھائی دیتا ہو۔
اِس واقعے میں اُن تمام مسلمانوں کے لیے بہت بڑی نصیحت ہے، جہاں کشمیر جیسے حالات پیش آرہے ہیں۔ موجودہ زمانے میں بہت سے ایسے مقامات ہیں جہاں کے مسلمان مذکورہ قسم کی صورتِ حال سے دوچار ہیں۔ ایسے تمام مسلمانوں کے لیے مذکورہ واقعہ ایک رہنما واقعے کی حیثیت رکھتا ہے۔ یہ مسلمان اگر قومی عزت اور قومی وقار کی اصطلاحوں میں سوچتے ہیں تو اُنھیں فوراً اپنی اِس سوچ کو چھوڑ دینا چاہئے، اور پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی رہنمائی میں انھیں یہ فیصلہ کرنا چاہیے کہ وہ ہر حال میں امن اور مصالحت کا طریقہ اختیار کریں گے، نہ کہ ٹکراؤ اور تشدد کا طریقہ۔ حضرت حسن کے الفاظ میں، اِس طرح کی صورتِ حال میں تشدد کا طریقہ اختیار کرنا، جہنم کا طریقہ ہے، اور امن کا طریقہ اختیار کرنا جنت کا طریقہ ۔
تاریخ سے معلوم ہوتا ہے کہ بعد کے زمانے میں، حضرت حسن بن علی مسلمانوں کے درمیان غیر مقبول ہوگئے۔ اِس کا سبب کیا تھا۔ اِس کا سبب یہ تھا کہ وہ لو پروفائل (low-profile) میں بولتے تھے۔ عوام کا یہ عجیب مزاج ہے کہ وہ ایسے افراد کو اپنا قائد بنالیتے ہیں جو ہائی پروفائل (high-profile) میں بولیں، اور جو شخص لو پروفائل میں بولے، وہ اُن کے درمیان صرف ایک غیر اہم شخص بن کر رہ جاتا ہے۔ مگر عقل اور اسلام دونوں کا یہ فیصلہ ہے کہ خدا کی اِس دنیا میں، ہائی پروفائل میں بولنے والے لوگوں کا انجام تباہی ہو، اور لو پروفائل میں بولنے والوں کا انجام کامیابی۔ اسلام کی صراطِ مستقیم پر صرف وہ لوگ ہیں جو لو پروفائل میں بولنے والے رہنما کا ساتھ دیں۔ اللہ کی نصرتیں صرف ایسے لوگوں کے لیے ہی مقدر ہیں ۔
اتباعِ یہودیت
صہیونیت (Zionism) موجودہ زمانے کے یہودیوں کی سب سے بڑی تحریک ہے۔ یہ تحریک 1897 میں شروع ہوئی۔ اس کا مقصد تھا — فلسطین میں دوبارہ یہودی ریاست قائم کرنا:
Zionism: Political and cultural movement seeking to re-establish Jewish national state in Palestine.
دوسرے لفظوں میں یہ کہ صہیونیت، زمین مرکزی سیاست (land-based politics) کا دوسرا نام ہے۔ موجودہ زمانے کے یہودی اپنی تمام طاقت، اپنا تمام سر مایہ، اپنے تمام وسائل اِس سیاست کے لیے استعمال کررہے ہیں۔ اِس مقصد کے حصول کے لیے وہ ہر قسم کی قربانی دینے کے لیے تیار ہیں۔
موجودہ زمانے کے مسلمان، حدیث کی پیشین گوئی کے مطابق، اِسی یہودی اُسوہ کا اتباع کررہے ہیں۔ موجودہ زمانے کے مسلمانوں کی سرگرمی براہِ راست طورپر یا بالواسطہ طورپر اِسی مبنی برزمین سیاست (land-based politics) کا نمونہ ہے۔ ہر جگہ کے مسلمانوں نے اِسی قسم کی تحریک چلائی کہ وہ زمین کے ایک خطے پر قبضہ کریں اور وہاں اپنی حکومت قائم کریں۔ پاکستان، فلسطین، کشمیر، بوسنیا، چیچنیا، اراکان، فلپائن، سنکیانگ، وغیرہ۔ ساری دنیا کے مسلمان اِس مبنی بر زمین سیاست میں یا تو عملاً شریک ہیں، یا وہ اِس انداز میں سوچتے ہیں، یا اپنی تقریر اور تحریر میں اِسی کا چرچا کرتے ہیں۔
یہ بلاشبہہ یہودی طریقہ کا اتباع ہے۔ اِس قسم کے قومی اور سیاسی جھگڑے، خواہ وہ اسلام کے نام پر کئے جائیں، لیکن وہ اسلام نہیں۔ وہ اسلام کے نام پر غیر اسلامی سیاست ہے۔ وہ دین کے نام پر بے دینی کی سرگرمیاں ہیں۔ مسلمانوں پر فرض ہے کہ وہ اِس قسم کی قومی اور سیاسی سرگرمی کو مطلق طورپر ترک کردیں، وہ اپنے ملی عمل کی ازسرِ نو منصوبہ بندی کریں۔ اِس قسم کی قومی سیاست کا کوئی مثبت انجام نہ اب تک برآمد ہوا ہے اور نہ آئندہ برآمد ہونے والا ہے۔
اسلام کا جامع تصور
کچھ لوگ اسلام کا جامع تصور پیش کررہے ہیں ۔ اُن کا کہنا ہے کہ— اسلام ایک مکمل نظام ہے۔ اسلام میں صرف عقیدہ اور عبادت اور اخلاق شامل نہیں ہیں، بلکہ پولٹکل سسٹم بھی اس کا لازمی جز ہے۔ پولٹکل سسٹم کو قائم کیے بغیر اسلام ادھورا رہتا ہے، وہ مکمل نہیں ہوتا۔ یہ بظاہر اسلام کا جامع تصور ہے، لیکن حقیقت کے اعتبار سے وہ صرف ایک تخریبی تصور ہے۔ موجودہ زمانے کی مسلم ملیٹنسی (Muslim militancy) اِسی نام نہاد جامع تصور کی براہِ راست پیداوار ہے۔
آپ اسلام کے عقیدے کو مانیں، اسلامی طریقے پر عبادت کریں، اسلام کے اخلاقی اصولوں کی پابندی کریں تو یہ آپ کا ایک ذاتی عمل ہوتا ہے۔ ایسا کرتے ہوئے کسی اور کے ساتھ آپ کا ٹکراؤ پیش نہیں آتا، لیکن جب آپ اپنا نشانہ یہ بنائیں کہ مجھے زمین پر اسلامی حکومت قائم کرنا ہے تو یہ نشانہ فوراً آپ کو دوسرے سے ٹکرا دیتا ہے۔ اس لیے کہ پولٹکل اقتدار کوئی خالی سیٹ نہیں ہے جس پر جاکر آپ بیٹھ جائیں۔ پولٹکل اقتدار ہمیشہ کسی کے قبضے میں ہوتا ہے،اِس لیے پولٹکل گدّی کو حاصل کرنے کے لیے فوراً دوسروں سے ٹکراؤ پیش آتا ہے۔ اِس طرح آپ کا سیاسی نشانہ آپ کے اندر یہ ذہن پیدا کرتا ہے کہ آپ اقدام کرکے قابض لوگوں سے اقتدار کی کنجیاں چھین لیں۔ اقتدار کی کنجیوں کو چھیننے کا یہ نظریہ قدرتی طورپر دو گروہوں کے درمیان تشدد اور ٹکراؤ کی صورت پیدا کردیتا ہے—موجودہ زمانے میں مختلف مقامات پر جو مسلم ملیٹنسی جاری ہے، وہ براہِ راست طورپر اِسلام کے اِسی نام نہاد جامع تصور کا نتیجہ ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ اسلام اصلاً اپنے آپ کو خدا کے احکام کا پابند بنانے کا نام ہے۔ جہاں تک اجتماعی نظام میں اسلام کے سیاسی اور قانونی احکام کے نفاذ کا سوال ہے، وہ تمام تر حالات پر منحصر ہے۔ سماج اگر اِن احکام کو قبول کرنے کے لیے تیار ہوتو پُر امن کوششوں کے ذریعے اِن احکام کی بجا آوری کی جائے گی، ورنہ نہیں۔ اسلام کا اصول، تکلیف بقدرِ وسع (2: 286) کا اصول ہے۔
امر ِموعود، امر ِمقصود
قرآن کی سورہ النور میں اجتماعی زندگی کے بارے میں ایک حکم بیان ہوا ہے۔ اِس آیت کا ترجمہ یہ ہے: ’’اللہ نے وعدہ فرمایا ہے تم میں سے اُن لوگوں کے ساتھ جو ایمان لائیں اور نیک عمل کریں کہ وہ ان کو زمین میںاقتدار عطا کرے گا، جیسا کہ اُن سے پہلے لوگوں کو اقتدار عطا کیا تھا، اوراُن کے لیے ان کے اُس دین کو جمادے گا جس کو ان کے لیے پسند کیا ہے۔ اور ان کے خوف کی حالت کے بعد اس کو امن سے بدل دے گا۔ وہ صرف میری عبادت کریں گے اور کسی چیز کو میرا شریک نہ بنائیں گے۔ اور جو اس کے بعد انکار کرے، تو ایسے ہی لوگ نافرمان ہیں‘‘ (24: 55) ۔
قرآ ن کی اِس آیت سے واضح طورپر معلوم ہوتا ہے کہ زمین پر سیاسی اقتدار کی حیثیت امر ِموعود کی ہے، نہ کہ امرِ مقصود کی۔ مسلمانوں کے لیے اپنے عمل کا نشانہ صرف یہ ہے کہ وہ اپنے اندر ایمان اور عملِ صالح کی صفات پیدا کریں، وہ اپنی ساری توجہ اِسی داخلی نشانے پر لگادیں۔
جہاں تک زمین پر سیاسی غلبہ کا معاملہ ہے، اس کا تعلق تمام تر اللہ تعالی سے ہے۔ قرآن کے مطابق، زمین پر سیاسی غلبہ کا فیصلہ براہِ راست اللہ تعالی کی طرف سے ہوتا ہے، اور وہ اُسی کو ملتا ہے جس کے لیے اللہ نے اس کا فیصلہ کیا ہو(3: 26)۔
اِس سے معلوم ہوا کہ سیاسی نظام کے قیام کو نشانہ بنا کر عمل کرنا، ایک مبتدعانہ عمل ہے۔ وہ دین کے نام پر بے دینی ہے۔ وہ اسلام کے نام پر اسلام سے انحراف کرنا ہے۔ اِس قسم کی کوشش کو کبھی خدا کی نصرت نہیں ملے گی، اِس لیے ایسی کوشش کبھی کامیاب ہونے والی نہیں ۔
یک طرفہ رپورٹنگ
قرآن کی سورہ التطفیف میں، ناپ تول میں کمی کو ایک مجرمانہ فعل بتایا گیاہے۔ یہاں متعلق آیات کا ترجمہ نقل کیا جاتاہے: خرابی ہے ناپ تول میں کمی کرنے والوں کی۔ جو لوگوں سے ناپ کر لیں تو وہ پورا لیں۔ اور جب وہ اُن کو ناپ کر یا تول کر دیں تو گھٹا کر دیں:
Woe to those who give short measure, who demand of other people full measure for themselves, but when they give by measurment or weight to others, they give them less. (83: 1-3)
قرآن کی اِس آیت میں جس اخلاقی برائی کا ذکر ہے، اُس سے مراد محدود طورپر صرف ناپ تول کا معاملہ نہیں ہے، بلکہ اس کا تعلق زندگی کے تمام اجتماعی معاملات سے ہے۔ موجودہ زمانے میں اِس تطفیف کی ایک تباہ کُن صورت وہ ہے جس کو یک طرفہ رپورٹنگ کہاجاسکتا ہے۔ موجودہ زمانے میں یہ برائی مسلمانوں کے اندر بہت زیادہ عام ہے۔ مسلمانوں کے تمام لکھنے اور بولنے والے یہ کرتے ہیں کہ جب بھی مسلمانوں اور غیر مسلموں کے درمیان کوئی ٹکراؤ ہو تو وہ صرف غیر مسلموں کی طرف سے کی جانے والی کارروائی کو بیان کرتے ہیں، اور مسلمانوں نے اپنی طرف سے جو کچھ کیا تھا، اُس کو وہ حذف کردیتے ہیں۔ وہ غیر مسلموں کی جوابی کارروائی کو بیان کرتے ہیں، وہ مسلمانوں کی طرف سے کئے جانے والے اقدام کو بیان نہیں کرتے۔
اِس طرح کے معاملات میں کہنے والے اکثر یہ کہتے ہیں کہ کوئی آپ کے گھر میں گھس آئے تو آپ کیا کریں گے۔ اِسی کا نام یک طرفہ رپورٹنگ ہے، کیوںکہ کوئی گھسنے والا اچانک نہیں گھستا، بلکہ پہلے گھر والے اپنی کسی کارروائی سے اس کو مشتعل کرتے ہیں، اس کے بعد کوئی گھسنے والا اُن کے گھر میں گھستا ہے۔ اِس کا حل اپنے حصے کی اشتعال انگیزی کو روکنا ہے، نہ کہ گھسنے والے کے خلاف بے فائدہ چیخ و پکار کرنا۔ اِسی طرح کی صورتِ حال کے بارے میں، پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ: الفتنۃ نائمۃ، لعن اللہ من أیقظہا (الجامع الصغیر للسیوطی، رقم الحدیث:5975 ) یعنی فتنہ سویا ہوا ہے۔ اللہ اُس شخص پر لعنت کرے جو اِس سوئے ہوئے فتنے کو جگائے۔
اِس یک طرفہ رپورٹنگ (one-sided reporting) کا یہ بھیانک انجام ہوا ہے کہ ساری دنیا کے مسلمان یہ سمجھنے لگے ہیں کہ وہ صرف مظلوم ہیں، اور دوسرے لوگ صرف ظالم۔ اِس ناقص رپورٹنگ کا مزید نتیجہ یہ ہوا ہے کہ ساری دنیا کے مسلمان منفی سوچ (negative thinking) میں مبتلا ہوگئے ہیں۔ وہ دوسری قوموں کو دشمن سمجھ کر اُن سے نفرت کرنے لگے ہیں۔ انسانوں کے بارے میں وہ نفرت کی نفسیات میں جیتے ہیں، نہ کہ محبت کی نفسیات میں۔
اِس یک طرفہ رپورٹنگ کی برائی صرف یہ نہیں ہے کہ وہ حقیقت کے اعتبار سے، خلافِ واقعہ ہے۔ اِس کا شدید تر نقصان یہ ہے کہ اُس نے موجودہ زمانے کے مسلمانوں کو منافقت میں مبتلا کردیا ہے۔ مسلمانوں کے لیے یہ ممکن نہیں کہ وہ دوسری قوموں سے الگ ہو کر اپنی زندگی کی تعمیر کریں۔ اپنے مادّی مفاد کے تحت اُن کو بار بار دوسری قوموں سے مصالحانہ تعلق قائم کرنا پڑتاہے۔ چناں چہ اُن کا حال یہ ہے کہ وہ نفرت کی اِس سوچ کو باقی رکھتے ہوئے دوسری قوموں سے سماجی اور اقتصادی تعلقات قائم کرنے پر مجبور ہوتے ہیں۔ دل میں نفرت رکھتے ہوئے وہ لوگوںکے ساتھ دوستانہ انداز اختیار کرتے ہیں۔ یہ بلا شبہہ دو عملی ہے، اور دو عملی ہی کا دوسرا نام منافقت ہے۔
یک طرفہ رپورٹنگ، یعنی کسی واقعے کے ایک پہلو کو بیان کرنا اور دوسرے پہلو کو بیان نہ کرنا کوئی سادہ بات نہیں ۔ اِس کے بے شمار نقصانات ہیں— اِس طرح کی رپورٹنگ سے آدمی کے اندر غیرسنجیدگی پیدا ہوتی ہے۔ سچ اور جھوٹ میں فرق کرنے کی صلاحیت اس کے اندر سے ختم ہوجاتی ہے۔ وہ قومی عصبیت میں مبتلا ہو جاتاہے۔ معاملات میں حقیقت پسندانہ مزاج اس کے اندر باقی نہیں رہتا۔ دوسروں کے لیے خیر خواہی کا جذبہ اس کے اندر سے ختم ہوجاتا ہے۔ وہ منفی سوچ میں مبتلا ہوجاتاہے۔ اس کے اندر پہلے شکایتی مزاج پیدا ہوتاہے، اس کے بعد وہ لوگوں سے نفرت کرنے لگتا ہے۔ آخر میں وہ متشددانہ کارروائی کو اپنے لیے جائز سمجھ لیتاہے— شراب اگر جسمانی اعتبار سے، اُمّ الخبائث ہے، تو یک طرفہ رپورٹنگ سوچ کے اعتبار سے، ام الخبائث کی حیثیت رکھتی ہے۔
عمومی فتنہ
قرآن کی سورہ الانفال میں ارشاد ہوا ہے: واتقوا فتنۃً لا تصیبن الذین ظلموا منکم خاصّۃً۔یعنی ڈرو اُس فتنے سے جو خاص اُنھیں لوگوں پر واقع نہ ہوگا جو تم میں سے غلط کاری کے مرتکب ہوئے ہیں:
Beware of an affliction that will not smite exclusively those among you who have done wrong.(8: 25)
قرآن کی اِس آیت میں ’فتنہ‘ سے مراد خدائی فتنہ نہیں ہے، بلکہ انسانی فتنہ ہے، یعنی اشتعال کی وہ صورتِ حال جو ایک انسان یا بعض انسانوں کے ناعاقبت اندیشانہ عمل کے ذریعے پیداہوئی ہو۔ اِس طرح کی صورتِ حال جب کسی سماج میں پیدا ہو جائے تو اُس کے بعد وہاں جو شورش برپا ہوگی، اس کا برا انجام انتخابی طور پر پیش نہیں آئے گا، بلکہ اس کا برا انجام عمومی طورپر پورے سماج کو بھگتنا پڑے گا۔
مثال کے طورپر ایک شہر میں غیر مسلموں کی ایک عبادت گاہ ہے۔ وہاں لاؤڈاسپیکر پر اُن کا کوئی پروگرام ہورہا ہے۔ اب اگر کچھ مسلمانوں کو اِس پر شکایت پیدا ہو، وہ غیر مسلم عبادت گاہ میں جاکر اُن سے لاؤڈاسپیکر بند کرنے کے لیے کہیں، مگر وہ لوگ اس کو بند نہ کریں۔ اِس پر مسلمان غصہ ہوجائیں اوروہ اُن کے لاؤڈاسپیکر کو توڑ کر پھینک دیں، تو یہ معاملہ کسی حد پر نہیں رکے گا، بلکہ جب یہ خبر پھیلے گی تو غیر مسلموں کی پوری کمیونٹی شدید رد عمل کا شکار ہو جائے گی۔ وہ مسلم کمیونٹی کے خلاف جذباتی کارروائی کرے گی۔ اِس کارروائی کا نشانہ صرف وہی مسلمان نہیں بنیں گے جنھوں نے لاؤڈاسپیکر کو توڑا تھا، بلکہ اس مقام کی پوری مسلم کمیونٹی اس کی زد میں آجائے گی۔
اِسی طرح مثلاً غیر مسلموں کا ایک جلوس نکلتا ہے۔ وہ ایسی سڑک سے گزرنا چاہتا ہے جہاں مسلمانوں کی مسجد واقع ہے۔ اب کچھ مسلمان سامنے آجاتے ہیں۔ وہ جلوس والوں سے یہ مانگ کرتے ہیں کہ تم لوگ اپنے جلوس کا راستہ بدلو۔ اِس سے ہماری مسجد کی بے حرمتی ہوگی۔ اب مسلمان، پولس سے یہ مانگ کرتے ہیں کہ وہ مداخلت کرے اور جلوس کی روٹ (route) کو بدلوائے۔ مگر پولس، مسلمانوں کی مانگ کے مطابق جلوس کی روٹ کو نہیں بدلواتی۔ اب مسلمان مزید غصہ ہوجاتے ہیں۔ وہ پولس پر پتھر مارتے ہیں۔ اس کے بعد پولس مشتعل ہوجاتی ہے۔ وہ مسلمانوں کی بھیڑ کو منتشر کرنے کے لیے ان پر گولی چلاتی ہے۔ پولس کی اس گولی کا شکار وہ مسلمان ہوتے ہیں جنھوںنے پولس کو پتھر مارا، اور وہ بھی جنھوں نے پولس کو پتھر نہیں مارا۔
یہی معاملہ اُن مقامات کا ہے جہاں زیادہ بڑے پیمانے پر یہ صورتِ حال پیش آرہی ہے۔ مثلاً کشمیر اور فلسطین، وغیرہ۔ اِن مقامات پر بھی یہی ہوتا ہے کہ پہلے مسلمان، پولس یا فوج پر پتھر مارتے ہیں۔ اس کے بعد پولس یا فوج مسلمانوں کے اوپر گولی چلاتی ہے یا ہوائی جہاز سے وہ ان کے اوپر بم گراتی ہے۔ اِس طرح کے واقعات میں عملاً یہی ہوتا ہے کہ جو مسلمان براہِ راست طورپر اِس فعل میں ملوث نہیں ہوتے، وہ بھی جوابی کارروائی میں فوج کی گولی ا ور بم کا نشانہ بنتے ہیں،یعنی ملوث ہونے والے مسلمان بھی اور ملوث نہ ہونے والے مسلمان بھی۔
اِس طرح کے تمام واقعات پر قرآن کی مذکورہ آیت چسپاں ہوتی ہے۔ ایسے واقعات کو لے کر یہ احتجاج کرنا کہ فریقِ ثانی کی جوابی کارروائی میں قصور وار مسلمان اور غیر قصوروار مسلمان دونوں زد میں آئے، اور یہ انسانی حقوق (human rights) کے خلاف ہے۔ اِس طرح کا احتجاج سرتا سر باطل ہے۔ قرآن ایسے کسی احتجاج کی تصدیق نہیں کرتا۔ اِس طرح کے واقعات میں ایسا ہونا بالکل فطری ہے کہ قصور وار کے ساتھ غیر قصور وار بھی مارے جائیں۔
قرآنی اصول کے مطابق، اِس طرح کے معاملے میں وہ لوگ ذمے دار قرار پاتے ہیں جنھوں نے ابتدائی طورپر اشتعال انگیزی کی کارروائی کی(9: 13) ۔ اِس آیت کے مطابق، مسلم رہنماؤں کو یہ کرنا چاہیے کہ وہ مسلم معاشرے میں اشتعال کا ماحول پیدا نہ ہونے دیں، نہ یہ کہ اشتعال کے بعد کے واقعات کو لے کر وہ شکایت اور احتجاج کا ہنگامہ برپا کریں۔ ایسی روش کا دہرا نقصان ہے۔ ایک یہ کہ ایسے لوگ خدا کے غضب کا شکار ہوں، مزیدیہ کہ صورت حال کی کبھی اصلاح نہ ہو، اور وہ ہمیشہ ’’ذلت اور مسکنت‘‘ کے اِسی حال میں مبتلا رہیں۔
ردّ ِعمل اسلام میں نہیں
بہت سے لوگ جنگ اور تشدد میںمبتلا ہیں، انفرادی سطح پر بھی اور اجتماعی سطح پر بھی۔ اُن سے کہا جائے کہ تم یہ تباہ کُن کام کیوں کررہے ہو، تو وہ یہ جواب دیں گے کہ— یہ تو ایک فطری ردّ عمل ہے۔ جب کسی گروہ کے خلاف ظلم اور نا انصافی کا واقعہ پیش آئے گا، تو اس کے اندر ضرور جوابی ردّ عمل (reaction) پیدا ہوگا۔ وہ گن اور بم استعمال کرے گا، یہاںتک کہ آخر کار وہ خودکُش بم باری (suicide bombing) کا طریقہ اختیار کرے گا۔ اگر ہمارے متشددانہ ردّ عمل کو ختم کرنا ہے، تو فریقِ ثانی کی طرف سے کیے جانے والے ظلم اور ناانصافی کو ختم کرنا ہوگا، ورنہ ہماری طرف سے متشددانہ کارروائیوں کا سلسلہ برابر جاری رہے گا۔ ردّ عمل (reaction) کو ختم کرنا ہے تو پہلے عمل (action) کو ختم کیجیے۔ اِس معاملے میںیک طرفہ نصیحت سے کوئی فائدہ ہونے والا نہیں۔
ردّ عمل کا یہ فلسفہ سرتاسر غیر فطری ہے۔ ایسے لوگوں کی اصل غلطی یہ ہے کہ انھوں نے اپنے ذہنوں میں عمل کا غلط معیار قائم کرلیا ہے۔ عمل کا صحیح معیار یہ ہے کہ عمل کے بعد پیش آنے والے نتیجہ (result) کو دیکھا جائے۔ صحیح عمل کی پہچان یہ ہے کہ وہ عمل کرنے والوں کے لیے مفید نتیجہ پیدا کرے۔ جو عمل مفید نتیجہ پیدا نہ کرے، وہ سرے سے قابلِ ترک ہے۔
یہ ایک فطری حقیقت ہے کہ کوئی عمل یا تو مفید نتیجہ پیدا کرتا ہے، یا وہ عمل کرنے والوں کے لیے کاؤنٹر پروڈکٹیو (counter productive) ثابت ہوتا ہے۔ اِس معاملے میں تیسری کوئی صورت نہیں۔ عملی اقدام وہی درست ہے جو نتیجہ خیز ہو۔ جو عملی اقدام نتیجہ خیز نہ ہو، وہ صرف اپنی تباہی میںاضافے کے ہم معنیٰ ہے، اور اپنی تباہی میں اضافہ کبھی کسی دانش مند کا کام نہیں ہوسکتا۔
کسی عمل کے مقابلے میں جذباتی ردّ عمل، اُس عمل کا جواب نہیں۔ عمل کا حقیقی جواب یہ ہے کہ پہلے صورتِ حال کا جائزہ لیا جائے، مثبت ذہن کے ساتھ نتیجہ خیز منصوبہ بندی کی جائے، پھر ٹکراؤ کے بجائے تعمیر کے اصول پر اپنے عمل کا آغاز کیا جائے۔ یہی صحیح اسلامی طریقہ ہے۔
دوسرا شجر ِ ممنوعہ
آدم پہلے انسان تھے۔ پیدائش کے بعد اُن کو جنت میں رکھاگیا۔ وہاں اُن کو ہر قسم کی آزادی حاصل تھی۔ لیکن جنت میں ایک شجرممنوعہ (forbidden tree) تھا۔ آدم سے کہا گیا کہ جنت میں تم آزادانہ طور پر رہ سکتے ہو، لیکن اِس شجر ِ ممنوعہ کے قریب مت جانا، ورنہ تم کو جنت سے نکال دیا جائے گا۔ اِسی طرح موجودہ دنیا میں بھی ایک شجر ممنوعہ ہے، اور وہ تشدد ہے:
There was a forbidden tree in Paradise. There is also a forbidden tree in this world, and that is violence.
جو لوگ تشدد میں ملوث ہوں، اُن کو اپنے اِس جرم کی یہ بھاری قیمت دینی پڑے گی کہ وہ جنت میں داخلے سے محروم کردئے جائیں۔ قرآن سے معلوم ہوتا ہے کہ آدم اور اُن کی بیوی حوا جب کرۂ ارض پر بسائے گئے تو یہاں آغاز ہی میں ایک حادثہ پیش آیا۔ آدم کے دو بیٹوں ، قابیل اور ہابیل کے درمیان نزاع ہوئی، یہاں تک کہ قابیل نے ہابیل کو مار ڈالا۔ قرآن میں بتایا گیا ہے کہ اِس واقعے کے بعد اللہ تعالیٰ نے یہ لکھ دیا کہ : ’’جو شخص کسی کو قتل کرے، بغیر اِس کے کہ اُس نے کسی کو قتل کیا ہو یا زمین میں فساد برپا کیا ہو تو گویا اُس نے سارے آدمیوں کو قتل کر ڈالا‘‘ ۔ (5: 32)
قرآن میں اِس قسم کے سخت الفاظ کسی بھی دوسرے جرم کے لیے نہیں آئے ہیں۔ اِس سے اندازہ ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک سب سے زیادہ سنگین جرم یہ ہے کہ ایک انسان دوسرے انسان کے خلاف جارحانہ تشدد کرے۔ اِس معاملے میں اگر کوئی استثنا ہے تو وہ ایک منظم حکومت یا ایک باقاعدہ عدالت کے لیے ہے۔ عام انسان کے لیے اِس معاملے میںکوئی استثنا نہیں۔
تشدد کی یہ سخت ممانعت اِس لیے ہے کہ تشدد فطری نظام کے خلاف ہے۔ خالق کا قائم کردہ فطری نظام یہ ہے کہ ہر عورت اور ہر مرد کو آزادانہ طورپر کام کرنے کا موقع ملے، لیکن تشدد اور جارحیت سے یہ فطری نظام درہم برہم ہو کر رہ جاتا ہے۔ تشدد خالق کے فطری نظام میں مداخلت ہے۔ اور اِس قسم کی مداخلت بلا شبہہ سب سے زیادہ سنگین جرم کی حیثیت رکھتی ہے۔
موجودہ دنیا میں تشدد اورجارحیت سے پاک ماحول کس طرح بنایا جائے، اِس کا جواب صرف ایک ہے— اللہ سے ڈرنے والوں کو اپنے اوپر یہ ذمے داری لینا ہے کہ وہ یک طرفہ طورپر صبر کریں، وہ تشدد کے تجربے کے باوجود عملاً بے تشدد بن جائیں۔ صرف اِسی طرح تشدد سے پاک ماحول دنیا میں بن سکتا ہے۔ قرآن کی سورہ المائدہ میں بتایا گیا ہے کہ جب قابیل نے ہابیل کو مارنا چاہا تو ہابیل نے کہا: لئن بسطتَ إلیَّ یدک لتقتلنی، ما أنا بباسط یدیَ إلیک لأقتلک،إنّی أخاف اللہ ربَّ العالمین (5: 28)یعنی اگر تم مجھے قتل کرنے کے لیے اپناہاتھ اٹھاؤ گے تو میں تم کو قتل کرنے کے لیے تم پر اپنا ہاتھ نہیں اٹھاؤں گا۔ میں ڈرتا ہوں اللہ سے، جو سارے جہان کا رب ہے۔
تشدد پر یک طرفہ صبر کی یہ آخری مثال ہے جو آدم کے بیٹے ہابیل نے قائم کی۔ حدیث میں آیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ بعد کے زمانے میں سیاسی بگاڑ پیدا ہوگا، مگر تم اپنے حکم رانوں سے ہر گز ٹکراؤ نہ کرنا۔ ایک صحابی نے پوچھا کہ اگر وہ خود ہمارے گھر میں ہم کو مارنے کے لیے آجائیں تو ہم کیا کریں۔ آپ نے جواب دیا : فلیکن کخیر ابنَی آدم (سنن أبی داؤد، رقم الحدیث: 4259) یعنی تم آدم کے دوبیٹوں میں سے اچھے بیٹے بن جاؤ، یعنی خواہ تم دوسروں کے ہاتھ سے قتل ہوجاؤ، مگر تم خود دوسروں کو قتل کرنے کی کوشش نہ کرو۔
تشدد کی دو قسم ہے — ایک، غیر فعّال تشدد (passive violence) ۔ اور دوسرا، فعّال تشدد (active violence)۔ غیر فعّال تشدد یہ ہے کہ آپ دوسروں کو ظالم بتا کر ان سے نفرت کریں۔ اور فعال تشدد یہ ہے کہ آپ دوسروں کو ظالم بتا کر اُن کے خلاف جارحانہ کارروائی شروع کردیں۔ یہ دونوں صورتیں اسلام میں یکساں طورپر گناہ کی حیثیت رکھتی ہیں۔
آپ دونوں میں سے جس تشدد کا ارتکاب کریں، آپ شجر ممنوعہ کا پھل کھانے کے مرتکب قرار پائیں گے۔ دونوں قسم کے تشدد کے درمیان صرف ظاہر کا فرق ہے، حقیقت کے اعتبار سے دونوں کے درمیان کوئی فرق نہیں۔
ماضی کو بھلانا
قر آن میں عفو ودر گزر کو بہت زیادہ اہمیت دی گئی ہے(42: 43)۔ عفو ودر گزرکا مطلب ہے، گزرے ہوئے دنوں کو بھلادینا۔ جو کچھ ماضی میں ہوا، اس کو حال میں یاد رکھنا کوئی سادہ بات نہیں۔ اس کا مطلب ہے— گزری ہوئی مصیبت کو تلخ یاد کی صورت میں بدستور زندہ رکھنا۔ یہ طریقہ اسلام کے خلاف بھی ہے اور عقل کے خلاف بھی۔ اسی بات کو برنارڈ شا (Bernard Shaw) نے اِن الفاظ میں بیان کیا تھا— سب سے زیادہ غیر تعلیم یافتہ انسان وہ ہے جس کے پاس بھلانے کے لیے کچھ نہ ہو:
The most uneducated man is one who has nothing to forget.
موجودہ زمانے میں جن مقامات پر مسلمان، تشدد کی کارروائیوں میں مشغول ہیں، وہ مسلسل قربانیوں کے باوجود اپنے مطلوب نتیجے کو حاصل نہ کرسکے۔ اِس کے باوجود وہ اپنے لاحاصل تشدد کو جاری رکھے ہوئے ہیں۔ ایسا کیوں ہے۔ اِس کا سبب صرف ایک ہے، اور وہ ہے ماضی کے تلخ واقعات کو نہ بھلانا۔ اِن مسلمانوں کا حال یہ ہے کہ وہ ماضی کے تلخ واقعات کا چرچا کرتے رہتے ہیں۔ وہ اِسی کے بارے میں لکھتے ہیں اور اِسی کے بارے میں بولتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ گزرے ہوئے واقعات مسلسل طورپر ان کو مشتعل کئے رہتے ہیں۔
یہ طریقہ اسلام اور عقلِ انسانی دونوں کے خلاف ہے۔ اِن علاقوں کے مسلمانوں کے لیے فرض کے درجے میں ضروری ہے کہ وہ گزرے ہوئے منفی واقعات کو مکمل طورپر بھلا دیں، وہ اُن کو اللہ کے خانے میں ڈال دیں۔ اِس طرح وہ اِس قابل ہوجائیں گے کہ وہ اپنے معاملات پر حقیقت پسندانہ انداز میں سوچیں اور نتیجہ خیز طور پر اپنے عمل کی زیادہ درست منصوبہ بندی کرسکیں۔
نقصان برائے آزمائش
قرآن کی سورہ البقرہ میں، انسانوں کے بارے میں اللہ کی ایک سنت کو بتایا گیا ہے۔ ان آیات کا ترجمہ یہ ہے: ’’اور ہم ضرور تم کو آزمائیں گے، کچھ ڈر اور بھوک سے، اور مالوں اور جانوں اور پھلوں کی کمی سے۔ اور ثابت قدم رہنے والوں کو خوش خبری دے دو، جن کا حال یہ ہے کہ جب اُن کو کوئی مصیبت پہنچتی ہے تو وہ کہتے ہیں کہ — ہم اللہ کے ہیں اور ہم اللہ ہی کی طرف لوٹنے والے ہیں۔ یہی لوگ ہیں جن کے اوپر اُن کے رب کی عنایتیں اور رحمت ہے، اور یہی لوگ ہیں جو صحیح راہ پر ہیں‘‘۔ (2: 155-157)
موجودہ دنیا کا نظام اِس طرح بنایا گیا ہے کہ یہاں لوگوں کو طرح طرح کے نقصانات کا تجربہ ہوتاہے۔ یہ نقصانات بظاہر کسی انسان کی طرف سے پیش آتے ہیں، اِس لیے عام طورپر ایسا ہوتا ہے کہ لوگ اُسی انسان کو نقصان کا ذمے دار سمجھ کر اس کے خلاف نفرت میں مبتلا ہوجاتے ہیں۔ یہ نفرت بڑھتے بڑھتے تشدد تک پہنچ جاتی ہے۔ مگر یہ سوچ سنتِ الٰہی کے خلاف ہے۔ اِسی لیے نفرت اور تشدد کا کوئی مثبت انجام ایسے لوگوں کو نہیں ملتا۔
صحیح یہ ہے کہ جب کوئی نقصان پیش آئے تو اس کا الزام دوسروں کو نہ دیا جائے، بلکہ خود اپنا محاسبہ (introspection) کیا جائے۔ دنیا کے اِن نقصانات کے حوالے سے آخرت کو یاد کیا جائے۔ اِن نقصانات کو خدائی یاد دہانی (divine warning) سمجھا جائے اور اپنی اصلاح کی کوشش کی جائے۔ اِس طرح کے نقصانات کو اگر خدا کے قائم کردہ نظامِ فطرت کے خانے میں ڈالا جائے تو اُس سے لوگوں کے اندر مثبت ذہن بنے گا۔ ایسا کرنے سے لوگ کھوئے ہوئے کے غم کو لے کر مایوسی کا شکار ہونے سے بچ جائیں گے اور اُس سے سبق لے کر از سرِ نو اپنے مستقبل کی منصوبہ بندی کریں گے۔
جس طرح ہر پیدا ہونے والے پر موت آتی ہے، اور زندہ رہنے والوں کے لیے ضروری ہوتا ہے کہ وہ اِس موت کو بھلا دیں، اُسی طرح، ہر پائی ہوئی چیز کو کبھی نہ کبھی کھونا پڑتاہے۔ اِس معاملے میں آدمی کے لیے ضروری ہے کہ وہ کھوئی ہوئی چیز کو اُسی طرح بھلادے، جس طرح وہ مرنے والے کو بھلا دیتاہے۔
یہ کوئی سادہ بات نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ جب ایک چیز کھوئی جاتی ہے تو فطرت کے نظام کے تحت، دوسری ہزاروں چیزیں موجود رہتی ہیں جو اب بھی انسان کو حاصل ہیں۔ ایسی حالت میں، کھوئے ہوئے کونہ بھلانے کی یہ بھاری قیمت دینی پڑتی ہے کہ آدمی کے اندرسے شکر کا جذبہ رخصت ہوجاتا ہے۔ وہ بھول جاتاہے کہ وہ کھوئی ہوئی چیز کے غم میں ملی ہوئی چیزوں کا شکر ادا کرنے سے محروم ہورہا ہے۔ یہ گویا دنیا کے حقیر نقصان پر آخرت کے عظیم نقصان کا خطرہ مول لیناہے۔ یہ عارضی محرومی کی خاطر اپنے آپ کو ابدی محرومی کا مستحق بنانا ہے، اور بلا شبہہ کوئی مومن اِس تباہ کن روش کا تحمل نہیں کرسکتا۔
کوئی نقصان، نقصان نہیں
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے 610 عیسوی میں مکہ میں اپنے مشن کا آغاز کیا۔ 13 سال کے بعد آپ مکہ سے ہجرت کرکے مدینہ چلے گئے۔ ہجرت کے تیسرے سال غزوۂ احد پیش آیا۔ یہ غزوہ مدینے سے باہر جبل احد کے پاس ہوا تھا۔ اِس غزوہ میں 70 صحابہ شہید ہوگئے۔
غزوہ احد کے واقعات میں سے ایک واقعہ یہ ہے کہ بنو دینار کی ایک مسلم خاتون السُمیرا بنت قیس کے گھر کے تین افراد اِس غزوہ میں مارے گئے تھے— ان کے باپ، ان کے شوہر، ان کے بھائی۔ جب اس خاتون کو خبر دی گئی کہ تمھارے گھر کے تین افراد اِس جنگ میں شہید ہوگئے تو اس نے پوچھا: فما فعل رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کیا ہوا)۔ اس کو بتایا گیا کہ آپ محفوظ اور سلامت ہیں۔ اس کے بعد وہ چل کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچی۔ جب اس نے آپ کو دیکھا تو اس کی زبان سے یہ الفاظ نکلے: کلُّ مصیبۃ بعدک جَلَلٌ (آپ کے بعد ہر مصیبت ہیچ ہے، اے خدا کے رسول) السیرۃ النبویۃ لابن ہشام، جلد 3، صفحہ 51
یہ صرف ایک صحابی خاتون کا ایک قول نہیں۔ یہ ایک صحابیہ کے اسوہ کی روشنی میں، امتِ محمدی کے ہر فرد کے لیے قابلِ تقلید نمونہ ہے۔ اِس کا مطلب ہے کہ ایک صاحبِ ایمان کو، ایمان کے بعد اتنی بڑی دولت مل جاتی ہے کہ اس کے بعد ہر نقصان اس کو ہیچ نظر آنے لگتا ہے۔
جب ایک شخص کو سچائی کی دریافت ہوتی ہے اور وہ ایک مومن انسان بن جاتا ہے تو یہ اس کے لیے کوئی سادہ معاملہ نہیں ہوتا۔ اِس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ اُس کو حقیقت ِاعلیٰ کی معرفت حاصل ہوگئی۔ اس نے اللہ رب العالمین کو پالیا۔ اس کو خاتم النبیین کی دریافت ہوگئی۔ اس کو قرآن کی شکل میں، اپنی زندگی کا ربانی ہدایت نامہ مل گیا۔ وہ فرشتوں کی صحبت کا مستحق بن گیا۔ اُس نے اُس صراطِ مستقیم کو جان لیا جس کو اختیار کرکے آدمی خدا کی رحمتوں کے سائے میں آجائے اور آخر کار وہ ابدی جنت میں پہنچ جائے۔
اِس قسم کے آدمی کے لیے کوئی نقصان نقصان نہیں، کیوں کہ ہر نقصان کے باوجود اُس کو اتنا بڑا خزانہ ملا ہوا ہوتا ہے جو ہر نقصان کو اس کے لیے بے حقیقت بنا دیتا ہے۔ ایک سچا صاحبِ ایمان ہمیشہ یافت (finding) میں جیتا ہے۔ اِس احساس کا یہ نتیجہ ہوتا ہے کہ محرومی یا مایوسی کا لفظ سچے اہل ایمان کی ڈکشنری سے اِس طرح گم ہوجاتا ہے، گویا کہ وہ موجود ہی نہیں۔اِسی حقیقت کی بنا پر اسلام میں مایوسی کو حرام قرار دیاگیا ہے۔ مایوسی کو حرام قرار دینے کا مطلب یہ ہے کہ جب اِس دنیا میں مایوسی کے اسباب نہیں تو کسی شخص کو یہ حق بھی حاصل نہیں کہ وہ مایوسی کے احساس میں زندگی گزارے۔
خدا میں جینا
موجودہ زمانے کے مسلمانوں کا کیس ایک لفظ میں یہ ہے کہ —وہ خدا میں جینے والے نہیں بنے، وہ غیر خدا میں جی رہے ہیں۔ یہی واحد سبب ہے جس نے تمام مسلمانوں کو منفی سوچ (negative thinking) میں مبتلا کردیا ہے۔ موجودہ زمانے کے مسلمانوں میں منفی سوچ اتنی زیادہ عام ہے کہ مشکل ہی سے اس میں کسی عورت یا مرد کا استثنا نظر آئے گا۔ موجودہ زمانے کے مسلمانوں کا لکھنا اور بولنا، سب کا سب ان کی منفی سوچ کا اظہار ہے۔
منفی سوچ کا سبب کیا ہے۔ منفی سوچ دراصل شکایت کے نتیجے میں پیدا ہوتی ہے۔ ہر مسلمان کسی نہ کسی کے خلاف شکایت کا جذبہ لئے ہوئے ہے —فلاں نے زمین پر قبضہ کرلیا، فلاں نے اپنی فوجیں مسلم ملک میں اتار دیں، فلاں نے اسلام کی بے حرمتی کردی، فلاں نے ہم کو انصاف نہیں دیا، فلاں ہمارے ساتھ امتیازی سلوک کرتا ہے، وغیرہ۔ آج کل ہر مسلمان اِس قسم کی شکایتوں میں جیتا ہے۔ اِنھیں شکایتوں نے ہر مسلمان کو منفی سوچ میں مبتلا کردیا ہے۔ مگر منفی سوچ کوئی سادہ معاملہ نہیں۔ منفی سوچ کا مطلب دراصل یہ ہے کہ —انسان نے کسی اور چیز کو وہ اہمیت دے دی جو اہمیت اُسے خدا کو دینا چاہیے:
Making one's concern something else other than God.
خدا کو پانا سب سے بڑی چیز کو پانا ہے۔ جس آدمی کو خدا کی دریافت (discovery) ہوجائے، اس کی سوچ اتنی زیادہ بلند ہوجاتی ہے کہ ہر دوسری چیز اس کی نظر میں حقیر بن جاتی ہے۔ کسی چیز کا کھونا یا پانا دونوں اس کی نظر میں یکساں ہوجاتے ہیں۔ وہ اِس نفسیات میں جینے لگتا ہے کہ — تم جو چیز چاہو، مجھ سے چھین لو، لیکن تم خدا کو مجھ سے نہیں چھین سکتے:
You can take away from me whatever you want, but you cannot take God away from me!
یہ نفسیات ایک مومن کو انتہائی حد تک مثبت سوچ (positive thinking)والا انسان بنادیتی ہے۔ کسی کے خلاف نفرت یا مایوسی کا ایک ذرہ بھی اس کے اندر باقی نہیں رہتا۔
وقت ضائع نہ کیجئے
انسان دنیا میں کس لیے آیا ہے— وہ اِس لیے نہیں آیا ہے کہ یہاں وہ اپنی پسند کی حکومت قائم کرے۔ وہ یہاں صرف اِس لیے آیا ہے کہ وہ خود اپنے آپ کو خالق کی پسند کے مطابق بنائے۔ انسان کو موجودہ دنیا میں صرف چند سال کی عمر ملی ہے۔ چند سال کی اِس مدت میں کوئی دوسرا کام کرنا، اپنے آپ کو ہمیشہ کے لیے ضائع کرلینا ہے۔ صحیح استعمال صرف وہ ہے جو موت کے بعد کام آئے۔ موت کے بعد صرف وہ انسان کامیاب قرار دیا جائے گا جس نے موت سے پہلے کی زندگی میں اپنے آپ کو خالق کی پسند کے مطابق بنایا ہو۔
خالق کی پسند کیاہے، کشمیر جیسا علاقہ اس کا ایک زندہ نمونہ ہے۔ کشمیر کی وادیوں میں جاری چشمے خالق کی پسند کا اعلان کررہے ہیں۔ یہاں کے ہرے بھرے درخت اپنی خاموش زبان میںخالق کی پسند کو بتارہے ہیں، یہاں کی فضاؤں میں اڑتے ہوئے پرندے خالق کی پسند کا چرچا کررہے ہیں، یہاں کے خوب صورت پہاڑوں میں خالق کی پسند کا نغمہ گونج رہا ہے۔ یہاں کی مسحور کُن فضاؤں میں ہرطرف خالق کی پسند کا جلوہ دکھائی دیتاہے۔ کشمیر گویا فطرت کی زبان میں خالق کا کلام ہے۔ کشمیر کے ماحول میں انسان خالق کے پڑوس کا تجربہ کرتاہے۔
کشمیر کی سرزمین میں پیدا ہونے والے ہر انسان کا پہلا فرض ہے کہ وہ خالق کی اِس زندہ کتاب کو پڑھے اور اس کے مطابق، اپنی زندگی کی تشکیل کرے۔ جو لوگ یہ کام نہ کریں، اُن کے لیے موت کے بعد صرف یہ انجام سامنے آئے گا کہ وہ ابد تک حسرت میں جیتے رہیں۔ اُن کے حصے میں صرف یہ مایوسانہ سوچ آئے کہ اُن کا کیس صرف مواقع کے استعمال سے محرومی کا کیس تھا:
Mine was a case of missed opportunities.
دنیا میں کرنے کا کام صرف یہ ہے کہ آدمی یہاں اپنی شخصیت کو جنتی شخصیت بنائے، تاکہ آخرت میں اس کو اللہ کی ابدی جنت میں داخلہ ملے۔ موجودہ دنیا جنت کی تعمیر کی جگہ نہیں ہے، بلکہ وہ جنتی شخصیت کی تعمیر کی جگہ ہے۔ اِس دنیا میں جنتی شخصیت کی تعمیر ہی وہ کام ہے جس کے لیے انسان کو عمل کرنا چاہیے: لمثل ہذا، فلیعمل العاملون(37: 61) ۔
پتھر سے قرآن تک
ایک کشمیری مسلمان نے کہا کہ— اکتوبر 1989 سے اکتوبر 2011 تک ہم نے ایک لمبا راستہ طے کیا ہے۔ پہلے ہم آرمی کے اوپر پتھر مارتے تھے، اب ہم آرمی کے سامنے قرآن پیش کرتے ہیں۔ایک کشمیری مسلمان کے یہ الفاظ کشمیر میں آنے والے نئے دورِ انقلاب کو بتارہے ہیں، وہ کشمیر میں ایک نئے آغاز کی علامت ہیں۔ ایک بار جب تاریخ میں ایک صحت مند عمل (healthy process) شروع ہوجائے تو وہ جاری رہتاہے، یہاں تک کہ وہ اپنی منزل تک پہنچ جائے۔
مذکورہ کشمیری مسلمان کے الفاظ کامطلب یہ ہے کہ — کشمیری مسلمان پہلے بے شعوری میں جی رہے تھے، اب انھوں نے شعور میں جینا سیکھ لیا ہے۔ کشمیری مسلمان پہلے نفرت میں جی رہے تھے، اب انھوںنے محبت میں جینا شروع کردیا ہے۔ کشمیری مسلمان پہلے انسان کو اپنا حریف سمجھتے تھے، اب انھوں نے انسان کو اپنا مدعو سمجھنا شروع کردیا ہے۔ کشمیری مسلمان پہلے تشدد میں جی رہے تھے، اب انھوں نے امن میں جینے کا راز دریافت کرلیا ہے۔ کشمیری مسلمان پہلے شیطان کے کلچر کو اختیار کئے ہوئے تھے، اب انھوں نے فرشتوں کے کلچر پر چلنے کا فیصلہ کرلیا ہے۔
شیطان کا کلچر کیا ہے، اللہ نے آدم (انسان) کو پیدا کیا اور ابلیس سے کہا کہ انسان کا اعتراف کرو۔ ابلیس نے ایک خود ساختہ عذر لے کر انسان کا اعتراف کرنے سے انکار کردیا۔ اس کے برعکس، فرشتوں نے اللہ کے حکم کے مطابق، فوراً آدم کا اعتراف کرلیا۔ گویا شیطان نے آدم کی طرف پتھر پھینکے اور فرشتوں نے اِس معاملے میں اپنے لیے خدا کے کلام کا انتخاب کیا۔
اِس دنیا میں یہی انسان کا امتحان ہے۔ جو لوگ دوسرے کی طرف پتھر پھینکیں، وہ امتحان میں ناکام ہوئے۔ اس کے برعکس، جو لوگ دوسروں کا استقبال خدا کے کلام سے کریں، وہ کامیاب ٹھہرے، کیوں کہ انھوں نے وہ طریقہ اختیار کیا جو فرشتوں کا طریقہ ہے— کشمیر کے مسلمانوں کا یہ نیا فیصلہ، کشمیر کے لیے ایک نئے دور کا آغاز ہے۔ یہ تاریک رات کے بعد روشن صبح کے طلوع کا اعلان ہے۔
قرآن کی طاقت
قرآن دلوں کو مسخر کرنے والی کتاب ہے۔ تاریخ میں کثرت سے اِس کی مثالیں موجود ہیں جب کہ قرآن نے کسی فرد یا گروہ کے اندر اپنی نظریاتی طاقت سے، انقلاب پیدا کردیا۔ قرآن، خداکی کتاب ہے اور انسان، خدا کی مخلوق۔ قرآن کی یہی وہ صفت ہے جس نے قرآن کے اندر انسانوں کو مسخر کرنے کی صلاحیت پیدا کردی ہے۔
اِس معاملے کی ایک تاریخی مثال مصر ہے۔ دور اول کے مسلمان جب مصر میں داخل ہوئے، اُس وقت مصر کے لوگ قبطی زبان بولتے تھے، اور وہ شرک کے مذہب پر قائم تھے۔ قرآن کے اثر سے انھوں نے نہ صرف اپنے مذہب کو تبدیل کیا، بلکہ انھوں نے قرآن کی زبان (عربی) کو بھی اپنی زبان بنا لیا۔
مصریات کے ایک برٹش مورخ سر آرتھر کیتھ (Sir Arthur Keith) نے اِس واقعے کا ذکر اِن الفاظ میں کیا ہے — مصر کے لوگ تلوار سے مفتوح نہیں ہوئے، بلکہ وہ قرآن سے مفتوح ہوئے:
The Egyptians were conquered not by the sword, but by the Quran.
قرآن دوبارہ اپنے اِس فاتحانہ کردار کو اداکرسکتا ہے، بشرطیکہ قرآن کو ماننے والے غیر قرآنی سرگرمیوں کو چھوڑ دیں اور وہ قرآن کے پرامن پیغام کو دنیا کے لوگوں تک پہنچا دیں۔
اسلام کی بہار
جون 1989میں ، میں نے کشمیر کا سفر کیا تھا۔ ایک کشمیری مسلمان نے بتایا کہ اِس سفر کے دوران میںنے سری نگر کی ایک مجلس میں کہا تھا کہ — کشمیر میں مجھ کو اسلام کی بہار دکھائی دیتی ہے۔ کشمیر کے بارے میںیہ بات میں نے کشمیر کے بالفعل (actual) کو لے کر نہیں کہی تھی، یہ بات میں نے کشمیر کے بالقوہ (potential) کو لے کر کہی تھی۔
کچھ نادان لیڈروں نے کشمیریوں کے جذبات کو بھڑکا کر یہاں سیاست کی گرم ہوائیں چلادیں، لیکن یہ بات کشمیریوں کے اصل مزاج کے مطابق نہیں۔ کشمیری لوگ اپنے مزاج کے اعتبارسے، امن پسند لوگ ہیں۔ اگر اُن کو صحیح رہنمائی مل جائے تو یقینی طورپر یہاں ایسا ہوگا کہ خزاں کے موسم کی جگہ بہار کا موسم آجائے۔ تشدد کی گرم ہواؤں کے بجائے یہاں امن کی ٹھنڈی اور خوش گوار ہوائیں چلنے لگیں۔ یہاں دوبارہ سیاسی اسلام کے بجائے، ربانی اسلام کا دور دورہ ہوجائے۔
کشمیر میں اسلام کی بہار آنے کا پورا امکان ہے،لیکن یہ امکان اپنے آپ واقعہ نہیں بن سکتا۔ اِس کے لیے ضرورت ہے کہ اسلام کی پرامن تعلیمات کو یہاں کے لوگوں میں عام کیا جائے۔ لوگوں کے درمیان شعوری تعمیر نو (intellectual re-engineering) کی تحریک چلائی جائے۔ لوگوں کو بتایا جائے کہ نفرت اور تشدد اُن کے لیے کوئی انتخاب نہیں۔ اُن کے لیے انتخاب صرف ایک ہے، اور وہ امن اور محبت ہے۔ اِسی میں ان کی دنیا کی کامیابی چھپی ہوئی ہے اور اِسی میں اُن کی آخرت کی کامیابی بھی۔
کشمیر کا خواب
ایک مسلم نوجوان اگست 2008 میںنئی دہلی سے کشمیر گئے۔ وہاں وہ تین ہفتہ رہے۔ ان کی عادت ہے کہ وہ روزانہ اپنی ڈائری لکھتے ہیں۔ وہ کشمیر سے واپس آئے تو انھوںنے مجھ کو اپنی ڈائری دکھائی۔ ان کی اِس ڈائری کا ایک اندراج یہ تھا:
’’4 اگست 2008 کی ایک رات کو میرا قیام کشمیر کے ایک تعلیمی ادارہ میں تھا۔ وہاں ادارے کے ایک طالب علم بھی موجود تھے۔ صبح کو میں بیدار ہوا تو مذکورہ طالب علم نے ماہ نامہ الرسالہ سے متعلق اپنا ایک خواب بیان کیا، جو اُنھیں کے الفاظ میں اِس طرح تھا: ’’میں نے دیکھا کہ ایک بوڑھا شخص ہے۔ اس کے چہرے پر ہلکی ہلکی سفید داڑھی ہے۔ وہ ان پڑھ ہے۔ وہ چیخ چیخ کر کہہ رہا ہے کہ — مجھے الرسالہ کا ممبر بناؤ ، مجھے الرسالہ کا ممبر بناؤ۔‘‘
اِس خواب میں مذکورہ بوڑھا آدمی گویا کشمیر کی روح ہے۔ کشمیر کی روح چیخ چیخ کر کہہ رہی ہے کہ جو منفی افکار میرے درمیان پھیلائے جارہے ہیں، اُن سے میں بے زار ہوں، ان کو بند کرو۔ میرے درمیان الرسالہ کو پھیلاؤ، میرے درمیان الرسالہ والے مثبت افکار کو عام کرو۔
کشمیر میں اکتوبر 1989 میں متشددانہ تحریک کا آغاز ہوا۔ اِس متشددانہ تحریک کے دوران کشمیر میں جان و مال کا بے حساب نقصان ہوا ہے۔ اِس خود ساختہ جہاد نے کشمیر کو تباہی کے سوا اور کچھ نہیں دیا۔
اب کشمیر کی سلامتی کی صرف ایک صورت ہے، اور وہ یہ ہے کہ کشمیر میںاُن افکار کو زیادہ سے زیادہ پھیلایا جائے جس کا پیغام ماہ نامہ الرسالہ میں مسلسل طورپر دیا جارہا ہے۔ اِسی میں کشمیر کے لیے زندگی ہے۔ اِس کے سوا جو کچھ ہے، وہ موت اور تباہی کے سوا کچھ اور نہیں۔ نام نہاد کشمیری تحریک سے کچھ لیڈروں کو فائدہ ہوسکتا ہے، لیکن خود کشمیر یا کشمیری عوام کا اس میں کچھ فائدہ نہیں— اب آخری وقت آگیا ہے کہ اِس معاملے میں نظرثانی کی جائے اور جذباتیت کو چھوڑ کر حقیقت پسندی کا طریقہ اختیار کیا جائے۔
دعوتی طرزِ فکر
ایک کشمیری مسلمان ہمارے دعوتی مشن سے وابستہ ہیں۔ انھوںنے ٹیلی فون پر بتایا کہ 23 ستمبر 2010 کو کشمیر میں پبلک انٹریکشن(Public Interaction) کے عنوان کے تحت حکومت کی طرف سے ایک پروگرام ہوا۔ اِس میں انڈین آرمی کے اعلیٰ افسران اور مقامی مسلمان موجودتھے۔ اِس پروگرام کے مہمانِ خصوصی مسٹر گُردیپ سنگھ، جنرل کمانڈنگ آفیسر (GCO) اور مسٹرانل پانڈے (بریگیڈیر) تھے۔ مذکورہ ساتھی نے بتایا کہ اِس موقع پر ایک کشمیری مسلمان نے اپنا ذاتی تاثر بیان کرتے ہوئے کہا کہ حکومت نے مسئلہ ٔ کشمیر کو تجارت بنا لیا ہے، یہ لوگ اب کشمیر کے نام پر صرف سیاسی تجارت کررہے ہیں۔ میں نے مذکورہ مسلمان سے کہا کہ میں نے بھی قرآن (61:10-11) کے مطابق، ایک تجارت شروع کی ہے۔ اِس کے بعد ہمارے ساتھی پبلک انٹریکشن کے اِس پروگرام میں قرآن کا انگریزی ترجمہ اور دعوتی لٹریچر لے کر پہنچے۔ وہاں انھوں نے لوگوں کو مطالعہ کے لیے قرآن کا انگریزی ترجمہ اور دعوتی لٹریچر دیا۔ انھوںنے مسٹر گردیپ سنگھ اورمسٹر انل پانڈے کو ترجمہ قرآن کے علاوہ، ہمارے یہاں سے شائع ہونے والی کتاب ’’پرافٹ آف پیس‘‘ مطالعہ کے لیے دی ۔ اِس کے بعد مسٹر گردیپ سنگھ نے اپنی تقریر میں کہا کہ حال میں، قرآن برننگ کے اشو کو لے کر آپ لوگوں نے کشمیر میں ہنگامہ کیا، جس کے نتیجے میں یہاں 17 نوجوان ہلاک ہوگئے۔ مسٹر گردیپ سنگھ نے قرآن کو اپنے ہاتھ میں لے کر کہا کہ آپ لوگ قرآن کے نام پر تشدد (violence) کرتے ہیں۔ مجھ کو بتائیے کہ قرآن کی کس آیت میں تشدد کا حکم دیاگیا ہے۔ اِس سوال پر تمام مسلمان خاموش رہے۔
اگر آدمی کے اندر دعوتی ذہن موجود ہو تو وہ اِس قسم کے ہر موقع کو دعوت کے لیے استعمال کرے گا، وہ ایسے موقع پر اللہ کے بندوں کو اللہ کے کلام کا تحفہ پیش کرے گا۔ اس کے برعکس، اگر آدمی کا ذہن دعوتی طرز فکر سے خالی ہو تو اس کو ایسا ہر دعوتی موقع محض ’’سیاست‘‘ کا ایک اسٹیج معلوم ہوگا۔ ایسے موقع پر دوسروں کو دینے کے لیے اس کے پاس صرف نفرت کا تحفہ ہوگا، نہ کہ محبت کا تحفہ۔
دور جدید: دورِ مدعو
قدیم زمانے میں عالمی سیاحت (tourism) کا کوئی تصور نہ تھا۔ اِس لیے کہ قدیم زمانے میں سفر کے ذرائع موجود نہیں تھے۔ موجودہ زمانے کو دورِ مواصلات (age of communication) کہاجاتا ہے۔ موجودہ زمانے میں سفر کے وسائل اور جغرافیہ کے علم کی بنا پر ایسا ہوا کہ سفر بہت زیادہ بڑھ گیا۔ لوگ بڑی تعداد میں اِدھر سے اُدھر جانے لگے، یہاں تک کہ کہاجانے لگا کہ موجودہ زمانے میں پوری دنیا ایک عالمی گاؤں (global village) بن گئی ہے۔
دعوت کے نقطۂ نظر سے دیکھا جائے تو اسفار کی کثرت کوئی سادہ بات نہیں۔ یہ محض مسافروں کی نقل وحرکت (mobility)نہیں، بلکہ وہ مدعو کی نقل وحرکت ہے۔ جدید کمیونکیشن سے پہلے داعی اور مدعو کے درمیان فاصلہ ہوا کرتا تھا۔ اب یہ حال ہے کہ مدعو خود تیز رفتار سواریوں کے ذریعے سفر کرکے داعی کے پاس پہنچ رہا ہے۔ مختلف اسباب سے، داعی اور مدعو کے درمیان مادی اور ذہنی فاصلے ختم ہوچکے ہیں۔ اِس اعتبار سے، جدید دور کو مدعو کا دور کہاجائے تو وہ بالکل درست ہوگا۔
یہ صورت حال پوری دنیا میں پیش آئی ہے۔ مگر جو علاقے سیاحتی علاقے کہے جاتے ہیں، ان کے بارے میں یہ بات مزید اضافے کے ساتھ درست ہے۔ اِنھیں علاقوں میں سے ایک علاقہ ریاست جموں وکشمیر ہے۔ کہاجاتا ہے کہ جموں وکشمیر میں جتنی زیادہ آبادی ہے، تقریباً اتنے ہی سیاح (tourist) وہاں ہر سال پہنچتے ہیں، ریاست جموں و کشمیر کے مسلمانوں کو یہ خصوصی موقع حاصل ہے کہ وہ مدعو کے اس گروہ کو اللہ کا پیغام پہنچائیں۔ اِس کام کے لیے سب سے زیادہ آسان طریقہ یہ ہے کہ قرآن کا ترجمہ اور دوسری اسلامی کتابیں اُن کو پڑھنے کے لیے دی جائیں۔ مدعو کا یہ گروہ ریاست جموں وکشمیر کے ہر علاقے میں موجود رہتاہے۔ اگر کشمیری مسلمانوں کے اندر دعوت کی اسپرٹ زندہ ہو تو وہ اپنے قریبی مقامات پر ہر صبح وشام دعوت کے مواقع پا جائیں گے۔
دو بہتر میں سے ایک
دعوت الی اللہ کا مشن ایک خدائی مشن (divine mission) ہے۔ ایسے ایک مشن کے لیے قرآن میں، إحدی الحسنیین (9:52) کی خوش خبر دی گئی ہے، یعنی اس کے لیے یہ مقدر ہے کہ دو میں سے ایک بہتر (one of the two best things) اُس کو ضرور حاصل ہو۔ پہلا بہتر نظریاتی ہے، اور دوسرا بہتر عملی۔ دوسرے لفظوںمیں یہ کہ سچے خدائی مشن کے لیے دو میں سے ایک کامیابی مقدر ہے— یا تو کامیابی بہ معنی تبلیغ، یا کامیابی بہ معنیٰ انقلاب۔
موجودہ زمانے میں جن مقامات پر جہاد کے نام سے تشدد کا کلچر چلایا گیا، وہاں فرض کے درجے میں ضروری ہے کہ ایسے لوگ اٹھیں جو اُس کی اصلاح کی کوشش کریں، جو اِن مسلمانوں کو اُن کی غلطی سے آگاہ کریں، جو اُن کو تشدد سے امن کی طرف بلائیں، جو اُن کو بتائیں کہ تمھارا کام لوگوں کو حق کی دعوت دینا ہے، نہ کہ اُن سے ٹکراؤ کرنا۔ تمھارا ایمانی فریضہ ہے کہ تم، لوگوں کے ساتھ مدعو کا سلوک کرو، نہ کہ دشمن کا سلوک۔تم کو چاہیے کہ تم اپنے ماحول میں خیر خواہی کا کلچر چلاؤ، نہ کہ نفرت اور رقابت کا کلچر۔ اِس قسم کی مہم دوسرے مسلم علاقوں میں بھی ضروری ہے اور کشمیر میں بھی ضروری۔
اِس قسم کی مہم اِس یقین کے ساتھ شروع کی جاسکتی ہے کہ اس کے لیے ناکامی کا کوئی سوال نہیں۔ اِس مہم کے کارکنوں کے لیے یقینی طورپر دو میں سے ایک انجام مقدر ہے — یا تو وہ لوگوں تک اپنی بات پہنچانے میں کامیاب ہوں گے اور اللہ کے یہاں اُس کا عظیم انعام حاصل کریں گے، یا ایساہوگا کہ لوگ ان کی بات کو مان لیں اور وہ عملی اعتبار سے اپنی زندگی کو بدلنے پر راضی ہوجائیں۔
یہ وہی چیز ہے جس کو قرآن میں ’إحدی الحسنیین‘ کہاگیا ہے، یعنی یا تو نظریاتی اعتبار سے، دعوتِ حق کی کامیابی، یا عملی اعتبار سے لوگوں کی زندگیوں میں انقلاب لانے کی کامیابی۔
غیر نہیں، مدعو
عام طورپر لوگوں کا طریقہ یہ ہے کہ وہ انسانوں کو ’’اپنے‘‘ اور ’’غیر‘‘ میں تقسیم کرتے ہیں، مگر اسلام کا طریقہ یہ نہیں۔ اسلام کا طریقہ یہ ہے کہ انسانوں کو مدعو کی نظر سے دیکھا جائے۔ اپنے اور غیر کی تقسیم میں، اپنا قابلِ محبت نظر آتا ہے، اور دوسرا قابلِ نفرت دکھائی دینے لگتاہے۔ یہی موجودہ زمانے کے مسلمانوں کا اصل مسئلہ ہے۔ موجودہ زمانے کے مسلمان اِس حقیقت کو بھول گئے ہیں کہ اپنے عقیدہ کے اعتبار سے، وہ داعی ہیں اور دوسرے تمام انسان ان کے لیے مدعو کی حیثیت رکھتے ہیں۔ داعی- مدعو کی تقسیم میں کوئی غیر نہیں رہتا، بلکہ سارے انسان اپنے نظر آنے لگتے ہیں۔
آج کل عام طورپر مسلمانوں کاحال یہ ہے کہ وہ دوسری قوموں کو اپنا حریف (rival)بنائے ہوئے ہیں۔ اگر وہ دوسری قوموں کو اپنا مدعو سمجھیں تو تمام انسان ان کو اپنے نظر آنے لگیں گے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک یہودی شخص کے جنازے کو دیکھ کر فرمایا تھا کہ یہودبھی ہماری طرح انسان ہیں (صحیح البخاری، رقم الحدیث: 1312)۔ مسلمان اِس اسوۂ رسول کو اختیار کرلیں تو تمام قوموں کے لوگ ان کو اپنے نظر آنے لگیں گے— کشمیریوں کو ہندو اپنا نظر آئے گا، عربوں کو اسرائیلی اپنا دکھائی دے گا، مغربی ملکوںمیں مقیم مسلمان وہاں کے عیسائیوں کو اپنا سمجھنے لگیں گے، وغیرہ۔
دوسروں کو اپنا سمجھنے کا مطلب دوسروں کا خیر خواہ بننا ہے۔ ایک تاجر ہر انسان کو اپنا کسٹمر سمجھتا ہے۔ اِس مزاج کے نتیجے میں تاجر کے اندر ہر ایک کے لیے دوستانہ سلوک (friendly behaviour) پیدا ہوتا ہے۔ اِسی طرح مسلمان اگر اپنے کو داعی اور دوسروں کو مدعو سمجھیں تو ان کے اندر دوسروں کے لیے خیر خواہی (well-wishing) کے جذبات پیدا ہوں گے۔ اُن کے اندرتمام انسانوں کے لیے دوستانہ کلچر (friendly culture) پرورش پائے گا۔ اِس کے نتیجے میں ان کی دنیا کے معاملات بھی درست ہو جائیں گے اور آخرت میں بھی وہ خدا کی رحمتوں کے مستحق قرار پائیں گے۔
نظریے کی طاقت
روس میں اشتراکی انقلاب 1917 میں پیش آیا۔ اِس سے پہلے روس میں بادشاہ کی حکومت تھی جس کو زار (Czar) کہاجاتا تھا۔ اُس وقت کمیونسٹ پارٹی نے زار کے خلاف ایک نظریاتی جنگ شروع کی۔ یہ نظریاتی جنگ بہت تیزی سے پورے ملک میں پھیلنے لگی۔
برطانیہ نے اِس کو اپنے لیے ایک خطرہ سمجھا۔ چناں چہ کرنل بیلی (Colonel F M Bailey) کی قیادت میں ایک وفد روس بھیجا گیا۔ یہ وفد وہاں تاجر کے روپ میں گیا تھا۔ اِس وفد نے روس کے حالات کا جائزہ لے کر جو رپورٹ حکومتِ برطانیہ کو پیش کی، اُس کا ایک جملہ یہ تھا — اشتراکی نظریات جو یہاں پھیلائے جارہے ہیں، وہ زار کی پوری فوج سے زیادہ خطرناک ہیں:
Communist ideas are far more dangerous than the entire army of king Czar.
تاریخ میں اِس طرح کے متعدد واقعات ہیں جو یہ ثابت کرتے ہیں کہ فوجی طاقت کے مقابلے میں، نظریے کی طاقت زیادہ بڑی ہوتی ہے۔ اسلام کی تاریخ اِس حقیقت کی ایک ممتاز مثال ہے۔ قدیم تاریخ میں اسلام کی کامیابی ہمیشہ نظریہ یا آئڈیالوجی (ideology)کی بنیاد پر ہوئی ہے، نہ کہ تلوار یا فوجی طاقت کی بنیاد پر۔
مثال کے طور پر تیرھویں صدی عیسوی میں تاتاری قبائل کے حملے نے عباسی سلطنت کو مغلوب کرلیا۔ یہ غلبہ اتنا شدید تھا کہ مسلمانوں کی فوجی طاقت اس کے مقابلے میں غیر موثر ثابت ہوئی۔ اُس وقت اسلام کی نظریاتی طاقت ابھری۔ صرف نصف صدی کے اندر یہ واقعہ پیش آیا کہ تاتاری قبائل کی اکثریت نے اسلام قبول کرلیا۔ اسلام کے دشمن، اسلام کے دوست بن گئے۔
اسلام کی اِس نظریاتی طاقت کو ایک مستشرق نے اِن الفاظ میں بیان کیا ہے— مسلمانوں کے مذہب نے وہاں فتح حاصل کرلی، جہاں اُن کی تلوار ناکام ہوچکی تھی:
The religion of Muslims has conquered, where their arms had failed.
شہادتِ حق، دعوتِ حق
کلمہ شہادت، اسلام میں داخلے کا دروازہ ہے۔ ایک شخص جب اسلام کی سچائی کو دریافت کرتا ہے اور اس کے اندر یہ جذبہ جاگتا ہے کہ وہ حشر کے دن اللہ کے سامنے ایک مسلم کی حیثیت سے حاضر ہو تو وہ اپنی زبان سے یہ کلمہ ادا کرتاہے: أشہد أن لا إلٰہ إلا اللہ، وأشہد أن محمداً عبدہ ورسولہ (میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی اور الٰہ نہیں۔ اور میں گواہی دیتاہوں کہ محمد، اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں)۔
اِس کلمہ کے دو پہلو ہیں— شہادت، اور انطباقی شہادت (applied shahadah) ۔ شہادت کا ابتدائی مطلب یہ ہے کہ ایک آدمی اپنی ذات کے اعتبار سے، اِس بات کا اعلان کرے کہ اِس کائنات کا خالق اور مالک صرف ایک اللہ ہے، وہ اِس حقیقتِ اعلیٰ کا گواہ (witness) بن جائے۔ اِس شہادت کا دوسرا پہلو انطباقی شہادت ہے، یعنی دوسرے انسانوں کو اِس حقیقت سے باخبر کرنا۔ اِس بات کی کوشش کرنا کہ جس حقیقتِ اعلیٰ کو اُس نے دریافت کیا ہے، اُس حقیقتِ اعلیٰ سے کوئی بھی شخص بے خبر نہ رہے۔ یہ وہی کام ہے جس کو دوسرے الفاظ میں، دعوت الی اللہ کہا جاتاہے۔ دعوت کا عمل جب اپنی انتہائی صورت میں انجام پائے، تو اِسی کا دوسرا نام شہادت یا گواہی ہے۔
دعوت الی اللہ کا کام ایمان سے الگ کوئی کام نہیں۔ جب کسی شخص کو حقیقی طورپر ایمان حاصل ہوتا ہے، تو فطری طورپر وہ اِس کے لیے بے تاب ہوجاتا ہے کہ جس سچائی کو اُس نے جانا ہے، اُس سچائی کو دوسرے لوگ بھی جان لیں۔ زندگی کا جو مقصد اُس نے دریافت کیاہے، وہ مقصد دوسرے لوگوں کے لیے بھی ان کی دریافت بن جائے۔ دنیا اور آخرت کی سعادت کا جو راز اُس پر کھلا ہے، اس سے دنیا کے دوسرے لوگ محروم نہ رہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ شہادت اگر ذاتی دریافت کا معاملہ ہے، تو انطباقی شہادت دوسروں کو اِس دریافت میں شریک کرنے کا معاملہ۔
پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے حجۃ الوداع کے موقع پر عرفات کے میدان میں اپنے اصحاب کو گواہ بناتے ہوئے اُن کے سامنے ایک تاریخی خطاب کیا تھا۔ یہ خطاب اصحابِ رسول کے واسطے سے پوری امتِ محمدی کے لیے ہے۔ اِس خطاب میںآپ نے فرمایا تھا: إنّ اللہ بعثنی رحمۃً للناس کافّۃً، فأدّوا عنّی (معرفۃ الصحابۃ لأبی نُعیم، رقم الحدیث: 3438 ) یعنی اللہ نے مجھ کو دنیا کے تمام انسانوں کے لیے رحمت بنا کر بھیجا ہے، پس تم میری طرف سے تمام انسانوں کو میرا پیغامِ رحمت پہنچا دو۔
پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ آواز تاریخ میں گونجتی ہوئی تمام مسلمانوں تک پہنچ رہی ہے۔ اِسی طرح وہ اہلِ کشمیر سے خطاب کرتے ہوئے کہہ رہی ہے کہ —اے کشمیر کے مسلمانو، تم میرے مشن کو پورا کرو اور تمام انسانوں تک میرا پیغام پہنچانے میںمیرے مدد گار بن جاؤ۔ کیا کشمیر کے مسلمان پیغمبراسلام کی اِس آواز پر لبیک کہیں گے۔
شاہ ہمدان مشن
میر سید علی ہمدانی (وفات: 1384 ء) کو ریاست جموں وکشمیر میں ’’معمارِ کشمیر‘‘ کا درجہ حاصل ہے۔ کشمیری مسلمان عام طورپر اُن کو ’’امیر ِ کبیر‘‘ کہتے ہیں۔ امیر کبیر 1379ء میں ایران سے کشمیر آئے۔ انھوںنے کشمیر میں اسلام کی تاریخ بنائی۔موجودہ کشمیر زیادہ تر، اُنھیں کی دعوتی کوششوں کا نتیجہ ہے۔ کشمیر کے لوگ اُنھیں کے مشن پرقائم تھے۔ 1947میں بر صغیر ہند میں جو انقلاب آیا، اُس کے ردّ عمل کے طورپر کشمیر میں سیاسی تحریک اٹھی۔ لیکن تجربہ بتاتا ہے کہ یہ سیاسی تحریک اپنے نتیجے کے اعتبار سے، کشمیریوں کے لیے صرف نقصان کا باعث ثابت ہوئی۔ تاہم اِس نقصان کا ایک مثبت پہلو ہے، وہ یہ کہ سیاسی ہنگاموں کا منفی انجام کشمیریوں کے لیے ایک شاک ٹریٹمنٹ (shock treatment)ثابت ہوا ۔اب کشمیری مسلمانوںمیں یہ ذہن پیدا ہوا ہے کہ وہ اپنے ماضی کی طرف لوٹیں۔ وہ دوبارہ شاہ ہمدان کی طرح پُرامن دعوت کو اپنا نشانہ بنائیں۔ اِس نئے ذہن کو شاہ ہمدان کے مشن کا اِحیاء (Revival of Shah Hamadan’s Mission) کہا جاسکتا ہے۔
میر سید علی ہمدانی ایران میں پیدا ہوئے، وہ ایرانی بادشاہ تیمور لنگ (وفات: 1405ء) کے ہم عصر تھے۔ شاہ تیمور اُن سے کسی بات پر ناراض ہوگیا اور ان کو ایران سے نکل جانے کا حکم دے دیا۔ اب امیر کبیر کے لیے ایک راستہ یہ تھا کہ وہ تیمور لنگ کے خلاف اپوزیشن کی تحریک چلائیں، مگر امیر کبیر نے اِس قسم کے سیاسی تصادم سے مکمل طورپر پرہیز کیا۔ وہ اپنے چالیس ساتھیوں کو لے کر اپنے وطن ہمدان سے نکلے۔ اِس طرح، افغانستان ہوتے ہوئے یہ قافلہ 1379 ء میں کشمیر پہنچا۔
امیر کبیر کا پروگرام نہ شاہ تیمور کے خلاف رد عمل کے طورپر بنا اور نہ کشمیری مسلمانوں کے وقتی حالات سے متاثر ہو کر۔ اُس وقت کشمیر میں ایک مسلم راجہ سلطان قطب الدین کی حکومت تھی۔ اس کے اندر بہت سی اعتقادی اور عملی خرابیاں موجود تھیں۔ امیر کبیرنے سلطان کو ناصحانہ انداز کے خطوط بھیج کر اس کو اصلاحِ حال کی طرف متوجہ کیا، تاہم انھوں نے اس کو اقتدار سے ہٹانے اور اس کی جگہ صالح حکمراں کو لانے کی کوئی مہم نہیں چلائی۔ امیر کبیر نے ان تمام عوامل سے اوپر اٹھ کر سوچا اور خود اپنے مثبت فکر کے تحت اپنا پروگرام بنایا۔ یہ تمام تر ایک خاموش عملی پروگرام تھا۔ امیر کبیراور ان کے ساتھی ریاست کے مختلف حصوں میں پھیل گئے اور پُر امن طور پر وہ یہاں کے باشندوں میں اسلام کا پیغام پہنچانے لگے۔ انھوں نے کشمیریوں کی زبان سیکھی، یہاں کے حالات سے اپنے آپ کو ہم آہنگ کیا، اجنبی دیس میں اپنے لیے جگہ بنانے کی مصیبتیں اٹھائیں۔ اِس طرح صبر وبرداشت کی زندگی گزارتے ہوئے انھوںنے اپنے پُرامن دعوتی مشن کو جاری رکھا۔
کشمیر کے ایک تعلیم یافتہ مسلمان سے میری ملاقات ہوئی۔ میں نے کہا کہ آپ لوگوں کے لیے صحیح طریقہ یہ ہے کہ کشمیر میں آپ لوگ شاہ ہمدان کے پُر امن دعوتی مشن کو زندہ کریں۔ شاہ ہمدان کو کشمیر میں غیر معمولی کامیابی حاصل ہوئی۔ اِس کا سبب یہ تھا کہ انھوں نے دعوت کو اپنا واحد مشن بنایا ۔ شاہ ہمدان کے زمانے میں مختلف قسم کے مسائل کشمیر میں موجود تھے، سیاسی بھی اور غیر سیاسی بھی۔ لیکن انھوں نے اِن تمام مسائل کو نظر انداز کیا اور دعوت الی اللہ کو اپنا واحدنشانہ بنایا۔ اِس کے نتیجے میں اُنھیں کشمیر میں غیر معمولی کامیابی حاصل ہوئی۔
مذکورہ کشمیری مسلمان نے کہا کہ شاہ ہمدان کے زمانے میں، کشمیر میں بڑی تعداد میں غیر مسلم پائے جاتے تھے۔آج تو یہاں سب کے سب مسلمان ہیں، پھر ہم کن لوگوں کے اوپر دعوتی کام کریں۔ میں نے کہا کہ کشمیر میں انٹرنیشنل دعوہ ورک کے اعلیٰ مواقع پائے جاتے ہیں۔ انڈیا کی آرمی جو بڑی تعداد میں کشمیر میں موجود ہے، اس کا ہر فرد آپ کے لیے مدعو کی حیثیت رکھتا ہے۔ آپ جانتے ہیں کہ کشمیر ایک سیاحتی مقام ہے، اِس لیے ساری دنیا کے سیّاح (tourists) کشمیر میں مسلسل آتے ہیں۔ اِس کے علاوہ، کشمیر میں اب بھی ہندوؤں کی ایک تعداد موجود ہے، جن کو کشمیر میں پنڈت کہاجاتا ہے۔ اِسی طرح یہاں کے قدیم مندروں میں ہر سال بڑی تعداد میں یاتری آتے ہیں۔یہ سارے لوگ آپ کے لیے مدعو کی حیثیت رکھتے ہیں۔ آپ لوگوں کے اندر اگر دعوتی شعور پیداہوجائے تو آپ دیکھیں گے کہ کشمیر میں ہر طرف بہت بڑی تعداد میں مدعو پائے جاتے ہیں۔اِسی کے ساتھ کشمیر میں دعوت کا ایک اور میدان کھلا ہواہے۔ یہ وہ مسلمان ہیں جو جدید افکار کی بنا پر اسلام کے بارے میں ذہنی بے اطمینانی کا شکار ہوگئے۔یہ لوگ بھی آپ کے لیے قیمتی مدعو کی حیثیت رکھتے ہیں۔ غیر مسلموں کے لیے آپ کو یہ کرنا ہے کہ —اسلام کو آپ اُن کی دریافت (discovery) بنائیں، اور مسلمانوں کے لیے آپ کو یہ کرنا ہے کہ اسلام کو آپ اُن کی دریافتِ نو (re-discovery) بنائیں۔
حقیقت یہ ہے کہ کشمیر کے مسلمانوں کو ڈبل خوش قسمتی کے مواقع حاصل ہیں۔ کشمیر کو جنت نظیر کہاجاتاہے۔ اِس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے کشمیریوں کو دنیا کی جنت دے دی۔ دوسری طرف، اللہ تعالیٰ نے کشمیر میں دنیا بھر کے مدعو بھیج دئے، تاکہ کشمیر کے مسلمان دعوتی کام کرکے آخرت کی جنت بھی حاصل کریں۔ موجودہ زمانہ پرنٹنگ پریس کا زمانہ ہے۔ موجودہ زمانے میں دعوتی کام انتہائی حد تک آسان ہوچکا ہے۔ قرآن کا ترجمہ، اور اسلام پرچھوٹی اور بڑی کتابیں چھپی ہوئی موجود ہیں۔ آپ اِن کتابوں کو اپنے ساتھ رکھئے اور ہر موقع پر اُنھیں لوگوں کو پڑھنے کے لیے دیجئے۔ اِسی طرح دوسرے تمام مواقع کو اسلام کی پُرامن اشاعت کے لیے استعمال کیجئے، خاص طورپر قرآن کا ترجمہ لوگوں کو دیجئے اور اللہ کے یہاں دعوت کا انعام حاصل کیجئے— شاہ ہمدان نے دعوت کے ذریعے کشمیر میں کامیابی حاصل کی تھی، آپ دوبارہ کشمیر میں دعوت کے ذریعے کامیابی حاصل کرسکتے ہیں۔
اہلِ کشمیر میدانِ حشر میں
جموں وکشمیر کے ایک سفر میںمیرے ساتھ ایک واقعہ پیش آیا۔ یہ واقعہ ماہ نامہ الرسالہ (جولائی، 1978) میںاِس طرح چھپا ہے: ’’مرزا محمد اعظم (پیدائش 1940 ) راجوری میں فارسٹر (forester) ہیں۔ وہ باہر سے جب کبھی گھر آتے تو اپنے بچوں کے لیے مٹھائی وغیرہ لاتے۔ ستمبر 1975 کا واقعہ ہے۔ ایک دن وہ گھر میں داخل ہوئے تو کسی وجہ سے وہ اپنے بچوں کے لیے کچھ نہ لا سکے۔ حسب معمول بچے ان کے گرد جمع ہوگئے۔ ان کے 6 سالہ بچے ارشد محمود طارق نے اپنی پہاڑی زبان میں کہا — اگر تُساں اَساں وسطے کجھ نی آندہ، پھر تس کُمھانے وسطے آئے (اگر آپ ہمارے لیے کچھ نہیں لائے تو پھر آپ کس لیے یہاں آئے)۔ بچے کا یہ جملہ مرزا محمد اعظم کو تیر کی طرح لگا۔ انھوںنے سوچا کہ بہت جلد میں اِسی طرح خدا کے یہاں جانے والا ہوں۔ اگر خدا یہ کہہ دے کہ میرے لیے تم کچھ نہیں لائے تو پھر تم یہاں کس لئے آئے ہو، اُس وقت میرے پاس کیا جواب ہوگا‘‘۔ (صفحہ 22)
اِس واقعے میں اہلِ کشمیر کے لیے بہت بڑا سبق ہے۔ کشمیر ایک ایسا علاقہ ہے جہاں بڑی تعداد میں لوگ باہر سے آتے ہیں— مغربی سیاح، ہندو یاتری اور انڈین آرمی ، وغیرہ۔ اِن لوگوں کی مجموعی تعداد سالانہ تقریباً 30 لاکھ ہوتی ہے۔ یہ لوگ گویا کہ خدا کے بھیجے ہوئے مدعو ہیں۔ وہ اہلِ کشمیر کے پاس اِس لیے آتے ہیں، تاکہ اہلِ کشمیر اُن کو خدا کا پیغام پہنچائیں، وہ اُن کو خدا کے تخلیقی منصوبہ (creation plan of God) سے آگاہ کریں۔
یہ بے حد نازک صورت حال ہے۔ وہ وقت آنے والا ہے جب کہ قیامت برپا ہو اور اہلِ کشمیر سب کے سب، میدانِ حشر میں اللہ کے سامنے حاضر ہوں۔ اُس وقت اگر اللہ، اہلِ کشمیر سے پوچھے کہ تمھارے پاس میں نے اتنی بڑی تعداد میں ایسے انسان بھیجے جو سچائی سے بے خبر تھے۔ تمھارے پاس میرا بھیجا ہوا قرآن تھا، تم نے اُن کو سچائی سے باخبر کرنے کے لیے کیاکیا۔ اگر اہلِ کشمیر کے پاس خدا کے اِس سوال کا مثبت جواب نہ ہو اور خدا، اہلِ کشمیر سے کہہ دے کہ — جب تم نے میرا کام نہیں کیا تو تم یہاں کس لیے آئے ہو۔ میدانِ حشر میں اگر اِس طرح کا واقعہ پیش آئے تو اُس وقت اہلِ کشمیر کا کیا حال ہوگا۔ اِس صورتِ حال کا تقاضا ہے کہ اہلِ کشمیر سب سے زیادہ اس سوال پر سوچیں اور ایک دن ضائع کئے بغیر وہ دعوت الی اللہ کے کام کو انجام دینے میں لگ جائیں، تاکہ موت سے پہلے تمام لوگوں تک اللہ کا پیغام پہنچ جائے۔
واپس اوپر جائیں


Thursday, 2 February 2012

Al Risala | February 2012 (الرسالہ,فروری)

2

-امر یکا کا سفر (آخری قسط)

40

- کائنات پر کنٹرول

41

- جنت اور انسان

42

- اللہ کے ساتھ

43

- زیادہ بڑا ایمپائر

44

- مفروضہ دشمن کے خلاف

45

- غلطی کرنے کے بعد

46

- موت کا الارم


امریکا کا سفر

24 جون 2011 کی سہ پہر کو ہم لوگ بذریعہ کار بن سلیم (Bensalem) سے نیویارک کے لیے روانہ ہوئے۔ وہاں ہم کو ڈاکٹر وقار عالم کے یہاں پہنچنا تھا۔ میں نے اپنے ساتھیوں کے ہم راہ اِس سفر کو بذریعہ کار طے کیا۔24 جون 2011 کی شام کو ڈاکٹر وقار عالم کے گھر پر ایک پروگرام ہوا۔ اُن کا گھر اسٹیٹن آئی لینڈ(Staten Island) میں واقع ہے۔ یہاں میں نے جنت کے موضوع پر 40 منٹ کی ایک تقریر کی۔ اس کے بعد سوال وجواب کا پروگرام ہوا۔ میں نے ایک بات یہ کہی کہ جنت کسی کو سفارش (recommendation) کی بنیاد پر ملنے والی نہیں۔ جنت صرف اُن افراد کو ملے گی جو اپنے اندر جنتی شخصیت کی تعمیر کریں۔ اِسی تعمیر ِ شخصیت کو قرآن میں تزکیہ کہا گیا ہے۔
ڈاکٹر وقار عالم کے گھر پر ایک عرب عالم ہشام مصری سے ملاقات ہوئی۔ وہ عربی کے علاوہ انگریزی زبان جانتے تھے۔ اُن سے دیر تک گفتگو ہوتی رہی۔ وہ مسلمانوں کے موجودہ جہاد کو ایک حدیث (مَن رأی منکم منکراً فلیغیرہ بیدہ)کی بنیاد پر درست قرار دیتے تھے۔ میںنے کہا کہ خود اِس حدیث سے ثابت ہے کہ ’’استطاعت‘‘ شرط ہے۔ جہاں استطاعت نہ ہو، وہاں خاموشی اور دعا ہے، نہ کہ متشددانہ ٹکراؤ۔
24 جون2011 کی شام کو ایک روسی ریڈیو چینل کی دو خواتین ملاقات کے لیے آئیں۔ انھوںنے میرااور میرے ساتھیوں کا انٹرویو لیا۔ یہ انٹرویو ہمارے موجودہ امریکی سفر کے بارے میں تھا۔ یہ ریڈیو چینل اُن روسیوں کے لیے ہے جو روس سے باہر امریکا اور دوسرے ملکوں میں رہتے ہیں۔ یہ 450 شہروں میں سنا جاتا ہے۔ ہمارے ساتھیوں نے اِن روسی خواتین کو قرآن کا انگریزی ترجمہ دیا۔
ایک تعلیم یافتہ مسلمان سے ملاقات ہوئی۔ وہ پاکستان میں پیداہوئے۔ اب وہ امریکا میں رہتے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ میں باقاعدہ آپ کا میگزین اور کتابیں پڑھتا ہوں۔ انھوںنے کہا کہ میں آپ سے پورا اتفاق رکھتاہوں۔ انھوںنے کہا کہ میں اگر پاکستان میں ہوتا تو میں آپ کے نظریے کی صداقت کو سمجھ نہ پاتا۔ کیوںکہ پاکستان میں بہت زیادہ منفی ماحول ہے، جب کہ آپ کا نظریہ مکمل طورپر مثبت بنیاد پر قائم ہے۔ اس کو میںاپنی خوش قسمتی سمجھتا ہوں کہ میں امریکا آیا اور یہاں کے کھلے ماحول میں مجھے آپ کے لٹریچر کو پڑھنے کا موقع ملا۔
25 جون 2011 کی صبح کو نماز فجر کے بعد ڈاکٹر وقار عالم کے گھر پر دوبارہ ایک نشست ہوئی۔ اس نشست میں میں نے ایک گھنٹہ کی تقریر کی۔ اس نشست میں میں نے چار چیزیں بتائیں:
1 - ڈسکوری کے درجہ میں اللہ کو پانا۔
2 - اللہ سے محبت (strong affection) کے درجہ میں تعلق ہونا۔
3 - ہر موقع کو پائنٹ آف ریفرنس بنا کر ذکر ودعا کرنا۔
4 - میں نے اپنا تجربہ بتاتے ہوئے کہا کہ 1983 میں امریکا میں مجھے ایک انتہائی تجربہ ہوا، جب کہ مجھے نیویارک کے ائر پورٹ سے واپس کردیا گیا تھا (تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو: سفرنامہ، جلد اول، صفحہ 470)۔ لیکن میں نے اس واقعے سے منفی تاثر نہیں لیا، بلکہ یہ دعا کیکہ آخرت میں اگر ایسا ہو کہ جنت کے گیٹ سے مجھے واپس کردیا جائے تو میرا کیا حال ہوگا۔
ایک سوال کے جواب میں میں نے کہا کہ اسوۂ حسنہ کی آیت (33: 21)کو کچھ لوگوں نے بے معنی بحث کا موضوع بنالیا ہے، حالاں کہ اس میں ایک سادہ حقیقت بتائی گئی ہے، یعنی یہ کہ دین کی نظری تعلیم (آئڈیالوجی) قرآن سے لو اور اس کا پریکٹکل ماڈل رسول کی زندگی سے اخذ کرو۔
25 جون 2011کی صبح کو میں ڈاکٹر وقار عالم کے گھر میں بیسمنٹ (basement) میں بیٹھا ہوا تھا، یہاںتک کہ دھوپ اندر آنے لگی۔میں نے پوچھا کہ میں تو بیسمنٹ میں بیٹھا ہوں، اتنی زیادہ دھوپ کہاں سے آرہی ہے۔ لوگوں نے بتایا کہ یہاں دو قسم کے بیسمنٹ بنتے ہیں۔ ایک وہ جو پورا کا پورا انڈر گراؤنڈ ہوتا ہے جس میں دھوپ نہیں آتی۔ بیسمنٹ کا دوسرا طریقہ وہ ہے جس کو بائی لیول (bi-level) کہا جاتا ہے۔ یہ بیسمنٹ آدھا زمین میں اور آدھا اوپر ہوتا ہے۔
25 جون 2011 کی صبح کو 9 بجے امریکا کے ایک انٹرفیتھ انسٹی ٹیوٹ تھنک ٹینک (Interfaith Institute Think Tank) کے لیے میرا ایک انٹرویو تھا۔ چناں چہ انسٹی ٹیوٹ کی طرف سے مز آویت (Awet Andemicael) ڈاکٹر وقار عالم کے گھر پر اپنی ٹیم کے ساتھ آگئیں۔ انھوں نے میرا ایک تفصیلی انٹرویو ریکارڈ کیا۔ اس انٹرویو کا موضوع انٹرفیتھ فرینڈ شپ (interfaith friendship) تھا۔ ہمارے ساتھیوں نے ان لوگوں کو قرآن کا انگریزی ترجمہ اور دعوتی لٹریچر دیا۔ اس کو انھوں نے خوشی کے ساتھ قبول کیا۔ مز آویت نے ہماری گفتگو کا مثبت اثر لیا۔ چناں چہ انھوںنے میرے بارے میں اپنے تاثرات کا اظہار کرتے ہوئے خواجہ کلیم الدین صاحب سے کہا:
I learned a great deal from his remarks, and was deeply touched by and will always treasure the blessing he was kind enough to bestow on me.
امریکی کلچر کی خصوصیات میں سے ایک خصوصیت یہ ہے کہ وہ اختلاف کو ہر ایک کا فطری حق سمجھتے ہیں۔ میں نے ایک امریکی پروفیسر سے پوچھا کہ امریکا کی ترقی کا راز کیا ہے۔ اس نے جواب دیا کہ ڈسینٹ (dissent) کا احترام کرنا۔ اس نے کہا کہ ہم ڈسینٹ (اختلاف) کو بُرا نہیں سمجھتے۔ ہم ڈسینٹ کو اُس وقت تک برداشت کرتے ہیں جب تک وہ تشدد نہ بنے۔ میںنے کہا کہ یہ ایک فطری بات ہے اور یہی اسلام کا اصول بھی ہے۔ ایک روایت میں آیا ہے کہ: اختلاف أمتی رحمۃ (میری امت کا اختلاف رحمت ہے)۔ اِس حدیث رسول میںاختلاف سے مراد وہی چیز ہے جس کو انگریزی زبان میں ڈسینٹ کہا جاتا ہے۔
ملاقات کے دورا ن یہاں کئی لوگوں نے یہ بات کہی کہ ہندوپاک میں مدارس کا جو نظام ہے، اس میں تبدیلی کی ضرورت ہے۔ میں نے کہا کہ یہ مسئلہ تبدیلی کا نہیں ، بلکہ ممکن کا مسئلہ ہے۔ اگر مدارس کے نظام میں تبدیلی کی جائے تو تبدیل شدہ نظام کو چلانے کے لیے ا س کے مطابق اساتذہ درکار ہوں گے۔ موجودہ حالت میں اساتذہ کی تیاری کا کوئی نظام موجود نہیں ہے۔ موجودہ حالات میں صرف یہی ممکن ہے کہ جو لوگ مدارس سے فارغ ہوں، وہی دوبارہ اس میں استاد کی حیثیت سے کام کریں۔ میں نے کہا کہ جو لوگ مدارس کے نظام میں تبدیلی کی بات کرتے ہیں، اُن کو پہلے تربیت کے ادارے قائم کرنا چاہیے، جیسا کہ سیکولر نظامِ تعلیم میں پایا جاتا ہے۔
خواجہ کلیم الدین صاحب نے بتایا کہ امریکا کے مختلف شہروں میں اُن کو ایسے سنجیدہ افراد مل گئے ہیں جو بڑے پیمانے پر غیر مسلموں کے درمیان قرآن کا انگریزی ترجمہ پھیلارہے ہیں۔ مثلاً جارجیا کے امام عامر فہید علی مرکل، وغیرہ۔ یہ لوگ برابر خواجہ کلیم الدین صاحب سے قرآن کا انگریزی ترجمہ منگواتے ہیں اور اس کو لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں۔
ایک صاحب جو ہمارے مشن کے ہمدرد ہیں، انھوں نے کہا کہ آپ نے بعض قومی اور ملی مسائل کے بارے میں ایسے بیانات دئے ہیں جن کی وجہ سے آپ ملت سے الگ تھلگ ہوگئے ہیں۔ یہ چیز آپ کے مشن کے لیے مفید نہیں۔ آپ کو ملت کے مزاج کی رعایت کرتے ہوئے اپنا کام کرنا چاہیے۔ اپنی قوم کو نظر انداز کرکے کوئی شخص اپنے مقصد میں کامیاب نہیں ہوسکتا۔
میںنے کہا کہ آپ پر غالباً یہ بات واضح نہیں کہ میرا نشانہ کیا ہے۔ آپ دوسروں کے نشانے کو جانتے ہیںاور اس کو میرے اوپر چسپاں کرنا چاہتے ہیں۔ ہمارے نشانے اور دوسرے لوگوں کے نشانے میں ایک بنیادی فرق ہے، وہ یہ کہ دوسروں کا نشانہ عملی نتیجہ ہوتا ہے اور ہمارا نشانہ ابلاغ ہے۔دوسروں کی کامیابی اس میں ہے کہ قوم اُن کا ساتھ دے، تاکہ وہ اپنے مطلوب نتیجے کو حاصل کرسکیں۔ اِس نشانے کی بنا پر وہ اِس کو ضروری سمجھتے ہیں کہ وہ کوئی ایسی بات نہ کہیں جو قوم کے مزاج کے خلاف ہو اور قوم ان سے کٹ جائے۔ اس کے برعکس، ہمارا معاملہ یہ ہے کہ ہم خالصتاً دعوت الی اللہ کے لیے اٹھے ہیں۔ اِس مقصد کی بنا پر ہمارا نشانہ صرف ابلاغ (36: 17)ہے، یعنی اللہ کے پیغام کو ٹھیک ٹھیک لوگوں تک پہنچا دینا۔ ہماری ذمے داری یہ ہے کہ ہم ناصح اور امین کی حیثیت سے اللہ کا پیغام لوگوں تک پہنچا دیں۔ اِس کے بعد یہ دوسروں کی ذمہ داری ہے کہ وہ عملاً اس کے ساتھ کیا رویہ اختیار کرتے ہیں۔
میں نے کہا کہ دوسری بات یہ ہے کہ مسلم ملت میں دو قسم کے لوگ ہیں— ایک، وہ جو مسلم مفاد کے نام پر ہنگامے کی سیاست چلاتے ہیں۔ اِس گروہ میں کچھ لوگ سوچ کی سطح پر ایسے ہیں اور کچھ لوگ عملی سطح پر۔ اُن کا نقطہ نظر یہ ہے کہ ملت آج دشمنوں سے اور سازش کرنے والوں سے گھری ہوئی ہے۔ اِس لیے ضروری ہے کہ اُن لوگوں سے مقابلہ کیا جائے۔ میں بلاشبہہ اِس طبقے سے کٹا ہوا ہوں۔ لیکن اِسی کے ساتھ ملت میں دوسرا طبقہ بھی ہے جو سنجیدہ ہے، جو دوسروں کے خلاف منفی ہنگامے کے بجائے خود اپنی اصلاح کو اہمیت دیتا ہے، جو جہاد کے نام پر تشدد کے بجائے پُر امن دعوت الی اللہ میں یقین رکھتا ہے۔ ملت کا یہ دوسرا طبقہ ساری دنیا میں میرے ساتھ ہے، اور اِس طبقے کے تعاون سے آج ہمارا مشن ہر جگہ کامیابی کے ساتھ چل رہا ہے۔ پھر میں نے ایک عرب شاعر کا یہ شعر پڑھا:
فإن أک فی شرارکم قلیلُ فإنّی فی خیارکم کثیرُ
کچھ لوگوں نے ایسے سوالات کئے جن کو عام زبان میں شوشے کے سوالات کہاجاتا ہے۔ اِس کو سن کر میں نے ان کو یہ حدیث سنائی: سکت عن أشیاء من غیر نسیان فلا تبحثوا عنہا۔ میں نے کہا کہ اس کا مطلب یہ ہے کہ جس چیز کے بارے میں ڈاٹا (data) موجود نہ ہو، اُس پر بحث نہ کرو، کیوں کہ ایسی باتوں میں بحث کرنے سے کنفیوژن کے سوا کچھ نہیں ملے گا۔ میں نے کہا کہ فلسفہ نے ایسی چیزوں میں بحث کی جس کے لیے ڈاٹا موجود نہ تھا۔ اس کے برعکس، سائنس نے اپنی کھوج کو موجود ڈاٹا (available data) تک محدود رکھا۔
26 جون 2011 کی صبح کو ہمارا قافلہ ڈاکٹر وقار عالم کے یہاں سے روانہ ہوا۔ یہاں سے چل کر ہم لوگ نیویارک میںاُس مقام پر پہنچے جس کو آج کل گراؤنڈ زیرو کہاجاتا ہے۔ یہ وہ مقام ہے جہاں پہلے مشہور ورلڈ ٹریڈ سنٹر کی اونچی عمارت (Twin Tower) قائم تھی۔ پھر 11 ستمبر 2001 کو اڑتے ہوئے جہاز سے ٹکرا کر کچھ انتہا پسند لوگوں نے اس کو ڈھا دیا۔ اب وہاں ایک ناہموار خالی زمین (site) ہے جس کے چاروں طرف گھیرا بنا دیاگیا ہے۔ مجھے یاد آیا کہ میں 1996میں نیویارک آیا تھا۔ 22 اگست 1996 کو اُس وقت میںاِس عمارت کے اوپر بذریعہ لفٹ چڑھا تھا۔ ایک تیز رفتار لفٹ ہم لوگوں کو اوپر لے گئی۔ اوپر سے نیچے جب میں نے سڑک کی طرف دیکھا تو نیچے چلتی ہوئی گاڑیاں ٹوائے کار (toy car) کی طرح معلوم ہوتی تھیں اور انسان بونے (dwarf) دکھائی دیتے تھے۔ مگر آج یہاں اِس عظیم عمارت کا کوئی وجود نہیں۔
اس مقام کو دیکھنے کے بعد ہمارا قافلہ آگے بڑھا۔ ہم کو قریب کی مسجد کے امام فیصل عبد الرؤف (کویت) سے اُن کی رہائش گاہ پر ملاقات کرنا تھا۔ یہاں اُن سے اور ان کی اہلیہ سے ملاقات ہوئی۔ یہ لوگ عربی کے علاوہ انگریزی زبان جانتے تھے۔ ان سے دیر تک انگریزی میں باتیں ہوتی رہیں۔ گفتگو کا موضوع زیادہ تر دو تھا— امریکا میں اسلامی دعوت کے مواقع، اور مسلم دنیا میں مسلمانوں کی حالت۔ امریکا میں اسلامی دعوت کے بارے میں وہ پُرامید تھے، لیکن مسلم دنیا میں مسلمانوں کی حالت کے بارے میںفکر مند تھے۔ ہم لوگوں نے دوپہر کا کھانا انھیں کی رہائش گاہ پر کھایا۔
امریکا اور کینڈا میں جو لوگ الرسالہ مشن کے دعوتی عمل میں سرگرم طور پر اپنا رول ادا کررہے ہیں، ان میں سے ایک مز بشریٰ اقبال (نیو جرسی)، اور مسٹر وسیم ناصر انجینئر (ٹورنٹو، کینڈا) ہیں۔ یہ لوگ مسلسل طور پر ہمارے پروگرام میں شریک رہے۔ یہ اعلیٰ تعلیم یافتہ افراد ہیں۔ یہ لوگ لمبے عرصے سے امریکا اور کینڈا میں الرسالہ فورم انٹرنیشنل کے تحت دعوتی کام کررہے ہیں۔
امریکا میں مقیم ایک مسلمان سے ملاقات ہوئی۔ انھوںنے کہا کہ اپنے بچوں کے بارے میں ہم کو یہ فکر رہتی ہے کہ ہمارے بعد دینی اعتبار سے اِن بچوں کا کیا حال ہوگا۔ انھوںنے بتایا کہ ہمارے بچے سیکولر اسکولوں میں پڑھتے ہیں۔ البتہ ہم اپنے گھر پر اسی کے ساتھ بچوں کی دینی تربیت کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ امریکا میں اس کو ہوم اسکولنگ (home schooling) کہا جاتا ہے۔
میں نے کہا کہ جب آپ نے امریکا میں رہنے کا فیصلہ کیا تو آپ کو یہ جاننا چاہیے کہ آپ یہاں کے کلچر سے اپنے بچوں کو محفوظ نہیں رکھ سکتے۔اِس کلچرل سیلاب کا مقابلہ ہوم اسکولنگ کے ذریعہ کرنا ایسا ہی ہے جیسے کاغذ کی دیوار سے سیلاب کا مقابلہ کرنا۔ تجربہ بتاتا ہے کہ غالباً کو ئی ایک بچہ بھی ایسا نہیں جس کی مثال کو لے کر یہ کہا جاسکے کہ ہوم اسکولنگ کا طریقہ اپنے مطلوب نشانے کو حاصل کرنے میں کامیاب رہا ہے۔ایسی حالت میں صحیح طریقہ یہ ہے کہ ایک طرف گھر کے ماحول کو بدلا جائے، اور دوسری طرف بچوں کے اندر دعوتی ذہن پیدا کیا جائے۔ گھر میں سادگی (simplicity)اور بچوں کے اندر دعوتی ذہن پیدا کئے بغیر اِس کلچرل سیلاب کا مقابلہ کرنا ممکن نہیں ہے۔
امریکا میں کئی ایسے مسلمانوں سے ملاقات ہوئی جو نظامِ خلافت کی باتیں کرتے ہیں۔ میںنے کہا کہ لوگوں کا حال یہ ہے کہ وہ نظام خلافت کی باتیں کرتے ہیں، مگر عملاً وہ نظامِ منافقت پر قائم ہوتے ہیں۔ انھوںنے کہا کہ وہ کیسے۔ میںنے کہا کہ اگر آپ لوگ واقعۃً نظامِ خلافت قائم کرنا چاہتے ہیں تو سب سے پہلے آپ امریکا کی شہریت کو ختم کردیجئے۔ کیوں کہ شہریت کے فارم پر دستخط کرنے کے بعد اِس قسم کی باتیں کرنا اگر بالاعلان ہو تو وہ ملک سے غداری ہے، اور اگر اعلان کے بغیر ہو تو وہ منافقت ہے۔
میںنے کہا کہ موجودہ زمانے میں ایک نیا فیشن وجودمیں آیا ہے جس کو میں منافقت کا فیشن کہوں گا۔ میں نے کہا عرب دنیامیں الاخوان المسلمون (قائم شدہ: 1928 ) کا فکر کافی پھیلا۔ اِسی طرح برصغیر ہند میں جماعت اسلامی (قائم شدہ: 1941 ) کو کافی مقبولیت حاصل ہوئی۔ دونوں کا مشترک فکر یہ تھا کہ موجودہ زمانے کاسیاسی اور اقتصادی نظام ایک باطل نظام ہے۔ اِ س نظام کے ساتھ مسلمان کا تعلق منازعت کاہونا چاہیے، نہ کہ مصالحت کا۔ مگر آج عرب دنیااور غیر عرب دنیا دونوں کا حال یہ ہے کہ وہ اِس ’’باطل نظام‘‘ کے تحت مادّی فوائد حاصل کرنے کے لیے عملاً ٹوٹ پڑے ہیں۔ اگرچہ ان کا ذہن بدستور وہی ہے جو پہلے تھا۔ یہ ڈبل اسٹینڈرڈ ہے، اور ڈبل اسٹینڈرڈ ہی کا دوسرا نام منافقت ہے۔
کچھ لوگوں سے بات کرتے ہوئے میںنے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر جو پہلی وحی اتری تھی، اُس میں دعوت کا حکم شامل تھا۔ یہ وحی تھی: اقرأ (96: 1)۔ اقرأ کا مطلب پڑھنا بھی ہے اور پڑھ کر سنانا بھی، یعنی قاری بھی اور مقری بھی۔ اقرا کا مطلب اگر محض پڑھو ہوتا تو رسول اللہ صرف شخصی طورپر قرآن کی تلاوت کرتے، یا کسی سے لکھنا پڑھنا سیکھتے۔ اِس کے برعکس، آپ نے یہ کیا کہ لوگوں کے پاس جاکر آپ اُن کو قرآن پڑھ کر سناتے تھے۔ اِس سے معلوم ہوتاہے کہ اقراکا مطلب پڑھ کر سنانا تھا، یعنی دعوت بذریعہ قرأتِ قرآن۔ یہی کام رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا اور یہی کام صحابہ نے کیا۔ اِس کے مطابق،رسول اور اصحابِ رسول مقریِ قرآن تھے۔
موجودہ زمانہ پرنٹنگ پریس کا زمانہ ہے۔ اب قرآن کے مطبوعہ نسخے ہر جگہ دستیاب ہیں۔ ایسی حالت میں اِس سنتِ رسول کا جدید استعمال یہ ہے کہ ہر مسلمان، قرآن کا ڈسٹری بیوٹر (distributor) بن جائے۔ ہر آدمی قرآن کا ترجمہ اپنے پاس رکھے اور جب بھی کسی سے ملاقات ہو تو وہ یہ کہہ کر قرآن کا ایک نسخہ اس کو دے دے—سر، یہ آپ کے لیے اسپریچول گفٹ ہے:
Sir, this is a spiritual gift for you.
26 جون 2011 کو نیویارک سے فلیڈیلفیا جاتے ہوئے ہم لوگ بیٹری ٹنل (Battery Tunnel) سے گزرے۔ یہ ٹنل تقریباً ڈیڑھ میل لمبی ہے۔ وہ بروکلین اور منہاٹن کو جوڑتی ہے اور سمندر کے نیچے بنائی گئی ہے۔اِسی طرح ہم لوگ ایک اور ٹنل سے گزرے۔ اس کا نام ہے — لنکن ٹنل۔ یہ ہیڈسن ندی کے نیچے بنائی گئی ہے۔ یہ ٹنل منہاٹن سے نیو جرسی کو ملاتی ہے۔
دور جدید میںانسان کو جو نئی چیزیں حاصل ہوئی ہیں، اُن میں سے ایک یہ بھی ہے کہ سمندر کے نیچے ٹنل کی صورت میں سڑکیں بنانا۔ اِس قسم کے زیر سمندر راستے کئی جگہ بنائے گئے ہیں۔ مثلاً بحرین اور سعودی عرب کے درمیان، اور برطانیہ اور فرانس کے درمیان، سویڈن اور ڈنمارک کے درمیان، وغیرہ۔ قدیم زمانے میں اِس کا تصور نہیں کیا جاسکتا تھا، مگر جدید ٹکنالوجی نے اِس کو ممکن بنا دیا ہے۔
امریکا کے سفر میں ایک شادی شدہ خاتون سے ملاقات ہوئی۔ اُن کے ساتھ دو چھوٹے بچے تھے۔ معلوم ہوا کہ یہ خاتون اپنے شوہر سے اختلاف کرکے اپنے بچوں کے ساتھ الگ ایک چھوٹے مکان میںرہتی ہیں۔ میں نے کہا کہ آج کل کے زمانے میں ایک عجیب چیز یہ ہو رہی ہے کہ شوہر کو اپنے بچوں سے محبت ہے، لیکن اس کو اپنی بیوی سے نفرت ہے۔ اِسی طرح بیوی کو اپنے بچوں سے محبت ہے، اور اپنے شوہر سے نفرت۔ یہ تضاد کی بات ہے۔ اور فطرت کے قانون کے مطابق، اِس قسم کی متضاد سوچ (contradictory thinking) اور ذہنی ارتقا دونوں ایک ساتھ جمع نہیں ہوسکتے۔میںنے کہا کہ آج کل یہ حال ہے کہ شوہر اور بیوی کے لیے اُن کا بچہ عملاً لٹل گاڈ (little god) ہوتا ہے۔ مگر جس شوہر یا جس بیوی کے ذریعے یہ بچہ پیدا ہوا، اُس سے دونوں کو دوری ہوتی ہے۔
26 جون 2011 کی شام کو دوبارہ ہم لوگ بن سلیم (Bensalem) واپس پہنچے، جہاں خواجہ کلیم الدین صاحب کا مکان ہے۔ بن سلیم فلیڈیلفیا کا ایک گاؤں ہے جس کو یہاں کی زبان میں کنٹری سائڈ (countryside) کہاجاتا ہے۔ انڈیا میں گاؤں کا تصور ایک پس ماندہ بستی کا ہوتا ہے، لیکن امریکا میں گاؤں اتنا ہی زیادہ ترقی یافتہ ہوتے ہیں جتنا کہ شہر۔ یہاں کے گاؤں کا انفراسٹرکچر اتنا ہی اچھا ہوتاہے جتنا کہ شہر کا انفراسٹرکچر۔ مزید یہ کہ یہاں گرینری (greenery) بہت زیادہ ہوتی ہے۔ اِس لیے اکثر لوگ رہائش کے لیے شہر کے مقابلے میں، گاؤں کو زیادہ پسند کرتے ہیں۔
27 جون2011 کی صبح کو فجر کی نماز کے بعد ساتھیوں کی کلاس ہوئی۔ اِس میں میں نے کچھ تربیتی باتیں کہیں۔ میں نے ایک بات یہ کہی کہ عام طورپر لوگ چیزوں کو فیس ویلو (face value) پر لیتے ہیں۔ وہ چیزوں کو زیادہ گہرائی کے ساتھ نہیں سمجھ پاتے۔ مثلاً اِس سفر میں میری ملاقات ایک صاحب سے ہوئی، جو باہر سے آکر یہاں آباد ہوئے ہیں۔ جدید اصطلاح میں ایسے لوگوں کو امیگرنٹ (immigrant) کہاجاتا ہے۔ یہ امیگرینٹ لوگ زیادہ تر تعلیم یافتہ تھے۔ یہاںآکر وہ یہاں کے مختلف ترقیاتی شعبوں میں سروس کرنے لگے۔ اس کا حوالہ دیتے ہوئے انھوںنے کہا کہ امریکا کو امریکیوں نے ترقی نہیں دی ہے، بلکہ امیگرینٹ لوگوں نے ترقی دی ہے۔ میں نے کہا کہ یہ بات درست نہیں۔ اگر یہ بات صحیح ہے تو یہ امیگرنٹ لوگ خود اپنے ملک کو کیوں ترقی نہ دے سکے۔ میںنے کہا کہ اصل یہ ہے کہ امریکا میں میرٹ (merit) کا اصول ہے۔ یہ اصول لوگوں کے اندر عمل کا محرک (incentive) پیدا کرتا ہے۔ لوگ زیادہ سے زیادہ کام کرتے ہیں، تاکہ وہ زیادہ سے زیادہ رٹرن (return) پاسکیں۔ ایسی حالت میں یہ کہنا صحیح ہوگا کہ امریکا کو مسٹر امیگرنٹ (Mr Immigrant) نے ترقی نہیں دی، بلکہ امریکا کو مسٹر انسینٹیو (Mr Incentive) نے ترقی دی۔
امریکا کے سفر میں کئی امریکی مسلمانوں سے 9/11 (2001) کے سانحے کے موضوع پر بات ہوئی۔ ہر ایک نے خود ساختہ انداز میں اس کی تاویل کی۔ میں نے کہا کہ آپ لوگوں کا یہ طریقہ دیانت داری (honesty) کے خلاف ہے۔ جب آپ امریکا میں رہتے ہیں اور آپ نے یہاں کی شہریت کے فارم پر اُس کی شرطوں کو قبول کرکے اُس پر دستخط کیا ہے تو اب آپ کو پورے معنوںمیں محب وطن ہونا چاہیے۔اور حب الوطنی کا تقاضا ہے کہ آپ 9/11 کے معاملے میں آفیشیل ورژن (official version) کو قبول کریں۔ اِس سے یہ فائدہ ہوگا کہ آپ تضاد اور کنفیوژن سے بچ جائیں گے اور پھر آپ کے اندر ذہنی ارتقا کا عمل بلا روک جاری رہے گا۔
ایک صاحب سے بات کرتے ہوئے میں نے کہا کہ امریکا کو موجودہ زمانے میںعالمی قیادت کا درجہ مل گیاہے۔ یہ جدید انڈسٹری اور جدید کمیونکیشن کی بناپر ممکن ہوا ہے۔ اکثر مسلمان اِس پہلو سے امریکا کے بارے میں منفی خیال رکھتے ہیں۔ وہ طنز کے انداز میں کہتے ہیں کہ امریکا دنیا کا چودھری بننا چاہتا ہے۔ مسلمانوں کے اندر داعیانہ ذہن ہوتا تو وہ کہتے کہ امریکا کی عالمی قیادت ہمارے لیے ایک سنہرا موقع (golden opportunity) ہے۔ اِس کی بناپر ایساہوا ہے کہ امریکا نے عالمی دعوتی سیٹ کا درجہ حاصل کرلیا ہے۔ اِس لیے ہمارے لیے یہ ممکن ہوگیا ہے کہ ہم امریکا کے مواقع کو استعمال کرتے ہوئے عالمی سطح پر دعوت الی اللہ کا کام کرسکیں۔
ایک صاحب نے کہا کہ امریکا مسلم ملکوں کے معاملات میں دخل کیوں دیتا ہے۔ میں نے کہا کہ اِس مداخلت کا ایک مثبت پہلو یہ ہے کہ اِسی وجہ سے آپ لوگوں کو یہ موقع ملا کہ آپ اور آپ کی فیملی امریکا میں آکر سٹل (settle) ہوں اور عزت کے ساتھ یہاں رہ سکیں۔
27 جون 2011 کو خواجہ کلیم الدین صاحب کے یہاں تقریباً 800 بنڈل شپ مینٹ کے ذریعہ آئے۔ یہ قرآن کے انگریزی ترجمہ اور دعوتی لٹریچر کے بنڈل تھے جو انھوں نے انڈیا سے منگوائے تھے۔ جہاز سے اترنے کے بعد ایک بہت بڑے ٹرک میں یہ سامان آیا۔ صرف ایک ڈرائیور اِس ٹرک کو لے کر آیا۔ یہ امریکی ڈرائیور تھا اُسی نے ڈرائیو کیا۔ اُس نے سارا سامان ٹرک سے نکال کر گھر میں رکھا۔ اِس میں تقریباً چار گھنٹے لگے۔ سامان اتارتے وقت ٹرک میں کچھ پرابلم آگئی تھی۔ اُس نے صرف دو لفظ کہا — tough one ۔ اس کے بعد وہ اس کو ٹھیک کرنے میں مشغول ہوگیا۔
27 جون 2011 کی دوپہر کو ہم لوگ واشنگٹن ڈی سی گئے۔ وہاں ہم لوگوں نے وہائٹ ہاؤس (White House) اور دوسری عمارتوں کو دیکھا۔ واشنگٹن ڈی سی میں لوگوں کے پاس بہت زیادہ کاریں ہیں۔ یہاں کی سڑکوں پر مجھے بظاہر ایسا محسوس ہوا جیسے واشنگٹن ڈی سی دو ٹھہری ہوئی چیزوں کانام ہے۔ سڑک کے دونوں طرف ٹھہری ہوئی عمارتیں، اور سڑک کے اوپر ٹھہری ہوئی گاڑیاں۔ واشنگٹن امریکا کا دارالسلطنت ہے جو ریاست کولمبیا میں واقع ہے۔
امریکا کے مختلف شہروں میں میری ملاقات ہندو اورمسلمان دونوں فرقوں کے لوگوں سے ہوئی۔ میںنے پایا کہ دونوں ایک ہی خدشہ (fear) میں مبتلا ہیں، وہ یہ کہ میرے بعد میرے بچوں کا کیا ہوگا۔ اِس سلسلے میں گفتگو کرتے ہوئے میں نے کچھ لوگوں سے کہا کہ یہ بات آپ کو امریکا آنے سے پہلے سوچنا چاہیے تھا۔ اب جب کہ آپ اپنے بچوں کے ساتھ امریکا میںسیٹل ہوچکے ہیں، یہ سوچ بعد از وقت ہے۔ اب تو بہر حال آپ کو اِس کی قیمت دینی پڑے گی۔ اِس قسم کی سوچ حقیقت پسندی کے خلاف ہے۔
ہرنڈن (واشنگٹن) میں مز عرشیہ کے مکان پر ہم لوگ ٹھہرے۔ یہاں دو پہر کا کھانا کھایا۔ ظہر کی نماز کے بعد ایک مختصر نشست ہوئی۔ میں نے کہا کہ اکثر لوگ یہ سوال کرتے ہیں کہ کئی بار ہماری نماز رُٹین (routine) کی نماز ہوتی ہے۔ ایسی نماز کا کیا فائدہ۔ میںنے کہا کہ رٹین کی نماز میں بھی بڑا فائدہ ہے۔ جب آپ کیفیت والی نماز پڑھیں تو آپ نے شعور کی سطح پر خداکو یاد کیا۔ اور اگر آپ نے رٹین کی نماز پڑھی تو اِس کا بھی فائدہ ہے۔ اِس طرح نفسیاتی سطح پر آپ کو یہ اطمینان حاصل ہوجاتا ہے کہ خدا کی دنیا میں آپ خدا کے باغی نہیں ہیں۔ میں نے کہا کہ نماز کی اصل حقیقت یہ ہے کہ وہ ایک رمائنڈر (reminder) ہے۔ شعوری نماز پُرکیفیت رمائنڈ ہے، اور رٹین والی نماز فارمل رمائنڈر۔
ایک نوجوان سے ملاقات ہوئی۔ وہ بہت حوصلہ مند (ambitious) تھے۔ اُن سے میں نے پوچھا کہ آپ شادی شدہ ہیں۔ انھوں نے کہا کہ ہاں۔ پھر میں نے پوچھا کہ آپ کی شادی ارینج میریج تھی یا لو میریج۔ انھوںنے کہا کہ لو میریج۔ پھر میں نے کہا کہ کیا یہ صحیح نہیں ہے کہ شادی سے پہلے آپ کی بیوی آپ کو ایک اسپیشل خاتون دکھائی دیتی تھیں اور شادی کے بعد وہ آپ کو ایک عام خاتون دکھائی دیتی ہیں۔ انھوںنے کہا کہ ہاں۔ پھر میںنے کہا کہ یہ ایک واقعہ کی صورت میں اللہ تعالیٰ نے آپ کو ایک بہت بڑا سبق دیا ہے۔ اِس تجربے کو آپ جنرلائز کیجئے تو آپ کو معلوم ہوگا کہ ہر چیز جس کو اچھا سمجھ کر آپ حاصل کرنا چاہتے ہیں، اُن سب کا حال یہی ہے۔ وہ چیز آپ کو پُرکشش دکھائی دیتی ہے، مگر پانے کے بعد وہ سرتاسر بے کشش ہوجاتی ہے۔ اِس لیے آپ کو چاہیے کہ دنیا کی چیزوں کو اپنا گول بنانے کے بجائے آپ آخرت کی چیزوں کو اپنا گول بنائیں۔ یہ آپ کے لیے ایک ماسٹر فارمولا ہے۔
ہرنڈن سے ہم لوگ یارڈلے (Yardley) کے لیے روانہ ہوئے۔ یارڈلے میں ڈاکٹر انیس میمن صاحب کے گھر پر ایک پروگرام تھا۔
انڈیا میں سڑک کے دونوں طرف درخت ہوتے ہیں، مگر امریکا میں یہ حال ہے کہ سڑک کے دونوں طرف اتنے زیادہ درخت ہوتے ہیں کہ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ مسافر دو طرفہ باغوں کے درمیان سے گزر رہا ہے۔ یہاں جن سڑکوں پر میں نے سفر کیا، تقریباً ہر ایک کا یہی حال تھا۔ یہاں کی سڑکیں عام طورپر بہت زیادہ چوڑی ہوتی ہیں۔ تمام سڑکیں، چاہے وہ شہر کی سڑکیں ہوں یا گاؤں کی سڑکیں، تمام سڑکیں بالکل یکساں ہوتی ہیں۔یہاں خراب یا تنگ سڑکوں کا کوئی تصور نہیں۔ یہاں کے لوگ زیادہ تر کار کے ذریعے سفر کرتے ہیں۔ اِس لیے بار بار مجھے کار کے ذریعے سفر کرنا پڑا۔ مگر پورے زمانۂ قیام میں میںنے ہارن (Horn) کی آواز نہیں سنی۔ یہاں کی سڑکوں پر برابر کاریں دوڑتی رہتی ہیں، لیکن انڈیا کے مقابلے میں، یہاں ہوائی کثافت (air pollution) بہت کم ہے۔
27 جون 2011 کی شام کو میری لینڈ میں میں اپنے ساتھیوں کے ہمراہ ایلی کاٹ سٹی (Ellicott City) گیا ۔ یہاں مز زیبا کے گھر پر ایک پروگرام ہوا۔ اِس پروگرام میں امریکا میں مقیم مسلم خاندانوں کے نوجوان لڑکوں اور لڑکیوں نے شرکت کی۔ یہاں میں نے انگریزی میں خطاب کیا۔ میں نے کہا کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو نبوت ملی تو آپ نے قریش کو جمع کیا اور آپ نے اُن کے سامنے اپنا مشن پیش کیا۔ لیکن کسی نے بھی اس کا مثبت جواب نہیں دیا۔ سب خاموش رہے۔ پھر اِس کے بعد علی بن ابی طالب کھڑے ہوئے جو اُس وقت 11 سال کے تھے۔ انھوںنے کہا کہ میں آپ کا ساتھ دوں گا۔ اس کے بعد ہمیشہ وہ آپ کے ساتھی بنے رہے۔
میںنے کہا کہ اِس واقعے سے معلوم ہوتا ہے کہ اسلام کی تاریخ کا آغاز کرنے والے نوجوان لوگ تھے۔ دوسرے صحابہ بھی اکثر نوجوان طبقے سے تعلق رکھتے تھے۔ میں نے کہا کہ آپ کو دورِ جدید میں اِس تاریخ کو دہرانا ہے۔ پھر میں نے اِن نوجوانوں کو ایک ماٹو دیا۔ میں نے کہا کہ:
Make education your profession, and make Dawah your mission.
پروگرام کے خاتمے پر سوال وجواب ہوا۔ رات میں ہم لوگوں کا قیام مز گل زیبا کے مکان پر تھا۔ یہاں مختلف لوگوں سے ملاقاتیں ہوئیں۔پروگرام کے خاتمے پر ہماری ٹیم کے ایک ممبر نے پروگرام میں شریک ایک لڑکی سے پروگرام کے بارے میں اس کا تاثر پوچھا۔ اس نے کہا:
After this session, I have come to know my responsibility towards Dawah work.
28 جون 2011 کی صبح کو فجر کی نماز کے بعد مزگل زیبا کے اہلِ خانہ اور اپنے ساتھیوں کی ایک نشست ہوئی۔ اِس موقع پر میںنے جو باتیں کہیں، اُن میں سے ایک بات یہ تھی کہ ابلیس نے چیلنج دیا تھا کہ وہ سارے انسانوں کو بہکا دے گا، سوائے اللہ کے مخلَص بندوں کے : إلا عبادک منہم المخلَصین (15: 40) ۔ میںنے کہا کہ اِس کا مطلب یہ ہے کہ خدا کچھ بندوں کو مداخلت کرکے شیطان کے فتنے سے بچائے گا۔ اِس مداخلت کی بنیاد یہ ہوگی کہ جو افراد اتنے باشعور ہوں کہ وہ شیطان کے زیر اثر آنے سے اپنے آپ کو بچا لیں، وہ اللہ کے مخلَص بندے قرار پائیں گے۔
میری لینڈ سے ہم لوگ واشنگٹن ڈی سی کے لیے روانہ ہوئے۔ یہاں 28 جون کی شام کو ڈاکٹر انیس کے گھر پر دوبارہ ایک پروگرام ہوا۔ یہاں خطاب کا موضوع تھا — امریکی مسلمانوں کی دعوتی ذمے داری۔ اِس موضوع پر اظہارِ خیال کے بعد آخر میں سوال وجواب کا پروگرام ہوا۔ ایک سوال کی وضاحت کرتے ہوئے میں نے کہا کہ مسلمانوں میں جو مذہبی اور سیاسی اختلافات ہیں، اُس کا سبب یہ ہے کہ مسلمانوں کا لکھنے اور بولنے والا طبقہ غلط فارمولا اختیار کئے ہوئے ہے۔ اس طبقے کا فارمولا یہ ہے کہ — اختلافات کو مٹاؤ، تاکہ اتحاد قائم ہو۔ یہ درست نہیں۔ صحیح فارمولا یہ ہے کہ — اختلافات کو برداشت کرو، اختلاف کے باوجود اعلیٰ مقصد کے لیے متحد ہو جاؤ۔ اختلاف کا معاملہ اس کو مینیج (manage) کرنے کا معاملہ ہے، نہ کہ اس کو مٹانے کا معاملہ۔
خواجہ کلیم الدین صاحب کے پڑوس میں جو گھر ہے، وہاں 29 جون 2011 کی صبح کو دو بھاری ٹرک آئے۔ اس کے ساتھ مختلف مشینیں تھیں۔ معلوم ہوا کہ یہ لوگ درخت کاٹنے کے لیے آئے ہیں۔ انھوںنے مخصوص ٹیکنک کے ذریعے 4 درخت کاٹے۔ اس کے بعد اس کو ٹکڑے ٹکڑے کر دیا۔ پھر مشین نے اس کو بھس بنا دیا۔ اس کے بعد ان لوگوں نے اس کو ٹرک پر رکھا اور چلے گئے۔ یہ کام یہاں پرائیویٹ کمپنیاں کرتی ہیں۔ وہ ایک درخت کو کاٹنے کے دو سو ڈالر لیتی ہیں۔
امریکا میں ایک لفظ کیپٹیو آڈینس (captive audience) استعمال ہوتا ہے، یعنی وہ لوگ جو کسی جگہ محصور ہوں اور ان کے پاس مطالعے کے سوا کوئی اور مشغلہ نہ ہو، مثلاً اسپتال میں داخل ہونے والے لوگ، جیل میں داخل ہونے والے لوگ اور سینئر سٹیزنس کے لئے بنائے گئے مقامات (senior citizens’ residence)۔ اِس طرح کے مقامات پر موجود لوگوں کو اگر کتاب یا لٹریچر فراہم کیا جائے تو دوسری مصروفیت نہ ہونے کی بنا پر لوگ ضرور اس کو پڑھتے ہیں۔مسیحی مبلغین اِس موقع کو کافی استعمال کرتے ہیں۔ ہمارے دعوتی مشن سے وابستہ افراد بھی اِس موقع کو استعمال کررہے ہیں۔ یہ دعوت کو پھیلانے کا اچھا طریقہ ہے۔
29 جون 2011 کی صبح کو بن سلیم (Bensalem)میں ڈاکٹر وقار عالم سے ملاقات ہوئی۔ میں نے کہا کہ حدیث میں آیا ہے: الدنیا مزرعۃ الآخرۃ (دنیا آخرت کے لئے تیاری کی جگہ ہے)۔ میںنے پوچھا کہ یہاں ایسے کتنے مسلمان ہوں گے جو اِس قسم کا دینی ذہن رکھتے ہوں۔ انھوںنے کہا کہ اس کا اندازہ آپ اِس بات سے کرسکتے ہیں کہ میں نے ایک صاحب سے آخرت کی بات کی جو کہ ایک اسلامی تنظیم چلا رہے ہیں۔ انھوںنے جواب دیا کہ آخرت کا فیصلہ تو آخرت میں ہوگا، یہاں تو ہمیں دنیا کے اعتبار سے مسلمانوں کی خدمت کرنا ہے۔
اِس واقعے سے اندازہ ہوا کہ موجودہ مسلمانوں نے اسلام کا ایک نیا ورژن دریافت کررکھا ہے۔ بدھ ازم کو بے خدا ریلیجن (godless religion) کہاجاتا ہے۔ اسی طرح مسلمانوں نے بھی ایک بے خدا اسلام (godless Islam) بنا لیا ہے۔ ان کا اسلام ایک لفظ میں، کلچرل ورژن آف اسلام (cultural version of Islam) ہے۔ ان کے یہاں بظاہر اسلام کا ایک فارم ہے، لیکن وہ ایک بے روح فارم (spiritless form) ہے۔ وہ دھوم سے سسٹم کی باتیں کرتے ہیں، لیکن فرد کے تزکیہ کا ان کے یہاں کوئی تصور نہیں۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ صرف لیبل کا فرق ہے، ورنہ حقیقت کے اعتبار سے مسلمانوں اور غیر مسلموں کے درمیان کوئی فرق نہیں۔ دونوں کا مشترک طورپر یہ حال ہے کہ دنیا کی تعمیر ان کا واحد کنسرن ہے، آخرت کی تعمیر کا تصور دونوںمیں سے کسی کے یہاں نہیں پایا جاتا۔
مغربی ملکوںمیں امریکا واحد ملک ہے جہاں اللہ کے فضل سے الرسالہ کے دعوتی مشن کی ایک ٹیم بن گئی ہے۔ اور باقاعدہ انداز میں دعوت کا کام ہو رہا ہے۔ یہ مجھے خدائی منصوبہ معلوم ہوتاہے۔ کیوں کہ موجودہ زمانہ میں امریکا کو عالمی قیادت کا درجہ حاصل ہوگیاہے۔ اس لحاظ سے عالمی دعوت کے لیے سب سے زیادہ موزوں جگہ امریکا ہے۔ پیغمبرانہ دعوت کا طریقہ ہمیشہ یہ تھا کہ پیغمبر امّ القریٰ (مرکزی شہر) میں مبعوث ہوتے تھے۔ یہی دعوت کا اسلوب ہے۔ ام القریٰ میں دعوت کا کام ہونا بالواسطہ طورپر دوسرے تمام علاقوں میں کام کرنے کے ہم معنی ہے۔
ایک مجلس میں میں نے کہا کہ موجودہ زمانہ کے مسلمانوں میںقرآن کی ایک تعلیم بالکل گم ہوگئی ہے۔ قرآن میں بتایا گیا ہے کہ تمام نبی ہدایت یاب تھے اور ہر نبی کی زندگی میں ہدایت کا نمونہ ہے(6: 90)۔اس کا مطلب یہ ہے کہ مختلف پیغمبرمختلف حالات میں آئے۔ یہ سب اپنے اپنے اعتبار سے نمونہ ہیں۔ جب بھی کسی جگہ کسی پچھلے پیغمبر جیسے حالات پائے جائیں تو وہاں حالات کی نسبت سے اس پیغمبر کا نمونہ قابل انطباق ہوجائے گا، مگر مسلمان اس تعلیم سے فائدہ نہیں اٹھا سکے۔
ایک صاحب سے گفتگو کرتے ہوئے میں نے کہا کہ ایک مشہور قول ہے:
Man proposes, God disposes
یہی بات حضرت علی نے زیادہ بامعنی طورپر اِس طرح کہی ہے: عرفتُ ربی بفسخ العزائم ۔
میں نے کہا کہ مذکورہ قول میں صرف واقعہ کا ذکر ہے، جب کہ حضرت علی کے قول میں اِس قسم کے واقعے سے معرفت کا پہلو اخذ کیا گیا ہے۔
29 جون 2011 کی صبح کو خواجہ کلیم الدین اور ڈاکٹر وقار عالم کو بذریعہ وین (van) شکاگو جانا تھا۔ ان کے علاوہ، ہمارے بقیہ ساتھیوںکو بذریعہ پلین شکاگو جانا تھا۔ فلیڈیلفیا سے شکاگو بذریعہ روڈ تقریباً 15 گھنٹے کا سفر تھا۔ سارا سامان پیک کرکے وین میں رکھ دیا گیا۔ اچانک معلوم ہوا کہ ڈاکٹر فریدہ خانم کا پاسپورٹ نہیں مل رہا ہے۔ تمام سامان جو پیک کرکے وین میں رکھا جاچکا تھا، اُس کو نکال کر پاسپورٹ تلاش کیا گیا، لیکن وہ اس میں نہیں ملا۔ سب لوگ پریشان تھے، کیوں کہ باہر کے ملک میں کوئی آدمی پاسپورٹ کے بغیر کچھ نہیں ہوتا۔ تلاشِ بسیار کے بعد آخر کار ہماری ٹیم کی ایک ممبر نے ایک بیگ میںاس کو دریافت کیا۔ اِس دوران ہماری ٹیم کے سارے ممبر پریشان تھے۔ میں پریشانی کے عالم میں باربار یہ آیت پڑھ رہا تھا: أمن یجیب المضطر إذا دعاہ ویکشف السوء (27: 62) ۔ سب لوگ پریشان تھے، مگر خواجہ کلیم الدین صاحب پوری طرح مطمئن تھے۔ اِس تجربے کے بعد میں نے کہا کہ ہماری ٹیم کے دو ممبران کی مجھے از سرِ نو دریافت ہوئی ہے— خواجہ کلیم الدین صاحب بطور ماسٹر آف کرائسس (master of crisis)، اور استتھی ملہوترا بطور ماسٹر فائنڈر (master finder) ۔
اِس تجربے سے ایک بات یہ سمجھ میں آئی کہ قرآن میں مذکور بعض واقعات جو بظاہر انفرادی قسم کے واقعات ہیں، اُس میں بھی عام انسانوں کے لیے پائنٹ آف رفرنس موجود ہے۔ اس وقت مجھے یاد آیا کہ حضرت سلیمان کے تابع جنات نے ملکۂ سبا کے تخت کو دور کے ملک یمن سے لاکر یروشلم میں رکھ دیا تھا۔ اُس وقت میری زبان سے یہ دعا نکلی کہ خدایا، حضرت سلیمان کے زمانے میں یہ واقعہ تیری نصرت سے ہوا تھا۔ اگر یہ پاسپورٹ ا ئر پورٹ پر یا کہیں اور چھوٹ گیا ہو تو فرشتوں کے ذریعے تو اس کو دوبارہ لاکر ہمارے پاس پہنچا دے۔ ڈاکٹر فریدہ خانم اپنے سامان کو بار بار چیک کرکے مایوس ہوچکی تھیں۔ اِس کے بعد مز استتھی ملہوترا نے دوبارہ اُن کے بیگ کو چیک کیا تو اُس کے اندر کے جیب میں ڈاکٹر فریدہ خانم کا پاسپورٹ رکھا ہوا تھا۔ یہ بلا شبہہ اللہ تعالیٰ کی خصوصی نصرت کا واقعہ تھا۔
29 جون 2011 کو صبح دس بجے خواجہ کلیم الدین اور ڈاکٹر وقار عالم ایک وین لے کر فلیڈیلفیا سے شکاگو جانے کے لیے نکلے۔ یہ لوگ وین میں قرآن کا انگریزی ترجمہ اور دوسرے اسلامی لٹریچر لے کر نکلے، تاکہ شکاگو میں ہونے والی اسنا کانفرنس (ISNA Conference) میں لوگوں کو یہ لٹریچر دے سکیں۔ ان کو رخصت کرتے ہوئے میں نے کہا کہ اس قسم کے سفر کو سیرت کی کتابوں میں ’سریّہ‘ کہا گیا ہے، یعنی دعوتی وفد کا ایک جگہ سے دوسری جگہ دعوتی مہم کے لیے جانا۔
اسلام میں سریہ کی بہت فضیلت ہے۔ ان شاء اللہ آپ لوگوں کو وہی ثواب ملے گاجوسریّہ کے لیے اللہ تعالی ٰنے لکھ دیاہے۔ قدیم زمانے میں اِس قسم کے دعوتی وفد کو سریّہ کہاجاتا تھا۔ موجودہ زمانے میں اس کو دعوہ آن وھیل (Dawah on Wheels) کہا جاسکتا ہے۔
امریکا میں اِس وقت تقریباً سات ملین مسلمان آباد ہیں۔ آج کل کی اصطلاح میں، یہ لوگ مسلمس اِن ڈائسپورا (Muslims in Diaspora) کی حیثیت رکھتے ہیں۔ اِن مسلمانوں کے کیس کو اگر حدیث میں تلا ش کیا جائے تو وہ صحیح البخاری کی اُس روایت میں ملے گا جس کو اِس کتاب (البخاری) میں پہلی حدیث کے طورپر نقل کیا گیاہے: إنما الأعمال بالنیات (عمل کا تعلق نیت سے ہے)۔ اِس حدیث میں بتایا گیا ہے کہ جس کی ہجرت اللہ اور رسول کے لیے ہو، اس کی ہجرت اللہ اور رسول کے لیے ہے۔ اور جس کی ہجرت کسی عورت سے نکاح کرنے کے لیے ہو، یا دنیا حاصل کرنے کے لیے ہو، تو اس کی ہجرت اُسی چیز کی طرف ہے جس کے لیے اس نے ہجرت کی۔
جو مسلمان اپنے ملکوں سے نکل کر امریکا آئے اور یہاں آباد ہوئے، عام طورپراُن کا واحد مقصد ڈالر کمانا اور اپنے بچوں کی دنیا کو بہتر بنانا تھا۔ چناں چہ ان لوگوں کو وہی ملا جو انھوں نے چاہا تھا۔ آج یہ مسلمان اور ان کی اولاد مکمل طورپر مادہ پرست (materialist) بنے ہوئے ہیں۔ تاہم یہ مسلمان اب دیکھ رہے ہیں کہ ان کے بچے تیزی سے امریکن کلچر کو اپنا رہے ہیں۔ دوسرے لفظوں میں یہ کہ ان بچوں کے باپ اور دادا امریکا اِس لیے آئے تھے کہ وہ یہاںاپنے لیے ایک جنت کی تعمیر کریں، مگر عملاً یہ ہوا کہ ان کی پوری نسل تیزی سے جہنم کی طرف چلی جارہی ہے۔ گویا عملاً یہ لوگ تیزرفتار جہنم اکسپریس پر سوار ہیں، لیکن اس کے باہر انھوں نے اُس پر جلی حرفوں میں لکھ دیا ہے — جنت ایکسپریس۔ اس قسم کے شتر مرغ طریقہ (ostrich habit) کا کوئی مثبت فائدہ ملنے والا نہیں۔ اِن مسلمانوں کی نجات کا صرف ایک حل ہے، وہ یہ کہ وہ اِس کا اعتراف کریں کہ وہ غلط نیت کے ساتھ امریکا آئے۔ صحیح طریقہ یہ تھا کہ وہ صحابہ کی طرح دعوت الی اللہ کی نیت سے بیرونی ملکوں میں جاتے۔
اگر امریکی مسلمان اعلان کے ساتھ اِس حقیقت کا اعتراف کرسکیں تو اُن کے درمیان ایک نئی تبدیلی کا آغاز ہوجائے گا۔ مگر شرط یہ ہے کہ وہ اِس اعلان کے بعد عملاً یوٹرن (U Turn) لے سکیں اور اپنی پوری زندگی کو دعوہ اورینٹڈ زندگی (Dawah-oriented life) بنا سکیں۔ امریکی مسلمانوں کی، سنڈے اسکول اور سمر کیمپ (summer camp)جیسی اسلامی سرگرمیاں کسی بھی درجے میں اُن کو کوئی فائدہ پہنچانے والی نہیں۔
امریکا کے اِس سفر میں غیر متوقع طورپر میں نے دریافت کیا کہ یہاں طاقت ور افراد کی ایک پوری ٹیم تیار ہوچکی ہے۔ یہ لوگ منظم طورپر یہاں دعوہ ورک کررہے ہیں، اُن کا کام جدید ترین معیار پر ہورہا ہے۔ ان کے کام کو دیکھ کر میں نے کہا کہ آپ لوگوں نے یہاں ایک پوری دعوہ انڈسٹری (full fledged Dawah industry) کھول دی ہے جس کو ہم نے کبھی سوچا بھی نہیںتھا۔
میں نے دعوت کا کام 1950 میں شروع کیا۔ اُس وقت میں نے اعظم گڑھ میں اگزبیشن میں ایک بک اسٹال لگایا تھا جس کے اوپر ایک بڑے بورڈ پر موٹے حرفوں میں قرآن کی ایک آیت (واللّٰہ یدعوا إلی دارالسلام) کا ترجمہ اِس طرح لکھا ہوا تھا:
And God calls to the home of Peace (10: 25)
یہ اتنے جلی حرفوں میں لکھا تھا کہ وہ اگزبیشن کے انٹرنس (entrance)سے نظر آتا تھا۔ اِس بورڈ کو اعظم گڑھ کے آرٹسٹ محمد یوسف نے تیار کیا تھا۔اس کے بعد مسلسل میں دعوہ ورک میں لگا رہا۔ بار بار میں محسوس کرتا تھا کہ میں اس کام کو صرف شروع کرسکتا ہوں، اس کو آخرتک پہنچانا میری استطاعت سے باہر ہے۔ میں نے اپنا یہ احساس اپنی کتاب ’’الاسلام‘‘ (1977) میں درج کیا تھا جو انگریزی کے ایک ناول (The Story of an African Farm) پر مبنی تھا۔ لیکن عجیب بات ہے کہ اللہ تعالیٰ نے میری زندگی ہی میں اس دعوہ مشن کو ایک عالمی دعوہ ورک بنا دیا۔پرنٹ میڈیا اور الیکٹرانک میڈیا موجودہ زمانے کے غیر معمولی مواقع ہیں، لیکن دعوت الی اللہ کے لیے اِن ذرائع کو غالباً پہلی بار ہماری ٹیم شعوری طورپر استعمال کررہی ہے۔ فالحمد للہ علی ذلک۔
امریکا کے سفر میں میری ملاقات بہت سے پاکستانیوں سے ہوئی۔ ان ملاقاتوں کے درمیان ایک حقیقت کاانکشاف ہوا۔ 1947 سے پہلے کے دور میں مسلمانوں کے جلسوں میں میں یہ نعرہ سنتا تھا کہ — پاکستان کا مطلب کیا: لا إلٰہ إلا اللہ! پاکستان 1947 میں بنا، لیکن لا الٰہ الا اللہ پر مبنی نظام وہاں قائم نہ ہوسکا۔ البتہ اس کا انڈائرکٹ نتیجہ یہ ہوا کہ مختلف اسباب سے پاکستان میں اکسوڈس (exodus) ہوا۔ اور پاکستانی مسلمان بڑی تعداد میں پاکستان سے نکل کر دوسرے ملکوں میں آباد ہوگئے ۔ ان غیر مقیم (non-resident) پاکستانی مسلمانوں کے اندر اگر دعوت کا شعور پیداہو جائے تو صرف پاکستانی مسلمان ہی ساری دنیا میں اسلام کی اشاعت کے لیے کافی ہوجائیں گے۔ پاکستان کے قیام میں آغاز سے یہ پوٹنشیل (potential) چھپا ہوا تھا۔ اب تاریخ کو انتظار ہے کہ کب یہ پوٹنشیل واقعہ بنے اور اسلام کی عالمی اشاعت ہو جس کا تاریخ کو لمبی مدت سے انتظار ہے۔
پاکستان اسلام کے نام پر بنا اور سرحد کے دونوں طرف کے لوگوں کو اس کی بھاری قیمت دینی پڑی۔ مگر پاکستان بننے کے بعد یہ ہوا کہ وہاں کے مسلمان، پاکستانی لیڈروں کے دعوے کے مطابق، پاکستان میں اسلامی نظام قائم کرنے کے بجائے باہر کے ملکوں میں چلے گئے۔ ان پاکستانی مسلمانوں پر خدا کی طرف سے ایک قرض ہے۔ ان پر فرض ہے کہ وہ اس قرض کو چکائیں۔ وہ قرض یہ کہ اپنے عہد کے مطابق، اسلام کا جو کام وہ پاکستان میں انجام نہ دے سکے، اس کو وہ اسلام کی عالمی اشاعت کی صورت میں انجام دیں۔ اس کے بغیر یہ پاکستانی مسلمان اللہ کے یہاں بری الذمہ نہیں ہوسکتے۔
فلیڈیلفیا میں مجھ کو جس کمرے میں ٹھہرایا گیا تھا، اس میں مسٹر جسونت سنگھ کی کتاب:
Jinnah, India—Partition, Independence
رکھی ہوئی تھی۔ یہ کتاب 670 صفحات پر مشتمل ہے۔ اس کتاب میں صفحہ 6پرگوپال کرشن گوکھلے کا ایک قول مسٹر جناح کے بارے میں نقل کیا گیاہے۔ اس وقت مسٹر جناح کانگریس میں شامل تھے:
Jinnah is an ambassador of Hindu-Muslim unity
عجیب بات ہے کہ جس مسلم لیڈر کو ابتدا میں سمبل آف ہندو مسلم یونٹی سمجھا گیا تھا، اس نے اپنے بعد کے زمانے میں برعکس مثال قائم کی۔ وہ سمبل آف ڈس یونٹی (symbol of disunity) بن گیا۔ ممکن ہے کچھ لوگوں کو مسٹر محمد علی جناح کا بعدکا رول زیادہ پسند آئے، مگر میرے جیسے انسان کی سوچ کے مطابق، زیادہ بہتر تھا کہ مسٹر محمد علی جناح بر صغیر ہند کی تاریخ میں سمبل آف یونٹی کی حیثیت سے درج کئے جاتے۔
29 جون 2011 کو فلیڈیلفیا میں قیام کا آخری دن تھا۔ کئی لوگ ملاقات کے لئے آئے۔ اقبال شیخ، گل زیبا، ویپل چِپ (vipul chip)اور ان کی وائف آرتی۔ مسٹر شاہ جہاں اپنی بیوی اور اپنی بیٹی کے ساتھ آئے۔ ان لوگوں سے مختلف موضوعات پر باتیں ہوئیں۔
ایک سوال اظہارِ دین کے بارے میں تھا۔ میں نے کہا اظہارِ دین کا مطلب سیاسی معنوں میں، غلبۂ دین نہیں ہے۔ اظہارِ دین کا مطلب ہے— اسلام کا فکری غلبہ۔میں نے کہا سنت اللہ کے مطابق، کوئی واقعہ تدریجی طورپر ہوتا ہے۔ کائنات15 بلین سال میں تدریجی طورپر وجود میں آئی۔ یہی طریقہ اظہارِ دین کا بھی ہے۔رسول اور اصحابِ رسول نے اس کا پراسس جاری کیا۔ مغربی تہذیب اس کا نقطۂ انتہا (culmination) ہے۔ شاہ جہاں صاحب6 سوال لکھ کر لائے تھے۔ اس کو انھوںنے پڑھ کر سنایا۔ میں نے کہا کہ ان سوالات کو آپ الٹی طرف سے لیجئے۔ ان میں سے آخری سوال اظہارِ دین کے بارے میں تھا۔
ویپل چپ (Vipul Chip) سے میں نے کہا کہ اپنا کوئی تجربہ بتائیے۔ ویپل چپ انڈیا میں پیدا ہوئے اور اب وہ امریکا میں سٹل ہوگئے ہیں۔ بار بار پوچھنے کے بعد انھوں نے اپنا ایک واقعہ بتایا۔ انھوں نے بتایا کہ امریکا میں ایک پاکستانی مسلم فیملی رہتی ہے۔ ان کے بیٹے محمد ناصر سے میری دوستی ہوگئی۔ چناں چہ میں ناصر کے گھر جانے لگا۔ جب میں ناصر کے گھر جاتا تو ان کے باپ مجھ سے کنورژن (conversion)کی بات کرتے۔ وہ کہتے کہ تم ہندو مذہب چھوڑ کر اسلام میں آجاؤ، کیوں کہ اسلام سپیریر (superior) مذہب ہے۔ میں اِس کا جواب دئے بغیر ان کی بات کو ٹال دیتا۔ میں جب بھی ناصر کے گھر جاتا تھا، میں وہاں لوگوں کو السلام علیکم کہتا تھا۔ ایک دن بلا قصد میری زبان سے نکل گیا— ہری اوم۔یہ سن کر ناصر کی ماں بہت غصہ ہوئیں۔ اُس کی ماں نے کہا کہ تم میرے بیٹے کو ہندو بنانا چاہتے ہو۔ اِس کے بعد میں نے ناصر کے گھر جانا چھوڑ دیا۔
مسٹر ویپل چب ہمارے ساتھی مسٹر رجت ملہوترا (Rajat Malhotra) کے دوست ہیں۔ بعد کو انھوں نے مسٹر رجت سے گفتگو کرتے ہوئے میرے بارے میں کہا:
‘I truly enjoyed meeting Maulana. He has an effect. There is obviously something special about him.’
یکم جولائی 2011 کی صبح کو فلیڈیلفیا سے شکاگو کے لئے روانگی ہوئی۔ روانگی سے پہلے خواجہ کلیم الدین صاحب کے گھر میں ہمارے سب ساتھی ناشتہ کی میز پر اکھٹا ہوئے۔ میں نے کہا کہ ہماری ٹیم میں خاص بات یہ ہے کہ یہاں کسی بھی قسم کا مٹیریل انٹرسٹ نہیں، نہ براہ راست اور نہ بالواسطہ۔ اس میں نہ کوئی مادی فائدہ ہے اور نہ اسٹیج کا فائدہ اور نہ ہی عزت و شہرت کا فائدہ، پھر بھی ٹیم کا ہر فرد ذاتی جذبے کے تحت متحرک ہے۔ ہر ایک دعوہ ورک کے لیے ہیرو بنا ہوا ہے۔ یہ اس بات کی کھلی ہوئی علامت ہے کہ اس ٹیم کو اللہ کی خصوصی نصرت حاصل ہے۔ٹیم کے ہر فرد کو خدا کے فرشتے متحرک کئے ہوئے ہیں اور وہ ان کی مدد کرتے ہیں۔ اللہ کی خصوصی نصرت کے بغیر کوئی قافلہ اس طرح متحرک نہیں ہوسکتا۔
گل زیبا صاحبہ سے میں نے کہا کہ آپ لوگ جو امریکا میں مقیم ہیں، اس کو اللہ کا منصوبہ سمجھیں۔ آپ لوگوں کا یہاں آنا اور یہاں مقیم ہونا کوئی اتفاقی بات نہیں۔ یہ یقینی طورپر خدا کے منصوبے کے تحت ہوا ہے۔ آپ لوگوں کو خدا یہاں اِس لیے لایا ہے کہ آپ یہاں کے باشندوں کے سامنے دعوت الی اللہ کا کام کریں، یعنی ان لوگوں کو خداکے تخلیقی پلان سے باخبر کریں۔
یکم جولائی 2011کی صبح کو ہم لوگ فجر کے بعد خواجہ کلیم الدین صاحب کے گھر سے نیویارک ائر پورٹ کے لیے روانہ ہوئے۔ مجھ کو مسٹر اقبال شیخ نے اپنی گاڑی پرائرپورٹ پہنچایا۔ انھوںنے سی پی ایس کے مشن کو انٹرنٹ پر لانے میں بہت زیادہ تعاون کیا ہے۔انھوںنے گفتگو کے دوران کئی باتیں کہیں۔ مثلاً یہ کہ وہ اپنی کمپنی کے پروجیکٹ کے تحت کئی بار ایرا ن جاچکے ہیں۔ انھوںنے بتایاکہ شاہ کے زمانے میں ایران اتنا زیادہ ترقی کر رہا تھا کہ میرا جی چاہتا تھا کہ میں امریکا چھوڑ کر ایران میں مستقل رہائش اختیار کرلوں۔ مگر اب وہاں کی صورتِ حال بالکل مختلف ہوچکی ہے۔مسٹر اقبال شیخ نے بتایا کہ اپنے جاب کے تحت وہ اکثر ایران جاتے رہتے ہیں۔ وہاں ایک تعلیم یافتہ ایرانی نے ’’ایرانی انقلاب‘‘ پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا — پہلے یہاں ٹیلی ویژن تھا، اب یہاں ملاّ ویژن ہے۔
فلیڈیلفیا سے چل کر شکاگو ائر پورٹ پر ہم لوگ اترے تو وہاں خواجہ کلیم الدین صاحب اور ڈاکٹر وقار عالم صاحب موجودتھے۔ وہ ہم سے ایک دن پہلے بذریعہ وین سفر کرکے شکاگو پہنچ چکے تھے۔ اُن کے ساتھ روانہ ہو کر ہم لوگ سب سے پہلے ڈاکٹر عبد اللہ غازی کے مرکز پہنچے۔یہاں ظہر کی نماز پڑھی گئی اور دوپہر کا کھانا کھایا گیا۔ اِس کے بعد ہم لوگ ہوٹل گئے۔ اِس کا انتظام اسنا (ISNA) والوں نے کیاتھا۔ ڈاکٹر عرفان عمر امریکا میں مقیم ہیں۔ وہ یکم جولائی 2011 کی شام کو ملاقات کے لیے آئے۔ اُن سے مختلف موضوعات پر بات ہوئی۔
امریکا کے مسلمانوں کی سب سے بڑی تنظیم اِسنا (ISNA) ہے۔ امریکامیں اس کا کام کافی پھیلا ہوا ہے۔ اس تنظیم کا پورا نام اِس طرح ہے:
Islamic Society of North America
جولائی 2011 کے پہلے ہفتے میں اس کا سالانہ پروگرام شکاگو میں ہوا۔ اِس موقع پر ہمارے ساتھیوں نے یہاں بک اسٹال لگایا۔ اِس اسٹال کے ذریعے بڑے پیمانے پر لوگوں کے ساتھ انٹریکشن ہوا اور قرآن اور دوسری کتابوں کی اشاعت ہوئی۔ اسنا (ISNA) کے اِس پروگرام میں مجھے ایک لیکچر دینے کے لیے مدعو کیا گیا تھا۔ یہ لیکچر انگریزی زبان میں تھا۔ اِس لیکچر کا عنوان یہ تھا:
Love of God
اِس پروگرام کا انتظام ایک بڑے ہال میں کیا گیا تھا۔ میرے سوا اِس میں دو اور مقرر تھے، ایک مرد اور ایک خاتون۔ یہ دونوں عرب تھے۔ تقریر کے بعد لوگوں کا عام تاثر یہ تھا کہ مذکورہ دونوں صاحبان کی بات غیر واضح تھی، چناں چہ وہ سمجھ میں نہ آسکی۔ میری تقریر کے بارے میں لوگوں کا تاثر یہ تھا کہ وہ پوری طرح واضح تھی اور وہ بخوبی طور پر سمجھ میں آئی۔
میری تقریر کا خلاصہ یہ تھا کہ خدا سے محبت کا ایک پہلو یہ ہے کہ بندے کو اپنے رب سے گہرا قلبی تعلق (strong affection) ہو۔ اِسی کو قرآن میں أشدّ حبًّا للہ (2: 165)کہاگیا ہے۔ خدا سے محبت کا دوسرا پہلو اتباعِ رسول ہے۔ اِس کو قرآن میں اِن الفاظ میں بتایا گیا ہے: قل إن کنتم تحبون اللہ فاتبعونی، یحببکم اللّٰہ (3: 31) یعنی کہو، اگر تم اللہ سے محبت کرتے ہو تو تم میری پیروی کرو۔ اللہ تم سے محبت کرے گا۔ اِس سلسلے میں، میں نے کہا کہ اتباعِ رسول کا سب سے بڑا پہلو یہ ہے کہ پیغمبرانہ نمونے کے مطابق، دعوت الی اللہ کا کام کیا جائے۔
2 جولائی 2011 کی صبح کو ناشتہ کے بعد ہوٹل کے کمرے میں میرے سب ساـتھی اکھٹا ہوئے۔ ان سے میں نے کچھ باتیں کیں۔ مثلاً میںنے بتایا کہ آج مجھ کو ہوٹل کے کمرہ سے باہر لے جایا گیا۔ یہ تقریباً آدھا کیلومیٹر کا فاصلہ تھا۔ کئی جگہ لفٹ استعمال ہوئی۔ میں نے کہا کہ پچھلے زمانوں میں نہ لفٹ ہوتی تھی اور نہ بلڈنگ کے فرش کو ہموار بنانے کا رواج تھا۔ یہ سب مغربی تہذیب نے کیا۔ میں نے کہا کہ انڈیا کا بادشاہ ہمایوں سیڑھیوں سے چڑھ کر ایک بلڈنگ سے نیچے اتر رہا تھا، وہ گر پڑا۔ اس کو سخت چوٹ آئی اور اس کی وفات ہوگئی۔ اِس قسم کا واقعہ اب پیش نہیں آتا۔ کیوں کہ آج کل آدمی لفٹ کے ذریعے بآسانی بلڈنگوں پر چڑھتا اترتا ہے۔ میں نے کہا کہ اس تقابل کو سامنے رکھ کر سوچئے تو آپ کو معلوم ہوگا کہ آپ کو آج قدیم زمانے کے بادشاہوں سے زیادہ سہولتیں ملی ہوئی ہیں۔
اس طرح کی ہزاروں چیزیں جدید مغربی تہذیب سے انسان کو ملی ہیں۔ اس کے باوجود ماضی پر فخر کرنا اور حال پر شکایت کرنا کتنا زیادہ عجیب ہے۔پھر میں نے کہا کہ اس دنیا میں پانے کی سب سے بڑی چیز شکر ہے۔ ایک حدیث کے مطابق، اگر آپ انسانوں کے بارے میں ناشکرگزار بنے ہوئے ہیں تو آپ خدا کے بارے میں بھی شکر گزار نہیں بن سکتے۔
میںنے کہا کہ دنیا کی زندگی میں ہمیشہ منفی تجربات ہوتے ہیں۔ ایسی حالت میںشکر گزاری کا جذبہ پیدا کرنے کے لیے بہت زیادہ جدوجہد کی ضرورت ہے۔ میںنے کہا کہ مثال کے طورپر آج کل کے مسلمان امریکا کے لیے سخت منفی جذبات رکھتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ امریکا نے عراق اور افغانستان پر بم باری کیوں کی۔ میں نے کہا کہ میں کبھی اس قسم کی بات نہیں کہتا، کیوں کہ مجھے اپنے آپ کو منفی جذبات سے آخری حد تک بچانا ہے۔
الرسالہ مشن سے وابستہ ایک صاحب نے کہا کہ امریکا میں ہم کس طرح کام کریں، وہ ہمیں بتائیے۔ میںنے کہا کہ اصل کام دعوت الی اللہ ہے۔ مگر اِس کام کو کرنے کے لیے کوئی متعین پروگرام نہیں بتایا جاسکتا۔ اس کے لیے تخلیقی ذہن درکار ہے۔اس کے لیے آپ اپنے اندر تخلیقی ذہن پیدا کیجئے۔ اس کے بعد آپ پروگرام ساز داعی بن جائیں گے۔
امریکا میں مقیم الرسالہ کے قاریوں نے اسنا کے فنکشن میں ایک اسٹال لگایا تھا۔ اس کے ذریعہ وہاں الرسالہ مشن کی کتابیں بڑی تعداد میں پھیلیں۔ ایک بار میں وہاں بیٹھا ہواتھا۔ میرے سامنے ایک شخص نے آکر قرآن کا انگریزی ترجمہ دیکھا اور پھر ترجمۂ قرآن کی 10 ہزار کاپی کا آرڈر دیا۔
2 جولائی 2011کی سہ پہر کو مسٹر غوری کی تنظیم کے تحت ایک پروگرام ہوا۔ اس کا موضوع تھا: سوشل ورک کی اہمیت۔ میں نے اپنی تقریر میں کہا کہ سوشل ورک کی بلا شبہہ اہمیت ہے، لیکن اس سے بھی زیادہ اہم یہ ہے کہ لوگوں کے اندر چیلنج کا جذبہ پیدا کرنے کی کوشش کی جائے۔ میں نے مختلف مثالوں کے ذریعہ اس کی وضاحت کی۔ آخر میں حاضرین کی طرف سے کچھ سوالات آئے۔ ایک سوال یہ تھا:
In what way can Muslims in India become a giver community?
اس کا جواب دیتے ہوئے میں نے کہا کہ انڈیا کے مسلمانوں کے لیے ایجوکیشن اور انڈسٹری جیسے سیکولر شعبوں میں بھی کام کرنے کے مواقع ہیں، لیکن دوسرا بڑا موقع یہ ہے کہ وہ دعوہ ورک کریں۔ دعوہ ورک کرنے والوں کا شمار بھی بلاشبہہ گِور گروپ(giver group) میں ہوگا۔
2 جولائی 2011 کو اسنا (ISNA) والوں کی طرف سے ایک بڑے ہال میں لنچ کا فنکشن تھا۔ یہاں بڑے پیمانے پر کھانے کا انتظام کیاگیا تھا۔ میںنے دیکھا کہ بہت زیادہ کھانا میزوں پر بچا ہوا پڑا ہے۔ اسٹیج سے کچھ تقریریں ہوئیں اور اسنا کے لیے فنڈ کی اپیل کی گئی۔ جب کوئی شخص کوئی رقم دینے کی بات کرتا مثلاً 25 ہزار ڈالر یا 50 ہزار ڈالر تو مقرر بلند آواز سے کہتے تکبیر، تکبیر۔ یہ منظر امریکا کے سوا مسلمانوں کے دوسرے اجتماعات میں بھی دکھائی دیتا ہے۔ یہ فنڈنگ تمام تر کمیونٹی سروس کے لیے تھی۔ لیکن اس کے لیے انفاق فی سبیل اللہ کی آیتیں زور وشور سے پڑھی جارہی تھیں۔
اسلام میں تکبیر کا مطلب اللہ کی بڑائی ہے، مگر موجودہ زمانے میں مسلمانوں کے اجتماعات میں تکبیر کے نعرے امت کی بڑائی یا اپنی کمیونٹی کی بڑائی کے لیے دھوم کے ساتھ بلند کیے جاتے ہیں، جو کہ عملاً اپنی کمیونٹی کو گلوری فائی کرنے کے ہم معنیٰ ہوتے ہیں۔
2 جولائی 2011 کی شام کو اپنے کچھ ساتھیوں سے بات کرتے ہوئے میں نے کہا کہ دعوت کے معاملے میں ہم کو حقیقت پسند بننا چاہیے۔ ہم جو دعوتی کام کررہے ہیں، اس کے دونشانے ہیں۔ ایک نشانہ ہے— اتمامِ حجت۔ اِس نشانے کو پورا کرنے کے لیے توسیع (expansion) کے اصول پر عمل کرنا ہے۔ دوسرا نشانہ ہے —افراد کو تلاش کرنا اور ان کو تربیت دینا۔ اِس دوسرے نشانے کے لیے ہمیں استحکام (consolidation) کے اصول کو اپنانا چاہیے۔
اِس بار امریکا میں میرا قیام نسبتاً زیادہ دن تک رہا۔ بار بار مختلف شہروں اور مختلف اداروں میں جانے کا اتفاق ہوا۔ میں نے محسوس کیا کہ پہلے امریکا کا نشانہ کمفرٹ (comfort) حاصل کرنا تھا، مگر اب وہ بڑھ کر اینٹی کمفرٹ (anti-comfort) تک پہنچ چکا ہے۔ مثلاً یہاں باتھ روم کے فرش، وغیرہ اتنے چکنے ہوتے ہیں کہ میں کئی بار پھسل گیا۔ یہاں کے کارپیٹ اور گدے اتنے موٹے ہوتے ہیں کہ اُس پر اپنے آپ کو جمانا مشکل ہوتاہے۔ یہاں کی کاریں اس طرح کی ہوتی ہیں کہ آدمی کو اپنے ہاتھ پاؤں بلکہ شاید عقل بھی استعمال نہ کرنا پڑے۔ کاریں تقریباً خود بخود سڑک پر دوڑتی ہیں۔ یہاں کی بلڈنگوں میں ضرورت سے زیاہ کنڈیشننگ کا عام رواج ہے۔ میںنے دیکھا کہ بلڈنگ کے باہر نہایت خوش گوار موسم ہے۔ مگر بلڈنگ میں داخل ہوتے ہی اتنی ٹھنڈک ہوتی تھی کہ میرے جیسا آدمی سخت پریشان ہوجائے۔ یہ بلا شبہہ کمفرٹ سے بڑھ کر اینٹی کمفرٹ اور لگزری سے بڑھ کر اینٹی لگزری ہے۔ میرے نزدیک، یہ ایک غیر فطری کلچر ہے۔
اِس مصنوعی اور غیر فطری کلچر نے امریکا کو دو بڑے نقصان سے دوچار کیا ہے— ایک ہے افراد کے اندر ذہنی ارتقا(intellectual development) کے عمل کارک جانا، اور دوسرا ہے قومی اور سیاسی برتری (political supremacy) کے حصول کے لیے ساری دنیا کو پرابلم میں مبتلا کردینا۔
اِس قسم کے مصنوعی کلچر کو باقی رکھنے کے لیے بھاری قیمت درکار ہوتی ہے۔ اس کے لیے امریکا کو یہ کرنا پڑتا ہے کہ وہ اپنی انڈسٹری کی مشین کو ضرورت سے زیادہ چلاتا ہے۔ اس کا نتیجہ خطرناک فضائی آلودگی (air pollution) کی صورت میں نکل رہا ہے۔
یہاں اپنے مشن کے ساتھیوں کی ایک مجلس میں میں نے کہا کہ آپ لوگوں کو ایک معاملے میں بہت زیادہ حساس ہونا چاہیے۔ وہ ہے— اپنے آپ کو بچاؤ (save yourself) کا اصول۔ میں نے کہا کہ تحریکوں کی تاریخ، مذہبی اور سیکولر، دونوں بتاتی ہے کہ قابلِ کار افراد صرف پہلے مرحلے میں ملتے ہیں، بعد کے مرحلے میں نہیں۔ مثلاً کمیونسٹ تحریک میں پہلے مرحلے میں اینجلز اور لینن جیسے لوگ ملے، مگر بعد کو ایسے لوگ کمیونسٹ تحریک کو نہ مل سکے۔ ہندستان کی تحریکِ آزادی میں پہلے مرحلے میں گاندھی اور نہرو جیسے لوگ ملے، مگر بعد کی تاریخ میں ایسے لوگ نہ مل سکے، وغیرہ۔
یہی حال اسلامی تاریخ کا بھی ہے۔ مثلاً پہلے مرحلے میں ابوبکر وعمر جیسے لوگ ملے، مگر بعد کے مرحلے میں ایسے لوگ نہ مل سکے۔ اِس معاملے میں ہماری دعوتی تحریک کوئی استثنا نہیں۔ اِس وقت ہماری تحریک پہلے مرحلے میں ہے۔ اِس وقت جو لوگ اِس تحریک کو ملے ہیں، وہی آخری لوگ ہیں، بعد کے مرحلے میں ایسے لوگ دوبارہ ملنے والے نہیں۔ اِس لیے آپ لوگ اپنی قیمت کو پہچانئے۔ آپ کسی بھی دوسرے تقاضے کے دباؤ کو ہرگز قبو ل نہ کیجئے، خواہ وہ خاندانی دباؤ ہو یاخاندان سے باہر کا کوئی دباؤ۔ آپ لوگ اِس دعوتی تحریک کا واحد سرمایہ (asset) ہیں۔ اِس مشن میں آپ کو ایک تاریخی رول ادا کرنا ہے۔ صحابہ کے واقعات بتاتے ہیں کہ وہ اِس راز کو جانتے تھے۔ چناں چہ انھوںنے اپنے مقصد کے سوا کسی بھی دوسرے تقاضے کا ہرگز اثر نہیں لیا۔ صحابہ کی یہی وہ صفت ہے جس کو قرآن میں أشداء علی الکفارکہا گیا ہے۔ اِس آیت میں أشداء کا مطلب معروف معنی میں، شدید نہیں ہے، بلکہ یہ غیر اثر پذیری کے معنی میں ہے، یعنی اصحابِ رسول کسی بھی حال میں کسی خارجی اثر یا دباؤ (pressure) کو قبول نہیں کرتے تھے۔
3 جولائی 2011 کی صبح کو میں ہوٹل ہییٹ (Hyat) میں اپنے کمرے کے باہر دھوپ میں بیٹھا ہوا تھا۔اُس وقت خواجہ کلیم الدین صاحب اور ڈاکٹر وقار عالم صاحب آئے۔ کلیم الدین صاحب نے مجھ کو دھوپ میں بیٹھا ہوا دیکھ کر کہا کہ درختوں کو فوٹو سنتھیسس (photo synthesis) کے عمل کے لیے دھوپ کا انتظار رہتا ہے۔ اِسی طرح آپ کو بھی دھوپ کا انتظار رہتا ہے، تاکہ آپ اسپریچول فوٹو سنتھیسس (spiritual photo synthesis) کاعمل انجام دے سکیں۔
دھوپ میں بیٹھنا مجھے پیدائشی طورپر پسند ہے۔ میں بچپن سے دھوپ میں بیٹھتا رہا ہوں۔ بچپن میں جب میں یوپی کے ایک گاؤں میں رہتا تھا، اُس وقت بھی میں گاؤں کے باہر بنے ہوئے ایک پل پر صبح شام جاکر دھوپ میں بیٹھا کرتا تھا۔ بعد کو مطالعے کے ذریعے مجھ کو معلو م ہوا کہ دھوپ میں بیٹھنا صحت کے لیے بہت مفید ہے۔ آج کل کی زبان میں اس کو غسلِ آفتابی (sun bath) کہتے ہیں۔
3 جولائی 2011 کی سہ پہر کو اسنا(ISNA) کے تحت یہاں کے ایک ہال میں ایک خصوصی پروگرام تھا۔ اس میں تین مصنفین کی کتابیں ٹیبل پر رکھی گئی تھیں اور اُن کو موقع دیاگیا تھا کہ وہ اپنی اپنی کتابوں پر تعارفی تقریر کریں اور اس کے بعد سوالات کا جواب دیں۔ پروگرام کا آخری جُز یہ تھا کہ لوگ کتابیں خرید کر مصنف سے اس کا آٹو گراف لیں۔ میرے پاس لوگوں کی لائن لگ گئی۔ بہت سے لوگوں نے یہاں سے میری انگریزی کتابیں خرید یں اور اُن پر میرا آٹو گراف لیا۔
شکاگو کے پروگرام میں میرے ساتھیوں نے وہاں ایک بک اسٹال لگایا۔ 4 دن کے اِس پروگرام میں کافی لوگ اسٹال پر آئے۔انھوںنے یہاں سے کتابیں خریدیں۔ یہاں بہت سے ایسے لوگ ملے جو مجھ کو پہلے سے جانتے تھے۔ یہ بہت بڑا پروگرام تھا۔ غیر معمولی طورپر وسیع ہال لوگوں سے بھرا ہوا تھا۔ ہر ملک کے مسلمان یہاں دکھائی دئے۔ مگر میرے تجربے کے مطابق، تقریباً سب کے سب لوگ یا تو انٹرٹینمنٹ کے لیے یہاںآئے تھے، یا شاپنگ کے لیے یا ڈونیشن کے لیے۔ میرے علم کے مطابق، یہاں صرف ہمارے ساتھیوں کا اسٹال مشن کے لیے تھا۔
یہاں ایک صاحب سے ملاقات ہوئی۔ انھوںنے بتایا کہ میرے ایک دوست کے لڑکے کا آج نکاح ہے۔ اس میں شرکت کے لیے میں شکاگو آیا ہوں۔ میں نے اُن کو بطور گفٹ دینے کے لیے تذکیر القرآن (انگریزی) لیا ہے۔ میں نے مزید اُن صاحب کو اپنی ایک نئی کتاب (The Secret of a Successful Family Life) دی۔ اِس کتاب پر میں نے حسب ذیل جملہ لکھ کر مذکورہ صاحب کو دے دیا:
Marriage is adjustment, and love marriage is extra adjustment.
یہاں ایک بک اسٹال پر میں بیٹھا ہوا تھا۔ دو مسلم نوجوان ملاقات کے لیے آئے۔ گفتگو کے دوران انھوںنے بتایا کہ 6 مہینے پہلے ان کا نکاح ہوا ہے، لیکن ہم دونوں روزانہ ایک دوسرے پر غصہ ہوتے ہیںاور باہم آرگومینٹ (argument) ہوتا رہتا ہے۔ اِس کی وجہ سے ہماری زندگی میں سکون نہیں ہے۔ انھوں نے کہا کہ ہم د ونوں پانچ وقت کی نماز پڑھتے ہیں، اِس کے باوجود جھگڑا ختم نہیں ہوتا۔
میںنے کہا کہ آپ لوگ ریچول عبادت (ritual prayer) کرتے ہیں۔ آپ لوگ اسپریچول عبادت (spiritual prayer)نہیں کرتے۔ پھر میں نے کہا کہ اسپریچول عبادت کیا ہے۔ میں نے کہا کہ نماز میں آپ بار بار اللہ اکبر کہتے ہیں۔ اس کا مطلب ہے — اللہ بڑا ہے۔ مگر اِس میں ایک اور بات چھپی ہوئی ہے، اور وہ یہ کہ میں بڑا نہیں ہوں۔میں نے کہا کہ اِس کا مطلب یہ ہے کہ آپ کے اندر ماڈسٹی (modesty) پیدا ہو۔ اگر ماڈسٹی آجائے تو جھگڑا اپنے آپ ختم ہوجائے گا۔
3 جولائی 2011 کی شام کو کئی لوگ ملاقات کے لیے ہوٹل میں آگئے۔ ان سے دیر تک گفتگو ہوتی رہی۔ میںنے ایک بات یہ کہی کہ عام طور پر لوگ ناقص رپورٹنگ کرتے ہیں۔ مثلاً میاں بیوی کے درمیان جھگڑے ہوتے ہیں۔ مگر جب وہ رپورٹ کرتے ہیں تو ہمیشہ یک طرفہ رپورٹ کرتے ہیں، جس سے معلوم ہوتا ہے کہ سارا مسئلہ صرف کسی ایک فریق کی غلطی کی وجہ سے ہوا ہے۔ حالاں کہ اِس دنیا میں کبھی کوئی مسئلہ یک طرفہ نہیں ہوتا، مسائل ہمیشہ دو طرفہ سبب سے پیدا ہوتے ہیں۔ اِسی غلط ذہنیت کا نتیجہ ہے کہ مسئلہ کبھی ختم نہیں ہوتا، بلکہ وہ ہمیشہ بڑھتا رہتا ہے۔
اسنا (ISNA) کے اِس فنکشن میںایک بہت بڑے ہال کے اندر بازار لگا ہوا تھا۔ یہاں بہت سے اسٹال تھے، جس میں طرح طرح کی چیزیں فروخت ہورہی تھیں۔ یہاں اسٹال کے نام عجیب وغریب تھے۔ مثلاً ایک اسٹال کا نام اسلام فیشن (Islam Fashion) تھا۔ ایک اور اسٹال کانام قرآن اسمارٹ (Quran Smart) تھا۔ ایک اور اسٹال پر اللہ اکبر، لا الٰہ الا اللہ کی دھن میں گیت بج رہا تھا۔ اِسی طرح یہاں مختلف ناموں سے لوگ ڈونیشن لے رہے تھے۔ کوئی اسکول کے نام سے، کوئی مسجد کے نام سے، کوئی ریلیف ورک کے نام سے، وغیرہ۔ اِسی طرح کے ایک اسٹال پر یہ بورڈ لگا ہوا تھا:
Ummah Relief International
اِس سے اندازہ ہو اکہ آج کل مسلمانوں کے درمیان اسلام کے نام پر بہت سے کام ہورہے ہیں، مگر اسلام کی اسپرٹ بظاہر کہیں دکھائی نہیں دیتی۔
اسنا(ISNA) کے فنکشن میں ایک انوکھی بات یہ دکھائی دی کہ اس میں کثرت سے ایسے مسلمان ملے جو نو مسلم تھے۔ اِس میں سیاہ فام اور سفید فام دونوں طرح کے لوگ تھے۔ کہاجاتا ہے کہ امریکا میں لوگ کثرت سے اسلام قبول کررہے ہیں۔
ہوٹل کے کمرہ میں 4 جولائی 2011 کی صبح کو میری آنکھ کھلی۔ ابھی میں بستر پر تھا اور لیٹے لیٹے سفر کے بارے میں سوچ رہا تھا۔ اچانک خیال آیا کہ انسان عجیب وغریب طورپر دو مختلف چیزوں کا مجموعہ ہے — ایک، دماغ اور دوسرے، جسم۔ ایک طرف، اس کے اندر سوچنے والا دماغ (thinking mind) ہے، اور دوسری طرف اس کا ورکنگ جسم (working body) ہے۔
یہ انسان کے ساتھ خالق کا عجیب معاملہ ہے۔ کائنات میں ایک طرف پہاڑ اور دریا جیسی مادی چیزیں ہیں۔ ان کے پاس گویا صرف ورکنگ باڈی ہے۔ اِس کے بعد حیوانات ہیں۔ ان کے پاس ورکنگ باڈی ہے، اور سوچنے کی طاقت اتنی کم ہے کہ ان کا دماغ بھی گویا ورکنگ دماغ کی حیثیت رکھتا ہے۔ اس کے بعد انسان ہے جس کے پاس پورے معنوں میں ایک تھنکنگ دماغ ہے اور پورے معنوں میں ایک ورکنگ باڈی ۔ انسان کی یہی امتیازی صفت ہے جس کی بنا پر قرآن میں انسان کے بارے میں کہا گیا ہے کہ اس کو احسنِ تقویم کے ساتھ پیدا کیاگیا ہے۔ اِسی احسنِ تقویم کی بنا پر انسان کے لیے دو چیزیں ممکن ہوتی ہیں — پہلے پلاننگ کرنا اور پھر اس کو عمل میں لانا۔ بیک وقت یہ دونوں چیزیں انسان کے سوا کسی دوسری مخلوق میں نہیں پائی جاتیں۔
امریکا کے اِس سفر میں، میں مختلف مقامات پر گیا اور کثرت سے لوگوں سے ملاقاتیں ہوئیں۔ اِس سے اندازہ ہوا کہ امریکا میں بہت بڑی تعداد میں ایسے لوگ ہیں جو مجھ کو جانتے ہیں۔ اِن جاننے والوں میں ہندو بھی ہیں اورمسلمان بھی اور عیسائی بھی اور یہودی بھی۔ مگر تقریباً ہر ایک ’’ڈالر کلچر‘‘ میں اتنا زیادہ گم ہے کہ اس کو ہمارے دعوتی مشن میں اس کا ساتھ دینے کا موقع نہیں۔ وہ لفظی طورپر ہمارے مشن کی خوب تعریفیں کرسکتا ہے، مگر عملی طورپر کچھ کرنے کے لیے اس کے پاس وقت نہیں۔
امریکا کے اِس سفرمیں ایک بات کا مجھ کو شدت کے ساتھ احساس ہوا، وہ یہ کہ لوگوں میں دو قسم کے ذہن ہوتے ہیں — معمولی ذہن اور غیر معمولی ذہن۔ یہاں مجھے کئی ایسے لوگ ملے جو بظاہر دین کے کام میں لگے ہوئے تھے، مگر عام طورپر وہ اوسط ذہن کے تھے۔ جو زیادہ ذہین لوگ ہیں، وہ تقریباً سب کے سب مادی کلچر میں غرق ہیں۔ اُن کو دین کے بارے میں سوچنے کا موقع نہیں۔
اِس معاملے پر غور کرتے ہوئے مجھ کو حضرت عمر فاروق کا ایک قول یاد آیا۔ حضرت عمر نے لمبے تجربے کے بعد کہا تھا: اللہم إنی أعوذ بک من ضعف الأمین، وخیانۃ القوی (خدایا، میں تجھ سے پناہ مانگتا ہوں امانت دار شخص کے ضعف سے، اور قوی انسان کی خیانت سے)۔ گویا جو لوگ دین دار ہیں، وہ عام طور پر ضعیف العقل اور کمزور ہیں۔ اور جو قوی العقل ہیں، وہ دین دار نہیں۔
امریکا جانے سے پہلے، دہلی میں میں نے کئی لوگوں سے پوچھا کہ اس وقت امریکا کا موسم کیا ہے۔ سب لوگوں نے بتایا کہ یہاں اس وقت گرمی کا موسم ہے۔ چناں چہ میں اپنے ساتھ گرم کپڑے نہیں لایا۔ مگر امریکا آنے کے بعد مجھے معلوم ہوا کہ باہر کی دنیا میں تو ضرور گرمی ہے، مگر بلڈنگوں کی دنیا میں ائرکنڈیشننگ کی وجہ سے سردی۔ اس تجربہ کے بعد میں نے سوچا کہ انسان کی پلاننگ کیوں ناقص ہوتی ہے۔ اس کا سبب یہ ہے کہ وہ معاملہ کے صرف کچھ پہلوؤں کو جان پاتا ہے اور کچھ دوسرے پہلوؤں سے وہ بے خبر رہتا ہے۔ ہر پہلو سے کامل واقفیت کے بعد منصوبہ بندی کرنا صرف خدائے عالم الغیب کے لیے ممکن ہے۔ یہی وجہ ہے کہ انسانی دنیا میں ہمیشہ ناقص پلاننگ کے نتائج دکھائی دیتے ہیں، جب کہ نیچر میں منصوبہ بندی اتنی کامل ہے کہ اس میں کسی بھی قسم کا کوئی خلا اب تک دریافت نہ ہوسکا۔
ہوٹل میں جس اسٹوری (منزل) میں میراکمرہ تھا، اس میں میں نے دیکھا کہ 212 کے بعد 214 نمبر آگیا۔ درمیان میں 213 نمبر کمرہ موجود نہیں۔ میںنے یہاں کے لوگوں سے پوچھا کہ کمرہ نمبر 213 کیوں موجود نہیں۔ معلوم ہوا کہ امریکا میں 13 کے عدد کو منحوس عدد سمجھا جاتا ہے۔ اِس وجہ سے بلڈنگوں میں اسٹوری نمبر 13 نہیں ہوتی۔ اِسی طرح یہاں روم نمبر 13 بھی نہیں ہوتا۔
یہ یقینی طورپر توہم پرستی (superstition) کی بات ہے۔ امریکا جیسے ملک میں اِس قسم کی توہم پرستی عجیب ہے، مگر وہ بہت زیادہ عام ہے — صدر رونالڈ ریگن امریکا کے پریزیڈنٹ تھے ،لیکن ان کا یہ حال تھا کہ وہ سونے کا نعل اپنی کوٹ کی اندرونی جیب میں ہمیشہ رکھتے تھے۔ وہ اس کو اپنے لیے اچھا شگون (good omen) سمجھتے تھے۔ اِس قسم کی توہم پرستی ساری دنیا میں عام ہے، حتی کہ موجودہ زمانے کے مسلمانوں میں بھی اِس طرح کی توہم پرستی کی مثالیں کثرت سے پائی جاتی ہیں۔
اصل یہ ہے کہ زندگی میں بار بار انسان یہ تجربہ کرتاہے کہ یہاں کوئی نامعلوم عامل (unknown factor) ہے جو ہمارے کنٹرول سے باہر ہے۔ خدا پرسچا عقیدہ رکھنے والا اُس کو خدا سے منسوب کرکے توجیہہ کرلیتاہے، لیکن جو لوگ خدا کو نہ مانیں، وہ اس کی توجیہہ نہیں کر پاتے۔ نتیجہ یہ ہوتاہے وہ توہم پرستانہ نظریات کے تحت اس کی توجیہہ کرنے لگتے ہیں۔
4 جولائی 2011 کی صبح کو اسنا (ISNA) کے بانی ڈاکٹر سید سعید (70 سال) ہوٹل میں مجھ سے ملاقات کے لیے آئے۔ وہ میرے مشن سے اور میرے حالات سے واقف تھے۔ انھوں نے میری استقامت کا اعتراف کیا۔ انھوںنے کہا کہ آپ کے بعض نظریات کی بہت زیادہ مخالفت ہوئی، لیکن آپ اپنے اصول پر قائم رہے۔ اب یہ حال ہے کہ عام طورپر لوگ آپ کے نظریات سے اتفاق کررہے ہیں۔ گفتگو کے دوران انھوںنے کہا کہ ہمارے پاس انفراسٹرکچر ہے اور آپ کے پاس لٹریچر ہے۔ ہم چاہتے ہیں کہ ہمارے اور آپ کے درمیان تعاون کی صورت پیدا ہو۔ اِس سے دعوتی اعتبار سے دونوں کو فائدہ ہوگا۔ انھوںنے ہمارے مشن سے پوری طرح اتفاق کیا۔ انھوںنے دعوت دی کہ میں دوبارہ امریکا آؤں اور اسنا (ISNA) کے پروگرام میں شرکت کروں۔
9/11 کے بعد عام طورپر مسلمانوں کو شبہہ کی نظر سے دیکھا جانے لگا۔ اُن کو محسوس ہوا کہ اِس سے پہلے ہم امریکا میں عزت کے ساتھ رہ رہے تھے، اب ہم کو ذلت کے ساتھ رہنا پڑے گا۔ اِس وقت یہاں کے مسلمانوں میں ایک نیا ذہن پیدا ہوا ہے۔ انھوں نے اب بھی مسلم ملٹنسی کو کھلے طورپر کنڈم نہیں کیا ہے، البتہ انھوںنے یہ کیا ہے کہ پیچ اپ (patch up) کرکے ایک درمیانی راستہ نکالا ہے۔ مثلاً کرسچن پڑوسی کو پھول کا تحفہ پیش کرنا، انٹر فیتھ ڈائلاگ کرکے اس میں خوش نما تقریریں کرنا، اکیڈمیوں میں داخل ہو کر ٹالرنس کے موضوع پر مقالات لکھنا اور لکچر دینا، کچھ ظاہری کارروائی کرکے یہ ظاہر کرنا کہ ہم امریکا کے وفادار شہری ہیں۔ اِسی طرح امریکا کے بڑے بڑے لیڈروں کو مسلم اداروں میں بلا کرتقریریں کروانا، امن کے موضوعات پر ڈاکومنٹری بنانا،وغیرہ۔
ایک مسلمان سے ملاقات ہوئی۔ میں نے پوچھا کہ آج کل امریکی مسلمانوں کی کوششوں کا خاص نشانہ کیا ہے۔ انھوںنے کہا کہ — ہم چاہتے ہیں کہ امریکا میں اسلام کو باعزت جگہ ملے:
We want a dignified presence of Islam in America.
میں نے کہا اِس قسم کی نمائشی تدبیروں سے کچھ ہونے والا نہیں۔ اصل یہ ہے کہ آپ مسلم ملٹنسی کو کھلے طورپر کنڈم کریں۔ ماضی کی غلطی کو مانتے ہوئے صحیح معنوں میں امن پسند بنیں۔ مزید یہ کہ آپ پُرامن دعوہ ورک کریں۔ دعوہ ورک آپ کو اِس ملک میں دینے والا گروپ (giver group) بنا دے گا۔ جب تک آپ دینے والے (giver) نہ بنیں، آپ کو عزت کا مقام ملنے والا نہیں۔
میں نے کہا کہ مذکورہ جملے میں ’’اسلام‘‘ کی جگہ ’’مسلم‘‘ رکھ دیجئے تو یہاں کے مسلمانوں کی سرگرمیوں کا مشترک ٹائٹل مل جاتا ہے۔ ان سرگرمیوں کا اصل نشانہ امریکی مسلمانوں کو باعزت زندگی دلانا ہے، لیکن اس کو اسلام کا نام دے دیاگیا ہے۔ اس قسم کی کلچرل سرگرمیوں سے مسلمانوں کو باعزت زندگی حاصل ہونے والی نہیں۔ باعزت زندگی کا راز صرف ایک ہے، اور وہ ہے دعوت الی اللہ کاکام انجام دینا۔
عرصہ ہوا امریکا میںایک ادارہ قائم ہوا تھا۔ اِس ادارے کا نام یہ تھا:
Islamization of Knowledge
اِس ادارے کو مسلمانوں کا بڑاتعاون حاصل ہوا۔ اِس ادارے کے ایک ممبر سے ملاقات ہوئی۔ میںنے اُن سے پوچھا کہ آپ کو لمبی مدت تک کام کرنے کا موقع ملا۔ یہ بتائیے کہ اس کا مثبت نتیجہ کیا نکلا۔ مگر وہ کوئی خاص بات نہ بتا سکے۔موجودہ زمانے کے مسلمانوں کا حال یہ ہے کہ وہ اُن کاموں میں خوب تعاون کرتے ہیں جس میں اُن کو مسلم فخر کی غذا ملتی ہو۔ مثلاً اسلامائزیشن آف نالج، اسلامائزیشن آف بینکنگ، اسلامائزیشن آف پالٹکل سسٹم، وغیرہ۔ حقیقت یہ ہے کہ اصل کام اسلامائزیشن آف مین (Islamization of man) ہے، یعنی اسلامی بنیادوں پر ربانی شخصیت کی تعمیر، مگر اِس کام سے غالباً کسی مسلمان کو کوئی دلچسپی نہیں۔
میرے ہوٹل کے کمرے میںایک بڑے سائز کا ٹی وی رکھا ہوا تھا۔ ہمارے ساتھی نے ایک بار اس کو کھولا تو اسکرین پر بڑے حروف میں یہ الفاظ لکھے ہوئے تھے:
Welcome Maulana Wahiduddin Khan to the Hyat Regency.
ہوٹل کے ایک رکن نے بتایا کہ ہمارے ہوٹل میں جب کسی ملک کی کسی خاص شخصیت کا قیام ہوتا ہے تو ہم اِس طرح اس کا استقبال کرتے ہیں، تاکہ ہوٹل میں قیام پذیر لوگوں کو اِس کا علم ہوجائے۔
ایک صاحب جو پاکستان سے آکر یہاں مقیم ہوئے ہیں، انھوںنے کہا کہ میں نے سنا ہے کہ آپ یہ کہتے ہیں کہ امریکا میں مقیم مسلمانوں کے اندر حبِ وطن کا جذبہ نہیں ہے۔ آپ کا یہ کہنا صحیح نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ یہاں کے مسلمانوں کے اندر امریکا کے لیے حب وطن کا جذبہ پوری طرح موجود ہے۔ میں اس کا ثبوت دیتاہوں۔ میری ایک بیٹی جو امریکا میں پیداہوئی، وہ میرے ساتھ پاکستان گئی۔ وہاں اس نے کہا کہ میں امریکا کو مِس (miss) کر رہی ہوں۔
میں نے کہا کہ یہ آپ کی غلط فہمی ہے۔ آپ کی بیٹی امریکا کو مس نہیں کررہی تھی، بلکہ وہ اُس پرعافیت زندگی کو مس کررہی تھی جو اُس کو پاکستان میں حاصل نہیں تھی۔ میںنے کہا کہ آپ لوگ حقیقتِ واقعہ کو نہیں مانتے، اور حقیقتِ واقعہ کو نہ ماننا ہمیشہ ڈبل اسٹینڈرڈ بننے کی قیمت پر ہوتا ہے۔ اور بلاشبہہ اِس سے زیادہ بری کوئی اور چیز نہیں۔
4 جولائی 2011 کی سہ پہر کو ہم لوگ شکاگو کا مشہور سیرس ٹاور(Sears Tower) دیکھنے گئے۔ اِس ٹاور کا موجودہ نام ولس ٹاور (Willis Tower) ہے۔ اِس کی 103 منزلیں ہیں۔ نیویارک کا ورلڈ ٹریڈ ٹاور، ٹون ٹاور (Twin Tower) تھا۔ شکاگو کا یہ ٹاور، سنگل ٹاور (Single Tower) ہے۔
لفٹ کے ذریعے ہم لوگ اس ٹاور کے اوپر گئے۔ اوپر سے دیکھنے میں نیچے کی چیزیںچھوٹی نظر آتی ہیں۔ اِس ٹاور کے اوپر پہنچ کر مجھے یاد آیا کہ 11 ستمبر 2001 کو امریکا کے کچھ مخالفین نے نیویارک کے ٹاور کو ہوائی جہاز سے ٹکرا کر ڈھادیا۔مگر شکاگو ٹاور اپنی شان وشوکت کے ساتھ اب بھی موجود ہے۔ اُس وقت مجھے یاد آیا کہ جب برطانیہ کاکوئی بادشاہ مرتاہے تو وہ کہتے ہیں:
The king is dead, long live the king!
یعنی بادشاہ مرگیا، بادشاہ ہمیشہ زندہ رہے۔ اِسی طرح یہ کہنا درست ہوگا کہ:
American tower is demolished, long live the American tower.
سیرس ٹاور (Sears Tower) کی بلڈنگ کو ایک مسلمان نے بنایا تھا۔ اُن کا نام یہ تھا— فضل الرحمن خاں۔ ٹاور کے فرسٹ فلور پر مٹل (metal) کا ایک اسٹیچو فضل الرحمن خاں کا بنا ہوا تھا۔ اس اسٹیچو کے نیچے یہ الفاظ لکھے ہوئے تھے:
The Structural Engineers Association of Illinois Recognizes Fazlur Rahman Khan as one of the great structural engineers of our time. (Chicago, April, 1988)
فضل الرحمن خاں آرکیٹیکچرل انجینئر تھے۔ وہ بنگلہ دیش میں پیدا ہوئے۔ 1982 میں ان کا انتقال ہوگیا، جب کہ اُن کی عمر صرف 52 سال تھی۔ ان کا انتقال ہارٹ اٹیک میں ہوا تھا۔ ہارٹ اٹیک کا سبب اکثر اسٹریس (stress) ہوتا ہے، اور اسٹرس کا سبب اسپریچویلٹی سے محرومی ہے۔ فضل الرحمن خاں کے اسٹریس کا سبب غالباً یہ تھا کہ وہ معیار پسندی کی حد تک ہیومنسٹ (Humanist) تھے۔ میں نے سوچا کہ فضل الرحمن خاں نے فزیکل ٹاور بنایا، لیکن وہ غالباً اسپریچول ٹاور نہ بنا سکے۔ یہ ایک عجیب سبق ہے جو اُن کی زندگی سے ملتاہے۔
انجینئر فضل الرحمن خاں کے معاملے میں امریکا نے جس اعلیٰ اعتراف اور قدردانی کا ثبوت دیا ہے، اُس سے اندازہ ہوتا ہے کہ امریکا کی ترقی کا راز کیا ہے۔ وہ راز ایک لفظ میں امتیاز (excellence) ہے۔ امریکا میں امتیازی لیاقت کو فوقیت دی جاتی ہے۔ جس شخص کے اندر یہ صلاحیت ہو، وہ خواہ کسی بھی گروہ سے تعلق رکھتا ہو، اس کو امریکا میں اپنی صلاحیت کی بھر پور قیمت ملے گی۔
سیرس ٹاور سے واپسی کے بعد میں ہوٹل ہییت سے ہلٹن ہوٹل میں چلا گیا۔ کیوں کہ ہمارے دوسرے ساتھی اِسی ہوٹل میں مقیم تھے۔ ایک رات ہلٹن میں رہ کر صبح کو دہلی کے لیے روانگی ہوئی۔
5 جولائی 2011 کو صبح کا وقت ہے۔ میں ہلٹن ہوٹل کی ایک بڑی کھڑکی کے پاس بیٹھا ہوں۔ سورج کی روشنی میں باہر کی تمام چیزیں صاف دکھائی دے رہی ہیں۔ یہ ہوٹل شکاگو ائر پورٹ کے بہت قریب ہے، اس لیے یہاں جہاز کی پرواز بہت نیچی ہوجاتی ہے۔ ایک طرف سڑکوں پر کاریں دوڑتی ہوئی نظر آتی ہیں۔ دوسری طرف ہوائی جہاز فضا میں چڑیوں کی طرح اوپر اڑتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ کل میں سمندر کے کنارے گیا تھا۔ وہاں ساحل پر سمندر کے کنارے ہر طرف بحری جہاز دکھائی دے رہے تھے۔ اِن مناظر کو دیکھ کر مجھ کو قرآن کی یہ آیت یاد آئی: ولقد کرمنا بنی آدم وحملناہم فی البر والبحر (17: 70)
امریکا کے سفر میں میں جہاں بھی گیا، ہرجگہ ہندستان اور پاکستان کے لوگ کثرت سے ملے۔ دونوں ملکوں کے لوگ بڑی تعداد میں آکر یہاں آباد ہوئے ہیں اور اکثر وہ اپنی فیملی کے ساتھ یہاں رہتے ہیں۔ یہ کوئی سادہ بات نہیں۔ 1947سے پہلے انڈیا اور پاکستان دونوں جگہ کے رہنما رومانٹک باتیں کرتے تھے۔ انڈیا کے لیڈر یہ کہتے تھے کہ آزادی کے بعد وہ انڈیا میں سوشلسٹ نظام بنائیں گے، اور پاکستان کے لیڈریہ کہتے تھے کہ پاکستان بننے کے بعد وہاں اسلامی نظام بنایا جائے گا۔ دونوں جگہ کے لیڈر مشترک طورپر امریکی ماڈل کے خلاف بولتے تھے، جو کہ اُن کے نزدیک سرمایہ داری اور پرائیویٹ اکانمی کے اصول پر مبنی تھا۔ مگر 1947 کے بعد دونوں جگہ کے لوگ بڑی تعداد میں اپنے ملک کو چھوڑ کر امریکا چلے گئے۔مگر امریکا میں مقیم انڈیا اور پاکستان کے لوگوں میں سے کوئی بھی شخص مجھے نہیں ملا جو یہ مانے کہ 1947 سے پہلے ہم غلطی پر تھے۔ سب کا حال یہ ہے کہ وہ اپنے لیڈروں کی غلطی کو مانے بغیر امریکا میں اپنی فیملی کے لیے جگہ بنانے میں مشغول ہیں۔ یہ لوگ اگر اپنی غلطی کو مان لیتے تو ان کے لیے یہاں رہناجائز ہوتا۔ لیکن اپنی غلطی کو مانے بغیر اس طرح امریکا میں آباد ہونا صرف دہرا پن ہے، اور دہرا پن بلا شبہہ اعلیٰ شخصیت کی تعمیر میں سب سے بڑی رکاوٹ کی حیثیت رکھتا ہے۔
5 جولائی 2011 کو ہم لوگ صبح کو 11 بجے ہلٹن ہوٹل سے نکل کر ائر پورٹ کے لیے روانہ ہوئے۔ یہ ہوٹل، ائر پورٹ سے بہت قریب ہے۔ ائر پورٹ پر اقبال صاحب اور ان کی فیملی کے دوسرے ممبران ملاقات کے لیے آئے۔ وہ سب کے لیے کھانا لے کر آئے تھے۔ کھانے سے فراغت کے بعد یہاں ایک مختصر کلاس ہوئی۔ تقریباً 15 افراد تھے۔ ان میں عورتیں اور مرد دونوں تھے۔ میں نے حدیث: ذاق طعم الإیمان، مَن رضی باللہ ربًّا، وبالإسلام دینًا، وبمحمد رسولاً (صحیح مسلم،رقم الحدیث: 34) کی روشنی میں آدھ گھنٹہ تقریر کی۔ اِس میں تزکیہ اور تربیت کے اعتبار سے میں نے چند باتیں کہیں۔ یہ تقریر اُسی وقت رکارڈ کر لی گئی۔
شکاگو سے دہلی کے لیے ڈائرکٹ فلائٹ ہے جو تقریباً 13 گھنٹے میں دہلی پہنچتی ہے۔ یہ فاصلہ تقریباً 13 ہزار کلو میٹر ہے۔ یہ ایک نان اسٹاپ پرواز ہے۔ راستے میں مجھ کو نیند آگئی۔ بہت دیر تک میں سوتا رہا۔ اِس طرح آسانی کے ساتھ راستہ طے ہوگیا۔
دہلی سے شکاگو کے سفر میں ایک واقعہ پیش آیا۔ ہمارے قریب بزنس کلاس کی تین سیٹ ایک شخص کے پاس تھی— اُس کے لیے، اُس کی بیوی کے لیے اور اس کے چھوٹے بچے کے لیے۔ بچہ غالباً دو سال کا تھا۔ بچہ کسی وجہ سے مسلسل روتا چلاتا رہا۔ اس کی ماں گھنٹوں اس کو گود میں لے کر بہلاتی رہی، لیکن وہ چپ نہیں ہوتا تھا۔ گھنٹوں کے بعد غالباً بچہ تھک کر سوگیا۔ اس کی ماں ذرا بھی غصہ نہ ہوئی اور نہ اس نے کسی قسم کی پریشانی کا اظہار کیا۔ وہ نارمل طریقے سے بچے کو چپ کرانے کی کوشش کرتی رہی۔ جہاز جب دہلی ائرپورٹ پر اترا تو ڈاکٹر فریدہ خانم، قرآن کے انگریزی ترجمے کا ایک نسخہ لے کر اُس عورت کے پاس گئیں۔ انھوںنے اس کو قرآن کا ترجمہ دیااور کہا:
I admire your patience. Here is a gift for you.
اُس عورت نے نہایت شوق سے قرآن کا نسخہ لیا۔ عورت انڈین تھی اور اس کا شوہر امریکن تھا۔
یہ ایک سادہ واقعہ ہے، لیکن اس میں بہت بڑا سبق ہے، وہ یہ کہ قرآن کا انگریزی ترجمہ جب چھپ کر تیار ہوچکا ہے تو اس کے بعد کسی کو کچھ زیادہ کرنے کی ضرورت نہیں۔ اب آدمی کو صرف یہ کرنا ہے کہ وہ موقع کے لحاظ سے تالیفِ قلب کا ایک جملہ بولے اور قرآن کا ایک نسخہ مخاطَب کو پیش کردے۔
15 جون 2011 کو میں دہلی سے امریکا گیا۔ 6 جولائی 2011 کو دوبارہ دہلی واپسی ہوئی۔ تین ہفتہ کے سفر کے بعد جب میں دہلی واپس آیا تو میں نے پایا کہ سفر سے پہلے جو کچھ مجھے دہلی میں ملا ہوا تھا، وہ دوبارہ میرے لئے اُسی طرح یہاں موجود تھا۔ اِس تجربے سے میری سمجھ میں آیا کہ کیا وجہ ہے کہ لوگ موت کے واقعہ سے بالکل بے خبر رہتے ہیں۔ وہ ہر سفر کے بعد جب واپس آتے ہیں تو وہ دیکھتے ہیں کہ سب کچھ پہلے کی طرح یہاں ان کے لیے موجود ہے۔ اِس طرح غیر شعوری طورپر ان کے ذہن میں یہ بات بیٹھ جاتی ہے کہ موت کے بعد بھی اُن کو وہ سب کچھ اسی طرح حاصل رہے گا جو موت سے پہلے ان کو یہاں حاصل تھا۔
آدمی شام کے وقت سوتا ہے پھر صبح کے وقت جب وہ اٹھتاہے تو وہ پاتا ہے کہ وہ سب کچھ دوبارہ یہاں اس کے لیے موجود ہے جو شام کو سونے سے پہلے اس کو ملا ہوا تھا۔ وہ صبح کو اپنی زندگی کا ایک سفر شروع کرتا ہے اور جب شام ہوتی ہے تو وہ دیکھتا ہے کہ جو کچھ اس کو صبح کے وقت ملا ہوا تھا، وہ شام کے وقت دوبارہ اس کو ملا ہوا ہے۔ یہ صورتِ حال آدمی کے اوپر روزانہ گزرتی ہے۔ یہ گویا ایک کنڈیشننگ ہے جو ہر عورت اور مرد کے ساتھ روزانہ پیش آتی ہے۔ یہی کنڈیشننگ موت سے غفلت کی سب سے بڑی وجہ ہے، حتی کہ لوگ دوسر وں کو مرتے ہوئے دیکھتے ہیں تب بھی وہ خود اپنے بارے میں سوچ نہیں پاتے کہ انھیں بھی ایک دن مرنا ہے اور مرنے کے بعد سب کچھ چھوڑ کر دنیاسے چلے جانا ہے۔
حدیث میں آیا ہے کہ موت کو بہت زیادہ یاد کرو۔ اس کا مطلب دوسرے لفظوں میں یہ ہے کہ موت کے بارے میں اپنے کنڈیشنڈ مائنڈ (conditioned mind) کی بہت زیادہ ڈی کنڈیشننگ (deconditioning) کرو۔ ہر آدمی کو چاہیے کہ وہ اِس معاملے میںاپنے شعور کو بیدار کرے، وہ اِس معاملے میں اپنی کنڈیشننگ کو بہت زیادہ توڑے۔
تین ہفتے کے بیرونی سفر کے بعد6 جولائی 2011 کی شام کو جب میں اپنے وطن دہلی واپس آیا تو یہ میرے لیے وہ تجربہ تھا جس کو ہوم کمنگ (home coming) کہاجاتا ہے۔ سچے اہل ایمان کے لیے موت کے بعد آخرت کی دنیا میں داخل ہونا بھی اِسی طرح ہوم کمنگ کا ایک تجربہ ہوگا۔ انسان کو اللہ نے ایک جنتی مخلوق کی حیثیت سے پیدا کیا ہے اور موجودہ دنیا میں اس کو امتحان کے لیے رکھ دیا ہے۔ جو لوگ اِس امتحان میں پورے اتریں، وہ موت کے بعد جنت میںاِس طرح داخل ہوں گے، جیسے کوئی مسافر لمبے سفر کے بعد اپنے مانوس گھر میں داخل ہوتا ہے۔ یہی وہ حقیقت ہے جس کو ایک حدیثِ رسول میں اِن الفاظ میں بیان کیاگیا ہے: والذی نفسی بیدہ، أن أحدہم بمنزلہ فی الجنۃ أہدی منہ بمنزلہ الذی کان فی الدنیا (دنیا میں کوئی شخص جس طرح اپنے گھر کو پہچانتا ہے، جنت میں جانے والا شخص اُس سے زیادہ وہاں اپنے گھر کو پہچان لے گا)۔
واپس اوپر جائیں

کائنات پر کنٹرول

قرآن کی پہلی آیت یہ ہے: الحمد للہ رب العالمین (1:1) یعنی ساری حمد اللہ رب العالمین کے لیے ہے۔ یہ دراصل وہ کلمہ ہے جو آدمی کی زبان سے اُس وقت بے اختیارانہ طورپر نکل پڑتا ہے، جب کہ وہ کائنات کا مشاہدہ کرے۔ دور بینی مشاہدہ بتاتا ہے کہ کائنات ناقابلِ قیاس حد تک وسیع اور عظیم ہے۔ دوسری طرف، خورد بینی مطالعہ بتاتاہے کہ ناقابلِ مشاہدہ کائنات بھی اتنا ہی زیادہ عظیم ہے جتنا کہ قابلِ مشاہدہ کائنات۔ ساری ترقیوں کے باوجود ابھی تک انسان نہ کائنات کی وسعتوں کا اندازہ کرسکا ہے اور نہ وہ کائنات کی عظمتوں کو دریافت کرنے میں کامیاب ہوسکا ہے۔
یہ وسیع اور عظیم کائنات مسلسل طورپر متحرک ہے۔ اس کے اندر ہر لمحہ انتہائی با معنی قسم کی سرگرمیاں (meaningful activities)جاری ہیں۔ مطالعہ مزید بتاتاہے کہ یہ اتھاہ کائنات مکمل طور پر ایک بے نقص کائنات (faultless universe) ہے۔ بے نقص حالت میں کائنات کا اِس طرح قائم رہنا صرف اُس وقت ممکن ہے، جب کہ اِس نظام میں کوئی ادنیٰ تغیّر (alteration) نہ آئے۔ کائنات کے اندر ایک ادنیٰ تغیر بھی اس کے پورے نظام کو درہم برہم کرسکتا ہے۔
جدید مطالعہ بتاتا ہے کہ کائنات ناقابل قیاس حد تک وسیع ہونے کے باوجود آخری حد تک ایک ہم آہنگ (harmonious)کائنات ہے۔ وہ مکمل طورپر ایک واحد فورس سے کنٹرول ہورہی ہے۔ اس کے تمام اجزا ایک دوسرے سے کامل طور پر جڑے ہوئے ہیں۔
کائنات کی اِس عالمی ہم آہنگی پر تمام سائنس داں حیرت زدہ ہیں۔ ان کی سمجھ میں نہیں آتا کہ اِس غیر معمولی ہم آہنگی کی توجیہہ کس طرح کی جائے۔ کائنات کے اندر یہ بے پناہ نظم اِس بات کا ثبوت ہے کہ یہ کائنات ایک قادرِ مطلق خدا کے زیرانتظام ہے۔ اگر ایسا نہ ہو تو پوری کائنات ایک لمحے کے اندر منتشر ہو کر رہ جائے۔ کائنات کے اندر یہ کامل ہم آہنگی صرف اُس وقت ممکن ہے، جب کہ اُس کا ناظم اپنے اندر قدرتِ کاملہ کی صفت رکھتا ہو۔
واپس اوپر جائیں

جنت اور انسان

جنت اور انسان ایک دوسرے کا مثنیٰ (counterpart) ہیں۔ دونوں ایک دوسرے کے لیے تکمیلی (complementary) چیز کی حیثیت رکھتے ہیں۔ جنت انسان کے لیے بنائی گئی ہے اور انسان جنت کے لیے۔ حقیقت یہ ہے کہ — جنت مطلوبِ انسان ہے اور انسان مطلوبِ جنت۔ انسان کے بغیر جنت ادھوری ہے، اور جنت کے بغیر انسان ادھورا۔ یہ بات خود تخلیقی منصوبے میں شامل ہے کہ اِس دنیا میں جنتی انسان تیار ہوں جو جنت کی ابدی دنیا میںبسائے جاسکیں۔
قرآن کی سورہ النساء میں یہ آیت آئی ہے: ما یفعل اللہ بعذابکم إن شکرتم واٰمنتم، وکان اللہ شاکراً علیما (4: 147) یعنی اللہ تم کو عذاب دے کر کیا کرے گا، اگر تم شکر گزاری کرو اور ایمان لاؤ۔اللہ بڑا قدرداں ہے، وہ سب کچھ جاننے والا ہے۔
اِس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ کے تخلیقی منصوبے کا تقاضا اِس طرح پورا نہیں ہوتا کہ لوگ بُرے اعمال کرکے اپنے آپ کو جہنم کا مستحق بنا لیں۔ اللہ کا تخلیقی منصوبہ یہ چاہتا ہے کہ لوگ اپنے آپ کو جنت کا مستحق ثابت کریں اور پھر آخرت میں پہنچ کروہ جنت کے باغوں میں آباد ہوں۔
مفسر ابوالبرکات النسفی (وفات: 1310 ء) نے مذکورہ آیت کی تشریح کے تحت لکھا ہے: الإیمان: معرفۃ المنعم، والشکر: الاعتراف بالنعمۃ (تفسیر النسفی، 1/259 ) یعنی ایمان، منعم کی معرفت ہے، اور شکر، نعمت کے اعتراف کا نام ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ یہ دونوں چیزیں ایک دوسرے سے جُڑی ہوئی ہیں۔ ایمان کا مطلب یہ ہے کہ آدمی شعوری طور پر اپنے رب کو دریافت کرے، وہ مخلوق کے ذریعے خالق کا تعارف حاصل کرے۔ شکر کا مطلب خدا کی نعمتوں کا اعتراف ہے۔ اِس دنیا میں جو کچھ انسان کو ملا ہوا ہے، وہ سب خدائے برتر کا انعام (blessings)ہے۔ اِس انعام کے لیے دل سے منعم (giver)کا معترف ہونا، بلاشبہہ کسی انسان کے لیے سب سے بڑی عبادت کی حیثیت رکھتا ہے۔
واپس اوپر جائیں

اللہ کے ساتھ

عربی زبان میں بہت سے مضامین اور کتابیں چھپی ہیں جن کا ٹائٹل اِس قسم کا ہوتا ہے—ایک ساعت فلاں کے ساتھ (ساعۃٌ مع فلان)۔ اِس طرح کا ٹائٹل بظاہر درست ہے، مگر عجیب بات یہ ہے کہ کوئی لکھنے والا اِس طرح کے ٹائٹل کے ساتھ کیوں نہیں لکھتا کہ — ایک ساعت اللہ کے ساتھ (ساعۃٌ مع اللہ)۔ یہ واقعہ اِس بات کا ثبوت ہے کہ ہمارے لکھنے والوں کو انسان کی صحبت تو ملی، مگر اُن کو اللہ کی صحبت نہیں ملی۔
حدیث میں آیا ہے کہ مومن پر ایسا لمحہ گزرنا چاہیے، جب کہ وہ اپنے رب سے سرگوشی کررہا ہو: ساعۃٌ یناجی فیہا ربَّہ(حلیۃ الأولیاء لأبی نُعیم1/221 )۔ سر گوشی (whisper) ایک ایسے تجربے کا نام ہے جب کہ انسان اپنے آپ کو اپنے رب سے قریب پاتا ہے، اتنا زیادہ قریب کہ وہ سرگوشی کے انداز میں اپنے رب سے کلام کرنے لگتا ہے۔
قرآن سے ثابت ہے کہ خدا اپنے بندے سے بہت قریب ہے (2: 286) ۔ اِسی طرح قرآن میں بتایا گیا ہے کہ سجدہ کے وقت انسان، خدا سے قربت کا تجربہ کرتاہے (96: 19)
یہ کوئی سادہ بات نہیں۔ جب ایک انسان اپنے رب کو دریافت کرتا ہے، وہ آفاق وانفُس میں گہرائی کے ساتھ غور کرتاہے تو بار بار وہ محسوس کرتاہے کہ وہ اپنے رب کے انتہائی قریب پہنچ گیا ہے۔ اُس وقت اس کا دل تڑپ اٹھتا ہے، اس کی آنکھیں اشک بار ہوجاتی ہے، وہ محسوس کرتا ہے کہ وہ ربانی فیضان (divine inspiration) کی سطح پر خدا سے جڑ گیا ہے۔ اُس وقت آدمی کی زبان سے غیرمتوقع طورپر اعلیٰ ربانی کلمات ادا ہونے لگتے ہیں، اس کا پورا وجود ایک روحانی تجربے میں غرق ہوجاتا ہے۔ وہ دیکھے بغیر خدا کو دیکھنے لگتا ہے، وہ ہم کلام ہوئے بغیر خدا سے بات کرنے لگتاہے، بظاہر دوری کے باوجود وہ خدا سے آخری حد تک قریب ہوجاتا ہے—اِس دنیا میںخدا کی قربت یہ ہے کہ کوئی شخص روحانی سطح پر اِس طرح اپنے رب کو پالے۔
واپس اوپر جائیں

زیادہ بڑا ایمپائر

ایک صاحب کے یہاں اعلی صلاحیت کا ایک بیٹا پیدا ہوا۔ اس کے غیر معمولی اوصاف کودیکھ کر باپ نے کہا کہ —میرا بیٹا مستقبل میں ایک ایمپائر بنائے گا:
My son will be an empire builder.
باپ کا یہ اندازہ صحیح ثابت ہوا۔ بیٹا جب بڑا ہوا تو اس نے ایک بزنس شروع کیا۔ اس کی خداداد صلاحیت کی بناپر اس کے کام میں غیر معمولی ترقی ہوئی، یہاں تک کہ وہ اپنا ایک بزنس ایمپائر بنانے میں کامیاب ہوگیا۔ لیکن یہ ایمپائر زیادہ دن تک اس کا ساتھ نہ دے سکا۔ آخر کار ایک محدود مدت کے بعد وہ بھی مرکر اس دنیا سے اُسی طرح چلا گیا جس طرح دوسرے لوگ اِس دنیا میں آتے ہیں اور چلے جاتے ہیں۔
یہ مادی ایمپائر (material empire) کی بات ہے۔ مادی ایمپائر صرف مختصر مدت تک آدمی کا ساتھ دیتا ہے، لیکن یہاں ایک اور ایمپائر ہے جو ہمیشہ کے لیے آدمی کے ساتھ رہتاہے۔ یہ فکری ایمپائر (intellectual empire) ہے۔ فکری ایمپائر سے مراد ہے — ذہنی ارتقا، روحانی دریافت، شخصیت کی تعمیر، انسانی امکانات (potentials) کو واقعہ (actual) بنانا۔ یہی وہ انسان ہے جس کومذہب کی زبان میںربانی انسان کہاجاتا ہے۔
ربانی انسان وہ ہے جو اپنے خالق کو دریافت کرے، جو اپنی عقلی صلاحیتوں کو استعمال کرکے خداکی معرفت حاصل کرے، جو خداکے تخلیقی پلان کوجانے اور اس کے مطابق، اپنی زندگی کو ڈھالنے کی کوشش کرے، جو اپنے آپ کو جنتی کردار والا انسان بنائے، یعنی ایسا انسان جس کو موت کے بعد کی دنیا میں ابدی جنت میں بسایا جائے گا۔ دوسرے لوگ اگر مادی دنیا میں اپنا ایک خارجی ایمپائر بناتے ہیں تو ایسا شخص خود اپنے اندر ایک داخلی ایمپائر بناتاہے۔ مادی ایمپائر صرف کچھ مدت تک کسی آدمی کا ساتھ دیتاہے، لیکن روحانی ایمپائر (spiritual empire)وہ ہے جو ہمیشہ ہمیشہ تک کسی آدمی کو حاصل رہے گا۔ اول الذکر ایمپائر اگر وقتی خوشی کا ذریعہ ہے، تو ثانی الذکر ایمپائر ابدی خوشی کا ذریعہ۔
واپس اوپر جائیں

مفروضہ دشمن کے خلاف

انسان کے اندر سب سے زیادہ طاقت ور جذبہ نفرت کا جذبہ ہے۔ بہت جلد ایسا ہوتا ہے کہ ایک شخص کو دوسرے شخص سے، ایک گروہ کو دوسرے گروہ سے شکایت پیدا ہوجاتی ہے۔ یہ شکایت بڑھ کر نفرت بن جاتی ہے، پھرا س میں مزید اضافہ ہوتا ہے اور وہ دشمنی بن جاتی ہے۔ یہ دشمن اپنی حقیقت کے اعتبار سے اگر چہ ایک مفروضہ دشمن ہوتا ہے، لیکن عام مزاج کے مطابق، لوگ اس کو حقیقی دشمن سمجھ لیتے ہیں اور اُس کے خلاف وہ ساری منفی کارروائی شروع کردیتے ہیں جو کسی واقعی دشمن کے خلاف کی جاتی ہیں۔
مفروضہ دشمن کے خلاف پہلے منفی پروپیگنڈہ شروع کیا جاتاہے۔ اس کے بعد یہ کوشش ہونے لگتی ہے کہ اُس کو مادّی نقصان پہنچایا جائے۔ جب اس قسم کی مخالفانہ کوششوں میں کامیابی نظر نہیںآتی تو اس کے بعد یہ ہوتا ہے کہ مفروضہ دشمن کے خلاف متشددانہ عمل شروع کردیا جاتا ہے۔ اِس متشددانہ عمل کی آخری حد خود کش بم باری ہے، یعنی دشمن کو مارنے کے لیے خود اپنے آپ کو مار لینا۔
مفروضہ دشمن کا یہ ظاہرہ ایک عمومی ظاہرہ ہے۔ اِس کو پوری تاریخ میں دیکھا جاسکتا ہے۔ اس کا علاج صرف یہ ہے کہ آغاز ہی میں اس کو کچل کر ختم کردیا جائے۔ اِس قسم کی دشمنی کا آغاز ہمیشہ غلط فہمی سے ہوتا ہے۔ جب کسی کے بارے میں کوئی غلط فہمی پیدا ہو تو آدمی کو چاہیے کہ وہ اُس غلط فہمی کو بڑھنے نہ دے۔ وہ پہلے ہی مرحلے میںاس کا خاتمہ کردے۔ غلط فہمی کو ختم کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ آپ یا تو ایسا کریں کہ اُس کو سنتے ہی اس کو بھلا دیں، اس کے بارے میں نہ سوچیں اور نہ کسی سے اس کا چرچا کریں۔ دوسری صورت یہ ہے کہ آپ متعلق شخص سے براہِ راست ملاقات کریں۔ اُس سے مل کر معاملے کو سمجھنے کی کوشش کریں اور متعصبانہ ذہن کے بغیر اس کا تجزیہ کریں۔ ایسا کرنے کی صورت میں یقینی طورپر غلط فہمی کا خاتمہ ہوجائے گا۔ کیوں کہ غلط فہمی ہمیشہ بے بنیاد ہوتی ہے۔ جس آدمی کے اندر دونوں میں سے کوئی ایک بات بھی نہ ہو، وہ اپنی حقیقت کے اعتبار سے ایک حیوان ہے، خواہ بظاہر وہ انسانی صورت میں دکھائی دیتا ہو۔
واپس اوپر جائیں

غلطی کرنے کے بعد

انسان سے ہمیشہ غلطیاں ہوتی ہیں۔ عربی زبان میں یہ مقولہ ہے: الإنسان مرکب من الخطأ والنسیان (انسان غلطی اور بھول کا مجموعہ ہے)۔ انگریزی زبان میں کہا جاتاہے— to err is human
ایسی حالت میں انسان کو کیا کرنا چاہیے۔ اس کا جواب ایک حدیثِ رسول میں ملتاہے۔ پیغمبر ِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کلّ ابن آدم خطّائٌ وخیر الخطّائین التوابین (الترمذی، کتاب القیامۃ) یعنی انسان ہمیشہ غلطی کرتاہے اور بہتر غلطی کرنے والا وہ ہے جو غلطی کے بعد توبہ کرے۔
غلطی کرنے کے بعد انسان کو ایسا نہیں کرنا چاہئے کہ وہ کسی دوسرے کو اِس معاملے کا ذمے دار ٹھہرا کر اس کی شکایت کرنے لگے۔اِس قسم کا رد عمل سراسر بے فائدہ ہے۔
آدمی کو چاہیے کہ وہ ایسے موقع پر خود اپنا محاسبہ (introspection) کرے، وہ اپنی کوتاہی کو د ریافت کرکے اپنی زندگی کی نئی منصوبہ بندی کرے۔ اُس کا ذہن یہ ہونا چاہیے کہ جو کچھ کھویا گیا، وہ اب مجھے واپس نہیں مل سکتا۔ اِس لیے اب مجھے یہ کرنا ہے کہ میںاپنی اصلاح کرکے اپنے آپ کو مزید نقصان سے بچاؤں۔
اِس معاملے کادوسرا پہلو وہ ہے جو آخرت سے تعلق رکھتا ہے۔ ہر غلطی کے بعد آدمی کو یہ کوشش کرنا چاہیے کہ اس کی دنیا کی غلطی اُس کے لیے آخرت کے نقصان کا سبب نہ بن جائے۔ آپ کی غلطی اگر آپ کے اندر منفی نفسیات پیداکردے تو یہی وہ چیز ہے جو آخرت کے نقصان کا باعث بن جاتی ہے۔
غلطی کے بعد اپنے آپ کو اِس سے بچائیے کہ آپ دوسروں سے نفرت کرنے لگیں۔ آپ کے اندر مایوسی کے جذبات پیدا ہوجائیں، آپ معتدل انداز میں سوچنے کے قابل نہ رہیں، آپ کے اندر خدا رخی سوچ کے بجائے انسان رخی سوچ بن جائے، آپ کچھ اور کرنے کا حوصلہ کھو دیں— اِس قسم کی تمام چیزیں انسان کی آخرت کو تباہ کرنے والی ہیں۔ انسان کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنے آپ کو ہر قیمت پر اِس قسم کی منفی احساسات (negative feelings) سے بچائے۔
واپس اوپر جائیں

موت کا الارم

اکتوبر 2011 میں کئی مشہور افراد کی موت ہوئی۔ مثلاً کینڈا کا سائنس داں رالف اسٹین مین (Ralph Steinman) ۔ 3 اکتوبر 2011 کو ان کا انتقال ہوا، جب کہ ان کی عمر 68 سال تھی۔ اُن کو میڈیسن پر نوبل پرائز ملنے والا تھا۔ نوبل پرائز کے اعلان سے صرف تین دن پہلے ان کا انتقال ہوگیا:
He died just three days before he could be told of his award.
اِسی طرح امریکا کے کمپیوٹر ایکسپرٹ اسٹیو جابس (Steve Jobs) کی وفات 6 اکتوبر 2011 کو ہوئی، جب کہ ان کی عمر 56 سال تھی۔ وہ امریکی کمپنی ایپل (Apple) کے سابق چیف ایگزیکٹیو اور اس کے شریک بانی تھے۔ انھوں نے آئی فون اور آئی پوڈ سے دنیا کو متعارف کرایا۔ ان کی موت ایپل کی طرف سے آئی فون کا نیا ماڈل 4-S جاری کئے جانے کے صرف ایک ماہ بعد ہوئی۔
اِسی طرح انڈیا کے مشہور سنگر (singer) جگ جیت سنگھ جن کو کنگ آف غزل کہاجاتا تھا، اپنے کیریر کے عین عروج کے زمانے میں 10 اکتوبر 2011 کو اچانک ان کا انتقال ہوگیا۔ بوقتِ وفات ان کی عمر 70 سال تھی۔ ایک حادثے میں اپنے بیٹے کی موت کے بعد انھوں نے یہ شعر گایا تھا جو اُن کی موت کے بعد خود اُن پر صاق آگیا :
چٹھی نہ کوئی سندیش، جانے وہ کون سا دیش، جہاں تم چلے گئے!
موت کا یہ واقعہ جو ہر دن کسی نہ کسی عورت یا مرد کے ساتھ پیش آتا ہے، وہ ہر ایک کے لیے ایک الارم ہے۔ موت یہ بتاتی ہے کہ اِس دنیا میں انسان کے لیے صرف محدود مدت تک رہنا مقدر ہے، اِس کے بعد وہ اپنے خالق کے پاس چلا جاتا ہے، تاکہ وہ اپنے ابدی انجام کا فیصلہ سنے۔ ہر انسان کو سب سے پہلے یہ کرنا ہے کہ وہ اپنی زندگی اور موت کے بارے میں اپنے خالق کے تخلیقی منصوبہ کو جانے، وہ خالق کی منشا کے مطابق، اِس دنیا میں اپنی زندگی گزارے، تاکہ موت کے بعد آنے والی اگلی دنیا میں وہ اپنے خالق کا انعام پاسکے، یعنی ابدی جنت کا انعام۔
واپس اوپر جائیں