Pages

Thursday, 1 November 2012

Al Risala | November 2012 (الرسالہ,نومبر)


خصوصی شمارہ ۔ ترکی کی دریافت

Turkey Rediscovered
پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا مشن 610 عیسوی میں مکہ میں شروع کیا۔ تقریباً 13 سال کے بعد 622 عیسوی میں آپ مکہ سے مدینہ چلے گئے۔ اِس واقعے کو اسلامی تاریخ میں ہجرت کہاجاتاہے۔ ہجرت سے پہلے آپ نے پیشین گوئی کے انداز میں ایک بات کہی تھی جو حدیث کی کتابوں میں اِن الفاظ میں آئی ہے: أمرتُ بقریۃ تأکل القری۔ یقولون: یثرب، وہی المدینۃ (صحیح البخاری، رقم الحدیث:1748) یعنی مجھے ایک بستی کا حکم دیاگیا ہے، وہ تمام بستیوں کو کھا جائے گی۔ لوگ اُس کو یثرب کہتے ہیں، لیکن وہ مدینہ ہے۔
یہ حدیث سادہ طورپر مدینہ کی پراسرار فضیلت کے بارے میں نہیں ہے، حقیقت یہ ہے کہ اِس حدیث میں تاریخ کا ایک قانون بیان کیاگیا ہے۔ یہ قانون تاریخ میں بار بار واقعہ بنا ہے، پھر یہی قانون، مدینہ (یثرب) کے حق میں واقعہ بنا۔ یہ واقعہ اُس وقت پیش آیا، جب کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم مکہ سے ہجرت کرکے مدینہ آئے اور یہاں اپنے پیغمبرانہ مشن کی منصوبہ بندی کی۔
تاریخ بتاتی ہے کہ جب تک آپ مکہ میں تھے، آپ کا مشن عملاً ایک مقامی مشن کی حیثیت رکھتا تھا، مگر جب آپ ہجرت کرکے مدینہ آئے تو آپ کا مشن بہت جلد پورے ملک (عرب) میں پھیل گیا۔ اگر چہ پیشگی طور پر کوئی یہ نہیں جانتا تھا کہ مستقبل میں کیا ہونے والا ہے۔
اِس سے معلوم ہوا کہ کبھی ایسا ہوتا ہے کہ کوئی علاقہ بظاہر صرف ایک علاقہ معلوم ہوتا ہے، مگر بالقوہ طورپر وہ اپنے اندر وسیع تر امکانات کو چھپائے ہوئے ہوتا ہے۔ اُس کی جغرافی حدیں بظاہر محدود ہوتی ہیں، لیکن اس کی امکانی حدیں اتنی زیادہ وسیع ہوتی ہیں کہ وہ دوسرے تمام علاقوں کو اپنے اندر سمیٹ لینے کی صلاحیت رکھتی ہیں — راقم الحروف کے نزدیک، ترکی اسی قسم کا ایک ملک ہے۔ ترکی میں اِس کے تمام امکانات موجود ہیں کہ وہ اسلامی دعوت کے لیے دورِ جدید میں ایک عالمی رول ادا کرسکے۔ ترکی اور بقیہ مسلم دنیا کے درمیان لسانی بُعد (language gap) تھا، اِس لیے بقیہ مسلم دنیا کے لوگ ترکی کے اِس امکان (potential) سے عملاً ناواقف رہے۔
کسی علاقے کی یہ امکانی حیثیت اتفاقی طورپر نہیں بنتی، بلکہ وہ لمبی مدت کے بعد بنتی ہے۔ اُس مقام کا جغرافیہ، اس کی تاریخ، اس کے سماجی حالات، وہاں کے لوگوں کا مزاج، وہاں کے ادارے (institutions)، وہاں پیش آنے والے واقعات وحوادث، سب اس کی تشکیل میں اپنا رول ادا کرتے ہیں۔ کوئی لیڈر یا ریفارمر بطور خود واقعات کو وجود میں نہیں لاتا۔ وہ صرف یہ کرتا ہے کہ گہرے مطالعے کے بعد وہ اُس علاقے کے امکانات کو دریافت کرے اور پھر دانش مندانہ منصوبہ بندی کے ذریعے اس کے امکان (potential) کو واقعہ (actual) بنائے۔
زیر نظر مقالے میں اِسی اعتبار سے جدید ترکی کا مطالعہ کیاگیا ہے۔ یہ صرف ایک مقالہ نہیں ہے، بلکہ وہ ترکی کے بارے میں راقم الحروف کا ایک ویژن (vision) ہے، وہ ایک مشن کا چارٹر (charter) ہے، وہ ترکی کے حال کی روشنی میں ترکی کے مستقبل کا ایک بیان ہے۔
ترکی سے میرا تعلق
میں 1938 میں تعلیم کے لئے انڈیا کے ایک عربی مدرسہ (الاصلاح) میں داخل ہوا۔ اسی سال ترکی میں مصطفی کمال اتاترک کا انتقال ہوا تھا۔ اس طرح تقریباً 75 سال سے میں ترکی اور اتاترک کا نام سنتا رہا ہوں۔ اس موضوع کے بارے میں جو کچھ اردو، عربی اور انگریزی میں لکھاگیا ہے، اس کا بھی ایک قابل لحاظ حصہ میں نے پڑھا ہے- لیکن ترکی حقیقت میں کیا ہے، اس کے بارے میں بہت سے دوسرے لوگوں کی طرح میں بھی بے خبری میں جی رہا تھا، ترکی اور اتاترک کا نام میرے ذہن میں، دوسروں کی دی ہوئی معلومات کی بنیاد پر ایک منفی نام تھا، جو ابھی حال تک باقی رہا۔
یکم مئی 2012 کو پہلی بار مجھے موقع ملا کہ میں ترکی کا سفر کروں۔ یہ سفر ’’سیرتِ رسول‘‘ کے موضوع پر ہونے والی ایک انٹرنیشنل کانفرنس میں شرکت کے لئے تھا۔ اِس میں 60 ملکوں کے نمائندے شریک ہوئے۔ اِس سلسلے میں مجھے تقریباً ایک ہفتہ ترکی میں قیام کا موقع ملا۔ یہ سفر میرے لئے ترکی کی دریافت کے ہم معنی بن گیا۔ 5 مئی 2012 کو جب میں نے ترکی کے ایک شہر (Gaziantep) میں مذکورہ کانفرنس میں افتتاحی خطاب کیا تو شروع ہی میں میں نے کہا:
It was my first visit to Turkey, but it proved to be a discovery visit.
اِس سفر سے پہلے میں ترکی کو دوسروں کی فراہم کردہ معلومات کی بناپر جانتا تھا، مگر جب میں نے خود ترکی کا سفر کیا تو مجھے موقع ملا کہ میں ترکی کو زیادہ گہرائی کے ساتھ دیکھوں اور براہِ راست طورپر اس کو جاننے کی کوشش کروں۔ اِس کے نتیجے میں جو واقعہ پیش آیا، اس کو میں ایک لفظ میں اس طرح بیان کرسکتا ہوں کہ — میںنے ترکی کو ازسرِ نو دریافت کیا۔
میں نے کتابوں میں پڑھا تھا کہ کمال اتاترک نے اقتدار پاکر ترکی میں مذہب کا خاتمہ کرنے کی کوشش کی۔ مثلاً انھوںنے حکم دیا کہ عربی کے بجائے ترکی میں اذان دی جائے۔ انھوں نے ایک قانون کے ذریعے ترکوں کو پابند کیا کہ وہ قدیم ترکی ٹوپی کے بجائے مغربی طرز کے ہیٹ (hat)پہنیں- انھوںنے مسجدوں کو میوزیم میں تبدیل کردیا- انھوں نے قرآن پر پابندی لگا دی، وغیرہ۔ جب میںوہاں پہنچا تو میںنے دیکھا کہ مسجدوں سے لاؤڈسپیکر پر عربی میں اذان کی آوازیں آرہی ہیں۔ مسجدوں میں لوگ اُسی طرح نمازیں پڑھ رہے ہیں جس طرح میں نے انڈیا میں اور دوسرے ملکوں میں دیکھا تھا۔ ہم نے اپنے اس سفر کے دوران کسی ترک کو ہیٹ پہنے ہوئے نہیں دیکھا- کانفرنس کا افتتاح ہوا تو وہاں ایک ترک قاری نے خالص عرب لہجے میں قرآن کی لمبی تلاوت کی۔اِن باتوں کو دیکھ کر تھوڑی دیر کے لئے مجھے یہ خیال آیا کہ شاید میں ترکی کے علاوہ کسی اور ملک میں پہنچ گیا ہوں، مگر باربار کے تجربات نے آخر کار یہ یقین کرنے پر مجبور کردیا کہ میں اُسی ملک میں ہوں جس کا نام ترکی ہے-
یہ ایک عام مزاج ہے کہ لوگ ناموافق چیزوں کا مبالغے کے ساتھ ذکر کرتے ہیں، وہ ایک استثنائی واقعے کو جنرلائز کرکے اس کو عمومی انداز میں بیان کرتے ہیں- بظاہر ایسا ہی ترکی میں ہوا- کمال اتاترک نے پُرجوش اندازمیں مذہب کے خلاف کچھ باتیں کہیں اور اس کے مطابق کچھ اقدامات بھی کیے، لیکن اِن اقدامات کا نتیجہ عملی اعتبار سے نہایت محدود تھا اور یہی ہوسکتا تھا- اِس کی ایک مثال روس میں قائم ہونے والا کمیونسٹ ایمپائر ہے- وہاں باقاعدہ ایک مخالفِ مذہب نظریے کے تحت یہ کوشش کی گئی کہ کمیونسٹ ایمپائر میں مذہب کا کلی خاتمہ کردیا جائے، لیکن 1991 میں جب سوویت یونین ٹوٹا تو اچانک وہاں مذہب دوبارہ زندہ ہوگیا- اِس کا سبب یہ تھا کہ حکومت کی مخالفانہ کارروائیوں کے باوجود مذہب اگرچہ اوپری سطح سے بظاہر غائب ہوگیا تھا، لیکن انڈرگراؤنڈ سطح پر وہ اب بھی موجود تھا- یہی واقعہ ترکی میں ہوا- اتاترک کے زمانے میں حکومت کی کارروائی سے مذہب ظاہری سطح پر کسی درجے میں غیر موثر ہوگیا تھا، لیکن اتاترک کے بعد رفتہ رفتہ وہ پوری طرح زندہ ہوگیا-اب کمال ازم صرف کچھ کتابوں میں پایا جاتا ہے، خود ترکی میں اس کا کوئی وجود نہیں-
اصل یہ ہے کہ واقعات کی رپورٹنگ میں انسان کا مزاج ہمیشہ یک طرفہ رپورٹنگ کا رہاہے۔ لوگوں کی یہ قدیم عادت ہے کہ اگر کوئی اچھی بات ہو تو وہ اس کی رپورٹنگ نہیں کریں گے، لیکن اگر کوئی بظاہر بری بات ہو تو وہ اس کو فوراً رپورٹ کریں گے اور ہر جگہ مزید اضافے کے ساتھ اس کا چرچا ہونے لگے گا۔ یہی ترکی کے ساتھ ہوا۔ ترکی، کمال اتاترک کی روش سے زیادہ ، لوگوں کے اِس غلط مزاج کا شکار ہوا ہے۔ جدید ترکی جس بدنامی کا شکار ہوا ہے، وہ زیادہ تر لوگوں کے اِسی مزاج کا نتیجہ ہے، نہ کہ معروف معنوں میں، خود اتاترک کے فعل کا نتیجہ۔
مثال کے طور پر خلافت کے زمانے میں ترکی زبان عربی رسم الخط میں لکھی جاتی تھی۔ اتاترک نے ایک قانون بنا کر ترکی زبان کے لئے رومن رسم الخط کو لازمی قرار دے دیا۔ یہ بات جس طرح بھیانک انداز میں رپورٹ کی گئی، حقیقت میں وہ اتنی بھیانک نہ تھی۔ اصل یہ ہے کہ ترکی زبان قدیم زمانے میں ایک آرمینین رسم الخط (Armenian Script) میں لکھی جاتی تھی، جس کا نام یہ تھا — Orkon۔نویں صدی عیسوی تک یہی آرمینین رسم الخط ترکی میں رائج رہا۔ اس کے بعد اسلام کے فروغ اور عربوں کے اختلاط کے نتیجے میں دھیرے دھیرے ترکی میں عربی رسم الخط رائج ہوگیا۔
اس کے بعد جب ترکی میں اسلام پھیلا اور عربوں کو غلبہ حاصل ہوا تو دھیرے دھیرے انٹریکشن کے نتیجے میں یہ واقعہ ہوا کہ ترکی زبان عربی رسم الخط میں لکھی جانے لگی۔ یہ ترکی زبان کے رسم الخط کو بدلنے کا پہلا واقعہ تھا۔ اس کے بعد بیسویں صدی کے ربع اول میں اتاترک نے ترکی زبان کے رومن رسم الخط میں لکھے جانے کا حکم جاری کیا۔ یہ ترکی زبان کے رسم الخط کو بدلنے کا دوسرا واقعہ تھا۔ یہ واقعہ بھی اتفاقاً نہیں ہوا۔ اصل یہ ہے کہ جس طرح اِس سے پہلے عربوں کے اختلاط سے ترکی زبان میں عربی رسم الخط کا رواج ہوا تھا، اِسی طرح بعد کے زمانے میں یورپ کے اختلاط سے وہ ماحول پیداہوا جس کے زیر اثر اتاترک نے ترکی رسم الخط کو رومن رسم الخط میں تبدیل کردیا۔ اِس پس منظر میں رسم الخط کے معاملے کو اگر دیکھا جائے تو وہ زیادہ سنگین نظر نہیں آئے گا۔
اِس سلسلے میں دوسری بات یہ ہے کہ ترکی کے رسم الخط کو بدلنا وقت کا ایک تقاضا بن چکا تھا۔ ترکی جزئی طورپر یورپ کا ایک حصہ ہے۔ یورپ کی تمام زبانیں رومن رسم الخط میں لکھی جاتی ہیں۔ ایسی حالت میں یہ بالکل فطری تھا کہ ترکی زبان بھی اپنے پڑوسی ملکوں کے رسم الخط میں لکھی جائے۔
بیسویں صدی کے ربع اول میں جب ترکی زبان کا رسم الخط بدلا گیا تو بظاہر وہ ایک ریڈیکل واقعہ نظر آتا تھا، لیکن بعد کے واقعات نے ثابت کیا کہ یہ ایک دور اندیشی کا فیصلہ تھا۔ جلد ہی بعد دنیا میں کمپیوٹر کا دور آیا۔ جیسا کہ معلوم ہے، کمپیوٹر کی اصل زبان انگریزی ہے جس کا رسم الخط رومن ہوتاہے۔ ترکی زبان اپنے رومن رسم الخط کی بنا پر بہت جلد کمپیوٹر کے دور میں داخل ہوگئی۔ وہاں بہت جلد ہر قسم کے علمی اور تعلیمی شعبوں کا کمپیوٹرائزیشن (computerization) ہوگیا، جب کہ آج بھی مسلم ممالک کی دوسری زبانیں جیسے اردو، عربی اور فارسی ، اِس معاملے میں، ترکی زبان سے بہت پیچھے ہیں۔ مثال کے طور پر ترکی زبان میں ایک روزنامہ نکلتا ہے جس کا نام زمن (Zaman) ہے، یہ اخبار روزانہ ایک ملین کی تعداد میں چھپتا ہے۔ اس کا صحافتی درجہ یورپ کے کسی بھی معیاری اخبار کے برابر ہے۔ اس قسم کا معیاری اخبار کسی مسلم ملک میں آج بھی نہیں پایا جاتا۔ اِسی مثال پر دوسری چیزوں کو قیاس کیا جاسکتا ہے۔
ایک علامتی مثال
اہلِ عرب اور شام (Syria) کے درمیان تعلقات قدیم زمانے سے قائم تھے۔ شام کے علاقے سے گزر کر ترکی پہنچنا بہت آسان تھا۔ یہ فاصلہ 500 میل سے بھی کم تھا۔ چناں چہ اصحاب رسول کی جماعت ساتویں صدی عیسوی میں شام کے علاقے سے گزر کر ترکی پہنچنے لگی۔ اِس آمد ورفت کے دوران ترکی میں اسلام پھیلنے لگا، یہاں تک کہ ترکی کے باشندوں کی اکثریت اسلام میں داخل ہوگئی۔
لیکن قانونِ فطرت کے مطابق، بعد کو زوال شروع ہوا۔ انیسویں صدی کے آخر میں ترکی کے مسلمانوں کا یہ زوال آخری حد تک پہنچ گیا۔ اِس دور میں ترکی کے علما کا کیا حال تھا، اُس کا اندازہ ایک علامتی مثال سے ہوتا ہے۔
خلیفہ عبد الحمید ثانی کا زمانۂ حکومت 1876 سے 1909 تک ہے۔ اس نے ترکی میں ریفارم لانے کی کوشش کی۔ اس نے تعلیمی اصلاحات کا نفاذ کیا- تاہم روایتی ذہن کی بنا پر ملک میں اس کی شدید مخالفت ہوئی اور اس کو تخت سے معزول کردیاگیا۔
قدیم زمانے میں ترکی اپنے بحری بیڑے کے لیے مشہور تھا، مگر اٹھارھویں صدی میں جب یورپ میں بھاپ (steam) کی طاقت دریافت ہوگئی اور بحری جہازوں کو اسٹیم انجن کے ذریعہ چلانے کا دورآیا تو ترکی اس میدان میں بہت پیچھے ہوگیا۔ اُس وقت وہاں کے مذہبی طبقے کا فکری زوال اس حد تک پہنچ چکا تھا کہ نئے طرز کی دخانی کشتیوں کو حاصل کرنا اور ان کو استعمال کرنا بھی اُن کو ایک غیرمذہبی فعل نظر آنے لگا۔
سلطان عبد الحمید ثانی (وفات: 1918 )پہلا شخص تھا جس نے بھاپ کی طاقت سے چلنے والا بحری بیڑہ (اُسطول) تیار کرایا۔ کہاجاتا ہے کہ جب دُخانی کشتیاں تیار ہوگئیں تو اس کے بعد وقت کے تُرک علما نے اصرار کیا کہ اس کو استعمال کرنے سے پہلے اُس پر ختمِ بخاری کی رسم ادا کرنا ضروری ہے۔ اس کے بغیر کشتیوں کو سمندر میں داخل کرنا ان کے نزدیک خطرناک تھا۔ علما کا اصرار جب بڑھا تو اُس وقت کے ایک دانش ور جمیل صدقی الزھاوی (وفات: 1936 ) نے اِس پر تبصرہ کرتے ہوئے کہاکہ — اِس زمانے میں بحری بیڑا بخار (بھاپ) سے چلتا ہے، نہ کہ بخاری سے: إن الأساطیل فی ہذا العصر تسیر بالبخار، لابالبخاری۔
یہ معاملہ کوئی سادہ معاملہ نہیں۔ اِس سے معلوم ہوتاہے کہ انیسویں صدی کے ترک علما فکری زوال کی اُس حالت تک پہنچ چکے تھے، جہاں 500 سال پہلے یورپ کے مسیحی علما تھے۔ اُس زمانے کے مسیحی علما نے یہ کیا تھا کہ انھوں نے سائنس کو اپنے مذہبی عقیدے کے تابع کررکھا تھا۔ وہ سائنس کی ہر اُس دریافت کے دشمن ہوجاتے تھے جو اُن کو اپنے مزعومہ عقیدے کے خلاف نظر آئے۔ اِس کی ایک مثال اٹلی کا سائنس داں گلیلیو (وفات: 1642 ) ہے- گلیلیو کو آفتاب مرکزی نظریہ (helio-centric theory) پیش کرنے پر سخت سزا دی گئی، صرف اِس لیے کہ آفتاب مرکزی نظریے کو چرچ نے اپنے مذہبی عقیدے کے خلاف سمجھ لیا تھا۔
مگر یہ صرف فکری زوال کا مسئلہ تھا، وہ خدائی مذہب کا مسئلہ نہ تھا۔ اِس معاملے میں اسلام کا موقف اُس حدیث سے معلوم ہوتاہے جو صحیح مسلم میںآئی ہے۔ مدینہ میں ’تابیر نخل‘ کا مسئلہ پیدا ہوا۔ اُس وقت پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک اصولی بات اِن الفاظ میں فرمائی: أنتم أعلم بأمر دنیاکم ( صحیح مسلم، رقم الحدیث:2363) یعنی تم اپنی دنیا کے معاملے میں زیادہ جانتے ہو۔
تابیر نخل یا پالی نیشن (pollination) کا معاملہ ایک سیکولر شعبے سے تعلق رکھتا ہے۔اِسی طرح ٹکنالوجی یا سائنس کی دریافتیں سیکولر شعبے سے تعلق رکھنے والی چیزیں ہیں۔ اِس طرح کے معاملات میں سائنٹفک رسرچ کا لحاظ کیا جائے گا، اُن کو عقیدے سے جوڑ کر فتویٰ دینا ہر گز درست نہیں۔
کمال اتاترک کی اصلاحات اصلاً ایک زوال یافتہ مسلم کلچر کے خلاف تھیں-حقیقت یہ ہے کہ ترکی کو قدیم روایتی دور سے نکال کرنئے سائنسی دور میں پہنچانے کے لیے ایسا کرنا ضروری تھا۔ اتاترک کی کارروائیوں کو اس کے انتہا پسندانہ طریقِ کار کے اعتبار سے نہیں دیکھنا چاہئے، بلکہ ضرورت ہے کہ اس کو اُس کے نتیجہ (result) کے اعتبار سے دیکھا جائے- اس میں کوئی شک نہیں کہ کمال ازم (Kemalism) کے نتیجے میں ترکی میں ایک نئی بیداری آئی۔ اِس کے بعد ترکی میں ایک نیا دور شروع ہوا۔ یہ کہنا صحیح ہوگا کہ موجودہ دنیا کے 58 مسلم ملکوں میں ترکی ایک منفرد ملک ہے۔ بقیہ مسلم ممالک ابھی تک کم وبیش دورِقدیم میں جی رہے ہیں۔ ترکی وہ واحد مسلم ملک ہے جس نے پورے معنوں میں دور جدید کے نقشے میں ترقی یافتہ ملکوں کے برابر جگہ حاصل کی ہے۔
اس فرق کو واضح کرنے کے لیے ایک تقابلی مثال یہاں درج کی جاتی ہے۔ جون 2011 میں راقم الحروف کا ایک سفر امریکا کے لیے ہوا تھا۔ اِس سفر کے دوران مجھ کو ایک امریکی شہر کے مسلم سنٹر میں خطاب کرنے کا موقع ملا۔ اِس اجتماع میں زیادہ تر وہ مسلمان تھے جو پاکستان سے آکر امریکا میں مقیم ہوئے ہیں۔ میں نے اپنی تقریر کے دوران حضرت ابو بکر صدیق کا ایک واقعہ بیان کیا۔ اس واقعے کو بیان کرتے ہوئے میںنے اُن کا ایک جملہ اِن الفاظ میں نقل کیا: من کان یعبد محمداً فإن محمداً قد مات، ومن کان یعبد اللہ فإن اللہ حی لا یموت (صحیح ابن ماجہ، رقم الحدیث:1329) یعنی جو شخص محمد کی عبادت کرتا تھا تو محمد کی وفات ہوگئی، اور جو شخص اللہ کی عبادت کرتا ہے تو اللہ زندہ ہے، اس کی وفات ہونے والی نہیں۔
کچھ پاکستانی مسلمان میرے اِس جملے پر زور زور سے بولنے لگے۔انھوں نے اتنا ہنگامہ کیا کہ اجتماع کو انتشار کی حالت میں ختم کرنا پڑا۔ ایک پاکستانی نوجوان نے اسٹیج پر آکر غصے میں کہا:
You cited our Prophet by name several times, but you never said: صلی اللہ علیہ وسلم
اب ایک مختلف مثال لیجئے۔ ایسا ہی ایک واقعہ ترکی کی ایک انٹرنیشنل کانفرنس میں ہوا، جو 5 مئی 2012 کو ترکی کے شہر غازی عین تاب (Gaziantep) میں ہوئی تھی۔ میں نے اپنی تقریر میں دعوت الی اللہ کی اہمیت کو بتاتے ہوئے کہا کہ اصحاب رسول میں سے کئی افراد دعوت وتبلیغ کے لیے ترکی آئے۔ یہاں ان کی قبریں ابھی تک موجود ہیں۔ یہ اصحاب، زبانِ حال سے پیغمبر کی امت کو پکاررہے ہیں اور کہہ رہے ہیں:
O Ummat-e-Muhammad, where are you? Rise and complete the prophetic mission by doing dawah work in the present world.
میں نے اپنا یہ جملہ بتکرار دہرایا، دورانِ تقریر میں نے کئی بار رسول اللہ کا نام لیا، مگر وہاں یہ حال ہوا کہ لوگ میری بات کو سن کر رونے لگے۔ اجتماع کے بعد بہت سے لوگ مجھ سے ملے اور انھوں نے کہا کہ آپ نے اصل بات کی طرف توجہ دلائی، آپ نے ہم کو بیدار کردیا، آپ نے ہم کو ہمارا بھولا ہوا سبق یاد دلایا، وغیرہ۔ وہاں کسی ایک شخص نے بھی یہ اعتراض نہیں کیا کہ آپ نے رسول اللہ کا نام لیا، مگر آپ نے صلی اللہ علیہ وسلم نہیں کہا۔
ترکی کا نیا رول
ترکی میں ساتویں صدی عیسوی میں اسلام داخل ہوا۔ یہاں اسلام کو کافی فروغ ملا،یہاں تک کہ یہاں عثمانی خلافت کے نام سے تیرھویں صدی عیسوی میں ایک مسلم ایمپائر قائم ہوگیا۔ ترکی اور اُس وقت کی مسلم دنیا کے لیے اِس عثمانی ایمپائر کا بہت بڑا مثبت رول ہے۔ اُس زمانے میں اسلام کے فروغ کے لیے سیاسی انفراسٹرکچر (political infrastructure)درکار تھا۔ عثمانی خلافت یا عثمانی ایمپائر کو اللہ تعالیٰ نے اِسی اہم کام کا ذریعہ بنایا۔ یہ سلسلہ کئی صدیوں تک جاری رہا۔
اِس سیاسی بنیاد کے بغیر پچھلی صدیوں میں اسلامی دعوت کا استحکام ممکن نہ تھا۔ انیسویں صدی کے آخر میں قانونِ فطرت کے تحت اِس نظام پر زوال اور انحطاط کا دورآیا، یہاں تک کہ اس کے لیے پچھلی حالت پر قائم رہنا مشکل ہوگیا۔ اُس وقت کمال اتاترک نے ایک رول ادا کیا۔
اپنے 18 سالہ دورِ اقتدار میں کمال اتاترک نے جو کام کیا، اس کو ترکی کی تاریخ میں کمال ازم کا نام دیاگیا ہے۔ میرے علم کے مطابق، کمال اتاترک مخالفِ مذہب نہ تھے، وہ دراصل اُس زوال یافتہ مذہبی ڈھانچے کے خلاف تھے جس کی نمائندگی اُس وقت کے ترک علما کررہے تھے۔ اتاترک کے بارے میں انسائکلو پیڈیا کے مقالہ نگار (Mete Tuncay) نے درست طور پر لکھا ہے:
Atatürk was not an outright atheist but a deist who believed in a rational theology, denying the absolute truth of revealed religions. For tactical reasons, at the beginning of his political career, he recognized Islam as the latest and most perfect of all religion; this declaration, however, equated Islam with the natural religion he fancied. (Kemalism, The Oxford Encyclopedia of the Modern Islamic world, Vol. 2, page. 411)
کمال اتاترک نے جو انقلابی کارروائیاں کیں، اُس کا مثبت تجزیہ کیا جائے تو یہ کہنا صحیح ہوگا کہ اس کے بعد ترکی میں شخصی سلطنت کے بجائے جمہوریت (democracy) کے دور کا آغاز ہوا، قدیم مذہبی تعلیم کی جگہ سیکولر تعلیم رائج ہوئی، مشرقی کلچر کی جگہ مغربی کلچر اختیار کیا گیا، روایتی نظام کی جگہ ہر شعبے میں ماڈرن طریقے رائج ہوئے، وغیرہ۔
اتاترک آپریشن کے بعد ترکی میں جو نئے مواقع کھلے، اُس کے نتیجے میں ترکی میں ریفارمر (reformers)پیدا ہوئے۔ مثلاً سعید نورسی(وفات: 1960) اور استاذ محمد فتح اللہ گولن (پیدائش: 1941)، وغیرہ۔ استاد فتح اللہ گولن اور ان کے پیروؤں نے ترکی میں ایک قابلِ قدر کام انجام دیا ہے۔ انھوںنے بڑی تعداد میں جدید طرز کے تعلیمی ادارے کھولے، کلچر اور صحافت کے میدان میں انھوں نے نمایاں کام کیا، غیر سیاسی انداز میں سماج کی تعمیر کے لیے انھوں نے امتیازی کام انجام دیا۔ یہ کہنا صحیح ہوگا کہ انھوںنے ترکی میں قدیم پولٹکل انفراسٹرکچر (political infrastructure) کی جگہ بڑے پیمانے پر ایک نیا سوشل انفراسٹرکچر (social infrastructure) قائم کردیا جو کہ اگلے مرحلے کے کام کے لیے ایک مضبوط بنیاد کی حیثیت رکھتا ہے۔
اکیسویں صدی کے ربع اول میں اب وقت آگیا ہے کہ ترکی میں اگلے مرحلے کا کام کیا جائے۔ یہ دعوت الی اللہ کا کام ہے۔ دعوت الی اللہ کا کام دراصل اُس کام کی تکمیل ہے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی میں صحابہ اور تابعین کے ذریعے ترکی میں انجام پایا تھا اور پھر دھیرے دھیرے وہ تقریباً ختم ہوگیا۔ اب وقت آگیا ہے کہ صحابہ اور تابعین کے دعوتی مشن کو دوبارہ زندہ کیا جائے اور ترکی میں سماجی اور تمدنی اعتبار سے جو نئی بنیاد قائم ہوئی ہے، اس کو بھر پور طور پر استعمال کرتے ہوئے پیغمبراسلام کے دعوتی مشن کی تکمیل کی جائے۔
دورِ شمشیر کا خاتمہ
ترکی میں عثمانی خلافت (Ottoman Empire) 1299 ء میں قائم ہوئی، اور 1924 ء میں عملاً وہ ختم ہوگئی۔ کمال اتاترک نے حقیقۃ ً عثمانی خلافت کا خاتمہ نہیں کیا تھا، بلکہ انھوںنے صرف اس کے خاتمہ کا اعلان کیا تھا۔ خلافت کے زمانے میں جو سیاسی کلچر رائج تھا، اُس کی نوعیت کیا تھی، اُس کا اندازہ اِس واقعے سے ہوتاہے کہ سلطان محمد فاتح (وفات: 1481 (کے وقت سے یہ طریقہ رائج تھا کہ جب بھی کوئی سلطان تخت نشیں ہوتا تو اُس وقت جامع ایوب (مقبرہ حضرت ابو ایوب انصاری) میں اس کی تاج پوشی کی رسم ادا کی جاتی۔ یہاں شیخ الاسلام (مفتی اعظم قسطنطنیہ) عثمانی خاندان کے بانی سلطان عثمان خان (وفات: 1326 ) کی تاریخی تلوار اس کی کمر میں حمائل کرتے۔ یہ خصوصی رسم سلطان کی تاج پوشی کا لازمی حصہ تھی۔
دورِ خلافت کی اِس شاہانہ رسم سے اندازہ ہوتا ہے کہ اُس دور میں ترکی کے اندر وہی کلچر رائج تھا، جو اُس وقت تمام دنیا میں رائج تھا، یعنی مبنی بر شمشیر کلچر۔ اس کلچر کی نمائندگی ایک قدیم فارسی شعر میں اِس طرح کی گئی ہے کہ — جو شمشیر زنی کرتا ہے، اُسی کے نام کا سکہ دنیا میں چلتا ہے:
ہر کہ شمشیر زند، سکّہ بنامش خوانند
انیسویں صدی کے نصف ثانی میں یہ بات واضح ہوچکی تھی کہ زمانی تبدیلیوں کے نتیجے میں اب شمشیر کی روایتی طاقت ختم ہوچکی ہے، اس کی جگہ اب علم (سائنس) نے لے لی ہے۔ اب ایک ترمیم کے ساتھ مذکورہ فارسی شعر کو اِس طرح پڑھنا چاہئے کہ — جو سائنس میں آگے بڑھتا ہے، اس کا دبدبہ دنیا میں قائم ہوتاہے:
ہر کہ سائنس زند، سکّہ بنامش خوانند!
کمال اتاترک نے ترکی میں اقتدار حاصل کرنے کے بعد جو کچھ کیا، وہ اپنے عملی نشانے کے اعتبار سے یہی تھا، یعنی ترکی کو دورِ شمشیر سے نکال کر دورِ سائنس میں داخل کرنا۔ کمال اتاترک نے اپنی آئڈیالوجی کو خود اپنے الفاظ میں اس طرح بیان کیا تھا:
Science is the most reliable guide in life. (EB. 2/257)
آج جو شخص ترکی کا سفر کرتاہے ، وہ واضح طورپر دیکھتاہے کہ قدیم ترکی کی تعمیر اگر ’’شمشیر‘‘کے ذریعے کی گئی تھی، تو جدید ترکی کی تعمیر ’’سائنس‘‘ کے ذریعے کی جارہی ہے۔ جدید ترکی کے ہرشعبے میں سائنسی ترقی کے آثار واضح طورپر دکھائی دے رہے ہیں۔
اِس کی ایک مثال یہ ہے کہ قدیم دور میں اقتصادیات کی بنیاد زراعت پر ہوتی تھی۔ جدید دور میں اقتصادیات کی بنیاد صنعت پر قائم ہوگئی ہے۔ جدید ترکی نے اِس راز کو سمجھا اور صنعت کے تمام شعبوں میں ملک کو ترقی یافتہ بنانے کی کوشش کی گئی۔ عرب ممالک کی بظاہر خوش حالی تمام تر قدرتی تیل کی بنیاد پر قائم ہے۔ ترکی بھی ایک خوش حال ملک ہے، لیکن اس کی خوش حالی کا انحصار برعکس طور پر صنعتی سرگرمیوں پر قائم ہے، نہ کہ تیل کے قدرتی وسائل پر، کیوں کہ تیل جیسی چیز وہاں موجود ہی نہیں۔ اِس قسم کی ترقی بلاشبہہ سائنس اور جدید تعلیم کے بغیر نہیں ہوسکتی تھی۔
ترکی کا پلس پوائنٹ
ترکی میں مصطفی کمال اتاترک کو 18 سال1920-1938) (تک سیاسی اقتدار حاصل رہا۔ اِس مدت میں انھوںنے جو ریڈیکل کام کئے، اس کو کمال ازم (Kemalism) کہاجاتا ہے۔ کمال ازم کا اگر موضوعی مطالعہ (objective study) کیاجائے تو یہ کہنا درست ہوگا کہ کمال ازم اپنی حقیقت کے اعتبار سے، ایک خدائی بلڈوزر (divine bulldozer) کی حیثیت رکھتا تھا جس کے ذریعے اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کے زوال یافتہ بوسیدہ کلچر کو ڈھادیا، تاکہ اس کی جگہ ایک نئی عمارت کی تعمیر کی جاسکے۔ کمال ازم کا یہ معاملہ ترکی کے مشہور صوفی شاعر جلال الدین رومی کے اِس شعر کا مصداق تھا کہ — جب کسی عمارت کو آباد کرنا ہوتاہے تو پہلے پرانی عمارت کو ڈھادیتے ہیں:
چوں بنائے کہنہ آباداں کنند اولاً تعمیر را ویراں کنند
اسلام کا اصل ماڈل وہ ہے جو دعوت الی اللہ کے تصور پر قائم ہوتاہے۔ رسول اور اصحابِ رسول کے زمانے میں یہی اسلام کا ماڈل تھا، مگر بعد کو رفتہ رفتہ اُس پر زوال آیا اور دعوتی ماڈل کے بجائے دو متوازی (parallel) ماڈل قائم ہوگئے — پولٹکل ماڈل، اور فقہی ماڈل۔ پولٹکل ماڈل کا یہ نتیجہ ہوا کہ دوسری قومیں مسلمانوں کے لیے دعوت کا موضوع نہ رہیں، بلکہ وہ سیاست اور حکومت کا موضوع بن گئیں۔ اِسی طرح فقہی ماڈل کا نتیجہ یہ ہوا کہ اسلام، اسپرٹ کے معنی میں، تعلق باللہ کاموضوع نہ رہا، بلکہ وہ صرف فارم کی بابت فنی بحثوں کا مجموعہ بن کر رہ گیا۔ یہ دونوں ماڈل اللہ کی مرضی کے مطابق نہ تھے، چناں چہ اللہ کو مطلوب ہواکہ اُن کو بے رحمی کے ساتھ بلڈوز کرکے ڈھادیا جائے۔ یہی کام تھا جو کمال اتاترک کے ہاتھوں بیسویں صدی کے ربع اول میں انجام پایا۔حقیقت کے اعتبار سے یہ فطرت کا بلڈوزر تھا، نہ کہ کمال اتاترک کا بلڈوزر-
ایک حدیثِ رسول
ایک روایت کے مطابق، پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: إن اللہ لیؤید ہذا الدین بالرجل الفاجر (صحیح البخاری، رقم الحدیث: 3062 ) یعنی بے شک اللہ اِس دین کی تائید فاجر شخص سے کرے گا۔
اِس حدیث میں ’فاجر‘ سے مراد وہی ہے جس کو موجودہ زمانے میں سیکولر کہاجاتا ہے۔ اِس حدیث کا مطلب یہ ہے کہ جہاں تک دین کی تعلیم اور دین کی تشریح کا تعلق ہے، اس کو صرف مخلص اور مومن لوگ ہی انجام دیں گے، لیکن وسیع تر معنوں میں دین کی ایک اور ضرورت ہے اور وہ تائید دین ہے۔ یہ تائیدی رول (supporting role) کوئی بھی شخص انجام دے سکتاہے، حتی کہ سیکولر افراد یا سیکولر نظام بھی۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہجرت کے موقع پر عبد اللہ بن ارقط کا سفری رہنما کا رول اسی قسم کے ایک تائیدی رول کی حیثیت رکھتاہے-
اگر یہ مانا جائے کہ کمال اتاترک محض ایک سیکولر آدمی تھے، وہ نہ کوئی مذہبی آدمی تھے اور نہ ان کا مشن کوئی مذہبی مشن تھا، تب بھی یہ ماننا ہوگا کہ مذکورہ حدیث کے مطابق، اسلام یا مسلمانوں کے لیے کمال اتاترک کا تائیدی رول ایک ناقابلِ انکار حقیقت ہے۔
سیاسی ماڈل کا نقصان
ترکی کی اسلامی خلافت کیا تھی، وہ اسلام کے نام پر خاندانی بادشاہت تھی۔ مگر اسلام کا ٹائٹل دینے کی بنا پر وہ ساری دنیا کے مسلمانوں کے لیے سیاست کا ماڈل بنی ہوئی تھی۔ ہر جگہ مسلمان اسی نہج کا ماڈل قائم کرنے کے لیے سیاست کا جھنڈا اٹھائے ہوئے تھے۔ اِس راہ میں جان ومال کی قربانی کو انھوں نے اپنے لیے نجاتِ آخرت کا ذریعہ سمجھ لیا تھا۔
ترکی کی مسلم خلافت 1924 میں ختم ہوئی، لیکن تمام دنیا کے علما اُس کو دشمنوں کی سازش قرار دے کر اس کے خلاف شکایت اور احتجاج میں مشغول رہے۔ کسی نے اِس راز کو نہیں سمجھا کہ خلافت کا ’’اِلغاء‘‘ دراصل ایک خدائی آپریشن تھا۔ اِس کا مقصد یہ تھا کہ مسلمانوں کے اندر قدیم سیاسی ذہن ختم ہو اور ان کے اندر نیا دعوتی ذہن پیدا ہو۔ مگر مسلم رہنماؤں کے منفی رد عمل کی بنا پر 1924 کے بعد بھی مسلمانوں میں قدیم سیاسی ذہن ختم نہ ہوا، مسلمانوں کے اندر سیاسی اعتبار سے، تفکیرِ نو (rethinking) کا پراسس جاری نہ ہوسکا، جو کہ مطلوب تھا۔
اس کی ایک مثال بوسنیا ہرزے گووینا (Bosnia Hercegovina) کا کیس ہے۔ بوسنیا یورپ کے قلب میں واقع ہے، جو کہ قدیم زمانے میں عثمانی خلافت کا ایک حصہ تھا- ہرزے گووینا یوگوسلاویہ (Yugoslavia) کا ایک صوبہ ہے۔ یہاں مسلمانوں کی تعداد 45 فی صد سے کچھ زیادہ ہے۔ بوسنیا میں دسمبر 1991میں صوبائی الیکشن ہوا۔ اِس الیکشن کے بعد وہاں کے ایک مسلم لیڈر الیجا عزت بیگووچ (Alija Izetbegovic) کو وہی عہدہ مل گیا جس کو انڈیا کی اصطلاح میں چیف منسٹر کہا جاتاہے۔
عزت بیگووچ (وفات: 2003 ) کو موقع تھا کہ وہ بوسنیا میں دعوتی اور تعلیمی کام کریں، مگر اپنے سیاسی شاکلہ کی بنا پر انھوںنے ایک غیر دانش مندانہ اقدام کردیا۔ انھوں نے بوسنیا کو ایک آزاد مسلم اسٹیٹ (independent Muslim state) ڈکلیر کردیا۔ یوگوسلاویہ کی مرکزی حکومت کے لیے اُن کا یہ اعلان، بغاوت کا درجہ رکھتا تھا۔ چناں چہ مرکزی حکومت نے بوسنیا کے خلاف سخت فوجی کارروائی کی۔ بیگووچ کے اِس اعلان سے بوسنیا کے مسلمانوں کو تباہی کے سوا کچھ اور نہیں ملا۔ سیاسی مائنڈ سیٹ (political mindset)نہ ٹوٹنے کی وجہ سے مسلمان جگہ جگہ اِسی قسم کی غیرحقیقت پسندانہ سیاست چلاتے ہیں اور نتیجۃً وہ اپنی تباہی میں مزید اضافہ کرلیتے ہیں۔
فقہی ماڈل کا نقصان
فقہ کا شعبہ ایک مستقل شعبہ (independent discipline) کے طور پر صحابہ اور تابعین کے دور میں موجود نہ تھا۔ فقہ کی تشکیل بعد کو عباسی دور750-1258) (میں ہوئی۔ فطری طورپر فقہ کے بہت سے مسائل وقتی حالات کے تقاضے کے تحت بنائے گئے، مگر بعد کو وہ مقدس ہو کراسلام کا ابدی حصہ سمجھے جانے لگے۔ اِس حدکو پہنچ کر فقہ کا شعبہ اُسی طرح ایک فرسودہ ڈھانچہ بن گیا جس طرح مسلم خلافت کے ادارے نے بعد کے زمانے میں ایک فرسودہ ڈھانچے کی حیثیت اختیار کرلی تھی۔
اِس کی ایک مثال یہ ہے کہ فقہ کی تشکیل کے زمانے میں پرنٹنگ پریس کا طریقہ دریافت نہیں ہوا تھا۔کتابیں یا تو حافظے میں ہوتی تھیں یا ہاتھ سے اُن کو قدیم طرز کے معمولی کاغذ (parchment) پر لکھا جاتا تھا۔ اُس دور کے مسلم علما، قرآن کی حفاظت کے معاملے میں بہت زیادہ حساس بن گئے۔ اُس زمانے میں بعض لوگوں نے قرآن کا فارسی ترجمہ کیا۔ اِس سے ایک مسئلہ پیدا ہوا۔ علما نے یہ فتویٰ دے دیا کہ ترجمہ جب لکھا جائے تو اُس کے ساتھ قرآن کا عربی متن (Arabic Text) بھی ضرور شامل کیا جائے۔ قبل از طباعت دور کا یہ مسئلہ بعد از طباعت دور میں بھی مقدس بن کر باقی رہا۔ اس معاملے کی ایک مثال حسب ذیل استفتا اور فتوے سے معلوم ہوتی ہے:
استفتا: کیا قرآن کا ترجمہ بغیر متن کے چھاپنا اور اس کی اشاعت کرنا جائز ہے-
فتوی: قرآن کریم کا ترجمہ بغیر متن کے شائع کرنا جائز نہیں ہے۔ علماءِ کرام نے اس سے منع کیا ہے، اور اس کے ممنوع ہونے پر علما کا اجماع نقل کیا ہے۔ مفتی محمد شفیع عثمانی نے اس پر ایک مستقل رسالہ تحریر کیا ہے، اور اس میں علامہ شرنبلالی کے اِس موضوع پر ایک مستقل رسالہ (النفحۃ القدسیۃ فی أحکام قراء ۃ القرآن وکتابتہ بالفارسیۃ) کا ذکر کیا ہے، اور لکھا ہے کہ اس میں ائمہ اربعہ سے بغیر متن، قرآن کے لکھنے کو سختی کے ساتھ حرام کیاگیا ہے۔ مفتی محمد شفیع عثمانی نے لکھا ہے کہ قرآن مجید کا صرف ترجمہ بغیر عربی الفاظ کے لکھنا اور لکھوانا اور شائع کرنا، باجماعِ امت حرام اور باتفاق ائمہ اربعہ ممنوع ہے‘‘۔ (جواہر الفقہ، جلد 1، صفحہ 97 )
مذکورہ فتوے کی بنیاد یقینی طور پر کسی نص پر مبنی نہیں ہے۔ اگر اُس کو درست قرار دیا جاسکتاہے تو صرف ایک بنیاد پر اس کو درست قرار دیا جاسکتاہے، اور وہ دورِ طباعت سے پہلے کے حالات کی نسبت سے ایک وقتی احتیاط ہے۔ اب دور طباعت میں اِس وقتی احتیاط کو برقرار رکھنا صرف ذہنی جمود کا ایک معاملہ ہوگا، نہ کہ حقیقۃً احتیاط کا معاملہ۔ دورِ طباعت میں قرآن کی حفاظت اتنے مستحکم انداز میں ہوچکی ہے کہ اب قدیم انداز کی کوئی احتیاط سرتاسر بے معنی ہے۔
مزید یہ کہ اِس قسم کے مفتی صاحبان نے اپنے جامد ذہن کی بنا پر ایک اور فتویٰ دے رکھا ہے۔ یہ فتویٰ ’’بے حرمتی‘‘ کے خود ساختہ تصور پر مبنی ہے۔اِس دوسرے فتوے کے مطابق، قرآن کے ترجمے کو اگر متن کے ساتھ شائع کیا جائے تو غیر مسلموں کے ہاتھ میں اس کو دینا جائز نہ ہوگا، کیوں کہ وہ قرآن کی بے حرمتی کریں گے۔ گویا کہ قرآن کے ترجمے کو اگر متن (text) کے بغیر شائع کیا جائے تو اس کا شائع کرناناجائز ہے۔ اوراگر قرآن کے ترجمے کو متن کے ساتھ شائع کیا جائے تو اس کو غیر مسلموں کے ہاتھ میں دینا ناجائز ہے، یعنی پہلی صورت میں طباعت ناجائز اور دوسری صورت میں استعمال ناجائز۔
یہ ایک مثال ہے جس سے اندازہ ہوتاہے کہ ذہنی جمود اپنے نتیجے کے اعتبار سے کتنا زیادہ ہلاکت خیز ہے۔ اِس قسم کے جامد فتووں کا یہ ہلاکت خیز نتیجہ ہوا ہے کہ دعوت الی اللہ کا کام عملاً معطل ہو کر رہ گیا۔ دعوت الی اللہ کے کام کا سب سے بڑا ذریعہ یہ ہے کہ قرآن کا ترجمہ مختلف زبانوں میں چھاپا جائے اور اس کو منظم طورپر لوگوں تک پہنچایا جائے۔ لیکن مذکورہ قسم کے بے اصل فتوؤں کی بنا پر ایسا ہوا کہ مسلمانوں کے اندر دعوت الی اللہ کا ذہن ہی نہیں بنا۔ موجودہ زمانےمیں پرنٹنگ پریس کا دور اِس لیے آیا تھا کہ خدا کی کتاب کا ترجمہ ہر زبان میں چھاپ کر اس کو تمام انسانوں تک پہنچایا جائے، مگردورِپریس پر تین سو سال سے زیادہ کی مدت گزر گئی اور ذہنی جمود کی بنا پراب تک یہ کام انجام نہ پاسکا۔
اِس مثال کے برعکس، ترکی میں ایک دوسری مثال سامنے آئی۔ یہاں ترکی کے شہر استانبول میں ایک تاریخی مسجد (رستم پاشا مسجد) ہے۔ یہ بڑی مسجد ہے اور یہاں کثرت سے سیاح آتے ہیں۔ یہاں کے ترکی امام کو ہمارے ساتھیوں نے قرآن کے انگریزی ترجمہ (بغیر متن) کی کاپیاں دیں۔ امام صاحب نے اس کو خوشی کے ساتھ لیا۔ اس کے بعد انھوں نے بڑی تعداد میں قرآن کا یہ انگریزی ترجمہ ترکی سے چھپوایا اور اس کو مزید پرکشش بنانے کے لیے قرآن کے سائز کا ایک خوب صورت بیگ تیار کیا۔ اب وہ اس کو باقاعدہ نظم کے تحت مسجد میں آنے والے سیاحوں کو دے رہے ہیں۔
اس کا طریقہ یہ ہے کہ انھوںنے مسجد کے صحن میں ایک میز پر قرآن کے ترجمے رکھ دئے ہیں۔ یہاں انھوں نے لکھ دیاہے کہ — یہ آپ کے لیے مسجد کی طرف سے فری اسپریچول گفٹ (free spiritual gift) ہے۔ چناں چہ مسجد میں آنے والے غیر مسلم سیاح یہاں سے بڑی تعداد میں قرآن کا انگریزی ترجمہ بخوشی حاصل کررہے ہیں۔
اِس فرق سے جدید ترکی کے مثبت پہلو کا اندازہ ہوتاہے۔ اتاترک آپریشن کے بعد ترکی میں یہ ہوا کہ جمود ٹوٹ گیا اور لوگوں کے اندر کھلا پن (openness) آیا۔ اِس کے مختلف مظاہر میں سے ایک مظہر یہ تھا کہ لوگوں کے اندر مذہبی جمود کا مزاج ختم ہوگیا۔ وہ چیزوں کو اُس کی حقیقت کے اعتبار سے دیکھنے لگے، نہ کہ قدامت پسندی اور کٹر پن کے اعتبار سے۔
ترکی کا ر ول
ترکی، شرقِ اوسط کا ایک ملک ہے۔ وہ جزئی طورپر ایشیا میں واقع ہے اور جزئی طور پر یورپ میں۔ دو براعظم کے درمیان اُس کا واقع ہونا اس کی تاریخ بنانے میں ایک مرکزی عامل ہے، اس کے کلچر میں اور اس کی سیاست میں۔ عام طور پر یہ کہا جاتا ہے کہ ترکی، مشرق اور مغرب کے درمیان ایک پل کی حیثیت رکھتاہے:
Turkey is a country of the Middle East lying partly in Asia and partly in Europe. Its location in two continents has been a central factor in its history, culture and politics. Turkey has often been called a bridge between East and West. (EB. 18/782)
ترکی کے ایشیائی حصے کو اناطولیہ (Anatolia) اور اس کے یورپی حصے کو تھریس (Thrace) کہاجاتاہے۔ ترکی کا یہ مختلف جغرافیہ کیسے بنا۔ ارضیاتی سائنس کے ماہرین نے اِس معاملے کی تحقیق کی ہے۔ اُن کا کہنا ہے کہ 200 ملین سال پہلے زمین ایک سالم کرہ کی صورت میں تھی، پھر اس کی سطح پر جگہ جگہ پھٹنے کا عمل ہوا۔ اِس نظریے کو جغرافیہ میں ڈرفٹنگ کانٹی نینٹ تھیوری (drifting continent theory) کہا جاتا ہے۔ یہ عمل دھیرے دھیرے تقریباً 140 ملین سال تک جاری رہا۔ اس کے بعد سطحِ زمین کا پانی سمندروں کی صورت میں جمع ہوگیا اور خشکی کے علاقے 5 الگ الگ براعظم بن گئے۔ گویا کہ ترکی کا موجودہ جغرافی نقشہ بننے میں ایک سو ملین سال سے زیادہ وقت لگ گیا۔
ترکی کا یہ مختلف جغرافیہ اتفاقاً نہیں بنا۔ اس کے پیچھے یقیناً خالق کی منصوبہ بندی شامل تھی۔ اِسی مختلف جغرافی ساخت کی بنا پر یہ ممکن ہوا کہ بعد کے زمانے میں ترکی انسانی تاریخ میں ایک مختلف رول ادا کرسکے۔
اسلام کا ظہور عرب میں ہوا۔ مخصوص اسباب کی بنا پر عرب کے لوگ بڑی تعداد میں شام (Syria) جایا کرتے تھے۔ شام کا ملک ترکی سے ملاہوا ہے۔ اسلام کا ظہور جب عرب میں ہوا اور اہلِ ایمان عرب کے باہر اطراف کے ملکوں میں تبلیغ کے لیے جانے لگے، تو اُن کی ایک تعداد شام سے گزر کر ترکی میں بھی داخل ہوگئی۔ یہ عمل صحابہ کے زمانے میں شروع ہوگیا تھا۔ چناں چہ ترکی میں بہت سے اصحابِ رسول کی قبریں پائی جاتی ہیں۔ اُن میں سے ایک حضرت ابو ایوب انصاری ہیں جن کی قبر استانبول (قسطنطنیہ) میں واقع ہے۔ اِس طرح ترکی ایک طرف قدیم مذہبی روایات کا حامل بن گیااور دوسری طرف آبنائے باسفورس کے اوپر برٹش انجینئروں کا بنایا ہوا جدید طرز کا پُل علامتی طورپر، یورپی ٹکنالوجی کی یاد دلاتا ہے۔ اِس طرح ترکی گویا مشرقی تہذیب اور مغربی تہذیب کے درمیان ایک سنگم (junction) کا کام کررہا ہے۔
ترکی کا یہ مخصوص جغرافیہ علامتی طور پر بتاتا ہے کہ ترکی کا مشن کیا ہے۔ وہ مشن ہے— مشرق سے ملی ہوئی خدائی ہدایت (divine guidance)کو اہلِ مغرب تک پہنچانا۔
اِس وقت دنیا میں تقریباً 60 مسلم ملک یا مسلم اکثریت کے علاقے ہیں، مگر اِن میں سے کوئی بھی ایسا ملک نہیں جہاں مذکورہ حالات پائے جاتے ہوں۔ یہ مطلوب حالات استثنائی طورپر صرف ترکی میں پائے جاتے ہیں۔ اِس لیے تقریباً یقین کے ساتھ کہا جاسکتاہے کہ دعوت الی اللہ کے معاملے میں آج جو رول مطلوب ہے، اس کا مرکز صرف ترکی بن سکتاہے، ترکی خداوند ِ رب العالمین کا انتخاب ہے۔
اِس معاملے میں، باعتبار نتیجہ، کمال اتاترک کا بھی ایک معاون رول (supporting role) ہے۔ مسلمانوں کے مذہبی طبقے میں عام طورپر کمال اتاترک ایک بدنام شخص کی حیثیت رکھتے ہیں، مگر حقیقت یہ ہے کہ کمال اتاترک نے جو کچھ کیا، وہ ایک ریڈیکل آپریشن (radical operation) تھا، اور کسی بڑی تعمیر کے لیے ہمیشہ اِس قسم کا ریڈیکل آپریشن ضروری ہوتاہے۔
میرے مطالعے کے مطابق، کمال اتاترک اسلام دشمن نہ تھے، وہ دراصل اسلام کے نام پر بنائے ہوئے خود ساختہ ڈھانچے کو توڑنا چاہتے تھے۔ اُن کا نشانہ یہ تھا کہ ترکی کے لوگوں میں کٹر پن اور جمود ختم ہو۔ ترکی میں کھلے پن (openness) اور روشن خیالی (enlightenment) کا دورآئے۔ ترکی کے لوگوں کو قدیم توہم پرستانہ دور سے نکال کر جدید سائنسی دور میں داخل کیا جائے۔ ترکی میں سیکولر ایجوکیشن کو فروغ دیاجائے، وغیرہ۔ اِس قسم کی انقلابی تبدیلی ریڈیکل آپریشن کے بغیر نہیں ہوسکتی۔
کمال اتاترک ترکی میں جو ریفارم لانا چاہتے تھے، اس کا اندازہ خود اُن کے ایک قول سے ہوتاہے۔ انھوں نے کہا تھا کہ — سائنس زندگی کی سب سے زیادہ قابلِ اعتماد رہنما ہے-
کمال ازم کی حقیقت
کمال اتاترک کی تحریک کو کمال ازم (Kemalism) کہاجاتا ہے- کمال ازم کی تحریک اینٹی اسلام تحریک نہ تھی- اپنی حقیقت کے اعتبار سے، کمال ازم کی تحریک مخالفِ جمود (anti-stagnation) تحریک تھی- ترکی میں کمال اتاترک کا دور 1920 کے بعد شروع ہوتاہے- اس سے پہلے ترکی مکمل طور پر ذہنی جمود کا شکار ہوچکا تھا- یہ وقت تھا جب کہ ترکی کے پڑوسی علاقہ یورپ میں ماڈرن ایجوکیشن اور ماڈرن انڈسٹری آچکی تھی، مگر ترکی قدیم روایتی دور میں پڑا ہوا تھا- اِس صورتِ حال کے ردِ عمل کے طورپر ترکی کے بہت سے لوگوں میں یہ ذہن پیدا ہوا کہ ترکی کو ماڈرنائز کیا جائے- کمال اتاترک دراصل اِسی ذہن کے قائد کے طورپر ابھرے-
ترکی میں کمال اتاترک کو 1923 میں سیاسی اقتدار ملا- اِس کے بعد انھوں نے ملک میں ریڈیکل اصلاحات کیں- خاص طورپر تعلیم اور انڈسٹری میں ترکی کو یورپ کی ترقیاتی سطح پر لانے کی کوشش کی- اتاترک سے پہلے ترکی میں تعلیم کی شرح بمشکل 20 فی صد تھی، مگر کمال آپریشن کے نتیجے میں ترکی میں تعلیم اتنی تیزی سے بڑھی کہ جلد ہی وہ 90 فی صد تک پہنچ گئی:
The literacy rate did increase greatly after the alphabet reform from around 20% to over 90%.
ترکی کے ایک مورخ نے لکھا ہے کہ — کمال انتظامیہ نے ترکی میں بڑے پیمانے پر تبدیلیاں کیں- اس نے ترکی میں سیکولرازم کو فروغ دیا اور حکومتی نظام کو ماڈرنائز کیا- تعلیم کو ترقی دینے پر خصوصی توجہ دی گئی- انڈسٹری اور بینکنگ کے نظام کو بہت زیادہ وسعت دی گئی:
Kemalist administration brought about a thorough secularization and modernization of the administration, with particular focus on the education system. The development of industry was promoted by strategies such as import substitution and the founding of state enterprises and state banks.
کمال اتاترک کے اِنھیں اقدامات کا یہ نتیجہ ہےکہ آج ترکی، جدید اصطلاح کےمطابق، ایک ترقی یافتہ ملک(developed country)بن گیاہے- وہ یورپ کے ترقی یافتہ ملکوں کی مانند ایک ترقی یافتہ ملک ہے- ترکی کے ادارے (institutions) ، ترکی کی انڈسٹری، ترکی کے شہر، ترقی کے اعتبار سے یورپ کے ملکوں سے پیچھے نہیں ہیں، حتی کہ جو ورک کلچر (work culture) یورپ میں پایا جاتا ہے، وہی ورک کلچر ترکی میں بھی موجود ہے-
یہ ایک واقعہ ہے کہ کمال اتاترک نے اپنے 18 سالہ دورِ اقتدار میں کئی غلطیاں کیں، مگر یہ بھی ایک واقعہ ہے کہ ہر مصلح غلطیاں کرتاہے، اِس میں کسی مصلح کا کوئی استثنا (exception) نہیں- دیکھنے کی اصل چیز بعد کا نتیجہ ہے، نہ کہ آپریشن کے زمانے کی بعض غلطیاں- آج ترکی کو ترقی کے اعتبار سے جو درجہ حاصل ہے، وہ بلاشبہہ کمال اتاترک کی ریڈیکل اصلاحات کا نتیجہ ہے- یہ کہنا صحیح ہوگا کہ اِس اعتبار سے، ترکی دوسرے مسلم ملکوں کے لیے ایک نمونہ ہے- دوسرے مسلم ملکوں کو چاہیے کہ وہ اتاترک آپریشن کے بعض منفی پہلوؤں کو نظر انداز کریں اور اس کے مثبت پہلوؤں کی پیروی کرتے ہوئے اپنے ملکوں کو جدید معیار پر ترقی یافتہ بنائیں-
ترکی کی جدید تصویر
مشہور مستشرق فلپ کے ہٹی (Philip K. Hitti) نے عرب کی تاریخ پر ایک کتاب لکھی ہے- یہ کتاب اپنے موضوع پر ایک مستند کتاب مانی جاتی ہے اور یونیورسٹیوں میں داخل نصاب ہے- اِس کتاب کا ترجمہ مختلف زبانوں میں ہوچکا ہے- اصل انگریزی کتاب کا ٹائٹل یہ ہے:
History of the Arabs:
From the Earliest Times to the Present
822صفحات کی اس کتاب میں عربوں کی علمی اور فکری تاریخ کو مستند ماخذ (authentic sources) کے حوالے سے بیان کیاگیا ہے-
اِس کتاب کا ایک باب علمی اور ادبی ترقیوں (scientific and literary progress) کے بارے میں ہے- مصنف نے بتایا ہے کہ عرب ایک زمانے میں ترقی کی اِس حد تک پہنچے کہ ابن سینا کی کتاب کو میڈیکل بائبل کہاجاتا تھا (صفحہ 368)- اس کا ذکر کرتے ہوئے مصنف نے لکھا ہے کہ بعد کی صدیوں میں عرب اپنی ترقی کی رفتار کو برقرار نہ رکھ سکے:
Reverence for the past with its traditions, both religious and scientific, has bound the Arab intellect with filters which it is only now beginning to shake off. (p. 381)
یعنی ماضی کی روایات کو مقدس سمجھنا عرب ذہن کے لیے ترقی کا بندھن بن گیا، علمی اعتبار سے بھی اور مذہبی اعتبار سے بھی- اب اِس میں تبدیلی ہور ہی ہے، مگر ابھی وہ صرف آغاز کے درجے میں ہے-
فلپ ہٹی نے جوبات عربوں کے بارے میں لکھی ہے، وہی بات پوری مسلم دنیا کے بارے میں درست ہے- اِس عموم میں خود ترکی بھی شامل ہے- ترکی میں وہ سارے حالات پیدا ہوئے جو بقیہ مسلم دنیا میں پیدا ہوئے تھے- موجودہ دور میں پوری مسلم دنیا قدیم وجدید کی کشمکش سے گزری ہے- اِس اعتبار سے، ترکی میں بھی وہی حالات پیش آئے جو دوسرے مسلم ملکوں میں پیش آئے-
البتہ ایک اعتبار سے فرق ہے، وہ یہ کہ ترکی جغرافی اعتبار سے، یورپ کی سرحد پر واقع ہے، بلکہ جزئی طورپر وہ براعظم یورپ ہی کا ایک حصہ ہے- اِس لیے فطری طورپر ایسا ہوا کہ نشاةِ ثانیہ (Renainssance) کے بعد یورپ میں جو نئے حالات پیداہوئے، اُن کا براہِ راست اثر ترکی پر پڑا- وہ واقعہ جس کو ’’ترکی میں مشرق ومغرب کی کشمکش‘‘ کہاجاتا ہے، وہ دراصل اس علاقے میں پیش آنے والے تہذیبی انقلاب کا نتیجہ تھا، نہ کہ کسی اتفاق یا کسی ’’سازش‘‘ کا نتیجہ-
ترکی کی مخصوص جغرافی پوزیشن کے نتیجے میں فطری طورپر ایسا ہوا کہ ترکی میں وہ پراسس شروع ہوا جس کو ویسٹرنائزیشن (westernization) یا سیکولرائزیشن(secularization) کہاجاتا ہے- اِس تحریک کے علم بردار بہت سے نئے ترکی مفکرین تھے- مثلاً محمد نامق کمال (1840-1888) اور محمد ضیا گوکلپ (1875-1924)، وغیرہ- مشہور تنظیم ینگ ترک Young Turk)) بھی اِسی کا ایک حصہ تھی-
ترکی کا سلطان سلیم اول(وفات: 1520ء) سیاسی دائرے میں اِس تحریک کا حامی تھا- وہ چاہتا تھا کہ ترکی کی تجدید کاری (modernization) کی جائے- خاص طورپر حکومتی ادارے کو ماڈرنائز کرنا- اِس سلسلے میں سلطان نے ترکی کی فوج کو مغربی آلاتِ حرب سے مسلح کرنے کی کوشش کی، مگر اُس وقت ترکی کے حالات اِس قسم کی تجدید کاری کے لیے موافق نہ تھے- چناں چہ مصلحین کی کوششیں زیادہ کامیاب نہ ہوسکیں اور خود سلطان سلیم کو تخت چھوڑ دینا پڑا-
جیسا کہ معلوم ہے، ترکی میں اسلام عہدِ صحابہ میں پہنچ چکا تھا- ترکی اِس سے پہلے رومی سلطنت کے قبضے میں تھا- مسلمانوں نے جب رومی سلطنت کو توڑا تو اس کے بعد ترکی مسلم مملکت کا ایک حصہ بن گیا- رومی سلطنت کے زمانے میں ترکی کی آبادی زیادہ تر مسیحی مذہب کو ماننے والی تھی- نئے حالات کے تحت یہاں اسلام تیزی سے پھیلنے لگا- عربی زبان وسیع پیمانے پر رائج ہوگئی- ترکی کے شہروں میں کثیر تعداد میں عربی مدرسے قائم ہوئے-
ترکی کے یہ عربی مدرسے آخر تک اپنے روایتی انداز پر قائم رہے- اِن مدرسوں کا ماحول مکمل طورپر قدامت پرستی کا ماحول تھا- اِن مدرسوں سے بڑی تعداد میں علما پیدا ہوئے- دھیرے دھیرے ترکی میں علما کو نہایت مضبوط حیثیت حاصل ہوگئی، یہاں تک کہ نئے خلیفہ کی خلافت اُس وقت مکمل ہوتی تھی جب کہ وہ جامع ایوب (مقبرہ ابوایوب انصاری) میں حاضر ہو اور وہاں شیخ الاسلام (مفتی اعظم قسطنطنیہ) اس کی کمر میں روایتی تلوار اپنے ہاتھ سے حمائل کریں، یہ رسم نئے خلیفہ کی تاج پوشی کا ایک لازمی حصہ تھی-
اِن تاریخی اسباب کے نتیجے میں ترکی کے علما کو ترکی میں نہایت طاقت ور پوزیشن حاصل ہوگئی-ترکی کے یہ علما دوسرے ملکوں کی طرح، اپنے محدود ماحول میں رہتے تھے، ان کو خارجی دنیا میں آنے والی تبدیلیوں کی مطلق خبر نہ تھی- وہ اپنے اِس قدامت پرستانہ مزاج کی بنا پر ترکی میں تجدید کاری کی تحریک کے شدید مخالف بن گئے- اِس کی ایک مثال یہ ہے کہ ’’مغرب میں پندرھویں صدی عیسوی میں متحرک ٹائپ کی ایجاد سے پرنٹنگ پریس کی دنیا میں حیرت انگیز انقلاب آگیا تھا، لیکن علما نے اِس نئی ٹکنالوجی کو یہ کہہ کر رد کردیا کہ عربی یا ترکی کی کتابوں میں خدا اور رسول کا نام ہوتا ہے جس کو اِس جدید طریقہ طباعت میں پامال نہیں کیا جاسکتا‘‘- اِسی طرح ’’1577 عیسوی میں استانبول میں ایک عظیم الشان رصد گاہ قائم کی گئی تھی جس کو علما نے خلافِ اسلام قرار دے دیا- اتفاق سے اُنھیں دنوں وہاں طاعون کی وبا پھیل گئی- علما کا موقف تھا کہ یہ دراصل اسرارِ خدائی میں مداخلت کی سزا ہے- بالآخر1580 عیسوی میں عوامی دباؤ کے سبب اِس رصد گاہ کو منہدم کردیاگیا‘‘، وغیرہ-
(ادراک زوالِ امت، از: راشد شاز، جلد 2، صفحہ 177)
روایتی علما کی شدید مخالفت کی بنا پر ترکی میں جوحالات پیدا ہوئے، اس کے نتیجے میں یہ ہوا کہ ایک طرف تجدیدی مصلحین کی آواز دب گئی، اور دوسری طرف شدید دباؤ کے تحت سلطان سلیم اول کو 8 سال حکومت کرنے کے بعد 1520 عیسوی میں تخت خلافت چھوڑنا پڑا-
ریڈیکل تبدیلی
دورِ جدید کے حالات نے اِس کو لازمی قرار دے دیا تھا کہ ترکی میں تجدید کاری (modernization)کا عمل کیاجائے- یہ کوشش ترک مصلحین کے ذریعے شروع ہوئی- ابتداء ً یہ تحریک تدریجی تبدیلی (gradual change) کے اصول پر چل رہی تھی، لیکن انیسویں صدی کے آخر میں یہ بات واضح ہوگئی کہ تبدیلی کا یہ کام تدریج کے اصول پر عملاً ممکن نہیں ہے- اِس کے بعد تاریخ کی فطری رفتار کے مطابق، سوچنے والے دماغوں میں ریڈیکل تبدیلی (radical change) کا ذہن پیدا ہوا- یہی ریڈیکل تبدیلی کا ذہن ہے جس نے بالآخر کمال اتاترک (1881-1938) کی صورت اختیار کرلی-
ریڈیکل تبدیلی (radical change) کا مزاج تدریجی تبدیلی (gradual change) سے بالکل مختلف ہوتا ہے- تدریجی تبدیلی ہمیشہ اعتدال کے اصول پر چلتی ہے، مگر ریڈیکل تبدیلی میں ہمیشہ انتہا پسندی (extremism) کا عنصر شامل ہوجاتا ہے- یہی جدید ترکی میں پیش آیا- جس کام کو پچھلے مصلحین اعتدال کے ساتھ کرنے میں ناکام ہوگئے، اُس کو کمال اتاترک نے انتہا پسندانہ انداز میں کرڈالا- بعض خرابیاں جو کمال ازم کے اندر پائی جاتی ہیں، وہ اِسی انتہا پسندی کا نتیجہ ہیں-
تاہم یہ ترکی کی خوش قسمتی تھی کہ کمالی ریڈیکل ازم بہت دیر تک نہ چل سکا- بہت جلد ترکی میں ایسے مصلحین پیدا ہوئے جنھوں نے کمال ازم کی تصحیح کی، جنھوں نے ترکی کے انقلاب کو کامیابی کے ساتھ اعتدال کی طرف لوٹایا- اِن ترک مصلحین میں سے دو خاص مصلحین یہ ہیں— بدیع الزماں سعید نورسی (1876-1960) ، اور استاد محمد فتح اللہ گولن (پیدائش: 1941)-
کمال اتاترک نے اپنے انتہا پسندانہ مزاج کی بنا پر سیکولر شعبہ اور مذہبی شعبہ کے درمیان فرق نہیں کیا- انھوں نے یہ کیا کہ سیکولر شعبوں میں ضروری اصلاحات لانے کے ساتھ مذہبی شعبوں کے اوپر بھی بلڈوزر چلا دیا، جو بلاشبہہ غیر ضروری تھا- لیکن جہاں تک مذہبی شعبوں کا تعلق تھا، وہاں دوسرا کام کرنا تھا، وہ تھا — مذہب کی اصل روح کو برقرار رکھتے ہوئے اس کو جدید تقاضوں کے مطابق بنانا-
بعد کے معتدل مصلحین نے اِس انتہا پسندی کو درست کیا- انھوں نے سیکولر شعبوں میں ماڈرنائزیشن کو برقرار رکھتے ہوئے مذہبی شعبوں کو دوبارہ ان کی اصل کی طرف لوٹایا-
اِسی مصلحانہ عمل کا نتیجہ ہے کہ آج ترکی میں مذہب اپنی اصل صورت میں بدستور قائم ہوگیا ہے- وہاں کی مسجدوں سے پہلے کی طرح عربی میں اذانیں بلند ہورہی ہیں، نماز کا نظام پہلے کی طرح اپنی اصل صورت میں قائم ہوگیا ہے، تمام مذہبی شعبے آزادانہ طورپر اپنا کام کررہے ہیں، وغیرہ- جدید ترکی میں کمال ازم کا دور دورہ نہیں ہے، بلکہ وہاں ایک اور چیز کا دور دورہ ہے جس کو نیو کمال ازم (Neo-Kemalism) یا اصلاح یافتہ کمال ازم کہاجاسکتا ہے-
دعوہ ایمپائر (Dawah Empire)
ترکی اپنی انفرادی خصوصیات کی بنا پر مسلم دنیا میں ایک مختلف ملک (country with a difference)کی حیثیت رکھتاہے۔ اس کا اظہار ہر دور میں اس کے امتیازی رول سے ہوتاہے۔
انیسویں صدی کے آخر تک ترکی پولیٹکل ایمپائر کارول ادا کرتا رہا۔ بیسویں صدی میں ترکی کے رہنماؤں نے کامیاب طور پر عالمی سطح پر ایک ایجوکیشن ایمپائر (Educational Empire) قائم کیا۔ اکیسویں صدی میں ترکی کے لیے مقدر ہے کہ وہ ایک عظیم تر رول ادا کرے— وہ ہے دور جدید میں اسلام کا ایک دعوہ ایمپائر قائم کرنا۔ دعوہ ایمپائر وقت کی سب سے بڑی اسلامی ضرورت ہے۔ تقریباً 60 مسلم ملکوں میں ترکی واحد ملک ہے جو اپنے حالات کے اعتبار سے دعوہ ایمپائر قائم کرنے کی اہلیت رکھتا ہے۔
ترکی کے ایک سفر (مئی 2012)میں میںنے وہاں کا مشہور میوزیم (توپ کاپی پیلس) دیکھا۔ اس میوزیم میں قرآن کا ایک قدیم نسخہ رکھا ہوا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ یہ قرآن کا وہ نسخہ ہے جو قبل از طباعت دور (pre-printing age) میں ایک صحابیٔ رسول کے قلم سے لکھاگیا تھا۔
جب میں میوزیم کے اُس حصے میں پہنچا جہاں یہ قرآن رکھا ہوا ہے تو میری عجیب حالت ہوئی۔ اس معاملے پر غور کرتے ہوئے مجھے قرآن کی یہ آیت یاد آئی: نزّل الفرقان علیٰ عبدہ لیکون للعالمین نذیرا (25:1)-مجھے ایسا محسوس ہواجیسے قرآن اپنی خاموش زبان میں کہہ رہا ہے کہ — اے امت مسلمہ، مجھ کو خدا نے دنیا کے تمام انسانوں کے لئے بھیجا تھا اور تم نے مجھ کو میوزیم میں رکھ کر چھوڑ دیا۔
قرآن میں بار بار اس قسم کے الفاظ آتے ہیں: یا أیہا الإنسان، یاأیہا الناس، یا بنی آدم۔ گویا کہ قرآن خداوند عالم کا ایک مکتوب یا ایک پیغام (message) ہے- اُس کو اِس لئے بھیجا گیاہے، تاکہ وہ تمام پیدا ہونے والے عورتوں اور مردوں تک پہنچ جائے۔ مگر عجیب بات ہے کہ قرآن کے نزول پر 14 سو سال سے زیادہ وقت گزر گیا، مگر ابھی تک قرآن کا خدائی مکتوب اس کے مکتوب الیہ (addressee) تک نہیں پہنچا۔ انسانی تاریخ کا یہ واحد مکتوب ہے جو ابھی تک اَن ڈلیورڈ (undelivered) پڑا ہوا ہے۔
اکیسویں صدی کی مردم شماری بتاتی ہے کہ پوری دنیا میں 7 بلین سے زیادہ انسان آبادہیں۔ گویا کہ امتِ محمدی کو خدا کا یہ پیغام 7 بلین انسانوں تک پہنچانا ہے۔ یہ وہ سب سے بڑا کام ہے جو امت محمدی کو انجام دینا ہے۔ امتِ محمدی اگر اس کام کو انجام نہیں دیتی تو وہ قرآن کی اس آیت کا مصداق بن جائے گی: یاأیہا الرسول بلغ ما أنزل إلیک من ربّک، وإن لم تفعل فما بلغت رسالتہ (5:67)۔ اِس آیت کے مطابق، ’تبلیغ ما انزل اللہ‘ کا کام نہ کرنے کی صورت میں پیغمبر کی پیغمبری مشتبہ ہوسکتی تھی۔
ختمِ نبوت کے بعد امت اب مقامِ نبوت پر ہے۔ ایسی حالت میں امت اگر ’تبلیغ ما انزل اللہ‘ کا کام نہ کرے تو سخت اندیشہ ہے کہ اس کا امتِ محمدی ہونا مشتبہ ہوجائے۔
نیا دور، نئے امکانات
دنیا کی سیاسی تاریخ کو دو دوروں میں تقسیم کیا جاسکتاہے۔ قبل نیشن اسٹیٹ دور (pre-nation state age) اور بعد نیشن اسٹیٹ دور (post-nation state age)۔ پچھلے سیاسی دور میں یہ ممکن ہوتا تھا کہ ایک قوم بزور طاقت مختلف ملکوں پر قبضہ کرکے اپنا ایک ایمپائر بنالے۔ بازنتین ایمپائر، رومن ایمپائر، آٹمان ایمپائر (Ottomon Empire)، سوویت ایمپائر اور برٹش ایمپائر اس کی مثالیں ہیں۔
مگر اب دنیا پوسٹ نیشن اسٹیٹ کے دور میں ہے۔ اب یہ آخری حد تک ناممکن ہوچکا ہے کہ کوئی قوم قدیم طرز کا ایمپائر بناسکے۔ آج اگر کوئی قوم قدیم طرز کا ایمپائر بنانا چاہے تو وہ ایک قسم کا خلافِ زمانہ عمل (anachronism) ہوگا جو عملاً کبھی وقوع میںآنے والا نہیں۔
مگر فطرت کا ایک اصول یہ ہے کہ ہر شام کے بعد ایک نئی صبح طلوع ہوتی ہے، یعنی ایک امکان کے خاتمے کے بعد ایک اور زیادہ بہتر امکان کا وجود میں آنا۔ زیر بحث معاملے میں بھی ایسا ہی پیش آیا ہے۔ اکیسویں صدی میں سیاسی اعتبار سے اپنا ایمپائر بنانا بلاشبہہ ایک ناممکن نشانہ بن چکا ہے۔ مگر قانون فطرت کے مطابق، دوسرا زیادہ بہتر امکان عین اِسی صدی میں پیدا ہوگیا ہے۔ یہ دوسرا امکان جدید کمیونی کیشن (modern communication) کے ذریعے حاصل ہوا ہے۔ جدید کمیونی کیشن نے اِس بات کوممکن بنا دیا ہے کہ دنیا میں پولٹکل ایمپائر کی جگہ الکٹرانک ایمپائر بنایا جاسکے۔ یہ الکٹرانک ایمپائر بلا شبہہ قدیم ایمپائر سے ہزاروں گنا زیادہ بڑاہے، رقبہ کے اعتبار سے بھی اور حصولِ مقصد کے اعتبار سے بھی۔
دور جدید کا الکٹرانک ایمپائر اُس قوم کے لئے مقدر ہے جس کے پاس انسان کے لیے کوئی نظریہ حیات یا آئڈیالوجی (ideology) ہو۔ اسلام بلاشبہہ اس قسم کی ایک ابدی آئڈیالوجی ہے۔ وہ قرآن پر مبنی ہے جو کہ واحد محفوظ الہامی کتاب ہے۔ امت مسلمہ کو عموماً اور اہلِ ترکی کو خصوصاً یہ موقع حاصل ہے کہ وہ اسلام کی مبنی بر قرآن آئڈیالوجی کو لے کر اٹھیں اور اکیسویں صدی میں اپنا ایک الکٹرانک ایمپائر بنا دیں۔
پچھلے دور میں پولٹکل ایمپائر بالادستی حاصل کرنے کے لئے ہوتا تھا، لیکن نیا الکٹرانک ایمپائر خدائی بلیسنگ کو عام کرنے کے لئے ہوگا۔ قدیم پولیٹکل ایمپائر ٹیکنگ اسپرٹ کا حامل ہوتا تھا، موجودہ الکٹرانک ایمپائر گونگ اسپرٹ (giving spirit) کا حامل ہوگا۔
قرآن واحد صحیفہ ہے جو انسان کو وہ چیز دیتاہے جس کی اُس کو سب سے زیادہ ضرورت ہے۔ وہ ہے انسان کے لیے اس کے خالق کا تخلیقی منصوبہ (creation plan) ۔ تخلیقی منصوبے کو جانے بغیر کوئی شخص یا قوم اپنی زندگی کی صحیح منصوبہ بندی نہیں کرسکتا۔ اور انسان کے بارے میں اِس تخلیقی منصوبے کو جاننے کے لیے آسمان کے نیچے ایک ہی محفوظ اور مستند کتاب ہے اور وہ بلا شبہہ قرآن ہے۔ استانبول کے میوزیم میں دورِ عثمانی کا قرآن گویا اِس بات کی یاددہانی ہے کہ قبل ازطباعت دور میں قرآن دعوت کا سب سے بڑا ذریعہ بنا تھا- اب بعد از طباعت دور میں قرآن مزید اضافے کے ساتھ، دعوت کا سب سے بڑا ذریعہ ہے-
ترکی کی اسلامی تاریخ
اسلام سے پہلے ترکی کے باشندوں کی اکثریت مسیحی مذہب (Christianity) کو ماننے والی تھی۔ ساتویں صدی عیسوی کے ربع اول میں یہاں اسلام داخل ہوا۔ اِس کے بعدیہاں مسلسل اسلام کا فروغ ہوتا رہا۔ اِس وقت ترکی کی آبادی میں مسلمانوں کی تعداد تقریباً 99 فی صد ہے۔
ترکی میں اسلام اور مسلمانوں کا استحکام بڑھتے بڑھتے یہاں تک پہنچا کہ یہاں ایک طاقت ور مسلم سلطنت قائم ہوگئی۔ اس کو عثمانی خلافت (Ottoman Empire)کہاجاتا ہے۔ یہ سلطنت 1299 ء میں قائم ہوئی اور 1924 ء تک باقی رہی۔ عثمانی سلطنت کے عروج کے زمانے میں اس میں ایشیا اور یورپ کے 12 ملک شامل تھے۔ استانبول کو عثمانی حکمراں سلطان محمد الفاتح (وفات:1481 ء) نے 1453 ء میں فتح کیا۔ اُس وقت اس کا نام قسطنطنیہ تھا۔ بعد کو وہ استانبول کے نام سے عثمانی سلطنت کی راجدھانی بن گیا۔
قدیم زمانہ مبنی بر شمشیر سیاست کا زمانہ تھا۔ اُس زمانے میں کسی مشن کو مضبوطی کے ساتھ جاری رکھنے کے لیے مستحکم سیاسی بنیاد (political base) درکار ہوتی تھی۔ عثمانی سلطنت نے اسلامی مشن کو یہی مضبوط سیاسی بنیاد فراہم کی۔ اِس قسم کی مضبوط سیاسی بنیاد کے بغیر قدیم زمانے میں اسلام کو فروغ حاصل نہیں ہوسکتا تھا۔ عثمانی ترکوں نے ایک مدت تک، نہ صرف ترکی، بلکہ مسلم دنیا کے بڑے حصے کو سیاسی دبدبہ کی یہی بنیاد فراہم کی۔ اِس اعتبار سے عثمانی سلطنت کا کارنامہ ناقابلِ انکار ہے۔
لیکن بیسویں صدی میں عالمی حالات مکمل طورپر بدل چکے تھے۔ اب نئے حالات کے مطابق، سیاست کا رول ثانوی (secondary) بن چکا تھا۔ اب ترکی میں اسلام کے فروغ کے لیے ضرورت تھی کہ وہاں غیر سیاسی دائرے میں ایک مضبوط تعمیری بنیاد قائم کی جائے۔
قدیم زمانہ سیاسی اقتدار کا زمانہ تھا۔ موجودہ زمانہ اس کے بجائے اداروں (institutions) کا زمانہ ہے، یعنی غیر سیاسی شعبوں میں پُرامن تنظیمیں بنانا، مثلاً تعلیم، صحافت، سماجی ترقی کے ادارے، پرنٹ میڈیا اور الیکٹرانک میڈیا کا استعمال، وغیرہ۔ نئے دور کے مواقع کو استعمال کرنے میں زوال یافتہ سیاسی نظام ایک رکاوٹ کی حیثیت رکھتا تھا۔ اتاترک کا کمال ازم اپنی حقیقت کے اعتبار سے، اِسی نوعیت کا ایک آپریشن تھا۔ اِس کے نتیجے میں ترکی میں کھلے پن (openness) کا نیا دور آیا اور یہ ممکن ہوگیا کہ نئے مواقع کو استعمال کرتے ہوئے اسلام کے حق میں غیر سیاسی دائرے میں ایک تعمیری بنیاد قائم کی جائے۔
مابعد اتاترک دور (post-Ataturk period) میں ترکی میں کچھ ایسے رہنما اٹھے جو نئے دور کے مواقع کو اسلام اور مسلمانوں کے حق میں منظم طورپر استعمال کرنا چاہتے تھے۔ جیسا کہ عرض کیا گیا، اِن نئے تُرک رہنماؤں میں سے دو رہنما خصوصی اہمیت رکھتے ہیں— ایک، بدیع الزماں سعیدنورسی، اوردوسرے استاد محمدفتح اللہ گولن۔ نئے ترکی کی تعمیر میں اِن دونوں کا نمایاں حصہ ہے۔
بدیع الزماں سعید نورسی 1876 میں پیدا ہوئے اور 1960 میں اُن کا انتقال ہوا۔ انھوں نے جزئی طورپر سیاست میں حصہ لیا، لیکن جلد ہی اُن پر سیاست کی برائی واضح ہوگئی اور انھوں نے یہ کہہ کر سیاست سے علاحدگی اختیار کرلی: أعوذ باللہ من الشیطان ومن السیاسۃ۔
سعید نورسی کی تحریک کو ’نورتحریک‘ کہاجاتا ہے۔ اُن کا طریقہ پرامن دائرے میں غیرسیاسی انداز میں کام کرنا تھا۔ اِس طرح کام کرکے وہ مسلمانوں کو اعلیٰ مقام تک پہنچانا چاہتے تھے۔ وہ دورِجدید میں مسلمانوں کے احیائِ نو کے علم بردار تھے۔ سعید نورسی کے ایک سیرت نگار کے الفاظ میں، ان کا مشن اسلامی تہذیب کی تعمیر نو (rebuilding of Islamic civilization) تھا۔ سعیدنورسی کے پیروؤں کی تعداد کئی ملین تک پہنچتی ہے۔
Said Nursi (1876-1960), the most influential Islamic scholar in modern Turkish history, is the inspiration behind the hugely popular Nur movement. Guided by his masterwork, the Risale-i Nur, Nursi's followers shun political ambition, focusing instead on a revival of personal faith through study, self-reform and service of others. Nursi lived through the upheavals that led to the establishement of a vigorously secular Turkish republic in place of the dismembered Ottoman caliphate. Nursi was educated through the medrese system in the tradional Islamic disciplines but also mastered modern Western philosophical and scientific ideas in order to address the challenges Muslims face now. In some ways the Risale-i Nur functions as an interpretation of the Qur’an for the contemporary world, millions within and outside Turkey have found solace in the interpretation.
اِس سلسلے میں دوسرا نام استاد محمدفتح اللہ گولنülen) (Fethullah Gکا ہے۔ وہ اکیسویں صدی عیسوی کے ترکی میں مقبول رہنما کی حیثیت رکھتے ہیں۔ان کے پیرو ساری دنیا میں پھیلے ہوئے ہیں۔ انھوں نے تعلیم، صحت، سوشل ریفارم جیسے تعمیری شعبوں میں ممتاز کام انجام دئے ہیں، ترکی میں بھی اور ترکی کے باہر بھی۔ میںنے ترکی کے سفر کے دوران ان کے پیروؤں کے قائم کئے ہوئے کچھ اداروں کو دیکھا۔ اِن اداروں کا معیار وہی تھا جو یورپ کے اداروں کا معیار ہوتاہے۔
فتح اللہ گولن کا یہ سوچا سمجھا نظریہ ہے کہ — پُرامن انداز میں تعمیری کام کرو اور عملی سیاست سے دور رہو۔یہاں استاذ فتح اللہ گولن کے ایک سیرت نگار کا ایک اقتباس نقل کیا جاتاہے:
Fethullah Gülen, a 67-year-old Turkish Sufi cleric, author and theoretician has dedicated much of his life to resolving questions such as: Is it possible to be a true religious believer and at the same time enjoy good relations with people of other faiths or none? Moreover, can you remain open to new ideas and new ways of thinking? He leads a global movement inspired by Sufi ideas. He promotes an open brand of Islamic thought. Leaman, a leading scholar of Islamic philosophy, says that Gülen's ideas are a product of Turkish history, especially the end of the Ottoman empire and the birth of the republic. He calls Gülen’s approach “Islamlite”. Millions of people inside and outside Turkey have been inspired by Gülen’s more than 60 books and the tapes and videos of his talks. Why? A combination of charisma, good organisation and an attractive message. What Gülen says is that you can be at home in the modern world while also embracing traditional values like faith in God and community responsibility — a message which resonates strongly in Turkey.
Another belief he shares with Sufism is the idea that God, humanity and the natural world are all linked, and might even be part of a single entity, a sort of cosmic trinity. This idea has practical consequences. For example, it suggests that a believer will love and respect humanity and the natural world as they would God. It also means that no one should be seen as an outsider. Hence Gülen’s insistence on friendship among people of all faiths and none. (Prospect, July 26, 2008)
ترکی کا نیا رول
Turkey: Second Phase of Sahaba Mission
جیسا کہ عرض کیا گیا، مئی 2012 کے پہلے ہفتے میں ترکی میں ایک انٹرنیشنل کانفرنس ہوئی۔ اس کی دعوت پر میںنے ترکی کا سفر کیا۔ ایک ہفتہ قیام کے دوران میں نے ترکی کے مختلف تاریخی مقامات دیکھے۔ اُن میں سے ایک حضرت ابو ایوب الانصاری کا مقبرہ ہے جو استانبول میں واقع ہے۔ اِس مقبرے کے ساتھ اب ایک بڑا کامپلیکس بنا دیاگیا ہے۔
3 مئی 2012 کو میں نے یہ مقبرہ دیکھا۔ جس وقت میں مقبرے کے سامنے کھڑا ہوا تھا، میرا دماغ اس کی تاریخ کے بارے میں سوچنے لگا۔ میں نے سوچا کہ ابو ایوب انصاری ایک صحابیٔ رسول تھے۔ وہ مدینہ میں پیدا ہوئے اور پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ان کے مشن میں شریک ہوئے۔ ایک دعوتی سفر کے دوران 52 ہجری میں وہ ترکی آئے۔ اُس وقت اُن کی عمر تقریباً 80 سال ہوچکی تھی۔ یہاں پہنچ کر شدید بیماری کی حالت میں ان کا انتقال ہوگیا۔ ان کی تدفین قسطنطنیہ میں ہوئی- قسطنطنیہ کا موجودہ نام استانبول ہے۔ ترکی میں متعدد صحابہ کی قبریں ہیں۔ ابو ایوب انصاری کی قبر اُن میں سے ایک ہے۔
میں نے سوچا کہ ابو ایوب انصاری اور دوسرے صحابہ عرب میں پیداہوئے۔ اس کے بعد وہ پرمشقت سفر کرکے ترکی پہنچے اور پھر وہ یہاں کی سرزمین میں مدفون ہوگئے۔ یہ سوچتے ہوئے مجھے تاریخ کا وہ واقعہ یاد آیا جو 632 عیسوی میں عرب کے میدانِ عرفات میں پیش آیا تھا۔ پیغمبراسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے یہاں حجۃ الوداع کے موقع پر اپنے اصحاب کو خطاب کیا تھا۔ آپ نے فرمایا تھا: إن اللہ بعثنی رحمۃً للناس کافۃً فأدّوا عنّی (معرفة الصحابة لأبی نُعیم، رقم الحدیث: 3438) یعنی اللہ نے مجھے ساری دنیا کے لیے رحمت بنا کر بھیجا ہے، پس تم میری طرف سے اِس پیغام رحمت کو تمام انسانوں تک پہنچا دو۔
پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی اِس ہدایت کے مطابق، آپ کے اصحاب، عرب کے باہر نکلے اور اطراف کے ملکوں میں وہ آپ کا پیغام پہنچانے لگے۔ مگر یہ جدید کمیونکیشن سے پہلے کا زمانہ تھا۔ چناں چہ ایک حد پر پہنچ کر اُن کا دعوتی قافلہ رک گیا اور تمام انسانوں تک پیغام رسانی کا پیغمبرانہ مشن اُس وقت فطری طورپر، اپنی تکمیل کو نہ پہنچ سکا۔
اِس معاملے کی ایک علامتی مثال عقبہ بن نافع التابعی (وفات: 63 ہجری) کی ہے۔ عقبہ بن نافع ایک دعوتی گروپ کے ساتھ چلتے ہوئے افریقہ کے مغربی ساحل تک پہنچ گئے۔ یہاں ان کے سامنے اٹلانٹک سمندر حائل ہوگیا۔ یہاںاپنے گھوڑے پر سوار ہو کر انھوںنے یہ تاریخی جملہ کہا: اللہم إنّی لو أعلم وراء ہذا البحر بلداً لخضتُہ إلیہ حتی لایُعبد أحد دونک (خدایا، اگر میں جانتا کہ اِس سمندر کے اُس پار بھی کوئی ملک ہے تو میں سمندر میں گھس کر وہاں جاتا، یہاں تک کہ تیرے سوا کسی کی عبادت نہ کی جائے)۔
استانبول میں جب میں صحابیٔ رسول کی قبر کے سامنے کھڑا تھا، اُس وقت یہ پوری تاریخ میرے ذہن میں تازہ ہوگئی۔ اچانک مجھے محسوس ہوا جیسے پیغمبر اسلام کے اصحاب جو اپنے دعوتی مشن کے تحت ترکی پہنچے اور یہاں کی زمین میں دفن ہوگئے، وہ خاموش زبان میں آواز دے رہے ہیں اور کہہ رہے ہیں کہ — اے امتِ محمد، تم کہاں ہو۔ اٹھو اور پیغمبر اسلام کے مشن کی تکمیل کرو، قبل کمیونی کیشن دور (pre-communication age) میں ہم نے پیغمبر کے مشن کو یہاں تک پہنچایا تھا۔ اب تم بعد کمیونی کیشن دور (post-communication age) میں ہو۔ تم اٹھو اور جدید مواقع کو استعمال کرتے ہوئے۔ زمین کے آخری حصے تک پیغمبر کے دعوتی مشن کو پہنچا دو۔
پیغمبر کا مشن
پیغمبر کا مشن کیا ہے، اس کو قرآن میں انذار وتبشیر(20:17)کے الفاظ میں بیان کیاگیا ہے، یعنی خدا کے تخلیقی منصوبہ (creation plan of God) سے دنیا کے تمام مردوں اور عورتوں کو باخبر کرنا، تاکہ آخرت میں جب تمام لوگ حشر کے میدان میں حاضر ہوں تو خدا کے سامنے کوئی یہ نہ کہہ سکے کہ ہم کو اِس تخلیقی منصوبے کی خبر نہ تھی۔ پیغمبرانہ مشن کی اِس حقیقت کو قرآن میں اِن الفاظ میں بیان کیاگیا ہے: رسلاً مبشرین ومنذرین لئلا یکون للناس علی اللہ حجۃ بعد الرسل 4: 165) )یعنی اللہ نے رسولوں کو خوش خبری دینے والے اور ڈرانے والے بناکر بھیجا، تاکہ رسولوں کے بعد لوگوں کے پاس اللہ کے مقابلے میں کوئی حجت باقی نہ رہے:
They were messengers, bearing good news and giving warning, so that mankind would have no excuse before God.
جغرافی اعتبار سے ترکی کا جائے وقوع بہت عجیب ہے۔ اس کا نصف حصہ ایشیا میں ہے اور بقیہ نصف حصہ یورپ میں۔ اِس طرح ترکی گویا کہ مشرق اور مغرب کے درمیان پل کی حیثیت رکھتا ہے:
Turkey is like a geographical bridge between East and West.
ترکی کی یہ جغرافی حیثیت بظاہر خدا کے تخلیقی منصوبہ کا ایک خاموش اعلان ہے۔ ترکی کے بارے میںخدا کو یہ منظور ہے کہ وہ حکمتِ نبوت (prophetic wisdom) کو مشرق سے لے اور اس کو مغربی اقوام تک پہنچائے۔
قدیم زمانے میں ترکی دو بڑے ایمپائر کی سیٹ رہا ہے — بازنتینی ایمپائر اور عثمانی ایمپائر اِس خصوصی تاریخ کی بنا پر ترکی میں بہت زیادہ تاریخی یادگاریں ہیںجو سیاحوں کے لیے خصوصی کشش کا ذریعہ ہیں۔ موجودہ زمانے میں سفر اور کمیونکیشن کی بنا پر ایک نیا ظاہرہ وجود میں آیا ہے جس کو عالمی سیاحت (international tourism) کہاجاتاہے۔ترکی اِس اعتبار سے چند ٹاپ کے سیاحتی ملکوں میں شمار ہوتاہے۔ یہاں مختلف ملکوں کے سیاح بڑی تعداد میں مسلسل آتے ہیں۔ سال 2011 میں ترکی میں دنیا کے مختلف حصوں سے آنے والے سیاحوںکی تعداد 31 ملین سے زیادہ تھی۔ ترکی میں آنے والے یہ لوگ سیکولر اصطلاح کے مطابق، سیاح (tourist) ہیں، لیکن اسلامی اصطلاح کے مطابق، وہ مدعو کی حیثیت رکھتے ہیں۔ اُن میں سے ہر عورت اور مرد اِس کا ضرورت مند ہے کہ اس کو پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کا پیغام اس کی اپنی قابلِ فہم زبان میں پہنچایا جائے۔
اِن سیاحوں کے بارے میں یہ کہنا درست ہوگا کہ مدعو خود داعی کے دروازے پر آکر دستک دے رہا ہے۔ وہ ترکی کے مسلمانوں سے کہہ رہا ہے کہ تمھارے پاس پیغمبر کا لایا ہوا خدائی کلام (Word of God) ہے۔ ہم تمھارے دروازے پر موجود ہیں۔ لاؤ وہ کلام ہم کو عطا کرو:
We are here. Give us the Word of God you have received from the Prophet of Islam.
اکیسویں صدی عیسوی میں پیدا ہونے والی یہ صورتِ حال، اپنی نوعیت کے اعتبار سے، زیادہ بڑے پیمانے پر عین وہی ہے جو ساتویں صدی عیسوی میں نسبتاً محدود پیمانے پر وجود میں آئی تھی۔ اِس صورت ِ حال کی حیثیت ایک دعوتی امکان (dawah opportunity) کی ہے۔ امتِ مسلمہ پر فرض ہے کہ وہ اِس امکان کو دعوت الی اللہ کے لیے اُسی طرح استعمال کرے جس طرح ساتویں صدی میں پیغمبر اور آپ کے اصحاب نے اس کو دعوت الی اللہ کے لیے استعمال کیا تھا۔
پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے 610 عیسوی میں مکہ میں اپنا مشن شروع کیا۔ اُس وقت مکہ مشرکانہ کلچر کا مرکز بناہوا تھا، حتی کہ خود مقدس کعبہ میں بھی کئی سو بت رکھے ہوئے تھے۔ اِس مشرکانہ کلچر کی بنا پر ایسا تھا کہ عرب کے مختلف حصوں سے لوگ برابر مکہ آتے تھے۔ آج کل کی اصطلاح میں یہ کہنا صحیح ہوگاکہ مکہ کے مشرکانہ مرکز ہونے کی بنا پر عرب میں ایک قسم کی مذہبی سیاحت (religious tourism) وجود میں آگئی تھی۔ مکہ اِن ’’مذہبی سیاحوں‘‘ کا مقامِ اجتماع بنا ہوا تھا۔
یہ اجتماعات اپنی اصل نوعیت کے اعتبار سے، مشرکانہ اجتماعات تھے، لیکن اِسی کے ساتھ یہ لوگ پیغمبر اسلام کے داعیانہ مشن کے لیے سامعین (audience) کی حیثیت رکھتے تھے۔ قدیم مکہ میں پیغمبر اور اصحابِ پیغمبر روزانہ ان کے اجتماعات میں جاتے اور قرآن سنا کر اُن کو دین ِ حق کا پیغام پہنچاتے۔ اِس لیے اصحابِ رسول کو ’’مقری‘‘ کہاجانے لگا، یعنی قرآن پڑھ کر سنانے والا۔ اِس طرح یہ ممکن ہوگیا کہ مکہ میں رہتے ہوئے تمام عرب قبائل تک پیغمبر اسلام کا لایا ہوا خدائی پیغام پہنچ جائے۔
یہ پرنٹنگ پریس کے دور سے پہلے کی بات ہے ۔ اُس وقت صرف یہ ممکن تھاکہ خدا کے کلام (قرآن( کو اپنے حافظے میں محفوظ کرلیا جائے اور اس کو لوگوں کے سامنے پڑھ کر سنایا جائے۔ مگر اب دنیا میں پرنٹنگ پریس کا دور آچکا ہے، اب یہ ممکن ہوگیا ہے کہ قرآن یا اس کا ترجمہ کتابی شکل میں تیار کرلیا جائے اور اس کو مطبوعہ صورت میں لوگوں تک پہنچایا جائے۔ گویا ساتویں صدی کے داعی اگر قرآن کے مقری بن کر دعوت کا کام انجام دے رہے تھے تو اکیسویں صدی کے داعی کو قرآن کا ڈسٹری بیوٹر (distributor) بن کر اِسی پیغمبرانہ مشن کو جاری رکھنا ہے۔ کسی گروہ کے لیے سب سے بڑی سعادت یہ ہے کہ اس کو دنیا میں نظریاتی قائد کا درجہ حاصل ہو۔ دعوت الی اللہ کا کام ہی وہ کام ہے جو امتِ مسلمہ کو موجودہ زمانے میں نظریاتی قیادت کا درجہ عطا کرسکتاہے۔
پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کا مشن دعوت الی اللہ کا مشن ہے۔ اِس مشن کے مستقبل کے بارے میں ایک پیشین گوئی حدیث میں اِن الفاظ میں آئی ہے: لا یبقیٰ علی ظہر الأرض بیتُ مدر ولاوبر إلَّا أدخلہ اللہ کلمۃَ الإسلام (مسند أحمد، رقم الحدیث: 24215) یعنی زمین کے اوپر کوئی چھوٹا یا بڑا گھر نہیں بچے گا، مگر یہ کہ اللہ اس کے اندر اسلام کا کلمہ داخل کردے گا۔
اِس حدیثِ رسول میں یہ پیشین گوئی کی گئی ہے کہ ایک وقت آئے گا جب کہ اسلام کا پیغام ساری دنیا میں بسنے والے ہر عورت اور مرد تک پہنچ جائے گا۔ اِس حدیث کا مطلب یہ نہیں ہے کہ ادخالِ کلمہ کا یہ واقعہ اسباب کے بغیر کسی پراسرار انداز میں پیش آئے گا۔ قانونِ فطرت کے مطابق، اِس دنیا میں ہر واقعہ اسباب وعلل کے تحت پیش آتا ہے۔ یہی صورت ادخالِ کلمہ کے مذکورہ معاملے میں پیش آئے گی۔ ادخالِ کلمہ کا یہ معاملہ بلا شبہہ ایک معلوم مُدخِل (داخل کرنے والا) کے ذریعے ہوگا، نہ کہ کسی پُراسرار طریقے کے ذریعے۔
اِس حدیث رسول میں دراصل پیشین گوئی کے انداز میں اُس دور کا ذکر ہے جس کو کمیونی کیشن کا دور (age of communication) کہاجاتاہے۔اِس حدیث کا مطلب یہ ہے کہ بعد کی تاریخ میں اہلِ ایمان کو عالمی کمیونکیشن کے ذرائع حاصل ہوجائیں گے اور اِس طرح اُن کے لیے یہ ممکن ہوجائے گا کہ اِن ذرائع کو استعمال کرتے ہوئے وہ اسلام کے پیغام کو عالمی سطح پر پہنچا سکیں، جب کہ اِس سے پہلے صرف مقامی سطح پر پیغام رسانی ممکن ہوتی تھی— یہی وہ چیز ہے جس کو ہم نے  دعوہ ایمپائر کا نام دیا ہے-
اخوانِ رسول
اب سوال یہ ہے کہ وہ کون لوگ ہیں جو کمیونی کیشن کے دور میں ادخالِ کلمہ کا یہ رول ادا کریں گے۔ اِس کا جواب ایک حدیث میںملتاہے۔ اُس کے الفاظ یہ ہیں: وددتُ أنا قد رأینا إخواننا۔ قالوا: أولسنا إخوانک یا رسول اللہ، قال: أنتم أصحابی، وإخواننا الذین لم یأتوا بعد (صحیح مسلم، رقم الحدیث: 249) یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاکہ میری خواہش ہے کہ ہم اپنے اخوان (بھائیوں) کو دیکھیں۔ صحابہ نے کہا کہ اے خدا کے رسول، کیا ہم آپ کے اخوان نہیں ہیں۔ آپ نے فرمایا کہ تم میرے اصحاب ہو، ہمارے اخوان وہ ہیں جو ابھی نہیں آئے۔
دونوں حدیثوں میں غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ اصحابِ رسول اور اخوانِ رسول دونوں کا مشن زمانے کے فرق کے ساتھ، ایک ہی ہے، یعنی دعوت الی اللہ۔ فرق صرف یہ ہے کہ اصحابِ رسول نے دعوت کے اس کام کو قبل کمیونی کیشن دور (pre-communication age) میں انجام دیا، اور اخوانِ رسول وہ لوگ ہوں گے جو اِسی دعوتی مشن کو بعد کمیونی کیشن دور (post-communication age) میں انجام دیں گے۔
اصحابِ رسول کو قرآن میں خیرِ امت (3:110)کہاگیا ہے۔ خیر امت کے بارے میں حضرت عمر فاروق کا ایک قول اِن الفاظ میں نقل ہوا ہے: من سرّہ أن یکون من ہذہ الأمۃ فلیؤد شرط اللہ فیہا (الطبری، 5/494 )- ایک اور روایت میں یہ الفاظ آئے ہیں: من فعل فعلہم، کان مثلہم (القرطبی، 4/170)- دونوں روایتوں کا خلاصہ یہ ہے کہ خیر امت یا اصحابِ رسول کوئی پراسرار ٹائٹل نہیں۔ یہ دراصل ایک رول (role) کا عنوان ہے، اور وہ رول دعوتی رول ہے۔ پچھلے زمانے میں دعوتی رول ادا کرنے کے نتیجے میں اصحاب رسول کو اصحابِ رسول ہونے کا درجہ ملا۔ اِسی طرح بعد کے زمانے میں جو لوگ مطلوب دعوتی رول اداکریں گے، اُن کو اخوانِ رسول کا درجہ ملے گا۔ اصحابِ رسول اور اخوانِ رسول دونوں تاریخی رول ہیں، نہ کہ پراسرار ٹائٹل۔
ترکی کی جو امتیازی خصوصیات ہیں، اُن کی بنا پر یہ کہا جاسکتاہے کہ اہلِ ترکی کے لیے امکانی طورپر وہ مواقع حاصل ہیں جن کو استعمال کرکے وہ اسلام کی تاریخ میں وہ رول ادا کریں جس کو حدیث میں اخوانِ رسول کا رول کہاگیا ہے- اِس معاملے میں دوسرے مقامات کے مسلمان بھی اُن کا ساتھ دے سکتے ہیں، مگر قانونِ فطرت کے مطابق، غالباً ایک گروہ کے لیے قائدانہ رول (leading role) مقدر ہے اور دوسرے گروہ کے لیے تائیدی رول (supporting role) ۔
ترکی کی امتیازی خصوصیات میںسے ایک خصوصیت یہ ہے کہ ترکی کی سرزمین میں بہت سے صحابہ کی قبریں ہیں۔ یہ اصحابِ رسول گویا خاموش زبان میں اہلِ ترکی کو یہ پیغام دے رہے ہیں کہ ساتویں صدی عیسوی میں اصحاب رسول کا دعوتی قافلہ یہاں آکر رک گیا تھا۔ اب تم اکیسویں صدی میں ہو۔ اب تم کو نئے حالات اور نئے وسائل کے ذریعے اِس دعوتی سفرکو آگے بڑھانا ہے، یہاں تک کہ حدیث رسول کی پیشین گوئی کے مطابق، دین ِ حق کا کلمہ ہر چھوٹے اور بڑے گھر میں داخل ہوجائے۔ یہی اخوانِ رسول کا رول ہے۔ مستقبل انتظار کر رہا ہے کہ بڑھنے والے آگے بڑھیں اور فرشتوں کے ریکارڈ میں اخوانِ رسول کی حیثیت سے اپنا اندراج کرائیں۔
ترکی میں مدفون صحابہ خاموش زبان میں آواز دے رہے ہیں کہ اے اہلِ ترکی، تم دوبارہ اٹھو اور پیغمبر کے دعوتی مشن کو اس کی آخری تکمیل تک پہنچا دو۔ پھر وہ وقت آنے والا ہے جب کہ حشر کے میدان میں دوبارہ آواز دینے والا فرشتہ آواز دے کہ وہ لوگ آئیں جن کی بابت پیغمبر نے پیشگی خبر دی تھی، اور پھر سارے پیدا ہونے والے لوگ رشک کی نظروں سے دیکھیں گے کہ کتنے خوش قسمت تھے وہ لوگ جنھوں نے دعوتی کام کیا جس کے نتیجے میں آج اُن کو اخوانِ رسول کا درجہ مل رہا ہے۔
اجتہادی رول
جدیدترکی کے لیے جو عالمی دعوتی رول مقدر ہے، اس کے لیے آسمان سے کوئی آواز نہیں آئے گی۔ اِس قسم کا رول اجتہادی ہوتاہے۔ اِس لیے وہ ہمیشہ دریافت کے ذریعے معلوم ہوتا ہے۔ دورِ اول میں یثرب (مدینہ) کے لیے ایک عظیم دعوتی رول مقدر تھا، مگر اہلِ مدینہ کو اِس کی خبر نہ تھی۔ پیغمبر اسلام کو بذریعہ وحی اس کی خبر دی گئی۔ چناں چہ آپ نے فرمایا: أمرتُ بقریۃ تأکل القری، یقولون یثرب، وہی المدینۃ (صحیح البخاری، رقم الحدیث: 1748)۔ اِس طرح ترکی کا عالمی دعوتی رول گہرے غور وفکر کے ذریعے دریافت کرنا ہوگا۔ جیساکہ عرض کیاگیا، قرائن (circumstances) واضح طورپر اس کا اشارہ کررہے ہیں۔
یہ قیاس ترکی کی چند متعین خصوصیات کی بنا پر قائم ہوتاہے۔ یہ خصوصیات بظاہرکسی دوسرے مسلم ملک میں موجود نہیں۔ اِن خصوصیات میں سے چند یہ ہیں:
1 - ترکی کا جغرافیہ ایک انوکھا جغرافیہ ہے۔ ترکی مسلم دنیا میں وہ واحد ملک ہے جس کو اپنے جائے وقوع کے اعتبار سے مشرق اور مغرب کے درمیان سنگم (junction) کی حیثیت حاصل ہے۔
2 - ترکی مسلم دنیا کا واحد ملک ہے جو مختلف اسباب کی بنا پر سیاحت کے نقشہ (tourist map) میں ٹاپ کا درجہ رکھتاہے۔ اِس طرح ترکی وہ واحد مسلم ملک بن گیا ہے جہاں ساری دنیا کے مدعو خود سفر کرکے داعی کے پاس پہنچ رہے ہیں۔
3 - قدیم زمانے میں دعوت کا کام سیاسی انفراسٹرکچر(political infrastructure) کی بنیاد پر ہوا تھا، موجودہ زمانے میں نئی تبدیلیوں کی بناپر دعوتی کام کے لیے سوشل انفراسٹرکچر (social infrastructure) درکار ہے، اور یہ ایک حقیقت ہے کہ مسلم دنیا میں اِس وقت صرف ترکی وہ ملک ہے جہاں یہ مطلوب سوشل انفراسٹرکچر پایا جاتاہے۔ میں نے اپنے سفر کے دوران اِس کو سوشیو ایجوکیشنل انفراسٹرکچر (socio-educational infrastructure) کا نام دیا تھا-ترکی میں یہ سوشل انفراسٹرکچر جن لوگوں کی کوشش سے قائم ہوا ہے، اُن میں استاد فتح اللہ گولن اور ان کے پیرو ایک امتیازی درجہ رکھتے ہیں۔
4 - ترکی کے اِس جدید ڈیولپ مینٹ میں مصطفی کمال اتاترک کا تائیدی رول ہے۔ کمال اتاترک فطری طورپر ایک جرأت مند اور باعزم آدمی تھے۔ یہ کمال اتاترک ہی تھے جو ترکی میں ریڈیکل ریفارم (radical reform) لے آئے۔ مثلا رومن رسم الخط کو ترکی زبان کا رسم الخط بنانا، مغربی طرزِ تعلیم کو ترکی میں رائج کرنا، وغیرہ۔
کمال اتاترک جو تبدیلیاں لائے، اُن کو مخالفِ مذہب(anti-religion)کہنا درست نہ ہوگا۔ زیادہ صحیح طورپر اتاترک کا مشن مخالفِ جمود (anti-stagnation)مشن تھا۔ ترکی کے سفر میں وہاں کی مشہور نیوز ایجنسی (Anadolia Ajansi)کے نمائندہ کو انٹرویو دیتے ہوئے میں نے کہا تھا کہ جدید ترکی کا کیس اسلام کو سیکولر بنانا نہیں تھا، بلکہ اپنے نتیجے کے اعتبار سے، وہ سیکولرزم کو اسلامی بنانا تھا:
The case of modern Turkey was not one of secularization of Islam, but in terms of result, it was Islamization of secularism.
ترکی میں کمال اتاترک کی ریڈیکل کارروائیوں کے نتیجے میں بہت سی مثبت چیزیں پیدا ہوئیں۔ مثلاً طویل جمود کا ٹوٹنا، لوگوں میں اوپن نیس (openness)کا آنا، جدید تعلیم کا فروغ، مغربی کلچر سے ڈائنا مزم (dynamism) کا آنا،مثبت سیکولر قدروں (positive secular values) کو فروغ، جدید وسائل کو کسی تحفظ کے بغیر رواج دینا، ترکی زبان کے لیے رومن رسم الخط اختیار کرنے کی بنا پر کمپیوٹر کی تیز رفتار ترقی کا ممکن ہوجانا، عالمی انٹریکشن (global interaction) کا عمومی پھیلاؤ، حقیقت پسندانہ طرزِ فکر (realistic thinking) کا رواج، علاحدگی پسندی (separatism) کا خاتمہ، ہر شعبے میں جدید کاری (modernization) ، وغیرہ۔
مصطفی کمال اتاترک بظاہر کوئی مذہبی انسان نہیں تھے، وہ صرف ایک سیکولر انسان تھے۔ مگر ترکی میں جو انقلابی تبدیلیاں ان کے ذریعے وجود میں آئیں، وہ باعتبار نتیجہ ایسی تھیں جن سے اسلامی دعوت کے نئے مواقع کھل گئے۔ یہ ایک حقیقت ہے جس کا انکار کرنا کسی کے لیے ممکن نہیں۔
کشتی نوح
ترکی کی ایک امتیازی خصوصیت ہے جو کسی دوسرے ملک کو حاصل نہیں، وہ یہ کہ ترکی وہ ملک ہے جو دورِ اول کے پیغمبر حضرت نوح کی کشتی کی آخری منزل بنا۔جیسا کہ معلوم ہے، تقریباً 5 ہزار سال پہلے حضرت نوح کے زمانے میں ایک بڑا طوفان آیا۔ اُس وقت حضرت نوح اپنے ساتھیوں کو لے کر ایک کشتی میں سوار ہوگئے۔ یہ کشتی قدیم عراق) میسوپوٹامیا) سے چلی اور ترکی کی مشرقی سرحد پر واقع کوہِ ارارات (Ararat Mountain) کی چوٹی پر ٹھہر گئی۔
اِس واقعے کا ذکر بائبل میں اور قرآن میں نیز مختلف تاریخی کتابوں میں بشکلِ کہانی موجود تھا، لیکن کسی کو متعین طورپر معلوم نہ تھا کہ وہ کشتی کہاںہے۔ اِس کا سبب یہ تھا کہ بعد کے زمانے میں مسلسل برف باری کے دوران یہ کشتی برف کی موٹی تہ (glacier) کے اندر چھپ گئی۔ موجودہ زمانے میں گلوبل وارمنگ کے نتیجے میں جگہ جگہ گلیشیر پگھلنے لگے۔ چناں چہ ارارات پہاڑ کے گلیشیر بھی پگھل گئے۔ اس کے بعد کشتی قابلِ مشاہدہ بن گئی۔
بیسویں صدی کے آخر میں کچھ لوگوں نے ہوائی جہاز میں پرواز کرتے ہوئے پہاڑ کے اوپر اِس کشتی کو دیکھا۔ اِس طرح کی خبریں برابر آتی رہیں ، یہاں تک کہ 2010 میں یہ خبر آئی کہ کچھ ماہرین پہاڑ پر چڑھائی کرکے ارارات کی چوٹی پر پہنچے اور کشتی کا براہِ راست مشاہدہ کیا، پھر انھوںنے کشتی کا ایک ٹکڑا لے کر اس کی سائنٹفک جانچ کی۔ اِس سے معلوم ہوا کہ کشتی کی عمر متعین طورپر چار ہزار آٹھ سو سال ہے، یعنی وہی زمانہ جب کہ طوفانِ نوح آیا تھا:
A group of Chinese and Turkish evangelical explorers said they believe they may have found Noah’s Ark—four thousand meters up a mountain in Turkey. The team say they recoverd wooden specimes from a structure on Mount Ararat in eastern Turkey that carbon dating proved was 4,800 years old, around the same time the Ark is said to have been afloat. (The Times of India, New Delhi, April 28, 2010)
قرآن میں کشتی نوح کا ذکر متعدد مقامات پر آیا ہے۔ اُن میں سے ایک وہ ہے جو سورہ العنکبوت میں پایا جاتا ہے۔ اس کے الفاظ یہ ہیں: فأنجینٰہ وأصحٰبَ السفینۃ، وجعلناہا اٰیۃً للعالمین (29:15)یعنی پھر ہم نے نوح کو اور کشتی والوں کو بچا لیا۔ اور ہم نے اس کو سارے عالم کے لیے ایک نشانی بنادیا:
Then we saved him and those who were with him in the Ark, and made it a sign for mankind.
حضرت نوح کی کشتی تاریخ انبیا کی قدیم ترین یادگار ہے۔ قرآن کے مذکورہ بیان کے مطابق، اِس قدیم ترین یادگار کو محفوظ رکھنا اِس لیے تھا، تاکہ وہ بعد کے زمانے کے لوگوں کے علم میں آئے اور اُن کے لیے دین ِ حق کی ایک تاریخی شہادت بنے۔
مگر یہ سادہ بات نہ تھی، اِس عالمی واقعے کو ظہور میں لانے کے لیے بہت سی شرطیں درکار تھیں۔ اِس کے لیے ضروری تھا کہ کشتی کا اِستوا(11:44)ایک ایسے ملک میں ہو جو اپنے جائے وقوع کے لحاظ سے عالمی رول ادا کرنے کی پوزیشن میں ہو، کشتی نوح کے ظہور کا واقعہ ایک طے شدہ وقت پر پیش آئے، جب کشتی نوح ظاہر ہو تو عالمی کمیونکیشن کا دور آچکا ہو، یہ واقعہ جب ظہور میں آئے تو اُس وقت گلوبل سیاحت (global tourism) کا دور بھی آچکا ہو، پرنٹنگ پریس کا زمانہ آچکا ہو، تاکہ خدا کی کتاب (قرآن) کے مطبوعہ نسخے لوگوں کو دینے کے لیے تیار کئے جاسکیں، دنیا کھلے پن (openness) کے دور میں پہنچ چکی ہو، اِسی کے ساتھ دنیا سے کچھ چیزوں کا خاتمہ ہوچکا ہو۔ مثلاً مذہبی جبر، کٹر پن (rigidity)، علاحدگی پسندی (separatism)، تنگ نظری (narrow-mindedness) ، وغیرہ۔
ترکی کے پہاڑ (ارارات) پر کشتی نوح کا موجود ہونا استثنائی طورپر ایک انوکھا واقعہ ہے۔ گلیشیر کاپگھلنا جب اِس نوبت کو پہنچے گا، جب کہ پوری کشتی ظاہر ہوجائے اور وہاں تک پہنچنے کے راستے بھی ہموار ہوجائیں تو بلاشبہہ یہ اتنا بڑا واقعہ ہوگا کہ ترکی نقشہ سیاحت (tourist map) میں نمبر ایک جگہ حاصل کرلے گا۔ ساری دنیا کے لوگ اِس قدیم ترین عجوبہ کو دیکھنے کے لیے ترکی میں ٹوٹ پڑیں گے۔ اِس طرح اہلِ ترکی کو یہ موقع مل جائے گا کہ وہ اپنے ملک میں رہتے ہوئے ساری دنیا تک خدا کے پیغام کو پہنچادیں۔ یہ وہ وقت ہوگا کہ جب کہ ترکی میں آنے والے سیاحوں کے لیے قرآن سب سے بڑا گفٹ آئٹم (gift item) بن جائے گا جس میں پیشگی طور پر کشتی نوح کی موجود گی کی خبر دے دی گئی تھی۔
کشتی نوح اور ترکی
جیسا کہ عرض کیا گیا، حضرت نوح کی کشتی قدیم عراق (میسوپوٹامیا) کے علاقہ سے روانہ ہوئی- وہ اپنے چاروں طرف مختلف مقامات کی طرف جاسکتی تھی، لیکن اس نے ایک خاص رخ پر اپنا سفر کیا- پھر وہ چلتی ہوئی ترکی کی مشرقی سرحد پر واقع ایک پہاڑ کے اوپر ٹھہر گئی- یہ سخت سردی کا علاقہ تھا- چناں چہ کشتی بھاری اسنوفال (heavy snow fall) کے نتیجے میں برف کے بہت بڑے تودے کے نیچے دب گئی- اس طرح لمبی مدت تک فاسِلائزیشن (fossilization) کے عمل کے نتیجے میں وہ پتھر جیسی ہوگئی- اس طرح کشتی محفوظ رہی اور اکیسویں صدی میں برف پگھلنے کے نتیجے میں وہ ظاہر ہو کر لوگوں کے سامنے آگئی-
ایسا کیوں ہوا- حضرت نوح کی کشتی کے لئے مختلف آپشن (option) موجود تھے، لیکن اس نے صرف ایک ہی آپشن لیا اور وہ ترکی کے پہاڑ کا آپشن تھا- ایسا بلا شبہہ خدا کی ہدایت پر ہوا- اِس معاملے کو اتفاقی واقعہ کے طورپر نہیں لے سکتے- ہمارے لئے لازم ہے کہ ہم اس کو خالق کے منصوبے کے تحت پیش آنے والا واقعہ سمجھیں-
—اس معاملے پر غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت نوح کی کشتی کے ذریعہ اللہ تعالیٰ کو جو رول مطلوب ہے، اس رول کے لئے زیادہ موزوںمقام اپنی بعض خصوصیات کی بنا پر، ترکی (Turkey) تھا-اللہ تعالیٰ کو یہ معلوم تھا کہ بعد کے زمانے میں ترکی ایک مسلم ملک بنے گا- اللہ تعالیٰ کو معلوم تھا کہ ترکی ایسا ملک ہے جو مشرقی دنیا اور مغربی دنیا کے درمیان جنکشن (junction) کی حیثیت رکھتا ہے- اللہ تعالیٰ کو معلوم تھا کہ مختلف اسباب سے ترکی میں ساری دنیا کے سیاح کثرت سے آئیں گے- اسی کے ساتھ اللہ تعالیٰ کو یہ بھی معلوم تھا کہ مسلم ملکوں کی لمبی فہرست میں ترکی وہ واحد ملک ہوگا جو مذہبی کٹرپن (religious fanaticism) سے خالی ہوگا اور اس بنا پر وہ سب سے زیادہ موزوں ملک ہوگا جہاں سے کشتی نوح کا مطلوب رول ادا کیا جاسکے-
یہ مطلوب رول کیا ہے- وہ بلا شبہہ دعوت ہے، یعنی اللہ کے تخلیقی منصوبہ سے تمام مرد اور عورت باخبر ہوجائیں- اِس مقصد کے لئے کشتی نوح ایک تاریخی شہادت (historical evidence) کی حیثیت رکھتی ہے- وہ اُس خدائی منصوبہ کی ایک تاریخی یادگار ہے جس کا ظہور حضرت نوح کے ذریعہ ہوا- کشتی نوح براہِ راست طورپر حضرت نوح کی تاریخ کی مادی شہادت ہے اور بالواسطہ طورپر تمام نبیوں کی تاریخ کی مادی شہادت-
اللہ تعالیٰ کو مطلوب تھاکہ قیامت سے پہلے تمام انسانوں کے سامنے اس بات کا محسوس اعلان ہوجائے کہ انسان کے بارے میں اللہ کا منصوبۂ تخلیق کیا تھا- کشتی نوح اس خدائی منصوبہ تخلیق (creation plan of God) کی ایک ناقابلِ انکار شہادت ہے- اور مختلف اسباب سے اِس شہادت کی ادائیگی کے لئے سب سے زیادہ موزوں مقام ترکی تھا-
ضرورت ہےکہ تمام دنیا کے مسلمان عموماً اور ترکی کے مسلمان خصوصاً اس خدائی منصوبے کو سمجھیں اور اس منصوبے کی تکمیل کے لئے وہ سارا اہتمام کریں جو اس کے لئے ضروری ہو- مثال کے طورپر وہ کشتی نوح کے مقام کو ایک اعلیٰ درجہ کے ٹورسٹ اسپاٹ (Tourist Spot) کے طورپر ڈولپ (develop) کریں- وہاں آمد ورفت کی تمام سہولتیں مہیا کریں- پھر وہاںاعلیٰ معیار پر یہ انتظام کریں کہ وہاں تربیت یافتہ افراد موجود ہوں، لائبریری موجود ہو- وہاں قرآن کا ترجمہ مختلف زبانوں میں برائے ڈسٹری بیوشن یا برائے فروخت موجود ہو- وہاں اِس بات کا اعلیٰ انتظام کیا جائے کہ کشتی نوح کے حوالے سے پیغمبرانہ مشن لوگوں کے سامنے اطمینان بخش صورت میں آسکے- گویا کہ کشتی نوح کے ظہور کا یہ مقام صرف ایک کشتی کے ظہور کا مقام نہ رہے، بلکہ وہ پورے معنوں میں جدید ترین معیار کا ایک دعوتی سنٹر بن جائے-
خدا کے تخلیقی منصوبے کے مطابق، ہماری زمین کے لئے دو سیلاب مقدر تھا —— ایک، حضرت نوح کے زمانے کا سیلاب اور دوسرا، وہ جو تاریخ بشری کے خاتمے پر پیش آئے گا- کشتی نوح پہلے سیلاب کے لئے تاریخی یادگار کی حیثیت رکھتی ہے، اور دوسرے سیلاب کے لئے اس کی حیثیت تاریخی ریمائنڈر (historical reminder) کی ہے- اکیسویں صدی عیسوی کے ربعِ اول میں کشتی نوح کا ظہور گویا اِس بات کی وارننگ ہے کہ لوگو، تیاری کرو، کیوں کہ آخری طوفان کا وقت قریب آگیا ہے-
خوش قسمت ہیں وہ لوگ جو اِس خدائی منصوبے کو سمجھیں اوراس کی تکمیل کرکے اللہ کے یہاں اجرِ عظیم کے مستحق بنیں- حقیقت یہ ہے کہ ہزاروں سال تک برف کے تودے میں دبے رہنے کے بعد کشتی نوح کا ظاہر ہونا صورِ اسرافیل سے پہلے کے دور کا سب سے بڑا واقعہ ہے- اِس کے بعد اگلا واقعہ صرف صورِ اسرافیل ہوگا جو گویا اِس بات کا آخری اعلان ہوگا کہ عمل کرنے کا وقت ختم ہوچکا اور عمل کا انجام پانے کا دور آگیا-
ترکی کا انتخاب
پہلی عالمی جنگ (1914-1918) دو گروپ کے درمیان ہوئی تھی— ایک کو اتحادی طاقت (Allied Powers) کہاجاتا تھا، اور دوسرے کو محوری طاقت (Axis Powers) کہاجاتا تھا- اُس وقت ترکی کے سامنے یہ سوال تھا کہ وہ دونوں گروپ میں سے کس گروپ کا ساتھ دے- اُس وقت مولانا محمد علی جوہر (وفات: 1931 ) نے اپنے انگریزی ہفتہ وار کامریڈ (Comrade) میں ایک طویل مضمون شائع کیا تھا- اِس مضمون میں انھو ں نے ترکوں کو یہ مشورہ دیا تھا کہ ترکوں کا انتخاب (choice)’محوری گروپ‘ ہونا چاہیے- آخر کار ترکی نےپہلی عالمی جنگ میں اپنے داخلی حالات کے تحت محوری گروپ کا ساتھ دیا، لیکن اِس جنگ میں محوری گروپ کو شکست ہوئی جس کی قیادت اُس وقت جرمنی کررہا تھا- اِس کے نتیجے میں ترکی کو شدید سیاسی نقصان سے دوچار ہونا پڑا-
اب اکیسویں صدی میں وہ وقت آگیا ہے کہ ترکی کو ایک اور انتخاب (choice) کا مشورہ دیا جائے- یہ انتخاب دعوت الی اللہ کا انتخاب ہے- یہ انتخاب کسی ایک گروپ کی حمایت اور کسی دوسرے گروپ کی مخالفت کا انتخاب نہیں ہے، وہ ساری انسانیت کو اپنا نشانہ بنانے کا کام ہے- دعوت الی اللہ کا کام ساری انسانیت کو اپنا انتخاب بنانا ہے، نہ کہ کسی ایک محدود گروہ کو-
مزید یہ کہ دعوت الی اللہ کا انتخاب ایک غیر سیاسی مشن کا انتخاب ہے- اِس انتخاب میں نہ شکست کا سوال ہے اور نہ ناکامی کا سوال- یہ انتخاب کسی گروہ کی عدوات پر مبنی نہیں ہے، بلکہ وہ پوری انسانیت کی خیر خواہی پر مبنی ہے- اس کے آغاز میں بھی کامیابی ہے، اور اس کے انجام میں بھی کامیابی-
واپس اوپر جائیں

Monday, 1 October 2012

Al Risala | October 2012 (الرسالہ,اکتوبر)

2

- ذہنی ارتقا کی اہمیت

3

- صداقت کی پہچان

4

- عقل کا مسئلہ

6

- گاڈ پارٹکل کیا ہے

11

- مثبت شخصیت، منفی شخصیت

مشینی باربرداری

- حیوانی باربرداری، 

13

- قرآن کی تلاوت، قرآن کی دعوت

14

- ضمیر کی آزادی

18

- اہلِ ایمان کا غلبہ

19

- حق کو باطل ثابت کرنا

22

- ایک عمومی فتنہ

24

- موت کی یاد: ایک صحت مند عمل

26

- سماجی قبولیت یا نفاذِ قانون

28

- یہ بے خبرانسان

29

- ایک عبرت ناک واقعہ

30

- شیطان کی سنت

31

- ناقابلِ معافی جُرم

32

- اسلام کے نام پر غیر اسلام

33

- جائز فضول خرچی

34

- مواقع کی بربادی

35

- اِحیاءِ سنت

38

- بھولا ہوا سبق

39

- کامیابی کا راز

40

- سُستی کی شکایت

41

- حقیقت پسندی

42

- سوال وجواب

43

- خبرنامہ اسلامی مرکز


ذہنی ارتقا کی اہمیت

قرآن کی سورہ طٰہٰ میں ایک دعا کا حکم ان الفاظ میں دیاگیا ہے: قل ربّ زدنی علماً (114: 20) یعنی تم کہو کہ اے میرے رب، میرا علم زیادہ کردے۔ اِس سلسلے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک دعا ان الفاظ میں آئی ہے: اللہم انفعنی بما علّمتنی، وعلِّمنی ما ینفعنی، وزدنی علما(تفسیر ابن کثیر، 3/167) یعنی اے اللہ جو علم تو نے مجھے دیا ہے، اس کو تو میرے لیے نافع بنا، اور مجھے وہ علم دے جو میرے لیے نفع بخش ہو، اور میرے علم میں اضافہ کر۔
اِس آیت اور اِس حدیثِ رسول میں جو بات بتائی گئی ہے، اس کو اگر لفظ بدل کر کہا جائے تو یہ کہنا درست ہوگا کہ اِس سے مراد ذہنی ارتقا (intellectual development) ہے۔ اصل یہ ہے کہ قرآن میں آدمی کو بنیادی علم دے دیاگیا ہے۔ انسان سے یہ مطلوب ہے کہ وہ اِس علم کی روشنی میں مزید غور کرے اور اپنے علم میں برابر اضافہ کرتا رہے۔
علم میںاضافے کا مطلب ہے قرآن کے اشارات میں تفصیل کا اضافہ کرنا، بدلے ہوئے حالات میں قرآن کے انطباق (application) کو از سرِ نو دریافت کرنا، قرآن میں بتائی ہوئی نشانیوں (signs)کو نئی دریافتوں کے ذریعے مزید واضح کرنا، قرآن میں جو کچھ سطور (lines) میں بیان کیا گیا ہے، اُس پر غور کرکے اس کے بین السطور (between the lines) کو دریافت کرنا۔ قرآن میں فکری ارتقا اور تزکیۂ روحانی کے جو اصول بتائے گئے ہیں، اُن کی اِس طرح تعبیر کرنا کہ وہ ہر دور کے ذہنِ انسانی کو ایڈریس کرسکے، وغیرہ-
علم میں اضافے سے مراد ذہنی ارتقا میں اضافہ ہے، یعنی وہ علم جو آدمی کی معرفت کو بڑھائے، جو آخرت پسندانہ ذہن پیدا کرے، جو غیبی حقائق پر یقین میں مزید اضافہ کرے، جو قرآن کے اندر چھپی ہوئی نئی نئی حقیقتوں کو آدمی کے اوپر کھولنے والاہو۔ اِس طرح علم میں اضافہ آدمی کے ایمان میں اضافے کا ذریعہ ثابت ہوگا، اور ایمان میں اضافہ ایک ایسی چیز ہے جس کی کبھی کوئی حد نہیں آتی۔
واپس اوپر جائیں

صداقت کی پہچان

قرآن کی سورہ ص میں ارشاد ہوا ہے: قل ما أسئلکم علیہ من أجر، وما أنا من المتکلفین- یعنی کہو کہ میں اِس پر تم سے کوئی اجر نہیں مانگتا اور نہ میں تکلف کرنے والوں میں سے ہوں:
Say, ‘I do not ask you for any recompense for this, nor am I of those who are given to affectation’. (38:87)
قرآن کی اِس آیت میں پیغمبر کی پہچان کے لیے دو موضوعی معیار (objective criteria) بتائے گئے ہیں- یہ دونوں معیار بلاشبہہ کامل طورپر پیغمبر کی زندگی میں موجود تھے، اور یہی واقعہ اِس بات کا یقینی ثبوت ہے کہ جس شخص نے پیغمبری کا دعوی کیا ہے، وہ بلاشبہہ اللہ کا سچا پیغمبر ہے-
میں اپنے کام پر تم سے اجر نہیں مانگتا — اِس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ میں تم سے اجر کا مطالبہ نہیں کرتا- اِس کا مطلب یہ ہے کہ میں نے اِس مشن کو کسی دنیوی غرض کے لیے نہیں شروع کیا ہے، میرے اِس مشن کا محرک (incentive) صرف آخرت ہے، دولت، شہرت، مقبولیت، جیسی چیزیں میرے عمل کا محرک نہیں- یہ بات یہاں بطور دعوی نہیں ہے، بلکہ وہ اِس معنی میں ہے کہ تمھارے سامنے میری پوری زندگی ہے- تم میری زندگی میں کوئی ایسی مثال نہیں پاؤگے جس سے ظاہر ہوتاہو کہ دنیوی نوعیت کی کوئی چیز میرا مقصود ہے- میری پوری زند گی اِس بات کا ثبوت ہے کہ میرا مقصود صرف آخرت ہے، اس کے سوا اور کچھ نہیں-
دوسری بات یہ فرمائی کہ میں متکلِّف (تکلّف کرنے والا)نہیں ہوں- یہ دعوی نہیں ہے، بلکہ وہ دلیل ہے- اِس کا مطلب یہ ہے کہ میرا لہجہ، میرا بول، میرا اندازِ کلام واضح طور پربتاتا ہے کہ میں جو کچھ کہتا ہوں، وہ میرے دل کی حقیقی آواز ہے — — یہ معیار جو پیغمبر کی صداقت کو جانچنے کے لیے بتایا گیاہے، وہی بعد کے دور کے داعیوں کے لیے بھی واحد خارجی معیار ہے- سچا داعی وہ ہے جس کے اندر یہ دونوں صفتیں پوری طرح پائی جاتی ہوں-
واپس اوپر جائیں

عقل کا مسئلہ

عقل (reason) کیا ہے- عقل خالق کا ایک قیمتی عطیہ ہے- حدیث میں آیا ہے کہ — اللہ تعالی نے سب سے افضل چیز جو پیدا کی، وہ عقل ہے (ما خلق اللہ خلقاً أکرم علیہ من العقل)- حقیقت یہ ہے کہ انسان کے تمام کمالات کا انحصار عقل پر اور عقل کے استعمال پر ہے، عقل کے بغیر کوئی بھی انسانی ترقی ممکن نہیں-عقل نہ ہو تو انسان پتھر کے ایک اسٹیچو کی مانند ہوجائے گا- وہ نہ حق کو حق سمجھ سکے گا اور نہ باطل کو باطل-
عقل بذاتِ خود معیار (criterion) نہیں ہے- عقل، فہم وادراک کی صلاحیت (ability) ہے- عقل کی حیثیت آلہ یا فیکلٹی (faculty) کی ہے، عقل کی حیثیت مستقل بالذات جج کی نہیں- عقل، حقائق سے نتیجہ اخذ کرنے کی استعداد کا نام ہے:
Reason: The intellectual faculty by which conclusions are drawn from premises.
عقل (reason) اور وحی (revelation) کو ایک دوسرے کا حریف بتانا بلاشبہہ ایک غلطی ہے- حقیقت یہ ہے کہ وحی ایک مستقل ذریعہ علم ہے، جب کہ عقل بذاتِ خود کوئی ذریعہ علم نہیں- خود وحی کی صحت پر جب کوئی شخص یقین کرتاہے تو وہ بھی یہی کرتاہے کہ وہ اپنی خداداد عقل کو استعمال کرکے اُس پر غور کرتاہے اور پھر یقین کے درجے میں پہنچ کر وہ وحی کی صداقت کو دریافت کرتا ہے- اِس اعتبار سے یہ کہنا درست ہوگا کہ عقل، وحی کی مددگار ہے، نہ کہ وحی کی مدِّ مقابل-
عقل، خالق کی دی ہوئی ایک فطری صلاحیت ہے، عقل کسی کی ذاتی ایجاد نہیں- اِس معاملے میں غلطی کا آغاز یہاں سے ہوا کہ دوسری تمام چیزوں کی طرح عقل کے معاملے میں بھی کچھ لوگوں نے عقل کا غلو آمیز تصور (extreme version) پیش کیا- انھوں نے انتہا پسندی کا طریقہ اختیار کرتےہوئے خود ساختہ طورپر یہ دعوی کیا کہ عقل بذاتِ خود حصولِ علم کا معیاری ذریعہ ہے- مذہبی طبقے نے اِس تصورِ عقل کو درست سمجھ لیا اور وہ غیر ضروری طورپر عقل یا عقلی غوروفکر کو مذہب کا مخالف سمجھنے لگے اور وہ اِس طرح کی غیرعلمی باتیں کرنے لگے کہ —عقل کا دائرہ الگ ہے اور وحی کا دائرہ الگ- عقل کا دائرہ وہاں پر ختم ہوجاتاہے، جہاں سے وحی کا آغاز ہوتاہے، وغیرہ- اصل یہ ہے کہ عقل الگ ہے اور عقل پرستی الگ-
قرآن میں ’عقل‘کا مادّہ (root)تقریباً 50 بار استعمال ہوا ہے- قرآن میں بار بار عقل کا حوالہ دیتے ہوئے یہ کہاگیا ہے کہ اپنی عقل کے ذریعے وحی کی صداقت کو دریافت کرو- مثال کے طور پر قرآن کی سورہ یوسف میں یہ آیت آئی ہے: إنا أنزلناہ قرآناً عربیاً لعلکم تعقلون (2:12) یعنی ہم نے اِس کتاب کو عربی قرآن بنا کر اتارا ہے، تاکہ تم سمجھو:
We have sent down the Quran in Arabic, so that you may understand (by applying reason).
اِسی طرح قرآن میں بتایاگیا ہے کہ تم اپنی عقل کو استعمال کرتے ہوئے نبوت کی صداقت کو دریافت کرو(16: 10)، وغیرہ-انسان کو فطری طور پر مختلف صلاحیتیں دی گئی ہیں- اُنھیں میں سے ایک صلاحیت، عقل ہے- مثلاً پاؤں کے اندر چلنے کی صلاحیت، ہاتھ کے اندر پکڑنے کی صلاحیت، آنکھ کے اندر دیکھنے کی صلاحیت- کان کے اندر سننے کی صلاحیت، وغیرہ- اِسی طرح انسان کو عقل دی گئی ہے جو سوچنے اور تجزیہ کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے- اِسی کے ساتھ انسان کو کامل آزادی دی گئی ہے- انسان کو یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ اپنی آزادی کا صحیح استعمال کرے یا وہ اُس کا غلط استعمال کرے، اور یہ ایک معلوم حقیقت ہے کہ کان اور آنکھ کا صحیح استعمال بھی ہے اور اس کا غلط استعمال بھی-
عقل انسان کو اِس لیے دی گئی ہے کہ وہ ڈاٹا (data) جمع کرکے اور پھر حاصل شدہ ڈاٹا کا تجزیہ کرکے صحیح علم تک پہنچنے کی کوشش کرے- تاہم عقل بذاتِ خود علم کا ذریعہ نہیں، اِس لیے عقل صحیح فیصلہ تک بھی پہنچ سکتی ہے اور غلط فیصلے تک بھی- جو لوگ عقل کو بذاتِ خود علم کا ذریعہ سمجھتے ہیں، وہ دراصل عقلی مدرسہ فکر (school of thought) کے انتہا پسند (extremists) لوگ ہیں- ایسے انتہا پسند لوگ ہر جگہ پائے جاتے ہیں، حتی کہ خود مذہب اور عقیدے کے دائرے میں بھی-
واپس اوپر جائیں

گاڈ پارٹکل کیا ہے

گاڈ پارٹکل (God Particle) کیا ہے- گاڈ پارٹکل کا مطلب خدائی ذرہ نہیں، گاڈ پارٹکل دراصل ایک سائنسی مسئلے کی سائنسی تشریح (scientific description) ہے- گاڈ پارٹکل کا تصور دراصل خدا کا مشینی بدل (mechanical substitute of God) ہے- گاڈ پارٹکل کی دریافت کا براہِ راست طورپر مذہبی عقیدے سے کوئی تعلق نہیں-
God Particle: The Standard Model of physics is used by scientists to explain the building blocks of the universe. According to this model the universe began with a big bang. The Big Bang theory is widely accepted within the scientific community. This theory states that 13.7 billion years ago the universe was in the shape of a very dense and compact cosmic ball. Then an explosion occurred in this compact ball, and all its constituents started flying apart with the speed of light. All the particles released from this cosmic ball were drifting apart from each other at the speed of light, which is the maximum speed of any object in the universe. Everything in the universe is made up of atoms. These atoms are in turn made up of electrons and protons. But, after the explosion of the Big Bang, electrons and protons were speeding away from each other. These particles could bind together to form atoms only if they their speed was decreased. And their speed could be decreased only by being given mass. This is why the Higgs boson is so important. Higgs boson is a subatomic particle. Physicists say its job is to give mass to the particles that make up atoms. Atoms then combined to form molecules, then molecules combined to form compounds, and these compounds gave rise to all the constituents of the universe as it exists today. If the Higgs boson were taken away, the particles which make up atoms, would have zipped through the cosmos at the speed of light, unable to join together to form the atoms that make up everything in the universe, from planets to people. Then all creation would be unthinkable.
4 جولائی 2012 کو سائنس دانوں نے ایک دریافت کا اعلان کیا- اس کو نیرڈسکوری (near discovery)کہاجاتاہے- یہ دراصل ایک سب ایٹمک پارٹکل (sub-atomic particle) کی دریافت ہے جس کے بارے میں پچھلے تقریباً 50 سال سے رسرچ ہورہی تھی- اِسی درمیان 1993 میں ایک امریکی سائنس داں لیان لیڈرمین (Leon Lederman) نے ایک کتاب تیار کی- اس کا ٹائٹل اس نے گاڈ ڈیم پارٹکل (Goddamn Particle)تجویز کیا-اُس وقت تک یہ پارٹکل ایک پراسرار پارٹکل بنا ہوا تھا-لیان لیڈر مین اپنی کتاب میں اِس پارٹکل کا کوئی واضح تصور نہیں دے سکا تھا- اس نے جھنجھلاہٹ میں اپنی اِس کتاب کا نام ’گاڈڈیم پارٹکل‘ رکھ دیا-’گاڈڈیم‘ ایک بگڑا ہوا نام ہے- اردو میں کہتے ہیں خدا کی لعنت- خراب موسم ہو تو کہا جائے گا،گاڈ ڈیم ویدر (Goddamn weather)- پبلشر کو کتاب کا یہ نام پسند نہیں آیا- اس نے بطور خود ’ڈیم‘ کا لفظ نکال دیا اور کتاب کو ’گاڈ پارٹکل‘ کے نام سے چھاپ دیا- اُس وقت سے عوامی طورپر اِس ذرے کو گاڈ پارٹکل کہاجانے لگا- تاہم سائنس دانوں کے نزدیک اِس ذرّے کا نام ہگس بوزان (Higgs Boson) ہے-
بوزان کا لفظ دراصل ’بوس‘ کے نام سے لیا گیا ہے- ستیندرناتھ بوس (SN Bose) ایک انڈین سائنس داں تھے- ان کی وفات 1974میں ہوئی- انھوں نے 1924 میں ’سب ایٹمک پارٹکل‘(behaviour of subatomic particles) کے بارے میں ایک پیپر تیار کیا تھا- اس پیپرکو البرٹ آئن سٹائن (وفات: 1955) اور دوسرے سائنس دانوں نے بہت پسند کیا تھا- اُس وقت سے اِس پارٹکل کا نام بوزان (boson)پڑ گیا ہے- اِس مخصوص پارٹکل کو ’بوزان‘ کا نام سب سے پہلے برٹش سائنس داں پال ڈیراک (Paul Dirac) نے دیا تھا-
اسکاٹ لینڈ کے ایک سائنس داں پیٹر ہگس (Peter Higgs) نے 1964 میں اِس موضوع پر زیادہ واضح انداز میں ایک مفصل پیپر تیار کیا ، جس کا ٹائٹل یہ تھا:
Broken Symmetries and the Masses of Gauge Bosons
اس وقت سے زیر ِ تلاش پارٹکل کو ہگس بوزان کہاجانے لگا-
سائنسی نقطہ نظر سے ہگس بوزان کی اہمیت بہت زیادہ تھی، اِس لیے وہ ساری دنیا کے سائنس دانوں کے لیے تلاش کا موضوع بن گیا- آخر کار 1998 میں اِس موضوع کی تحقیق کے لئے ایک خصوصی سرنگ بنائی گئی- اِس سرنگ کو ایک یورپین ادارہ نے تیار کیا تھا- اس کا نام یہ ہے:
European Oganization for Nuclear Research
اِس سرنگ کا نام یہ تھا — لارج ہیڈرون کولائڈر(Large Hadron Collider) - اِس پروجیکٹ میں دنیا کے ایک سو ملک شریک ہوئے اور 10 ہزار سائنس دانوں اور انجینئروں نے اِس میں کام کیا- 4 جولائی 2012 کو اس پروجیکٹ کے نتیجہ (result) کا اعلان کیا گیا- سائنس دانوں نے اعلان کیا کہ اِس تحقیق میں وہ ’نیر ڈسکوری‘ تک پہنچ گئے ہیں-
’ہگس بوزان‘ دراصل فزکس کے اسٹینڈرڈ ماڈل کا ایک گم شدہ پارٹکل ہے جو اِس بات کی توجیہہ کرتا ہے کہ ابتدائی انفجار کے بعد کائنات کیسے وجود میں آئی- فزکس کے اسٹینڈر ماڈل کو سائنس داں کائنات کے بلڈنگ بلاک (building block) کی توجیہہ کرنے کے لیے استعمال کرتے ہیں- اِس ماڈل کے مطابق، کائنات کا آغاز بگ بینگ سے ہوا- بگ بینگ کا نظریہ سائنس دانوں کے نزدیک عمومی طورپر تسلیم کرلیا گیا ہے- یہ نظریہ بتاتا ہے کہ 13 بلین سال پہلے کائنات ایک بہت بڑے کاسمک بال کی صورت میں تھی- کائنات کے تمام پارٹکل اس کے اندر شدت سے باہم پیوست تھے- پھر اِس کاسمک بال میں ایک انفجار ہوا اور اس کے تمام اجزا چاروں طرف روشنی کی رفتار سے سفر کرنے لگے- روشنی کی رفتار معلوم طورپر سب سے زیادہ ہے جو ایک لاکھ 86 ہزار میل فی سکنڈ ہوتی ہے- کاسمک بال سے جو پارٹکل خارج ہوئے، وہ نہایت تیزی کے ساتھ ایک دوسرے سے دور بھاگ رہے تھے-ہر چیز جو اِس کائنات میں ہے، وہ ایٹم سے بنی ہے- یہ تمام ایٹم الیکٹران اور پروٹان کے ملنے سے بنتے ہیں- ضرورت تھی کہ یہ تمام پارٹکل باہم ملیں، لیکن بگ بینگ کے انفجار کے بعد الیکٹران اور پروٹان بھاگ رہے تھے، کیوں کہ اُن میں کمیت (mass) نہیں تھی- یہ ذرات باہم مل کر ایٹم کو صرف اُس وقت بنا سکتے تھے جب کہ ان کی رفتار کم ہو، اور ان کی رفتار صرف اُس وقت کم ہوسکتی تھی جب کہ ان کے اندر کمیت پیدا ہوجائے-
ہگس بوزان کی اہمیت یہ ہےکہ وہ اِس سائنسی مسئلے کا جواب فراہم کرتاہے- ہگس بوزان ایک سب ایٹمک پارٹکل کا نام ہے- سائنس دانوں کے مطابق، ہگس بوزان کا کام یہ ہے کہ وہ ایٹم کے پارٹکل کو کمیت عطا کرے- اس کے بعد ہی یہ ممکن ہوتا ہے کہ ایٹم مل کر مالی کیول (molecule) بنائیں اور پھر مالی کیول کے بننے سے کمپاؤنڈ بنے- پھر کمپاؤنڈ کے ملنے سے وہ تمام چیزیں بنتی ہیں جوکہ اِس وقت کائنات میں موجود ہیں-اگر ہگس بوزان نہ ہوتے تو پارٹکل میں کمیت پیدا نہ ہوتی جو کہ باہم مل کر ایٹم بناتے ہیں- اِس کا نتیجہ یہ ہوتا کہ تمام پارٹکل روشنی کی رفتار سے خلا میں سفر کرنے لگتے، پھر یہ ناممکن ہوجاتا کہ وہ باہم مل کر ایٹم بنائیں اور اس کے بعد کائنات کی تمام چیزیں وجود میں آئیں، ستاروں سے لے کر سیاروں تک اور غیر ذی روح اشیا سے لے کر ذی روح اشیا تک-
قرآن کی تصدیق
قرآن کی سورہ النساء میں ارشاد ہواہے: أفلا یتدبرون القرآن، ولو کان من عند غیر اللہ لوجدوا فیہ اختلافاً کثیراً (4:82) یعنی کیا یہ لوگ قرآن پر غور نہیں کرتے، اگر یہ (قرآن) اللہ کے سوا کسی اور کی طرف سے ہوتا تو وہ اُس میں بہت زیادہ اختلاف پاتے-
قرآن ساتویں صدی عیسوی کے ربع اول میں اترا- یہ سائنس کی دریافتوں سے بہت پہلے کا زمانہ تھا- اِس قبل دریافت زمانے میں قرآن کی اِس آیت کا اترنا گویا یہ دعوی کرنا تھا کہ بعد کی دریافت شدہ حقیقتیں قرآن کے عین مطابق ہوں گی، قرآنی بیانات اور دریافتوں کے درمیان کبھی عدم مطابقت (inconsistency) نہ ہوگی- اِس طرح یہ واقعہ اِس بات کی تصدیق ہوگا کہ قرآن عالم الغیب کی کتاب ہے، کیوں کہ عالم الغیب کے سوا کوئی بھی پیشگی طورپر اِن حقیقتوں کو نہیں سمجھ سکتا تھا-
اِس اعتبار سے غور کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ بگ بینگ کا تصور اور ہگس بوزان کا تصور پیشگی طورپر قرآن میں موجود تھا- اِس سلسلے میں قرآن کی سورہ الانبیاء کی درج ذیل آیت کا مطالعہ کیجئے: أولم یر الذین کفروا أن السماوات والأرض کانتا رتقاً ففتقناہما، وجعلنا من المائ کل شیئ حیّ، أفلا یؤمنون (21:30) یعنی کیا انکار کرنےوالوں نے نہیں دیکھا کہ آسمان اور زمین دونوں بند تھے، پھر ہم نے اُن کو کھول دیا- اور ہم نے پانی سے ہر جان دار چیز کو بنایا- کیا پھر بھی یہ لوگ ایمان نہیں لاتے-
قرآن کی اِس آیت میں تخلیق کے تین مرحلوں کا ذکر ہے — پہلے مرحلے کو ’رتق‘ کہاگیا ہے- رتق کا مطلب ہےمنضم الأجزاء یعنی کائنات کے تمام پارٹکل کا باہم جڑاہوا ہونا- اِس میں کاسمک بال کی طرف اشارہ ملتا ہے- دوسرے مرحلے کو قرآن میں ’فتق‘ سے تعبیر کیا گیاہے- فتق کا مطلب ہے: الفصل بین المتصلین، یعنی باہم ملی ہوئی چیزوں کا ایک دوسرے سے الگ ہوجانا- اس میں بگ بینگ کے واقعے کی طرف اشارہ ہے- اِس کے بعد تیسرے مرحلے میں پانی (الماء) کے بننے کا ذکر ہے- یہاں پانی کا ذکر علامتی طورپر ہے، یعنی پانی اور دوسری تمام چیزیں-
پانی ایک جوہری مادہ(substance) ہے- اِس طرح کے بہت سے جوہری مادّے کائنات میں پائے جاتے ہیں- پانی ہائڈروجن کے دو ایٹم اور آکسیجن کے ایک ایٹم کے ملنے سے بنتا ہے- یہی معاملہ دوسری تمام مادّی چیزوں کا ہے- ہر چیز ایٹم کے ملنے سے بنی ہے اور ایٹم اُس وقت بنا جب کہ اس کے پارٹکل میں کمیت (mass) پیدا ہوئی- اِس طرح، اِس آیت میں پانی کا ذکر کرکے اِس نوعیت کی دوسری تمام مادی چیزوں کی طرف اشارہ کردیاگیا ہے، یعنی ’فتق‘کے واقعے کے بعد تمام پارٹکل میں کمیت کا پیداہونا اور پھر پارٹکل کا مجتمع ہو کر تمام چیزوں کا وجود میں آنا-
قرآن، سائنس کی کتاب نہیں ہے، البتہ قرآن میں مظاہر فطرت کے بہت سے حوالے دئے گئے ہیں جو کہ سائنس کا موضوع تحقیق ہیں- قرآن کا مقصد صرف یہ ہے کہ فطرت میں موجود آیات (signs) کا حوالہ دے کر قرآن کی آئڈیالوجی کو علمی طورپر ثابت کرنا- اِس طرح قرآن میں فطرت کے بہت سے مظاہر کے متفرق حوالے (fragmentary references)دئے گئے ہیں- اِن حوالوں کے بارے میں قدیم زمانے میں کچھ معلوم نہ تھا- گویا کہ قرآن میں یہ حوالے مستقبل کی انسانی نسلوں کو شامل کرتے ہوئے دئے گئے تھے- اِس طرح انسان کے لیے یہ ممکن ہوگیا کہ وہ قرآن کے اِن حوالوں کا تقابل بعد کے حالات سے کرکے قرآن کی صداقت کی تصدیق حاصل کرے-
واپس اوپر جائیں

مثبت شخصیت، منفی شخصیت

اسلامی فقہ کا یہ مسئلہ ہے کہ اگر ایک ٹب پاکیزہ پانی ہو، اُس میں گندگی کا ایک قطرہ ڈال دیا جائے تو ٹب کا پورا پانی گندا ہو جائے گا- اِس کے برعکس، اگر ایک ٹب گندا پانی ہو اور اس میں ایک قطرہ پاک پانی ڈال دیا جائے تو اُس سے وہ پانی پاک نہیں ہوجائے گا، بلکہ وہ بدستور گندا رہے گا- یہ ایک خارجی نوعیت کی مادی مثال ہے- یہی معاملہ انسان کی داخلی شخصیت کا ہے-
ایک شخص کے ذہن میں اگر 99 مثبت آئٹم ہوں اور صرف ایک منفی آئٹم اس کے اندر داخل ہوجائے تو یہی منفی آئٹم غالب آجائے گااور آدمی کی پوری شخصیت منفی شخصیت بن جائے گی- یہ ایک نفسیاتی حقیقت ہے کہ مثبت سوچ کسی درجے میں بھی منفی سوچ کو قبول نہیں کرتی- آدمی کی شخصیت یا تو صد فی صد مثبت شخصیت ہوگی، یا وہ سرے سے مثبت شخصیت ہی نہ ہوگی-
یہ ایک اہم نفسیاتی اصول (psychological principle)ہے جو آدمی اپنے اندر مثبت شخصیت (positive personality) کی تعمیر کرنا چاہتا ہے، اُس کو لازمی طورپر یہ کرنا ہے کہ وہ سختی کے ساتھ اپنا محاسب بن جائے- وہ ہر وقت اِس بات کی نگرانی کرتا رہے کہ اس کے ذہن میں ادنی درجے میں بھی کوئی منفی سوچ داخل نہ ہو- شکایت یا نفرت کا کوئی ایک آئٹم بھی اگر اس کے اندر موجود ہے تو وہ ڈھونڈ کر اس کو باہر نکال دے- اِس معاملے میں وہ خود اپنا نگراں بن جائے-
تعمیر شخصیت کا یہ ایک مستقل عمل ہے جو ہر آدمی کو ہر صبح وشام انجام دینا ہے- کوئی بھی دوسرا عمل اِس معاملے میں غفلت کی تلافی نہیں بن سکتا-
یاد رکھنا چاہیے کہ مثبت شخصیت ہی ربانی شخصیت ہے اور ربانی شخصیت ہی وہ شخصیت ہے جس کو آخرت کے دورِ حیات میں جنت میں داخلہ ملے گا- منفی شخصیت رکھنے والے لوگ بلاشبہہ جنت میں داخلے کے لیے غیر مستحق قرار پائیں گے-
واپس اوپر جائیں

حیوانی باربرداری، مشینی باربرداری

ترکی کی ’’جامع سلیمانیہ‘‘ ایک مشہور تاریخی مسجد ہے- اس کو ترکی کے مشہور عثمانی خلیفہ سلیمان اعظم نے سولھویں صدی عیسوی میں تعمیر کیا تھا- اِس مسجد کی تعمیر میں دنیا کے مختلف مقامات کے قیمتی پتھر استعمال کئے گئے ہیں- کہاجاتا ہے کہ یہ پتھر دور کے مقام سے بیل گاڑیوں پر رکھ کر یہاں لائے جاتے تھے- بعض مرتبہ زیادہ وزنی پتھروں کو منتقل کرنے کے لیے بیلوں کی دس جوڑیوں پر مشتمل بیل گاڑیاں استعمال کی جاتی تھیں-
یہ حیوانی بار برداری کے زمانے کا واقعہ ہے- اب ہم ایک نئے دور میں ہیں- اِس نئے دور کو مشینی بار برداری کا دور کہا جاسکتا ہے- دور کی اِس تبدیلی نے انسان کے لیے غیر معمولی سہولتیں پیدا کردی ہیں- اِن نئی سہولتوں کا مزید پہلو یہ ہے کہ قدیم زمانے میں دس جوڑیوں کے بیل سے چلنے والی گاڑی کا استعمال صرف کسی بادشاہ کے لئے ممکن ہوتا تھا، مگر موجودہ زمانے میں مشینی بار برداری سے فائدہ اٹھانا ہر عورت اورمرد کے لیے ممکن ہوگیاہے-
موجودہ زمانے میں انسان کے لیے غیر معمولی نوعیت کی جو عمومی سہولتیں پیداہوئی ہیں، مذکورہ واقعہ اِس نوعیت کی صرف ایک چھوٹی مثال ہے- موجودہ زمانہ گویا سہولتوں کے انفجار (explosion) کا زمانہ ہے- موجودہ زمانے میںمختلف نوعیت کی بے شمار سہولتیں وجود میں آئی ہیں- ہر آدمی ان سہولتوں کو دیکھتا ہے اور ان کا تجربہ کرتاہے- یہ سہولتیں ہر آدمی کے لیے پوری طرح ایک معلوم واقعہ ہیں- مگر عجیب بات ہے کہ لوگوں کی زبان پر نہ اُن انسانوں کا اعتراف ہے جنھوں نے غیر معمولی محنت کے بعد ان سہولتوں کو واقعہ بنایا اور نہ لوگوں کی زبان پر اُس خالق کا اعتراف دکھائی دیتاہے جس نے موجودہ دنیا میں یہ امکانات رکھے تھے، تاکہ کچھ انسان اٹھیں اور اِن امکانات کو واقعہ بنادیں — جو شخص انسانوں کا شکر گزار نہیں، وہ خدا کا شکر گزار بھی نہیں ہوسکتا (من لم یشکر الناس، لم یشکر اللہ)-
واپس اوپر جائیں

قرآن کی تلاوت، قرآن کی دعوت

استانبول (ترکی) کے مشہور توپ کاپی پیلیس (Topkapi Palace)میوزیم میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف منسوب کئی چیزیں موجود ہیں- مثلاً دو تلواریں، جبّہ، مقوقس کے نام آپ کا مکتوب، وغیرہ- سلطان سلیم نے اِن چیزوں کے لیے یہاں ایک مخصوص کمرہ بنوایاتھا- اِس کمرے میں وہ خود اپنے ہاتھ سے جھاڑو دیتے تھے- اِس کے علاوہ، انھوں نے اِس کمرے میں مختلف حفاظِ قرآن کو مقرر کیا تھا جو چوبیس گھنٹے یہاں قرآن کی تلاوت کرتے تھے- حفاظ کی ڈیوٹیاں مقرر تھیں- چناں چہ وہ باری باری یہاں آکر قرآن کی تلاوت کرتے رہتے تھے-
اِس قسم کی تلاوتِ قرآن صرف بعد کے زمانے کی پیداوار ہے- رسول اور اصحابِ رسول کے زمانے میں اِس قسم کی تلاوتِ قرآن کا کوئی وجود نہ تھا- رسول اور اصحاب رسول، قرآن کو کتاب دعوت کے طور پر استعمال کرتےتھے، نہ کہ صرف کتاب تلاوت کے طورپر- حقیقت یہ ہے کہ قرآن رہنمائی کے لیے اترا ہے- وہ اس لیے نہیں اتارا گیا کہ اس کو ’’برکت‘‘ کے طورپر صبح وشام پڑھا جاتا رہے-
قرآن کے سلسلے میں اصل کرنے کا کام یہ ہے کہ اُس پر ایمان رکھنے والے اُس سے اپنی زندگی کے لیے رہنمائی حاصل کریں اور پھر دنیا کی مختلف زبانوں میں اس کا ترجمہ تیار کرکے اس کو تمام انسانوں تک پہنچائیں- اِن کے سوا قرآن کا کوئی بھی دوسرا استعمال کرنے سے اس کا حق ادا نہیں ہوسکتا- قرآن کا احترام کرنا یا قرآن کو خوب صورت کپڑے میں لپیٹ کر رکھنا، یا شب وروز قرآن کی تلاوت کرنا، اِس قسم کا کوئی بھی عمل قرآن کا حق ادا کرنے کے لیے کافی نہیں-
قرآن میں بتایا گیا ہے کہ امت بعد کے زمانے میں قرآن کو کتابِ مہجور (25:30) بنادے گی- اِس کا مطلب یہی ہے-قرآن جب نہ کتاب ہدایت رہے اور نہ کتابِ دعوت، تو یہی وہ حالت ہے جس کو ’’کتاب مہجور‘‘ بنا دینا کہاگیا ہے — قرآن ;کی اصل حیثیت یہ ہے کہ وہ اپنے لیے کتابِ ہدایت ہے اور دوسروں کے لیے کتابِ دعوت-
واپس اوپر جائیں

ضمیر کی آزادی

خدا کی تخلیقی اسکیم میں انسانی آزادی کے تصور کو بنیادی اہمیت حاصل ہے۔ انسان کو اِس دنیا میں امتحان کے لیے رکھا گیاہے، اور آزادی کے بغیر امتحان ممکن نہیں۔ انسان کا مستقبل تمام تر اِس پر منحصر ہے کہ وہ اپنی آزادی کا صحیح استعمال کرتاہے، یا وہ اپنی آزادی کا غلط استعمال کرتاہے۔ اگر انسان کی آزاد فکری پر روک لگادی جائے تو اس کے بعد امتحان کا تصور بے معنی ہو جاتاہے۔
قرآن میں واضح لفظوں میں ارشاد ہوا ہے: لا إکراہ فی الدین، قد تبین الرشد من الغیّ، فمن یکفر بالطاغوت ویؤمن باللہ فقد استمسک بالعروۃ الوثقیٰ، لاانفصام لہا۔ واللہ سمیع علیم(256: 2) یعنی دین کے معاملے میں کوئی زبردستی نہیں۔ ہدایت، گمراہی سے الگ ہوچکی ہے۔ پس جو شخص شیطان کا انکار کرے اور اللہ پر ایمان لائے، اس نے مضبوط حلقہ پکڑ لیا جو ٹوٹنے والا نہیں۔ اور اللہ سننے والا، جاننے والا ہے۔
اِسی طرح قرآن میں پیغمبر کو خطاب کرتے ہوئے فرمایا: فذکّر إنما أنت مذکّر۔ لستَ علیہم بمصیطر۔ إلا من تولی وکفر۔ فیعذبہ اللہ العذاب الأکبر۔ إن إلینا إیابہم۔ ثم إن علینا حسابہم(21-26: 88)یعنی (اے پیغمبر) تم بس یاد دہانی کرو، تم بس یاد دہانی کرنے والے ہو۔ تم اُن پر داروغہ نہیں۔ مگر جس شخص نے روگردانی کی اور انکار کیا، تو اللہ اس کو بڑا عذاب دے گا۔ ہماری ہی طرف ہے ان کی واپسی، پھر ہمارے ہی ذمے ہے اُن کا حساب لینا۔
اِس طرح کی قرآنی آیات سے معلوم ہوتا ہے کہ خدا کے تخلیقی نقشے کے مطابق، انسان کو اِس بات کی کامل آزادی دی گئی ہے کہ وہ جس طرح چاہے، سوچے او ر جس طرح چاہے، بولے اور لکھے۔یہ آزادی انسان کو اُس وقت تک حاصل رہتی ہے جب تک کہ وہ دوسرے انسانوں کو نقصان نہ پہنچائے۔ اسلام میں سماجی جرم (social crime) کا تصور ہے، مگر اسلام میں فکر ی جرم (thought crime) کا کوئی تصور نہیں۔
لندن سے 406 صفحات پر مشتمل ایک کتاب چھپی ہے۔ کتاب کا نام اور مصنف کانام یہ ہے:
Richard Dawkins, The God Delusion (2006)
کتاب کے مصنف نے افغانستان کے ایک واقعے کا ذکر کیا ہے، جب کہ ایک افغانی شخص (عبد الرحمن) نے اپنا مذہب بدل دیا۔ اُس نے اسلام کو چھوڑ کر مسیحی مذہب اختیار کر لیا۔ اِس پر افغانستان کی عدالت میں اس کے لیے موت کی سزا سنائی گئی۔ اِس واقعے کا ذکر کرتے ہوئے مصنف نے لکھا ہے:
It is still an article of constitution of 'liberated' Afghanistan that the penalty for apostasy is death. Apostasy, remember, doesn't mean actual harm to persons or property. It is pure thought crime, to use George Orwell's 1984 terminology, and the official punishment for it under Islamic law is death. (p. 287)
یعنی اب بھی آزاد افغانستان کے قانون کا ایک حصہ یہ ہے کہ ارتداد کی سزا قتل ہے۔ یاد رکھئے کہ ارتداد کا مطلب کسی انسان کو یا کسی کی پراپرٹی کو حقیقی نقصان پہنچانا نہیں ہے۔ 1984 میں انگلش آتھر جارج آرویل کی وضع کردہ اصطلاح کو لیتے ہوئے یہ کہا جاسکتا ہے کہ یہ ایک خالص ’فکری جرم‘ ہے، اور اسلام کے قانون کے مطابق، اِس جرم کی مسلّمہ سزا قتل ہے۔
یہ صرف غلط فہمی کا ایک معاملہ ہے۔ مصنف نے افغانستان میں ہونے والے ایک واقعے کا ذکر کیا ہے اور اُس سے یہ نتیجہ نکالا ہے کہ اسلام میں ارتداد کی سزا قتل ہے، مگر حقیقت یہ ہے کہ اِس قانون کا کوئی تعلق اسلام سے نہیں۔ یہ بعد کے کچھ فقہا کا مسلک ہے، نہ کہ قرآن اور سنت کا مسلک۔ اسلام کے قانون کا مستند ماخذ صرف قرآن وسنت ہے، کوئی بھی دوسری چیز اسلام میں قانون کا ماخذ نہیں۔
جدید مغربی فکر میں آزادی کو خیر اعلیٰ (summum bonum) سمجھا جاتاہے۔ مغربی مفکرین کا خیال ہے کہ آزادیٔ فکر کے بغیر کوئی ترقی نہیں ہوسکتی۔ اِس کے برعکس، وہ سمجھتے ہیں کہ اسلام میں صرف محدود آزادی کا تصور ہے، اِس لیے اسلام دورِ جدید کا ساتھ نہیں دے سکتا۔ یہ بات صرف غلط فہمی پر مبنی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اسلام میں آزادی کی اتنی ہی اہمیت ہے جتنی کہ مغربی تہذیب میں۔ اور یہ بالکل فطری بات ہے، کیوں کہ اسلام کے مطابق، انسان کو موجودہ دنیا میں امتحان (test) کے لیے رکھا گیاہے۔ امتحان کے لیے آزادی لازمی طورپر ضروری ہے۔ آزادی کے بغیر امتحان ممکن نہیں، اِس لیے آزادی خود خدا کے تخلیقی پلان (creation plan) کا ایک لازمی حصہ ہے۔
اسلام میں آزادی ہر انسان کا مطلق حق ہے، لیکن وہ ایک شرط کے ساتھ مشروط ہے۔ یہ شرط وہی ہے جو خود مغربی تہذیب کا مسلّمہ ہے، یعنی انسان کو آزادی صرف اپنے ذاتی دائرے میں حاصل ہے۔ آدمی کی آزادی اُس وقت ختم ہوجاتی ہے، جب کہ وہ دوسرے کے لیے ضرر رساں (harmful) بن جائے۔
اِس کے علاوہ، اسلام میں آزادی ایک اور لحاظ سے بھی ہے۔ خالق نے اِس دنیا میں ہر چیز کو امکان (potential)کے طور پر پیدا کیا۔ اِس امکان کو واقعہ بنانے کا کام انسان کو خود کرنا ہے۔ مثلاً خالق نے خام لوہا (ore) بنایا۔ خام لوہے کو مشین کی صورت دینا، یہ انسان کا اپنا کام ہے۔ یہ تمام تر ترقیاں صرف اُس وقت حاصل ہوسکتی ہیں جب کہ انسان کے اندر آزادانہ طورپر ذہنی سرگرمیاں جاری ہوں۔ اِس مصلحت کا تقاضا بھی یہی ہے کہ انسان کو اِس دنیا میں کامل آزادی حاصل ہو۔
تاہم اسلام میں جرم کی دو قسمیں ہیں— جرم بہ مقابلہ انسان (crime vis-à-vis man) اور جرم بہ مقابلہ خدا (crime vis-à-vis God) ۔ دونوں کا معاملہ ایک دوسرے سے مختلف ہے۔ جہاں تک انسان کا معاملہ ہے، ہر انسان کو دوسرے انسان کے مقابلے میں مکمل طورپر فکری آزادی حاصل ہے۔ اُس کا معاملہ صرف اُس وقت قابلِ مواخذہ یا قابلِ سزا (punishable) بنے گا، جب کہ وہ دوسرے انسان کے لیے عملی طورپر جارح بن جائے۔
مگر خدا کا معاملہ اِس سے مختلف ہے۔ کوئی شخص خدا کو عملی جراحت نہیں پہنچا سکتا۔ خداکے معاملے میں جرم یہ ہے کہ وہ خدا کے تخلیقی منصوبے کے خلاف رویہ اختیار کرے، وہ خدا کی بتائی ہوئی صراطِ مستقیم کا اتباع نہ کرے۔ اِس میں یہ بھی شامل ہے کہ انسان خدا کے معاملے میں غلط عقیدہ بنائے۔ مثلاً خدا کے ساتھ شریک ٹھہرانا، انسان کو خدا کا بیٹا قرار دینا، خدا کے پیغمبر کا انکار کرنا، وغیرہ۔ یہ سب چیزیں اگر چہ تھاٹ کرائم (thought crime) کی حیثیت رکھتی ہیں، لیکن وہ خدا کے نزدیک، قابلِ سزا کرائم (punishable crime) ہیں۔ ایسے لوگ اگر اِسی حال میں مریں تو بلاشبہہ وہ خداکی سزا کے مستحق قرار پائیں گے۔لیکن جرم بہ مقابلۂ خدا کے معاملے میں، سزا کا اختیار صرف خدا کو ہے، جو کہ آخرت میں کسی انسان کو دی جائے گی۔ جرم بہ مقابلہ انسان کے بارے میں فیصلہ کرنا، انسانی عدالت کا کام ہے۔ لیکن جرم بہ مقابلہ خدا کا تعلق انسانی عدالت سے نہیں۔ ایسے معاملے میں انسان کو صرف پرامن دعوت وتبلیغ کاحق ہے، نہ کہ عملی سزا کا حق۔
اسلام میں آزادیٔ ضمیر (freedom of conscience)کی اہمیت اتنی ہی زیادہ ہے جتنی کہ کسی دوسرے نظامِ فکر میں۔ البتہ اسلامی نظامِ فکر اور سیکولر نظامِ فکر میں اِس اعتبار سے ایک فرق پایا جاتا ہے۔سیکولر نظامِ فکر میں آزادیٔ ضمیر کو مطلق (absolute) حیثیت حاصل ہے، یعنی سیکولر نظامِ فکر کے مطابق، ایک شخص کو یہ حق ہے کہ وہ اپنے ضمیر کی آواز کو مطلق معنوں میں صداقت سمجھے، مگر اسلامی نظام فکر میں ایسا نہیں۔ اسلامی نظامِ فکر کے مطابق، صداقت (truth) کا معیار کسی کے ضمیر کی آواز نہیں ہے، بلکہ اس کا معیاروحی الٰہی ہے۔ جو تصور وحی الٰہی کے مطابق ہو، وہی درست تصور ہے۔ اور جو تصور وحی الٰہی سے مطابقت نہ رکھتا ہو، وہ انسان کا ذاتی واہمہ (obsession) یا کنڈیشننگ کا نتیجہ ہے، نہ کہ مطلق معنوں میں صداقت۔
آزادی ضمیر سے وابستہ یہ سوال بھی ہے کہ اظہارِ خیال کی آزادی کا حکم کیا ہے۔ اِس معاملے میں اسلام کا اصول یہ ہے کہ انسان کو اظہارِ خیال کی آزادی کا کلی حق حاصل ہے۔ آدمی جب تک دوسرے انسان کے لیے جارح نہ بنے، اس کو کامل معنوں میںاظہار خیال کی آزادی حاصل رہے گی۔مگر اسلام کے مطابق، انسانی زندگی کے دومرحلے ہیں— موت سے پہلے، اور موت کے بعد۔ اظہارِ خیال کی کامل آزادی کا حق صرف موت سے قبل کی دنیا کے لیے ہے۔ موت کے بعد کی دنیا میں خدا یہ فیصلہ کرے گا کہ کس نے اپنی آزادی کا صحیح استعمال کیا اور کس نے اپنی آزادی کا غلط استعمال کیا۔ پھر اس کے بعد ہر ایک کے لیے اس کے دنیوی ریکارڈ کے مطابق، انعام یا سزا کا فیصلہ کیا جائے گا۔
واپس اوپر جائیں

اہلِ ایمان کا غلبہ

قرآن کی سورہ آل عمران میں غزوۂ احد(3 ہجری) پر تبصرہ کرتے ہوئے یہ آیت آئی ہے: ولا تہنوا ولا تحزنوا، وأنتم الأعلون إن کنتم مؤمنین (139: 3) یعنی ہمت نہ ہارو اور غم نہ کرو، تم ہی غالب رہوگے، اگر تم مومن ہو۔ قرآن کی اِس آیت کے سیاق وسباق پر غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ اِس آیت میں جو بات کہی گئی ہے، اُس کا تعلق اللہ کی سنت سے ہے، نہ کہ مومنین کی فضیلت سے۔ اِس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ مومنین اپنی گروہی فضیلت کی بناپر لازماً کامیاب ہوںگے، بلکہ اِس کا مطلب یہ ہے کہ اہلِ ایمان کا جو گروہ اللہ کی سنت پر قائم ہوگا، وہ ضرور اللہ کی نصرت کا مستحق ٹھہرے گا اور اِس بنا پر وہ لازماً کامیاب ہوگا۔
اِس آیت میں جن مومنین کا ذکر ہے، اُس سے مراد اصحابِ رسول ہیں۔ اصحابِ رسول ایک خدائی مقصد کے لیے اٹھے تھے، یعنی دعوت الی اللہ کا مشن۔ اللہ کو یہ مطلوب ہے کہ اس کا پیغام تمام انسانوں تک پہنچایا جائے۔ اصحابِ رسول کا مشن یہی دعوت الی اللہ تھا۔ اصحابِ رسول کو جو لڑائی پیش آئی، وہ خود اصحابِ رسول کے اقدام کی بنا پر نہ تھی، بلکہ وہ تمام تر فریقِ ثانی کی جارحیت کی بناپر پیش آئی۔ جو اہلِ ایمان اِس طرح کے خدائی مشن کے لیے اٹھیں اور اس کے تقاضے کو پورا کریں، وہ اِس جدوجہد میں کسی قومی مفاد کو شامل نہ کریں تو وہ لازماً اپنے مقصد میں کامیاب ہوں گے۔
اِس کامیابی کا تعلق نہ سیاسی اقتدار سے ہے اور نہ قومی مفادات سے۔ اِس کا تعلق تمام تر اِس بات سے ہے کہ اہلِ ایمان کا گروہ جس کام کے لیے اٹھے، وہ کوئی قومی کام نہ ہو، بلکہ وہ تمام تر اللہ تعالیٰ کا مطلوب کام ہو۔ مثلاً مسلم اقتدار کے لیے اٹھنا ایک قومی کام ہے۔ اِس کے برعکس، دعوت الی اللہ کے لیے اٹھنا ایک خدائی کام ہے—— قرآن کی مذکورہ آیت میں جس کامیابی کا وعدہ کیاگیا ہے، اُس کا تعلق قومی کام سے نہیں، بلکہ خدائی کام سے ہے۔ اہلِ ایمان کی اِ س کامیابی کا مطلب خدائی نشانے کا پورا ہونا ہے، نہ کہ مسلمانوں کے قومی مقاصد کا حاصل ہونا۔
واپس اوپر جائیں

حق کو باطل ثابت کرنا

قرآن کی سورہ الکہف کی ایک آیت یہ ہے: وما نرسل المرسلین إلا مبشرین ومنذرین، ویجادل الذین کفروا بالباطل لیدحضوا بہ الحق، واتخذوا اٰیاتی وما أنذروا ہُزوا (56: 18)یعنی رسولوں کو ہم صرف خوش خبری دینے والا اور ڈرانے والا بنا کر بھیجتے ہیں۔ اور منکر لوگ بے بنیاد باتوں کو لے کر جھگڑا کرتے ہیں، تاکہ اس کے ذریعے وہ حق کو باطل ثابت کردیں۔اور انھوں نے میری نشانیوں کو اور جن چیزوں سے ان کو ڈرایا گیا، اُس کو مذاق بنادیا۔
اِس آیت میں ’دحض‘ کا لفظ استعمال ہوا ہے۔ دحض کا لفظی مطلب ابطال (refutation) ہے، یعنی حق کو باطل قرار دینا۔ حق کے مقابلے میں یہ طریقہ ہمیشہ دنیا میں رائج رہاہے۔ فرق صرف یہ ہے کہ قدیم زمانے میں جارحانہ دحض کا طریقہ رائج تھا، اور اب غیر جارحانہ دحض کا طریقہ پایا جاتاہے۔
اِس معاملے کی ایک تازہ مثال یہ ہے کہ امریکاکے ایک کمپیوٹر اسپیشلسٹ مسٹر ڈیوڈ (David Coppedge) جوناسا (NASA) میں ایک بڑی پوسٹ پر تھے، اُن کو سروس سے نکال دیاگیا۔ ان کا قصور یہ تھا کہ وہ تخلیق کے بارے میں انٹیلی جنٹ ڈزائن (intelligent design) کے تصور کو مانتے تھے۔ وہ کہتے تھے کہ — تخلیق میں ضرور ایک بالاتر طاقت کا ہاتھ ہے، کیوں کہ زندگی اتنی زیادہ پیچیدہ ہے کہ وہ تنہا ارتقائی عمل کے ذریعے وجود میں نہیں آسکتی۔
ایک امریکی اسکالر جان ویسٹ (John West) نے اِس معاملے پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ ڈیوڈ کا ریمارک ڈارون کے نظریہ ارتقا کو مشتبہ ثابت کرتاہے، جب کہ ماڈرن طبقے کا یہ حال ہے کہ اس نے ایسے کسی بھی شخص کے خلاف عملاً ایک جنگ چھیڑ رکھی ہے جو ڈارون سے اختلاف کرے:
There is basically a war on anyone who dissents from Darwin.
Did Nasa Sack Specialist Over ‘Intelligent Design’?
LOS ANGELES: Nasa’s Jet Propulsion Laboratory has landed robotic explorers on the surface of Mars, sent probes to outer planets and operates a worldwide network of antennas that communicates with interplanetary spacecraft. Its latest mission is defending itself in a workplace lawsuit filed by a former computer specialist who claims he was demoted - and then let go - for promoting his views on intelligent design, the belief that a higher power must have had a hand in creation because life is too complex to have developed through evolution alone. David Coppedge, who worked as a “team lead” on the Cassini mission exploring Saturn and its many moons, alleges that he was discriminated against because he engaged his co-workers in conversations about intelligent design and handed out DVDs on the idea while at work. Coppedge lost his “team lead" title in 2009 and was let go last year after 15 years on the mission. Opening statements are expected to begin on Monday in the Los Angeles Superior Court after two years of legal wrangling. “It’s part of a pattern . There is basically a war on anyone who dissents from Darwin and we've seen that for several years,” said John West, associate director of the Center for Science and Culture at the Seattle-based Discovery Institute. The National Center for Science Education, which rejects intelligent design as thinly veiled creationism, is also watching the case. “It would be unfortunate if the court took what seems to be a fairly straightforward employment law case and allowed it to become this tangled mess of trying to adjudicate scientific matters,” said Josh Rosenau, NCSE's programs and policy director. “It looks a pretty straightforward case. The mission was winding down and he was laid off.” Coppedge’s attorney, William Becker, says his client was singled out by his bosses as they perceived his belief in intelligent design to be religious. Coppedge had a reputation around JPL as an evangelical Christian. (The Times of India, New Delhi, March 13, 2012, p. 17)
امریکا کے پارلیامنٹ ہاؤس کے باہر یہ جملہ لکھا ہوا ہے کہ — ہم صرف خدا پر بھروسہ کرتے ہیں(In God We Trust) ۔ یہی امریکا کے ہر ڈالر پر لکھا ہوا ہوتا ہے۔ مگر مذکورہ واقعہ بتاتا ہے کہ امریکا کے مروّجہ نظام میں خدا کا تصور اپنی حقیقت کے اعتبار سے ایک اجنبی تصور ہے۔ خدا کا لفظ امریکا کی ڈکشنری میں ضرور پایا جاتا ہے، مگر خدا باعتبار حقیقت امریکی زندگی سے مکمل طورپر خارج ہے۔
یہ دو عملی (dualism) آج ساری دنیا کا کلچر ہے، سیکولر لوگوں کا بھی اور مذہبی لوگوں کا بھی، حتی کہ مسلمانوں کا بھی اِس میں کوئی استثنا نہیں۔ آج تمام لوگوں کا یہ حال ہے کہ خدا اُن کے یہاں صرف ایک رسمی عقیدہ کی حیثیت رکھتا ہے۔ رسمی عقیدہ کے باہر لوگوں کی جو عملی زندگی ہے، وہ مکمل طورپر دنیوی مصلحت (material interest) پر قائم ہے۔ اِس قسم کے مذہب اور لامذہبیت میں اپنی حقیقت کے اعتبار سے کوئی فرق نہیں۔
واپس اوپر جائیں

ایک عمومی فتنہ

قرآن کی سورہ الانفال میں ارشاد ہوا ہے: واتقوا فتنۃً لا تصیبن الذین ظلموا منکم خاصّۃ(8:25) یعنی ڈرو اُس فتنے سے جو خاص اُنھیں لوگوں پر واقع نہ ہوگا جو تم میں سے غلط کاری کے مرتکب ہوئے ہیں:
Beware of an affliction that will not smite exclusively those among you who have done wrong.
قرآن کی اِس آیت میں ’فتنہ‘ سے مراد خدائی فتنہ نہیں ہے، بلکہ انسانی فتنہ ہے، یعنی اشتعال کی وہ صورتِ حال جو ایک انسان یا بعض انسانوں کے ناعاقبت اندیشانہ عمل کے ذریعے پیداہوئی ہو۔ اِس طرح کی صورتِ حال جب کسی سماج میں پیدا ہو جائے تو اُس کے بعد وہاں جو شورش برپا ہوگی، اس کا برا انجام انتخابی طور پر پیش نہیں آئے گا، بلکہ اس کا برا انجام عمومی طورپر پورے سماج کو بھگتنا پڑے گا۔
مثال کے طورپر ایک شہر میں غیر مسلموں کی ایک عبادت گاہ ہے۔ وہاں لاؤڈاسپیکر پر اُن کا کوئی پروگرام ہورہا ہے۔ اب اگر کچھ مسلمانوں کو اِس پر شکایت پیدا ہو، وہ غیر مسلم عبادت گاہ میں جاکر اُن سے لاؤڈاسپیکر بند کرنے کے لیے کہیں، مگر وہ لوگ اس کو بند نہ کریں۔ اِس پر مسلمان غصہ ہوجائیں اوروہ اُن کے لاؤڈاسپیکر کو توڑ کر پھینک دیں، تو یہ معاملہ کسی حد پر نہیں رکے گا، بلکہ جب یہ خبر پھیلے گی تو غیر مسلموں کی پوری کمیونٹی شدید رد عمل کا شکار ہو جائے گی۔ وہ مسلم کمیونٹی کے خلاف جذباتی کارروائی کرے گی۔ اِس کارروائی کا نشانہ صرف وہی مسلمان نہیں بنیں گے جنھوں نے لاؤڈاسپیکر کو توڑا تھا، بلکہ اس مقام کی پوری مسلم کمیونٹی اس کی زد میں آجائے گی۔
اِسی طرح مثلاً غیر مسلموں کا ایک جلوس نکلتا ہے۔ وہ ایسی سڑک سے گزرنا چاہتا ہے جہاں مسلمانوں کی مسجد واقع ہے۔ اب کچھ مسلمان سامنے آجاتے ہیں۔ وہ جلوس والوں سے یہ مانگ کرتے ہیں کہ تم لوگ اپنے جلوس کا راستہ بدلو۔ اِس سے ہماری مسجد کی بے حرمتی ہوگی۔ اب مسلمان پولس سے یہ مانگ کرتے ہیں کہ وہ مداخلت کرے اور جلوس کی روٹ (route) کو بدلوائے۔ مگر پولس، مسلمانوں کی مانگ کے مطابق، جلوس کی روٹ کو نہیں بدلواتی۔ اب مسلمان مزید غصہ ہوجاتے ہیں۔ وہ پولس پر پتھر مارتے ہیں۔ اس کے بعد پولس مشتعل ہوجاتی ہے۔ وہ مسلمانوں کی بھیڑ کو منتشر کرنے کے لیے ان پر گولی چلاتی ہے۔ پولس کی اس گولی کا شکار وہ مسلمان ہوتے ہیں جنھوںنے پولس کو پتھر مارا، اور وہ بھی جنھوں نے پولس کو پتھر نہیں مارا۔
یہی معاملہ اُن مقامات کا ہے جہاں زیادہ بڑے پیمانے پر یہ صورتِ حال پیش آرہی ہے۔ مثلاً کشمیر اور فلسطین، وغیرہ۔ اِن مقامات پر بھی یہی ہوتا ہے کہ پہلے مسلمان، پولس یا فوج پر پتھر مارتے ہیں۔ اس کے بعد پولس یا فوج مسلمانوں کے اوپر گولی چلاتی ہے یا ہوائی جہاز سے وہ ان کے اوپر بم گراتی ہے۔ اِس طرح کے واقعات میں عملاً یہی ہوتا ہے کہ جو مسلمان براہِ راست طورپر اِس فعل میں ملوث نہیں ہوتے، وہ بھی جوابی کارروائی میں فوج کی گولی ا ور بم کا نشانہ بنتے ہیں،یعنی ملوث ہونے والے مسلمان بھی اور ملوث نہ ہونے والے مسلمان بھی۔ اِس طرح کے تمام واقعات پر قرآن کی مذکورہ آیت چسپاں ہوتی ہے۔ ایسے واقعات کو لے کر یہ احتجاج کرنا کہ فریقِ ثانی کی جوابی کارروائی میں قصور وار مسلمان اور غیر قصوروار مسلمان دونوں زد میں آئے، اور یہ انسانی حقوق (human rights) کے خلاف ہے۔ اِس طرح کا احتجاج سرتا سر باطل ہے۔ قرآن ایسے کسی احتجاج کی تصدیق نہیں کرتا۔ اِس طرح کے واقعات میں ایسا ہونا بالکل فطری ہے کہ قصور وار کے ساتھ غیر قصور وار بھی مارے جائیں۔
قرآنی اصول کے مطابق، اِس طرح کے معاملے میں وہ لوگ ذمے دار قرار پاتے ہیں جنھوں نے ابتدائی طورپر اشتعال انگیزی کی کارروائی کی(13: 9)۔ اِس آیت کے مطابق، مسلم رہنماؤں کو یہ کرنا چاہیے کہ وہ مسلم معاشرے میں اشتعال کا ماحول پیدا نہ ہونے دیں، نہ یہ کہ اشتعال کے بعد کے واقعات کو لے کر وہ شکایت اور احتجاج کا ہنگامہ برپا کریں۔ ایسی روش کا دہرا نقصان ہے۔ ایک یہ کہ ایسے لوگ خدا کے غضب کا شکار ہوں، مزیدیہ کہ صورت حال کی کبھی اصلاح نہ ہو، اور وہ ہمیشہ ’’ذلت اور مسکنت‘‘ (2:61) کے اِسی حال میں مبتلا رہیں۔
واپس اوپر جائیں

موت کی یاد: ایک صحت مند عمل

ایک اسٹڈی کے ذریعے یہ معلوم ہوا ہے کہ موت کے بارے میں سوچنا ایک اچھی عادت ہے۔ وہ تندرستی کے لیے مفید ہے۔ اِس کا یہ فائدہ ہے کہ آدمی اپنی ترجیحات اور اپنے نشانے کو دوبارہ قائم کرتاہے۔ ایک نئے سائنسی تجزیے میں بتایاگیاہے کہ اگر آدمی کسی قبرستان سے گزرے، تب بھی وہ غیر شعوری طور اُس سے سبق لیتاہے اور اس کے اندر مثبت تبدیلی آتی ہے اور اس کے اندر دوسروں کی مدد کرنے کا جذبہ پیدا ہوتا ہے۔ اِس سے پہلے یہ سمجھا جاتا تھا کہ موت کے بارے میں سوچنا خطرناک ہے، اِس سے تخریبی ذہن پیدا ہوتا ہے۔ موت کی یاد سے تعصب اور تشدد کا جذبہ ابھرتاہے۔
Thinking about death boosts health
Thinking about death can actually be a good thing as an awareness of mortality can improve physical health and help in prioritizing one’s goals and values, as new study has revealed. According to a new analysis of recent scientific studies, even non-conscious thinking about death like walking by a cemetery could prompt positive changes and promote helping others. Past research suggests that thinking about death is destructive and dangerous, fuelling everything from prejudice and greed to violence. (The Times of India, New Delhi, April 21, 2012, p. 21)
عام طورپر یہ سمجھا جاتاتھا کہ موت کے بارے میں سوچنے سے عمل کا جذبہ سرد پڑ جاتا ہے۔ اِس سے آدمی کے اندر منفی سوچ پیدا ہوتی ہے، مگر یہ صرف ایک قیاسی بات تھی۔ اِس مسئلے کا باقاعدہ علمی مطالعہ کیاگیا تو معلوم ہوا کہ معاملہ اِس کے بالکل برعکس ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ موت کے بارے میں سوچنا ایک اچھی عادت ہے۔ اِس سے آدمی کے اندر صحت مند صفات پیدا ہوتی ہیں۔
قرآن میں آیا ہے: کل نفس ذائقۃ الموت (185: 3) یعنی ہر شخص کو موت کا ذائقہ چکھنا ہے۔ اِس سلسلے میں ایک حدیثِ رسول اِن الفاظ میں آئی ہے: أکثروا ذکر ہادم اللذات، الموت (الترمذی، رقم الحدیث: 2307 )یعنی موت کو بہت زیادہ یاد کرو، وہ لذتوں کو ڈھا دینے والی ہے۔ موت کی یاد حقیقتِ حیات کی یاد ہے۔ موت کی یاد آدمی کو بتاتی ہے کہ اس کے پاس لامحدود وقت نہیں۔ کسی بھی لمحہ وہ وقت آسکتا ہے، جب کہ اس کی موجودہ زندگی ختم ہوجائے۔
اِس طرح موت کی یاد آدمی کے اندر جلدی کا احساس (sense of urgency) پیدا کرتی ہے۔ آدمی کے اندر یہ محرک (incentive) پیدا ہوتاہے کہ وہ اپنے کام کو جلد پورا کرے، کیوں کہ کچھ معلوم نہیں کہ کب وقت ہوجائے اور کام کرنے کا موقع باقی نہ رہے۔ اِس طرح موت کی یاد آدمی کو منصوبہ بند عمل کرنے پر ابھارتی ہے۔ اور منصوبہ بند عمل بلا شبہہ زندگی میں سب سے بڑی چیز ہے۔
موت کی یاد آدمی کے اندر ذہنی بیداری (intellectual awakening) کی صفت پیدا کرتی ہے۔ موت کی یاد آدمی کی چھپی ہوئی ذہنی صلاحیتوں کو جگاتی ہے۔ موت آدمی کے لیے ذہنی ارتقا (intellectual development) کا ذریعہ ہے۔
اسلامی نظریہ حیات کے مطابق، موت کی یاد کا فائدہ بے شمار گُنا بڑھ جاتا ہے۔ اسلامی نظریۂ حیات بتاتا ہے کہ آدمی کی زندگی موت پر ختم نہیں ہوتی۔ موت کے بعد ایک اور زندگی ہے جو کہ ابدی طورپر قائم رہنے والی ہے۔ آدمی موت سے پہلے کے دور حیات میں جیسا عمل کرے گا، اُسی کے مطابق، وہ موت کے بعد کے دورِ حیات میں کامیاب یا ناکام رہے گا۔ یہ احساس آدمی کے اندر مقصدیت کا شعور پیدا کرتا ہے۔ وہ زیادہ با معنی انداز میں زندگی گزارنے کے قابل بن جاتا ہے۔
عام تصور کے مطابق، موت کی یاد صرف موت کی یاد ہے، یعنی خاتمہ حیات کی یاد- لیکن اسلامی تصورِ حیات کے مطابق، موت کی یاد کا مطلب یہ ہے کہ آدمی بعد از موت دورِ حیات کے لیے تیاری کرے- وہ آج کی زندگی کو ایک موقع (opportunity) سمجھے، جب کہ وہ بعد کو آنے والے ابدی دورِ حیات کے لیے عمل کرسکتا ہے- یہ تصورِ موت آدمی کو اِس حقیقت کی یاد دلاتاہے کہ –— زندگی صرف ایک بار ملتی ہے- اب یہ آدمی کے اپنے اوپر ہے کہ وہ اپنی زندگی کو کامیاب بناتا ہے یا ناکام- وہ اِس پہلے اور آخری موقع کو استعمال کرتا ہے یا وہ اُس کو کھو دیتا ہے-
واپس اوپر جائیں

سماجی قبولیت یا نفاذِ قانون

قرآن کی سورہ البقرہ میں اہلِ ایمان کو خطاب کرتے ہوئے اُن کو ایک ہدایت اِس طرح دی گئی ہے—– اے ایمان والو، اسلام میں پورے پورے داخل ہو جاؤ، اور شیطان کے نقشِ قدم پر مت چلو۔ شیطان تمھارا کھلا ہوا دشمن ہے(208: 2)-
قرآن کی اِس آیت کے مطابق، ہر صاحبِ ایمان سے یہ مطلوب ہے کہ وہ پوری طرح اسلام میں داخل ہوجائے۔ اُس پر موت آئے تو اِس حال میں آئے کہ وہ مکمل معنوں میں، اسلام میں داخل ہوچکا ہو۔ جیسا کہ قرآن کی دوسری آیت میں ارشاد ہوا ہے: ولا تموتن إلّا وأنتم مسلمون (102: 3) یعنی تم کو موت نہ آئے، مگر اِس حال میں کہ تم مسلم ہو۔
آیت کایہ مفہوم تقاضا کرتاہے کہ اِس آیت کو مومن کی اپنی ذات کے اعتبار سے لیا جائے، نہ کہ اجتماعی نظام کے اعتبار سے۔ کیوں کہ مومن کی اپنی زندگی پوری طرح اس کے اختیار میں ہوتی ہیں۔ وہ اِس پر قادر ہوتا ہے کہ وہ اپنی ذات کو پوری طرح اللہ کے رنگ میں رنگ لے (صبغۃ اللہ، ومَن أحسن مِن اللہ صبغۃ)۔ اُس کے لیے یہ ممکن ہوتا ہے کہ وہ انفرادی اعتبارسے، اپنے آپ کو اسلامائز کرلے۔ مگر اجتماعی نظام کا معاملہ اِس سے بالکل مختلف ہے۔ اجتماعی نظام میں خدا کے دین کو کامل طورپر داخل کرنا صرف اُس وقت ممکن ہوتا ہے، جب کہ اجتماعی زندگی کا ہر فرد اُس سے اتفاق کرلے۔ تاریخ میں کبھی اِس قسم کا اجتماعی اتفاق پیش نہیں آیا۔ اِسی لیے اجتماعی زندگی (socio-political life) میں کبھی کامل معنوں میں، اسلام کو داخل کرنا بھی ممکن نہیں ہوا۔ تاریخ میں کامل افراد تو بار بار پیدا ہوتے رہے، مگر کامل معنوں میںاجتماعی نظام کبھی وجود میں نہیں آیا۔
ایسی حالت میں اگر قرآن کی مذکورہ آیت کو اِس معنی میں لیاجائے کہ اُس سے مراد اجتماعی نظام میں خدا کے دین کا کامل داخلہ ہے تو اِس سے یہ لازم آئے گا کہ اللہ نے اہلِ ایمان کو ایک ایسا حکم دیا جس پر عمل کرنا سرے سے ممکن ہی نہ تھا۔ ایسی حالت میںاہلِ ایمان کے حصے میں صرف یہ آئے گا کہ وہ ہر زمانے میں لڑ لڑ کر اپنے آپ کو ہلاک کرتے رہیں اور کبھی مطلوب منزل تک نہ پہنچ سکیں۔
انڈیا کے ایک عالم نے اپنے ایک مضمون میں لکھا ہے کہ مسلمانوں کے لیے حصولِ اقتدار اور خلافت کا قیام ضروری ہے، کیوں کہ اس کے بغیر اسلامی احکام نافذ نہیں ہوسکتے۔ اِس سلسلے میں انھوں نے ایک دلیل یہ دی ہے کہ صرف قانون بنا دینے یا صرف وعظ ونصیحت سے برائیاں دور نہیں ہوتیں۔ قانون کے نفاذ کے لیے قوتِ نافذہ ضروری ہے، اور قوتِ نافذہ، سلطان (نظامِ خلافت) ہی ہوسکتا ہے۔حضرت عثمان کا قول ہے کہ— جو برائی قرآن سے دور نہیں ہوتی، اسے اللہ تعالیٰ سلطان (حکومت) کے ذریعے دور کردیتاہے (إن اللہ یزع بالسلطان، ما لا یزع بالقرآن)۔
یہ غیر سنجیدہ استدلال کی ایک مثال ہے۔ صاحب مضمون اگر سنجیدگی کے ساتھ غور کرتے تو ان کی سمجھ میں آتا کہ حضرت عثمان کے پاس اقتدار تو اپنی کامل صورت میں موجود تھا۔ اِس کے باوجود، عین اُنھیں کے زمانے میں مسلم معاشرے میں اتنا خلل آیا کہ لاقانونیت کی صورت پیدا ہوگئی، اور حضرت عثمان خلیفہ ہونے کے باوجود اس پر قابو نہ پاسکے۔ اِس سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت عثمان کا یہ قول صرف محدود معنی (limited sense) میں ہے، نہ کہ مطلق معنی (absolute sense) میں۔ حضرت عثمان کے اِس قول میں سرے سے یہ بات موجود نہیں کہ مسلمان سیاسی تحریک چلا کر اقتدار پر قبضہ کریں، تاکہ وہ قوانین اسلامی کا نفاذ (enforcement) کرسکیں۔
کسی قانون کے نفاذ کے لیے صرف سیاسی قوت کافی نہیں۔ اصل یہ ہے کہ اِس معاملے میں سیاسی قوت کا رول صرف پچاس فی صد ہے، بقیہ پچاس فی صد کا تعلق سماجی قبولیت (social acceptance) سے ہے۔ جس سماج میں قبولیت کا مادہ موجود نہ ہو، وہاں محض سیاسی قوت کے ذریعے کسی قانون کا نفاذ نہیں ہوسکتا۔ ایسی حالت میں، پہلا کام افراد کے اندر قبولیت کی استعداد پیدا کرنا ہے۔ اِس کے برعکس، قوتِ نفاذ (enforcement power) کے حصول کے نام پر سیاسی اقتدار پر قبضہ کرنے کی تحریک چلانا گھوڑے کے آگے گاڑی باندھنے (putting the cart before the horse) کے مصداق ہے۔ یہ ایک غیر فطری طریقہ ہے۔ اِس دنیا میں کوئی با معنی نتیجہ صرف فطری طریقے سے حاصل ہوتا ہے، نہ کہ غیر فطری طریقے سے۔
واپس اوپر جائیں

یہ بے خبرانسان

راجیش کھنہ انڈیا کی فلم انڈسٹری (بالی ووڈ) سے تعلق رکھتے تھے- وہ پہلی فلمی شخصیت ہیں جن کو سپر اسٹار (super star) کا ٹائٹل دیاگیا- جس زمانے میں راجیش کھنہ اپنے پروفیشن میں عروج پر تھے، انھوں نے کہا تھا کہ — میں خدا کے بعد سب سے بڑی ہستی ہوں:
Being at the top, Rajesh Khanna once said, is a feeling of being next to God.
عجیب بات ہے کہ جس سال راجیش کھنہ کی پیدائش ہوئی، اُسی سال مشہور امریکی باکسر محمد علی کلے(Muhammad Ali Clay) کی پیدائش ہوئی، یعنی 1942 میں- محمد علی کلے کو باکسنگ (boxing) میں بہت بڑا درجہ ملا- وہ باکسنگ کے عالمی چیمپین بن گئے- اُس وقت انھوں نے کہا تھا کہ — میں بادشاہِ عالم ہوں، میں سب سے بڑا ہوں:
I am the king of the world, I am the greatest.
مگر دونوں کا انجام یکساں طورپر برعکس صورت میں ہوا- راجیش کھنہ لمبی بیماری کے نتیجے میں آخرکار ہڈی کا ڈھانچہ بن گئے اور صرف 69 سال کی عمر میں18 جولائی 2012 کو ان کا انتقال ہوگیا- محمد علی کلے ابھی زندہ ہیں، لیکن طویل مدت سے وہ پارکنسن کی بیماری (Parkinson's syndrome) میں مبتلا ہیں- اب وہ بالکل معذور (disabled) ہو کر وھیل چیر پر اپنی زندگی کے آخری لمحات گزار رہے ہیں-
یہی ہمیشہ سے انسان کا حال رہا ہے- جب بھی کسی کو غیر معمولی حیثیت یا کوئی بڑی کامیابی حاصل ہوتی ہے تو قرآن کے الفاظ میں، وہ ’أکرمن‘ کی نفسیات میں مبتلا ہوجاتاہے- وہ خدا کا شکر کرنے کے بجائے اپنے آپ کو خدا کا ہم سر سمجھ لیتا ہے- تاریخ بتاتی ہے کہ ایسے لوگ ہمیشہ حقیر ہو کر مرتے ہیں، مگر عجیب بات ہے کہ بعد کے انسان پچھلے انسانوں کے انجام سے سبق نہیں لیتے-
واپس اوپر جائیں

ایک عبرت ناک واقعہ

فردوسی (وفات: 1020 ء) قدیم ایران کا سب سے بڑا شاعر سمجھا جاتا ہے- اس کی کتاب ’’شاہ نامہ‘‘ بہت مشہور ہے- مولانا شبلی نعمانی (وفات: 1914 ء) نے اپنی کتاب شعر العجم (جلد اول) میں فردوسی کا تذکرہ کیا ہے-مولانا شبلی، فردوسی سے اتنا زیادہ متاثر تھے کہ انھوں نے اس کے ایک مصرعہ کے بارے میں لکھا تھا کہ یہ مصرعہ ایک لشکرِ جرار کی طاقت رکھتا ہے- فردوسی کا وہ مصرعہ یہ ہے:
مجنبا مرا، تا نہ جنبد زمیں
(مجھ کو نہ ہلاؤ، ورنہ ساری زمین ہل جائے گی)
سلطان محمود غزنوی، فردوسی کے شاہ نامہ سے اتنا متاثر ہوا کہ اس نے 60 ہزار درہم (بصورتِ نیل) اس کے پاس بھیجا- یہ انعام فردوسی کو شاہی اونٹوں پر طوس (ایران) بھیجا گیا تھا- بتایا جاتا ہے کہ جب انعام سے لدے ہوئے یہ اونٹ شہر کے ایک گیٹ میں داخل ہوئے تو اُس وقت فردوسی کا جنازہ شہر کے دوسرے گیٹ سے شہر کے باہر نکالا جا رہا تھا:
The indigo reached Tus in safety; but as the camels were entering the town by one gate, Firdowsi’s bier was being carried out through another. (EB. 7/234)
فردوسی کا یہ واقعہ علامتی طورپر ہر انسان کا واقعہ ہے- موجودہ دنیا میں ہر انسان کے ساتھ یہ ہورہا ہے کہ وہ عمل کرتا ہے اور ہر قسم کی کوشش کے بعد وہ آخر کار اپنا ایک ’’شاہ نامہ‘‘ تیار کرلیتاہے- پھر وہ وقت آتا ہے جب کہ وہ اپنے تیار کردہ شاہ نامہ کی بنیادپر دنیا سے اپنا کوئی بڑا انعام پائے، عین اُس وقت اس کی موت کا وقت آجاتا ہے-
موت کے بعد وہ اپنے لگائے ہوئے باغ کا پھل کھانے کے بجائے عالمِ آخرت میں پہنچا دیا جاتا ہے، جہاں وہ خود تو ہوگا، لیکن وہاں نہ اُس کا شاہ نامہ اس کے ساتھ ہوگااور نہ اس کا حاصل کیا ہوا انعام-
واپس اوپر جائیں

شیطان کی سنت

قرآن کے مطابق، تخلیقِ آدم کے وقت ابلیس کو نعوذ باللہ خدا سے اختلاف ہوگیا- ابلیس نے اپنے اختلاف کو صرف اختلاف کے درجے میں نہیں رکھا، بلکہ اس کو عداوت تک پہنچا دیا- اُس نے یہ منفی منصوبہ بنایا کہ وہ تمام بندوں کو خدا کے خلاف کردے- اس کا یہ منفی منصوبہ قرآن میں اِن الفاظ میں نقل کیاگیا ہے: قال فبما أغویتنی لأقعدن لہم صراطک المستقیم- ثم لاٰتینہم من بین أیدیہم ومن خلفہم وعن أیمانہم وعن شمائلہم، ولا تجد أکثرہم شاکرین (7:17) یعنی ابلیس نے خدا سے کہا کہ تو نے مجھ کو گمراہ کیا ہے، میں بھی لوگوں کے لیے تیری سیدھی راہ پر بیٹھوں گا- پھر میں اُن پر آؤں گا، اُن کے سامنے سےاور ان کے پیچھے سے اور ان کے دائیں سے اور ان کے بائیں سے، اور تو اُن میں سے اکثر لوگوں کو شکر گزار نہ پائے گا-
انسانوں کے درمیان اختلاف کی دو صورتیں ہیں — ایک، یہ کہ اختلاف جب پیدا ہو تو اُس کو اپنی ذات کی حد تک محدود رکھا جائے- دوسرے، یہ کہ اختلاف پیدا ہونے کے بعد آدمی فریقِ ثانی کا دشمن بن جائے گا، وہ ہر جگہ اس کے خلاف منفی پروپیگنڈہ کرے، وہ کوشش کرے کہ کوئی اس کا ساتھ نہ دے اور کوئی اس کا تعاون نہ کرے- پہلی قسم کے اختلاف میں کوئی حرج نہیں، لیکن دوسرا اختلاف صرف شیطان کی پیروی ہے- جو لوگ ایسا کریں، وہ یہ خطرہ (risk) لے رہے ہیں کہ اللہ کے یہاں اُن کا شمار حزب الشیطان (58: 19) میں کیا جائے-
ایک انسان کا دوسرے انسان سے اختلاف ہونا ایک فطری بات ہے، لیکن اختلاف پیدا ہونے کے بعد فریقِ ثانی کے خلاف منفی پروپیگنڈہ کرنا، لوگوں کو اس کا ساتھ دینے سے روکنا، اس کی معاشی بنیاد کو تباہ کرنے کی کوشش کرنا، اس کے عقیدہ اور نیت کو نشانہ بنانا، اس کے خلاف بے دلیل الزام تراشی کرنا، یہ سب بلا شبہہ شیطانی کام ہے- جو لوگ ایسا کریں، ان کا کیس ابتاعِ شیطان کا کیس ہے، خواہ بظاہر وہ اپنے کیس کو کتنا ہی زیادہ مقدس صورت میں بیان کرتے ہوں-
واپس اوپر جائیں

ناقابلِ معافی جُرم

ایک حدیثِ قدسی کے مطابق، اللہ تعالی نے فرمایا: الکبریاءُ رِدائی، والعظمة إزاری، فمن نازعنی واحداً منہما قذفتہ فی النار (سنن أبی داؤد، رقم الحدیث: 3570)یعنی کبر میری چادر ہے، اور عظمت میری ازا ر ہے، پس ان دونوں میں سے کسی میں جو شخص مجھ سے نزاع کرے گا، میں اُس کو آگ میں پھینک دوں گا
اِس حدیث میں تمثیل کی زبان میں بتایا گیاہے کہ ہر قسم کی بڑائی اور ہرقسم کی برتری صرف ایک خدا کا حق ہے- جو شخص اس معاملہ میں کلی یا جزئی طورپر خدا کا ہمسربننا چاہے، وہ نہ صرف دنیا میں ذلیل ہوگا، بلکہ آخرت میں اُس کو شدید تر عذاب کا سامنا کرنا پڑے گا-
مثال کے طورپر خدا کی عظمت وکبریائی کا ایک پہلو یہ ہے کہ وہی عزت دینے والا ہے اور وہی ذلت دینے والا، وہی کسی کو رزق دیتا ہے اور وہی کسی کو رزق سے محروم کردیتا ہے- اس کے سوا کسی کو یہ طاقت نہیں کہ کسی کوکچھ دے یا اس سے کوئی چیز چھین لے-
مثلاً ایک شخص کو کسی آدمی پر غصہ آگیا- یہ غصہ انتقام تک پہنچ گیا، یہاں تک کہ وہ اِس کے درپے ہوگیا کہ مذکورہ آدمی کو بے عزت کرے، وہ اُس کے رزق کا ذریعہ اس سے چھین لے، وہ اس کو اس کے ماحول میں بے جگہ بنادے- کسی شخص کی طرف اِس قسم کی تخریبی کوشش خدا کی عظمت وکبریائی سے گویا نزاع کرنا ہے- یہ نعوذ باللہ، خدا کے اختیارات کو اُس سے چھیننے کی جسارت کے ہم معنی ہے-
اِس قسم کا فعل حد درجہ سنگین ہے- جو شخص ایسا کرنے کی کوشش کرے، وہ بظاہر اپنے حریف کے ساتھ یہ فعل کررہا ہے ہوتا ہے، مگر حدیث کی زبان میں، وہ براہِ راست خدا سے نزاع کررہا ہے- وہ خدا کے اُس نظام میں دخل دینے کی کوشش کررہاہے جس میں خدا نے کسی کسی دوسرے کو شرک نہیں کیا- یہ اپنی نوعیت کے اعتبار سے، خدا کی خدائی میں شریک بننے کی کوشش کرنا ہے، اور خدا کی خدائی میں شریک بننے کی کوشش بلا شبہہ ایک ایسا جرم ہے جو ہر گز قابلِ معافی نہیں-
واپس اوپر جائیں

اسلام کے نام پر غیر اسلام

مارچ 2012 کا واقعہ ہے۔ ایک انتہا پسند ہندو لیڈر انڈیا کے ایک شہر میں پہنچے۔ وہاں ان کی تقریر ہوئی۔ انھوں نے اپنی تقریر میں کہا کہ مکہ کاکعبہ اصل میں بتوں کا مندر تھا۔ مسلمانوں نے قبضہ کرکے اُس کو اپنی مسجد بنا لیا۔ اِس تقریر پر وہاں کے مسلمان مشتعل ہوگئے۔ انھوں نے وہاں جلوس نکالا، پُر جوش نعرے لگائے۔ اِس کے نتیجے میں وہاں ہندو مسلم فساد ہوگیا۔ مقامی لوگوں کو جان ومال کا کافی نقصان برداشت کرنا پڑا۔
مسلمانوں کا یہ رد عمل سرتاسر ایک قومی رد عمل تھا، اُس کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں۔ اِن مسلمانوں کے اندر اگر صحیح ذہن ہوتا تو وہ سوچتے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب 610 عیسوی میں توحید کا مشن شروع کیا تو اُس وقت عملاً ایسا تھا کہ کعبہ میں کئی سو کی تعداد میں بت رکھے ہوئے تھے، مگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اِس پر مشتعل نہیں ہوئے، بلکہ پُرامن انداز میں آپ لوگوں کو توحید کی دعوت دیتے رہے۔ ایسی حالت میں مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ اِس طرح کی بے بنیاد تقریر پر مشتعل نہ ہوں، بلکہ اُسے نظر انداز کردیں، وہ اِس واقعہ کو ایک موقع (opportunity) کے طورپر استعمال کرتے ہوئے لوگوں کو اسلام کا پیغام پہنچائیں، جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا۔
یہ ایک مثال ہے جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ موجودہ مسلمان کس طرح پیغمبر کے نام پر غیرپیغمبرانہ روش کا ارتکاب کررہے ہیں۔ وہ اسلام کے نام پر ایسی تحریکیں چلاتے ہیں جن کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں، ایسے مسلمانوں کو جاننا چاہیے کہ معاملہ اِسی دنیا میں ختم نہیں ہوجائے گا۔ آخرت میں اُن سے سوال کیا جائے گا کہ تم نے ایسا دین کہاں سے ایجاد کرلیا جس کو اللہ نے اپنے پیغمبر کے ذریعے بھیجا نہیں تھا —اِس طرح کی غوغائی سیاست بلا شبہہ اسلام کے خلاف ہے، اُس کوکبھی خدا کی نصرت ملنے والی نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ موجودہ زمانے میں اِس قسم کے ہنگامے ہر جگہ صرف مسلمانوں کے حالات کو بگاڑنے کا سبب بن رہے ہیں، نہ کہ حالات کو درست کرنے کاسبب۔
واپس اوپر جائیں

جائز فضول خرچی

کچھ لوگ ہوتے ہیں جن کے اندر بہت زیادہ خرچ کرنے کا مزاج ہوتا ہے- وہ لوگوں کو خوب دیتے ہیں اور خوب کھلاتے پلاتے ہیں- اِس طرح کی عادت کو عام طورپر سخاوت کہاجاتاہے- لوگ کہتے ہیں کہ فلاں آدمی بہت سخی ہے، مگر حقیقت یہ ہے کہ یہ سخاوت نہیں، بلکہ فضول خرچی ہے- ایسے لوگوں کے لیے صحیح لفظ فضول خرچ ہے، نہ کہ سخی-
قرآن میں صحیح خرچ کا ایک معیار بتایا گیاہے- وہ معیار یہ ہے: الذین یؤتون ما اٰتوا وقلوبہم وجلة أنہم إلى ربہم راجعون (23: 60) یعنی وہ لوگ جو دیتے ہیں، تو جو کچھ وہ دیتے ہیں، اِس طرح دیتے ہیں کہ ان کے دل کانپ رہے ہوتے ہیں کہ انھیں اپنے رب کی طرف لوٹنا ہے-
قرآن کی یہ آیت خرچ کے معاملے میں ایک حتمی معیار کو بتا رہی ہے- اگر خرچ کرنےوالے کا حال یہ ہو کہ دوسرے کو دیتے ہوئے وہ اپنی محرومی کو یاد کررہا ہو- دوسروں کو دیتے ہوئے اس کو یہ خیال ستا رہا ہو کہ دنیامیں تو میں دوسرے کو کھلانے کی پوزیشن میں ہوں، لیکن آخرت کے بارے میں کچھ نہیں معلوم کہ وہاں میرا کیا حال ہوگا- وہ دوسرے کو ٹھنڈا مشروب پلا رہا ہو اور خود اس کا اپنا حال یہ ہو کہ آخرت کی یاد میں اس کی آنکھوں سے آنسو بہہ رہے ہوں- اُس کو یہ یاد ستارہی ہو کہ دنیا میں تو میں الید العُلیا (دینے والا ہاتھ) ہوں، آخرت میں کہیں ایسا نہ ہو کہ میں الید السُّفلى (لینے والا) بن جاؤں-
جن لوگوں کا خرچ مذکورہ نوعیت کا خرچ ہو، وہی اللہ کے یہاں سخی کا درجہ پائیں گے- اور جن لوگوں کا معاملہ اِس کے برعکس ہو، جن لوگوں کا خرچ محض مزاج یا عادت (habit)کے تحت ہورہا ہو، جو اپنی ذاتی تسکین کے لیے خرچ کرتے ہوں، اُن کا کیس بلاشبہہ فضول خرچی کا کیس ہے-
ایسے لوگ دنیا والوںکے درمیان اگرچہ سخی کی حیثیت سے مشہور ہوں، لیکن آخرت میں وہ صرف ایک فضول خرچ انسان کی حیثیت سے اٹھائے جائیں گے،جن کو قرآن میں ابلیس کا بھائی قرار دیاگیا ہے(17:27)-
واپس اوپر جائیں

مواقع کی بربادی

نئی دہلی کے انگریزی اخبار ٹائمس آف انڈیا (2 جولائی 2012 ) میں بتایا گیا ہے کہ ناروے (Norway)کے ایک نوجوان نے اسلام قبول کیا- اس کے بعد اس نے اپنا نام عبد الرحمن رکھا- القاعدہ کے لوگ اس کو ناروے سے یمن لے گئے- وہاں اس کی تربیت کی گئی- اُس کو ایک منصوبے کے لیے تیار کیاگیا جس کا مقصدتھا ایک امریکی ہوائی جہاز کو بم سے اڑانا- خبر میں بتایا گیا ہےکہ القاعدہ مغربی مسلمانوں کو رکروٹ (recruit)کرکے ان کے اندر انقلابی ذہن پیدا کرتا ہے، پھر ان کو اپنے مقصد کے لیے استعمال کرتا ہے، کیوں کہ ایسے لوگوں کے لیے  ائرپورٹ کی سیکورٹی سے بچ نکلنا آسان ہوتا ہے:
Al-Qaida is seeking to recruit radicalised westerners in an attempt to evade airport security. (p. 14)
مغربی ملکوں میں بڑی تعداد میں لوگ اسلام قبول کررہے ہیں- اِن لوگوں کا اصل استعمال یہ ہے کہ اُن کو ان کے ہم قوموں میں مزید اشاعتِ اسلام کے لیے استعمال کیا جائے، مگر بعض مسلم تنظیمیں اِس معاملے میں ایک نہایت غلط رول ادا کررہی ہیں- یہ مسلم تنظیمیں اپنے دائرے میں لے کر ان لوگوں کو اپنے رنگ میں رنگنے کی کوشش کرتی ہیں- اِس طرح ایک عظیم امکان ضائع ہورہا ہے-
موجودہ زمانے کے مسلمانوں میں مختلف قسم کے غیر دعوتی گروپ قائم ہیں- مثلاً مبنی برفضائل گروپ، مبنی بر مسائل گروپ، مبنی بر عسکریت گروپ، وغیرہ- جب کسی مغربی ملک میں کوئی شخص اسلام قبول کرتا ہے تو کوئی نہ کوئی گروپ اُس کو اپنے فولڈ میں شامل کرلیتا ہے اور پھر دھیرے دھرے اس کا حال وہی ہوجاتاہے جس کو ایک فارسی شاعر نے اپنے ان الفاظ میں بیان کیا تھا:
ہر چیز کہ در کانِ نمک رفت، نمک شد
مسلمانوں کے لیے فرض کے درجے میں ضروری ہے کہ وہ اپنے آپ کو مواقعِ دعوت کی بربادی سے بچائیں، ورنہ خدا کے نزدیک وہ ، ’صد عن سبیل اللہ‘ (43: 37) کا مصداق قرار پائیں گے-
واپس اوپر جائیں

اِحیاءِ سنت

دین کا نام کبھی دنیا سے ختم نہیں ہوتا- جو چیز دنیا سے ختم ہوتی ہے، وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سچی سنت ہے- ایک روایت کے مطابق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: من تمسک بسنّتی عند فساد أمتی، فلہ أجر مأة شہید (تاریخ الإسلام للذہبی، رقم الحدیث: 3097) یعنی میری امت میں بگاڑ کے وقت جس نے میری سنت کو پکڑا، اس کے لیے سو شہیدوں کا اجر ہے-
اسلام کی راہ میں لڑ کر اپنی جان دے دینا ایک ایسا عمل ہے جس کا اللہ تعالی کے یہاں بڑا انعام ہے- مگر بگاڑ کے زمانے میں اپنے آپ کو سچے دین پر قائم کرنے کا اجر اس سے سو گنا زیادہ بتایا گیاہے- اِس کی وجہ یہ ہے کہ اول الذکر اپنے آپ کو ایک دن قربان کرتاہے جب کہ ثانی الذکر کو ہر روز اپنے آپ کو قربان کرنا پڑتاہے-
امت کے اندر جب بگاڑ آتاہے تو اُس وقت یہ حال ہوجاتا ہے کہ ایک بگڑے ہوئے مذہب کا نام دین بن جاتاہے- سارے دینی ادارے، تمام دینی اعزازات اِسی بگڑے ہوئے مذہب سے وابستہ ہوجاتے ہیں- دین کے تمام شعبوں میںایسے لوگ قبضہ پالیتے ہیں جو دین کو تجارت بناچکے ہوتے ہیں- خواص اپنے مصالح کی بنا پر، اور عوام اپنی جہالت کی بنا پر، اِسی بگڑے ہوئے دین کومضبوطی سے پکڑے ہوئے ہوتے ہیں- ایسی حالت میں جب کوئی بندہ خدا کے سچے اور بے آمیز دین کو لے کر اٹھتا ہے، تو سارے لوگ محسوس کرتے ہیں کہ اُس شخص کا دین اِن کے اپنے دین کو بے اعتبار بنا رہا ہے- وہ فوراً اُس کےمخالف بن جاتے ہیں- اِس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ رسولِ خدا والے طریقہ کو پکڑنے والا آدمی خود اپنے معاشرے میں بے جگہ ہوجاتاہے، وہ سب کے درمیان ایک غیر مطلوب شخص بن جاتا ہے-
بگاڑ کے زمانے میں یہ ہوتا ہے کہ وقتی اور رسمی عملیات کو لوگ جنت کا ٹکٹ سمجھ لیتے ہیں، اِس کے مقابلے میں سنتِ رسول کو پکڑنے والا آدمی حقیقی اعمال پر جنت کا مدار رکھتاہے- لوگ مذہبی مناظرے اور سیاسی مجادلے کے مشغلوں کو دینی کارنامہ سمجھنے لگتے ہیں، وہ بتاتا ہے کہ صبر اور قربانی کے طریقوں کو اختیار کرنے کا نام دین ہے- لوگ اپنے دنیوی ہنگاموں کو دین کا عنوان دئے ہوئے ہوتے ہیں، وہ کہتا ہے کہ آخرت کے لیے جینے اور مرنے کانام دین ہے- لوگ احبار ورُہبان کے دین کو پکڑے ہوئے ہوتے ہیں، وہ کہتا ہے کہ دین وہ ہے جو خدا اور رسول سے ملا ہو- لوگ اپنے بزرگوں کے ارشادات وملفوظات سے لپٹے ہوئے ہوتے ہیں، وہ کہتا ہے کہ قرآن وسنت والے دین کو اپنا دین بناؤ- لوگ قصے کہانیوں کے ذریعے اپنا ایک دینی ایڈیشن تیار کرکے اس کی تلاوت میں مشغول ہوتے ہیں، وہ کہتا ہے کہ اِس کے بجائے محکم آیات اور ثابت شدہ سنتِ رسول پر اپنے دین کی بنیاد رکھو- لوگ اپنے طورپر مختلف قسم کی مذہبی موشگافیاں ایجاد کرتے ہیں اور اس کو دین کا قائم مقام بنا لیتے ہیں، وہ کہتا ہے کہ اُس صاف اور سیدھے دین کو اختیار کرو جو خدا اور رسول نے بتایا ہے اور جو اصحابِ رسول کے ذریعے ہم کو پہنچا ہے-
جو شخص اِس قسم کا دین بگڑے ہوئے زمانے میں لے کر اٹھے، وہ لوگوں کی نظر میں کافر اور مشرک سے بھی زیادہ مبغوض ہوجاتا ہے، کیوں کہ وہ اُن کی دینی حیثیت کو بے بنیاد ثابت کرتاہے- اِس سے ان کو اپنی قیادت پر ضرب پڑتی ہوئی دکھائی دیتی ہے- اِس سے ان کے معاشی مفادات درہم برہم ہوتے ہیں- اِس سے ان کی گدّیاں چھنتی ہوئی نظر آتی ہیں- اُس کوماننا اپنے آپ کو جمے ہوئے مفادات سے محروم کرنے کے ہم معنی بن جاتاہے- ایسا شخص ایک طرف عوام کی عافیت کوش زندگی کے لیے تازیانہ بن جاتاہے اور دوسری طرف، خواص کو یہ محسوس ہوتا ہے کہ وہ اُن کے ’’شہ سوارِ اسلام‘‘ ہونے کو مشتبہ بنا رہا ہے- یہ چیزیں اُس شخص کو اتنی بے شمارقسم کی مخالفتوں اور مشکلات میں مبتلا کردیتی ہیں کہ اُس کے مقابلے میں ایک دن میدانِ جنگ میں لڑ کر مرجانا کوئی حقیقت نہیں رکھتا-
اِن مخالفتوں میں سب سے زیادہ شدید مخالفت اُن قائدین کی طرف سے سامنے آتی ہے جو دین کے نام پر دنیوی فائدے حاصل کیے ہوئے ہوتے ہیں- اُن کی قیادت کا راز صحیح دین کا علَم بردار بننا نہیں ہوتا- وہ یہ کرتے ہیں کہ بگاڑ کے زمانے میں پائی جانے والی دینی شکلوں میں اپنی جگہ بنا لیتے ہیں- کوئی کسی ادارے کی گدی پر بیٹھ جاتا ہے، کوئی دینی جشنوں اور تقریبوں میں خطابت کا جوہر دکھاکر مرجعِ خلائق بن جاتا ہے- کوئی دین کو رائج الوقت پیمانوں میں ڈھال کر لوگوں کے درمیان مقبولیت حاصل کرلیتاہے- کوئی گزری ہوئی مقدس شخصیتوں کا سہارا لے کر اُن کے نام پر اپنا کاروبار چلا رہا ہوتا ہے- کوئی دین کے ایسے سستے نسخوں کی کامیاب تجارت کررہا ہوتاہے جس میں لوگوں کو اپنی زندگی کا ڈھانچہ بدلے بغیر جنت کی بشارتیں مل رہی ہوں— صحیح دینی دعوت کا اٹھنا اِس قسم کے تمام لوگوں کے لیے چیلنج بن جاتاہے- اُس کے فروغ میں ان کو اپنا عزت واقتدار مٹتا ہوا نظر آتا ہے- مزیدیہ کہ ایک عرصہ تک عزت واستقبال کے جلو میں رہنے کے نتیجے میں ان کے اندرایک قسم کا دینی کبر پیدا ہوجاتاہے- وہ اپنی ذات کو اور دین کو ہم معنی سمجھ لیتے ہیں- فطری طورپر وہ ایک ایسے شخص کا اعتراف کرنے کے لیے تیار نہیں ہوتے جو اُن کی امتیازی حیثیت کو بے اعتبار ثابت کرے-
اعاظم واکابر کی یہ مخالفت سچے دین کے علم بردار کے لیے انتہائی شدید مسائل پیدا کردیتی ہے-وقت کے دینی حلقوں کی طرف سے اس کا بائکاٹ کیا جاتا ہے- اس کی بے دینی کے فتوے دئے جاتے ہیں- اس کی معاشیات کو برباد کیا جاتا ہے- اس کو ماحول میں بے جگہ بنانے کی کوشش کی جاتی ہے- اس کے خلاف ہر قسم کی معاندانہ کارروائی کو جائزسمجھ لیا جاتاہے- اکابرِ قوم کی مخالفت سے اصاغرِ قوم کو مزید جرأت ہوتی ہے، بالآخر یہاں تک نوبت پہنچتی ہے کہ اپنی قوم کے اندر رہنا اس کے لیے انگاروں کے درمیان رہنے کے ہم معنٰی بن جاتاہے-اِن حالات میں ’’فسادِ امت‘‘ کے وقت ’’سنتِ رسول‘‘ کو زندہ کرنے کے لیے اٹھنا اتنی بے پناہ مشکلات کا سبب بن جاتا ہے جو سوبار قتل ہونے کے برابر ہے- اِسی بنا پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ایسے شخص کے لیے اللہ کے یہاں سو شہیدوں کا اجر ہے-
جس طرح خدا کی کوئی حد نہیں، اسی طرح خدا کے دین کی راہ میں آگے بڑھنے کی بھی کوئی حد نہیں- خدا کا دین گویا دنیا میں رزقِ الہی کا ایک عظیم دسترخوان ہے- اِس رزق کا سب سے بڑا حصہ اُسی کو ملتا ہے جو اِس راہ میں اپنے آپ کو مٹانے کے لیے تیار ہو- یہ عزت وشہرت کا اسٹیج نہیں، یہ بربادی کےمقامات ہیں- اِن مقامات کو طے کرنا بلا شبہہ سولی پر چڑھنے سے زیادہ سخت ہے- مگر اِس میں بھی کوئی شک نہیں کہ آدمی دین کو اُس کی اعلی سطح پر اُس وقت تک پانہیں سکتا جب تک وہ قربانیوں کی قیمت پر دین کو حاصل کرنے کے لیے تیار نہ ہو-(35: 41)
واپس اوپر جائیں

بھولا ہوا سبق

اموی خلیفہ سلیمان بن عبدالملک (وفات: 717 ء) کے بارے میں کہاجاتا ہے کہ خلیفہ بنائے جانے سے پہلے اپنا زیادہ وقت دمشق کی مسجد میں گزارتا تھا اور قرآن پڑھتا رہتاتھا۔ چناں چہ اس کو فاختۂ مسجد(حمامۃ المسجد) کہاجاتا تھا۔ جس دن اس کے پیش رو خلیفہ کی وفات ہوئی، اُس دن بھی وہ حسب معمول مسجد میں تھا اور وہاں قرآن پڑھ رہا تھا۔ اُس وقت سلطنت کا ایک ذمہ دار آدمی مسجد میں سلیمان بن عبد الملک کے پاس آیا اور اس کو یہ خبر دی کہ آج سے آپ خلیفہ ہیں۔ اس کے بعد فوراً سلیمان بن عبد الملک اٹھا اور قرآن کو مسجد کے طاق پر رکھا اور کہا: ہذا فراق بینی وبینک (آج سے میرے اور تمھارے درمیان جدائی ہے)۔
عجیب بات ہے کہ یہ انفرادی واقعہ بعد کو پوری امتِ مسلمہ کے لیے ایک عمومی واقعہ بن گیا۔ رسول اور اصحابِ رسول کے زمانے میں اہلِ ایمان کا سب سے بڑا مشن دعوت الی اللہ تھا۔
بعد کو جب مسلمانوں کی سلطنت قائم ہوگئی اور ان کا ایمپائر بن گیا تو تقریباً پوری امت نے دعوت الی اللہ کو خیر باد کہہ دیا اور سیاسی اقتدار کو انھوںنے اپنی زندگی کا واحد کنسرن (supreme concern) بنا لیا۔
تقریباً ہزار سال بعد اٹھارھویں صدی کے آخر میں، مسلمانوں کا سیاسی ایمپائر عملاً ختم ہوگیا، مگر دوبارہ وہی حال ہوا کہ مسلمان دعوت الی اللہ کو اپنا مشن نہ بنا سکے۔ اب اُن کا واحد کنسرن یہ بن گیا کہ مفروضہ دشمنوں یا مفروضہ غاصبوں سے لڑ کر دوبارہ وہ اپنے سیاسی عہد کو واپس لائیں۔
یہ مسلم تاریخ کا خلاصہ ہے۔ مسلم تاریخ اب اکیسویں صدی میں داخل ہوچکی ہے، لیکن اب بھی یہی حال ہے کہ دعوت الی اللہ مسلمانوں یا مسلم رہنماؤں کا مشن نہیں۔ یہی بلاشبہ موجودہ زمانے کے مسلمانوں کا سب سے بڑا مسئلہ ہے۔ اُن کو دوبارہ دعوت الی اللہ کو اپنا مشن بنانا ہوگا۔ اگر انھوں نے ایسا نہیں کیا تو اُن کے لیے دنیا کی کامیابی بھی مشتبہ ہے اور آخرت کی کامیابی بھی مشتبہ۔
واپس اوپر جائیں

کامیابی کا راز

7 مئی 2012 کا واقعہ ہے- میں ایک بیرونی سفر سے واپس آیا- دہلی ائرپورٹ پر ایک نوجوان نے مجھ کو وھیل چیر پر بٹھا کر باہر پہنچایا- جب ہم لوگ ائرپورٹ کے باہر گیٹ پر پہنچے تو میرے ایک ساتھی نے اپنی جیب سے ایک نوٹ نکالا اور اُس نوجوان کو دینے لگے- نوجوان نے نوٹ لینے سے انکار کیا- اس نے کہا کہ مجھ کو تو آپ کا آشیرواد چاہئے- میرا امتحان (exam) ہونے والا ہے، میں اس میں پاس ہوجاؤں- میں نے اُس کے سرپر ہاتھ رکھا اوراس کے لئے دعا کی- وہ خوش ہو کر واپس چلا گیا-
اِس چھوٹے سے واقعے میں بہت بڑا سبق ہے- حقیقت یہ ہے کہ کسی دوسرےکا دیا ہوا مال، خواہ وہ کم ہو یا زیادہ، کسی کو کامیاب نہیں بناتا- کامیابی کا راز خود اپنی محنت ہے- یہی بات ایک حدیث رسول میں اِن الفاظ میں آئی ہے: ما أکل أحدطعاماً قطُّ خیراً مِن أن یأکل من عمل یدہ (صحیح البخاری، رقم الحدیث:1941) یعنی کسی آدمی نے کبھی اِس سے اچھا کھانا نہیں کھایا کہ وہ اپنے ہاتھ کی کمائی کھائے-
عطیہ کے طورپر ملا ہوا مال آدمی کی ایک ضرورت کو پورا کرسکتا ہے، لیکن اِس طرح کا مال آدمی کی شخصیت کے ارتقا کا ذریعہ نہیں بن سکتا- ایسامال آدمی کے لیے ایزی منی (easy money) کی حیثیت رکھتا ہے، اور ایزی منی کبھی کسی کے لیے ترقی کا ذریعہ نہیں بنی-
اپنی محنت سے کمایا ہوا مال آدمی کے اندر اعلی اخلاقی صفات پیدا کرتا ہے- مثلاً خود اعتمادی، عملی تجربہ، ذہنی ارتقا، ہارڈ ورک (hardwork)اور سنجیدگی، وغیرہ- مزید یہ کہ آدمی جب اپنی محنت سے کھاتا ہے تو وہ مال کی اہمیت کو سمجھتا ہے- اس کی وجہ سے اس کے اندر سادگی کا مزاج پیدا ہوتا ہے- وہ اسراف سے بچ جاتا ہے- اس کے اندر یہ ذہن بنتا ہے کہ جس مال کو میں نے محنت کرکے کمایا ہے، اُس مال کو مجھے صرف مفید کام میں خرچ کرنا چاہیے- اِسی طرح وہ اپنے ذاتی تجربات کی بنا پر دوسروںکے دکھ درد کو زیادہ بہتر طورپر سمجھنے کے قابل ہوجاتا ہے، وغیرہ-
واپس اوپر جائیں

سُستی کی شکایت

ایک صاحب نے کہا کہ میرے اندر سستی (laziness) بہت زیادہ ہے۔ جب میں کتاب کا مطالعہ کرتاہوں تو جلد ہی اکتاہٹ (boredom) پیدا ہوجاتی ہے اور میں کتاب کو بند کرکے رکھ دیتا ہوں۔ میں نے کہا کہ جب آپ اپنے بچوں کے ساتھ ہوتے ہیں تو کیا اُس وقت بھی آپ کے اندر یہی سستی پیدا ہوتی ہے۔انھوں نے کہا کہ نہیں۔ میں نے کہا کہ پھر اصل مسئلہ سستی کا نہیں ہے، بلکہ اصل مسئلہ انٹرسٹ (interest) کا ہے۔ آپ کو سنجیدہ مطالعہ یا سنجیدہ غور وفکر سے دلچسپی نہیں۔ آپ تفریح کو پسند کرتے ہیں، اِسی لیے آپ کو سنجیدہ کتاب کا مطالعہ کرتے ہوئے سستی آجاتی ہے، لیکن جب آپ اپنے بچوں یا اپنے دوستوں میں ہوتے ہیںتو اُس وقت آپ کو سستی نہیںآتی۔
میں نے کہا کہ یہ کسی فطری کمزوری کی بات نہیں۔ یہ آپ کے طرزِ فکر کا معاملہ ہے۔ آپ اپنے طرز فکر کو بدلئے۔ اہم اور غیر اہم کے معاملے میں آپ اپنی سوچ پر نظر ثانی کیجئے۔ دوسرے لفظوں میں یہ کہ آپ اپنے ذہن کی ری انجینئرنگ (re-engineering of mind) کیجئے۔
میں نے کہا کہ آپ سب سے پہلے یہ جانیے کہ وقت کے استعمال کا معیار کیا ہے۔ وہ کون سا پیمانہ ہے جس سے ناپ کر ہم یہ سمجھیں کہ ہم نے اپنے وقت کا صحیح استعمال کیا یا غلط استعمال کیا۔ وہ پیمانہ یہ ہے کہ اس کے ذریعے آپ کے علم (learning) میں اضافہ ہو، آپ کوئی حکمت (wisdom) کی بات دریافت کرسکیں۔ اِس لحاظ سے اگر آپ جانچیں تو آپ پائیں گے کہ ایک گھنٹہ اگر آپ نے کسی سنجیدہ کتاب کے مطالعے میں صرف کیا تو اُس سے آپ کو کوئی نہ کوئی حکمت کی بات ملے گی۔ اس کے برعکس، اگر آپ سطحی تفریحات میں ایک گھنٹہ گزاریں تو اس کے ذریعے آپ کوئی حکمت کی بات جاننے میں ناکام رہیں گے۔ میںنے کہا کہ آپ اِس اصول کو لے کر اپنے اوقات کی تنظیم کیجئے۔ وقت کے اُسی استعمال کو درست سمجھئے جس کے ذریعے آپ کو اپنے ذہنی ارتقا میں مدد ملی ہو۔ یہی محاسبہ ہے اور اسی کے ذریعے آپ اپنے کو وقت اور توانائی کے ضیاع سے بچا سکتے ہیں۔
واپس اوپر جائیں

حقیقت پسندی

ایک عرب شاعر ابو الطیب المتنبّی(وفات: 965 ء) کا شعر ہے — آدمی جو کچھ چاہتا ہے، وہ سب اس کو ملتانہیں۔ ہوائیں اُس رخ پر چلتی ہیں جس کو کشتیاں نہ چاہتی ہوں:
ما کلُّ ما یتمنّی المرءُ یدرکہ تجری الریاحُ بما لا تشتہی السُّفُنُ
اِس شعر میں زندگی کی ایک حقیقت کو بتایا گیا ہے۔ انسان کے باہر جو دنیا ہے، وہ انسان کی خواہشوں کے تابع نہیں۔ دنیا کا نظام فطرت کے قوانین (laws of nature)کے تحت چل رہاہے، نہ کہ انسان کی خواہشات (desires)کے تحت۔ انسان کو اختیار ہے کہ وہ جس چیز کی چاہے، خواہش کرے، لیکن انسان کو یہ اختیار نہیں کہ وہ دنیا میں قائم شدہ نظامِ فطرت کو خود اپنی خواہش کے تابع کرلے۔
یہ واقعہ بتاتا ہے کہ موجودہ دنیا میں کسی انسان کے لیے کامیابی حاصل کرنے کا طریقہ کیا ہے، وہ یہ کہ وہ اپنی زندگی کا منصوبہ صرف اپنی خواہش کی بنیاد پر نہ بنائے، وہ قوانینِ فطرت کو دریافت کرے اور فطرت کے قانون سے موافقت کرتے ہوئے وہ اپنی زندگی کا منصوبہ بنائے۔
اِس سے معلوم ہوا کہ جب بھی کسی شخص یا گروہ کا منصوبہ ناکام ہوجائے تو اس کو پیشگی طورپر یہ سمجھنا چاہیے کہ اس کی ناکامی کا سبب کسی غیر کی سازش (conspiracy) نہیں، بلکہ اس کی ناکامی کا سبب خود اپنی غلط منصوبہ بندی ہے۔
ناکامی کی صورت میں دوسروں کی شکایت کرنا صرف اپنے وقت کو ضائع کرنا ہے۔ درست طریقہ یہ ہے کہ آدمی اپنی غلطی کا ذمے دار خود اپنے آپ کو سمجھے، نہ کہ کسی دوسرے فرد یا گروہ کو۔ وہ اپنی ناکامی کا سبب اپنی غلط منصوبہ بندی میں تلاش کرے، نہ کہ دوسروں کی سازش میں۔کامیابی کا یہی اصول فرد کے لیے بھی ہے، اور یہی وہ اصول ہے جس پر چل کر اِس دنیا میں کوئی گروہ کامیاب ہوسکتا ہے— اِس دنیا میں کامیابی کا راز فطرت سے موافقت میں ہے، نہ کہ فطرت سے عدم موافقت میں۔
واپس اوپر جائیں

سوال

الرسالہ مارچ 2011 کے مضمون ’’اللہ سے محبت‘‘ میں درج کردہ حدیث: ’’خلق اللہ آدم على صورتہ‘‘ قرآن کی آیت ’’لیس کمثلہ شیئ‘‘ (11: 42) کے خلاف معلوم ہوتی ہے- براہِ کرم، اس کی وضاحت فرمائیں- (ڈاکٹر محمد افضل منہاس، پاکستان)
جواب
’’خلق اللہ آدم على صورتہ‘‘ کی حدیث صحیح البخاری (رقم الحدیث: 6227) میں آئی ہے- اس کی صحت میں کوئی شک نہیں- اصل یہ ہے کہ اِس حدیث میں ’صورة‘ کا لفظ ظاہری صورت (form) کے معنی میں نہیں ہے، بلکہ وہ صفت (quality) کے معنی میں ہے- خود قرآن میں اللہ کے لیے اِس قسم کے الفاظ آئے ہیں- مثلاً ’وجہ‘ (55: 27) ، اور ’ید‘ (48:10) ، وغیرہ- یہاں بھی یہ الفاظ ظاہری صورت کے معنی میں نہیں ہیں، بلکہ وہ صفت کے معنی میں ہیں-
قرآن اور حدیث دونوں میں جو بات کہی گئی ہے، وہ یہ ہے کہ اللہ نے انسان کو خصوصی صلاحیتیں دی ہیں جو کسی دوسری مخلوق کو نہیں دیں- یہ وہ صلاحیتیں ہیں جو اللہ کے اندر اپنی کامل صورت میں موجود ہیں- مزید یہ کہ یہ اعلی صلاحیتیں اللہ کے اندر اس کی ذاتی صفت کے طور پر ہیں، جب کہ انسان کو جو محدود صلاحیتیں دی گئی ہیں، وہ صرف عطیہ کی حیثیت رکھتی ہیں-
جہاں تک قرآن کی آیت: لیس کمثلہ شیئ (11: 42) کا تعلق ہے، اُس کا صحیح مطلب وہ ہے جو ابو محمد الواسطی (وفات: 1341ء)کے حوالے سے اِن الفاظ میں نقل کیاگیا ہے: لیس کذاتہ ذات، ولا کاسمہ اسم، ولا کفعلہ فعل، ولا کصفتہ صفة، إلا من جہة موافقة اللفظ (القرطبی، 9/16) یعنی اللہ کی ذات جیسی کوئی ذات نہیں، نہ اس کے اسم جیساکوئی اسم ہے، نہ اس کے فعل جیساکسی کا فعل ہے، نہ اس کی صفت جیسی کسی کی صفت ہے، سوا لفظی موافقت کے اعتبارسے-
مثلاً انسان کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ اس کو قدرت حاصل ہے، مگر اللہ کی قدرت اور انسان کی قدرت کے درمیان صرف لفظی مشابہت ہے، نہ کہ حقیقی مشابہت-
واپس اوپر جائیں

خبرنامہ اسلامی مرکز 218—

1- اندراگاندھی نیشنل اوپن یونی ورسٹی (نئی دہلی) میں 3 جون 2012 کو ڈپلوما اردو ٹیچر ٹریننگ (DUTT) کا امتحان ہوا- اِس میں ’تاریخ اور اردو کا ارتقا‘ (History and Evolution of Urdu) کے پیپر میں ایک سوال یہ کیاگیا تھا: ’’کسی ایسے اردو رسالے کا ذکر کریں جس نے اردو پڑھنے والے لوگوں کا مزاج حقیقت پسندی کا بنایا ہو‘‘- طلبا نے اس کے جوا ب میں ماہ نامہ الرسالہ (نئی دہلی) کا نام لکھا- اِس جواب پر طلبا کو پورا نمبر دیاگیا- — اس سے اندازہ ہوتاہے کہ الرسالہ اب وقت کی آواز بن چکا ہے-
-2 مظفر نگر (سہارن پور) کے نمائش گراؤنڈ میں 4-20 جون 2012 کے درمیان ایک سالانہ نمائش لگائی گئی-اِس موقع پر الرسالہ کے مقامی ساتھیوں مسٹر محمد انس اور مولانا عاصم قاسمی نے یہاں ایک دعوتی بک اسٹال لگایا- یہاں سے بڑی تعداد میں غیر مسلم حضرات نے قرآن کے تراجم اور دعوتی لٹریچر حاصل کیا اور اپنے گہرے تاثرات کا اظہار کیا- ایک صاحب نے کہا کہ: ’’میں نے اپنے جاننے والے کئی مسلمانوں سے قرآن مانگا، مگر انھوں نے مجھ کو قرآن نہیں دیا- آج یہاں سے قرآن کا ترجمہ حاصل کرکے میں اپنے آپ کو بہت خوش قسمت سمجھ رہا ہوں‘‘-
-3 دہرا دون (یوپی) میں 27 جون 2012 کو تعلیم کے موضوع پر ایک آل انڈیا کانفرنس ہوئی- اِس میں ملک کے اعلی تعلیم یافتہ لوگوں نے شرکت کی- اِس موقع پر کانفرنس میں، اور دہرادون کے مختلف اجتماعی مقامات (شاپنگ سنٹر، وغیرہ) میں، حلقہ الرسالہ (سہارن پور) کے ساتھیوں نے لوگوں کو قرآن کے انگریزی تراجم پیش کیے-
-4 ادارہ المورد (لاہور، پاکستان) نے حال میں اپنا ایک ویب ٹی وی (www.al-mawrid.org) لانچ کیا ہے- المورد نے اپنے ویب ٹی وی پر سی پی ایس (نئی دہلی) کی اجازت سے صدر اسلامی مرکز کے لکچرز بھی شامل کیے ہیں-
-5 یونائٹیڈ نیوز آف انڈیا (نئی دہلی) کی ٹی وی ٹیم نے 29 جون 2012 کو صدر اسلامی مرکز کا ایک انٹرویو ریکارڈ کیا- اس کے انٹرویور مسٹر عالم تھے- انٹرویو کا موضوع ’’اسلام کی تعلیمات‘‘ تھا-
-6 بھارتیہ ودّیا بھون (نئی دہلی) میں 5جولائی 2012 کو ایک سمپوزیم ہوا- اس کا موضوع یہ تھا:
A Symposium on Health & Happiness
یہ سمپوزیم ڈاکٹر کرن سنگھ کی صدارت میں ہوا- اِس میں 9 مذاہب کے نمائندوں نے شرکت کی اور اپنے مذہب کے مطابق، صحت کے اصول بتائے- اس کی دعوت پر صدر اسلامی مرکز نے اِس پروگرام میں شرکت اور انگریزی میں اصولِ صحت کے موضوع پر ایک تقریر کی- حاضرین کو سی پی ایس (نئی دہلی) کی طرف سے قرآن کا انگریزی ترجمہ اور دعوتی لٹریچر دیاگیا-
-7 سہارن پور کے حلقہ الرسالہ کی طرف سے وہاں کے ’’پیس ہال‘‘ میں 29 جولائی 2012 (9رمضان 1433ہجری) کو روزہ افطار کے موقع پر ایک بڑا پروگرام کیاگیا- اِس میں بڑی تعداد میں ہندوؤں اور مسلمانوں کے مختلف اداروں اور تحریکات کے لوگوں نے شرکت کی- اِس موقع پر حاضرین کو تذکیر القرآن (اردو) اور دیگر دعوتی لٹریچر دیاگیا- لوگوں نے اس کو شوق سے لیا اور اپنی پسندیدگی کا اظہار کیا- شہر قاضی جناب ندیم اختر نے اپنے خطاب میں کہا کہ سی پی ایس اور الرسالہ کے تحت جو دعوتی اور تربیتی کام ہورہا ہے، وہ بہت قابلِ قدر ہے-
-8 ٹائمس آف انڈیا (جون 8 ، 2012 ) میں اسپیکنگ ٹری کے تحت شائع شدہ ایک مضمون (Meaning of Love of God) پر قارئین کے چند تاثرات یہاں نقل کئے جاتے ہیں:
— •I learnt that love is that which develops on realizing what someone (in this case God) has done for me: God has given us this infrastructure life support system for the upkeep of all bodies. As you rightly said, this universe has been custom made by God for humans, therefore it is essential that we love God. (Narendra Tirumale)
— Great article about love, specially its two dimensions: theoretical and practical. In terms of the theoretical dimension, love means love of God and in terms of the society, love means love of all beings. (Abha Mishra)
-9 قرآن کے انگریزی ترجمہ اور دعوتی لٹریچر کے متعلق قارئین کے چند تاثرات ملاحظہ ہوں:
— I started reading English version of The Quran translated by Maulana Wahiduddin Khan . I have only finished the introduction part of it. The way you have introduced it is simply owesome. Infact, I don’t have words to express what I want to say on that Introduction part. I got answers to many of my questions in it. Thanks for making it so simple and easy for people like me who actually want to read and understand it but can’t do that out of the mere fear of Arabic language. (Heena, Delhi)
— I am the Chaplain at the Cumberland County Jail in Portland, Maine USA. The complimentary copies of the Quran that we received from your company are almost gone. Many inmates have been most grateful to have received a copy. I am writing in hopes that you will consider another donation of the Quran, for we are in need of more copies. (Reverend Jeffrey McIlwain, Chaplain, Cumberland County Sheriff's Office, Portland, USA)
— 12th Mother Teresa International Award Ceremony was held on 28th April, 2012 at Rabindra Sadan Auditorium, Kolkata. The PSF Kolkata availed the opportunity of Dawah work in the said event among eminent intellectuals and dignitaries. The team distributed the Quran, and other English literatures. Justice Shyamal Sen and Mr. Ashoke Mohan Chakraborty expressed their indepth gratitude after getting the spiritual gift. When the team was distributing the books, it seemed that everyone on the stage was waiting for the Quran. An awardee in saffron clad after thanking the team member, observed that he was so eager to read the Quran for so long, now he has got the opportunity to do so. One of the recipient of the award, Ms Papiya Ghosal who was also given a Quran, later phoned Maulana Mohd Sahfique Qasmi and said, she was going through the book and shall disturb him frequently if there is something which needs interpretation. (Mohd. Abdullah, PSF -Peace and Spirituality Forum- Kolkata)
— This is to inform you that the copies of the Qur'an in English have reached us. We already distributed some to the foreign participants in an academic program here in Sarajevo. I am really glad that we met and that I got the opportunity to listen and talk at least shortly to Maulana in Turkey (May 2012). As for the translation of the Qur'an, yes, our Center can help distribute it in Bosnia and the South Eastern Europe. (Dr. Ahmet Alibasic, The Faculty of Islamic Studies in Sarajevo, Bosnia& Herzegovina)
— •The governor of Tripura Dr. Dnyandeo Yashwantrao Patil travelled with me from Agartala to Kolkata on 25th june 2012 on flight AI 744. I had presented to him Quran and Reality of Life, he appreciated it very much. At 11 'o clock at night, I got a call from the governor himself and he thanked me once again for giving him the literature and said that he liked The Reality of Life very much and the verses of the Quran were very impressive and that he would use them in his speeches. He gave me an open invitation to be a guest at Rajniwas in Tripura and said that he would like to discuss about peace and& spirituality in more detail personally. (Khurram Quraishi, Delhi, Pilot Air India)
— •I would like to share with you the experience of one of our Kolkata Team members, Mr. Aftab Alam. He is a Special Revenue Officer in the Department of Land and land Reforms, Govt. of West Bengal. Recently, during his posting in District Maldah in West Bengal, he availed the opportunity of Dawah Work and gifted the English translation of Quran to Mr. Khagendra Nath Dew, ADM (LR) and other officers there. All accepted the gift with great pleasure and gratitude. When an Assistant Teacher of Bamangola High School was given the gift of the Quran, his pleasure knew no bounds; he warmly shook hands with our friend and expressed his gratitude. (Mohd. Abdullah, PSF, Kolkata Team)
— •I found cps international around a year ago, I have foud my thought pattern is paralell with the Maulanas and irrespect him alot and have humbly been spreading his lectures in my own community. I listen religiulously to the Sunday lecture of Maulanas upto ten times before the next sunday lecture. I have distibuted 51 copies of Tazkir ul Quran and over 20 copies of Islam Ek Ta’rufu. (Dr Alia Faruqui, Pakistan)
— The Prophet of Peace should be made compulsory education for every student in India of course in a condensed form. Nobody had given me this version until now. I have passed it on to Dr. Ananda Thejus who is a doctor in theology and a good friend of mine. (• Mrs. Susan Cherian, Fathima Sarah, Bangalore)
— •I have always been an avid reader and came to Maulana sahab's writings purely by Allah's wish. I researched about Maulana sahab's writings, read his writings in the forms of books/articles, listened to a lot of his audio/video lectures posted on his website. For me all this was like a discovery. I have produced many research papers in my engineering field. After reading Maulana sahab's writings and listening to him, I get the same feeling of joy, discovery and amazement which I get when I find something new for my research work. Though I am thousands of miles away from him, I revere him, love him for the sake of Allah and have very high regard for him in my heart. I listen to his every weekly lecture dutifully, read his weekly articles and daily blogs. All this is like food to me, I can't survive without. I wish to carry forward the mission of Maualan sahab in recent times. (Abul Hasan, University of Calgary, Calgary, AB, Canada)
-10 ایک خط: مولانا محترم، 24جون 2012 کو میں دہلی میں تھا اور میں نے آپ کے لکچر میں شرکت کی جس کا عنوان تھا :پولٹکل ایکٹوزم یا فیوٹائل ایکٹوزم (Political Activism or Futile Activism)- آپ کے لیکچر سے اسلام کے کئی اہم پہلو واضح ہوئے جس کو سن کر میں تھرلنگ کے احساس میں ڈوب گیا- آپ کے لکچر کو سن کر جو باتیں میں نے سمجھی ہیں وہ یہ ہیں— مسلمان دو سوسال سے سیاسی ایمپائر کی بازیابی کی کوشش میں لگے ہوئے ہیں، حالاں کہ اُس سے بھی کئی گنا زیادہ بڑا ایمپائر ہمارے پاس موجود ہےاور وہ ہے دعوہ ایمپائر، اور دعوہ ایمپائر کی موجودگی کے بعد کسی اور ایمپائر کی ضرورت نہیں- کیوں کہ امتِ مسلمہ کی ذمہ داری حاملِ قرآن ہونے کی حیثیت سے دعوت الی اللہ ہے- ایسی حالت میں فیوٹائل ایکٹوزم کی کیا ضرورت، اللہ نے ہمیں دعوہ ایمپائر کے روپ میں گلوبل ایمپائر دے دیاہے- اب سارے دروازے کھلے ہوئے ہیں- اب ہمارے لئے فرض کے درجے میں ضروری ہے کہ ہم گلوبل دعوت کے لیے جدوجہد کریں- دوسری اہم بات یہ تھی کہ قرآن کے مطابق، ہماری ذمہ داری یہ ہے کہ ہم خود قسط یعنی عدل کو اپنائیں نہ کہ قسط کو نافذ کرنے کے لیے پرتشدد تحریک چلائیں- اب ہمارے لئے ٹکراؤ کا کوئی جواز نہیں- ہمارے لئے اب صحیح طور پر صرف ایک ہی انتخاب ہے، وہ یہ کہ دعوہ ایمپائر اور اظہار رائے کی آزادی جیسے مواقع کو استعمال کرتے ہوئے ہم خدا کےپیغام کو ساری انسانیت تک پہنچا دیں، مولانا، دعوہ ایمپائر کے اِس تصور نے میرے اندر ایک نئی روح بھر دی ہے- (حافظ ابو الحکم محمد دانیال، بی ایس سی، پٹنہ، بہار)
واپس اوپر جائیں