Pages

Wednesday, 1 May 2013

Al Risala | May 2013 (الرسالہ،مئی)

2

-اہلِ جنت کی رفاقت

3

- بے نیازی کی نفسیات

4

- احبار ورہبان کی پیروی

5

- اللہ کی ایک سنت

6

- فطرت کا ایک اصول

8

- یہ اسلام نہیں

10

- مشرق اور مغرب

11

- حضرت ابراہیم کی امامت

26

- مکمل نظام، مکمل آئڈیالوجی

27

- خدا اور پیغمبر

37

- اپنے آپ کو پہچانیے

38

- حفاظت کا فارمولا

39

- کامیابی کس کے لیے

40

- سوال وجواب

43

- خبرنامہ اسلامی مرکز


اہلِ جنت کی رفاقت

پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات 632 عیسوی کو مدینہ میں ہوئی- آخر وقت میں آپ کی اہلیہ عائشہ آپ کے ساتھ تھیں- حضرت عائشہ کا بیان ہے کہ آخر وقت میں آپ کی زبان سے یہ الفاظ نکلے: اللہم الرفیق الأعلى (البخاری، رقم الحدیث : 6348) یعنی اے اللہ، تیری رفاقت چاہیے-
ایک اور روایت میں حضرت عائشہ کے یہ الفاظ نقل کئے گئے ہیں: جعلتُ أسمعہ یقول: فی الرفیق الأعلى،ثم قرأ:’مَعَ الَّذِیْنَ اَنْعَمَ اللّٰہُ عَلَیْہِمْ مِّنَ النَّبِیّٖنَ وَالصِّدِّیْقِیْنَ وَالشُّہَدَاۗءِ وَالصّٰلِحِیْنَ ۚ وَحَسُنَ اُولٰۗىِٕکَ رَفِیْقًا‘ (4:69) یعنی میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ اے اللہ، رفیق اعلی کے ساتھ- پھر آپ نے یہ آیت پڑھی: ’’اُن لوگوں کے ساتھ جن پر اللہ نے انعام کیا، یعنی پیغمبر اور صدیق اور شہید اور صالح، اور کیسی اچھی ہے اُن کی رفاقت‘‘- (فتح الباری بشرح صحیح البخاری، 7/743 )
اِس واقعے کا تعلق محدود طورپر خصائصِ نبوت سے نہیں ہے، بلکہ اس کا تعلق تمام اہلِ ایمان سے ہے- ایک مومن جب سچے ایمان کے ساتھ دنیا میں زندگی گزارتا ہے تو اپنے آخری زمانے میں اس کا احساس یہ ہوجاتا ہے کہ اللہ نے مجھے اکرم الخلق (17:70) کی حیثیت سے پیدا کیا، لیکن احسن المقام (25:76) کا تجربہ مجھے نہ ہوسکا- دوسرے لفظوں میں یہ کہ میں پورے معنوں میں ایک طالب انسان تھا، لیکن میرا مطلوب اللہ نے آخرت میں جنت کی صورت میں رکھ دیا تھا، اس لیے میں اس کو نہ پاسکا- دنیا میں ایک سچے مومن کی تصویر وہی ہوتی ہے جس کو ایک حدیثِ رسول میں اِن الفاظ میں بیان کیاگیا ہے: الدنیا سجن المؤمن ( صحیح مسلم، رقم الحدیث: 2956) یعنی دنیا مومن کا قید خانہ ہے-
جس صاحبِ ایمان کی نفسیات یہ ہو، وہ اپنے آخری زمانے میں، معنوی طورپر، اُسی کیفیت سے دوچار ہوتا ہے جس کا اظہار مذکورہ روایت میں پیغمبر کے حوالے سے کیاگیاہے-
واپس اوپر جائیں

بے نیازی کی نفسیات

قرآن کی سورہ العلق میں ایک انسانی کردار کو اِن الفاظ میں بتایا گیا ہے: کَلَّآ اِنَّ الْاِنْسَانَ لَیَطْغٰٓى ۝ اَنْ رَّاٰہُ اسْتَغْنٰى(96:6-7) یعنی ہرگز نہیں، انسان سرکشی کرتاہے- اِس بنا پر کہ وہ اپنے آپ کو بے نیاز دیکھتا ہے:
Yet man behaves arrogantly, because he thinks himself self-sufficient.
قرآن کی اِس آیت میں ایک انسانی نفسیات کو بتایا گیاہے- یہی نفسیات اکثر لوگوں کی سرکشی کا باعث بن جاتی ہے- یہ نفسیات، بے نیازی کی نفسیات ہے- بے نیازی کی نفسیات جب ترقی کرتی ہے تو وہ خودرائی، سرکشی اور گھمنڈ جیسی برائیوں کا سبب بن جاتی ہے-
ایک شخص کے پاس اتنا مال آجائے کہ وہ کسی کا محتاج نہ رہے- ایک شخص جسمانی اعتبار سے اتنا طاقت ور ہو کہ وہ کسی کی مدد کے بغیر خود اپنا ہر کام کرلے- ایک شخص کے اندر اتنی زیادہ ذہنی صلاحیت ہو کہ وہ کسی کے مشورے کے بغیر خود اپنی عقل سے باتوں کو سمجھ لے اور اپنے عمل کا کامیاب منصوبہ بناسکے- جس شخص کے اندر اِس قسم کی اضافی خصوصیت پائی جائے، وہ اپنے آپ کو دوسروں سے بے نیاز سمجھ لیتاہے- شعوری یا غیر شعوری طورپر اُس کا یہ ذہن بن جاتا ہے کہ مجھے کسی کے اوپر انحصار کرنے کی ضرورت نہیں، میں خود اپنے ہر کام کو انجام دے سکتاہوں-
بے نیازی کی یہ نفسیات انسان کے ذہنی اور روحانی ارتقا کے لیے قاتل ہے- ایسے آدمی کا ذہنی ارتقا (intellectual development) رک جائے گا اور اپنی بے نیازانہ نفسیات کی بنا پر ا س کو یہ محسوس بھی نہ ہوگا کہ میرے اندر ذہنی ارتقا کا عمل رک گیاہے-
بے نیازی بظاہر کوئی برائی نہیں، لیکن اپنے نتیجے کے اعتبار سے، وہ ایک سنگین برائی کی حیثیت رکھتی ہے- بے نیازی آخر کار آدمی کو کبر (arrogance)تک پہنچاتی ہے اور بلا شبہہ کبر سے زیادہ تباہ کن کوئی اور چیز انسان کے لیے نہیں-
واپس اوپر جائیں

احبار ورہبان کی پیروی

قرآن کی سورہ التوبہ میں یہود ونصاری کے دورِ زوال کی ایک کمزوری کا ذکر اِن الفاظ میں کیاگیاہے: اتخذوا أحبارہم ورُہبانہم أرباباً من دون اللہ(9:31) یعنی انھوں نے اللہ کے سوا، اپنے علما اور مشائخ کو اپنا رب بنا ڈالا-
عدی بن حاتم الطائی (وفات: 68ھ) عرب کے ایک عیسائی تھے- مدنی دور میں وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ملے اور اسلام قبول کرلیا- انھوں نے قرآن کی اِس آیت کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا تھا- آپ نے اُن کا جواب دیتے ہوئے فرمایا کہ یہود ونصاری کا یہ حال ہوگیا کہ اُن کے احبار ورہبان نے حلال کو حرام بتایا اور حرام کو حلال بتایا اور یہود ونصاری نےاس کو مان لیا- یہی وہ چیز ہے جس کا ذکر قرآن میں اِن الفاظ میں کیاگیا ہے کہ— انھوں نے اپنے احبار ورہبان کو اپنا رب بنالیا-
یہ دراصل حاملِ کتاب امتوں کے دورِ زوال کا ایک ظاہرہ ہے- دورِ زوال میں یہ ہوتا ہے کہ خدا کی کتاب اُن کے لیے ان کے دین کا اصل ماخذ نہیں رہتی، بلکہ ان کے علما ومشائخ کے اقوال اُن کے دین کا ماخذ بن جاتے ہیں- دورِ زوال سے پہلے افرادِ امت کا حال یہ ہوتا ہے کہ وہ کہتے ہیں: إیتونی شیئاً من کتاب اللہ حتى أقول- لیکن جب دورِ زوال آتا ہے تو وہ کہتے ہیں: إیتونی شیئا من أقوال العلماء حتى أقول- اِس طرح گویا دورِ زوال کا مطلب ہے — دین میں مرجع اور ماخذ کا بدل جانا(change in source of reference) -
موجودہ زمانے میں مسلم ملت کا جو حال ہے، اُس پر غور کیجئے تو معلوم ہوگا کہ مسلم ملت موجودہ زمانے میں عین اِسی حالت پر پہنچ چکی ہے- مسلمانوں کی تقریر وتحریر کو دیکھئے ، اُن کے اداروں میں جو کلچر رائج ہے، اس پر غور کیجئے تو معلوم ہوگا کہ موجودہ زمانے کے مسلمان حقیقتاً قرآن وسنت پر کھڑے ہوئے نہیں ہیں، بلکہ عملاً وہ اپنے اکابر کے دین پر کھڑے ہوئے ہیں-
واپس اوپر جائیں

اللہ کی ایک سنت

پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک روایت، حدیث کی مختلف کتابوں میں آئی ہے- اِس کے مطابق، پیغمبر اسلام نے فرمایا: لقد کان فیما قبلکم من الأمم ناس محدَّثون، فإن یک فی أمتی أحد فإنہ عمر (صحیح البخاری، کتاب فضائل الصحابہ، باب مناقب عمر بن الخطّاب، رقم الحدیث: 3689) یعنی تم سے پہلے جو امتیں گزری ہیں، اُن میں محدَّث افراد ہوتے تھے- اگر میری امت میں ایسا کوئی شخص ہوگا تو وہ عمر ہیں-
شارحین حدیث نے محدَّث کی شرح مُکلَّم اور مُلہَم کے الفاظ میں کی ہے، یعنی وہ شخص جس سے فرشتے بات کریں، یا جس پر الہام کیا جائے- انگریزی میں اِس کو انسپائرڈ شخص (inspired person) کہاجاسکتا ہے- شارحین نے اِس کو پُراسرار کرامت کے معنی میں لیا ہے اور محدثین نے اس کو مناقبِ صحابہ یا فضائل صحابہ کے عنوان کے تحت نقل کیا ہے- مگر حقیقت یہ ہے کہ یہ ایک سنتِ الہی ہے، یعنی انسانی ہدایت کا خدائی انتظام، نہ کہ محض ایک شخصی کرامت-
اصل یہ ہے کہ انسانوں کی رہنمائی کے لیے اللہ نے دو قسم کا انتظام کیا ہے — ایک، پیغمبر کے ذریعے، اور دوسرا، ملہَم انسان (inspired person) کے ذریعے- پیغمبرپر اللہ کی ہدایت ملفوظ وحی کے ذریعے آتی ہے جس کو علما وحیِ متلو کہتے ہیں- اِسی نوعیت کا معاملہ محدث یا ملہم انسان کے ساتھ پیش آتا ہے- اس کو فرشتوں کے ذریعے مسلسل طورپر خدائی رہنمائی ملتی رہتی ہے- اِس کی وجہ سے وہ اِس قابل ہوجاتاہے کہ وہ لوگوں کو ہر صورتِ حال میں صحیح رہنمائی دے سکے- پیغمبر ایک صاحبِ وحی رہنما ہوتاہے، اور محدث انسان ایک صاحبِ الہام رہنما- یہ معاملہ اللہ کی خصوصی رحمت کی بنا پر ہوتا ہے- پیغمبر کے بعد اللہ اگر محدث یا ملہم افراد پیدا نہ کرے تو بدلے ہوئے حالات میں لوگوں کے لیے خدا کی رہنمائی کو جاننا ناممکن ہوجائے- حقیقت یہ ہے کہ صحیح رہنمائی صرف خدائی مدد کے ذریعے حاصل ہوتی ہے، پیغمبر کے زمانے میں بھی اور محدث انسان کے زمانے میں بھی-
واپس اوپر جائیں

فطرت کا ایک اصول

علمِ نباتات کی ایک اصطلاح ہے جس کو ٹرانسپلانٹیشن (transplantation) کہا جاتا ہے، یعنی پودے کو ایک جگہ سے اکھاڑ کر دوسری جگہ لگانا، تاکہ وہ بہتر نشو ونما پائے:
The act of removing a plant from one location and introducing it in another location.
یہی اصول انسانی زندگی کے لیے بھی ہے- انسانی گروہ کے لیے بھی کبھی یہ فیصلہ کیا جاتا ہے کہ اس کے عمل کے مقام کو بدلا جائے، تاکہ وہ زیادہ بہتر طورپر اپنا کام انجام دے سکے- اسلام میں ہجرت کا مقصد یہی ہے- اسلام کےمطابق، ہجرت سادہ طورپر صرف ترکِ مقام کے معنی میں نہیں، بلکہ وہ عمل کی تبدیلی کے معنی میں ہوتی ہے-
اِس ہجرت کی دو صورتیں ہیں — ایک ہے عمل کے مقام (place of work) کو بدلنا- اور دوسرا وہ ہے جس کو رول کی تبدیلی (change of role) کہاجائے گا- اسلام کے دورِ اول کی تاریخ میں مکہ سے مدینہ کی طرف ہجرت پہلی قسم کی مثال ہے، اور حدیبیہ دوسری قسم کی مثال، جس نے اہلِ ایمان کے عسکری رول کو دعوتی رول میں تبدیل کردیا-
اسلام کے ظہور کے بعد مسلمانوں کو یہ موقع ملا کہ انھوں نے بڑی بڑی سلطنتیں قائم کرلیں- اِس کو مسلم ایمپائر کا دور کہا جاسکتا ہے- یہ دور تقریباً ایک ہزار سال تک جاری رہا- اٹھارھویں صدی کے آخر میں اس کا خاتمہ ہوگیا- چھوٹی چھوٹی مسلم حکومتیں اب بھی باقی تھیں، لیکن مسلم ایمپائر باقی نہ رہا-
یہ واقعہ اپنی حقیقت کے اعتبار سے کسی کی سازش یا دشمنی کا نتیجہ نہ تھا، بلکہ وہ فطرت کے ایک اصول کے تحت پیش آیا اور وہ ٹرانسپلانٹیشن کا اصول تھا- اِس کے تحت ایسے حالا ت پیداہوئے جس کا تقاضا تھا کہ مسلمان اپنے رول کو بدلیں- اٹھارھویں صدی تک انھوں نے سیاسی رول ادا کیا تھا، اب نئے حالات میں اُن کو دعوتی رول ادا کرنا تھا-
اسلام کے ظہور کے بعد ضرورت تھی کہ خدا کا دین کامل طورپر محفوظ اور مدوّن ہوجائے- اسلامی علوم کا ایک مستند کتب خانہ قائم ہوجائے- اٹھارھویں صدی میں پرنٹنگ پریس وجود میں آیا ، اُس نے دین کی حفاظت وتدوین کے کام کو اتنا زیادہ مستحکم کردیا کہ اب اُس میں کسی قسم کی تبدیلی یا تحریف عملاً ناممکن ہوگئی-
انیسویں صدی کا آغاز تاریخ انسانی میں ایک نئے دو رکا آغاز تھا- اِس دور میں مذہبی جبر کی جگہ مذہبی آزادی آئی- کٹرپن کی جگہ کھلاپن (openness) ، تعصب کے بغیر دوسرے مذاہب کا مطالعہ اور جدید مواصلات، وغیرہ- اِن تبدیلیوں کے نتیجے میں عالمی سطح پر تاریخ میں ایک نیا دور آگیا- اِس دور کو اپنی حقیقت کے اعتبار سے، دعوت کا دور(age of dawah) کہاجاسکتا ہے- اِسی کے ساتھ وہ چیز وجود میں آئی جس کو عالمی سیاحت (world tourism)کہا جاتا ہے- اِس کے نتیجے میں یہ ہوا کہ مختلف قوموں کے لوگ بڑی تعداد میں دوسرے ملکوں کا سفر کرنے لگے- مثلاً 2011 میں مختلف ملکوں کے جو سیاح شرقِ اوسط (Middle East) میں آئے، اُن کی تعداد 55 ملین سے زیادہ تھی-
یہ حالات اشارہ کررہے تھے کہ اب مسلمانوں کا رول بدل گیا- اٹھارھویںصدی تک اگر اُن سے پولٹکل رول مطلوب تھا تو اب اُن سے دعوتی رول مطلوب ہے- اب انھیں چاہیے کہ وہ دوسری قوموں سے لڑائی کو مکمل طورپر ختم کردیں- وہ اپنے اور دوسری قوموں کی درمیان وہ پرامن اورمعتدل حالات قائم کریں، جب کہ موافق ماحول میں دعوت الی اللہ کا کام عالمی سطح پر ہونے لگے-
اب آخری وقت آگیا ہے کہ مسلمان اپنے رول کی اِس تبدیلی کو جانیں اور اپنی کوششوں کو پوری طرح دعوت کے میدان میں لگا دیں- ورنہ اِس بات کا سخت اندیشہ ہے کہ ایک حدیثِ رسول کے مطابق، اُن کی مثال اُس حیوان جیسی ہوگی جس کے مالک نے اُس کو ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کیا، لیکن وہ اِس سے بے خبر رہا کہ اِس منتقلی کے ذریعے اس کا مالک اُس سے کیا چاہتا ہے: والمنافق مثلہ کمثل الحمار، لا یدری فیم ربط أہلہ ولا فیم أرسلوہ (تفسیر ابن کثیر3/450 ) یعنی منافق کی مثال گدھے کی طرح ہے کہ وہ نہیں جانتا کہ اس کے مالک نے کس لیے اس کو باندھا اور کیوں اس کو چھوڑ دیا-
واپس اوپر جائیں

یہ اسلام نہیں

مصر میں سابق صدر حسنی مبارک کے خلاف ایک تحریک اٹھی- اِس کی قیادت الاخوان المسلمون کے لوگ کررہے تھے- اِس کے نتیجے میں حسنی مبارک کی حکومت ختم ہوگئی- اِس کے بعد مصر میں الیکشن ہوا- الیکشن کے بعد الاخوان المسلمون کے ایک لیڈر ڈاکٹر محمد مرسی مصرکی نئی حکومت کے صدر مقرر ہوئے- جنوری 2013 میں اِس ’’انقلاب‘‘ پر ایک سال گزر چکے ہیں، مگر ابھی تک وہاںامن قائم نہیں ہوا-
26جنوری 2013 کو سوئزکے کنارے واقع شہروں میں مصریوں کا ایک جلوس نکالا گیا- ایک واقعے کو لے کر جلوس اور پولس کے درمیان ٹکراؤ ہوا- اِس ٹکراؤ میں تقریباً 50 آدمی مارے گئے- جلوس کے شرکا اپنے ہاتھ میں بہت سے بینر لیے ہوئے تھے- اِن بینروں میں پچھلے سال اِسی قسم کے ایک تصادم میں ہلاک ہونے والے مصریوں کی تصویریں تھیں- اِن تصویروں کے اوپر جلی حرفوں میں لکھا ہوا تھا: لن ننساکم( ہم ہرگز تم کو نہیں بھولیں گے)-
یہ نہ بھولنے کا کلچر ہرجگہ کے مسلمانوں میں عام ہے- موجودہ زمانے میں مسلمان بار بار ایسا کرتے ہیں کہ وہ جذباتی اِشوز پر پرشور مظاہرے کرتے ہیں- یہ مظاہرہ بعد کو تشدد کی صورت اختیار کرلیتاہے- اِس میں بہت سے لوگ زخمی ہوتے ہیں اور بہت سے لوگ مارے جاتے ہیں-
ہرجگہ کے مسلمان اِسی نفسات میں جی رہے ہیں کہ ہم اپنے ’’شہیدوں‘‘ کو نہیں بھولیں گے، ہم ضرور اُن کا بدلہ لیں گے- اِس کے نتیجے میں مسلمان ایک قسم کی آتش پذیر کمیونٹی (combustible community) بن گئے ہیں-
موجودہ زمانے کے مسلمانوں میں ہر جگہ یہی کلچر پھیلا ہوا ہے- اِس کلچر نے تمام دنیا کے مسلمانوں کو نفرت اور تشدد کی نفسیات میں مبتلا کردیا ہے- ہرجگہ کے مسلمانوں کا حال یہ ہے کہ وہ منفی جذبات سے بھرے رہتے ہیں اور کوئی بھی خلافِ مزاج واقعہ پیش آنے پر وہ فوراً بھڑک اٹھـتے ہیں-
موجودہ زمانے کے مسلمانوں کی یہ منفی نفسیات بلا شبہہ ان کا سب سے بڑا مسئلہ ہے- مسلمانوں پر لازم ہے کہ وہ نہ بھلانے والے کلچر کو چھوڑ کر، بھلانے والا کلچر اختیار کریں، ورنہ وہ قیامت تک اِس کے تباہ کن نتائج بھگتتے رہیں گے- کوئی بھی دوسری تدبیر اِس معاملے میں اُن کو نجات دینے والی نہیں-
انیسویں صدی اور بیسویں صدی کے دوران مسلمانوں کے اندر بڑی بڑی سیاسی تحریکیں اٹھیں- اِن تمام تحریکوں کا نشانہ براہِ راست یا بالواسطہ طورپر صرف ایک تھا— کھوئے ہوئے مسلم ایمپائر کا دوبارہ قیام- مگر دوسو سال کی دھواں دھار سرگرمیوں کے باوجود یہ نشانہ حاصل نہیں ہوا- اِن تمام سیاسی تحریکوں کے مسلم رہنما آخر کار مایوسی میں مبتلا ہوئے اور مایوسی میں اِس دنیا سے چلے گئے-
اِس کا سبب یہ تھا کہ کوئی سیاسی ایمپائر، خواہ وہ مسلم ایمپائر ہو یا غیر مسلم ایمپائر، حالات کے تحت قائم ہوتا ہے- یہ قدیم زمانے کا ایک ظاہرہ تھا کہ مختلف قوموں نے اپنے ایمپائر قائم کیے- اِنھیں زمانی حالات کی بنا پر مسلمانوں کو بھی یہ موقع مل گیا کہ وہ اپنا ایمپائر قائم کریں-
مگر اٹھارھویں صدی میں یہ زمانی حالات ختم ہوگئے- اب کسی قوم کے لیے یہ ممکن نہ رہا کہ وہ قدیم طرز کا سیاسی ایمپائر قائم کرے- مسلمانوں کی سیاسی تحریکوں کو جو ناکامی ہوئی، وہ کسی دشمن کی ’’سازش‘‘ کی بنا پر نہ تھی، وہ صرف اِس لیے تھی کہ موجودہ زمانے میں اٹھنے والے مسلم رہنما زمانے کی تبدیلی سے بے خبر تھے- اِس بنا پر وہ ایسی سیاست کے چیمپئن بنے رہے جو نئے دور میں سرے سے ممکن ہی نہ تھی-
اب جو لوگ مسلم تحریکوں کی ناکامی کو دشمن کی ’’سازش‘‘ قرار دے کر مضامین اور کتابیں لکھ رہے ہیں، وہ صرف اپنی بے دانشی کا ثبوت دے رہے ہیں- اکیسویں صدی میں تمام دنیا کے مسلمانوں کو صرف ایک ہی کام کرنا ہے، یہ کہ وہ ماضی میں کی ہوئی اپنی غلطیوں کا اعتراف کریں اور یہ عہد کریں کہ اب دوبارہ وہ ایسی غلطی نہ کریں گے، نہ فکری اعتبار سے اور نہ عملی اعتبار سے-
موجودہ دنیا میں غلطی کرنا ایک امرِ فطری ہے- کوئی بھی شخص غلطی کرسکتا ہے، لیکن غلطی کے بعد جب موافق نتیجہ نہ نکلے تو یہ بلاشبہہ دیوانگی ہوگی کہ اپنی ناکامیوں کا سبب دشمنوں کی سازش کو قرار دے دیا جائے- غلطی کرنا قابلِ معافی ہے، لیکن غلطی کا اعتراف نہ کرنا ہرگز قابلِ معافی نہیں-
واپس اوپر جائیں

مشرق اور مغرب

ایک مشہور مسلم لیڈر اگست 2012 میں ایک کانفرنس میں شرکت کے لیے ترکی گئے- وہاں انھوں نے میڈیا کو انٹرویو دیتےہوئے کہا کہ — یہ بہت اچھی بات ہے کہ ترکی نے مغرب کے بجائے مشرق کی طرف دیکھنا شروع کردیا ہے:
It is very good that Turkey has started looking East instead of West.
انسانیت کو مشرق اور مغرب میں تقسیم کرنے کا ذہن ایک قومی ذہن ہے-ایک قومی لیڈر اس قسم کے الفاظ بول سکتا ہے، لیکن ایک مسلمان ایسے الفاظ بولنے کا تحمل نہیں کرسکتا، کیوں کہ اسلام ایک قومیت نہیں، بلکہ وہ ایک انسانی مشن ہے- رُڈیارڈ کپلنگ (Rudyard Kipling) ایک برٹش شاعر اور اسٹوری رائٹر تھا- وہ 1865 میں ممبئی میں پیدا ہوااور 1936 میں اس کی وفات ہوئی- رڈیارڈ کپلنگ نے کہا تھا کہ مغرب، مغرب ہے اور مشرق، مشرق - دونوں کبھی ایک دوسرے سے نہیں مل سکتے:
West is West and East is East, and the twain shall never meet.
اِس قسم کی سوچ سرتاسر غیر داعیانہ سوچ ہے- مومن کا مشن عالمی دعوت کا مشن ہے- یہ ذہن فطری طورپر مومن کے اندر آفاقیت پیدا کرتا ہے- اس کا نشانہ پوری انسانیت ہوتی ہے- وہ قومی تعصب سے یکسر خالی ہوتاہے- وہ سارے انسانوں کا خیر خواہ ہوتا ہے- وہ سارے انسانوں کو ایک فیملی کی طرح اپنا سمجھتا ہے- حقیقت یہ ہے کہ مومن ’’ہم اور وہ‘‘(We and They) کے تصور سے ناآشنا ہوتا ہے- اِس کے بجائے مومن کا تصور ’’ہم اور ہم‘‘ (We and We) کے تصور پر مبنی ہوتا ہے- قرآن میں بتایا گیاہےکہ اللہ تمام انسانوں کا رب ہے- یہی وہ عقیدہ ہے جو مومن کا ذہن بناتا ہے- مومن اپنے عقیدے کے اعتبار سے، اس کا تحمل نہیں کرسکتا کہ وہ انسان کو مشرق اور مغرب میں بانٹے- مومن کی نظر میں ہر ایک اس کا ہے اور وہ ہر ایک کا- یہی وہ تصور ہے جو مومن کی اخلاقیات کی تشکیل کرتاہے اور یہی وہ آفاقی تصور ہے جو مومن کے اندر یہ عالمی خیر خواہی پیدا کرتاہے کہ وہ تمام دنیا والوں کی ہدایت کا حریص بن جائے-
واپس اوپر جائیں

حضرت ابراہیم کی امامت

حضرت ابراہیم تقریباً چار ہزار سال پہلے عراق میں پیدا ہوئے- وہ تینوں سامی مذاہب — یہودیت، عیسائیت اور اسلام کے مشترک پیشوا مانے جاتے ہیں-حضرت ابراہیم کے بارے میں قرآن میں عالمی امامت کا اعلان ان الفاظ میں کیاگیاہے : وَاِذِ ابْتَلٰٓى اِبْرٰہٖمَ رَبُّہٗ بِکَلِمٰتٍ فَاَتَـمَّہُنَّ ۭ قَالَ اِنِّىْ جَاعِلُکَ لِلنَّاسِ اِمَامًا(2:124)یعنی جب ابراہیم کو اس کے رب نے کئی باتوں میں آزمایا تو ابراہیم نےاُن کو پورا کردکھایا- اللہ نے کہامیں تم کو تمام انسانوں کا امام بناؤں گا-
حضرت ابرہیم کا ذکر بائبل (عہد نامہ قدیم) میں تفصیل کے ساتھ آیا ہے- حضرت ابراہیم کی امامت کے بارے میں قرآن کی مذکورہ آیت میں جو بات کہی گئی ہے، وہ بائبل میں بھی ان الفاظ میں آئی ہے— اور زمین کی سب قومیں اس کے وسیلے سے برکت پائیں گی:
All the nations of the earth shall be blessed in him. (Genesis 18:18)
قرآن اور بائبل کے بیان سے معلوم ہوتاہے کہ اللہ تعالی نے حضرت ابراہیم کو عالمی امامت کا درجہ دیا- یہ عالمی امامت کیا تھی، اس کے بارے میں یہودی علما ،مسیحی علما اور مسلم علما تقریباً سب کے سب بے خبری میں مبتلا ہیں- وہ اِس کو صرف ایک پراسرار(mysterious) مفہوم میں لیے ہوئے ہیں، حالاں کہ یہ ایک تاریخی واقعہ تھا- اس کی عظمت صرف اُس وقت واضح ہوتی ہے جب کہ اس کو تاریخ کی زبان میں بیان کیا جائے-
منصوبہ تخلیق
اصل یہ ہے کہ اللہ تعالی نے انسان کی تخلیق کے بعد انسانی نسلوں کی ہدایت کے لیے اولاً پیغمبر بھیجنا شروع کیا- حضرت آدم سے لے کر حضرت ابراہیم تک بڑی تعداد میں پیغمبر آئے، لیکن دنیا میں مطلوب حالت قائم نہ ہوسکی- وہ مطلوب حالت یہ تھی کہ ایک طرف، دین ِ خداوندی کا مستند متن محفوظ ہوجائے- اور دوسری طرف انسان کودین ِ خداوندی کے معاملے میں کامل آزادی حاصل ہو- دین کے معاملے میں کسی بھی قسم کی رکاوٹ باقی نہ رہے-مگر مختلف اسباب کے تحت ایسا ہوا کہ انسانی زندگی میں ایک برعکس حالت قائم ہوگئی- اِس کو ایک لفظ میں، استبدادیت(despotism) کہا جاسکتا ہے- اِس کے نتیجے میں دنیا میں ہرجگہ انسانی زندگی میں استبدادی ماڈل (despotic model) رائج ہوگیا- اِس ماڈل کے تحت انسانی زندگی کے تمام معاملات مُستَبِد حکمراں (despotic rulers) کے تحت آگئے- یہ مستبد حکمراں اپنےمزاج کے تحت ہر نئی چیز کے دشمن ہوتے تھے- وہ ہر نئی تحریک کو پوری طاقت سے کچل دیتے تھے، تاکہ لوگوں کے اوپر ان کی حکمرانی غیرمشروط طورپر قائم رہے-
اِسی نظام کا ایک ظاہرہ وہ تھا جس کو قرآن میں فتنہ (8:39)کہاگیا ہے- اِس ظاہرے کا سیکولر نام مذہبی جبر ہے- اِسی مذہبی جبر کی بنا پر قدیم زمانے میں لوگوں کو مذہب توحید اختیار کرنے کی اجازت نہ تھی، کیوں کہ وہ حکمراں کے اختیار کردہ مذہب کے خلاف ہوتا تھا- اِسی بنا پر قدیم زمانے میں موحدین کو قتل کردیا گیا یا آگ میں جلادیا گیا-اِسی بنا پر اصحاب کہف (Seven Sleepers) اپنی بستی کو چھوڑ کر ایک غار میں پناہ لینے پر مجبور ہوئے، وغیرہ- قدیم زمانے میں اِس قسم کے جو شدید واقعات پیش آئے، اس کا سبب کوئی سیاسی اختلاف نہ تھا، بلکہ اس کا سبب تمام تر صرف مذہبی اختلاف تھا-
نیا عمل
حضرت ابراہیم کے زمانے میںاللہ نے تاریخ میں ایک نیا عمل (process)جاری کیا- یہ عمل انسان کی آزادی کو منسوخ کیے بغیر کیا گیا- اِسی کے ساتھ اسباب کے ماحول کو پوری طرح برقرار رکھا گیا- اِس صورتِ حال کی بنا پر اِس خدائی عمل کے ساتھ ایک شبہہ کا عنصر (element of doubt) شامل ہوگیا- یہی وجہ ہے کہ مذاہب ثلاثہ کے علما خداکے اِس منصوبے کو سمجھ نہ سکے- حضرت ابراہیم کی امامت کا معاملہ علماءِ مذاہب کے لیے ایک پراسرار معاملہ بنا رہا-
مذاہبِ ثلاثہ کے علما اِس معاملے میں کنفیوژن کا شکار ہیں- وہ اِس واقعے کی کوئی ایسی توجیہہ دریافت نہ کرسکے جو اِس معاملے میں اُن کو یقین پر کھڑا کرنے والی ہو- انھوںنے اپنے ذہنی سانچہ (mind-set)کے اعتبار سے، بعض توجیہات کیں، مگر انھوں نے دیکھا کہ اِن توجیہات کو تاریخ کی تصدیق حاصل نہیں ہورہی ہے، اس لیے وہ اِس معاملے میں کنفیوژن کا شکار ہو کر رہ گئے-
مثلاً کچھ لوگوں نے کہا کہ حضرت ابراہیم کے ذریعہ دنیا کو توحید کی مستند آئڈیالوجی ملی- مگر یہ بات حقیقتِ واقعہ کے خلاف ہے، کیوں کہ دنیا کو توحید کی آئڈیالوجی قرآن کے ذریعے حاصل ہوئی، نہ کہ صُحفِ ابراہیم (87:19) کے ذریعے، جو کہ عملاً اب گم شدہ صحائف کی حیثیت رکھتے ہیں- کچھ لوگوں نے یہ کہا کہ حضرت ابراہیم کے ذریعے ساری دنیا میں خدائی حکومت قائم ہوئی، مگر تاریخ میں ایسے کسی واقعے کا ذکر نہیں جب کہ ساری دنیا میں خدائی حکومت قائم ہو اور حضرت ابراہیم اس میں صدر کی حیثیت رکھتے ہوں، وغیرہ- اِس قسم کی تمام توجیہات لوگوں کے اپنے ذہن کی پیداوار ہیں، اُن کا خدا کے نقشہٴ تخلیق سے کوئی تعلق نہیں-
اِس معاملے میں خدا کا منصوبہ کیا تھا، اس کو قرآن اور حدیث کے مطالعے سے معلوم کیا جاسکتا ہے- قرآن کی سورہ المائدہ میں ایک آیت آئی ہےجس کو اکمالِ دین (5:3) کی آیت کہا جاتا ہے- اِس آیت میں اکمالِ دین سے مراد شرعی احکام کی فہرست کا مکمل کرنا نہیں ہے، بلکہ اِس سے مراد اہلِ دین کے لیے خوف کی حالت کا خاتمہ ہے- یہی وہ بات ہے جس کو آیت میں اِن الفاظ میں کہاگیا ہے: اَلْیَوْمَ یَىِٕسَ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا مِنْ دِیْنِکُمْ فَلَا تَخْشَوْہُمْ وَاخْشَوْن (5:3) یعنی آج منکرین تمھارے دین کی طرف سے مایوس ہوگئے، پس تم اُن سے نہ ڈرو، صرف مجھ سے ڈرو-
قرآن کی مذکورہ آیت میں کسی وقتی واقعے کا ذکر نہیں ہے، اِس میں ایک تاریخی حقیقت کا اعلان کیاگیاہے- یہ آیت حجة الوداع (10ہجری) کے موقع پر نازل ہوئی- اِس آیت کا نزول دراصل تاریخ کے ایک دور کے خاتمے اور تاریخ کے دوسرے دو رکے آغاز کا اعلان تھا- یہ اعلان اب پوری طرح واقعہ بن چکا ہے- اگر چہ اہلِ مذاہب اپنے خود ساختہ ذہن کی بنا پر اِس حقیقت سے بے خبر رہے-
اسباب اور انسانی آزادی کو برقرار رکھتے ہوئے جو خدائی منصوبہ بندی کی گئی ، اس کا خاص نشانہ یہ تھا کہ دنیا میں مذہبی جبر کا مکمل خاتمہ ہوجائے، ہر انسان کو یہ موقع ہو کہ وہ مذہب کے معاملے میں اپنے انتخاب (choice) کے لیے مکمل طورپر آزاد ہوجائے- یہ منصوبہ بندی مکمل طورپر ایک غیرسیاسی منصوبہ بندی تھی- اس کا سیاست سے کوئی تعلق نہ تھا، نہ نظری اعتبار سے اور نہ عملی اعتبار سے-
حضرت ابراہیم کے ذریعے جومنصوبہ بندی کی گئی، اس کے دو پہلو تھے — ایک یہ تھا کہ مطلوب صورتِ حال کا ایک ابتدائی نمونہ (prototype) تیار کرنا- اس کا دوسرا پہلو یہ تھا کہ انسان کی آزادی کو برقرار رکھتے ہوئے تاریخ میں ایسا عمل (process) جاری کرنا جو آخر کار ایک نئے دور کو وجود میں لائے، جب کہ مذکورہ ابتدائی اور وقتی نمونہ ایک عالمی انقلاب کی صورت اختیار کرلے اور اِس طرح تمام دنیا کے انسانوں کے لیے عمومی طورپر اور مستقل طورپر یہ امکان کھل جائے کہ وہ کسی بھی جبر کے بغیر ہر قسم کی مذہبی سرگرمیوں کے لیے آزاد ہوں- اپنے ذاتی عقیدے کے معاملے میں بھی اور دوسروں کے درمیان اپنے عقیدے کی اشاعت کے معاملے میں بھی-
وہ چیز جس کو اوپر ابتدائی نمونہ (prototype) کہا گیاہے، اس کی مثال حضرت یوسف کے ذریعے قائم کی گئی- حضرت یوسف، حضرت ابراہیم کے گریٹ گرینڈ سن (great grandson) تھے- وہ فلسطین اور شام کے درمیان ایک گاؤں (کنعان) میں پیدا ہوئے- اس زمانے میں مصر ایک ترقی یافتہ ملک تھا- یہاں ایک خاندان حکومت کرتا تھا، جس کو ہکساس بادشاہ (Hyksos Kings) کہاجاتا ہے- حضرت یوسف کے زمانےمیں یہاں جو بادشاہ حکومت کررہا تھا، اس کا نام یہ تھا— اپوفس (Apophis) -یہ بادشاہ استثنائی طورپرایک منفرد مزاج کا آدمی تھا- وہ شخصی طور پر ایسی صفات کا حامل تھا جو مطلوب منصوبے کے لیے ایک موزوں کردار کی حیثیت رکھتی تھیں- یہی وجہ ہے کہ خدائی منصوبے کے تحت حضرت یوسف کو کنعان سے نکال کر قدیم مصر کی راجدھانی ممفس (Memphis ) پہنچایا گیا- یہاں ایسے اسباب پیدا ہوئے جن کے تحت حضرت یوسف اُس وقت کے مصری بادشاہ کے دربار میں پہنچے- بادشاہ حضرت یوسف کی صلاحیت سے اتنا زیادہ متاثر ہوا کہ اُس نے اپنے ایک فیصلے کے تحت، حضرت یوسف کو مصر کے خزائن (وسائل ارض) کا انچارج بنادیا (12:55)-
حضرت یوسف کا یہ قصہ قرآن اور بائبل دونوں میں یکساں طورپر تفصیل کے ساتھ بیان کیاگیاہے- اِس سلسلے میں بائبل کا بیان یہ ہے کہ بادشاہ نے کہا— میری ساری رعایا تیرے حکم پر چلے گی- فقط تخت کا مالک ہونے کے سبب میں بزرگ تر ہوں گا:
Only in regard to the throne, I will be greater than you. (Genesis 41:40)
حضرت یوسف کے ذریعے مصر میں جو مثال قائم ہوئی، وہ دراصل اُس عمومی اور عالمی حالت کا ایک ابتدائی نمونہ تھا جو حضرت ابراہیم کے جاری کردہ تاریخی عمل کے نتیجے میں بعد کو زیادہ بڑے پیمانے پر قائم ہونے والا تھا- حضرت یوسف کے ذریعے قدیم مصر میں یہ مثال قائم ہوئی کہ اگر حاکم کے محدود سیاسی اقتدارکو تسلیم کرلیاجائے اور اُس سے کوئی تعرض نہ کیا جائے تو کس طرح ایک انسان کے لیے ہر قسم کے مذہبی دروازے کھل جاتے ہیں- یہ گویا سیاسی ادارہ (political institution) اور غیر سیاسی اداروں (non-political institutions) کے درمیان علاحدگی کا معاملہ تھا- یہ علاحدگی اللہ کے منصوبے کےعین مطابق تھی- یہی وجہ ہے کہ اِس معاملے کو قرآن میں احسن القصص (12:3) کہاگیا ہے، یعنی بہترین قصہ (best story) -
قرآن کی اِس آیت میں ’’بہترین قصہ‘‘ سےمراد دراصل بہترین ماڈل (best model) ہے- اللہ تعالی کے نزدیک انسان کی اجتماعی زندگی کا بہترین ماڈل وہی ہے جس کا ایک ابتدائی نمونہ حضرت یوسف کے ذریعے ساڑھے تین ہزار سال پہلے قدیم مصر میں قائم کیاگیا- اِس معاملے کو دوسرے الفاظ میں، اِس طرح کہا جاسکتا ہے کہ قدیم مستبدانہ ماڈل (despotic model) کی جگہ جمہوری ماڈل (democratic model)کو دنیا میں رائج کرنا- کچھ لوگ جمہوری نظام کو لادینی نظام کہتے ہیں، مگر یہ درست نہیں- جدید جمہوری نظام دراصل سیکولرزم کے اصول پر قائم ہے- اس کے مطابق، جمہوریت عدم مداخلت کی پالیسی (policy of non-interference)کا دوسرا نام ہے، یعنی سیاسی اقتدار کے ادارے کا اِس پر راضی ہوجانا کہ وہ اپنے حدود کو انتظامیہ (administration) تک محدود رکھے گا- انتظامِ ملکی سے باہر جو ادارے ہیں، وہ اپنے دائرے میں مکمل طورپر آزاد ہوں گے- مثلاً تعلیم، صحافت، اشاعتی ادارے، اقتصادی سرگرمیاں، مذہب، دعوت وتبلیغ، وغیرہ- اِس میں وہ تمام پُرامن سرگرمیاں شامل ہیں جن کو موجودہ زمانے میں غیر سیاسی سرگرمیاں (non-political activities)یا این جی اوز (NGOs) کی سرگرمیاں کہاجاتاہے-
نئی نسل کی تیاری
اِس سلسلے میں دوسری زیادہ بڑی منصوبہ بندی جو حضرت ابراہیم کے ذریعے چار ہزار سال پہلے شروع کی گئی، اس کا مرکز قدیم مکہ تھا- حضرت ابراہیم نے اپنی ایک دعا میں یہ الفاظ کہے تھے: رب إنہنّ أضللن کثیراً (14:35)- اِن الفاظ میں دراصل اُس دور کا ذکر تھا جس کو ماقبل ابراہیم دور (pre-Abraham age)کہا جاسکتا ہے- اِس قدیم دور میں شرک تمام انسانی آبادیوں میں ایک عمومی کلچرکی حیثیت اختیار کرچکا تھا، حتی کہ تاریخ میں اس کا تسلسل قائم ہوگیا- مزید یہ کہ مشرکانہ کلچر کو قدیم زمانے کی حکومتوں کی مکمل حمایت حاصل تھی-
اِس حکومتی حمایت کی بناپر ایک شدید تر صورتِ حال پیدا ہوگئی- وہ تھا — اعتقادی شرک کے ساتھ اس میں حکومتی تشدد کا شامل ہوجانا- اعتقادی شرک اور سیاسی اقتدار کے اِس اتحاد کی بنا پر وہ صورتِ حال پیدا ہوئی جس کو مذہبی جبر (religious persecution) کہاجاتا ہے-
اِس نظامِ جبر کو ختم کرکے نظامِ آزادی کو دنیا میں لانا ایک لمبا تاریخی منصوبہ تھا- اِس کے لیے صرف آئڈیالوجی کافی نہیں تھی، اِس کے لیے ضرورت تھی کہ ایک مطلوب ٹیم وجود میں آئے- یہ ٹیم ایک آئیڈیالوجی کے تحت متحد ہو، تمام ضروری شرطوں کو اختیار کرتے ہوئے یہ ٹیم ایک ہمہ گیر جدوجہد کرے، وہ انسانی تاریخ میں ایک نئے انقلابی عمل (revolutionary process) کا آغاز کرے، انسان کی آزادی کو برقرار رکھتے ہوئے وہ اپنا سفر شروع کرے اور پھر اللہ کی خصوصی تدبیر (management) کے ذریعے وہ اپنے منتہا (culmination) تک پہنچ جائے- اٹھارھویں صدی میں جو سیاسی انقلاب آگیا اور جس کے نتیجے میں جمہوری ماڈل دنیا میں رائج ہوا، وہ حضرت ابراہیم کے ذریعے جاری کردہ اِسی عمل کی تکمیل کی حیثیت رکھتا تھا-
رسول اور اصحابِ رسول کی مثال
پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات 632 عیسوی میں ہوئی - اُس وقت سارا عرب اسلام کے ماتحت آچکا تھا- پیغمبر اسلام اِس عرب ریاست کے سربراہ تھے- آپ نے ایک با اختیار صدر مملکت کی حیثیت سے یہ اعلان کیا کہ:لا فضل لعربی على عجمی ، ولا لعجمی على عربی ، ولا لأحمر على أسود ، ولا لأسود على أحمر ، إلا بالتقوى (مسند أحمد، رقم الحدیث: 24204) یعنی کسی عربی کو کسی عجمی پر کوئی فضیلت نہیں اور نہ کسی عجمی کو کسی عربی پر کوئی فضیلت ہے- کسی سفید فام کو کسی سیاہ فام پر کوئی فضیلت نہیں، اور نہ کسی سیاہ فام کو کسی سفید فام پر کوئی فضیلت ہے، سوا تقوی کے-یہ تاریخ میں حصولِ جمہوریت کا پہلا باضابطہ اعلان تھا- اِس ریاستی اعلان کا مطلب یہ تھا کہ نظریاتی اعتبار سے، اب غیر جمہوری دور کا خاتمہ ہوگیا اور جمہوری دور کا اصولی طورپر آغاز ہوگیا- اِس طرح تاریخ میں ایک نیا عمل شروع ہوا جو انسانی آزادی کو برقرار رکھتے ہوئے بتدریج بعد کی تاریخ میں جاری رہا-
اِسی اعلانِ جمہوریت کاایک عملی مظاہرہ وہ تھا جو اِس اعلان کے تقریباً 10 سال بعد حضرت عمر فاروق کی خلافت کے زمانے میں پیش آیا-اُس وقت حضرت عمر کی خلافت کے زمانے میں مصر کا ملک مدینہ کی ریاست میں شامل ہوچکا تھا-اُس وقت مصر میں ایک واقعہ ہوا، وہ یہ کہ ایک عرب مسلمان اور ایک مصری مسیحی کے درمیان ایک مسئلے پر نزاع ہوئی- عرب مسلمان جو گورنر کا بیٹا تھا، اس نے مسیحی کو کوڑا مار دیا- یہ مسیحی مصر سے چل کر مدینہ آیا- اُس نے خلیفہ عمر فاروق سے شکایت کی- خلیفہ نے گورنر اور اس کے بیٹے دونوں کو مدینہ بلوایا- جب وہ لوگ آگئے تو خلیفہ نے مصر کے مسیحی کو ایک کوڑا دیا اور کہا کہ گورنر کے بیٹے کو مارو- مسیحی نے کوڑا اپنے ہاتھ میں لیا اور گورنر کے بیٹے کو مارنا شروع کیا- جب وہ اچھی طرح مار چکا تو اس کے بعد خلیفہ نے مذکورہ عرب مسلمان کے باپ عمروبن العاص کو مخاطب کرتے ہوئے کہا: متى استعبدتم الناس وقد ولدتہم أمہاتہم أحرارا (سیرة عمر بن الخطاب، علی محمد الصلاّبی،1/306) یعنی اے عمرو، تم نے کب سے لوگوں کو غلام بنالیا، جب کہ ان کی ماؤں نے اُن کو آزاد پیداکیا تھا-
جس وقت یہ واقعہ ہوا، اُس وقت خلافت ایک ایمپائر بن چکی تھی جس کے حدودِ مملکت ایشیا سے افریقہ تک پھیلے ہوئے تھے- ایسی حالت میں خلیفہ کے الفاظ محض ایک شخص کے الفاظ نہ تھے، بلکہ وہ وقت کی سب سے بڑی سلطنت کی طرف سے گویا بین اقوامی پالیسی کا اعلان تھا- یہ پالیسی تاریخ میں سفر کرتی رہی- انسانی آزادی کو برقرار رکھتےہوئے وہ تاریخ کو ایک نیا شیپ (shape) دیتی رہی، یہاں تک کہ یہ عمل یورپ تک پہنچ گیا- فرانس کے مشہور جمہوری مفکر روسو (J. J. Rousseau) کی کتاب سوشل کنٹریکٹ (Social Contract) 1762 میں شائع ہوئی- اِس کتاب میں جمہوریت (democracy) کی آئڈیالوجی کو پیش کیاگیا تھا- روسو نے اپنی کتاب کا آغاز جس جملے سے کیا، وہ گویا خلیفہ عمر فاروق کے مذکورہ قول کا اعادہ تھا- روسو کی کتاب کا ابتدائی جملہ یہ تھا— انسان آزاد پیدا ہوا تھا، مگر میں اس کو زنجیروں میں جکڑا ہوا دیکھتا ہوں:
Man was born free, but I see him in chains.
جمہوریت کی یہ تحریک 1789 میں ایک باقاعدہ سیاسی واقعہ بن گئی، جب کہ یورپ میں وہ واقعہ پیش آیا جس کو انقلاب فرانس (French Revolution)کہاجاتا ہے- انقلاب فرانس نے اصولی طور پر بادشاہت (kingship) کے نظام کا خاتمہ کردیا اور جمہوریت کو ایک سیاسی نظام کی حیثیت سے بالفعل قائم کردیا- یہ تاریخی عمل 1948میں آخری طورپر مکمل ہوگیا، جب کہ اقوامِ متحدہ (UNO) کا باضابطہ قیام عمل میں آیا اور دنیا کی تمام قومیں باضابطہ طورپر اقوامِ متحدہ کی ممبر بن گئیں- اِس ادارے کے تحت دنیا کی تمام قوموں نے اِس عہد نامے پر دستخط کردئے- اِس کا مطلب یہ تھا کہ استبدادی ماڈل اب آخری طورپر غیر مطلوب ماڈل قرار پاگیا اور جمہوری ماڈل کو عملاً مسلمہ ماڈل کی حیثیت دے دی گئی-
جمہوری ماڈل
جمہوریت کی تعریف (definition) عام طور پر اِس طرح کی جاتی ہے — عوام کی حکومت، عوام کے ذریعے، عوام کے لیے:
Government of the people, by the people, for the people
یہ تعریف جمہوریت کے صرف ظاہری ڈھانچے کو بتاتی ہے- اِس سے یہ معلوم نہیں ہوتا کہ جمہوریت کے حقیقی فوائد کیا ہیں اور انسانی زندگی کے حق میں اس کے دور رس نتائج کیا پیدا ہوئے- جمہوریت اپنی اصل حقیقت کے اعتبار سے، اُس سے بہت زیادہ ہے جیسا کہ وہ مذکورہ تعریف کے مطابق، نظر آتی ہے-
جمہوریت کا اصل فائدہ یہ ہے کہ اس نے اُن تمام رکاوٹوں کو ختم کردیا جو قدیم غیر جمہوری نظام کے تحت انسان پرعائد تھیں- جمہوریت نے کامل معنوں میں، انسان کو فکر وخیال کی آزادی دے دی- انسان اپنے فطری وجود کے اعتبار سے، امکانات کی ایک کائنات اپنے اندر رکھتا ہے- اِن انسانی امکانیات (potentials) کو انفولڈ (unfold) کرنے کے لیے صرف ایک چیز کی ضرورت ہے اور وہ ہے کامل آزادی- قدیم زمانے میں اِس انسانی آزادی پر پابندی لگی ہوئی تھی، اِس کا یہ نتیجہ تھا کہ قدیم زمانے میں انسان کوئی بڑی ترقی نہ کرسکا، نہ مذہبی اعتبار سے اور نہ سیکولر اعتبار سے-
موجودہ زمانے میں جمہوریت کا دور آیا تو اسی کے ساتھ کامل آزادی کا دور آگیا- اِس آزادی کا نتیجہ یہ ہوا کہ انسان کی تمام فطری صلاحیتیں انفولڈ ہونے لگیں- وہ تمام ترقیاں جن کے مجموعے کو تہذیب (civilization) کہاجاتا ہے، وہ دراصل اِسی انفولڈنگ (unfolding) کا نتیجہ ہیں- اِسی کے نتیجے میں یہ ہوا کہ دنیامیں مذہبی آزادی کا دور آیا- فطرت کے اندر چھپی ہوئی سائنسی حقیقتوں کی دریافت ہوئی- انسان کو پرنٹ میڈیا اور الیکٹرانک میڈیا کی دولت ملی - تاریخ میں پہلی بار وہ انقلاب آیا جس کو عالمی کمیونکیشن (global communication) کہاجاتا ہے، وغیرہ-
جدید تہذیب کی یہ تمام ترقیاں اسلام کے عین موافق تھیں- انھوں نے دین ِ خداوندی کی اشاعت کے ایسے دروازے کھول دئے جو اِس سے پہلے کبھی نہیں کھلے تھے- جدیدتہذیب نے اِس کو ممکن بنایا کہ اسلام کی حقیقتوں کو علمِ انسان کی اعلی سطح پر ثابت شدہ بنایا جاسکے- اِن نئی دریافتوں کی بناپر یہ ممکن ہوا کہ انسان اعلی سطح کی معرفت کا تجربہ کرسکے- اِسی کے ذریعے یہ ممکن ہوا کہ اللہ کے پیغام کی اشاعت کا کام کسی رکاوٹ کے بغیر عالمی سطح پر انجام دیا جاسکے- اِسی جدید تہذیب کی بنا پر تاریخ میں پہلی بار یہ ممکن ہوا کہ عالمی سطح پر ایک دعوہ ایمپائر (Dawah empire) قائم کیا جاسکے، وغیرہ-
یہ سب کچھ جو دورِ جدید میں ہوا، وہ اللہ کے تخلیقی منصوبہ (creation plan) کے مطابق ہوا- وہ منصوبہ یہ ہے کہ انسان کی آزادی کو ہر حال میں باقی رکھا جائے- جو کام بھی کیا جائے، وہ انسان کی آزادی کو برقرار رکھتے ہوئے کیاجائے- خدا کے اِسی تخلیقی منصوبے کی بنا پر ایسا ہوا کہ تہذیبی ترقیوں کے ساتھ انسان کے لیے یہ موقع باقی رہا کہ وہ اپنی آزادی کا غلط استعمال کرے، خواہ اس کے نتیجے میں فساد کی صورتیں پیدا ہوجائیں- یہ دوطرفہ صورتِ حال موجودہ زمانے کے مسلمانوں کی بصیرت کا امتحان تھی- یہاں ضرورت تھی کہ مسلمانوں کے رہنما اُس صلاحیت کا ثبوت دیں جس کو خدا کی کتاب میںفرقان (9:29) کہاگیا ہے، یعنی ایک چیز کو دوسری چیز سے الگ کرکے دیکھنا-
اِس موقع پر مسلم رہنماؤںکو یہ کرنا تھا کہ وہ مغربی تہذیب اور اہلِ مغرب کی قومی سیاست دونوں کو ایک دوسرے سے الگ کرکے دیکھیں- مغربی تہذیب، اپنی حقیقت کے اعتبار سے، مغربی تہذیب نہیں ہے، بلکہ وہ خدائی تہذیب (divine civilization) ہے- وہ فطرت میں چھپے ہوئے خدائی قوانین کی دریافت کے ذریعے وجود میں آئی ہے- وہ قوانین ِ فطرت کا انسانی سطح پر ظہور ہے- فطرت کے قوانین جب انسانی ٹکنالوجی میں ڈھل جائیں تو اسی کا نام تہذیب ہوتاہے- جدید تہذیب کو سمجھنے کے لیے اُسی طرح اس کو مغرب کے قومی پہلو سے الگ کرکے دیکھنا چاہئے، جس طرح اسلام کومسلمانوں کے قومی پہلو سے الگ کرکے دیکھا جاتاہے-
دورِ جدید کے مسلم رہنما اگر اِس بصیرت کے حامل ہوتے کہ وہ جدید تہذیب اور مغربی قوم، دونوں کو ایک دوسرے سے الگ کرکے دیکھتے تو یقیناً وہ پالیتے کہ جدید تہذیب اُن کے لیے ایک خدائی نعمت ہے، وہ حضرت یوسف کے ’احسن القصص‘ کا عالمی اظہار ہے، وہ حضرت ابراہیم کے جاری کردہ عمل (process) کا بر اہِ راست حصہ ہے، وہ پیغمبر اور اصحابِ پیغمبر کے ذریعے لائے جانے والے انقلاب کا تکمیلی مرحلہ ہے- جدید تہذیب کے ذریعے اللہ تعالی نے مسلمانوں کے لیے وہ عالمی مواقع آخری حد تک کھول دئے ہیں، جب کہ پیغمبر اسلام کی ایک پیشین گوئی کو واقعہ بنایا جاسکے- آپ کی اِس پیشین گوئی کو مختصر طورپر اِس طرح بیان کیا جاسکتا ہے— ادخال الکلمة فی کل البیوت-
اوپر کے صفحات میں تاریخ کا جو جائزہ پیش کیا گیاہے، اس سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ وہ خدائی منصوبہ کیا تھا جس کو قرآن میں امامتِ ابراہیم کہاگیاتھا اور جس کے بارے میں بائبل میں یہ الفاظ آئے تھے کہ — زمین کی سب قومیں اس کے وسیلے سے برکت پائیں گی-
اِس خدائی اعلان کا مطلب یہ تھاکہ انسانی آزادی کو برقرار رکھتے ہوئے اللہ تاریخ میں ایک ایسا عمل (process) جاری کرے گا جو آخر کار اِس انجام تک پہنچے گا کہ انسانی زندگی میں سیاسی جبر کا فتنہ کامل طورپر ختم ہو جائے اور جمہوریت کے تحت ایک ایسا سیاسی نظام بنے گا جس میں دوبارہ زیادہ بڑے پیمانے پر اور عالمی سطح پر وہ حالت قائم ہوجائے گی جو حضرت یوسف کے زمانے میں قدیم مصر میں وقتی طورپر اور محدود طورپر قائم ہوئی تھی، یعنی سیاسی حکمراں کا اقتدار ’’تخت‘‘ تک محدود رہے گا- ’’تخت‘‘ کے سوا تمام غیر سیاسی شعبے مکمل طورپر آزاد ہوجائیں گے- ہر انسان کو یہ موقع ہوگا کہ وہ کامل معنوں میں مذہبی آزادی کی فضا میں جیے- وہ اپنے چوائس (choice)کے مطابق، جس مذہبی عقیدے کو چاہے، اختیار کرے، وہ عبادت کے جس طریقے کو چاہے،اس کے مطابق، عبادت کرے- مذہب کی تبلیغ واشاعت پر کسی بھی قسم کی کوئی رکاوٹ باقی نہ رہے، انسان کو مکمل معنوں میں مذہبی آزادی حاصل ہو، اِس واحد شرط کے سوا کوئی اور شرط اس کے لیے موجود نہ ہو کہ وہ دوسرے انسانوں کو کسی بھی قسم کی عملی جراحت (physical injury) نہیں پہنچائے گا- انسان کی آزادی کو برقرار رکھتے ہوئے یہی واحد ممکن ماڈل تھا جس کو اللہ کے منصوبے کے تحت بروئے کار لایا گیا-
اِس مذہبی آزادی میں یہ بات بھی اپنے آپ شامل ہے کہ تمام مواقعِ کار جوسیکولر لوگوں کو حاصل ہوں گے، وہ سب کے سب مکمل طورپر اہلِ مذہب کو بھی حاصل ہوں گے- مواقع کے استعمال میں مذہبی انسان اورغیر مذہبی انسان کے درمیان کوئی فرق نہیں کیا جائے گا-
ایک مسئلے کی وضاحت
انسانی زندگی کی تشکیل کا جو نقشہ اوپر بیان کیا گیا ہے، بظاہر اس میں حکومت یا سیاسی اقتدار کا معاملہ شامل نہیں ہے، لیکن بالواسطہ طورپر وہ یقیناً اس میں شامل ہے- اِس فرق کا سبب یہ ہے کہ اگر حکومت کے معاملے کو مذکورہ نقشہ میں شامل کیا جائے تو پورا خدائی منصوبہ تخلیق عملاً معطّل ہو کر رہ جائے گا- اِس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ دونوں شعبوں میں کوئی مثبت کام نہ ہوسکے گا، نہ عبادت اور دعوت کے شعبے میں اور نہ سیاست اور حکومت کے شعبے میں-
اِس کا سبب یہ ہے کہ مذکورہ دونوں شعبوں کی حیثیت ایک دوسرے سے بالکل مختلف ہے- عقیدہ اور عبادت اور دعوت کا معاملہ اُس میدان سے تعلق رکھتا ہے جہاں آدمی کے لیے یہ ممکن ہے کہ وہ پُرامن طورپر اپنی تمام سرگرمیوں کو کسی رکاوٹ کے بغیر جاری رکھ سکے- اِس کے برعکس، سیاست کا دائرہ ایک ایسا دائرہ ہے جہاں داخل ہوتے ہی فوراً دوسرے فریق سے نزاع پیدا ہوجاتی ہے- سیاست کے دائرے میں ہمیشہ کوئی فرد یا گروہ اتھارٹی کی پوزیشن میں ہوتا ہے، اِس لیے سیاست کے دائرے میں داخل ہونا عملاً پولٹکل اتھارٹی سے ٹکراؤ کے ہم معنی بن جاتا ہے- یہ ٹکراؤ اِس ماحول کو ختم کردیتاہے جب کہ ایک شخص عقیدہ اور عبادت اور دعوت کے میدان میں موجود مواقع کو استعمال (avail)کرسکے-
خدا کے منصوبہ تخلیق میں اِس مسئلے کا حل یہ مقرر کیا گیا کہ سیاسی اقتدارکے شعبے کو عقیدہ سے وابستہ کرنے کے بجائے اس کو سماجی حالات (social conditions) سے وابستہ کردیا جائے، یعنی کسی وقت سماج کے جو حالات ہوں اور انسانوں کے درمیان جس سیاسی ڈھانچے پر اتفاق ہوسکتا ہے، اس کو اختیار کرلیا جائے- یہ صورتِ حال جاری رہے گی، یہاں تک کہ سماج کے حالات بدل جائیں اور سیاسی ڈھانچے کے بارے میں کوئی دوسرا نقشہ لوگوں کے لیے قابل قبول بن جائے-
اِس حکمت کو قرآن میں اِن الفاظ میں بیان کیاگیا ہے: وَأمْرُہُمْ شُوْرَی بَیْنَہُمْ (42:38) یعنی ان کا معاملہ اُن کے آپس کے مشورے کے تابع ہے- اِس آیت میں ’امر‘ سے مراد اقتدار کا معاملہ ہے- اِس آیت سے یہ اصول اخذ ہوتاہے کہ سیاسی اقتدار کا معاملہ کسی مخصوص عقیدے کے تابع نہ ہو، بلکہ وہ لوگوں کی آزاد رائے کے تابع ہو- آج کل کی زبان میں یہ کہا جاسکتاہے کہ سیاسی ادارے کا معاملہ عوامی الیکشن کے تابع ہے- فری اینڈ فیر الیکشن (free and fair election) کے ذریعے جو لوگ منتخب ہوں گے، اُن کو حق ہوگا کہ وہ اُس وقت تک حکومت کا نظام چلائیں جب تک لوگوں کی رائے بدل نہ جائے اور سماجی حالات کا یہ تقاضا ہو کہ اقتدار کی زمام کچھ دوسرے لوگوں کے حوالے کی جائے-یہی وہ حقیقت ہے جو ایک حدیثِ رسول میں اِن الفاظ میں بیان کی گئی ہے: کما تکونون ؛ کذلک یؤمر علیکم( البیہقی ، رقم الحدیث : 7391) یعنی جیسے تم ہوگے، ویسے تمھارے حکمراں ہوں گے- دوسرے الفاظ میں یہ کہ حکمراں کا تعین کسی مخصوص عقیدے کی بنیاد پر نہیں ہوگا، بلکہ اس کا تعین لوگوں کی رائے (vote)کے ذریعے کیا جائے گا-
یہ ایک قسم کے سماجی بندو بست (social settlement)کا معاملہ ہے- اِس کا فائدہ یہ ہے کہ زندگی کے دونوں شعبوں (سیاسی اور غیر سیاسی) میں امن کا قیام ممکن ہوجاتاہے- عقیدہ اور عبادت اور دعوت کے میدان میں لوگوں کو موقع مل جاتاہے کہ وہ پُر امن طورپر اپنی تمام سرگرمیوں کو جاری رکھیں، وہ اپنے حق میں مواقع کا بھر پور استعمال کریں- دوسری طرف، سماج کے ہر گروہ کو یہ موقع حاصل ہوجاتا ہے کہ وہ سماج کے اندر اپنے افکار کی پر امن اشاعت کرسکے اور پھر اگلے الیکشن کے موقع پر، حسبِ حالات، وہ اپنی پرامن کوششوں کا فائدہ اٹھائے — انسانی آزادی کو برقرار رکھتے ہوئے سماجی بندوبست کا اِس سے بہتر کوئی نظام ممکن نہیں-
خاتمہ کلام
جیسا کہ عرض کیا گیا، اللہ تعالی کا یہ منصوبہ تھاکہ انسانی آزادی کو برقرار رکھتے ہوئے تاریخ میں ایک ایسا عمل (process) جاری کیا جائے جس کے نتیجے میں سیاست کے جبری ماڈل (despotic model)کا خاتمہ ہوجائے اور اس کے بجائے سیاست کا جمہوری ماڈل (democratic model) عمومی طورپر رائج ہوجائے- اِس مطلوب ماڈل کا ایک ابتدائی نمونہ (prototype) حضرت یوسف کے ذریعہ قدیم مصر میں محدود طورپر قائم کیاگیا تھا- اِسی کے ساتھ حضرت ابراہیم کے ذریعے ایک وسیع تر عمل جاری کیا گیا جو مختلف مراحل سے گزرتے ہوئے اپنے منتہا تک پہنچا- انیسویں صدی اور بیسویں صدی مذکورہ ابراہیمی عمل کی تکمیل کی صدی ہے- اب ہم اکیسویں صدی میں ہیں اور یہ عمل اب اِس حد تک مکمل ہوچکا ہے کہ آج تمام مواقع دعوت الی اللہ کے حق میں پوری طرح کھل چکے ہیں- اب ہر اعتبار سے، وہ وسائل اور مواقع حاصل ہوچکے ہیں، جب کہ کسی رکاوٹ کے بغیر فکری سطح پر اللہ کے دین کا عالمی اظہار اپنی مطلوب صورت میں کیا جاسکے-
مگر اسلام کی تاریخ کا شاید یہ سب سے بڑا المیہ ہےکہ اِس دور میں جو بڑے بڑے مسلم ذہن پیدا ہوئے، وہ اِس واقعے سے بالکل بے خبر رہے- نتیجہ یہ ہوا کہ وہ اِس دور میں پیدا شدہ عظیم مواقع کو استعمال بھی نہ کرسکے- اِس المیہ کا سبب بنیادی طورپر صرف ایک تھا، اور وہ ایک اتفاقی مطابقت (coincidence) ہے- اِس اتفاقی مطابقت کا یہ نتیجہ تھا کہ تاریخ کا عظیم ترین امکان غیراستعمال شدہ امکان (unavailed opportunity) بن کر رہ گیا-
اِس کی تفصیل یہ ہے کہ جب مذکورہ ابراہیمی عمل کی تکمیل ہوئی تو یہ اٹھا رھویں صدی کے آخر اور انیسویں صدی کے آغاز کا زمانہ تھا- عین اُس زمانے میں ایک حادثہ پیش آگیا- وہ حادثہ یہ تھا کہ اِسی زمانے میں مغربی قوموں نے بڑی بڑی مسلم سلطنتوں کو توڑ دیا اور پوری مسلم دنیا میں اپنا سیاسی اور تہذیبی دبدبہ قائم کرلیا- یہ حادثہ مسلمانوں کی قومی نفسیات کے لیے ایک ایٹمی دھماکے سے بھی زیادہ بڑے دھماکے کی حیثیت رکھتا تھا- چناں چہ اِس دور کے تمام مسلمان، غالباً کسی استثنا کے بغیر، شدید طورپر منفی رد عمل کاشکار ہوگئے- وہ مغربی قوموں سے نفرت کرنے لگے- انھوںنے مغربی قوموں کے خلاف فکری یا عملی جنگ چھیڑ دی- یہ رد عمل اتنا شدید تھا کہ مغربی قوموں کو نقصان پہنچانے کے لیے وہ خود کش بم باری (suicide bombing) کو بھی اپنے لیے جائز سمجھنے لگے-
انیسویں صدی اور بیسویں صدی میں پیدا ہونے والا مسلم لٹریچر،تقریباً سب کا سب، اِسی نفرت کی نفسیات سے بھرا ہوا ہے- اِس لٹریچر کے مطابق، موجود ہ زمانے کے مسلمانوں کا جو ذہن بنا، وہ یہ تھا گویا کہ ساری مغربی دنیا صرف ایک کام میں مشغول ہے— مسلمانوں کے خلاف سازش اور دشمنی- اِس معاملے کی ایک علامتی مثال ایک عرب عالم کی کتاب ہے، جس کا ٹائٹل یہ ہے:
أجنحـة المکـر الثـلاثـة وخوافیہا: التبشیر، الإستشراق، الإستعمار)صفحات: (776
عبد الرحمن حسن حبنکة المیدانی(دارالقلم، دمشق:2000)
اجتماعی توبہ کی ضرورت
یہ صورتِ حال بلاشبہہ توبہ کی متقاضی ہے، یعنی منفی سوچ کو ترک کرکے مثبت سوچ کی طرف واپس جانا- اب تمام مسلمانوں کے لیے اُس عمل کا وقت آگیا ہے جس کا حکم قرآن میں اِن الفاظ میں دیاگیا تھا: وَتُوْبُوْٓا اِلَى اللّٰہِ جَمِیْعًا اَیُّہَا الْمُؤْمِنُوْنَ لَعَلَّکُمْ تُفْلِحُوْنَ (24:31) یعنی اے ایمان والو، تم سب مل کر اللہ سے توبہ کرو، تاکہ تم فلاح پاؤ-
قرآن کی اِس آیت میں جس چیز کا حکم دیاگیا ہے، اس سے مراد اجتماعی توبہ (collective repentance) ہے- موجودہ صورتِ حال یہ ہے کہ مذکورہ قسم کا منفی ذہن تمام مسلمانوں کا قومی ذہن بن گیا ہے- مسلمانوں کی تمام قومی پالیسیاں اِسی منفی ذہن کے مطابق بنتی ہیں- اِس معاملے میں مسلمان اتنازیادہ متحد الخیال ہیں جیسے کہ اِس معاملے میں تمام مسلمانوں کا اجماع (consensus) ہوگیا ہو- اِس وقت سب سے پہلا کام یہ ہے کہ مسلمانوں کے اِس عمومی قومی ذہن کو بدلا جائے- یہی موجودہ مسلمانوں کی اصلاح کا نقطہ آغاز ہے- اِس ذہن کے باقی رہتے ہوئے مسلمانوں کے درمیان کوئی بھی نتیجہ خیز اصلاحی کام نہیں کیا جاسکتا-
واپس اوپر جائیں

مکمل نظام، مکمل آئڈیالوجی

کہا جاتاہے کہ اسلام ایک مکمل نظام (complete system) ہے، مگر یہ اصل واقعے کی صحیح تعبیر نہیں- صحیح بات یہ ہے کہ اسلام ایک مکمل نظریہ(complete ideology) ہے- قرآن اور حدیث میں اسلام کی جو تبیین ملتی ہے، اُس سے یہی ثابت ہوتاہے کہ اسلام ایک مکمل آئڈیالوجی ہے- مکمل نظام کا تصور قرآن اور حدیث میں سرے سے اجنبی ہے-
دنیا میں ہم جن چیزوں سے واقف ہیں، وہ دو قسم کی ہوتی ہیں— ایک، وہ چیزیں جو مکان کی مانند ہیں- دوسری، وہ جو درخت کی مانند ہیں- مکمل کا لفظ مکان کے لیے بولنا درست ہے- جب کسی تعمیر کو مکمل مکان کہاجائے تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ اس کے اندر مکان کے تمام اجزا پائے جاتے ہیں، اس کے اندر انسان کی تمام ضرورتوں کا انتظام موجود ہے- درخت کا معاملہ اِس کے بالکل برعکس ہے- بظاہر درخت میں مختلف اور متنوع اجزا ہوتے ہیں- مثلاً تنا اور شاخ اور پتے، وغیرہ- درخت کے ظاہرہ کی صحیح تعبیر یہ ہے کہ درخت کی ایک اصل ہے اور بقیہ اس کی تفصیل- درخت کی اصل اس کا بیج ہے- جہاں بیج ہوگا، وہاں درخت ہوگا- اگر بیج نہ ہو اور تنا اور شاخ اور پتے کو جمع کردیا جائےگا تو اس سے کوئی درخت وجود میں آنے والا نہیں-قرآن ا ور حدیث کا مطالعہ بتاتاہے کہ دین کی اصل تقوی ہے، یعنی اللہ کو اپنے واحد کنسرن (sole-concern) کے طورپر دریافت کرنا، اللہ کو اِس طرح دریافت کرنا کہ وہی آدمی کے لیے اس کے خوف اور محبت کا مرکز بن جائے- تقوی ہوگا تواسلام ہوگا اور اگر تقوی نہ ہو تو اسلام بھی نہ ہوگا، نہ ناقص اور نہ مکمل- اِس لیے قرآن میں کلمہ ایمان کی مثال شجرہ (tree) سے دی گئی ہے (14:24)- درخت کی مانند دین میں بھی بظاہر مختلف اجزا ہوتے ہیں، لیکن درخت کی طرح دین کی بھی ایک اصل ہے اور بقیہ اس کی تفصیل- جہاں اصل کا وجود ہوگا، وہاں حسب حالات تفصیل کا بھی یقینی وجود ہوگا- ایسی حالت میں افراد کے اندر دینی زندگی پیدا کرنے کا صحیح طریقہ یہ ہے کہ داعی کا سارا فوکس اصل پر ہو،نہ کہ تفصیلات پر-
واپس اوپر جائیں

خدا اور پیغمبر

پاکستان کے قدرت اللہ شہاب (وفات: 1986) نے اپنی ضخیم کتاب ’’شہاب نامہ‘‘ میں اپنے زمانہ طالب علمی کا ایک تجربہ بیان کیاہے- وہ لکھتےہیں کہ:
’’آبادی سے دور ایک مخبوط الحواس، مجنون صفت، مجذوب نما شخص ویرانے میں بیٹھا رہتا تھا- اور ہمہ وقت اِلاّ اللہ، اِلاّ اللہ کی ضربیں لگاتا رہتا تھا- میں اور میرا ایک ہم عمر ہندو دوست اکثر اس کے پاس جاکر اس کا منھ چِڑایا کرتے اور اس کے ذکر کی نقلیں اتارا کرتے تھے- میرا ہندو دوست اِلاّ اللہ کے وزن پر مہمل، مضحکہ خیز اور کبھی کبھی فحش قافیے جوڑ کر مذاق بھی اڑایا کرتا تھا- مجذوب نے ہمیں بار بار ڈانٹا کہ ہم اللہ کے نام کی بے حرمتی نہ کریں، لیکن ہم باز نہ آئے- ایک روز ہم دونوں اِسی مشغلے میں مصروف تھے کہ ایک شخص اُدھر سے چند نعتیہ اشعار الاپتاہوا گزرا، جس کا ایک مصرعہ یہ تھا:
محمدؐ نہ ہوتے، تو دنیا نہ ہوتی
یہ مصرع سن کر میرا ہندو دوست زور زور سے ہنسنے لگا- اور اس نے اسمِ محمدؐ کی شان میں کچھ گستاخیاں بھی کیں- میں نے آؤ دیکھا نہ تاؤ، لپک کر ایک پتھر اٹھایا، اور اسے گھما کر ہندو لڑکے کے منہ پر ایسے زور سے دے مارا کہ اس کا سامنے کا آدھا دانت ٹوٹ گیا-
لاشعور کی وہ کون سی لہر تھی جو اللہ کے ساتھ مذاق پر تو خاموش رہتی تھی، لیکن رسول اللہ کے ساتھ گستاخی پر آناً فاناً جوش میں آگئی تھی؟ کوئی شخص رسول خدا کے متعلق بدزبانی کرےتو اکثر لوگ آپے سے باہر ہوجاتے ہیں اور کچھ لوگ تو مرنے مارنے کی بازی تک لگا بیٹھتے ہیں- اس میں اچھے، نیم اچھے یا برے مسلمان کی بالکل کوئی تخصیص نہیں، بلکہ تجربہ تو یہی شاہد ہے کہ جن لوگوں نے ناموسِ رسول پر اپنی جانِ عزیز کو قربان کردیا، ظاہری طورپر نہ تو وہ علم وفضل میں نمایاں تھے اور نہ زہد وتقوی میں ممتاز تھے- ایک عامی مسلمان کا شعور اور لاشعور جس شدت اور دیوانگی کے ساتھ شانِ رسالت کے حق میں مضطرب ہوتاہے، اس کی بنیاد عقیدے سے زیادہ عقیدت پر مبنی ہے- خواص میں یہ عقیدت ایک جذبہ اور عوام میں ایک جنون کی صورت میں نمودار ہوتی ہے‘‘- (شہاب نامہ،لاہور، 1988، صفحہ 17-16)
قدرت اللہ شہاب نے جو بات کہی ہے، وہ بلاشبہہ ایک واقعہ ہے- یہ ایک حقیقت ہےکہ تمام مسلمان، غالباً کسی استثنا کے بغیر، اِسی نفسیات کا شکار ہیں- خدا کی بے حرمتی ہو تو مسلمانوں کے جذبات نہیں بھڑکـتے، لیکن رسول کی بے حرمتی ہو تو تمام مسلمان شدید طورپر بھڑک اٹھتے ہیں- فتوے اور بیانات سے لے کر عوامی مظاہرے تک وہ سب کچھ کرنے کے لیے تیار ہوجاتے ہیں- اِس معاملے میں ان کی جذباتیت کا یہ حال ہوتا ہے کہ وہ تشدد اور توڑ پھوڑ تک کو اپنے لیے جائز سمجھ لیتے ہیں- اِس معاملے کی مثالیں بار بار میڈیا میں آتی رہتی ہیں- اِس کی ایک مثال وہ ہے جو ماہ نامہ الرسالہ (دسمبر 2012، صفحہ 25) میں دیکھی جاسکتی ہے-
خدا اور رسول کے درمیان اِس فرق کا سبب کیا ہے- اِس کے سبب کی تحقیق کیجئے تو اِس کے پیچھے مسلمانوں کی ایک ایسی کمزوری کی دریافت ہوتی ہے جو صرف ایک کمزوری نہیں، بلکہ وہ یقینی طورپر ایک سنگین جرم کی حیثیت رکھتی ہے-
خدا کا عقیدہ
خدا کے خلاف لکھنے اور بولنے والے پہلے بھی دنیا میں پائے جاتے تھے، لیکن موجودہ زمانے میں ایسے لوگوں کی تعداد ہزاروں گنا زیادہ بڑھ گئی ہے- فریڈرک نٹشے (Friedrich Nietzsche) مشہور جرمن فلسفی ہے- 56 سال کی عمر میں 1900 میں اس کی وفات ہوئی- جدید فلسفے میں اس کا بہت بڑا درجہ مانا جاتاہے- نٹشے نے کھلے طورپر کہاتھا کہ — خدا مر چکا ہے:
God is dead. (EB. 13/79)
البرٹ آئن سٹائن (Albert Einstein) دورِ جدید کا مشہور ترین جرمن سائنس داں ہے- 76 سال کی عمر میں 1955 میں اس کی وفات ہوئی- خدا کے بارے میں آئن سٹائن کے خیالات کیا تھے، اس کا اظہار آئن سٹائن کے ایک مطبوعہ خط سے ہوتاہے- یہ خط اس نے 3 جنوری 1954 کو اپنی ہینڈ رائٹنگ میں جرمن زبان میں ایک یہودی فلاسفر ایرک بی گٹ کائنڈ (Eric B. Gutkind) کے نام لکھا تھا- اِس خط میں اس نے لکھا تھا کہ — خدا کا لفظ میرے نزدیک اِس سے زیادہ اور کچھ نہیں کہ وہ صرف انسانی کمزوریوں کا ایک اظہار ہے:
The word God is for me nothing more than the expression of human weaknesses.
موجودہ زمانے میں خدا کے عقیدے کے خلاف جو کتابیں لکھی گئی ہیں اور جو مقالات شائع ہوئے ہیں، ان کی تعداد ہزاروں سے بھی زیادہ ہے- اِس نوعیت کی چندکتابوں کے نام یہ ہیں:
God: The Failed Hypothesis, by Victor Stenger, 2007
Society without God, by Phil Zuckerman, 2008
God is not Great, by Christopher Hitchens, 2009
انٹرنیٹ پر اِس نوعیت کی کئی مستقل ویب سائٹس ہیں- مثلاً:
God is Imaginary, God Does not Exist
اِس سے بڑھ کر یہ کہ موجودہ زمانے کا سب سے بڑا علمی موضوع سائنس ہے-سائنس کو موجودہ زمانے کا سب سے زیادہ طاقت ور علمی موضوع سمجھا جاتا ہے- مگر حال یہ ہے کہ سائنس کے تمام شعبوں سے خدا کو مکمل طورپر خارج کردیاگیاہے- سائنس بظاہر تخلیق (creation) کےمطالعے کا نام ہے، مگر سائنس کی تمام شاخوں میں خالق (Creator) کو پوری طرح حذف کردیاگیا ہے- اِس کی آخری حد یہ ہے کہ خود سائنس کے مطالعے سے موجودہ زمانے میں یہ معلوم ہوا ہے کہ کائنات میں واضح طورپر ایک ذہین ڈیزائنر (intelligent designer) پایا جاتاہے- یہ دریافت اپنے آپ میں ثابت کرتی ہے کہ یقینی طورپر کائنات کے پیچھے ایک ذہین ڈیزائنر موجود ہے- اِس کے باوجود سائنٹفک کمیونٹی (scientific community) خدا کے وجود کو ماننے کے لیے تیار نہیں-
خدا اور مسلمان
یہ ایک حقیقت ہے کہ موجودہ زمانہ علم اور کلچر دونوں اعتبار سے، ایک خدا ناشناس زمانہ ہے- موجودہ زمانے کے تعلیم یافتہ طبقے کا کیس صرف یہ نہیں ہے کہ وہ خدا کے وجود پر یقین نہیں رکھتا، بلکہ وہ کھلے طورپر خدا کے عقیدے کا استہزا کرتاہے- وہ کھلے طور پر اُس مذموم روش میں مبتلا ہے جس کو بیان کرنے کے لیے ’’خداکی شان میں گستاخی‘‘ کا لفظ بھی ہلکا ہے- اس کو بیان کرنے کے لیے کوئی شدید تر لفظ وضع کرنا پڑے گا- یہ سب کچھ کسی ایک مقام پر نہیں، بلکہ ساری دنیا میں ہورہاہے- موجودہ زمانے کی لائبریریوں میں ایسی کتابیں کثرت سے موجود ہیں جو خدا کے بارے میں اُس سے بھی زیادہ قابلِ اعتراض ہیں جس کی مثال سلمان رشدی کی کتاب سیٹنک ورسیس (The Satanic Verses) میں پائی جاتی ہے-اِس کے باوجود کیوں ایسا ہے کہ اِس سے کم تر درجے کے کیس میں مسلمانوں کی حمیتِ رسول آخری حد تک بھڑک اٹھتی ہے، جب ;کہ خدا کے معاملے میں ان کی حمیت نہیں بھڑکتی-
مثال کے طور پر ستمبر -نومبر 2012 میں دنیا کے مختلف حصوں میں مسلمانوں نے بڑے پیمانے پر امریکی فلم (Innocence of Muslims) کے خلاف احتجاج (protest) کیا-یہ احتجاج مصر سے لے کر آسٹریلیا تک، بہت سے شہروں میں کیا گیا- اِس میں ہرجگہ مسلمانوں کی بڑی تعداد شریک ہوئی- کئی جگہ اِس احتجاج نے تشدد اور توڑ پھوڑ کی صورت اختیار کرلی- میڈیا کی رپورٹ کے مطابق، اِس احتجاج میں تقریباً 80 لوگ مارے گئے اور ایک سو سے زیادہ لوگ زخمی ہوئے- اِس درمیان پراپرٹی کا جو نقصان ہوا، وہ اس کے علاوہ ہے-
نفسیاتی تجزیہ
یہ کوئی سادہ معاملہ نہیں، حقیقت یہ ہے کہ اِس کے پیچھے مسلمانوں کی ایک مجرمانہ نفسیات پائی جاتی ہے- یہ وہی نفسیات ہے جو مشرکین کے بارے میں قرآن میں اِن الفاظ میں بیان کی گئی ہے: وَجَعَلُوْا لِلّٰہِ مِمَّا ذَرَاَ مِنَ الْحَرْثِ وَالْاَنْعَامِ نَصِیْبًا فَقَالُوْا ھٰذَا لِلّٰہِ بِزَعْمِہِمْ وَھٰذَا لِشُرَکَاۗىِٕنَا ۚ فَمَا کَانَ لِشُرَکَاۗىِٕہِمْ فَلَا یَصِلُ اِلَى اللّٰہِ ۚ وَمَا کَانَ لِلّٰہِ فَہُوَ یَصِلُ اِلٰی شُرَکَاۗىِٕہِمْ ۭسَاۗءَ مَا یَحْکُمُوْنَ (6:136) یعنی خدا نے جو کھیتی اور چوپائے پیداکیے ہیں، اُس میں سے اُنھوں نے خدا کا کچھ حصہ مقرر کیا ہے- پس، اپنے گمان کے مطابق، وہ کہتے ہیں کہ یہ حصہ اللہ کا ہے اور یہ حصہ ہمارے شریکوں کا- پھر جو حصہ اُن کے شریکوں کا ہوتا ہے، وہ تو اللہ کو نہیں پہنچتا اور جو حصہ اللہ کے لیے ہے، وہ اُن کے شریکوں کو پہنچ جاتا ہے- کیسا برا فیصلہ ہے جو یہ لوگ کرتے ہیں-
لوگ اللہ اور اپنے شرکا کے درمیان جو تفریق کرتے تھے، وہ کوئی سادہ بات نہ تھی- اِس کا سبب دراصل اُن کے غلط مفروضات تھے- انھوں نے بطور خود یہ عقیدہ بنا رکھا تھا کہ اُن کو دنیا میں جو کچھ ملتا ہے، وہ ان کے شرکا کی برکت سے ملتاہے- اِس خود ساختہ عقیدے کی بنا پر وہ سمجھتے تھے کہ اصل مسئلہ شرکا کو خوش رکھنے کا ہے- اگر شرکا خوش رہیں گے تو ان کے سارے معاملات درست رہیں گے- اِس عقیدے کی بنا پر وہ شرکا کے حصے کو تو پورا کردیتے تھے اور خدا کا حصہ کم کرنے میں کوئی حرج نہیں سمجھتے تھے-
ٹھیک یہی معاملہ مسلمانوں کا ایک اور اعتبار سے ہے- صحابہ اور تابعین کے بعد مسلمانوں میں جو ذہن بنا، اُس ذہن کے تحت مسلمانوں نے خود ساختہ طورپر یہ کیا کہ انھوں نے اپنے پیغمبر کو سب سے بڑا درجہ دے دیا- انھوں نے اپنے پیغمبر کا درجہ اتنا بڑھایا کہ خدا اُن کے لیے عملاً صرف ایک رسمی عقیدہ بن کررہ گیا- اِس کی ایک مثال یہ ہے کہ دورِ تصنیف میں مسلمانوں کے لکھنے والوں نے پیغمبر کی عظمت پر ہزاروں کتابیں لکھیں، لیکن وہ اللہ کی عظمت پر کوئی قابلِ ذکر کتاب نہ لکھ سکے-
بعد کے زمانے میں یہ ہواکہ مسلمانوں کے پاس جتنے بڑے بڑے القاب تھے، وہ سب انھوں نے اپنے پیغمبر کو دے دیے- مثلاً سرورِ عالم، شہنشاہِ کونین، تاج دارِ دو عالم، سید الکونین، وغیرہ- اِس قسم کے بڑے بڑے القاب جب پیغمبر کو دے دئے جائیں تو اس کے بعد انسانی الفاظ میں، اللہ کو دینے کے لیے کچھ باقی نہیں رہتا- اِس بنا پر ایساہوا کہ اللہ کا تصور ایک باعظمت تصور کی حیثیت سے شعوری طورپر مسلمانوں کے ذہن میں باقی نہیں رہا-یہی وہ ذہن ہے جس کی نمائندگی ایک مسلم شاعر نے اِن الفاظ میں کی ہے:
اللہ کے پلّے میں وحدت کے سوا کیا ہے جو کچھ ہمیں لینا ہے، لے لیں گے محمد سے
اسلام کی تاریخ
اپنے پیغمبر کے بارے میں بعد کے زمانے میں مسلمانوں کے اندر جو ذہن بنا، اس کا ایک سیاسی پس منظر تھا- اصل یہ ہے کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ استثنائی طورپر یہ واقعہ پیش آیا کہ ایک عظیم تاریخ آپ کے نام کے ساتھ وابستہ ہوگئی- آپ کے زمانے میں اور آپ کے اصحاب کے زمانے میں ایک بڑا سیاسی انقلاب پیش آیا- اِس سے پہلے کسی پیغمبر کے زمانے میں اِس قسم کا سیاسی انقلاب پیش نہیں آیا تھا-پیغمبر اسلام نے 610 عیسوی میں مکہ میں اپنا موحدانہ مشن شروع کیا، جب کہ اُس وقت آپ ایک فردِ واحدکی حیثیت رکھتے تھے، مگر 23 سال کے بعد جب 632 عیسوی میں آپ کی وفات ہوئی تو پورا عرب آپ کے دین کا پیرو بن چکا تھا- اُس کے بعد آپ کے اصحاب نے آپ کے مشن کو جاری رکھا، یہاں تک کہ اگلے 25 سال کے دوران عرب کے اطراف کے بیش تر ممالک میں آپ کے پیروؤں کا اقتدار قائم ہوگیا- ساسانی ایمپائر اور بازنتینی ایمپائر کا خاتمہ ہوگیا- آپ کی بعثت کے 100 سال کے اندر یہ ہوا کہ آپ کے ماننے والوں نے ایک عظیم مسلم ایمپائر قائم کرلیا، جس کا دبدبہ کم وبیش ہزار سال تک باقی رہا-
یہ سیاسی انقلاب اتنا زیادہ واضح تھا کہ سیکولر مورخین نے بھی کھلے طورپر اس کا اعتراف کیا ہے- مثال کے طورپر ایک امریکی مصنف جان ڈرنک واٹر (وفات: 1937) نے اپنی ایک کتاب میں پیغمبر اسلام کا تذکرہ کرتے ہوئے لکھا ہے کہ — وہ عالمی تاریخ میں ایک انتہائی ممتاز انسان کی حیثیت رکھتے ہیں:
One of the most remarkable men in history of the world. (The Outline of Literature by John Drinkwater, 1923)
انڈیا کے ایک مشہور اسکالر ایم این رائے (وفات: 1954) نے پیغمبر اسلام اور آپ کے بعد بننے والی تاریخ کا ذکر کرتے ہوئے لکھا ہے کہ — محمد کا اِس حیثیت سے اعتراف کرنا چاہیے کہ وہ تمام پیغمبروں میں سب سے بڑے پیغمبر تھے- اسلام کی توسیع تمام معجزات میں سب سے بڑا معجزہ ہے:
Muhammad must be recognised as by far the greatest of all prophets. The expansion of Islam is the most miraculous of all miracles. (The Historical Role of Islam, by M. N. Roy, 1939, p. 4)
امریکی مصنف ڈاکٹر مائکل ہارٹ نے ایک کتاب شائع کی ہے- اس میں انھوںنے انسانی تاریخ کے ایک سو ایسے افراد کا ذکر کیا ہے جنھوں نے تاریخ میں سب سے زیادہ کامیابی حاصل کی-اِس فہرست میں انھوں نے پیغمبر اسلام کو نمبر ایک پر رکھاہے- وہ لکھتے ہیں کہ — آپ تاریخ کے تنہا شخص ہیں جو انتہائی حد تک کامیاب رہے- مذہبی سطح پر بھی اور سیکولر سطح پر بھی:
Mohammad was the only man in history who was supremely successful on the religious and secular levels. (Dr. Michael H. Hart, The 100, 1978)
اِسی طرح، ایک امریکی اسکالر چارلس اساوی (وفات: 2000) نے اپنی ایک کتاب میں پیغمبر اسلام کا اعتراف اِن الفاظ میں کیا ہے — یہ کہنا مبالغہ نہیں ہے کہ اگر کوئی ایک شخص ایسا ہے جس نے تاریخ کے دھارے کو بدل دیا، تو وہ شخص محمد تھے:
It does not seem too much to say that if any one man changed the course of history, that man was Muhammad. (Muhammad’s Historical Role, by Charles Issawi, 1950, p. 95)
اِس طرح کے بہت سے سیکولر مصنفین اور غیر مسلم محققین ہیں جنھوں نے پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کا تذکرہ نہایت شان دار الفاظ میں کیا ہے- پیغمبر اسلام کے مشن کے ذریعے تاریخ میں جو انقلابی دور آیا، وہ اتنا عظیم تھا کہ تمام اہلِ علم نے اس کا اعتراف کیا، خواہ وہ سیکولر اہلِ علم ہوں یا مذہبی اہلِ علم- انھوں نے کثرت سے اِس موضوع پر کتابیں لکھیں اور مقالات شائع کیے- مذکورہ چند اقتباسات اِس معاملے کی وضاحت کے لیے کافی ہیں-
خدا کاحصہ پیغمبر کو دینا
پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے مشن کے تحت جو عظیم تاریخ بنی، وہ تمام تر منصوبہ الہی کے تحت بنی- پیغمبر اسلام سے پہلے ہزاروں سال کے درمیان خدا کی طرف سے بہت سے پیغمبر آئے- اِن پیغمبروں کے زمانے میں توحید کا اعلان توہوا، لیکن توحید کی بنیاد پر کوئی اجتماعی انقلاب نہ آسکا، جب کہ اللہ تعالی کو مطلوب تھا کہ پیغمبر کے ذریعے ایک ایسا موحدانہ انقلاب برپا ہو جو شرک کے دور کو ختم کرے اور توحید کا دور دنیا میں لے کر آئے- آخر کار اللہ تعالی کی یہ منشا ہوئی کہ وہ تاریخ میں مداخلت کرے اور خصوصی نصرت کے ذریعے وہ انقلاب برپا کرے جو کہ اللہ کے تخلیقی منصوبے کے تحت ضروری تھا- اللہ تعالی کے عام منصوبے کے مطابق، اِس منصوبے کی تکمیل اسباب کی صورت میں کی گئی- خاتم النبیین محمد صلی اللہ علیہ وسلم اِس انقلاب کی بنیادی کڑی تھے-
اللہ تعالی کے اِس خصوصی منصوبے کا آغاز چار ہزار سال پہلے حضرت ہاجرہ، حضرت ابراہیم اور حضرت اسماعیل کے ذریعے عرب کے صحرا میں ہوا- اِس منصوبے کے تحت لمبی مدت کے دوران ایک خصوصی نسل تیار کی گئی جس کو بنو اسماعیل کہاجاتاہے- اِس نسل کی اعلی خصوصیات کی بنا پر ایک مستشرق نے اس کو ہیروؤں کی ایک قوم (a nation of heroes) کا لقب دیا ہے- اِسی خصوصی نسل میں پیغمبراسلام اور آپ کے اصحاب پیداہوئے- اِس کے بعد اللہ کی برتر تدبیر کے تحت بہت سے موافق حالات ظہور میں آئے- یہ اپنے آغاز سے انجام تک، ایک انتہائی اعلی نوعیت کا خدائی منصوبہ تھا- پیغمبر اسلام اور آپ کے اصحاب کے ذریعے جو عظیم اسلامی تاریخ بنی، وہ در اصل اِسی منصوبہ الہی کا نتیجہ تھی-
قرآن میں اِس حقیقت کو نہایت واضح الفاظ میں بیان کیا گیا ہے کہ پیغمبر اور اصحاب پیغمبر کے زمانے میں جو تاریخی انقلاب آیا، وہ کسی فرد کا شخصی کارنامہ نہ تھا، بلکہ وہ براہِ راست طورپر اللہ کے ایک برتر منصوبے کا نتیجہ تھا- اِس سلسلے میں قرآن کی دو آیتیں یہ ہیں: یُرِیْدُوْنَ لِیُطْفِــــُٔـوْا نُوْرَ اللّٰہِ بِاَفْوَاہِہِمْ ۭ وَاللّٰہُ مُتِمُّ نُوْرِہٖ وَلَوْ کَرِہَ الْکٰفِرُوْنَ -ہُوَ الَّذِیْٓ اَرْسَلَ رَسُوْلَہٗ بِالْہُدٰى وَدِیْنِ الْحَقِّ لِیُظْہِرَہٗ عَلَی الدِّیْنِ کُلِّہٖ ۙ وَلَوْ کَرِہَ الْمُشْرِکُوْنَ (61:8-9) یعنی یہ لوگ چاہتے ہیں کہ وہ اللہ کے نور کو اپنے منہ سے بجھا دیں، حالاں کہ اللہ اپنے نور کو پورا کرکے رہے گا، خواہ یہ منکروں کو کتنا ہی ناگوار ہو-وہ اللہ ہی ہے جس نے اپنے رسول کو ہدایت اور دینِ حق کے ساتھ بھیجا، تاکہ اللہ اس کو سب دینوں پر غالب کردے، خواہ یہ مشرکوں کو کتنا ہی ناگوار ہو-
پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اِس حقیقت کو بار بار نہایت واضح الفاظ میں بیان فرمایا ہے- اِس کی ایک مثال یہ ہے کہ آپ کے مشن کے آغاز کے تقریباً 20 سال بعد مکہ فتح ہوا، جو کہ اُس وقت پورے عرب میں ہر اعتبار سے مرکز کی حیثیت رکھتا تھا- روایات میں آتا ہے کہ فتح مکہ کے وقت جب آپ فاتحانہ حیثیت سے مکہ میں داخل ہوئے تو احساسِ تواضع کے باعث آپ کی گردن جھکی ہوئی تھی، حتی کہ لوگوں نے دیکھا کہ آپ کی داڑھی کجاوے کی لکڑی کو چھورہی ہے- اُس وقت کعبہ کے دروازے پر کھڑے ہو کر آپ نے جوخطبہ دیا، اُس میں یہ الفاظ تھے:لا إلہ إلا اللہ وحدہ، صدق وعدہ، ونصر عبدہ، وہزم الأحزاب وحدہ ( سنن أبی داؤد، رقم الحدیث: 4547 ) یعنی ایک اللہ کے سوا کوئی اللہ نہیں- اللہ نے اپنا وعدہ سچ کر دکھایا- اللہ نے اپنے بندے (محمد) کی نصرت کی اور اللہ نے دشمن کی جماعتوں کو تنہا شکست دے دی-
حبِ شدید کا تعلق
قرآن میں بتایا گیاہے کہ اہلِ ایمان کو حب شدید (2:165) کا تعلق صرف اللہ سے ہوتا ہے، کسی اور سے نہیں- حُبّ کا مطلب ہے: اسٹرانگ افکشن (strong affection)، یعنی شدید قلبی تعلق- بعد کے دور کے مسلمانوں کے ساتھ یہ حادثہ پیش آیا کہ جذباتی طورپر اُن کے لیے حب شدید کا مرکز اللہ کے بجائے پیغمبر بن گیا- اِس طرح اُن کے جذبات کا مرجع بدل گیا- یہی وجہ ہے کہ وہ اللہ کی اہانت پر مشتعل نہیں ہوتے، لیکن وہ اپنے پیغمبر کی اہانت پر سخت مشتعل ہوجاتے ہیں- بہ الفاظِ دیگر، انھوں نے مشرکین کے طریقےکو اختیار کرتےہوئے یہ کیا کہ اللہ کے کارنامے کو اپنے پیغمبر کا کارنامہ سمجھ لیا، جو کچھ اللہ کے لیے تھا، اس کو انھوں نے اپنے پیغمبر کے حصے میں ڈال دیا-
سیرت اور تاریخ کی کتابیں
پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد سیرت ا ور تاریخ پر جو کتابیں لکھی گئیں، وہ فخر کی نفسیات کے تحت لکھی گئیں- سیرتِ رسول کے موضوع پر لکھی جانے والی کتابوں کا عنوان غزواتِ رسول (مغازی) بن گیا، اور تاریخ اسلام پر لکھی جانے والی کتابوں کا عنوان شاہ نامہ اسلام اور فتوح البلدان قرار پایا-اِس بنا پر ایسا ہوا کہ سیرتِ رسول اور تاریخ اسلام کی کتابوں میں خدا کا عامل (divine factor) حذف ہوگیا- اسلام کی تاریخ عام طرز کی انسانی تاریخ بن گئی، وہ خدائی تاریخ نہ بن سکی- جب کہ اصل حقیقت کے اعتبار سے، سیرتِ رسول اور اسلامی تاریخ دونوں میں اللہ کا خصوصی منصوبہ کارفرما تھا-
سیرت نگاری اور تاریخ نگاری کا یہی غیر واقعی طریقہ بعد کے زمانے کے مسلمانوں میں رائج ہوگیا- اُس کے نتیجے میں مسلمانوں کے اندر جو ذہن بنا، وہ شعوری یا غیر شعوری طورپر یہ تھاکہ انھوں نے تاریخ کی تمام عظمتوں کو اپنے پیغمبر کے خانے میں ڈال دیا، جو چیز اصلاً خدا کا حصہ تھی، وہ پیغمبر کا حصہ قرار پائی- اِس کے بعد مسلمانوں کے اندر جو نفسیات بنی، وہ فطری طورپر یہ تھی کہ اُن کو تمام بڑائی اپنے پیغمبر کی طرف دکھائی دینے لگی، مسلمانوں کے اپنے ذہن کے مطابق،اللہ کے حصے میں کچھ بھی باقی نہ رہا- (10 نومبر2013)
واپس اوپر جائیں

اپنے آپ کو پہچانیے

قدیم مدینہ میں ایک مشہور عالم ربیعہ بن فرّوخ التیمی (ربیعة الرأى) تھے- اُن کی وفات 136ہجری میں ہوئی- اُن کا ایک قول یہ ہے: لا ینبغی لأحد عندہ شیئ من العلم أن یضیّع نفسہ (فتح الباری بشرح صحیح البخاری، کتاب العلم، باب رفع العلم) یعنی کسی آدمی کے لیے جائز نہیں کہ اس کے پاس علم کا کوئی حصہ ہو اور وہ اپنے آپ کو ضائع کردے-
ہر آدمی کے اندر پیدائشی طورپر کوئی خاص صلاحیت ہوتی ہے-یہی صلاحیت اس کو دوسرے لوگوں سے ممتاز بناتی ہے- آدمی کو چاہئے کہ وہ اپنی اِس خداداد صلاحیت کو پہچانےاور اس کو بھر پور طورپر استعمال کرے- اِسی میں انسان کی کامیابی کا راز بھی ہے اور اِسی میں انسان کی ناکامی کا راز بھی-
اِس معاملے میں انسان کی ناکامی کا سبب کیا ہوتا ہے - اس کا سبب یہ ہے کہ اپنے حالات کے اعتبار سے، ہر آدمی کے اندر کسی چیز سے جذباتی لگاؤ(emotional attachment) پیدا ہوجاتا ہے- دھیرے دھیرے وہ اُس @چیز سے اتنا زیادہ وابستہ ہوجاتا ہے کہ وہی آدمی کی طبیعتِ ثانیہ بن جاتاہے— کسی آدمی کو تفریحی باتوں سے دلچسپی پیدا ہوجاتی ہے، کسی آدمی کو لذیذ کھانوں کا شوق ہوجاتا ہے، کوئی آدمی شہرت (fame)کا گرویدہ بن جاتاہے، کوئی آدمی دولت کی حرص میں جینے لگتا ہے، کسی آدمی کو یہ بات مرغوب ہوجاتی ہے کہ اس کے ارد گرد لوگوں کی بھیڑ دکھائی دے، کسی آدمی کی پسند یہ بن جاتی ہے کہ لوگ اس کی تعریف کرتے رہیں، کسی آدمی کے اوپر اس کی عادتیں غالب آجاتی ہیں اور وہ اُن عادتوںسے باہر نہیں آپاتا، وغیرہ-
یہ سب غیر فطری جذبات ہیں- اِن میں سے کوئی بھی جذبہ اگر آدمی کے اوپر چھا جائے تو وہ اپنی خاص صلاحیت کو دریافت نہیں کرپائے گا- اور بالفرض اگر اُس کو اپنی خاص صلاحیت کا علم ہوجائے، تب بھی وہ ایسا نہیں کرپاتا کہ مضبوط ارادے کے تحت وہ اپنی عادتوں کو چھوڑ دے اور اپنے آپ کو اُس مقصد کے لیے استعمال کرے جس مقصد کے لیے خالق نے اس کو پیدا کیا ہے-
واپس اوپر جائیں

حفاظت کا فارمولا

پونٹی چڈھا اور ہردیپ چڈھا دونوں سگے بھائی تھے- اُن کا بہت بڑا بزنس تھا- ان کا بزنس انڈیا کی کئی ریاستوں میں پھیلا ہوا تھا- کہاجاتاہے کہ وہ 6 ہزار کروڑ روپیے سے زیادہ کے مالک تھے- چھتر پوری (نئی دہلی) میں اُن کا 13 ایکڑ رقبے میں پھیلاہوا فارم ہاؤس ہے-
اِس فارم ہاؤس میں 17 نومبر 2012 کو د ونوں بھائیوں کی میٹنگ ہوئی- اِس میٹنگ کا مقصد پراپرٹی کی تقسیم تھا، مگر دونوں کے درمیان تقسیم کے معاملے میں اختلاف ہوگیا- یہ اختلاف اتنا زیادہ بڑھا کہ میٹنگ کے دوران دونوں نے ایک دوسرے پرریوالور کے ذریعے گولیاں چلائیں، یہاں تک کہ اسی موقع پر دونوں بھائیوں کی موت ہوگئی-
ٹائمس آف انڈیا (نئی دہلی) کے شمارہ 18 نومبر 2012 کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ چڈھا برادران کا ریاستی حکومتوں پر اتنا اثر تھا کہ قانونی ضوابط اِس طرح بنائےجاتے تھے جو کہ اُن کے موافق ہوں:
Rules were tailor-made for Chadha Brothers. (p.2)
مگر دولت کی کثرت اور اثر ورسوخ کی طاقت اور قوانین وضوابط کی حمایت چڈھا برادران کو ہلاکت سے نہ بچا سکی- دونوں بھائیوں نے خود ہی ایک دوسرے کو مار کر اپنا خاتمہ کرلیا-
حقیقت یہ ہے کہ کوئی قانون یا قانونی تدبیر کسی کی محافظ نہیں بن سکتی، انسان کو اپنا محافظ آپ بننا ہے- اصل حفاظت یہ ہے کہ آدمی اپنی خواہش پر کنٹرول کرے، وہ اپنے آپ کو اشتعال سے بچائے، وہ مس ایڈوینچرازم (misadventurism) کا شکار نہ ہو، وہ غصہ اور نفرت میں مبتلا نہ ہو، وہ حالات سے ٹکراؤ کے بجائے حالات سے ایڈجسٹ (adjust)کرے- حفاظت کا اصل فارمولا صرف ایک ہے اور وہ ہے — اپنے آپ کو اپنے آپ سے بچانا:
Saving yourself from yourself
واپس اوپر جائیں

کامیابی کس کے لیے

فٹ بال کا امریکی کوچ ونس لمبارڈی (Vince Lombardi) اپنی فیلڈ کا ایک مشہور آدمی تھا- اس کی وفات 1970 میں ہوئی- کھیل میں کامیابی کاراز کیا ہے، اس کے بارے میں اس کا ایک قول یہ ہے— کامیاب انسان اور دوسروں کے درمیان فرق علم اور طاقت کے اعتبار سے نہیں ہے، بلکہ یہ فرق عزم کے اعتبار سے ہے:
The difference between a succesful person and others, is not a lack of strength, not a lack of knowledge, but rather a lack of will.
اِس قول میں ایک حکمت بتائی گئی ہے- اِس حکمت کا تعلق صرف کھیل سے نہیں، بلکہ اس کا تعلق زندگی کے ہر میدان سے ہے- زندگی کا خواہ کوئی بھی میدان ہو، ہر میدان میں کامیابی کا اصول صرف ایک ہے- ہر میدان میں کامیابی کے لیے عزم یا قوتِ ارادی (will power) کی ضرورت ہوتی ہے-
اِس دنیا میں کامیابی کے لیے بلاشبہہ طاقت کی بھی ضرورت پڑتی ہے اور علم کی بھی، لیکن آخر کار جو چیز فیصلہ کن ہوتی ہے، وہ آدمی کی قوتِ ارادی ہے- قوتِ ارادی اگر مستحکم ہو تو ہر صورتِ حال میں وہ آدمی کی رہنما بنی رہتی ہے- زندگی میں ہمیشہ اونچ نیچ کے مرحلے پیش آتے ہیں- ایسی حالت میں مسلسل جدوجہد پر قائم رہنے کے لیے جو چیز آدمی کے کام آتی ہے، وہ صرف عزم اور قوتِ ارادی ہے-
عزم سے مراد بابصیرت عزم ہے- عزم کا براہِ راست تعلق بصیرت (wisdom) سے ہے، جس آدمی کے اندر گہری بصیرت ہو، وہی کامیاب پلاننگ کرسکتاہے اور جو آدمی کامیاب پلاننگ کا اہل ہو، وہی اِس امتحان میں پورا اتر سکتا ہے کہ وہ ہر پیش آمدہ صورتِ حال میں اپنے عزم پر مسلسل قائم رہے- عزم کسی بنیاد پر قائم ہوتاہے اور یہ بنیاد صرف بصیرت ہے- جہاں بصیرت نہ ہو، وہاں عزم بھی نہ ہوگا-
واپس اوپر جائیں

سوال وجواب

سوال
آپ نے لکھا ہے کہ اللہ تعالی نے اِس دنیا میں ہم کو امتحان کے لیے رکھا ہے، تاکہ وہ دیکھے کہ کون صبر واستقامت کے اِس امتحان میں کامیاب ہوتاہے- آخرت کی جنت اِسی کامیاب ہونے والے انسان کے لیے ہے- سوال یہ ہے کہ خدا نے آخرت کی کامیابی کے لیے امتحان کا یہ طریقہ کیوں رکھا- اس کی وضاحت فرمائیں- (مکرم حسین، نئی دہلی)
جواب
یہ بات درست ہے کہ موجودہ دنیا میں ہمارے لیے ایک ہی آپشن (option) ہے ا ور وہ ہے— صبرواستقامت اور یک طرفہ ایڈجسٹ مینٹ کا آپشن-یہی آپشن، اللہ کے تخلیقی نقشہ کے مطابق ہے- اِس دنیا میں کامیاب زندگی کی تعمیر کے لیے اِس کے سوا کوئی دوسرا طریقہ سرے سے ممکن ہی نہیں- دوسرا طریقہ خود کشی کا طریقہ ہے، نہ کہ کامیابی کا طریقہ-
اب سوال یہ ہے کہ ہمارے خالق نے ہمارے لیے یہ طریقہ کیوں مقرر کیا- اِس کا سبب یہ ہے کہ اِسی طریقے کے ذریعے آدمی کے اندر ذہنی ارتقا ہوتاہے- خالق نے انسان کو بے شمار صلاحیتوں کے ساتھ پیدا کیا ہے، مگر یہ صلاحیتیں بالقوہ (potential) کےروپ میں ہیں، یعنی امکان کے روپ میں، نہ کہ واقعہ کے روپ میں-اللہ کے تخلیقی نقشے کے مطابق، انسان کی شخصیت کے اندر چھپی ہوئی فطری صلاحیتوں کو واقعہ بنانے کا طریقہ صرف ایک ہے اور وہ ہےچیلنج(challenge)- چیلنج آدمی کے سوئے ہوئے ذہن کو جگاتاہے- چیلنج آدمی کو اِس قابل بناتاہے کہ وہ زیادہ گہرائی کے ساتھ سوچ سکے- چیلنج اِس بات کا ذریعہ ہےکہ آدمی منفی تجربات میں مثبت آئٹم کو دریافت کرے- آدمی ابتدائی طور پر ایک ناپختہ (immature)مخلوق ہے- یہ صرف چیلنج ہے جو آدمی کو پختہ (mature) بناتاہے- چیلنج آدمی کو یہ موقع دیتاہے کہ وہ اپنی شخصیت کو انفولڈ (unfold) کرے-
عام طور پر عورتوں اور مردوں کا حال یہ ہے کہ چیلنج پیش آنے کی صورت میں وہ منفی رد عمل (negative reaction) کا طریقہ اختیار کرلیتے ہیں- اِس طرح کے مواقع پر منفی رد عمل، ڈی ریلمینٹ (derailment) کی حیثیت رکھتا ہے- یہی وہ مقام ہے جہاں کسی عورت یا مرد کی زندگی غلط رخ پر چل پڑتی ہے- دھیرے دھیرے وہ اِسی میں کنڈیشنڈ (conditioned) ہوجاتے ہیں- اِس کا نتیجہ یہ ہوتاہے کہ وہ اِسی منفی مزاج میں جیتےہیں اور اِسی منفی مزاج میں مرجاتے ہیں-
یہ کسی عورت یا مرد کی بدترین ناکامی ہے- اِس دنیا میں ہر شخص سے یہ مطلوب ہے کہ وہ اپنے اندر ایک مثبت شخصیت (positive personality) کی تشکیل کرے- مگر انسان اللہ کے تخلیقی منصوبے کو نہ سمجھنے کی بنا پر یہ کرتاہے کہ وہ چیلنج کو ایک برائی (evil) سمجھ لیتاہے- وہ دنیا سے اُس چیز کو حاصل کیے بغیر چلا جاتاہے جس کو حاصل کرنے کے لیے خالق نے اُس کو اِس دنیا میں بھیجا تھا-
سوال
1- ہمارے ملک (پاکستان) اور عموماً پوری دنیا میں ہر مرتبہ رمضان کی آمد کے ساتھ ہی ایک مسئلہ کھڑا ہوجاتاہے کہ کل روزہ ہوگا یا نہیں-یہی صورتِ حال عید کے چاند پر بھی پیدا ہوتی ہے- اور اکثر ملک کے ایک حصہ میں روزہ رکھا جاتا ہے جب کہ دوسرے حصہ میں عید منائی جارہی ہوتی ہے(یہی صورتِ حال تقریباً پوری مسلم اور غیر مسلم دنیا میں بھی ہوتی ہے)
سوال یہ ہے کہ اگر روزے کا تعلق رمضان کے مہینے کی آمد سے ہے تو پھر دنیا میں ہر جگہ ایک ساتھ روزہ کیوں نہیں- اس سوال کا براہِ راست تعلق مذہب اور سائنس دونوں سے ہے- آپ ایک علمی بصیرت رکھنے والے اور جدید سائنسی اسلوب میں بات کرنے والے عالم دین ہیں- آپ سے التماس ہے کہ اس مسئلے کے بارے میں قرآن ، احادیث اور رویت ہلال کی سائنس کو مد نظر رکھتے ہوئے اس مسئلے کی وجوہات اور اس کا حل تفصیل سے بتائیں-
2- مغربی دنیا کی چوٹی کے سائنس داں مثلاً آئن سٹائن اور فلاسفر مثلا برٹرینڈ رسل وغیرہ حقیقی علم تک رسائی کیوں حاصل نہ کرسکے، حالاں کہ انھوں نے مذہب اور سائنس کا براہِ راست مطالعہ کیا تھا-
3- آپ نے اپنی کتاب ’’تجدید دین‘‘ کے شروع میں لکھا ہے کہ ’’فقہ‘‘ کا لفظ عباسی دور کی پیداوار ہے-قرآن اور حدیث میں اس کا ذکر موجود نہیں ہے- جب کہ ہمیں معلوم ہے کہ حضرت معاذ بن جبل والی روایت سے جو اجتہاد کا نکتہ ہمیں ملتاہے، وہ اصل میں فقہ کا ہی ایک حصہ ہے-
میں نے اپنے گھر میں آپ کی ہر کتاب رکھی ہوئی ہے اور اُس کا مطالعہ کرتا رہتا ہوں- الرسالہ خود بھی پڑھتا ہوں اور اپنے اسکول کے پرنسپل صاحب کو بھی دیتا ہوں-میری اکثر دعا ہوتی ہے کہ خدا آپ کو لمبی عمر دے اور تندرست رکھے- میں ایم اے انگلش کا اسٹوڈنٹ ہوں اور ایک سرکاری اسکول میں ٹیچر بھی ہوں- (شہزاد احمد، پاکستان)
جواب
1- موجودہ زمانے میں علم فلکیات کی ترقی کی بنا پر یہ ممکن ہوگیاہے کہ پیشگی طور پر رویتِ ہلال کا ٹھیک ٹھیک یقین کیا جاسکے- اِس لیے ذاتی طور پر میری رائےہے کہ آبزرویٹری کے فلکیاتی مشاہدہ کے تحت جو کیلنڈر بنتے ہیں، اُس کیلنڈر کو بنیاد بنار کر رمضان اور عید کے چاند کا تعین کرنا چاہیے- لیکن اِسی کے ساتھ میری یہ رائے ہے کہ علما چوں کہ ابھی تک اس مسئلے پر متفق نہیں ہوئے ہیں، اس لیے  دفعِ فتنہ کے لیے عملاً وہی کرنا چاہئے جو علما کی اکثریت کا مسلک ہے-
2- موجودہ زمانے کے سیکولر اہلِ علم مذہب کا مطالعہ کرتےہیں، لیکن اُن کا طریقِ مطالعہ مختلف ہوتاہے- ہم آپ مذہب کو وحی کا ظاہرہ سمجھتے ہیں، لیکن سیکولر اہلِ علم مذہب کا مطالعہ اِس ذہن کے تحت کرتے ہیں کہ مذہب ایک سماجی ظاہرہ (social phenomenon) ہے، اِس لیے وہ مذہب کا مطالعہ کرکے بھی مذہب کو اپنا عقیدہ نہیں بنا پاتے- اِس سلسلے میں پہلی ضرورت یہ ہے کہ اُن کے طریقِ مطالعہ کو بدلا جائے- اِس موضوع پر میں اپنی کتابوں میں تفصیل سے لکھ چکا ہوں-
3- حضرت معاذ بن جبل کی روایت میں فقہ کا لفظ موجود نہیں ہے اور میراکہنا یہی ہے کہ فقہ کا لفظ اپنے موجودہ مفہوم کے اعتبار سے، ایک بعد کی اصطلاح ہے، دورِ اول میں یہ اصطلاح موجود نہ تھی-
آپ کے وطن میں آپ جیسے بہت سے لوگ ہیں- بہتر ہوگا کہ آپ اِن افراد سے ربط قائم کریں اور اجتماعی کوشش سے اپنے علاقے میں الر سالہ کے دعوتی مشن کو آگے بڑھائیں-
واپس اوپر جائیں

خبرنامہ اسلامی مرکز— 222

1- چنئی (تمل ناڈو) میں 11-20 جنوری 2013 کے درمیان وہاں کے ساحلی ایریا (اتھنڈی) میں ایک پیس کانفرنس ہوئی- یہاں گڈ ورڈ بکس نے اپنا اسٹال لگایا- اسٹال کا انتظام مسٹر ممتاز راجہ نے سنبھالا-
2- چنئی (تمل ناڈو) کے وائی ایم سی اے گراؤنڈ میں 11-23 جنوری 2013 کے دوران چنئی بک فیر ہوا- اِس میں گڈورڈبکس نے شرکت کی- یہاں بک اسٹال کا انتظام مسٹر فرقان خاں نے سنبھالا- یہاں مقامی طورپر الرسالہ سے وابستہ عمری گروپ کے ساتھیوں نے وزٹرس سے مل کر اُن کو دعوتی پمفلٹس دئے-
3- ہمار ے ساتھی مقامی طورپر دعوہ ورک کرنے کے ساتھ سفر کے دوران بھی دعوتی کام کرتے ہیں- مثلاً ہمارے ایک ساتھی مسٹر حمید اللہ حمید (کشمیر) نے جنوری 2013 کے تیسرے ہفتے میں ساؤتھ انڈیا کے مختلف پروگراموں میں شرکت کے لیے وہاں کا سفر کیا- اِس دوران انھوں نے اعلی تعلیم یافتہ لوگوں سے مل کر ان کے سامنے اسلام کا مثبت تعارف پیش کیا- انھوں نے لوگوں کو قرآن کا انگریزی ترجمہ اور دعوتی میٹریل برائے مطالعہ دیا-
4- جمشید پور (جھارکھنڈ) میں ہمارے ساتھی دعوہ ورک کررہے ہیں- وہ مختلف موقعوں پر لوگوں سے مل کر ان کو دعوتی لٹریچر پیش کرتے ہیں- مثلاً 13 جنوری 2013 کو ٹیلکو اسکول میں ایک کوئز کامپٹیشن ہوا- اِس کی دعوت پر ہمارے ایک ساتھی مسٹر ایاز احمد نے اس میں شرکت کی اور القرآن مشن کا تعارف کرایا- اِسی طرح 17 فروری 2013 کو ’’قرآن فار آل‘‘ کے پروگرام کے تحت اعلی تعلیم یافتہ لوگوں کو قرآن کا انگریزی ترجمہ دیا گیا-
5- نئی دہلی کے ادارہ اسلامک فاؤنڈیشن(IFSE)کی طرف سے 20 جنوری 2013 کو ایوانِ غالب (نئی دہلی) میں قرآن کے موضوع پر ایک کانفرنس ہوئی- اِس کی دعوت پر ہمارے ساتھیوں نے اس میں شرکت کی اور باہر سے آئے ہوئے مقررین کو صدر اسلامی مرکز کی نئی تصنیف ’’کتابِ معرفت‘‘ برائے مطالعہ دی- اِس کے علاوہ، یہاں خود اسلامک فاؤنڈیشن کی طرف سے ہمارے یہاں کے مطبوعہ تراجمِ قرآن حاضرین کو بطور ہدیہ پیش کیے گئے-
6- روحانی مرکز (سہارن پور) میں 25 جنوری 2013 کو ایک پروگرام ہوا- اِس میں دہلی اور اطراف کےمقررین نے شرکت کی- اِسی طرح شام کو شہر میں ایک دوسرا پروگرام ہوا- یہاںحاضرین کو مطالعے کے لیے دعوتی لٹریچر دیا گیا-
7- نئی دہلی کے ٹی وی چینل اسٹار نیوز کی ٹیم نے یکم فروری 2013 کو صدر اسلامی مرکز کا ایک ریڈیو انٹرویو ریکارڈ کیا- یہ انٹرویو ’’وشوروپم‘‘ فلم کے بارے میں حالیہ تنازعہ سے متعلق تھا- سوالات کی وضاحت کرتے ہوئے بتایا گیاکہ یہ آزادی رائے کا زمانہ ہے- اگر اِس فلم پر کسی کمیونٹی کو کوئی اعتراض ہے تو اس کو چاہئے کہ وہ اِس معاملے میں ذمے داروں سے مل کر بات کرے- اس کے خلاف احتجاج اور ہنگامہ آرائی اسپرٹ آف ایج (spirit of age) کے خلاف ہے، نیز احتجاج کا طریقہ کسی مسئلے کا کوئی حقیقی حل نہیں-
8- لاہور (پاکستان) سے جیو ٹی وی (اردو) نے 2 فروری 2013 کو ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعے صدر اسلامی مرکز کا ایک انٹرویو ریکارڈ کیا- یہ انٹرویو موجودہ زمانے کے مسلمانوں کے فکری مسائل پر تھا- سوالات کے دوران موضوع کی وضاحت کی گئی- ایک سوال اسلام کی سیاسی تعبیر کے بارے میں تھا-
9- رام لیلا گراؤنڈ (نئی دہلی) میں 3 فروری 2013 کو شری شری روی شنکر کی طرف سے والنٹیرس فار بٹر انڈیا (Volunteers for better India)کے موضوع پر ایک آل انڈیا کانفرنس ہوئی-اس کی دعوت پر صدر اسلامی مرکز نے اپنی ٹیم کے ساتھ اس میں شرکت کی- اِس موقع پر سی پی ایس انٹرنیشنل کی دعوہ فیلڈ ٹیم(DFT) کے تعاون سے رام لیلا گراؤنڈ میں ایک بک اسٹال لگایا گیا- یہاں سی پی ایس کے ممبران کی طرف سے خرید کر حاضرین کو کئی ہزار کی تعداد میں قرآن کا ہندی، انگریزی ترجمہ اور دعوتی بروشر بطور گفٹ دیاگیا- خاص طورپر ملک وبیرونِ مل سے آئے ہوئے خصوصی مہمانوں کو پرافٹ آف پیس اور قرآن کا انگریزی ترجمہ دیاگیا-
10- نئی دہلی کے پرگتی میدان میں 10-4 فروری 2013 کے دوران ورلڈ بک فیر ہوا- یہاں پرگتی میدان کے ہال نمبر 14 اور ہال نمبر 18 میں گڈورڈ بکس نے اپنا اسٹال لگایا- اِس موقع پر سی پی ایس کی دعوہ فیلڈ ٹیم (DFT) نے بک فیر کے وزٹرس کو قرآن کا انگریزی ترجمہ اور دعوتی پمفلٹس دئے- بک فیر میں کئی آتھرس کارنر (Author's Corner) تھے- یہاں ہمارے ساتھیوں نے مختلف مصنفین سے مل کر ان کو دعوتی لٹریچر دیا- مثلاً مشہور انگلش رائٹررسکن بانڈ (Ruskin Bond) کو پرافٹ آف پیس اور قرآن کا انگریزی ترجمہ دیا گیا-
11- آن لائن میگزین مسلم مرر (Muslim Mirror) کے ایڈیٹر سید زبیر احمد نے 10فروری 2013 کو صدر اسلامی مرکز کا ایک ویڈیو انٹرویو ریکارڈ کیا- یہ انٹرویو مسلمان اور موجودہ حالات کے موضوع پر تھا- سوالات کے دوران موضوع کی وضاحت کی گئی- یہ انٹرویو انگریزی زبان میں تھا-
12- یروشلم (فلسطین) میں 10-15 فروری 2013 کے دوران ایک انٹرنیشنل بک فیر ہوا- یہاں گڈ ورڈ بکس نے اپنا اسٹال لگایا- یہاں سے بڑی تعداد میں وزٹرس نے قرآن کا انگریزی ترجمہ اور دعوتی لٹریچر حاصل کیا- نیزاسٹال پر انگریزی کے علاوہ، عبرانی ترجمہ قرآن بھی رکھا گیا تھا-
13- نئی دہلی کے سی بی سی آئی سنٹر (گول ڈاک خانہ) میں 21 جنوری 2013 کو ایک خیر مقدمی تقریب ہوئی- وہ نئی دہلی کے نئے آرک بشپ (Anil Couto) کی آمد کے موقع پر تھی- اس کی دعوت پر صدر اسلامی مرکز نے اپنے ساتھی مسٹر رجت ملہوترا کے ساتھ اس میں شرکت کی اور انگریزی زبان میں ایک مختصرخطاب کیا- یہ خطاب اسلام اور امن (Islam & Peace)کے موضوع پر تھا- اِس پروگرام میں مختلف مذاہب کی نمائندہ شخصیتوں نے شرکت کی- یہاں حاضرین کو سی پی ایس کی طرف سے قرآن کا انگریزی ترجمہ اور دعوتی لٹریچر دیاگیا-
14- یکم مارچ 2013 کو نئی دہلی کے اسلامک اسٹڈیز اسوسی ایشن (ISA) سے وابستہ 6 مسیحی علما صدراسلامی مرکز سے ملاقات کے لیے آئے- اس کے نمائندہ وکٹر ایڈون (Victor Edwin SJ) تھے- گفتگو کا موضوع— مسلم کرسچین ڈائلاگ تھا- سوالات کے دوران موضوع کی وضاحت کی گئی ہے-
15- اسلامک اسٹڈیز اسوسی ایشن(ISA) کی طرف سے 2 مارچ 2013 کو نئی دہلی کے سینٹ زیویرس اسکول (St. Xavier's School) میں Muslim Experience of Life کے موضوع پر ایک سیمنار ہوا- اس کی دعوت پر سی پی ایس کے ممبران نے اس میں شرکت کی اور حاضرین کو قرآن کا انگریزی ترجمہ دیا- مز ماریہ خان نے سی پی ایس کی نمائندگی کرتے ہوئےیہاں موضوع پر انگریزی زبان میں ایک تقریر کی-
16- سی پی ایس کے تحت مختلف اجتماعی مقامات پر قرآن کا انگریزی ترجمہ برائے تقسیم رکھا جاتا ہے- مثلاًہوٹل اسپتال، وغیرہ- اِس سلسلے میں یکم مارچ 2013 کو نئی دہلی کے راجیو گاندھی کینسر انسٹی ٹیوٹ اینڈ رسرچ سنٹر میں قرآن کا انگریزی ترجمہ رکھاگیا- لوگ یہاں سے بخوشی اس کو حاصل کررہے ہیں-
17- مُکل اکیڈمی (سہارن پور) میں 6 مارچ 2013 کو نیشنل میڈیکل کالج کے تعاون سے ایک سیمنار ہوا- اِس کا موضوع تھا — پیغمبر اسلام: ایک آدرش چرتر- اِس میں 40 کالج کے اسٹوڈنٹس کو شریک کیا گیا- اِس کی دعوت پر سہارن پور کے ساتھیوں کی ٹیم نے اِس پروگرام میں شرکت کی اور سیرتِ رسول کے مذکورہ موضوع پر اظہار خیا ل کیا- یہاں حاضرین کو مطالعے کے لیے دعوتی لٹریچر دیا گیا-
18- نئی دہلی کی انڈین کاؤنسل فار کلچرل ریلیشنس (ICCR) کی طرف سے 9مارچ 2013 کو انڈیا انٹرنیشنل سنٹر (نئی دہلی) کے ملٹی پرپز ہال میں ایک انٹرفیتھ کانفرنس ہوئی- اِس کا موضوع یہ تھا:
On World Religions: Diversity, Not Dissension
اس کی دعوت پر صدر اسلامی مرکز نے اس میں شرکت کی- یہ ایک پینل ڈسکشن تھا جس میں صدر اسلامی مرکز کے علاوہ، ایچ ایچ دلائی لاما، ریویرینڈ ٹوٹو(Mpho Tutu) اور ڈاکٹر کرن سنگھ شریک تھے- یہاں صدر اسلامی مرکز نے اپنے خطاب اور سوالات کے دوران اسلام کے مختلف پہلوؤں کی وضاحت کی- خطاب کے بعد لوگوں نے صدر اسلامی مرکز سے مل کر کہا کہ آپ کی بات سن کر ہم کو قرآن سے دلچسپی پیدا ہوگئی ہے- اب ہم ضرور قرآن کا مطالعہ کریں گے- اِس موقع پر دعوہ فیلڈ ٹیم (DFT) کی طرف سے لوگوں کو قرآن کا انگریزی ترجمہ اور دعوتی لٹریچر دیاگیا-
19- گاندھی میدان (پٹنہ، بہار) میں 24-13 مارچ 2013 کو ایک بک فیر ہوا- اِس میں نئی دہلی سے گڈورڈبکس نے شرکت کی- اسٹال کا انتظام شاہ عمران حسن نے سنبھالا- اِس کے علاوہ، ہمارے کئی مقامی ساتھیوں نے یہاں اپنا تعاون دیا- انھوں نے وزٹرس سے مل کر اُن سے مشن کو متعارف کیا اور ان کو دعوتی پمفلٹس دئے-
20- افریقی جزیرہ ماریشش (Mauritius) کے سوامی وویکانند انٹرنیشنل کنونشن سینٹر (Les Pailles) میں 7-10 مارچ 2013 کے دوران ایک انٹرنیشنل بک فیر ہوا- اِس میں گڈ ورڈ بکس نے شرکت کی- اسٹال پر کافی لوگوں نے وزٹ کیا اور دعوتی لٹریچر حاصل کیا- خاص طورپر وزٹ کے دوران ماریشش کے وزیر اعظم مسٹر نوین رام غلام (Navin Ramgoolam) کو قرآن کا انگریزی ترجمہ دیاگیا- اسٹال کا انتظام مسٹر ممتاز راجہ نے سنبھالا-
21- نیوز ایکسپریس ٹی وی (نوئڈا)کے نمائندہ مسٹر راشد احمد خان نے 11 مارچ 2013 کو صدر اسلامی مرکز کا ایک ویڈیو انٹرویو ریکارڈ کیا- انٹرویو کا موضوع یہ تھا — مائنارٹی افیرس (Minority Affairs) -
22- انڈیا اور انڈیا سے باہر کے دوسرے مقامات کی طرح سہارن پور (یوپی) میں ہمارے ساتھی مسلسل طورپر دعوہ ورک کررہے ہیں- مثلاً سہارن پور کے تین ٹی وی چینل پر ہمارے ساتھیوں نے ایک اشتہار دیاہے جس میں بتایا گیا ہے کہ اُن کے مقامی سنٹر(پیس ہال) سے اردو، ہندی اور انگریزی ترجمہ قرآن مفت حاصل کیا جائے- اِس کی وجہ سے روزانہ لوگ رابطہ کرکے یہاں سے قرآن کے تراجم حاصل کررہے ہیں-
23- دعوتی لٹریچر اور الرسالہ مشن سے متعلق قارئین کے چند تاثرات یہاں درج کیے جاتے ہیں:
الرسالہ کے مطالعہ سے میری ذاتی زندگی میں بے حد مثبت تبدیلی آئی ہے- یہ کہنا درست ہے کہ الرسالہ نے مجھے زندگی کی حقیقتوں کو پہچاننے اور ان کا حوصلہ مندی کے ساتھ سامنا کرنے کی سمجھ دی ہے- میں نے ہمیشہ اپنے اطراف خواتین کو ایک دوسرے کی برائی، غیبت، چغلی اور ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کے سطحی مشغلوںمیں مصروف دیکھا ہے- خواہ وہ گھریلو خواتین ہوں یا تعلیم یافتہ اور working women -الرسالہ کے مطالعہ سے الحمد للہ میں اِس قابل ہوئی کہ میری فکری سطح ان ساری باتوں سے اوپر اٹھ چکی ہے-ایک عورت کا مقصدِ حیات کیا ہے، یہ میں نے الرسالہ کی تحریروں میں پایا ہے- الرسالہ نے مجھے یہ سمجھ دی کہ کسی کے منفی عمل کا جواب دے کر ہم اللہ کی نصرت سے محروم ہوجاتے ہیں، کیوں کہ جب ہم ردّ عمل نہ کریں تو اللہ کے فرشتے ہماری طرف سے اس کا جواب دیتے ہیں، اور بلاشبہہ اس سے بڑی کوئی بات نہیں ہوسکتی-الرسالہ مشن ایک خاتونِ خانہ کے لیے بھی اتنا ہی مفید ہے جتنا کہ ایک مرد کے لیے- ازدواجی زندگی کے لیے مولانا نے ایک نصیحت کی تھی، وہ ہےیک طرفہ ایڈجسٹ مینٹ- یہ صد فی صد صحیح فارمولا ہے ایک اجنبی ماحول نیز اجنبی افراد کے دل میں جگہ بنانے کا- الرسالہ کے مضامین اور ’’نکاح اور کامیاب ازدواجی زندگی‘‘ (خاندانی زندگی) پڑھنے سے الحمد للہ میں تیار ذہن کے ساتھ ازدواجی زندگی شروع کرسکی ہوں، ورنہ منفی ذہنیت اور شکایت میری ذات کا حصہتھی- ایسانہیں ہے کہ ناخوش گوار بات پیش نہ آتی ہو، زندگی میں ہر دن ایک ناموافق اور ناخوش گوار بات پیش آتی ہے، لیکن الرسالہ کی تربیت نے مجھے ان مسائل کو چیلنج سمجھنے کی صلاحیت دی ہے- الرسالہ نے حقیقت پسندانہ انداز میں اجتماعی زندگی گزارنے کے اصول سکھائے ہیں- ماں باپ، بھائی بہن کے برتاؤ سے لے کر سُسرالی رشتہ دار، شوہر، نیز بچوں کی تربیت وغیرہ تک ہر موڑ پر الرسالہ کے مضامین بے حد کار آمد ہیں- ضرورت صرف سنجیدگی کے ساتھ اور کھلے ذہن سے پڑھنے کی اور ان اصولوں کو اپنی روز مرّہ کی زندگی میں اختیار کرنے کی ہے- اِسی کے ساتھ خود احتسابی کی اشد ضرورت ہے- اللہ کے فضل سے میں نے یہ طے کیا ہے کہ میں اپنے گھر کو ’’بگاڑ کا کارخانہ‘‘ بننے نہیں دوں گی ،ان شاء اللہ - (اے ایم بشری، حیدرآباد، انڈیا)
— Dear Maulana, I was getting astray, Allah saved me through you, thanks a lot. After reading about the Prophet and the Life of the Prophet, I was very satisfied with his life and he impressed me the most. I met a person who is a regular reader of Al Risala in my college, I talked to him many times and saw him talking wisdom and he was behaving very much well. I thought to read Al Risala but was not able to. Even I recieved first copy of Al Risala in 2011 through a person of my town, but I was not reading. I read Al-Risala many times and thanked Allah so much. I got answer to my questions. I got what I was seeking from many years. It removed my misconceptions and guided me in many matters. Now I’m a regular reader of Al-Risala. I read it 30 times every month. (Faheem Khan, J&K)
— Dear Maulana, please allow me this opportunity to express my sincerest thanks for your important work. Writing to you from the northernmost university town of Umeå, Sweden, I am currently working on a PhD dissertation on Islamic nonviolence. Since I find your work crucial for any in-depth study of the field, a selection of your works will be an important addition to the chapter describing Islamic non-violent thinking and theology. Also, for this reason I would very much like to come to India in order to gain a deeper understanding of the context of your work and hopefully also conduct a formal interview with yourself for the purposes of my research. With hopes that you will find the idea of a Swedish dissertation on Islamic nonviolence somewhat interesting and most of all that you will agree to a meeting at your convenience and share your thinking with a Swedish audience.
(Mattias Dahlkvist, Umeå University, Sweden)
واپس اوپر جائیں

Monday, 1 April 2013

Al Risala | April 2013 (الرسالہ،اپریل)

2

-اسلام کی دریافت

20

- ہدایت اور اظہارِ دین

27

- دعوہ ایکٹوزم


اسلام کی دریافت

قرآن کی سورہ المائدہ میں ایک آیت ہے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کے دورِ آخر میں نازل ہوئی- اس کا ایک حصہ یہ ہے: اَلْیَوْمَ یَىِٕسَ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا مِنْ دِیْنِکُمْ فَلَا تَخْشَوْہُمْ وَاخْشَوْنِ ۭ اَلْیَوْمَ اَکْمَلْتُ لَکُمْ دِیْنَکُمْ وَاَتْمَمْتُ عَلَیْکُمْ نِعْمَتِیْ وَرَضِیْتُ لَکُمُ الْاِسْلَامَ دِیْنًا(5:3) یعنی آج منکر تمھارے دین کی طرف سے مایوس ہوگئے، پس تم ان سے نہ ڈرو، صرف مجھ سے ڈرو- آج میں نے تمھارے لیے تمھارے دین کو کامل کردیا اور تم پر اپنی نعمت تمام کردی اور تمھارے لیے اسلام کو دین کی حیثیت سے پسند کرلیا-
قرآن کی اِس آیت میں اکمالِ دین یا تکمیلِ دین (completion of religion) سے مراد فہرستِ احکام کی تکمیل نہیں ہے اور نہ اس کا مطلب یہ ہے کہ اب اسلام حکومتی معنوں میںغالب ہوگیا ہے- اِس کا مطلب صرف یہ ہے کہ اسلام کی راہ کے موانع (obstacles) ختم ہوگئے- خود آیت کے الفاظ سے اسی مفہوم کی تائید ہوتی ہے- کیوں کہ آیت میں اکمالِ دین کا مطلب یہ بتایا گیاہے کہ اب خشیتِ انسانی (human fear) کا دور ختم ہوگیا- اب خدا کے دین کے حق میں ایسے اسباب جمع ہوگئے ہیں جو اُس کو اِس سے محفوظ کردیتے ہیں کہ وہ ماضی کی طرح انسانی رکاوٹوں اور مذہبی جبرکا شکار بنے-
قرآن سے معلوم ہوتا ہے کہ قدیم زمانے میں ہزاروں سال کے درمیان مسلسل پیغمبر آتے رہے (23:44) - مگر جیسا کہ معلوم ہے، کسی بھی پیغمبر کی تعلیمات محفوظ نہ رہ سکیں، حتی کہ اِن پیغمبروں کا مدوّن تاریخ (recorded history) میں کوئی ریفرنس بھی موجود نہیں- اِس کا سبب یہ تھا کہ پیغمبروں کے مشن کو محفوظ رکھنے کے لیے جو تائیدی عناصر (supporting elements) درکار تھے، وہ ان کو حاصل نہ ہوسکے- پیغمبر آخر الزماں محمد بن عبد اللہ بن عبد المطلب کے ساتھ اللہ تعالی نے اِن تائیدات کو جمع کردیا- اِس طرح یہ ممکن ہوا کہ آپ کی تعلیمات ابدی طورپر محفوظ ہوجائیں- قرآن کی مذکورہ آیت میں اِسی معاملے کو اِن الفاظ میں بیان فرمایا کہ اب خدا کا دین خشیتِ انسانی کے دور سے باہرآگیا ہے-
پچھلے پیغمبروں کی تعلیمات کے محفوظ نہ ہونے کا سبب کیا تھا، اس کا سبب یہ تھا کہ حفاظت کا یہ کام اسباب کے ذریعے ہوسکتا تھا- مگر پچھلے پیغمبروں کے ساتھ یہ اسباب جمع نہیں ہوئے- مثلاً کسی پیغمبر کا کام یا تو شخصی اعلان تک محدود رہا، یا یہ ہوا کہ صرف چند افراد اُن کا ساتھ دینے والے بنے، اور صرف چند افراد حفاظتِ دین کے لیے کافی نہیں- اللہ تعالی نے پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے مشن کے ساتھ ایک خصوصی معاملہ یہ کیا کہ پیشگی طورپر ایک موافق نسل تیار کی- نسل سازی کا یہ کام حضرت ابراہیم اور حضرت ہاجرہ اور حضرت اسماعیل کے ذریعے عرب کے صحرا میں کیا گیا-
عرب کے صحرا میں نسل سازی کا یہ مشن تقریباً ڈھائی ہزار سال تک چلتا رہا، اس کے بعد ایک نئی نسل تیار ہوئی جس کو بنو اسماعیل کہا جاتا ہے- اِسی نسل میں 570 عیسوی میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم پیداہوئے- اِس نسل کے درمیان آپ نے پیغمبر کی حیثیت سے تقریباً 23 سال تک کام کیا- ان میں سے عورتوں اور مردوں کی ایک بڑی تعداد آپ کے دین میں داخل ہوگئی- اِس طرح وہ گروہ بنا جس کو اصحاب کہاجاتا ہے- ایک اندازے کے مطابق، اصحابِ رسول (عورت اور مرد) کی تعداد تقریباً 2 لاکھ تھی- اصحابِ رسول کی اِسی جماعت کے ذریعے وہ موافق اسباب فراہم ہوئے جن کو ہم نے تائیدی عناصر (supporting elements) کا نام دیا ہے-
اصحابِ رسول کا رول
اصحابِ رسول کی یہی جماعت ہے جس نے پہلی بار اِس کو ممکن بنایا کہ خدا کے دین کا ایک محفوظ ایڈیشن تیار ہوگیا- اِس سلسلے میں اصحابِ رسول کے رول کے مختلف پہلو ہیں- اِس کا ایک پہلو یہ ہے کہ پہلی بار یہ ممکن ہوا کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی شخصیت ایک تاریخی شخصیت بن جائے- قدیم دور میں جو پیغمبر آئے، اُن کی تعداد روایات میں تقریباً ایک لاکھ 24 ہزار بتائی گئی ہے، لیکن معروف تاریخی معیار کے مطابق، اِن میں سے کسی بھی پیغمبر کی حیثیت ’’تاریخی پیغمبر‘‘ کی نہیں ہے، حتى کہ حضرت مسیح جو پیغمبر اسلام سے قریب تر زمانے میں آئے، ان کے بارے میں بھی برٹرینڈ رسل (وفات: 1970) نے لکھا ہے کہ — تاریخی طورپر یہ امر سخت مشتبہ ہے کہ مسیح کا کبھی وجود بھی تھا:
Historically, it is quite doubtful whether Christ ever existed at all. (Why I Am Not A Christian, 1967, Touchstone, UK, p. 266)
تاریخ میں پیغمبروں کا اندراج نہ ہونے کا سبب کیا تھا- اِس کا سبب تاریخ نگاری کا قدیم ذوق تھا- ابن خلدون (وفات: 1406) سے پہلے ، تاریخ کو بادشاہوں کی تاریخ کے ہم معنی سمجھا جاتا تھا- قدیم پیغمبروں کے ساتھ چوں کہ حکومت اور سیاست کے واقعات جمع نہیں ہوئے، اِس لیے ان کو تاریخی طورپر ناقابلِ ذکر سمجھ لیا گیا-
اِس صورتِ حال کو ختم کرنے کے لیے اللہ تعالی نے گویا مورخین (historians) کی ایک نئی نسل (generation) تیار کی- یہ صحابہ اور تابعین تھے جنھوںنے اِس معاملے میں عملاً وہ رول انجام دیا جس کو اِس سے پہلے پروفیشنل مورخین انجام دیتے تھے- صحابہ اور تابعین نے پیغمبر اسلام اور آپ کی تعلیمات سے متعلق تمام واقعات کا مستند ریکارڈ تیار کیا، پہلے حافظے کی صورت میں اور پھرتحریر کی صورت میں- یہی وہ محفوظ ریکارڈ ہے جس کو آج قرآن اور حدیث اور سیرت کے نام سے جانا جاتا ہے-
یہ ریکارڈ پہلے صحابہ کے ذریعے تیار ہوا، پھر تابعین اور تبع تابعین کے ذریعے اس کا تسلسل جاری رہا- اِسی طرح امت کی بعد کی نسلوں نے اِس کام کی تدوین میں مزید کارنامے انجام دیے- یہ سلسلہ چلتا رہا، یہاںتک کہ اٹھارھویں صدی عیسوی میں پریس کا دور آگیا- اب پیغمبر اسلام اور آپ کے متعلق تمام معلومات کا تاریخی ریکارڈ مطبوعہ کتابوں کی صورت میں محفوظ ہوگیا- اِس طرح ایسا ہوا کہ پیغمبر اسلام کو استثنائی طورپر ایک مستند تاریخی پیغمبر کا درجہ حاصل ہوگیا-
پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی اِس حیثیت کا اعتراف خود سیکولر مورخین نے کھلے طورپر کیا ہے- مثال کے طورپر فرانسیسی مستشرق ارنسٹ ریناں (Joseph Ernest Renan)جس کی وفات 1892 میں ہوئی، اس نے 1851 میں ایک مقالہ شائع کیا- اس کا عنوان یہ تھا:
Muhammad and the Origins of Islam.
اِس مقالے میں ارنسٹ ر یناں نے پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی تاریخی حیثیت کا کھلا اعتراف کرتےہوئے لکھا تھا کہ— بڑے مذاہب کے دوسرے بانیوں کے برعکس، پیغمبر محمد واحد شخص ہیں جوکہ تاریخ کی کامل روشنی میں پیدا ہوئے:
Unlike the other founders of major religions, the Prophet Muhammad was born in the full light of history.
پیغمبر اسلام کا مشن
پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کا خصوصی مشن کیا تھا، اس کو قرآن کی دو آیتوں میں اِس طرح بیان کیا گیاہے: یُرِیْدُوْنَ لِیُطْفِــــُٔـوْا نُوْرَ اللّٰہِ بِاَفْوَاہِہِمْ ۭ وَاللّٰہُ مُتِمُّ نُوْرِہٖ وَلَوْ کَرِہَ الْکٰفِرُوْنَ، ہُوَ الَّذِیْٓ اَرْسَلَ رَسُوْلَہٗ بِالْہُدٰى وَدِیْنِ الْحَقِّ لِیُظْہِرَہٗ عَلَی الدِّیْنِ کُلِّہٖ ۙ وَلَوْ کَرِہَ الْمُشْرِکُوْنَ (61:8-9) یعنی وہ چاہتے ہیں کہ وہ اللہ کے نور کو اپنی پھونک سے بجھا دیں، حالاں کہ اللہ اپنے نور کو ضرور مکمل کرے گا، خواہ منکروں کو یہ کتنا ہی ناگوار ہو- اللہ ہی نے اپنے رسول کو بھیجا ہے ہدایت اور دینِ حق کے ساتھ، تاکہ وہ اس کو تمام دین پر غالب کردے، خواہ یہ مشرکوںکو کتنا ہی ناگوار ہو-
قرآن کی اِن آیتوں میں دولفظ استعمال کیے گئے ہیں: ہدى اور دین- اِسی کے ساتھ اِن میں دو اور لفظ استعمال کیے گئے ہیں: اتمام اور اظہار- غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ اتمام کا تعلق ہدى سے ہے اور اظہار کا تعلق دین سے- اِس میں دراصل اللہ کے دو مطلوب کا ذکر ہے- ایک ہے، نورِ ہدایت کا اتمام، اور دوسرا ہے، دین خداوندی کا اظہار وغلبہ-
نورِ ہدایت کیا ہے، وہ اصلاً دو چیزوں کے مجموعے کا نام ہے- یہ دوچیزیں قرآن اور سنتِ رسول ہیں- قرآن، اللہ کے دین کا نظریاتی متن(ideological text) ہے- اللہ تعالی کو یہ مطلوب تھا کہ قرآن کا مستند ہدایت نامہ اپنی کامل صورت میں محفوظ ہوجائے، تاکہ قیامت تک کے انسانوں کے لیے وہ خدائی ہدایت کو جاننے کا مستندذریعہ ہو- اِس مطلوب الہی کو قرآن میں اِن الفاظ میں بیان کیاگیا ہے:اِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّکْرَ وَاِنَّا لَہٗ لَحٰفِظُوْنَ (15:9) یعنی قرآن کو ہم نے اتارا ہے اور ہم ہی اس کی حفاظت کرنے والے ہیں-
قرآن کی حفاظت مکمل طورپر ایک پرامن کام تھا- اللہ تعالی نے ایسے اسباب پیدا کیے کہ قرآن کامل طورپر ایک محفوظ کتاب بن جائے، تاکہ وہ قیامت تک پیدا ہونے والے تمام انسانوں کے لیے خدا کی ہدایت کو معلوم کرنے کا مستند ماخذ بن سکے- یہ کام مکمل طورپر انجام پاگیا- اِسی کا یہ نتیجہ ہے کہ آج پریس کے دورمیں قرآن کے چھپے ہوئے نسخے تمام دنیا میں اس طرح موجود ہیں کہ ہر عورت اور مرد جب چاہے، اس کو حاصل کرسکے-
حفاظتِ قرآن کے اِس واقعے کا اعتراف سیکولر محققین نے بھی کھلے طورپر کیا ہے- مثال کے طورپر اسکاٹش مستشرق سر ولیم میور (Sir W. Muir)جس کی وفات 1905 میں ہوئی، اس نے قرآن کی بابت لکھا ہے کہ — غالباً دنیا میں کوئی دوسری کتاب ایسی موجود نہیں جو کہ 12 صدیوں تک اپنی کامل حفاظت کو برقرار رکھے:
There is probably, in the world, no book which has remained for 12 centuries with so pure a text.
(The Life of Muhammad from Original Sources, p. xxiii)
قرآن کے بعد، خدا کے نورِ ہدایت کا دوسرا جز وہ ہے جس کو قرآن میں پیغمبر خدا کا اسوہ حسنہ (33:21) کہاگیا ہے، یعنی عملی اعتبار سے خدا پرستانہ زندگی گزارنے کا مستند نمونہ - پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی ایک پُرازواقعات زندگی (eventful life) تھی- آپ کی زندگی میں ہر طرح کے حالات پیش آئے-آپ نے ہر صورت حال میں خدا پرستانہ زندگی کا عملی نمونہ قائم کیا- آپ کے اِس اعلی نمونے کو قرآن میں خلقِ عظیم (68:4) کے الفاظ میں بیان کیاگیا ہے- پیغمبراسلام کی زندگی کے یہ نمونے حدیث اور سیرت کی کتابوں میں تفصیل کے ساتھ موجود ہیں-
اسلام کا یہ پہلو اتنا زیادہ واضح ہے کہ سیکولر مورخین نے بھی کھلے طورپر اس کا اعتراف کیا ہے- اس کی ایک مثال برٹش اسکالر ڈیوڈ جارج ہاگرتھ(David George Hogarth) ہے، جس کی وفات 1927 میں ہوئی- اس نے اپنی ایک کتاب میں پیغمبر اسلام کے بارے میں لکھا ہے کہ — پیغمبر اسلام کا روز مرہ کا سلوک خواہ وہ چھوٹا ہو یا بڑا، اس نے ایسی حیثیت اختیار کرلی جس کی اب تک لاکھوں لوگ اہتمام کے ساتھ پیروی کررہے ہیں- انسانی نسل کے کسی طبقے کا کوئی آدمی یہ درجہ حاصل نہ کرسکا کہ ایک معیاری انسان کی حیثیت سے اِس طرح اس کا کامل اتباع کیا جائے:
Serious or trivial, his daily behaviour has instituted a course which millions observe at this day with conscious mimicry. No one regarded by any section of the human race as perfect man has been imitated so minutely. (Arabia, p. 52)
ہُدى سے مراد نظریاتی ماڈل ہے- خدا کی ہدایت کا یہ نظریاتی ماڈل قرآن اور سنتِ رسول کی شکل میں مستند طور پر محفوظ ہوگیا ہے- یہ نظریاتی ماڈل اب ہمیشہ کے لیے پیغمبر کا بدل ہے-
اظہارِ دین
قرآن کی مذکورہ آیتوں میں دو چیزوں کا ذکر ہے — ہدی اور دین- دونوں کی حیثیت ایسے مطلوب کی ہے جن کو پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے مشن کے ذریعے حاصل کرنا مقدر تھا- لیکن آیت کے الفاظ پر غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ دونوں کا معاملہ ایک دوسرے سے مختلف ہے- ہدی سے مراد ایک نظریاتی مطلوب ہے، اور دین سے مراد ایک عملی مطلوب- جب قرآن کا متن محفوظ ہوگیا اور پیغمبر اسلام کا ماڈل حدیث اور سیرت کی کتابوںکے ذریعے مستند طورپر مدوّن ہوگیا تو اس کے بعد وہ مطلوب آخری طور پر حاصل ہوگیا جس کو آیت میں ہدى کے لفظ میں بیان کیاگیا تھا- اللہ نے اپنے پیغمبر کے ذریعے سے اپنی ہدایت کا مستند ماخذ تیار کردیا- اب یہ انسان کا کام ہے کہ وہ اِس خدائی ماخذ سے اپنے لیے ہدایت حاصل کرتا ہے یا ہدایت حاصل نہیں کرتا-
اظہارِ دین کا معاملہ اِس سے مختلف ہے- اِس معاملے میں اظہار، یعنی غلبہ مطلوب ہے، نہ کہ صرف نظریاتی معیار کا وجود میں آنا- اِس لیے اظہارِ دین سے ایک ایسا مطلوب مراد لیاجائے گا جو بالفعل وقوع میں آیا- بالفعل وقوع میں آنے سے کم درجے کی کوئی چیز اس کی تفسیر نہیں بن سکتی- اِس آیت میں اظہارِ دین سے حکومتی نظام یا قانونی نظام مراد نہیں لیاجاسکتا- اِس لیے کہ تاریخی طور پر یہ بات ثابت ہے کہ پیغمبر اسلام کے زمانے میں یا آپ کے بعد کامل معنوں میں ایسا کوئی نظام نہیں بنا اور نہ بن سکتا ہے، اِس لیے کہ اِس دنیا کو اللہ تعالی نے انسانی آزادی کے اصول پر بنایا ہے (فَمَنْ شَآءَ فَلْیُؤْمِنْ وَمَنْ شَآءَ فَلْیَکْفُرْ)- ایسی حالت میں یہ ممکن ہی نہیں کہ یہاں معیاری معنوں میں کوئی کامل نظام بنایا جاسکے- امتحان کی مصلحت کے تحت دی ہوئی انسانی آزادی اِس طرح کے معیاری نظام کو قائم کرنے میں حتمی طورپر مانع ہے- اِس دنیا میں جب آئڈیل کا حصول ممکن نہیں تو آئڈیل کے حصول کو نشانہ بنانا بھی درست نہیں ہوسکتا-
ایسی حالت میں، اظہارِ دین کی آیت میں دین کے اظہار کی ایسی تفسیر کرنی پڑے گی جو عملی طورپر وقوع میں آئی ہو- اِس اعتبار سے غور کرتے ہوئے معلوم ہوتا ہے کہ اِس آیت میں دین سے مراد شرعی دین نہیں ہے، بلکہ فطری دین ہے، اور اظہارِ دین کا مطلب ہے انسانی زندگی میں خدا کے تخلیقی نقشے کے مطابق، حالتِ فطری کا قائم ہوجانا- دین کا یہ مفہوم قرآن کی ایک اور آیت میں موجود ہے- اس کے الفاظ یہ ہیں:اَفَغَیْرَ دِیْنِ اللّٰہِ یَبْغُوْنَ وَلَہٗٓ اَسْلَمَ مَنْ فِی السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ طَوْعًا وَّکَرْھًا وَّاِلَیْہِ یُرْجَعُوْنَ (3:83)- اِس آیت میں دین سے مراد دینِ شرعی نہیں ہے، بلکہ دینِ فطری ہے، یعنی وہ دین جس پر تمام کائنات بالفعل قائم ہے-یہ دین فطری کیا ہے، وہ قرآن کی اِس آیت کے مطالعے سے معلوم ہوتا ہے: الَّذِیْ خَلَقَ الْمَوْتَ وَالْحَیٰوةَ لِیَبْلُوَکُمْ اَیُّکُمْ اَحْسَنُ عَمَلًا ۭوَہُوَ الْعَزِیْزُ الْغَفُوْرُ(67:2) یعنی اللہ نے موت اور زندگی کو پیدا کیا، تاکہ وہ تم کو جانچے کہ تم میں سےکون اچھا کام کرتا ہے- اور اللہ بہت زبردست ہے، بخشنے والا ہے-
اصل یہ ہے کہ اللہ نے اپنے تخلیقی نقشے کے مطابق، انسان کو پیدا کرکے سیارہ ارض پر بسایا- انسان کو زمین پر بسانا بطور امتحان (test) تھا، تاکہ امتحانی حالات سے گزار کر احسن العمل افراد کا انتخاب کیا جائے، یعنی ایسے عورت اور مرد کا انتخاب جنھوں نے کامل آزادی کے باوجود اپنے آپ کو پوری طرح حدودِ الہی کا پابند بنایا، جنھوں نے اپنی آزادی کا غلط استعمال (misuse) نہیں کیا- یہی منتخب افراد وہ لوگ ہیں جن کو پوری تاریخ سے لے کر ابدی جنتوں میں بسایا جائے گا- زمین پر یہ آزادانہ ماحول اللہ کو لازمی طور پر مطلوب ہے- آزادی کے اِس نظام کو کوئی بھی شخص یا گروہ اگر منسوخ (abolish) کرے تو اللہ ہر گز اس کو قبول نہیں کرے گا، وہ ایسے افراد یا گروہ کا لازما خاتمہ کردے گا-
بادشاہت کے نظام کا خاتمہ
پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت 610 عیسوی میں ہوئی- اُس وقت یہ حال تھا کہ ساری دنیا میں کچھ انسانوں نے بادشاہت کا نظام قائم کردیاتھا- یہ شاہی نظام عملاً جبریت (despotism) کے ہم معنی تھا- اِس نظام نے انسانوں سے اُس آزادی کو چھین لیا تھا جو اللہ نے ان کو عطا کی تھی- یہ صورتِ حال اللہ کو مطلوب نہیں تھی، کیوں کہ وہ اللہ کے تخلیقی منصوبہ (creation plan of God) کی منسوخی کے ہم معنی تھا- اللہ تعالی نے پیغمبر اسلام اور آپ کے اصحاب کو حکم دیا کہ وہ اِس جابرانہ نظام سے ٹکرا کر اس کو ختم کردیں، تاکہ دنیا میں دوبارہ اللہ کی مطلوب حالتِ فطری قائم ہوجائے-
پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت ہوئی تو اُس زمانے میں ایک طرف عرب میں ملکی سطح پر قبائلی نظام تھا- اِس قبائلی نظام نے بھی عملاً انسانی آزادی کو ختم کررکھا تھا- اِس صورتِ حال کا اشارہ قرآن کی مختلف آیتوں میں کیاگیا ہے- مثلاً: اَرَءَیْتَ الَّذِیْ یَنْہٰى عَبْدًا اِذَا صَلّٰى (96:9) یعنی کیا تم نے دیکھا اُس شخص کو جو منع کرتا ہے، ایک بندے کو جب کہ وہ نماز پڑھتا ہو-
پیغمبر اور اصحاب پیغمبر کا پہلا ٹکراؤ اس قبائلی نظام سے ہوا-اِس کے نتیجے میںمحدود نوعیت کی کچھ جنگیں (limited wars) پیش آئیں- آخر کار8ہجری میں مکہ فتح ہوا، جو عرب کے قبائلی نظام کا مرکز تھا- فتح مکہ کے بعد سارے عرب میں قبائل کا زور ٹوٹ گیا اور آزادی کی حالت قائم ہوگئی-فتح مکہ کے بعد اصحاب رسول کو غلبہ حاصل ہوگیا- اِس غلبہ کا مرکز مدینہ تھا- یہ غلبہ اپنی حقیقت کے اعتبار سے حکومت قائم ہونے کے ہم معنی نہ تھا، بلکہ وہ صرف یہ تھا کہ انتظامیہ (administration) قبائلی سرداروں کے ہاتھ سے نکل کر اصحابِ رسول کے ہاتھ میں آگیا-
اِس اعتبار سے دوسرا مسئلہ یہ تھا کہ عرب کے باہر اُس وقت دو بڑی شہنشاہتیں (empires) قائم تھیں — ایک، ساسانی ایمپائر(Sassanid empire) اور دوسرے، بازنتینی ایمپائر (Byzantine empire) - ساسانی ایمپائر کا دار السلطنت عراق کا قدیم شہر ساسانیان (Ctesiphon) تھا اور بازنتینی ایمپائر کا دار السلطنت ترکی کا شہر قسطنطنیہ (Constantinople) تھا- ساسانی ایمپائر دراصل اُس وقت کے رومن ایمپائر کا مشرقی بازو (eastern wing) تھا- یہ دونوں ایمپائر عرب کے قریب واقع تھے اور وہ اُس وقت کی دنیا میں بادشاہت پر مبنی جبری نظام کے نمائندے بنے ہوئے تھے- اِن دونوں ایمپائر نے اللہ کی دی ہوئی آزادی کو عملاً منسوخ کر رکھا تھا، جو کہ اللہ کو کسی حال میں مطلوب نہ تھا- بازنتینی سلطنت کا اقتدار 15 ملکوں پر تھا- اس کا خاتمہ 678 عیسوی میں ہوا- اور ساسانی سلطنت کا اقتدار 13 ملکوں پر تھا- اس کا خاتمہ 651 عیسوی میں ہوا-
پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے اِن حکمرانوں کو اپنے نمائندوں کے ذریعے خطوط بھیجے- اِس کا مقصد یہ تھا کہ حکمراںپر امن طورپر اپنے جابرانہ نظام کو ختم کرنے کے لیے تیار ہوجائیں، مگر ایسا نہ ہوسکا- ساسانی حکمراں نے آپ کے مکتوب کو اتنا حقیر سمجھا کہ اس نے اس کو پھاڑ کر پھینک دیا- اس کے بعد پیغمبر اور اصحابِ پیغمبر کا دونوں سے ٹکراؤ پیش آیا- اِس ٹکراؤ میں اللہ کی مدد پیغمبر اور اصحابِ پیغمبر کے ساتھ تھی، چناں چہ وہ پوری طرح کامیاب ہوئے-
یہ ایک عظیم تاریخی واقعہ تھا، جس نے انسانی تاریخ کے دھارے کو ہمیشہ کے لیے بدل دیا- چناں چہ اللہ نے ایک اسرائیلی پیغمبرحبقّوق کے ذریعے اس کی پیشگی خبر دے دی تھی جو موجودہ بائبل میں بدستور موجود ہے- اِس پیشگی خبر کے الفاظ یہ ہیں — وہ کھڑا ہوا اور زمین تھرا گئی- اس نے نگاہ کی اور قومیں پراگندہ ہوگئیں- ازلی پہاڑ پارہ پارہ ہوگئے- قدیم ٹیلے جھک گئے- اس کی راہیں ازلی ہیں:
He stood and measured the earth; He looked and startled the nations. And the everlasting mountains were scattered, the perpetual hills bowed. His ways are everlasting (Habakkuk 3:6)
مذکورہ بیان میں ’’وہ‘‘ سے مراد پیغمبر اسلام ہیں، اور ’’پہاڑیوں‘‘ سے مراد سیاسی پہاڑیاں ہیں، یعنی ساسانی ایمپائر اور بازنتینی ایمپائر- ’’اس کی راہیں ازلی ہیں‘‘ سے مراد ہے خدا کے دین کا ابدی طورپر محفوظ ہوجانا- بائبل کی یہ پیشین گوئی پیغمبر اسلام کے ذریعے کامل طورپر پوری ہوئی-
نئے دور کا آغاز
جبر پر مبنی مذکورہ دونوں سیاسی ایمپائر کا خاتمہ ساتویں صدی عیسوی میں ہوا- یہ دونوں ایمپائر آزادانہ ترقی کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ بنے ہوئے تھے- جب یہ دونوں ایمپائر ختم ہوئے تو دنیا میں آزادی کا ایک نیا دور آیا- اِس نئے دور کے حالات نہ صرف مسلم مورخین کی کتابوں میں پائے جاتے ہیں، بلکہ سیکولر مورخین نے بھی کھلے طورپر اس کا اعتراف کیا ہے-
اِنھیں سیکولر مورخین میں سے ایک فرانسیسی مورخ ہنری پرین (Henri Pirenne) ہے، جس کی وفات 1935 میں ہوئی- ہنری پرین نے اپنے مطالعے کے نتیجے میں کھلے طورپر اِس تاریخی حقیقت کا اعتراف کیا ہے- ہنری پرین نے لکھا ہے کہ ساسانی ایمپائر اور بازنتینی ایمپائر نے دنیا میں مطلق شہنشاہیت (monarchical absolutism) کا نظام قائم کررکھاتھا- اصحابِ رسول نے اپنی غیرمعمولی قربانی کے ذریعے اِس نظام کو توڑ دیا- اِس واقعے کے نتیجے میں تاریخ میں ایک نیا دور شروع ہوا- ہنری پرین کے الفاظ میں — اسلام نے زمین کے نقشے کو بدل دیا- تاریخ کے روایتی نظام کا خاتمہ ہوگیا:
Islam changed the face of the globe. The traditional order of history was overthrown. (History of Western Europe, p. 46)
ساتویں صدی عیسوی میں جب سیاسی جبر کے نظام کا خاتمہ کیا گیا تو اس کے بعد دنیا میں ایک نیا انقلاب آیا- یہ انقلاب فوری نتیجے کے معنی میں نہ تھا، بلکہ وہ ایک پراسس (process) کی حیثیت رکھتا تھا- اِس کے بعد انسانی زندگی میں پہلی بار ایک نیا تاریخی عمل (historical process) شروع ہوا- یہ تاریخی پراسس برابر چلتا رہا، یہاںتک کہ وہ اپنے آخری نقطہ انتہا (culmination) تک پہنچ گیا- یہ آخری نقطہ انتہا وہی ہے جس کو عام طورپر مغربی تہذیب (western civilization) کہاجاتا ہے- اِس تاریخی عمل کے دو بڑے دھارے تھے — ایک، وہ جس کو جدید اصطلاح میں، جمہوریت (democracy) کہا جاسکتا ہے- اور دوسرا، وہ جس کو جدید ٹکنالوجی پر مبنی صنعت کہنا درست ہوگا-
عام طورپر مسلم علما مغربی تہذیب کے بعض ناپسندیدہ پہلو کو دیکھ کر اس کے بارے میں منفی ہوگئے ہیں، مگر یہ ناپسندیدہ پہلو دراصل مغربی تہذیب کا کلچرل پہلو ہے، وہی اصل مغربی تہذیب نہیں ہے- اصل مغربی تہذیب اپنی حقیقت کے اعتبار سے، وہی چیز ہے جس کو ہم نے خدا کے دین کے حق میں تائیدی عنصر کی حیثیت سے بیان کیا ہے-
جمہوریت کا دور
اہلِ علم کے درمیان عام طورپر یہ سمجھا جاتا ہے کہ موجودہ زمانے میں سماجی اور سیاسی نظام (socio-political system) کے اعتبار سے جو ترقیاں ہوئی ہیں، اُن سب کی بنیاد جمہوریت ہے- سمجھا جاتاہے کہ یہ دراصل انقلاب فرانس (1789) تھا جس کے بعد دنیا میں جمہوریت کادور آیا، مگر زیادہ صحیح بات یہ ہے کہ انقلا ب فرانس (French Revolution) ایک تاریخی عمل کا نقطہ انتہا تھا- یہ تاریخی عمل انقلاب فرانس سے بہت پہلے عرب میں اسلامی انقلاب کے بعد شروع ہوا-
قرآن میں اِس معاملے میں یہ اصولی حکم اِن الفاظ میں دیاگیا تھا: أَمْرُہُمْ شُوْرٰی بَیْنَہُمْ (42:38)یعنی وہ اپنا کام آپس کے مشورے سے کرتے ہیں:
Their affairs are decided by mutual consultation.
وہ چیز جس کو موجودہ زمانے میں نظام جمہوریت کہا جاتاہے، اُسی کو قرآن میں نظامِ شوری کہاگیا ہے- شورى کا یہ تصور اسلام کے اجتماعی نظام کی بنیاد ہے- پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد مسلمانوں کا جو اجتماعی نظام بنا، اس کو عام طورپر خلافت کہاجاتا ہے- اِس خلافت کا اگر دوسرا نام تجویز کرناہو تو یقیناً وہ جمہوری خلافت ہوگا-اِس معاملے کی ایک مثال خلیفہ ثانی عمر فاروق (وفات: 644ء) کا ایک واقعہ ہے- اِس واقعے کو یہاں نقل کیاجاتاہے:
’’خلیفہ دوم عمر فاروق کے زمانے میں عمروبن العاص مصر کے گورنر تھے- انھوں نے ایک بار گھوڑوں کی دوڑ کرائی- اِس دور میں گورنر کے بیٹے کا گھوڑا بھی شریک تھا، مگر جب دوڑ ہوئی تو ایک مصری (غیر مسلم) کا گھوڑا آگے بڑھ گیا- مصری نے فتح کے جوش میں کوئی ایساجملہ کہا جو گورنرکے صاحب زادے (محمد بن عمرو بن العاص) کو برا معلوم ہوا اور انھوں نے مذکورہ مصری کو کوڑے سے مار دیا- مارتے ہوئے ان کی زبان سے نکلا: خذہا وأنا ابن الأکرمین (یہ لو، اور میں شریفوں کی اولاد ہوں)- حضرت انس بن مالک اِس قصے کو بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ مذکورہ مصری اِس کے بعد مصر سے چل کر مدینہ پہنچا اور خلیفہ عمر فاروق سے شکایت کی کہ گورنر کے لڑکے نے اس طرح اس کو کوڑے سے مارا ہے- حضرت عمر نے فرمایا کہ تم یہاں ٹھہرو، اور فوراً اپنے ایک خاص آدمی کو مصر بھیجا کہ عمرو بن العاص اور ان کے بیٹے محمد بن عمرو جس حال میں ہوں، اسی حال میں ان کو لے کر مدینہ آؤ- چناں چہ وہ لوگ مدینہ لائے گئے- جب وہ مدینہ پہنچے تو خلیفہ عمر نے فرمایا: أین المصری، دونک الدرة فاضرب بہا ابنَ الأکرمین(مصری کہاں ہے- یہ کوڑا لو اور اس سے شریف زادہ کو مارو)-اس کے بعد مصری نے کوڑا لیا اور گورنر مصر کے سامنے ان کے صاحب زادہ کو مارنا شروع کیا- وہ مارتا رہا، یہاں تک کہ ان کو زخمی کردیا- خلیفہ عمر درمیان میں کہتے جاتے تھے کہ شریف زادہ کو مارو- جب وہ خوب مار چکا تو خلیفہ عمر فاروق نے کہا کہ ان کے والد عمرو بن العاص کے سر پر بھی ایک کوڑا مارو، کیوں کہ خدا کی قسم، ان کے بیٹے نے صرف اپنے باپ کی بڑائی کے زور پر تم کو مارا(فواللہ ماضربک ابنہ إلا بفضل سلطانہ)- مصری نے کہا کہ اے امیر المومنین، جس نے مجھ کو مارا تھا، اس کو میں نے مارلیا- اِس سے زیادہ کی مجھے حاجت نہیں- خلیفہ عمر نے کہا: خدا کی قسم، اگر تم ان کو بھی مارتے تو ہم تمھارے اور ان کے درمیان حائل نہ ہوتے، یہاں تک کہ تم خود ہی ان کو چھوڑ دو- پھر آپ نے عمرو بن العاص سے مخاطب ہو کر فرمایا: یا عمرو، متى استعبدتم الناس وقدولدتہم أمہاتہم أحراراً (اے عمرو، تم نے کب سے لوگوں کو غلام بنا لیا، حالاں کہ اُن کی ماؤں نے ان کو آزاد پیدا کیا تھا)‘‘- سیرة عمر بن الخطاب، علی محمد الصلاّبی (1/306)
ساتویں صدی عیسوی میں اسلامی انقلاب کے تحت پیدا ہونے والا یہ جمہوری پراسس (democratic process) تاریخ میں سفرکرتا رہا- آخری کار وہ مختلف مراحل سے گزرتے ہوئے مغربی یورپ پہنچا- خلیفہ عمر فاروق کے مذکورہ واقعے کے تقریباً 11 سو سال بعد فرانس کے جمہوری مفکر روسو (Jean Jacques Rosseau) نے اپنی مشہور کتاب سوشل کنٹریکٹ (Contract Social) 1762 میں شائع کی- اِس کتاب کا پہلا جملہ خلیفہ عمر فاروق کے قول کی بازگشت تھا- کتاب کا وہ پہلا جملہ یہ تھا — — انسان آزاد پیدا ہوا تھا، لیکن میں اس کو زنجیروں میں جکڑا ہوا دیکھتا ہوں:
Man was born free, but I see him in chains.
پیغمبر اسلام کی وفات کے تقریباً 30 سال بعد ایسے حالات پیدا ہوئے کہ شورائی خلافت اپنے ڈھانچے کے اعتبار سے، ایک خاندانی خلافت بن گئی، لیکن اسلامی انقلاب کے اثرات اتنے گہرے تھے کہ اِس ظاہری تبدیلی کے باوجود خلافت کا جمہوری مزاج بدستور باقی رہا- اِس معاملے کی بہت سی مثالیں تاریخ کی کتابوں میں موجود ہیں- بطور مثال یہاں ایک واقعہ نقل کیا جاتا ہے-
ہارون رشید کا ایک واقعہ
ہارون رشید عباسی دور کا پانچواں خلیفہ ہے- وہ 766 میں پیدا ہوا اور 809 میں اس کی وفات ہوئی- اس کا ایک واقعہ اِن الفاظ میں نقل کیاگیا ہے: وذُکر أن یہودیاً کانت لہ حاجة عندہارون الرشید، فاختلف إلى بابہ سنةً ، فلم یقض حاجتہ، فوقف یوماً على الباب- فلما خرج ہارون سعى حتى وقف بین یدیہ وقال: اتق اللہ یا أمیر المؤمنین، فنزل ہارون عن دابتہ وخرّ ساجداً- فلما رفع راسہ أمر بحاجتہ فقضیت- فلما رجع قیل لہ: یا أمیر المؤمنین، نزلت عن دابتک لقول یہودیّ- قال: لا، ولکن تذکرتُ قولَ اللہ تعالى: وإذا قیل لہ اتق اللہ أخذتہ العزة بالإثم، فحسبہ جہنم، ولبئس المہاد- (تفسیر القرطبی، 19/3 ) یعنی کہا جاتا ہے کہ ایک یہودی تھا جس کو ہارون رشید سے ایک کام تھا- وہ شخص اِس کام کے لیے خلیفہ کے دروازے پر ایک سال تک جاتا رہا، مگر خلیفہ نے اس کی ضرورت پوری نہ کی، پھر ایک دن وہ یہودی، خلیفہ کے دروازے پر کھڑا ہوگیا- جب ہارون رشید باہر نکلا تو وہ شخص تیزی سے آکر خلیفہ کے سامنے کھڑا ہوگیا، اور کہا— اے امیر المومنین، اللہ سے ڈرئیے- یہ سن کر ہارون رشید اپنی سواری سے اترا اور سجدے میں گر پڑا- پھر ہارون رشید نے سجدے سے سراٹھایا اور اس نے حکم دیا اور یہودی کی ضرورت پوری کردی گئی- پھر جب ہارون رشید لوٹا تو اس سے کہا گیا کہ اے امیر المومنین، کیا آپ ایک یہودی کے قول پر اپنی سواری سے اتر گئے- ہارون رشید نے کہا کہ نہیں، بلکہ مجھے اللہ تعالی کا یہ قول یاد آیا: وإذا قیل لہ اتق الّلہ أخذتہ العزة بالإثم فحسبہ جہنم، ولبئس المہاد (2:206)
ساتویں صدی عیسوی میں اسلامی انقلاب آیا، اس کے بعد تاریخ میں جو پراسس جاری ہوا، اس کا دوسرا پہلو وہ تھا جس کو ہم نے جدید ٹکنالوجی پر مبنی صنعت کہا ہے- یہ دوسرا پراسس خاص طورپر عباسی عہد (750-1258)میں بغداد میں شروع ہوا، پھروہ مختلف مراحل سے گزرتا ہوا اسپین پہنچا- اسپین میں اس نے غیر معمولی ترقی حاصل کی- اسپین کی مسلم خلافت 711 میں شروع ہوئی اور 1492میں ختم ہوئی- اِس مدت میں جو سائنسی ترقیاں ہوئیں، وہی مغرب کے صنعتی انقلاب کی بنیاد بنیں- مسلم خلافت کے زمانے میں سائنس میں جو ترقی ہوئی، اس کے بغیر مغرب میں سائنس کی ترقی ممکن نہ ہوتی- مورخین نے اس واقعے کا کھلے طور پر اعتراف کیا ہے- اس کی ایک مثال رابرٹ بریفالٹ (Robert Briffault)کی ہے- وہ فرانس میں پیدا ہوا اور لندن میں اس کی وفات ہوئی- بریفالٹ نے مغرب کی نشاةِ ثانیہ سے پہلے عربوں کے سائنسی رول کا اعتراف کرتےہوئے لکھا ہے کہ — یہ بہت زیادہ قابلِ قیاس بات ہے کہ عربوں کے رول کے بغیر یورپ کی جدید صنعتی تہذیب ہر گز کبھی وجود میں نہ آتی:
‘It is highly probable that but for the Arabs modern European civilization would never have arisen at all'. Robert Briffault (1876-1948)
(The Making of Humanity, p.190, published in 1919; publisher: G. Allen & Unwin Ltd, UK, pp. 371)
اس طرح کی رائیں کئی اور مغربی اسکالر وںنے دی ہیں- مثلاً برٹرنڈ رسل، فیلدنگ گیرسن (Fielding Garrison) برناڈلوئی (Bernard Lewis) ، وِل ڈیورنٹ(Will Durant)، وغیرہ-یہاں وِل ڈیورنٹ کا ایک اقتباس نقل کیا جاتا ہے:
Muslim scientists helped in laying the foundations for an experimental science with their contributions to the scientific method and their empirical, experimental and quantitative approach to scientific study. (The Age of Faith, by Will Durant (1980), 4/162
یعنی مسلم سائنس دانوں نے سائنٹفک طریقِ عمل میں اپنے کنٹری بیوشن اور اپنے تجرباتی اور کمیاتی منہج کے ذریعے سائنسی مطالعے کی بنیاد رکھنے میں مدد دی-
اسلامی تحریک اکیسویں صدی میں
قرآن کی مذکورہ آیات (61:8-9) سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالی کو رسول اور اصحابِ رسول کے ذریعے جو انقلاب مطلوب تھا، اُس انقلاب کے د و حصے تھے — ایک، اتمامِ نور، اور دوسرے، اظہارِ دین- اب اکیسویں صدی میں یہ دونوں مطلوب چیزیں پوری طرح واقعہ بن چکی ہیں- اِس طرح اب اسلامی تحریک اپنے فائنل دور میں پہنچ چکی ہے- اب فائنل رول اہلِ ایمان کو ادا کرنا ہے- اب اہلِ ایمان کا کام ہے کہ وہ اِس تاریخی انقلاب کو سمجھیں اور اس کے ذریعے پیدا ہونے والے امکانات (opportunities) کو بھر پور طورپر استعمال کریں-
جیسا کہ اوپر عرض کیا گیا، اِس مطلوب خداوندی کا ایک پہلو وہ تھا جس کو قرآن میں، اتمامِ نور سے تعبیر کیاگیا ہے- اتمامِ نور سے مراد ایک ایسا واقعہ ہے جو اپنی حقیقت کے اعتبار سے، پوری طرح ایک پرامن اورغیر سیاسی واقعہ ہے، اور وہ ہے خدا کے دین کے مستند ایڈیشن کا پوری طرح محفوظ ہو جانا- یہ واقعہ اِس طرح انجام پاچکا ہے کہ خدا کی کتاب( قرآن) کا متن (text) کامل طورپر محفوظ ہوچکا ہے- اِسی کے ساتھ پرنٹنگ پریس کا دور دنیا میں آگیا ہے- اِس طرح یہ ممکن ہوگیا ہے کہ قرآن کا متن اور اس کے ترجمے تیار کرکے ہر زبان میں شائع کیے جائیں اور اس کو تمام اقوامِ عالم تک پہنچا دیاجائے-
اِس سلسلے میں دوسرا مطلوب وہ ہے جس کو قرآن میں اظہارِ دین کہاگیا ہے، یعنی دین کو غلبہ کی حیثیت مل جانا- یہ دوسرا مطلوب بھی اکیسویں صدی میں پوری طرح حاصل ہوگیا ہے- اب اہلِ ایمان کو صرف یہ کرنا ہے کہ وہ اظہارِ دین کے ذریعے حاصل ہونے والے مواقع کو بھر پوراستعمال کریں- جیسا کہ عرض کیا گیا، اظہار ِ دین سے مقصود یہ تھا کہ دنیا میں وہ حالتِ فطری قائم ہوجائے- یہ واقعہ بھی پوری طرح انجام پاچکا ہے- اب دنیا میں پوری طرح مذہبی آزادی آچکی ہے- کسی بھی رکاوٹ کے بغیر دنیا کے کسی ملک میںدعوتی مشن کو جاری کرنا ممکن ہوگیا ہے- اِس انقلاب کے بعد تاریخ میں پہلی بار یہ واقعہ پیش آیا ہے کہ انسانی تاریخ میں تلوار کا دور ختم ہوگیا- اب صرف پُرامن عمل کا دور ہے- تاریخ کا یہ دور عین دعو تی مشن کے حق میں ہے-
اظہارِ دین، یعنی دنیا میں حالتِ فطری کے قائم ہونے کی بنا پر بہت سے موافق حالات وجود میں آئے ہیں- اِن میں سے دو بےحد اہم ہیں- ایک ہے، کائنات میں چھپی ہوئی اللہ کی نشانیوں کا دریافت ہوجانا- اور دوسرا ہے، جدید مواصلات (modern communication) جس نے تاریخ میں پہلی بار اُس عالمی مشن کو مکمل کرنے کا موقع فراہم کیا جس کو قرآن میں اِن الفاظ میں بیان کیاگیا ہے: تَبٰرَکَ الَّذِیْ نَزَّلَ الْفُرْقَانَ عَلٰی عَبْدِہٖ لِیَکُوْنَ لِلْعٰلَمِیْنَ نَذِیْراً(25:1)
آیاتِ الہی کا ظہور
آیات اللہ یا آیاتِ معرفت کا ظہور پیشگی طورپر مقدر تھا- قرآن میں اِس کی پیشین گوئی اِن الفاظ میں کی گئی تھی: سَنُرِیْہِمْ اٰیٰتِنَا فِی الْاٰفَاقِ وَفِیْٓ اَنْفُسِہِمْ حَتّٰى یَتَبَیَّنَ لَہُمْ اَنَّہُ الْحَقُّ(41:53)- قرآن کی اِس آیت میں جس چیز کو آفاق وانفس میں نشانیوں کا ظہور بتایا گیا ہے، وہ دراصل دورِ جدید میں نظریاتی سائنس کے ذریعے دریافت ہونے والے حقائقِ فطرت ہیں- اِن حقائق نے دورِ جدید میںمعرفتِ خداوندی کے نئے دروازے کھول دئے ہیں-اب یہ ممکن ہوگیا ہے کہ اللہ کا کوئی بندہ تخلیقاتِ الہیہ میں کمالاتِ الہیہ کو دیکھے اور معرفتِ خداوندی کا اعلی درجہ حاصل کرے- نیز اِسی کے ذریعے یہ بھی ممکن ہوگیا ہے کہ اِن حقائق فطرت کو دعوت الی اللہ کے عمل میں جدید دلائل کے طورپر استعمال کیا جائے- اِس طرح دعوت کے عمل کو خود انسان کے علمی مسلّمہ کے مطابق، ثابت شدہ بنادیا جائے-
اِس سائنسی انقلاب کا دوسرا پہلو وہ ہے جس کو موجودہ زمانے میں دورِ مواصلات (age of communication) کہاجاتا ہے- اِس دورِ مواصلات نے تاریخ میں پہلی بار اِس بات کو ممکن بنا دیا ہے کہ دعوت الی اللہ کے اُس عالمی نشانے کو پورا کیا جاسکے جس کی پیشین گوئی ایک حدیث رسول میں اِن الفاظ میں کی گئی تھی : لایبقى على ظہر الأرض بیت مدر ولا وبر إلا أدخلہ اللہ کلمة الإسلام، بعزّ عزیز وذلّ ذلیل ) زمین کی پشت پر کوئی چھوٹا یا بڑا گھر باقی نہیں رہے گا، جہاں اللہ اسلام کا کلمہ نہ پہنچا دے، عزت والے کو عزت کے ساتھ اور ذلت والے کو ذلت کے ساتھ،یعنی چاہتے ہوئے یا نہ چاہتے ہوئے (willingly or unwillingly)-
دنیا میں حالتِ فطری کے قائم ہونے سے موجودہ زمانے میں جو نئے مواقع کھلے ہیں، وہ سارے انسانوں کے لیے ہیں- یہ ممکن نہیں ہے کہ اِن مواقع پر کسی ایک گروہ کی اجارہ داری (monopoly) قائم ہوجائے- خدا کے تخلیقی نقشے کے مطابق، آزادی (freedom) ہر انسان کا فطری حق ہے، مومن کا بھی اور غیر مومن کا بھی- یہ ممکن نہیں ہے کہ یہ آزادی صرف اہلِ ایمان کو حاصل ہو اور دوسرے لوگوں کے لیے وہ منسوخ قرار پائے- دوسرے لوگ بھی اپنی آزادی کو کھلے طورپر استعمال کریں گے- اگر کسی کے استعمالِ آزادی سے اہلِ ایمان کے جذبات مجروح ہوتے ہیں تو یہ اہلِ ایمان کا اپنا مسئلہ ہے، وہ دوسروں کا مسئلہ نہیں- دوسروں پر صرف یہ پابندی لگائی جاسکتی ہےکہ وہ اپنی آزادی کو اِس طرح استعمال نہ کریں کہ وہ دوسروں کے لیے جسمانی جراحت (physical injury) کا سبب بن جائے- اِس ایک پابندی کے سوا، کوئی اور پابندی نہ مطلوب ہے اور نہ ممکن-
خلاصہ کلام
ایک اسلامی اسکالر کا مقالہ نظر سے گزرا- اِس مقالے میں انھوں نے لکھا تھا کہ اسلام کی تعلیمات کا خلاصہ بنیادی طورپر دو ہے— توحید اور عدل- توحید (Monotheism) سے مراد ان کے نزدیک انفرادی عقیدہ تھا، اور عدل (justice) سے مراد عدل پر مبنی اجتماعی نظام- انھیں دو تصورات کے تحت انھوں نے پورے اسلام کی تشریح کی تھی-
مگر میرے مطالعہ کے مطابق، اسلام کا یہ تصور درست نہیں- حقیقت یہ ہے کہ توحید اورعدل دونوں ہی انفرادی نوعیت کے احکام ہیں- توحید سے مراد ہے ایک انسان کا انفرادی عقیدہ، اور عدل سے مراد ہے، ایک انسان کا انفرادی سلوک- قرآن کے مطابق، اللہ تعالی نے انسان کو معرفت کے لیے پیدا کیا ہے (51:56)- انسان کو اللہ تعالی نے عقل دی- اب انسان سے یہ مطلوب ہےکہ وہ عقل کو استعمال کرکے اپنے خالق کو دریافت کرے- یہی دریافت، خدا پرستانہ زندگی کا آغاز ہے- اِس دریافت کا تعلق انسان کی پوری زندگی سے ہے- جب کسی شخص کو حقیقی معنوں میں یہ دریافت ہوتی ہے تو اس کے بعد فطری طورپر اس کی پوری زندگی میں ایک انقلاب برپا ہوجاتا ہے- اس کی پوری شخصیت ایک نئی شخصیت بن جاتی ہے، وہ پورے معنوں میں ایک ربانی انسان بن جاتاہے-
اسی قسم کاربانی انسان تخلیق کا اصل مقصود ہے- اِسی قسم کے ربانی افراد، نہ کہ ربانی معاشرہ، خدا کے تخلیقی منصوبے کا اصل مقصود ہیں- موجودہ دنیا میں ایسےافراد پوری انسانی تاریخ سے منتخب کیے جائیں گے اور پھر اِن منتخب افراد کی بنیاد پر آخرت کی دنیا میں ایک اعلی ربانی معاشرہ وجود میں آئے گا- یہی وہ افراد ہیں جو خدا کی ابدی جنتوں میں جگہ پائیں گے-
خالق نے اِس دنیا میں انسان کو کامل آزادی دی ہے- یہ آزادی برائے امتحان ہے، نہ کہ برائے استحقاق- انسان کو یہ آزادی بھی حاصل ہے کہ وہ اپنی آزادی کا غلط استعمال کرے- یہ آزادی قیامت سے پہلے منسوخ ہونے والی نہیں- اِس آزادی کی بنا پر ایسا ہے کہ اِس دنیا میں اعلی افراد تو بنتے ہیں، لیکن اعلی معاشرہ یا اعلى نوعیت کا اجتماعی نظام کبھی نہیں بنتا- انسانی زندگی کی یہ نوعیت قیامت تک بدستور باقی رہے گی-قیامت کے بعد ایک نئی کامل دنیا بنے گی- وہاںپوری تاریخ کے منتخب افراد بسائے جائیں گے اور جو لوگ اپنی آزادی کا صحیح استعمال نہ کرسکے، اُن کو جمع کرکے کائناتی کوڑے خانے میں ڈال دیا جائے گا— خداکے تخلیقی منصوبے کے مطابق، انسانی زندگی کی حقیقت یہی ہے- انسانی زندگی کی بامعنی تعبیر صرف اُس وقت ممکن ہے جب کہ اِس خدائی منصوبے کو ذہن میں رکھ کر اس کی تعبیر کی جائے، انسانی تاریخ کو بامعنی تعبیر دینے کا دوسرا کوئی طریقہ نہیں-
واپس اوپر جائیں

ہدایت اور اظہارِ دین

قرآن کی سورہ الفتح کی ایک آیت کے الفاظ یہ ہیں: ہُوَ الَّذِیْٓ اَرْسَلَ رَسُوْلَہٗ بِالْہُدٰى وَدِیْنِ الْحَقِّ لِیُظْہِرَہٗ عَلَی الدِّیْنِ کُلِّہٖ ۭ وَکَفٰى بِاللّٰہِ شَہِیْدًا :
God is One Who has sent His Messenger with guidance and the true religion, so that God may have it prevail over all religions, God suffices as a witness. (48:28)
1- آیت کا اسلوب بتاتا ہے کہ اِس آیت میں جس واقعے کا ذکر ہے، وہ کوئی انسانی واقعہ نہیں، بلکہ وہ ایک حتمی فیصلہ ہے، یعنی اللہ نے یہ فیصلہ کردیا ہے کہ لازماً ایساہو- مزید یہ کہ قرآن کی یہ آیت اُس فیصلہ خداوندی کے بارے میں ہے جس کا تعلق خاتم النبیین سے ہے اور چوں کہ خاتم النبیین کی نبوت قیامت تک کے لیے ہے، اِس لیے اِس فیصلے کا انطباق بھی لازماً قیامت تک جاری رہے گا- اِس آیت میں پیغمبریا امتِ مسلمہ کےمشن کو نہیں بتایا گیا ہے، بلکہ اس میں اللہ کے ایک فیصلے کو بتایا گیا ہے، جو پوری انسانی تاریخ میں لازماً ایک واقعہ بنے گا-
2- دوسری چیز ہدایت ہے- ہدایت سے مراد اللہ کی طرف سے بھیجی ہوئی الہامی ہدایت ہے- اِس الہامی ہدایت کے بارے میں اللہ کا یہ فیصلہ تھا کہ وہ ہر اعتبار سے محفوظ رہے، اس کا عربی متن، اس کی زبان، اس کا لہجہ، حتی کہ اس کا طرزِ کتابت، وغیرہ- قرآن ساتویں صدی عیسوی کے ربع اول میں اترا- اب تک کی تاریخ بتاتی ہے کہ یہ کتاب (قرآن) ہر اعتبار سے محفوظ ہے- پرنٹنگ پریس اور ریکارڈنگ کا دور بتاتا ہے کہ اب قرآن کی یہ حفاظت مزید اضافے کے ساتھ یقینی بن چکی ہے-
3- اظہارِ دین سے مراد خود دین کا اظہار ہے، نہ کہ دین کے سوا کسی اور چیز کا اظہار- اِس آیت میں اظہارِ دین سے مراد سیاسی اقتدار یا اجتماعی نظام نہیں، بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ خدا کا دین بحیثیت دین ِ حق اپنے نظریاتی غلبہ کو ہمیشہ برقرار رکھے گا- یہ غلبہ بہ اعتبار حجت (دلیل) ہوگا، نہ کہ بہ اعتبار نظام-دینِ حق کے نظریاتی غلبہ کو ہمیشہ برقرار رکھنا تاریخ کا مشکل ترین منصوبہ ہے، کیوں کہ اِس مقصد کو اِس طرح حاصل کرنا ہے کہ انسان کی آزادی پوری طرح برقرار رہےاور اِس کے ساتھ دین کا نظریاتی غلبہ بھی مسلسل طورپر قائم رہے- اِس نوعیت کا پیچیدہ منصوبہ کسی بھی انسان کے بس میں نہیں- اِس مقصد کے حصول کےلیے انسانی تاریخ کو اِس طرح مینج (manage) کرنا ہے کہ تاریخ کا آزادانہ سفر بھی جاری رہے اور یہ مقصد بھی حسب منشا حاصل ہوجائے-
اِس مقصد کے لیے اللہ نے یہ طریقہ اختیار کیا کہ جب بھی کچھ لوگ بطور خود دینِ حق کا کوئی غلط ایڈیشن (false edition) تیار کریں تو اس کے بعد خود تاریخ میں ایسے اسباب پیدا ہوں جو اِس ایڈیشن کا خاتمہ کردیں اور اِس طرح دینِ حق کی صداقت بدستور برقرار رہے-تاریخ کا مطالعہ بتاتا ہے کہ اسلام کے ظہور کے وقت سے اب تک ایسے 3 بڑے واقعات پیش آئے ہیں ، جب کہ انسان نے خود ساختہ طور پر دین کا ایک غلط ایڈیشن تیار کیا، لیکن اس کے بعد تاریخی عمل کے تحت ایسے حالات پیداہوئے جنھوںنے مذہب کے اِس غلط متبادل (wrong alternative) کو حجت (دلیل) کی سطح پر ختم کردیا- اِس طرح دین حق کی نظریاتی صداقت بدستور تاریخ میں قائم رہی-
تاریخ میں اِس نوعیت کی پہلی مثال مظاہر فطرت کی پرستش (nature worship) ہے جس کو مذہب کی زبان میں شرک کہاجاتا ہے- فطرت کی پرستش کا مطلب یہ ہے کہ فطرت کے مظاہر، سورج، چاند ستارے، وغیرہ میں خدائی صفات (divine attributes) کو فرض کرکے ان کی پرستش کرنا- مظاہر فطرت کی یہ پرستش قدیم زمانے میں ہزاروں سال تک قائم رہی-
پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کے بعد اللہ تعالی نے تاریخ میں ایسا انقلابی عمل جاری کیا جس کے نتیجے میں آخر کار وہ دور آیا جس کو سائنسی دور کہاجاتا ہے- جدید سائنس کے ذریعے مظاہر فطرت کی موضوعی تحقیق (objective exploration) کی گئی- اِس کے نتیجے میں علمی طورپر یہ ثابت ہوگیا کہ فطرت میں کوئی اُلوہیت (divinity)نہیںہے- اِس طرح انسان کے خود اپنی عقلی مسلّمہ پر یہ ثابت ہوگیا کہ فطرت صرف مخلوق ہے، اس کے اندر کوئی بھی الوہی صفت (divine attribute) نہیں- اِس طرح، خداکے دین کا دینِ حق ہونا بدستور ثابت شدہ بنا رہا-
قدیم تاریخ میں دین حق کا دوسرا غلط متبادل (false alternative) شخصیت پرستی (personality cult) کی صورت میں پیدا ہوا- شخصیت پرستی کا سیاسی اظہار بادشاہت کے ادارہ کی صورت میں ہوا- بادشاہ کے متعلق مان لیا گیا کہ وہ دوسرے انسانوں کے مقابلےمیں، پراسرار فوقیت رکھتا ہے- اِس طرح بادشاہ کو عملاً وہ درجہ دے دیاگیا جو معبود کا درجہ ہونا چاہیے-یہ بادشاہت یا سیاسی شخصیت پرستی انسانی تاریخ میں کئی ہزار سال تک جاری رہی- بادشاہت کے دور میں انسانی سوچ کا مرکز ومحور بادشاہ بن گیا- اعلی انسانی جذبات بادشاہ کے ساتھ وابستہ کردئے گئے- عام طورپر یہ مان لیاگیا کہ — جو بادشاہ کا مذہب ، وہی سب کا مذہب (الناس على دین ملوکہم)
بادشاہت کے زمانے میں ساری دنیا میں زراعت کا دور قائم تھا- اُس زمانے میں زراعت (agriculture) اقتصادیات کا واحد ذریعہ تھی— زمین کا مالک ہونے کی بنا پر بادشاہ اقتصادیات کا واحد مالک بنا ہوا تھا- بادشاہ کو یہ حیثیت تھی کہ بادشاہ دینے والا ہے اور بادشاہ چھیننے والا- اُس زمانے میں بادشاہ کو عملاً وہ درجہ ملا ہوا تھا، جو درجہ خدا کا ہونا چاہیے- اِن حالات میں یہ تصور پیدا ہوا کہ بادشاہ حاکم (ruler) ہے اور دوسرے تمام لوگ محکوم (ruled) کی حیثیت رکھتے تھے- قدیم زمانے کی اِس نفسیات کو ایک فارسی شاعر نے اِن الفاظ میں بیان کیا تھا:
شاہاں چہ عجب گر بنوازند گدا را
اِس طرح بادشاہ گویا خدا کا ایک سیاسی متبادل (political alternative) بن گیا تھا- گویا دین باطل نے دین حق کی جگہ لے رکھی تھی- اللہ تعالی کو یہ صورتِ حال مطلوب نہ تھی، چناں چہ تاریخ میں ایک نیا عمل (process) جاری ہوا- یہ عمل ساتویں صدی عیسوی میں شروع ہوا، جب کہ عرب میں قبائلی سرداری کا نظام رائج تھا اور عرب کے اطراف میں دو بڑے ایمپائر قائم تھے — ساسانی ایمپائر اور بازنتینی ایمپائر- بائبل کے الفاظ میں، یہ گویا سیاسی چٹانیں تھیں- رسول اور اصحابِ رسول کے ذریعے اِن سیاسی چٹانوں کو توڑ کر تاریخ میں ایک نیا سیاسی عمل جاری ہوا- یہ عمل سفر کرتے ہوئے آخرکار یورپ پہنچا- اِس سیاسی عمل کا نقطہ انتہا 1789 میں پیش آنے والا فرانسیسی انقلاب تھا-
اِس انقلاب کے بعد دنیا میں ایک نیا دور آیا جس کو جمہوریت کہاجاتا ہے- جمہوریت نے شخصی بادشاہت کے تصور کا خاتمہ کردیا اور دنیا میں عوامی حکومت کا دور آیا، جس کا فارمولا یہ تھا:
Government of the people, by the people, for the people.
اِس جمہوری انقلا ب نے قدیم طرز کی شخصی بادشاہت (monarchy)کا خاتمہ کردیا، پہلے یورپ میں اور اس کے بعد ساری دنیا میں- اِس طرح دنیا میں بادشاہی مذہب کا خاتمہ ہوگیا اور نظری طورپر دین حق دوبارہ دنیا میں قائم ہوگیا- دین حق کا یہ قیام سیاسی اقتدار یا حکومتی نظام کے معنی میں نہ تھا، بلکہ وہ حجت کی سطح پر دین حق کا فکری اظہار تھا- یہ واقعہ اتفاقاً پیش نہیں آیا، بلکہ اپنی حقیقت کے اعتبار سے وہ تاریخ میں ایک عظیم خدائی آپریشن کا نتیجہ تھا-جمہوریت صرف ایک سیاسی نظریہ نہ تھا، اس کا ایک اور اہم تر پہلو یہ تھا کہ اس نے اُس سیاسی الوہیت (political divinity)کے تصور کا خاتمہ کردیا جس کو بنیاد بنا کر قدیم زمانے کے بادشاہ اپنی عظمت قائم کیے ہوئے تھے- جمہوری انقلاب کے بعد سیاسی اقتدارصرف ایک انتظامیہ (administration)بن کر رہ گیا، ایک مقدس ادارے کی حیثیت سے اس کا خاتمہ ہوگیا-
اِس سلسلے کی تیسری مثال وہ ہے جس کو ہیومن ازم (Humanism) کہاجاتا ہے- ہیومن ازم ایک جدید فلسفہ ہے جس کو دوسرےالفاظ میں، انسان پرستی کہاجاسکتا ہے- یہ دین حق کا آخری غلط متبادل ہے جو بیسویں صدی کے نصف آخر میں زیادہ طاقت کے ساتھ پیداہوا- یہی معاملہ وجودیت (Existentialism) کا ہے، جس کا بانی فرانسیسی فلسفی سارترے (Jean Paul Sartre) ہے جس کی وفات 1946 میں ہوئی- وجودیت بھی دراصل ہیومن ازم کا فلسفیانہ ایڈیشن ہے-
ہیومن ازم کیا ہے، ہیومن ازم ایک غیر خداپرستانہ فلسفہ ہے- ہیومن ازم ایک فکری نظام ہے جس کا مقصد ساری اہمیت انسان کو دینا ہے، نہ کہ خدا یا کسی فوق الفطری طاقت کو:
Humanism: An outlook or system of thought attaching prime importance to human, rather than divine or supernatural matters.
دورِ جدید کے بہت سے فلسفی ہیومن ازم کے نقطہ نظر کے حامی بن گئے- مثلاً جرمن فلسفی لدوگ فیور باخ (Ludwig Feverbach) جس کی وفات 1872 میں ہوئی، اس نے لکھا ہے کہ — انسان ہی خدا ہے- اس کے سوا کوئی اور خدا نہیں:
God is nothing other than man himself.
امریکی فلسفی ولیم جیمس (William James) جس کی وفات 1910 میں ہوئی، وہ بھی ہیومن ازم کا حامی تھا، انگلش فلسفی جولین ہکسلے (Julian Huxley) جس کی وفات 1975 میں ہوئی، اس نے ہیومن ازم کی حمایت میں ایک کتاب لکھی- اس کا ٹائٹل یہ ہے:
Religion Without Revelation
اِس کتاب میں ہیومن ازم کی تعریف اِس طرح کی گئی ہے — سیٹ کا خدا سے انسان کی طرف منتقل ہوجانا(Transfer of seat from God to Man.)-
ہیومن ازم کے موضوع پر عام قاری کے لیے ایک قابلِ مطالعہ کتاب یہ ہے:
Humanism: A Very Short Introduction, by Stephen Law, 2011
بیسویں صدی کے نصف آخر میں ہیومن ازم کے فلسفے کو کافی فروغ حاصل ہوا- لوگوں نے یہ فرض کرلیا کہ انھیں دین خداوندی کا ایک بدل مل گیا ہے- غیر خدا پرست طبقے میں یہ سمجھا جانے لگا کہ — انسان ہی ہر اعتبار سے سب کچھ ہے(Man is the measure of all things.)
مگر عین اِسی زمانے میں ایک نیا طاقت ور ظاہرہ پیدا ہوا جس نے ہیومن ازم کے تصور کو عملاً باطل ثابت کردیا- یہ طاقت ور ظاہرہ وہ تھا جس کو عام طورپر گلوبل وارمنگ کہاجاتا ہے، یعنی عالمی سطح پر حرارت کا غیر متناسب طورپر بڑھ جانا جس کے نتیجے میں زمین پر زندگی کا نظام درہم برہم ہوجائے-
موجودہ زمانے میں جدید ٹکنالوجی کے ظہور کے بعد انڈسٹری کو بہت ترقی ہوئی- مختلف ملکوں میں کثیر تعداد میں بڑے بڑے کارخانے قائم ہوئے- اِن کارخانوں کو چلانے کے لیے جو ایندھن (fuel) استعمال ہوتا تھا، اُس سے مسلسل طورپر بڑی مقدار میں کاربن خارج ہونے لگا- اِس اخراج کو کاربن ایمیشن (carbon emission) کہاجاتا ہے- اِس کاربن ایمیشن نے زمین کے اوپر قائم شدہ فضا کو خطرناک حد تک آلودہ بنا دیا-
اِس فضائی آلودگی یا فضائی حرارت کے نتیجے میں ;کئی ناقابلِ حل مسائل پیدا ہوگئے- اِس کے نتیجے میں برف کے بڑے بڑے ذخائر، پہاڑوں کے گلیشیر، نارتھ پول اور ساؤتھ پول کی آئس کیپ (ice cap) ، سمندروں میں تیرتے ہوئے برفانی پہاڑ(iceberg) تیزی سے پگھلنے لگے- اِس کے نتیجے میں یہ ہوا کہ سمندروں کی سطح بڑھنے لگی- نازک حیوانات (fragile animals) مرنے لگے- اِس طرح کے واقعات کے نتیجے میں یہ ہوا کہ زمین پر قائم شدہ لائف سپورٹ سسٹم تباہ ہونے لگا، حتی کہ اب سائنس داں یہ خبر دے رہے ہیں کہ زمین بہت جلد انسان کے لیے ناقابلِ رہائش بن جائے گی-
اِس صورتِ حال کا پیدا ہونا کوئی سادہ واقعہ نہیں- یہ دراصل ہیومن ازم کے فلسفے کی موت کا اعلان ہے- ہیومن ازم کے فلسفے میں یہ مان لیا گیا تھا کہ انسان کائنات میں مرکزی مقام (central position) رکھتا ہے- انسان کی اِس حیثیت کو ماننے کے لیے یہ ضروری ہے کہ یہ مانا جائے کہ انسان کو ہر طرح کی قدرت حاصل ہے، انسان اپنے مستقبل کا مالک ہے- اگر انسان واقعةً اِس طرح کی طاقت رکھتا ہے تو اس کو چاہئے کہ وہ موجودہ زمانے میں زمین پر واقع ہونے والی اُس انسان کُش تباہی کو روکے جو گلوبل وارمنگ کی صورت میں ظاہر ہوئی ہے- گلوبل وارمنگ کو روکنے میں انسان کی ناکامی نے ہیومن ازم کے فلسفے کا آخری طورپر خاتمہ کردیا ہے-
جب گلوبل وارمنگ کا ظاہرہ سامنے آیا تو تمام دنیا کی حکومتیں اور تمام دنیا کے سائنس داں بڑے پیمانے پر متحرک ہوگئے- کوپن ہیگن (ڈنمارک) میں اِس موضوع پر ہونے والی کانفرنس (دسمبر2009) میں دنیا کے تمام ملکوں کے سائنس داں بڑی تعداد میں اکھٹا ہوئے - اِس طرح کی کوششیں حکومتوں کی طرف سے بھی کی جارہی ہیں اور سائنس دانوں کی طرف سے بھی- اِس موضوع پر تحقیقات اور تجربات کا سلسلہ ساری دنیا میں مسلسل طورپر جاری ہے، مگر نتیجے کے اعتبار سے وہ مکمل طورپر ناکام ثابت ہوا- گلوبل وارمنگ کا خطرہ مسلسل طورپر بڑھ رہا ہے- اب وہ خطرناک سطح تک پہنچ چکا ہے، مگر اُس کو روکنے کے لیے انسان کی ہر کوشش پوری طرح بے نتیجہ ثابت ہورہی ہے-
گلوبل وارمنگ کا یہ تجربہ کوئی سادہ واقعہ نہیں- وہ ہیومن ازم کے نظریے کے کامل اِبطال (total negation) کے ہم معنی ہے- حقیقت یہ ہے کہ گلوبل وارمنگ کے ظاہرے نے اُسی طرح ہیومن ازم کے فکر کا خاتمہ کردیا ہے جس طرح اس سے پہلے فطرت پرستی کو سائنس نے ختم کیا تھا اور جمہوریت کے ذریعے بادشاہت کا خاتمہ کردیا گیا تھا-
موجودہ گلوبل وارمنگ بھی پچھلے خدائی آپریشن کی طرح ایک خدائی آپریشن ہے جس نے یہ ثابت کردیا ہے کہ دینِ حق کے لیے ہیومن ازم کا متبادل ایک بے بنیاد متبادل (false alternative)تھا- اِس طرح خدائی فیصلے کے مطابق، دین حق نے دوبارہ تاریخ میں فکری اظہار کا وہ درجہ حاصل کرلیا جو خدا نے اس کے لیے ابدی طورپر مقدر کیا تھا-
خلاصہ کلام
اوپر جو کچھ کہاگیا، اس کا خلاصہ یہ ہے کہ قرآن نے ساتویں صدی کے ربع اول میں یہ اعلان کیا تھا کہ خدا کی بھیجی ہوئی ہدایت ہی مستند ہدایت (authentic guidance) ہے اور خدا کا دین ہی دینِ حق ہے- خدا نے یہ مقدر کر دیا تھا کہ خدا کی نازل کردہ ہدایت (قرآن) ابدی طور پر پوری طرح محفوظ رہے- تاریخ بتاتی ہے کہ ہدایت کے بارے میں خدا کا فیصلہ کامل طورپر پورا ہوا-
اِس سلسلے میں دوسری چیز خدا کا نازل کردہ دین ہے- خدا کی نظر میں یہی دین ہمیشہ کے لیے دین حق کی حیثیت رکھتا ہے- اِس دین کے بارے میں خدا کا یہ فیصلہ تھا کہ جب بھی انسان بطور خود اس کا کوئی غلط متبادل تیار کرے تو خود تاریخ میں ایسے اسباب پیدا ہوں جو مسلّمہ دلائل کی سطح پر اس کو غیرمعتبر ثابت کردیں- خداکے اِس فیصلے کا اظہار بھی تاریخ میں بار بار ہوتا رہا اور اب اکیسویں صدی میں جو صورتِ حال ہے، وہ یہ ہے کہ ہدایت اور دینِ حق دونوں کے معاملے میں انسان کے پاس کوئی دوسرا انتخاب باقی نہیں- اب حقیقت کے اعتبار سے، انسان کے لیے ایک ہی ممکن انتخاب ہے اور وہ وہی ہے جو خدا نے خاتم النبیین کی بعثت کے وقت اس کے لیے مقدر کردیا تھا-
واپس اوپر جائیں

دعوہ ایکٹوزم

From Political Activism to Dawah Activism
مشہور محدث امام مالک بن انس (وفات: 179 ہجری) کا ایک قول اِن الفاظ میں نقل کیا گیا ہے: لا یصلح اٰخر ہذہ الأمة، إلا بما صلح بہ أولہا (مسند الموطأ، رقم الحدیث: 783) یعنی اِس امت کے دورِ آخر کے لوگوں کی اصلاح بھی اُسی طرح ہوگی، جس طرح اِس امت کے دورِ اول کے لوگوں کی اصلاح ہوئی تھی-
امت کے لیے یہ طریقہ اصلاح کیاہے، اس کا اندازہ رسول اور اصحابِ رسول کے دور کے مطالعے سے معلوم ہوتا ہے- رسول اور اصحابِ رسول کے دور کو اسلام کا دورِ اول کہا جاسکتا ہے- اِس دور میں جو کچھ پیش آیا، اس کی تفصیل حدیث اور سیرت کی کتابوں میں موجود ہے- اِس کے مطالعے سے معلوم ہوتا ہے کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے 610 عیسوی میں مکہ میں اپنے مشن کا آغاز کیا- 13 سال تک آپ پُرامن انداز میں اپنے مشن کو چلاتے رہے- اِس مدت میں مکہ کے کچھ افراد نے اسلام قبول کیا، لیکن وہاں کی بڑی اکثریت آپ کی مخالف بن گئی- انھوںنے ہر صورت سے آپ کو ستانا شروع کردیا، یہاں تک کہ ایسے حالات پیدا ہوگئے کہ رسول اور اصحابِ رسول یا تو مکہ سے ہجرت کرجائیں یا اہلِ مکہ کی طرف سے جارحانہ کارروائی کا سامنا کریں-
اُس وقت حضرت عمر فاروق اور دوسرے اصحاب نے کہا کہ اگر ہم سے جنگ کی جاتی ہے تو ہم جنگ کریں گے- پیغمبر اسلام نے حضرت عمر فاروق کو مخاطب کرتےہوئے فرمایا: یا عمر، إنا قلیل (سیرت ابن کثیر: 1/441) یعنی اے عمر، ہم تھوڑے ہیں- پیغمبر اسلام کا یہ جواب کوئی سادہ جواب نہ تھا- اِس کا مطلب یہ تھا کہ ابھی فریقِ ثانی کے ساتھ ٹکراؤ کا وقت نہیں آیا- اللہ کے منصوبے کے مطابق، یہ ایک قبل از وقت بات ہوگی کہ ہم فریقِ ثانی سے لڑ جائیں- ابھی ہمیں صبر کرتے ہوئے حالات کو اُس نوبت تک پہنچانا ہے جہاں اللہ اُس کو پہنچانا چاہتا ہے-
دعوت اور نصرت
پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے عمل سے اِس معاملے میں جو ماڈل (model) قائم ہوا ہے، وہ یہ ہے کہ پیغمبرانہ مشن کے دو بڑے حصے ہیں- پہلے حصے کا عنوان دعوت ہے، اور دوسرے حصے کا عنوان نصرت، یعنی اہلِ ایمان کو یہ کرنا ہے کہ پہلے وہ احساسِ ذمے داری کے تحت، دعوت الی اللہ کا کام شروع کریں- وہ آخری حد تک پرامن رہتے ہوئے اپنے دعوتی مشن کو جاری رکھیں- وہ کسی حال میں رد عمل یا ٹکراؤ کا طریقہ اختیار نہ کریں- اِس کے بعد اہلِ ایمان کے ساتھ جو کچھ ہوگا، وہ تمام تر اللہ کی نصرت کے تحت ہوگا- اللہ کی نصرت کے تحت اہلِ ایمان کے لیے مزید مواقع کھلتے چلے جائیں گے- اہلِ ایمان کا کام یہ ہے کہ وہ اِن مواقع کو پہچانیں اور دانش مندانہ طورپر ان کو استعمال کریں، یہاں تک کہ ان کا سفرِ دعوت اپنی آخری منزل تک پہنچ جائے-
پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں جو نمونہ قائم ہوا، اس کے مطالعے سے معلوم ہوتا ہے کہ اِس معاملے میں نصرتِ الہی کے ظہور کے تین مرحلے ہیں- وہ مرحلے حسب ذیل ہیں:
1- نصرت باعتبارِ حفاظت (Nusrat in terms of security)
2- نصرت باعتبارِ پراسس (Nusrat in terms of process)
3- نصرت باعتبارِ فتح (Nusrat in terms of victory)
4- پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے جب مکہ میں اپنا دعوتی مشن شروع کیا تو اللہ تعالی کی طرف سے آپ کو یہ ہدایت دی گئی: یٰٓاَیُّہَا الْمُدَّثِّرُ۝ قُمْ فَاَنْذِرْ ۝ وَرَبَّکَ فَکَبِّرْ ۝ وَثِیَابَکَ فَطَہِّرْ۝ وَالرُّجْزَ فَاہْجُرْ ۝ وَلَا تَمْنُنْ تَسْتَکْثِرْ ۝ وَلِرَبِّکَ فَاصْبِرْ (74:1-7)- یہ قرآن کی سورہ المدثر کی ابتدائی آیتیں ہیں- یہ سورہ اگر چہ بالکل ابتدا میں نازل ہوئی، لیکن تلاوت کی ترتیب کے اعتبار سےوہ مصحف کے آخری حصے میں شامل ہے- اِن آیات میں پیغمبر اسلام کو جو ہدایت دی گئی، اس کا مطلب یہ تھا کہ تم پُر امن انداز میں دعوت الی اللہ کا کام کرتے رہو- مشن کے بقیہ مراحل کا تعلق تمام تر اللہ کی نصرت سے ہے- تم انتظار کی پالیسی پر قائم رہو اور جب اللہ کی نصرت ظاہر ہو تو تم اس کے مطابق، اُس کو استعمال کرو-
نصرت باعتبارِ حفاظت
جیسا کہ عرض کیاگیا ، پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے 610عیسوی میں مکہ میںاپنا دعوتی مشن شروع کیا- آپ نے یک طرفہ طورپر امن کی روش اختیار کرتےہوئے اپنے مشن کو جاری رکھا- اُس وقت مکہ میں مشرکین کا غلبہ تھا- انھوںنے آپ کے ساتھ مخالفت کا طریقہ اختیار کیا- جب حالات بہت زیادہ شدید ہوگئے، اُس وقت بھی آپ نے ٹکراؤ سے مکمل اعراض کیا- یہاںتک کہ نبوت کے 13 سال بعد آپ مکہ چھوڑ کر مدینہ آگئے- دوسرے لفظوں میں یہ کہ آپ نے اور آپ کے اصحاب نے ٹکراؤ کا طریقہ اختیار نہیں کیا، بلکہ اپنے مقامِ عمل (work place) کو بدل دیا-
واقعات بتاتے ہیں کہ ہجرت کے بعد بھی مکہ کے مشرک سردار خاموش نہیں ہوئے، بلکہ انھوںنے یک طرفہ طورپر مسلّح جارحیت کا طریقہ اختیار کیا- انھوںنے باقاعدہ جنگی تیاری کرکے مدینہ پر حملہ کردیا- یہ واقعہ پیغمبر اسلام کی ہجرت کے 16 ماہ بعد پیش آیا- مدینہ سے تقریباً 80 میل دور بدر کے مقام ~پر دونوں فریقوں کے درمیان جنگ ہوئی- اِس جنگ کو تاریخ میں غزوہ بدر کہاجاتا ہے- یہ صرف یک روزہ جنگ تھی جو 17 رمضان 2 ہجری کو پیش آئی- اِس جنگ میں فریق ِ مخالف کی طرف سے ایک ہزار مسلح افراد تھے جو پوری تیاری کے ساتھ آئے تھے- دوسری طرف 313 کی تعداد میں اصحابِ رسول تھے، جو کم تر جنگی تیاری کے باوجود اپنے دفاع کے لیے بدر کے مقام پر پہنچے تھے-
پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم خود بنفسہ عملاً اِس جنگ میں شریک نہ تھے- البتہ آپ کے لیے میدانِ جنگ سے باہر وقتی طورپر ایک عریش (hut) بنایاگیا تھا- روایات میں آتا ہے کہ جب دونوں گروہوں کے درمیان مسلح ٹکراؤ کا وقت آیا تو پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم سجدے میں گر پڑے- اُس وقت آپ کی زبان پر یہ الفاظ تھے: اللہم إنک إن تہلک ہذہ العصابة من أہل الإسلام فلا تعبد فی الأرض أبدا (مسند أحمد :1/112) یعنی اے اللہ، اگر تو اِس گروہ کو ہلاک کردے تو اِس کے بعد زمین پر کبھی تیری عبادت نہ ہوگی-
اللہ تعالی نے پیغمبر اسلام کی دعا قبول فرمائی اور قرآن (3:124-125) کے بیان کے مطابق، میدانِ جنگ میں کئی ہزار کی تعداد میں فرشتے بھیجے- اِس کے بعد جو واقعہ پیش آیا، اُس کو قرآن میں اِن الفاظ میں بیان کیاگیا ہے: وَلَقَدْ نَصَرَکُمُ اللّٰہُ بِبَدْرٍ وَّاَنْتُمْ اَذِلَّةٌ (3:123)
یہ معاملہ جو غزوہ بدر کے وقت پیش آیا، وہ کوئی سادہ معاملہ نہ تھا- یہ وہی چیز تھی جس کو ہم نے نصرت باعتبار حفاظت سے تعبیر کیا ہے، یعنی منصوبۂ الہی کی تکمیل سے پہلے مخالفین نے یک طرفہ حملہ کرکے یہ کوشش کی کہ اصحابِ رسول کا خاتمہ کردیا جائے، مگر یہ قبل از وقت تھا- ابھی وہ وقت آنے والا تھا جب کہ اصحابِ رسول کی جماعت اپنا آخری دعوتی رول ادا کرے- اِس کے لیے ضروری تھا کہ اِس جماعت کو مخالفین کے حملے سے بچا کر محفوظ رکھا جائے-
اصل یہ ہے کہ پیغمبر اسلام نے جب مکہ میں اپنا دعوتی مشن شروع کیا، اُسی وقت سے اللہ تعالی کا ایک منصوبہ زیر عمل آگیا- وہ منصوبہ یہ تھاکہ ایک مدت تک مختلف واقعات کے دوران پیغمبر اسلام اور آپ کی دعوتِ توحید کا خوب چرچا ہو، تاکہ مکہ اور اطرافِ مکہ کے لوگ اُس سے باخبر ہوجائیں- لوگوں کے اندر بڑے پیمانے پر اِس بارے میں تجسس (curiosity) پیدا ہوجائے اور پھر اُن کے اِس تجسس کو استعمال کرکے یہ موقع فراہم کیا جائے کہ لوگ بڑے پیمانے پر آپ کے مشن کو سمجھنے کی کوشش کریں-
نصرت باعتبارِ پراسس
پراسس کے اِ س معاملے کو قرآن میں رفعِ ذکر (94:4) کہاگیا ہے، یعنی لوگوں کے درمیان توحید کے مشن کا چرچا- پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے جب مکہ میں اپنی دعوتی مشن کا آغاز کیا تو ہر دن نئے نئے واقعات پیش آتے رہے — کبھی آپ، لوگوں کے مجمع میں جاکر اُن کو قرآن سنارہے ہیں، کبھی مکہ کے کسی آدمی کے قبولِ اسلام پر مخالفین کی طرف سے اس پر تشدد کیا جارہاہے، کبھی کسی مسلمان کو حرمِ مکہ میں نماز پڑھنے سے روکا جارہاہے، کبھی باہر سے مکہ آنے والا کوئی شخص پیغمبراسلام سے اِس معاملے میں سوال وجواب کررہاہے، کبھی حج کا موسم ہے اور مختلف قبائل کے لوگ مکہ آرہے ہیں اور آپ وہاں جاکر اُن کے سامنے اپنے مشن کا تعارف پیش کررہے ہیں، کبھی آپ کا اور آپ کے خاندان کا بائکاٹ کیا جارہاہے، کبھی مکہ کے سرداروں کی ایذارسانی سے مجبور ہوکر اصحابِ رسول کا ایک قافلہ مکہ سے ہجرت کرکے حبش جارہا ہے، کبھی آپ اپنے مشن کے تحت طائف اوردوسرے مقامات پر جاتے ہیں، کبھی دار الندوہ میں پیغمبر اسلام کے خلاف مشورہ ہورہا ہے اور آپ کو قتل کرنے کا منصوبہ بنایا جارہا ہے، وغیرہ-
پھر جب مکہ میں 13 سال قیام کے بعد آپ مکہ سے 300 میل کی دوری پر واقع شہر مدینہ چلے جاتے  ہیں تواِس تذکرے میں بہت زیادہ اضافہ ہوجاتاہے- اب غزوات اور سرایا اور جھڑپوں (skirmishes) جیسے واقعات کے نتیجے میں آپ کا اور آپ کے مشن کا چرچا تمام عرب میں، حتی کہ اطرافِ عرب میں پھیل جاتاہے- آپ کے مخالفین کی مخالفانہ کارروائیوں کے نتیجے میں بظاہر بہت سے واقعات ہورہے تھے جو مسلسل لوگوں کے علم میں آرہے تھے- اسی کے ساتھ ایک بلا اعلان عمل جاری تھا- یہ عمل اِن واقعات کے درمیان ایک انڈر کرنٹ یا زیر سطح عمل (under the surface process) کی حیثیت رکھتا تھا- وہ لوگوں کے اندر نہایت تیزی سے تجسس کی نفسیات پیدا کررہا تھا- لوگ فطری طور پر جاننا چاہتے تھے کہ یہ مشن کیا ہے اور اِس مشن سے وابستہ افراد کا معاملہ کیا ہے- تجسس کی یہ زیریں رو اللہ کے منصوبے کے مطابق، عین مطلوب تھی، کیوں کہ اُس سے پیغمبر اسلام کے مشن کے دعوتی مواقع مسلسل طورپر بڑھ رہے تھے- یہی وہ عمل ہے جس کو ہم نے نصرت باعتبار پراسس کا نام دیا ہے-
نصرت باعتبارِ فتح
ہجرت کے دوسرے سال اِس انڈرکرنٹ عمل پر تقریباً 20 سال گزر چکے تھے- نصرت باعتبار پراسس کا عمل اپنی تکمیل کے مرحلے تک پہنچ گیا تھا- اب ضرورت تھی کہ اِس پیداشدہ امکان کو بھر پور طورپر دعوت کے لیے استعمال (avail) کیا جائے- مگر مخالف فریق نے جنگ اور ٹکراؤ کا جو ماحول بنا رکھا تھا، اس کی موجودگی کی بنا پر اِس پیدا شدہ موقع کو استعمال کرنا عملاً ناممکن ہوگیا تھا- اِس لیے اب پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے نہایت حکمت کے ساتھ ایک نیا منصوبہ بنایا-
پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم اُس وقت مدینہ میں تھے- اللہ تعالی نے آپ کو خواب دکھایا کہ آپ اپنے اصحاب کے ساتھ عمرہ کی ادائیگی کے لیے مکہ جارہے ہیں- آپ نے یہ خواب اپنے اصحاب کو بتایا- اِس کو سن کر لوگ بہت خوش ہوئے- وہ عمرہ کے لیے مکہ جانے کی تیاری کرنے لگے- اِس کے مطابق، آپ یکم ذی القعدہ 6 ہجری کو عمرہ کے ارادے سے مکہ کی طرف روانہ ہوئے- اُس وقت تقریباً 15 سو مہاجرین اور انصار آپ کے ساتھ تھے-اہلِ مکہ کو پیغمبر اسلام کے اِس سفر کی اطلاع ہوگئی- انھوںنے طے کیا کہ وہ کسی قیمت پر پیغمبر اسلام کو مکہ میں داخل نہیں ہونے دیں گے- چناں چہ انھوں نے آگے بڑھ کر حدیبیہ کے مقام پر آپ کے قافلے کو روک دیا جو کہ مکہ سے 9 میل کے فاصلے پر واقع تھا-
پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے اصحاب نے حدیبیہ میں پڑاؤ ڈال دیا- اِس کے بعد اہلِ مکہ کے نمائندے وہاں آنے لگے اور تقریباً دو ہفتے تک دونوں فریق کے درمیان گفت وشنید جاری رہی- اِس گفتگو کے دوران پیغمبر اسلام کو یہ موقع ملا کہ آپ اہلِ مکہ سے یہ کہیں کہ ہمارے اور تمھارے درمیان ٹکراؤ اور جنگ کی جو صورتِ حال پیدا ہوگئی ہے، وہ ایک غیر مطلوب چیز ہے- اور ضروری ہے کہ اس کو ختم کردیا جائے- آخر کار یہ طے ہوا کہ فریقین کے درمیان صلح کا معاہدہ (peace treaty)ہوجائے-
صلح کا یہ معاہدہ جب کاغذ پر لکھا جانے لگا تو اہلِ مکہ کے نمائندہ سردار نے شدید انداز میں حمیتِ جاہلیہ(48:26) کا مظاہرہ کیا- انھوں نے ضد اور سرکشی کا طریقہ اختیار کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ ان کی یک طرفہ شرطوں کی بنیاد پر معاہدہ کیا جائے، حتی کہ انھوںنے اصرار کیا کہ ’’رسول اللہ‘‘ کے لفظ کو معاہدے کی تحریر سے مٹا دیا جائے- پیغمبر اسلام نے اہلِ مکہ کی تمام شرطوں کو یک طرفہ طور پر مان لیا، صرف اِس لیے کہ اِس معاہدے کے ذریعے دونوں فریق کے درمیان امن کا ماحول قائم ہورہا تھا-
حدیبیہ کا معاہدۂ صلح اہلِ مکہ کی یک طرفہ شرطوں کی بنیاد پر ہوا تھا- چناں چہ صحابہ کے اندر اس کے خلاف شدید رد عمل پیداہوا- عمر فاروق نے کہا: لما نعطی الدنیة من دیننا (صحیح البخاری،رقم الحدیث:2731) یعنی ہم اپنے دین کے معاملے میں اِس ذلت آمیز معاہدے کو کیوں قبول کریں- ایک صحابی نے رسول اللہ سے کہا کہ آپ نے مدینہ میں اپنے ایک خواب کے حوالے سے ہم کو بتایا تھا کہ ہم عمرہ کرنے مکہ جارہے ہیں، پھر یہ کیا معاملہ ہے کہ آپ عمرہ کے بغیر درمیان سے لوٹ رہے ہیں- آپ نے جواب دیا کہ کیا میں نے یہ کہا تھا کہ ہم اِسی سال مکہ جاکر عمرہ کریں گے (أفأخبرتک أنا نأتیہ العام؟)- اِن تمام مخالفتوں کے باوجود آپ نے اہلِ مکہ سے  امن کا معاہدہ کرلیا اور حدیبیہ سے مدینہ کے لیے واپسی کا فیصلہ فرمالیا-
معاہدہ حدیبیہ کی تکمیل کے فوراً بعد وہ سورہ اتری جو قرآن میں الفتح کے نام سے شامل ہے- اِس سورہ کا آغاز اِن الفاظ سے ہوتا ہے: اِنَّا فَتَحْنَا لَکَ فَتْحًا مُّبِیْنًا (48:1) یعنی ہم نے تم کو کھلی فتح دے دی- پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے جب یہ سورہ اپنے اصحاب کو پڑھ کر سنائی تو ابتداء ً صحابہ کو یہ بیان بہت عجیب معلوم ہوا- عمر فاروق نے کہا: أو فتح ہو یا رسول اللہ- قال: نعم، والذی نفسی بیدہ إنہ لفتح (القرطبی 16/261) یعنی اے خدا کے رسول، کیا یہ کوئی فتح ہے- رسول اللہ نے فرمایا کہ ہاں، اُس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، یقیناً وہ فتح ہے- اِسی طرح ایک اور صحابی نے کہا: ما ہذا بفتح- فقال: بل ہو أعظم الفتوح- (القرطبی 16/260) یعنی یہ تو کوئی فتح نہیں- رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہاں وہ فتح ہے، بلکہ سب سے بڑی فتح ہے-
معاہدہ حدیبیہ دراصل ایک تدبیر تھی- اُس نے عمل کے میدان کو بدل دیا- اِس سے پہلے اہلِ ایمان مجبور تھے کہ وہ ٹکراؤ اور جنگ کے میدان میں فریقِ ثانی سے مقابلہ کریں، لیکن اب اُن کے لیے یہ ممکن ہوگیا کہ وہ اپنی پوری قوت کو یکسوئی کے ساتھ دعوت کے میدان میں استعمال کریں- میدانِ عمل کی یہ تبدیلی بے حد اہم تھی- اس کے نتیجے میں یہ ہوا کہ صرف دو سال کے محدود عرصے میں اسلام پورے جزیرہ عرب میں پھیل گیا-
اِس نتیجے کو دیکھتے ہوئے مشہور تابعی ابن شہاب الزہری (وفات: 124 ہجری) نے کہا تھا کہ: لقد کان الحدیبیة أعظم الفتوح(القرطبی، 16/261) یعنی حدیبیہ اسلام میں سب سے بڑی فتح تھی- مگر یہ سادہ طورپر صرف نتیجے کی بات نہیں، بلکہ وہ منصوبہ (planning) کی بات تھی- یہ کوئی اتفاقی نتیجہ نہ تھا، بلکہ وہ ایک گہری منصوبہ بندی کے ذریعے پیش آنے والا منصوبہ تھا- یہی وہ چیز ہے جس کو ہم نے نصرت باعتبار فتح کا عنوان دیا ہے-
یہ معاملہ دراصل نصرت بذریعہ پراسس کا معاملہ تھا-حدیبیہ سے پہلے تقریباً 20 سال تک بظاہر ٹکراؤ اور مخالفت کے جو واقعات پیش آرہے تھے، اُن کے ساتھ فطری طورپر ایک زیر سطح پراسس جاری تھا- اِس پراسس کو ایک لفظ میں، منفی تعارف کہاجاسکتا ہے- اِس کے نتیجے میں یہ ہوا کہ شعوری یا غیر شعوری طورپر ہر ایک کے لیے اسلام ایک ایسی حقیقت بن گیا جو یہ تقاضا کررہا تھا کہ اُ س کو براہِ راست جاننے کی کوشش کی جائے- دوسرے لفظوں میں، اِس صورتِ حال نے بڑے پیمانے پر اسلام کے لیے دعوت کے مواقع پیدا کردئے، جیسا کہ تاریخ سے معلوم ہوتا ہے-
معاہدہ حدیبیہ کا معاملہ بلا شبہہ ایک حکیمانہ منصوبہ بندی کا معاملہ تھا- یہ حکیمانہ منصوبہ بندی تمام تر فطرت کے قوانین پر مبنی ہے، اِس لیے ہر زمانے میں دوبارہ اس کا کامیاب تجربہ کیا جاسکتا ہے، جس طرح دورِ اول میں اس کا کامیاب تجربہ کیاگیا تھا ’’نصرت باعتبار فتح‘‘ کا معاملہ خصائص نبوی کا معاملہ نہیں، بلکہ وہ اسوہ نبوی کا معاملہ ہے- اس کو ہر زمانے میں اُسی طرح دہرایا جاسکتا ہے جس طرح پیغمبر کے دوسرے نمونوں کو دہرایا جاسکتاہے-
حدیبیہ اور اسوہ رسول
قرآن میں بتایا گیا ہے کہ: لَقَدْ کَانَ لَکُمْ فِیْ رَسُوْلِ اللّٰہِ اُسْوَةٌ حَسَنَةٌ (33:21) یعنی اللہ کے رسول میں تمھارے لیے بہترین نمونہ ہے- اِس آیت میں ’اسوہ‘ کسی محدود معنی میں نہیں ہے، وہ پیغمبر کی زندگی کے تمام پہلوؤں پر محیط ہے- پیغمبر اپنی پوری زندگی کے اعتبار سے، اہلِ ایمان کے لیے ماڈل کی حیثیت رکھتا ہے- اِس عموم میں استثنا صرف کسی ایسی چیز کا ہوسکتا ہے جس کو صراحتاً پیغمبر کے ساتھ خاص کیاگیا ہو- مثلاً ازدواج کے معاملے میں بعض پہلوؤں سے آپ کے ساتھ استثنا کا معاملہ، جیسا کہ قرآن میں آیا ہے: خَالِصَةً لَّکَ مِنْ دُوْنِ الْمُؤْمِنِیْنَ(33:50)-
حقیقت یہ ہے کہ رسول کا ہر قول اورہر فعل امت کے لیے ایک قابلِ تقلید نمونہ ہوگا، الا یہ کہ رسول کے کسی فعل کو صراحتاً رسول کی ذات کے ساتھ خاص کیاگیا ہو-اِس اصول کی روشنی میں معاہدہٴ حدیبیہ کا معاملہ بلا شبہہ ایک قابلِ تقلید اسوہ رسول کی حیثیت رکھتا ہے- جب بھی اور جہاں بھی وہ حالات پیدا ہوں جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ 6 ہجری میں پیدا ہوئے تھے، تواُس وقت اسوہ حدیبیہ اُسی طرح امت کے لیے قابلِ اتباع بن جائے گا، جس طرح وہ دورِ اول کے اہلِ ایمان کے لیے قابلِ اتباع بنا تھا-
معاہدہ حدیبیہ ایک فتح کا معاملہ تھا- فتح کا معاملہ صرف پیغمبر کے لیے خاص نہیں، وہ تمام امت کے لیے یکساں طورپر مطلوب ہے- قرآن میں بار بار فتح کو اہلِ ایمان کے لیے ایک عمومی مطلوب کی حیثیت سے بتایا گیا ہے- مثلاً: وَاُخْرٰى تُحِبُّوْنَہَا ۭ نَصْرٌ مِّنَ اللّٰہِ وَفَتْحٌ قَرِیْبٌ (61:13) جب فتح پوری امت کے لیے ایک مطلوب شے ہے تو فتح کی تدبیر بھی یقینی طورپر پوری امت کے لیے ایک مطلوب شے ہوگی- فتح اور تدبیر ِ فتح کو ایک دوسرے سے الگ نہیں کیاجاسکتا-
یہاں تدبیر ِ فتح سے مراد سیاسی فتح (political victory) نہیں ہے، بلکہ نظریاتی فتح (ideological victory) ہے- موجودہ زمانے میں اِس نظریاتی فتح کا امکان پوری طرح پیدا ہوچکا ہے- مگر اِس نظریاتی فتح کو واقعہ بنانا صرف اُس وقت ممکن ہے جب کہ حکمتِ حدیبیہ کو سمجھا جائے اور آج کے حالات کے لحاظ سے اس کا استعمال کیاجائے-
حکمتِ حدیبیہ
حدیبیہ کے واقعے کو سیرت کی کتابوں میں غزوة الحدیبیہ کے عنوان کے تحت درج کیاجاتا ہے- اِس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ حدیبیہ کا واقعہ دوسرے بہت سے غزوات میں سے ایک غزوہ تھا- حالاںکہ حدیبیہ کا واقعہ نہ غزوة تھا اور نہ دوسرے واقعاتِ نبوی کی طرح صرف ایک واقعہ- حقیقت یہ ہے کہ حدیبیہ کا واقعہ ایک اعلی درجے کا منصوبہ تھا- حدیبیہ کے واقعے کو، معروف معنی میں، غزوہ کہنا بلا شبہہ اس کا کم تر اندازہ (underestimation) کرنے کے ہم معنی ہے-
حکمتِ حدیبیہ دراصل ایک فطری قانون ہے- اِس قانون کا ذکر قرآن کی سورہ الفتح میں اِن الفاظ میں کیاگیا ہے: ۭ فَعَلِمَ مَا لَمْ تَعْلَمُوْا (48:27) یعنی اللہ نے وہ بات جانی جو تم نے نہ جانی-یہ قرآن کا ایک اسلوب ہے- اِس سے مراد اللہ کا علم غیب نہیں ہے، بلکہ اِس کا مطلب یہ ہے کہ اپنی حقیقت کے اعتبار سے ، اُس وقت ایک صورتِ حال موجود تھی، لیکن اس کو جاننے کے لیے ربانی عقل درکار تھی، عام آدمی اُس کو سمجھ نہیں سکتا- عام آدمی ہمیشہ چیزوں کو فیس ویلو (face value) پر لیتاہے، عام آدمی صرف اُس بات کو جان پاتا ہے جو سطح پر ہوتی ہے- لیکن ربانی عقل رکھنے والا انسان اپنی بصیرت کے تحت اُس حقیقت کو جان لیتا ہے جو وہاں زیر سطح موجود ہوتی ہے-
6 ہجری میں عرب کے اندر یہ صورتِ حال تھی کہ بظاہر لوگ پیغمبر کے مخالف بنے ہوئے تھے، لیکن داخلی نفسیات کے اعتبار سے، ہر ایک کے اندر سکنڈ تھاٹ (second thought)آچکاتھا، یعنی شعوری یا غیر شعوری طورپر مذہبِ توحید کے بارے میں دلوں کے اندر نرم گوشہ (soft corner) کا پیدا ہونا- اِس کی ایک علامتی مثال خالد بن الولید (وفات: 21ہجری) کا واقعہ ہے- وہ فتحِ مکہ سے کچھ پہلے ایمان لائے- وہ اپنے اُس وقت کے احساس کو اِن الفاظ میں بیان کرتے ہیں: قد شہدتُ ہذا المواطن کلَّہا على محمد صلى اللہ علیہ وسلم، فلیس فی مواطن أشہدہ إلا أنصرف وأنا أرى فی نفسی أنی موضع فی غیر شیٴ (حیاة الصحابة، جلد1، صفحہ 160)
خالد بن الولید کے اِن الفاظ کو اگر جنرلائز کیا جائے تو اُس وقت کے عربوں کی اکثریت کا احساس یہی ہوچکا تھا- اگر چہ خارجی سطح پر ٹکراؤ اور مخالفت کا ماحول نظر آتا تھا، لیکن داخلی نفسیات کے اعتبار سے بیش تر لوگ فقد صغت قلوبکما (66:4) کا نمونہ بن چکے تھے-
یہ صورتِ حال تھی جس کو استعمال (avail) کرنے کے لیے ایک عملِ اعتدال (process of normalization) درکار تھا، کیوں کہ معتدل ماحول کے بغیر اِس امکان کو استعمال نہیں کیا جاسکتا تھا- یک طرفہ بنیاد پر معاہدہ حدیبیہ کرکے یہی معتدل ماحول بنایاگیا- اور اس کے بعد فطری طور پر وہ نتیجہ برآمد ہوا جس کو قرآن میں اِن الفاظ میں بیان کیاگیا ہے: اِذَا جَاۗءَ نَصْرُ اللّٰہِ وَالْفَتْحُ وَرَاَیْتَ النَّاسَ یَدْخُلُوْنَ فِیْ دِیْنِ اللّٰہِ اَفْوَاجًا(110:1-2)
ظاہرِ دنیا، باطنِ دنیا
صلح حدیبیہ 6 ہجری میں ہوئی- اِس واقعے کو قرآن میں فتح مبین (48:1) کہاگیا ہے- جس حکمت (wisdom) کے تحت حدیبیہ کا معاہدہ کیاگیا، اُس کا ذکر قرآن میں اِن الفاظ میں آیا ہے: فَعَلِمَ مَا لَمْ تَعْلَمُوْا فَجَــعَلَ مِنْ دُوْنِ ذٰلِکَ فَتْحًا قَرِیْبًا (48:27) یعنی اللہ نے وہ بات جانی جو تم نے نہ جانی، پس اللہ نے اس سے پہلے ایک فتحِ قریب ٹھہرادی-
قرآن کی اِس آیت میں بظاہر دنیا کا اور آخرت کا ذکر ہے، مگر اِس آیت کا ایک توسیعی مفہوم (extended sense) بھی ہے، جس کا اشارہ آیت کے اِس لفظ میں ملتاہے: یَعْلَمُوْنَ ظَاہِرًا مِّنَ الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا(30:7)- گویادنیا کا ایک ظاہر ہے اور ایک اس کا باطن ہے- مگر ظاہربیں لوگ صرف اس کے ظاہر کو جانتے ہیں، وہ اس کے باطن سے بے خبر رہتے ہیں، یعنی اکثر لوگ چیزوں کو ان کے فیس ویلو (face-value) پر لیتے ہیں، حالات کے گہرے پہلوؤں تک ان کی نظر نہیں پہنچتی-
یہ آیت قرآن میں صلح حدیبیہ کے سیاق میں اتری- اِس پس منظر کو ملحوظ رکھتے ہوئے آیت پر غور کیجئے تو اس سے ایک اہم حقیقت معلوم ہوتی ہے، وہ یہ کہ اکثر ایسا ہوتا ہے کہ سطح (surface) پر جو کچھ نظر آتا ہے، وہ صرف حالات کا ظاہری پہلو ہوتا ہے، اِس کے سوا ایک اور چیز ہوتی ہے جو انڈرکرنٹ(undercurrent) ہوتی ہے- جس آدمی کے اندر ربانی بصیرت ہو، وہ سطح سے گزر کر انڈرکرنٹ امکانات کو دیکھ لے گا- وہ سطح کی باتوں کو نظر انداز کرے گا اور جوچیز انڈر کرنٹ ہے، اس کو دریافت کرکے اس کے مطابق، اپنے عمل کی منصوبہ بندی کرے گا-
یہ ایک حکمتِ حیات ہے، یعنی سطح کی باتوں کو نظر انداز کرکے انڈر کرنٹ جو حالات ہیں، ان کی بنیاد پر اپنی رائے قائم کرنا- معاہدۂ حدیبیہ اِسی حکمت کی ایک پیغمبرانہ مثال ہے- یہ مثال پیروانِ رسول کے لیے ایک ابدی ماڈل کی حیثیت رکھتی ہے- پیروانِ رسول کو چاہیے کہ وہ رسول اللہ کے اِس نمونے کو اپنے حالات پر منطبق کریں اور اُس عظیم کامیابی کے حصے دار بنیں جو اِس حکمت پر اللہ نے مقدر کی ہے-
اکیسویں صدی میں حدیبیہ منصوبہ
اکیسویں صدی میں دوبارہ وہی حالات زیادہ بڑے پیمانے پر پیدا ہوگئے ہیں جو کہ پہلی صدی ہجری میں معاہدہ حدیبیہ کے وقت عرب میں پیدا ہوئے تھے- اکیسویں صدی میں دوبارہ پوری طرح وہ امکان پیداہوگیا ہے جب کہ معاہدہ حدیبیہ کی تاریخ کو عالمی سطح پر دہرایا جائے- اِس امکان کو اپنے حق میں واقعہ بنانے کی شرط دوبارہ وہی ہے جو دورِ اوّل میں پیش آئی، اور وہ ہے صابرانہ دانش مندی یا دانش مندانہ صبر-
موجودہ زمانے میں یہ واقعہ پیش آیا کہ مغربی قومیں نئے ذرائع سے مسلح ہو کر پوری دنیا میں پھیل گئیں- انھوںنے ہرجگہ اپنا دبدبہ قائم کردیا- یہ واقعہ زیادہ بڑے پیمانے پر اٹھارھویں صدی عیسوی میں پیش آیا- اُس وقت کی دنیا میں مسلمانوں کی بڑی بڑی سلطنتیں قائم تھیں — برصغیر ہند میں مغل ایمپائر، ایشیا اور افریقہ کے بڑے رقبے میں ترک ایمپائر، وغیرہ- مغربی قوموں نے مسلمانوں کی اِن سلطنتوں کو مغلوب کرلیااور ہر جگہ اپنا دبدبہ قائم کرلیا- اِس عمل کا نقطۂ آغاز متعین کرنا ہو تو وہ 1799 قرار پائے گا- اسی سال دو بڑے فیصلہ کُن واقعے ہوئے- ایک طرف، اِسی سال بحرِ متوسط (Mediterranean Sea) میں مغربی طاقتوں نے ترکوں کے عظیم بحری بیڑہ (naval fleet) پر حملہ کرکے اس کو مکمل طور پر تباہ کردیا- اور دوسری طرف، اِسی سال برٹش فوج نے سلطان ٹیپو کی فوج کو کامل شکست دے دی- اِس کے بعد برٹش جنرل نے فاتحانہ جذبے کے ساتھ کہا تھا کہ— آج انڈیا ہمارا ہے(Today, India is ours!)-
اِس کے بعد انیسویں صدی اور بیسویں صدی میں مسلسل اِس طرح کے واقعات ہوتے رہے- مثلاً 1857 میں انڈیا میں مغل سلطنت کا خاتمہ، 1924 میں خلافتِ عثمانی کا خاتمہ، 1948 میں اسرائیل کا قیام، اور پھر دوسری عالمی جنگ (1939-1945) کے بعد نام نہاد امریکی امپیریل ازم (American Imperialism) کا ظہور، وغیرہ-
اِس طرح کے واقعات نے پوری مسلم دنیا میں شدید رد عمل پیدا کیا- ہرجگہ نفرت اور تشدد اور جہاد ایکٹوزم شروع ہوگیا- ہرجگہ کے مسلمانوں میں وہی جارحانہ کلچر وجود میں آگیا جس کی ترجمانی عرب شاعر خیر الدین الزرکلی (وفات: 1976) کے اِن الفاظ سے ہوتی ہے:
ہاتِ صلاحَ الدین ثانیةً فینا جدّدی حِطّین أو شبہ حطینا
(صلاح الدین کو دوبارہ ہمارے درمیان لے آؤ- حطین یا حطین جیسا معرکہ دوبارہ گرم کرو)
واقعات بتاتے ہیں کہ انیسویں صدی اور بیسویں صدی کی دوسوسالہ مدت تمام دنیا کے مسلمانوں کے لیے ’’جہاد ایکٹوزم‘‘ کی صدی تھی- تمام مسلم دنیا اِس جہاد ایکٹوزم میں شامل تھی، اِس فرق کے ساتھ کہ کچھ لوگ تقریر اور تحریر کی زبان میں نفرت اور تشدد کی بولی بول رہے تھے، اور بقیہ لوگ باقاعدہ ہتھیاروں کے ذریعے اپنے مفروضہ دشمن کے ساتھ باقاعدہ لڑائی چھیڑے ہوئے تھے، لیکن یہ دوسو سالہ مقابلہ آرائی یک طرفہ طورپر مسلمانوں کی مغلوبیت پر ختم ہوئی-
آج ساری دنیا کے مسلمان ایک ہی بولی بول رہے ہیں— ہم مخالفین کی سازشوں سے گھرے ہوئے ہیں، ہم دشمنوں کی معاندانہ کارروائیوں کا شکار ہیں، وغیرہ- اِس موضوع پر آج کا مسلم پریس، عربی، فارسی، انگریزی اور اردو میں جو کچھ کہہ رہاہے، اس کا خلاصہ ایک جملے میں یہ ہےکہ — ہم محاصرہ کی حالت میں ہیں(We are under siege) -
زیرِ سطح امکانات
سطح پر بظاہر وہ حالات تھے جن کو عام طورپر اینٹی مسلم حالات کہاجاتاہے، لیکن عین اِسی مدت میں  زیرِ سطح کچھ دوسری سرگرمیاں بڑے پیمانے پر جاری تھیں- یہ سرگرمیاں وہ تھیں جو سماجی اور سیاسی اور علمی سطح پر جاری تھیں- اِن سرگرمیوں کے چیمپین بھی مغربی قوموں کے لوگ تھے-اِن سرگرمیوں کے نتیجے میں اِس مدت میں دنیا میں مذہبی آزادی آئی- جمہوریت کا دور آیا، امن (peace) کو خیر اعلی (summum bonum) کا درجہ دے دیاگیا، رواداری (tolerance) کو ایک عالمی مسلّمہ قرار دے دیا گیا، جدید تقاضوں کے تحت ساری دنیا میں ایک نیا ذہن پیدا ہواجس کو انسان دوست ذہن (human-friendly mind) کہا جاسکتا ہے-پھر اِسی کے ساتھ اِس مدت میں ٹکنالوجی کو غیرمعمولی ترقی ہوئی، پرنٹنگ پریس ایجاد ہوا، الیکٹرانک کلچر وجود میں آیا-پرنٹ میڈیا اور الیکٹرانک میڈیا نے ایک نیا دور پیدا کیا جس کو دورِ مواصلات کہاجاتا ہے-
اِسی کے ساتھ ایک اور ترقی بہت بڑے پیمانے پر وجود میں آئی جس کو علم یا سائنس کی ترقی کہاجاتا ہے- اِس ترقی نے فطرت کے اندر چھپے ہوئے حقائق انسان کے سامنے کھول دئے- علم کے تمام شعبوں میں انقلابی تبدیلیاں ظہور میں آئیں- یہ تبدیلیاں جو موجودہ زمانے میں پیدا ہوئیں، وہ عین اسلام کے حق میں تھیں-اپنی حقیقت کے اعتبارسے، یہ اُس موافق دور کا ظہور تھا جس کی خبر پیشگی طورپر قرآن (41:53)میں دی گئی تھی-
موافقِ اسلام دور
موجودہ زمانے میں جو تبدیلیاں ظہور میں آئی ہیں، وہ اتنی زیادہ ہیں کہ کوئی انسائکلوپیڈیا بھی ان کا احاطہ نہیں کرسکتی- ان کے بیان کے لیے ایک پوری لائبریری کی ضرورت ہے- تاہم مختصر طور پر یہ کہا جاسکتا ہے کہ اِن تبدیلیوں کی بناپر تاریخ انسانی میں پہلی بار ایک نیادور پیداہوا، ایک ایسا دور جس کا تصور قدیم انسان نہیں کرسکتا تھا- یہ دور اپنی حقیقت کے اعتبار سے، مکمل طورپر ایک موافقِ اسلام دور ہے-
مزید یہ کہ دورِ جدید کے یہ عظیم امکانات تمام تر امن کے تصور پر مبنی ہیں- اِن امکانات کو استعمال کرنے کے لیے نہ جنگ کی ضرورت ہے اور نہ کوئی سیاسی ایمپائر قائم کرنے کی- اِن جدید مواقع کا یہ ایک حیرت انگیز پہلو ہے کہ ان کو مکمل طور پر پُر امن ذرائع (peaceful means) کے تحت استعمال کیا جاسکتا ہے- اِن جدید مواقع کو استعمال کرنے کے لیے کسی بھی مرحلے میں نہ جنگ کی ضرورت ہے اور نہ پولٹکل پاور کی-
سیکولر مثال
اِن صفحات میں جو بات کہی جارہی ہے، وہ صرف ایک مذہبی بات نہیں ہے، یہ دراصل ایک اصولِ فطرت (law of nature) ہے- خالق نے جن اصولوں کے تحت اِس دنیا کو بنایا ہے، اُن میں سے ایک اصول یہ بھی ہے- اِس دنیا میں ہمیشہ ایسا ہوتا ہے کہ کچھ چیزیں سطح (on the surface) پر ہوتی ہیں جن کو ہر آدمی دیکھ سکتاہے، اور کچھ زیادہ بڑی چیزیں ہوتی ہیں، مگر وہ ہمیشہ زیر ِ سطح (under the surface) ہوتی ہیں- اِن دوسری چیزوں کو ہمیشہ وہی لوگ سمجھ سکتے ہیں جو بصیرت (wisdom) رکھنے والے ہیں- اِس دنیا میں زیادہ بڑی کامیابی صرف اُن لوگوں کے لیے مقدر ہے جو انڈرکرنٹ چیزوں کو دیکھ سکیں اور اس کے مطابق، اپنے عمل کی منصوبہ بندی کریں-
اِس کی ایک مثال جاپان ہے- دوسری عالمی جنگ میں جاپان محوری گروپ (Axis powers) کے ساتھ تھا- اُس زمانے میں جاپان ایک تشدد پسند قوم کی حیثیت رکھتا تھا، لیکن جنگ کے دوران امریکا نے جاپان پر ایٹمی حملہ کیا- اس نے جاپان کے دو شہر ہیروشیما(Hiroshima) اور ناگاساکی (Nagasaki) پر اگست 1945 میں دو ایٹم بم گرائے- یہ جاپان کے لیے ایک ہلاکت خیز تجربہ تھا- اِس کے بعد جاپان بظاہر پوری طرح ایک تباہ شدہ ملک بن گیا-
اُس وقت جاپان کا سیاسی لیڈر ہیروہٹو(Hirohito) تھا- ہیرو ہٹو ایک مدبر آدمی تھا- اس نے اپنی بصیرت سے یہ جانا کہ سرفیس پر جو حالات ہیں، وہ بظاہر جاپان کے لیے ناموافق ہیں، لیکن انڈر کرنٹ جو صورتِ حال ہے، وہ جاپان کے لیے ایک موافق امکان کی حیثیت رکھتی ہے-
اُس وقت کی دنیا میں دو بڑی طاقتیں تھیں— روس اور امریکا- دونوں ملک بھاری مصنوعات (hardware) میں مشغول تھے اور ہلکی مصنوعات (software) کا میدان تقریباً خالی تھا- جاپان نے شعوری یا غیر شعوری طورپر اِس حقیقت کو جانا اور یہ فیصلہ کیا کہ وہ اِس مخفی امکان کو استعمال کرے-
اِس کے بعد جاپان نے دو کام کیے- ایک طرف، جاپان نے یہ کیا کہ اس نے امریکا سے ٹکراؤ کو یک طرفہ طور پر ختم کردیا، اور اپنی ساری توجہ تعلیم اور صنعت کے میدان کی طرف موڑ دیا- اِس کے بعد جو ہوا، وہ یہ کہ تقریباً 30 سال کے اندر جاپان کی ایک نئی تاریخ وجود میں آگئی- جاپان نے نہ صرف جنگ کے نقصانات کی تلافی کردی، بلکہ اس نے اتنی ترقی کی وہ جدید دور میں اقتصادی سپرپاور(economic superpower) بن گیا- یہ معجزہ اِس طرح پیش آیا کہ جاپان نے سرفیس کے حالات کو نظر انداز کیا اور انڈر کرنٹ جو امکانات چھپے ہوئے تھے، ان کو استعمال کیا-
اِس معاملے کی دوسری مثال وہ ہے جو انڈیا میں پیش آئی- انڈیا میں تقریباً 200 سال تک برٹش حکومت قائم رہی- 1857 میں انڈیا میں آزادی کی لڑائی شروع ہوئی- یہ لڑائی ہتھیاروں کے بل پر شروع کی گئی تھی- اِس جنگ میں کچھ مسلم لیڈر اور کچھ ہندو لیڈر شریک تھے- آزادی کی یہ جنگ تقریباً 60 سال تک جاری رہی، مگر اس کا نتیجہ تباہی کے سوا کسی اور صورت میں نہیں نکلا-آخر کار 1919 میں مہاتما گاندھی سیاست کے میدان میں آئے اور انھوںنے جنگ آزادی کی قیادت سنبھالی- اُس وقت انڈیا بظاہر ایک تباہ شدہ ملک بنا ہوا تھا، لیکن مہاتما گاندھی نے شعوری یا غیر شعوری طورپر اِس حقیقت کو جانا کہ یہاں انڈر کرنٹ ایک اور صورتِ حال موجود ہے جو انڈیا کے لیے ایک موافق امکان کی حیثیت رکھتی ہے- شرط صرف یہ ہے کہ تشدد کا طریقہ چھوڑ کر امن کا طریقہ اختیار کیا جائے-
یہ انڈر کرنٹ امکان کیا تھا، وہ یہ تھاکہ جس زمانے میں برطانیہ انڈیا پر حکومت کررہا تھا، اُسی زمانے میں یورپ کے ملکوں میں شاہی خاندان راج کررہے تھے— اِن یورپی ملکوں میں اِن حکومتوں کے خلاف بہت بڑے پیمانے پر تحریکیں اٹھیں- بڑے بڑے یورپی دماغوں نے یہ نظریہ پھیلایا کہ کسی خاندان کو یہ حق نہیں کہ وہ کسی ملک پر حکومت کرے- اِس سیاسی تحریک کے نتیجے میں ایک سیاسی اصول پورے یورپ میں ایک مسلّم اصول بن گیا- اِس اصول کو عام طورپر حکومتِ خود اختیاری (self-determination) کا اصول کہاجاتاہے:
The right of a people to decide upon its own form of government without coercion or outside influence.
یہ سیاسی انقلاب یورپ میں پہلے فکری سطح پر آیا- اس کے بعد اس نے عملی صورت اختیار کی- اِس سیاسی انقلاب کا پہلا عملی اظہارفرانس میں ہوا-یہ فرنچ ریولوشن (French Revolution) تھا جو 1789 میں پیش آیا- اِس انقلاب کے بعد فرانس میں شخصی بادشاہت ختم ہوگئی اور جمہوری حکومت قائم ہوگئی- دھیرے دھیرے یہ انقلاب پورے یورپ میں پھیل گیا-
مہاتما گاندھی نے اِس سیاسی مسلّمہ کو استعمال کیا- انھوں نے کہا کہ خود یورپ کے حالات بتاتے ہیں کہ اب بادشاہت کا دور ختم ہوچکا ہے اور ہر ملک کو حق ہے کہ وہ اپنے یہاں قومی حکومت قائم کرے- مہاتما گاندھی نے اِس اصول کو لےکر انڈیا کی تحریک آزادی کو نیا رخ دے دیا- انھوںنے تشدد کا طریقہ چھوڑ کر پورے معنوں میں پرامن طریقہ اختیار کیا، جس کو وہ اہنسا(non-violence) کہتے تھے-مہاتما گاندھی کی یہ پرامن جدوجہد جہد آزادی برٹش حکومت کے لیے نیا مسئلہ بن گئی- انھوں نے محسوس کیا کہ پہلے، جدوجہد آزادی کو دبانا آسان تھا- کیوں کہ وہ لوگ برٹش حکومت کے خلاف ہتھیار استعمال کرتے تھے- اِس طرح برٹش حکومت کو موقع ملتا تھا کہ وہ ان کے خلاف ہتھیار استعمال کرکے انھیں کچل دے- اِس تبدیلی نے برٹش حکمرانوں سے ہتھیار کے استعمال کا جواز چھین لیا- اِس صورت حال کا اندازہ ایک واقعے سے ہوتا ہے- اُس زمانے میں ایک برٹش کلکٹر نے اپنے سیکریٹریٹ کو یہ تار بھیجا — براہِ کرم، بذریعہ ٹیلی گرام یہ بتائیے کہ ’’شیر‘‘ کو ہتھیار کے استعمال کے بغیر کیسے ہلاک کیا جائے:
Kindly wire instructions how to kill a tiger non-violently.
یہ ایک سیکولر مثال ہے کہ کس طرح ایک لیڈر نے اپنے زمانے کے انڈر کرنٹ حالات کو سمجھا اور کامیابی کے ساتھ اس کو استعمال کیا- حقیقت یہ ہے کہ مذکورہ اصول فطرت کا ایک اصول ہے- یہ ایک فطری امکان ہے جو ہمیشہ اور ہر صورتِ حال میں موجود رہتا ہے- اِس امکان کو ہر بڑے مقصد کے لیے استعمال کیا جاسکتا ہے، خواہ وہ سیکولر مقصد ہو یا مذہبی مقصد- یہی امکان موجودہ زمانے میں مسلمانوں کے لیے پوری طرح موجود ہے- ضرورت ہےکہ اس کو سمجھا جائے اور حقیقت پسندانہ انداز میں اپنے عمل کی منصوبہ بندی کرکے حکیمانہ انداز میں اس کو استعمال کیا جائے-
فضلِ عظیم کا معاملہ
قرآن کی سورہ النساء میں ایک آیت اِن الفاظ میں آئی ہے: وَلَوْلَا فَضْلُ اللّٰہِ عَلَیْکَ وَرَحْمَتُہٗ لَہَمَّتْ طَّاۗىِٕفَةٌ مِّنْھُمْ اَنْ یُّضِلُّوْکَ ۭوَمَا یُضِلُّوْنَ اِلَّآ اَنْفُسَھُمْ وَمَا یَضُرُّوْنَکَ مِنْ شَیْءٍ ۭ وَاَنْزَلَ اللّٰہُ عَلَیْکَ الْکِتٰبَ وَالْحِکْمَةَ وَعَلَّمَکَ مَا لَمْ تَکُنْ تَعْلَمُ ۭ وَکَانَ فَضْلُ اللّٰہِ عَلَیْکَ عَظِیْمًا (4:113) یعنی اگر تم پر اللہ کا فضل اور اس کی رحمت نہ ہوتی تو اُن میں سے ایک گروہ نے یہ ٹھان لیا تھا کہ وہ تم کو بہکاکر رہے گا، حالاں کہ وہ اپنے آپ کو بہکارہے ہیں، وہ تمھارا کچھ بگاڑ نہیں سکتے- اور اللہ نے تم پر کتاب اور حکمت اتاری ہے اور تم کو وہ چیز سکھائی ہے جس کو تم نہیں جانتے تھے، اور اللہ کا فضل ہے تم پر بہت بڑا-
قرآن کی اِس آیت میں ’فضل‘ کا لفظ کسی پُراسرار معنی میں نہیں ہے- فضل کے لفظی معنی ہیں: زیادہ یا شئ مزید (additional thing)- پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کو وحی کے علاوہ ایک مزید چیز دی گئی جو کہ ختم نبوت کارول ادا کرنے کی نسبت سے آپ کے لیے ضروری تھی، یعنی وہ اسباب یا مواقع جن کو استعمال کرکے آپ خاتم النبیین کی حیثیت سے اپنا فریضہ انجام دے سکیں- مثلاً ہاجرہ اور اسماعیل کے ذریعے سے ایک نئی نسل کی تیاری جس کا ذکر قرآن کی سورہ ابراہیم (14) کی آیت نمبر 37 میں کیا گیاہے، یا ساسانی ایمپائر اور بازنتینی ایمپائر کو ایک دوسرے سے ٹکرا کر دونوں کو کمزور کردینا، جس کا اشارہ قرآن کی سورہ الروم کی آیت نمبر 2 میں کیا گیا ہے- مذکورہ آیت (4:113) میں اِسی قسم کی نصرت مراد ہے، نہ کہ پُراسرار قسم کی کوئی شخصی فضیلت- نصرت کا یہ خصوصی معاملہ پیغمبر کے مشن کی نسبت سے تھا، نہ کہ پیغمبر کی ذات کی نسبت سے-
قرآن کی مذکورہ آیت میں علم کی تعلیم (وَعَلَّمَکَ مَا لَمْ تَکُنْ تَعْلَمُ( سے مراد علمِ وحی نہیں ہے، بلکہ اِس سے مراد مذکورہ قسم کے موافق امکانات سے پیغمبر کو باخبر کر نا ہے- یہی اسلوب سورہ الفتح 48)) میں اختیار کیاگیا ہے جہاں ’علم ما لم تعلموا‘ کا لفظ آیا ہے- سورہ الفتح کی اِس آیت میں علم سے مراد وہ موافق امکانات ہیں جو معاہدہ حدیبیہ کے اندر باعتبار نتیجہ چھپے ہوئے تھے-
اصل یہ ہےکہ اللہ تعالی نے پچھلے زمانوں میں ہزاروں سال کے دوران بہت سے پیغمبر بھیجے(23:44)- اِن پیغمبروں نے نبوت کا فریضہ پوری طرح انجام دیا، لیکن ان کا مشن صرف اعلانِ توحید تک پہنچا- اُن میں سے کسی کے زمانے میں نہ مطلوب قسم کی امت بنی اور نہ دینِ خداوندی کا متن محفوظ ہوسکا اور نہ توحید پر مبنی عمومی انقلاب آیا، جو کہ اللہ تعالی کو مقصود تھا-
یہی وجہ تھی جس کی بنا پر پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے مشن کے لیے اللہ تعالی نے خصوصی اسباب فراہم کیے- اِن اسباب کو استعمال کرکے یہ ممکن ہوا کہ دنیا میں توحید پر مبنی انقلاب آئے اور دینِ خداوندی کی نئی تاریخ بنے- پیغمبر اسلام کے لیے وحی کے علاوہ، جو مزید موافق اسباب فراہم کیے گئے، اِنھیں کو قر آن میں فضل کہاگیا ہے، یعنی اضافی اسباب یا مزید نصرت- اللہ تعالی نے ایک لمبی مدت کے اندریہ اضافی اسباب فراہم کیے، یہاں تک کہ رسول اور اصحابِ رسول کے لیے یہ ممکن ہوگیا کہ اِن اسباب کو استعمال کرکے وہ اللہ تعالی کے منصوبے کی تکمیل کریں-
قرآن کی مذکورہ آیت میں ’وعلّمک ما لم تکن تعلم‘ اُس وحی کے لیے نہیں ہے جو قرآن کی سورت میں آپ پر نازل ہوئی- بلکہ اِس سے مراد وہ علم ہے جس کا تعلق مذکورہ موافق امکانات سے  ہے- پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ تعالی نے خصوصی طورپر اِن موافق امکانات کی خبر دی، تاکہ آپ شعوری طورپر اِن امکانات سے واقف ہوں اور ان کو اپنے مشن کے حق میں استعمال کرسکیں-
6 ہجری میں پیغمبر اسلام اور قریش کے درمیان حدیبیہ کے مقام پر جو معاہدہ ہوا تھا، وہ اس معاملے کی ایک واضح مثال ہے- جیسا کہ معلوم ہے، حضرت عمر فاروق کو اِس معاہدے پر سخت اختلاف ہوگیا تھا- اس موقع پر حضرت ابوبکر صدیق اور حضرت عمر فاروق کے درمیان جوگفتگو ہوئی، اس کا ایک حصہ کتابوں میں اِس طرح نقل ہوا ہے: قال عمر: فأتیتُ أبابکر، فقلتُ یا أبابکر، ألیس ہذا نبی اللہ حقاً؟ قال: بلى- قلت: ألسنا على الحق وعدونا على الباطل؟ قال: بلى، قلتُ: فلم نعطی الدنیة فی دیننا إذاً؟ قال: أیہا الرجل، إنہ رسول اللہ ولیس یعصی ربہ، وہو ناصرہ، فاستمسک بغرزہ، فواللہ إنہ على الحق-(تفسیر ابن کثیر4/199) یعنی عمر فاروق کہتےہیں کہ پھر میں ابوبکر کے پاس گیا- میں نے کہا کہ اے ابوبکر، کیا رسول اللہ نبی برحق نہیں ہیں- انھوں نے کہا کہ ضرور آپ نبی برحق ہیں- میں نے کہا کہ کیا ایسا نہیں ہے کہ ہم حق پر ہیں اور ہمارا دشمن باطل پر ہے- انھوں نے کہا کیوں نہیں- میں نے کہا کہ پھر کیوں ہم اپنے دین کے معاملے میں ذلت کو اختیار کریں- ابوبکر نے کہا کہ اے شخص، وہ اللہ کے رسول ہیں- وہ کبھی اپنے رب کی خلاف ورزی نہیں کریں گے- اللہ ضرور ان کی مدد کرے گا- تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت کو لازم پکڑو- خدا کی قسم، وہ حق پر ہیں-
دورِ جدید کی مثال
قرآن کی مذکورہ آیت میں اللہ کے جس ’فضل عظیم‘ کا ذکر ہے، اس کا ظہور صرف ایک بار نہیں ہوا، بلکہ خدا کی دوسری رحمتوں کی طرح وہ بھی تاریخ میں بار بار دہرایا جارہا ہے- موجودہ زمانے میں یہ فضل یا اضافی نصرت بہت بڑے پیمانے پر ظاہر ہوچکی ہے-اہلِ ایمان کا کام یہ ہے کہ وہ اس کو پہچانیں اور اس کو خدائی مشن کے حق میں بھر پور طورپر استعمال کریں-
قرآن میں بتایا گیا ہے کہ اللہ نے اپنے رسول کو اِس لیے بھیجا، تاکہ وہ سارے عالم کوامرِ حق سے آگاہ کردے(25:1)- اِس آیت میں جس عالمی نشانے کا ذکر ہے، وہ اول دن سے مطلوب تھا، مگر اللہ کے تخلیقی نقشے کے مطابق، اِس دنیا میں کسی نشانے کی تکمیل کراماتی طورپر نہیں ہوتی، بلکہ وہ اسباب کے ذریعے ہوتی ہے- اِس عالمی دعوتی نشانے کو انجام دینے کے لیے قدیم زمانے میں عالمی مواصلات کا نظام عملاً موجود نہ تھا، اِس بنا پر مطلوب نشانہ بھی قدیم زمانے میں پورا نہ ہوسکا-
اِس مقصد کے لیے اللہ تعالی نے تاریخ میں ایک نیا پراسس جاری کیا- اِس پراسس کی تکمیل باقاعدہ طورپر انیسویں صدی میں ہوئی- انیسویں صدی اور اس کے بعد کی صدی میں وہ تمام اسباب وجود میں آگئے جو دینِ حق کی عالمی پیغام رسانی کے لیے ضروری تھے- آج جس چیز کو دورِ مواصلات کہاجاتاہے، وہ دراصل اِسی خدائی منصوبے کے تحت وجود میں آیا ہے-
یہ دورِ مواصلات اور اِس نوعیت کے دوسرے تائیدی ذ رائع گویا کہ دورِ جدید کے ’فضل عظیم‘ کی حیثیت رکھتے ہیں- ساتویں صدی عیسوی میں پیغمبر اسلام کو اُس زمانے کے اعتبار سے فضلِ عظیم یا موافق اسباب دئے گئے تھے، موجودہ زمانے میں پیغمبر کی امت کو دوبارہ جدید تقاضوں کے مطابق، فضلِ عظیم یا موافق اسباب عطا کیے گئے ہیں- اب امت کا یہ فرض ہے کہ وہ اپنے زمانے کے فضلِ عظیم کو پہچانے اور اس کو استعمال کرکے اپنے آپ کو اللہ کی عظیم سعادتوں کا مستحق بنائے- POIU
واپس اوپر جائیں