Pages

Saturday, 1 June 2013

Al Risala | June 2013 (الرسالہ،جون)

2

-حامل ِ کتاب قوم

3

- موت کی یاد کا مثبت پہلو

4

- دین کے بدلے دنیا

5

- انقلابی اسپرٹ

7

- سچائی کی سیٹ

9

- قانونِ فطرت کو جانیے

11

- اللہ کے دشمن

12

- انگریزی تعلیم

14

- ربوبیت: کائنات میں ربانی تنظیم

22

- سادہ فارمولا

23

- پیرانوئیا کی نفسیات

26

- اسلام اور مسلمان

36

- اسلام کے نام پر سیاست

37

- قبولِ اسلام کا ایک واقعہ

38

- افرا د سازی کی اہمیت

39

- عبرت یا عذاب

40

- ناعاقبت اندیشانہ اقدام

41

- صلاحیت کی قدر دانی

42

- اقدام کی شرط

43

- سب سے بڑی قربانی

44

- الرسالہ مشن

45

- سوال وجواب


حامل ِ کتاب قوم

قرآن میں قدیم اہلِ کتاب (یہود) کے حوالے سے فطرت کے ایک قانون کو بتایا گیا ہے - آیت کے الفاظ یہ ہیں: مَثَلُ الَّذِیْنَ حُمِّلُوا التَّوْرٰىةَ ثُمَّ لَمْ یَحْمِلُوْہَا کَمَثَلِ الْحِمَارِ یَحْمِلُ اَسْفَارًا (62:5) یعنی جن لوگوں کو تورات کا حامل بنایا گیا، پھر انھوں نے اس کو نہیں اٹھایا، اُن کی مثال اُس گدھے کی سی ہے جو کتابوں کا بوجھ اٹھائے ہوئے ہو-
یہ تمثیل صرف سابق اہلِ کتاب (یہود) کے بارے میں نہیں ہے، بلکہ وہ ماضی کے تجربے کی صورت میں حال کے اہلِ کتاب (امتِ مسلمہ) کے بارے میں بھی ہے- قرآن میں یہ مثال اِس لیے دی گئی ہے، تاکہ امتِ مسلمہ کے لوگ اُس سے سبق لیں اور اپنے آپ کو اس کے برے انجام سے بچائیں-
قرآن کی اِس آیت میں دراصل امت کے دو دور بتائے گئے ہیں — زوال سے پہلے کی حالت، اور زوال کے بعد کی حالت- اَلَّذِیْنَ حُمِّلُوْا التَّوْرَاةَ سے مراد زوال سےپہلے کی حالت ہے، یعنی وہ ابتدائی حالت جب کہ امت کے اندر دین زندہ ہوتا ہے، وہ مطلوب انداز میں دین پر قائم ہوتی ہے- یہ وہ ابتدائی دور ہے جس کو حدیث میں قرونِ ثلاثہ کہاگیا ہے-
حدیث کے مطابق، امت کی یہ حالت ابتدائی تین نسلوں تک ہوتی ہے- اِس کے بعد قانونِ فطرت کے مطابق، امت پر زوال آجاتاہے- اِس بعد کے دور کو کَمَثَلِ الْحِمَارِ یَحْمِلُ اَسْفَارًاکے الفاظ میں بیان کیاگیا ہے-
اس زوال یافتہ دور میں امت بظاہر کتاب کی حامل بنی ہوئی ہوتی ہے، لیکن اب کتاب کی اصل روح اس کے اندر باقی نہیں ہوتی- اب اس کا معاملہ ایسے حیوان جیساہوجاتا ہے جس کی پیٹھ پر بظاہر کتابیں لدی ہوئی ہوں، لیکن یہ کتابیں اس کے شعور کا حصہ نہ ہوں— پہلے دور میں امت انسان کی سطح پر حاملِ کتاب ہوتی ہے اور دوسرے دور میں حیوان کی سطح پر حاملِ کتاب-
واپس اوپر جائیں

موت کی یاد کا مثبت پہلو

ایک روایت کے مطابق، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: أکثروا ذکر ہادم اللذات، الموت (الترمذی، رقم الحدیث: 2307) یعنی موت کو بہت زیادہ یاد کرو جولذتوں کو ڈھادینے والی ہے-
اِس حدیث میں ’ہادم‘ (ڈھا دینے والا) کا لفظ سلبی معنی میں نہیں ہے، بلکہ وہ ایجابی معنی میں ہے، یعنی موت کی یاد صرف موت کی یاد نہیں، بلکہ اس کا ایک بہت بڑا مثبت پہلو ہے- اِس کا مطلب یہ ہے کہ موت اِس حقیقت کی یاد دہانی ہے کہ دنیا کی تمام لذتیں مٹ جانے والی ہیں، اِس لیے تم دنیا کی لذتوں کے بجائے، آخرت کی لذتوں کو اپنی سوچ کا مرکز بناؤ، کیوں کہ آخرت کی لذتیں ہمیشہ باقی رہنے والی ہیں (فاٰثروا ما یبقىٰ على ما یفنىٰ)-
انسان ایک لذت پسند مخلوق ہے- انسان ہر دور میں اپنی لذتوں کی تسکین حاصل کرنے کی کوشش کرتا رہا ہے- قدیم زمانے میں لذت کے سامان بہت محدود تھے- موجودہ زمانے میں لذت کے سامانوں کی کثرت ہوگئی ہے- اِس اعتبار سے، موجودہ زمانے کو کنزیومر ازم (consumerism) کا زمانہ کہا جاسکتا ہے- موجودہ زمانے میں کنزیومرازم کا دور آیا تو انسان مزید اضافہ کے ساتھ اپنی لذتوں کی تسکین حاصل کرنے کی کوشش\ میں لگ گیا-
مگر تاریخ کا تجربہ یہ بتاتا ہے کہ اِس معاملے میں انسان کا کیس کامل محرومی کا کیس ہے، انسان نہ قدیم روایتی زمانے میں تسکین کا سامان حاصل کرسکا، اور نہ جدید کنزیومرازم کے زمانے میں- گویا اِس دنیا میں طالب موجود ہے، مگر یہاں اس کا مطلوب موجود نہیں- جس آدمی کا شعور زندہ ہو، اس کے لیے موت اس بات کی یاد دہانی بن جائے گی کہ جس مطلوب کو میں قبل از موت دور میں نہ پاسکا، وہ مطلوب خالق کے پلان کے مطابق، موت کے بعد کے دور میں رکھ دیاگیا ہے- ایسے آدمی کے لیے موت کا تصور اس کی زندگی کے کورس کو متعین کرنے والا بن جائے گا-
واپس اوپر جائیں

دین کے بدلے دنیا

قرآن میں یہود کو خطاب کرتےہوئے کہاگیا ہے کہ: وَلَا تَشْتَرُوْا بِاٰیٰتِىْ ثَـمَنًا قَلِیْلًا (2:41) یعنی تم اللہ کی آیتوں کے بدلے ثمنِ قلیل مت خریدو-اِس آیت میں ’ثمنِ قلیل‘ سے مراد دنیا کے فائدے ہیں- اِس کا مطلب ہے اللہ کے کلام کو دنیا کے مادّی فائدے کے لیے استعمال کرنا- یہود نے اپنے دور زوال میں یہ کیا تھا کہ وہ اللہ کے کلام کو دنیوی فائدوں کے حصول کے لیے استعمال کرنے لگے- حدیث میں پیشین گوئی کی گئی تھی کہ مسلمان اپنے دورِ زوال میں یہود کا اتباع کریں گے (لتتبعنّ سنن من کان قبلکم شبراً بشبر وذراعاً بذراعٍ)- یہود کا یہ اتباع موجودہ زمانے کے مسلمانوں میں بڑے پیمانے پر دیکھا جاسکتا ہے-مثلاً آپ مسلمانوں کی کسی بک مارکیٹ میں جائیے- وہاں آپ کو کثرت سے  ایسی کتابیں ملیں گی جن میں ایسے وظائف اور عملیات بتائے گئے ہوں گے جن کے متعلق اُس میں یہ بشارت درج ہوگی کہ اس پر عمل کرنے سے آپ کو ہر قسم کے دنیوی فوائد حاصل ہوجائیں گے-
مثلاً اس میں جامع تعویذ کا ایک نسخہ اِن الفاظ میں لکھا ہوا ہوگا: بسم اللہ کا تعویذ ہر طرح کے بخار نیز تنگ دستی اور قرض وغیرہ جیسی ہر قسم کی پریشانی کے لیے مفید ہے- بسم اللہ الرحمن الرحیم لکھ کر گلےیا دائیں ہاتھ کے بازومیں باندھنا یا ٹوپی میں رکھ کر پہننا چاہیے- اِسی طرح اس میں ایک عمل اِن الفاظ میں در ج ہوگا کہ قرآن کی آیت: ’’نرفع درجات من نشاء وفوق کلّ ذی علم علیم‘‘ کو تین روز تک روزانہ سات ہزار مرتبہ پڑھے- اس کے بعد ملازمت کے لیے درخواست دے تو اس کی درخواست ضرور منظور ہوگی- اِسی طرح اس میں لکھا ہوگا کہ یا حی یا قیوم ایک ہزار بار اور یا وہّاب ایک ہزار بار پڑھے- اِس سے مرتبہ بڑھے گا اور مال میں بہت زیادہ اضافہ ہوگا، وغیرہ-
یہی وہ روش ہے جس میں یہود اپنے دور زوال میں مبتلا ہوئے اور قرآن میں یہود کی اِس روش کی مذمت کی گئی- موجودہ زمانے کے مسلمان اپنے دور زوال میں ہیں- وہ بھی ٹھیک اُسی روش میں مبتلا ہوچکے ہیں جس میں یہود اپنے دورِ زوال میں مبتلا ہوئے تھے-
واپس اوپر جائیں

انقلابی اسپرٹ

پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات 632 عیسوی میں ہوئی- اس کے بعد پورے عرب میں سنگین صورتِ حال پیدا ہوگئی- اِس کا اندازہ حضرت عائشہ کی حسب ذیل روایت سے ہوتا ہے: ولما توفی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ارتدت العرب، واشرأبّت الیہودیة والنصرانیة ونجم النفاق، وصار المسلمون کالغنم المطیرة فی اللیلة الشاتیة لفقد نبیہم، حتى جمعہم اللہ على أبی بکر (البدایة والنہایة 5/279 )یعنی جب رسول اللہ کی وفات ہوئی تو عرب میں ارتداد پھیل گیا- یہودیت اور نصرانیت نے سراٹھایا اور نفاق ظاہر ہوگیا- اور پیغمبر کے نہ ہونے کی وجہ سے مسلمان جاڑے کی رات میں بھیگی ہوئی بکری کے مانند ہوگئے، یہاں تک کہ اللہ نے مسلمانوں کو ابوبکر پر جمع کردیا-
اِس نازک موقع پر حضرت ابوبکر نےجو کام انجام دیا تھا، اس کی تفصیل کتابوں میں دیکھی جاسکتی ہے- یہاں ہم اِس سلسلے کی صرف ایک روایت نقل کرتے ہیں- جب مذکورہ صورتِ حال پیش آئی، اُس وقت اپنے عزم کا اظہار کرتے ہوئے حضرت ابوبکر کی زبان سے یہ الفاظ نکلے تھے: أینقص الدین وأنا حیّ (ہدایة الرواة لابن حجرالعسقلانی، رقم الحدیث: 3031) یعنی کیا دین میں نقص پیدا کیا جائے گا اور میں زندہ ہوں-خلیفۂ اول حضرت ابوبکر صدیق کے اِس قول سے زندگی کا ایک اہم اصول معلوم ہوتا ہے— کوئی بڑا کام ہمیشہ اُس وقت ہوتا ہے جب کہ ایک شخص کے اندر یہ عزم پیدا ہوجائے کہ یہ میری ذمے داری ہے اور میں اِس کام کو کروں گا- بڑا کام ہمیشہ ایک باعزم انسان کے ذریعے انجام پاتا ہے، نہ کہ کسی بھیڑ (crowd)کے ذریعے- اِس قسم کی طوفانی اسپرٹ ایک فرد کے اندر پیدا ہوتی ہے، نہ کہ کسی مجموعے کے اندر- یہ ایک کوہ شکن اسپرٹ ہے- اِس کو ایک لفظ میں — ’’آئی ول ڈو اسپرٹ‘‘ (I will do spirit)کے الفاظ میں بیان کیا جاسکتا ہے-
اس معاملے میں دوسری صورت یہ تھی کہ حضرت ابوبکر یہ سوچتے کہ اِس وقت ملک میں تقریباً ڈیڑھ لاکھ اصحابِ رسول موجود ہیں، یعنی وہ لوگ جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ پر ایمان لائے، جنھوں نے رسول اللہ کو دیکھا، جنھوں نے رسول اللہ کی صحبت پائی- یہ سوچ کر حضرت ابو بکرکہتے کہ: أینقص الدین وأصحاب الرسول أحیاء (کیا دین میں نقص پیدا کیا جائے گا، حالاں کہ اصحابِ رسول زندہ ہیں)- اِس کے بجائے حضرت ابو بکر نے کہا کہ: أینقص الدین وأنا حی-
حضرت ابوبکر اگر پہلا جملہ کہتے تو نفسیاتی طورپر وہ ذمے داری کو پورے مجموعے پر ڈال دیتے- ایسی حالت میں شعوری یا غیر شعوری طور پر اُن کا ذہن یہ کہتا کہ ایک لاکھ پچاس ہزار ذمے داریوں میں سے صرف ایک ذمے داری ان کی اپنی ہے- اِس کے برعکس، جب انھوں نے دوسرا جملہ کہا تو ان کا ذہن اِس عزم سے بھر گیا کہ ساری کی ساری ذمے داری تنہا ان کی اپنی ہے، کسی کا انتظار کئے بغیر انھیں خود اپنے آپ کو اِس کام میں پوری طرح جھونک دینا ہے-
اِس اسپرٹ کو ایک لفظ میں انقلابی اسپرٹ کہا جاسکتا ہے- تمام بڑے کام اِسی انقلابی اسپرٹ کے ذریعے انجام پاتے ہیں- جہاں افراد کے اندر یہ انقلابی اسپرٹ موجود نہ ہو، وہاں باتیں تو بہت ہوں گی، لیکن ایسی صورت میں کوئی بڑاکام انجام پانے والا ہر گز نہیں-
کسی فرد کے اندر یہ انقلابی اسپرٹ اُس وقت پیدا ہوتی ہے جب کہ وہ مسئلے کو اپنا ذاتی مسئلہ بنا لے، جب اس کو یقین ہوجائے کہ یہ کوئی خارجی سوال نہیں، یہ اس کی اپنی زندگی اور موت کا سوال ہے، یہیں اس کے لیے یا تو کامیابی کا فیصلہ ہونے والا ہے یا ناکامی کا فیصلہ- جب کوئی فرد اِس طرح ایک مسئلے کو اپنا ذاتی مسئلہ بنالے تو اُس وقت اس کے اندر ایک انقلابی اسپرٹ پیداہوجاتی ہے، اور یہی انقلابی اسپرٹ کسی بڑے کام کی اصل ضامن ہے، خواہ وہ کوئی مذہبی کام ہو یا سیکولرکام-
واپس اوپر جائیں

سچائی کی سیٹ

قرآن کی سورہ القمر میں اہلِ جنت کے بارے میں بتایا گیا ہے کہ آخرت میں وہ اللہ کے قریب سچائی کی سیٹ پر جگہ پائیں گے: اِنَّ الْمُتَّقِیْنَ فِیْ جَنّٰتٍ وَّنَہَرٍ۝ فِیْ مَقْعَدِ صِدْقٍ عِنْدَ مَلِیْکٍ مُّقْتَدِرٍ (54:54-55)یعنی اہلِ تقوی باغوں اور نہروں کے درمیان ہوں گے- وہ سچائی کی سیٹ پر ہوں گے، قدرت والے بادشاہ کے پاس:
The God-conscious will find themselves in gardens and rivers. In the seat of truth with an all-powerful sovereign.
اہلِ جنت کی سب سے بڑی سعادت یہ ہوگی کہ آخرت کی دنیا میں وہ اللہ کی قربت میں جگہ پائیں- اللہ کی قربت بلا شبہہ انسانی سعادت کا سب سے اعلی مقام ہے- سچے اہل ایمان کو اِس دنیا میں قربت کا یہ درجہ بہ اعتبار احساس ملتا ہے، اور آخرت میں سچے اہلِ ایمان کو یہ درجہ بہ اعتبارِ حقیقت حاصل ہوگا-
سچ بولنا انسان کی سب سے بڑی خوبی ہے اور جھوٹ بولنا انسان کی سب سے بڑی برائی- سچ بولنا یہ ہے کہ آدمی جو کچھ کہے، وہ حقیقتِ واقعہ کے عین مطابقت ہو، اور جھوٹ بولنا یہ ہےکہ آدمی ایسی بات کہے جو حقیقتِ واقعہ سے مطابقت نہ رکھتی ہو-
ایسے لوگ بہت کم ہیں جو دانستہ طور پر کھلا کھلا جھوٹ بولتے ہیں، لیکن جھوٹ کی ایک اور قسم ہے جس میں تقریباً سارے لوگ مبتلا رہتے ہیں، اور وہ ہے جذباتی تاثر کے تحت خلافِ واقعہ بات کہنا- اِس دوسرے جھوٹ کی سب سے زیادہ عام قسم وہ ہے جو قومی معاملات میں پیش آتی ہے، یعنی اپنی قوم اور دوسری قوم کے درمیان پائی جانے والی شکایت کے بارے میں خلافِ واقعہ بیان دینا- اِس طرح کے قومی معاملے میں تقریباً ہر آدمی یہ کرتا ہے کہ وہ متاثر ذہن کے تحت بولتا ہے- وہ دوسری قوم کی غلطی کو بتاتا ہے، لیکن وہ خود اپنی قوم کی غلطی کا ذکر نہیں کرتا- وہ قومی نزاعات کی تصویر اِس طرح پیش کرتا ہے، جس میں دوسری قوم سراسر ظالم اور اپنی قوم سراسر مظلوم دکھائی دے- قومی نزاعات کی اِس طرح رپورٹنگ یقینی طور پر ایک جھوٹ ہے، وہ یقینی طور پر قانون فطرت کے خلاف ہے- قومی معاملات میں جھوٹ کی روش اختیار کرنے والے لوگ بظاہر قوم کی ہمدردی کے جذبے کے تحت ایسا کرتے ہیں، مگر اپنے انجام کے اعتبار سے، بلا شبہہ یہ قوم کے ساتھ دشمنی ہے، نہ کہ قوم کے ساتھ ہمدردی-
قرآن میں اہلِ ایمان کو خطاب کرتےہوئے ارشاد ہوا ہے کہ: وَلَا یَجْرِمَنَّکُمْ شَنَاٰنُ قَوْمٍ عَلٰٓی اَلَّا تَعْدِلُوْا ۭاِعْدِلُوْا ۣ ہُوَ اَقْرَبُ لِلتَّقْوٰى(5:8) یعنی کسی گروہ کی دشمنی تم کو اِس پر نہ ابھارے کہ تم انصاف نہ کرو، انصاف کرو، یہی تقوی سے زیادہ قریب ہے:
Believers, do not let your enmity for others turn you away from justice. Deal justly; that is nearer to being God-fearing.
کوئی آدمی جھوٹ پر کھڑا ہوا ہے یا وہ سچائی پر کھڑا ہوا ہے، اِس کا صحیح اندازہ اُس وقت ہوتا ہے جب کہ کسی سے اس کو شکایت یا نزاع پیداہوجائے- شکایت پیدا ہوتے ہی آدمی فوراً غیر منصفانہ بولی بولنے لگتاہے- اِسی غیر منصفانہ کلام کو قرآن میں تطفیف (83:1) کہا گیا ہے، یعنی دوسری سائڈ کی غلطی کو بتانا اور اپنی سائڈ کی غلطی کو حذف کردینا-یہ طرز کلام ایک غیر متقیانہ طرز کلام ہے، اور جو لوگ غیر متقیانہ روش میں مبتلا ہوں، وہ کبھی اللہ کے پڑوس میں جگہ نہیں پاسکتے-
دوسری قوم کو ظالم بتانا اور اپنی قوم کو مظلوم بتانا دنیا میں قومی مقبولیت کے لیے بہت مفید ہے- قوم پسند بولی بولنے والے لوگ بہت جلد اپنی قوم میں قیادت کا درجہ حاصل کرلیتے ہیں، مگر آخرت کے اعتبار سے، یہ صرف ہلاکت ہے، اس کے سوا اور کچھ نہیں- قوم پسند بولی بولنے والے لوگ بہت جلدقوم کے اسٹیج پر ممتاز مقام حاصل کرلیتے ہیں، لیکن آخرت کے ربانی اسٹیج پر یقیناً ُاُن کوکوئی جگہ ملنے والی نہیں-
قومی شکایت کا موقع آدمی کے لیے سب سے زیادہ امتحان کا موقع ہوتا ہے- ایسا ہر لمحہ آدمی کی جنت یا جہنم کا فیصلہ کرنے والا ثابت ہوتا ہے- قومی معاملے میں لکھتے اور بولتے وقت جو لوگ غیرمنصفانہ رپورٹنگ کریں، وہ گویا کہ دنیا میں جھوٹ کی سیٹ پر کھڑے ہوئے ہیں- ایسے لوگوں کو آخرت کی دنیا میں ہر گز سچائی کی سیٹ پر جگہ ملنے والی نہیں-
واپس اوپر جائیں

قانونِ فطرت کو جانیے

ڈاکٹر راجندر پرشاد (وفات: 1963) آزاد انڈیا کے پہلے صدر تھے، اُن کے زمانے میں گجرات میں سوم ناتھ کا مندر دوبارہ تعمیر ہوا- مئی 1951 میں مرکزی وزیر کے ایم منشی نے ڈاکٹر راجندر پرشاد کو دعوت دی کہ وہ سوم ناتھ مندر کی رسمِ تنصیب (installation ceremony) میں شرکت کریں- ڈاکٹر راجندر پرشاد نے اِس تقریب میں شرکت کی اور وہاں اپنے خطاب کے دوران کہا کہ میرے نزدیک، سوم ناتھ مندر کی تعمیر ثانی اُس دن مکمل ہوگی، جب کہ یہاں نہ صرف ایک شان دار عمارت کھڑی ہوگی، بلکہ سوم ناتھ مندر کی شان دار تعمیر انڈیا کی خوش حالی کی علامت بن جائے گی- انھوںنے مزید کہا کہ سوم ناتھ مندر اِس بات کی علامت ہے کہ تخریب کے مقابلے میں تعمیر کی طاقت ہمیشہ زیادہ ہوتی ہے-
یہ واقعہ اُس وقت کے وزیر اعظم پنڈت جواہر لال نہرو اور ڈاکٹر راجندر پرشاد کے درمیان شدید نااتفاقی کا سبب بن گیا، کیوں کہ نہرو سوم ناتھ مندر کی تعمیر ثانی کو ہندو احیا کی کوشش کے ہم معنی سمجھتے تھے- اِس کے برعکس، ڈاکٹر راجندر پرشاد اور مرکزی وزیر کے ایم منشی کا خیال تھا کہ سوم ناتھ مندر کی تعمیر ثانی آزادی کا ایک پھل ہے اور ماضی میں ہندوؤں کے ساتھ ہونے والی ناانصافی کا خاتمہ:
In May 1951, Rajendra Prasad, the first President of the Republic of India, invited by K. M. Munshi, performed the installation ceremony for the temple. Rajendra Prasad said in his address: “It is my view that the reconstruction of the Somnath Temple will be complete on that day when not only a magnificent edifice will arise on this foundation, but the mansion of India's prosperity will be really that prosperity of which the ancient temple of Somnath was a symbol''. He added : "The Somnath temple signifies that the power of reconstruction is always greater than the power of destruction.”
This episode created a serious rift between the then Prime Minister Jawaharlal Nehru, who saw the movement for reconstruction of the temple as an attempt at Hindu revivalism and the President Rajendra Prasad and Union Minister K. M. Munshi, who saw in its reconstruction, the fruits of freedom and the reversal of past injustice done to Hindus. (en.wikipedia.org/wiki/Somnath)
مذکورہ واقعہ 1951 میں پیش آیا- اب اِس واقعے پر 60 سال سے زیادہ کی مدت گزر چکی ہے- اب ہم اِس پوزیشن میں ہیں کہ جواہر لال نہرو کے اندیشے کا عملی تجزیہ کرسکیں- اِس اعتبار سے دیکھاجائے تو جواہر لال نہرو کا اندیشہ (apprehension)واقعہ نہ بن سکا- اِس درمیان ہندو احیائیت (Hindu revivalism) کی تحریکیں اس کے داعیوں کی طرف سے پوری طاقت کے ساتھ چلائی جاتی رہیں، مگر آج عملاً جس چیز کا غلبہ ہے، وہ تمام تر مغربی کلچر ہے، نہ کہ ہندو کلچر، حتی کہ جو ہندو لیڈر ہندو احیائیت کے علم بردار بنے ہوئے تھے، ان کے اپنے بیٹے اور پوتے ہندو کلچر کو چھوڑ کر تیزی کے ساتھ مغربی کلچر کی طرف دوڑ رہے ہیں-
اِس سلسلے میں دوسرا واقعہ یہ ہوا کہ دوبارہ کچھ ہندو لیڈروں نے ایک ’رتھ یاترا‘ نکالی- یہ رتھ یاترا سوم ناتھ سے شروع ہو کر اجودھیا تک پہنچی- یہاں انھوںنے ایک بھیڑ اکھٹا کی- اِس بھیڑ نے 6 دسمبر 1992 کو اجودھیا کی تاریخی بابری مسجد کو ڈھا دیا-
یہ احیا پرست لوگ جس وقت بابری مسجد کو ڈھارہے تھے، اُس وقت یہ نعرہ ان کی زبان پر تھا کہ — اجودھیا تو جھانکی ہے، کاشی، متھرا باقی ہے- اِس واقعے کے بعدتمام مسلم رہنما اِس اندیشے میں پڑ گئے کہ اب ہندستان کی تمام مسجدیں ڈھائی جائیں گی- اِس معاملے کو لے کر مسلم رہنماؤں نے تقریر اورتحریر کے ذریعے احتجاجی ہنگامے برپا کیے، مگر عملاً کیا ہوا- واقعات بتاتے ہیں کہ اجودھیا میں اِس تحریک پر فل اسٹاپ (full stop) لگ گیا، وہ کاما(comma)نہ بن سکا- یہ واقعہ بتاتا ہے کہ— اِس دنیا میں ہمیشہ حقائق غالب (prevail) ہوتے ہیں، نہ کہ اندیشے-
واپس اوپر جائیں

اللہ کے دشمن

قرآن کی سورہ حم السجدہ میںاُن لوگوں کا ذکر کیاگیا ہے جو دعوت الی اللہ کی مخالفت کرتے ہیں- اِس سلسلے میں قرآن کی متعلق آیتوں کا ترجمہ یہ ہے: ’’اور انکار کرنے والوں نے کہا اِس قرآن کو نہ سنو اور اس میں خلل ڈالو، تاکہ تم غالب رہو- پس ہم انکار کرنے والوں کو سخت عذاب چکھائیں گے اور اُن کو ان کے عمل کا بدترین بدلہ دیں گے- یہ اللہ کے دشمنوں کا بدلہ ہے، یعنی آگ- اُن کے لیے اس میں ہمیشگی کا ٹھکانا ہوگا، اِس بات کے بدلے میںکہ وہ ہماری آیتوں کا انکار کرتے تھے‘‘- (41:26-28)
’’آیتوں کا انکار‘‘ سے مراد دعوت الی اللہ کی صداقت سے انکار ہے-ایسے لوگوںکو ’’اعداء اللہ‘‘ کہا گیاہے، یعنی اللہ کے دشمن- دعوت کا مشن ایک خدائی مشن ہوتاہے- جو لوگ دعوت الی اللہ کی مخالفت کریں، وہ خدائی مشن کی مخالفت کررہے ہیں- اِسی بنا پر اُن کو اللہ کا دشمن بتایا گیاہے-
دعوت الی اللہ کے کام کو قرآن میں انذار اور تبشیر (4:165) کہاگیا ہے، یعنی آخرت کی پکڑ سے انسان کو آگاہ کرنا اور آخرت کے انعام سے انسان کو باخبر کرنا- یہ کام خود اللہ کا مطلوب کام ہے- اللہ کو مطلوب ہے کہ تمام انسان موت سے پہلے یہ جان لیں کہ موت کے بعد اُن کے ساتھ اللہ کے یہاں کیا معاملہ ہونے والا ہے- یہ کام اگر چہ اللہ کا مطلوب کام ہے ، لیکن اِس دنیا میں اس کو انجام دینے والا انسان ہوتا ہے، یعنی پیغمبر اور داعی- دوسرے لفظوں میں یہ کہ دعوت الی اللہ کا مشن ایک خدائی مشن ہے، اگر چہ بظاہر وہ انسانوں کے ذریعے انجام دیا جاتا ہے-
ایسی حالت میں دعوتی مشن کی مخالفت، اللہ کی مخالفت ہے- جو لوگ دعوتی مشن کی مخالفت کرتے ہیں، وہ اپنے خیال کے مطابق، انسان کی مخالفت کررہے ہوتے ہیں، لیکن اپنی حقیقت کے اعتبار سے، وہ اللہ کے کام کی مخالفت کررہے ہوتے ہیں- یہی وجہ ہے کہ ایسے لوگوں کو قرآن میں اللہ کے دشمن (أعداء اللہ) کہاگیاہے- آخرت میں اُن کے ساتھ اللہ کے دشمن جیسا معاملہ کیا جائے گا، نہ کہ اللہ کے دوست جیسا معاملہ-
واپس اوپر جائیں

انگریزی تعلیم

ٹی بی میکالے (Thomas Babington Macaulay)ایک انگریز مورخ اور سیاست داں تھا- وہ 1800 میں پیدا ہوا، اور 1859 میں اس کا انتقال ہوا- وہ 1835 میں انڈیا آیا- اُس وقت کی برٹش حکومت میں اس کو ایک بڑا عہدے دار بنایا گیا- اس نے ایک تعلیمی نظریہ وضع کیا جس کو میکال ازم (Macaulayism) کہاجاتا ہے- اس کا مقصد تھا ملک میں اینگلی سائزڈ انڈین (anglicised Indians) کا ایک نیا طبقہ پیدا کرنا-
لارڈ میکالے سے پہلے انڈیا کی آفیشیل زبان فارسی تھی- لارڈمیکالے کی کوششوں سے ایسا ہوا کہ 1938 میں انگریزی زبان کو سرکاری زبان کا درجہ دے دیاگیا- اِس کے بعد ملک کے اسکولوں میں انگریزی زبان ذریعہ تعلیم قرار پائی- لارڈ میکالے کا کہنا تھاکہ — اس سے ایک نئی نسل پیدا ہوگی جو کہ پیدائش کے اعتبار سے ہندستانی اور اپنے ذہن کے اعتبار سے انگریز ہوگی:
So that a generation may arise which is Indian in birth and English in thought.
لارڈ میکالے نے جب یہ کہا تو اس کے خلاف سخت ہنگامہ کیاگیا، خاص طور پر مسلم رہنما انگریزی تعلیم کے شدید مخالف ہوگئے، حتی کہ انھوںنے کہا کہ انگریزی تعلیم گاہیں مسلمانوں کے لیے قتل گاہ کی حیثیت رکھتی ہیں-مگر یہ سب غیر ضروری اندیشے تھے- عملاً جو کچھ ہونے والا تھا، وہ صرف یہ کہ اِن درس گاہوں میں تعلیم پانے کی وجہ سے کٹر پن ختم ہوجائے اور لوگوں کے اندرکھلا پن آجائے- اپنے نتیجے کے اعتبار سے دیکھئے تو لارڈ میکالے کا قول ایک لفظی تبدیلی کے ساتھ دراصل یہ تھا:
So that a generation may arise which is Indian in birth and liberal in thought.
چناںچہ تجربہ بتاتا ہے کہ اِن انگریزی اداروں میں تعلیم پائے ہوئے مسلم نوجوانوں میں سے بہت سے ایسے تھے جو بعد کو بہترین مسلمان بنے- مسلم جماعتوں اور تنظیموں کو انھیں انگریزی اداروں سے بہترین افراد حاصل ہوئے، وغیرہ-اِس معاملے میں اصل قابلِ لحاظ بات یہ نہیں ہے کہ لارڈ میکالے یا برٹش حکمرانوں نے بطور خود کس نظریے کے تحت انگریزی تعلیم گاہیں بنائیں، بلکہ اصل قابلِ لحاظ بات یہ ہے کہ باعتبار نتیجہ ان کا انجام کیا ہوا، اوریہ کہ یہاں سے کس قسم کے لوگ تعلیم پاکر نکلے-
انگریزی تعلیم حقیقتاً برٹش تعلیم نہ تھی، بلکہ وہ جدید علم (modern learning) کے حصول کا ذریعہ تھی- ماڈرن ایجوکیشن اپنی حیثیت کے اعتبار سے نہ پروبرٹش (pro-British)تھی اور نہ اینٹی مسلم، وہ صرف جدید علوم تک پہنچنے کا ایک ذریعہ تھی- ’’انگریزی تعلیم‘‘ کا نتیجہ یہ ہوا کہ لوگوں کے اندر ذہنی جمود ٹوٹا، ان کے اندر کھلا پن آیا، ان کے اندر متعصبانہ طرز فکر (biased thinking) کا خاتمہ ہوا، وہ چیزوں کو موضوعی انداز (objective way) میں دیکھنے لگے، ان کے اندر کٹر پن ختم ہوگیا، ان کے اندر چیزوں کو عقل (reason)کے معیار پر جانچنے کا مزاج پیداہوگیا، وغیرہ-
یہ تمام چیزیں عین دینِ حق کے موافق تھیں، کیوں کہ دین حق انسانی فطرت کےعین مطابق ہے، وہ عقل کی کسوٹی پر پورا اترتا ہے- دین حق کے راستے میں اگر کوئی چیز ر کاوٹ ہے تو وہ صرف متعصبانہ طرز فکر ہے- کسی بھی طریقے سے اگر متعصبانہ طرز فکر کو ختم کردیا جائے تو دینِ حق اور انسان کے درمیان حائل فکر ی دیوار اپنے آپ منہدم ہوجائے گی- اس کے بعد انسان اِس قابل ہوجائے گا کہ وہ حقیقت کو اس کی بے آمیز صورت میں دیکھ سکے- انگریزی تعلیم یا سیکولر تعلیم کے ذریعے یہی واقعہ پیش آیا- اِس تعلیم کے ذریعے بہت سے نوجوان اِس قابل ہوگئے کہ وہ حقیقت کو دریافت کرکے اس کو قبول کرلیں- موجودہ زمانے میں اِس طرح کی مثالیں ہر مقام پر دیکھی جاسکتی ہیں— قدیم زمانہ قیاسی استدلال کا زمانہ تھا- موجودہ زمانہ سائنسی استدلال کا زمانہ ہے- آج کے انسان کے مائنڈ کو ایڈریس کرنے کے لیے سائنسی استدلال کی ضرورت ہے- انگریزی تعلیم نے اِسی دروازے کو کھولا تھا-
صحیح طریقہ یہ ہے کہ جب بھی کوئی نئی صورتِ حال پیش آئے تو اگر چہ وہ بظاہر عُسر دکھائی دیتی ہو تب بھی آپ اس کے اندر یُسر تلاش کریں- ہر نئی صورتِ حال ہمیشہ نئے مواقع کو لاتی ہے- ایسی حالت میں اصل کام صرف یہ ہے کہ مواقع کو دریافت کرکےان کو اپنے حق میں استعمال کیا جائے-
واپس اوپر جائیں

ربوبیت: کائنات میں ربانی تنظیم

قرآن میں بتایا گیاہے کہ اللہ سارے عالم کا رب ہے(1:1)- اِس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ نے کائنات کو پیدا کرکے اس کو چھوڑ نہیں دیا، بلکہ وہ ہر لمحہ کائنات کو مینج کررہا ہے، مادی کائنات کو بھی اور انسانی تاریخ کو بھی- مادی کائنات میں اللہ کا مینج مینٹ (management) کلی معنوں میں ہے، لیکن انسان کو چوں کہ انتخاب کی آزادی (freedom of choice) ملی ہوئی ہے، اِس لیے انسانی زندگی میں اللہ کا طریقہ یہ ہے کہ وہ انسان کی آزادی کو پوری طرح برقرار رکھتے ہوئے، اس کو مینج کررہا ہے-
موجودہ دنیا میں ہر انسان اپنا امتحان دے رہا ہے- موجودہ دنیا میں ہر انسان کو یہ موقع دیاگیا ہے کہ وہ اپنی شخصیت کو اِس طرح تعمیر کرے کہ وہ آخرت میں جنت میں داخلے کا مستحق قرار پائے جو کہ انسان کی اصل منزل ہے- اِس مصلحت کے تحت اللہ موجودہ دنیا کی مسلسل نگرانی کرتا ہے- وہ انسانی تاریخ کو اِس طرح مینج کررہا ہے کہ موجودہ زمین اپنے دار الامتحان (testing ground) ہونے کی حیثیت کو کسی خلل کے بغیر مسلسل طور پر برقرار رکھے- اِس کا مقصد زمین پر اجتماعی معنوں میں کوئی صالح نظام قائم کرنا نہیں ہے، بلکہ اِس کا مقصد یہ ہے کہ جو شخص اپنی انفرادی تعمیر کرنا چاہے، وہ کسی خلل کے بغیر اپنی شخصی تعمیر کرتا رہے-
اللہ کی اِس سنت کو قرآن میں اِس طرح بیان کیا گیا ہے: وَلَوْلَا دَفْعُ اللّٰہِ النَّاسَ بَعْضَہُمْ بِبَعْضٍ ۙ لَّفَسَدَتِ الْاَرْضُ وَلٰکِنَّ اللّٰہَ ذُوْ فَضْلٍ عَلَی الْعٰلَمِیْنَ (2:251) یعنی اگر اللہ بعض لوگوں کو بعض لوگوں سے دفع نہ کرتا تو زمین فساد سے بھر جائے، مگر اللہ دنیا والوں پر بڑا فضل کرنے والا ہے:
And if God did not check one set of people by means of another, the earth would indeed be full of mischief. But God is full of bounty to all worlds.
انسانی تاریخ کے بارے میں اللہ کا یہ منصوبہ بظاہر کسی اعلان کے بغیر اپنا کام کررہا ہے- قرآن کی سورہ الکہف (18:60-82) میں موسی اور خضر کے جو واقعات بیان کیے گئے ہیں، وہ اِسی مینج مینٹ کی ایک جزئی مثال ہیں- اِس میں جس کردار کو خضر کہا جاتا ہے، وہ دراصل ایک فرشتہ تھا، نہ کہ کوئی انسان-
دو طرفہ انتظام
اللہ نے انسان کو پیدا کرنے کے بعد ایک طرف یہ کیا کہ پیغمبروں کو بھیجنے کا سلسلہ شروع کیا جو ساتویں صدی عیسوی میں خاتم النبیین کے ظہور تک جاری رہا- یہ پیغمبر اِس لیے آئے تاکہ انسان کو لفظی طور پر یہ بتادیا جائے کہ انسان کے بارے میں اللہ کا تخلیقی منصوبہ کیا ہے، تاکہ جو انسان اِس تخلیقی منصوبے کے مطابق، زندگی گزارنا چاہے، وہ اس کے مطابق اپنی زندگی کی تشکیل کرسکے- خاتم النبیین کے ذریعے اللہ کا جو کلام قرآن کی شکل میں آیا، وہ پوری طرح محفوظ ہوگیا، اور پرنٹنگ پریس کے دور میں ہر انسان تک اس کا مستند نسخہ پہنچ گیا- اِس لیے اب کسی پیغمبر کے آنے کی ضرورت نہیں-
اِس خدائی انتظام کا دوسرا پہلو وہ ہے جس کو تاریخ کا ربانی مینج مینٹ (divine-management of history) کہاجاسکتا ہے- اِس مینج مینٹ کا خاص حصہ یہ ہے کہ زمین پر کوئی فتنے کی حالت قائم نہ ہونے پائے- چناں چہ جب بھی زمین پر فتنے کی کوئی حالت قائم ہوتی ہے تو اللہ ایسے حالات پیدا کرتا ہے جو اس کو ختم کردینے والے ہوں- موجودہ زمانے میں اِس قانونِ دفع کی ایک مثال یہ ہے کہ 1917 میں کمیونسٹ ایمپائر قائم ہوا- اس نے ایک بڑے رقبے میں خلافِ مذہب قانون بنا کر انسان سے چوائس (choice) کا حق چھین لیا- اُس وقت اللہ تعالی نے امریکا کو استعمال کیا اور تقریباً 75 سال کے بعد 1991 میں کمیونسٹ ایمپائر کے تحت قائم شدہ جبری نظام کا خاتمہ ہوگیا-
امت مسلمہ کا رول
اِس خدائی منصوبے میں امتِ مسلمہ کا رول کیا ہونا چاہئے، اس کو قرآن میں اشارات کی زبان میں بتا دیاگیا ہے- اِس سلسلے میں قرآن کی سورہ الصف کی ایک آیت یہ ہے: یٰٓاَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا کُوْنُوْٓا اَنْصَارَ اللّٰہِ کَمَا قَالَ عِیْسَى ابْنُ مَرْیَمَ لِلْحَوَارِیّٖنَ مَنْ اَنْصَارِیْٓ اِلَى اللّٰہِ ۭ قَالَ الْحَــوَارِیُّوْنَ نَحْنُ اَنْصَارُ اللّٰہِ فَاٰمَنَتْ طَّاۗىِٕفَةٌ مِّنْۢ بَنِیْٓ اِسْرَاۗءِیْلَ وَکَفَرَتْ طَّاۗىِٕفَةٌ ۚ فَاَیَّدْنَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا عَلٰی عَدُوِّہِمْ فَاَصْبَحُوْا ظٰہِرِیْنَ (61:14) یعنی اے ایمان والو، تم اللہ کے مددگار بنو، جیسا کہ عیسی بن مریم نے حواریوں سے کہا: کون اللہ کے واسطے میرا مددگار ہوتاہے- حواریوں نے کہا: ہم ہیں اللہ کے مددگار- پس بنی اسرائیل میں سے کچھ لوگ ایمان لائے اور کچھ لوگوں نے انکار کیا- پھر ہم نے ایمان لانے والوں کی، اُن کے دشمنوں کے مقابلے میں، مدد کی، پس وہ غالب ہوگئے-
قرآن کی اِس آیت میں ایک بہت اہم بات کہی گئی ہے- اِس آیت کا خطاب امتِ مسلمہ سے ہے، لیکن اِس میں امتِ مسیح کے ایک نمونے کو بطور ماڈل پیش کیا گیا ہے اور امتِ مسلمہ سے یہ کہا گیا ہے کہ تم بھی اُسی ماڈل کے مطابق کام کرو جس کے مطابق، امتِ مسیح نے کام کیایا مستقبل میں کام کریں گے- یہ ماڈل آئڈیالوجی یا عقیدہ کے اعتبار سے نہیں ہے، بلکہ وہ صرف طریقِ کار (method)کے اعتبار سے ہے- اِس اعتبار سے، امتِ مسیح (Christian community)کے یہاں جو ماڈل ملتا ہے، اس کی دو تاریخی مثالیں یہاں درج کی جاتی ہیں- حدیث میں آیا ہے کہ بعد کے زمانے میں مسیحی گروہ، تعداد کے اعتبار سے، سب سے بڑا مذہبی گروہ بن جائے گا (صحیح مسلم، کتاب الفتن)- ایسا کیوں کر ہوگا، اس کا جواب بھی اِسی مثال پر غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے-
اِس معاملے کی پہلی مثال وہ ہے جو خود حضرت مسیح کے زمانے میں پیش آئی-حضرت مسیح کا مقامِ عمل قدیم فلسطین تھا- فلسطین میں حضرت مسیح کے ابتدائی پیروؤں پر سخت ظلم کیا گیا، مگر حضرت مسیح کی تعلیم کے مطابق، اُن کے پیروؤں نے اپنے دشمنوں سے کوئی نفرت نہیں کی- انھوں نے دشمنوں کے خلاف کوئی جوابی کارروائی نہیں کی، حتی کہ ان کے خلاف کوئی پروپیگنڈہ بھی نہیں کیا- وہ خاموشی کے ساتھ فلسطین سے باہر چلے گئے اور حضرت مسیح کی تعلیم: دشمن سے  محبت کرو(love your enemy) کے اصول پر عمل کرتے ہوئے پرامن دعوت (peaceful missionary work) میں مشغول ہوگئے-
تاریخ بتاتی ہے کہ سینٹ پال کے زیر اثر مسیحی گروہ کے اندر کچھ نظریاتی انحرافات پیدا ہوئے، لیکن جہاں تک پرامن طریقِ کار کا معاملہ ہے، اُس پر وہ بدستور پوری طرح قائم رہے- پرامن مشنری سرگرمیوں کے ذریعے مسیحیت مختلف ملکوں میں پھیلتی رہی، یہاں تک کہ رومی شہنشاہ کانسٹینٹین اول (Constantine I)نے 337میں مسیحی مذہب قبول کرلیا- یہ الناس على دین ملوکہم کا دور تھا- چناں چہ جلد ہی ایسا ہوا کہ یورپ کے تقریباً تمام باشندوں نے مسیحی مذہب کو اختیار کرلیا، مسیحی گروہ کو یہ غیرمعمولی کامیابی تمام تر پرامن دعوت کے ذریعے حاصل ہوئی-
مسیحی گروہ کے ذریعے تاریخ میں اِس سلسلے میں دوسرا ماڈل ساتویں صدی عیسوی میں قائم ہوا- ساتویں صدی میں مسلمانوں کو جب عروج ہوا تو انھوں نے رومن ایمپائر کو توڑ دیا اور اِس مسیحی سلطنت کے پورے علاقے پر قبضہ کرلیا- اِس علاقے میں مسیحی عقیدے کے مطابق، مقدس مقامات، شام اور فلسطین، بھی شامل تھے- بعد کے زمانے میں یورپ کے مسیحی بادشاہوں کے اندر یہ جذبہ پیدا ہوا کہ وہ اپنے مقدس مقامات کو مسلمانوں سے واپس لے لیں- اِس مقصد کے لیے انھوں نے وہ جنگ چھیڑ ی جو تاریخ میں، صلیبی جنگ (Crusades) کے نام سے مشہور ہے-صلیبی جنگ وقفے وقفے سے تقریباً دو سو سال (1095-1291) تک جاری رہی- مورخ گبن کے الفاظ میں، اِس جنگ میں یورپ کی مسیحی قوموں کو ذلت آمیز شکست (humiliating defeat) ہوئی- مگر تاریخ کا یہ انوکھا معجزہ ہے کہ اِس شکست کے بعد مسیحی قوموں میں منفی ردّعمل (negative reaction) کا جذبہ پیدا نہیں ہوا، بلکہ انھوں نے یہ کیا کہ اپنے جذبے کو پُرامن عمل کی طرف ڈائـورٹ(divert) کردیا، یعنی مسلمانوں سے مسلح مقابلہ ختم کرکے علم وتحقیق کے میدان میں اپنی کوششوں کو صرف کرنا-
ڈائـورژن (diversion) کے اِس عمل کو ابتدائی زمانے میں، اسپریچول کروسیڈ (spiritual crusades) کہاگیا تھا- بعد کو وہ رفتہ رفتہ سائنٹفک کروسیڈ (scientific crusades) میں تبدیل ہوگیا- اِس عمل میں اُس وقت چرچ رکاوٹ بن گیا تو انھوں نے سخت جدوجہد کے بعد چرچ کے اختیارات پر حد بندی قائم کردی، پھر 1929 میں چرچ کو ویٹکن (روم) کے محدود رقبے میں گویا ہاؤس اریسٹ (house arrest) کردیا جس کا کُل رقبہ صرف 109 مربع ایکڑ ہے-
اِس دور میں یورپ کے جن لوگوں نے سائنٹفک کروسیڈ (scientific crusades) یا سائنسی ریسرچ کے میدان میں کام کیا، وہ تقریباً سب کے سب مسیحی افراد تھے- اِس سائنسی عمل میں بریک تھرو (breakthrough) اُس وقت آیا، جب کہ 1609 میں اٹلی کے فلکیاتی عالِم گلیلیو (Galileo Galilei) نے ابتدائی دور بین تیار کی اور اس کے ذریعے خلا کا مشاہدہ کیا- اس مشاہدے نے سائنس دانوں کے سامنے عمل کا ایک ایسا میدان کھول دیا جو ناقابل قیاس حد تک وسیع تھا- اُس وقت یورپی ذہن نے یہ جانا کہ ہم عالمِ صغیر میں جی رہے تھے، جب کہ یہاں عالمِ کبیر ہمارا استقبال کرنے کے لیے موجود ہے- اس کے بعد یورپ کے مسیحی اہلِ علم پوری طرح سائنسی تحقیق کے میدان میں سرگرم ہوگئے، یہاں تک کہ انھوں نے تاریخ میں پہلی بار ایک نیا دور پیدا کردیا جس کو عام طور پر جدید تہذیب (modern civilization) کہاجاتا ہے-
قابلِ تقلید ماڈل
قرآن کی سورہ الصف میں پیروانِ مسیح کے اِس ماڈل کو اہلِ ایمان کے لیے قابلِ تقلید ماڈل کے طورپر پیش کیا گیاہے- اِس سے مراد خاص طورپر پیروانِ مسیح کی تاریخ کے یہی دو واقعات ہیں- پہلا واقعہ وہ ہے جو حضرت مسیح کے بعد کی ابتدائی صدیوں میں پیش آیا، اُس وقت پیروانِ مسیح کو سخت طورپر ظلم وستم کا نشانہ بنایا گیا تھا، لیکن انھوں نے اس کے مقابلے میں رد عمل کا طریقہ اختیار نہیں کیا، بلکہ وہ طریقہ اختیار کیا جو حضرت مسیح نے اُن کو اِن الفاظ میں بتایا تھا — اپنے دشمن سے محبت کرو- اِس کا مطلب یہ تھا کہ دوسروں کی طرف سے اگر تم کو دشمنی کا تجربہ ہو تب بھی تم اپنے آپ کو منفی نفسیات سے بچاؤ اور یک طرفہ طورپر پر امن طریقہ اختیار کرتے ہوئے دوسروں تک اپنا پیغام پہنچاؤ-
پیروانِ مسیح کے ماڈل میں دوسرا نمونہ وہ ہے جو صلیبی جنگوں کے بعد سامنے آیا ، یعنی عسکری میدان میں ناکامی کے بعد اپنے میدانِ عمل کو بدل دینا، جیسا کہ پیروانِ مسیح نے کیا- انھوں نے مسلح کروسیڈ کے میدان میں اپنی کوششوں کو بے نتیجہ پایا تو انھوں نے ڈائـورژن کا طریقہ اختیار کیا، اِس طرح کہ عسکری میدان کو چھوڑ کر پر امن سائنسی میدان میں اپنے آپ کو سرگرمِ عمل کرلیا-
امت مسلمہ کی کوتاہی
عجیب بات ہے کہ سورہ الصف میں مسلمانوں کو جوعملی نصیحت کی گئی تھی، اس کو وہ اختیار نہ کرسکے- مسلمانوں سے یہ مطلوب تھا کہ وہ پیروانِ مسیح کے اُس ماڈل کو اپنائیں جس کو قرآن میں پیشگی طورپر بتادیا گیا تھا- یہی وہ پرامن ماڈل ہے جس کو پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے حدیبیہ کے موقع پر اختیار فرمایاتھا- مگر مسلمان بحیثیت قوم اِس سے بے خبر رہے، وہ اِس ماڈل کو اپنانے میں ناکام رہے- مسلمانوں کی تاریخ میں اِس کی دو بڑی مثالیں موجود ہیں-
پہلی مثال وہ ہے جو نوآبادیاتی طاقتوں کے ظہور کے بعد پیش آئی- اِس دور میں یورپ کی نو آبادیاتی طاقتوں نے مسلمانوں کی سلطنتوں کو توڑ دیا اور ان کے سیاسی دبدبے کو ختم کردیا- اس کے بعد مسلمان منفی رد عمل کی نفسیات کا شکار ہوگئے- وہ نفرت اور انتقام اور تشدد میں مبتلا ہو کر رہ گئے، حالاں کہ قرآن میں بیان کردہ پیروانِ مسیح کے ماڈل کے مطابق، انھیں یہ کرنا تھا کہ وہ پُرامن طریقِ کار اختیار کرتے، یعنی وہ میدانِ جنگ کو چھوڑ کرمیدانِ دعوت میں آجاتے، جن لوگوں کو وہ اپنا حریف سمجھ کر اُن سے متشددانہ ٹکراؤ کررہے تھے، اُن کو مدعو کا درجہ دے کر وہ ان کے اوپر پر امن دعوہ ورک شروع کردیتے- اگر مسلمان ایسا کرتے تو یقیناً اُن کے اوپر قرآن کے وہ الفاظ صادق آتے جو اِس سے پہلے پیروانِ مسیح کے اوپر صادق آچکے تھے، یعنی: فأیدنا الذین آمنوا على عدوّہم فأصبحوا ظاہرین (61:14)
پیروانِ مسیح کے ماڈل میں دوسرا نمونہ وہ تھا جو صلیبی جنگوں کے بعد ظہور میں آیا- اس کا نتیجہ یہ تھا کہ دنیا کے اوپر پہلی بار فطرت کے قوانین (laws of nature) منکشف ہوئے اور جدید تہذیب وجود میں آئی جس کے نتیجے میں پوری انسانیت کو بے شمار فائدے حاصل ہوئے-
اِس دوسرے معاملے میں بھی مسلمان پوری طرح ناکام ہوگئے- قرآن میں بیان کردہ پیروانِ مسیح کے ماڈل میں ان کے لیے یہ پیغام تھا کہ مغربی قوموں سے مقابلہ آرائی میں جب باعتبار نتیجہ وہ ناکام ہوجائیں تو وہ اپنی پالیسی پر نظرثانی (revision) کریں-اِسی نظر ثانی کو قرآن میں اجتماعی توبہ (24:31) کہاگیا ہے- نظرثانی کا وہ عمل یہ تھا کہ مسلمان اپنی کوششوں کو ٹکراؤ کے میدان سے ہٹائیں اور وہ اپنےآپ کو پوری طرح تعمیری کام میں لگادیں، مگر مسلمان نفرتِ مغرب میں اتنی شدت سے مبتلا ہوئے کہ ان کے اندر یہ تعمیری سوچ پیدا نہ ہوسکی-
اگر مسلمان اپنی منفی نفسیات سے باہر آکر مثبت انداز میں سوچتے تو اُن کو معلوم ہوتا کہ مغرب کی مسیحی قوموں نے جو کارنامہ انجام دیا ہے، وہ عین اُن کی اپنی موافقت میں ہے- اِس کے نتیجے میں جو جدید تہذیب وجود میں آئی ہے، اس نے مسلمانوں کے لیے خدمتِ دین اور اشاعتِ اسلام کے نئے وسیع تر دروازے کھول دئے ہیں- پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے پیشگی طور پر فرمایا تھا کہ بعد کے دور میں اللہ تعالی کچھ سیکولر لوگوں کو کھڑا کرے گا جو دین کے حق میں تائیدی رول (supporting role) انجام دیں گے- مغرب کی مسیحی قوموں کا کارنامہ اِسی قسم کا تائیدی کارنامہ تھا- اِس موقع پر مسلمانوں کو چاہئے تھاکہ وہ مغربی قوموں کے خلاف نفرت اور تشدد کی پالیسی کو مکمل طورپر ختم کردیں- اگر وہ ایسا کرتے تو ان کے اندر ایک نیا مثبت ذہن ابھرتا- اس کے بعد وہ جان لیتے کہ مغربی قوموں نے ان کے لیے کتنا بڑا تائیدی کام انجام دیا ہے-
اِس تائیدی کام کا ایک پہلو وہ ہے جس کو قرآن میں اِس طرح بیان کیا گیا ہے — عن قریب ہم اُن کو اپنی نشانیاں دکھائیں گے، آفاق میں بھی اور انفس میں بھی، یہاں تک کہ ان کے اوپر یہ آشکارا ہوجائے گا کہ یہ (قرآن) حق ہے(40:53)- قرآن کی اِس آیت میں جن چیزوں کو آیات (signs) کہا گیا ہے، اُن سے مراد وہی سائنسی حقیقتیں ہیں جو پہلی بار مغربی قوموں کے ذریعے انسان کے علم میں آئیں- یہ سائنسی دریافتیں بے شمار پہلوؤں سے اسلام اور دعوتِ اسلام کے لیے مفید اور معاون ہیں-حقیقت یہ ہے کہ ساتویں صدی میں جو اسلامی انقلاب آیا تھا، وہ ایک پہلو سے تاریخ میں ایک نئے عمل (process) کا آغاز تھا- یہ عمل تدریجی طورپر اپنا کام کرتا رہا- نشاةِ ثانیہ کے بعد یورپ میں جو انقلابات آئے، وہ سب اِسی تاریخی عمل کی تکمیل تھے- مثلاً افکار کے معاملے میں کھلا پن (intellectual openness)، مذہبی آزادی، تشدد کے طریقے کا بحیثیت اصول ختم ہوجانا، بادشاہت کے بجائے جمہوریت کا نظام، پرنٹنگ پریس کا دور، وغیرہ-
اِس قسم کی تمام تبدیلیاں جو مغربی تہذیب کے بعد دنیا میں آئیں، وہ سب خود اسلام کا مطلوب تھیں- اِن تبدیلیوں کے ذریعے یہ ممکن ہوگیا کہ اسلام کی صداقت کو خالص علمی اعتبار سے مدلّل کیا جائے- جدیدٹکنالوجی اور کمیونکیشن نے اِس بات کو ممکن بنا دیا کہ اسلام کی اشاعت کو عالمی سطح پر انجام دیا جاسکے- اِس طرح کی بے شمار جدید چیزیں ہیں جو عین اسلام کے حق میں ہیں اور وہ عملاً سب کی سب مغربی تہذیب کے نتیجے میں انسان کو حاصل ہوئی ہیں-
خاتمہ کلام
امتِ مسلمہ کی تاریخ اب اکیسویں صدی عیسوی میں پہنچ چکی ہے- اب آخری طورپر وہ وقت آگیا ہے، جب کہ امت کے اندر وہ سوچ پیدا ہو جس کو قرآن کے اندر اجتماعی توبہ کہا گیا ہے، یعنی قومی پالیسی کو بدلنا- یہی امت مسلمہ کے مسائل کا واحد حل ہے- اِس کے سوا کوئی اور حل نہ ممکن ہے اور نہ مطلوب- پچھلی صدیوں میں جو حالات پیدا ہوئے، اس کے نتیجے میں، ساری دنیا کے مسلمانوں کے اندر منفی نفسیات کا ذہن پیدا ہوا- اِس کا نتیجہ یہ ہوا کہ مسلمان اپنی اصل حیثیت کو بھول گئے، یعنی یہ کہ وہ اللہ کے دین کے داعی ہیں اور دوسری قومیں ان کے لیے مدعو کا درجہ رکھتی ہیں-
اصل حقیقت کے اعتبار سے، مسلمانوں اور دوسرے انسانوں کے درمیان داعی اور مدعو کی نسبت ہے، لیکن مسلمانوں کی منفی نفسیات کی بنا پر یہ ہوا کہ مسلمانوں اور دوسرے انسانوں کے درمیان حریف اور رقیب کی نسبت قائم ہوگئی- موجودہ زمانے میں کرنے کا اصل کام یہ ہے کہ مسلمانوں اور دوسرے انسانوں کے درمیان اِس نسبت کو درست کیا جائے- مسلمانوں کے اندر عمومی طورپر یہ سوچ پیدا کی جائے کہ وہ داعی ہیں اور دوسری قومیں ان کے لیے مدعو کی حیثیت رکھتی ہیں- اِسی میں مسلمانوں کی دنیا کی کامیابی بھی ہے اور اِسی میں ان کی آخرت کی کامیابی بھی- (10 اپریل 2013)
واپس اوپر جائیں

سادہ فارمولا

موجودہ زمانے کے مسلمان مختلف قسم کے مسائل کا شکار ہیں- مثلاً فقہی مسائل، سیاسی مسائل، اور بین اقوامی مسائل، وغیرہ- مسائل کے حل کا صحیح فارمولا وہ ہے جو حالات کی نسبت سے قابل عمل ہو- اِس اعتبار سے دیکھئے تو مذکورہ مسائل کا سادہ فارمولا یہاں حسب ذیل الفاظ میں بیان کیا جاسکتا ہے:
فقہی مسائل میں توسع، سیاسی مسائل میں شورائیت،اور مشترک مسائل میں بین اقوامی رواج کو مان لینا-
فقہی (عبادتی) مسائل میں اختلاف کا اصل سبب یہ ہے کہ صحابہ کی روایتیں عبادات کے فارم کے معاملے میں مختلف ہیں- ایسی حالت میں اِس مسئلے کا آسان حل یہ ہے کہ اِن اختلافات کو توسع پر محمول کیا جائے- یہ مسلک حدیثِ رسول کے مطابق ہوگا، کیوں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اصحاب کے بارے میں فرمایا: بأیہم اقتدیتم اہتدیتم (کشف الخفاء، جلد1، صفحہ 146)
سیاسی مسائل میں شورائیت کا مطلب یہ ہے کہ سیاست میں کوئی شخص اپنا معیار چلانے کی کوشش نہ کرے- عوامی رائے کے مطابق، جو بات طے ہو، اس کو مان لیا جائے-
مذہبی معاملات میں افراد کو آزادی دیتے ہوئے، سیاسی اقتدار کے معاملے کو جمہوری عمل (democratic process) کے حوالے کردیا جائے-
مشترک مسائل میں بین اقوامی رواج کو مان لینے کا مطلب یہ ہے کہ بین اقوامی معاملے میں اُس اصول کو اختیار کرلیناجس کو اُس وقت انٹرنیشنل نارم(international norm) کا درجہ حاصل ہو- مسائل کا حل ہمیشہ حقیقت پسندی میں ہوتا ہے، نہ کہ معیار پسندی میں- اجتماعی زندگی میں کوئی بھی شخص اپنے ذاتی معیار کو نہیں چلا سکتا، اِس لیے اجتماعی زندگی میں ضروری ہوتا ہے کہ دوسروں کی رعایت کی جائے، دوسروں کے ساتھ ایڈ جسٹ کرتے ہوئے اپنےعمل کا منصوبہ بنا یا جائے-
واپس اوپر جائیں

پیرانوئیا کی نفسیات

آپ انٹرنیٹ کھولیں تو آپ کو اُس میں دو اصطلاحیں ملیں گی — جوئش پیرانوئیا (Jewish Paranoia) اور مسلم پیرانوئیا (Muslim Paranoia) - دونوں عنوانات کے تحت آپ کو بہت سے مضامین ملیں گے- اِن مضامین کے مطالعے سے آپ کو معلوم ہوگا کہ اپنے بعد کے زمانے میں، یہود اور مسلمان دونوں، ایک ہی نفسیات کا شکار ہوئے- یہ نفسیات وہی ہے جس کو اصطلاحی طورپر پیرانوئیا (paranoia) کہاجاتاہے- پیرانوئیا کا مطلب ہے: فریب خوردگی (delusion) میں جینا-
یہود اور مسلمانوں کی اِس فریب خوردگی کا مشترک سبب اُن کی قومی تاریخ ہے- دونوں کے ساتھ یہ ہوا کہ قدیم زمانے میں اُن کو قومی بر تری اور سیاسی دبدبہ ملا- اِس کے بعد دونوں کے ساتھ یہ واقعہ پیش آیا کہ کچھ قومیں ابھریں جنھوں نےدونوں کی قومی برتری اور سیاسی دبدبے کو ختم کردیا- یہ واقعہ پہلے، یہود کے ساتھ پیش آیا اور اس کے بعد مسلمانوں کے ساتھ-یہ واقعہ قانونِ فطرت کے تحت ہوا تھا، لیکن دونوں نے اُس کو ’’غیروں‘‘ کی سازش قرار دے دیا-
اِس سے دونوں کے اندر جو مریضانہ ذہنیت پیداہوئی، اُسی کا نام پیرانوئیا ہے-اِس ذہنیت کے نتیجے میں مشترک طورپر جو ہوا، وہ یہ تھا— اپنے بارے میں فرضی فخر (false pride) اور دوسرے کے بارے میں فرضی نفرت (false hate)- اِس بگڑے ہوئے مزاج کے تحت دونوں کے اندر جو برائیاں پیدا ہوئیں، اُن میں سے ایک مشترک برائی یہ تھی کہ دونوں نے دعوت کا وہ کام چھوڑ دیا جس کی ذمے داری اُن پر خدا کی طرف سے ڈالی گئی تھی-
اِس سلسلے میں یہود کے کیس کو قرآن میں اِن الفاظ میں بیان کیاگیا ہے: لَتُبَیِّنُنَّہٗ لِلنَّاسِ وَلَا تَکْتُمُوْنَہٗ ۡ فَنَبَذُوْہُ وَرَاۗءَ ظُہُوْرِھِمْ وَاشْتَرَوْا بِہٖ ثَمَـــنًا قَلِیْلًا ۭ فَبِئْسَ مَا یَشْتَرُوْنَ (3:187) یعنی یہود سے یہ عہد لیا گیا تھاکہ تم ضرور اس کو لوگوں کے سامنے بیان کروگے اور اس کو نہ چھپاؤگے، لیکن انھوں نے اس کو پس پشت ڈال دیا- اِس سلسلے میں مسلمانوں کی ذمے داری کو قرآن کی اس آیت میں بیان کیاگیاہے: لِیَکُوْنَ الرَّسُوْلُ شَہِیْدًا عَلَیْکُمْ وَتَکُوْنُوْا شُہَدَاۗءَ عَلَی النَّاس(22:78)
یہ ایک حقیقت ہے کہ یہود نے اپنے بعد کے زمانے میں تبیینِ حق کی ذمے داری کو چھوڑ دیا، حتی کہ اِس حکم کی فرضیت اُن کے لیے ایک نامعلوم چیز بن گئی- انھوں نے بطور خود یہ عقیدہ بنا لیا کہ نجات (salvation) صرف یہود (بنی اسر ائیل) کے لیے ہے-غیر یہود کے لیے نجات ہی نہیں- ٹھیک یہی حال بعد کے زمانے میں مسلمانوں کا ہوا- دعوت یا شہادت علی الناس کا حقیقی تصوران کے ذہن سے حذف ہوگیا- ان کی تفسیریں، اُن کی شرحیں اور ان کی تیار کردہ کتابیں دعوت الی اللہ کے حقیقی تصور سے خالی ہیں- انھوں نے اپنے آپ کو ’’خیر امت‘‘ کا درجہ دےرکھا ہے اور دوسروں کو انھوں نے عملاً ’’کافر‘‘ کا درجہ دے کر اُن کو نظر انداز کردیا ہے-
موجودہ زمانے میں کچھ لوگوں نے بظاہر دعوت کے نام سے ادارے قائم کیے ہیں، اور اس کے تحت کچھ سرگرمیاں کررہے ہیں، مگر اپنی حقیقت کے اعتبا ر سے، یہ سرگرمیاں دعوتی سرگرمیاں نہیں- ان کی سرگرمیوں کو دو قسم میں تقسم کیا جاسکتا ہے — ایک، وہ لوگ ہیں جو دعوت کےنام پر ڈبیٹ (debate) کرتے ہیں- وہ دوسروں کے مذہب پر مسلمانوں کے مذہب کی بر تری ثابت کرتے ہیں- اِس سے مسلمانوں کے جذبہ فخر کو تسکین ملتی ہے- مسلمان اُن کی تقریروں پر خوش ہو کر تالیاں بجاتے ہیں، مگر اس قسم کا ڈبیٹ صرف ایک قومی کام ہے، اس کا دعوت سے کوئی تعلق نہیں-
دوسری قسم کے لوگ وہ ہیں جو دعوت کا نام لیتے ہیں، لیکن عملاً اُن کا کام یہ ہے کہ وہ عوام کے اندر جائیں اور پر اسرار قسم کے بے اصل قصے کہانیاں سنا کر وقتی طورپر لوگوں سے کلمہ پڑھوائیں- اِس طرح کے کام سے مسلمان خوش ہوتے ہیں اور ایسے لوگوں کا تعاون کرتے ہیں، اِس لیے کہ اِس کام میں مسلمانوں کو یہ نفسیاتی تسکین ملتی ہے کہ اُن کی قوم کی تعداد میں اضافہ ہورہا ہے-
دعوت الی اللہ کے کام کا نہ قومی فخر سے کوئی تعلق ہے اور نہ قومی تعداد بڑھانے سے- دعوت الی اللہ تمام تر شہادت علی الناس کا کام ہے- دعوت کا کام انسانوں کی خیر خواہی میں خالص آخرت کے جذبے کے تحت ہوتا ہے- دعوت کا کام کیا ہے، اس کی حقیقت قرآن کی اِس آیت سے معلوم ہوتی ہے: رُسُلًا مُّبَشِّرِیْنَ وَمُنْذِرِیْنَ لِئَلَّا یَکُوْنَ لِلنَّاسِ عَلَی اللّٰہِ حُجَّــةٌۢ بَعْدَ الرُّسُلِ(4:165)-
پچھلی تاریخ میں کئی بار ایسا ہوا کہ کچھ طاقتوں نے فلسطین میں یہودیوں کے خلاف پر تشدد کارروائیاں کیں- اِس کے بعد یہود کی تاریخ میں ایک ظاہرہ پیدا ہوا جس کو ڈائس پورا (diaspora) کہاجاتا ہے، یعنی اپنے وطن سے ہجرت کرنا اور دوسرے مقام پر جاکر آباد ہونا-
اِس طرح جو یہود فلسطین کو چھوڑ کر دوسرے ملکوں میں گئے، وہ اپنی علاحدہ قومی شناخت (identity) کو بہت زیادہ اہمیت دیتے تھے- چناں چہ وہ جس ملک میں گئے، وہاں انھوں نے اپنی علاحدہ بستیاں بنائیں- اِن بستیوں کو گھیٹو (ghetto) کہا جاتا ہے- اپنی شناخت برقرار رکھنے کے نام پر اِس طرح علاحدہ بستیاں بنانا کوئی سادہ بات نہ تھی- اِس طرح علاحدہ رہنے کی وجہ سے اُن کے اندر ایک ذہنیت پیدا ہوئی جس کو گھیٹو مینٹلٹی (ghetto mentality) کہاجاتا ہے- بعد کے زمانے میں خود یہودیوںمیں گھیٹو کا یہ کلچر باقی نہ رہا- وہ تعلیم اور دوسرے جدید شعبوں میں دوسری قوموں کے ساتھ مل کر کام کرنے لگے- اِس طرح یہودیوں کے اندر گھیٹو مینٹلٹی بڑی حد تک ختم ہوگئی-
موجودہ زمانے میں مسلمانوںکے اندر بھی یہی کلچر رائج ہوا، یعنی مسلم شناخت کے نام پر دوسروں سے الگ ہو کر رہنا- یہ صورتِ حال تادمِ تحریر برقرار ہے- اِس روش نے مسلمانوں کے اندر بہت بڑے پیمانے پر گھیٹو ذہنیت پیدا کردی- اِسی گھیٹو ذہنیت کا ایک سیاسی مظاہرہ وہ تھا جس کو پاکستانائزیشن (Pakistanization) کہا جاسکتا ہے-
اِس پاکستانائزیشن کے نام پر موجودہ زمانے کے مسلمانوں کو جو نقصان پہنچا ہے، اُس کی کوئی مثال پچھلی پوری تاریخ میں نہیں ملتی- موجودہ زمانے میں پاکستانائزیشن کی پالیسی اسلام کے نام پر اختیار کی گئی، مگر اپنی حقیقت کے اعتبار سے، وہ صرف سیاسی گھیٹوازم (political ghettoism) تھا، اِس کے سوا اور کچھ نہیں (25 جنوری 2013)
واپس اوپر جائیں

اسلام اور مسلمان

پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے 610 عیسوی میں مکہ میں اپنا مشن شروع کیا- ابتدائی مشکلات کے بعد آپ کا مشن نہایت تیزی کے ساتھ پھیلا، یہاں تک کہ تقریباً 50 سال کے عرصے میں آپ کے ماننے والوں نے ایشیا اور افریقہ اور یورپ میں بڑی بڑی سلطنتیں قائم کرلیں- مسلمانوں کا یہ دبدبہ تقریباً ایک ہزار سال تک جاری رہا- اِس کے بعد وَتِلْکَ الْاَیَّامُ نُدَاوِلُھَا بَیْنَ النَّاسِ (3:140) کے فطری قانون کے تحت حالات بدلے- یورپ میں نشاةِ ثانیہ (Renaissance) کا دور آیا- یورپی قومیں نئی طاقتوں سے مسلح ہو کر دنیا کے بیش تر حصے میں پھیل گئیں-یہ وہی دور تھا جس کو مسلم ایمپائر کا دور کہا جاتا ہے- فطری طور پر یورپی قوموں کا مقابلہ براہِ راست مسلم سلطنتوں سے ہوا- اٹھارھویں صدی عیسوی کا آخری زمانہ اِس معاملے میں فیصلہ کن حیثیت رکھتا ہے- یہی وہ زمانہ ہے جب کہ ایک طرف، عثمانی سلطنت کو یورپی طاقت کے مقابلے میں شکست کا سامنا کرنا پڑا- 1770 میں ترکوں کے مضبوط بحری بیڑے کو ایک لڑائی میں میڈی ٹیرینین سمندر میں تباہ کردیا گیا:
The Ottoman naval establishment was wiped out at the Battle of Çeşme (1770) by a Russian fleet. (EB. 13/784)
اِس سلسلے میں دوسرا واقعہ ہندستان میں پیش آیا- اُسی زمانے میں برٹش فوجیں ہندستان میں داخل ہوئیں اور تیزی سے پیش قدمی کرنے لگیں- اٹھارھویں صدی کے آخر میں اُن کا مقابلہ میسور کے سلطان ٹیپو سے پیش آیا- برٹش فوجیں کامیاب ہوئیں اور 1799 میں انھوں نے سری رنگا پٹنم میں سلطان ٹیپو کو ہلاک کرکے میسور کی سلطنت پر قبضہ کرلیا- اُس وقت سلطان ٹیپو کی لاش کے پاس کھڑے ہو کر جنرل ہیرس (George Harris) نے فاتحانہ انداز میں کہا تھا کہ — آج ہندستان ہمارا ہے:
Today, India is ours!
نئی سوچ کی ضرورت
اِس کے بعد مغربی قوموں کے خلاف مسلمانوں کا ٹکراؤ شروع ہوا- یہ ٹکراؤ انیسویں صدی اور بیسویں صدی کے درمیان دو صدیوں تک مسلسل جاری رہا- اِس طویل جنگ میں مسلمانوں کو ساری دنیا میں یک طرفہ طور پر تباہی سے دوچار ہونا پڑا-اب اِس تباہ کن لڑائی کی تاریخ اکیسویں صدی میں پہنچ چکی ہے- اب حالات اُس سنگین حد تک پہنچ چکے ہیں، جب کہ اِس تباہ کن لڑائی کو مزید جاری رکھنے کا کوئی جواز نہیں- اب آخری طور پر وہ قت آگیا ہے کہ مسلمانوں کے علما اور دانش ور یہ فیصلہ کریں کہ اب ہمیں پورے معاملے کا از سرِ نو جائزہ لینا ہے- اب ہمیں ماضی کی غلطیوں کا اعتراف کرتے ہوئے احیاءِ ملت کی نئی منصوبہ بندی کرنا ہے- دو سو سال کا ناکام تجربہ یہ جاننے کے لیے کافی ہے کہ ماضی کی پالیسی کو بدستور جاری رکھنا، اب صرف دیوانگی ہے، نہ کہ کوئی دانش مندی-
اسلام کے عملی اصول میں سے ایک اصول وہ ہے جس کو نظر ثانی (reassessment) کا اصول کہا جاسکتا ہے- فطرت کے نظام کے مطابق، یہ ممکن ہے کہ آدمی نظریہ (ideology) کی سطح پر ہمیشہ ایک ہی آئڈیل اصول پر قائم رہے، لیکن عمل کی دنیا میں آنے کے بعد ہمیشہ پریکٹکل وزڈم (practical wisdom) کی ضرورت ہوتی ہے، یعنی عملی تقاضے کی نسبت سے اپنے منصوبے پر نظر ثانی کرنا، بدلے ہوئے حالات کے مطابق، ازسرِ نو اپنے عمل کا نقشہ بنانا- یہ اسلام کا تقاضا بھی ہے اور عقل کا تقاضا بھی- موجودہ زمانے کے مسلمانوں پر اب آخری طور پر وہ وقت آگیا ہے کہ وہ اِس عملی اصول کے تحت اپنی سرگرمیوں کا از سرِ نو جائزہ لیں اور حقائق (realities) کی بنیاد پر اپنے عمل کا نیا نقشہ بنائیں، جو حالات کے مطابق، قابلِ عمل بھی ہو اور نتیجہ خیز بھی-
اسلامی لٹریچر کا معاملہ
اسلام استثنائی طورپر ایک ایسا مذہب ہے جس کا اصل متن (original text) آج بھی محفوظ طور پر موجود ہے- یہی متن (قرآن اور سنت) اسلام کی تعلیمات کو جاننے کا واحد ماخذ ہے- اسلام کا یہ تاریخی پہلو اسلام کی ایک ایسی خصوصیت ہے جو کسی بھی دوسرے مذہب کو حاصل نہیں- مگر اسلام کی بعد کی صدیوں میں یہ ہوا کہ اسلام کے متن کی تشریح وتفصیل کے طور پر ہزاروں کتابیں عربی زبان میں لکھی گئیں- اس کے بعد دھیرے دھیرے یہ ہوا کہ بعد کو لکھی جانے والی یہ کتابیں شعوری یا غیر شعوری طورپر اسلام کا اصل ماخذ قرارپاگئیں- اب یہی کتابیں مدرسوں اور اداروں اور لائبریریوں میں استعمال ہوتی ہیں، ہر جگہ اُنھیں کا چرچا ہوتا ہے، حتی کہ عملاً اب قرآن اور سنت کی حیثیت ثانوی ہوگئی ہے اور بعد کو پیدا ہونے والے لٹریچر کو بلا اعلان اسلام کے اولین لٹریچر کی حیثیت حاصل ہوگئی ہے-
اب موجودہ مسلمانوں کی حالت یہ ہے کہ فکری حیثیت سے وہ دین ِ منزَّل پر کھڑے ہوئے نہیں ہیں، اب عملاً وہ اُس دین پر کھڑے ہوئے ہیں جو بعد کی صدیوں میں مسلم علما نے اصل دین کی تشریح وتفصیل کی حیثیت سے بطور خود مدوّن کیا- مسلمانوں کی یہ صورتِ حال پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی اُس پیشین گوئی کی تصدیق ہے جو حدیث کی کتابوں میں اِن الفاظ میں آئی ہے: من اقتراب الساعة أن یرفع الأشرار، ویوضع الأخیار، ویوضع فی القوم الِمثْناة، لیس أحد یغیرہا، قیل: وما المثناة- قال: کتاب کتب سوى کتاب اللہ عزوجل (المستدرک على الصحیحین، رقم الحدیث: 8782 )یعنی قرب قیامت کی ایک علامت یہ ہے کہ برے لوگوں کو بلندی حاصل ہوجائے گی، اور اچھے لوگوں کو ذلیل کیا جائے گا، اور لوگوں کے درمیان ’مِثناة‘ کا رواج عام ہوجائے گا، کوئی نہ ہوگا جو اس کی تغییر کرے- پوچھا گیا کہ مثناة کیا ہے- رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ: اللہ کی کتاب کے سوا لکھی جانے والی کتابیں-
اِس حدیث میں دراصل امتِ مسلمہ کے زوال کی حالت کو بتایا گیا ہے- جب ملت پر زوال کا دور آتا ہے تواس کی حالت بھی وہی ہو جاتی ہے جو دوسری ملتوں کی ہوئی، یعنی لوگ ظاہر پسند بن جاتے ہیں- اُن کو معنوی حقائق دکھائی نہیں دیتے، البتہ ظاہری چیزیں خوب نظر آتی ہیں- لوگوں کے اِس بگڑے ہوئے ذوق کی بنا پر اُن کے درمیان دنیا پرست قسم کے لوگ ابھرتے ہیں اور آخرت پسند قسم کے لوگ غیر نمایاں بن جاتے ہیں- جو لوگ بگڑے ہوئے عوامی ذوق کو غذا فراہم کریں، وہ مقبولیت حاصل کرلیتے ہیں اور جو لوگ اپنی سنجیدگی کی بنا پر عوامی ذوق کی رعایت نہ کرسکیں، وہ اُن کے درمیان غیر مقبول بن جاتے ہیں-اُس وقت ایسے لوگ ابھرتے ہیں جو اگر چہ روحانی اعتبار سے خالی ہوتے ہیں، لیکن اپنے شان دار مذہبی لباس کے ذریعے وہ لوگوں کے درمیان اپنے کو نمایاں بنا لیتے ہیں- ان کے خوش نما الفاظ ، ان کا بناوٹی انداز، ان کی بڑی بڑی باتیں عوام کو اپیل کرتی ہیں- ایسے لوگ حقیقت کے اعتبار سے، اگر چہ ’’اشرار‘‘ ہوتے ہیں، لیکن عوام کے بگڑے ہوئے ذوق کی بنا پر وہ اُن کے درمیان ’’اَخیار‘‘ کا درجہ حاصل کرلیتے ہیں- یہی وہ لوگ ہیں جن کی تقریر اور تحریر کو حدیث میں ’مثناة‘ کہاگیا ہے-
مذکورہ حدیث میں اللہ کی کتاب کے سوا جن کتابوں کا ذکر ہے، اُن سے مراد عام کتابیں نہیں ہیں، بلکہ ان سے مراد وہ کتابیں ہیں جو امت کے بعد کے زمانے میں دینِ خداوندی کی تفسیر اور تشریح کے طورپر لکھی جائیں- دوسرے لفظوں میں یہ کہ اِن قابلِ ترک کتابوں سے مراد وہ کتابیں ہیں جو اُس زمانے میں لکھی جائیں جو ’قُرون مشہود لہا بالخیر‘ کے بعد کا زمانہ ہے- اِس قسم کی کتابیں پچھلی امتوں کے زمانۂ ما بعد میں لکھی گئی تھیں، اِسی طرح وہ یقینی طورپر خود امتِ مسلمہ کے زمانۂ مابعد میں بھی لکھی جائیں گی- اِس معاملے میں کسی حاملِ کتاب امت کا کوئی استثنا (exception) نہیں-
بعد کے زمانے میں لکھی جانے والی کتابیں دو قسم کی ہوسکتی ہیں— ایک وہ جو کتاب اللہ کے گہرے مطالعے کے بعد اس کی حقیقی وضاحت کے طورپر لکھی جائیں- اور دوسری کتابیں وہ ہیں جو دورِ زوال میں لوگوں کے بگڑے ہوئے ذوق کی رعایت کے طورپر لکھی جائیں- مذکورہ حدیث میں ’مثناة‘ کے نام سے جن کتابوں کا ذکر ہے، وہ یہی دوسرے قسم کی کتابیں ہیں-امتِ مسلمہ کے بعد کے دور میں جو کتابیں لکھی گئیں، وہ اُس وقت لکھی گئیں، جب کہ مسلمان ایک نظریاتی گروہ کی حیثیت سے باقی نہیں رہے تھے، بلکہ وہ عام قوموں کی طرح ایک قوم بن چکے تھے، چناں چہ اِن کتابوں میں ایک مشترک خامی یہ ہے کہ وہ مسلمانوں کے قومی ذہن کی عکاسی کرتی ہیں، نہ کہ اسلام کے اصولی موقف کی-
بعد کے دور میں مسلمان دوسری قوموں کو مدعو کے بجائے محکوم کی نظر سے دیکھنے لگے، اِس لیے ایسا ہوا کہ بعد کے دور میں پیدا ہونے والے لٹریچر میں دعوت الی اللہ کا باب حذف ہوگیا- بعد کے دور میں جب کہ مسلمانوں کا پولٹکل ایمپائر قائم ہوا، اُس وقت مسلمانوں میں عام طورپر سیاسی طرز فکر پیدا ہوگیا- اِس سیاسی ذہن کا نتیجہ یہ ہوا کہ بعد کے مسلمانوں میں جہاد کے نام پر قتال (جنگ) کا تصور غالب آگیا، حتی کہ قتال اُن کے لیے مذہبی عقیدے کا جز بن گیا، جب کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں قتال کو صرف ضرورتِ شدیدہ (law of necessity) کے طورپر اختیار کیا گیا تھا-
بعد کے دور میں مسلمانوں کو جو دبدبہ حاصل ہوا، اس کے نتیجے میں مسلمانوں کے اندر عام طورپر فخر (pride) کا ذہن پیدا ہوگیا- وہ دوسروں کے مقابلے میں، اپنے آپ کو برتر سمجھنے لگے- اِسی ذہن کا یہ نتیجہ تھا کہ انھوں نے اپنے زیر ِ قبضہ علاقوں کو ’دار الاسلام‘ اور دوسروں کے زیر قبضہ علاقوں کو ’دار الکفر‘ کہنا شروع کردیا، حالاں کہ قرآن کے مطابق، تمام دنیا یکساں طورپر دار الانسان کی حیثیت رکھتی تھی- دار الکفر اور دار الاسلام کی اصطلاحیں سرتا سر مبتدعانہ اصطلاحیں ہیںجو بعد کے دور میں وضع کی گئیں- اِسی صورت حال کا یہ نتیجہ تھا کہ بعد کے زمانے میں اسلام کو صرف احکام اور قوانین کا ایک مجموعہ سمجھ لیا گیا، اِسی ذہن کا نتیجہ تھا کہ علما کے درمیان علم فقہ کو غلبہ حاصل ہوگیا اور قرآن اور حدیث عملاً فقہ کے تابع قرار پاگئے- دورِ زوال کا یہ بھی ایک ظاہرہ ہے کہ دین میں اسپرٹ (spirit) کی اہمیت گم ہوجاتی ہے اور ساری اہمیت فارم (form) کو حاصل ہوجاتی ہے- اِس فرق کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ دین میں ساری بحثیں فنی اور قانونی پہلوؤں پر مرتکز ہوجاتی ہیں- اِس کے نتیجے میں ایک شدید تر خرابی پیدا ہوجاتی ہے، یعنی بہت سے فرقوں کا وجود میں آنا- یہاں پہنچ کر ملتِ واحدہ، ملتِ متفرقہ میں تبدیل ہوجاتی ہے-
واقعات بتاتے ہیں کہ بعد کے دور میں ملتِ مسلمہ کے درمیان یہ تمام خرابیاں کامل طورپر پیش آئیں- اِن تمام خرابیوں کا سبب وہی چیز ہے جس کو مذکورہ حدیث میں ’مثناة‘ کہاگیا ہے، یعنی ملت کے دورِ زوال میں پیدا ہونے والا لٹریچر- موجودہ زمانے کے مسلمانوں کے تمام فکری مسائل براہِ راست طورپر اِسی صورتِ حال کا نتیجہ ہیں- اب اِس صورتِ حال کا حل صرف ایک ہے، وہ یہ کہ قرون مشہود لہا بالخیر کے بعد مسلمانوں نے عربی زبان میں بطور خود جو لٹریچر تیار کیا، اُن کتابوں کو اب مسلمانوں کے کلاسکل لٹریچر (classical literature)کا درجہ دے دیا جائے- اب دوبارہ کھلے ذہن کے تحت قرآن اور سنت کا مطالعہ کیا جائے اور پھر ایسا لٹریچر تیا رکیا جائے جو جدید ذہن کو ایڈریس کرنے والا ہو- بعد کے پیدا شدہ لٹریچر کی تاریخی حیثیت ہمیشہ باقی رہے گی، لیکن جہاں تک ماخذ کی بات ہے، اسلام میں مستند ماخذ کی حیثیت ہمیشہ قرآن اور سنت کو حاصل رہے گی-
ایک ’’روشن خیال‘‘ مسلمان نے ایک بار لکھا تھا کہ — آج قرآن کو دوبارہ نازل ہونا چاہئے:
Quran has to be re-revealed today.
یہ ایک صحیح بات ہے جس کو غلط الفاظ میں بیان کیاگیا ہے- آج ہم کو نئے قرآن کی ضرورت نہیں،ضرورت صرف یہ ہے کہ اسلوبِ عصر میں قرآن کی تبیین کی جائے- چناں چہ یہ کہنا صحیح ہوگا کہ:
Quran has to be re-defined today.
قرآن کی تمام تعلیمات ابدی ہیںتاہم اسلوب کلام کا تعلق مخاطب گروہ سے ہے، اِس لیے اسلوب کلام ہر دور میں بدلتا رہتا ہے- اب ضرورت ہے کہ قرآن کی ابدی تعلیمات کو اسلوبِ عصر میں اِس طرح بیان کیا جائے کہ وہ آج کے لوگوں کے لیے قابل فہم بن سکیں-
ملتِ مسلمہ کا کیس
ہجری کیلنڈر کے لحاظ سے آج محرم 1434 کی پہلی تاریخ ہے- اِس کا مطلب یہ ہے کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے جب ہجرت کی تھی، اُس پر اب 1433 سال گزر چکے ہیں- آپ کے زمانے میں جس ملتِ مسلمہ کی تشکیل ہوئی تھی، اپنی حقیقت کے اعتبار سے، وہ اب ختم ہوچکی ہے- آج جس کو ہم ملتِ مسلمہ کہتے ہیں، وہ ملت کی بعد کی نسلیں ہیں جو مختلف حالات سے گزرتے ہوئے اکیسویں صدی عیسوی میں داخل ہوئی ہیں- یہ فطرت کا قانون ہے کہ ہر امت اپنے بعد کے دور میں زوال کا شکار ہوتی ہے-موجودہ زمانے میں مسلمان دنیا کے تقریباً تمام ملکوں میں پائے جاتے ہیں- یہ مسلمان، قرآن کی زبان میں، خیرِ امت(3:110) نہیں ہیں، وہ بعد کے دور میں وجود میں آنے والے ایک زوال یافتہ گروہ کی حیثیت رکھتے ہیں- اُن کا کیس وہی ہے جس کو قرآن میں ’طولِ امد‘ کے ذریعے پیدا ہونے والی قساوت (57:16) کا کیس کہاگیا ہے-
تحریکوں کی ناکامی کا سبب
پچھلے دو سوسال کے اندر مسلم علما اور مسلم رہنماؤں نے ملت کے احیا کے لیے بہت سی بڑی بڑی تحریکیں اٹھائیں اور بہت سی بڑی بڑی جماعتیں بنائیں- اِن تحریکوں اور جماعتوں کے تحت جو پُرجوش سرگرمیاں جاری ہیں، ایک فارسی شاعر کے الفاظ میں، اُن کے بارے میں یہ کہنا صحیح ہوگا کہ:
زمیں شش شد و آسماں ہشت شد
مگر یہ تحریکیں اپنے اعلان کردہ مقصد کے اعتبار سے مکمل طورپر ناکام رہیں- اِس کا سبب صرف ایک تھا، وہ یہ کہ اِن رہنماؤں نے موجودہ مسلمانوں کو ’’خیر امت‘‘ فرض کرکے اپنا کام شروع کیا، جب کہ اصل واقعہ یہ تھا کہ موجودہ زمانے کے مسلمانوں کا یہ انبوہ ایک زوال یافتہ گروہ کے درجے میں پہنچ چکا تھا-
اصلاح کا آغاز افراد سے
دورِ زوال کی نفسیات یہ ہے کہ زوال اگرچہ عمومی سطح پر ہوتا ہے، لیکن اصلاح کا آغاز افراد کی سطح سے کیا جاتا ہے- دورِ زوال میں مجموعی اصلاح کا طریقہ سراسر بے معنی ہے- قرآن کےمطابق، صحیح طریقہ یہ ہے کہ ایسی حالت میں کام کا آغاز اصلاحِ افراد سے کیا جائے، یعنی بھیڑ کو ایڈریس کرنے کے بجائے افراد کو ایڈریس کرنا- اصلاح کی اِس حکمت کو قر آن کی دو آیتوں میں اِس طرح بیان کیا گیا ہے :
1- ذٰلِکَ بِاَنَّ اللّٰہَ لَمْ یَکُ مُغَیِّرًا نِّعْمَةً اَنْعَمَہَا عَلٰی قَوْمٍ حَتّٰی یُغَیِّرُوْا مَا بِاَنْفُسِہِمْ ۙ وَاَنَّ اللّٰہَ سَمِیْعٌ عَلِیْمٌ (8:53) یعنی یہ اِس وجہ سے ہواکہ اللہ اُس انعام کو جو وہ کسی قوم پر کرتاہے، اُس وقت تک نہیںبدلتا، جب تک وہ اس کو نہ بدل دیں جو اُن کے نفسوں میں ہے- اور بے شک، اللہ سننے والا، جاننے والا ہے-
2- اِنَّ اللّٰہَ لَا یُغَیِّرُ مَا بِقَوْمٍ حَتّٰى یُغَیِّرُوْا مَا بِاَنْفُسِہِمْ (13:11) یعنی بے شک، اللہ کسی قوم کی حالت کو نہیں بدلتا، جب تک وہ اُس کو نہ بدل ڈالیں جو اُن کے نفسوں میں ہے-
قرآن کی اِن دونوں آیتوں کا مطلب ایک ہے، وہ یہ کہ جب کوئی قوم عروج کے بعد زوال کا شکار ہوجائے اور اس کو دوبارہ عروج کی طرف لوٹانا ہو تو اصلاح کے کام کا آغاز مجموعی قوم کی سطح سے شروع نہیں کیا جائے گا، بلکہ افراد کی سطح سے شروع کیا جائے گا- ایسا نہیں کیا جائے گاکہ یہ فرض کرلیا جائے کہ قوم تو موجود ہے، اب اُس کو صرف اجتماعی اقدام کی طرف متحرک کرنا ہے، بلکہ یہ تسلیم کیاجائے گا کہ قوم موجود نہیں ہے اور افراد کی اصلاح کرکے دوبارہ قوم کو وجود میں لانا ہے- یہی اللہ کا قانون ہے، اور اللہ کے قانون میں کبھی تبدیلی نہیں ہوتی (33:62)-
اِس معاملے کی ایک واضح عملی مثال موجودہ زمانے میںپائی جاتى ہے، اور یہ فلسطین اور پاکستان کی مثال ہے- دونوں کا کیس بالکل ایک ہے- فلسطین کا تعلق عرب دنیا سے ہے، اور پاکستان کا تعلق بقیہ مسلم دنیا سے- فلسطین اور پاکستان کا معاملہ گویا موجودہ زمانے میں اِس قانون الہی کو سمجھنے کے لیے عملی مثال کی حیثیت رکھتا ہے- فلسطین اور پاکستان دونوںکے کیس میں ایسا ہوا کہ قوم کی سطح پر ایک مسلم ملک وجود میں لانے کی کوشش کی گئی، مگر دونوں جگہ مکمل طور پر ناکامی ہوئی- فلسطین کا مسئلہ 1948میں شروع ہوا- فلسطینی جدوجہد پر اب 60 سال سے زیادہ مدت گزر چکی ہے- اِس جدوجہد میں جان ومال کی جو قربانی دی گئی ہے، وہ شاید پوری مسلم تاریخ کی تمام قربانیوں سے بھی زیادہ ہے، مگر انجام کے اعتبار سے دیکھا جائے تو یہ پوری جدوجہد معکوس نتیجہ (counter productive) کی بدترین مثال ثابت ہوئی ہے-
اِس معاملے میں دوسری مثال پاکستان کی ہے- پاکستان 1947 میں بنا- اِس سے پہلے برصغیرہند کا پورا علاقہ ایک واحد ملک کی حیثیت رکھتا تھا جس میں مسلمان دوسری قوموں کے ساتھ آباد تھے- اُس وقت مسلمانوں کے کچھ رہنماؤں نے متحد ہندستان میں دو قومی نظریہ (two nation theory) چلایا- اُن کا کہنا تھا کہ مسلمان ایک الگ قوم ہیں- اُن کو اپنے مذہب کے مطابق، زندہ رہنے کے لیے ایک الگ ملک چاہیے- یہ تحریک اِس مفروضے پر قائم تھی کہ مسلم قوم کے نام سے ایک امت آل ریڈی موجود ہے، اب صرف اُس کو ایک علاحدہ خطہ ارض کی ضرورت ہے- اُس زمانے میں ایک مسلم شاعر کا یہ شعر بہت مقبول ہوا:
نہیں ہے ناامید اقبال اپنی کشتِ ویراں سے ذرا نم ہو تو یہ مٹی بہت زرخیز ہے ساقی
جان ومال کی بے پناہ قربانی کے بعد 1947 میں جغرافی معنوں میں پاکستان وجود میں آگیا، مگر معنوی اعتبار سے، پاکستان کا اب تک کوئی وجود نہیں- پاکستان میں نہ اسلام آیا اور نہ وہاں کے مسلمانوں کو امن اور تحفظ حاصل ہوا- حقیقت یہ ہے کہ آج انڈیا کے مسلمان، اسلام اور امن وتحفظ دونوں اعتبار سے، پاکستان کے مسلمانوں سے بہت زیادہ بہتر حالت میں ہیں- یہی وجہ ہے کہ 1971 سے پہلے انڈیا کے مسلمان، پاکستان جانے کے لیے بے تاب رہتے تھے، مگر آج انڈیا کا کوئی مسلمان، پاکستان جانے کےلیے تیار نہیں، کیوں کہ وہ جانتا ہے کہ انڈیا میں وہ پاکستانی مسلمانوں کے مقابلے میں ہر اعتبار سے زیادہ بہتر حالت میں ہے-
پاکستان بننے کے اول دن ہی سے وہاں باہمی ٹکراؤ کا سلسلہ شروع ہوگیا- پاکستان کے پہلے وزیر اعظم نواب زادہ لیاقت علی خاں کو گولی مار دی گئی- پاکستان کے مسلمانوں میں جو باہمی لڑائی شروع ہوئی، اس میں اب تک تقریباً 40 ہزار آدمی ہلاک ہوچکے ہیں- امریکا میں ایک آزاد تنظیم ہے- اس کا نام — فنڈ فار پیس (Fund for Peace) ہے- اِس تنظیم کا ایک کام یہ ہے کہ وہ ملکوں کے حالات کا سالانہ انڈیکس تیار کرتی ہے- اِس تنظیم نے 2011 میں ملکوں کا جو انڈیکس شائع کیا ہے، اس کے مطابق، پاکستان ایک ناکام ریاست (failed state) کی حیثیت اختیار کرچکا ہے-
اِس ناکامی کا سبب یہ ہے کہ پاکستان کے مسلم رہنماؤں نے یہ فرض کرلیا کہ امتِ مسلمہ عملاً موجود ہے، اب صرف یہ ضرورت ہے کہ اس کو اقتدار حاصل ہوجائے، جب کہ اصل صورتِ حال یہ تھی کہ اپنی حقیقت کے اعتبا ر سے، امتِ مسلمہ کا وجود ہی نہ تھا- جو چیز موجود تھی، وہ امت کے نام پر صرف ایک انبوہ تھا- ایسی حالت میں کام کا آغاز افراد کی اصلاح کرکے دوبارہ امت کو وجود میں لانا تھا- پاکستان کے مسلم رہنماؤں نے جو کچھ کیا، وہ گھوڑے کے آگے گاڑی باندھنا (putting the cart before the horse) تھا- اِس قسم کا غیر فطری منصوبہ کبھی کامیاب نہیں ہوسکتا، اور پاکستان کے معاملے میں ایسا ہی ہوا-
فلسطین کی تحریک میں تمام عرب دنیا براہِ راست طورپر اور بقیہ مسلم دنیا بالواسطہ طورپر شریک ہے، مگر بے پناہ قربانیوں کے باوجود ابھی تک ایسا نہیں ہوا کہ فلسطین میں عربوں کی مطلوب حکومت قائم ہوجائے- لیکن جہاںتک سبق کا تعلق ہے، وہ فلسطین کی مثال میں بھی پوری طرح موجود ہے- فلسطین میں اگر بالفرض عربوں کی حکومت قائم ہوجائے تو عملاً وہ بھی ایک ناکام ریاست ہی ثابت ہوگی، کیو ں کہ فلسطینی عرب بھی دوسرے مسلمانوں کی طرح صرف ایک انبوہ ہیں، نہ کہ تیار شدہ افراد- ایسی حالت میں بالفرض اگر فلسطین میں عربوں کی حکومت قائم ہوجائے تو فلسطین میں عملاً وہی ہوگا جو دوسرے عرب ملکوں میں ہورہا ہے، یعنی یا تو سخت قسم کی ڈکٹیٹر شپ (dictatorship) ، یا اگر بالفرض آزادی کا ماحول ہو تو خود فلسطینی مسلمانوں کے درمیان سخت قسم کی باہمی جنگ-
حقیقت یہ ہے کہ موجودہ حالات میں صرف ایک ہی محفوظ طریقہ باقی ہے، اوروہ ہے— اسٹیٹس کوازم کا طریقہ، یعنی حالتِ موجودہ کو یک طرفہ طور پر تسلیم کرلینا- موجودہ زمانے میں مسلمانوں کو یہ کرناہے کہ وہ یک طرفہ طورپر نفرت اور تشدد کا طریقہ ختم کردیں- وہ اقدام کی نوعیت کی تمام سرگرمیوں کو مکمل طورپر بند کردیں- وہ یو ٹرن (U turn) لیتے ہوئے اپنے عمل کے میدان کو بدل دیں- وہ دوسروں سے ٹکراؤ کے بجائے خود اپنے افراد کی تعلیم وتربیت کی طرف لوٹ آئیں- وہ اپنی تمام طاقت کو ’’اقدام‘‘ کے بجائے ’’تیاری‘‘ پر مرتکز کردیں- موجودہ زمانے کے مسلمانوں کےلیے زندگی کا یہی واحد راستہ ہے- اِس کے سوا جو کچھ ہے، وہ صرف ہلاکت ہے، نہ کہ زندگی- (17 نومبر 2012)
واپس اوپر جائیں

اسلام کے نام پر سیاست

موجودہ زمانے کے مسلمانوںمیں باربار ایک واقعہ پیش آیا ہے- ایک اسلام پسند جماعت (Islamist party) اٹھتی ہے- وہ اسلام کے نام پر سیاسی تحریک چلاتی ہے، یہاں تک کہ وہ موجودہ حکمرانوں ;کو ہٹا کر اپنی پارٹی کی حکومت بنالیتی ہے- اِس واقعے پر ساری دنیا کے مسلمان خوشی مناتے ہیں اور کہتے ہیں کہ فلاں ملک میں اسلام آگیا- مگر بہت جلد معلوم ہوتاہے کہ جو چیز آئی، وہ اسلام نہیں تھا، بلکہ صرف یہ تھا کہ حکومت کا ڈھانچہ بدل گیا، یعنی یہ معاملہ تبدیلی افراد کا معاملہ تھا، نہ کہ تبدیلی نظام کا-
ایساکیوں ہوتاہے- اِس کا سبب سیاسی بے بصیرتی ہے جو موجودہ زمانے کے تقریباً تمام مسلمانوں پر چھائی ہوئی ہے، خواہ وہ علما ہوں یا غیر علما- وہ سیاسی بے بصیرتی یہ ہے کہ لوگ صرف لفظی نعروں کو جانتے ہیں- اُن کو یہ خبر نہیں کہ ’’انقلاب‘‘ کے نام پر جو واقعہ پیش آیا ہے، وہ صرف سیاسی اکھیڑ پچھاڑ کی بنا پر پیش آیا ہے، نہ کہ حقیقی معنوں میں اسلام کی بنا پر-
اصل یہ ہے کہ جب بھی کچھ لوگ اقتدار کی کرسی پر ہوں، خواہ وہ مسلم ہوں یا غیر مسلم، خواہ وہ مخلص ہوں یا غیر مخلص، ہمیشہ عوام میں اُن کے خلاف شکایت کی فضا پیدا ہوجاتی ہے- اجتماعی نظام میں اِس عنصر کو اینٹی انکمبنسی فیکٹر (anti-incumbency factor) کہاجاتا ہے- سادہ لفظوں میں اس کو اینٹی اتھارٹی(anti-authority)ماحول کہہ سکتے ہیں-جمہوری نظام میں اپوزیشن پارٹیاں ہمیشہ یہی کرتی ہیں کہ وہ برسرِ اقتدار گروہ کے خلاف موجود شکایتوں کو استعمال (exploit) کرکے اقتدار پر قبضہ کرنے کی کوشش کرتی ہیں-
جن مسلم ملکوں  میں یہ واقعہ پیش آرہا ہے کہ وہاں نہایت دھوم کے ساتھ ’’اسلام‘‘ آیا اور پھر جلد ہی معلوم ہوتا ہے کہ جو چیز آئی تھی، وہ اسلام نہ تھا، بلکہ صرف اربابِ اقتدار کی تبدیلی (replacement) تھی، اس کے سوا اور کچھ نہیں- یہ صورتِ حال ہر اُس مسلم ملک میں پیش آئی جہاں نام نہاد اسلام پسند پارٹیاں سرگرم عمل ہیں-
واپس اوپر جائیں

قبولِ اسلام کا ایک واقعہ

4 مارچ 2013 کو یہ واقعہ ہواکہ نیدرلینڈ (Netherlands) کے ایک مشہور سیاسی لیڈر نے اسلام قبول کرلیا- اُن کا نام یہ ہے— ارناڈوان ڈارن (Ernaud Van Dorn)- دوسرے عہدوں کے علاوہ، وہ ڈچ پارلیامنٹ کے ممبر ہیں- انٹرنیٹ پر اِس واقعے کی خبر حسب ذیل عنوان کے تحت دیکھی جاسکتی ہے:
Anti-Islam Dutch Politician Converts to Islam
ارناڈوان ڈارن پہلے اسلام کے سخت مخالف تھے- بعد کو کچھ ایسے واقعات پیش آئے جس نے ان کے اندر ایک نیا تجسس پیدا کردیا- انھوں نےخاموشی کے ساتھ باقاعدہ طورپراسلام کا مطالعہ شروع کردیا- آخر کار اُن کی فطرت جاگ اٹھی- انھوں نے کھلے طورپر ماضی میں اپنی غلطیوں کا اعتراف کیا- وہ وہاں کی ایک مقامی مسجد (مسجد السنّة) میں گئے اور وہاں کے امام فواز الجنید کے سامنے کلمۂ شہادت ادا کرکے اپنے اسلام کا اعلان کردیا- اِس سلسلے میں میڈیا میں جو خبریں آئی ہیں، اس کی چند سطریں یہ ہیں — ہیگ میونسپل کاؤنسل کے ایک ممبر اور رائٹ ونگ فریڈم پارٹی کے سابق ممبر ارناڈوان ڈارن نے ٹویٹر پر اپنے قبولِ اسلام کا اعلان کردیا ہے:
The member of Hague municipal council and the former member of the right-wing Freedom Party, Ernaud Van Dorn, has announced his conversion to Islam through his account on Twitter.
قبولِ اسلام کے اِس طرح کے واقعات برابر میڈیا میں آتے رہتے ہیں - اِس طرح کے واقعات اِس بات کا ثبوت ہیں کہ اسلام فطرت کا دین ہے، جو انسان کی فطرت ہے، وہی اسلام ہے- اگر کوئی شخص بظاہر اسلام کا مخالف ہو تو اس کی مخالفت یقیناً غلط فہمی کی بنیاد پر ہوگی- آپ اس کی غلط فہمی کو دور کردیجئے اور پھر آپ دیکھیں گے کہ، قرآن کے الفاظ میں، جو شخص اسلام کا دشمن بنا ہوا تھا، وہ اسلام کا دوست بن گیا ہے (41:34)-
واپس اوپر جائیں

افرا د سازی کی اہمیت

مشہور پاکستانی صحافی شورش کاشمیری (وفات: 1975) نے لکھا تھا کہ: ’’اقبال وہ شبلی نعمانی ہے جسے کوئی سید سلیمان ندوی میسر نہ آسکا‘‘- (ماہ نامہ الشریعہ، پاکستان، اپریل 2013، صفحہ: 7)
یہ تقابل درست نہیں-صحیح یہ ہے کہ شبلی نے افراد سازی کا کام کیا، اِس لیے اُن کو افراد ملے- اِس کے برعکس، اقبال کا معاملہ یہ تھا کہ فرد سازی عملاً ان کا کنسرن (concern)ہی نہ تھا- وہ ایک شاعر تھے اور شاعری کے ذریعے مجموعۂ ملت کو خطاب کرتے تھے- اِس کا فطری نتیجہ یہ ہوا کہ اقبال کو مجموعۂ ملت کے اندر مقبولیت حاصل ہوئی، لیکن اُن کو نہ کوئی فرد ملا اور نہ افراد کی کوئی ٹیم-
مجموعۂ ملت کو خطاب کرنا دوسرے الفاظ میں، بھیڑ (crowd)کو خطاب کرنا ہے ا ور بھیڑکو خطاب کرنے سے کبھی افراد حاصل نہیں ہوتے، افراد کے حصول کا طریقہ بالکل جداگانہ ہے- اِس کے لیے ضرورت ہے کہ فرد کی نفسیات کو سمجھا جائے، فرد کے ذہن کو ایڈریس کیا جائے، فر د کو اپنا کنسرن بنایا جائے- یہ ایک بے حد مشکل کام ہے- اس کام کو صرف وہی لوگ انجام دے سکتےہیں جو ایک فرد کے ملنے کو اتنی زیادہ اہمیت دیں کہ،حدیث کے الفاظ میں، ایک فرد اُن کو ’’سرخ اونٹوں‘‘ (حمر النعم)کی فوج سے زیادہ قیمتی دکھائی دینے لگے- اقبال کا مشہور شعر ہے:
نوا را تلخ تر می زن چو ذوقِ نغمہ کم یابی حُدی را تیز تر می خواں چو محمل را گراں بینی
اِس طرح کے کلام سے ایک بھیڑ کے اندر وقتی طورپر ہلچل پیدا کی جاسکتی ہے، لیکن اِس طرح کے پُرجوش کلام سے ایک فرد کے اندر شعوری انقلاب نہیں لایا جاسکتا- فرد کے اندر شعوری انقلاب لانے کے لیے صرف سنجیدہ کلام اور حقیقت بیانی کا انداز موثر ہوسکتا ہے(36:69)- کوئی فرد ہمیشہ ایک طویل فکری جدوجہد کے بعد تیار ہوتا ہے- شاعری اور خطابت کے ذریعے کسی شخص کو بھیڑ تو مل سکتی ہے، لیکن افرادِ کار اِس طرح کسی کو نہیں ملتے — فرد ہمیشہ فرد پر فوکس کرنے سے ملتا ہے، کوئی دوسرا طریقہ فرد سازی کے لیے کارگر نہیں-
واپس اوپر جائیں

عبرت یا عذاب

جرمن فلسفی نٹشے 1844 میں پیدا ہوا، اور صرف 56 سال کی عمر میں 1900 میں اس کا انتقال ہوگیا- وہ نہایت ذہین آدمی تھا- نٹشے کی عمر کے آخری کئی سال نہایت کس مپرسی میں گزرے- وہ کئی مہلک بیماریوں کا شکار ہوا، یہاں تک کہ وہ اپاہج ہوگیا- اس کا علمی کام مکمل طورپر ختم ہوگیا- آخر کار وہ ایک ناکام انسان کی حیثیت سے مرگیا:
“God is dead” is a widely quoted statement by German philosopher Friedrich Nietzsche. It first appears in his book The Gay Science, first published in 1882. On January 3, 1889, Nietzsche suffered a mental collapse. Nietzsche’s mental illness was originally diagnosed as tertiary syphilis, in accordance with prevailing medical paradigm of the time. Some believe he suffered from manic-depressive illness with periodic psychosis, followed by dementia. In 1898 and 1899 Nietzsche suffered at least two strokes, which partially paralysed him and left him unable to speak or walk. After contracting pneumonia in mid-August 1900 he had another stroke during the night of August 24-25, and died about noon on August 25, 1900.
نٹشے کا معاملہ ’’عذاب‘‘ کا معاملہ نہ تھا- عذاب کا تعلق تمام تر آخرت سے ہے- نٹشے کا معاملہ دراصل عبرت کا معاملہ تھا- نٹشے کے واقعے میں یہ سبق ہے کہ اِس دنیا میں منفی سوچ کسی کے لیے مفید نہیں ہوتی- نٹشے جس قسم کی سوچ (“God is dead”) میں مبتلا ہوا، وہ پوری کائنات میں اجنبی ہے، وہ مکمل طورپر ایک خلافِ واقعہ سوچ ہے- اِس قسم کی خلافِ واقعہ سوچ آدمی کو غیر معتدل بنا دیتی ہے- اس کو ذہنی سکون (peace of mind)حاصل نہیں ہوتا، وہ مسلسل طورپر ٹنشن کا شکار رہتا ہے، کوئی علاج یا کوئی بھی تدبیر اس کو صحت عطا نہیں کرتی- اسی قسم کا عبرت ناک انجام دوسرے کئی ذہین لوگوں کا ہوا ہے- اُن میں سے ایک تازہ مثال رجنیش -اوشو-(وفات: 1999) کی ہے-
واپس اوپر جائیں

ناعاقبت اندیشانہ اقدام

نئی دہلی کے انگریزی اخبار ٹائمس آف انڈیا (22 اپریل 2013، صفحہ 14) میں ایک خبر پاکستان کے آئندہ انتخابات کے بارے میں چھپی ہے- اخبار نے اِس خبر کی سرخی اِن الفاظ میں قائم کی ہے— پاکستان کی انتخابی مہم میں کشمیر کا کوئی حوالہ نہیں:
Kashmir finds no mention in Pak poll campaigns.
یہ ایک عجیب بات ہے کہ انڈیا اور پاکستان دونوں ملکوں کی سیاست میں ایک مشترک چیز پائی جاتی ہے- دونوں ملکوں میں جلد ہی انتخابات ہونے والے ہیں، مگر حالت یہ ہے کہ انڈیا کی جس پارٹی نے اِس سے پہلے رام مندر کی تعمیر کو اپنے الیکشن مینی فیسٹو (election menifesto)میں سب سے زیادہ نمایاں اشو کا درجہ دیا تھا، اب اس کے الیکشن مینی فیسٹو میں رام مندر کی تعمیر کا کوئی ذکر نہیں-
رام مندر کی تحریک اپنے نتیجے کے اعتبار سے، ہندو اور مسلم کے درمیان نفرت کا جنگل اگانے کی تحریک تھی- اِس قسم کا منفی جنگل خود پارٹی کے سیاسی مفاد کے خلاف تھا- چناںچہ انھوں نے جب اِس منفی نتیجے کو دیکھا تو حالات کے دباؤ کے تحت اِس تحریک سے عملاً کنارہ کشی اختیار کرلی- اِسی طرح پاکستان میں کشمیر کی تحریک اپنے نتیجے کے اعتبار سے،پاکستان اور پڑوسی ملک کے درمیان نفرت اور تشدد کا آتش فشاں بھڑکانے کے ہم معنی تھی- چناں چہ عملاً ایسا ہی ہوا- پہلے یہ آتش فشاں انڈیا اور پاکستان کے درمیان بھڑکا اور بعد کو وہ خود پاکستان کے اندر بھڑک اٹھا- اِس منفی نتیجے کو دیکھ کر پاکستان کے لیڈر گھبرا اٹھے اور اب وہ چاہتے ہیں کہ کشمیر کے مسئلے سے کنارہ کشی اختیار کرتےہوئے وہ اپنے ملک کی تعمیر کا نیا نقشہ بنائیں-
حقیقت یہ ہے کہ اجتماعی زندگی میں کسی اقدام سے پہلے ہمیشہ یہ سوچنا چاہئے کہ اس کا عملی نتیجہ کیا ہوگا- اگر نتیجہ برعکس نکلنے والا ہو تو اقدام کرنے سے بہتر یہ ہے کہ کوئی اقدام ہی نہ کیا جائے- یہ اصول اِس دنیا میں قوم کے لیے بھی اتنا ہی اہم ہے جتنا کہ فرد کے لیے-
واپس اوپر جائیں

صلاحیت کی قدر دانی

آسام پولس کے ایک سپاہی اندرا اپادھیائے کے یہاں ایک بچہ پیدا ہوا- اس کا نام یہ تھا — کسان اپادھیائے- 1969 میں جب کہ وہ صرف چار سال کا تھا، وہ اپنی ایک بہن مایا کے ساتھ اپنے ماں باپ سے بچھڑ گیا- حالات نے اس کو کٹھمنڈو (نیپال) پہنچا دیا-ایک عرصے تک وہاں اس نے ایک ٹی اسٹال (tea stall)پر کام کیا- وہاں اس کو سخت نمونیہ ہوگیا- اس کی بہن مایا نے اس کو وہاں کے ایک اسپتال میں داخل کردیا جس کو کرسچن مشنری کے لوگ چلا رہے تھے- کسان اپادھیائے اِس اسپتال میں چھ ماہ تک زیر علاج رہا-
اِس دوران کسان اپادھیائے کے ساتھ ایک واقعہ پیش آیا- یہ واقعہ اُس کے لیے ایک نئی کامیابی کے ہم معنی بن گیا —1987 میں کسان اپادھیائے کی قسمت جاگی- ایک امریکی ڈاکٹر جو کہ کٹھمنڈو میں کام کرتا تھا، اس نے کسان اپادھیائے کے اندر کچھ خاص صلاحیت دیکھی اور اس کو پیش کش کی کہ وہ اسکالر شپ پر امریکا جائے اور وہاں تعلیم حاصل کرے:
Luck shone on Kisan Upadhaya in 1987, when an American doctor working in Kathmandu saw something in him and offered him a scholarship to study in the US. (The Times of India, April 10, 2013, p. 13)
اب اِس واقعے پر 40 سال گزر چکے ہیں- کسان اپادھیائے اعلی تعلیم کے بعد اب آئی ٹی اسپیشلسٹ (top-notch IT specialist) کی حیثیت سے امریکا میں مقیم ہیں— صلاحیت کی یہ قدردانی کسی قوم کی ترقی کا سب سے بڑا راز ہے- جس قوم کے اندر فرد کی صلاحیت کی قدردانی کا یہ مزاج پایا جائے، اُس قوم کی ترقی کو کوئی روک نہیں سکتا-موجودہ زمانے میں امریکا کو جو ترقی حاصل ہوئی ہے، اس کا خاص سبب یہی ہے- امریکا میں سب سے زیادہ اہمیت کی چیز میرٹ (merit) ہے- امریکی سماج میں، میرٹ نوازی کا اصول ہے، نہ کہ خویش نوازی کا اصول-
واپس اوپر جائیں

اقدام کی شرط

سویڈن (یورپ)کے شہر اسٹاک ہوم کا ایک عجیب واقعہ میڈیا میں رپورٹ کیاگیا ہے- یہاں ایک اسٹیشن پر ایک کمیوٹر ٹرین (commuter train) خالی کھڑی ہوئی تھی- ایک 20 سالہ لڑکی جو ٹرین میں صفائی کا کام کرتی تھی، وہ ڈرائیور کے کیبن میں داخل ہوگئی- اس کو اتفاق سے ڈرائیور کی چابی مل گئی تھی، چناں چہ اس نے گاڑی کو اسٹارٹ کر دیا- گاڑی پٹری پر تیزی سے چلنے لگی- لڑکی کی سمجھ میں نہیں آیا کہ وہ ٹرین کو کس طرح روکے- ٹرین چلتی رہی، یہاں تک کہ وہ پٹری سے اتر کر ریلوے لائن کے کنارے واقع ایک بلڈنگ سے ٹکرا گئی- اِس حادثے میں لڑکی سمیت بلڈنگ کے کئی افراد زخمی ہوئے- نئی دہلی کے انگریزی اخبار ٹائمس آف انڈیا (16جنوری 2013) میں یہ خبر درج ذیل عنوان کے تحت دی گئی ہے:
Cleaning woman steals train, crashes it into house. (p. 22)
اِس واقعے میں ایک اہم سبق ہے، وہ یہ کہ کسی معاملے میں اقدام صرف اُس انسان کے لیے جائز ہے جو اپنے اقدام کے نتیجہ(result) کو جانتا ہو- جو شخص اپنے اقدام کے نتیجے کو نہ جانے، اُس کے لیے اقدام ہرگز جائز نہیں- کوئی آدمی اگر اتنا بے شعور ہے کہ وہ نتیجہ کے بارے میں کچھ نہیں جانتا، اِس کے باوجود اگر وہ اقدام کردیتا ہے تو یقینی طورپر اس کا انجام ہلاکت خیز ہوگا- اقدام کرنے والا خود بھی تباہ ہوگا اور اِسی کے ساتھ وہ دوسروں کی تباہی کا باعث بنے گا-
اکثر ایسا ہوتا ہے کہ ایک مقرر جذباتی تقریر کے ذریعے لوگوں کو ایک سمت میں دوڑا دیتاہے، مگر وہ نہیں جانتا کہ روکنے کے وقت لوگوں کو وہ کس طرح روکے- ایسا آدمی صرف لوگوں کی تباہی میں اضافہ کرتاہے، وہ ہر گز لوگوں کی تباہی میں کمی کرنے والا نہیں-
گاڑی کو چلانا صرف اُس انسان کے لیے جائز ہے جو گاڑی کو روکنا بھی جانتا ہو- جو شخص گاڑی کو روکنے کا ہنر نہ جانے، اس کے لیے گاڑی کاچلانا سرے سے جائز ہی نہیں- یہ اصول جس طرح مادی ٹرین کے لیے درست ہے، اسی طرح وہ انسانی زندگی کے لیے بھی یکساں طور پر درست ہے-
واپس اوپر جائیں

سب سے بڑی قربانی

قربانی (sacrifice) کا لفظ بولا جائے تو عام طورپر اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ — لڑ کر جان دے دینا- عام طور پر اِس کو شہادت سمجھا جاتا ہے، اور یہ کہ یہی شہادت سب سے بڑا عمل ہے- مگر حقیقت یہ ہے کہ جسمانی قربانی سے زیادہ بڑی قربانی نفسیات کی قربانی ہے- سب سے بڑی قربانی سرکٹانا نہیں ہے، بلکہ سرجھکانا ہے- تاریخ میں بڑے بڑے کارنامے صرف اُن لوگوں نے انجام دئے ہیں جو اصول کی خاطر سر جھکانے کے لیے تیار ہوگئے-
ایک بار میں امریکا کے ایک شہر میں گیا- وہاں امریکی مسلمانوں کی ایک بڑی تنظیم قائم تھی- اس کے ایک سینئر ممبر نے جوش کے ساتھ کہا کہ — اب میں نے لیڈر شپ (leadership) کا رول لے لیا ہے- بات یہ تھی کہ اُن کو تنظیم کا صدر منتخب کیا گیا تھا، مگر ٹرم پورا ہونے سے پہلے انھوں نے صدارت کے عہدے سے استعفا دے دیا- اِس کا سبب یہ تھا کہ دوسرے حضرات ان کا تعاون کرنے کے لیے تیار نہیں ہوئے-
مذکورہ مسلمان اپنے اوصاف کے اعتبار سے، نہایت لائق انسان تھے- وہ تنظیم کو ترقی دینے کے لیے بہت کچھ کرسکتےتھے، مگر کوئی شخص خواہ وہ کتنا ہی زیادہ لائق ہو، وہ تنہا کوئی بڑا کام نہیں کرسکتا- بڑا کام کرنے کے لیے ضروری ہے کہ بہت سے لوگ اس کا ساتھ دینے کے لیے تیار ہوں- بقیہ لوگوں کے لیے ساتھ دینا صرف اُس وقت ممکن ہوتا ہے جب کہ وہ پچھلی سیٹ پر بیٹھنے کے لیے راضی ہوں-
اجتماعی زندگی کا اصول یہ ہے کہ ایک شخص لیڈر شپ کا رول صرف اُس وقت کامیابی کے ساتھ انجام دیتا ہے، جب کہ دوسرے لوگ شعوری طور پر اس بات پر راضی ہوجائیں کہ اُن کو سپورٹیو رول (supportive role)ادا کرنا ہے، نہ کہ لیڈر شپ (leadership) کا رول- سپورٹیو رول پر راضی ہونا بلا شبہہ ایک عظیم قربانی ہے- کوئی بڑا کام صرف اُس وقت انجام پاتا ہے، جب کہ ایک شخص کو لیڈر بنا کر بقیہ تمام لوگ سپورٹیو رول ادا کرنے پر راضی ہوجائیں- یہی سب سے بڑی قربانی ہے، اور اِس قربانی کے بغیر کسی بڑے کام کا انجام پانا ممکن نہیں-
واپس اوپر جائیں

الرسالہ مشن

الرسالہ مشن 1976میں ماہ نامہ الرسالہ کے اجرا سے شروع ہوا- الرسالہ مشن ایک پرامن دعوتی مشن ہے- اِس کی سرگرمیاں انٹرنیشنل سطح پر جاری ہیں- مگر الرسالہ مشن میں برانچ (branch) کا طریقہ نہیں- الرسالہ مشن میں انڈپنڈنٹ چیپٹر (independent chapter) کا طریقہ اختیار کیا گیا ہے- یہی طریقہ پیغمبرانہ سنت کے مطابق ہے-
برانچ کے پیٹرن (pattern)میں ایسا ہوتا ہے کہ مشن دھیرے دھیرے ایک رٹین (routine)کی صورت اختیار کرلیتاہے- لوگ ایک ہی مقرر طریقہ (prescribed method) کو بار بار دہراتے رہتے ہیں- اِس طرح بظاہر لوگ متحرک نظر آتے ہیں، لیکن یہ ایک بے روح حرکت ہوتی ہے- اِس حرکت میں کوئی زندگی نہیں ہوتی- اِس حرکت میں کوئی تخلیقیت (creativity) نہیں ہوتی- اِس طریقے میں آدمی کے پاس بظاہر دوسروں کو دینے کے لیے کچھ ہوتا ہے، لیکن خود اپنے لیے اس کے پاس کچھ نہیں ہوتا ہے-اِس کے برعکس، انڈپنڈنٹ چیپٹر کا پیٹرن لوگوں کو مسلسل طورپر زندہ رکھتا ہے- آدمی کے ذہن میں تخلیقی عمل (creative process) جاری رہتا ہے- اِس طریقے میں ہر آدمی پروگرام ساز (program-maker) بن جاتاہے- برانچ کا طریقہ اگر ذہنی جمود (intellectual stagnation) پیدا کرنے والا ہے تو انڈپنڈنٹ چیپٹر کا طریقہ ذہنی ارتقا (intellectual development) کا ذریعہ ہے-
برانچ کے طریقے میں کام کو اَعداد وشمار کے اعتبار سے جانچا جاتا ہے- اِس کے برعکس، انڈپنڈنٹ چیپٹر کی صورت میں کام کو حقیقی نتیجے کے اعتبار سے دیکھا جاتا ہے- کسی مشن کی سب سے بڑی کامیابی یہ ہے کہ وہ افراد کے اندر زندہ شخصیت پیدا کرے، اور انڈپنڈنٹ چیپٹر کے طریقے میں یہ فائدہ پوری طرح حاصل ہوتا ہے- زندہ شخصیت صرف تخلیقی عمل کے ذریعہ پیدا ہوتی ہے، زندہ شخصیت کبھی رٹین کے ذریعے پیدا نہیں ہوتی-
واپس اوپر جائیں

سوال وجواب

سوال
حسب ذیل سوالات کی وضاحت مطلوب ہے- (ایک قاری الرسالہ، پاکستان)
آپ نے اپنے امریکا کے سفر (الرسالہ، جنوری 2012) میں یہ بات لکھی ہے کہ قرآن مجید واضح طور پر بیان کرتا ہے کہ اللہ تعالیٰ سود کو مٹاتا اور صدقات کو بڑھاتا ہے۔مگر امریکا کی معشیت جو سرتاسر سود پر استوار ہے ،اس کی ترقی کودیکھ کرآپ یہ نتیجہ نکالتے ہیں کہ قرآن کی سود کو گھٹانے اور صدقات کو بڑھانے والی بات جدید ذہن کے لیے قابل فہم نہیں۔ اس کے بعدآپ ان الفاظ سے مراد یہ لیتے ہیں کہ یہاں قرآن جس برکت کا ذکر کررہا ہے، وہ ذہنی اور اسپریچول ترقی ہے(صفحہ: 25-26)۔ مگر ظاہر ہے کہ اس آیت میں کوئی ایسالفظ نہیں پایا جاتاہے جس سے یہ مفہوم نکالا جائے- آیت کا سیاق واضح طورپر بتا رہا ہے کہ سود کو گھٹانے اور صدقات کو بڑھانے کا تعلق آخرت سے ہے، نہ کہ دنیا سے-
آپ ضعیف احادیث سے بکثرت استدلال کرتے ہیں۔ مثلاً ملاحظہ ہو: ماہ نامہ الرسالہ، جولائی 2011، صفحہ 37 پر مذکور روایت ( إن الدنیا خلقت لکم، وأنتم خلقتم للآخرة)-
دوسری چیزجو میں قابل اصلاح سمجھتا ہوں، وہ مسلم لیڈر شپ کا نام لے کر براہ راست تنقید ہے۔آپ کی تنقید سو فی صد درست ہے- میرا کہنا یہ نہیں ہے کہ آپ کسی کی ذات یا نیت پر تنقید کرتے ہیں۔ بس میری ناقص رائے میں تنقید رویوں پر ہونی چاہیے، شخصیات پر نہیں۔
اگلی چیز جو قابل اصلاح ہے، وہ آپ کا اپنے بارے میں خبرنامہ وسفرنامہ میں دوسروں کی رائےکا نقل کرنا ہے۔ اللہ نے آپ کو جو مقام و مرتبہ دیا ہے، وہ کافی ہے۔ اِس کے بعد عاجز انسانوں کی اپنے بارے میں رائے نقل کرنا آپ کی سطح کی معرفت رکھنے والے شخص کے لیے شاید مناسب نہیں۔
جواب
1- آخرت کا معاملہ کوئی علاحدہ معاملہ نہیں ہے، وہ پوری طرح موجودہ دنیا سے جڑا ہوا ہے- قرآن وحدیث میں جس چیز کو تزکیہ کہاگیا ہے، اُس کے لیے میں نے ذہنی اور روحانی ارتقا کا لفظ استعمال کیا ہے- یہ تزکیہ یا ذہنی اور روحانی ارتقا ہی وہ چیز ہے جو آخرت میں اجر کی صورت میں ظاہر ہوگی- جو لوگ حصولِ دنیا میں اتنا زیادہ گم ہوں کہ وہ اپنا تزکیہ نہ کرسکیں، وہ گویا ’محق‘ کا کیس بن رہے ہیں- یہی لوگ ہیں جو آخرت کے اجر سے محروم ہو کر رہ جائیں گے-واضح رہے کہ مذکورہ آیت کا یہ صرف ایک توسیعی پہلو ہے، وہ آیت کی مکمل تفسیر نہیں-
2- ضعیف روایات کے بارے میں راقم الحر وف کا مسلک وہی ہے جو عام طور پر علما کا مسلک ہے، یعنی ضعیف روایت کو اُس وقت قبول نہ کرنا جب کہ اس کا تعلق کسی حکمِ شرعی سے ہو، لیکن جب اس کا تعلق معرفت جیسے پہلو سے ہو تو اُس وقت ضعیف روایت کو قبول کرلیا جائے گا، بشرطیکہ وہ روایت قرآن وحدیث کی کسی معلوم نص سے ٹکراتی نہ ہو-
حکمِ شرعی اور رمزِ معرفت کے درمیان نوعی فرق پایا جاتا ہے- مثلاً ایک شخص اگر یہ روایت بیان کرے کہ جو آدمی جھوٹ بولے، اس کی زبان کاٹ دو، تو اِس روایت کی صحت کو نہایت شدت سے جانچا جائے گا، کیوں کہ اس کا تعلق ایک حکمِ شرعی سے ہے- اِس کے برعکس، ایسی روایت جس کا تعلق حکمِ شرعی سے نہ ہو، بلکہ رموزِ معرفت سے ہو تو اس کو اِس شرط کے ساتھ دعوت وتربیت کے لیے استعمال کیا جاسکتا ہےکہ وہ کسی معلوم نص سے نہ ٹکراتی ہو- اِسی معاملے کی ایک مثال الرسالہ میں مذکور یہ روایت ہے: إن الدنیا خلقت لکم، وأنتم خلقتم للآخرة- یہ روایت سند کے لحاظ سے اگرچہ ضعیف ہے، لیکن اس میں جو بات کہی گئی ہے، وہ تربیتی نقطہ نظر سے، ایک درست بات ہے- کیوں کہ یہ ایک واقعہ ہے کہ اِس دنیا کو اللہ تعالی نے انسان کے لیے بطور امتحان گاہ پیدا کیا ہے- انسان کا کام یہ ہے کہ وہ اِس دنیا کو اصل نہ سمجھ لے، بلکہ یہاں کے حالات میں وہ فلاحِ آخرت کی تیاری کرے-
3- نظریہ کے حوالے سے تنقید کرنا اور شخصیت کا حوالہ نہ دینا بذات ِ خود ایک درست اسلوب ہے اور الرسالہ میں اس اسلوب کی مثالیں آپ دیکھ سکتے ہیں- لیکن بعض حالات میں ضروری ہوجاتا ہے کہ شخصیت کا نام لے کر اس کے نظریے پر تنقید کی جائے، ورنہ تنقید کا مطلوب فائدہ حاصل نہ ہوگا، خاص طورپر اُس وقت جب کہ کسی آدمی کے ساتھ شخصیت پرستی کاپہلو شامل ہوگیا ہو- ایسی حالت میں شخصیت کا نام لے کر اس کے نظریہ پر علمی تنقید کرنا میرے نزدیک فرض کے درجے میں ضروری ہوجاتا ہے- البتہ تنقیص یا عیب زنی کا طریقہ کسی حال میں جائز نہ ہوگا، مدلل علمی تنقید کی شرط ہر حال میں لازمی طورپر باقی رہے گی-
4- جس چیز کو آپ نے تعریف یا خود ستائی کے طورپر لیا ہے ، اُس کا ذکر الرسالہ میں ’’خبرنامہ‘‘ کے تحت بطور تعریف نہیں ہوتا، بلکہ بطور تاریخ ہوتا ہے- کچھ چیزوں کی حیثیت ایک دعوتی مشن کے تاریخی ریکارڈ کی ہوتی ہے- اُن کو اگر ضبطِ تحریر میں نہ لایا جائے تو وہ ہمیشہ کے لیے لامعلوم ہوجائیں گی، اِس لیے ضروری ہےکہ ان کو تحریری شکل میں محفوظ کردیاجائے - مشن سے متعلق لوگوں کے تاثرات وغیرہ، الرسالہ میں تاریخی ریکارڈ کے اِسی اصول کے تحت درج کیے جاتے ہیں، اس کی حیثیت ایک مشن کے تاریخی ریکارڈ کی ہے، نہ کہ معروف معنوں میں شخصی تعریف کی-
دوسری بات یہ کہ تعریف برائے تعریف بلاشبہہ ہر گز اچھی چیز نہیں ہے، لیکن ایک ایسی چیز جو بظاہر ’’تعریف‘‘  معلوم ہوتی ہو، لیکن اس کے اندر سبق کا کوئی پہلو پایا جاتا ہو تو اس کا ذکر ضرور کیا جائے گا، تاکہ عام لوگ اُس سبق سے محروم نہ رہیں- رسول اور اصحابِ رسول اور دیگر اہلِ علم کی زندگی میں اِس کی بہت سی مثالیں ’’تحدیثِ نعمت‘‘ کے عنوان کے تحت پائی جاتی ہیں-
جہاں تک سفرنامے کا تعلق ہے، اِس میں اِس طرح کی باتیں اگر آتی ہیں تو وہ سفر کے دوران پیش آنے والے واقعات کا بیان ہوتا ہے، اور سفر نامے میں بہر حال وہی باتیں کہی جائیں گی جو سفر کے دوران پیش آئی ہیں، نہ کہ مفروضہ طورپر وہ باتیں جو سفر کے دوران سرے سے پیش ہی نہیں آئیں-علمی اور تاریخی ذوق نہ ہونے کی بناپر لوگ، عام طورپر، اس طرح کی چیزوں کو شخصی تعریف سمجھ لیتے ہیں، جب کہ حقیقت یہ ہے کہ سفرنامے میں اِس نوعیت کی چیزوں کا ذکر بیانِ واقعہ کے طورپر ہوتا ہے، نہ کہ کسی آدمی کی شخصی تعریف کے طور پر-اِس طرح کے معاملات میں صحیح رائے قائم کرنے کے لیے ضروری ہے کہ آدمی کے اندر وہ چیز پائی جاتی ہو جس کو ڈٹیچڈ تھنکنگ (detached thinking) کہاجاتاہے، یعنی اصل بات اور شخصیت کو ایک دوسرے سے الگ کرکے دیکھنا-علمی ذوق کا تقاضا ہےکہ چیزوں کو ہمیشہ ان کی میرٹ (merit) کی بنیاد پر دیکھا جائے، نہ یہ کہ وہ کسی کی تعریف ہے یا تنقیص-
واپس اوپر جائیں

Wednesday, 1 May 2013

Al Risala | May 2013 (الرسالہ،مئی)

2

-اہلِ جنت کی رفاقت

3

- بے نیازی کی نفسیات

4

- احبار ورہبان کی پیروی

5

- اللہ کی ایک سنت

6

- فطرت کا ایک اصول

8

- یہ اسلام نہیں

10

- مشرق اور مغرب

11

- حضرت ابراہیم کی امامت

26

- مکمل نظام، مکمل آئڈیالوجی

27

- خدا اور پیغمبر

37

- اپنے آپ کو پہچانیے

38

- حفاظت کا فارمولا

39

- کامیابی کس کے لیے

40

- سوال وجواب

43

- خبرنامہ اسلامی مرکز


اہلِ جنت کی رفاقت

پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات 632 عیسوی کو مدینہ میں ہوئی- آخر وقت میں آپ کی اہلیہ عائشہ آپ کے ساتھ تھیں- حضرت عائشہ کا بیان ہے کہ آخر وقت میں آپ کی زبان سے یہ الفاظ نکلے: اللہم الرفیق الأعلى (البخاری، رقم الحدیث : 6348) یعنی اے اللہ، تیری رفاقت چاہیے-
ایک اور روایت میں حضرت عائشہ کے یہ الفاظ نقل کئے گئے ہیں: جعلتُ أسمعہ یقول: فی الرفیق الأعلى،ثم قرأ:’مَعَ الَّذِیْنَ اَنْعَمَ اللّٰہُ عَلَیْہِمْ مِّنَ النَّبِیّٖنَ وَالصِّدِّیْقِیْنَ وَالشُّہَدَاۗءِ وَالصّٰلِحِیْنَ ۚ وَحَسُنَ اُولٰۗىِٕکَ رَفِیْقًا‘ (4:69) یعنی میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ اے اللہ، رفیق اعلی کے ساتھ- پھر آپ نے یہ آیت پڑھی: ’’اُن لوگوں کے ساتھ جن پر اللہ نے انعام کیا، یعنی پیغمبر اور صدیق اور شہید اور صالح، اور کیسی اچھی ہے اُن کی رفاقت‘‘- (فتح الباری بشرح صحیح البخاری، 7/743 )
اِس واقعے کا تعلق محدود طورپر خصائصِ نبوت سے نہیں ہے، بلکہ اس کا تعلق تمام اہلِ ایمان سے ہے- ایک مومن جب سچے ایمان کے ساتھ دنیا میں زندگی گزارتا ہے تو اپنے آخری زمانے میں اس کا احساس یہ ہوجاتا ہے کہ اللہ نے مجھے اکرم الخلق (17:70) کی حیثیت سے پیدا کیا، لیکن احسن المقام (25:76) کا تجربہ مجھے نہ ہوسکا- دوسرے لفظوں میں یہ کہ میں پورے معنوں میں ایک طالب انسان تھا، لیکن میرا مطلوب اللہ نے آخرت میں جنت کی صورت میں رکھ دیا تھا، اس لیے میں اس کو نہ پاسکا- دنیا میں ایک سچے مومن کی تصویر وہی ہوتی ہے جس کو ایک حدیثِ رسول میں اِن الفاظ میں بیان کیاگیا ہے: الدنیا سجن المؤمن ( صحیح مسلم، رقم الحدیث: 2956) یعنی دنیا مومن کا قید خانہ ہے-
جس صاحبِ ایمان کی نفسیات یہ ہو، وہ اپنے آخری زمانے میں، معنوی طورپر، اُسی کیفیت سے دوچار ہوتا ہے جس کا اظہار مذکورہ روایت میں پیغمبر کے حوالے سے کیاگیاہے-
واپس اوپر جائیں

بے نیازی کی نفسیات

قرآن کی سورہ العلق میں ایک انسانی کردار کو اِن الفاظ میں بتایا گیا ہے: کَلَّآ اِنَّ الْاِنْسَانَ لَیَطْغٰٓى ۝ اَنْ رَّاٰہُ اسْتَغْنٰى(96:6-7) یعنی ہرگز نہیں، انسان سرکشی کرتاہے- اِس بنا پر کہ وہ اپنے آپ کو بے نیاز دیکھتا ہے:
Yet man behaves arrogantly, because he thinks himself self-sufficient.
قرآن کی اِس آیت میں ایک انسانی نفسیات کو بتایا گیاہے- یہی نفسیات اکثر لوگوں کی سرکشی کا باعث بن جاتی ہے- یہ نفسیات، بے نیازی کی نفسیات ہے- بے نیازی کی نفسیات جب ترقی کرتی ہے تو وہ خودرائی، سرکشی اور گھمنڈ جیسی برائیوں کا سبب بن جاتی ہے-
ایک شخص کے پاس اتنا مال آجائے کہ وہ کسی کا محتاج نہ رہے- ایک شخص جسمانی اعتبار سے اتنا طاقت ور ہو کہ وہ کسی کی مدد کے بغیر خود اپنا ہر کام کرلے- ایک شخص کے اندر اتنی زیادہ ذہنی صلاحیت ہو کہ وہ کسی کے مشورے کے بغیر خود اپنی عقل سے باتوں کو سمجھ لے اور اپنے عمل کا کامیاب منصوبہ بناسکے- جس شخص کے اندر اِس قسم کی اضافی خصوصیت پائی جائے، وہ اپنے آپ کو دوسروں سے بے نیاز سمجھ لیتاہے- شعوری یا غیر شعوری طورپر اُس کا یہ ذہن بن جاتا ہے کہ مجھے کسی کے اوپر انحصار کرنے کی ضرورت نہیں، میں خود اپنے ہر کام کو انجام دے سکتاہوں-
بے نیازی کی یہ نفسیات انسان کے ذہنی اور روحانی ارتقا کے لیے قاتل ہے- ایسے آدمی کا ذہنی ارتقا (intellectual development) رک جائے گا اور اپنی بے نیازانہ نفسیات کی بنا پر ا س کو یہ محسوس بھی نہ ہوگا کہ میرے اندر ذہنی ارتقا کا عمل رک گیاہے-
بے نیازی بظاہر کوئی برائی نہیں، لیکن اپنے نتیجے کے اعتبار سے، وہ ایک سنگین برائی کی حیثیت رکھتی ہے- بے نیازی آخر کار آدمی کو کبر (arrogance)تک پہنچاتی ہے اور بلا شبہہ کبر سے زیادہ تباہ کن کوئی اور چیز انسان کے لیے نہیں-
واپس اوپر جائیں

احبار ورہبان کی پیروی

قرآن کی سورہ التوبہ میں یہود ونصاری کے دورِ زوال کی ایک کمزوری کا ذکر اِن الفاظ میں کیاگیاہے: اتخذوا أحبارہم ورُہبانہم أرباباً من دون اللہ(9:31) یعنی انھوں نے اللہ کے سوا، اپنے علما اور مشائخ کو اپنا رب بنا ڈالا-
عدی بن حاتم الطائی (وفات: 68ھ) عرب کے ایک عیسائی تھے- مدنی دور میں وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ملے اور اسلام قبول کرلیا- انھوں نے قرآن کی اِس آیت کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا تھا- آپ نے اُن کا جواب دیتے ہوئے فرمایا کہ یہود ونصاری کا یہ حال ہوگیا کہ اُن کے احبار ورہبان نے حلال کو حرام بتایا اور حرام کو حلال بتایا اور یہود ونصاری نےاس کو مان لیا- یہی وہ چیز ہے جس کا ذکر قرآن میں اِن الفاظ میں کیاگیا ہے کہ— انھوں نے اپنے احبار ورہبان کو اپنا رب بنالیا-
یہ دراصل حاملِ کتاب امتوں کے دورِ زوال کا ایک ظاہرہ ہے- دورِ زوال میں یہ ہوتا ہے کہ خدا کی کتاب اُن کے لیے ان کے دین کا اصل ماخذ نہیں رہتی، بلکہ ان کے علما ومشائخ کے اقوال اُن کے دین کا ماخذ بن جاتے ہیں- دورِ زوال سے پہلے افرادِ امت کا حال یہ ہوتا ہے کہ وہ کہتے ہیں: إیتونی شیئاً من کتاب اللہ حتى أقول- لیکن جب دورِ زوال آتا ہے تو وہ کہتے ہیں: إیتونی شیئا من أقوال العلماء حتى أقول- اِس طرح گویا دورِ زوال کا مطلب ہے — دین میں مرجع اور ماخذ کا بدل جانا(change in source of reference) -
موجودہ زمانے میں مسلم ملت کا جو حال ہے، اُس پر غور کیجئے تو معلوم ہوگا کہ مسلم ملت موجودہ زمانے میں عین اِسی حالت پر پہنچ چکی ہے- مسلمانوں کی تقریر وتحریر کو دیکھئے ، اُن کے اداروں میں جو کلچر رائج ہے، اس پر غور کیجئے تو معلوم ہوگا کہ موجودہ زمانے کے مسلمان حقیقتاً قرآن وسنت پر کھڑے ہوئے نہیں ہیں، بلکہ عملاً وہ اپنے اکابر کے دین پر کھڑے ہوئے ہیں-
واپس اوپر جائیں

اللہ کی ایک سنت

پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک روایت، حدیث کی مختلف کتابوں میں آئی ہے- اِس کے مطابق، پیغمبر اسلام نے فرمایا: لقد کان فیما قبلکم من الأمم ناس محدَّثون، فإن یک فی أمتی أحد فإنہ عمر (صحیح البخاری، کتاب فضائل الصحابہ، باب مناقب عمر بن الخطّاب، رقم الحدیث: 3689) یعنی تم سے پہلے جو امتیں گزری ہیں، اُن میں محدَّث افراد ہوتے تھے- اگر میری امت میں ایسا کوئی شخص ہوگا تو وہ عمر ہیں-
شارحین حدیث نے محدَّث کی شرح مُکلَّم اور مُلہَم کے الفاظ میں کی ہے، یعنی وہ شخص جس سے فرشتے بات کریں، یا جس پر الہام کیا جائے- انگریزی میں اِس کو انسپائرڈ شخص (inspired person) کہاجاسکتا ہے- شارحین نے اِس کو پُراسرار کرامت کے معنی میں لیا ہے اور محدثین نے اس کو مناقبِ صحابہ یا فضائل صحابہ کے عنوان کے تحت نقل کیا ہے- مگر حقیقت یہ ہے کہ یہ ایک سنتِ الہی ہے، یعنی انسانی ہدایت کا خدائی انتظام، نہ کہ محض ایک شخصی کرامت-
اصل یہ ہے کہ انسانوں کی رہنمائی کے لیے اللہ نے دو قسم کا انتظام کیا ہے — ایک، پیغمبر کے ذریعے، اور دوسرا، ملہَم انسان (inspired person) کے ذریعے- پیغمبرپر اللہ کی ہدایت ملفوظ وحی کے ذریعے آتی ہے جس کو علما وحیِ متلو کہتے ہیں- اِسی نوعیت کا معاملہ محدث یا ملہم انسان کے ساتھ پیش آتا ہے- اس کو فرشتوں کے ذریعے مسلسل طورپر خدائی رہنمائی ملتی رہتی ہے- اِس کی وجہ سے وہ اِس قابل ہوجاتاہے کہ وہ لوگوں کو ہر صورتِ حال میں صحیح رہنمائی دے سکے- پیغمبر ایک صاحبِ وحی رہنما ہوتاہے، اور محدث انسان ایک صاحبِ الہام رہنما- یہ معاملہ اللہ کی خصوصی رحمت کی بنا پر ہوتا ہے- پیغمبر کے بعد اللہ اگر محدث یا ملہم افراد پیدا نہ کرے تو بدلے ہوئے حالات میں لوگوں کے لیے خدا کی رہنمائی کو جاننا ناممکن ہوجائے- حقیقت یہ ہے کہ صحیح رہنمائی صرف خدائی مدد کے ذریعے حاصل ہوتی ہے، پیغمبر کے زمانے میں بھی اور محدث انسان کے زمانے میں بھی-
واپس اوپر جائیں

فطرت کا ایک اصول

علمِ نباتات کی ایک اصطلاح ہے جس کو ٹرانسپلانٹیشن (transplantation) کہا جاتا ہے، یعنی پودے کو ایک جگہ سے اکھاڑ کر دوسری جگہ لگانا، تاکہ وہ بہتر نشو ونما پائے:
The act of removing a plant from one location and introducing it in another location.
یہی اصول انسانی زندگی کے لیے بھی ہے- انسانی گروہ کے لیے بھی کبھی یہ فیصلہ کیا جاتا ہے کہ اس کے عمل کے مقام کو بدلا جائے، تاکہ وہ زیادہ بہتر طورپر اپنا کام انجام دے سکے- اسلام میں ہجرت کا مقصد یہی ہے- اسلام کےمطابق، ہجرت سادہ طورپر صرف ترکِ مقام کے معنی میں نہیں، بلکہ وہ عمل کی تبدیلی کے معنی میں ہوتی ہے-
اِس ہجرت کی دو صورتیں ہیں — ایک ہے عمل کے مقام (place of work) کو بدلنا- اور دوسرا وہ ہے جس کو رول کی تبدیلی (change of role) کہاجائے گا- اسلام کے دورِ اول کی تاریخ میں مکہ سے مدینہ کی طرف ہجرت پہلی قسم کی مثال ہے، اور حدیبیہ دوسری قسم کی مثال، جس نے اہلِ ایمان کے عسکری رول کو دعوتی رول میں تبدیل کردیا-
اسلام کے ظہور کے بعد مسلمانوں کو یہ موقع ملا کہ انھوں نے بڑی بڑی سلطنتیں قائم کرلیں- اِس کو مسلم ایمپائر کا دور کہا جاسکتا ہے- یہ دور تقریباً ایک ہزار سال تک جاری رہا- اٹھارھویں صدی کے آخر میں اس کا خاتمہ ہوگیا- چھوٹی چھوٹی مسلم حکومتیں اب بھی باقی تھیں، لیکن مسلم ایمپائر باقی نہ رہا-
یہ واقعہ اپنی حقیقت کے اعتبار سے کسی کی سازش یا دشمنی کا نتیجہ نہ تھا، بلکہ وہ فطرت کے ایک اصول کے تحت پیش آیا اور وہ ٹرانسپلانٹیشن کا اصول تھا- اِس کے تحت ایسے حالا ت پیداہوئے جس کا تقاضا تھا کہ مسلمان اپنے رول کو بدلیں- اٹھارھویں صدی تک انھوں نے سیاسی رول ادا کیا تھا، اب نئے حالات میں اُن کو دعوتی رول ادا کرنا تھا-
اسلام کے ظہور کے بعد ضرورت تھی کہ خدا کا دین کامل طورپر محفوظ اور مدوّن ہوجائے- اسلامی علوم کا ایک مستند کتب خانہ قائم ہوجائے- اٹھارھویں صدی میں پرنٹنگ پریس وجود میں آیا ، اُس نے دین کی حفاظت وتدوین کے کام کو اتنا زیادہ مستحکم کردیا کہ اب اُس میں کسی قسم کی تبدیلی یا تحریف عملاً ناممکن ہوگئی-
انیسویں صدی کا آغاز تاریخ انسانی میں ایک نئے دو رکا آغاز تھا- اِس دور میں مذہبی جبر کی جگہ مذہبی آزادی آئی- کٹرپن کی جگہ کھلاپن (openness) ، تعصب کے بغیر دوسرے مذاہب کا مطالعہ اور جدید مواصلات، وغیرہ- اِن تبدیلیوں کے نتیجے میں عالمی سطح پر تاریخ میں ایک نیا دور آگیا- اِس دور کو اپنی حقیقت کے اعتبار سے، دعوت کا دور(age of dawah) کہاجاسکتا ہے- اِسی کے ساتھ وہ چیز وجود میں آئی جس کو عالمی سیاحت (world tourism)کہا جاتا ہے- اِس کے نتیجے میں یہ ہوا کہ مختلف قوموں کے لوگ بڑی تعداد میں دوسرے ملکوں کا سفر کرنے لگے- مثلاً 2011 میں مختلف ملکوں کے جو سیاح شرقِ اوسط (Middle East) میں آئے، اُن کی تعداد 55 ملین سے زیادہ تھی-
یہ حالات اشارہ کررہے تھے کہ اب مسلمانوں کا رول بدل گیا- اٹھارھویںصدی تک اگر اُن سے پولٹکل رول مطلوب تھا تو اب اُن سے دعوتی رول مطلوب ہے- اب انھیں چاہیے کہ وہ دوسری قوموں سے لڑائی کو مکمل طورپر ختم کردیں- وہ اپنے اور دوسری قوموں کی درمیان وہ پرامن اورمعتدل حالات قائم کریں، جب کہ موافق ماحول میں دعوت الی اللہ کا کام عالمی سطح پر ہونے لگے-
اب آخری وقت آگیا ہے کہ مسلمان اپنے رول کی اِس تبدیلی کو جانیں اور اپنی کوششوں کو پوری طرح دعوت کے میدان میں لگا دیں- ورنہ اِس بات کا سخت اندیشہ ہے کہ ایک حدیثِ رسول کے مطابق، اُن کی مثال اُس حیوان جیسی ہوگی جس کے مالک نے اُس کو ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کیا، لیکن وہ اِس سے بے خبر رہا کہ اِس منتقلی کے ذریعے اس کا مالک اُس سے کیا چاہتا ہے: والمنافق مثلہ کمثل الحمار، لا یدری فیم ربط أہلہ ولا فیم أرسلوہ (تفسیر ابن کثیر3/450 ) یعنی منافق کی مثال گدھے کی طرح ہے کہ وہ نہیں جانتا کہ اس کے مالک نے کس لیے اس کو باندھا اور کیوں اس کو چھوڑ دیا-
واپس اوپر جائیں

یہ اسلام نہیں

مصر میں سابق صدر حسنی مبارک کے خلاف ایک تحریک اٹھی- اِس کی قیادت الاخوان المسلمون کے لوگ کررہے تھے- اِس کے نتیجے میں حسنی مبارک کی حکومت ختم ہوگئی- اِس کے بعد مصر میں الیکشن ہوا- الیکشن کے بعد الاخوان المسلمون کے ایک لیڈر ڈاکٹر محمد مرسی مصرکی نئی حکومت کے صدر مقرر ہوئے- جنوری 2013 میں اِس ’’انقلاب‘‘ پر ایک سال گزر چکے ہیں، مگر ابھی تک وہاںامن قائم نہیں ہوا-
26جنوری 2013 کو سوئزکے کنارے واقع شہروں میں مصریوں کا ایک جلوس نکالا گیا- ایک واقعے کو لے کر جلوس اور پولس کے درمیان ٹکراؤ ہوا- اِس ٹکراؤ میں تقریباً 50 آدمی مارے گئے- جلوس کے شرکا اپنے ہاتھ میں بہت سے بینر لیے ہوئے تھے- اِن بینروں میں پچھلے سال اِسی قسم کے ایک تصادم میں ہلاک ہونے والے مصریوں کی تصویریں تھیں- اِن تصویروں کے اوپر جلی حرفوں میں لکھا ہوا تھا: لن ننساکم( ہم ہرگز تم کو نہیں بھولیں گے)-
یہ نہ بھولنے کا کلچر ہرجگہ کے مسلمانوں میں عام ہے- موجودہ زمانے میں مسلمان بار بار ایسا کرتے ہیں کہ وہ جذباتی اِشوز پر پرشور مظاہرے کرتے ہیں- یہ مظاہرہ بعد کو تشدد کی صورت اختیار کرلیتاہے- اِس میں بہت سے لوگ زخمی ہوتے ہیں اور بہت سے لوگ مارے جاتے ہیں-
ہرجگہ کے مسلمان اِسی نفسات میں جی رہے ہیں کہ ہم اپنے ’’شہیدوں‘‘ کو نہیں بھولیں گے، ہم ضرور اُن کا بدلہ لیں گے- اِس کے نتیجے میں مسلمان ایک قسم کی آتش پذیر کمیونٹی (combustible community) بن گئے ہیں-
موجودہ زمانے کے مسلمانوں میں ہر جگہ یہی کلچر پھیلا ہوا ہے- اِس کلچر نے تمام دنیا کے مسلمانوں کو نفرت اور تشدد کی نفسیات میں مبتلا کردیا ہے- ہرجگہ کے مسلمانوں کا حال یہ ہے کہ وہ منفی جذبات سے بھرے رہتے ہیں اور کوئی بھی خلافِ مزاج واقعہ پیش آنے پر وہ فوراً بھڑک اٹھـتے ہیں-
موجودہ زمانے کے مسلمانوں کی یہ منفی نفسیات بلا شبہہ ان کا سب سے بڑا مسئلہ ہے- مسلمانوں پر لازم ہے کہ وہ نہ بھلانے والے کلچر کو چھوڑ کر، بھلانے والا کلچر اختیار کریں، ورنہ وہ قیامت تک اِس کے تباہ کن نتائج بھگتتے رہیں گے- کوئی بھی دوسری تدبیر اِس معاملے میں اُن کو نجات دینے والی نہیں-
انیسویں صدی اور بیسویں صدی کے دوران مسلمانوں کے اندر بڑی بڑی سیاسی تحریکیں اٹھیں- اِن تمام تحریکوں کا نشانہ براہِ راست یا بالواسطہ طورپر صرف ایک تھا— کھوئے ہوئے مسلم ایمپائر کا دوبارہ قیام- مگر دوسو سال کی دھواں دھار سرگرمیوں کے باوجود یہ نشانہ حاصل نہیں ہوا- اِن تمام سیاسی تحریکوں کے مسلم رہنما آخر کار مایوسی میں مبتلا ہوئے اور مایوسی میں اِس دنیا سے چلے گئے-
اِس کا سبب یہ تھا کہ کوئی سیاسی ایمپائر، خواہ وہ مسلم ایمپائر ہو یا غیر مسلم ایمپائر، حالات کے تحت قائم ہوتا ہے- یہ قدیم زمانے کا ایک ظاہرہ تھا کہ مختلف قوموں نے اپنے ایمپائر قائم کیے- اِنھیں زمانی حالات کی بنا پر مسلمانوں کو بھی یہ موقع مل گیا کہ وہ اپنا ایمپائر قائم کریں-
مگر اٹھارھویں صدی میں یہ زمانی حالات ختم ہوگئے- اب کسی قوم کے لیے یہ ممکن نہ رہا کہ وہ قدیم طرز کا سیاسی ایمپائر قائم کرے- مسلمانوں کی سیاسی تحریکوں کو جو ناکامی ہوئی، وہ کسی دشمن کی ’’سازش‘‘ کی بنا پر نہ تھی، وہ صرف اِس لیے تھی کہ موجودہ زمانے میں اٹھنے والے مسلم رہنما زمانے کی تبدیلی سے بے خبر تھے- اِس بنا پر وہ ایسی سیاست کے چیمپئن بنے رہے جو نئے دور میں سرے سے ممکن ہی نہ تھی-
اب جو لوگ مسلم تحریکوں کی ناکامی کو دشمن کی ’’سازش‘‘ قرار دے کر مضامین اور کتابیں لکھ رہے ہیں، وہ صرف اپنی بے دانشی کا ثبوت دے رہے ہیں- اکیسویں صدی میں تمام دنیا کے مسلمانوں کو صرف ایک ہی کام کرنا ہے، یہ کہ وہ ماضی میں کی ہوئی اپنی غلطیوں کا اعتراف کریں اور یہ عہد کریں کہ اب دوبارہ وہ ایسی غلطی نہ کریں گے، نہ فکری اعتبار سے اور نہ عملی اعتبار سے-
موجودہ دنیا میں غلطی کرنا ایک امرِ فطری ہے- کوئی بھی شخص غلطی کرسکتا ہے، لیکن غلطی کے بعد جب موافق نتیجہ نہ نکلے تو یہ بلاشبہہ دیوانگی ہوگی کہ اپنی ناکامیوں کا سبب دشمنوں کی سازش کو قرار دے دیا جائے- غلطی کرنا قابلِ معافی ہے، لیکن غلطی کا اعتراف نہ کرنا ہرگز قابلِ معافی نہیں-
واپس اوپر جائیں

مشرق اور مغرب

ایک مشہور مسلم لیڈر اگست 2012 میں ایک کانفرنس میں شرکت کے لیے ترکی گئے- وہاں انھوں نے میڈیا کو انٹرویو دیتےہوئے کہا کہ — یہ بہت اچھی بات ہے کہ ترکی نے مغرب کے بجائے مشرق کی طرف دیکھنا شروع کردیا ہے:
It is very good that Turkey has started looking East instead of West.
انسانیت کو مشرق اور مغرب میں تقسیم کرنے کا ذہن ایک قومی ذہن ہے-ایک قومی لیڈر اس قسم کے الفاظ بول سکتا ہے، لیکن ایک مسلمان ایسے الفاظ بولنے کا تحمل نہیں کرسکتا، کیوں کہ اسلام ایک قومیت نہیں، بلکہ وہ ایک انسانی مشن ہے- رُڈیارڈ کپلنگ (Rudyard Kipling) ایک برٹش شاعر اور اسٹوری رائٹر تھا- وہ 1865 میں ممبئی میں پیدا ہوااور 1936 میں اس کی وفات ہوئی- رڈیارڈ کپلنگ نے کہا تھا کہ مغرب، مغرب ہے اور مشرق، مشرق - دونوں کبھی ایک دوسرے سے نہیں مل سکتے:
West is West and East is East, and the twain shall never meet.
اِس قسم کی سوچ سرتاسر غیر داعیانہ سوچ ہے- مومن کا مشن عالمی دعوت کا مشن ہے- یہ ذہن فطری طورپر مومن کے اندر آفاقیت پیدا کرتا ہے- اس کا نشانہ پوری انسانیت ہوتی ہے- وہ قومی تعصب سے یکسر خالی ہوتاہے- وہ سارے انسانوں کا خیر خواہ ہوتا ہے- وہ سارے انسانوں کو ایک فیملی کی طرح اپنا سمجھتا ہے- حقیقت یہ ہے کہ مومن ’’ہم اور وہ‘‘(We and They) کے تصور سے ناآشنا ہوتا ہے- اِس کے بجائے مومن کا تصور ’’ہم اور ہم‘‘ (We and We) کے تصور پر مبنی ہوتا ہے- قرآن میں بتایا گیاہےکہ اللہ تمام انسانوں کا رب ہے- یہی وہ عقیدہ ہے جو مومن کا ذہن بناتا ہے- مومن اپنے عقیدے کے اعتبار سے، اس کا تحمل نہیں کرسکتا کہ وہ انسان کو مشرق اور مغرب میں بانٹے- مومن کی نظر میں ہر ایک اس کا ہے اور وہ ہر ایک کا- یہی وہ تصور ہے جو مومن کی اخلاقیات کی تشکیل کرتاہے اور یہی وہ آفاقی تصور ہے جو مومن کے اندر یہ عالمی خیر خواہی پیدا کرتاہے کہ وہ تمام دنیا والوں کی ہدایت کا حریص بن جائے-
واپس اوپر جائیں

حضرت ابراہیم کی امامت

حضرت ابراہیم تقریباً چار ہزار سال پہلے عراق میں پیدا ہوئے- وہ تینوں سامی مذاہب — یہودیت، عیسائیت اور اسلام کے مشترک پیشوا مانے جاتے ہیں-حضرت ابراہیم کے بارے میں قرآن میں عالمی امامت کا اعلان ان الفاظ میں کیاگیاہے : وَاِذِ ابْتَلٰٓى اِبْرٰہٖمَ رَبُّہٗ بِکَلِمٰتٍ فَاَتَـمَّہُنَّ ۭ قَالَ اِنِّىْ جَاعِلُکَ لِلنَّاسِ اِمَامًا(2:124)یعنی جب ابراہیم کو اس کے رب نے کئی باتوں میں آزمایا تو ابراہیم نےاُن کو پورا کردکھایا- اللہ نے کہامیں تم کو تمام انسانوں کا امام بناؤں گا-
حضرت ابرہیم کا ذکر بائبل (عہد نامہ قدیم) میں تفصیل کے ساتھ آیا ہے- حضرت ابراہیم کی امامت کے بارے میں قرآن کی مذکورہ آیت میں جو بات کہی گئی ہے، وہ بائبل میں بھی ان الفاظ میں آئی ہے— اور زمین کی سب قومیں اس کے وسیلے سے برکت پائیں گی:
All the nations of the earth shall be blessed in him. (Genesis 18:18)
قرآن اور بائبل کے بیان سے معلوم ہوتاہے کہ اللہ تعالی نے حضرت ابراہیم کو عالمی امامت کا درجہ دیا- یہ عالمی امامت کیا تھی، اس کے بارے میں یہودی علما ،مسیحی علما اور مسلم علما تقریباً سب کے سب بے خبری میں مبتلا ہیں- وہ اِس کو صرف ایک پراسرار(mysterious) مفہوم میں لیے ہوئے ہیں، حالاں کہ یہ ایک تاریخی واقعہ تھا- اس کی عظمت صرف اُس وقت واضح ہوتی ہے جب کہ اس کو تاریخ کی زبان میں بیان کیا جائے-
منصوبہ تخلیق
اصل یہ ہے کہ اللہ تعالی نے انسان کی تخلیق کے بعد انسانی نسلوں کی ہدایت کے لیے اولاً پیغمبر بھیجنا شروع کیا- حضرت آدم سے لے کر حضرت ابراہیم تک بڑی تعداد میں پیغمبر آئے، لیکن دنیا میں مطلوب حالت قائم نہ ہوسکی- وہ مطلوب حالت یہ تھی کہ ایک طرف، دین ِ خداوندی کا مستند متن محفوظ ہوجائے- اور دوسری طرف انسان کودین ِ خداوندی کے معاملے میں کامل آزادی حاصل ہو- دین کے معاملے میں کسی بھی قسم کی رکاوٹ باقی نہ رہے-مگر مختلف اسباب کے تحت ایسا ہوا کہ انسانی زندگی میں ایک برعکس حالت قائم ہوگئی- اِس کو ایک لفظ میں، استبدادیت(despotism) کہا جاسکتا ہے- اِس کے نتیجے میں دنیا میں ہرجگہ انسانی زندگی میں استبدادی ماڈل (despotic model) رائج ہوگیا- اِس ماڈل کے تحت انسانی زندگی کے تمام معاملات مُستَبِد حکمراں (despotic rulers) کے تحت آگئے- یہ مستبد حکمراں اپنےمزاج کے تحت ہر نئی چیز کے دشمن ہوتے تھے- وہ ہر نئی تحریک کو پوری طاقت سے کچل دیتے تھے، تاکہ لوگوں کے اوپر ان کی حکمرانی غیرمشروط طورپر قائم رہے-
اِسی نظام کا ایک ظاہرہ وہ تھا جس کو قرآن میں فتنہ (8:39)کہاگیا ہے- اِس ظاہرے کا سیکولر نام مذہبی جبر ہے- اِسی مذہبی جبر کی بنا پر قدیم زمانے میں لوگوں کو مذہب توحید اختیار کرنے کی اجازت نہ تھی، کیوں کہ وہ حکمراں کے اختیار کردہ مذہب کے خلاف ہوتا تھا- اِسی بنا پر قدیم زمانے میں موحدین کو قتل کردیا گیا یا آگ میں جلادیا گیا-اِسی بنا پر اصحاب کہف (Seven Sleepers) اپنی بستی کو چھوڑ کر ایک غار میں پناہ لینے پر مجبور ہوئے، وغیرہ- قدیم زمانے میں اِس قسم کے جو شدید واقعات پیش آئے، اس کا سبب کوئی سیاسی اختلاف نہ تھا، بلکہ اس کا سبب تمام تر صرف مذہبی اختلاف تھا-
نیا عمل
حضرت ابراہیم کے زمانے میںاللہ نے تاریخ میں ایک نیا عمل (process)جاری کیا- یہ عمل انسان کی آزادی کو منسوخ کیے بغیر کیا گیا- اِسی کے ساتھ اسباب کے ماحول کو پوری طرح برقرار رکھا گیا- اِس صورتِ حال کی بنا پر اِس خدائی عمل کے ساتھ ایک شبہہ کا عنصر (element of doubt) شامل ہوگیا- یہی وجہ ہے کہ مذاہب ثلاثہ کے علما خداکے اِس منصوبے کو سمجھ نہ سکے- حضرت ابراہیم کی امامت کا معاملہ علماءِ مذاہب کے لیے ایک پراسرار معاملہ بنا رہا-
مذاہبِ ثلاثہ کے علما اِس معاملے میں کنفیوژن کا شکار ہیں- وہ اِس واقعے کی کوئی ایسی توجیہہ دریافت نہ کرسکے جو اِس معاملے میں اُن کو یقین پر کھڑا کرنے والی ہو- انھوںنے اپنے ذہنی سانچہ (mind-set)کے اعتبار سے، بعض توجیہات کیں، مگر انھوں نے دیکھا کہ اِن توجیہات کو تاریخ کی تصدیق حاصل نہیں ہورہی ہے، اس لیے وہ اِس معاملے میں کنفیوژن کا شکار ہو کر رہ گئے-
مثلاً کچھ لوگوں نے کہا کہ حضرت ابراہیم کے ذریعہ دنیا کو توحید کی مستند آئڈیالوجی ملی- مگر یہ بات حقیقتِ واقعہ کے خلاف ہے، کیوں کہ دنیا کو توحید کی آئڈیالوجی قرآن کے ذریعے حاصل ہوئی، نہ کہ صُحفِ ابراہیم (87:19) کے ذریعے، جو کہ عملاً اب گم شدہ صحائف کی حیثیت رکھتے ہیں- کچھ لوگوں نے یہ کہا کہ حضرت ابراہیم کے ذریعے ساری دنیا میں خدائی حکومت قائم ہوئی، مگر تاریخ میں ایسے کسی واقعے کا ذکر نہیں جب کہ ساری دنیا میں خدائی حکومت قائم ہو اور حضرت ابراہیم اس میں صدر کی حیثیت رکھتے ہوں، وغیرہ- اِس قسم کی تمام توجیہات لوگوں کے اپنے ذہن کی پیداوار ہیں، اُن کا خدا کے نقشہٴ تخلیق سے کوئی تعلق نہیں-
اِس معاملے میں خدا کا منصوبہ کیا تھا، اس کو قرآن اور حدیث کے مطالعے سے معلوم کیا جاسکتا ہے- قرآن کی سورہ المائدہ میں ایک آیت آئی ہےجس کو اکمالِ دین (5:3) کی آیت کہا جاتا ہے- اِس آیت میں اکمالِ دین سے مراد شرعی احکام کی فہرست کا مکمل کرنا نہیں ہے، بلکہ اِس سے مراد اہلِ دین کے لیے خوف کی حالت کا خاتمہ ہے- یہی وہ بات ہے جس کو آیت میں اِن الفاظ میں کہاگیا ہے: اَلْیَوْمَ یَىِٕسَ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا مِنْ دِیْنِکُمْ فَلَا تَخْشَوْہُمْ وَاخْشَوْن (5:3) یعنی آج منکرین تمھارے دین کی طرف سے مایوس ہوگئے، پس تم اُن سے نہ ڈرو، صرف مجھ سے ڈرو-
قرآن کی مذکورہ آیت میں کسی وقتی واقعے کا ذکر نہیں ہے، اِس میں ایک تاریخی حقیقت کا اعلان کیاگیاہے- یہ آیت حجة الوداع (10ہجری) کے موقع پر نازل ہوئی- اِس آیت کا نزول دراصل تاریخ کے ایک دور کے خاتمے اور تاریخ کے دوسرے دو رکے آغاز کا اعلان تھا- یہ اعلان اب پوری طرح واقعہ بن چکا ہے- اگر چہ اہلِ مذاہب اپنے خود ساختہ ذہن کی بنا پر اِس حقیقت سے بے خبر رہے-
اسباب اور انسانی آزادی کو برقرار رکھتے ہوئے جو خدائی منصوبہ بندی کی گئی ، اس کا خاص نشانہ یہ تھا کہ دنیا میں مذہبی جبر کا مکمل خاتمہ ہوجائے، ہر انسان کو یہ موقع ہو کہ وہ مذہب کے معاملے میں اپنے انتخاب (choice) کے لیے مکمل طورپر آزاد ہوجائے- یہ منصوبہ بندی مکمل طورپر ایک غیرسیاسی منصوبہ بندی تھی- اس کا سیاست سے کوئی تعلق نہ تھا، نہ نظری اعتبار سے اور نہ عملی اعتبار سے-
حضرت ابراہیم کے ذریعے جومنصوبہ بندی کی گئی، اس کے دو پہلو تھے — ایک یہ تھا کہ مطلوب صورتِ حال کا ایک ابتدائی نمونہ (prototype) تیار کرنا- اس کا دوسرا پہلو یہ تھا کہ انسان کی آزادی کو برقرار رکھتے ہوئے تاریخ میں ایسا عمل (process) جاری کرنا جو آخر کار ایک نئے دور کو وجود میں لائے، جب کہ مذکورہ ابتدائی اور وقتی نمونہ ایک عالمی انقلاب کی صورت اختیار کرلے اور اِس طرح تمام دنیا کے انسانوں کے لیے عمومی طورپر اور مستقل طورپر یہ امکان کھل جائے کہ وہ کسی بھی جبر کے بغیر ہر قسم کی مذہبی سرگرمیوں کے لیے آزاد ہوں- اپنے ذاتی عقیدے کے معاملے میں بھی اور دوسروں کے درمیان اپنے عقیدے کی اشاعت کے معاملے میں بھی-
وہ چیز جس کو اوپر ابتدائی نمونہ (prototype) کہا گیاہے، اس کی مثال حضرت یوسف کے ذریعے قائم کی گئی- حضرت یوسف، حضرت ابراہیم کے گریٹ گرینڈ سن (great grandson) تھے- وہ فلسطین اور شام کے درمیان ایک گاؤں (کنعان) میں پیدا ہوئے- اس زمانے میں مصر ایک ترقی یافتہ ملک تھا- یہاں ایک خاندان حکومت کرتا تھا، جس کو ہکساس بادشاہ (Hyksos Kings) کہاجاتا ہے- حضرت یوسف کے زمانےمیں یہاں جو بادشاہ حکومت کررہا تھا، اس کا نام یہ تھا— اپوفس (Apophis) -یہ بادشاہ استثنائی طورپرایک منفرد مزاج کا آدمی تھا- وہ شخصی طور پر ایسی صفات کا حامل تھا جو مطلوب منصوبے کے لیے ایک موزوں کردار کی حیثیت رکھتی تھیں- یہی وجہ ہے کہ خدائی منصوبے کے تحت حضرت یوسف کو کنعان سے نکال کر قدیم مصر کی راجدھانی ممفس (Memphis ) پہنچایا گیا- یہاں ایسے اسباب پیدا ہوئے جن کے تحت حضرت یوسف اُس وقت کے مصری بادشاہ کے دربار میں پہنچے- بادشاہ حضرت یوسف کی صلاحیت سے اتنا زیادہ متاثر ہوا کہ اُس نے اپنے ایک فیصلے کے تحت، حضرت یوسف کو مصر کے خزائن (وسائل ارض) کا انچارج بنادیا (12:55)-
حضرت یوسف کا یہ قصہ قرآن اور بائبل دونوں میں یکساں طورپر تفصیل کے ساتھ بیان کیاگیاہے- اِس سلسلے میں بائبل کا بیان یہ ہے کہ بادشاہ نے کہا— میری ساری رعایا تیرے حکم پر چلے گی- فقط تخت کا مالک ہونے کے سبب میں بزرگ تر ہوں گا:
Only in regard to the throne, I will be greater than you. (Genesis 41:40)
حضرت یوسف کے ذریعے مصر میں جو مثال قائم ہوئی، وہ دراصل اُس عمومی اور عالمی حالت کا ایک ابتدائی نمونہ تھا جو حضرت ابراہیم کے جاری کردہ تاریخی عمل کے نتیجے میں بعد کو زیادہ بڑے پیمانے پر قائم ہونے والا تھا- حضرت یوسف کے ذریعے قدیم مصر میں یہ مثال قائم ہوئی کہ اگر حاکم کے محدود سیاسی اقتدارکو تسلیم کرلیاجائے اور اُس سے کوئی تعرض نہ کیا جائے تو کس طرح ایک انسان کے لیے ہر قسم کے مذہبی دروازے کھل جاتے ہیں- یہ گویا سیاسی ادارہ (political institution) اور غیر سیاسی اداروں (non-political institutions) کے درمیان علاحدگی کا معاملہ تھا- یہ علاحدگی اللہ کے منصوبے کےعین مطابق تھی- یہی وجہ ہے کہ اِس معاملے کو قرآن میں احسن القصص (12:3) کہاگیا ہے، یعنی بہترین قصہ (best story) -
قرآن کی اِس آیت میں ’’بہترین قصہ‘‘ سےمراد دراصل بہترین ماڈل (best model) ہے- اللہ تعالی کے نزدیک انسان کی اجتماعی زندگی کا بہترین ماڈل وہی ہے جس کا ایک ابتدائی نمونہ حضرت یوسف کے ذریعے ساڑھے تین ہزار سال پہلے قدیم مصر میں قائم کیاگیا- اِس معاملے کو دوسرے الفاظ میں، اِس طرح کہا جاسکتا ہے کہ قدیم مستبدانہ ماڈل (despotic model) کی جگہ جمہوری ماڈل (democratic model)کو دنیا میں رائج کرنا- کچھ لوگ جمہوری نظام کو لادینی نظام کہتے ہیں، مگر یہ درست نہیں- جدید جمہوری نظام دراصل سیکولرزم کے اصول پر قائم ہے- اس کے مطابق، جمہوریت عدم مداخلت کی پالیسی (policy of non-interference)کا دوسرا نام ہے، یعنی سیاسی اقتدار کے ادارے کا اِس پر راضی ہوجانا کہ وہ اپنے حدود کو انتظامیہ (administration) تک محدود رکھے گا- انتظامِ ملکی سے باہر جو ادارے ہیں، وہ اپنے دائرے میں مکمل طورپر آزاد ہوں گے- مثلاً تعلیم، صحافت، اشاعتی ادارے، اقتصادی سرگرمیاں، مذہب، دعوت وتبلیغ، وغیرہ- اِس میں وہ تمام پُرامن سرگرمیاں شامل ہیں جن کو موجودہ زمانے میں غیر سیاسی سرگرمیاں (non-political activities)یا این جی اوز (NGOs) کی سرگرمیاں کہاجاتاہے-
نئی نسل کی تیاری
اِس سلسلے میں دوسری زیادہ بڑی منصوبہ بندی جو حضرت ابراہیم کے ذریعے چار ہزار سال پہلے شروع کی گئی، اس کا مرکز قدیم مکہ تھا- حضرت ابراہیم نے اپنی ایک دعا میں یہ الفاظ کہے تھے: رب إنہنّ أضللن کثیراً (14:35)- اِن الفاظ میں دراصل اُس دور کا ذکر تھا جس کو ماقبل ابراہیم دور (pre-Abraham age)کہا جاسکتا ہے- اِس قدیم دور میں شرک تمام انسانی آبادیوں میں ایک عمومی کلچرکی حیثیت اختیار کرچکا تھا، حتی کہ تاریخ میں اس کا تسلسل قائم ہوگیا- مزید یہ کہ مشرکانہ کلچر کو قدیم زمانے کی حکومتوں کی مکمل حمایت حاصل تھی-
اِس حکومتی حمایت کی بناپر ایک شدید تر صورتِ حال پیدا ہوگئی- وہ تھا — اعتقادی شرک کے ساتھ اس میں حکومتی تشدد کا شامل ہوجانا- اعتقادی شرک اور سیاسی اقتدار کے اِس اتحاد کی بنا پر وہ صورتِ حال پیدا ہوئی جس کو مذہبی جبر (religious persecution) کہاجاتا ہے-
اِس نظامِ جبر کو ختم کرکے نظامِ آزادی کو دنیا میں لانا ایک لمبا تاریخی منصوبہ تھا- اِس کے لیے صرف آئڈیالوجی کافی نہیں تھی، اِس کے لیے ضرورت تھی کہ ایک مطلوب ٹیم وجود میں آئے- یہ ٹیم ایک آئیڈیالوجی کے تحت متحد ہو، تمام ضروری شرطوں کو اختیار کرتے ہوئے یہ ٹیم ایک ہمہ گیر جدوجہد کرے، وہ انسانی تاریخ میں ایک نئے انقلابی عمل (revolutionary process) کا آغاز کرے، انسان کی آزادی کو برقرار رکھتے ہوئے وہ اپنا سفر شروع کرے اور پھر اللہ کی خصوصی تدبیر (management) کے ذریعے وہ اپنے منتہا (culmination) تک پہنچ جائے- اٹھارھویں صدی میں جو سیاسی انقلاب آگیا اور جس کے نتیجے میں جمہوری ماڈل دنیا میں رائج ہوا، وہ حضرت ابراہیم کے ذریعے جاری کردہ اِسی عمل کی تکمیل کی حیثیت رکھتا تھا-
رسول اور اصحابِ رسول کی مثال
پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات 632 عیسوی میں ہوئی - اُس وقت سارا عرب اسلام کے ماتحت آچکا تھا- پیغمبر اسلام اِس عرب ریاست کے سربراہ تھے- آپ نے ایک با اختیار صدر مملکت کی حیثیت سے یہ اعلان کیا کہ:لا فضل لعربی على عجمی ، ولا لعجمی على عربی ، ولا لأحمر على أسود ، ولا لأسود على أحمر ، إلا بالتقوى (مسند أحمد، رقم الحدیث: 24204) یعنی کسی عربی کو کسی عجمی پر کوئی فضیلت نہیں اور نہ کسی عجمی کو کسی عربی پر کوئی فضیلت ہے- کسی سفید فام کو کسی سیاہ فام پر کوئی فضیلت نہیں، اور نہ کسی سیاہ فام کو کسی سفید فام پر کوئی فضیلت ہے، سوا تقوی کے-یہ تاریخ میں حصولِ جمہوریت کا پہلا باضابطہ اعلان تھا- اِس ریاستی اعلان کا مطلب یہ تھا کہ نظریاتی اعتبار سے، اب غیر جمہوری دور کا خاتمہ ہوگیا اور جمہوری دور کا اصولی طورپر آغاز ہوگیا- اِس طرح تاریخ میں ایک نیا عمل شروع ہوا جو انسانی آزادی کو برقرار رکھتے ہوئے بتدریج بعد کی تاریخ میں جاری رہا-
اِسی اعلانِ جمہوریت کاایک عملی مظاہرہ وہ تھا جو اِس اعلان کے تقریباً 10 سال بعد حضرت عمر فاروق کی خلافت کے زمانے میں پیش آیا-اُس وقت حضرت عمر کی خلافت کے زمانے میں مصر کا ملک مدینہ کی ریاست میں شامل ہوچکا تھا-اُس وقت مصر میں ایک واقعہ ہوا، وہ یہ کہ ایک عرب مسلمان اور ایک مصری مسیحی کے درمیان ایک مسئلے پر نزاع ہوئی- عرب مسلمان جو گورنر کا بیٹا تھا، اس نے مسیحی کو کوڑا مار دیا- یہ مسیحی مصر سے چل کر مدینہ آیا- اُس نے خلیفہ عمر فاروق سے شکایت کی- خلیفہ نے گورنر اور اس کے بیٹے دونوں کو مدینہ بلوایا- جب وہ لوگ آگئے تو خلیفہ نے مصر کے مسیحی کو ایک کوڑا دیا اور کہا کہ گورنر کے بیٹے کو مارو- مسیحی نے کوڑا اپنے ہاتھ میں لیا اور گورنر کے بیٹے کو مارنا شروع کیا- جب وہ اچھی طرح مار چکا تو اس کے بعد خلیفہ نے مذکورہ عرب مسلمان کے باپ عمروبن العاص کو مخاطب کرتے ہوئے کہا: متى استعبدتم الناس وقد ولدتہم أمہاتہم أحرارا (سیرة عمر بن الخطاب، علی محمد الصلاّبی،1/306) یعنی اے عمرو، تم نے کب سے لوگوں کو غلام بنالیا، جب کہ ان کی ماؤں نے اُن کو آزاد پیداکیا تھا-
جس وقت یہ واقعہ ہوا، اُس وقت خلافت ایک ایمپائر بن چکی تھی جس کے حدودِ مملکت ایشیا سے افریقہ تک پھیلے ہوئے تھے- ایسی حالت میں خلیفہ کے الفاظ محض ایک شخص کے الفاظ نہ تھے، بلکہ وہ وقت کی سب سے بڑی سلطنت کی طرف سے گویا بین اقوامی پالیسی کا اعلان تھا- یہ پالیسی تاریخ میں سفر کرتی رہی- انسانی آزادی کو برقرار رکھتےہوئے وہ تاریخ کو ایک نیا شیپ (shape) دیتی رہی، یہاں تک کہ یہ عمل یورپ تک پہنچ گیا- فرانس کے مشہور جمہوری مفکر روسو (J. J. Rousseau) کی کتاب سوشل کنٹریکٹ (Social Contract) 1762 میں شائع ہوئی- اِس کتاب میں جمہوریت (democracy) کی آئڈیالوجی کو پیش کیاگیا تھا- روسو نے اپنی کتاب کا آغاز جس جملے سے کیا، وہ گویا خلیفہ عمر فاروق کے مذکورہ قول کا اعادہ تھا- روسو کی کتاب کا ابتدائی جملہ یہ تھا— انسان آزاد پیدا ہوا تھا، مگر میں اس کو زنجیروں میں جکڑا ہوا دیکھتا ہوں:
Man was born free, but I see him in chains.
جمہوریت کی یہ تحریک 1789 میں ایک باقاعدہ سیاسی واقعہ بن گئی، جب کہ یورپ میں وہ واقعہ پیش آیا جس کو انقلاب فرانس (French Revolution)کہاجاتا ہے- انقلاب فرانس نے اصولی طور پر بادشاہت (kingship) کے نظام کا خاتمہ کردیا اور جمہوریت کو ایک سیاسی نظام کی حیثیت سے بالفعل قائم کردیا- یہ تاریخی عمل 1948میں آخری طورپر مکمل ہوگیا، جب کہ اقوامِ متحدہ (UNO) کا باضابطہ قیام عمل میں آیا اور دنیا کی تمام قومیں باضابطہ طورپر اقوامِ متحدہ کی ممبر بن گئیں- اِس ادارے کے تحت دنیا کی تمام قوموں نے اِس عہد نامے پر دستخط کردئے- اِس کا مطلب یہ تھا کہ استبدادی ماڈل اب آخری طورپر غیر مطلوب ماڈل قرار پاگیا اور جمہوری ماڈل کو عملاً مسلمہ ماڈل کی حیثیت دے دی گئی-
جمہوری ماڈل
جمہوریت کی تعریف (definition) عام طور پر اِس طرح کی جاتی ہے — عوام کی حکومت، عوام کے ذریعے، عوام کے لیے:
Government of the people, by the people, for the people
یہ تعریف جمہوریت کے صرف ظاہری ڈھانچے کو بتاتی ہے- اِس سے یہ معلوم نہیں ہوتا کہ جمہوریت کے حقیقی فوائد کیا ہیں اور انسانی زندگی کے حق میں اس کے دور رس نتائج کیا پیدا ہوئے- جمہوریت اپنی اصل حقیقت کے اعتبار سے، اُس سے بہت زیادہ ہے جیسا کہ وہ مذکورہ تعریف کے مطابق، نظر آتی ہے-
جمہوریت کا اصل فائدہ یہ ہے کہ اس نے اُن تمام رکاوٹوں کو ختم کردیا جو قدیم غیر جمہوری نظام کے تحت انسان پرعائد تھیں- جمہوریت نے کامل معنوں میں، انسان کو فکر وخیال کی آزادی دے دی- انسان اپنے فطری وجود کے اعتبار سے، امکانات کی ایک کائنات اپنے اندر رکھتا ہے- اِن انسانی امکانیات (potentials) کو انفولڈ (unfold) کرنے کے لیے صرف ایک چیز کی ضرورت ہے اور وہ ہے کامل آزادی- قدیم زمانے میں اِس انسانی آزادی پر پابندی لگی ہوئی تھی، اِس کا یہ نتیجہ تھا کہ قدیم زمانے میں انسان کوئی بڑی ترقی نہ کرسکا، نہ مذہبی اعتبار سے اور نہ سیکولر اعتبار سے-
موجودہ زمانے میں جمہوریت کا دور آیا تو اسی کے ساتھ کامل آزادی کا دور آگیا- اِس آزادی کا نتیجہ یہ ہوا کہ انسان کی تمام فطری صلاحیتیں انفولڈ ہونے لگیں- وہ تمام ترقیاں جن کے مجموعے کو تہذیب (civilization) کہاجاتا ہے، وہ دراصل اِسی انفولڈنگ (unfolding) کا نتیجہ ہیں- اِسی کے نتیجے میں یہ ہوا کہ دنیامیں مذہبی آزادی کا دور آیا- فطرت کے اندر چھپی ہوئی سائنسی حقیقتوں کی دریافت ہوئی- انسان کو پرنٹ میڈیا اور الیکٹرانک میڈیا کی دولت ملی - تاریخ میں پہلی بار وہ انقلاب آیا جس کو عالمی کمیونکیشن (global communication) کہاجاتا ہے، وغیرہ-
جدید تہذیب کی یہ تمام ترقیاں اسلام کے عین موافق تھیں- انھوں نے دین ِ خداوندی کی اشاعت کے ایسے دروازے کھول دئے جو اِس سے پہلے کبھی نہیں کھلے تھے- جدیدتہذیب نے اِس کو ممکن بنایا کہ اسلام کی حقیقتوں کو علمِ انسان کی اعلی سطح پر ثابت شدہ بنایا جاسکے- اِن نئی دریافتوں کی بناپر یہ ممکن ہوا کہ انسان اعلی سطح کی معرفت کا تجربہ کرسکے- اِسی کے ذریعے یہ ممکن ہوا کہ اللہ کے پیغام کی اشاعت کا کام کسی رکاوٹ کے بغیر عالمی سطح پر انجام دیا جاسکے- اِسی جدید تہذیب کی بنا پر تاریخ میں پہلی بار یہ ممکن ہوا کہ عالمی سطح پر ایک دعوہ ایمپائر (Dawah empire) قائم کیا جاسکے، وغیرہ-
یہ سب کچھ جو دورِ جدید میں ہوا، وہ اللہ کے تخلیقی منصوبہ (creation plan) کے مطابق ہوا- وہ منصوبہ یہ ہے کہ انسان کی آزادی کو ہر حال میں باقی رکھا جائے- جو کام بھی کیا جائے، وہ انسان کی آزادی کو برقرار رکھتے ہوئے کیاجائے- خدا کے اِسی تخلیقی منصوبے کی بنا پر ایسا ہوا کہ تہذیبی ترقیوں کے ساتھ انسان کے لیے یہ موقع باقی رہا کہ وہ اپنی آزادی کا غلط استعمال کرے، خواہ اس کے نتیجے میں فساد کی صورتیں پیدا ہوجائیں- یہ دوطرفہ صورتِ حال موجودہ زمانے کے مسلمانوں کی بصیرت کا امتحان تھی- یہاں ضرورت تھی کہ مسلمانوں کے رہنما اُس صلاحیت کا ثبوت دیں جس کو خدا کی کتاب میںفرقان (9:29) کہاگیا ہے، یعنی ایک چیز کو دوسری چیز سے الگ کرکے دیکھنا-
اِس موقع پر مسلم رہنماؤںکو یہ کرنا تھا کہ وہ مغربی تہذیب اور اہلِ مغرب کی قومی سیاست دونوں کو ایک دوسرے سے الگ کرکے دیکھیں- مغربی تہذیب، اپنی حقیقت کے اعتبار سے، مغربی تہذیب نہیں ہے، بلکہ وہ خدائی تہذیب (divine civilization) ہے- وہ فطرت میں چھپے ہوئے خدائی قوانین کی دریافت کے ذریعے وجود میں آئی ہے- وہ قوانین ِ فطرت کا انسانی سطح پر ظہور ہے- فطرت کے قوانین جب انسانی ٹکنالوجی میں ڈھل جائیں تو اسی کا نام تہذیب ہوتاہے- جدید تہذیب کو سمجھنے کے لیے اُسی طرح اس کو مغرب کے قومی پہلو سے الگ کرکے دیکھنا چاہئے، جس طرح اسلام کومسلمانوں کے قومی پہلو سے الگ کرکے دیکھا جاتاہے-
دورِ جدید کے مسلم رہنما اگر اِس بصیرت کے حامل ہوتے کہ وہ جدید تہذیب اور مغربی قوم، دونوں کو ایک دوسرے سے الگ کرکے دیکھتے تو یقیناً وہ پالیتے کہ جدید تہذیب اُن کے لیے ایک خدائی نعمت ہے، وہ حضرت یوسف کے ’احسن القصص‘ کا عالمی اظہار ہے، وہ حضرت ابراہیم کے جاری کردہ عمل (process) کا بر اہِ راست حصہ ہے، وہ پیغمبر اور اصحابِ پیغمبر کے ذریعے لائے جانے والے انقلاب کا تکمیلی مرحلہ ہے- جدید تہذیب کے ذریعے اللہ تعالی نے مسلمانوں کے لیے وہ عالمی مواقع آخری حد تک کھول دئے ہیں، جب کہ پیغمبر اسلام کی ایک پیشین گوئی کو واقعہ بنایا جاسکے- آپ کی اِس پیشین گوئی کو مختصر طورپر اِس طرح بیان کیا جاسکتا ہے— ادخال الکلمة فی کل البیوت-
اوپر کے صفحات میں تاریخ کا جو جائزہ پیش کیا گیاہے، اس سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ وہ خدائی منصوبہ کیا تھا جس کو قرآن میں امامتِ ابراہیم کہاگیاتھا اور جس کے بارے میں بائبل میں یہ الفاظ آئے تھے کہ — زمین کی سب قومیں اس کے وسیلے سے برکت پائیں گی-
اِس خدائی اعلان کا مطلب یہ تھاکہ انسانی آزادی کو برقرار رکھتے ہوئے اللہ تاریخ میں ایک ایسا عمل (process) جاری کرے گا جو آخر کار اِس انجام تک پہنچے گا کہ انسانی زندگی میں سیاسی جبر کا فتنہ کامل طورپر ختم ہو جائے اور جمہوریت کے تحت ایک ایسا سیاسی نظام بنے گا جس میں دوبارہ زیادہ بڑے پیمانے پر اور عالمی سطح پر وہ حالت قائم ہوجائے گی جو حضرت یوسف کے زمانے میں قدیم مصر میں وقتی طورپر اور محدود طورپر قائم ہوئی تھی، یعنی سیاسی حکمراں کا اقتدار ’’تخت‘‘ تک محدود رہے گا- ’’تخت‘‘ کے سوا تمام غیر سیاسی شعبے مکمل طورپر آزاد ہوجائیں گے- ہر انسان کو یہ موقع ہوگا کہ وہ کامل معنوں میں مذہبی آزادی کی فضا میں جیے- وہ اپنے چوائس (choice)کے مطابق، جس مذہبی عقیدے کو چاہے، اختیار کرے، وہ عبادت کے جس طریقے کو چاہے،اس کے مطابق، عبادت کرے- مذہب کی تبلیغ واشاعت پر کسی بھی قسم کی کوئی رکاوٹ باقی نہ رہے، انسان کو مکمل معنوں میں مذہبی آزادی حاصل ہو، اِس واحد شرط کے سوا کوئی اور شرط اس کے لیے موجود نہ ہو کہ وہ دوسرے انسانوں کو کسی بھی قسم کی عملی جراحت (physical injury) نہیں پہنچائے گا- انسان کی آزادی کو برقرار رکھتے ہوئے یہی واحد ممکن ماڈل تھا جس کو اللہ کے منصوبے کے تحت بروئے کار لایا گیا-
اِس مذہبی آزادی میں یہ بات بھی اپنے آپ شامل ہے کہ تمام مواقعِ کار جوسیکولر لوگوں کو حاصل ہوں گے، وہ سب کے سب مکمل طورپر اہلِ مذہب کو بھی حاصل ہوں گے- مواقع کے استعمال میں مذہبی انسان اورغیر مذہبی انسان کے درمیان کوئی فرق نہیں کیا جائے گا-
ایک مسئلے کی وضاحت
انسانی زندگی کی تشکیل کا جو نقشہ اوپر بیان کیا گیا ہے، بظاہر اس میں حکومت یا سیاسی اقتدار کا معاملہ شامل نہیں ہے، لیکن بالواسطہ طورپر وہ یقیناً اس میں شامل ہے- اِس فرق کا سبب یہ ہے کہ اگر حکومت کے معاملے کو مذکورہ نقشہ میں شامل کیا جائے تو پورا خدائی منصوبہ تخلیق عملاً معطّل ہو کر رہ جائے گا- اِس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ دونوں شعبوں میں کوئی مثبت کام نہ ہوسکے گا، نہ عبادت اور دعوت کے شعبے میں اور نہ سیاست اور حکومت کے شعبے میں-
اِس کا سبب یہ ہے کہ مذکورہ دونوں شعبوں کی حیثیت ایک دوسرے سے بالکل مختلف ہے- عقیدہ اور عبادت اور دعوت کا معاملہ اُس میدان سے تعلق رکھتا ہے جہاں آدمی کے لیے یہ ممکن ہے کہ وہ پُرامن طورپر اپنی تمام سرگرمیوں کو کسی رکاوٹ کے بغیر جاری رکھ سکے- اِس کے برعکس، سیاست کا دائرہ ایک ایسا دائرہ ہے جہاں داخل ہوتے ہی فوراً دوسرے فریق سے نزاع پیدا ہوجاتی ہے- سیاست کے دائرے میں ہمیشہ کوئی فرد یا گروہ اتھارٹی کی پوزیشن میں ہوتا ہے، اِس لیے سیاست کے دائرے میں داخل ہونا عملاً پولٹکل اتھارٹی سے ٹکراؤ کے ہم معنی بن جاتا ہے- یہ ٹکراؤ اِس ماحول کو ختم کردیتاہے جب کہ ایک شخص عقیدہ اور عبادت اور دعوت کے میدان میں موجود مواقع کو استعمال (avail)کرسکے-
خدا کے منصوبہ تخلیق میں اِس مسئلے کا حل یہ مقرر کیا گیا کہ سیاسی اقتدارکے شعبے کو عقیدہ سے وابستہ کرنے کے بجائے اس کو سماجی حالات (social conditions) سے وابستہ کردیا جائے، یعنی کسی وقت سماج کے جو حالات ہوں اور انسانوں کے درمیان جس سیاسی ڈھانچے پر اتفاق ہوسکتا ہے، اس کو اختیار کرلیا جائے- یہ صورتِ حال جاری رہے گی، یہاں تک کہ سماج کے حالات بدل جائیں اور سیاسی ڈھانچے کے بارے میں کوئی دوسرا نقشہ لوگوں کے لیے قابل قبول بن جائے-
اِس حکمت کو قرآن میں اِن الفاظ میں بیان کیاگیا ہے: وَأمْرُہُمْ شُوْرَی بَیْنَہُمْ (42:38) یعنی ان کا معاملہ اُن کے آپس کے مشورے کے تابع ہے- اِس آیت میں ’امر‘ سے مراد اقتدار کا معاملہ ہے- اِس آیت سے یہ اصول اخذ ہوتاہے کہ سیاسی اقتدار کا معاملہ کسی مخصوص عقیدے کے تابع نہ ہو، بلکہ وہ لوگوں کی آزاد رائے کے تابع ہو- آج کل کی زبان میں یہ کہا جاسکتاہے کہ سیاسی ادارے کا معاملہ عوامی الیکشن کے تابع ہے- فری اینڈ فیر الیکشن (free and fair election) کے ذریعے جو لوگ منتخب ہوں گے، اُن کو حق ہوگا کہ وہ اُس وقت تک حکومت کا نظام چلائیں جب تک لوگوں کی رائے بدل نہ جائے اور سماجی حالات کا یہ تقاضا ہو کہ اقتدار کی زمام کچھ دوسرے لوگوں کے حوالے کی جائے-یہی وہ حقیقت ہے جو ایک حدیثِ رسول میں اِن الفاظ میں بیان کی گئی ہے: کما تکونون ؛ کذلک یؤمر علیکم( البیہقی ، رقم الحدیث : 7391) یعنی جیسے تم ہوگے، ویسے تمھارے حکمراں ہوں گے- دوسرے الفاظ میں یہ کہ حکمراں کا تعین کسی مخصوص عقیدے کی بنیاد پر نہیں ہوگا، بلکہ اس کا تعین لوگوں کی رائے (vote)کے ذریعے کیا جائے گا-
یہ ایک قسم کے سماجی بندو بست (social settlement)کا معاملہ ہے- اِس کا فائدہ یہ ہے کہ زندگی کے دونوں شعبوں (سیاسی اور غیر سیاسی) میں امن کا قیام ممکن ہوجاتاہے- عقیدہ اور عبادت اور دعوت کے میدان میں لوگوں کو موقع مل جاتاہے کہ وہ پُر امن طورپر اپنی تمام سرگرمیوں کو جاری رکھیں، وہ اپنے حق میں مواقع کا بھر پور استعمال کریں- دوسری طرف، سماج کے ہر گروہ کو یہ موقع حاصل ہوجاتا ہے کہ وہ سماج کے اندر اپنے افکار کی پر امن اشاعت کرسکے اور پھر اگلے الیکشن کے موقع پر، حسبِ حالات، وہ اپنی پرامن کوششوں کا فائدہ اٹھائے — انسانی آزادی کو برقرار رکھتے ہوئے سماجی بندوبست کا اِس سے بہتر کوئی نظام ممکن نہیں-
خاتمہ کلام
جیسا کہ عرض کیا گیا، اللہ تعالی کا یہ منصوبہ تھاکہ انسانی آزادی کو برقرار رکھتے ہوئے تاریخ میں ایک ایسا عمل (process) جاری کیا جائے جس کے نتیجے میں سیاست کے جبری ماڈل (despotic model)کا خاتمہ ہوجائے اور اس کے بجائے سیاست کا جمہوری ماڈل (democratic model) عمومی طورپر رائج ہوجائے- اِس مطلوب ماڈل کا ایک ابتدائی نمونہ (prototype) حضرت یوسف کے ذریعہ قدیم مصر میں محدود طورپر قائم کیاگیا تھا- اِسی کے ساتھ حضرت ابراہیم کے ذریعے ایک وسیع تر عمل جاری کیا گیا جو مختلف مراحل سے گزرتے ہوئے اپنے منتہا تک پہنچا- انیسویں صدی اور بیسویں صدی مذکورہ ابراہیمی عمل کی تکمیل کی صدی ہے- اب ہم اکیسویں صدی میں ہیں اور یہ عمل اب اِس حد تک مکمل ہوچکا ہے کہ آج تمام مواقع دعوت الی اللہ کے حق میں پوری طرح کھل چکے ہیں- اب ہر اعتبار سے، وہ وسائل اور مواقع حاصل ہوچکے ہیں، جب کہ کسی رکاوٹ کے بغیر فکری سطح پر اللہ کے دین کا عالمی اظہار اپنی مطلوب صورت میں کیا جاسکے-
مگر اسلام کی تاریخ کا شاید یہ سب سے بڑا المیہ ہےکہ اِس دور میں جو بڑے بڑے مسلم ذہن پیدا ہوئے، وہ اِس واقعے سے بالکل بے خبر رہے- نتیجہ یہ ہوا کہ وہ اِس دور میں پیدا شدہ عظیم مواقع کو استعمال بھی نہ کرسکے- اِس المیہ کا سبب بنیادی طورپر صرف ایک تھا، اور وہ ایک اتفاقی مطابقت (coincidence) ہے- اِس اتفاقی مطابقت کا یہ نتیجہ تھا کہ تاریخ کا عظیم ترین امکان غیراستعمال شدہ امکان (unavailed opportunity) بن کر رہ گیا-
اِس کی تفصیل یہ ہے کہ جب مذکورہ ابراہیمی عمل کی تکمیل ہوئی تو یہ اٹھا رھویں صدی کے آخر اور انیسویں صدی کے آغاز کا زمانہ تھا- عین اُس زمانے میں ایک حادثہ پیش آگیا- وہ حادثہ یہ تھا کہ اِسی زمانے میں مغربی قوموں نے بڑی بڑی مسلم سلطنتوں کو توڑ دیا اور پوری مسلم دنیا میں اپنا سیاسی اور تہذیبی دبدبہ قائم کرلیا- یہ حادثہ مسلمانوں کی قومی نفسیات کے لیے ایک ایٹمی دھماکے سے بھی زیادہ بڑے دھماکے کی حیثیت رکھتا تھا- چناں چہ اِس دور کے تمام مسلمان، غالباً کسی استثنا کے بغیر، شدید طورپر منفی رد عمل کاشکار ہوگئے- وہ مغربی قوموں سے نفرت کرنے لگے- انھوںنے مغربی قوموں کے خلاف فکری یا عملی جنگ چھیڑ دی- یہ رد عمل اتنا شدید تھا کہ مغربی قوموں کو نقصان پہنچانے کے لیے وہ خود کش بم باری (suicide bombing) کو بھی اپنے لیے جائز سمجھنے لگے-
انیسویں صدی اور بیسویں صدی میں پیدا ہونے والا مسلم لٹریچر،تقریباً سب کا سب، اِسی نفرت کی نفسیات سے بھرا ہوا ہے- اِس لٹریچر کے مطابق، موجود ہ زمانے کے مسلمانوں کا جو ذہن بنا، وہ یہ تھا گویا کہ ساری مغربی دنیا صرف ایک کام میں مشغول ہے— مسلمانوں کے خلاف سازش اور دشمنی- اِس معاملے کی ایک علامتی مثال ایک عرب عالم کی کتاب ہے، جس کا ٹائٹل یہ ہے:
أجنحـة المکـر الثـلاثـة وخوافیہا: التبشیر، الإستشراق، الإستعمار)صفحات: (776
عبد الرحمن حسن حبنکة المیدانی(دارالقلم، دمشق:2000)
اجتماعی توبہ کی ضرورت
یہ صورتِ حال بلاشبہہ توبہ کی متقاضی ہے، یعنی منفی سوچ کو ترک کرکے مثبت سوچ کی طرف واپس جانا- اب تمام مسلمانوں کے لیے اُس عمل کا وقت آگیا ہے جس کا حکم قرآن میں اِن الفاظ میں دیاگیا تھا: وَتُوْبُوْٓا اِلَى اللّٰہِ جَمِیْعًا اَیُّہَا الْمُؤْمِنُوْنَ لَعَلَّکُمْ تُفْلِحُوْنَ (24:31) یعنی اے ایمان والو، تم سب مل کر اللہ سے توبہ کرو، تاکہ تم فلاح پاؤ-
قرآن کی اِس آیت میں جس چیز کا حکم دیاگیا ہے، اس سے مراد اجتماعی توبہ (collective repentance) ہے- موجودہ صورتِ حال یہ ہے کہ مذکورہ قسم کا منفی ذہن تمام مسلمانوں کا قومی ذہن بن گیا ہے- مسلمانوں کی تمام قومی پالیسیاں اِسی منفی ذہن کے مطابق بنتی ہیں- اِس معاملے میں مسلمان اتنازیادہ متحد الخیال ہیں جیسے کہ اِس معاملے میں تمام مسلمانوں کا اجماع (consensus) ہوگیا ہو- اِس وقت سب سے پہلا کام یہ ہے کہ مسلمانوں کے اِس عمومی قومی ذہن کو بدلا جائے- یہی موجودہ مسلمانوں کی اصلاح کا نقطہ آغاز ہے- اِس ذہن کے باقی رہتے ہوئے مسلمانوں کے درمیان کوئی بھی نتیجہ خیز اصلاحی کام نہیں کیا جاسکتا-
واپس اوپر جائیں

مکمل نظام، مکمل آئڈیالوجی

کہا جاتاہے کہ اسلام ایک مکمل نظام (complete system) ہے، مگر یہ اصل واقعے کی صحیح تعبیر نہیں- صحیح بات یہ ہے کہ اسلام ایک مکمل نظریہ(complete ideology) ہے- قرآن اور حدیث میں اسلام کی جو تبیین ملتی ہے، اُس سے یہی ثابت ہوتاہے کہ اسلام ایک مکمل آئڈیالوجی ہے- مکمل نظام کا تصور قرآن اور حدیث میں سرے سے اجنبی ہے-
دنیا میں ہم جن چیزوں سے واقف ہیں، وہ دو قسم کی ہوتی ہیں— ایک، وہ چیزیں جو مکان کی مانند ہیں- دوسری، وہ جو درخت کی مانند ہیں- مکمل کا لفظ مکان کے لیے بولنا درست ہے- جب کسی تعمیر کو مکمل مکان کہاجائے تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ اس کے اندر مکان کے تمام اجزا پائے جاتے ہیں، اس کے اندر انسان کی تمام ضرورتوں کا انتظام موجود ہے- درخت کا معاملہ اِس کے بالکل برعکس ہے- بظاہر درخت میں مختلف اور متنوع اجزا ہوتے ہیں- مثلاً تنا اور شاخ اور پتے، وغیرہ- درخت کے ظاہرہ کی صحیح تعبیر یہ ہے کہ درخت کی ایک اصل ہے اور بقیہ اس کی تفصیل- درخت کی اصل اس کا بیج ہے- جہاں بیج ہوگا، وہاں درخت ہوگا- اگر بیج نہ ہو اور تنا اور شاخ اور پتے کو جمع کردیا جائےگا تو اس سے کوئی درخت وجود میں آنے والا نہیں-قرآن ا ور حدیث کا مطالعہ بتاتاہے کہ دین کی اصل تقوی ہے، یعنی اللہ کو اپنے واحد کنسرن (sole-concern) کے طورپر دریافت کرنا، اللہ کو اِس طرح دریافت کرنا کہ وہی آدمی کے لیے اس کے خوف اور محبت کا مرکز بن جائے- تقوی ہوگا تواسلام ہوگا اور اگر تقوی نہ ہو تو اسلام بھی نہ ہوگا، نہ ناقص اور نہ مکمل- اِس لیے قرآن میں کلمہ ایمان کی مثال شجرہ (tree) سے دی گئی ہے (14:24)- درخت کی مانند دین میں بھی بظاہر مختلف اجزا ہوتے ہیں، لیکن درخت کی طرح دین کی بھی ایک اصل ہے اور بقیہ اس کی تفصیل- جہاں اصل کا وجود ہوگا، وہاں حسب حالات تفصیل کا بھی یقینی وجود ہوگا- ایسی حالت میں افراد کے اندر دینی زندگی پیدا کرنے کا صحیح طریقہ یہ ہے کہ داعی کا سارا فوکس اصل پر ہو،نہ کہ تفصیلات پر-
واپس اوپر جائیں

خدا اور پیغمبر

پاکستان کے قدرت اللہ شہاب (وفات: 1986) نے اپنی ضخیم کتاب ’’شہاب نامہ‘‘ میں اپنے زمانہ طالب علمی کا ایک تجربہ بیان کیاہے- وہ لکھتےہیں کہ:
’’آبادی سے دور ایک مخبوط الحواس، مجنون صفت، مجذوب نما شخص ویرانے میں بیٹھا رہتا تھا- اور ہمہ وقت اِلاّ اللہ، اِلاّ اللہ کی ضربیں لگاتا رہتا تھا- میں اور میرا ایک ہم عمر ہندو دوست اکثر اس کے پاس جاکر اس کا منھ چِڑایا کرتے اور اس کے ذکر کی نقلیں اتارا کرتے تھے- میرا ہندو دوست اِلاّ اللہ کے وزن پر مہمل، مضحکہ خیز اور کبھی کبھی فحش قافیے جوڑ کر مذاق بھی اڑایا کرتا تھا- مجذوب نے ہمیں بار بار ڈانٹا کہ ہم اللہ کے نام کی بے حرمتی نہ کریں، لیکن ہم باز نہ آئے- ایک روز ہم دونوں اِسی مشغلے میں مصروف تھے کہ ایک شخص اُدھر سے چند نعتیہ اشعار الاپتاہوا گزرا، جس کا ایک مصرعہ یہ تھا:
محمدؐ نہ ہوتے، تو دنیا نہ ہوتی
یہ مصرع سن کر میرا ہندو دوست زور زور سے ہنسنے لگا- اور اس نے اسمِ محمدؐ کی شان میں کچھ گستاخیاں بھی کیں- میں نے آؤ دیکھا نہ تاؤ، لپک کر ایک پتھر اٹھایا، اور اسے گھما کر ہندو لڑکے کے منہ پر ایسے زور سے دے مارا کہ اس کا سامنے کا آدھا دانت ٹوٹ گیا-
لاشعور کی وہ کون سی لہر تھی جو اللہ کے ساتھ مذاق پر تو خاموش رہتی تھی، لیکن رسول اللہ کے ساتھ گستاخی پر آناً فاناً جوش میں آگئی تھی؟ کوئی شخص رسول خدا کے متعلق بدزبانی کرےتو اکثر لوگ آپے سے باہر ہوجاتے ہیں اور کچھ لوگ تو مرنے مارنے کی بازی تک لگا بیٹھتے ہیں- اس میں اچھے، نیم اچھے یا برے مسلمان کی بالکل کوئی تخصیص نہیں، بلکہ تجربہ تو یہی شاہد ہے کہ جن لوگوں نے ناموسِ رسول پر اپنی جانِ عزیز کو قربان کردیا، ظاہری طورپر نہ تو وہ علم وفضل میں نمایاں تھے اور نہ زہد وتقوی میں ممتاز تھے- ایک عامی مسلمان کا شعور اور لاشعور جس شدت اور دیوانگی کے ساتھ شانِ رسالت کے حق میں مضطرب ہوتاہے، اس کی بنیاد عقیدے سے زیادہ عقیدت پر مبنی ہے- خواص میں یہ عقیدت ایک جذبہ اور عوام میں ایک جنون کی صورت میں نمودار ہوتی ہے‘‘- (شہاب نامہ،لاہور، 1988، صفحہ 17-16)
قدرت اللہ شہاب نے جو بات کہی ہے، وہ بلاشبہہ ایک واقعہ ہے- یہ ایک حقیقت ہےکہ تمام مسلمان، غالباً کسی استثنا کے بغیر، اِسی نفسیات کا شکار ہیں- خدا کی بے حرمتی ہو تو مسلمانوں کے جذبات نہیں بھڑکـتے، لیکن رسول کی بے حرمتی ہو تو تمام مسلمان شدید طورپر بھڑک اٹھتے ہیں- فتوے اور بیانات سے لے کر عوامی مظاہرے تک وہ سب کچھ کرنے کے لیے تیار ہوجاتے ہیں- اِس معاملے میں ان کی جذباتیت کا یہ حال ہوتا ہے کہ وہ تشدد اور توڑ پھوڑ تک کو اپنے لیے جائز سمجھ لیتے ہیں- اِس معاملے کی مثالیں بار بار میڈیا میں آتی رہتی ہیں- اِس کی ایک مثال وہ ہے جو ماہ نامہ الرسالہ (دسمبر 2012، صفحہ 25) میں دیکھی جاسکتی ہے-
خدا اور رسول کے درمیان اِس فرق کا سبب کیا ہے- اِس کے سبب کی تحقیق کیجئے تو اِس کے پیچھے مسلمانوں کی ایک ایسی کمزوری کی دریافت ہوتی ہے جو صرف ایک کمزوری نہیں، بلکہ وہ یقینی طورپر ایک سنگین جرم کی حیثیت رکھتی ہے-
خدا کا عقیدہ
خدا کے خلاف لکھنے اور بولنے والے پہلے بھی دنیا میں پائے جاتے تھے، لیکن موجودہ زمانے میں ایسے لوگوں کی تعداد ہزاروں گنا زیادہ بڑھ گئی ہے- فریڈرک نٹشے (Friedrich Nietzsche) مشہور جرمن فلسفی ہے- 56 سال کی عمر میں 1900 میں اس کی وفات ہوئی- جدید فلسفے میں اس کا بہت بڑا درجہ مانا جاتاہے- نٹشے نے کھلے طورپر کہاتھا کہ — خدا مر چکا ہے:
God is dead. (EB. 13/79)
البرٹ آئن سٹائن (Albert Einstein) دورِ جدید کا مشہور ترین جرمن سائنس داں ہے- 76 سال کی عمر میں 1955 میں اس کی وفات ہوئی- خدا کے بارے میں آئن سٹائن کے خیالات کیا تھے، اس کا اظہار آئن سٹائن کے ایک مطبوعہ خط سے ہوتاہے- یہ خط اس نے 3 جنوری 1954 کو اپنی ہینڈ رائٹنگ میں جرمن زبان میں ایک یہودی فلاسفر ایرک بی گٹ کائنڈ (Eric B. Gutkind) کے نام لکھا تھا- اِس خط میں اس نے لکھا تھا کہ — خدا کا لفظ میرے نزدیک اِس سے زیادہ اور کچھ نہیں کہ وہ صرف انسانی کمزوریوں کا ایک اظہار ہے:
The word God is for me nothing more than the expression of human weaknesses.
موجودہ زمانے میں خدا کے عقیدے کے خلاف جو کتابیں لکھی گئی ہیں اور جو مقالات شائع ہوئے ہیں، ان کی تعداد ہزاروں سے بھی زیادہ ہے- اِس نوعیت کی چندکتابوں کے نام یہ ہیں:
God: The Failed Hypothesis, by Victor Stenger, 2007
Society without God, by Phil Zuckerman, 2008
God is not Great, by Christopher Hitchens, 2009
انٹرنیٹ پر اِس نوعیت کی کئی مستقل ویب سائٹس ہیں- مثلاً:
God is Imaginary, God Does not Exist
اِس سے بڑھ کر یہ کہ موجودہ زمانے کا سب سے بڑا علمی موضوع سائنس ہے-سائنس کو موجودہ زمانے کا سب سے زیادہ طاقت ور علمی موضوع سمجھا جاتا ہے- مگر حال یہ ہے کہ سائنس کے تمام شعبوں سے خدا کو مکمل طورپر خارج کردیاگیاہے- سائنس بظاہر تخلیق (creation) کےمطالعے کا نام ہے، مگر سائنس کی تمام شاخوں میں خالق (Creator) کو پوری طرح حذف کردیاگیا ہے- اِس کی آخری حد یہ ہے کہ خود سائنس کے مطالعے سے موجودہ زمانے میں یہ معلوم ہوا ہے کہ کائنات میں واضح طورپر ایک ذہین ڈیزائنر (intelligent designer) پایا جاتاہے- یہ دریافت اپنے آپ میں ثابت کرتی ہے کہ یقینی طورپر کائنات کے پیچھے ایک ذہین ڈیزائنر موجود ہے- اِس کے باوجود سائنٹفک کمیونٹی (scientific community) خدا کے وجود کو ماننے کے لیے تیار نہیں-
خدا اور مسلمان
یہ ایک حقیقت ہے کہ موجودہ زمانہ علم اور کلچر دونوں اعتبار سے، ایک خدا ناشناس زمانہ ہے- موجودہ زمانے کے تعلیم یافتہ طبقے کا کیس صرف یہ نہیں ہے کہ وہ خدا کے وجود پر یقین نہیں رکھتا، بلکہ وہ کھلے طورپر خدا کے عقیدے کا استہزا کرتاہے- وہ کھلے طور پر اُس مذموم روش میں مبتلا ہے جس کو بیان کرنے کے لیے ’’خداکی شان میں گستاخی‘‘ کا لفظ بھی ہلکا ہے- اس کو بیان کرنے کے لیے کوئی شدید تر لفظ وضع کرنا پڑے گا- یہ سب کچھ کسی ایک مقام پر نہیں، بلکہ ساری دنیا میں ہورہاہے- موجودہ زمانے کی لائبریریوں میں ایسی کتابیں کثرت سے موجود ہیں جو خدا کے بارے میں اُس سے بھی زیادہ قابلِ اعتراض ہیں جس کی مثال سلمان رشدی کی کتاب سیٹنک ورسیس (The Satanic Verses) میں پائی جاتی ہے-اِس کے باوجود کیوں ایسا ہے کہ اِس سے کم تر درجے کے کیس میں مسلمانوں کی حمیتِ رسول آخری حد تک بھڑک اٹھتی ہے، جب ;کہ خدا کے معاملے میں ان کی حمیت نہیں بھڑکتی-
مثال کے طور پر ستمبر -نومبر 2012 میں دنیا کے مختلف حصوں میں مسلمانوں نے بڑے پیمانے پر امریکی فلم (Innocence of Muslims) کے خلاف احتجاج (protest) کیا-یہ احتجاج مصر سے لے کر آسٹریلیا تک، بہت سے شہروں میں کیا گیا- اِس میں ہرجگہ مسلمانوں کی بڑی تعداد شریک ہوئی- کئی جگہ اِس احتجاج نے تشدد اور توڑ پھوڑ کی صورت اختیار کرلی- میڈیا کی رپورٹ کے مطابق، اِس احتجاج میں تقریباً 80 لوگ مارے گئے اور ایک سو سے زیادہ لوگ زخمی ہوئے- اِس درمیان پراپرٹی کا جو نقصان ہوا، وہ اس کے علاوہ ہے-
نفسیاتی تجزیہ
یہ کوئی سادہ معاملہ نہیں، حقیقت یہ ہے کہ اِس کے پیچھے مسلمانوں کی ایک مجرمانہ نفسیات پائی جاتی ہے- یہ وہی نفسیات ہے جو مشرکین کے بارے میں قرآن میں اِن الفاظ میں بیان کی گئی ہے: وَجَعَلُوْا لِلّٰہِ مِمَّا ذَرَاَ مِنَ الْحَرْثِ وَالْاَنْعَامِ نَصِیْبًا فَقَالُوْا ھٰذَا لِلّٰہِ بِزَعْمِہِمْ وَھٰذَا لِشُرَکَاۗىِٕنَا ۚ فَمَا کَانَ لِشُرَکَاۗىِٕہِمْ فَلَا یَصِلُ اِلَى اللّٰہِ ۚ وَمَا کَانَ لِلّٰہِ فَہُوَ یَصِلُ اِلٰی شُرَکَاۗىِٕہِمْ ۭسَاۗءَ مَا یَحْکُمُوْنَ (6:136) یعنی خدا نے جو کھیتی اور چوپائے پیداکیے ہیں، اُس میں سے اُنھوں نے خدا کا کچھ حصہ مقرر کیا ہے- پس، اپنے گمان کے مطابق، وہ کہتے ہیں کہ یہ حصہ اللہ کا ہے اور یہ حصہ ہمارے شریکوں کا- پھر جو حصہ اُن کے شریکوں کا ہوتا ہے، وہ تو اللہ کو نہیں پہنچتا اور جو حصہ اللہ کے لیے ہے، وہ اُن کے شریکوں کو پہنچ جاتا ہے- کیسا برا فیصلہ ہے جو یہ لوگ کرتے ہیں-
لوگ اللہ اور اپنے شرکا کے درمیان جو تفریق کرتے تھے، وہ کوئی سادہ بات نہ تھی- اِس کا سبب دراصل اُن کے غلط مفروضات تھے- انھوں نے بطور خود یہ عقیدہ بنا رکھا تھا کہ اُن کو دنیا میں جو کچھ ملتا ہے، وہ ان کے شرکا کی برکت سے ملتاہے- اِس خود ساختہ عقیدے کی بنا پر وہ سمجھتے تھے کہ اصل مسئلہ شرکا کو خوش رکھنے کا ہے- اگر شرکا خوش رہیں گے تو ان کے سارے معاملات درست رہیں گے- اِس عقیدے کی بنا پر وہ شرکا کے حصے کو تو پورا کردیتے تھے اور خدا کا حصہ کم کرنے میں کوئی حرج نہیں سمجھتے تھے-
ٹھیک یہی معاملہ مسلمانوں کا ایک اور اعتبار سے ہے- صحابہ اور تابعین کے بعد مسلمانوں میں جو ذہن بنا، اُس ذہن کے تحت مسلمانوں نے خود ساختہ طورپر یہ کیا کہ انھوں نے اپنے پیغمبر کو سب سے بڑا درجہ دے دیا- انھوں نے اپنے پیغمبر کا درجہ اتنا بڑھایا کہ خدا اُن کے لیے عملاً صرف ایک رسمی عقیدہ بن کررہ گیا- اِس کی ایک مثال یہ ہے کہ دورِ تصنیف میں مسلمانوں کے لکھنے والوں نے پیغمبر کی عظمت پر ہزاروں کتابیں لکھیں، لیکن وہ اللہ کی عظمت پر کوئی قابلِ ذکر کتاب نہ لکھ سکے-
بعد کے زمانے میں یہ ہواکہ مسلمانوں کے پاس جتنے بڑے بڑے القاب تھے، وہ سب انھوں نے اپنے پیغمبر کو دے دیے- مثلاً سرورِ عالم، شہنشاہِ کونین، تاج دارِ دو عالم، سید الکونین، وغیرہ- اِس قسم کے بڑے بڑے القاب جب پیغمبر کو دے دئے جائیں تو اس کے بعد انسانی الفاظ میں، اللہ کو دینے کے لیے کچھ باقی نہیں رہتا- اِس بنا پر ایساہوا کہ اللہ کا تصور ایک باعظمت تصور کی حیثیت سے شعوری طورپر مسلمانوں کے ذہن میں باقی نہیں رہا-یہی وہ ذہن ہے جس کی نمائندگی ایک مسلم شاعر نے اِن الفاظ میں کی ہے:
اللہ کے پلّے میں وحدت کے سوا کیا ہے جو کچھ ہمیں لینا ہے، لے لیں گے محمد سے
اسلام کی تاریخ
اپنے پیغمبر کے بارے میں بعد کے زمانے میں مسلمانوں کے اندر جو ذہن بنا، اس کا ایک سیاسی پس منظر تھا- اصل یہ ہے کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ استثنائی طورپر یہ واقعہ پیش آیا کہ ایک عظیم تاریخ آپ کے نام کے ساتھ وابستہ ہوگئی- آپ کے زمانے میں اور آپ کے اصحاب کے زمانے میں ایک بڑا سیاسی انقلاب پیش آیا- اِس سے پہلے کسی پیغمبر کے زمانے میں اِس قسم کا سیاسی انقلاب پیش نہیں آیا تھا-پیغمبر اسلام نے 610 عیسوی میں مکہ میں اپنا موحدانہ مشن شروع کیا، جب کہ اُس وقت آپ ایک فردِ واحدکی حیثیت رکھتے تھے، مگر 23 سال کے بعد جب 632 عیسوی میں آپ کی وفات ہوئی تو پورا عرب آپ کے دین کا پیرو بن چکا تھا- اُس کے بعد آپ کے اصحاب نے آپ کے مشن کو جاری رکھا، یہاں تک کہ اگلے 25 سال کے دوران عرب کے اطراف کے بیش تر ممالک میں آپ کے پیروؤں کا اقتدار قائم ہوگیا- ساسانی ایمپائر اور بازنتینی ایمپائر کا خاتمہ ہوگیا- آپ کی بعثت کے 100 سال کے اندر یہ ہوا کہ آپ کے ماننے والوں نے ایک عظیم مسلم ایمپائر قائم کرلیا، جس کا دبدبہ کم وبیش ہزار سال تک باقی رہا-
یہ سیاسی انقلاب اتنا زیادہ واضح تھا کہ سیکولر مورخین نے بھی کھلے طورپر اس کا اعتراف کیا ہے- مثال کے طورپر ایک امریکی مصنف جان ڈرنک واٹر (وفات: 1937) نے اپنی ایک کتاب میں پیغمبر اسلام کا تذکرہ کرتے ہوئے لکھا ہے کہ — وہ عالمی تاریخ میں ایک انتہائی ممتاز انسان کی حیثیت رکھتے ہیں:
One of the most remarkable men in history of the world. (The Outline of Literature by John Drinkwater, 1923)
انڈیا کے ایک مشہور اسکالر ایم این رائے (وفات: 1954) نے پیغمبر اسلام اور آپ کے بعد بننے والی تاریخ کا ذکر کرتے ہوئے لکھا ہے کہ — محمد کا اِس حیثیت سے اعتراف کرنا چاہیے کہ وہ تمام پیغمبروں میں سب سے بڑے پیغمبر تھے- اسلام کی توسیع تمام معجزات میں سب سے بڑا معجزہ ہے:
Muhammad must be recognised as by far the greatest of all prophets. The expansion of Islam is the most miraculous of all miracles. (The Historical Role of Islam, by M. N. Roy, 1939, p. 4)
امریکی مصنف ڈاکٹر مائکل ہارٹ نے ایک کتاب شائع کی ہے- اس میں انھوںنے انسانی تاریخ کے ایک سو ایسے افراد کا ذکر کیا ہے جنھوں نے تاریخ میں سب سے زیادہ کامیابی حاصل کی-اِس فہرست میں انھوں نے پیغمبر اسلام کو نمبر ایک پر رکھاہے- وہ لکھتے ہیں کہ — آپ تاریخ کے تنہا شخص ہیں جو انتہائی حد تک کامیاب رہے- مذہبی سطح پر بھی اور سیکولر سطح پر بھی:
Mohammad was the only man in history who was supremely successful on the religious and secular levels. (Dr. Michael H. Hart, The 100, 1978)
اِسی طرح، ایک امریکی اسکالر چارلس اساوی (وفات: 2000) نے اپنی ایک کتاب میں پیغمبر اسلام کا اعتراف اِن الفاظ میں کیا ہے — یہ کہنا مبالغہ نہیں ہے کہ اگر کوئی ایک شخص ایسا ہے جس نے تاریخ کے دھارے کو بدل دیا، تو وہ شخص محمد تھے:
It does not seem too much to say that if any one man changed the course of history, that man was Muhammad. (Muhammad’s Historical Role, by Charles Issawi, 1950, p. 95)
اِس طرح کے بہت سے سیکولر مصنفین اور غیر مسلم محققین ہیں جنھوں نے پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کا تذکرہ نہایت شان دار الفاظ میں کیا ہے- پیغمبر اسلام کے مشن کے ذریعے تاریخ میں جو انقلابی دور آیا، وہ اتنا عظیم تھا کہ تمام اہلِ علم نے اس کا اعتراف کیا، خواہ وہ سیکولر اہلِ علم ہوں یا مذہبی اہلِ علم- انھوں نے کثرت سے اِس موضوع پر کتابیں لکھیں اور مقالات شائع کیے- مذکورہ چند اقتباسات اِس معاملے کی وضاحت کے لیے کافی ہیں-
خدا کاحصہ پیغمبر کو دینا
پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے مشن کے تحت جو عظیم تاریخ بنی، وہ تمام تر منصوبہ الہی کے تحت بنی- پیغمبر اسلام سے پہلے ہزاروں سال کے درمیان خدا کی طرف سے بہت سے پیغمبر آئے- اِن پیغمبروں کے زمانے میں توحید کا اعلان توہوا، لیکن توحید کی بنیاد پر کوئی اجتماعی انقلاب نہ آسکا، جب کہ اللہ تعالی کو مطلوب تھا کہ پیغمبر کے ذریعے ایک ایسا موحدانہ انقلاب برپا ہو جو شرک کے دور کو ختم کرے اور توحید کا دور دنیا میں لے کر آئے- آخر کار اللہ تعالی کی یہ منشا ہوئی کہ وہ تاریخ میں مداخلت کرے اور خصوصی نصرت کے ذریعے وہ انقلاب برپا کرے جو کہ اللہ کے تخلیقی منصوبے کے تحت ضروری تھا- اللہ تعالی کے عام منصوبے کے مطابق، اِس منصوبے کی تکمیل اسباب کی صورت میں کی گئی- خاتم النبیین محمد صلی اللہ علیہ وسلم اِس انقلاب کی بنیادی کڑی تھے-
اللہ تعالی کے اِس خصوصی منصوبے کا آغاز چار ہزار سال پہلے حضرت ہاجرہ، حضرت ابراہیم اور حضرت اسماعیل کے ذریعے عرب کے صحرا میں ہوا- اِس منصوبے کے تحت لمبی مدت کے دوران ایک خصوصی نسل تیار کی گئی جس کو بنو اسماعیل کہاجاتاہے- اِس نسل کی اعلی خصوصیات کی بنا پر ایک مستشرق نے اس کو ہیروؤں کی ایک قوم (a nation of heroes) کا لقب دیا ہے- اِسی خصوصی نسل میں پیغمبراسلام اور آپ کے اصحاب پیداہوئے- اِس کے بعد اللہ کی برتر تدبیر کے تحت بہت سے موافق حالات ظہور میں آئے- یہ اپنے آغاز سے انجام تک، ایک انتہائی اعلی نوعیت کا خدائی منصوبہ تھا- پیغمبر اسلام اور آپ کے اصحاب کے ذریعے جو عظیم اسلامی تاریخ بنی، وہ در اصل اِسی منصوبہ الہی کا نتیجہ تھی-
قرآن میں اِس حقیقت کو نہایت واضح الفاظ میں بیان کیا گیا ہے کہ پیغمبر اور اصحاب پیغمبر کے زمانے میں جو تاریخی انقلاب آیا، وہ کسی فرد کا شخصی کارنامہ نہ تھا، بلکہ وہ براہِ راست طورپر اللہ کے ایک برتر منصوبے کا نتیجہ تھا- اِس سلسلے میں قرآن کی دو آیتیں یہ ہیں: یُرِیْدُوْنَ لِیُطْفِــــُٔـوْا نُوْرَ اللّٰہِ بِاَفْوَاہِہِمْ ۭ وَاللّٰہُ مُتِمُّ نُوْرِہٖ وَلَوْ کَرِہَ الْکٰفِرُوْنَ -ہُوَ الَّذِیْٓ اَرْسَلَ رَسُوْلَہٗ بِالْہُدٰى وَدِیْنِ الْحَقِّ لِیُظْہِرَہٗ عَلَی الدِّیْنِ کُلِّہٖ ۙ وَلَوْ کَرِہَ الْمُشْرِکُوْنَ (61:8-9) یعنی یہ لوگ چاہتے ہیں کہ وہ اللہ کے نور کو اپنے منہ سے بجھا دیں، حالاں کہ اللہ اپنے نور کو پورا کرکے رہے گا، خواہ یہ منکروں کو کتنا ہی ناگوار ہو-وہ اللہ ہی ہے جس نے اپنے رسول کو ہدایت اور دینِ حق کے ساتھ بھیجا، تاکہ اللہ اس کو سب دینوں پر غالب کردے، خواہ یہ مشرکوں کو کتنا ہی ناگوار ہو-
پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اِس حقیقت کو بار بار نہایت واضح الفاظ میں بیان فرمایا ہے- اِس کی ایک مثال یہ ہے کہ آپ کے مشن کے آغاز کے تقریباً 20 سال بعد مکہ فتح ہوا، جو کہ اُس وقت پورے عرب میں ہر اعتبار سے مرکز کی حیثیت رکھتا تھا- روایات میں آتا ہے کہ فتح مکہ کے وقت جب آپ فاتحانہ حیثیت سے مکہ میں داخل ہوئے تو احساسِ تواضع کے باعث آپ کی گردن جھکی ہوئی تھی، حتی کہ لوگوں نے دیکھا کہ آپ کی داڑھی کجاوے کی لکڑی کو چھورہی ہے- اُس وقت کعبہ کے دروازے پر کھڑے ہو کر آپ نے جوخطبہ دیا، اُس میں یہ الفاظ تھے:لا إلہ إلا اللہ وحدہ، صدق وعدہ، ونصر عبدہ، وہزم الأحزاب وحدہ ( سنن أبی داؤد، رقم الحدیث: 4547 ) یعنی ایک اللہ کے سوا کوئی اللہ نہیں- اللہ نے اپنا وعدہ سچ کر دکھایا- اللہ نے اپنے بندے (محمد) کی نصرت کی اور اللہ نے دشمن کی جماعتوں کو تنہا شکست دے دی-
حبِ شدید کا تعلق
قرآن میں بتایا گیاہے کہ اہلِ ایمان کو حب شدید (2:165) کا تعلق صرف اللہ سے ہوتا ہے، کسی اور سے نہیں- حُبّ کا مطلب ہے: اسٹرانگ افکشن (strong affection)، یعنی شدید قلبی تعلق- بعد کے دور کے مسلمانوں کے ساتھ یہ حادثہ پیش آیا کہ جذباتی طورپر اُن کے لیے حب شدید کا مرکز اللہ کے بجائے پیغمبر بن گیا- اِس طرح اُن کے جذبات کا مرجع بدل گیا- یہی وجہ ہے کہ وہ اللہ کی اہانت پر مشتعل نہیں ہوتے، لیکن وہ اپنے پیغمبر کی اہانت پر سخت مشتعل ہوجاتے ہیں- بہ الفاظِ دیگر، انھوں نے مشرکین کے طریقےکو اختیار کرتےہوئے یہ کیا کہ اللہ کے کارنامے کو اپنے پیغمبر کا کارنامہ سمجھ لیا، جو کچھ اللہ کے لیے تھا، اس کو انھوں نے اپنے پیغمبر کے حصے میں ڈال دیا-
سیرت اور تاریخ کی کتابیں
پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد سیرت ا ور تاریخ پر جو کتابیں لکھی گئیں، وہ فخر کی نفسیات کے تحت لکھی گئیں- سیرتِ رسول کے موضوع پر لکھی جانے والی کتابوں کا عنوان غزواتِ رسول (مغازی) بن گیا، اور تاریخ اسلام پر لکھی جانے والی کتابوں کا عنوان شاہ نامہ اسلام اور فتوح البلدان قرار پایا-اِس بنا پر ایسا ہوا کہ سیرتِ رسول اور تاریخ اسلام کی کتابوں میں خدا کا عامل (divine factor) حذف ہوگیا- اسلام کی تاریخ عام طرز کی انسانی تاریخ بن گئی، وہ خدائی تاریخ نہ بن سکی- جب کہ اصل حقیقت کے اعتبار سے، سیرتِ رسول اور اسلامی تاریخ دونوں میں اللہ کا خصوصی منصوبہ کارفرما تھا-
سیرت نگاری اور تاریخ نگاری کا یہی غیر واقعی طریقہ بعد کے زمانے کے مسلمانوں میں رائج ہوگیا- اُس کے نتیجے میں مسلمانوں کے اندر جو ذہن بنا، وہ شعوری یا غیر شعوری طورپر یہ تھاکہ انھوں نے تاریخ کی تمام عظمتوں کو اپنے پیغمبر کے خانے میں ڈال دیا، جو چیز اصلاً خدا کا حصہ تھی، وہ پیغمبر کا حصہ قرار پائی- اِس کے بعد مسلمانوں کے اندر جو نفسیات بنی، وہ فطری طورپر یہ تھی کہ اُن کو تمام بڑائی اپنے پیغمبر کی طرف دکھائی دینے لگی، مسلمانوں کے اپنے ذہن کے مطابق،اللہ کے حصے میں کچھ بھی باقی نہ رہا- (10 نومبر2013)
واپس اوپر جائیں

اپنے آپ کو پہچانیے

قدیم مدینہ میں ایک مشہور عالم ربیعہ بن فرّوخ التیمی (ربیعة الرأى) تھے- اُن کی وفات 136ہجری میں ہوئی- اُن کا ایک قول یہ ہے: لا ینبغی لأحد عندہ شیئ من العلم أن یضیّع نفسہ (فتح الباری بشرح صحیح البخاری، کتاب العلم، باب رفع العلم) یعنی کسی آدمی کے لیے جائز نہیں کہ اس کے پاس علم کا کوئی حصہ ہو اور وہ اپنے آپ کو ضائع کردے-
ہر آدمی کے اندر پیدائشی طورپر کوئی خاص صلاحیت ہوتی ہے-یہی صلاحیت اس کو دوسرے لوگوں سے ممتاز بناتی ہے- آدمی کو چاہئے کہ وہ اپنی اِس خداداد صلاحیت کو پہچانےاور اس کو بھر پور طورپر استعمال کرے- اِسی میں انسان کی کامیابی کا راز بھی ہے اور اِسی میں انسان کی ناکامی کا راز بھی-
اِس معاملے میں انسان کی ناکامی کا سبب کیا ہوتا ہے - اس کا سبب یہ ہے کہ اپنے حالات کے اعتبار سے، ہر آدمی کے اندر کسی چیز سے جذباتی لگاؤ(emotional attachment) پیدا ہوجاتا ہے- دھیرے دھیرے وہ اُس @چیز سے اتنا زیادہ وابستہ ہوجاتا ہے کہ وہی آدمی کی طبیعتِ ثانیہ بن جاتاہے— کسی آدمی کو تفریحی باتوں سے دلچسپی پیدا ہوجاتی ہے، کسی آدمی کو لذیذ کھانوں کا شوق ہوجاتا ہے، کوئی آدمی شہرت (fame)کا گرویدہ بن جاتاہے، کوئی آدمی دولت کی حرص میں جینے لگتا ہے، کسی آدمی کو یہ بات مرغوب ہوجاتی ہے کہ اس کے ارد گرد لوگوں کی بھیڑ دکھائی دے، کسی آدمی کی پسند یہ بن جاتی ہے کہ لوگ اس کی تعریف کرتے رہیں، کسی آدمی کے اوپر اس کی عادتیں غالب آجاتی ہیں اور وہ اُن عادتوںسے باہر نہیں آپاتا، وغیرہ-
یہ سب غیر فطری جذبات ہیں- اِن میں سے کوئی بھی جذبہ اگر آدمی کے اوپر چھا جائے تو وہ اپنی خاص صلاحیت کو دریافت نہیں کرپائے گا- اور بالفرض اگر اُس کو اپنی خاص صلاحیت کا علم ہوجائے، تب بھی وہ ایسا نہیں کرپاتا کہ مضبوط ارادے کے تحت وہ اپنی عادتوں کو چھوڑ دے اور اپنے آپ کو اُس مقصد کے لیے استعمال کرے جس مقصد کے لیے خالق نے اس کو پیدا کیا ہے-
واپس اوپر جائیں

حفاظت کا فارمولا

پونٹی چڈھا اور ہردیپ چڈھا دونوں سگے بھائی تھے- اُن کا بہت بڑا بزنس تھا- ان کا بزنس انڈیا کی کئی ریاستوں میں پھیلا ہوا تھا- کہاجاتاہے کہ وہ 6 ہزار کروڑ روپیے سے زیادہ کے مالک تھے- چھتر پوری (نئی دہلی) میں اُن کا 13 ایکڑ رقبے میں پھیلاہوا فارم ہاؤس ہے-
اِس فارم ہاؤس میں 17 نومبر 2012 کو د ونوں بھائیوں کی میٹنگ ہوئی- اِس میٹنگ کا مقصد پراپرٹی کی تقسیم تھا، مگر دونوں کے درمیان تقسیم کے معاملے میں اختلاف ہوگیا- یہ اختلاف اتنا زیادہ بڑھا کہ میٹنگ کے دوران دونوں نے ایک دوسرے پرریوالور کے ذریعے گولیاں چلائیں، یہاں تک کہ اسی موقع پر دونوں بھائیوں کی موت ہوگئی-
ٹائمس آف انڈیا (نئی دہلی) کے شمارہ 18 نومبر 2012 کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ چڈھا برادران کا ریاستی حکومتوں پر اتنا اثر تھا کہ قانونی ضوابط اِس طرح بنائےجاتے تھے جو کہ اُن کے موافق ہوں:
Rules were tailor-made for Chadha Brothers. (p.2)
مگر دولت کی کثرت اور اثر ورسوخ کی طاقت اور قوانین وضوابط کی حمایت چڈھا برادران کو ہلاکت سے نہ بچا سکی- دونوں بھائیوں نے خود ہی ایک دوسرے کو مار کر اپنا خاتمہ کرلیا-
حقیقت یہ ہے کہ کوئی قانون یا قانونی تدبیر کسی کی محافظ نہیں بن سکتی، انسان کو اپنا محافظ آپ بننا ہے- اصل حفاظت یہ ہے کہ آدمی اپنی خواہش پر کنٹرول کرے، وہ اپنے آپ کو اشتعال سے بچائے، وہ مس ایڈوینچرازم (misadventurism) کا شکار نہ ہو، وہ غصہ اور نفرت میں مبتلا نہ ہو، وہ حالات سے ٹکراؤ کے بجائے حالات سے ایڈجسٹ (adjust)کرے- حفاظت کا اصل فارمولا صرف ایک ہے اور وہ ہے — اپنے آپ کو اپنے آپ سے بچانا:
Saving yourself from yourself
واپس اوپر جائیں

کامیابی کس کے لیے

فٹ بال کا امریکی کوچ ونس لمبارڈی (Vince Lombardi) اپنی فیلڈ کا ایک مشہور آدمی تھا- اس کی وفات 1970 میں ہوئی- کھیل میں کامیابی کاراز کیا ہے، اس کے بارے میں اس کا ایک قول یہ ہے— کامیاب انسان اور دوسروں کے درمیان فرق علم اور طاقت کے اعتبار سے نہیں ہے، بلکہ یہ فرق عزم کے اعتبار سے ہے:
The difference between a succesful person and others, is not a lack of strength, not a lack of knowledge, but rather a lack of will.
اِس قول میں ایک حکمت بتائی گئی ہے- اِس حکمت کا تعلق صرف کھیل سے نہیں، بلکہ اس کا تعلق زندگی کے ہر میدان سے ہے- زندگی کا خواہ کوئی بھی میدان ہو، ہر میدان میں کامیابی کا اصول صرف ایک ہے- ہر میدان میں کامیابی کے لیے عزم یا قوتِ ارادی (will power) کی ضرورت ہوتی ہے-
اِس دنیا میں کامیابی کے لیے بلاشبہہ طاقت کی بھی ضرورت پڑتی ہے اور علم کی بھی، لیکن آخر کار جو چیز فیصلہ کن ہوتی ہے، وہ آدمی کی قوتِ ارادی ہے- قوتِ ارادی اگر مستحکم ہو تو ہر صورتِ حال میں وہ آدمی کی رہنما بنی رہتی ہے- زندگی میں ہمیشہ اونچ نیچ کے مرحلے پیش آتے ہیں- ایسی حالت میں مسلسل جدوجہد پر قائم رہنے کے لیے جو چیز آدمی کے کام آتی ہے، وہ صرف عزم اور قوتِ ارادی ہے-
عزم سے مراد بابصیرت عزم ہے- عزم کا براہِ راست تعلق بصیرت (wisdom) سے ہے، جس آدمی کے اندر گہری بصیرت ہو، وہی کامیاب پلاننگ کرسکتاہے اور جو آدمی کامیاب پلاننگ کا اہل ہو، وہی اِس امتحان میں پورا اتر سکتا ہے کہ وہ ہر پیش آمدہ صورتِ حال میں اپنے عزم پر مسلسل قائم رہے- عزم کسی بنیاد پر قائم ہوتاہے اور یہ بنیاد صرف بصیرت ہے- جہاں بصیرت نہ ہو، وہاں عزم بھی نہ ہوگا-
واپس اوپر جائیں

سوال وجواب

سوال
آپ نے لکھا ہے کہ اللہ تعالی نے اِس دنیا میں ہم کو امتحان کے لیے رکھا ہے، تاکہ وہ دیکھے کہ کون صبر واستقامت کے اِس امتحان میں کامیاب ہوتاہے- آخرت کی جنت اِسی کامیاب ہونے والے انسان کے لیے ہے- سوال یہ ہے کہ خدا نے آخرت کی کامیابی کے لیے امتحان کا یہ طریقہ کیوں رکھا- اس کی وضاحت فرمائیں- (مکرم حسین، نئی دہلی)
جواب
یہ بات درست ہے کہ موجودہ دنیا میں ہمارے لیے ایک ہی آپشن (option) ہے ا ور وہ ہے— صبرواستقامت اور یک طرفہ ایڈجسٹ مینٹ کا آپشن-یہی آپشن، اللہ کے تخلیقی نقشہ کے مطابق ہے- اِس دنیا میں کامیاب زندگی کی تعمیر کے لیے اِس کے سوا کوئی دوسرا طریقہ سرے سے ممکن ہی نہیں- دوسرا طریقہ خود کشی کا طریقہ ہے، نہ کہ کامیابی کا طریقہ-
اب سوال یہ ہے کہ ہمارے خالق نے ہمارے لیے یہ طریقہ کیوں مقرر کیا- اِس کا سبب یہ ہے کہ اِسی طریقے کے ذریعے آدمی کے اندر ذہنی ارتقا ہوتاہے- خالق نے انسان کو بے شمار صلاحیتوں کے ساتھ پیدا کیا ہے، مگر یہ صلاحیتیں بالقوہ (potential) کےروپ میں ہیں، یعنی امکان کے روپ میں، نہ کہ واقعہ کے روپ میں-اللہ کے تخلیقی نقشے کے مطابق، انسان کی شخصیت کے اندر چھپی ہوئی فطری صلاحیتوں کو واقعہ بنانے کا طریقہ صرف ایک ہے اور وہ ہےچیلنج(challenge)- چیلنج آدمی کے سوئے ہوئے ذہن کو جگاتاہے- چیلنج آدمی کو اِس قابل بناتاہے کہ وہ زیادہ گہرائی کے ساتھ سوچ سکے- چیلنج اِس بات کا ذریعہ ہےکہ آدمی منفی تجربات میں مثبت آئٹم کو دریافت کرے- آدمی ابتدائی طور پر ایک ناپختہ (immature)مخلوق ہے- یہ صرف چیلنج ہے جو آدمی کو پختہ (mature) بناتاہے- چیلنج آدمی کو یہ موقع دیتاہے کہ وہ اپنی شخصیت کو انفولڈ (unfold) کرے-
عام طور پر عورتوں اور مردوں کا حال یہ ہے کہ چیلنج پیش آنے کی صورت میں وہ منفی رد عمل (negative reaction) کا طریقہ اختیار کرلیتے ہیں- اِس طرح کے مواقع پر منفی رد عمل، ڈی ریلمینٹ (derailment) کی حیثیت رکھتا ہے- یہی وہ مقام ہے جہاں کسی عورت یا مرد کی زندگی غلط رخ پر چل پڑتی ہے- دھیرے دھیرے وہ اِسی میں کنڈیشنڈ (conditioned) ہوجاتے ہیں- اِس کا نتیجہ یہ ہوتاہے کہ وہ اِسی منفی مزاج میں جیتےہیں اور اِسی منفی مزاج میں مرجاتے ہیں-
یہ کسی عورت یا مرد کی بدترین ناکامی ہے- اِس دنیا میں ہر شخص سے یہ مطلوب ہے کہ وہ اپنے اندر ایک مثبت شخصیت (positive personality) کی تشکیل کرے- مگر انسان اللہ کے تخلیقی منصوبے کو نہ سمجھنے کی بنا پر یہ کرتاہے کہ وہ چیلنج کو ایک برائی (evil) سمجھ لیتاہے- وہ دنیا سے اُس چیز کو حاصل کیے بغیر چلا جاتاہے جس کو حاصل کرنے کے لیے خالق نے اُس کو اِس دنیا میں بھیجا تھا-
سوال
1- ہمارے ملک (پاکستان) اور عموماً پوری دنیا میں ہر مرتبہ رمضان کی آمد کے ساتھ ہی ایک مسئلہ کھڑا ہوجاتاہے کہ کل روزہ ہوگا یا نہیں-یہی صورتِ حال عید کے چاند پر بھی پیدا ہوتی ہے- اور اکثر ملک کے ایک حصہ میں روزہ رکھا جاتا ہے جب کہ دوسرے حصہ میں عید منائی جارہی ہوتی ہے(یہی صورتِ حال تقریباً پوری مسلم اور غیر مسلم دنیا میں بھی ہوتی ہے)
سوال یہ ہے کہ اگر روزے کا تعلق رمضان کے مہینے کی آمد سے ہے تو پھر دنیا میں ہر جگہ ایک ساتھ روزہ کیوں نہیں- اس سوال کا براہِ راست تعلق مذہب اور سائنس دونوں سے ہے- آپ ایک علمی بصیرت رکھنے والے اور جدید سائنسی اسلوب میں بات کرنے والے عالم دین ہیں- آپ سے التماس ہے کہ اس مسئلے کے بارے میں قرآن ، احادیث اور رویت ہلال کی سائنس کو مد نظر رکھتے ہوئے اس مسئلے کی وجوہات اور اس کا حل تفصیل سے بتائیں-
2- مغربی دنیا کی چوٹی کے سائنس داں مثلاً آئن سٹائن اور فلاسفر مثلا برٹرینڈ رسل وغیرہ حقیقی علم تک رسائی کیوں حاصل نہ کرسکے، حالاں کہ انھوں نے مذہب اور سائنس کا براہِ راست مطالعہ کیا تھا-
3- آپ نے اپنی کتاب ’’تجدید دین‘‘ کے شروع میں لکھا ہے کہ ’’فقہ‘‘ کا لفظ عباسی دور کی پیداوار ہے-قرآن اور حدیث میں اس کا ذکر موجود نہیں ہے- جب کہ ہمیں معلوم ہے کہ حضرت معاذ بن جبل والی روایت سے جو اجتہاد کا نکتہ ہمیں ملتاہے، وہ اصل میں فقہ کا ہی ایک حصہ ہے-
میں نے اپنے گھر میں آپ کی ہر کتاب رکھی ہوئی ہے اور اُس کا مطالعہ کرتا رہتا ہوں- الرسالہ خود بھی پڑھتا ہوں اور اپنے اسکول کے پرنسپل صاحب کو بھی دیتا ہوں-میری اکثر دعا ہوتی ہے کہ خدا آپ کو لمبی عمر دے اور تندرست رکھے- میں ایم اے انگلش کا اسٹوڈنٹ ہوں اور ایک سرکاری اسکول میں ٹیچر بھی ہوں- (شہزاد احمد، پاکستان)
جواب
1- موجودہ زمانے میں علم فلکیات کی ترقی کی بنا پر یہ ممکن ہوگیاہے کہ پیشگی طور پر رویتِ ہلال کا ٹھیک ٹھیک یقین کیا جاسکے- اِس لیے ذاتی طور پر میری رائےہے کہ آبزرویٹری کے فلکیاتی مشاہدہ کے تحت جو کیلنڈر بنتے ہیں، اُس کیلنڈر کو بنیاد بنار کر رمضان اور عید کے چاند کا تعین کرنا چاہیے- لیکن اِسی کے ساتھ میری یہ رائے ہے کہ علما چوں کہ ابھی تک اس مسئلے پر متفق نہیں ہوئے ہیں، اس لیے  دفعِ فتنہ کے لیے عملاً وہی کرنا چاہئے جو علما کی اکثریت کا مسلک ہے-
2- موجودہ زمانے کے سیکولر اہلِ علم مذہب کا مطالعہ کرتےہیں، لیکن اُن کا طریقِ مطالعہ مختلف ہوتاہے- ہم آپ مذہب کو وحی کا ظاہرہ سمجھتے ہیں، لیکن سیکولر اہلِ علم مذہب کا مطالعہ اِس ذہن کے تحت کرتے ہیں کہ مذہب ایک سماجی ظاہرہ (social phenomenon) ہے، اِس لیے وہ مذہب کا مطالعہ کرکے بھی مذہب کو اپنا عقیدہ نہیں بنا پاتے- اِس سلسلے میں پہلی ضرورت یہ ہے کہ اُن کے طریقِ مطالعہ کو بدلا جائے- اِس موضوع پر میں اپنی کتابوں میں تفصیل سے لکھ چکا ہوں-
3- حضرت معاذ بن جبل کی روایت میں فقہ کا لفظ موجود نہیں ہے اور میراکہنا یہی ہے کہ فقہ کا لفظ اپنے موجودہ مفہوم کے اعتبار سے، ایک بعد کی اصطلاح ہے، دورِ اول میں یہ اصطلاح موجود نہ تھی-
آپ کے وطن میں آپ جیسے بہت سے لوگ ہیں- بہتر ہوگا کہ آپ اِن افراد سے ربط قائم کریں اور اجتماعی کوشش سے اپنے علاقے میں الر سالہ کے دعوتی مشن کو آگے بڑھائیں-
واپس اوپر جائیں

خبرنامہ اسلامی مرکز— 222

1- چنئی (تمل ناڈو) میں 11-20 جنوری 2013 کے درمیان وہاں کے ساحلی ایریا (اتھنڈی) میں ایک پیس کانفرنس ہوئی- یہاں گڈ ورڈ بکس نے اپنا اسٹال لگایا- اسٹال کا انتظام مسٹر ممتاز راجہ نے سنبھالا-
2- چنئی (تمل ناڈو) کے وائی ایم سی اے گراؤنڈ میں 11-23 جنوری 2013 کے دوران چنئی بک فیر ہوا- اِس میں گڈورڈبکس نے شرکت کی- یہاں بک اسٹال کا انتظام مسٹر فرقان خاں نے سنبھالا- یہاں مقامی طورپر الرسالہ سے وابستہ عمری گروپ کے ساتھیوں نے وزٹرس سے مل کر اُن کو دعوتی پمفلٹس دئے-
3- ہمار ے ساتھی مقامی طورپر دعوہ ورک کرنے کے ساتھ سفر کے دوران بھی دعوتی کام کرتے ہیں- مثلاً ہمارے ایک ساتھی مسٹر حمید اللہ حمید (کشمیر) نے جنوری 2013 کے تیسرے ہفتے میں ساؤتھ انڈیا کے مختلف پروگراموں میں شرکت کے لیے وہاں کا سفر کیا- اِس دوران انھوں نے اعلی تعلیم یافتہ لوگوں سے مل کر ان کے سامنے اسلام کا مثبت تعارف پیش کیا- انھوں نے لوگوں کو قرآن کا انگریزی ترجمہ اور دعوتی میٹریل برائے مطالعہ دیا-
4- جمشید پور (جھارکھنڈ) میں ہمارے ساتھی دعوہ ورک کررہے ہیں- وہ مختلف موقعوں پر لوگوں سے مل کر ان کو دعوتی لٹریچر پیش کرتے ہیں- مثلاً 13 جنوری 2013 کو ٹیلکو اسکول میں ایک کوئز کامپٹیشن ہوا- اِس کی دعوت پر ہمارے ایک ساتھی مسٹر ایاز احمد نے اس میں شرکت کی اور القرآن مشن کا تعارف کرایا- اِسی طرح 17 فروری 2013 کو ’’قرآن فار آل‘‘ کے پروگرام کے تحت اعلی تعلیم یافتہ لوگوں کو قرآن کا انگریزی ترجمہ دیا گیا-
5- نئی دہلی کے ادارہ اسلامک فاؤنڈیشن(IFSE)کی طرف سے 20 جنوری 2013 کو ایوانِ غالب (نئی دہلی) میں قرآن کے موضوع پر ایک کانفرنس ہوئی- اِس کی دعوت پر ہمارے ساتھیوں نے اس میں شرکت کی اور باہر سے آئے ہوئے مقررین کو صدر اسلامی مرکز کی نئی تصنیف ’’کتابِ معرفت‘‘ برائے مطالعہ دی- اِس کے علاوہ، یہاں خود اسلامک فاؤنڈیشن کی طرف سے ہمارے یہاں کے مطبوعہ تراجمِ قرآن حاضرین کو بطور ہدیہ پیش کیے گئے-
6- روحانی مرکز (سہارن پور) میں 25 جنوری 2013 کو ایک پروگرام ہوا- اِس میں دہلی اور اطراف کےمقررین نے شرکت کی- اِسی طرح شام کو شہر میں ایک دوسرا پروگرام ہوا- یہاںحاضرین کو مطالعے کے لیے دعوتی لٹریچر دیا گیا-
7- نئی دہلی کے ٹی وی چینل اسٹار نیوز کی ٹیم نے یکم فروری 2013 کو صدر اسلامی مرکز کا ایک ریڈیو انٹرویو ریکارڈ کیا- یہ انٹرویو ’’وشوروپم‘‘ فلم کے بارے میں حالیہ تنازعہ سے متعلق تھا- سوالات کی وضاحت کرتے ہوئے بتایا گیاکہ یہ آزادی رائے کا زمانہ ہے- اگر اِس فلم پر کسی کمیونٹی کو کوئی اعتراض ہے تو اس کو چاہئے کہ وہ اِس معاملے میں ذمے داروں سے مل کر بات کرے- اس کے خلاف احتجاج اور ہنگامہ آرائی اسپرٹ آف ایج (spirit of age) کے خلاف ہے، نیز احتجاج کا طریقہ کسی مسئلے کا کوئی حقیقی حل نہیں-
8- لاہور (پاکستان) سے جیو ٹی وی (اردو) نے 2 فروری 2013 کو ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعے صدر اسلامی مرکز کا ایک انٹرویو ریکارڈ کیا- یہ انٹرویو موجودہ زمانے کے مسلمانوں کے فکری مسائل پر تھا- سوالات کے دوران موضوع کی وضاحت کی گئی- ایک سوال اسلام کی سیاسی تعبیر کے بارے میں تھا-
9- رام لیلا گراؤنڈ (نئی دہلی) میں 3 فروری 2013 کو شری شری روی شنکر کی طرف سے والنٹیرس فار بٹر انڈیا (Volunteers for better India)کے موضوع پر ایک آل انڈیا کانفرنس ہوئی-اس کی دعوت پر صدر اسلامی مرکز نے اپنی ٹیم کے ساتھ اس میں شرکت کی- اِس موقع پر سی پی ایس انٹرنیشنل کی دعوہ فیلڈ ٹیم(DFT) کے تعاون سے رام لیلا گراؤنڈ میں ایک بک اسٹال لگایا گیا- یہاں سی پی ایس کے ممبران کی طرف سے خرید کر حاضرین کو کئی ہزار کی تعداد میں قرآن کا ہندی، انگریزی ترجمہ اور دعوتی بروشر بطور گفٹ دیاگیا- خاص طورپر ملک وبیرونِ مل سے آئے ہوئے خصوصی مہمانوں کو پرافٹ آف پیس اور قرآن کا انگریزی ترجمہ دیاگیا-
10- نئی دہلی کے پرگتی میدان میں 10-4 فروری 2013 کے دوران ورلڈ بک فیر ہوا- یہاں پرگتی میدان کے ہال نمبر 14 اور ہال نمبر 18 میں گڈورڈ بکس نے اپنا اسٹال لگایا- اِس موقع پر سی پی ایس کی دعوہ فیلڈ ٹیم (DFT) نے بک فیر کے وزٹرس کو قرآن کا انگریزی ترجمہ اور دعوتی پمفلٹس دئے- بک فیر میں کئی آتھرس کارنر (Author's Corner) تھے- یہاں ہمارے ساتھیوں نے مختلف مصنفین سے مل کر ان کو دعوتی لٹریچر دیا- مثلاً مشہور انگلش رائٹررسکن بانڈ (Ruskin Bond) کو پرافٹ آف پیس اور قرآن کا انگریزی ترجمہ دیا گیا-
11- آن لائن میگزین مسلم مرر (Muslim Mirror) کے ایڈیٹر سید زبیر احمد نے 10فروری 2013 کو صدر اسلامی مرکز کا ایک ویڈیو انٹرویو ریکارڈ کیا- یہ انٹرویو مسلمان اور موجودہ حالات کے موضوع پر تھا- سوالات کے دوران موضوع کی وضاحت کی گئی- یہ انٹرویو انگریزی زبان میں تھا-
12- یروشلم (فلسطین) میں 10-15 فروری 2013 کے دوران ایک انٹرنیشنل بک فیر ہوا- یہاں گڈ ورڈ بکس نے اپنا اسٹال لگایا- یہاں سے بڑی تعداد میں وزٹرس نے قرآن کا انگریزی ترجمہ اور دعوتی لٹریچر حاصل کیا- نیزاسٹال پر انگریزی کے علاوہ، عبرانی ترجمہ قرآن بھی رکھا گیا تھا-
13- نئی دہلی کے سی بی سی آئی سنٹر (گول ڈاک خانہ) میں 21 جنوری 2013 کو ایک خیر مقدمی تقریب ہوئی- وہ نئی دہلی کے نئے آرک بشپ (Anil Couto) کی آمد کے موقع پر تھی- اس کی دعوت پر صدر اسلامی مرکز نے اپنے ساتھی مسٹر رجت ملہوترا کے ساتھ اس میں شرکت کی اور انگریزی زبان میں ایک مختصرخطاب کیا- یہ خطاب اسلام اور امن (Islam & Peace)کے موضوع پر تھا- اِس پروگرام میں مختلف مذاہب کی نمائندہ شخصیتوں نے شرکت کی- یہاں حاضرین کو سی پی ایس کی طرف سے قرآن کا انگریزی ترجمہ اور دعوتی لٹریچر دیاگیا-
14- یکم مارچ 2013 کو نئی دہلی کے اسلامک اسٹڈیز اسوسی ایشن (ISA) سے وابستہ 6 مسیحی علما صدراسلامی مرکز سے ملاقات کے لیے آئے- اس کے نمائندہ وکٹر ایڈون (Victor Edwin SJ) تھے- گفتگو کا موضوع— مسلم کرسچین ڈائلاگ تھا- سوالات کے دوران موضوع کی وضاحت کی گئی ہے-
15- اسلامک اسٹڈیز اسوسی ایشن(ISA) کی طرف سے 2 مارچ 2013 کو نئی دہلی کے سینٹ زیویرس اسکول (St. Xavier's School) میں Muslim Experience of Life کے موضوع پر ایک سیمنار ہوا- اس کی دعوت پر سی پی ایس کے ممبران نے اس میں شرکت کی اور حاضرین کو قرآن کا انگریزی ترجمہ دیا- مز ماریہ خان نے سی پی ایس کی نمائندگی کرتے ہوئےیہاں موضوع پر انگریزی زبان میں ایک تقریر کی-
16- سی پی ایس کے تحت مختلف اجتماعی مقامات پر قرآن کا انگریزی ترجمہ برائے تقسیم رکھا جاتا ہے- مثلاًہوٹل اسپتال، وغیرہ- اِس سلسلے میں یکم مارچ 2013 کو نئی دہلی کے راجیو گاندھی کینسر انسٹی ٹیوٹ اینڈ رسرچ سنٹر میں قرآن کا انگریزی ترجمہ رکھاگیا- لوگ یہاں سے بخوشی اس کو حاصل کررہے ہیں-
17- مُکل اکیڈمی (سہارن پور) میں 6 مارچ 2013 کو نیشنل میڈیکل کالج کے تعاون سے ایک سیمنار ہوا- اِس کا موضوع تھا — پیغمبر اسلام: ایک آدرش چرتر- اِس میں 40 کالج کے اسٹوڈنٹس کو شریک کیا گیا- اِس کی دعوت پر سہارن پور کے ساتھیوں کی ٹیم نے اِس پروگرام میں شرکت کی اور سیرتِ رسول کے مذکورہ موضوع پر اظہار خیا ل کیا- یہاں حاضرین کو مطالعے کے لیے دعوتی لٹریچر دیا گیا-
18- نئی دہلی کی انڈین کاؤنسل فار کلچرل ریلیشنس (ICCR) کی طرف سے 9مارچ 2013 کو انڈیا انٹرنیشنل سنٹر (نئی دہلی) کے ملٹی پرپز ہال میں ایک انٹرفیتھ کانفرنس ہوئی- اِس کا موضوع یہ تھا:
On World Religions: Diversity, Not Dissension
اس کی دعوت پر صدر اسلامی مرکز نے اس میں شرکت کی- یہ ایک پینل ڈسکشن تھا جس میں صدر اسلامی مرکز کے علاوہ، ایچ ایچ دلائی لاما، ریویرینڈ ٹوٹو(Mpho Tutu) اور ڈاکٹر کرن سنگھ شریک تھے- یہاں صدر اسلامی مرکز نے اپنے خطاب اور سوالات کے دوران اسلام کے مختلف پہلوؤں کی وضاحت کی- خطاب کے بعد لوگوں نے صدر اسلامی مرکز سے مل کر کہا کہ آپ کی بات سن کر ہم کو قرآن سے دلچسپی پیدا ہوگئی ہے- اب ہم ضرور قرآن کا مطالعہ کریں گے- اِس موقع پر دعوہ فیلڈ ٹیم (DFT) کی طرف سے لوگوں کو قرآن کا انگریزی ترجمہ اور دعوتی لٹریچر دیاگیا-
19- گاندھی میدان (پٹنہ، بہار) میں 24-13 مارچ 2013 کو ایک بک فیر ہوا- اِس میں نئی دہلی سے گڈورڈبکس نے شرکت کی- اسٹال کا انتظام شاہ عمران حسن نے سنبھالا- اِس کے علاوہ، ہمارے کئی مقامی ساتھیوں نے یہاں اپنا تعاون دیا- انھوں نے وزٹرس سے مل کر اُن سے مشن کو متعارف کیا اور ان کو دعوتی پمفلٹس دئے-
20- افریقی جزیرہ ماریشش (Mauritius) کے سوامی وویکانند انٹرنیشنل کنونشن سینٹر (Les Pailles) میں 7-10 مارچ 2013 کے دوران ایک انٹرنیشنل بک فیر ہوا- اِس میں گڈ ورڈ بکس نے شرکت کی- اسٹال پر کافی لوگوں نے وزٹ کیا اور دعوتی لٹریچر حاصل کیا- خاص طورپر وزٹ کے دوران ماریشش کے وزیر اعظم مسٹر نوین رام غلام (Navin Ramgoolam) کو قرآن کا انگریزی ترجمہ دیاگیا- اسٹال کا انتظام مسٹر ممتاز راجہ نے سنبھالا-
21- نیوز ایکسپریس ٹی وی (نوئڈا)کے نمائندہ مسٹر راشد احمد خان نے 11 مارچ 2013 کو صدر اسلامی مرکز کا ایک ویڈیو انٹرویو ریکارڈ کیا- انٹرویو کا موضوع یہ تھا — مائنارٹی افیرس (Minority Affairs) -
22- انڈیا اور انڈیا سے باہر کے دوسرے مقامات کی طرح سہارن پور (یوپی) میں ہمارے ساتھی مسلسل طورپر دعوہ ورک کررہے ہیں- مثلاً سہارن پور کے تین ٹی وی چینل پر ہمارے ساتھیوں نے ایک اشتہار دیاہے جس میں بتایا گیا ہے کہ اُن کے مقامی سنٹر(پیس ہال) سے اردو، ہندی اور انگریزی ترجمہ قرآن مفت حاصل کیا جائے- اِس کی وجہ سے روزانہ لوگ رابطہ کرکے یہاں سے قرآن کے تراجم حاصل کررہے ہیں-
23- دعوتی لٹریچر اور الرسالہ مشن سے متعلق قارئین کے چند تاثرات یہاں درج کیے جاتے ہیں:
الرسالہ کے مطالعہ سے میری ذاتی زندگی میں بے حد مثبت تبدیلی آئی ہے- یہ کہنا درست ہے کہ الرسالہ نے مجھے زندگی کی حقیقتوں کو پہچاننے اور ان کا حوصلہ مندی کے ساتھ سامنا کرنے کی سمجھ دی ہے- میں نے ہمیشہ اپنے اطراف خواتین کو ایک دوسرے کی برائی، غیبت، چغلی اور ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کے سطحی مشغلوںمیں مصروف دیکھا ہے- خواہ وہ گھریلو خواتین ہوں یا تعلیم یافتہ اور working women -الرسالہ کے مطالعہ سے الحمد للہ میں اِس قابل ہوئی کہ میری فکری سطح ان ساری باتوں سے اوپر اٹھ چکی ہے-ایک عورت کا مقصدِ حیات کیا ہے، یہ میں نے الرسالہ کی تحریروں میں پایا ہے- الرسالہ نے مجھے یہ سمجھ دی کہ کسی کے منفی عمل کا جواب دے کر ہم اللہ کی نصرت سے محروم ہوجاتے ہیں، کیوں کہ جب ہم ردّ عمل نہ کریں تو اللہ کے فرشتے ہماری طرف سے اس کا جواب دیتے ہیں، اور بلاشبہہ اس سے بڑی کوئی بات نہیں ہوسکتی-الرسالہ مشن ایک خاتونِ خانہ کے لیے بھی اتنا ہی مفید ہے جتنا کہ ایک مرد کے لیے- ازدواجی زندگی کے لیے مولانا نے ایک نصیحت کی تھی، وہ ہےیک طرفہ ایڈجسٹ مینٹ- یہ صد فی صد صحیح فارمولا ہے ایک اجنبی ماحول نیز اجنبی افراد کے دل میں جگہ بنانے کا- الرسالہ کے مضامین اور ’’نکاح اور کامیاب ازدواجی زندگی‘‘ (خاندانی زندگی) پڑھنے سے الحمد للہ میں تیار ذہن کے ساتھ ازدواجی زندگی شروع کرسکی ہوں، ورنہ منفی ذہنیت اور شکایت میری ذات کا حصہتھی- ایسانہیں ہے کہ ناخوش گوار بات پیش نہ آتی ہو، زندگی میں ہر دن ایک ناموافق اور ناخوش گوار بات پیش آتی ہے، لیکن الرسالہ کی تربیت نے مجھے ان مسائل کو چیلنج سمجھنے کی صلاحیت دی ہے- الرسالہ نے حقیقت پسندانہ انداز میں اجتماعی زندگی گزارنے کے اصول سکھائے ہیں- ماں باپ، بھائی بہن کے برتاؤ سے لے کر سُسرالی رشتہ دار، شوہر، نیز بچوں کی تربیت وغیرہ تک ہر موڑ پر الرسالہ کے مضامین بے حد کار آمد ہیں- ضرورت صرف سنجیدگی کے ساتھ اور کھلے ذہن سے پڑھنے کی اور ان اصولوں کو اپنی روز مرّہ کی زندگی میں اختیار کرنے کی ہے- اِسی کے ساتھ خود احتسابی کی اشد ضرورت ہے- اللہ کے فضل سے میں نے یہ طے کیا ہے کہ میں اپنے گھر کو ’’بگاڑ کا کارخانہ‘‘ بننے نہیں دوں گی ،ان شاء اللہ - (اے ایم بشری، حیدرآباد، انڈیا)
— Dear Maulana, I was getting astray, Allah saved me through you, thanks a lot. After reading about the Prophet and the Life of the Prophet, I was very satisfied with his life and he impressed me the most. I met a person who is a regular reader of Al Risala in my college, I talked to him many times and saw him talking wisdom and he was behaving very much well. I thought to read Al Risala but was not able to. Even I recieved first copy of Al Risala in 2011 through a person of my town, but I was not reading. I read Al-Risala many times and thanked Allah so much. I got answer to my questions. I got what I was seeking from many years. It removed my misconceptions and guided me in many matters. Now I’m a regular reader of Al-Risala. I read it 30 times every month. (Faheem Khan, J&K)
— Dear Maulana, please allow me this opportunity to express my sincerest thanks for your important work. Writing to you from the northernmost university town of Umeå, Sweden, I am currently working on a PhD dissertation on Islamic nonviolence. Since I find your work crucial for any in-depth study of the field, a selection of your works will be an important addition to the chapter describing Islamic non-violent thinking and theology. Also, for this reason I would very much like to come to India in order to gain a deeper understanding of the context of your work and hopefully also conduct a formal interview with yourself for the purposes of my research. With hopes that you will find the idea of a Swedish dissertation on Islamic nonviolence somewhat interesting and most of all that you will agree to a meeting at your convenience and share your thinking with a Swedish audience.
(Mattias Dahlkvist, Umeå University, Sweden)
واپس اوپر جائیں