Pages

Thursday, 1 August 2013

Al Risala | August 2013 (الرسالہ،اگست)

2

-لعلہم یرشدون

3

- خالص اللہ کے لیےعمل

4

- سورہ العصر

6

- حبطِ اعمال

8

- انسان کی محرومی

10

- فہمِ قرآن — ایک مطالعہ

31

- اندھا اور بہرا رد عمل

32

- مجھ کو قرآن نہیں ملا

33

- دعوت، اجتماعیت

34

- فکری مستویٰ کے مطابق خطاب

39

- دریافت کی عظمت

40

- کامیاب زندگی کا راز

41

- مواقع ختم نہیں ہوتے

42

- غلطی کا اعتراف

43

- سوال وجواب


لعلہم یرشدون

قرآن کی سورہ البقرہ میں ماہ صیام (رمضان) کے احکام بیان کیے گئے ہیں-اِس سلسلے میں ایک آیت ىہ ہے: وَاِذَا سَاَلَکَ عِبَادِیْ عَنِّىْ فَاِنِّىْ قَرِیْبٌ ۭ اُجِیْبُ دَعْوَةَ الدَّاعِ اِذَا دَعَانِ ۙفَلْیَسْتَجِیْبُوْا لِیْ وَلْیُؤْمِنُوْابِیْ لَعَلَّہُمْ یَرْشُدُوْنَ(2:186) یعنی جب میرے بندے تم سے میری بابت پوچھیں، تو میں نزدیک ہوں، پکارنے والے کی پکار کا جواب دیتا ہوں جب کہ وہ مجھے پکارتا ہے، تو چاہیے کہ وہ میرا حکم مانیں اور مجھ پر یقین رکھیں،تاکہ وہ ہدایت پائیں-
’رشد‘ ’یرشد‘ کا مطلب ہے ہدایت پانا- القاموس المحیط میں اس کی تشریح ’اہتدى‘ کے لفظ سے کی گئی ہے، اور لسان العرب میں اِ س کا مفہوم بتانے کے لیے ’أصاب وجہَ الأمر‘ کے الفاظ استعمال کیے گئے ہیں- انگریزی زبان میں کہا جائے گا: to find the truth دوسرے الفاظ میں، اِس کا مطلب ہے— سچائی کی دریافت-
اصل یہ ہے کہ انسان کی شخصیت کے دو پہلو ہیں— جسم اور روح- جسم سے مراد آدمی کا مادی وجود ہے اور روح سے مراد اس کا ذہنی وجود ہے- روزے کے مہینے میں ایک شخص دن کے اوقات میں اپنے آپ کو کھانے اور پانی سے روکتا ہے- یہ عمل انسانی شخصیت کے مادی حصے کو دبانے (suppression) کے ہم معنی ہوتا ہے- دوسری طرف، یہ عمل انسانی شخصیت کے روحانی پہلو کو اٹھانے (uplift)کے ہم معنی ہے- اِس طرح آدمی اپنے آپ کو اِس کا اہل بناتا ہے کہ اس کی ذہنی اور روحانی صلاحیتیں بیدار ہوں، وہ برتر حقیقتوں کو دریافت کرنے کے قابل بن سکے- اِس طرح روزہ آدمی کو اِس قابل بناتا ہے کہ وہ مقصدِ اعلی سے کم تر کسی سطح پر جینے کے لیے تیار نہ ہو-
یہی وہ چیز ہے جس کو قرآن کی مذکورہ آیت میں ’’رُشد‘‘ کہا گیا ہے-صحیح ہدایت (right guidance) ہر انسان کی پہلی ضرورت ہے- ہر عورت اور مرد کو چاہئے کہ وہ صحیح ہدایت پانے کو اپنا سب سے بڑا کنسرن (supreme concern)بنائے-
واپس اوپر جائیں

خالص اللہ کے لیےعمل

حضرت ابوہریرہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے روزے کے بارے میں فرمایا: کل عمل بن آدم یضاعف الحسنة بعشر أمثالہا إلى سبع مأة ضعف- قال اللہ تعالى: إلا الصوم، فإنہ لی وأنا أجزی بہ، یدع شہوتہ وطعامہ من أجلی (صحیح مسلم، رقم الحدیث: 1151 ) یعنی انسان کے ہر عمل کا اجر دس گنا سے سات سو گنا تک بڑھایا جاتا ہے- اللہ تعالی نے فرمایا :مگر روزہ کہ وہ میرے لیے ہے اور میں ہی اس کا بدلہ دوں گا- روزے دار میرے لیے اپنی شہوت کو اور اپنے کھانے کو چھوڑتا ہے-
اِس حدیثِ رسول میں جس عظیم ثواب کا ذکر ہے، اس کا تعلق صرف روزے سے نہیں ہے ،بلکہ توسیعی طورپر اُس کا تعلق ہر اُس عمل سے ہے جو للّٰہ یا لأجل اللّٰہ کیا گیا ہو، یعنی وہ عمل جو خالص اللہ کے لیے کیا جائے- یہ وہ عمل ہے جو اللہ سے بے پناہ تعلق کے تحت ظہور میں آتا ہے-
ایک انسان جس کو اللہ کی اعلی معرفت حاصل ہوئی ہو، جس کے اندر اللہ سے حبّ شدید (2:165) پیدا ہوگیا ہو، جو اللہ سے خوفِ شدید کی نفسیات میں جیتا ہو، جس کے تعلق باللہ نے اُس کا یہ حال کردیا ہو کہ اللہ اس کا سول کنسرن (sole concern)بن گیا ہو، اللہ کی یاد جس کا سب سے بڑا سرمایہ بنا ہوا ہو، ایسا انسان اگر بظاہرایک چھوٹا سا کام بھی خالصتاً اللہ کے لیے کرے تو داخلی اسپرٹ کے اعتبار سے، وہ اتنا بڑا ہوتا ہے کہ سارے زمین وآسمان بھی اس کا تحمل نہ کرسکیں-
ایسا ایک عمل اپنی داخلی اسپرٹ کے اعتبار سے، کسی انسان کا عظیم ترین عمل ہوتا ہے- اس کی کیفیاتی قدر وقیمت (qualitative value) اتنی زیادہ ہوتی ہے کہ کسی بھی پیمانے سے اس کو ناپا یا تولا نہیں جاسکتا- وہ اپنی حقیقت کے اعتبار سے، انسان کی پوری شخصیت کا اظہار ہوتا ہے- یہ ربانی عمل کی وہ قسم ہے جب کہ بندہ اپنے آپ کو آخری حد تک اللہ کے آگے ڈال دیتا ہے- اُس وقت اللہ بھی اپنے لامحدود انعام کو اپنے بندے کے لیے مقدر کردیتاہے-
واپس اوپر جائیں

سورہ العصر

سورہ العصر قرآن کی ایک چھوٹی سورہ ہے- اس کی صرف تین آیتیں ہیں- اس کا متن اور ترجمہ یہ ہے: وَالْعَصْرِ۝ اِنَّ الْاِنْسَانَ لَفِیْ خُسْرٍ ۝ اِلَّا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ وَتَوَاصَوْا بِالْحَقِّ ڏ وَتَوَاصَوْا بِالصَّبْرِ(103:1-3) یعنی زمانہ گواہ ہے کہ بے شک انسان گھاٹے میں ہے- سوا اُن لوگوں کے جو ایمان لائے اور عملِ صالح کیا، اور ایک دوسرے کو حق کی نصیحت کی اور ایک دوسرے کو صبر کی نصیحت کی-
قرآن کی یہ سورہ پورے قرآن کا خلاصہ ہے- امام شافعی نے کہا کہ: لو لم ینزل اللہ سوى ہذہ السورة، لکفت الناس- (صفوة التفاسیر للصابونی: 3/60 ) یعنی اگر اللہ صرف اِس سورہ کو اتارتا تو یہی ایک سورہ لوگوں کی رہنمائی کے لیے کافی ہوجاتی-
یہ بات بلاشبہہ درست ہے- لیکن سورہ العصر کا یہ فائدہ صرف اس کے ترجمے سے معلوم نہیں کیا جاسکتا- یہ فائدہ صرف اُس وقت معلوم ہوتا ہے جب کہ اُس پر تدبر کیا جائے- قرآن کے تمام گہرے معانی صرف اُس انسان پر کھلتے ہیں جو تدبر کے شرائط کے ساتھ اس پر تدبر کرے-
’عصر‘ کا لفظی مطلب زمانہ ہے-لیکن یہ لفظ یہاں تاریخ کے معنی میں ہے، یعنی انسانی تاریخ اپنے نتیجے کے اعتبار سے اِس بات کی گواہی دیتی ہے کہ انسان گھاٹے میں ہے- ’خُسر‘ یہاں محرومی کے معنی میں ہے- اِس محرومی سے مستثنی صرف وہ لوگ ہیں جو ایمان اور عمل صالح کا ثبوت دیں، اور وہ تواصی بالحق اور تواصی بالصبر کی صفت اپنے اندر رکھتے ہوں-
اِس آیت میں جس چیزکو ایمان اور عمل صالح اور حق وصبر کے الفاظ میں بیان کیاگیاہے، اُس کا مفہوم دوسرے لفظوں میں یہ ہے کہ وہ لوگ جو اللہ کے تخلیقی منصوبہ (creation plan ) کو جانیں، وہ اِس حقیقت کو اِس طرح دریافت کریں کہ وہ اُن کے شعور کا حصہ بن جائے- اللہ کے اِسی منصوبۂ تخلیق کے مطابق، وہ اپنی شخصیت کی تعمیر کریں، وہ خود اپنی زندگی میں اس کو اختیار کریں اور اِسی کے ساتھ وہ دوسروں کو بھی اِس کی تلقین کریں-
مزید غور کیجئے تو معلوم ہوتاہے کہ سورہ العصر کا پیغام یہ ہےکہ اللہ نے انسان کو امکانی طورپر ایک کامیاب انسان کی حیثیت سے پیدا کیا- لیکن تاریخ کا مشاہدہ بتاتا ہے کہ انسان نے اپنے حق میں اِس امکان سے فائدہ نہیں اٹھایا- اس کے برعکس، اس نے یہ کیا کہ وہ گھاٹے اور محرومی کا کیس بن گیا-
یہ واقعہ اللہ کی تقدیر کی بنا پر نہیں ہوا، بلکہ اِس لیے ہوا کہ انسان نے اللہ کے تخلیقی منصوبے کو نہیں سمجھا- اُس نے بطور خود اپنی زندگی کا نقشہ بنایا- اِس خود ساختہ رویے کا نتیجہ یہ ہوا کہ انسان محرومی کا شکار ہو کر رہ گیا-
انسان سے یہ مطلوب تھاکہ وہ اپنی زندگی کا مقصد اللہ کے تخلیقی منصوبے کی روشنی میں متعین کرے- اللہ جو اس کا خالق اورمالک ہے، اُسی کو وہ اپنا سب سے بڑا کنسرن (sole concern) بنائے- وہ محبت اور خوف کے جذبات کو اللہ کے لیے خالص کردے- وہ صرف اللہ کا عبادت گزار بنے- اخلاقی معاملے میں وہ اللہ کے مقرر کیے ہوئے اصول کی پابندی کرے- وہ اپنی انفرادی زندگی اور اجتماعی زندگی کو اللہ کے بتائے ہوئے نقشے کے مطابق تشکیل دے- وہ دنیا کو دار الامتحان سمجھے- وہ آخرت کی کامیابی کو اپنا نشانہ بنائے- وہ آخری حد تک جنت کا حریص ہو، وہ جہنم سے آخری حد تک ڈرنےوالا بن جائے-
تاریخ بتاتی ہے کہ بیش تر لوگ اللہ کا مطلوب انسان بننے میں ناکام رہے- اُن کو یہ کرنا تھاکہ وہ دنیا سے رخصت ہوں تو وہ اللہ کے مطلوب انسان بن چکے ہوں، تاکہ موت کے بعد جب وہ اللہ کے سامنے کھڑے ہو تو اللہ انھیں رد نہ کرے، بلکہ وہ انھیں قبول کرلے- مگر بیش تر انسانوں کا کیس اِس معاملے میں، خسران کا کیس بن گیا-
قرآن کی یہ سورہ جوساتویں صدی عیسوی کے آغاز میں اتری، وہ گویا ایک انتباہ (warning) ہے- وہ انسان کو متنبہ کررہی ہے کہ وہ اِس غلطی سے بچے- وہ اُن خوش قسمت انسانوں میں سے بنے جن کے لیے آخرت میں جنت کے دروازے کھولے جائیں گے-
واپس اوپر جائیں

حبطِ اعمال

قرآن کی سورہ الحجرات میں آدابِ کلام کے ذیل میں کچھ ہدایات دی گئی ہیں- اِس سلسلے میں اس کی تین آیتوں کا ترجمہ یہ ہے: ’’اے ایمان والو، تم اللہ اور اس کے رسول سے آگے نہ بڑھو، اور اللہ سے ڈرو- بے شک اللہ سننے والا، جاننے والا ہے- اے ایمان والو، تم اپنی آوازیں پیغمبر کی آواز سے اوپر مت کرو اور اُس کو اِس طرح آواز دے کر نہ پکارو جس طرح تم آپس میں ایک دوسرے کو پکارتے ہو- کہیں ایسا نہ ہو کہ تمھارے اعمال حبط ہوجائیں اور تم کو اس کا شعور بھی نہ ہو- جو لوگ اللہ کے رسول کے آگے اپنی آوازیں پست رکھتے ہیں، وہی وہ لوگ ہیں جن کے دلوں کو اللہ نے تقوی کے لیے جانچ لیا ہے- ان کے لیے مغفرت اور اجرِ عظیم ہے‘‘- (49:1-3)
قرآن کی اِن آیتوں میں پیغمبر کی مجلس کے حوالے سے ایک اہم اصول بیان کیا گیا ہے- اِس اصول کا تعلق پیغمبر کے زمانے میں پیغمبر کی مجلس سے بھی تھا اور بعد کے زمانے میں دوسری مجالس سے بھی ہے- پیغمبر کے زمانے میں کسی مجلس میں جو بات ہوتی تھی، وہ کیا تھی، وہ بلاشبہہ دین اور دعوت کی بات ہوتی تھی- گویا کہ قرآن کی مذکورہ ہدایت دینی مجلس کی نسبت سے ہے، نہ کہ محض ذاتِ رسول کی نسبت سے- ایسے موقع پر یہ ہوتاہے کہ کچھ لوگ تو سنجیدہ انداز میں اور متقیانہ انداز میں بولتےہیں- یہی مطلوب انداز ہے- اِس کے برعکس، کچھ لوگ ایسا کرتے ہیں کہ وہ غیر سنجیدہ انداز میں محض اپنے ذاتی ذہن کے تحت زور زور سے بولنے لگتے ہیں- یہ انداز ایک غیر مطلوب انداز ہے اور اِسی غیر متقیانہ روش سے قرآن کی اِس آیت میں منع کیاگیا ہے-
دینی موضوع پر کلام کے وقت صحیح طریقہ یہ ہے کہ آدمی شدت کے ساتھ قرآن وسنت کی پابندی کرتے ہوئے بولے- وہ ایسا نہ کرے کہ محض اپنے ذاتی خیال کو لے کر زور زور سے بولنے لگے- قرآن کی اِس آیت میں متقیانہ کلام کی ہدایت ہے اور غیر متقیانہ کلام کی ممانعت- متقیانہ کلام کو دوسرے الفاظ میں، سنجیدہ کلام (serious talk) اور غیر متقیانہ کلام کو غیر سنجیدہ کلام (non-serious talk) کہاجاسکتاہے- متقیانہ کلام وہ ہے جو اُس احساسِ ذمے داری کے ساتھ نکلے جو حضرت ابو بکر صدیق نے اپنے ایک قول میں اِس طرح بیان کیا تھا: أی سماء تظلّنی وأی أرض تقلنی إذا قلتُ فی کتاب اللہ ما لا أعلم (القرطبی: 19/221 ) یعنی کون سا آسمان مجھے سایہ دے گا اور کون سی زمین مجھ کو پناہ دے گی، اگر میں اللہ کی کتاب کے بارے میں ایسی بات بولوں جس کا مجھے علم نہیں (جس کی تائید میں میرے پاس کتاب اللہ کا کوئی حوالہ نہیں)-
موجودہ زمانہ پرنٹنگ پریس کا زمانہ ہے- موجودہ زمانے میں اظہارِ خیال کا ذریعہ صرف بالمشافہ گفتگو نہیں ہے، بلکہ چھپی ہوئی تحریروں کی شکل میں اظہار خیال عام ہوگیا ہے- ایسی حالت میں، وسیع تر انطباق (extended application) کے اعتبار سے، تحریری اظہارِ خیال بھی اس میں شامل ہوگا- اِس معاملے میں متقیانہ تحریر وہ ہے جو اللہ کے سامنے جواب دہی (accountability) کے احساس کے تحت تیار کی گئی ہو- اِس کے برعکس، جو لوگ ایسا کریں کہ جو کچھ اُن کے ذہن میں ہے، اس کو لکھ کر چھاپنا شروع کردیں اوراس کی تحقیق نہ کریں کہ وہ کتاب وسنت کے مطابق ہے یا نہیں، ایسے لوگوں کے لیے شدید طورپر یہ خطرہ ہےکہ ان کی کوششیں حبطِ اعمال کا شکار ہوجائیں-
قرآن کی مذکورہ آیت میں بتایا گیا ہےکہ غیر متقیانہ کلام یا غیر ذمے دارانہ کلام کرنے والوں کے لیے حبطِ اعمال کا اندیشہ ہے- اِس حبطِ اعمال کی سنگینی یہ ہے کہ وہ غیر شعوری طورپر پیش آتاہے، یعنی آدمی بطور خود یہ سمجھتاہے کہ وہ حق وصداقت کی بات بول رہاہے، لیکن نتیجہ (result) کے اعتبار سے، اس کی تقریر وتحریر سرتاسر عبث قرار پائے گی اور آدمی کو اِس کا شعوربھی نہ ہوگا-مزید غور کرنے سے معلو م ہوتا ہے کہ اپنی حقیقت کے اعتبار سے، یہ معاملہ کنڈیشننگ (conditioning) کا معاملہ ہے- غلط افکار کے درمیان عرصے تک جینے کا یہ نتیجہ ہوتا ہے کہ آدمی کے ذہن کی تشکیل ایک خاص انداز سے ہوجاتی ہے- وہ سمجھتا ہے کہ میں جو کچھ سوچتا ہوں، وہ حق ہے، حالاں کہ وہ حق نہیں ہوتا، بلکہ صرف اس کے غلط مائنڈ سیٹ (mindset) کا نتیجہ ہوتاہے- ایسی حالت میں آدمی کا پہلا فرض یہ ہے کہ وہ اپنے ذہن کی ڈی کنڈیشننگ کرکےاپنے آپ کو صحیح الفکر انسان (right-thinker)بنائے-
واپس اوپر جائیں

انسان کی محرومی

قرآن کی سورہ الاعراف میںانسان کی حالت پر ایک تبصرہ اِن الفاظ میں کیا گیا ہے: وَاتْلُ عَلَیْہِمْ نَبَاَ الَّذِیْٓ اٰتَیْنٰہُ اٰیٰتِنَا فَانْسَلَخَ مِنْہَا فَاَتْبَعَہُ الشَّیْطٰنُ فَکَانَ مِنَ الْغٰوِیْنَ ؁ وَلَوْ شِئْنَا لَرَفَعْنٰہُ بِہَا وَلٰکِنَّہٗٓ اَخْلَدَ اِلَى الْاَرْضِ وَاتَّبَعَ ہَوٰىہُ ۚ فَمَثَلُہٗ کَمَثَلِ الْکَلْبِ ۚ اِنْ تَحْمِلْ عَلَیْہِ یَلْہَثْ اَوْ تَتْرُکْہُ یَلْہَثْ ۭ ذٰلِکَ مَثَلُ الْقَوْمِ الَّذِیْنَ کَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا ۚ فَاقْصُصِ الْقَصَصَ لَعَلَّہُمْ یَتَفَکَّرُوْنَ (7:175-176) یعنی اُن کو اُس شخص کا حال سناؤ جس کو ہم نے اپنی نشانیاں دی تھیں تو وہ اُن سے نکل بھاگا- پس شیطان اس کے پیچھے لگ گیا اور وہ گمراہوں میں سے ہوگیا- اور اگر ہم چاہتے تو اس کو اُن نشانیوں کے ذریعے سے بلندی عطا کرتے، مگر وہ تو زمین کا ہورہا اور اپنی خواہشوں کی پیروی کرنے لگا- پس اس کی مثال کتّے کی سی ہے کہ اگر تو اُس پر بوجھ لادے تب بھی وہ ہانپے اور اگر چھوڑ دے تب بھی ہانپے- یہ مثال اُن لوگوں کی ہے جنھوںنے ہماری نشانیوں کو جھٹلایا- پس تم یہ احوال اُن کو سناؤ، تاکہ وہ غور کریں-
شانِ نزول کی روایت کے مطابق، قرآن کی اِس آیت میں ایک شخص کا قصہ بیان ہوا ہے- یہ حضرت موسی کے زمانے کا ایک بڑا اسرائیلی عالم تھا جس کا نام بلعم بن باعوراء بتایا گیا ہے- مگر قرآن کے اسلوب کے مطابق، یہاں انفرادی حوالہ (particular reference) میں ایک عمومی بات کہی گئی ہے- اِس کا مطلب یہ ہے کہ انسان کے علم میں ایسی نشانیاں (signs) آتی ہیں جو اس کو بتاتی ہیںکہ وہ اپنی زندگی کو اعلی مقصد کے لیے استعمال کرے- لیکن شیطانی وسوسے کے زیر اثر وہ اپنی خواہشات سے مغلوب ہوجاتاہے اور اُن چیزوں کو اپنا نشانہ بنا لیتاہے جس کے لیے وہ پیدا نہیں کیاگیا تھا-
قرآن کی اِس آیت میں وہی بات کہی گئی ہے جو انسان کے حوالے سے دوسرے مقام پر اِن الفاظ میں آئی ہے: کَلَّا بَلْ تُحِبُّوْنَ الْعَاجِلَةَ ۙ وَتَذَرُوْنَ الْاٰخِرَةَ (75:20-21)- اصل یہ ہے کہ انسان کی ذات میں تخلیقی طورپر ایسی نشانیاں ہیں جو بتاتی ہیں کہ اُس کو ایک اعلی مقصد کے لیے پیدا کیاگیا ہے- وہ اعلی مقصد یہ ہے کہ آدمی اپنے اندر ربانی شخصیت کی تعمیر کرے اور آخرت میں ابدی جنت کی صورت میں اس کا انعام پائے-
مگر ’’آج‘‘ کے مواقع کو نظر انداز کرکے ’’کل‘‘ کے لیے اپنے آپ کو وقف کردینا انسان کو مشکل معلوم ہوتا ہے، اِس لیے وہ ایسا کرتاہے کہ وہ آنے والے کل (tomorrow) کو نظر انداز کردیتا ہے اور اُس فوری فائدہ کے حصول کو اپنا نشانہ بنا لیتاہے جس کو آج کل ’رائٹ ہیئر، رائٹ ناؤ‘ (right here, right now) کہا جاتا ہے، اِس طرح انسان اپنے آپ کو اُس اعلی کامیابی سے محروم کرلیتا ہے جو اُس کے خالق نے اس کے لیے مقدر کیا ہے-
ایسے انسان کی مثال اُس کتے سے دی گئ ہے جس کا حال یہ ہوتا ہے کہ اگر اس پر بوجھ لادا جائے تب بھی وہ ہانپے اور اگر چھوڑ دیا جائے تب بھی ہانپے- یہ تمثیل بہت بامعنی ہے- اِس کا مطلب یہ ہے کہ انسان اپنی تخلیق کے اعتبار سے چوں کہ جنت کے لیے پیدا کیا گیاہے، اِس لیے جنت کے سوا کوئی اور نشانہ اختیار کرنے کی صورت میں اس کی فطرت ہمیشہ غیر مطمئن رہتی ہے- پہلے مرحلے میں اُس کو یہ نشانہ بہت مشکل نظر آتا تھا کہ وہ نہ دکھائی دینے والی آخرت کی خاطر دکھائی دینے والی دنیا کو قربان کردے- لیکن جب وہ دکھائی دینے والی دنیا کے حصول کے لیے اپنی پوری طاقت لگا دیتا ہے اور بظاہر اپنا نشانہ پورا کرلیتا ہے، تب بھی وہ غیر مطمئن رہتا ہے، کیوں کہ جس دنیوی چیز کو اُس نے پایا ہے، وہ اس کی اُس داخلی طلب کے مطابق نہیں جو فطری طورپر اس کے اندر موجود ہے-
’’یہ مثال اُن لوگوں کی ہے جنھوں نے ہماری نشانیوں کی تکذیب کی‘‘- یہاں تکذیب سے مراد نظر انداز کرنا یا سبق نہ لینا ہے- انسان کا معاملہ یہ ہے کہ اُس کو ایک خدا طلب مخلوق (God-seeking being) کے طور پر پیدا کیاگیا ہے- جب وہ خدا کے سوا کسی اور چیز کو اپنا مقصود بناتاہے تو بہت جلد اس کو عدم مطابقت کا احساس ہونے لگتاہے- اس کی فطرت یاددلاتی ہے کہ یہ وہ چیز نہیں جو تمھارا اصل مقصود تھی، مگر آدمی شیطان کے زیر اثر فطرت کے اِن اشاروں کو نظر انداز کردیتا ہے، وہ بدستور ایساکرتاہے کہ وہ غیر مقصود کو اپنا مقصود بنائے رہتا ہے- وہ اِسی حال میں جیتا ہے، یہاں تک کہ مر کر اِس دنیا سے چلا جاتاہے-
واپس اوپر جائیں

فہمِ قرآن— ایک مطالعہ

قرآن، خدا کی محفوظ کتاب ہے- قرآن ساتویں صدی عیسوی کے ربع اول میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل کیا گیا- قرآن میںاس کے نزول کا مقصد اِن الفاظ میں بتایا گیاہے: تَبٰرَکَ الَّذِیْ نَزَّلَ الْفُرْقَانَ عَلٰی عَبْدِہٖ لِیَکُوْنَ لِلْعٰلَمِیْنَ نَذِیْرَا(25:1) یعنی بہت بابرکت ہے وہ ذات جس نےاپنے بندے پر قرآن اتارا، تاکہ وہ جہان والوںکے لیے آگاہ کرنے والا ہو-
قرآن ساتویں صدی عیسوی کے قدیم عرب میں اترا- اُس وقت وہ صرف امکانی طورپر نذیر ِ عالم تھا- کیوں کہ بطو ر واقعہ نذیر عالم بننے کے لیے عالمی کمیونکیشن (global communication) کے ذرائع درکار ہیں، جو اُس وقت موجود ہی نہ تھے- حقیقت یہ ہے کہ قرآن میں یہ بات مستقبل کے اعتبار سے کہی گئی تھی، نہ کہ حال کے اعتبار سے-جیسا کہ معلوم ہے، قرآن کے نزول کے بعد انسانی تاریخ میں ایک انقلابی پراسس (revolutionary process) شروع ہوا- یہ عمل مختلف مراحل سے گزرتے ہوئے تقریباً ایک ہزار سال کے بعد اپنے نقطہ انتہا (culmination) تک پہنچا- یہ عالمی کمیونکیشن کا دور تھا- اب وقت آگیا تھاکہ قرآن کو نذیر ِ عالم کی حیثیت سے ساری دنیا میں پہنچا دیا جائے- حقیقت یہ ہے کہ جدید مواصلاتی دور، قرآن کو عالمی بنانے کا دور تھا:
The age of communication was the age of universalization of the Quran.
مگر ابھی یہ امکان واقعہ نہ بن سکا- اِس سلسلے میں یہاںیہاں ایک جائزہ پیش کیا جاتاہے-
ایک تاریخی جائزہ
قرآن جس زمانے میں اترا، اُس زمانے میں پرنٹنگ پریس موجود نہ تھا- لوگ قر آن کو یاد کرلیتے اور حافظہ کی مدد سے وہ اس کو پڑھتے یا دوسروں کو پڑھ کر سناتے-رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات( 632عیسوی( تک یہ حال تھا کہ ہرجگہ صرف قرآن کا چرچا ہوتا تھا- آپ کی وفات کے بعد حدیث کا چرچا بڑھ گیا- عباسی دور میں فقہ کا چرچا شروع ہوا- اس کے بعد اِسی دور میں مسلم تاریخیں لکھی گئیں اور تاریخ کا چرچا ہونے لگا- اِس پورے زمانے میں باتیں یا تو حافظہ میں ہوتی تھیں یا ہاتھ سے لکھے ہوئے اوراق میں- چناں چہ فطرتی طورپر قرآن کا دائرہ اشاعت عملاً محدود رہا-
پندرھویں صدی عیسوی میں پرنٹنگ پریس وجود میں آیا- اِسی کے ساتھ کاغذ بھی وسیع پیمانے پر بننے لگا- سولھویں صدی عیسوی میں یہ حال ہوا کہ یورپ میں کتابوں کی چھپائی عام ہوگئی- کتابوں کے مطبوعہ نسخے عمومی طورپر دستیاب ہونے لگے-مگر مسلم دنیا ابھی تک پرنٹنگ پریس سے ناآشناتھی- اورنگ زیب عالم گیر سترھویں صدی کا مسلم بادشاہ ہے- مگر اپنے زمانے میں وہ صرف یہ جانتا تھا کہ لمبی مدت کے دوران قرآن کو اپنے ہاتھ سے لکھ کر اس کا ایک نسخہ تیار کیا جائے- وہ پرنٹنگ ٹکنالوجی کی بابت کچھ نہیں جانتا تھا-
مسلم دنیا میں پرنٹنگ پریس اٹھارھویں صدی کے آخر میں پہنچا- نپولین 1798میں مصر میں داخل ہوا- وہ اپنے ساتھ فرانس سے پرنٹنگ پریس لایا تھا- انیسویں صدی کے آغازمیں کرسچن مشنری کے لوگ انڈیا میں پرنٹنگ پریس لے آئے- اِس طرح دھیرے ھیرے پرنٹنگ پریس پوری مسلم دنیا میں پھیل گیا- بیسویں صدی میں یہ حال ہوا کہ قرآن کے چھپے ہوئے نسخے ہر جگہ پائے جانے لگے- گھر، مسجد، مدرسہ، لائبریری، کوئی جگہ قرآن کے مطبوعہ نسخوں سے خالی نہ رہی-
مگر اب بھی جو حال ہوا، وہ صرف یہ کہ قرآن مسلمانوں کے لیے کتابِ تلاوت بنا رہا، وہ عمومی طور پر ساری انسانیت کے لیے عملاً نذیر ِ عالم نہ بن سکا-ایسا کیوں ہوا، کیوں ایسا ہوا کہ عالمی اِبلاغ کے مواقع پیداہونے کے باوجود قرآن کی عالمی اشاعت نہ ہوسکی-اس کا سبب یہ ہے کہ یہ کام مسلمانوں کو انجام دینا تھا، جو کہ قرآن کے حامل ہیں، مگر اس زمانے کے مسلمان دعوت کے شعور سے مکمل طورپر خالی تھے- بیسویں صدی کے مسلمان ساری دنیا میں منفی سوچ کا شکار ہوگئے، وہ مدعو قوموں کو اپنا حریف سمجھنے لگے- اِس قسم کی منفی سوچ کے ساتھ دعوت وتبلیغ جیسا مثبت کام نہیں کیا جاسکتا-
اصل یہ ہے کہ جس زمانے میں جدید کمیونکیشن کا دور آیا، اُسی زمانے میں ایک اور چیز مسلم دنیا میں داخل ہوگئی، یعنی وہ چیز جس کو مغربی نو آبادیات (western colonialism) کہاجاتا ہے- جدید کمیونکیشن اور نوآبادیات دونوں ایک ساتھ مسلم دنیا میں داخل ہوئے:
The age of communication coincided with the age of colonialism.
مغرب کی نوآبادیاتی قومیں جدید طاقتوں سے مسلح تھیں- چناںچہ فطری طور پر یہ ہوا کہ وہ عمومی طورپر اُس زمانے کے مسلم ممالک پر غالب آگئیں- انھوںنے مسلم اداروں اور مسلم حکومتوں کو زیر کرلیا- اِس کے رد عمل کے طور پر یہ ہوا کہ تمام دنیا کے مسلمان مغربی قوموں کے خلاف نفرت میں مبتلا ہوگئے- اُس زمانے کے تقریباً تمام مسلم رہنماؤں کا ذہن یہ بن گیا کہ سب سے پہلا کام یہ ہے کہ مغربی طاقتوں سے لڑکر اُن کو مسلم دنیا سے نکالو- اِس سیاسی جہاد میں تقریباً تمام لوگ شریک ہوگئے، صرف اِس فرق کے ساتھ کہ کچھ لوگ اُس میں فکری اعتبار سے شریک تھے اور کچھ لوگ مسلح ٹکراؤ میں مشغول تھے-
یہ پورا دورمسلمانوں کے لیے منفی رد عمل کا دور تھا- نفرت اور تشدد کے ماحول میں وہ یہ بھول گئے کہ مغربی قومیں اُن کے لیے دشمن نہیں، بلکہ مدعو ہیں- تاریخ میں پہلی بار یہ امکان پیداہوا ہے کہ قرآن اور ترجمہ قرآن کے مطبوعہ نسخوں کو نہ صرف مغربی قوموں، بلکہ تمام دنیا کی قوموں تک پہنچا دیا جائے، تاکہ قرآن اپنے مقصد نزول کے اعتبار سے نذیر ِ عالم بن جائے، یعنی وہ پیشین گوئی پوری ہوجس کو حدیث میں عالمی ادخالِ کلمہ کہاگیاہے- مسلمانوں کے اندر دوسری قوموں کے لیےمنفی رد عمل کایہ مزاج انیسویں صدی کے نصف ثانی میں شروع ہوا اور اکیسویں صدی کے نصف اول تک منفی رد عمل کی یہ نفسیات بدستور جاری ہے-
موجودہ زمانے کے مسلمانوں نے دوسری قوموں کو اپنا دشمن قرار دے کر جو لڑائی جاری کی، وہ ہر قسم کی بے پناہ قربانیوں کے باوجود مکمل طورپر بے نتیجہ رہی- کوششوں کا یہ منفی انجام کافی تھا کہ مسلمان اِس معاملے میں اپنے موقف پر نظر ثانی کریں- مگر عجیب بات ہے کہ کھلےہوئے ناکام تجربے کے باوجود آج بھی مسلمانوں کے اندر اِس معاملے میں نظر ثانی کا عمل جاری نہ ہوسکا-
قرآن سے ہدایت لینے میں ناکامی
موجودہ زمانے میں جب قرآن کے مطبوعہ نسخے عام ہوئے تو بہت بڑے پیمانے پر مسلمانوں میں قرآن کو پڑھنے کا رواج پیداہوگیا- مسجدوں او راداروں میں درسِ قرآن کا سلسلہ شروع ہوگیا- کتابوں اور جرائد کے ذریعے قرآنی تعلیمات کی اشاعت کی جانے لگی- قرآن کی تفہیم کے لیے جماعتیں بنیں اور ادارے قائم ہوئے- اِس کا نتیجہ یہ ہونا چاہئے تھا کہ مسلمانوں میں عمومی طورپر قرآنی ذہن بنے اور قرآنی طرز فکر پیدا ہو، مگر عجیب بات ہے کہ دروسِ قرآن کی کثرت اور قرآنی کتابوں کی عمومی اشاعت کے باوجود یہ مقصد حاصل نہیں ہوا-
اِس کا اصل سبب یہ ہے کہ قرآن کو صرف پڑھنا کافی نہیں ہے، بلکہ ضروری ہے کہ اُس کو صحیح ذہن کے تحت پڑھا جائے- اِسی لیے قرآن میں کہا گیا ہے: یُضِلُّ بِہٖ کَثِیْرًا ۙ وَّیَہْدِىْ بِہٖ کَثِیْرًا (2:26) یعنی جو لوگ صحیح ذہن کے ساتھ قرآن کو پڑھیں گے، اُن کو قرآن سے ہدایت ملے گی، اور جو لوگ بگڑےہوئے ذہن کے ساتھ قرآن کو پڑھیں، وہ قرآن کو پڑھنے کے باوجود قرآن سے ہدایت پانے سے محروم رہیں گے-
قرآن فہمی کا اصول
علماءِ تفسیر نے عام طورپر قرآن فہمی کے لیے15 علوم میں مہارت کو ضروری قرار دیا ہے— علمِ لغت، علمِ نحو، علمِ صرف، علمِ اشتقاق، علمِ معانی، علمِ بیان، علمِ بدیع، علمِ قرأت، علمِ عقائد، علمِ اصولِ فقہ، علمِ اسبابِ نزول، علمِ ناسخ ومنسوخ، علمِ فقہ، علمِ حدیث، علم وہبی- مگر تجربہ بتاتا ہے کہ صرف یہ علوم قرآن فہمی کے لیےکافی نہیں- بیسویں صدی عیسوی میں کثیر تعداد میں ایسے علما اٹھے جن کا مقصد قرآنی علم کو عام کرنا تھا- یہ علما مذکورہ تمام علوم کے ماہر تھے، مگر عین اِسی دور کے مسلمان ایک بہت بڑے قرآنی علم سے بے خبر رہ گئے- یہ واقعہ ثابت کرتاہے کہ قرآن فہمی کے لیے صرف مذکورہ علوم سے واقف ہونا کافی نہیں-
مطلوب قرآنی علم وہ ہے جس کو کتاب اللہ میں ’’فرقان‘‘ (8:29)کہاگیاہے- فرقان فرق کا مبالغہ ہے-اِس کا مطلب ہے: دو چیزوں کے درمیان فرق کرنے والا- قرآن کی ایک صفت یہ ہے کہ وہ قاریِ قرآن کے اندر فرقان کی صفت پیدا کرتاہے- وہ قاری کو اِس قابل بناتا ہے کہ وہ کسی چیز کے دو پہلوؤں کے درمیان فرق کرسکے- مثلاً وہ ایسا کرسکے کہ وہ کسی چیز کے پلس پوائنٹ کو اس کے مائنس پوائنٹ سے الگ کرکے دیکھ سکے-
موجودہ زمانے میں نوآبادیاتی طاقتیں مغربی تہذیب کو لے کر مسلم دنیا میں داخل ہوئیں- اِس مغربی تہذیب کے دو پہلو تھے- ایک یہ کہ وہ مغربی قوموں کو مسلم دنیا میں غالب کررہی تھیں- اور اس کا دوسرا پہلو یہ تھا کہیہ لوگ پہلی بار دنیا میں جدید مواقع لائے تھے، جن میں کمیونکیشن سر فہرست ہے- اب علماءِ قرآن کو چاہیے تھا کہ وہ اِن دونوں پہلوؤں کو الگ کرکے دیکھیں- وہ خُذ ما صفاودَع ما کدر کے اصول پر مغربی تہذیب کے غیر مطلوب پہلو کو نظر انداز کردیتے اور دعوتی مواقع کو بھر پور طورپر استعمال کرتے، مگر وہ ایسا نہ کرسکے-
یہ واقعہ بتاتا ہے کہ دورِ جدید کے علما اور رہنما اِس معاملے میں فرقان کی صفت سے محروم تھے، یعنی مغربی تہذیب کے مذکورہ دو پہلوؤں کے درمیان فرق کرنا - اُن کے مطالعہ قرآن نے اُن کے اندر یہ صلاحیت پیدا نہیں کی تھی کہ وہ مغربی تہذیب کے اندر چھپے ہوئے مثبت دعوتی پہلو کو اس کے دوسرے پہلو سے الگ کرکے دیکھیں اور دعوتی مواقع کے پہلو کو استعمال کرکے دورِ جدید میں اسلام کی عالمی دعوتی اشاعت کا کام انجام دے سکیں-
ربانی شاکلہ
حقیقت یہ ہے کہ قرآن فہمی کے لیے مذکورہ 15 علوم کے علاوہ ایک اور ضروری چیزدرکار ہے، اور یہی چیز دور جدید کے علما اور رہنماؤں کو حاصل نہ تھی، اوروہ ہے ربانی شاکلہ- اِس علم کا ذکر قرآن کی اِس آیت میں ملتا ہے:قُلْ کُلٌّ یَّعْمَلُ عَلٰی شَاکِلَتِہٖ ۭ فَرَبُّکُمْ اَعْلَمُ بِمَنْ ہُوَ اَہْدٰى سَبِیْلًا (17:84)یعنی کہو کہ ہر ایک اپنے شاکلہ پر عمل کررہا ہے- اب صرف تمھارا رب بہتر جانتا ہے کہ کون زیادہ ٹھیک راستے پر قا ئم ہے-
اِس آیت میں شاکلہ کا مطلب ذہنی سانچہ (mindset) ہے- قریبی حالات کے اعتبار سے، ہر آدمی کا ایک ذہنی سانچہ بن جاتا ہے- وہ اِسی ذہنی سانچہ کی نظر سے چیزوں کو دیکھنے لگتاہے- مگر یہاں ایک برتر ذہنی سانچہ ہے- یہ ذہنی سانچہ آدمی کو اِس قابل بناتا ہے کہ وہ حالات سے اوپر اٹھ سکے- وہ چیزوں کو اللہ کی روشنی سے دیکھنے لگے، جیساکہ حدیث میں آیا ہے: اتقوا فراسةَ المومن فإنہ ینظر بنور اللہ (الترمذی، رقم الحدیث: 3392)- یعنی مومن کی فراست سے بچو، کیوں کہ مومن، اللہ کے نور سے دیکھتاہے- اللہ کے نور سے دیکھنے کا مطلب ہے— چیزوں کو ربانی نقطۂ نظر سے دیکھنا-
قرآن کو صحیح طورپرسمجھنے کے لیے سب سے زیادہ اہمیت اِسی ربانی شاکلہ کی ہے- کہاجاتا ہے کہ کسی کتاب کو درست طورپر سمجھنے کے لیے ضروری ہے کہ قاری، مصنف کے ذہن سے کتاب کو پڑھ سکے- کسی بھی کتاب کو جب آدمی پڑھتا ہے تو وہ اس کو خود اپنے شاکلہ کے مطابق، پڑھتا ہے-
ہوورڈفاسٹ(Howard Fast) ایک کمیونسٹ تھا- خروسچف کے مشہور انکشاف (1956) کے بعد اس نے کمیونسٹ پارٹی کو چھوڑ دیا- وہ اصلاً ایک مارلسٹ(moralist) تھا- اس نے کمیونسٹ لیڈروں کی تحریریں پڑھیں تو اس کو محسوس ہوا کہ کمیونزم سماجی اخلاقیات کی ایک تحریک ہے، جب کہ حقیقت ایسی نہ تھی- بعد کو اس نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ میں خود اپنے ذہنی سانچےمیں کمیونسٹ بنا:
I accepted communism according to my own mindset.
یہی معاملہ ہر انسان کا ہے- اگر آدمی کا ذہن بنا ہوا نہ ہو تو وہ قرآن کو خود اپنے ذہنی سانچے میں پڑھے گا- وہ قرآن کو پڑھ کر بھی قرآن کو نہیں پائے گا- یہی وہ بات ہے جو ایک صحابی نےاِن الفاظ میں کہی ہے : تعلمنا الإیمان ثم تعلمنا القرآن (یعنی ہم نے ایمان کو سیکھا، پھر ہم نے قرآن کو سیکھا)- صحابی کے اِس قو ل میں ایمان سیکھنے سے مراد یہ ہےکہ ہم نے پہلے اپنے ذہنی شاکلہ کی تشکیل ربانی اصول پر کی، پھر ہم اِس قابل ہوئے کہ ہم قرآن کو پڑھ کر اس کو درست طور پرسمجھ سکیں- ربانی شاکلہ کودوسرے الفاظ میں، مثبت شاکلہ (positive mindset)کہا جاسکتا ہے-
غیر قرآنی ذہن
ربانی شاکلہ کیا ہے- ربانی شاکلہ دراصل غیر متعصبانہ طرزِفکر (unbiased thinking) کا دوسرا نام ہے- ایک آدمی جب ہر قسم کے تعصبات سے باہر آکر کھلے ذہن کے تحت سوچے تو اس کی سوچ فطری سوچ بن جاتی ہے- وہ، حدیث کے الفاظ میں، اللہ کے نور سے دیکھنے لگتا ہے- اِسی کا نام ربانی شاکلہ یا ربانی مائنڈ سیٹ (mindset) ہے- ربانی مائنڈ سیٹ کیا ہے، وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک دعا سے معلوم ہوتاہے- یہ دعا اِن الفاظ میں آئی ہے: اللہم أرنا الحق حقاً وارزقنا اتباعہ، وأرنا الباطل باطلاً وارزقنا اجتنابہ، وأرنا الأشیاء کما ہی -
اِس دعا کا خلاصہ ایک لفظ میں یہ ہے کہ — خدایا، تومجھے توفیق دے کہ میں چیزوں کو ایز اِٹ اِز (as it is) دیکھنے لگوں، یعنی کسی آمیزش کے بغیر خالص فطری انداز میں- اِس سے مراد چیزوں کو اُس نظر سے دیکھنا ہے جس نظر سے خدا اُن کو دیکھتا ہے- اِسی طرزِ فکر کا نام ربانی طرزِ فکر ہے، اور یہ ربانی طرزِ فکر کسی آدمی کے اندر کامل ذہنی تطہیر کے ذریعے پیدا ہوتا ہے-
انسانی شاکلہ اور ربانی شاکلہ کے فرق کی ایک مثال صلح حدیبیہ ہے، جس کی بابت قرآن میں یہ الفاظ آئے ہیں: علم ما لم تعلموا (48:27) یعنی اللہ نے وہ جانا جو انسان نے نہیں جانا- حدیبیہ کا معاہدہ یک طرفہ شرطوں پر طے کیا گیا تھا- اِس بنا پر انسانی ذہن نے اس کو ذلت آمیز معاہدہ سمجھا- لیکن اللہ اس کو مستقبل میںدعوتی مواقع کھلنے کے اعتبا رسے دیکھ رہا تھا، یعنی انسان اِس معاہدہ کو حال کی نسبت سے دیکھ رہا تھا، جب کہ خدااس کو مستقبل کی نظر سے دیکھ رہا تھا، اِس بناپر ایسا ہوا کہ جس چیز کو انسان شکست کا درجہ دے رہا تھا، اُس کو خدا نے فتحِ مبین کا درجہ دے دیا-
ذہنی پردہ
قرآن کی سورہ الاسراء میں ایک آیت اِن الفاظ میںآئی ہے: وَاِذَا قَرَاْتَ الْقُرْاٰنَ جَعَلْنَا بَیْنَکَ وَبَیْنَ الَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ بِالْاٰخِرَةِ حِجَابًا مَّسْتُوْرًا(17:45) یعنی جب تم قرآن پڑھتے ہو تو ہم تمھارے اور اُن لوگوں کے درمیان ایک چھپا ہوا پردہ حائل کردیتے ہیں، جو آخرت کو نہیں مانتے:
When you recite the Quran, we place an invisible barrier between you and those who do not believe in the Hereafter.
قرآن کی اِس آیت میں حجابِ مستور سے مراد غیر ربانی مائنڈ سیٹ ہے- قرآن کو سمجھنے کے لیے سب سے پہلے اپنے غیر ربانی مائنڈ سیٹ کو توڑنا پڑتا ہے- دوسرے لفظوں میں، یہ کہ اپنے آپ کو کامل طورپر آبجکٹیو مائنڈ(objective mind) بنانا پڑتاہے- اِس سے معلوم ہوا کہ قرآن کو سمجھنے کے لیے سب سے پہلی شرط سلبی ہے، نہ کہ ایجابی-
ایجابی ذہن کا مطلب ہے، قرآن کو قرآن کے ذہن سے پڑھنا- سلبی ذہن کا مطلب ہے، اپنے غیر قرآنی ذہن کی تطہیر کرنا- قرآن کے صحیح مطالعے کے لیے جو ترتیب ہے، وہ یہ ہے کہ آدمی پہلے اپنے غیر قرآنی ذہن کے خول سے باہر آئے، اِس کے بعد ہی یہ ممکن ہوگا کہ وہ ایجابی ذہن کے تحت قرآن کو پڑھے اور اس کو سمجھ سکے- گویا کہ کلمہ توحید (لا إلہ إلا اللہ) کی طرح یہاں بھی یہ اصول ہے کہ پہلے نفی کا مرحلہ ہے اور اس کے بعد اثبات کا مرحلہ، یعنی پہلے اپنے ذہن کے حجاب کو ہٹانا پڑتاہے، اس کے بعد ہی کسی کے لیے یہ ممکن ہوتاہے کہ وہ قرآن کو پڑھے اور اس کے صحیح مفہوم تک پہنچ سکے-
جس زمانے میں کمیونزم کا زور تھا، ایک تعلیم یافتہ مسلمان نے قرآن کو پڑھا- وہ اشتراکی فکر سے متاثر تھے- وہ قرآن کو پڑھتے ہوئے اِس آیت تک پہنچے: إن الأرض للہ ( 7:128) - اِس آیت کو پڑھ کر انھوں نے اپنے مائنڈ سیٹ کے مطابق، یہ سمجھ لیا کہ قرآن بھی اشتراکیت کی تعلیم دیتاہے- انھوںنے کہاکہ اِس آیت میں کہاگیا ہے کہ زمین اللہ کی ہے- اِس کا مطلب یہ ہے کہ زمین اسٹیٹ کی ہے- اسٹیٹ کو یہ حق ہے کہ وہ لوگوں کی زمین پر قبضہ کرکے اشتراکی اصول پر زراعت کا نظام بنائے- اِسی طرح ایک اور تعلیم یافتہ مسلمان جو جمہوری فکر سے متاثر تھے، انھوں نے جب قرآن میں یہ آیت پڑھی: وَأَمْرُہُمْ شُوْرَی بَیْنَہُمْ ((42:38تو انھوں نے خوش ہو کر کہا کہ دیکھو، قرآن میں بھی جمہوریت (ڈیماکریسی) کی تعلیم موجود ہے-
ایک اور تعلیم یافتہ مسلمان نے قرآن کی یہ آیت پڑھی: فَاَوْقِدْ لِیْ یٰہَامٰنُ عَلَی الطِّیْنِ فَاجْعَلْ لِّیْ صَرْحًا (28:38)- اِن الفاظ کو پڑھ کر مذکورہ مسلمان نے کہا کہ اِس سے معلوم ہوتا ہے کہ قرآن سیریمک انڈسٹری (ceramic industries) کی تعلیم دے رہا ہے- اِس کا تقاضا ہے کہ مسلمان سیریمک انڈسٹریز اور دوسری صنعتیں قائم کریں- وہ صنعت اور تجارت کے میدان میں آگے بڑھیں-
اِس قسم کی بہت سی مثالیں ہیں جو بتاتی ہیں کہ اگر قاری کا ذہن تیار ذہن نہ ہو تو وہ خود اپنے مائنڈ سیٹ کے مطابق، قرآن کو پڑھے گا- وہ قرآن کی آیتوں میں ایسی بات پالے گا جو خود قرآن میں موجود نہیں، بلکہ وہ خود اس کے اپنے ذہن میں پائی جاتی ہے-
چند وضاحتی مثالیں
1- مصر کے مشہور انقلابی رہنما سید قطب کا نظریہ تھا کہ پیغمبروں کی دعوت کا نشانہ یہ تھا کہ وہ دنیا میں حکومتِ الہیہ قائم کریں- اِس ذہنی تاثر(obsession) کے تحت، انھوں نے قرآن کو پڑھا تو عجیب وغریب طورپر ان کو نظر آیا کہ قرآن اُن کے سیاسی ذہن کی تصدیق کررہا ہے- مثلاً قرآن کی سورہ الاعراف میں بتایا گیاہے کہ حضرت موسی نے جب اُس وقت کے مصری حکمراں فرعون کے سامنے اپنی دعوت پیش کی تو فرعون نے اپنی جوابی تقریر میں اپنے درباریوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا: یُرِیْدُ اَنْ یُّخْرِجَکُمْ مِّنْ اَرْضِکُمْ( 7:110) یعنی موسی چاہتے ہیں کہ وہ تم کو تمھارے ملک مصر سے نکال دیں-
سید قطب نے جب اِن الفاظ کو پڑھا تو اپنے مائنڈ سیٹ کے مطابق، انھوں نے یہ سمجھا کہ حضرت موسی کی دعوت ملک میں سیاسی اقتدار قائم کرنے کی دعوت تھی- چناں چہ وہ اپنی تفسیر میں لکھتے ہیں: إنہا الخروج من الأرض، إنہا ذَہاب السلطان، إنہا إبطال شرعیة الحکم، أومحاولة قلب نظام الحکم، بالتعبیر العصری الحدیث (3/1348) یعنی یہ سرزمینِ مصر سے نکلنے کا معاملہ ہے، یہ اقتدار کا خاتمہ ہے، یہ ہماری حکمرانی کو ناجائز ٹھہرانا ہے، یا یہ، دورِ جدید کی تعبیر کے مطابق، نظامِ حکومت کو بدلنے کی کوشش ہے-
مذکورہ مصنفکے یہ الفاظ خود ان کے اپنے ذہن کی ترجمانی ہیں، وہ حضرت موسی کی ترجمانی نہیں- واضح بات ہے کہ حضرت موسی کا پیغام کلامِ موسی سے نکلے گا، نہ کہ کلامِ فرعون سے- مگر اپنے متاثر ذہن کی بنا پر مصنف اِس فرق کو نہ سمجھ سکے- انھوںنے قرآن کی آیت کی ایسی تشریح کردی جس کا تعلق خود قرآن سے نہ تھا، بلکہ خود اُن کے اپنے مائنڈ سیٹ سے تھا-
2- امام ابن تیمیہ کی ایک مشہور کتاب ہے- اس کا ٹائٹل یہ ہے: الصارم المسلول على شاتم الرسول- اِس کتاب میں انھوں نے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی ہے کہ اسلام میں شاتمِ رسول کی سزا قتل ہے- اُن کا دعوی ہے کہ یہ حکم قرآن کی متعدد آیتوں میں بیان کیا گیاہے- مثلاً اِس سلسلے میں انھوں نے قرآن کی یہ آیت پیش کی ہے: اِنَّ الَّذِیْنَ یُؤْذُوْنَ اللّٰہَ وَرَسُوْلَہٗ لَعَنَہُمُ اللّٰہُ فِی الدُّنْیَا وَالْاٰخِرَةِ (33:57) یعنی جو لوگ اللہ اور اس کے رسول کو اذیت دیتے ہیں، اللہ نے اُن پر دنیا اور آخرت میںلعنت کی-
ابن تیمیہ آیت کی شرح میں لکھتے ہیں: وہذہ الآیة تو جب قتلَ مَن آذى اللہ ورسولہ(صفحہ 26) یعنی یہ آیت واجب قرار دیتی ہے کہ اُس شخص کو قتل کردیا جائے جو اللہ کو اور اس کے رسول کو ایذا پہنچائے-مذکورہ آیت کی اِس شرح کا تعلق خود قرآن کی آیت سے نہیں ہے- اِس آیت میں شتمِ رسول پر قتل کا مسئلہ سرے سے بیان ہی نہیں ہوا ہے، مگر مصنف کے خود اپنے مائنڈ سیٹ کی بنا پر ایساہوا کہ انھوں نے ’’اذیت‘‘ کو شتم کے معنی میں لے لیا، اور ’’لعنت‘‘ کو قتل کے معنی میں- یہ دونوں باتیں خود مصنف کے دماغ میں تھیں، وہ ہرگز قرآن کی مذکورہ آیت میں موجود نہ تھیں-
ربانی مائنڈ سیٹ کا معاملہ کوئی سادہ معاملہ نہیں، وہ نہایت سنگین معاملہ ہے- اگر ربانی مائنڈ سیٹ نہ ہو تو آدمی قرآن کی رہنمائی سے محروم ہوجائے گا- وہ کسی مسئلے کو دیکھ کر اپنے مائنڈ سیٹ کی بنا پر اس کے بارے میں منفی رائے دے گا، حالاں کہ اُس مسئلے کے بارے میں قرآن میں مثبت نقطۂ نظر موجودہوگا - مگر وہ اپنی منفی سوچ کی بنا پر قرآن کی اِس رہنمائی کو اخذ کرنے سے محروم رہے گا-
مثلاً ایک عربی مجلہ میں مسلم اقلیتوں کے بارے میں ایک مضمون چھپا ہے- مضمون نگار نے اپنے اِس مضمون میں مسلم اقلیتوں (Muslim minorities) کے بارے میں یہ الفاظ لکھے ہیں: الأقلیات المسلمة تواجہ خطر الذوبان (مسلم اقلیتوں کے لیے غیر مسلم اکثریت میں جذب ہونے کے خطرے کا سامنا)-مسلم اقلیتوں کے بارے میں یہ تصور تمام تر خود ساختہ مائنڈسیٹ کی بنا پر پیدا ہوا- اگر اِس مسئلے کو ربانی شاکلہ کی نسبت سے دیکھا جائے تو معلوم ہوگا کہ قرآن کسی اقلیت کے بارے میں برعکس طورپر پُرامید تصور دیتاہے- قرآن کی وہ آیت یہ ہے: کَمْ مِّنْ فِئَةٍ قَلِیْلَةٍ غَلَبَتْ فِئَةً کَثِیْرَةًۢ بِاِذْنِ اللّٰہِ (2:249) یعنی کتنے ہی اقلیتی گروہ ہیں جو اکثریتی گروہ پر غالب آجاتے ہیں، اللہ کے اِذن سے-
قرآن کی اِس آیت پر غور کیجئے تو معلوم ہوگا کہ جب دو گروہ کسی علاقے میں مشترک طورپر رہتے ہوں، ایک گروہ اقلیت میں ہو اور دوسرا گروہ اکثریت میں- ایسے ماحول میں یہ ہوتا ہے کہ اکثریتی گروہ، اقلیتی گروہ کے لیے ایک مسلسل چیلنج بن جاتا ہے- یہ چیلنج اقلیتی گروہ کے اندر فطری طورپر زیادہ سوچ اور زیادہ عمل کا مزاج بناتاہے- اِس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ اقلیتی گروہ جو پہلے صرف ایک اقلیتی گروہ تھا، اب وہ ایک تخلیقی اقلیت (creative minority) بن جاتا ہے- اور یہ ایک فطری حقیقت ہے کہ جس فرد یا جس گروہ میں تخلیقی صلاحیت پیدا ہوجائے، وہ زیادہ بڑے کارنامے انجام دینے کے قابل ہوجاتاہے-
اجتہادی تفسیر
اجتہادی تفسیر اور تفسیر بالرائے دونوں ایک تفسیر نہیں ہیں- تفسیر بالرائے ایک غیر مطلوب تفسیر ہے- اس کے مقابلے میں، اجتہادی تفسیر عین مطلوب تفسیر ہے- تفسیر بالرائے قرآن سے انحراف ہے، جب کہ اجتہادی تفسیر کامل معنوں میں قرآن کا اتباع ہے-
اجتہادی تفسیر کیا ہے- اجتہادی تفسیر کا مطلب قرآن کی کسی آیت کی معنویت کو ازسرِ نو دریافت کرنا ہے- اجتہادی تفسیر دراصل یہ ہے کہ بدلے ہوئے حالات میں قرآن کا انطباقِ نو (re-application) معلوم کیا جائے- اجتہادی تفسیر، قرآن کے تسلسل کا اظہار ہے- صرف اجتہادی تفسیر کے ذریعے یہ ممکن ہے کہ قرآن ہر دور کے ذہن کو ایڈریس کرتا رہے-
قرآن میں بتایا گیاہے کہ انبیا اپنے وقت کے ملاء کو خطاب کرتے تھے-ملاء کا لفظ قرآن میں تقریباً 30 بار آیا ہے- ملاء کا مطلب ہے— سردارِ قوم (head of nation)- پیغمبر کا اسلوبِ دعوت یہ ہے کہ قبیلہ یا قوم کے سردار کو خصوصی طورپر خطاب کیا جائے- اِس حکمت کا سبب یہ ہے کہ ملاء کی حیثیت ذہن ساز (opinion-maker) کی ہوتی ہے-اِس لیے ملاء تک پیغام پہنچانا، بالواسطہ انداز میں، پورے گروہ تک پیغام پہنچانا ہوتا ہے-
ملاءِ قوم کے اِس تصور کو اجتہادی نقطہ نظر سے دیکھا جائے تواِس سے ایک عظیم حقیقت کا انکشاف ہوتاہے- موجودہ زمانے میں مغربی تہذیب کے علم برداروں کو یہی درجہ مل گیا تھا، وہ توسیعی معنوں میں گویا ملاءِ عالم بن گئے تھے- پھر انھوں نے جدید ذرائع اور جدید کمیونکیشن کو استعمال کرکے قائد ِ عالم (world leader) کادرجہ حاصل کرلیا تھا-
دعوہ ورک کے لیے یہ واقعہ ایک عظیم امکان (great opportunity) کی حیثیت رکھتاتھا- تہذیب کے علم برداروں تک قرآنی پیغام پہنچانا، بالواسطہ طورپر سارے عالم تک قرآنی پیغام پہنچانے کے ہم معنی بن گیا- رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے زمانے کے رومی بادشاہ ہرقل کو ایک دعوتی خط بھیجا تھا- اس میں یہ الفاظ درج تھے: فإن تولیتَ فإن علیک إثم الأریسیین (اگر تم میری بات کو نہ مانو تو تمھارے اوپر تمھاری پوری قوم کی ذمے داری عائد ہوجائے گی)- اس کا مطلب یہ ہے کہ رومی بادشاہ تک پیغام پہنچانا، اس کی پوری قوم تک پیغام _پہنچانے کے ہم معنی تھا-
اِسی طرح موجودہ زمانے میں مغربی تہذیب کے علم برداروں تک قرآن کا پیغام پہنچانا، بالواسطہ طور پر پورے عالم تک قرآن کا پیغام پہنچانے کے ہم معنی تھا- مگر عین اُس وقت یہ ہوا کہ بعض سیاسی وجوہ کی بنا پر مسلم رہنما، مغربی تہذیب سے نفرت میں مبتلا ہوگئے- عرب سے عجم تک، تقریباً تمام مسلمانوں کا یہ حال ہوا کہ وہ مغربی قوموں سے نفرت کرنے لگے- انھوںنے مغرب کو مدعو کے بجائے عدو (دشمن) کا درجہ دے دیا- اِس کا نتیجہ یہ ہوا کہ دورِ جدید کا ایک عظیم دعوتی امکان استعمال ہونے سے رہ گیا-موجودہ زمانے میں یہ حادثہ اِس لیے پیش آیا کہ مسلم علما قرآن کی تفسیر مجتہدانہ انداز میں نہ کرسکے- وہ قرآن کے دعوتی اسلوب کا جدید انطباق کرنے سے عاجزرہے- مجتہدانہ بصیرت، قرآن کے ابدی مفہوم کو سمجھنے کے لیے ایک لازمی شرط کی حیثیت رکھتی ہے-
خدا کا تخلیقی منصوبہ
قرآن، خدا کی کتاب ہے- قرآن کو سمجھنے کے لیے ایک لازمی شرط یہ ہے کہ آدمی خداکے تخلیقی منصوبہ (creation plan of God) کو جانتا ہو- خدا کی کتاب اور خدا کا تخلیقی منصوبہ دونوں کے درمیان کوئی ٹکراؤ نہیں ہوسکتا- ضروری ہےکہ قرآن کا قاری قرآن کے اس پہلو کو شعوری طورپر جانے، ورنہ وہ قرآن کی ایسی تفسیر کرے گا جو خدا کے تخلیقی منصوبے سے مطابقت کرنے والی نہ ہوگی، اور اِس بنا پر وہ بداہةً ہی قابلِ رد ہوگی:
Prima facie it stands rejected
اِس کی ایک مثال وہ تفسیر ہے جس کے مطابق، رسول پر شتم کرنا ایک ایسا فعل ہے جس پر شاتم مستوجب ِقتل ہوجاتاہے- یہ نظریہ سرتاسر ایک غیر قرآنی نظریہ ہے- وہ خدا کے منصوبہ تخلیق سے مطابقت نہیں رکھتا- قرآن کے مطابق، اِس دنیا میں انسان کو کامل آزادی دی گئی ہے- اُس کو اختیار ہے، وہ چاہے تو اِس آزادی کا صحیح استعمال کرے اور چاہے تو وہ اِس آزادی کا غلط استعمال کرے(76:3)- آزادی کے غلط استعمال پر ضرور انسان کی پکڑ ہوگی، لیکن یہ پکڑ صرف آخرت میں ہوگی، دنیا میں ہرگز نہیں- ایسی حالت میں شاتم کے لیے قتل کی سزا مقرر کرنا، خدا کے منصوبۂ تخلیق میں ایک متناقض (inconsistent) حکم ہوگا، جب کہ قرآن خود اپنے بارےمیں یہ اعلان کرتاہے کہ اس میں کوئی تناقض نہیں (4:82)- قرآن کی صحیح تفسیر کے لیے یہ ایک لازمی شرط ہے- جو لوگ اِس معاملے میں باشعور نہ ہوں، وہ یقینی طورپر قرآن کی صحیح تفسیر کرنے میں ناکام رہیں گے-
قرآن اور حدیث کے مطالعے سے معلوم ہوتا ہے کہ اسلام میں سماجی جرائم (social crimes) پر سزا ہے- مثلاًچوری اور قذف، وغیرہ- مگر جہاںتک فکری جرائم (intellectual crimes) کا تعلق ہے، اُن پر اسلام میں کوئی جسمانی سزا (physical punishment) نہیں- فکری جرائم پر صرف دعوت وتبلیغ ہے، نہ کہ سزا- اِس معاملے میں قرآن کے یہ الفاظ انتہائی حد تک واضح ہیں: فَذَکِّرْ ڜ اِنَّمَآ اَنْتَ مُذَکِّرٌ ؀ لَسْتَ عَلَیْہِمْ بِمُصَیْطِرٍ ؀ اِلَّا مَنْ تَوَلّٰى وَکَفَرَ ؀ فَیُعَذِّبُہُ اللّٰہُ الْعَذَابَ الْاَکْبَرَ ؀ اِنَّ اِلَیْنَآ اِیَابَہُمْ ؀ ثُمَّ اِنَّ عَلَیْنَا حِسَابَہُمْ (88:21-26)-
غیر قرآنی ذہن کی تطہیر
اصل یہ ہے کہ ہر آدمی کسی ماحول میں پیدا ہوتا ہے- اپنے تجربے اور مطالعے کے مطابق، اس کا اپنا ایک ذہنی سانچہ (mindset)بن جاتا ہے- وہ اپنے اِسی بنے ہوئے ذہن (conditioned mind) کے تحت چیزوں کودیکھتا ہے اور رائے قائم کرتا ہے- اِسی مائنڈ سیٹ کو قرآن میں شاکلہ (17:84) کہاگیا ہے- قرآن کو سمجھنے کی لازمی شرط یہ ہے کہ آدمی اپنے اِس ذاتی شاکلہ کو توڑے اور ربانی شاکلہ کی روشنی میں وہ قرآن کا مطالعہ کرے-
مثال کے طورپر ہر آدمی کو اپنی زندگی میں کچھ منفی تجربات پیش آتے ہیں- اس کو لوگوں کی طرف سے ناخوش گوار تجربہ ہوتا ہے- اِن تجربات کی بناپر تقریباً ہر آدمی کا یہ حال ہوتاہے کہ وہ خارجی دنیا کے بارے میں منفی سوچ کا شکار ہوجاتا ہے- یہی وجہ ہے کہ ایسی تحریکیں لوگوں کے درمیان بہت جلد مقبول ہوجاتی ہیں جو کسی خارجی ظالم کے خلاف اٹھائی گئی ہوں-اِس ذہن کو لے کر جو آدمی قرآن کو پڑھے گا، وہ پوری طرح قرآن کو سمجھ نہیں سکتا- مثلاً وہ قرآن میں صبر کی تعلیم پڑھے گا- وہ پڑھے گا کہ اللہ کے یہاں صبر کرنے والے کو سب سے زیادہ ثواب (reward) ملے گا- وہ اپنے مخصوص ذہن کی بنا پر یہ سمجھے گا کہ قرآن ظالم کے مقابلے میں جھکنے کی تعلیم دیتاہے- چناں چہ اس کو قرآن کی تعلیمات زیادہ اپیل نہیں کریںگی-
اِس مسئلے کا حل یہ ہے کہ آدمی پہلے یہ دریافت کرے کہ اِس دنیا کے بارے میں خدا کا تخلیقی منصوبہ (creation plan) کیا ہے- وہ منصوبہ یہ ہےکہ اِس دنیا کو خدا نے دار الامتحان (testing ground) کے طورپر بنایا ہے- اِس بنا پر یہاں ہر انسان کو عمل کی پوری آزادی دی گئی ہے- ہر آدمی آزاد ہے، خواہ وہ اپنی آزادی کا صحیح استعمال کرے یا غلط استعمال کرے- اِس کا مطلب یہ ہے کہ وہ چیز جس کو فلاسفہ پرابلم آف اِول (problem of evil) کہتے ہیں، وہ دراصل پرابلم آف فریڈم (problem of freedom) ہے- چوں کہ اِس دنیا میں انسان کی آزادی کو منسوخ کرنا ممکن نہیں، اِس لیے دنیا سے برائی کا کلی خاتمہ بھی ممکن نہیں-
ایسی حالت میں اگر ایک شخص چیزوں کا آئڈیل معیار (ideal yardstick)اپنے ذہن میں رکھ کر قرآن کا مطالعہ کرے تو وہ قرآن کی تعلیمات کو سمجھ نہ سکے گا- قرآن کے مطابق، اِس دنیا میں جو چیز ممکن ہے، وہ فرد کی کامل اصلاح ہے، سماج کی کامل اصلاح اِس دنیا میں ممکن نہیں- آدمی کوچاہئے کہ وہ اپنی ذات کے اعتبار سے، آئڈیل معنوں میں انصاف پسند بنے، لیکن سماج کے معاملے میں وہ ورکنگ انصاف (working justice) پر راضی ہوجائے-
فلسفیانہ ذہن کے تحت قرآن کا مطالعہ
اِس طرح اِس معاملے کی ایک اور مثال یہ ہے کہ فلسفیانہ ذہن کولے کر اگر کوئی شخص قرآن کا مطالعہ کرے تو وہ قرآن کو سمجھنے میں ناکام رہے گا- فلسفیانہ ذہن یہ ہے کہ چیزوں کا کلّی علم حاصل کیاجائے- فلسفیانہ ذہن محدود علم پر راضی نہیں ہوتا- اِس کے برعکس، قرآن کا یہ کہنا ہے کہ: وَمَآ اُوْتِیْتُمْ مِّنَ الْعِلْمِ اِلَّا قَلِیْلًا (17:85)-اِس کا مطلب یہ ہے کہ قرآن کے مضامین دو قسم کے ہیں — ایک وہ جو ہماری معلوم دنیا سے تعلق رکھتے ہیں- اور دوسرے مضامین وہ ہیں جو امورِ غیب سے متعلق ہیں- پہلے قسم کی باتوں کو محکم زبان میں بیان کیاگیا ہے، یعنی الفاظ میں جو بات ہے، وہی حقیقت میں بھی مطلوب ہے- محکم آیتوں پر غور کرکے اُن کی کلّی معنویت تک پہنچنا ممکن ہے-
دوسری قسم کی آیتیں وہ ہیں جن کو قرآن میں متشابہات (3:7) کہا گیا ہے- یہ آیتیں وہی ہیں جو امورِ غیب سے تعلق رکھتی ہیں- اِن آیتوں میں مشابہت کا اسلوب اختیار کیاگیا ہے، یعنی کسی بات کو تمثیلی زبان (allegorical language) میں بیان کرنا- اِن د وسری قسم کی آیتوں میں بیان کردہ باتوں کو صرف اِجمالی طورپر سمجھا جاسکتا ہے- آدمی کو چاہئے کہ اِس معاملے میں وہ اجمالی علم پر قناعت کرے، وہ اُس کی آخری کُنہ تک پہنچنے کی کوشش نہ کرے، ورنہ وہ کنفیو ژن کاشکار ہوجائے گا-
قرآن کی مذکورہ آیت میں یہ الفاظ آئے ہیں: وَالرّٰسِخُوْنَ فِی الْعِلْمِ یَقُوْلُوْنَ اٰمَنَّا بِہٖ ۙ کُلٌّ مِّنْ عِنْدِ رَبِّنَا(3:7)- اِ س آیت کا مطلب یہ ہے کہ سچا علم رکھنے والے لوگ متشابہ آیتوں کی کُنہ تک پہنچے کی سعی لاحاصل نہیں کرـتے، بلکہ وہ اس کے اجمالی مفہوم کو مانتے ہوئے اس کی صداقت پر یقین کرلیتے ہیں-قرآن کے مطالعے میں اِس اصول کو ملحوظ رکھنا بے حد ضروری ہے- اِس کے بغیر قرآن کو درست طورپر سمجھنا ہرگزممکن نہیں-
قرآن کی تفسیر اپنی رائےسے
ایک روایت کے مطابق، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: من قال فی القرآن برأیہ، فأصاب، فقد أخطأ (الترمذی، رقم الحدیث: 3183) یعنی جس نے قرآن کے بارے میں اپنی رائے سے کہا، اور اس نے صحیح کہا، تب بھی اس نے غلطی کی-
اِس حدیث کی بنیاد پر کچھ لوگ یہ کہتے ہیں کہ تفسیر بالرائے کا طریقہ مطلقاً غلط ہے، مگر اِس حدیث کا یہ مطلب نہیں ہے - اِس حدیث میں تفسیر بالرائے کا مقابل، تفسیر بالروایت نہیں، بلکہ اس کا مقابل تفسیر بالتدبر ہے- اِس حدیث میں دراصل ذمے دارانہ تفسیر اور غیرے ذمے دارانہ تفسیر میں فرق کو بتایا گیا ہے- حدیث کا مطلب یہ ہے کہ قرآن کے معاملے میں کسی شخص کو ایسا نہیں کرنا چاہئے کہ کسی آیت کے بارے میں جو کچھ اُس کے ذہن میں آئے، بلا تحقیق وہ اُس کو بیان کرنے لگے- قرآن کی تفسیر کا صحیح طریقہ یہ ہے کہ جس آیت کی وضاحت کرنا ہے، پہلے اس کی تحقیق کی جائے- تدبر کے تمام تقاضوں کو پورا کرنے کے بعد اُس پر لکھا یا بولا جائے گا-
تفسیر بالرائے یہ ہے کہ آدمی کے ذہن میں پہلے سے ایک تصور (idea)موجود ہے- اِس کے بعد وہ قرآن کو پڑھتا ہے- اُس کو قرآن میں اپنی بات کے مشابہ ایک لفظ مل جاتا ہے اور پھر وہ کہتا ہے کہ دیکھو، میری بات خود قرآن میں موجود ہے- مثال کے طورپر ایک شخص کے اندر سیاسی طرزِ فکر ہے- وہ سیاسی اقتدار کو سب سے بڑی چیز سمجھتاہے- اِس ذہن کو لے کر وہ قرآن پڑھتاہے، پھر وہ اِس آیت تک پہنچتاہے: إنِ الحکمُ إلا للہ ( 12:40)- وہ فوراً کہہ اٹھتاہے کہ سیاسی اقتدار کا تصور خود قرآن میں موجود ہے، قرآن کی اِس آیت میں بتایا گیاہے کہ حکم صرف اللہ کا ہے- اِس آیت کی سیاسی تفسیر کرکے وہ اس کو حکومتِ الہیہ کے معنی میں لے لیتاہے اور پھر یہ دعوی کرتاہے کہ ہمارا فرض ہے کہ ہم لوگوں سے لڑکر دنیا میں خدا کی سیاسی حکومت قائم کریں- یہ بلاشبہہ تفسیر بالرائے ہے، کیوں کہ قرآن کی اِس آیت میں حکم سے مراد فوق الطبیعی (supernatural) حکم ہے، نہ کہ سیاسی حکم-
قرآن کی مذکورہ آیت کی تفسیر کا ایک طریقہ یہ ہے کہ آپ کے ذہن میں پیشگی طورپر جو تصور ہو، اُس کو لے کر آپ قرآن کو پڑھیں، اور پھر ایک مشابہ لفظ (حکم) پاکر یہ کہنے لگیں کہ دیکھو، قرآن بھی اِسی تصورِ سیاست کی تعلیم دے رہا ہے- یہ طریقہ بلا شبہہ تفسیر بالرائے کا طریقہ ہے-
تفسیر کا دوسرا طریقہ یہ ہے کہ آپ قرآن کی اِس آیت پر کھلے ذہن کے ساتھ تدبر کریں- آپ آیت کے سیاق(context) کی روشنی میں اس کا مطالعہ کریں- جب آپ ایسا کریں گےتو آپ پر یہ واضح ہوجائے گا کہ اِس آیت میں اصنام پرستی کے عقیدے کی تردید کی گئی ہے- دوسرے لفظوں میں یہ کہ اِس آیت میں حکم (اقتدار) سے مراد وہ اقتدار ہے جو زمین اور آسمان میں براہِ راست طورپر خدا نے قائم کررکھا ہے، یہاں اُس سیاسی اقتدار کا کوئی ذکر نہیں جس کو انسان دوسرے انسانوں کے مقابلے میں سماج کی سطح پر قائم کرتاہے، یعنی خدا کا قائم کردہ فوق الطبیعی اقتدار، نہ کہ انسان کا قائم کردہ سیاسی اقتدار-
قرآن کی تفسیر خواہ کسی بھی انداز میں کی جائے، ہمیشہ ایسا ہوگا کہ آدمی اپنی رائے کو استعمال کرے گا- رائے سے مراد عقلی غور وفکر ہے اور عقلی غور وفکر کے بغیر کوئی بھی تفسیر ممکن نہیں، حتی کہ تقلیدی تفسیر بھی نہیں- قرآن کی سورہ ص میں ارشادہوا ہے: کِتٰبٌ اَنْزَلْنٰہُ اِلَیْکَ مُبٰرَکٌ لِّیَدَّبَّرُوْٓا اٰیٰتِہٖ وَلِیَتَذَکَّرَ اُولُوا الْاَلْبَابِ (38:29) یعنی یہ ایک مبارک کتاب ہے جو ہم نے تمھاری طرف اتاری ہے، تاکہ لوگ اس کی آیتوں پر تدبر کریں اور تاکہ عقل والے اس سے نصیحت حاصل کریں-
تدبر کا مطلب غور وفکر (contemplation) ہے- قرآن میں تدبر یہ ہے کہ آپ کسی تعصب کے بغیر کھلے ذہن کے ساتھ قرآن کو پڑھیں، اس کے تمام پہلوؤں پر کسی تحفظِ ذہنی (reservation) کے بغیر غور کریں- آپ کا مقصد سچائی کی تلاش ہو، نہ کہ اپنی بات کو قرآن سے نکالنا- اِسی کے ساتھ آپ کو یہ اندیشہ لگاہوا ہو کہ اگر آپ نے قرآن کی کسی آیت کی غلط تفسیر کی تو وہ خداکے یہاں مقبول نہ ہوگی اور آپ اس کے لیے پکڑے جائیں گے- اِس طرح کی سنجیدہ فکر کے ساتھ جو تفسیر کی جائے، اسی کا نام تدبر ہے- اور تدبر کے ساتھ قرآن کی تفسیر کرنےکا طریقہ ہی تفسیر کا صحیح طریقہ ہے- دوسرے لفظوں میں، غیر ذمے دارانہ تفسیر کا نام تفسیر بالرائے ہے، اور ذمے دارانہ تفسیر کا نام تفسیر بالتدبر-
فہم قرآن
قرآن میں 114 سورتیں ہیں- اس کی سورہ نمبر 103 کا نام العصر ہے- سورہ العصر کے بارے میں امام شافعی (وفات: 820ء) کا مشہور قول ہےکہ: لو تدبر الناسُ ہذہ السورة، لوسعتہم (اگر لوگ سورہ العصر میں تدبر کریں تو یہی ایک سورہ ان کی ہدایت کے لیے کافی ہوجائے)- یہ بات بذاتِ خود بالکل درست ہے- تدبر قرآن، نہ صرف سورہ العصر کو سمجھنے کے لیے، بلکہ پورے قرآن کے فہم کی کلید ہے- لیکن قرآن میں تدبر کی دو سورتیں ہیں — ایک ہے، فنی تدبر، اور دوسرا ہے، عارفانہ تدبر- قرآن کے مطالعے کے لیے فنی تدبر صرف ابتدائی فہم قرآن کے لیے کار آمد ہے- جہاں تک گہرے فہم قرآن کا تعلق ہے، اس کاحصول صرف عارفانہ تدبر کے ذریعے ممکن ہوتاہے-
فنی تدبر کا مطلب یہ ہے کہ آدمی لغت اور نحو اور صرف اور شانِ نزول، وغیرہ جیسی باتوں سے واقفیت رکھتاہو- ایسا آدمی اِس پوزیشن میں ہوتا ہے کہ وہ قرآن کے سادہ مفہوم کو بظاہر صحت کے ساتھ سمجھ لے، مگر جیسا کہ حدیث میں آیا ہے: لکل آیة منہا ظَہْر وبَطْن)الطبرانی 10/105 (- اِس قسم کا فہم قرآن کسی آدمی کو صرف ظہرِ قرآن سے واقف کراتا ہے، لیکن جہاں تک بطنِ قرآن کا معاملہ ہے، اُس سے آگاہ ہونے کے لیے صرف فنی واقفیت کافی نہیں- بطنِ قرآن تک رسائی حاصل کرنے کے لیے دین کی گہری معرفت ضروری ہے- یہ معرفت صرف اُس شخص کو ملتی ہے جو انتہائی سنجیدگی کے ساتھ قرآن اور سنت کا مطالعہ کرے، جو لمبی مدت تک دعا اور ذکر الہی میں زندگی گزارے، وہ صبح وشام کے لمحات میں قرآن کا طالب بنا ہوا ہو، جس کا مسلسل غور وفکر اس کو معرفت (realization)کی اُس سطح تک پہنچا دے، جب کہ وہ فنی حد بندیوں سے اوپر اٹھ کر حقیقت کا ادراک کرنے کے قابل ہوجاتاہے- اُس وقت وہ اُس درجہ معرفت کو حاصل کرلیتاہے جس کو حدیث میں  "مُحَدَّث"(صحیح البخاری، رقم الحدیث: 3689) کہاگیا ہے-
قرآن کی عارفانہ تفسیر
جیسا کہ عرض کیاگیا ، علماءِ تفسیر نے قرآن کی تفسیر کے لیے 15 علوم کو ضروری قرار دیا ہے- اِن علوم میں سے ایک علم وہ ہے جس کو علمِ وہبی کا نام دیاگیا ہے-علمِ وہبی سےمراد معرفت ہے- بقیہ علوم کی حیثیت فنّی ہے اور معرفت وہ خصوصی صلاحیت ہے جس کو دوسرے الفاظ میں حکمت اور بصیرت (divine wisdom) کہاجاسکتا ہے- اِس حکمت اور بصیرت کی ایک مثال قرآن کی یہ آیت ہے: ہَلْ تَرَبَّصُوْنَ بِنَآ اِلَّآ اِحْدَى الْحُسْنَیَیْن(9:52) یعنی تم ہمارے لیےدو میں سے ایک بہتر چیز (one of the two good things) کا انتظار کررہے ہو-
قرآن کی اِس آیت میں ’’دو بہتر میں سے ایک بہتر‘‘ کا مطلب مفسرین نے عام طور پر فتح اور شہادت لیاہے، یعنی تمھارے مقابلے میں ہم کو یا تو فتح حاصل ہوگی جو بلاشبہہ ایک بہتر چیز ہے، اور اگر تم نے ہم کو قتل کردیا تو ہم شہادت کا درجہ پائیں گے، اور وہ بلا شبہہ ہمارے لیے ایک بہتر چیز ہے-
خالص علم وفن کے اعتبار سے دیکھئے تو یہ تفسیر بالکل درست تفسیر معلوم ہوتی ہے، لیکن معرفت کے اعتبار سے دیکھئے تو یہ تفسیر ایک ناقص تفسیر ہے- فنی تفسیر کے اعتبار سے، اِس آیت کا تعلق جنگی صورتِ حال سے ہے- لیکن معرفت شناس ذہن یہ کہے گا کہ قرآن کا تعلق صرف جنگ سے متعلق احکام سے نہیں ہے، بلکہ قرآن کا تعلق انسان کی پوری زندگی سے ہے، اِس لیے ضروری ہے کہ ’إحدى الحسنین‘ کی سعادت ایک مومن کے لیے زندگی کے دوسرے پہلوؤں کے اعتبار سے بھی قابلِ حصول ہو-اِس کی ایک مثال یہ ہے کہ ایک شخص سے وقتی طورپر آپ کی ملاقات ہوتی ہے- آپ کے لیے موقع تھا کہ آپ اس کے ساتھ حسنِ معاملت کریں اور ثواب کے مستحق قرار پائیں، لیکن کسی وجہ سے آپ اس کے ساتھ حسنِ معاملت نہ کرسکے- اِس صورت ِ حال میں آپ کے لیے  ’إحدى الحسنیین‘ کی سعادت حاصل کرنے کا موقع باقی ہے- وہ اس طرح کہ آپ یہ دعا کریں کہ — خدایا، میں فلاں انسان کے ساتھ حسنِ سلوک نہ کرسکا، تو میری اِس غلطی کو معاف فرمااور اُس انسان کے لیے  میری طرف سے دعاءِ خیر لکھ دےاور اس کے حق میں میرے کوتاہی کی تلافی فرما-
ایک شخص اگر فنی علوم کو حاصل کرلے تو وہ اِس قابل ہوجاتاہے کہ وہ قرآن کی کسی آیت کے ظاہری پہلوؤں کو بخوبی طورپر جان لے- اُس آیت کا لفظی ترجمہ کیاہے، اس کا شانِ نزول کیا ہے، سیاق وسباق کی رعایت سے اس کا کیا مفہوم بنتا ہے اور کیا مفہوم نہیں بنتا، وغیرہ-
ایک شخص جس کو فنی واقفیت حاصل ہو، وہ آیت کےظاہری مفہوم کو سمجھ سکتاہے، لیکن اُس آیت میں الفاظ کے ماورا جو حقیقتیں چھپی ہوئی ہیں، وہ اُن سے بے خبر رہے گا- مثلاً وہ اِس بات کو جان لے گا کہ الحمد للہ رب العالمین کا لفظی ترجمہ کیا ہے- لیکن قرآن کی اِس آیت میں ایک اور گہرا پہلو چھپا ہوا ہے، لیکن اِس گہرے پہلو تک پہنچنے کے لیے صرف فنی واقفیت کافی نہیں-
یہ گہرا پہلو وہ ہے جس کا علم صرف صاحبِ معرفت انسان کو ہوتاہے،صاحب معرفت انسان وہ ہے جس نے اللہ کی عظمتوں کو دریافت کررکھا ہو، جس کے غور وفکر نے اس کو اللہ کی کائناتی ربوبیت کی پہچان کرادی ہو، جو زمین وآسمان میں اس کی رحمتوں کا تجربہ کررہاہو- ایسا شخص جب الحمد للہ کہے گا تو اس کا شعورِمعرفت اِن الفاظ کے اندرمعانی کا سمندر بھردے گا- الحمد للہ رب العالمین کی تفسیر کرتے ہوئے اس کو محسوس ہوگا کہ انسائکلوپیڈیا کی وسیع جلدیں بھی اس کی تفسیر کے لیے ناکافی ہیں-
قرآن کی فنی تفسیر قرآن کی صرف ٹکنکل تفسیر ہے، اور قرآن کی عارفانہ تفسیر، قرآن کی تخلیقی تفسیر (creative commentary) ہے- فنی صلاحیت کے لیے کتابی مطالعہ کافی ہوسکتاہے، لیکن معرفت ایک خدائی عطیہ ہے- معرفت کسی انسان کو صرف خدا کی توفیق سے ملتی ہے، اور خدا کی توفیق اُس انسان کو حاصل ہوتی ہے جس نے خدا کو اپنا واحد کنسرن (sole concern) بنا لیا ہو-
قرآن فہمی کی شرط
قرآن کی سورہ الواقعہ میں، قرآن کے بارے میں یہ آیت آئی ہے: لا یمسّہ إلا المطہرون (56:79) یعنی قرآن کو صرف وہی لوگ چھوتے ہیں جو پاکیزہ ہیں:
None can touch the Quran except the purified.
اِس آیت کی تفسیر میں پاکیزہ سے کون لوگ مراد ہیں- کچھ لوگ اِس سے مراد فرشتوں کو لیتے ہیں- کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ اِس سے مراد پاک اور با وضولوگ ہیں- مگر حقیقت یہ ہے کہ اِس قسم کے مسائل اِس آیت کی نسبت سے غیر متعلق (irrelevant) مسائل کی حیثیت رکھتے ہیں- اِس آیت میں جو بات کہی گئی ہے، وہ یہ ہے کہ قرآن کے معانی تک پہنچ صرف اُن لوگوں کے لیے ممکن ہوتی ہے جو پاکیزہ ذہن کے حامل ہوں-
راغب الاصفہانی (وفات: 1108ء) نے اپنی کتاب المفردات میں اِس آیت کی شرح کرتے ہوئے لکھا ہے: إنہ لا یبلغ حقائق معرفتہ إلا من طہّر نفسہ (صرف وہ شخص معارف قرآن کے حقائق تک پہنچے گا جو اپنے نفس کی تطہیر کرے)- حقیقت یہ ہے کہ اِس آیت میں پاکیزگی سے مراد اصلاً اخلاقی یا جسمانی پاکیزگی نہیں ہے، بلکہ اُس سے مراد ذہنی یا نفسیاتی پاکیزگی ہے-
قرآن ایک ایسی ہستی کا کلام ہے جو کامل طورپر مثبت ذہن کا حامل ہے، وہ مکمل طورپر منفی سوچ سے پاک ہے- ایسی حالت میں، قرآن کو سمجھنے کے لیے یہ لازمی شرط ہے کہ قرآن کے قاری کا شاکلہ، قرآن کے مصنف کے شاکلہ کے ہم سطح ہوجائے- اِس کے بغیر کسی قاری کی پہنچ قرآن کے مضامین تک نہیں ہوسکتی- جو قاری اِس ذہنی ارتقا کا حامل ہو کہ اس کا ذہن مکمل طورپر مثبت ذہن (positive mind) بن چکا ہو، وہ منفی سوچ (negative thinking) سے پوری طرح خالی ہو- ایسے ہی انسان کی پہنچ قرآن کے گہرے معانی تک ہوگی-ایسے ہی انسان پر اللہ کی توفیق سے قرآن کے گہرے معانی کے دروازے کھلیں گے-(2012)
واپس اوپر جائیں

اندھا اور بہرا رد عمل

قرآن میں اللہ کے بندوں کی صفات بتاتےہوئے ان کی ایک صفت اِن الفاظ میں بیان کی گئی ہے: وَالَّذِیْنَ اِذَا ذُکِّرُوْا بِاٰیٰتِ رَبِّہِمْ لَمْ یَخِـرُّوْا عَلَیْہَا صُمًّا وَّعُمْیَانًا (25:73) یعنی وہ ایسے ہیں کہ جب اُن کے رب کی آیتوں کے ذریعے اُن کو نصیحت کی جاتی ہے تو وہ اُن پر اندھے اور بہرے ہو کر نہیں گرتے-
’’اللہ کی آیتوں کے ذریعے تذکیر‘‘ کا مطلب کیا ہے- اِس کا مطلب یہ ہےکہ ایک انسان، جو قرآن کے الفاظ میں، اپنی خواہش کو اپنا رہنما بنائے ہوئے ہو، اس کی غلطی کی نشان دہی کرنا اور یہ بتانا کہ تم کو خدا کی دنیا میں خدا کی پسند کے طریقے پر چلنا ہے، نہ کہ اپنی پسند کے طریقے پر- اِس قسم کی نصیحت آدمی کو اپنے خلاف تنقید نظر آتی ہے- وہ اِس قسم کی نصیحت کو سننے کے بعد فوراً رد عمل کی نفسیات میں مبتلا ہوجاتاہے- وہ ایسی نصیحت کے جواب میں غیر سنجیدہ انداز اختیار کرلیتا ہے- وہ اپنی غلطی کا اعتراف کرنے کے بجائے خود ناصح کو غلط ثابت کرنا شروع کردیتاہے-
وہ اُن پر اندھے اور بہرے ہو کر نہیں گرتے — اِس کا مطلب یہ ہے کہ ان کا رد عمل اندھے بہرے انسان کے رد عمل کی مانند نہیں ہوتا- اندھے اور بہرے انسان کی مانند رد عمل یہ ہے کہ آدمی نصیحت کو سن کر اُس کے جواب میں ایسا رسپانس دے جیسے کہ اس نے اصل بات کو نہ سنا اور نہ ا س کو سمجھا، وہ ناصح کی اصل بات سے بے خبر رہ کر غیر متعلق باتیں بولنے لگا، وہ دلیل کے جواب میں الزام تراشی کرنے لگا، وہ ایک علمی بات کا جواب غیر علمی انداز میں دینے لگا، وہ نصیحت کے اصل نکتے پر دھیان دئے بغیر ایسی باتیں کہنے لگا جس کا ناصح کی نصیحت سے کوئی تعلق نہیں-
اللہ سے تعلق آدمی کے اندر سنجیدگی پیدا کرتا ہے- اِس کے برعکس، جو انسان اللہ سے دور ہو، وہ ایک غیر سنجیدہ انسان بن جاتا ہے- وہ ایک ایسا انسان بن جاتا ہے جیسے کہ وہ آنکھ رکھتے ہوئے بھی کچھ نہیں دیکھتا، وہ کان رکھتے ہوئے بھی کچھ نہیں سنتا-
واپس اوپر جائیں

مجھ کو قرآن نہیں ملا

سری نگر (کشمیر) میں ہمارے کئی ساتھی ہیں- وہ سیاحوں کو مطالعے کے لیے قرآن کا انگریزی ترجمہ دیتے ہیں- 7 اپریل 2013 کو وہ وہا ں کے تولپ گارڈن (Tulip Garden) گئے- وہاں انھوں نے دیکھا کہ سیاحوں کا ایک گروپ گیٹ سے اندر داخل ہورہا ہے- انھوںنے اِن لوگوں کو قرآن کا انگریزی ترجمہ دیا- یہ ترجمہ محدود تعداد میں تھا، اِس لیے وہ گروپ کے بعض افراد کو نہیں ملا- اِس کے بعد انھوںنے دیکھا کہ گارڈن کے گیٹ پر ایک نوجوان کھڑا ہوا رورہا ہے- وہ رورہا تھا اور یہ کہہ رہا تھا— مجھ کو قرآن نہیں ملا-
یہ واقعہ مجھ کو معلوم ہوا تو میں نے سوچا کہ یہ کوئی سادہ واقعہ نہیں- یہ واقعہ حاملینِ قرآن کے لیے ایک عظیم انتباہ (warning) کی حیثیت رکھتا ہے- یہ واقعہ حاملینِ قرآن کو ان کی ذمے داری یاد دلارہا ہے- وہ وقت آنے والا ہے جب کہ حشر کے میدان میں تمام پیدا ہونے والے انسان اکھٹا ہوں گے- اُس وقت اگر ایسا ہو کہ جن لوگوں تک قرآن نہیں پہنچا، وہ کھڑے ہو کر اللہ سے فریاد کریں کہ جن لوگوں پر یہ ذمے داری ڈالی گئی تھی کہ وہ خدا کی کتاب (قرآن) کو تمام انسانوں تک پہنچائیں، انھوں نے اپنی یہ ذمے داری پوری نہیں کی- انھوںنے لوگوں کی قابلِ فہم زبان میں خدا کی کتاب کو اُن تک نہیں پہنچایا- ایسی حالت میں سب سے پہلے اِن حاملین قرآن کی پکڑ ہونی چاہئے، نہ کہ ہماری-
اگر حشر کے میدان میں یہ واقعہ پیش آئے کہ جن لوگوں تک قرآن نہیں پہنچا، وہ وہاں کھڑے ہو کر اللہ سے فریاد کریں تو حاملینِ قرآن کے پاس اِس کا کیا جواب ہوگا- قرآن میں بتایا گیا ہے کہ قیامت میں دونوں گروہوں سے یہ سوال کیا جائے گا کہ پہنچانے والوں نے پہنچایا، یا نہیں، اور یہ کہ جن کو پہنچایا جانا تھا، اُن کو ملا، یا نہیں (7:6)- قرآن کا مذکورہ بیان داعی اور مدعو دونوں کے لیے بے حد اہم ہے- دونوں کو یہ سوچنا ہے کہ حشر کے میدان میں وہ اِس معاملے میں اللہ کے سامنے بری الذمہ قرار پائیں گے یا نہیں-
واپس اوپر جائیں

دعوت، اجتماعیت

داعی یا مصلح کا ایک کام یہ ہے کہ وہ لوگوں کو سچائی کی بات بتائے- وہ لوگوں کو امر ِحق سے باخبر کرے- اِس کام کا تقاضا یہ ہے کہ داعی اور مصلح سچائی کا گہرا علم رکھتا ہو- وہ ایسی زبان میں کلام کرے جو لوگوں کے دماغ کو اپیل کرنے والی ہو- اس کا دعوتی کلام اپنی زبان اور اپنے اسلوب، دونوں کے اعتبار سے، مخاطب کے لیے پوری طرح قابلِ فہم ہو- اس کے کلام میں وضوح (clairty) ہو- اس کا کلام کنفیوژن سے مکمل طورپر پاک ہو- دعوت اور اصلاح کی کوشش کے نتیجے میں جب کچھ لوگ اس سے متاثر ہوں اور وہ کم یا زیادہ تعداد میں اس کے گرد اکھٹا ہوجائیں تو اس کے بعد داعی کی ایک اور ذمے داری شروع ہوجاتی ہے، یہ کہ وہ اِن متاثر افراد کو قریب کرے اور ان کی اجتماعیت کو برقرار رکھنے کی ہر ممکن کوشش کرے- دعوت اور اصلاح کی اِس دوسری ضرورت کو قرآن کی ایک آیت میں بتایا گیا ہے- اِس آیت کا ترجمہ یہ ہے: ’’(اے رسول) یہ اللہ کی بڑی رحمت ہے کہ تم اُن کے لیے نرم ہو- اگر تم تند خو اور سخت دل ہوتے تو یہ لوگ تمھارے پاس سے بھاگ جاتـے‘‘ -(3:195)
متاثر افراد کے درمیان اجتماعیت کو برقرار رکھنے کے لیے بنیادی صفت یہ ہے کہ داعی لوگوں کے ساتھ نرمی کا برتاؤ کرے، وہ اُن کے ساتھ سخت معاملہ نہ کرے- اِس کو ایک لفظ میں، لوگوں کے مزاج کی رعایت کہا جاسکتا ہے- جب بھی کچھ لوگ اکھٹا ہوں تو اُن کی طرف سے بار بار ایسی باتیں پیش آتی ہیں جو ناگواری کا پہلو لیے ہوتی ہیں- جہاں اجتماعیت ہو، وہاں لازمی طورپر مسائل بھی ہوتے ہیں، کیوں کہ ہر آدمی کا مزاج الگ الگ ہوتاہے- ایسی حالت میں، اجتماعیت کو برقرار رکھنے کی تدبیر صرف یہ ہے کہ لوگوں کے ساتھ نرمی کا سلوک کیا جائے- ان کی ناگوارباتوںکو نظر انداز کیا جائے- ایسے پروگرام رکھے جائیں جو لوگوں کے درمیان آپس کے تعلقات بڑھانے والے ہوں- مثلاً سادہ طورپر اجتماعی کھانا، وغیرہ-
دعوت اور اصلاح کے کام میں یہ دوسرا پہلو عملی اعتبار سے بہت زیادہ اہم ہے- نظریاتی صداقت کے ساتھ اجتماعی حکمت اگر موجود نہ ہو تو کوئی بڑا کام نہیں کیا جاسکتا-
واپس اوپر جائیں

فکری مستویٰ کے مطابق خطاب

ایک روایت کے مطابق، پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بُعثنا معاشر الأنبیاء نخاطب الناس، على قدر عقولہم (المقاصد الحسنة للسخاوی، رقم الحدیث: 120) یعنی تمام پیغمبروں کو یہ حکم دیاگیا ہے کہ وہ لوگوں کو اُن کے عقلی معیار کے مطابق، خطاب کریں-
اِس حدیث میں ’قدرِ عقل‘ سے مراد فکری مستوی (intellectual level) ہے، یعنی لوگوں سے ایسی زبان میں خطاب کرنا جو اُن کے لیے قابلِ فہم ہو اور ان کے ذہن کو ایڈریس کرے- جس دعوتی خطاب میں مدعو کی یہ رعایت شامل نہ ہو، وہ مطلوب دعوتی خطاب نہیں- اِس حدیثِ رسول کا ایک تقاضا یہ ہےکہ داعی اور مدعو کے درمیان اگر ذہنی بُعد (intellectual gap) پیدا ہو جائے تو داعی کو چاہئے کہ وہ اپنے آپ کو اِس طرح تیار کرے کہ مدعو کے ذہن کے اعتبار سے، اس کا کلام ایک موثر کلام بن جائے-
موجودہ زمانے کی نسبت سے ایک بہت بڑا مسئلہ یہ ہے کہ مسلم علما اپنی تعلیم کے اعتبار سے، صرف روایتی ذہن کو خطاب کرنا جانتے ہیں- اِس بنا پر جدید تعلیم یافتہ طبقہ، علما کی پہنچ سے باہر ہوگیا ہے- علما کا روایتی طرزِ خطاب جدید ذہن کو اپیل نہیں کرتا- ایسی حالت میں علماکا یہ فرض ہے کہ وہ اپنے آپ کو اِس طرح تیار کریں کہ وہ جدید ذہن کو خطاب کرنے کے قابل ہوسکیں-
جدید فکری مستوی کوئی پراسرار چیز نہیں، وہ دراصل عقلی مستوی (rational level) کا دوسرا نام ہے- آج کا انسان صرف اُس کلام سے متاثر ہوسکتا ہے جو جدید عقلی معیار پر پورا اترتا ہو، جو دورِ جدید کے مسلّمات سے مطابقت رکھنے والا ہو، جو دینی حقائق کو عقل کے معروف اصولوں پر ثابت شدہ بناتا ہو- قدیم اسلوب کو اگر روایتی اسلوب کہاجائے تو جدید اسلوب کو سائنسی اسلوب کہا جائے گا-
جو بات مذکورہ حدیثِ رسول میں کہی گئی ہے، اس کی اصل خود قرآن میں موجود ہے- قرآن کی سورہ ابراہیم میں یہ آیت آئی ہے: وَمَآ اَرْسَلْنَا مِنْ رَّسُوْلٍ اِلَّا بِلِسَانِ قَوْمِہٖ لِیُبَیِّنَ لَہُم(14:4) یعنی ہم نے جو پیغمبر بھی بھیجا، اس کی قوم کی زبان میں بھیجا، تاکہ وہ اُن سے اچھی طرح بیان کردے:
And We have not sent any Messenger except with the language of his people in order that he might make the message clear to them.
قرآن کی یہ آیت پیغمبر کے حوالے سے ہر دور کے تمام داعیوں کے لیے ہے- بعد کے زمانے میں اپنے ہم عصر مخاطبین کی نسبت سے داعیوں کی بھی وہی ذمے داری ہے جو قدیم زمانے میں اپنے ہم عصر مخاطبین کی نسبت سے پیغمبروں کی ذمے داری تھی- قرآن کی اِس آیت کے مطابق، دعوت الی اللہ کے سلسلے میں داعی کی ذمے داری صرف یہ نہیں ہے کہ وہ مدعو کی زبان میں بول کر اس کو دعوت کا پیغام دے دے- اِسی کے ساتھ لازمی طورپر وہ چیز بھی ضروری ہے جس کو قرآن کی مذکورہ آیت میں ’’تبیین‘‘ کہاگیاہے- تبیین کا مطلب ہے واضح کرنا، بات کو پوری طرح قابلِ فہم بنادینا-
اِس سے معلوم ہوا کہ داعی کے لیے صرف مدعو کی زبان کا جاننا کافی نہیں، اِسی کے ساتھ ضروری ہےکہ وہ مدعوکے مزاج کو سمجھے، وہ مدعو کی ذہنی ساخت کے مطابق، اُس سے خطاب کرے، تاکہ اس کا ذہن ایڈریس ہوسکے- اِس اعتبار سے دیکھئے تو موجودہ زمانے میں داعی کی ذمے داری بہت بڑھ گئی ہے- قدیم زمانہ اگر روایتی اسلوب کا زمانہ تھا تو موجودہ زمانہ سائنٹفک اسلوب کا زمانہ ہے- آج کا مدعو کسی بات کو صرف اُس وقت سمجھ پاتا ہے جب کہ اُس بات کو عقلی اسلوب میں مدعو کے سامنے پیش کیا جائے-اِس شرط کا تقاضا ہےکہ داعی نہ صرف آج کی زبان سیکھے، بلکہ وہ آج کے ذہن کو پوری طرح سمجھے اور جدید ذہن کو سمجھنے کا یہ کام صرف اُس وقت ممکن ہے جب کہ انتہائی بے تعصبانہ انداز میں جدیدافکار کا مطالعہ کیا جائے- یہ کام صرف اُس وقت ممکن ہے جب کہ داعی کے دل میں مدعو کے لیے کامل خیر خواہی موجود ہو- اگر کامل خیرخواہی موجود نہ ہو تو نہ زبان کا جاننا کافی ہوسکتا ہے اور نہ جدید علوم کا مطالعہ-
اِس معاملے کی ایک مثال یہ ہے کہ موجودہ زمانے کے تمام علما مستشرقین (orientalists) کے بارے میں منفی رائے رکھتے ہیں- وہ مستشرقین کو اسلام کا دشمن اور اسلام کے خلاف سازش کرنے والا قرار دیتے ہیں، حتی کی ایک عرب عالم نے مستشرقین کو دورِ جدید کے تین اژدہوں میں سے ایک اژدہا قرار دیاہے- (ملاحظہ ہو: أجنحة المکر الثلاثة، تالیف: عبد الرحمن حبنکہ المیدانی)
مستشرقین کے بارے میں یہ رائے یقینی طورپر درست نہیں- اصل یہ ہے کہ مسلم علما، مغربی مستشرقین کو غیر متعصبانہ ذہن کے ساتھ نہ پڑھ سکے، اِس لیے وہ اُن کے کیس کو بھی سمجھنے سے قاصر رہے- مستشرقین کے کیس کو سمجھنے کے لیے ضروری ہے کہ اُس فرق کو سمجھا جائے جو مسلم علما اور مستشرقین کے درمیان پایا جاتاہے- مسلم علما دین اسلام کو وحی (revelation)کے ظاہرہ کے تحت دیکھتے ہیں- اِس کے برعکس، مستشرقین اپنے طریقِ مطالعہ کے تحت دینِ اسلام کو صرف ایک سماجی ظاہرہ (social phenomenon)یا تاریخی ظاہرہ (historical phenomenon) کے طورپر دیکھتے ہیں- طریقِ مطالعہ کے اِس فرق کی بنا پر فطری طورپر ایسا ہوتاہے کہ دونوں کی رائے میں کچھ فرق واقع ہوجاتا ہے- یہ فرق یقینی طورپر کسی سازشی ذہن یا بدنیتی کی بنا پر نہیں ہوتا، بلکہ وہ صرف طریقِ مطالعہ (method of study)میں فرق کی بنا پر ہوتاہے-
استشراق کی حقیقت
استشراق (orientalism) کیا ہے، استشراق اپنی اصل حقیقت کے اعتبار سے، صرف ایک چیز کا نام ہے، وہ یہ ہے کہ نشاةِ ثانیہ (Renaissance) کے بعد مختلف اسباب سے یورپ میں ایک ذہن ابھرا جس کو روحِ تجسس (spirit of inquiry) کہاجاتاہے- اِس روحِ تجسس نے مزید ترقی پاکر موضوعی طریقِ مطالعہ (objective method of study) کا عنوان اختیار کیا- نشاةِ ثانیہ کے بعد یورپ میں پیدا ہونے والے تمام علوم، خواہ وہ مذہبی ہوں یا سیکولر، وہ اصلاً اِسی طریق ِ مطالعہ کی پیداوار ہیں-اِس طریقِ مطالعہ کا استعمال بنیادی طورپر دو بڑے میدانوں میں ہوا— ایک، علمِ فطرت(natural sciences) اور دوسرا، علمِ انسانیات (humanities) - اِس طریقِ مطالعہ سے بہت زیادہ فائدے حاصل ہوئے- ہر شعبے میں نئی نئی حقیقتیں سامنے آئیں، تحقیق کے نئے نئے دروازے کھلے، سوالات کے نئے نئے جوابات ملے، زندگی کے لیے نئی نئی رہنمائیاں حاصل ہوئیں- تاہم علم کے دونوں شعبوں میں ایک بنیادی فرق تھا- علمِ فطرت کا میدان فطرت کے اٹل قوانین تھے- اس میں یہ ممکن تھا کہ علمِ ریاضی (mathematics) کے قطعی فارمولے کو استعمال کرتےہوئے قطعی نتیجے تک پہنچا جائے اور اگر بالفرض کوئی انسان اپنے اندازے میں غلطی کرجائے تو دوسرا انسان مزید تجزیہ کے ذریعے اس کی تصحیح کرسکے- اِسی لیے اِن علوم کو قطعی علوم (exact sciences)کہاجاتاہے-
لیکن علم انسانیات، بہ شمول مذہب، میں اِس کے استعمال کا معاملہ بالکل مختلف تھا- اِس شعبے میں حتمی نوعیت کا کوئی ریاضیاتی طریقہ قابلِ حصول نہ تھا، اِس لیے یہاں لازمی طورپر یہ ہونا تھا کہ انسانیات کے شعبے میں مطالعہ کرنے والوں کی رائے میں اختلاف پیدا ہو، وہ کسی معاملے میں غلط استنباط (wrong inference) کا شکار ہوجائیں- اِس بنا پر یہ ممکن ہی نہ تھا کہ انسانیات کے دائرے میں مطالعہ کرنے والا انسان کوئی ایسا اصول وضع کرسکے جس میں سرے سے کوئی غلطی نہ پائی جاتی ہو- انسانیات کے مطالعے میں جو غلطیاں پائی جاتی ہیں، وہ اختلافِ رائے کی بنا پر ہیں، نہ کہ سازش یا بدنیتی کی بنا پر- یہی استشراق کا معاملہ ہے- استشراق کا کیس ایک طریقِ مطالعہ کا کیس ہے، نہ کہ سازش یا بدنیتی کاکیس-
اِس معاملے میں صحیح طریقہ یہ ہے کہ مستشرقین کے اِس ذہن کو مدعو کے ذہن کے طورپر لیا جائے، نہ کہ کسی دشمن کے سازشی ذہن کے طورپر- ہر مدعو کی اپنی سوچ ہوتی ہے- اِس طرح مستشرقین کا کیس بھی مدعو کا کیس ہے اور ان کی بھی اپنی ایک سوچ ہے- اگر ہم مستشرقین کے کیس کو مدعو کے کیس کے طورپر لیں تو ہمارے دل میں اُن کے بارے میں وہی خیرخواہی پیدا ہوجائے گی جو ہر مدعو کے لیے ایک داعی کے دل میں ہوتی ہے- اِس طرح یہ ممکن ہوجائے گا کہ ہم مستشرقین کے ذہن کو غیرجانب دارانہ انداز میں سمجھیں اور اُن سے داعیانہ ذہن کے تحت ڈسکشن کریں اور اُن کو اسلام کا فطری پیغام پہنچائیں-مستشرقین بھی انسان ہیں- اُن کے اندر بھی وہی فطرت موجود ہے جو دوسرے انسانوں کے اندر پائی جاتی ہے- اگر اُن کی فطرت ایڈریس ہوجائے تو اُن کے ساتھ وہی واقعہ پیش آسکتا ہے جس کو قرآن میں اِن الفاظ میں بیان کیاگیا ہے: فَاِذَا الَّذِیْ بَیْنَکَ وَبَیْنَہٗ عَدَاوَةٌ کَاَنَّہٗ وَلِیٌّ حَمِیْمٌ ( 41:34)
تاریخ بتاتی ہے کہ مستشرقین کے معاملےمیں اِس طرح کے واقعات بار بار پیش آئے ہیں- بہت سے ایسے مستشرق ہیں جنھوں نے اسلام کا مطالعہ کیا- وہ اسلام کی صداقت سے متاثر ہوئے اور انھوں نے اسلام کے بارے میں بہت سی اعلی کتابیں لکھیں- مثلاً ٹامس کارلائل (وفات: 1881)، ٹی ڈبلو آرنلڈ (وفات: 1930 )، فلپ کے ہٹی (وفات: 1978)، وغیرہ- کچھ اور لوگ ہیں جنھوں نے اسلام کے تفصیلی مطالعے کے بعد باقاعدہ اسلام قبول کرلیا- مثلاً ہنگری کے عبدالکریم جُرمانوس (وفات: 1979)، وغیرہ-
مستشرق عام طورپر اُس کو کہا جاتا ہے جو کسی مغربی ملک میں پیدا ہوا ہو اور پھر وہ مشرقی مذاہب کا مطالعہ کرے- لیکن توسیعی طورپر اِس فہرست میں ایسے افراد بھی شامل کیے جاسکتے ہیں جو کسی دوسرے مذہب میں پیداہوئے ہوں اور پھر وہ مختلف مذاہب کا مطالعہ کریں اور مطالعہ کے بعد اسلام قبول کرلیں- اِس دوسری قسم میں بھی بہت سے افراد پائے جاتے ہیں- مثلاً ڈاکٹر نشی کانت چٹوپادھیائے، وغیرہ-ڈاکٹر نشی کانت چٹوپادھیائے کا مختصر تعارف در ج ذیل ہے:
Chattopadhyay, Nishikanta (1852-1910) research scholar and the first Bengali to obtain a PhD degree (1882) from a European university, was born in July 1852 in the village of Pashchimpara in Vikrampur, Dhaka. Nishikanta passed the FA from Presidency College. He then went to Germany to study German, Sanskrit, linguistics, history and philosophy at Leipgiz University. But he was expelled from there for being an atheist. He proceeded to Switzerland and completed his doctoral studies at the University of Zurich. He returned to India in 1883 and subsequently taught at different colleges in Hyderabad, Mysore and Muzaffarpur. Towards the end of his life, he embraced Islam.
(http://www.banglapedia.org)
واپس اوپر جائیں

دریافت کی عظمت

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مکی دور کا واقعہ ہے- آپ کے چچا ابو طالب نے ایک بار آپ کو بلایا اور کہا کہ قوم کے ساتھ مصالحت کا انداز اختیار کرو(فاکفف عن قومک ما یکرہون من قولک)-اِس کے جواب میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یا عمّ، لو وُضعت الشمس فی یمینی والقمر فی یساری، ما ترکت ہذا الأمر (حیاة الصحابة: 1/58 ) یعنی اے میرے چچا، اگر یہ لوگ ایسا کریں کہ وہ میرے دائیں ہاتھ میں سورج رکھ دیں اور میرے بائیں ہاتھ میں چاند رکھ دیں، تب بھی میں اِس کام کو نہیں چھوڑ وں گا-
اِس واقعے سے ایک نہایت اہم اصول معلوم ہوتاہے، وہ یہ کہ — جتنی بڑی دریافت، اتنی بڑی عزیمت- اگر آدمی ایک ایسی حقیقت پر کھڑا ہوا ہو جو اس کے لیے سورج اور چاند سے بھی زیادہ بڑی ہے تو ہر دوسری چیز اس کی نظر میں چھوٹی ہوجائے گی- ایسا آدمی کسی بھی عذر کو لے کر اپنے موقف کے معاملے میں مصالحت کا انداز اختیار نہیں کرسکتا-
پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کا مشن توحید کا مشن تھا- آپ کو توحید کا نظریہ وحیِ خداوندی کے تحت بطور اعلی معرفت حاصل ہوا- اسی اعلی معرفت کے تحت آپ اپنے مشن کو لے کر کھڑے ہوئے- آپ کی جو دریافت تھی، وہ آپ کے لیے ساری کائنات سے زیادہ بڑی تھی- ایسا انسان اس کا تحمل نہیں کرسکتا کہ وہ کسی مصلحت کی بنا پر اس کو چھوڑ دے یا وہ اس میں کوئی کمی کرے-
پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کا مذکورہ قول بھی ایک سنتِ رسول ہے- وہ ایک واقعے کی صورت میں ایک عظیم حقیقت کو بتاتا ہے، وہ یہ کہ ایک بڑی دریافت تمام دوسری چیزوں کو چھوٹا کردیتی ہے- ایسا آدمی کسی قسم کے رکون (11:113) کا تحمل نہیں کرسکتا- اگر آپ کسی شخص کے اندر یہ بات پائیں کہ وہ قوم کے اندر برائی دیکھتا ہے، لیکن وہ اپنے مادی تحفظات کی بنا پر اس کی کھلی مذمت نہیں کرتا تو سمجھ لیجئے کہ اس کو جو چیز ملی ہے، وہ اتنی بڑی نہیں کہ ہر قومی یا دنیوی مصلحت اس کے لیے چھوٹی ہوجائے-
واپس اوپر جائیں

کامیاب زندگی کا راز

مشہور سائنس داں البرٹ آئن اسٹائن (وفات: 1955 ) نےکہا تھا کہ —انسانی زندگی بائیسکل چلانے کی مانند ہے- اپنا توازن برقرار رکھو اور تم محفوظ طورپر اپنی منزل پر پہنچ جاؤگے:
Life is like driving a bicycle. Maintain your balance and you will safely reach your destination.
یہ قول بہت با معنى ہے- اصل یہ ہے کہ موجودہ دنیا میں انسان کو دوطرفہ تقاضوں کے درمیان عمل کرنا ہوتاہے- ایک طرف، اس کا اپنا ارادہ اور دوسری طرف، خارجی حالات-
موجودہ دنیا میں کسی کا میابی کے حصول کے لیے دونوں تقاضوں کے درمیان ہم آہنگی ضروری ہے- اگر ارادہ ہو، لیکن خارجی حالات کی موافقت موجود نہ ہو تو کامیابی ممکن نہیں-
اِسی طرح اگر خارجی حالات کی موافقت ہو، لیکن ارادہ موجود نہ ہو، تب بھی کامیابی ناممکن ہوجائے گی-آدمی کو چاہئے کہ جب بھی وہ اپنے کسی منصوبے کی تکمیل کرنا چاہے تو ہمیشہ وہ حالات پر پوری نظر رکھے- وہ ایسا نہ کرے کہ وہ اپنی خواہش کے پیچھے چلنے لگے- وہ ایسا نہ کرے کہ وہ کسی ایک پہلو کو نظر انداز کرکے دوسرے پہلو کی طرف بہت زیادہ جھک جائے-وہ ایسا بھی نہ کرے کہ وہ اپنا زیادہ اندازہ (overestimation) کرے اور حالات کا کم تر اندازہ (underestimation) کرنے لگے- اِس قسم کی کوئی بھی غلطی اس کے منصوبے کو ناکام بنانے کے لیے کافی ہے-آدمی اپنے مزاج کے اعتبار سے ایک انتہا پسند مخلوق ہے- آدمی اکثر ایسا کرتا ہے کہ وہ ایک پہلو کی طرف اِس طرح جھک جاتا ہے کہ وہ دوسرے پہلو کی رعایت کرنے سے قاصر ہوجاتاہے- اِس قسم کے عدم توازن کے ساتھ کسی شخص کا اِس دنیا میں کامیاب ہونا ممکن نہیں-
توازن بلاشبہہ ایک اہم اصول ہے، لیکن توازن سے مراد عملی معاملات میںتوازن کا طریقہ اختیار کرنا ہے، نہ کہ فکری اور نظریاتی معاملات میں توازن کا طریقہ اختیار کرنا- نظری معاملات میں آدمی کا نشانہ آئڈیل ہونا چاہئے، لیکن عملی معاملات میں اس کو پریکٹکل بن جانا چاہیے-
واپس اوپر جائیں

مواقع ختم نہیں ہوتے

فرنچ فلاسفر والٹیر (Voltaire) 1694 میں پیدا ہوا- آخر عمر میں اس کو سمومیتِ بول (urania) کی بیماری ہوگئی- وہ شدید تکلیف کی حالت میں 1778 میں مرگیا- اُس کا ایک قول یہ ہے — زندگی ایک تباہ شدہ جہاز کی مانند ہے، مگر ہمیں لائف بوٹ کے استعمال کو بھولنا نہیں چاہئے:
Life is a shipwreck, but we must not forget to sing in the lifeboats.
حقیقت یہ ہے کہ زندگی میں کبھی مواقع ختم نہیں ہوتے- ایک موقع (first chance)جب ختم ہوتاہے تو اس کے فوراً بعد دوسرا موقع آجاتا ہے- ناکامی یہ ہے کہ آدمی ایک موقع کھونے کے بعد دوسرے موقع (second chance) کو دریافت نہ کرسکے-
زندگی غیر متوقع حالات سے بھری ہوئی ہے- زندگی میں بار بار ایسے تجربات پیش آتے ہیں جن کی بابت آدمی نے پہلے کبھی سوچا بھی نہیں تھا- اس بنا پر آدمی کا ہر منصوبہ ناقص ثابت ہوتاہے- اِس لیے ضروری ہے کہ آدمی بار بار اپنے منصوبے پر نظر ثانی کرے-
اِس صورتِ حال کی تلافی کے لیے خالق نے دنیا کو امکانات اور مواقع سے بھر دیا ہے- آدمی کو چاہیے کہ جب وہ کسی ناکامی سے دوچار ہو تو وہ اپنی ناکامی کو تجربے کے خانے میں ڈال دے اور نیا راستہ تلاش کرکے اپنے سفر کو جاری رکھے- ناکامی صرف ناکامی نہیں، ناکامی آپ کی شخصیت کے ارتقاکا ذریعہ ہے- ناکامی آپ کوزیادہ دانش مند بناتی ہے- ناکامی آپ کی سنجیدگی میں اضافہ کرتی ہے- ناکامی آپ کو زیادہ پختہ انسان بنانے والی ہے- ناکامی زیادہ بڑی کامیابی کا دروازہ کھولنے والی ہے-
انسان کی سب سے بڑی طاقت اس کی عقل ہے - عقل کو استعمال کرکے آدمی ہر مسئلے کا حل دریافت کرسکتا ہے، یہاں تک کہ ایسے مسئلے کا حل بھی جو بظاہر خاتمہ کے ہم معنی ہو، جس کے بعد کوئی امکان نظر نہ آتا ہو- ہمت کو ہمیشہ باقی رکھیے اور پھر عقل ہر صورتِ حال میں آپ کی رہنما بن جائے گی-
واپس اوپر جائیں

غلطی کا اعتراف

موجودہ زمانے کا ایک معروف کلچر وہ ہے جس کو سروے کلچر (survey culture) کہاجاتاہے- موجودہ زمانے میں لوگوں کی رائے جاننے کے لیے ہر چیز کا سروےکیا جاتاہے- نئی دہلی کے انگریزی اخبار ٹائمس آف انڈیا (24 اپریل 2013) میں ایک رپورٹ شائع ہوئی ہے- اس میں بتایا گیاہے کہ انگلینڈ میں کیے گئے ایک سروے کے مطابق، ساری (sorry) کا لفظ بولنا لوگوں کے لیے ایک بے حد مشکل کام ہوتا ہے:
‘Sorry’ is the hardest word to say.
اسلام میں کچھ چیزیں واضح طورپر حرام قرار دی گئی ہیں- یہ گویا وہ چیزیں ہیں جو کہ محرَّم حرام (declared haram) کی حیثیت رکھتی ہیں- مگر ان کے سوا کچھ چیزیں اور ہیں جو اگرچہ شرعی زبان میں حرام نہیں قرار دی گئی ہیں، لیکن وہ سخت طور پر غیر مطلوب ہیں- اِنھیں غیر محرّم چیزوں میں سے ایک یہ ہے کہ آدمی کھلے طورپر اپنی غلطی کا اعتراف نہ کرے- اسلامی تعلیمات کے مطابق، غلطی کا اعتراف نہ کرنا آدمی کے اندر کمزور شخصیت پیدا کرتا ہے، اور کمزور شخصیت اور حرام شخصیت کے درمیان صرف قانون کے  اعتبار سے فرق ہے، حقیقت کے اعتبار سے، دونوں کے درمیان کوئی فرق نہیں-
اِسی طرح سطحیت، بے اصولی، بدذوقی اور غیر سنجیدگی جیسی چیزیں بھی سب کی سب غیر محرّم حرام کی حیثیت رکھتی ہیں- اِس طرح کی عادتوں کے ذریعے آدمی کے اندر غیر جنتی شخصیت بنتی ہے- موجودہ دنیا میں کسی عورت اور مرد کا اصل کام یہ ہے کہ وہ اپنے اندر مزکّیٰ شخصیت بنائے- اِسی مزکّیٰ شخصیت کو آخرت کی زندگی میں جنت میں جگہ ملے گی- یہ مزکی شخصیت صرف حرام چیزوں کے پرہیز سے نہیں بنتی، بلکہ وہ اُس وقت بنتی ہے جب کہ اِس معاملے میں انسان اتنا زیادہ حساس ہوجائے کہ وہ غیر محرم حرام سے بھی شدت کے ساتھ پرہیز کرنے لگے(لایبلغ العبد أن یکون من المتقین، حتى یدع مالا بأس بہ حَذَراً مما بہ بأس)-
واپس اوپر جائیں

سوال وجواب

سوال
میں ایک جدید تعلیم یافتہ مسلمان ہوں۔ میں پانچ وقت نماز پڑھتا ہوںاورروزہ بھی رکھتا ہوں، لیکن یہ تراویح جو ہر سال پڑھی جاتی ہے، اس کا کوئی فائدہ میری سمجھ میں نہیں آتا۔براہِ کرم، اِس کی وضاحت فرمائیں- (ایک قاری، الرسالہ، نئی دہلی)
جواب
تراویح کوئی رسم نہیں ہے۔تراویح دراصل، قرآن کا اجتماعی مطالعہ (collective study) ہے۔ تراویح کا مطلب یہ ہے کہ نماز کی حالت میں کھڑے ہو کر قرآن کو سنا جائے اور اس کا اجتماعی مطالعہ کیا جائے۔تراویح کی بہترین صورت یہ ہے کہ کسی دن قرآن کا جو حصہ پڑھا جانے والا ہو، تمام نمازی پیشگی طورپر قرآن کے اُس حصے کا ترجمہ پڑھیں اور اس کے مضمون کو اپنے ذہن میں بٹھائیں۔ اِس کے بعد وہ مسجد میں جاکر تراویح پڑھیں۔ اِس طرح جب وہ تراویح پڑھیں گے تو وہ قرآن کو متوجہ ہو کر سنیں گے بھی اور اُس پر غور بھی کریں گے۔ یہ اُن کے لیے قرآن کا ایک اجتماعی مطالعہ ہوگا جس سے انھیں غیرمعمولی فائدے حاصل ہوں گے۔حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ جب زیادہ لوگ جمع ہو کر اللہ کا ذکر کریں اور اللہ کا چرچا کریں تو اُس وقت وہاں فرشتے بہت زیادہ تعداد میں آجاتے ہیں۔ فرشتوں کی آمد سے اُس مقام پر ایک روحانی ماحول پیدا ہوجاتا ہے۔ تراویح، اِسی قسم کا ایک اجتماعی ذکر اور اجتماعی مطالعہ قرآن ہے۔ اُس کو اگر صحیح طورپر انجام دیا جائے تو اُس سے غیر معمولی فوائد حاصل ہوںگے۔
سوال
قرآن میںاللہ کا ارشاد ہوا ہے: وَیَسْــــَٔـلُوْنَکَ عَنِ الرُّوْحِ ۭ قُلِ الرُّوْحُ مِنْ اَمْرِ رَبِّیْ وَمَآ اُوْتِیْتُمْ مِّنَ الْعِلْمِ اِلَّا قَلِیْلًا (17:85) - آپ ’’تذکیر القرآن‘‘میں مذکورہ آیت کی تشریح کرتےہوئے لکھتےہیں کہ: ’’یہاںروح سے مراد وحی الہی ہے- عرب کے جن لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ سوال کیا، وہ وحی والہام کے منکر نہ تھے- اس سوال کا رخ ان کے نزدیک، رسول اللہ کی بے خبری کی طرف تھا، نہ کہ حقیقةً اپنی بے خبری کی طرف‘‘ (صفحہ: 792) -آپ نے روح سے مراد ’’وحی الہی‘‘ لیا ہے، لیکن صحیح ترین روایات اور مفسرین کی تشریحات کی رو سے یہ تشریح درست نہیں- مثال کے طورپر ابن کثیر اپنی تفسیر میں لکھتے ہیں کہ ’’حضرت ابن عباس سے منقول ہے کہ یہودیوں نے پیغمبرسے روح کی بابت سوال کیا کہ اسے جسم کے ساتھ عذاب کیوں ہوتا ہے، وہ تو اللہ کی طرف سے ہے- چوں کہ اس بارے میں کوئی وحی آپ پر نہیں اتری تھی، اِس لیے آپ نے ان سے کچھ نہ فرمایا- اسی وقت آپ کے پاس جبریل علیہ السلام آئے اور مذکورہ آیت اتری (جلد سوم، صفحہ 220) مولانا عبد الماجد دریابادی نے اپنی تفسیر(تفسیر ماجدی) میں سورہ بنی اسرائیل کی اس آیت کی شرح کرتے ہوئے لکھا ہے کہ: ’’روح سے مراد روح انسانی ہے جو انسان کا سبب حیات ہے:فی ہذہ الآیةأقوال- أظہرہا أن المراد من الروح الذی ہو سبب الحیاة (کبیر، جلد سوم، صفحہ: 72)- امید ہے کہ اس اشکال پر غور فرمائیں گے اور اپنے جواب سے مطلع کریں گے- (شاہد جمیل، کلکتہ)
جواب
اِس آیت میں ’’روح‘‘ سے مراد کیا ہے، اِس میں اختلاف ہے (تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو، تفسیر القرطبی ) قرآن میں ایک سے زیادہ مقامات پر روح کا لفظ وحی کے معنی میں آیا ہے- اِسی کو ہم نے اختیار کیا ہے- مثال کے طور پر ملاحظہ ہو سورہ المومن (40) کی آیت نمبر 15-
سوال
عرض ہے کہ آپ کی فکر انگیز تحریروں کا مطالعہ 1986 سے مسلسل کررہا ہوں اور دعوتی کام میں بھی مصروفِ عمل ہوں- آپ سے اس خط کے ذریعے کچھ ذہنی اشکالات کا فوری ازالہ چاہتا ہوں- اُمید ہے کہ آپ جواب مرحمت فرماکر میرے ان اشکالات کو دور کریں گے-
1- آپ دعوتی نقطہ نظر سے اکثر reasoning پر بہت زور دیتے ہیں، لیکن قرآن میں بہت سارے واقعات beyond reasoning ہیں- مثلاً اصحابِ کہف کا واقعہ، حضرت سلیمان کے واقعات، حضرت عیسی کے واقعات، وغیرہ- میرا سوال یہ ہے کہ اگر ہم اسلام کے تمام حقائق کو reason-based تصور کریں یا بنانے کی کوشش کریں تو کیا پورے اسلامی ڈھانچے پر شک پیدا نہیں ہوگا- اِسی طرح آپ نے لکھا ہے کہ حُب شدیدکا تعلق صرف اللہ سے ہوتا ہے کسی اور سے نہیں- (الرسالہ، مئی 2013) اِس سے یہ نتیجہ اخذ ہورہا ہے کہ پیغمبر کے ساتھ بھی اگر حب شدید ہو تو یہ مشرکین کا طریقہ ہے اور بالفاظِ دیگر یہ خدا کا حصہ پیغمبر کو دینے جیسا ہے- عرض ہے کہ جب اللہ تعالی نے رسول کی اطاعت کو اپنی اطاعت ٹھہرایا (4:80) اور سورہ الفتح میں فرمایا کہ ’’جو لوگ تم سے بیعت کرتے ہیں، وہ درحقیقت اللہ سے بیعت کرتے ہیں‘‘ (48:10) -تو رسول کے ساتھ محبت درحقیقت اللہ ہی سے محبت کیوں نہیں ہے— مزید اللہ کے رسول کے ساتھ حُبّ شدید کی ممانعت ہوتی یا یہ مشرکوں کا طریقہ ہوتا تو حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خود اِس کی بات کیوں کرتے- ’’میری امت میں مجھ سے شدید محبت رکھنے والے وہ لوگ ہیں جو میرے بعد پیدا ہوں گے-اُن میں سے ہر ایک کی خواہش ہوگی کہ کاش، وہ مجھے دیکھتا اور اپنے اہل وعیال اور اپنے مال کو فدا کرتا‘‘-
بخاری اور مسلم میں یہ حدیث درج ہے جس میں اللہ اور رسول کی محبت کو ایک ساتھ بریکیٹ کیا ہوا ہے:’’تین چیزیں ایسی ہیں کہ جس شخص میں وہ ہوں، اُسے ایمان کی حلاوت نصیب ہوگی— یہ کہ اللہ اور اس کے رسول اُسے تمام ما سوا سے زیادہ محبوب ہوں‘‘ (أن یکون اللہ ورسولہ أحب إلیہ مماسواہما) آپ نے الرسالہ، مئی 2011 میں وطن کے ساتھ محبت کو ایک قول سے استدلال کرکے اس کو ایمان واسلام کا تقاضا ثابت کیا ہے- اِس لحاظ سے رسول کی محبت یا دوسرے لفظوں میں رسول سے شدید قلبی تعلق کیسے مشرکانہ طریقہ بن جاتا ہے جب کہ صحابہ کے واقعات شاہد ہیں کہ ان کو پیغمبر کے ساتھ جو شدید قلبی تعلق تھا، وہ کبھی اللہ کی محبت اور اللہ کی عظمت میں آڑے نہیں آیا-
3- آپ نے الرسالہ میں ایک بار لکھا تھا کہ آپ کے عقائد وہی ہیں جو اہلِ سنت والجماعت کے ہیں، لیکن ’’نزول عیسی‘‘ اور ’’شفاعت‘‘ کے عقیدے کے متعلق آپ کی رائے مختلف ہے-کیا آپ کے ان دونوں عقیدوں پر یہ رائے حتمی ہے یا جس طرح دابة الأرض کے بارے میں آپ کی رائے تبدیل ہوگئی ہے، اِن دو عقیدوں کے بارے میں بھی آپ کی رائے تبدیل ہوسکتی ہے- آپ سے گزارش ہے کہ براہِ کرم، ان اشکالات کا جواب دے کرمیری رہنمائی فرمائیں- (الطاف حسین، کشمیر)
جواب
1- موجودہ زمانے کو ایج آف ریزن (age of reason) کہاجاتا ہے- موجودہ زمانے کے مائنڈ کو ایڈریس کرنے کے لیے ضروری ہے کہ جو بات کہی جائے، وہ عقل پر مبنی (reason-based) ہو- تاہم عقلی استدلال کی دوسطحیں ہیں— ایک ہے مشاہداتی استدلال اور دوسرا ہے- استنباطی استدلال- اگر استنباطی استدلال کو شامل کرلیا جائے تو کوئی بھی چیز عقلی استدلال سے باہر نہیں رہتی- آپ نے جن تین چیزوں کا حوالہ دیاہے، وہ بھی استنباطی استدلال کے دائرے میں پوری طرح شامل ہیں-استنباطی استدلال کا مطلب یہ ہےکہ ایسی چیز کے ذریعے استدلال کرنا جو اگر چہ براہِ راست دلیل نہ ہو، لیکن استنباط (inference) یا احتمال (probability)کے ذریعے وہ زیر بحث امر کو مدلل کررہی ہو- تفصیل کے لیے حسب ذیل کتابیں ملاحظہ فرمائیں:
The Mysterious Universe by Sir James Jeans- 1930
The Encyclopaedia of Ignorance by Ronald Duncan & Miranda Weston-Smith- 1977
2- حبّ شدید مطلق طورپر صرف ایک ذات سے مطلوب ہے اور وہ اللہ رب العالمین کی ذات ہے- دوسروں سے محبت ہونا بھی فطری ہے، لیکن وہ محبت بالذات نہیں ہوتی، بلکہ وہ صرف بالواسطہ محبت ہوتی ہے- (تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو: ماہ نامہ الرسالہ، جون 2008، صفحہ: 2-3)
3- اہلِ سنت والجماعت سے وابستگی کا مطلب یہ نہیںہے کہ کسی مسئلے پر اختلاف نہ ہو- اہلِ سنت والجماعت سے وابستہ ہونے کے باوجود رائے کا اختلاف فطری ہے- مثلاً چاروں فقہا یقینی طورپر اہلِ سنت والجماعت میں شامل ہیں، لیکن اُن کے درمیان بہت سے مسائل میں اختلافِ رائے پایاجاتا ہے-
واپس اوپر جائیں

Monday, 1 July 2013

Al Risala | July 2013 (الرسالہ،جولائی)

2

-جنت میں داخلہ

3

- ایک خدائی بشارت

4

- آخرت کا سوال

5

- قرآن کی تلاوت

6

- سیلف میڈ مین

7

- اسپریچول الحاد

8

- موت کے بعد

9

- مغربی تہذیب، مغربی کلچر

12

- تفرُّق فی الدین کا ظاہرہ

18

- ایک تاریخی قانون

38

- زحمت میں رحمت

39

- سیاست، تعمیر

40

- اسٹریس ایک نعمت

41

- سوال و جواب

44

- خبر نامہ اسلامی مرکز— 223


جنت میں داخلہ

قرآن کی سورہ البقرہ میں بتایا گیا ہے کہ جنت میں داخلہ کسی نسل یا گروہ سے وابستگی کی بنیاد پر نہیں ہوگا، بلکہ وہ تمام تر شخصی صفات کی بنیاد پر ہوگا- اِس سلسلے میں ارشاد ہوا ہے: بَلٰی ۤ مَنْ اَسْلَمَ وَجْہَہٗ لِلّٰہِ وَھُوَ مُحْسِنٌ فَلَہٗٓ اَجْرُہٗ عِنْدَ رَبِّہٖ ۠ وَلَا خَوْفٌ عَلَیْہِمْ وَلَا ھُمْ یَحْزَنُوْنَ(2:112) یعنی جس نے جھکا دیا اپنا چہرہ اللہ کے لیے اور وہ محسن ہے تو ایسے شخص کے لیے اجر ہے اس کے رب کے پاس، اُن کے لیے نہ کوئی ڈر ہےاور نہ کوئی غم-
قرآن کی اِس آیت میں کسی انسان کے لیے جنت میں داخلے کی دوشرط بتائی گئی ہے— ایک، اپنا چہرہ اللہ کے لیے جھکا دینا- دوسرے، اُس انسان کا محسن ہونا- پہلی شرط کا تعلق فارم (form) سے ہے اور دوسری شرط کا تعلق اسپرٹ (spirit) سے-
اِس کا مطلب یہ ہے کہ جنت اُس انسان کے لیے ہے جو دنیا کی زندگی میں دوشرطوں پر پورا اترے- ایک، یہ کہ اس کی زندگی بہ اعتبار فارم اسلام پر مبنی ہو- مگر صرف فارم کو اختیار کرنا کافی نہیں، اُسی کے ساتھ یہ بھی ضروری ہے کہ وہ محسن ہو- محسن یا احسان کا مطلب ہےکسی کام کو اچھی طرح کرنا (to do better) - کسی انسان کی زندگی میں جب یہ دوشرطیں جمع ہوں تو اس کے بعد ہی وہ جنت میں داخلے کا مستحق قرار پاتا ہے-
کسی کام کو اچھی طرح کرنا کب ممکن ہوتاہے، یہ اُس وقت ممکن ہوتاہے جب کہ انسان اپنے کام کو صرف جسمانی طورپر نہ کرے، بلکہ اس کا دل ودماغ اس کے ساتھ وابستہ ہوجائے- وہ اسی کے لیے سوچے، اس کے جذبات اسی کے ساتھ وابستہ ہوں، وہ کام پوری طرح اس کی توجہ کا مرکز بن گیا ہو، اس کی زندگی میں اُس کام کا درجہ مقصدحیات کا ہو، نہ کہ صرف ایک رسم یا ایک رٹین (routine) کا- یہی احسان ہے، اور کوئی شخص جنت میں داخلے کے قابل صرف اُس وقت بنتا ہے جب کہ اُس کے دینی عمل میں احسان کی یہ روح شامل ہوجائے-
واپس اوپر جائیں

ایک خدائی بشارت

قرآن کی سورہ النساء میں ہجرت کا ذکر کرتے ہوئے ارشاد ہوا ہے: وَمَنْ یُّھَاجِرْ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ یَجِدْ فِی الْاَرْضِ مُرٰغَمًا کَثِیْرًا وَّسَعَة (4:100) یعنی جو شخص اللہ کی راہ میں ہجرت کرے گا، وہ زمین میں بڑے ٹھکانے اور بڑی وسعت پائے گا-
قرآن کی اِس آیت میں ہجرت سے مراد صرف زمینی ہجرت نہیں ہے، اِس میں وہ تمام واقعات شامل ہیں جو ہجرت سے مشابہت رکھتے ہوں- مثلاً ایک آدمی ایک دینی تنظیم (organization) سے وابستہ تھا، پھر ایسے اسباب پیش آئے کہ اس کو اِس تنظیم کو چھوڑ کر دوسری دینی تنظیم سے وابستہ ہونا پڑا،تو ایسا شخص بھی بلا شبہہ مہاجر فی سبیل اللہ ہے- اُس کے لیے بھی وہ تمام خدائی بشارتیں مقدر ہیں جو مذکورہ آیت میں وطنی مہاجر کے لیے بتائی گئی ہیں- ایسے مہاجر فی سبیل اللہ کو بلا شبہہ اللہ کی مدد حاصل ہوگی، نئے ماحول میں وہ اپنے لیے مزید اضافے کے ساتھ مواقعِ عمل پالے گا- اس کو اللہ کی طرف سے یقینی طورپر رزقِ مادی بھی ملے گااور رزقِ معنوی بھی-
اِس آیت میں وسعت (کشادگی) کی بشارت بہت بامعنی ہے- اِس کا مطلب یہ ہے کہ ایسی ’’ہجرت‘‘ کے بعد آدمی کو وسیع تر دائرہ کار ملے گا، اس کے ذہنی افق میں اضافہ ہوگا، نئے تجربات اس کے لیے ذہنی ارتقا (intellectual development) کا ذریعہ بنیں گے، وہ محسوس کرے گاکہ وہ بند ماحول سے نکل کر کھلے ماحول میں آگیا ہے- اُس نے پچھلے ساتھیوں کے مقابلے میں، بہتر ساتھی اور پچھلے حالات کے مقابلے میں، بہتر حالات پالیے ہیں، وہ محدود دنیا سے نکل کر لامحدود دنیا میں آگیا ہے- اس کی ہجرت اس کے لیے ذہنی ترقی کا ذریعہ ثابت ہوگی اور روحانی ترقی کا ذریعہ بھی- اُس کے یقین، اس کی معرفت، اس کی بصیرت اور اس کے تعلق باللہ میں ناقابلِ قیاس حد تک اضافہ ہوجائےگا- اُس پر یہ قول صادق آئے گا کہ — مالی کبھی ایک پودے کو ایک جگہ سے نکال کر دوسری جگہ نصب کرتا ہے، صرف اِس لیے کہ پودے کو اپنی نشو ونما (growth) کے لیے زیادہ بہتر موقع دیا جائے-
واپس اوپر جائیں

آخرت کا سوال

قرآن میں بتایا گیاہے کہ قیامت میں جب تمام لوگ حشر کے میدان میں جمع ہوں گے، اُس وقت اُن لوگوں کو کھڑا کیا جائے گا جن لوگوں نے دنیا میں اللہ کے دین کی گواہی دی تھی: یَوْمَ یَقُوْمُ الْأَشْہَاد(40:51) یہ اللہ کے سامنے پیشی کا دن ہوگا۔ اُس دن لوگوں سے یہ نہیں پوچھا جائے گا کہ کس نے اپنے مفروضہ دشمنوں کے خلاف جنگ کی، کس نے ان کے خلاف گن کلچر چلایا، کس نے ان کے خلاف خود کش بم باری کی، کس نے اپنے مفروضہ دشمنوں کے خلاف کتنی نفرت کی۔ اُس دن یہ بھی نہیں پوچھا جائے گا کہ کس نے اسلامی نظام کے نام پر قیادت کے ہنگامے کھڑے کئے، کس نے کتنا زیادہ سوشل ورک کیا، کس نے مسلم ایمپاورمینٹ کا کام کتنا انجام دیا، کس نے ملی محاذ پر سرگرمیاں دکھائیں، کس نے اسلام کے نام پر کتنی زیادہ بلڈنگیں کھڑی کیں، کس نے مسجدوں میں اونچے اونچے مینار بنائے، کس نے تحفظِ اسلام کے نام پر بڑے بڑے جلوس نکالے، وغیرہ۔ قیامت کے دن جب اللہ اور اس کے فرشتے لوگوں کے سامنے ظاہر ہوجائیں گے، اُس وقت صرف ایک ہی سوال ہوگا، وہ یہ کہ وہ کون ہے جس نے قوموں کے سامنے انذار وتبشیر کا کام انجام دیا۔ کس نے خدا کے پیغام کو لوگوں تک پہنچایا، کس نے خدا کے تخلیقی منصوبے سے لوگوں کو آگاہ کیا۔
قرآن میں بتایا گیاہے کہ امت محمدی کا اصل کام یہ ہے کہ وہ ختم نبوت کے بعد خداکے پیغام کو سارے انسانوں تک اُسی طرح پہنچائے جس طرح اس سے پہلے نبیوں نے پہنچایا۔ یہی وہ معیار ہے جس پر قیامت کے دن لوگوں کو جانچا جائے گا۔ جو لوگ اس معیار پر پورے اتریں گے، وہ حقیقی معنوں میں اللہ کے یہاں امتِ محمدی قرار پائیں گے۔ اور جو لوگ اس معیار پر پورے نہ اتریں، اُن کے لیے سخت اندیشہ ہے کہ جب قیامت کے دن وہ حشر کے میدان میں حاضر ہوں تو اُن کے بارے میں یہ اعلان کردیا جائے کہ تم اِس قابل نہیں کہ تم کو امتِ محمدی کا حصہ قرار دیا جائے۔ تم دنیا میں خداکے بتائے ہوئے راستے سے دور تھے، اب تمھارے لیے یہی مقدر ہے کہ تم ہمیشہ کے لیے خدا کی رحمتوں سے دور ر ہو، تمھارے لیے خدا کی رحمتوں میں حصہ پانا مقدر نہیں۔
واپس اوپر جائیں

قرآن کی تلاوت

قرآن کی تلاوت صرف ثواب کے لیے نہیں ہے، بلکہ قرآن کی تلاوت کا مقصد یہ ہے کہ قرآن کے ذریعے اللہ کی ہدایت حاصل کی جائے - قرآن کتاب ہدایت ہے اور قرآن کے ذریعے ہدایت حاصل کرنا یہی وہ اصل مقصد ہے جس کے لیے قرآن کی تلاوت کرنا چاہیے-
اِس مقصد کو حاصل کرنے کا طریقہ کیا ہے، اس کا طریقہ یہ ہے کہ آپ جب قرآن کو پڑھیں تو اس کی ہر آیت کو آپ اپنی ذات پر منطبق (apply) کریں، اس کی ہر آیت کو آپ اپنی ذات کے لیے عملی رہنما بنائیں-مثلاً آپ نے قرآن میں یہ آیت پڑھی: لَقَدْ خَلَقْنَا الْاِنْسَانَ فِیْٓ اَحْسَنِ تَقْوِیْم(95:4)تو اِس آیت کی روشنی میں آپ خود اپنے وجود پر غور کریں- آپ یہ دریافت کریں کہ آپ کا پورا وجود ایک انوکھی شخصیت (unique personality) ہے- بال اور ناخن سے لےکر دماغ تک، آپ کے جسم کی ہر چیز انتہائی حد تک بامعنی ہے-
اپنے وجود کے بارے میں آپ یہ دریافت صرف ایک دن نہ کریں، بلکہ ہر دن کریں- جب آپ ایسا کریں گے تو آپ کے اندر وہ چیز پیدا ہوگی جس کو تھرلنگ معرفت (thrilling realization) کہاجاسکتاہے-
اِسی طرح جب آپ قرآن میں یہ آیت پڑھیں: اِنِّىْٓ اُمِرْتُ اَنْ اَکُوْنَ اَوَّلَ مَنْ اَسْلَمَ (6:14) تو اِس آیت کو آپ اپنے اوپر منطبق کریں- آپ یہ سوچیں کہ دعوت الی اللہ کے کام کے لیے سب سے پہلے مجھے یہ کرنا ہے کہ میں اپنے آپ کو داعی کی حیثیت سے تیار کروں، میںاپنی سوچ اور اپنے برتاؤ کے اعتبار سے اپنے اندر داعیانہ شخصیت پیدا کروں اور پھر ہر دن اِس اعتبار سے ، اپنا محاسبہ کرتارہوں — یہی قرآن کی تلاوت کا صحیح طریقہ ہے اور یہی وہ تلاوت ہے جس کو قرآن میں حقِ تلاوت (2:121) کہاگیا ہے- یہی وہ تلاوت ہے جس کے ذریعے آدمی کے اندر مطلوب ربانی شخصیت پیدا ہوتی ہے-
واپس اوپر جائیں

سیلف میڈ مین

انوپم کھیر فلمی دنیا کی ایک ممتاز شخصیت ہیں- ان کے بارے میں کہاجاتا ہے کہ ان کے اندر کبر (arrogance) پایا جاتاہے- نئی دہلی کے انگریزی اخبار ٹائمس آف انڈیا (21 فروری 2013) میں ان کا ایک انٹرویو چھپا ہے- اِس انٹرویو میں اُن سے پوچھا گیا کہ آپ کے بارے میں لوگوں کا خیال ہے کہ آپ کے اندر کبر ہے- اِس کا جواب دیتے ہوئے انھوں نے کہا— میرے اندر کبر کا مزاج اس لیے ہے کہ میں ایک سیلف میڈمین ہوں اور میں اپنے آپ کو ایک محفوظ آدمی تصور کرتاہوں:
My arrogance comes from my being a self-made man and a secure person. (p. 8)
کہا جاتاہے کہ سیلف میڈ مین کا لفظ پہلی بار بنجامن فرینکلن نے اپنی آٹو بائگریفی میں استعمال کیا تھا- بنجامن فرینکلن 1706میں امریکا کی ایک غریب فیملی میں پیداہوا- اس کا باپ موم بتی بنایا کرتا تھا- بنجامن فرینکلن نے اعلی تعلیم حاصل کی- اس نے اپنی زندگی میں غیر معمولی جدوجہد کی، یہاں تک کہ 1790 میں جب وہ مرا تو وہ امریکا کی تاریخ میں امریکا کے فاؤنڈنگ فادر کی حیثیت سے لکھاگیا- بنجامن فرینکلن اپنی آخری عمر میں مختلف بیماریوں کا شکار ہوگیا- اپنی زندگی کے آخری تین سال اس نے اِس طرح گزارے کہ وہ لاس اینجلیز میں اپنے گھر کے اندر رہتا تھا اور پبلک کے سامنے نہیں آتا تھا-
سیلف میڈ مین کا تصور تمام تر لوگوں کی ناواقفیت پر مبنی ہے- حقیقت یہ ہے کہ ہر انسان گاڈ میڈ مین (God-made man) ہوتاہے، کوئی بھی شخص سیلف میڈ مین نہیں ہوتا- اِسی حقیقت کو یاد دلانے کے لیے اللہ تعالی انسان کے اوپر بڑھاپا طاری کرتاہے- قرآن میں ارشاد ہواہےکہ— ہم جس کو لمبی عمر دیتے ہیں ، اس کو اس کی ابتدائی تخلیق کی طرف لوٹا دیتے ہیں- کیا وہ سوچتے نہیں(36:68)- ابتدائی تخلیق سے مراد بچپن کی حالت ہے- انسان بچپن کے زمانے میں عاجز ہوتا ہے اور بڑھاپے کے زمانے میں بھی عاجز- عجز کا یہ دو طرفہ تجربہ انسان کو کبر سے بچانے کے لیے کافی ہے بشرطیکہ وہ سوچے -
واپس اوپر جائیں

اسپریچول الحاد

نئی دہلی کے انگریزی اخبار ٹائمس آف انڈیاکےشمارہ25 اپریل 2013کی ایک رپورٹ کے مطابق، امریکا میںایسے لوگوں کی تعدا د بڑھ رہی ہے جو اپنے آپ کو کرسچن نہیں کہتے، بلکہ وہ اپنے آپ کو نان بلیور کہنا پسند کرتے ہیں:
15 percent Americans now identify themselves as non-believers.
تاہم یہ لوگ اپنے آپ کو ملحد (atheist)کہنا پسند نہیں کرتے، بلکہ وہ اپنے کیس کو بتانے کے لیے اپنے لیے اسپریچول ملحد (spiritual atheist) کا لفظ استعمال کرتےہیں-
یہ صر ف امریکا کی بات نہیں ہے، بلکہ جدید تعلیم یافتہ لوگوں میں ایسے افراد کثرت سے پائے جاتے ہیں جو عملاً مذہب کو چھوڑ چکے ہیں، لیکن اس کے باوجود وہ اسپریچولٹی (spirituality) کی تلاش میں رہتے ہیں- وہ چاہتے ہیں کہ مذہب کے دائرے سے باہر انھیں کوئی ایسی چیز مل جائے جو اُن کو روحانی سکون دے سکے-
ایسا کیوں ہے- اِس کا سبب یہ ہے کہ انسان اپنی فطرت کے اعتبار سے ایک روحانیت پسند مخلوق ہے- مذہب کے نام سے وہ صرف اُس کلچر کو جانتا ہے جو آج مذہبی گروہوں کے درمیان پایا جاتا ہے- یہ کلچر اس کو اپیل نہیں کرتا، اِس لیے وہ اپنی فطرت کی تسکین کے لیے اسپریچولٹی کی تلاش میں رہتا ہے-
انسان فطری طورپر یہ چاہتاہے کہ وہ اپنے خالق (creator) کو پائے اور اپنے آپ کو پوری طرح اس کے حوالے کردے- مذہب اپنی حقیقت کے اعتبار سے، اِسی خالق کا تعارف ہے- مگر موجودہ زمانے کے اہلِ مذہب اپنے زوال کی بنا پر، مذہب کی غلط نمائندگی کررہے ہیں- ضرورت ہے کہ مذہب کی اصل تصویر کو لوگوں کے سامنے بے آمیز شکل میں پیش کیا جائے- اگر ایسا کیا جائے تو معلوم ہوگا کہ اسپریچویلٹی کے نام سے انسان جس چیز کی تلاش میں تھا، وہ دراصل خود خدا اورمذہب تھا، نہ کہ کوئی اور چیز-
واپس اوپر جائیں

موت کے بعد

انڈیا کے ایک اعلی تعلیم یافتہ مسلمان تعلیم کے بعد لندن چلے گئے- اب وہ مستقل طورپر لندن میں مقیم ہیں، انھوں نے برٹش شہریت لے لی ہے- اپنے سوچ کے اعتبار سے وہ الٹرا سیکولر (ultra-secular) ہیں- وہ اسلام یا کسی مذہب کو نہیں مانتے اور بالکل آزادانہ قسم کی زندگی گزارتے ہیں-
اب وہ بڑھاپے کی عمر کو پہنچ گئے ہیں- ان کی صحت بہت زیادہ خراب ہوچکی ہے- لوگوں کو مرتے ہوئے دیکھ کر وہ سوچتے ہیں کہ میں بھی اِسی طرح مرنے والا ہوں- وہ جاننا چاہتے ہیں کہ موت کے بعد انسان کے ساتھ کیا پیش آنے والا ہے- ایک صاحب کا بیان ہے کہ وہ لندن میں اُن سے ملے- ملاقات کے دوران انھوں نے کہا کہ— اگر معلوم ہوتا کہ کوئی ایسا شخص ہے جو یہ جانتا ہے کہ موت کے بعد کیا ہونے والا ہے تو میں اُس سے انتہائی عاجزانہ درخواست کرتاکہ وہ مجھے اس کے بارے میں بتائے:
I would beg him to tell me what is after death.
اِسی قسم کا ایک واقعہ کرسچن مشنری بلی گرہم نے بیان کیا ہے- انھوں نے لکھا ہے کہ ایک بار میں ایک سفر میں تھا- مجھ کو امریکا کے ایک بہت بڑے دولت مند آدمی کا میسج ملا، جس میں کہاگیا تھا کہ فوراً یہاں آکر مجھ سے ملو- جب میں وہاں گیا تو مذکورہ امریکی دولت مند نے کسی تمہید کے بغیر کہا کہ— تم دیکھتے ہو کہ میں بوڑھا ہوچکا ہوں- زندگی کی تمام معنویت ختم ہوچکی ہے- میں بہت جلد ایک نا معلوم دنیا کی طرف چھلانگ لگانے والا ہوں- کیا تم مجھ کو امید کی ایک کرن دے سکتے ہو:
You see, I am an old man. Life has lost all meaning. I am ready to take a fateful leap into the unknown. Young man, can you give me a ray of hope?
ایسے کسی سائل سے صرف یہ کہا جاسکتا ہے کہ موت کے بعد کیا ہوگا، اس کو جاننے کا مستند ذریعہ صرف ایک ہے، اور وہ خداکی کتاب قرآن ہے-کوئی انسان نہیں جانتا کہ موت کے بعد کیا ہونے والا ہے، لیکن خالق ضرور اِس حقیقت کو جانتا ہے اوراس نے اپنی کتاب میں اِس حقیقت کو پوری طرح واضح کردیا ہے-
واپس اوپر جائیں

مغربی تہذیب، مغربی کلچر

مغربی تہذیب اور مغربی کلچر دونوں ایک دوسرے سے اُسی طرح الگ ہیں جس طرح اسلام اورمسلمانوں کی قومی تاریخ دونوں ایک دوسرے سے الگ ہیں- ایک شخص اگر ایسا کرے کہ وہ صرف مسلم تاریخ کو پڑھے اور اُسی سے اسلام کے متعلق رائے قام کرے تو وہ کہہ سکتاہے کہ مسلمانوں کا مذہب نام ہے — باہمی لڑائی، خاندانی حکومت، ملک گیری، فرقہ بندی، عسکریت اور خود کش بم باری جیسی چیزوں کا- مگر یہ تاثر سرتاسر غلط ہوگا، کیوں کہ یہ چیزیں بلاشبہہ مسلم تاریخ کا حصہ ہیں، لیکن وہ ہرگز مذہب اسلام کا حصہ نہیں- اسلام کو سمجھنے کے لیے ضروری ہےکہ اس کو مسلمانوں کی قومی تاریخ سے الگ کرکے دیکھاجائے، ورنہ آدمی اسلام کو سمجھنے سے قاصر رہے گا-
یہی معاملہ مغربی تہذیب اور مغربی کلچر کا ہے- دونوں ایک دوسرے سے الگ ہیں- مغربی تہذیب اصلاً سائنسی تہذیب، بالفاظِ دیگر، قوانینِ فطرت کی دریافت کا نام ہے- اِس دریافت کے نتیجے میں جو نظام وجود میں آیا، اُسی کا نام مغربی تہذیب ہے- دوسری چیز مغربی اقوام ہیں- مغربی اقوام کو اُسی طرح آزادی ملی ہوئی ہے جس طرح دوسری قوموں کو آزادی ملی ہوئی ہے- وہ بھی اُسی طرح خواہشات کا شکار ہوتی ہیں جس طرح دوسری قومیں خواہشات کا شکار ہوتی ہیں- ان کے درمیان بھی اُسی طرح ایک قومی سیاست وجود میں آتی ہے جس طرح دوسرے گروہوں کے درمیان ان کی قومی سیاست وجود میں آتی ہے- اِن اسباب کی بنا پر مغربی قوموں کی درمیان بھی وہ تمام خرابیاں پیداہوئیں جو دوسری قوموں میں پیدا ہوئیں، حتی کہ خودمسلم قوموں کے درمیان بھی- عدل کا تقاضا ہے کہ ہم دونوں پہلوؤں کو ایک دوسرے سے الگ کرکے دیکھیں- اِس قسم کی عادلانہ تفکیر کا یہ نتیجہ ہوگا کہ ہم اِس غلطی سے بچ جائیں گےکہ ہم اہلِ مغرب کی قومی خرابیوں کو سائنسی تہذیب کا حصہ سمجھ لیں اور مغربی اقوام اور سائنسی تہذیب دونوں کے بارے میںیکساں طورپر منفی ذہن کا شکار ہوجائیں- یہ عین وہی منصفانہ طریقِ مطالعہ ہے جو اسلام اور مسلمانوں کے ذیل میں کیا جاتا ہے- مسلمانوں کی قومی خرابیوں کو الگ کرکے اسلام کو اس کی نظریاتی حیثیت میں دیکھا جاتا ہے- اس طریقِ مطالعہ کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ مطالعہ کرنے والے کے سامنے اسلام کی بھی درست تصویر آتی ہے اورمسلم قوم کی بھی درست تصویر-
مغربی تہذیب بمعنی سائنسی تہذیب، اسلام کی دشمن نہیں، بلکہ وہ اسلام کے لیے ایک عظیم مددگار کی حیثیت رکھتی ہے- مغربی تہذیب بمعنی سائنسی تہذیب کے ذریعے موجودہ زمانے میں بہت سی نئی حقیقتیں سامنے آئی ہیں- اِن حقیقتوں کے ذریعے سائنس نے فیصلے کی ایک نئی بنیاد فراہم کی ہے جو عین ہمارےحق میں ہے- مثال کے طورپر سائنسی طریقِ مطالعہ کا ایک نتیجہ یہ تھا کہ کوئی چیز مقدس (holy) نہیں، ہر چیز علمی تنقیح (scientific scrutiny) کے تابع ہے- اِس اصول کا نتیجہ یہ ہوا کہ مذہبی تاریخ میں ایک نیا شعبہ علم وجود میں آیا جس کو تنقید عالیہ (higher criticism) کہاجاتا ہے- اِس شعبہ علم کے تحت قدیم مذہبی کتابوں، خصوصاً بائبل کا، تنقیدی مطالعہ کیا جانے لگا، جب کہ یہ کتابیں پہلے تنقید سے بالا تر سمجھی جاتی تھیں- اِس مطالعے کا نتیجہ یہ ہوا کہ خالص علمی اعتبار سے، یہ ثابت ہوگیا کہ یہ کتابیں تاریخی اعتباریت (historical credibility) سے خالی ہیں- اِس سلسلے میں مغربی زبانوں میں بہت سی کتابیں لکھی گئی ہیں، اُن میں سے ایک کتاب یہ ہے:
Albert Schweitzer, The Quest of the Historical Jesus, Published 1910, London
اِسی طرح، سائنسی تہذیب نے ایک نیا فکر پیداکیا جس کو مبنی بر قطعیت فکر (exact thinking) کہاجاتاہے- اِس فکر کا نتیجہ یہ ہوا کہ سبجیکٹیو طرزِ فکر (subjective thinking) غیرمعقول قرار پاگیا اور آبجیکٹیو طرزِ فکر(objective thinking) کو درست سمجھا جانے لگا- اِس کے نتیجے میں یہ ہوا کہ وہ کتابیں غیر معتبر قرار پاگئیں جو صلیبی جنگوں (Crusades)کے بعد اسلام اور پیغمبر اسلام کو بدنام کرنے کے لیے غیر علمی انداز میں لکھی گئی تھیں- اِس معاملے کو سمجھنے کے لیے حسب ذیل کتاب کا مطالعہ کیا جاسکتا ہے:
On Heroes, Hero-Worship (1841) by Thomas Carlyle
اِسی طرح، سائنسی تہذیب کے تحت فطرت کا جو مطالعہ شروع کیا گیا، اس کے نتیجے میں فطرت کے بہت سے راز دریافت ہوئے- رموزِ فطرت کی یہ دریافت اپنی حقیقت کے اعتبار سے، آیات اللہ (signs of God) کے انکشاف کے ہم معنی تھی- اِن دریافتوں کے نتیجے میں یہ ممکن ہوگیاکہ اسلام کی صداقتوں کو وقت کے مسلّمہ علمی معیار کی سطح پر ثابت شدہ بنایا جاسکے- اِس سلسلے میں ملاحظہ ہو راقم الحروف کی کتاب— مذہب اور جدید چیلنج جو عربی میں ’الإسلام یتحدى‘ کے نام سے چھپی ہے- اِس کتاب کا انگریزی ایڈیشن گاڈ ارائزیز (God Arises) کے نام سے چھپ چکا ہے-
اِسی طرح مغربی تہذیب کے تحت دنیا میں اور کئی چیزیں وجود میں آئیںجو علمی طورپر مفید ہونے کے علاوہ، خود اسلام کے لیے بے حد مفید تھیں- مثلاً فکری آزادی، مذہبی تنگ نظری کا خاتمہ، جمہوریت کا عالمی فروغ، عالمی سیاحت (world tourism)، جس کا مطلب یہ تھا کہ مدعو خود داعی کے پاس بڑی تعداد میں پہنچنے لگا، وغیرہ- اِسی طرح مغربی تہذیب کے تحت ایک دور وجود میں آیا جس کو دورِ مواصلات (age of communication) کہا جاتاہے- اِس کے تحت پرنٹ میڈیا اور الیکٹرانک میڈیا جیسی چیزیں وجود میں آئیں جو اسلام کی دعوت واشاعت کے اعتبار سے، بلاشبہہ ایک عظیم نعمت کی حیثیت رکھتی ہیں-مغربی تہذیب کے تحت موجودہ زمانے میں اِس طرح کی بہت سی مفید چیزیں وجود میں آئی ہیں- چوں کہ مغربیقومیں اور دوسری قومیں بھی اِن چیزوں کا اپنے اپنے مفاد کے لیے استعمال کرتی ہیں، اس لیے مسلمان اس کی اہمیت کو سمجھ نہیں پاتے، مگر اِس دنیا میں خود اللہ تعالی نے ہر عورت اور مرد کو آزادی عطا کیہے- اِس دنیا کے جو فطری وسائل (means) ہیں، اُن کو ہر ایک اپنے حق میں استعمال کرتا ہے- اِسی طرح تہذیبی وسائل کو بھی ہر گروہ اپنے اپنے حق میں استعمال کرے گا- مسلمانوں کو چاہئے کہ وہ اِس معاملے میں خدائی منصوبے کو سمجھیں اور حقیقت پسندانہ روش اختیار کریں- جس طرح یہ ممکن نہیں ہے کہ سورج صرف مسلم بستیوں میں چمکے اور غیر مسلم بستیوں میں اندھیرا چھایا رہے، اِسی طرح یہ بھی ممکن نہیں ہےکہ فطرت میں چھپی ہوئی نعمتوں کو مسلمان تو اپنے حق میں استعمال کریں اور غیر مسلم ان کو اپنے حق میں استعمال کرنے سے محروم رہیں-
واپس اوپر جائیں

تفرُّق فی الدین کا ظاہرہ

کسی امت کے اندر بعد کے زمانے میں ایک ظاہرہ وہ پیدا ہوتا ہے جس کو قرآن میں تفرق فی الدین (30:32) کہاگیا ہے- اِس سلسلے میں قرآن کی دو آیتیں یہ ہیں: وَاِنَّ ہٰذِہٖٓ اُمَّتُکُمْ اُمَّةً وَّاحِدَةً وَّاَنَا رَبُّکُمْ فَاتَّــقُوْنِ ؀ فَتَقَطَّعُوْٓا اَمْرَہُمْ بَیْنَہُمْ زُبُرًاط کُلُّ حِزْبٍۢ بِمَا لَدَیْہِمْ فَرِحُوْنَ (23:52-53) یعنی یہ تمھاری امت ایک ہی امت ہے، اور میں تمھارا رب ہوں، تو تم مجھ سے ڈرو- پھر لوگوں نے اپنے دین کو آپس میں ٹکڑے ٹکڑے کرلیا- ہر گروہ کے پاس جو کچھ ہے، وہ اُسی پر نازاں ہے-
قرآن کی یہ آیت اُس وقت سمجھ میں آتی ہے جب کہ ا س کا مطالعہ قرآن کی ایک اور آیت کی روشنی میں کیا جائے- وہ آیت یہ ہے: اِتَّخَذُوْٓا اَحْبَارَہُمْ وَرُہْبَانَہُمْ اَرْبَابًا مِّنْ دُوْنِ اللّٰہِ (9:31) یعنی انھوں نے اللہ کے سوا، اپنے احبار اور رہبان کو اپنا رب بنالیا-
قرآن کی اِن آیتوں کی روشنی میں مطالعہ کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ جس چیز کو تفرق فی الدین کہاگیا ہے، وہ دراصل ایک تاریخی عمل ہے جو ہر امت میں اس کے بعد کے ادوار میں ظاہر ہوتا ہے- یہ واقعہ امتِ مسلمہ میں بھی ضرور پیش آئے گا، اِس میں کسی امت کا کوئی استثنا نہیں-
اصل یہ ہےکہ امت کے بعد کے زمانے میں مختلف مصلحین اٹھتے ہیں- امت کے یہ مصلحین اپنے قریبی حالات کے زیر اثر دین کے کسی تقاضے کو بیان کرتے ہیں اور اس کی طرف لوگوں کو بلاتے ہیں- اِس کی بنیاد پر اُن کے گرد دھیرے دھیرے ایک گروہ بن جاتا ہے- اِس گروہ کے اندر اپنے مسلک کے حق میں رفتہ رفتہ تعصب کا ذہن پیدا ہوجاتا ہے- وہ سمجھ لیتے ہیں کہ ہمارے اکابر نے جو بات کہی تھی، وہی آخری سچائی ہے- تعصب کا یہ ذہن بڑھتا رہتا ہے، یہاں تک کہ ہرگروہ ایک جامد گروہ کی صورت اختیار کرلیتاہے- ہر گروہ یہ سمجھ لیتاہے کہ وہی حق پر ہے اور دوسرے لوگ حق پر نہیں ہیں- یہی وہ تاریخی عمل ہے جس کی طرف قرآن کی مذکورہ آیت میں اشارہ کیا گیا ہے-
اِس حقیقت کی روشنی میں یہ کہنا صحیح ہوگا کہ تفرق فی الدین کا مطلب ہے — دین ِ خداوندی کے بجائے دین ِاکابر پر قائم ہوجانا- کسی امت پر جب یہ وقت آتاہے تو ایسا نہیں ہوتا کہ وہ اللہ اور رسول کا نام نہ لے- اللہ اور رسول کا چرچا تو بدستور اُن کے درمیان جاری رہتا ہے، لیکن اپنی حقیقت کے اعتبار سے، لوگ اپنے اکابر کے دین پر قائم ہوتے ہیں- وہ بظاہر اللہ اور رسول کا نام لیتے ہیں، لیکن صرف اِس لیے کہ وہ اپنے اختیار کردہ مسلک کو اللہ اور رسول کے حوالے سے درست ثابت کرسکیں-کسی امت کی یہ حالت ایک غیر مطلوب حالت ہے- ایسے گروہ، خواہ وہ اپنے آپ کو دینی گروہ یا خدائی گروہ قرار دیں، لیکن اللہ کے نزدیک ان کا کیس تفرق فی الدین کا کیس ہے، ان کا کیس اتباعِ دین کا کیس نہیں- اللہ کے نزدیک وہ اپنے خود ساختہ اکابر کے دین پر ہیں، نہ کہ حقیقتاً خدا اور رسول کے دین پر-
تفرق فی الدین کا یہ ظاہرہ صرف پچھلی امتوں کے ساتھ مخصوص نہیں- یہ دراصل دورِ زوال کا ظاہرہ ہے جو ہر امت کے بعد کے دور میں لازماً پیدا ہوتا ہے- اور پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشین گوئی کے مطابق، یقینا وہ امتِ مسلمہ میں بھی پیدا ہوگا- ایک روایت کے مطابق، پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: إن بنی إسرائیل تفرقت على ثنتین وسبعین ملة وتفترق أمتی على ثلاث وسبعین ملة، کلہم فی النار إلا ملة واحدة. قالوا ومن ہی یا رسول اللہ، قال ما أنا علیہ وأصحابی (سنن الترمذی، رقم الحدیث: 4641) یعنی بنی اسرائیل 72 گروہ میں بٹ گئے اور میری امت 73 گروہ میں بٹ جائے گی- اِن میں سے ہر گروہ آگ میں ہوگا، سوا ایک گروہ کے- صحابہ نے پوچھا کہ یہ کون سا گروہ ہے جو آگ سے محفوظ ہوگا، اے خداکے رسول- آپ نے فرمایا: وہ گروہ جو میرےاور میرےاصحاب کے راستے پر ہوگا-
اِس حدیثِ رسول میں 73 سے مراد عدد نہیں ہے، بلکہ اس سے مراد کثرت ہے، یعنی کثیر تعداد میں فرقوں کا وجود میں آنا- فرقوں کی یہ تعداد 73 سے کم بھی ہوسکتی ہے اور 73 سے زیادہ بھی-اِس حدیث رسول کا مطلب یہ نہیں ہے کہ ’’73‘‘ فرقوں میں تمام فرقے غیر ناجی ہوں گے اور صرف ایک فرقہ ناجی ہوگا- قانونِ خداوندی کے مطابق، نجات ہمیشہ مبنی بر فرد ہوتی ہے، نہ کہ مبنی بر جماعت-
’’فرقۂ ناجیہ‘‘ کا تصور سراسر بے بنیاد ہے- اِس تصور کا کوئی تعلق مذکورہ حدیث رسول سے نہیں- اِس حدیث رسول کا مطلب صرف یہ ہے کہ آخرت کی نجات فرقہ کی بنیاد پر نہیں ہوگی، بلکہ یہ ہوگا کہ مختلف فرقوں میں سے جو افراد اپنی انفرادی حیثیت میں اللہ کی بتائی ہوئی صراطِ مستقیم پر قائم ہوںگے، وہ آخرت میں نجات کے مستحق قرار پائیں گے-
جیسا کہ عرض کیا گیا، تفرق کے معاملے کا آغاز اکابر امت سے ہوتا ہے- یہ لوگ حالات کے زیر اثر ایک بات کہتے ہیں جو بعد کے زمانے میں غلو اور تعصب کی بنا پر ایک علاحدہ مسلک بن جاتی ہے اور آخر کار وہ ایک جامد فرقہ کی صورت اختیار کرلیتی ہے- یہ واقعہ بنیادی طور پر دو سبب سے پیدا ہوتا ہے— ایک، شفٹ آف امفیسس (shift of emphasis) اور دوسرے، اجتہادی خطا- اِن دونوں صورتوں کی مثالیں یہاں نقل کی جاتی ہیں، ماضی کی تاریخ سے بھی اور حال کی تاریخ سے بھی-
امتِ مسلمہ کے ماضی میں شفٹ آف امفیسس کی ایک مثال صوفیا کے یہاں ملتی ہے- صوفیا کا زمانہ وہ ہے جب کہ مسلمانوں کی بڑی بڑی سلطنتیں قائم ہوگئیں- صوفیا نے دیکھا کہ سیاست کا ذہن بہت بڑھ گیا ہے اور اس کے مقابلے میں لوگوں کے اندر دین کا روحانی پہلو بہت دب گیا ہے- اِن حالات میں صوفیا نے دین کے روحانی پہلو یا اعمالِ قلب پر اس طرح زور دیا جیسے کہ وہی دین میں سب کچھ ہو- صوفیا کے بعض متنازع طریقوں سے قطع نظر، اُن کا کیس اپنی حقیقت کے اعتبار سے، شفٹ آف امفیسس کا کیس تھا- یہ معاملہ ویسا ہی تھا جیسے ایک عالم کےزمانے میں یہ واقعہ پیش آیا کہ لوگ مسح على الخفین کو غیر افضل سمجھنے لگے- اُس وقت انھوں نے مسح على الخفین کے طریقے پر زور دینے کے لیے یہ فتوی دیا کہ: المسح على الخفین واجب (خفین پر مسح واجب ہے)- صوفیا کے اس شفٹ آف امفیسس کے نتیجے میں مسلمانوں کے اندر دین کے نام پر ’’پراسرار مذہبیت‘‘ آگئی اور عقلی غور وفکر اور حقیقت پسندی کا تقریباً خاتمہ ہوگیا-
دوسری صورت اجتہادی خطا کی ہے- اِس معاملے کی ایک مثال وہ ہے جو عباسی دور کے فقہا کے یہاں نظر آتی ہے- اُس زمانے میں یہ واقعہ پیش آیا کہ حدیثیں اور صحابہ کے آثار جمع کیے گئے اور ان کو کتابوں کی صورت میں مدون کیا گیا- اُس وقت لوگوںکو معلوم ہوا کہ صحابہ کے یہاں عبادت کے طریقوں میں بہت سے جزئی فرق پائے جاتے ہیں- اِس معاملے کی بابت رہنمائی حدیث میں موجود تھی، کیوں کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اصحاب کے بارے میں فرمایا تھا: بأیہم اقتدیتم اہتدیتم (کشف الخفاء: 1/146)
اِس حدیثِ رسول کے مطابق، عبادت کے طریقوں میں جزئی فرق تنوع (diversity) کی بنا پر تھا، وہ حق اور ناحق کا مسئلہ نہ تھا، ان میں سے ہر طریقہ یکساں طورپر درست تھا- لیکن دورِ عباسی کے فقہا نے اجتہاد کرکے یہ کہا کہ: الحق لا یتعدد (حق کئی نہیں ہوسکتے)- چناں چہ انھوں نے بحث وتنقیح کرکے ترجیحات قائم کیں- انھوں نے ایک طریقے کو اختیار کیا اور دوسرے طریقے کو قابلِ ترک قرار دیا- مختلف فقہا نے اپنے اپنے طریقے پر اِس کام کو انجام دیا- اِس طرح مختلف فقہی اسکول بن گئے جنھوں نے بعد کو غلو اور تعصب کی بنا پر آخر کار جامد فقہی مذہب کی صورت اختیار کرلی-
اب اس معاملے میں بعد کے زمانے کی مثال لیجئے- موجودہ زمانے میں شفٹ آف امفیسس (shift of emphasis) کی ایک مثال اُس دینی گروہ میں ملتی ہے جس کو عام طورپر تبلیغی جماعت کہاجاتا ہے- تبلیغی جماعت کے بانی مولانا محمد الیاس کاندھلوی (وفات: 1944) نے اپنے زمانے میں دیکھا کہ لوگ عام طورپر نمازوں سے غافل ہیں- مسجدوں کا وہ حال ہوگیا جس کو علامہ اقبال نے اِن الفاظ میں بیان کیا تھا:
مسجدیں مرثیہ خواں ہیں کہ نمازی نہ رہے
اِس صورتِ حال کی بنا پر مولانا محمد الیاس کاندھلوی نے نماز کی اہمیت پر بہت زیادہ زور دیا- نماز کو زندہ کرنے کے لیے انھوں نے ایک مستقل تحریک اٹھائی- لیکن بعد کو یہ تحریک غلو اور تعصب کا شکار ہوگئی- لوگوں نے یہ سمجھ لیا کہ دین صرف ’’مسجد وار تحریک‘‘ کا نام ہے- حالاں کہ دین کی دعوت وتبلیغ ایک انسان وار تحریک ہے، وہ محدود معنوں میں صرف مسجد وار تحریک نہیں-
موجودہ زمانے میں اجتہادی خطا کی ایک مثال جماعت اسلامی ہے جو مولانا سید ابو الاعلى مودودی کے افکار پر قائم ہوئی- مولانا سید ابو الاعلى مودودی(وفات: 1979) ایک ایسے زمانے میں پیداہوئے جب کہ دنیا میں سیاسی تحریکوں کا زور تھا — اشتراکی تحریک، جمہوری تحریک، قومی آزادی کی تحریک، وغیرہ- لوگ عام طورپر سیاست کو سب سے بڑی چیز سمجھنے لگے تھے- مولانا ابو الاعلى مودودی اِن حالات سے متاثر ہوئے- انھوں نے اسلام کو اِس طرح پیش کیا جیسے کہ وہ کوئی سیاسی نظام ہو، جیسے کہ اس کا نشانہ عالمی حکومت قائم کرنا ہو- اِس تصور کے تحت مولانا مودودی نے قرآن کی آیتوں کی سیاسی تفسیرکی اور سنتِ رسول کو سیاسی اصطلاحوں میں بیان کیا- یہ واضح طورپر اجتہادی خطا کی ایک مثال تھی- کیوں کہ اسلام ایک ربانی تحریک ہے، نہ کہ کوئی سیاسی تحریک- (اِس موضوع پر راقم الحروف کی ایک تفصیلی کتاب ’’تعبیر کی غلطی‘‘ کے نام سے چھپ چکی ہے- اس کتاب کا عربی ترجمہ بھی چھپ چکا ہے- اس کا ٹائٹل یہ ہے: خطأ فی التفسیر-
مسئلے کا حل
دوبارہ اصلاحِ حال کے لیے ضروری ہے کہ ہر گروہ برابر اپنا محاسبہ کرتا رہے، وہ اپنے اکابر کے افکار کابے لاگ انداز میں بار بار جائزہ لیتا رہے- جس چیز کو اس کے اکابر نے حالات کے زیر اثر اختیار کیا تھا، اُس کو دوبارہ اللہ کی کتاب اور اس کے رسول کی سنت کی روشنی میں جانچا جائے اور کھلے ذہن کے ساتھ اس کا تجزیہ کیا جائے، کوئی بھی تحریک یا گروہ اِس جائزے سےمستثنی نہیں- اِس جائزے کا یہ نتیجہ ہوگا کہ امرِ حق دوبارہ منقح ہو کر سامنے آجائے گا، ہر گروہ دوبارہ دینِ خداوندی کو دریافت کرکے اُس پر قائم ہوجائے گا-
ایک عالم یا رہنما کے ساتھ یہ واقعہ پیش آنا کہ وہ حالات کے زیر اثر بات کہے یا دین کا ایک تقاضا بیان کرے، اپنی ابتدائی صورت میں وہ تفرق فی الدین کا واقعہ نہیں ہوگا، بلکہ وہ ایک فرد کا طرز فکر یا ایک فرد کا ذاتی اجتہاد ہوگا- لیکن جب اُس کے گرد ایک گروہ بن جائے اور وہ تعصب کی نفسیات میں مبتلا ہو کر ایک جامد گروہ کی صورت اختیار کرلے تو یہی وہ واقعہ ہے جہاں سے تفرق فی الدین کی برائی کا آغاز ہوتا ہے- یہ برائی رفتہ رفتہ شدید ہو کر اِس نوبت کو پہنچ جاتی ہے کہ ہر گروہ شعوری یا غیر شعوری طورپر یہ سمجھنے لگتا ہے کہ صرف وہی حق پر ہے اور دوسرے تمام گروہ باطل پر - اِسی کو قرآن میں تحزّب کہا گیاہے -جو لوگ تحزب کی اِس نفسیات کا شکار ہوں، وہ کسی بھی حال میں اپنے خلاف کوئی تنقید سننے پر راضی نہیں ہوتے، خواہ تنقید کتنے ہی زیادہ قوی دلائل کے ساتھ کی گئی ہو-
تفرق فی الدین ایک مسئلہ ہے، وہ کوئی ابدی برائی نہیں- حالات کے زیر اثر ہر امت میں یہ مسئلہ ضرور پیدا ہوتاہے، لیکن اِسی کے ساتھ اِس مسئلے کا حل بھی بلاشبہہ موجود ہے- یہ حل وہی ہے جس کو محاسبہ (introspection) کہاجاتاہے- محاسبہ کی ایک قسم وہ ہے جو انفرادی محاسبہ کی حیثیت رکھتی ہے- اِسی کے ساتھ قرآن میں اجتماعی محاسبہ کی بھی تعلیم دی گئی ہے، قرآن کی درج ذیل آیات کا تعلق اِسی اجتماعی محاسبہ سے ہے: وَتُوْبُوْٓا اِلَى اللّٰہِ جَمِیْعًا اَیُّہَا الْمُؤْمِنُوْنَ لَعَلَّکُمْ تُفْلِحُوْنَ (24:31) یعنی اے ایمان والو، تم سب مل کر اللہ کی طرف رجوع کرو، تاکہ تم فلاح پاؤ-
قرآن کی اِس آیت سے معلوم ہوتاہے کہ فلاح (اصلاحِ حال) کا تعلق اجتماعی توبہ سے ہے- اجتماعی توبہ کا مطلب یہ ہے کہ مسلمانوں کے اجتماعی ادارے کھلے طورپر اِس قسم کا اعلان کریں، مسلمانوں کے دار الافتا اِس قسم کے فتوے دیں، مسلمانوں کے میڈیا میں اِس قسم کے مضامین شائع کیے جائیں، اِسی طرح کی اجتماعی کوشش کو مذکورہ آیت میں اجتماعی توبہ کہاگیا ہے- یہی وہ طریقہ ہے جس سے دوبارہ اصلاحِ حال کا دروازہ کھل سکتا ہے- (30 اپریل 2013)
واپس اوپر جائیں

ایک تاریخی قانون

قرآن کی سورہ البقرہ میں ایک تاریخی قانون کو اِن الفاظ میں بیان کیا گیا ہے: وَلَمَّا بَرَزُوْا لِجَالُوْتَ وَجُنُوْدِہٖ قَالُوْا رَبَّنَآ اَفْرِغْ عَلَیْنَا صَبْرًا وَّثَبِّتْ اَقْدَامَنَا وَانْصُرْنَا عَلَی الْقَوْمِ الْکٰفِرِیْنَ ؀ فَہَزَمُوْھُمْ بِاِذْنِ اللّٰہِ ڐ وَقَتَلَ دَاوٗدُ جَالُوْتَ وَاٰتٰىہُ اللّٰہُ الْمُلْکَ وَالْحِکْمَةَ وَعَلَّمَہٗ مِمَّا یَشَاۗءُ ۭ وَلَوْلَا دَفْعُ اللّٰہِ النَّاسَ بَعْضَہُمْ بِبَعْضٍ ۙ لَّفَسَدَتِ الْاَرْضُ وَلٰکِنَّ اللّٰہَ ذُوْ فَضْلٍ عَلَی الْعٰلَمِیْنَ (2:250-251)- یعنی جب جالوت اور اس کی فوجوں سے اُن (بنی اسرائیل) کا سامنا ہوا تو انھوں نے کہا: اے ہمارے رب، ہمارے اوپر صبر ڈال دے اور ہمارے قدموں کو جما دے اور منکروں کے مقابلے میں تو ہماری مدد کر- پھر انھوںنے اللہ کے اذن سے اُن (فلسطینیوں) کو شکست دی- اور داؤد نے جالوت کو قتل کردیا- اور اللہ نے داؤد کو ملک اور حکمت عطا کیا اور جن چیزوں کا چاہا، اس کا علم بخشا- اور اگر اللہ بعض کو بعض لوگوں سے دفع نہ کرتا رہے تو زمین فساد سے بھر جائے- مگر اللہ دنیا والوں پر بڑا فضل کرنے والا ہے-
Had it not been for God’s repelling some people by means of others, the earth would have been filled with corruption. But God is bountiful to mankind.
قرآن کی اِن آیات میں جس واقعے کا ذکر ہے، وہ واقعہ قبل مسیح دور سے تعلق رکھتا ہے- فلسطین کے جنوبی حصہ (southern coastal area) میں ایک واقعہ ہوا- بارہویں صدی قبل مسیح میں یہاں ایک قوم آکر آباد ہوئی جس کو تاریخ میں، فِلسطی یا فلسطینی (Philistines) کہاجاتا ہے- اِن لوگوں نے یہاں اپنی حکومت قائم کرلی- بعد کو اُن کے درمیان بگاڑ آیا- اُس زمانے میں فلسطین کے شمالی حصے میں بنی اسرائیل آباد تھے- فلسطینی، بنی اسرائیل کے خلاف سرکشی کرنے لگے، یہاں تک کہ 1010 قبل مسیح میں فلسطینیوں کا بنی اسرائیل سے مسلّح ٹکراؤ ہوا - اِس ٹکراؤ میں ایک اسرائیلی نوجوان داؤد کی بہادری سے فلسطینیوں کو شکست ہوئی- اِس کے بعد رفتہ رفتہ 732 قبل مسیح میں فلسطینیوں کا اِس علاقے سے خاتمہ ہوگیا-
قرآن کی مذکورہ آیت میں ’دفع‘ (repel)کا لفظ استعمال ہوا ہے، یعنی ہٹانا- لسان العرب میں ’دفع‘ کی تشریح ’الإزالة بقوة‘ (8/87) سے کی گئی ہے- یہ ’دفع‘ دراصل تاریخ کے بارے میں اللہ کا ایک قانون ہے- مذکورہ واقعے میں اللہ تعالی نے اسرائیلی گروہ کے ذریعے فلسطینی گروہ کو اقتدار سے ہٹایا تھا- اللہ انسانی تاریخ کی مسلسل نگرانی کررہا ہے، وہ انسان کی آزادی کو باقی رکھتے ہوئے انسانی تاریخ کو مینیج (manage) کررہا ہے، وہ بار بار ایسے حالات پیدا کرتا ہے جب کہ ایک قوم دوسری قوم کو مقامِ اقتدار سے ہٹائے- اگر ایک قوم مسلسل طور پر مقامِ اقتدار پر قابض رہے تو اُس کے اندر جمود (stagnation) پیدا ہوجائے گا- یہ جمود مختلف صورتوں میں فساد (corruption) کا سبب بنے گا-
دفع کے اِس قانون کا تعلق سیکولر قوموں سے بھی ہے اور مذہبی قوموں سے بھی- اِس معاملے کی ایک مثال ہندستان ہے- ہندستان میں پہلے راجاؤں کی حکومت تھی- راجاؤں کے بعد یہاں مغل دور آیا، پھر مغل دور ختم ہوا اور برٹش دور آیا- اس کے بعد 1947 میں برٹش دور کا خاتمہ ہوا اور قومی حکومت (national government)کا دور آیا- یہ تمام تبدیلیاں دفع کے قانون کے تحت ہوئیں- ہر بار جب ایک گروہ کے اندر ’’فساد‘‘ آگیا تو اس کو ہٹا کر اس کی جگہ دوسری قوم لائی گئی- گویا پرانے خون (old blood) کی جگہ نئے خون (new blood) کو کام کرنے کا موقع دیاگیا- اِس عمل کو ریڈیکل آپریشن (radical operation) کہاجاسکتا ہے-
اوپر کی آیت میں یہ الفاظ آئے ہیں: وَلٰکِنَّ اللّٰہَ ذُوْ فَضْلٍ عَلَی الْعٰلَمِیْنَ-آیت کے اِس ٹکڑے میں اللہ تعالیٰ کے جس ’فضل‘ کا ذکر ہے، اُس سے مراد یہی قانونِ دفع ہے جو مسلسل طورپر سیاسی اقتدار کی تنظیم کررہا ہے- یہ تنظیم انسان کی اعلیٰ بہبود کے لیے ہے- اگر قانونِ دفع کی صورت میں انسانی اقتدار کی تنظیم نہ کی جائے تو دنیا میں سیاسی اجارہ داری (political monopoly)آجائے اور پھر انسانی تاریخ اپنی مطلوب منزل پر نہ پہنچ سکے گی-
یہود کی تاریخ
دفع کے اِس قانون کا نفاذبعد کے زمانے میں خود یہود (بنی اسرائیل) پر کیاگیا- بنی اسرائیل کو اللہ تعالیٰ نے عروج اور غلبہ عطا کیا، لیکن ایک مدت کے بعد یہود میں بھی وہی ’’فساد‘‘ پیدا ہوا جو کہ ہر قوم میں پیداہوتا ہے- جب ایسا ہوا تو اللہ تعالیٰ نے کسی اور قوم کے ذریعے یہود کے ساتھ دفع کا وہی معاملہ کیا جس کو ہم نے ریڈیکل آپریشن (radical operation) کا نام دیاہے-
اِس سلسلے میں قرآن میں دو متعین آپریشن کا حوالہ دیاگیا (17:4-8)- پہلا واقعہ بابِل (عراق) کے بادشاہ نبوکد نضر(Nebuchadnezzar)کا ہے- اس نے 586 قبل مسیح میں فلسطین پر حملہ کیا، جو اُس وقت بنی اسرائیل کے زیر قبضہ تھا- نبوکد نضر نے بنی اسرائیل کی سیاسی طاقت کو توڑ دیا اور یروشلم میں ان کے عبادت خانہ (ہیکل سلیمانی) کو مکمل طور پر ڈھادیا-اِس کے بعد دوسرا واقعہ وہ ہے جو رومی بادشاہ ٹائٹس (Titus) کے ذریعے پیش آیا- ٹائٹس نے 70 عیسوی میں یروشلم پر حملہ کرکے اس کو پوری طرح تباہ کردیا- (تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو: تذکیر القرآن، صفحہ 760-762)-
بنی اسرائیل کے خلاف یہ آپریشن بطور سزا (punishment) نہ تھا، بلکہ اپنی حقیقت کے اعتبار سے، وہ بطور انتباہ (warning) تھا- وہ اِس لیے تھا کہ بنی اسرائیل متنبہ ہوں، اُن کا جمود ٹوٹے اور وہ اپنی اصلاح کرکے دوبارہ اللہ کی رحمت کے مستحق بن جائیں- یہی وہ حقیقت ہے جس کو قرآن میں اِن الفاظ میں بیان کیاگیا ہے: عَسَی رَبُّکُمْ اَنْ یَّرْحَمَکُمْ ۚ وَاِنْ عُدْتُّمْ عُدْنَا(17:8)- لیکن بنی اسرائیل دوبارہ اصلاح قبول نہ کرسکے- وہ بدستور اپنی حالت پر قائم رہے- اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو حاملِ کتاب الٰہی ہونے کی حیثیت سے معزول کردیا اور بنو اسماعیل کو حاملِ کتاب الٰہی کی حیثیت دے دی- تبدیلی کے اِس واقعے کا ذکر قرآن کی ایک آیت میں اِن الفاظ میں کیاگیا ہے: اَمْ یَحْسُدُوْنَ النَّاسَ عَلٰی مَآ اٰتٰىھُمُ اللّٰہُ مِنْ فَضْلِہٖ ۚ فَقَدْ اٰتَیْنَآ اٰلَ اِبْرٰہِیْمَ الْکِتٰبَ وَالْحِکْمَةَ وَاٰتَیْنٰھُمْ مُّلْکًا عَظِیْمً(4:54)-
مسلم تاریخ کی مثال
مسلم ملت دفع کے اِس تاریخی قانون سے مستثنىٰ نہیں- چناں چہ پچھلے چودہ سو سال میں یہ معاملہ بار بار پیش آیا ہے، یعنی ایک گروہ کو مقامِ اقتدار سے ہٹاکر اس کی جگہ دوسرے گروہ کو مقامِ اقتدار پر لانا، ایک گروہ کو معزول کرکے دوسرے گروہ کو کام کا موقع دینا- پچھلے چودہ سو سال میں جن مسلم گروہوں کو اقتدار ملا، اُن کی بنیادی تقسیم یہ ہے:
1- خلافتِ راشدہ (Rashidun Caliphate) 632-661 ء
2- خلافتِ امیہ (Umayyad Caliphate) 661-750 ء
3- خلافتِ اندلس (Moorish Empire) 711-1492 ء
4- خلافتِ بنوعباس (Abbasid Empire) 750-1258 ء
5- مغل سلطنت (Mughal Empire) 1226-1857 ء
6- عثمانی خلافت (Ottoman Empire) 1299-1922ء
مذکورہ سیاسی واقعات میں ہم دیکھتے ہیں کہ ایک مسلم گروہ کو اقتدار حاصل ہوتا ہے اور پھر ایک مدت کے بعد اُس کو ہٹا کر اس کی جگہ دوسرے گروہ کو لایا جاتا ہے- مسلم ملت کےدرمیان یہ سلسلہ تقریباً انیسویں صدی کے آخر تک جاری رہتا ہے- اس کے بعد مسلمانوں کا غلبہ ختم ہوجاتا ہے اور مغربی قوموں کو غلبہ حاصل ہو جاتا ہے، خواہ براہِ راست طورپر یا بالواسطہ طورپر- یہ تمام واقعات اتفاقاً نہیں ہورہے ہیں، بلکہ وہ اللہ رب العالمین کے قائم کردہ تاریخی قانون کے تحت ہورہے ہیں-
خلافتِ راشدہ کی اصطلاح ایک سیاسی ادارہ کی حیثیت سے بعد کے دور میں وضع ہوئی- پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد خلافت کا جو سیاسی ادارہ قائم ہوا، وہ تقریبا 30 سال تک باقی رہا- اس کے بعد اس کا خاتمہ ہوگیا- ایسا اتفاقاً نہیں ہوا- اِس کا سبب یہ تھا کہ بعد کے زمانے میں خلافت کا یہ ادارہ اپنی اخلاقی خوبیوں کے باوجود سیاسی استحکام (political stability) کو باقی رکھنے کے قابل نہ رہا، اِس لیے اس کو ہٹا کر بنو امیہ کا دور لایا گیا- بنو امیہ کا خاص کارنامہ یہ تھا کہ انھوں نے عربی زبان اور عرب کلچر (المروءة، وغیرہ) کے فروغ کا شدت سے اہتمام کیا جو کہ اُس وقت قرآن کی کامل حفاظت کے لیے ضروری تھا-
بنو امیہ کی حکومت تقریباً 90 سال تک جاری رہی- ان کے دورِ حکومت کے آخری زمانے میں یہ بات واضح ہوگئی کہ عربیت کے تحفظ میں انھوں نے عالمی تقاضے کو فراموش کردیا- چناں چہ اس کے بعد بنو امیہ کو اقتدار کے مقام سے ہٹا کر ان کی جگہ بنو عباس کو لایا گیا- بنو عباس کےدور میں کئی بڑے بڑے کام انجام پائے — احادیث کو جمع کرنا، علومِ اسلامی کی تدوین، اسلام کی اشاعت، وغیرہ- اِس کے علاوہ انھوں نے اُس وقت کے سیکولر علوم کو حاصل کیا اور ان کو فروغ دیا- اِس کے نتیجے میں مسلمانوں کے اندر عالمی فکر پیدا ہوا- بنو عباس کے دبدبے کے تحت حفاظتِ دین کا کام کامیابی کے ساتھ جاری رہا- واضح ہو کہ دورِ قدیم میں حفاظتِ دین کےلیے سیاسی دبدبہ ضروری تھا، مگر اب پرنٹنگ پریس اور دوسرے موافق اسباب کے ظہور کے بعد سیاسی دبدبے کے بغیر خدا کا دین کامل طور پر محفوظ ہے-
بنو عباس کی سلطنت تقریبا 500 سال تک جاری رہی- اس کے بعد فطری طورپر بنو عباس میں جمود کا دور آگیا- وہ ترقی کے سفر کو مزید جاری رکھنے کے قابل نہ رہے- چناں چہ تیرھویں صدی عیسوی میں تاتاریوں کے ذریعے ایک آپریشن کیاگیا اور اِس طرح عباسی سلطنت کا خاتمہ ہوگیا-
اِس کے بعد تاریخی قانون کے مطابق، دوسری قوموں کو موقع دیاگیا- عباسی دور ہی میں ایک مسلم گروہ اٹھا جس نےاندلس (اسپین ) میں اپنا اقتدار قائم کرلیا- اِس حکومت کو سیکولر مورخین مورش سلطنت (Moorish Empire) کا نام دیتے ہیں- مورش سلطنت کو موافق حالات ملے، چناں چہ انھوںنے علم کی ترقی میں مزید بہت زیادہ اضافہ کیا- اُس دور کے ترقیاتی نمونوں کو استنبول (ترکی) کے میوزیم (The Istanbul Museum of the History of Science and Technology in Islam) میں دیکھا جاسکتا ہے-
مگر بعد کے دور میں اندلس کی مسلم سلطنت میں بگاڑ آگیا- اس کے حکمراں عیش وعشرت میں پڑ گئے- آخر کار 700 سال سے زیادہ مدت کے بعد اُن پر دفع کا قانون نافذ ہوا اور اسپین کے مسیحی حکمراں نے لڑ کر اُن کا خاتمہ کردیا-
اِسی دور میں مغل حکمراںہندستان میں داخل ہوئے اور یہاں ایک طاقت ور مسلم سلطنت قائم کردی- مغل سلطنت کے زیر سایہ ہندستان میں کئی کام انجام پائے- مغل حکمرانوں کو دعوت وتبلیغ سے کوئی دلچسپی نہ تھی، لیکن اُن کے دبدبے کے تحت صوفیوں کو یہ موقع ملا کہ وہ اِس ملک میں اسلام کی اشاعت بڑے پیمانے پر کرسکیں- لیکن بعد کے دور میں مغل حکمرانوں میں بھی وہی بگاڑ آیا جو ہر قوم میں آتا ہے- چناں چہ 600 سال کے بعد ہندستان میں برٹش قوم ابھری اور اس نے 1857 میں مغل سلطنت کا خاتمہ کردیا-
اِس سلسلے میں آخری نام عثمانی خلافت کا ہے- اس نے یورپ اور ایشیا اور افریقہ کے بڑے رقبے میں اپنی سلطنت قائم کی- اس نے لمبے عرصے تک اسلام کا دبدبہ قائم رکھا- اِس طرح یہ ہوا کہ پرنٹنگ پریس اور دوسرے موافق اسباب کے ظہور سے پہلے کے دور میں وہ دینِ اسلام کی محافظ بنی رہی-آخر کار عثمانی خلافت میں بھی بڑے پیمانے پر جمود پیدا ہوا، وہ مسلسل کمزور ہوتی چلی گئی، یہاںتک کہ 600 سال کے بعد مغربی قوموں کا ظہور ہوا اور اِس طرح عثمانی خلافت کا دور ختم ہوگیا- کہاجاتاہے کہ کمال اتاترک (وفات: 1938) نے عثمانی خلافت کا خاتمہ کردیا، مگر اصل حقیقت یہ ہے کہ کمال اتاترک نے 1924 میں ترک خلافت کے خاتمے کا صرف اعلان کیا تھا، اُس کا خاتمہ اِس سے بہت پہلے ہوچکا تھا(تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو، ماہ نامہ الرسالہ، نومبر 2012)-
جمہوریت کا رول
دفع کا قانون پچھلے زمانے میں انقلابی عمل (ریڈیکل آپریشن) کے ذریعے انجام پاتا تھا، مگر موجودہ زمانے میں اِس طریقے کو بدل دیاگیا- اِسی بدلے ہوئے طریقے کو موجودہ زمانے میں جمہوریت کہا جاتا ہے- جمہوریت دراصل دفع کے قانون کا باقاعدہ انسٹی ٹیوشنلائزیشن (institutionalization)ہے- فرانسیسی انقلاب (French Revolution) جمہوری دور کا آغاز ہے جس نے 1792 میں بادشاہی نظام کا خاتمہ کیا- اس کے بعد عالمی سیاست میں ایک نیا دور آیا، جس کے نتیجے میں یہ ممکن ہوگیا کہ الیکشن کے ذریعے پُرامن طورپر حکومت کی تبدیلی ممکن ہوگئی- اِس طرح تاریخ میں ریڈیکل تبدیلی کے بجائے، پر امن تبدیلی (peaceful change) کا دور آگیا-
موجودہ زمانے کے مسلمان اِس الٰہی منصوبے کو سمجھ نہ سکے- وہ خود ساختہ ذہن کے تحت یہ کررہے ہیں کہ کہیں وہ ناکام طورپر دوسری قوموں سے لڑ رہے ہیں- مسلمانوں کی یہ منفی روش قانون الٰہی کے خلاف ہے، اِس لیے اس کا کوئی مفید نتیجہ نکلنے والا نہیں- اِسی طرح کہیں ایسا ہے کہ مسلمان پچھلے سیاسی ماڈل کی گرفت سے آزاد نہ ہونے کی بنا پر خاندانی لیڈر شپ قائم کئے ہوئے ہیں- کہیں اگر ان کو کچھ سیاسی اقتدار مل گیا ہے تو وہاں وہ آپس میں ایک دوسرے سے لڑ رہے ہیں- اِن میں سے کوئی بھی صورت خدا کے منصوبے کے مطابق نہیں، اِس لیے وہ نتیجہ خیز بننے والی بھی نہیں-
رول کی تبدیلی
اللہ نے انسان کی ہدایت کے لیے جو دین بھیجا، اُس کے دو تقاضے تھے — ایک تھا، اس کی حفاظت (preservation)، اور دوسرا تھا اس کا اظہار- دین کی حفاظت کا کام پہلے، بنی اسرائیل کو سونپا گیا، مگر وہ اس میں ناکام ہوگئے- اِس واقعہ کا ذکر قرآن میں ان الفاظ میں کیا گیا ہے: اَلَّذِیْنَ حُمِّلُوْا التَّوْرَاةَ ثُمَّ لَمْ یَحْمِلُوہَا (62:5)
بنی اسرئیل کی ناکامی کے بعد بنو اسماعیل (امتِ محمدی) کو دینِ خداوندی کے حامل ہونے کی یہ ذمے داری سپرد کی گئی- امت محمدی نے اپنے آغاز کے بعد ہزار سال کی مدت میں دین کی حفاظت کا کام پوری طرح انجام دے دیا- اب خدا کا دین کامل طورپر محفوظ ہے- امت محمدی کو اس کے آغاز کے بعد لمبی مدت تک مددگار قوت کے طورپر سیاسی دبدبہ عطا کیاگیا- اس دبدبے کا خاص مقصد یہی تھا کہ دین کا متن (text) اور اس کی تاریخ مستند طورپر محفوظ ہوجائے-
اِس کے بعد دوسرا کام جو مطلوب تھا، اس کو ایک لفظ میں اظہار کہا جاسکتا ہے- امت مسلمہ اِس دوسرے کام کو انجام نہ دے سکی- اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس کو غیر معمولی مواقع دئے گئے — تعداد، دولت اور سیاسی طاقت، وغیرہ -مگر امت مسلمہ اِس دوسرے مطلوب کام کو انجام دینے میں ناکام رہی- اٹھارھویں صدی کے آخر میں یہ واضح ہوگیا کہ امت مسلمہ اب اُسی طرح ایک بے جان قوم بن چکی ہے، جیسا کہ اِس سے پہلے بنی اسرائیل اپنے دورِ زوال میں ایک بے جان قوم بن چکے تھے-
بے جان ہونے کا مفہوم
کسی امت کے بے جان ہونے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ وہ دینِ خداوندی کو چھوڑ دے اور اعلان کے ساتھ کوئی دوسرا دین اختیار کرلے- اِس قسم کی تبدیلی نہ پہلے کبھی ہوئی اور نہ آج ہوگی- یہ ایک واقعہ ہے کہ 14 صدیاں گزرنے کے بعد امتِ مسلمہ پر وہ وقت آگیا جو پچھلی امتوں پر آیا تھا، یعنی مسلمان عملاً ایک بے جان قوم بن گئے- اب کوئی بھی اصلاحی جدوجہد ان کو مجموعی طورپر دوبارہ زندہ کرنے والی نہیں- اب جو چیز ہونے والی ہے، وہ صرف یہ کہ امت کے کچھ افراد کو شخصی طورپر زندگی ملتی رہے گی، نہ کہ پورے مجموعے کو-
اِس صورتِ حال کا سبب کیا ہے- اِس کا سبب یہ ہے کہ دھیرے دھیرے امت کی بعد کی نسلوں میں یہ واقعہ پیش آتا ہے کہ لوگ اسلام کے نام پر ایک خود ساختہ اسلام (self-styled version of Islam) بنا لیتے ہیں- اِس خود ساختہ اسلام میں اسپرٹ حذف ہوجاتی ہے اور صرف کچھ ظاہری شکلیں باقی رہتی ہیں- پھر لمبی مدت تک اُس پر قائم رہتے ہوئے وہ اُس پر پختہ (conditioned) ہوجاتے ہیں- اِس پختگی (conditioning) کے ساتھ ہمیشہ ایک فرضی یقین (false conviction) جمع ہوجاتا ہے- وہ اپنےوضع کردہ اسلام پر اِس طرح جینے لگتے ہیں، جیسے کہ وہ خدا اور رسول کےدین پر قائم ہیں- اِسی فرضی یقین کا نام بے جان ہونا یا زندگی سے محرومی ہے- جو لوگ اِس حالت پر پہنچ جائیں، وہ اِس صلاحیت سے محروم ہوجاتے ہیں کہ وہ دوبارہ اپنی روش پر نظر ثانی کرسکیں-
کنڈیشننگ کی حالت
یہی وہ حالت ہے جس کا ذکر یہود کے حوالے سے قرآن میں اِن الفاظ میں آیا ہے: وَقَالُوْا قُلُوْبُنَا غُلْفٌ ۭ بَلْ لَّعَنَہُمُ اللّٰہُ بِکُفْرِھِمْ فَقَلِیْلًا مَّا یُؤْمِنُوْنَ (2:88) یعنی وہ کہتے ہیں کہ ہمارے دلوں کے اوپر غلاف ہے- نہیں، بلکہ اللہ نے ان کے کفر کی وجہ سے ان پر لعنت کردی ہے، اِس لیے وہ بہت کم ایمان لاتے ہیں-
قرآن کی اِس آیت میں ’غُلف‘ کا لفظ استعمال ہوا ہے- عبد اللہ بن عباس نے اس کی تشریح اِن الفاظ میں کی ہے: أی قلوبنا ممتلئة علما، لا تحتاج إلى علم محمد ولا غیرہ (القرطبی 2/25) یعنی ہمارے دل علم سے بھرے ہوئے ہیں، وہ محمد یا کسی اور کے علم کے محتاج نہیں- لعنت کوئی پراسرار چیز نہیں، لعنت سے مراد شدید قسم کی کنڈیشننگ ہے جس کی ڈی کنڈیشننگ عام طورپر ممکن نہیں ہوتی- یہاں ’’علم‘‘ سے مراد معروف معنوں میں علم نہیں، بلکہ خود ساختہ تصورِ دین ہے- یہود کا یہ خود ساختہ دین اپنی حقیقت کے اعتبار سے، علم پر مبنی نہیں تھا، بلکہ وہ امانی (2:78) پر مبنی تھا- ٹھیک یہی حال موجودہ زمانے میں مسلم ملت کاہواہے- وہ دین کے خود ساختہ ماڈل پر قائم ہیں- زمانہ گزرنے کے بعد وہ اپنے اِس خود ساختہ ماڈل پر اتنے پختہ ہوچکے ہیں کہ اب وہ اُس پر نظر ثانی کی ضرورت نہیں سمجھتے-
پچھلی امتوں کے بارے میں قرآن میں یہ آیت آئی ہے: الَّذِیْنَ فَرَّقُوْا دِیْنَہُمْ وَکَانُوْا شِیَعًا ۭکُلُّ حِزْبٍۢ بِمَا لَدَیْہِمْ فَرِحُوْنَ (30:32) یعنی انھوں نے اپنے دین کو ٹکڑے ٹکڑے کرلیا اور وہ بہت سے گروہ ہوگئے- ہر گروہ اپنے خود ساختہ طریقے پر نازاں ہے-
یہی حال موجودہ زمانے کے مسلمانوں کا ہوا ہے- وہ خود ساختہ تعبیرات کے مطابق، مختلف گروہوں میں بٹ گئے ہیں- یہ تمام گروہ خود ساختہ تصورِ دین پر قائم ہیں- لیکن لمبی مدت گزرنے کے بعد اب ہر گروہ کا ذہن اپنے ماڈل کے حق میں اتنا زیادہ پختہ ہوچکا ہے کہ اب وہ اِس کی ضرورت نہیں سمجھتا کہ وہ اُس پر نظر ثانی کرے-
امت مسلمہ اور اس کے بعد
امتِ مسلمہ کے حال اور مستقبل کو سمجھنے کے لیے قرآن کے سورہ الانبیاء کی اِن آیات کا مطالعہ کیجئے: وَحَرٰمٌ عَلٰی قَرْیَةٍ اَہْلَکْنٰہَآ اَنَّہُمْ لَا یَرْجِعُوْنَ ؀ ﱑ اِذَا فُتِحَتْ یَاْجُوْجُ وَمَاْجُوْجُ وَہُمْ مِّنْ کُلِّ حَدَبٍ یَّنْسِلُوْنَ (21:95-96) یعنی جس بستی والوں کے لیے ہم نے ہلاکت مقرر کردی ہے، اُن کے لیے حرام ہے کہ وہ رجوع کریں، یہاںتک کہ جب یاجوج اور ماجوج کھول دئے جائیں گے اور وہ نہایت تیزی کے ساتھ ہر بلندی سے نکل پڑیں گے-
یہ قرآن کی دو آیتیں ہیں- دوسری آیت میں واضح طورپر مستقبل میں پیش آنے والے ایک واقعے کا ذکر ہے، یعنی یاجوج اور ماجوج کا ظہور- پہلی آیت میں اگرچہ استقبال کا صیغہ استعمال نہیں ہواہے، لیکن اِس سے مراد بھی مستقبل میں پیش آنے والا واقعہ ہے، یعنی یاجوج اور ماجوج کے ظہور سے فوراً پہلے کاواقعہ-
اصل یہ ہے کہ پہلی آیت میں قرآن کے مخصوص اسلوب میں، امتِ مسلمہ کے مستقبل کا ذکر ہے- اِس آیت میں دفع کا وہی قانون بیان کیا گیا ہے جس کا اوپر ذکر کیا گیا- یہاں حرام سے مراد امت کا ’غلف‘ کی حالت تک پہنچ جانا ہے، یعنی دورِ زوال کی حالت- اور اہلاک سے مراد یہ ہے کہ جب امت پر یہ حالت آئے گی تو اُس کو خدائی رول کے لیے رد کردیا جائے گا- یہ فطرت کا ایک عام قانون ہے جو امتِ مسلمہ پر بھی لازما آئے گا (لتتبعن سنن من کان قبلکم)، لیکن ایک فرق کے ساتھ، وہ یہ کہ امت یہود کو نظری اور عملی دونوں اعتبار سے رد کیا گیا تھا، لیکن امتِ مسلمہ کا رد کیا جانا صرف نظری اعتبار سے ہوگا، اِس کے بعدبھی عملی طورپر موجودہ دنیا میں اُن کی حیثیت باقی رہے گی، کیوں کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد اب کوئی اور نبی آنے و الا نہیں جو دونوں اعتبار سے امتِ مسلمہ کے رد کیے جانے کا اعلان کرسکے-
قرآن کی مذکورہ آیات میں صرف پہلی آیت امتِ مسلمہ کے بعد کے دور کے بارے میں ہے- جب کہ قانونِ فطرت کے مطابق، امت اپنے زوال کی آخری حد پر پہنچ چکی ہوگی- اِس آیت میں ہلاکت سے مراد معروف ہلاکت نہیں ہے، بلکہ اِس سے مراد وہی چیز ہے جس کو ذہنی جمود (intellectual stagnation) کہا جاتا ہے- آیت میں حرام سے مراد بھی معروف حرام نہیں ہے، بلکہ اس سے مراد جمود کی وہ حالت ہے، جب کہ لوگوں کے اندر بے حسی کا وہ درجہ آجائے جس کو قرآن میں قساوت کہاگیا ہے، یعنی قبولیت (receptivity) کے مادے کا ختم ہوجانا-
اِس معاملے کی مثال فطرت میں پتھر اور زرخیز زمین (soil) کی صورت میں رکھ دی گئی ہے- پتھر پر پانی ڈالا جائے تو پتھر اس کو قبول نہیں کرے گا- پانی اس کے اوپر سے بہہ جائے گا- اس کے برعکس، زرخیز مٹی میں پانی ڈالا جائے تو وہ اس کو بھر پورطورپر قبول کرلیتی ہے- اِسی طرح جب کوئی قوم زندہ ہو تو اس کے اندر قبولیت کی صلاحیت بھر پور طورپر موجود ہوتی ہے- اِس کے برعکس، جب قوم میں جمود آجائے تو وہ قبولیت کی صلاحیت سے محروم ہوجاتی ہے-
کسی امت کی یہ حالت کیوں ہوتی ہے- اس کا سبب صرف ایک ہے، اور وہ ہے فرضی یقین (false conviction)- دور زوال میں یہ ہوتا ہے کہ امت حقیقتاً بے روح(spiritless) ہوجاتی ہے، لیکن ظاہری طور پر وہ ایک خود ساختہ دین (self-styled version of religion) پر قائم رہتی ہے- دھیرے دھیرے وہ اپنے اسی خود ساختہ دین پر اتنی پختہ ہوجاتی ہے کہ اس کے خلاف سوچنا اس کے لئے ناممکن ہوجاتا ہے- اس کا حال یہ ہوجاتاہے کہ حقیقی دین اس کے لیے اجنبی (غریب) بن جاتا ہے، خواہ اس کو کتنا ہی دلائل کے ساتھ پیش کیا گیا ہو- اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ ایسی امت کے اندر کوئی نیا فکری انقلاب (intellectual revolution) لانا ناممکن ہوجاتا ہے- اِس مرحلے پر پہنچ کر وہ تخلیقی فکر (creative thinking) سے محروم ہوجاتی ہے- یہی وہ حقیقت ہے جس کو مذکورہ آیت میں ’أنہم لا یرجعون‘ کے الفاظ میں بیان کیا گیا ہے-
اہلِ مغرب کا رول
صحیح البخاری میں ایک روایت اِن الفاظ میں آئی ہے: إن اللہ لیؤید ہذا الدین بالرجل الفاجر (رقم الحدیث: 3062) یعنی اللہ ضروراِس دین کی تائید فاجر شخص کے ذریعے کرے گا-
اِس حدیث میں ’فاجر‘کا لفظ غیر مومن کے معنی میں آیا ہے- آج کل کی زبان میں اس کو سیکولر انسان کہہ سکتے ہیں-اِس روایت میں پیشین گوئی کی زبان میںیہ بات کہی گئی ہے کہ اللہ بعد کے زمانے میں ایسے سیکولر لوگوں کو اٹھائے گا جو خدا کے دین کے معاملے میں تائیدی کردار (supporting role) ادا کریں گے- تاریخی اعتبار سے غور کیجئے تو معلوم ہوگا کہ یہ تائیدی رول بالفعل عمل میں آچکا ہے- اب ضرورت صرف یہ ہے کہ اس کی معرفت حاصل کی جائے اور اس سے فائدہ اٹھایا جائے-
دو مطلوب رول
اصل یہ ہے کہ دین اسلام کے حاملین سے دو رول مطلوب تھا — ایک رول وہ ہے جس کو قرآن میں حفاظتِ دین (15:9) کہاگیا ہے- اور دوسرا وہ ہے جس کے لیے قرآن میں اظہارِ دین(48:28) کے الفاظ آئے ہیں-
حفاظتِ دین سے مراد ہے دین کا قلمی یا کتابی تحفظ — قرآن کے اصل متن کا مکتوب حالت میں محفوظ ہوجانا، حدیث کا مدوّن مجموعہ تیار ہوجانا، سیرتِ رسول اور سیرتِ صحابہ کا لکھی ہوئی حالت میں ریکارڈ ہوجانا، اسلام کا وہ دور جس کو قرون مشہود لہا بالخیر کہاگیا ہے، اس کو مستند تاریخ کی حیثیت دے دینا، اسلام کی بنیاد پر ایسے ادارے (مسجد، مدرسہ، حج کا نظام، وغیرہ) قائم ہوجانا جن کے ذریعے ابدی طور پر اسلام کو ایک اجتماعی بنیادحاصل ہوجائے- یہ تمام کام ایک لفظ میں، تحفظ ِدین کےکام ہیں- امتِ مسلمہ نے اپنے ابتدائی تقریباً ہزار سال کے دوران اِس کام کو کامل طور پر اور مستند طور پر انجام دے دیا- یہاں تک کہ اب یہ حال ہے کہ اسلام کا مستند ماخذ نہ صرف لائبریریوں میں موجود ہے، بلکہ پورا ذخیرہ انٹرنیٹ پر اِس طرح محفوظ ہوگیا ہے کہ ایک شخص فنگر ٹپ (fingertip) کے استعمال سے ایک لمحے میں اِس پورے ذخیرے تک رسائی حاصل کرسکتا ہے-
تائید دین کے چار اہم کام
پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک حدیث اِن الفاظ میں آئی ہے: مثل أمتی مثل المطر، لا یُدرى أوّلہ خیر، أم آخرہ (سنن الترمذی، رقم الحدیث:2869) یعنی میری امت کی مثال بارش جیسی ہے، نہیں معلوم کہ اس کا اول زیادہ بہتر ہے یا اس کا آخرزیادہ بہتر ہے-
جیسا کہ معلوم ہے، بارش کا اول اور آخر دونوں اپنے اپنے لحاظ سے بہتر ہوتا ہے- اِس حدیث میں امت کے دو دور کا ذکر ہے — ابتدائی دور اور آخری دور، ایک پہلو سے امت کا ابتدائی دور بہتر ہے اور دوسرے پہلو سے اس کا آخری دور بہتر ہے-
اِس حدیثِ رسول میں دراصل امت کے بارے میں ایک پیشین گوئی کی گئی ہے جو کہ اب واقعہ بن چکی ہے- امت کے پہلے دور میں ایک طرف، دین کو محفوظ دین کی حیثیت دی گئی ہے اور دوسری طرف، اِس دور میں ایک ایسا انقلاب برپا ہوا جس نے انسانی تاریخ میں ایک نیا پراسس جاری کردیا- اِس تاریخی پراسس کا آغاز امتِ مسلمہ نے کیا تھا، لیکن بعد کے زمانے میں یہ رول مشرق سے مغرب کی طرف منتقل ہوگیا- اِس عمل (process) کے تکمیلی مرحلے میں جو چیزیں مطلوب تھیں، وہ زیادہ تر اہلِ مغرب کے ذریعے انجام پائیں- اِس تاریخی عمل کا آغاز ساتویں اور آٹھویں صدی عیسوی میں امت مسلمہ کے ذریعے ہوا- اِس کے بعد اہلِ مغرب نے اِس معاملے میں تائیدی رول (supporting role) انجام دیا، جس کی تکمیل انیسویں صدی اور بیسویں صدی میں ہوئی-
چار پہلو
1- اِس معاملے میں اہلِ مغرب کے ذریعے جو کام انجام پایا، اس کے چار خاص پہلو ہیں اور اِن چاروں پہلوؤں کا اشارہ قرآن میں موجود ہے- اِن میں سے ایک کام وہ ہے جس کا ذکر بطور پیشین گوئی قرآن کی اِس آیت میں کیاگیا ہے: سَنُرِیْہِمْ اٰیٰتِنَا فِی الْاٰفَاقِ وَفِیْٓ اَنْفُسِہِمْ حَتّٰى یَتَبَیَّنَ لَہُمْ اَنَّہُ الْحَقّ(41:53)یعنی عنقریب ہم اُن کو آفاق میں اور انفس میں اپنی نشانیاں دکھائیں گے، یہاں تک کہ اُن پر یہ بات کھل جائے گی کہ یہ قرآن حق ہے-
قرآن کی اِس آیت میں جس پیشین گوئی کا ذکر ہے، اس کا پس منظر یہ ہے کہ اِس دنیا میں معرفت اور ایمانی رزق کے بے شمار آئٹم ہیں، جن کو قرآن میں آیات اور آلاء اللہ اور کلمات اللہ کے الفاظ میں بیان کیاگیا ہے- اِس قسم کی چیزوں کا ذکر قرآن اور حدیث میں ابتدائی طور پر موجود ہے، لیکن ان کی تفصیلات کو جاننا سائنٹفک مطالعے پر موقوف تھا جس کو قرآن میں زمین وآسمان پر تفکر سے تعبیر کیا گیا ہے-سائنسی مطالعے کے اِ س کام کا آغاز امتِ مسلمہ کے افراد نے کیا تھا، لیکن اس کی تکمیل تمام تر اہلِ مغرب کے ذریعے انجام پائی- یہی وہ کام ہے جس کو موجودہ زمانے میں، ماڈرن سائنس (modern science) کہاجاتا ہے- ماڈرن سائنس کا نظریاتی حصہ پورا کا پورا قرآن کی اِس آیت کی تفصیل ہے- قدیم زمانے میں آیات اللہ کا علم صرف عینی مشاہدے کے ذریعے ممکن ہوتاتھا، اہلِ مغرب نے اس کو وسیع کرکے دور بینی مشاہدہ اور خورد بینی مشاہدے تک پہنچا دیا-
موجودہ زمانے کی نظریاتی سائنس نے فطرت (nature) کے بارے میں جو حقیقتیں دریافت کی ہیں، اُن کے ذریعے سے پہلی بار یہ ممکن ہوا کہ انسان تخلیق میں خالق کو دریافت کرسکے،وہ معرفت ِ حق کے اُن اعلیٰ درجات تک پہنچ سکے جو قدیم روایتی دور میں انسان کے لیے ممکن نہ تھا-
2- اِس معاملے میں اہلِ مغرب کی دوسری دین یہ ہے کہ انھوں نے شکر خداوندی کے نئے بے شمار آئٹم دریافت کیے- انسان سے یہ مطلوب ہے کہ وہ انعامات کو شعوری طورپر جانے اور اُن کے لیے منعم کا اعتراف کرے- اِسی اعتراف کا مذہبی نام شکر ہے- شکر کی حیثیت دین کے اہم ترین مطلوب کی ہے، لیکن اعلیٰ شکر، انعامات کی اعلیٰ معرفت ہی سے ہوسکتاہے، اور یہ وہ کام ہے جو تاریخ میں پہلی بار اہلِ مغرب کے ذریعے انجام پایا-
اِس سلسلے میں قرآن کی ایک متعلق آیت یہ ہے: وَاٰتٰىکُمْ مِّنْ کُلِّ مَا سَاَلْتُمُوْہُ ۭ وَاِنْ تَعُدُّوْا نِعْمَتَ اللّٰہِ لَا تُحْصُوْہَا ۭ اِنَّ الْاِنْسَانَ لَظَلُوْمٌ کَفَّارٌ(14: 34)یعنی خدا نے تم کو وہ سب کچھ دے دیا جو تم نے اُس سے مانگا- اگر تم اللہ کی نعمتوںکو گنو تو تم گن نہیں سکتے- یقیناً انسان بہت ظالم اور بہت ناشکرگزار ہے-
خالق نے انسان کو اس کی ضرورت کی تمام چیزیں بطور عطیہ دے دی ہیں- یہ عطیات سب کے سب خدائی انعامات ہیں- اِن عطیات کی واقفیت سے اللہ کے لیے بے پناہ شکر پیدا ہوتا ہے- یہ عطیات یا نعمتیں بے شمار ہیں، مگر قدیم زمانے میں انسان اِن میں سے بہت کم عطیات کو جانتا تھا- ایسی حالت میں وہ بڑا شکر نہیں کرسکتا تھا- جدید مغربی سائنس نے فطرت میں چھپے ہوئے بے شمار نئے عطیات کو دریافت کیا اور جدید صنعت او ر ٹکنالوجی کے ذریعے اس کو عام انسان کے لیے قابلِ حصول بنا دیا- یہ ایک ایسا واقعہ ہے جو اہلِ مغرب کے ذریعے پہلی بار انجام پایا- اِس طرح یہ ممکن ہوگیا کہ انسان اپنے رب کے لیے زیادہ بڑا شکر ادا کرسکے — اہلِ مغرب کا یہ عطیہ بلا شبہہ تائید دین کی ایک اعلی مثال کی حیثیت رکھتاہے-
3- اِس سلسلے میں اہلِ مغرب کی تیسری دین وہ ہے جس کو عالمی مواصلات کہاجاتا ہے- اللہ تعالی کو یہ مطلوب تھا کہ اس نے اپنا پیغام جو پیغمبروں کے ذریعے بھیجا ہے، وہ تمام اہلِ عالم تک پہنچے- اِس سلسلے میں قرآن کی ایک آیت یہ ہے : تَبٰرَکَ الَّذِیْ نَزَّلَ الْفُرْقَانَ عَلٰی عَبْدِہٖ لِیَکُوْنَ لِلْعٰلَمِیْنَ نَذِیْراً (25:1)یعنی بہت بابرکت ہے وہ ذات جس نے اپنے بندے پر قرآن نازل کیا، تاکہ وہ تمام عالم کے لیے آگاہ کرنے والا ہو-
یہی بات حدیث میں پیشین گوئی کی زبان میں اِس طرح آئی ہے: لایبقى على ظہر الأرض بیت مدر ولا وبر إلا أدخلہ اللہ کلمة الإسلام (مسند أحمد، رقم الحدیث: 24215) یعنی زمین کی سطح پر کوئی گھر یا خیمہ نہیں بچے گا، مگر اللہ اس میں اسلام کا کلمہ داخل کردے گا-
اِس سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ کو یہ مطلوب تھا کہ اُس نے پیغمبروں کے ذریعے جو ہدایت نامہ بھیجا ہے، وہ دنیا میں بسنے والے تمام انسانوں تک پہنچے- مگر قدیم زمانے میں یہ عالمی پیغام رسانی ممکن نہ تھی- قدیم زمانے میں دعوت الى اللہ کا کام عملاً صرف مقامی طورپر ہوا، وہ عالمی طورپر انجام نہ پاسکا- موجودہ زمانے میں پہلی بار وہ ذرائع اور وسائل وجود میں آئے ہیں جن کو استعمال کرکے کرہ ارض کے ہر چھوٹے اور بڑے گھر میں اللہ کا پیغام پہنچ جائے، زمین پر بسنے والا کوئی بھی انسان اُس سے بے خبر نہ رہے-
یہ ذرائع اور وسائل خالق نے فطرت (nature) کے اندر بڑے پیمانے پر رکھ دئے تھے، مگر قدیم زمانے میں اِن ذرائع اور وسائل کو دریافت کرنا ممکن نہ ہوسکا- اہلِ مغرب نے پہلی بار ان کو دریافت کیا اور ان کو صنعتی مصنوعات (industrial products) کی صورت دے کر داعیوں اور مبلغوں کے لیے قابلِ حصول بنا دیا-
4- قدیم زمانے میں اقوام کی تنظیم (international organisation) کا تصور نہ تھا- قدیم زمانے میں صرف سیاسی تنظیم (political organisation) کا تصور تھا، جو کسی بڑی سلطنت کے تحت بذریعہ طاقت قائم ہوتا تھا-اِس تصور کے تحت قدیم زمانے میں وہ نظریہ وضع ہوا جس کو جنگ برائے امن (war for peace) کہا جاتا ہے- موجودہ زمانے میں پہلی بار یہ واقعہ پیش آیا ہے کہ اقتدار کے باہر اصول کی بنیاد پر قوموں کی تنظیم قائم کی جائے جو بین اقوامی معاملات میں اقتدار کے استعمال کے بغیر پرامن طورپر فیصلہ کن رول ادا کرسکے-
قدیم زمانے میں یہ سمجھا جاتا تھا کہ امن صرف سیاسی اقتدار کے ذریعے قائم ہوتا ہے- اِس تصور کا نتیجہ یہ تھا کہ قدیم زمانے میں ہزاروں سال تک ساری دنیا میں جنگوں کا سلسلہ جاری رہا- یہ طریقہ خدا کے تخلیقی منصوبے کے خلاف تھا- خدا کے تخلیقی منصوبے کا تقاضا ہے کہ قوموں کے درمیان پرامن تعلقات ہوں، تاکہ دعوت اورتعلیم جیسا تعمیری کام کسی رکاوٹ کے بغیر جاری رہے- اِس لیے اسلام میں یہ مطلوب تھا کہ بین اقوامی امن کو سیاسی اقتدار سے الگ کردیا جائے- بین اقوامی امن کو معاہدات کی بنیاد پر قائم کیا جائے، نہ کہ سیاسی اقتدار کی بنیاد پر-
پیغمبر اسلام اور آپ کے اصحاب کے زمانے میں جو انقلاب آیا، اُس کا ایک پہلو یہ بھی تھا-اُس زمانے میں پہلی بار ایسا ہواکہ معاہدات کی بنیاد پر بین الاقوامی امن کا قیام عمل میںآیا - یہ معاہدہ حدیبیہ تھا جو 628عیسوی میں تشکیل پایا- اِس معاہدہ امن میں براہِ راست طورپر اہلِ مدینہ اور اہلِ مکہ شامل تھے، لیکن بالواسطہ طورپر یہود بھی اس میں شامل تھے جو کہ اُس وقت مدینہ کی آبادی کا تقریبا نصف حصہ تھے- تاریخ کا یہ پہلا بین الاقوامی معاہدہ امن تھا جو اِس لیے کیاگیا کہ قومی تعلقات کو جنگ کے بجائے امن کی بنیاد پر قائم کیا جائے-
معاہدہ حدیبیہ صرف ایک واحد واقعہ نہ تھا، وہ تاریخ میں ایک نئے دورِ امن کا آغاز تھا- اس کے بعد تاریخ میں ایک نیا عمل شروع ہوا، جو سفر کرتے ہوئے یورپ تک پہنچا- چناں چہ 1920 میں جنیوا (سوئزرلینڈ) میں ایک بین اقوامی ادارہ قائم کیا گیا جس کا نام جمعیتِ اقوام (League of Nations) تھا- اِس جمعیت میں کُل 63 قومیں شامل تھیں، البتہ امریکا اس میں شامل نہ تھا- یہ تنظیم مستقل ثابت نہ ہوسکی، یہاں تک کہ 1946 میں باقاعدہ طورپر اس کے خاتمے کا اعلان کردیا گیا-
اِس کے بعد اِس مقصد کے لیے 1945 میں نئ اور زیادہ بڑی تنظیم قائم ہوئی- اس کا نام تنظیم اقوامِ متحدہ (United Nations Organisation) تھا- اِس دوسری تنظیم میں 193 ممالک شامل ہیں- اس کا صدر دفتر نیویارک (امریکا) میں ہے- یہ ایک غیر سیاسی تنظیم ہے- وہ امن کے میدان میں زیادہ موثر رول ادا کررہی ہے-
یہ واقعہ بھی انھیں واقعات میں سے ہے جس کا ذکر ’’تائید دین‘‘ کے طورپر کیاگیا ہے، اِس واقعے کو دوسرے الفاظ میں، دورِ شمشیر کو ختم کرکے عملا دورِ امن کو لانا کہاجاسکتا ہے- بین اقوامی تعلقات میں یہ تبدیلی عین اسلام کے حق میں ہے- یہ واقعہ اُس تاریخی عمل (historical process) کا نقطہ انتہا ہے جس کا آغاز ساتویں صدی کے ربع اول میں معاہدہ حدیبیہ کے ذریعے کیاگیا تھا-
قدیم زمانے میں جنگ اور امن کا کوئی متفقہ اصول نہ تھا- جو لوگ سیاسی اقتدار پر قابض ہوتے تھے، وہی جنگ اور امن کا فیصلہ کرتے تھے- قوموں کے درمیان معاہداتی تنظیم کے مذکورہ طریقے نے اِس صورتِ حال کو ختم کردیا- اب یہ ممکن ہوگیا کہ باہمی مسائل کا فیصلہ بین اقوامی گفت وشنید (international negotiation) کے ذریعے طے کیا جائےاور باہمی ا ختلافات کے باوجود عالمی امن کو برقرار رکھا جائے- اِس طرح یہ ممکن ہوگیا کہ ہر حال میں تعمیری سرگر میاں کسی رکاوٹ کےبغیر جاری رہیں-
جو لوگ چیزوں کو معیار کے پیمانہ (ideal yardstick) سے ناپتے ہیں، وہ اِن اداروں پر تنقید کرتے رہتے ہیں-پہلے وہ جمعیت اقوام کے ناقد تھے، اب وہ اقوامِ متحدہ کے ناقد بنے ہوئے ہیں، مگر یہ صرف بے دانشی کی بات ہے- یہ لوگ معیاری امن (ideal peace) کی باتیں کرتے ہیں، مگر اِس دنیا میں معیاری امن کا حصول سرے سے ممکن ہی نہیں-
اِس دنیا میں کوئی چیز صرف خدا کے تخلیقی منصوبے کے تحت ہی حاصل کی جاسکتی ہے، اور یہ ایک حقیقت ہے کہ خدا کے تخلیقی منصوبے کے تحت اِس دنیا میں صرف قابلِ عمل امن (workable peace) کا حصول ممکن ہے، اور بلاشبہہ اقوام متحدہ نے قابلِ عمل امن کے حصول کو ممکن بنا دیا ہے-
خداکے منصوبے کے مطابق، اِس دنیا میں انسان کو کامل آزادی دی گئی ہے- اِس آزادی کو منسوخ کرنا کسی کے لیے بھی ممکن نہیں- یہی وجہ ہے کہ اِس دنیا میں کوئی چیز معیاری درجے میں نہیں، بلکہ صرف قابلِ عمل (workable) درجے میں حاصل ہوتی ہے، خواہ وہ امن اور عدل ہو یا اور کوئی چیز-
قرآن کی سورہ الانفال میں رسول اور اصحابِ رسول کو ایک حکم اِن الفاظ میں دیاگیا تھا: وَقَاتِلُوْہُمْ حَتّٰی لَا تَکُوْنَ فِتْنَةٌ وَّیَکُوْنَ الدِّیْنُ کُلُّہٗ لِلّٰہِ (8:39) یعنی تم اُن سے قتال کرو، یہاں تک کہ فتنہ باقی نہ رہے اور دین سب کا سب، اللہ کے لیے ہوجائے-
اِس آیت میں جو بات کہی گئی ہے، وہ قرآن کے مخصوص اسلوب میں یہی بات ہے- دوسرے الفاظ میں، اِس حکم کا مطلب یہ ہے کہ — اپنی ساری طاقت استعمال کرکے تاریخ میں ایک نیا پراسس جاری کرو جس کے نتیجے میں ایسا ہو کہ دنیا میں جنگ کی حالت نہ رہے اور امن کی حالت قائم ہوجائے- قرآن کی یہ آیت ایک دور کو ختم کرنے اور دوسرے دور کا آغاز کرنے کے معنی میں ہے، نہ کہ کسی وقتی کارروائی کے معنی میں-
استبدالِ قوم کا قانون
قرآن میں ایک خدائی قانون کو اِن الفاظ میں بیان کیاگیا ہے: وَاِنْ تَتَوَلَّوْا یَسْتَبْدِلْ قَوْمًا غَیْرَکُمْ ۙ ثُمَّ لَا یَکُوْنُوْٓا اَمْثَالَکُمْ (47:38) یعنی اگر تم پھر جاؤ تو اللہ تمھاری جگہ دوسری قوم کو لے کر آئے گا، پھر وہ تم جیسے نہ ہوں گے-
قرآن کی اِس آیت میں جس استبدال (replacement) کا ذکر ہے، اس کے دو پہلو ہیں- ایک پہلو سے اس کا تعلق مسلمانوں سے ہے- اگر مسلمانوں کے اندر عمومی طورپر زوال اور فساد آجائے تو اللہ تعالی کو یہ مطلوب ہوگا کہ یہ صورتِ حال بدلے اور ایسے اہلِ ایمان پیدا ہوں جو صحیح معنوں میں دینِ خداوندی پر قائم ہوں-
لیکن اِس استبدال کا مطلب یہ نہیں ہے کہ بگڑی ہوئی امت اگر ایک بلین کی تعداد میں ہے تو اس کی جگہ ایک بلین ہی کی تعداد میں دوسری صالح امت پیدا کردی جائے- یہ استبدال ہمیشہ افراد کے اعتبار سے ہوتا ہے، نہ کہ مجموعی طورپر ایک پوری امت کے اعتبار سے-
اِس استبدال کا دوسرا پہلو وہ ہے جس کا اوپر ذکر کیاگیا، یعنی اظہارِ دین کے اجزا کو دریافت کرنے میں اگر امتِ مسلمہ ناکام ہوجائے تو اللہ تعالی سیکولر طبقے میں سے ایسے مؤید ِین کو اٹھائے گا جو اس کام کو انجام دیں اور معرفت اور شکر اور دعوت کے اعلی درجات تک پہنچنے کو ممکن بنا دیں-
خلاصہ کلام
انسان کے بارے میں اللہ کا تخلیقی منصوبہ (creation plan) یہ ہے کہ انسان کو آزادی دے کر اس کو یہ موقع دیا جائے کہ وہ خود دریافت کردہ معرفت (self-discovered realisation) پر کھڑا ہو اور کامل اختیار رکھتے ہوئے اللہ کے تخلیقی منصوبے کے تحت زندگی گزارے- جو لوگ اِس امتحان میں کامیاب ہوں، وہی وہ لوگ ہیں جو آخرت کی ابدی جنتوں میںداخل کیے جائیں گے-اللہ نے نبیوں کو اِسی لیے بھیجا کہ وہ انسان کی آزادی کو برقرار رکھتے ہوئے اس کی رہنمائی کریں- اِس رہنمائی کے مختلف مراحل ہیں، جو کہ قرآن وحدیث کے مطالعے سے معلوم ہوتے ہیں-
حضرت ابراہیم کا زمانہ تقریباً چار ہزار سال پہلے کا زمانہ ہے- حضرت ابراہیم کے زمانے تک جو پیغمبر آئے، وہ انفرادی سطح پر انسان کو رہنمائی دیتے رہے-حضرت ابراہیم کے بعد ایک نئی منصوبہ بندی کی گئی، یعنی ایک قوم وجود میں لانا اور تاریخ میں ایک انقلابی عمل (revolutionary process) جاری کرنا، جو بالآخر اللہ کے دین کے کامل اظہار تک پہنچ جائے-
یہ نیا منصوبہ حضرت ہاجرہ اور حضرت اسماعیل سے شروع ہوا- اس کے بعد رسول اور اصحاب رسول کے ذریعے اس کو طاقت ور تحریک (boost)ملی- اِس کے بعد امتِ مسلمہ کی حکومتوں کا دور آیا- اِس دورِ اقتدار میں خدا کا دین اصولی اور نظریاتی طورپر پوری طرح محفوظ ہوگیا- اِسی کے ساتھ تاریخ میں ایک نیا عمل جاری ہوا-
اِس آخری دور میں اہلِ مغرب نے بالواسطہ طورپر تائید کا رول اداکیا- انھوںنے فطرت کے قوانین کو دریافت کرکے اِس بات کو ممکن بنا دیا کہ خدا کے دین کو انسان کے مسلّمہ علمی معیار پر مدلل کیا جاسکے- عطیاتِ الہی کے چھپے ہوئے اجزا کو دریافت کرکے انھوں نے اِس بات کو ممکن بنایا کہ انسان اعلی عطیاتِ الہی کا تجربہ کرے اور اپنے رب کے لیے اعلى شکر کا رسپانس دے سکے- اِس طرح اہلِ مغرب نے یہ کیا کہ انھوںنے فطرت کے اندر چھپے ہوئے امکانات کو دریافت کرکے جدید مواصلات تک دست رس حاصل کی- اِس طرح یہ ممکن ہوگیا کہ اللہ کے پیغام کو عالمی سطح پر ہر عورت اور مرد تک پہنچایا جاسکے- اِسی طرح اہلِ مغرب نے انسانی تاریخ کو دور سیاست سے نکال کر دورِ تنظیم (age of organization) تک پہنچایا- اِس طرح یہ ممکن ہوگیا کہ سیاسی طاقت کے بغیرآزادانہ طورپر تمام دینی تقاضے انجام دئے جاسکیں-
جہاں تک حفاظتِ دین کا تعلق ہے، اس کو تمام تر امتِ مسلمہ نے انجام دیا- اظہارِ دین کے کام کا آغاز بھی امتِ مسلمہ کے ذریعے ہوا، لیکن کامل اظہار کے لیے جو وسائل درکار تھے، وہ قدیم زمانے میں موجود نہ تھے- اِس میدان میں بھی امتِ مسلمہ نے ابتدائی کام کیا، لیکن اس کو اتمام تک پہنچانا باقی تھا- اظہارِ دین کا یہ تکمیلی مرحلہ اہلِ مغرب کی جدید دریافتوں کے ذریعے انجام پایا- تاہم اس معاملے میں اہلِ مغرب کا حصۂ تائید باعتبارِ وسائل ہے، تاہم تائید کا یہ واقعہ اتفاقاً پیش نہیں آیا، بلکہ وہ اُس تاریخی عمل (historical process) کا نقطہ انتہا (culmination) تھا جو امتِ مسلمہ کے ذریعے ساتویں صدی عیسوی میں شروع ہوا تھا-(1 دسمبر 2012)
واپس اوپر جائیں

زحمت میں رحمت

سائنس کی تاریخ کے مشہور واقعات میں سے ایک واقعہ یہ ہے کہ برطانیہ کا نوجوان سائنس داں نیوٹن (وفات: 1727) اپنے باغ میں بیٹھا ہوا تھا- اُس وقت سیب کے درخت سے ایک سیب ٹوٹ کر اس کے سر پر گرا- اِس چوٹ سے اس کے اندر سوچ کا ایک طوفان آگیا- اِس واقعے کے بعد اس نے زمین کی کشش کا نظریہ دریافت کیا:
It is one of the most famous anecdotes in the history of science. The young Isaac Newton is sitting in his garden when an apple falls on his head and, in a stroke of brilliant insight, he suddenly comes up with his theory of gravity.
کرہ ارض کے اندر کشش (gravitational pull) ایک عظیم نعمت ہے- اِس کشش کے بغیر زمین پر انسان کی آبادی اور انسانی تہذیب کا وجود ممکن نہ تھا- انسانی زندگی کی تمام سرگرمیاں اِسی زمینی کشش کی وجہ سے ممکن ہوئی ہیں- یہ کشش نہ ہو تو زمین کے اوپر ہوا، پانی، سبزہ، انسانی آبادیاں ہر چیز کا خاتمہ ہوجائے- اللہ تعالی کو یہ مطلوب تھا کہ انسان اِس حقیقت کو شعوری طورپر جانے اور اِس نعمت پر خالق کا گہرا شکر ادا کرے- اللہ نے مختلف فطری نشانیوں کے ذریعے اِس کی طرف انسان کو متوجہ کیا- مثلاً اوپر کی فضا سے پانی کا نیچے آنا، وغیرہ- مگر انسان اِس پر غور نہ کرسکا، اِس لیے وہ اِس دریافت تک بھی نہیں پہنچا-
نیوٹن کے سرپر سیب کا گرنا گویا سر پر پتھر مار کر انسان کے ذہن کو بیدار کرنا تھا، تاکہ وہ فطرت کے اِس ظاہرے پر غور کرے اور زمین کی کشش کے قانون کو دریافت کرے- گویا یہ زحمت میں رحمت (blessing in disguise)کا معاملہ تھا- یہ طریقہ کامیاب ہوا اور انسان اِس عظیم نعمت کو شعوری طورپر دریافت کرنے میں کامیاب ہوگیا-تاریخ میں ایسے بہت سے واقعات ہیں جب کہ عام حالات میں انسان ایک حقیقت کو دریافت نہ کرسکا تھا، پھر اس کے ساتھ وہ تجربہ پیش آیا جس کو شاک ٹریٹمینٹ (shock treatment) کہا جاتاہے اور پھر اس نے حقیقت کو دریافت کرلیا- اصل یہ ہے کہ ہر زحمت میں ایک رحمت ہوتی ہے، آدمی اگر اِس حقیقت کو سمجھے تو وہ کبھی مایوسی کا شکار نہ ہو-
واپس اوپر جائیں

سیاست، تعمیر

11 مئی 2013 کو پاکستان میں جنرل الیکشن ہوا- ا س الیکشن میں خاص طورپر دولیڈروں کے درمیان مقابلہ تھا— مسلم لیگ کے نواز شریف اور انصاف پارٹی کے عمران خان- عمران خان نے الیکشن سے پہلے 9مئی 2013 کو اپنے ایک بیان میں کہا تھاکہ پاکستان میں تبدیلی آنا ضروری ہے اور پاکستان میں تبدیلی لانے کا صرف ایک ہی طریقہ ہے اور وہ سیاست کا طریقہ ہے:
There should be change in Pakistan and there was no other way to bring change in Pakistan but politics.
الیکشن ہوا تو نواز شریف کو بھاری کامیابی حاصل ہوئی اور عمران خان کو اسمبلی میں بہت کم سیٹ ملی- اِس کے بعد عمران خان نے دوسرا بیان (16 مئی 2013) یہ دیا کہ الیکشن میں بہت زیادہ دھاندھلی (rigging) ہوئی ہےاور ان کی پارٹی اس کے خلاف ملک میں بڑے پیمانے پر احتجاجی تحریک چلائے گی:
Imran Khan has given a three day ultimatum to the Election Commission of Pakistan (ECP) to probe rigging in the genereal elections, otherwise his party would lauch protests across the country against the ECP.
بعد کی خبروں سے معلوم ہواکہ انصاف پارٹی اور جماعت اسلامی نے مل کر پاکستان میں احتجاجی مہم شروع کردی- اُن کا نعرہ یہ تھا کہ الیکشن میں جو پارٹی کامیاب ہوئی ہے، اس کو منتخب پارٹی نہیں کہا جاسکتا ، کیوں کہ اس نے یہ کامیابی دھاندلی کے ذریعے حاصل کی ہے-
یہ طریقہ صرف مسائل میں اضافہ کرنے والاہے- صحیح طریقہ ہے کہ جو پارٹی الیکشن میں کامیاب ہوئی ہے، اس کو مقررہ مدت تک کام کرنے کا موقع دیاجائے اور دوسری پارٹیاں تعلیم ا ور دعوت جیسے  غیرسیاسی میدانوں میں پر امن جدوجہد شروع کردیں- یہی تعمیر ِ ملک کا واحد طریقہ ہے-
نوٹ: مذکورہ موضوع پر مولانا وحید الدین خاں کا تفصیلی خطاب سننے کے لئے ملاحظہ ہو:
(http://cpsglobal.org/content/politics-and-nation-building-i-may-19-2013)
واپس اوپر جائیں

اسٹریس ایک نعمت

عام طور پر یہ سمجھا جاتا ہے کہ اسٹریس (stress) ایک برائی (evil) ہے- وہ انسان کی قوتِ کارکردگی کو گھٹا دینے والا ہے، وہ انسان کو ذہنی سکون سے محروم کردیتا ہے، حتی کہ اسٹریس ایک ایسی برائی ہے جو آدمی کی عمر کو کم کردینے والی ہے- اِس تصور کے تحت ساری دنیا میں ایک نئی انڈسٹری کھل گئی ہے- اِس کو ڈی اسٹریسنگ (de-stressing)کہاجاتا ہے-
مگر حال میں امریکا میں اِس موضوع پر ایک رسرچ ہوئی ہے- اِس سے ثابت ہوا ہے کہ اسٹریس کوئی برائی نہیں ہے، بلکہ اسٹریس کسی انسان کے لیے ذہنی ارتقا کا ذریعہ ہے:
Stress primes the brain for improved performance and optimal alertness.
دنیا میں مختلف قسم کے مسائل ہیں- یہی مسائل انسان کے لیے اسٹریس یا ٹنشن کا ذریعہ بنتے ہیں- فلاسفہ نے اِن مسائل کو لے کر ایک نظریہ بنایا جس کو وہ پرابلم آف اِول (problem of evil) کہتے ہیں- ان کے نزدیک، یہ مسائل (problems)اِس بات کا ثبوت ہیں کہ اِس دنیا کا کوئی خالق نہیں، اگر اِس دنیا کا کوئی خالق ہوتا تو وہ دنیا کو پرفکٹ انداز میں بناتا اور پھر ہم کو رہنے کے لیے ایک پرابلم فری دنیا مل جاتی- مگر تحقیقات نے بتایا کہ دنیا میں مسائل کا ہونا ایک نعمت ہے، کیوں کہ یہی مسائل ذہنی ارتقا کا ذریعہ بنتے ہیں، یہی مسائل دماغ کے اندر چھپی ہوئی صلاحیتوں کو انفولڈ کرتے ہیں-
Being overworked and stressed may have a positive side, say scientists who found short-lived stress primes the brain for improved performance and optimal alertness. Researchers from University of California, Berkeley uncovered exactly how acute stress, — short-lived, not chronic, — primes the brain for improved performance. “You always think about stress as a really bad thing, but it’s not. Some amounts of stress are good to push you just to the level of optimal alertness, behavioural and cognitive performance,” said Daniela Kaufer, associate professor of integrative biology at the UC Berkeley. (The Times of India, New Delhi, April 18, 2013, p. 19)
واپس اوپر جائیں

سوال و جواب

سوال
عرض ہےکہ آپ نے ماہ نامہ الرسالہ مارچ 2013 کے شمارے کے ٹائٹل پر ایک عبارت تحریرفرمائی ہے، جو اس طرح ہے: ’’چھوٹوں کو عزت دینا اخلاص کی پہچان ہے اور بڑوں کو عزت دینا منافقت کی پہچان‘‘- میں اِس عبارت کو سمجھنے سے قاصر ہوں- آپ نے بڑوں کو عزت دینے کو منافقت سے تعبیر کیا ہے، جب کہ احادیث سے ثابت ہے کہ بڑوں کو عزت دینا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا حکم ہے- ازراہِ کرم، اِس عبارت کی وضاحت فرمائیں- (فیصل احمد، کشمیر)
جواب
الرسالہ کے ٹائٹل پر چھپنے والا یہ قول موجودہ زمانے کی نسبت سے ہے- اِس عبارت کو اگر آپ اِس اضافے کے ساتھ پڑھیں کہ موجودہ زمانے میں یہ ایک عام بات ہے کہ لوگ چھوٹے (کم حیثیت کے) لوگوں کو عزت نہیں دیتے اور وہ بڑوں (زیادہ حیثیت والوں) کو عزت دیتے ہیں، تو اِس قول کا مطلب بالکل واضح ہوجائے گا- حقیقت یہ ہے کہ اسلامی اخلاقیات کے مطابق، چھوٹوں کو عزت دینا اخلاص کی پہچان ہے اور بڑوں کو عزت دینا منافقت کی پہچان-
الرسالہ کے اِس قول میں ’’چھوٹوں‘‘ سے مراد وہ لوگ ہیں جن کو معمولی درجے سے تعلق رکھنے والا سمجھا جاتاہے اور ’’بڑوں‘‘ سے مراد وہ لوگ ہیں جن کو اعلی درجے سے تعلق رکھنے والا سمجھا جاتاہے- مذکورہ حدیث ( لیس منامن لم یرحم صغیرنا ولم یوقر کبیرنا) سے الرسالہ کے اِس قول کا کوئی تعلق نہیں- مذکورہ حدیثِ رسول دوسرے سیاق میں آئی ہے اور الرسالہ کا یہ قول دوسرے سیاق میں- دونوں کا سیاق (context) بالکل الگ الگ ہے-
سوال
میں تفسیر اَحسن البیان (حافظ صلاح الدین یوسف) پڑھ رہا تھا- سورہ النساء کی آیت86 کی تفسیر میں مفسر لکھتے ہیں کہ:’’یاد رہے کہ یہ حکم مسلمانوں کے لیے ہے، یعنی ایک مسلمان جب دوسرے مسلمان کو سلام کرے- لیکن اہلِ ذمّہ یعنی یہود ونصاری کو سلام کرنا ہوتو ایک تو اُن کو سلام کرنے میں پہل نہ کی جائے- دوسرے، اضافہ نہ کیا جائے بلکہ ’’وعلیکم‘‘ کے ساتھ جواب دیا جائے‘‘ ( بخاری ومسلم)-براہِ کرم، رہنمائی فرمائیں کہ کیا اس کا اطلاق آج ہمارے پڑوسی مذہب کے ہندوبھائیوں پر بھی ہوگا- (غلام صابر، غازی پور، یوپی)
جواب
مذکورہ تفسیر میں جو مسئلہ بیان کیا گیا ہے، وہ مسئلہ درست نہیں، کیوں کہ اس میں بخاری کی مذکورہ روایت کو مطلق معنی میں لے لیا گیا ہے- اِس سلسلہ کی دوسری روایتوں سے معلوم ہوتاہے کہ وہ مطلق معنی میں نہیں ہے، بلکہ وہ فقہا کی اصطلاح میں، ’’بیان جواز‘‘ کے معنی میں ہے-
قرآن اور حدیث سے یہ ثابت ہے کہ اہلِ ایمان کو ہمیشہ زیادہ بہتر انداز میں جواب دینا چاہیے- اِس معاملے میں یہود یا کسی دوسرے کا کوئی استثنا نہیں ہے- اعلی اخلاق (68:4)ایک عظیم سنتِ رسول ہے- وہ ہر حال میں اہلِ ایمان سے مطلوب ہے- اِس کے علاوہ، غیر مسلموں کے سلسلہ میں ایک خصوصی اصول وہ ہے جس کو قرآن میں تالیف قلب (9:60) کہاگیا ہے- تالیفِ قلب کے اصول کا تقاضا ہےکہ اہلِ ایمان اُس طرزِ سلوک کو اختیار کریں جس کا حکم قرآن میں اِن الفاظ میں دیا گیا ہے: وَلَا تَسْتَوِی الْحَسَنَةُ وَلَا السَّیِّئَةُ ۭ اِدْفَعْ بِالَّتِیْ ہِىَ اَحْسَنُ فَاِذَا الَّذِیْ بَیْنَکَ وَبَیْنَہٗ عَدَاوَةٌ کَاَنَّہٗ وَلِیٌّ حَمِیْمٌ (41:34) یعنی بھلائی اوربرائی دونوں برابر نہیں،تم جواب میں وہ کہو جو اس سے بہتر ہو، پھر تم دیکھو گے کہ تم میں اور جس میں دشمنی تھی، وہ ایسا ہوگیا جیسے کوئی دوست قرابت والا۔
صحیح البخاری کی مذکورہ روایت کی تشریح کے تحت صاحبِ فتح الباری نے لکھا ہے: وذہب جماعة من السلف إلى أنہ یجوز أن یقال فی الردّ علیہم ’’علیکم السلام‘‘ کما یردّ على المسلم- واحتج بعضہم بقولہ تعالى: فاصفح عنہم وقل سلام (43:89) یعنی علماءِ سلف کی ایک جماعت کی رائے یہ ہے کہ — یہ جائز ہے کہ غیر مسلموں کے سلام کے جواب میں اُسی طرح وعلیکم السلام کہاجائے جس طرح ایک مسلم کے جواب میں وعلیکم السلام کہا جاتاہے- اُن میں سے بعض نے اِس کی دلیل یہ دی ہے کہ خود قرآن میں کہاگیا ہے: ’’پس اُن سے درگزر کرو اور کہو کہ سلام ہے تم کو‘‘ -(47/11)
سلام جیسے معاملے میں مذکورہ قسم کی بحث اُس وقت پیداہوتی ہے، جب کہ اُس کو خالص فقہی اور قانونی نظریے سے دیکھا جائے- اس کے برعکس، اگر اِس معاملے کو دعوتی اخلاقیات کی نظر سے دیکھا جائے تو وہ تالیفِ قلب کا مسئلہ بن جائے گا اور کہا جائے گا کہ اِس معاملے میں مسلم اور غیرمسلم کی تمیز مت کرو، بلکہ ہر ایک کو یکساں طورپر مدعو کی نظر سے دیکھو، حتی کہ اگر بالفرض فریقِ ثانی نے ’’السام علیکم‘‘ کہا ہے، تب بھی صفحِ جمیل ( 15:85 ) کا طریقہ اختیار کرتے ہوئے تم کو اس کے جواب میں السلام علیکم کہنا چاہئے، تاکہ وہ مثبت نتیجہ ظہور میں آئے جس کو قرآن میں اِن الفاظ میں بیان کیا گیاہے: فَاِذَا الَّذِیْ بَیْنَکَ وَبَیْنَہٗ عَدَاوَةٌ کَاَنَّہٗ وَلِیٌّ حَمِیْمٌ (41:34)-
آپ نے لکھا ہے کہ — کیا اِس کا اطلاق آج ہمارے پڑوسی مذہب کےہندوبھائیوں پر بھی ہوگا- جواب یہ ہے کہ یقیناً ہوگا- جو مثبت روش آپ کو دوسرے اہلِ کتاب کے بارے میں اختیار کرنا ہے، وہی مثبت روش آپ کو ہندو مذہب کے لوگوں کے بارے میں بھی اختیار کرنا ہے- بعض علما نے ہندوؤں کو ’’شِبہہِ اہلِ کتاب‘‘ لکھا ہے- میں اِس کو توسیعی معنی میں لیتے ہوئے یہ کہوں گا کہ تمام دنیا کے لوگ یا تو اہلِ کتاب ہیں، یا شبہِ اہلِ کتاب، کیوں کہ قرآن میں صراحت کے ساتھ بتایا گیاہے کہ:  وَاِنْ مِّنْ اُمَّةٍ اِلَّا خَلَا فِیْہَا نَذِیْرٌ (35:24) یعنی دنیا کی کوئی بھی قوم ایسی نہیں جس میں اللہ کی طرف سے کوئی ڈرانے والا نہ آیا ہو-
واپس اوپر جائیں

خبر نامہ اسلامی مرکز— 223

1- سہارن پور (یوپی) میں 20 مارچ 2013 کو ایک احتجاجی جلوس کو روکنے کے لیے مقامی پولس انتظامیہ کے لوگ تعینات تھے- اِس موقع پر سہارن پورٹیم کےممبران نے انتظامیہ کے لوگوں سے مل کر اُن کو دعوتی لٹریچر دیا-
2- مقامی انتظامیہ اور نئی دہلی کے اسکارٹ ہارٹ انسٹی ٹیوٹ کے ماہرین کی ٹیم کے ساتھ مل کر نیشنل میڈیکل کالج کی ٹیم نے 23 مارچ 2013 کو سہارن پور شہر میں طبی معائنے کا ایک کیمپ لگایا- اِس موقع پر ٹیم کی طرف سے تمام ڈاکٹروں، وغیرہ کو قرآن کا ترجمہ اور دیگر دعوتی لٹریچر دیاگیا-
3- ہوٹل رائل ریزی ڈینسی (سہارن پور) میں 24 مارچ 2013 کو ایک پروگرام ہوا- اِس موقع پر ہمارے ساتھیوں نے اِس میں شرکت کی اور حاضرین کو خاص طور پر، چیف جسٹس آئی ایم قدوسی کو دعوتی لٹریچر دیا-
4- پیس ہال (سہارن پور) میں 28 مارچ 2013 کو ایک دعوتی پروگرام ہوا- اِس موقع پر، دوسرے لوگوں کے علاوہ، جسٹس قدوسی، ڈاکٹر وید پرکاش تیاگی (چیرمین سی سی آئی ایم)، ڈاکٹر انور سعیدی اور مسٹر کرن سنگھ شریک تھے- پروگرام کے خاتمے پر تمام حاضرین کو دعوتی لٹریچر دیاگیا-
5- رڑکی (اتراکھنڈ) اور سہارن پور میں مارچ اور اپریل 2013 کے دوران شادی کی کئی تقریبات ہوئیں، ہمارے ساتھیوں نے یہاں شرکت کے دوران حاضرین کو قرآن کا ترجمہ اور دعوتی لٹریچر دیا-
6- نیشنل میڈیکل کالج (سہارن پور) میں 7 اپریل 2013 کو ڈاکٹر ہینی مینس ڈے کے موقع پر ایک بڑا پروگرام ہوا- اِس میں دوسرے لوگوں کے علاوہ، ڈاکٹر سی بی ترپاٹھی (اے ڈی ایم ای)، ڈاکٹر آر پی شرما (سی ایم ایس) اور ڈاکٹر شلبھ جین جیسے لوگوں نے شرکت کی- یہاں تمام حاضرین کو قرآن کا ترجمہ اور دعوتی لٹریچر دیاگیا-
7- برطانیہ (Earls Court) میں 12 اپریل سے یکم مئی 2013 کے دوران لندن بک فیر ہوا- اِس میں دنیا بھر کے پرنٹرس اور پبلشرز نے شرکت کی- یہاں گڈورڈ بکس (نئی دہلی) نے بھی اپنا اسٹال لگایا- اسٹال کا انتظام سی پی ایس دعوہ فیلڈ ٹیم (DFT) کے ہیڈ مسٹر خرم قریشی (پائلٹ) نے سنبھالا- یہاں سے بڑی تعداد میں زائرین نے قرآن کے انگریزی ترجمے حاصل کیے- مسٹر خرم قریشی نے لندن کے اِس سفرکو دعوتی مقصد کے لیے بھر پوراستعمال کیا- اِس سفر کے دوران انھوںنے لندن کی مختلف مساجد، اداروں اور سنٹرس کا دورہ کیا- مثلاً لندن سنٹرل ماسک، ایسٹ لندن ماسک، مسلم کاؤنسل آف برٹین، اسلامک فاؤنڈیشن، برمنگھم سنٹرل ماسک اور گلاسکو اسلامک سنٹر، وغیرہ- اِن اداروں کے ذمے داروں نے سی پی ایس (نئی دہلی) کے دعوتی کام کو بہت پسند کیا- انھوں نے ہمارے یہاں سے بڑے پیمانے پر قرآن کا انگریزی ترجمہ اور دعوتی لٹریچر حاصل کیا ہے، تاکہ وہ اس کو غیر مسلموں تک پہنچا سکیں- اِس سفر کے دوران لندن اوراطراف کے قارئین الرسالہ کے ساتھ میٹنگ بھی ہوئی اور وہاں دعوتی کام کو منظم کیاگیا-اِس سفر کو زیادہ سے زیادہ بہتر بنانے میں جن حضرات نے تعاون کیا، ہم ان کے بے حد شکر گزار ہیں- غیر مقامی ساتھیوں میں سے خاص طور پر خواجہ کلیم الدین(امریکا)، حکیم انور عباس (دہلی)،وغیرہ-اِسی طرح مقامی ساتھیوںمیں سے مز حنا، مسٹر ثاقب، ڈاکٹر پرویز، ڈاکٹر ظہور، مسٹر شاہ نواز، چودھری سرور، مسٹرطارق ملا، مسٹر نجم الحسن، وغیرہ-
8- دوسرے مقامات کی طرح کلکتہ میں ہمارے ساـتھی دعوہ ورک کررہےہیں- اِس سلسلے میں 14 اپریل 2013 کو گرودوارہ (ایم جی روڈ) میں ایک انٹر فیتھ میٹ (Interfaith Meet)ہوئی- اِس پروگرام کا موضوع تھا— عالمی اخوت (Universal Brotherhood) - اِس کی دعوت پر پیس اینڈ اسپریچول فورم (کلکتہ) ٹیم کے ساتھیوں نے اس میں شرکت کی اور ٹیم کے سربراہ مولانا محمد شفیق قاسمی (امام مسجد ناخدا) نے موضوع پر ایک تقریر کی- اِس موقع پر اعلی تعیم یافتہ لوگ موجود تھے- مثلاً آرک بشپ مسٹر تھامس، کلکتہ پولس کمشنر مسٹر سربجیت، ڈپٹی پولیس کمشنر مسٹر ڈی پی سنگھ وغیرہ- یہاں تمام حاضرین کو دعوتی لٹریچر دیاگیا- لوگوں نے اس کو بےحد شوق سے قبول کیا-
9 - ہالینڈ یونی ورسٹی کی رسرچ اسکالر مز بیٹ ڈام (Bett Dam) اسلام اور طالبان کے موضوع پر رسرچ کررہی ہیں- اِس سلسلے میں آج کل وہ افغانستان میں مقیم ہیں- 16 اپریل 2013 کو انھوں نے صدر اسلامی مرکز سے اِس موضوع پر انگریزی زبان میں ایک تفصیلی انٹرویو لیا- مز بیٹ ڈام کو پرافٹ آف پیس اور قرآن کا انگریزی ترجمہ دیا گیا-
10- انڈیا اور انڈیا کے باہر مختلف مقامات پر ہمارے ساتھی دعوتی کام کررہے ہیں- مثلاً ہمارے ایک ساتھی مولانا عبد الباسط عمری دوحہ (قطر) میں مقیم غیر مسلموں کے درمیان خاص طورپر دعوتی کام کرتے ہیں- اِس سلسلے میں انھوں نے 18 اپریل 2013 کو اللؤلؤ ہائپر مارکیٹ (دوحہ) کے اسٹاف کو قرآن کا انگریزی ترجمہ بطور گفٹ پیش کیا- اِسی طرح 20 اپریل 2013 کو انھوںنے وہاں کے مشہور شاپنگ سنٹر (الخورمال) میں لوگوں کو قرآن کا انگریزی ترجمہ اور دعوتی پمفلٹس دئے-اس کو لوگوںنے خوشی اور شکریے کے ساتھ قبول کیا-
11- نئی دہلی کے دور درشن (DDN) چینل پر 19اپریل 2013 کو صدر اسلامی مرکز کا ایک تفصیلی انٹرویو ریکارڈ کیاگیا ہے- انٹرویو کا موضوع تھا — صدر اسلامی مرکز کی لائف اور ان کا مشن- ایک سوال کے جواب میں کہا گیاکہ مسلمانوں کے پچھڑے پن کا سبب ہے جدید تعلیم میں ان کا آگے نہ بڑھنا- اِسی طرح آخری نصیحت کے طورپر صدر اسلامی مرکز نے کہا کہ دیش کے نوجوانوں کے لیے میری آخری نصیحت صرف ایک ہے اور وہ ہے— ایجوکیشن- ملک کے نوجوانوں کو چاہئے کہ وہ ہر چیز کو سکنڈری بنا کر ایجوکیشن میں آگے بڑھیں-
12- یکم مئی 2013 کو آن لائن جریدہ ’’خبر ساؤتھ ایسٹ ایشیا‘‘ کے نمائندہ مسٹر الطاف احمد نے صدر اسلامی مرکز کا ایک انٹرویو ریکارڈ کیا- یہ انٹرویو اِس ویب سائٹ پر دیکھا جاسکتا ہے:
http://khabarsouthasia.com/en_GB/articles/apwi/articles/features/2013/05/01/feature-01
13- مولانا آزاد انجینیرنگ کالج (پٹنہ، بہار) میں 4-6 مئی 2013 کے درمیان ایک سالانہ پروگرام ہوا- اِس میں ہمارے ساتھی مسٹر دانیال اور ان کے دوسرے رفقا کے تعاون سے کالج میں ایک بک اسٹال لگایا گیا-اِس موقع پر انٹریکشن کے دوران لوگوں کو اسلام کا تعارف پیش کیا گیا اور یہاںکالج کے اسٹوڈنٹس اور پروفیسرز کو دعوتی لٹریچر دیاگیا -
14- طرابلس (لیبیا) سے چار اعلی تعلیم یافتہ افراد— ڈاکٹر عمروعلی احمد، احمد مصطفی المفتی،جمال السیفاو القِبلی، محمدطارق بن الشارف الساسی— 24 مارچ 2013 کو دہلی آئے- وہ صدراسلامی مرکز سے مل کر اُن کے دعوتی مشن کو مزید سمجھنا چاہتے تھے- انھوں نے یہ سفر صرف اِسی مقصد کے لیے کیا تھا- یہ لوگ 1980 سے الرسالہ مشن سے وابستہ ہیں اور اپنے ساتھیوں کےساتھ مل کر عرب نوجوانوں خاص طورپر عرب مسیحیوں کے درمیان دعوتی کام کررہے ہیں- انھوں نے صدراسلامی مرکز کی کئی کتابوں کے عربی ایڈیشن شائع کیے ہیں- اِنھیں میں سے ایک کتاب وہ ہے جو جمعیة الرسالہ (طرابلس) کے صدرشیخ محمد سلیمان القائد نے مرتب کی تھی- اس کا نام یہ ہے: منہج الہدایة (صفحات: 175) - اِس کتاب کوگڈورڈ بکس سے حاصل کیا جاسکتا ہے-یہ کتاب دعوت الی اللہ کے موضوع پر ہے- اِس میں صدر اسلامی مرکز کے دعوتی افکار کا خلاصہ قرآن وسنت کے دلائل کے ساتھ پیش کیا گیا ہے- اِس موقع پر 30 مارچ 2013 کو نئی دہلی کے انڈیا انٹرنیشنل سنٹر میں ڈنر کا ایک پروگرام ہوا-یہاں سی پی ایس کے ممبران کے علاوہ، لیبیا سے آئے ہوئے افراد نے بھی اپنے تاثرات بیان کیے- مثلاً ان کے نمائندہ مسٹر طارق الشارف بن الساسی نے کہا کہ — اگر چہ ہم عرب تھے، مگر ہم نے اسلام کی حقیقت کو الرسالہ مطبوعات کے ذریعے ری ڈسکور کیا- ہم نے اِسی لٹریچر کے ذریعہ دعوت اور معرفت کو اپنا نشانہ بنایا- حقیقت یہ ہے کہ اگر یہ لٹریچر ہم کو نہ ملا ہوتا تو ہم اب تک ہلاک ہوچکے ہوتے- اِس موقع پر مولانا محمد ذکوان ندوی نے عربی زبان میں اپنے تاثرات بیان کیے- لیبیا کے یہ افراد 2 اپریل 2013 کو دہلی سے لیبیا کے لیے روانہ ہوئے- اِس درمیان وہ شہر میں اپنے قیام کے دوران مسلسل طورپر سی پی ایس کے ممبران اور صدر اسلامی مرکز کے ساتھ میٹنگ اور انٹریکشن کرتے رہے- انھوں نے لیبیا اور اطراف میں منظم طورپر دعوت الی اللہ کاکام کرنے کے لیے طرابلس میں ایک ادارہ (جمعیة الرسالة للتعریف بالإسلام) قائم کیا ہے- یہاں صدر اسلامی مرکز کی تمام مطبوعات دستیاب ہیں-
15- نئی دہلی کے سہ ماہی میگزین (God Bless Our Home) کے نمائندہ نے 8 مئی 2013 کو صدر اسلامی مرکز کا ایک تفصیلی انٹرویو ریکارڈ کیا- انٹرویو کا موضوع خدا اور اسپریچولٹی جیسے موضوعات تھے- یہ انٹرویو انگریزی زبان میں تھا-یہ انٹرویو میگزین کے ویب سائٹ (www.godblessourhome.in) پر موجود ہے-
16- ٹائمس آف انڈیا( نئی دہلی) میں اسپیکنگ ٹری (The Speaking Tree) کے تحت صدر اسلامی مرکز کے مضامین مسلسل طورپر شائع ہورہے ہیں- یہ تمام مضامین حسب ذیل ویب سائٹ پر موجو د ہیں:
http://cpsglobal.org/articles/speakingtree
17- انگریزی ترجمہ قرآن اور الرسالہ مشن سے متعلق چند تاثرات یہاں درج کیے جاتے ہیں:
— Respected Maulana, I want to say that I was very confused before adopting your views & , your real Islamic thought. Alhamdulillah, today I dont have any confusion. Some years ago, when I was in Nadwa , that time my mind was very suspicious towards everything even Islam, but now I am fully satisfied, there is no confusion. I respect all human beings & by Allah’s grace, I am doing dawah work here in Jeddah as much as I can. I m very thankful to you. (Malik Anas Nadwi, KSA)
— I was reading Al-Risala of May 2013. I felt a lot of love and respect for the Maulana. He always connects me with my Lord. His writings almost always bring tears to my eyes. We can't afford losing him, may Allah add my days to his life. (Riyaz Ahmad, Kashmir)
— I am very happy to share with you the good news that the Government of Pakistan has included an article of Maulana Wahiduddin Khan in the Textbook of English (Compulsory). The textbook is for class 10 (matric students). The title of this article is: “The sublime character of Prophet Muhammad” covering the first 13 pages with a short note of Maulana’s biography. The article is taken from Maulana’s book “The Prophet of Revolution.” (Salman, Pakistan)
— We saw Maulana on Al-Maurid web tv (www.almawrid.org ) and are touched by his clarity of thinking and the manner of discourse pertaining to spiritual matters. (Dr Ataulla Butt, USA)
— I have read about 35 pages of the book Moral Vision by Maulana Wahiduddin Khan. It is during these times of trail and struggle when words of encouragement and kindness from fellow beings show the true meaning of humanity. I also read his articles in the Speaking Tree. Please do convey my regards and gratefulness to the Maulana. I believe he writes for the betterment of our society, and in giving directions and hope to individuals like me, he has actually touched many hearts and changed many minds. (Bhagya Nair, Delhi University)
18- سی پی ایس کے ممبر ثانی اثنین خاں کو 1 مئی 2013 کو اُن کی کتاب ’دی اسٹوری آف خدیجہ‘ (The Story of Khadija) کے لیے شارجہ چلڈرنس بک ایوارڈ (Sharjah Children’s Book Award) سے نوازا گیا- یہ ایوارڈ 15,000 امارتی درہم کے نقد انعام پر مشتمل ہے-یہ کتاب ’دی اسٹوری آف خدیجہ‘ پیغمبراسلام محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی اہلیہ کی زندگی پر مبنی ہے- اس کتاب کو گڈورڈبکس (نئی دہلی) نے خصوصی طورپر شائع کیا ہے- اس کتاب کا ترجمہ فرنچ، جرمن، ترکی، ملائے اور عربی زبان میں ہوچکا ہے-
واپس اوپر جائیں