Pages

Friday, 1 November 2013

Al Risala | November 2013 (الرسالہ،نومبر)

2

-قرآن ایک جامع ہدایت

3

- تعاہُد کیا ہے

4

- دورِ جدید میں سیرت نگاری

5

- مغرب کا کیس

6

- ایک حکیمانہ اصول

9

- اجتہاد کی اہمیت

13

- منصوبۂ خداوندی

21

- اسلام کا انقلابی رول

27

- اسلام اور جنگ

32

- قانونِ شریعت کا نفاذ

36

- خود کشی کا بڑھتا ہوا رجحان

37

- مس ورلڈ

38

- خود کشی کیوں

39

- کسی کی انا کو مت چھیڑیے

40

- سوال وجواب


قرآن ایک جامع ہدایت

قرآن کی سورہ النحل میں قرآن کی ایک خصوصیت اِن الفاظ میں بیان کی گئی ہے: وَنَزَّلْنَا عَلَیْکَ الْکِتٰبَ تِبْیَانًا لِّکُلِّ شَیْءٍ وَّہُدًى وَّرَحْمَةً وَّبُشْرٰى لِلْمُسْلِمِیْنَ (16:89) یعنی ہم نے تم پر الکتاب اتاری ہے جس میں ہر چیز کا کھلا بیان ہے- اور ہدایت اور رحمت اور بشارت ہے فرماں برداروں کے لیے-
’تبیانًا لکل شیء‘ کا مطلب کیا ہے- اس کا مطلب ہے —مقصدِ قرآن کی نسبت سے ہر چیز کا بیان- اِس سے مراد عام انسانی فہرست نہیں ہے، بلکہ اِس سے اُس دین کی فہرست ہے جو اللہ کو مطلوب ہے- مشہور عربی لغت لسان العرب میں اِس کی توضیح اِن الفاظ میں کی گئی ہے: بُین لک فیہ کلُّ ما تحتاج إلیہ أنت وأمتک من أمر الدین (68/13) یعنی قرآن میں اُن تمام چیزوں کو بیان کردیا گیا ہے جو امرِ دین کی نسبت سے تمھارے لیے اور تمھاری امت کے لیے ضروری ہیں-
جو لوگ یہ دعوی کرتے ہیں کہ قرآن میں تمام سائنسی مضامین اور تمام عمرانی علوم (social sciences) موجود ہیں، وہ اس سے بے خبر ہیں کہ قرآن کا مقصد نزول کیا ہے-قرآن اِس لیے نہیں اتارا گیاہے کہ وہ انسان کو تمام دنیوی علوم سے واقف کرائے- حدیث میں واضح طورپر اس کی تردید موجود ہے- تابیرِ نخل کے واقعے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اِس معاملے کو ایک جامع اصول کے طورپر اِن الفاظ میں بیان کیا ہے: أنتم أعلم بأمر دنیاکم (صحیح مسلم، رقم الحدیث:6277 )
اصل یہ ہے کہ قرآن اِس لیے اتارا گیا ہے کہ وہ انسان کو اس کی ابدی فلاح کے معاملے میں رہنمائی دے- اِس ابدی فلاح کا تعلق آخرت کی فلاح سے ہے- قرآن میں اُن رہنما اصولوں کو بتایا گیا ہے جن کی پیروی کرکے انسان آخرت کی ابدی زندگی کو کامیاب بنا سکتا ہے- جہاں تک دنیوی معاملات کا تعلق ہے، اس کے بارے میں انسان سے یہ مطلوب ہے کہ وہ اپنی تحقیق اور تجربے کے ذریعے اُن کو معلوم کرے-
واپس اوپر جائیں

تعاہُد کیا ہے

قرآن کے بارے میں ایک روایت اِن الفاظ میں آئی ہے: عن أبی موسى عن النبی صلى اللہ علیہ وسلم قال: تعاہدوا القرآن، فوالذی نفسی بیدہ لہو أشد تفصیًا من الإبل فی عقلہا (صحیح البخاری، رقم الحدیث: 5033) یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم قرآن کی حفاظت کرو، کیوں کہ قرآن اُس سے بھی زیادہ تیزی کے ساتھ نکل جانے والا ہے جس طرح اونٹ اپنی رسی سے چھوٹ کر نکل جاتا ہے-
اِس حدیث میں قرآن کی حفاظت (تعاہد)سے مراد اس کی لفظی حفاظت نہیں ہے، بلکہ اس کی معنوی حفاظت ہے- ’’تعاہد‘‘ کا مطلب یہ ہے کہ تم قرآن کو مسلسل طو رپر اپنی سوچ کا مرکز بنائے رہو، تمھارے اندر قرآن رخی تفکیر (Quran-oriented thinking) پیدا ہوجائے، تم ہمیشہ قرآن میں نئے نئے معانی تلاش کرتے رہو، تم قرآن کو مسلسل طور پر اپنے ذہن کا حصہ (intellectual part) بنا لو- قرآن کے معانی، بہ الفاظِ دیگر، قرآنی طرزِ فکر، ایک ایسی چیز ہے جو صرف اُس وقت آدمی کے ذہن کا حصہ بنتا ہے جب کہ آدمی اس پر مسلسل طورپر سوچے، جب کہ وہ اس کے تفکیری عمل (thinking process) کا مستقل جز بنا ہوا ہو- اگر ایسا نہ ہوتو قرآن بہت جلد فراموشی کے خانے میں چلا جائے گا- وہ آدمی کے زندہ حافظہ (living memory) میں باقی نہ رہے گا-
اِس کا سبب یہ ہے کہ موجودہ زندگی میں آدمی ہر لمحہ مسائلِ دنیا سے دوچار رہتا ہے- طرح طرح کے دنیوی تقاضے ہر لمحہ آدمی کو اپنی طرف کھینچتے رہتے ہیں- قرآن مکمل طورپر ایک کتاب آخرت ہے، جب کہ انسان مکمل طورپر ایک دنیوی مخلوق ہے- یہی وہ فرق ہے جس کی طرف مذکورہ حدیث رسول میں اشارہ کیاگیا ہے-اِس صورتِ حال میں کسی مومن کے لیے صاحبِ قرآن بننے کی شرط صرف ایک ہے، وہ یہ کہ وہ اپنے اندر تجریدی فکر (detached thinking) کی صلاحیت پیدا کرے- وہ ایک غیر قرآنی دنیا میں قرآنی ذہن کے ساتھ رہ سکے-
واپس اوپر جائیں

دورِ جدید میں سیرت نگاری

موجودہ زمانے میں مسلم اہلِ قلم کے درمیان ایک موضوع بہت مقبو ل ہوا ہے- اِس موضوع کو عام طورپر ’’دورِ جدید میں سیرت نگاری‘‘ کہاجاتا ہے- مگر اِس موضوع پر جو کتابیں چھپی ہیں، اُن کو دیکھنے سے ظاہر ہوتا ہے کہ اُن کے مصنفین اِس بات سے بے خبر ہیں کہ دورِ جدید میں سیرت نگار ی کا مطلب کیا ہے-حقیقت یہ ہے کہ اصل موضوع سے اِن کتابوں کا کوئی تعلق نہیں-
اِس موضوع پر شائع شدہ کتابوں کا خلاصہ یہ ہے کہ اُن کے لکھنے والوں نے کچھ مغربی مصنفین کو اسلام کا دشمن فرض کرلیا اور یہ سمجھا کہ وہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت کو ’’مسخ‘‘ کرنے کی کوشش کررہے ہیں- اِس مفروضے کے تحت انھوں نے بطور خود اِن ’’اسلام دشمنوں‘‘ کا جواب دینے کی کوشش کی ہے-اِسی جوابی سیرت نگاری کو وہ بطور خود ’’دورِ جدید میں سیرت نگاری‘‘ سمجھتے ہیں-
اصل یہ ہے کہ موجودہ زمانہ ایک بالکل نیا زمانہ ہے- پچھلے دور کو اگر روایتی دور کہاجائے تو موجودہ دور کو سائنسی دور کہا جائے گا- اب سیرتِ رسول کے اعتبار سے، یہ ضرورت ہے کہ سیرت کو اِس طرح لکھا جائے کہ وہ دورِ جدید سے پوری طرح متعلق (relevant) نظر آئے- موجودہ زمانے کی اصل ضرورت سیرتِ رسول کا یہی ریلونس (relevance)ثابت کرنا ہے، نہ کہ مفروضہ مخالفینِ اسلام کا جواب دینا-
دورِ جدید میں سیرت نگاری ایک اجتہادی موضوع ہے، وہ کوئی روایتی یا تقلیدی موضوع نہیں- اس کام کے لیے ضروری ہے کہ ایک طرف، جدید ذہن کا مطالعہ خالص غیر جانب دارانہ انداز میں کیا جائے اور دوسری طرف، پیغمبر اسلام کی سیرت کو گہرے مطالعے کے ذریعے دوبارہ سمجھنے کی کوشش کی جائے- راقم الحروف کے مطالعے کے مطابق، مغربی مصنفین، اسلام یا پیغمبر اسلام کے مخالف نہیں ہیں، بلکہ اُن کا طریقِ مطالعہ (method of study) مختلف ہے- مسلمان اگر سیرت کا مطالعہ خوش عقیدگی کے ذہن کے تحت کرتے ہیں تو مغربی مصنفین اس کا مطالعہ موضوعی (objective) انداز میں کرتے ہیں- اِسی فرق کو نہ سمجھنے کی وجہ سے مسلمان اِس معاملے میں غلط فہمی کا شکار ہوگئے ہیں-
واپس اوپر جائیں

مغرب کا کیس

ڈاکٹر صہیب حسن (لندن) کا ایک مضمون ایک عرب شیخ صالح الحُصیّن (وفات: 2013)کے بارے میں چھپا ہے-اس میں انھوں نے مغربی تہذیب یا مغرب کے بارے میں شیخ صالح الحصین کا نقطہ نظر بتاتے ہوئے لکھا ہے — اگر ایک مسلمان کو اہلِ مغرب پر تنقید کرنا ہے تو وہ صرف اُن کے عیوب پر تنقید کرے- اہلِ مغرب کی خوبیوں کا نہ صرف اعتراف کرنا چاہئے، بلکہ اس میں ہمیں اُن سے مسابقت کرنا چاہئے اور اس بات کا خیال رکھنا چاہئے کہ اسلام میں عدل ہر قیمت پر مطلوب ہے- (ماہ نامہ ’صراطِ مستقیم‘، ستمبر 2013، صفحہ 25، برمنگھم، لندن)
عرب شیخ کے اِس ملفوظ میں غالبًا اہلِ مغرب کی اخلاقی خوبیوں کی طرف اشارہ کیاگیا ہے- مسلمانوں میں اور بھی ایسے کئی لوگ ہیں جو انفرادی سطح پر اہلِ مغرب کی اخلاقی خوبیوں کا اعتراف کرتے ہیں- مگر اس قسم کا اعتراف ایک کم تر اعتراف ہے- اہلِ مغرب کی دوسری اِس سے زیادہ بڑی دین ہے جس کو غالباً مسلم علما نہ جانـتے ہیں اور نہ وہ اس کا اعتراف کرتے ہیں-
اہلِ مغرب کی اصل اہمیت یہ ہے کہ وہ دینِ اسلام کے لیے مُؤید (supporter) کی حیثیت رکھتے ہیں، جیسا کہ حدیث میں آیا ہے کہ اللہ اِس دین کی تائید سیکولر لوگوں کے ذریعے بھی کرے گا- تائید دین کا یہ کام سب سے زیادہ اہلِ مغرب کے ذریعے انجام پایا ہے- حدیث میں تائید دین کے جس واقعے کی پیشین گوئی کی گئی ہے، بلاشبہہ اہلِ مغرب سب سے زیادہ اس کے مصداق ہیں-
اہلِ مغرب نے پہلی بار فطرت (nature) میں چھپی ہوئی اُن حقیقتوں کو دریافت کیا جو اعلی معرفت کے حصول کا ذریعہ ہیں- اہلِ مغرب کی سائنسی دریافتوں نے تاریخ میں پہلی بار اِس بات کو ممکن بنایا ہے کہ اسلام کے نظریات کو خالص علم انسانی کی سطح پر ثابت شدہ بنایا جاسکے- یہ اہلِ مغرب تھے جو دنیا میں پہلی بار کامل معنوں میں مذہبی آزادی کا دور لائے- ماڈرن کمیونکیشن غیر مشترک طورپر اہلِ مغرب کا عطیہ ہے، جس نے اسلام کی عالمی اشاعت کو ممکن بنادیا ہے، وغیرہ-
واپس اوپر جائیں

ایک حکیمانہ اصول

سلمان فارسی، اصفہان (ایران) میں پیدا ہوئے، پھر وہ مدینہ آئے- یہاں انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ پر اسلام قبول کیا- ان کی وفات مدائن (ایران) میں 35 ہجری (655 عیسوی) میں ہوئی-
ہجرت کے پانچویں سال وہ واقعہ پیش آیا جس کو عام طورپر غزوہ خندق کہاجاتا ہے- رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو معلوم ہوا کہ مکہ کے سرداروں نے مختلف قبائل کے تعاون سے ایک بڑا لشکر تیار کیا ہے- اس کے افراد ;کی تعداد دس ہزار ہے- یہ لشکر مدینہ پر حملہ کرنے کے لیے مکہ سے روانہ ہوچکاہے- رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حسب معمول مدینہ میں اپنے اصحاب کو جمع کیا اور اُن سے مشورہ کیا کہ اِس طرح کی صورت حال میں ہم کو کیا کرنا چاہیے- یہ بات واضح تھی کہ مسلمان اُس وقت اتنے بڑے لشکر سے جنگی مقابلہ کرنے کی پوزیشن میں نہ تھے- اِس لیے سوال یہ تھا کہ اِس لشکر سے مقابلے کے لیے جنگ کے سوا دوسری کون سی تدبیر اختیار کی جائے-
اُس وقت سلمان فارسی کھڑے ہوئے- انھوں نے کہا کہ میرا تعلق فارس (ایران) سےہے- میں نے دیکھا ہے کہ فارس کے حکمراں جب دشمن سے ٹکراؤ کرنا نہیں چاہتے تو وہ اپنے اور دشمن کے درمیان ایک خندق کھود دیتے ہیں- رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اِس تجویز کو پسند فرمایا اور مدینے کے تمام قابلِ کار مسلمان خندق کھودنے میں مصروف ہوگئے، یہاں تک کہ 6 دن کی لگاتار محنت کے بعد خندق تیار ہوگئی- مدینہ اُس وقت تین طرف سے پہاڑوں اور کھجور کے گھنے درختوں سے گھرا ہوا تھا - اِس لیے اِس سمت سے حملہ آور فوج مدینہ میں داخل نہیں ہوسکتی تھی- البتہ مدینہ کا شمال مغربی حصہ خالی تھا- اِس سمت سے کوئی فوج حملہ آور ہوسکتی تھی- مدینے کے اِسی کھلے ہوئے حصے کی طرف خندق کھودی گئی- اِس خندق کی چوڑائی اور گہرائی تقریباً تین تین میٹر تھی- اس کی لمبائی 6 میل (10 کیلومیٹر) تھی-
اہلِ مکہ کی اِس حملہ آور فوج کے سردار ابو سفیان تھے جو بعد کو اسلام میں داخل ہوگئے- دس ہزار کا یہ لشکر جب سفر کرتے ہوئے مدینہ کی سرحد پر پہنچا تو اس وقت تک خندق کھودی جاچکی تھی- اہلِ مکہ کا یہ لشکر اونٹوں اور گھوڑوں پر سوار تھا- قدیم زمانے میں بظاہر اُن کے لیے یہ ناممکن تھا کہ وہ خندق کو پار کرکے مدینہ کے اندر داخل ہوجائیں- چناں چہ جب وہ مدینہ کی سرحد پر پہنچے اور خندق کو دیکھا تو انھوں نے کہا: واللہ إن ہذہ لمکیدة ما کانت العرب تکیدہا (بخدا، یہ ایک ایسی تدبیر ہے جس تدبیر سے اہلِ عرب با خبر نہ تھے)-
یہ خندق، دوسرے لفظوں میں، اُس وقت ایک حاجز (buffer) کی حیثیت رکھتی تھی- وہ ایک ایسی تدبیر تھی جس نے اہلِ اسلام اور ان کے مخالفوں کے درمیان ایک ناقابلِ عبور آڑ قائم کردی تھی- چناں چہ نتیجہ یہ ہوا کہ مخالفین کا لشکر مدینہ کے باہر تقریباً ایک مہینہ تک پڑاؤ ڈالے رہا- وہ اپنے مقام سے مسلمانوں کو آواز دیتے تھے کہ تم مدینہ سے باہر آؤ، مگر مسلمان باہر نہیں آئے- آخر کار مخالفین کا یہ پورا لشکر مایوس ہو کر واپس چلا گیا-
ایک ابدی اصول
خندق کا یہ واقعہ صرف ایک تاریخی واقعہ نہیں، وہ زندگی کا ایک ابدی اصول ہے- انفرادی زندگی کا بھی اور اجتماعی زندگی کا بھی- وہ اصول یہ ہے کہ اگر کوئی فرد یا گروہ تمھارا مخالف بن جائے تو اس سے ٹکراؤ نہ کرو، بلکہ ٹکراؤ کے بجائے تدبیر کا راستہ اختیار کرو- وہ تدبیر یہ ہے کہ اپنے اور حریف کے درمیان ایک آڑ (buffer) قائم کردو- اِس طرح پیش آمدہ مسئلہ اپنے آپ ختم ہوجائے گا- جس مسئلے کو تم ٹکرا کر ختم کرنا چاہتے ہو، وہ مسئلہ ٹکراؤ کے بغیر خود حالات کے نتیجے میں ختم ہوجائے گا، جیسا کہ خود غزوۂ خندق کے موقع پر ہوا-
اِس حاجز یا آڑ کی مختلف صورتیں ہوسکتی ہیں- قدیم زمانے میں حاجز قائم کرنے کے لیے دیوار بنانا یا خندق کھودنا پڑتاتھا- موجودہ زمانے میں نئے وسائل کی دریافت نے اِس تدبیر کی نئی نئی صورتیں پیدا کی ہیں- آدمی اگر صورتِ حال پر مشتعل ہونے کے بجائے سنجیدگی کے ساتھ غور کرے تو آسانی کے ساتھ وہ موقع کے لحاظ سے ایک کامیاب تدبیر دریافت کرسکتاہے-
اِس معاملے کی ایک تاریخی مثال یہ ہے کہ 1950کے بعد مصر اور مغربی طاقتوں کے درمیان کشیدگی بڑھی، یہاں تک کہ اُس وقت کے مصری صدر جمال عبد الناصر کے ذہن میں انتہا پسندانہ خیالات آنے لگے، چناں چہ انھوں نے یہ نا عاقبت اندیشانہ اقدام کیا کہ اقوامِ متحدہ کی طرف سے مصر میں مقرر کیے ہوئے پیس کیپنگ فورس (peace-keeping forse) کے دستے کو واپس کردیا- پیس کیپنگ فورس کی حیثیت اُ س وقت فریقین کے درمیان بفر (buffer)کی تھی- اس کو واپس بھیجنا بفر کو ختم کرنے کے ہم معنی تھا-
اس کے بعد 29 اکتوبر 1956 کو جمال عبد الناصر نے تالیوں کی گونج کے درمیان اعلان کیا کہ آج ہم نے نہر سوئز (Suez Canal)کو نیشنلائز کرلیا ہے- یہ اعلان بین الاقوامی اصول کے سرتاسر خلاف تھا- فطری طورپر فریقِ ثانی کے درمیان اِس کا سخت ردِّ عمل ہوا- اِس کے بعد حالات بہت خراب ہو گئے، یہاں تک کہ جون 1967 کی 6 روزہ جنگ پیش آئی، جس کے بعد مصر اور فلسطین کا بڑا حصہ اسرائیل کے قبضے میں چلا گیا-
واپس اوپر جائیں

اجتہاد کی اہمیت

اجتہاد کا لفظی مطلب ہے— بھر پور کوشش کرنا (بذل الوسع فی طلب الأمر)- شرعی اصطلاح میں، اجتہاد کا مفہوم یہ ہے کہ نئی صورتِ حال میں اسلام کے کسی اصول کے عملی انطباق کو جاننے کے لیے کامل فکری جدوجہد کی جائے- یہ اجتہاد ایک فطری ضرورت ہے- وہ ہر حال میں جاری رہتاہے- خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں اجتہاد کا عمل صحابہ کے درمیان جاری تھا اور بعد کو وہ امت کے اندر مسلسل طورپر جاری رہا-
دورِ جدید ہر اعتبار سے ایک بدلا ہوا دور تھا- فطری طور پر اِس دور میں مسلمانوں کے لیے یہ سوال پیدا ہوا کہ وہ نئے حالات میں اسلام کے اصول کو ازسرِ نو منطبق کریں- یہ ایک اجتہادی تقاضا تھا، مگر دورِ جدید کے مسلم اہلِ علم اِس اجتہاد میں مکمل طورپر ناکام رہے- وہ نئے حالات کی نسبت سے، اسلامی اصولوں کا ازسرِ نو انطباق (re-application) تلاش نہ کرسکے-یہی وہ چیز ہے جس کو موجودہ زمانے میں امتِ مسلمہ کا بحران (crisis) کہاجاتاہے- بحران کیا ہے- بحران دراصل مسئلہ(problem) ہی کا دوسرا نام ہے- مسئلہ زندگی کا لازمی حصہ ہے- جب کسی پیش آمدہ مسئلے کو حل کرلیا جائے تو وہ صرف مسئلہ رہے گا، اور اگر مسئلہ اتنا پیچیدہ ہو کہ وہ بظاہر ایک غیر حل شدہ مسئلہ (unsolved problem) نظر آنے لگے تو اِسی کا دوسرا نام بحران ہے- موجودہ زمانے میں امتِ مسلمہ کا سب سے بڑامسئلہ یہ ہے کہ وہ اِسی قسم کے بحران میں مبتلا ہوگئی ہے-
اسلام کا آغاز 610 عیسوی میں عرب میں ہوا- وہ بہت تیزی سے پھیلا اور صرف نصف صدی کے عرصے میں اس نے ایک عالمی حیثیت حاصل کرلی- پہلے مسلمانوں کی مقامی حکومتیں قائم ہوئیں- عباسی دور میں مسلمان ایک مسلم ایمپائر قائم کرنے میں کامیاب ہوگئے- سیاسی اقتدار کا یہ دور مختلف قسم کے نشیب وفراز کے ساتھ تقریباً ایک ہزار سال تک جاری رہا-مسلمانوں کے سیاسی عروج کی انتہا اور ان کے سیاسی زوال کا نقطہ آغازاگر متعین کرناہو تو وہ 1799قرار پائے گا- مسلم دنیا میں 1799 میں دو بڑے واقعات پیش آئے- ایک واقعہ بحرِ روم (Mediterranean Sea) میں پیش آیا، اور دوسرا واقعہ میسور (انڈیا) میں- ایک طرف، یہ ہوا کہ یورپی حکومتوں نے 1799 میں ترکی کے طاقت ور بحری بیڑا (naval fleet) پر حملہ کرکے اس کو بحر روم میں تباہ کردیا-یہ واقعہ اتنا بڑا تھاکہ اُس وقت کے انگریز جنرل نے انتہائی خوشی کے عالم میں کہا تھا کہ — آج انڈیا ہمارا ہے(Today India is ours)-
اِس کے بعد رفتہ رفتہ تمام مسلم ملکوں میں مغربی طاقتوں کا دبدبہ قائم ہوگیا- عین اُسی زمانے میں مسلم دنیا میں جوابی تحریکیں شروع ہوئیں- عرب سے عجم تک ہر جگہ مسلم رہنماحرکت میں آگئے- اِن تمام مسلم رہنماؤں کا مشترک نشانہ صرف ایک تھا، اور وہ تھا مسلمانوں کی عظمتِ رفتہ (past glory) کو واپس لانا- یہ جدوجہد انیسویں صدی کے آغاز میں شروع ہوئی- اب وہ اکیسویں صدی میں پہنچ چکی ہے، لیکن نتیجہ (result)کے اعتبار سے دیکھا جائے تو مسلم رہنماؤں کی کوشش نے صرف مسلمانوں کی تباہی میں اضافہ کیا، وہ کسی بھی درجے میں اپنے مطلوب نشانے کو پورا نہ کرسکے-
دورِ جدید میں مسلمانوں کے لیے جو مسئلہ پیداہوا، اس کے مقابلے میں کامیاب منصوبہ بندی کے لیے پہلی ضرورت یہ تھی کہ مسئلے کی نوعیت کو دریافت کیا جائے- مگر اِس دور کے مسلم رہنما اِس پہلو سے مکمل طورپر بے خبر رہے- اپنے روایتی ذہنی کے مطابق، انھوںنے اِس مسئلے کو دشمن کے حملے کے مقابلے میں، دفاع کا مسئلہ سمجھا، حالاں کہ وہ بدلےہوئے حالات میں نئے اجتہادکا مسئلہ تھا- نوعیتِ مسئلہ کی دریافت میں مسلم رہنماؤں کی ناکامی نے اُن کی جوابی کارروائی کو مکمل طورپر ایک غیرمتعلق کارروائی کا درجہ دے دیا- نتیجہ یہ ہوا کہ دو سوسال کی جان ومال کی عظیم قربانی کے باوجود نتیجہ (result) کے اعتبار سے، امتِ مسلمہ کو کچھ بھی حاصل نہ ہوسکا-
دورِ جدید میں جو اجتہاد درکار تھا، وہ بنیادی طورپر وہی تھا جس کو ’فرقان‘ (8:29) کہاگیا ہے، یعنی ایک معاملے کو دوسرے معاملے سے الگ کرنا- امتِ مسلمہ کا اصل مشن دعوت الی اللہ ہے- یہی وہ کام ہے جس کے بارے میں یہ مطلوب ہے کہ امتِ مسلمہ اس کو ہرحال میں جاری رکھے- اِس کا دوسرا پہلو وہ ہے جس کو سیاسی اقتدار کہاجاسکتا ہے- دعوت الی اللہ، امتِ مسلمہ کا مشن ہے، اور سیاسی اقتدار، امتِ مسلمہ کی تاریخ کا ایک حصہ ہے- موجودہ زمانے میں مسلمان جس بحران کا شکار ہوگئے تھے، اس کا واحد حل یہ تھا کہ مشن اور تاریخ کو ایک دوسرے سے الگ کردیا جائے، مگر ہمارے رہنما بروقت یہ کام نہ کرسکے- نتیجہ یہ ہوا کہ امت مسلسل طورپر بحران کی حالت میں پڑی رہی-
موجودہ زمانے میں بہت سے نئے امکانات پیدا ہوئے تھے- یہ امکانات یا مواقع اسلام کے مشن کے اعتبار سےبے حد مفید تھے- مگر مسلم رہنماؤں پر سیاسی ذہن کا اتنا غلبہ تھاکہ وہ اِن غیر سیاسی مواقع کو دیکھ \نہ سکے- وہ دوسری قوموں سے بے فائدہ سیاسی لڑائی لڑتے رہے اور جدید مواقع کو دعوتی مشن کے لیے استعمال کرنے میں ناکام رہے-
اِس معاملے کی ایک متوازی مثال یہ ہے کہ عین اسی زمانے میں مسیحی چرچ بھی عین اِسی قسم کے بحران میں مبتلا ہوا- مسیحی چرچ جس کا مرکز روم تھا، وہ قدیم زمانے میں تقریباً پورے یورپ میں ایک بے تاج بادشاہ کی حیثیت رکھتا تھا- اُس زمانے میںپوپ (pope)یورپ کا پولٹکل ماسٹر بنا ہوا تھا-
اس زمانے میں یورپ کے سائنس دانوں نے طبیعی دنیا میں نئی حقیقتیں دریافت کیں- یہ دریافتیں مسیحی طرز کے روایتی عقائد سے ٹکراتی تھیں- چناں چہ سائنس دانوں اور مسیحی چرچ کے درمیان شدید ٹکراؤ شروع ہوگیا- اِس تصادم کی تفصیل اِس کتاب میں دیکھی جاسکتی ہے:
History of the Conflict Between Religion and Science by William Draper
اِس مسئلے میں مسیحی چرچ نے حقیقت پسندانہ طریقہ اختیار کیا- وہ چرچ اور اسٹیٹ کی عملی علاحدگی پر راضی ہوگئے- مگر یہ علاحدگی سادہ طور پر مذہب اور سیاست کی علاحدگی کے ہم معنی نہ تھی، بلکہ وہ سیاسی محدودیت کے ہم معنی تھی- دوسرے لفظوں میں یہ کہ پوپ مسیحی ایمپائر کا رقبہ گھٹا کر اس پر راضی ہوگیا کہ اس کا دائرہ اختیار روم کے ایک چھوٹے رقبے تک محدود رہے، جس کو ویٹکن (Vatican) کہاجاتا ہے- ویٹکن پورے معنوں میں ایک خود مختار ریاست ہے- اس کا اپنا آزادانہ نظام ہے- ہر ملک میں اس کے سفارت خانے قائم ہیں-
ویٹکن کی صورت میں ایک محدود مسیحی ریاست کا یہ قیام 1929 میں پیش آیا- یہ معاملہ مسیحی پوپ اور حکومتِ اٹلی کے درمیان ایک معاہدہ کے ذریعے انجام پایا- اِس معاملے کو لیٹران معاملہ (Lateran Treaty) کہا جاتا ہے- اِس معاہدے پر حکومت اٹلی کی طرف سے اُس وقت کے پریمیر (premier)مسولینی (Benito Mussolini)نے دستخط کئے تھے، اور مسیحی چرچ کی طرف سے کاردینال گاسپیری (Cardinal Gasparri) نے اپنے دستخط کئے تھے-اِس معاہدے کے ذریعے مسیحی چرچ نے اپنی حیثیت کو بدستور برقرار رکھا- یہ بلاشبہہ ایک دانش مندانہ تدبیر تھی جو اُسی قسم کے ایک تخلیقی فکر پر مبنی تھی جس کو اجتہاد کہاجاتاہے- بدقسمتی سے، موجودہ زمانے کے مسلم رہنما اِس قسم کا اجتہاد نہ کرسکے- چناں چہ موجودہ زمانے میں انھوں نے صرف ناکامی کی تاریخ بنائی، وہ کامیابی کی تاریخ نہ بناسکے-
موجودہ زمانے میں اِسی قسم کے ’’فرقان‘‘ کا ایک واقعہ سیکولر اعتبار سے پیش آیا- اِس واقعے کا تعلق چین (China) سےہے- چین میں 1919 سے کمیونسٹ پارٹی کی حکومت قائم ہے- کمیونسٹ پارٹی نے اپنے نظریے کے مطابق، وہاں اسٹیٹ اکانمی (state economy) کا نظام قائم کررکھا تھا- اِس نظام کے تحت چین کی اقتصادی ترقی رک گئی تھی-
چین کی کمیونسٹ پارٹی کا ایک رکن ڈینگ زیوپنگ (Deng Xiaoping) تھا- پہلے اس نے روس میں تعلیم پائی- اس کے بعد وہ مزید تعلیم کے لیے فرانس گیا- فرانس کے قیام کے دوران اُس نے دیکھا کہ فرانس میں اقتصادی ترقی ہورہی ہے، لیکن چین اُس قسم کی ترقی سے محروم ہے- فرانس سے واپسی کے بعد ڈینگ زیوپنگ چین کی کمیونسٹ پارٹی کا چیر مین بن گیا- اس کے بعد اس نے ایک انقلابی کام کیا- اس نے چین میں سیاست اور اقتصادیات کے درمیان علاحدگی کا اصول رائج کیا- اس نے یہ کیا کہ سیاسی اقتدار پر کمیونسٹ پارٹی کا قبضہ باقی رکھتے ہوئے اقتصادیات کو مکمل طور پر آزاد کردیا- اِس دانش مندانہ تدبیر کا نتیجہ یہ ہوا کہ چین میں اقتصادی ترقی کا دروازہ کھل گیا- آج یہ حال ہے کہ امریکا کے بعد چین دنیا کی دوسری سب سے بڑی اکانمی سمجھا جاتاہے-(2012)
واپس اوپر جائیں

منصوبۂ خداوندی

بارش کے موسم میں بارش ہو تو یہ اِس بات کا ایک خاموش اعلان ہوتاہے کہ کسان اٹھیں اور اپنے کھیتوںمیں کام کرکے اُن میں بیچ ڈالیں، تاکہ کھیتوں سے سرسبز وشاداب فصل اگے-لیکن کسان اگر ایسا کرے کہ وہ اپنے گھر سے نکل کر پہاڑ کی طرف جائے اور وہاں وہ کوہ پیمائی (mountaineering) کرنے لگے- کوئی انسان اگر ایسا کرے تو کوششوں اور قربانیوں کے باوجود وہ کوئی نتیجہ حاصل نہ کرسکے گا، کیوں کہ وہ خالق کی مرضی کے خلاف چل رہا ہے-
یہی معاملہ دین کا بھی ہے- دین کے معاملہ میں بھی یہی ہوتاہے کہ اللہ کی طرف سے امکانات کھولے جاتے ہیں- اہلِ ایمان کا کام ہوتاہے کہ وہ اِن امکانات کو پہچانیں اور اُن کو بھر پور طورپر استعمال(avail) کریں- اگر اہلِ ایمان ایسا کریں کہ اللہ نے امکانات تو کہیں اور کھولے ہوں، لیکن اہلِ ایمان کسی دوسرے محاذپر کوشش شروع کردیں- اہلِ ایمان اگر ایسی غلطی کریں تو خواہ وہ کتنی ہی قربانیاں دیں، مگر اس کا کوئی نتیجہ ہر گز برآمد نہیں ہوگا- ایسے لوگ قرآن کے الفاظ میں، حبطت أعمالہم فی الدنیا والآخرة کا مصداق قرار پائیں گے-
اِس دنیا میں کوئی بھی عمل صرف انسان کی کوشش سے کامیاب نہیں ہوسکتا- اِس دنیا میں کسی عمل کی کامیابی کی لازمی شرط یہ ہے کہ اس کو خداکی تائیدحاصل ہو- یہی وہ مقام ہے جہاں انسان کی عقل کا امتحان ہو رہا ہے- خدا کی طرف سے جب بھی کوئی امکان کھولا جاتا ہے تو وہ ہمیشہ ایک خاموش امکان کی صورت میں ہوتا ہے- اس کے ساتھ کبھی آسمان سے آواز نہیں آتی، حتی کہ جب اِس دنیامیں خدا کا کوئی پیغمبر آتا ہے تو بلاشبہہ وہ خدا کا ایک خصوصی منصوبہ ہوتاہے، لیکن اُس وقت بھی آسمان سے یہ آواز نہیں آتی کہ — اے لوگو، یہ خدا کا رسول ہے- اس کو سنو اور اس کا اتباع کرو- یہ ایک دریافت کا معاملہ ہے جو انسان کو اپنی عقل کے استعمال کے ذریعے خود کرنا پڑتاہے-
موجودہ زمانے کے مسلم رہنماؤں کی سب سے بڑی غلطی یہ ہے کہ وہ اِس معاملے میں مکمل طورپر ناکام رہے- موجودہ زمانے میں خدا نے انتہائی اعلی قسم کے دینی مواقع کھول دئے ہیں، لیکن مسلم رہنما، خواہ وہ عرب رہنما ہوں یا غیر عرب رہنما، سب کے سب اِس معاملے میں بے خبر رہے- وہ خدا کی اسکیم کے خلاف کسی اور میدان میں زور آزمائی کرتے رہے- نتیجہ یہ ہوا کہ 200 سال سے بھی زیادہ مدت تک جان ومال کی قربانیاں دینے کے باوجود اُنھیں کچھ بھی حاصل نہیں ہوا-
خدا کا مقصود کیا ہے
خدا کے نزدیک کرنےکا سب سے بڑا کام یہ ہے کہ انسان کو خدا کے منصوبۂ تخلیق سے باخبر کیا جائے-اِسی مقصد کے لیے خدا نے اپنے تمام رسول بھیجے، اور اِسی مقصد کے لیے آخر میں قرآن بھیجا اور اس کے متن (text) کو مکمل طور پر محفوظ کردیا- قرآن اِس تخلیقی منصوبے کا ایک مستند بیان (authentic statement)ہے- اب ضرورت ہے کہ یہ خدائی بیان ہر دور کے انسانوں تک پہنچتا رہے- اِسی عمل کا نام دعوت الی اللہ ہے-
مقامی دعوت سے عالمی دعوت تک
پچھلے زمانوں میں جن داعیوں نے دعوت الی اللہ کا کام کیا، ان کا کام مقامی دائرے تک محدود رہا- دعوت کا کام ہمیشہ وسائل کی مدد سے ہوتا ہے اور پچھلے زمانے میں عالمی وسائل نہ ہونے کی بناپر زیادہ وسیع دائرہ میں کام نہیں کیا جاسکتا تھا-انسانی آبادی پورے کرہ ارض پر پھیلی ہوئی تھی، لیکن پچھلے زمانے کے داعیوں کا دعوتی کام وسائل کے فقدان کی وجہ سے عملاً مقامی دائرے تک محدود رہا-
تائید کا انتظام
اللہ تعالی نے عالمِ فطرت (nature)کے اندر بالقوہ (potential) طور پر ایسے امکانات رکھے تھے جن کو دریافت کرکے اہلِ ایمان عالمی دائرے میں اپنے دعوتی عمل کو انجام دے سکیں- یہ امکان بنیادی طورپر وہ تھا جس کو کمیونکیشن (communication) کہاجاتاہے- وہ تمام چیزیں جن کو موجودہ زمانے میں ماڈرن کمیونکیشن (modern communication) کہا جاتا ہے، وہ فطرت کے امکانات کو دریافت کرکے ہی وجود میں آئے ہیں— پرنٹنگ پریس، تیز رفتار سواریاں اور ملٹی میڈیا، سب کا سب، عالم فطرت کے امکانات کو دریافت کرکے تیار کیاگیا ہے- یہ تمام مواصلاتی ذرائع اِسی لیے وجود میں آئے ہیں کہ اہلِ ایمان اُن کو بھر پور طورپر استعمال کریں اور اللہ کے پیغام کو پرامن طورپر تمام انسانوں تک پہنچا دیں-
موجودہ مسلمانوں کی ناکامی
اسلام کے ظہور کے بعد اللہ تعالی نے مسلمانوں کو سیاسی اقتدار عطا کیا- یہ سیاسی اقتدار ساتویں صدی عیسوی سے لے کر اٹھارھویں صدی تک کسی نہ کسی طورپر جاری رہا- اِس اقتدار کا مقصد حکومت یا عیش وعشرت نہیں تھا- اس کا مقصد صرف یہ تھا کہ مسلمان بے خوف ہو کر فطرت (nature) کی تحقیق کریں اور فطرت میں چھپے ہوئے امکانات کو دریافت کرکے وہ مواصلاتی وسائل تیار کریں جن کے ذریعے سے دعوت الی اللہ کے کام کو عالمی طورپر انجام دیا جاسکے-
اِس معاملے میں اللہ تعالی نے ایسے اشارے کردئے تھے جو مسلمانوں کے لیے اپنے رول کو سمجھنے کے لیے کافی ہوسکتے تھے، مگر مسلمان اشارے کی زبان کو سمجھ نہ سکے- مثلاً قرآن میں کثرت سے ایسی آیتیں ہیں جن میں یہ بتایا گیاہے کہ زمین اور آسمان کی تمام چیزیں تمھارے لیے مسخر کردی گئی ہیں - اِس کا مطلب یہ تھا کہ کائنات کی تخلیق اِس طرح ہوئی ہے کہ انسان اُس میں غوروفکر کرکے اس کے اندر چھپے ہوئے موافق امکانات کو دریافت کرے اور اُن کو اپنے حق میں استعمال کرے- وہ چیز جس کو آج مواصلاتی ٹکنالوجی کہاجاتا ہے، وہ سب اِس کے اندر شامل ہے-
دوسرا اہم اشارہ وہ ہے جو اسراء کے واقعے کی صورت میں پیش آیا- مکی دور کے آخر میں یہ واقعہ ہوا کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کو خصوصی انتظام کے تحت ایک رات کے اندر مسجد حرام (مکہ) سے مسجد اقصی (یروشلم) لے جایا گیا اور پھر واپس اپنے مقام پر پہنچا دیاگیا- اِس واقعے کا ذکر قرآن کی سورہ الاسراء (17) میں کیا گیاہے- واضح ہو کہ مکہ اور یروشلم کے درمیان تقریباً 1250 کلومیٹر کا فاصلہ ہے، یعنی رٹرن جرنی (return journey) کے اعتبار سے 2500کلومیٹر کا فاصلہ-
قرآن کی جس سورہ میں اِس واقعے کا ذکر ہے، اس میں مقصدِ سفر کو اِن الفاظ میں بیان کیاگیا ہے: لنریہ من آیاتنا (17:1) یعنی تاکہ ہم اس کو اپنی کچھ نشانیاں دکھائیں:
So that We might show him some of Our signs.
اِس آیت میں جس نشانی کا ذکر ہے، اس سے مراد خود سفر ہے، نہ کہ یروشلم میں واقع کوئی چیز- اللہ تعالی نے اپنے آخری پیغمبر کے ذریعے جو کتاب ہدایت (قرآن) بھیجی، وہ اِس لیے تھی تاکہ وہ کرۂ ارض پر بسنے والے تمام انسانوں تک پہنچے- یہ عالمی پیغام رسانی کیوں کر ممکن ہوگی، اس کے بارے میں اشاراتی طورپر بتایا گیا کہ عالمِ فطرت (nature) میں اللہ نے بالقوہ طورپر تیز رفتار ترسیل (rapid communication) کے امکانات رکھ دئے ہیں جن کو دریافت کرکے واقعہ بناؤ اور اُن کو تمام اہلِ عالم تک پیغام خداوندی (قرآن) کو پہنچانے کے لیے استعمال کرو-
استبدالِ قوم کا اصول
امتِ مسلمہ کو اللہ تعالی نے لمبی مدت تک یہ موقع دیاکہ وہ فطرت کے اِس امکان کو واقعہ بنائے اور قرآن کے سلسلے میں اپنی عالمی ذمے داری کو پورا کرے، لیکن امتِ مسلمہ کے رہنما اور قائدین اِس راز کو نہ سمجھ سکے- وہ دوسرے میدانوں میں سرگرم رہے، لیکن دعوت الی اللہ کے عالمی تقاضوں کو پورا کرنے کے لیے جو عمل مطلوب تھا، اُس عمل کو انجام دینے میں وہ پوری طرح ناکام رہے-
اِس کے بعد اللہ تعالی کی وہ سنت ظاہر ہوئی جس کو قرآن میں استبدالِ قوم (47:38) کہا گیاہے، یعنی ایک خدائی مطلوب کو انجام دینے میں اگر ایک گروہ ناکام ہوجائے تو اس کی جگہ دوسرے گروہ کو لے آنا— موجودہ زمانے میں جن مغربی قوموں نے دورِ مواصلات (age of communication) پیدا کیا ہے، وہ اِسی استبدالِ قوم کی توسیعی صورت ہے-
تائید بذریعہ سیکولر اقوام
پیغمبراسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی بہت سی پیشین گوئیاں حدیث کی کتابوں میں آئی ہیں- اُن میں سے ایک پیشین گوئی کے الفاظ یہ ہیں: إن اللہ لیؤیّد ہذا الدین بالرجل الفاجر (صحیح البخاری، رقم الحدیث: 3062) یعنی اللہ یقیناً اِس دین کی تائید فاجر انسان کے ذریعے کرے گا-
اِس حدیث میں ’فاجر‘ سے مراد سیکولر ہے- اِس حدیث کا مطلب یہ ہے کہ جب امتِ مسلمہ دعوتِ دین کے عالمی ذرائع کو دریافت کرنے میں ناکام ہوجائے گی تو اُس وقت اللہ تعالیٰ سیکولر لوگوں کو کھڑا کرے گاجو اِس کام کو انجام دیں، یعنی جب دینی محرک (religious incentive)اِس کام کو انجام دینے میں ناکام ہوجائے گا تو اللہ کچھ لوگو ں کو دنیوی محرک (secular incentive) کے ذریعہ اٹھائے گا- وہ فطرت میں تحقیق وجستجو کے ذریعے فطرت میں چھپے ہوئے امکانات کو واقعہ بنائیںگے- یہ اُن لوگوں کی طرف سے امتِ مسلمہ کے لیے ایک سپورٹنگ رول ہوگا-
موجودہ زمانے میں، خاص طورپر انیسویں صدی اور بیسویں صدی میں، اہلِ مغرب نے سائنس اور ٹکنالوجی کے میدان میں جو دریافتیں کی ہیں، وہ سب اِسی نوعیت کی ہیں- اِن دریافتوں کے ذریعے اللہ تعالی نے اپنے دعوتی مشن کو انجام دینے کے لیے ایک خارجی سپورٹ کا انتظام کیا ہے-
ملی رہنماؤں کی ناکامی
اہلِ مغرب نے تائید کا جو کام انجام دیا، اُس کے پیچھے کوئی دینی جذبہ نہیں تھا- یہ کام انھوں نے اپنے مادی اور قومی جذبے کے تحت کیا- یہ بالکل فطری تھا- اِس قسم کے ذاتی محرک کے بغیر وہ خارجی سپورٹ فراہم کرنے کا کام انجام نہیں دے سکتے تھے- مزید یہ کہ جب انھوں نے اتنا بڑا تاریخی کام انجام دیا تو یہ بھی فطری تھا کہ اُن کو عالمی دبدبہ حاصل ہوجائے- کسی بڑے رول کے ساتھ دبدبہ اِس طرح جڑا ہوا ہے کہ دونوں کو ایک دوسرے سے الگ نہیں کیا جاسکتا- اِس کے ذریعے اُن کو نہ صرف مادی فائدے حاصل ہوئے، بلکہ اُن کو براہِ راست یا بالواسطہ طورپر سیاسی غلبہ بھی حاصل ہوگیا- یہ اُن کے سپورٹنگ رول کی قیمت تھی- اِس قیمت کے بغیر وہ اپنا سپورٹنگ رول انجام نہیں دے سکتے تھے-
موجودہ زمانے کے مسلم رہنماؤں نے اِس راز کو نہیں سمجھا- وہ ایک چیز اور دوسری چیز کے درمیان فرق کرنے میں عاجز رہے- وہ اِس حکمت (wisdom) کا ثبوت نہ دے سکے جس کو اِن الفاظ میں بیان کیا جاسکتا ہے کہ — متعلق حصے کو لینا اور غیر تعلق حصے کو چھوڑدینا-
مغربی قومیں جب جدید طاقتوں کے ساتھ ایشیا اور افریقہ میں داخل ہوئیں تو اِس داخلے کے دو پہلو تھے — ایک، یہ کہ اِن مغربی قوموں نے فطری طورپر اُس وقت کی مسلم دنیا میں سیاسی غلبہ حاصل کرلیا- اِس واقعے کا دوسرا پہلو یہ تھاکہ یہ قومیں اُس عظیم نعمت کو لے کر آئی تھیں جو خود اسلام کا عین مطلوب تھا، جس کا ہزار سال سے تاریخ کو انتظار تھا، یعنی جدید مواصلات (modern communication)-مگر موجودہ زمانے کے مسلم رہنمابر وقت اُس دانش مندی کا ثبوت نہ دے سکے جو اُس وقت اُن سے مطلوب تھی، یعنی سیاسی مسئلے کو عملی طورپر نظر انداز کرنا اور کمیونکیشن کے جدید ذرائع کو بھر پور طور پر دعوت کے لیے استعمال کرنا- موجودہ زمانے میں مسلمانوں کے تمام مسائل اِسی دانش مندی کے فقدان کا نتیجہ ہیں-
ایک عرب شیخ عبد الرحمن الحبنکہ نے اپنی ایک کتاب میں بتایا ہے کہ اِس وقت امتِ مسلمہ کے تمام مسائل کا اصل سبب تین اژدہے ہیں- مصنف کے نزدیک، یہ تین اژدہے یا یہ تین بڑے سانپ یہ ہیں— استعمار (colonialism)، استشراق (orientalism)، مسیحی مبلغین (Christian missionaries)- یہ کسی ایک مصنف کی بات نہیں، یہی موجودہ زمانے کے تقریباً تمام مسلم رہنماؤں کی سوچ ہے- اسی غلط سوچ کا یہ نتیجہ ہے کہ ساری دنیا کے مسلمان پچھلے 200 سال اِن مفروضہ ’’افاعی‘‘ سے لڑنے اور ان کو ختم کرنے میں مشغول ہیں، لیکن عملی نتیجہ مکمل طورپر برعکس صورت میں ظاہر ہوا ہے-
حقیقت یہ ہے کہ یہ تینوں ’’افاعی‘‘ اپنی حقیقت کے اعتبار سے افاعی نہ تھے، بلکہ مذکورہ حدیثِ رسول کے مطابق، وہ مویدینِ اسلام (supporters of Islam) کی حیثیت رکھتے تھے- یہی وہ لوگ ہیں جن کی کوششوں سے موجودہ زمانے میں وہ چیز وجود میں آئی جس کو جدید مواصلات کہا جاتاہے- جدیدمواصلات کو انھوں نے اپنے مقصد کے لیے ڈیولپ کیا تھا، لیکن جدید مواصلات، عالمی مواصلات ہیں، اُن پر کسی کی اجارہ داری نہیں- اگر مسلم علما ا ور رہنما صرف یہ کرتے کہ وہ اِن مفروضہ افاعی کے خلاف ٹکراؤ کا محاذ نہ کھولتے اور پُرامن طریقِ کار اختیار کرتے تو بلاشبہہ وہ جدید مواصلات کو کامل طورپر اپنے حق میں استعمال کرسکتے تھے اور اسلام کی عالمی دعوت کے اُس منصوبے کو پورا کرسکتے تھے، جس کا تاریخ کو ہزارسال سے انتظار ہے-
ایک تاریخی حوالہ
پروفیسر ٹی ڈبلوآرنلڈ (Thomas Walker Arnold) ایک ممتاز برٹش مستشرق (orientalist) تھے- وہ 1864 میں لندن میں پیداہوئے اور 1930 میں اُن کی وفات ہوئی- انھوںنے اپنے وسیع مطالعہ کی بنیاد پر اسلامی دعوت کے موضوع پر ایک کتاب لکھی تھی- یہ کتاب 508 صفحات پر مشتمل ہے- وہ پہلی بار 1896 میں شائع ہوئی- اِس کتاب کا نام یہ ہے:
The Preaching of Islam
اِس کتاب میں بتایاگیاہے کہ ساتویں صدی عیسوی سے لے کر بعد کے ہزار سال تک مختلف ملکوں میں اسلام کی دعوت کس طرح پھیلی- مثال کے طورپر افریقہ کے بارے میں انھوں نے ایک رپورٹ کے حوالے سے اپنی اِس کتاب میں لکھاہے کہ — اِس وقت جس رفتار سے افریقہ میں اسلام پھیل رہا ہے، اس کی روشنی میں یہ کہا جاسکتا ہے کہ نائجر دریا کے دونوں کناروں پر 1910 تک مشکل ہی سے کوئی گاؤں بچے گا جو اسلام کے حلقے میں نہ آگیا ہو:
A Christian missionary reports: “When I came out in 1898, there were few Muhammadans to be seen below Iddah. Now they are everywhere, excepting below Abo, and at the present rate of progress there will scarcely be a heathen village on the river (Niger) banks by 1910.” (p. 329)
پروفیسر آرنلڈ نے یہ بات مغربی افریقہ کے نائجر دریا کے دونوں طرف واقع بستیوں کے بارے میں لکھی ہے- واضح ہو کہ نائجر دریاتقریباً چار ہزار دو سو کلو میٹر (4, 180) لمبا ہے- وہ افریقہ کے پانچ ملکوں کے درمیان بہتا ہے، یعنی — گائنا (Guinea)، مالی (Mali)، نائجر(Niger) بینن (Benin)، نائجیریا (Nigeria)- اِسی مثال پر دوسرے ملکوں کے بارے میں قیاس کیا جاسکتاہے-
اسلام کی دعوتی توسیع کا یہ عمل انیسویں صدی میں عین اُس وقت رک گیا، جب کہ پرنٹنگ پریس اور جدید مواصلات کی آمد نے اسلامی دعوت کی عالمی توسیع کا امکان بڑے پیمانے پر کھول دیا تھا— اِس کا سبب یہ تھا کہ انیسویں صدی میں جب یہ نئے امکانات کھلےتو عین اُسی زمانے میں ایک ’’مسئلہ‘‘ بھی پیدا ہوگیا، وہ یہ کہ مغربی تہذیب اور مغربی استعمار (Western Colonialism) نے نئے طریقوں کو استعمال کرتے ہوئے مسلم ملکوں میں اپنا دبدبہ قائم کرلیا-
اُس وقت یہ ہوا کہ تمام دنیا کے مسلمان منفی رد عمل (negative reaction)میں مبتلا ہوگئے- انھوں نے مغربی تہذیب اور مغربی استعمار کے خلاف لڑائی کا محاذ کھول دیا- کچھ لوگ تقریر اور تحریر کے ذریعے اِس قومی مہم میں شریک ہوگئے، اور کچھ لوگوں نے بطور خود اس کو جہاد قرار دے کر اس کے خلاف مسلح جنگ چھیڑدی-
یہ صورتِ حال عملاً آج بھی باقی ہے- دعوت کے مواقع برباد ہورہے ہیں اور مسلمان انتہائی ناکام طورپر قومی اور سیاسی لڑائی میں مشغول ہیں- اب آخری طورپر وہ وقت آگیا ہے جب کہ ساری دنیا کے مسلمان ان تباہ کن سرگرمیوں کو مکمل طورپر ختم کردیں اور پوری یکسوئی کے ساتھ دعوت الی اللہ کے کام میں مشغول ہوجائیں- (2012)
واپس اوپر جائیں

اسلام کا انقلابی رول

مورخ ابنِ کثیر نے اپنی مشہور کتاب البدایة والنہایة میں ابنِ اسحاق کے حوالے سے ایک روایت نقل کی ہے- اِس روایت میں ایک واقعے کا ذکر ہے جو نبوت کے دسویں سال مکہ میں پیش آیا - وہ واقعہ یہ ہے کہ : ’’رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا ابو طالب اپنی آخر عمر میں جب بیمارہوئے اور اُن کا مرض بڑھ گیا تو قبیلہ قریش کے لوگوں نے آپس میں کہا کہ حمزہ اور عمر نے اسلام قبول کرلیا اور محمد کا امر (دین) پورے قبیلہ قریش میں پھیل گیا- آؤ ہم ابو طالب کے پاس چلیں- وہ ہم سے عہد لے لیں اپنے بھتیجے کے بارے میں اور بھتیجے سے عہد لے لیں ہمارے بارے میں- کیوں کہ خدا کی قسم، ہم اِس سے مامون نہیں ہیں کہ وہ ہمارے امر(دین) پر غالب آجائے- چناں چہ قریش کے سردار ابو طالب کے پاس آئے اور اُن سے بات کی- یہ تھے— عتبہ بن ربیعہ، شیبہ بن ربیعہ، ابو جہل بن ہشام، امیہ بن خلف، ابو سفیان بن حرب، وغیرہ- انھوں نے کہا کہ اے ابو طالب، آپ کا ہمارے نزدیک جو درجہ ہے، وہ آپ کو معلوم ہے- آپ پر جو وقت آچکا ہے، وہ آپ خود دیکھ رہے ہیں- آپ کے بارے میں ہمیں تشویش ہے-ہمارے اور آپ کے بھتیجے کے درمیان جو معاملہ ہے، اُس سے آپ باخبر ہیں- آپ ان کو بلائیے- اُن سے ہمارے بارے میں عہد لے لیجئے اور ہم سے ان کے بارے میں عہد لے لیجئے، تاکہ وہ ہم سے باز رہیں اور ہم اُن سے باز رہیں، تاکہ وہ ہمارے دین سے تعرض نہ کریں اور ہم ان کے دین سے تعرض نہ کریں- پھر ابو طالب نے رسول اللہ کو بلایا اور آپ ان کے پاس آئے- ابو طالب نے آپ سے کہا کہ اے میرے بھتیجے، یہ تمھاری قوم کے بڑے لوگ ہیں- یہ تمھارے پاس جمع ہوئے ہیں، تاکہ تمھارے اور ان کے درمیان معاہدہ ہوجائے- اُس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا: ’’یاعمّ، کلمة واحدة تعطونہا تملکون بہا العرب وتدین لکم بہا العجم (البدایةوالنہایة 3/123) یعنی اے میرے چچا، میں اُن سے صرف ایک کلمہ چاہتا ہوں جس کو اگر وہ دے دیںتو وہ عرب کے مالک بن جائیں گے اور عجم تمھارے تابع ہو جائیں گے-
اس کے بعد آپ نے بتایاکہ وہ کلمہ یہ ہے کہ تم کہو کہ اللہ کے سوا کوئی الہ نہیں اور تم چھوڑ دو اُن چیزوں کو جن کی تم اللہ کے سوا عبادت کرتےہو(تقولون لا إلہ إلا اللہ وتخلعون ما تعبدون من دونہ) پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے اِس قول میں ایک تاریخی بات کو مخاطبین کی مانوس زبان میں کہاگیا ہے- اِس کا مطلب یہ ہے کہ یہ مشن کوئی محدود مشن نہیں ہے- یہ خالق کی ایک عظیم منصوبہ بندی کا نتیجہ ہے- یہ ایک د ور کو ختم کرکے دوسرے دور کو لانے کا منصوبہ ہے- اگر تم اُس کا ساتھ دو تو یہ تمھارے لیے سرفرازی کا باعث ہوگا- اِس مشن کا ساتھ دے کر تم ایک نئے دورِ تاریخ کے نقیب (harbinger) بن سکتے ہو-
توحید کے مشن کے ذریعے بعد کی تاریخ میں یہ انقلابی دور آیا- اُس نے انسانی تاریخ کے رخ کو بدل دیا- مگر عجیب بات ہے کہ مسلم علما اور مورخین نے اِس واقعے کو صرف امتِ مسلمہ کے ایک سیاسی فخر (political glory) کے طور پر لیا- وہ اِس انقلاب کے وسیع تر پہلوؤں کو سمجھنے سے قاصر رہے- لیکن سیکولر مورخین نے اِس پہلو کو دریافت کیا اور کھلے طورپر اس کا اعتراف کیا- انھیں میں سے ایک فرانس کا مورخ ہنری پرین (وفات: 1935) ہے- ہنری پرین نے اِس حقیقت کا اظہار اِن الفاظ میں کیا ہے— اسلام نے زمین کے نقشے کو بدل دیا- تاریخ کا روایتی ڈھانچہ توڑ دیا گیا:
Islam changed the face of the globe. The traditional order of history was overthrown.
اِس تاریخی واقعے کی اصل اہمیت اِس اعتبار سے نہیں تھی کہ اس کے نتیجے میں ایک مسلم ایمپائر وجود میں آئے- اِس واقعے کی اصل اہمیت یہ تھی کہ اُس نے انسانی تاریخ کے سفر کو صحیح رخ کی طرف موڑ دیا، اس نے انسانی تاریخ کو خدائی منصوبے کے ساتھ ہم آہنگ کردیا-
اللہ تعالی نے انسان کو پیدا کیا اور اس کو زمین پر بسایا اور اس کو ہر طرح کی آزادی دی- اِس تخلیق کا مقصد یہ نہیں تھا کہ انسان موجودہ دنیا میں آئڈیل حکومت بنائے یا آئڈیل سماج قائم کرے- انسان کی آزادی کی بنا پر دنیا میں وہی ہونا تھا جس کو فرشتوں نے فساد (2:30) سے تعبیر کیا تھا- تخلیق کے اعتبار سے، فساد کا لفظ کوئی منفی لفظ نہیں- اِس کا مطلب یہ ہے کہ زمین میں مختلف قسم کے ناموافق حالات پیدا ہوں، تاکہ انسان کے لیے مسلسل طورپر چیلنج کی صورت حال باقی رہے- چیلنج کی یہ صورتِ حال عین مقصودِ تخلیق ہے، کیوں کہ اِسی صورتِ حال کی بنا پر ایسا ہوتا ہے کہ افراد کے لیےامتحان کا ماحول جاری رہے اور مطلوب افرادکا انتخاب ممکن ہوسکے-
قرآن کی سورہ الانعام میں انسان کو خطاب کرتے ہوئے کہا گیا ہے: وَلَقَدْ جِئْتُمُوْنَا فُرَادٰی ى(6:94)-قرآن کے اِن الفاظ کا لفظی ترجمہ شاہ عبد القادر دہلوی نے اِس طرح کیا ہے— اور آئے تم ہمارے پاس ایک ایک- شاہ عبد القادر دہلوی کا یہ ترجمہ قرآن کی مذکورہ آیت کا نہایت صحیح ترجمہ ہے- ’فرادى‘ کا لفظ ’فرد‘ کی جمع ہے، یعنی افراد- قرآن کی یہ آیت خدا کے تخلیقی منصوبے کے ایک اہم پہلو کی طرف اشارہ کرتی ہے- اللہ نے انسان کو پیدا کرنے کے بعد اس کو زمین پر بسایا- اِس آبادکاری کا مقصد یہ نہیں تھا کہ انسان دنیا میں بہتر سماجی نظام بنائے- بہتر سماجی نظام کی جگہ صرف جنت ہے-
خدا کے تخلیقی منصوبے کے مطابق، موجودہ دنیا اقامتِ نظام کے لیے نہیں ہے، بلکہ انتخابِ افراد کے لیے ہے- حقیقت یہ ہے کہ انسان کی آزادی کی بنا پر اِس دنیا میں کسی معیاری نظام کا بننا ممکن ہی نہیں- پوری تاریخ میں تقریباً تمام ذہن، مسلم اور غیر مسلم دونوں، ایک ہی مشترک غلطی میں مبتلا رہے ہیں- انھوں نے بہتر سماجی نظام قائم کرنے کو اپنی جدوجہد کا نشانہ بنایا- مگر بلا استثنا سب کے سب اِس مقصد میں ناکام رہے- اس کا سبب یہ تھا کہ اِس قسم کا نشانہ عملی طورپر ممکن ہی نہ تھا، کیوں کہ وہ منصوبہ خداوندی کے خلاف تھا-
خالق نے اپنے منصوبے کے مطابق، دنیا کو اِس طرح بنایا ہے کہ وہ ہمیشہ ’دار الکبد‘ بنی رہے- اِس طرح یہ ممکن ہوتا ہے کہ دنیا میں ہر قسم کے حالات پیدا ہوں- لوگوں کو بار بار نقصان (2:155) کا تجربہ ہو- طرح طرح کے حادثات پیش آئیں- انسان اور شیطان کی طرف سے آزادی کے غلط استعمال کی بنا پر لوگوں کے درمیان کشمکش جاری رہے- یہ ناموافق حالات عین مطلوب ہیں- کیوں کہ اِسی صورتِ حال کی بنا پر یہ ممکن ہوتا ہے کہ ہر انسان کے بارے میں یہ دیکھا جائے کہ مختلف حالات کے درمیان اس نے کیسا رسپانس دیا- اُس نے حالات کو اپنی شخصیت کی تعمیر کے لیے استعمال کیا یا منفی رد عمل میں اپنا وقت ضائع کردیا-
امتحانی صورتِ حال کے اِس نتیجے کا تعلق افراد سے ہے- ہر فرد الگ الگ حالتِ امتحان میں ہے- ہر فرد الگ الگ اپنا ریکارڈ تیار کررہا ہے- ہر فرد الگ الگ یہ بتا رہا ہے کہ وہ جنت کی معیاری دنیا میں بسائے جانے کے قابل ہے یا نہیں-
اسلامی انقلاب کا مقصد
رسول اور اصحابِ رسول کے ذریعے جو انقلاب آیا اور آخر کار اس کے نتیجے میں دنیا کا نقشہ بدل گیا، وہ اِسی لیے تھا کہ مذکورہ قسم کی حالت دنیا میں غیر منقطع طورپر جاری رہے- اسلامی انقلاب کا مقصد نہ کوئی ایمپائر قائم کرنا تھا اور نہ کوئی بہتر سیاسی یا سماجی نظام- اِس انقلاب کا واحد مقصد یہ تھا کہ فرد کے لیے اپنی شخصیت کی تعمیر کے مواقع لامحدود طور پر کھل جائیں- جو فرد یہ چاہے کہ اس کو حقیقتِ اعلی کو دریافت کرنا ہے، اُس کو اپنی شخصیت کو جنتی شخصیت کے طورپر ڈیولپ کرنا ہے، اِسی کے ساتھ اُس کو دعوت الی الخیر (3:104) کے مشن کو اپنی زندگی کا مشن بنانا ہے، جو فرد یا افراد ایسا چاہیں، اُن کے لیے ہر قسم کے مواقع پوری طرح کھلے رہیں-
اسلامی انقلاب کا مقصد اصلاً یہی تھا- اسلامی انقلاب کا مقصد یہ تھا کہ زمین پر عالمی مواقع کی ایک دنیا (world of universal opportunities) وجود میں آئے- اِس قسم کی ایک دنیا صرف لمبے عمل کے ذریعے بن سکتی تھی- چناں چہ ایسا ہی ہوا- پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے ظہور کے بعد تاریخ میں جو پراسس جاری ہوا تھا، وہ تقریباً ہزار سال تک اپنا کام کرتا رہا، یہاں تک کہ بیسویں صدی میں وہ اپنی آخری تکمیل تک پہنچ گیا-
عجیب بات ہے کہ اسلامی انقلاب کی اِس نوعیت کو نہ مسلم مفکرین نے سمجھا اور نہ غیر مسلم مفکرین نے- دونوں کے لیے اس کا مشترک سبب یہ تھا کہ وہ تاریخ کا مطالعہ اللہ کے تخلیقی منصوبے کی روشنی میں نہ کرسکے- وہ خود اپنے خود ساختہ ذہن کے تحت تاریخ کا مطالعہ کرتے رہے- اِس بنا پر دونوں گروہوں کا حال یہ ہوا کہ وہ اُس خدائی حکمت (divine wisdom) سے بے خبر رہے جو انسانی تاریخ کے درمیان مسلسل طورپر اور موثر طورپر جاری رہی-
دورِ آزادی
اسلام کا ظہور تاریخ میں ایک انقلاب کا ظہور تھا- رسول اور اصحابِ رسول کی کوششوں کے ذریعے تاریخ انسانی میں پہلی بار آزادی کا دور آیا- اِس سے پہلے ہزاروں سال سے دنیا میں شخصی سلطنت کا مستبدانہ نظام (despotism) قائم تھا- اس کی جڑیں اتنی مضبوط ہوچکی تھیں کہ بظاہر اُن کو ختم کرنا ناممکن ہوگیا تھا- رسول اور اصحاب رسول کی قربانیوں سے تاریخ میں ایک ایسا طاقت ور پراسس جاری ہوا جس نے شخصی مطلق العنانی کے نظامِ حکومت کو ہمیشہ کے لیے ختم کردیا-قرآن میں اِس انقلابی واقعے کی طرف اِن الفاظ میںاشارہ کیا گیا ہے: وَلَیُبَدِّلَنَّہُمْ مِّنْۢ بَعْدِ خَوْفِہِمْ اَمْنًا(24:55) یعنی ایسا لازماً ہونا ہے کہ دنیا سے دورِ خوف کا خاتمہ ہو اور دورِ امن ابدی طورپر دنیا میں آجائے-
حضرت عمر فاروق نے ایک عظیم سلطنت کے حکمراں کی حیثیت سے اپنے عہد خلافت میں اِسی حقیقت کا اظہار کیا تھا، جب کہ انھوں نے ایک واقعے کے بعد مصر کے مسلم گورنر کو خطاب کرتےہوئے کہا: یا عمرو، متى استعبدتم الناس وقد ولدتہم أمہاتہم أحرارا(سیرة عمر بن الخطاب، علی محمد الصلاّبی: 1/306) یعنی اے عمرو، تم نے کب سے لوگوں کو غلام بنالیا، جب کہ ان کی ماؤں نے اُن کو آزاد پیدا کیا تھا-
یہ انقلابی عمل تاریخ میں جاری رہا، یہاں تک کہ وہ سفر کرتے ہوئے یورپ تک پہنچ گیا- گیارہ سو سال کے بعدفرانس کے جمہوری مفکر روسو(Rousseau) نے اپنی کتاب' سوشل کنٹریکٹ''میں لکھا کہ — انسان آزاد پیدا ہوا تھا، لیکن میں اس کو زنجیروں میں جکڑا ہوا دیکھتا ہوں:
Man was born free, but I see him in chains.
اِسی انقلابی عمل (revolutionary process)کے بعد کے مرحلے میں 1789 میں فرانسیسی انقلاب (French Revolution) کا واقعہ ہوا- اِس انقلابی عمل کی تکمیل 1948 میں ہوئی جب کہ دنیا کی تمام قوموں کے اتفاق سے اقوامِ متحدہ (UNO) کی عالمی تنظیم وجود میں آئی-
انسانی تاریخ میں آزادی کے دور کا آنا کوئی سادہ بات نہ تھی- یہ گویا کہ تاریخ میں ایک شاہ ضرب (master stroke) کا معاملہ تھا جس کے نتیجے میں اُن تمام امکانیات کی انفولڈنگ (unfolding) شروع ہوگئی جس کو خالق نے انسان کے لیے مقدر کیا تھا-
اِس دورِ آزادی کا پہلا فائدہ یہ تھا کہ اللہ کے تخلیقی نقشے کے مطابق، انسانی زندگی میں آزادی کا وہ دور شروع ہوا جب کہ کھلے ماحول میں ہر عورت اور مرد کا امتحان (test) ممکن ہوسکے- اِسی کے نتیجے میں دنیا کی سیاست میں سیکولرازم اور جمہوریت کا زمانہ آیا جس نے تاریخ میں پہلی بارمذہبی جبر کا مکمل خاتمہ کردیا- اِسی کے بعد یہ ممکن ہوا کہ انسان ہر قسم کے توہمات (superstitions) سے آزاد ہو کر فطرت کا مطالعہ کرے- اِسی مطالعے کا نتیجہ سائنسی علوم کا ظہور تھا جس نے پہلی بار انسان کے لیے اعلی معرفت (higher realization) کا دروازہ کھول دیا- اِسی کے نتیجے میں پرنٹنگ پریس اور جدید مواصلات کی دریافت ہوئی جس نے تاریخ میں پہلی بار عالمی دعوت کو ممکن بنا دیا، وغیرہ-
موجودہ زمانے میں آزادی کو خیر اعلی کہاجاتا ہے- یہ بات بالکل درست ہے-لیکن موجودہ دنیا میں آزادی کے ساتھ آزادی کے غلط استعمال (misuse of freedom)کا امکان ہمیشہ موجود رہتا ہے- اِس بنا پر آزادی کی قدر وقیمت کو صرف اُس وقت سمجھا جاسکتا ہے، جب کہ لوگوں کی طرف سے آزادی کے غلط استعمال کے پہلو کو الگ کرکے اس کا مطالعہ کیا جائے- ( 2013)
واپس اوپر جائیں

اسلام اور جنگ

ایک حدیثِ رسول میں، قرآن کی بابت بتایا گیا ہے کہ: لکلّ آیة منہا ظَہر وبطن (صحیح ابن حبان، رقم الحدیث: 75) یعنی قرآن کی ہر آیت کا ایک مفہوم وہ ہے جو سطور (lines) میں ہے اور دوسرا وہ ہے جو اس کے بین السطور میں پایا جاتا ہے- یہ حدیث اگر چہ قرآن کے بارے میں ہے، لیکن توسیعی مفہوم کے اعتبار سے حدیثِ رسول بھی اس میں شامل ہے- یہ ایک حقیقت ہےکہ قرآن اور حدیث کے متن میں تفسیری اور تشریحی اضافہ کرنا پڑتا ہے- اِس اضافے کے بغیر، قرآن وحدیث کی معنویت واضح نہیں ہوتی-
مثال کے طورپر قرآن کی ایک آیت یہ ہے: ظَہَرَ الْفَسَادُ فِی الْبَرِّ وَالْبَحْرِ بِمَا کَسَبَتْ اَیْدِی النَّاسِ (30:41)- قرآن کی اِس آیت کا لفظی ترجمہ یہ ہے: ’’خشکی اور تری میں فساد پھیل گیا، لوگوں کے اپنے ہاتھوں کی کمائی کے سبب سے‘‘- مگر اِس لفظی ترجمے سے آیت کا اصل مفہوم واضح نہیں ہوتا- آیت کے اصل مفہوم کو جاننے کے لیے اس میں یہ تشریحی اضافہ کرنا پڑے گا کہ — خشکی اور تری میں فساد پھیل گیا، اس لیے کہ لوگوں نے اپنی آزادی کا غلط استعمال کیا-
اِسی طرح ایک حدیثِ رسول اِن الفاظ میں آئی ہے: مَن قال لا إلہ إلا اللہ، دخل الجنة- اس حدیث کا لفظی ترجمہ یہ ہے کہ جس شخص نے کہا کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، وہ جنت میں داخل ہوگا- حدیث کا یہ ترجمہ حدیث کے اصل مفہوم کو واضح نہیں کرتا- حدیث کے اصل مفہوم کو واضح کرنے کے لیے اس میں یہ اضافہ کرنا پڑے گا کہ —جس شخص نے اِ س حقیقت کا اقرار کیا کہ اللہ کے سواکوئی معبود نہیں اور اس کے مطابق اس نے عمل کیا، وہ جنت میں داخل ہوگا-
جنگ کا مسئلہ
پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی امت کو آگاہ کرتے ہوئےفرمایا تھا: إذا وضع السیفُ فی أمتی، لم یُرفع عنہم إلى یوم القیامة(مسند احمد، جلد 5، صفحہ 278) - اِس حدیث کا لفظی ترجمہ یہ ہے— جب میری امت کے اندر تلوار داخل ہوجائے تو قیامت تک وہ اُس سے اٹھائی نہیں جائے گی- مذکورہ حدیثِ رسول کا یہ ترجمہ لفظی طورپر ایک صحیح ترجمہ ہے- لیکن صرف یہ ترجمہ، حدیث کی اصل معنویت کو ظاہر نہیں کرتا-
بظاہر اس حدیث میں امت کے اندر تلوار کے اُس داخلے کا ذکر ہے جو عہد رسالت کے بعد پیش آئے گا- لیکن تاریخی اعتبار سے دیکھا جائے تو امت کےاندر تلوار کا داخلہ خود زمانہ رسول میں پیش آچکا تھا- جیسا کہ معلوم ہے، غزوۂ بدر، غزوۂ حنین، غزوۂ خیبر کے مواقع پر امتِ محمدی نے تلوار اٹھائی، جب کہ اِن چاروں مواقع پر پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم باحیات تھے- اس کے علاوہ، قرآن کی متعدد آیتوں میں خود زمانہ رسول میں قتال کا ذکر ہے- بظاہر یہ ایک تضاد کی صورت حال ہے- اِس لیے ہمیں کوئی ایسا اصول دریافت کرنا پڑے گا جو اِس ظاہری تضاد کو رفع کرنے والاہو -
جنگ کی دو قسمیں
پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں جو جنگ پیش آئی، اس کی نوعیت کیا تھی، وہ قرآن کی اس آیت سے معلوم ہوتی ہے: وَقَاتِلُوْہُمْ حَتّٰی لَا تَکُوْنَ فِتْنَةٌ وَّیَکُوْنَ الدِّیْنُ کُلُّہٗ لِلّٰہِ (8:39) یعنی تم اُن سے قتال کرو، یہاںتک کہ فتنہ باقی نہ رہے اور دین سب کا سب، اللہ کے لیے ہوجائے-
اِس آیت میں ’فتنہ‘ سے مراد مذہبی جبر (religious persecution) ہے- قدیم زمانے میں اُس وقت کے سیاسی فلسفہ (political philosophy) کی بنا پر، ساری دنیا میں مذہبی جبر کا کلچر قائم تھا- اِس کلچر نے قدیم زمانے میں پُرامن دعوت (peaceful Dawah) کو عملاً ناممکن بنا دیا تھا- یہ تصور، خدا کے تخلیقی پلان کےخلاف تھا، کیوں کہ خدا نے اپنے تخلیقی پلان کے تحت، ہر انسان کو فکر اور اظہارِ خیال کی کامل آزادی عطا کی ہے-
مذہبی جبر پر مبنی مذکورہ سیاسی فلسفہ خدا کی دی ہوئی آزادی کو منسوخ کرنے کے ہم معنی تھا- خدا کو مطلوب تھاکہ مذہبی جبر کا یہ مصنوعی نظام ختم ہو اور مذہبی آزادی کا فطری نظام قائم ہوجائے- اِس لیے اللہ تعالی نے رسول اور اصحابِ رسول کو یہ حکم دیا کہ ہر قیمت پر اِس مصنوعی نظام کو ختم کرو، خواہ اس کے لیے تم کو جنگ کرنا پڑے- رسول اور اصحابِ رسول نے اِس حکمِ خداوندی کی تعمیل کی، یہاں تک کہ اِس جبری نظام کا خاتمہ ہوگیا-
اِس معاملے کو سمجھنے کے لیے عبد اللہ بن عمر کی ایک روایت کا مطالعہ مفید ہوگا- عبد اللہ بن عمر (وفات: 73 ہجری) کے زمانے میں وہ جنگ پیش آئی جس کے قائد ایک طرف، عبد اللہ بن زبیر تھے اور دوسری طرف،اموی حاکم حجاج بن یوسف الثقفی- یہ واقعہ تاریخ میں ’’فتنۂ عبد اللہ بن زبیر‘‘ کے نام سے مشہور ہے-
عبد اللہ بن عمر اِس جنگ میں شریک نہیں ہوئے تھے- دو مسلمان اُن کے پاس آئے اور اُن کو عار دلاتے ہوئے کہا کہ آپ اِس جنگ میں شریک نہیں ہیں، حالاں کہ اللہ تعالی نے قرآن میں حکم دیا ہے کہ: وَقَاتِلُوْہُمْ حَتَّی لَا تَکُوْنَ فِتْنَةٌ(8:29)- عبد اللہ بن عمر نے کہا: قاتلنا حتى لم تکن فتنة، وکان الدین للہ- وأنتم تریدون أن تقاتلوا حتى تکون فتنة، ویکون الدین لغیر اللہ (صحیح البخاری، رقم الحدیث: 4513) یعنی ہم نے جنگ کی یہاں تک کہ فتنہ ختم ہوگیا، اور دین اللہ کے لیے ہوگیا- اور تم چاہتے ہوکہ جنگ کرو، یہاں تک کہ فتنہ دوبارہ واپس آجائے اور دین غیراللہ کے لیے ہوجائے-
عبد اللہ بن عمر کے اِس قول کا مطلب یہ ہے کہ قرآن کی آیت میں ’فتنہ‘ سے مراد مذہبی جبر تھا- ہم نے لڑ کر اس مذہبی جبر کو ختم کردیا- اب فطرت کے نظام کے مطابق، مذہب کے معاملے میں انسان کو آزادی حاصل ہوگئی، جب کہ تم لوگ اپنے سیاسی مفاد کے لیے جنگ کررہے ہو اور اِس طرح دوبارہ ایک نئے قسم کا فتنہ برپا کررہے ہو-
ایک دورکا خاتمہ، دوسرے دورکا آغاز
اللہ نے انسان کو اِس دنیا میں امتحان (test) کے لیے رکھا ہے- امتحان کی اِس مصلحت کی بنا پر اللہ نے انسان کو کامل آزادی دی ہے- اس کو اِس دنیا میں فریڈم آف چوائس (freedom of choice) حاصل ہے- یہ آزادی اگر باقی نہ رہے تو اللہ کا تخلیقی پلان درہم برہم ہوجائے گا- اِسی مصنوعی صورت ِ حال کو قرآن میں فتنہ کہا گیا ہے، اور فتنہ کی اِسی صورتِ حال کو ختم کرنے کے لیے رسول اور اصحابِ رسول کو جنگ کا حکم دیاگیا-
اِس معاملے کی تفصیل یہ ہے کہ قدیم زمانے میں مذہب پر مبنی قومیت (nationality based on religion) کا اصول رائج تھا- اِس اصول کی بنا پر مذہب، اسٹیٹ کا معاملہ قرار پاگیا تھا- اسٹیٹ کا مذہب، اسٹیٹ سے وفاداری کی علامت بن گیا تھا- یہی وجہ ہے کہ مذہب کے معاملے میں اسٹیٹ سے مختلف عقیدہ رکھنا، اسٹیٹ سے بغاوت کے ہم معنی بن گیاتھا- یہی وہ صورتِ حال ہے جس نے قدیم زمانے میں مذہبی جبر (religious persecution) کا نظام قائم کررکھا تھا-
ساتویں صدی عیسوی کے نصف آخر میں جو انقلاب آیا، اُس نے اسٹیٹ کے تحت قائم شدہ مذہبی جبر کا خاتمہ کردیا- مذہبی جبر کے خاتمے کے بعد تاریخ میں ایک نئے سیاسی نظریے کا آغاز ہوا- اِس کے بعد جو پراسس شروع ہوا، اس کی تکمیل انیسویں صدی میں یورپ میں ہوئی- اب مبنی برمذہب قومیت آخری طورپر متروک قرار پائی- اِس کے بعد قومیت کا وہ نظام بنا جس کو وطن پر مبنی قومیت (nationality based on homeland) کہاجاتاہے-
یہ ایک فطری حقیقت ہے کہ انسان کے اندر اپنے وطن سے محبت کا جذبہ پایا جاتا ہے- یہ ایک عملی معاملہ ہے، نہ کہ کوئی اعتقادی معاملہ- قدیم زمانے میں مبنی برمذہب قومیت نے اِس معاملے کو مذہبی عقیدے کا درجہ دے رکھا تھا- اِس لحاظ سے، مبنی برمذہب قومیت کا نظریہ ایک فطری تصور تھا- ایسی حالت میں ضرورت تھی کہ اِس تعلق کو فطری بنیاد پر قائم کیا جائے- موجودہ زمانے میں مبنی بروطن قومیت کے نظریے نے یہی کام انجام دیا ہے- اب تمام دنیا میں اِس اصول کو مان لیا گیا ہے کہ قومیت کا تعلق وطن سے ہے، نہ کہ مذہبی عقیدے سے- یہی نظام، فطرت کے مطابق ہے، اور اسلام دینِ فطرت ہونے کی حیثیت سے اِسی نظریے کی تائید کرتا ہے-
قومیت ایک سیاسی نظریہ ہے، اور مذہب ایک غیر سیاسی عقیدہ- قدیم ریاستی نظریے کے تحت مذہبی جبر کا تصور پیداہوا- اِس تصور نے دینِ توحید اور اس کی دعوت کے لیے غیر ضروری مسئلہ پیدا کردیا تھا- موجودہ زمانے میں وطن پر مبنی قومیت کے نظریے نے یہ ایک درست کام انجام دیا ہے کہ اس نے قومیت کی بنیاد مذہب کے بجائے وطن پر قائم کردی ہے- یہ تبدیلی عین اسلام کے مطابق ہے- اس نے موجودہ زمانے میں پُرامن دعوتی عمل کے لیے لامحدود دروازے کھول دئے ہیں-
قدیم زمانے میں اسلام اور اُس وقت کی حکومتوں کے درمیان جو جنگ پیش آئی، وہ ایک ناگزیر ضرورت کے تحت پیش آئی- کیوں کہ اہلِ اسلام جب توحید کی دعوت دیتے تھے تو اُس زمانے کے مبنی بر مذہب قومیت نظریے کی بنا پر اہلِ اقتدار یہ سمجھتے تھے کہ توحید کی دعوت، ریاست سے بغاوت کے ہم معنی ہے- اِس بنا پر وہ داعیانِ توحید کو اپنا حریف (rival) سمجھ لیتے تھے، جس کا نتیجہ جنگ ہوتا تھا- یہ جنگ قدیم نظام کی طرف سے جارحانہ طور پر ہوتی تھی اور اہلِ توحید کی طرف سے اس کی حیثیت ناگزیر دفاع کے ہم معنی تھی-
موجودہ زمانے میں وطن پر مبنی سیاسی تصور نے مذہب اور سیاست کے درمیان ٹکراؤ کا خاتمہ کردیا ہے- یہی وجہ ہے کہ اب مذہبی جبر (religious persecution)کا قدیم نظام باقی نہیں رہا اور داعیانِ توحید کو یہ موقع مل گیا کہ وہ ریاست سے ٹکراؤ کا خطرہ مول لئے بغیر اپنے پُرامن دعوتی عمل کو بلا رکاوٹ جاری رکھ سکیں- (2012)
واپس اوپر جائیں

قانونِ شریعت کا نفاذ

موجودہ زمانے میں مختلف مسلم ملکوں میں قانونِ شریعت کے نفاذ کی تحریکیں چلائی گئیں۔ مثلاً افغانستان، ایران، سوڈان اور پاکستان وغیرہ۔ ہر جگہ تقریباً ایک ہی قسم کی صورتِ حال نظر آتی ہے۔ ہرجگہ کے مسلمان دو گروہوں میں بٹ گئے— حاکم اور محکوم۔ اِن دونوں گروہوں کے درمیان ٹکراؤ شروع ہوگیا۔ اِس کے نتیجے میں زبردست نقصان پیش آیا۔ اِن ملکوں میں شریعت کا قانون تو نافذ نہ ہوسکا، البتہ نفرت اور جبر اور تشدد کا ماحول ہر جگہ قائم ہوگیا۔
اسلامی قانون کے نفاذ کی تحریک اِس طرح الٹا نتیجہ پیدا کرنے کا سبب (counter productive) کیوں بن گئی۔ اِس کا راز یہ ہے کہ ہر جگہ نفاذِ شریعت کا نعرہ تو دیاگیا، لیکن نفاذِ شریعت کے لیے پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے طریقے کی پیروی نہیں کی گئی۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم، پیغمبر کی حیثیت سے دنیا میں 23 سال رہے۔ آپ کے مشن کا ایک پہلو یہ تھا کہ آپ عرب میں اسلامی شریعت کو نافذ کریں اور بالفعل آپ نے کامیابی کے ساتھ ایسا کیا۔ لیکن اُس زمانے کے عرب سماج میں ہم یہ نہیں دیکھتے کہ مسلمان، نفاذِ شریعت کے نام پر دوگروہ بن کر آپس میں لڑ رہے ہوں، جیسا کہ موجودہ زمانے میں مسلم ملکوں میں پیش آیا۔
اِس سوال کا جواب پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی اہلیہ عائشہ کی ایک روایت سے معلوم ہوتا ہے۔ وہ کہتی ہیں کہ قرآن میں پہلے وہ سورتیں اُتریں جن کو مفصّل کہاجاتا ہے، یعنی وہ سورتیں جن میں جنت اور جہنم کا ذکر ہے، یہاں تک کہ جب لوگ رجوع ہو کر اسلام پر آگئے، اُس وقت حلال اور حرام والے احکام اترے (حتّی إذا ثاب الناس إلی الإسلام، نزل الحلال والحرام) اگر شروع میں یہ اترتا کہ شراب نہ پیو، تو وہ ضرور یہ کہتے کہ ہم توشراب کبھی نہیں چھوڑیں گے۔ اور اگر شروع میں یہ اترتا کہ زنا نہ کرو، تو وہ ضرور یہ کہتے کہ ہم تو کبھی زنا نہیں چھوڑیں گے (صحیح البخاری، کتاب فضائل القرآن، باب تالیف القرآن)۔
اِس روایت میں ثاب کا لفظ آیا ہے۔ ثاب یثوب کے معنی ہیں: حالتِ اصلی کی طرف لوٹنا۔ مشہور عالمِ لغت راغب الاصفہانی (وفات: 1108ء) نے اِس لفظ کی تشریح کرتے ہوئے لکھا ہے: رجوع الشیٔ إلی حالتہ الأولی التی کان علیہا( المفردات، صفحہ 83 ) یعنی کسی چیز کا اپنی اُس سابقہ حالت کی طرف لوٹنا جس پر وہ پہلے قائم تھی۔
اِسی بات کو اگر لفظ بدل کر بیان کیا جائے، تو یہ کہا جاسکتا ہے کہ اِ س کا مطلب ہے— حالت فطری کی طرف واپسی۔ جیسا کہ حدیث میں آیا ہے، ہر انسان صحیح فطرت پر پیدا ہوتا ہے، پھر ماحول کے اثر سے وہ دھیرے دھیرے اپنی اصل فطرت سے ہٹ جاتا ہے۔ اِسی کا نام بگاڑ ہے۔ صحیح معاشرہ قائم کرنے کا عمل، اِسی بگاڑ کو درست کرنے سے شروع ہوتا ہے، یعنی فطرت سے انحراف کی حالت کو ختم کرنا اور دوبارہ لوگوں کو ان کی حالتِ فطری پر قائم کرنا۔ ایک لفظ میں اِس عمل کو ڈی کنڈیشننگ (de-conditioning) کہاجاسکتا ہے۔
حضرت عائشہ کی مذکورہ روایت کے مطابق، پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کا طریقہ یہ تھا کہ— انسان کی ڈی کنڈیشننگ کرکے اُس کو حالتِ فطری کی طرف واپس لاؤ۔ جب ایسا ہوگا تو اس کے بعد انسان کے اندر احکام کو قبول کرنے کی استعداد پیدا ہوجائے گی، اور نفاذِ شریعت کا کام بہ سہولت انجام پاسکے گا۔ گویا کہ پیغمبر اسلام کے طریقے کے مطابق، کسی سوسائٹی میں نفاذِ شریعت کے عمل کا آغاز، فکری تطہیر سے ہوتا ہے، نہ کہ قانون کے عملی نفاذ سے۔
موجودہ زمانے میں 57 مسلم ملک ہیں۔ ہر مسلم ملک میں مسلم رہنماؤں نے شریعت کے نفاذ کی تحریک چلائی، مگر لمبی جدوجہد کے باوجود کسی بھی ملک میں یہ تحریکیں اپنے مطلوب مقصد میں کامیاب نہیں ہوئیں۔ ہر ملک میں اِن تحریکوں نے صرف تشدد اور جبر کی روایتیں قائم کیں۔
اِس اعتبار سے مسلم ملکوںکو دو گروپ میں تقسیم کیا جاسکتا ہے۔ ایک قسم کے ملک وہ ہیں، جہاں حکم راں اور عوام کے درمیان پُرتشدد مقابلہ جاری ہے۔ دوسری قسم کے مسلم ملک وہ ہیں جہاں جبر کا نظام قائم ہوگیا ہے۔ یہ وہ ملک ہیں جہاں حکم راں طبقے نے نفاذِ شریعت کی تحریکوں کو مقہور کرلیا اور جبر کے زور پر اپنی حکم رانی قائم کرلی۔ اور ظاہر ہے کہ یہ دونوں حالتیں، اسلامی نقطۂ نظر سے غیر مطلوب حالتیں ہیں۔پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی مذکورہ سنت کے مطابق، مسلم ملکوں میں کام کرنے کا صحیح طریقہ یہ تھا کہ مسلم رہنما اپنے کام کا آغاز غیر سیاسی میدان میں کرتے ۔ وہ پُرامن تعلیم وتربیت کے ذریعے لوگوں کے ذہن اور ان کے کردار کو بدلتے۔
اِس تعمیری عمل کے دوران وہ ملک کے سیاسی نظام کے معاملے میں اسٹیٹس کوازم (statusquoism) کا طریقہ اختیار کرتے ۔وہ یہ پالیسی اختیار کرتے کہ سیاست اور حکومت کے معاملے کو جمہوری عمل (democratic process) کے حوالے کردیتے۔ سیاست کے معاملے میں وہ لوگوں کو موقع دیتے کہ پُرامن الیکشن کے ذریعے وہ جس کو چاہیں منتخب کریں اور پھر یہ منتخب لوگ ملک کا سیاسی نظام چلائیں۔مسلم رہنما اگر اس دو طرفہ حکمت کو اختیار کرتے، تو یقینی طورپر ایسا ہوتا کہ بتدریج ملک کے حالات بدل جاتے ۔ اِن ملکوںمیں پہلے ذہن اور کردار کے اعتبارسے انقلاب آتا، اور پھر دھیرے دھیرے سیاست اور حکومت کے میدان میں بھی انقلاب آجاتا۔ مگر حکمتِ نبوی کو اختیار نہ کرنے کا نتیجہ یہ ہوا کہ مسلم رہ نما جو کچھ حاصل کرنا چاہتے تھے، اُس کو تو وہ حاصل نہ کر سکے، البتہ انھوںنے مسلم سماج کے اندر بہت سے نئے نقصانات کا اضافہ کردیا۔
حدیث کی کتابوں میں کثرت سے ایسی روایتیں آ ئی ہیں جن میں مسلمانوں کو شدت کے ساتھ یہ حکم دیا گیا ہے کہ حکم رانوں میں بگاڑ کے وقت اُن کا رویہ کیا ہونا چاہیے۔ اِن روایتوں میں شدت کے ساتھ یہ حکم دیا گیا ہے کہ اپنے حکم رانوں میں تم خواہ کتنا ہی بگاڑ دیکھو، تم ہر گز اُن سے ٹکراؤ کا طریقہ اختیار مت کرو۔ اگر تم ضروری سمجھو، تو صرف تنہائی میں نصیحت پر اکتفا کرو، عملی ٹکراؤ یا حکم رانوں کو بدلنے کی تحریکیں ہر گز نہ چلاؤ۔
عدم ٹکراؤ کی اِس پالیسی کا مطلب سرینڈر کرنا نہیں ہے۔ یہ دراصل یہ بتانے کے لیے ہے کہ سیاسی بگاڑ کے حالات میں تمھارے عمل کا نقطۂ آغاز کیا ہونا چاہیے۔ ایسے حالات میں تمھارے عمل کا نقطۂ آغاز یہ ہونا چاہیے کہ تم انتہائی حد تک پُرامن رہتے ہوئے، غیر سیاسی دائرہ کار میں لوگوں کو ایجوکیٹ(educate) کرنے کی کوشش کرتے رہو۔ یہ کوشش مسلسل جاری رکھو، یہاں تک کہ حالات اِس حد تک بدل جائیں کہ پُرامن طورپر تبدیلی ممکن ہوجائے۔
اسلام کی پالیسی ہر معاملے میں نتیجہ خیز عمل (result oriented action) کے اصول پر ہوتی ہے۔ عمل کا مثبت نتیجہ نکلے تو عمل کرو، اور اگر مثبت نتیجہ نکلنے والا نہ ہو، تو سیاست سے مکمل طورپر الگ رہتے ہوئے پُرامن اصلاح کا طریقہ اختیار کرو، اِس طریقے کو اختیار کرنے سے ہمیشہ امن قائم ہوتا ہے، اور اِس طریقے کے خلاف عمل کا نتیجہ ہمیشہ تشدد کی صورت میں نکلتا ہے۔(2009)
واپس اوپر جائیں

خود کشی کا بڑھتا ہوا رجحان

امریکا میں بیماری اور اس پر کنٹرول کے لیے ایک ادارہ قائم ہے- اِس ادارے کا نام یہ ہے:
US Centre for Disease Control and Prevention
اِس ادارے کے تحت جو اعداد وشمار جمع کیے گئے ہیں، اس کے مطابق، امریکا میں خودکشی کرنے والوں کی تعداد دن بہ دن بڑھ رہی ہے- مثلاً 2010 میں روڈ حادثے میں مرنے والوں کی تعداد 33,687 تھی- اِس کے مقابلے میں، اِسی سال امریکا میں خودکشی کرنے والوں کی تعداد 38,364 تھی- (ٹائمس آف انڈیا، نئی دہلی، 4 مئی 2013، صفحہ 21)
یہ معاملہ صرف امریکا کا نہیں ہے، بلکہ تمام ترقی یافتہ ملکوں کا ہے- جرمنی، فرانس، اسپین، جاپان اور چین ہر جگہ خود کشی کرنے والے انسانوں کی تعداد ہر سال بڑھ رہی ہے- اعداد وشمار کے مطابق، خود کشی کرنے و الوں کی تعداد ترقی یافتہ ملکوں میں زیادہ ہے-
ایسا کیوں ہے- اِس کا سبب یہ ہےکہ موجودہ زمانے میں جب مادی ترقی کا دور آیا تو انسان نے یہ سمجھا کہ اب وہ دنیا ہی میں اپنی جنت بنا سکتا ہے- وہ اپنی تمام خواہشوں (desires) کو آخری حد تک پورا کرسکتا ہے، مگر عملاً ایسا نہیں ہوا، بظاہر مادی ترقیوں کے باوجود انسان کو فل فل مینٹ (fulfilment) حاصل نہ ہوسکا-
جب انسان بقدر ضرورت (need)کی سطح پر جی رہا تھا، تو اس کو فل فل مینٹ حاصل نہ تھا- اُس وقت اس نے سمجھا کہ جب آرام (comfort) کی سطح پر جینا نصیب ہوگا تو اس کو فل فل مینٹ حاصل ہوجائے گا، مگر ایسا نہ ہوسکا- پھر لگژری (luxury) کا دور آیا، مگر انسان اب بھی فل فل مینٹ (fulfilment) سے محروم تھا- اب انسان مایوسی کی حالت میں جی رہا ہے اور اِسی مایوسی کا ایک ظاہرہ خود کشی کی بڑھتی ہوئی رفتار ہے-
واپس اوپر جائیں

مس ورلڈ

نونیت کور (Navneet Kaur Dhillon) چندی گڑھ میں 1992 میں پیدا ہوئی- بیوٹی کے ایک مقابلے میں وہ کامیاب ہوئی اور مس انڈیا کا ٹائٹل حاصل کیا- اب وہ مس ورلڈ (Miss World)کے مقابلے کے لیے تیاری کر رہی ہے- اس نے اپنے آپ کو پوری طرح اِس تیاری کے کام میں لگا دیا ہے- ایک انٹرویو کے دوران اس نے کہا کہ — میں مس ورلڈ کے تصور میں جیتی ہوں، مس ورلڈ کے تصور میں سانس لیتی ہوں، اب صرف یہ باقی ہے کہ مجھے مس ورلڈ کا تاج پہنایا جائے:
I am living, breathing Miss World; only the crowning is left.
ٹائمس آف انڈیا (2 ستمبر 2013) میں اِس خبر کو پڑھ کر میں نے سوچا کہ کیا وجہ ہے کہ بہت سے لوگ مس ورلڈ اور مسٹر ورلڈ کا ٹائٹل حاصل کرنے کے لیے ہیرو، بلکہ سپر ہیرو بن جاتے ہیں، مگر یہی بے تابانہ شوق لوگوں کے اندر جنت (paradise) کے لیے نہیں ہوتا- دنیا میں بے شمار لوگ ہیں، لیکن اُن میں سے کوئی مس پیراڈائز اور مسٹر پیراڈائز کا درجہ حاصل کرنے کے لیے ہیرو بننے پر تیار نہیں-
میں نے غور کیا تو خود مذکورہ رپورٹ میں اِس کا جواب موجود تھا- نونیت کور جو رات دن اپنی تیاری میں لگی ہوئی ہے، اُس نے اِس مقصد کے لیے اپنی بے پناہ محنت کی توجیہ کرتے ہوئے کہا — یہ ایک ایسا موقع ہے جو پوری زندگی میں صرف ایک بار آئے گا اور مجھے بہر حال اس کو حاصل کرنا ہے:
This is a once-in-a lifetime chance. I have to do it.
مس ورلڈ بننے کا چانس اُس کے لیے صرف ایک بار ہے — یہی وہ چیز ہے جو مذکورہ خاتون کو ہیرو بنائے ہوئے ہے- جب اُس نے دیکھا کہ اِس کا چانس میرے لیے دوبارہ آنے والا نہیں ہے تو اس کے دل میں یہ جذبہ ابھرا کہ وہ اس کی تیاری میں اپنی ساری طاقت لگا دے- یہی دریافت اگر کسی عورت یا مرد کو جنت کے بارے میں ہوجائے تو وہ بھی اِسی طرح مس پیراڈائز یا مسٹر پیراڈائز بن جائے گا-
واپس اوپر جائیں

خود کشی کیوں

بالی وڈ کی ایک ایکٹرس جِیا خان نے 3 جون 2013 کوممبئی میں خود کشی کرلی- اس وقت اس کی عمر 25 سال تھی- وہ جوہو کے ایک فلیٹ میں رہتی تھی- وہاں کوئی سوسائڈ نوٹ (suicide note)نہیں پایا گیا- فلم ڈائرکٹر رام گوپال ورما نے بتایا کہ ضیا خان کو تین سال سے کوئی کام نہیں ملا تھا- اس نے رام گوپال ورما سے ایک ملاقات میں کہا تھاکہ اس کے قریب کا ہر آدمی اس کو یہ احساس دلاتا ہے کہ وہ ناکام ہے:
The last time I met her, Jiah told me that everyone around her makes her feel like a failure.
ضیا خان نے جو کہا، وہ خود کشی کے لیے کوئی عذر (excuse) نہیں ہے- انسان کو چاہئے کہ وہ خود اپنے آپ کو دریافت کرے، نہ یہ کہ وہ اپنے آپ کو ویسا سمجھے جیسا کہ دوسرے لوگ اس کو بتارہے ہیں- حقیقت یہ ہے کہ دنیا غیر ہمدرد (unsympathetic) لوگوں سے بھری ہوئی ہے- اس دنیا میںحقیقی معنوںمیں کوئی شخص دوسرے کا خیر خواہ(well-wisher) نہیں ہوتا، حقیقی معنوں میں کوئی شخص کسی کا اعتراف (acknowledgement)نہیں کرتا- یہ کام آدمی کو خود کرنا ہے کہ وہ اپنے بے لاگ جائزہ سے اپنی قدروقیمت کو متعین کرے- وہ اپنے ذاتی یقین پر کھڑا ہو، نہ کہ دوسروں کے ماننے یا نہ ماننے پر-
عقل مند آدمی وہ ہے جو دوسروں کی تعریف سے خوش نہ ہو اور دوسروں کی تنقید اُس کو غمگین نہ کرے- دوسروں کی تعریف پر خوش ہونے والا آدمی اپنے بارے میں زیادہ اندازہ (overestimation) میں مبتلا ہوجاتا ہے- اِسی طرح دوسروں کی تنقید پر غمگین ہونے والا آدمی اپنے بارے میں کم تر اندازہ (underestimation) کا شکار ہوجاتا ہے- اور دونوں قسم کا مزاج بلا شبہہ آدمی کے لیے یکساں طورپر مہلک ہے-
واپس اوپر جائیں

کسی کی انا کو مت چھیڑیے

ہر آدمی کی ایک انا ہوتی ہے- کوئی آدمی اُسی وقت تک معتدل (normal) رہتا ہے جب تک اس کی انا سوئی ہوئی ہو- جیسے ہی آپ اس کی انا کو چھیڑیں، اس کا اعتدال ختم ہوجائے گا- اِسی حقیقت کا اظہار ایک انگریزی مثل میں اس طرح کیاگیا ہے— ہر گز کسی کو فارگرانٹیڈ نہ لو:
Never take someone for granted.
ہر عورت اور مرد پیدائشی طور پر انا کے ساتھ پیدا ہوتے ہیں- انا (ego) ہر انسان کی شخصیت کا لازمی حصہ ہے، حتى کہ ایسے افراد جو بظاہر متواضع (modest) دکھائی دیتے ہوں، وہ بھی اتنا ہی زیادہ انا کی نفسیات لیےہوئے ہوتے ہیں جتنا کہ بظاہر غیر متواضع انسان- دونوں کے درمیان فرق صرف یہ ہے کہ پہلا شخص اُس وقت انانیت (egoism) کا کیس بنتا ہے جب کہ اس کی انا پر ضرب لگادی جائے، جب کہ دوسری قسم کا انسان ہر وقت کبر (arrogance) کی تصویر بنا رہتا ہے-
ایسی حالت میں سماج کےاندر عافیت کی زندگی گزارنے کا ایک ہی طریقہ ہے، وہ یہ کہ آپ لوگوں کے ساتھ معاملہ کرنے میں بے حد محتاط رہیں اور کبھی کوئی ایسی بات اپنی زبان سے نہ نکالیں جس سے دوسرے کی انا پر ضرب پڑتی ہو-
یہ ایک عملی حقیقت ہے کہ آدمی سماج کے اندر سب سے لڑ کر نہیں رہ سکتا- ایسی حالت میں سماج کے اندر باعافیت زندگی گزارنے کی ایک ہی صورت ہے، اور وہ ہے — دوسروں کے جذبات کی رعایت کرتے ہوئے اس سے معاملہ کرنا-
اِس معاملے میں آدمی کے پاس صرف دو میں سے ایک کا اختیار (choice) ہے، یا تو دوسروں سے  لڑکراپنی زندگی کو غیر ضروری طورپر مشکل بنا لینا، یا اپنے کو بے مسئلہ انسان (no-problem person) بنا کر دوسروں کے شر سے اپنے آپ کو بچالینا- جو آدمی اپنے آپ کو بے مسئلہ بنالے، وہ اِس سے بچ جاتاہے کہ دوسرے انسان اس کے لیے مسئلہ (problem) بنیں-
واپس اوپر جائیں

سوال وجواب

سوال
مسلمانوں کے زوال اور انحطاط کا بنیادی سبب کیا ہے؟ اس زوال وانحطاط کا منبع کہاں ہے- اصلاحِ احوال کی ہر کوشش کیوں ناکام ہوگئی- اور یہ سوال کہ اس زوال وانحطاط کے منبع کو بند کرنے کی تدبیر کیا ہونی چاہئے- کیا اس کا سب سے بنیادی سبب ہمارے بیچ کئی لاکھ حدیث ہے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے وفات کے دو سو سال بعد مرتب کی گئی ہے یا کوئی دوسری وجہ ہے، براہِ کرم رہنمائی فرمائیں- (سید ثاقب علی ہاشمی، پٹنہ، بہار)
جواب
1- امتِ مسلمہ کا زوال کسی پراسرار سبب کی بنا پر نہیں ہے- یہ ایک عام فطری قانون کی بنا پر ہے اور وہ وہی ہے جس کو ابنِ خلدون (وفات: 1406 ) نے اِن الفاظ میں بیان کیا ہے: للأقوام أعمار، کما للأفراد أعمار- جن گروہ کا کوئی نظریہ (ideology) نہ ہو، جس کا مقصد صرف کھانا کمانا ہو، اُس کے لیے یہ ممکن ہے کہ وہ عام حالات میں زوال کا شکار نہ ہو، لیکن ایسا گروہ جوایک نظریہ یا آئڈیالوجی کی بنیاد پر بنے، اُس کے لیے ہمیشہ ایسا ہوتا ہے کہ اس کی بعد کی نسلوں میں نظریاتی ضعف آجاتا ہے- وہ ایک نظریاتی گر وہ کے بجائے صرف ایک قومی گروہ بن کر رہ جاتا ہے- اِسی حالت کا نام زوال ہے-
یہی موجودہ زمانے میں مسلمانوں کا حال ہوا ہے- موجودہ زمانے کے مسلمانوں میں اسلام بطورنظریہ یا اسپرٹ باقی نہیں رہا، اب وہ صرف ایک کلچر کے طور پر باقی ہے، جیساکہ زوال یافتہ قوموں کے درمیان ہمیشہ ہوتا ہے- موجودہ زمانے کے مسلمان ایک کلچرل گروپ کی حیثیت سے زندہ ہیں، نہ کہ ایک نظریاتی گروپ کی حیثیت سے-
موجودہ زمانے میں مسلمانوں کے درمیان بہت سی اصلاحی تحریکیں اٹھیں، مگر وہ سب کی سب اپنے نشانے کو حاصل کرنے میں ناکام رہیں- اِس ناکامی کا سبب یہ تھاکہ موجودہ زمانے کے مسلم رہنماؤں نے اِس مفروضے کے ساتھ اپنا کام شروع کیا کہ یہاں ایک ’’خیرِامت‘‘ موجود ہے اور اس کو زندہ کرنے کے لیے صرف یہ کرنا ہے کہ اس کے اندر جوش وولولہ پیدا کردیا جائے- اقبال کا یہ شعر اِسی ذہن کی نمائندگی کرتاہے:
نوا را تلخ تر می زن چو ذوقِ نغمہ کم یابی حدی را تیز تر می خواں چو محمل را گراں بینی
احیاءِ امت کا صحیح طریقہ یہ ہے کہ سب سے پہلے اِس بات کو تسلیم کیا جائے کہ موجودہ زمانے کے مسلمان خیر امت نہیں ہیں، بلکہ وہ ایک زوال یافتہ امت (degenerated community) ہیں- اِس اعتراف کے بعد آپ کو صحیح نقطہ آغاز مل جائے گا، یعنی لوگوں کے اندر سب سے پہلے ایمانی شعور پیدا کرنا- مزید یہ کہ اصلاحِ امت کا کام اصلاحِ افراد سے شروع ہوگا، اِس طرح نہیں کہ مسلمانوں کی بھیڑ جمع کرکے اسٹیج سے اُن کے سامنے پرجوش تقریر کی جائے- یہ بھی صحیح آغاز نہیں کہ اسلام کے نام سے بڑے بڑے ادارے یا مسلم حکومتیں قائم کی جائیں- اِس قسم کی کوششوں کی مثال ایسی ہی ہے جیسے دیمک زدہ لکڑی پر کوئی عمارت کھڑی کرنا- ایسا منصوبہ اِس دنیا میں کبھی کامیاب نہیں ہوسکتا-
بعض جماعتوں نے اصلاحِ ایمان کے نام سے تحریکیں چلائیں، لیکن اصل نشانے کے اعتبار سے وہ بھی ناکام ہوگئیں- اِس ناکامی کا سبب یہ تھا کہ انھوں نے فضائل کی کہانیاں سنا کر امت کو بیدار کرنا چاہا- یہ ایسا ہی تھا جیسے امانی (2:78) کی بنیاد پر کسی قوم کو اٹھایا جائے- مگر فضائل کی کہانیوں یا امانی کی داستانوں کے ذریعے کسی زوال یافتہ قوم کو دوبارہ زندہ نہیں کیا جاسکتا-
زوال یافتہ امت کو دوبارہ زندہ کرنے کا صحیح طریقہ وہ ہے جو کہ مبنی بر افراد ہو، نہ کہ مبنی بر قوم- اِس طریقے کو قرآن میں بتا دیا گیا ہے- اِس کو سمجھنے کے لیے آپ قرآن کی سورہ الحدید کی آیت 17 کا مطالعہ کیجئے- (تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو راقم الحروف کی کتاب ’’قیادت نامہ‘‘، صفحہ: 180-183)-
2- حدیث کی بنیاد پر مسلمانوں کے درمیان اختلاف پیدا ہونا کوئی مسئلہ نہیں ہے، نہ اُس کا کوئی تعلق زوالِ امت سے ہے (تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو ’’تجدید دین‘‘، صفحہ 21-38) حقیقت یہ ہے کہ اختلاف ایک امرِ فطری ہے، وہ ہمیشہ ہوگا، اختلاف خالق کے تخلیقی منصوبے کا لازمی حصہ ہے- اختلاف کو ختم کرنا کسی انسان کے لیے ممکن نہیں-
موجودہ زمانے کے مسلمانوں کا اصل مسئلہ اختلاف کی موجودگی نہیں ہے، بلکہ برداشت کی عدم موجودگی ہے- زوال یافتہ نفسیات کی بنا پر موجودہ زمانے کے مسلمانوں کا حال یہ ہوا ہے کہ وہ اختلاف کو ڈسکشن کا موضوع نہیں بناتے، اختلاف پیش آتے ہی وہ بر ہم ہوجاتے ہیں، یہ برہمی اتنی زیادہ بڑھتی ہے کہ ٹکراؤ اور جنگ کی نوبت آجاتی ہے- اگر آپ کو مسلمانوں کی اصلاح کرنا ہے تو اختلاف کے خاتمے کی ناممکن الحصول کوشش نہ کیجئے، بلکہ اُن کے اندر برداشت اور تحمل کی صفت پیدا کیجئے- اس کے بعد آپ دیکھیں گے کہ اختلاف ان کے لیے رحمت بن گیا ہے- اختلاف کو اگر ڈسکشن (discussion) کا موضوع بنایا جائے تو اِس سے ذہنی ارتقا ہوتا ہے اور اگر اختلاف کو ختم کرنےکی کوشش کی جائے تو اختلاف تو ختم نہ ہوگا، البتہ قوم برباد ہو کر رہ جائے گی-
سوال
میں ماہ نامہ الرسالہ کا ایک عرصۂ دراز سے مستقل خریدار اور قاری ہوں- آپ کی تحریر کردہ بہت سی کتابیں میں نے پڑھی ہیں- زکوة کے مصارف میں ’’فی سبیل اللہ‘‘ کی مد میں ’’تملیک‘‘ کے ذریعہ زکوة اور فطرہ وغیرہ کی رقم کا استعمال ایک عام بات ہوگئی ہے-
میں سمجھتا ہوں کہ موجودہ دور میں آپ جیسا عالمِ دین ہی غیر جانبداری کے ساتھ ایک تحقیقی مقالہ یا کتاب اِس موضوع پر تحریر کرسکتا ہے جس میں تملیک کی تعریف ، شرعی حیثیت، ابتدا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم، صحابہ کرام اور تابعین کے دور میں تملیک کی موجودگی اور اس پر عمل آوری جیسے سوالات کا تشفی بخش جواب تحریر ہو اور غیر جانبدارانہ تجزیہ بھی ہو- (اقبال حسین، اجین، مدھیہ پردیش)
جواب
زکات کے موضوع پر کافی لکھا گیا ہے- اِس سلسلے میں میں آپ کو تین کتابیں پڑھنے کا مشورہ دوں گا— زکات کا اجتماعی نظام (مولانا ابو الکلام آزاد)، فقہ الزکات (ڈاکٹر یوسف القرضاوی)، مسئلہ تملیک کی شرعی حیثیت (مولانا شہاب الدین ندوی)-
زکات کے معاملے میں ’’لامِ تملیک‘‘ کی بحث صرف ایک فنی بحث ہے، اس کی بنیاد قرآن اور حدیث کے کسی واضح حکم پر مبنی نہیں ہے- جن علمانے لامِ تملیک کا مسئلہ وضع کیا ہے، وہ اُن کا صرف ذاتی استنباط ہے اور استنباط کے معاملے میں ہمیشہ اختلاف کی گنجائش رہتی ہے- آپ کو یہ حق ہے کہ آپ چاہیں تو اِس استنباط کو مانیں، یا اگر آپ کے پاس کوئی دلیل شرعی موجود ہو تو آپ جائز طور پر یہ حق رکھتے ہیں کہ آپ اِس استنباط کو نہ مانیں-
خود ماہ نامہ الرسالہ میں اِس موضوع (زکات کا مسئلہ) پر ایک مضمون چھپ چکا ہے- آپ اس کو بھی ملاحظہ کرسکتے ہیں (ماہ نامہ الرسالہ، جنوری 1997، صفحہ:14-18)-
سوال
عرض ہے کہ میں نے جولائی 2013 کا الرسالہ ملاحظہ کیا- ہمیشہ کی طرح معنی خیز اور علمی باتوں سے مزین ہے اور ہمیشہ کی طرح کچھ نہ کچھ اختلافی باتیں ذہن میں کھٹک پیدا کرنے والی ہیں-آپ نے تبلیغی جماعت کے بارے میں لکھا ہے کہ یہ تحریک لوگوں کو نماز پر کھڑا کرنے کے لیے شروع کی گئی تھی اور بعد کو اس میں غلو اور تعصب آگیا (صفحہ: 15)- پہلی بات تو یہ کہ آپ نے اس کا تعارف غلط پیش کیا ہے- مولانا الیاس کے بقول، وہ اِس تحریک سے یہ چاہتے تھے کہ امت اُسی سطح پر آجائے جہاں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس کو چھوڑ کر گئے تھے- یہ آپ کے قول کے برخلاف، ایک ہمہ گیر عنوان ہے جو اُسی فکر ومنہج کے ساتھ اب تک چلا آتا ہے اور انشاء اللہ چلتا رہےگا- کچھ لوگوں کے ذاتی کردار کو کسی تحریک پر تبصرہ کی شکل میں پیش نہیں کیا جاسکتا، ٹھیک اُسی طرح جیسے کوئی مسلمانوں کے اعمال سے اسلام پر تبصرہ کرے- میں ایک سال کی جماعت سے حال ہی میں لوٹا ہوں، میں نے اِس شجر کی کچھ شاخوں کو تو باغی ضرور پایا ہے، لیکن جڑیں معمولی تغیر کے ساتھ اب بھی مضبوط ہیں، اور اگر آپ کی نظر میں کوئی چیز غلط ہے تو اس کی وضاحت کریں- (عبد الحسیب، کیرانہ،یوپی)
جواب
تبلیغی جماعت کے بارے میں الرسالہ میں جو بات میں نےلکھی ہے، وہ کوئی ذاتی رائے نہیں ہے- مولانا انعام الحسن کاندھلوی (وفات: 2006) جو تبلیغ میں تیسرے ’’حضرت جی‘‘کی حیثیت رکھتے ہیں، وہ مبینہ طور پر کہتے تھے کہ تبلیغی تحریک ایک مسجد وار تحریک ہے- مولانا انعام الحسن کاندھلوی کا یہ بیان کوئی مخفی بیان نہیں ہے، تبلیغ کے سبھی لوگ اس سے واقف ہیں-
دوسری بات یہ کہ میں خود جماعت میں گیا ہوں- میں نے اپنے ذاتی تجربے میں یہی پایا ہے کہ ہر بار مسجد میں ایک ہی قسم کی باتیں کہی جاتی ہیں- ایک ہی قسم کی کتاب پڑھ کر ہمیشہ سنائی جاتی ہے اور تقریر میں ہمیشہ تقریباً ایک ہی قسم کی باتیں کہی جاتی ہیں- میں نے الرسالہ میں جو کچھ لکھا ہے، وہ ایک واقعہ ہے، وہ کوئی ذاتی تبصرہ نہیں-
غلو کی بات جو میں نے لکھی ہے، وہ ایک عام مشاہدے کی بات ہے- مجھ سے بہت سے لوگوں نے یہ بات کہی کہ تبلیغی جماعت میں غلو کا مزاج آگیا ہے- یہ وہ لوگ ہیں جو تبلیغی جماعت سے وابستہ ہیں، وہ اس کے مخالف نہیں- غلو کیا چیز ہے- غلو دراصل جمود (stagnation) کا نام ہے اور یہ ظاہرہ ہر تحریک میں بعد کو پیدا ہوجاتا ہے- تبلیغی جماعت اِس معاملے میں کوئی مستثنیٰ جماعت نہیں-
آپ نے مولانا الیاس کاندھلوی (وفات: 1944) کے جس ملفوظ کا ذکر کیا ہے، وہ ملفوظ بجائے خود درست ہوسکتا ہے، لیکن تحریکیں کسی ملفوظ پر نہیں چلتیں، تحریکوں کے ارتقا کے اپنے اسباب وعوامل (factors) ہوتے ہیں- یہی اسباب وعوامل ہیں جو تحریکوں کے حال اور مستقبل کا فیصلہ کرتے ہیں، نہ کہ کوئی ملفوظ-
سوال
1980 کے شروع کا کوئی مہینہ ہوگا جب میں نے الرسالہ اور مولانا صاحب کی بعض تصانیف دیکھی تھیں- پہلے میںنے الرسالہ کی ایک کاپی اٹھائی اور اس کے اوراق الٹ پلٹ کرکے دیکھا تو اس میں اس وقت چند آیتوں کا ترجمہ اور تفسیر تھی جو میں نے پڑھی اور کافی پسند آئی، پھر میںنے وہ الرسالہ خرید لیا اور اس وقت سے لے کر آج تک الرسالہ خریدتا آرہا ہوں اور بغور پڑھتا آرہا ہوں- الرسالہ ہاتھ میں آنے کے بعد جب تک اس کو پڑھ کر مکمل نہ کرلوں، چین نہیں ملتا - الرسالہ کے ساتھ ساتھ مولانا صاحب کی دیگر تصانیف میں سے 70% کتابیں بھی منگاکر پڑھ چکا ہوں- اس وقت مطالعہ میں جو کتاب چل رہی ہے، وہ ہے ’’کتاب معرفت‘‘-میری تعلیم بہت کم ہے، لیکن الرسالہ کے مسلسل مطالعے سےجو میں نے اثرات قبول کئے، وہ درج ذیل ہیں-
1- سب سے پہلا الرسالہ پڑھ کر محسوس کیا کہ الرسالہ میرے احساس کی علمی پیاس بجھانے والا ایک ذریعہ ہے- الرسالہ کا مطالعہ شروع کرنے سے پہلے میں ہر دینی اجتماع میں شریک ہو کر دینی باتیں سنتا تھا، مگر علمی ذوق تشنہ رہتا تھا- جب الرسالہ کے ساتھ ساتھ دیگر کتابیں بھی پڑھ لیں تو ایسا لگا کہ اب تلاش حق کا ذریعہ الرسالہ اور مولانا کی دیگر تصانیف ہیں- الرسالہ کا مطالعہ کرنے سے پہلے میرا ذہن بند تھا اور پھر محسوس ہواکہ الرسالہ سے پہلے حق کی پکڈنڈیوں پر چل رہا تھا اور اب شاہ راہ پرچلنے لگا ہوں-
2- الرسالہ کا مطالعہ کرنے پہلے میرے ذہن کی یہ حالت تھی کہ میں اگر کسی موضوع پر غور کرتا تو کچھ سوچنے کے بعد میرا ذہن آگے سوچنے سے رک جاتا تھا- اور ایک طرح کی پریشانی محسوس ہوتی تھی- لیکن جب سے الرسالہ پڑھنا شروع کیا، آہستہ آہستہ میرا ذہن کھلتا گیا اور کسی بھی بات پر غور کرنا آسان ہوتا گیا، یہاں تک کہ اب کوئی بھی بات یا مسئلہ آسانی سے سمجھ میں آجاتا ہے- میں نے صرف الرسالہ پر ہی اکتفا نہیں کیا، بلکہ میں نے آپ کی دیگر تصانیف کا بھی مطالعہ کیا-جیسے ’’الاسلام‘‘، ’’تجدید دین‘‘ وغیرہ-
3- ہر ماہ کے الرسالہ کا انتظار رہتا ہے اور ملتے ہی پڑھناشروع کردیتا ہوںاور جب تک ختم نہ کرلوں، چین نہیں ملتا-یہی حال باقی کتابوں کے ساتھ بھی ہوتا ہے-
4- الرسالہ کے مطالعہ سے دین اور دنیا کی اہم معلومات حاصل ہوتی رہتی ہیں-
5- الرسالہ کو مسلسل پڑھتے رہنے سے خود ایسا احساس ہوتاہے کہ آپ خودبھی ڈگری یافتہ ہوگئے ہیں- جن حضرات نے اپنی تعلیم ادھوری چھوڑ دی ہو، وہ مولانا کا لٹریچر پڑھیں-
6- الرسالہ کے مطالعہ سے ذہن کا ارتقا ہوتا ہے- ذہن میں سوچنے سمجھنے کی صلاحیت پیدا ہوتی ہے، اور ہم خود ہی غور فکر کرنے لگتے ہیں-
7- الرسالہ کے مسلسل پڑھتے رہنے سے آدمی اپنی گفتگو میں مثبت انداز اختیار کرتا ہے-
8- الرسالہ کے متواتر مطالعہ سے اپنے اندر کی جھجھک بھی دور ہوجاتی ہے- کسی مسئلہ پر چند صاحبان کے درمیان خود بھی کچھ بولنے کی ہمت پیدا ہوجاتی ہے-
9- الرسالہ کے پڑھنے والوں کے اندر سنجیدگی پیدا ہوجاتی ہے-
10- الرسالہ پڑھنے والے حضرات لایعنی باتوں سے پرہیز کرتے ہیں اور اپنے آپ خاموشی سے غور وفکر میں مشغول ہوتے ہیں الرسالہ کا مشن ہی یہ ہے کہ ہر مسلمان آخرت پسند بنے-
11- الرسالہ کے لگاتار پڑھنے سے سب سے بڑا فائدہ قرآن وحدیث کی تفسیر پڑھنے سے ملتا ہے - گویا الرسالہ کے مطالعہ سے ہم تفسیر کا مطالعہ بھی جاری رکھے ہوتے ہیں-
12- الرسالہ کے مسلسل مطالعے کے ذریعہ ہمارے ذہن میں پیدا ہونے والے سوالوں کے جوابات بھی ملتے رہتے ہیں-
13- الرسالہ کے مسلسل مطالعے سے اپنی اردو کے ساتھ انگریزی بھی ٹھیک ہوجاتی ہے- جن الفاظ کے معنی ہم ڈکشنری میں نہیں دیکھ سکتے، وہ الرسالہ میں مل جاتے ہیں-
14- ڈگری یافتہ حضرات کے لئے صرف ڈگری کافی نہیں ہوتی، ان کو چاہئےکہ وہ کسی عالمِ دین کے لٹریچر کا مطالعہ کریں- مطالعہ کے لئے مولانا صاحب کا لٹریچر بہترین لٹریچر ہے- ساتھ میں الرسالہ کا بھی مطالعہ جاری رکھیں-
آخر میں مولانا صاحب کا شکریہ اداکرنا چاہتا ہوں جنھوں نے الرسالہ کے ذریعے اور اپنی تصانیف اور لٹریچر سے ہم کو ایک اچھا مسلمان اور ہندستان کے لئے ایک اچھا شہری بننے میں بہت مدد دی ہے- (سرفراز الدین، ٹیلر ماسٹر، بنگلور)
جواب
یہ تحریر اِس بات کی ایک اچھی مثال ہے کہ دعوت کا نشانۂ عمل متلاشی افراد (individual seekers) ہیں، نہ کہ بھیڑ ایکٹوزم (crowd activism) ، یعنی متلاشی افراد کو لے کر اُن پر محنت کرنا، نہ کہ بھیڑ اکھٹا کرکے اُن کے سامنے تقریریں کرنا-
ہر سماج میں ایسے افراد موجود ہوتے ہیں جن کے اندر روحِ تجسس (spirit of inquiry) پائی جاتی ہے، جو افکار کے جنگل میں یہ جاننا چاہتے ہیں کہ سچائی کیا ہے- دعوت کا عمل ابتداء ً عمومی انداز میں شروع ہوتا ہے، لیکن اِس عمل کا مقصد متجسس افراد کو دریافت کرنا ہے- جب داعی کو ایسے افراد مل جائیں تو اس کو چاہئے کہ وہ ایسے افراد پر اپنی ساری طاقت خرچ کرے-
اِس معاملے میں داعی کا مزاج چیونٹی جیسا مزاج ہوتاہے- چیونٹی جب کسی ڈھیر کو پاتی ہے تووہ یہ نہیں دیکھتی کہ وہاں دوسری کیا کیا چیزیں موجودہیں- وہ صرف شکر (sugar)کے دانوں کو دیکھتی ہے اور اپنی پوری توجہ شکر کے اِنھیں دانوں پر لگا دیتی ہے- یہی داعی کا طریقہ ہے- داعی کو چاہئے کہ وہ اِسی چیونٹی کلچر کو اختیار کرے-
اجتماعی حالات خواہ کتنے ہی زیادہ بگڑے ہوئےہوں، لیکن ہر سماج میں متلاشی حق افراد ضرور موجود ہوتے ہیں- ایسے ہی افراد داعی کا اصل سرمایہ ہیں- یہ افراد تعلیم یافتہ بھی ہوسکتے ہیں اور غیر تعلیم یافتہ بھی- وہ سند اور ڈگری رکھنے والے بھی ہوسکتے ہیں اور سند اور ڈگری نہ رکھنے والے بھی— مذکورہ خط اِس معاملے کی ایک اچھی مثال ہے-
واپس اوپر جائیں

Tuesday, 1 October 2013

Al Risala | October 2013 (الرسالہ،اکتوبر)

2

-کتابِ مہجور

4

- قرآن کے ساتھ تعلق

5

- کلچرل ڈی کنڈیشننگ

6

- سورہ الفاتحہ کا پیغام

9

- وحدتِ ادیان کا نظریہ

17

- تاریخ کا ربانی سفر

34

- خدا کا وجوداور سائنس

40

- اپنی صلاحیتوں کا کم تر استعمال

41

- نفسیاتی مسئلہ

42

- شکایت بے فائدہ

43

- خبرنامہ اسلامی مرکز— 224


کتابِ مہجور

قرآن کی سورہ الفرقان میں ایک آیت ہجرانِ قرآن کے بارے میں آئی ہے- اس کے الفاظ یہ ہیں: وَقَالَ الرَّسُوْلُ یٰرَبِّ اِنَّ قَوْمِی اتَّخَذُوْا ھٰذَا الْقُرْاٰنَ مَہْجُوْرًا (25:30) یعنی رسول کہے گا کہ اے میر ے رب، بے شک میری قوم نے اِس قرآن کو ایک متر وک کتاب بنا دیا-
قرآن ایک ابدی کتاب ہے- قرآن کی تعلیمات ہر دور کے انسانوں پر بلا تفریق منطبق ہوتی ہیں- قرآن اُسی طرح مسلمانوں کی حالت پر بھی اپلائی (apply) ہوتا ہے جس طرح غیر مسلموں کی حالت پر- مسلمان اگر قر آن کو کتابِ مہجور (abandoned book) بنا دیں تو وہ بھی یقیناً اِس آیت کا مصداق بن جائیں گے-قرآن میں یہود کے بارے میں بتایا گیا ہے کہ انھوں نے بعد کے زمانے میں اللہ کی کتاب کو پسِ پشت ڈال دیا: نَبَذَ فَرِیْقٌ مِّنَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْکِتٰبَ ڎ کِتٰبَ اللّٰہِ وَرَاۗءَ ظُہُوْرِھِمْ کَاَنَّھُمْ لَا یَعْلَمُوْنَ (2:101)-
کتاب کو چھوڑنا کیوں کر ہوتا ہے- اِس کا جواب یہود کی تاریخ سے معلوم ہوتا ہے- یہود کے پاس اللہ کی کتاب آئی تھی، لیکن بعد کے زمانے میں ایسا ہوا کہ یہود کے علما نے بطور خود کتاب الہی کی جو تشریح وتعبیر کی، وہی یہود کے لیے اُن کے دین کا اصل ماخذ بن گئی- کتاب الہی کو وہ بدستور ایک مقدس کتاب کے طورپر مانتے تھے، لیکن عملاً وہ اپنے علما کے وضع کردہ دین پر قائم تھے-
یہی بعد کے زمانے میں مسلمانوں کا بھی حال ہوا ہے، بعد کے زمانے کے مسلمانوں کے لیے قرآن ایک مقدس کتاب (Holy Book) کی حیثیت اختیار کرچکا ہے- ان کے علما نے فقہ اور کلام اور فلسفہ اور تصوف کی صورت میں دین کا جو ورژن (version)تیار کیا ہے، وہی کتابی صورت میں مدوّن ہو کر عملی طورپر ان کے لیے دین کا ماخذ بن گیا ہے-
کتاب مہجور کا ظاہرہ کوئی انوکھا ظاہرہ نہیں ہے، یہ ہر مذہبی گروہ میں بعد کے زمانے میں پیش آتا ہے- قدیم زمانے میں یہی واقعہ یہود ونصاری کے ساتھ پیش آیا تھا- یہود ونصاری نے کلی معنی میں اپنے مذہب کوکبھی نہیں چھوڑا، لیکن مذکورہ معنوں میں ہر ایک نے اپنے مذہب کو چھوڑ رکھا ہے- یہود ونصاری کا دین اصلاً اللہ کی طرف سے آیا ہوا دین تھا، جو اُن کو اپنے پیغمبروں کے ذریعے ملا تھا- لیکن بعد کو اُن کے علما اپنی تشریح وتعبیر کے ذریعے اس میں تبدیلی اور اضافہ کرتے رہے، یہاں تک کہ اُن کے یہاں ایک متوازی مذہب (parallel religion) تیار ہوگیا- اب یہود ونصاری اِسی متوازی مذہب پر ہیں، نہ کہ اپنے پیغمبروں کے ذریعے ملے ہوئے اصل خدائی مذہب پر-
حدیث میں امتِ مسلمہ کے بارے میں آیا ہے: لتتبعن سنن من کان قبلکم شبرا بشبر وذراعا بذراع حتى ولو دخلوا جحر ضب تبعتموہم (صحیح البخاری، رقم الحدیث: 7320) یعنی تم ضرور پچھلی امتوں کے طریقوں کا اتباع کروگے- قدم بہ قدم، یہاں تک کہ اگر وہ کسی گوہ کے بل میں داخل ہوں گے تو تم بھی وہاں داخل ہوجاؤگے-
حدیثِ رسول کی یہ پیشین گوئی آج پوری طرح واقعہ بن چکی ہے- آج مسلمان عملاً جس دین پر ہیں، وہ اصلاً قرآن اور سنت والا دین نہیں ہے- وہ ایک متوازی دین ہے جو اُن کے علمااور مشائخ نے بعد کے زمانے میں اسلام کے نام پر تیار کیا- یہی وجہ ہے کہ موجودہ زمانے کے مسلمانوں میں اگرچہ بظاہر دین کے نام پر بہت سی سرگرمیاں جاری ہیں، لیکن حقیقت کے اعتبار سے، وہ دین کہیں نظر نہیں آتا جو رسول اور اصحابِ رسول کے زمانے میں پایا جاتا تھا-
موجودہ زمانے کے مسلمانوں کے لیے قرآن ایک مقدس کتاب ہے، لیکن وہ اُن کے لیے رہنماکتاب نہیں ہے- موجودہ زمانے کے مسلمانوں کے لیے پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم قومی فخر کا ذریعہ ہیں، لیکن وہ ان کے لیے اسوۂ حیات نہیں- یہ ایک حقیقت ہے کہ موجودہ زمانے کے مسلمانوں نے قرآن کو ایک کتاب مہجور بنادیا ہے، لیکن یہ ہجران بہ اعتبار عمل (in terms of practice) ہے، نہ کہ بہ اعتبار عقیدہ (in terms of belief)- قرآن کو وہ بدستور ایک مقدس کتاب مانتے ہیں، لیکن ان کی عملی زندگی سے قرآن کا کوئی تعلق نہیں-
واپس اوپر جائیں

قرآن کے ساتھ تعلق

ایک روایت حدیث کی مختلف کتابوں میں آئی ہے- صحیح البخاری میں فضائل القرآن کے باب کے تحت یہ روایت اِن الفاظ میںآئی ہے: تعاہدوا القرآن، فو الذی نفسی بیدہ لہو أشد تفصّیاً من الإبل فی عُقُلہا (رقم الحدیث: 5033) یعنی تم قرآن کی حفاظت کرو- اُس ذات کی قسم، جس کے قبضے میں میری جان ہے، جس طرح اونٹ اپنی رسی سے آزاد ہو کر نکل جاتا ہے، قرآن اس سے بھی زیادہ تیزی سے نکل جانے والا ہے-
اِس حدیث میں ’’تعاہُد‘‘ کے لفظ سے وہی گہرا تعلق مرادہے جس کو کمٹمینٹ (commitment) کہاجاتا ہے- اِس حدیث میں جو بات کہی گئی ہے، وہ معروف معنی میں صرف ’’حافظِ قرآن‘‘ کی نسبت سے نہیں ہے، بلکہ وہ ہر مومن کی نسبت سے ہے-
اِس حدیثِ رسول کا مطلب یہ ہے کہ قرآن کے ماننے والوں کو چاہیے کہ وہ قرآن پر مسلسل غور وفکر کرتے رہیں، وہ قرآن میں تدبر کو اپنے تفکیری عمل (thinking process)میں شامل کردیں- جو شخص ایسا نہ کرے، وہ بہت جلد ذہنی طورپر قرآن سے دور ہوجائے گا-
موجودہ دنیا میں آدمی اِس طرح زندگی گزارتا ہے کہ اس کے ذہن میں ہر لمحہ مختلف قسم کی باتیں داخل ہوتی رہتی ہیں- ایسی حالت میں قرآن کے معانی کو مستحضر رکھنے کا واحد طریقہ یہ ہے کہ آدمی مسلسل طور پر قرآن کو اپنی سوچ کا موضوع بنائے ہوئے ہو-
قرآن کے ساتھ فکری تعلق کو مسلسل طور پر قائم کرنے کی ضرورت صرف اِس لیے نہیں ہے کہ قرآن کے احکام یا اس کے مضامین آدمی کے ذہن میں مستحضر رہیں- اِس سے زیادہ اہم بات یہ ہے کہ قرآن کے ساتھ تعاہد آدمی کو اِس قابل بناتا ہے کہ وہ قرآن کے گہرے معانی تک پہنچ سکے- وہ قرآن کے نئے نئے معانی کی دریافت کرتا رہے اور اس طرح وہ اپنے ایمان میں مسلسل اضافہ کا سامان کرسکے-
واپس اوپر جائیں

کلچرل ڈی کنڈیشننگ

ابو ذر غفاری ایک صحابی ہیں- ان کے یہاں ایک غلام تھا جو سیاہ فام نسل سے تعلق رکھتا تھا- ابو ذر غفاری کو کسی وجہ سے اپنے غلام پر غصہ آگیا- انھو ں نے اس کو مخاطب کرتے ہوئے کہا: یا ابنَ السوداء (اے سیاہ فام عورت کی اولاد)- رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو معلوم ہواتو آپ نے ابو ذر غفاری سے فرمایا: إنک امرؤ فیک جاہلیة (صحیح البخاری، رقم الحدیث: 30) یعنی تم ایسے شخص ہو جس کے اندر ابھی تک جاہلیت موجود ہے-
اِس قولِ رسول کا مطلب یہ ہے کہ تمھارے اندر ابھی تک پچھلے دور کے اثرات موجود ہیں- اصل یہ ہے کہ ہر آدمی ایک کلچرل ماحول میں پیدا ہوتا ہے- اِسی کلچر میں پرورش پاکر وہ بڑا ہوتا ہے- وہ روزانہ اِس کلچر کے اثرات قبول کرتا رہتا ہے، کبھی شعوری طور پر اور زیادہ تر غیر شعوری طورپر، یہاں تک کہ اس کی سوچ اور اس کا شعور سب اُسی کلچر میں ڈھل جاتے ہیں- اِسی کا نام کنڈیشننگ (conditioning) ہے- اِس کلچرل کنڈیشننگ سے کوئی بھی عورت یا مرد خالی نہیں-
جب کوئی شخص اسلام قبول کرتا ہے تو ایسا ہوتا ہے کہ، نظری طورپر اسلام کے دائرے میں داخل ہونے کے باوجود، کلچر کے اعتبار سے اس کی سوچ اور اس کی عادات پہلے کی طرح باقی رہتی ہیں- ایسی حالت میں ضرورت ہوتی ہے کہ آدمی کی سوچ کو بدلا جائے، تاکہ وہ کلچر کے اعتبار سے اپنی ڈی کنڈیشننگ (de-conditioning)کرسکے-
یہ کلچرل ڈی کنڈیشننگ (cultural de-conditioning)ایک بے حد مشکل کام ہے- یہ مشکل کام صرف وہی شخص کرسکتا ہے جس کا شعور اتنا زیادہ بے دار ہو کہ وہ سختی کے ساتھ اپنا محاسبہ کرے- وہ نہایت بے رحمی کے ساتھ اپنے اندر سے پچھلے دور کے کلچرل اثرات کو دھو ڈالے — کلچرل ڈی کنڈیشننگ کی ضرورت صرف نو مسلموں کے لیے نہیں ہے، بلکہ وہ پیدائشی مسلمانوں کے لیے بھی یکساں طورپر ضروری ہے-
واپس اوپر جائیں

سورہ الفاتحہ کا پیغام

الفاتحہ قرآن کی پہلی سورہ ہے- اِس سورہ کا ترجمہ یہ ہے: ’’حمد صرف اللہ کےلیے ہے جو سارے عالَم کا رب ہے- وہ رحمان اور رحیم ہے- روزِ جزا کا مالک ہے- ہم تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور ہم تجھ ہی سے مدد چاہتے ہیں- ہم کو صراطِ مستقیم پر چلا- اُن کا راستہ جن پر تو نے انعام کیا- اُن کا راستہ نہیں جن پر تیرا غضب ہوا، اور نہ اُن لوگوں کاراستہ جو صراطِ مستقیم سے بھٹک گئے‘‘-
قرآنمیںاِس سورہ کا نام الفاتحہ ہے- فاتحہ کا لفظی مطلب ہے:ابتدا (The Opening)- یہ لفظ ترتیب کو بتاتا ہے، یعنی 114 سورتوں کی کتاب کی پہلی سورہ- مفسر صحابی عبد اللہ بن عباس نے کہا کہ: أساس القرآن الفا تحة(القرطبی 1/113)- یہ قول اِس سورہ کے معنوی پہلو کو بتاتا ہے- اساس کا لفظی مطلب ہےبنیاد- اِس کا مطلوب یہ ہے کہ سورہ الفاتحہ میں، قرآن کی تمام بنیادی باتیں (fundamentals) بیان کردی گئی ہیں- دوسرے لفظوں میں یہ کہ سورہ الفاتحہ قرآن کی تعلیمات کا خلاصہ ہے-
سورہ الفاتحہ کے مضامین کو 5 عنوانات کے تحت تقسیم کیا جاسکتاہے— (1) خدا کی معرفت یعنی خدا کے وجود کو شعورکی سطح پر دریافت کرنا- (2) انسان کے بارے میں خدا کے تخلیقی منصوبہ کی دریافت- (3) اللہ کا عبادت گزار بننا جو اللہ کی معرفت کا لازمی نتیجہ- (4) ربانی ماڈل کی نظری دریافت (5) ربانی ماڈل کی عملی ردیافت اور اس کے مطابق، اپنی زندگی کی تعمیر وتشکیل-
1- ’’حمدصرف اللہ کے لیے ہے جو سارے عالم کا رب ہے- وہ رحمان اور رحیم ہے‘‘- یہ الفاظ بتاتے ہیں کہ خدا کی دریافت کا مطلب کیاہے- اِس کا مطلب یہ ہے کہ ایک آدمی اپنے شعور کو اتنا زیادہ بیدار کرے جب کہ وہ خدا کو ایک ایسی ہستی کے طورپر پالے جس کا ایک مستقل وجود ہے، جو سارے عالم کو پیدا کرنے والا اور اس کو کنٹرول کرنے والا ہے- خدا کی سب سے بڑی صفت رحمت اور رافت کی صفت ہے- اِس دریافت کو ایک لفظ میں ربانی دریافت کہاجاسکتا ہے- اِس دریافت کا لازمی نتیجہ یہ ہوتاہے کہ انسان کے اندر یقین کا چشمہ ابل پڑتا ہے- وہ ایک تھرل (thrill) کے ساتھ کہہ اٹھتا ہے کہ خدایا، ساری تعریف تیرے لیے ہے اور ساری عظمت (glory) تیرے لیے-
2- ’’وہ روزِ جزا کا مالک ہے‘‘ — روزِ جزا (Day of Judgement) کا مالک ہونا، خداکے پورے تخلیقی منصوبے کو بتاتا ہے- یہ الفاظ بتارہے ہیں کہ انسان کی تخلیق اتفاقی طور پر یا بے مقصد نہیں ہوئی ہے- وہ ایک اعلی منصوبہ بند (well-planned) تخلیق ہے- اِس منصوبے کے مطابق، موجودہ دنیا ایک امتحان گاہ(testing ground) ہے- یہاں افرادِ کو ان کے ریکارڈ کے مطابق، منتخب کیا جارہا ہے- اِس کے بعد ایک وقت آئے گا، جب کہ موجودہ امتحانی دورِ حیات ختم ہواور دوسرا دورِ حیات آئے، جہاں ہر انسان کے لیے اس کے ریکارڈ کے مطابق، اس کے ابدی مستقبل کا فیصلہ کیا جائے-
3- ’’ہم تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور تجھ ہی سے مدد چاہتے ہیں‘‘ — عبادت اور استعانت دونوں ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں- جب ایک انسان کو اللہ کی معرفت حاصل ہوتی ہے تو اس کے لازمی نتیجے کے طورپر وہ اللہ کے آگے سرینڈر کردیتاہے- اِس سرینڈر کا ایک پہلو عبادت ہے اور دوسرا پہلو استعانت- اپنے وجود کی سطح پر اِس کا جو اظہار ہوتاہے، اسی کا نام عبادت ہے- اِسی کے ساتھ وہ اللہ سے اِس کا طالب بن جاتاہے کہ وہ اس کو حقیقی فلاح عطا کرے- اِسی کا نام استعانت باللہ ہے-
4- ’’ہم کو سیدھے راستے پر چلا‘‘ — جب انسان کو حقیقت کی دریافت ہوتی ہے تو اسی کے ساتھ وہ یہ بھی جان لیتا ہے کہ افکار کے جنگل میں اپنے لیے ذاتی طورپر زندگی کا صحیح راستہ دریافت کرنا اس کے لیے ممکن نہیں- یہ واقعہ اس کو متلاشی (seeker) بنا دیتا ہے- وہ اپنے دل کی گہرائیوں کے ساتھ اِس بات کا طالب بن جاتاہے کہ خدا کی مدد سے وہ اپنے لیے صحیح نظریۂ حیات (ideology of life) سے واقف ہوسکے- صحیح نظریہ حیات کی یہ طلب اس کو اپنے پورے دل اور اپنے پورے دماغ کے ساتھ دعا گو بنادیتی ہے- اِس طرح کی حقیقی دعا جب کسی کے اندر پیدا ہوجائے تو وہ اپنے آپ میں اس بات کی ضامن ہوتی ہے کہ خدا اس کو صراطِ مستقیم کی طرف رہنمائی عطا کرے-
5- ’’اُن لوگوں کا راستہ جن پر تونے انعام کیا، اُن لوگوں کا راستہ نہیں جن پر تیرا غضب ہوا، اور نہ اُن لوگوں کا راستہ جو صراطِ مستقیم سے بھٹک گئے‘‘ — مراد صراطِ مستقیم کا عملی ماڈل ہے، یعنی وہ ہدایت یاب انسان جو اپنی زندگی میں ہدایت الہی کو عملاً اختیار کرلے اور اِس طرح وہ دوسروں کے لیے ماڈل بن جائے-انعام کے اِس معاملے کی مزید وضاحت قرآن کی سورہ النساء کی اِس آیت سے معلوم ہوتی ہے: وَمَنْ یُّطِعِ اللّٰہَ وَالرَّسُوْلَ فَاُولٰۗىِٕکَ مَعَ الَّذِیْنَ اَنْعَمَ اللّٰہُ عَلَیْہِمْ مِّنَ النَّبِیّٖنَ وَالصِّدِّیْقِیْنَ وَالشُّہَدَاۗءِ وَالصّٰلِحِیْنَ ۚ وَحَسُنَ اُولٰۗىِٕکَ رَفِیْقًا (4:69) یعنی جو اللہ اور رسول کی اطاعت کرے گا، وہ اُن لوگوں کے ساتھ ہوگا جن پر اللہ نے انعام کیا، یعنی پیغمبر اور صدیق اور شہید اور صالح- کیسی اچھی ہے ان کی رفاقت-
قرآن کی اِس آیت میں چار ایسے گروہوں کا ذکر ہے جو اللہ کے انعام کے مستحق قرار پائے- وہ چار گروہ یہ ہیں — انبیا، صدیقین ، شہدا، اور صالحین- یہ چار گروہ صراطِ مستقیم کے لیے عملی ماڈل کی حیثیت رکھتے ہیں- تاہم اِن چاروں گروہ کی حیثیت یکساں نہیں- انبیا کو خدا کی طرف سے براہِ راست رہنمائی حاصل ہوتی ہے- اِس لیے ابنیا کی حیثیت اِس معاملے میں اصلاً ہے، اور دوسرے گروہوں کی حیثیت تبعاً- دوسرے لفظوں میں یہ کہ انبیاکی حیثیت اِس معاملے میں مطلق طورپر ہے، اور دوسرے کی حیثیت اضافی طور پر- انبیا کو اُن کی وحی کی نسبت سے پہچاننا ہے، جب کہ دوسرے گروہوں کو اِس اعتبار سے کہ انھوں نے انبیا کا کامل اتباع کیا- گویا انبیاکو جانچنے کا معیار وحی الہی ہے، اور بقیہ دوسرے لوگوں کو جانچنے کا معیار اتباعِ رسول-
مغضوب اور ضال دونوں ایک ہی کردار کے دو درجے ہیں- ضال سے مراد وہ انسان ہے جو سچائی کے راستے سے بھٹک گیاہو- اور مغضوب سے مراد وہ انسان ہے جس کا بھٹکاؤ صرف بھٹکاؤ نہ ہو، بلکہ لمبی مدت کی کنڈیشننگ کے بعد وہ اپنے مسلک پر اتنا پختہ ہوجائے کہ اس کی واپسی کی امید باقی نہ رہے- (2012)
واپس اوپر جائیں

وحدتِ ادیان کا نظریہ

نجات کا دارومدار
قرآن کی سورہ البقرہ میں ارشاد ہوا ہے: اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَالَّذِیْنَ ھَادُوْا وَالنَّصٰرٰى وَالصّٰبِـــِٕیْنَ مَنْ اٰمَنَ بِاللّٰہِ وَالْیَوْمِ الْاٰخِرِ وَعَمِلَ صَالِحًا فَلَھُمْ اَجْرُھُمْ عِنْدَ رَبِّہِمْ ګ وَلَا خَوْفٌ عَلَیْہِمْ وَلَا ھُمْ یَحْزَنُوْنَ(2:62) یعنی جو لوگ ایمان لائے اور جو لوگ یہودی ہوئے اور نصاریٰ اور صابی، ان میں سے جو شخص ایمان لایا اللہ پر اور آخرت کے دن پر اور اس نے نیک کام کیا تو اس کے لئے اس کے رب کے پاس اجر ہے۔ اور ان کے لئے نہ کوئی ڈر ہے اور نہ وہ غم گین ہوں گے-
قرآن کی اِس آیت میں دراصل گروہی نجات (group-wise salvation) کی نفی ہے- اِس کا مطلب یہ ہے کہ بعد کے زمانے میں ہر پیغمبر کے نام پر نسلی گروہ بن جاتے ہیں- ہر نسلی گروہ اپنی فضیلت کا مدعی ہوتاہے- وہ یہ عقیدہ بنا لیتاہے کہ نجات صرف ہمارے گروہ کے لیے ہے، گروہ سے باہر کے افراد کے لیے نہیں- مبنی برگروہ نجات کا یہ تصور تمام تر اللہ کے تخلیقی منصوبے کے خلاف ہے- قرآن کی مذکورہ آیت میں اِسی خود ساختہ عقیدے کی تردید کی گئی ہے اور یہ بتایا گیاہےکہ نجاتِ اُخروی کا تعلق ہر فرد کے اپنے ذاتی عمل سے ہے، نہ کہ کسی مخصوص نسلی گروہ کے ساتھ نسلی تعلق سے-
مثلاً یہود نے بعد کے دور میں یہ عقیدہ بنا لیا کہ وہ اللہ کا منتخب گروہ (chosen people) ہیں- نجات صرف اُس شخص کے لیے ہے جو اِس یہودی گروہ سے تعلق رکھتا ہو- مسیحی لوگوں نے یہ عقیدہ بنایا کہ فرزند ِ خدا (son of God) ان کے گناہوں کے لیے مصلوب ہوگئے، اِس لیے نجات صرف اُن کے گروہ کا حق ہے- یہی معاملہ بعد کے دور میں خود مسلمانوں کے ساتھ پیش آیا- مسلمانوں نے خودساختہ طورپر یہ عقیدہ بنا لیا کہ ہم خیر الامم ہیں، ہم اللہ کا خصوصی گروہ ہیں، نجات صرف اُس شخص کے لیے  ہے جو اِس گروہ میں شامل ہو- قرآن کی مذکورہ آیت میں بتایا گیا ہے کہ اِن نسلی گروہ بندیوں کا نجات سے کوئی تعلق نہیں، نجات کا تعلق ہر فرد کے ذاتی عمل سے ہے، نہ کہ کسی گروہ کے ساتھ نسلی تعلق سے-
قرآن کی اِس آیت میں بتایا گیاہے کہ کسی انسان کی نجات کا مدار ایمان اور عمل صالح پر ہے- اِس میں ایمان بالرسول اپنے آپ شامل ہے-جو شخص بھی آخرت کی نجات کا حریص ہو، وہ لازماً رسول کا مومن بن جائے گا، کیوں کہ رسول کے بغیر یہ جاننا ممکن نہیں کہ ایمان کیا ہے اور عملِ صالح کیا- ختمِ نبوت کے بعد مستند رسول کی حیثیت صرف محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو حاصل ہے- اِس اعتبار سے، یہ کہنا صحیح ہوگا کہ اب نجات صرف اُس شخص کے لیے ہے جو محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی رہنمائی کے مطابق، ایمان اور عملِ صالح کی زندگی اختیار کرے-
خاتم النبیین کے مستند ماڈل ہونے کی بات صرف عقیدے کی بات نہیں ہے، بلکہ وہ علمی اور عقلی اعتبار سے، پوری طرح قابل فہم بات ہے- بجائے خود یہ بات درست ہے کہ پچھلے زمانوں میں خدا کی طرف سے بہت سے پیغمبر آئے اور انھوںنے انسان کو ایمان اور عملِ صالح کی تلقین کی- اب آج کے لوگوں کے لیے اِن پیغمبروں سے ہدایت لینے کا طریقہ کیا ہوگا، وہ صرف ایک ہے اور وہ ہے تاریخی استناد - اِس معاملے میں آج کے انسان کے لیے صرف ایک راستہ ہے، وہ یہ کہ وہ تمام پیغمبروں کے ورثہ کو تاریخ کے معیار پر جانچے اور پھر جس پیغمبر کو وہ تاریخی طورپر مستند پائے، اس کو وہ اپنے رہنما کے طورپر اختیار کرلے- یہی اِس معاملے میں صحیح علمی اور عقلی طریقہ ہے-اِس معاملے میں یقین کے ساتھ کہا جاسکتا ہے کہ تمام پیغمبروں میں ایک ہی پیغمبر ہیں جو تاریخی استناد کے معیار پر پورے اترتے ہیں اور وہ خاتم النبیین محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہیں-
وحدتِ ادیان
وحدتِ ادیان ایک مشہور مذہبی نظریہ ہے- دنیا میں بڑی تعداد میںایسے لوگ ہیں جو اِس نظریے پر عقیدہ رکھتے ہیں- مثال کے طورپر مغربی دنیا کے مشہور اسکالر ڈبلوسی اسمتھ (Wilfred Cantwell Smith, d. 2000) اور انڈیا کے مشہور ہندو عالم آچاریہ ونوبا بھاوے (وفات: 1982)، وغیرہ- اِس موضوع پر مختلف زبانوں میں بہت سی کتابیں لکھی گئی ہیں- اُن میں سے ایک کتاب وہ ہے جس کو ڈاکٹر بھگوان داس (وفات: 1958) نے طویل مدت کے مطالعے کے بعد تیار کیا ہے- اِس کتاب کا نام یہ ہے:
Essential Unity of All Religions by Dr. Bhagwan Das, Bombay (1990)
وحدتِ ادیان ایک مستقل مذہبی نظریہ ہے- اِس نظریے کے ماننے والوں کا کہنا ہے کہ — تمام موجود مذاہب اپنی حقیقت کے اعتبار سے، ایک ہیں- اُن میں جو فرق ہے، وہ اس کے ظاہری فارم (form) کے اعتبار سے ہے اور فارم کا یہ فرق اضافی (relative) ہے، نہ کہ حقیقی (real) - اِس نظریے کے مطابق، تمام موجود مذاہب سچے ہیں- اُن میں سے جس مذہب کو بھی آدمی اختیار کرے، وہ اس کے لیے نجات (salvation) کا ذریعہ بن جائے گا، نجات کسی ایک مذہب کی اجارہ داری نہیں-
جو لوگ وحدتِ ادیان کے اِس نظریے کو مانتے ہیں، وہ عام طورپر اِس کے حق میں دو دلیلیں دیتے ہیں- اُن کی ایک دلیل یہ ہے کہ یہی واحد نظریہ ہے جس کے ذریعے دنیا میں سماجی ہم آہنگی (social harmony) قائم کی جاسکتی ہے- اُن کے نزدیک مختلف گروہوں کے درمیان ٹکراؤ اور تشدد کا سبب مذہبی اختلاف ہے- اگر یہ مان لیا جائے کہ اپنی حقیقت کے اعتبار سے، تمام مذاہب ایک ہیں تو مختلف گروہوںکے درمیان جاری رہنے والے ٹکراؤ اور تشدد کا خاتمہ ہوجائے گا- اُن کی دوسری دلیل یہ ہے کہ مذاہب کے درمیان اختلاف محض ظاہری ہے- گہرائی کے ساتھ مطالعہ کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ تمام مذاہب حقیقتاً ایک ہیں- یہ دراصل ایک ہی ابدی سچائی ہے جو مختلف صورتوں میں ظاہر ہوئی ہے-
وحدتِ ادیان اور سماجی ہم آہنگی
اِس معاملے کا تجزیہ بتاتا ہے کہ وحدتِ ادیان کے نظریے کا سماجی ہم آہنگی سے کوئی تعلق نہیں- بالفرض اگر یہ مان لیاجائے کہ تمام مذاہب ایک ہیں، تب بھی لوگوں کے درمیان بہت سے اختلاف (differences) باقی رہیں گے اور دوبارہ یہ مسئلہ موجود رہے گا کہ لوگوں کو اختلاف کی بنیاد پر ٹکراؤ سے کس طرح بچایا جائے- مثلاً تیرھویں صدی عیسوی میں صلیبی جنگ مذہب کے نام پر ہوئی تھی- اس کے بعد پہلی عالمی جنگ اور دوسری عالمی جنگ ، دونوں ایسے اختلاف کی بنیاد پر ہوئیں جن کا مذہب سے کو ئی تعلق نہ تھا-اصل یہ ہے کہ فرق واختلاف فطرت کا حصہ ہے- انسانی زندگی میں فرق واختلاف خود انسان کا پیدا کردہ نہیں ہے، بلکہ وہ تمام تر خود فطرت کے نظام کا حصہ ہے- ایک اسکالر نے درست طورپر کہا ہے کہ— فطرت یکسانیت سے نفرت کرتی ہے(Nature abhors uniformity)
حقیقت یہ ہے کہ اِس معاملے کا حل اختلاف کو مٹانا نہیں ہے، بلکہ اختلاف کو باقی رکھتے ہوئے اس کو مینج (manage) کرنا ہے- اِس معاملے میں ہم کو جس فارمولے کی ضرور ت ہے، وہ یہی ہے- جب فطری طورپر انسانوں کے درمیان اختلاف کو مٹانا ممکن نہ ہو تو ایسی کوئی تجویز صرف ایک رومانوی تخیل (romantic idea) ہے، نہ کہ حقیقی معنوں میں مسئلے کا حل-
اِس معاملے کا واحد عملی حل یہ ہے کہ زندگی کے دوسرے معاملات میں جو فارمولا اختیار کیا جاتا ہے، اُسی کو مذہبی اختلاف کے معاملے میں بھی اختیار کرلیا جائے- مثلاً ریاستوں کے درمیان سیاسی اختلاف کے معاملے میں بھی یہی فارمولا قابلِ عمل ہے- قرآن میں اِسی فارمولے کو اِن الفاظ میں بیان کیا گیاہے: لکم دینکم ولی دین( 109:6) یعنی تمھارے لیے تمھارا دین اور میرے لیے میرا دین- اِس فارمولے کا مطلب دوسرے لفظوں میں یہ ہے کہ اپنی دریافت کے مطابق، ایک دین کی پیروی کرو اور دوسروں کا احترام کرو:
Follow one and respect all.
دوسری بات یہ کہ مذاہب کے درمیان فرق واختلاف کوئی برائی (evil) نہیں ہے، بلکہ اس کی حقیقت ایک رحمت (blessing) کی ہے- اِسی فرق واختلاف کی بنا پر یہ ممکن ہوتاہے کہ لوگوں کے درمیان ڈسکشن اور ڈائلاگ ہو اور اِس طرح نئے نئے پہلو واضح ہوتے رہیں- حقیقت یہ ہے کہ فرق واختلاف ایک فکری چیلنج (intellectual challenge) ہے اور فکری چیلنج ہمیشہ مفیدہوتاہے- آرنلڈ ٹائن بی کے الفاظ میں، چیلنج اور جوابِ چیلنج کا عمل (challenge-response-mechanism) ہی وہ واحد عمل ہے جس سے تمام ترقیاں ظہور میں آتی ہیں- اگر یہ عمل باقی نہ رہے تو ترقیوں کا بھی خاتمہ ہوجائے-
امر واقعہ اور وحدتِ ادیان
وحدتِ ادیان کانظریہ سچائی (truth) کے لیے قاتل کی حیثیت رکھتاہے- انسان پیدائشی طورپر متلاشی حق (truth-seeker) ہے- ہر عورت اور مرد کے اندر یہ جذبہ چھپا ہوا ہے کہ وہ سچائی کو جانے، سچائی ہر ایک کا سب سے بڑا مطلوب ہے- یہ دراصل سچائی کی دریافت ہے جو کسی انسان کو اِس قابل بناتی ہے کہ وہ اِس دنیا میں یقین (conviction) پر کھڑا ہو- یہ احساس کہ میں نے آخری سچائی کو دریافت کرلیا ہے، یہی اِس دنیا میں کسی انسان کا سب سے بڑا سرمایہ ہے- جو عورت یا مرد اِس احساس سے خالی ہوں کہ میں نے سچائی (truth) کو دریافت کرلیا ہے، ان کی حیثیت بلاشبہہ صرف ایک حیوان کی ہے، ایسا آدمی حقیقی معنوں میں، انسان کےدرجے تک نہیں پہنچا-
زندگی ایک مشکل امتحان ہے- اِس دنیا میں آدمی کو مختلف قسم کے ناموافق حالات میں جینا پڑتا ہے- ایسی حالت میں اس کو ایک یقین درکار ہے جس کے اوپر وہ کھڑا ہوسکے- یہ یقین کسی مادّی یافت (material gain)کی بنیاد پر نہیں ہوسکتا، کیوں کہ اِس محدود دنیا میں مادّی یافت ہمیشہ ناتمام ہوتی ہے اور ناتمام یافت کسی انسان کو لازوال یقین نہیں دے سکتی-
اِس محدود دنیا میں صرف ایک چیز ہے جو لامحدود ہے اور وہ سچائی (truth) ہے- سچائی کا تصور ایک ناقابلِ تقسیم تصور ہے- سچائی اپنے آپ میں کمال کو چاہتی ہے- جس سچائی کے ساتھ کمال کا تصور موجود نہ ہو، وہ بلاشبہہ سچائی نہیں- انسان اپنی فطرت کے اعتبار سے، اِس احساس میں جینا چاہتا ہے کہ میں نے اعلی سچائی کو پالیا ہے- ایسی حالت میں وحدتِ ادیان کا تصور ایک ایسا تصور ہے جو انسان کی فطرت سے ٹکراتا ہے، اور یہی ٹکراؤ اِس بات کا ثبوت ہے کہ یہ تصور درست نہیں-
تمام مذاہب حقیقتاً ایک ہیں — ایک غیر سائنٹفک نظریہ ہے- کوئی شخص یہ حق نہیں رکھتا کہ وہ اِس قسم کا بیان دے- جو شخص ایسا کہے، اُس سے فطری طورپر یہ سوال کیا جائے گا کہ تم کس حق کی بنیاد پر ایسا کہہ رہے ہو- حقیقت یہ ہے کہ مذاہب کے بارے میں کوئی بیان آدمی صرف اپنی ذات کی نسبت سے دے سکتا ہے، دوسرے کی نسبت سے نہیں-
وحدتِ ادیان کے تصور کے تجزیہ کے دو خاص پہلو ہیں — ایک، یہ کہ اصولی یا نظری طورپر یہ تصور مبنی بر حقیقت ہے یا نہیں- اِس معاملےکا دوسرا پہلو یہ ہے کہ کیا اِس طرح دنیا میں سماجی امن (social peace) آسکتا ہے کہ تمام ادیان کو ایک مان لیا جائے -
جہاں تک اِس معاملے کے اولین پہلو کا تعلق ہے، عملی طورپر یہ بات غیر ثابت شدہ ہے کہ تمام مذاہب ایک ہیں- اِس لیے کہ مختلف مذاہب کے درمیان اتنا زیادہ فرق ہے کہ ان کو ایک کہنا کسی بھی طرح ممکن نہیں- مثلاً کسی مذہب میں توحید (monotheism) کا عقیدہ ہے اور کسی مذہب میں وحدتِ وجود (monism) کا عقیدہ- اِسی طرح کسی مذہب میں ایک خدا کا تصور ہے اور کسی مذہب میں تین خدا کا تصور- اِسی طرح کسی مذہب میں نجات کا مدار عمل پر ہے اور کسی مذہب میں نجات کا مدار نسل پر- اِسی طرح کسی مذہب میں یہ تصور ہے کہ موت کے بعد فوراً دار الجزا شروع ہوجاتا ہے اور کسی مذہب میں اِس کے برعکس، پُنر جنم (rebirth) کا تصور ہے، وغیرہ- مختلف مذاہب کے درمیان اِس طرح کے بے شمار تضادات پائے جاتے ہیں- ایسی حالت میں یہ کہنا کہ ’’تمام مذاہب ایک ہیں‘‘، سرتاسر ایک غیر علمی بات ہے-
جو لوگ وحدتِ ادیان کی بات کرتے ہیں، اُن کا طریقہ یہ ہے کہ انھوں نے بطور خود مذہب کا ایک خود ساختہ معیار بنایا ہے اور اِسی خود ساختہ معیار کے تحت انھوں نے اعلان کردیا کہ تمام مذاہب ایک ہیں- مثلاً یہ قول کہ ’’تمام مذاہب کی منزل ایک ہے، راستے جداجدا ہیں‘‘، یہ صرف ایک تمثیل ہے اور اِس طرح کی تمثیل سے کوئی علمی بات ثابت نہیں ہوتی- دوسری بات یہ کہ تمام ادیان کو ایک ماننے سے سماجی امن قائم ہوجائے گا- یہ حل صورت ِحال کے غیر واقعی تصور پر مبنی ہے- واقعات ثابت کرتے ہیں کہ اختلاف زندگی کا ایک حصہ ہے، نہ کہ صرف مذہب کا ایک حصہ- اگر وحدتِ ادیان کے نظریے کو مان لیا جائے، تب بھی لوگوں کے درمیان بے شمار اختلاف موجود رہتےہیں- ایسی حالت میں وحدتِ ادیان کا نظریہ اصل مسئلے کی نسبت سے، ایک غیر متعلق نظریہ ہے، وہ ہرگز اصل مسئلےکو حل کرنے والا نہیں-
اِس معاملے میں سب سے اہم بات یہ ہے کہ انسان اپنی فطرت کے اعتبار سے، ایک ایسی مخلوق ہے جو صرف ایک چیز پر کامل یقین رکھ سکتا ہے- اِس دنیا میں جینے کے لیے آدمی کی یہ ضرورت ہے کہ وہ یقین کرے کہ اس نے واحد سچائی کو پالیا ہے- وہ ٹرتھ ود دی کیپٹل ٹی (Truth with the capital T) تک پہنچ گیا ہے- اِس دریافت کے بغیر انسان اِس دنیا میں کامل یقین پر کھڑا نہیں ہوسکتا-
یہی وجہ ہے کہ جو لوگ تعددِ حقیقت (manyness of reality) کی بات کرتے ہیں، جو بظاہر یہ اعلان کرتے ہیں کہ تمام مذاہب سچے ہیں، وہ خود بھی اندر سے صرف ایک سچائی پر عقیدہ رکھتے ہیں- اِس کی ایک مثال مہاتما گاندھی کی ہے- وہ اِس مذہبی اصول کے زبردست داعی تھے کہ رام اور رحیم ایک ہیں- ان کے آشرم میں ہر صبح کو یہی گیت گایا جاتا تھا- لیکن 30 جنوری 1948 کو جب ایک تشدد پسند آدمی نے ان کو گولی مار کر ہلاک کردیا تو آخر وقت میں ان کی زبان سے جو کلمہ نکلا، وہ ’’ہِے رام‘‘ تھا، نہ کہ ہے رام، ہے رحیم- اِس سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ اگر چہ کہنے کے لیے یہ کہتے تھے کہ رام اور رحیم ایک ہیں، لیکن وہ جس یقین پر کھڑے ہوئے تھے، وہ وہی تھا جو آخر وقت میں ان کی زبان سے نکلا-
حقیقت یہ ہے کہ وحدتِ ادیان کا تصور دین کی نفی ہے- انسان کو دین کی ضرورت کس لیے ہے- وہ اس لیے ہے کہ انسان اپنی پیدائش کے اعتبار سے، ایک متلاشی حق حیوان ہے- انسان کی یہ فطرت صرف اُس وقت ایڈریس ہوسکتی ہے، جب کہ وہ ایک دین کو واحد سچائی کے طور پر دریافت کرسکے- اِس سے کم تر درجے کا کوئی عقیدہ انسان کی فطرت کو مطمئن نہیں کرسکتا-
اِس ضمن میں یہ بحث غیر متعلق ہے کہ کسی کا یہ سمجھنا کہ اس نے جس سچائی کو دریافت کیا ہے، وہی سچائی ہے اور دوسری کوئی سچائی نہیں، اِس سے دوسرے کے بارے میں نفرت پیدا ہوتی ہے- یہ اعتراض بلا شبہہ سچائی کی تصغیر ہے- حقیقت یہ ہے کہ سچائی جب کسی شخص کو حاصل ہوتی ہے تو وہ اُس کو ہر قسم کے تعصبات سے بالاتر کردیتی ہے- اگر کوئی شخص سچائی کو پانے کا دعوی کرے اور اِسی کے ساتھ وہ دوسروں کے بارے میں منفی ذہن میں مبتلا ہو تو ایسا شخص گویا یہ اعلان کررہا ہے کہ میں نے سچائی کو نہیں پایا، میں کسی اور چیز پر کھڑا ہوا ہوں، نہ کہ سچائی پر-
اِسی طرح، وحدتِ ادیان کے وکیل یہ کہتے ہیں کہ جو لوگ وحدتِ ادیان کو نہیں مانتے، وہ یہ عقیدہ بنا لیتے ہیں کہ نجات (salvation) صرف اُن کے لیے ہے، دوسرے کے لیے نجات نہیں- یہ بات سرتا سر بے بنیاد ہے- حقیقت یہ ہے کہ نجات تمام تر خدا کے دائرہ (domain)کی چیز ہے- نجات کا فیصلہ کرنے والا صرف خدا ہے، کوئی بھی انسان اِس معاملے میں سرے سے فیصلہ کرنے کا مطلق کوئی حق نہیں رکھتا- یہ کہنا صحیح ہوگا کہ جو شخص یا گروہ یہ سمجھ لے کہ ہم نجات یافتہ ہیں اور دوسرے لوگ نجات یافتہ نہیں، ایسے لوگ خود اپنے بارے میں یہ اعلان کررہے ہیں کہ وہ خود باطل پر ہیں- کیوں کہ کسی بھی شخص یا گروہ کو یہ حق نہیں کہ جو فیصلہ آخرت میں خدا کی عدالت میں ہونے والا ہے، اس کا فیصلہ وہ اِسی دنیا میں خدا کی طرف سے کردے-
وحدتِ ادیان کو ماننے والے اپنے نظریے کی تائیدمیں ایک بات یہ کہتے ہیں کہ مذہب کی اصل اطاعت ہے، نہ کہ کسی مذہبی گروہ سے وابستگی- یہ بات بجائے خود درست ہے، لیکن سوال یہ ہے کہ اطاعت کا ماڈل کیاہے- کوئی شخص یہ نہیں کرسکتا کہ مذہبی کتاب سے لفظ اطاعت لے اور اس کا مفہوم خود اپنے ذہن سے متعین کرے- اِس قسم کا استدلال ایک غیر سنجیدہ فعل ہے، وہ کوئی علمی استدلال نہیں-
اِس سلسلے میں جہاں تک اسلام کا تعلق ہے، قرآن میں بلا شبہہ اصل اہمیت اطاعت کو دی گئی ہے، لیکن اسی کے ساتھ قرآن میں یہ بھی بتایا گیاہے کہ اطاعت کا ماڈل کیاہے- یہ ماڈل اللہ کا رسول ہے- دوسرے لفظوں میں یہ کہ سنت کی شکل میں رسول کی زندگی کا جو نمونہ (model) مستند طورپر موجود ہے، وہی نمونہ ہمیشہ کے لیے اطاعت کا واحد ماڈل رہے گا- کسی کو یہ حق نہ ہوگا کہ وہ قرآن سے لفظ اطاعت لے اور اس کا عملی نمونہ بطور خود وضع کرے-
قرآن میں دوسرے رسولوں کو بھی نمونے کے طورپر پیش کیا گیا ہے (6:90)- لیکن یہ خود قرآن کے معنی میں ہے، نہ کہ کسی شخص یا گروہ کے اپنے وضع کردہ معنی میں- اِس کا مطلب یہ ہے کہ قرآن میں جن رسولوں کے نام آئے ہیں، اور اُن کے جو نمونے خود قرآن میں مذکور ہیں، وہی مستند نمونے کی حیثیت رکھتے ہیں- دوسرے پیغمبروں کی صرف وہی بات مستند طورپر قابلِ اختیار ہوگی جو قرآن کی تعلیمات سے مطابقت رکھنے والی ہو-
واپس اوپر جائیں

تاریخ کا ربانی سفر

قرآن کی ایک آیت، معمولی لفظی فرق کے ساتھ، دو سورتوںمیں آئی ہے- اس کے الفاظ یہ ہیں: یُرِیْدُوْنَ لِیُطْفِــــُٔـوْا نُوْرَ اللّٰہِ بِاَفْوَاہِہِمْ ۭ وَاللّٰہُ مُتِمُّ نُوْرِہٖ وَلَوْ کَرِہَ الْکٰفِرُوْنَ (61:8) یعنی وہ چاہتے ہیں کہ وہ اللہ کی روشنی کواپنے منہ کی پھونکوں سے بجھا دیں اور اللہ اپنی روشنی کو پورا کرکے رہے گا،خواہ منکروں کو یہ کتنا ہی ناگوار ہو-
قرآن کی اِس آیت کا خطاب محدود طورپر صرف قدیم مکہ یا قدیم مدینہ کے مخالفین سے نہیں ہے، بلکہ اس کا تعلق پوری انسانی تاریخ کے ربانی سفرسے ہے- آیت کا مطلب یہ ہے کہ اللہ نے پچھلے ہزاروں سا ل کے دوران مختلف مقامات پر اپنے پیغمبر بھیجے، لیکن مخالفین نے اُن کے مشن کو آگے بڑھنے نہیں دیا- اب اللہ نے تاریخ میں مداخلت کرتے ہوئے اِس مشن کا چارج خود لے لیا ہے- یہی مداخلت اِس بات کی ضمانت ہے کہ خدا کا یہ مشن اپنی آخری تکمیل تک پہنچے، کوئی بھی طاقت اس کے سفر کو روکنے میں کامیاب نہ ہو-
رسول اور اصحابِ رسول کے ذریعے ساتویں صدی عیسوی میں جو انقلاب آیا، وہ اِسی فیصلۂ الہی کا نتیجہ تھا- اِس انقلاب کا سب سے زیادہ انوکھا پہلو یہ تھا کہ وہ تقریباً 35 سال (610-644) کے اندر مکمل ہوگیا- انقلاب کا یہ پہلو بے حد اہم ہے- تاریخ میں دوسرے جو انقلابات پیش آئے، وہ سب اپنی نوعیت کے اعتبار سے، سیاسی انقلابات (political revolutions) تھے، مگر اسلامی انقلاب اِس کے برعکس، ایک نظریاتی انقلاب (ideological revolution) تھا- اِس بنا پر ضروری تھا کہ وہ پہلی نسل (first generation) کے اندر مکمل ہوجائے- سیاسی انقلاب کو کئی نسلوں میں مکمل کیا جاسکتا ہے،لیکن نظریاتی انقلاب کا معاملہ یہ ہے کہ وہ یا تو پہلی نسل میں مکمل ہوگا، یا وہ سرے سے مکمل ہی نہ ہوگا-
بنیادی طورپر پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے مشن کے دو دور تھے — ایک تھا، فاؤنڈیشن پیریڈ (foundation period) اور دوسرا تھا، توسیعی پیریڈ (expansion period)- توسیعی پیریڈ کی تکمیل بعد کے دور میں بھی ممکن ہے، لیکن فاؤنڈیشن پیریڈ کے لیے ضروری ہے کہ وہ پہلی نسل میں اپنی تکمیل تک پہنچ جائے-
انسان کی آزادی کو باقی رکھتے ہوئے پہلی نسل میں فاؤنڈیشن پیریڈ کی تکمیل اِس عالمِ اسباب میں کسی انسان کے لیے ممکن نہیں- یہ صرف اللہ کے لیے ممکن تھا اور اللہ نے خصوصی مداخلت کرکے ایسے حالات پیدا کیے کہ رسول ا ور اصحابِ رسول کے ذریعے یہ ممکن ہوجائے کہ وہ پہلی نسل میں اِس انقلاب کو مکمل کرسکیں- یہ ایک ایسا استثنائی واقعہ تھا کہ پوری انسانی تاریخ میں اس کی کوئی مثال موجود نہیں- مورخین، اسلامی انقلاب کے اِس استثنائی پہلو کا اعتراف کرتے ہیں، لیکن وہ اِس کی توجیہہ کرنے سے قاصر ہیں- اِس کا سبب یہ ہے کہ مورخین مادی اسباب کی روشنی میں واقعات کی توجیہ کرتے ہیں، جب کہ یہ واقعہ خدا کی برتر مداخلت کا نتیجہ تھا اور خدا کی برتر مداخلت ایک ایسا عامل (factor) ہے جس سے مورخین شعوری طور پر واقف نہیں-
پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعے اللہ کو جو انقلاب لانا مطلوب تھا، اس کو قرآن میں اتمامِ نور (61:8) کہاگیاہے- ضروری تھاکہ یہ واقعہ پہلی نسل (first generation) کے اندر مکمل ہوجائے- کیوں کہ فطرت کے قانون کے تحت ہمیشہ ایسا ہوتا ہے کہ بعد کی نسلوںمیں زوال شروع ہوجاتاہے اور زوال یافتہ افراد اتمامِ نور کا کارنامہ انجام نہیں دے سکتے- اِس لیے اللہ تعالی نے خصوصی منصوبے کے تحت ایک محدود مدت میں بہت سے انتظامات کیے، تاکہ پہلی نسل میں انقلاب کی تکمیل کو یقینی بنایا جاسکے-
اِس مقصد کے لیے مختلف تدبیریں کی گئیں- مثلاً کعبہ کو تمام عرب قبائل کے بتوں کا مرکز بنا دیاگیا، تاکہ تمام قبائل کے افراد مکہ میں حاصل ہوجائیں- پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی پیدائش کے سال (570ء) میں یمن کے حاکم ابرہہ نے ہاتھیوں کی فوج کے ذریعے مکہ پر حملہ کیا تھا، تاکہ کعبہ کوڈھا دیا جائے- اگر ابرہہ کا منصوبہ کامیاب ہوجاتا تو کعبہ کا وجود مٹ جاتا اور پیغمبر اسلام کو یہ موقع حاصل نہ ہوتا کہ وہ مکہ میں تمام عرب قبائل کے افراد کو یکجا طور پر پاسکیں- اُس زمانے میں قبیلہ قریش کو پورے عرب کی ذہنی قیادت (intellectual leadership) کا مقام حاصل تھا- مکہ میں ایسے اسباب پیدا ہوئے کہ وہاں کے تمام اعلی ذہن پیغمبر اسلام کے ساتھی بن گئے- پھر مدینہ کے دونوںقبائل (اوس وخزرج) کے درمیان خوں ریز جنگ ہوئی- اِس کے نتیجے میں دونوں قبائل بے حد کمزور ہوگئے- اس طرح پیغمبر اسلام کو یہ موقع ملا کہ وہ دس سال کے اندر پورے مدینے کو اسلام کے فولڈ میں لاسکیں- تمام قبائل کے بتوں کا مرکز بن جانے کی بنا پر عرب کے قبائل کعبہ کو پورے عرب کا مذہبی اور سیاسی مرکز سمجھتے تھے- چناں چہ جب مکہ فتح ہوا تو نہایت تیزی سے تمام عرب قبائل نے پیغمبر اسلام کی قیادت کو قبول کرلیا-
اسی طرح اُس زمانے میں عرب کی سرحدوں پر ایک بڑا واقعہ پیش آیا- اِس واقعے کا ذکر قرآن کی سورہ الروم (30) کے آغاز میں موجود ہے- وہ یہ کہ اُس زمانے میں عرب کی سرحدوں پر دو بڑے ایمپائر قائم تھے- ایک، ساسانی ایمپائر اور دوسرے، بازنتینی ایمپائر- عین اُس زمانے میں دونوں کے درمیان فوجی ٹکراؤ ہوا- پہلے ساسانی ایمپائر نے رومی ایمپائر کو تباہ کیا- اس کے بعد رومی بادشاہ نے اپنی طاقت کو دوبارہ مجتمع کرکے ساسانی ایمپائر پر حملہ کیا اوراس کو تباہ کردیا- چناںچہ دونوں ایمپائر بہت زیادہ کمزور ہوگئے- اس طرح اصحابِ رسول کو یہ موقع مل گیا کہ وہ نہایت آسانی سے ایشیا اور افریقہ کے درمیان پھیلے ہوئے اِس پورے علاقے کو اسلامی علاقے میں شامل کرسکیں-
تاریخِ اسلام: ایک مطالعہ
پیغمبراسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے 610 عیسوی میں مکہ میں اپنا مشن شروع کیا-آپ کی مسلسل جدوجہد سے وہاں ایک ٹیم بنی جس کو اصحابِ رسول کہا جاتا ہے-رسول اور اصحابِ رسول کی کوششوں سے ساتویں صدی کے نصف اول میں ایک انقلاب آیا- مورخین اعتراف کرتے ہیں کہ یہ تاریخِ انسانی کا سب سے بڑا انقلاب تھا- مثلاً امریکا کے ڈاکٹر مائکل ہارٹ نے 1978 میں شائع شدہ اپنی کتاب (The 100) میں لکھا ہے کہ — محمد تاریخ کے تنہا شخص ہیں جو انتہائی حد تک کامیاب رہے، مذہبی سطح پر بھی اور دنیوی سطح پر بھی:
Muhammad was the only man in history who was supremely successful on both, the religious and secular levels.
اِسی طرح انڈیا کے ایک سیاسی لیڈر ایم این رائے (M. N. Roy) کی کتاب ’دی ہسٹاریکل رول آف اسلام (The Historical Role of Islam) ہے جو 1939 میں دہلی سے چھپی تھی- اِس کتاب میں وہ لکھتے ہیں کہ — اسلام کی توسیع تمام معجزات میں سب سے بڑا معجزہ ہے:
The expansion of Islam is the most miraculous of all miracles. (p. 4)
حال میں برطانیہ سے پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت کے موضوع پر ایک انگریزی کتاب چھپی ہے- اُس کا نام یہ ہے:
The Prophet Muhammad: A Biography by Barnaby Rogerson, Little , Brown, UK 2003, p. 240
برطانی مصنف راجرسن نے اپنی اِس کتاب میں لکھا ہے کہ — پیغمبر اسلام کو جو عظیم کامیابی حاصل ہوئی، اس کے لحاظ سے وہ بلاشبہہ تاریخ کے سپر ہیرو (superhero) تھے- تاہم پیغمبر اسلام کی غیر معمولی کامیابی کا اعتراف کرتےہوئے انھوں نے لکھا ہے کہ ان کی یہ کامیابی محض اتفاقی (mere accidental) تھی(صفحہ 4)-
سیکولر مبصرین عام طورپر اِس طرح کے الفاظ بولتے ہیں- جس واقعہ کی توجیہ وہ معلوم اسباب کے تحت نہ کرسکیں، اُس کو وہ ’’اتفاق‘‘ کا نتیجہ قرار دے دیتے ہیں- مگر اتنا بڑا واقعہ جو پوری تاریخ میں واحد استثنا کی حیثیت رکھتا ہو، وہ محض اتفاق کا نتیجہ نہیں ہوسکتا-حقیقت یہ ہےکہ یہ ایک خدائی منصوبہ (divine plan) تھا، جو رسول اور اصحابِ رسول کے ذریعے انجام پایا- اِس کا ظہور پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی پیدائش سے تقریباً ڈھائی ہزار سال پہلے حضرت ابراہیم کے زمانے میں ہوا اور خلافتِ راشدہ کے زمانے میں اس کی تکمیل ہوئی-
اللہ کا یہ منصوبہ تھاکہ توحید کی بنیاد پر ایک انقلاب برپا کیا جائے- اِس مقصد کے لیے قدیم دور میں اللہ نے بہت سے پیغمبر بھیجے- مگر اِن پیغمبروں کے ذریعے کوئی ٹیم نہیں بنی- اِس لیے قدیم زمانے میں مطلوب انقلاب برپا نہ ہوسکا- اس کے بعد اللہ تعالی نے حضرت ابراہیم کے ذریعے ایک نیا منصوبہ بنایا- اِس منصوبے کے تحت حضرت ابراہیم نے اپنی بیوی ہاجرہ اور اپنے بچے اسماعیل کو عرب کے صحرا میں بسا دیا- اِس واقعے کی طرف قرآن میں اِن الفاظ میں اشارہ کیاگیاہے: رَبَّنَآ اِنِّىْٓ اَسْکَنْتُ مِنْ ذُرِّیَّتِیْ بِوَادٍ غَیْرِ ذِیْ زَرْعٍ عِنْدَ بَیْتِکَ الْمُحَرَّم (14:37)-
اِس صحرائی ماحول میںلمبی مدت تک توالد وتناسل کے ذریعے ایک جان دار قوم تیارہو ئی- اِسی قوم کے اندر پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی پیدائش ہوئی- پھر اِسی قوم کے اندر کام کرکے وہ ٹیم بنی جس کو اصحابِ رسول کہا جاتا ہے-
یہ پورا معاملہ ایک خدائی منصوبے کے تحت وجود میں آیا- مکہ میں مقدس کعبہ کی تعمیر اِسی منصوبے کا ایک حصہ تھی- بعد کو سارے عرب میں شرک پھیل گیا- یہ قبائلی دور تھا- ہر قبیلے کا ایک الگ بت تھا- چناں چہ یہاں ایسے اسباب پیش آئے کہ کعبہ 360 بتوں کا مرکز بن گیا-
یہ قدیم تاریخ کا ایک انوکھا واقعہ تھا- اِس سبب سے یہ ممکن ہوگیا کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے مشن کی اشاعت کے لیے سارے عرب میں سفر نہ کرنا پڑے، بلکہ مکہ ہی میںآپ کو تمام قبائل کے نمائندے حاصل ہوجائیں- کیوں کہ کعبہ میں تمام قبائل کے بتوں کی موجودگی کی بنا پر ایسا ہوتا تھا کہ مکہ میں مسلسل طور پر وہ چیز ہوتی رہتی تھی جس کو آج کل کی زبان میں کُل عرب اجتماع (all Arab assembly) کہا جاسکتا ہے-
اِس کے بعد بار بار ایسے واقعات پیش آئے جن کی بنا پر پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے یہ ممکن ہوگیا کہ وہ تیزرفتاری کے ساتھ اپنے مشن کی تکمیل کرسکیں- اِس سلسلے میں قرآن کی ایک آیت پر غور کیجئے- غزوۂ بدر کی نسبت سے، قرآن میں یہ الفاظ آئے ہیں: لِیَقْطَعَ طَرَفًا مِّنَ الَّذِیْنَ کَفَرُوْٓا اَوْ یَکْبِتَھُمْ (3:127) یعنی تاکہ اللہ اہلِ کفر کے ایک حصے کو کاٹ لے یا وہ اُن کو ذلیل کردے-
قرآن کی مذکورہ آیت میں ’’طَرَف‘‘ کا لفظ حصۂ بہتر (better part)کے معنی میں ہے، یعنی اہلِ کفر کے بہتر حصے کو کاٹ کر جدا کردینا اور ’یکبتہم‘ کا مطلب یہ ہے کہ ان کے بقیہ حصہ کو ہلاک کرکے ختم کردینا- ٹھیک یہی واقعہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں پیش آیا- پہلے مکی دور کی تیرہ سالہ دعوتی جدوجہد کے دوران مکہ کے صالح افراد کو ایمان کی توفیق ملی اور وہ اسلام قبول کرکے پیغمبر اسلام کے ساتھی بن گئے- ’قطعِ طرف‘ کا یہی واقعہ ہے جس کا ذکر حضرت خالد بن الولید نے اِن الفاظ میں کیا تھا: دخل الناس فی الإسلام ، فلم یبق أحد بہ طَعْم (البیہقی: 4/345 ) یعنی مکہ کے بہترین افراد اسلام میں داخل ہوگئے- اب مکہ میں کوئی باذوق آدمی (man of taste) باقی نہیں رہا- ’یکبتہم‘ کا لفظی مطلب ہے ذلیل کرنا- یہاں مراد یہ ہے کہ مکہ کے مخالفین جوچڑھائی کرکے ایک ہزار کی تعداد میں مدینہ آئے تھے، اُن کے 70 طاقت ور افراد قتل ہوگئے اور اُن کو ذلیل وخوار ہو کر مکہ واپس جانا پڑا-
عرب کا اسلامائزیشن
پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کو عرب میں جوکامیابی حاصل ہوئی، اس میں ایک بڑا دخل اُس واقعے کا ہے جس کو اسلامی تاریخ میں صلح حدیبیہ کہا جاتاہے- یہ ایک انوکھی تدبیر تھی جس کو پوری تاریخ میں کسی نے استعمال نہیں کیا تھا- یہ مکمل طورپر ایک اجتہادی تدبیر تھی-
پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا مشن 610 عیسوی میں شروع کیا- یہ زمانہ جارحانہ شرک اور مذہبی عدم رواداری (religious intolerance) کا زمانہ تھا- اِس بنا پر وہاں فریقِ ثانی کی طرف سے مسلسل طورپر ٹکراؤ اور جنگ کا سلسلہ شروع ہوگیا- اِس طرح کے ماحول میں دعوتِ توحید کا کام پوری طرح نہیں ہوسکتا تھا- توحید کی آئڈیالوجی پیغمبر اسلام کے مشن کی سب سے بڑی طاقت تھی، مگر طرفین کے درمیان تشدد کے ماحول کی بنا پر یہ موقع نہ تھا کہ یہ طاقت پوری طرح ظاہر ہو اور لوگوں کو مسخر کرے-
اُس وقت اللہ کی خصوصی توفیق سے، پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک ایسی تدبیر کی جس کی کوئی نظیر تاریخ میں موجود نہ تھی- وہ تدبیر یہ تھی کہ فریقِ ثانی کے تمام مطالبات کو یک طرفہ طورپر مان لیا جائے، تاکہ فریقین کے درمیان معتدل ماحول قائم ہوجائے اور کسی رکاوٹ کے بغیر دعوتِ توحید کا کام انجام پاسکے- یہ تدبیر بلاشبہہ ایک عظیم تدبیر تھی، اِسی لیے اُس کو قرآن میں فتحِ مبین (48:1) کہاگیاہے-
صلح حدیبیہ کی اِس تدبیر سے دو بڑے فائدے حاصل ہوئے- ایک، یہ کہ صلح حدیبیہ سے پہلے فریقین کا مقابلہ میدانِ جنگ میں ہوتا تھا، اور جنگ کا طریقہ صرف مسئلے کو بڑھاتا ہے، وہ مسئلے کو کم نہیں کرتا- صلح حدیبیہ کا یہ فائدہ ہوا کہ طرفین کا مقابلہ عقل ا ور فطرت کے میدان میں ہونے لگا، اور جب عقل اور فطرت کے میدان میں مقابلہ ہو تو توحید کی آئڈیالوجی ہمیشہ غالب رہے گی- وہ عقل کو ایڈریس کرے گی اور انسان کی فطرت مسخر ہوتی چلی جائے گی- اِسی کا یہ نتیجہ تاریخ نے دیکھا کہ معاہدہ حدیبیہ کے بعد صرف دو سال کے اندر پیغمبر اسلام کے پیروؤں کی تعداد اتنی زیادہ ہوگئی کہ صرف تعداد ہی مکہ کی پرامن فتح کے لیے کافی ہوگئی-
صلح حدیبیہ کا دوسرا فائدہ یہ ہوا کہ قریشِ مکہ کی طرف سے جنگ کا خطرہ باقی نہیں رہا- اب پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ موقع مل گیاکہ وہ اپنے مشن کو پورے عرب میں پھیلا سکیں- اِس سے پہلے یہ واقعہ پیش آیا کہ پیغمبر اسلام کا دعوتی پیغام تمام عرب قبائل میں پھیل گیاتھا- عمومی طور پر لوگوں کے دلوں میں توحید کے لیے نرم گوشہ (soft corner) پیدا ہوچکا تھا، لیکن قریش سے حالتِ جنگ قائم ہونے کی بنا پر پیغمبر اسلام کو یہ موقع نہیں مل رہا تھاکہ آپ کھلے طورپر اِس دعوتی امکان کو استعمال کریں- اب آپ نے یہ کیا کہ مدینہ سے تمام عرب قبائل کی طرف وفود بھیجنے شروع کیے- وفود کا یہ طریقہ بھی قدیم زمانے میں ایک نیا طریقہ تھا- یہ طریقہ کامیاب ہوا اور بہت کم مدت میں پورا عرب اسلامائز ہوگیا-
پیغمبر اسلام کا مشن
پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم انسان کی لمبی تاریخ کی ایک درمیانی کڑی کی حیثیت رکھتے ہیں- آپ سے پہلے کثیر تعداد میں خدا کے پیغمبر آئے - اِن پیغمبروں کے زمانے میں بلا شبہہ توحید کا فکری اظہار ہوا، لیکن توحید کی بنیاد پر عملاً کوئی فکری انقلاب برپا نہ ہوسکا- اِسی بنا پر پچھلے پیغمبروں کا لایا ہوا دین محفوظ بھی نہ رہا-
پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے ظہور کے تقریباً ڈھائی ہزار سال پہلے اللہ نے ایک نئی منصوبہ بندی کی- وہ منصوبہ بندی یہ تھی کہ صحرائی ماحول میں ایک نئی نسل پیدا کی جائے جس کے افراد اپنی اصل فطرت پر قائم ہوں- اِسی نسل میں پیغمبر اسلام کا ظہور ہوااور آپ کی دعوتی جدوجہد کے ذریعے اِسی نسل کے اندر سے وہ افراد پیدا ہوئے جن کو اصحابِ رسول کہاجاتا ہے-
رسول اور اصحابِ رسول کے ذریعے تاریخ میں جو انقلاب آیا، اُس کے دو پہلو تھے — ایک، یہ کہ اس کے ذریعے خدا کی کتاب محفوظ ہوگئی- پیغمبر کے ذریعے انسانی زندگی کا ایک مستند ماڈل (authentic model) تیار ہوگیا- خداکے دین کی ایک مستند تاریخ بن گئی، جب کہ اِس سے پہلے خدا کے دین کی کوئی مستند تاریخ نہیں بنی تھی، وغیرہ-
رسول اور اصحابِ رسول کے ذریعے جو عظیم انقلاب آیا ، اس کا دوسرا پہلو یہ تھا کہ اس کے ذریعے تاریخ میں ایک نیا طاقت ور عمل (strong porcess) جاری ہوا جو آخر کار اُن تمام ترقیوں تک پہنچا جن کو عام طور پر اہلِ مغرب کی طرف منسوب کیاجاتا ہے- یہ تمام ترقیاںخدا کے دین کے موافق ترقیاں تھیں- اِن ترقیوں کے ذریعے انسان کو شکر کا اعلی فریم ورک ملا- اِن ترقیوں کے ذریعے معرفت کے آفاقی دروازے کھلے- اِن ترقیوں کے ذریعے حق کی عالمی اشاعت کے ذرائع حاصل ہوئے، وغیرہ-
غیر خدا پرست انسان کی تائید
پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کے بعد اظہارِ دین اور اتمامِ نور کا جو خدائی منصوبہ تھا، وہ ایک عظیم عالمی منصوبہ تھا- وہ اتنا بڑا منصوبہ تھاکہ صرف اہلِ ایمان کی مدد سے وہ انجام نہیں پاسکتا تھا- اللہ تعالی نے اِس انقلاب کو یقینی بنانے کے لیے یہ کیا کہ اہلِ ایمان کے علاوہ، دوسرے گروہوں سے تائید (support) کا کام لیا- اسلام کی تاریخ میں اِس طرح کی مثالیں کثرت سے موجود ہیں- یہاں وضاحت کے لیے صرف دو مثالیں درج کی جاتی ہیں-
پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت 610 عیسوی میں مکہ میں ہوئی - جیسا کہ عرض کیاگیا، یہاں تائید کا ایک انوکھا معاملہ پیش آیا- مکہ میں قریش کے نام سے ایک قبیلہ تھا جو کعبہ کا متولی تھا- اُس نے اپنی سیادت کی توسیع کے لیے یہ کیا کہ عرب کی سرزمین میں موجود تمام قبائل کے بت لاکر کعبہ کی عمارت میں رکھ دیے- اِس طرح دھیرے دھیرے کعبہ تمام عرب قبائل کا ایک عبادتی مرکز بن گیا- ہر قبیلے کے لوگ اپنے بت کی زیارت اور پرستش کے لیے مکہ آنے لگے- اِس طرح مکہ نے تمام عرب قبائل کے لیے مقامِ اجتماع کی حیثیت اختیار کرلی- تمام عرب قبائل کے لوگ مسلسل طورپر مکہ آنے لگے- اِس طرح پیغمبر اسلام کو یہ موقع مل گیا کہ وہ مکہ میں رہتے ہوئے تمام عرب قبائل میں اپنا مشن پھیلا سکیں— قریش اُس وقت ایک مشرک قبیلے کی حیثیت رکھتے تھے- اِس کے باوجود اللہ تعالی نے اُن سے پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے موحدانہ مشن کی تائید کا کام لیا-
اہلِ مغرب کے ذریعے تائید
پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے مشن میں غیر اہلِ ایمان کی تائید کا دوسرا بڑا واقعہ وہ ہے جو بعد کے زمانے میں پیش آیا- یہ اہلِ مغرب کے ذریعے تائید فراہم کرنے کا واقعہ تھا- یہ واقعہ مغرب کی نشاةِ ثانیہ (Renaissance)کے بعد پیش آیا-
قرآن میں ارشاد ہوا ہے: وَآتَاکُمْ مِنْ کُلٍّ مَّا سَأَلْتُمُوہُ (14:34)-اِس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ نے انسان کو اس کی ضرورت کی تمام چیزیں دے دیں ہیں-لیکن تاریخ بتاتی ہے کہ قدیم زمانے میں انسان کو یہ اشیاءِ ضرورت صرف محدود طور پر حاصل ہوئی تھیں-جو چیزیں دنیا میں فطری طورپر آغازِ تخلیق سے پائی جاتی تھیں، صرف اُن چیزوں تک انسان کی رسائی ہوسکی- مثلاً سواری کے لیے گھوڑا، وغیرہ- دوسری چیزیں وہ تھیں جن کے حصول کے لیے ٹکنالوجی کی دریافت ضروری تھی- قدیم زمانے میں انسان اِس ٹکنالوجی کو دریافت نہ کرسکا، اِس لیے وہ اِس دوسری قسم کی اشیاءِ ضرورت کو حاصل کرنے سے محروم رہا-
یہ ٹکنالوجی صرف مغربی تہذیب کے ذریعے دریافت ہوئی اور پھر ضرورت کی بے شمار نئی چیزیں انسان کے لیے قابلِ حصول ہوگئیں- یہ اشیاءِ ضرورت صرف اشیاءِ ضرورت نہ تھیں، بلکہ وہ شکر خداوندی کے نئے اور عظیم تر آئٹم کی حیثیت رکھتی تھیں-
اِسی طرح قرآن میں بتایا گیاہےکہ پیغمبر کا مشن سارےاہلِ عالم کے لیے ہے(25:1)- لیکن پیغمبر اور اصحاب پیغمبر کے زمانے میں مشن کا یہ عالمی ابلاغ عملاً ممکن نہ ہوسکا- کیوں کہ اس کے لیے عالمی کمیونکیشن کی ضرورت تھی اور قدیم زمانے میں یہ عالمی کمیونکیشن وجود میں نہیں آیا تھا- عالمی کمیونکیشن کے ذرائع موجودہ زمانے میں پہلی بار اہلِ مغرب نے دریافت کیے- یہ اہلِ مغرب کی طرف سے پیغمبرانہ مشن کی خصوصی تائید کا ایک معاملہ تھا-
اِسی طرح قرآن میں بتایا گیا ہے کہ آفاق اور انفس میں اللہ کی آیات (signs) چھپی ہوئی ہیں- یہ آیات ظاہر ہو کر انسان کے لیےتبیینِ حق کا ذریعہ بنیں گی- یہ گویا کائناتی سطح پر اعلی معرفت کے ظہور کی پیشگی خبر تھی، مگر قدیم زمانے میں اس کا ظہور نہ ہوسکا- اِس کا ظہور پہلی بار موجودہ زمانے میں اہلِ مغرب کی سائنسی دریافتوں کے ذریعے ہوا- یہ بھی غیر اہلِ ایمان کی طرف سے پیغمبر اسلام کے مشن کی تائید کا ایک اہم معاملہ تھا-
یہ خارجی تائید اپنے طریقے کے اعتبار سے، عین وہی چیز ہے جس کو موجودہ زمانے میں  آؤٹ سورسنگ (outsourcing) کہا جاتا ہے- پیغمبرانہ مشن کے لیے یہ خارجی تائید کوئی اتفاقی معاملہ نہ تھا، بلکہ وہ ایک ایسا معاملہ تھا جو اللہ کی طرف سے پیشگی طور پر مقدر کردیاگیا تھا- اس حقیقت کو ایک حدیثِ رسول میں اِن الفاظ میں بیان کیاگیا ہے: إن اللہ لیؤید ہذا الدین بالرجل الفاجر (صحیح البخاری، رقم الحدیث:3062)- اِس حدیث میں موید کے لیے ’فاجر‘کا لفظ استعمال ہوا ہے- فاجر کا مطلب ہے — بدکردار(sinner)- اِس سے معلوم ہوا کہ اللہ کی طرف سے پیغمبر کے مشن کی خارجی تائید کا جو کام ہے، وہ صرف مخلصین اور مومنین کے ذریعے نہیں ہوگا، بلکہ وہ ایسے افراد کے ذریعے بھی ہوگا جو اخلاقی اعتبار سے بد کردار اور گناہ گار ہوں گے-
مذکورہ دونوں واقعات پیغمبرانہ مشن کے لیے عظیم تائیدی واقعات تھے، مگر یہ دونوں واقعات اہلِ ایمان کی تائید سے پیش نہیں آئے، بلکہ وہ ایسے لوگوں کے ذریعے پیش آئے جو فقہ اسلامی کی اصطلاح میں ’’مشرک اور فاجر‘‘تھے- فاجر شخص کے ذریعے تائید ِ دین کے یہ واقعات صرف تائید کے واقعات نہیں ہیں، بلکہ اِسی کے ساتھ وہ دلیلِ نبوت بھی ہیں-
اہلِ مغرب اور مغربی تہذیب
موجودہ زمانے میں مسلم مصنفین نے ہزاروں کی تعداد میںایسی کتابیں اور مقالات شائع کیے ہیں جن کا موضوع اہلِ مغرب یا مغربی تہذیب ہوتا ہے- اِس قسم کی تحریریں عربی، اردو، انگریزی اور دوسری زبانوں میں چھپی ہیں اور اُن کو کسی بھی مسلم کتب خانے میں دیکھا جاسکتا ہے- مثال کے طورپر چند کتابوں کے نام یہ ہیں:
جاہلیة القرن العشرین، محمد قطب ،
دار الشروق، القاہرة 1993، عدد الصفحات:292
عالمِ اسلام دجالی تہذیب کی زدمیں ، محمد موسی بھٹو، سندھ نیشنل اکیڈمی ٹرسٹ،صفحات:188
Islam at the Crossroads, Leopold Muhammad Asad
اِس قسم کی کتابوں میں مغرب اور مغربی تہذیب کی جو تصویر پیش کی گئی ہے، وہ تمام تر منفی تصویر ہے- اِس قسم کی کتابوں کا مشترک خلاصہ یہ ہے کہ مغرب اخلاقی پستی کی آخری حد تک پہنچ چکا ہے- اِن تحریروں کے مطابق، مغرب نام ہے— مادیت اور اباحیت اور ہوس پرستی اور لادینیت کا-گویا اہلِ مغرب کا کیس وہی ہے جس کو حدیث میں ’الرجل الفاجر‘ کہاگیاہے، یعنی بدکردار اور گناہ گار-
اب بالفرض اگر یہ درست ہو کہ اہلِ مغرب کا کیس ’’فاجر‘‘ انسان کا کیس ہے، تب بھی مسلم مقررین اور محررین اِس معاملے میں کامل طورپر غلط قرار پائیںگے- کیوں کہ اِس معاملے کا دوسرا معلوم پہلو یہ ہے کہ یہی اہلِ مغرب ہیں جنھوںنے بے پناہ محنت کے بعد اُن تمام تائیدی چیزوں کو دریافت (discover) کیا جن کا ذکر بطور پیشین گوئی قرآن میں کیا گیا تھا- گویا کہ یہی وہ مویّد لوگ ہیں جو حدیث کی مذکورہ پیشین گوئی کا مصداق ہیں- ایسی حالت میں ، مسلم مقررین اور محررین کا فرض تھاکہ وہ کہتے کہ اہلِ مغرب کے ’’فاجر‘‘ ہونے کے باوجود ہمیں اُن کے اِس کنٹری بیوشن کا اعتراف کرنا ہے، کیوں کہ یہی لوگ ہیں جنھوں نے تائید دین کے وہ تمام اسباب مہیا کیے ہیں جو آج ہمارے لیے دینِ خداوندی کی نسبت سے بے حد ضروری ہیں- یہ اسباب ہمارے لیے شکر اور معرفت کا اعلی آئٹم ہیں اور اِسی کے توسط سے پہلی بار یہ ممکن ہوا کہ دعوت الی اللہ کے کام کو عالمی سطح پر انجام دیاجاسکے-
تاریخ کا مثبت تصور
تاریخ کا مطالعہ کرنے والے عام طورپر تاریخ کے بارے میں منفی رائے رکھتے ہیں- ان کو پوری تاریخ فساد اور خوں ریزی کا ایک جنگل معلوم ہوتی ہے- آدم کی تخلیق کے وقت فرشتوں نے بھی یہ شبہہ ظاہر کیا تھا (2:30)-
اللہ تعالی نے ایک مظاہرے کے ذریعے فرشتوں کو بتایا کہ تم پورے انسانی مجموعے کے اعتبار سے تاریخ کو دیکھ رہے ہو، اِس لیے تاریخ تم کو فساد اور خوں ریزی کا جنگل معلوم ہوتی ہے- لیکن تم تاریخ کو افراد کے اعتبار سے دیکھو، پھر تم کو نظر آئے گا کہ تاریخ کے ہر دور میں بہترین افراد پیدا ہورہے ہیں- یہی استثنائی افراد تاریخ کا حاصل ہیں-
تاریخ کے مطالعے کا صحیح طریقہ یہ ہے کہ مطالعہ کرنے والا یہ کرے کہ وہ انسان کی طرف سے آزادی کے غلط استعمال (misuse of freedom) کو الگ کرکے تاریخ کا مشاہدہ کرے- خالق نے چوں کہ انسان کو آزادی دی ہے، اِس لیے آزادی کو غلط استعمال کرنے کے نتیجے میں طرح طرح کی خرابیاں پیدا ہوتی ہیں-
یہی وہ چیز ہے جس کو فلاسفہ عمومی حیثیت دے کر، پرابلم آف اول (problem of evil) کہتے ہیں- مگر انسان کی آزادی مصلحتِ امتحان کی بنا پر ہے، اِس لیے تاریخ کے مطالعے کا صحیح طریقہ یہ ہے کہ آزادی کے غلط استعمال کے پہلو کو الگ کرکے تاریخ کا مطالعہ کیا جائے- یہ حکمت تاریخ کے ہر دور کے لیے ضروری ہے، سیکولر تاریخ کے دور کے لیے بھی اور اسلامی تاریخ کے دور کے لیے بھی-
تاریخ میں خدائی مداخلت
1- ہاجرہ اور اسماعیل کے ذریعے عرب کے صحرا میں ایک نئی نسل بنانا بعد کو اِسی نسل میں پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے اصحاب پیدا ہوئے -
2- کعبہ کا تمام قبائل کے بتوں کا مرکز بن جانا- اِس طرح مکہ میں آل عرب اجتماعات (All Arab Assembly) کا وقوع ممکن ہوجانا-
3- یمن کے حاکم ابرہہ کا کعبہ پر حملہ، مگر اس کی ناکامی کی بنا پر کعبہ کی اجتماعی حیثیت کا محفوظ رہنا-
4- مکہ میں تیرہ سالہ دعوتی جدوجہد کے ذریعے تمام صالح افراد کا اسلام میں داخل ہوجانا- اِنھیں منتخب افراد کو قرآن میں خیر امت (3:110)کہا گیا ہے-
5- ہجرت کے تیسرے سال غزوۂ بدر کا پیش آنا اور اِس غزوہ میں فرشتوں کی مدد کے ذریعہ تمام سرکش افراد کا قتل کیا جانا-
6- ہجرت سے پانچ سال پہلے جنگِ بُعاث میں دو قبیلوں کے درمیان جنگ ہونا، اِس جنگ میں قبائلی سرداروں کا زور ٹوٹ جانا-
7- حدیبیہ (6 ہجری) کی یک طرفہ صلح کے بعدسارے عرب میں امن قائم ہونا اور سارے عرب میں اسلام کی اشاعت-
8- فتح مکہ کے بعد عرب قبائل میں اسلام کے لیے نرم گوشہ پیداہونا، اس کے بعد عام الوفود کے ذریعے تمام قبائل کو تیزی سے اسلام میں داخل کرلینا-
9- بازنتینی ایمپائر اور ساسانی ایمپائر کے درمیان جنگی ٹکراؤ ہونا اور اِس دو طرفہ جنگ میں دونوں کا آخری حد تک کمزور ہوجانا-
10- صلیبی جنگوں کے بعد مخصوص اسباب کے تحت، اہلِ مغرب کا سائنسی مطالعے کی طرف راغب ہونا اور اسلام کے موافق، فطرت کے حقائق کا انکشاف-
اوپر دس ایسے عوامل (factors) کو دکھایا گیا ہے جنھوں نے پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے مشن میں سپورٹنگ فیکٹرس (supporting factors)کا رول انجام دیا- یہ تمام اسباب غیر عادی (unusual) قسم کے تھے جو بلاشبہہ پیغمبر کے اپنے اختیار سے باہر تھے، حتی کہ بظاہر پیغمبر اسلام نے ان کی بابت سوچا بھی نہ تھا- اِن عوامل کی مدد کے بغیر یہ ممکن نہ تھا کہ پیغمبر اسلام اپنے مشن میں ایسی غیر معمولی کامیابی حاصل کرسکیں- یہ ناقابلِ توجیہہ واقعہ اِس بات کا ثبوت ہےکہ پیغمبر اسلام کو اپنے مشن میں اللہ کی خصوصی مدد حاصل تھی-
پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے مشن کے تین مرحلے تھے— پہلا مرحلہ مردانِ کار یا ٹیم کی تیاری کا مرحلہ تھا- یہ پہلا مرحلہ آپ کی پیدائش سے پہلے لمبی مدت میں بنو اسماعیل کی صورت میں تشکیل پایا- دوسرا مرحلہ مختصر مرحلہ ہے جو پیغمبر اور اصحاب پیغمبر کی زندگی میں پورا ہوا- تیسرا مرحلہ دوبارہ لمبی مدت کا مرحلہ تھا جو کہ مغربی تہذیب کی صورت میں اپنی تکمیل تک پہنچا-
نورِ ہدایت کا اتمام
پیغمبرانہ مشن کے سلسلے میں ایک منصوبۂ الہی کو اظہارِ دین کے الفاظ میں بیان کیاگیا ہے- اظہارِ دین اور اتمامِ نور کی آیت قرآن کی تین سورتوں میں آئی ہے- سورہ الصف کے الفاظ یہ ہیں: یُرِیْدُوْنَ لِیُطْفِــــُٔـوْا نُوْرَ اللّٰہِ بِاَفْوَاہِہِمْ ۭ وَاللّٰہُ مُتِمُّ نُوْرِہٖ وَلَوْ کَرِہَ الْکٰفِرُوْنَ ۝ ہُوَ الَّذِیْٓ اَرْسَلَ رَسُوْلَہٗ بِالْہُدٰى وَدِیْنِ الْحَقِّ لِیُظْہِرَہٗ عَلَی الدِّیْنِ کُلِّہٖ ۙ وَلَوْکَرِہَ الْمُشْرِکُوْنَ (61:8-9) یعنی وہ چاہتے ہیں کہ وہ اللہ کے نور کو اپنے منہ سے بجھا دیں، حالاں کہ اللہ اپنے نور کا اتمام کرکے رہے گا،خواہ منکروں کو یہ کتنا ہی ناگوار ہو- اللہ ہی ہے جس نے بھیجا اپنے رسول کو ہدایت اور دینِ حق کے ساتھ، تاکہ وہ اُس کوسب دینوں پر غالب کردے، خواہ مشرکوں کو یہ کتنا ہی ناگوار ہو-
قرآن کی اِس آیت میں اظہارِ دین سے کچھ لوگ سیاسی غلبہ مراد لیتے ہیں، مگر آیت کے الفاظ سے اِس مفہوم کاکوئی تعلق نہیں- قرآ ن کی آیت میں جو لفظ استعمال کیاگیا ہے، وہ لیظہرہ علی الدین کلّہ ہے، نہ کہ لیظہرہ علی الأرض کلّہا ، یعنی اِس آیت میں جس غلبہ کا ذکر ہے، وہ زمین پر ہونے والا غلبہ نہیں ہے، بلکہ وہ دین یا اَدیان پر ہونے والا غلبہ ہے- دوسرے لفظوں میں یہ کہ اِس سے مراد فکری اور نظریاتی غلبہ ہے، نہ کہ سیاسی اور حکومتی غلبہ- دوسرے لفظوں میں، اِس سے مراد غلبہ بہ مقابلہ آئڈیالوجی ہے، نہ کہ غلبہ بہ مقابلہ سیاسی اقتدار- اِسی طرح قرآن کی مذکورہ آیت میں ’متمّ نورہ‘ کا لفظ آیا ہے- قرآن میں ’متم حُکمہ‘ کا لفظ نہیں آیا ہے، یعنی اِس سے مراد نور کا اتمام ہے، نہ کہ حکومت کا اتمام- اِس اتمام کا مطلب یہ نہیں کہ ابھی مسلمانوں کی حکومت مکہ مدینہ میں قائم ہوئی ہے، آئندہ ان کی حکومت سارے عالم میں قائم ہوجائے گی-
پیغمبر کا مشن اصلاً ایک غیر سیاسی مشن (non-political mission)ہوتا ہے- پیغمبر کے مشن کو بتانے کے لیے قرآن میں جو الفاظ آئے ہیں، اُن میں سے کوئی بھی لفظ سیاسی لفظ نہیں- مثلاً انذار، تبشیر، ابلاغ، دعوت، شہادت، وغیرہ- ایسی حالت میں پیغمبر کے مشن کے اظہار یا اتمام کو بتانے کے لیے وہی تعبیر درست ہوسکتی ہے جو پیغمبرانہ مشن کی روح کے مطابق ہو، اور وہ بلاشبہہ صرف ایک ہے، اور وہ ہے عالمی سطح پر خدا کے پیغام کی توسیع واشاعت-
پیغمبر کے مشن کی سیاسی تعبیر کرنا یا اس کو حکومت کی اصطلاحات میں بیان کرنا کوئی سادہ بات نہیں- یہ اللہ کے تخلیقی منصوبے کی تردید کے ہم معنی ہے- اِس کا مطلب یہ ہے کہ اہلِ ایمان اور دوسرے انسانوں کے درمیان جو مساوات (equation) ہے، وہ حاکم اور محکوم کی مساوات ہے، جب کہ صحیح تصور کے مطابق، اہلِ ایمان اور دوسرے انسانوں کے درمیان جو مساوات ہے، وہ داعی اور مدعو کی مساوات ہے، نہ کہ حاکم اور محکوم کی مساوات-اِس تصور کے مطابق، پیغمبر کے مشن کا اظہار اور اتمام بہ اعتبارِ ’’نور‘‘ متعین کیا جائے گا، نہ کہ بہ اعتبارِ حکومت، اوروہ یہ ہے کہ پیغمبر کے مشن کے ساتھ ایسے اسباب ووسائل جمع ہوں جو پیغمبر کے مشن کی عمومی اشاعت میں تائید کا کام دیں- ساتویں صدی عیسوی میں پیغمبرانہ مشن کی اشاعت کے لیے صرف روایتی وسائل موجود تھے- اِس لیے ایساہوا کہ اگرچہ پیغمبر کا مشن ایک عالمی مشن تھا، لیکن وہ وسائل کی محدودیت کی بناپر اپنے ابتدائی دور میں پورے عالم تک پہنچ نہ سکا-
قرآن کی مذکورہ آیت (61:8) ایک اعتبار سے پیشین گوئی ہے- اِس آیت میں یہ اعلان کیاگیا ہے کہ اللہ مستقبل میں ایسے حالات پیدا کرے گا، جب کہ تبلیغِ قرآن کا عالمی نشانہ پورا کیا جاسکے- رسول اور اصحابِ رسول کے زمانے میں جو انقلاب آیا، اس کے ذریعے دراصل تاریخ میں ایک نیا پراسس جاری کرنا تھا- یہ پراسس نہایت طاقت ور صورت میں جاری ہوا، یہاں تک کہ بیسویں صدی میں وہ اپنے نقطۂ انتہا (culmination) تک پہنچ گیا-
موجودہ زمانے کو ایج آف کمیونکیشن (age of communication) کہاجاتا ہے- یہ ایج آف کمیونکیشن کیا ہے- یہ دراصل دعوت بذریعہ روایتی ذرائع کو دعوت بذریعہ ٹکنالوجی کے دور میں پہنچانا ہے- موجودہ زمانے میں کمیونکیشن کے جو ذرائع پیدا ہوئے ہیں، انھوں نے دعوت بذریعہ روایتی ذرائع کو دعوت بذریعہ کمیونکیشن کے دور میں پہنچادیا ہے- اب یہ پوری طرح ممکن ہوگیا ہے کہ پیغمبرانہ دعوت کی اشاعت عالمی سطح پر انجام دی جائے- جدید ٹکنالوجی اور دوسرے معاون حالات کے نتیجے میں آج یہ ممکن ہوگیا ہے کہ کسی سیاسی اقتدار یا کسی پولٹکل ایمپائر کے بغیر غیر سیاسی دائرے میں اسلامی دعوت کا ایک عالمی ایمپائر قائم کیا جاسکے- اِس ایمپائر کو غیر سیاسی دعوہ ایمپائر (non-political dawah empire) کہاجاسکتا ہے- جدید کمیونکیشن اور پرنٹ میڈیا اور الکٹرانک میڈیا کو استعمال کرکے عالمی دعوت کی اُس پیشین گوئی کو واقعہ بنایا جاسکے جس کا ذکر قرآن میں اِن الفاظ میں آیا ہے: تَبٰرَکَ الَّذِیْ نَزَّلَ الْفُرْقَانَ عَلٰی عَبْدِہٖ لِیَکُوْنَ لِلْعٰلَمِیْنَ نَذِیْراً (25:1)-
ربانی تہذیب کا ظہور
رسول اور اصحابِ رسول کے ذریعے تاریخ میں جو انقلاب آیا، وہ محدود طورپر صرف ایک سیاسی واقعہ نہ تھا- اُس کا تعلق پوری تاریخ بشری سے تھا- جس چیز کو قرآن میں ’’اتمامِ نور‘‘ کہا گیا ہے، وہ دوسرے لفظوں میں تہذیبِ ربانی (divine civilization) کو قائم کرنے کا معاملہ تھا- اللہ کو یہ مطلوب تھا کہ اس کی کتاب (قرآن) محفوظ ہوجائے- تاریخ میں ایسے انقلابات ظہور میں آئیں جن کے نتیجے میں دنیا میں پرنٹنگ پریس کا دور آئے- فطرت میں چھپے ہوئے راز منکشف ہوں، تاکہ انسان کو علمی سطح پر خالق کی معرفت حاصل ہو- کمیونکیشن کے ذرائع دریافت ہو کر انسان کے استعمال میں آسکیں- اِسی طرح یہ ہو کہ دنیا میں مذہبی آزادی کا دور آئے- دینِ حق کی عالمی اشاعت ممکن ہوجائے- معرفت کے تمام چھپے ہوئے خزانوں پر انسان کو دسترس حاصل ہو جائے، وغیرہ-
اِس پورے معاملے کو تہذیب ربانی کے ظہور سے تعبیر کیا جاسکتا ہے- رسول اوراصحابِ رسول کے ذریعے یہی انقلابی واقعہ پیش آیا اور فطرت کے قانون کے مطابق، مختلف مراحل سے گزرتے ہوئے اکیسویں صدی تک پہنچا جو اس کی تکمیل کا مرحلہ ہے- تاہم تکمیل کا یہ مرحلہ بہ اعتبار امکان ہے، نہ کہ بہ اعتبار واقعہ- ربانی تہذیب کیا ہے، وہ خدا کا قائم کردہ ایک با معنی تسلسل ہے جو کسی انقطاع کے بغیر تاریخِ انسانی میں مسلسل طورپر جاری ہے-
اب اہلِ اسلام کا یہ فرض ہے کہ وہ تاریخ کے اشارے کو سمجھیں، وہ پیدا شدہ مواقع کو استعمال کرکے دینِ توحید کو پر امن انداز میں تمام عالم تک پہنچا دیں- یہی پیغمبرانہ مشن کی وہ تکمیل ہے جس کی پیشین گوئی حدیثِ رسول میں کی گئی تھی- اِس عالمی رول کو ادا کرنے کی صرف ایک ہی شرط ہے، وہ یہ کہ اہلِ اسلام قوموں کے خلاف، نفرت اور تشدد کے کلچر کو یک طرفہ طورپر ختم کردیں اور کسی شرط کے بغیر پر امن دعوتی کلچر کو اختیار کرلیں- ( 2013)
واپس اوپر جائیں

خدا کا وجوداور سائنس

آئن اسٹائن کے بارے میں لوگوں کے درمیان کنفیوژن (confusion)پایا جاتا ہے- کچھ لوگ سمجھتے ہیں کہ آئن اسٹائن کا کیس منکرِخدا (atheist) کا کیس تھا- کچھ دوسرے لوگ اس کے برعکس رائے رکھتے ہیں- مگر آئن اسٹائن کے مختلف بیانات کا مطالعہ کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ آئن اسٹائن منکرِ خدا نہیں تھا، بلکہ وہ خدا کے وجود کے بارے میں شک کی کیفیت میں مبتلا تھا-
1945 میں امریکی بحریہ کے ایک جونیر افسر گائے رینر(Guy Raner) نے خط کے ذریعہ آئن اسٹائن سے سوال کیا تھا کہ— کیا آپ ڈکشنری کے مفہوم کے اعتبار سے، منکرِ خدا ہیں، یعنی وہ آدمی جو خدا کے وجود میں عقیدہ نہیں رکھتا- اِس کے جواب میں آئن اسٹائن نے لکھا کہ آپ مجھ کو لاادریہ کہہ سکتے ہیں، مگر میں پروفیشنل قسم کے منکر خدا سے اتفاق نہیں رکھتا:
In 1997, Skeptic, a hard unbelief science magazine, published for the first time a series of letters Einstein exchanged in 1945 with a junior officer in the US navy named Guy Raner on the same topic. Raner wanted to know if it was true that Einstein converted from atheism to theism when he was confronted by a Jesuit priest with the argument that a design demands a designer and since the universe is a design there must be a designer. Einstein wrote back that he had never talked to a Jesuit priest in his life but that from the viewpoint of such a person, he was and would always be an atheist. He added it was misleading to use anthropomorphical concepts in dealing with things outside the human sphere and that we had to admire in humility the beautiful harmony of the structure of this world as far as we could grasp it. But Raner persisted. “Are you from the viewpoint of the dictionary,” he wrote back, “an atheist, one who disbelieves in the existence of a God, or a Supreme Being.” To this Einstein replied: “You may call me an agnostic, but I do not share the crusading spirit of the professional atheist whose fervour is mostly due to a painful act of liberation from the fetters of religious indoctrination received in youth. (The Times of India, New Delhi, May 18, 2012)
عقیدۂ خدا کے بارے میں آئن اسٹائن کا جو موقف ہے، وہی موقف تقریباً تمام سائنس دانوں کا ہے، خدا سائنسی مطالعہ (scientific study) کا موضوع نہیں، پھر کیا وجہ ہے کہ سائنس داں خدا کا انکار نہیں کرتے، وہ اپنے آپ کو زیادہ سے زیادہ لا ادریہ (agnostic) بتاتے ہیں- یعنی ایک ایسا موقف جب کہ انسان نہ انکار کرنے کی پوزیشن میں ہو اور نہ اقرار کرنے کی پوزیشن میں-
یہ صحیح ہے کہ سائنس کے مطالعے کا موضوع مادی دنیا (material world) ہے، مگر مادی دنیا کیا ہے، وہ خالق کی تخلیق (creation) ہے، اِس لیے سائنس کا مطالعہ بالواسطہ طورپر خالق کی تخلیق کا مطالعہ بن جاتا ہے- ایک سائنس داں خالق کے عقیدے کا انکار کرسکتاہے، لیکن تخلیقات میں خالق کی جو نشانیاں (signs) موجود ہیں، اُن کا انکار ممکن نہیں-
اصل یہ ہے کہ سائنس نے جس مادّی دنیا (physical world) کو دریافت کیا ہے، اس میں حیرت انگیز طورپر ایسی حقیقتیں پائی جاتی ہیں جو اپنی نوعیت میں غیر مادی ہیں- مثلاً معنوی، ڈزائن، ذہانت اور بامقصد پلاننگ، وغیرہ- مادی دنیا کی نوعیت کے بارے میں یہ دریافت گویا خالق کے وجود کی بالواسطہ شہادت ہے-
خدا کے وجود کے بارے میں رائے قائم کرنے کے لیے ایک سائنسی طریقہ یہاں قابلِ انطباق (applicable) ہے، وہ یہ کہ یہ دیکھا جائے کہ سائنس کی دریافت کردہ دنیا کس نظریے کی تصدیق کررہی ہے، انکارِ خدا کے نظریے کی تصدیق یا اقرار خدا کے نظریے کی تصدیق-اِس اصولِ استدلال کو سائنس میںویری فکیشن ازم (verificationism) کہا جاتا ہے-
سائنس میں استدلال کا ایک اصول ہے، جس کو اصولِ مطابقت(principle of compatibility) کہا جاتا ہے- اِس کا مطلب یہ ہے کہ ایک نظریہ جو بذاتِ خود قابلِ مشاہدہ نہ ہو، لیکن وہ مشاہدہ کے ذریعے دریافت کردہ معلومات سے مطابقت رکھتا ہو، تو اِس بالواسطہ شہادت کی بنا پر اِس نظریے کو حقیقت کا درجہ دے دیا جائے گا- جس نظریے کے حق میں اِس قسم کی مطابقت موجود ہو، اس کو بالواسطہ تصدیق کی بنا پر بطور حقیقت تسلیم کرلیا جائے گا- سائنس کے اِس اصول استدلال کو اگر عقیدۂ خدا کے معاملے میں منطبق کیا جائے تو اصولی طورپر خدا کا عقیدہ ایک ثابت شدہ عقیدہ بن جاتا ہے-
جو سائنس داں اپنے کیس کو لا ادریہ (agnosticism)کا کیس بتاتے ہیں، وہ شعوری یا غیرشعوری طورپر فرار کا طریقہ اختیار کئے ہوئے ہیں- وہ خود اپنے علم کے مطابق، خدا کا انکار نہیں کرسکتے، وہ کہہ دیتے ہیں کہ ان کا کیس لا ادریہ (agnostic) کا کیس ہے-
عقیدہ خدا اور سائنس
خالص سائنسی نقطہ نظر کے مطابق، خدا کے وجود کا کوئی ثبوت نہیں- سائنس نے اپنے طریقِ مطالعہ کے ذریعے جس چیز کو دریافت کیا ہے، وہ ہے — الیکٹران (electron) اور نیوٹران (neutron) اور پروٹون(proton)- مگر اِسی کے ساتھ یہ واقعہ ہےکہ اب تک کسی سائنس داں نے الیکٹرانس اور نیوٹرانس اور پروٹانس کو نہیں دیکھا ہے، نہ آنکھ سے اور نہ خورد بین سے، پھر سائنس داں اُن کے وجود پر یقین ;کیوں رکھتے ہیں- سائنس داں کے پاس اِس کا جواب یہ ہے کہ اگرچہ ہم اُن کو براہِ راست نہیں دیکھتے، لیکن ہم اُن کے اثرات (effects) کو دیکھ رہے ہیں:
Though we cannot see them, we can see their effects.
مزید مطالعہ بتاتا ہے کہ یہ مسئلہ صرف کاز اینڈ افیکٹ (cause and effect) کا مسئلہ نہیں ہے- اِس سے زیادہ اہم بات یہ ہے کہ خود سائنس کے مطالعے سے معلوم ہوا ہے کہ کائنات میں اعلی درجے کی ذہانت (intelligence)ہے- کائنات میں اعلی درجے کی ہم آہنگی (harmony) ہے- کائنات میں اعلی درجے کی منصوبہ بندی (planning) ہے- اس بات کو ٹاپ کے سائنس دانوں نے تسلیم کیا ہے- مثلاً جیمس جینز، آرتھر ایڈنگٹن، البرٹ آئن اسٹائن، ڈیوڈ فوسچر (David Foster) اور فریڈ ہائل(Fred Hoyle)، وغیرہ- اب یہ بات ثابت ہوگئی ہے کہ، ایک سائنس داں کے الفاظ میں، کائنات کی جنس ،ذہن (mind-stuff) ہے:
Molecular biology has conclusively proved that the “matter” of organic life, our very flesh, really is mind-stuff.
عقیدہ خدا اور سائنس کے معاملے میں زیادہ صحیح بات یہ ہے کہ یہ کہا جائے کہ مذہب میں جس خدا کو بطور عقیدہ پیش کیاگیا تھا، وہ اگر چہ سائنس کا براہِ راست موضوع نہیں، لیکن سائنس کی دریافتیں بالواسطہ طورپر عقیدہ خدا کی علمی تصدیق (affirmation) کی حیثیت رکھتی ہیں- سائنس نے خدا کے عقیدے کو ثابت نہیں کیا ہے، البتہ یہ کہنا درست ہے کہ سائنس نے عقیدہ خدا کے ثبوت کا ڈاٹا فراہم کردیا ہے-
سائنس کے اسٹینڈرڈ ماڈل میں ایک چیز مسنگ لنک (missing link) کی حیثیت رکھتی تھی- یہ ماڈل فعل (action) کو بتاتا تھا، مگر وہ فاعل (actor) کو نہیں بتاتا تھا- اس کے مقابلے میں، قرآن کائنات کا جوماڈل دے رہاہے، اس میں فعل اور فاعل دونوں موجود ہیں- دوسرے لفظوں میں یہ کہ قرآن میں سبب (cause) کے ساتھ مسبّب (causative factor) کو بھی بتایا گیاہے- سائنس جب فعل (ذہانت) کی تصدیق کررہی ہے تو منطقی طورپر اِس کا جواز نہیں کہ وہ فاعل (ذہن) کی تصدیق نہ کرے-
خدا کا وجود
البرٹ آئن اسٹائن (Albert Einstein) اگرچہ ایک یہودی خاندان میں پیداہوا تھا، لیکن سائنسی مطالعے کے بعد وہ خدا کے وجود کے بارے میں تشکیک میں مبتلا ہوگیا- اپنی وفات سے ایک سال پہلے 3 جنوری 1954 کو اس نے ایک اسرائیلی فلسفی ایرک (Eric B. Gutkind) کو جرمن زبان میں ایک خط لکھا- اِس خط کا ایک جملہ یہ تھا کہ — خدا کا لفظ اس کے سوا کچھ اور نہیں کہ وہ صرف انسانی کمزوریوں کی ایک پیداوار ہے:
The word God was nothing more than the expression and product of human weaknesses.
آئن اسٹائن نے جس چیز کو ’’انسانی کمزوری‘‘ بتایا ہے، وہ کمزوری نہیں ہے، بلکہ وہ انسان کی ایک اعلی خصوصیت ہے- اِس خصوصی کو درست طورپر اِن الفاظ میں بیان کیا گیا ہے کہ انسان ایک توجیہہ طلب حیوان (explanation-seeking animal)ہے- انسان کی یہی خصوصیت تمام علمی ترقیوں کی بنیاد ہے- اِسی خصوصیت کی بنا پر انسان چیزوں کی توجیہہ تلاش کرتاہے اور پھر وہ بڑی بڑی ترقیوں تک پہنچتا ہے- انسان کے اندر اگر یہ خصوصیت نہ ہوتی تو انسانی تہذیب (human civilization) پوری کی پوری غیر دریافت شدہ حالت میں پڑی رہتی-
خود آئن ا سٹائن کے بارے میں بتایا جاتا ہے کہ اپنی عمر کے آخری 30 سال کے دوران وہ ایک سوال کا سائنسی جواب پانے کی کوشش کرتا رہا، مگر وہ اِس میں کامیاب نہ ہوسکا- یہ سوال آئن اسٹائن کے الفاظ میں، یونی فائڈ فیلڈ تھیوری (unified field theory)کی دریافت ہے-سائنسی اعتبار سے یہ سوال اتنا زیادہ اہم ہے کہ آج وہ تمام نظریاتی سائنس دانوں کی توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے- اب اِس سوال کو عام طورپر تھیوری آف ایوری تھنگ (Theory of Everything)کہاجاتا ہے-
یہ ’تھیوری آف ایوری تھنگ‘ کیا ہے- یہ دراصل ایک ایسا ریاضیاتی فارمولادریافت کرنا ہے جو تمام کائناتی مظاہر کی سائنسی توجیہہ کرسکے- تھیوری آف ایوری تھنگ کا مطلب ہے:
Theory that explains everything.
ایک سائنسی ادارہ (European Organization for Nuclear Research) کے تحت سوئزر لینڈ میں ایک پروجیکٹ قائم کیاگیا- اسکا نام یہ تھا— لارج ہیڈرون کولائڈر (Large Hadron Collider)- یہ پروجیکٹ 1998 میں قائم کیا گیا- اِس پروجیکٹ پر ایک سو ملین ڈالر خرچ ہوئے- اِس میں دنیا کے ایک سو ملک اور دس ہزار سائنس دانوں اور انجینئروں کا تعاون شامل تھا- اگر چہ یہ پروجیکٹ کامیاب نہ ہوسکا، تاہم اس کا مقصد بھی یہی تھا کہ ’تھیوری آف ایوری تھنگ‘ کو دریافت کیاجائے-
’تھیوری آف ایوری تھنگ، یا زیادہ درست طورپر، ایکسپلنیشن آف ایوری تھنگ کی تلاش پر تقریباً 90 سال گزر چکے ہیں، مگر اِس معاملے میں سائنس دانوں کو کامیابی حاصل نہ ہوسکی- اِس کا سبب یہ ہے کہ مظاہرِ کائنات کی توجیہہ خدا کے وجود کو مان کر حاصل ہوتی ہے- کوئی ریاضیاتی فارمولا کبھی اِس کا جواب نہیںبن سکتا- ریاضیاتی فارمولے میں اِس سوال کا جواب تلاش کرنا ایسا ہی ہے جیسے پیاس کو بجھانے کے لیے پانی کے سوا کسی اور چیز کو اس کا ذریعہ بنانے کی کوشش کرنا-
سائنس اور عقیدۂ خدا
1927 میں بلجیم کے ایک سائنس داں جارجز لیمٹری (Georges Lemaitre) نے بگ بینگ (Big Bang) کا نظریہ پیش کیا-اِس نظریے پر مزید تحقیق ہوتی رہی، یہاں تک کہ اِس کی حیثیت ایک مسلّمہ واقعہ کی ہوگئی- آخر کار 1965 میں بیگ گراؤنڈ ریڈی ایشن (background radiation) کی دریافت ہوئی- اِس سے معلوم ہوا کہ کائنات کے بالائی خلا میں لہر دار سطح (ripples) پائی جاتی ہیں- یہ بگ بینگ کی شکل میں ہونے والے انفجار کی باقیات ہیں- اِن لہروں کو دیکھ کر ایک امریکی سائنس داں جویل پرائمیک (Joel Primack) نے کہا تھا کہ — یہ لہریں خدا کے ہاتھ کی تحریر ہیں:
The ripples are no less than the handwriting of God.
(تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو، راقم الحروف کی کتاب ’عظمتِ اسلام‘، صفحہ 33)
جارج اسموٹ 1945 میں پیداہوا- وہ ایک امریکی سائنس داں ہے- اس نے 2006 میں فزکس کا نوبل پرائز حاصل کیا- یہ انعام اُن کو ’کاسمک بیک گراؤنڈ ایکسپلورر، کے لیے کام کرنے پر دیاگیا- 1992 میں جارج اسموٹ نے یہ اعلان کیا کہ بالائی خلا میں لہردار سطحیںپائی جاتی ہیں- یہ بگ بینگ کی باقیات ہیں- اُس وقت جارج اسموٹ نے اپنا تاثر اِن الفاظ میں بیان کیا تھا — یہ خدا کے چہرے کو دیکھنے کے مانند ہے:
George Fitzgerald Smoot III (born February 20, 1945) is an American astrophysicist, cosmologist. He won the Nobel Prize in Physics in 2006 for his work on the Cosmic Background Explorer. In 1992 when George Smoot announced the discovery of ripples in the heat radiation still arriving from the Big Bang, he said it was “like seeing the face of God”. (God For The 21st Century, Templeton Press, May 2000, 204 pages)
واپس اوپر جائیں

اپنی صلاحیتوں کا کم تر استعمال

دینا اپل (Deana Uppal) انڈیا کی ایک سکھ فیملی میں پیدا ہوئیں- اب وہ انگلینڈ میں رہتی ہیں- حال میں اُن کو مس انڈیا- یو کے (Miss India-UK) کا ٹائٹل ملا ہے-وہ غیر شادی شدہ ہیں اور تین گھریلو خادموں (housemates) کے ساتھ ایک مکان میں رہتی ہیں- انھوں نے اپنے نظریۂ حیات کے بارے میں بتاتے ہوئے کہا کہ — مجھ کو سب سے زیادہ محبت صرف ایک چیز سے ہے اور وہ مال ہے:
The greatest love of my life is money.
مذکورہ خاتون نے جو بات کھلے لفظوں میں کہہ دی، وہ بات تقریباً ہر آدمی کے دل میں موجود ہوتی ہے، اگر چہ وہ زبان سے اس کا اظہار نہ کرے، خاص طورپر موجودہ کنزیومرازم (consumerism) کے عہد میں مال ہی لوگوں کے لیے سب کچھ بن گیا ہے-
میں ایسے بہت سے لوگوں سے ملا ہوں جنھوں نے مال کے حصول کو اپنا نشانہ بنایا اور بہت زیادہ دولت کمائی، مگر جب میں اِس قسم کے لوگوں سے بات کرتا ہوں تو مجھے ایسا محسوس ہوتاہےکہ اُن کے پاس مادّی موضوعات پر کہنے کے لیے تو بہت کچھ ہے، لیکن فکری موضوعات اور روحانی موضوعات پر وہ نہ کچھ بول سکتے اور نہ کچھ سمجھ سکتے- ایسے تمام لوگ میرے نزدیک صرف اکتسابی حیوان (earning animal) بن کر رہ جاتے ہیں-
خالق نے انسان کو جو دماغ (mind)دیا ہے، وہ غیر معمولی فکری امکانات (intellectual potentials)رکھتا ہے، جن کو انفولڈ(unfold) کرنا بلاشبہہ انسانی زندگی کا سب سے بڑا مقصد ہے، مگر آج کل کی مادی دنیا میں یہی وہ سب سے بڑی چیز ہے جو لوگوں کی زندگیوں سے حذف ہوگئی ہے- ایک لفظ میں، یہ کہ آج کی دنیا میں ہر آدمی کا کیس اپنے کم تر استعمال (underutilization) کا ایک کیس بنا ہوا ہے-
واپس اوپر جائیں

نفسیاتی مسئلہ

اگر آپ کو کوئی جسمانی بیماری ہوجائے تو اس کے لیے آپ کو ڈاکٹر سے رجوع کرنا چاہئے- جسمانی بیماری کا علاج ڈاکٹر کے پاس ہوتا ہے، لیکن بے چینی یا اضطراب (anxiety) اِس قسم کی کوئی بیماری نہیں- اضطراب ایک نفسیاتی مسئلہ ہے- اضطراب کا علاج آدمی کو خود کرنا چاہئے- کوئی دوسرا شخص آپ کے اضطراب کا علاج نہیں کرسکتا-
اضطراب کا سبب ہمیشہ بے بنیاد اندیشہ ہوتاہے- کبھی ماضی میں کسی کھوئی ہوئی چیز کا غم اور کبھی مستقبل میں کوئی نا خوش گوار واقعہ پیش آجانے کا اندیشہ- اضطراب کا سبب اکثر یہی دو چیزیں ہوتی ہیں جس کے نتیجے میں لوگ ذہنی تناؤ کا شکار رہتےہیں-
یہ دونوںچیزیں ہمیشہ سوچ (thinking)کی سطح پر پیدا ہوتی ہیں اور سوچ کی سطح پر ہی ان کا علاج ممکن ہوتاہے- اضطراب کا علاج کسی خارجی کلینک میں نہیں، اضطراب کا علاج خود اُس شخص کے ذہن میں ہے جو اضطراب کا شکار ہوا ہے-
اضطراب کے مسئلے کا حل صرف ایک ہے اور وہ ہے حقیقت پسندانہ سوچ (realistic approach) - حقیقت پسندانہ سوچ کے فقدان سے آدمی اضطراب میں مبتلا ہوتا ہے، اور حقیقت پسندانہ سوچ ہر قسم کے اضطراب کا خاتمہ کردینے والی ہے- غیر حقیقت پسند انسان ہمیشہ مفروضات میں جیتا ہے، حقیقت پسند انسان وہ ہے جو حقائق میں جینے والا ہو-
غیر حقیقت پسندانہ سوچ آدمی کو موہوم قسم کی پریشانی میں مبتلا کردیتی ہے- اِس کے مقابلے میں، حقیقت پسندانہ سوچ آدمی کو موہوم قسم کی پریشانی سے باہر لاتی ہے- غیر حقیقت پسندانہ سوچ والا آدمی صرف اپنے جذبات کو جانتاہے، اور حقیقت پسندانہ سوچ والا آدمی خارجی حقیقتوں کو جان لیتاہے— غیر حقیقت پسندانہ سوچ آدمی کے لیے قاتل ہے اور حقیقت پسندانہ سوچ آدمی کو زندگی عطا کرنے والی ہے-
واپس اوپر جائیں

شکایت بے فائدہ

عام طور پر لوگ دوسروں کی غلطیاں بتانے کے ماہر ہوتے ہیں، مومن وہ ہے جو خود اپنی غلطیوں کو جاننے والا ہو- لوگ دوسروں کے ظلم کا انکشاف کرنے کو کام سمجھتے ہیں، مومن وہ ہے جو خود اپنی زیادتیوں کو جانے اور ان کی اصلاح کی تدبیر کرے-
عام طور پر لوگ دوسروں کے خلاف تقریر اور تحریر کے ہنگامے برپا کرتے ہیں، مومن وہ ہے جو خود اپنے محاسبہ (introspection) میں مشغول ہو- لوگ دوسروں کے خلاف جھنڈا اٹھاتے ہیں، مومن وہ ہے جو خود اپنی ذات کے خلاف جھنڈا اٹھائے-
اِس اصول کا تعلق فرد سے بھی ہے اور قوم سے بھی- اِس دنیا میں ایک فرد کی کامیابی کا راز بھی یہی ہے کہ وہ اپنی کوتاہیوں کو دریافت کرے اور قوم کی کامیابی کا راز بھی یہی- فرد کسی قوم کی اکائی (unit) ہوتا ہے اور قوم افراد کے مجموعے سے بنتی ہے، اِس بنا پر فرد اور قوم دونوں کے لیے کامیابی اور ناکامی کا اصول بھی ایک ہے-
اِس دنیا کو بنانے والے نے اِس دنیا کو چیلنج کےاصول پر بنایا ہے- یہاں ہر لمحہ چیلنج اور مسابقت (competition) کا عمل جاری رہتاہے- ایسی حالت میں کسی دوسرے کی شکایت کرنے کا مطلب یہ ہے کہ شکایت کرنے والا چیلنج کا جواب دینے میں ناکام رہا، شکایت کرنے والا حالات کو سمجھ کر دانش مندانہ انداز میں اپنی منصوبہ بندی نہ کرسکا- حقیقت یہ ہے کہ شکایت اور احتجاج خود اپنی ناکامی کا اعلان ہے، نہ کہ کسی مفروضہ دشمن کی موجودگی کا اعلان-
لوگ دوسروں کے خلاف شکایتوں کا دفتر تیار کرتے ہیں، حالاں کہ اُنھیں خود اپنی کوتاہیوں کا رجسٹر تیار کرنا چاہئے- لوگ دوسروں کی سازشوں کا انکشاف کرنے میں مشغول ہیں، حالاں کہ انھیں خود اپنی بے دانشی کا انکشاف کرنا چاہئے- لوگ خارجی دنیا میں اپنے دشمن کی نشان دہی کررہے ہیں، حالاں کہ اُنھیں خود اپنے اندر چھپے ہوئے دشمن کی نشان دہی کرنا چاہئے-
واپس اوپر جائیں

خبرنامہ اسلامی مرکز224 -

1- صدر اسلامی مرکز کی کتاب ــ ـ" مذہب ــاور جدید چیلنج"کا فرانسیسی ایڈیشن پیرس کے الازہر (Librairie Al Azhar)سے اپریل 2013 میں شائع ہو گیا ہے۔یہ کتاب 302صفحات پر مشتمل ہے۔ عربی اور انگریزی ایدیشن کی مدد سے اِس کتاب کا فرنچ ترجمہ (L’ISLAM ET LES DÉFIS DE LA SCIENCE) حسب ذیل دو افراد نے تیار کیا ہے:
Translator: Mr Menaoum Saine, Editor: Ms Shahnaz Benbetka
2- سہارن پور(یوپی) کے جین ڈگری کالج میں 24 مئی 2013 کو امر ُاجالاگروپ کی طرف سے ایک بڑا پروگرام ہوا۔اِس موقع پر سہارن پورٹیم کے ممبران نے بڑے پیمانے پر یہاںلوگوں کو قرآن کا انگریزی ترجمہ اور دعوتی لٹریچر دیا۔مثلاًسہارن پورکے ڈی ایم مسٹر اَجے کمار سنگھ،وغیرہ کو دعوتی لٹریچر دیاگیا۔
3- ایس بی اے (Sales Bar Association) کی طرف سے اس کے ہیڈ آفس (آئی ٹی او، نئی دہلی) کے ہال میں 28 مئی 2013 کو ایک پروگرام ہوا۔ یہ پروگرام صرف صدر اسلامی مرکزکے خطاب کے لئے رکھا گیا تھا۔اس پروگرام میں ایس بی اے کے تقریباً 300 ممبران نے شرکت کی۔ اِس کا موضوع تھا: آدمی بننا کتنا آسان؟ صدر اسلامی مرکزنے یہاں موضوع پر ایک گھنٹے تقریر کی۔یہ تقریر اردو زبان میں تھی۔ تقریر کے بعد سوال و جواب کا پروگرام ہوا۔ دوسرے خطابات کی طرح صدر اسلامی مرکزکا یہ خطاب بھی سی پی ایس کے ویب سائٹ پر دیکھا جا سکتا ہے:cpsglobal.org/content/maulanas-addressals-0
4- سہارن پور کے ہوٹل کلارک میں22-23جون 2013 کے دوران ’دینک جاگرن‘ گروپ کی طرف سے ایک ایجوکیشنل فیر ہوا۔ اِس موقع پر سہار ن پو رٹیم کے ممبران نے پروگرام میں شریک حاضرین کو یہاں قرآن کا انگریزی ترجمہ اور دعوتی لٹریچر دیا۔
5- سہارن پور کے ارپت ڈائگناسٹک (Arpit Diagnostic) میں 25 جون 2013 کو ٹیم کے ممبران نے جاکر وہاں کے اسٹاف سے ملاقات کی اور اُن کو قرآن کا انگریزی ترجمہ اور دعوتی لٹریچر دیا۔
6- سہارن پور کے مہا راجا پیلیس میں 26 جون 2013 کو ’دَینک ہندستان‘ کی طرف سے ایک ایجوکیشنل بک فیر ہوا۔ اِس میں ہندستان کے اہم کالج کے طلبا اور اساتذہ کے علاوہ، دیگر اعلیٰ تعلیم یافتہ لوگوں نے شرکت کی۔اِس موقع پر سہار ن پو رٹیم کے ممبران نے یہاں اپنا ایک بک اسٹال لگایا۔ حاضرین نے بڑے پیمانے پر اسٹال پر وِزٹ کیا اور یہاں سے قرآن کا انگریزی ترجمہ اور دعوتی لٹریچرحاصل کیا۔
7 - سہارن پور کے پیس ہال میں 30 جون2013 کو ٹیم کے ممبران کی میٹنگ ہوئی۔ اِس موقع پر ممبران کے علاوہ، بعض دوسرے حضرات بھی اس میں موجود تھے۔ انھوں نے اپنے تاثرات بیان کیے-مثلاً سوامی امَرپال سنگھ(ہریانہ)۔ سوامی جی نے اپنے تاثرات بیان کرتے ہوئے ایک بات یہ کہی کہ ’’: مولانا وحیدالدین خاں کی کتابوں کا اَدّھین کرنے سے یہ فائدہ ہوتا ہے کی آدمی کو شانتی والا جیون حاصل ہوجاتا ہے اوروہ خدا کو پا لیتا ہے۔‘‘
8- سہارن پور کے پیس ہال میں 28 جولائی 2013 کو اِفطار کا ایک پروگرام ہوا۔ اِس موقع پر شہر کے اعلیٰ تعلیم یافتہ لوگوں نے شرکت کی۔ یہاں حاضرین کو قرآن کا انگریزی ترجمہ اور دعوتی لٹریچر دیاگیا۔
9- نوئڈا کے فلم سٹی (Time Centre) میں 31 جولائی 2013کوگوگل ویبینار (The Google Webinar) گروپ نے آرگن ڈونیشن (Organ Donation Seminar) کے موضوع پر ایک پینل ڈسکشن کیا۔ اس کی دعوت پر صدر اسلامی مرکز نے اپنے ساتھیوں کے ساتھ اس میں شرکت کی اور انگریزی زبان میں موضوع پر اظہارِ خیال کیا۔ یہاںسی پی ایس کی طرف سے، لوگوں کو قرآن کا انگریزی ترجمہ اور دعوتی لٹریچر دیا گیا۔ (https://www.speakingtree.in/events/organ-donation-seminar-23003)
10- یکم اگست 2013 کو سویڈن کی اُمیا یونی ورسٹی (Umea University, Sweden) میں نفسیات کے پروفیسر تھامس لندگرین (Tomas Lindgren ) نے صدر اسلامی مرکز سے ملاقات کی اور اسلام اور امن کے موضوع پر صدر اسلامی مرکز کا تفصیلی انٹرویوریکارڈ کیا ۔ پروفیسر تھامس نے اپنے تاثرات کا اظہار کرتے ہوئے کہا:
I’m writing a book right now about religion, nonviolence and peace building, based on interviews with peace activists in South and Southeast Asia. I’m deeply impressed by your publications and the work you have done. I would like to know so much more about your ideas, visions and the work you have done over the years.
11- نئی دہلی کے ہوٹلـ شنگریلا (Shangri-La) میں 14 اگست 2013 کو ایک انٹرنیشنل پروگرام (Health Skill Summit) ہوا۔ اس کی دعوت پر ڈاکٹر محمد اسلم خاں (سہارن پور) نے اس میں شرکت کی اور گڈورڈ بکس سے خرید کر یہاں حاضرین کو قرآن کا انگریزی ترجمہ اور دعوتی لٹریچر دیا۔
12- نئی دہلی کے ادارہ ’مانو درشن انوسندھان‘ کی طرف سے ، دین دیال رسرچ انسٹی ٹیوٹ(نئی دہلی) کے آڈی ٹوریم میں 15 اگست 2013 کو ایک سمپوزیم ہوا۔ اِس سمپوزیم کا موضوع یہ تھا:
’بھارت کا وِبھاجن اور پاکستان کا اَستِتّو‘ (ہندستان کی تقسیم اور پاکستان کا وجود)
اِس کی دعوت پر سی پی ایس انٹر نیشنل کی طرف سے مولانا محمد ذکوان ندوی نے اس میں شرکت کی اور موضوع پر آدھ گھنٹے کی ایک تقریر کی۔تقریر کا خلاصہ یہ تھا کہ ہر طرح کے فساد کی جڑ نفرت ہے،خواہ وہ کوئی ملکی معاملہ ہو یا بین اقوامی معاملہ۔ انھوں نے کہا کہ یہ صرف ایک نظریاتی بات نہیں ہے، بلکہ امن کی آئڈیالوجی پر مبنی سی پی ایس کے لٹریچر کی بنیاد پر، دوسرے ملکوں کے علاوہ، خود کشمیر اور پاکستان کے بے شمار افراد کے اندر مثبت اور تعمیری ذہن پیدا ہوا ہے- انھوں نے مزید کہا کہ اب وقت آ گیا ہے کہ دونوں ملکوں کےلوگ ماضی کی تلخ یادوں کو ُبھلا کر، مثبت ذہن کے تحت، اپنے ملک کو تعمیر وترقی کے میدان میںآگے بڑھائیں۔ اِس سمپوزیم میں دو اسپیکر اور تھے۔ اُن کے نام یہ ہیں:مسٹر روی شنکر پرشاد (سابق یونین منسٹر)، پروفیسرآنند کمار (جواہرلال نہرو یونی ورسٹی،نئی دہلی)۔ سی پی ایس کی طرف سے یہاں تمام حاضرین کو قرآن کا انگریزی ترجمہ اور دعوتی لٹریچر دیا گیا۔
13- گڈورڈ بُکس (نئی دہلی) کی طرف سے یروشلم اور مسجداقصیٰ (فلسطین) میں آنے والے غیرمسلم زائرین تک، نیز مسجد کے باہر کے دوسرے ٹورسٹ مقامات اور ہوٹل وغیرہ پر آنے والے زائرین تک، اسی طرح فلسطین کے دوسرے شہروں — بیت لحم(Bethlehem)، الناصرہ (Nazareth)، الخلیل (Hebron)میں آنے والے زائرین تک انگریز ی کتاب (What Is Islam) اور قرآن کا ترجمہ بڑی تعداد میںمقامی مسلم نوجوانوں کے ذریعے پہنچایا جا رہا ہے۔اِس سلسلے میں گڈورڈبکس کی طرف سے مذکورہ دعوتی لٹریچر فلسطین کے ’المستقبل پریس‘(رَملہ) سے چھپوا کر زائرین کے درمیان تقسیم کیا جا رہا ہے۔ اسی طرح استنبول (ترکی) کی تاریخی مساجد — سلطان احمد (Blue Mosque) ، رستم پاشا (Rustem Pasha Mosque)میں آنے والے زائرین تک مسجد کی انتظامیہ کے ذریعے گڈورڈ بکس کی طرف سے قرآن کا ترجمہ اور دعوتی لٹریچر پہنچایا جارہا ہے-واضح رہے کہ صرف مسجد سلطان احمد میں روزانہ آنے والے غیر ملکی ٹورسٹس کی تعداد تقریباً دس ہزار ہوتی ہے-
14- حیدرآباد (انڈیا) کی ٹیم کے ممبران ،مسٹر اعجاز عادل اور اُن کے دوسرے ساتھیوں نے تلگو زبان میں صدراسلامی مرکز کا ترجمہ قرآن چھاپ کر شائع کردیا ہے۔ یہ ترجمہ تلگوزبان کے مشہور مترجم مسٹر محمد عزیزالرحمٰن حیدرآبادی نے کیا ہے۔
15- ہمارے ساتھی ،خاص طور پر مسٹر محبوب ، بمبئی میں وہاں کی فلم انڈسٹری کے لوگوں سے مل کر مسلسل طور پر اُن کو قرآن کا انگریزی ترجمہ اور دعوتی لٹریچر پہنچا رہے ہیں۔اِسی طرح امریکا میں مقیم ہمارے ساتھی وہاں کے مختلف طبقوں کے درمیان دعوت کا کام کررہے ہیں-یہ لوگ کس طرح ہرجگہ قرآن کا انگریزی ترجمہ پہنچا رہے ہیں، حال میں اُس کی ایک مثال سامنے آئی۔وہ یہ کہ امریکا کی مشہورفلمی دنیا ’ہالی ووڈ‘ کے اسٹار مسٹر رَسل برانڈ(Russel Brand) کے ہاتھ میں ہمارے یہاں کا چھپا ہوا ترجمہ قرآن دیکھا گیا۔ ملاحظہ ہو:
https://www.facebook.com/photo.php?fbid=458270127596790&set=
a.161532850603854.36854.161530600604079&type=1&theater
رَسل برانڈ نے اِس سلسلے میں اپنے تاثرات کا اظہار کرتے ہوے یہ الفاظ لکھے ہیں:
"I've read some of the Quran and nothing in it has compelled me to do violence." (www.russellbrand.tv/2013/05/woolwich)
16- کشمیر کے مختلف مقامات پر الرسالہ کے ممبران وہاں کے مختلف طبقوں تک بڑے پیمانے پر دعوتی لٹریچر پہنچا رہے ہیں- اِس میں دوسرے اعلی تعلیم یافتہ افراد کے علاوہ، سرکاری عہدے داران اور فوجی افسران بھی شامل ہیں- اِن لوگوں تک خاص طور پر ’’صبح کشمیر‘‘ (Dawn Over Kashmir)اور قرآن کا انگریزی ترجمہ پہنچایا جارہا ہے-
17- رمضان (1434 ہجری) میں دہلی اور دہلی کے مختلف اجتماعی مقامات — ہوٹل، مساجد، ٹورسٹ پلیس، آڈی ٹوریم، کلچرل سنٹرس، وغیرہ میںہمارے ساتھیوں نے جاکر وہاں کے لوگوں کے ساتھ انٹرایکشن کیا اور ان کو قرآن کا انگریزی ترجمہ پہنچایا- جمشید پور (جھارکھنڈ) کی ٹیم کے ممبران نے اِس دوران، دوسرے دعوتی پروگرام کے علاوہ، ڈور ٹو ڈور دعوہ ورک(Door to Door Dawah Work) بھی کیا-
18- نئی دہلی کے آن لائن میگزین )’نیو ایج اسلام‘ 24 اگست 2013 (میں صدر اسلامی مرکز کا ایک مضمون (What does it mean to admonish someone with the help of the word of God?) شائع ہوا ہے-اس کو میگزین کے ویب سائٹ (newageislam.com)پر دیکھا جاسکتا ہے-
19- ٹائمس آف انڈیا( نئی دہلی) میں اسپیکنگ ٹری (The Speaking Tree) کے تحت صدر اسلامی مرکز کے مضامین مسلسل طورپر شائع ہورہے ہیں- یہ تمام مضامین حسب ذیل ویب سائٹ پر موجو د ہیں:
http://cpsglobal.org/articles/speakingtree
20- الرسالہ مشن اور اس کے دعوتی لٹریچرسے متعلق قارئین کے چند تاثرات درج ذیل ہیں:
— After linking with Al-Risala mission, there is a sea change in my overall personality. Previously, I was highly inclined towards worldly name and fame, but linking myself with this mission helped me in getting away from evil temptations. Earlier, I organised various conferences and other public events for material gains but now, I have learnt to use the same platform for dawah work. I run a medical college in Saharanpur (U.P.) In the past, my college was just a source of income for me but now it has also become a centre of dawah for students. ( Dr. M. Aslam Khan, Principal, National Medical IGNOU Community College, Saharanpur (U.P.)
— I really like your english translation which is very easy to understand compared to other enlish translations. (Hameeda Abbassi, Canada)
— I found your book “ Woman Between Islam and Western Society” very insightful. I'm re-reading it and enjoying learning about women’s status in Islam, their right and duties as Muslimahs in the light of Islamic history. I'm using this book as a guide to teach Ayesha Islamic values plus life skills. (Soghra Aziz Hasan, Bangkok, Thailand)
21- چنئی (مدراس)میں 18 اگست 2013 کوڈاکٹر وی عبد الرحیم کے بدست گڈورڈ بک اسٹور کا افتتاح کیا گیا-یہاں گڈورڈ بکس (نئی دہلی) کی تمام مطبوعات دستیاب ہیں-اس افتتاحی پروگرام کی تفصیل درج ذیل ہے:
Goodword Books, an Islamic publishing house, opened its bookstore and dawah center in Chennai on August 18, 2013. The bookstore was inaugurated by the well-known Islamic scholar, Dr. V. Abdur Rahim, director of the King Fahad Quran Printing Complex and former Professor of Arabic at the Islamic University of Madinah, Saudi Arabia. In his address, Dr. V. Abdur Rahim, applauding the efforts of the publishing house, he said that its products were known for “high quality and authenticity.” The director of Goodword Books, Saniyasnain Khan, also present at the inauguration, hoped that the bookstore would help in furthering the mission of the publishing house. He said: “Goodword Books is not just a publishing house but it is a dawah mission.” The launch drew Islamic scholars, publishers and writers from Chennai and other states, such as the director of Darussalam, Maulana Ilyas Vaniyambadi, Zabeehulla Baig , Tamil writers Mr. Ibrahim Mohiddin, Ibrahim Rasool, M. K. Abdul Quddoos and others.
واپس اوپر جائیں