Pages

Sunday, 1 March 2015

Al Risala | March 2015 (الرسالہ،مارچ)

4

-صدیق اسپرٹ

5

- اسلامی تربیت

8

- شیطان سے دوری

9

- تکفیر یا تبلیغ

10

- فقہی مسائل میں اختلاف

14

- تدبر کا میدان

15

- یقین کا سرچشمہ

16

- استثنا ایک ثبوت

17

- قرآن کتاب مہجور

18

- کوئی مشکل، مشکل نہیں

19

- وضو اور قرآن

20

- فلسفیانہ تلاش کی ناکامی

21

- مثبت سوچ، منفی سوچ

23

- قرآن کا ایک پہلو

24

- فطرت کا نظام

26

- عملِ مزید، جنتِ مزید

28

- تجدید ِ دین

29

- تکرار کا مسئلہ

30

- قبولِ قیادت کا فقدان

31

- خدا کی زبان

32

- انتقامی جنگ

33

- اسلام کا اقدام، دعوت

34

- دورِ جاہلیت یا دورِ اسلام

35

- ایک خطرناک صفت

36

- تخلیقیت کے دو درجے

37

- قرآن، سنت، اجتہاد

38

- اصلاح امت

39

- رحمت کا دروازہ

40

- زیادہ بڑی فتح

41

- آداب مجلس

42

- انسان کا مسئلہ

43

- دوآپشن کے درمیان

44

- مفید، بے مسئلہ

45

- کلینڈر کی تاریخ

46

- خبر نامہ اسلامی مرکز


صدیق اسپرٹ

پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات 632 ء میں ہوئی۔ اس کے بعد ابوبکر صدیق پہلے خلیفہ منتخب کئے گئے۔ آپ کی خلافت کی مدت تقریبا ڈھائی سال تھی۔آپ کی خلافت کے زمانے میں اسلام کے لئے ایک سنگین مسئلہ پیدا ہوا۔ اس وقت خلیفۂ اول نے اپنے عزم کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا، أینقص الدین وأنا حی (مشکاۃ المصابیح : 6034) یعنی کیا دین میں کمی کی جائے گی، حالاں کہ میں زندہ ہوں۔ یہ صدیق اسپرٹ ہے۔جب دین کے لئے کوئی سنگین مسئلہ پیدا ہو تو سچا مومن تڑپ اٹھتا ہے۔ اللہ کے بھروسہ پر وہ اکیلا ہی دین کے لئے کھڑا ہوجاتا ہے۔ایسا ہی واقعہ اکیسویں صدی میں اسلام کے لئے پیدا ہوا ہے، اور دوبارہ ضرورت پیش آگئی ہے کہ کچھ اہل ایمان صدیق اسپرٹ کے ساتھ دین کے لئے کھڑے ہو جائیں۔
موجودہ زمانے کا سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ دین کی تصویر کو بگاڑ دیا گیا ہے۔اللہ کا دین مکمل طور پر دین امن (religion of peace) ہے، لیکن خود مسلمانوں کے غلط عمل کے ذریعے اس کو دین تشدد (religion of violence) بنادیا گیا ہے۔ یہ صورتِ حال ایسی ہے جس پر ہر صاحبِ ایمان تڑپ اٹھے، ہر صاحبِ ایمان خدا کے دین کو دوبارہ امن کا دین بنانے کے لئے کامل طور پر سرگرم ہوجائے۔ اس مقصد کے لئے قرآن کا ترجمہ ہر زبان میں لوگوں تک پہنچانا ہے۔عالمی زبانوں میںاسلام کا پر امن پیغام ہر طرف فلڈ (flood) کر دینا ہے۔یہاں تک کہ ہر عورت اور ہر مردیہ جان لے کہ خدا کا دین امن کا دین ہے، تشدد سے اس کا کوئی تعلق نہیں۔
قرآن کے شروع میں بتایا گیا ہے کہ اللہ، رب العالمین ہے، وہ رحمۃ للعالمین ہے۔ اللہ کا اور اللہ کے دین کا کوئی تعلق نفرت و تشدد سے نہیں۔ اب وقت آگیا ہے کہ سچے اہل ایمان پکار اٹھیں ، اور یہ کہیں کہ کیا اللہ کے دین کی تصویر پر تشدد دین کی بنادی جائے گی، حالاں کہ میں زندہ ہوں۔ یہی صدیق اسپرٹ ہے، اور یہی آج کا سب سے بڑا مطلوب کام۔
واپس اوپر جائیں

اسلامی تربیت

الرسالہ مشن کے تحت انڈیا کے ایک شہر میں ایک اجتماع کیا گیا۔ یہ اجتماع تربیتی مقصد کے لئے کیا گیا تھا۔اجتماع کے بعد الرسالہ کے ایک قاری نے کہا کہ ہم اجتماع میں تربیت کے لئے شریک ہوئے تھے، مگر یہاں تربیت کی کوئی بات نہیں ہوئی۔مجھ کو اس اجتماع سے کوئی تربیتی فائدہ نہیں ملا۔
یہ تبصرہ ایک غلط فہمی پر مبنی ہے۔ اصل یہ ہے کہ پچھلے زمانے میں تربیت اور تربیتی کیمپ کا لفظ بہت زیادہ استعمال ہوا۔ اس سے لوگوں کے ذہن میں تربیت کا ایک روایتی ماڈل (traditional model) بن گیا۔لوگ اسی کو تربیتی کام سمجھنے لگے ۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ تربیت کا یہ روایتی ماڈل موجودہ زمانے میں ایک غیر متعلق ماڈل (irrelevant model)بن گیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بڑی تعداد میں تربیت کے نام پر سرگرمیاں جاری ہیں، لیکن یہ تربیتی سرگرمیاں عملاً بے نتیجہ ثابت ہو رہی ہیں۔
تربیت کا روایتی تصور مبنی بر فارم تصور ہے۔ اس کے برعکس، الرسالہ مشن میں تربیت کا جو طریقہ اختیار کیا گیا ہے، وہ مبنی بر اسپرٹ تصور ہے۔مبنی بر اسپرٹ تربیت ہی کو ہم قرآن کا طریقِ تربیت سمجھتے ہیں۔ یہ طریقہ نظری اعتبار سے بھی درست ہے، اور عملی تجربہ کے اعتبار سے بھی یہی طریقہ مفید ثابت ہوا ہے۔
مذکورہ تربیتی اجتماع میں جو باتیں کہی گئی تھیں، ان میں سے دو باتیں یہاں نقل کی جاتی ہیں۔ اس سے اندازہ ہوگا کہ الرسالہ مشن میں تربیت کا جو نہج (method) اختیار کیا گیا، وہ کیا ہے۔ یہ دونوں باتیں بظاہر تربیت کے نام سے نہیں کہی گئی تھیں، لیکن عملا اس کا تعلق تربیت ہی سے تھا۔حقیقت یہ ہے کہ تربیت دراصل سوچ کا نام ہے۔
1 - مذکورہ اجتماع میں ایک بات یہ کہی گئی تھی کہ حق کا داعی وہ ہے جو اپنے اندر تخلیقی سوچ (creative thinking) پیدا کرے۔وہ اپنی ذاتی سوچ کے ذریعے اپنی معرفت کو بڑھائے، وہ اپنی ذاتی سوچ کے ذریعے سوال کا جواب معلوم کرے، وہ اپنی ذاتی سوچ کے ذریعے دعوت کا پروگرام بنائے۔ دعوت کا کام کوئی روٹین کا کام نہیں ہے، دعوت کا کام ایک تخلیقی کام ہے۔دعوت کا کام مؤثر طور پر وہی لوگ انجام دے سکتے ہیں جن کے اندر تخلیقی سوچ (creative thinking) کی صلاحیت موجود ہو۔
2 - اجتماع کے موقع پر دوسری بات وہ تھی جو قرآن کی ایک آیت کو لے کرکہی گئی۔ اس آیت کے الفاظ یہ ہیں: وَقَاتِلُوہُمْ حَتَّى لَا تَکُونَ فِتْنَةٌ وَیَکُونَ الدِّینُ کُلُّہُ لِلَّہِ (8:39)یعنی ان سے لڑو، یہاں تک کہ فتنہ باقی نہ رہے، اور دین سب کا سب اللہ کے لئے ہوجائے۔
بتایا گیا کہ اس آیت کے دو حصے ہیں۔ ایک، وقاتلوھم حتی لاتکون فتنۃ، اور دوسرا، ویکون الدین کلہ للہ ۔ نحوی اعتبار سے پہلا حصہ امر کے صیغے میں ہے، اور دوسرا حصہ خبر کے صیغے میں ۔ یعنی فتنہ کو ختم کرنے کے لئے تو اہل ایمان کو لڑنے کا حکم دیا گیا۔ لیکن اس معاملے کا دوسرا پہلو، دین کا اللہ کے لئے ہوجانا، اپنے آپ وقوع میں آئے۔اس کا مطلب یہ ہے کہ جب فتنہ کا دور ختم ہوجائے تو اس کے بعد وہ وقت آجاتا ہے جب کہ پیدا شدہ مواقع (opportunities) کو استعمال کیا جائے۔
پھر بتایا گیا کہ قرآن کی اس آیت میں دراصل ایک دور کے خاتمہ اور دوسرے دور کے آغاز کی بات کہی گئی ہے۔ آیت میں فتنہ کا لفظ مذہبی تشدد (religious persecution) کے معنی میں ہے۔اس کا مطلب یہ ہے کہ قدیم تاریخ میں مذہبی تشدد کا جو کلچر قائم ہوا، وہ خدا کے تخلیقی منصوبہ (creation plan) کے خلاف تھا۔ خدا کو یہ مطلوب ہے کہ مذہب کے معاملے میں انسان کوآزادانہ اختیار (free choice) حاصل ہو۔ مگر قدیم زمانے میں مذہبی تشدد کے کلچر نے یہ کیا کہ انسان کے لئے ایک ہی چوائس کا امکان باقی رہا، یعنی غالب کلچر کا چوائس۔یہ حالت خالق کے نقشے کے مطابق نہ تھی اس لئےاہل ایمان کو حکم دیا گیا کہ مذہبی تشدد کے دور کو ختم کر دو تاکہ تخلیق کے مطابق فطری حالت قائم ہو جائے۔
قرآن کی اس آیت کے مطابق رسول اور اصحابِ رسول کے بعد تاریخ میں جو دور آیا ہے، وہ مواقع کا دور (age of opportunities) ہے۔ اب اہل ایمان کو یہ کرنا ہے کہ وہ منفی سوچ کو یکسر ختم کردیں۔ اب اہل ایمان کے لئے یہ جواز باقی نہیں رہاکہ کسی کواپنا دشمن سمجھ لیں، اورپھر اس کے خلاف نفرت اور تشدد کا معاملہ کریں۔ اب اہل ایمان کو صرف یہ کرنا ہے کہ وہ زمانے کی اسپرٹ کو سمجھیں، وہ مثبت منصوبہ بندی کے ذریعے پر امن طور پر اللہ کا پیغام سارے اہل عالم تک پہنچادیں۔ تربیت اصلاسوچ کی تربیت کا نام ہے، نہ کہ مسائل بتانے کا نام۔
تربیت کا جو طریقہ عام طور پر رائج ہے، اس میں یہ ہوتا ہے کہ مربی (trainer) لوگوں سے اس طرح کی باتیں کہتا ہے کہ آپ اچھے طریقے کو اپنی عادت میں شامل کیجئے، آپ تہجد کی عادت ڈالئے، آپ الحمد للہ، سبحان اللہ، ماشاء اللہ کہنے کی عادت ڈالئے، آپ ہر کام کو دائیں ہاتھ سے شروع کرنے کی عادت ڈالئے، وغیرہ۔ اس طرح کی باتیں تربیت کی تصغیر (underestimation) ہیں۔ تربیت دراصل ذہن سازی کا نام ہے، نہ کہ عادت سازی کا نام۔
فطرت کے اصول کے مطابق آدمی جو کام بھی کرتا ہے، وہ اس کی سوچ کا نتیجہ ہوتا ہے۔ اس لئے حقیقی تربیت یہ ہے کہ آدمی کے طرزِ فکر (art of thinking) کو درست کیا جائے، آدمی کے اندر یہ صلاحیت پیدا کی جائے کہ وہ صحیح انداز میں سوچے، وہ صحیح انداز میں چیزوں کا تجزیہ کرے، وہ اپنے آپ کو متعصبانہ طرزِ فکر سے بچائے، اور موضوعی اندازِ فکر (objective thinking) کے مطابق چیزوں کے بارے میں اپنی رائے قائم کرے۔مثلا، یہ ایک عام بات ہے کہ لوگ سنی ہوئی باتوں کو مان لیتے ہیں، اور اس کو دہرانے لگتے ہیں، یہ طریقہ غلط ہے۔ صحیح تربیت وہ ہے جو اس معاملے میں لوگوں کو باشعور بنائے۔ اسی طرح عام طور پر لوگ ایسا کرتے ہیں کہ وہ تنقید اور تنقیص کا فرق نہیں سمجھتے۔ وہ نہایت آسانی سے کسی کے بارے میں منفی رائے زنی کرنے لگتے ہیں۔اس معاملے میں تربیت کا مقصد یہ ہے کہ لوگوں کے اندر یہ صلاحیت پیدا کی جائے کہ وہ ثابت شدہ حقائق کی بنیاد پر تنقید کریں۔ جس معاملے میں ان کے پاس ثابت شدہ مواد موجود نہ ہو، اس معاملے میں وہ خاموشی کا طریقہ اختیار کریں۔
تربیت اس کا نام نہیں ہے کہ لوگوں کوصحیح اور غلط (dos and don’ts) کی زبان میں کچھ مسائل بتا دیئے جائیں۔ تربیت کا صحیح طریقہ یہ ہے کہ بات کو اس طرح مدلل انداز میں بیان کیا جائے جو مخاطب کے ذہن کو ایڈریس کرنے والا ہو۔ جس کو سن کر مخاطب سوچنے پر مجبور ہوجائے۔تربیت خود فکری (self thinking) کا نام ہے۔تربیت کا مقصد یہ ہے کہ آدمی اپنا مربی خود بن جائے، وہ اپنا محاسبہ آپ کرنے لگے۔
واپس اوپر جائیں

شیطان سے دوری

ایک حدیث ِ رسول عمر بن خطاب کے حوالے سے ان الفاظ میں آئی ہے: یا عمر، فواللہ، إن لقیک الشیطان بفَجّ قط، إلا أخذ فَجًّا غیر فجِّک (مسند أحمد، رقم الحدیث: 1624) یعنی اے عمر، خدا کی قسم، شیطان اگر کبھی تمھارے راستے میں آتاہے، تو وہ ہمیشہ تمھارے راستے کے سوا ایک اور راستہ اختیار کرلیتاہے-اس حدیث میں جو بات کہی گئی ہے وہ ایک شخص کی فضیلت کے طورپر نہیں ہے، بلکہ وہ ایک اصول کے بیان کے طورپر ہے - ایک شخص کا نام اُس میں بطور علامت ہے، نہ کہ بطور فضیلت-
اصل یہ ہے کہ شیطان سے حفاظت کا تعلق اس بات سے ہے کہ آدمی کے اندر ذہنی بیداری (intellectual awakening) کتنی زیادہ آئی ہے- اِس حدیث میں حضرت عمر کا نام ایک علامتی مثال کے طورپر ہے- حضرت عمر کا معاملہ یہ تھاکہ ان کے اندر کامل درجہ میں تواضع (modesty) پائی جاتی تھی- وہ علم کے بہت زیادہ حریص تھے- وہ اپنی غلطی کے اعتراف میں ایک لمحہ کی دیر نہیں کرتے تھے- ان صفات نے حضرت عمر کو ایک بے حد حساس انسان بنادیا تھا- ان کی یہ حساسیت اپنی ذات کے بارے میں نہ تھی، بلکہ حق کے بارے میں تھی- کسی امر حق کو پہچاننے میں وہ ایک لمحے کی تاخیر کا تحمل نہیں کرسکتے تھے-
ان صفات کا نتیجہ یہ تھا کہ حضرت عمر قرآن کی اِس آیت کا کامل مصداق بن گئے تھے: اِنَّ الَّذِیْنَ اتَّقَوْا اِذَا مَسَّہُمْ طٰۗىِٕفٌ مِّنَ الشَّیْطٰنِ تَذَکَّرُوْا فَاِذَا ہُمْ مُبْصِرُوْنَ ( 7:201) یعنی جو لوگ اللہ سے ڈرتے ہیں، جب شیطان کے اثر سے کوئی برا خیال انھیں چھوجاتا ہےتو وہ فوراً چونک پڑتے ہیں- اور پھر اسی وقت ان کو سمجھ آجاتی ہے-حدیث میں شیطان کے راستہ بدلنے کی بات دراصل ایک تمثیلی اسلوب ہے- اس کا مطلب یہ ہے کہ ایسا انسان اپنی ذہنی بیداری کی بنا پر اس قابل ہوجاتا ہے کہ وہ شیطان کے وسوسہ کا تجزیہ کرے اور اس طرح وہ اس سے متاثر نہ ہو- ایسے آدمی کی ذہنی بیداری اُس کو ایسے مواقع سے محفوظ رکھنے کی ضامن بن جاتی ہے-
واپس اوپر جائیں

تکفیر یا تبلیغ

خلافت راشدہ کے آخری زمانے میں اُس فرقے کا ظہور ہوا جس کو خوارج کہا جاتا ہے۔ خوارج دراصل غلو (extremism) کا شکار تھے۔ وہ ہرگناہ پر لوگوں کو کافر قرار دینے لگے (الذین یکفّرون بکل ذنب)۔ اس کے رد عمل میں علماء کے درمیان اس پر بہت زیادہ بحثیں ہوئیں، آخر کار اس دور کے علما نے اس پر اتفاق کر لیا کہ جو شخص قبلہ کی طرف رخ کرکے نماز پڑھے اس کی تکفیر نہیں کی جائے گی۔ امام ابو جعفر الطحاوی (وفات: 321ھ) نے اپنے زمانے کے علما کا موقف بیان کر تے ہوئے لکھا ہے کہ : ولا نکفّرأحداً من أہل القبلة بذنب ، ما لم یستحلّہ (شرح عقیدۃ الطحاویۃ : 1/296)۔ یعنی ہم کسی اہل قبلہ کی تکفیر کسی گناہ کے ارتکاب پر نہیں کرتے، جب تک وہ اس کو حلال نہ قرار دے۔علما کے اس متفقہ موقف پراب ہزار سال گزرچکے ہیں، مگر ابھی تک تکفیر کا ہنگامہ بند نہیں ہوا۔ تکفیر کا غیر اسلامی طریقہ اس کے بعد بھی امت کے درمیا ن جاری ہے۔ اس کا سبب یہ ہے کہ اس معاملےمیں علما نے جو موقف اختیار کیا، وہ موقف بجائے خود صحیح نہ تھا۔ انھوں نے تکفیر عام کو ناجائز بتایا، مگر اسی کے ساتھ انھوںنے تکفیر مشروط کوجائز قرار دے دیا۔ یہ موقف بجائے خود غلط تھا اس لئے وہ امت میں تکفیر کا دروازہ بند نہ کر سکا۔صحیح بات یہ تھی کہ علما متفقہ طور پر یہ اعلان کرتے کہ تکفیر کا طریقہ اصلاً ہی ایک غیر اسلامی طریقہ ہے۔ کسی عالم یا مفتی کو شرعی طور پر یہ حق نہیں کہ وہ کسی کو کافر قرار دے۔کافر قرار دینے کا طریقہ اصحابِ رسول کے درمیان موجود نہ تھا۔ وہ بعد کے زمانے میں امت کے اندر رائج ہوا۔علما کو یہ کرنا چاہئے تھا کہ وہ متفقہ طور پر یہ اعلان کریں کہ تکفیر کا طریقہ بدعت کا طریقہ ہے۔ اہل ایمان کی ذمے داری یہ ہے کہ وہ لوگوں کے خیر خواہ بنیں، وہ تکفیر کے بجائے تبلیغ کا طریقہ اختیار کریں۔امتِ مسلمہ کی ذمے داری صرف یہ ہے کہ وہ تمام انسانوںکو اپنا مدعوسمجھے، وہ لوگوں کے رویہ پر حکم لگانے کے بجائےان کو اللہ کا پیغام پہنچائے۔ امتِ مسلمہ کے عمل کی منصوبہ بندی مبنی بر تبلیغ ہونا چاہئے، نہ کہ مبنی بر تکفیر۔ تکفیر اللہ کا کام ہے، تکفیر ہرگز انسان کا کام نہیں۔اگر تبلیغ مؤثر ثابت نہ ہو تو اس کے بعد مومن کا کام یہ ہے کہ وہ دعا کرتے ہوئےایسے لوگوں کے معاملے کو اللہ کے حوالےکردے۔
واپس اوپر جائیں

فقہی مسائل میں اختلاف

فقہی مسائل میں اختلاف کا معاملہ زیادہ ترعبادت کے طریقوں میںاختلاف سے تعلق رکھتا ہے۔اس معاملے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ : صلوا کما رأیتمونی أصلی (صحیح البخاری: 631) یعنی تم نماز اس طرح پڑھو جیسا کہ تم مجھ کو نماز پڑھتے ہوئے دیکھتے ہو۔ اسی طرح آپ نے فرمایا: خذوا عنی مناسککم (سنن الکبریٰ للبیہقی: 9524) یعنی مناسک میں میری پیروی کرو۔
اس طرح کی احادیث کے مطابق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں ایک ہی غیر اختلافی ماڈل تھا۔ لیکن رسول اللہ کے بعد صحابہ عملی اعتبار سے قابل تقلید نمونہ بن گئے۔ رسول اللہ کی وفات کے بعد صحابہ مختلف بیرونی علاقوں میں پھیل گئے۔ لوگوں نے دیکھا کہ صحابہ کے عبادتی طریقوں میں کامل یکسانیت نہیںپائی جاتی۔ مثلا نماز میں قرأت سے پہلے بسم اللہ پڑھنا یا نہ پڑھنا، امام کے پیچھے مقتدی کا قرأتِ فاتحہ کرنا یا نہ کرنا، نماز میں آمین بالسر اور آمین بالجہر کا اختلاف،وغیرہ ۔
صحابہ کے درمیان اس قسم کا اختلاف (صحیح تر لفظ میں فرق)پہلے بھی موجود تھا، مگر پہلے اس فرق کو بحث کا موضوع نہیں بنایا جاتا تھا۔بعد کے زمانے میں جب کہ مسلم معاشرے میں نو مسلموں کی تعداد زیادہ ہوگئی تو اس فرق پر سوال کیا جانے لگا۔اب اس اختلاف کو موضوع بنا کر یہ سوال کیا جانے لگا کہ ان میں سے صحیح تر ماڈل کون سا ہے۔یہ نومسلم جن مذاہب سے نکل کرآئے تھے، وہاں انھوں نے دیکھا تھا کہ اس قسم کے فرق کوبنیادی اہمیت دی جاتی ہے۔ اس قسم کے فرق کی بنیاد پر دوسرے مذاہب میں الگ الگ فرقے بنے ہوئے ہیں۔اپنے اس قدیم ذہن کو انھوں نے اسلام پر بھی منطبق (apply) کردیا۔اس ذہن کے تحت وہ اس وقت کے مسلم علما سے سوالات کرنے لگے۔یہی وہ ظاہرہ ہے جس نے اسلام میں مذہبی فرقہ بندی کے دور کا آغاز کردیا۔
اس معاملے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک حدیث پیشگی ہدایت کے طور پر موجود تھی۔ اس حدیث کے الفاظ یہ ہیں: أصحابی کالنجوم فبأیہم اقتدیتم اہتدیتم (مشکاۃ المصابیح : 6018)، یعنی میرے اصحاب ستاروں کی مانند ہیں، ان میں سے جس کی بھی تم پیروی کروگے تم ہدایت پر ہوگے۔اس حدیث کے مطابق صحابہ کے درمیان عبادت کے طریقوں میں اختلاف تنوع (diversity) کی بنا پر تھا، یعنی ہر طریقہ جو کسی صحابی سے ثابت ہووہ یکساں طور پر درست ہے۔عقلی طور پر تنوع کا یہ طریقہ قابلِ فہم تھا، کیوں کہ صحابہ کا اختلاف یا فرق صرف جزئیات (non-basics) میں تھا، وہ کلیات (basics) میں نہ تھا ۔ اور یہ ایک حقیقت ہے کہ فطری قانون کے مطابق جزئیات میں ہمیشہ فرق پایاجاتاہے، جزئیات میں یکسانیت (uniformity) کا حصول ممکن نہیں۔
مگر ہم دیکھتے ہیں کہ بعد کے زمانے میں امت کے اندر یہ اختلاف مسلکی شدت کا سبب بن گیا۔ جب کہ یہ اختلاف خود صحابہ میں موجود تھا، مگر صحابہ کے درمیان ان اختلافات کی بنیاد پر کوئی مسلکی تشدد نہیں پیدا ہوا۔ اس کا سبب واضح طور پر یہ تھا کہ صحابہ مختلف طریقوں پر عبادت کرتے تھے، لیکن ان میں سے کسی نے کبھی یہ نہیں کہا کہ فلاں طریقہ افضل ہے، اور فلاں طریقہ غیر افضل۔ وہ مختلف طریقوں پر اس طرح عمل کرتے تھے جیسے کہ ہر طریقہ یکساں طور پر درست ہو۔ مگر بعد کو ایسا ہوا کہ انہی اختلافات کو لے کرامت مختلف فرقوں، بلکہ متحارب گروہوں میں بٹ گئی ۔ جب کہ اس قسم کا تحزب شریعت میں سخت نامحمود (30:32) ہے۔اس معاملے میں اصل غلطی دورِ اول کے علمائے فقہ کی ہے، جن کو ائمۂ مجتہدین کہا جاتا ہے۔انھوں نے اس اختلاف کے موضوع پر بڑی تعداد میں کتابیں لکھیں۔ انھوں نےیہ کیا کہ ان اختلافات کو بطور خود وہ درجہ دے دیا، جو کہ شریعت میںان کا درجہ نہ تھا، اور نہ کسی صحابی نے ان اختلافات کے بارے میں ایسا کہا تھا۔
دورِ اول کے ان فقہاء نے یہ کیا کہ انھوں نے ترجیح (preference) کے نام سے بطور خود ایک اصول وضع کیا۔ انھوں نے لمبی بحثیں کر کے ایک طریقے کو راجح اور دوسرے طریقے کو مرجوح ثابت کرنے کی کوشش کی۔انھوں نے اختلافات کو بیان کیا، اور پھر ایک مسلک کو لے کر کہا کہ ھذا أحوط (یہ زیادہ محتاط طریقہ ہے) ، ھذا أفضل (یہ زیادہ افضل طریقہ ہے)۔ انھوں نے بطور خود ایک مسلک کو اولیٰ اور دوسرے مسلک کو غیر اولیٰ قرار دیا۔یہ بلاشبہ علمائے فقہ کی ایک اجتہادی غلطی تھی۔یہی وہ اجتہادی غلطی ہے جس نے امت میں فقہی تشدد کا آغاز کر دیا، جو پھر کبھی ختم نہ ہو سکا۔
یہ انسان کی نفسیات ہےکہ اس کے لئے جب انتخاب افضل اور غیر افضل کے درمیان ہو تو وہ ہمیشہ افضل کا انتخاب کرے گا۔ وہ اپنے انتخاب کو درست ثابت کرنے کے لئے ہر طرح کے دلائل دے گا۔بعد کے زمانے میں انسان کی یہی نفسیات بروئے کار آئی، اور فقہی مسلک میں اختلاف کے نتیجے میں نفرت اور تشدد حتیٰ کہ جنگ تک کو جائز کر لیا گیا۔
اس معاملے میں دورِ اول کے علما کو بری الذمہ قرار دینے کے لئے یہ کہا جاتا ہے کہ ایک مسلک کوقابلِ ترجیح قرار دینے کے باوجودوہ مسلک کے بارے میںمتشدد نہ تھے۔ مثلا حنفی اور شافعی فقہاءنماز میں بسم اللہ پڑھنے کے قائل تھے، جب کہ مالکی فقہاء اس کے قائل نہ تھے، مگر دونوںگروہوں نے ایک دوسرے کے پیچھے نماز ادا کی۔اسی طرح امام شافعی فجر کی نماز میں دعائے قنوت پڑھنے کے قائل تھے، جب کہ امام ابو حنیفہ اس کےقائل نہ تھے،مگر جب امام شافعی امام ابوحنیفہ کے مقبرہ کے پاس گئے اور وہاں فجر کی نماز ادا کی تو انھوں نے دعائے قنوت نہیں پڑھی، وغیرہ۔مگر اس طرح کا عمل صرف انفرادی اخلاق کو ثابت کرتا ہے، اور شرعی اختلاف کے حل کے لئے شرعی اصول درکار ہے، نہ کہ انفرادی اخلاق۔
دینی امور میں جب کسی ایک طریقہ کو دوسرے طریقے کے مقابلے میں افضل بتایا جائے تو اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ افضل طریقہ میں زیادہ ثواب ہے، اور غیر افضل طریقہ میں کم ثواب ہے۔ ایک فقہی عالم اگر افضلیت اور غیر فضلیت کی زبان میں اس طرح کا مسئلہ بتائے، اور اس کے بعد مخالف مسئلہ بتانے والے عالم کے پیچھے ایک بار نماز پڑھ لے تو اس قسم کے عمل سے فقہی تشدد ختم نہیں ہو سکتا۔ اس کا یہ عمل لوگوں کی نظر میںذاتی نوعیت کا ایک اخلاقی برتاؤ یا حسنِ معاشرت قرار پائے گا، نہ کہ کوئی شرعی مسئلہ۔اوریہ ایک حقیقت ہے کہ جب حسن معاشرت اور دینی افضلیت کے درمیان انتخاب (choice) ہو تو آدمی ہمیشہ اس طریقے کو لے گا جس کو افضل بتایا گیا ہے، اور غیر افضل پر عمل کرنے والے کو کم تر سمجھ لے گا۔ اس طرح کےشرعی معاملے میں حسنِ معاشرت کبھی فیصلے کی بنیاد نہیںبن سکتا۔یہ مزاج یقینابڑھتے بڑھتے آخرکار فقہی تشدد اور گروہی تحزب کی صورت اختیار کر لے گا۔
اس سے یہ معلوم ہوا کہ امت کے اندر بعد کے زمانے میں جو فقہی تشدد اور مسلکی تحزب پیدا ہوا، اس کا سبب خود دین کی تعلیمات میں نہ تھا۔ اس کا سبب تمام تر علمائے متقدمین کی اس اجتہادی غلطی میں تھا کہ انھوں نے غیر ضروری طور پر ایک ایسے معاملے میں توحد کااصول اختیار کیا جوکہ در اصل توسع کا معاملہ تھا۔ ایک دینی اختلاف جو دراصل توسع (diversity) کی بنا پر تھا، اس کے معاملے میں انھوں نے توحد (uniformity) کے اصول کو منطبق کرنا چاہا۔ ان کی یہ کوشش یقینی طور پر غیر فطری تھی، اس بنا پر توحد کے نام پر کی جانے والی کوشش تشدد کا ذریعہ بن گئی، اور آخر کار امت واحدہ ،امتِ متفرقہ میں تبدیل ہو کر رہ گئی۔ اس واقعے کی ذمے داری ساری کی ساری فقہائے متقدمین پر ہے۔ اس صورتِ حال کی اصلاح صرف اس وقت ہو سکتی ہے ، جب کہ فقہائے متقدمین کے بارے میں یہ مانا جائے کہ انھوں نے بطورِ خود اختلافی مسائل کےحل کے لئے جو طریقہ اختیار کیا وہ ان کی ایک اجتہادی غلطی تھی، اور اب وہ وقت آگیا ہے جب کہ اس غلطی کی تصحیح کر دی جائے۔
واپس اوپر جائیں

تدبر کا میدان

ایک مضمون قرآن کی دو آیتوں میں بیان کیا گیاہے- ایک آیت یہ ہے: وَلَوْ اَنَّ مَا فِی الْاَرْضِ مِنْ شَجَـرَةٍ اَقْلَامٌ وَّالْبَحْرُ یَمُدُّہٗ مِنْ بَعْدِہٖ سَبْعَةُ اَبْحُرٍ مَّا نَفِدَتْ کَلِمٰتُ اللّٰہِ ۭ اِنَّ اللّٰہَ عَزِیْزٌ حَکِیْمٌ (31:27) یعنی اور اگر زمین میں جو درخت ہیں وہ قلم بن جائیں اور سمندر، سات مزید سمندروں کے ساتھ، روشنائی بن جائیں، تب بھی اللہ کی باتیں ختم نہ ہوں-بے شک اللہ زبردست ہے، حکمت والا ہے-
قرآن کی اِس آیت میں کلمات اللہ سے مراد اللہ کے تخلیقی کرشمے (creative marvels) ہیں- یہ تخلیقی کرشمے بے شمار ہیں- ان کی دریافت صرف عقلی غور وفکر کے ذریعہ ہوتی ہے- اس لحاظ سے یہ کہنا صحیح ہوگا کہ قرآن کی اس آیت میں تدبر وتفکر کا میدان بتایا گیا ہے-کلمات اللہ میں تدبر کا میدان اتنا زیادہ وسیع ہےکہ وہ کبھی ختم ہونے والا نہیں-
قرآن میں بتایا گیا ہے کہ اللہ نے یہ کتاب اس لئے اتاری تاکہ لوگ اس کی آیتوںپر غور کریں(38:29)- یہاں تدبر سے مراد فنی تدبر نہیں ہے، بلکہ عقلی تدبر ہے- عقلی تدبر ایک بے حد وسیع عمل ہے- اس کا دائرہ قرآن سے لے کر ساری کائنات تک پھیلا ہوا ہے-
اصل یہ ہے کہ قرآن میں حقائق کی تفصیل نہیں بتائی گئی- قرآن میں صرف اشارات بتائے گئے ہیں- تدبر سے مراد قرآن کے اشارات کی روشنی میں تمام موجودات پر تدبر ہے- یہی تدبر معرفت کا خزانہ ہے- اس تدبر سے قرآن کے خدا کا کلام ہونے پر یقین بڑھتا ہے، معرفت میں اضافہ ہوتا ہے، تخلیق کی حکمتیں معلوم ہوتی ہیں، چھپی ہوئی حقیقتوں کی دریافت ہوتی ہے- تدبر کا یہی عمل ہے جس کے ذریعہ وہ مطلوب انسان بنتا ہے، جس کو قرآن میں ربانی انسان (3:79) کہاگیاہے- تدبر کا معیار قرآن کے مطابق تذکر(admonition) ہے، یعنی اپنے لئے نصیحت حاصل کرنا- اپنے ذہنی وروحانی ارتقا کا سامان کرنا-
واپس اوپر جائیں

یقین کا سرچشمہ

اسلام میں صبر (patience) کو بہت زیادہ اہمیت دی گئی ہے- یہاں تک کہ صبر پر بے حساب انعام کا وعدہ کیاگیا ہے:اِنَّمَا یُوَفَّى الصّٰبِرُوْنَ اَجْرَہُمْ بِغَیْرِ حِسَابٍ(39:10) یعنی بے شک صبر کرنے والوں کو ان کا اجر بے حساب دیا جائے گا- اسی طرح قرآن میں دوسری جگہ بتایا گیاہے کہ جنت ان کو ملے گی جنھوںنے دنیا کی زندگی میں صبر کیا (76:12) -
صبر کا ایک فائدہ وہ ہے جو انسان کو آخرت میں ملے گا- لیکن صبر کا فائدہ اسی موجودہ دنیا میں شروع ہوجاتاہے- صبر کا نتیجہ یہ ہوتاہے کہ آدمی مایوسی کی نفسیات سے بچ جاتا ہے- مایوسی کی نفسیات میں جینے والے انسان کا حال یہ ہوتاہے کہ وہ بے یقینی (uncertainty)کی نفسیات میں جینے لگتاہے- ایسا آدمی کبھی حوصلہ مندانہ انداز میں اپنی زندگی کا منصوبہ نہیں بنا سکتا- اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ ایسا آدمی اپنی زندگی میں کوئی بڑا کام نہیں کرپاتا-
صبر کا معاملہ اس کے برعکس ہے- صبر آدمی کو اِس نفسیات سے بچا لیتاہے کہ وہ کھوئے ہوئے کو نہ بھلائے- ایسا آدمی کامل معنوں میں یقینیت (certainty) میں جینے لگتا ہے- وہ اس قابل ہوجاتا ہے کہ وہ عزم وحوصلہ کے ساتھ اپنی زندگی کا منصوبہ بنائے- اور اس کے نتیجہ میں بڑی کامیابی حاصل کرے-
یقین (conviction) انسان کی سب سے بڑی صفت ہے- کوئی بڑا کام وہی شخص کرسکتاہے جو یقین میں جیتاہو- قرآن میں صبرکو اتنی زیادہ اہمیت اسی لئے دی گئی ہے کہ صبر آدمی کو اس قابل بناتا ہے کہ وہ بے یقینی کے اسباب کو نظر انداز کرکے صرف ان چیزوں پر فوکس کرے جو آدمی کے اندر یقین پیداکرنے والی ہیں- موجودہ دنیا میں ہر لمحہ ایسے تجربات پیش آتے ہیں جو آدمی کے ذہن کو بھٹکا کربے یقینی کی طرف لے جاتے ہیں- صبر آدمی کو اس بھٹکاؤ سے بچاتا ہے- وہ آدمی کو ہر حال میں یقین پر قائم رکھتا ہے-
واپس اوپر جائیں

استثنا ایک ثبوت

معجزہ کیا ہے- معجزہ دراصل استثنا (exception) کا دوسرا نام ہے- قرآن ایک استثنائی کتاب (exceptional book) ہے- قرآن کی یہی منفرد حیثیت اس بات کا ثبوت ہےکہ قرآن خدا کی بھیجی ہوئی کتاب ہے- یہی وہ حقیقت ہے جس کو قرآن میں ان الفاظ میں بتایا گیاہے: قُلْ لَّىِٕنِ اجْتَمَعَتِ الْاِنْسُ وَالْجِنُّ عَلٰٓی اَنْ یَّاْتُوْا بِمِثْلِ ہٰذَا الْقُرْاٰنِ لَا یَاْتُوْنَ بِمِثْلِہٖ وَلَوْ کَانَ بَعْضُہُمْ لِبَعْضٍ ظَہِیْرًا(17:88)یعنی کہو کہ اگر تمام انسان اور جنات جمع ہو جائیں کہ ایسا قرآن بنا لائیں تب بھی وہ اس کے جیسا نہ لاسکیں گے، اگرچہ وہ ایک دوسرے کے مد دگار بن جائیں ۔
کسی کتاب کا استثنائی کتاب ہونا، اس بات کا ثبوت ہےکہ وہ خدا کی طرف سےہے- کیونکہ یہ صرف خدا کی صفت ہے کہ وہ کسی کتاب کو استثنائی کتاب بنادے- انسان ایک محدود ہستی ہے اور محدود ہستی کسی استثنائی کتاب کو وجود میں نہیں لاسکتی- استثنائی کتاب کو وجود میں لانے کے لئے ایک لامحدود ہستی درکار تھی- اور اس لامحدود صفت کا حامل صرف خدا ہے، کوئی دوسرا نہیں-
البتہ یہ ممکن ہے کہ خدا اپنی مصلحت کی بنا پر کسی انسان کی مدد کرے، اور اس کو توفیق دے کہ وہ ایسی کتاب تیار کرے جو دوسری انسانی کتابوں کے مقابلہ میں ایک استثنائی کتاب (exceptional book) کی حیثیت رکھتی ہو- جس کے مثل کتاب تیار کرنے پر کوئی انسان قادر نہ ہو- اگر ایسا ہوتو اپنی حقیقت کے اعتبار سے وہ بھی ایک خدائی معاملہ ہوگا، نہ کہ معروف معنی میں ایک انسانی معاملہ-
اس دنیا میں اللہ تعالی نے استثنا (exception) کو ایک پہچان بنا دیا ہے- یہ فطرت کا ایک طریقہ ہے- آدمی کو چاہئےکہ جہاں وہ کوئی استثنا دیکھے، وہاں وہ اس پر گہرائی کے ساتھ غور کرے- جو شخص ایسا کرے، وہ یقینا وہاں ایک بڑی چیز کو دریافت کرلے گا-
واپس اوپر جائیں

قرآن کتاب مہجور

قرآن کی سورہ الفرقان میں یہ آیت آئی ہے: وَقَالَ الرَّسُوْلُ یٰرَبِّ اِنَّ قَوْمِی اتَّخَذُوْا ھٰذَا الْقُرْاٰنَ مَہْجُوْرًا (25:30) یعنی اور رسول کہے گا کہ اے میرے رب، میری قوم نے اس قرآن کو ایک کتاب مہجور بنادیا-
اِس آیت کا مطلب یہ ہے کہ پیغمبر اسلام اپنی امت کے بارے میں قیامت میں یہ کہیں گے کہ بعد کے زمانے میں میری قوم نے قرآن کو ایک چھوڑی ہوئی کتاب(discarded book) بنا دیا- یہ امت کے اُس دور کی بات ہے، جو کہ رسول اور اصحاب رسول کے بعد امت کے زوال کے زمانے میں پیش آئے گا- یہ وہی واقعہ ہوگا، جو پچھلی امتوں پر اسی طرح پیش آچکا ہے-
دورِ زوال میں قرآن چھوڑی ہوئی کتاب کیسے بن جاتا ہے- یہ قرأت اور تلاوت اور ظاہری احترام کے معنی میں نہیں ہوتا، بلکہ وہ اس معنی میں ہوتا ہے کہ دورِ زوال میں امت کے افراد کے اندر تخلیقیت (creativity) باقی نہیں رہتی- اِس بنا پر وہ بدلے ہوئے حالات میں قرآن کی نئی تطبیق(reapplication)دریافت نہیں کرپاتے-وہ روایتی اسلام کو جانتے ہیں، لیکن وہ تطبیقی اسلام (applied Islam) سے بے خبر ہوتے ہیں- اس بنا پر اسلام ان کے زندہ عقیدہ کا جز نہیں ہوتا-
قرآن بلا شبہہ ایک ابدی کتاب ہے، لیکن زمانہ بدلتا رہتا ہے- اس بنا پر ضرورت ہوتی ہے کہ بدلے ہوئے حالات میں اسلام کی ایسی تشریح کی جائے جو وقت کے ذہن کو ایڈریس کرسکے-حالات کے اعتبار سے ایسی تطبیق دریافت کی جائے،جس میں لوگوں کو نظر آئے کہ اسلام آج بھی ان کے لیے ایک قابل عمل رہنما دین کی حیثیت رکھتاہے- اس کو دوسرے الفاظ میں یہ کہہ سکتے ہیں کہ اسلام ;کو ان کے لیے دریافت نو (rediscovery) کی چیز بنا دیا جائے- جب ایسا نہ ہو تو عملاً یہی ہوگا کہ قرآن ان کے لیے ایک مہجور کتاب بن جائےگا-
واپس اوپر جائیں

کوئی مشکل، مشکل نہیں

ایک حدیث رسول ان الفاظ میں آئی ہے: من أصبح منکم آمنًا فی سربہ ، معافىً فی جسدہ ، عندہ قوت یومہ ، فکأنما حِیْزَت لہ الدنیا(الترمذی، رقم الحدیث: 2346) یعنی تم میں سے جو شخص اس حال میں صبح کرے کہ وہ امن کی حالت میں ہو، اور اس کو جسمانی صحت حاصل ہو، اس کے پاس اُس دن کا رزق ہو، تو گویا کہ اس کو ساری دنیا حاصل ہوگئی-
اس حدیث کا خلاصہ یہ ہے کہ مادی اعتبار سے قناعت (contentment) کا طریقہ اختیار کرو، تاکہ تم دین کے معاملے میں زیادہ سے زیادہ اپنا حصہ ادا کرسکو- یہ ایک حقیقت ہے کہ جو شخص دنیا کے معاملے میں بقدر ضرورت پر اکتفا کرے گا، وہی آخرت کے تقاضوں کو پورا کرنے میں کامیاب ہوگا-
میرے پاس ایک صاحب کا ٹیلی فون آیا، انھوں نے کہا کہ میں بہت مشکل میں ہوں، میرے لئے اللہ سے دعا کیجئے- میں نے کہا کہ آپ کو کوئی مشکل نہیں- اللہ نے آپ کو مشکلات سے بچا رکھا ہے- حقیقت یہ ہے کہ مشکل ہمیشہ آدمی کی اپنی سوچ کا نتیجہ ہوتی ہے- اگر آپ اپنی سوچ کو درست کرلیں تو آپ کے لئے کوئی مشکل مشکل نہ رہے گی-میں نے کہا کہ آپ نے دور سے مجھ کو ٹیلی فون کیا ہے، یہ کوئی سادہ بات نہیں- یہ اللہ کی ایک عظیم نعمت کا واقعہ ہے- آپ کو حافظہ (memory) کی نعمت حاصل تھی- اس لئے یہ ممکن ہوا کہ آپ میرے ٹیلی فون نمبر کو یاد کریں، پھر آپ کے پاس ٹیلی فون موجود تھا، جو اتنی بڑی نعمت ہےکہ پچھلی تاریخ میں کسی بادشاہ کو بھی یہ نعمت حاصل نہ تھی، پھر آپ نے اپنی انگلیوں کے ذریعہ میرا نمبر ڈائل کیا- اگر آپ سوچیں تو یہ ایک معجزاتی واقعہ تھا، پھر آپ ہزار میل دور سے بول رہے ہیں اور میں اس کو سن کر عین اسی وقت قابل فہم زبان میں اس کا جواب دے رہا ہوں- یہ سارا معاملہ ایک عظیم نعمت کا معاملہ ہے- اس طرح کی بے شمار چیزیں ہیں جو آج بھی آپ کو پوری طرح حاصل ہیں- اگر آپ اللہ کے ان عطیات کو یادکریں تو آپ اپنے آپ کو اتنا ہلکا محسوس کریں گے، جیسے کہ آپ مشکلوں میں نہیں جی رہے ہیں، بلکہ آسانیوں میں جی رہے ہیں-
واپس اوپر جائیں

وضو اور قرآن

عام طورپر یہ سمجھا جاتا ہے کہ قرآن کو چھونے کے لیے باوضو ہونا ضروری ہے- بے وضو آدمی قرآن کو نہیں چھوسکتا- یہ بلا شبہہ ایک بے بنیاد مسئلہ ہے- یہ مسئلہ قرآن میں مذکور نہیں، وہ تمام تر بعد کے زمانے میں مدون ہونے والی فقہ کی پیدا وار ہے-اصل یہ ہے کہ بعد کے زمانے میں بڑی تعداد میں لوگوں نے اسلام قبول کیا- یہ سب اپنے پچھلے مذہب کے ذہن (mindset) کو لے کر اسلام میں داخل ہوئے- ان میںسے بہت سے لوگوں نے عربی زبان سیکھی، اور وہ عالم اور امام بن گئے-یہی وہ نو مسلم علماء ہیں، جنھوں نے فقہ کی تدوین کی، انھوں نے اپنے قدیم مذہبی مزاج کے مطابق بہت سے مسائل غیر شعوری طورپر اسلام میں داخل کردئے، جو کہ دورِ صحابہ میں پائے نہیں جاتے تھے- مزید یہ کہ انھوں نے ان خود ساختہ فقہی مسائل کی تائید کے لیے قرآن کی آیتوں کی غلط تاویل کی- مثلاً شاتم رسول کو قتل کرنا، قرآن سے ثابت نہیں، لیکن فقہا نے غلط تاویلات کے ذریعہ اس کو اسلام میں شامل کردیا اور یہ لکھ دیا کہ یُقتل حدّا (ایسا شخص بطور حد قتل کیا جائے گا)-
انھیں فقہی مسائل میں سے ایک مسئلہ یہ ہے کہ وضو کے بغیر قرآن کو چھونا جائز نہیں- مگر یہ انھیں نو مسلم فقہا کا وضع کردہ مسئلہ ہے-اس کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں- اگر یہ مسئلہ اسلام کا مسئلہ ہوتا تو یقینی طورپر قرآن میں مذکور ہوتا، مگر قرآن میں ایسی کوئی آیت نہیں - یہ حضرات اِس معاملہ میں قرآن کی ایک آیت سے استدلال کرتے ہیں- وہ آیت یہ ہے:لَا یَمَسُّہٗٓ اِلَّا الْمُطَہَّرُوْنَ ( 56:79)- اس آیت میں ایک خبر کا ذکر ہے، نہ کہ کسی حکم کا- اور اس خبر کا تعلق بھی فرشتوںسے ہے، انسان سے نہیں- اسی غلط مسئلے نے ماضی میں قرآن کی دعوتی اشاعت کا دروازہ بند کردیا- مزید یہ کہ اِس آیت میں الاَّ المُطَہَّرُون کا لفظ ہے، نہ کہ الاالمُتَوَضِّئُون، یعنی طاہر لوگ اس کو چھوتے ہیں، نہ کہ باوضو لوگ- حقیقت یہ ہے کہ صحیح تفسیر کے مطابق اس سے مراد فرشتے ہیں، جو کہ باعتبار تخلیق ہمہ وقت طاہر ہوتے ہیں، نہ کہ وضو کرکے طاہر بننے والا انسان-
واپس اوپر جائیں

فلسفیانہ تلاش کی ناکامی

تمام فلسفیوں کا کیس ایک تھا، وہ ہے حقیقت کی تلاش- تمام فلسفیوں نےیہ چاہا کہ وہ سچائی کو علم کے راستے سے جانیں، لیکن تجربہ بتاتا ہے کہ ہر فلسفی اپنی اس تلاش میں ناکام رہا- برطانوی فلسفی برٹرینڈ رسل کا معاملہ بھی یہی تھا- تمام عمر مطالعہ کرنے کے باوجود وہ سچائی کو دریافت کرنے میں ناکام رہا- دوسرے فلسفیوں کا کیس بھی یہی ہے- مگر دوسرے فلسفیوں نے اس حقیقت کا بہت کم اعتراف کیا، جب کہ برٹرینڈ رسل نے کھلے لفظوں میں اس حقیقت کا اعتراف کیا ہے - رسل کا یہ اعتراف اس کی خود نوشت سوانح عمری میں دیکھا جاسکتا ہے-
اس نے لکھا ہے : ’’جب میں اپنے زندگی کا جائزہ لیتا ہوں تو مجھے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ میری زندگی ضائع ہوگئی- میں ایسی باتوں کو جاننے کی کوشش کرتا رہا، جن کو جاننا ممکن ہی نہ تھا- میری سرگرمیاں بطور عادت جاری رہیں- میں بھلاوے میں پڑا رہا- جب میں اکیلا ہوتا ہوں تو میں اس کو چھپا نہیں پاتا کہ میری زندگی کا کوئی مقصد نہیں، اور مجھے یہ بھی نہیں معلوم کہ نیا مقصدِ حیات کیا ہے، جس میں میں اپنی بقیہ عمر کو وقف کروں- میں اپنے آپ کو کامل تنہائی میں محسوس کرتا ہوں، جذباتی اعتبار سے بھی اور مابعد الطبیعیاتی اعتبار سے بھی، جس سے میں کوئی مخرج نہیں پاتا‘‘:
“When I survey my life, it seems to me to be a useless one, devoted to impossible ideals. My activities continue from force of habit, and in the company of others, I forget the despair which underlies my daily pursuits and pleasure. But when I am alone and idle, I cannot conceal for myself that my life has no purpose, and that I know of no new purpose to which to devote my remaining years. I find myself involved in a vast mist of solitude both emotional and metaphysical, from which I can find no issue.”
(p. 395. The Autobiography of Bertrand Russell, 1950)
واپس اوپر جائیں

مثبت سوچ، منفی سوچ

قرآن کی سورہ الاحزاب میں بتایا گیا ہے کہ انسان کو ایک ایسی چیز دی گئی ہے، جو سارے زمین وآسمان کو نہیں دی گئی، اور وہ امانت ہے، یہی امانت وہ چیز ہے جو انسان کو اشرف المخلوقات بناتی ہے- امانت سے مراد دراصل وہی چیز ہے جس کو فری تھنکنگ (free-thinking) کہاجاتا ہے، یعنی آزادانہ طورپر سوچنا اور آزادانہ طورپر اپنے عمل کی پلاننگ کرنا- اس امانت کی صحیح ادائیگی انسان کو جنت کا مستحق بناتی ہے، اور اس امانت کی ادائیگی میں ناکام ہونا انسان کو جہنم کا مستحق بنا دیتا ہے (33:72-73)-
اس موقع پر قرآن میں دو الفاظ استعمال کیے گئے ہیں ، ظلوم اور جہول، یعنی غیر عادل اور نادان- انسان اپنی آزادی کو غلط استعمال کرنے کی بنا پر بہت جلد عدل (justice) سے ہٹ جاتا ہے، اور اسی طرح وہ آزادی کے غلط استعمال کی بنا پر دانش مندی (wisdom) کے راستے سے ہٹ جاتاہے- یہی انحراف (deviation) اس کو جہنم کا مستحق بنا دیتا ہے-
غور کرنے سے معلوم ہوتاہے کہ انسان کی اصلاح کے لئے یہی بات کافی ہے کہ وہ اپنی فطرت (nature) سے نہ ہٹے- اگر آدمی اپنے آپ پر کنٹرول کرے اور فطرت کے راستے سے نہ ہٹے تو فطرت خود ہی اس کی راہ نما بن جائے گی- فطرت سے ہٹنا آدمی کو تباہی کی طرف لے جاتا ہے، اور فطرت پر قائم رہنا آدمی کو کامیاب بناتا ہے-
مزید غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ آدمی کی آزمائش اس بات میں ہے کہ وہ ہمیشہ صحیح انتخاب (right choice) کو لے، وہ اپنے آپ کو غلط انتخاب سے بچائے- صحیح انتخاب اور غلط انتخاب کا یہ معاملہ فکر سے بھی تعلق رکھتا ہے، اور عمل سے بھی-
فکرکے اعتبار سے صحیح انتخاب وہ ہے جس کا نمونہ آغازِحیات کے وقت فرشتوں نے اختیار کیا، اور غلط انتخاب وہ ہے جس کو ابلیس نے اپنا شیوہ بنایا- فرشتوں سے جب کہاگیا کہ انسان کے آگے جھک جاؤ تو وہ جھک گئے- اس کے برعکس، ابلیس اس پر راضی نہ ہوا- اس نے یہ اعتراض کیا کہ انسان کو خلیفة الارض کیوں بنایا گیا- یہ اعتراض سلیکٹو تھنکنگ (selective thinking) کی ایک مثال تھی- ابلیس جنوں کا سردار تھا- جن کو خدا نے اس سے زیادہ چیز دی تھی، یعنی خلافت کائنات- لیکن ابلیس نے اس پہلو کو نظر انداز کیا اور صرف یہ سوچا کہ انسان کو زمین کی خلافت کیوں دی گئی-
یہی برائی پوری تاریخ میں رائج ہے- انسانوں کی ننانوے فیصد سے زیادہ تعدادمنفی سوچ میں پڑی ہوئی ہے، یعنی انتخابی سوچ (selective thinking)- ملے ہوئے کو نظر انداز کرنا، اور نہ ملے ہوئے کو مسئلہ بنا کر اس کو اپنی سوچ کا محور بنانا-
اس معاملے میں مسلمانوں کا استثنا نہیں- موجودہ زمانے کے مسلمان ساری دنیا میں ہر قسم کے بہترین مواقع کو پائے ہوئے ہیں، جس طرح دوسرےلوگ ان کو پائے ہوئے ہیں- لیکن فطرت کے قانون کے تحت ایسا ہے کہ کوئی چیز ایسی بھی ہے جو مسلمانوں کو نہیں ملی- مسلمان یہ کررہے ہیں کہ اسی نہ ملے ہوئے کو اپنی سوچ کا مرکز ومحور بنائے ہوئے ہیں اور ملے ہوئے کو نظر انداز کررکھا ہے- اسی کا یہ نتیجہ ہے کہ مسلمان ساری دنیا میں منفی سوچ کی دلدل میں پڑے ہوئے ہیں، اور اس کا نتیجہ یہ ہے کہ وہ شکر سے محروم ہیں جو کسی انسان کی سب سے بڑی عبادت ہے-
مسلمانوں کی اس منفی سوچ کا سبب کیا ہے، وہ ہے 99 فی صد کو نظر انداز کرنا، اور ایک فی صد کو لے کر اپنی رائے بنانا- یہ نہایت برا طریقہ ہے- یہ اللہ کی سنت کے خلاف ہے- جو لوگ اس میں مبتلا ہوں، ان کو اس کی سب سے بڑی قیمت یہ دینی پڑے گی کہ ان کے اندر مثبت شخصیت نہ بنے — مثبت شخصیت سے محرومی کا مطلب ہے اللہ کی رحمت سے محرومی-
واپس اوپر جائیں

قرآن کا ایک پہلو

پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کا زمانہ ساتویں صدی عیسوی کے نصف اول کا زمانہ تھا- تاریخ بتاتی ہے کہ رسول اور اصحابِ رسول کے ساتھ دو قسم کے واقعات پیش آئے- ایک یہ کہ مخالفین کی جارحیت (aggression) کی بنا پر قتال، اور دوسری چیز ہے مخالفین کی طرف سے مظالم کا ارتکاب- قرآن کا مطالعہ بتاتا ہے کہ قرآن میں قتال کے واقعات کا ذکر تو موجود ہے لیکن جہاں تک مخالفین کے مظالم کا تعلق ہے وہ تقریباً غیر مذکور واقعات (unreported events) بنے ہوئے ہیں- مظالم کے واقعات ہم کو تاریخ کی کتابوں سے معلوم ہوتے ہیں، قرآن سے نہیں-
اس فرق کا سبب یہ ہے کہ قرآن میں قتال کی آیتیں امت کے تاریخی کردار (historical role) کو بتانے کے لئے ہیں- وہ امت کے مستقل مشن (permanent mission) کو بتانے کے لئے نہیں ہیں- امت کا مستقل مشن پرامن دعوت الی اللہ ہے- قدیم عرب میں قتال کا واقعہ وقتی ضرورت کے تحت اس لئے پیش آیا کہ جبر کے دور (despotic rule) کو ختم کرکے دنیا میں آزادی کا دور لایا جائے تاکہ انسان کو جو کرنا ہے، اس کو وہ آزادانہ طور پر کرسکے- قرآن میں اس واقعے کو ختم فتنہ (2:193، 8:39) کے الفاظ میں بیان کیاگیا ہے-
قدیم عرب میں رسول اور اصحاب رسو ل کے ساتھ ظلم کے بڑے بڑے واقعات پیش آئے، مگر قرآن میں صراحتاً ان کا ذکر موجود نہیں- البتہ صبر یا اس کے ہم معنی الفاظ کی آیتیں قرآن میں کثرت سے موجود ہیں- اس کا مطلب یہ ہے کہ قرآن کا یہ طریقہ نہیں ہے کہ دوسروں کے مظالم پر شکایت اور احتجاج کیا جائے ، اس کے بجائے قرآن یہ چاہتا ہے کہ اہلِ اسلام اس قسم کی باتوں پر صبر وتحمل کا طریقہ اختیار کریں- صبر وتحمل کا طریقہ کوئی انفعالی (passive) طریقہ نہیں- صبر وتحمل ایک اعلی درجہ کی ایجابی صفت ہے- صبر وتحمل کا مطلب یہ ہے کہ اپنے آپ کو آخری حد تک منفی سوچ (negative thinking) سے بچانا، اپنی پوری توانائی (energy) کو تعمیری مقصد کے لئے صرف کرنا-
واپس اوپر جائیں

فطرت کا نظام

قرآن کی سورہ التوبہ میںایک واقعہ کے ریفرنس میں فطرت کا ایک قانون (9:36) بتایاگیا ہے- خالق کو یہ مطلوب ہےکہ یہ قانون تاریخ میں مسلسل طورپر قائم رہے، تاکہ تخلیق کا مقصد پورا ہونے میں کوئی رکاوٹ نہ پیدا ہو- چوں کہ انسان کو آزادی دی گئی ہے، اس لئے انسان اپنی آزادی کا غلط استعمال کرکے کبھی اس نظام میں خلل پیدا کردیتا ہے- اس وقت انسانی آزادی کو برقرار رکھتے  ہوئے اللہ مداخلت کرکے اس رکاوٹ کو درست کرتا ہے، تاکہ فطرت کا نظام اپنے مطلوب تخلیقی نقشے پر چلتا رہے-
اس معاملے کی ایک جزئی مثال قدیم عرب میںنَسی (intercalation) کا واقعہ ہے- تخلیقی نظام کے مطابق قمری کیلنڈر (Lunar calendar)اور شمسی کیلنڈر (Solar calendar) کے درمیان ایک سال میں تقریباً گیارہ دن کا فرق ہوتا ہے- قدیم زمانے میں عربوں نے نَسی کا طریقہ اختیار کیا- وہ خود ساختہ طورپر ہر سال ایسا کرتے تھے کہ قمری کیلنڈر کے دنوں میں اضافہ کرکے اس کو شمسی کیلنڈر کے مطابق کرلیتے تھے-
یہ طریقہ تخلیقی نظام میں مداخلت کی حیثیت رکھتا تھا- پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے عرب میں جو اصلاحات کیں، ان میں سے ایک یہ تھی کہ آپ نے فتح مکہ (8 ھ) کے بعد ایک حکم کے تحت اس طریقے کو ختم کردیا، اور قمری کیلنڈر کو اس کے فطری نقشے پر قائم کردیا- حوالہ کے لئے ملاحظہ ہو ، خطبۂ حجة الوداع، صحیح البخاری: 3197، صحیح مسلم: 1679-
اس طرح کے اصلاحی معاملہ کی زیادہ بڑی مثال وہ ہے جس کا ذکر قرآن کی سورہ الانفال میں ان الفاظ میں آیا ہے:وَقَاتِلُوْہُمْ حَتّٰی لَا تَکُوْنَ فِتْنَةٌ وَّیَکُوْنَ الدِّیْنُ کُلُّہٗ لِلّٰہِ (8:39) یعنی اور ان سے لڑو یہاں تک کہ فتنہ باقی نہ رہے اور دین سب اللہ کے لئے ہوجائے-
قرآن کی اِس آیت میں فتنہ سے مراد مذہبی تشدد (religious persecution) ہے- قدیم زمانے میں ساری دنیا میں مذہبی انتہا پسندی (religious extremism) کا طریقہ رائج تھا- مزید یہ کہ اس مذہبی انتہا پسندی کو پولیٹی سائز (politicize)کرکے، اس کے حق میں وقت کے حکمرانوں کی حمایت بھی حاصل کرلی گئی تھی، اس کے نتیجے میں مذہبی انتہا پسندی نے عملاً مذہبی تشدد (religious persecution) کی صورت اختیار کرلی تھی- یہ صورت حال خدا کے قائم کردہ تخلیقی نقشے کے خلاف تھی- اللہ کو یہ مطلوب تھا کہ مذہب کے معاملے میں تشدد کا طریقہ ختم ہو، اس کے بجائے پورے معنوں میں مذہبی آزادی (religious freedom) کا طریقہ رائج ہوجائے- تاکہ ہر شخص آزادانہ طورپر اپنے عقیدہ کے مطابق عمل کرسکے-
مذہبی جبر کے خاتمہ کا یہ عمل رسول اور اصحاب رسول کے زمانے میں شروع ہوا- تدریجی عمل (gradual process) کے تحت وہ تاریخ میں سفر کرتا رہا- مختلف مراحل سے گزرتے ہوئے یہ عمل یورپ (Europe) میں پہنچا- اہل یوروپ نے اس میں مزید اضافے کئے- یہاں تک کہ مذہبی آزادی کا مطلوب نظام اپنی آخری صورت میں قائم ہوگیا- دنیا میں مذہبی آزادی کا دور لانے کے معاملے میں اہلِ یوروپ کارول تکمیلی رول کی حیثیت رکھتا ہے-
موجودہ زمانے کے مسلمانوں کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ تاریخ کے اس واقعے کو سمجھیں، وہ اہلِ مغرب کے خلاف اپنے منفی ذہن (negative thinking)کو مکمل طورپر ختم کردیں، اس معاملے میں وہ اہلِ مغرب کے کنٹری بیوشن کا اعتراف کریں، وہ اہلِ مغرب سے رقابت کا تعلق ختم کردیں، اور اس کے بجائے دوستی کا طریقہ اختیار کریں، وہ اس معاملے میں اہلِ مغرب کو اپنا محسن سمجھیں- مسلمانوں کے درمیان جب اس قسم کا مثبت ذہن پیدا ہوگا تو اس کے بعد یہ ہوگا کہ مسلمانوں کے اندر سے منفی ذہن کا مکمل خاتمہ ہوجائے گا، اور دعوت الی اللہ کا فریضہ بخوبی طورپر انجام پانے لگے گا-
مسلمانوں کو چاہئے کہ وہ اپنی قومی شکایتوں کو مکمل طورپر ختم کردیں- اس کے بعد ہی یہ ممکن ہوگا کہ مسلمان خدا کے قائم کردہ فطری نظام کو سمجھیں، اور پیدا شدہ مواقع کو استعمال کریں-
واپس اوپر جائیں

عملِ مزید، جنتِ مزید

قرآن کی سورہ نمبر 50 میں جنت کا ذکر ان الفاظ میں کیا گیا ہے: لَہُمْ مَا یَشَاءُونَ فِیہَا وَلَدَیْنَا مَزِیدٌ ( 50:35) یعنی وہاں ان کے لئے وہ سب ہوگا جو وہ چاہیں، اور ہمارے پاس مزید ہے۔ قرآن کی ایک اور آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ جنت کسی انسان کو اس کے عمل کے بقدر ملے گی(53:39)۔ مزید غور کرنے سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ عمل کی دو قسمیں ہیں، عمل عام اور عمل خاص۔ قانونِ الٰہی کے مطابق عمل عام پر جنت عام ہے، اور عمل خاص پر جنت خاص۔
عمل عام یہ ہے کہ آدمی ان معلوم احکام پر عمل کرے جو بظاہر قرآن و سنت میں لفظوں کی صورت میںبتا دیئے گئے ہیں۔ مثلا ایک حدیث کے مطابق، پانچ بنیادی احکام پر عمل کرنا(البخاری: 8)۔ جو آدمی اخلاصِ نیت کے ساتھ ان متعین احکام پر عمل کرے، اس کے لئے جنت ہے۔ یہ وہ جنت ہے، جس کے لئے ہم نے جنت عام کا لفظ استعمال کیا ہے۔
جنت خاص ان لوگوں کے لئے ہے، جو موجودہ دنیا میں عمل خاص کا ثبوت دیں۔ غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ عمل خاص سے مراد وہ عمل ہے، جو اعلیٰ معرفت کا نتیجہ ہو،جو اعلیٰ معرفت کے تحت کسی انسان سے صادر ہو۔جنت دراصل معرفت کی قیمت ہے۔ عام معرفت پر عام جنت، اور خاص معرفت پر خاص جنت۔
اعلیٰ درجے کے عارفین وہ ہیں جو تدبر کے ذریعے اپنے اندر تخلیقی سوچ (creative thinking) پیدا کریں، جو تفکر کے ذریعے کائنات میںچھپی ہوئی آیاتِ الٰہیہ کو دریافت کریں، جو توسم کے ذریعے زندگی کے ہر تجربے کو اللہ کی معرفت میں ڈھال لیں، جو دعوت الی اللہ کو اس طرح دریافت کریں جو ان کو یک طرفہ طور پر ہر انسان کا خیر خواہ بنادے،جوتقویٰ کے اس درجے پر پہنچ جائیں جب کہ منفی واقعات کو بھی وہ مثبت واقعات میں تبدیل کر لیں۔یہی معرفتِ مزید ہے، اور معرفتِ مزید ہی کسی کو جنت مزید کا مستحق بنائے گی۔
عملِ مزید کیا ہے، اس کی وضاحت ایک حدیث سے ہوتی ہے۔حدیث کی کتابوں میں ایک روایت ان الفاظ میں آئی ہے: عن أنس بن مالک، قال: کان عبد اللہ بن رواحة إذا لقی الرجل من أصحابہ، یقول: تعال نؤمن بربنا ساعة، فقال ذات یوم لرجل، فغضب الرجل، فجاء إلى النبی صلى اللہ علیہ وسلم، فقال: یا رسول اللہ، ألا ترى إلى ابن رواحة یرغب عن إیمانک إلى إیمان ساعة؟ فقال النبی صلى اللہ علیہ وسلم: یرحم اللہ ابن رواحة، إنہ یحب المجالس التی تتباہى بہا الملائکۃ (مسند احمد: 13796)۔یعنی انس بن مالک کہتے ہیں کہ عبداللہ ابن رواحہ کا طریقہ یہ تھا کہ کسی آدمی سے ان کی ملاقات ہوتی تو وہ کہتے؛ آؤ، ہم اپنے رب پر ایک ساعت کے لئے ایمان لائیں، انھوں نے ایک دن یہی بات ایک آدمی سے کہی۔ وہ آدمی یہ سن کر غضب ناک ہوگیا، وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، اس نے کہا اے اللہ کے رسول، کیا آپ نے ابن رواحہ کو نہیں دیکھاوہ آپ پر ایمان کے بعد ایک ساعت کے ایمان کی ترغیب دیتے ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہاکہ ابن رواحہ پر اللہ رحم کرے ، وہ ایسی مجلسوں کو محبوب رکھتے ہیں جس پر فرشتے رشک کرتے ہیں۔
یہ واقعہ تقابلی انداز میں بتاتا ہے کہ عمل عام کیا ہے اور عمل مزید کیا ہے۔عمل عام یہ ہے کہ آدمی روٹین (routine) کے درجے میں معلوم احکام پر عمل کرے۔ مثلا روزانہ پانچ وقت کی نماز پڑھنا، اور سال میں ایک مہینہ کا روزہ رکھنا۔ اخلاص کے ساتھ اپنی زندگی میں ان معلوم احکام کی پابندی کرتے رہنا۔ایسا شخص بھی بشرطِ نیت آخرت کی جنت میں جگہ پائے گا، مگر یہ جنت اس کے لئے جنتِ عام ہوگی۔
اس کے مقابلے میں دوسرا انسان وہ ہے جو اللہ کی کتاب اور اللہ کی آیات(signs of God in nature) میں غور کرے، وہ تدبر اور تفکر کے ذریعے معرفت خداوندی کے نئے نئے پہلو دریافت کرے، وہ اپنے سادہ ایمان کو تخلیقی ایمان (creative faith) بنائے، وہ اپنے آپ کو خود دریافت کردہ سچائی (self-discovered truth) پر کھڑا کرے۔ ایسا شخص گویا اپنی کوشش سے عمل مزید کر رہا ہے۔اللہ تعالی ایسے انسان کے عمل مزید کی قدر دانی اس طرح فرمائے گا کہ اس کو جنت مزید (additional Paradise) یا خصوصی جنت میں داخلہ عطا کرےگا۔
واپس اوپر جائیں

تجدید ِ دین

ایک حدیث رسول مختلف کتابوں میں آئی ہے- ایک روایت کے الفاظ یہ ہیں:إنَّ اللہَ یبعثُ لہذہ الأمةِ على رأسِ کلِّ مائةِ سنةٍ من یُجدِّدُ لہا دینَہا (سنن أبی داؤد، رقم الحدیث: 4291 ) یعنی بے شک اللہ تعالی ہر صدی کے سرے پر اس امت کے لئے ایک شخص کو اٹھائے گا جو اس کے لئے اس کے دین کی تجدید کرے گا-
جدّد کا لفظی مطلب نیا کرنا (to renew) ہے- حدیث کے الفاظ کے مطابق نیا کرنے کا یہ عمل دین کی نسبت سے نہیں ہوتا بلکہ امت کی نسبت سے ہوتا ہے، اس کا مقصد یہ نہیں ہوتا کہ پرانے دین کی جگہ نیا دین لایا جائے- تجدید کا مقصد صرف یہ ہے کہ امت جو کہ عقیدہ کے اعتبار سے بظاہر دین کو مان رہی ہے، مگر حقیقی عمل کے اعتبار سے اس کے اندر کمی واقع ہوگئی ہے- اس وقت اس کے لئے نئی توانائی (revitalization)کی کوشش کی جائے- یہ ایک ایسی ضرورت ہے جو ہر امت میں اس کی بعد کی نسلوں کے لئے پیش آتی ہے-
دین کی بنیاد متن (text) پر ہے- متن ہمیشہ ایک ہی رہتاہے- اس لئے متن میں کسی نئے عمل کی ضرورت نہیں- مگر امت کی بعد کی نسلیں ایک بدلے ہوئے زمانے میں پیدا ہوتی ہیں- اب ضرورت ہوتی ہے کہ اصل دین کی تبیین (interpretation) اس طرح کی جائے جو بعد کے لوگوں کے ذہن کو ایڈریس کرسکے- دوسرے الفاظ میں تجدید دین کا مطلب دین کی نئی تطبیق (reapplication) ہے- اس کا مقصد یہ ہے کہ دین کو بعد کے لوگوں کے لئے از سر نو قابل فہم (understandable) بنایا جائے- مثلاً بعد کے لوگ معرفت اور دعوت کے الفاظ بولیں گے- لیکن معرفت اور دعوت ان کی شعوری دریافت نہ ہوگی- اس لئے ان کی لغت میں معرفت اور دعوت کے الفاظ تو ہوں گے لیکن ان کی حقیقی زندگی اس سے خالی ہوگی- تجدید یہ ہے کہ اِن الفاظ کو ان کے لئے دوبارہ شعوری دریافت بنایا جائے- تجدید کا تعلق تطبیق ِ نو سے ہے، نہ کہ دین ِ نو سے-
واپس اوپر جائیں

تکرار کا مسئلہ

قرآن میں ابلیس اور آدم کا قصہ سات بار بیان ہوا ہے- یہ تکرار (repetition) نہیں ہے- یہ اسلوبِ کلام کا معاملہ ہے، نہ کہ تکرارِ قصہ کا معاملہ-
غور کیجئے تو قرآن کے مذکورہ ساتوں مقام پر بظاہر آدم اور ابلیس کے قصے کی تکرار ہے، لیکن ہر جگہ سبق (lesson) الگ الگ نکالا گیا ہے- اس بنا پر اس کو تکرار نہیں کہا جائے گا، بلکہ یہ کہا جائے گا کہ قرآن نے ایک قصے کے حوالے سے سات مختلف اسباق کی طرف اشارہ کیا ہے-
اس معاملے کی حقیقت یہ ہےکہ حوالہ (reference) کی تعدادمحدود ہوتی ہے، لیکن پہلو میں تنوع (diversity) کی بنا پر اس میں اسباق کی تعداد ہمیشہ بہت زیادہ ہوجاتی ہے- جہاں تک قابل حوالہ قصے کی بات ہے،وہ ایک معلومات کا مسئلہ ہے- مطالعے کے ذریعہ ہر آدمی یہ معلومات حاصل کرسکتا ہے- لیکن کسی ایک قصے سے متعدد سبق نکالنے کے لئے ضروری ہے کہ آدمی کے اندر تخلیقی فکر (creative thinking) پائی جائے-
قرآن میں بار بار یہ کہاگیا ہے کہ تدبر کرو، تفکر کرو، توسم کرو، وغیرہ- کسی واقعے کے معلوماتی پہلو کو جاننے کے لئے تدبر اور تفکر کی ضرورت نہیں ہوتی- تدبر اور تفکر کا مقصد یہ ہے کہ واقعے کے متعدد پہلوؤں کا علم حاصل کیا جائے، واقعے کے اندر چھپے ہوئے مختلف اسباق (lessons)کو دریافت کیا جائے-
اسی دریافت (discovery) کے ذریعے ایک انسان تخلیقی انسان بنتا ہے،اسی دریافت کے ذریعے وہ ترقی پذیر شخصیت تیار ہوتی ہے، جس کا آغاز زمین سے ہوتا ہے، لیکن اپنے پھیلاؤ کے اعتبار سے وہ آسمان تک پہنچ جاتی ہے- یہی وہ حقیقت ہے جس کو قرآن میں ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے: کَشَجَرَةٍ طَیِّبَةٍ اَصْلُہَا ثَابِتٌ وَّفَرْعُہَا فِی السَّمَاۗءِ (14:24)یعنی وہ ایک پاکیزہ درخت کی مانند ہے، جس کی جڑ زمین میں جمی ہوئی ہے اور جس کی شاخیں آسمان تک پہنچی ہوئی ہیں ۔
واپس اوپر جائیں

قبولِ قیادت کا فقدان

اکثر یہ کہا جاتا ہے کہ مسلمانوں میں قیادت کا فقدان ہے- مگر یہ بات درست نہیں- موجودہ زمانے کے مسلمانوں میں جس چیز کی کمی ہے، وہ فقدانِ قیادت نہیں ہے، بلکہ فقدانِ قبولیتِ قیادت ہے- یعنی مسلمانوں کے اندر خود فطری قانون کے مطابق، قیادت موجود ہے، مگر قیادت کو ماننے کا مزاج ان کے اندر موجود نہیں-اس معاملے پر غور کیجئے تو اُس کی جڑ یہ معلوم ہوتی ہے کہ موجودہ زمانے کے مسلمان بعض اسباب سے، نہایت جذباتی ہوگئے ہیں- ایسے لوگوں کے درمیان صرف اُس قیادت کو مقبولیت حاصل ہوتی ہے جو ہائی پروفائل (high profile) میں بولے، لو پروفائل (low profile) میں بولنے والے شخص کو اُن کے درمیان مقبولیت حاصل نہیں ہوتی- اور تاریخ کا یہ تجربہ ہے کہ ہائی پروفائل میں بولنے والا شخص صرف اپنی قوم کی تباہی میں اضافہ کرتاہے-
امت کا یہ مزاج زوال کی بنا پر پیداہوا ہے- اس مزاج کی اصلاح صرف گہری منصوبہ بندی کے ذریعہ ممکن ہے- اس گہری منصوبہ بندی کا پہلا جز یہ ہے کہ امت کی اصلاح کا آغاز ہرگز اقدام سے نہ کیا جائے، بلکہ ذہنی تیاری سے کیا جائے- موجودہ زمانے میں اصلاح امت کے نام سے بہت سی تحریکیں اٹھیں، مگر وہ سب کی سب ناکام ہوگئیں- اس کا سبب یہ ہے کہ ان تحریکوں نے اپنے کام کا آغاز اقدام سے کیا- اس قسم کا آغاز گھوڑے کے آگے گاڑی باندھنا (putting the cart before the horse)کا مصداق ہے- صحیح طریقہ یہ ہے کہ پہلے امت کے افراد میں تعمیری شعور پیدا کیا جائے- یہ کام صرف خاموش جدوجہد کے ذریعہ ممکن ہے- شور وغل اور جلسہ جلوس کا طریقہ کبھی تعمیرشعور کے لئے مفید نہیں ہوسکتا-امت کی اصلاح کا کام جتنا زیادہ ضروری ہے، اتنا ہی ضروری یہ بات بھی ہے کہ اس اصلاح کے لئے صحیح طریقہ اختیار کیاجائے۔ اصلاح کا غیر فطری طریقہ صرف وقت اور طاقت کے ضیاع کے ہم معنی ہے- ایسا کرنے سے اصلاح امت کے کام میں صرف تاخیر ہوگی، اس کے ذریعہ مطلوب اصلاح ہونے والی نہیں- یہ فطرت کا قانون ہے اور فطرت کے قانون میں کبھی تبدیلی نہیں ہوتی-
واپس اوپر جائیں

خدا کی زبان

شیخ سعدی شیرازی (وفات: 1291ء)ایک فارسی شاعر تھے- انھوں نے اپنی کتاب گلستان میں اپنا ایک واقعہ لکھا ہے- ایک بار وہ ایک سفر میں تھے- اس دوران ان کی ملاقات ایک شخص سے ہوئی- انھوں نے اس سے بات کرنا چاہا تو بات نہ ہوسکی- کیونکہ وہ ترکی کارہنے والا تھا- وہ ترکی کے سوا کوئی اور زبان نہیں جانتا تھا- اس واقعہ کو نقل کرتے ہوئے انھوں نے اپنی کتاب میں یہ شعر لکھا ہے:
زبانِ یار من ترکی ومن ترکی نمی دانم
The language of my friend is Turkish and I don’t know Turkish.
موجودہ زمانہ میں کچھ اسی قسم کا معاملہ انسان اور قرآن کے درمیان ہوا ہے- انسان اپنی فطرت کے اعتبار سے متلاشیٔ حق (seeker of Truth) ہے- وہ اپنے خالق کو دریافت کرنا چاہتا ہے مگر اس کو معلوم ہوتا ہے کہ اس کے خالق کی محفوظ کتاب عربی زبان میں ہے مگر میں عربی زبان نہیں جانتا:
The language of the divine book is Arabic and I don’t know Arabic.
اس صورتِ حال کا تقاضا ہے کہ دنیا کی ہر زبان میں قرآن کا ایسا ترجمہ کیا جائے جو بآسانی قابل فہم (easily understandable) ہو اور پھر اس کو تمام قوموں تک پہنچایا جائے-اس کام کی اہمیت کی بنا پر اس کو ترجیحی بنیاد (priority basis)پر کیا جاناچاہئے- موجودہ زمانے میں امتِ مسلمہ کی یہ سب سے پہلی ذمہ داری ہے- کوئی بھی دوسرا کام اس کا بدل (alternative) نہیں بن سکتا-
ظالم کے خلاف جہاد، حکومت اسلامی کے ہنگامے، ملی کام (community work)، اسلامی قانون کا نفاذ جیسے کام جن میں موجودہ زمانہ کے مسلمان مشغول ہیں وہ سب کے سب اصل فریضہ کی نسبت سے غیر متعلق (irrelevant) ہیں-
واپس اوپر جائیں

انتقامی جنگ

فلسطین میں لمبی مدت سے عرب - اسرائیل جنگ ہورہی ہے- اِس دوران جو واقعات میڈیا میں آئے ہیں، ان میں سے ایک واقعہ انگلش میڈیا میں ان الفاظ میں رپورٹ کیاگیاہے کہ ایک فلسطینی نوجوان عبد الرحمن نے روتے ہوئے کہا کہ مجھے تو اپنے باپ کا انتقام لینا ہے:
Twelve year old Abdul Rahman Al-Batish hasn’t stopped crying since he lost his father in the bombing of an apartment (in Gaza). “They are killers, and one day I will avenge my father”. ITV’s Middle East Correspondent reports him as saying.
انتقامی وار ہمیشہ چین وار(chain war) ہوتی ہے- اس قسم کی جنگ کبھی دوطرفہ بنیاد پر ختم نہیں ہوسکتی- اُس کو ختم کرنے کا طریقہ صرف یہ ہے کہ اُس کو یک طرفہ بنیاد (unilateral basis) پر ختم کردیا جائے-
یہ اصول قرآن کی ایک آیت میں اِس طرح بیان کیا گیاہے: وَکُنْتُمْ عَلٰی شَفَا حُفْرَةٍ مِّنَ النَّارِ فَاَنْقَذَکُمْ مِّنْھَا (3:103) یعنی اور تم آگ کے گڑھے کے کنارے کھڑے تھے تو اللہ نے تم کو اُس آگ سے بچا لیا-
قرآن کی اِس آیت میں قدیم عرب کے اُس قبائلی کلچر کا ذکر ہے جو انتقامی جنگ پر کھڑا ہوا تھا اور اُس کے نتیجہ میں ان کے درمیان چین وار(chain war) کی صورت حال قائم تھی- قرآن نے اِس سے نجات کا یہ فارمولابتایا کہ تم اللہ کے لئے یک طرفہ بنیاد پر اپنا تشدد ختم کردو- اِس کے بعد اپنے آپ فریقِ ثانی کا تشدد ختم ہوجائے گا، اور امن کی صورت حال قائم ہوجائے گی- ختمِ جنگ اور قیامِ امن کے لیے پہلے بھی یہی واحد قابلِ عمل فارمولا تھا، اور اب بھی اس مقصد کے لیے یہی واحد قابل عمل فارمولاہے-
واپس اوپر جائیں

اسلام کا اقدام، دعوت

پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے مدنی دور میںشوال سنہ 5ھ میں احزاب کا واقعہ پیش آیا- اس موقع پر قریش کے سردار بارہ ہزا رکا لشکر لے کر آئے تھے کہ مدینہ پر حملہ کریں- مگر وہاں ایسے حالات پیش آئے کہ جنگ نہ ہوسکی اور قریش کا لشکر جنگ کے بغیر واپس چلا گیا- اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اصحاب سے ایک تاریخی بات کہی ،وہ یہ کہ: الآن نغزوہم ولا یغزوننا، ونحن نسیر الیھم (صحیح البخاری: 4110) یعنی اب ہم ان سے غزوہ کریں گے، وہ ہم سے غزوہ نہیں کریں گے، اور ہم ان کی طرف جائیں گے-
اس حدیث میں غزوہ سے مراد جنگ نہیں ہے، بلکہ اقدام ہے جیساکہ نَسیرُ کے لفظ سے واضح ہوتا ہے- اِس کا مطلب یہ ہےکہ اب حالات میں ایسی تبدیلی آچکی ہے کہ اقدام فریق ثانی کی طرف سے نہیں ہوگا، بلکہ اب اقدام ہماری طرف سے ہوگا- جیساکہ تاریخی طورپر معلوم ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے احزاب کے بعد کوئی جنگ کا منصوبہ نہیں بنایا، بلکہ صرف پرامن دعوت کا منصوبہ بنایا- اِس لیے یہاں اقدام سے مراد دعوتی اقدام ہے، نہ کہ جنگی اقدام-
یہی اسلام کا ابدی اصول ہے- اسلام کا اقدامی عمل صرف دعوت ہے- اسلام کے تمام مقاصد صرف دعوت کے ذریعہ حاصل ہوتے ہیں- اسلام میں اگر جنگ پیش آتی ہے تو وہ صرف ناگزیر دفاع کے موقع پر استثنائی طور پر پیش آتی ہے- اسلام میں اس کی ہرگز اجازت نہیں ہے کہ اہلِ ایمان اپنی طرف سے کوئی جارحانہ جنگ شروع کردیں-
اسلام کا اصل نشانہ دعوت إلی اللہ ہے، اور دعوت إلی اللہ کا کام صرف پرامن طریقہ کار اور معتدل ماحول کے اندر انجام دیاجاسکتاہے- اسلام کا نشانہ افراد کے ذہن کو بدلنا ہے- اسلام کا یہ نشانہ نہیں ہے کہ لڑ کر حکومت پر قبضہ کیاجائے- اسلام کا نشانہ لوگوں کو جنت تک پہنچانا ہے، نہ کہ کچھ اور-
واپس اوپر جائیں

دورِ جاہلیت یا دورِ اسلام

محمد قطب (برادر سید قطب) مصر کے مشہور ادیب تھے- 4 اپریل 2014 کو ان کی وفات ہوئی، جب کہ ان کی عمر 95 سال تھی-ان کی ایک مشہور کتاب کا ٹائٹل یہ ہے: الجاہلیة فی القرن العشرین (جاہلیت بیسویں صدی میں)- مصنف نے اس کتاب میں یہ بتانے کی کوشش کی ہے کہ مغربی تہذیب، بیسویں صدی کی جاہلیت ہے- یہ کتاب علمی اسلوب میں نہیں، بلکہ ادبی اسلوب میں ہے-
یہ کتاب علامتی طورپر بتاتی ہے کہ موجودہ زمانے میں تمام دنیا کے مسلم اہل علم کا نقطہ نظر مغربی تہذیب کے بارے میں کیا ہے- بلا استثنا تمام مسلمان، عرب بھی اور نان عرب بھی مغربی تہذیب کے بارے میں منفی رائے رکھتے ہیں- وہ اس کو نہ صرف مادی تہذیب بلکہ مسلم دشمن تہذیب سمجھتے ہیں- مغربی تہذیب کے بارے میں یہ منفی تصور سرتا سر غلط فہمی پر مبنی ہے- یہ اسی طرح بے بنیاد ہے، جس طرح بہت سے سیکولر اہل علم یہ سمجھتے ہیں کہ اسلام ایک تشدد پسند مذہب ہے- حالانکہ اصل حقیقت اس کے بالکل برعکس ہے-
اصل یہ ہے کہ مغربی تہذیب ایک موافق اسلام تہذیب ہے- یہ اسی تائید ِ دین کا عملی ظہور ہے جس کی پیشین گوئی خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمائی تھی (ملاحظہ ہو، صحیح البخاری، رقم الحدیث: 3062)
موجودہ زمانے میں ضرورت تھی کہ مسلم اہلِ علم ایسی کتاب لکھیں، جس کا ٹائٹل ہو: الاسلام فی القرن العشرین - لیکن برعکس طورپر وہ ایسی کتابیں لکھ رہے ہیں جن کا ٹائٹل الجاہلیة فی القرن العشرین یا اس کے ہم معنی ہوتا ہے- دور جدید سے مسلم اہل علم کی یہی بے خبری موجودہ زمانے میں مسلمانوں کا سب سے بڑا مسئلہ ہے- آج کی سب سے بڑی ضرورت یہ ہے کہ مسلمانوں کو دورِ جدید کے بارے میں حدیث کے الفاظ میں بصیر زمانہ (صحیح ابن حبان، رقم الحدیث: 361) بنایا جائے-
واپس اوپر جائیں

ایک خطرناک صفت

انسان کو استثنائی طورپر یہ صفت دی گئی ہے کہ اس کو ہر چیز میں ایک لذت (taste) کا احساس ہوتا ہے- اس لذت کو ابتدائی درجے میں رکھا جائے تو فطرت کے عین مطابق ہوگا، اور اگر اس لذت کو لامحدود بنادیا جائے تو اس سے ہر قسم کی برائیاں وجود میں آئیں گی-
اِس معاملے کی حقیقت یہ ہے کہ کوئی چیز جب آدمی کی زندگی میں داخل ہوتی ہے تو ابتداء ًا وہ صرف لذت (taste) کے درجے میں ہوتی ہے- دھیرے دھیرے وہ عادت (habit)کی صورت اختیار کرتی ہے- پھر مزید ترقی کرکے وہ اڈکشن (addiction) بن جاتی ہے- اس کے بعد جو اگلا مرحلہ آتا ہے، وہ ہے پوائنٹ آف نو ریٹرن (point of no return) - جب یہ آخری مرحلہ آجائے تو آدمی کی اصلاح عملاً ناممکن ہوجاتی ہے-
اسی حقیقت کو قرآن میں توبۂ قریب ( 4:17) سے تعبیر کیاگیا ہے- انسان کو چاہئے کہ جب اس سے کوئی خطا سرزد ہوتو وہ بلا تاخیر توبہ قریب (speedy repentance) کا طریقہ اختیار کرے، وہ فوراً اپنا محاسبہ کرے، اپنے آپ کو بدلے، اپنی غلطی کا کھلا اعتراف کرتے ہوئے اپنی زندگی کی تعمیر نو کرے-
غلطی کرنے کے بعد آدمی کو چاہئے کہ وہ کل کا انتظار نہ کرے، بلکہ وہ آج ہی پہلی فرصت میں اس کی تلافی کرے- فطرت کے قانون کے مطابق یہی طریقہ صحیح طریقہ ہے-
آدمی کو کبھی بھی توبۂ بعید کا انتظار نہیں کرنا چاہئے، اس لئے کہ غلطی کے پیچھے ہمیشہ کوئی لذت شامل رہتی ہے، مادی لذت یا ذہنی لذت- اگر آدمی غلطی کے بعد فوراً اس کی اصلاح نہ کرے تو اس کے بعد اس کے اندر اِس لذت پسندی کی بناپر ایک نفسیاتی عمل شروع ہوجائے گا- لذت دھیرے دھیرے عادت بنےگی، اس کے بعد وہ اڈکشن (addiction)بن جائے گی، اور پھر وہ وقت آجائے گا، جب کہ آدمی کے لئے ابتدائی حالت کی طرف واپسی ناممکن ہوجائے-
واپس اوپر جائیں

تخلیقیت کے دو درجے

تخلیقیت (creativity) ذہنی ارتقا کا ایک درجہ ہے- تخلیقیت کسی انسان کی اعلیٰ ترین صفت ہے- تخلیقیت کا مطلب ہے گہرے غوروفکر کے ذریعہ کوئی نئی بات دریافت کرنا:
To discover a new idea after deep thinking
تخلیقیت کے دو درجے ہیں- ایک خاص، اور دوسرا عام- تخلیقیت کا پہلا درجہ ہے خود سے کوئی نئی بات دریافت کرنا-تخلیقیت کا دوسرا درجہ ہے کوئی چیز سن کر یا پڑھ کر اس میں نیا پہلو دریافت کرنا- ان دونوں درجوں کو درج ذیل الفاظ میں بیان کیا جاسکتا ہے:
(1) Creativity of the first order
(2) Creativity of the second order
اس معاملہ کی ایک مثال یہ ہے کہ آپ نے قرآن میں یہ آیت پڑھی: وَاَیَّدْنٰہُ بِرُوْحِ الْقُدُسِ (2:87) اس آیت پر غور کرکے آپ نے یہ دریافت کیا کہ روح القدس کا معاملہ محدود معنوں میں فضیلت ِ انسان کا معاملہ نہیں ہے بلکہ وسیع تر معنوں میں وہ رحمت خداوندی کا معاملہ ہے- اور رحمت خداوندی ہمیشہ عام ہوتی ہے- جب کوئی شخص اپنے آپ کو اللہ کے لئے وقف کرے اور اس راہ میں کامل عجز کا ثبوت دے تو وہ اس خصوصی تائید الٰہی کا مستحق بن جاتا ہے، جس کو قرآن میں روح القدس کہا گیا ہے- یہ تخلیقیت کا اعلی درجہ ہے-تخلیقیت کا ثانوی درجہ یہ ہے کہ آپ نے ایسی ایک تحریر کو پڑھا اور اس پر کھلے ذہن کے ساتھ غور کیا اور پھر آپ نے اپنی طرف سے اضافہ کرتے ہوئے اس تحریر کوزیادہ گہرائی کے ساتھ سمجھا- مثلاً آپ نے عجز کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ عجز (helplessness) کا عمل (function) یہ ہے کہ وہ آدمی کی داخلی روح(inner soul) کو آخری حد تک بیدار کردیتاہے- اس وقت آدمی کی زبان سے ایسے خصوصی کلمات نکلتے ہیں جو خدا کی رحمت کو انووک (invoke)کرنے والے ہوں- یہ عبدیت کا اعلیٰ ترین درجہ ہے، اور یہی وہ چیز ہے جو کسی بندۂ خاص کو روح القدس کا مستحق بناتی ہے-
واپس اوپر جائیں

قرآن، سنت، اجتہاد

دینِ اسلام کی بنیاد تین چیزوں پر ہے— قرآن، سنت، اجتہاد- ان تینوں مآخذ کو دوسرے  الفاظ میں اِس طرح بیان کیا جاسکتا ہے— نظریہ، تطبیق، تطبیقِ نو:
Ideology, application, reapplication
قرآن میں دین کے فکری یا نظریاتی پہلو کو بیان کیاگیا ہے- سنت سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اِس اسلامی فکر کو کس طرح اپنی عملی زندگی میں اختیار کیا- اجتہاد اُس سنجیدہ کوشش کا نام ہے جب کہ ایک صاحبِ ایمان اِس دین کو نئے حالات کی نسبت سے دوبارہ دریافت کرے، اور اُس کا حقیقی پیرو بن جائے-
اجتہاد، اسلام کی ایک مستقل ضرورت ہے- اسلام کی تعلیمات اپنی نوعیت کے اعتبار سے ابدی ہیں، لیکن انسان کے حالات ہمیشہ بدلتے رہتے ہیں- حالات کے بدلنے سے حکم نہیں بدلتا بلکہ حکم کی تطبیق کے طریقے بدل جاتے ہیں- یہ زندگی کی ایک ایسی ضرورت ہے جو کبھی ختم نہیں ہوتی، اِس بنا پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں بھی صحابہ نے اجتہاد کیا، اور بعد کے زمانے میں بھی یہ اجتہاد جاری رہے گا-
موجودہ زمانے میں ایک قابل اجتہاد بات یہ ہے کہ قدیم اور جدید کے فرق کو سمجھا جائے اور اس فرق کے اعتبار سے دینی حکم کی تطبیق تلاش کی جائے- مثلاً قرآن کی اشاعت ایک ابدی حکم ہے، اور قرآن ہی دعوت اسلام کا سب سے بڑا ذریعہ ہے- پرنٹنگ پریس سے پہلے قرآن کی اشاعت کا کام اِس طرح کیا جاتا تھا کہ صحابہ قرآن کے مقری (پڑھ کر سنانے والا) بنے ہوئے تھے- اب پرنٹنگ پریس کے زمانے میں اہلِ ایمان کو یہ کرنا ہے کہ وہ قرآن کے ڈسٹری بیوٹر بن جائیں، یعنی مطبوعہ نسخوں کو پھیلانے والے- اِس مثال سے اجتہاد کی دوسری صورتوں کو سمجھا جاسکتا ہے-اجتہاد یا تطبیق نو کا کوئی لگا بندھا اصول نہیں- اجتہاد کے لئے بیک وقت دو صلاحیتیں درکار ہیں، اصل دین اور حالاتِ زمانہ، دونوں سے گہری واقفیت-
واپس اوپر جائیں

اصلاح امت

قال مالک: کان وہب بن کَیسان یقعد إلینا- ثم لا یقوم أبدا حتى یقول لنا إنہ لا یُصلح آخر ہذہ الأمة إلا ما أصلح اوَّلَہَا، قلت لہ یرید ماذا؟ قال یرید التُّقَى (مسند المؤطا للجوہری: 783) یعنی مالک ابن انس (وفات: 179ھ) نے کہا کہ وہب ابن کیسان تابعی (وفات: 127ھ) جب بھی ہمارے پاس آتے تو ہم سے وہ ہمیشہ یہ کہتے اس امت کے آخری حصہ کو وہی چیز درست کرے گی جس نے ا س کے پہلے حصہ کو درست کیا- میں (راوی) نے پوچھا کہ اس سے ان کی مراد کیا ہوتی تھی-انھوں نے کہا کہ ان کی مراد ہوتی تھی :تقوی-
تقوی کا لفظ اسپرٹ (spirit) کو بتاتا ہے- اس روایت میں اگر چہ بظاہر اصلاح امت کا حوالہ ہے، لیکن اس سے مراد مصلح (پیغمبر) کے طریقہ کو بتانا ہے- اس کا مطلب یہ ہے کہ مصلح اول کے جس طریقہ سے امت اصلاح یافتہ ہوئی تھی، بعد کے مصلحین کو بھی یہی کرنا ہے کہ اسی طریقہ کے مطابق امت کو اصلاح یافتہ بنائیں- مصلح اول کا یہ طریقہ آپ کی تاریخ سے معلوم ہوتاہے-
پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم اس امت کے مصلح اول تھے- آپ کو مکہ میں حکومت کا عہدہ پیش کیا گیا تو آپ نے کہا میرا مقصد تمھارے اوپر حکومت کرنا نہیں ہے- اس سے معلوم ہوا کہ دعوت واصلاح کا کام غیر سیاسی (non-political)انداز میں ہونا چاہئے- قدیم مکہ میں کعبہ کے اندر 360 بت رکھے ہوئے تھے- مگر آپ نے اپنی تحریک کا آغاز تطہیر کعبہ سے نہیں کیا، بلکہ تطہیر ذہن سے کیا- مکہ میں جب مخالفت زیادہ بڑھی تو آپ مکہ چھوڑ کر مدینہ چلے گئے- اس سے معلوم ہوا کہ حقوق کے نام پر لڑائی لڑنے کے بجائے اہل ایمان کو چاہئے کہ وہ نئے مواقع کار دریافت کریں- مدینہ پہنچنے کے بعد آپ نے وہاں کے لوگوں کے سامنے کبھی مکہ والوں کی شکایت نہیں کی، بلکہ مثبت طورپر دعوت کا کام کرتے رہے- اس سے معلوم ہوا کہ ظلم کے خلاف چیخ وپکار رسول اللہ کا طریقہ نہیں، وغیرہ- یہی طریقہ آج بھی دعوت واصلاح کا صحیح طریقہ ہے-
واپس اوپر جائیں

رحمت کا دروازہ

قالت قریشٌ للنبیِّ صلَّى اللہُ علیہِ وسلَّمَ : ادعُ لنا ربَّکَ أنْ یجعلَ لنا الصَّفا ذَہَبًا ونؤمنُ بکَ، قال : وتفعلون، قالوا : نعم، قال : فدعا فأتاہُ جبریلُ فقال : إنَّ ربَّک یَقرأُ علیک السلامَ ویقولُ : إن شئتَ أصبح لہم الصَّفا ذہبًا فمن کفر بعدَ ذلک منہم عذَّبْتہُ عذًابا لا أعذِّبہُ أحدًا من العالمین وإن شئتَ فتحتُ لہم بابَ التوبةِ والرحمةِ ،قال : بل بابُ التوبةِ والرحمةِ(مسند احمد: 2166)-قریش نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا کہ اپنے رب سے دعا کیجئے وہ ہمارے لئے صفا پہاڑ کو سونے کا پہاڑ بنا دے، پھر ہم آپ پر ایمان لائیں گے، آپ نے کہا: کیا تم ایساکرو گے، انھوں نے کہا کہ ہاں- پھر رسول اللہ نے دعا کی تو جبریل آپ کے پاس آئے اور کہاکہ آپ کے رب نے آپ کوسلام بھیجا ہے، اور یہ کہا ہے کہ اگر آپ چاہیں تو وہ صفا پہاڑ کو سونے کا پہاڑ بنا دے گا، مگر اس کے بعد ان میں سے جو انکار کرے گا- اس کو میں ایسا عذاب دوں گا جو دنیا والوں میں کسی کو نہ دیاہوگا اور اگر آپ چاہیں تو میںان کے لئے توبہ اور رحمت کا دروازہ کھول دوں گا- آپ نے فرمایا کہ ہاں توبہ اور رحمت کا دروازہ-
اس حدیث کا مطلب یہ ہے کہ اگر لوگوں پر فراوانی کے دروازے کھول دئے جائیں تو اس کے نتیجہ میں ان کے اندر غفلت اور سرکشی پیداہوگی، وہ ایمان سے دور ہو کر مزید سزا کے مستحق بن جائیں گے- ایمان کے لئے اصل اہمیت یہ ہے کہ آدمی کے اندر عجز کی نفسیات پیداہو- عجز کی نفسیات آدمی کو ایمان کی طرف لے جاتی ہے- اس کے برعکس، فراوانی (affluence)میں آدمی کے اندر غفلت اورسرکشی پیدا ہوتی ہے، جواس کو خدا سے مزید دور کردیتی ہے-حدیث کا مطلب یہ ہے اہلِ مکہ کے لئے یہی بہتر ہے کہ وہ مشکل حالات کا سامنا کریں، اس سے ان کے اندر اللہ کی طرف رجوع کی کیفیت پیدا ہوگی، ان کے اندر تلاش حق کی اسپرٹ بیدار ہوگی- وہ اپنے عجز کو دریافت کریں گے، اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ وہ سچائی کو قبول کرلیں گے- یہ صرف قریش کی بات نہیں بلکہ وہ تمام انسانوں کی بات ہے- ہدایت کا یہی اصول قریش کے لئے بھی تھا اور دوسرے تمام انسانوں کے لئے بھی-
واپس اوپر جائیں

زیادہ بڑی فتح

قرآن میں فتح (victory) کا لفظ اس معنی میں دو سورتوں میں آیا ہے، سورہ النصر اور سورہ الفتح- سورہ النصر میں فتح کا لفظ سیاسی فتح کے معنی میں ہے، یعنی مکہ کی فتح-لیکن سورہ الفتح میں یہ لفظ سیاسی فتح کے معنی میں نہیں ہے- کیونکہ یہ سورہ معاہدۂ حدیبیہ کے وقت اتری تھی، اور معاہدہ حدیبیہ میں رسول اور اصحابِ رسول کو کوئی سیاسی فتح حاصل نہیں ہوئی تھی- حدیبیہ کا سفر رسول اور اصحابِ رسول نے اس لئے کیا تھا کہ مکہ جاکر عمرہ ادا کریں، لیکن اس وقت مکہ پر قریش کا غلبہ تھا- انھوں نے آپ کو اجازت نہ دی اور آپ کو اور آپ کے اصحاب کو عمرہ کی ادائیگی کے بغیر درمیان سے مدینہ کی طرف واپس ہونا پڑا تھا-
سورہ النصر میں صرف فتح کا لفظ آیا ہے، جب کہ سورہ الفتح میں فتح مبین (open victory) کا لفظ استعمال ہوا ہے- گویا سورہ الفتح میں جس فتح کا ذکر ہے، وہ اللہ کی نظر میں رسول اور اصحاب کے لئے زیادہ بڑی فتح تھی- یہ زیادہ بڑی فتح کیا تھی، یقیناً وہ کوئی ایسی چیز تھی، جو سیاسی فتح (political victory) کے علاوہ تھی-غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ فتح مبین مواقع دعوت کے فتح کے معنی میں تھی- فتح مکہ اگر سیاسی فتح تھی تو معاہدۂ حدیبیہ کے ذریعہ جو فتح حاصل ہوئی اس کو پر امن فتح (peaceful victory) کہاجاسکتاہے- معاہدہ حدیبیہ کے ذریعہ دونوں فریق اس کے پابند ہوگئے کہ وہ ایک دوسرے کے خلاف کوئی لڑائی نہیں کریں گے- معاہدہ حدیبیہ دراصل امن کا معاہدہ تھا:
Makkah was victory in terms of territory, Hudaybiyah was victory in terms of opportunity.
رسول اور اصحاب رسول کو یہ موقع مل گیا کہ وہ کسی رکاوٹ کے بغیر کھلے طورپر دعوت الی اللہ کا کام کرسکیں- دوسری فتوحات میں اگر سیاسی فتوحات حاصل ہوتی ہیں تو معاہدہ حدیبیہ نے یہ امکان کھول دیا کہ دعوت کے ذریعہ انسانوں کو فتح کیا جاسکے- گویا اللہ کی نظر میں ملک کی فتح سے زیادہ بڑی چیز انسان پرفتح حاصل کرنا ہے-
واپس اوپر جائیں

آداب مجلس

ایک مجلس میں کچھ لوگ بیٹھے ہوئے تھے- میں نے ایک صاحب کو مخاطب کرتے ہوئے ان سے کوئی بات پوچھی- اس کے بعد مجلس کا ہر آدمی کچھ نہ کچھ بولنے لگا- میںنے اس پر سخت گرفت کی- میں نے کہا کہ یہ طریقہ آداب مجلس کے بالکل خلاف ہے- جب کوئی بات ایک متعین شخص سے پوچھی جائے تو اسی شخص کو اس کا جواب دینا چاہئے- بقیہ لوگوں کو خاموشی کے ساتھ صرف سننا چاہئے-
ایک صاحب نے کہا کہ ہم سے غلطی ہوئی- میں نے کہا کہ یہ سادہ طور پر صرف غلطی کی بات نہیں، یہ اس بات کی علامت ہےکہ آپ لوگ مجلسی آداب کے بارے میں باشعور نہیں ہیں- اصل یہ ہے کہ آپ لوگ سنجیدگی کے ساتھ یہ عہد کریں کہ اب آپ لوگ اس انداز پر اپنی تربیت کریں گے کہ آپ ہر موقع پر آداب کلام کو سمجھیں اور اس کے مطابق ایسا کریں کہ بولنے کے موقع پر بولیں اور چپ رہنے کے موقع پر خاموش رہیں-
قرآن کی سورہ الحجرات میں یہ آیت آئی ہے: یٰٓاَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَرْفَعُوْٓا اَصْوَاتَکُمْ فَوْقَ صَوْتِ النَّبِیِّ وَلَا تَجْـہَرُوْا لَہٗ بِالْقَوْلِ کَجَــہْرِ بَعْضِکُمْ لِبَعْضٍ اَنْ تَحْبَــطَ اَعْمَالُکُمْ وَاَنْتُمْ لَا تَشْعُرُوْنَ (49:2) یعنی اے ایمان والو، تم اپنی آوازیں پیغمبر کی آواز سے بلند نہ کرو، اور نہ اس کو اس طرح آواز دے کر پکارو، جس طرح تم آپس میں ایک دوسرے کو پکارتے ہو- کہیں ایسا نہ ہو کہ تمھارے اعمال برباد ہوجائیں اور تم کو خبر بھی نہ ہو-
بظاہر اس آیت میں رسول اور اصحاب رسول کا ذکر ہے- لیکن قرآن کی کوئی آیت وقتی نہیں ہے، بلکہ ہر آیت میں تمام اہلِ ایمان کو ابدی تعلیم دی گئی ہے- اس اعتبار سے غور کیجئے تو قرآن کی اِس آیت میں عمومی حکم کو بتایا گیا ہے، اور وہ مجلس کے آداب کا حکم ہے- اس میں بتایا گیاہے کہ جب بھی کسی مجلس میں کئی آدمی بیٹھے ہوئے ہوں تو وہاں ہر ایک کوڈ سپلن کے ساتھ بولنا چاہئے-
واپس اوپر جائیں

انسان کا مسئلہ

انسان کا معاملہ کیا ہے، انسان کا معاملہ یہ ہے کہ وہ بہترین خواہشات کے ساتھ پیداہوتا ہے، لیکن اِس دنیا میں وہ اپنی خواہشوں کو پورا نہیں کرپاتا- انسان کا کیس ایک لفظ میں یہ ہے— معیاری خواہشیں اور غیر معیاری تسکین:
Perfect desires, imperfect fulfillment.
خواہشیں (desires) اکتسابی نہیں ہیں، بلکہ وہ فطری ہیں- آدمی اِن خواہشوں کو پیدائشی طورپر لے کر اِس دنیا میں آتاہے- ہر خواہش کے پیچھے ایک احساس ہوتا ہے- یہ احساس استثنائی طورپر صرف انسان کے اندر پایا جاتا ہے- محظوظ ہونے کا احساس (sense of enjoyment) ہر انسان کو پیدائشی طورپر ملتاہے-
انسان کی شخصیت میں یہ ایک تضاد کا معاملہ ہے- یعنی انسان کے اندر خواہشیں لامحدود ہیں، لیکن دنیا میں ان خواہشوں کی تکمیل کا انتظام نہایت محدود ہے- انسانی شخصیت کے اس تضاد کو سمجھنا انسان کو یہ موقع دیتاہے کہ وہ اپنی زندگی کی صحیح منصوبہ بندی کرے- وہ وہی چاہے جو فطرت کے قانون کے مطابق اسے اس دنیا میں ملنے والا ہے- وہ اس چیز کے پیچھے نہ بھاگے جو فطرت کے قانون کے مطابق اس کو اس دنیا میں ملنے والا ہی نہیں- انسان کے بارے میں اس حقیقت کو دریافت کرنا ہر شخص کے لئے نہایت ضروری ہے- جو آدمی اس حقیقت کو دریافت کئے بغیر زندگی کے میدان میں داخل ہوجائے، وہ صرف اپنے وقت اور اپنی توانائی کو ضائع کرے گا- وہ اپنی زندگی کے مقصد کو پورا کئے بغیر اس دنیا سے چلا جائے گا-
یہی انسان کی زندگی کا سب سے بڑا مسئلہ ہے- یہ زندگی کی جدوجہد کا آغاز ہے- اس سوال کا صحیح جواب وہی شخص پاسکتاہے، جو متعصبانہ فکر (biased thinking) سے آزاد ہو کر اس پر غور کرے- وہ اپنی خواہش کو الگ رکھتے ہوئے، اس کو جاننے کی کوشش کرے- اس معاملے میں غلطی کرنا، پوری زندگی کو غلط کردینے کے ہم معنی ہے-
واپس اوپر جائیں

دوآپشن کے درمیان

مولانا ابو الکلام آزاد (وفات: 1958) نے اپنے بارے میں لکھا تھا کہ:
’’زمانے نے میری صلاحیتوں کی قدر نہ کی.....‘‘
مولانا آزاد کے اِس جملے کا مطلب یہ تھا کہ پیدائشی فطرت کے اعتبار سے، وہ اعلی صلاحیت کے مالک تھے، لیکن دوسرے لوگوں نے اُن کو نہیں پہچانا، اِس لیے ان کی صلاحیت پوری طرح استعمال نہ ہوسکی-مولانا ابو الکلام آزاد کا یہ احساس صرف ایک آدمی کا احساس نہیںہے-تاریخ میں بہت سے ایسے انسان ہیں جو اپنے احساس کے اعتبار سے غیر استعمال شدہ شخصیت کی حیثیت سے جیے اور اسی احساس کے ساتھ وہ اِس دنیا سے چلے گیے- ایسے افراد کو بظاہر دوسرے لوگوں سے شکایت تھی، مگر حقیقت یہ ہے کہ ایسے افراد اپنے اِس احساس کے لیے تمام تر خود ذمے دار تھے، نہ کہ کوئی دوسرا شخص-
خالق نے موجودہ دنیا کو جس قانون کے تحت بنایا ہے، اس کے مطابق، کسی انسان کے لیے یہاں صرف دو میں سے ایک کا انتخاب (option) ہے- ایک یہ کہ وہ کسی دوسرے کے بنائے ہوئے اسٹیبلشمنٹ کے آگے سرینڈر کرے، یا وہ اپنے لیے ایک خود تعمیر کردہ دنیا (self-created world) کو تخلیق کرے اور اس کے اندر اپنی مرضی کے مطابق رہے- اِن دو کے سواکوئی اور انتخاب کسی شخص کے لیے ممکن نہیں-
موجودہ دنیا مسابقت (competition) کے اصول پر مبنی ہے- اس دنیا میں یہ ناممکن ہے کہ کوئی دوسرا شخص آپ کی قدر وقیمت کو پہچانے، اور وہ آپ کے ساتھ وہ سلوک کرے، جو بطور خود آپ اُس سے چاہتے ہیں- ایسا کبھی کسی انسان کے لئے نہیں ہوا- صلاحیتوں کو دینے والا اللہ رب العالمین ہے اور صلاحیتوں کا استعمال وہی شخص کرتا ہے جس کو صلاحیت دی گئی ہے- دوسرے آدمی سے زیادہ سے زیادہ جو امید کی جاسکتی ہے وہ یہ ہے کہ وہ آپ کے کیے ہوئے کام کا اعتراف کرے-اِس دنیا میں کوئی بھی شخص آپ کے حصے کا کام نہیں کرسکتا- موجودہ دنیا کے لئے یہ مقولہ بالکل درست ہے— کرو یا مرو: Do or die
واپس اوپر جائیں

مفید، بے مسئلہ

اجتماعی زندگی (social life) میں باعزت زندگی حاصل کرنے کی ایک لازمی شرط ہے- اس شرط کا تعلق 50 فیصد آپ سے ہے اور 50 فیصد دوسروں سے- وہ یہ کہ آپ دوسروں کے لئے یا تو مفید انسان (giver person)بنیں یا آپ دوسروںکے لئے بے مسئلہ انسان (no problem person) بن جائیں- پہلی صورت زیادہ سے زیادہ شرط کی ہے، اور دوسری صورت کم سے کم شرط کی- ان دو کے سوا کوئی تیسری صورت سماج میں با عزت بننے کی نہیں- جو لوگ تیسری قسم سے تعلق رکھتے ہوں ان کو کسی سماج میں اگر جگہ ملے گی تو صرف سماج کے کوڑا خانے میں- سماج کے مطلوب شخص کا درجہ ان کو کبھی ملنے والا نہیں-
اجتماعی زندگی ہمیشہ دو اور لو (give and take) کے اصول پر قائم ہوتی ہے- اس اصول کے مذکورہ دو پہلو ہیں- اگر آپ سماج کو مثبت معنوں میں کچھ دے رہے ہیں تو آپ سماج کے اندر مطلوب انسان کا درجہ پائیں گے، اور اگر آپ اپنی طرف سے سماج کو کچھ دینے کی پوزیشن میں نہیں ہیں تو آپ کو کم ازکم یہ کرنا چاہئے کہ آپ د وسروں کے لئے ایک بے مسئلہ انسان بن جائیں- اگر آپ سماج کے ایک دینے والے ممبر ہیں تو آپ سماج کی ترقی میں اضافہ کررہے ہیں، اور اگر آپ سماج کے بے مسئلہ انسان ہیں، تب بھی آپ کا ایک سماجی رول ہے، وہ یہ کہ آپ سماج کی ترقی میں کوئی خلل نہیں ڈال رہے ہیں- پہلا انسان اگر سماج کی ترقی میں براہِ راست معاون ہے تو دوسرا انسانی سماج کی ترقی میں بالواسطہ معاون کی حیثیت رکھتا ہے-
جن لوگوں کا حال یہ ہو کہ وہ مذکورہ دونوں شرطوں میں سے ایک شرط بھی پورا نہ کریں، وہ سماج کے لئے صرف ایک بوجھ کی حیثیت رکھتے ہیں- ایسے لوگ اگرچہ روایتی قانون کی نظر میں مجرم (criminal) نہیں ہیں لیکن وہ آداب حیات کے پہلو سے یقیناً ایک غیر قانونی مجرم کی حیثیت رکھتے ہیں- دنیا کی قانونی عدالت میں اگرچہ ان کے خلاف کسی سزا کا فیصلہ نہیں کیا جائے گا لیکن فطرت کی عدالت میں وہ بلاشبہہ ایک اخلاقی مجرم کی حیثیت رکھتے ہیں-
واپس اوپر جائیں

کیلنڈر کی تاریخ

ایک دانشور کا قول ہے — جس دن آپ بھر پور زندگی جئے، وہی آپ کا دن تھا، باقی صرف کلینڈر کی تاریخ تھی- اس کا مطلب یہ ہے کہ زندگی کے دو طریقے ہیں، ایک طریقہ دن گزارنا، اور دوسرا طریقہ ہے دن کو استعمال (avail) کرنا- جس نے دن گزارنے کے لئے زندگی گزاری، اس نے اپنی عمر کو ضائع کیا، اور جو شخص دن کو بھر پور طورپر استعمال کرے، اسی کی زندگی، زندگی ہے، وہی وہ شخص ہے جس نے زندگی کو سمجھا، اور اس کا فائدہ اٹھایا-
ہر بار جب ایک نیا دن آتا ہے تو وہ اپنے ساتھ کچھ مواقع (opportunities) کو لے کر آتا ہے- یہ مواقع بلند آواز سے نہیں بولتے، مواقع کی زبان ہمیشہ خاموشی کی زبان ہوتی ہے- یہ انسان کا اپنا کام ہے کہ وہ مواقع کو پہچانے، اور حالات کے مطابق منصوبہ بنا کر ان سے فائدہ اٹھائے-
مواقع پہچاننے کی کئی شرطیں ہیں- مثلاً یہ کہ کون سا موقع میرے لئےہے، اور کون سا موقع میرے لئے نہیں ہے، کسی موقع کو پرامن طورپر حاصل کرنے کا طریقہ کیا ہے، مواقع کو استعمال کرنے کے لئے حقیقت پسندی کی اہمیت کیا ہے، اپنا مقصد حاصل کرتے ہوئے مجھے کس طرح اپنی حد کے اندر رہنا ہے، مجھے دوسرے کی حد کے اندر داخل نہیں ہونا ہے، وغیرہ-
اپنی زندگی جینے کے لئے ضروری ہے کہ آپ یہ جانیں کہ دنیا میں صرف آپ نہیں ہیں،یہاں دوسرے لوگ بھی ہیں، جن کو اپنی زندگی گزارنا ہے- ایک شخص اگر اپنی زندگی میں کامیاب ہوناچاہتا ہے تو ضروری ہے کہ وہ دوسروں سے ٹکراؤ نہ کرے، وہ دوسروں سے ٹکراؤ نہ کرتے ہوئے اپنی زندگی کا سفر شروع کرے- جس طرح آپ کا کچھ انٹرسٹ ہے، اسی طرح دوسروں کا بھی کچھ انٹرسٹ ہے- کامیاب وہ ہے جو دوسروں کے انٹرسٹ سے ٹکراؤ نہ کرتے ہوئے اپنا مقصد حیات حاصل کرے-
واپس اوپر جائیں

خبر نامہ اسلامی مرکز— 232

1- 14نومبر2014کو سہارن پور کے پنجابی ہوٹل میں شری رام اوتار ٹرسٹ کی جانب سے بھگوت گیتاپر ایک بڑا سیمینار ہوا۔ اس سیمینار میں سی پی ایس، سہارن پورکی ایک ٹیم نے قرآن کا ترجمہ اور صدر اسلامی مرکز کی کتابوں کا ایک سیٹ تمام لوگوں کے درمیان تقسیم کیا۔
2- انڈین انسٹی ٹیوٹ آف ماس کمیونی کیشن (IIMC)، نئی دہلی کے تین طلبہ کی ایک ٹیم نے 20 نومبر 2014کو صدر اسلامی مرکز کا ایک انٹرویو لیا۔ موضوع تھا، اسلام اور دہشت گردی۔ یہ لوگ ایک ڈاکیومنٹری بنارہے ہیں۔ان میں سے ایک مسٹر آنند نے کہا کہ وہ آنے سے پہلے بہت ہی زیادہ ٹینشن میں تھے، مگر صدر اسلامی مرکز سے گفتگو کے بعد بالکل پازیٹیو ہو گئے۔
3- مصری سفارت خانہ، دہلی کے کلچرل کاؤنسلر ڈاکٹر اے، ایم عبد الرحمٰن نے 22نومبر2014 کو صدر اسلامی مرکز سے ملاقات کی۔یاد رہے کہ ڈاکٹر موصوف ان دنوںصدراسلامی مرکز کی انگریزی کتاب The Prophet of Peaceکا عربی میں ترجمہ کر رہے ہیں۔ اس سے پہلےوہ اسکندریہ یونیورسٹی میں صدراسلامی مرکز کے اوپر ہونے والی پی ایچ ڈی کی تحقیق میں تعاون کرچکے ہیں، اور جلد ہی آپ کے ایک اسٹوڈنٹ صدر اسلامی مرکز کی فکر پر مبنی امن اور اسلام کے موضوع پر پی ایچ ڈی کرنے والے ہیں۔
3-23 نومبر 2014 کو کیرالا سی پی ایس ممبر مسٹر شبیر علی نے ملاپورم میں ہونے والی ندوۃ المجاہدین کیرالا (KNM) کی ڈسٹرکٹ ہائر سکنڈری کانفرنس میں شرکت کی اور بک اسٹال لگایا۔ تمام لوگوں نے بہت اچھا رسپانس دیا۔
4- 14-23نومبر 2014کے درمیان بنارس میں لگنے والی بک فیر میں سی پی ایس، دہلی نے ایک اسٹال لگایا تھا۔ کافی تعداد میں لوگوں نے اسٹال کا وزٹ کیااور قرآن و دیگر اسلامی کتابیں حاصل کیں۔ یہ اسٹال مسٹر جنید الاسلام صاحب نے لگایا تھا۔
5- سی پی ایس بہار کے مسٹر ابو الحکم دانیال نے ٹیم کے چار ممبروں کے ساتھ وارانسی کا سفر کیا۔ یہ سفر بنارس لائنس کلب اور ویمنزکالج، بنارس کی دعوت پر ہوا۔ مسٹر دانیال نے دونوں مقام پرحاضرین کے درمیان اسلام اور پیس کے موضوع پر کئی لکچرز دئیے۔اس کے علاوہ سوال و جواب اور انٹرایکشن کا سیشن بھی ہوا۔ نیزان لوگوں کے درمیان ترجمہ قرآن، اور دیگر اسلامی کتابیں تقسیم کی گئیں۔ تمام لوگوں نے پیس فل اسلام کو بہت زیادہ پسند کیا۔ یہ سفر 24اور 25 نومبر2014 کو ہوا تھا۔
6- بڑی خوشی کی بات ہے کہ صدر اسلامی مرکز کی کتاب خاندانی زندگی (Family Life)کا تامل زبان میں ترجمہ ہوچکا ہے۔ مسٹر یوسف راجا نے یہ ترجمہ کیا ہے، اور گڈورڈ بکس ، چنئی سے یہ کتاب حاصل کی جا سکتی ہے۔
7- سی پی ایس دہلی کی ایک ٹیم 26 نومبر 2014 کو ودیاجیوتی کالج آف تھیولوجی کے ایک انٹرفیتھ ڈائیلاگ میں شریک ہوئی۔ یہ پروگرام خاص طور پرکالج کے کرشچن طلبہ کے لئے تھا۔ سی پی ایس کی جانب سے مسٹر رجت ملہوترا، مس نغمہ صدیقی، مس سعدیہ خان اور مس صوفیہ خان نے شرکت کی۔پروگرام کے بعد تمام طلبہ کے درمیان قرآن کا انگریزی ترجمہ اور صدر اسلامی مرکز کی کتابوں کا ایک سیٹ تقسیم کیا گیا، جسے تمام لوگوں نے شکریہ کے ساتھ قبول کیا۔ یا د رہے اس سے پہلے بھی سی پی ایس ٹیم اس کالج کے پروگرام میں شرکت کر چکی ہے۔
8- 29نومبر2014کو ترکی ریفارمر فتح اللہ گولن کی ٹیم کے ایک گروپ نے صدر اسلامی مرکز سے ملاقات کی۔ دورانِ ملاقات صدر اسلامی مرکز نے ان کے ساتھ ایک گھنٹہ تک انٹر ایکشن کیا۔ آخر میں تمام لوگوں کو انگریزی ترجمۂ قرآن اور صدر اسلامی مرکز کی کتابوں کا ایک سیٹ دیا گیا جسے انھوں نے شکریہ کے ساتھ قبول کیا۔
9- 30 نومبر 2014 کو میزورم کے کرشچن اسکالرس کی ایک ٹیم نے پیس ہال سہارن پور کا دورہ کیا۔ ان کا مقصد قرآن کے بارے میں جاننا تھا۔ تمام لوگوں کو قرآن کا ترجمہ اور صدر اسلامی مرکز کی کتابوں کا ایک سیٹ دیا گیا۔
10- 6دسمبر 2014کوٹی وی چینل نیوز ایکسپریس کے نمائندہ مسٹر راشد احمد خان نے صدر اسلامی مرکز کا انٹرویو لیا۔ یہ انٹرویو بابری مسجد کے موضوع پر تھا۔
11- 7دسمبر 2014کوانگریزی میگزین گورننس ناؤ (Governance Now) کے ایک جرنلسٹ نے صدر اسلامی مرکز کا انٹرویو لیا۔ موضوع تھا: ہندوستان کی ترقی اور کمیونل ایشوز۔ انٹرویو کے بعد ان کو قرآن مجید کا ترجمہ اور صدر اسلامی مرکز کی کتابوں کا ایک سیٹ دیا گیا۔
12- 11-13دسمبر 2014کو ممبئی میں سی پی ایس انٹرنیشنل کی تین روزہ دعوۃ میٹ ہوئی۔ جس میں تمام ہندوستان سے 84ممبران شریک ہوئے۔ دہلی سے صدر اسلامی مرکز نے دہلی کی ایک ٹیم کے ساتھ سفر کیا۔ اس درمیان تمام لوگوں نے صدر اسلامی مرکز سے تربیتی لکچر سنا اور انفرادی تربیت حاصل کی۔ اس کے علاوہ تمام لوگوں نے باہمی تبادلہ خیال بھی کیا۔ یہ میٹ گویا تمام شریک لوگوں کے لئے معرفت اور دعوت کے عہد کی تجدید تھا۔ ممبئی کے ہوٹل مینا انٹرنیشنل میں یہ پروگرام ہوا، اور اس کو سی پی ایس انٹرنیشنل (ممبئی) نے آرگنائز کیا تھا-
13- ہندوستان میڈیا کےسینئر رپورٹر مسٹر ستیہ سندھو نے 16 دسمبر 2014 کو صدر اسلامی مرکز کا ایک انٹر ویو لیا۔ انٹرویو کا موضوع تھا: سماجی ترقی۔
14- 19دسمبر 2014کوپنجابی یونیورسٹی، پٹیالہ کے پروفیسر ناصر نقوی صدر اسلامی مرکز سے ملاقات کے لئے آئے۔ یاد رہے کہ پروفیسر موصوف کی نگرانی میں صدر اسلامی مرکز کے ہندی ترجمۂ قرآن کا ٹرانسلیشن گورمکھی زبان میں کیا جارہا ہے۔
15- ذیل میں کچھ دعوتی تجربات و تاثرات نقل کئے جاتے ہیں:
— میں آپ کے ذریعہ سے آپ لوگوں کی آرگنائزیشن کا شکریہ ادا کرنا چاہتاہوں کہ انھوں نے ہم لوگوں تک قرآن کا یہ ترجمہ پہنچایا۔ میں بہت دنوں سے قرآن کے ترجمے کی تلاش میں تھا، مگر اب تک مجھےیہ نہیں مل پایا تھا۔آج اس قرآن کو پاکر بہت خوشی ہوئی کہ اب قرآن کو پڑھنے کا موقع ملے گا۔ اجئے چترویدی (محمد انیس، جئے پور )
— I was much tensed for the past three days due to a parking issue at my residence. I did not know what to do. I had the option of either forgoing my current parking lot and taking a less desirable one or sticking to the status quo and creating constant friction and unpleasantness. A meeting was held with other owners of the building and the builder who had sold the flats to us. When I realized that nobody wanted the less desirable parking lot, I volunteered to take it. Everybody was happy, but the builder got so impressed by this gesture that he committed to handing over the original papers of the whole building to me. Thanks to Maulana’s teachings. When I was faced with the situation, I thought what would have Maulana advised me to do and then I took the above step. Also, I remembered that Maulana often refers to a Hadith in his lectures that God grants to peace what He does not grant to violence. He also often quotes the Hadith that a believer would never enter Paradise if his neighbour experiences trouble because of him. I took this decision after praying salah haja and keeping Maulana’s teachings in mind. Thank you Maulana. (Dr. Taha Mohsin, Delhi)
واپس اوپر جائیں

Sunday, 1 February 2015

Al Risala | February 2015 (الرسالہ،فروری)

4

-انسان کی تخلیق

5

- ایمانی زندگی کے 10 مراحل

6

- نزاع سے کامل پرہیز

7

- ذات، مشن

8

- قتلِ انسان

10

- جہاد یا قبائلی کلچر کی توسیع

14

- عذر میں جینا

15

- قرآن کی اشاعت

16

- دعا کی قبولیت کا معاملہ

17

- معلوم حق

18

- مواقع کی دنیا

19

- اختلاف کا معاملہ

20

- کلام کی دو قسمیں

21

- امانت،خیانت

22

- نصرتِ خداوندی

23

- تقابل کی غلطی

24

- دعوة اِن ایکشن

26

- خدا : یقین کا سرچشمہ

28

- کلْب کلچر

29

- اعتقادی کاملیت، عملی رخصت

30

- اٹلی اور اسپین کا دعوتی سفر

45

- اعلیٰ ترقی کا راز

46

- خبر نامہ اسلامی مرکز


انسان کی تخلیق

قرآن کی سورہ التین میں تخلیقِ انسانی کے معاملے کو ان الفاظ میں بیان کیاگیاہے:وَالتِّیْنِ وَالزَّیْتُوْنِ ۝ وَطُوْرِ سِیْنِیْنَ ۝ وَہٰذَا الْبَلَدِ الْاَمِیْنِ ۝ لَقَدْ خَلَقْنَا الْاِنْسَانَ فِیْٓ اَحْسَنِ تَقْوِیْمٍ ۝ ثُمَّ رَدَدْنٰہُ اَسْفَلَ سٰفِلِیْنَ ۝ اِلَّا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ فَلَہُمْ اَجْرٌ غَیْرُ مَمْنُوْنٍ ۝ فَمَا یُکَذِّبُکَ بَعْدُ بِالدِّیْنِ ۝ اَلَیْسَ اللّٰہُ بِاَحْکَمِ الْحٰکِمِیْنَ ۝ (95:1-8) یعنی قسم ہے تین کی اور زیتون کی۔اور طورِسینا کی۔ اور اِس امن والے شہر کی۔ ہم نے انسان کو بہترین ساخت پر پیدا کیا۔ پھر اس کو سب سے نیچے پھینک دیا۔ لیکن جولوگ ایمان لائے اور اچھے کام کئے تو ان کے لیے کبھی ختم نہ ہونے والا اجر ہے۔ تو اب کیا ہے جس سے تم بدلہ ملنے کو جھٹلاتے ہو۔ کیا اللہ سب حاکموں سے بڑا حاکم نہیں۔
قرآن کی اس سورہ میں احسن تقویم سے مراد یہ ہے کہ انسان کو نہایت اعلیٰ ذوق (high taste) کے ساتھ پیدا کیا گیا ہے- انسان کے اندر جو احساس لذت (sense of enjoyment) ہے، وہ کسی بھی دوسری مخلوق میں نہیں، نہ جمادات میں، نہ نباتات میں، نہ حیوانات میں-
اسفل سافلین میں ڈالنے کا مطلب یہ ہے کہ انسان اپنے تخلیقی ساخت کے اعتبارسے اعلیٰ تسکین (satisfaction) کا طالب ہے- لیکن انسان کو اس دنیا میں کوئی بھی چیز اس کی طلب کے مطابق نہیں ملتی- اس دنیا میں انسان کو مسلسل طورپر عدم تشفی (unfulfillment)کی حالت میں جینا پڑتاہے- گویا کہ انسان ایک ایسا طالب ہے جس کا مطلوب اس کو حاصل نہیں-خدا کے احسن الخالقین ہونے کا تقاضا یہ ہے کہ وہ یقیناً احکم الحاکمین بھی ہے- اس پہلو پر غور کرنے سے اس معاملے کی حکمت معلوم ہوتی ہے- وہ یہ کہ انسان سے یہ مطلوب ہے کہ وہ اس فرق کو سمجھے- وہ اس تخلیقی حکمت کو دریافت کرے، اور پھر اس کے مطابق اپنی زندگی کی تشکیل کرے- جو آدمی اس معرفت کا ثبوت دے، اس کے لئے آخرت کی ابدی دنیا میں اجر غیر ممنون (unending reward) مقدر کیا گیاہے-
واپس اوپر جائیں

ایمانی زندگی کے 10 مراحل

قرآن کی سورہ آل عمران کا آخری رکوع (190-200) کا مطالعہ کیجئے تو ایک انسان کی ایمانی زندگی کے 10 مراحل سامنے آتے ہیں- یہ 10 مراحل بالترتیب حسب ذیل ہیں:
1- اِنَّ فِیْ خَلْقِ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ — عقل کو استعمال کرتے ہوئے آیات تخلیق میں مسلسل غوروفکر (continuous contemplation) کی زندگی گزارنا-
2- رَبَّنَا مَا خَلَقْتَ ہٰذَا بَاطِلًا — حقیقت کی شعور ی دریافت (discovery) ، اس دریافت کے مطابق اس کا درست رسپانس (right response) دینا-
3- وقت کے منادئ ایمان کو پہچاننا، اس کا بھر پور ساتھ دینا، تمام فکری حجابات (intellectual conditioning)کو توڑ کر-
4- رَبَّنَا وَاٰتِنَا مَا وَعَدْتَّنَا عَلٰی رُسُلِکَ — تاریخ میں بننے والے سچے انسانوں کی فہرست میں شامل ہونا، ان کے ساتھ حسن رفاقت کا متمنی ہونا-
5- الَّذِیْنَ ھَاجَرُوْا — دریافت کردہ سچائی کے ساتھ مکمل شرکت(total involvement)، زندگی کے سابق پیٹرن کو چھوڑ کر نیا پیٹرن اختیار کرنا-
6- وَاُخْرِجُوْا مِنْ دِیَارِھِمْ — غیر مصالحانہ انداز (uncompromising stand) اختیار کرنا، کسی چیز کو عذر (excuse)نہ بنانا-
7- وَاُوْذُوْا فِیْ سَبِیْلِیْ — ایمانی زندگی کے لئے ہر قیمت (price) دینے کے لئے تیار رہنا، قربانی (sacrifice) کی حد تک قائم رہنا-
8- وَقٰتَلُوْا وَقُتِلُوْا — ایمانی مشن کے لئے سنجیدہ جدوجہد (sincere struggle) کرنا، اس راہ میں اپنی آخری کوشش صرف کردینا-
9- وَلَاُدْخِلَنَّھُمْ جَنّٰتٍ — جنت کی بشارت، جنت کے حصول کو اپنا واحد مرکز توجہ (sole concern) بنا لینا-
10- اصْبِرُوْا وَصَابِرُوْا وَرَابِطُوْا — کامل صبر کا مزاج پیدا ہوجانا- ہر ڈسٹریکشن (distraction) سے بچتے ہوئے ایمانی سفر کی منزل طے کرنا-
واپس اوپر جائیں

نزاع سے کامل پرہیز

قرآن کی سورہ الحج میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو خطاب کرتے ہوئے ارشاد ہوا ہے: فَلَا یُنَازِعُنَّکَ فِی الْاَمْرِ وَادْعُ اِلٰى رَبِّکَ(22:67) یعنی وہ ہر گز اِس امر میں تم سے نزاع نہ کریں اور اُنھیں اپنے رب کی طرف بلاؤ- اِس آیت میں دعوت الی اللہ کا اسلوب بتایا گیاہے- وہ یہ کہ نزاعی امور کو نظر انداز کرتے ہوئے لوگوں کو ایک اللہ کی طرف بلاؤ- دعوت الی اللہ کے مسئلے کو ہرگز نزاع کا مسئلہ نہ بننے دو-
دوسروں کو خطاب کرنے کا ایک طریقہ یہ ہے کہ نزاعی امور (controversial points) کو موضوع کلام بنایا جائے- مثلاً سیاسی اور سماجی حقوق کو لے کر تحریک چلائی جائے- یہ خدا کے نزدیک ایک غیر مطلوب طریقہ ہے- یہ طریقِ کار احتجاج سے شروع ہوتا ہے، اور آخر کار تشدد تک پہنچ جاتا ہے- اِس طریقِ کار کا کوئی مثبت فائدہ نہیں-
اِس کے برعکس جب انسان کی فطرت کو ایڈریس کیا جائے تو وہ تمام تر غیر نزاعی بنیاد پر انسان کو مخاطب کرنا ہوتا ہے- ایسی حالت میں آدمی مجبور ہوتاہے کہ وہ دعوت کو خود اپنی فطرت کی آواز سمجھے، اور اُس پر کھلے دل کے ساتھ غور کرے- یہی وہ فطری طریقہ ہے کہ جس کو قرآن میں دوسرے مقام پر وَقُلْ لَّھُمْ فِیْٓ اَنْفُسِہِمْ قَوْلًۢا بَلِیْغًا (4:63)کے الفاظ میں بیان کیا گیا ہے، یعنی لوگوں کو ایسے انداز میں خطاب کرو جو اُن کی فطرت کو ایڈریس کرنے والا ہو، جو اُن کو خود اپنی فطرت کی آواز معلوم ہو، جس کو وہ خود اپنی بات سمجھ کر قبول کرلیں-
اجتماعی زندگی میں نزاع کا طریقہ اختیار کیا جائے تو اس سے صرف مسائل میں اضافہ ہوگا- نزاع ہمیشہ نفرت اور تشدد کا باعث بنتا ہے- نزاع کا طریقہ کبھی کسی خیر کا سبب نہیں بنتا- یہ بات جس طرح دوسرے پہلوؤں سے صحیح ہے، اسی طرح وہ دعوت کے پہلو سے بھی درست ہے- دعوت کے مواقع صرف اس وقت کھلتے ہیں جب کہ نزاع کی صورت حال کو یک طرفہ طورپر ختم کردیا جائے- اس دنیا میں نزاع کا خاتمہ دعوت کا آغاز ہے- نزاع اور دعوت دونوں ایک ساتھ جمع نہیں ہوسکتے-
واپس اوپر جائیں

ذات، مشن

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک اسوہ حضرت عائشہ نے اِن الفاظ میں بیان کیا ہے: وما انتقم رسول اللہ صلى اللہ علیہ وسلم لنفسہ إلا أن تنتہک حرمة اللہ، فینتقم للہ بہا- (صحیح البخاری، رقم الحدیث: 3560) یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ذات کے لیے کبھی انتقام نہیں لیا - البتہ اگر خدائی حرمت کو پامال کیا جاتا تو آپ اللہ کے لیے اس کا انتقام لیتے تھے-
اِس روایت سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک سنت معلوم ہوتی ہے اور وہ ہے ذات اور مشن میں فرق کرنا- رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا طریقہ یہ تھا کہ اگر کوئی شخص ایسی بات کہتا جس کاتعلق آپ کی ذات سے ہو تو آپ اس کو نظر انداز فرماتے تھے، لیکن اگر کوئی ایسی بات کہی جائے جس کا تعلق آپ کے پیغمبرانہ مشن سے ہو تو آپ شدت کے ساتھ اُس کا نوٹس لیتے تھے، اور یہ کوشش فرماتے تھےکہ اس کی وجہ سے آپ کے مشن پر کوئی برا اثر نہ پڑے-
کبھی ایسا ہوتا ہے کہ مخالفین ایک ایسی بات کہتے ہیں جو بظاہر داعی کے بارے میں ہوتی ہے، لیکن اپنے اثرات کے اعتبار سے اس کی زد داعی کے مشن پر پڑتی ہے- ایسے موقع پر داعی خاموش نہیں رہتا، بلکہ پرامن انداز میں وہ اس کا دفعیہ کرتاہے، تاکہ مشن کو نقصان سے بچایا جاسکے-
مشن ایک اجتماعی ظاہرہ ہے، اور ذات کا معاملہ ایک انفرادی معاملہ - افراد کے مجموعے سے مشن وجود میں آتاہے، لیکن حکمت کا تقاضا ہے کہ مشن سے وابستہ حضرات، اِس فرق کو سمجھیں- وہ اپنی ذات کو مشن کے تحت سمجھیں، نہ کہ مشن کو اپنی ذات کے تحت- جس مشن کے افراد اِس فرق کو ملحوظ نہ رکھیں، وہ مشن کے تقاضے پورے کرنے سے قاصر رہیں گے- اِس کے نتیجہ میں وہ اپنی ذات کا بھی نقصان کریںگے، اور مشن کا نقصان بھی-
واپس اوپر جائیں

قتلِ انسان

قرآن کی سورہ المائدة میں قتلِ انسان کا حکم بتایا گیاہے- آیت کے الفاظ یہ ہیں: مَنْ قَتَلَ نَفْسًۢابِغَیْرِ نَفْسٍ اَوْ فَسَادٍ فِی الْاَرْضِ فَکَاَنَّمَا قَتَلَ النَّاسَ جَمِیْعًا ۭوَمَنْ اَحْیَاہَا فَکَاَنَّمَآ اَحْیَا النَّاسَ جَمِیْعًا (5:32)- یعنی جو شخص کسی کو قتل کرے، بغیر اس کے کہ اس نے کسی کو قتل کیا ہو یا زمین میں فساد برپا کیا ہو تو گویا اس نے سارے آدمیوں کو قتل کر ڈالا اور جس نے ایک شخص کو بچایاتو گویا اس نے سارے آدمیوں کو بچا لیا-
خدا کی شریعت میں سب سے زیادہ سنگین جرم (serious crime) یہ ہے کہ کسی حقیقی سبب کے بغیر ایک انسان دوسرے انسان کو قتل کردے- ایسے ایک انسانی قتل کو قرآن میں سارے انسانوں کو قتل کرنے کے برابر قرار دیا گیا ہے- اس کا سبب یہ ہے کہ ایسا ایک واقعہ قتلِ انسانی کی حرمت کے بارے میں لوگوں کی حساسیت کو ختم کردیتا ہے- خدائی شریعت کے مطابق یہ مطلوب ہے کہ انسانی قتل کی حرمت کے بارے میں لوگ آخری حد تک حساس ہوں- مگر جب کسی مسلّمہ سبب (accepted reason) کے بغیر کسی کو قتل کردیا جائے تو لوگوں کے اندر احساس حرمت کا خاتمہ ہوجاتا ہے-
انسان کو پیدا کرنے والا، انسان نہیں ہے، بلکہ یہ خدا ہے جس نے انسان کو پیداکیا ہے- ایسی حالت میں کسی انسان کو ہر گز یہ حق نہیں ہے کہ وہ خدا کے پیدا کئے ہوئے انسان کو قتل کردے- اس قسم کا قتل صرف اس وقت جائز ہوسکتا ہے جب کہ خود خدا کی شریعت کے مطابق اس کا جواز ثابت ہوتا ہو- کوئی دوسرا عذر اس قسم کے فعل کو جائز ثابت نہیں کرتا- قاتل کا کوئی خود ساختہ عذر ہرگز ایسے فعل کے لئے کافی نہیں-
یہ فطرت کا عام اصول ہے- انسان نے پانی کو پیدا نہیں کیا، اس بنا پر انسان کے لئے جائز نہیں ہے کہ وہ پانی کا ایک قطرہ بھی ضائع کرے- انسان نے غذا کو پیدا نہیں کیا، اس بنا پر انسان کے لئے جائز نہیں کہ وہ چاول کا ایک دانہ بھی ضائع کرے- یہی اصول شدید تر انداز میں انسان کے لئے ہے- کسی انسان نے انسان کو پیدا نہیں کیا، اس لئے کسی انسان کو یہ حق حاصل نہیں کہ وہ ایک انسان کو اس کی زندگی سے محروم کردے-
قتلِ انسان کا معاملہ اس سے بھی زیادہ سنگین ہے-انسان کا قتل دراصل خالق کے منصوبہ کا قتل ہے- انسان تخلیق کا سب سے زیادہ نادر نمونہ ہے- خالق نے اس نادر نمونے کو یقینا کسی عظیم مقصد کے تحت بنایا ہے- ہر انسان جو پیداہوتاہے، وہ ایک عظیم مقصد کے لئے پیداہوتا ہے- ایسی حالت میں کسی انسان کو قتل کرنا- سادہ طورپر ایک انسان کو قتل کرنے کے ہم معنی نہیں ہے، بلکہ وہ خود خالق کے تخلیقی منصوبے کو قتل کرنے کے ہم معنی ہے-
جب ایک انسان پیدا ہوتا ہے تو وہ اس لئے پیداہوتا ہے کہ وہ اِس دنیا میں زندگی گزارے- وہ یہاں خالق کے منصوبہ کی تکمیل کرے- وہ اپنے بارے میں خالق کی امیدوں کو پورا کرے- ایک انسان کا پیدا ہونا اتنا ہی اہم ہے جتنا ایک درخت کا اگنا- ایک درخت جب اگتا ہے تو وہ اس لئے اگتا ہے کہ وہ باغِ عالم میں نمو (grow) کرے۔ وہ بڑھ کر پورا درخت بنے، اور دنیا والوں کو پھول اور پھل کا تحفہ دے- ایسے درخت کو کاٹنا اگر ایک درجہ کا جرم ہے تو انسان کو قتل کرنا ہزار بلین سے بھی زیادہ بڑے درجے کا جرم ہے-
انسان کو زندگی دینا کیا ہے، وہ یہ ہے کہ اس کو یہ موقع دیا جائے کہ وہ با حیات رہ کر اپنے مقصد تخلیق کو پورا کرے، وہ اپنے مقصد تخلیق کو دریافت کرے، پھر اس کے مطابق وہ اپنے لئے ایک عملی منصوبہ بنائے، پھر حقیقت پسندانہ انداز میں اس کو مکمل کرنے کی کوشش کرے، وہ اپنے سماج کا ایک مفید عنصر بنے، وہ تاریخ انسانی کے اس باب کو لکھے، جو اس کے خالق نے اس کے لئے مقدر کیا ہے-
واپس اوپر جائیں

جہاد یا قبائلی کلچر کی توسیع

اسلام کے ابتدائی دور میں سن آٹھ ہجری میں مکہ فتح ہوا-اس کے بعد عرب کے قبائل افواج (النصر: 1) کی صورت میں اسلام میں داخل ہونا شروع ہوئے- افواج سے مراد عمومی قبول اسلام (mass conversion) ہے۔ اس کے بعد پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک تاریخی بات ان الفاظ میں فرمائی تھی: عن جابر قال سمعت رسول اللہ صلى اللہ علیہ وسلم یقول: إن الناس دخلوا فی دین اللہ افواجا وسیخرجون منہ افواجا (مسند احمد: 14696) جابر بن عبد اللہ کہتےہیں، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ لوگ اللہ کے دین میں فوج در فوج داخل ہوئے، اور عن قریب وہ فوج در فوج اس سے نکل جائیں گے-
جابر بن عبد اللہ مشہور صحابی ہیں- ان کی وفات 78ھ میں ہوئی- انھوں نے جنگ صفین (37ھ) کا زمانہ دیکھا تھا، جب کہ مسلمان علی اور معاویہ کی قیادت میں دو گروہوں میں بٹ گئے تھے، اور آپس میں خون ریزجنگ کی تھی- یہ مسلم تاریخ کی پہلی سول وار (civil war) تھی- اس جنگ میں دونوں فریق کے جو لوگ قتل ہوئے، ان کی مجموعی تعداد تقریباً ستر ہزار تھی (البدایة والنہایة، ابن کثیر، 7/274)-
مذکورہ حدیث کے راوی جابر بن عبد اللہ ہیں- جابر بن عبد اللہ کے ایک پڑوسی کہتے ہیں کہ میں ایک سفر سے واپس آیا، اس وقت جابر بن عبد اللہ مجھ سے ملنے کے لئے آئے- انھوں نے امت کے افتراق اور باہمی جنگ کا ذکر کیا- اس پر جابر بن عبد اللہ روپڑے، انھوں نے روتے ہوئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مذکورہ حدیث بیان کی-
پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد امت کے اندر افتراق اور بگاڑ کے واقعات کیوں پیش آئے- اس کا سبب یہ نہیں تھا کہ لوگوں کی نیتوںمیں فساد آگیا تھا، یا ان کے اندر اخلاص ختم ہوگیا تھا- اس صورت حال کا واحد سبب وہ ظاہرہ ہے، جس کو کنڈیشننگ (conditioning) کہا جاتاہے-
کنڈیشننگ وہی چیز ہے، جس کو عرب کے ایک قدیم مقولہ میں ان الفاظ میں بیان کیا گیا تھا: من شبّ على شیٔ شاب علیہ (منار القاری شرح مختصر صحیح البخاری: صفحہ 60) یعنی آدمی جس چیز پر جوان ہوتا ہے، اسی پر وہ بوڑھا ہوتا ہے، اس کا مطلب یہ ہے کہ جوانی کی عمر میں جس ماحول میں آدمی کی کنڈیشننگ ہوتی ہے، اس کا اثر اس کی زندگی میںآخری وقت تک باقی رہتا ہے-
یہ حقیقت ایک حدیث رسول میں ان الفاظ میں بیان کی گئی ہے: کل مولود یولد على الفطرة فأبواہ یہودانہ، أو ینصرانہ، أو یمجسانہ (صحیح البخاری: 1385) یعنی ہر پیدا ہونے والا فطرت صحیح پر پیدا ہوتا ہے، پھر اس کے والدین اس کو یہودی بنادیتے ہیں، یا نصرانی بنا دیتے ہیں یا مجوسی بنادیتے ہیں-
مسلم نسلوں میں بعد کے زمانے میں جوبگاڑ پیداہوا، ان سب کا اصل سبب یہی کنڈیشننگ کا معاملہ تھا- عمومی قبولیت اسلام (mass conversion) کی بنا پر لوگ بڑی تعداد میں اسلام میں داخل ہوتے چلے گئے- دور پریس سے پہلے تعلیم وتربیت کا نظام موجود نہ تھا- چنانچہ ایسا ہوا کہ لوگ کلمہ پڑھ کر اسلام کے دائرے میں داخل ہوگئے، لیکن تربیتی نظام نہ ہونے کی بنا پر ان کی ڈی کنڈیشننگ (deconditioning) نہ ہوسکی- وہ مذہب کے اعتبار سے مسلم تھے، لیکن کلچر کے اعتبار سے وہ قدیم کلچرل روایات میں بدستور جیتے رہے- کثرت سے احادیث میں یہ پیشگی خبر دی گئی تھی کہ جلد ہی لوگوں کے اندر بگاڑ پیدا ہوجائے گا- اس بگاڑ کا سبب عام طورپر فتنہ کو سمجھا جاتا ہے، لیکن اپنی حقیقت کے اعتبار سے اس کا سبب کنڈیشننگ کا معاملہ تھا، یعنی اپنے قدیم مائنڈ سیٹ (mindset) کے زیر اثر کام کرنا-
مثال کے طور پر ایک حدیث رسول مختلف کتب حدیث میں آئی ہے- یہ حدیث رسول تنبیہ (warning)کی زبان میں ہے- اُس کے الفاظ یہ ہیں: أفلا ترجعوا بعدی ضلالاً، یضرب بعضکم رقاب بعض (صحیح البخاری: 4406) یعنی آگاہ، میرے بعد تم لوگ لوٹ کر گمراہ نہ ہوجانا کہ تم آپس میں ایک دوسرے کی گردنیں مارنے لگو-
اِس حدیث رسول میں ترجعوا کا لفظ ہے، یعنی سابقہ حالت کی طرف لوٹ جانا- یہ سابقہ حالت وہی تھی، جس سے نکل کر وہ اسلام میں داخل ہوئے تھے، یعنی قبائلی کلچر (tribal culture) اسلام سے پہلے یہ لوگ قبائل کلچر میں جیتے تھے- قبائلی کلچر میں ہر آدمی کے پاس تلوارہوتی تھی- قبائلی کلچر میں پرامن تبادلۂ خیال (peaceful discussion) کا طریقہ رائج نہ تھا- وہ لوگ اختلاف کا حل صرف یہ سمجھتے تھے کہ لڑ کر اس کو طے کیا جائے-
مزید یہ کہ لڑائی سے مسئلہ ختم نہیں ہوتا تھا- کیوں کہ ہارنے والے فریق کےاندر انتقام کا جذبہ بھڑک اٹھتا تھا- اس طرح عملاً قبائلی دور مسلسل جنگ (chain war) کا دور بن گیا تھا- پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی مراد یہ تھی کہ تم لوگوں کے اندر فطری طورپر اختلاف پیداہوں گے، مگر اس کو پرامن گفتگو کے ذریعہ حل کرنا، ایسا ہرگز نہ کرنا کہ قبائلی کنڈیشننگ (tribal conditioning) کی بنا پر اختلاف کو عذر بنا کر دوبارہ تم آپس میں لڑنا شروع کردو-
تاریخ بتاتی ہےکہ اہلِ ایمان کی کنڈیشننگ باقی رہی، کیوں کہ اس زمانہ میں اس کی ڈی کنڈیشننگ کا کوئی نظام موجود نہ تھا- چنانچہ نہ صرف باہمی جنگ بلکہ ہر اعتبار سے قدیم روایات مسلمانوں کے اندر واپس آگئیں-
قدیم روایات کی یہ واپسی ان مسلمانوں کے ذریعہ ہوئی، جن کا حال یہ تھا کہ اقرار کلمہ کے اعتبار سے وہ مسلمان ہو کر مسلم سماج میں داخل ہوچکے تھے، لیکن کنڈیشننگ کی بنا پر ان کا مائنڈسیٹ یا قرآن کے الفاظ میں شاکلہ ( 17:24) اب بھی وہی تھا، جو قبل اسلام زمانے میں ان کے اندر بنا تھا- یہ معاملہ صرف عرب کے نومسلموں کا نہ تھا، بلکہ ان تمام نومسلموں کا تھا، جو بعد کے زمانے میں مختلف ملکوں میں بڑی تعداد میں اسلام کے دائرے میں داخل ہوتے رہے-
ماضی کی طرف رجوع (return to past) کا یہ معاملہ مختلف اعتبار سے پیش آیا- مثلاً اسی بنا پر ایسا ہوا کہ خلفاء اربعہ کے بعد مسلمانوں میں خاندانی سلطنت (dynasty) کا دور آگیا، جو پھر کبھی ختم نہ ہوا- اسی طرح اسلامی عبادت مکمل طورپر مبنی بر فارم(form based) بن گئی، اسی طرح یہ ہوا کہ مسلم تاریخ سیاسی پیٹرن (political pattern) پر لکھی جانے لگی، وغیرہ-
اس معاملہ کی سب سے زیادہ غیر مطلوب مثال وہ ہے جو مذکورہ حدیث کے مطابق جنگ وتشدد کی صورت میں پیش آئی- مسلمانوں کے اندر بعد کے زمانے میں جنگ وتشدد کا جو سلسلہ شروع ہوا اور جو آج تک جاری ہے، وہ دراصل اسی کنڈیشننگ کی بنا پر ہے- یہ معاملہ ایک لفظ میں جہاد کے نام پر قدیم قبائلی کلچر کی واپسی کا معاملہ ہے:
Jihad or expansion of tribal culture.
واپس اوپر جائیں

عذر میں جینا

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک حدیث ان الفاظ میں آئی ہے: نعمتان مغبون فیہا کثیر من الناس: الصحة والفراغ (صحیح البخاری، رقم الحدیث: 6412) یعنی دو نعمتیں ہیں جن کے بارے میں اکثر لوگ دھوکے میں رہتے ہیں، وہ ہیں صحت اور فرصت- یعنی آدمی دنیا کے کاموں کی وجہ سے آخرت کو بھولا رہتاہے اور سوچتا ہے کہ جب صحت ہوگی تو آخرت کا کام کر لوں گا، اور جب فرصت ہوگی تب آخرت کا کام کرلوں گا-
اِس حدیث کا مطلب یہ ہےکہ انسان اپنی دنیا پسندی کی وجہ سے پہلے یہ کرتا ہے کہ وہ غیر فطری عادتوں کی بنا پر اپنی صحت خراب کرلیتاہے، اور پھر صحت کو عذر (excuse) بناکر یہ سوچتا رہتا ہے کہ جب صحت ٹھیک ہوجائے گی تب آخرت کا کام کرلوں گا- اِسی طرح وہ پہلے اپنے آپ کو غیر ضروری کاموں میں مشغول کرلیتاہے، اورپھر سوچتا رہتاہے کہ جب فرصت ملے گی تب آخرت کا کام کرلوں گا-
صحیح طریقہ یہ ہےکہ آدمی اپنے آپ کو غیر فطری عادتوں سے بچائے، تاکہ اُس کی صحت درست ہو- اِسی طرح وہ غیر ضروری مشغولیتوں سے بچے، تاکہ آخرت کا کام کرنے کے لئے اُس کے پاس کافی وقت ہو-
زندگی میں منصوبہ بندی (planning) کی اہمیت بہت زیادہ ہے، اگر آدمی سوچ سمجھ کر منصوبہ بند زندگی گزارے تو فطرت کے قانون کے مطابق، اُس کی صحت بھی درست رہے گی، اور اُس کے پاس کافی وقت موجود ہوگا- اِس طرح اُس کے لیے یہ ممکن ہوگا کہ وہ زندگی کے معاملات کو گہرائی کے ساتھ سمجھے، اور ایسی زندگی گزارے جو اُس کی آخرت کے لیے مفید ہو-
جو آدمی ایسا نہ کرے اور اپنے مسائل کو لے کر عذر پیش کرتا رہے، تو وہ ایک دہری غلطی میں مبتلا ہے — غلط انداز میں زندگی گزارنا اور پھر اُس کو درست ثابت کرنے کے لیے عذرات پیش کرنا-
واپس اوپر جائیں

قرآن کی اشاعت

قرآن میں پیغمبر کو خطاب کرتے ہوئے کہاگیا ہے: فَذَکِّرْ ڜ اِنَّمَآ اَنْتَ مُذَکِّرٌ ؀ لَسْتَ عَلَیْہِمْ بِمُصَیْطِرٍ ؀ اِلَّا مَنْ تَوَلّٰى وَکَفَرَ ؀ فَیُعَذِّبُہُ اللّٰہُ الْعَذَابَ الْاَکْبَرَ ؀ اِنَّ اِلَیْنَآ اِیَابَہُمْ ؀ ثُمَّ اِنَّ عَلَیْنَا حِسَابَہُمْ ؀( 88:21-26) یعنی پس تم یاد دہانی کرو، تم بس یاددہانی کرنے والے ہو- تم ان پر داروغہ نہیں- مگر جس نے رو گردانی کی اور انکار کیا، تو اللہ اس کو بڑا عذاب دے گا- ہماری ہی طرف ان کی واپسی ہے- پھر ہمارے ذمہ ہے ان سے حساب لینا-
اِس آیت میں ’ذَکِّرْ‘ کا لفظ آیا ہے- اِس کا مطلب قرآن کی ایک اور آیت سے معلوم ہوتا ہے- اِس دوسری آیت میں یہ الفاظ آئے ہیں: ۣ فَذَکِّرْ بِالْقُرْاٰنِ مَنْ یَّخَافُ وَعِیْدِ (50:45) یعنی پس تم قرآن کے ذریعہ اُس شخص کو نصیحت کرو جو میرے ڈرانے سے ڈرے- اِس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ دعوتی کام یہ ہے کہ قرآن کو لوگوں تک پہنچایا جائے- عربوں کو عربی زبان میں، اور د وسری قوموں کوان کی اپنی قابل فہم زبانوں میں- قرآن میں آیا ہےکہ وَمَآ اَرْسَلْنَا مِنْ رَّسُوْلٍ اِلَّا بِلِسَانِ قَوْمِہٖ لِیُبَیِّنَ لَہُمْ ۭ (14:4) اور ہم نے جو پیغمبر بھی بھیجا اس کی مخاطب قوم کی زبان میں بھیجا-
ابتدائی دور میں، جب کہ دعوت کا کام عربوں تک محدود تھا- اُس وقت عربی قرآن کو لوگوں تک پہنچانا کافی تھا- مگر اب جب کہ دعوت کا کام دنیا کی تمام قوموں سے متعلق ہوگیاہے- اب اہلِ ایمان پر فرض کے درجہ میں ضروری ہے کہ وہ ہرقوم کی زبان میں قرآن کا ترجمہ تیار کریں اور منظم انداز میں اُس کو تمام قوموں تک پہنچائیں- اب یہ کافی نہیں کہ عربی قرآن کو چھاپا جائے اور اُس کو لوگوں تک پہنچادیا جائے- آج اگر مسلمان ایسا کریں کہ وہ قرآن کو آرٹ پیپر پر بہترین انداز میں چھاپیں، وہ اعلی معیار کے مطابق، اس کی جلد بندی کریں، وہ سونے اور چاندی کے کام سےاُس کو خوشنما بنائیں، پھر وہ قرآن کا یہ نسخہ دوسری قوموں کو دیں تو ایسے قرآن کو لوگ صرف ایک گفٹ آئٹم سمجھیں گے، نہ کہ اپنے لیے گائڈ بک- اِس قسم کا خوبصورت عربی قرآن لوگوں کو دینے سے مسلمانوں کی دعوتی ذمہ داری ہرگز ادا نہیں ہوسکتی-
واپس اوپر جائیں

دعا کی قبولیت کا معاملہ

روایت میں آتا ہے کہ مکی دورمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دوشخصوں کے بارے میں ہدایت کی دعا کی - اس دعا کے الفاظ یہ تھے: اللہم اعزَّ الإسلام بأحب ہذین الرجلین إلیک بعمرو بن ہشام أو بعمر بن الخطاب (الترمذی، رقم الحدیث: 3681) یعنی اے اللہ، اِن دو شخصوں میں سے اپنے محبوب تر شخص کے ذریعہ اسلام کو طاقت دے، عمروبن ہشام یا عمر بن خطاب-
اِس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ قبولِ حق سے پہلے ہی کوئی شخص اللہ کو محبوب بن جاتاہے- اِس روایت میں محبوبیت سے مراد طالب ہدایت ہونا ہے- دعا کا مطلب یہ ہے کہ دونوں میں سے جس شخص کے اندر ہدایت کی طلب پائی جاتی ہو، اُس کو اسلام کی توفیق دے، اور اس کو اسلام کے لیے حامی وناصر بنادے-
اللہ کی محبت اس شخص کے لیے ہے جو حق کو قبول کرے- ایسا نہیں ہوتا کہ کوئی شخص قبولِ حق سے پہلے اللہ کا محبوب بندہ بن جائے- کوئی شخص قبول حق سے پہلے اپنی جس صلاحیت کی بنا پر اللہ کی نظر عنایت کا مستحق بنتا ہے، وہ یہ ہے کہ اُس کے اندر حق کی تلاش کا جذبہ موجود ہے یا نہیں- اگر کوئی شخص حق کا طالب نہ ہو تو وہ اللہ کی نظرِ عنایت کا مستحق نہیں بنے گا، لیکن جس شخص کے اندر حق کی طلب پائی جائے، اس کو ضرور اللہ کی مدد پہنچے گی- اللہ کی عنایت سے اس کو حق قبول کرنے کی توفیق حاصل ہوگی- پھر ایسا ہوگا کہ جو چیز پہلے اس کے دل میں طلب کے درجہ میں تھی، اب وہ اس کے لیے اعلان کی صورت حاصل کرلے گی-اِس حقیقت کو قرآن میں اِن الفاظ میں بیان کیاگیا ہے: وَلَوْ عَلِمَ اللّٰہُ فِیْہِمْ خَیْرًا لَّاَسْمَعَہُمْ (8:23) یعنی اور اگر اللہ کو ان کے بارے میں خیر کا علم ہوتا تو وہ ان کو ضرور سننے کی توفیق دیتا- قرآن کی اس آیت میں خیر سے مراد حق کی طلب ہے- ایک انسان کو اللہ کی مدد کا استحقاق ہمیشہ اُس کی اپنی طلب پر ہوتا ہے- جس آدمی کے اندر حق کی طلب پائی جائے، اس کو ضرور اللہ کی توفیق حاصل ہوگی، اور وہ حق کو قبول کرکے اپنی طلب کی تکمیل کرے گا- اس کے برعکس جو آدمی خود حق کا طالب نہ ہو، اس کو محض دعا کے ذریعہ قبول حق کا درجہ نہیں مل سکتا-
واپس اوپر جائیں

معلوم حق

قرآن کی سورہ المعارج میں اہل ایمان کی ایک صفت ان الفاظ میں بتائی گئی ہے: وَالَّذِیْنَ فِیْٓ اَمْوَالِہِمْ حَقٌّ مَّعْلُوْمٌ ؀ لِّلسَّاۗىِٕلِ وَالْمَحْرُوْمِ(70:24-25) یعنی اور جن کے مالوں میں متعین حق ہےسائل اور محروم کا-
سائل اور محروم کا ایک حق وہ ہے جو قانونی طورپر معلوم ہوتاہے- اسی معلوم حق کو شریعت میں زکوة کہاگیاہے- اس حق کی ادائیگی کے معاملے میں ایک حدیث ان الفاظ میں آئی ہے: تؤخذ من أغنیائہم وترد على فقرائھم (البخاری، رقم الحدیث: 1395 )یعنی ان کے مال والوں سے لینا اور ان کے بے مال والوں کی طرف لوٹانا-
یہ معلوم حق کا ابتدائی مفہوم ہے- لیکن معلوم حق کا ایک اور مفہوم ہے، جو غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے- وہ یہ کہ سائل کو باروزگار بنانا تاکہ وہ خود اپنی کمائی سے اپنی ضرورت کو پورا کرسکے- اسی طرح محروم کا معلوم حق یہ ہے کہ اُس کے اِس تقاضے کو پورا کیاجائے کہ وہ بھی سماجی زندگی میں برابر کا درجہ پاسکے-
محروم کے اس معلوم حق کو پورا کرنے کے لئے مسلمانوں نے تو کچھ نہیں کیا، البتہ مغرب کے سیکولر لوگوں نے اس معاملے میں اتنا زیادہ کیا کہ اس کو ایک مستقل شعبہ کی حیثیت دے دی- قدیم زمانے میں ایسے لوگوں کو ناقص الاعضاء (disabled)کہا جاتا تھا- اہل مغرب نے چاہا کہ ایسے لوگوں سے احساس کم تری کو ختم کریں- تحقیق سے معلوم ہوا کہ ناقص الاعضا افراد بھی کسی اور پہلو سے امکانی طورپر غیر ناقص ہوتے ہیں- چنانچہ 1980 میں ان کے لیے ایک نیا ٹرم وضع کیا گیا جس کو ڈفرینٹلی ایبلڈ(differently abled)کہا جاتا ہے- موجودہ زمانے میں اس قسم کے لوگوں کے لیے ایسے طریقے دریافت کیے گئے ہیں جن کو اختیار کرکے ناقص الاعضا شخص بھی نارمل زندگی گزارسکتا ہے-
واپس اوپر جائیں

مواقع کی دنیا

خدا کے نقشہ تخلیق (creation plan) کے مطابق موجودہ دنیا انسان کے لئے دارالابتلا (67:2) ہے، یعنی مقام امتحان (testing ground) - مگر سوال یہ ہے کہ انسان کا یہ امتحان کس لئے ہے-
وہ امتحان برائے امتحان نہیں ہے بلکہ وہ اس لئے ہے کہ دنیا کے مختلف حالات سے گزرتے ہوئے ہر فرد کے رسپانس (response) کا ریکارڈ تیار کیا جائے، اور یہ دیکھا جائے کہ ان میں سے کون ہے جو جنت کی ابدی دنیا میں بسانے کے لئے مستحق امیدوار (deserving candidate) کی حیثیت رکھتا ہے-
اس لحاظ سے دیکھا جائے تو یہ کہنا صحیح ہوگا کہ موجودہ دنیا انسان کے لئے مواقع کی دنیا (world of opportunities) ہے- ایک اعتبار سے اس کو امتحان کی جگہ (testing ground) کہاجائے گا، لیکن دوسرے اعتبار سے بلا شبہہ اس کا نام مواقع کی جگہ (opportunity ground) ہے-
اہل جنت کی صفات کو قرآن میں اور حدیث میں تفصیل کے ساتھ بتایا گیا ہے- اس کے مطابق جنتی انسان کی مطلوب صفات یہ ہیں کہ وہ حقیقت کا اعتراف کرنے والا انسان ہو، اس کے اندر کامل معنوں میں مثبت سوچ (positive thinking) پائی جاتی ہو، وہ دوسروں کے لئے مسائل (nuisance) پیدا نہ کرے، وہ معاشرے کے اندر پرامن ممبر بن کر رہنے والا ہو، اس کے دل میں ہرایک کے لئے کامل ہمدردی پائی جاتی ہو، وہ تواضع (modesty) کی صفت کا حامل ہو، وہ کامل معنوں میں ایک سچا انسان ہو، وغیرہ-
موجودہ دنیا کے مختلف حالات کے درمیان رہتے ہوئے جو یہ ثابت کرے کہ وہ ان اعلیٰ صفات کا حامل انسان ہے، اس کو منتخب کرکے جنت کی ابدی دنیا میں بسایا جائے گا-
واپس اوپر جائیں

اختلاف کا معاملہ

قرآن میں ایک حکم ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے: یٰٓاَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْٓا اِنْ جَاۗءَکُمْ فَاسِقٌۢ بِنَبَاٍ فَتَبَیَّنُوْٓا اَنْ تُصِیْبُوْا قَوْمًۢا بِجَــہَالَةٍ فَتُصْبِحُوْا عَلٰی مَا فَعَلْتُمْ نٰدِمِیْنَ (49:6) یعنی اے ایمان والو، اگر کوئی فاسق تمھارے پاس خبر لائے تو تم اچھی طرح تحقیق کرلیا کرو، کہیں ایسا نہ ہو کہ تم کسی گروہ کو نادانی سے کوئی نقصان پہنچا دو، پھر تم کو اپنے کئے پر پچھتانا پڑے-
قرآن کی اس آیت میں اجتماعی زندگی کا ایک اصول بتایا گیا ہے- وہ یہ کہ جب کوئی شخص کوئی اختلافی بات کہے تو سننے والے کو ایسا نہیں کرنا چاہئے کہ وہ اس کو بدنیتی کا معاملہ سمجھ لے، اور کہنے والے کو برا آدمی سمجھنے لگے- اس کے بجائے صحیح طریقہ یہ ہے کہ اس طرح کے معاملے کو تحقیق کا معاملہ سمجھا جائے نہ کہ کسی شخص کے بارے میں رائے قائم کرنے کا معاملہ- کسی کے بارے میں رائے قائم کرنا صرف اتمام حجت کے بعدجائز ہے، اس سے پہلے نہیں-
اصل یہ ہے کہ شکایت یا اختلاف کا سبب اکثر حالات میں بے خبری اور غلط فہمی ہوتا ہے- لوگ معاملے کے بارے میں صحیح معلومات نہ ہونے کی بنا پر ایک مخالفانہ رائے قائم کرلیتے ہیں- کسی کے بارے میں اس طرح رائے قائم کرنا درست نہیں- اسلامی تعلیم کے مطابق، اتمام حجت سے پہلے تحقیق ہے، اور اتمام حجت کے بعد رائے قائم کرنا-
اجتماعی زندگی میں اکثر ایسا ہوتا ہے کہ لوگوں کو ایک دوسرے کے خلاف شکایت ہوجاتی ہے- یہ شکایت بڑھتے بڑھتے نفرت بن جاتی ہے، اور نفرت کے بعد مزید برائیاں پیدا ہوتی ہیں- مثلاً ایک دوسرے کو بدنام کرنا، ایک دوسرے کے خلاف الزام تراشی کرنا، ایک دوسرے کو اپنا دشمن سمجھ لینا- اس قسم کی اجتماعی خرابیوں کا سبب ہمیشہ یہی ہوتا ہے کہ لوگ تحقیق کے بغیر رائے قائم کرلیتے ہیں، وہ جو کچھ سنتے ہیں، اس کو درست سمجھ لیـتے ہیں- اس طریقے کا نتیجہ بے حد سنگین ہے— دنیا میں ندامت اور آخرت میں مواخذہ-
واپس اوپر جائیں

کلام کی دو قسمیں

قرآن کے مطابق کلام کی دو قسمیں ہیں- ایک ہے قول بلیغ (4:63) اور دوسری قسم وہ ہے جس کو قرآن میں قولِ مُعجِب (2:204) کہا گیاہے-
قول بلیغ سے مراد وہ کلام ہے، جو آدمی کے ذہن کو ایڈریس (address) کرنے والا ہو، جوآدمی کو نئی سوچ میں ڈال دے- قول مُعْجِب سے مراد وہ کلام ہے، جس کو سن کر آدمی کہہ اٹھے ونڈر فل اسپیچ (wonderful speech)- لوگ اس کے کلام کی خوب تعریف کریں، لیکن اس کی وجہ سے ان کی زندگیوں میں کوئی انقلاب نہ آئے-
جو شخص قول بلیغ کی زبان میں کلام کرے، اس کے گرد لوگوں کی بھیڑ اکٹھا نہیں ہوتی، اس کو عمومی مقبولیت حاصل نہیں ہوتی- البتہ ایسا ہوتاہے کہ جو افراد سنجیدہ ذہن رکھتے ہوں، جو سچائی کے متلاشی ہوں، ایسے افراد کو قول بلیغ سے اپنے لئے غذا ملتی ہے، ان کی غفلت ٹوٹتی ہے، ان کے اندر نیا تفکیری عمل (thinking process) شروع ہوجاتاہے، وہ چیزوں پر ازسر نو غور کرنے لگتے ہیں، ان کا رائے قائم کرنے کا طریقہ بدل جاتا ہے- اب تک اگر وہ اپنی ذات کے لئے جی رہے تھے تو اب وہ حق کے لئے جینے والے بن جاتے ہیں- ان کے اندر ایک نیا مزاج ڈیولپ ہوتا ہے جس میں بولنا کم ہوتا ہے اور سوچنا زیادہ- دوسرے پر تنقید کم ہوتی ہے اور اپنی اصلاح کے بارے میں فکر کرنا زیادہ-
قول مُعْجِب کا معاملہ اس سے بالکل مختلف ہے- قول معجب کا معاملہ اپنی حقیقت کے اعتبار سے ایک لفظی مہارت کا معاملہ ہوتاہے- ایسے افراد عوام پسند بولی بولنے کے ماہر ہوتے ہیں، ان کی باتیں سن کر لوگ تالیاں بجاتے ہیں، لوگوں کے درمیان ان کا خوب چرچا ہوتا ہے، لیکن حقیقی نتیجہ کے اعتبار سے دیکھئے تو آپ کو ظاہری بھیڑ کے درمیان معنوی سناٹا نظر آئے گا- قول معجب کی تعریفیں تو خوب ہوں گی لیکن برسوں کے ہنگامے کے باوجود وہاں کوئی ایک فرد بھی ایسا نظر نہ آئے گا جس کے اندر کوئی حقیقی تبدیلی آئی ہو- قول بلیغ سے محاسبہ خویش پیدا ہوتا ہے، اور قول مُعْجِب سے صرف قصیدہ خوانی-
واپس اوپر جائیں

امانت، خیانت

قرآن میں ایک حکم ان الفاظ میں آیا ہے: یٰٓاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَخُوْنُوا اللّٰہَ وَالرَّسُوْلَ وَتَخُوْنُوْٓا اَمٰنٰتِکُمْ وَاَنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ (8:27) یعنی اے ایمان والو، خیانت نہ کرواللہ اور رسول کی اور خیانت نہ کرو اپنی امانتوں میں حالانکہ تم جانتے ہو- قرآن کی یہ آیت اہل ایمان کے لئے ایک بنیادی حکم کی حیثیت رکھتی ہے-
خیانت کا لفظ امانت کی ضد ہے- اپنی اصل حقیقت کے اعتبار سے امانت کا مطلب آنسٹی(honesty) ہے، اور خیانت کا مطلب ڈس آنسٹی (dishonesty)- با اصول انسان کی سب سے بڑی صفت آنسٹی ہے، اور بے اصول انسان کی سب سے بڑی صفت ڈس آنسٹی- یہ دو الفاظ کسی انسان کی پوری زندگی کا خلاصہ ہیں- حقیقی معنوں میں انسان وہی ہے جو اپنے کیریکٹر کے اعتبار سے ایک آنسٹ انسان (honest man) ہو- اس کے مقابلے میں وہ انسان ایک غیر انسان ہے، جو اپنے کیریکٹر کے اعتبار سے ایک ڈس آنسٹ انسان ہو-
آنسٹ انسان کی سب سے بڑی صفت یہ ہے کہ وہ ایک قابلِ پیشین گوئی کیرکٹر (predictable character) کا حامل ہوتا ہے- اس کے بارے میں کوئی شخص پیشگی طورپر یہ جان سکتا ہے کہ وہ اپنے قول اور اپنے عمل کے اعتبار سے کیسا انسان ہے، وہ ایک قابلِ اعتماد انسان ہے یا ایک ناقابلِ اعتماد انسان-
اس کے مقابلے میں ڈس آنسٹ انسان اپنی صفات کے اعتبار سے اس کے برعکس انسان ہوتا ہے- اس کے قول وفعل کے بارےمیں کوئی پیشگی رائے قائم نہیں کی جاسکتی- یہ یقین نہیں کیا جاسکتا کہ جب اس سے کوئی معاملہ پیش آئے گا تو وہ کس قسم کا انسان ثابت ہوگا- وہ اپنے کردار کے اعتبار سے ایک بے اصول انسان ہوتاہے، اللہ کی نسبت سے بھی اور انسان کی نسبت سے بھی- وہ اپنے ظاہر کے اعتبار سے انسان ہوتاہے لیکن اپنی حقیقت کے اعتبار سے غیر انسان-
واپس اوپر جائیں

نصرتِ خداوندی

قرآن کی سورہ الروم میں اللہ کی ایک سنت کوان الفاظ میں بیان کیاگیا ہے: وَلَقَدْ اَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِکَ رُسُلًا اِلٰى قَوْمِہِمْ فَجَــاۗءُوْہُمْ بِالْبَیِّنٰتِ فَانْتَـقَمْنَا مِنَ الَّذِیْنَ اَجْرَمُوْا ۭ وَکَانَ حَقًّا عَلَیْنَا نَصْرُ الْمُؤْمِنِیْنَ(30:47)یعنی اور ہم نے تم سے پہلے رسولوں کو بھیجا ان کی قوم کی طرف- پس وہ ان کے پاس کھلی ہوئی نشانیاں لے کر آئے تو ہم نے ان لوگوں سے انتقام لیا جنھوں نے جرم کیا تھا اور ہم پر یہ حق ہے کہ ہم اہلِ ایمان کی مدد کریں-
قرآن کی اس آیت میں پیغمبروں کے حوالے سے اللہ کی ایک سنت کو بیان کیا گیاہے- اس سنت کا تعلق ایسے اہلِ ایمان سے ہے جو دعوت الی اللہ کا کام کرنے کے لئے اٹھیں- ایسے لوگ ایک خدائی مشن (divine mission)کے لئے اپنے آپ کو وقف کرتے ہیں، وہ اللہ کے کنسرن (concern) کو اپنا کنسرن بناتے ہیں، وہ اپنے لئے جینے کے بجائے اللہ کے لئے جینے والے  بنتے ہیں، وہ اپنے آپ کو اللہ کے کام کے لئے وقف کردیتے ہیں، ایسے لوگ اپنے عمل سے اس حقیقت کا ثبوت دیتے ہیں کہ ان کا انحصار تمام تر اللہ پر ہوچکا ہے-
ایسے لوگ اپنی حقیقت کے اعتبار سے اللہ کے خاص بندے بن جاتے ہیں، ان کا پورا وجود اس بات کی سفارش (recommendation) بن جاتا ہے کہ اللہ ان کی طرف خصوصی توجہ فرمائے- اُن کے معاملے کو اللہ اپنا معاملہ قرار دے دے- اللہ اور بندے کے درمیان یہی خصوصی تعلق ہے، جس کو مذکورہ آیت میں اس طرح بیان کیا گیا ہے کہ دین کے داعیوں کا اللہ کے اوپر یہ حق (due) ہے کہ وہ ان کی خصوصی مدد کرے-
جب کوئی شخص اپنے آپ کو اللہ کے مشن میں پوری طرح وقف کردے تو اس کے بعد فطری طورپر ایسا ہوتاہے کہ ایسے شخص کی زبان سے دعا کے ایسے کلمات نکلتے ہیں جو اللہ کی رحمت کو انووک (invoke)کرنے والے ہوں، جو اس کے لئے اللہ کی خصوصی مدد کو لازم بنا دیں-
واپس اوپر جائیں

تقابل کی غلطی

ایک روایت کے مطابق، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لیس لابن آدم حق فی سوى ہذہ الخصال بیت یسکنہ وثوب یواری عورتہ وجِلف الخبز والماء(الترمذی، رقم الحدیث: 2341) یعنی اِس دنیا میں انسان کا حق صرف چند ہے- ایک گھر جس میں وہ رہے اور ایک کپڑا جو اُس کی سترپوشی کرے اور روٹی کا ایک ٹکڑا اور پانی-یہ حدیث رسول بتاتی ہے کہ دنیا میں سامانِ حیات کا معیار کیا ہے، یعنی حقیقی ضرورت کے اعتبار سے وہ کیا چیز ہے جو اگر انسان کو مل جائے تو اس کو چاہیے کہ وہ اس کو کافی سمجھے- اگر یہ معیار آدمی کے ذہن میں نہ رہے، اس کے برعکس آدمی کا معیار یہ ہو کہ اِس دنیا میں زندگی گزارنے کے لیے ضروری ہے کہ آدمی کے پاس ایک عالی شان محل (palace) ہو تو وہ بقدر ضرورت گھر پر قانع نہ ہوگا، وہ اپنی ساری توجہ محل کو حاصل کرنے میں لگا دے گا، محل کے بغیر وہ اپنے آپ کو بے گھر (homeless) سمجھتا رہے گا-
یہی معاملہ قوم کا ہے- اگر کوئی قوم بطور خود یہ سمجھ لے کہ اس کی قومی زندگی کے لیے سیاسی اقتدار لازمی طورپر ضروری ہے تو اس کو سیاسی اقتدار سے کم درجے کی چیز بے حقیقت معلوم ہوگی- ایسی قوم کو سیاسی اقتدار سے باہر ہزاروں چیزیں حاصل ہوں گی، لیکن ایسی قوم کے لوگ اقتدار سے محرومی کے غم میں پڑے رہیں گے، حتی کہ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ وہ اپنے اِس مفروضہ معیار کے حصول کے لیے ناکام لڑائی شروع کردیں اور نتیجةً اپنی تباہی میں کچھ اور اضافہ کرلیں-
موجودہ زمانہ میں مسلمان عام طور پر احساس محرومی کا شکارہیں- حالانکہ یہ دور وہ تھا جب کہ وہ احساس یافت میں جینے والے ہوں اور زیادہ سے زیادہ اللہ کا شکر کریں- مسلمانوں کی موجودہ حالت کا واحد سبب یہ ہے کہ انھوں نے بطور خود اسلام کا غلط معیار بنا رکھا ہے- وہ سمجھتے ہیں کہ سیاسی اقتدار مسلمانوں کے ہاتھ میں ہو، تب اسلام زندہ ہے، ورنہ اسلام زندہ نہیں- اِس جوش میں وہ اِس حد تک پہنچ چکے ہیں کہ آج بھی پچاس سے زیادہ ملکوں میں مسلمانوں کا سیاسی اقتدار ہے، لیکن ان کو یہ کھلی حقیقت نظر نہیں آتی-
واپس اوپر جائیں

دعوة اِن ایکشن

6 اکتوبر 2014 کی صبح کو موبائل پر ایک میسج آیا- یہ میسج محبوب بھائی (ممبئی) نے بھیجا تھا- ممبئی کی سی پی ایس ٹیم حال میں ناندیڑ گئی تھی- یہ میسج اسی وزٹ کے بارے میں تھا- میسج میںانھوں نے لکھا تھا:
We have very encouraging news from Nanded. Today the first monthly Dawah Meet was held at Abdur Rahman Chaus’s house after Isha prayer. Six people participated in this first meeting. Besides other things they discussed plans to meet mad‘us in Nanded and surrounding areas. Monthly meets have started at almost all places visited by the CPS Mumbai team, alhamdulillah. (Mob. 9619163993)
ٹیلی فون پر گفتگو کے دوران محبوب بھائی نے بتایا کہ ہم لوگوں نے مہاراشٹر میں دعوتی اسفار کا جو سلسلہ شروع کیا ہے، اس کے دوران ایک عجیب تجربہ سامنے آیا - ہماری ٹیم جس مقام پر جاتی ہے، وہاں الرسالہ کے قارئین بڑی تعداد میں جمع ہوجاتے ہیں، اور باقاعدہ دعوتی سرگرمی شروع کردیتے ہیں- ہر جگہ ہفتہ وار اجتماع، یا ماہانہ اجتماع کیا جانے لگا ہے- انھوںنے کہا کہ ہماری ٹیم جہاں جاتی ہے، وہاں کے لوگ کہتے ہیں کہ اگر ممبئی کی ٹیم ہمارے یہاں آکر کام کرسکتی ہے تو ہم کیوں نہیں کرسکتے-
مقابلہ (competition) کی اسپرٹ، ایک صحت مند اسپرٹ ہے- اس کو قرآن میں تَنافُس (83:26) کہاگیاہے- یہ انسان کی ایک اعلیٰ خصوصیت ہے- ضرورت ہے کہ اس کو ہر جگہ استعمال کیا جائے- الرسالہ کے قارئین کا حلقہ تقریباً ہر مقام پر موجود ہے- ہر اسٹیٹ میںایسا ہونا چاہئے کہ مرکزی شہر کی سی پی ایس ٹیم مختلف مقامات پر جائے، اور قارئین الرسالہ کو جمع کرے- اس طرح لوگوں کے اندر ایک نئی بیداری پیدا ہوجائے گی-
قرآن میں السائحون اور سائحات کے الفاظ ان لوگوں کے لئے آئے ہیں جو سفری سرگرمیوں کے ذریعہ دعوت کا کام کرتے ہیں- آج کل کی زبان میں اس کو دعوہ اِن ایکشن (Dawah in action) کہاجاسکتا ہے- دعوت کے کام کو بڑھانے کے لئے یہ طریقہ بہت ضروری ہے- مقامی طورپر کام کرنا بھی ایک کام ہے، لیکن جب آپ سفر کرکے دوسرے مقامات پر جائیں تو اس کے ذریعہ دعوتی کام میں اضافہ ہوتا ہے- دعوت کا مشن نئی وسعت اختیار کرلیتا ہے-
موجودہ زمانہ کمیونی کیشن (communication) کا زمانہ ہے- سفر کی جدید سہولتیں اور پرنٹ میڈیا اور الیکٹرانک میڈیا نے دعوہ ان ایکشن کے کام کے لئے عالمی راہیں کھول دی ہیں- اب ضرورت ہےکہ اس کام کو مزید اضافہ کے ساتھ زندہ کیا جائے، جس کو قرآن میں سیاحت کہاگیا ہے-
سیاحت صرف یہ نہیں ہے کہ دعوت کے پروگر ام کے تحت آپ کہیں جائیں، بلکہ الرسالہ مشن کے ہر آدمی کو یہ کرنا ہے کہ وہ اپنے بیگ میں لٹریچر رکھے، وہ جب بھی کسی سے ملے تو اس کو تحفہ کے طورپر ایک کتاب پیش کرے- موجودہ زمانے میں ملاقات کے مواقع بھی بہت زیادہ بڑھ گئے ہیں- انسان جب بھی کسی کام کے لئے نکلتاہے تو ہمیشہ اس کو جگہ جگہ نئے افراد ملتے ہیں- یہ تمام افراد آپ کو دعوتی کام کا موقع دے رہے ہیں-
آپ کو چاہئے کہ دعوتی لٹریچر ہمیشہ اپنے ساتھ رکھیں، اور ہر ملاقات کے موقع پر لوگوں کو اسے دیتے رہیں، یہ کام قریبی سفروں میں بھی کرنا ہے، اور دور کے سفروں میں بھی-
واپس اوپر جائیں

خدا : یقین کا سرچشمہ

God— A Source of Conviction
اگر آپ کے پاس کائناتی دوربین ہو اور آپ کائنات کے کسی مقام پر کھڑے ہو کر کائنات کا مشاہدہ کریں تو سب سے پہلے آپ کی نظر اس استثنائی planet پر جائے گی جس کا نام زمین ہے۔ آپ دیکھیں گے کہ مکمل طورپر ایک lifeless دنیا میں زمین کا tiny planet زندگی اور زندگی کو sustain کرنے والے ہر قسم کے سامان سے بھر پور ہے۔ یہ نادر استثنائی منظر آپ کو ایک حیرتناک کیفیت میں مبتلا کردے گا۔
پھر آپ دیکھیں گے کہ زمین اپنے چاند اور دوسرے planets کے ساتھ مسلسل حرکت میں ہے۔ اس کی ایک گردش اپنے axis پر ہور ہی ہے ، اس حرکت کے ساتھ ساتھ بیضوی دائرہ میں وہ مسلسل طورپر سورج کے گرد گھوم رہی ہے۔ پھر یہ پورا سولر سسٹم کہکشاں کی عظیم پلیٹ پر وسیع تر دائرہ میں تیزی سے گھوم رہا ہے۔ پھر پورا کہکشانی نظام خلا میں دوسری بہت سی کہکشاؤں کے ساتھ ایک اور وسیع دائرہ میں مسلسل طورپر حرکت میں ہے۔
اتھاہ space میں ستاروں اور سیاروں کی یہ گردش آپ کو دہشت ناک حد تک عجیب معلوم ہوگی۔ پھر آپ جب دیکھیں گے کہ unbelievable حد تک آگ کے بڑے بڑے الاؤ جن کو ستارے کہا جاتا ہے، countlessتعداد میں ادھر ادھر تیزی سے دوڑ رہے ہیں اور ان کے درمیان ہماری زمین ایک چھوٹے ذرّے کی طرح دکھائی دیتی ہے۔ یہ سارا منظر آپ کو اتنا دہشت ناک حد تک عجیب معلوم ہوگا کہ آپ کو اپنا وجود اس کے سامنے بالکل بے قیمت اور حقیر دکھائی دینے لگے گا۔
یہ تجربہ آپ کو بیک وقت دو چیزوں کی دریافت کرائے گا۔ ایک یہ کہ اس دنیا کا ایک طاقتور خدا ہے جو اس کا Creator بھی ہے اور اس کا Sustainer بھی۔ اگر آپ اپنے چشم تصور میںاِس کائناتی منظر کو لے آئیں تو آپ کا دل پکار اٹھے گا کہ کائنات خود اپنے آپ میں اپنے خالق کا ایک بین ثبوت ہے۔ اس کے بعد کسی اور ثبوت کی ضرورت نہیں۔ دوسرے یہ کہ انسان اس کائنات میںایک عاجز اور حقیر مخلوق ہے- خدا انسان کی ایک ایسی لازمی ضرورت ہے جس کے بغیر اس کا کوئی وجود ہی ممکن نہیں۔
یہ بلاشبہہ زندگی کی سب سے زیادہ اہم حقیقت ہے۔ اس حقیقت کا ادراک جب آدمی کو ہوجائے تو وہ بے اختیار انہ طورپر خدا کی طرف دوڑ پڑتا ہے۔ وہ اپنے پورے وجود کے ساتھ پکار اٹھتا ہے کہ خدایا میری مدد فرما۔ تیری مدد کے بغیر میرا کوئی بھی کام بننے والا نہیں۔
اتھاہ کائنات میں خدا انسان کا سہارا ہے۔وہ انسان کی کشتی کو سہارا دے کر اس کو ساحل تک پہنچانے والا ہے۔ خدا کا عقیدہ انسان کے لیے سب کچھ ہے۔ اس عقیدہ کے بغیر انسان کچھ بھی نہیں۔
انسان کے عجز (helplessness) کا احساس جو کائنات کو دیکھ کر ہوتا ہے وہی ہر آدمی کو اپنی روز مرّہ کی زندگی میں بھی لازمی طور پر پیش آتا ہے۔ ہر عورت اور مرد بار بار اس تجربہ سے گزرتے ہیں کہ انہیں محسوس ہوتاہے کہ وہ محدودیت limitation) (کا شکار ہیں۔ وہ جو کچھ چاہتے ہیں اس کو وہ پا نہیں سکتے۔ ان کی زندگی بار بار ایسے احوال میں پھنس جاتی ہے جہاں وہ اپنے آپ کوبے بس helpless) (محسوس کرنے لگتے ہیں- اسی کے ساتھ نقصان کا خوف، بیماری اور حادثہ اور بڑھاپا اور موت کا تجربہ بتاتا ہے کہ ہر آدمی اپنے سے برتر کسی طاقت کا محتاج ہے۔ ایک superior power کی مدد کے بغیر وہ اپنے کو کامیاب نہیں بنا سکتا۔ یہ احساس گویا خدا کے وجود کا ایک نفسیاتی ثبوت ہے ۔ ہر آدمی لازمی طورپر اس نفسیاتی تجربہ سے دوچار ہوتا ہے۔ ہر آدمی خود اپنے اندر خدا کے وجود کی یقینی گواہی پارہا ہے۔
ہر آدمی کی فطرت مستقل طورپر اس کو یہ آواز دے رہی ہے کہ تم کو ایک خدا کی ضرورت ہے۔ خدا کے بغیر تمہاری زندگی مکمل نہیں ہوسکتی۔خدا کی مدد کے بغیر تم اپنے آپ کو کامیاب نہیں بنا سکتے۔
واپس اوپر جائیں

کلْب کلچر

قرآن کی سورہ الاعراف میںایک انسانی صفت کا ذکر ان الفاظ میں کیا گیاہے:وَلَوْ شِئْنَا لَرَفَعْنٰہُ بِہَا وَلٰکِنَّہٗٓ اَخْلَدَ اِلَى الْاَرْضِ وَاتَّبَعَ ہَوٰىہُ ۚ فَمَثَلُہٗ کَمَثَلِ الْکَلْبِ ۚ اِنْ تَحْمِلْ عَلَیْہِ یَلْہَثْ اَوْ تَتْرُکْہُ یَلْہَثْ ۭ ذٰلِکَ مَثَلُ الْقَوْمِ الَّذِیْنَ کَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا ۚ فَاقْصُصِ الْقَصَصَ لَعَلَّہُمْ یَتَفَکَّرُوْنَ(7:176)یعنی اور اگر ہم چاہتے تو اس کو ان آیتوں کے ذریعہ سے بلندی عطا کرتے- مگر وہ زمین کا ہورہا اور اپنی خواہشوں کی پیروی کرنے لگا- پس اس کی مثال کتے کی سی ہے کہ اگر تو اس پر بوجھ لادے تب بھی ہانپے اور اگر چھوڑ دے تب بھی ہانپے- یہ مثال ان لوگوں کی ہے جنھوںنے ہماری آیتوں کو جھٹلایا، پس تم یہ احوال ان کو سناؤ تاکہ وہ سوچیں-
ہانپنے کا فعل (panting)کو ئی انسان اس وقت کرتاہے جب کہ اس پر بوجھ لدا ہوا ہو- لیکن کلْب (dog) اپنی فطری بناوٹ کی وجہ سے ہر حال میں ہانپتاہے، خواہ اس کے اوپر بوجھ ہو یا بوجھ نہ ہو- کلب کی اس فطری صفت کی مثال کو لے کر انسان کی ایک اخلاقی حالت کو بیان کیاگیاہے- وہ یہ کہ انسان اگر خواہش (desire) کا اتباع کرے تو اس کا حال کیا ہوتا ہے، اور اگر وہ خدا کی ہدایت (guidance) کا اتباع کرےتو اس کا حال کیا ہوتا ہے- خدائی ہدایت کا اتباع کرنے والا ہمیشہ ایک حالت پر رہتاہے، اور وہ شکر کی حالت ہے- خدائی ہدایت کی اتباع کرنے والا ہمیشہ شکر کے احساس میں جیتاہے، خواہ دنیا کا سامان اس کو کم ملے یا زیادہ-
اس کے برعکس حال اس انسان کا ہوتا ہے جو اتباعِ ہویٰ (خواہش کی پیروی) میں مبتلا ہوجائے- چوںکہ تخلیقی نقشے کے مطابق انسان کی خواہش لامحدود ہے، اور دنیا کی چیزیں محدود ہیں- اس بنا پر خواہش کی اتباع کرنے والے انسان کا حال یہ ہوگا کہ وہ ہر حال میں ہانپتا رہے گا، یعنی دنیا میں کم ملے تب بھی وہ شکر سے خالی ہوگا، اور اگر اس کو دنیا میں بظاہر زیادہ ملے تب بھی وہ شکر سے خالی رہے گا- حقیقت یہ ہے کہ خواہش کی تکمیل صرف آخرت میں ہوگی، موجودہ دنیا میں خواہش کی تکمیل ہونے والی نہیں-
واپس اوپر جائیں

اعتقادی کاملیت، عملی رخصت

انسان کی زندگی کے دو پہلو ہیں، ایک ذہنی اور دوسرا عملی- ایک انسان کی ذہنی زندگی (intellectual life)اور دوسری عملی زندگی (practical life) - دونوں اگرچہ انسانی زندگی کا حصہ ہیں، مگر دونوں کے تقاضے ایک دوسرے سے مختلف ہیں-ذہنی اور فکری اعتبار سے یہ ممکن ہوتاہے کہ آدمی اپنے اندر معیاری سوچ پیداکرے- وہ چیزوں کے بارے میں معیار کے اعتبار سے رائے قائم کرے- قرآن کے مطالعہ سے معلوم ہوتاہے کہ ذہنی اور فکری اعتبار سے انسان سے اعلی معیار مطلوب ہے، اس معاملہ میں اعلی معیار سے کم تر کوئی حالت اللہ کے یہاں قابل قبول نہیںہوسکتی- اس سلسلہ کی ایک رہنما آیت یہ ہے: اِنَّ اللّٰہَ لَا یَغْفِرُ اَنْ یُّشْرَکَ بِہٖ وَیَغْفِرُ مَا دُوْنَ ذٰلِکَ لِمَنْ یَّشَاۗءُ ۭوَمَنْ یُّشْرِکْ بِاللّٰہِ فَقَدْ ضَلَّ ضَلٰلًۢا بَعِیْدًا (4:116) یعنی بے شک اللہ اِس کو نہیں بخشے گا کہ اُس کا شریک ٹھہرایاجائے اور اِس کے سوا کو بخش دے گا جس کے لیے چاہے گا- اور جس نے اللہ کا شریک ٹھہرایا وہ بہک کر بہت دور جاپڑا- اس آیت میں شرک سے مراد صرف بت پرستی نہیں ہے- اس کا مطلب یہ ہے کہ ایک اللہ کے سوا کسی بھی اعتبار سے کسی کو اپنا کنسرن (concern) بنانا-
انسانی زندگی کا دوسرا پہلو وہ ہے، جس کو عملی پہلو کہاجاسکتا ہے- یہ ایک ایسا پہلو ہے، جس میں ہمیشہ کامل معیار پر قائم رہنا ممکن نہیں ہوتا- اس لئے عملی معاملہ میں رخصت (concession) کا امکان رکھا گیاہے- اس سلسلہ میں قرآن کی ایک رہنما آیت یہ ہے: قُلْ یٰعِبَادِیَ الَّذِیْنَ اَسْرَفُوْا عَلٰٓی اَنْفُسِہِمْ لَا تَقْنَطُوْا مِنْ رَّحْمَةِ اللّٰہِ ۭ اِنَّ اللّٰہَ یَغْفِرُ الذُّنُوْبَ جَمِیْعًا ۭ اِنَّہٗ ہُوَ الْغَفُوْرُ الرَّحِیْمُ (39:53) یعنی کہو کہ اے میرے بندو، جنھوں نے اپنی جانوں پر زیادتی کی ہے، اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہو، بے شک اللہ تمام گناہوں کو معاف کردیتا ہے، وہ بڑا بخشنے والا، مہربان ہے- قرآن کی اس آیت میں ذنب سے مراد عملی کوتاہی ہے- اگر کوئی انسان اعتقادی اعتبار سے کامل ہوتو اِس کا امکان ہے کہ عملی اعتبار سے اس کا عذر قبول کرتے ہوئے اس کو معاف کردیا جائے-
واپس اوپر جائیں

اٹلی اور اسپین کا دعوتی سفر

گڈورڈ بکس اور سی پی ایس انٹرنیشنل کے تحت بڑے پیمانے پر ترجمہ قرآن کی نشر واشاعت کا کام ہورہا ہے- اِس سلسلے میں مقامی پروگراموں کے علاوہ، اسفار کے ذریعے بھی ملک اور ملک کے باہر کے مختلف مقامات پر یہ کام کیا جاتا ہے- اِس سلسلے میں نومبر 2014 میں میرایورپ اور ایشیا کے مختلف ملکوں کا سفر ہوا— اٹلی، اسپین، ترکی اور دبئی-
میرے اٹلی کے سفر کا محرک ایک پروگرام تھا- یہ پروگرام 17 جولائی 2014 کو اسلامی مرکز (نئی دہلی) میں ہوا- اِس میں اٹلی کے اسپریچول رہنما مسٹر ماریو (Mario)کی قیادت میں اٹلی کے 90 مسیحی خواتین و حضرات شامل تھے- اِس موقع پر امن اور اسلام اور اسپریچویلٹی کے موضوع پر مولانا وحیدالدین خاں کی ایک تقریر ہوئی- پروگرام کے خاتمے پر اٹیلین گروپ کے تمام خواتین وحضرات کودعوتی لٹریچر اور قرآن کا انگریزی ترجمہ دیاگیا-لیکن مجھے یہ احساس ہوا کہ اطالوی (Italian)زبان میں ترجمہ قرآن ان کے لیے زیادہ قابلِ فہم ثابت ہوگا- اُس وقت میرے دل میں یہ جذبہ پیدا ہوا کہ اردو، ہندی، انگریزی، وغیرہ کے بعد اب ضرورت ہے کہ اطالوی اور دوسری یورپی زبانوں میں بھی قرآن کا ترجمہ شائع کیا جائے-اِس سلسلے میں تحقیق کے بعد معلوم ہوا کہ اطالوی زبان میں قرآن کے کئی تراجم موجود ہیں- اُن میں سب سے معروف ترجمہ وہ ہے جو اٹلی کے ایک نو مسلم مسٹر حمزہ (Hamza Roberto Piccardo) نے تیار کیا ہے- چناںچہ میں نے ارادہ کیا کہ یورپ کے سفر کے دوران مترجم سے ضرور ملاقات کی جائے اور اُن سے اِس ترجمے کی اشاعت کی اجازت حاصل کرکے اس کو شائع کیا جائے-
میرے اندر اٹلی جانے کا ابتدائی محرک اپریل 2014 میں پیدا ہوا تھا- اُس وقت میں پیرس میں تھا- یہاں اٹلی کے چند مسلمانوں سے ملاقات ہوئی — ابراہیم شبانی، فواد سلیم اور عزّالدین- مسٹر ابراہیم شبانی اٹلی میں ایک ادارے کے ذمہ دار ہیں- اس ادارے کا نام یہ ہے:
المرکز الاسلامی بسیستو-میلانو(Centro Islamico di Sesto S.G. Milano)
اِسی طرح مسٹر سلیم فواد اور مسٹر عز الدین (Izzeddin Elzir)اٹلی کے ایک بڑے اسلامی ادارہ سے منسلک ہیں- اِس ادارے کا نام یہ ہے:
اتحاد الہیئات الإسلامیة فی إیطالیا
(Unione Delle Comunita Islamiche d’ Italia)
اِن حضرات سے دعوتی موضوع پر بات ہوئی تھی- انھوں نے مجھے اٹلی آنے کی دعوت دی تھی اور کہا تھا کہ آپ اٹلی آکر دیکھیں، پھر ان شاء اللہ وہاں کے ماحول کو سامنے رکھ کر اٹلی میں دعوتی کام کو منظم کیا جاسکتا ہے-تاہم 2 نومبر 2014 کے اِس سفر میں جب میں اٹلی پہنچا تو اُن لوگوںسے ملاقات نہ ہوسکی-اس وقت وہ لوگ کسی پروگرام کے تحت شہر سے باہر گئے ہوئے تھے-
31 اکتوبر 2014 کو نئی دہلی سے اٹلی کے لیے میرا سفر وایا فرانس ہوا- سفر کے دوران ایک دعوتی تجربہ پیش آیا- پیرس کے ایرپورٹ پر میں نے ائرفرانس کی ایک خاتون اسٹاف کو ریلٹی آف لائف (Reality of Life)کی ایک کاپی پیش کی- تھوڑی دیر کے بعد مذکورہ خاتون میرے پاس آئیں- اُس وقت ریلٹی آف لائف ان کے ہاتھ میں تھی- انھوں نے اس بک لٹ کا غالباً ایک حصہ پڑھ لیا تھا- انھوں نے مجھ کو مخاطب کرتے ہوئے اِن الفاظ میں اپنے تاثرات کا اظہار کیا:
This is what I actually wanted to read. I liked it so much that I will cherish this book for the whole of my life.
پیرس سے مجھے اٹلی کے شہر میلان (Milan) کے لیے روانہ ہونا تھا- یہاں مجھے مسٹر حمزہ سے ملنا تھا- تاہم میلان جانے کے بعد معلوم ہوا کہ ان کے خاندان میں کسی شخص کی وفات ہوگئی ہے- اس کی وجہ سے وہ شہر میں نہیں ہیں، لہذا اِس وقت اُن سے ملاقات نہیں ہوسکتی- چنانچہ ان کے بیٹے مسٹر داؤد (Davide Piccardo) سے ملاقات ہوئی- گفتگو کے دوران اندازہ ہوا کہ وہ قرآن کے اِس ترجمے کی عمومی اشاعت کے حق میں نہیں ہیں-چنانچہ گفتگو کے باوجود ہمارے یہاں سے قرآن کے اٹیلین ترجمے کی اشاعت کی اجازت نہ مل سکی-
تاہم میلان کے اِس سفر کا ایک فائدہ یہ ہواکہ یہاں کے ایک اسلامک سنٹر (مریم مسجد) کو دیکھنے کا اتفاق ہوا- اِس سنٹر کی مسجد میں ایک عرب مسٹر ابراہیم امام ہیں- ان سے ملاقات ہوئی- انھوں نے مسجد کے مختلف شعبے دکھائے- میں نے کہا کہ میں اطالوی زبان میں قرآن کا ترجمہ کرانا چاہتا ہوں- انھوں نے کہا کہ یہاں ایک مقامی خاتون مترجم عائشہ روڈولفی (Aicha Rodolfi) ہیں- اگر آپ اُن سے رابطہ کریں تو شاید اِس سلسلے میں وہ آپ کی رہنمائی کرسکیں-
چناں چہ میں نے محترمہ عائشہ روڈولفی سے رابطہ کرکے اُن سے ملاقات کی- ان سے ملنے کے لئے میں اٹلی کے دوسرے شہر (Castelfranco Emilia)گیا- وہ ایک نو مسلم خاتون ہیں-انھوں نے بتایا کہ پہلے وہ ایک فیشن ماڈل تھیں- بعد کو وہ قرآن کی تعلیمات سے متاثر ہوئیں اور انھوں نے اسلام قبول کرلیا- اس کے بعد ان کی والدہ نے بھی اسلام قبول کرلیا-
عائشہ روڈولفی کے گھر پر ان کی والدہ اور مسٹر حسین سے ملاقات ہوئی- گفتگو کے دوران معلوم ہوا کہ یہ لوگ یہاں بڑے پیمانے پر دعوہ ورک کررہے ہیں- انھوں نے بتایا کہ وہ اسٹریٹ دعوہ (Street Dawah) کے طریقے پر دعوت کا کام کرتے ہیں- اِس سلسلے میں وہ خاص طورپر تعارفِ اسلام کے موضوع پر سعودی عرب سے چھپے ہوئے پمفلٹس لوگوں کو دیتے ہیں- عائشہ روڈولفی نے بتایا کہ اِن پمفلٹس میں عام طورپر شرک وبدعات، توحید اور حلال وحرام کی باتیں بیان کی گئی ہیں- تاہم اِن کتابوں کا اسلوب یہاں کی جدید نسل کے ذہن کو ایڈریس نہیں کرتا- انھوں نے کہا کہ اگر اس سے بہتر اسلوب میں کوئی لٹریچر ہم کو مل جائے تو ہم اس کو پھیلائیں گے-
عائشہ روڈولفی کو میں نے اپنے یہاں کی چھپی ہوئی کتابیں — ترجمہ قرآن، پمفلٹس، وغیرہ دکھائیں- انھوں نے اِس کو دیکھا اور پسندکیا- انھوں نے کہا کہ اس لٹریچر کا ہم اطالوی زبان میں ترجمہ کریں گے -آپ اس کو انڈیا سے شائع کرکے ہمیں بھیج دیں، تاکہ ہم یہاں بڑے پیمانے پر لوگوں تک اس کو پہنچا سکیں- میں نے کہا ضرور،آپ اس کا ترجمہ کریں، یہی ہمارا اصل مقصد ہے- انھوں نے کہا کہ ان شاء اللہ ہم ’’اسٹریٹ دعوہ‘‘ کے تحت اٹلی کے ہر شہر میں اِس لٹریچر کو پھیلانے کی کوشش کریں گے-
اٹلی سے روانہ ہوکر 3 نومبر 2014کو مجھے اسپین جانا تھا- اسپین کا سفر بھی دراصل قرآن کے اسپینی ترجمے کی اشاعت کے لیے تھا- اِس کا اصل محرک یہ تھا کہ خواجہ کلیم الدین صاحب (امریکا) کافی عرصے سے مجھ سے یہ کہتے رہے ہیں کہ امریکا میں، خاص طورپر ساؤتھ امریکا کے ملکوں میں قرآن کے اسپینش ترجمے کی بہت ضرورت ہے، کیوں کہ اسپین کے علاوہ ساؤتھ امریکا کے ملکوں میں بھی اسپینش زبان بولی جاتی ہے-مثلاً میکسکو، ارجنٹائنا، کولمبیا، پناما، کیوبا، چلی، پیرو، وینزولا ، وغیرہ میں عام طور پر اسپینش (Spanish) زبان بولی جاتی ہے- کلیم الدین صاحب کا کہنا تھا کہ اگر اسپینش زبان میں قرآن کا ترجمہ اور دعوتی لٹریچر تیار ہوجائے تو ساؤتھ امریکا میں بڑے پیمانے پر اس کے ذریعے دعوہ ورک کیا جاسکتا ہے-
جب میں نے اِس سلسلے میں جاننا چاہا تو معلوم ہوا کہ اسپینش زبان میں قرآن کے چارترجمے موجود ہیں- ان میں سب سے معروف ترجمہ وہ ہے جس کو غرناطہ(Granada)کے مسٹر عبدالغنی (Abdul Ghani Melara Navio) نے تیار کیا ہے- یہ ترجمہ شاہ فہد قرآن کامپلیکس ،مدینہ سے بھی شائع ہوچکا ہے- کافی تلاش کے بعد غرناطہ کے مسٹر لقمان نیٹو (Luqman Nieto) کے ذریعے مترجم موصوف کا نمبر معلوم ہوا-چناں چہ اُن سے ملاقات کے لیے میں نے غرناطہ جانے کا ارادہ کرلیا-
چنانچہ پہلے میں اٹلی سے اسپین کے شہر مالقہ (Malaga) گیا- یہ غرناطہ سے قریب ایک تاریخی شہر ہے- یہاں انٹرنیشنل ائرپورٹ بھی ہے- مالقہ بھی اسلامی سلطنت کا حصہ تھا، اس لئے یہاں مسلم دور کی کافی عمارتیں موجود ہیں- مالقہ سے غرناطہ کے لئے ائرپورٹ سے ڈائریکٹ بس جاتی ہے- چناں چہ میں یہاں سے بذریعہ بس تقریباً ڈھائی گھنٹے میں غرناطہ پہنچ گیا- سفر کے دوران ہر طرف خوب صورت مناظر دکھائی دے رہے تھے- دریا، پہاڑ، سبزہ، وغیرہ- یہاں کی مٹی سرخ رنگ کی تھی- اس میں ہر طرف دور تک پھیلے ہوئے زیتون کے سرسبز وشاداب باغات ایک عجیب منظر پیش کررہے تھے-
غرناطہ پہنچ کر میں نے مسٹر عبد الغنی کو فون کیا- وہ میرے ہوٹل کے قریب ہی رہتے ہیں- چنانچہ بیس منٹ کے اندر وہ ہوٹل پہنچ گئے- تقریباً دو گھنٹے کی گفتگو کے بعد وہ اپنا لیپ ٹاپ لے کر آئے اور اُس پر مختلف چیزیں مجھ کو دکھانے لگے- مثلاً انھوں نے اپنے اسپینش ترجمہ قرآن پر تفسیری نوٹس لکھے ہیں، وہ انھوں نے مجھے دکھائے- مسٹر عبد الغنی عربی زبان وادب کے اچھے اسکالر ہیں- اِس وقت ان کی عمر تقریباً 70 سال ہوچکی ہے- انھوں نے بتایا کہ وہ غرناطہ کے ایک مسیحی خاندان میں پیداہوئے- تاہم اللہ کی توفیق سے 1979 میں انھوں نے اسلام قبول کر لیا-انھوںنے بتایا کہ 1970 کے زمانے میں یہاں مراکو سے ایک مسلم صوفی آئے تھے- اُن کی دعوت وتبلیغ سے متاثر ہو کر بڑی تعداد میں یہاں کے مسیحی لوگوں نے اسلام قبول کیا تھا- انھوں نے بتایا کہ میںبھی انھیں لوگوں میں سے ایک ہوں جو اُس وقت مذکورہ صوفی کی دعوت سے متاثر ہوکر اسلام میں داخل ہوئےتھے-
دیر تک اُن سے امن اور جہاد وغیرہ کے موضوع پر بات ہوتی رہی- گفتگو کے دوران اندازہ ہوا کہ وہ ہماری امن اور جہاد کی آئڈیالوجی سے اتفاق نہیں رکھتے- گفتگو کے دوران ایک بات انھوں نے یہ کہی کہ قرآن کو مفت نہیں دینا چاہئے- اِس سے قرآن کی اہمیت لوگوں کی نظر میں کم ہوجاتی ہے- اِسی طرح گفتگو کے دوران غیر مسلموں کے لیے وہ بار بار ’’کفار‘‘ کا لفظ استعمال کرتے تھے- میں نے کہا کہ غیر مسلموں کے لیے کفار کا لفظ استعمال کرنا درست نہیں- غیر مسلم ہمارے مدعو ہیں- میں نے کہا کہ ہم بھی انسان ہیں اور وہ بھی انسان -اِس اعتبار سے اُن کے لیے کفار کے بجائے ’’مدعو‘‘ کا لفظ استعمال کرنا درست ہوگا-میں نے ان سے اپنے یہاں سے قرآن کے اسپینش ترجمے کی اشاعت کی اجازت مانگی، اور اس کے لئے بطور رائلٹی ان کو ایک خطیر رقم کی پیش کش بھی کی، مگر وہ اس ;کی اجازت دینے کے لیے تیار نہیں ہوئے-
آخر میں میں نے اُن کو اپنے یہاں کا چھپا ہوا دعوتی لٹریچر دیا- مثلاً قرآن کا انگریزی ترجمہ، تذکیر القرآن (انگریزی) اور پرافٹ آف پیس، وغیرہ- اِس کو انھوں نے شکریے کے ساتھ قبول کیااور کہا کہ مولانا وحید الدین خاں کا یہ ترجمہ میرے پاس پہلے سے موجود ہے-پچھلے سال ہم نے غرناطہ کی مسجد کے لئے قرآن اور دوسری تعارفی کتابیں بھیجی تھیں جو کہ وہاں تقسیم کی گئیں-
غرناطہ کے ایک اور ادارے میں جانے کا اتفاق ہوا- اس ادارے کا نام یہ ہے:
وقف الأندلس للتربیة والتعلیم (Fundación Educativa al-Andalus)
اِس ادارے کے ذمے دارمسٹر مضطر (M. Mujtar Medinilla) ہیں- وہ ایک اسپینی مسلم ہیں-ایک جرمن مسلمان مسٹر احمد (Ahmad Gross)کے ساتھ مل کر وہ اِس ادارے کو چلا رہے ہیں-اِس ادارے کے تحت تعلیم وتربیت کے علاوہ دعوتی کام بھی ہوتا ہے-یہ لوگ وہاں ایک بڑا اسلامی اسکول بھی قائم کرنے والے ہیں-
مسٹر ادریس (Idris Medinilla) مسٹر مضطر کے بیٹے ہیں- وہ مجھ کو غرناطہ کے ایک اور سینٹر میں لے گئے- اس کا نام یہ ہے:
مرکز الدراسات الإسلامیة(Centro de Estudios Islámicos)
یہ غرناطہ میں ایک بڑا دعوتی مرکز ہے- یہاں لوگ کثرت سے آکر اسلام قبول کرتے ہیں- اِسی طرح سیاح، خاص طور پر مسیحی حضرات بڑی تعداد میں اسلام کو جاننے کے لئے یہاں آتے رہتے ہیں- یہاں ایک بڑی لائبریری ہے- اِسی طرح یہاں ایک وسیع اور خوبصورت لیکچر ہال بھی ہے-اس ہال میں اسلام کے مختلف موضوعات پر پروگرام ہوتے رہتے ہیں-
غرناطہ میں مولانا وحید الدین خاں کے ترجمہ قرآن کے اسپینش ایڈیشن کی تیاری کے متعلق مسٹر لقمان نیٹو (مترجم اسپینش) سے بات ہوئی- پہلے انھوںنے کہا کہ میں اسپینش زبان میں اس کا ترجمہ کرنے کی کوشش کروں گا- تاہم بعد کو انھوں نے یہ کہہ کر معذرت کرلی کہ قرآن کا ترجمہ آسان کام نہیں ہے، یہ ایک بہت بڑی ذمے داری کا کام ہے- میں اپنے آپ کو اِس کا اہل نہیں پاتا- اِس لیے میں اِس کام کے لیے معذرت خواہ ہوں-اسپین میں جن اداروں میں جانے کا اتفاق ہوا، اُن میں سے ایک مقامی اخبار کا آفس تھا- یہاں سے اسپینش زبان میں ایک پندرہ روزہ اخبار نکلتاہے- اس کا نام یہ ہے:
Islam Hoy (Islam Today)
یہاں اخبار کے ایڈیٹر سے بھی ملاقات ہوئی- اِس اخبار کے کئی ایڈیشن دیکھے- معلوم ہوا کہ یہ سب مسلم قومی ذہن کی نمائندگی کررہے ہیں- اِسی طرح یہاںمدرسہ ایڈیشن (Madrasa Edition) کے نام سے ایک اشاعتی ادارہ ہے- اس کے انچارج مذکورہ اسپینی نوجوان مسٹر ادریس (Idris Medinilla)ہیں-مسٹر ادریس سے دعوتی موضوع پر بات ہوئی- انھوںنے دعوتی کام میں اپنی دلچسپی ظاہر کی- انھوںنے کہا کہ آپ ہمیں اسپینش زبان میں اپنا لٹریچر دیجئے- ان شاء اللہ ہم اس کو یہاں کے مقامی لوگوں کے درمیان پھیلائیں گے-
4 نومبر 2014 کو غرناطہ میں الحمراء (Alhambra Palace)دیکھنے کا پروگرام تھا- چناں چہ اس کا پیشگی ٹکٹ لے کر میں وہاں گیا- غرناطہ (Granada) اسپین کے جنوب میں واقع ایک قدیم تاریخی شہر ہے- غرناطہ کی شہرت کی اصل وجہ یہاں موجود قصر الحمراء ہے- 1492 تک غرناطہ مسلم اسپین کی آخری ریاست تھا- مسلم دورِ حکومت میںالحمراء قلعہ اور محل دونوں تھا، جس طرح دہلی کا لال قلعہ ہے- الحمراء 889 اور 1358 عیسوی کے دوران مختلف مراحل میں بنایا گیا- الحمراء آج بھی اسپین میں زائرین کا مرکزِ توجہ بنا ہوا ہے- الحمراء اسپین کا سب سے بڑا سیاحتی مقام ہے- الحمراء صرف ایک محل نہیں ہے، وہ نہایت وسیع باغات کے درمیان ایک پہاڑ پر واقع شاہی اقامت گاہ ہے- الحمراء کا رقبہ 740 میٹر لمبا اور تقریباً 200 میٹر چوڑا ہے-
الحمراء غیر معمولی طورپر ایک بے حد خوب صورت مقام ہے-الحمراء کو مکمل طورپر دیکھنے کے لیے ایک پورا دن مطلوب تھا، مگر وقت کم ہونے کی وجہ سے میں جلد ہی اس کے ایک حصے کو دیکھ کر واپس آگیا- یہاں زائرین کو میں نے دعوتی لٹریچر دیا-
غرناطہ کے ایک اور سینٹر میں جانے کا اتفاق ہوا- یہ ادارہ الحمراء کے سامنے ایک اونچی پہاڑی پر واقع ہے- یہاں ایک خوب صورت مسجد ہے- اس سینٹر کانام یہ ہے :
Grand Mosque of Granada
یہ مسجد یہاں کے نو مسلم حضرات نے تقریباً تیس سال پہلے تعمیر کی تھی-یہاں میں نے ظہر کی نماز ادا کی - سینٹر میںکچھ لوگوں سے ملاقات ہوئی جو اسپین میں دعوتی کام کرتے ہیں- معلوم ہوا کہ یہاں روزانہ تقریباً 500 زائرین آتے ہیں- یہاں سے الحمراء کا منظر نہایت دلکش نظر آتاہے- یہاں ایک مکتبہ (bookshop) بھی ہے- اس میں تعارفِ اسلام کے موضوع پر کتابیں موجود ہیں- یہاں سینٹر کی مسجد کے ذمہ داران سے ملاقات ہوئی- میں نے ان کو اپنے یہاں کا چھپا ہوا قرآن کا انگریزی ترجمہ اور دعوتی پمفلٹ What is Islam کا اسپینش ایڈیشن (¿Qué es el Islam?) دیا-ان لوگوں نے کہا کہ اگر آپ ہمیں قرآن کے تراجم اور کتابچے بھیجیں گے تو ہم ان کو یہاں سیاحوں (tourists)کے درمیان پھیلائیں گے-
غرناطہ سے فارغ ہوکر میں قرطبہ کے لیے روانہ ہوا- یہ ٹرین کے ذریعے تقریباً دو گھنٹے کا سفر تھا- قرطبہ (Cordoba) اسپین کاایک قدیم شہر ہے- 711 عیسوی میں مسلمانوں نے اس کو فتح کیا اور 756 میں اس کو اپنا دار السلطنت بنایا- اس کے بعد پندرھویں صدی عیسوی تک وہ مسلم اسپین کا دارالسلطنت بنا رہا- دسویں صدی میں قرطبہ یورپ کا سب سے بڑا شہر تھا- اس کی حیثیت ایک قسم کے عالمی کلچرل سنٹر کی ہوگئی تھی-
قرطبہ میں اسپین کے مسلم دورِ حکومت (711-1492) کی بہت سی یادگاریں پائی جاتی ہیں- اِن میں مسجد قرطبہ کو خصوصی اہمیت حاصل ہے- یہ مسجد بارہ ہزار مربع میٹر کے رقبے میں واقع ہے- اِس میںتقریباً بارہ سو ستون ہیں- اب اس کوچرچ میں تبدیل کردیاگیا ہے-
مسجد قرطبہ کے وسیع صحن میں ہر طرف خوب صورت فوارے جاری تھے اور مختلف قسم کے درخت لگے ہوئے تھے- اِن درختوں میں پھل لٹکے ہوئے تھے-
مسلم اقتدار کے خاتمہ کے بعد مسجد قرطبہ کو عیسائیوں نے چرچ میں تبدیل کردیا ہے- اس معاملے کی اصل حقیقت یہ ہے کہ اسپین میں ایک مسیحی پیشوا سینٹ ونسنٹ (Saint Vincent Ferrer) گزرا ہے- مسیحیوں نے ا س کے نام پر قرطبہ میں دریا کے کنارے ایک چرچ تعمیر کیا تھا- اس علاقہ پر سیاسی قبضہ کے بعد مسلمانوں نے عین اسی چرچ کی جگہ مسجدبنادی- اس طرح اس مسجد کے ساتھ غیرضروری طورپر نزاع کی حالت قائم ہوگئی- کہا جاتا ہے کہ بعد کو 786عیسوی میں سلطان عبد الرحمن الداخل نے عیسائیوں کو راضی کرکے اس جگہ کو خرید لیا اور وہاں مزید توسیع کے ساتھ عظیم مسجد قرطبہ کی تعمیر کی- اس تعمیر پر دو سال میں 80 ہزار دینار خرچ ہوئے- عیسائیوں کو جب دوبارہ سیاسی غلبہ ملا تو انھوں نے مسجد کے توسیعی حصہ کو چھوڑ دیا-تاہم سینٹ ونسنٹ چرچ کی ابتدائی جگہ کو دوبارہ انھوں نے گرجا میں تبدیل کردیا-
مسجد قرطبہ کے قریب ایک اسلامی سینٹر تھا-اس میں مسجد کے علاوہ ایک ادارہ بھی قائم ہے- میں اس ادارے میں گیا تو معلوم ہوا کہ اس وقت یہاں ترکی حکومت کے تعاون سے ریسٹوریشن (restoration) کا کام چل رہا ہے، اس وجہ سے یہ ادارہ فی الحال بند ہے- یہ ایک بڑا ادارہ تھا جس میں مسجد اور اسلامک سینٹرقائم ہے- اس ادارے کا پورا نام یہ ہے:
مسجد الأندلسیین (Mezquita De Los Andaluces)
الجامعة الإسلامیة الدولیة ابن رشد-الأندلس
(Universidad Islamica Internacional Averroes De Al-Andalus)
قرطبہ میں ایک اور اسلامی سینٹر ہے- اس سینٹر کو اسپین کے ایک مسلمان مسٹرمحمدحنیف (Hanif Esccudero Uribe) کے والد نے تقریباً 25 سال پہلے قائم کیا تھا- اس ادارے میں کئی کام ہوتے ہیں- خاص طورپر یہاں کھانے پینے کی چیزوں کے لئے حلال سرٹیفکیشن (Halal Certification)جاری کیا جاتا ہے- میں اس ادارے میں گیاتو یہاں اسٹاف کے ایک ممبر مسٹر سعید (Said Bouzraal) سے ملاقات ہوئی-مسٹر سعید اس ادارے کے اشاعتی شعبے میں ایڈیٹرہیں- یہاں سے اسپینش زبان میں کئی اہم کتابیںچھپی ہیں- یہاں سے معروف مترجم اور مفسر محمد اسد کا اسپینش ترجمہ قرآن بھی شائع ہواہے- میں نے اپنے یہاں سے اس کی اشاعت کی اجازت چاہی، مگر اس کی اجازت نہ مل سکی-
مسٹر حنیف نے بتایا کہ ہمارے مرکز میں اسپین کے مختلف شہروں کے مسلمان آتے ہیں-وہ یہاں کا دعوتی لٹریچرلے کر دعوتی کام کرتے ہیں-میں نے اپنے یہاں سے چھپا ہوا قرآن کا انگریزی ترجمہ اور دعوتی پمفلٹس مسٹر حنیف کو دیا- انھوں نے اس کو پسند کیا اور کہا کہ آپ ہم کو یہ لٹریچر مزید بھیجیں، تاکہ ہم اس کو یہاں دعوتی مقصد کے لیے استعمال کرسکیں-
قرطبہ پہنچ کر مجھ کو قاضی منذر القرطبی کا ایک واقعہ یاد آگیا- اسپین کے سلطان عبد الرحمن ناصر نے جب قرطبہ میں الزہراء کا محل تعمیر کرلیا تو ایک دن وہ اپنے سونے کے تخت پر بیٹھا- دربار میں بڑے بڑے لوگ جمع تھے-سلطان نے لوگوں سے پوچھا کہ کیا تم نے سنا ہے کہ کبھی کسی نے ایسا عالی شان محل بنایا ہو- درباریوں نے خوب تعریف کی، مگر قاضی منذر سرجھکائے بیٹھے رہے-آخر میں سلطان نے قاضی منذر سے بولنے کے لیے کہا- قاضی منذر روپڑے- انھوں نے کہا: خدا کی قسم، میرا یہ گمان نہیں تھا کہ شیطان تمھارے اوپر اتنا زیادہ قابو پالے گا کہ وہ تم کو کافروں کے درجہ تک پہنچا دے- سلطان نے کہا کہ دیکھئے کہ آپ کیا کہہ رہے ہیں اور کیسے آپ مجھے کافروں کے درجہ تک پہنچا رہے ہیں- اس کے بعد قاضی منذر نے قرآن سے سورہ الزخرف کی آیات 33-35 پڑھیں- ان آیتوں کو سن کر سلطان شدید طورپر متاثر ہوا اور رونے لگا- اس نے قاضی منذر کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اللہ آپ کو بہتر جزا عطا فرمائے اور مسلمانوں میں آپ جیسے بہت لوگ پیدا کرے-
قرطبہ کے بعد مجھے میڈرڈ (Madrid) جانا تھا-یہ سفر میں نے ٹرین کے ذریعہ طے کیا-یہ ایک تیز رفتار ٹرین تھی جس کے ذریعے میں تقریباً چارگھنٹے میں قرطبہ سے میڈرڈ پہنچ گیا-میڈرڈ میں سعودی عرب کے تعاون سے ایک عظیم الشان مسجد اور اسلامی مرکز تعمیر کیا گیا ہے- اس کانام یہ ہے:
المرکز الثقافی الإسلامی بمدرید(Centro Cultural Islamico De Madrid)
یہاں میں نے ظہر کی نماز ادا کی- اس سینٹرمیں اسلام کے مختلف پہلوؤں، مثلاً سیرتِ رسول وغیرہ کے موضوع پر ایک مستقل نمائش (Exhibition) کا اہتمام کیا گیا ہے- اِس سینٹر کو دیکھنے کے لیے کثرت سے زائرین یہاں آتے ہیں- یہاں زائرین کے درمیان بڑے پیمانے پر دعوتی کام کیا جاتا ہے-اسی طرح دعوتی مقصد کے تحت ’’ڈسکور اسلام‘‘ کے عنوان سے یہاں ایک پروگرام چلایا جاتاہے- اس کا نام یہ ہے:
اکتشف الإسلام (Descubra El Islam)
اس سینٹر کے عرب ڈائریکٹر سے ملاقات ہوئی- میں نے ان کو الاسلام یتحدی اور اپنے یہاں کاچھپا ہوا قرآن کا انگریزی ترجمہ اور دعوتی پمفلٹ What is Islam کا اسپینش ایڈیشن (¿Qué es el Islam) دیا-اس کو انھوں نے شکریے کے ساتھ قبول کیا-
7 نومبر 2014کو اسپین سے روانہ ہو کر مجھ کو ترکی جانا تھا- یہاں 8-10 نومبر کے درمیان ایک بک فیر (Istanbul International Book Fair)ہورہا تھا- یہ ایک بہت بڑا بک فیر تھا- یہاں ترکی کے کئی بڑے پبلشرز اور پبلشنگ گروپ سے ملاقات ہوئی — تماس (Timas)، کائنات(Kaynak)، نسیل(Nesil)اور تسارم (Tasarim) ،وغیرہ-
اِن لوگوں کو میں نے مولانا وحید الدین خاں کا انگریزی ترجمہ قرآن (پاکٹ سائز( دکھایا - مسٹر راشد(Rasit Tibet)نے اِس کو بہت پسند کیا- انھوں نے کہا کہ ترکی زبان میں اسی طرح کا ترجمہ قرآن شائع کرنے کی ضرورت ہے- انھوں نے کہا کہ یہاں بھی عام طورپر یہی رواج ہے کہ لوگ صرف قرآن کا عربی متن پڑھ لیتے ہیں،قرآن کو سمجھ کر اس کی تلاوت کرنے سے عموماً لوگ غافل ہیں- اِس لیے اگر اِس طرح کا ایک پاکٹ سائز ترجمہ قرآن یہاں کی مقامی زبان میں شائع کردیا جائے تو وہ فہم قرآن کے لیے بہت مفید ثابت ہوگا-
یہاں ترکی کے ایک اور پبلشر (Bahar Publication) کےڈائریکٹر مسٹر محمد (Mehmet Baspehlivan)سے ملاقات ہوئی- انھوں نے مولانا وحید الدین خاں کی ایک کتاب ترکی زبان میں شائع کی ہے-اِس کے علاوہ، وہ تذکیر القرآن کا ترکی ایڈیشن بھی شائع کرنا چاہتے ہیں- ترکی کے سفر (مئی 2012) میں مولانا اُن کے گھر بھی گئے تھے اور وہاں ایک مختصر نشست ہوئی تھی-
اِس سفر میں استانبول (ترکی) کی مسجد رستم پاشا (Rustem Pasha Mosque) کے امام سے ملاقات ہوئی- مسجد رستم پاشا ایک تاریخی مسجد ہے- اِس مسجد کی تعمیر سولھویں صدی عیسوی میں ہوئی تھی- اِس مسجد کی تعمیر میں استعمال کیے گئے ٹائلس (tiles) دنیا میں سب سے خوب صورت مانے جاتے ہیں- اِس لیے یہاں بہت زیادہ سیاح (tourists)آتے ہیں-
اس مسجد کے امام اسماعیل (Ismail Karakelle)سے تقریباً چار سال پہلے ترکی کے ایک سفر میں میری ملاقات ہوئی تھی- اُس وقت اُن سے زائرین کے درمیان مولانا وحید الدین خاں کے انگریزی ترجمہ قرآن کے ڈسٹری بیوشن کی بات ہوئی تھی- انھوں نے اس سے دلچسپی ظاہر کی- چنانچہ میں نے اُن کو ترکی کے ایک پریس (Imak Printers) سے چھپوا کر اس کی تیس ہزار کاپیاں ان کو مسجد میں آنے والے زائرین کےدرمیان ڈسٹری بیوٹ کرنے کے لیے دی تھیں- اس کے بعد سے یہاں مسلسل قرآن ڈسٹری بیوشن کا کام جاری ہے- اب کچھ مقامی اہلِ خیر کے تعاون سے ترکی ہی میں ہمارا انگریزی ترجمہ قرآن چھاپ کر لوگوں کو دیا جاتا ہے- اب تک اِس ترجمے کی ایک لاکھ 80 ہزار کاپیاں زائرین کے درمیان تقسیم کی جاچکی ہیں-
ترکی سے مجھے 11 نومبر 2014 کو دبئی جانا تھا- یہاں شارجہ میں ایک بک فیر (Sharjah International Book Fair) تھا- یہاں پرہمارا بھی اسٹال تھا جس کو بک لینڈ کے لوگ مینج کررہے تھے- یہ ایک بہت بڑا بک فیر تھا- اِس میں کثرت سے عالمِ عرب کے تقریباً تمام بڑے پبلشرز آتے ہیں- اِس کے علاوہ یہاں انڈین پبلشرز بھی بہت بڑی تعداد میں شرکت کرتے ہیں- تاہم یہاں انڈین پبلشرز کے اسٹال پر بہت زیادہ بھیڑ ہوتی ہے- خاص طورپر ساؤتھ انڈیا کے لوگ بہت زیادہ یہاں کے اسٹال پروزٹ کرتے ہیں اور بڑے پیمانے پر یہاں سے کتابیں خریدتے ہیں- اِس موقع پر وزٹرس کے درمیان بھی ہمارے یہاں سے چھپے ہوئے قرآن کے انگریزی ترجمے اور دعوتی پمفلٹس تقسیم کیے گئے- اس کو لوگوں نے شوق سے لیا-
دبئی میں ہمارے کئی ساتھی قرآن ڈسٹری بیوشن کا کام کررہے ہیں- خاص طورپر مز سیما جلال، مسٹر جاوید خطیب، مسٹر سلیم عبد الرحمن- اِن لوگوں نے حال میں قرآن ڈسٹری بیوشن کا ایک پروگرام (100 Quran for 100 Hotels)بنایا تھا- اِس کے تحت دبئی کے ایک سو بڑے ہوٹلوں کے رسیپشن (reception)پر ہمارے یہاں کا چھپا ہوا قرآن کا انگریزی ترجمہ ایک خوب صورت اسٹینڈ کے ساتھ رکھوایا گیا- دبئی ایک عالمی سیاحتی اور تجارتی مرکز ہے- اِس لیےیہاں دنیا کے ہر مقام سے بکثرت سیاح آتے ہیں- چناں چہ دبئی اوقاف کے تعاون سے دبئی میوزیم (متحف دبئى) میں بھی قرآن ڈسٹری بیوشن کا کام شروع کیا گیا ہے- میوزیم کے ایگزٹ گیٹ (exit gate)پر ایک ریک (rack) میں ہمارے یہاں کا چھپا ہوا قرآن کا ترجمہ رکھا ہوا ہے- اِس ریک پر یہ الفاظ لکھے ہوئے ہیں: خذ ہدیتک(Take Your Gift) -میوزیم سے جاتے ہوئے سیاح عام طور پر یہاں سے اس کو لے لیتے ہیں- میوزیم کے سیکورٹی گارڈ نے بتایا کہ ہم ریک میں قرآن کا ترجمہ رکھتے ہیں اور تھوڑی ہی دیر میں اس کی تمام کاپیاں ختم ہوجاتی ہیں-
اِس کے علاوہ دبئی کے کچھ اور بڑے ہوٹلوں کے کمروںمیں بھی قرآن کا ترجمہ رکھوایا گیاہے- مثلاً ناوٹل(Novotel Al Barsha) اور جُمیرا بیچ ہوٹل، وغیرہ- یہاں ہوٹل کے ہر کمرے میں ہمارے ساتھیوں نے قرآن کا انگریزی ترجمہ رکھوایا ہے- اِس کے علاوہ جُمیرا مسجداور البدیة مسجد میں بھی ہمارے یہاں کا چھپا ہوا قرآن کا انگریزی ترجمہ رکھاگیا ہے، تاکہ اس کو یہاں آنے والے سیاحوں کے درمیان تقسیم کیا جاسکے-
دبئی کے سفر سے واپسی پر میرے پاس ترجمہ قرآن کی صرف ایک کاپی موجودتھی- میں سوچ رہا تھا کہ اس کااستعمال کیسے کیا جائے- اِس کے بعد جہاز میں ایک امریکی خاتون سے ملاقات ہوئی- وہ ایک بڑے گروپ کے ساتھ انڈیا آرہی تھیں-اُن سے دیر تک اسلام کے موضوع پر باتیں ہوتی رہیں- آخر میں میں نے ان کو قرآن کا یہ ترجمہ اور کچھ دعوتی پمفلٹس دئے- انھوں نے خوشی کے ساتھ اِس کو لیا اور کہا میں اس کو ضرور پڑھوں گی- اِس سے اندازہ ہوا کہ آدمی کو ہر وقت اپنے پاس قرآن کا ترجمہ اور دعوتی لٹریچر رکھنا چاہئے-کسی بھی وقت کوئی شخص مل سکتا ہے جس کو قرآن کا ترجمہ دے کر اُس تک خدا کا پیغام پہنچایا جاسکے- (ثانی اثنین خان)
واپس اوپر جائیں

اعلیٰ ترقی کا راز

دنیا کے 100 ارب پتی (billionaires) افراد کا سروے کیاگیا ہے- اِس سروے میں پایا گیا ہے کہ اکثر ارب پتی ایسے ہیں جو وراثت کے طورپر ارب پتی نہیں بنے- اُن کو کسی حکومت یا کسی ادارے کی طرف سے کوئی سپورٹ بھی نہیں ملا- انھوںنے صرف اپنی ذاتی کوشش سے اعلیٰ ترقی حاصل کی-اُن میں سے اکثر نے غریبی کی حالت سے آغاز کیا اور پھر ترقی کرتے ہوئے وہ ارب پتی بن گئے-
اِس واقعے سے فطرت کا ایک اصول معلوم ہوتا ہے، وہ یہ کہ محرومی صرف محرومی نہیں ہے، وہ آدمی کو ایک بہت بڑی چیز دیتی ہے اور وہ ہے طاقت ور محرک(incentive)- فطرت کے قانون کے مطابق، یہ ہوتا ہے کہ جو شخص اپنے آپ کو محرومی کی حالت میں پاتا ہے، اس کے اندر آگے بڑھنے کا ایک طاقت ور جذبہ پیدا ہوجاتا ہے- یہ داخلی جذبہ اس کو مسلسل طورپر متحرک رکھتاہے، یہاں تک کہ وہ اس کو کامیابی کی اعلیٰ منزل تک پہنچا دیتا ہے:
Being deprived creates strong motivation.
کسی انسان کے لیے سب سے بڑی چیز خارجی فیور (favour) نہیں ہے، بلکہ اس کے لیے سب سے بڑی چیز داخلی محرک ہے- فیور سے آدمی کے اندر قناعت (contentment) پیدا ہوتا ہے اور جس آدمی کو فیور نہ ملے، اس کے اندر عدم آسودگی (discontentment)کی نفسیات پیدا ہوتی ہے اور تجربہ بتاتا ہے کہ عدم آسودگی کی نفسیات آدمی کو با عمل بناتی ہے، جب کہ آسودگی کی نفسیات اس کو بے عملی میں مبتلا کردیتی ہے-
Out of the world’s 100 richest people today, 27% are heirs and 73% are self-made. Of the self-made, 18% have no college degree, and 36% are children of poor parents, but some billionaires had neither degree nor wealthy parents. (Sunday Times of India, New Delhi, August 18, 2013, p. 12)
واپس اوپر جائیں

خبر نامہ اسلامی مرکز— 231

1- 13 جون 2014کو سہارن پور سی پی ایس ٹیم نے آل انڈیا ہینڈی کیپڈ ریہاب لیٹیشن پروگرام میں شرکت کی اور اس پروگرام میں شرکت کے لئے آئے ہوئے سیاستداں اور سماجی ورکروں کے درمیان قرآن اور دعوہ لٹریچر تقسیم کیا۔
2- 15 جون 2014کو نیشنل میڈیکل کالج سہارنپورنے اسپرنگ بیل اسکول کے ساتھ مل کر ایک بلڈ ڈونیشن کیمپ کا انعقاد کیا تھا۔ اس پروگرام میں سی پی ایس سہارن پور نے تمام ڈاکٹر، نرسوں، اور بلڈ ڈونرس کو قرآن کا ترجمہ اور دوسرے دعوتی لٹریچر دئے۔
3- 28-29 جون 2014کو انگریزی روزنامہ ہندوستان ٹائمس نے مہاراجہ پیلیس میں دو روزہ پروگرام آرگنائز کیا تھا — اس میں سی پی ایس سہارن پور نے تمام شرکاء کو قرآن کا ترجمہ اور دیگر دعوتی لٹریچر کا تحفہ دیا۔ حاضرین میں سہارن پور کے کمشنر بطور چیف گیسٹ موجود تھے۔
4- بڑی خوشی کی بات ہے کہ صدر اسلامی مرکز کی انگریزی کتاب دی ٹرو جہاد (The True Jihad) کا عربی ترجمہ 'الجہاد الحق کے نام سے شائع ہوچکا ہے، جسے سعودی عرب کے مکتبہ العبیکان نے شائع کیا ہے۔ اور انڈونیشی ترجمہ کا کام چل رہا ہے۔
5- ایم ایس رمیاہ انسٹیٹیوٹ آف ٹکنالوجی، بنگلورو میں آئی آئی ٹی کھڑگپور ، مغربی بنگال کی جانب سے روبوٹ ٹکنالوجی پر ایک کانفرنس منعقد کی گئی تھی، جس میں ایک چھوٹا سا پروگرام سماج میں امن کے متعلق بھی تھا۔ آرگنائزر کی دعوت پر سینٹر فار پیس بنگلور کی جانب سے مس سارہ فاطمہ نے اس پروگرام میں اسلام میں امن اور سی پی ایس کے ذریعہ اس تعلق سے ہورہی کوششوں پر ایک لکچر دیا۔ لکچر کے بعد تمام حاضرین کو قرآن اور پیس کے موضوع پر لٹریچر دیا گیا۔ یہ پروگرام 12 ستمبر 2014کو ہوا تھا۔
6- 27 اکتوبر 2014کو کیلی فورنیا، امریکا سے انڈیا آئے ہوئے اسٹوڈنٹ کے ایک گروپ کو صدر اسلامی مرکز نے اسلام میں امن کی اہمیت پر خطاب کیا۔ خطاب کے بعد سوال و جواب کا پروگرام بھی ہوا۔ آخرمیں تمام مہمانوں کو قرآن کا انگریزی ترجمہ اور صدر اسلامی مرکز کی کتابوں کا ایک ایک سیٹ بطور تحفہ دیا گیا۔
7- بڑی خوشی کی بات ہے کہ ملیشیا میں صدر اسلامی مرکز کا قرآن طبع ہوچکا ہے۔ یہ قرآن وہاں آنے والے ٹورسٹوں کے درمیان تقسیم کیا جائے گا۔ گڈورڈ بکس، دہلی کے ملیشیا ڈسٹری بیوٹر سہیم انٹرپرائزز نے اس قرآن کو ملیشیا میں طبع کیاہے۔
8- 1نومبر 2014 کو سویڈن کی امیا (Umea) یونیورسٹی کے پروفیسر مسٹر تھامس لنڈگرن نے صدر اسلامی مرکز کا ایک مفصل انٹرویو لیا۔ یہ انٹر ویو صدر اسلامی مر کز کی زندگی اور مشن پر تھا۔ پروفیسر موصوف اس سے پہلے بھی مولاناکا انٹرویو کر چکے ہیں۔
11- 10نومبر 2014 کو کولکاتا ٹیم نے خواتین کا ایک خصوصی پروگرام کیا۔ مس سعدیہ انجم نے یہ پروگرام چلایا۔آخری میں تمام حاضر ہونے والی خواتین کو ترجمہ قرآن اور صدر اسلامی مرکز کی کتابوں کا ایک سیٹ دیا گیا۔
12- 11نومبر 2014 کو سی پی ایس دہلی کی ایک ٹیم نے ودیا جیوتی کالج، دہلی کےایک پروگرام میں حصہ لیا۔یہ پروگرام کالج کے طلبہ کے لئےتھا۔ اس کا موضوع تھا کرشچن مسلم ڈائیلاگ۔ پروگرام کے بعد تمام حاضرین کو قرآن کا انگلش ترجمہ اور صدر اسلامی مرکز کی کتابوں کا ایک سیٹ دیا گیا۔جسے تمام لوگوں نے شکریہ کے ساتھ قبول کیا۔
13- گڈورڈ بکس (Goodword Books)کی جانب سے ثانی اثنین خان نے 31 اکتوبر تا10نومبر 2014کو اٹلی، اسپین، ترکی اور دبئی کا دورہ کیا۔ اس دورے کا مقصد یہ تھا کہ قرآن کے پیغام کو زیادہ سے زیادہ کیسے عام کیا جائے۔ یہ دورہ کافی امید افزا رہا۔اِس دورے کی تفصیلی روداد صفحہ 30-44 پردیکھی جاسکتی ہے-
14- 11نومبر 2014 کو ڈاکٹر فریدہ خانم نے پنجابی یونیورسٹی، پٹیالہ کی دعوت پر وہاں کا دو روزہ دورہ کیا۔ دورہ کا مقصدیونیورسٹی میں منعقد ہونے والے انٹرفیتھ پروگرام میں مذہب اسلام پرایک لکچر دیناتھا۔ تمام لوگوں نے لکچر کو بہت پسند کیا۔ اس دوران ان کے درمیان قرآن اور دوسرے دعوتی لٹریچر تقسیم کئے گئے، جو انھوں نے بہت ہی خوشی اور شکریہ کے ساتھ قبول کیا۔ بعض ذمہ داروں نے بتایا کہ پنجابی زبان میں قرآن کی زبردست ڈیمانڈ کو دیکھتے ہوئے انھوں نے سی پی ایس سے شائع ہونے والے ترجمۂ قرآن کا پنجابی زبان میں ٹرانسلیشن شروع کردیاہے-
15- سی پی ایس کا دعوتی مشن اب تائیوان میں شروع ہو چکا ہے۔ ذیل میں وہاں کے داعی کا ایک پیغام نقل کیا جارہا ہے:
I am very pleased to receive this message and I can assure you it had always been my wish to convey the message of Islam to people, especially to my colleagues. I will be very happy to take up this responsibility to work for the cause of God. Initially, I can support myself financially and also hope to include more people in this work. By the Grace of God, I may also find sponsors later on. But, I really want to spend the little I have in the cause of God, so that I can find it multiplied with my Lord. By the Grace of God, everything will go smoothly. (Adama Ceesay, Taiwan)
16- ذیل میں کچھ دعوتی تاثرات وتجربات نقل کئے جارہے ہیں:
— Respected Maulana Sahab, I have been reading your literature for a long time now and it has changed my life and thinking. I have reached two conclusions:
1: The Muslim world must understand that reasons for their “zawal” are not external “sazish” but rather Muslims themselves are responsible for it.
2: The Muslim movement should work on dawah and knowledge, and leave the government to the politicians. It gives me great pleasure that your hard, intelligent and persistent work is bringing Muslims all over the world to the realization of this point that the reason for our backwardness is not “sazish” against the Muslims, rather Muslims themselves are responsible for it. I pray and I am sure that soon the Muslim ulama and intelligentsia would realize that they should not work to change the government system, rather they should confine themselves to dawah and ilm (Jan Muhammad, Canada)
— —I received an envelope from the Centre for Peace, Bangalore. Upon opening it, I was amazed to find the magazine, Spirit of Islam by one of my favourite scholars, Maulana Wahiduddin Khan. I have been following many of the articles of Maulana in The Times of India, and some months back I even ordered a copy of the Quran from the Centre for Peace and Spirituality. I am writing to you to appreciate the work that you all are doing. I think this is one of the best works to earn the Hereafter. I am very thankful for what you have given me and I will subscribe myself to the monthly magazine. Much thanks again for the work you are doing, and please let me know if there is anything I can do for this cause. (Asim Nabi, Aligarh, U.P. (
واپس اوپر جائیں