Pages

Wednesday, 1 July 2015

Al Risala | July 2015 (الرسالہ،جولائی)

4

-روزہ اور تقویٰ

5

- روزہ برائے ترک ممنوعات

6

- قرآن کتاب ِتدبر

9

- عجز اور دعا

10

- ذکرکیا ہے

11

- جنت کیا ہے

12

- قرآن کا مطالعہ

13

- آل عمران ، رکوع آخر

16

- موت کا ذکر کثیر

17

- زوال کی علامت

18

- ایک انقلابی اصول

19

- دیکھیں صبح کیسے ہوتی ہے

20

- مسِّ مصحف کے لیے وضو کی شرط

21

- اجتہاد یا فتویٰ

22

- فطرت کا نظام

24

- حمد اور کَبَد کے درمیان

25

- انسان کا امتحان

26

- شیطان سے حفاظت

28

- تیار ذہن کی اہمیت

29

- دو چہرے والا شخص

30

- ہجرت ایک تدبیر

31

- فرشتوں کی نگرانی

32

- توسط اور اعتدال

33

- راستہ بدلنا

34

- اسلامائزیشن آف نان اسلام

35

- شعور پر لاشعور غالب

36

- یتیم کی کفالت

37

- پیغمبر ِ اسلام کی سنت

40

- نظر کی خریداری

41

- حقیقت پسندانہ سوچ

42

- مزاحمت سے مقابلہ تک

43

- علم کی حد

44

- بے خبری کا نقصان

45

- مفید، بے مسئلہ

46

- شہد کی مکھی کا سبق

47

- خبر نامہ اسلامی مرکز


روزہ اور تقویٰ

قر\آن میں رمضان کے روزے کا حکم دیتے ہوئے کہاگیا ہے: کُتِبَ عَلَیْکُمُ الصِّیَامُ کَمَا کُتِبَ عَلَی الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِکُمْ لَعَلَّکُمْ تَتَّقُوْنَ ( 2:183) یعنی تم پر روزہ فرض کیاگیا جس طرح تم سے اگلوں پر فرض کیا گیا تھا، تاکہ تم پرہیزگار بنو-
قرآن کی اِس آیت کا مطلب یہ نہیں ہے کہ روزہ کا فعل اپنے آپ میں ایک نہایت بابرکت فعل ہے، اور رمضان کا مہینہ اتنا مبارک مہینہ ہے کہ جو شخص اِس مہینہ میں روزہ کی نیت سے صبح سے شام تک کھانا پینا چھوڑ دے تو وہ اِس ترک طعام کی بنا پر عظیم ثواب کا مستحق بن جائے گا-اِس کے بجائے آیت میں یہ فرمایا گیا کہ روزہ کا مقصد یہ ہے کہ تمھارے اندر تقویٰ پیدا ہو (لعلکم تتقون)- گویا روزہ کی ایک صورت (form)ہے، اور تقویٰ اُس کی روح (spirit) ہے- روزہ برائے تقویٰ ہے، نہ کہ برائے جوع-
تقوی کا لفظی مطلب ہے بچنا- روزہ سے مراد صرف کھانے اور پینے سے بچنا نہیں ہے بلکہ ہر اس چیز سے بچنا ہے، جس کو شریعت میں ممنوع قرار دیاگیا ہے- گویا کہ روزہ میں ترک طعام برائے ترک طعام نہیں ہے، بلکہ وہ ترک ممنوعات کے لیے تربیت کا ایک کورس ہے- حدیث کے الفاظ میں جو شخص کھانے پینے کا روزہ رکھے، مگر وہ دوسری قابل پرہیز چیزوں سے اپنے آپ کونہ بچائے، اُس کو اپنے روزے سے بھوک پیاس کے سوا کچھ اور نہیں ملے گا (لیس لہ من صیامہ إلا الجوع)ابن ماجہ، حدیث : 1380-
دوسرے الفاظ میں یہ کہ رمضان کے مہینہ کا روزہ، اِس بات کی تربیت ہے کہ آدمی اپنے آپ کو ڈسٹریکشن (distraction)کی تمام صورتوں سے بچائے- وہ اپنے اندر یکسوئی کا مزاج پیدا کرے- وہ اپنی عادتوں پر کنٹرول کرے، اور پوری طرح بامقصد زندگی گزارنے کی کوشش کرے- ڈسٹریکشن سے اپنے آپ کو بچانا مومن کے لیے ضروری ہے، کیوں کہ ایسا کرنے کے بعد ہی مومن اِس قابل بنتا ہے کہ وہ اپنے آپ کو غیر متعلق مصروفیتوں سے بچائے، اور بامقصد انداز میں اپنی زندگی کی منصوبہ بندی کرے-
واپس اوپر جائیں

روزہ برائے ترک ممنوعات

ایک حدیث رسو ل میں بتایا گیا ہے کہ انسان کے ہر عمل کا اجر دس گنا سے سات سو گنا تک بڑھتاہے-لیکن روزہ (صوم)میرے لئے ہے اور میں ہی اس کا بدلہ دوں گا- اس عظیم اجر کا سبب یہ بتایا کہ روزہ دار، اللہ کے لئے (لأجل اللہ) اپنی شہوات کو چھوڑ دیتا ہے (مسند احمد، حدیث نمبر: 9714)
اس حدیث کے مطابق، روزہ کی اصل اہمیت یہ ہے کہ وہ ترک ممنوعات کی تربیت ہے- زندگی میں ’ترک‘ (چھوڑنے) کی اہمیت بہت زیادہ ہے- حقیقت یہ ہے کہ زندگی میں اختیار سے زیادہ ’ترک‘ کی اہمیت ہوتی ہے- ’ترک‘ کے آئٹم اگر ننانوے فیصد ہیں تو اختیار کا آئیٹم ایک فی صد ہے- اختیار کے آئٹم کی فہرست بنائی جاسکتی ہے، لیکن ’ترک‘ کے آئٹم کی فہرست بناناممکن نہیں-
انسانی نفسیات کا مطالعہ بتاتا ہے کہ انسان کے لئے اختیار ایک کم مشکل کی چیز ہے- اِس کے برعکس ’ترک‘کی مشکل بہت زیادہ ہے- مثلاً حج میں گھر سے نکل کر مکہ کا سفر کرنا، اور حج کے مراسم ادا کرنانسبتاً کم مشکل ہے- اِس کے برعکس، قرآن کی اِس آیت پر عمل کرنا بے حد مشکل ہے، جس میں کہاگیا ہے : فَلَا رَفَثَ وَلَا فُسُوْقَ ۙوَلَا جِدَالَ فِی الْحَجِّ (2:197) یعنی حج کے دوران نہ کوئی فحش بات کرنی ہے اور نہ گناہ اور نہ لڑائی جھگڑا-
روزہ اِسی مشکل کام کی تربیت ہے- رمضان میں ایک مہینہ کا روزہ دراصل ایک علامتی ’ترک‘ ہے- رمضان کے مہینہ میں ایک علامتی ’ترک‘ کے ذریعہ لوگوں کے اندر یہ نفسیات جگائی جاتی ہے کہ وہ ترک کی اہمیت کو سمجھیں، وہ ترک کے بارے میں حساس بنیں،وہ ترک کلچر کو اپنی پوری زندگی میں اختیار کریں- اسی ترک کلچر پر لوگوں کو ابھارنے کے لئے یہ فرمایا گیا کہ اس عمل پر اللہ کا بے حساب اجر ہے، جس طرح کلمہ میں إلا اللہ سے پہلے لا إلہ آتا ہے، اسی طرح مطلوب عمل سے پہلے غیر مطلوب اعمال کا درجہ ہے- غیر مطلوب اعمال کو ترک کرنے کے بعد ہی آدمی اس قابل بنتا ہے کہ وہ درست طورپر مطلوب عمل انجام دے سکے-
واپس اوپر جائیں

قرآن کتاب ِتدبر

قرآن کی سورہ ص کی ایک آیت یہ ہے: کِتَٰبٌ أَنزَلْنَٰہُ إِلَیْکَ مُبَٰرَکٌ لِّیَدَّبَّرُوٓا۟ ءَایَٰتِہِۦ وَلِیَتَذَکَّرَ أُولُوا ٱلْأَلْبَٰبِ.(38:29) یعنی یہ ایک برکت والی کتاب ہے جو ہم نے تمھاری طرف اتاری ہے، تاکہ لوگ اِس کی آیتوں پر غور کریں اور تاکہ عقل والے اس سے نصیحت حاصل کریں-
اس کا مطلب یہ ہے کہ قرآن کی باتوں کو وہی شخص سمجھ سکتا ہے، جو قرآن کا مطالعہ تدبر کے ساتھ کرے- صرف لفظی تلاوت کے ذریعہ قرآن کا حق ادا نہیں ہوسکتا- مزید یہ کہ تدبر کے لیے تیارذہن (prepared mind) درکار ہے- جو شخص قرآن کو سمجھنا چاہتا ہے، اس کو چاہئے کہ وہ اپنے آپ کو ایک تیار ذہن بنائے- اس کے بعد ہی وہ قرآن کو حقیقی طورپر سمجھ سکے گا- اپنے آپ کو تیار ذہن بنانے کے لیے جو شرطیں درکار ہیں، ان میں سے ایک ضروری شرط تقویٰ( 2:282) ہے- متقی انسان ایک سنجیدہ (sincere) انسان ہوتا ہے-سنجیدگی کے بغیر کوئی شخص قرآن کو سمجھ نہیں سکتا-
قرآن میں عقل کے مترادف کم سے کم چھ الفاظ استعمال کیے گئے ہیں— عقل، فؤاد، لب، قلب، حجر، نُہیٰ- ان کے سوا قرآن میں اور بہت سے الفاظ ہیں، جو بالواسطہ طورپر عقل سے تعلق رکھتے ہیں- مثلاً سمع اور بصر وغیرہ- حقیقت یہ ہے کہ قرآن کی تمام آیتیں عقل پر مبنی ہیں،کچھ آیتیں براہِ راست طورپر اور کچھ آیتیں بالواسطہ طورپر-
مثلاً إِنَّمَا یَتَذَکَّرُ أُو۟لُوا۟ ٱلْأَلْبَٰبِ ( 13:19) اور إِنَّ فِى ذَٰلِکَ لَآیَٰتٍ لِّأُو۟لِى ٱلنُّہَىٰ. (20:54) جیسی آیتوں میں براہِ راست طورپر عقل کا حوالہ دیا گیا ہے- اس طرح کی آیتیں قرآن میں کثرت سے ہیں- اس کا مطلب واضح طور پر یہ ہے کہ اگر تم قرآن کو یا قرآن کے پیغام کوسمجھنا چاہتے ہو تو اپنی عقل (reason) کو استعمال کرو- عقل کے استعمال کے بغیر تم قرآنی آیتوں کے حقیقی مفہوم تک نہیں پہنچ سکتے-
جہاں تک عقل کے بالواسطہ حوالے کی بات ہے، اس سے پورا قرآن بھرا ہوا ہے- مثلاً قرآن کی پہلی آیت یہ ہے: اَلْحَمْدُ لِلہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ (1:1)- اس آیت میں کہاگیا ہے کہ اس اللہ کی حمد کرو جو سارے عالم کا رب (Lord) ہے- اس سے واضح ہے کہ کوئی شخص اللہ کی حقیقی حمد، اسی وقت کرسکتا ہے، جب کہ اس نے اللہ کو رب العالمین کی حیثیت سے دریافت کیا ہو- اس قسم کی دریافت کسی آدمی کو صرف عقل کے استعمال کے ذریعہ حاصل ہوسکتی ہے-
اسی طرح قرآن کی آخری سورہ یہ ہے کہ انسان اور جن کے وسوسہ کے شر سے اپنے آپ کو بچاؤ (الناس)- یہاں ظاہر ہے کہ وسوسہ ایک غیر محسوس چیز ہے- وسوسہ کو چھوکر یا دیکھ کرنہیں جانا جاسکتا، وسوسہ کے شرسے بچنے کے لیے ضروری ہے کہ آدمی اپنے عقل کو استعمال کرکے وسوسہ کو دریافت کرے- اِس طرح قرآن کی یہ آیت عقل کے بالواسطہ حوالے کی ایک مثال ہے-
یہی معاملہ قرآن کی تمام آیتوں کا ہے- مثلاً قرآن میں مومن کی صفت یہ بتائی گئی ہے کہ وہ غیب پر ایمان رکھتے ہیں (2:3)- غیب پر ایمان صرف اس شخص کو حاصل ہوسکتا ہے، جو غیبی حقیقتوں کو یقین کے درجے میں دریافت کرے، اور یہ بات صرف عقلی غوروفکر کے ذریعہ ممکن ہے- اسی طرح، مثلاً قرآن میںحج کے حکم کے ذیل میں یہ الفاظ آئے ہیں: فَلَا رَفَثَ وَلَا فُسُوْقَ وَلَاجِدَالَ فِی الْحَجِّ ( 2:197)- یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ حج تو ایک عبادت کا فعل ہے، اس کا جدال سے کیا تعلق- اس پر غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ حج کی عبادت کے دوران بہت سے لوگ ایک ساتھ رہتے ہیں- ساتھ رہنے کی بنا پر فطری طورپر آپس میں اختلافات(differences) پیدا ہوتے ہیں- اس لیے حاجی کو چاہئے کہ وہ اختلاف پر صبر کرے، وہ اس کو جدال تک پہنچنے نہ دے- آیت کا یہ پہلو بھی عقل کے استعمال سے معلوم ہوتا ہے-
اسی طرح قرآن کی ایک سورہ میں معاہدۂ حدیبیہ کا صراحتاً ذکر کیے بغیر یہ آیت آئی ہے: إنَّا فَتَحْنَا لَکَ فَتْحًا مُبِیْنًا ( 48:1)- یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ معاہدہ حدیبیہ میں تو فریقِ ثانی سے یک طرفہ شرطوں پر صلح کر کے رسول اور اصحاب رسول مدینہ واپس آگئے تھے، پھر اس کا فتح مبین سے کیا تعلق- آیت کا یہ گہرا مفہوم صرف اس وقت معلوم ہوتا ہے، جب کہ آدمی آیت پر تاریخ کی روشنی میں غوروتدبر کرے، اور یہ عقل کے استعمال کے بغیر نہیں ہوسکتا، وغیرہ-
قرآن میں کل ایک سو چودہ (114) سورتیں ہیں- اگر ان تمام سورتوں کو پڑھا جائے تو ان میں کہیں بھی قانون کی زبان نہیں ملے گی، بلکہ دعوت اور تذکیر کی زبان ملے گی، اور دعوت اور تذکیر کے معاملے کو درست طورپر صرف اس وقت سمجھا جاسکتا ہے، جب کہ اس کو عقل کا استعمال کرکے جاننے کی کوشش کی جائے-
قرآن کا مطالعہ کیا جائے تو یہ کہنا صحیح ہوگا کہ قرآن معروف معنوں میں کوئی فقہی کتاب یا قانون کی کتاب نہیں ہے- قرآن میں کہیں بھی وہ اسلوب استعمال نہیں کیا گیا ہے جو فقہ کی کتابوں یا قانون کی کتابوں میں اختیار کیا جاتا ہے- قرآن کے اسلوب کو دیکھتے ہوئے یہ کہنا صحیح ہوگا کہ قرآن وزڈم کی کتاب (book of wisdom) ہے-
واپس اوپر جائیں

عجز اور دعا

قرآن سے معلوم ہوتا ہے کہ عاجز انسان کی دعا قبول ہوتی ہے۔ یہ بات قرآن میں ان الفاظ میں بتائی گئی ہے: أَمَّنْ یُجِیبُ الْمُضْطَرَّ إِذَا دَعَاہُ وَیَکْشِفُ السُّوءَ (النمل: 62)- عاجز انسان خدا کی خصوصی نصرت کا مستحق بن جاتا ہے- سوال یہ ہے کہ ایسا کیوں ہوتا ہے؟ عاجز انسان کی دعا کی قبولیت کا راز کیا ہے؟ اس سوال کا جواب اس وقت معلوم ہوتا ہے جب کہ عاجز انسان کی نفسیات کا مطالعہ کیا جائے-
جب ایک شخص عاجز (helpless) ہوجائے تو اس وقت اس کے اندر مخصوص کیفیات پیدا ہوتی ہیں، جو عام حالات میں کسی کے اندرپیدا نہیں ہوتیں- اس وقت اس کی داخلی روح (inner soul) آخری حد تک جاگ اٹھتی ہے- اس نفسیاتی حالت کی بنا پر ایسا ہوتا ہے کہ اس وقت آدمی کی زبان پر دعا کے جو کلمات جاری ہوجاتے ہیں، وہ عام قسم کے کلمات نہیں ہوتے، بلکہ وہ ایسے کلمات ہوتے ہیں جو اللہ کی رحمت کو انووک (invoke)کرنے والے ہوں- یہی خاص سبب ہے، جس کی بنا پر ایک عاجز انسان کی دعا اللہ کے یہاں قابل قبول قرار پاتی ہے-
قرآن میں اس معاملے کی ایک مثال یہ ہے کہ قدیم مصر کے بادشاہ فرعون نے جب اپنی بیوی آسیہ کے قتل کا حکم دیا تو ان کی زبان سے یہ دعا نکلی: رَبِّ ابْنِ لِیْ عِنْدَکَ بَیْتًا فِی الْجَنَّةِ (التحریم: 11) یعنی اے میرے رب، میرے لئے اپنے پاس جنت میں ایک گھر بنادے- یہ ایک بے حد خاص دعا ہے، جو آسیہ کی زبان سے اس وقت نکلی، جب ان کو محسوس ہوا کہ وہ بے بسی کی آخری حد تک پہنچ چکی ہیں- اس کامل بے بسی کی حالت میں ان کی روح کے اندر جو اعلی ربانی کیفیت پیدا ہوئی، اُس نے اِس مخصوص دعا کی صورت اختیار کرلی- دعا بظاہر الفاظ کی صورت میں ہوتی ہے، لیکن دعا کا گہرا تعلق دعا کرنے والے کی کیفیت سے ہے- یہ دراصل کیفیت ہے جو کسی کی دعا کو اسم اعظم کی دعا بنا دیتی ہے، اور کیفیت حالات کے بغیر پیدا نہیں ہوتی-
واپس اوپر جائیں

ذکرکیا ہے

پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کےمعمول کے بارے میں حضرت عائشہ کی ایک روایت ان الفاظ میں آئی ہے: کان النبی صلى اللہ علیہ وسلم یذْکُر اللہ على کل أحیانہ (صحیح البخاری، حدیث نمبر 305، صحیح مسلم، حدیث نمبر 373) یہ روایت اہل ایمان کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک سنت کو بتاتی ہے۔ اہل ایمان کو ذہنی اعتبار سے ایک بیدار ذہن (awakened mind)بننا چاہئے۔ ان کی ربانی سوچ کواتنی زیادہ ارتقا یافتہ ہونی چاہئے کہ ان کی زندگی کا ہر واقعہ یا ہر تجربہ ان کے لئے ذکر اور دعا کا پوائنٹ آف ریفرنس بن جائے۔
اس روایت کا مطلب یہ نہیں ہے کہ آدمی دعا اور ذکر کے کچھ کلمات رٹ لے، اور ہر موقع پر ان کو زبان سے دہراتا رہے۔ یہ سنت رسول نہیں ہے۔ سنت رسول کے مطابق ذکر اور دعاایک تکراری عمل نہیں ہے، بلکہ وہ ایک تخلیقی (creative) عمل ہے۔
دسمبر 2014 میں میرے ساتھ ایک واقعہ پیش آیا، اس کی وجہ سےمجھ کو تقریبا دس دن بستر پر رہنا پڑا۔ اس مدت میں میں اپنی نمازوں کے لئے وضو نہ کر سکا، بلکہ تیمم کر کے نماز ادا کرتا رہا۔اس معاملے پر غور کرتے ہوئے میں نے سوچا کہ میری یہ نمازیں شاید ناقص نمازیں ہیں، میرا دل بھر آیا۔ اس وقت مجھے ایک عربی مقولہ یاد آیا: العذر عند کرام الناس مقبول (عذر کریم لوگوں کے لئے قابل قبول ہوتا ہے)۔ میں نے کہا کہ یا اللہ، تیرے کریم بندوں کے لئے جو عذر قابل قبول ہوتا ہے، وہ یقینا تیرے لئے مزید اضافہ کے ساتھ قابل قبول ہوگا۔ اس وقت یہ جملہ میری زبان سے نکلا: العذر عند اللہ الکریم مقبول۔ یہ سوچ کر مجھے اللہ کی رحمت یاد آئی، میرا دل اطمینان سے بھر گیا، یہی ہے ہر موقع (occasion) پر اللہ کو یاد کرنا۔ہر موقع پر اللہ کو یادکرنا یہ ہے کہ آدمی ذہنی اعتبار سے اتنا بیدار ہو کہ ہر واقعہ اس کے لیے ایک ایسا پوائنٹ آف ریفرنس (point of reference ) بن جائے، جس کے ذریعے وہ اپنے رب کو یاد کرے۔
واپس اوپر جائیں

جنت کیا ہے

قرآن کی سورہ فصلت میں جنت کی صفت ان الفاظ میں بیان کی گئی ہے: وَلَکُمْ فِیْہَا مَا تَشْتَہِیْٓ اَنْفُسُکُمْ وَلَکُمْ فِیْہَا مَا تَدَّعُوْنَ (41:31) یعنی فرشتے اہل جنت سے کہیں گے: اور تمھارے لیے وہاں ہر وہ چیز ہے جس کو تمھارا دل چاہے اور تمھارے لیے اس میں ہر وہ چیز ہے جو تم طلب کروگے- اس سے معلوم ہوتا ہے کہ جنت ہر اعتبار سے ایک کامل جگہ ہوگی- جنت میں کمی یا نقص کا کوئی پہلو موجود نہ ہوگا-
قرآن کی اس آیت میں اہلِ جنت کی نسبت سے دو لفظ استعمال ہوئے ہیں، ایک اشتہا اور دوسرا طلب- اشتہا کا لفظ عمومی انسانی خواہش کو بتاتا ہے، یعنی عمومی معنوں میں لوگ جن چیزوں کی خواہش رکھتے ہیں، وہ سب وہاں موجود ہوں گی-
طلب کے لفظ میں انفرادی ذوق کی طرف اشارہ کیاگیا ہے- یعنی جنت میں وہ تمام چیزیں بھی ہوں گی، جو عمومی طورپر لوگوں کی پسند کی ہوتی ہیں- اس کے علاوہ جنت میں ہر فرد کے ذاتی ذوق کی تکمیل کا سامان بھی موجود ہوگا-
قرآن کے اس بیان میں اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ جنت میں داخل ہونے والے افراد تخلیقی ذہن (creative mind) رکھنے والے لوگ ہوں گے- عمومی پسند کے علاوہ ان میں سے ہر فرد کی اپنی ذاتی پسندبھی ہوگی- جنت میں اجتماعی پسند کا سامان بھی ہوگا، اور انفرادی پسند کا سامان بھی- جنت کی یہ صفت، جنت کی قیمت کو بہت زیادہ بڑھا دیتی ہے-
گویا کہ جنت کا معاشرہ یکساں قسم کے درختوں کی مانند نہیں ہوگا- بلکہ وہ متنوع قسم کے درختوں کے ایک باغ کی مانند ہوگا- جنت میں یکسانیت (uniformity)کے ساتھ تنوع (diversity) بھی ہوگا- جنت کی یہ صفت جنت کو بہت زیادہ خوبصورت اور بہت زیادہ با معنی بنادے گی- جنت لذتوں کا مقام بھی ہوگا، اور تنوعات کا مقام بھی-
واپس اوپر جائیں

قرآن کا مطالعہ

پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک حدیث ان الفاظ میں آئی ہے: من قرأ حرفاً من کتاب اللہ فلہ بہ حسنة، والحسنة بعشر امثالہا، لا أقول الم حرف ، الف حرف ولام حرف ومیم حرف (الترمذی، حدیث نمبر: 2910) یعنی جس شخص نے اللہ کی کتاب میں سے ایک حرف پڑھا تو اس کے لیے اِس کے بدلے میں ایک نیکی ہے، اور ہر نیکی دس گنا تک بڑھتی ہے- میں یہ نہیں کہتا کہ الم ایک حرف ہے بلکہ الف ایک حرف ہے، لام ایک حرف اور میم ایک حرف ہے-
یہ قولِ رسول ایک لمبی روایت میں بھی آیا ہے، اس میں یہ اضافہ ہےکہ إن ہذا القرآن مادبة اللہ تعالى فتعلموا من مأدبة اللہ ما استطعتم (مجمع الزوائد، حدیث نمبر: 11660) یعنی یہ قرآن ایک ربانی دستر خوان (banquet) ہے، پس تم اس دسترخوان سے سیکھو، جتنا تم سیکھ سکتےہو-
اس حدیث میں جو بات الفاظ کے اعتبار سے کہی گئی ہے، وہ دراصل معنی کے اعتبار سے مطلوب ہے- اس کا مطلب یہ ہے کہ قرآن میں معانی کا خزانہ اتنا زیادہ ہے کہ اس کا کوئی شمار نہیں کیا جاسکتا- یہ اسلوب انسان کی زبان میں عام ہے، یعنی کیفیاتی حقیقت (qualitative fact) کو کمیاتی زبان (quantitative language) میں بیان کیاگیا ہے-
مذکورہ حدیث کی یہ شرح قرآن سے ثابت ہے- قرآن کی ایک آیت ان الفاظ میں آئی ہے: کِتٰبٌ اَنْزَلْنٰہُ اِلَیْکَ مُبٰرَکٌ لِّیَدَّبَّرُوْٓا اٰیٰتِہٖ وَلِیَتَذَکَّرَ اُولُوا الْاَلْبَابِ (38:29) یعنی یہ ایک برکت والی کتاب ہے جو ہم نے تمھاری طرف اتاری ہے، تاکہ لوگ اس کی آیتوں پر غور کریں اور تاکہ عقل والے اس سےنصیحت حاصل کریں-
قرآن کی یہ آیت واضح طورپر بتاتی ہےکہ قرآن غور وفکر کی کتاب ہے- قرآن کا مدعا یہ نہیں ہے کہ لوگ اس کے الفاظ کو تلاوت کے طورپر دہرائیں، اور پراسرار طورپر اس کا ثواب ان کو ملتا رہے- حقیقت یہ ہے کہ تدبر کے بغیر قرآن کا مقصدِ نزول پورا نہیں ہوسکتا-
واپس اوپر جائیں

آل عمران ، رکوع آخر

قرآن کی سورہ آل عمران کی آخری رکوع میں مومن کی تصویر بتائی گئی ہے۔اس رکوع میں کل گیارہ آیتیں ہیں۔ ان آیتوں کا ترجمہ یہ ہے:
آسمانوں اور زمین کی پیدائش میں اور رات دن کے باری باری آنے میں عقل والوں کے لئے نشانیاں ہیں ۔ جو کھڑے اور بیٹھے اور اپنی کروٹوں پر اللہ کو یاد کرتے ہیں اور آسمانوں اور زمین کی پیدائش میں غور کرتے رہتے ہیں ۔ وہ کہہ اٹھتے ہیں اے ہمارے رب، تو نے یہ سب بےمقصد نہیں بنایا۔ تو پاک ہے، پس ہم کو آگ کے عذاب سے بچا۔اے ہمارے رب، تو نے جس کو آگ میں ڈالا، اس کو تو نے واقعی رسوا کردیا۔ اور ظالموں کا کوئی مدد گار نہیں ۔ اے ہمارے رب، ہم نے ایک پکارنے والے کو سنا جو ایمان کی طرف پکار رہا تھا کہ اپنے رب پر ایمان لاؤ، پس ہم ایمان لائے۔ اے ہمارے رب، ہمارے گنا ہوں کو بخش دے اور ہماری برائیوں کو ہم سے دور کردے اور ہمارا خاتمہ نیک لوگوں کے ساتھ کر۔اے ہمارے رب، تو نے جو وعدے اپنے رسولوں کی معرفت ہم سے کئے ہیں، ان کو ہمارے ساتھ پورا کر اور قیامت کے دن ہم کو رسوائی میں نہ ڈال۔ بےشک تو اپنے وعدے کے خلاف کرنے والا نہیں ہے۔ ان کے رب نے ان کی دعا قبول فرمائی کہ میں تم میں سے کسی کا عمل ضائع کرنے والا نہیں ، خواہ وہ مرد ہو یا عورت، تم سب ایک دوسرے سے ہو۔ پس جن لوگوں نے ہجرت کی اور جو اپنے گھروں سے نکالے گئے اور میری راہ میں ستائے گئے اور وہ لڑے اور مارے گئے، میں ان کی خطائیں ضرور ان سے دور کر دوں گا اور ان کو ایسے باغوں میں داخل کروں گا جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی۔ یہ ان کا بدلہ ہے اللہ کے یہاں اور بہترین بدلہ اللہ ہی کے پاس ہے۔ اور ملک کے اندر منکروں کی سرگرمیاں تم کو دھوکے میں نہ ڈالیں ۔ یہ تھوڑا فائدہ ہے۔ پھر ان کا ٹھکانا جہنم ہے۔ اور وہ کیسابرا ٹھکانا ہے۔ البتہ جو لوگ اپنے رب سے ڈرتے ہیں ، ان کے لئے باغ ہوں گے جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی، وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے۔ یہ اللہ کی طرف سے ان کی میزبانی ہوگی اور جو کچھ اللہ کے پاس نیک لوگوں کے لئے ہے، وہی سب سے بہتر ہے۔ اور بےشک اہل کتاب میں کچھ ایسے بھی ہیں جو اللہ پر ایمان رکھتے ہیں اور اس کتاب کو بھی مانتے ہیں جو تمہاری طرف بھیجی گئی ہے اور اس کتاب کو بھی مانتے ہیں جو اس سے پہلے خود ان کی طرف بھیجی گئی تھی، وہ اللہ کے آگے جھکے ہوئے ہیں اور وہ اللہ کی آیتوں کو تھوڑی قیمت پر بیچ نہیں دیتے۔ ان کا اجر ان کے رب کے پاس ہے اور اللہ جلدحساب لینے والا ہے۔ اے ایمان والو، صبر کرو اورصبر پر قائم رہو اور باہم مربوط رہو اور اللہ سے ڈرو، امید ہے کہ تم کامیاب ہوگے۔
آیات 190-192 — ان آیتوں میں مومن کی فکری زندگی کو بتایا گیا ہے۔وہ صبح و شام، رات دن تخلیقِ خداوندی پر غور کرتا ہے۔ اس مسلسل غور و فکر سے اس کو زندگی کی حقیقت معلوم ہوتی ہے۔ وہ پکار اٹھتا ہے، خدایا، مجھے آخرت کی ابدی دنیا میں ناکامی سے بچا۔
آیات 193-194 — تخلیقِ خداوندی میں غور وفکر کے نتیجہ میں وہ اس قابل ہوجاتا ہے کہ وہ داعی حق کی بات کو کامل سنجیدگی کے ساتھ سنے۔ وہ تعصب کے تمام پردوں کو پھاڑ کر اس کو پہچان لے۔ وہ کسی تحفظ ذہنی کے بغیر داعی ٔ حق کی پکار پر، اس امید کے ساتھ لبیک کہتا ہے کہ اس کا ایسا کرنا اس کو اللہ کی نصرت کا مستحق بنائے گا۔
آیت 195 — یہ آیت بتاتی ہے کہ اللہ کے نزدیک فکری سطح پر اس کا اعتراف کافی نہیں۔ اللہ کے نزدیک ضروری ہے کہ آدمی کا فکری اعتراف عمل کی سطح پر ظاہر ہو، وہ اس کی عملی زندگی میںڈھل جائے۔
اس کے بعد چار عملی کردار کا ذکر کیا گیا ہے۔ ہجرت، اخراجِ وطن، اللہ کے راستے میںایذاء، اور قتال۔یہ چار باتیں اپنی شکل کے اعتبار سے مطلق نہیں ہیں، البتہ اپنی حقیقت کے اعتبار سے وہ مطلق ہیں، اور ہر زمانے کے اہل ایمان سے یکساں طور پر مطلوب ہیں۔ رسول کے معاصر اہل ایمان کے لیے اس کا اظہار ان چار صورتوں میں ہوا ہے۔
بعد کے زمانے میں حالات کی نسبت سے ان کی صورتیں مختلف ہو سکتی ہیں۔ تاہم ان کی اصل حقیقت قربانی (sacrifice) ہے، اور اپنی حقیقت کے اعتبار سے وہ ہمیشہ مطلوب رہے گی۔ جو ایمان قربانی کے بغیر ہو، وہ ایمان اللہ کے نزدیک مطلوب ایمان نہیں ہے۔ چوں کہ پیغمبر کے معاصر اہل ایمان کے ساتھ یہ چاروں قسم کے تجربات پیش آئے۔ مگر بعد کے اہل ایمان کے لیے زمانے کے اعتبار سےاس کی صورتیں مختلف ہو سکتی ہیں۔ان چاروں چیزوں کی اصل حقیقت قربانی کی سطح پر اپنے ایمان کا ثبوت دینا ہے۔بعد کے زمانے کے اہل ایمان کے لیے بھی یہ شرط موجود رہے گی۔ البتہ حالات کے اعتبار سے اس کی صورتیں مختلف ہوسکتی ہیں۔
آیات 196-198 —اس کے بعد انسانوں کے لیے دو مختلف قسم کے انجام کا ذکر کیا گیا ہے۔ جو لوگ خدا سے سرکشی کا طریقہ اختیار کریں، ان کے لیے آخرت میں سخت پکڑ ہوگی۔ اس کے برعکس، جو لوگ اللہ کی اطاعت کا طریقہ اختیار کریں وہ آخرت کی ابدی دنیا میں جنت کے باغوں میں جگہ پائیں گے۔
آیت 199 — اس آیت میں اہل ایمان کی اس صفت کاذکر ہے کہ وہ تعصب سے کامل طور پر خالی ہوتے ہیں۔وہ اللہ کے رسولوں کے درمیان تفریق نہیں کرتے۔وہ ہر رسول پر یکساں طور پر ایمان رکھتے ہیں۔کوئی دنیوی مصلحت ان کو سچائی کے راستے سے ہٹانے والی نہیں۔
آیت 200 — اس آیت میں صبر و استقامت کی تاکید کی گئی ہے۔ ایمان کے راستے پر چلنے کے بعد ایسے مواقع بار بارآتے ہیں، جو آدمی کو متزلزل کر سکتے ہیں اور اس کو شبہ میں ڈال سکتے ہیں۔اس طرح کے مواقع پر آدمی کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنی فکر کو پھر سے بیدار کرے۔ وہ غور و فکر کے ذریعے اپنے آپ کو یقین پر قائم رکھے۔ اس طرح اس کے اندر صبرو استقامت آئے گی۔ وہ دوسرے اہل ایمان کے ساتھ مضبوطی کے ساتھ بندھا رہے گا۔ اگر کوئی ناپسندیدہ بات پیش آئے گی تو وہ اس کو اپنی ذہنی بیداری کے ذریعے اپنے لیے غیر موثر بنادے گا۔
آخر میں فرمایا اتقوا اللہ لعلکم تفلحون۔ یہ تمام باتوں کا خلاصہ ہے۔مذکورہ تمام افعال صرف اس وقت مطلوب صورت میں انجام دیے جاسکتے ہیں، جب کہ ان کے پیچھے تقوی کی اسپرٹ موجود ہو۔ یہ صرف تقوی ہے جو کسی انسان کی حقیقی فلاح کا ضامن ہے۔ تقوی کے بغیر فلاح کا حصول ممکن نہیں۔
واپس اوپر جائیں

موت کا ذکر کثیر

پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اکثروا ذکر ہادم اللذات، یعنی الموت (ابن ماجہ، حدیث نمبر: 4258)یعنی موت کو بہت زیادہ یادکرو، جو لذتوں کو ڈھادینے والی ہے-
اس کا مطلب یہ ہے کہ موت کی یاد آدمی کے اندر دنیا رخی سوچ کو منہدم کردیتی ہے اور اُس کے اندر آخرت رخی سوچ پیدا کردیتی ہے- اگر آدمی بار بار موت کو یاد کرے، تو اِس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ وہ دنیا پسند انسان کے بجائے آخرت پسند انسان بن جائے گا-
اِس حدیث میں لذت کا لفظ اُن تمام چیزوں کے لیے ہے جوآدمی کے لیے کسی چیز کو مرکز توجہ بناتی ہے- اِس لحاظ سے حدیث کا مطلب یہ ہے کہ جو آدمی اِس حقیقت کو بہت زیادہ یاد کرے کہ وہ اِس دنیا میں ہمیشہ نہیں رہے گا بلکہ سو سال سے بھی کم مدت میں مرجائے گا تو اُس کا مرکز توجہ بدل جائے گا- وہ اُس دنیا کو زیادہ سے زیادہ اہم سمجھے گا جو موت کے بعد آنے والی ہے، نہ کہ اُس دنیا کو جس میں موت سے پہلے عارضی طورپر زندگی گزار رہاہے-
یہ طرز فکر آدمی کے اندر ایک انقلاب پیدا کردے گا- اُس کی سوچ بدل جائے گی، اُس کا سلوک بدل جائے گا، اُس کے لین دین کا طریقہ بدل جائے گا، اُس کی اخلاقی روش بدل جائے گی، اُس کے روزوشب بدل جائیں گے- یہی مطلب ہے لذتوں کو ڈھانے کا-
حقیقت یہ ہے کہ موت کی یاد آدمی کے اندازِ فکر کو پوری طرح بدل دیتی ہے- جس چیز کو آج کل ’’یہیں اور ابھی‘‘ (right here, right now) کہاجاتا ہے، وہ صرف اُس وقت پیدا ہوتا ہے جب کہ انسان موت سے غافل ہو- اگر اُس کو موت کی حقیقت کا زندہ شعور ہوجائے تو وہ کبھی اِس قسم کا فارمولا نہ اپنائے- موت کے ہادم اللذات ہونے کا مطلب یہ ہے کہ موت آدمی کی زندگی کے رخ کو مکمل طورپر بدل دیتی ہے-
واپس اوپر جائیں

زوال کی علامت

عمرو بن میمون التابعی (وفات: 74ھ) نے صحابہ کے بارے میں کہا: کان أصحاب محمد صلى اللہ علیہ وسلم أسرع الناس إفطارا وأبطأہ سحورا (مصنف عبد الرزاق: 7591)۔ یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب افطار میں بہت جلدی کرنے والے لوگ تھے، اور وہ سحری میں بہت دیر کرنے والے لوگ تھے۔
تابعی کے اس قول کا مطلب یہ نہیں ہے کہ صحابہ وقت سے پہلے افطار کر لیتے تھے، یا وہ سحری میں وقت ختم ہونے کے بعد بھی کھاتے رہتے تھے۔ اس کا مطلب صرف یہ ہے کہ صحابہ تکلف سے بَری تھے۔ ان کے اندر زندہ دین داری تھی، نہ کہ روایتی دین داری۔ روایتی دین داری کا مزاج ظواہر میں احتیاط اور مبالغہ کا مزاج ہوتا ہے۔ اس کے بر عکس، جن لوگوں کے اندر زندہ دین داری ہو، ان کا حال یہ ہوتا ہے کہ اسپرٹ کو اصل سمجھا جائے، نہ کہ فارم کو۔ چناں چہ وہ وقت آتے ہی فورا افطار کرلیتے ہیں، وہ احتیاط کے نام پر پانچ منٹ کا اضافہ نہیںکرتے۔ ا ن کا یہی حال سحری اور دوسرے معاملات میں بھی ہوتا ہے۔
امت پر جب زوال آتا ہے تو ایسا نہیں ہوتا کہ اس کے افراد دین کو مکمل طور پر چھوڑ دیں۔ دورِ زوال میں جو بات ہوتی ہے وہ یہ کہ امت کےافرادمیں دین کی اسپرٹ ختم ہوجاتی ہے۔ البتہ دین کے نام پر کچھ ظواہر باقی رہتے ہیں۔ دین کی حقیقت موجود نہیں ہوتی لیکن دین کا فارم (form) ان کے یہاں موجود رہتا ہے۔
انسان کی نفسیات یہ ہے کہ وہ جس چیز کو اہم سمجھے اس میں زیادہ سے زیادہ اعتناء کرے۔ جب امت زندہ ہوتی ہے تو اس کے افراد دین کی اسپرٹ کے معاملے میں زیادہ اہتمام کرتے ہیں، وہ ہر وقت سوچتے رہتے ہیں کہ ان کی دینی اسپرٹ میں کمی تو نہیں ہوگئی، اگر وہ اپنی زندگی میں کوئی ایسی چیز دیکھتے ہیں، جو اسپرٹ کے مطابق نہ ہو تو اس پر وہ تڑپ اٹھتے ہیں، اور فورا اصلاح کی کوشش کرتے ہیں۔اس کے برعکس دورِ زوال میں یہ حال ہوتا ہے کہ امت کے افراد ظواہر میں زیادہ سے زیادہ اہتمام کرنے لگتے ہیں۔
واپس اوپر جائیں

ایک انقلابی اصول

قرآن میں کلمۂ سوا (3:64)کا اصول بتایا گیا ہے۔کلمۂ سوا کا مطلب ہے اپنے اور مخاطب کے درمیان مشترک بنیاد (common ground) تلاش کر کے اپنی بات کہناتاکہ مخاطب کسی اجنبیت کے بغیر آپ کی بات سن سکے۔ کلمۂ سوا کا یہ اصول کسی محدود معنی میں نہیں ہے، بلکہ وہ نہایت وسیع معنی میں ہے۔
موجودہ زمانے میں کلمۂ سوا کے اصول کا انطباقی امکان(applicable scopes) بہت زیادہ بڑھ گیا ہے۔اس کا خاص سبب موجودہ زمانے میں اوپین نیس کا مزاج (spirit of openness) ہے۔ آج یہ ممکن ہوگیا ہے کہ آپ لائبریری کلچر کو استعمال کر کے ہر جگہ اپنے لٹریچرکو مطالعے کی میز پر پہنچادیں، بک فیر کے رواج کو استعمال کر کے اپنی مطبوعات کو ہر شہر اور ہر ٹاؤن میں پہنچادیں، سیمینار اور کانفرنس میں شرکت کر کے ہر طبقے کے لوگوں تک اپنی پہنچ بڑھادیں، سیاحت کلچر کو استعمال کرکے اپنی بات کو عالمی دائرے میں پھیلادیں، تعلیمی اداروں کو استعمال کر کے نوجوانوں کو اپنے مقصد کے مطابق تربیت دیں، بڑے بڑے اخبارات اور ٹی وی کے نیٹ ورک کو اپنے خیالات کی اشاعت کا ذریعہ بنالیں، وغیرہ ۔
مگر ان جدید مواقع کو استعمال کرنے کی ایک لازمی شرط ہے۔ وہ یہ کہ آپ اپنے اورجدید ذہن کے درمیان کلمۂ سوا کو دریافت کریں، اور پھر دانش مندانہ انداز میں اس کو استعمال کریں۔ جدید ذہن کی خاص صفت بے تعصبی ہے۔ جدید ذہن کے نزدیک طبقاتی سوچ (sectarian thinking) شجر ممنوعہ کی حیثیت رکھتا ہے۔ جدید ذہن کے مطابق موضوعی فکر (objective thinking) کی حیثیت معیاری فکر کی ہے۔ جدید ذہن امن پسند ذہن ہے، وہ نفرت اور تشدد کو ہر حال میں برا سمجھتا ہے۔
واپس اوپر جائیں

دیکھیں صبح کیسے ہوتی ہے

کہا جاتا ہے کہ ایک بوڑھی عورت ایک گاؤں میں رہتی تھی- اس کے یہاں ایک مرغا تھا جو اپنی عادت کے مطابق صبح کو بانگ دیتا تھا- بوڑھی عورت یہ سمجھتی تھی کہ گاؤں میں اس کے مرغ کی بانگ سے صبح ہوتی ہے- ایک بار وہ گاؤں والوں سے کسی بات پر غصہ ہوگئی- اس کے بعد اس نے اپنے مرغ کو لیا اور یہ کہتی ہوئی گاؤں سے نکل گئی کہ — اب دیکھیں یہاں کیسے صبح ہوتی ہے-
بظاہر یہ ایک کہانی ہے لیکن اپنی حقیقت کے اعتبار سے وہ انسانوں کے عام مزاج کے مطابق ہے- یہ مزاج اتنا عام ہے کہ شاید کسی بھی شخص کا اس میں استثنا (exception) نہیں- پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے مکی دور کا واقعہ ہے، آپ کے چچا ابو طالب آپ پر ایمان نہیں لائے تھے مگر خاندانی تعلق کی بنا پر وہ آپ کا ساتھ دیتے تھے- آخر عمر میں کہا جانے لگا کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لانے کے لئے آمادہ ہوگئے ہیں- یہ سن کر قریش کے سردار ابو طالب کے گھر پر جمع ہوئے اور ان کو عار دلایا کہ کیا آپ اپنے باپ عبد المطلب کے دین کوچھوڑ دیںگے- اِس طرح انھوں نے ابو طالب کو رسول اللہ پر ایمان لانے سے روک دیا- قریش کے سردار اپنے اس کارنامے کے بعد جب ابو طالب کے گھر سے واپس ہوئے تو ان کی نفسیات یہ تھی — اب دیکھیں محمد کا مشن کیسے جاری رہتا ہے- مگر تاریخ جانتی ہے کہ قریش کے سرداروں کا خیال کتنا زیادہ بے بنیاد ثابت ہوا-
اس طرح کے واقعات تاریخ میں بار بار پیش آئے ہیں اور اب بھی پیش آرہے ہیں- مگر اس قسم کے نادان لوگوں نے تاریخ کے تجربات سے کوئی سبق نہیں لیا- وہ اب بھی اس حقیقت کو نہیں سمجھتے کہ کوئی مشن اپنی داخلی طاقت (inner strength) کے زور پر چلتا ہے نہ کہ کسی انسان کے ساتھ دینے یا ساتھ نہ دینے پر-اس دنیا کو بنانے والے نے دنیا کو اس طرح بنایا ہے کہ یہاں نہ کسی کی موافقت سے کسی کا کام بنتا ہے، اور نہ کسی کی مخالفت سے کوئی کام بگڑتا ہے، جو کچھ ہوتا ہے وہ خالق کے مقرر منصوبے کے مطابق ہوتا ہے-موافقت یا مخالفت دونوں صرف ظاہری اسباب ہیں-
واپس اوپر جائیں

مسِّ مصحف کے لیے وضو کی شرط

کچھ لوگوں کا ماننا ہے کہ قرآن ایک مقدس کتاب ہے- اس کو چھونے سے پہلے وضو کرنا ضروری ہے- وضو کے بغیر قرآن کو چھونا جائز نہیں- قرآن کو چھونے یا اس کو ہاتھ میں لے کر پڑھنے کے لیے ضروری ہے کہ آدمی وضو کرکے اپنے آپ کو پاک کرچکا ہو- لیکن یہ شرط بعد کے زمانے کی پیداوار ہے- دورِ اول میں یا قرآن اور حدیث میں نصّاً اس کا کوئی ثبوت موجود نہیں-
جو لوگ یہ رائے رکھتے ہیں، وہ اپنے نقطۂ نظرکی تائید میں، قرآن کی یہ آیت پیش کرتے ہیں: لَا یَمَسُّہُ إلَّا الْمُطَہَّرُوْنَ (56:79) یعنی قرآن کو نہیں چھوتے، مگر وہ لوگ جو کہ مطہَّر ہیں-
قرآن کی اس آیت کا تعلق مذکورہ مسئلے سے نہیں ہے- اس آیت میں ایسا کوئی لفظ نہیں ہے، جس سے یہ معلوم ہو کہ مصحف کو چھونے کے لیے باوضو ہونا ضروری ہے- قرآن کی اس آیت میں مطہَّر یا پاکیزہ (purified)سے مراد فرشتے ہیں- یعنی اس میں اس واقعے کا ذکر ہے، جس کا تعلق فرشتوں سے ہے- اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ قرآن کی اس آیت میں جس مَسّ کا ذکر ہے اس سے مراد مسِّ مادی نہیں ہے، بلکہ مسِّ معنوی ہے۔
اس آیت کا سیاق بتاتا ہے کہ یہاں اُن فرشتوں کا ذکر ہے، جو قرآن کی وحی لے کر رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر اترتے تھے، اور آپ کو قرآن پہنچاتے تھے- اس سے معلوم ہوا کہ فرشتے جس قرآن کی تنزیل کا ذریعہ بنتے تھے، وہ قرآن باعتبار معنی ہوتا تھا نہ کہ قرآن باعتبار مصحف-
حقیقت یہ ہے کہ قرآن کو چھونے کے لیے باوضو ہونے کی بحث کی بنا پر آیت کا اصل مقصود اوجھل ہوگیا ہے- اس آیت میں دراصل یہ بتایا گیا ہے کہ قرآن ایک عظیم کلام ہے- وہ ایک ایسی کتاب ہے جو اعلی معانی پر مشتمل ہے، وہ رب العالمین کے خصوصی اہتمام کے تحت پیغمبر آخر الزماں پر اتارا گیا ہے- انسان اگر اس کے معانی کی عظمت پر غور کرے تو وہ یہ ماننے پر مجبور ہوجائے گا کہ یہ اللہ کا کلام ہے نہ کہ کسی انسان کا کلام-
واپس اوپر جائیں

اجتہاد یا فتویٰ

امام ابو حنیفہ (وفات 150 ھ) کے پاس ایک شخص آیا اور کہا، میں نے قسم کھائی ہے کہ میںاپنی بیوی سے کلام نہ کروں گا یہاں تک کہ وہ مجھ سے کلام کرے، اور میری بیوی نے قسم کھا رکھی ہے کہ وہ مجھ سے بات نہ کرے گی، یہاں تک کہ میں اس سے بات کروں- امام صاحب نے جواب دیا تم دونوں میں سے کوئی بھی حانث نہیں-
سفیان ثوری (وفات: 161ھ) نے جب یہ جواب سنا تو ناراضگی کا اظہار فرمایا اور امام اعظم کے پاس پہنچے اور کہا آپ نے یہ جواب کیسے دے دیا- امام ابو ابو حنیفہ نے فرمایا کہ مرد کے قسم کھانے کے بعد جب عورت نے مرد سے مخاطب ہو کر کہا کہ میں تم سے بات نہ کروں گی جب تک کہ تم مجھ سے بات نہ کرو تو مرد کی قسم تمام ہوگئی، اور مرد اس سے بات کرے گا تو حانث نہ ہوگا، اور مرد جب اس سے بات کرلے گا تو عورت کی قسم تمام ہوجائے گی، پھر عورت بھی حانث نہ ہوگی-
امام ابو حنیفہ (اور دوسرے ائمہ فقہ) کی اس قسم کی باتوں کو اجتہاد سمجھا جاتا ہے- مگر اپنی حقیقت کے اعتبار سے وہ جزئی مسائل میں فتوی دینےکا واقعہ ہے- اجتہاد زیادہ بڑے بڑے شرعی امور میں دین کا موقف بتانے کا نام ہے، نہ کہ جزئی نوعیت کے مسائل میں فقہی مسئلہ بتانے کا نام-
اس قسم کے جزئی امور پر فتوی دینے والوں کو مجتہد بلکہ مجتہد مطلق سمجھ لیا گیا - یہ بلا شبہہ اجتہاد کا کمتر اندازہ (underestimation) تھا- یہی وہ چیز ہے جس نے امت سے حقیقی اجتہاد کا خاتمہ کردیا- یہ کہنا درست نہیں کہ بعد کے زمانے میں اجتہاد کا دروازہ بند ہوگیا- صحیح بات یہ ہے کہ اجتہاد کے غلط تصور کی بنا پر اجتہاد کا ذہن ختم ہوگیا، اسی کوتاہی کا یہ نتیجہ ہے کہ موجودہ زمانے میں بڑے بڑے مسائل پیش آئے جو اجتہاد کا تقاضا کرتے تھے لیکن علماء اس سے عاجز ثابت ہوئے کہ وہ ان امور میں اجتہاد کرکے امت کو صحیح رہنمائی دیں-
واپس اوپر جائیں

فطرت کا نظام

قرآن کی سورہ التوبہ میںایک واقعہ کے ریفرنس میں فطرت کا ایک قانون (9:36) بتایاگیا ہے- خالق کو یہ مطلوب ہےکہ یہ قانون تاریخ میں مسلسل طورپر قائم رہے، تاکہ تخلیق کا مقصد پورا ہونے میں کوئی رکاوٹ پیدا نہ ہو- چوں کہ انسان کو آزادی دی گئی ہے، اس لئے انسان اپنی آزادی کا غلط استعمال کرکے کبھی اس نظام میں خلل پیدا کردیتا ہے- اس وقت انسانی آزادی کو برقرار رکھتے ہوئے اللہ مداخلت کرکے اس رکاوٹ کو درست کرتاہے، تاکہ فطرت کا نظام اپنے مطلوب تخلیقی نقشے پر چلتا رہے-
اس معاملے کی ایک جزئی مثال قدیم عرب میںنَسی (intercalation) کا واقعہ ہے-تخلیقی نظام کے مطابق قمری کیلنڈر (lunar calendar)اور شمسی کیلنڈر (solar calendar) کے درمیان ایک سال میں تقریباً بارہ دن کا فرق ہوتا ہے- قدیم زمانے میں عربوں نے نَسی کا طریقہ اختیار کیا- وہ خود ساختہ طورپر ہر سال ایسا کرتے تھے کہ قمری کیلنڈر کے دنوں میں اضافہ کرکے اس کو شمسی کیلنڈر کے مطابق کرلیتے تھے-
یہ طریقہ تخلیقی نظام میں مداخلت کی حیثیت رکھتا تھا- پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے عرب میں جو اصلاحات کیں، ان میں سے ایک یہ تھی کہ آپ نے فتح مکہ (8 ھ) کے بعد ایک حکم کے تحت اس طریقے کو ختم کردیا، اور قمری کیلنڈر کو اس کے فطری نقشے پر قائم کردیا- حوالہ کے لئے ملاحظہ ہو ، خطبۂ حجة الوداع، صحیح البخاری ، حدیث نمبر: 3197، صحیح مسلم، حدیث نمبر: 1679-
اس طرح کے اصلاحی معاملہ کی زیادہ بڑی مثال وہ ہے جس کا ذکر قرآن کی سورہ الانفال میں ان الفاظ میں آیا ہے:وَقَاتِلُوْہُمْ حَتّٰی لَا تَکُوْنَ فِتْنَةٌ وَّیَکُوْنَ الدِّیْنُ کُلُّہٗ لِلّٰہِ (8:39) یعنی اور ان سے لڑو یہاں تک کہ فتنہ باقی نہ رہے اور دین سب اللہ کے لئے ہوجائے-
قرآن کی اِس آیت میں فتنہ سے مراد مذہبی تشدد (religious persecution) ہے- قدیم زمانے میں ساری دنیا میں مذہبی انتہا پسندی (religious extremism) کا طریقہ رائج تھا- مزید یہ کہ اس مذہبی انتہا پسندی کو پولٹسائز (politicize)کرکے، اس کے حق میں وقت کے حکمرانوں کی حمایت بھی حاصل کرلی گئی تھی، اس کے نتیجے میں مذہبی انتہا پسندی نے عملاً مذہبی تشدد (religious persecution) کی صورت اختیار کرلی تھی-
یہ صورت حال خدا کے قائم کردہ تخلیقی نقشے کے خلاف تھی- اللہ کو یہ مطلوب تھا کہ مذہب کے معاملے میں تشدد کا طریقہ ختم ہو، اس کے بجائے پورے معنوں میں مذہبی آزادی (religious freedom) کا طریقہ رائج ہوجائے- تاکہ ہر شخص آزادانہ طورپر اپنے عقیدہ کے مطابق عمل کرسکے-
مذہبی جبر کے خاتمہ کا یہ عمل رسول اور اصحاب رسول کے زمانے میں شروع ہوا- تدریجی عمل (gradual process) کے تحت وہ تاریخ میں سفر کرتا رہا- مختلف مراحل سے گزرتے ہوئے یہ عمل یورپ میں پہنچا- اہل یوروپ نے اس میں مزید اضافے کئے- یہاں تک کہ مذہبی آزادی کا مطلوب نظام اپنی آخری صورت میں قائم ہوگیا- دنیا میں مذہبی آزادی کا دور لانے کے معاملے میں اہلِ یوروپ کارول تکمیلی رول کی حیثیت رکھتا ہے-
موجودہ زمانے کے مسلمانوں کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ تاریخ کے اس واقعے کو سمجھیں، وہ اہلِ مغرب کے خلاف اپنے منفی ذہن (negative thinking)کو مکمل طورپر ختم کردیں، اس معاملے میں وہ اہلِ مغرب کے کنٹری بیوشن کا اعتراف کریں، وہ اہلِ مغرب سے رقابت کا تعلق ختم کردیں، اور اس کے بجائے دوستی کا طریقہ اختیار کریں، وہ اس معاملے میں اہلِ مغرب کو اپنا محسن سمجھیں-
مسلمانوں کے درمیان جب اس قسم کا مثبت ذہن پیدا ہوگا تو اس کے بعد یہ ہوگا کہ مسلمانوں کے اندر سے منفی ذہن کا مکمل خاتمہ ہوجائے گا، اور دعوت إلی اللہ کا فریضہ بخوبی طورپر انجام پانے لگے گا-مسلمانوں کو چاہئے کہ وہ اپنی قومی شکایتوں کو مکمل طورپر ختم کردیں- اس کے بعد ہی یہ ممکن ہوگا کہ مسلمان خدا کے قائم کردہ فطری نظام کو سمجھیں، اور پیدا شدہ مواقع کو استعمال کریں-
واپس اوپر جائیں

حمد اور کَبَد کے درمیان

قرآن میں ایک طرف حمد خداوندی کی تعلیم دی گئی ہے۔ دوسری طرف یہ بتایا گیا ہے کہ خدا کے تخلیقی نقشہ کے مطابق دنیا انسان کے لیے کبد (90:4) کی دنیا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ مسائل کے درمیان رہتے ہوئے خدا کاشکر کرنے والے بنو۔ناپسندیدہ حالات میں بھی تمہارا دل شکر الٰہی کے مثبت جذبات سے معمور رہے۔ حمد اللہ کی نسبت سے مطلوب ہے، اور صبر انسان کی نسبت سے۔
قرآن کے اس بیان کے مطابق، دنیا انسان کے لیے دارالکبد ہے۔ ایسی حالت میں، وہ کس طرح سچا شکر گزار بن کر رہ سکتا ہے۔ جواب یہ ہے کہ حمد اللہ کی نسبت سے ہے، اور کبد انسان کی نسبت سے۔ انسان سے اصل چیز جو مطلوب ہے، وہ حمد اور شکر ہے۔ دارالکبد میں انسان شکر گزار کیسے بنے۔ اس کا جواب صبر ہے۔ مومن کو انسان کی زیادتیوں پر صبر کرنا ہے تاکہ اس کے اندر شکر کی اسپرٹ باقی رہے، وہ ہرحال میں اپنے رب کے لیے شکر کا رسپانس دیتا رہے۔ دوسروں کے مقابلے میں صبر کرنا کوئی منفی بات نہیں۔ اس میں خود انسان کی اپنی بھلائی چھپی ہوئی ہے۔
جو شخص انسان کی زیادتیوں پر صبر کرے گا اس کے اندر ذہنی انضباط (intellectual discipline) کی صلاحیت پرورش پائے گی۔ اس کے اندر ذہنی بیداری آئے گی۔ وہ ایک سنجیدہ انسان بن جائے گا۔ اس کی فطرت میں چھپے ہوئے امکانات (potential) اَن فولڈ (unfold) ہونے لگیں گے۔ اس کے اندر گہری سوچ (deep thinking) پیدا ہوگی۔ اس طرح وہ اس قابل ہوجائے گا کہ اعلیٰ معرفت کی سطح پر جینے لگے۔ وہ ایک دانش مندانسان (man of wisdom) بن جائے گا۔
انسان کو چاہئے کہ وہ دنیا کے کبد (مسائل) پر ری ایکٹ (react) کرنے کے بجائے ان کے بارے میں آرٹ آف منیجمنٹ سیکھے۔ یہی وہ واحد قیمت ہے جس کو ادا کرکے انسان اس قابل ہو سکتا ہے کہ وہ دنیا میں اپنے خالق کی مرضی کے مطابق رہے، اور آخرت میں جنت میں داخلے کا مستحق قرار پائے۔
واپس اوپر جائیں

انسان کا امتحان

قرآن میں انسان کی تخلیق کے بارے میں بتایا گیاہے :لَقَدْ خَلَقْنَا الْاِنْسَانَ فِیْٓ اَحْسَنِ تَقْوِیْمٍ ۝ ثُمَّ رَدَدْنٰہُ اَسْفَلَ سٰفِلِیْنَ (95:4-5)۔ انسان کو احسنِ تقویم کے ساتھ پیدا کیا جانا اور پھراس کو اسفلِ سافلین میں ڈال دینا، کوئی سزا کی بات نہیں۔ یہ انسان کے بارے میں نظام تخلیق کی بات ہے۔ انسان اپنی تخلیق کے اعتبار سے لامحدود خواہشات کے ساتھ پیدا کیاگیا ہے۔ لیکن عملاً جس دنیا میں وہ زندگی گزارتا ہے، وہاں خواہشات کی صرف محدود تکمیل ممکن ہے۔ انسان اپنی پوری عمر انہی دو مختلف تقاضوں کے درمیان زندگی گزارتا ہے:
Life is a perpetual conflict between wanting more and receiving less.
انسان کے ساتھ یہ معاملہ اس کی اپنی بھلائی کے لئے کیاگیاہے۔ اس صورت حال کے نتیجہ میں انسان کے اندر ذہنی کش مکش (intellectual struggle) کی کیفیت پیدا ہوتی ہے۔ یہ انسان کی ترقی کے لئے بے حد اہم ہے۔ اس ذہنی کش مکش کا یہ نتیجہ ہے کہ انسان ذہنی جمود (intellectual stagnation) سے بچ جاتا ہے۔ انسان کے اندر مسلسل طورپر ذہنی ارتقا (intellectual development)کا عمل جاری رہتاہے۔ انسان کی ذہنی بیداری کا سفر کسی مقام پر نہیں رکتا۔ اس اعتبار سے یہ حالت ایک عظیم رحمت کی حیثیت رکھتی ہے۔انسان کی سب سے بڑی ضرورت یہ ہے کہ اس کے اندر تخلیقی فکر (creative thinking) پیدا ہو۔ یہ انسان کی سب سے بڑی صفت ہے۔ یہ صفت کبھی ہموار حالات میں پیدا نہیں ہوتی۔ اس کے لئے ضرورت ہوتی ہے کہ انسان عدم تشفی (dissatisfaction) کی صورت حال سے دوچار ہو۔ یہی وہ چیز ہے جو کسی انسان کو تخلیقی انسان بناتی ہے۔
اس معاملے کو قرآن میں انسان کا ابتلاء (test) کہا گیا ہے۔ یہ ابتلاء کسی منفی معنی میں نہیں ہے۔ بلکہ وہ کامل طور پر مثبت معنی میں ہے۔ وہ انسان کی بہتری کے لیے ہے۔ انسان اگر اس حقیقت کو جانے تو وہ ابتلاء کی صورت حال کا مثبت ذہن کے ساتھ استقبال کرے گا۔
واپس اوپر جائیں

شیطان سے حفاظت

ایک روایت حدیث کی مختلف کتابوں میں آئی ہے- مسند احمد کے الفاظ یہ ہیں: یا عمر فواللہ، إن لقیک الشیطان بفج قط، إلا أخذ فجا غیر فجک (مسند احمد، حدیث نمبر: 1624 ) یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اے عمر، خدا کی قسم، جب بھی شیطان تم سے کسی راستہ میں ملتا ہے، تو وہ تمھارے راستے کے بجائے دوسرا راستہ اختیار کرلیتاہے-
اس حدیث میں جو بات کہی گئی ہے، وہ کوئی پراسرار (mysterious) بات نہیں ہے، اور نہ وہ ایک شخص کی فضیلت کے معنی میں ہے- حقیقت یہ ہے کہ یہ ہر اس شخص کی بات ہے، جس کو شعوری ایمان حاصل ہو- یہ وہی ایمانی تجربہ ہے جس کو قرآن میں ان الفاظ میں بتایا گیا ہے- اِنَّ الَّذِیْنَ اتَّقَوْا اِذَا مَسَّہُمْ طٰۗىِٕفٌ مِّنَ الشَّیْطٰنِ تَذَکَّرُوْا فَاِذَا ہُمْ مُّبْصِرُوْنَ (7:201) یعنی جو لوگ ڈر رکھتے ہیں جب کبھی شیطان کے اثر سے کوئی برا خیال انھیں چھو جاتا ہے، تو وہ فوراً چونک پڑتے ہیں،اور پھر اسی وقت ان کو سوجھ آجاتی ہے-
قرآن کی اس آیت کے مطابق شیطان سے بچنے کا اصل راز تذکر ہے- تذکر کا مطلب ہے یاد کرنا(to remember) - مگر یہ یاد، سادہ طورپر صرف یاد کے معنی میں نہیں ہے- اس کا مطلب یہ ہے کہ آدمی اتنا زیادہ باشعور ہو کہ جب شیطان اس کے دل میں کوئی وسوسہ ڈالے، تو وہ فوراً اس کا تجزیہ (analysis) کرکے، اس کو بے اثر بنادے- حضرت عمر اپنی ذہنی بیداری کی بنا پر یہی کام کرتے تھے- دوسرے وہ تمام اہل ایمان بھی یہی کام کریں گے، جن کے اندر ذہنی ارتقا کے نتیجہ میں تجزیہ کی صلاحیت پیداہوچکی ہو- مثلاً اس نوعیت کاایک واقعہ یہ ہے - حضرت عمر خلیفہ کی حیثیت سے مدینہ میں اپنے مقام پر بیٹھے ہوئے تھے- اتنے میں ایک شخص (عیینہ بن الحصن) آیا- اس نے کہا: یا ابن الخطاب، فواللہ ما تعطینا الجزل ولا تحکم بیننا بالعدل- یعنی اے ابن خطاب، تم ہم کو نہ کچھ دیتے ہو، اور نہ ہمارے درمیان انصاف کرتے ہو- یہ سن کر حضرت عمر کو غصہ آگیا-انھوں نے اس کا قصد کیا (تاکہ اس کو سزا دے)- اس وقت حربن قیس نے کہا، اے امیر المومنین، اللہ نے قرآن میں فرمایا ہے کہ نادان سے اعراض کرو ( 7:199) اور یہ بلا شبہہ ایک نادان شخص ہے- یہ سن کر عمر رک گئے، اور انھوں نے عیینہ کے خلاف کچھ نہیں کیا(صحیح البخاری: 4642)
حضرت عمر قرآن کی مذکورہ آیت سن کر کیوں رک گئے- اس کا سبب یہ تھا کہ ان کے ذہن نے معاملہ پر ازسر نو غور کیا- پہلے وہ عیینہ کو ایک غلط انسان سمجھ کر، اس کے خلاف کارروائی کرنا چاہتے تھے- اب انھوں نے ازسرِ نو غور کیا، تو ان کی سمجھ میں آیا کہ یہ ایک نادان آدمی ہے، اور اس قابل ہے کہ اس سے اعراض کا معاملہ کیا جائے-
اس طرح کے معاملات دوسرے صحابہ اور تابعین کے بارے میں بھی کثرت سے کتابوں میں موجود ہیں- مثلاً ابوذر اور بلال دونوں صحابی تھے- ابو ذر کو کسی بات پر بلا ل پر غصہ آگیا- ان کی زبان سے نکلا، یا ابن السوداء (اے سیاہ فام ماں کے بیٹے)- رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات معلوم ہوئی تو آپ نے فرمایا: یا أباذر، إنک إمرء فیک جاہلیة(اے ابوذر، تمھارے اندر ابھی تک جاہلیت کا اثر موجود ہے)- ایک اور روایت میں ہے کہ آپ نے فرمایا کہ یہ لوگ تمھارے بھائی (اخوان) ہیں-یہ سن کر حضرت ابوذر کے اندر ندامت پیدا ہوئی- ان کو محسوس ہوا کہ میں اس معاملہ کو سیاہ فام اور سفید فام کا معاملہ سمجھتا تھا- لیکن حقیقت کے اعتبار سے یہ انسان کا معاملہ ہے- اورا نسان کے اعتبار سے دونوں برابر ہیں- پہلے اگر شیطان نے ان پر حملہ کیا تھا تو اب تذکر کے نتیجہ میں وہ شیطان کے اثر سے باہر آگئے-
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جو بات فرمائی، وہ عمر کی فضیلت کے طورپر نہ تھی، بلکہ آپ نے ایک شخص کے حوالے سے ایک اصولی بات بتائی- وہ یہ کہ اس دنیا میں ہر انسان شیطانی حملوں کی زد میں ہے- ہر انسان شیطانی وسوسہ کا شکار ہوتا ہے- اس مسئلہ کا حل یہ ہے کہ آدمی کا ایمانی شعور اتنا زیادہ بیدار ہو کہ جب بھی شیطان اس کے دل میں کوئی برا خیال ڈالے، تو وہ فوراً اس کا تجزیہ کرکے اپنے آپ کو اس کے اثر سے بچالے- مذکورہ حدیث میں راستہ بدلنے کی جو بات کہی گئی ہے، وہ انسان کی نسبت سے ہے، نہ کہ شیطان کی نسبت سے-
واپس اوپر جائیں

تیار ذہن کی اہمیت

کہاجاتاہے کہ سائنس میں جو دریافتیں ہوئی ہیں، وہ زیاہ تر اتفاقات کا نتیجہ ہیں- ریسرچ کے دوران کوئی اتفاقی واقعہ پیش آتاہے، اس سے ایک سائنس داں کا ذہن ایک امکان کی طرف منتقل ہوجاتاہے اور پھر اس پر مزید کام کرکے سائنس داں ایک حقیقت تک پہنچتاہے:
The role of chance in science, or luck in science, describes the ways that unexpected discoveries are made. Somewhere between 30% and 50% of all scientific discoveries are in some sense accidental.
Louis Pasteur said: “Luck favours the prepared mind”.
یہ بات جس طرح سائنس کے لیے درست ہے، اُسی طرح وہ دوسری دریافتوں کے لیے بھی درست ہے- مذہب میں بھی ایسے ہی ہوتاہے کہ ایک آدمی، جب اپنے آپ کو مطالعہ اور تدبر کے ذریعہ تیار کرتا ہے تو وہ اِس قابل ہوجاتاہے کہ کسی بات کے ظاہری معنی کے ساتھ اُس کے اندر چھپی ہوئی حکمت کو بھی جان لے- اس معاملہ کو قرآن میںتوسم کہاگیاہے- ایسا آدمی اِس قابل ہوتاہے کہ وہ معمولی باتوںسے غیر معمولی نتیجہ اخذ کرسکے-
اصل اہمیت یہ ہے کہ انسان مطالعہ اور مشاہدہ اور غوروفکر کے ذریعہ اپنے آپ کو ایک تیار ذہن بنائے- وہ اپنے اندر اخذ واستنباط کی صلاحیت پیدا کرے- وہ اپنی تفکیری صلاحیت کو مسلسل ترقی دیتا رہے- جو انسان ایسا کرے، وہ ایک تیار ذہن ہے- ایسے انسان کا دماغ، مقناطیس کی مانند ہوجائے گا- جب بھی کوئی ذرۂ معرفت اُس کے سامنے آئے گا، وہ فوراً اُس کو اخذ کرلے گا- یہی وہ انسان ہے، جس کو قرآن میں عارف انسان کہاگیاہے-
اصل یہ ہے کہ آدمی نے اپنے آپ کو مطالعہ اور غور و فکر کے ذریعے ایک تیار ذہن بنا رکھا ہو۔ جب ایسا ہوگا تو وہ معلوم کے درمیان نامعلوم کو جان لے گا، وہ ظاہر کے درمیان مخفی حقیقت کو دریافت کرلے گا۔
واپس اوپر جائیں

دو چہرے والا شخص

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: إن شر الناس ذوالوجہین الذی یأتی ہؤلاء بوجہٍ، وہؤلاء بوجہٍ (صحیح البخاری،حدیث نمبر: 7179) یعنی لوگوں میں سب سے برا شخص وہ ہے جو دو چہرے والا ہو، وہ کچھ لوگوں سے ایک چہرہ کے ساتھ ملے اور کچھ سے دوسرے چہرے کے ساتھ-
یہ وہی کردارہے، جس کو دوہرا معیار (double standard) کہاجاتا ہے- کوئی انسان ایسا رویہ کیوں اختیار کرتاہے- اِس کا سبب مفاد پرستی ہے-ایسے شخص کا اصل کنسرن (concern) یہ ہوتاہے کہ اس کا مادی مفاد مجروح نہ ہونے پائے- وہ ہر ایک سے فائدہ حاصل کرسکے- اس مقصد کے لیے وہ یہ طریقہ اختیار کرتاہے کہ لوگوں کے ساتھ اس طرح بات کرے کہ ہر ایک اُس کو اچھا سمجھے- کسی سے اُس کا بگاڑ نہ ہونے پائے- یہی مزاج اُس آدمی کو دوہرا معیار والا شخص بنادیتاہے-
اِس قسم کا طریقہ اختیار کرنے کے بعد اُس کو یہ وقتی فائدہ تو حاصل ہوتا ہے کہ وہ ہر ایک کی نظر میںاچھا انسان بن جاتا ہے، لیکن اِس طریقہ کا شدید تر نقصان یہ ہوتا ہے کہ اُس کی زندگی کا کوئی اصول نہیں ہوتا- اُس کے اندر وہ برائی پیدا ہوجاتی ہے، جس کو بے اصولی کی روش (unprincipled behaviour)کہا جاتاہے- یہی وہ کردار ہے، جس کو شریعت کی زبان میں منافق کہاگیاہے-
منافقانہ روش کادوسرا نقصان یہ ہوتاہے کہ ایسے آدمی کے اندر ذہنی ارتقا (intellectual development)کا عمل رک جاتا ہے- خالق نے اس کی فطرت میں جو ارتقائی امکانات رکھے ہیں، وہ سب کے سب بند پڑے رہتے ہیں، وہ اپنا ظہور نہیں پاتے- یہاں تک کہ ایسا انسان دھیرے دھیرے حیوان بشکل انسان بن کر رہ جاتا ہے- وہ بظاہر خوبصورت الفاظ بولتا ہے، لیکن وہ اعلی کیریکٹر سے یکسر محروم ہوتا ہے-
واپس اوپر جائیں

ہجرت ایک تدبیر

پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت مکہ میں ہوئی- تیرہ سال کے بعد آپ نے مکہ سے مدینہ کی طرف ہجرت کی- ہجرت کا لفظی مطلب ہے، ایک مقام کو چھوڑ کر دوسرے مقام پر جانا- اسلام کے دورِ اول کی تاریخ میںہجرت کوئی پراسرار واقعہ نہ تھا- یہ حالات کے پیش نظر ایک تدبیر کا معاملہ تھا، جو نتیجہ کے پہلو سے نہایت کامیاب ہوا-
ہجرت اپنی حقیقت کے اعتبار سے مقام عمل کو بدلنے کا نام ہے- اسلام کا اصل مشن دعوت الی اللہ ہے- اصولی اعتبار سے اسلام کا مشن ہمیشہ ایک رہے گا- لیکن تدبیر کا تعلق حالات سے ہوتا ہے- اس لئے داعی کو یہ کرنا ہوتا ہے کہ وہ کھلے ذہن کے ساتھ حالات کا مطالعہ کرے، وہ ہر قسم کی جذباتیت سے الگ ہو کر وقت کی صورت حال کا گہرا جائزہ لے۔ اس کے بعد حالات کے اعتبار سے دعوت کا ایسا منصوبہ بنائے جو اپنے مقصد کے اعتبار سے زیادہ موثر ہونے والا ہو-
تدبیر کی مختلف صورتیں ہیں، مثلاً پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی دعوتی جدوجہد کے آغاز میں تین سال تک دعوت کا کام انفرادی ملاقاتوں کے انداز میں کیا، یہ ایک تدبیر کا معاملہ تھا- اس زمانے میں کعبہ کے اندر تین سو ساٹھ بت رکھے ہوئے تھے، آپ نے بتوں کی موجودگی کو نظر انداز کرکے ان کے زائرین کے درمیان پر امن دعوت کا کام کیا- مکہ میں مخالفت بڑھی تو آپ نے اپنے مقام کو بدلا، اور مکہ سے تقریباً تین سو میل دور مدینہ کو اپنی دعوت کا مرکز بنایا- حدیبیہ کے موقع پر آپ نے ٹکراؤ کا طریقہ چھوڑ کر مدینہ واپسی کا فیصلہ کیا، وغیرہ-
یہ سب تدبیر کے واقعات تھے- تدبیر دراصل حکیمانہ منصوبہ بندی کا دوسرا نام ہے- دعوت کے لئے نظری اعتبار سے سب سے زیادہ اہمیت توحید کی ہے- اور عملی اعتبار سے سب سے زیادہ اہمیت حکیمانہ تدبیر کی- ان دونوں پہلوؤں کی کامل رعایت کا نام کامیاب دعوت ہے-ہجرت اپنے وسیع تر معنی میں اسی حکیمانہ اصول کا نام ہے۔
واپس اوپر جائیں

فرشتوں کی نگرانی

خراسان کے مشہور عالم حدیث ابو القاسم ابراہیم النصر آبادی(وفات: 369ھ) نے حج کا قصد کیا تو ان کے شاگرد ابو عبد الرحمن السُلمی (وفات: 412) نے بھی ان کے ساتھ سفر حج پر جانے کا ارادہ کیا، اس وقت ان کی ماں نے اپنے بیٹے کو نصیحت کرتے ہوئے یہ الفاظ کہے: توجہتَ إلى بیت اللہ، فلا یکتبن علیک حافظاک شیئاً، تستحی منہ غدا (سیر أعلام النبلاء: 17/249)یعنی تم نے بیت اللہ جانے کا قصد کیا ہے تو ہرگز ایسا نہ ہو کہ تمھارے دونوں محافظ فرشتے تمھارے بارے میں کوئی ایسی بات لکھیں، جس پر تم کوکل شرمندہ ہونا پڑے-
حج کی عبادت کے دوران آدمی بہت سے لوگوں کے درمیان ہوتا ہے، لوگوں سے ملنے جلنے کے دوران طرح طرح کے موافق وغیر موافق معاملات پیش آتے ہیں- اس لئے اس کا امکان رہتا ہے کہ حاجی سے اس طرح کی اخلاقی برائیاں سرزد ہوں جس کو قرآن میں فَلَا رَفَثَ وَلَا فُسُوْقَ ۙوَلَا جِدَالَ فِی الْحَجِّ (البقرة: 199) کے الفاظ میں بیان کیاگیا ہے- ایسے موقع پر برائی سے بچنے کی صورت صرف ایک ہے- وہ یہ کہ آدمی جو کچھ بولے، یا جو معاملہ کرے، وہ یہ سوچ کرکر ے کہ بظاہر اگرچہ جو کچھ وہ کررہا ہے، انسان کے ساتھ کررہا ہے، لیکن آخر کار اس کا سارا معاملہ اللہ کے سامنے پیش ہونے والا ہے-یہ سوچ آدمی کے اندر شدید قسم کی جواب دہی کا احساس پیدا کرے گی-
یہ معاملہ صرف سفر حج کا نہیں ہے، بلکہ اس کا تعلق انسان کی پوری زندگی سے ہے، روز مرہ کی زندگی میں آدمی روزانہ دوسروں کے ساتھ ہوتا ہے- اس اجتماعی زندگی کے دوران کبھی وہ کچھ بولتا ہے، کبھی وہ کسی سے کچھ معاملہ کرتا ہے، اس دوران اس کو چاہئے کہ بظاہر اگر وہ انسان سے معاملہ کررہا ہے مگر یہ سوچ کر کہ اس کے پورے قول وعمل کا ریکارڈ فرشتے تیار کررہے ہیں،اور یہ ریکارڈ آخر کار اللہ رب العالمین کے سامنے پیش ہونے والا ہے،جو آدمی اس سوچ کے ساتھ دنیا میں رہے اس کی پوری زندگی درست زندگی بن جائے گی-
واپس اوپر جائیں

توسط اور اعتدال

ایک حدیث رسول ان الفاظ میں آئی ہے: خیر الأمور أوساطہا (شعب الإیمان للبیہقی، حدیث نمبر 5819) یعنی معاملات میں سب سے اچھا طریقہ، بیچ کا طریقہ ہے- اس حدیث میں امور سے مراد عملی معاملات ہیں، نہ کہ نظریاتی معاملات- جہاں تک نظریہ کی بات ہے، اس میں ہمیشہ توحد مطلوب ہوتا ہے، اور عملی معاملات میں تعدد کا طریقہ درست ہے-
نظریہ کا تعلق آدمی کے یقین سے ہوتاہے- نظریہ کے معاملہ میں ضروری ہے کہ آدمی اس کو یقین کے ساتھ اختیار کرے، اور یقین ہمیشہ اس وقت حاصل ہوتا ہے، جب کہ آدمی کسی ایک بات کو واحد طور پر درست بات مانے- اگر آدمی کئی باتوں کو یکساں طورپر درست سمجھے، تو اس سے آدمی کے اندر یقین کی کیفیت پیدا نہیں ہوسکتی، جب کہ سچائی کے ساتھ یقین ضروری ہے- لیکن عملی معاملات کا تعلق اجتماعی زندگی سے ہوتا ہے- اجتماعی زندگی میں اگر توحد کا طریقہ اختیار کیا جائے تو اس سے ٹکراؤ پیداہوگا- اس لئے اجتماعی معاملات میں درست بات یہ ہے کہ مختلف لوگوں کے مزاج کو ملحوظ رکھتے ہوئے، کوئی ایسا درمیانی طریقہ اختیار کیا جائے، جس میں ٹکراؤ کے بغیر کام کیا جاسکتا ہو-
جہاں تک عبادت کےطریقے میں اختلاف کا معاملہ ہے، ان میں بھی تعدد کا طریقہ اختیار کیا جائے گا- کیونکہ اصحاب رسول کے یہاں طریقۂ عبادت میں فرق پایا جاتا تھا- اس فرق یا اختلاف کے معاملہ میں فقہاء نے ترجیح کا اصول اختیار کرکے، ایک طریقہ متعین کرنے کی کوشش کی- مگر یہ درست نہیں-
اس معاملہ میں درست بات یہ ہے کہ عبادت کے طریقوں میں صحابہ کے اختلاف کو تنوع (diversity) پر محمول کیا جائے اور صحابہ سے ثابت شدہ ہر طریقہ کو یکساں طورپر درست مانا جائے- ہر ایک کو یہ اختیار ہو کہ وہ جس صحابی کے طریقہ کی چاہے پیروی کرے- جیساکہ حدیث میں آیا ہے : أصحابی کالنجوم فبأیہم اقتدیتم اہتدیتم (مشکاة المصابیح، حدیث نمبر6018)-
واپس اوپر جائیں

راستہ بدلنا

سیرتِ رسول کی کتابوں میںایک واقعہ آتا ہے- رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حدیبیہ کے سفر میں مدینہ سے نکلے، درمیان میں معلوم ہوا کہ فریق مخالف کے ایک سردار ایک فوجی دستہ کے ساتھ مقابل سمت سے آرہے ہیں- آپ نے چاہا کہ دونوں گروہوں میں ٹکراؤ نہ ہو- چنانچہ آپ نے اپنے اصحاب کو مخاطب کرتے ہوئے کہا: من رجل یخرج بنا على طریق غیرطریقہم التی ہم بہا (ابن ہشام: 4/276) تم میں سے کون شخص ہے جو ہم کو ایک ایسے راستے سے لے جائے جو ان لوگوں کے راستے سے مختلف ہو- حاضرین میں سے ایک شخص نے کہا کہ میں ایسا کرسکتاہوں- چنانچہ رسول اللہ اور آپ کے اصحاب اس بدلے ہوئے راستے سے آگے چلے گئے اور دونوں گروہوں کے درمیان ٹکراؤ پیش نہیں آیا-
اس سے معلوم ہوا کہ ٹکراؤ سے بچنے کے لئے راستہ بدلنا بھی ایک سنت ہے- مثلاً دو جلوس ایک ہی راستے پر آمنے سامنے سے آرہے ہوں تو رسول اللہ کی سنت پر چلنے والا وہ ہے، جو ٹکراؤ سے بچنے کے لئے اپنا راستہ (route) بدل دے-
اسی طرح اگر کسی جگہ دوگروہ ہوں، ان میں سے ایک گروہ سیاست کے راستے پر چل رہا ہوتو دوسرے گروہ کو چاہئے کہ وہ پر امن دعوت کے راستے پر چلے تاکہ دونوں گروہوں کے درمیان ٹکراؤ پیش نہ آئے- اسی طرح زندگی کے مختلف راستے ہیں، اور کام کرنے کے مختلف طریقے ہیں- جب بھی ایسا ہو کہ لوگ دو گروہوں میں بٹ جائیں تو دونوں میں سے وہ گروہ پیغمبر کے نمونے پر قائم ہے، جو اپنے طریقے میں ایسی تبدیلی کرے، جس سے دونوں گروہوں کے درمیان ٹکراؤ کا امکان ختم ہوجائے- یہ راستہ بدلنے کی سنت ہے- یہ اجتماعی زندگی میں ٹکراؤ سے بچنے کافطری طریقہ ہے-اس سنت رسول کی حکمت یہ ہے کہ مقصد کی طرف سفر میں کوئی رکاوٹ واقع نہ ہو، اور کسی تاخیر کے بغیر اصل مقصد کی طرف سفر بدستور جاری رہے۔
واپس اوپر جائیں

اسلامائزیشن آف نان اسلام

موجودہ زمانے میں بہت سی بدعتیں رائج ہیں- بدعت کیا ہے، بدعت دراصل غیر اسلام کو اسلامی بنانے کا دوسرا نام ہے:
Bid‘a: Islamization of non-Islam
بدعت کے نام سے لوگ صرف کچھ معروف بدعتوں کو جانتے ہیں، مگر ان معروف بدعتوں کے سوا اور بھی بہت سی بدعتیں ہیں جوموجودہ زمانے میں شاندار طورپر مسلمانوں کے درمیان رائج ہیں، جن کو ماڈرن بدعت کہاجاسکتا ہے- ان ماڈرن بدعتوں کا ارتکاب مسٹر اور مولوی دونوں قسم کے لوگ یکساں طورپر کررہے ہیں- بدعت کی کوئی لگی بندھی فہرست نہیں بنائی جاسکتی۔
ماڈرن بدعتیں کیا ہے- وہ ہیں— آؤٹنگ، شاپنگ، فیملی فنکشن، میرج سریمنی، افطار پارٹی، عید ملن، جشن شب قدر، خِطبہ(engagement) سریمنی، نکاح سریمنی، ولیمہ سریمنی، وغیرہ-
بدعت کا لفظی مطلب نئی چیز (innovation) ہے- یعنی دین میں کوئی نئی بات نکالنا- اسلام میں رسول اور اصحاب رسول کو نمونہ (model) کا درجہ حاصل ہے- بعد کے زمانے میں مسلمانوں کی روش کو اسی ماڈل سے جانچا جائے گا- جو طریقہ رسول اور اصحابِ رسول کے مطابق ہو، وہ سنت ہے، اور جو طریقہ رسول اور اصحاب کے نمونے کے مطابق نہ ہو، وہ بدعت ہےاور بدعت کو حدیث میں ضلالت (صحیح مسلم، حدیث نمبر:867) کہاگیا ہے-
کچھ لوگ جب کسی نئی چیز کو اسلام میں داخل کریں تو ان کو ضرورت ہوتی ہے کہ وہ اس کے جواز (justification)کے لئے کسی آیت یا حدیث کا حوالہ دیں- ایسے لوگ آیت یا حدیث کی غلط تشریح کرکے اس سے اپنے طریقے کو جائز ثابت کرتے ہیں- یہ طریقہ غلطی پر سرکشی کا اضافہ ہے، یعنی ایک غلط کام کرنا اور پھر قرآن وحدیث کی غلط تاویل کرکے اس کو صحیح ثابت کرنا-بدعت دراصل نان اسلام کو اسلامائز کرنے کا دوسرا نام ہے۔
واپس اوپر جائیں

شعور پر لاشعور غالب

انسان کا دماغ ایک بے حد پیچیدہ مشین ہے- اس کے مختلف پہلو ہیں- اس کا ایک نازک پہلو یہ ہے کہ اگر کوئی چیز انسان کے لاشعور (unconscious mind) میں داخل ہوجائے تو وہ انسان کے شعور (کانشش مائنڈ) پر غالب آجاتی ہے- ایسی چیز کو انسان بلا ارادہ دہراتا رہتا ہے- اگر وہ اپنے شعور کو بیدار کرکے اس کو روکنا چاہے تو صرف وقتی طورپر شعور اس کے اوپر موثر ہوگا- جیسے ہی شعور میں کوئی دوسری بات آئی فوراً لاشعور اپنا کام کرنے لگے گا-
انسان کو چاہئے کہ وہ ہر وقت اپنا سخت محاسبہ کرتا رہے- وہ کوشش کرے کہ وہ کسی چیز کا اتنا عادی نہ بنے کہ وہ اس کے لاشعور کا حصہ بن جائے- کیوں کہ ایسا ہوتے ہی وہ انسان کے شعور کی پکڑ سے باہر ہوجائے گا- انسان غلطی کرے گا اور وہ یہ بھی نہ جانے گا کہ وہ غلطی کررہا ہے-
قرآن میں بتایا گیاہے کہ تم ایسے اعمال سے بچو جن کے کرنے سے تمھارے اعمال حبط ہوجائیں، حالانکہ تم کو اس کا شعور بھی نہ ہو (49:2) -اس کا تقاضا ہے کہ انسان ہر وقت اپنا محاسبہ کرتا رہے- وہ اس بات کی بہت زیادہ کوشش کرے کہ کوئی غلط عادت اس پر اتنی زیادہ نہ چھا جائے کہ وہ اس کے لاشعور کا حصہ بن جائے- کیونکہ ایساہونے کے بعد وہ غلط کام کرے گا جب کہ وہ شعوری طورپر یہ بھی نہ جانے گا کہ وہ غلط کام کررہا ہے- لیکن آیت کے مطابق لاشعور کے تحت غلط کام کرنا بھی قابل مواخذہ ہے- اس لئے آدمی کو اس معاملہ میں بہت زیادہ چوکنا ہونا چاہئے-
لاشعور کے تحت کیا ہوا عمل بھی کیوں قابل مواخذہ ہے، یہ بات نتیجہ کے اعتبار سے کہی گئی ہے- آپ اپنے لاشعور کے تحت غلطی کریں، تب بھی اس کا نتیجہ غلط ہی نکلے گا- ایسا نہیں ہوسکتا کہ لاشعور کے تحت کی ہوئی غلطی اپنا نتیجہ ظاہر نہ کرے- ایسی حالت میں انسان کو چاہئے کہ وہ اپنے ہر عمل سے پہلے سوچے، اور اس کے بعد عمل کرے-ایسی حالت میں ضروری ہے کہ انسان اپنے عمل کے بارے میں آخری حد تک حساس بن جائے۔
واپس اوپر جائیں

یتیم کی کفالت

یتیم کی کفالت ایک ایسا عمل ہے جس کو اسلام میں بہت بڑا درجہ دیا گیا ہے۔یتیم کی کفالت آدمی کو جنت کا مستحق بناتی ہے۔یتیم کی کفالت کے بارے میں کئی روایتیں حدیث کی کتابوں میں آئی ہیں۔ ان میں سے ایک روایت یہ ہے: عن سہل بن سعد، عن النبی صلى اللہ علیہ وسلم قال: "أنا وکافل الیتیم فی الجنة ہکذا" وقال بإصبعیہ السبابة والوسطى (صحیح البخاری: 6005) یعنی سہل بن سعد روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا،میں اور یتیم کی کفالت کرنے والا، جنت میں اس طرح قریب ہوں گے، جیسے میرے ہاتھ کی دو انگلیاں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جو شخص یتیم کی کفالت کرے اس کو جنت میں پیغمبرسے قربت کا درجہ ملے گا۔
کَفالت کا مطلب ہے، نان نفقہ کی ذمے داری (to provide support) ۔ یعنی کوئی بچہ یتیم ہوجائے تو اس کی خبر گیری کرنا، اس کی ضروریاتِ زندگی کا ضامن بن جانا، اس کی تعلیم اور اس کے اقتصادیات کا انتظام کرنا، وغیرہ۔
اسلام کے مطابق، یتیم کی کفالت ایک اعلی اخلاقی اصول ہے۔ جب ایک بچہ اپنے فطری سرپرست سے محروم ہوجائےتو اس کے رشتہ داروں اور اس کے جاننے والوں اور حکومت کا یہ فرض ہوجاتا ہے کہ وہ اس کا سہارا بنیں۔وہ اس کو اس قابل بنائیں کہ وہ بڑا ہوکر خود کفیل زندگی گزارنے کے قابل ہوجائے۔وہ دوسرے لوگوں کی طرح باعزت زندگی گزارنے لگے۔
اسلامی نقطۂ نظر سے یہ صرف ایک اخلاق کا معاملہ نہیں ، بلکہ وہ خود اپنے لیے عمل کی زبان میں ایک دعا ہے۔ جس آدمی کو یتیم پر رحم آئے، اور وہ اس کا سپورٹر بن جائے۔ وہ گویا عمل کی زبان میں یہ دعا کر رہا ہے کہ خدایا، آخرت کے دن مَیں اسی طرح ایک تنہا انسان بن جاؤں گا، میرے تمام دنیوی سہارے مجھ سے چھوٹ جائیں گے، اس وقت تو میری مدد فرما، اپنی رحمت کے ذریعے مجھ کو آخرت کے دور میں جنتی زندگی عطا فرما۔ اسلامی عقیدہ کفالت کے معاملے کو ایک ذاتی محرک (incentive)عطا کرتا ہے۔
واپس اوپر جائیں

پیغمبر ِ اسلام کی سنت

پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کا مشن توحید کا مشن تھا۔ آپ نے اپنے مشن کا آغاز 610 عیسوی میں مکہ میں کیا۔ 632 عیسوی میں مدینہ میں آپ کی وفات ہوئی۔ سیرت کا مطالعہ بتاتا ہے کہ پیغمبر ِاسلام کو اس دوران باربار مسائل (problems) پیش آئے۔ آپ نے ہمیشہ اس اصول پر عمل کیا جس کو قرآن میں ان الفاظ میں بتایا گیا تھا— رجز کو چھوڑو، اور انذار (دعوت) کا پیس فل مشن جاری رکھو(المدثر: 5-2)۔ رسول اللہ کی اس پالیسی کو حضرت عائشہ نے اپنے الفاظ میں اس طرح بیان کیا ہے: ما خیر النبی صلى اللہ علیہ وسلم بین أمرین إلا اختار أیسرہما (صحیح البخاری، حدیث : 6786) یعنی رسول اللہ کو جب بھی دو میں سے ایک کا انتخاب کرنا ہوتا تو آپ ہمیشہ دونوں میں سے آسان کا انتخاب کرتے۔ دوسرے الفاظ میں آپ کا مستقل اصول یہ تھا کہ مسائل کو نظر انداز کرو، اور مواقع کو استعمال کرو۔
Ignore the problems, avail the opportunities
اس پیغمبرانہ طریقے کی چند مثالیں یہ ہیں۔ مکی دور میں کعبہ کی عمارت میں 360 بت رکھے ہوئے تھے۔ آپ نے ان بتوں سے عملاً کوئی تعرض نہیں کیا۔ بلکہ وہاں جو لوگ ملتے تھے ان کو آپ توحید کا پرامن پیغام پیش کرتے رہے۔ قریش نے آپ کے خلاف مقاطعہ (boycott) کا فیصلہ کیا تو آپ نے قریش سے ٹکراؤ نہیں کیا، بلکہ مقاطعہ کے فیصلے کو قبول کرتے ہوئے پرامن طور پر شعبِ ابی طالب میں چلے گیے۔ اہل مکہ نے آپ کو مجبور کیا کہ آپ مکہ چھوڑ دیںتو آپ نے اہل مکہ سے جنگ نہیں کی بلکہ ہجرت کرکے پرامن طور پر مدینہ چلے گیے۔ حدیبیہ کے موقع پر مکہ کے سرداروں نے آپ کو اس سے روکا کہ آپ مکہ جاکر عمرہ کریں، آپ نے اس موقع پر ان سے ٹکراؤ نہیں کیا بلکہ حدیبیہ سے واپس ہوکر مدینہ چلے گیے، وغیرہ۔
اسی کے ساتھ پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں کچھ اور مثالیں ہیں۔ مثلاًبدر کے موقعے پر آپ نے قریش سے قتال کیا، احد کے موقعے پر آپ نے اہل مکہ سے جنگ کی ، حنین کے موقع پر آپ نے قبیلۂ ہوازن سے جنگی مقابلہ کیا، وغیرہ۔
تاریخ بتاتی ہے کہ بعد کے زمانے کے مسلم علماء اور مسلم رہنماؤ ں نے کبھی اس سنت رسول پر عمل نہیں کیا۔ انھوں نے کبھی ایسا نہیں کیا کہ مسائل کو نظر انداز کریں، اور مواقع کو استعمال کرتے ہوئے دعوت الی اللہ کا کام کریں۔ گویا بعد کے زمانے میں ہر بار انھوں نے اختیار ایسر (easier option) کے بجائے اختیار اعسر (harder option) کے طریقے پر عمل کیا۔
مثلا موجودہ زمانے میں نوآبادیات (colonialism)کا مسئلہ پیدا ہوا۔ یہاں پر دوبارہ یہ امکان تھا کہ مسلم علماء اور مسلم رہنما ٹکراؤ کے بجائے پرامن دعوت کے طریقے پر عمل کریں، مگر انھوں نے ایسا نہیں کیا۔ اسی طرح صہیونیت (Zionism) کا مسئلہ پیدا، اور 1948 میں فلسطین کے نصف حصے پر اسرائیل کی حکومت قائم ہوگئی۔ یہاں بھی مسلم رہنماؤں کے لیے یہ موقع تھا کہ وہ مسئلے کو نظر انداز کرتے ہوئے پرامن دعوت کا کام کریں۔مگر تمام مسلم رہنما خواہ وہ عرب ہوں یا نان عرب، سب نے متفقہ طور پر اسرائیل کے معاملے میں ٹکراؤکا طریقہ اختیار کیا۔ اس معاملے میں وہ اس انتہا تک پہنچ گیے کہ خود کش بمباری (suicide bombing )کو جائز ٹھہرادیا، وغیرہ۔
اس فرق کا سبب کیا ہے۔ اس فرق کا سبب وہی ہے جس کو مختلف حدیثوں میں پیشگی طور پر بتادیا گیا تھا۔ وہ یہ کہ امت مسلمہ بعد کے زمانےمیں انحراف کا شکار ہوجائے گی۔ امت مسلمہ کا یہ بگاڑ اس نوبت تک پہنچ جائے گا کہ اصل دین امت کے اندر غریب (صحیح مسلم، حدیث نمبر145)ہوجائے گا۔ یعنی اصل دین لوگوں کے درمیان اجنبی دین بن جائے گا، اور خود ساختہ دین لوگوں کے درمیان معروف دین کی حیثیت اختیار کر لے گا۔
بعد کے زمانے میں پیش آنے والا ظاہرہ اسی صورتِ حال کا نتیجہ ہے۔ اصل یہ ہے کہ بعد کے زمانے میں پیش آنے والے حالات کے نتیجے میںامت کے اندر دین کا نشانہ بدل گیا۔ حالات کے زیرِ اثر انھوں نے یہ سمجھ لیا کہ امتِ مسلمہ کا مشن یہ ہے کہ وہ امت کا سیاسی غلبہ زمین پر قائم کریں۔ وہ ہر جگہ دوسری قوموں کو مغلوب کرکے اپنے آپ کو سیاسی طور پر غالب کریں۔ اس عمل کو انھوں نے اجتہادی خطا کے طور پر خلافت یا اسلامی حکومت کا نام دے دیا۔ حالاں کہ یہ مشن تمام تر ایک قومی مشن تھا۔ اس کا دینِ اسلام سے کوئی تعلق نہ تھا۔ امت مسلمہ کا مستقل مشن قرآن کے مطابق شہادت علی الناس (2:143) ہے۔ اس مشن میں ساری اہمیت پر امن جدو جہد کی تھی۔ اس مشن کا جنگ و قتال سے کوئی تعلق نہ تھا۔ اس مشن کا تقاضا تھا کہ اہل ایمان مسائل کو نظر انداز کریں اور پرامن طور پر دعوت الی اللہ کا کام جاری رکھیں۔
مگر جب ایسا ہوا کہ بعد کے حالات کے نتیجے میں مسلم رہنماؤں نے سیاسی اقتدار کو اپنا نشانہ بنالیاتو اس کے فطری تقاضے کے تحت ایسا ہوا کہ وہ قوموں سے جنگ و قتال کے عمل میں مصروف ہوگیے۔ انھوں نے جہاد کی خودساختہ تشریح کرکے اپنے متشدادانہ طریقۂ کار کو غلط طور پر جہاد کا نام دے دیا۔ حالاں کہ جہاد قرآن میں پرامن جدوجہد کا نام (25:52)ہےنہ کہ متشدادانہ ٹکراؤ کا۔
مسلم علماء اور مسلم رہنما ؤںکے اندر اگر پیغمبرانہ مزاج ہوتا، اور وہ غیر متاثر ذہن کے تحت قرآن و سنت کا مطالعہ کرتے تو وہ یقینا جان لیتے کہ پیغمبرِ اسلام کا مستقل مشن صرف ایک تھا، اور وہ پرامن دعوت الی اللہ ۔ پر امن دعوت آپ کی زندگی کا حقیقی حصہ (real part) تھا، اور آپ کی زندگی میں چند بار جو جنگ و قتال کا مرحلہ پیش آیا وہ آپ کی زندگی کا اضافی حصہ (relative part)تھا۔
واپس اوپر جائیں

نظر کی خریداری

ایک صاحب مجھ کو اپنے گھر لے گیے۔ میں نے دیکھا کہ ان کا گھر مختلف قسم کے سامانوں سے بھرا ہوا ہے۔ پورا گھر ایک ڈیپارٹمنٹل اسٹور معلوم ہوتا تھا۔ میں نے پوچھا کہ آپ کے گھر میں اتنا زیادہ سامان کیوں ہے۔ انھوں نے کہا کہ جب میں بازار جاتا ہوں اور وہاں میں کسی چیز کو دیکھتا ہوں، وہ مجھ کو پسند آجاتی ہے تو میں اس کو خرید لیتا ہوں۔ یہ نظر کی خریداری ہے۔ اکثر لوگوں کا حال یہی ہے کہ وہ چیزوں کو دیکھ کر خریدتے ہیں، خواہ وہ ان کے استعمال میں آنے والی ہوں یا نہ ہوں۔
خریداری کی دو قسمیں ہیں— نظر کی خریداری اور ضرورت کی خریداری۔ نظر کی خریداری وہ ہے جو دیکھ کر کی جائے۔اس کے برعکس، ضرورت کی خریداری یہ ہے کہ آپ کو ایک چیز کی ضرورت ہو ، اس کو حاصل کرنے کے ارادے سے آپ گھر سے نکلیں اور جہاں وہ چیز ملتی ہو، وہاں جاکر اس کو خرید لیں۔
نظر کی خریداری دوسرے الفاظ میں بے مقصد خریداری ہے۔ وہ اپنے وقت اور اپنے مال کو ضائع کرنے کے ہم معنی ہے۔ یہ وہی چیز ہے جس کو قرآن میں مال کی تبذیر (17:26) بتایا گیا ہے۔ یعنی مال کو بلاضرورت بکھیرنا۔ ضرورت کی خریداری ایک ذمہ دارانہ فعل ہے، اور نظر کی خریداری ایک غیر ذمہ دارانہ فعل ۔
کسی مرد یا عورت کے پاس جو مال ہے، وہ اللہ کا دیا ہوا ہے، وہ اللہ کی ایک امانت ہے۔ جو عورت یا مرد مال کومسرفانہ طور پر خرچ کریں، وہ خدا کی دی ہوئی امانت میں خیانت کرتے ہیں۔ وہ ایک ایسا کام کرتے ہیں، جس کے لیے آخرت میں ان کی سخت پکڑ ہوگی۔ مال کو جائز ضرورت پر خرچ کرنا ثواب کا کام ہے۔
اس کے برعکس، اگر مال کو غیر ضروری مدوں میں خرچ کیا جائے تو وہ خرچ کرنے والے کے لیے ایک گناہ بن جاتا ہے۔ مال کو خرچ کرنے کے معاملے میں انسان کو بہت زیادہ محتاط ہونا چاہئے۔
واپس اوپر جائیں

حقیقت پسندانہ سوچ

دنیا میں جو برائیاں (evils) ہیںان سب کا سبب صرف ایک ہے- اور وہ ہے لوگوں میں اَیز اِٹ از تھنکنگ (as it is thinking) کا نہ ہونا- غصہ، نفرت، انتقام، عدم برداشت، تشدد وغیرہ سب کی اصل جڑ یہی ہے- ایز اٹ از تھنکنگ کا مطلب ہے مبنی بر حقیقت سوچ-
غور کیا جائے تو یہی وہ چیز ہے جس کو شیطان کا کلچر (satanic culture) کہاگیا ہے- شیطان یا ابلیس جنوں کا سردار تھا- پیدائش آدم کے وقت اس نے یہ اعتراض اٹھایا کہ خدا نے انسان کو خلیفة الارض بنادیا اور جنات کو کچھ نہیں دیا- یہ انتخابی طرز فکر کی پہلی مثال تھی- جن کو جو اختیارات دیے گئے تھے اس کے لحاظ سے گویا وہ خلیفة الکون تھا- مگر ابلیس نے یہ کیا کہ جو کچھ اس کو ملا ہوا تھا، اس کا اعتراف نہیں کیا، اور جو کچھ انسان کو دیاگیا تھا اسی کا ذکر یک طرفہ طورپر کیا- اسی یک طرفہ طرز فکر سے ساری برائیاں پیداہوئیں- ابلیس کا یہی کلچر آج تک ساری دنیا میں جاری ہے-
سارے انسانوں کی مشترک برائی بتانا ہو تو وہ صرف ایک ہوگی- اوروہ انتخابی سوچ (selective thinking) ہے- ہر عورت اور مرد یہ کرتے ہیں کہ اپنے بارے میں ایک ڈھنگ سے سوچتے ہیں، اور دوسرے کے بارے میں دوسرے ڈھنگ سے- اپنے آپ کو ایک معیار سے جانچتے ہیں، اور دوسرے کو دوسرے معیار سے- اپنی پسند کے لوگوں کا ذکر کرنا ہو تو وہ ان کی صرف اچھائیاں بیان کریں گے، اور اگر ان لوگوں کا ذکر کرنا ہو جو انھیں پسند نہیں ہیں تو ان کی صرف برائیاں بیان کریں گے- ایک قوم کے بارے میں وہ منفی رپورٹنگ (negative reporting) کریں گے، اور دوسری قوم کے بارے میں صرف مثبت رپورٹنگ (positive reporting)- ایک گروہ ان کو ظالم نظر آئے گا اور دوسرا گروہ مظلوم دکھائی دے گا- ایک کے لئے ان کے دل میں صرف نفرت ہوگی، اور دوسرے کے لئے صرف محبت — یہی وہ چیز ہے جس نے لوگوں کو حقیقت پسندانہ سوچ (realistic approach) سے محروم کردیا ہے-
واپس اوپر جائیں

مزاحمت سے مقابلہ تک

انگریز شاعر لارڈ بائرن (وفات: 1824) ایک آزاد پسند شاعر تھا- اس نے غالباً پہلی بار منفعل مزاحمت (passive resistance) کی اصطلاح استعمال کی- اس کے بعد یہ اصطلاح کافی مقبول ہوئی- خود مسلم تحریکوں نے بھی، اس اصطلاح کو ایک پسندیدہ اصطلاح سمجھ کر اختیار کرلیا- مگر تجربہ بتاتا ہے کہ ہر جگہ منفعل مزاحمت آخر کار متشددانہ مزاحمت میں تبدیل ہوگئی-
اس کا سبب کیا ہے؟ اس کا سبب انسان کا غیر مطمئن مزاج (non-stable nature) ہے- یہ انسان کی فطرت ہے کہ جب وہ ایک چیز کو اپنا نشانہ بنا کر اس کے لیے کوشش شر وع کرے تو وہ اپنے نشانہ کو پانے سے پہلے کبھی مطمئن نہیں ہوتا- خواہ اسی راہ میں وہ اپنے آپ کو تباہ کرلے-
موجودہ زمانے کی مختلف جماعتوں نے سیاسی انقلاب کو اپنا نشانہ بنایا- ابتداءاً انھوںنے کہا کہ ہم اپنی تحریک کو پر امن انداز میں چلائیں گے- پھر جب پرامن طریقہ کار سے نشانہ حاصل نہیں ہوا تو انھوں نے منفعل مزاحمت (passive resistance) کی اصطلاح وضع کی، اور اس کے مطابق کام شروع کیا- پھر انھوں نے دیکھا کہ اِس سے بھی ان کا نشانہ حاصل نہیں ہورہا ہے، تو انھوں نے فعال مزاحمت (active resistance) کا طریقہ اختیار کیا- پھر انھوں نے دیکھا کہ اس سے بھی ان کا نشانہ حاصل نہیں ہورہا ہے تو انھوں نے متشددانہ عمل (violent activism) کا طریقہ اختیار کیا- پھر جب اس سے بھی ان کا نشانہ حاصل نہیںہوا تو وہ انتہا پسندی کی آخری حد تک پہنچ گئے اور مفروضہ دشمن کے خلاف خود کش بمباری (suicide bombing) کرنے لگے، تاکہ اگر وہ دشمن کو مغلوب نہ کرسکیں تو کم ازکم اس کو غیر مستحکم (de-stabilise) کردیں-
کسی تحریک کا نشانہ صرف وہ ہوسکتا ہے جو مثبت نتیجہ تک پہنچے، نہ کہ منفی تباہ کاری تک- کسی تحریک یا اس کے طریقہ کار پر رائے قائم کرنے کا واحد طریقہ یہ ہے کہ اس کو نتیجہ (result) کے اعتبار سے جانچا جائے۔اس معاملے میں کسی اور چیز کو معیار قرار دینا درست نہیں۔
واپس اوپر جائیں

علم کی حد

فلسفی یا سائنس داں، جس شخص نے بھی گہرا علمی مطالعہ کیا ہے، آخر میں وہ اس رائے پر پہنچا ہے کہ انسانی علم کی ایک حد ہے- اس حد سے آگے انسان کےلیے جانا ممکن نہیں- مثال کے طورپر فلسفیوں کے درمیان یہ بحث تھی کہ انسان کے وجود کا علمی ثبوت کیا ہے- مشہور فلسفی ڈیکارٹ نے کہا کہ میں سوچتا ہوں اس لئے میں ہوں:
I think therefore I exist.
مگر یہ جواب کافی ثابت نہیں ہوا- کیوں کہ دوبارہ یہ سوال سامنے آیا کہ یہ تو ایک داخلی ثبوت (subjective evidence)ہے نہ کہ موضوعی ثبوت (objective evidence) - داخلی ثبوت کسی شخص کو ذاتی یقین دے سکتا ہے، لیکن دوسرے شخص کے لیے اس میں یقین کا سامان موجود نہیں۔ یہ یک طرفہ ثبوت ہے ،نہ کہ دوطرفہ ثبوت۔
سائنس دانوں نے طبیعیاتی دنیا کا مطالعہ شروع کیا- آخر میں وہ ایٹم تک پہنچے- لیکن ایٹم بھی ٹوٹ گیا اور اس کے بعد جو کچھ تھا وہ ناقابل مشاہدہ تھا، یعنی ایک سائنس داں کے الفاظ میں قیاسی لہریں (waves of probability) - اس کے بعد سائنس داں اس ناقابل حل سوال میں مبتلا ہوگئے کہ ہماری دنیا کا وجود خارجی (objective) ہے یا داخلی (subjective)-
علم کے تمام شعبوں کا مطالعہ یہ بتاتا ہے کہ انسان اپنی موجودہ صلاحیت کے ساتھ اس کی آخری حد تک نہیں پہنچ سکتا- ایسی حالت میں یہ سب سے بڑا علم ہے کہ انسان علم کی حد کو جانے- اس حقیقت کا اعتراف نہ کرنابے حد خطرناک ہے- کیوں کہ وہ آدمی کو صرف کنفیوزن (confusion) تک پہنچائے گا، نہ کہ یقین تک- علم کا آخری مطلوب یقین ہے- جو طریق مطالعہ یقین تک پہنچائے وہ علم ہے، اور جو طریق مطالعہ بے یقینی یا کنفیوزن تک پہنچائے، وہ بلا شبہہ بے علمی ہے، خواہ کوئی شخص اس کو علم کادرجہ دیتا ہو-
واپس اوپر جائیں

بے خبری کا نقصان

برطانیہ کے ایک پروفیشنل ڈرائیور نے ایک کتاب لکھی ہے- اِس کتاب میں اُس نے یہ بتایا ہے کہ گاڑی چلانے کے اصول کیا کیا ہیں- اُس نے لکھا ہے کہ اگر آپ ایک روڈ پر اپنی کاردوڑا رہے ہیں، اور اچانک آپ یہ دیکھتے ہیں کہ سائڈ کی لین سے نکل کر ایک گیند روڈ پر آگئی ہے، تو آپ کو جاننا چاہئے کہ اِس گیند کے پیچھے ایک بچہ بھی آرہا ہوگا- اگر آپ اس حقیقت کو نہ جانیں، اور اپنی کاردوڑاتے ہوئے بچے کو کچل دیں تو آپ بچے کی موت سے بری الذمہ نہیں ہوسکتے- آپ کو بچے کی موت کا ذمہ دار ٹھہرایا جائے گا- اِس معاملہ میں آپ کا یہ عذر نہیں سنا جائے کہ آپ نے بچے کو نہیں دیکھا تھا-
یہ ایک ایسا اصول ہے، جس کا تعلق زندگی کے تمام معاملات سے ہے-اِس کو باخبری کا اصول (principle of awareness) کہاجاسکتاہے- عملی اعتبار سے اِس اصول کی بے حداہمیت ہے- جو شخص اس اصول سے بے خبر ہو، وہ اپنی زندگی میں ہمیشہ غیر ضروری مسائل سے دوچار رہے گا- اُس کو کبھی سکون حاصل نہ ہوگا- مزید یہ کہ اپنی بے خبری کی بنا پر وہ غلطی کا ذمہ دار دوسروں کو ٹھہراتا رہے گا- اِس اصول کا تعلق خاندانی زندگی سے بھی ہے، اور سماجی زندگی سے بھی- اِس اصول کا تعلق قومی زندگی سے بھی ہے، اور بین اقوامی زندگی سے بھی- آدمی کو چاہئے کہ وہ ایک ہوشمند انسان بنے- اِس دنیا میں بے خبری میں جینا گویا اندھیرے میں جینا ہے- جو لوگ بے خبری میں جیتے ہوں، وہ اندھے انسان قرار دیے جائیں گے- خواہ ان کے سر پر دو روشن آنکھیں موجود ہوں-
جس طرح درخت کی شاخیں ہوتی ہیں، اسی طرح انسانی زندگی میں بھی ہر واقعے کی شاخیں ہوتی ہیں- اگر آدمی واقعے کو جانے اور اُس کی شاخوں کو نہ جانے، تو ایسے آدمی کو جاننے والا نہیں کہاجائے گا- اُس کے بارے میں یہی کہا جائے گا کہ وہ جانتا ہے، مگر وہ نہیں جانتا، وہ دیکھتا ہے، مگر وہ نہیں دیکھتا- اُس کو خالق نے دماغ دیاہے، مگر وہ اپنے دماغ سے سوچتا نہیں- وہ ایک نامکمل انسان ہے، نہ کہ حقیقی معنوں میں ایک مکمل انسان-
واپس اوپر جائیں

مفید، بے مسئلہ

اجتماعی زندگی (social life) میں باعزت زندگی حاصل کرنے کی ایک لازم شرط ہے- اس شرط کا تعلق 50 فیصد آپ سے ہے اور 50 فیصد دوسروں سے- وہ یہ کہ آپ دوسروں کے لئے یا تو مفید انسان (giver person)بنیں یا آپ دوسروںکے لئے بے مسئلہ انسان (no-problem person) بن جائیں- پہلی صورت زیادہ سے زیادہ شرط کی ہے، اور دوسری صورت کم سے کم شرط کی- ان دو کے سوا کوئی تیسری صورت سماج میں با عزت بننے کی نہیں- جو لوگ تیسری قسم سے تعلق رکھتے ہوں ان کو کسی سماج میں اگر جگہ ملے گی تو صرف سماج کے کوڑا خانے میں- سماج کے مطلوب شخص کا درجہ ان کو کبھی ملنے والا نہیں-
اجتماعی زندگی ہمیشہ دو اور لو (give and take) کے اصول پر قائم ہوتی ہے- اس اصول کے مذکورہ دو پہلو ہیں- اگر آپ سماج کو مثبت معنوں میں کچھ دے رہے ہیں تو آپ سماج کے اندر مطلوب انسان کا درجہ پائیں گے، اور اگر آپ اپنی طرف سے سماج کو کچھ دینے کی پوزیشن میں نہیں ہیں تو آپ کو کم ازکم یہ کرنا چاہئے کہ آپ د وسروں کے لئے ایک بے مسئلہ انسان بن جائیں- اگر آپ سماج کے ایک دینے والے ممبر ہیں تو آپ سماج کی ترقی میں براہِ راست اضافہ کررہے ہیں، اور اگر آپ سماج کے ایک بے مسئلہ انسان ہیںتب بھی سماج کی ترقی میں آپ کا ایک رول ہے- پہلی صورت میں آپ سماج کی ترقی میں براہِ راست حصہ دار ہیںتو دوسری صورت میں آپ سماج کی ترقی میں بالواسطہ حصہ دارکی حیثیت رکھتے ہیں-
جن لوگوں کا حال یہ ہو کہ وہ مذکورہ دونوں شرطوں میں سے ایک شرط بھی پوری نہ کریں، وہ سماج کے لئے صرف ایک بوجھ کی حیثیت رکھتے ہیں- ایسے لوگ اگر چہ روایتی قانون کی نظر میں مجرم (criminal) نہیں ہیں لیکن وہ آداب حیات کے پہلو سے یقیناً ایک غیر قانونی مجرم کی حیثیت رکھتے ہیں- دنیا کی قانونی عدالت میں اگر چہ ان کے خلاف کسی سزا کا فیصلہ نہیں کیا جائے گا لیکن فطرت کی عدالت میں وہ بلاشبہہ ایک اخلاقی مجرم کی حیثیت رکھتے ہیں-
واپس اوپر جائیں

شہد کی مکھی کا سبق

ایک مسلم میگزین میں ایک آئٹم ان الفاظ میں چھپا ہوا تھا: ایک استاد نے اپنےطالب علم سے پوچھا، تم شہد کی مکھی سے کیا سیکھ سکتے ہو۔ طالب علم نے جواب دیا: یہی کہ جو چھیڑے اسے ڈنک مارو۔ شہد کی مکھی کا یہ حوالہ درست نہیں۔ شہد کی مکھی میں انسان کے لئے ایک تعمیری سبق ہے، نہ کہ کوئی تخریبی سبق۔
شہد کی مکھی (honey bee) فطرت کا ایک شاہ کار ہے۔ شہد کی مکھی یہ کرتی ہے کہ مسلسل محنت کر کے بے شمار پھولوں سےان کا نکٹر (nectar) نکالتی ہے، اس کے بعدپر امن منصوبہ بندی کے ذریعے اس کو اپنے چھتے میں جمع کرتی ہے۔تاکہ انسان کے لئے ایک قیمتی غذا حاصل ہو۔ اس اعتبار سے شہد کی مکھی کا سبق انسان کے لئے یہ ہے کہ تم اپنے سماج کے ایک دینے والے ممبر (giver member) بنو، تم اپنے سماج میں اس طرح تعمیری انداز میں رہو کہ تم سے دوسروں کو فائدہ پہنچے۔
یہ صحیح ہے کہ شہد کی مکھی بعض اوقات انسان کو ڈنک مارتی ہے۔ لیکن شہد کی مکھی کا یہ ڈنک مارنا صرف اپنے بچاؤ کےلئے ہوتا ہے، جب شہد کی مکھی یہ دیکھتی ہے کہ کوئی انسان اس کے چھتے میں مداخلت کر رہا ہے تو وہ اپنے بچاؤ کے لئے ایسے آدمی کو ڈنک مارتی ہے۔شہد کی مکھی کا ڈنک مارنا صرف اپنے دفاع (defence) کے لئے ہوتا ہے۔ شہد کی مکھی کے اندر پیدائشی طور پر کسی کے خلاف کوئی منفی سوچ نہیں۔
انسان کا معاملہ اس کے برعکس ہے۔ انسان کے اندر اَنا (ego) کا جذبہ ہے، جس کی وجہ سے وہ اپنے خلاف بات پر بھڑک اٹھتا ہے، اور انتقام (revenge) کے درپے ہو جاتا ہے۔ انسان ایسے موقعے پر انتقامی کارر وائی کرتا ہے، جب کہ انتقام کلچرشہد کی مکھی کی فطرت میں موجود ہی نہیں۔ آدمی کو چاہئے کہ وہ فطرت کے واقعات سے ہمیشہ مثبت سبق (positive lesson) لے، منفی سبق (negative lesson) لینا فطرت کے نظام کے مطابق نہیں۔
واپس اوپر جائیں

خبر نامہ اسلامی مرکز— 235

-1 12 مارچ 2015 کو پیس سنٹر کیرالہ کی جانب سے آئی ایس ایم کی صوبائی مہم کے موقع پر ہزاروں لوگوں کے درمیان ترجمہ قرآن اور صدر اسلامی مرکز کی کتابیں تقسیم کی گئیں-
-2 سیماندھرا کے کوسٹل شہر وشاکھا پٹنم میں 10-19 اپریل 2015 کے درمیان ایک بک فیئر لگاتھا۔ اس بک فیئر میںحیدرآباد سی پی ایس کی ٹیم نے اپنا بک اسٹال لگایا۔بڑی تعداد میں لوگوں نے اس اسٹال کو وزٹ کیا، جس میں ایک بڑی تعدا د کالج کے طلبہ کی تھی۔ تقریبا تمام لوگوںنے سب سے پہلے ترجمۂ قرآن کی مانگ کی ، اور بہت ہی خوشی اورشکریہ کے ساتھ اس کو حاصل کیا۔
-3 سی پی ایس دہلی کی خواتین ٹیم کی ممبران ڈاکٹر نجمہ صدیقی اور ڈاکٹر مسلمہ صدیقی وغیرہ نے خواتین کا ایک اجتماع منعقد کیا- یہ اجتماع صدر اسلامی مرکز کے ویڈیو لکچر سے شروع ہوا- اس کے بعد لوگوں سے ملاقات اور ان سے گفتگو کا سیشنہوا- یہ پروگرام 13اپریل 2015 کو دہلی کےدوارکا، سیکٹر 11 میں منعقد کیا گیاتھا-
-4 ابوظبی میں 30 اپریل 2015 کو صدراسلامی مرکز کو ’فروغ امن فورم ‘ (Forum for Promoting Peace in Muslim Societies) کی جانب سے منعقد تین روزہ کانفرنس کے اختتام پر ’سیدناالحسن بن علی امن ایوارڈ‘ سے نوازا گیا- فورم کے سربراہ شیخ عبد اللہ بن بیّہ نے اس موقع پر کہا کہ مولانا وحید الدین خاں نے اپنی 90 سال کی عمر میں سے70 سال سے زیادہ مدت تک فروغ امن کے لئے کام کیا ہے، تاکہ امن، بھائی چارگی، اعراض اور تسامح کا کلچر پیدا ہو- اس موقع پر ابو ظبی کے وزیر خارجہ شیخ عبد اللہ بن زاید آل نہیان اور جامعة الازہر کے مفتی اعظم دکتور احمد الطیب بھی موجود تھے- اس مناسبت سے صدر اسلامی مرکز نے جو تقریر کی اس کودرج ذیل لنک پر سنا جاسکتا ہے:
http://cpsglobal.org/content/key-note-address-abu-dhabi-award-ceremony-april-30-2015
-5 پاکستان میں سی پی ایس کا مشن انفرادی طور پر بہت عرصےسے چل رہا تھا۔ جون 2013 میں باقاعدہ طور پر ٹیم کی شکل میں یہاں مشن کا کام شروع ہوا، اور اس وقت کراچی، پشاور، اسلام آباد اور لاہور میں کافی سرگرمی کے ساتھ اس مشن کا پرامن دعوتی کام جاری ہے-اردو ماہنامہ الرسالہ اورانگریزی میگزین اسپرٹ آف اسلام کو یہاں ری پرنٹ کیاجاتا ہے،اور ان کوسماج کے باشعور طبقہ، خاص طور پر مدارس کے طلباء اور تعلیم یافتہ نوجوانوں میں تقسیم کیا جاتا ہے-اس وقت کراچی کی 33 سے زائد لائبریریوں میں سی پی ایس کا لٹریچر موجود ہے-اس کے علاوہ مختلف بک فیئر س میں شرکت کی گئی،جیسے دسمبر 2013 اور دسمبر 2014 کا کراچی بک فیئر اور فروری 2014 اور فروری 2015 کالاہور بک فیئر ، وغیرہ- ان بک فیئر س میںپاکستانی عوام نے کافی حوصلہ افزا رسپانس دیا۔لوگوں سے ملاقات اور ان سے گفتگو کے دوران یہ معلوم ہوا کہ کراچی میں کافی تعداد میں مولانا کے قدردان موجود ہیں اور مولانا کی کتابیں اگر حاصل ہوں تو ضرور پڑھتے ہیں- بہت سے لوگوں کو یہ جان کر کافی مسرت ہوئی کہ الرسالہ اور مولانا کی مطبوعات پاکستان میں دستیاب ہیں- ایک بڑی تعدادنے الرسالہ کو سبسکرائب (subscribe)کرنے کی خواہش ظاہر کی- ایسے بہت سے لوگوں سے تعارف ہوا جنہوں نے مولانا کی کتاب راز حیات پڑھی ہے ۔ یہ کتاب نوجوانوں میں کافی مقبول ہے-کراچی بک فیئر میںتبادلہ خیال کے دوران یہ جاننے کا موقع ملا کہ پاکستان کے اکثر لوگوں کو اس مشن کی ضرورت ہے کیوں کہ تقریبا تمام لوگوں نے اس مشن سے اتفاق کیا- انگلش پڑھنے والوں نے اسپرٹ آف اسلام کا والہانہ خیرمقدم کیا-بڑی تعداد میںایسے لوگ آئے جنھوں نے بعد میں رابطے کے لیے آفس اور بک اسٹور کے بارے میں جاننا چاہا۔ بہت سے مدارس میں سی پی ایس کی کتابیں پہلے سے موجود ہیں۔ ان بک فیئرس میںمدارس کے طلبہ سے دوران گفتگو یہ محسوس ہواکہ وہ لوگ کافی کھلے ذہن کے ہیں اور ان سے کسی بھی موضوع پر کھل کر بات کی جاسکتی ہے-اس بک فیئر میں ایک ہزار سے زیادہ کتابیں فروخت ہوئیں اور کثیر تعداد میں مشن کی کتابیں اور اردو اور انگریزی میگزین لوگوں کے درمیان فری تقسیم کی گئیں- سی پی ایس پاکستان کا ویب سائٹ ایڈریس یہ ہے:www.cpspakistan.org
-6 ذیل میں کچھ دعوتی تجربات و تاثرات نقل کیے جاتے ہیں:
— I have been reading Al-Risala since 1983. I have also associated myself with Al-Quran Mission. I give the translations of the Quran to my non-Muslim friends. Recently, I gifted a set of the Quran in English and Hindi, What is Islam, The Prophet of Peace, The Ideology of Peace, Women between Islam and Western Society, The Purpose of Life, to the library of Delhi Public School, Nagpur. My brother, Mr. M. A. Waheed presented the same set of books to Mr A. K. Nigam, Managing Director, Forest Development Corporation of Maharashtra, Nagpur. (Mohammad Irfan, Kamptee, Nagpur)
— I am the Imam of the Islamic Center of Louisville. I have found that the Quran translated by Maulana Wahiduddin Khan is the most beneficial gift for the newcomers to Islam. I would like to personally buy this Quran translation to distribute among people who want to know about Islam, especially those in prison. (Hassan Hussien Qazzaz, Kentucky, USA)
واپس اوپر جائیں

Monday, 1 June 2015

Al Risala | June 2015 (الرسالہ،جون)

4

-فطرت کا ایک قانون

5

- شیطان کا وسوسہ

6

- ایک سنت ِ رسول

7

- معرفت ایک تخلیقی عمل

8

- دعوت حق کے دو دَور

9

- مطلوب رہنمائی

10

- حقیقت پسندانہ پالیسی کا کرشمہ

13

- دورِ مواصلات

14

- دعوت فرضِ عین یا فرضِ کفایہ

15

- شہادت امتِ مسلمہ کا مشن

31

- قرآن کتاب ِتدبر

34

- گلوبل کمیونی کیشن کا دَور

35

- قرآن کی حفاظت

38

- امت کا زوال

39

- نسخ کیا ہے

40

- عورت اور مرد کا تعلق

41

- دفاع یا دعوت

42

- قرآن وسنت

43

- بدترازحیوان

44

- علم کا سفر

45

- موت کے دروازے پر

46

- شکایت، اعتراف

47

- حقیقت پسندانہ سوچ

48

- خبر نامہ اسلامی مرکز


فطرت کا ایک قانون

قرآن کی سورہ البقرة میں فطرت کا ایک قانون اِن الفاظ میں بیان کیا گیا ہے: کَمْ مِّنْ فِئَةٍ قَلِیْلَةٍ غَلَبَتْ فِئَةً کَثِیْرَةًۢ بِاِذْنِ اللّٰہِ وَاللہُ مَعَ الصَّابِرِیْنَ(2:249) یعنی کتنے ہی چھوٹے گروہ، اللہ کے اذن سے بڑے گروہ پر غالب آتے ہیں اور اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے-
اذن کے لفظی معنی اجازت کے ہوتے ہیں- یہ لفظ یہاں کسی پُراسرار معنی میں نہیں ہے، بلکہ وہ فطرت کے قانون (law of nature) کے معنی میں ہے- فطرت کا یہ قانون کیا ہے- فطرت کا یہ قانون وہی ہے جس کو صبر کے لفظ میں بیان کیاگیا ہے- یہاں صبر کا مطلب یہ ہےکہ اگر اقلیتی گروہ منفی ردّ عمل میں مبتلا نہ ہو تو وہ اِس قابل ہوتاہے کہ بہتر منصوبہ بندی کے ذریعہ اپنے سے بڑے گروہ پر سبقت لے جائے-اصل یہ ہے کہ جب کوئی گروہ اقلیت (minority)میں ہوتا ہے تو اُس کو اکثریتی گروہ (majority)کی طرف سے مسلسل چیلنج کا سامنا پیش آتاہے- یہ صورت حال، اقلیتی گروہ کو تخلیقی گروہ (creative group) بنادیتی ہے- اِس طرح اُس کاشعور جاگتا ہے- وہ اِس قابل ہوجاتا ہے کہ عمل کے نئے نئے میدان تلاش کرے- وہ اپنے ذرائع کو زیادہ بہتر طورپر استعمال کرے- وہ اپنے آپ کو اور زیادہ تیار کرسکے- وہ اپنے عمل کی زیادہ دور رس منصوبہ بندی (planning) کرے۔ اِس طرح اُس کا اقلیت میںہونا اُس کے لیے زحمت میں رحمت (blessing in disguise) کا سبب بن جاتا ہے- وہ اکثریت سے زیادہ محنت کرنے لگتا ہے- اور آخر کار اکثریت سے زیادہ ترقی حاصل کرلیتا ہے- یہ اکثریت اور اقلیت کا مسئلہ نہیں، یہ فطرت کا ایک قانون ہے جو ہمیشہ اور ہر زمانے میں جاری رہتاہے- دوقوموں کے درمیان بھی، اور ایک قوم کے اندر داخلی طورپر بھی، حتی کہ دو افراد کے درمیان بھی- اس کا تقاضا ہے کہ آدمی کسی بھی صورت حال میں منفی سوچ میں مبتلا نہ ہو- وہ ہمیشہ صرف ایک کام کرے- فطرت کے قانون کو دریافت کرنا، اور اس کے مطابق اپنے عمل کا منصوبہ بنانا، یہی اس دنیا میں کامیابی کا واحد طریقہ ہے- دوسرا ہر طریقہ صرف تباہی میں اضافہ کرنے والا ہے، نہ کہ کامیابی تک پہنچانے والا-
واپس اوپر جائیں

شیطان کا وسوسہ

قرآن کی سورہ حم السجدہ میں اہلِ ایمان کو حکم دیاگیا ہے کہ وہ اپنے حسن سلوک کے ذریعہ اپنے دشمن کو اپنا دوست بنائیں-اس کے فوراً بعد یہ الفاظ آئے ہیں: وَاِمَّا یَنْزَغَنَّکَ مِنَ الشَّیْطٰنِ نَزْغٌ فَاسْتَعِذْ بِاللّٰہِ ط اِنَّہُ ہَوَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُ(41:36) یعنی اگر شیطان تمھارے دل میں کچھ وسوسہ ڈالے تو تم اللہ کی پناہ مانگو- بے شک وہ سننے والا، جاننے والا ہے-
اِس سیاق (context)میں، وسوسہ شیطان کا مطلب صاف طورپر یہ ہے کہ دشمن کے ساتھ جب حسن سلوک کرنے کا معاملہ پیش آئے اور تمھارا دل کسی شک میں پڑے یا کوئی تم کو فرضی اندیشہ بتا کر اس راہ سے ہٹانا چاہے، اس وقت تم اِس قسم کے خیال کو شیطان کا وسوسہ سمجھو اور شیطان کو اپنے سے دور بھگا کر اس معاملے میں اسلام کے اصول پر قائم رہو- اِس سیاقِ کلام میں، وسوسۂ شیطان کا مطلب ہے — دشمن کے ساتھ حسن سلوک کرنے کے طریقے پر شبہہ ڈالنا-
مثال کے طورپر اگر ایسا ہو کہ کسی کو یہ طریقہ بتایا جائے کہ تم جس کو اپنا دشمن سمجھتے ہو، اس کی دشمنی سے بچنے کا قرآنی طریقہ یہ ہے کہ تم اپنے دشمن کے ساتھ اچھا سلوک کرو- اس کے بعد اگر وہ شخص یہ کہے کہ ایسا کرنے سے دشمن اور زیادہ جری ہوجائے گا، وہ ہمارے خلاف اور بھی زیادہ دشمنی کرے گا تو ایسا کرنا یقینی طورپر شیطان کا وسوسہ ہے- ایسا بول عقل کا بول نہیں ہے، بلکہ شیطان کا بول ہے- جو لوگ ایسا کہیں وہ اس کا ثبوت دے رہے ہیں کہ وہ شیطان کے فریب میں آگئے ہیں-
برے سلوک کے جواب میں اچھا سلوک کرنا محض ایک اخلاقی بات نہیں- وہ فطرت کے قانون کے مطابق ایک کارگر تدبیر ہے- یہ فطرت کا قانون ہے کہ جب اس کے ساتھ جوابی طریقہ اختیار نہ کیا جائے بلکہ یک طرفہ طورپر حسن سلوک کا معاملہ کیا جائے تو اس کا ضمیر جاگ اٹھتا ہے، وہ ندامت میں مبتلا ہوکر اپنی اصلاح آپ کرلیتا ہے-
واپس اوپر جائیں

ایک سنت ِ رسول

قال ابن عمر لعائشة: أخبرینا بأعجب شیء رأیتہ من رسول اللہ صلى اللہ علیہ وسلم، فبکت وقالت: کلّ أمرہ کان عجباً (الترغیب والترہیب: 666) یعنی عبد اللہ ابن عمر نے عائشہ سے کہا کہ مجھ کو یہ بتائیے کہ آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں سب سے عجیب چیز کیا دیکھی- یہ سن کر وہ رو پڑیں، اور کہا کہ آپ کی ہر بات عجیب ہوتی تھی- عجیب یہاںاپنے لفظی معنی میں نہیں ہے بلکہ ایک اعلی ذہنی صفت کے معنی میں ہے- وہ یہ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہر بات میں ایک نیا پن ہوتا تھا، آپ کی ہر بات تعجب خیز حد تک رواجی فکر سے مختلف ہوتی تھی-
غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ تخلیقی فکر (creative thinking)کا معاملہ تھا- پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کامل درجے میں تخلیقی ذہن (creative mind) کی صفت رکھتے تھے- آپ کی اس صفت نے آپ کو اس قابل بنا دیا تھا کہ آپ چیزوں کو زیادہ گہرائی کے ساتھ دیکھ سکیں- آپ چیزوں میں نئے پہلو کی نشاندہی کریں- آپ چیزوں کو نئے زاویے سے دیکھیں، اور دوسروں کو اسے بتائیں-
یہ تخلیقی فکر دراصل تدبر اور تفکر کا نتیجہ ہوتا ہے- آپ کی صفات کے بارے میں ایک روایت میں یہ الفاظ آئے ہیں: کان ہو طویل الصمت دائم الفکر متواتر الأحزان (تاریخ دمشق لابن عساکر: 3/337)یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دیر تک خاموش رہتے تھے، آپ ہمیشہ غوروفکر میں رہتے تھے، آپ مسلسل طورپر غم کی کیفیت میں ہوتے تھے-
اس روایت سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک سنت معلوم ہوتی ہے، یعنی مسلسل طورپر غور وفکر (contemplation)کی حالت میں رہنا- غوروفکر کا یہ معاملہ صرف خصائص نبوی کا معاملہ نہیں ہے، بلکہ وہ رسول اللہ کی ایک قابلِ تقلید سنت کا معاملہ ہے- اس غور وفکر سے آدمی کے اندر گہرائی آتی ہے- یہ فکری گہرائی آدمی کے اندر وہ صفت پیدا کرتی ہے، جس کو تخلیقی فکر کہاجاتا ہے- ایسا آدمی اس قابل ہوجاتا ہے کہ وہ چیزوں کو زیادہ گہرائی کے ساتھ دریافت کرے، وہ چیزوں کے نئے پہلو سے لوگوں کو باخبر کرے-
واپس اوپر جائیں

معرفت ایک تخلیقی عمل

دین میں سب سے زیادہ اہمیت معرفتِ الٰہی (realization of God) کی ہے- معرفت کوئی جامد چیز نہیں- معرفت مسلسل طورپر ایک اضافہ پذیر چیز ہے- اس کو قرآن میں ازدیادِ ایمان (8:2) کہا گیا ہے- اس اضافہ پذیر معرفت کو حاصل کرنے کا ذریعہ یہ ہے کہ آدمی کے اندر تخلیقی فکر (creative thinking) موجود ہو- اس کا جذبہ معرفت اتنا بڑھا ہوا ہو کہ ہر چیز سے اس کو معرفت کی غذا ملتی رہے-
آل انڈیا ریڈیو پر ہر گھنٹہ خبریں آتی ہیں- درمیان میں دوسرے پروگرام بھی آتے رہتے ہیں- ایک دن میں نے ریڈیو کھولا تو ایک گانے والا ایک گیت گارہا تھا، اس گیت کی ایک لائن یہ تھی:
برباد میں یہاں ہوں، آباد تو کہاں ہے
یہ الفاظ سن کر میرا دل تڑپ اٹھا- مجھے ایسا محسوس ہوا، جیسے انسان درد کی حالت میں ہے اور وہ اپنے رب کو پکار رہا ہے- انسان اپنے خالق سے کہہ رہا ہے کہ تو نے پیدا کرکے مجھے ایک ایسی دنیا میں ڈال دیا جو میرا ہیبی ٹیٹ (habitat)نہ تھا- اس دنیا میں درخت کو اس کا ہیبی ٹیٹ ملا ہوا ہے، مچھلی کو اس کا ہیبی ٹیٹ ملا ہوا ہے، حیوانات کو ان کا ہیبی ٹیٹ ملا ہوا ہے- چنانچہ بقیہ دنیا میں احساس محرومی کا کوئی وجود نہیں-محرومی کا احساس صرف انسان کا تجربہ ہے- انسان کو پیدا ہونے کے بعد مسلسل طورپر احساس محرومی (sense of unfulfillment) میں جینا پڑتا ہے- وہ ذہنی سکون سے محروم رہتا ہے، یہاں تک کہ وہ اسی حال میں مرجاتاہے-
یہ سوچتے ہوئے مجھے قرآن کی سورہ التین یاد آئی- اس سورہ پر غور کرتے ہوئے ایسا محسوس ہوا جیسے خدا انسان سے یہ کہہ رہا ہے کہ اے انسان، تیری یہ حالت اس لئے ہے کہ تو نے میرے کریشن پلان (creation plan)کو نہیں سمجھا- اگر تو میرے تخلیقی منصوبے کو دریافت کرتا تو تو یہ جان لیتا کہ میں نے تیرے لئے ایک اجر غیر ممنون (unending reward) تیار کررکھا ہے- اس دریافت کے بعد تو یہ کرتا کہ اپنی ساری توجہ اپنے آپ کو اس انعام کا مستحق بنانے میں لگا دیتا-
واپس اوپر جائیں

دعوت حق کے دو دَور

حضرت ابراہیم ایک پیغمبر تھے- ان کا زمانہ ساڑھے چار ہزار سال پہلے کا زمانہ ہے- ان کی ایک دعا وہ ہے جو انھوں نے تعمیر کعبہ کے وقت قدیم مکہ میں کی تھی- قرآن کے مطابق ان کے الفاظ یہ تھے: رَبَّنَا وَاجْعَلْنَا مُسْلِمَیْنِ لَکَ وَمِنْ ذُرِّیَّتِنَآ اُمَّةً مُّسْلِمَةً لَّکَ(2:128) یعنی اے ہمارے رب، ہم کو اپنا فرماں بردار بنا اور ہماری نسل میں سے اپنی ایک فرماں بردار امت اٹھا-
اس ابراہیمی دعا کا ذکر بائبل میں اس طرح آیا ہے — (اور خداوند نے کہا) ابراہام سے یقیناً ایک بڑی اور زبردست قوم پیدا ہوگی اور زمین کی سب قومیں اس کے وسیلے سے برکت پائیں گی:
(And the Lord said) since Abraham shall surely become a great and mighty nation, and all the nations of the earth shall be blessed in him. (Genesis 18: 18)
تاریخی پس منظر کو شامل کرکے غور کیا جائے تو اس دعا کا مطلب یہ ہے کہ آدم سے لے کر ابراہیم تک بہت سے پیغمبر آئے تاکہ وہ امر حق کا اعلان کریں، لیکن اس پوری مدت میں یہ خدائی مشن ایک انفرادی مشن بن کر رہ گیا- اب اللہ کو یہ مطلوب ہوا کہ امت (team) کی سطح پر اس کو انجام دیا جائے- حضرت ابراہیم کے زمانے میں ایک عمل (process) شروع ہوا- اس کے بعد ابراہیم اور اسماعیل اور ہاجرہ کی قربانیوں سے ایک نسل (بنو اسماعیل) تیار ہوئی، جس کے اندر ساتویں صدی عیسوی کے ربع اول میں محمد بن عبد اللہ پیدا ہوئے- ان کی دعوتی کوشش سے بنو اسماعیل میں ایک مطلوب ٹیم بنی، جس کو ایک حدیث میں العصابة (مسند احمد: 221) کہاگیاہے- اس العصابہ نے اپنے زمانے کے مواقع کو استعمال کرتے ہوئے توحید کی بنیاد پر ایک انقلاب برپا کیا-
یہ روایتی دور (traditional age) کی بات تھی- اب سائنسی دور (scientific age) کے تحت نئے دعوتی مواقع پیدا ہوئے ہیں- اب دوبارہ ایک العصابہ کی ضرورت ہے جو جدید مواقع کو استعمال کرتے ہوئے نئے دور میں امرِ حق کا اظہار کرے-
واپس اوپر جائیں

مطلوب رہنمائی

سچا رہنما کون ہے، امت ِ موسیٰ کے حوالے سے قرآن میں اس کا جواب ان الفاظ میں دیاگیا ہے: وَجَعَلْنَا مِنْہُمْ اَىِٕمَّةً یَّہْدُوْنَ بِاَمْرِنَا لَمَّا صَبَرُوْا وَکَانُوْا بِاٰیٰتِنَا یُوْقِنُوْنَ (32:24) اور ہم نے ان میں امام بنائے جو ہمارے حکم سے لوگوں کی رہنمائی کرتے تھے، جب کہ انھوں نے صبر کیا- اور وہ ہماری آیتوں پر یقین رکھتے تھے-قرآن کی اِس آیت میں ائمہ سے مراد مذہبی رہنما ہیں- یہاں یہ سوال ہےکہ قرآن میں ان کے لیے جعلنا کا لفظ کیوں آیا، یعنی اللہ کی طرف سے تقرری (appointment)- جیسا کہ معلوم ہے، اللہ کی طرف سے تقرری صرف پیغمبر کی ہوتی ہے- پھر غیر نبی امام کو اللہ کی طرف کیوں منسوب کیاگیا- اس سے مراد براہ راست تقرری نہیں ہے، بلکہ اس سے مراد بالواسطہ تقرری ہے-
اس بالواسطہ تقرری کا درجہ ان لوگوں کو ملتاہے، جو صبر کا ثبوت دیں- اصل یہ ہے کہ رہنما دو قسم کے ہوتے ہیں- ایک وہ ہیں جو حالات کے رد عمل کے تحت (out of reaction) رہنمائی کے لیے کھڑے ہوجائیں- دوسری قسم ان لوگوں کی ہے، جو صابرانہ منصوبہ بندی (patient planning)کے تحت رہنمائی کے لیے اٹھیں- یہ دوسری قسم کے لوگ اللہ کے نزدیک درست رہنما ہیں، ان کو اللہ کی طرف سے قبولیت (acceptance)حاصل ہوتی ہے- یہی وجہ ہے کہ ایسے رہنماؤں کے معاملہ کو اللہ کی طرف منسوب کیاگیا- امت کی رہنمائی کا معاملہ اصولی طورپر نظریہ کا معاملہ ہے، اور عملی طور پر وہ حالات کا معاملہ ہے۔ حالات کا رخ انسان کی آزادی اور مسابقت (competition) سے تعلق رکھتا ہے- خارجی حالات کبھی اہلِ اسلام کے موافق نہیں ہوتے- حقیقت یہ ہے کہ رہنمائی نام ہے، ناموافق حالات میں اپنے لیے موافق راستہ تلاش کرنا-ایسی حالت میں رہنما ہمیشہ دوانتخاب (options) کے درمیان ہوتا ہے- ایک یہ کہ حالات کے خلاف رد عمل (reaction) کرتےہوئے کچھ جوابی سرگرمی شروع کردینا - ایسے لوگ اللہ کے نزدیک غیر مطلوب رہنما ہیں، وہ کبھی اللہ کے نزدیک ربانی امام کا درجہ نہیں پاسکتے- دوسرے رہنما وہ ہیں جو صابرانہ منصوبہ بندی کے تحت اپنے عمل کا تعین کریں- یہی وہ لوگ ہیںجو اللہ کے نزدیک ربانی امام کا درجہ پائیں گے-
واپس اوپر جائیں

حقیقت پسندانہ پالیسی کا کرشمہ

لی کوان یئو (Lee Kuan Yew) سنگاپور کے فاؤنڈر پرائم منسٹر تھے۔ وہ 91 سال کی عمر میں 23 مارچ 2015کو سنگاپور میں وفات پاگیے۔سنگاپور پہلے جغرافی اعتبار سے ملیشیا کا ایک سرحدی حصہ تھا۔ 1965 میں وہ ایک علاحدہ ملک (separate state)بنا۔ مسٹر لی سنگاپور کے پہلے پرائم منسٹر بنائے گیےتھے۔اُس وقت سنگاپور ایک غیر ترقی یافتہ ملک تھا، اور وسائل سے محروم بھی۔ مگر مسٹر لی نے سنگاپور کو صرف پہلی جنریشن میں اول درجے کا ترقی یافتہ ملک بنادیا۔
آج سنگاپور میں ہر طرف ڈیولپمنٹ کے مناظر دکھائی دیتے ہیں۔سنگاپور کے ایک تعلیم یافتہ باشندے نے ایک اخباری رپورٹرسے بات چیت کے دوران کہا کہ جو لوگ یہاں مسٹر لی کی یادگار (monument) دیکھنا چاہتے ہیں، سنگاپور کے لوگ فخر کے ساتھ ان سے کہیں گے کہ اپنے چاروں طرف دیکھو، سنگاپور کا ہر گوشہ مسٹر لی کی روشن یادگار ہے۔
“To those who seek Lee Kuan Yew’s monument, Singaporeans can reply proudly: Look around you.” (The Times of India, Delhi, March 30, 2015, p.16(
سنگاپور کی ترقی جدید تاریخ کا ایک معلوم واقعہ ہے۔ مگر اس ترقی کو عام طور پر لوگ ایک شخص کا کارنامہ بتاتے ہیں، یعنی سنگاپور کے پہلے وزیراعظم کا۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ اس دنیا میں کوئی بڑا کارنامہ ایک انسان کا شخصی کارنامہ نہیں ہوتا بلکہ وہ ایک انسان کی اختیار کردہ درست پالیسی کا نتیجہ ہوتا ہے۔ مسٹرلی ایک اعلی تعلیم یافتہ شخص تھے۔انھوں نے اپنے مطالعے کے ذریعے ممکن (possible) اور ناممکن (impossible) کے فرق کو جانا۔ انھوں نےاس حقیقت کو دریافت کیا کہ سنگاپور کی ترقی کا راز یہ ہے کہ وہ اپنی نیشنل پالیسی کو مثبت بنیادوں پر قائم کرے۔ سنگاپور نہ ملیشیا سے ٹکراؤ کرے، نہ وسائل کے مفقود ہونے کی شکایت کرے۔ نہ یہ کرے کہ کسی سازش (conspiracy) کودریافت کرکے اپنے مفروضہ دشمن کے ظلم کاتحریری اور تقریری پروپیگنڈہ کرے۔
مسٹر لی نے اس قسم کی کسی منفی سوچ کا مکمل طور پر خاتمہ کردیا۔ انھوں نے صرف یہ کیا کہ سنگاپور کے دستیاب وسائل (available resource )کو دانش مندانہ پلاننگ کے ذریعے ڈیولپ کرنا شروع کیا۔ انھوں نے کسی غیر حاصل شدہ کو حاصل کرنے پر ایک دن بھی ضائع نہیں کیا۔ انھوں نے صرف حاصل شدہ کی بنیاد پر اپنا منصوبہ بنایا نہ کہ غیر حاصل شدہ کی بنیاد پر۔
اس پالیسی کا نام مثبت پالیسی ہے۔ یہی مثبت پالیسی تھی جس نے مسٹر لی کو یہ موقع دیا کہ وہ مختصر مدت میں ڈیولپمنٹ کا ایک ایسا کارنامہ انجام دیں، جس کی مثال کسی اور ملک میں مشکل سے ملےگی۔
یہ دنیا فطرت کے قانون کے مطابق چل رہی ہے۔ خواہ فرد کا معاملہ ہو یا قوم کا معاملہ، ہر ایک کے لیے ترقی کا راز یہ ہے کہ وہ فطرت کے اس ابدی قانون کودریافت کرے اور اس کے مطابق اپنے عمل کا منصوبہ بنائے۔ جس طرح اس دنیا کا خالق خدا ہے، اسی طرح دنیا کا نظام بھی خالق کے منصوبے کے مطابق چل رہا ہے۔ اس دنیا کے بارے میں خالق کا مقرر کردہ قانون یہ ہےکہ فطری طور پر جو مواقع آدمی کو حاصل ہیں، ان کودریافت کرکے انھیں ترقی دینا، نہ کہ غیر حاصل شدہ مواقع کے لیے بے فائدہ پروٹسٹ کرنا۔
سنگاپور نسبتاً ایک چھوٹا جزیرہ ہے،اس کی حیثیت صرف ایک سٹی اسٹیٹ کی ہے۔ اس اعتبار سے سنگاپور کا بظاہر سب سے بڑا مسئلہ یہ تھا کہ سنگاپور کا رقبہ بڑھایا جائے۔ لیکن سنگاپور کے دانش مند لیڈر نے اس حقیقت کو جانا کہ موجودہ زمانہ نئے امکانات کا زمانہ ہے۔موجودہ زمانے میں اگر آپ کے پاس محدود رقبۂ زمین ہے تو آپ ملٹی اسٹوری بلڈنگ کے ذریعے عمودی توسیع (vertical growth) کر سکتے ہیں۔ اگر آپ کے پاس صرف ایک مقامی آفس ہے تو آپ ماڈرن کمیونی کیشن کے ذریعے اس کی پہنچ کو سارے عالم تک وسیع کر سکتے ہیں۔ اگر آپ کے پاس اپنے ملک میں تجارت کے مواقع کم ہیں تو آپ سی پورٹ اور ایرپورٹ کے ذریعے اپنی تجارت کو عالمی دائرے میں پھیلاسکتے ہیں، وغیرہ ۔ سنگاپور کے دانش مند لیڈر نے نئے امکانات کو دریافت کیا اور ان کو بھر پور طور پر استعمال کیا ،اوردنیا نے دیکھا کہ محدود مدت کے اندر سنگاپور ایک اعلیٰ ترقی یافتہ ملک بن چکا ہے۔
اسی کے ساتھ دنیا میں ایسے لوگ ہیں جو اس حقیقت سے بے خبر ہونے کی بنا پر صرف یہ کررہے ہیں کہ انھوں نے دوسری قوموں کو اپنا دشمن فرض کر رکھا ہے۔ وہ اپنی طاقت دوسری قوموں سے لڑنے میں ضائع کررہے ہیں۔ وہ دوسروں سے صرف نفرت کرتے ہیں۔ حالاں کہ اگر وہ نئے امکانات کوجانتے تو ان کو معلوم ہوتا کہ نئے حالات نے دوسروں کو ان کا مددگار بنادیا ہے۔وہ دوسروں کا سپورٹ لے کر اپنے آپ کو اعلی ترقی کے منازل تک پہنچاسکتے ہیں۔
فطرت کے قانون کے مطابق اس دنیا میں ترقی کا راز یہ نہیں ہے کہ آپ اپنے مفروضہ ظالموں کو دریافت کریں، آپ یہ دریافت کریں کہ آپ کے خلاف کیا کیا سازشیں ہورہی ہیں ۔ اس قسم کی دریافتیں صرف اس بات کا ثبوت ہے کہ آپ نے نہ فطرت کے قانون کو جانا، اور نہ زمانے کے مواقع (opportunities) کو سمجھا۔ آپ خدا شناسی سے بھی محروم ہیں، اور انسان شناسی سے بھی۔ مگر اس دنیا کے لیے اس کے خالق کا قانون یہ ہے کہ جو حقائق (realities) سے باخبر ہو ، وہ کامیابی کی تاریخ بنائے، اور جو شخص یا قوم حقائق سے بے خبر ہو وہ دنیا میں صرف شکایت اور احتجاج کرنے والاایک محروم گروہ بن کر رہ جائے ۔
واپس اوپر جائیں

دورِ مواصلات

قرآن کی سورہ بنی اسرائیل میں ایک آیت آئی ہے، اس کے الفاظ یہ ہیں: وَلَقَدْ کَرَّمْنَا بَنِیْٓ اٰدَمَ وَحَمَلْنٰہُمْ فِی الْبَرِّ وَالْبَحْرِ (17:70) یعنی ہم نے آدم کی اولاد کو عزت دی، اور سواری دی اس کو خشکی اور دریا میں-
تمام حیوان اپنے پیروں کے ذریعہ سفر کرتے ہیں، چڑیا کا سفر اپنے پرکے ذریعہ ہوتا ہے- یہ انسان کی ایک امتیازی خصوصیت ہے کہ وہ خارجی سواری کے ذریعہ اپنا سفر کرسکتا ہے- موجودہ زمانے میں جدید مواصلات (modern communication) کی ایجاد نے سواری (transportation) کے تصور کو بہت بڑھادیا ہے- آج کے انسان کے لیے یہ ممکن ہوگیا ہے کہ وہ جسمانی حمل ونقل (physical transportation)سے زیادہ تیز رفتاری کے ساتھ سفر کرے اور اِسی کے ساتھ افکار کے حمل ونقل (transportation of ideas)کو بھی نہایت سرعتِ رفتار سے انجام دے سکے-
قرآن کی مذکورہ آیت میں براہِ راست طورپر صرف حیوانی مواصلات کا ذکر ہے، مگر بالواسطہ طورپر اس میں ہر قسم کے مواصلات بشمول مواصلات بذریعہ ٹکنالوجی کا اشارہ موجود ہے- آدمی اگر اس آیت کو اس کے توسیعی مفہوم (extended meaning) کے ساتھ پڑھے تو یہ آیت اس کے لیے کائناتی معرفت کا ذریعہ بن جائے گی- اِس آیت میں وہ اللہ کی کائناتی نعمت کو دریافت کرے گا- یہ ایک آیت اس کے لیے بلین ٹریلین سے بھی زیادہ معانی کا خزانہ بن جائے گی-
قرآن معروف معنوں میں کوئی معلوماتی کتاب نہیں- لیکن قرآن کے اندر وہ تمام معلومات موجود ہیں جن کا تعلق معرفت سے ہے- یہ معلومات زیادہ تر اشارات کی صورت میں ہیں- ان آیتوں پر غور کرکے ان کے اندر چھپے ہوئے معانی کی دریافت کی جاسکتی ہے- یہی تدبر اور تفکر وہ چیز ہے جس سے معرفت میں اضافہ ہوتاہے- یہی وہ چیزہے جو آدمی کے ایمان کو یقین کے درجے تک پہنچا دیتی ہے- یہی وجہ ہے کہ قرآن میں تدبر کو نصیحت کا ذریعہ بتایا گیا ہے (38:29)-
واپس اوپر جائیں

دعوت فرضِ عین یا فرضِ کفایہ

عام طورپر یہ سمجھا جاتا ہے کہ دعوت الی اللہ کا کام فرضِ کفایہ ہے، وہ فرضِ عین نہیں، یعنی اگر کچھ لوگ دعوت کا کام انجام دیں تو بقیہ لوگوں سے اُس کی فرضیت ساقط ہوجائے گی- یہ تصور یقینی طورپر ایک بے بنیاد تصور ہے-
جہاں تک فرضِ عین کا تعلق ہے، اس میں کوئی اختلاف نہیں- فرضِ عین وہ ہے جس کی ادائیگی ہر فرد کے لیے ضروری ہے اور جس کی ادائیگی کے بغیر کسی انسان کی اخروی نجات ممکن نہیں- مثلاً نماز فرض عین ہے اور متفقہ طورپر ترکِ نماز سے آدمی کی نجات یقینی طورپر مشتبہ ہوجاتی ہے- یہی معاملہ دعوت الی اللہ کا ہے-
دعوت الی اللہ کیا ہے، وہ دراصل ’’ختم نبوت‘‘ کے عقیدے کا جز ہے- جب ایک صاحبِ ایمان یہ اقرار کرتا ہے کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم خاتم النبیین تھے تو اس کے بعد اُس کے اوپر یہ لازم آجاتا ہے کہ وہ خاتم النبیین کے بعد آپ کے پیغام کو بعد کی نسلوں میں جاری رکھے- نبوت بلا شبہہ ختم ہوگئی، لیکن کارِ نبوت بدستور جاری ہے- دعوت الی اللہ کا مقصد اِس کارِ نبوت کو مسلسل نسل درنسل جاری رکھنا ہے- اس لیے دعوت الی اللہ کا کام ایک مسلسل کام ہے نہ کہ کوئی وقتی کام-
دعوت فرض عین ہے یا فرض کفایہ کاسوال اس وقت ہوتا ہے، جب کہ دعوت کو محض اعلانِ غیر کے معنی میں لیا جائے - مگر حقیقت یہ ہے کہ دعوت ایک شخصی عبادت ہے- دعوت کا نہایت گہرا تعلق انسان کی ذاتی تربیت اور ذاتی طورپر تعمیر شخصیت سے ہے- حقیقت یہ ہے کہ دعوت الی اللہ کا کام کیے بغیر کسی مومن کی مومنانہ شخصیت کی تکمیل نہیں ہوتی، کسی مومن کے اندر وہ اعلیٰ شخصیت نہیں بنتی جو آخرت کے اعتبار سے مطلوب ہے- داعی ایک اعتبار سے دوسروں کو سچائی کا پیغام پہنچاتا ہے، اور دوسرے اعتبار سے وہ خود اپنے آپ کو سچائی پر کھڑا کرتا ہے- وہ اپنے آپ کو اس قابل بناتا ہے کہ آخرت میں اس کو مقعد ِصدق (seat of truth) پر جگہ پانے کا اعزاز حاصل ہو-
واپس اوپر جائیں

شہادت امتِ مسلمہ کا مشن

شہادت ایک عظیم عمل ہے۔ جو لوگ شہادت کا عمل انجام دیں ، ان کے لیے اللہ کے یہاں عظیم درجات ہیں۔ ان کو جنت کے اعلیٰ درجات میں جگہ ملے گی۔ شہادت کیاہے۔شہادت عین وہی چیز ہے جس کو دعوت کہا جاتا ہے۔ یعنی اللہ کے پیغام کو پرامن طور پر اللہ کے بندوں تک پہنچانا۔ زندگی کی حقیقت (reality of life) سے انسان کو اُس کی قابلِ فہم زبان میں باخبر کرنا ۔ شہادت یا دعوت کا مقصد یہ ہے کہ جس شخص کے اندر طلب ہو وہ اللہ کے نقشۂ تخلیق کو جان لے۔ اور جس کے اندر طلب نہ ہو اس پر اللہ کی حجت قائم ہوجائے، اس کو یہ موقع نہ رہے کہ وہ آخرت کے دن یہ کہہ سکے کہ ہم کو یہ خبر ہی نہ تھی کہ خالق کا مطلوب ہمارے بارے میں کیا تھا۔ شہادت یا دعوتی مشن کو قرآن میں مختلف الفاظ میں بیان کیا گیا ہے، مثلاً تبلیغ (5:67) یاانذار و تبشیر (4:165)، وغیرہ۔
شہادت کا لفظی مطلب گواہی دینا (to witness) ہے۔ شہادت اور دعوت دونوں کا مفہوم ایک ہی ہے لیکن شہادت کے لفظ میں مبالغہ کا مفہوم پایا جاتا ہے۔ یعنی دعوت کے کام کو اس طرح کامل صورت میں انجام دینا کہ آدمی کا پورا وجود دعوت کا مکمل اظہار بن جائے۔
یہی شہادت ہے۔ شہادت کا یہ تصور قرآن میں اجنبی (alien)ہے کہ شہادت کے دو درجے ہیں— قولی شہادت اور عملی شہادت۔ یعنی تقریر اور تحریر سے شہادت کی ذمے داری ادا کرنا کافی نہیں۔ ضرورت ہے کہ مکمل نظام قائم کرکے لوگوں کے سامنے اس کا عملی مظاہرہ کیا جائے۔ یہ نظامی تصورِ شہادت نہ قرآن میں کہیں مذکور ہے، اور نہ پیغمبروں میں سے کسی پیغمبر نے اس کو انجام دیا، حتیٰ کہ پیغمبر آخر الزماں نے بھی نہیں۔
پیغمبر ِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم شاہد (33:45) تھے ۔آپ نے بلاشبہ کامل معنوں میں شہادتِ حق کا کام انجام دیا۔ مگر آپ نے ایسا نہیں کیا کہ مکمل نظام کا عملی مظاہرہ کرکے شہادت کا فریضہ انجام دیں، نہ مکی دور میں نہ مدنی دور میں۔ حقیقت یہ ہے کہ شہادت کا یہ کام ، ایک ایسا کام ہے جس کو ـ’’ قول‘‘ کے ذریعے انجام دیا جاتا ہے۔ البتہ یہ ضروری ہے کہ داعی کامل معنوں میں ناصح اور امین (7:68) ہو۔ یعنی مدعو کی نسبت سے کامل خیرخواہ(well-wisher)، اور اللہ کی نسبت سے کامل امانت دار (honest)۔
شہادت کا تصور
قرآن میں شہادت کا لفظ مختلف مشتقات کی صورت میں 160 بار آیا ہے۔ہر جگہ وہ گواہی (witness) کے معنی میں ہے۔ قرآن میں شہادت کا لفظ مختلف نسبت کے ساتھ استعمال ہوا ہے، لیکن ہر بار وہ اسی گواہی کے مفہوم میں آیا ہے، کسی اور مفہوم میں نہیں۔
قرآن کے مطابق ، پیغمبر کا منصب یہ ہے کہ وہ لوگوں کے اوپر اللہ کا گواہ بنے۔ وہ پر امن فکری جدوجہد کے ذریعے لوگوں کو بتائے کہ اللہ نے ان کو کس لیے پیدا کیا ہے۔ اور آخرت میں ان کے ساتھ کیا معاملہ ہونے والا ہے۔ ہر پیغمبر کا مشترک مقصد یہی تھا، اور ہر پیغمبر نے شہادت کے اس عمل کو مکمل طور پر غیر سیاسی انداز میں انجام دیا۔
پیغمبر ِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم پر نبوت کا سلسلہ ختم ہوگیا لیکن کارِنبوت بدستور باقی ہے۔ خاتم النبیین کے بعد تمام انسانی نسلوں کے لیے بھی یہی مطلوب ہے کہ ان کو پیغمبر کی نیابت میں اللہ کا پیغام بدستور پہنچایا جائے، اور قیامت تک پہنچایا جاتا رہے۔ یہ کام بعد کے زمانے میں امتِ محمدی کو انجام دینا ہے۔ یہ گویا نبی کے بعد نبی کے کارِ شہادت کا تسلسل ہے۔ اس عمل کی درست ادائیگی کی شرط یہ ہے کہ اس کو امانت اور خیرخواہی (7:68) کی اسپرٹ کے ساتھ انجام دیا جائے۔
امانت یہ ہے کہ اصل پیغامِ خداوندی میں کسی اور چیز کی ملاوٹ نہ کی جائے۔ اور نصح یہ ہے کہ اس کام کویک طرفہ خیرخواہی کے ساتھ انجام دیا جائے۔ تاکہ مخاطب کے لیے انکار کا کوئی معقول سبب باقی نہ رہے۔
امتِ وسط
امتِ محمدی کی اس ذمے داری کو قرآن کی سورہ نمبر 2میں اس طرح بیان کیا گیا ہے: وَکَذَلِکَ جَعَلْنَاکُمْ أُمَّةً وَسَطًا لِتَکُونُوا شُہَدَاءَ عَلَى النَّاسِ وَیَکُونَ الرَّسُولُ عَلَیْکُمْ شَہِیدًا (البقرۃ:143)۔ یعنی اس طرح ہم نے تم کو بیچ کی امت بنا دیا تاکہ تم ہو بتانے والے لوگوں پر، اور رسول ہو تم پر بتانے والا:
Thus We have made you a middle nation, so that you may act as witnesses for mankind, and the Messenger may be a witness for you.
امت ِ وسط کا مطلب بیچ کی امت (middle ummah) ہے۔ یعنی امتِ محمدی کی حیثیت خاتم النبیین اور بعد کی انسانی نسلوں کے درمیان بیچ کے نمائندہ کی ہے۔ اللہ کے دین کو خاتم النبیین سے لینا اور اس کو بعد کی نسلوں تک کسی اجرت کی امید کے بغیر قیامت تک پہنچاتے رہنا۔ اس پہنچانے کا مطلب صرف اعلان (announcement) نہیں ہے۔ بلکہ ضروری ہے کہ اس کو قول بلیغ (4:63) کی زبان میں پہنچایا جائے۔ یعنی ایسے اسلوب میں جو لوگوں کے ذہن کو ایڈریس کرنے والا ہو۔
قرآن کی اس تعلیم کے مطابق موجودہ دنیا ہمیشہ کے لیے دارالدعوۃ ہے، اس کے سوا اور کچھ نہیں۔ اس کے مطابق نبوت محمدی اور دوسرے انسانوں کے درمیان جو نسبت ہے وہ صرف ایک ہے۔ وہ یہ کہ امت کی حیثیت شاہد کی ہے، اور دوسرے انسانوں کی حیثیت مشہود(85:3)کی ۔ اس نسبت کو دوسرے الفاظ میں داعی اور مدعو کی نسبت کہا جاسکتا ہے۔
امت محمدی کی اس دعوتی ذمے داری کو حدیث میں ان الفاظ میںبیان کیا گیا ہے: المؤمنون شہداء اللہ فی الأرض (صحیح البخاری، حدیث نمبر 2642)۔ یعنی اہل ایمان زمین پر اللہ کے گواہ ہیں۔ شہادت کا یہ کام خالص پیغمبرانہ طریقے پر انجام دینا ہے۔ یہ ایک خدائی کام ہے جس میں کسی سیاسی یا قومی یا مادی مقصد کو شامل کرنا ہرگز جائز نہیں۔ اس کام میں کسی اور مقصد کو شامل کیا جائے تو وہ قرآن کے الفاظ میں رکون ہوگا جو انسان کو اللہ کے یہاں سخت مواخذہ کا مستحق بنا دیتا ہے۔وَلَا تَرْکَنُوْٓا اِلَى الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا فَتَمَسَّکُمُ النَّارُ ۙ وَمَا لَکُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰہِ مِنْ اَوْلِیَاۗءَ ثُمَّ لَا تُنْصَرُوْنَ(11:113) یعنی ان کی طرف نہ جھکو جنھوں نے ظلم کیاورنہ تم کو آگ پکڑ لے گی اور اللہ کے سوا تمھارا کوئی مددگار نہیں، پھر تم کہیں مدد نہ پاؤگے-
دعوت قولِ بلیغ کی زبان میں
شہادت یا دعوت کا یہ کام ایک ابدی قسم کا پیغمبرانہ مشن ہے۔ اس کو ہر زمانے میں مسلسل طور پر انجام دینا ہے۔ اس مشن کا اصل پیغام تو ہمیشہ ایک ہی رہے گا۔ لیکن زمانی تبدیلیوں کے اعتبار سے اس کی ادائیگی میں فرق ہوتا رہے گا۔ شہادت یا دعوت کے اس عمل کی ادائیگی کو موثر بنانے کے لیے اس طرح انجام دینا ہوگا کہ وہ ہرزمانے کے ذہن کو ایڈریس کرسکے۔ اس زمانی رعایت کے بغیر حجت کی شرط پوری نہیں ہوسکتی، جو کہ اس کام کی حسن ادائیگی کی لازمی شرط ہے۔
دعوت دورِ تعقل میں
دعوت یا شہادت کا یہ پیغمبرانہ مشن سفر کرتے ہوئے، اب پندرھویں صدی ہجری (اکیسویں صدی عیسوی ) میں داخل ہوچکا ہے۔ موجودہ زمانہ کو دورِ تعقل (age of reason) کہا جاتا ہے۔ اب ضروری ہے کہ جدید ذہن (modern mind) کی نسبت سے اس کو عقلی طور پر مدلل صورت میں پیش کیا جائے۔ اس کے بغیر مطلوب معیار پر اس کام کی انجام دہی نہیں ہوسکتی۔
شہادتِ اعظم
بعد کے دور میں شہادت کا یہ دعوتی عمل عالمی سطح پر مزید اضافے کے ساتھ انجام پائے گا۔ اس دعوتی واقعے کو حدیث میں شہادت اعظم کہا گیا ہے۔ پیغمبر ِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ایک دور آئے گا جب کہ شہادت علی الناس یا دعوت الی اللہ کے اس کام کو حجت (reason) کی سطح پر انجام دینا ضروری ہوگا۔ اس وقت امت کے جو افراد وقت کے استدلالی معیار پر اس دعوتی کام کو انجام دیں گے، وہ اللہ کے یہاں بہت بڑے درجے کے مستحق قرار پائیں گے۔ اس دور میں اللہ کے جو بندے اس کام کو اس کے مطلوب معیار پر انجام دیں گے، ان کے لیے حدیث میں یہ الفاظ آئے ہیں: ہذا أعظم الناس شہادةً عند رب العالمین (صحیح مسلم، حدیث نمبر 2938)۔ یعنی یہ اللہ رب العالمین کے نزدیک لوگوں کے اوپر سب سے بڑی شہادت (دعوت) ہوگی۔
شہادت کے تصور میں تبدیلی
اسلام کے ابتدائی دور میں شہادت کا یہی تصور تھا جو اوپر بیان کیا گیا۔ اس زمانے میں شہادت کا لفظ گواہی کے لیے استعمال ہوتا تھا۔ جہاں تک اللہ کے راستے میں جان دینے کا معاملہ ہے، اس کے لیے معروف لغوی لفظ قتل استعمال ہوتا تھا۔ جیسا کہ قرآن میں آیا ہے: وَلَا تَقُولُوا لِمَنْ یُقْتَلُ فِی سَبِیلِ اللَّہِ أَمْوَاتٌ (2:154)۔ یعنی اور جو لوگ اللہ کی راہ میں قتل کیے جائیں ان کو مردہ مت کہو-اس آیت کے مطابق ، اللہ کے راستے میں جان دینے والے کو مقتول فی سبیل اللہ کہا جائے گا۔
ایسے شخص کا اجر اللہ کے یہاں بلاشبہ بہت بڑا ہے۔ لیکن انسانی زبان میں اس کا ذکر ہوگا تو اس کو مقتول فی سبیل اللہ کہا جائے گا۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں ہجرت کے تیسرے سال غزوۂ احد پیش آیا۔
اس جنگ میں صحابہ میں سے ستر آدمی مارے گیے۔ صحیح البخاری میں اس کا ذکر ان الفاظ کے ساتھ آیا ہے: أنس بن مالک أنہ قال: قُتِل منہم یوم أحُد سبعون (صحیح البخاری، حدیث نمبر 4078)۔ یعنی حضرت انس کہتے ہیں کہ احد کے دن اصحابِ رسول میں سے ستر آدمی قتل ہوئے۔
رسول اللہ کے بعد صحابہ اور تابعین کا زمانہ اسلام میں مستند زمانہ سمجھا جاتا ہے۔ اس زمانے میں یہی طریقہ رائج تھا۔ بعد کے زمانے میں دھیرے دھیرے ایسا ہوا کہ جس طرح دوسری تعلیمات میں تبدیلی آئی، اسی طرح شہادت کی اصطلاح میں بھی تبدیلی آئی۔ یہاں تک کہ دھیرے دھیرے یہ حال ہوا کہ شہادت بمعنی دعوت کا تصور امت کے ذہن سے حذف ہوگیا۔ اس کے بجائے، شہادت اور شہید کا لفظ جانی قربانی (martyrdom) کے معنی میں استعمال ہونے لگا۔
بعد کے زمانے میں یہ رواج عام ہوگیا کہ اس قسم کے افراد کے نام کے ساتھ شہید کا لفظ شامل کیا جانے لگا۔مثلا حسن البنا شہید، سیدقطب شہید، سید احمد شہید، شاہ اسماعیل شہید، وغیرہ۔ اصحابِ رسول میں بہت سے لوگوں کے ساتھ جانی قربانی کا یہ واقعہ پیش آیا لیکن کسی کے نام کے ساتھ شہید کا لفظ شامل نہیں کیا گیا۔ مثلا َ عمر بن الخطاب شہید، عثمان بن عفان شہید، علی ابن ابی طالب شہید، سعد بن معاذ شہید، وغیرہ۔ صحابہ کا نام ہمیشہ ان کے آبائی نام کے ساتھ لکھا اور بولا گیا، نہ کہ شہید کے اضافے کے ساتھ۔ جیسا کہ بعد کے زمانے میں رائج ہوا۔ چناں چہ محدث البخاری نے اپنی کتاب میں اس نوعیت کی کچھ روایات کے اوپریہ باب قائم کیا ہے: باب لا یقول فلان شہید (کتاب الجہاد والسیر)
یہ سادہ بات نہیں ہے بلکہ اسلام کے ایک اہم اصول پر مبنی ہے۔ وہ یہ کہ لوگوں کو ان کے آبائی نام کے ساتھ پکارا جائے: اُدْعُوْہُمْ لِاٰبَاۗىِٕہِمْ ہُوَ اَقْسَطُ عِنْدَ اللّٰہِ (33:5)یعنی ان کو ان کی آبائی نسبت سے پکارو، یہ اللہ کے نزدیک زیادہ منصفانہ بات ہے۔ نام کے ساتھ شہید یا اس طریقے کے دوسرے الفاظ کا اضافہ کرنا،اشخاص کے بارے میں غیر واقعی ذہن بنانے والا عمل ہے۔ یہ طریقہ اسلامی آداب کے مطابق نہیں۔
شہادت اور شہید کے معاملے میں یہ غیر اسلامی طریقہ موجودہ زمانے میں اپنی آخری حد پر پہنچ گیا۔موجودہ زمانے میں مسلمانوں کے درمیان تشدد کا جو طریقہ رائج ہوا، اس کا اصل سبب یہی ہے۔ جو لوگ اس متشددانہ عمل میں ہلاک ہوتے ہیں، ان کو بطور خود شہید اور شہداء کا ٹائٹل دیا جاتا ہے۔ اور یہ دعویٰ کیا جاتا ہے کہ یہ وہ لوگ ہیں جو مرنے کے بعد فوراً جنت میں داخل ہو گیے۔
یہ معاملہ اپنی عمومی صورت میں نوآبادیات (colonialism) کے دور میں رائج ہوا۔ اس دور میں مغربی قوموں نے مسلم علاقوں پر غلبہ حاصل کر لیا۔ اس کے بعداس دور کے مسلم مقررین اور محررین کی غلط رہنمائی کے نتیجے میں مسلمانوں کے اندرعام طور پر ان کے خلاف شدید ردعمل پیدا ہوگیا۔ یہ ردعمل پہلے نفرت کی شکل میں جاری ہوا۔ اس کے بعدبتدریج اس نے تشدد کی صورت اختیار کر لی۔
اس متشددانہ عمل کو مقدس بنانے کے لیے کہا گیا کہ جو لوگ اس مقابلے میں مارے جائیں، وہ شہید ہوں گے، اور بلا حساب کتاب فورا جنت میں داخل ہو جائیں گے۔ یہ بلاشبہ ایک خود ساختہ مسئلہ تھا، جس کا قرآن و حدیث سے کوئی تعلق نہیں۔ دوسری قوموں کے خلاف اس منفی ردعمل کی آخری تباہ کن صورت وہ ہے جو موجودہ زمانے میں خودکش بمباری (suicide bombing) کی صورت میں ظاہر ہوئی۔ اس خودکش بمباری کو مقدس بنانے کے لیے کچھ علماء کی طرف سے غلط طور پراس کو استشہاد (طلبِ شہادت) کا ٹائٹل دے دیا گیا۔
اب حال یہ ہے کہ لوگ بڑی تعداد میں شہادت کے نام پر اپنی جانیں دے رہے ہیں۔ لیکن شہادت کا اصل کام ، دعوت الی اللہ کو انجام دینے کی تڑپ کسی کے اندر نہیں، نہ مسلم علماء کے اندر، نہ مسلم عوام کے اندر۔ شہادت کے اس خودساختہ تصور کے تحت وہ جن لوگوں پر حملے کرتے ہیں، وہ ان کے لیے مدعو کی حیثیت رکھتے ہیں۔ اور مدعو کو ہلاک کرنا اسلام میں سرے سے جائز ہی نہیں۔
سنتِ یہود کی پیروی
حدیث میں بتایا گیا ہے کہ امتِ محمدی بعد کے زمانے میں ضرور یہود کی کامل اتباع کرے گی: لتتبعُنَّ سَنَنَ من کان قبلَکم ، شبرًا بشبرٍ وذراعًا بذراعٍ ، حتى لو دخلوا جُحْرَ ضبٍّ تبعتُمُوہم. قلنا : یا رسولَ اللہِ ، الیہودُ والنصارى ؟ قال : فمَنْ (صحیح البخاری، حدیث نمبر7320)۔ یہ سادہ طورپریہودکی اتباع کا مسئلہ نہیں ہے۔
یہ دراصل ایک قانونِ فطرت کا معاملہ ہے، جس کو قرآن میں طول امدکے نتیجے میں قساوت کے الفاظ میں بیان کیا گیا ہے۔وَلَا یَکُوْنُوْا کَالَّذِیْنَ اُوْتُوا الْکِتٰبَ مِنْ قَبْلُ فَطَالَ عَلَیْہِمُ الْاَمَدُ فَقَسَتْ قُلُوْبُہُمْ ۭ وَکَثِیْرٌ مِّنْہُمْ فٰسِقُوْنَ (57:16) یعنی لمبی مدت گزرنے کی بنا پر بعد کی نسلوں میں زوال آنا، اور زوال کی بنا پر ان کے اندر مختلف قسم کے بگاڑ کا پیدا ہوجانا۔
سنتِ یہود کی پیروی کی سب سے زیادہ سنگین صورت وہ ہے جو شہادت (witness) کے معاملے میں واقع ہوئی۔ یہود کو اللہ نے اپنے دین کا گواہ (witness) بنایا تھا۔ اس کا ذکر بائبل میں ان الفاظ میں آیا ہے: خداوند فرماتا ہے تم میرے گواہ ہو، اور میرے خادم بھی جسے میں نے منتخب کیا تاکہ تم جانو اور مجھ پر ایمان لاؤ، اور سمجھو کہ میں وہی ہوں۔ مجھ سے پہلے کوئی خدا نہ ہوا اور میرے بعد بھی کوئی نہ ہوگا (یسعیاہ، 43:10)
You are My witnesses, declares the Lord, and My servant whom I have chosen, so that you may know and believe Me and understand that I am He. Before Me no god was formed, nor will there be one after Me. (Isaiah 43:10)
یہود پربعد کے زمانے میں جب زوال آیا تو انھوں نے خدا کے دین کی گواہی کی اس ذمے داری کو عملاً چھوڑدیا۔ اس کا سبب یہ تھا کہ زوال یافتہ نفسیات کی بنا پر ان کے اندر قومی ذہن پیدا ہوگیا۔ ان کے اندر وہ نفسیات پیدا ہوگئی جس کو یہود کی تاریخ میں یہودی احساسِ برتری (Jewish supremacism)کہا جاتا ہے۔
چناں چہ ان کی دلچسپی تمام تر اپنی قوم تک محدود ہوگئی ، وہ دوسرے انسانوں کے خیرخواہ نہ رہے۔ بلکہ دوسروں کو عمومی طور پر انھوں نے اپنا دشمن سمجھ لیا۔کیوں کہ وہ قوم یہود کی خود ساختہ برتری کے نظریہ کو تسلیم نہیں کرتے تھے۔ اس بنا پر انھوں نے دینِ خداوندی کی گواہی کے کام کو چھوڑدیا، او ر اس کے بجائے دوسرے قومی کاموں میں مشغول ہوگیے۔ مگر اسی کے ساتھ خود پسندی (self-righteousness)کے جذبہ کی بنا پر یہ ظاہر کرتے رہے کہ وہ اب بھی اپنے پیغمبر موسیٰ کے بتائے ہوئے دین پر قائم ہیں۔
یہود کے اس معاملے کو قرآن میں اس طرح بیان کیا گیا ہے: وَإِذْ أَخَذَ اللَّہُ مِیثَاقَ الَّذِینَ أُوتُوا الْکِتَابَ لَتُبَیِّنُنَّہُ لِلنَّاسِ وَلَا تَکْتُمُونَہُ فَنَبَذُوہُ وَرَاءَ ظُہُورِہِمْ وَاشْتَرَوْا بِہِ ثَمَنًا قَلِیلًا فَبِئْسَ مَا یَشْتَرُونَ ۝ لَا تَحْسَبَنَّ الَّذِینَ یَفْرَحُونَ بِمَا أَتَوْا وَیُحِبُّونَ أَنْ یُحْمَدُوا بِمَا لَمْ یَفْعَلُوا فَلَا تَحْسَبَنَّہُمْ بِمَفَازَةٍ مِنَ الْعَذَابِ وَلَہُمْ عَذَابٌ أَلِیمٌ۝(3:187-88)-
ترجمہ: جب اللہ نے اہل کتاب سے عہد لیا کہ تم خدا کی کتاب کو پوری طرح لوگوں کے لیے ظاہر کرو گے اور اس کو نہیں چھپاؤ گے۔ مگر انھوں نے اس کو پس پشت ڈال دیا اور اس کو تھوڑی قیمت پر بیچ ڈالا۔ کیسی بری چیز ہے جس کو وہ خرید رہے ہیں ۔ جو لوگ اپنے اس عمل پر خوش ہیں اور چاہتے ہیں کہ جو کام انھوں نے نہیں کئے اس پر ان کی تعریف ہو، ان کو عذاب سے بَری نہ سمجھو۔ ان کے لئے درد ناک عذاب ہے۔
دورِ جدید کے مسلمانوں کا مطالعہ بتاتا ہے کہ وہ اس معاملے میںکامل طور پر یہود کے متبع بن چکے ہیں۔ انھوں نے دعوت الی اللہ کے کام کو عملاً چھوڑ دیا ہے۔ اس کے بجائے وہ دوسرے قومی کام انجام دے رہے ہیں، لیکن ان کاموں کو وہ غلط طور پر دعوت کا کام بتاتے ہیں۔ انھوں نے شہادت کے تصور کو بدل کر جانی قربانی (martyrdom) کے معنی میںلے لیا۔ وہ قومی سیاست (communal politics) میں مشغول ہیں۔ اس خودساختہ عمل میں جب ان کے کچھ لوگ مارے جاتے ہیں تو وہ ان کو بطور خود شہید اور شہداء کا ٹائٹل دے کر یہ ظاہر کرتے ہیں کہ وہ دعوت اور شہادت کا مطلوب کام انجام دے رہے ہیں۔
انسان کوئی کام نفسیاتی محرک کے تحت کرتا ہے۔ دعوت الی اللہ کا کام کرنے کے لیےدوسروں کے ساتھ خیرخواہی کی اسپرٹ ضروری ہے۔ مگر دورِ زوال میں مسلم برتری (Muslim supremacism) کا ذہن جو مسلمانوں میں آیا اس کے نتیجے میں وہ دوسری قوموں کو کم تر اور اپنا حریف سمجھنے لگے۔ اس نفسیات کا نتیجہ یہ ہوا کہ دوسری قوموں کے لیے خیرخواہی کا جذبہ ان کے اندر باقی نہ رہا۔ موجودہ زمانے کے مسلمان عام طور پر اسی قومی نفسیات کے شکار ہیں۔
یہی سب سے بڑی وجہ ہے، جس نے ان سے دعوت الی اللہ کا جذبہ چھین لیا ہے۔ موجودہ زمانے کے مسلمان بظاہراپنی سرگرمیوں کو’’نظامِ مصطفیٰ‘‘ کا نام دیتے ہیں۔لیکن وہ جوکچھ کررہے ہیں، اس کا نظامِ مصطفیٰ سے کوئی تعلق نہیں۔
یہ طریقہ عین اسی طریقے کی اتباع ہے جس کو قرآن میں زوال یافتہ یہود کی طرف منسوب کیا گیا ہے۔ یعنی یُحِبُّونَ أَنْ یُحْمَدُوا بِمَا لَمْ یَفْعَلُوا(3:188)- قرآن کے یہ الفاظ موجودہ زمانے کے مسلمانوں پر پوری طرح صادق آرہے ہیں۔ وہ اپنی قومی سرگرمیوں پر دعوت اور شہادت کا ٹائٹل لینا چاہتے ہیں۔ مگر اللہ کے قانون کے مطابق ایسا کبھی ہونے والانہیں۔ اس قسم کی روش بلاشبہ قابلِ مواخذہ ہے نہ کہ قابلِ انعام۔
خود کش حملہ
موجودہ زمانے میں مسلمانوں کے اندران کی زوال یافتہ قومی نفسیات کے تحت ایک ایسا ظاہرہ پیدا ہوا ہے جو غالباً تحلیلِ حرام (یسمّونہا بغیر اسمہا فیستحلونہا:سنن الدارمی،حدیث نمبر2145) کی سنگین ترین صورت ہے، اور وہ ہے خودکش بمباری (suicide bombing)۔ یعنی مفروضہ دشمن کو ہلاک کرنے کے لیے اپنے آپ کو بم سے اڑا دینا۔
یہ طریقہ بلاشبہ نص شرعی کے مطابق ایک حرام فعل ہے۔ کچھ علماء نےبطورِ خود، خود کش بمباری کے اس فعل کو استشہاد (طلبِ شہادت) کہہ کر جائز قرار دیا ہے۔ مگر اس قسم کا استدلال گناہ پر سرکشی کا اضافہ ہے۔ اس قسم کا کوئی بھی خود ساختہ فتویٰ خودکش بمباری جیسے صراحتاً ناجائز فعل کو جائز قرار نہیں دے سکتا۔
ایک حدیث اس معاملے میں قطعی حکم کی حیثیت رکھتی ہے۔ یہ حدیث مختلف کتابوں میں آئی ہے، مثلا صحیح البخاری (حدیث نمبر3062)، صحیح مسلم (حدیث نمبر 112)، مسندامام احمد (حدیث نمبر8090) ، وغیرہ۔ ان مختلف روایتوں کے الفاظ تقریباً یکساں ہیں۔روایت کے مطابق، صحابی بیان کرتے ہیں کہ ہم ایک غزوہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ شریک تھے۔ ہمارے ساتھ ایک شخص تھا جو ایمان لاچکا تھا۔ اس کا نام قزمان تھا۔ جنگ ہوئی تو یہ شخص شدید طور پر لڑا۔ لوگ اس کی بہادری کی تعریف کرنے لگے۔ مگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے بارے میں کہا کہ وہ اہل جہنم میں سے ہے(إنّہ من أہل النّارِ)۔ لوگوں کو آپ کے اس قول پر یقین نہیں ہوا۔ آپ نے کہا کہ جاکر اس کی تحقیق کرو۔ جب لوگوں نے اس کی تحقیق کی تو معلوم ہوا کہ جنگ میں وہ شدید طور پر زخمی ہوگیا تھا۔پھر زخموں کی تاب نہ لاکر اس نے اپنے آپ کو خود اپنے ہتھیار سے ہلاک کرلیا( فقَتل نفْسہ)۔ اس کے بعد آپ نے اللہ اکبر کہا اور فرمایاکہ میں گواہی دیتا ہوں کہ میں اللہ کا رسول ہوں۔
یہ ایک حقیقت ہے کہ اسلام میں خودکشی مطلق حرام کی حیثیت رکھتی ہے۔حتی کہ کوئی شخص بظاہر پیغمبر کا ساتھی ہو، اور وہ غزوہ میں لڑ کر بہادری دکھائے لیکن آخر میں وہ اپنے آپ کو خود اپنے ہتھیار سے مارکر اپنا خاتمہ کرلے تب بھی اس خودکشی کی بنا پر اس کی موت، حرام موت قرار پائے گی۔ کسی بھی عذرکی بنا پر اس کو جائز قرار نہیں دیا جاسکتا۔
اگر مسلمانوں پر حملہ کیا جائے، اور وہ لڑتے ہوئے مارے جائیں تو یہ جائز ہے۔ لیکن قصداً اپنے جسم کے ساتھ بم باندھنا، اور مفروضہ دشمنوں کے درمیان جاکر بم کا دھماکا کر دینا، جس میں وہ آدمی خود بھی مرے، اور دوسرے بھی مارے جائیں۔ یہ طریقہ صراحتاً خود کشی کا طریقہ ہے، اور وہ یقینی طور پراسلام میں ناجائز ہے۔ اہل ایمان کے لیے حملے کے خلاف جنگ کرنا جائز ہے۔ اور اگر وہ مقابلہ کرنے کی حیثیت میں نہ ہوں تو اس کے بعد ان کے لیے کرنے کا جو کام ہے، وہ صبر ہے، نہ کہ خود کش حملہ۔ مگراس معاملے میں موجودہ مسلمانوں کا آبسیشن (obsession) اتنا بڑھا ہوا ہے کہ کوئی اس پر سوچنے کے لیے تیار نہیں۔
بے فائدہ جنگ
پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک حدیث ان الفاظ میں آئی ہے: عن أبی ہریرة، قال: قال رسول اللہ صلى اللہ علیہ وسلم: والذی نفسی بیدہ لا تذہب الدنیا، حتى یأتی على الناس یوم لا یدری القاتل فیم قَتَل، ولا المقتول فیم قُتِل۔ فقیل: کیف یکون ذلک؟ قال: الہرج، القاتل والمقتول فی النار(صحیح مسلم، حدیث نمبر 2908) ۔ حضرت ابو ہریرہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، اس ذات کی قسم جس کے قبضے میں میری جان ہے، دنیا ختم نہیں ہوگی ، یہاں تک کہ لوگوں پر ایک ایسا وقت آئے گا، جب کہ قاتل یہ نہیں جانے گا کہ اس نے کیوں قتل کیا، اور مقتول یہ نہیں جانے گا کہ اس کو کیوں قتل کیا گیا۔کہا گیا کہ ایسا کیوں کر ہوگا۔آپ نے فرمایا کہ ایسا ہرج (بے معنی قتل وقتال)کے زمانے میں ہوگا۔ قاتل اور مقتول دونوں آگ میں جائیں گے۔
ہرج کا مطلب شارحین حدیث نےبتایا ہے :شدۃ القتل و کثرتہ (عمدۃ القاری،جلد نمبر7،صفحہ نمبر58)۔یعنی قتل و قتال کی شدت اور کثرت۔اس قسم کے مجنونانہ قتل وقتال کی صورت کسی گروہ میں کب پیش آتی ہے ۔جب وہ گروہ قوم پرستی میں دوسروں کے خلاف اندھی دشمنی تک پہنچ جائے۔ یہی موجودہ زمانے کے مسلمانوں کا حال ہے۔ ان کے اندر آخری حد تک یہ ذہن پیدا ہوگیا ہے کہ انھوں نےقومی حمایت میں دوسروں کو اپنا ابدی دشمن سمجھ لیا ہے۔ وہ یہ سمجھنے لگے ہیں کہ دوسری قومیں ان کے خلاف ہر وقت سازش میں مصروف رہتی ہیں۔ اس خود ساختہ سوچ کی بنا پردوسری قوموں کے خلاف ان کے دل میں جنون کی حد تک نفرت اور تشدد کا جذبہ پیدا ہوگیا ہے۔ موجودہ زمانے میں مسلمانوں کے اندر تشدد (violence) کا جو انتہاپسندانہ ظاہرہ دکھائی دیتا ہے، وہ اسی کا نتیجہ ہے۔ وہ نہ صرف دوسری قوموں کے خلاف نفرت میں مبتلا ہوگئے ہیں،بلکہ خود ان مسلمانوں کے خلاف بھی ، جن کے بارے میں وہ یہ فرض کرلیں کہ وہ ان کے دشمنوں کے حامی ہیں۔
موجودہ زمانے میں یہ حال ہے کہ مسلمانوں کے مختلف ٹیررسٹ (terrorist) گروپ بن گیے ہیں۔ وہ مختلف مقامات پر قتل و قتال کا ہنگامہ جاری کیے ہوئے ہیں،حتی کہ اسکول کے بچوں، مسجد کے نمازیوں، اور قبرستان کے سوگوار افراد پر بھی۔ قتل و قتال کا یہ اَن جسٹیفائڈ (unjustified) ہنگامہ اتنا زیادہ ہے، جیسے کہ ان لوگوںنے قتال برائے قتال کو خود ایک مطلوب کام سمجھ لیا ہے۔ خواہ اس کے لیے ان کے پاس کوئی معقول سبب (justified reason)موجود نہ ہو۔
مسئلہ کا حل
امت مسلمہ کے اندر یہ جو سخت نامحمود صورتِ حال پیدا ہوگئی ہے، اس کا حل صرف یہ ہے کہ ان کو صحیح آئڈیالوجی دی جائے۔ یہ لوگ اسلام کے بارے میں غلط آئڈیالوجی کے شکار ہیں۔ اس کی اصلاح صرف اس طرح ہوسکتی ہے کہ ان کو قرآن و حدیث کی بنیاد پر درست آئڈیالوجی سے واقف کرایا جائے۔اس سے کم درجے کی کوئی چیز اس صورتِ حال کی اصلاح کا ذریعہ نہیں بن سکتی۔
مثلاً ان لوگوں کو اس فطری حقیقت سے باخبر کرنا جس کو قرآن میں ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے: وَلَا تَسْتَوِی الْحَسَنَةُ وَلَا السَّیِّئَةُ اِدْفَعْ بِالَّتِی ہِیَ أَحْسَنُ فَإِذَا الَّذِی بَیْنَکَ وَبَیْنَہُ عَدَاوَةٌ کَأَنَّہُ وَلِیٌّ حَمِیمٌ۝ وَمَا یُلَقَّاہَا إِلَّا الَّذِینَ صَبَرُوا وَمَا یُلَقَّاہَا إِلَّا ذُو حَظٍّ عَظِیمٍ۝ وَإِمَّا یَنْزَغَنَّکَ مِنَ الشَّیْطَانِ نَزْغٌ فَاسْتَعِذْ بِاللَّہِ إِنَّہُ ہُوَ السَّمِیعُ الْعَلِیمُ۝ (41:34-36)۔ اور بھلائی اور برائی دونوں برابر نہیں ، تم جواب میں وہ کہو جو اس سے بہتر ہو پھر تم دیکھو گے کہ تم میں اور جس میں دشمنی تھی، وہ ایسا ہو گیا جیسے کوئی دوست قرابت والا۔ اور یہ بات اسی کو ملتی ہے جو صبر کرنے والے ہیں ، اور یہ بات اسی کو ملتی ہے جو بڑا نصیب والا ہے۔ اور اگر شیطان تمھارے دل میں کچھ وسوسہ ڈالے تو اللہ کی پناہ مانگو۔ بےشک وہ سننے والا، جاننے والا ہے۔
قرآن کی اس آیت کے مطابق، انسانوں کے درمیان جو تفریق ہے، وہ یہ نہیں ہے کہ کچھ لوگ ہمارے دوست ہیں اور کچھ لوگ ہمارے دشمن ۔ بلکہ صحیح تفریق یہ ہے کہ کچھ لوگ ہمارے واقعی دوست (actual friends) ہیں، اور کچھ لوگ ہمارے امکانی دوست (potential friends)۔ یہ فطرت کا قانون ہے۔
اس کے مطابق اہل ایمان کو یہ کرنا ہے کہ وہ کسی کو بھی اپنا دشمن نہ سمجھیں، بلکہ بلاتفریق ہر ایک کو اپنا دوست بنانے کی کوشش کریں— یہی دعوہ اسپرٹ ہے، اور اسی کا نام دعوت الی اللہ ہے۔
اسی طرح ان لوگوں کو قرآن کی وہ آیت یاددلاناہے، جس میں قتل کی برائی کو ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے: مَنْ قَتَلَ نَفْسًا بِغَیْرِ نَفْسٍ أَوْ فَسَادٍ فِی الْأَرْضِ فَکَأَنَّمَا قَتَلَ النَّاسَ جَمِیعًا وَمَنْ أَحْیَاہَا فَکَأَنَّمَا أَحْیَا النَّاسَ جَمِیعًا (5:32)۔جو شخص کسی کو قتل کرے، بغیر اس کے کہ اس نے کسی کو قتل کیا ہو یا زمین میں فساد برپا کیا ہو تو گویا اس نے سارے انسانوں کو قتل کر ڈالا اور جس نے ایک شخص کو بچایا تو گویا اس نے سارے انسانوں کو بچا لیا۔
اسی طرح ان لوگوں کو یہ بتانا کہ مسلمان کا مسلمان کو مارنا قرآن کے مطابق ایک جہنمی فعل ہے۔ اس سلسلے میں قرآن میں یہ الفاظ آئے ہیں: وَمَنْ یَقْتُلْ مُؤْمِنًا مُتَعَمِّدًا فَجَزَاؤُہُ جَہَنَّمُ خَالِدًا فِیہَا وَغَضِبَ اللَّہُ عَلَیْہِ وَلَعَنَہُ وَأَعَدَّ لَہُ عَذَابًا عَظِیمًا (4:93)۔ اور جو شخص کسی مومن کو جان کر قتل کرے تو اس کی سزاجہنم ہے جس میں وہ ہمیشہ رہے گا اور اس پر اللہ کا غضب اور اس کی لعنت ہے اور اللہ نے اس کے لئے بڑا عذاب تیار کر رکھا ہے۔
پیغمبر ِ اسلام کی آخری وصیت
آج شدید ضرورت ہے کہ پیغمبر اسلام کے اس انتباہ کو تمام دنیا کے مسلمانوں کو یاد دلایا جائے جو آپ نے اپنے آخری زمانے میں حجۃ الوداع کے موقع پردیا تھا۔ صحیح البخاری کی روایت کے مطابق اس کے الفاظ یہ ہیں: عن ابن عباس رضی اللہ عنہما، أن رسول اللہ صلى اللہ علیہ وسلم خطب الناس یوم النحر فقال: یا أیہا الناس أی یوم ہذا؟، قالوا: یوم حرام، قال: فأی بلد ہذا؟، قالوا: بلد حرام، قال: فأی شہر ہذا؟، قالوا: شہر حرام ، قال: فإن دماءکم وأموالکم وأعراضکم علیکم حرام، کحرمة یومکم ہذا، فی بلدکم ہذا، فی شہرکم ہذا، فأعادہا مرارا، ثم رفع رأسہ فقال: اللہم ہل بلغت، اللہم ہل بلغت - قال ابن عباس رضی اللہ عنہما: فوالذی نفسی بیدہ، إنہا لوصیتہ إلى أمتہ، فلیبلغ الشاہد الغائب، لا ترجعوا بعدی کفارا، یضرب بعضکم رقاب بعض (صحیح البخاری، حدیث نمبر1739)۔
ترجمہ: حضرت عبداللہ ابن عباس کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یوم النحر کو لوگوں کے سامنے ایک خطبہ دیا۔ آپ نے کہا کہ اے لوگو، آج کون سا د ن ہے- لوگوں نے کہا کہ یہ یومِ حرام ہے۔ پھر آپ نے فرمایا کہ یہ کون سا شہر ہے- لوگوں نے کہا کہ یہ شہر حرام ہے۔پھر آپ نے فرمایا کہ یہ کون سا مہینہ ہے- لوگوں نے کہا کہ یہ حرام کا مہینہ ہے۔ پھر آپ نے فرمایا کہ سن لو کہ تمھارا خون، تمھارے مال ، اور تمھاری عزت تمھارے اوپر حرام ہے، جیسا کہ آج کا دن حرام کا دن ہے، اور تمھارے اس شہر میں، اور تمھارے اس مہینے میں۔ آپ نے یہ کلمات بار بار فرمائے۔ پھر آپ نے سر اٹھایا، اور فرمایا کہ اے اللہ کیا میں نے پہنچادیا، اے اللہ، کیا میں نے پہنچادیا ۔ حضرت عبد اللہ ابن عباس کہتے ہیں کہ اس ذات کی قسم جس کے قبضے میں میری جان ہے، بے شک یہ آپ کی وصیت ہے اپنی امت کے لیے، پس جو حاضر ہے وہ ان کو پہنچادے جو حاضر نہیں ہے، ( پھرابن عباس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ قول ذکر کیا) تم لوگ میرے بعد کافر نہ ہوجا نا کہ آپس میں ایک دوسرے کو قتل کرنے لگو۔
امت کے لیے کرنے کا کام
موجودہ زمانے میں امت مسلمہ عام طور پر منفی ذہن میںمبتلا ہوگئی ہے۔ یہ صرف ان کی زوال یافتہ نفسیات کی بنا پرہے۔ اپنی منفی سوچ کے تحت وہ دوسری قوموں کو اپنے دشمن کے روپ میں دیکھنے لگے ہیں۔ کچھ لوگوں کے اندر یہ مزاج سوچ کی حدتک ہے، اور کچھ لوگ اپنی اس سوچ کے تحت قتل و قتال میں مشغول ہیں۔ یہ بلاشبہ وہی خطرناک علامت ہے، جس کی طرف احادیث میں پیشگی طور پر باخبر کیا گیا تھا۔
آج فرض کے درجے میں ضروری ہے کہ امت مسلمہ کے افراد اپنے اندر مثبت ذہن (positive thinking) پیدا کریں۔ وہ دوسری قوموں کو دشمن سمجھنے کا مزاج کلی طور پر ختم کردیں۔ آج ضرورت ہے کہ مسلمانوں کو یہ حقیقت یاد دلائی جائے کہ ان کی حیثیت ایک قوم کی نہیں ہے، بلکہ ایک اصولی گروہ کی ہے۔ ان کا مشن صرف ایک ہے، اور وہ پرامن دعوت الی اللہ ہے۔ اس کام کو انھیںیک طرفہ خیرخواہی کے تحت انجام دینا ہے۔ اگر دوسرے لوگ ان کے خیال کے مطابق ان کے ساتھ ظلم و زیادتی کا معاملہ کریں تب بھی انھیں اس قسم کی چیزوں کو نظر انداز کرتے ہوئےیک طرفہ طور پر لوگوں کا خیرخواہ بننا ہے، اور ان کو اللہ کا وہ پیغام پہنچا نا ہے جو ان کے پاس قرآن و سنت کی صورت میں محفوظ ہے۔ اس کے سوا کوئی بھی دوسرا عمل ان کو آخرت کی پکڑ سے بچانے والا نہیں۔
اسلام کے نام پر موجودہ زمانے کے مسلمانوں کے درمیان جو متشددانہ سرگرمیاں جاری ہوئیں، ان پر اب ایک صدی سے زیادہ مدت گزرچکی ہے۔ لیکن ان کی یہ سرگرمیاں ہر محاذ پر نتیجے کے اعتبار سے ناکام ہوگئیں۔ وہ مسلمانوں کے حق میں کاؤنٹر پروڈکٹیو (counter-productive)ثابت ہوئیں۔ ان متشددانہ سرگرمیوں کا یہ منفی انجام بتاتا ہے کہ اس معاملے میں مسلمانوں کو اللہ کی مدد حاصل نہیں۔ اگر اس معاملے میںان کو اللہ کی مدد ملتی تو وہ ضرور کامیاب ہوتے۔ اس صورتِ حال کا تقاضا ہے کہ مسلمان اپنی سرگرمیوں پر نظر ثانی کریں۔ وہ تشدد کا طریقہ یک لخت چھوڑ دیں، اورپر امن دعوتی عمل (peaceful dawah work) میں مصروف ہوجائیں۔ یہی وہ واحد طریقہ ہے جو مسلمانوں کو اللہ کی رحمت کا مستحق بنا سکتا ہے۔ (یہ مضمون کتابچہ کی شکل میں بھی شائع ہوچکا ہے)
واپس اوپر جائیں

قرآن کتاب ِتدبر

قرآن کی سورہ ص کی ایک آیت یہ ہے: کِتَٰبٌ أَنزَلْنَٰہُ إِلَیْکَ مُبَٰرَکٌ لِّیَدَّبَّرُوٓا۟ ءَایَٰتِہِۦ وَلِیَتَذَکَّرَ أُولُوا ٱلْأَلْبَٰبِ.(38:29) یعنی یہ ایک برکت والی کتاب ہے جو ہم نے تمھاری طرف اتاری ہے، تاکہ لوگ اِس کی آیتوں پر غور کریں اور تاکہ عقل والے اس سے نصیحت حاصل کریں-
اس کا مطلب یہ ہے کہ قرآن کی باتوں کو وہی شخص سمجھ سکتا ہے، جو قرآن کا مطالعہ تدبر کے ساتھ کرے- صرف لفظی تلاوت کے ذریعہ قرآن کا حق ادا نہیں ہوسکتا- مزید یہ کہ تدبر کے لیے تیارذہن (prepared mind) درکار ہے-
جو شخص قرآن کو سمجھنا چاہتا ہے، اس کو چاہئے کہ وہ اپنے آپ کو ایک تیار ذہن بنائے- اس کے بعد ہی وہ قرآن کو حقیقی طورپر سمجھ سکے گا- اپنے آپ کو تیار ذہن بنانے کے لیے جو شرطیں درکار ہیں، ان میں سے ایک ضروری شرط تقویٰ( 2:282) ہے- متقی انسان ایک سنجیدہ (sincere) انسان ہوتا ہے-سنجیدگی کے بغیر کوئی شخص قرآن کو سمجھ نہیں سکتا-
قرآن میں عقل کے مترادف کم سے کم چھ الفاظ استعمال کیے گئے ہیں— عقل، فؤاد، لب، قلب، حجر، نُہیٰ- ان کے سوا قرآن میں اور بہت سے الفاظ ہیں، جو بالواسطہ طورپر عقل سے تعلق رکھتے ہیں- مثلاً سمع اور بصر وغیرہ- حقیقت یہ ہے کہ قرآن کی تمام آیتیں عقل پر مبنی ہیں،کچھ آیتیں براہِ راست طورپر اور کچھ آیتیں بالواسطہ طورپر-
مثلاً إِنَّمَا یَتَذَکَّرُ أُو۟لُوا۟ ٱلْأَلْبَٰبِ ( 13:19) اور إِنَّ فِى ذَٰلِکَ لَآیَٰتٍ لِّأُو۟لِى ٱلنُّہَىٰ. (20:54)جیسی آیتوں میں براہِ راست طورپر عقل کا حوالہ دیا گیا ہے- اس طرح کی آیتیں قرآن میں کثرت سے ہیں- اس کا مطلب واضح طور پر یہ ہے کہ اگر تم قرآن کو یا قرآن کے پیغام سمجھنا چاہتے ہو تو اپنی عقل (reason) کو استعمال کرو- عقل کے استعمال کے بغیر تم قرآنی آیتوں کے حقیقی مفہوم تک نہیں پہنچ سکتے-
جہاں تک عقل کے بالواسطہ حوالے کی بات ہے، اس سے پورا قرآن بھرا ہوا ہے- مثلاً قرآن کی پہلی آیت یہ ہے: اَلْحَمْدُ لِلہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ (1:1)- اس آیت میں کہاگیا ہے کہ اس اللہ کی حمد کرو جو سارے عالم کا رب (Lord) ہے- اس سے واضح ہے کہ کوئی شخص اللہ کی حقیقی حمد، اسی وقت کرسکتا ہے، جب کہ اس نے اللہ کو رب العالمین کی حیثیت سے دریافت کیا ہو- اس قسم کی دریافت کسی آدمی کو صرف عقل کے استعمال کے ذریعہ حاصل ہوسکتی ہے-
اسی طرح قرآن کی آخری سورہ یہ ہے کہ انسان اور جن کے وسوسہ کے شر سے اپنے آپ کو بچاؤ (الناس)- یہاں ظاہر ہے کہ وسوسہ ایک غیر محسوس چیز ہے- وسوسہ کو چھوکر یا دیکھ کرنہیں جانا جاسکتا، وسوسہ کے شر کے لیے ضروری ہے کہ آدمی اپنے عقل کو استعمال کرکے وسوسہ کو دریافت کرے- اِس طرح قرآن کی یہ آیت عقل کے بالواسطہ حوالے کی ایک مثال ہے-
یہی معاملہ قرآن کی تمام آیتوں کا ہے- مثلاً قرآن میں مومن کی صفت یہ بتائی گئی ہے کہ وہ غیب پر ایمان رکھتے ہیں (2:3)- غیب پر ایمان صرف اس شخص کو حاصل ہوسکتا ہے، جو غیبی حقیقتوں کو یقین کے درجے میں دریافت کرے، اور یہ بات صرف عقلی غوروفکر کے ذریعہ ممکن ہے- اسی طرح، مثلاً قرآن میںحج کے حکم کے ذیل میں یہ الفاظ آئے ہیں: فَلَا رَفَثَ وَلَا فُسُوْقَ وَلَاجِدَالَ فِی الْحَجِّ ( 2:197)-
یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ حج تو ایک عبادت کا فعل ہے، اس کا جدال سے کیا تعلق- اس پر غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ حج کی عبادت کے دوران بہت سے لوگ ایک ساتھ رہتے ہیں- ساتھ رہنے کی بنا پر فطری طورپر آپس میں اختلافات(differences) پیدا ہوتے ہیں- اس لیے حاجی کو چاہئے کہ وہ اختلاف پر صبر کرے، وہ اس کو جدال تک پہنچنے نہ دے- آیت کا یہ پہلو بھی عقل کے استعمال سے معلوم ہوتا ہے-
اسی طرح قرآن کی ایک سورہ میں معاہدۂ حدیبیہ کا صراحتاً ذکر کیے بغیر یہ آیت آئی ہے: إنَّا فَتَحْنَا لَکَ فَتْحًا مُبِیْنًا ( 48:1)- یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ معاہدہ حدیبیہ میں تو فریقِ ثانی سے یک طرفہ شرطوں پر صلح کر کے رسول اور اصحاب رسول مدینہ واپس آگئے تھے، پھر اس کا فتح مبین سے کیا تعلق- آیت کا یہ گہرا مفہوم صرف اس وقت معلوم ہوتا ہے، جب کہ آدمی آیت پر تاریخ کی روشنی میں غوروتدبر کرے، اور یہ عقل کے استعمال کے بغیر نہیں ہوسکتا، وغیرہ-
قرآن میں کل ایک سو چودہ (114) سورتیں ہیں- اگر ان تمام سورتوں کو پڑھا جائے تو ان میں کہیں بھی قانون کی زبان نہیں ملے گی، بلکہ دعوت اور تذکیر کی زبان ملے گی، اور دعوت اور تذکیر کے معاملے کو درست طورپر صرف اس وقت سمجھا جاسکتا ہے، جب کہ اس کو عقل کا استعمال کرکے جاننے کی کوشش کی جائے-
قرآن کا مطالعہ کیا جائے تو کہنا صحیح ہوگا کہ قرآن معروف معنوں میں کوئی فقہی کتاب یا قانون کتاب نہیں ہے- قرآن میں کہیں بھی وہ اسلوب استعمال نہیں کیا گیا ہے جو فقہ کی کتابوں یا قانونی کی کتابوں میں اختیار کیا جاتا ہے- قرآن کے اسلوب کو دیکھتے ہوئے یہ کہنا صحیح ہوگا کہ قرآن وزڈم کی کتاب (book of wisdom) ہے-
واپس اوپر جائیں

گلوبل کمیونی کیشن کا دَور

قرآن میں بتایا گیا ہے کہ حضرت ابراہیم نے چار ہزار سال پہلے جب کعبہ کی تعمیر کی تو اللہ تعالی نے یہ حکم دیا کہ لوگوں میں حج کا اعلان کردو، وہ تمھارے پاس آئیں گے پیروں پر چل کر اور دبلے اونٹوں پر سوار ہو کر جو کہ دور دراز راستوں سے آئیںگے ( 22:27) اس سلسلے میں ایک روایت آئی ہے- اس کے مطابق حضرت ابراہیم نے کہا کہ یا رب کیف أبلّغ الناس وصوتی لا ینفذہم فقال نادِ وعلینا البلاغ (تفسیر ابن کثیر: 3/216) یعنی اے میرے رب، میں اپنی آواز لوگوں تک کیسے پہنچاؤں گا، اور میری آواز ان تک پہنچنے والی نہیں ہے- اللہ نے فرمایا کہ تم پکارو، پہنچانا ہمارے ذمہ ہے-
کعبہ کی تعمیر مکمل کرنے کے بعد حضرت ابراہیم نے آواز دی- لیکن تاریخ بتاتی ہے کہ ان کی آواز باہر کے لوگوں تک نہیں پہنچی- پھر اس کا مطلب کیا ہے-یہ بات حال کی خبر کے معنی میں نہیں ہے، بلکہ مستقبل کے امکان کے معنی میں ہے-اس روایت میں دراصل اللہ کے ایک منصوبے (divine plan)کو بتایا گیا ہے- وہ یہ کہ حضرت ابراہیم اور پھر پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد انسانی تاریخ میں ایک عمل (process)جاری ہوگا- اس عمل کی تکمیل پر یہ واقعہ ہوگا کہ اللہ کا ایک بندہ مکہ میں یا کسی دوسرے مقام پر اللہ کی بات کہے گا اور اس کی بات بطور واقعہ ہر جگہ پہنچ جائے گی- یہ دور تاریخ میں آیا- اسی دور کو ابلاغ کا دور (age of communication) کہاجاتاہے- حضرت ابراہیم اور پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد اللہ تعالی کی خصوصی مدد سے، ایسے حالات پیداہوئے جن کے نتیجے میں انسان نے نئی نئی دریافتیں کیں اور آخر کار وہ دور وجود میں آگیا جس کو کمیونیکیشن کا دور کہا جاتا ہے- حضرت ابراہیم کے زمانے میں صرف یہ ممکن ہوتا تھاکہ انسان اپنی زبان سے بولے اور اس کے قریب میں جو لوگ ہیں، اس کی آواز کو سنیں، لیکن اب ٹیکنالوجی کے ذریعہ یہ ممکن ہوگیا ہے کہ انسان ایک مقام پر بولے اور عین اسی وقت پورے گلوب پر بسے ہوئے لوگ اس کی آواز بھی سنیں اور اس کی تصویر بھی دیکھیں- یہ نیا دور اللہ کی توفیق سے وجود میں آیا اور اس کا اصل تقاضا یہ ہے کہ اس کو خدائی مشن کے لیے استعمال کیا جائے-
واپس اوپر جائیں

قرآن کی حفاظت

قرآن کی کچھ آیتیں وہ ہیں جن کو احکام کی آیتیں کہاجاتا ہے- قرآن کی آیتوں کا دوسرا حصہ وہ ہے، جن کو حکمت (wisdom)کی آیات کہنا درست ہوگا- یہ حکمت کسی پر اسرار چیز کا نام نہیں ہے- اس سے مراد فطری حکمت (natural wisdom) ہے، یعنی حکمت کے وہ اصول جن پر دنیا کا نظام قائم ہے، اور جن کی پیروی کرکے کوئی انسان، اس دنیا میں کامیاب زندگی کی تعمیر کرسکتا ہے-
قرآن واحد محفوظ الہامی کتاب ہے- اس حقیقت کا اظہار قرآن میں پیشگی طورپر ان الفاظ میں کیا گیا تھا: اِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّکْرَ وَاِنَّا لَہٗ لَحٰفِظُوْنَ (15:9) یعنی یہ یاد دہانی (کتاب) ہم نے اتاری ہے، اور ہم ہی اس کی حفاظت کرنے والے ہیں-
قرآن کی حفاظت کا یہ کام ثابت شدہ تاریخ کے مطابق چار ادوار (periods) میں انجام پایا- پہلے دور میں یہ کام زیادہ تر حفظ (memorization) کے ذریعہ ہوا- دوسرے دور میں حفاظت ِ قرآن کا یہ کام تحریر (writing) کے ذریعہ انجام پایا- لوگوں نے بڑی تعداد میں یہ کیا کہ حفظ قرآن کے ساتھ وہ جزئی یا کلی طورپر قرآن لکھتے رہے- کتابت کا یہ کام قدیم زمانے کی دستیاب چیزوں پر ہوتا رہا جن میں قدیم طرز کا کاغذ (قرطاس) بھی شامل ہے- اس کے بعد پرنٹنگ پریس کا زمانہ آیا-
انیسویں صدی عیسوی میں پرنٹنگ پریس ساری دنیا میں عام ہوگیا- اس کے بعد قرآن مطابع میں چھاپا جانے لگا- اس کے مجلد نسخے بڑی تعداد میں تیار کیے گئے- یہ مطبوعہ نسخے ہر جگہ پھیل گئے- اس کے بعد ٹکنالوجی کا زمانہ آیا، اور اب انٹرنیٹ اور اسمارٹ فون پر پورا قرآن، تحریر اور آواز دونوں صورتوں میں محفوظ ہوچکا ہے-
ساتویں صدی عیسوی میں جب قرآن اترا، اس وقت پورے ملک عرب کی زبان عربی تھی- لیکن دوسری زبانوں کی طرح عربی زبان کا بھی یہ حال تھا کہ مختلف علاقوں کے عرب قبیلے مختلف لہجے میں عربی بولتے تھے- اس بنا پر ایسا ہوا کہ اسلام جب پورے عرب میں پھیل گیا تو ہرایک کا قرآن باعتبار متن ایک ہی قرآن تھا، لیکن قرآن کو پڑھنے کا لہجہ سب کا ایک نہ تھا- اس وقت لوگوں کی سہولت کے لیے یہ کہا گیا کہ قرآن سات لہجوں میں اترا ہے- اس کا مطلب یہ نہیں کہ باعتبار نزول قرآن کے سات لہجے تھے، بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ لوگوں کے اپنے لہجے کے اعتبار سے قرآن کے پڑھنے کے کئی طریقے ہوسکتے ہیں، یہ ایک عملی بات تھی نہ کہ کوئی نظری بات-
قرآن کے متن (text)کی حفاظت کے لیے صحابہ نے آخری انتہائی طریقہ اختیار کیا- مثلاً خلیفہ اول حضرت ابوبکر کے حکم سے زید بن ثابت انصاری نے قرآن کو کاغذ پر لکھ کر اس کا مصحف تیار کیا جس کو رَبعہ کہاجاتا تھا- یہ کام انھوں نے ڈبل چیکنگ سسٹم (double checking system) کے اصول پر کیا، یعنی لکھے ہوئے کو حفظ سے چیک کرنا، اور حفظ کو لکھے ہوئے سے چیک کرنا- اس طرح جو کاغذی نسخہ (ربعہ) تیار ہوا اس کو خلیفہ اول کے حکم سے رسول اللہ کی زوجہ حفصہ کے گھر پر رکھ دیا گیا-
ایک مصحف (رَبعہ) کی صورت میں لکھے جانے سے پہلے لوگوں کے پاس قرآن کے اجزا مختلف چیزوں پر لکھے ہوئے موجود تھے- مستند مصحف تیار ہونے کے بعد خلیفہ اول کے حکم سے اور تمام صحابہ کی رائے سے یہ کیاگیا کہ ان تمام مختلف اجزا کو جلا دیاگیا-حرق مصحف کا یہی واقعہ دوسری بار خلیفہ ثالث حضرت عثمان کے زمانہ میں پیش آیا- اس مدت میں لوگوں نے بطور خود جزئی یا کلی طورپر مصاحف لکھ لیے تھے-
ان مصاحف میں ان کے قبائل کی قرأت کا اسلوب شامل ہوگیا تھا- حضرت عثمان نے یہ کیا کہ زید بن ثابت انصاری کی قیادت میں صحابہ کی ایک کمیٹی بنائی- پھر انھوں نے حضرت حفصہ کے پاس جومصحف صدیقی محفوظ تھا اس کو منگوایا، اور صحابہ سے کہا کہ اس کی نقلیں تیار کرو- اس طرح مصحف صدیقی کی سات نقلیں تیار کی گئیں- پھر خلیفہ کے حکم سے ان نقلوں کو مدینہ اور دوسرے شہروں کی مسجدوں میں رکھوا دیا گیا- اس کے بعد حضرت عثمان نے مزید اہتمام یہ کیا کہ لوگوں نے بطور خود قرآن کے جو تحریری نسخے تیار کیے ـتھے، ان کو جمع کروایا اور پھر صحابہ کے اتفاق رائے سے ان تمام مصاحف کو جلا دیاگیا- یہ کام بہت جرأت کا طالب تھا-
لیکن حضرت عثمان نے صحابہ کی رائے سے یہ جرأت مندانہ اقدام کیا- بعد کو جب خلیفہ ثالث کے خلاف کچھ شورش پسندوں نے ہنگامہ کیا، یہاں تک کہ ان کو قتل کردیاگیا، اس وقت شورش پسندوں نے خلیفہ ثالث کو بدنام کرنے کے لیے جو باتیں کہی تھیں، ان میں سے ایک یہ تھی کہ انھوں نے خلیفہ ثالث کو حرّاق المصاحف قرار دیا تھا، یعنی قرآن کو جلانے والا- (الجامع لأحکام القرآن للقرطبی، خطبة الکتاب، ص: 54)
قرآن کی تاریخ اور اس کی تدوین پر بہت سی کتابیں لکھی گئی ہیں- یہاں صرف یہ بتانا ہے کہ قرآن اگر چہ قدیم زمانہ میں اترا، لیکن اس کی حفاظت کے لیے تمام ممکن اقدام کیا گیا، حتی کہ سیکولر محققین نے بھی کھلے طور پر اس کا اعتراف کیا ہے-
واپس اوپر جائیں

امت کا زوال

ایک روایت حدیث کی مختلف کتابوں میں آئی ہے- سنن ابی داؤدکے الفاظ یہ ہیں: إنَّ أوَّلَ ما دخلَ النَّقصُ علَى بَنی إسرائیلَ کانَ الرَّجلُ یَلقى الرَّجلَ فیقولُ یا ہذا اتَّقِ اللَّہَ ودَع ما تصنَعُ فإنَّہُ لا یحلُّ لَکَ ثمَّ یَلقاہُ منَ الغَدِ فلا یمنعُہُ ذلِکَ أن یَکونَ أکیلَہُ وشریبَہُ وقعیدَہُ فلمَّا فعلوا ذلِکَ ضربَ اللَّہُ قلوبَ بعضِہِم ببعضٍ ثمَّ قالَ لُعِنَ الَّذِینَ کَفَرُوا مِنْ بَنِی إِسْرَائِیلَ عَلَى لِسَانِ دَاوُدَ وَعِیسَى ابْنِ مَرْیَمَ إلى قولِہِ فَاسِقُونَ ثمَّ قالَ کلَّا واللَّہِ لتأمُرُنَّ بالمعروفِ ولتَنہَوُنَّ عنِ المنکَرِ ولتأخُذُنَّ علَى یدَیِ الظَّالمِ ولتَأطرُنَّہُ علَى الحقِّ أطرًا ولتقصرُنَّہُ علَى الحقِّ قصرًا(ابو داؤد: 4336)
ترجمہ: حضرت عبد اللہ بن مسعودکہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بنی اسرائیل کے اندر جو پہلا نقص آیا، وہ یہ تھا کہ ان کا ایک شخص اپنی قوم کے دوسرے شخص سے ملتا اور اُس سے کہتا کہ اے شخص، خدا سے ڈر اور جو کچھ تم کررہے ہو، اس کو چھوڑ دو، کیوں کہ ایسا کرنا تمھارے لیے جائز نہیں- پھر وہ اگلے دن اُس شخص سے ملتا(اور وہ دیکھتا کہ وہ اپنی روش سے باز نہیں آیا ہے)- مگر یہ چیز اُس کو اِس سے نہ روکتی کہ وہ اس کے ساتھ کھانے اور پینے اور بیٹھنے میں اس کا شریک بنے- جب انھوں نے ایسا کیا تو اللہ نے ایک کے دل کو دوسرے کے دل جیسا کردیا- پھر آپ نے سورہ المائدة (سورہ نمبر 5)کی آیت78 تا 81 پڑھی-پھر آپ نے فرمایا: خدا کی قسم، تم ضرور لوگوں کو معروف کا حکم دوگے، اور تم ضرور لوگوں کو منکر سے روکو گے، اور تم ضرور ظالم کا ہاتھ پکڑو گے اور تم اس کو ضرور حق کی طرف موڑ دوگے-
یہ حدیث اصلاً یہود کی شکایت کے طورپر نہیں ہے، بلکہ وہ امت مسلمہ کی نصیحت کے طورپر ہے- اس حدیث میں امتوں کے بارے میں ایک تاریخی قانون کو بتایا گیاہے، اور وہ یہ کہ جب امت کی بعد کی نسلوں میں زوال آتا ہے تو ان کا کیا حال ہوتاہے- رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی زوال کے ظاہرے کی نشاندہی فرمائی ہے، اور امت کے رہنماؤں کو بتایا ہے کہ اس وقت انھیں کیا کرنا چاہئے- غور کیجئے تو یہ حدیث مسلمانوں کے آج کے حالات پر پوری طرح منطبق ہوتی ہے-
واپس اوپر جائیں

نسخ کیا ہے

قرآن کی سورہ البقرة کی ایک آیت یہ ہے: مَا نَنْسَخْ مِنْ اٰیَةٍ اَوْ نُنْسِہَا نَاْتِ بِخَیْرٍ مِّنْہَآ اَوْ مِثْلِہَا ۭ اَلَمْ تَعْلَمْ اَنَّ اللّٰہَ عَلٰی کُلِّ شَیْءٍ قَدِیْر(2:106) یعنی ہم جس آیت کو منسوخ کرتے ہیںیا بھلا دیتے ہیں، اس سے بہتر یا اس کے مثل دوسری لاتے ہیں- کیا تم نہیں جانتے کہ اللہ ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے-
قرآن کی اِس آیت میں نسخ سے مراد الغاء (to abolish) نہیں ہے، بلکہ اس سے مراد ہٹانا (replacement) ہے- آیت میں اس عمل کو بظاہر اللہ کی طرف منسوب کیا گیاہے، لیکن یہ اسلوب کی بات ہے- اس سے مراد حقیقتاً اجتہاد کا عمل ہے، جس کو متقی اہل علم انجام دیتے ہیں- خیر سے مراد اچھا (better)نہیں ہے بلکہ اس سے مراد انسانی حالات کے اعتبار سے زیادہ قابلِ تطبیق (more applicable) ہونا ہے-
قرآن کے مطابق، اللہ کی سنت میں کوئی تبدیلی نہیں ہوتی (33:23)- مگر انسان ایک آزاد مخلوق ہے، اس بنا پر انسان کے حالات ہمیشہ بدلتے رہتے ہیں- حالات کی اس تبدیلی کی بنا پر ضرورت ہوتی ہے کہ اللہ کے کسی حکم کو مطابقِ حالات بنانے کے لیے اس کو ری ڈیفائن (redefine)کیا جائے یا حالات کے مطابق اس کی نئی تفسیر (re-interpretation) کیا جائے- یہی وہ فطری ضرورت ہے جس کو قرآن کی اس آیت میںنسخ سے تعبیر کیا گیا ہے-
اس معاملے کی ایک مثال یہ ہے کہ قرآن کی کچھ آیتوں میںاہل ایمان کو قتال (war) کا حکم دیا گیا ہے- یہ حکم توحید کی طرح ابدی حکمکے معنی میں نہ تھا، بلکہ حالات کی نسبت سے مطلوب تھا- اب حالات مکمل طورپر بدل گئے ہیں- قدیم دور اگر جنگ کا دور تھا تو اب دنیا میں امن کا دور آچکا ہے، اب اسلام کے مقصود کو حاصل کرنے کے لیے جنگ کی ضرورت نہیں- اس لیے اب قتال کی آیت کی تشریح نو (re-interpretation) کی جائے گی، اور یہ نئی تشریح بلا شبہہ قرآن کے مطابق قرار پائے گی-
واپس اوپر جائیں

عورت اور مرد کا تعلق

جدید دور میں ایک نظریہ بہت زیادہ عام ہے، وہ ہے صنفی مساوات (gender equality) کا نظریہ- اس نظریہ کو دور جدید کی بہت بڑی کامیابی سمجھا جاتا ہے- مگر یہ نظریہ ایک غیر فطری نظریہ ہے- فطرت کے قانون کے مطابق، عورت اور مرد کے درمیان فرق پایا جاتا ہے- پیدائشی طورپر ہر عورت مس ڈِفرنٹ (Ms. Different) ہے، اور ہر مرد مسٹرڈِفرنٹ (Mr. Different) -
عورت اور مرد کے درمیان یہ فرق ایک گہری حکمت پر مبنی ہے- اس کی وجہ سے یہ ممکن ہوتا ہے کہ دونوں اپنے اپنے اعتبار سے ایک دوسرے کے مشیر (adviser) بنیں-حقیقت یہ ہے کہ فطر ت کے نظام کے مطابق صنفی حصے داری (gender partnership) کا نظریہ زیادہ درست نظریہ ہے، نہ کہ صنفی برابری کا نظریہ-انسان کی زندگی مسائل (problems)کا مجموعہ ہے- یہ مسائل ہمیشہ مختلف نوعیت کے ہوتے ہیں- اس لیے بار بار یہ ضرورت ہوتی ہے کہ زندگی کے دو ساتھیوں میں دو مختلف صفات ہوں تاکہ ہر مسئلہ کو منیج (manage)کیا جاسکے- ہر ایک اپنی اپنی صلاحیت کے مطابق مسائل حیات کے حل میں اپنا اپنا حصہ اداکرسکے- ایک شریک حیات ایک اعتبار سے اپنا حصہ اداکرے، اور دوسرا شریک حیات دوسرے اعتبار سے:
There must be a partner who can deal with the problem differently.
فطرت کے نظام میں یکسانیت (uniformity)موجود نہیں، اس لیے اگر عورت اور مرد کےتعلق کو یکسانیت کے اصول پر قائم کیا جائے تو ہمیشہ جھگڑا ہوتا رہے گا- ہر ایک ذمے داری کو دوسرے فریق کے اوپر ڈالے گا، اور پھر نزاع کبھی ختم نہ ہوگا- اس کے برعکس، صنفی حصے داری کے اصول کو اختیار کرنے کی وجہ سے بلا اعلان تقسیم کار (division of labour) کا طریقہ رائج ہوجائے گا- دونوں خود اپنے فطری تقاضے (natural urge) کے تحت اپنے اپنے دائرے میں مصروف کار رہیں گے- ایک دوسرے سے الجھنے کا طریقہ ختم ہوجائے گا- اور ایک دوسرےسے معاونت کا طریقہ رائج ہوجائے گا-
واپس اوپر جائیں

دفاع یا دعوت

سرولیم میور(William Muir)ایک اعلیٰ تعلیم یافتہ انگریز تھا، جو برٹش حکومت کے دور میں غیر منقسم ہندستان کی ایک ریاست کا گورنر مقرر ہوا- سرولیم میور نے ایک کتاب لکھی، جس کا نام ’’لائف آف محمد‘‘(The Life of Mahomet)تھا- یہ انگریزی کتاب 1866 میں چار جلدوں میں شائع ہوئی-
علماء کے نزدیک یہ کتاب اسلام اور پیغمبر اسلام کے خلاف ’’زہر‘‘ پھیلانے والی کتاب تھی- لوگ مصنف کو دشمن اسلام قرار دے کر اس کے سخت خلاف ہوگئے- سرسید احمد خاں کو اس پر غصہ آیا، انھوں نے اس کتاب کا اردو ترجمہ کروایا، پھر اس کے خلاف اردو زبان میں ایک کتاب لکھی، جو خطبات احمدیہ کے نام سے شائع ہوئی-
اس طرح کے کام کو دفاع اسلام کا عنوان دے کر بہت اہم کام سمجھاجاتا ہے، مگر یہ طریقہ سنت کے مطابق نہیں- سنت ِ رسول کے مطابق اصل کرنے کاکام دعوت اسلام ہے، نہ کہ دفاع اسلام- یعنی مصنف کے لئے دعا کرنا، اس سے مل کر اس کی غلط فہمیوں کو دور کرنا- اس موضوع پر مثبت انداز میں تعارفی کتاب تیار کرکے چھاپنا- انگریزوں میں اور دوسرے لوگوں میں پر امن دعوتی مشن جاری کرنا- سنت رسول کے مطابق یہی کرنے کا اصل کام ہے- مگر یہ اصل کام نہ سرسید احمد خاں نے کیا، اور نہ علماء نے-
سنت ِ رسول کے مطابق اسلام کا اصل مشن یہ نہیںہےکہ مفروضہ دشمنان اسلام کے خلاف مناظرانہ انداز میں تقریریں کی جائیں، جوابی انداز میں کتابیں شائع کی جائیں، یہ سب رد عمل (reaction) کے طریقے ہیں، اور رد عمل اسلامی تعلیمات کے مطابق نہیں- اس قسم کے حامیان اسلام کو نتیجہ (result) کے اعتبار سے غور کرنا چاہئے، یعنی انھیں یہ جائزہ لینا چاہئے کہ ان کی جوابی کوششوں کا مثبت نتیجہ کیا ہوا، باعتبار نتیجہ اس سے اسلام کو فروغ ہوا یا نفرت کو فروغ ہوا-
واپس اوپر جائیں

قرآن وسنت

پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے دور آخر کی ایک حدیث ہے، اس کے الفاظ یہ ہیں: أن رسول اللہ صلى اللہ علیہ وسلم قال: ترکت فیکم امرین لن تضلوا ما تمسکتم بہما: کتاب اللہ وسنة نبیہ (مؤطا امام مالک: 1874) یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں نے تمھارے درمیان دوچیزیں چھوڑی ہیں، تم ہر گز گمراہ نہ ہوگے، جب تک تم ان دونوں چیزوں کو پکڑے رہوگے، وہ دو چیزیں ہیں: اللہ کی کتاب اور اس کے رسول کی سنت-یہ حدیث اس معیار (criterion)کو بتاتی ہے جس کی روشنی میں بعد کے زمانے کے مسلمانوں کو جانچ کر یہ معلوم کیا جاسکے کہ وہ صراط مستقیم پر قائم ہیں یا وہ اس سے ہٹ گئےہیں- اس معاملے کا یہی واحد معیار ہے، اس کے سوا کوئی دوسرا معیار اس معاملے میں درست نہیں-اس کا مطلب یہ ہے کہ جب مسلمانوں کے درمیان پوائنٹ آف ریفرنس (point of reference)قرآن وسنت ہو تو وہ ہدایت پر ہیں، اور جب ان کے درمیان پوائنٹ آف ریفرنس کچھ اور ہوجائے تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ وہ ہدایت پر قائم نہیں-
جب مسلمانوں کی کتابیں قرآن وسنت پر مبنی ہوں، جب ان کی مجلسوں میں قرآن وسنت کا چرچا ہو، جب وہ ہر معاملے میں قرآن وسنت سے رہنمائی لیتے ہوں، جب ان کا یہ حال ہو کہ وہ قرآن وسنت کے نام پر بولیں اور قرآن وسنت کے نام پر چپ ہوجائیں، تب سمجھنا چاہئے کہ وہ ہدایت پر ہیں اور جب ایسا نہ ہو تو یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ وہ ہدایت سے بھٹک گیےہیں-تاہم قرآن وسنت سے ہٹنے کی ایک اور صورت ہے، جو قرآن وسنت کا نام لینے کے باوجود باقی رہتی ہے، اوریہ وہی ہے جس کو حدیث میں تفسیر بالرائے کہاگیا ہے- تفسیر بالرائے کا مطلب ہے قرآن وسنت کی غلط تعبیر (misinterpretation) - غلط تعبیر وتشریح کا یہ امکان ہمیشہ باقی رہےگا- انسان کو اس دنیا میں کامل آزادی دی گئی ہے- انسان جس طرح دوسری باتوں کے لیے آزاد ہے، اسی طرح وہ قرآن وحدیث کی غلط تشریح کے لیے بھی آزاد ہے، اس برائی سے بچنے کی شرط صرف ایک ہے، اور وہ تقوی ہے- تقوی انسان کو اس سے بچاتا ہے کہ و ہ قرآن وحدیث کی خودساختہ تشریح کرے-
واپس اوپر جائیں

بدترازحیوان

قرآن کی سورہ الانفال میں ایک غیر مطلوب انسانی کردار کا ذکر ہے- آیت کے الفاظ یہ ہیں: اِنَّ شَرَّ الدَّوَاۗبِّ عِنْدَ اللّٰہِ الصُّمُّ الْبُکْمُ الَّذِیْنَ لَا یَعْقِلُوْنَ (8:22) قرآن کی اس آیت سے مراد کوئی مخصوص قوم نہیں ہے- اس سے مراد وہ افراد ہیں جو اس صفت کا مصداق ہوں- قرآن کی ایک اور آیت کے مطابق اس سے مراد وہ لوگ ہیں جن کا یہ حال ہو : ان کے پاس عقل ہے جن سے وہ سمجھتے نہیں، ان کی آنکھیں ہیں جن سے وہ دیکھتے نہیں، ان کے کان ہیں جن سے وہ سنتے نہیں- وہ ایسے ہیں جیسے حیوان، بلکہ ان سے بھی زیادہ بے راہ، یہی لوگ غافل ہیں (8:179)-حق کے مقابلے میں اس منفی روش کا سبب، عام طورپر بالقصد انکار نہیںہوتا بلکہ اس کا سبب غفلت یا بے توجہی (negligence)ہوتا ہے- جب حق کی بات بتائی جائے تو ایسے لوگوں کا حال یہ ہوتا ہے کہ وہ اپنے آپ میں گم ہونے کی بنا پر اس کی طرف زیادہ دھیان نہیں دیتے، وہ نہ اس کو توجہ کے ساتھ سنتے ہیں، اور نہ اہمیت کے ساتھ اس پر غور کرتے ہیں- وہ اس سے بے اعتنائی برت کر اس کو نظر انداز کردیتے ہیں- قرآن کے الفاظ میں وہ ایسے بن جاتے ہیں جیسے کہ انھوں نے سنا ہی نہیں ( 45:8)-
اصل یہ ہے کہ آدمی اپنے حالات کے لحاظ سے بطور خود کسی چیز کو اہم سمجھ لیتا ہے، اور کسی چیز کو غیراہم، وہ کسی چیز کو قابل غور سمجھتا ہے، اور اس کی نظر میں کوئی چیز ایسی ہوتی ہے جو قابل غور ہی نہیں- جن لوگوں کا یہ مزاج ہو ان کا حال یہ ہوتا ہے کہ وہ اپنے آپ سے باہر کسی بات کو اس قابل ہی نہیں سمجھتے کہ اس پر غور کریں- وہ اپنے سے باہر کسی بات کے بارے میں ایسی روش اختیار کرتے ہیں جیسے کہ انھوں نے اس کو سنا ہی نہیں- ان کے پاس عقل ہوتی ہے لیکن وہ اپنی عقل کو کہیں اور مشغول کئے ہوئے ہوتے ہیں- وہ اس کے لیے تیار نہیں ہوتے کہ وہ کسی نئی چیز کو اہمیت دیں، اور اپنی عقل کو استعمال کرتے ہوئے اس کو سمجھنے کی کوشش کریں، ایسے لوگ حیوان کی مانند ہیں، کیونکہ حیوان بھی یہی کرتا ہے کہ اپنی مانوس چیزوں کے سوا کسی اور چیز کو اس قابل نہیں سمجھتا کہ اس پر دھیان دے اور اس کو سمجھنے کی کوشش کرے-
واپس اوپر جائیں

علم کا سفر

قرآن خدا کی کتاب کی حیثیت سے ساتویں صدی عیسوی کے نصف اول میں اترا- اس وقت ساری دنیا میں توہم پرستی کا کلچر رائج تھا- قرآن کے بعد علمی دریافتوں کا سلسلہ شروع ہوا- یہ دور بیسویں صدی عیسوی میں اپنی تکمیل تک پہنچا- قرآن کی صداقت کا یہ علمی ثبوت ہے کہ بعد کی علمی تحقیقات قرآن کی باتوں کی تصدیق بنتی چلی گئیں- اس سلسلہ میں برٹش سائنسداں سرجیمس جینز کا ایک اقتباس یہاں نقل کیا جاتا ہے:
The stream of knowledge is heading towards a non-mechanical reality;kthe universe begins to look more like a great thought than like a great machine. (The Mysterious Universe, James Jeans, p. 137)
یہ بات برٹش سائنسداںنے 1930 میں کہی تھی- اس کے بعد کی تمام دریافتیں اس بات کی تصدیق بنتی چلی گئیں کہ حقیقت کا جو تصور قرآن میں دیاگیا ہے، وہی درست تصور ہے- اس درمیان سائنسی دریافتوں کے ذریعہ ملحدانہ تصورات رد ہوتے چلے گئے- اور موحدانہ تصورات ثابت شدہ بنتے چلے گئے-
مثلاً قدیم ملحدین یہ سمجھتے تھے کہ کائنات ابدی ہے، وہ جیسی آج ہے ویسی ہی وہ ابد سے چلی آرہی ہے، اس لیے کائنات کو خالق کی کوئی ضرورت نہیں- مگر بعد کی سائنسی تحقیقات نے یہ ثابت کیا کہ کائنات کا ایک آغاز ہے- 13 بلین سال پہلے بگ بینگ (Big Bang) کی صورت میں کائنات کا آغاز ہوا-
اسی طرح قدیم ملحدین مانتے تھے کہ کائنات میں کوئی نظم نہیں،مگر موجودہ زمانے میں سائنسی تحقیقات سے یہ ثابت ہوا کہ کائنات میںایک ذہین ڈیزائن (intelligent design) ہے- حقیقت یہ ہے کہ سائنس کی تمام دریافتیں مذہب توحید کی تصدیق کرتی ہیں، خواہ براہِ راست طورپر یا بالواسطہ طورپر-
واپس اوپر جائیں

موت کے دروازے پر

آدمی سمجھتا ہے کہ وہ زندگی میں جی رہا ہے، مگر حقیقت یہ ہے کہ ہر عورت اور ہر مرد موت کے دروازے پر کھڑا ہوا ہے- جب موت کا کوئی وقت مقرر نہیں تو ہر لمحہ موت کا لمحہ ہے- انسان کا ہر اگلا قدم موت کی طرف جانے والاقدم ہے- زندگی ہر انسان کے لیے صرف آج کا تجربہ ہے، کل کا تجربہ نہیں- ہر آدمی کے لیے آج کا دن زندگی کا دن ہے اور کل کا دن موت کا دن-
موت معلوم دنیا سے نامعلوم دنیا کی طرف سفر کا نام ہے- آدمی روزانہ سفر کرتا ہے- کبھی چھوٹا سفر اور کبھی بڑا سفر، کبھی ملک کے اندرسفر اور کبھی ملک کے باہرسفر- یہ تمام اسفار ایک معلوم مقام سے چل کر دوسرے معلوم مقام تک جانے کے ہم معنی ہوتے ہیں-اس قسم کے سفروں سے آدمی اتنا زیادہ مانوس ہوچکا ہے کہ وہ اس کو کوئی سنگین چیز نہیں سمجھتا-
لیکن موت کے سفر کا معاملہ اس سے مختلف ہے- موت کے سفر میں ایسا ہوتاہے کہ آدمی ایک معلوم دنیا سے نکل کر دوسری نامعلوم دنیا کی طرف جاتا ہے- یہ بلاشبہہ ہر آدمی کے لیے ایک انتہائی سنگین معاملہ ہے- مگر آدمی اپنی کنڈیشننگ کی وجہ سے اس کی سنگینی کو محسوس نہیں کرتا- وہ دنیا میں جن اسفار کا تجربہ کرتا ہے، ان سے وہ اتنا مانوس ہوجاتا ہے کہ وہ گہرے شعور کے تحت، موت کے سفر جیسے سفر کا ادراک نہیں کر پاتا - اسی بنا پر ہر آدمی کے لیے موت ایک دور کی خبر بنی ہوئی ہے، وہ اس کے لیے قریب کا کوئی واقعہ نہیں-
آدمی اپنے مزاج کی بنا پر ہمیشہ کنڈیشننگ کے تحت سوچتا ہے- یہی انسان کی بے حسی کا سب سے بڑا سبب ہے- موت کی سنگینی کو سمجھنے کے لیے ضروری ہے کہ آدمی اپنی کنڈیشننگ کو توڑے، وہ اپنے مانوس ذہن سے باہر آکر موت کے بارے میں سوچے، وہ اپنے شعور کو کامل طورپر بیدار کرے- اس کے بعد ہی یہ ممکن ہے کہ آدمی موت کی حقیقت کو سمجھے، جو بلاشبہہ ہر انسان کا سب سے زیادہ سنگین معاملہ ہے-
واپس اوپر جائیں

شکایت، اعتراف

نفسیات کے اعتبار سے کسی انسان کے لئے سب سے زیادہ آسان کام دوسروں کی شکایت (complaint) ہے، اور سب سے زیادہ مشکل کام دوسروں کا اعتراف (acknowledgment) ہے-یہ بات انسان کی نسبت سے ہے- لیکن جہاں تک فطرت کے قانون کا تعلق ہے، فطرت کے قانون کے مطابق دوسروں کی شکایت کرنے کا ذہن انسان کے اندر اعلی شخصیت کی تعمیر میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے- اس کے برعکس، دوسروں کا اعتراف کرنے کا ذہن انسان کے اندر اعلیٰ شخصیت کی تعمیر میں سب سے زیادہ معاون عنصر کی حیثیت رکھتا ہے-
کیوں ایسا ہے کہ دوسروں کی شکایت نہایت آسان ہے اور دوسروں کا اعتراف بے حد مشکل- اس کا سبب یہ ہے کہ شکایت کا مطلب دوسروں کی نفی(negation) ہے، اور اعتراف کا مطلب خود اپنی نفی ہے- جب آدمی کسی دوسرے کی شکایت کرتاہے تو اس کو ایسا کرتے ہوئے یہ احساس ہوتا ہے کہ دوسرا شخص براہے اور میں اچھا ہوں- اس کے برعکس، دوسرے کا اعتراف کرنے کا مطلب یہ ہوتاہے کہ میں اچھا نہیں ہوں بلکہ دوسرا شخص اچھا ہے-
آدمی کی سب سے بڑی کمزوری خودی ہے- شکایت کرتے ہوئے آدمی کو اپنی خود ی کے جذبے کی تسکین حاصل ہوتی ہے- اس کے برعکس، دوسرے کا اعتراف کرتےہوئے آدمی کی خودی کو ٹھیس پہنچتی ہے- یہی فرق ہے جس کی بنا پر لوگوں کے لیے شکایت کرنا سب سے زیادہ آسان کام بن گیا ہے، اور اعتراف کرنا سب سے زیادہ مشکل کام-
حقیقت یہ ہے کہ یہ دونوں چیزیں آدمی کے لئے امتحان کے پرچے ہیں- شکایت کا موقع بھی امتحان ہے، اور اعتراف کا موقع بھی امتحان- جس آدمی کا یہ حال ہو کہ وہ دوسروں کی شکایت تو کرے مگر وہ دوسروں کا کھلا اعتراف نہ کرے، ایسا آدمی آزمائش میں ناکام ہوگیا- ایسا آدمی اللہ کی رحمت کا مستحق نہیں بن سکتا-
واپس اوپر جائیں

حقیقت پسندانہ سوچ

دنیا میں جو برائیاں (evils) ہیںان سب کا سبب صرف ایک ہے- اور وہ ہے لوگوں میں اَیز اِٹ از تھنکنگ (as it is thinking) نہ ہونا- غصہ، نفرت، انتقام، عدم برداشت، تشدد وغیرہ سب کی اصل جڑ یہی ہے- ایز اٹ از تھنکنگ کا مطلب ہے مبنی بر حقیقت سوچ-
غور کیا جائے تو یہی وہ چیز ہے جس کو شیطان کا کلچر (satanic culture) کہاگیا ہے- شیطان یا ابلیس جنوں کا سردار تھا- پیدائش آدم کے وقت اس نے یہ اعتراض اٹھایا کہ خدا نے انسان کو خلیفة الارض بنادیا اور جنات کو کچھ نہیں دیا- یہ انتخابی طرز فکر کی پہلی مثال تھی- جنّ کو جو اختیارات دیے گئے تھے اس کے لحاظ سے گویا وہ خلیفة الکون تھا- مگر ابلیس نے یہ کیا کہ جو کچھ اس کو ملا ہوا تھا، اس کا اعتراف نہیں کیا، اور جو کچھ انسان کو دیاگیا تھا اسی کا ذکر یک طرفہ طورپر کیا- اسی یک طرفہ طرز فکر سے ساری برائیاں پیداہوئیں- ابلیس کا یہی کلچر آج تک ساری دنیا میں جاری ہے-
سارے انسانوں کی مشترک برائی بتانا ہو تو وہ صرف ایک ہوگی- اوروہ انتخابی سوچ (selective thinking) ہے- ہر عورت اور مرد یہ کرتے ہیں کہ اپنے بارے میں ایک ڈھنگ سے سوچتے ہیں، اور دوسرے کے بارے میں دوسرے ڈھنگ سے- اپنے آپ کو ایک معیار سے جانچتے ہیں، اور دوسرے کو دوسرے معیار سے- اپنی پسند کو لوگوں کا ذکر کرنا ہو تو وہ ان کی صرف اچھائیاں بیان کریں گے، اور اگر ان لوگوں کا ذکر کرنا ہو جو انھیں پسند نہیں ہیں تو ان کی صرف برائیاں بیان کریں گے- ایک قوم کے بارے میں وہ منفی رپورٹنگ (negative reporting) کریں گے، اور دوسری قوم کے بارے میں صرف مثبت رپورٹنگ (positive reporting)- ایک گروہ ان کو ظالم نظر آئے گا اور دوسرا گروہ مظلوم دکھائی دے گا- ایک کے لئے ان کے دل میں صرف نفرت ہوگی، اور دوسرے کے لئے صرف محبت — یہی وہ چیز ہے جس نے لوگوں کو حقیقت پسندانہ سوچ (realistic approach) سے محروم کردیا ہے-
واپس اوپر جائیں

خبر نامہ اسلامی مرکز— 234

1- ترجمۂ کتب:
— اب گڈورڈ بکس سے قرآن کا ترجمہ اسپینش، فرنچ اور اٹالین زبان میں شائع ہوچکا ہے۔ چائنیز زبان میں ترجمہ کا کام ہو رہاہے۔
— صدر اسلامی مرکز کی انگریزی کتاب The Prophet of Peace کا ترجمہ انڈونیشی زبان میں ہوچکا ہے۔
— غیر مسلموں کو اسلام سےمتعارف کرانے والی صدر اسلامی مرکز کی ایک بہترین انگریزی کتاب What is Islam کو ان زبانوں میں ٹرانسلیٹ کیا جاچکا ہے، فرنچ، جرمن، اسپینش، اور فلپائن کے اکثریت کی زبان تغالوگ (Tagalog)، وغیرہ۔
— پیغمبر ِ اسلام کی دعوتی زندگی پر مشتمل صدر اسلامی مرکز کی کتاب مطالعہ سیرت کا سندھی زبان میں ترجمہ ہوچکا ہے۔ جناب یوسف سندھی نے سی پی ایس پاکستان کے تعاون سےیہ ترجمہ کیا ہے۔
2- دعوتی سرگرمیاں:
— دعوت کا ایک اہم مقام بک فیر ہے۔ اس لیے الرسالہ مشن سے وابستگی رکھنے والےداعی نیشنل اور انٹرنیشنل پیمانے پر منعقد ہونے والے بک فیر میں حصہ لیتے رہتے ہیں۔ پچھلے دنوںجن انٹرنیشنل بک فیر میں شرکت کی گئی، وہ یہ ہیں:شارجہ انٹرنیشنل بک فیر(5-15 نومبر2014) ،کراچی بک فیر(18-22دسمبر 2014 )،مسقط انٹرنیشنل بک فیر (27فروری تا 7مارچ 2015)، لاہور بک فیر (5-9 فروری 2015)،بنکاک انٹرنیشنل بک فیر (27مارچ تا 6اپریل 2015)۔انڈیا کے اندر جیسے دہلی ورلڈ بک فیر(14-22 فروری 2015)، علی گڑھ بک فیر، وغیرہ۔ ان تمام جگہوں پر لوگوں نے قرآن اور الرسالہ مشن کی دعوتی کتابوں کو کافی شوق سے حاصل کیا۔
— سہارن پور کے کمپنی گارڈن میں 14 مارچ 2015 کو ایک سرکاری پروگرام ہوا۔ پروگرام میں شریک ہونے والےتمام اعلی سرکاری افسران کو سی پی ایس سہارن پور کی جانب سے ترجمۂ قرآن اور دعوتی لٹریچر کا ایک ایک سیٹ دیا گیا۔
— بہار کے دلسنگھ سرائے (سمستی پور) میں 1 مارچ 2015 کو ایک پروگرام منعقد کیا گیا۔ جس میں بہار سی پی ایس ٹیم کے جناب دانیال صاحب نے اسلام اور امن کے موضوع پر لکچر دیا۔ تقریر کے بعد تمام حاضرین کو ہندی ترجمۂ قرآن اور دعوتی لٹریچر دیا گیا۔
— ممبئی ٹیم نے 14-15 مارچ 2015 کو بیڑ مہاراشٹر کا دو روزہ دعوتی دورہ کیا۔ یہ دورہ بہت ہی کامیاب رہا۔ ایک ہندو ڈاکٹر نے اس پیس مشن کو دیکھ کر کہا کہ آپ لوگوں کے آنے سے پہلے میں مسلمانوں کی انتہاپسندانہ حالت کو دیکھ کر بالکل مایوس ہوچکا تھا۔ میں یہ سمجھ رہا تھا کہ ایسے انتہاپسند لوگ پہلے غیرمسلموں کو قتل کریں گے، پھر آپس میں ایک دوسرے کو ماریں گے۔ آپ کے آنے سے میرے لیے امید کی کرن پیدا ہوئی ہے، میں بہت خوش ہوں۔
— سی پی ایس کولکاتا نے 21-22 مارچ 2015 کو آسنسول اور کلٹی کا دعوتی دورہ کیا۔ یہ پروگرام الرسالہ کے قارئین سے ملاقات کے لیےتھا۔ اس دورہ سے تحریک پاکر دونوں جگہوں میں مقامی ٹیم کا قیام عمل میں آیا۔
— ڈاکٹر راجیش سروادنیا فاؤنڈر آف وویکانندا یوتھ کنکٹ (ممبئی) نے26 مارچ 2015 کو صدر اسلامی مرکز کی اسپریچولٹی پر ایک ویڈیو اسپیچ ریکارڈ کی- دوران تقریر صدر اسلامی مرکز نے کہا کہ میں امید کرتا ہوں کہ مستقبل میں انڈیا اسپریچول سپر پاور بن کر ابھرے گا، نوجوانوں کو اس کے لیے کوشش کرنی چاہئے-
— سی پی ایس انٹرنیشنل دہلی کے زیراہتمام 2 اپریل 2015 کو انڈیا انٹرنیشنل سینٹر دہلی میں گلوبل چیپٹرس میٹ رکھی گئی تھی۔ اس پروگرام کا افتتاح صدر اسلامی مرکز نے کیا۔ اس میں تین کتابوں کا رسم اجرا کیاگیا۔ یہ کتابیں ہیں: اسلام اینڈ ورلڈ پیس (انگریزی ترجمہ امن عالم)، اسلامی جہاد(کتابچہ) اور شہادت: امت مسلمہ کا مشن (کتابچہ)۔ اس کے علاوہ ملک وبیرون ملک کے نمائندوں نے اپنے اپنے مقامات پر ہونے والی دعوتی سرگرمیوں اور تجربات سے لوگوں کو باخبر کیانیز مستقبل کے لائحہ عمل پر تبادلہ خیال ہوا۔
3- الرسالہ مشن کے متعلق تاثرات :
— مالدیپ اسلامی افیرس کے ڈپٹی وزیر محمدقباد ابوبکر 17 مارچ 2015 کو گڈ ورڈ بکس، چنئی میں آئے اور الرسالہ مشن کی آئڈیالوجی پر تبادلۂ خیال کیا۔ دوران گفتگو انھوں نے یہ کہا کہ نوجوانی کے دنوں میں مجھے جماعت اسلامی کی باتیں اچھی لگتی تھیں، لیکن اب یہ سمجھ میں آتا ہے کہ الرسالہ مشن کی آئڈیالوجی ہی فطری آئڈیالوجی ہے۔
— I have been distributing Maulana’s book, Khandani Zindagi among some women since the past two years. It has become very popular. Recently, I received a message from one of the women, who requested me to send more of Maulana’s books, including Tabir ki Ghalati and The Secret of a Successful Family Life.
واپس اوپر جائیں