Pages

Sunday, 2 August 2015

Al Risala | August 2015 (الرسالہ،اگست)

4

-معرفت کا رزق

5

- جنت کی دنیا

6

- کائناتی عبادت

7

- تدبر کی اہمیت

8

- موت کے بعد

9

- پیغمبر کی حیثیت

10

- نتیجہ ایک اشارۂ ربانی

11

- فتنۂ دہیماء فکری کنفیوژن

25

- شرحِ صدر کیا ہے

26

- تربیت کا ٹکنکل طریقہ

27

- صبر واعراض کا اصول

29

- توحید اور عدل

30

- زمین میں خلافت

31

- ٹیم کی تربیت

32

- دعوت کی ذمے داری

33

- فطرت کا ایک قانون

34

- مدعو فرینڈلی روش

35

- فکر کی تشکیل

36

- اسلام اور دورِ جدید

43

- متبادل کو جانیے

45

- زندہ قومیں کس طرح کام کرتی ہیں

47

- خبرنامہ اسلامی مرکز — 236


معرفت کا رزق

پیغمبر ِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے رمضان کے مہینے کے بارے میں فرمایا: شھر یزداد فیہ رزق المومن (صحیح ابن خزیمہ،حدیث نمبر 1887) یعنی رمضان کا مہینہ وہ مہینہ ہے جس میں مومن کا رزق بڑھادیا جاتا ہے۔یہاں رزق سے مراد مادی رزق نہیںہے، بلکہ معرفت کا رزق ہے۔یہ وہی رزق ہے جس کو قرآن میں رزقِ رب (20:131)کہا گیا ہے۔
اصل یہ ہے کہ روزے کی حالت میں فطری طورپر روزہ دار کی حساسیت بڑھ جاتی ہے۔ وہ زیادہ سے زیادہ اپنے رب کے بارے میں سوچتا ہے۔ وہ زیادہ سے زیادہ قرآن کا مطالعہ کرتا ہے۔ روزہ کے دوران وہ زیادہ یکسوئی کے ساتھ زندگی کی حقیقت پر غور کرتا ہے۔ اس کے نتیجے میںاس کے اندر روحانیت جاگ اٹھتی ہے، اس کی ذہنی بیدار ی میں اضافہ ہوتا ہے، وہ زیادہ سنجیدگی کے ساتھ اللہ کی باتوں پر غور وفکر کرنے لگتا ہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ وہ دین کی حقیقتوں کو زیادہ گہرائی کے ساتھ دریافت کرتا ہے، وہ اس قابل ہوجاتا ہے کہ وہ زیادہ حکمت کے ساتھ اپنے اور دین کے تعلق کو سمجھ سکے۔وہ قرآن کی آیتوں کے گہرے معانی کو دریافت کرے۔
رزق کا اضافہ کوئی پراسرار چیز نہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جب آدمی سچی اسپرٹ کے ساتھ روزہ رکھے تو اس کا ذہن عام دنوں کے مقابلے میں زیادہ بیدار ہوجاتا ہے، اس کی سوچ میں زیادہ گہرائی آجاتی ہے، وہ اللہ کی باتوں میں زیادہ سنجیدگی کے ساتھ غور کرنے لگتا ہے۔ روزہ دار کے اندر یہ بڑھی ہوئی کیفیت اس کو اس قابل بنادیتی ہے کہ وہ دین کے زیادہ گہرے پہلوؤں کا ادراک کرسکے۔ وہ زیادہ گہرے انداز میں معرفت کا رزق حاصل کرسکے۔
روزہ دار کے لیے رزقِ معرفت میں اضافہ صرف بھوک پیاس کی بنا پر اپنے آپ نہیں ہوتا، بلکہ وہ اس وقت ہوتا ہے جب کہ آدمی سچی اسپرٹ کے ساتھ روزہ رکھے۔ اس کا روزہ ، قرآن کے الفاظ میں،تقوی اور شکر کا روزہ بن گیا ہو۔
واپس اوپر جائیں

جنت کی دنیا

قرآن میں جنت کے بارے میں مختلف آیتیں آئی ہیں۔ ان میں سے ایک آیت یہ ہے: فَلَا تَعْلَمُ نَفْسٌ مَا أُخْفِیَ لَہُمْ مِنْ قُرَّةِ أَعْیُنٍ جَزَاءً بِمَا کَانُوا یَعْمَلُونَ (32:17)۔ تو کسی کو خبر نہیں کہ ان لوگوں کے لیے ان کے اعمال کے صلہ میں آنکھوں کی کیا ٹھنڈک چھپا رکھی گئی ہے۔
قرآن کی اس آیت میں جنت کے بارے میں ما اخفی لھم کے الفاظ آئے ہیں، یعنی کیا چھپا رکھا گیا ہے (which is kept hidden)۔ اخفی ماضی کا صیغہ ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جنت آئندہ بننے والی چیز نہیں ہے، بلکہ وہ قرآن کے نزول کے وقت بنی ہوئی موجود تھی۔ اسی لیے قرآن میں دوسری جگہ أُعِدَّتْ لِلْمُتَّقِینَ (3:133) کا لفظ آیا ہے۔ یعنی وہ تیار کی گئی ہے اللہ سے ڈرنے والوں کے لئے۔
قرآن کے مطالعے سے معلوم ہوتا ہے کہ خالق نے انسان کے لیے دو دنیائیں بنائی ہیں۔ ایک موجودہ دنیا (planet earth)، اور دوسری وہ دنیا جس کے لیے قرآن اور حدیث میں جنت کا لفظ استعمال کیا گیا ہے۔ موجودہ دنیا کو ابتلا (آزمائش)کی مصلحت کے تحت بنا یا گیا ہے، اور جنت کو ابدی انعام کی مصلحت کے تحت بنایا گیا ہے۔
قرآن کے مطالعےسے مزید معلوم ہوتا ہے کہ دونوں دنیائیں ایک دوسرے کے مشابہ (2:25)ہیں۔ فرق صرف یہ ہے کہ موجودہ دنیا عارضی ہے اور جنت کی دنیا ابدی۔ موجودہ دنیا میں انسان کو آزادی دی گئی ہے، تاکہ ہر فرد کو جانچ کردیکھا جائے کہ کیا اس کے اندر وہ کردار ہے جو جنت کی معیاری دنیا میں بسائے جانے کے لیے مطلوب ہے۔ جنت چونکہ انعام کی دنیا ہے اس لیے وہاں ہر چیز پرفکٹ اور آئڈیل درجے میں موجود ہے۔جنت ہر قسم کی محدودیت (limitation) اور نقص (disadvantage) سے پاک ہے۔ موجودہ دنیا وقتی ضرورت کے اعتبار سے بنائی گئی ہے، اور جنت انسان کے کامل فُل فِل مینٹ (fulfillment)کے اعتبار سے۔
واپس اوپر جائیں

کائناتی عبادت

قرآن کی سورہ نمبر45 کی ایک آیت یہ ہے: وَسَخَّرَ لَکُمْ مَا فِی السَّمَاوَاتِ وَمَا فِی الْأَرْضِ جَمِیعًا مِنْہُ إِنَّ فِی ذَلِکَ لَآیَاتٍ لِقَوْمٍ یَتَفَکَّرُونَ (الجاثیة : 13)۔ یعنی اللہ نے آسمانوں اور زمین کی تمام چیزوں کو تمھارے لیے مسخر کردیا، سب کو اپنی طرف سے ۔ بےشک اس میں نشانیاں ہیں ان لوگوں کے لیے جو غور کرتے ہیں ۔ قرآن کی اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ ساری کائنات انسان کے لیے بنائی گئی ہے۔
یہاں یہ سوال ہے کہ اس کائناتی تسخیر کا مقصد کیا ہے۔ جیسا کہ معلوم ہے ، کائنات کی وسعت لامحدود حد تک زیادہ ہے۔ اتنی بڑی کائنات انسان کی رہائش گاہ نہیں ہوسکتی۔ یہ بھی ناممکن ہے کہ انسان اتنی بڑی کائنات کو اپنا رزق بنا ئے۔ پھر اس کہنے کا کیا مطلب ہے کہ ساری کائنات انسان کے لیے بنائی گئی ہے۔
قرآن کی دوسری آیتوں، مثلاً سورہ آل عمران کی آخری رکوع کے مطالعے سے معلوم ہوتا ہے کہ کائنات اس لیے بنائی گئی ہے تاکہ انسان اس پر غور کرے۔ یہ غور کرنا ، لُبّ (عقل ) کے ذریعے ہوتا ہے ، نہ کہ کسی جسمانی عمل کے ذریعے۔ قرآن کی دوسری آیتوں سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ کی نشانیاں (signs) اتنی زیادہ ہیں کہ ان کی کوئی گنتی نہیں ہوسکتی۔ یہی وہ لامحدود کائناتی نشانیاں ہیں جن پر عقل سے تدبر کرکے انسان اپنے رب کی کائناتی عبادت کرتا ہے۔
یہ صرف انسان ہے جو یہ صلاحیت رکھتا ہے کہ وہ کائناتی نشانیوں میں تدبر (contemplation) کرے۔ یہ تدبر پہلے روایتی فریم ورک میں کیا جاسکتا تھا۔ اب تدبر کا یہ عمل سائنسی فریم ورک میں کرنا ممکن ہوگیا ہے۔ اس طرح انسان اللہ کی بے پایاں عظمت کو دریافت کرتا ہے۔ وہ اللہ سے حبّ شدید اور خوفِ شدید کا تعلق قائم کرتا ہے۔ وہ آخرت کی ابدی جنت کو اپنے تصور میں لاتا ہے۔یہی تدبر ہے، اور اسی تدبر کو کائناتی عبادت کہا گیا ہے۔
واپس اوپر جائیں

تدبر کی اہمیت

قرآن میں باربار تدبر پر زور دیا گیاہے- قرآن کی سورہ ص میں یہ آیت آئی ہے: کِتٰبٌ اَنْزَلْنٰہُ اِلَیْکَ مُبٰرَکٌ لِّیَدَّبَّرُوْٓا اٰیٰتِہٖ وَلِیَتَذَکَّرَ اُولُوا الْاَلْبَابِ (38:29) یعنی یہ ایک بابرکت کتاب ہے- جو ہم نے تمھاری طرف اتاری ہے، تاکہ لوگ اِس کی آیتوں پر غور کریں اور تاکہ عقل والے اِس سے نصیحت حاصل کریں-قرآن کی اِس آیت میں مبارک کا لفظ اِس معنی میں ہےکہ قرآن کی ہر آیت میں گہرے معانی چھپے ہوئے ہیں- اِن گہرے معانی کو صرف تدبر (contemplation) کے ذریعہ دریافت کیا جاسکتا ہے- اور جب قرآن کی آیتوں پر اِس طرح غور کیا جائے، تو آدمی اُس کے اندر ایسے معانی دریافت کرے گا جو اُس کی عقل کو ایڈریس کرنے والے ہوں- اور اُس کی شخصیت میں ربانی انقلاب لانے کا ذریعہ بن جائیں-
قرآن میں بہت کم ایسی باتیں ہیں، جو صراحت کی زبان میں ہیں- زیادہ تر باتیں اُس میں سراغ (clue) کے اسلوب میں ہیں- یعنی اِن آیتوں میں گہرے معانی کی طرف اشارہ کیاگیا ہے، جو آدمی کے لیے غوروفکر میں رہنمائی دیتے ہیں- یہ اسلوب اِس لیے ہے تاکہ قرآن کے معانی کی دریافت کے ساتھ انسان کے اندر ذہنی ارتقا (intellectual development) کا عمل بھی جاری رہے-
مثلاً قرآن میں بار بار پانی کا ذکر ہے- انسان کے لئے پانی کی اہمیت کو بتایا گیاہے- مگر قرآن میں پانی کے گہرے پہلوؤں کا ذکر نہیں ہے- مثلاً پانی انسان کے لئے بہت سے فوائد کا واحد ذریعہ ہے- طہارت کے لئے اور دوسرے بہت سے فائدوں کے لیے- اِس معاملے میں کوئی بھی چیز پانی کا بدل (substitute)نہیں- مگر قرآن میں اِس حقیقت کو لفظی طورپر نہیں بتایا گیا- مثلاً یہ نہیں کہا گیاہے کہ پانی کا کوئی بدل نہیں (لابَدیل للماء)- پانی کے بارے میں اِس حقیقت کو انسان کے اوپر چھوڑ دیاگیا ہےکہ وہ اِس پر غور کرے، اور پانی کی اِس اہمیت کو دریافت کرکے، خالق کی اعلیٰ معرفت حاصل کرے اور گہرائی کے ساتھ اُس کا `شکر ادا کرے-
واپس اوپر جائیں

موت کے بعد

ایک روایت کے مطابق، پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: إذا مات أحدُکم ؛ فقد قامتْ قیامتُہ (کنز العمال: 42123) یعنی جب کسی شخص کی موت آتی ہے تو موت کے بعد ہی اس کی قیامت شروع ہو جاتی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ موت خاتمۂ حیات نہیں، بلکہ موت ایک دورِ حیات سے نکل کر دوسرے دورِ حیات میں داخلہ ہے۔ایک دور اور دوسرے دور میں کوئی فاصلہ نہیں۔
حقیقت یہ ہے کہ زندگی ایک تسلسل (continuity) کا نام ہے، موت کا معاملہ صرف منتقلی (transfer) کا ایک معاملہ ہے، یعنی آدمی ایک عالَم سے نکل کر دوسرے عالَم میں پہنچ گیا۔
اصل یہ ہے کہ موجودہ دنیا تعمیرِشخصیت (personality building) کا مقام ہے۔ یہاں ہر آدمی اپنی شخصیت کی تعمیر کر رہا ہے۔ یہ شخصیت سازی دو طرح کی ہوتی ہے۔مثبت شخصیت یا منفی شخصیت۔ جو لوگ اس دنیا میں مثبت شخصیت بنائیں گے، وہ موت کے فوراً بعد اپنے آپ کو جنت کے باغوں میں پائیں گے۔اور جو لوگ اپنے اندر منفی شخصیت بنائیں گے، ان کو موت کے بعد جہنم میں جگہ ملے گی۔ یہی بات حدیث میں ان الفاظ میں آئی ہے: إنما القبرُ روضةٌ من ریاضِ الجنةِ أو حفرةٌ من حفرِ النارِ. (سنن الترمذی، حدیث نمبر 2460)یہ حدیث اس وقت سمجھ میں آتی ہے جب کہ ایک اور حدیث کی روشنی میں اس کو سمجھنے کی کوشش کی جائے۔ اس دوسری حدیث کے الفاظ یہ ہیں: إنما ہی أعمالکم تردُّ إلیکم (حلیۃ الاولیاء: 5/125) یعنی یہ ہر انسان کے اعمال ہیں جو آخرت میں اس کی طرف لوٹا دیے جائیں گے۔
انسان اور اس کے عمل کے درمیان کوئی دوری نہیں ہوتی۔ جہاں انسان ہے وہیں اس کے اعمال بھی موجود ہوتے ہیں۔ موجودہ دنیا میں انسان کے اعمال بظاہر دکھائی نہیں دیتے۔ لیکن موت کے بعد فورا وہ ظاہر ہوجائیں گے۔ انسان اپنے آپ کو اچانک اپنے اعمال کے درمیان پائے گا۔ اچھا عمل کرنے والا، اپنے آپ کو اچھے اعمال کے درمیان پائے گا، اور برا عمل کرنے والا اپنے آپ کو برے اعمال کے درمیان پائے گا۔
واپس اوپر جائیں

پیغمبر کی حیثیت

حدیث کی مختلف کتابوں میں ایک روایت آئی ہے۔ صحیح البخاری کے الفاظ یہ ہیں: لا تطرونی، کما أطرت النصارى ابن مریم، فإنما أنا عبدہ، فقولوا عبد اللہ، ورسولہ (صحیح البخاری ، حدیث نمبر 3445)۔یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میری تعریف میں مبالغہ نہ کرو، جیسا کہ نصاری نے ابن مریم کی تعریف میں مبالغہ کیا۔ میں تو صرف اللہ کا ایک بندہ ہوں، تم صرف یہ کہو کہ اللہ کا بندہ اور اس کا رسول۔اس طرح کی اور بھی روایتیں حدیث کی کتابوں آئی ہیں۔ ان روایتوں کا مطالعہ کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی امت کو سختی کے ساتھ منع کیا تھا کہ وہ اپنے پیغمبر کے ساتھ وہ معاملہ نہ کریں جو پچھلی امتوں نے اپنے پیغمبروں کے ساتھ کیا۔ یعنی پیغمبر کو صرف پیغمبر کے درجے میں رکھیں۔ اس کے ساتھ مبالغہ آمیز مدح خوانی کا طریقہ اختیار نہ کریں۔
یہ کوئی سادہ بات نہیں۔ اس نصیحت میں ایک اہم حکمت چھپی ہوئی ہے۔ امت جب پیغمبر کو عبد اور رسول کا درجہ دے تو امت کے اند ر یہ مزاج بنے گا کہ وہ اپنی زندگی میں پیغمبر کی پیروی کرے، وہ اپنے آپ کو پیغمبر کے نمونے پر ڈھالے، وہ ہر معاملے میں اپنے آپ کو ویسا ہی بنائے جیسا کہ پیغمبر نے اپنے آپ کو ہر معاملے میں بنایا۔اطراء کا مطلب ہے مبالغہ آمیز مدح خوانی (to praise highly)۔ امت جب اپنے پیغمبر کے بارے میں اطراء کی روش میں مبتلا ہوجائے تو امت کے افراد کے اندر یہ ذہن بنتا ہے کہ پیغمبر کے بارے میں ہمارا کام یہ ہے کہ اس کی مبالغہ آمیز نعت خوانی کریں۔ اس کے نام کے ساتھ بڑے بڑے القاب شامل کریں۔ پیغمبر کی اسی طرح قصیدہ خوانی کریں ، جس طرح پہلے زمانے میں بادشاہوں کی قصیدہ خوانی کی جاتی تھی۔ اس اطراء کا ایک ظاہرہ یہ ہے کہ امت کے افراد اپنے پیغمبر کے بارے میں بہت زیادہ حساس ہوجاتے ہیں۔ ان کے خیال کے مطابق اگر کوئی شخص پیغمبر کی ذات کےمعاملے میں گستاخی کا کلمہ کہہ دے تو وہ بھڑک اٹھیں گے، اورچاہیں گے کہ ایسے آدمی کو قتل کر ڈالیں۔ ایسے لوگ اپنے پیغمبر کے بارے میں جو کتابیں لکھیں گے ان میں شاعرانہ مبالغہ آرائی تو بہت ہوگی لیکن علمی اور تاریخی مواد ان کے اندر بہت کم پایا جائے گا۔
واپس اوپر جائیں

نتیجہ ایک اشارۂ ربانی

عن أبی ہریرة، قال: قال رسول اللہ صلى اللہ علیہ وسلم: من حسن إسلام المرء ترکہ ما لا یعنیہ(ابن ماجہ، حدیث نمبر: 3976)۔یعنی آدمی کے اسلام کی خوبی یہ ہے کہ وہ اس کام کو چھوڑدے جس میں کوئی فائدہ نہیں۔
یہ حدیث رسول ہم کو ایک معیار (criterion) دیتی ہے۔ جس کی کی روشنی میں ہم اپنے عمل کو جانچتے رہیں۔ جو عمل عملا نتیجہ خیز ثابت ہو، اس پر قائم رہیں، اور جو عمل بے نتیجہ ثابت ہو اس کو چھوڑ دیں۔
اس حدیث کا تعلق عبادت جیسے معاملات سے نہیں ہے۔ بلکہ ان امور سے ہے جو دنیا میں کسی نتیجے کے لیے کیے جاتے ہیں۔ مثلا دشمن سے قتال کا معاملہ اگر ہمارا کوئی دشمن پایا جائے اور ایسے حالات پیدا ہوں کہ اس کے ساتھ قتال کرنا چاہیے ۔ تب بھی قتال برائے قتال کا طریقہ اختیار نہیں کیا جائے گا، بلکہ قتال برائے نتیجہ کا طریقہ اختیار کیا جائے گا۔
مثال کے طور پر موجودہ زمانے کے مسلمان سو سال سے زیادہ مدت سے جہاد کے نام پر قتال کررہے ہیں، وہ اپنے مفروضہ دشمنوں کے خلاف متشددانہ جنگ چھیڑے ہوئے ہیں، لیکن جانی اور مالی قربانیوں کے باوجود اس عمل کا مطلوب نتیجہ مسلمانوں کو نہیں ملا۔ اب مذکورہ حدیث کے مطابق، مسلمانوں کو یہ کرنا ہے کہ وہ توبۂ جمیع (24:31) پر عمل کریں، اور یک لخت اپنی تمام متشددانہ سرگرمیوں کو ختم کردیں۔ جب وہ ایسا کریں گے تو ان کو نظر آئےگا کہ ان کے کرنے کا اصل کام پرامن دعوت ہے نہ کہ متشددانہ سرگرمیاں۔
یہی اس وقت اسلامی تعلیمات کا تقاضا ہے۔ تشدد خواہ جہاد کے نام سے کیا جائے، لیکن وہ تشدد ہے۔ اور عملی اعتبار سے اس کا مثبت نتیجہ نہیں نکلنا اس بات کی علامت ہے کہ اللہ کے نزدیک وہ کوئی مطلوب اسلامی عمل نہیں۔ اگر وہ مطلوب اسلامی عمل ہوتا تو اس پر ضرور اللہ کی نصرت نازل ہوتی۔ جیسا کہ قرآن میں آیا ہے: وَکَانَ حَقًّا عَلَیْنَا نَصْرُ الْمُؤْمِنِینَ (30:47)۔ یعنی اور ہم پر یہ حق تھا کہ ہم مومنوں کی مدد کریں ۔
واپس اوپر جائیں

فتنۂ دہیماء: فکری کنفیوژن

پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک حدیث دورِ فتنہ کے بارے میں آئی ہے- یہ ایک لمبی حدیث ہے، اس کا ایک حصہ یہ ہے: ثم فتنة الدُّہیماء لا تدع أحداً من ہذہ الأمة إلا لطمتہ لطمة (سنن أبی داؤد، حدیث نمبر: 4244) یعنی آخری زمانے میں فتنہ دہیماء ظاہر ہوگا- وہ اتنا زیادہ عام ہوگا کہ امت کا کوئی بھی شخص نہیں بچے گا جو اِس فتنےکی زد میں نہ آجائے:
It will hit everyone without any exception.
اِس حدیثِ رسول میں دُہیماء کالفظ استعمال ہوا ہے- دہیما کے لیے مشہور عربی لغت لسان العرب میں یہ الفاظ آئے ہیں: الفتنة السوداء المظلمة (12/211)- دہیماء کی تصغیر مبالغہ کے لیے ہے، یعنی فتنۂ دہیماء بہت زیادہ سیاہ اور سخت تاریکی پیدا کرنے والا فتنہ ہوگا- اِس حدیثِ رسول کے مطابق، فتنۂ دہیماء کا زمانہ مکمل تاریکی کا زمانہ (age of total darkness) ہوگا- تاریکی سے مراد فکری تاریکی (intellectual darkness)ہے- دوسرے الفاظ میں، اِس کا مطلب ہے — مکمل فکری کنفیوزن (utter intellectual confusion) ۔
قانونِ فطرت کے مطابق، یہ دور اچانک نہیں آئے گا، بلکہ تدریجی عمل (gradual process) کے تحت آئے گا۔ یہ واقعہ خود امتِ مسلمہ کے اندر پیش آئے گا اور یہ اُس حالت کا ایک ظاہرہ ہوگا جس کو زوالِ امت کہاجاتا ہے- مذکورہ روایت کے الفاظ کے مطابق، فتنۂ دہیماء کی یہ صورتِ حال اصلاً خود امت کے اندر پیش آئے گی، نہ کہ امت کے باہر۔
ایک روایت کے مطابق، پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اصحاب کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا کہ میں تم کو ایک ایسے دینِ بیضا پر چھوڑ رہا ہوں جس کی راتیں بھی دن کی طرح روشن ہیں: قد ترکتم على البیضاء، لیلہا کنہارہا (مسند احمد، حدیث نمبر: 17142)۔ مگر بعد کے زمانے میں امت کے اندر بہت زیادہ اختلاف (اختلافا کثیراً) پیدا ہوجائے گا- اِس اختلافِ کثیر سے مراد وہی چیز ہے جس کو مذکورہ حدیث میں فتنۂ دہیماء کہا گیا ہے، یعنی قرآن وحدیث کی تشریح وتعبیر میں اختلافات سے تصورِ دین کا غیر واضح ہوجانا-
اختلاف کا سبب
امت کی بعد کی نسلوں میں فکری اختلاف کا سبب کیا ہے- یہ سبب وہی ہے جو پچھلی امتوں میں پیدا ہوا- پچھلی امتوں کا واقعہ امتِ مسلمہ کے معاملے کو سمجھنے کے لیے ایک تاریخی مثال کی حیثیت رکھتا ہے- یہ حقیقت قرآن کی سورہ البینة میں ان الفاظ میں بیان کی گئی ہے: وَمَا تَفَرَّقَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْکِتٰبَ اِلَّا مِنْۢ بَعْدِ مَا جَاۗءَتْہُمُ الْبَیِّنَةُ ۝ وَمَآ اُمِرُوْٓا اِلَّا لِیَعْبُدُوا اللّٰہَ مُخْلِصِیْنَ لَہُ الدِّیْنَ ڏ حُنَفَاۗءَ وَیُقِیْمُوا الصَّلٰوةَ وَیُؤْتُوا الزَّکٰوةَ وَذٰلِکَ دِیْنُ الْقَیِّمَةِ ۝ (98:4-5) یعنی جو لوگ اہلِ کتاب تھے، وہ واضح دلیل آجانے کے بعد مختلف ہوگئے- حالاں کہ ان کو یہی حکم دیا گیا تھا کہ وہ اللہ کی عبادت کریں ۔ اس کے لیے دین کو خالص کر دیں ، یکسو ہو کر اور نماز قائم کریں اور زکوٰۃ دیں ، اور یہی درست دین ہے۔
پچھلی امتوں میں جو واقعہ پیش آیا، وہ یہ تھا کہ اُن کو اللہ کی کتاب دی گئی تھی، لیکن ان کی بعد کی نسلوں کے درمیان کتاب کی تشریح وتوضیح میں علماء کے درمیان اختلافات پیدا ہوئے- ان اختلافات کی بنا پر امت مختلف گروہوں میں بٹ گئی- اختلاف کا یہی واقعہ، فطرت کے قانون کے مطابق، امتِ مسلمہ کی بعد کی نسلوں میں پیش آئے گا- دونوں کا مشترک سبب ایک ہے-
یہ معاملہ کیوں پیش آتا ہے- اِس کا سبب یہ ہے کہ امت کی ابتدائی نسل میںدین اپنی اسپرٹ کے اعتبار سے زندہ ہوتا ہے- لوگوں پر یہ بات واضح ہوتی ہے کہ دین اصلاً اسپرٹ کا نام ہے- جہاں تک اس کی ظاہری صورت یا فارم (form) کا تعلق ہے، وہ دین کا ایک اضافی حصہ (relative part) ہے- یہ ایک حقیقت ہے کہ اسپرٹ میں ہمیشہ یکسانیت ہوتی ہے- اِس لیے امت جب تک اسپرٹ والے دین پر قائم ہو، اُس وقت تک اس کا اتحاد باقی رہتا ہے، لیکن بعد کے دور میں زوال کی بنا پر اسپرٹ مفقود ہوجاتی ہے اور لوگ دین کے فارم کو اصل دین سمجھ لیتے ہیں- چوں کہ فارم میں ہمیشہ اختلاف ہوتا ہے، اِس لیے امت جب زوال کا شکار ہوکر فارم پر قائم ہوجائے تو ہمیشہ اختلافات پیدا ہوتے ہیں- پہلے اختلاف آتا ہے، پھر فرقہ بندی ہوتی ہے اور پھر مختلف گروہوں کے درمیان تشدد شروع ہوجاتا ہے-
اِس معاملے کی ایک مثال یہ ہے کہ ایک حدیثِ رسول میں آیا ہے : لا صلاة إلا بفاتحة الکتاب (مسند احمد، حدیث نمبر: 22671) یعنی سورہ الفاتحہ کے بغیر کوئی نماز، نماز نہیں- پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد صحابہ کے زمانے میں بھی لوگوں کو معلوم تھا، لیکن اِس کی بنا پر لوگوں کے درمیان کوئی اختلاف پیدا نہیں ہوا، کیوں کہ اس زمانے میں اسپرٹ بھر پور طورپر زندہ تھی- لوگ سمجھتے تھے کہ اصل چیز یہ ہے کہ حالتِ نماز میں سورہ الفاتحہ کے معانی کی یاد دہانی ہوتی رہے- سرّی نمازوں میں ہر آدمی خود سورہ الفاتحہ پڑھتا تھا اور جہری نمازوں میں ہر آدمی یہ سمجھتا تھا کہ امام کی زبان سے سورہ الفاتحہ کو سن کر قرأتِ فاتحہ کا مقصد نیابتاً حاصل ہوگیا-
لیکن بعد کے زمانے میں جب امت کے اندر زوال آیا اور ساری اہمیت عبادت کے فارم کو دی جانے لگی، اُس وقت اِس حدیث کو لے کر لوگوں کے درمیان زبردست اختلاف پیدا ہوگیا- ایک گروہ نے کہا کہ جہری نمازوں میں سورہ الفاتحہ کی نیابةً ادائیگی کافی ہے- دوسرے گروہ نے کہا کہ نہیں، ہرمصلی کو لازماً اپنی نماز میں ذاتی طورپر سورہ الفاتحہ پڑھنا چاہیے، حتی کہ جہری نمازوں میں جب کہ امام بلند آواز سےقرأت کررہا ہو، تب بھی مقتدیوں پر لازم ہے کہ وہ آہستہ آہستہ سورہ الفاتحہ پڑھیں، ورنہ ان کی نماز نہیں ہوگی-
قرآن کی مذکورہ آیت (98:4-5) میں اِسی حقیقت کو بیان کیا گیا ہے- زوال کے دور میں پچھلی امتوں کے درمیان اِسی سبب سے اختلافات پیدا ہوئے- امتِ مسلمہ کے درمیان بھی اس کے زوال کے دور میں یہی صورت حال لازماً پیش آئے گی اور اِس اختلاف کی بنا پر دین میں رایوں کا اختلاف اتنازیادہ بڑھ جائے گا کہ عام انسان کے لیے یہ سمجھنا مشکل ہوجائے گا کہ خدا کا بھیجا ہوا اصل دین (دینِ قیم) کیا ہے-
پیغمبرانہ پیشین گوئی
حضرت علی سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یوشک أن یأتی على الناس زمان لا یبقى من الإسلام إلا اسمہ، ولا یبقى من القرآن إلا رسمہ- مساجدہم عامرة وہی خراب من الہدى۔ علماءہم شر من تحت أدیم السماء، من عندھم تخرج الفتنة وفیہم تعود (شعب الایمان للبیہقی، حدیث نمبر: 1763) یعنی قریب ہے کہ لوگوں کے اوپر وہ زمانہ آئے جب کہ اسلام کا صرف نام باقی رہے اور قرآن کی صرف تحریر باقی رہے۔ ان کی مسجدیں بظاہر آباد ہوں گی، لیکن وہ ہدایت سے خالی ہوں گی- اُن کے علماء آسمان کے نیچے سب سے برے لوگ ہوں گے۔ ان سے فتنہ نکلے گا، اور انھیں کی طرف فتنہ لوٹے گا-
اِس حدیث رسول کے مطالعے سے معلوم ہوتا ہے کہ اِس میں اُس وقت کی پیشین گوئی ہے جب کہ دہیماء کا فتنہ اپنی آخری حد تک پہنچ چکا ہوگا- اُس زمانے میں بظاہر اسلام کے نام پر بڑی بڑی سرگرمیاں دکھائی دیں گی، لیکن اِس سرگرمیوں میں دین کی اصل حقیقت موجود نہ ہوگی۔ قرآن کے نسخے ہر جگہ موجود ہوں گے، لیکن لوگ قرآن کے صرف الفاظ کو جانتے ہوں گے، قرآن کے معانی سے وہ بالکل بے خبر ہوں گے-
امت کا فکری زوال
ایک حدیث رسول میں بتایا گیا ہے کہ: خیر أمتی قرنی،ثم الذین یلونہم، ثم الذین یلونہم (صحیح البخاری، حدیث نمبر: 3650)- اِس حدیث رسول میں اسلام کے تین ادوار کو خیر کے ادوار کہاگیا ہے- اِن ادوار کو قرونِ ثلاثہ یا قرونِ مشہود لہا بالخیر کہا جاتا ہے- اِن تین ادوار سے مراد ہے— عہدِ رسالت، عہدِ صحابہ، عہدِ تابعین- اِن تین ابتدائی ادوار کی مدت پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات (632ء) کے بعد تقریباً ایک سوسال تک جاری رہی- اِس کے بعد وہ دور شروع ہوگیا جو قرونِ مشہود لہا بالخیر کے بعد کا د\ور تھا- گویا کہ اسلام کی تاریخ میں مستند ادوار صرف ابتدائی تین ادوار ہیں- بعد کے ادوار کو اسلام میں مستند حیثیت حاصل نہیں-
اِس مسئلے کی مزید تعیین کی جائے تو کہا جائے گا کہ اسلام کے ابتدائی تین ادوا ر میں اسلام کا فکری مرجع تمام تر قرآن تھا- ثانوی مرجع کے طورپر حدیث بھی اِس میں شامل ہے، کیوں کہ حدیث قرآن کی تشریح ہے- حدیث کے بغیر قرآن کو درست طورپر سمجھنا ممکن نہیں- تقریباً سوسال بعد اسلام کی تاریخ میں ایک نیا دور شروع ہوا جس کو فقہی دور کہا جاسکتا ہے- یہ وہ دور ہے جب کہ ساسانی ایمپائر اور بازنطینی ایمپائر کے علاقے فتح ہوئے اور بتدریج اِس علاقے کے لوگ اسلام میں داخل ہونا شروع ہوئے- اس کے بعد اسلام کی تاریخ میں ایک نیا ظاہرہ پیدا ہوا جس کو عمومی قبولِ اسلام (mass conversion) کہاجاتا ہے- یہ لوگ اسلام سے پہلے مجوسی مذہب یا مسیحی مذہب میں شامل تھے- اِن تمام مذاہب میں اُس وقت سا ری اہمیت صرف فارم (form) کودی جاتی تھی- اِن لوگوں نے جب اسلام قبول کیا تو اپنے قدیم مائنڈ سیٹ (mindset) کے تحت وہ یہ جاننے کی کوشش کرنے لگے کہ اسلام کا فارم کیا ہے- یہی وہ دور ہے جب کہ اسلام کی تاریخ میں وہ شعبہ پیدا ہوا جس کو فقہ کہاجاتاہے-
یہی وہ زمانہ ہے جب کہ حدیثوں کی جمع وتدوین شروع ہوئی- فقہاء نے فارم کے بارے میں لوگوں کے سوالات کا جواب معلوم کرنے کے لیے حدیثوں کو دیکھا۔ احادیث کے ذخیرے میں مختلف صحابہ کی زبان سے یہ بتایا گیا تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کس طرح عبادت کرتے تھے- فقہا کو معلوم ہوا کہ اِس معاملہ میں صحابہ کی روایتیں مختلف ہیں- مثلاً کسی صحابی کی روایت آمین بالسر کے حق میں تھی تو کسی صحابی کی روایت آمین بالجہر کے حق میں تھی۔ احادیث کے ذخیرے میں اِس طرح کے کثیر اختلافات موجود تھے-
یہیں سے مسلمانوںمیں ایک ڈی ریلمنٹ (derailment) شروع ہوا- فقہاء کو یہ کہنا چاہئے تھا کہ دین میں اگرچہ اسپرٹ ایک ہے، لیکن فارم میں تنوع (diversity) پایا جاتا ہے، اِس لیے تم جس صحابی کی روایت پر چاہو عمل کرو- البتہ تم کو سب سے زیادہ دھیان اسپرٹ پر دینا چاہیے- لیکن فقہاء نے یہاں بطور خود یہ اصول وضع کیا کہ فارم کے بارے میں مختلف روایتوں میں کوئی ایک ہی روایت درست ہوسکتی ہے، اِس لیے اِس ذہن کے تحت انھوں نے ترجیح کا اصول وضع کیا- وہ بحث ومباحثے کے ذریعے ایک طریقے کو راجح اور دوسرے طریقہ کو مرجوح قرار دینے لگے- ترجیح کا یہ اصول سب کو ایک رائے پر جمع نہیں کرسکتا تھا، کیوں کی امام شافعی کے الفاظ میں، ساری بحثوں کے باوجود فریقِ ثانی کے حق میں یہ احتمال باقی رہتا تھا کہ شاید اس کی رائے درست ہو-
دین میں اسپرٹ کے بجائے فارم کو اہمیت دینے کا یہ فقہی طریقہ بعد کے لوگوں کے لیے ایک رجحان ساز (trendsetter) واقعہ بن گیا- اِس کے بعد دینی موضوعات پر جو کتابیں لکھی گئیں، وہ تقریباً سب کی سب اِسی نہج پر لکھی گئیں- یہ سلسلہ آج تک جاری ہے — دین بیضا کا دینِ غیر بیضا بن جانے کا اصل سبب یہی ہے-
اگر آپ فقہی کتابوں کا مطالعہ کریں تو آپ پائیں گے کہ فقہ میںبظاہر اسلام کی مختلف تعلیمات زیر بحث آتی ہیں، لیکن عملاً تمام فقہی بحثیں اِن تعلیمات کے فارم پر ہوتی ہیں- فقہ کا یہ پیٹرن اصولی بنیادپر نہیں بنا، بلکہ حالات کے زیر اثر (situational factor) بنا ہے-آپ قرآن کو پڑھیں تو معلوم ہوگا کہ قرآن میں سارا زور اسلام کی اسپرٹ پر دیا گیا ہے، لیکن فقہ میں ایک شفٹ آف ایمفیسس (shift of emphasis) کا واقعہ پیش آیا اور سارا زور اسپرٹ کے بجائے فارم پر دیا جانے لگا-
قرآنی پیٹرن کے بجائے فقہی پیٹرن
اِس کے بعد مزید یہ ہوا کہ فقہ کا یہ اسلوب ، عملاً اہلِ علم کے درمیان عام ہوگیا- بعد کے اہلِ علم نے اِسی پیٹرن کو معیاری پیٹرن کی حیثیت سے اختیار کرلیا- وہ اِسی انداز میں سوچنے لگے اور اِسی انداز پر کتابیں لکھنے لگے- یہ فقہی پیٹرن اتنا زیادہ عام ہوا کہ بعد کے زمانے میں لکھی جانے والی کتابوں میں شاید کوئی بھی کتاب اِس سے مستثنی نہیں-
مثلاً ابن تیمیہ (وفات: 1328ء) کی کتاب ’الصارم المسلول على شاتم الرسول ‘اِسی نہج کی ایک کتاب ہے- اِس کتاب میں ابن تیمیہ نے شاتمِ رسول کے لیے قتل کی سزا بتائی ہے۔ صرف اِس لیے کہ فقہا نے بعد کے زمانے میں یہ حکم وضع کیا کہ شاتم کو بطور سزا قتل کیا جائے گا (یُقتل حدًّا)۔ حالاں کہ قرآن میں اس حکم کی کوئی اصل موجود نہیں- ابن تیمیہ اگر کتبِ فقہ سے اوپر اٹھ کر اِس موضوع پر قرآن کی اسپرٹ کے مطابق، اِس مسئلے پر غور کرتے تو وہ لکھتے کہ شاتم کی حیثیت ایک مدعو کی ہے، شاتم کو دعوت دیناہے، نہ کہ قتل کرنا- شاتم بظاہر دشمن نظرآتا ہو ، تب بھی اپنی فطرت کے اعتبار سے، وہ ایک انسان ہے- اگر اس کے سامنے اسلام کا دین حکیمانہ انداز میں پیش کیا جائے تو عین ممکن ہے کہ وہ اسلام کی حقانیت کا اعتراف کرے اور اس کی دشمنی دوستی میں تبدیل ہوجائے(41:34)۔
اِس طرح کی ایک مثال شاہ ولی اللہ دہلوی (وفات: 1762ء) کی مشہور کتاب حجة اللہ البالغة ہے- اِس کتاب کا ٹائٹل بظاہر قرآن کی ایک آیت (6:149) سے ماخوذ ہے- مگر عملاً یہ کتاب قرآنی پیٹرن پر نہیں لکھی گئی ہے، بلکہ فقہی پیٹرن پر لکھی گئی ہے- یہی وجہ ہے کہ اِس کتاب کے تمام مباحث فقہی اسلوب پر مبنی ہیں- مثلاً اس کتاب میں سُترہ سے لے جہاد تک کے تمام ابواب موجود ہیں، لیکن اِس میں دعوت الی اللہ کا باب موجودنہیں- حالاں کہ اگر مصنف، قرآن کے اسلوب کا تتبع کرتے تو یقیناً وہ اِس حقیقت کو دریافت کرلیتے کہ قرآن میں سب سے زیادہ اہمیت دعوت الی اللہ کو دی گئی ہے- قرآن پورا کا پورا ایک کتاب ِ دعوت ہے-
معانی کے بجائے الفاظ کی اہمیت
اسلام کو مبنی بر فارم مذہب (form-based religion) قرار دینے کا دوسرا شدید تر نقصان یہ ہوا کہ اسلام میں عقلی توجیہہ (rational interpretation) کا مزاج ختم ہوگیا- قرآن وحدیث کے مطالعے میں ساری اہمیت لفظی تشریح (literal interpretation) کو دی جانے لگی- بعد کے زمانے میں مسلم اہلِ علم نے جو کتابیں لکھیں، وہ تقریباً سب کی سب اِسی نہج پر لکھی گئیں- اِس معاملے میں غالباً صرف ایک کتاب مقدمة ابن خلدون کا استثنا ہے- اِس منہج فکر کا نتیجہ یہ ہوا کہ مسلمانوں کےاندرعملاً عقلی غوروفکر مکمل طورپر مفقود ہوگیا-
علامہ انور شاہ کشمیری (وفات: 1934ء) برصغیر ہند کے مشہور عالم ہیں- انھوں نے لکھا ہے کہ حدیث (الحلال بیّن والحرام بیّن) کو سمجھنے کے لیے انھوںنے حدیث کی تمام متداول شرحیں دیکھیں، مگر کسی شرح میں انھیں اس حدیث کی کوئی بامعنی وضاحت نہیں ملی- چناں چہ وہ اپنا تاثر اِن الفاظ میں بیان کرتے ہیں: لم یتحصّل عندنا منہ شیء غیر حلّ الألفاظ (فیض الباری على صحیح البخاری: 153/1) یعنی حلِ الفاظ کے سوا مجھے اِس میں کچھ اور نہیں ملا- علامہ انور شاہ کشمیری کا یہ تبصرہ حدیث کی تمام شرحوں پر صادق آتا ہے-
دو مثالیں
اِس معاملے کو سمجھنے کے لیے یہاں دو مثالیں نقل کی جاتی ہیں- اسلام کی تعلیمات میں ایک مسئلہ وہ ہے جس کو خفین پر مسح کا مسئلہ کہاجاتا ہے، یعنی مسافر آدمی اگر وضو کرکے موزوں کے اوپر مسح کرے تو تین دن تک اُس کو وضو کے موقع پر اپنا پاؤں دھونے کی ضرورت نہیں- اُس کے لیے صرف موزوں کے اوپر مسح کرنا کافی ہوگا- اِس شرعی مسئلے کے بارے میں امام ابو حنیفہ (وفات: 767ء) کہتے ہیں کہ دین کی بنیاد اگر رائے (عقل) پر ہوتی تو میں کہتا کہ پاؤں کے نیچے سے مسح کیا جائے، نہ کہ پاؤں کےاوپر سے-
امام ابو حنیفہ کا یہ قول صرف اِس لیے ہے کہ انھوں نے اِس معاملے میں حدیثِ رسول کو محض الفاظ کے اعتبار سے لیا- انھوں نے اِس حدیث رسول پر عقلی اعتبار سےغور نہیں کیا- اگر وہ اِس حکم پر غور کرتے تو وہ کہتے کہ مسح على الخفین وضو کا بدل نہیں ہے، بلکہ وہ وضو کی ایک علامت ہے- آدمی جب موزے کے اوپر مسح کرتا ہے تو وہ علامتی طور پر وضو کے حکم کی تعمیل کرتا ہے،اور جب وہ علامتی ہے تو یہ بات اضافی ہوجاتی ہے کہ پاؤں کی کس سمت سے مسح کیا جائے-
اِسی طرح اِس معاملے کی ایک مثال ابن قیم الجوزیہ (وفات: 1350ء) کی مشہور کتاب ’طریق الہجرتین وباب السعادتین‘ ہے- اِس کتاب میں مصنف نے ہجرت کی دو تقسیم کی ہے — ایک، اللہ کی طرف ہجرت، یعنی اللہ کی عبادت اور اللہ سے محبت، وغیرہ- دوسرے، رسول کی طرف ہجرت ، یعنی رسول کی سنت کا اتباع-
اسلام میں ہجرت یا مہاجرت صرف ایک چیز کا نام ہے اور وہ صرف ترک وطن (migration)ہے- مصنف نے دو ہجرت کا تصور صرف ایک لفظی بنیاد پر اخذ کیا ہے، وہ یہ کہ صحیح البخاری کی پہلی روایت جو نیت کے بارے میں ہے، اس میںیہ الفاظ آئے ہیں: فمن کانت ہجرتہ إلى اللہ ورسولہ (صحیح البخاری، حدیث نمبر: 54) اس حدیث میں طریقِ ہجرت کو بیان نہیں کیا گیا ہے، بلکہ نیتِ ہجرت کو بیان کیا گیا ہے، یعنی اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ ہجرت کی دو قسمیں ہیں، بلکہ اس کا مطلب صرف یہ ہے کہ اپنی حقیقت کے اعتبار سے، ہجرت صرف وہ ہے جو رضاء الہی کے جذبہ سے کی جائے-
اِس اسلوب کا نقصان یہ ہے کہ اس میں وضوح (clarity) کا خاتمہ ہوگیا ہے- اِس کتاب کو پڑھ کر آدمی صحیح طور پر نہ ہجرت کی حکمت کو سمجھ پاتا ہے اور نہ دوسرے مذکورہ اعمال کی حکمت کو- گویاجدید تعلیم کی اصطلاح میں یہ ایک مائنس مارکنگ (minus marking) کا معاملہ ہے جس میں دونوں قسم کے احکام کی گہری معنویت قاری کے ذہن سے حذف ہوجاتی ہے-
بعد کے زمانے میں جو کتابیں لکھی گئیں، وہ تقریباً سب کی سب اِسی اسلوب پر لکھی گئیں- اسلام کی ابتدائی تین نسلوں تک لوگوں کے درمیان قرآنی طرز فکر غالب تھا- بعد کو مسلمانوں میں جو دور آیا، اس میں عام طورپر فقہی اسلوب کا غلبہ ہوگیا- تاہم پرنٹنگ پریس کے وجود میں آنے سے پہلے اِس ذہن کی اشاعت صرف محدود پیمانے پر ہوسکتی تھی، کیوں کہ اُس زمانے میں کتابیں مخطوطات (manuscripts) کی شکل میں ہوتی تھیں اور مخطوطات کے ذریعے کسی فکر کی عمومی اشاعت ممکن نہیں تھی- اٹھارھویں صدی عیسوی میں جب پریس کا زمانہ آیا تو اس کے بعد مسلم اہلِ علم کی کتابیں چھپ کر عمومی طورپر پھیلنے لگیں، یہاں تک کہ بیسویں صدی میں یہ حال ہوا کہ ہر زبان میں اِس قسم کی مطبوعہ کتابیں اتنا زیادہ عام ہوئیں کہ کوئی بھی مسلمان اُس سے بے خبر نہ رہا-
مذکورہ حدیثِ رسول میں جس فتنۂ دہیماء کا ذکر ہے، وہ اصلاً یہی فتنہ ہے، یعنی قرآنی طرز فکر کا خاتمہ اور فقہی طرزِ فکر کی عمومی اشاعت اور پھر دورِ پریس میں اس کا اتنا زیادہ بڑھ جانا کہ کوئی بھی مسلمان اس کی زد سے محفوظ نہ رہے-
فہمِ دین
دینِ اسلام کی بنیاد قرآن پر ہے- قرآن کا صحیح فہم ہی دین کے صحیح فہم کا ضامن ہے- قرآن کو سمجھنے میں اگر غلطی ہوجائےتو دین کو صحیح طورپر سمجھنا ممکن نہ ہوگا- اصحابِ رسول کو دین ِ اسلام میں ماڈل کی حیثیت حاصل ہے اور اصحابِ رسول کی پوری تربیت اسی قرآن کی بنیاد پر ہوئی تھی-
حضرت جندب بن عبد اللہ البجلی سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: کنا مع النبی صلى اللہ علیہ وسلم، ونحن فتیان حزاورة،فتعلمنا الإیمان قبل أن نتعلم القرآن، ثم تعلمنا القرآن فازددنا بہ إیمانا(ابن ماجہ،حدیث نمبر: 61) یعنی ہم کچھ نوجوان نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ رہتے تھے- ہم نے آپ کے ساتھ رہ کر ایمان سیکھا، اِس سے پہلے کہ ہم قرآن سیکھیں- اِس کے بعد ہم نے قرآن سیکھا تو قرآن ہمارے لیے اضافۂ ایمان کا ذریعہ بن گیا-
اِس روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ قرآن فہمی کے سلسلے میں سب سے پہلا کام یہ ہے کہ قرآن کے مرکزی مضمون (central theme) کو دریافت کیا جائے- قرآن کے مرکزی مضمون کی دریافت ہی وہ چیز ہے جو پوری قرآن کو بامعنی بناتی ہے- جب ایسا ہوتا ہے تو اس کے بعد مومن کے ذہن میں ایک ربانی پراسس جاری ہوجاتا ہے- اِس کے بعد ایک تدریجی عمل کے ذریعے اس کے اندر اُس شخصیت کی تعمیر ہوتی ہے جس کو مومن کہا جاتا ہے-
غور کرنے سے معلوم ہوتاہے کہ قرآن کا مرکزی مضمون یہ ہے کہ انسان کو خالق کے تخلیقی منصوبہ (creation plan of God) سے آگاہ کیا جائے، تاکہ انسان اس کے مطابق، اپنی زندگی کی کامیاب تعمیر کرسکے- اِس تعمیر ِ شخصیت کا آغاز خدا کی معرفت (realization of God) سے ہوتا ہے-
اِس کے بعد آدمی یہ دریافت کرتا ہے کہ اس کو اپنی ذات کی نسبت سے، اللہ کا عبادت گزار بننا ہے، اور دوسرے انسانوں کی نسبت سے، اس کو پُرامن دعوت الی اللہ کا کام کرنا ہے- یہی تین چیزیں ہیں جو ایک انسان کے اندر مومنانہ شخصیت کی تعمیر کرتی ہیں-
وضوح کا مسئلہ
اسلام کے دورِ اول (قرون مشہود لہا بالخیر) میں دین کا یہی تصور غالب تصور کی حیثیت رکھتا تھا- اس کے بعد دھیرے دھیرے اِس میں کمی (erosion) شروع ہوئی اور پھر وہ وقت آیا جب کہ عمومی طور پر دین کا یہ تصورگم ہوگیا- عمر بن عبد العزیز (وفات: 720ء) غالباً اسلام کے دورِاول کے آخری شخص ہیں-
اموی خلیفہ عمر بن عبد العزیز کا زمانہ وہ ہے جب کہ لوگ بڑے پیمانے پر اسلام قبول کررہے تھے- اس کے نتیجے میں بیت المال میں آنے والے جزیہ کی رقم بہت کم ہوگئی تھی- چنانچہ خراسان کے ایک گورنر جراح بن عبد اللہ نے عمر بن عبد العزیز سے شکایت کی اور کہا کہ مفتوح ممالک میں لوگ کثرت سے اسلام قبول کررہے ہیں- چوں کہ اسلام لانے کے بعد جزیہ ساقط ہوجاتا ہے، اس لیے لوگوں کے بکثرت اسلام میں داخل ہونے کی وجہ سے مملکت کا مالیہ بہت کم ہوگیا ہے- اگر یہی حالت رہی تو خزانہ خالی ہوجائے گا- عمر بن عبد العزیز نے گورنر کو لکھا — — اللہ تعالی نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو داعی بنا کر بھیجا تھا ، ٹیکس وصول کرنے والا بنا کر نہیں بھیجا تھا- إن اللہ إنما بعث محمداً صلى اللہ علیہ وسلم داعیاً ولم یبعثہ جابیا (البدایة والنہایة: 9/213)
عمر بن عبد العزیز کےزمانے کے ایک اور گورنر عدی بن ارطاة نے اِس طرح کی شکایت کو لے کر خلیفہ کو لکھا — لوگ بڑی تعداد میںاسلام قبول کررہے ہیں- مجھے ڈر ہے کہ اِس کے نتیجے میں حکومت کے مالیہ میں کمی ہوجائے گی (فإن الناس قد کثروا فی الإسلام، خفت أن یقل الخراج)- اِس کا جواب خلیفہ عمر بن عبد العزیز نے اِن الفاظ میں دیا: واللہ لوددتُ أن الناس کلہم أسلموا، حتى نکون أنا وأنت حرّاثَین نأکل من کسب أیدینا (سیرة عمر بن عبد العزیز، لابن الجوزی: 124) یعنی خدا کی قسم، مجھے یہ پسند ہے کہ سارے لوگ اسلام قبول کرلیں، یہاں تک کہ میں اور تم دونوں کاشت کار بن جائیں اور اپنے ہاتھ کی محنت سے اپنا رزق حاصل کریں-
یہ واقعہ بتاتاہے کہ کلام میں وضوح (clarity) کس طرح پیدا ہوتی ہے- کلام میں وضوح کا راز یہ ہے کہ صاحب کلام کے اندر وہ صفت موجود ہو جس کو قرآن میں فرقان (8:29) کہاگیا ہے، یعنی چیزوں کو سارٹ آؤٹ (sort out)کرکے دیکھنا- ایک چیز کو دوسری چیز سے الگ کرکے رائے قائم کرنا- اِسی اصول تمییز (principle of differentiation) کا نام حکمت ہے اور اِس حکمت کا حامل کوئی شخص جب کلام کرےتو اس کا ذہن فطری طورپر چیزوں کی مختلف نوعیت کو جان لیتا ہے اور اس کے مطابق، کلام کرتا ہے- جس کلام میں یہ صفت پائی جائے اس کے اندر لازمی طورپر وضوح موجود ہوگا-
اِس اعتبار سے، مذکورہ مثال پر غور کیجئے- اِس معاملے کا ایک پہلو یہ تھا کہ کثرتِ اسلام سے حکومت کا مالیہ کم ہورہا تھا- اِس معاملے کا دوسرا پہلو یہ تھا کہ پیغمبر کا اصل مشن یہی تھا کہ لوگوں کو سچائی ملے- خلیفہ عمر بن عبد العزیز نے دونوں پہلوؤں کو الگ کرکے دیکھا، اس لیے وہ ایک واضح اور درست رائے تک پہنچ گئے-
اِس کے برعکس، ان کے دونوں گورنروں کا حال یہ تھا کہ وہ اِس صلاحیتِ فرقان کا ثبوت نہ دے سکے۔ اِس لیے انھوں نے ایک ایسی بات کہی جس میں وضوح موجود نہ تھا، اُن کے کلام میں مالیاتی پہلو کی اہمیت موجود تھی، لیکن اُن کے کلام میں دعوتی پہلو کی اہمیت مفقود ہوگئی تھی-
خلیفہ عمر بن عبد العزیز کے الفاظ بتاتے ہیں کہ اسلام میں کس چیز کو اصل اہمیت حاصل ہے- وہ یہی ہے کہ اپنے اندر مومنانہ شخصیت کی تعمیر کی جائے اور دوسروں کو اللہ کا پیغام پہنچایا جائے- معلوم ریکارڈ کے مطابق، اسلام کی بعد کی تاریخ میں دوبارہ کوئی ایسا شخص پیدا نہیں ہوا جو اِس حقیقت کا شعور رکھتا ہو اور کھلے طورپر اس کا اظہار کرے-
حقیقت یہ ہے کہ وہ چیز جس کو حدیث میں فتنۂ دہیما کہاگیا ہے، اس کا زمانہ خلیفہ عمر بن عبدالعزیز کے بعد ہی شروع ہوگیا تھا- اِس کے بعد وہ بڑھتا رہا، یہاں تک کہ بیسویں صدی میں وہ اپنی کامل صورت میں پوری مسلم امت کے درمیان چھا گیا-
دین کی تعبیر میں اختلاف
فتنہ دہیماء کیا ہے- فتنہ دہیماء کوئی پراسرار چیز نہیں- فتنہ دہیماء دراصل یہ ہے کہ قرآن کا مرکزی مضمون لوگوں پر واضح نہ رہے اور لوگ اپنے اپنے مائنڈ سیٹ (mindset) کے تحت قرآن وسنت کی تشریح وتعبیر کرنے لگیں- اِس کے نتیجے میں افکار اور آرا کا اختلاف اتنا بڑھ جائے کہ اصل حقیقت اس کے اندر گم ہوجائے اور یہ معلوم کرنا سخت دشوار ہوجائے کہ وہ اصل دین کیا ہے جو اللہ نے اپنے پیغمبر کی طرف بھیجا تھا-
پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات سےتقریباً ایک سو سال بعد اسلام کی جو علمی تاریخ بنی، اس کے موضوعی مطالعہ (objective study)سے بخوبی طورپر یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ یہ واقعہ کیوں پیش آیا- عباسی دور میں یہ ہوا کہ دین کی اسپرٹ کے بجائے اس کے فارم کو لے کر ساری بحث ہونے لگی- فارم میں چوں کہ تعدد (diversity)تھا، اِس لیے فطری طورپر لوگوں کی تعبیرات میں بھی تعدد پیداہوگیا- اس کے بعد متن (text) کو لے کر یہ بحثیں شروع ہوئیں کہ کسی لفظ کا کیا مفہوم ہے- الفاظ میں بھی ہمیشہ ایک سے زیادہ مفہوم کی گنجائش ہوتی ہے،اس لیے یہاں بھی یہ واقعہ پیش آیا کہ معانی کامفہوم متعین کرنے میں کثرت سے اختلافات پیدا ہوگئے-اِس طرح بعد کے زمانےمیں دین کی مختلف تعبیرات کو لے کر الگ الگ گروہ بننے لگے، یہاں تک کہ حدیث کے الفاظ میں، امتِ مسلمہ 73 فرقوں میں، بلکہ اُس سے زیادہ فرقوں میں تقسیم ہوگئی- اِسی طرح سیاسی مفاد کے تحت لوگوں کے درمیان اختلافات پیدا ہوئے- ہر فریق اپنے موقف کو قرآن وحدیث سے جائز ثابت کرنے لگا- اِس صورتِ حال نے بھی تعبیراتِ دین میں اختلافات کا ایک جنگل پیدا کردیا-
بیسویں صدی عیسوی میںاِس صورت حال میںمزیداضافہ ہوا- یہ زمانہ وہ تھا جب کہ سیکولر نظام کے غلبے کے تحت مسلمانوں کے درمیان مختلف قسم کی تحریکیں برپا ہوئیں اور پریس کی طاقت کے تحت تیزی سے لوگوں کے درمیان پھیلیں- اِس زمانی اثر کے تحت مسلمانوں کےدرمیان بھی مختلف قسم کی تحریکیں اٹھیں اور مختلف قسم کے نظریات کی اشاعت ہونے لگی- اِس طرح فکری اختلافات کا معاملہ اپنی کمیت کے اعتبار سے، بہت زیادہ بڑھ گیا- بیسویں صدی کے آخر میںفتنہ دہیماء کا کلچر اپنی آخری انتہا تک پہنچ گیا- اب یہ حالت ہوگئی کہ اگر کوئی شخص یہ جاننا چاہے کہ دینِ اسلام اپنی اصل حقیقت کے اعتبار سے کیا ہے تو وہ یقین کے ساتھ کسی نتیجہ تک نہیں پہنچے گا-
فتنہ دہیما یا ذہنی کنفیوزن کایہ معاملہ اب اتنا بڑھ چکا ہے کہ اگر کوئی ایسا لٹریچر تیار ہوجو دینِ اسلام کو دوبارہ اس کے صحیح اسلوب میں بیان کرے، تب بھی عملاً وہ زیادہ مفید نہ ہوگا- صحیح لٹریچر کو عملی طورپر مفید بنانے کے لیے یہ بھی ضروری ہے کہ پچھلے ہزار سال کے دوران لکھی جانے والی کتابوں کو اسلام کے کتب خانے میں کلاسکل لٹریچر (classical literature) کی حیثیت سے محفوظ کردیا جائے- اسلام کی شرح کے اعتبار سے، اس کی مستند حیثیت باقی نہ رہے-
مقصدِ تخلیق
بعد کے دور میں جو فکری کنفیوزن (intellectual confusion) پیدا ہوا، اس کا اصل سبب یہ تھا کہ تعبیرات کے اختلاف کے درمیان یہ حقیقت گم ہوگئی کہ انسان کی تخلیق کا مقصد (purpose of life) کیا ہے- اِس حالتِ انتشار کو ختم کرنے کی صورت صرف یہ ہے کہ انسان کے مقصد تخلیق کو متعین کیا جائے- مقصد تخلیق کے تعین کے بعد ایسا نہیںہوگا کہ اختلافات کا عملاً خاتمہ ہوجائے- جو واقعہ پیش آئے گا، وہ صرف یہ کہ اختلافات کی حیثیت ثانوی (secondary) بن جائے گی۔ اور اختلافات کا ثانوی بن جانا ہی اِس مسئلے کا عمومی حل ہے- اِس کے بعد فطری طورپر یہ ہوگا کہ لوگوں کا ذہنی فوکس بدل جائے گا- لوگوں کی ساری توجہ انسان کے اصل تخلیقی مقصد پر مرتکز ہوجائے گی-
فوکس کے تعدد سے فکری انتشار پیدا ہوتا ہے اور فوکس کے توحد سے فکری اتفاق وجود میں آتا ہے (5 جنوری 2014)
واپس اوپر جائیں

شرحِ صدر کیا ہے

شرح صدر کا مطلب ہے، سینہ کھول دینا۔ عربی میں کہا جاتا ہے: شرح اللہ صدرہ بقبول الخیر فانشرح (اللہ نے اس کے سینے کو حق کی قبولیت کے لیے کھول دیاتو وہ کھل گیا)۔یہ حق کے متلاشی (seeker) کا معاملہ ہے۔ حق کے متلاشی کو جب اللہ کی توفیق سے حق کی دریافت ہوجائے تو اس وقت اس کے دل کی جو مثبت کیفیت ہوتی ہے، اسی کو شرحِ صدر کہا گیا ہے۔
انسان فطری طور پر حق کا متلاشی (seeker of truth) ہے۔ وہ جاننا چاہتا ہے کہ حقیقت کیا ہے۔ وہ اپنی اور کائنات کی تخلیق کے راز کو سمجھنا چاہتا ہے۔ اس کی یہ جستجو جب اس حد کو پہنچے کہ سچائی اس کے لیے ایک خود دریافت کردہ حقیقت (self-discovered reality) بن جائے تو اس کے بعد فطری طور پراس کو ایک ذہنی سکون (peace of mind) حاصل ہوجا تا ہے۔ اسی واقعہ کو شرح صدر سے تعبیر کیا گیا ہے۔
سچائی کو دریافت کرنا انسان کا سب سے بڑا کنسرن (concern) ہے۔ سچائی کو دریافت کرنے سے پہلے انسان ایک حیوان کی مانند ہوتا ہے۔ سچائی کو دریافت کرنے کے بعد انسان حقیقی معنوں میں انسان بن جاتا ہے۔ سچائی کی دریافت یہ ہے کہ انسان کو اپنے تمام سوالات کے جواب مل جائیں۔ وہ اپنے وجود کی معنویت سے باخبر ہوجائے۔ وہ جان لے کہ حقیقت کے اعتبار سے اس کی منزل کیا ہے۔ وہ راستہ کون سا ہے، جس کو اختیار کرکے وہ اس مقام پر پہنچ سکتا ہے، جو اس کی حقیقی منزل ہے۔
شرح صدر آدمی کو یقین (conviction) عطا کرتا ہے۔ شرح صدر کے بعد آدمی کنفیوزن (confusion) سے باہر آجاتا ہے۔ اس کی سوچ میں وضوح (clarity) پیدا ہوجاتی ہے۔ وہ اس قابل ہوجاتا ہے کہ وہ چیزوں کا صحیح تجزیہ (right analysis) کر سکے۔ وہ اس قابل ہوجاتا ہے کہ چیزوں کو صحیح زاویۂ نظر (right angle) سے دیکھنے لگے۔ شرح صدر کے بعد آدمی اس قابل ہوجا تا ہے کہ وہ اپنے خالق کو دریافت کر لے، اور اسی کے ساتھ اپنے آپ کو بھی۔
واپس اوپر جائیں

تربیت کا ٹکنکل طریقہ

آج کل تربیت کے بہت سے طریقے نکلے ہیں— پانچ دن کا مدرسہ، روزانہ ایک آیت، چالیس دن کا چلہ، پندرہ روزہ تربیتی کورس،وغیرہ۔ ان طریقوں کو ایک لفظ میں ٹکنکل طریقہ کہہ سکتے ہیں۔ یہ طریقے عوامی طور پر کافی مقبول ہیں۔ لیکن نتیجہ کے اعتبار سے وہ سب کے سب غیر مفید ہیں۔
ان تمام طریقوں میں ایک بات مشترک ہے۔ وہ یہ ہے کہ بظاہر دھوم کے باوجودان طریقوں کے ذریعے کوئی انسان بن کر تیار نہیں ہوتا۔اس کا سبب یہ ہے کہ انسان کی تربیت کبھی بھی مبنی بر روٹین عمل سے نہیں ہوتی۔ تربیت ہمیشہ ذہنی بیداری (intellectual awakening) کے ذریعے ہوتی ہے، نہ کہ کسی ٹکنکل طریقہ کو دہرانے سے۔
تربیت یہ ہے کہ آدمی کے اندر تخلیقیت (creativity) پیدا کی جائے۔ مسلسل ذہنی خوراک کے ذریعے انسان کو ایسا بنایا جائے کہ وہ خود اپنا مربی بن جائے۔ وہ خود اپنا محاسبہ کرے۔ وہ اپنے اندر اصلاح کا عمل جاری کرے۔ وہ خود اپنی کمیوں اور کوتاہیوں کو دریافت کرے۔ وہ خود مسلسل طور پر اپنا نگراںبن جائے۔
پیشہ ورانہ تربیت (professional training) کسی دوسرے شخص کے ذریعے ممکن ہے، لیکن دینی تربیت ایک ایسا کام ہے جو ہر آدمی کو خود کرنا پڑتا ہے۔ ہر آدمی کو خود یہ جاننا پڑتا ہے کہ کس موقعے پر اس کو کیا سیکھنا ہے، کس موقعے سے اس کو کیا تربیتی غذا لینا ہے، کس موقعے پر اس کو کیا کرنا ہے اور کیا نہیں کرنا ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ تربیت ایک دوامی عمل ہے۔ ہر لمحہ اپنے ساتھ تربیت کا ایک موقع لے کر آتا ہے۔ ہر آدمی کو خود یہ کرنا پڑتا ہے کہ وہ تربیت کے اس موقعے کو پہچانے، اور اس کو اپنی اصلاح کے لیے استعمال کرے۔ تربیت ایک سیلف ٹریننگ (self-training ) کا معاملہ ہے۔ اپنی تربیت آپ وہی شخص کر سکتا ہے، جس کے اندر دو صفت پیدا ہوجائے— محاسبہ اور تفکیر۔
واپس اوپر جائیں

صبر واعراض کا اصول

موجودہ زمانے میں مسلمان عام طور پرشکایت کی نفسیات میں جی رہے ہیں، وہ دوسری قوموں کو غیر بلکہ اپنا دشمن سمجھتے ہیں۔ ان کے مقررین ومحررین ہمیشہ دوسروں کے خلاف شکایت کی زبان استعمال کرتے ہیں۔ اگر ان سے کہا جائے کہ آپ ایسا کیوں کرتے ہیں تو ان کا جواب ہوگا:
Should you ignore Gujarat 2002, Assam, Muzaffarnagar, etc., or the umpteen fake terror cases/encounters or the daily conspiracies of the Sangh Parivar in so many ways that make life difficult for the Muslim community??
مگر اس معاملے میں قرآن کا جواب مختلف ہوگا، اور وہ یہ کہ آپ کو اِس قسم کے منفی واقعات کو نظر اندازہی کرنا ہے۔ آپ کو اپنے مفروضہ دشمن کی نام نہاد سازشوں کو بھلا کر اپنی زندگی کو مثبت بنیاد پر تعمیر کرنا ہے۔ قرآن میںاس طریقے کو صبر واعراض کہاگیا ہے، اور صبر واعراض کے بغیر کوئی قوم اس دنیا میں ہرگز ترقی نہیں کرسکتی۔
اس سلسلہ میں قرآن کی ایک آیت یہ ہے : وَلَنَصْبِرَنَّ عَلَىٰ مَا آذَیْتُمُونا(14:12) یعنی اور جو تکلیف تم ہمیں دوگے ہم اس پر صبر ہی کریں گے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اس دنیا کو بنانے والے نے اس کو آزادی اورمقابلہ (competition) کے اصول پر بنایا ہے۔ یہاں کوئی بھی نظام ہو، اور کسی کی بھی حکومت ہو، ہمیشہ ایک کو دوسرے سے کچھ نہ کچھ ایذاء(harm) کا تجربہ ہوگا- آدمی کو چاہئے کہ وہ اس قسم کے واقعات کو شکایت کا موضوع نہ بنائے بلکہ وہ اس کو مینیج (manage) کرنے کی تدبیر کرے۔
اسی طرح قرآن کی ایک آیت یہ ہے: وَإِن تَصْبِرُوا وَتَتَّقُوا لَا یَضُرُّکُمْ کَیْدُہُمْ شَیْئًا (آل عمران: 120) یعنی اگر تم صبر کرو اور اللہ سے ڈرو تو ان کی کوئی سازش تم کو نقصان نہ پہنچائے گی- اس کا مطلب ہے کہ فطرت کے نظام کے مطابق اس دنیا میں اصل مسئلہ سازش (conspiracy) کی موجودگی نہیںہے، بلکہ اصل مسئلہ یہ ہے کہ لوگوں کے اندر صبر اور تقوی کی صفت نہ پائی جائے۔ اس لئے سازش کے خلاف شکایت کرنا مکمل طورپر ایک بے فائدہ کام ہے۔ کرنے کا اصل کام یہ ہے کہ لوگوں کے اندر صبراور تقوی کی صفت پیدا کی جائے تاکہ سازش کرنے والوں کی سازش عملاً موثر نہ ہوسکے۔\
قرآن کی تعلیمات کا ایک پہلو یہ ہے کہ وہ انسان کو یہ بتاتا ہے کہ انسان کے بارے میں خالق کا تخلیقی منصوبہ (creation plan) کیا ہے۔ انسان کو چاہئے کہ وہ اس تخلیقی منصوبہ کو جانے، اور اس کے مطابق اپنی سرگرمیوں کا نقشہ بنائے۔ کوئی فرد یا کوئی قوم اگر اس تخلیقی منصوبے کو نظر انداز کرے اور خود اپنے ذہن کے مطابق اپنے عمل کا منصوبہ بنائے تو یقینی طورپر اس دنیا میں اس کا منصوبہ ناکام ہوجائے گا۔ یہی حقیقت پسندی ہے، اور اس دنیا میں حقیقت پسندی ہی سب سےبڑا اصول ہے۔
قرآن میں انسان کی پیدائش کی حکمت کو ان الفاظ میں بیان کیاگیا ہے: الَّذِی خَلَقَ الْمَوْتَ وَالْحَیَاةَ لِیَبْلُوَکُمْ أَیُّکُمْ أَحْسَنُ عَمَلًا (67:2)یعنی اللہ نے موت اور زندگی کو پیدا کیا تاکہ وہ تم کو جانچے کہ تم میں سے کون اچھے عمل والا ہے۔ اس حکمت ابتلا کی بنا پر ، ہر انسان کو کامل آزادی دی گئی ہے۔ جب انسان اپنی آزادی کو اپنی مرضی کے مطابق استعمال کرتا ہے تو اس سے فطری طورپر دنیا میں چیلنج اور مسابقت (competition) کا ماحول پیدا ہوتا ہے۔
چیلنج اور مسابقت کا یہ ماحول لازماًدنیا میں رہے گا۔ اس بنا پر یہاںلازماً ایسا ہوگا کہ ایک کو دوسرے کی طرف سے غیر مطلوب صورت حال (unwanted situation)کا سامنا پیش آئے گا۔ اس صورت حال کے خلاف شکایت کرنا بھی بے فائدہ ہے، اور اس سے لڑنا بھی بے فائدہ۔ کامیابی کا طریقہ یہ ہے کہ آدمی حکیمانہ تدبیر کے ساتھ اس کا سامنا کرے۔ خالق کے قائم کردہ نظام کے مطابق اس دنیا میں کامیابی کا یہی واحد اصول ہے۔
اسی حکیمانہ روش کا نام صبر و اعراض ہے۔ صبر واعراض دانش مندانہ طریقِ زندگی کا دوسرا نام ہے۔ صبر واعراض اپنی حقیقت کےاعتبار سے اقدام ہے، اگرچہ نادان لوگ اس کو پسپائی سمجھ لیتے ہیں۔صبر واعراض اعلیٰ انسانی اخلاق کا دوسرا نام ہے۔
واپس اوپر جائیں

توحید اور عدل

اسلام کے دو بنیادی اصول ہیں— توحید اور عدل۔ توحید کا مطلب ہے خالق کو ہر اعتبار سے ایک ماننا۔ کسی بھی اعتبار سےکسی اور کو اس کا شریک (partner)نہ بنانا۔ عدل کا مطلب ہے معاملات میں انصاف (justice) کا طریقہ اختیار کرنا۔ کسی بھی عذر (excuse) کی بنا پر انصاف کے طریقے سے نہ ہٹنا۔ اس انصاف کا تعلق انسان کے قول سے بھی ہے، اور اس کے عمل سے بھی۔
توحید اور عدل دونوں لازم کے معنی میں ہیں، ان میں سے کوئی بھی متعدی کے معنی میں نہیں۔ یعنی دونوں کا تعلق فرد کے رویہ سے ہے۔ فرد سے یہ مطلوب ہے کہ وہ کامل معنوں میں موحّد بنے، اس کی آئڈیالوجی مکمل طور پر توحید (oneness of God) پر مبنی ہو ۔ عدل کا مطلب ہے ایک فرد کا انصاف پر قائم ہونا۔ اس کا قول منصفانہ قول ہو، اس کا عمل تمام تر انصاف پر مبنی ہو۔ توحید کا لفظ انسان کے عقیدہ (belief) کو بتاتا ہے، اور عدل کا لفظ انسان کے سماجی رویہ (social behaviour) کو۔
یہ دونوں الفاظ پیروی کے معنی میں ہیں، نہ کہ نفاذ کے معنی میں۔ جس طرح توحید ذاتی طور پر اختیار کرنے کی چیز ہے، وہ دوسروں کے اوپر نافذ (impose) کرنے کی چیز نہیں۔ یہی معاملہ عدل کا بھی ہے۔ عدل کا مطلب بھی یہی ہے کہ آدمی جن انسانوں کے درمیان رہتا ہے، ان کے ساتھ وہ ہمیشہ انصاف کا طریقہ اختیار کرے، وہ ہر حال میں ناانصافی سے بچے۔
اسلامی مشن کا نشانہ فرد (individual) ہے، نہ کہ نظام (system)۔ اسلام کا مقصد انسان کو اسلامائز کرنا ہے ، نہ کہ سسٹم کو اسلامائز کرنا۔ اس دنیا کے خالق نے انسان کو امتحان (test) کے لیے پیدا کیا ہے۔ ہر آدمی کا یہ امتحان ہے کہ وہ اپنی آزادی کو کس طرح استعمال کرتا ہے، صحیح طور پر یا غلط طور پر۔ اگر اسلام کی تعلیمات کو طاقت کے ذریعےبزور نافذ کیا جائے تو امتحان کا ماحول ختم ہوجائے گا۔ امتحان کا مقصد صرف اس وقت پورا ہوسکتا ہے، جب کہ لوگوں کو آزادی ہو، اور یہ دیکھا جاسکے کہ انھوں نے اپنی آزادی کا صحیح استعمال کیا یا غلط استعمال کیا۔
واپس اوپر جائیں

زمین میں خلافت

قرآن میں بتایا گیا ہے کہ اللہ نے جب انسان کو پیدا کرنے کا ارادہ کیا تو فرمایا: إِنِّی جَاعِلٌ فِی الْأَرْضِ خَلِیفَة (2:30) یعنی میں زمین میں ایک خلیفہ بنانے والا ہوں۔ خلیفہ کا مطلب جانشین یا قائم مقام (successor) ہے، یعنی کسی کی جگہ لے کر اس کی طرف سے اس کا کام کرنے والا۔ اس تشریح کے مطابق اس آیت میں خلیفہ سے مراد خلیفۃ اللہ فی الارض، یعنی زمین میں اللہ کا خلیفہ ہے۔
خلیفہ ایک انسانی زبان کا لفظ ہے۔ انسانی تصور کے مطابق خلیفہ کا مطلب یہ ہے کہ ایک انسان کی وفات کے بعد دوسرا انسان اس کی جگہ آکر اس کی قائم مقامی کرے۔ خلیفہ کا یہ مفہوم انسان کے اعتبار سے ہے۔ جب یہ لفظ اللہ کی نسبت سے بولا جائے تو یہاں موت کے بجائے غیب مراد ہوگا۔ اس کا مطلب یہ ہوگا کہ اللہ جو غیب میں ہے اس کی نمائندگی شہود میں کرنا۔اس آیت میں خلافت یا نمائندگی سے مراد سیاسی نمائندگی نہیں ہے۔ اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ انسان اللہ کا نائب بن کر زمین پر اللہ کی حکومت قائم کرے۔ یہ خلافت اعلان حق کے معنی میں ہے، نہ کہ تنفیذ احکام کے معنی میں۔ اس اعلان سے مراد وہی چیز ہے، جس کو فرشتوںنے تحمید اور تقدیس (2:30) کے الفاظ میں بیان کیا تھا۔ اللہ کی تحمید اور تقدیس ایک اعلی ترین مقصود ہے جس کو کائنات کی ہرچیز ودیعۃً (inherently) کر رہی ہے۔ اب اللہ کو منظور ہوا کہ یہ کام انسان ذاتی دریافت (self discovery) کے طور پر کرے۔
کائنات میں انسان ایک خصوصی تخلیق کی حیثیت رکھتا ہے۔ اس حقیقت کو قرآن میں ان الفاظ میں بتایا گیا ہے کہ مستقبل میں اللہ کی آیات کی تبیین آفاق و انفس (43:53) کی زبان میں کی جائے گی۔ اللہ کو مطلوب تھا کہ ایک مخلوق ہو جو ذاتی دریافت کی سطح پر اس تحمید و تقدیس کا اظہار کرے۔
تحمید و تقدیس سے مراد محض تعریف نہیں ہے، بلکہ کائنات کی سطح پر حقیقت ربانی کا اعلان کرنا ہے، یعنی تخلیق (creation) کو خالق کے خانے میں ڈالنا۔ براہ راست طور پر یہ کام مومن کو انجام دینا ہے، لیکن بالواسطہ طور پر ساری انسانیت کو اس کے حق میں تائیدی رول ادا کرنا ہے، حتی کہ غیر اہل ایمان کو بھی۔
واپس اوپر جائیں

ٹیم کی تربیت

پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے آخری زمانے میں حضرت ابوبکر کو نماز باجماعت کا امام بنایا۔ ایک روایت کے مطابق آپ نے 17 بارایسا کیا، اور دوسری روایت کے مطابق آپ نے 20 بار ایسا کیا(البدایۃ والنہایۃ لابن کثیر: 5/235، دارالفکر، بیروت،1978) ۔ یہ فضیلتِ ابوبکر کا معاملہ نہ تھا۔ بلکہ یہ حکمت کی ایک بات تھی۔ اس سے ایک اہم اصول معلوم ہوتا ہے۔ یہ ایک عام اصول ہے۔ اس کا انطباق (application) پیغمبر کے جاری کیے ہوئے مشن پر بھی ہوتا ہے، اور اسی طرح غیر پیغمبر کے جاری کیے ہوئے مشن پر بھی۔ یہ فطرت کا ایک قانون ہے۔ اور فطرت کا قانون ہمیشہ آفاقی ہوتا ہے۔
کسی مشن کا جو بانی ہوتا ہے، وہ فطری طور پر اس کا قائد (leader) بن جاتا ہے۔ اگر یہ قائد اچانک دنیا سے چلا جائے تو مشن کے اندر ایک ناقابلِ تلافی خلا ہوجائے گا۔ لوگ محسوس کریں گے کہ ٹیم بے قائد (leaderless) ہوگئی ہے۔ اس لیے قائد کوچاہئے کہ وہ اپنے آخری زمانے میں خاموشی کے ساتھ اس پہلو سے ٹیم کی تربیت کرے۔ وہ ٹیم کو اس قابل بنائے کہ قائد جب درمیان سے ہٹ جائے تو ٹیم کی اجتماعیت میں کوئی کمزوری نہ پیدا ہو۔ مشن کی سرگرمیاں قائد کے بعد بھی بدستوراسی طرح جاری رہیں، جس طرح وہ قائد کی موجودگی میں جاری تھیں۔
دانش مند قائد کو چاہئے کہ وہ اپنی موجودگی میں اس اعتبار سے ٹیم کو تیار کرے ۔ وہ ٹیم کو بار بار یہ موقع دے کہ وہ قائد کی مقامی غیر موجودگی کے باوجود مشن کی سرگرمیوں کو انجام دے سکے۔ یہ گویا بالواسطہ قیادت کا طریقہ ہے۔ قائد اگر ٹیم کے درمیان موجود ہو تو وہ براہ راست طور پر اس کی قیادت کرے گا۔ اگر وہ ٹیم کے درمیان موجود نہیں ہے تو گویا کہ وہ بالواسطہ طور پر ٹیم کی قیادت کررہا ہے۔ یہ ایک حکیمانہ طریقہ ہے۔ قائد اور ٹیم دونوں کو اس حکمت سے باخبر ہونا چاہئے۔ تربیت ایک شعوری واقعہ کانام ہے، بے شعوری کے ساتھ کسی ٹیم کی تربیت نہیں ہوسکتی۔
واپس اوپر جائیں

دعوت کی ذمے داری

ایک صاحب برطانیہ سے اپنے مکتوب میں لکھتے ہیں:
آج میں نے مئی 2015 کا اردو الرسالہ انٹرنیٹ پر پڑھنا شروع کیا تو میری نظرایک مضمون ’’مدعو داعی کے دروازے پر‘‘ (صفحہ 11)پر پڑی۔ یہ پڑھتے ہوئے مجھے اپنا ایک واقعہ یاد آگیا جو آپ تک پہنچانا چاہتا ہوں- تین سال پہلے مجھے اپنے چند دوستوں کے ساتھ یونان کے ایک شہر کوس (Kos)کی سیاحت کا موقع ملا- کوس میں ہم لوگوں کوایک تاریخی مسجد دکھائی دی تو نماز کے ارادے سےہم لوگ اس میں داخل ہوئے۔ ہم نے دیکھا کہ وہاں کافی تعداد میں غیرمسلم مسجد کی وزٹ کے لیے داخل ہورہے ہیں۔ پھر ادھر ادھر کچھ دیکھ کر نکل جاتے ہیں۔ میں نے وہاں یہ دیکھا کہ مسجد کے امام صاحب وہاں بیٹھے قرآن کی تلاوت کررہے ہیں اور ان کو اس بات کا بالکل احساس نہیں کہ کون آیا کون گیا۔ مجھے یہ دیکھ کر بہت دکھ ہوا کہ غیر مسلم خود یہاںآتے ہیں لیکن ہم اپنی بے شعوری کی بنا پر ان کو کچھ پیش نہیں کر پاتے- میں اکثر یہ واقعہ یاد کرکے دکھی ہوتا ہوں اور آج پھر آپ کا مضمون پڑھ کر مجھے پورا منظر یاد آگیا- کاش!مسلمان اس کو سمجھ سکتے اوراپنی دعوتی ذمے داری کو اداکرتے- (ایم حنیف، پرسٹن، برطانیہ)
یہ صرف ایک شہر کی بات نہیں ہے۔ یہی معاملہ پوری دنیا کا ہے۔ موجودہ زمانے میں مسلمان تقریبا ہر ملک میں بسے ہوئے ہیں۔ ہر جگہ بڑی تعدا د میں سیاح (tourist) آتے ہیں۔ اس طرح ساری دنیا میں مسلمانوں کو یہ موقع ہے کہ وہ اپنی دعوتی ذمے داری کو اداکریں، اور اللہ کا پیغام تمام انسانوں تک پہنچائیں۔
اس دعوتی ذمے داری کو ادا کرنے کی سب سے آسان صورت یہ ہے کہ ہر مسلمان قرآن کا ترجمہ اور اسلامی لٹریچر اپنے بیگ میں رکھے۔ ہر بار جب اس کا سامنا کسی انسان سے ہو تو وہ اس کو قرآن کا ترجمہ اور اسلامی لٹریچر پیش کرے۔ اس معاملے میں اسلامی لٹریچر کی حیثیت سپورٹنگ لٹریچر کی ہے۔
واپس اوپر جائیں

فطرت کا ایک قانون

قرآن کی سورہ نمبر 43 میں فطرت کا ایک قانون بیان کیا گیا ہے۔وہ آیت یہ ہے: أَہُمْ یَقْسِمُونَ رَحْمَتَ رَبِّکَ نَحْنُ قَسَمْنَا بَیْنَہُمْ مَعِیشَتَہُمْ فِی الْحَیَاةِ الدُّنْیَا وَرَفَعْنَا بَعْضَہُمْ فَوْقَ بَعْضٍ دَرَجَاتٍ لِیَتَّخِذَ بَعْضُہُمْ بَعْضًا سُخْرِیًّا وَرَحْمَتُ رَبِّکَ خَیْرٌ مِمَّا یَجْمَعُونَ (الزخرف: 32) کیا یہ لوگ تیرے رب کی رحمت کو تقسیم کرتے ہیں ۔دنیا کی زندگی میں ان کی روزی کو تو ہم نے تقسیم کیا ہے اور ہم نے ایک کو دوسرے پر فوقیت دی ہے تاکہ وہ ایک دوسرے سے کام لیں ۔ اور تیرے رب کی رحمت اس سے بہتر ہے جو یہ جمع کر رہے ہیں ۔
اس کا مطلب یہ ہے کہ انسان کی تخلیق میں یکسانیت (uniformity) نہیں رکھی گئی ہے۔ بلکہ انسانوں کی تخلیق تفاوت (disparity) کی بنیاد پر کی گئی ہے۔ یعنی کسی انسان کے اندر ایک خصوصیت، اور دوسرے انسان کے اندر دوسری خصوصیت ۔ اس تفاوت کی ایک حکمت ہے۔ اس تفاوت کا مقصددنیا میں انسان کی اجتماعی زندگی کو باہمی انحصار (interdependence) کے اصول پر قائم کرنا ہے۔ یعنی ایک کا کام دوسرے پر منحصر ہونا۔ ایسا اس لیے کیا گیا ہے کہ لوگ اجتماعی زندگی میں مل جل کر رہیں۔ لوگ ایک دوسرے کے رقیب (rival) نہ بنیں، بلکہ وہ ایک دوسرے کے معاون (supporter) بن کر زندگی گزاریں۔
باہمی انحصار کا یہ معاملہ کسی محدود معنی میں نہیں ہے۔ وہ زندگی کے تمام پہلوؤں پر حاوی ہے۔ حتی کہ اس میں سیاست اور حکومت بھی شامل ہے۔ ایسی حالت میں سیاسی اپوزیشن (political opposition) کی پالیسی فطرت کے قانون کے خلاف ہے۔ اس کے بجائے جو چیز مطلوب ہے، وہ یہ کہ سیاسی معاونت (political cooperation) کا مزاج۔ یعنی اگر ایک شخص کو پولیٹیکل اتھاریٹی کا درجہ حاصل ہوتا ہے تو دوسرے لوگ اس سے اس کی اتھاریٹی کو چھیننے کی کوشش نہ کریں، بلکہ اس کی اتھاریٹی کو مانتے ہوئے اس کے ساتھ تعاون کا معاملہ کریں، نہ کہ رقابت کا معاملہ۔
واپس اوپر جائیں

مدعو فرینڈلی روش

قرآن میں دعوت الی اللہ کے کام کو تجارت سے تشبیہ دی گئی ہے۔ تجارت کا یہ معاملہ داعی اور مدعو کے درمیان ہوتا ہے۔ یہ تشبیہ نہایت بامعنی ہے۔ تجارت کا اصول یہ ہے کہ تاجر اپنے گاہک کے ساتھ کسٹمر فرینڈلی (customer friendly) روش اختیار کرے۔ ٹھیک یہی اصول کامیاب دعوت الی اللہ کا بھی ہے۔ حقیقی داعی وہ ہے جو اپنے مدعو کے ساتھ مدعو فرینڈلی روش اختیار کرے۔دعوت صرف اعلان (announcement) نہیں ہے۔ دعوت ایک خیر خواہانہ عمل کا نام ہے۔ دعوت کی کامیابی کے لئے لازمی طور پر ضروری ہے کہ داعی اپنے مدعو کے لئے یک طرفہ طور پر خیرخواہ ہو۔ وہ شکایت کے اسباب کے باوجود کامل طور پر بے شکایت ہوجائے۔
دعوت الی اللہ اہل ایمان کا سب سے بڑا فریضہ ہے۔ دعوت الی اللہ گویا خاتم النبیین کی جانشینی ہے۔دعوت الی اللہ کا کا م کیے بغیر کسی مومن کے لیے پیغمبر کا امتی ہونا مشتبہ ہوجاتا ہے۔دعوت الی اللہ کا مطلب پیغمبر کی غیر موجودگی میں پیغمبر کی ذمہ داری کو نیابتاً ادا کرنا ہے۔ یہ بعد کی انسانی نسلوں کے لیے پیغمبرانہ ذمے داری کی ادائیگی ہے۔یہ گویا پیغمبر کے بعد پیغمبر کی جانشینی ہے۔
پیغمبر نے دعوت کا کام کامل نصح (خیرخواہی) کے ساتھ انجام دیا۔ یہی بعد کے زمانے کے داعیوں کو کرنا ہے۔ دعوت کا کام درست طور پر اسی وقت انجام دیا جاسکتا ہے، جب کہ داعی کے اندر مدعو کے لیے خیرخواہی کی اسپرٹ پائی جاتی ہو۔ داعی کے اندر اگر مدعو کے لیے خیرخواہی موجود نہ ہو تو وہ مدعو کی نظر میں ایک پروفیشن بن جائے گا۔ اور پروفیشن کے طور پر کیا ہوا کام کبھی مدعو کے لیے موثر (effective) نہیں ہوسکتا۔ خیر خواہی کا مطلب یہ ہے کہ داعی کامل طور پر بے شکایت ہو۔ اس کے دل میں مدعو کے لیے منفی جذبات نہ پائے جاتے ہوں۔ مدعو کی طرف سے اگر کوئی تکلیف یا دل آزاری کا معاملہ پیش آئے تب بھی داعی کو چاہیے کہ وہ یک طرفہ طور پر مدعو کے لیے اپنی خیرخواہی کو برقرار رکھے۔ داعی کو اپنے دعوتی عمل کا اجر اللہ سے لینا ہے نہ کہ انسان سے۔ داعی کے اندر اگر یہ ذہن موجود ہو تو مدعو کے بارے میں اس کی خیرخواہی کبھی ختم ہونے والی نہیں۔
واپس اوپر جائیں

فکر کی تشکیل

ایک شاعر نے لکھا:
ہے داد کے قابل میری تجرید تصور کرتا ہوں تجھے غیر کی محفل سے جدا یاد
تجریدِ تصور کا مطلب ہے فکری یکسوئی(detached thinking)۔ یعنی غیر متعلق باتوں سے اپنے کو الگ کرکے صرف مطلوب بات پر دھیان دینا۔ یہ انسان کی ایک امتیازی صفت ہے۔ یہ صفت جس طرح دنیا کے معاملے میں مطلوب ہے، اسی طرح وہ دین کے معاملے میںبھی صحتِ فکر کے لیے مطلوب ہے۔ جو شخص اس صفت کا حامل ہو ، اس کے اندر وہ چیز پائی جائے گی جس کو صحتِ فکر کہا جاتا ہے۔
اصل یہ ہے کہ معاشرہ میں جس بات کا چرچا ہو، لوگ اسی کو لے کر اظہارِ رائے کرنے لگتے ہیں۔ اس سے لوگوں کے اندر متاثر ذہن بنتا ہے۔ مثال کے طور پر اسلامی تاریخ کے ابتدائی دور میں غزوات پیش آئے۔ اس لیے معاشرے میںغزوات کا چرچا ہونے لگا۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ اسلام کے ابتدائی دور میں سیرت پر جو کتابیں لکھی گئیں وہ سب غزواتی پیٹرن پر لکھی گئیں۔ اس کے بعد جب ماس کنورژن (mass conversion) ہوا تو لوگ دینی مسائل جاننے کی کوشش کرنے لگے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ معاشرے میں مسائل کا چرچا کرنے لگا۔ چناں چہ فقہ کی کتابیں مسائل کے پیٹرن میں لکھی جانے لگیں۔ اس کے بعد سیاسی حکومتوں کا دور شروع ہوا تومعاشرے میں سیاست کا چرچا ہونے لگا۔ اب تاریخ کی کتابیں سیاسی پیٹرن پر لکھی جانے لگیں۔ اس کے بعد جب نوآبادیات کا دور آیا تو مسلمانوں کے اندر قابض طاقتوں کے خلاف چرچا ہونے لگا۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ اب جو کتابیں لکھی گئیں، وہ سب رد عمل یا منفی سوچ کے پیٹرن پر لکھی گئیں۔ موجودہ زمانہ میڈیا کا زمانہ ہے۔ میڈیا ہاٹ نیوز (hot news) کی انڈسٹری ہے۔ اس لیے اب ہر مجلس میں اور ہر اجتماع میں یہی پیٹرن رائج ہوگیا ہے۔
ایسی حالت میں کسی مومن کے اندر صحیح اسلامی فکر کا بننا صرف اس وقت ممکن ہے جب کہ اس کے اندر تجریدی تصور کی صلاحیت ہو۔ وہ گردو پیش کے چرچا سے اوپر اٹھ کر خود اپنی سوچ کے تحت اپنی رائے بنائے۔ وہ اپنے اندر، غیر متاثر ذہن کی تشکیل کرے۔
واپس اوپر جائیں

اسلام اور دورِ جدید

موجودہ زمانہ میں نظری اور عملی اعتبار سے بہت سی تبدیلیاں وقوع میں آئی ہیں۔ اس بنا پر موجودہ زمانہ کو نیا زمانہ کہاجاتا ہے- بیسویں صدی اس نئے زمانہ کا نقطۂ انتہا ہے۔ اس زمانہ میں ایک نیا ظاہرہ پیدا ہوا جس کو جدید ذہن (modern mind) کہاجاتا ہے۔ اس صورت حال کی بنا پر یہ ضرورت پیش آئی کہ جدید ذہن کے لئے اسلام کو قابل فہم (understandable) بنایا جائے۔اس مقصد کے لیے مسلم اہلِ علم نے مختلف زبانوں میں کئی کتابیں تیار کیں۔انہی میں سے ایک مشہور کتاب ڈاکٹر محمد اقبال (وفات: 1938) کی ہے، جو خاص اسی موضوع پر لکھی گئی ہے- یہ کتاب اس موضوع پر مصنف کے انگریزی خطبات کا مجموعہ ہے۔ اس کتاب کا نام یہ ہے:
The Reconstruction of Religious Thought in Islam
مگر عجیب بات ہے کہ یہ کتاب اپنے قاری کو کنفیوزن کے سوا کچھ اور نہیں دیتی- کتاب کے مضامین اتنے زیادہ غیر واضح ہیں کہ کوئی شخص یہ نہیں بتاسکتا کہ اس کتاب کا خلاصہ کیا ہے- حتى کہ کتاب کا ٹائٹل (The Reconstruction of Religious Thought in Islam) خود بھی ایک غیر واضح ٹائٹل ہے- اردو میں اس کا ترجمہ یہ ہوگا — الہیاتی افکار کی تشکیل جدید۔ مگر یہ ٹائٹل نہ انگریزی میں قابلِ فہم ہے اور نہ اردو ترجمہ میں قابلِ فہم۔
ڈاکٹر محمد اقبال کی مذکورہ کتاب میں یہ کنفیوزن کیوں پایا جاتا ہے۔ یہ کوئی اتفاقی بات نہیں۔ بلکہ اس کا ایک معلوم سبب ہے۔ اس معلوم سبب کو لے کر سمجھنے کی کوشش کی جائے تو آسانی کے ساتھ مذکورہ کتاب کے مندرجات میں کنفیوزن کا سبب دریافت کیا جاسکتا ہے-حقیقت یہ ہے کہ ڈاکٹر محمد اقبال اصلاً ایک فلسفی آدمی ـتھے۔ انھوں نے قدیم فلسفہ کو بطور سبجیکٹ پڑھا تھا اور اس کا مطالعہ کیا تھا۔ اس تعلیمی پس منظر کی بنا پر ان کے ذہن میں جو ماڈل بنا وہ فلسفیانہ ماڈل تھا۔ وہ چیزوں کو اپنے اسی فلسفیانہ ماڈل کی روشنی میں دیکھتے تھے۔ وہ اپنے مخصوص شاکلہ کی بنا پر ہر چیز کو اسی فلسفیانہ ماڈل میں ڈھالتے رہے۔ مگر فلسفیانہ ماڈل ایک انسان ساز (man-made) ماڈل ہے جب کہ اسلام اس معنی میں کوئی فلسفیانہ مذہب نہیں۔ اسلام فطرت خداوندی پر مبنی ایک مذہب ہے۔
اسلام کی آئیڈیالوجی اور اس کی تعلیمات فطرت خداوندی کے اصولوں پر مبنی ہیں- اس حقیقت کا اعلان قرآن میں ان الفاظ میں کیاگیا ہے: فِطْرَتَ اللَّہِ الَّتِی فَطَرَ النَّاسَ عَلَیْہَا (30:30) اسی طرح فرمایا کہ یُدَبِّرُ الْأَمْرَ یُفَصِّلُ الْآیَاتِ (13:2)۔
ڈاکٹر محمد اقبال کی غلطی یہ ہے کہ انھوں نے اپنے فلسفیانہ ماڈل کو شعوری یا غیر شعوری طورپر معیاری ماڈل سمجھ لیا اوراسی فلسفیانہ ماڈل کے مطابق اسلام کی تشریح کرنے لگے۔ چونکہ فطرت کا ماڈل الگ ہے اور فلسفہ کا ماڈل الگ۔ اس فرق کی بنا پر اقبال کے بیانات میں کنفیوزن پیدا ہوگیا۔
اس معاملہ کی ایک مثال یہ ہے کہ ڈاکٹر محمد اقبال نے قرآن کے جنت اور جہنم کے تصور کو واضح کرنے کی کوشش کی تو جنت اور جہنم کو اپنے اختیار کردہ فلسفیانہ ماڈل میں ڈھال دیا۔ چنانچہ انھوں نے لکھا ہے کہ جنت اورجہنم احوال ہیں، وہ مقامات نہیں:\
Heaven and Hell are states, not localities.
اقبال کے اس بیان میں ایک فطری حقیقت کو فلسفیانہ ماڈل میں ڈھالنے کی کوشش کی گئی ہے۔ یہ ایک عدم مطابقت کا معاملہ ہے۔ اسی عدم مطابقت نے اقبال کے بیان میں کنفیوزن پیدا کردیا۔
اِس نوعیت کی ایک اور مثال حال میں سامنے آئی ہے۔ ایک معاصر مسلم دانشور جنھوں نے اعلی تعلیم حاصل کی، وہ عربی اور انگریزی دونوں زبانوں میں بخوبی دستگاہ رکھتے ہیں- انھوں نے اپنے بیان کے مطابق ستر سال سے زیادہ مد\ت تک اسلامیات کا مطالعہ کیا ہے۔ایک سیمینار میں انھوں نے اِس موضوع پر ایک مقالہ پیش کیا۔ یہ مقالہ ایک مسلم میگزین میں چھپا ہے۔ اور اس کا عنوان یہ ہے:
علم: اسلامائزیشن سے تخلیق کی طرف
یہ عنوان بالکل غیر واضح عنوان ہے۔ اسی طرح اِس مقالے کے بیانات میں بھی وضوح (clarity) موجود نہیں۔ میںنے کئی تعلیم یافتہ لوگوں کو ان کا مقالہ پڑھوایا اور پوچھا کہ اس کا خلاصہ کیا ہے۔ ہر ایک کا جواب یہ تھا کہ ہم کو اِس میں کنفیوزن کے سوا اور کچھ نہیں ملا۔
مصنف نے اپنے اس مقالے میں کہا ہے کہ آج ہم کو تخلیق ِ علم (knowledge creation) کی ضرورت ہے۔ لیکن پورے مقالے میں انھوں نے یہ نہیں بتایا کہ اُن کے نزدیک تخلیق علم کی تعریف (definition) کیا ہے۔ قاری پورے مقالے کو اس طرح پڑھتا ہے کہ اس میں ’’تخلیق علم‘‘ کا لفظ تو بار بار استعمال ہوا ہے، لیکن قاری کو نہیں معلوم کہ اس اصطلاح کا واقعی مفہوم کیا ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ تخلیق علم کوئی معروف اصطلاح نہیں۔ جاپان کے ایک شخص نے غالباً پہلی بار تخلیق ِ علم کی اصطلاح وضع کی۔ وہ اس کو کمپنی کے معاملات کے لیے استعمال کرنا چاہتا تھا، لیکن خود اس جاپانی شخص کے ذہن میں بظاہر اس اصطلاح کا کوئی واضح تصور موجود نہ تھا۔ چنانچہ یہ اصطلاح اپنے عدم وضوع کی بنا پر عمومی طورپر مقبول نہ ہوسکی۔اس موضوع پر غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ اسلام کی جدید وضاحت کے لیے جو کام مطلوب ہے، وہ نہ ’’ری کانسٹرکشن‘‘کا کام ہے اور نہ ’’تخلیقِ علم‘‘ کا کام۔ یہ وہی کام ہے جس کے لیے حدیث میں اجتہاد کا لفظ استعمال ہوا ہے۔ جدید ذہن کو ایڈریس کرنے کے لیے آج جس چیز کی ضرورت ہے، وہ یہی اجتہاد ہے، نہ کہ ری کانسٹرکشن اور تخلیق ِ علم۔
اجتہاد کیا ہے۔ اجتہاد دراصل تطبیقِ نو (reapplication) کا دوسرا نام ہے۔ قرآن اور حدیث میں جو باتیں کہی گئی ہیں، وہ اپنے اسلوب کے اعتبار سے زمانی ہیں، لیکن تطبیق کے اعتبار سے وہ ابدی ہیں۔ اِس حقیقت کو دریافت کرنے کا نام اجتہاد ہے۔ اِس معاملے کی وضاحت کے لیے یہاں قرآن سے کچھ مثالیں درج کی جاتی ہیں:
1۔ قرآن کی سورہ العنکبوت میں ایک آیت اِن الفاظ میں آئی ہے:قُلْ سِیرُوا فِی الْأَرْضِ ثُمَّ انظُرُوا کَیْفَ کَانَ عَاقِبَةُ الْمُکَذِّبِینَ (6:11)
قرآن کی اِس آیت میں ’’سیر فی الأرض‘‘ کا لفظ استعمال ہوا ہے۔ یہ آیت ساتویں صدی کے نصف اول میں اتری، جب کہ دنیا میں پرنٹنگ پریس کا زمانہ نہیں آیا تھا۔اِسی طرح اس وقت قوموں کے عروج وزوال کی تاریخ کے بارے میں کتابیں مرتب نہیں ہوئی تھیں۔ اب یہ سب کچھ ہوچکا ہے۔ اِس لیے قرآن کی اِس آیت کی تفسیر اِس طرح کی جائے گی کہ قوموں کی تاریخ کا مطالعہ کرو اور اس سے سبق حاصل کرو۔ اِس مطالعے سے معلوم ہوگا کہ ہر قوم عروج کے بعد زوال کا شکار ہوتی ہے، یہ تاریخی ظاہرہ اس بات کا ثبوت ہے کہ تاریخ کو کنٹرول کرنے والا انسان نہیں، بلکہ ایک اور بالاتر عامل ہے جو انسانی تاریخ کو کنٹرول کررہا ہے۔
2۔ اِسی طرح قرآن کی ایک اور آیت یہ ہے: وَالْخَیْلَ وَالْبِغَالَ وَالْحَمِیرَ لِتَرْکَبُوہَا وَزِینَةً ۚ وَیَخْلُقُ مَا لَا تَعْلَمُونَ (16:8) یعنی اور اس نے گھوڑے اور خچر اور گدھے پیدا کئے تاکہ تم ان پر سوار ہو اور زینت کے لئے بھی اور وہ ایسی چیزیں پیدا کرتا ہے جو تم نہیں جانتے۔
قرآن کی اِس آیت میں جو اصول اختیار کیاگیا ہے، اس کا ایک مفہوم وہ ہے جو آیت کے زمانہ نزول کے اعتبار سے ہے۔ اِسی کے ساتھ اِس آیت کا ایک وسیع تر مفہوم بھی ہے۔ اِس وسیع تر مفہوم کی روشنی میں آیت کا مطالعہ کیا جائے تو قرآن کی اِس آیت کے الفاظ موجودہ حالات کے اعتبار سے پوری طرح قابلِ انطباق (applicable) ہوجاتے ہیں۔ وہ یہ کہ آیت میں خیل، بغال، حمیر کے الفاظ علامتی طورپر قدیم زمانے کے ورلڈآف نیچر (world of nature) کو بتاتے ہیں۔ اِسی طرح یخلق مالا تعلمون کے الفاظ بعد کے زمانے میں ظہور میں آنے والے ورلڈ آف ٹکنالوجی (world of technology) کو بتارہے ہیں۔
3۔ موجودہ زمانہ میں جو مسائل پیدا ہوئے ہیں ان میں متفقہ طور پر، سب سے بڑا مسئلہ وہ ہے جس کو ماحولیاتی مسئلہ (ecological problem) کہا جاتا ہے۔ بے شمار دماغ اس مسئلہ پر کام کررہے ہیں۔ مگر ابھی تک اس کا حل دریافت نہ ہوسکا- قرآن میں اس سلسلہ میں ایک آیت موجود ہے جو بتاتی ہے کہ اس معاملہ میں صحیح طرز فکر (right way of thinking)کیا ہے-
قرآن کی سورہ الروم میں ایک آیت ان الفاظ میں آئی ہے: ظَہَرَ الْفَسَادُ فِی الْبَرِّ وَالْبَحْرِ بِمَا کَسَبَتْ أَیْدِی النَّاسِ لِیُذِیقَہُم بَعْضَ الَّذِی عَمِلُوا لَعَلَّہُمْ یَرْجِعُونَ(30:41)۔
اِس آیت میں غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ اس میں دورِ صنعت کے اس ظاہرہ کا ذکر ہے جس کو صنعتی کثافت (industrial pollution) کہاجاتا ہے۔ اسی کا نتیجہ ہے کہ فضا اور سمندر دونوں مہلک آلودگی (harmful pollution) کا کیس بن گئے ہیں۔
قرآن کی آیت کے مطابق یہ مسئلہ تمام تر انسانی ساخت کا مسئلہ (man-made problem) ہے- لعلہم یرجعون کا لفظ بتاتا ہے کہ اس مسئلہ کا حل صرف یہ ہے کہ انسان فطری طرز زندگی (natural lifestyle) کی طرف واپس جائے جس کو چھوڑنے کی وجہ سے یہ مسئلے پیدا ہوئے ہیں۔
اجتہاد ایک ضرورت
اجتہاد اصلاً کوئی زمانی ضرورت نہیں، بلکہ وہ ایک فطری ضرورت ہے۔ چنانچہ خود رسول اور اصحابِ رسول کے زمانہ میں بار بار اجتہاد کا عمل کیا گیا۔ اسی طرح آج بھی اجتہاد کیا جائے گا- اجتہاد کے عمل کے لئے نہ کسی نئی اصطلاح کی ضرورت ہے اور نہ کسی نئے منہج کووضع کرنے کی ضرورت۔
موجودہ زمانہ میں اسلام کے موضوع پر بڑی تعداد میں کتابیں لکھی اور چھاپی گئ ہیں۔ ان میں سے جو کتاب کسی معلوماتی موضوع پر ہوتی ہے وہ تو قاری کے لئے قابلِ فہم ہوتی ہے۔ لیکن جو کتابیں اسلام کی توضیح وتعبیر کے مو ضوع پر لکھی گئی ہیں وہ تقریباً سب کی سب کنفیوزن کا شکار ہیں۔ قاری ان کتابوں کو پڑھتا ہے لیکن وہ اس طرح ان کو ختم کرتا ہے کہ ان کے ذریعہ قاری کو کوئی بصیرت حاصل نہیںہوتی-
اس کنفیوزن کا ایک بنیادی سبب یہ ہے کہ یہ تمام حضرات اپنے تجزیہ (analysis) میں ایک چیز اور دوسری چیز کے درمیان فرق کرنے کے اصول (principle of differentiation) نہیں جانتے ہیں- وہ اس فرق کو ملحوظ رکھے بغیر سوچتے ہیں اور اس فرق کو ملحوظ رکھے بغیر لکھتے ہیں۔ اس اصول کو قرآن میں فرقان (8:29)کہاگیا ہے۔ میرے تجربہ کے مطابق، موجودہ زمانے کے تقریباً تمام مقرر اور محرر فرقان کی حکمت سے بے خبر ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی تقریر اور تحریر میں ہمیشہ کنفیوزن رہتا ہے۔
مثلاً تفکیر کے موضوع پر کلام کرتے ہوئے مبنی بر قلب مراقبہ (heart-based meditation) اور مبنی بر ذہن تفکیر (mind-based contemplation) کے فرق کو نہ سمجھنا- فرد (individual) کی اصلاح اور سماجی نظام (social system)کی تعمیر کے درمیان فرق کو ملحوظ نہ رکھنا۔ مسائل دنیا اور مسائل آخرت کے تقاضوں کے درمیان جو نوعی فرق ہے، اس کو سمجھے بغیر اس موضوع پر اظہار خیال کرنا۔ طبیعیاتی سائنس کے موضوع اور انسانیات (humanities)کے موضوع کے درمیان جو بنیادی فرق ہے اس سے گہری واقفیت کے بغیر ان موضوعات پر لکھنا اور بولنا، وغیرہ-
حقیقت یہ ہے کہ جو لوگ فرقان (principle of differentiation) کو نہ جانتے  ہوں ان کو صرف معلوماتی موضوع پر لکھنا اور بولنا چاہئے- ان کو ہر گز تفکیری موضوع پر کلام نہیں کرنا چاہئے- ایسا کرکے وہ اپنے قاری کو صرف کنفیوزن دیں گے وہ اپنے قاری کو واضح رہنمائی دینے سے قاصر رہیں گے۔غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ مذکورہ مسلم دانشور کا مسئلہ بھی وہی ہے جو ان سے پہلے ڈاکٹرمحمداقبال کا مسئلہ تھا۔ دونوں ایک ہی مسئلہ کا شکار ہوئے۔ یعنی اپنے خود ساختہ ماڈل کی بنا پر مسئلہ کو غلط رخ (wrong angle) سےدیکھنا۔ ڈاکٹر محمد اقبال نے انسان ساز فلسفیانہ ماڈل کو لے کر اسلام کو سمجھنا چاہا جو اصلاً فطرت خداوندی پر مبنی تھا- اس عدم مطابقت کی بنا پر ڈاکٹر محمد اقبال اس مسئلہ کی صحیح تشریح وتعبیر کرنے میں ناکام رہے۔
مذکورہ مسلم دانشور کا کیس یہ ہے کہ وہ اصلاً علم اقتصادیات (economics) کے آدمی ہیں۔ اقتصادیات کا علم انسانی زندگی کے نظامی پہلو (infrastructural aspect) سے تعلق رکھتا ہے۔ یہ دوبارہ ایک انسان ساز علم ہے۔ اس بنا پر مذکورہ مسلم دانشور کا ذہن مبنی بر نظام ذہن بن گیا۔وہ اسلام کی تعبیر اپنےنظامی ماڈل کی روشنی میں کرنے لگے۔ جب کہ اسلام کا ماڈل مختلف تھا- علم الاقتصاد کے تحت جو ماڈل بنتا ہے، وہ مبنی بر نظام ماڈل (system-based model) ہے، جب کہ اسلام ایک مبنی برفرد مذہب ہے۔ اسلام کا ماڈل مبنی بر فرد ماڈل (individual-based model) ہے- اس عدم مطابقت کی بنا پر مذکورہ مسلم دانشور اس مسئلہ کی صحیح تعبیر وتشریح میں ناکام رہے۔
اس معاملہ کی ایک مثال یہ ہے کہ مذکورہ مسلم دانشورنے لکھا ہے کہ نیورو سائنس (neuroscience) کے نئے ابھرتے ہوئے ماہرین شاید اس معاملہ میں ہماری مدد کرسکیں۔ مگر یہ بات زیر بحث مسئلہ سے بالکل غیر متعلق (irrelevant) ہے- نیورو سائنس کیا ہے- نیورو سائنس انسان کےاعصابی نظام کے سائنسی مطالعہ کا نام ہے:
"Neuroscience is the scientific study of the nervous system"
زیر بحث مسئلہ کا تعلق مسائل حیات کی توجیہہ (explanation) سے ہے۔ اور یہ ایک معلوم بات ہےکہ سائنس کا کام توجیہہ کرنا نہیں ہے بلکہ صرف فطرت کے عمل کو دریافت کرنا ہے:
Neuroscience deals with the functioning of the mind.
زیر بحث مسئلہ سے انسانی ذہن کا تعلق واضح ہے لیکن یہاں جو مسئلہ ہے وہ مائنڈ کے فکری انطباق کا مسئلہ ہے نہ یہ کہ ذہن فزیکل معنوں میں کس طرح عمل کرتاہے۔
It is a question of the application of the mind, not the functioning of the mind.
مذکورہ مسلم دانشورکے مقالہ میں کنفیوزن کیوں ہے۔ اس کا سبب یہ ہے کہ تعلیم کے زمانے میں موصوف کا سبجیکٹ معاشیات (economics)تھا۔ انھوں نے اسی سبجکٹ میں اعلی تعلیم حاصل کی اور اپنی پوری زندگی اسی سبجکٹ کا مطالعہ کرتے رہے۔ جیسا کہ معلوم ہے معاشیات ایک ایسا سبجکٹ ہے جس میں نظام (system)کے پہلو سے زندگی کا مطالعہ کیا جاتا ہے۔ اس طرح یہ ہوا کہ موصوف کے ذہن میں نظامی ماڈل (system-based model) بن گیا۔ وہ شعوری یا غیر شعوری طورپر نظامی ماڈل کو معیاری ماڈل سمجھنے لگے۔
اس کے بعد انھوں نے اپنے اسی ذاتی شاکلہ کی بنیاد پر اسلام کا مطالعہ کیا۔ انھوں نے چاہا کہ وہ اسلام کو ایک نظامی ماڈل (system-based model) میں ڈھال دیں۔مگر اصل حقیقت یہ تھی کہ اسلام ایک مبنی بر فرد ماڈل تھا، نہ کہ مبنی بر نظام ماڈل۔ اس فرق کو نہ جاننے کی بنا پر ان کے افکار میں کنفیوزن پیدا ہوگیا۔
واپس اوپر جائیں

متبادل کو جانیے

ونسٹن چرچل (Winston Churchill) قدیم برٹش ایمپائر کے وزیراعظم تھے، جس کا ایک حصہ انڈیا تھا۔ اس زمانے میں انڈیا میں فریڈم موومنٹ چل رہی تھی۔ چرچل نے انڈیا کو فریڈم دینے سے انکار کردیا۔ انھوں نے کہا کہ میں برٹش گورنمنٹ کا فرسٹ منسٹر اس لیے نہیں بنا ہوں کہ میں برٹش ایمپائر کے خاتمے کی صدارت کروں:
I have not become the king's First Minister in order to preside over the liquidation of the British Empire.
ونسٹن چرچل برطانیہ کی کنزرویٹیو پارٹی ( Conservative Party) کے لیڈر تھے۔ برطانیہ کی ایک اور پارٹی تھی، لیبر پارٹی (Labour Party)۔ اس کے لیڈر کلیمنٹ اٹلی (Clement Attlee) تھے۔ 1945 کے الیکشن میں لیبر پارٹی جیت گئی، اور اس کے لیڈر کلیمنٹ اٹلی برطانیہ کے پرائم منسٹر بنے۔ ان کی حکومت کے تحت 1947 کو برطانیہ نے انڈیا کو آزادی دے دی۔ 15 اگست 1947 کی رات کو بارہ بج کر ایک منٹ پر ، برٹش وائسرائے ماؤنٹ بیٹن (Lord Mountbatten) نے آل انڈیا ریڈیو پر اعلان کیا کہ آج انڈیا آزاد ہے:
Today, India is free
ونسٹن چرچل اس معاملے میں صرف ایک بات جانتے تھے۔ انڈیا پر برٹش رول کو برقرار رکھنا۔ لیکن کلیمنٹ اٹلی نے دیکھا کہ اب حالات بدل چکے ہیں، اور انڈیا پر برٹش رول قائم نہیں رہ سکتا۔ چناں چہ انھوں نے اس معاملے میں ایک متبادل (alternative) تلاش کیا۔ وہ یہ کہ انڈیا کو پولٹیکل آزادی دینا اور اپنے اقتصادی مفادات (economic interest) کو باقی رکھنا۔ چناںچہ ایسا ہی ہوا۔ 1947 میں برطانیہ نے انڈیا کو سیاسی آزادی دے دی، اور اس کے بعد لمبے عرصے تک وہ انڈیا کی اقتصادیات کا سب سے بڑا پارٹنر بنا رہا۔
1947 سے پہلے انڈیا میں جو سیاسی حالات بنے تھے، وہ بتارہے تھے کہ اب نوآبادیاتی نظام کا دور ختم ہوچکا ہے۔ اب انڈیا میں برٹش حکومت جاری نہیں رہ سکتی۔ ان حالات میں برطانیہ کے مدبرین نے یہ دریافت کیا کہ یہاں ہمارے لیے ایک متبادل (alternative) موجود ہے۔ اور وہ ہے— انڈیا کو سیاسی آزادی دینا، اور اس کے بعد انڈیا میں اپنے اقتصادی مفادات کو محفوظ رکھنا۔ چناں چہ انھوں نے ایسا ہی کیا۔
واقعات بتاتے ہیں کہ 1947 کے بعد لمبی مدت تک برطانیہ کے اقتصادی مفادات بڑی حد تک محفوظ رہے۔ برطانیہ نے جو کچھ سیاسی میدان میں کھویا تھا، اس کو دوبارہ اس نے اقتصادی میدان میں حاصل کرلیا۔یہی دنیا میں کامیابی کا راز ہے۔
جب بھی آپ دیکھیں کہ ایک فارمولا (formula )کام نہیں کر رہا ہے تو سوچئے، بہت جلد آپ دریافت کریں گے کہ یہاں ایک متبادل فارمولا (alternative formula) موجود ہے، جس کے ذریعے آپ اپنی کامیابی کا تسلسل قائم رکھ سکتے ہیں۔
واپس اوپر جائیں

زندہ قومیں کس طرح کام کرتی ہیں

اسٹیٹس مین (یکم ستمبر 1967) کی ایک رپورٹ کو بہت کم اخباروں نے اہمیت دی- یہ ایک امریکی خاتون ڈاکٹر سارہ سی- گڈ شنسکی (Sarah C. Gudschinsky)کی ہندستان میں آمد کی اطلاع تھی- دراصل بہت کم لوگ جانتے ہیں کہ یہ مشنری خاتون کس عظیم مگر خاموش ادارہ کی رکن ہیں اور کس خاص مقصد کے تحت ہندستان آئی ہیں-
ڈاکٹر گڈشنسکی اوکلاہوما یونیورسٹی میں سمرانسٹی ٹیوٹ آف لنگسٹکس (اختصار SIL)کی فیکلٹی کی ممبر ہیں- اس مسیحی ادارہ نے تبلیغ کی دنیا میں ایک بالکل نیا میدان کھولا ہے— وہ اپنے کام کا آغاز ان قدیم قبائل میں کرتے ہیں جو نہایت پس ماندہ ہیں اور جن کی بولیاں ابھی تک پڑھنے لکھنے کی زبانیں نہیں بنی ہیں-
یہ نہایت متمدن اوراعلی تعلیم یافتہ لوگ دنیا کی انتہائی غیر مہذب قوموں میں جاکر برسہا برس رہتے ہیں، ان کی بولیوں کوسیکھتے ہیں،پھر ان کے حروف تہجی بناتے ہیں، قواعد مرتب کرتے ہیں، نصابی کتابیں لکھتے ہیں، پریس قائم کرتے ہیں اور اس طرح ان کی زبانوں کو تحریری زبان بنا کر اور ان میں کتابیں تیار کرکے انھیں پڑھانا شروع کرتے ہیں- ان کی نصابی کتب میں بائبل کاترجمہ بھی ضروری جزو ہوتا ہے-
یہ ان کی خدمت کے لئے ان کی بستیوں میں جدید طرز کے اسپتال کھولتے ہیں- اس تعلیم اور اخلاقی اثر کا نتیجہ یہ ہوتاہے کہ جب یہ قبائل تعلیم یافتہ ہوجاتے ہیں تووہ صرف تعلیم یافتہ نہیں ہوتے بلکہ اسی کے ساتھ عیسائی مذہب کو بھی قبول کرچکے ہوتے ہیں-
اس ادارہ کا سب سے زیادہ نمایاں کام پیرو کے وسیع جنگلوں میںہورہا ہے جہاں کثرت سے قدیم وحشی قبائل بستے ہیں اور جن کے درمیان رابطہ کا ذریعہ صرف ہوائی جہاز اورکشتیاں ہیں- یہ مسیحی مبلّغین ان لق ودق جنگلوں کے اوپر ہوائی جہاز سے اڑتےہیں اور ریڈیو اور ٹرانسمیٹر لے کر عین وحشی قبائل کی بستیوں میں اتر جاتے ہیں جو نہ صرف مہذب انسانوں کے جانی دشمن ہیں بلکہ ان کی بولیاں اتنی مختلف ہیں کہ مہینوں تک ان کو سیکھنے کی صبر آزما جدوجہد کئے بغیر ان سے کوئی بات بھی نہیں کی جاسکتی-
یہ جدوجہد تقریباً آدھی صدی سے جاری ہے اوراس کا نتیجہ یہ ہے کہ آج ان گھنے جنگلوں کے اندر اسکول، اسپتال، گرجا ، ہوائی میدان، ریڈیو اسٹیشن اور نہیں معلوم کیا کیا قائم ہیں اور تیرہ مختلف زبانیں بولنے والے وحشی قبائل کی بہت بڑی تعداد مہذب اور تعلیم یافتہ ہو کر عیسائی ہوچکی ہے- یہ کام جو ابتداء ً شمالی امریکہ کے جنگلوں میں شروع کیا گیا تھا، اب دنیا کے اٹھارہ ملکوں میں پھیلا ہوا ہے-ہندستان میں بھی مہاراشٹر اور مدھیہ پردیش میں دو ایسے ادارے قائم کئے جارہے ہیں اور یہی اس وقت ڈاکٹر گڈ شنسکی کی یہاں آمد کا باعث ہے-
غور کیجئے— آج کی زندہ قومیں کتنی اونچی سطح سے کام کررہی ہیں- انھوں نے اپنے عمل اور جدوجہد کے ذریعہ دنیا سے زندگی کا حق وصول کیا ہے- اس کے برعکس ہمارا کیا حال ہے- ہم نے سمجھ رکھا ہے کہ سطحی تدبیروں اور جذباتی تقریروں سے سارا میدان فتح ہوجائے گا-
(ہفت روزہ الجمعیة، 15 ستمبر 1967)
واپس اوپر جائیں

خبرنامہ اسلامی مرکز — 236

1- چھٹمل پور(سہارن پور) میں 5 مئی 2015 کوایک شادی کے موقع پرصدر اسلامی مرکز کے دعوتی لٹریچر کو لوگوں کے درمیان تقسم کیا گیا۔ اس موقع پر ضلع میرٹھ کے پولیس آفیسر بی آر پندیر (B. R. Pundeer) موجود تھے۔انھوں نےیہ دعوتی لٹریچر خود بھی لیا اور دوسروں کو دیا-اس دعوتی لٹریچر کو سہارن پور کی سی پی ایس ٹیم نے اسپانسر کیا تھا-(ڈاکٹرمحمد اسلم خان، سہارنپور)۔
2- تمل ناڈو کے نیل گری ضلع کے کُنّورمیں ہنری مارٹن انسٹی ٹیوٹ (حیدر آباد) کی طرف سے 10 -13 مئی 2015 کے درمیان سینٹ تھیوڈورس ریٹریٹ سینٹر (Theodore's Retreat Centre)میں ایک انٹر فیتھ کانفرنس کا انعقاد کیا گیا تھا- سی پی ایس (بنگلور) کی ٹیم نے اس میں شرکت کی ۔ کانفرنس میں جن عنوانات کے تحت لکچر دیے گیے ان میں سے چند یہ ہیں: ریلجن اینڈ اسپریچولٹی، اسلام اینڈ پیس اوروومن اِن اسلام۔اس موقع پر تمام شرکاء کے درمیان سی پی ایس کا دعوتی لٹریچر بھی تقسیم کیا گیا- لوگوں نے خوشی کے ساتھ ان کو حاصل کیا-نیز شرکاء کانفرنس کے علاوہ مقامی مسلمانوں سے انفرادی طورپردعوتی انٹرایکشن بھی ہوا-
3- یونیسیف (UNICEF) کی چائلڈ پروٹیکشن اسپیشلسٹ مزڈورا(Dora Giusti) نے صدر اسلامی مرکز کا انٹرویو لیا۔یہ انٹرویو بچوں کے خلاف ہونے والے تشددکی روک تھام کے سلسلے میں تھا۔ صدر اسلامی مرکز نے اس سلسلے میں انھیں مفید مشوروں سے نوازا۔یہ ملاقات 6 جون 2015 کو ہوئی۔ آخر میں انھیں انگلش ترجمہ قرآن اور صدر اسلامی مرکز کی کتابوں کا ایک سیٹ بطور تحفہ دیا گیا، جسے انھوں نے شکریہ کے ساتھ قبول کیا۔
4- الہ آباد میں ترجمہ قرآن ڈسٹریبیوشن کا کام اکتوبر 2013 سے ہورہا ہے۔بطور خاص تعلیم یافتہ افراد کے اجتماعات میں قرآن ڈسٹریبوشن کا کام بڑے پیمانے پر ہورہا ہے۔ مثلاً غوث گرل میموریل کالج اور حمیدیہ گرلس ڈگری کالج میں الوداعیہ تقریب کے موقع پر طلباءنے اپنے اساتذہ اوراپنے سینئرس کو ترجمہ قرآن کے نسخے ہدیہ کیے- اسی طرح خواتین کے اجتماع کے موقع پر قرآن کے نسخے تقسیم کیے گئے۔ اہل حدیث کے ایک پروگرام میں غیر مسلموں کے درمیان ترجمہ قرآن تقسیم کیا گیا، تمام حضرات نے شکریہ کے ساتھ اس کو قبول کیااور اپنی خوشی کا اظہار کیا- (محمدابرار نرالا، الہ آباد)
5- الحمدللہ الرسالہ مشن کا دعوتی کام برما میں کافی عرصہ سے ہورہا ہے۔جناب عبد العزیز صاحب اور مولانا شوکت صاحب ایک ٹیم کے ساتھ مل کر یہ دعوتی کام انجام دے رہے ہیں۔ پچھلے دنوںصدر اسلامی مرکز کی کتاب ’احیاء اسلام‘ کا برمی زبان میں ترجمہ شائع ہوچکا ہے۔ یہ ترجمہ مسٹر جاوید انصاری نے کیا ہے۔اس کے علاوہ پچھلے تین سال سے مستقل طور پرالرسالہ کی کاپیاں وہاں جارہی ہیں-
6- یروشلم (اسرائیل) اور اس کے آس پاس کے علاقہ میں پوری دنیا سے آنے والے سیاحوں کے درمیان دعوتی کام کافی منظم انداز میں ہورہا ہے-چند فلسطینی نوجوانوں نے ’دار السلام برائے تعارف اسلام‘ (DAR AS-SALAM FOR INTRODUCING ISLAM)کے نام سے2013 میں ایک آرگنائزیشن قائم کیا، اور اس کے تحت یہ لوگ اسرائیل میں دعوت کا کام پر امن انداز میں کر رہے ہیں۔یہ لوگ سیاحوں کے درمیان صدر اسلامی مرکز کا انگلش ترجمۂ قرآن اوران کی کتاب ’وہاٹ از اسلام‘ تقسیم کرتے ہیں-
7- ذیل میں چند دعوتی تجربات و تاثرات دیئے جارہے ہیں:
— آپ کی کتابوں کے مطالعے سے مجھے کافی فائدہ ہوا ہے- ایک وقت جب کہ میں پریشانیوں میں مبتلا تھا، آپ کی کتاب ’رازِ حیات‘ کے مطالعہ سے مجھے کافی ہمت اور حوصلہ ملا ، اور ایک نئی طاقت وقوت کے ساتھ زندگی کی جدوجہد کے لئے میں نے خود کو دوبارہ تیار کیا- (عرفان احمد، کینیا)
— میری لینڈ، امریکا سے مز گل زیبا احمد لکھتی ہیں:
Maulana Saheb, I was introduced to your mission in 2004 while I was still in Pakistan. Although I had read other writers before, it was you who introduced me to what Islam demands from us. Since then I have involved myself in dawah work. I use your literature for dawah work and am very thankful to God for this. I always keep copies of the Quran translation and supporting material with me. I share these with people whenever I get a chance. In the USA, we have started holding spiritual classes for women every Saturday. Apart from this, since January 2015, I have been giving a class to my two young nieces and their friend every Sunday at our local public library. They all are around 12 years old. They enjoy reading Spirit of Islam the most. Some of their feedback is given below:
After reading this book, my life has changed drastically. I love how this book explains the meaning of the Quran in scientific and current ways. This book is short and easy to read, but it has a lot of lessons. I have learnt the importance of prayer, peace, and patience. After reading, I’ve realized why Islam is peaceful. (Maira Usman, USA)
Spirit of Islam benefited me by helping me learn about honesty, the importance of not denying the truth, respecting others, and treating everyone equally. (Sara Amin and Vaniya Khan, USA)
واپس اوپر جائیں

Wednesday, 1 July 2015

Al Risala | July 2015 (الرسالہ،جولائی)

4

-روزہ اور تقویٰ

5

- روزہ برائے ترک ممنوعات

6

- قرآن کتاب ِتدبر

9

- عجز اور دعا

10

- ذکرکیا ہے

11

- جنت کیا ہے

12

- قرآن کا مطالعہ

13

- آل عمران ، رکوع آخر

16

- موت کا ذکر کثیر

17

- زوال کی علامت

18

- ایک انقلابی اصول

19

- دیکھیں صبح کیسے ہوتی ہے

20

- مسِّ مصحف کے لیے وضو کی شرط

21

- اجتہاد یا فتویٰ

22

- فطرت کا نظام

24

- حمد اور کَبَد کے درمیان

25

- انسان کا امتحان

26

- شیطان سے حفاظت

28

- تیار ذہن کی اہمیت

29

- دو چہرے والا شخص

30

- ہجرت ایک تدبیر

31

- فرشتوں کی نگرانی

32

- توسط اور اعتدال

33

- راستہ بدلنا

34

- اسلامائزیشن آف نان اسلام

35

- شعور پر لاشعور غالب

36

- یتیم کی کفالت

37

- پیغمبر ِ اسلام کی سنت

40

- نظر کی خریداری

41

- حقیقت پسندانہ سوچ

42

- مزاحمت سے مقابلہ تک

43

- علم کی حد

44

- بے خبری کا نقصان

45

- مفید، بے مسئلہ

46

- شہد کی مکھی کا سبق

47

- خبر نامہ اسلامی مرکز


روزہ اور تقویٰ

قر\آن میں رمضان کے روزے کا حکم دیتے ہوئے کہاگیا ہے: کُتِبَ عَلَیْکُمُ الصِّیَامُ کَمَا کُتِبَ عَلَی الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِکُمْ لَعَلَّکُمْ تَتَّقُوْنَ ( 2:183) یعنی تم پر روزہ فرض کیاگیا جس طرح تم سے اگلوں پر فرض کیا گیا تھا، تاکہ تم پرہیزگار بنو-
قرآن کی اِس آیت کا مطلب یہ نہیں ہے کہ روزہ کا فعل اپنے آپ میں ایک نہایت بابرکت فعل ہے، اور رمضان کا مہینہ اتنا مبارک مہینہ ہے کہ جو شخص اِس مہینہ میں روزہ کی نیت سے صبح سے شام تک کھانا پینا چھوڑ دے تو وہ اِس ترک طعام کی بنا پر عظیم ثواب کا مستحق بن جائے گا-اِس کے بجائے آیت میں یہ فرمایا گیا کہ روزہ کا مقصد یہ ہے کہ تمھارے اندر تقویٰ پیدا ہو (لعلکم تتقون)- گویا روزہ کی ایک صورت (form)ہے، اور تقویٰ اُس کی روح (spirit) ہے- روزہ برائے تقویٰ ہے، نہ کہ برائے جوع-
تقوی کا لفظی مطلب ہے بچنا- روزہ سے مراد صرف کھانے اور پینے سے بچنا نہیں ہے بلکہ ہر اس چیز سے بچنا ہے، جس کو شریعت میں ممنوع قرار دیاگیا ہے- گویا کہ روزہ میں ترک طعام برائے ترک طعام نہیں ہے، بلکہ وہ ترک ممنوعات کے لیے تربیت کا ایک کورس ہے- حدیث کے الفاظ میں جو شخص کھانے پینے کا روزہ رکھے، مگر وہ دوسری قابل پرہیز چیزوں سے اپنے آپ کونہ بچائے، اُس کو اپنے روزے سے بھوک پیاس کے سوا کچھ اور نہیں ملے گا (لیس لہ من صیامہ إلا الجوع)ابن ماجہ، حدیث : 1380-
دوسرے الفاظ میں یہ کہ رمضان کے مہینہ کا روزہ، اِس بات کی تربیت ہے کہ آدمی اپنے آپ کو ڈسٹریکشن (distraction)کی تمام صورتوں سے بچائے- وہ اپنے اندر یکسوئی کا مزاج پیدا کرے- وہ اپنی عادتوں پر کنٹرول کرے، اور پوری طرح بامقصد زندگی گزارنے کی کوشش کرے- ڈسٹریکشن سے اپنے آپ کو بچانا مومن کے لیے ضروری ہے، کیوں کہ ایسا کرنے کے بعد ہی مومن اِس قابل بنتا ہے کہ وہ اپنے آپ کو غیر متعلق مصروفیتوں سے بچائے، اور بامقصد انداز میں اپنی زندگی کی منصوبہ بندی کرے-
واپس اوپر جائیں

روزہ برائے ترک ممنوعات

ایک حدیث رسو ل میں بتایا گیا ہے کہ انسان کے ہر عمل کا اجر دس گنا سے سات سو گنا تک بڑھتاہے-لیکن روزہ (صوم)میرے لئے ہے اور میں ہی اس کا بدلہ دوں گا- اس عظیم اجر کا سبب یہ بتایا کہ روزہ دار، اللہ کے لئے (لأجل اللہ) اپنی شہوات کو چھوڑ دیتا ہے (مسند احمد، حدیث نمبر: 9714)
اس حدیث کے مطابق، روزہ کی اصل اہمیت یہ ہے کہ وہ ترک ممنوعات کی تربیت ہے- زندگی میں ’ترک‘ (چھوڑنے) کی اہمیت بہت زیادہ ہے- حقیقت یہ ہے کہ زندگی میں اختیار سے زیادہ ’ترک‘ کی اہمیت ہوتی ہے- ’ترک‘ کے آئٹم اگر ننانوے فیصد ہیں تو اختیار کا آئیٹم ایک فی صد ہے- اختیار کے آئٹم کی فہرست بنائی جاسکتی ہے، لیکن ’ترک‘ کے آئٹم کی فہرست بناناممکن نہیں-
انسانی نفسیات کا مطالعہ بتاتا ہے کہ انسان کے لئے اختیار ایک کم مشکل کی چیز ہے- اِس کے برعکس ’ترک‘کی مشکل بہت زیادہ ہے- مثلاً حج میں گھر سے نکل کر مکہ کا سفر کرنا، اور حج کے مراسم ادا کرنانسبتاً کم مشکل ہے- اِس کے برعکس، قرآن کی اِس آیت پر عمل کرنا بے حد مشکل ہے، جس میں کہاگیا ہے : فَلَا رَفَثَ وَلَا فُسُوْقَ ۙوَلَا جِدَالَ فِی الْحَجِّ (2:197) یعنی حج کے دوران نہ کوئی فحش بات کرنی ہے اور نہ گناہ اور نہ لڑائی جھگڑا-
روزہ اِسی مشکل کام کی تربیت ہے- رمضان میں ایک مہینہ کا روزہ دراصل ایک علامتی ’ترک‘ ہے- رمضان کے مہینہ میں ایک علامتی ’ترک‘ کے ذریعہ لوگوں کے اندر یہ نفسیات جگائی جاتی ہے کہ وہ ترک کی اہمیت کو سمجھیں، وہ ترک کے بارے میں حساس بنیں،وہ ترک کلچر کو اپنی پوری زندگی میں اختیار کریں- اسی ترک کلچر پر لوگوں کو ابھارنے کے لئے یہ فرمایا گیا کہ اس عمل پر اللہ کا بے حساب اجر ہے، جس طرح کلمہ میں إلا اللہ سے پہلے لا إلہ آتا ہے، اسی طرح مطلوب عمل سے پہلے غیر مطلوب اعمال کا درجہ ہے- غیر مطلوب اعمال کو ترک کرنے کے بعد ہی آدمی اس قابل بنتا ہے کہ وہ درست طورپر مطلوب عمل انجام دے سکے-
واپس اوپر جائیں

قرآن کتاب ِتدبر

قرآن کی سورہ ص کی ایک آیت یہ ہے: کِتَٰبٌ أَنزَلْنَٰہُ إِلَیْکَ مُبَٰرَکٌ لِّیَدَّبَّرُوٓا۟ ءَایَٰتِہِۦ وَلِیَتَذَکَّرَ أُولُوا ٱلْأَلْبَٰبِ.(38:29) یعنی یہ ایک برکت والی کتاب ہے جو ہم نے تمھاری طرف اتاری ہے، تاکہ لوگ اِس کی آیتوں پر غور کریں اور تاکہ عقل والے اس سے نصیحت حاصل کریں-
اس کا مطلب یہ ہے کہ قرآن کی باتوں کو وہی شخص سمجھ سکتا ہے، جو قرآن کا مطالعہ تدبر کے ساتھ کرے- صرف لفظی تلاوت کے ذریعہ قرآن کا حق ادا نہیں ہوسکتا- مزید یہ کہ تدبر کے لیے تیارذہن (prepared mind) درکار ہے- جو شخص قرآن کو سمجھنا چاہتا ہے، اس کو چاہئے کہ وہ اپنے آپ کو ایک تیار ذہن بنائے- اس کے بعد ہی وہ قرآن کو حقیقی طورپر سمجھ سکے گا- اپنے آپ کو تیار ذہن بنانے کے لیے جو شرطیں درکار ہیں، ان میں سے ایک ضروری شرط تقویٰ( 2:282) ہے- متقی انسان ایک سنجیدہ (sincere) انسان ہوتا ہے-سنجیدگی کے بغیر کوئی شخص قرآن کو سمجھ نہیں سکتا-
قرآن میں عقل کے مترادف کم سے کم چھ الفاظ استعمال کیے گئے ہیں— عقل، فؤاد، لب، قلب، حجر، نُہیٰ- ان کے سوا قرآن میں اور بہت سے الفاظ ہیں، جو بالواسطہ طورپر عقل سے تعلق رکھتے ہیں- مثلاً سمع اور بصر وغیرہ- حقیقت یہ ہے کہ قرآن کی تمام آیتیں عقل پر مبنی ہیں،کچھ آیتیں براہِ راست طورپر اور کچھ آیتیں بالواسطہ طورپر-
مثلاً إِنَّمَا یَتَذَکَّرُ أُو۟لُوا۟ ٱلْأَلْبَٰبِ ( 13:19) اور إِنَّ فِى ذَٰلِکَ لَآیَٰتٍ لِّأُو۟لِى ٱلنُّہَىٰ. (20:54) جیسی آیتوں میں براہِ راست طورپر عقل کا حوالہ دیا گیا ہے- اس طرح کی آیتیں قرآن میں کثرت سے ہیں- اس کا مطلب واضح طور پر یہ ہے کہ اگر تم قرآن کو یا قرآن کے پیغام کوسمجھنا چاہتے ہو تو اپنی عقل (reason) کو استعمال کرو- عقل کے استعمال کے بغیر تم قرآنی آیتوں کے حقیقی مفہوم تک نہیں پہنچ سکتے-
جہاں تک عقل کے بالواسطہ حوالے کی بات ہے، اس سے پورا قرآن بھرا ہوا ہے- مثلاً قرآن کی پہلی آیت یہ ہے: اَلْحَمْدُ لِلہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ (1:1)- اس آیت میں کہاگیا ہے کہ اس اللہ کی حمد کرو جو سارے عالم کا رب (Lord) ہے- اس سے واضح ہے کہ کوئی شخص اللہ کی حقیقی حمد، اسی وقت کرسکتا ہے، جب کہ اس نے اللہ کو رب العالمین کی حیثیت سے دریافت کیا ہو- اس قسم کی دریافت کسی آدمی کو صرف عقل کے استعمال کے ذریعہ حاصل ہوسکتی ہے-
اسی طرح قرآن کی آخری سورہ یہ ہے کہ انسان اور جن کے وسوسہ کے شر سے اپنے آپ کو بچاؤ (الناس)- یہاں ظاہر ہے کہ وسوسہ ایک غیر محسوس چیز ہے- وسوسہ کو چھوکر یا دیکھ کرنہیں جانا جاسکتا، وسوسہ کے شرسے بچنے کے لیے ضروری ہے کہ آدمی اپنے عقل کو استعمال کرکے وسوسہ کو دریافت کرے- اِس طرح قرآن کی یہ آیت عقل کے بالواسطہ حوالے کی ایک مثال ہے-
یہی معاملہ قرآن کی تمام آیتوں کا ہے- مثلاً قرآن میں مومن کی صفت یہ بتائی گئی ہے کہ وہ غیب پر ایمان رکھتے ہیں (2:3)- غیب پر ایمان صرف اس شخص کو حاصل ہوسکتا ہے، جو غیبی حقیقتوں کو یقین کے درجے میں دریافت کرے، اور یہ بات صرف عقلی غوروفکر کے ذریعہ ممکن ہے- اسی طرح، مثلاً قرآن میںحج کے حکم کے ذیل میں یہ الفاظ آئے ہیں: فَلَا رَفَثَ وَلَا فُسُوْقَ وَلَاجِدَالَ فِی الْحَجِّ ( 2:197)- یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ حج تو ایک عبادت کا فعل ہے، اس کا جدال سے کیا تعلق- اس پر غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ حج کی عبادت کے دوران بہت سے لوگ ایک ساتھ رہتے ہیں- ساتھ رہنے کی بنا پر فطری طورپر آپس میں اختلافات(differences) پیدا ہوتے ہیں- اس لیے حاجی کو چاہئے کہ وہ اختلاف پر صبر کرے، وہ اس کو جدال تک پہنچنے نہ دے- آیت کا یہ پہلو بھی عقل کے استعمال سے معلوم ہوتا ہے-
اسی طرح قرآن کی ایک سورہ میں معاہدۂ حدیبیہ کا صراحتاً ذکر کیے بغیر یہ آیت آئی ہے: إنَّا فَتَحْنَا لَکَ فَتْحًا مُبِیْنًا ( 48:1)- یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ معاہدہ حدیبیہ میں تو فریقِ ثانی سے یک طرفہ شرطوں پر صلح کر کے رسول اور اصحاب رسول مدینہ واپس آگئے تھے، پھر اس کا فتح مبین سے کیا تعلق- آیت کا یہ گہرا مفہوم صرف اس وقت معلوم ہوتا ہے، جب کہ آدمی آیت پر تاریخ کی روشنی میں غوروتدبر کرے، اور یہ عقل کے استعمال کے بغیر نہیں ہوسکتا، وغیرہ-
قرآن میں کل ایک سو چودہ (114) سورتیں ہیں- اگر ان تمام سورتوں کو پڑھا جائے تو ان میں کہیں بھی قانون کی زبان نہیں ملے گی، بلکہ دعوت اور تذکیر کی زبان ملے گی، اور دعوت اور تذکیر کے معاملے کو درست طورپر صرف اس وقت سمجھا جاسکتا ہے، جب کہ اس کو عقل کا استعمال کرکے جاننے کی کوشش کی جائے-
قرآن کا مطالعہ کیا جائے تو یہ کہنا صحیح ہوگا کہ قرآن معروف معنوں میں کوئی فقہی کتاب یا قانون کی کتاب نہیں ہے- قرآن میں کہیں بھی وہ اسلوب استعمال نہیں کیا گیا ہے جو فقہ کی کتابوں یا قانون کی کتابوں میں اختیار کیا جاتا ہے- قرآن کے اسلوب کو دیکھتے ہوئے یہ کہنا صحیح ہوگا کہ قرآن وزڈم کی کتاب (book of wisdom) ہے-
واپس اوپر جائیں

عجز اور دعا

قرآن سے معلوم ہوتا ہے کہ عاجز انسان کی دعا قبول ہوتی ہے۔ یہ بات قرآن میں ان الفاظ میں بتائی گئی ہے: أَمَّنْ یُجِیبُ الْمُضْطَرَّ إِذَا دَعَاہُ وَیَکْشِفُ السُّوءَ (النمل: 62)- عاجز انسان خدا کی خصوصی نصرت کا مستحق بن جاتا ہے- سوال یہ ہے کہ ایسا کیوں ہوتا ہے؟ عاجز انسان کی دعا کی قبولیت کا راز کیا ہے؟ اس سوال کا جواب اس وقت معلوم ہوتا ہے جب کہ عاجز انسان کی نفسیات کا مطالعہ کیا جائے-
جب ایک شخص عاجز (helpless) ہوجائے تو اس وقت اس کے اندر مخصوص کیفیات پیدا ہوتی ہیں، جو عام حالات میں کسی کے اندرپیدا نہیں ہوتیں- اس وقت اس کی داخلی روح (inner soul) آخری حد تک جاگ اٹھتی ہے- اس نفسیاتی حالت کی بنا پر ایسا ہوتا ہے کہ اس وقت آدمی کی زبان پر دعا کے جو کلمات جاری ہوجاتے ہیں، وہ عام قسم کے کلمات نہیں ہوتے، بلکہ وہ ایسے کلمات ہوتے ہیں جو اللہ کی رحمت کو انووک (invoke)کرنے والے ہوں- یہی خاص سبب ہے، جس کی بنا پر ایک عاجز انسان کی دعا اللہ کے یہاں قابل قبول قرار پاتی ہے-
قرآن میں اس معاملے کی ایک مثال یہ ہے کہ قدیم مصر کے بادشاہ فرعون نے جب اپنی بیوی آسیہ کے قتل کا حکم دیا تو ان کی زبان سے یہ دعا نکلی: رَبِّ ابْنِ لِیْ عِنْدَکَ بَیْتًا فِی الْجَنَّةِ (التحریم: 11) یعنی اے میرے رب، میرے لئے اپنے پاس جنت میں ایک گھر بنادے- یہ ایک بے حد خاص دعا ہے، جو آسیہ کی زبان سے اس وقت نکلی، جب ان کو محسوس ہوا کہ وہ بے بسی کی آخری حد تک پہنچ چکی ہیں- اس کامل بے بسی کی حالت میں ان کی روح کے اندر جو اعلی ربانی کیفیت پیدا ہوئی، اُس نے اِس مخصوص دعا کی صورت اختیار کرلی- دعا بظاہر الفاظ کی صورت میں ہوتی ہے، لیکن دعا کا گہرا تعلق دعا کرنے والے کی کیفیت سے ہے- یہ دراصل کیفیت ہے جو کسی کی دعا کو اسم اعظم کی دعا بنا دیتی ہے، اور کیفیت حالات کے بغیر پیدا نہیں ہوتی-
واپس اوپر جائیں

ذکرکیا ہے

پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کےمعمول کے بارے میں حضرت عائشہ کی ایک روایت ان الفاظ میں آئی ہے: کان النبی صلى اللہ علیہ وسلم یذْکُر اللہ على کل أحیانہ (صحیح البخاری، حدیث نمبر 305، صحیح مسلم، حدیث نمبر 373) یہ روایت اہل ایمان کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک سنت کو بتاتی ہے۔ اہل ایمان کو ذہنی اعتبار سے ایک بیدار ذہن (awakened mind)بننا چاہئے۔ ان کی ربانی سوچ کواتنی زیادہ ارتقا یافتہ ہونی چاہئے کہ ان کی زندگی کا ہر واقعہ یا ہر تجربہ ان کے لئے ذکر اور دعا کا پوائنٹ آف ریفرنس بن جائے۔
اس روایت کا مطلب یہ نہیں ہے کہ آدمی دعا اور ذکر کے کچھ کلمات رٹ لے، اور ہر موقع پر ان کو زبان سے دہراتا رہے۔ یہ سنت رسول نہیں ہے۔ سنت رسول کے مطابق ذکر اور دعاایک تکراری عمل نہیں ہے، بلکہ وہ ایک تخلیقی (creative) عمل ہے۔
دسمبر 2014 میں میرے ساتھ ایک واقعہ پیش آیا، اس کی وجہ سےمجھ کو تقریبا دس دن بستر پر رہنا پڑا۔ اس مدت میں میں اپنی نمازوں کے لئے وضو نہ کر سکا، بلکہ تیمم کر کے نماز ادا کرتا رہا۔اس معاملے پر غور کرتے ہوئے میں نے سوچا کہ میری یہ نمازیں شاید ناقص نمازیں ہیں، میرا دل بھر آیا۔ اس وقت مجھے ایک عربی مقولہ یاد آیا: العذر عند کرام الناس مقبول (عذر کریم لوگوں کے لئے قابل قبول ہوتا ہے)۔ میں نے کہا کہ یا اللہ، تیرے کریم بندوں کے لئے جو عذر قابل قبول ہوتا ہے، وہ یقینا تیرے لئے مزید اضافہ کے ساتھ قابل قبول ہوگا۔ اس وقت یہ جملہ میری زبان سے نکلا: العذر عند اللہ الکریم مقبول۔ یہ سوچ کر مجھے اللہ کی رحمت یاد آئی، میرا دل اطمینان سے بھر گیا، یہی ہے ہر موقع (occasion) پر اللہ کو یاد کرنا۔ہر موقع پر اللہ کو یادکرنا یہ ہے کہ آدمی ذہنی اعتبار سے اتنا بیدار ہو کہ ہر واقعہ اس کے لیے ایک ایسا پوائنٹ آف ریفرنس (point of reference ) بن جائے، جس کے ذریعے وہ اپنے رب کو یاد کرے۔
واپس اوپر جائیں

جنت کیا ہے

قرآن کی سورہ فصلت میں جنت کی صفت ان الفاظ میں بیان کی گئی ہے: وَلَکُمْ فِیْہَا مَا تَشْتَہِیْٓ اَنْفُسُکُمْ وَلَکُمْ فِیْہَا مَا تَدَّعُوْنَ (41:31) یعنی فرشتے اہل جنت سے کہیں گے: اور تمھارے لیے وہاں ہر وہ چیز ہے جس کو تمھارا دل چاہے اور تمھارے لیے اس میں ہر وہ چیز ہے جو تم طلب کروگے- اس سے معلوم ہوتا ہے کہ جنت ہر اعتبار سے ایک کامل جگہ ہوگی- جنت میں کمی یا نقص کا کوئی پہلو موجود نہ ہوگا-
قرآن کی اس آیت میں اہلِ جنت کی نسبت سے دو لفظ استعمال ہوئے ہیں، ایک اشتہا اور دوسرا طلب- اشتہا کا لفظ عمومی انسانی خواہش کو بتاتا ہے، یعنی عمومی معنوں میں لوگ جن چیزوں کی خواہش رکھتے ہیں، وہ سب وہاں موجود ہوں گی-
طلب کے لفظ میں انفرادی ذوق کی طرف اشارہ کیاگیا ہے- یعنی جنت میں وہ تمام چیزیں بھی ہوں گی، جو عمومی طورپر لوگوں کی پسند کی ہوتی ہیں- اس کے علاوہ جنت میں ہر فرد کے ذاتی ذوق کی تکمیل کا سامان بھی موجود ہوگا-
قرآن کے اس بیان میں اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ جنت میں داخل ہونے والے افراد تخلیقی ذہن (creative mind) رکھنے والے لوگ ہوں گے- عمومی پسند کے علاوہ ان میں سے ہر فرد کی اپنی ذاتی پسندبھی ہوگی- جنت میں اجتماعی پسند کا سامان بھی ہوگا، اور انفرادی پسند کا سامان بھی- جنت کی یہ صفت، جنت کی قیمت کو بہت زیادہ بڑھا دیتی ہے-
گویا کہ جنت کا معاشرہ یکساں قسم کے درختوں کی مانند نہیں ہوگا- بلکہ وہ متنوع قسم کے درختوں کے ایک باغ کی مانند ہوگا- جنت میں یکسانیت (uniformity)کے ساتھ تنوع (diversity) بھی ہوگا- جنت کی یہ صفت جنت کو بہت زیادہ خوبصورت اور بہت زیادہ با معنی بنادے گی- جنت لذتوں کا مقام بھی ہوگا، اور تنوعات کا مقام بھی-
واپس اوپر جائیں

قرآن کا مطالعہ

پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک حدیث ان الفاظ میں آئی ہے: من قرأ حرفاً من کتاب اللہ فلہ بہ حسنة، والحسنة بعشر امثالہا، لا أقول الم حرف ، الف حرف ولام حرف ومیم حرف (الترمذی، حدیث نمبر: 2910) یعنی جس شخص نے اللہ کی کتاب میں سے ایک حرف پڑھا تو اس کے لیے اِس کے بدلے میں ایک نیکی ہے، اور ہر نیکی دس گنا تک بڑھتی ہے- میں یہ نہیں کہتا کہ الم ایک حرف ہے بلکہ الف ایک حرف ہے، لام ایک حرف اور میم ایک حرف ہے-
یہ قولِ رسول ایک لمبی روایت میں بھی آیا ہے، اس میں یہ اضافہ ہےکہ إن ہذا القرآن مادبة اللہ تعالى فتعلموا من مأدبة اللہ ما استطعتم (مجمع الزوائد، حدیث نمبر: 11660) یعنی یہ قرآن ایک ربانی دستر خوان (banquet) ہے، پس تم اس دسترخوان سے سیکھو، جتنا تم سیکھ سکتےہو-
اس حدیث میں جو بات الفاظ کے اعتبار سے کہی گئی ہے، وہ دراصل معنی کے اعتبار سے مطلوب ہے- اس کا مطلب یہ ہے کہ قرآن میں معانی کا خزانہ اتنا زیادہ ہے کہ اس کا کوئی شمار نہیں کیا جاسکتا- یہ اسلوب انسان کی زبان میں عام ہے، یعنی کیفیاتی حقیقت (qualitative fact) کو کمیاتی زبان (quantitative language) میں بیان کیاگیا ہے-
مذکورہ حدیث کی یہ شرح قرآن سے ثابت ہے- قرآن کی ایک آیت ان الفاظ میں آئی ہے: کِتٰبٌ اَنْزَلْنٰہُ اِلَیْکَ مُبٰرَکٌ لِّیَدَّبَّرُوْٓا اٰیٰتِہٖ وَلِیَتَذَکَّرَ اُولُوا الْاَلْبَابِ (38:29) یعنی یہ ایک برکت والی کتاب ہے جو ہم نے تمھاری طرف اتاری ہے، تاکہ لوگ اس کی آیتوں پر غور کریں اور تاکہ عقل والے اس سےنصیحت حاصل کریں-
قرآن کی یہ آیت واضح طورپر بتاتی ہےکہ قرآن غور وفکر کی کتاب ہے- قرآن کا مدعا یہ نہیں ہے کہ لوگ اس کے الفاظ کو تلاوت کے طورپر دہرائیں، اور پراسرار طورپر اس کا ثواب ان کو ملتا رہے- حقیقت یہ ہے کہ تدبر کے بغیر قرآن کا مقصدِ نزول پورا نہیں ہوسکتا-
واپس اوپر جائیں

آل عمران ، رکوع آخر

قرآن کی سورہ آل عمران کی آخری رکوع میں مومن کی تصویر بتائی گئی ہے۔اس رکوع میں کل گیارہ آیتیں ہیں۔ ان آیتوں کا ترجمہ یہ ہے:
آسمانوں اور زمین کی پیدائش میں اور رات دن کے باری باری آنے میں عقل والوں کے لئے نشانیاں ہیں ۔ جو کھڑے اور بیٹھے اور اپنی کروٹوں پر اللہ کو یاد کرتے ہیں اور آسمانوں اور زمین کی پیدائش میں غور کرتے رہتے ہیں ۔ وہ کہہ اٹھتے ہیں اے ہمارے رب، تو نے یہ سب بےمقصد نہیں بنایا۔ تو پاک ہے، پس ہم کو آگ کے عذاب سے بچا۔اے ہمارے رب، تو نے جس کو آگ میں ڈالا، اس کو تو نے واقعی رسوا کردیا۔ اور ظالموں کا کوئی مدد گار نہیں ۔ اے ہمارے رب، ہم نے ایک پکارنے والے کو سنا جو ایمان کی طرف پکار رہا تھا کہ اپنے رب پر ایمان لاؤ، پس ہم ایمان لائے۔ اے ہمارے رب، ہمارے گنا ہوں کو بخش دے اور ہماری برائیوں کو ہم سے دور کردے اور ہمارا خاتمہ نیک لوگوں کے ساتھ کر۔اے ہمارے رب، تو نے جو وعدے اپنے رسولوں کی معرفت ہم سے کئے ہیں، ان کو ہمارے ساتھ پورا کر اور قیامت کے دن ہم کو رسوائی میں نہ ڈال۔ بےشک تو اپنے وعدے کے خلاف کرنے والا نہیں ہے۔ ان کے رب نے ان کی دعا قبول فرمائی کہ میں تم میں سے کسی کا عمل ضائع کرنے والا نہیں ، خواہ وہ مرد ہو یا عورت، تم سب ایک دوسرے سے ہو۔ پس جن لوگوں نے ہجرت کی اور جو اپنے گھروں سے نکالے گئے اور میری راہ میں ستائے گئے اور وہ لڑے اور مارے گئے، میں ان کی خطائیں ضرور ان سے دور کر دوں گا اور ان کو ایسے باغوں میں داخل کروں گا جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی۔ یہ ان کا بدلہ ہے اللہ کے یہاں اور بہترین بدلہ اللہ ہی کے پاس ہے۔ اور ملک کے اندر منکروں کی سرگرمیاں تم کو دھوکے میں نہ ڈالیں ۔ یہ تھوڑا فائدہ ہے۔ پھر ان کا ٹھکانا جہنم ہے۔ اور وہ کیسابرا ٹھکانا ہے۔ البتہ جو لوگ اپنے رب سے ڈرتے ہیں ، ان کے لئے باغ ہوں گے جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی، وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے۔ یہ اللہ کی طرف سے ان کی میزبانی ہوگی اور جو کچھ اللہ کے پاس نیک لوگوں کے لئے ہے، وہی سب سے بہتر ہے۔ اور بےشک اہل کتاب میں کچھ ایسے بھی ہیں جو اللہ پر ایمان رکھتے ہیں اور اس کتاب کو بھی مانتے ہیں جو تمہاری طرف بھیجی گئی ہے اور اس کتاب کو بھی مانتے ہیں جو اس سے پہلے خود ان کی طرف بھیجی گئی تھی، وہ اللہ کے آگے جھکے ہوئے ہیں اور وہ اللہ کی آیتوں کو تھوڑی قیمت پر بیچ نہیں دیتے۔ ان کا اجر ان کے رب کے پاس ہے اور اللہ جلدحساب لینے والا ہے۔ اے ایمان والو، صبر کرو اورصبر پر قائم رہو اور باہم مربوط رہو اور اللہ سے ڈرو، امید ہے کہ تم کامیاب ہوگے۔
آیات 190-192 — ان آیتوں میں مومن کی فکری زندگی کو بتایا گیا ہے۔وہ صبح و شام، رات دن تخلیقِ خداوندی پر غور کرتا ہے۔ اس مسلسل غور و فکر سے اس کو زندگی کی حقیقت معلوم ہوتی ہے۔ وہ پکار اٹھتا ہے، خدایا، مجھے آخرت کی ابدی دنیا میں ناکامی سے بچا۔
آیات 193-194 — تخلیقِ خداوندی میں غور وفکر کے نتیجہ میں وہ اس قابل ہوجاتا ہے کہ وہ داعی حق کی بات کو کامل سنجیدگی کے ساتھ سنے۔ وہ تعصب کے تمام پردوں کو پھاڑ کر اس کو پہچان لے۔ وہ کسی تحفظ ذہنی کے بغیر داعی ٔ حق کی پکار پر، اس امید کے ساتھ لبیک کہتا ہے کہ اس کا ایسا کرنا اس کو اللہ کی نصرت کا مستحق بنائے گا۔
آیت 195 — یہ آیت بتاتی ہے کہ اللہ کے نزدیک فکری سطح پر اس کا اعتراف کافی نہیں۔ اللہ کے نزدیک ضروری ہے کہ آدمی کا فکری اعتراف عمل کی سطح پر ظاہر ہو، وہ اس کی عملی زندگی میںڈھل جائے۔
اس کے بعد چار عملی کردار کا ذکر کیا گیا ہے۔ ہجرت، اخراجِ وطن، اللہ کے راستے میںایذاء، اور قتال۔یہ چار باتیں اپنی شکل کے اعتبار سے مطلق نہیں ہیں، البتہ اپنی حقیقت کے اعتبار سے وہ مطلق ہیں، اور ہر زمانے کے اہل ایمان سے یکساں طور پر مطلوب ہیں۔ رسول کے معاصر اہل ایمان کے لیے اس کا اظہار ان چار صورتوں میں ہوا ہے۔
بعد کے زمانے میں حالات کی نسبت سے ان کی صورتیں مختلف ہو سکتی ہیں۔ تاہم ان کی اصل حقیقت قربانی (sacrifice) ہے، اور اپنی حقیقت کے اعتبار سے وہ ہمیشہ مطلوب رہے گی۔ جو ایمان قربانی کے بغیر ہو، وہ ایمان اللہ کے نزدیک مطلوب ایمان نہیں ہے۔ چوں کہ پیغمبر کے معاصر اہل ایمان کے ساتھ یہ چاروں قسم کے تجربات پیش آئے۔ مگر بعد کے اہل ایمان کے لیے زمانے کے اعتبار سےاس کی صورتیں مختلف ہو سکتی ہیں۔ان چاروں چیزوں کی اصل حقیقت قربانی کی سطح پر اپنے ایمان کا ثبوت دینا ہے۔بعد کے زمانے کے اہل ایمان کے لیے بھی یہ شرط موجود رہے گی۔ البتہ حالات کے اعتبار سے اس کی صورتیں مختلف ہوسکتی ہیں۔
آیات 196-198 —اس کے بعد انسانوں کے لیے دو مختلف قسم کے انجام کا ذکر کیا گیا ہے۔ جو لوگ خدا سے سرکشی کا طریقہ اختیار کریں، ان کے لیے آخرت میں سخت پکڑ ہوگی۔ اس کے برعکس، جو لوگ اللہ کی اطاعت کا طریقہ اختیار کریں وہ آخرت کی ابدی دنیا میں جنت کے باغوں میں جگہ پائیں گے۔
آیت 199 — اس آیت میں اہل ایمان کی اس صفت کاذکر ہے کہ وہ تعصب سے کامل طور پر خالی ہوتے ہیں۔وہ اللہ کے رسولوں کے درمیان تفریق نہیں کرتے۔وہ ہر رسول پر یکساں طور پر ایمان رکھتے ہیں۔کوئی دنیوی مصلحت ان کو سچائی کے راستے سے ہٹانے والی نہیں۔
آیت 200 — اس آیت میں صبر و استقامت کی تاکید کی گئی ہے۔ ایمان کے راستے پر چلنے کے بعد ایسے مواقع بار بارآتے ہیں، جو آدمی کو متزلزل کر سکتے ہیں اور اس کو شبہ میں ڈال سکتے ہیں۔اس طرح کے مواقع پر آدمی کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنی فکر کو پھر سے بیدار کرے۔ وہ غور و فکر کے ذریعے اپنے آپ کو یقین پر قائم رکھے۔ اس طرح اس کے اندر صبرو استقامت آئے گی۔ وہ دوسرے اہل ایمان کے ساتھ مضبوطی کے ساتھ بندھا رہے گا۔ اگر کوئی ناپسندیدہ بات پیش آئے گی تو وہ اس کو اپنی ذہنی بیداری کے ذریعے اپنے لیے غیر موثر بنادے گا۔
آخر میں فرمایا اتقوا اللہ لعلکم تفلحون۔ یہ تمام باتوں کا خلاصہ ہے۔مذکورہ تمام افعال صرف اس وقت مطلوب صورت میں انجام دیے جاسکتے ہیں، جب کہ ان کے پیچھے تقوی کی اسپرٹ موجود ہو۔ یہ صرف تقوی ہے جو کسی انسان کی حقیقی فلاح کا ضامن ہے۔ تقوی کے بغیر فلاح کا حصول ممکن نہیں۔
واپس اوپر جائیں

موت کا ذکر کثیر

پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اکثروا ذکر ہادم اللذات، یعنی الموت (ابن ماجہ، حدیث نمبر: 4258)یعنی موت کو بہت زیادہ یادکرو، جو لذتوں کو ڈھادینے والی ہے-
اس کا مطلب یہ ہے کہ موت کی یاد آدمی کے اندر دنیا رخی سوچ کو منہدم کردیتی ہے اور اُس کے اندر آخرت رخی سوچ پیدا کردیتی ہے- اگر آدمی بار بار موت کو یاد کرے، تو اِس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ وہ دنیا پسند انسان کے بجائے آخرت پسند انسان بن جائے گا-
اِس حدیث میں لذت کا لفظ اُن تمام چیزوں کے لیے ہے جوآدمی کے لیے کسی چیز کو مرکز توجہ بناتی ہے- اِس لحاظ سے حدیث کا مطلب یہ ہے کہ جو آدمی اِس حقیقت کو بہت زیادہ یاد کرے کہ وہ اِس دنیا میں ہمیشہ نہیں رہے گا بلکہ سو سال سے بھی کم مدت میں مرجائے گا تو اُس کا مرکز توجہ بدل جائے گا- وہ اُس دنیا کو زیادہ سے زیادہ اہم سمجھے گا جو موت کے بعد آنے والی ہے، نہ کہ اُس دنیا کو جس میں موت سے پہلے عارضی طورپر زندگی گزار رہاہے-
یہ طرز فکر آدمی کے اندر ایک انقلاب پیدا کردے گا- اُس کی سوچ بدل جائے گی، اُس کا سلوک بدل جائے گا، اُس کے لین دین کا طریقہ بدل جائے گا، اُس کی اخلاقی روش بدل جائے گی، اُس کے روزوشب بدل جائیں گے- یہی مطلب ہے لذتوں کو ڈھانے کا-
حقیقت یہ ہے کہ موت کی یاد آدمی کے اندازِ فکر کو پوری طرح بدل دیتی ہے- جس چیز کو آج کل ’’یہیں اور ابھی‘‘ (right here, right now) کہاجاتا ہے، وہ صرف اُس وقت پیدا ہوتا ہے جب کہ انسان موت سے غافل ہو- اگر اُس کو موت کی حقیقت کا زندہ شعور ہوجائے تو وہ کبھی اِس قسم کا فارمولا نہ اپنائے- موت کے ہادم اللذات ہونے کا مطلب یہ ہے کہ موت آدمی کی زندگی کے رخ کو مکمل طورپر بدل دیتی ہے-
واپس اوپر جائیں

زوال کی علامت

عمرو بن میمون التابعی (وفات: 74ھ) نے صحابہ کے بارے میں کہا: کان أصحاب محمد صلى اللہ علیہ وسلم أسرع الناس إفطارا وأبطأہ سحورا (مصنف عبد الرزاق: 7591)۔ یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب افطار میں بہت جلدی کرنے والے لوگ تھے، اور وہ سحری میں بہت دیر کرنے والے لوگ تھے۔
تابعی کے اس قول کا مطلب یہ نہیں ہے کہ صحابہ وقت سے پہلے افطار کر لیتے تھے، یا وہ سحری میں وقت ختم ہونے کے بعد بھی کھاتے رہتے تھے۔ اس کا مطلب صرف یہ ہے کہ صحابہ تکلف سے بَری تھے۔ ان کے اندر زندہ دین داری تھی، نہ کہ روایتی دین داری۔ روایتی دین داری کا مزاج ظواہر میں احتیاط اور مبالغہ کا مزاج ہوتا ہے۔ اس کے بر عکس، جن لوگوں کے اندر زندہ دین داری ہو، ان کا حال یہ ہوتا ہے کہ اسپرٹ کو اصل سمجھا جائے، نہ کہ فارم کو۔ چناں چہ وہ وقت آتے ہی فورا افطار کرلیتے ہیں، وہ احتیاط کے نام پر پانچ منٹ کا اضافہ نہیںکرتے۔ ا ن کا یہی حال سحری اور دوسرے معاملات میں بھی ہوتا ہے۔
امت پر جب زوال آتا ہے تو ایسا نہیں ہوتا کہ اس کے افراد دین کو مکمل طور پر چھوڑ دیں۔ دورِ زوال میں جو بات ہوتی ہے وہ یہ کہ امت کےافرادمیں دین کی اسپرٹ ختم ہوجاتی ہے۔ البتہ دین کے نام پر کچھ ظواہر باقی رہتے ہیں۔ دین کی حقیقت موجود نہیں ہوتی لیکن دین کا فارم (form) ان کے یہاں موجود رہتا ہے۔
انسان کی نفسیات یہ ہے کہ وہ جس چیز کو اہم سمجھے اس میں زیادہ سے زیادہ اعتناء کرے۔ جب امت زندہ ہوتی ہے تو اس کے افراد دین کی اسپرٹ کے معاملے میں زیادہ اہتمام کرتے ہیں، وہ ہر وقت سوچتے رہتے ہیں کہ ان کی دینی اسپرٹ میں کمی تو نہیں ہوگئی، اگر وہ اپنی زندگی میں کوئی ایسی چیز دیکھتے ہیں، جو اسپرٹ کے مطابق نہ ہو تو اس پر وہ تڑپ اٹھتے ہیں، اور فورا اصلاح کی کوشش کرتے ہیں۔اس کے برعکس دورِ زوال میں یہ حال ہوتا ہے کہ امت کے افراد ظواہر میں زیادہ سے زیادہ اہتمام کرنے لگتے ہیں۔
واپس اوپر جائیں

ایک انقلابی اصول

قرآن میں کلمۂ سوا (3:64)کا اصول بتایا گیا ہے۔کلمۂ سوا کا مطلب ہے اپنے اور مخاطب کے درمیان مشترک بنیاد (common ground) تلاش کر کے اپنی بات کہناتاکہ مخاطب کسی اجنبیت کے بغیر آپ کی بات سن سکے۔ کلمۂ سوا کا یہ اصول کسی محدود معنی میں نہیں ہے، بلکہ وہ نہایت وسیع معنی میں ہے۔
موجودہ زمانے میں کلمۂ سوا کے اصول کا انطباقی امکان(applicable scopes) بہت زیادہ بڑھ گیا ہے۔اس کا خاص سبب موجودہ زمانے میں اوپین نیس کا مزاج (spirit of openness) ہے۔ آج یہ ممکن ہوگیا ہے کہ آپ لائبریری کلچر کو استعمال کر کے ہر جگہ اپنے لٹریچرکو مطالعے کی میز پر پہنچادیں، بک فیر کے رواج کو استعمال کر کے اپنی مطبوعات کو ہر شہر اور ہر ٹاؤن میں پہنچادیں، سیمینار اور کانفرنس میں شرکت کر کے ہر طبقے کے لوگوں تک اپنی پہنچ بڑھادیں، سیاحت کلچر کو استعمال کرکے اپنی بات کو عالمی دائرے میں پھیلادیں، تعلیمی اداروں کو استعمال کر کے نوجوانوں کو اپنے مقصد کے مطابق تربیت دیں، بڑے بڑے اخبارات اور ٹی وی کے نیٹ ورک کو اپنے خیالات کی اشاعت کا ذریعہ بنالیں، وغیرہ ۔
مگر ان جدید مواقع کو استعمال کرنے کی ایک لازمی شرط ہے۔ وہ یہ کہ آپ اپنے اورجدید ذہن کے درمیان کلمۂ سوا کو دریافت کریں، اور پھر دانش مندانہ انداز میں اس کو استعمال کریں۔ جدید ذہن کی خاص صفت بے تعصبی ہے۔ جدید ذہن کے نزدیک طبقاتی سوچ (sectarian thinking) شجر ممنوعہ کی حیثیت رکھتا ہے۔ جدید ذہن کے مطابق موضوعی فکر (objective thinking) کی حیثیت معیاری فکر کی ہے۔ جدید ذہن امن پسند ذہن ہے، وہ نفرت اور تشدد کو ہر حال میں برا سمجھتا ہے۔
واپس اوپر جائیں

دیکھیں صبح کیسے ہوتی ہے

کہا جاتا ہے کہ ایک بوڑھی عورت ایک گاؤں میں رہتی تھی- اس کے یہاں ایک مرغا تھا جو اپنی عادت کے مطابق صبح کو بانگ دیتا تھا- بوڑھی عورت یہ سمجھتی تھی کہ گاؤں میں اس کے مرغ کی بانگ سے صبح ہوتی ہے- ایک بار وہ گاؤں والوں سے کسی بات پر غصہ ہوگئی- اس کے بعد اس نے اپنے مرغ کو لیا اور یہ کہتی ہوئی گاؤں سے نکل گئی کہ — اب دیکھیں یہاں کیسے صبح ہوتی ہے-
بظاہر یہ ایک کہانی ہے لیکن اپنی حقیقت کے اعتبار سے وہ انسانوں کے عام مزاج کے مطابق ہے- یہ مزاج اتنا عام ہے کہ شاید کسی بھی شخص کا اس میں استثنا (exception) نہیں- پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے مکی دور کا واقعہ ہے، آپ کے چچا ابو طالب آپ پر ایمان نہیں لائے تھے مگر خاندانی تعلق کی بنا پر وہ آپ کا ساتھ دیتے تھے- آخر عمر میں کہا جانے لگا کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لانے کے لئے آمادہ ہوگئے ہیں- یہ سن کر قریش کے سردار ابو طالب کے گھر پر جمع ہوئے اور ان کو عار دلایا کہ کیا آپ اپنے باپ عبد المطلب کے دین کوچھوڑ دیںگے- اِس طرح انھوں نے ابو طالب کو رسول اللہ پر ایمان لانے سے روک دیا- قریش کے سردار اپنے اس کارنامے کے بعد جب ابو طالب کے گھر سے واپس ہوئے تو ان کی نفسیات یہ تھی — اب دیکھیں محمد کا مشن کیسے جاری رہتا ہے- مگر تاریخ جانتی ہے کہ قریش کے سرداروں کا خیال کتنا زیادہ بے بنیاد ثابت ہوا-
اس طرح کے واقعات تاریخ میں بار بار پیش آئے ہیں اور اب بھی پیش آرہے ہیں- مگر اس قسم کے نادان لوگوں نے تاریخ کے تجربات سے کوئی سبق نہیں لیا- وہ اب بھی اس حقیقت کو نہیں سمجھتے کہ کوئی مشن اپنی داخلی طاقت (inner strength) کے زور پر چلتا ہے نہ کہ کسی انسان کے ساتھ دینے یا ساتھ نہ دینے پر-اس دنیا کو بنانے والے نے دنیا کو اس طرح بنایا ہے کہ یہاں نہ کسی کی موافقت سے کسی کا کام بنتا ہے، اور نہ کسی کی مخالفت سے کوئی کام بگڑتا ہے، جو کچھ ہوتا ہے وہ خالق کے مقرر منصوبے کے مطابق ہوتا ہے-موافقت یا مخالفت دونوں صرف ظاہری اسباب ہیں-
واپس اوپر جائیں

مسِّ مصحف کے لیے وضو کی شرط

کچھ لوگوں کا ماننا ہے کہ قرآن ایک مقدس کتاب ہے- اس کو چھونے سے پہلے وضو کرنا ضروری ہے- وضو کے بغیر قرآن کو چھونا جائز نہیں- قرآن کو چھونے یا اس کو ہاتھ میں لے کر پڑھنے کے لیے ضروری ہے کہ آدمی وضو کرکے اپنے آپ کو پاک کرچکا ہو- لیکن یہ شرط بعد کے زمانے کی پیداوار ہے- دورِ اول میں یا قرآن اور حدیث میں نصّاً اس کا کوئی ثبوت موجود نہیں-
جو لوگ یہ رائے رکھتے ہیں، وہ اپنے نقطۂ نظرکی تائید میں، قرآن کی یہ آیت پیش کرتے ہیں: لَا یَمَسُّہُ إلَّا الْمُطَہَّرُوْنَ (56:79) یعنی قرآن کو نہیں چھوتے، مگر وہ لوگ جو کہ مطہَّر ہیں-
قرآن کی اس آیت کا تعلق مذکورہ مسئلے سے نہیں ہے- اس آیت میں ایسا کوئی لفظ نہیں ہے، جس سے یہ معلوم ہو کہ مصحف کو چھونے کے لیے باوضو ہونا ضروری ہے- قرآن کی اس آیت میں مطہَّر یا پاکیزہ (purified)سے مراد فرشتے ہیں- یعنی اس میں اس واقعے کا ذکر ہے، جس کا تعلق فرشتوں سے ہے- اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ قرآن کی اس آیت میں جس مَسّ کا ذکر ہے اس سے مراد مسِّ مادی نہیں ہے، بلکہ مسِّ معنوی ہے۔
اس آیت کا سیاق بتاتا ہے کہ یہاں اُن فرشتوں کا ذکر ہے، جو قرآن کی وحی لے کر رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر اترتے تھے، اور آپ کو قرآن پہنچاتے تھے- اس سے معلوم ہوا کہ فرشتے جس قرآن کی تنزیل کا ذریعہ بنتے تھے، وہ قرآن باعتبار معنی ہوتا تھا نہ کہ قرآن باعتبار مصحف-
حقیقت یہ ہے کہ قرآن کو چھونے کے لیے باوضو ہونے کی بحث کی بنا پر آیت کا اصل مقصود اوجھل ہوگیا ہے- اس آیت میں دراصل یہ بتایا گیا ہے کہ قرآن ایک عظیم کلام ہے- وہ ایک ایسی کتاب ہے جو اعلی معانی پر مشتمل ہے، وہ رب العالمین کے خصوصی اہتمام کے تحت پیغمبر آخر الزماں پر اتارا گیا ہے- انسان اگر اس کے معانی کی عظمت پر غور کرے تو وہ یہ ماننے پر مجبور ہوجائے گا کہ یہ اللہ کا کلام ہے نہ کہ کسی انسان کا کلام-
واپس اوپر جائیں

اجتہاد یا فتویٰ

امام ابو حنیفہ (وفات 150 ھ) کے پاس ایک شخص آیا اور کہا، میں نے قسم کھائی ہے کہ میںاپنی بیوی سے کلام نہ کروں گا یہاں تک کہ وہ مجھ سے کلام کرے، اور میری بیوی نے قسم کھا رکھی ہے کہ وہ مجھ سے بات نہ کرے گی، یہاں تک کہ میں اس سے بات کروں- امام صاحب نے جواب دیا تم دونوں میں سے کوئی بھی حانث نہیں-
سفیان ثوری (وفات: 161ھ) نے جب یہ جواب سنا تو ناراضگی کا اظہار فرمایا اور امام اعظم کے پاس پہنچے اور کہا آپ نے یہ جواب کیسے دے دیا- امام ابو ابو حنیفہ نے فرمایا کہ مرد کے قسم کھانے کے بعد جب عورت نے مرد سے مخاطب ہو کر کہا کہ میں تم سے بات نہ کروں گی جب تک کہ تم مجھ سے بات نہ کرو تو مرد کی قسم تمام ہوگئی، اور مرد اس سے بات کرے گا تو حانث نہ ہوگا، اور مرد جب اس سے بات کرلے گا تو عورت کی قسم تمام ہوجائے گی، پھر عورت بھی حانث نہ ہوگی-
امام ابو حنیفہ (اور دوسرے ائمہ فقہ) کی اس قسم کی باتوں کو اجتہاد سمجھا جاتا ہے- مگر اپنی حقیقت کے اعتبار سے وہ جزئی مسائل میں فتوی دینےکا واقعہ ہے- اجتہاد زیادہ بڑے بڑے شرعی امور میں دین کا موقف بتانے کا نام ہے، نہ کہ جزئی نوعیت کے مسائل میں فقہی مسئلہ بتانے کا نام-
اس قسم کے جزئی امور پر فتوی دینے والوں کو مجتہد بلکہ مجتہد مطلق سمجھ لیا گیا - یہ بلا شبہہ اجتہاد کا کمتر اندازہ (underestimation) تھا- یہی وہ چیز ہے جس نے امت سے حقیقی اجتہاد کا خاتمہ کردیا- یہ کہنا درست نہیں کہ بعد کے زمانے میں اجتہاد کا دروازہ بند ہوگیا- صحیح بات یہ ہے کہ اجتہاد کے غلط تصور کی بنا پر اجتہاد کا ذہن ختم ہوگیا، اسی کوتاہی کا یہ نتیجہ ہے کہ موجودہ زمانے میں بڑے بڑے مسائل پیش آئے جو اجتہاد کا تقاضا کرتے تھے لیکن علماء اس سے عاجز ثابت ہوئے کہ وہ ان امور میں اجتہاد کرکے امت کو صحیح رہنمائی دیں-
واپس اوپر جائیں

فطرت کا نظام

قرآن کی سورہ التوبہ میںایک واقعہ کے ریفرنس میں فطرت کا ایک قانون (9:36) بتایاگیا ہے- خالق کو یہ مطلوب ہےکہ یہ قانون تاریخ میں مسلسل طورپر قائم رہے، تاکہ تخلیق کا مقصد پورا ہونے میں کوئی رکاوٹ پیدا نہ ہو- چوں کہ انسان کو آزادی دی گئی ہے، اس لئے انسان اپنی آزادی کا غلط استعمال کرکے کبھی اس نظام میں خلل پیدا کردیتا ہے- اس وقت انسانی آزادی کو برقرار رکھتے ہوئے اللہ مداخلت کرکے اس رکاوٹ کو درست کرتاہے، تاکہ فطرت کا نظام اپنے مطلوب تخلیقی نقشے پر چلتا رہے-
اس معاملے کی ایک جزئی مثال قدیم عرب میںنَسی (intercalation) کا واقعہ ہے-تخلیقی نظام کے مطابق قمری کیلنڈر (lunar calendar)اور شمسی کیلنڈر (solar calendar) کے درمیان ایک سال میں تقریباً بارہ دن کا فرق ہوتا ہے- قدیم زمانے میں عربوں نے نَسی کا طریقہ اختیار کیا- وہ خود ساختہ طورپر ہر سال ایسا کرتے تھے کہ قمری کیلنڈر کے دنوں میں اضافہ کرکے اس کو شمسی کیلنڈر کے مطابق کرلیتے تھے-
یہ طریقہ تخلیقی نظام میں مداخلت کی حیثیت رکھتا تھا- پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے عرب میں جو اصلاحات کیں، ان میں سے ایک یہ تھی کہ آپ نے فتح مکہ (8 ھ) کے بعد ایک حکم کے تحت اس طریقے کو ختم کردیا، اور قمری کیلنڈر کو اس کے فطری نقشے پر قائم کردیا- حوالہ کے لئے ملاحظہ ہو ، خطبۂ حجة الوداع، صحیح البخاری ، حدیث نمبر: 3197، صحیح مسلم، حدیث نمبر: 1679-
اس طرح کے اصلاحی معاملہ کی زیادہ بڑی مثال وہ ہے جس کا ذکر قرآن کی سورہ الانفال میں ان الفاظ میں آیا ہے:وَقَاتِلُوْہُمْ حَتّٰی لَا تَکُوْنَ فِتْنَةٌ وَّیَکُوْنَ الدِّیْنُ کُلُّہٗ لِلّٰہِ (8:39) یعنی اور ان سے لڑو یہاں تک کہ فتنہ باقی نہ رہے اور دین سب اللہ کے لئے ہوجائے-
قرآن کی اِس آیت میں فتنہ سے مراد مذہبی تشدد (religious persecution) ہے- قدیم زمانے میں ساری دنیا میں مذہبی انتہا پسندی (religious extremism) کا طریقہ رائج تھا- مزید یہ کہ اس مذہبی انتہا پسندی کو پولٹسائز (politicize)کرکے، اس کے حق میں وقت کے حکمرانوں کی حمایت بھی حاصل کرلی گئی تھی، اس کے نتیجے میں مذہبی انتہا پسندی نے عملاً مذہبی تشدد (religious persecution) کی صورت اختیار کرلی تھی-
یہ صورت حال خدا کے قائم کردہ تخلیقی نقشے کے خلاف تھی- اللہ کو یہ مطلوب تھا کہ مذہب کے معاملے میں تشدد کا طریقہ ختم ہو، اس کے بجائے پورے معنوں میں مذہبی آزادی (religious freedom) کا طریقہ رائج ہوجائے- تاکہ ہر شخص آزادانہ طورپر اپنے عقیدہ کے مطابق عمل کرسکے-
مذہبی جبر کے خاتمہ کا یہ عمل رسول اور اصحاب رسول کے زمانے میں شروع ہوا- تدریجی عمل (gradual process) کے تحت وہ تاریخ میں سفر کرتا رہا- مختلف مراحل سے گزرتے ہوئے یہ عمل یورپ میں پہنچا- اہل یوروپ نے اس میں مزید اضافے کئے- یہاں تک کہ مذہبی آزادی کا مطلوب نظام اپنی آخری صورت میں قائم ہوگیا- دنیا میں مذہبی آزادی کا دور لانے کے معاملے میں اہلِ یوروپ کارول تکمیلی رول کی حیثیت رکھتا ہے-
موجودہ زمانے کے مسلمانوں کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ تاریخ کے اس واقعے کو سمجھیں، وہ اہلِ مغرب کے خلاف اپنے منفی ذہن (negative thinking)کو مکمل طورپر ختم کردیں، اس معاملے میں وہ اہلِ مغرب کے کنٹری بیوشن کا اعتراف کریں، وہ اہلِ مغرب سے رقابت کا تعلق ختم کردیں، اور اس کے بجائے دوستی کا طریقہ اختیار کریں، وہ اس معاملے میں اہلِ مغرب کو اپنا محسن سمجھیں-
مسلمانوں کے درمیان جب اس قسم کا مثبت ذہن پیدا ہوگا تو اس کے بعد یہ ہوگا کہ مسلمانوں کے اندر سے منفی ذہن کا مکمل خاتمہ ہوجائے گا، اور دعوت إلی اللہ کا فریضہ بخوبی طورپر انجام پانے لگے گا-مسلمانوں کو چاہئے کہ وہ اپنی قومی شکایتوں کو مکمل طورپر ختم کردیں- اس کے بعد ہی یہ ممکن ہوگا کہ مسلمان خدا کے قائم کردہ فطری نظام کو سمجھیں، اور پیدا شدہ مواقع کو استعمال کریں-
واپس اوپر جائیں

حمد اور کَبَد کے درمیان

قرآن میں ایک طرف حمد خداوندی کی تعلیم دی گئی ہے۔ دوسری طرف یہ بتایا گیا ہے کہ خدا کے تخلیقی نقشہ کے مطابق دنیا انسان کے لیے کبد (90:4) کی دنیا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ مسائل کے درمیان رہتے ہوئے خدا کاشکر کرنے والے بنو۔ناپسندیدہ حالات میں بھی تمہارا دل شکر الٰہی کے مثبت جذبات سے معمور رہے۔ حمد اللہ کی نسبت سے مطلوب ہے، اور صبر انسان کی نسبت سے۔
قرآن کے اس بیان کے مطابق، دنیا انسان کے لیے دارالکبد ہے۔ ایسی حالت میں، وہ کس طرح سچا شکر گزار بن کر رہ سکتا ہے۔ جواب یہ ہے کہ حمد اللہ کی نسبت سے ہے، اور کبد انسان کی نسبت سے۔ انسان سے اصل چیز جو مطلوب ہے، وہ حمد اور شکر ہے۔ دارالکبد میں انسان شکر گزار کیسے بنے۔ اس کا جواب صبر ہے۔ مومن کو انسان کی زیادتیوں پر صبر کرنا ہے تاکہ اس کے اندر شکر کی اسپرٹ باقی رہے، وہ ہرحال میں اپنے رب کے لیے شکر کا رسپانس دیتا رہے۔ دوسروں کے مقابلے میں صبر کرنا کوئی منفی بات نہیں۔ اس میں خود انسان کی اپنی بھلائی چھپی ہوئی ہے۔
جو شخص انسان کی زیادتیوں پر صبر کرے گا اس کے اندر ذہنی انضباط (intellectual discipline) کی صلاحیت پرورش پائے گی۔ اس کے اندر ذہنی بیداری آئے گی۔ وہ ایک سنجیدہ انسان بن جائے گا۔ اس کی فطرت میں چھپے ہوئے امکانات (potential) اَن فولڈ (unfold) ہونے لگیں گے۔ اس کے اندر گہری سوچ (deep thinking) پیدا ہوگی۔ اس طرح وہ اس قابل ہوجائے گا کہ اعلیٰ معرفت کی سطح پر جینے لگے۔ وہ ایک دانش مندانسان (man of wisdom) بن جائے گا۔
انسان کو چاہئے کہ وہ دنیا کے کبد (مسائل) پر ری ایکٹ (react) کرنے کے بجائے ان کے بارے میں آرٹ آف منیجمنٹ سیکھے۔ یہی وہ واحد قیمت ہے جس کو ادا کرکے انسان اس قابل ہو سکتا ہے کہ وہ دنیا میں اپنے خالق کی مرضی کے مطابق رہے، اور آخرت میں جنت میں داخلے کا مستحق قرار پائے۔
واپس اوپر جائیں

انسان کا امتحان

قرآن میں انسان کی تخلیق کے بارے میں بتایا گیاہے :لَقَدْ خَلَقْنَا الْاِنْسَانَ فِیْٓ اَحْسَنِ تَقْوِیْمٍ ۝ ثُمَّ رَدَدْنٰہُ اَسْفَلَ سٰفِلِیْنَ (95:4-5)۔ انسان کو احسنِ تقویم کے ساتھ پیدا کیا جانا اور پھراس کو اسفلِ سافلین میں ڈال دینا، کوئی سزا کی بات نہیں۔ یہ انسان کے بارے میں نظام تخلیق کی بات ہے۔ انسان اپنی تخلیق کے اعتبار سے لامحدود خواہشات کے ساتھ پیدا کیاگیا ہے۔ لیکن عملاً جس دنیا میں وہ زندگی گزارتا ہے، وہاں خواہشات کی صرف محدود تکمیل ممکن ہے۔ انسان اپنی پوری عمر انہی دو مختلف تقاضوں کے درمیان زندگی گزارتا ہے:
Life is a perpetual conflict between wanting more and receiving less.
انسان کے ساتھ یہ معاملہ اس کی اپنی بھلائی کے لئے کیاگیاہے۔ اس صورت حال کے نتیجہ میں انسان کے اندر ذہنی کش مکش (intellectual struggle) کی کیفیت پیدا ہوتی ہے۔ یہ انسان کی ترقی کے لئے بے حد اہم ہے۔ اس ذہنی کش مکش کا یہ نتیجہ ہے کہ انسان ذہنی جمود (intellectual stagnation) سے بچ جاتا ہے۔ انسان کے اندر مسلسل طورپر ذہنی ارتقا (intellectual development)کا عمل جاری رہتاہے۔ انسان کی ذہنی بیداری کا سفر کسی مقام پر نہیں رکتا۔ اس اعتبار سے یہ حالت ایک عظیم رحمت کی حیثیت رکھتی ہے۔انسان کی سب سے بڑی ضرورت یہ ہے کہ اس کے اندر تخلیقی فکر (creative thinking) پیدا ہو۔ یہ انسان کی سب سے بڑی صفت ہے۔ یہ صفت کبھی ہموار حالات میں پیدا نہیں ہوتی۔ اس کے لئے ضرورت ہوتی ہے کہ انسان عدم تشفی (dissatisfaction) کی صورت حال سے دوچار ہو۔ یہی وہ چیز ہے جو کسی انسان کو تخلیقی انسان بناتی ہے۔
اس معاملے کو قرآن میں انسان کا ابتلاء (test) کہا گیا ہے۔ یہ ابتلاء کسی منفی معنی میں نہیں ہے۔ بلکہ وہ کامل طور پر مثبت معنی میں ہے۔ وہ انسان کی بہتری کے لیے ہے۔ انسان اگر اس حقیقت کو جانے تو وہ ابتلاء کی صورت حال کا مثبت ذہن کے ساتھ استقبال کرے گا۔
واپس اوپر جائیں

شیطان سے حفاظت

ایک روایت حدیث کی مختلف کتابوں میں آئی ہے- مسند احمد کے الفاظ یہ ہیں: یا عمر فواللہ، إن لقیک الشیطان بفج قط، إلا أخذ فجا غیر فجک (مسند احمد، حدیث نمبر: 1624 ) یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اے عمر، خدا کی قسم، جب بھی شیطان تم سے کسی راستہ میں ملتا ہے، تو وہ تمھارے راستے کے بجائے دوسرا راستہ اختیار کرلیتاہے-
اس حدیث میں جو بات کہی گئی ہے، وہ کوئی پراسرار (mysterious) بات نہیں ہے، اور نہ وہ ایک شخص کی فضیلت کے معنی میں ہے- حقیقت یہ ہے کہ یہ ہر اس شخص کی بات ہے، جس کو شعوری ایمان حاصل ہو- یہ وہی ایمانی تجربہ ہے جس کو قرآن میں ان الفاظ میں بتایا گیا ہے- اِنَّ الَّذِیْنَ اتَّقَوْا اِذَا مَسَّہُمْ طٰۗىِٕفٌ مِّنَ الشَّیْطٰنِ تَذَکَّرُوْا فَاِذَا ہُمْ مُّبْصِرُوْنَ (7:201) یعنی جو لوگ ڈر رکھتے ہیں جب کبھی شیطان کے اثر سے کوئی برا خیال انھیں چھو جاتا ہے، تو وہ فوراً چونک پڑتے ہیں،اور پھر اسی وقت ان کو سوجھ آجاتی ہے-
قرآن کی اس آیت کے مطابق شیطان سے بچنے کا اصل راز تذکر ہے- تذکر کا مطلب ہے یاد کرنا(to remember) - مگر یہ یاد، سادہ طورپر صرف یاد کے معنی میں نہیں ہے- اس کا مطلب یہ ہے کہ آدمی اتنا زیادہ باشعور ہو کہ جب شیطان اس کے دل میں کوئی وسوسہ ڈالے، تو وہ فوراً اس کا تجزیہ (analysis) کرکے، اس کو بے اثر بنادے- حضرت عمر اپنی ذہنی بیداری کی بنا پر یہی کام کرتے تھے- دوسرے وہ تمام اہل ایمان بھی یہی کام کریں گے، جن کے اندر ذہنی ارتقا کے نتیجہ میں تجزیہ کی صلاحیت پیداہوچکی ہو- مثلاً اس نوعیت کاایک واقعہ یہ ہے - حضرت عمر خلیفہ کی حیثیت سے مدینہ میں اپنے مقام پر بیٹھے ہوئے تھے- اتنے میں ایک شخص (عیینہ بن الحصن) آیا- اس نے کہا: یا ابن الخطاب، فواللہ ما تعطینا الجزل ولا تحکم بیننا بالعدل- یعنی اے ابن خطاب، تم ہم کو نہ کچھ دیتے ہو، اور نہ ہمارے درمیان انصاف کرتے ہو- یہ سن کر حضرت عمر کو غصہ آگیا-انھوں نے اس کا قصد کیا (تاکہ اس کو سزا دے)- اس وقت حربن قیس نے کہا، اے امیر المومنین، اللہ نے قرآن میں فرمایا ہے کہ نادان سے اعراض کرو ( 7:199) اور یہ بلا شبہہ ایک نادان شخص ہے- یہ سن کر عمر رک گئے، اور انھوں نے عیینہ کے خلاف کچھ نہیں کیا(صحیح البخاری: 4642)
حضرت عمر قرآن کی مذکورہ آیت سن کر کیوں رک گئے- اس کا سبب یہ تھا کہ ان کے ذہن نے معاملہ پر ازسر نو غور کیا- پہلے وہ عیینہ کو ایک غلط انسان سمجھ کر، اس کے خلاف کارروائی کرنا چاہتے تھے- اب انھوں نے ازسرِ نو غور کیا، تو ان کی سمجھ میں آیا کہ یہ ایک نادان آدمی ہے، اور اس قابل ہے کہ اس سے اعراض کا معاملہ کیا جائے-
اس طرح کے معاملات دوسرے صحابہ اور تابعین کے بارے میں بھی کثرت سے کتابوں میں موجود ہیں- مثلاً ابوذر اور بلال دونوں صحابی تھے- ابو ذر کو کسی بات پر بلا ل پر غصہ آگیا- ان کی زبان سے نکلا، یا ابن السوداء (اے سیاہ فام ماں کے بیٹے)- رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات معلوم ہوئی تو آپ نے فرمایا: یا أباذر، إنک إمرء فیک جاہلیة(اے ابوذر، تمھارے اندر ابھی تک جاہلیت کا اثر موجود ہے)- ایک اور روایت میں ہے کہ آپ نے فرمایا کہ یہ لوگ تمھارے بھائی (اخوان) ہیں-یہ سن کر حضرت ابوذر کے اندر ندامت پیدا ہوئی- ان کو محسوس ہوا کہ میں اس معاملہ کو سیاہ فام اور سفید فام کا معاملہ سمجھتا تھا- لیکن حقیقت کے اعتبار سے یہ انسان کا معاملہ ہے- اورا نسان کے اعتبار سے دونوں برابر ہیں- پہلے اگر شیطان نے ان پر حملہ کیا تھا تو اب تذکر کے نتیجہ میں وہ شیطان کے اثر سے باہر آگئے-
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جو بات فرمائی، وہ عمر کی فضیلت کے طورپر نہ تھی، بلکہ آپ نے ایک شخص کے حوالے سے ایک اصولی بات بتائی- وہ یہ کہ اس دنیا میں ہر انسان شیطانی حملوں کی زد میں ہے- ہر انسان شیطانی وسوسہ کا شکار ہوتا ہے- اس مسئلہ کا حل یہ ہے کہ آدمی کا ایمانی شعور اتنا زیادہ بیدار ہو کہ جب بھی شیطان اس کے دل میں کوئی برا خیال ڈالے، تو وہ فوراً اس کا تجزیہ کرکے اپنے آپ کو اس کے اثر سے بچالے- مذکورہ حدیث میں راستہ بدلنے کی جو بات کہی گئی ہے، وہ انسان کی نسبت سے ہے، نہ کہ شیطان کی نسبت سے-
واپس اوپر جائیں

تیار ذہن کی اہمیت

کہاجاتاہے کہ سائنس میں جو دریافتیں ہوئی ہیں، وہ زیاہ تر اتفاقات کا نتیجہ ہیں- ریسرچ کے دوران کوئی اتفاقی واقعہ پیش آتاہے، اس سے ایک سائنس داں کا ذہن ایک امکان کی طرف منتقل ہوجاتاہے اور پھر اس پر مزید کام کرکے سائنس داں ایک حقیقت تک پہنچتاہے:
The role of chance in science, or luck in science, describes the ways that unexpected discoveries are made. Somewhere between 30% and 50% of all scientific discoveries are in some sense accidental.
Louis Pasteur said: “Luck favours the prepared mind”.
یہ بات جس طرح سائنس کے لیے درست ہے، اُسی طرح وہ دوسری دریافتوں کے لیے بھی درست ہے- مذہب میں بھی ایسے ہی ہوتاہے کہ ایک آدمی، جب اپنے آپ کو مطالعہ اور تدبر کے ذریعہ تیار کرتا ہے تو وہ اِس قابل ہوجاتاہے کہ کسی بات کے ظاہری معنی کے ساتھ اُس کے اندر چھپی ہوئی حکمت کو بھی جان لے- اس معاملہ کو قرآن میںتوسم کہاگیاہے- ایسا آدمی اِس قابل ہوتاہے کہ وہ معمولی باتوںسے غیر معمولی نتیجہ اخذ کرسکے-
اصل اہمیت یہ ہے کہ انسان مطالعہ اور مشاہدہ اور غوروفکر کے ذریعہ اپنے آپ کو ایک تیار ذہن بنائے- وہ اپنے اندر اخذ واستنباط کی صلاحیت پیدا کرے- وہ اپنی تفکیری صلاحیت کو مسلسل ترقی دیتا رہے- جو انسان ایسا کرے، وہ ایک تیار ذہن ہے- ایسے انسان کا دماغ، مقناطیس کی مانند ہوجائے گا- جب بھی کوئی ذرۂ معرفت اُس کے سامنے آئے گا، وہ فوراً اُس کو اخذ کرلے گا- یہی وہ انسان ہے، جس کو قرآن میں عارف انسان کہاگیاہے-
اصل یہ ہے کہ آدمی نے اپنے آپ کو مطالعہ اور غور و فکر کے ذریعے ایک تیار ذہن بنا رکھا ہو۔ جب ایسا ہوگا تو وہ معلوم کے درمیان نامعلوم کو جان لے گا، وہ ظاہر کے درمیان مخفی حقیقت کو دریافت کرلے گا۔
واپس اوپر جائیں

دو چہرے والا شخص

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: إن شر الناس ذوالوجہین الذی یأتی ہؤلاء بوجہٍ، وہؤلاء بوجہٍ (صحیح البخاری،حدیث نمبر: 7179) یعنی لوگوں میں سب سے برا شخص وہ ہے جو دو چہرے والا ہو، وہ کچھ لوگوں سے ایک چہرہ کے ساتھ ملے اور کچھ سے دوسرے چہرے کے ساتھ-
یہ وہی کردارہے، جس کو دوہرا معیار (double standard) کہاجاتا ہے- کوئی انسان ایسا رویہ کیوں اختیار کرتاہے- اِس کا سبب مفاد پرستی ہے-ایسے شخص کا اصل کنسرن (concern) یہ ہوتاہے کہ اس کا مادی مفاد مجروح نہ ہونے پائے- وہ ہر ایک سے فائدہ حاصل کرسکے- اس مقصد کے لیے وہ یہ طریقہ اختیار کرتاہے کہ لوگوں کے ساتھ اس طرح بات کرے کہ ہر ایک اُس کو اچھا سمجھے- کسی سے اُس کا بگاڑ نہ ہونے پائے- یہی مزاج اُس آدمی کو دوہرا معیار والا شخص بنادیتاہے-
اِس قسم کا طریقہ اختیار کرنے کے بعد اُس کو یہ وقتی فائدہ تو حاصل ہوتا ہے کہ وہ ہر ایک کی نظر میںاچھا انسان بن جاتا ہے، لیکن اِس طریقہ کا شدید تر نقصان یہ ہوتا ہے کہ اُس کی زندگی کا کوئی اصول نہیں ہوتا- اُس کے اندر وہ برائی پیدا ہوجاتی ہے، جس کو بے اصولی کی روش (unprincipled behaviour)کہا جاتاہے- یہی وہ کردار ہے، جس کو شریعت کی زبان میں منافق کہاگیاہے-
منافقانہ روش کادوسرا نقصان یہ ہوتاہے کہ ایسے آدمی کے اندر ذہنی ارتقا (intellectual development)کا عمل رک جاتا ہے- خالق نے اس کی فطرت میں جو ارتقائی امکانات رکھے ہیں، وہ سب کے سب بند پڑے رہتے ہیں، وہ اپنا ظہور نہیں پاتے- یہاں تک کہ ایسا انسان دھیرے دھیرے حیوان بشکل انسان بن کر رہ جاتا ہے- وہ بظاہر خوبصورت الفاظ بولتا ہے، لیکن وہ اعلی کیریکٹر سے یکسر محروم ہوتا ہے-
واپس اوپر جائیں

ہجرت ایک تدبیر

پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت مکہ میں ہوئی- تیرہ سال کے بعد آپ نے مکہ سے مدینہ کی طرف ہجرت کی- ہجرت کا لفظی مطلب ہے، ایک مقام کو چھوڑ کر دوسرے مقام پر جانا- اسلام کے دورِ اول کی تاریخ میںہجرت کوئی پراسرار واقعہ نہ تھا- یہ حالات کے پیش نظر ایک تدبیر کا معاملہ تھا، جو نتیجہ کے پہلو سے نہایت کامیاب ہوا-
ہجرت اپنی حقیقت کے اعتبار سے مقام عمل کو بدلنے کا نام ہے- اسلام کا اصل مشن دعوت الی اللہ ہے- اصولی اعتبار سے اسلام کا مشن ہمیشہ ایک رہے گا- لیکن تدبیر کا تعلق حالات سے ہوتا ہے- اس لئے داعی کو یہ کرنا ہوتا ہے کہ وہ کھلے ذہن کے ساتھ حالات کا مطالعہ کرے، وہ ہر قسم کی جذباتیت سے الگ ہو کر وقت کی صورت حال کا گہرا جائزہ لے۔ اس کے بعد حالات کے اعتبار سے دعوت کا ایسا منصوبہ بنائے جو اپنے مقصد کے اعتبار سے زیادہ موثر ہونے والا ہو-
تدبیر کی مختلف صورتیں ہیں، مثلاً پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی دعوتی جدوجہد کے آغاز میں تین سال تک دعوت کا کام انفرادی ملاقاتوں کے انداز میں کیا، یہ ایک تدبیر کا معاملہ تھا- اس زمانے میں کعبہ کے اندر تین سو ساٹھ بت رکھے ہوئے تھے، آپ نے بتوں کی موجودگی کو نظر انداز کرکے ان کے زائرین کے درمیان پر امن دعوت کا کام کیا- مکہ میں مخالفت بڑھی تو آپ نے اپنے مقام کو بدلا، اور مکہ سے تقریباً تین سو میل دور مدینہ کو اپنی دعوت کا مرکز بنایا- حدیبیہ کے موقع پر آپ نے ٹکراؤ کا طریقہ چھوڑ کر مدینہ واپسی کا فیصلہ کیا، وغیرہ-
یہ سب تدبیر کے واقعات تھے- تدبیر دراصل حکیمانہ منصوبہ بندی کا دوسرا نام ہے- دعوت کے لئے نظری اعتبار سے سب سے زیادہ اہمیت توحید کی ہے- اور عملی اعتبار سے سب سے زیادہ اہمیت حکیمانہ تدبیر کی- ان دونوں پہلوؤں کی کامل رعایت کا نام کامیاب دعوت ہے-ہجرت اپنے وسیع تر معنی میں اسی حکیمانہ اصول کا نام ہے۔
واپس اوپر جائیں

فرشتوں کی نگرانی

خراسان کے مشہور عالم حدیث ابو القاسم ابراہیم النصر آبادی(وفات: 369ھ) نے حج کا قصد کیا تو ان کے شاگرد ابو عبد الرحمن السُلمی (وفات: 412) نے بھی ان کے ساتھ سفر حج پر جانے کا ارادہ کیا، اس وقت ان کی ماں نے اپنے بیٹے کو نصیحت کرتے ہوئے یہ الفاظ کہے: توجہتَ إلى بیت اللہ، فلا یکتبن علیک حافظاک شیئاً، تستحی منہ غدا (سیر أعلام النبلاء: 17/249)یعنی تم نے بیت اللہ جانے کا قصد کیا ہے تو ہرگز ایسا نہ ہو کہ تمھارے دونوں محافظ فرشتے تمھارے بارے میں کوئی ایسی بات لکھیں، جس پر تم کوکل شرمندہ ہونا پڑے-
حج کی عبادت کے دوران آدمی بہت سے لوگوں کے درمیان ہوتا ہے، لوگوں سے ملنے جلنے کے دوران طرح طرح کے موافق وغیر موافق معاملات پیش آتے ہیں- اس لئے اس کا امکان رہتا ہے کہ حاجی سے اس طرح کی اخلاقی برائیاں سرزد ہوں جس کو قرآن میں فَلَا رَفَثَ وَلَا فُسُوْقَ ۙوَلَا جِدَالَ فِی الْحَجِّ (البقرة: 199) کے الفاظ میں بیان کیاگیا ہے- ایسے موقع پر برائی سے بچنے کی صورت صرف ایک ہے- وہ یہ کہ آدمی جو کچھ بولے، یا جو معاملہ کرے، وہ یہ سوچ کرکر ے کہ بظاہر اگرچہ جو کچھ وہ کررہا ہے، انسان کے ساتھ کررہا ہے، لیکن آخر کار اس کا سارا معاملہ اللہ کے سامنے پیش ہونے والا ہے-یہ سوچ آدمی کے اندر شدید قسم کی جواب دہی کا احساس پیدا کرے گی-
یہ معاملہ صرف سفر حج کا نہیں ہے، بلکہ اس کا تعلق انسان کی پوری زندگی سے ہے، روز مرہ کی زندگی میں آدمی روزانہ دوسروں کے ساتھ ہوتا ہے- اس اجتماعی زندگی کے دوران کبھی وہ کچھ بولتا ہے، کبھی وہ کسی سے کچھ معاملہ کرتا ہے، اس دوران اس کو چاہئے کہ بظاہر اگر وہ انسان سے معاملہ کررہا ہے مگر یہ سوچ کر کہ اس کے پورے قول وعمل کا ریکارڈ فرشتے تیار کررہے ہیں،اور یہ ریکارڈ آخر کار اللہ رب العالمین کے سامنے پیش ہونے والا ہے،جو آدمی اس سوچ کے ساتھ دنیا میں رہے اس کی پوری زندگی درست زندگی بن جائے گی-
واپس اوپر جائیں

توسط اور اعتدال

ایک حدیث رسول ان الفاظ میں آئی ہے: خیر الأمور أوساطہا (شعب الإیمان للبیہقی، حدیث نمبر 5819) یعنی معاملات میں سب سے اچھا طریقہ، بیچ کا طریقہ ہے- اس حدیث میں امور سے مراد عملی معاملات ہیں، نہ کہ نظریاتی معاملات- جہاں تک نظریہ کی بات ہے، اس میں ہمیشہ توحد مطلوب ہوتا ہے، اور عملی معاملات میں تعدد کا طریقہ درست ہے-
نظریہ کا تعلق آدمی کے یقین سے ہوتاہے- نظریہ کے معاملہ میں ضروری ہے کہ آدمی اس کو یقین کے ساتھ اختیار کرے، اور یقین ہمیشہ اس وقت حاصل ہوتا ہے، جب کہ آدمی کسی ایک بات کو واحد طور پر درست بات مانے- اگر آدمی کئی باتوں کو یکساں طورپر درست سمجھے، تو اس سے آدمی کے اندر یقین کی کیفیت پیدا نہیں ہوسکتی، جب کہ سچائی کے ساتھ یقین ضروری ہے- لیکن عملی معاملات کا تعلق اجتماعی زندگی سے ہوتا ہے- اجتماعی زندگی میں اگر توحد کا طریقہ اختیار کیا جائے تو اس سے ٹکراؤ پیداہوگا- اس لئے اجتماعی معاملات میں درست بات یہ ہے کہ مختلف لوگوں کے مزاج کو ملحوظ رکھتے ہوئے، کوئی ایسا درمیانی طریقہ اختیار کیا جائے، جس میں ٹکراؤ کے بغیر کام کیا جاسکتا ہو-
جہاں تک عبادت کےطریقے میں اختلاف کا معاملہ ہے، ان میں بھی تعدد کا طریقہ اختیار کیا جائے گا- کیونکہ اصحاب رسول کے یہاں طریقۂ عبادت میں فرق پایا جاتا تھا- اس فرق یا اختلاف کے معاملہ میں فقہاء نے ترجیح کا اصول اختیار کرکے، ایک طریقہ متعین کرنے کی کوشش کی- مگر یہ درست نہیں-
اس معاملہ میں درست بات یہ ہے کہ عبادت کے طریقوں میں صحابہ کے اختلاف کو تنوع (diversity) پر محمول کیا جائے اور صحابہ سے ثابت شدہ ہر طریقہ کو یکساں طورپر درست مانا جائے- ہر ایک کو یہ اختیار ہو کہ وہ جس صحابی کے طریقہ کی چاہے پیروی کرے- جیساکہ حدیث میں آیا ہے : أصحابی کالنجوم فبأیہم اقتدیتم اہتدیتم (مشکاة المصابیح، حدیث نمبر6018)-
واپس اوپر جائیں

راستہ بدلنا

سیرتِ رسول کی کتابوں میںایک واقعہ آتا ہے- رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حدیبیہ کے سفر میں مدینہ سے نکلے، درمیان میں معلوم ہوا کہ فریق مخالف کے ایک سردار ایک فوجی دستہ کے ساتھ مقابل سمت سے آرہے ہیں- آپ نے چاہا کہ دونوں گروہوں میں ٹکراؤ نہ ہو- چنانچہ آپ نے اپنے اصحاب کو مخاطب کرتے ہوئے کہا: من رجل یخرج بنا على طریق غیرطریقہم التی ہم بہا (ابن ہشام: 4/276) تم میں سے کون شخص ہے جو ہم کو ایک ایسے راستے سے لے جائے جو ان لوگوں کے راستے سے مختلف ہو- حاضرین میں سے ایک شخص نے کہا کہ میں ایسا کرسکتاہوں- چنانچہ رسول اللہ اور آپ کے اصحاب اس بدلے ہوئے راستے سے آگے چلے گئے اور دونوں گروہوں کے درمیان ٹکراؤ پیش نہیں آیا-
اس سے معلوم ہوا کہ ٹکراؤ سے بچنے کے لئے راستہ بدلنا بھی ایک سنت ہے- مثلاً دو جلوس ایک ہی راستے پر آمنے سامنے سے آرہے ہوں تو رسول اللہ کی سنت پر چلنے والا وہ ہے، جو ٹکراؤ سے بچنے کے لئے اپنا راستہ (route) بدل دے-
اسی طرح اگر کسی جگہ دوگروہ ہوں، ان میں سے ایک گروہ سیاست کے راستے پر چل رہا ہوتو دوسرے گروہ کو چاہئے کہ وہ پر امن دعوت کے راستے پر چلے تاکہ دونوں گروہوں کے درمیان ٹکراؤ پیش نہ آئے- اسی طرح زندگی کے مختلف راستے ہیں، اور کام کرنے کے مختلف طریقے ہیں- جب بھی ایسا ہو کہ لوگ دو گروہوں میں بٹ جائیں تو دونوں میں سے وہ گروہ پیغمبر کے نمونے پر قائم ہے، جو اپنے طریقے میں ایسی تبدیلی کرے، جس سے دونوں گروہوں کے درمیان ٹکراؤ کا امکان ختم ہوجائے- یہ راستہ بدلنے کی سنت ہے- یہ اجتماعی زندگی میں ٹکراؤ سے بچنے کافطری طریقہ ہے-اس سنت رسول کی حکمت یہ ہے کہ مقصد کی طرف سفر میں کوئی رکاوٹ واقع نہ ہو، اور کسی تاخیر کے بغیر اصل مقصد کی طرف سفر بدستور جاری رہے۔
واپس اوپر جائیں

اسلامائزیشن آف نان اسلام

موجودہ زمانے میں بہت سی بدعتیں رائج ہیں- بدعت کیا ہے، بدعت دراصل غیر اسلام کو اسلامی بنانے کا دوسرا نام ہے:
Bid‘a: Islamization of non-Islam
بدعت کے نام سے لوگ صرف کچھ معروف بدعتوں کو جانتے ہیں، مگر ان معروف بدعتوں کے سوا اور بھی بہت سی بدعتیں ہیں جوموجودہ زمانے میں شاندار طورپر مسلمانوں کے درمیان رائج ہیں، جن کو ماڈرن بدعت کہاجاسکتا ہے- ان ماڈرن بدعتوں کا ارتکاب مسٹر اور مولوی دونوں قسم کے لوگ یکساں طورپر کررہے ہیں- بدعت کی کوئی لگی بندھی فہرست نہیں بنائی جاسکتی۔
ماڈرن بدعتیں کیا ہے- وہ ہیں— آؤٹنگ، شاپنگ، فیملی فنکشن، میرج سریمنی، افطار پارٹی، عید ملن، جشن شب قدر، خِطبہ(engagement) سریمنی، نکاح سریمنی، ولیمہ سریمنی، وغیرہ-
بدعت کا لفظی مطلب نئی چیز (innovation) ہے- یعنی دین میں کوئی نئی بات نکالنا- اسلام میں رسول اور اصحاب رسول کو نمونہ (model) کا درجہ حاصل ہے- بعد کے زمانے میں مسلمانوں کی روش کو اسی ماڈل سے جانچا جائے گا- جو طریقہ رسول اور اصحابِ رسول کے مطابق ہو، وہ سنت ہے، اور جو طریقہ رسول اور اصحاب کے نمونے کے مطابق نہ ہو، وہ بدعت ہےاور بدعت کو حدیث میں ضلالت (صحیح مسلم، حدیث نمبر:867) کہاگیا ہے-
کچھ لوگ جب کسی نئی چیز کو اسلام میں داخل کریں تو ان کو ضرورت ہوتی ہے کہ وہ اس کے جواز (justification)کے لئے کسی آیت یا حدیث کا حوالہ دیں- ایسے لوگ آیت یا حدیث کی غلط تشریح کرکے اس سے اپنے طریقے کو جائز ثابت کرتے ہیں- یہ طریقہ غلطی پر سرکشی کا اضافہ ہے، یعنی ایک غلط کام کرنا اور پھر قرآن وحدیث کی غلط تاویل کرکے اس کو صحیح ثابت کرنا-بدعت دراصل نان اسلام کو اسلامائز کرنے کا دوسرا نام ہے۔
واپس اوپر جائیں

شعور پر لاشعور غالب

انسان کا دماغ ایک بے حد پیچیدہ مشین ہے- اس کے مختلف پہلو ہیں- اس کا ایک نازک پہلو یہ ہے کہ اگر کوئی چیز انسان کے لاشعور (unconscious mind) میں داخل ہوجائے تو وہ انسان کے شعور (کانشش مائنڈ) پر غالب آجاتی ہے- ایسی چیز کو انسان بلا ارادہ دہراتا رہتا ہے- اگر وہ اپنے شعور کو بیدار کرکے اس کو روکنا چاہے تو صرف وقتی طورپر شعور اس کے اوپر موثر ہوگا- جیسے ہی شعور میں کوئی دوسری بات آئی فوراً لاشعور اپنا کام کرنے لگے گا-
انسان کو چاہئے کہ وہ ہر وقت اپنا سخت محاسبہ کرتا رہے- وہ کوشش کرے کہ وہ کسی چیز کا اتنا عادی نہ بنے کہ وہ اس کے لاشعور کا حصہ بن جائے- کیوں کہ ایسا ہوتے ہی وہ انسان کے شعور کی پکڑ سے باہر ہوجائے گا- انسان غلطی کرے گا اور وہ یہ بھی نہ جانے گا کہ وہ غلطی کررہا ہے-
قرآن میں بتایا گیاہے کہ تم ایسے اعمال سے بچو جن کے کرنے سے تمھارے اعمال حبط ہوجائیں، حالانکہ تم کو اس کا شعور بھی نہ ہو (49:2) -اس کا تقاضا ہے کہ انسان ہر وقت اپنا محاسبہ کرتا رہے- وہ اس بات کی بہت زیادہ کوشش کرے کہ کوئی غلط عادت اس پر اتنی زیادہ نہ چھا جائے کہ وہ اس کے لاشعور کا حصہ بن جائے- کیونکہ ایساہونے کے بعد وہ غلط کام کرے گا جب کہ وہ شعوری طورپر یہ بھی نہ جانے گا کہ وہ غلط کام کررہا ہے- لیکن آیت کے مطابق لاشعور کے تحت غلط کام کرنا بھی قابل مواخذہ ہے- اس لئے آدمی کو اس معاملہ میں بہت زیادہ چوکنا ہونا چاہئے-
لاشعور کے تحت کیا ہوا عمل بھی کیوں قابل مواخذہ ہے، یہ بات نتیجہ کے اعتبار سے کہی گئی ہے- آپ اپنے لاشعور کے تحت غلطی کریں، تب بھی اس کا نتیجہ غلط ہی نکلے گا- ایسا نہیں ہوسکتا کہ لاشعور کے تحت کی ہوئی غلطی اپنا نتیجہ ظاہر نہ کرے- ایسی حالت میں انسان کو چاہئے کہ وہ اپنے ہر عمل سے پہلے سوچے، اور اس کے بعد عمل کرے-ایسی حالت میں ضروری ہے کہ انسان اپنے عمل کے بارے میں آخری حد تک حساس بن جائے۔
واپس اوپر جائیں

یتیم کی کفالت

یتیم کی کفالت ایک ایسا عمل ہے جس کو اسلام میں بہت بڑا درجہ دیا گیا ہے۔یتیم کی کفالت آدمی کو جنت کا مستحق بناتی ہے۔یتیم کی کفالت کے بارے میں کئی روایتیں حدیث کی کتابوں میں آئی ہیں۔ ان میں سے ایک روایت یہ ہے: عن سہل بن سعد، عن النبی صلى اللہ علیہ وسلم قال: "أنا وکافل الیتیم فی الجنة ہکذا" وقال بإصبعیہ السبابة والوسطى (صحیح البخاری: 6005) یعنی سہل بن سعد روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا،میں اور یتیم کی کفالت کرنے والا، جنت میں اس طرح قریب ہوں گے، جیسے میرے ہاتھ کی دو انگلیاں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جو شخص یتیم کی کفالت کرے اس کو جنت میں پیغمبرسے قربت کا درجہ ملے گا۔
کَفالت کا مطلب ہے، نان نفقہ کی ذمے داری (to provide support) ۔ یعنی کوئی بچہ یتیم ہوجائے تو اس کی خبر گیری کرنا، اس کی ضروریاتِ زندگی کا ضامن بن جانا، اس کی تعلیم اور اس کے اقتصادیات کا انتظام کرنا، وغیرہ۔
اسلام کے مطابق، یتیم کی کفالت ایک اعلی اخلاقی اصول ہے۔ جب ایک بچہ اپنے فطری سرپرست سے محروم ہوجائےتو اس کے رشتہ داروں اور اس کے جاننے والوں اور حکومت کا یہ فرض ہوجاتا ہے کہ وہ اس کا سہارا بنیں۔وہ اس کو اس قابل بنائیں کہ وہ بڑا ہوکر خود کفیل زندگی گزارنے کے قابل ہوجائے۔وہ دوسرے لوگوں کی طرح باعزت زندگی گزارنے لگے۔
اسلامی نقطۂ نظر سے یہ صرف ایک اخلاق کا معاملہ نہیں ، بلکہ وہ خود اپنے لیے عمل کی زبان میں ایک دعا ہے۔ جس آدمی کو یتیم پر رحم آئے، اور وہ اس کا سپورٹر بن جائے۔ وہ گویا عمل کی زبان میں یہ دعا کر رہا ہے کہ خدایا، آخرت کے دن مَیں اسی طرح ایک تنہا انسان بن جاؤں گا، میرے تمام دنیوی سہارے مجھ سے چھوٹ جائیں گے، اس وقت تو میری مدد فرما، اپنی رحمت کے ذریعے مجھ کو آخرت کے دور میں جنتی زندگی عطا فرما۔ اسلامی عقیدہ کفالت کے معاملے کو ایک ذاتی محرک (incentive)عطا کرتا ہے۔
واپس اوپر جائیں

پیغمبر ِ اسلام کی سنت

پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کا مشن توحید کا مشن تھا۔ آپ نے اپنے مشن کا آغاز 610 عیسوی میں مکہ میں کیا۔ 632 عیسوی میں مدینہ میں آپ کی وفات ہوئی۔ سیرت کا مطالعہ بتاتا ہے کہ پیغمبر ِاسلام کو اس دوران باربار مسائل (problems) پیش آئے۔ آپ نے ہمیشہ اس اصول پر عمل کیا جس کو قرآن میں ان الفاظ میں بتایا گیا تھا— رجز کو چھوڑو، اور انذار (دعوت) کا پیس فل مشن جاری رکھو(المدثر: 5-2)۔ رسول اللہ کی اس پالیسی کو حضرت عائشہ نے اپنے الفاظ میں اس طرح بیان کیا ہے: ما خیر النبی صلى اللہ علیہ وسلم بین أمرین إلا اختار أیسرہما (صحیح البخاری، حدیث : 6786) یعنی رسول اللہ کو جب بھی دو میں سے ایک کا انتخاب کرنا ہوتا تو آپ ہمیشہ دونوں میں سے آسان کا انتخاب کرتے۔ دوسرے الفاظ میں آپ کا مستقل اصول یہ تھا کہ مسائل کو نظر انداز کرو، اور مواقع کو استعمال کرو۔
Ignore the problems, avail the opportunities
اس پیغمبرانہ طریقے کی چند مثالیں یہ ہیں۔ مکی دور میں کعبہ کی عمارت میں 360 بت رکھے ہوئے تھے۔ آپ نے ان بتوں سے عملاً کوئی تعرض نہیں کیا۔ بلکہ وہاں جو لوگ ملتے تھے ان کو آپ توحید کا پرامن پیغام پیش کرتے رہے۔ قریش نے آپ کے خلاف مقاطعہ (boycott) کا فیصلہ کیا تو آپ نے قریش سے ٹکراؤ نہیں کیا، بلکہ مقاطعہ کے فیصلے کو قبول کرتے ہوئے پرامن طور پر شعبِ ابی طالب میں چلے گیے۔ اہل مکہ نے آپ کو مجبور کیا کہ آپ مکہ چھوڑ دیںتو آپ نے اہل مکہ سے جنگ نہیں کی بلکہ ہجرت کرکے پرامن طور پر مدینہ چلے گیے۔ حدیبیہ کے موقع پر مکہ کے سرداروں نے آپ کو اس سے روکا کہ آپ مکہ جاکر عمرہ کریں، آپ نے اس موقع پر ان سے ٹکراؤ نہیں کیا بلکہ حدیبیہ سے واپس ہوکر مدینہ چلے گیے، وغیرہ۔
اسی کے ساتھ پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں کچھ اور مثالیں ہیں۔ مثلاًبدر کے موقعے پر آپ نے قریش سے قتال کیا، احد کے موقعے پر آپ نے اہل مکہ سے جنگ کی ، حنین کے موقع پر آپ نے قبیلۂ ہوازن سے جنگی مقابلہ کیا، وغیرہ۔
تاریخ بتاتی ہے کہ بعد کے زمانے کے مسلم علماء اور مسلم رہنماؤ ں نے کبھی اس سنت رسول پر عمل نہیں کیا۔ انھوں نے کبھی ایسا نہیں کیا کہ مسائل کو نظر انداز کریں، اور مواقع کو استعمال کرتے ہوئے دعوت الی اللہ کا کام کریں۔ گویا بعد کے زمانے میں ہر بار انھوں نے اختیار ایسر (easier option) کے بجائے اختیار اعسر (harder option) کے طریقے پر عمل کیا۔
مثلا موجودہ زمانے میں نوآبادیات (colonialism)کا مسئلہ پیدا ہوا۔ یہاں پر دوبارہ یہ امکان تھا کہ مسلم علماء اور مسلم رہنما ٹکراؤ کے بجائے پرامن دعوت کے طریقے پر عمل کریں، مگر انھوں نے ایسا نہیں کیا۔ اسی طرح صہیونیت (Zionism) کا مسئلہ پیدا، اور 1948 میں فلسطین کے نصف حصے پر اسرائیل کی حکومت قائم ہوگئی۔ یہاں بھی مسلم رہنماؤں کے لیے یہ موقع تھا کہ وہ مسئلے کو نظر انداز کرتے ہوئے پرامن دعوت کا کام کریں۔مگر تمام مسلم رہنما خواہ وہ عرب ہوں یا نان عرب، سب نے متفقہ طور پر اسرائیل کے معاملے میں ٹکراؤکا طریقہ اختیار کیا۔ اس معاملے میں وہ اس انتہا تک پہنچ گیے کہ خود کش بمباری (suicide bombing )کو جائز ٹھہرادیا، وغیرہ۔
اس فرق کا سبب کیا ہے۔ اس فرق کا سبب وہی ہے جس کو مختلف حدیثوں میں پیشگی طور پر بتادیا گیا تھا۔ وہ یہ کہ امت مسلمہ بعد کے زمانےمیں انحراف کا شکار ہوجائے گی۔ امت مسلمہ کا یہ بگاڑ اس نوبت تک پہنچ جائے گا کہ اصل دین امت کے اندر غریب (صحیح مسلم، حدیث نمبر145)ہوجائے گا۔ یعنی اصل دین لوگوں کے درمیان اجنبی دین بن جائے گا، اور خود ساختہ دین لوگوں کے درمیان معروف دین کی حیثیت اختیار کر لے گا۔
بعد کے زمانے میں پیش آنے والا ظاہرہ اسی صورتِ حال کا نتیجہ ہے۔ اصل یہ ہے کہ بعد کے زمانے میں پیش آنے والے حالات کے نتیجے میںامت کے اندر دین کا نشانہ بدل گیا۔ حالات کے زیرِ اثر انھوں نے یہ سمجھ لیا کہ امتِ مسلمہ کا مشن یہ ہے کہ وہ امت کا سیاسی غلبہ زمین پر قائم کریں۔ وہ ہر جگہ دوسری قوموں کو مغلوب کرکے اپنے آپ کو سیاسی طور پر غالب کریں۔ اس عمل کو انھوں نے اجتہادی خطا کے طور پر خلافت یا اسلامی حکومت کا نام دے دیا۔ حالاں کہ یہ مشن تمام تر ایک قومی مشن تھا۔ اس کا دینِ اسلام سے کوئی تعلق نہ تھا۔ امت مسلمہ کا مستقل مشن قرآن کے مطابق شہادت علی الناس (2:143) ہے۔ اس مشن میں ساری اہمیت پر امن جدو جہد کی تھی۔ اس مشن کا جنگ و قتال سے کوئی تعلق نہ تھا۔ اس مشن کا تقاضا تھا کہ اہل ایمان مسائل کو نظر انداز کریں اور پرامن طور پر دعوت الی اللہ کا کام جاری رکھیں۔
مگر جب ایسا ہوا کہ بعد کے حالات کے نتیجے میں مسلم رہنماؤں نے سیاسی اقتدار کو اپنا نشانہ بنالیاتو اس کے فطری تقاضے کے تحت ایسا ہوا کہ وہ قوموں سے جنگ و قتال کے عمل میں مصروف ہوگیے۔ انھوں نے جہاد کی خودساختہ تشریح کرکے اپنے متشدادانہ طریقۂ کار کو غلط طور پر جہاد کا نام دے دیا۔ حالاں کہ جہاد قرآن میں پرامن جدوجہد کا نام (25:52)ہےنہ کہ متشدادانہ ٹکراؤ کا۔
مسلم علماء اور مسلم رہنما ؤںکے اندر اگر پیغمبرانہ مزاج ہوتا، اور وہ غیر متاثر ذہن کے تحت قرآن و سنت کا مطالعہ کرتے تو وہ یقینا جان لیتے کہ پیغمبرِ اسلام کا مستقل مشن صرف ایک تھا، اور وہ پرامن دعوت الی اللہ ۔ پر امن دعوت آپ کی زندگی کا حقیقی حصہ (real part) تھا، اور آپ کی زندگی میں چند بار جو جنگ و قتال کا مرحلہ پیش آیا وہ آپ کی زندگی کا اضافی حصہ (relative part)تھا۔
واپس اوپر جائیں

نظر کی خریداری

ایک صاحب مجھ کو اپنے گھر لے گیے۔ میں نے دیکھا کہ ان کا گھر مختلف قسم کے سامانوں سے بھرا ہوا ہے۔ پورا گھر ایک ڈیپارٹمنٹل اسٹور معلوم ہوتا تھا۔ میں نے پوچھا کہ آپ کے گھر میں اتنا زیادہ سامان کیوں ہے۔ انھوں نے کہا کہ جب میں بازار جاتا ہوں اور وہاں میں کسی چیز کو دیکھتا ہوں، وہ مجھ کو پسند آجاتی ہے تو میں اس کو خرید لیتا ہوں۔ یہ نظر کی خریداری ہے۔ اکثر لوگوں کا حال یہی ہے کہ وہ چیزوں کو دیکھ کر خریدتے ہیں، خواہ وہ ان کے استعمال میں آنے والی ہوں یا نہ ہوں۔
خریداری کی دو قسمیں ہیں— نظر کی خریداری اور ضرورت کی خریداری۔ نظر کی خریداری وہ ہے جو دیکھ کر کی جائے۔اس کے برعکس، ضرورت کی خریداری یہ ہے کہ آپ کو ایک چیز کی ضرورت ہو ، اس کو حاصل کرنے کے ارادے سے آپ گھر سے نکلیں اور جہاں وہ چیز ملتی ہو، وہاں جاکر اس کو خرید لیں۔
نظر کی خریداری دوسرے الفاظ میں بے مقصد خریداری ہے۔ وہ اپنے وقت اور اپنے مال کو ضائع کرنے کے ہم معنی ہے۔ یہ وہی چیز ہے جس کو قرآن میں مال کی تبذیر (17:26) بتایا گیا ہے۔ یعنی مال کو بلاضرورت بکھیرنا۔ ضرورت کی خریداری ایک ذمہ دارانہ فعل ہے، اور نظر کی خریداری ایک غیر ذمہ دارانہ فعل ۔
کسی مرد یا عورت کے پاس جو مال ہے، وہ اللہ کا دیا ہوا ہے، وہ اللہ کی ایک امانت ہے۔ جو عورت یا مرد مال کومسرفانہ طور پر خرچ کریں، وہ خدا کی دی ہوئی امانت میں خیانت کرتے ہیں۔ وہ ایک ایسا کام کرتے ہیں، جس کے لیے آخرت میں ان کی سخت پکڑ ہوگی۔ مال کو جائز ضرورت پر خرچ کرنا ثواب کا کام ہے۔
اس کے برعکس، اگر مال کو غیر ضروری مدوں میں خرچ کیا جائے تو وہ خرچ کرنے والے کے لیے ایک گناہ بن جاتا ہے۔ مال کو خرچ کرنے کے معاملے میں انسان کو بہت زیادہ محتاط ہونا چاہئے۔
واپس اوپر جائیں

حقیقت پسندانہ سوچ

دنیا میں جو برائیاں (evils) ہیںان سب کا سبب صرف ایک ہے- اور وہ ہے لوگوں میں اَیز اِٹ از تھنکنگ (as it is thinking) کا نہ ہونا- غصہ، نفرت، انتقام، عدم برداشت، تشدد وغیرہ سب کی اصل جڑ یہی ہے- ایز اٹ از تھنکنگ کا مطلب ہے مبنی بر حقیقت سوچ-
غور کیا جائے تو یہی وہ چیز ہے جس کو شیطان کا کلچر (satanic culture) کہاگیا ہے- شیطان یا ابلیس جنوں کا سردار تھا- پیدائش آدم کے وقت اس نے یہ اعتراض اٹھایا کہ خدا نے انسان کو خلیفة الارض بنادیا اور جنات کو کچھ نہیں دیا- یہ انتخابی طرز فکر کی پہلی مثال تھی- جن کو جو اختیارات دیے گئے تھے اس کے لحاظ سے گویا وہ خلیفة الکون تھا- مگر ابلیس نے یہ کیا کہ جو کچھ اس کو ملا ہوا تھا، اس کا اعتراف نہیں کیا، اور جو کچھ انسان کو دیاگیا تھا اسی کا ذکر یک طرفہ طورپر کیا- اسی یک طرفہ طرز فکر سے ساری برائیاں پیداہوئیں- ابلیس کا یہی کلچر آج تک ساری دنیا میں جاری ہے-
سارے انسانوں کی مشترک برائی بتانا ہو تو وہ صرف ایک ہوگی- اوروہ انتخابی سوچ (selective thinking) ہے- ہر عورت اور مرد یہ کرتے ہیں کہ اپنے بارے میں ایک ڈھنگ سے سوچتے ہیں، اور دوسرے کے بارے میں دوسرے ڈھنگ سے- اپنے آپ کو ایک معیار سے جانچتے ہیں، اور دوسرے کو دوسرے معیار سے- اپنی پسند کے لوگوں کا ذکر کرنا ہو تو وہ ان کی صرف اچھائیاں بیان کریں گے، اور اگر ان لوگوں کا ذکر کرنا ہو جو انھیں پسند نہیں ہیں تو ان کی صرف برائیاں بیان کریں گے- ایک قوم کے بارے میں وہ منفی رپورٹنگ (negative reporting) کریں گے، اور دوسری قوم کے بارے میں صرف مثبت رپورٹنگ (positive reporting)- ایک گروہ ان کو ظالم نظر آئے گا اور دوسرا گروہ مظلوم دکھائی دے گا- ایک کے لئے ان کے دل میں صرف نفرت ہوگی، اور دوسرے کے لئے صرف محبت — یہی وہ چیز ہے جس نے لوگوں کو حقیقت پسندانہ سوچ (realistic approach) سے محروم کردیا ہے-
واپس اوپر جائیں

مزاحمت سے مقابلہ تک

انگریز شاعر لارڈ بائرن (وفات: 1824) ایک آزاد پسند شاعر تھا- اس نے غالباً پہلی بار منفعل مزاحمت (passive resistance) کی اصطلاح استعمال کی- اس کے بعد یہ اصطلاح کافی مقبول ہوئی- خود مسلم تحریکوں نے بھی، اس اصطلاح کو ایک پسندیدہ اصطلاح سمجھ کر اختیار کرلیا- مگر تجربہ بتاتا ہے کہ ہر جگہ منفعل مزاحمت آخر کار متشددانہ مزاحمت میں تبدیل ہوگئی-
اس کا سبب کیا ہے؟ اس کا سبب انسان کا غیر مطمئن مزاج (non-stable nature) ہے- یہ انسان کی فطرت ہے کہ جب وہ ایک چیز کو اپنا نشانہ بنا کر اس کے لیے کوشش شر وع کرے تو وہ اپنے نشانہ کو پانے سے پہلے کبھی مطمئن نہیں ہوتا- خواہ اسی راہ میں وہ اپنے آپ کو تباہ کرلے-
موجودہ زمانے کی مختلف جماعتوں نے سیاسی انقلاب کو اپنا نشانہ بنایا- ابتداءاً انھوںنے کہا کہ ہم اپنی تحریک کو پر امن انداز میں چلائیں گے- پھر جب پرامن طریقہ کار سے نشانہ حاصل نہیں ہوا تو انھوں نے منفعل مزاحمت (passive resistance) کی اصطلاح وضع کی، اور اس کے مطابق کام شروع کیا- پھر انھوں نے دیکھا کہ اِس سے بھی ان کا نشانہ حاصل نہیں ہورہا ہے، تو انھوں نے فعال مزاحمت (active resistance) کا طریقہ اختیار کیا- پھر انھوں نے دیکھا کہ اس سے بھی ان کا نشانہ حاصل نہیں ہورہا ہے تو انھوں نے متشددانہ عمل (violent activism) کا طریقہ اختیار کیا- پھر جب اس سے بھی ان کا نشانہ حاصل نہیںہوا تو وہ انتہا پسندی کی آخری حد تک پہنچ گئے اور مفروضہ دشمن کے خلاف خود کش بمباری (suicide bombing) کرنے لگے، تاکہ اگر وہ دشمن کو مغلوب نہ کرسکیں تو کم ازکم اس کو غیر مستحکم (de-stabilise) کردیں-
کسی تحریک کا نشانہ صرف وہ ہوسکتا ہے جو مثبت نتیجہ تک پہنچے، نہ کہ منفی تباہ کاری تک- کسی تحریک یا اس کے طریقہ کار پر رائے قائم کرنے کا واحد طریقہ یہ ہے کہ اس کو نتیجہ (result) کے اعتبار سے جانچا جائے۔اس معاملے میں کسی اور چیز کو معیار قرار دینا درست نہیں۔
واپس اوپر جائیں

علم کی حد

فلسفی یا سائنس داں، جس شخص نے بھی گہرا علمی مطالعہ کیا ہے، آخر میں وہ اس رائے پر پہنچا ہے کہ انسانی علم کی ایک حد ہے- اس حد سے آگے انسان کےلیے جانا ممکن نہیں- مثال کے طورپر فلسفیوں کے درمیان یہ بحث تھی کہ انسان کے وجود کا علمی ثبوت کیا ہے- مشہور فلسفی ڈیکارٹ نے کہا کہ میں سوچتا ہوں اس لئے میں ہوں:
I think therefore I exist.
مگر یہ جواب کافی ثابت نہیں ہوا- کیوں کہ دوبارہ یہ سوال سامنے آیا کہ یہ تو ایک داخلی ثبوت (subjective evidence)ہے نہ کہ موضوعی ثبوت (objective evidence) - داخلی ثبوت کسی شخص کو ذاتی یقین دے سکتا ہے، لیکن دوسرے شخص کے لیے اس میں یقین کا سامان موجود نہیں۔ یہ یک طرفہ ثبوت ہے ،نہ کہ دوطرفہ ثبوت۔
سائنس دانوں نے طبیعیاتی دنیا کا مطالعہ شروع کیا- آخر میں وہ ایٹم تک پہنچے- لیکن ایٹم بھی ٹوٹ گیا اور اس کے بعد جو کچھ تھا وہ ناقابل مشاہدہ تھا، یعنی ایک سائنس داں کے الفاظ میں قیاسی لہریں (waves of probability) - اس کے بعد سائنس داں اس ناقابل حل سوال میں مبتلا ہوگئے کہ ہماری دنیا کا وجود خارجی (objective) ہے یا داخلی (subjective)-
علم کے تمام شعبوں کا مطالعہ یہ بتاتا ہے کہ انسان اپنی موجودہ صلاحیت کے ساتھ اس کی آخری حد تک نہیں پہنچ سکتا- ایسی حالت میں یہ سب سے بڑا علم ہے کہ انسان علم کی حد کو جانے- اس حقیقت کا اعتراف نہ کرنابے حد خطرناک ہے- کیوں کہ وہ آدمی کو صرف کنفیوزن (confusion) تک پہنچائے گا، نہ کہ یقین تک- علم کا آخری مطلوب یقین ہے- جو طریق مطالعہ یقین تک پہنچائے وہ علم ہے، اور جو طریق مطالعہ بے یقینی یا کنفیوزن تک پہنچائے، وہ بلا شبہہ بے علمی ہے، خواہ کوئی شخص اس کو علم کادرجہ دیتا ہو-
واپس اوپر جائیں

بے خبری کا نقصان

برطانیہ کے ایک پروفیشنل ڈرائیور نے ایک کتاب لکھی ہے- اِس کتاب میں اُس نے یہ بتایا ہے کہ گاڑی چلانے کے اصول کیا کیا ہیں- اُس نے لکھا ہے کہ اگر آپ ایک روڈ پر اپنی کاردوڑا رہے ہیں، اور اچانک آپ یہ دیکھتے ہیں کہ سائڈ کی لین سے نکل کر ایک گیند روڈ پر آگئی ہے، تو آپ کو جاننا چاہئے کہ اِس گیند کے پیچھے ایک بچہ بھی آرہا ہوگا- اگر آپ اس حقیقت کو نہ جانیں، اور اپنی کاردوڑاتے ہوئے بچے کو کچل دیں تو آپ بچے کی موت سے بری الذمہ نہیں ہوسکتے- آپ کو بچے کی موت کا ذمہ دار ٹھہرایا جائے گا- اِس معاملہ میں آپ کا یہ عذر نہیں سنا جائے کہ آپ نے بچے کو نہیں دیکھا تھا-
یہ ایک ایسا اصول ہے، جس کا تعلق زندگی کے تمام معاملات سے ہے-اِس کو باخبری کا اصول (principle of awareness) کہاجاسکتاہے- عملی اعتبار سے اِس اصول کی بے حداہمیت ہے- جو شخص اس اصول سے بے خبر ہو، وہ اپنی زندگی میں ہمیشہ غیر ضروری مسائل سے دوچار رہے گا- اُس کو کبھی سکون حاصل نہ ہوگا- مزید یہ کہ اپنی بے خبری کی بنا پر وہ غلطی کا ذمہ دار دوسروں کو ٹھہراتا رہے گا- اِس اصول کا تعلق خاندانی زندگی سے بھی ہے، اور سماجی زندگی سے بھی- اِس اصول کا تعلق قومی زندگی سے بھی ہے، اور بین اقوامی زندگی سے بھی- آدمی کو چاہئے کہ وہ ایک ہوشمند انسان بنے- اِس دنیا میں بے خبری میں جینا گویا اندھیرے میں جینا ہے- جو لوگ بے خبری میں جیتے ہوں، وہ اندھے انسان قرار دیے جائیں گے- خواہ ان کے سر پر دو روشن آنکھیں موجود ہوں-
جس طرح درخت کی شاخیں ہوتی ہیں، اسی طرح انسانی زندگی میں بھی ہر واقعے کی شاخیں ہوتی ہیں- اگر آدمی واقعے کو جانے اور اُس کی شاخوں کو نہ جانے، تو ایسے آدمی کو جاننے والا نہیں کہاجائے گا- اُس کے بارے میں یہی کہا جائے گا کہ وہ جانتا ہے، مگر وہ نہیں جانتا، وہ دیکھتا ہے، مگر وہ نہیں دیکھتا- اُس کو خالق نے دماغ دیاہے، مگر وہ اپنے دماغ سے سوچتا نہیں- وہ ایک نامکمل انسان ہے، نہ کہ حقیقی معنوں میں ایک مکمل انسان-
واپس اوپر جائیں

مفید، بے مسئلہ

اجتماعی زندگی (social life) میں باعزت زندگی حاصل کرنے کی ایک لازم شرط ہے- اس شرط کا تعلق 50 فیصد آپ سے ہے اور 50 فیصد دوسروں سے- وہ یہ کہ آپ دوسروں کے لئے یا تو مفید انسان (giver person)بنیں یا آپ دوسروںکے لئے بے مسئلہ انسان (no-problem person) بن جائیں- پہلی صورت زیادہ سے زیادہ شرط کی ہے، اور دوسری صورت کم سے کم شرط کی- ان دو کے سوا کوئی تیسری صورت سماج میں با عزت بننے کی نہیں- جو لوگ تیسری قسم سے تعلق رکھتے ہوں ان کو کسی سماج میں اگر جگہ ملے گی تو صرف سماج کے کوڑا خانے میں- سماج کے مطلوب شخص کا درجہ ان کو کبھی ملنے والا نہیں-
اجتماعی زندگی ہمیشہ دو اور لو (give and take) کے اصول پر قائم ہوتی ہے- اس اصول کے مذکورہ دو پہلو ہیں- اگر آپ سماج کو مثبت معنوں میں کچھ دے رہے ہیں تو آپ سماج کے اندر مطلوب انسان کا درجہ پائیں گے، اور اگر آپ اپنی طرف سے سماج کو کچھ دینے کی پوزیشن میں نہیں ہیں تو آپ کو کم ازکم یہ کرنا چاہئے کہ آپ د وسروں کے لئے ایک بے مسئلہ انسان بن جائیں- اگر آپ سماج کے ایک دینے والے ممبر ہیں تو آپ سماج کی ترقی میں براہِ راست اضافہ کررہے ہیں، اور اگر آپ سماج کے ایک بے مسئلہ انسان ہیںتب بھی سماج کی ترقی میں آپ کا ایک رول ہے- پہلی صورت میں آپ سماج کی ترقی میں براہِ راست حصہ دار ہیںتو دوسری صورت میں آپ سماج کی ترقی میں بالواسطہ حصہ دارکی حیثیت رکھتے ہیں-
جن لوگوں کا حال یہ ہو کہ وہ مذکورہ دونوں شرطوں میں سے ایک شرط بھی پوری نہ کریں، وہ سماج کے لئے صرف ایک بوجھ کی حیثیت رکھتے ہیں- ایسے لوگ اگر چہ روایتی قانون کی نظر میں مجرم (criminal) نہیں ہیں لیکن وہ آداب حیات کے پہلو سے یقیناً ایک غیر قانونی مجرم کی حیثیت رکھتے ہیں- دنیا کی قانونی عدالت میں اگر چہ ان کے خلاف کسی سزا کا فیصلہ نہیں کیا جائے گا لیکن فطرت کی عدالت میں وہ بلاشبہہ ایک اخلاقی مجرم کی حیثیت رکھتے ہیں-
واپس اوپر جائیں

شہد کی مکھی کا سبق

ایک مسلم میگزین میں ایک آئٹم ان الفاظ میں چھپا ہوا تھا: ایک استاد نے اپنےطالب علم سے پوچھا، تم شہد کی مکھی سے کیا سیکھ سکتے ہو۔ طالب علم نے جواب دیا: یہی کہ جو چھیڑے اسے ڈنک مارو۔ شہد کی مکھی کا یہ حوالہ درست نہیں۔ شہد کی مکھی میں انسان کے لئے ایک تعمیری سبق ہے، نہ کہ کوئی تخریبی سبق۔
شہد کی مکھی (honey bee) فطرت کا ایک شاہ کار ہے۔ شہد کی مکھی یہ کرتی ہے کہ مسلسل محنت کر کے بے شمار پھولوں سےان کا نکٹر (nectar) نکالتی ہے، اس کے بعدپر امن منصوبہ بندی کے ذریعے اس کو اپنے چھتے میں جمع کرتی ہے۔تاکہ انسان کے لئے ایک قیمتی غذا حاصل ہو۔ اس اعتبار سے شہد کی مکھی کا سبق انسان کے لئے یہ ہے کہ تم اپنے سماج کے ایک دینے والے ممبر (giver member) بنو، تم اپنے سماج میں اس طرح تعمیری انداز میں رہو کہ تم سے دوسروں کو فائدہ پہنچے۔
یہ صحیح ہے کہ شہد کی مکھی بعض اوقات انسان کو ڈنک مارتی ہے۔ لیکن شہد کی مکھی کا یہ ڈنک مارنا صرف اپنے بچاؤ کےلئے ہوتا ہے، جب شہد کی مکھی یہ دیکھتی ہے کہ کوئی انسان اس کے چھتے میں مداخلت کر رہا ہے تو وہ اپنے بچاؤ کے لئے ایسے آدمی کو ڈنک مارتی ہے۔شہد کی مکھی کا ڈنک مارنا صرف اپنے دفاع (defence) کے لئے ہوتا ہے۔ شہد کی مکھی کے اندر پیدائشی طور پر کسی کے خلاف کوئی منفی سوچ نہیں۔
انسان کا معاملہ اس کے برعکس ہے۔ انسان کے اندر اَنا (ego) کا جذبہ ہے، جس کی وجہ سے وہ اپنے خلاف بات پر بھڑک اٹھتا ہے، اور انتقام (revenge) کے درپے ہو جاتا ہے۔ انسان ایسے موقعے پر انتقامی کارر وائی کرتا ہے، جب کہ انتقام کلچرشہد کی مکھی کی فطرت میں موجود ہی نہیں۔ آدمی کو چاہئے کہ وہ فطرت کے واقعات سے ہمیشہ مثبت سبق (positive lesson) لے، منفی سبق (negative lesson) لینا فطرت کے نظام کے مطابق نہیں۔
واپس اوپر جائیں

خبر نامہ اسلامی مرکز— 235

-1 12 مارچ 2015 کو پیس سنٹر کیرالہ کی جانب سے آئی ایس ایم کی صوبائی مہم کے موقع پر ہزاروں لوگوں کے درمیان ترجمہ قرآن اور صدر اسلامی مرکز کی کتابیں تقسیم کی گئیں-
-2 سیماندھرا کے کوسٹل شہر وشاکھا پٹنم میں 10-19 اپریل 2015 کے درمیان ایک بک فیئر لگاتھا۔ اس بک فیئر میںحیدرآباد سی پی ایس کی ٹیم نے اپنا بک اسٹال لگایا۔بڑی تعداد میں لوگوں نے اس اسٹال کو وزٹ کیا، جس میں ایک بڑی تعدا د کالج کے طلبہ کی تھی۔ تقریبا تمام لوگوںنے سب سے پہلے ترجمۂ قرآن کی مانگ کی ، اور بہت ہی خوشی اورشکریہ کے ساتھ اس کو حاصل کیا۔
-3 سی پی ایس دہلی کی خواتین ٹیم کی ممبران ڈاکٹر نجمہ صدیقی اور ڈاکٹر مسلمہ صدیقی وغیرہ نے خواتین کا ایک اجتماع منعقد کیا- یہ اجتماع صدر اسلامی مرکز کے ویڈیو لکچر سے شروع ہوا- اس کے بعد لوگوں سے ملاقات اور ان سے گفتگو کا سیشنہوا- یہ پروگرام 13اپریل 2015 کو دہلی کےدوارکا، سیکٹر 11 میں منعقد کیا گیاتھا-
-4 ابوظبی میں 30 اپریل 2015 کو صدراسلامی مرکز کو ’فروغ امن فورم ‘ (Forum for Promoting Peace in Muslim Societies) کی جانب سے منعقد تین روزہ کانفرنس کے اختتام پر ’سیدناالحسن بن علی امن ایوارڈ‘ سے نوازا گیا- فورم کے سربراہ شیخ عبد اللہ بن بیّہ نے اس موقع پر کہا کہ مولانا وحید الدین خاں نے اپنی 90 سال کی عمر میں سے70 سال سے زیادہ مدت تک فروغ امن کے لئے کام کیا ہے، تاکہ امن، بھائی چارگی، اعراض اور تسامح کا کلچر پیدا ہو- اس موقع پر ابو ظبی کے وزیر خارجہ شیخ عبد اللہ بن زاید آل نہیان اور جامعة الازہر کے مفتی اعظم دکتور احمد الطیب بھی موجود تھے- اس مناسبت سے صدر اسلامی مرکز نے جو تقریر کی اس کودرج ذیل لنک پر سنا جاسکتا ہے:
http://cpsglobal.org/content/key-note-address-abu-dhabi-award-ceremony-april-30-2015
-5 پاکستان میں سی پی ایس کا مشن انفرادی طور پر بہت عرصےسے چل رہا تھا۔ جون 2013 میں باقاعدہ طور پر ٹیم کی شکل میں یہاں مشن کا کام شروع ہوا، اور اس وقت کراچی، پشاور، اسلام آباد اور لاہور میں کافی سرگرمی کے ساتھ اس مشن کا پرامن دعوتی کام جاری ہے-اردو ماہنامہ الرسالہ اورانگریزی میگزین اسپرٹ آف اسلام کو یہاں ری پرنٹ کیاجاتا ہے،اور ان کوسماج کے باشعور طبقہ، خاص طور پر مدارس کے طلباء اور تعلیم یافتہ نوجوانوں میں تقسیم کیا جاتا ہے-اس وقت کراچی کی 33 سے زائد لائبریریوں میں سی پی ایس کا لٹریچر موجود ہے-اس کے علاوہ مختلف بک فیئر س میں شرکت کی گئی،جیسے دسمبر 2013 اور دسمبر 2014 کا کراچی بک فیئر اور فروری 2014 اور فروری 2015 کالاہور بک فیئر ، وغیرہ- ان بک فیئر س میںپاکستانی عوام نے کافی حوصلہ افزا رسپانس دیا۔لوگوں سے ملاقات اور ان سے گفتگو کے دوران یہ معلوم ہوا کہ کراچی میں کافی تعداد میں مولانا کے قدردان موجود ہیں اور مولانا کی کتابیں اگر حاصل ہوں تو ضرور پڑھتے ہیں- بہت سے لوگوں کو یہ جان کر کافی مسرت ہوئی کہ الرسالہ اور مولانا کی مطبوعات پاکستان میں دستیاب ہیں- ایک بڑی تعدادنے الرسالہ کو سبسکرائب (subscribe)کرنے کی خواہش ظاہر کی- ایسے بہت سے لوگوں سے تعارف ہوا جنہوں نے مولانا کی کتاب راز حیات پڑھی ہے ۔ یہ کتاب نوجوانوں میں کافی مقبول ہے-کراچی بک فیئر میںتبادلہ خیال کے دوران یہ جاننے کا موقع ملا کہ پاکستان کے اکثر لوگوں کو اس مشن کی ضرورت ہے کیوں کہ تقریبا تمام لوگوں نے اس مشن سے اتفاق کیا- انگلش پڑھنے والوں نے اسپرٹ آف اسلام کا والہانہ خیرمقدم کیا-بڑی تعداد میںایسے لوگ آئے جنھوں نے بعد میں رابطے کے لیے آفس اور بک اسٹور کے بارے میں جاننا چاہا۔ بہت سے مدارس میں سی پی ایس کی کتابیں پہلے سے موجود ہیں۔ ان بک فیئرس میںمدارس کے طلبہ سے دوران گفتگو یہ محسوس ہواکہ وہ لوگ کافی کھلے ذہن کے ہیں اور ان سے کسی بھی موضوع پر کھل کر بات کی جاسکتی ہے-اس بک فیئر میں ایک ہزار سے زیادہ کتابیں فروخت ہوئیں اور کثیر تعداد میں مشن کی کتابیں اور اردو اور انگریزی میگزین لوگوں کے درمیان فری تقسیم کی گئیں- سی پی ایس پاکستان کا ویب سائٹ ایڈریس یہ ہے:www.cpspakistan.org
-6 ذیل میں کچھ دعوتی تجربات و تاثرات نقل کیے جاتے ہیں:
— I have been reading Al-Risala since 1983. I have also associated myself with Al-Quran Mission. I give the translations of the Quran to my non-Muslim friends. Recently, I gifted a set of the Quran in English and Hindi, What is Islam, The Prophet of Peace, The Ideology of Peace, Women between Islam and Western Society, The Purpose of Life, to the library of Delhi Public School, Nagpur. My brother, Mr. M. A. Waheed presented the same set of books to Mr A. K. Nigam, Managing Director, Forest Development Corporation of Maharashtra, Nagpur. (Mohammad Irfan, Kamptee, Nagpur)
— I am the Imam of the Islamic Center of Louisville. I have found that the Quran translated by Maulana Wahiduddin Khan is the most beneficial gift for the newcomers to Islam. I would like to personally buy this Quran translation to distribute among people who want to know about Islam, especially those in prison. (Hassan Hussien Qazzaz, Kentucky, USA)
واپس اوپر جائیں