Pages

Friday, 2 October 2015

Al Risala | October 2015 (الرسالہ،اکتوبر)

4

-عید اضحی کا پیغام

5

- تاریخ ساز قربانی

11

- حج بیت اللہ کے بعد

12

- قرآن کا ترجمہ

13

- اچانک موت

14

- جنت کی دنیا

15

- تفکیر، مفکر

18

- مصائب کی حکمت

19

- مثلِ قرآن ممکن نہیں

20

- صحیح مگر غلط

21

- کوئی چیز ملکیت نہیں

22

- ربط کے بغیر ملاقات

23

- سیاسی ظلم نہیں

24

- تاریخ کا نیا دور

25

- صبر کا انعام

26

- پاکستانی ڈائسپورا

28

- دنیا کی حقیقت

29

- اللہ کی انگلیوں کے درمیان

30

- بلا استحقاق عطیہ

31

- بڑا کام

32

- عدم اعتراف

33

- بیانیہ اسلوب، تجزیاتی اسلوب

34

- بلاشرط ساتھ دینا

35

- دین اور اسٹیٹ

36

- حکمت کا اصول

37

- حروفِ مقطعات

38

- شخصیت کی تعمیر

39

- جنت اورجہنم

40

- خبر کی تحقیق ضروری

41

- سوانح عمری

42

- خالق کی کاملیت

43

- سادگی کی اہمیت

44

- سوچنے کا طریقہ

45

- امیج بلڈنگ

46

- سوال و جواب

47

- خبرنامہ اسلامی مرکز


عید اضحی کا پیغام

عید اضحی کے موقع پر اہل ایمان جانور کی قربانی دیتے ہیں۔ روایات میں آیا ہے کہ صحابہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا : یا رسول اللہ ما ہذہ الأضاحی؟ اے خدا کے رسول، یہ قربانیاں کیا ہیں؟ آپ نے جواب دیا: سنة أبیکم إبراہیم۔ (سنن ابن ماجہ، حدیث نمبر 3127) یعنی تمہارے باپ ابراہیم کا طریقہ۔
حضرت ابراہیم کا طریقہ کیا تھا۔ وہ صرف یہ نہیں تھا کہ انھوں نے ایک مینڈھے کو پکڑا اور اس کو ذبح کردیا۔ مینڈھے کا ذبیحہ ایک فدیہ کا معاملہ تھا۔حضرت ابراہیم کا زمانہ ساڑھے چار ہزار سال پہلے کا زمانہ ہے۔
اللہ کے منصوبے کے تحت وہ عراق کے زرخیر علاقے سے نکلے، اور اپنی بیوی ہاجرہ، اور اپنے بیٹے اسماعیل کو لاکر عرب کے صحرا میں بسادیا۔ یہ گویا ڈیزرٹ تھراپی (desert therapy) کا معاملہ تھا۔ یعنی صحرائی ماحول میں تربیت دے کر ایک نئی نسل بنانا جو پیغمبرانہ مشن کی حامل بنے۔گویا عید اضحی کی قربانی خود اپنی قربانی ہے۔ جانور کی قربانی صرف فدیہ (37:107) کے طور پر ادا کی جاتی ہے۔
اس اعتبار سے غور کیا جائے تو عید اضحی کا دن وہ دن ہے جب کہ ہر مسلمان کو یہ عہد کرنا چاہیے کہ وہ قربانی کی سطح پر اپنے آپ کواللہ کے مشن کے لیے وقف کرے گا۔ وہ اس پر امن دعوتی مشن کے لیے اپنے آپ کو بھرپور طور پر لگائے گا۔ وہ اپنے وقت اور اپنے مال کو اس مشن میں خرچ کرے گا۔
عید اضحی کی قربانی در اصل اس بات کا عزم ہے کہ اہل ایمان دوبارہ ابراہیمی تاریخ کو دہرائیں گے۔ پیغمبر کے دعوتی مشن کو زندہ کرنے کے لیے دوبارہ وہ سب کچھ کریں گے جس کا کرنا حالات کے لحاظ سے ضروری ہو۔ اپنی اولاد کے لیے ان کی سب سے بڑی تمنا یہ ہوگی کہ وہ پیغمبرانہ مشن میں اپنا رول اداکریں، وہ دورِ جدید کے’’ اسماعیل اور ہاجرہ‘‘ بنیں ۔
واپس اوپر جائیں

تاریخ ساز قربانی

جدید اثری تحقیقات کے مطابق حضرت ابراہیم علیہ السلام کی پیدائش 2160 ق م میں ہوئی۔ 175 سال کی عمر پاکر آپ نے 1985 ق م میںانتقال فرمایا۔ آپ دریائے فرات کے کنارے واقع قدیم شہر اُر (Ur) میں پیدا ہوئے۔ اس علاقہ کو پرانے زمانے میں بابل کہاجاتا تھا، اب اس کو عراق کہتےہیں۔
حضرت ابراہیم کی قوم سورج، چاند اور ستاروں کو پوجتی تھی۔ چنانچہ اس نے اس قسم کے تقریباً 5 ہزار خدا بنا رکھے تھے۔ ان میں سورج اور چاند سب سے بڑے تھے مگر حضرت ابراہیم کو اپنی قوم کے دین سے رغبت نہ ہوسکی۔ انسانی بستیوں کے بگڑے ہوئے ماحول میں اپنے لئے کشش نہ پاکر آپ بستی سے باہر نکل جاتے اور تنہائیوں میں زمین و آسمان کےنظام پر غور کرتے۔ ماحول کے فکری دباؤ سے آزاد ہو کر جب آپ سوچتے تو آپ پر نئی حقیقتوں کے دروازے کھلتے ہوئے نظر آتے۔ آپ آسمان میں یہ منظر دیکھتے کہ چاند چمکتا ہےاور پھر ماند پڑ جاتا ہے۔ ستارے نکلتے ہیں اور پھر ڈوب جاتے ہیں۔ سورج روشن ہوتاہے اور پھر رات کی تاریکی میں چھپ جاتاہے۔ ان واقعات پر غور کرنے کے بعد آپ اس نتیجہ پر پہنچے کہ یہ چیزیں جو عروج وزوال کے قانون میں بندھی ہوئی ہیں وہ خدا نہیں ہوسکتیں۔ خدا تو وہی ہوسکتاہے جو عروج وزوال کی حد بندیوں سے اوپر ہو۔
یہ آپ کی ایثار وقربانی سے بھری ہوئی زندگی میں پہلا ’’ایثار تھا۔ جوانی کی عمر میں آدمی تفریحات میں رہنا پسند کرتا ہے مگر آپ نے خاموش تنہائیوں کو اپنا دوست بنایا۔ اس زمانہ کو آدمی بے فکری میں گزار دیتاہے مگر اس کو آپ نے سنجیدہ سوچ بچار کی بے قراری کے حوالے کردیا۔ اس عمر کو پہنچ کر آدمی مادی لذتوں اور دنیوی ترقیوں کی طرف دوڑتا ہے مگر آپ نے اپنی بہترین گھڑیوں کو حقیقت کی تلاش میں لگا دیا۔ آدمی کے لئے سب سے آسان طریقہ یہ ہوتاہے کہ اپنے آباء واجداد کے مذہب پر چل پڑے مگر آپ نے ایک انقلابی انسان کی طرح رواج کو چھوڑ کر سچائی کو اختیار کرنے کا فیصلہ کیا۔ ’’جو ہورہا ہے کےمقابلہ میں آپ نے ’’جو ہونا چاہئے کو ترجیح دی— یہ بہت بڑا نفسیاتی ایثار تھا۔ ماحول کے خلاف کسی سچائی کو اختیار کرنا ہمیشہ اس قیمت پر ہوتاہے کہ آدمی اس کے سوا سب کچھ چھوڑنے پر اپنے کو راضی کرلے۔ جب آپ نے یہ فیصلہ کیا تو اللہ نے اس کو اس طرح قبول فرمایا کہ آپ پر سچائی کی معرفت کےدروازے کھول دئے اور آپ کو اپنی پیغمبری کے لئے چن لیا۔ یہ خدائی کام آپ کے سپرد ہوا کہ آپ اپنے وقت کے انسانوں کو اصل حقیقت سے آگاہ کردیں۔
اس کے بعد آپ کے ایثار کا دوسرا شدید ترین دور شروع ہوتا ہے۔ آپ کےزمانہ کا حکمراں نمرود (ارنمو) خدائی بادشاہ بن کر لوگوں کے اوپر حکومت کرتا تھا۔ اس زمانہ کے دوسرے بادشاہوں کی طرح نمرود نے عوام میں یہ عقیدہ بٹھا رکھا تھا کہ اس کو حکومت کرنے کا خدائی حق حاصل ہے۔ وہ کہتا تھا کہ سورج سب سے بڑا معبود ہے اور نمرود کا خاندان اس معبود کا دنیوی مظہر ہے۔ سورج جس طرح ’’آسمانوں پر‘‘ حکومت کررہا ہے اسی طرح سورج کی اولاد ہونے کی وجہ سے اس کو یہ حق ہے کہ وہ زمین پر بسنے والوں کا حاکم بنے۔
اس اعتبار سے سورج چاند کی پرستش، اس زمانہ میں محض ایک مذہبی عقیدہ نہ تھی بلکہ وہ اس وقت کی سیاست کی اعتقادی بنیاد بھی تھی۔ موجودہ زمانہ کی سیاست کی نظریاتی بنیاد عوامی حاکمیت ہے، اُس زمانہ کی سیاست کی نظریاتی بنیاد خدائی حق حکمرانی تھا اور یہ خدائی حق حکمرانی اس شاہی خاندان کے لئے مخصوص سمجھا جاتا تھا جو مفروضہ معبود کی نسل سے تعلق رکھتا ہو۔ حضرت ابراہیم کا گھرانا اس نظام میں خاص اہمیت رکھتا تھا کیوں کہ آپ کا باپ آذر (Terah) اس زمانہ کے بت سازی کے ’’کارخانہ‘‘ کا مالک تھا اور شاہی بت خانہ میںافسر اعلی کادرجہ رکھتا تھا۔ وقت کے سیاسی نظام میں اس کو بہت اونچی سیاسی حیثیت حاصل تھی۔ اس کا عہدہ اس زمانہ کے لحاظ سے تقریباً وہی تھا جو آج کل کسی ایسی سیاسی پارٹی کے صدر کا ہوتا ہے جو کسی ملک میں حکمراں پارٹی کی حیثیت رکھتی ہو۔
ان حالات میں حضرت ابراہیم کے لئے بنا بنایا کامیابی کا راستہ یہ تھا کہ وہ اپنے باپ کی جگہ لیں، وہ قائم شدہ نظام کا ساتھ دے کر اس میں اونچا مقام حاصل کرلیں۔ مگر آپ نے دوبارہ ایثار وقربانی کے راستہ پر چلنے کافیصلہ کیا۔ انھوں نے اپنے باپ آزر سے صاف لفظوں میں کہا: کیا تم ستاروں کو خدا مانتے ہو اور ان کی شکلیں بنا کر ان کو پوجتے ہو۔ یہ ایک کھلی ہوئی گمراہی ہے جس میں مَیں تم کو اور تمھاری قوم کو دیکھ رہا ہوں ( 6:74)۔
حضرت ابراہیم نے اپنے وقت کے ستارہ پرستی کے نظام سے اپنے باپ کی طرح موافقت نہیں کی بلکہ وہ اس کے خلاف داعی اور مصلح بن کر کھڑے ہوگئے ۔ جس نظام میں اعلی ترین عہدہ ان کا انتظار کررہا تھا وہ خود اس نظام کو بدلنے کے علم بردار بن گئے۔ انھوں نے یہ طریقہ اختیار نہیں کیا کہ ناحق کو مان کر اس کے ڈھانچے میں عزت اور ترقی کے خواب دیکھیں بلکہ ناحق کی تردید اور حق کا اعلان کرنے کو انھوں نے اپنی زندگی کا مشن بنایا۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ وہ گھر سے نکال دئے گئے۔ قوم میں حقیر سمجھے جانے لگے۔ خود بادشاہ وقت بھی آپ کا دشمن بن گیا۔ کیوں کہ آپ کی تحریک، اس وقت کے حالات میں بادشاہ کو اس کی سیاسی زمین سے محروم کرنے کے ہم معنی تھی۔
چلتے ہوئے نظام سے بغاوت ہمیشہ اس قیمت پر ہوتی ہے کہ اس نظام کے اندر آدمی ہر قسم کے مواقع سے محروم ہوجائے۔ چناں چہ حضرت ابراہیم کے اس فیصلہ نے آپ کی پوری زندگی کو ایثار وقربانی کی زندگی بنادیا۔آپ گھر سے بے گھر کئے گئے۔ خاندانی جائداد میں آپ کا کوئی حصہ نہ رہا۔ باپ کی جانشینی کے لئے آپ نا اہل قرار پائے۔ وقت کے سماج میں آپ کی حیثیت ایک اجنبی انسان کی ہوگئی۔ اُر کی تقریباً تین لاکھ کی آبادی میں کوئی آپ کا ساتھی نہ رہا۔ وقت کی حکومت آپ کو خطرہ کی نظر سے دیکھنے لگی- کیونکہ آپ اس کے پھیلائے ہوئے اِس توہماتی عقیدہ کی تردید کرتے تھے کہ سورج چاند خدائی ہستیاں ہیں اور اُن کی طرف سے کسی کو یہ حق حاصل ہوجاتا ہے کہ وہ زمین پر لوگوں کا بادشاہ بن جائے۔
حضرت ابراہیم نے پرسکون زندگی کے اوپر مصیبت کی زندگی کو ترجیح دی۔ انھوں نے عوام کے درمیان مقبولیت کے مقابلہ میں عوام کے درمیان اجنبی بن جانے کو پسندکرلیا۔ وہ عہدہ اور جائداد کو چھوڑ کر خالی ہاتھ ہوجانے پر قانع ہوگئے۔ بادشاہ وقت کے دربار میں معزز کرسی پر بیٹھنے کے بجائے انھوں نے یہ خطرہ مول لیا کہ بادشاہ کی نظر میں وہ معتوب ہوجائیں اور حکومت کی طرف سے ان کی پکڑ دھکڑ شروع ہوجائے۔ چنانچہ ایسا ہی ہوا۔ وہ قوم کے اندر بے عزت کئے گئے۔ پھر آپ کو آگ میں ڈال دیاگیا جس سے اللہ نے آپ کو بچا لیا۔ اس کے بعد آپ کو مجبور کیا گیاکہ آپ عراق کو چھوڑ دیں اور ملک کے باہر چلے جائیں۔
یہاں سے آپ کی زندگی میں ایثار وقربانی کا ایک اور شدید تر مرحلہ شروع ہوتا ہے۔ ملک کے معزز ترین خاندان کا ایک فرد اس طرح بے سروسامانی کی حالت میں اپنے وطن سے نکلاکہ اس کے ساتھ صرف اس کی بیوی سارہ تھی اور اس کا بھتیجا لوط۔ تین آدمیوں کا یہ مختصر قافلہ خانہ بدوشوں کی طرح دریائے فرات کے کنارےکنارے سفر کرتاہوا حاران پہنچا۔ پھر بحر ابیض کے ساحلی علاقوں سے گزرتا ہوا شام اور فلسطین اور مصر تک چلا گیا- مگر ان مقامات کے لوگ بھی اسی قسم کے غیر خدائی معبودوں کو ماننے والے تھے جن کو نہ ماننے کے جرم میں آپ کو اپنے وطن سے نکلنا پڑا- آخر اللہ کی طرف سےآپ کو یہ حکم ہوا کہ تم حجاز کے بے آب وگیاہ علاقہ میں جاؤ۔ وہاں پتھروں اور خشک پہاڑوں کے درمیان خدا کا ایک گھر بناؤ۔ بخاری کی ایک روایت میں ہے کہ حضرت ابراہیم جب مکہ آئے تو اس وقت وہاں نہ کوئی آدمی تھا اور نہ پانی (لیس یومئذ بمکة احد ولیس بہا ماء۔ صحیح البخاری، حدیث نمبر:3364) وقت کے انسانوں نے خدا کو چھوڑ کر خود اپنے بنائے ہوئے معبودوں کی پرستش شروع کردی تھی۔ تاہم پتھر اور پہاڑ اب بھی اپنی اصل فطری حالت پر باقی تھے۔ اس فطرت کے ماحول میں آپ کو خدا کا گھر بنانے کا حکم ہوا تاکہ کوئی بندہ جو خالص خدا کی عبادت کرنا چاہے وہ یہاں آکر خدا کی عبادت کرے۔ اب حضرت ابراہیم بحر قلزم کے ساحلی علاقوں سے گزرتے ہوئے موجودہ مکہ کے مقام پر پہنچے اور یہاں بیت اللہ کی تعمیر کی۔ وہ شخص جو عزت اور خوش حالی کی گود میں پیدا ہوا تھا اُس نے حق کی خاطر تنہائی، مسافرت اور تنگ ودشوار زندگی کو اپنے لئے اختیار کرلیا۔
حضرت ابراہیم 75 سال کی عمر میں عراق سے نکلے تھے۔ 10 سال کی مسافرانہ زندگی کے بعد 2074 ق م میں آپ کے یہاں ایک لڑکا پیداہوا جس کا نام آپ نے اسماعیل رکھا (اسماعیل کے معنی سمیع اللہ کے ہیں) اس وقت آپ کی عمر 86 سال تھی۔ بڑھاپے کی اولاد یوں بھی آدمی کو عزیز ہوتی ہے۔ اور آپ کا حال تو یہ تھا کہ تمام دوستوں اور رشتہ داروں نے آپ کا ساتھ چھوڑ دیا تھا اور اب آپ تمام تر اپنے بیوی بچے کے سہارے پر رہ گئے ـتھے۔ ایسی حالت میں ہونہار لڑکا آپ کو کتنا زیادہ محبوب ہوگا۔ مگر بیٹا جب بڑا ہوا اور آپ کے ساتھ چلنے پھرنے کے قابل ہوگیا تو ایثار وقربانی کا ایک اورکڑا امتحان سامنے آگیا۔ خدا کی طرف سے حکم ہوا کہ اپنے آخری سہارے سے بھی دست بردار ہوجاؤ، اپنے بیٹے کو ہماری راہ میں قربان کردو۔ تورات کے بیان کے مطابق جب قربانی کا حکم ہواتو اس وقت آپ کے فرزند کی عمر 13 سال تھی۔
حضرت ابراہیم سوسال کی عمر کو پہنچ گئے تھے کہ آپ نے خواب میں دیکھا کہ میں اپنے بیٹے کو ذبح کررہا ہوں۔ خواب کو عام طورپر ایک تمثیلی چیز سمجھا جاتاہے۔ آپ اس کو کسی تعبیری مفہوم میں لے سکتے تھے۔ مگر یہ حضرت ابراہیم کے ایثار وقربانی کے جذبہ کی انتہا تھی کہ آپ نے خواب کی کوئی تاویل نہ کی۔ آپ اس خوا ب کو اس کی اصلی صورت میں زیر عمل لانے کے لئے تیار ہوگئے- مَروہ پہاڑی کے مقام پر تاریخ کا وہ انوکھا واقعہ پیش آیا جس کو دیکھنے کے لئے زمین وآسمان رک گئے۔ بوڑھا باپ اپنے محبوب بیٹے کو خود اپنے ہاتھوں سے ذبح کررہا تھا۔ تاہم اللہ تعالی نے عین وقت پر مداخلت کرکے حضرت اسماعیل کو ذبح ہونے سے بچا لیا- آسمان سے آواز آئی کہ بس تم نے تسلیم ووفاداری کا آخری ثبوت دے دیا۔ بیٹے کے بدلے میں اللہ نے آپ کی طرف سے مینڈھے کی قربانی قبول کرلی۔ اس کے بعد یہ طریقہ مستقل طورپر تمام خدا پرستوں کے لئے مقرر کردیاگیا۔ حکم ہوا کہ آدمی اپنی قربانی کے علامتی فدیہ کے طورپر ہر سال انھیں تاریخوں میں جانور ذبح کرے جن تاریخوں میں حضرت ابراہیم خدا کےحکم کی تعمیل میں اپنے بیٹے کو ذبح کرنے کے لئے تیار ہوگئے تھے۔
حضرت ابراہیم کو جو خواب دکھایا گیا اس کا اصل مقصد یہ تھا کہ آپ اپنے عزیز بیٹے کو دعوت توحید کے مرکز (بیت اللہ) کی خدمت کے لئے وقف کردیں۔ اسی غرض سے حکم ہوا تھا کہ اسماعیل اور ان کی والدہ کو لے جاکر مکہ کی خشک اور سنسان زمین پر بسا دو۔ مگر اس بات کو چھری سے ذبح کرنے کی صورت میں ممثّل کیا گیا۔ اس سے یہ ظاہر کرنا مقصود تھا کہ دین کی خدمت کوئی معمولی چیز نہیں ہے، یہ اپنےآپ کو جیتے جی ذبح کرنا ہے۔ ’’ذبح‘‘ ایثار وقربانی کی آخری انتہا ہے اور ایثار وقربانی کی آخری انتہا پر پہنچ کر ہی آدمی اس قابل ہوتاہے کہ وہ خدا کے دین کی خدمت کرسکے۔
حضرت ابراہیم کا ایثار صرف یہ نہ تھا کہ آپ نے اپنے بیٹے کو خدا کی راہ میں قربان کردیا- بیٹے کی قربانی تو ایثار وقربانی کے لمبے سلسلے کی صرف آخری صورت تھی۔ آپ کا ایثار یہ تھا کہ ایسے وقت میں جب کہ لوگ صرف دکھائی دینے والے خداؤں کے لیے اپنی محبتیں اور عقیدتیں وقف کررہے تھے، آپ نے نہ دکھائی دینے والے خدا کو اپنی محبت وعقیدت کا مرکز بنایا۔ ایسے حالات میں جب کہ ناحق ہر طرح کے مادی دلائل کے زور پر اپنی اہمیت ثابت کررہا تھا، آپ نے ایک ایسے حق کو پہچانا اور اس کو قبول کرلیا جس کی تائید میں صرف ذہنی دلائل قائم ہوسکے تھے۔ ایسی فضا میں جب کہ باطل کے ساتھ مصالحت کرنے میں آپ کے لئے عزت وترقی کےدروازے کھلےہوئے تھے، آپ نے محض سچائی کی خاطر ایک ایسے غیر مصالحانہ راستہ کو اختیار کرلیا جس میں سختیوں اور مشکلات کے سوا کچھ نہ تھا۔ ایسے ماحول میں جب کہ لوگ متمدن شہروں میںاقامت کو پسند کررہے تھے، آپ نے ایک خشک بیابان میں لے جاکر اپنے گھر والوں کو بسا دیا۔
یہ سب کچھ غیر معمولی ایثار وقربانی کے جذبہ کے تحت ہوا۔ ایثار وقربانی کی نفسیات کے بغیر ان میں سے کوئی کام بھی نہیں ہوسکتا تھا — خدا پرست بننا اپنے کو ذبح کرنے کی قیمت پر ہوتا ہے۔ جو شخص اپنے کو ذبح کرنے پر تیار نہ ہو وہ خدا پرست بھی نہیں بن سکتا۔
واپس اوپر جائیں

حج بیت اللہ کے بعد

قرآن کی سورہ نمبر 2میں حج کا حکم آیا ہے، اس سلسلۂ کلام کی ایک آیت یہ ہے: فَإِذَا قَضَیْتُمْ مَنَاسِکَکُمْ فَاذْکُرُوا اللَّہَ کَذِکْرِکُمْ آبَاءَکُمْ أَوْ أَشَدَّ ذِکْرًا(البقرۃ: 200)۔ پھر جب تم اپنے حج کے مناسک پورے کرلو تو اﷲ کو یاد کرو جس طرح تم پہلے اپنے باپ دادا کو یاد کرتے تھے، بلکہ اس سے بھی زیادہ۔
حج کے مناسک کی ادائیگی کے بعد زیادہ سے زیادہ اللہ کا ذکر کرنے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ کلماتِ ذکر کا بکثرت ورد کیا جائے۔ بلکہ اس سے مراد دعوت الی اللہ ہے۔ یعنی حج کی ابراہیمی سنت کی ادائیگی کے ذریعے جو اسپرٹ تم نے اپنے اندر پیدا کی ہے اس کو لے کر دنیا میں پھیل جاؤ اور اللہ کے پیغام کو دنیا میں بسنے والے تمام انسانوں تک پہنچادو۔اور ہر سال حج کے بعد یہی دعوتی کام کرتے رہو۔
حج کے بعد کے عمل سے مراد دعوت یعنی تمام انسانوں کو خدا کے کریشن پلان سے آگاہ کرنا ہے۔ اس تفسیر کا ماخذ خود سنت رسول ہے۔ روایت میں آتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اصحاب کے ساتھ حجۃ الوداع کا فریضہ ادا کیا۔ پھرحج سے واپسی کے بعد آپ مدینہ آئے وہاں آپ نے ایک مفصل خطاب میں اپنے اصحاب کو یہ پیغام دیا: إن اللہ بعثنی رحمة وکافة(للناس)، فأدوا عنی یرحمکم اللہ، ولاتختلفوا علی کما اختلف الحواریون على عیسى بن مریم (سیرت ابن ہشام: 2/607)۔ بیشک اللہ نے مجھے بھیجا ہے رحمت بنا کر اور تمام انسانوں کے لیے، تو تم میری طرف سے لوگوں کو پہنچادو، اللہ تمھارے اوپر رحم فرمائے، اور تم میرے ساتھ اختلاف نہ کرو جیسا عیسی بن مریم کے حواریوں نے کیا ۔
امت مسلمہ کا مشن دعوت الی اللہ ہے۔ حج کا مقصد یہ ہے کہ امت کے افراد ہر سال مکہ کے تاریخی مقام پر مجتمع ہوں، یہاں وہ مختلف اعمال کے علامتی اعادہ کے ذریعے پیغمبر کی دعوتی سنت کو یاد کریں۔ اور پھر دعوت الی اللہ کی اسپرٹ کو لے کر دنیا میں پھیل جائیں، جیسا کہ اصحابِ رسول اس دعوتی مقصد کے لیے دنیا میں پھیلے تھے۔
واپس اوپر جائیں

قرآن کا ترجمہ

قرآن میں بتایا گیا ہے کہ قرآن اس لئے بھیجا گیاکہ وہ سارے عالم کے لئے نذیر (warner)بنے۔ ساری قوموں کے لئے نذیر بننا صرف اس وقت ممکن ہے جب کہ قرآن کو ان کی اپنی قابل فہم زبان میں ترجمہ کرکے ان کو پہنچایا جائے۔ یہ اصول خود قرآن سے ان الفاظ میں معلوم ہوتا ہے — پیغمبر کو قوم کی اپنی زبان میں بھیجنا۔ چنانچہ قرآن میں آیا ہے: وَمَا أَرْسَلْنَا مِن رَّسُولٍ إِلَّا بِلِسَانِ قَوْمِہٖ (14:4)۔
یہ اللہ کی ایک سنت ہے۔ ایسا نہیں ہوسکتا کہ پچھلے زمانے میں خدا قوموں کو خود ان کی اپنی زبان میں ہدایت بھیجے، اور بعد کے زمانے میں ساری قوموں کو صرف عربی زبان میں ہدایت بھیجے۔ یہ غیرفطری بھی ہے اور اللہ کی سنت کے خلاف بھی۔اس لیے اب امت کا فرض ہے کہ وہ قرآن کو تمام قوموں کی زبانوں میں ترجمہ کرکے ان قوموں تک پہنچائے۔ اس کے بغیر قوموں پر اللہ کی حجت تمام نہیں ہوسکتی۔ پرنٹنگ پریس کے دور میں ایسا کرنا پوری طرح ممکن ہوگیا ہے۔موجودہ زمانے میں پرنٹنگ پریس اور کمیونی کیشن کا سب سے بڑا استعمال یہی ہے۔
مسلمانوں نے عربی زبان میں تو قرآن کے بے شمار نسخے چھاپ کر ہر جگہ پھیلادیے ہیں۔ لیکن یہ کام کرنا ابھی تک باقی ہے کہ دنیا کی تمام بڑی زبانوں میں قرآن کا قابل فہم ترجمہ تیار کیا جائے، اور اس کو ہر انسان تک پہنچانے کی کوشش کی جائے۔ یہاں تک کہ کوئی انسان اس سے بے خبر نہ رہے۔موجودہ زمانے میں یہ کام پوری طرح ممکن ہوچکا ہے۔ ضرورت صرف اس بات کی ہے کہ امت مسلمہ کے اندر اس کی اہمیت کا شعور پیدا ہوجائے۔ امت مسلمہ کا اصل فریضہ شہادت علی الناس یا دعوت الی اللہ ہے۔ اس کام کی ادائیگی امت مسلمہ پر اسی طرح فرض ہے جس طرح اس پر نماز اور روزہ فرض ہے۔ یہ فریضہ،فرض عین کی مانند ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ہر مسلم فرد کو اس کام کی ادائیگی میں اپنا حصہ لازماً ادا کرنا ہے۔
واپس اوپر جائیں

اچانک موت

انڈیا کے سابق پریسڈنٹ ڈاکٹر عبدالکلام 27 جولائی 2015 کو انتقال کرگیے۔ بوقت وفات ان کی عمر 83 سال تھی۔ وہ نئی دہلی سے شیلانگ گیے۔ وہاں ان کو انڈین انسٹی ٹیوٹ آف منیجمنٹ (Indian Institute of Management) شیلانگ میں ایک سائنسی موضوع پر لکچر دینا تھا۔ پروگرام کے مطابق انھوں نے اپنا لکچر شروع کیا۔ اس وقت ہال میں سامعین اور میڈیا کے لوگوں کی بھیڑ جمع تھی۔
ڈاکٹر کلام بمشکل پانچ منٹ بول پائے تھے۔ اس کے بعد اچانک ان کی زبان بند ہوگئی، اور وہ اسٹیج پر گر پڑے۔ ان کو فوراً اسپتال لے جایا گیا، لیکن وہاں ڈاکٹروں نے اعلان کیا کہ ڈاکٹر کلام کی موت واقع ہوچکی ہے۔ لکچر کا آخری جملہ جو ان کی زبان سے نکلا، وہ یہ تھا:
It is the destiny of our nation that an Indian brain requires an acknowledgment from a foreign...
موت لازما ہر انسان پر آتی ہے۔ تاہم عام طور پر یہ سمجھا جاتا ہے کہ موت کسی آدمی پر اس طرح آتی ہے کہ وہ بیمار ہوجائے، یا اس کو کوئی حادثہ پیش آجائے، یا وہ بوڑھا ہو کر مرے۔ لیکن خالق کبھی ایسا کرتا ہے کہ انسان کی موت اچانک آجاتی ہے۔ یہاں تک کہ وہ نہ کوئی آخری وصیت کرسکتا، اور نہ وہ اپنا درد دوسروں سے بیان کرسکتا۔ وہ بالکل نارمل حالت میں ہوتا ہے کہ اچانک اس کی آواز بند ہوجاتی ہے، اور معلوم ہوتا ہے کہ وہ مر چکا ہے۔
کسی شخص پراچانک موت اس لیے آتی ہے کہ لوگ اس کو دیکھ کر سبق لیں،وہ بے خبری کی زندگی نہ گزاریں۔ یہی وہ حقیقت ہے جو ایک صحابی رسول عبد اللہ ابن عمر نے ان الفاظ میں بیان کیا: إذا أمسیت فلا تنتظر الصباح، وإذا أصبحت فلا تنتظر المساء (صحیح البخاری، حدیث نمبر 6416) جب تم شام کرو تو صبح کا انتظار نہ کرو، اور جب تم صبح کرو تو شام کا انتظار نہ کرو۔
واپس اوپر جائیں

جنت کی دنیا

قرآن کی سورہ نمبر 35 میں بتایا گیا ہے کہ اہل جنت جب جنت کی زندگی کا تجربہ کریں گے تو اس کا اعتراف کرتے ہوئےان کی زبان سے یہ الفاظ نکلیں گے: الْحَـمْدُ لِلہِ الَّذِیْٓ اَذْہَبَ عَنَّا الْحَزَنَ (35:34) یعنی شکر ہے اللہ کا جس نے ہم سے غم کو دور کردیا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جنت ایک ایسی دنیا ہوگی جو درد اور غم سے مکمل طور پر خالی ہوگی۔
اہل جنت کا یہ کلمہ، ایک بہت معنی خیز کلمہ ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ کون سی دنیا ہے، جو انسان جیسی مخلوق کے لئےخوشیوں کی دنیا بن سکتی ہے۔یہ وہ دنیا ہے جو حزَن (pain) سے خالی ہو۔انسان بے حد حساس مخلوق ہے۔ حزَن کا معمولی ساتجربہ بھی انسان کو بے چین کردیتا ہے۔ انسان کو رہنے کے لئے ایک ایسا محل مل جائےجس میں بظاہر آرام کے تمام سامان موجود ہوں لیکن اسی کے ساتھ اس میں رہنے والےانسان کو کوئی حزَن لاحق ہو۔ مثلا، اس کے ایک دانت میں درد پیدا ہوجائے تو انسان اتنا بے چین ہوجائے گا کہ محل میں موجود آرام و راحت کے تمام سامان اس کے لئے بے معنیٰ ہو جائیں گے۔انسان جیسی مخلوق کے لئے صرف وہ دنیاخوشی کی دنیا بن سکتی ہے، جو حزَن سے مکمل طور پر پاک ہو۔
انسان کی نسبت سے یہ بیان ایک بے حد مبنی بر واقعہ بیان (factual statement) ہے۔قرآن کا یہ بیان کامل معنوں میں ایک مبنی بر واقعہ بیان ہے۔اتنا زیادہ مبنی بر واقعہ بیان کسی انسان کے لئے ممکن نہیں۔اس اعتبار سے دیکھا جائے تو یہ بیان اس بات کا ایک ثبوت ہےکہ قرآن ایک ایسی ہستی کی کتاب ہے جو تمام حقائق سے کامل واقفیت رکھتا ہے۔
مزید یہ کہ ایک ایسی دنیا بنانا جو کامل معنوں میں انسان کے تخلیقی ساخت سے مطابقت رکھتی ہو، ایک ایسا کام ہے جو صرف رب العالمین کے لئے ممکن ہے۔یعنی ایک ایسا رب جو پورے معنوں میں عالمی اختیارات کا مالک ہو۔ اس طرح یہ آیت خدا کےوجود کا ایک ناقابلِ انکار ثبوت ہے، اور اس بات کا ثبوت بھی کہ قرآن، رب العالمین کا کلام ہے، وہ کسی انسان کا کلام نہیں۔
واپس اوپر جائیں

تفکیر، مفکر

پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا مشن 610 عیسوی میں شروع کیا۔ اس سے پہلے لمبی مدت تک آپ کا حال یہ تھا کہ آپ متلاشی (seeker) بنے ہوئے تھے۔ نبوت ملنے سے پہلےآخری زمانے میں آ پ کا معمول یہ تھا کہ آپ مکہ کے قریب ایک پہاڑ کے غار (cave) میں چلے جاتے تھے، جس کا نام غارِ حرا تھا۔ اس غار میں آپ مراقبہ (meditation) نہیں کرتے تھے، بلکہ آپ وہاں مسلسل طور پر غور و فکر (contemplation) میں مشغول رہتے تھے۔ غارِ حرا کے اسی قیام کے آخری دن آپ پر پہلی وحی نازل ہوئی۔
حقیقت یہ ہے کہ غارِحرا پیغمبرِ اسلام کی ایک سنت ہے۔ یہ سنت بتاتی ہے کہ سچے انسان کی زندگی کا آغاز کہاں سے ہوتا ہے۔ قرآن میں اس معاملے کو ان الفاظ میں بتایا گیا ہے: وَوَجَدَکَ ضَالًّا فَہَدَى (93:7) یعنی اللہ نے تم کو تلاشِ حق میں سرگرداں پایا تو تم کو اس نے رہنمائی دی۔ یہ واقعہ پیغمبر ِ اسلام کی اُسی طرح ایک سنت ہے جس طرح آپ کی دوسری سنتیں ۔
حقیقی مفکروہ ہے جو حراء جیسے مرحلے سے گزر کر مفکر بنے۔ مگر تاریخ بتاتی ہے کہ تقریبا تمام وہ لوگ جو مفکر (thinker) سمجھے جاتے ہیں، وہ اس تفکیری مرحلہ (thinking process) سے گزر کر مفکرنہیں بنے، بلکہ وہ اپنے قریبی حالات کےزیر اثر مفکربنے۔ اپنی نوعیت کےاعتبار سے یہ معاملہ مذہبی مفکرین کا بھی ہے اور سیکولر مفکرین کا بھی۔
سیکولر مفکرین کی ایک نمایاں مثال کمیونسٹ مفکرکارل مارکس (وفات: 1883) کی ہے۔ اس کا فکر اپنے زمانے کے صنعتی مسائل کے تحت بنا۔یہ فکرٹکراؤ کے اصول پر مبنی تھا۔جس کو خود اس نے جدلیاتی فکر (dialectical interpretation of history)کا نام دیا ہے۔یہی معاملہ ان افراد کا بھی ہے جو مذہب کے دائرے میں مفکرسمجھے جاتے ہیں۔ یہ لوگ بھی تقریبا سب کے سب ردعمل کی پیداوار تھے۔
اسلام کی لٹریری تاریخ اس کی ایک واضح مثال ہے۔ عباسی دور میں ترجموں کے ذریعے یونانی علوم کا چرچا ہوا۔ اس وقت کچھ مسلم اسکالر اس کے ردّ کے لیے کھڑے ہوگیے۔ ان کو مفکرکا درجہ دے دیا گیا۔ پھر تیرہویں صدی عیسوی میں تاتاریوں کے حملہ کا حادثہ پیش آیا تو بہت سے مسلم اسکالر اس کے ردعمل میں لکھنے اور بولنے لگے۔ وہ بھی مسلمانوں کے درمیا ن مفکرقرار پائے۔ اسی طرح کچھ مسلم اسکالر نے فِرقِ باطلہ کے خلاف تردیدی محاذ کھول دیا تو مسلمانوں نے ان کو بھی مفکرکا درجہ دے دیا،وغیرہ۔
موجودہ زمانے میں یہی معاملہ مزید اضافے کے ساتھ پیش آیا ہے۔ موجودہ زمانے میں کچھ مسلم رہنماء صہیونیت کے خلاف سرگرمی دکھارہے ہیں، اور کچھ لوگ استشراق کے خلاف۔ کچھ مسلمان نوآبادیات کے خلاف جنگ چھیڑے ہوئے ہیں، اور کچھ مغربی تہذیب کے خلاف۔کچھ لوگ سیکولر حکومتوں کو زیر کرنے میں مشغول ہیں، اور کچھ لوگ مفروضہ ظالموں کے خلاف سرگرم ہیں، وغیرہ۔ یہ تمام لوگ مسلمانوں کے درمیان مفکرکا درجہ پائے ہوئے ہیں۔ مگر یہ نہ تفکیر ہےاور نہ ایسا کرنےوالوں کو مفکرکا درجہ دیا جاسکتا ہے۔
قرآن کی پہلی آیت یہ ہے: الحمد للہ رب العالمین۔ اس آیت پر غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ اسلام کی تفکیر کو مبنی بر حمد تفکیر ہونا چاہیے۔ اسلام کی تفکیر وہ ہے جو رب العالمین کی تلاش سے شروع ہو، پھر وہ معرفت تک پہنچے۔ یہ تفکیر اپنے آغاز سے لے کر اپنے انجام تک مکمل طور پر ایک مثبت تفکیر(positive thinking) ہے۔ وہ منفی سوچ (negative thinking) سے مکمل طور پر پاک تفکیر ہے۔ جو لوگ اس تفکیری شرط پر پورا اتریں، وہی حقیقی معنوں میں وہ لوگ ہیں جن کو مفکرکا درجہ دیا جائے۔
اس کے برعکس، دوسرے لوگ وہ ہیں جن کی تفکیر مبنی بر عداوت تفکیر ہو۔ عداوت شیطان کا کلچر ہے۔شیطان چاہتا ہے کہ انسانوں کے درمیان ایک دوسرے کے خلاف عداوت کے جذبات (5:91) پیداکرے۔ جولوگ شیطان کی تزئین سے متاثر ہوں،وہ مختلف عذر (excuse) کو لے کر دوسرے انسانوں کے خلاف نفرت اور عداوت کا شکار ہوجاتے ہیں، وہ اسی طرز پر سوچنے لگتے ہیں، ان کی تمام سوچ مبنی بر شکایت یا مبنی بر عداوت سوچ بن جاتی ہے۔ لوگ غلط فہمی کی بنا پر ایسے لوگوں کو مفکرکا مقام دے دیتے ہیں، حالاں کہ یہ لوگ کسی بھی درجے میں مفکرکہے جانے کے مستحق نہیں۔
پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کا غارِ حراء میں جانا کوئی سادہ واقعہ نہ تھا۔ اس کا مطلب یہ تھا کہ انسانی حالات سے الگ ہوکر فطرت کی دنیا میں تدبر کرنا۔ انسان کے بجائے خدائی آیات (signs)میں غور کرنا۔ وقتی حالات سے اوپر اٹھ کر ابدی حقیقتوں میں غور کرنا۔ یہی سوچ درست سوچ ہے۔ جولوگ اس طرح تدبر اور تفکر کریں، اور اس کے نتیجے میں اعلیٰ حقیقتوں کو دریافت کریں، وہی وہ لوگ ہیں جو حقیقی معنوں میں مفکر کہے جانے کے مستحق ہیں۔
اس کے برعکس، وہ لوگ جن کی سوچ انسانی حالات میں پھنسی ہوئی ہو، جو انسان کے پیدا کردہ مسائل میں سوچتے ہوں، جن کا ذہن سیاسی حالات اور اخباری رپورٹوں میں الجھا ہوا ہو ۔، ایسے لوگوں کی سوچ وہ سوچ نہیں جس کو قرآن میں تدبر کہا گیا ہے۔
ایسے لوگوں کی تفکیر ہمیشہ ردعمل کی تفکیر ہوتی ہے۔ دونوں قسم کی تفکیر کی پہچان یہ ہے کہ صحیح تفکیر ہمیشہ مثبت تفکیر ہوگی، اس میں کسی کے خلاف نفرت کا شائبہ نہیں پایا جائے گا۔ اس کے برعکس، ردعمل کی تفکیر ہمیشہ منفی تفکیر (negative thinking)ہوتی ہے۔ایسے مفکرین ہمیشہ ظلم اور سازش کا انکشاف کرتے رہتے ہیں۔ وہ ایسی باتیں کہتے ہیں جن کے نتیجے میں لوگوں کے درمیان اشتعال پیدا ہو۔ اور پھر یہ اشتعال بڑھتے بڑھتے متشددانہ ٹکراؤ تک پہنچ جائے۔
سچا مفکراپنی مثبت سوچ کی بنا پر اس قابل ہوتا ہے کہ وہ منفی حالات میں بھی مثبت بات کہے۔ مثلا پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم اپنے پیغمبرانہ مشن کے تیرہویں سال مکہ سے ہجرت کرکے مدینہ پہنچے۔ یہ ہجرت ظلم اور تشدد کے درمیان مجبورانہ طور پر ہوئی تھی۔ مگر جب آپ 16 دن کا نہایت مشکل سفر طے کرکے مدینہ پہنچے تو آپ نے مدینہ کے لوگوں کے سامنے مکہ والوں کی کوئی شکایت نہیں کی۔ اس کے برعکس، آپ نے مدینہ کے لوگوں کوسچائی کا مثبت پیغام دیا۔ان کو وہ عمل کرنے کے لیے کہا جو ان کو جنت میں پہنچائے۔
واپس اوپر جائیں

مصائب کی حکمت

قرآن کی سورہ نمبر 2 میں زندگی کی ایک حقیقت ان الفاظ میںبیان ہوئی ہے: وَلَنَبْلُوَنَّکُمْ بِشَیْءٍ مِنَ الْخَوْفِ وَالْجُوعِ وَنَقْصٍ مِنَ الْأَمْوَالِ وَالْأَنْفُسِ وَالثَّمَرَاتِ وَبَشِّرِ الصَّابِرِینَ۔ الَّذِینَ إِذَا أَصَابَتْہُمْ مُصِیبَةٌ قَالُوا إِنَّا لِلَّہِ وَإِنَّا إِلَیْہِ رَاجِعُونَ۔ أُولَئِکَ عَلَیْہِمْ صَلَوَاتٌ مِنْ رَبِّہِمْ وَرَحْمَةٌ وَأُولَئِکَ ہُمُ الْمُہْتَدُونَ (البقرۃ: 155-57)۔ یعنی اور ہم تم کو ضرور آزمائیں گے کچھ ڈر اور بھوک سے اور مالوں اور جانوں اور پھلوں کی کمی سے۔ اور ثابت قدم رہنے والوں کو خوش خبری دے دو۔ جن کا حال یہ ہے کہ جب ان کو کوئی مصیبت پہنچتی ہے تو وہ کہتے ہیں : ہم اللہ کے ہیں اور اسی کی طرف ہم لوٹنے والے ہیں۔ یہی لوگ ہیں جن کے اوپر ان کے رب کی شاباشیاں ہیں اور رحمت ہے۔ اور یہی لوگ راہ پر ہیں۔
دنیا کی زندگی میں انسان کے لیے مختلف قسم کی مصیبتیں آتی ہیں۔یہ مصیبتیں بلاسبب نہیں ہوتیں۔ ان کی بہت بڑی حکمت ہے۔ یہ مصیبتیں انسان کو کٹ ٹو سائز (cut to size) بناتی ہیں۔ اور کٹ ٹو سائز ہونا انسان کی اصلاح کا سب سے بڑا راز ہے۔
کٹ ٹو سائز ہونا آدمی کو حقیقت پسند بناتا ہے۔ وہ انسان سے بڑائی کا جذبہ چھین لیتا ہے۔ وہ انسان کے اندر تواضع (modesty) کی صفت پیدا کرتا ہے۔وہ انسان کو ایگوئسٹ (egoist) بننے سے بچاتا ہے۔
کٹ ٹو سائز ہونا انسان کو انسانِ اصلی بناتا ہے۔انسان کو اس کی فطری حالت پر واپس لاتا ہے۔ اور جس آدمی کے اندر یہ اوصاف پیدا ہوجائیں، اس کو ایک کامیاب انسان بننے سے کوئی روک نہیں سکتا۔ کٹ ٹو سائز ہونے سے پہلے انسان ایک مصنوعی انسان ہوتا ہے۔ کٹ ٹو سائز ہونے کے بعد انسان ایک حقیقی انسان بن جاتا ہے۔اور جو انسان حقیقی انسان بن جائے اس کے لیے فطرت کے قانون کے مطابق ،خیر کےتمام دروازے اس طرح کھل جاتے ہیں کہ کوئی دروازہ اس کے اوپر بند نہیں رہتا۔
واپس اوپر جائیں

مثلِ قرآن ممکن نہیں

قرآن کی سورہ نمبر 17 میں ایک آیت ان الفاظ میں آئی ہے: قُلْ لَئِنِ اجْتَمَعَتِ الْإِنْسُ وَالْجِنُّ عَلَى أَنْ یَأْتُوا بِمِثْلِ ہَذَا الْقُرْآنِ لَا یَأْتُونَ بِمِثْلِہِ وَلَوْ کَانَ بَعْضُہُمْ لِبَعْضٍ ظَہِیرًا (الاسراء: 88) کہو کہ اگر تمام انسان اور جنات جمع ہو جائیں کہ ایسا قرآن بنا لائیں تب بھی وہ اس کے جیسا نہ لاسکیں گے، اگرچہ وہ ایک دوسرے کے مدد گار بن جائیں ۔
کچھ لوگوں نےقرآن کے اس چیلنج کو لفظی معنی میں لے لیا۔ انھوں نے قرآن کا لفظی جواب دینے کی کوشش کی۔ مثلا ایرانی ادیب عبداللہ ابن مقفع (وفات: 142 ھ) نے قرآن کے جواب میں ایک عربی کتاب تیار کرنے کی کوشش کی لیکن خود ہی اپنی ناکامی کا عتراف کرتے ہوئے اس نےاِس منصوبے کو چھوڑدیا۔ اسی طرح یمامہ کے مسیلمہ (وفات: 12ھ)نے قرآن کے جواب میں کچھ سورتیں لکھیں۔ مثلاً سورہ الفیل کے جواب میں اس نے یہ الفاظ وضع کیے: الفیل ما الفیل لہ ذنب وثیل ومشفر طویل ۔مگر یہ سب لغو باتیں تھیں۔ صحیح بات یہ ہے کہ یہ چیلنج آئڈیالوجی کے معنی میں ہے۔ یعنی انسان اس پر قادر نہیں کہ وہ قرآن کے مقابلے میں کوئی متوازی آئڈیالوجی (parallel ideology) وضع کرسکے۔
تاریخ میں بار بار قرآن کی مثل آئڈیالوجی تیار کرنے کی کوشش کی گئی۔ مگر اس میں مکمل ناکامی ہوئی۔ مثلا خالق کا بدل (alternative) وضع کرنا، قرآن کے بیان کردہ تخلیقی منصوبہ (creation plan)کے مقابلے میں دوسرا منصوبہ وضع کرنا، وحی (revelation)کا بدل وضع کرنا، اخروی جنت کے بجائے دنیوی جنت تعمیر کرنا، کُلُّ نَفْسٍ ذَائِقَةُ الْمَوْتِ(3:185) کے بجائے ابدی حیات کو ممکن بنانے کی کوشش کرنا، أَلَا بِذِکْرِ اللَّہِ تَطْمَئِنُّ الْقُلُوبُ (13:28) کے بجائےغیر خدا میں اطمینان قلب حاصل کرنے کی کوشش کرنا،وغیرہ۔ انسان نے باربار ان پہلوؤں سے قرآن کا جواب وضع کرنے کی کوشش کی لیکن اس معاملے میں اس کو مکمل ناکامی ہوئی۔
واپس اوپر جائیں

صحیح مگر غلط

عَنْ عَمْرٓو بْن یَحْیَى، عَنْ أَبِیہ، عَنْ جَدِّہِ قَالَ:کُنَّا نَجْلِسُ عَلَى بَابِ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ مَسْعُودٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ، قَبْلَ صَلَاةِ الْغَدَاةِ، فَإِذَا خَرَجَ، مَشَیْنَا مَعَہُ إِلَى الْمَسْجِدِ، فَجَاءَنَا أَبُو مُوسَى الْأَشْعَرِیُّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فَقَالَ: أَخَرَجَ إِلَیْکُمْ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ قُلْنَا: لَا، بَعْدُ. فَجَلَسَ مَعَنَا حَتَّى خَرَجَ، فَلَمَّا خَرَجَ، قُمْنَا إِلَیْہِ جَمِیعًا، فَقَالَ لَہُ أَبُو مُوسَى: یَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ، إِنِّی رَأَیْتُ فِی الْمَسْجِدِ آنِفًا أَمْرًا أَنْکَرْتُہُ وَلَمْ أَرَ - وَالْحَمْدُ لِلَّہِ - إِلَّا خَیْرًا. قَالَ: فَمَا ہُوَ؟ فَقَالَ: إِنْ عِشْتَ فَسَتَرَاہُ. قَالَ: رَأَیْتُ فِی الْمَسْجِدِ قَوْمًا حِلَقًا جُلُوسًا یَنْتَظِرُونَ الصَّلَاةَ فِی کُلِّ حَلْقَةٍ رَجُلٌ، وَفِی أَیْدِیہِمْ حصًا، فَیَقُولُ: کَبِّرُوا مِائَةً، فَیُکَبِّرُونَ مِائَةً، فَیَقُولُ: ہَلِّلُوا مِائَةً، فَیُہَلِّلُونَ مِائَةً، وَیَقُولُ: سَبِّحُوا مِائَةً، فَیُسَبِّحُونَ مِائَةً، قَالَ: فَمَاذَا قُلْتَ لَہُمْ؟ قَالَ: مَا قُلْتُ لَہُمْ شَیْئًا انْتِظَارَ رَأْیِکَ أَوِ انْتظارَ أَمْرِکَ. قَالَ: «أَفَلَا أَمَرْتَہُمْ أَنْ یَعُدُّوا سَیِّئَاتِہِمْ، وَضَمِنْتَ لَہُمْ أَنْ لَا یَضِیعَ مِنْ حَسَنَاتِہِمْ»، ثُمَّ مَضَى وَمَضَیْنَا مَعَہُ حَتَّى أَتَى حَلْقَةً مِنْ تِلْکَ الْحِلَقِ، فَوَقَفَ عَلَیْہِمْ، فَقَالَ: «مَا ہَذَا الَّذِی أَرَاکُمْ تَصْنَعُونَ؟» قَالُوا: یَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ حصًا نَعُدُّ بِہِ التَّکْبِیرَ وَالتَّہْلِیلَ وَالتَّسْبِیحَ. قَالَ: «فَعُدُّوا سَیِّئَاتِکُمْ، فَأَنَا ضَامِنٌ أَنْ لَا یَضِیعَ مِنْ حَسَنَاتِکُمْ شَیْءٌ وَیْحَکُمْ یَا أُمَّةَ مُحَمَّدٍ، مَا أَسْرَعَ ہَلَکَتَکُمْ ہَؤُلَاءِ صَحَابَةُ نَبِیِّکُمْ صَلَّى اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مُتَوَافِرُونَ، وَہَذِہِ ثِیَابُہُ لَمْ تَبْلَ، وَآنِیَتُہُ لَمْ تُکْسَرْ، وَالَّذِی نَفْسِی بِیَدِہِ، إِنَّکُمْ لَعَلَى مِلَّةٍ ہِیَ أَہْدَى مِنْ مِلَّةِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ أوْ مُفْتَتِحُو بَابِ ضَلَالَةٍ. قَالُوا: وَاللَّہِ یَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ، مَا أَرَدْنَا إِلَّا الْخَیْرَ. قَالَ: «وَکَمْ مِنْ مُرِیدٍ لِلْخَیْرِ لَنْ یُصِیبَہُ، إِنَّ رَسُولَ اللَّہِ صَلَّى اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ حَدَّثَنَا أَنَّ» قَوْمًا یَقْرَءُونَ الْقُرْآنَ لَا یُجَاوِزُ تَرَاقِیَہُمْ "، وَایْمُ اللَّہِ مَا أَدْرِی لَعَلَّ أَکْثَرَہُمْ مِنْکُمْ، ثُمَّ تَوَلَّى عَنْہُمْ. (سنن الدارمی، حدیث نمبر: 210)ترجمہ کے لیے دیکھیں تجدید دین صفحہ نمبر 45-46۔
اس سے معلوم ہوا کہ کوئی عمل بظاہر خیر ہو تب بھی وہ خیر نہیں ہے۔ کسی عمل کے خیر ہونے کے لیے ضروری ہے کہ وہ فارم اور اسپرٹ دونوں اعتبار سے سنت رسول کے مطابق ہو۔
واپس اوپر جائیں

کوئی چیز ملکیت نہیں

ایک روایت حدیث کی مختلف کتابوں میں آئی ہے، صحیح مسلم کے الفاظ یہ ہیں: یَقُولُ الْعَبْدُ: مَالِی، مَالِی، إِنَّمَا لَہُ مِنْ مَالِہِ ثَلَاثٌ: مَا أَکَلَ فَأَفْنَى، أَوْ لَبِسَ فَأَبْلَى، أَوْ أَعْطَى فَاقْتَنَى، وَمَا سِوَى ذَلِکَ فَہُوَ ذَاہِبٌ، وَتَارِکُہُ لِلنَّاسِ (صحیح مسلم، حدیث نمبر: 2959) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ بندہ کہتا ہے کہ میرا مال، میرا مال۔ حالاں کہ اُس کے مال میں اس کے لئے صرف تین چیزیں ہیں —جو اس نے کھایا اور ختم کردیا یا جو اس نے پہنا اور بوسیدہ کردیا یا جو اس نے صدقہ کیا اور وہ اس کے لئے ذخیرۂ آخرت بن گیا۔ اس کے سوا جو ہے، وہ بہرحال چلاجانے والاہے اور وہ اس کو لوگوں کے لئے چھوڑدینے والا ہے۔
انسان جب پیدا ہوتا ہے، اوروہ دنیا میںزندگی گزارتا ہے تو وہ دیکھتا ہے کہ اس کے پاس کچھ سامان حیات ہے جو بظاہر اس کا اپنا ہے۔ وہ کوئی معاشی کام کرتا ہے جس کے ذریعے وہ کچھ مال کماتا ہے، وہ سمجھتا ہے کہ یہ مال میری کمائی ہے۔ مال یا مال کے ذریعے حاصل کی ہوئی چیزوں کے بارے میں اس کا یہ ذہن بنتا ہے کہ یہ تمام چیزیں میری اپنی ہیں،میں ان کا مالک ہوں، مجھے حق ہے کہ میں جس طرح چاہوں ان کو استعمال کروں۔لیکن موت آدمی کے اس خیال کی مکمل تردید کردیتی ہے۔ موت بتاتی ہے کہ آدمی کے پاس کوئی بھی چیز اس کی ذاتی چیز نہیں، اس کی کوئی بھی ملکیت اس کے پاس ہمیشہ ساتھ رہنے والی نہیں۔ موت آدمی کو اس کے مال اور اس کے تمام اسباب سے جدا کردیتی ہے۔ موت کے بعد آدمی اچانک اکیلا ہوجاتا ہے۔ یہی زندگی کی سب سے بڑی حقیقت ہے۔ جو آدمی اس حقیقت کو دریافت کرلے، وہ اپنے مال کو یا اپنے اسباب کو اس طرح استعمال کرے گا جو موت کے بعد کی زندگی میں اس کے کام آنے والا ہو۔ اس حقیقت کو جانے بغیر اس کی زندگی دنیا رخی زندگی ہوتی ہے۔ لیکن اس حقیقت کو جاننے کے بعد اس کی زندگی آخرت رخی زندگی بن جاتی ہے۔یہی وہ سب سے بڑی حقیقت ہے جو ہر آدمی کو جاننا چاہیے۔
واپس اوپر جائیں

ربط کے بغیر ملاقات

قرآن میں بتایا گیا ہے کہ انسان کو اس کے خالق نے ضعیف (4:28)پیدا کیا ہے۔ یعنی انسان پیدائشی طورپر یہ احساس لے کر پیدا ہوتاہے کہ میں ایک عاجز مخلوق ہوں۔ اپنے عجز کی تلافی کے لئے وہ ہمیشہ ایک سہارے کی تلاش میں رہتا ہے۔ اس چیز کو معبود کہاجاتا ہے۔ ایک خالق کے سوا کسی اورکو معبود بنانا یہ شرک ہے۔ انسان کے لئے حقیقی سہارا صرف ایک ہے اور وہ اللہ رب العالمین ہے- یہ سہارا اگر چہ بظاہر غیب میں ہے لیکن حقیقت کے اعتبار سے وہ انسان کے بالکل قریب (2:186)موجود ہے- یہ قربت اتنی زیادہ حقیقی ہے کہ حدیث کے الفاظ میں ہمیشہ وہ اس سے سرگوشی کرتا رہتاہے۔ بظاہر اس کا معبود مادی اعتبار سے اس کے قریب نظر نہیں آتا، لیکن انسان کے لئے ہر وقت یہ ممکن ہوتاہے کہ وہ نفسیاتی اعتبار سے اپنے رب سے مکمل ربط حاصل کرسکے۔ یہ ایک ایسا ربط (contact) ہے جو بظاہربراہ راست ملاقات کے بغیر حاصل ہوتا ہے۔ جس انسان کا ذہنی ارتقاء اعلی صورت میں ہوا ہو، وہ ہر لمحہ اس اعلی ربط (high contact) کا تجربہ کرتا ہے۔ ایسا انسان جب بھی دوسری چیزوں سے کٹ کر اپنے اندر detached thinking کی کیفیت پیدا کرتا ہے تو وہ محسوس کرتاہے کہ وہ اپنے رب سے بالکل قریب پہنچ گیا ہے۔ حتی کہ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ وہ اپنے رب سے سرگوشی کے انداز میں بات کررہا ہے۔ اس حقیقت کو حدیث میں ان الفاظ میں بیان کیاگیا ہے۔ یناجی ربہ (صحیح البخاری، حدیث نمبر 405)
ربط کے بغیر اپنے رب سے ملاقات کا یہ تجربہ بلاشبہ کسی انسان کے لیے سب سے بڑا تجربہ ہے۔ یہ تجربہ ہر انسان کے لئے ممکن ہے بشرطیکہ وہ اپنے آپ کو اس کا اہل ثابت کرے۔براہ راست ربط کے بغیر ملاقات قدیم زمانے میں ایک بعید چیز معلوم ہوتی تھی۔ مگر موجودہ زمانے میں کمیونی کیشن کی ترقی نے اس معاملے کو انسان کے لیے قابلِ فہم بنادیا ہے۔موجودہ کمیونی کیشن گویا براہ راست ربط کے بغیر ملاقات کا ایک مظاہرہ (demonstration)ہے۔خدا سے انسان کا یہی ربط نفسیات کی سطح پر ہوتا ہے۔
واپس اوپر جائیں

سیاسی ظلم نہیں

قرآن سے معلوم ہوتاہے کہ قدیم زمانہ میں جو پیغمبر آئے ان پر وقت کے ارباب اقتدار نے ظلم کیا۔ اس کو کچھ لوگوں نے سیاسی ظلم کے معنی میں لے لیا اور کہا کہ اصل یہ ہے کہ پیغمبر اپنے وقت کے سیاسی اقتدار پر قبضہ کرکے نیا نظام بنانا چاہتے تھے ۔ یہ ارباب اقتدار کے لئے ایک سیاسی خطرہ تھا اس لئے انھوں نے پیغمبروں پر ظلم کیا۔
اس معاملہ کی یہ تفسیر بالکل بے بنیاد ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ پیغمبروں کے ساتھ جو ظلم کیاگیا وہ مشرکانہ ظلم تھا نہ کہ سیاسی ظلم۔ یہ بات قرآن سے ثابت ہے۔ مثلا قرآن میں کہاگیا ہے : وَمَا نَقَمُوا مِنْہُمْ إِلَّا أَن یُؤْمِنُوا بِاللَّہِ الْعَزِیزِ الْحَمِیدِ(85:8)۔ یعنی اور ان کی ان سے دشمنی اس کے سوا کسی وجہ سے نہ تھی کہ وہ ایمان لائے اللہ پر جو زبردست ہے، تعریف والا ہے۔
قدیم زمانے میں ساری دنیا میں مذہبی عدم رواداری (religious intolerance) کا کلچر قائم تھا۔ اس بنا پر پیغمبر جب ایک نئے مذہب کی تبلیغ کرتاتومروجہ مذہب کے ذمے دار پیغمبر کے خلاف تشدد کرنے لگتے۔ یہ تشدد تمام تر مذہبی تشدد تھا، اس کا کوئی تعلق سیاست اور حکومت سے نہ تھا۔
تاریخی اعتبار سے دیکھا جائے تو پیغمبراسلام کے علاوہ دوسرے تمام پیغمبروں نے صرف پرامن دعوت کا کام کیا ہے۔ کسی نے زمین پر حکومت قائم نہیں کی۔حالاں کہ اگر پیغمبروں کا مشن سیاسی ہوتا تو ضروری تھا کہ اللہ کی مدد سے ان کو زمین پر سیاسی غلبہ حاصل ہو۔مگر ایسا نہیں ہوا۔ قرآن میں پیغمبروں کے بارے میں یہ آیت آئی ہے: کَتَبَ اللَّہُ لَأَغْلِبَنَّ أَنَا وَرُسُلِی (58:21) یعنی اﷲ نے لکھ دیا ہے کہ میں اور میرے رسول ہی غالب رہیں گے۔ قرآن کی یہ آیت تمام پیغمبروں کے بارے میں ہے، وہ کسی ایک پیغمبر کے بارے میں نہیں۔ ایسی حالت میںتمام پیغمبروں کو اپنے زمانے میں سیاسی غلبہ حاصل ہونا چاہیے تھا۔ مگر جیسا کہ معلوم ہے ایسا نہیں ہوا ۔ قرآن کی اس آیت میں غلبہ سے مراد نظریاتیغلبہ ہے، نہ کہ سیاسی غلبہ۔ اور اس معنی میں ہر پیغمبر کو غلبہ حاصل ہوا۔
واپس اوپر جائیں

تاریخ کا نیا دور

اسلام ساتویں صدی عیسوی میں آیا۔ اہل اسلام کی جدو جہد کے نتیجے میں اب دنیا میں ایک انقلاب آچکا ہے۔ روایات میں اس انقلاب کی پیشین گوئی موجود ہے۔ایک روایت کے مطابق پیغمبر ِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لا ہجرة بعد الفتح (صحیح البخاری، حدیث نمبر 2783)۔ اس حدیث میں ہجرت اور فتح کے الفاظ صرف وقتی معنی میں نہیں ہیں ، بلکہ وہ دور (age) کے معنی میں ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اسلامی انقلاب کے بعد دنیا میں ایک نیا دور آئے گا، اب ساتویں صدی کے ماڈل پر کام نہیں ہوگا۔ یعنی اب ہجرت اور جہاد کا ماڈل عملاًغیر متعلق ہوگیا ہے۔ اب وہ حالات بدل چکے ہیں جس میں ہجرت اور قتال پیش آیاتھا۔ اب صرف زمانے کی رعایت کے مطابق دعوت الی اللہ کا پرامن کام کرنا ہوگا۔ بقیہ نتائج اپنے آپ حاصل ہوتے رہیں گے۔
اسی طرح ایک روایت میں آیا ہے کہ کسریٰ ہلاک ہوگیا اب کوئی کسریٰ نہیں، اور قیصر ہلاک ہوگیا اب کوئی قیصر نہیں(صحیح البخاری، حدیث نمبر 3120)۔ اس میں بھی کسریٰ اور قیصر کے الفاظ علامتی طور پر استعمال ہوئے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ شہنشاہیت کا دور (age of imperialism)ختم ہوگیا۔ اب دنیا میں دوبارہ شہنشاہیت کا دور آنے والا نہیں۔
اس حدیثِ رسول میں پیشین گوئی کی زبان میں ایک تاریخی حقیقت کو بیان کیا گیا ہے۔ وہ یہ کہ اسلام کے بعد دنیا سے بادشاہت اور شہنشاہیت کا دور ختم ہوجائے گا۔ قدیم زمانے میں بادشاہی نظام اور شہنشاہی نظام کی بنا پردینی تحریک کو حکومتی نظام کی طرف سے ایذا رسانی (persecution) کا معاملہ پیش آتا تھا۔ اب دینی تحریک کے لیے ایسا معاملہ پیش آنے والا نہیں۔ اب دینی تحریک کی منصوبہ بندی خالص غیر سیاسی بنیاد پر ہوگی۔ اب دینی تحریک کو شروع سے آخر تک امن کے حالات میں کام کرنے کا موقع ملے گا نہ کہ تشدد کے حالات میں، اب قیامت تک کسی تحریک کے لیے تشدد کے حا لات پیش آنے والے نہیں۔
واپس اوپر جائیں

صبر کا انعام

اگر آدمی ایک چیز کے کھونے پر صبر کرلے تو اس کے بعد وہ اس سے زیادہ بڑی چیز پالیتا ہے جس کے کھونے پر اس نے صبر کیا تھا— یہ فطرت کا ایک قانون ہے۔ آدمی جب صبر کرتا ہے تو اس کا صبر ایک ایسی چیز پر ہوتا ہے جو فطرت کے قانون کے مطابق پیش آئی تھی، جس میں آدمی کو کوئی اختیار نہیں۔ اس طرح صبر کا مطلب یہ ہے کہ نہ ملنے والی چیز پر محرومی کو بطور واقعہ تسلیم کرنا، اور ملنے والی چیز کے حصول کےلیے اپنی کوشش کو جاری رکھنا۔
صبر (patience) کوئی بے عملی کا واقعہ نہیں۔ بلکہ صبر ایک عظیم عمل ہے۔ صبر اپنی حقیقت کے اعتبار سے یہ ہے کہ آدمی کی زندگی میں کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش آئے تو وہ اس پر افسوس کرکے اپنا وقت ضائع نہ کرے، بلکہ وہ اس کو بھلادے۔ یہی صابرانہ روش ہے۔ اس صابرانہ روش کا یہ فائدہ ہے کہ آدمی بقیہ وقت کو اس مقصد کے لیے استعمال کرتا ہے کہ نئے عزم کے ساتھ اپنے عمل کی نئی منصوبہ بندی کرے۔ وہ نئے مواقع (opportunities)کو دریافت کرکے ان کو استعمال کرے۔ کھونے کے بعد بھی اس کے پاس جو کچھ بچا ہے اس کو منظم انداز میں کام میں لانے کی کوشش کرے۔ وہ گزرے ہوئے ناخوشگوار واقعے کو اپنے لیے ایک تجربہ بنا لے۔ وہ اس سے سبق سیکھے اور آئندہ زیادہ بہتر انداز میں اپنے عمل کا نقشہ بنائے۔
پرانا مقولہ ہے کہ صبرتلخ است ولیکن بر شیریں دارد (صبر کڑوا ہے، لیکن اس کا پھل میٹھا ہوتا ہے)۔ دنیا کا قانون یہ ہے کہ بےصبری ہمیشہ آدمی کے نقصان میں مزید اضافہ کرے۔ اور صبر آدمی کو اس قابل بنائے کہ وہ ایک چانس کو کھونے کے بعد وہ دوسرے چانس کو نہ کھوئے، وہ دوسرے چانس کو استعمال کرتے ہوئے اپنے اس نقصان کی تلافی کرلے۔اس دنیا کے بنانے والے نے اس کو اس طرح بنایا ہے کہ وہ مواقع سے بھری ہوئی ہے۔ ایک موقع کو کھونا، کبھی خاتمہ کے ہم معنی نہیں ہوتا، بلکہ وہ نئے موقع کو دریافت کرکے اس کو استعمال کرنے کے ہم معنی ہوتا ہے۔
واپس اوپر جائیں

پاکستانی ڈائسپورا

Pakistanis in Diaspora
پاکستان 1947 میں بنا۔ اس کے بانیوں کا خواب تھا— پاکستان کو ایک علاحدہ مسلم اسٹیٹ (separate Muslim state) بنانا۔ مگر اللہ کو کچھ اور منظور تھا۔ پاکستان بننے کے بعد وہاں ایسے حالات پیدا ہوئے کہ پاکستانی مسلمان بڑی تعداد میں پاکستان کو چھوڑ کر باہر کے ملکوں میں جانے لگے۔یہاں تک کہ پاکستانی مسلمانوں کی پاکستان سے باہر ایک بڑی کمیونٹی وجود میں آگئی۔ اس کمیونٹی کو پاکستانیز ان ڈائسپورا (Pakistanis in Diaspora) کہا جاسکتا ہے۔ان کی مجموعی تعداد تقریبا 8 ملین ہے:
There are around eight million Pakistani people living abroad.
یہ کوئی اتفاقی بات نہیں، یہ جو ہوا، یہ اللہ کے منصوبہ کے تحت ہوا۔ پاکستانی قوم ایک زندہ قوم ہے۔ اللہ کو یہ منظور ہوا کہ وہ پاکستانی قوم کو ایک زیادہ بڑے مشن کے لیے استعمال کرے۔ وہ تھاساری دنیا میں پاکستانیوں کوپر امن خدائی سفیر (ambassadors of God) بنانا، پاکستانیو ں کو یہ دعوتی رول دینا کہ وہ اللہ کے پیغام کو ساری دنیا کے لوگوں تک پہنچائیں۔
یہ گویا باعتبار ِ صورت صحابہ کی تاریخ کا ایک اعادہ تھا۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے 610 عیسوی میں مکہ میں اپنا مشن شروع کیا۔ تیرہ سال بعد آپ ہجرت کرکے مکہ سے مدینہ پہنچے۔ ہجرت سے پہلے آپ نے کہا تھا : أمرت بقریة تأکل القرى، یقولون یثرب، وہی المدینة ۔(صحیح البخاری، حدیث نمبر 1871) یعنی مجھے ایک بستی کا حکم دیا گیا ہے، جو بستیوں کو کھا جائے گی۔ لوگ اس کو یثرب کہتے ہیں، اور وہ مدینہ ہے۔
پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ قول سادہ طور پر مدینہ کی فضیلت کا بیان نہ تھا۔ یہ دراصل ایک عالمی دعوتی عمل (process) کی پیشین گوئی تھی۔ اس کا مطلب یہ تھا کہ ہجرت کے بعد مدینہ اسلام کا دعوتی مرکز بنے گا۔ اس کے بعد یہاں سے ایک منصوبہ بند دعوتی عمل شروع ہوگا جو آخر کار پوری آباد دنیا کا احاطہ کرلے گا۔
اسلام کا دعوتی عمل مکہ میں شروع ہوا، پھر مدینہ اس کا مرکز بنا۔ اس کے بعد مختلف مراحل سے گزرتے ہوئےاہل ایمان کی تعداد بڑھتی رہی۔ یہاں تک کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے نبوت کے 23 ویں سال 632عیسوی میں وہ حج ادا کیا جو حجۃ الوداع کے نام سے مشہور ہے۔ اس حج میں صحابہ کی جو تعداد آپ کے ساتھ تھی وہ ایک لاکھ (100,000)سے زیادہ بتائی جاتی ہے۔
اس اجتماع کے موقعہ پر پیغمبر اسلام نے صحابہ کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایاتھاکہ اللہ نے مجھ کو سارے عالم کے لیے رحمت بناکر بھیجا ہے ،تم میرے پیغام کو تمام لوگوں تک پہنچادو۔ پیغمبر اسلام کے اس ارشادسے اصحاب رسول کو عمل کاایک نشانہ (target) مل گیا۔ وہ عرب سے نکل کر مختلف ملکوں میں پھیل گیے۔
اس کی ایک مثال میں نے ایک سفر کے دوران قبرص (Cyprus)میں دیکھی ، جو کہ ایسٹرن میڈیٹیرینن سی میں واقع ہے۔ یہاں سمندر کے ساحلی شہر لارناکہ (Larnaca) کے مقام پر ایک صحابیہ ام حرام بنت ملحان (وفات 27یا 28ھ)کی قبر اب تک موجود ہے۔
حجۃ الوداع کے بعد جو صحابہ عرب سے نکل کر دوسرے ملکوں میں پھیل گیے، وہ گویا صحابہ اِن ڈائسپورا (Sahaba in Diaspora) تھے۔ انھوں نے ہر ملک میں پر امن دعوہ ورک کیا۔ اسی طرح جو پاکستانی مسلمان اس وقت ڈائسپورا میں ہیں، اگر وہ ہر ملک میں پرامن دعوہ ورک کریں تو ان شاء اللہ ان کواللہ کی توفیق سے اس جیسا درجہ مل سکتا ہے جو اسلام کے دور اول میں صحابہ ان ڈائسپورا کے لیے مقدر ہوا تھا۔
موجودہ زمانہ پرنٹنگ پریس اور کمیونی کیشن کا زمانہ ہے۔ اس زمانے میں دعوت کا کام بہت آسان ہوچکا ہے۔ اور وہ ہے پر امن انداز میں قرآن کا ترجمہ مختلف زبانوں ڈسٹری بیوٹ کرنا، اور اسی کے ساتھ سپورٹنگ لٹریچر کو لوگوں تک پہنچانا۔
واپس اوپر جائیں

دنیا کی حقیقت

پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک حدیث ان الفاظ میں آئی ہے: ألا إنَّ الدنیا ملعونةٌ ملعونٌ ما فیہا، إلا ذکرُ اللہِ وما والاہُ، وعالمٌ، أو متعلمٌ(سنن الترمذی، حدیث نمبر : 2322)۔ دنیا ملعون ہے، اس کے اندر جو کچھ ہے وہ بھی ملعون ہے، سوائے اللہ کی یادکے اور وہ چیز جو اللہ سے قریب کرنے والی ہو، اور جاننے والا، اور سیکھنے والا۔
اس حدیث میں ملعون کا مطلب بے قیمت (valueless) ہونا ہے۔ یہ بات آخرت کے مقابلے میں کہی گئی ہے۔ اسلامی تصور کے مطابق اصل اہمیت آخرت کی ہے۔اس نسبت سے دنیا کی کامیابی بھی بے قیمت ہے، اور یہاں کی ناکامی بھی بے قیمت۔ دنیا کی کامیابی اور ناکامی میں حقیقت کے اعتبار سے کوئی فرق نہیں۔
دنیا کے کسی واقعے یا کسی تجربے کو جانچنے کا معیار یہ ہے کہ اس کو آخرت کے اعتبار سے جانچا جائے۔جانچنے کے اس معیار کو ایک لفظ میں معرفت کہا جاسکتا ہے۔دنیا میں انسان کے ساتھ جو تجربہ گزرے، وہ خواہ مثبت تجربہ ہو یا منفی تجربہ، وہ اس وقت باقیمت ہے جب کہ وہ انسان کی معرفتِ خدا میں اضافہ کرنے والا ہو۔جو تجربہ معرفت میں اضافہ نہ کرے، اس کی کوئی قیمت نہیں۔
دنیا کا ہر تجربہ اپنے اندر معرفت کا ایک پہلو رکھتا ہے۔آدمی کوچاہئے کہ وہ دنیا کے ہر تجربے میں معرفت کے اس پہلو کو دریافت کرے، وہ مسلسل طور پر اپنے علمِ الٰہی کو بڑھاتا رہے۔دنیا کا ہر واقعہ باعتبارِ حقیقت اس لئے ہوتا ہے کہ وہ انسان کے اندر معرفت کے سفر کو مسلسل طور پر جاری رکھے۔ دنیا کی زندگی کو جانچنے کا معیار یہ نہیں ہے کہ آدمی نے مادی طور پر کیا کھویا اور کیا پایا، بلکہ یہ ہے کہ اس کے ذہن میں معرفت کا سفر جاری ہے یا نہیں۔اگر آدمی ذہنی اعتبار سے اتنا بیدار ہو کہ دنیا کے نشیب و فرا ز کے باوجود معرفت کا سفراس کے ذہن میں مثبت طور پر جاری ہے تو ایسا انسان ایک کامیاب انسان ہے۔حدیث میں عالم کا لفظ معرفت کی دریافت کرنے والے کے معنی میں ہے، اور متعلم وہ ہے جو معرفت کی دریافت میں لگا ہوا ہو۔
واپس اوپر جائیں

اللہ کی انگلیوں کے درمیان

پیغمبر ِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: إن قلوب بنی آدم کلہا بین إصبعین من أصابع الرحمن، کقلب واحد، یصرّفہ حیث یشاء (صحیح مسلم، حدیث نمبر: 2654)یعنی بنی آدم کے دل سب کے سب اللہ کی انگلیوں میں سے دو انگلیوںکے درمیان ہیں، ایک دل کی طرح، اللہ انسان کے دل کو پھیردیتا ہے جس طرح چاہتا ہے۔
اس حدیث میں انسانی زندگی کی ایک حقیقت کو بتایا گیا ہے۔ اللہ جب کسی کام کو انجام دینا چاہتا ہے تو وہ انسانوں کے دل میں یا کسی ایک انسان کے دل میںوہ بات ڈال دیتا ہے، جو اس وقت مطلوب ہے۔اس طرح انسان داخلی تحریک کے تحت حرکت میں آجاتا ہے۔ اور پھر وہ کام انجام پاجاتا ہے جو اللہ کو مطلوب ہے۔
اس سے معلوم ہوا کہ جب کسی شخص کو محسوس ہو کہ فلاں شخص یا فلاں لوگ اس کے راستے میں رکاوٹ ہیں، تو وہ انسان سے ٹکراؤ نہ کرے، کیوں کہ اصل مسئلہ اللہ کا ہے نہ کہ انسان کا۔ اس کو چاہیے کہ بظاہر انسان کا مسئلہ ہو تب بھی وہ اس کو اللہ سے مانگے، وہ اس کے لیے اللہ سے دعا کرے۔ اگر اللہ چاہے گا تو وہ متعلق انسان کے دل کو پھیر دے گا۔ اور وہ متحرک ہوکر ضروری کام انجام دے دے گا۔
اس حدیث سے یہ اصول معلوم ہوتا ہے کہ اگر معاملہ بظاہر انسان سے ہو تب بھی اس کو اللہ کا معاملہ سمجھنا چاہیے، اور اس کی تکمیل کے لیے اللہ سے مدد مانگنا چاہیے۔اگر اللہ چاہے گا تو وہ دخل دے کر کام بنادے گا، اور اگر اللہ کی مرضی نہ ہوگی تو کوئی بھی سرگرمی یا ہنگامہ آرائی کام بنانے والی نہیں۔ اللہ کا طریقہ خاموشی کے ساتھ مینج (manage) کرنے کا طریقہ ہے۔ اللہ کا یہ عمل بظاہر دکھائی نہیں دیتا، لیکن وہ ضرور اپنا عمل کرتا ہے۔ اگر انسان کی دعا اللہ کے تخلیقی منصوبے کے مطابق ہوتو اللہ اس کو ضرور پوری کرے گا۔ بشرطیکہ انسان اپنے غلط کارروائی کے ذریعے معاملے کو بگاڑ نہ دے۔ اس معاملے میں انسان کو صبر کو ثبوت دینا ہوگا۔ جو کہ قبولیت دعا کی لازمی شرط ہے۔
واپس اوپر جائیں

بلا استحقاق عطیہ

قرآن میں ایک حقیقت کو ان الفاظ میں بیان کیاگیا ہے:وَسَخَّرَ لَکُم مَّا فِی السَّمَاوَاتِ وَمَا فِی الْأَرْضِ جَمِیعًا مِّنْہُ ۚ إِنَّ فِی ذَٰلِکَ لَآیَاتٍ لِّقَوْمٍ یَتَفَکَّرُونَ(45:13) یعنی اور اس نے آسمانوں اور زمین کی تمام چیزوں کو تمھارے لئے مسخر کردیا، سب کو اپنی طرف سے، بے شک اس میں نشانیاں ہیں ان لوگوں کے لیے جو سوچتے ہیں۔
ایک انسان اگر کسی بلند مقام پر کھڑا ہو کر اپنے چاروں طرف دکھائی دینے والی چیزوں کو دیکھے اور نہ دکھائی دینے والی چیزوں کو سوچے تو وہ کہہ اٹھے گا کہ خدایا، اس دنیا میں تو نے سب کچھ مجھے بلااستحقاق اور بلا طلب دے دیا۔ یہ سوچ اس کو آخرت کی یاددلائے گی، اور پھر وہ کہہ اٹھے گا خدایا، آخرت میں بھی تو میرے ساتھ اسی طرح رحمت کا معاملہ فرما۔ تو مجھ کو بلاحساب جنت میں داخل کردے۔
انسان کے اندر اگر ایمانی بیداری ہو، اور اس کے اندر اعلی درجے کا ایمانی شعور پیداہوجائے تو اس کو بار بار اس طرح کا تجربہ ہوگا۔ وہ اپنے اندر خالق کو دریافت کرے گا۔ وہ کائنات کی ہرچیز میں رب السموات والأرض کا مشاہدہ کرے گا۔ ہر تجربہ اس کے لیے ربانی تجربہ بن جائے گا۔ انہی ربانی تجربات کے درمیان وہ جنتی شخصیت بنتی ہے جس کو مزکیّٰ شخصیت (purified soul) کہاجاتا ہے۔ جنت کسی کو کسی خارجی چیز پر نہیں ملے گی، بلکہ خود اپنے اندر ربانی شخصیت کی تعمیر کے ذریعہ ملے گی۔ ربانی شخصیت کی تعمیر کا یہ معاملہ پوری زندگی کا معاملہ ہے۔ ایمانی شعور پیدا ہونے کے بعدوہ انسان کے اندر ساری عمر جاری رہتاہے، یہاں تک کہ انسان اپنی عمر پوری کرکے اپنے رب سے جاملتا ہے۔
قرآن و سنت کے مطالعے سے معلوم ہوتا ہے کہ دین میں سب سے زیادہ اہمیت کی چیز اللہ کا ذکر ہے۔ ذکر کا مطلب یہ نہیں ہے کہ انگلیوں پر یا تسبیح کے دانوں پر اللہ کے لفظ کا ورد کیا جاتا رہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ کا تصور آدمی کے ذہن میں اس طرح سما جائے کہ وہ انسان کے فکری عمل (thinking process) میں شامل ہوجائے۔
واپس اوپر جائیں

بڑا کام

حدیث میں آیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: من تواضع للہ درجة رفعہ اللہ درجة، حتى یجعلہ فی علیین، ومن تکبر على اللہ درجة، وضعہ اللہ درجة، حتى یجعلہ فی أسفل السافلین (مسند احمد، حدیث نمبر11724)۔یعنی جس نے اللہ کے لیے تواضع اختیار کی ایک درجہ تو اللہ اس کو ایک درجہ بلند کرتاہے ، یہاں تک کہ اس کو علیین میں پہنچا دیتا ہے۔ اورجس نے اللہ کے مقابلے میں کبر کی روش اختیار کی ایک درجہ تو اس کو اللہ ایک درجہ نیچے کر دیتا ہے، یہاں تک کہ وہ اس کو اسفل سافلین میں ڈال دیتا ہے۔
یہ کو ئی پر اسرار بات نہیں بلکہ وہ اس دنیا کے لیےاللہ کا ایک مقرر کردہ فطرت کا قانون ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جب کوئی شخص تواضع (modesty) کا طریقہ اختیار کرتا ہے تو اس کے اندر وہ اوصاف پیدا ہونے لگتے ہیں جو کہ بڑا کام کرنے کے لیے ضروری ہیں۔
ہر انسان کے لیے یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی بڑا کام انجام دے۔ لیکن بڑا کام انجام دینے کے لیے ہمیشہ اعلی صفات درکار ہوتی ہیں۔ جس کو قرآن میں خُلْق عظیم (68:4) کہا گیاہے۔ خُلْق عظیم سے مراد اعلی اخلاق (sublime character)ہے۔اعلی اخلاق کے بغیر کوئی شخص کوئی بڑا کام نہیں کرسکتا۔
فطرت کے قانون کے مطابق ایسے انسان کو ہر قسم کی کامیابیاں حاصل ہوتی ہیں۔ اس کے برعکس کبر پسند انسان اللہ کا غیر مطلوب انسان ہے۔ایسے انسان کو اللہ کی مدد حاصل نہیں ہوتی۔ اس کا ساتھی شیطان بن جاتا ہے۔ اور جس انسان کا ساتھی شیطان بن جائےاس کے لیے خدا کی دنیا میں ذلت اور ناکامی کے سوا کچھ اور مقدرنہیں۔لوگ عام طور پر اپنی ذات میں جیتے ہیں، ایسے لوگ کوئی بڑا کام نہیں کر سکتے۔ بڑا کام کرنے والا وہ شخص ہے جو اپنی ذات کے باہر جینے والا بن گیا ہو، جو دینے والا بن کر جیے، نہ کہ صرف لینے والابن کر۔
واپس اوپر جائیں

عدم اعتراف

ایک صاحب نے کہا کہ میرے ملنے والوں میں ایک شخص ہے جو بہت اچھی باتیں کرتا تھا۔ پھر اس کے کہنے پر میں نے اس کو بزنس شروع کرنےکے لیےکچھ رقم دے دی۔ اس کا بزنس کامیاب ہوگیا۔ لیکن اب وہ مجھ سے بات نہیں کرتا۔ رقم کی واپسی کا بھی کوئی ذکر نہیں کرتا۔ میں نے کہا کہ یہ تو عام بات ہے جس کے ساتھ بھی آپ کوئی اچھاسلوک کریں گے وہ بعد کو آپ کے لئے اجنبی جیسا بن جائے گا۔
عطیہ کے بارے میں انسان کا یہ عام مزاج ہے۔ عطیہ پانے سے پہلے وہ عطیہ کو دوسرے کی چیز سمجھتا ہے، مگر عطیہ پانے کے بعدوہ اس کو اپنی ذاتی ملکیت سمجھ لیتاہے۔ انسان کے اس مزاج کی وجہ سے بے اعترافی کا کلچر ہر سماج میں پایا جاتا ہے۔
انسان جب انسان کے ساتھ ایسا معاملہ کرتا ہے تو وہ اس کا عادی بن جاتا ہے۔ پھر انسان کے ساتھ اس کی ناشکری خالق کے ساتھ ناشکری تک پہنچ جاتی ہے۔ خالق کی طرف سے انسان کو اتنی زیادہ چیزیں ملی ہوئی ہیں کہ ان کی گنتی نہیں ۔ چونکہ یہ چیزیں انسان کو پیدا ہونے کے بعد اپنے آپ مل جاتی ہیں اس لئے اپنے عام مزاج کے مطابق انسان یہ کرتاہے کہ ملی ہوئی چیز کو وہ اپنی ذاتی ملکیت سمجھ لیتاہے۔ وہ شعوری یا غیر شعوری طورپر ان چیزوں کو خالق کا عطیہ نہیں سمجھتا بلکہ ان کو اپنی محنت سےحاصل کی ہوئی چیز سمجھتا ہے۔
انسان کا یہی مزاج ہے جس کی وجہ سے وہ انسان کے عطیات کا اعتراف نہیں کرتا۔ اسی طرح وہ خالق کے برتر عطیات کا بھی اعتراف نہیں کرتا۔ وہ انسان کے بارےمیں بھی ناشکری کا معاملہ کرتاہے اور خالق کے معاملہ میں بھی ناشکری کا معاملہ ۔ یہ بے حد خطرناک بات ہے۔ شکر (acknowledgment) سب سے بڑی نیکی ہے۔ یہ نیکی انسان کی نسبت سے بھی مطلوب ہے، اور خدا کی نسبت سے بھی۔ جو آدمی اس نیکی سے خالی ہو، وہ یقینا دوسری نیکیوں سے بھی خالی ہوجائے گا۔
واپس اوپر جائیں

بیانیہ اسلوب، تجزیاتی اسلوب

تحریر کے دو طریقے ہیں— بیانیہ اسلوب، اور تجزیاتی اسلوب۔ بیانیہ اسلوب یہ ہے کہ آدمی ایسی بات کہے جو اس کے اپنے ذہن کی بات ہو، لیکن اس کے ذہن کے باہر اس کاکوئی واقعاتی مصداق موجود نہ ہو۔ مثلا یہ کہنا کہ مغرب میں استشراق نوآبادیاتی حکومتوں کو تقویت پہنچانے کے لیے پیدا ہوا۔ یہ ایک ایسی بات ہے جس کے ساتھ ضروری دلیل شامل نہیں۔
تجزیاتی اسلوب یہ ہے کہ یہ کہا جائے کہ مستشرقین کا تصور ہر لحاظ سے مختلف تھا۔ اس کے لحاظ سے انھوں نے چیزوں کا مطالعہ کیا۔ مثلا وہ سمجھتے تھے کہ مذہب ایک سماجی ظاہرہ (social phenomenon)ہے۔ اپنے اس تصور کے مطابق انھوں نے مذہب کی باتوں کی توجیہہ بیان کی۔ یہ تصور مسلم علماء کے تصور کے خلاف تھا۔ مسلم علماء اس پر مشتعل ہوگیے۔ مگر مسلم علماء کے کرنے کا اصل کام یہ تھا کہ وہ مستشرقین کے مذہبی تصور کا تجزیہ دلائل کی زبان میں کرتے۔ اس کے برعکس، وہ اس قسم کی الزامی باتیں کہنے لگے کہ استشراق اہل مغرب کی سازش ہے۔
مسلم اہل قلم نے استشراق کے خلاف بہت سی کتابیں شائع کی ہیں۔ مگر راقم الحروف کے علم کے مطابق یہ کتابیں ردعمل کی مثالیں ہیں، ان میں سے کوئی بھی کتاب غالباً علمی تجزیہ کی مثال نہیں۔
جدید استشراق دراصل سائنٹفک نقطۂ نظر کے تحت پیدا ہوا۔ سائنسی طریقِ مطالعہ میں چیزوں کو معلوم ظواہر کے اعتبار سے آبجیکٹیو (objective) طورپر جانچا جاتا ہے۔ اس طریقِ مطالعہ میں یہ بات خارج از بحث ہے کہ چیزوں کو وحی کی روشنی میں سمجھنے کی کوشش کی جائے۔ اس طریقِ بحث نے علماء کو استشراق کے بارے میں منفی سوچ میں مبتلا کردیا ہے۔ مگر منفی سوچ کے تحت استشراق کے خلاف بیانات دینا بے فائدہ ہے۔ اصل ضرورت یہ ہے استشراق کا تجزیہ علمی حقائق کی بنیاد پر کیا جائے۔ اس زمانے میں تجزیاتی اسلوب کی قیمت ہے، بیانیہ اسلوب کی اس زمانے میں کوئی قیمت نہیں۔ بیانیہ اسلوب میں لکھی ہوئی چیزیں صرف ردی کی ٹوکری میں جگہ پاتی ہیں۔
واپس اوپر جائیں

بلاشرط ساتھ دینا

مشن کا تصور پہلے ایک انسان کےدماغ میں پیدا ہوتا ہے۔ پھر وہ انسان اس کو عملاً شروع کرتاہے، لیکن کسی مشن کی کامیابی اس کے بغیر نہیں ہوتی کہ بہت سے لوگ اس کا ساتھ دیں۔ ان ساتھ دینے والوں کو بلاشرط صاحب مشن کا ساتھ دینا چاہئے۔ اگر ان کا مزاج مشروط ساتھ دینے والا ہو تو وہ پوری طرح مشن میں اپنا حصہ ادا نہیں کرسکیں گے۔ کسی نہ کسی مقام پر وہ کوئی شکایت یاکوئی عذر (excuse)لے کر صاحب مشن کا ساتھ چھوڑ دیںگے۔
بلا شرط صاحب مشن کا ساتھ دینا کوئی شخصیت پرستی (personality cult) کا معاملہ نہیں۔ وہ شعوری ارتقا کا معاملہ ہے۔ وہ یہ ہے کہ دو انسانوں کی فکری سطح (wavelength) ایک ہوجائے۔ جب ایسا ہوجائے تو انسان ذہنی اعتبار سے اس درجے میں پہنچ جاتا ہے کہ اس کی فکر الگ نہ ہو۔ اس قسم کے افراد جب کسی مشن کے گرد اکٹھاہوں اسی وقت وہ مشن کامیاب ہوتاہے۔ یہی وہ حقیقت ہے جس کو قرآن میں ان الفاظ میں بیان کیاگیا ہے: إِنَّ اللَّہَ یُحِبُّ الَّذِینَ یُقَاتِلُونَ فِی سَبِیلِہِ صَفًّا کَأَنَّہُم بُنْیَانٌ مَّرْصُوصٌ(61:4)یعنی اللہ تو ان لوگوں کو پسند کرتاہے جو اس کے راستے میں اس طرح مل کر لڑتے ہیں گویا کہ وہ ایک سیسہ پلائی ہوئی دیوار ہیں۔
یہ ایک کامل اتحاد کا معاملہ ہے۔ اس قسم کا اتحاد صرف اس وقت پیدا ہوتاہے جب کہ صاحب مشن اور مشن کے ساتھیوں کی فکری سطح پوری طرح ایک ہوگئی ہو۔اس کامل اتحاد کا تعلق میدان جنگ سے بھی ہے اور اس حالت سے بھی ہے جب کہ جنگ نہ ہورہی ہو، بلکہ پر امن انداز میں اسلام کا کام کیا جارہا ہو۔
یہ ایک حقیقت ہے کہ کو ئی بڑا کام ایک شخص نہیں کر سکتا۔ بڑا کام کرنے کے لیے افراد کے درمیان کامل اتحاد ضروری ہے۔ یہ اتحاد خود ایک عظیم عبادت ہے۔ اس عبادت میںکوئی شخص صرف اس وقت پورا اترسکتا ہے، جب کہ وہ شعوری پختگی کے درجے تک پہنچ چکا ہو۔ وہ ایک معاملہ اور دوسرے معاملے کے درمیا ن فرق کرنا جانتا ہو۔
واپس اوپر جائیں

دین اور اسٹیٹ

ایک مشہور جماعت کے بانی اپنی ایک کتاب میں دین کا مفہوم بتاتے ہوئےلکھتےہیں: دین کا لفظ قریب قریب وہی معنی رکھتا ہے جو زمانۂ حال میں اسٹیٹ کے معنی ہیں، لوگوں کا کسی بالاتر اقتدار کو تسلیم کرکے اس کی اطاعت کرنا ، یہ اسٹیٹ ہے، یہی دین کا مفہوم بھی ہے۔ (مسلمان اور موجودہ سیاسی کشمکش، حصۂ سوم)
اس اقتباس کا علمی تجزیہ کیا جائے تو معلوم ہوگا کہ اس میں دین کی تشریح بھی درست نہیں، اور اسٹیٹ کی تشریح بھی درست نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ وہ ایک ادبی جملہ ہے، وہ دین اور اسٹیٹ کے بارے میں کوئی علمی بیان نہیں۔
لفظ دین کا مطلب اصلا وہی ہے جس کو مذہب (religion) کہا جاتا ہے۔ دین کا لفظ جب اسلام کے لیے بولا جائے تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ انسان کے لیے خدا کی وہ ہدایت جو محفوظ حالت میں آج تک موجود ہے۔دین کے لفظ میں اصولی اعتبار سے سیاست کا مفہوم شامل نہیں۔
اسٹیٹ کا مطلب ریاست ہے۔ اسٹیٹ ایک اجتماعی ہیئت ہے۔ علمی اعتبار سے اسٹیٹ کے چار اجزاء ہوتے ہیں— آبادی، رقبہ، اقتدار، حکومت:
population, territory, sovereignty, government
جدید تصور کے مطابق، ریاست ایک مستقل (permanent)چیز ہے، اور حکومت (government) ایک وقتی چیز ۔ جمہوریت کےنظام میں حکومت کسی شخص یا خاندان کی اجارہ داری نہیں، وہ ہر چند سال کے بعد الیکشن کے ذریعے بدلتی رہتی ہے۔
مزید یہ کہ موجودہ زمانے میں حکومت کا تعلق انتظامیہ (administration) سے ہوتا ہے۔بقیہ شعبے اصولا آزادشعبے ہیں۔ مثلا تعلیم اور اقتصادیات، وغیرہ۔انھیں آزاد شعبوں میں دعوت کا کام بھی شامل ہے۔
واپس اوپر جائیں

حکمت کا اصول

ایک حدیث رسول کا ترجمہ یہ ہے: عبد اللہ ابن عمر بیان کرتے ہیں کہ کہ عمر بن خطاب نے مدینہ کی مسجد کے دروازے پر دیکھا کہ ایک شخص ریشم کا کپڑا ( حلة سیراء)بیچ رہا ہے۔ انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا کہ آپ اس کو خرید لیں، اور اس کو آپ جمعہ کےدن اور وفود کی آمد کے موقع پر پہنیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دیا کہ جو لوگ اس طرح کا کپڑا پہنیں، ان کے لیے آخرت میں کوئی حصہ نہیں۔ اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اس طرح کے کپڑے آئے، آپ نے اس میں سے ایک کپڑا عمر بن خطاب کو دے دیا۔ عمر نے کہا اے خدا کے رسول یہ آپ مجھ کو پہننے کے لیے دے رہے ہیں۔حالاں کہ اس سے پہلے آپ نے اس طرح کے کپڑے کے بارے میںکہا تھا جو کہا تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا میں نے یہ کپڑا اس لیے نہیں دیا ہے کہ تم خود اس کو پہنو۔ تو عمر بن خطاب نے یہ کپڑا اپنے بھا ئی کو پہننے کے لیے دے دیا، جو اس وقت مکہ میں شرک کے مذہب پر تھا، اس نے ابھی تک اسلام قبول نہیں کیا تھا ( أخا لہ بمکة مشرکا)۔صحیح البخاری، حدیث نمبر 886
یہاں یہ سوال ہے کہ ریشم کا ایک کپڑا جو مومن کے لیے پہننا درست نہ تھا، وہ مشرک کو کیوں دے دیا گیا۔ اس کا سبب تالیفِ قلب تھا۔یعنی مشرک کے دل کو نرم کرنا۔ چناں چہ کہا جاتا ہے کہ بعد کو وہ مشرک اسلام میں داخل ہوگیا۔ تالیف قلب کا معاملہ حال کے اعتبار سے نہیں کیا جاتا ہے، بلکہ مستقبل کے لحاظ سے کیا جاتا ہے۔ تالیف قلب کے معاملے میں یہ نہیں دیکھا جاتا کہ وہ شخص آج کیسا ہے، بلکہ یہ دیکھا جاتا ہے کہ اگر اس سے تالیف قلب کا معاملہ کیا جائے تو کل وہ کیسا ہوسکتا ہے۔ تالیف قلب کا اصول مبنی بر مستقبل اصول ہے، نہ کہ مبنی بر حال اصول۔مزید یہ کہ تالیف قلب کے مقصد کے لیے کسی کو کچھ سامان دیا جائے تو وہ اس کی اپنی پسند کے مطابق ہونا چاہیے، نہ کہ دینے والے کی پسند کے مطابق۔ اگر ایسا نہ کیا جائے تو تالیف قلب کا مقصد حاصل نہ ہوگا۔ مثلا ً ایک مومن کو خود اپنے لیے سادہ کپڑا پسند ہوسکتا ہے، لیکن جب کسی شخص کو تالیف کے لیے کپڑا دینا ہو تو اس کو اچھا کپڑا دیا جائے گا نہ کہ سادہ کپڑا۔
واپس اوپر جائیں

حروفِ مقطعات

حروف مقطعات قرآن کی 29 سورتوں کے شروع میں آئے ہیں۔کسی میں ایک حرف، کسی میں دو حروف، اور کسی میں زیادہ حروف۔یہ حروفِ مقطعات پر اسرار(mysterious)نہیں ہیں۔ بلکہ وہ نہایت بامعنی ہیں۔ قرآن کو سمجھنے کے لیے ان کی اہمیت بہت زیادہ ہے۔
حروفِ مقطعات کا مطلب الگ الگ حروف (disjointed letters)ہیں۔یہ حروف وہی ہیں جو حروفِ تہجی (alphabets) کے لیٹرہوتے ہیں۔ہر زبان کے الفاظ حروفِ تہجی کا مجموعہ ہوتے ہیں۔ حروفِ مقطعات کا مطلب یہ ہے کہ قرآن کسی ملکوتی زبان یا ملااعلی کی زبان میں نہیں ہے، بلکہ وہ انسانی زبان میں ہے۔ قرآن کو سمجھنے کے لیے وہی اسلوب اختیار کیا جائے گا، جو انسانی زبان کو سمجھنے کے لیے کیا جاتا ہے۔ مثلا قرآن میں آیا ہے : وَکَأَیِّنْ مِنْ نَبِیٍّ قَاتَلَ مَعَہُ رِبِّیُّونَ کَثِیرٌ (3:146)۔ یہاں قاتل لفظی معنی میں نہیں ہے، بلکہ وہ شدید جدو جہد کے معنی میں ہے۔ یعنی پیغمبر کے ساتھیوں نے دعوت کی پرامن کوشش میں پوری طاقت صرف کردی۔
یہ اسلوب انسانی زبان میں عام ہے۔ مثلا ریلیف ورک تیزی سے ہورہا ہو تو اس کو کہا جاتا ہے کہ ریلیف کا کام جنگی پیمانے پر (on a war footing) انجام دیا جارہا ہے، وغیرہ۔اس طرح کی بہت سی مثالیں قرآن میں ہیں۔ قرآن کی اس قسم کی آیتوں کو اسی وقت صحیح طور پر سمجھا جاسکتا ہے، جب کہ اس کو زبان کے عام اسلوب کے مطابق سمجھنے کی کوشش کی جائے۔
حروفِ مقطعات کا مطلب اشارے کی زبان میں یہ ہے کہ قرآن اللہ کا کلام ہے، لیکن وہ انسان کے لیے اترا ہے۔ اس لیے قرآن کا اسلوب وہی ہے جو انسانی کلام کا اسلوب ہوتا ہے۔ یہی وہ حقیقت ہے جو قرآن کی اس آیت میں بیان کی گئی ہے: وَمَا أَرْسَلْنَا مِنْ رَسُولٍ إِلَّا بِلِسَانِ قَوْمِہِ (14:4) یعنی ہر پیغمبر اپنی قوم کی زبان میں بھیجا گیا۔ اگر ایسا نہ ہوتا تو پیغمبر کے ذریعے آنے والا کلام لوگوں کے لیے ایک پر اسرار کلام بن جاتا۔
واپس اوپر جائیں

شخصیت کی تعمیر

انسان کی شخصیت کی تعمیر کے بارے میں ایک روایت حدیث کی مختلف کتابوں میں آئی ہے، صحیح مسلم کے الفاظ یہ ہیں: کل الناس یغدو فبایع نفسہ فمعتقہا أو موبقہا (صحیح مسلم، حدیث نمبر 223)۔ یعنی ہر انسان چل رہا ہے، پس وہ اپنے آپ کو بیچ رہا ہے، پھر کوئی اپنے آپ کو آزاد کرتا اور کوئی اپنے آپ کو ہلاک کرلیتا ہے۔
اس حدیث میں تمثیل کی زبان میں ایک نفسیاتی حقیقت کو بتایا گیا ہے۔ وہ حقیقت وہی ہے جس کو موجودہ زمانے میں کنڈیشننگ کا عمل (process of conditioning)کہا جاتا ہے۔ یعنی اپنے خارجی حالات سے اثر قبول کرنا۔ اصل یہ ہے کہ ہر آدمی جو اس دنیا میں پیدا ہوتاہے، وہ ایک ماحول کے اندر پیدا ہوتا ہے۔ وہ اپنے صبح و شام اس ماحول کے اندر گزارتا ہے، وہ شعوری یا غیر شعوری طور پر اپنے ماحول کا اثر قبول کرتا رہتا ہے۔ اس طرح ہر عورت اور ہرمرد کی شخصیت کی تعمیر ایک خارجی ماحول کے اندر ہوتی ہے۔ اس عمل کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ ہر شخص اس طرح بن کر تیار ہوتا ہے کہ وہ اپنے ماحول کی پیداوار (product of his environment) بن جاتا ہے۔
ایسی حالت میں انسان کے لیے اپنے بارے میں دو قسم کے اختیار (options) ہوتے ہیں۔ ایک یہ ہے کہ وہ اپنے آپ کواپنے ماحول کے حوالے کردے۔ اس کے قریبی حالات اس کو جیسا بنائیں ویسا ہی وہ بنتا چلا جائے۔ اس کے قریبی حالات اگر اس کے اندر منفی شخصیت کی تعمیرکر رہے ہوں تو وہ اس سے متاثر ہوتا رہے، یہاں تک کہ وہ ایک منفی ذہن والا انسان بن جائے۔ یہ وہ انسان ہے جس نے اپنے آپ کو ہلاک کرلیا۔ اس کے برعکس، دوسرا انسان وہ ہے جو اپنے ذہن کو بیدار کرے، وہ اپنے اندر سوچنے کی صلاحیت پیدا کرے، وہ ذہنی اعتبار سے اپنے آپ کو اس قابل بنائے کہ وہ چیزوں کا آزادانہ تجزیہ کرسکے، وہ غیر متاثر انداز میں چیزوں کی قدر و قیمت متعین کرنا ((evaluationسیکھ لے۔ ایسا آدمی تاثر پذیری سے بچ جائے گا۔ وہ اپنے اندر ایک آزاد شخصیت بنانے میں کامیاب ہوجائے گا۔
واپس اوپر جائیں

جنت اورجہنم

اسلام کی تعلیم کے مطابق، موجودہ دنیا ایک عارضی دنیا ہے۔ ہر انسان کے لیے یہ مقدر ہے کہ وہ موت کے بعد آخرت کی دنیا میں پہنچے، جہاں لوگوں کو ان کے عمل کے مطابق یا جنت میں جگہ ملے گی یا جہنم میں۔
اس تعلیم کے مطابق ، جنت اور جہنم دونوں زندہ حقیقتیں ہیں۔ دونوں اسی طرح ایک زندہ واقعہ ہیں، جس طرح تاج محل ایک زندہ واقعہ ہے، یا لال قلعہ ایک زندہ واقعہ ہے۔ اسلام جب لوگوں کے اندر اپنی اسپرٹ کے ساتھ زندہ ہوتو اسلام کو ماننے والا ہر آدمی جنت اور جہنم کو حقیقی واقعہ سمجھتا ہے۔ اس کے اندر جنت کا زندہ اشتیاق موجود ہوتا ہے، اور جہنم کا زندہ خوف۔
مگر جب امت پر زوال کا دور آجائے، اس وقت امت کے افراد میں جنت اور جہنم کا زندہ تصور موجود نہیں رہتا۔ اس کے افرادرسمی عقیدے کے طور پر جنت اور جہنم کو مانتے ہیں، لیکن اب ایسا نہیں ہوتا کہ جنت ان کا سب سے بڑا کنسرن (concern) بنا ہوا ہو، اور جہنم کا خوف ان کے سینے میں ایک زلزلہ بن کر سمایا ہوا ہو۔ ان کا حال عملاً وہی ہوجاتا ہے جو حیوانات کا حال ہوتا ہے۔ حیوانات کے اندر نہ جنت کا شوق ہوتا ہے، اور نہ جہنم کا خوف۔ یہی حال زوال یافتہ لوگوں کا ہوجاتا ہے۔ وہ رسمی عقیدے کے طور پر جنت اور جہنم کو مانتے ہیں، لیکن زندہ عقیدے کے طور پر جنت اور جہنم ان کے ذہن کا جزء نہیں ہوتا۔
قرآن میں ہے : وَسَارِعُوا إِلَى مَغْفِرَةٍ مِنْ رَبِّکُمْ وَجَنَّةٍ عَرْضُہَا السَّمَاوَاتُ وَالْأَرْضُ (3:133) یعنی اور دوڑو اپنے رب کی بخشش کی طرف اور اس جنت کی طر ف جس کی وسعت آسمان اور زمین جیسی ہے۔ اس کے برعکس، جہنم کا تذکرہ قرآن میں بار بار اس طرح ہولناک انداز میں کیا گیا ہے کہ اگر آدمی سوچے تو اس کا چین اور سکون ختم ہوجائے۔ لیکن دورِ زوال میں امت کے افراد کے اندر نہ جنت کا شدید اشتیاق موجود رہتا ہے، اور نہ جہنم کا شدید خوف۔ دورِ زوال کی سب سے بڑی پہچان یہی ہے۔
واپس اوپر جائیں

خبر کی تحقیق ضروری

قرآن کی سورہ نمبر 49 میں ایک اجتماعی اصول ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے: یَاأَیُّہَا الَّذِینَ آمَنُوا إِنْ جَاءَکُمْ فَاسِقٌ بِنَبَإٍ فَتَبَیَّنُوا أَنْ تُصِیبُوا قَوْمًا بِجَہَالَةٍ فَتُصْبِحُوا عَلَى مَا فَعَلْتُمْ نَادِمِینَ (الحجرات: 6) اے ایمان والو،اگر کوئی فاسق تمھارے پاس خبر لائے تو تم اچھی طرح تحقیق کر لو، ایسانہ ہو کہ تم کسی گروہ کو نادانی سے کوئی نقصان پہنچا دو،پھر تم کو اپنے کئے پر پچھتانا پڑے۔
قرآن کی اس آیت کا ایک شان نزول تفسیروں میں بیان ہوا ہے۔ اس کی روشنی میں غور کیا جائے تو آیت کا مطلب یہ معلوم ہوتا ہے کہ محض سنی ہوئی خبر پر کبھی رائے قائم کرنا نہیں چاہیے، بلکہ ہمیشہ اس کی تحقیق کرنا چاہیے۔ ایسا نہ کرنے کی صورت میں سخت اندیشہ ہے کہ آدمی کسی شدید غلطی کا شکار ہوجائے گا۔ حتی کہ ایسی غلطی بھی جس کی تلافی بعد کو ممکن نہ ہو۔
دوسروں کے بارے میںسنی ہوئی خبر اگر مثبت نوعیت کی ہو تو اس کو مان لینے میں کوئی حرج نہیں ہے، لیکن اگر کسی کے بارے میں سنی ہوئی خبر منفی نوعیت کی ہو تو ایسی خبر کو صرف سن کر کبھی نہیں ماننا چاہیے۔منفی نوعیت کی خبر کو سن کر آدمی اگر کوئی منفی رائے بنالے تب بھی غلط ہے۔ اور اگر وہ اس قسم کی سنی ہوئی خبر کی بنا پر کوئی عملی کارروائی کرنے لگے تو اس کا ایسا کرنا سخت گناہ ہوگا۔
کسی واقعے کی صحیح رپورٹنگ کرنا ایک بہت مشکل کام ہے۔ زیادہ تر ایسا ہوتا ہے کہ لوگ واقعے کی صحیح نوعیت کو سمجھ نہیں پاتے اور نادانی کے ساتھ غلط صورت میں اس کودوسروں سے بیان کرنے لگتے ہیں۔
منفی خبر کو سن کر دوسروں کے درمیان اس کا چرچا کرنا، جھوٹ کی ایک قسم ہے۔ایسا آدمی اپنے آپ کو اس رسک (risk) میں مبتلا کرتا ہے کہ اس کو آخرت میں مقعد صدق (seat of truth) پر بیٹھنے کی جگہ نہ ملے،وہ مقعد کذب کے سوا کہیں اور اپنے لیے جگہ نہ پائے۔
واپس اوپر جائیں

سوانح عمری

سوانح عمری (biography)لکھنا ایک مشکل آرٹ ہے۔ ترقی یافتہ ملکوں میں آدمی یاتو اپنی سوانح عمری خود لکھتا ہے جسے خود نوشت سوانح عمری (autobiography) کہا جاتا ہے۔ جیسے برٹش فلاسفر برٹرینڈ رسل (Bertrand Russell) کی خود نوشت سوانح عمری جو کہ پہلی بار 1967 میں شائع ہوئی۔ یا پھر کسی کی سوانح عمری ایسا شخص لکھتا ہے جو خود اعلی درجہ کی علمی صلاحیت رکھتا ہو۔ مثلا برٹش رائٹر سیموئل جانسن (Samuel Johnson) کی سوانح عمری جس کو جیمس باسویل (James Boswell) نے لکھا جو مسلمہ طور پر اعلی درجہ کی علمی صلاحیت رکھتا تھا۔یہ سوانح عمری پہلی بار 1791 میں چھپی۔
غیر ترقی یافتہ ملکوں کا معاملہ اس سے مختلف ہے۔ غیر ترقی یافتہ ملکوں میں اب تک چیز وں کا اسٹینڈرڈائزیشن (standardization) نہیں ہوا ہے۔ اسی طرح یہاں سوانح عمری کا بھی کوئی اسٹینڈرڈ قائم نہیں ہوا ۔ کوئی بھی شخص کسی کی سوانح عمری لکھ کر چھاپ دیتا ہے جس کا کوئی علمی درجہ نہیں ہوتا۔ اس طرح کی غیر معیاری سوانح عمری لکھنا غیر ترقی یافتہ ملکوں میں عام ہے جس کا عملا کوئی فائدہ نہیں۔
غیر معیاری سوانح عمری لکھنا اس شخص پر ظلم ہے جس شخص کے نام پر یہ سوانح عمری لکھی اور چھاپی گئی ہے۔ ایسی ہر سوانح عمری صاحب سوانح کا ناقص تعارف ہے۔ اس طرح کا ناقص تعارف کرنا اتنا ہی غلط ہے، جتنا کہ کسی سے بے بنیاد بات منسوب کرنا۔ جو لوگ ایسی سوانح عمری لکھیں وہ یہ رسک (risk) لیتے ہیں کہ علم کی عدالت میں ان سے پوچھا جائے کہ جو کام تمھارے کرنے کا نہیں تھا وہ کام تم نے کیوںانجام دیا۔
لوگ اس بات کو جانتے ہیںکہ اگر ایک شخص کو نماز کے مسائل معلوم نہیں تو اس کے لیے جائز نہیں کہ وہ نمازِ باجماعت کی امامت کرے۔ لیکن لوگ اس بات کو نہیں جانتے کہ جس شخص کو تصنیف کے مسائل معلوم نہیں اس کو کسی علمی موضوع پر ہرگز تصنیف نہیں کرنا چاہیے۔
واپس اوپر جائیں

خالق کی کاملیت

قرآن (الملک: 3) میں چیلنج کی زبان میں بتایا گیا ہے کہ خدا کی تخلیق میں کوئی فطور (flaw)نہیں۔ کوئی شخص خواہ کتنا ہی کوشش کرے، وہ کائنات میں کسی قسم کے فطور کی نشاندہی نہیں کرسکتا۔ یہ در اصل تخلیق کے حوالے سے خالق کی صفت کا بیان ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ کائنات کا خالق آخری حد تک ایک کامل ہستی ہے۔
خدا جب کامل ہے تو اس کا عطیہ کبھی غیر کامل نہیں ہوسکتا۔ یہ ناممکن ہے کہ خدا انسان کو عارضی زندگی دے لیکن ابدی زندگی سے اس کو محروم رکھے۔ وہ انسان کو خواہش (desire) دے، لیکن وہ اس کو فل فلِمینٹ (fulfillment)سے محروم رکھے۔ وہ انسان کو غم دے لیکن وہ اس کو خوشی سے محروم رکھے۔ وہ انسان کو نقصان کا تجربہ کرائے لیکن وہ اس کو یافت کے تجربے سے محروم رکھے۔وہ انسان کو معیار پسند (idealist) بنائے لیکن آئڈیل ورلڈ (ideal world) سےوہ اس کو محروم رکھے۔ وہ انسان کو مستقبل بیں بنائے لیکن وہ اس کو مستقبل سے محروم رکھے۔
تخلیق میں اس قسم کا فرق ہونا، خدا کی کاملیت کے خلاف ہے۔ اور یہ بلاشبہ ناممکن ہے کہ خدا کی کاملیت میںکوئی غیر کامل پہلو موجود ہو۔یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ انسان کے لیے خدا کا عطیہ کبھی غیر کامل نہیں ہوسکتا۔ قرآن میں بتایا گیا ہے کہ خدا ارحم الراحمین ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ انسان کے استحقاق (deservation) میں کوئی کمی ہو تو خدا اپنی رحمت سے اس کو پورا کردیتا ہے۔ وہ انسان کی عملی کوتاہی کی تلافی اپنی رحمت کے ذریعے کردیتا ہے۔
ایک حدیثِ قدسی میں آیا ہے : أنا عند ظن عبدی بی (صحیح البخاری، حدیث نمبر7405) اس کا مطلب یہ ہے کہ انسان کو چاہیے کہ وہ اپنے عمل کی کمی کو دیکھ کر مایوس نہ ہو، بلکہ وہ خدا کی رحمت سے امید رکھتے ہوئے دعا کرے کہ اے خدا تو میرے ساتھ میرے عمل کے مطابق فیصلہ نہ فرما، بلکہ تومیرے ساتھ اپنی رحمت کے مطابق فیصلہ فرما۔
واپس اوپر جائیں

سادگی کی اہمیت

سادگی (simplicity) کی اہمیت دین میں بہت زیادہ ہے۔ سادگی کا ضد تکلف ہے۔ جہاں سادگی ہوگی وہاں فرشتے ہوں گے۔ فرشتوں کی موجودگی سے وہاں روحانیت کا ماحول پیدا ہوجائے گا۔ وہاں غیر ضروری باتیں نہیں ہوں گی۔ وہاں کسی قسم کی منفی سوچ (negative thinking) نہیں پائی جائے گی۔ وہاں لوگوں کے لیے اللہ کے معاملے میں خشیت کی اسپرٹ ہوگی، اور انسان کے معاملے میں خیرخواہی کی اسپرٹ۔
اس کے برعکس طریقہ تکلف کا طریقہ ہے۔ حدیث میں آیا ہے کہ ایک صحابی بیان کرتے ہیں : نہینا عن التکلف (صحیح البخاری، حدیث نمبر 7293) ۔ یعنی ہم کو تکلف سے منع کیا گیاہے۔ تکلف کا مطلب غیر ضروری اہتمام ہے۔ سادگی یہ ہے کہ چیزوں میں بقدرِ ضرورت پر اکتفا کیا جائے۔ اس کے برعکس، تکلف یہ ہے کہ ضرورت کے ساتھ ان چیزوں کو بھی شامل کیا جائے جو انسان کی حقیقی ضرورت سےزیادہ ہیں۔جہاں سادگی ہوگی وہاں بناوٹ نہ ہوگی، اور جہاں بناوٹ ہوگی وہاں سادگی نہیں ہو گی۔سادگی اور تکلف دونوں ایک ساتھ جمع نہیں ہوسکتے۔
تکلف کا ماحول روحانیت کا قاتل ہے۔ جہاں تکلف ہوگا وہاں شیطان کو گھسنے کا موقع مل جائے گا۔ شیطان کے اثر سے لوگوں کی توجہ کا مرکز بدل جائے گا۔ لوگ ان چیزوں کے بارے میں حساس (sensitive) ہوجائیں گے، جن کو نظر انداز کرنا چاہیے۔ لوگوں کی بات چیت میں سنجیدگی نہیں پائی جائے گی۔ لوگوں کے اندر شکر اور اعتراف کا ماحول نہ ہوگا۔ لوگ اہم اور غیر اہم کے فرق کو سمجھنے سے قاصر ہوجائیں گے۔ شعوری یا غیر شعوری طور پر ان کے اندر خدا اور آخرت کا مزاج باقی نہ رہے گا۔ فارم کے اعتبار سے ان کے یہاں بظاہر سب کچھ ہوگا، لیکن اسپرٹ کے اعتبار سے جو چیزیں مطلوب ہیں ، وہ ان کے یہاں مفقود ہوجائیں گی۔سادگی انسان کو خدا سے قریب کرتی ہے، اور تکلف انسان کو خدا سے دور کردیتا ہے۔
واپس اوپر جائیں

سوچنے کا طریقہ

آبسیشن (obsession) کا لفظ عام طورپر negative معنی میں لیا جاتاہے۔ مثلا کوئی شخص اپنے فخر کے obsession میں جینے لگے، وغیرہ۔مگر حقیقت یہ ہے کہ obsession کی دو قسمیں ہیں— wrong obsession اور right obsession۔ جس طرح ایسا ہوتا ہے کہ غلط obsession آدمی کے اوپر چھا جاتا ہے اور وہ right thinking کے قابل نہیں رہتا، اِسی طرح right obsession بھی صحیح موقف کو متعین کرنے کے سلسلہ میں رکاوٹ بن سکتا ہے۔
right obsession کی ایک مثال یہ ہے کہ مسلمانوں کی پچھلی ہزار سال کی تاریخ میں ایک بات بہت بار دہرائی گئی کہ قرآن وسنت کا اتباع کرو، قرآن وسنت کا اتباع کرو۔ اس طرح قرآن وسنت کا اتباع مسلمانوں کے لیے ایک obsession بن گیا۔ بظاہر یہ ایک right obsession تھا۔ مگر ہزار سال کے دوران ٹریڈیشنل فریم ورک کی بنا پر وہ لوگوں کو right نظر آتا رہا۔ مگر 20 ویں صدی میں جب زمانہ بدلا اور سائنٹفک فریم ورک کا دور آگیا تو مسلم ذہنوں کا یہ آبسیشن دور جدید میں عملاً غیرمتعلق (irrelevant) ہوگیا-اس دور میں جو مسلم رہنما اٹھےوہ بدستور قرآن وسنت کی اتباع پر زور دیتے رہے، لیکن وہ یہ سمجھ نہ سکے کہ اب نئے فریم ورک کا زمانہ آگیا ہے- اب قرآن وسنت کے ساتھ اجتہاد کا اضافہ کرنا ہوگا تب آدمی قدیم آبسیشن سے باہر آکر صحیح انداز میں سوچنے کے قابل ہوگا۔
روایتی طرز فکر کے مطابق انسان صرف ایک ڈائی کاٹومی (dichotomy)میں سوچتا تھا- صحیح اور غلط، right or wrong - مگر موجودہ زمانہ میں یہ ڈائی کاٹومی بدل گئی ہے- اب ایک تیسری چیز وجود میں آئی، وہ تھی حالات کے اعتبار سے غیر متعلق (irrelevant) ہونا۔ قرآن وسنت کی ڈائی کاٹومی بذات خود صحیح تھی۔ مگر یہ آبسیشن موجودہ زمانہ میںغیر متعلق (irrelevant) بن گیا۔ کیوں کہ اب نئے حالات میں قرآن وسنت کا ٹریڈیشنل تصور ناکافی ہوگیا۔ اب ضروری تھا کہ قرآن وسنت میں اجتہاد کا اضافہ کرکے اسلام کو دوبارہ نئے حالات کے مطابق متعلق (relevant) بنایا جائے۔
واپس اوپر جائیں

امیج بلڈنگ

موجودہ زمانے میں بعض اسباب سے عالمی سطح پر اسلام کی امیج (تصویر) یہ بن گئی ہے کہ اسلام تشدد کا مذہب ہے۔ یہ بلاشبہ غلط ہے۔ اس بنا پر اس وقت پہلا کام یہ ہے کہ اسلام کی امیج کو درست کیا جائے۔ امیج کو درست کرنے کا یہ کام موثر طور پر لٹریچر کے ذریعے ہوسکتا ہے۔اس مقصد کے لیے ادارہ الرسالہ نے مختلف مضامین اور کتابیں شائع کی ہیں۔ ان میں سے چار کتابیں یہ ہیں:
1. Quranic Wisdom. (pp. 352)
2. Islam and World Peace. (pp. 200)
3. The Prophet of Peace. (pp. 226)
4. The Age of Peace. (pp. 192)
ان کتابوں میں سے پہلی کتاب ، قرآنک وزڈم یہ بتاتی ہے کہ قرآن تمام تر ایک امن کی کتاب ہے۔ دوسری کتاب، اسلام اینڈ ورلڈ پیس یہ بتاتی ہے کہ اسلام کی تعلیمات تمام تر امن پر مبنی ہیں۔ تیسری کتاب، دی پرافٹ آف پیس یہ بتاتی ہے کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم ایک امن کے پیغمبر تھے۔ چوتھی کتاب، دی ایج آف پیس یہ بتاتی ہے کہ موجودہ زمانہ مکمل طور پر امن کا زمانہ ہے۔ اب جنگ کیے بغیر صرف پرامن طریقِ کار کے ذریعے ہر مقصد کامیابی کے ساتھ حاصل کیا جاسکتا ہے۔
اب آپ کو یہ کرنا ہے کہ ان کتابوں کو ساری دنیا میں فلڈ (flood) کردیں۔ ان کتابوں کو اس طرح پھیلائیں کہ وہ تمام لوگوں تک پہنچ جائیں۔ ان کتابوں کو اس طرح پھیلانا اسلامی دعوت کے کام کے لیے ان شاءاللہ ایک فتح باب ثابت ہوگا۔
جو لوگ ان کتابوں کو عالمی سطح پر پھیلانا چاہیں، ان کو ان شاء اللہ ادارہ الرسالہ کی طرف سے ضروری مدد دی جائے گی۔ ایسے لوگوں کو چاہیے کہ وہ خط یا ٹیلیفون کے ذریعے ادارہ سے ربط قائم کریں۔ یہ ایک اجتماعی فریضہ ہے، اس میں ہر شخص کو اپنی اپنی بساط کے مطابق حصہ لینا چاہیے۔
واپس اوپر جائیں

سوال و جواب

الرسالہ مئی 2015 کے صفحہ 37 پر آپ نے تقدیر اور تدبیر کے عنوان سے جو مضمون لکھا ہے، اس میں آپ نے لکھا ہے کہ انسان کی آزادی یا مجبوری کا معاملہ ففٹی ففٹی کا ہے۔یعنی انسان اپنی ذات کے اعتبارسے آزاد ہے۔ اس کے مقابلے میں دوسری جو چیز ہے وہ فطرت کا قائم کردہ انفراسٹرکچر ہے، اس انفراسٹرکچر کے بغیر انسان اپنے ارادے کا آزادانہ استعمال نہیں کر سکتا۔
مطلب یہ ہے کہ انسان انفراسٹرکچر کی رعایت کے ساتھ اپنی آزادی کا استعمال بنا روک ٹوک کرتا رہے گا اور کرسکتا ہے۔ اس میں اللہ کا کوئی active رول نہیں ہے، یعنی انسان کی دنیوی زندگی میں اللہ کی کوئی مداخلت نہیں۔
میرا سوال یہ ہے کہ ہم اللہ سے دعا کرتے ہیں کہ اے اللہ ہماری فلاں ضرورت پوری کردے، ہمیں تندرست کردے، ہمارے قرضے ادا کروادے، وغیرہ۔ آپ کے مطابق اس قسم کی دعا کا کوئی مطلب نہیں، کیوں کہ اللہ آپ کی کوئی مدد نہیں کرے گا۔ بس انفراسٹرکچر کی رعایت کے ساتھ جو چاہیں آپ کرسکتے ہیں۔ اللہ کا رول قیامت کے بعد شروع ہوگا۔ کیا آپ کے مضمون کا یہی مطلب ہے۔ (ایڈووکیٹ مرزا ابرار بیگ، بھوپال)
جواب
الرسالہ کے مضمون میں جو بات کہی گئی ہے وہ عموم کے اعتبار سے ہے۔ عموم کے اعتبار سے اس دنیا میں انسان کا معاملہ یہی ہے۔ لیکن دعا کا معاملہ ایک استثنائی معاملہ ہے۔ دعا اگر اللہ کے نزدیک قابل قبول ہو تو اللہ ایسا کرتا ہے کہ وہ مداخلت کرکے انسان کی دعاپوری کردے۔
یہ بات ایک حدیث رسول میں ان الفاظ میں آئی ہے: لاَ یَرُدُّ القَضَاءَ إِلاَّ الدُّعَاءُ (سنن الترمذی، حدیث نمبر2139)یعنی قضا کو لوٹانے والی کوئی چیز نہیں سوادعا کے۔ اس حدیثِ رسول سے معلوم ہوتا ہے کہ انسان کی دعا اگر اللہ کے نزدیک قابل قبول دعا ہو تو اللہ ایسا کرتا ہے کہ وہ حالات میں مداخلت کرکے اس کو دعا کرنے والے انسان کے لیے موافق بنادے۔
واپس اوپر جائیں

خبرنامہ اسلامی مرکز— 238

1- 21 جون 2015 کو ڈاکٹر حافظ منیر الدین احمد مقیم حال لندن صدر اسلامی مرکز سے ملاقات کے لیے آئے۔ انھوں نے دعوت اور قرآن کی اشاعت کے متعلق گفتگو کی۔ موصوف نے صدر اسلامی مرکز کی کتاب تعبیر کی غلطی کے متعلق اپنے گہرے تاثرات کا اظہار کیا، اور کتاب کے مضمون سے مکمل اتفاق کا اظہار کیا۔اور کہا کہ مغرب کے مسلم نوجوانوں کے درمیان الرسالہ مشن کو فروغ دینے کی بہت زیادہ ضرورت ہے۔
2- 4 جولائی 2015 کو فادر انجل اسکول نئی دہلی کے طلبا اور طالبات کے ایک گروپ نے صدر اسلامی مرکز سے تصوف کے بارے میں انٹرایکشن کیا۔ ان تمام لوگوں کو صدر اسلامی مرکز کی کتابوں کا ایک ایک سیٹ دیا گیا۔
2- برٹش نیوزپیپرفائنانشیل ٹائمس کی ،بیورو چیف جیوتسنا سنگھ نے صدر اسلامی مرکز کا انٹرویو لیا۔ یہ انٹرویو صدر اسلامی مرکز کے دفتر C-29 میں ہوا۔انٹرویو کے بعد ان کو صدر اسلامی مرکز کی کتابوں کا ایک سیٹ دیا گیا۔
3- 9 جولائی 2015 کو اسٹیٹ بینک آف حیدرآباد مین برانچ، رائچور میں افطار پارٹی کا اہتمام کیاگیا تھا جس میں سنٹر فار پیس اینڈ کمونل ہارمنی رائچور کی جانب سے پروفیسر ظہیر الدین نے شرکت کی اور بینک کے تمام عملے کے درمیان انگریزی اور ہندی قرآن کے علاوہ دیگر دعوتی لٹریچر تقسیم کیاگیا جس کو لوگوں نے بڑے شوق سے قبول کیا۔
4- 14 جولائی 2015 کو ڈاکٹر اننتا کمار گری(مدراس انسٹی ٹیوٹ آف ڈیولپمنٹ اسٹڈیز) نےانٹرفیتھ ڈائیلاگ کے موضوع پرصدر اسلامی مرکز سے گفتگو کی۔ آخر میں ان کو ترجمہ قرآن (انگلش) اور امن کے موضوع پر لٹریچر ہدیے میں پیش کئےگئے۔
5- 17 جولائی 2015 کوسی پی ایس انٹرنیشنل ، دہلی کی چیر پرسن ڈاکٹر فریدہ خانم نے جین سنٹر میں ’نان وائلینس — اے اسلامک پرسپیکٹیو‘ کے موضوع پر ایک پرزنٹیشن دیا۔ اس پروگرام میں یو ایس اے، کناڈا اور زمبابوے کے ہائی اسکولس کے 20 اساتذہ نے شرکت کی۔ پرزنٹیشن کے بعد 15 منٹ کا سوال وجواب کا سیشن ہوا۔ اس کے بعد تمام لوگوں کو قرآن کا انگریزی ترجمہ پیش کیاگیا۔ لوگوں نے بہت خوشی سے اس کو قبول کیا۔اس پروگرام کاانعقاد وجئے بلبھ اسمارک جین مندر نے کرنال روڈ علی پور(نئی دہلی)  میں کیا تھا۔
6- 19 جولائی 2015 کو بہٹا (پٹنہ ، بہار) میں ایک مقابلہ جاتی پروگرام ہوا۔ اس پروگرام میں سینٹر فار پیس اینڈ آبجکٹیو اسٹڈیز، بہار و جھارکھنڈ کے حافظ ابوالحکم دانیال کومدعو کیا گیا تھا۔ انھوں نے وہاں ایک تقریر کی جس کو لوگوں نے بہت پسند کیا۔ تقریر کے بعد تمام حاضرین کے درمیان قرآن اور دعوتی لٹریچر تقسیم کیا گیا۔ اس پروگرام سے لوگ اتنے زیادہ متاثر ہوئے کہ دوبارہ انھوں نےقریب کی ایک مسجد میں ایک پروگرام کا نظم کیا، اور اسلام کے امن ;کے پہلو پر تقریر سنی۔
7- سی پی ایس کی کولکاتا ٹیم نے للت میموریل ہوسٹل آف آر جی کار میڈیکل کالج اینڈ ہاسپٹل کے ایم بی بی ایس کے طلباء کے ساتھ ایک انٹر ایکٹیو سیشن کا انعقاد کیا۔ یہ پروگرام عید ملن کے موقع پر آرگنائز کیا گیا تھا۔اس پروگرام میں ایک سو سے زیادہ طلبا نے شرکت کی۔]تمام شرکاء کو ترجمہ قرآن اور اسپرٹ آف اسلام بطور اسپریچول گفٹ دیئے گئے۔ اس کے علاوہ ان کے درمیان دوسرے دعوتی لٹریچر بھی تقسیم کیے گیے۔اس موقع پرجاتیہ ساہتیہ پرکاشن ٹرسٹ کے فاؤنڈر سکریٹری مسٹر شکتی موئے داس (شاعر، صحافی اور شنکری اسکالر) بھی موجود تھے- انھوںنے اس موقع پر لوگوں سے خطاب کیا۔
8- 31 جولائی 2015 کو سی پی ایس سہارن پور کےممبر ڈاکٹر اسلم خان(پرنسپل نیشنل میڈیکل کالج) ، ایڈوکیٹ انیس صدیقی ، اوردانش خان نے مسٹر اکھلیش یادو (وزیر اعلی، اترپردیش) سے ان کے آفس (الکھنؤ) میں ملاقات کی۔ دوران ملاقات وزیراعلی موصوف نے صدر اسلامی مرکز کے مشن کے بارے میں تفصیلی معلومات حاصل کیں، اور امن اور روحانیت کے تعلق سے سی پی ایس مشن کے کام کا بھر پور اعتراف کیا نیز اپنے مکمل تعاون کی یقین دہانی کرائی۔ آخرمیں ہندی ترجمہ قرآن، اسپرٹ آف اسلام، کریشن پلان آف گاڈ اور وہاٹ از اسلام وغیرہ شکریے کے ساتھ قبول کیں۔ اس کے علاوہ سکریٹریٹ میں موجود تمام لوگوں کو دعوتی لٹریچردیا گیا۔
9- ذیل میں ایک دعوتی تاثر نقل کیا جارہا ہے:
I am writing to you to inform you that I have received the copy of the Quran that you had sent for me. Thank you so much for this wonderful gift. It helps me to understand the true meaning of the word of God. I love Hazrat Mawlana Wahiduddin Khan. I have watched his videos on the internet. I know he is a man of God. I always pray to God to give him more knowledge and wisdom to convey the word of God to mankind. I want to be one of his followers. (Ruben J. Barcala, The Philippines)
واپس اوپر جائیں

Wednesday, 2 September 2015

Al Risala | September 2015 (الرسالہ،ستمبر)

4

-قرأتِ فاتحہ، روحِ فاتحہ

5

- نعمت کی تحدیث

6

- محبت کا معاملہ

7

- انسان کی تخلیق

8

- غم کے بجائے دعا

9

- تاریخ کا نیا دور

10

- نبی امی

11

- و اما السائل فلا تنہر

12

- آخرت پر ایمان

13

- خدا کا عقیدہ

14

- عاجلانہ اقدام، صابرانہ منصوبہ بندی

15

- نصیحت کا صحیح طریقہ

17

- آیڈیالوجی کی طاقت

18

- دعوت کا اسلوب

19

- دین میں استقامت

20

- دورِ فتنہ

21

- اعتدال کا مطلب

22

- ایک اجتماعی اصول

23

- فساد کی برائی

24

- علمِ معرفت

25

- ایمان اور عمل

26

- ایک سنت ِ رسول

28

- امتیاز ابلیس کی سنت ہے

29

- جنت کی دنیا

30

- اجتہاد کا معاملہ

31

- قتل سب سے بڑی برائی

34

- ذاتی کمال، بصیرِ زمانہ

35

- قدرت کا نظام

36

- سب سے بڑا المیہ

37

- حکمتِ حیات

38

- حقیقی اطمینان

39

- دو دنیائیں

40

- انتہا پسندی

41

- معافی، رائے بدلنا

42

- کلام کا طریقہ

43

- افادہ اور استفادہ

44

- ہر صورتِ حال بہتر

45

- ہر آدمی ایک کیس ہے

46

- اپنی تعمیر آپ

47

- خبرنامہ اسلامی مرکز


قرأتِ فاتحہ، روحِ فاتحہ

نماز کے مسائل میں سے ایک مسئلہ وہ ہے جس کو قرأت فاتحہ خلف الامام کہا جاتا ہے۔ یعنی نماز کے وقت امام کے پیچھے سورہ فاتحہ پڑھنا۔ اس مسئلے پر فقہ کی کتابوں میں بہت زیادہ بحثیں ملتی ہیں۔ لیکن اس سے زیادہ اہم بات یہ ہے کہ قاری کے اندر روحِ فاتحہ (spirit of fatiha) موجود ہو۔ حقیقت یہ ہے کہ روح فاتحہ کے اہمیت اتنی ہے، جتنا کہ نماز کے لئےنیت۔ ایک فقہی مسئلہ یہ کہ نیت کے بغیر نماز نہیں ہوتی۔
مگر یہی بات روح (spirit) کی ہے۔ جب ایک شخص نماز میں کہتا ہے کہ الحمد للہ رب العالمین تو باعتبارنیت اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ نمازی اللہ رب العالمین کی حمد میں سرشار ہے، اور اس کی یہ سرشاری لفظوں کی صورت میں ظاہر ہورہی ہے۔
سورہ فاتحہ کے معانی پر غور کیجیے۔ اس سورہ کی سات آیتوں میں پوری ایمانی زندگی کا خلاصہ ہے۔ اس میں رب العالمین کی نعمتوں پر شکر کا بیان ہے۔ بتایا گیا ہے کہ اللہ قیامت میں سب کے اعمال کی بنیاد پر ان کے ابدی مستقبل کا فیصلہ کرے گا۔ اس میں بتایا گیا ہے کہ بندے کے اندر عبادت اور استعانت کی اسپرٹ موجزن ہونا چاہیے۔ اس میں بتایاگیا ہے کہ ہدایت کو دینے والا صرف اللہ ہے، اور انسان کو اسی سے ہدایت کا طالب ہونا چاہیے۔ اس میں بتایا گیا ہے کہ ہدایت پانے والے لوگ اس دنیا میں انعام یافتہ ہیں۔ اور جن کو اللہ کی طرف سے ہدایت کی توفیق نہ ملے، ایسے لوگ وہ ہیں جو اللہ کے غضب کا مستحق قرار پائے۔
یہ وہ تعلیمات ہیں جو سورہ فاتحہ میں دی گئی ہیں۔ حدیث میں آیا ہے کہ لاصلاۃ الا بفاتحۃ الکتاب(مسند احمد، حدیث نمبر: 22671)۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ سچا نمازی وہ ہے جس کے اندر سورہ فاتحہ کی یہ روح پائی جائے۔نمازی کو چاہیے کہ وہ اسی روح فاتحہ کے ساتھ نماز ادا کرے۔جو نماز اس روح فاتحہ سے خالی ہو وہ نماز، نماز نہیں۔
واپس اوپر جائیں

نعمت کی تحدیث

قرآن کی سورہ نمبر 93 میں رسول اللہ صلى اللہ علیہ وسلم کو خطاب کرتے ہوئے کچھ ربانی عطیات کا ذکر کیا گیا ہے۔سورہ کے آخر میں یہ آیت ہے: وَأَمَّا بِنِعْمَةِ رَبِّکَ فَحَدِّثْ (الضحیٰ:11) یعنی تم اپنے رب کی نعمت کو بیان کرو۔
اس آیت کا مطلب یہ ہے کہ اپنے رب سے ملی ہوئی نعمتوں کو دعوت کا موضوع بناؤ۔خدا کی نعمت کو پوائنٹ آف ریفرنس (point of reference) بنا کر لوگوں کے سامنے دعوت الی اللہ کا چرچا کرو۔انفرادی (particular) واقعے کو جنرلائز (generalize) کر کے اس کو سب کے لئے سبق کا ذریعہ بنادو۔
اس معاملے کی مزید وضاحت کی جائے تو کائناتی سطح پر ملی نعمتیں بھی اس میں شامل ہو جائیں گی۔جب ایک شخص صبح کے وقت سورج کو نکلتا ہوا دیکھے تو اس کو نعمتِ الٰہی کا ایک عجیب احساس ہوگا۔ جب وہ تازہ ہوا میں سانس لے اور آکسیجن جیسی نعمت کو اپنے اندر داخل کرے تو اس کو اللہ کی ایک انوکھی نعمت کا تجربہ ہوگا۔ایک شخص جب پانی کاگلاس ہاتھ میں لے، اور اس کو پی کر اپنی پیاس بجھائے تو اللہ کی ایک انوکھی نعمت کی دریافت کرے گا۔ ان ربانی نعمتوں کو دریافت کرنا اور ان کو دعوت کا موضوع بنانا، یہی تحدیث نعمت ہے۔
نعمت کی تحدیث کا مطلب ہے ، نعمت کی چرچا کرنا۔ مگریہ سادہ بات نہیں۔تحدیثِ نعمت سے پہلے نعمت کی معرفت ہے، اور نعمت کی معرفت سے پہلے اس کے بارے میں غورو فکر کرنا ہے۔ غور و فکر سے پہلے سنجیدگی کی شرط ہے۔ آدمی پہلے سنجیدہ بنتا ہے، اس کے بعد وہ حقیقتوں پر غور کرتا ہے، اس کے بعد اس کو خالق کی معرفت حاصل ہوتی ہے، اس کا سینہ نعمتوں پر شکر سے بھر جاتا ہے۔اس کے بعد اگلا مرحلہ آتا ہے۔ یعنی دوسروں سے اس کا چرچا کرنا، دوسروں کو اپنے احساس میں شریک کرنا، دوسروں کو خالق کی معرفت میں جینے والا بنانا، دوسروں کو اس قابل بنانا کہ وہ آخرت میں جنت کا مستحق قرار پائے۔
واپس اوپر جائیں

محبت کا معاملہ

ایک حدیث رسول ان الفاظ میں آئی ہے: أحبوا اللہ لما یغذوکم من نِعَمِہ وأحبونی بحب اللہ وأحبوا أہل بیتی لحبی (سنن الترمذی ، حدیث نمبر3789)۔ یعنی اللہ سے محبت کرو، اس بنا پر کہ وہ تم کو اپنی نعمتوں سے غذا عطا کرتا ہے، اور مجھ سے محبت کرو اللہ سے محبت کی بنا پر، اور میرے اہل بیت سے محبت کرو میری وجہ سے۔اس حدیث میں تین محبتوں کا ذکر ہے۔ پہلی محبت ہے اللہ کی نعمتوں کی بنا پر اللہ سے محبت کرنا۔ یہاں غذا صرف خوراک کے معنی میں نہیںہے، بلکہ ہر قسم کے عطیات الہی کے معنی میں ہے۔ انسان کو چاہیے کہ وہ اللہ کی نعمتوں کو دریافت کرے۔ ان نعمتوں پر غور و فکر کرے۔ ان نعمتوں کی اہمیت کا باربار چرچا کرے۔ اس طرح فطری طور پر ایسا ہوگا کہ اس کے اندر اللہ سے حُبّ شدید (strong affection) پیدا ہوجائے گا۔ انسان اللہ کو کچھ نہیں دے سکتا۔ انسان کو صرف یہ کرنا ہے کہ وہ اللہ کے عطیات کا گہرا اعتراف کرے۔ اسی گہرے اعتراف کا نام حُبّ الہی ہے۔
اللہ کے لیے پیغمبر سے محبت کرنا یہ ہے کہ پیغمبر کے اس معاملے کو گہرائی کے ساتھ دریافت کرنا کہ پیغمبر کے ذریعے ہم کو وہ ہدایت ملی جو ہم کسی اور طریقے سے حاصل نہیں کرسکتے۔ یہ دریافت جتنی زیادہ شدید ہوگی، اتنی ہی زیادہ آدمی کے اندر پیغمبر خدا کے ساتھ محبت پیدا ہوجائے گی۔
پیغمبر کے اہل بیت سے محبت اس لیے ہے کہ اہل بیت نے پیغمبر کے مشن میں مکمل طور پر ساتھ دیا۔ کسی تکلیف یا شکایت کو انھوں نے عذر نہیں بنایا۔ وہ یک طرفہ وفاداری کے ساتھ پیغمبر سے جڑے رہے۔
محبت کی یہ تینوں قسمیں ایک دوسرے سے الگ الگ نہیں ہیں۔ بلکہ وہ ایک دوسرے سے جڑی ہوئی ہیں۔ اللہ سے محبت کے بعد فطری طور پر پیغمبر سے محبت پیدا ہوجاتی ہے۔ اور پیغمبر سے محبت کے بعد فطری طور پر ایسا ہوتا ہے کہ پیغمبر کے اہل بیت سے آدمی کے اندرمحبت پیدا ہوجاتی ہے۔ کیوں کہ آدمی یہ دریافت کرتا ہے کہ پیغمبر کو اپنے مشن میں طرح طرح کے مشکل حالات پیش آئے، مگر اہل بیت کے تعلق میں کوئی کمی نہیں آئی۔
واپس اوپر جائیں

انسان کی تخلیق

انسان ایک بہترین مخلوق کی حیثیت سے دنیا میں آتا ہے۔ اس کے بعد اس کو مختلف قسم کے مسائل پیش آتے ہیں— نقصان، بیماری، حادثات، بڑھاپا اور آخر میں موت۔ انسان کو اس دنیا میں جو کچھ ملتا ہے، وہ اگر اس کا حق (right) ہو تو کبھی اس کو زوال یا محرومی کا تجربہ نہیں ہونا چاہئے۔ یہ صورتِ حال بتاتی ہے کہ انسان کو اس دنیا میں جو کچھ ملتا ہے، وہ بطور حق نہیں ملتا۔ پھر اس پانے، اور بظاہر کھونے کی توجیہہ کیا ہے۔
قرآن کے مطابق ،یہ پانا بطور ابتلاء (test) ہوتا ہے، یعنی مختلف احوال میں ڈال کر یہ دیکھا جائے کہ لوگوں میں احسن العمل (67:2) کون ہے۔ یعنی وہ کون شخص ہے، جواپنے ذہن کو اتنا بیدار کرے کہ وہ خالق کی نظر میں رائٹ پرسن (right person) قرار پائے۔اسی رائٹ پرسن کو قرآن میں ربانی انسان (3:79) کہا گیا ہے۔آخر میں یہ ہوگا کہ پوری تاریخ سےایسےافراد کو منتخب (select) کیا جائے گا، جنھوں نے اپنے عمل سے ربانی انسان ہونے کا ثبوت دیا۔
اس لحاظ سے انسانی زندگی کے دو دَور ہیں۔ پہلا دور ، عارضی مدت کا دور، دوسرا دور ابدی حیات کا دور۔پہلے دور میں جو افراد کوالیفائی کریں گے، وہ ابدی دور حیات کے لئے منتخب کیے جائیں گے، اور جو لوگ کوالیفائی نہیں کریں گے، خالق کی عدالت میں ان کا انجام وہ ہوگا، جس کو بائبل میں الفضۃ المرفوضہ (rejected silver) کے الفاظ میں بیان کیا گیا ہے۔ اس کے بعد منتخب افراد پر مبنی معاشرہ بنے گا، جہاں وہ ابدی طور پرجنتی ماحول میں زندگی گزاریں گے۔
قرآن میں بتایا گیا ہے کہ جنت کے ابدی معاشرہ میں جگہ پانے والے لوگ کہیں گے: الْحَمْدُ لِلَّہِ الَّذِی أَذْہَبَ عَنَّا الْحَزَنَ (35:34)۔ یعنی شکر ہے اللہ کا جس نے ہم سے غم کو دور کردیا۔یہ جملہ انسان کی پوری زندگی کا خلاصہ ہے۔حقیقت یہ ہے کہ حزَن پہلے دورِ حیات کا ظاہرہ ہے۔ دوسرا دورِ حیات وہ ہے جو ہر قسم کے حزَن سے مکمل طور پر خالی ہوگا۔اسی دوسرے دورِ حیات کا نام جنت ہے۔
واپس اوپر جائیں

غم کے بجائے دعا

قرآن میں ایک پیغمبر کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ انھوں نے مصیبت کے وقت کہا: إِنَّمَا أَشْکُو بَثِّی وَحُزْنِی إِلَى اللَّہِ (12:86) یعنی پیغمبر نے کہا، میں اپنی پریشانی اور اپنے غم کا شکوہ صرف اﷲ سے کرتا ہوں۔پیغمبر کا یہ اسوہ بتاتا ہے کہ مومن کے لیے مصیبت کے وقت صحیح رویہ کیا ہے۔ یہ کہ وہ مصیبت کے وقت غم کرنے کے بجائے دعا کرے، وہ مسئلہ کو اللہ کے خانے میں ڈال دے۔
یہ ایک حکمت کی بات ہے۔ مسئلہ کو اپنے اوپر لینے سے غم کا مزاج بنتا ہے۔ اس کے برعکس، جب مسئلہ کو اللہ رب العالمین کے حوالے کردیا جائے تو اس وقت آدمی کے اندر وہ نفسیات پیدا ہوتی ہے، جس کو ایک فارسی شاعر نے ان الفاظ میں بیان کیا ہے — میں نے اپنے معاملے کو تیرے حوالے کردیا تو ہی اس معاملے کے پہلووں کو بہتر جانتا ہے:
سپردم بتو ما یۂ خویش را تو دانی حسابِ کم و بیش را
اس فارمولے کو غم کرنے کے بجائے دعا کرنا کہا جاسکتا ہے۔ یہ بلاشبہ کسی شخص کے لیے زندگی کا سب سے اچھا اصول ہے۔ اجتماعی زندگی میں بار بار ایسا ہوتا ہے کہ آدمی کو ایسے حالات سے سابقہ پیش آتا ہے، جو اس کو غمگین بنادینے والے ہوں۔ ایسے حالات میں عام طور پرایسا ہوتا ہے کہ لوگ یا شکایت کرتے ہیں، یا غم کی نفسیات میں مبتلا ہوجاتے ہیں۔ اس معاملے کا سب سے اچھا حل یہ ہے کہ مسئلے کو اپنے اوپر نہ لیا جائے، بلکہ اللہ رب العالمین کے حوالے کردیا جائے۔ اس طرح کے معاملے میں آدمی کے بس میں صرف افسوس ہے، مگر اللہ رب العالمین سارے معاملات پر پورا پورا اختیار رکھتا ہے۔ وہ معاملات کو جس طرح چاہے کنٹرول کرے۔ وہ حالات کو دعا کرنے والے کے موافق بنادے۔ ایسی حالت میں یہی روش حقیقت پسندانہ روش ہے کہ معاملے کو اپنے اوپر لینے کے بجائے، اس کو اللہ رب العالمین کے حوالے کردیا جائے۔
واپس اوپر جائیں

تاریخ کا نیا دور

اسلام ساتویں صدی عیسوی میں آیا۔ اہل اسلام کی جدو جہد کے نتیجے میں اب دنیا میں ایک انقلاب آچکا ہے۔ روایات میں اس انقلاب کی پیشین گوئی موجود ہے۔ایک روایت کے مطابق پیغمبر ِاسلام صلى اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لا ہجرة بعد الفتح (صحیح البخاری، حدیث نمبر 2783)۔ اس حدیث میں ہجرت اور فتح کے الفاظ صرف وقتی معنی میں نہیں ہیں ، بلکہ وہ دور (age) کے معنی میں ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اسلامی انقلاب کے بعد دنیا میں ایک نیا دور آئے گا، اب ساتویں صدی کے ماڈل پر کام نہیں ہوگا۔ یعنی اب دعوت ، ہجرت، جہاد کا ماڈل عملاًغیر متعلق ہوگیا ہے۔ اب وہ حالات بدل چکے ہیں جس میں ہجرت اور قتال پیش آیاتھا۔ اب صرف زمانے کی رعایت کے مطابق دعوت الی اللہ کا پرامن کام کرنا ہوگا۔ بقیہ نتائج اپنے آپ حاصل ہوتے رہیں گے۔
اسی طرح ایک روایت میں آیا ہے کہ کسریٰ ہلاک ہوگیا اب کوئی کسریٰ نہیں، اور قیصر ہلاک ہوگیا اب کوئی قیصر نہیں(صحیح البخاری، حدیث نمبر 3120)۔ اس میں بھی کسریٰ اور قیصر کے الفاظ علامتی طور پر استعمال ہوئے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ شہنشاہیت کا دور (age of imperialism)ختم ہوگیا۔ اب دنیا میں دوبارہ شہنشاہیت کا دور آنے والا نہیں۔
اس حدیثِ رسول میں پیشین گوئی کی زبان میں ایک تاریخی حقیقت کو بیان کیا گیا ہے۔ وہ یہ کہ اسلام کے بعد دنیا سے بادشاہت اور شہنشاہیت کا دور ختم ہوجائے گا۔ قدیم زمانے میں بادشاہی نظام اور شہنشاہی نظام کی بنا پردینی تحریک کو حکومتی نظام کی طرف سے ایذا رسانی (persecution) کا معاملہ پیش آتا تھا۔ اب دینی تحریک کے لیے ایسا معاملہ پیش آنے والا نہیں۔ اب دینی تحریک کی منصوبہ بندی خالص غیر سیاسی بنیاد پر ہوگی۔ اب دینی تحریک کو شروع سے آخر تک امن کے حالات میں کام کرنے کا موقع ملے گا نہ کہ تشدد کے حالات میں، اب قیامت تک کسی تحریک کے لیے تشدد کے حا لات پیش آنے والے نہیں۔
واپس اوپر جائیں

نبی امی

اُمی ہونے کا مطلب لوگ unlettered لیتےہیں- مگر یہ ناکافی ہے- رسول اللہ کے بارے میں آتاہے : کان طویل الصمت (مسند احمد: 20810)- یعنی آپ دیر تک چپ رہتے تھے۔مگر یہ چپ رہنا صرف چپ رہنا نہیں تھا- کیوں کہ ایک حدیث میں ہے کہ مجھ کو 9باتوں کا حکم دیاگیا ہے۔ ان میں سے ایک ہے:أن یکون صمتی فکراً(جامع الاصول:9317 )- یعنی میری خاموشی سوچنا ہو- اسی طرح ایک صحابی آپ کے بارے میں کہتے ہیں:متواصل الاحزان دائم الفکرة (المعجم الکبیر:414)۔ اسی طرح نبوت سے پہلے آپ کا معمول تھا کہ آپ غار حرا میں جاتے اور وہاں کئی دن تک ٹھہرتے۔ حضرت عائشہ بتاتی ہیں کہ وہاں بھی آپ اپنا وقت غوروفکر میں گزارتے تھے۔ اس قسم کی روایتوں سے معلوم ہوا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم امی (unlettered)اس معنی میں تھے کہ آپ لکھی ہوئی چیز پڑھ نہیں سکتے تھے۔ لیکن آپ کا تدبر اور غور وفکرہر وقت جاری رہتاتھا۔ تخلیقی فکر (creative thinking) کے اعتبار سے آپ اعلی ترین سطح پر تھے۔
کتاب کے مطالعہ سے آپ کو انفارمیشن ملتی ہے-مگر غور وفکر کرنےسے تخلیقی فکر آتی ہے۔ غوروفکر کے ذریعہ آدمی معلومات کا تجربہ کرتا ہے۔ غوروفکر کے درمیان اس کی ذہنی صلاحیت ارتقا کرتی رہتی ہے۔ غوروفکر کے ذریعہ آدمی کا potential ان فولڈ (unfold)ہوتا ہے۔ اسی کے ساتھ پیغمبر اسلام منفی سوچ (negative thinking) سے پوری طرح محفوظ تھے۔ یہ صفت بھی آپ کے لئے ذہنی ارتقا کا ذریعہ تھی۔ حدیث میں آیا ہے کہ مجھے قرآن دیاگیا ومثلہ معہ (مسند احمد: 17174)۔ یہ قرآن کے ساتھ مثل قرآن کیاہے۔ یہ تدبر اور تفکر کے ذریعہ ذہنی ارتقا ہے۔رسول اللہ کا کیس، ریموٹ کنٹرول کا کیس نہیں تھا۔رسول کا امی ہونا بھی ایک سنت ہے۔ یعنی مطالعہ کتاب کے علاوہ دوسرے ذرائع سے اپنا ذہنی ارتقا کرنا۔ مطالعہ کتب سے آدمی اگر ایک فی صد جانتا ہے تو تدبر اور تفکر کے ذریعہ 99 فی صد۔امّی پلس ہونا ایک پازیٹیو کوالٹی (positive quality) ہے۔
واپس اوپر جائیں

و اما السائل فلا تنہر

قرآن کی سورہ نمبر 93 میں یہ آیت آئی ہے: وَأَمَّا السَّائِلَ فَلَا تَنْہَر۔ وَأَمَّا بِنِعْمَةِ رَبِّکَ فَحَدِّثْ (الضحیٰ : 10-11)۔ اس آیت میں سائل کا لفظ آیا ہے۔ سائل کے معنی ہیں سوال کرنے والا۔ یہاں سائل سے مراد پیسہ مانگنے والا نہیں ہے۔ بلکہ سائل سے مراد وہ شخص ہے جو سچائی کے بارے میں دریافت کرے۔ یہاں سائل سے مراد وہ انسان ہے جس کو متلاشی( seeker) کہا جاتا ہے۔
اگلی آیت میں فرمایا کہ اپنے رب کی نعمت کو بیان کرو۔ یہ آیت سائل کے مطلب کو واضح کردیتی ہے۔ اس کا مطلب یہ کہ طالب حق سے پوری خیرخواہی کے ساتھ ملو۔ طالب حق کے ساتھ ہمدردی کا طریقہ اختیار کرو۔ طالب حق کو دین کی تعلیم اور دین کی حکمت بیان کرو۔ طالب حق سے اس انداز میں گفتگو کرو جو اس کے ذہن کو ایڈریس کرنے والاہو۔ قرآن کی یہ آیت حکیمانہ دعوت کی اہمیت کو بتاتی ہے۔
جب کوئی حق کا متلاشی آپ کے پاس آئے تو وہ ایسے سوالات کر سکتا ہے، جو آپ کے لیے نامانوس سوالات ہوں۔ ایسی حالت میں آدمی کو چاہیے کہ وہ سائل کی بات سنجیدگی کے ساتھ سنے اور خیر خواہی کے ساتھ اس کا جواب دے۔ وہ سائل کو حقیر نہ سمجھے، وہ سائل کے ساتھ رحم دلی کا سلوک کرے۔ اوراگر وہ خود جواب دینے کی پوزیشن میں نہ تو وہ اس کو مشورہ دے کہ تم فلاں فلاں کتاب کا مطالعہ کرو۔ اسی کے ساتھ آدمی کو چاہیے کہ وہ خود سائل کے لیے دعا کرے۔ اور سائل کو بھی بتائے کہ سوال کرنا کافی نہیں ہے، بلکہ اسی کے ساتھ ضروری ہے کہ آدمی ہدایت کے لیے اللہ سے دعا کرے۔
اگر آپ کے پاس سچائی ہے تو وہ آپ کے پاس اللہ کی امانت ہے۔ آپ کی ذمے داری ہے کہ آپ اس امانت کو اللہ کے بندوں تک پہنچائیں۔آپ کے لیے صرف یہ کافی نہیں ہے کہ آپ سائل کو کچھ نہ کچھ جواب دے دیں۔ بلکہ آپ کا جواب ایسا ہونا چاہیے جو سائل کے ذہن کو ایڈریس کرنے والا ہو۔سوال کرنا بھی ذمے داری ہے، اور سوال کا جواب دینا بھی ذمے داری ہے۔
واپس اوپر جائیں

آخرت پر ایمان

آخرت کا عقیدہ، اسلام کا ایک بنیادی عقیدہ ہے۔ آخرت پر عقیدہ کے بغیرکوئی شخص مومن نہیں بن سکتا۔ کوئی شخص یہ کہے کہ میں خدا کومانتا ہوں، میں رسول کو مانتا ہوں، لیکن میں آخرت کے عقیدے کو نہیں مانتا توایسے شخص کو مومن اور مسلم قرار نہیں دیا جائے گا۔
آخرت کا عقیدہ صرف لفظی اقرار کا نام نہیں ہے۔آخرت کا عقیدہ ایک زندہ یقین کا نام ہے۔آخرت کے عقیدے کا مطلب یہ ہے کہ ایک انسان نے زندگی کی حقیقت پر غور کیا۔ اس نے شعوری طور پرآخرت کی حقیقت کو دریافت کیا،اور پھرآخرت اس کے لئے اس کے زندہ ایمان (living faith)کا حصہ بن گئی۔ آخرت کا زندہ یقین اس پر اس طرح چھایا کہ اس کی زندگی ہر اعتبار سے آخرت رخی زندگی (Akhirat-oriented life) بن گئی۔ یہی وہ شخص ہے جو آخرت پر ایمان لانے والا ہے۔
آخرت پر عقیدے کا مطلب ہے— جسمانی اعتبار سے دنیا میں رہتے ہوئے، فکر کے اعتبار سے آخرت میں پہنچ جانا۔ دکھائی دینے والی دنیا میں رہتے ہوئے، نہ دکھائی دینے والی دنیامیں جینے والا بن جانا۔ موجودہ دنیا انسان کے لئے ایک معلوم دنیا ہے۔ یہاں رہتے ہوئے آدمی ہر لمحہ اس کو دیکھتا ہے، اس کا عملاً تجربہ کرتا ہے، وہ اس دنیا میں زندگی گزارتا ہے، اورسوکر صبح کودوبارہ اسی دنیا میں واپس آجاتا ہے۔ موجودہ دنیا ہر وقت اس کو اپنے وجود کا احساس دلاتی ہے۔
ایسی حالت میںآخرت پر زندہ یقین صرف اس شخص کو حاصل ہوگا، جو اپنے آپ کو سوچ کی سطح پر اتنا زیادہ اٹھائے کہ وہ عملاً آخرت میں نہ رہتے ہوئے سوچ کی سطح پر آخرت میں پہنچ جائے، وہ ہر دن اپنی کنڈیشننگ کو توڑتا رہے، وہ ہر صبح و شام آخرت پر اپنے عقیدے کی تجدید کرتا رہے، وہ اپنے اندر تجریدی فکر (detached thinking)کی صلاحیت پیدا کرے۔یہی وہ انسان ہے جو آخرت کا مومن قرار پائے گا، اور یہی وہ انسان ہے جس کے لئے آخرت میں ابدی جنت کے دروازے کھولے جائیں گے۔
واپس اوپر جائیں

خدا کا عقیدہ

برٹش فلسفی برٹرینڈ رسل ایک غیر مذہبی (nonbeliever) انسان تھا۔ اسی طرح جرمن سائنس داں البرٹ آئنسٹائن ایک غیر مذہبی انسان تھا۔ مگر دونوں نے یہ نہیں کہا کہ وہ منکر خدا (atheists) ہیں۔ دونوں نے کہا کہ ان کا کیس agnosticism کا کیس ہے۔ یعنی دونوں نے خدا کے وجود کا انکار نہیں کیا۔ صرف یہ کہا کہ وہ اس معاملے میں اثباتی طور پر کچھ کہنے کی پوزیشن میں نہیں ہیں۔ یہی حال تمام غیر مذہبی لوگوں کا ہمیشہ رہا ہے۔
خدا کے وجود کے بارے میں ایک موقف وہ ہے جس کو غیر علمی موقف کہنا صحیح ہوگا۔ یہ وہ لوگ ہیں، جو صاف لفظوں میں خدا کے وجود کا انکار کرتے ہیں۔ ان لوگوں کا کیس یہ ہے کہ وہ علم کے حدود کو نہیں جانتے، اس لیے وہ اپنی خواہش کے مطابق کچھ بھی بولتے رہتے ہیں۔ ان لوگوں کا قول علمی اعتبار سے قابل اعتبار نہیں ہے۔
دوسرا کیس ان لوگوں کا ہے جنھوں نے علوم کا مطالعہ کیا اور یہ جانا کہ انسانی علم کی حد کیا ہے۔ یہ لوگ جب دیکھتے ہیں کہ خدا ہم کو دکھائی نہیں دیتا تو وہ خدا کے وجود کے بارے میں شک میں مبتلا ہوجاتے ہیں۔ یہ لوگ اپنے علمی ذوق کے بنا پر انکار کے الفاظ نہیں بولتے۔ وہ صرف یہ کہہ کر چپ ہوجاتے ہیں کہ ہم نہیں جانتے کہ خدا ہے یا نہیں۔
دونوں قسم کے لوگ ہر دور میں پائے جاتے رہے ہیں: پہلی قسم کے لوگ بھی اور دوسری قسم کے لوگ بھی۔ پچھلے زمانے میں پہلی قسم کے لوگوں کو ملحد کہا جاتا تھا، اور دوسری قسم کے لوگوں کو لاادریہ۔ موجودہ زمانے میں پہلی قسم کے لوگوں کو اتھیسٹ (atheist) کہا جاتا ہے، اور دوسری قسم کے لوگوں کو اگناسٹک (agnostic) کہا جاتا ہے۔ اس موضوع کو تفصیلی طور پر سمجھنے کے لیے راقم الحروف کی کتابوں کا مطالعہ کرنا چاہیے، مذہب اور جدید چیلنج، اور اسلام اور عصر حاضر۔ان کے علاوہ اظہار دین کا مطالعہ بھی اس سلسلے میںمفید ہوگا۔
واپس اوپر جائیں

عاجلانہ اقدام، صابرانہ منصوبہ بندی

ایک روایت کے مطابق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: التأنی من اللہ، والعجلة من الشیطان (شعب الایمان للبیہقی، حدیث نمبر : 4058)۔ یعنی غور و فکر کرنا اللہ کی طرف سے ہے، اور جلد بازی کرنا شیطان کی طرف سے ۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ کوئی معاملہ پیش آنے پر انسان تأنی کا طریقہ اختیار کرے، اور غور و فکر کرکے اپنی روش متعین کرے۔ تو وہ اللہ کی نصرت کے تحت ہوتا ہے، اور اگر وہ معاملہ پیش آنے کے وقت رد عمل کا طریقہ یا جلد بازی کا طریقہ اختیار کرے تو اس کا عمل شیطان کے زیر اثر ہوتا ہے۔
اصل یہ ہے کہ اجتماعی زندگی میں ہمیشہ طرح طرح کے معاملات پیش آتے ہیں۔ ایسی موقعے پر انسان کے لیے رسپانس (response) کے دو طریقے ہیں۔ ایک ہے عاجلانہ اقدام کا طریقہ۔ ایسا طریقہ ہمیشہ نقصان کا سبب بنتا ہے۔ دوسرا طریقہ یہ ہے کہ آدمی پہلے ٹھنڈے ذہن کے ساتھ سوچے، پھر حالات کا جائزہ لے کر اپنے عمل کا رخ متعین کرے۔ یہ صابرانہ منصوبہ بندی کا طریقہ ہے۔ اس طریقے میں انسان کو اللہ کی مدد حاصل ہوتی ہے، اور وہ کامیابی کی منزل تک پہنچتا ہے۔
آدمی کو اس کے خالق نے سوچنے کی صلاحیت دی ہے۔ ا ٓدمی سوچ کر کسی چیز کے لیے مثبت اور منفی پہلو کو جان سکتا ہے۔وہ یہ معلوم کر سکتا ہے کہ کسی عمل کا نتیجہ کیا ہوگا۔ اگر آدمی ایسا کرے کہ جب کوئی معاملہ پیش آئے تو وہ اپنے خداداد ذہن کو اپنی حالت پر قائم رکھے، وہ غیر متاثر ذہن کے ساتھ تمام پہلوؤں پر غور کرے تو یقینا وہ جان لے گا کہ اس وقت مجھے کیا کرنا ہے، اور کیا نہیں کرنا ہے۔ ایسے آدمی کو اللہ کی مدد حاصل ہوگی، اور وہ اللہ کی مدد سے کامیاب ہوجائے گا۔
اس کے برعکس کیس اس انسان کا ہے، جس کے ساتھ کوئی ناموافق معاملہ پیش آئے تو وہ بھڑک اٹھے، وہ جذباتی ردعمل کے تحت جوابی کارروائی شروع کردے۔ ایسا آدمی کبھی کامیاب نہیں ہوسکتا۔ کیوں کہ اس کی کارروائی میں حالات کا اندازہ شامل نہ ہوگا۔ایسے انسان کو فطرت کے نظام کی تائید حاصل نہ ہوگی۔
واپس اوپر جائیں

نصیحت کا صحیح طریقہ

ایک مسلم مجلہ (اپریل 2015)میں ایک مضمون نظر سے گزرا۔ اس کا عنوان تھا: عالم اسلام انتہاپسندی کے نرغے میں۔اس مضمون میں دنیا بھر کے مسلمانوں سے اپیل کی گئی تھی کہ مذہب کے معاملے میں وہ انتہاپسندی (extremism) کو چھوڑدیں۔ جس نے ماضی میں بھی مسلمانوں کو بہت زیادہ نقصان پہنچایا ہے، اور آج بھی اس کی وجہ سے مسلمانوں کو بہت زیادہ نقصانات ہورہے ہیں۔ ایک طرف مجلے میں مسلمانوں کو یہ نصیحت کی گئی تھی، دوسری طرف اسی مجلہ میں ایک اور مضمون کے تحت درج ہے :گستاخان یورپ گاہے گاہے کائنات کی سب سے عظیم و افضل ہستی کی شان اقدس میں گستاخی کی جسارت کرکے دنیا میں سب سے زیادہ بسنے والے مسلمانوں کی دل آزاری کرتے ہیں اور پھر اس کو آزادیٔ اظہار ِرائے کے نام سے جاری رکھنے پر اصرار بھی کرتے ہیں۔
موجودہ زمانے کے علماء اوررہنماؤں کا عام مزاج یہی ہے۔ ایک طرف وہ بظاہر مسلمانوں کواسلام کے نام پر امن پسندی کی تلقین کریں گے، دوسری طرف وہ یہ کریں گے کہ جدید دور کے تقاضے کے تحت کوئی شخص اگر اسلام کے موضوع پر کوئی اختلافی اظہار رائے کرے تو اس کو" ـپیغمبر ِ اقدس" کی شان میں ناروا گستاخی کہہ کر مسلمانوںکواپنے مذہب کےمعاملے بے حد حساس (sensitive) بنائیں گے۔ حالاں کہ یہ دونوں باتیں ایک دوسرے کی ضد ہیں۔ دنیا میں خالق کے تخلیقی نقشے کے مطابق ہر انسان کو آزادی حاصل ہے۔ اس لیے اگر آپ مسلمانوں کو امن پسند بنا نا چاہتے ہیں تو ان کو حساسیت کی خوراک دینا چھوڑ دیجیے، اور اگر آپ حساسیت کی خوراک دینا نہیں چھوڑسکتے تو مسلمانوں کو امن پسندی کی تلقین بھی مت کیجیے۔ کیوں کہ امن کا ماحول ہمیشہ صبر و تحمل کی قیمت ادا کرنے کے بعد قائم ہوتا ہے۔ جو لوگ اختلافی معاملات میں صبر تحمل کی روش اختیار نہ کرسکیں، وہ اگر امن پسندی کی بات کہتے ہیں تو وہ قرآن کے الفاظ میں ، ایک ایسے عمل کا کریڈٹ لینا چاہتے ہیں، جس کو انھوں نے کیا ہی نہیں(3:188)۔
یہ ایک دوطرفہ رویہ ہے۔ اس دوطرفہ رویہ کے بارے میں قدیم یہود کو تنبیہ کرتے ہوئے قرآن میں یہ اعلان کیا گیا تھا: کیا تم کتابِ الٰہی کے ایک حصے کو مانتے ہو اور ایک حصے کا انکار کرتے ہو (2:85)۔
قرآن کا یہ اعلان موجودہ زمانے کے مسلم علماء اور رہنماؤں پر پوری طرح صادق آتا ہے۔ وہ ایک طرف اسلام کے نام پر مسلمانوں کو امن کی تلقین کریں گے، اسی کے ساتھ وہ دوسری قوموں کی زیادتیوں کا مبالغہ آمیز تذکرہ کرکے مسلمانوں کو مسلسل طور پر مشتعل کریں گے۔ اور جب اس کا منفی نتیجہ سامنے آئے گا تو وہ کہیں گے کہ ایسا دوسری قوموں کی سازش کی وجہ سے ہورہا ہے۔ یہ دوہرا روش قرآن کے مطابق لوگوں کو خدا کی پکڑ کا مستحق بناتی ہے، نہ کہ خدا کے انعام کا۔
اصل یہ ہے کہ موجودہ زمانے کے مسلمان اپنی زوال یافتہ نفسیات کی بنا پر ایک قوم پسند گروہ بن گیے ہیں۔ اسلام کی تعلیم کے مطابق امت مسلمہ ایک داعی گروہ کا نام ہے لیکن دورِ زوال کے نتیجے میں موجودہ زمانے کے مسلمانو ں کا مزاج یہ بن گیا ہے — میری قوم، خوا ہ صحیح ہو یا غلط:
my community, right or wrong
مسلمانوں کے اندر اگر داعیانہ ذہن موجود ہو تو وہ دوسری قوموں کو اپنا مدعو سمجھیں گے، نہ کہ حریف اور رقیب۔ وہ یہ جانیں گے کہ مدعو قوم کے مقابلے میں داعی کی روش ردعمل پر مبنی نہیں ہوتی، بلکہ یک طرفہ صبر پر مبنی ہوتی ہے۔ داعی اگر مدعو کے مقابلے میں رد عمل کا طریقہ اختیار کرے تو قرآن کے الفاظ میں وہ رجز (74:5) کا طریقہ ہوگا، یعنی گندگی کا طریقہ (dirty practice)۔
موجودہ زمانے کے مسلمانوں نے اظہارِ اختلاف کو بطورِ خود رسول کی شان میں گستاخی کا عنوان دے رکھا ہے، یہ سر تا سر بے بنیاد بات ہے ۔ مسلمانوں کے اندر اگر مثبت ذہن ہوتو وہ اظہارِ اختلاف کو تبادلۂ خیال (discussion) کا موضوع بنائیں گے۔ وہ ایسے لوگوں کے لیے مثبت انداز میں لٹریچر تیار کریں گے۔ وہ اظہارِ اختلاف کو دعوت کے مواقع میں تبدیل کردیں گے۔ یہ دنیا اس کے لیے ہے جو منفی تجربے کو مثبت فکر میں تبدیل کرسکے۔
واپس اوپر جائیں

آیڈیالوجی کی طاقت

عن ابن عباس. قال: لما مشوا إلى أبی طالب وکلموہ- وہم أشراف قومہ عتبة بن ربیعة، وشیبة بن ربیعة، وأبو جہل بن ہشام، وأمیة بن خلف، وأبو سفیان بن حرب، فی رجال من أشرافہم- فقالوا: یا أبا طالب إنک منا حیث قد علمت، وقد حضرک ما ترى وتخوفنا علیک وقد علمت الذی بیننا وبین ابن أخیک فادعہ فخذ لنا منہ وخذلہ منا لیکف عنا ولنکف عنہ، ولیدعنا ودیننا ولندعہ ودینہ. فبعث إلیہ أبو طالب فجاءہ فقال: یا ابن أخی ہؤلاء أشراف قومک قد اجتمعوا إلیک لیعطوک ولیأخذوا منک. قال فقال رسول اللہ صلى اللہ علیہ وسلم: یا عم کلمة واحدة تعطونہا تملکون بہا العرب وتدین لکم بہا العجم. (البدایة والنہایة: 3/123)
کچھ لوگوں نےاس حدیث کا یہ مطلب نکالا کہ اسلامی حکومت قائم کرو حالانکہ اس حدیث کا سیاست اور حکومت سےکوئی تعلق نہیں۔ اس حدیث میں کلمہ کی بات کہی گئی ہے نہ کہ حکومت کی۔ کلمہ کا مطلب وہی ہے جس کو آج کل کی زبان میں ideology کہا جاتا ہے۔
اس حدیث میں دراصل آئڈیالوجی کی طاقت کو بتایا گیا ہے۔ قبائلی دور (tribal age) میں لوگ سمجھتے تھے کہ تلوار سب سے بڑی طاقت ہے۔رسول اللہ صلى اللہ علیہ وسلم نے بتایا کہ تمھاری یہ سوچ غلط ہے۔ تم کو آئڈیالوجی کی طاقت معلوم نہیں، اس لیے تم ہمیشہ لڑتے جھگڑتے رہتے ہو۔
تاریخ بتاتی ہے کہ عملا ایسا ہی ہوا۔ اسلام کی آئڈیالوجی توحید کی آئڈیالوجی ہے۔ قدیم زمانے میں اسلام اپنی اسی آئڈیالوجی کی طاقت سے پھیلتا رہا۔ موجودہ زمانے میں جب کہ مسلمان اس احساس میں جی رہے ہیں کہ سیاسی خلافت ختم ہوگئی۔ مگر عین اسی وقت ساری دنیا میں اسلام اپنی آئڈیالوجی کے ذریعے پھیل رہا ہے۔ ہر جگہ لوگ اسلام کی آئڈیالوجی میں سچائی کو دریافت کرتے ہیں۔ اور پھر اسلام کے حلقہ میں شامل ہوجاتے ہیں۔آئڈیالوجی انسان کو مسخر کرتی ہے، اور جب انسان مسخر ہوجائیں تو کوئی اور چیز تسخیر کے لیے باقی نہیں رہتی۔
واپس اوپر جائیں

دعوت کا اسلوب

ربیعہ بن عباد الدیلی روایت کرتے ہیں کہ انھوں نے رسول اللہ کو ذوالمجاز کے سوق میں دیکھا۔ آپ لوگوں کے پاس جاتے اوران سے کہتے: یا أیہا الناس قولوا: لا إلہ إلا اللہ، تفلحوا (مسند احمد: 16023)۔ اس روایت کو لے کر بعض لوگ کہتے ہیں کہ دعوت کا صحیح طریقہ یہ ہے کہ لوگوں سے مل کر ان کو کلمہ پڑھنے کے لیے کہا جائے۔اس کے علاوہ دعوت کا کوئی اور اسلوب درست نہیں ہو سکتا۔
اگر دعوت کا یہی واحد اسلوب تھا تو قرآن میں یقینا اس کو بتایا گیا ہوتا۔ مگر ہم دیکھتے ہیں کہ قرآن میں ایسی کوئی ہدایت موجود نہیں۔ البتہ قرآن کے مطالعے سے اس سلسلے میں کئی اسلوب ملتے ہیں۔ مثلاً یَا أَیُّہَا الْمُدَّثِّرُ قُمْ فَأَنْذِر (74:1-2)۔ اسی طرح اس سلسلے میں قرآن کی ایک آیت یہ ہے: یَا أَیُّہَا الرَّسُولُ بَلِّغْ مَا أُنْزِلَ إِلَیْکَ مِنْ رَبِّکَ (5:66)۔ خود احادیث سے بھی دوسرے اسالیب معلوم ہوتے ہیں۔ مثلا ایک روایت میں یہ الفاظ آئے ہیں:عرض علیہم الإسلام، وتلا علیہم القرآن (سیرت ابن ھشام: 1/428)، وغیرہ۔
اصولی طور پر دعوت کا صرف ایک اسلوب ہے، اور وہ قرآن کی ایک آیت میںاس طرح بتایا گیا ہے: قُلْ لَہُمْ فِی أَنْفُسِہِمْ قَوْلًا بَلِیغًا (4:63)۔یعنی ان سے ایسے اسلوب میں کلام کرو جوان کے ذہن کو ایڈریس کرنے والا ہو۔ اس قرآنی ہدایت کے مطابق ظاہری اعتبار سے دعوت کے مختلف اسلوب ہوسکتے ہیں۔ اسلوب ہمیشہ مخاطب کے اعتبار سے متعین ہوگا۔ پہلے مخاطب کا مطالعہ کیا جائے گا، اور پھر اس کے ذہن کے اعتبار سے ایسا اسلوب اختیار کیا جائے گا جواس کے ذہن کو اپیل کرنے والا ہو۔
دعوت کا نشانہ یہ ہے کہ مدعو کے اوپر اتمام حجت ہوجائے: لِئَلَّا یَکُونَ لِلنَّاسِ عَلَى اللَّہِ حُجَّةٌ بَعْدَ الرُّسُلِ(4:165)۔ حجت کبھی کسی قسم کے مقرر الفاظ کی ادائیگی سے نہیں ہوتی۔ حجت کے لیے ضروری ہے کہ اس میںمدعو کے ذہن کی رعایت کی گئی ہو۔ حقیقت یہ ہے کہ دعوت کا اسلوب مدعو کے اعتبار سے متعین ہوگا، نہ کہ کسی اور اعتبار سے۔
واپس اوپر جائیں

دین میں استقامت

قرآن کی سورہ نمبر3 میں ایک آیت ان الفاظ میں آئی ہے: وَکَأَیِّنْ مِنْ نَبِیٍّ قَاتَلَ مَعَہُ رِبِّیُّونَ کَثِیرٌ فَمَا وَہَنُوا لِمَا أَصَابَہُمْ فِی سَبِیلِ اللَّہِ وَمَا ضَعُفُوا وَمَا اسْتَکَانُوا وَاللَّہُ یُحِبُّ الصَّابِرِینَ (آل عمران: 146)اور کتنے نبی ہیں جن کے ساتھ ہو کر بہت سے اﷲ والوں نے قتال کیا۔ اﷲ کی راہ میں جو مصیبتیں ان پر پڑیں ، ان سے نہ وہ پست ہمت ہوئے ،نہ انھوں نے کمزوری دکھائی۔ اور نہ وہ دبے۔ اور اﷲ صبر کرنے والوں کو دوست رکھتا ہے۔
قرآن میں کہیں بھی پیغمبر اسلام کے علاوہ کسی اور نبی کے قتال کا ذکر نہیں ہے۔ اس لیے یہاں قتال کو لفظی معنی میں لینا درست نہ ہوگا۔ ہر زبان میں یہ اسلوب ہے کہ شدید جدو جہد کے لیے جنگ کے الفاظ بولے جاتے ہیں۔ اسی طرح عربی زبان میں بھی۔
مشہور عربی لغت لسان العرب میںقرآن وحدیث سے متعدد مثالیں پیش کرنے کے بعد بتایا ہے کہ قتال ہمیشہ جنگ کے معنی میں نہیں آتا (ولیس کل قتال بمعنی القتل)۔تفصیل کے لیےملاحظہ ہولسان العرب ، طبعہ بیروت 11/549۔
مذکورہ آیت میں بتایا گیا ہے کہ اللہ کی راہ میں ان کے اوپر جو مصیبتیں پڑیں، ان پر وہ نہ وہن میں مبتلا ہوئے، نہ ضعف میں اور نہ استکانت میں۔ یہ تینوں الفاظ تقریبا ہم معنی ہیں۔ یعنی انھوں نے مصیبت کے وقت کمزوری نہیں دکھائی۔ زبان کا یہ اسلوب ہے کہ تاکید کے لیے ہم معنی الفاظ استعمال کیے جاتے ہیں۔ مثلا یہ کہنا کہ صبر و تحمل اور برداشت کا طریقہ اختیار کرو۔
اللہ کی پسند والی زندگی اختیار کرنا ہمیشہ طرح طرح کے مسائل کا سبب بنتا ہے۔ یہ مسائل کبھی آدمی کو پست ہمت بنادیتے ہیں۔ایسے موقعے پر آدمی کو چاہیے کہ وہ اپنے آپ کو پست ہمتی سے بچائے، اور اس کا سب سے زیادہ موثر طریقہ یہ ہے کہ وہ مسائل کو اللہ کے خانے میں ڈال دے، اور دعاؤ ں کے سائے میں اپنی زندگی گزارتا رہے۔
واپس اوپر جائیں

دورِ فتنہ

رسول اللہ صلى اللہ علیہ وسلم نے بطور پیشین گوئی یہ فرمایا تھا کہ بعد کے زمانے میں امت میں فتنہ (اختلاف و جنگ)کا دور آئے گا۔ اس وقت مخلص اہل ایمان کو کیا کرنا چاہیے۔ اس کے بارے میں ایک روایت ان الفاظ میں آئی ہے: یوشک أن یکون خیر مال المسلم غنم یتبع بہا شعف الجبال ومواقع القطر، یفر بدینہ من الفتن (صحیح البخاری، حدیث نمبر 7088)۔ یعنی قریب ہے کہ وہ وقت آئے جب کہ مومن کا سب سے اچھا مال بکریاں ہوں جن کو لے کروہ پہاڑوںکے اوپر چلاجائے، اور گوشہ کے مقامات میں چلاجائے۔ اور وہاں اپنے کو فتنے سے بچالے۔
اس حدیث میں غنم کا لفظ علامتی طور پر آیا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جب امت میں اختلاف بڑھ جائے، اور لوگوں کے درمیان ٹکراؤ شروع ہوجائے تو سچے صاحب ایمان کو یہ کرنا چاہیے کہ وہ اپنے لیے کوئی ایسا گوشہ حیات تلاش کرلے، جہاں وہ اختلاف و ٹکراؤ سے دور رہ کر زندگی گزارے اور اسی حال میں مرجائے۔
اختلاف اگر مثبت اختلاف کے معنی میں ہو تو اس میں کوئی حرج نہیں۔ لیکن جب اختلاف کی صورت یہ ہو کہ لوگ ایک دوسرے کی نیت پر حملہ کرنے لگیں، اس کے نتیجے میں لوگوں کے درمیان ٹکراؤ شروع ہوجائے، حتی کہ جنگ و قتال کی نوبت آجائے توبلاشبہ وہ برا ہے۔ اس وقت کسی شخص کے لیے نجات کی صورت یہ ہے کہ وہ اپنے آپ کو باہمی ٹکراؤ سے الگ تھلگ کرلے، وہ ذاتی اصلاح کے دائرے میں اپنے کو سمیٹ لے۔
حدیث میں آیاہے: اختلاف امتی رحمۃ (المقاصد الحسنۃ : 39)۔ اس اختلاف سے وہ اختلاف مراد ہے،جو خیر خواہانہ جذبے کے ساتھ تبادلۂ خیال (discussion) کے ہم معنی ہو۔ لیکن وہ اختلاف جو مبنی بر عناد ہو ،جس کا مقصد دوسرے کو نیچا دکھانا ہو، جس میں الزام تراشی کی زبان استعمال کی جائے، ایسا اختلاف بلاشبہ گناہ ہے اور وہ قابل ترک ہے۔
واپس اوپر جائیں

اعتدال کا مطلب

ایک روایت کافی مشہور ہے۔ یہ روایت صحاح ستہ میں موجود نہیں،البتہ وہ دوسری کتب حدیث میں پائی جاتی ہے۔ اس کے الفاظ یہ ہیں: خیرُ الأمورِ أوساطُہا (شعب الایمان للبیہقی، حدیث نمبر7176)۔دوسری روایت میں یہ الفاظ ہیں: خیرُ الأمورِ أوسَطُہا(جامع الاصول: 10/130)۔ یعنی معاملات میں بہتر طریقہ درمیانی طریقہ (middle path)ہے۔
اس روایت میں خیر الامور کا لفظ ہے ، لیکن اکثر لوگوں نے اس کی توسیع کرکے اس کو خیر الافکار کے معنی میں لے لیا ہے۔ مگر یہ درست نہیں۔ یہ روایت عملی معاملات کے لیے ہے، وہ فکری معاملات کے لیے نہیں ۔ مثلا نفل نمازوں یا نفل روزوں کے بارے میں کوئی شخص مسئلہ پوچھے تو اس سے کہا جائے کہ تم درمیانی طریقہ یا اعتدال کا طریقہ اختیار کرو، نہ بہت کم نہ بہت زیادہ۔ اسی طرح انفاق کے معاملے میں کوئی شخص مسئلہ پوچھے تو اس سے بھی یہی کہا جائے گا کہ اعتدال کے ساتھ انفاق کرو۔ جیسا کہ قرآن میں آیا ہے: وَلَا تَجْعَلْ یَدَکَ مَغْلُولَةً إِلَى عُنُقِکَ وَلَا تَبْسُطْہَا کُلَّ الْبَسْطِ فَتَقْعُدَ مَلُومًا مَحْسُورًا (17:29)۔مگر افکار کا معاملہ اس سے مختلف ہے۔ افکار کے معاملے میں یہ دیکھا جائے گا کہ قرآن و سنت کی روشنی میں کون سا فکر ی موقف صحیح ہے اور کون سا فکری موقف غلط۔ مثلا متطرفین (extremists) اور غیرمتطرفین کے درمیان کوئی بیچ کا راستہ یا مسلک اعتدال نہیں ہوتا۔ یہاں یہ بتانا پڑتا ہے کہ دونوں میں سےکون سا گروہ صحیح ہے اور کون سا گروہ غلط۔ فکری معاملے میں قرآن کا اصول یہ ہے کہ حق کے بعد جو چیز ہے وہ ضلالت ہے: فَمَاذَا بَعْدَ الْحَقِّ إِلَّا الضَّلَالُ (10:32)۔
اصل یہ ہے کہ عملی معاملات میں اعتدال کا طریقہ حکمت کا طریقہ ہے۔ اس کے برعکس فکری معاملات میں اعتدال کا طریقہ شبہ نفاق کی حیثیت رکھتا ہے۔ فکری معاملات میں وضوح (clarity)، اور یقین (conviction) مطلوب ہوتا ہے۔ اگر اعتدال کے طریقے کو فکر تک وسیع کیا جائے تو لوگوں کے ذہنوں میں یقین بھی ختم ہوجائے گا، اوروضوح بھی۔
واپس اوپر جائیں

ایک اجتماعی اصول

قرآن کی سورہ نمبر 4میں ایک اجتماعی حکم کو بیان کیا گیاہے۔اس آیت کا ترجمہ یہ ہے: جب ان کو کوئی بات امن یا خوف کی پہنچتی ہے تو وہ اس کو پھیلا دیتے ہیں ۔ اور اگر وہ اس کو رسول تک یا اپنے ذمہ دار اصحاب تک پہنچا تے تو ان میں سے جو لوگ تحقیق کرنے والے ہیں ، وہ اس کی حقیقت جان لیتے۔ اور اگر تم پر اﷲ کا فضل اور اس کی رحمت نہ ہوتی تو تھوڑے لوگوں کے سوا تم سب شیطان کے پیچھے لگ جاتے۔ (النساء: 83)
اس آیت کا ابتدائی مفہوم یہ ہے کہ جنگ اور امن کے حالات کا تعلق حکومت کے ذمہ داروں سے ہوتا ہے، اس لیے اس نوعیت کی کوئی بات ہوتو لوگوں کو چاہیے کہ اس کو حکومت کے ذمہ داروں تک پہنچائیں، تاکہ وہ اس کے بارے میں صحیح کارروائی کر سکیں۔
قرآن کی اس آیت سے ایک اصول معلوم ہوتا ہے۔ وہ یہ کہ کسی شخص کو کسی معاملے سے متعلق کوئی بات کہنا ہوتو اس کو چاہیے کہ وہ بات کو اس سے کہے جس کا اس معاملے سے تعلق ہے۔ متعلق اشخاص سے بات کہنا سماج میں اصلاح پیدا کرتا ہے۔ اور بات کو غیر متعلق اشخاص سے کہنا سماج میں فساد پھیلانے کا سبب بنتا ہے۔
خاص طور پر جب کوئی منفی بات یا شکایت کی بات ہو تو ایسی بات کو غیر متعلق اشخاص سے بیان کرنانہایت بری عادت ہے۔ کسی آدمی کے پاس اگر ایسی کوئی بات ہے تو اس کو چاہیے کہ وہ اس کو اپنے دل میں رکھے اور سب سے پہلے متعلق شخص سے مل کر اس کی وضاحت معلوم کرے۔ یہی طریقہ صحیح اسلامی طریقہ ہے۔
سماج میں اکثر خرابیاں بات سے پیدا ہوتی ہیں۔ لوگو ں کا عام مزاج یہ ہے کہ جب ان کو کوئی بری بات معلوم ہو تو وہ فورا اس کا چرچا شروع کردیتے ہیں۔ یہ چرچا عام طور پر غیر متعلق اشخاص کے درمیان کیا جاتا ہے۔ متعلق شخص سے سنجیدہ انداز میں گفتگو کرنا ہی اس معاملے میں واحد صحیح طریقہ ہے۔
واپس اوپر جائیں

فساد کی برائی

قرآن میں ایک اجتماعی برائی کو ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے: وَإِذَا تَوَلَّى سَعَى فِی الْأَرْضِ لِیُفْسِدَ فِیہَا وَیُہْلِکَ الْحَرْثَ وَالنَّسْلَ وَاللَّہُ لَا یُحِبُّ الْفَسَادَ (2:205)۔ اور جب وہ پیٹھ پھیرتا ہے تو وہ اس کوشش میں رہتا ہے کہ زمین میں فساد پھیلائے اور کھیتوں اور نسل کو ہلاک کرے۔ حالاں کہ اللہ فساد کو پسند نہیں کرتا۔
قرآن کی اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ کوئی انسان یا کوئی گروہ اگر سماج میں ایسی سرگرمی جاری کرے جس کے نتیجے میںلوگ قتل کیے جائیں اور لوگوں کی معاشیات تباہ ہوں تو یہ ایک ایسا فعل ہے جو اللہ کے تخلیقی نقشہ کے خلاف ہے۔ایسی کسی سرگرمی پر اللہ کی مدد نہیں آسکتی۔ ایسی سرگرمی کرنے والے لوگ اللہ کے غضب کے مستحق ہیں، ان کو اللہ کی مدد ہرگز ملنے والی نہیں۔ ایسے لوگ دنیا میں تباہی کی تاریخ بنائیں گے نہ کہ تعمیر کی تاریخ۔
اس سے معلوم ہوا کہ اجتماعی سرگرمی میں صحیح اور غلط کا معیار کیا ہے۔ وہ معیار یہ ہے کہ اجتماعی زندگی میں وہی سرگرمی درست ہے، جو سماج میں مثبت قدروں (positive values) کو فروغ دے، جس سے لوگوں کے درمیان اچھے تعلقات قائم ہوں، جس سے سماج کے ہر طبقے کو فائدہ پہنچے۔اس کے برعکس، جو سماجی سرگرمی سماج کے اندر نفرت اور تشدد پیدا کرے، جس سے لوگوں کی معاشیات تباہ ہوں ، جس کا نتیجہ یہ ہو کہ لوگ ایک دوسرے کو قتل کرنے لگیں۔ ایسی سرگرمی بلاشبہ اللہ کے نزدیک صرف برائی ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ سماجی زندگی میں کسی سرگرمی کا معیار ، اس کا نتیجہ (result) ہے۔ لیڈر کے اوپر فرض ہے کہ اگر وہ دیکھے کہ اس کی سرگرمی سے برا نتیجہ نکل رہا ہے ، لوگوں کی معاشیات تباہ ہورہی ہیں، اور لوگ قتل کیے جارہے ہیں،تو فورا اس کو اعلان کرنا چاہیے کہ ہماری سرگرمی اللہ کی ناراضگی کا سبب بن رہی ہے۔ ہم اس کو فورا ختم کرتے ہیں، اور اللہ سے دعا مانگتے ہیں کہ وہ ہماری غلطی کے لیے ہم کومعاف فرمائے۔
واپس اوپر جائیں

علمِ معرفت

پیغمبرِ اسلام صلى اللہ علیہ وسلم کی ایک حدیث ان الفاظ میں آئی ہے: عن علی بن أبی طالب، قال: قال رسول اللہ صلى اللہ علیہ وسلم:الإیمان معرفة بالقلب، وقول باللسان، وعمل بالأرکان (سنن ابن ماجہ ، حدیث نمبر 65)۔ یعنی علی ابن ابی طالب بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلى اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ایمان قلبی معرفت کا نام ہے، اور زبان سے اقرار کا ، اور ارکان پر عمل کرنے کا ۔
جس طرح بیج سے پورا درخت نکلتا ہے، یہی معاملہ اسلام کا ہے۔ اسلام کا آغاز معرفت (realization of God) سے ہوتا ہے۔ معرفت جب آدمی کے شعور کا حصہ بن جاتی ہے، تو اسی کا نام ایمان ہے۔ معرفت جب یقین (conviction) بن کر آدمی کی زبان پر جاری ہوجائے تو اسی کا نام لسانی اقرار ہے۔ معرفت جب آدمی کے عمل میں ڈھل جائے تو اسی کا نام ارکانِ دین کی عملی پیروی کرنا ہے۔ جس طرح بیج کے اندر پورا درخت ہوتا ہے، اسی طرح معرفت کے اندر پورا اسلام موجود ہوتا ہے۔
معرفت ابتدائی طور پر انسان کے لاشعور (unconscious mind) میں موجود ہوتی ہے۔ پھر آدمی جب غور وفکر کرتا ہے تو معرفت ان فولڈ (unfold) ہونے لگتی ہے۔ قرآن میں تدبر اور کائنات میں غور وفکر کے ذریعے معرفت اپنے ارتقائی درجےتک پہنچتی ہے۔ اسلام کی بعد کی تاریخ میں معرفت کا تصور حذف ہوگیا۔ علم کلام بظاہر معرفت کا علم تھا، لیکن متکلمین نے علم کلام کو یونانیات پر مبنی کردیا۔ اس لیے علم کلام حقیقی معنوں میں معرفت کا علم نہ بن سکا۔ صوفیا نے بظاہر معرفت کو اپنا موضوع بنایا۔ لیکن انھوں نے یہ غلطی کی کہ معرفت کو تدبر (contemplation)یعنی عقلی غور و فکر پر مبنی قرار نہیں دیا، بلکہ انھوں نے مراقبہ (meditation) کو معرفت کا سر چشمہ سمجھ لیا۔ یعنی جوچیز عقل کے ذریعے ملنے والی تھی، اس کو دل (heart) میں تلاش کرنے لگے۔ معرفت دل کے اندر موجود ہی نہ تھی، اس لیےصوفیا کو حقیقی معرفت نہیں ملی۔اس طرح متکلمین بھی معرفت سے محروم ہوگیے اور صوفیا بھی۔یہی معاملہ فقہ کے ساتھ پیش آیا جو معرفت کے بجائے ظواہر احکام کا موضوع بن کر رہ گئی۔
واپس اوپر جائیں

ایمان اور عمل

علماء کے درمیان قدیم زمانے سے یہ بحث چلی آرہی ہے کہ ایمان میں عمل داخل ہے یا نہیں- پچھلی صدیوں میں اِس پر بہت کچھ لکھا گیا ہے- مگر حقیقت یہ ہے کہ یہ ایک غیر متعلق بحث ہے- اِس بحث کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں- یہ بحث ایک حدیثِ رسول کی بنا پر پیدا ہوئی ہے جس میں یہ کہاگیا ہے : مَن قال لا إلہ إلا اللہ، دخل الجنة(صحیح ابن حبان، حدیث نمبر 151)-
اِس حدیث کے ظاہر کو لے کر یہ رائے قائم کرلی گئی کہ قول یا زبان سے کلمہ پڑھنے کا نام ایمان ہے، اور جو شخص زبان سے کلمہ پڑھ لے، وہ ضرور جنت میں داخل ہوگا-
حقیقت یہ ہے کہ ایمان کا معاملہ ایک اساسی معاملہ ہے- ایمان کے معاملے میں صحیح رائے وہی ہے جو دوسری آیتوں اور حدیثوں کو سامنے رکھ کر کی گئی ہو- اِس حیثیت سے جب ایمان کا مطالعہ کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ ایمان اپنی حقیقت کے اعتبار سے بیج (seed)کی مانند ہے۔ جس طرح ایک بیج کے اندر پورا درخت امکانی طور پر موجود ہوتا ہے۔ اسی طرح ایمان کے اندر پورا اسلامی عمل بھی امکانی طور پر موجود ہوتا ہے۔
ایمان کا بیج پورا درخت کس طرح بنتا ہے۔ جواب یہ ہے کہ تدبر اور تفکر کے ذریعے۔ مومن وہ ہے جو معرفت کا حریص ہو۔ جو قرآن و سنت کا مطالعہ کرے، جو خدا کی تخلیق میں مسلسل طور پر غور کرے۔ جو شخص اس طرح کی مومنانہ زندگی اختیار کرتا ہے، اس کا ایمان درخت کی مانند ہر وقت بڑھتا رہتا ہے۔ اس طرح کا عمل اس کے ایمان کو ایک تخلیقی ایمان (creative faith)بنادیتا ہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ ہر دن اس کی معرفت میں اضافہ ہوتا ہے۔ ہر دن اس کے یقین میں اضافہ ہوتا ہے، ہر دن اس کے تعلق باللہ میں اضافہ ہوتا ہے، ہر دن اس کے تزکیہ میں اضافہ ہوتا ہے۔ یہ اضافہ مسلسل طور پر جاری رہتا ہے۔ موت کے سوا کوئی چیز نہیں جو اس عمل کوروک دے۔
حقیقت یہ ہے کہ ایمان جتنا زیادہ قوی ہوگا، اتنا ہی انسان کی عملی زندگی میں اس کا اظہار ہوگا۔
واپس اوپر جائیں

ایک سنت ِ رسول

ایک صاحب جو ایک ٹاؤن میں رہتے ہیں، وہ دہلی آکر مجھ سے ملے۔ انھوں نے کہا کہ میں آپ کے مشن سے اتفاق کرتا ہوں۔ میں چاہتا ہوں کہ آپ ہمارے مقام پر چلیں، وہاں دو دن ٹھہریں۔ ہم وہاں آپ کی تقریر کرائیں گے، اس کے علاوہ لوگ آپ سے ملاقات کریںگے اور ہمارے یہاں کام بڑھے گا۔
میںنے کہا کہ روایتی طورپر آپ لوگ کام کا ایک ہی پیٹرن جانتے ہیں، اور وہ ہے کسی عالم یا کسی بزرگ کو اپنے یہاں لے جانا، اور چند دن ان کو اپنے مقام پر ٹھہرا کر تقریر اور ملاقات کا پروگرام بنانا۔ عام زبان میں اس کو دورہ کہا جاتا ہے۔ مگر زیادہ مفید بات یہ ہے کہ آپ جیسے لوگ اس معاملے میںایک سنت رسول کو زندہ کریں۔پھر میںنے کہا کہ رسول اللہ کی زندگی کے واقعات، سیرت اور حدیث کی کتابوں میں موجود ہیں۔ ان میں جو پیٹرن ملتاہے وہ دورہ والا پیٹرن نہیںہے۔ اس کا پیٹرن یہ ہے کہ ایک شخص رسول اللہ کے پاس آتا ہے، وہ آپ کی باتیں سنتا ہے اور قرآن کو سن کر اس کو یاد کرلیتاہے۔ پھر وہ اپنے مقام پر واپس جاتاہے۔ وہاں کے لوگوں کو وہ قرآن سناتا ہے اور رسول اللہ سے سیکھی ہوئی باتوں کو بتاتا ہے۔
اسی پیٹرن سے اس زمانہ میں رسول اللہ کا مشن پورے عرب میں پھیل گیا۔ دعوت کے اس پیٹرن کو قرآن میں اس طرح بیان کیا گیا ہے: اور یہ ممکن نہ تھا کہ اہلِ ایمان سب کے سب نکل کھڑے ہوں ۔ تو ایسا کیوں نہ ہوا کہ ان کے ہر گروہ میں سے ایک حصہ نکل کر آتا، تاکہ وہ دین میں گہری سمجھ پیدا کرتا اور واپس جا کر اپنی قوم کے لوگوں کو آگاہ کرتا تاکہ وہ بھی پرہیز کرنے والے بنتے۔ (9:122)
پھر میں نے کہا کہ موجودہ زمانہ پرنٹنگ پریس کا زمانہ ہے۔ اِس زمانہ میں اس پیٹرن کو زیادہ بڑے پیمانہ پر استعمال کرنا ممکن ہوگیا ہے-آپ اس پیٹرن کی اہمیت کو سمجھئے اور اس کے مطابق کام کیجئے۔پھر میں نے کہا کہ ہم اس پیٹرن کو موجودہ زمانہ میں زندہ کررہے ہیں۔ ہم قرآن کا ترجمہ مختلف زبانوں میں تیار کرکے چھاپ رہے ہیں۔ آپ قرآن کے ان ترجموں کو ہر جگہ لوگوں کے درمیان پھیلائیے۔ اس کے علاوہ ہم نے جدید ضرورت کے مطابق بڑی تعداد میںاسلامی کتابیں تیار کی ہیں۔ یہ گویا سپورٹنگ لٹریچر ہے۔ آپ ان مطبوعہ کتابوں کو ہر جگہ آسانی کے ساتھ پھیلا سکتےہیں۔ یہی دعوت کا پیغمبرانہ طریقہ ہے۔ اس طریقہ کو استعمال کرکےآپ مشن میں اپنا حصہ ادا کرسکتے ہیں۔
اس پیغمبرانہ طریقے میں مزید بہت سے فائدے ہیں۔ ایک بڑا فائدہ وہ ہے جس کوذاتی شرکت (personal involvement) کہا جاسکتا ہے۔ اس طریقے میں یہ ہوگا کہ آپ منصوبہ بندی (planning)کریں گے۔ آپ لوگوں سے ملیں گے۔ لوگوں کے ساتھ آپ کا انٹرایکشن ہوگا۔ آپ کو نئے نئے تجربات پیش آئیں گے۔ آپ کی دعوہ اسپرٹ میں اضافہ ہوگا۔ لوگوں کے ساتھ آپ کا تعلق بڑھے گا۔ آپ حالات سے باخبر ہوتے چلے جائیں گے۔آپ کا دعوتی کام تنظیم (organization) کی صورت اختیار کرلے گا۔
اس طریقے میں بہت زیادہ فائدے ہیں۔ اس میں یہ ہوتا ہے کہ آپ کو مختلف قسم کے تجربات پیش آتے ہیں جو آپ کی تربیت کا ذریعہ ہیں۔ آپ کے ساتھ ایسے مواقع پیش آتے ہیں جو آپ کے اندر دعوت کی کیفیت کو ابھارتے ہیں۔ حالات کے تقاضے کے تحت، آپ محسوس کرتے ہیں کہ مجھے اپنا مطالعہ بڑھانا چاہیے۔اس عمل کے دوران، آپ انسان کی رعایت کرنا سیکھتے ہیں۔ آپ جب ایک عالم یا ایک بزرگ کو بلاکر ان سے تقریر کرواتے ہیں تو وہ صرف ایک کام ہوتا ہے۔ لیکن جب آپ مذکورہ پیغمبرانہ سنت پر عمل کریں تو آپ کا دعوتی کام ہزار پہلووں والا کام بن جائے گا۔
پیغمبرانہ سنت کے مطابق عمل کرنے سے آپ کے عمل کا فائدہ دگنا ہوجاتا ہے۔ وہ آپ کے لیے بھی مفید ہوتا ہے، اور مدعو کے لیے بھی۔ آپ کے لیے اس کا فائدہ یہ ہے کہ اس کے ذریعے آپ کے ذہنی ارتقا (intellectual development) میں اضافہ ہوتا ہے۔ مدعو کے لیے یہ فائدہ کہ وہ زیادہ بہتر طور پر مشن کے بارے میں واقفیت حاصل کرتا ہے، وہ زیادہ غور و فکر کے ساتھ مشن کے بارے اپنے رویے کا تعین کرتا ہے۔
واپس اوپر جائیں

امتیاز ابلیس کی سنت ہے

مسلمانوں کا لکھنے اور بولنے والاطبقہ اکثر یہ لکھتا اور بولتا ہے کہ اس ملک میں مسلمانوں کے ساتھ امتیاز (discrimination) کا سلوک کیا جاتا ہے۔ یہ بات سرتاسر خلافِ واقعہ ہے۔ مزید یہ کہ یہ ابلیس کی سنت ہے۔ جولوگ امتیاز کی بولی بولتے ہیں، وہ عملاً ابلیس کی پیروی کررہے ہیں۔ قرآن سے معلوم ہوتا ہے کہ انسان سے پہلے جنات کو پیدا کیا گیا(15:27)۔اس کے بعد اللہ نے انسان کو بنایا ، اور یہ اعلان کیا کہ انسان زمین میں خلیفہ ہوگا۔ اس پر جنات کے سردار ابلیس نے اعتراض کیا کہ یہ امتیاز اور ناانصافی کا معاملہ ہے۔ کیوں کہ جنات کو آگ سے پیدا کیا گیا ہے اور آدم کو مٹی سے، اس لیے جنات کا درجہ بڑا ہے۔ ایسی حالت میں جنات کو نظر انداز کرکے آدم کو زمین کا خلیفہ بنانا امتیاز اور ناانصافی کا معاملہ ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ امتیاز (discrimination) کچھ لوگوں کا خود ساختہ لفظ ہے۔حقیقت کے اعتبار سےاس دنیا میں امتیاز کا کوئی وجود نہیں۔ جس چیز کو امتیاز کہا جاتا ہے، وہ اپنی حقیقت کے اعتبار سےنااہلی (incompetence) کا معاملہ ہے۔ آدمی اپنی نااہلی کو چھپانے کے لیے یہ کہہ دیتا ہے کہ میرے ساتھ امتیاز کا معاملہ کیا گیا۔
جب بھی کسی انسان کے دل میں اس قسم کی شکایت پیدا ہو تو اس کو چاہیے کہ وہ دوسروں کو الزام دینے کا طریقہ اختیار نہ کرے، وہ خود اپنے بارے میں سوچے۔ اگر وہ غیر جانبدارانہ طور پر اپنے بارے میں سوچے گا تو وہ جان لے گا کہ یہ دراصل میری اپنی کمزوری تھی جس کی مجھے قیمت دینی پڑی۔ اب اس کا حل یہ ہے کہ میں اپنی کمزوری کو دور کروں۔ اس کے بعد مجھے کسی سے امتیاز کی شکایت نہ ہوگی۔
اجتماعی زندگی میں دوسرے کی شکایت کرنا یا دوسرے پر الزام دینا صرف اپنا وقت ضائع کرنا ہے۔ کیوں کہ اس دنیا میں کوئی دوسرا نہیں ہے، جو اس طرح کی شکایت یا الزام کا مصداق ہو۔ آدمی کو چاہیے کہ اس طرح کی صورت پیش آئے تو وہ فوراً اپنا محاسبہ کرے۔ وہ اپنی کوتاہی کو دریافت کرے، اور اپنی کوتاہی کی تلافی میں لگ جائے۔ یہی بات اسلام کے مطابق ہے، اور یہی بات عقل کے مطابق بھی۔
واپس اوپر جائیں

جنت کی دنیا

قرآن کی سورہ نمبر 35 میں بتایا گیا ہے کہ اہل جنت جب جنت کی زندگی کا تجربہ کریں گے تو اس کا اعتراف کرتے ہوئےان کی زبان سے یہ الفاظ نکلیں گے: الْحَـمْدُ لِلہِ الَّذِیْٓ اَذْہَبَ عَنَّا الْحَزَنَ (35:34) یعنی شکر ہے اللہ کا جس نے ہم سے غم کو دور کردیا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جنت ایک ایسی دنیا ہوگی جو درد اور غم سے مکمل طور پر خالی ہوگی۔
اہل جنت کا یہ کلمہ، ایک بہت معنی خیز کلمہ ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ کون سی دنیا ہے، جو انسان جیسی مخلوق کے لئےخوشیوں کی دنیا بن سکتی ہے۔یہ وہ دنیا ہے جو حزَن (pain) سے خالی ہو۔انسان بے حد حساس مخلوق ہے۔ حزَن کا معمولی ساتجربہ بھی انسان کو بے چین کردیتا ہے۔ انسان کو رہنے کے لئے ایک ایسا محل مل جائےجس میں بظاہر آرام کے تمام سامان موجود ہوں لیکن اسی کے ساتھ اس میں رہنے والےانسان کو کوئی حزَن لاحق ہو۔ مثلا، اس کے ایک دانت میں درد پیدا ہوجائے تو انسان اتنا بے چین ہوجائے گا کہ محل میں موجود آرام و راحت کے تمام سامان اس کے لئے بے معنیٰ ہو جائیں گے۔انسان جیسی مخلوق کے لئے صرف وہ دنیاخوشی کی دنیا بن سکتی ہے، جو حزَن سے مکمل طور پر پاک ہو۔
انسان کی نسبت سے قرآن کا یہ بیان کامل معنوںایک مبنی بر واقعہ بیان (factual statement) ہے۔اتنا زیادہ مبنی بر واقعہ بیان کسی انسان کے لئے ممکن نہیں۔اس اعتبار سے دیکھا جائے تو یہ بیان اس بات کا ایک ثبوت ہےکہ قرآن ایک ایسی ہستی کی کتاب ہے جو تمام حقائق سے کامل واقفیت رکھتا ہے۔
مزید یہ کہ ایک ایسی دنیا بنانا جو کامل معنوں میں انسان کے تخلیقی ساخت سے مطابقت رکھتی ہو، ایک ایسا کام ہے جو صرف رب العالمین کے لئے ممکن ہے۔یعنی ایک ایسا رب جو پورے معنوں میں عالمی اختیارات کا مالک ہو۔ اس طرح یہ آیت خدا کےوجود کا ایک ناقابلِ انکار ثبوت ہے، اور اس بات کا ثبوت بھی کہ قرآن، رب العالمین کا کلام ہے، وہ کسی انسان کا کلام نہیں۔
واپس اوپر جائیں

اجتہاد کا معاملہ

اجتہاد کا مطلب یہ ہے کہ حالات بدلنے کے بعد ابتدائی حکم کی نئی تطبیق (new application) تلاش کی جائے۔ مثلاً جدید طرز کے صنعتی موزہ (socks)کے وجود میں آنے کے بعد اس پر قدیم طرز کے جراب کے حکم کو منطبق کرنا۔
اجتہاد صحیح بھی ہوسکتا ہے اور غلط بھی۔ لیکن اس اندیشہ کی بنا پر کبھی اجتہاد کے عمل کو روکا نہیں جائے گا۔ صرف یہ کیا جائے گا کہ اجتہاد کے لئے اخلاص نیت کی شرط پر زور دیاجائے۔ حدیث میں آیا ہے کہ اگر کوئی مومن اجتہاد کرے اور اس کا اجتہاد درست ہو تو اس پر اس کو دوہرا ثواب ملے گا۔ اور اگر وہ اخلاص نیت کے باوجود اجتہاد میں غلطی کرجائے تو اس کو اس کے اجتہاد پر ایک ثواب ملے گا۔
تاریخ سے معلوم ہوتا ہے کہ اجتہاد کے معاملہ میں ہمیشہ غلطی کا امکان رہتاہے حتی کہ بڑے بڑے اہل ایمان نے بھی غلطیاں کی ہیں۔ آدمی کو چاہئے کہ جب اس پر اجتہاد کی غلطی واضح ہوجائے تو وہ کھلے طورپر اپنی غلطی کا اعتراف کرے اور وہ اپنی رائے کو درست کرلے۔
اجتہاد ایک تعمیری عمل ہے۔ اجتہاد سے لوگوں کے اندر تخلیقی سوچ (creative thinking)پیدا ہوتی ہے۔ اس کے برعکس جب اجتہاد کا عمل رک جائے تو یقینی طورپر لوگوں کے اندر ذہنی جمود (intellectual stagnation) پیدا ہوجائے گا ،اور ذہنی جمود بلا شبہہ اسلام میں ایک غیرمطلوب چیز ہے۔ جب کوئی آدمی اخلاص نیت کے ساتھ اجتہاد کرے تو فطری طورپر ایساہوگاکہ وہ معاملہ پر گہرائی کے ساتھ غور کرے گا، وہ سنجیدگی کے ساتھ اس کا جائزہ لے گا۔ وہ اس موضوع پر کتابوں کا مطالعہ کرے گا۔ وہ اہلِ علم سے اس موضوع پر تبادلۂ خیال کرے گا۔ یہ تمام چیزیں اخلاص نیت میں شامل ہیں۔ ان چیزوں کا ہونا اخلاص نیت کا ثبوت ہے اور ان چیزوں کا نہ ہونا اس بات کا ثبوت ہے کہ آدمی کے اندر اخلاص نیت موجود نہیں۔ یہی وہ حقیقت ہے جو حدیث میں اس طرح بتائی گئی ہے کہ عمل کا دار و مدار نیت پر ہوتا ہے۔
واپس اوپر جائیں

قتل سب سے بڑی برائی

قتل کیا ہے۔ قتل یہ ہے کہ کسی زندہ انسان پر حملہ کرکے اس کا خاتمہ کردیا جائے۔ یہ معاملہ ایک فرد کے ساتھ کیا جائے تو اس کو قتل کہا جاتا ہے، اور یہی معاملہ جب زیادہ بڑے پیمانے پر کیا جائے تو وہ جنگ ہے۔ قتل ہو یا جنگ، وہ ہر حال میں برائی کے افعال ہیں۔ کسی انسان کو مارنا، ایک ایسا فعل ہے، جو اس قابل ہے کہ مارنے والے کو سب سے زیادہ سخت سزا دی جائے۔
ہر انسان خدا کی تخلیق ہے۔ ہر انسان کو اس کے خالق نے اس لیے پیدا کیا ہے تاکہ وہ دنیا میں آزادی کے ساتھ زندگی گزارے اور خالق نے اس کو جس امکان (potential) کے ساتھ پیدا کیا ہے اس کو وہ اپنی محنت سے واقعہ (actual) بنائے۔
حقیقت یہ ہے ہر انسان خالق کا ایک منصوبہ (plan) ہے۔ ایسی حالت میں انسان کو قتل کرنا، گویا خالق کے منصوبے کو قتل کرنا ہے۔ وہ خالق کے منصوبے کو ناکام بنانے کے ہم معنی ہے۔جنگ بظاہر انسان کے خلاف ہوتی ہے، لیکن اپنی حقیقت کے اعتبار سے ہر جنگ خالق کے خلاف جنگ ہے۔
جنگ کا آغاز نفرت سے ہوتا ہے۔ نفرت بڑھ کر تشدد بن جاتی ہے۔ تشدد جب زیادہ بڑے پیمانے پر کیا جائے، اسی کا نام جنگ ہے۔ تشدد کلچر اپنے آغاز میں بھی غلط ہے، اور اپنے انجام میں بھی غلط۔ کوئی بھی منطق (logic) تشدد اور خوں ریزی کو ہرگز جائز ثابت کرنے والی نہیں ۔
ایک درخت زمین سے نکلے اور ہری بھری شاخوں کے ساتھ پروان چڑھنے لگے تو وہ خالق کے منصوبے کا ایک جز ہوتا ہے۔ اگر کوئی شخص ایسے ایک پودے یا درخت کو کاٹ دے تو اس نے بلاشبہ ایک ناقابلِ معافی جرم کیا، اس نے ایک تخلیقی منصوبے کو پورا ہونے سے پہلے ختم کردیا۔ انسان بھی خالق کا ایک زندہ درخت ہے۔ انسان کے لیے خالق کا یہ فیصلہ ہے کہ وہ زمین میں پھیلے یہاں تک کہ وہ باغ بن جائے۔ ایسی حالت میں جو شخص خدا کے باغ پر ہتھیار چلاتا ہے، وہ خود اپنے اوپر ہتھیا ر چلاتا ہے۔ ایسا انسان اپنے پر تشدد عمل سے خدا کے فیصلے کو بدلنا چاہتا ہے، مگر خالق کا فیصلہ کبھی بدلنے والا نہیں۔
خالق کا منشا ہے کہ یہ دنیا انسانوں کا ہرا بھرا باغ بن جائے۔ اس باغ کا ہر درخت پھول اور پھل دے کر دنیا کی ترقی میں اضافہ کرے ، ہر انسان اپنے پوٹنشل (potential) کو ایکچول (actual) بنا کر خالق کے منصوبے کی تکمیل کرے۔ ہر انسان تہذیب (سویلائزیشن )کی ترقی میں اپنا حصہ ادا کرے۔ ہر انسان دنیا میں آزادانہ عمل کرکے خود کچھ پائے، اور اپنے پائے ہوئے کو اگلی نسلوں کی طرف منتقل کرے۔ ہر انسان تاریخ کا ایک صحت مند حصہ (healthy part) بن جائے۔ مگر تشدد کلچر (culture of violence) اس پوری خدائی اسکیم کو برباد کردینے والا ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ تشدد (violence) سب سے بڑا جرم ہے۔ ایسے مجرمین کے لیے بلاشبہ خدا کے یہاں سخت عذاب ہے۔ کوئی بھی خود ساختہ نظریہ تشدد کے مجرمین کو جنت میں پہنچانے والا نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ تشدد پسند انسان دنیا میں کانٹے دار جھاڑی کی حیثیت رکھتا ہے۔ ایسے انسانوں کے لیے یہی مقدر ہے کہ وہ کاٹے جائیں اوران کو ہمیشہ کے لیےکائنات کے کوڑا خانہ میںپھینک دیا جائے۔
امن (peace) تعمیر کا عمل ہے، اس کے مقابلے میں جنگ تخریب کا عمل ہے۔ امن پسند انسان کے لیے خدا کے یہاں ابدی آرام گاہ ہے۔ اور تشدد پسند انسان کے لیے خدا کے یہاں ابدی قید خانہ۔
انسان اس دنیا میں آزاد ہے، لیکن اس کی آزادی محدود آزادی ہے۔ اس کی آزادی اس لیے ہے کہ وہ اس کو خالق کے منصوبے کے مطابق استعمال کرے۔ مگر جو شخص اپنی آزادی کا غلط استعمال کرے، وہ اپنے عمل سے صرف یہ ثابت کررہا ہے کہ وہ اس قابل نہیں تھا کہ اس کو آزادی دی جائے، وہ اس قابل نہیں تھا کہ اس کو عقل دی جائے، جس کے ذریعے وہ اچھے برے کو سمجھ سکتا تھا، اور اپنی زندگی کی درست تشکیل کرسکتا تھا۔
ایسی حالت میں جو انسان اپنی آزادی کا غلط استعمال کرے وہ اپنے آپ کو اس کا مستحق بناتا ہے کہ اگلے دورِ حیات میں اس کو جانور (animal) سے بھی زیادہ بری صورت میں اٹھایا جائے۔ اگلے دورِ حیات میں وہ صرف محرومی کی زندگی گزارے، اگلے دورِ حیات میں اس کا حال یہ ہو کہ وہ پکارے، لیکن کوئی اس کی پکارکا جواب دینے والا موجود نہ ہو، وہ مدد کے لیے آواز دے، لیکن وہاں کوئی اس کی مدد کرنے والا موجود نہ ہو۔
کسی شخص کا انسان کی حیثیت سے پیدا ہونا خالق کا ایک انوکھا انعام ہے۔ مزید یہ کہ وہ خالق کی طرف سے ایک خوش خبری ہے۔ اس بات کی خوش خبری کہ اگر تم نے اپنی موجودہ زندگی کو خالق کے نقشے کے مطابق گزارا، اگر تم نے تشدد کے بجائے امن کو اپنا طریق حیات بنایا تو اگلے دورِ حیات میں تم کو خالق کی مزید عنایات حاصل ہوں گی۔ آج تم انسان (man)کی حیثیت سے پیدا کیے گیے ہو۔ لیکن اگلے دور حیات میں خالق تم پریہ انعام کرے گا کہ وہ تم کو فوق البشر (superman) کا درجہ دے دے گا۔ موجودہ دورِ حیات میں تم نے سب کچھ کرکے بھی بربادی کے سوا کچھ اور نہیں پایا تھا، لیکن اگلے دورِ حیات میں تم خالق کی ایسی نعمتوں کو پالوگے جس کا اس سے پہلے تم نے کبھی گمان بھی نہیں کیا تھا۔
واپس اوپر جائیں

ذاتی کمال، بصیرِ زمانہ

مصلح یا مجدد کا جب ذکر ہوتا ہے، تو اکثر لوگ اس کے ذاتی کمالات کو بیان کرنے لگتے ہیں۔ قدیم زمانے سے چوں کہ دنیا میں شخصیت پرستی (cult of individual) کا طریقہ رائج رہا ہے۔ اس لیے یہ طریقہ معیار بن گیا ہے۔ مصلح یا مجدد کا بیان لوگ اس طرح کرتے ہیں، جیسے کہ ایک فرد کے شخصی کمالات کو بیان کرنا ہی اس کا اصل طریقہ ہے۔ چناں چہ اکثر لوگ مصلح یا مجدد کا بیان اس طرح کرتےہیں، جیسے کہ وہ اس کی قصیدہ خوانی کررہے ہیں۔
مگر یہ طریقہ درست نہیں۔ مصلح یا مجدد کا کام یہ ہے کہ وہ حدیث کے الفاظ میں بصیرِ زمانہ ہو، وہ زمانے کے تقاضے کے مطابق لوگوں کی رہنمائی کرے۔ اس لیے یہ دیکھنا ضروری ہے کہ مصلح یا مجدد اس بات کا حامل ہے یا نہیں۔ اگر وہ اس بات کا حامل نہ ہو تو مصلح یا مجدد کو یہ مشورہ دینا چاہیے کہ تم سب سے پہلے اپنے آپ کو اس کے مطابق بناؤ۔
مصلح یا مجدد کا کام مفتی کے کام سے مختلف ہے۔ مفتی کا کام یہ ہے کہ وہ مسئلہ پوچھنے والے کو مسئلہ بیان کردے۔ لیکن مصلح یا مجدد کی ذمے داری اس سے زیادہ ہے۔ مصلح یا مجدد کو سب سے پہلے اپنے کو دین کا عالم بنانا ہے۔ اس کے بعد اس کی ذمے داری یہ ہے کہ وہ اپنے آپ کو زمانے سے باخبر کرے تاکہ اس کی رہنمائی میں زمانے کی رعایت شامل ہو۔ جس آدمی کی رہنمائی میں زمانے کی رعایت شامل نہ ہو، وہ مصلح یا مجدد کا درجہ پانے کے قابل نہیں۔
دین ہمیشہ کے لیے ایک ہے۔ لیکن زمانی حالات بدلتے رہتے ہیں ۔ اس لیے ضروری ہوتا ہے کہ دین کی ابدی تعلیمات کو اس طرح بیان کیا جائے کہ وہ لوگوں کو اپنے حسب حال دکھائی دے۔ اگر دین کو اس طرح بیان کیا جائے کہ وہ لوگوں کو زمانی تقاضوں کے مطابق نظر نہ آئے تو وہ لوگوں کے ذہن کو ایڈریس نہیں کرے گا۔ اس کے بعد لوگوں کے اندر یہ شوق پیدا نہ ہوگا کہ وہ اس کی پیروی کریں۔ اور اپنی زندگیوںکو اس کے مطابق بنائیں۔
واپس اوپر جائیں

قدرت کا نظام

قدرت کا نظام فرق (difference) کے اصول پر قائم ہے- ہر انسان ایک الگ قسم کی امتیازی صفت (distinctive quality) لے کر پیدا ہوتاہے۔ انسان کی کامیابی یہ ہے کہ وہ اپنی اس امتیازی صفت کو دریافت کرے۔ دریافت کرنے کا یہ کام انسان کو خود کرنا پڑتاہے۔ ہر انسان کو یہ کرنا ہے کہ وہ اس معاملہ میں ذاتی دریافت (self discovery) پر کھڑا ہو۔
ذاتی دریافت کے اس عمل میں سب سے بڑا معاون عنصر (supporting element)یہ ہے کہ انسانی سماج کو مبنی بر میرٹ (merit-based society) بنایا جائے- انسان جب پیدا ہوتا ہے تو اپنے ماحول میں اس کو مختلف قسم کے کام نظر آتے ہیں ۔ وہ مختلف تجربے کرتا ہے۔ اس تجربہ کے دوران اس کو اشارہ ملتا ہے کہ فلاں کام کو میں زیادہ اچھا کرسکتا ہوں۔ یہ اشارہ اس کے لئے اس بات کا ایک طاقت ور محرک (strong incentive)بن جاتاہے کہ وہ اپنی دریافت کردہ امتیازی صفت کو اپنے عمل کا نشانہ بنائے۔ اس طرح مبنی بر میرٹ سماج میں اپنے آپ ایک خاموش عمل شروع ہوجاتاہے۔ یہ آٹومیٹک چینلائزیشن (automatic channelization)کاعمل ہے۔
اگر آدمی سنجیدہ ہو، اور دوسروں کی شکایت کرنے کے بجائے اپنا محاسبہ (introspection) کرنا جانتا ہو تو وہ نہایت آسانی سے یہ دریافت کرلے گا کہ اس کے لیے زندگی کی جدوجہد میں سفر کرنے کی سمت کیا ہے۔ مثلا ایک آدمی نے بزنس شروع کیا اس میں اس نے دیکھا کہ وہ زیادہ کامیاب نہیں ہورہا ہے، تو اس کو یہ جاننا چاہیے کہ اس کے لیے اپنی صلاحیت کے لحاظ سے بہتر طریقہ یہ ہے کہ وہ بزنس کے بجائے سروس کے میدان میں چلاجائے۔ اگر آدمی اس طرح اپنا راستہ متعین کرے تو وہ یقینا اپنے لیے اپنے موافق زندگی کی تعمیر میں کامیاب ہوجائے گا۔آدمی کو چاہیے کہ وہ ہمیشہ اپنا آزادانہ جائزہ لیتا رہے۔ اس طرح وہ اپنے آپ کو دریافت کرے گا اور اپنے آپ کو سماج کا صحت مند ممبر بنانے میں کامیاب ہوجائے گا۔
واپس اوپر جائیں

سب سے بڑا المیہ

انسانی تاریخ کا شاید سب سے بڑا المیہ (tragedy) یہ ہے کہ انسان معرفت اعلیٰ کے حصول سے محروم رہا۔ خدا کی معرفت کا ذریعہ، خدا کی تخلیقات میں غور و فکر کرناہے۔ جدید سائنسی دور سے پہلے انسان تخلیقاتِ الٰہی کے بارے میں بہت کم جانتا تھا۔ چناں چہ قدیم زمانے میں معرفت اعلیٰ تک پہنچنے کے لئے فریم ورک ہی موجود نہ تھا۔
موجودہ زمانے میں سائنسی انقلاب کے بعد انسان کو اعلیٰ فریم ورک حاصل ہوا۔ جس کی پیشگی خبر قرآن میں ان الفاظ میں دی گئی ہے: سَنُرِیہِمْ آیَاتِنَا فِی الْآفَاقِ وَفِی أَنْفُسِہِمْ حَتَّى یَتَبَیَّنَ لَہُمْ أَنَّہُ الْحَقُّ (41:53)۔ لیکن موجودہ زمانے میں جب یہ آفاقی یا سائنسی فریم ورک ظہور میں آیا تو عین اُسی وقت تمام دنیا کے مسلمان سیاسی رد عمل کے نتیجے میں منفی سوچ کا شکار ہوگئے۔ اس طرح وہ مثبت سوچ سے محروم رہے۔
قدیم زمانے کے انسان کے لیےسائنسی فریم ورک نہ ہو نے کی بنا پر معرفتِ اعلیٰ تک پہنچنا مشکل تھا۔ موجودہ زمانے میں سائنسی فریم ورک کے ظہور کے باوجود انسان معرفتِ اعلیٰ تک نہیں پہنچا، اور اس کا سبب یہ تھا کہ موجودہ زمانے کا انسان مثبت سوچ سے محروم ہو گیا۔ یہ بلاشبہ انسان کی سب سے بڑی محرومی تھی۔
اللہ کی معرفت اعلی کسی انسان کے لیے سب سے بڑی نعمت ہے۔ ہر انسان کے لیے یہ ممکن ہے کہ وہ معرفت اعلی تک پہنچ سکے۔ لیکن اس کی شرط یہ ہے کہ وہ اپنے آپ کو منفی سوچ سے مکمل طور پر بچائے۔ وہ ہر حال میں مثبت سوچ میں جینے والا بنے۔ جو لوگ اس شرط کو پورا کریں وہ یقینا معرفت اعلی تک پہنچنے میں کامیاب ہوجائیں گے۔
یہ تاریخ کا المیہ ہے کہ بیشتر انسان کسی نہ کسی بات کو لے کر منفی سوچ کا شکار ہوگیے۔ وہ مثبت سوچ (positive thinking) پر قائم نہ رہ سکے۔ اس بنا پر وہ معرفت کا وعایہ (container) نہیں بنے۔ معرفت اعلی سے محرومی کی یہی سب سے بڑی وجہ ہے۔
واپس اوپر جائیں

حکمتِ حیات

حضرت یوسف ایک اسرائیلی پیغمبر تھے۔ان کو مصر کے بادشاہ نے یہ موقع دیا کہ وہ پورے ملک کے خزائن ارض (یوسف: 55) کو استعمال کریں۔ بادشاہ کی شرط صرف ایک تھی۔ وہ یہ کہ سلطنت کا تخت بدستور اس کے پاس رہے گا۔
Only with regard to the throne, will I be greater than you. (Genesis 41:40)
حضرت یوسف نے بادشاہ کی اس شرط کو مان لیا، اور وہ اپنی آخر عمر تک ملک مصر کے مواقع کو آزادانہ طور پر استعمال کرتے رہے۔ موجودہ زمانے میں بھی یہ موقع مزید اضافے کے ساتھ حاصل ہے۔ موجودہ زمانے میں چالیس سے زیادہ مسلم ممالک ہیں۔ ہر ملک کے مسلم حکمراں زبانِ حال سے یہ کہہ رہے ہیں کہ میرے خلاف اینٹی گورنمنٹ تحریک نہ چلاؤ اور پھر ملک کے تمام مواقع تمہارے لئے آزادانہ طور پر کھلے رہیں گے۔تم تمام غیر سیاسی میدانوں میں عمل کرنے کے لیے آزاد ہو۔
مگر موجودہ زمانے میں یہ امکان غیر استعمال شدہ رہ گیا۔ کسی مسلم ملک میں بھی اس موقع کو استعمال نہ کیا جاسکا۔ اس کا سبب یہ ہے کہ موجودہ زمانے کے مسلم رہنما حضرت یوسف کی اس پیغمبرانہ سنت پر عمل نہ کر سکے۔اس کے برعکس ان مسلم رہنماؤں نے ہر مسلم ملک میں یہ کیا کہ وہ حکومت کے حریف بن گیے۔ انھوں نے اینٹی گورنمنٹ سرگرمیاں شروع کردیں۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ ہر ملک کے حکمراںاپنے دفاع کے طور پر مسلم رہنماؤں کے خلاف ہوگیے۔ ہر مسلم ملک میں مسلم تحریکوں کو کچلنے کی کوشش کی گئی۔ مسلم ملکوں میں دعوت اور تعلیم جیسے میدانوں میں کام کے غیر معمولی مواقع تھے۔ مگر یہ مواقع غیر استعمال شدہ رہ گیے۔مسلم رہنماؤں پر لازم تھا کہ وہ اپنا محاسبہ کرتے، وہ اپنی غلطی کو دریافت کرتے۔ لیکن انھوں نے برعکس طور پر یہ اعلان کیا کہ یہ مسلم حکمراں اسلام دشمن طاقتوں کے ایجنٹ ہیں۔ اب ہر مسلم ملک میں مسلمانوں کے دو گروہ بن گیے۔ حکومتی گروہ اور غیر حکومتی گروہ۔دونوں گروہوں کے درمیان نفرت اور تشدد کا لا متناہی سلسلہ شروع ہو گیا۔
واپس اوپر جائیں

حقیقی اطمینان

زندگی میں سب سے پہلا سوال یہ ہے کہ انسان کے لئے سپریم چیز کیا ہے۔ میں اپنے تجربے کے مطابق کہہ سکتا ہوں کہ کسی انسان کے لئے سپریم چیز پیس آف مائنڈ ہے۔ کسی انسان کے لئے سپریم چیز نہ تو دولت ہے، نہ شہرت (fame) ہے، نہ پاور ہے، اور نہ پاپولیریٹی (popularity) ۔ کسی انسان کے لئے سپریم دریافت وہی چیز ہوسکتی ہے جو اس کو فل فل مینٹ (fulfilment) دے۔ اور تجربہ یہ ثابت کرتا ہے کہ پیس آف مائنڈ کے سوا کوئی اور چیز انسان کو فل فل مینٹ نہیں دیتی۔
پیس آف مائنڈ کی یہ اہمیت کیوں ہے۔ اس کا سبب یہ ہے کہ پیس آف مائنڈ انسان کی نیچر کے مطابق ہے۔ انسان اپنے نیچر کے مطابق یہ چاہتا ہے کہ وہ آخری حد تک اپنے آپ کو مطمئن بنا سکے۔ مگر کسی انسان کو اطمینان صرف داخلی اچیومینٹ (achievement)پر ہوسکتا ہے، خارجی اچیومینٹ پر نہیں۔ اسی داخلی یافت کا دوسرا نام انٹلکچول ڈیولپمینٹ یا اسپریچول ڈیولپمینٹ ہے۔ امریکی دولت مند بل گیٹس (Bill Gates)نے دولت کے بارے میں اپنے تجربے کو ان الفاظ میں بیان کیا:
Once you get beyond a million dollars, it's the same hamburger.
بل گیٹس نےجو بات دولت کے بارےمیں کہی ہے، وہی بات ہر خارجی اچیومینٹ کے لئے درست ہے۔ یہ خارجی اچیومینٹ خواہ دولت ہو، یا بزنس ہو، یا فیم ہو، یا پولٹیکل پاور ہو، یا اور کوئی مادی چیز ہو۔ایسی حالت میں انسان کو چاہئے کہ وہ پیس آف مائنڈ کا فارمولا دریافت کرے۔ اور یہ مقصد صرف انٹلکچول ڈیولپمنٹ کے ذریعہ حاصل ہوسکتاہے- یعنی اسٹڈی اور contemplation کے ذریعہ۔ میں ذاتی طورپر اسپریچول ڈیولپمینٹ کو بہت اہمیت دیتا ہوں، لیکن میرے نزدیک اسپریچول ڈیولپمینٹ ایک مائنڈ بیسڈ ڈسپلن (mind-based discipline) ہے، نہ کہ ہارٹ بیسڈ ڈسپلن (heart-based discipline)۔ مبنی بر قلب میڈیٹیشن (meditation)آدمی کو وجد (ecstasy) تک پہنچا سکتا ہے۔ جب کہ مبنی برذہن میڈیٹیشن آدمی کو انٹلیکچول ڈیولپمینٹ تک پہنچاتا ہے، اور انٹلیکچول ڈیولپمینٹ ہی پیس آف مائنڈ کا سب سے بڑا ذریعہ ہے۔
واپس اوپر جائیں

دو دنیائیں

ایک سائنسی قیاس کے مطابق، کائنات میں ہماری دنیا جیسی دو دنیا ئیں ہیں۔ ایک پازیٹو ورلڈ اور دوسری نیگیٹو ورلڈ۔ یہی قانون ِ فطرت (law of nature) کا تقاضا ہے۔ جس طرح پازیٹو پارٹیکل اور نیگیٹو پارٹیکل کے بغیر ایٹم (atom) کا وجود نہیں ہوسکتا۔ اسی طرح ایک دنیا کے وجود کے لیے دوسری دنیاکا وجود بھی ضروری ہے۔
یہ سائنسی قیاس ہر انسان کا ایک ذاتی تجربہ ہے۔ ہر انسان اپنے ذاتی تجربے کے تحت ایک دنیا پر یقین رکھتا ہے جو بظاہر اس کو دکھائی دیتی ہے، اور جس کے اندروہ اپنی زندگی گزارتا ہے۔یہ دنیا وہ ہے جہاں وہ روزانہ صبح اور شام کے مناظر دیکھتا ہے۔ جس کے اندر وہ اپنی تمام سرگرمیاں جاری کرتا ہے۔ جس کو وہ اپنی آنکھ سے دیکھتا ہے، اور اپنے کان سے سنتا ہے، اور جہاںوہ روزانہ اپنے پاؤں سے چلتا ہے۔
اسی کے ساتھ ہر انسان ایک اور دنیا کا تصور اپنے ذہن میں لیے ہوئے ہے۔ ایک ایسی دنیا جو موجودہ دنیا کے مقابلے میں معیاری دنیا (perfect world) ہوگی، جہاں اس کی تمام خواہشیں ((desiresپوری ہوں گی۔ جہاں اس کو کامل فل فلمینٹ (total fulfilment) ملے گا۔ ہر انسان پیدائشی طور پر پرفکشنسٹ ہوتا ہے۔ اپنے داخلی مزاج کے مطابق وہ اس معیاری دنیا کو پانا چاہتا ہے، مگر کوئی بھی شخص اپنی اس تلاش کا جواب نہیں پاتا، اور اس پر موت کا وقت آجاتا ہے۔ اس طرح ہر انسان کے ذہن میں ایک دنیا وہ ہے جس کو عملاً وہ پائے ہوئے ہے، اور دوسری دنیا وہ ہے جس کو وہ پانا چاہتا ہے، لیکن اس کو پانے میں وہ کامیاب نہیں ہوتا ہے۔
انسان کا یہ ذہن ہر ایک کے لیے اس بات کا ایک داخلی ثبوت ہے کہ یہاں دو دنیائیں موجود ہیں۔ ایک دنیا وہ جس کو وہ حال میں پارہا ہے، اور دوسری دنیا وہ جس کو وہ موت کے بعد مستقبل میں پائے گا۔ پہلی دنیا ہر ایک کا عملی تجربہ ہے۔ اس کے مقابلے میں دوسری دنیا وہ ہے جو ہر ایک کے ذہن میں بسی ہوئی ہے۔
واپس اوپر جائیں

انتہا پسندی

انتہا پسندی (extremism)ایک فطری صفت ہے۔ یہ صفت کسی شخص کے اندر کم ہوتی ہے اور کسی شخص کے اندر زیادہ۔ تاہم انتہا پسندانہ مزاج کا ایک تعمیری پہلو ہے اور دوسرا اس کا تخریبی پہلو۔ اس کا تعمیری پہلو یہ ہے کہ آدمی اصول کےمعاملہ میں سخت حسّاس ہو، وہ دوسروں کے حقوق کے معاملہ میں کمی کو گوارا نہ کرے، وہ حق سے انحراف کو دیکھے تو تڑپ اٹھے۔ وہ اپنی غلطی کو شدید طورپر محسوس کرتاہو۔ وہ اپنی کوتاہی کے معاملہ میں اس سے زیادہ شدید ہوجتنا کہ کوئی شخص دوسروں کی کوتاہی کے معاملہ میں شدید ہوتا ہے۔ یہ انتہا پسندی صحت مند انتہا پسندی ہے۔
انتہا پسندی کا دوسرا پہلو یہ ہے کہ وہ منفی رخ اختیار کرلے۔ آدمی اپنے اس جذبہ کی بنا پر دوسروں سے نفرت کرنے لگے۔ وہ دوسروں سے لڑنے کے لیے تیار ہوجائے۔ وہ اصلاح کے نام پر جنگ اور قتل شروع کردے۔ یہ انتہا پسندی کی قابلِ اعتراض صورت ہے۔جب انتہا پسندی اس قسم کی منفی صورت اختیار کرلے تو وہ عملاً ایک برائی (evil) بن جاتی ہے، نہ کہ کو ئی خیر(good)-
حساسیت (sensitivity) انسان کی خاص صفت ہے۔ اس صفت کا تعمیری استعمال دنیا میں بھلائی کا سبب بنتاہے۔ اس کے برعکس، جب اس صفت کا غلط استعمال ہونے لگے تو دنیا برائی سے بھر جائے گی۔
انتہا پسندی کا مزاج ہمیشہ محاسبہ کا مزاج پیدا کرتا ہے۔ مگر یہ محاسبہ اپنے خلاف ہوناچاہئے۔ اس کے برعکس، اپنی کوتاہیوں سے غافل رہنا اور دوسروں کی کوتاہی پر ان سے لڑائی شروع کردینا سخت گناہ ہے۔ پہلا کردار اگر ثواب کا موجب ہے تو دوسرا کردار آدمی کو اس قابل بنا دیتا ہے کہ اس کا سخت مواخذہ کیا جائے۔
انتہاپسندی ایک فطری صفت ہے، جس طرح اعتدال پسندی ایک فطری صفت ہے۔ انتہاپسندی اس وقت برائی بن جاتی ہے، جب کہ اس کو عقل کے بجائے جذبات کے تابع کردیا جائے۔
واپس اوپر جائیں

معافی، رائے بدلنا

کچھ باتیں ایسی ہیں جو معافی سے ختم ہوجاتی ہیں۔ مثلا کسی کو غصہ آگیا، اور غصے میں اس نے کوئی سخت بات کہہ دی، پھر اس کا غصہ ٹھنڈا ہوا، اس کو اپنی غلطی کا احساس ہوا، اس نے اپنی غلطی کی معافی مانگ لی۔ یہ وہ بات ہے، جو معافی سے ختم ہوجاتی ہے۔
دوسری بات وہ ہے جو اس وقت ختم ہوتی ہے، جب کہ آدمی اپنی رائے بدل لینے کا اعلان کرے۔ مثلا ایک شخص آپ کے بارے میں یہ کہے کہ آپ اسلام دشمن کے ایجنٹ ہیں، اور اس سے آپ کو پیسہ ملتا ہے، یہ بات صرف اس وقت ختم ہوگی جب کہ کہنے والا اپنی غلطی کا اعتراف کرے، اور اعلان کے ساتھ یہ کہے کہ میں نے جو کہا تھا، وہ صحیح نہیں تھا۔
وقتی جذبے کے تحت کوئی غلط بات منھ سے نکل جائے ۔ پھر آدمی کو اس پر شرمندگی ہو، اور وہ صاحب معاملہ سے معافی مانگ لے۔ یہ معافی کا کیس ہوگا۔ صاحب معاملہ کو چاہیے کہ وہ معافی مانگنے کے بعد اس کو معاف کردے۔ وہ دل میں اس کے خلاف کدورت نہ رکھے۔
لیکن جو غلطی سوچی سمجھی رائے کے تحت ہو۔ وہ اس وقت تک قابل معافی نہیں ، جب تک آدمی کا یہ حال نہ ہوجائے کہ وہ اپنی رائے کی غلطی دل سے مان لے۔ وہ سچے اعتراف کے جذبے کے تحت، صاحب معاملہ سے معافی کی درخواست کرے۔ ایسی حالت میں اس کی بات قابل معافی قرار پائے گی۔ اس کے بعد دونوں فریقوں کے لیے لازم ہوگا کہ وہ اس بات کے برے اثرات سے اپنے دل کو پاک کرلیں۔
معافی مانگنا اور معافی قبول کرنا دونوں عبادت کے افعال ہیں۔معافی مانگنے والا معافی کے بعد ایسا ہوجاتا ہے گویا کہ اس نے غلطی نہیں کی تھی۔ اورمعافی مانگنے کے بعد معاف کرنے والے کو اس بات کاکریڈٹ ملتا ہے کہ اس کا دل نفرت و عداوت سے خالی ہے۔اس کے دل میں انسان کے لیے خیرخواہی ہے، نہ کہ نفرت اور انتقام۔
واپس اوپر جائیں

کلام کا طریقہ

گفتگو کے دو طریقے ہیں۔ایک یہ کہ گفتگو کے وقت جب دوسرا شخص آپ سے کوئی سوال کرے تو اس موضوع سے متعلق جو باتیں آپ کے دماغ میں موجودہوں، ان سب کو آپ شروع سے آخر تک دہرانے لگیں۔ یہ طریقہ آدابِ گفتگو کے خلاف ہے۔ ایسے شخص کے بارے میں کہا جائے گا کہ وہ گفتگو کے آداب کو نہیں جانتا۔
دوسرا طریقہ یہ ہے کہ آپ سامنے والے کی بات سنیں، اور پھر یہ سمجھنے کی کوشش کریں کہ سائل کیا بات جاننا چاہتا ہے۔ اور پھر وہی بات بولیں، جو سائل آپ سے سننا چاہتا ہے۔ یہ گفتگو کا صحیح طریقہ ہے۔ اسی قسم کی گفتگو کامیاب گفتگو ہے، اور اسی قسم کی گفتگو نتیجہ خیز گفتگو ہے۔
اکثر لوگوں کا حال یہ ہے کہ گفتگو کے وقت وہ اپنے آپ میں جیتے ہیں۔ وہ دوسرے کی بات سننے سے زیادہ اپنی بات میں مشغول رہتے ہیں۔ ایسے لوگ جب بولتے ہیں تو سننے والے کو ان کی بات سے کوئی فائدہ نہیں ہوتا۔
صحیح یہ ہے کہ آپ دوسرے کی بات کو خالی الذہن ہوکر سنیں، غیر جانب دارانہ انداز میں دوسرے کی بات کو سمجھنے کی کوشش کریں، دوسرے کی بات کو دوسرے کے ذہن سے سنیں نہ کہ خود اپنے ذہن سے۔ جو شخص ایسا کرے، وہی صحیح معنوں میں گفتگو کا طریقہ جانتا ہے۔
گفتگو خالق کی ایک عظیم نعمت ہے۔ انسان کے سوا دوسری کسی مخلوق کو یہ نعمت حاصل نہیں۔ پہاڑ اور سمندر کے درمیان کبھی گفتگو نہیں ہوتی۔ دو جانوروں کے درمیان کبھی تبادلۂ خیال نہیں ہوتا۔ یہ صرف انسان ہے جو کہنے اور سننے کی طاقت رکھتا ہے، اور بامعنی انداز میں تبادلۂ خیال کرتا ہے۔ اس نعمت کا شکر یہ ہے کہ آدمی اپنے اندر درست کلام کی صلاحیت پیدا کرے۔گفتگو کے وقت وہ اس اسپرٹ کے ساتھ گفتگو کرے کہ وہ دوسروں سے کچھ سیکھے اور خود دوسروں کو کچھ دینے کے قابل بات دے۔ وہ صاحب تعلیم بھی ہو اور صاحب تعلّم بھی۔ایسے آدمی کی گفتگو بھی ایک عبادت ہے۔
واپس اوپر جائیں

افادہ اور استفادہ

ابوعبداللہ محمدبن اسماعیل البخاری (وفات 256ھ) اور محمد بن عیسی الترمذی (وفات279ھ)، دونوں ہم عصر تھے۔ دونوں کا شمار اکابر محدثین میں ہوتا ہے۔ اگر چہ امام البخاری کو اولیت حاصل ہے۔ امام الترمذی ، امام البخاری کے شاگرد تھے۔ تاہم امام البخاری نےاپنے شاگرد امام الترمذی سے کہا: ماانتفعتُ بک اکثر مما انتفعتَ بی (التہذیب لابن حجر9 / 389) یعنی میں نے تم سے اس سے زیادہ فائدہ اٹھایا جتنا تم نے مجھ سے فائدہ اٹھایا۔
یہ کوئی فضیلت یا علمی کمال کی بات نہیں، بلکہ وہ ایک فطری حقیقت ہے۔ جو کہ افادہ اور استفادہ کی صورت میں دونوں فریق کو حاصل ہوتا ہے۔ افادہ کا مطلب دوسرے کو فائدہ پہنچانا، جس کو تعلیم کہا جاتا ہے۔ اور استفادہ کا مطلب تعلم(learning) ہے۔یعنی دوسرے سے سیکھنا۔
اصل یہ ہے کہ دو انسان آپس میں سنجیدہ گفتگو کریں، دونوں کے درمیان کھلا ماحول ہو، دونوں کو یہ موقع ہو کہ وہ اپنی بات کو کسی تحفظ (reservation) کے بغیر دوسرے سے کہیں تو ہمیشہ یہ ہوتا ہے کہ دو نقطۂ نظر کےدرمیان ٹکراؤ سے معاملے کا ایک تیسرا پہلو ابھر کر سامنے آتا ہے۔ اس طرح دونوں کو یہ موقع ملتا ہے کہ وہ گفتگو کو اپنے لیے ذہنی ارتقا کا ذریعہ بنائیں، دونوں ایک دوسرے سے سیکھیں بھی اور سکھائیں بھی ۔
دو یا چند انسانوں کے درمیان تبادلۂ خیال (exchange) بہت بڑی نعمت ہے۔ وہ ہمیشہ ہر فریق کے لیے فائدے کا سبب بنتا ہے۔ شرط یہ ہے کہ تبادلہ خیال کے دونوں فریق سنجیدہ ہوں۔ وہ صحیح معنوں میں سچائی کے طالب ہوں۔ ان کے اندر یہ مزاج ہو کہ وہ نہ تعریف سے خوش ہوں اور نہ وہ تنقید کو برا مانیں۔ وہ کسی بات کو بات کے لحاظ سے دیکھیں، نہ کہ اپنی ذات کے اعتبار سے۔ وہ تعصب سے خالی ہوکر اپنی بات کہیں اور دوسرے کی بات سنیں۔ ان کے اندر یہ مزاج نہ ہو کہ اپنی بات کو ہر حال میں صحیح ثابت کرنا ہے، اور دوسرے کی بات کو ہر حال میں رد کرنا ہے۔
واپس اوپر جائیں

ہر صورتِ حال بہتر

مشہور صحابیٔ رسول حضرت علی بن ابی طالب کا قول ہے: الخیر فیما وقع۔ یعنی جو ہوگیا، وہی بہتر ہے۔
Whatever happened, happened for the good.
حضرت علی کا یہ قول فطرت کے قانو ن کو بتاتا ہے۔وہ یہ کہ دنیا میں مواقع کی تعداد بے شمار ہے۔ اگر ایک موقع کھوجائے تو آدمی کے اندر محرومی کا احساس نہیں ہونا چاہیے۔ اس کو یہ امید کرنا چاہیے کہ ایک موقع کھونے کے بعد جلد ہی اس کو دوسرا موقع مل جائے گا، اس طرح اس کی زندگی کا سفر رکے بغیر جاری رہے گا۔
یہ صرف ایک قول نہیں ہے بلکہ فطرت کا ایک عام قانون ہے۔ یہ مومن و غیر مومن سب کے لیے ہے۔ اگر آدمی اس حقیقت کو دھیان میں رکھے تو وہ کبھی مایوس نہیں ہوگا۔ وہ ہر ناکامی کو وقتی سمجھے گا۔ ہر ناکامی کے بعد وہ ا پنی کوشش کو جاری رکھے گا، یہاں تک کہ وہ کامیاب ہوجائے گا۔ یہ بات کوئی پراسرار بات نہیں۔ یہ فطرت کا ایک معلوم قانون ہے۔
خالق نے دنیا کو اس طرح بنایا ہے کہ یہاں مواقع (opportunities) اتنے زیادہ ہیں جو کبھی ختم نہیں ہوں گے۔ کچھ مواقع ایسے ہیں، جو بظاہر دکھائی دیتے ہیں۔ اور زیادہ مواقع ایسے ہیں، جو موجود رہتے ہیں لیکن وہ ظاہری طور پر دکھائی نہیں دیتے۔ آدمی کو چاہیے کہ وہ ہمیشہ پر امید رہے۔ وہ ناموافق حالات میں بھی مواقع کی تلاش جاری رکھے۔ اسی کے ساتھ یہ بھی ضروری ہے کہ وہ اپنے اندر یہ استعداد پیدا کرے کہ وہ مواقع کو اپنے حق میں استعمال کرسکے، مواقع جس ہنر (skill) کا تقاضا کریں، وہ ہنر اپنے اندر پیدا کریں۔
مواقع کو وہی لوگ کامیابی کے ساتھ استعمال کرسکتے ہیں، جن کے اندر مواقع کو استعمال کرنے کے لیے ضروری لیاقت موجود ہو۔ لیاقت کے بغیر مواقع کا کامیاب استعمال ممکن نہیں۔
واپس اوپر جائیں

ہر آدمی ایک کیس ہے

اکثر لوگوں کا یہ حال ہے کہ وہ جب کسی سےاپنی پسند کی بات سنتے ہیں تو وہ اس سے خوش ہوجاتے ہیں، اور اگر وہ اس سے اپنی پسند کے خلاف کوئی بات سنتے ہیں تو وہ اس کے بارے میں بُری رائے قائم کرلیتے ہیں۔ یہ طریقہ آدابِ ملاقات کے خلاف ہے۔ملاقات کا مقصد ایک انسانی مطالعہ ہے، نہ کہ لوگوں کے بارے میں اچھی رائے یا بُری رائے قائم کرنا۔
ہر انسان ایک کامل انسان ہے۔ وہ اپنی ذات میں پوری نوعِ انسانی کا نمائندہ ہے۔ ہر عورت اور مرد کا رد عمل گویا پوری انسانیت کا رد عمل ہے۔ ہر انسان کا مطالعہ گویا پوری انسانیت کا مطالعہ ہے۔ ایک انسان کو جان لینا گویا پوری نوعِ انسانی کو جان لینا ہے۔
اس اعتبار سے ہر انسان گویاانسانیت کی ایک لائبریری ہے۔ اگر آپ کے اندر غیر جانبدارانہ سوچ ہے، اگر آپ تعصب سے خالی ہو کر انسان کا مطالعہ کرسکتے ہیں تو ہر انسان آپ کے لئے پوری انسانیت کے مطالعے کا ذریعہ بن جائے گا۔ آپ ایک انسان کو دریافت کر کے تمام انسانوں کو دریافت کر لیں گے، حتی کہ آپ کا محدود خاندان وسیع تر معنوں میں انسانیت کی ایک لائبریری بن جائے گا۔
ہر انسان کبھی خوش ہوتا ہے، کبھی غمگین ہوتا ہے، کبھی وہ مثبت ردعمل کا اظہار کرتا ہے اور کبھی منفی ردعمل کا اظہار۔ اسی طرح وعدہ پورا کرنا اور وعدہ پورا نہ کرنا، شکایت کو درگزر کرنا اور درگزر نہ کرنا، دیانت داری کے ساتھ معاملہ کرنااور بددیانتی کے ساتھ معاملہ کرنا،صدق بیانی کرنا اور کذب بیانی کرنا، مدلل اختلاف کرنا اور الزام تراشی کرنا،قابلِ پیشین گوئی کردار کا حامل ہونا اور ناقابلِ پیشین گوئی کردار کا نمونہ بن جا نا، وغیرہ۔ اس طرح کا ہر معاملہ بظاہر ایک انسان کی طرف سے پیش آتا ہے، لیکن وسیع تر معنوں میں وہ تمام انسانوں کے سلوک کو بتاتا ہے۔اگرآپ کے اندر گہرا مطالعہ کرنے کی صلاحیت ہو تو آپ ایک فرد کے اندر تمام افراد کو دیکھیں گے۔ آپ ایک خاندان کے اندر پوری انسانیت کے معاملےکو دریافت کرلیں گے۔ بشرطیکہ آپ کے اندر بصیرت (wisdom)کی صلاحیت پائی جاتی ہو۔
واپس اوپر جائیں

اپنی تعمیر آپ

زندگی کی دو قسمیں ہیں۔ ہر انسان جو اس دنیا میں آتا ہے وہ خالق کی طرف سے ایک منفرد صلاحیت (unique quality) کو لے کر آتا ہے۔ اس کے ساتھ ہر انسان ایک غیر معمولی دماغ (mind) لے کر آتا ہے۔ ہر انسان کے لئےیہ ممکن ہوتا ہے کہ اپنے دماغ کو استعمال کرکے اپنی صلاحیت کو دریافت کرے، اور دانش مندانہ پلاننگ کے تحت اپنے پوٹینشل (potential) کو واقعہ (actual) بنائے۔ ہر آدمی کامیابی کے ساتھ اس کو انجام دے سکتا ہے۔ بشرطیکہ وہ حقیقت پسندانہ انداز میں اپنے ذہن کو استعمال کرے۔
اس معاملہ کا دوسرا پہلو وہ ہے جس کو تائیدی نظام (supporting system) کہا جاسکتا ہے۔ فطرت کے مطابق یہ ہونا چاہئے کہ سماج کا نظام مکمل طور پر میرٹ (merit) کی بنیاد پر قائم کیا جائے۔ مبنی بر میرٹ سماج (merit-based society) کے اندر فطری طور پر ایک عمل قائم ہو جاتا ہے، جس کو آٹومیٹک چینلائزیشن (automatic channelization) کہا جاسکتا ہے۔ اس عمل (process) کے دوران اپنے آپ ایسا ہوتا ہے کہ ہر آدمی آخر کار اپنی استثنائی خصوصیت کو دریافت کر لیتا ہے جس کے لئے وہ پیدا کیا گیا تھا۔
اصل یہ ہے کہ ہر آدمی کے اندر اس بات کا طاقتور محرک پایا جاتا ہے کہ وہ اپنے سماج میں امتیازی درجہ حاصل کرے۔ یہ داخلی اسپرٹ اپنا کام کرتی ہے۔ آدمی نے اگر غلط چائس (choice) لے لیا ہے تو وہ اس کو آمادہ کرتی ہے کہ وہ اپنے چائس کو بدلےاور اس چائس کو لے جس میںوہ اکسل (excel) کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اس داخلی اسپرٹ کے ساتھ سماج کے اندر مبنی بر میرٹ نظام شامل ہوجائے تو اس کے بعد لازمی طور پر ایسا ہوتا ہے کہ ہر آدمی اپنے اس خصوصی رول کو پالیتا ہے جس کے لئے وہ پیدا کیا گیا تھا۔انسان اگرچہ پیدا کرنے والے کی طرف سے پیدا کیا جاتا ہے، لیکن اس کے بعد ہر انسان کویہ کرنا پڑتا ہے کہ وہ اپنی تعمیر آپ کرے۔ ہر آدمی اپنے آپ کو سیلف میڈ مین (self-made man ) بنائے۔
واپس اوپر جائیں

خبرنامہ اسلامی مرکز — 237

1- 6 فروری 2015 کو مالیگاؤں سی پی ایس کی ایک ٹیم نے مقامی سینٹ پال چرچ کا دورہ کیا اورچرچ کے منتظمین کے ساتھ وہاں باہمی بھائی چارگی پر ایک میٹنگ کی۔ اس میٹنگ میںمختلف موضوعات پر بات چیت ہوئی ۔ دوران گفتگوچرچ کے ذمہ داروں نے امن کے حوالہ سے صدر اسلامی مرکز کی کوششوں کا ذکر کیا۔میٹنگ کے اختتام پر ان لوگوں کو ترجمہ قرآن اور مراٹھی زبان میں ترجمہ شدہ کتاب پیغمبر امن بطور تحفہ دی گئیں۔
2- کولکاتا کے تین یوتھ مزشرمشتا، مز اننیا اور مسٹردنیش نے پیغمبر اسلام کی زندگی پر مشتمل فلم’دی میسیج‘ دیکھی۔ اس فلم کو دیکھنے کے بعد اسلام اور قرآن کے بارے میں جاننے کا ان کوشوق پیدا۔ تو انھوں نےکولکاتا سی پی ایس ٹیم کی ایک ممبر مز شبینہ علی سےترجمہ قرآن کے لیے درخواست کیا ۔ ان کی درخواست پر11جون 2015 کو انھیں ترجمہ قرآن مجید اور دیگر دعوتی لٹریچر دیا گیا۔ اس کے علاوہ ان کے دوستوں کے درمیان تقسیم کرنے کے لئے ان کو قرآن کی دس کاپیاں اور دعوتی لٹریچر دیئے گئے۔ان لوگوں نے اس کو قبول کرتے ہوئے بے حد خوشی شکریہ کا اظہار کیا۔ (محمد عبد اللہ، کولکاتا)
3- 17 جون 2015 کو انڈیا میں رہائش پذیر رومانین بدھسٹ راہب مسٹر مارسل (Marcel) نے صدر اسلامی مرکز سے ملاقات کی۔ وہ یہ جاننا چاہتے تھے کہ اسلام کے مطابق سچائی کیا ہے۔ صدر اسلامی نے انھیں اپنی زندگی کے تجربات سے بتایا کہ انھیں خدا کی دریافت کیسے ہوئی۔ آخر میں انھیں صدر اسلامی مرکز کی کتابوں کا ایک سیٹ بطور تحفہ دیا گیا۔
4- 23 جون، 2015 کو پونٹیفکل کونسل آف انٹر ریلیجز افیئرس (Pontifical Council for Interreligious Dialogue)کے نمائندوں پر مشتمل کرسچین فادرس کی ایک ٹیم صدر اسلامی مرکز سے ملاقات کے لیے آئی، اور گلوبل کرسچین کمیونٹی کی طرف سےصدر اسلامی مرکز کو رمضان کی مبارکباد پیش کی۔اس میٹنگ کے دوران اس بات پر گفتگو ہوئی کہ مختلف مذاہب کے ماننے والوں کے درمیان امن کو کیسے فروغ دیا جائے ۔ اس اس حوالے سے صدر اسلامی مرکزنے ان سے تفصیلی گفتگو کی-آخر میں ان تمام لوگوں کو انگریزی ترجمہ قرآن اور صدر اسلامی مرکز کی کتابوں کا ایک سیٹ دیا گیا، جس پر انھوںنے بے حد خوشی کا اظہار کیا اور کہا کہ اس ملاقات سے ان کو روحانی خوراک حاصل ہوئی ہے۔
5- 24 جون 2015 کو ریسرچ اسکالر مزبھاؤنا ملک نے صدر اسلامی مرکز کا انٹرویو لیا۔ انٹرویو کے بعد انھیں صدر اسلامی مرکز کی کتابوں کا ایک سیٹ بطور تحفہ دیا گیا، جسے انھوں نے بہت ہی خوشی اور شکریہ کے ساتھ قبول کیا۔
6- 30 جون 2015 کو پیس ہال (سہارن پور) میں روزہ افطار کا ایک پروگرام منعقد کیاگیا ۔ افطار کے بعد سی پی ایس سہارن پور کی چیر پرسن محترمہ شیاما دیوی نے ترجمہ قرآن، پرافٹ آف پیس، گاڈ ارائزز، ریلٹی آف لائف (کتابیں) لوگوں کے درمیان تقسیم کیں۔جن لوگوں نے اس افطار پارٹی میں شرکت کی ان میں قابل ذکر نام یہ ہیں، سوامی پریم، سوامی ڈاکٹر ہرش، ڈاکٹر کے ایل اروڑا( پرنسپل مہاراج سنگھ کالج) اور ڈاکٹرکے کے شرما، وغیرہ۔ (ڈاکٹر محمد اسلم خان، سہارن پور)
7- 3 جولائی 2015 کو بعد نماز جمعہ عبدالصمد صاحب نے سی پی ایس پونہ کی ایک ٹیم کے ساتھ پونہ کے مسلم ادارے اعظم کیمپس میں کتابوں کی فری تقسیم کا پروگرام آرگنائز کیا ۔یہ تجربہ کافی کامیاب رہا۔
8- ذیل میں چند دعوتی تجربات و تاثرات دیئے جارہے ہیں:
— Maulana Sb, thank you for enriching our present life and the life Hereafter with your Sunday lectures. Every lecture provides us with wisdom and insight. May God bless you with good health. (Naseer Uddin, Hyderabad, India)
— سی پی ایس الہ آباد کے سنٹر پر مستقل طور پر مسلم جماعتوں کے ممبران اور کارکن آتے رہتے ہیں۔ ان میں ایک کالج کے پروفیسر بھی ہیں۔ پروفیسر صاحب ترجمہ قرآن ڈسٹری بیوشن کے ساتھ مولانا کی کتابوں کو بھی لوگوں کے درمیان عام کررہے ہیں۔ وہ لوگوں کو ان کتابوںکے مطالعہ کی طرف راغب کرتے ہیں۔ ان کا یہ ماننا ہے کہ مسلم جماعتوں کے کارکنان میں معرفت الہی کی کمی ہے،جس کوصدر اسلامی مرکز کی کتابیں خاص طورسے ’’کتاب معرفت‘‘ کے ذریعہ دور کیا جاسکتا ہے۔ (محمد ابرار نرالا، الہ آباد)
— مَیں جامعہ ملیہ اسلامیہ کے کیمپس میں تھا کہ ایک نوجوان طالب علم میرے پاس آیا اور اس نے مجھ سے پوچھا: ’’(رمضان میں پڑھنے کے لیے)مجھے پاکٹ سائز عربی قرآن چاہئے، یہ کہاں مل سکتا ہے؟‘‘۔ اس وقت میں نے اس کو ترجمہ قرآن دیا اور اس کے دوستوں کے درمیان تقسیم کرنے کے لئے مزید ترجمۂ قرآن کی کچھ کاپیاں دیں۔ (محمد انس، دہلی)
واپس اوپر جائیں