Pages

Thursday, 2 June 2016

Al Risala | June 2016 (الرسالہ،جون)

4

-خدا کا تجربہ

5

- جنّتی شخصیت

6

- سب سے زیادہ خطرناک

7

- بیمار ی سے تطہیر

8

- مصیبت بھی رحمت ہے

9

- نصیحت پذیری

10

- ہر حال میں خیر

11

- تواضع ایک عظیم عبادت

12

- اختیارِ اَیسر— ایک سنّت

16

- تشدد کا سبب عدم قناعت

17

- اعتدال کا طریقہ

18

- ارتقا کے تین درجے

22

- سب سے بڑی خوشی

23

- مومن کی صفت

24

- عمل کا مدار نیت پر ہے

25

- ہر چیز پرچۂ امتحان

26

- گھرایک تربیت گاہ

28

- سب سے بڑی نعمت

29

- ایک حدیث

30

- امر بالمعروف اور نہی عن المنکر

32

- دوطرفہ معاملہ

33

- بولنے پر کنٹرول

34

- اکرام یا تکلف

35

- دوسرے کے لیے دعاء

36

- اعلیٰ عبادت

38

- دنیا کی حقیقت

39

- تحفہ کلچر

40

- سجدۂ قربت

41

- انسان ایک استثنائی مخلوق

42

- بعد کے زمانے کا فتنہ

43

- ضرورت، یا خواہش پرستی

44

- دولت پرستی کا فتنہ

45

- عجلت پسندی

46

- اولاد پرستی کا فتنہ

47

- رعایت ایک سنتِ رسول

48

- سنّت کیا ہے


خدا کا تجربہ

صحیح مسلم میںایک حدیث نقل ہوئی ہے اس کا ایک حصہ یہ ہے:
ان اللہ عزو جلّ یقول یوم القیٰمۃ یابن آدم مرضت فلم تعدنی قال یا رب کیف اعودک وانت ربُّ العٰلمین قال ماعلمت انّ عبدی فلانا مرض فلم تعدہ اَما علمتَ انّک لو عدتہ لوجدتنی عندہ (صحیح مسلم، کتاب البر والصلۃ والادب، باب فضل عیادۃ المریض 16/126)یعنی اللہ تعالیٰ قیامت کے دن کہے گا اے ابن آدم، میں بیمار ہوا مگر تم نے میری عیادت نہ کی۔ بندہ کہے گا کہ اے میرے رب ،میںکس طرح تیری عیادت کرتا جب کہ تو سارے عالم کا رب ہے۔ اللہ تعالیٰ کہے گا، کیا تم نے نہیں جانا کہ میرا فلاں بندہ بیمار تھا مگر تم نے اس کی عیادت نہ کی۔ کیا تم نے نہیں جانا کہ تم اگر اس کی عیادت کرتے تو یقینا تم مجھ کو اس کے پاس پاتے۔
اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ جب کوئی آدمی خالص رضائے الٰہی کے لئے ایک کام کرتا ہے تو کام کے درمیان اس پر ایسی کیفیات گزرتی ہیں جب کہ وہ لقاء رب کا تجربہ کرتا ہے۔ اس وقت اس کا یہ حال ہوتا ہے گویا کہ وہ خدا کو دیکھ رہا ہے۔
مریض کی ایک عیادت وہ ہے جس میں رضاء الٰہی کا جذبہ شامل نہ ہو۔ جس کو آدمی نمائش کے لئے یا کسی فائدہ کے لئے کرے۔ ایسی عیادت صرف دنیوی مقصد کے لیے ہوتی ہے۔ وہ آدمی کے اندر ربّانی کیفیات پیدا نہیں کرتی۔دوسری عیادت وہ ہے جب کہ خدا کا ایک بندہ کسی انسان کی بیماری کو سن کر تڑپ اٹھتا ہے۔ اس کو خدا کا یہ حکم یاد آتا ہے کہ تم دوسرے انسانوں پر رحم کرو میں قیامت کے دن تمہارے اوپر رحم کروں گا۔ وہ خالص رضاء الٰہی کے جذبہ کے تحت مریض کی طرف روانہ ہوتاہے اور مریض کے حق میں دعائیں کرتا ہوا اس کے پاس پہنچتا ہے۔
بندۂ مومن خدا کا تجربہ دنیا میں بھی کرتا ہے اور آخرت میں بھی۔ فرق یہ ہے کہ دنیا میں یہ تجربہ بالواسطہ انداز میں ہوتا ہے اور آخرت میں وہ زیادہ مکمل صورت میں براہ راست انداز میںہوگا۔
واپس اوپر جائیں

جنّتی شخصیت

حضرت ابوہریرہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یدخل الجنّۃ أقوامٌ أفئدتہم مثل أفئدۃِ الطّیر(صحیح مسلم، کتاب الجنۃ؛ مسند احمد، جلد2، صفحہ331) یعنی جنت میںایسے لوگ جائیں گے جن کے دل چڑیوں کے دل کی مانند ہوں۔
چڑیا ایک حیوان ہے، مگر چڑیا کے اندر ایک ایسی استثنائی صفت ہوتی ہے جو کسی دوسرے حیوان میں نہیں، وہ یہ کہ چڑیا نفرت اور انتقام (revenge)کے جذبات سے خالی ہوتی ہے۔ تمام دوسرے جانور دفاعی طورپر حملہ کرنے کا مزاج رکھتے ہیں، لیکن چڑیا اِس مزاج سے مکمل طورپر خالی ہوتی ہے۔ آپ چڑیا کو دیکھئے تو وہ اپنی شکل ہی سے معصومیت کا پیکر دکھائی دے گی۔ اِس لیے کبوتر (pigeon) کو امن کی علامت (symbol of peace) قرار دیا گیا ہے۔
حدیث کے مطابق، یہی جنّتی صفت اُس انسان سے مطلوب ہے جو جنت کا طالب ہو۔ جنتی انسان وہ ہے جو ہر قسم کے منفی جذبات سے مکمل طورپر خالی ہو، صرف اِس فرق کے ساتھ کہ چڑیا کے اندر یہ مثبت صفت جبلّت (instinct) کے طورپر ہوتی ہے اور جنتی انسان کے اندر یہ مثبت صفت آزادانہ شعور کے تحت۔
جنّتی انسان وہ ہے جو اپنی تربیت کرکے اپنے آپ کو ایسا بنائے کہ اس کا دل نفرت اور انتقام جیسی چیزوں سے مکمل طورپر خالی ہوجائے، جو غصے کو پی جانے والا ہو، جو منفی ردّ عمل کا مزاج نہ رکھتا ہو، جو نفرت کے باوجود محبت کرنے والا انسان ہو، جو کسی امید کے بغیر لوگوں کے ساتھ حسنِ سلوک کرے، جو لوگوں کے درمیان اِس طرح رہے، جیسے کہ سب لوگ اُس کے بھائی اور بہن ہیں، جو شیطان سے بھاگے اور فرشتوں کو اپنا ہم نشین بنائے، جو شکایتوں کو صبر کے خانے میں ڈال دے، جو دوسروں کا حق ادا کرے اور اپنا حق خدا سے مانگے— یہی وہ اعلیٰ صفات ہیں جو کسی انسان کو جنت میں داخلے کا مستحق بنائیں گی۔
واپس اوپر جائیں

سب سے زیادہ خطرناک

حدیث میں آیا ہے کہ رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لا یدخُل الجنۃ من کان فی قلبہ مثقال ذرۃ من کبر (صحیح مسلم، حدیث نمبر147 ) یعنی وہ شخص جنت میں داخل نہ ہوگا جس کے دل میں ایک ذرہ کے برابر بھی کبر ہو۔ اس سے معلوم ہوا کہ جنت سے محرومی کا اندیشہ سب سے زیادہ اس انسان کے لیے ہے جو کبریا ذاتی بڑائی کے احساس میں مبتلا ہو۔ جس کے اندر وہ برائی ہو جس کو انانیت (arrogance) کہا جاتاہے۔
اس معاملہ کا سب سے زیادہ نازک پہلو یہ ہے کہ جس آدمی کے اندر کبر ہو تو اس کو خود یہ اندازہ نہیں ہوتا کہ میں کبر کی برائی میں مبتلا ہوں۔ ایک شخص نماز اور روزہ کو ترک کردے یا وہ زکوٰۃ نہ دے اور حج نہ کرے تو اس کو پوری طرح معلوم رہتا ہے کہ میں فلاں عبادت ادا نہیں کر رہا ہوں۔ کوئی شخص شراب پئے یا خنزیر کا گوشت کھائے تب بھی وہ اپنے اس گناہ سے باخبر رہتا ہے۔ حتی کہ اگر کوئی شخص شرک و بت پرستی میں مبتلا ہو تب بھی وہ جانتا ہے کہ میں کون سا گناہ کررہا ہوں۔ لیکن کبر ایک ایسا گناہ ہے جس کا احساس آدمی کو خود نہیں ہوتا ۔
پھر کوئی شخص کبر کے گناہ سے کس طرح بچے۔ اس کا سب سے زیادہ آسان طریقہ یہ ہے کہ آدمی اپنے آپ کو دوسروں کی نظر سے دیکھنے لگے۔ کبر کی برائی سے آدمی اگر چہ خود تو بے خبر ہوتا ہے مگر دوسرے لوگ اس کو اچھی طرح جان لیتے ہیں۔ دوسرے لوگ پہلے ہی تجربہ میں سمجھ لیـتے ہیں کہ فلاں شخص کبر کی نفسیات میں مبتلا ہے۔ اس لئے جو آدمی جنت سے محرومی کا رِسک نہ لینا چاہتا ہو اس پر لازم ہے کہ وہ اپنی اس برائی کو جاننے کے لئے دوسروں کو ذریعہ بنائے۔ جب کوئی دوسرا شخص اس کو بتائے کہ تمہارے اندر کبر کی برائی ہے تو وہ اس کو سنجیدگی کے ساتھ سنے اور غیر جانب دارانہ انداز سے اپنے اوپر نظر ثانی کرے۔ وہ دوسرے آدمی کی بات کو ٹھیک اسی طرح لے جس طرح وہ اپنے چہرہ پر لگے ہوئے دھبہ کے بارے میں آئینہ کی اطلاع کو کسی ناگواری کے بغیر قبول کرلیتا ہے۔
واپس اوپر جائیں

بیمار ی سے تطہیر

حدیث میں آیا ہے کہ مدینہ میں ایک شخص بیمار ہوا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اُس کی عیادت کے لیے اُس کے گھر گئے۔ وہاں پہنچ کر آپ نے کہا کہ: لا بأس، طہور إن شاء اللہ (صحیح البخاری، کتاب المرضٰی، باب ما یقال للمریض) یعنی کوئی حرج نہیں، انشاء اللہ یہ پاکی حاصل کرنے کا ذریعہ ہے۔
اس کا مطلب یہ نہیں کہ جب کوئی شخص بیمار ہوتا ہے تو پُر اسرار طورپر اس کے گناہ دھل جاتے ہیں، وہ خود بخود ایک پاکیزہ انسان بن جاتا ہے۔ یہ در اصل ایک معلوم شعوری واقعہ ہے جو ایک سچے مومن کے ساتھ پیش آتا ہے۔کوئی آدمی اگر بیمار نہ ہو، اُس کا جسم مکمل طورپر ایک صحت مند جسم ہو تو اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ اُس کے اندر شعوری یا غیر شعوری طورپر فخر و ناز کے جذبات پیدا ہوجاتے ہیں۔ اُس کے سینہ میں دردمندانہ احساسات کی پرورش نہیں ہوتی۔ یہاں تک کہ وہ ایک بے حس انسان بن کر رہ جاتا ہے۔
لیکن جب ایک مومن بیماری میںمبتلا ہوتا ہے تو وہ اپنے عجز کو دریافت کرتاہے۔ اُس کے اندر دردمندی کی کیفیت پیدا ہو جاتی ہے۔ وہ اپنے بندہ ہونے کی حقیقت کا تجربہ کرتا ہے۔
اس طرح بیماری اُس کو دوسری چیزوں سے دور کرکے اللہ سے قریب کردیتی ہے۔ وہ اللہ کی طرف متوجہ ہوجاتاہے۔ وہ اللہ کو یاد کرنے لگتا ہے۔ اُس کے دل سے دعائیں اور التجائیں نکلنے لگتی ہیں۔ بیماری اُس کے لیے اللہ سے قربت کا ذریعہ بن جاتی ہے۔
بیماری بظاہر ایک غیر مطلوب چیز ہے۔ لیکن اگر صحیح اسلامی ذہن ہو تو جسمانی بیماری آدمی کے لیے روحانی صحت کا ذریعہ بن جائے گی۔اس دنیا میںاصل اہمیت ذہنی بیداری کی ہے۔ بیدارذہن ہی اس قابل ہوتا ہے کہ وہ واقعات سے سبق لے۔ اور ذہن کو بیدار کرنے والی سب سے بڑی چیز اس دنیا میںصرف ایک ہے، اور وہ مشکل حالات ہیں۔
واپس اوپر جائیں

مصیبت بھی رحمت ہے

ایک روایت صحیح البخاری (کتاب الجہاد) سنن ابی داؤد (کتاب الجہاد) اور مسند امام احمد میںآئی ہے۔ صحیح البخاری کے الفاظ یہ ہیں: عجب اللہ من قوم یدخلون الجنۃ فی السلاسل (حدیث نمبر3010 )یعنی اللہ ان پر متعجب ہوتا ہے جو جنت میں زنجیروں میں (بندھے ہوئے) داخل ہوں گے۔ بعض دیگر روایتوں میں یقادون اور یساقون کے الفاظ آئے ہیں۔ یعنی وہ کھینچتے ہوئے اور ہانکتے ہوئے لے جائے جائیں گے۔
اس حدیث میں کچھ اہل ایمان کے ساتھ جس معاملہ کا ذکر ہے وہ آخرت میں پیش آنے والا معاملہ نہیں ہے بلکہ آخرت سے پہلے اسی دنیا میں پیش آنے والا معاملہ ہے۔ یہاں زنجیر کا لفظ دراصل مجبور کن حالات (compulsive situation) کی تعبیر ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ کچھ لوگوں کے ساتھ ایسے مجبورانہ حالات پیش آئیں گے کہ اُن کے لیے اس کے سوا کوئی راستہ باقی نہ رہے گا کہ وہ خدا پرستی اور آخرت پسندی کی زندگی اختیار کریں اور اس طرح گویا بندھے بندھے جنت میں پہنچ جائیں۔
یہ خوش قسمتی اُن افراد کے حصہ میں آئے گی جن کے دل میں اخلاص اور حسن نیت کی چنگاری موجود ہو۔ اللہ تعالیٰ جن لوگوں کے دل میں اس قسم کی استعداد دیکھے گا اُن کی قدر افزائی اس طرح کرے گا کہ اُن کے لیے ایسے حالات پیدا کردے گا جو اُنہیں طوعاً و کرہاً خدا پرستانہ اعمال کی طرف لے جانے والے ہوں۔مصیبت کا جنتی زنجیر بن جانا اُس شخص کے حصہ میںآتا ہے جس کے اندر یہ صلاحیت ہو کہ وہ مصیبت کے وقت اللہ کی طرف رجوع کرے۔ مصیبت جس کے دل کو اس طرح نرم کرے کہ وہ اللہ کی یاد کرنے والا بن جائے۔
مصیبت اگر لوگوں کے اندر فریاد اورشکایت کا ذہن بنائے تو مصیبت صرف تباہی ہے۔اور اگر مصیبت لوگوں کے اندر محاسبۂ خویش کاذہن پیدا کرے تو وہ اُن کے لیے رحمت کا سبب بن جائے گی۔
واپس اوپر جائیں

نصیحت پذیری

کسی انسان کو جب حق کی معرفت حاصل ہوتی ہے اور اس کی سوچ ایمانی سوچ بن جاتی ہے تو فطری طورپر ایسا ہوتا ہے کہ وہ ایک سنجیدہ انسان بن جاتا ہے۔ اسی ایمانی سنجیدگی کا ایک پہلو وہ ہے جس کو نصیحت پذیری کہا جاسکتا ہے۔ قرآن میں اس کے لیے مختلف الفاظ آئے ہیں۔ مثلاً تذکّر (الزمر ۹) اعتبار (المؤمنون ۲۱) توسم (الحجر ۷۵) ، وغیرہ۔اسی طرح حدیث میں بھی اسی قسم کے الفاظ وارد ہوئے ہیں۔ مثلاً وصمتی فکرا ونظری عبرۃً (مسند الشہاب القضاعی، حدیث نمبر1159 ) یعنی میری خاموشی سوچ کی خاموشی ہواور میرا دیکھنا عبرت کا دیکھنا ہو۔
ایمان یا حق کی معرفت بھی بذات خود اسی نوعیت کی ایک چیز ہے۔ ایمانی معرفت کیا ہے۔ وہ یہ ہے کہ آدمی مخلوقات پر غور کرکے خالق کو دریافت کرے۔ وہ دیکھنے والی دنیا کے اندر غیب کی دنیا کو پالے۔ قرآن کے الفاظ میں، وہ آیات(خارجی نشانیوں) کے ذریعہ داخلی حقیقتوں کو جان لے۔وہ بصارت کے ساتھ بصیرت کی استعداد حاصل کرلے۔
تدبر و تفکر مومن کا عام مزاج ہوتا ہے۔ اُس کا یہ مزاج ہمیشہ اور ہر جگہ قائم رہتا ہے۔ یہ مزاج اُس کو دائمی طورپر اللہ کی یاد کرنے والا بنا دیتا ہے۔ وہ ہر دن ایسی باتیں دریافت کرتا رہتا ہے جو اُس کے ایمان ویقین میںاضافہ کرنے والی ہوں۔ دوسرے لوگ ظواہر میںصرف ظواہر کو دیکھتے ہیں، مگر مومن اپنے اس مزاج کی بنا پر ظواہر میں حقائق کو دریافت کرلیتا ہے۔ تدبر اور تفکر کے اس عمل کے لیے کسی تنہائی یا مخصوص مقام کی ضرورت نہیں۔ یہ عمل مومن کے دماغ میں ہر لمحہ جاری رہتا ہے ، حتیٰ کہ دنیا کے بھرے ہوئے ہنگاموں میں بھی وہ اُس سے منقطع نہیں ہوتا۔
نصیحت پذیری مومن کی روحانی خوراک ہے۔ مومن کے لیے مادی غذا اگر جسمانی تقویت کا ذریعہ ہے تو عبرت و نصیحت اُس کے لیے روحانی غذا کی حیثیت رکھتی ہے۔مادی غذا کے بغیر جسم صحت مند نہیں رہ سکتا،اسی طرح فکری غذا کے بغیر روحانیت کا ارتقاء ممکن نہیں۔
واپس اوپر جائیں

ہر حال میں خیر

حدیث میں آیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عجباً لامر المؤمن! إنّ امرہ کلہ لہ خیر، ولیس ذلک لأحد الا للمؤمن، إن أصابتہ سراء شکر فکان خیرا لہ، وإن أصابتہ ضراء صبر فکان خیرا لہ، (صحیح مسلم، کتاب الزہد) یعنی مومن کا معاملہ عجیب ہے۔ اُس کے لیے اُس کے ہر معاملہ میں بھلائی ہے۔ اور یہ مومن کے سوا کسی اور کے لیے نہیں۔ اگر اُس کو کوئی خوشی ملتی ہے تو وہ شکر کرتا ہے پھر وہ خوشی اُس کے لیے بھلائی بن جاتی ہے۔ اور اگر اُس کو کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو وہ صبر کرتا ہے پھر وہ تکلیف اس کے لیے بھلائی بن جاتی ہے۔
غیر مومنانہ روش یہ ہے کہ اگر کسی آدمی کو خوشی ملے تو وہ اُس پر فخر کرے۔ اور اگر اُس کو تکلیف پہنچے تو وہ مایوسی کا شکار ہوجائے۔ یہ دونوں حالتیں یکساں طور پر بُرائی کی حالتیں ہیں۔ اس کے برعکس مومنانہ روش یہ ہے کہ آدمی کو خوشی ملے تو اُس کا سینہ شکر کے جذبہ سے بھر جائے۔ اور اگر اُس کو تکلیف کا تجربہ ہو تو وہ اُس کو اللہ کا فیصلہ سمجھ کر اُ س پر راضی رہے۔ یہی وہ چیز ہے جس کی طرف قرآن میں اس طرح تنبیہ کی گئی ہے: پس انسان کا حال یہ ہے کہ جب اُس کا رب اُس کو آزماتا ہے اور اُس کو عزت اور نعمت دیتا ہے تو وہ کہتا ہے کہ میرے رب نے مجھ کو عزت دی۔ اور جب وہ اُس کو آزماتا ہے اور اُس کا رزق اُس پر تنگ کر دیتاہے تو وہ کہتاہے کہ میرے رب نے مجھ کو ذلیل کردیا۔ (الفجر15-16 )
موجودہ دنیا میں اصل اہمیت یہ نہیں ہے کہ آدمی نے بظاہر کس حال میں زندگی گزاری، اچھے حال میں یا بُرے حال میں۔ اصل اہمیت کی بات یہ ہے کہ آدمی جس حال میں بھی ہو اُس سے وہ تعلق باللہ کی غذا لے سکے۔ زندگی کا ہر تجربہ اُس کو اللہ سے قریب کرنے والا ثابت ہو۔ اُس کی روح ہر صورتِ حال سے ربّانی غذا لیتی رہے۔ کائنات کے ہر مشاہدہ میں وہ اللہ کا جلوہ دیکھ سکے۔ زندگی کا ہر خوش گوار تجربہ اُس کو اللہ کی رحمت کی یاد دلائے، اور زندگی کا ہر تلخ تجربہ اُس کے لیے تقویٰ کا سبب بنتا رہے۔ ناکامی بھی اُس کو خدا کی یاد دلائے اور کامیابی بھی اُس کو خدا سے قریب کردے۔
واپس اوپر جائیں

تواضع ایک عظیم عبادت

حدیث میں آیا ہے کہ:کلّ بن آدم خطّاء، وخیر الخطّائین التّوابون (الترمذی، کتاب القیامۃ)۔ یعنی ہرانسان خطاکار ہے، اور سب سے اچھا خطاکار وہ ہے جو خطا کے بعد توبہ کرے۔ اعترافِ خطا، ایک عظیم عبادتی عمل ہے۔ یہ اعترافِ خطا، خدا کے مقابلے میں بھی ہوتا ہے اور انسان کے مقابلے میں بھی۔ جب خدا کے مقابلے میں اپنی غلطی کا اعتراف کیا جائے تو اُس کو توبہ کہا جاتا ہے، ا ور یہی عمل جب انسان کے مقابلے میں کیا جائے تو اُس کا نام اعترافِ خطا ہے۔
اصحابِ رسول کی زندگی کا مطالعہ بتاتا ہے کہ وہ بہت زیادہ توبہ کرنے والے اور اعتراف کرنے والے تھے، حتیٰ کہ بہت سے ایسے واقعات ہیں جب کہ ایک صحابی نے کہا کہ مجھ سے غلطی ہوئی، مجھ کو معاف کرو۔ حالاں کہ خالص قانونی اعتبار سے اُس کو دیکھا جائے تو وہاں صحابی نے ایسی کوئی غلطی نہیںکی تھی۔
ایسا کیوں ہے۔ اِس کا سبب یہ ہے کہ یہ کہنا کہ میں غلطی پر تھا، دراصل اپنی تواضع کو ایسٹیبلش (establish)کرناہے۔ اسلامی عقیدے کے مطابق، ہر انسان کے پاس ہر وقت خدا کے فرشتے موجود رہتے ہیں، جو اُس کے ہر قول و عمل کا ریکارڈ تیار کرتے رہتے ہیں۔ ایسی حالت میں یہ بالکل فطری بات ہے کہ ایک سچا مومن اِس بات کا حریص ہو کہ فرشتے اپنے ریکارڈ میں اُس کو ایک متواضع انسان کی حیثیت سے درج کریں، نہ کہ ایک سرکش انسان کی حیثیت سے۔
یہ جذبہ ایک فطری جذبہ ہے۔ ہر مومن کے اندر وہ شعوری یا غیر شعوری طورپر موجود رہتا ہے۔ اِس بنا پر مومن طبعاً اِس کو پسند نہیں کرتا کہ وہ فرشتوں کی نظر میں ایک سرکش انسان دکھائی دے۔ کسی معاملے میں خواہ بظاہر اُس کی غلطی نہ ہو، تب بھی اُس کا متواضعانہ مزاج اُس کی زبان سے اِس طرح ظاہر ہوتا رہتا ہے کہ وہ بار بار یہ کہہ دیتا ہے کہ میں غلطی پر تھا۔ غلطی کا اعتراف نہ کرنے سے سرکشی کے جذبات کو تسکین ملتی ہے۔ اس کے برعکس، غلطی کا اعتراف مومن کی متواضعانہ نفسیات کی تسکین کا ذریعہ ہے۔ بے اعترافی اگرسرکش انسان کی غذا ہے تو اعتراف اُس مومن کی غذا ہے جو اپنے آپ کو ہمہ تن خدا کے آگے جھکائے ہوئے ہو۔
واپس اوپر جائیں

اختیارِ اَیسر— ایک سنّت

حضرت عائشہ کی ایک روایت ہے۔ یہ روایت صحیح البخاری، صحیح مسلم، ابوداؤد، الترمذی، المؤطا اور مسند احمد میں الفاظ کے معمولی فرق کے ساتھ آئی ہے۔ اِس روایت میں حضرت عائشہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی عمومی پالیسی بیان کی ہے۔ صحیح البخاری میں یہ روایت تین ابواب کے تحت نقل ہوئی ہے (کتاب المناقب:باب صفۃ النبی صلی اللہ علیہ وسلم؛ کتاب الأدب:باب مالا یُستحیا من الحقّ للتفقّہ فی الدّین؛ کتاب الحدود:باب إقامۃ الحدود، والإنتقام لحرمات اللہ) اِس روایت کے الفاظ یہ ہیں: ماخُیّر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بین أمرین، إلاّ اختار أیسرہما۔ یعنی جب بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دو امر میں سے ایک امر کا انتخاب کرناہوتا تو آپ ہمیشہ دونوں میں سے آسان امر کا انتخاب فرماتے۔
یہ حدیث بے حد اہم ہے۔ اِس میں پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی جنرل پالیسی کو بیان کیاگیا ہے، مگر عجیب بات ہے کہ محدثین نے اِس کی زیادہ تشریح نہیں کی۔ ابنِ حجر کی فتح الباری کو حدیث کا انسائکلوپیڈیا سمجھا جاتا ہے۔ ابنِ حجر نے اِس حدیث کو تین ابواب کے تحت نقل کیا ہے، لیکن انھوں نے اِس حدیث کی کوئی واضح تشریح نہیں کی۔ انھوں نے صرف یہ لکھا ہے کہ اِس ’تخییر‘ کا تعلق، اُمورِ دنیا سے ہے، مگر انھوں نے امورِدنیا کی کوئی متعین عملی مثال نہیں دی(فتح الباری، جلد 12، صفحہ 88 )۔
یہ ایک معلوم بات ہے کہ ہر اصول کا ایک عملی انطباق ہوتا ہے۔ مثلاً اسپریچویلٹی کے عملی انطباق کو اپلائڈ اسپریچویلٹی (applied spirituality) کہاجاتاہے۔ اِسی طرح سائنس کے عملی انطباق کو اپلائڈ سائنس (applied science) کہاجاتا ہے۔ اِسی طرح حضرت عائشہ کے بیان کردہ پرنسپل کا ایک اپلائڈ پرنسپل (applied principle) ہے، لیکن اِس اپلائڈ پرنسپل کی مثالیں کسی بھی شارحِ حدیث کے یہاں نہیں ملتیں۔ میرے علم کے مطابق، اسلام کی پوری تاریخ میں کسی بھی عالم اور مصنف نے حضرت عائشہ کے اِس بیان کردہ اصول کے عملی انطباق کو وضاحت اور تعین کے ساتھ بیان نہیں کیا۔
اسلامی لٹریچرکا یہ خلا، بلا شبہہ ایک عظیم حادثے سے کم نہیں۔ ہم جانتے ہیں کہ قرآن میں نماز کے بارے میں یہ حکم دیاگیا ہے کہ : أقیموا الصلوٰۃ ( البقرۃ43) یعنی نماز قائم کرو۔ یہ نماز کے بارے میں اصولی حکم ہے۔ اِس کے بعد یہ سوال تھا کہ اِس اصول کا عملی انطباق کیا ہے۔ علما نے احادیث کا مطالعہ کرکے نماز کی عملی صورت، یا اپلائڈ صلوٰۃ (applied Salah) کے بارے میں بڑی تعداد میںکتابیں لکھیں۔ اِس کا نتیجہ یہ ہوا کہ امت کو غیر مشتبہ طورپر یہ معلوم ہوگیا کہ نماز کا عملی فارم کیا ہے۔ اگر ایسا نہ ہوا ہوتا تو لوگ حکمِ نماز کو توجانتے، لیکن اُس کی عملی صورت سے بے خبر ہونے کی بناپروہ نماز کی باقاعدہ ادائیگی سے محروم رہ جاتے۔حضرت عائشہ کی مذکورہ روایت کے بارے میں بھی یہی چیز درکار تھی۔یہاں بھی ضرورت تھی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی عمومی پالیسی کو بتاتے ہوئے اُس کے عملی انطباق کو بھی بتایا جاتا، یعنی یہ بتایا جاتا کہ رسول اللہ نے اپنی تیئس سالہ پیغمبرانہ زندگی میں کس طرح اِس اصول کو عملی طورپر اختیار فرمایا۔ بد قسمتی سے اِس دوسرے معاملے میں یہ کام نہ ہوسکا۔ چنانچہ اب یہ صورتِ حال ہے کہ حضرت عائشہ کی یہ قیمتی روایت، حدیث کی کتابوں میں موجود ہے، لیکن امت اُس کے عملی انطباق سے بالکل بے خبر ہے۔ خاص طورپر جدید دور میں امت کی زبوں حالی کا سب سے بڑا سبب سنتِ رسول سے لوگوں کی یہی بے خبری ہے۔
پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم، ابدی طورپر خدا کے دین کا عملی نمونہ ہیں۔ دوسری تمام چیزوں کی طرح، جہاد بھی وہی جہاد ہے جس کا نمونہ پیغمبر اسلام کی زندگی میں ملے۔ جہاد کاجو نمونہ پیغمبر اسلام کی زندگی میں موجود نہ ہو، وہ یقینی طورپر جہاد نہیںہے بلکہ وہ کوئی اور چیز ہے، خواہ اُس کو اسلامی جہاد کا نام دے دیا جائے۔
پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لا تتمنّوا لقاء العدوّ، واسئلوا اللہ العافیۃ (صحیح البخاری، کتاب الجہاد) یعنی تم دشمن سے مڈ بھیڑ کی تمنّا نہ کرو، بلکہ خدا سے عافیت مانگو:
Don't wish for confrontation with your enemy, instead ask for peace from God.
جیسا کہ عرض کیا گیا،حضرت عائشہ نے پیغمبر اسلام کی جنرل پالیسی کو اِن الفاظ میں بیان کیا ہے: ما خُیّر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بین أمرین، إلاّ اختارَ أیسرہما، یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جب بھی دو امر میں سے ایک امر کا انتخاب کرنا ہوتا تو آپ ہمیشہ دونوں میں سے آسان امر کا انتخاب فرماتے:
Whenever the Prophet had to choose between the two, he always opted for the easier of the two.
اس قسم کی احادیث کے ساتھ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی عملی زندگی کو دیکھا جائے اور پھر اِس معاملے کی تشریح کرنے کی کوشش کی جائے تو یہ کہنا بالکل صحیح ہوگا کہ اسلام میں مسلّح جہاد، یا قتال صرف ایک غیر مطلوب انتخاب (undesirable option) ہے، وہ ہر گز کوئی مطلوب انتخاب (desirable option) نہیں۔ پیغمبراسلام کی زندگی کے واقعات واضح طورپر اِس نقطۂ نظر کی تائید کرتے ہیں۔
پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے 610 عیسوی میں مکہ میں توحید کے مشن کا آغاز کیا۔ اُس وقت مکہ شرک کا مرکز بنا ہوا تھا۔ چنانچہ وہاں کے مشرک سردار آپ کے دشمن بن گیے، پھر بھی آپ کا مشن پھیلتا رہا اور لوگ آپ کے ساتھی بنتے رہے۔ اِس طرح تیرہ سال گزر گیے۔ اب مکہ کے مخالفین نے یہ فیصلہ کیا کہ وہ آپ کو مارڈالیں۔
یہ 622 عیسوی کا واقعہ ہے۔ اُس وقت آپ کو دو میں سے ایک کے انتخاب کا موقع تھا۔ ایک یہ کہ مکہ کے سرداروں کے حربی چیلنج کو قبول کرتے ہوئے، اُن سے مسلّح مقابلہ کریں۔ اُس وقت تک مکہ اور اطرافِ مکہ میں کئی سو افراد آپ پر ایمان لا کر آپ کے ساتھی بن چکے تھے، اِس لحاظ سے آپ کے لیے یہ انتخاب بظاہر ایک ممکن انتخاب تھا۔
آپ کے لیے دوسرا انتخاب یہ تھا کہ آپ مسلح ٹکراؤ سے اعراض کریں، خواہ اِس مقصد کے لیے آپ کو مکہ سے ہجرت کرنا پڑے، یعنی آپ پُر امن طورپر مکہ کو چھوڑ کر باہر چلے جائیں، آپ نے یہی دوسرا طریقہ اختیار کیا۔ آپ نے مسلح ٹکراؤ کا طریقہ چھوڑ دیا اور پُرامن ہجرت کا طریقہ اختیار کرکے آپ مدینہ چلے گیے۔ اگر چہ ظاہر پسندوں کی نظر میں یہ کوئی باعزت طریقہ نہ تھا۔ چنانچہ سیکولر مؤرخین نے اِس واقعے کو ہجرت کے بجائے فرار (flight) کا نام دیا ہے۔
اِسی طرح کا ایک واقعہ وہ ہے جس کو صلحِ حدیبیہ کہاجاتا ہے۔ رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب مکہ چھوڑ کر مدینہ آگیے تو آپ کو یہ موقع ملا کہ آپ دعوتِ توحید کا کام زیادہ بڑے پیمانے پر انجام دے سکیں۔ یہ بات مکہ کے سرداروں کو پسند نہیں آئی۔ انھوںنے آپ کے خلاف باقاعدہ حملہ شروع کردیا۔ اُس وقت آپ نے مکہ کے سرداروں سے گفت و شنید (negotiation) کا سلسلہ شروع کیا۔ اِس گفت و شنید کا مقصد یہ تھا کہ آپ اور مکہ والوں کے درمیان امن کا سمجھوتہ ہوجائے۔ یہ گفتگو، حدیبیہ کے مقام پر دو ہفتے تک جاری رہی۔
اِس گفت وشنید کے دوران یہ واضح ہوا کہ فریقِ ثانی اپنی یک طرفہ شرطوں پر اصرار کررہا ہے۔ وہ لوگ اِس معاملے میں کسی بھی طرح جھکنے کے لیے تیار نہیں ہوئے۔ آخر کار، پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے سردارانِ قریش کی یک طرفہ شرطوں کو مان لیا، تاکہ دونوں فریقوں کے درمیان امن قائم ہوسکے۔ اِس طرح صلحِ حدیبیہ کا واقعہ انجام پایا، جو گویا آپ کے اور فریقِ ثانی کے درمیان دس سال کا ناجنگ معاہدہ (no-war pact) تھا۔ اِس واقعے کے ذریعے پیغمبر اسلام نے امت کو یہ نمونہ دیا کہ مسلح ٹکراؤ کا انتخاب کسی بھی حال میں نہیں لینا ہے، کوئی بھی قیمت دے کر ہر حال میں امن کو قائم رکھنا ہے— اسلام میں امن کی حیثیت عموم کی ہے اور جنگ کی حیثیت صرف استثنا ء کی۔
(تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو راقم الحروف کی کتابیں— مطالعۂ سیرت، اور امنِ عالم، وغیرہ)
***************************************
کانٹے سے بچنے کی تدبیر یہ ہےکہ آدمی کانٹے سے نہ الجھے ۔وہ کانٹے کے مقام سے کترا کر آگے بڑھ جائے
واپس اوپر جائیں

تشدد کا سبب عدم قناعت

پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک حدیث ان الفاظ میں آئی ہے: قد افلح من أسلم ورزق کفافاً وقنعہ اللہ بما آتاہ (صحیح مسلم،حدیث نمبر1054؛ سنن الترمذی، حدیث نمبر2348 ) یعنی وہ شخص کامیاب ہوا جواسلام لایا اور جس کو بقدر ضرورت رزق ملا اور وہ اُس پر قانع ہوگیا جواللہ نے اُس کو دیا۔
اس حدیث میں قناعت کا ذکر ہے۔ قناعت کی نفسیات اگر کسی کے اندرپوری طرح پیدا ہوجائے تو وہ اُس کو مکمل طورپر امن پسند بنادے گی۔ اس کے برعکس جن لوگوں کے اندر قناعت کی نفسیات نہ ہو وہ اپنی حالت پر غیر مطمئن رہیں گے اور آخر کار جھنجھلاہٹ میں مبتلا ہو کرمتشددانہ کارروائی شروع کردیں گے تاکہ جس چیزکو وہ پُر امن طورپر حاصل نہ کرسکے اُس کو وہ تشدد کی طاقت سے حاصل کرلیں۔ حقیقت یہ ہے کہ قناعت سے امن کا مزاج پیدا ہوتا ہے اور عدم قناعت سے تشدد کامزاج۔
قناعت کا جذبہ آدمی کے اندر یہ نفسیات پیدا کرتا ہے کہ وہ ایک پایا ہوا انسان ہے۔ اور جو آدمی اپنے آپ کو پایا ہواانسان سمجھے وہ کبھی جھنجھلاہٹ اور تشدد کا شکار نہیں ہوسکتا۔
اس کے برعکس معاملہ اس انسان کا ہے جو عدم قناعت کی نفسیات میںمبتلا ہو۔وہ ہمیشہ احساس محرومی کا شکار رہے گا۔ اُس کا یہ احساس اُس کو مسلسل اُکسائے گا کہ جو کچھ اُس نے نہیں پایا اُس کو وہ حاصل کرنے کی کوشش کرے۔ اب اگر اُس نے دیکھا کہ وہ اپنی نہ پائی ہوئی چیز کو پر امن طریقہ سے حاصل نہیںکرسکتا تو وہ تشدد کے طریقوں کو استعمال کرکے اُس کو حاصل کرنا چاہے گا۔
وہ اُن تمام لوگوں کو اپنا دشمن سمجھ لے گا جن کووہ اپنے خیال کے مطابق، اپنی خواہش کی راہ میں رکاوٹ سمجھتا ہے۔ وہ اُن لوگوں سے نفرت کرے گا۔ وہ اُن لوگوں کے خلاف لڑنے کے لیے ہتھیار جمع کرے گا۔ حالانکہ یہ سب نتیجہ ہوگا اس بات کا کہ وہ خدا کے دیے ہوئے پر راضی نہ ہوسکا، وہ قناعت کے بجائے عدم قناعت کا شکار ہوگیا۔
واپس اوپر جائیں

اعتدال کا طریقہ

حدیث میں آیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم لوگوں کو چاہئے کہ تم توسط و اعتدال کا طریقہ اختیار کرو (قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم:علیکم القصد) مسند احمد 4/406۔
قصد یا توسط و اعتدال کا تعلق کسی ایک معاملے سے نہیں ہے بلکہ اس کا تعلق زندگی کے تمام معاملات سے ہے۔ مثلاً جب آدمی چلے تو وہ اعتدال کے ساتھ چلے۔ بولے تو وہ اعتدال کے انداز میں بولے۔ عبادات میںوہ اعتدال کا طریقہ اختیار کرے۔ انفاق اوراعانت میںبھی وہ معتدل رویہ اختیار کرے، وغیرہ۔ اسی طرح جب کسی سے اختلاف ہوجائے تو اختلاف میں بھی فریقین کو چاہئے کہ اعتدال پر قائم رہیں۔ وہ اختلاف کے وقت اعتدال کی حد سے باہر نہ چلے جائیں۔
مثلاً جب دو آدمیوں میں کسی معاملہ میںاختلاف ہوتو اولاً ان کو ایسا کرنا چاہئے کہ وہ سنجیدہ گفت وشنید کے ذریعہ اپنے اختلاف کو ختم کرنے کی کوشش کریں۔ اگر اس طرح اختلاف ختم ہوجائے تو بہت اچھا ہے اور اگر اختلاف ختم نہ ہو تو انہیں اختلاف کے باوجود اتحاد کے اصول پر عمل کرنا چاہئے۔ ان کو چاہئے کہ وہ ایک دوسرے سے یہ کہہ دیںکہ آؤ ہم اس پر اتفاق کرلیں کہ ہمارے درمیان اختلاف ہے:
Let's agree to disagree.
قصد واعتدال متانت اور وقار کی روش کا دوسرا نام ہے۔ یہ کسی آدمی کے سنجیدہ مزاج ہونے کی ایک علامت ہے۔ جو آدمی اپنے قول و فعل میںاعتدال پر قائم ہو وہ اس بات کا ثبوت دیتا ہے کہ وہ جذباتیت سے پاک ہے۔ وہ جب بولتا ہے تو سوچ کر بولتا ہے اور جب کرتا ہے تو وہ سوچ سمجھ کر کرتا ہے، وہ سطحیت پسندی سے پاک ہے۔ اس کا کردار اس کی عقل کے تابع ہے نہ کہ اس کے جذبات کے تابع۔
واپس اوپر جائیں

ارتقا کے تین درجے

ایک روایت حدیث کی مختلف کتابوں میں آئی ہے۔ مسند امام احمد کے الفاظ یہ ہیں— حضرت ابو ہریرہ کہتے ہیں کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: النّاس مَعادِن، کمعادن الفِضّۃ والذّہب، خِیارُہم فی الجاہلیۃ خیارُہم فی الاسلام إذا فقہوا (مسند احمد، جلد 2 ،صفحہ539) یعنی انسان دھات کی مانند ہیں، جیسے سونے اور چاندی کی دھات۔ جاہلیت میںجو بہتر ہیں، وہی اسلام میں بھی بہتر ہیں، جب کہ وہ اپنے اندر سمجھ پیدا کریں۔
اِس حدیث میں انسان کے فکری ارتقا کے مراحل کو بتایا گیا ہے۔ ایک درجۂ فکری وہ ہے جس پر انسان پیدا ہوتا ہے۔ دوسرا درجۂ فکری وہ ہے جو انسان خود اپنی کوششوں سے بناتا ہے۔ تیسرا درجہ معرفت کا درجہ ہے۔ معرفت کے درجے میں پہنچ کر انسان اپنے ارتقا کی آخری منزل کو پالیتا ہے، یعنی وہ درجہ جس کا دوسرا نام اسلام ہے۔
اِس اعتبار سے انسان کی مثال دھات (metal) جیسی ہے۔ لوہا زمین سے نکلتا ہے۔ ابتدائی حالت میں وہ خام لوہا (ore) ہوتا ہے۔ اِس کے بعد اُس کو پگھلا کر صاف کیا جاتا ہے۔ اب وہ ترقی پاکر اسٹیل بن جاتاہے۔ اِس کے بعد وہ مزید صنعتی مراحل سے گزرتا ہے، یہاں تک کہ وہ باقاعدہ مشین کی صورت اختیار کرلیتا ہے— یعنی پہلے مرحلے میں خام لوہا، دوسرے مرحلے میںاسٹیل، اور تیسرے اور آخری مرحلے میں مشین۔
یہی معاملہ انسان کا ہے۔ انسان جب پیدا ہوتا ہے تو گویا کہ وہ فطرت کی کان (mine) سے نکل کر باہر کی دنیا میںآتا ہے۔ اِس کے بعد وہ بڑا ہوتا ہے اور اپنی سوچ کو عمل میں لاتا ہے۔ وہ تعلیم و تربیت کے مراحل سے گزرتا ہے۔ اِس طرح پختگی کی عمر میں پہنچ کر وہ ایک باقاعدہ انسان بن جاتا ہے۔ یہ انسانی وجود کا درمیانی مرحلہ ہے۔ اِس کے بعد اگر وہ اپنی عقل کو صحیح رخ پر استعمال کرے تو وہ معرفتِ حق کے درجے میں پہنچ جاتا ہے۔ یہ وہ درجہ ہے جب کہ کوئی پیدا ہونے والا، کمالِ انسانیت کے مرحلے میں پہنچ کر عارف باللہ کا مقام حاصل کرلیتاہے۔ اِن تین ارتقائی مراحل کو حسب ذیل صورت میں بیان کیا جاسکتا ہے:
1۔ پیدائشی شخصیت (born personality)
2۔ تیار شدہ شخصیت (developed personality)
3۔ عارفانہ شخصیت (realized personality)
پیدائشی شخصیت، خدا کی دی ہوئی شخصیت ہوتی ہے۔ پیدائشی شخصیت کے اعتبار سے ہر آدمی یکساں ہوتاہے۔ صلاحیت کے اعتبار سے اگر چہ ایک انسان اور دوسرے انسان میںہمیشہ فرق ہوتا ہے، لیکن اِس فطری فرق کے باوجود تمام انسان اِمکانی استعداد (potential capacity) کے اعتبار سے یکساں حیثیت کے مالک ہوتے ہیں۔
اِسی بات کو ایک حدیث میں اِس طرح بیان کیاگیا ہے: المؤمن القوّی خیرٌ و أحبُّ إلی اللہ من المؤمن الضّعیف، وفی کلٍّ خیر۔ احرِص علیٰ ما ینفعک واستعن باللہ ولا تعجز۔ وإن أصابک شیٔ فلا تقُل:لَوأنّی فعلتُ کان کذا وکذا، ولٰکن قُل:قدّر اللہ وماشاء فعل۔ فإنّ ’’لَو‘‘ تفتح عملَ الشیطان (صحیح مسلم، کتاب القدر؛ ابنِ ماجہ، مقدّمہ؛ مسنداحمد، جلد 2، صفحہ 370 )۔یعنی قوی مومن، اللہ کے نزدیک ضعیف مومن سے زیادہ بہتر اور پسندیدہ ہے، اور ہر ایک میں خیر ہے۔ جوچیز تمھارے لیے نافع ہو، اس کے تم حریص بنو اور اللہ سے مدد چاہو اور عاجز نہ ہو۔ اور اگر تمھارے خلاف کوئی بات پیش آئے تو یہ نہ کہو کہ کاش، میں نے ایسااور ایسا کیاہوتا۔ بلکہ یہ کہو کہ یہ خدا کا تقدیری منصوبہ تھا، اسی نے جوچاہا کیا۔ کیوں کہ ’’اگر‘‘ کہنا شیطان کے عمل کا دروازہ کھولتا ہے۔
اِس حدیث میں مومن سے مراد انسان ہے۔ اِس کا مطلب یہ ہے کہ کوئی انسان اگر اپنے اندر ایک اعتبار سے کمی محسوس کرے تو اس کو مایوس نہیں ہونا چاہیے، کیوں کہ دوسرے اعتبار سے اُس کے اندر کوئی اور صفت زیادہ ہوگی۔ انسان کو چاہیے کہ وہ اپنی خداداد صلاحیت کو دریافت کرے اور حوصلہ مندانہ انداز میں اپنی زندگی کی تعمیر کرے۔ جدوجہد ِ حیات کے دوران اگر اس کو کوئی نقصان پہنچے تو اُس کو یقین کرنا چاہیے کہ اِس منفی تجربے میں بھی کوئی مثبت فائدہ شامل ہوگا۔ انسان کو چاہیے کہ وہ اپنے ہر منفی تجربے سے مثبت سبق لے، وہ کسی بھی حال میں پست ہمتی کا شکار نہ ہو۔
اس طرح آدمی اپنی شخصیت کی تعمیر کرتا رہتا ہے۔ وہ اپنا محاسبہ کرکے اپنی کنڈیشننگ کو دور کرتا رہتا ہے۔ وہ اپنے شعور کو بیدار کرکے اپنے اندر ایسی شخصیت کی پرورش کرتا رہتا ہے جس کے اندر قبولِ حق کی صلاحیت موجود ہو، جس کے اندر وہ صلاحیت ہو جس کو پیغمبر کی ایک دعا میں اِس طرح بیان کیاگیا ہے: اللّہم أرنا الحقَّ حقّا، وارْزُقنَا اتِّباعہ، وأرِنا الباطل باطلاً، وفقنا لاجتِنابَہ، وأرِنا الأشیاءَ کما ہِیَ(دیکھئے تفسیر ابن کثیر1/571،تفسیر الرازی1/119) یعنی اے اللہ، تو مجھے حق کو حق کے روپ میں دکھا، اور اس کی پیروی کی توفیق دے۔ اور اے اللہ، تو مجھے باطل کو باطل کے روپ میں دکھا، اور تو مجھے اُس سے بچنے کی توفیق عطا فرما۔ اور اے اللہ، تو مجھے چیزوں کو ویسا ہی دکھا جیسا کہ وہ ہیں۔
یہی وہ انسان ہے جس کو ہم نے اوپر کی تقسیم میں تیار شدہ شخصیت (developed personality) کا نام دیا ہے۔ وہی آدمی دانش مند آدمی ہے جو اپنے اندر اِس قسم کی شخصیت کی تعمیر کرے۔ جہاں تک فطری وجود کی بات ہے، ہر انسان کو فطری وجود کا عطیہ خالق کی طرف سے یکساں طورپر ملتا ہے، لیکن اُس کے بعد اپنے آپ کو ایک تیار شدہ شخصیت بنانا، یہ ہر انسان کا خود اپنا عمل ہے۔ ٹھیک اُسی طرح جیسے خام لوہا فطرت کی طرف سے عطا کیا جاتا ہے، لیکن اِس خام لوہے کو اسٹیل اور مشین میں تبدیل کرنے کا عمل انسانی کارخانے میںانجام پاتا ہے۔
اِسی خود تیاری (self-preparation)کے عمل پر اگلے ارتقائی مرحلے کا انحصار ہے۔ جولوگ خود شناس بنیں، جو لوگ اپنا بے لاگ محاسبہ کرتے رہیں، جو لوگ اپنی کمیوں کو ڈھونڈ کر اپنی ڈی کنڈیشننگ کریں، جو لوگ ہر قیمت کو ادا کرتے ہوئے اپنے ’’خام لوہے‘‘ کو ’’اسٹیل‘‘ بنانے کا کام کریں، جن لوگوں کا یہ حال ہو کہ وہ انانیت اور کبر اور لالچ اور حسد اور غصہ اور انتقام جیسے منفی جذبات کا کبھی شکار نہ بنیں، جو کہ شخصیت کی تعمیر میں ایک مہلک رکاوٹ کی حیثیت رکھتے ہیں۔ خلاصہ یہ کہ جو لوگ مسلسل طورپر اپنے اوپر تزکیہ کا عمل جاری کیے ہوئے ہوں، وہی لوگ ہیں جو خدا کی توفیق سے حق کو دریافت کرتے ہیں اور اس کو پوری آمادگی کے ساتھ قبول کرلیتے ہیں۔
تزکیہ کے لفظی معنٰی ہیں، پاک کرنا(purification) ۔ یہ ہر آدمی کی لازمی ضرورت ہے۔ یہ ہر آدمی کا مسئلہ ہے کہ وہ اپنے ماحول سے اثر قبول کرتا رہتا ہے، جس کو کنڈیشننگ (conditioning) کہاجاتا ہے۔ اپنے جذبات اور خواہشات کے تحت، اس کی کچھ عادتیں بن جاتی ہیں۔ اپنے مفادات اور مصالح کے زیر اثر، شعوری یا غیر شعوری طورپر، اس کا اپنا ایک مزاج بن جاتا ہے۔ یہ تمام چیزیں آدمی کی روحانی ترقی میں رکاوٹ ہیں۔اِن رکاوٹوں کو دور کرنے کے لیے آدمی کو خود اپنا نگراں (guard) بننا پڑتا ہے۔ وہ ڈھونڈ ڈھونڈ کر اپنی غلطیوں کو نکالتا ہے۔ وہ ایک بے رحمانہ اصلاح (merciless deconditioning) کا عمل اپنے اوپر جاری کرتا ہے۔ یہ تزکیہ کی لازمی شرط ہے۔ اِس کے بغیر کسی کا حقیقی تزکیہ نہیں ہوسکتا— بے رحمانہ ذاتی اصلاح کے بغیر تزکیہ نہیں، اور تزکیہ کے بغیر جنت نہیں۔
جو لوگ اپنے آپ کو مذکورہ مراحل سے گزاریں اور اپنی تیاری کے نتیجے میں سچائی کو پالیں، اُنھیں کو قرآن میں النفس المطمٔنۃ (الفجر27 ) کہاگیا ہے۔ یہ وہ لوگ ہیں جو خدا کے تخلیقی نقشے پر راضی ہوئے، جنھوں نے اپنے آپ کو اِس نقشے پر ڈھال کر اپنے اندر مطلوب شخصیت کی تعمیر کی۔ یہی وہ لوگ ہیں جو خداکی رضا مندی پائیں گے اور خدا کے فضل سے جنت کے ابدی باغوں میں بسائے جائیں گے۔
واپس اوپر جائیں

سب سے بڑی خوشی

ایک روایت صحیحین میں آئی ہے۔ صحیح البخاری کے الفاظ یہ ہیں: عن أبی سعید قال:قال رسول اللہ صلى اللہ علیہ وسلم إن اللہ تعالیٰ یقول لأہل الجنۃ:یا أہل الجنّۃ، فیقولون:لبّیک ربّنا وسعدیک، والخیر فی یدیک۔ فیقول:ہل رضیتم۔ فیقولون:وما لنا لا نرضی یار بّ، وقد أعطیتنا ما لم تعط أحداً من خلقک۔ فیقول:ألا أعطیکم أفضل من ذلک۔ فیقولون:یا ربّ، وأیّ شییٔ أفضل من ذلک۔ فیقول:أحلُّ علیکم رضوانی فلا أسخط علیکم بعدہ أبداً (حدیث نمبر7518 )
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ اہلِ جنت سے کہے گا کہ اے اہلِ جنت، وہ کہیں گے اے ہمارے رب، لبیک وسعدیک والخیر فی یدیک۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا، کیا تم راضی ہو۔ وہ کہیں گے کہ اے ہمارے رب، ہم کیوں نہ راضی ہوں، حالاں کہ تو نے ہم کو وہ چیز عطا فرمائی جو مخلوقات میں سے کسی دوسرے کو نہیں دی۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا، کیا میں تم کو اس سے بھی زیادہ افضل چیز نہ دوں۔ وہ کہیں گے کہ اے ہمارے رب، وہ کیا چیز ہے جو اس سے افضل ہے۔ اللہ فرمائے گا، میں تمھارے لیے اپنی رضا کو واجب کرتاہوں، اِس کے بعد اب میں کبھی تم سے ناراض نہ ہوں گا۔
جنت بلا شبہہ تمام نعمتوں کا مجموعہ ہے۔ جنت وہ جگہ ہے جہاں انسان کی تمام خواہشیں اور تمنائیں کامل درجے میں پوری ہوںگی۔ جو لوگ جنت میں داخل ہوں گے، وہ یہ محسوس کریں گے کہ اُنھیں تمام مسرتیں اپنی حقیقی صورت میں حاصل ہوگئیں ہیں۔ لیکن امکانی طورپر ایک اندیشہ اُن کے لیے پھر بھی موجود رہے گا، وہ یہ کہ جنت ان کو اللہ کے عطیہ کے طور پر ملی ہے، وہ خود اُس کے خالق نہیں ہیں۔ اللہ اگر چاہے تو جنت کو اُن سے چھین بھی سکتا ہے۔ مذکورہ حدیث اِسی اندیشے کا جواب ہے۔جب خود اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس کی ابدی رضا کا اعلان کردیا جائے گا تو اِس کا مطلب یہ ہوگا کہ جنت اب ہمیشہ کے لیے ان کی قیام گاہ بن چکی ہے، وہ ان سے کبھی چھینی جانے والی نہیں۔ یہ بلاشبہہ سب سے بڑی خوشی ہوگی جو اہلِ جنت کو حاصل ہوگی۔
واپس اوپر جائیں

مومن کی صفت

مومن کی مثال ایسے نرم پودے کی سی ہے جس کے پتے سایہ دار ہوتے ہیں۔ جس سمت سے بھی ہوا چلتی ہے وہ اس کو جھکا دیتی ہے۔ جب ہوا رکتی ہے تو وہ سیدھا ہوجاتا ہے۔ یہی حال مومن کا ہے جو مسلسل آزمائشوں کے بار سے دبا رہتا ہے۔ اور کافر کی مثال سخت درخت (ٹھنٹھ) کی طرح ہے جو بے حس و حرکت ایک حالت میں کھڑا رہتا ہے یہاں تک کہ اللہ اسے جب چاہتا ہے اکھاڑ کر پھینک دیتا ہے۔(صحیح البخاری، حدیث نمبر7466 )
اس حدیث میں پودے کی مثال کے ذریعہ مومن کی اس صفت کو بتایا گیاہے جس کو تواضع کہا جاتا ہے۔ تواضع مومن کی ایک صفت ہے۔ جس انسان کے اندر ایمانی کیفیت ہوگی اس کے اندر تواضع بھی ضرور ہوگی۔ یہ دونوں چیزیں کبھی ایک دوسرے سے جدا نہیںہوسکتیں۔مومن کے اندر سوکھی لکڑی کی طرح اکڑ نہیں ہوتی بلکہ نرم پودے کی طرح لچک ہوتی ہے۔ اس سے کوئی کوتاہی ہوجائے تو فوراً ہی وہ اپنی غلطی کا اعتراف کرلیتا ہے۔ کسی سے معاملہ پڑے تو وہ ہمیشہ اس کے ساتھ نرم روی کا طریقہ اختیار کرتا ہے۔ کسی سے نزاع پیش آجائے تو وہ یکطرفہ طورپر مصالحت کے لیے تیار رہتا ہے۔ حقوق کے جھگڑے میں وہ اپنا حق بھی دوسرے کو دینے پر راضی ہوجاتا ہے تاکہ معاملہ شدت کے مرحلہ تک نہ پہنچے۔
ایک انسان جب دوسرے انسان کے ساتھ شدت کا معاملہ کرتا ہے تو اس کی وجہ یہ ہوتی ہے کہ وہ اس کو اپنے جیسے ایک انسان کا معاملہ سمجھتا ہے۔ یہی نفسیات آدمی کو شدید بناتی ہے۔ مگر مومن اس کے برعکس ہر معاملہ کو خدا کا معاملہ سمجھتا ہے۔ یہ نفسیات اس کے اندر شدت کا خاتمہ کردیتی ہے۔ ایک انسان دوسرے انسان کے مقابلہ میں بڑا ہوسکتا ہے مگر خدا کے مقابلہ میں کوئی بھی انسان نہ بڑا ہے اور نہ طاقتور۔ اسی فرق کا یہ نتیجہ ہے کہ انسان اور انسان کا معاملہ ہو تو ان میں سے کوئی چھوٹا نظر آتا ہے اور کوئی بڑا۔ مگر جب انسان اور خدا کا معاملہ ہو تو تمام انسان یکساں حیثیت اختیار کر لیتے ہیں۔ اب بڑا صرف ایک خدا ہوتاہے اور بقیہ تمام انسان اس کے مقابلہ میں چھوٹے۔
واپس اوپر جائیں

عمل کا مدار نیت پر ہے

صحیح البخاری کی پہلی روایت ان الفاظ میں آئی ہے: عن عمر بن الخطاب قال:سمعت رسول اللہ صلى اللہ علیہ وسلم یقول:إنما الأعمال بالنیات، وإنما لکل امرئٍ ما نویٰ:فمن کانت ہجرتہ إلی دنیایصیبہا أو امرأۃٍ ینکحہا فہجرتہ إلی ما ہاجر إلیہ۔یعنی حضرت عمر فاروق نے کہا کہ میںنے رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ کہتے ہوئے سنا ہے کہ عمل کا مدار نیت پر ہے اور ہر آدمی کے لیے وہی ہے جس کی وہ نیت کرے، پس جس کی ہجرت دنیا کو پانے کے لیے ہو یا کسی عورت سے نکاح کرنے کے لیے ہو تو اُس کی ہجرت اُسی کے لیے ہے جس کی طرف اُس نے ہجرت کی۔
نیت کے معنی قصد اور ارادہ (intention) کے ہیں۔ اس حدیث سے معلوم ہوا کہ خدا کسی کے ظاہری عمل کو نہیںدیکھتا بلکہ وہ یہ دیکھتا ہے کہ آدمی نے جو عمل کیا ہے اُس کو اُس نے کس ارادے کے تحت کیا ہے۔ کسی کے عمل کی قیمت خدا کے یہاں اس کے داخلی ارادے کے اعتبار سے ہوگی، نہ کہ اُس کے ظاہرکے اعتبار سے۔
اصل یہ ہے کہ ہر عمل کی ایک داخلی اسپرٹ ہوتی ہے، اور ایک اُس کی ظاہری صورت۔ اسلام میں اصل اعتبار داخلی اسپرٹ کا ہے، نہ کہ ظاہری فارم کا۔ داخلی اسپرٹ کے بغیر ظاہری فارم بے قیمت ہے، خواہ بظاہر وہ کتنا ہی مکمل دکھائی دیتا ہو۔ خدا کے یہاں وہی عمل قبول کیا جائے گا جس کے اندر اسلام کی مطلوب اسپرٹ موجود ہو، خواہ دیکھنے والوں کو بظاہر وہ عظیم نہ دکھائی دیتا ہو۔
داخلی اسپرٹ یہ ہے کہ آدمی کا عمل قلبی جذبے کے تحت صادر ہوا ہو۔ کوئی آدمی اُس کے عمل کو دیکھنے والا نہ ہو تب بھی وہ اس عمل میںمشغول ہو۔ کسی قسم کا مادی فائدہ نہ ملنے والا ہو تب بھی وہ اپنا عمل کرتا رہے۔ یہ وہ عمل ہے جو آدمی کی داخلی شخصیت کا خارجی اظہار ہو۔ جس میںاُس کی اندرونی شخصیت بے تابانہ طورپر ظاہر ہوگئی ہو۔ جس کا محرّک صرف خدا کا خوف اور محبت ہو، کوئی بھی دوسرا محرک اُس کے عمل میں نہ پایا جاتا ہو۔
واپس اوپر جائیں

ہر چیز پرچۂ امتحان

حدیث میں آیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک صحابی کو نصیحت کرتے ہوئے فرمایا: أنّ ماأصابک لم یکن لیُخطئک، وأنّ ما أخطأک لم یکن لیصیبک(مسند احمد، حدیث نمبر21589 ) یعنی جو تم کو ملا، وہ تم سے کھویا جانے والا نہ تھا۔ اور جو کچھ تم سے کھویا گیا،وہ تم کو ملنے والا ہی نہ تھا۔
اِس حدیثِ رسول پر غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ موجودہ دنیا میں کسی آدمی کو جو کچھ ملتا ہے، وہ نہ اتفاقاً ملتا ہے اور نہ بطور انعام۔ موجودہ دنیا میں کسی آدمی کو جو کچھ ملتا ہے، وہ صرف پرچۂ امتحان کے طورپر ملتا ہے۔ خدا کے فیصلے کے تحت، ہر عورت اور مرد کو کچھ چیزیں دی جاتی ہیں، تاکہ اُن چیزوں میںآزما کر دیکھا جائے کہ آدمی کا رویّہ کیسا تھا۔ خدا کبھی کوئی چیز دے کر امتحان لیتا ہے کہ آدمی نے اُس پرشکر کیا، یا اُس کو پاکر وہ گھمنڈ میں مبتلا ہوگیا۔ اِسی طرح کوئی چیز چھین کر خدا آدمی کا امتحان لیتا ہے کہ اُس سے محروم ہو کر اُس نے صبر کیا، یا وہ شکایت کی نفسیات میں مبتلا ہوگیا۔
یہ خدا کا تخلیقی نقشہ (creation plan) ہے۔ ایسی حالت میں آدمی کی نظر اِس پر نہیںہونی چاہیے کہ اُس نے کیا پایا اور اُس سے کیا چھینا گیا۔ اِس کے بجائے اُس کو اپنا سارا دھیان اِس پر لگانا چاہیے کہ اُس کو جن حالات میں رکھ کر خدا نے اُس کا امتحان لینا چاہا تھا، اُس میں اُس نے مطلوب رسپانس (response) دیا، یا وہ مطلوب رسپانس دینے میں ناکام ہوگیا۔
یہ زندگی کا مثبت تصور ہے۔ یہ زندگی کا مثبت فارمولا ہے۔ جس آدمی کے اندر یہ مزاج پیدا ہوجائے، وہ کبھی ٹنشن میں مبتلا نہیں ہوگا۔ وہ کسی بھی حال میں مایوسی یا تلخی کا شکار نہیں ہوگا۔ کوئی تجربہ اُس کو زندگی کی تعمیری شاہ راہ سے ہٹانے والا ثابت نہ ہوگا۔ وہ کبھی فکری انتشار کا شکار نہ ہوگا۔ اُس کی زندگی میں کبھی یہ حادثہ پیش نہیں آئے گا کہ اُس کی زندگی حالات کے بھنور میں پھنس کر رہ جائے اور وہ آخری منزل تک نہ پہنچے۔
واپس اوپر جائیں

گھرایک تربیت گاہ

ایک روایت کے مطابق، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: خیرکم خیرکم لأہلہ و أنا خیرکم لأہلی(ابن ماجہ کتاب النکاح، الدارمی کتاب النکاح) یعنی تم میں سب سے اچھا وہ ہے جواپنے گھر والوں کے لیے اچھا ہو اور میںتم میں اپنے گھر والوں کے لیے سب سے اچھا ہوں۔
گھر کسی سماج کا ایک ابتدائی یونٹ ہے۔جوکچھ زیادہ بڑے پیمانہ پر پورے سماج میں پیش آتا ہے وہی گھر کے اندر چھوٹے پیمانہ پر پیش آتا ہے۔ آدمی کے اچھے یا برے ہونے کافیصلہ باہمی تعلقات کے درمیان ہوتاہے۔ ہر گھر گویا انہی تجربات کا ایک چھوٹا ادارہ ہے اور ہر سماج انہی تجربات کا ایک بڑا ادارہ ۔
ہر عورت یا مرد جب اپنے اہلِ خانہ کے ساتھ زندگی گذارتے ہیں تو اُن کو کبھی خوش گوار تجربہ پیش آتا ہے اور کبھی ناخوشگوار تجربہ، کسی معاملہ میں اُن کے اندر نفرت کے جذبات بھڑکتے ہیں اور کبھی محبت کے جذبات، کبھی وہ خوشی سے دوچار ہوتے ہیں اور کبھی ناخوشی سے، کبھی اُن کی انا کو تسکین ملتی ہے اور کبھی اُن کی اَنا پر چوٹ لگتی ہے، کبھی وہ اعتراف کی صورت حال میں ہوتے ہیں اور کبھی بے اعترافی کی صورت حال میں، کبھی حقوق کی ادائیگی کا موقع ہوتاہے اور کبھی حقوق کے انکار کا موقع، وغیرہ۔
گھر کے اندرپیش آنے والی یہ مختلف حالتیں ہر عورت اور ہر مرد کے لیے اپنی تیاری کے مواقع ہیں۔ جو لوگ ایسا کریں کہ وہ ہمیشہ اپنے شعور ایمان کو زندہ رکھیں، وہ اپنا احتساب کرتے ہوئے زندگی گذاریں، اُن کو ہمیشہ آخرت کی پکڑ کا احساس لگا ہوا ہو۔ ایسے لوگوں کا حال یہ ہوگا کہ جب بھی مذکورہ بالا قسم کا کوئی موقع اُن کے سامنے آئے گا تو وہ متنبہ ہوجائیں گے اور صحیح اسلامی روش کو اختیار کریں گے۔
جو عورت اور مرد اپنے گھر کے اندر اس قسم کی ہوش مندانہ زندگی گذاریں، اُن کے لیے اُن کا گھر ایک تربیت گاہ بن جائے گا۔ اُن کے گھر کا ماحول اُنہیں ہر صبح و شام تیار کرتا رہے گا۔ اُن کی یہ زندگی اُن کے لیے اس بات کی ضمانت بن جائے گی کہ جب وہ گھر کے باہر سماجی زندگی میںآئیں تو وہ سماج کے اندر بھی اُسی طرح ایک حق پرست انسان ثابت ہوں جس طرح وہ اپنے گھر کے اندر حق پرست انسان ثابت ہوئے تھے۔
ایک آدمی جواپنے گھر کے اندر لڑتا جھگڑتا ہو وہ اسی طرزِ زندگی کا عادی بن جائے گا۔ جب وہ اپنے گھر سے باہر آئے گا تو یہاں بھی وہ لوگوں سے لڑنے جھگڑنے لگے گا۔ اپنے آفس میں، اپنے کاروبار میں ، روز مرہ کی زندگی میںوہ دوسروں کے ساتھ بھی اُسی طرح غیر معتدل انداز میں رہے گا جس طرح وہ اپنے گھر کے اندر غیر معتدل انداز میں رہ رہا تھا۔ اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ اُس کے گھر کے معاملات بھی بگڑ جائیں گے اور اُس کے باہر کے معاملات بھی۔
اسی طرح کچھ ایسے لوگ ہیں جو اپنے گھر کے اندر تو غیر مہذب انداز میں رہتے ہیں لیکن جب وہ باہر آتے ہیں تو دوسروں کے ساتھ اُن کا رویّہ تہذیب اور شائستگی کا رویّہ بن جاتا ہے۔ اس طرح وہ کوشش کرتے ہیں کہ دوسروں کی نظر میں اچھے بنے رہیں۔ مگر یہ ایک منافقت ہے، اور اللہ کو منافقت پسند نہیں۔
کسی مسلمان پر جو دینی ذمہ داری ہے وہ صرف اس طرح ادا نہیں ہوجاتی کہ وہ مسجد میں پانچ وقت کی نماز پڑھ لے، رمضان کے روزے رکھ لے اور مکہ جاکر حج کرلے۔ اسی کے ساتھ ضروری ہے کہ لوگوں کے ساتھ اُس کا اخلاق اچھا ہو۔ انسانوں کے ساتھ سلوک میںوہ خدائی احکام کی پابندی کرتاہو، لوگوں کے درمیان وہ اس احساس کے ساتھ رہے کہ اُس کو اپنے ہر قول اور ہر فعل کاجواب خدا کو دینا ہے۔
موجودہ دنیا کی زندگی امتحان کی زندگی ہے۔ ایک طرح کی زندگی انسان کو جنت کی طرف لے جاتی ہے۔ اور دوسری طرح کی زندگی اُس کو جہنم کا مستحق بنا دیتی ہے۔زندگی کی اس امتحانی نوعیت کا تعلق گھر کے اندر کے معاملات سے بھی ہے اور گھر کے باہر کے معاملات سے بھی۔
واپس اوپر جائیں

سب سے بڑی نعمت

ایک روایت کے مطابق، پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: خیر متاع الدنیا، المرأۃ الصّالحۃ (صحیح مسلم، کتاب الرضاع؛ نسائی، کتاب النکاح ) یعنی دنیا کی چیزوں میں سے سب سے اچھی چیز صالح عورت ہے۔ اِس کا مطلب یہ ہے کہ ہر عورت جو پیدا ہوتی ہے، وہ اپنے فطری امکان (potential) کے اعتبار سے کسی مرد کے لیے سب سے اچھی متاعِ حیات ہے۔ لیکن اِس امکان کو واقعہ (actual) بنانا مرد کا کام ہے۔ جس طرح خام لوہا (ore) فطرت کا عطیہ ہوتا ہے، لیکن خام لوہے کو اسٹیل بنا نا، انسان کا اپنا کام ہے۔ یہی معاملہ عورت کا بھی ہے۔
مرد کی پہلی ذمے داری یہ ہے کہ وہ عورت کا قدر داں بنے۔ وہ عورت کے اندر چھپے ہوئے جوہر کو پہچانے۔ وہ عورت کے حسنِ باطن کو دریافت کرے۔ عورت کی شکل میں ہر مرد کو ایک اعلیٰ فطری امکان ملتا ہے۔ اب یہ خود مرد کے اوپر ہے کہ وہ اِس واقعے کو امکان بنائے، یا وہ اس کو ضائع کردے۔
اِس عمل کا آغاز یہاں سے ہوتا ہے کہ جو عورت کسی آدمی کو بیوی کے طورپر ملی ہے، وہ اس کو خدا کی طرف سے بھیجا ہوا عطیہ سمجھے۔ جب وہ اپنی بیوی کو خدا کا براہِ راست عطیہ سمجھے گا تو فطری طورپر وہ اس کے بارے میں سنجیدہ ہوجائے گا اور یہ یقین کرے گا کہ خدا کا انتخاب غلط نہیں ہوسکتا۔ خدا کا انتخاب جس طرح دوسرے تمام عالمی معاملات میں درست ہوتاہے، اسی طرح یہاں بھی وہ درست ہے۔ مرد کے اندر جب یہ ذہن بنے گا تو اس کے بعد وہ عمل اپنے آپ شروع ہوجائے گا جو عورت کے امکان کو واقعہ بنانے کے لیے ضروری ہے۔ اپنی بیوی کو خدا کا عطیہ سمجھنے کے بعد اس کے ساتھ معاملہ کرنے کو وہ اپنے لیے عبادت سمجھے گا۔ وہ ہرممکن قیمت ادا کرتے ہوئے یہ کوشش کرے گا کہ اس کی بیوی حقیقی معنوںمیں اس کے لیے دنیا کی سب سے اچھی متاعِ حیات بن جائے۔
ہر آدمی چاہتاہے کہ اس کو اچھی بیوی ملے۔لیکن اچھی بیوی کسی کو ریڈی میڈ سامان کی طرح نہیں ملتی۔ شوہر کو یہ کام خود کرنا پڑتا ہے۔ اِس عمل کی کامیابی کے لیے مرد کے اندر دو صفات کا ہونا ضروری ہے— سچی ہمدردی اور صبر و تحمل۔
واپس اوپر جائیں

ایک حدیث

اِزدواجی رشتے کے بارے میں ایک جامع نصیحت حدیثِ رسول میںآئی ہے۔ حضرت ابوہریرہ کی روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لا یفرکُ مؤمنٌ مومنۃً، إن کرِہ منہا خُلقاً، رضی منہا اٰخر (صحیح مسلم، کتاب الرّضاع، باب الوصیۃ بالنساء) یعنی کوئی مومن مرد کسی مومن عورت سے بغض نہ رکھے۔ اگر عورت کی ایک خصلت اُس کو ناپسند ہو تو اُس کے اندر کوئی دوسری خصلت موجود ہوگی جو اس کو پسندآئے۔
اصل یہ ہے کہ کسی عورت یا مرد کے اندر ساری اچھی صفات پائی نہیں جاتیں۔ یہ فطرت کا نظام ہے کہ کسی کے اندر ایک صفت موجود ہوتی ہے تو اس کے اندر دوسری صفت موجود نہیں ہوتی۔ مثلاً عام طورپر دیکھا گیا ہے کہ ایک عورت یا مرد اگر ظاہری دل کَشی کے اعتبار سے زیادہ ہوں تو وہ داخلی خصوصیات کے اعتبار سے کم ہوں گے۔ اور اگر کسی میں داخلی خصوصیات زیادہ ہوں تو اس کے اندر خارجی صفات کم پائی جائیں گی۔
انسان کا یہ مزاج ہے کہ وہ کسی کے منفی پہلو کو زیادہ دیکھتا ہے، اُس کے مثبت پہلو اکثر اس کی نگاہ سے اوجھل ہوجاتے ہیں۔ یہ ایک تباہ کُن مزاج ہے۔ اِسی مزاج کی وجہ سے رشتوں میں بگاڑ پیداہوتا ہے۔ اِس کے بجائے اگر ایسا کیا جائے کہ مثبت پہلو پر دھیان دیاجائے اور منفی پہلو کو نظر انداز کردیا جائے تو تعلقات خود بخود خوش گوار ہوجائیں گے۔ ایسا کرنے کی صورت میں ہر مرد کو اُس کی بیوی بہترین رفیقِ حیات دکھائی دے گی اور ہر عورت کو اُس کا شوہر بہترین رفیقِ زندگی نظر آئے گا۔
خدا نے کسی عورت یا مرد کو کم تر پیدا نہیں کیا۔حقیقت یہ ہے کہ ہر عورت اور ہر مرد اپنے آپ میں باعتبار تخلیق کامل ہوتے ہیں۔ یہ ہمارے اپنے فہم کا قصور ہے کہ ہم کسی کو کم اور کسی کو زیادہ سمجھ لیتے ہیں۔ عورت اور مرد اگر اِس حقیقت کو جان لیں تو ان کی زندگی شکر کی زندگی بن جائے، شکایت یا محرومی کا احساس ان کے اندر باقی نہ رہے اور پھر وہ زیادہ بہتر طورپر زندگی کی تعمیر کے قابل ہوجائیں۔
واپس اوپر جائیں

امر بالمعروف اور نہی عن المنکر

آج کل مسلمان مختلف مقامات پر متشددانہ کارروائی میں مبتلا ہیں۔ جب اُن کو اِس سے روکا جائے، تو وہ کہتے ہیں کہ ہم تو وہی کررہے ہیں جس کا حکم ہم کو پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے دیا ہے۔ اِس سلسلے میں وہ اُس حدیثِ رسول کو پیش کرتے ہیں جس میںاہلِ ایمان کو تغییر ِ منکَر کا حکم دیاگیا ہے۔ یہ روایت حدیث کی مختلف کتابوں میںآئی ہے۔ صحیح مسلم کے الفاظ یہ ہیں مَن رأی منکم منکراً فلْیغیّرہ بیدہ، فإن لم یستطع فبلسانہ، فإن لم یستطع فبقلبہ، وذلک أضعف الإیمان (صحیح مسلم، کتاب الإیمان) یعنی تم میں سے جو شخص کسی منکر کو دیکھے، تو وہ اس کو اپنے ہاتھ سے بدل دے، اور اگر وہ اِس کی استطاعت نہ رکھتا ہو تو پھر اپنی زبان سے، اور اگر وہ اس کی استطاعت نہ رکھتا ہو تو پھر اپنے دل سے، اور یہ سب سے زیادہ کمزور ایمان ہے۔دوسری روایت میں اِس حدیث کا پہلا ٹکڑا اِن الفاظ میں آیا ہے:مَن رأی منکراً فاستطاع أن یغیّرہ بیدہ فلیغیّرہ بیدہ (سنن أبی داؤد، کتاب الملاحم) یعنی جو شخص کسی منکر کو دیکھے، تو اگر وہ استطاعت رکھتا ہو تو وہ اس کو اپنے ہاتھ سے بدل دے۔ روایت کے بقیہ الفاظ مشترک ہیں۔
اِس حدیث کو عام طورپر تشدد کے جواز میں پیش کیا جاتاہے، حالاں کہ حدیث میں اِس کا ذکر نہیں ہے۔ اِس حدیث میں منکر کو عملاً بدل دینے، یا عملاً بدل دینے کی استطاعت نہ ہونے کی صورت میں اس کے خلاف بولنے کا ذکر کیاگیا ہے، نہ کہ منکر کو دیکھ کر لوگوں کے اوپر تشدد کرنے کا، یا خود کُش بم باری (suicide bombing) کا۔ اِس حدیث سے متشددانہ کارروائیوں کا جواز ہر گز نہیں نکلتا۔
اِس روایت میں منکر کی تغییر کا لفظ آیا ہے۔ تغییر کے معنی عربی زبان میں بدل دینے (replacement) کے ہیں، یعنی منکَر کی حالت کو بدل کر غیر منکر کی حالت قائم کرنا۔ اِس حدیث میںاصلاحِ حال کا حکم ہے، نہ کہ تخریب اور فساد کا۔
عربی زبان کے مشہور لغت ’لسان العرب‘ میں تغییر کا مفہوم اِن الفاظ میں بتایا گیا ہے— غیّرہ:حوّلہ وبدّلہ کأنہ جعلہ غیر ما کان (5/40) اس کی تغییر کی، یعنی اس کو بدل دیا۔ گویا کہ اس کو ایسا بنا دیا جیسا کہ وہ پہلے نہ تھا۔ امام راغب الاصفہانی (وفات1108)نے اپنی کتاب ’المفردات فی غریب القرآن‘ میں اِس لفظ کی تشریح اِس طرح کی ہے:یقال غیّرتُ داری إذا بنیتہا بناءً غیر الّذی کان۔ کہاجاتا ہے کہ میں نے اپنے گھر کی تغییر کی، یعنی جب تم اس کی تعمیر کو بدل کر دوسری طرح اس کی تعمیر کرو (صفحہ 368 )۔
موجودہ زمانے میں جگہ جگہ جہاد کے نام پر تشدد کے واقعات ہورہے ہیں۔یہ ’’مقدس تشدد‘‘ مسلم رہنماؤں کی قیادت میں انجام پارہا ہے۔ اِس فعل میںتقریباً تمام امت شریک ہے۔ اِس لیے کہ جو لوگ براہِ راست اس میں شریک نہیں ہیں، وہ اس کے بارے میں خاموش ہیں۔ اسلامی نقطۂ نظر سے، اُن کی یہ خاموشی بالواسطہ شرکت کا درجہ رکھتی ہے۔ اِس لیے اسلامی اصول کے مطابق، پوری امت کو اِس عمل میں شریک مانا جائے گا، کچھ لوگوں کو براہِ راست طورپر، اور بقیہ لوگوں کو بالواسطہ طورپر۔
واقعات بتاتے ہیں کہ اِس متشددانہ عمل کا کوئی بھی مثبت نتیجہ برآمد نہیں ہورہا ہے۔ اِس عمل کا ہر جگہ صرف ایک ہی نتیجہ نکل رہا ہے، اور وہ تخریب ہے، نہ کہ تعمیر۔ ایسی حالت میں بلا شبہہ یہ کہا جاسکتا ہے کہ یہ متشددانہ کارروائیاں اور جو کچھ ہوں، لیکن وہ تغییر ِ منکر کا عمل ہر گز نہیں۔ تغییر ِ منکر یہ ہے کہ آدمی ناپسندیدہ صورت ِ حال کو بدل کر اس کی جگہ پسندیدہ صورتِ حال قائم کرے۔ اِس کے برعکس، ایک ایسی کوشش جو کاؤنٹر پروڈکٹیو (counterproductive) ثابت ہو، وہ یقینی طورپر تخریب اور فساد ہے، نہ کہ کوئی مطلوب اسلامی عمل۔
کسی غیر مطلوب صورتِ حال کو دیکھ کر اس کے خلاف منفی رد عمل ظاہر کرنا، صرف فساد کا ایک عمل ہے، وہ تغییر منکر نہیں۔ تغییر منکر مکمل طورپر ایک مثبت عمل ہے۔ وہ حالات کی اصلاح کے لیے کیا جاتا ہے، نہ کہ حالات کو مزید بگاڑنے کے لیے۔ اصلاحِ حال کا طریقہ یہ ہے کہ غیر متاثر ذہن کے ساتھ حالات کا مطالعہ کیا جائے اور پھر تعمیری منصوبہ بندی کے ذریعے صورتِ حال کو درست کرنے کی کوشش کی جائے۔ جو لوگ اِس کے خلاف کریں، وہ بلاشبہہ مفسد ہیں، نہ کہ مصلح۔
واپس اوپر جائیں

دوطرفہ معاملہ

ایک روایت کے مطابق، پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لایرمی رجلٌ رجلاً بالفسق ولا یرمیہ بالکفر إلاّ ارتدّت علیہ، إن لم یکن صاحبہ کذٰلک (مسند احمد، جلد 5 ، صفحہ 181) یعنی جب بھی ایک آدمی دوسرے آدمی پر کافر یا فاسق ہونے کا الزام لگاتا ہے، تو ضرور یہ الزام خود قائل کی طرف لوٹ آتا ہے، اگر دوسرا آدمی ویسا نہ ہو۔یہ کوئی پُر اسرار بات نہیں۔ یہ فطرت کا ایک قانون ہے جس کو خدا نے اِس دنیا میں قائم کررکھا ہے۔ اِس قانون کو موجودہ زمانے میں بوم رَینگ (boomerang) کا قانون کہاجاتا ہے۔یعنی کسی چیز کو آپ جس قوت سے دوسرے کی طرف پھینکیں، اُسی قوت سے وہ آپ کی طرف لوٹ کر آئے گی:
It is the law of the boomerang — the harder and faster you throw it, the faster and more violently it comes back.
جب کوئی آدمی کسی کو بُرا کہتا ہے، یا اس کو فاسق یا کافر بتا تا ہے تو وہ اس کو اپنے داخلی احساس کے تحت صرف ایک یک طرفہ معاملہ سمجھتا ہے، یعنی ایک ایسی بات جس کا تعلق خود اس کی اپنی ذات سے نہیں ہے، بلکہ صرف دوسرے شخص کی ذات سے ہے۔ مگر یہ ایک خطرناک بھول ہے۔ کیوںکہ اگر دوسرا آدمی ویسا نہیں ہے جیسا آپ نے اس کو بتایا ہے، تو آپ کا کہا ہوا خود آپ کی طرف لوٹ آئے گا۔ جو الزام آپ دوسرے شخص کو دے رہے تھے، آپ خود اس کے مجرم بن جائیں گے۔
اب اگر یہ دیکھا جائے کہ فسق یا کفر کا تعلق انسان کے دل سے ہے، اور دل کا حال صرف خدا جانتا ہے تو ہر وہ شخص جو خدا سے ڈرتا ہو، اس کا حال یہ ہوجائے گا کہ اِس قسم کی زبان استعمال کرنے سے وہ آخری حد تک بچے گا۔ وہ اگر کسی شخص کے اندر کوئی برائی دیکھ رہا ہے تو وہ خیر خواہانہ انداز میں اس کو نصیحت کرے گا۔ وہ ہر گز ایسا نہیں کرے گا کہ وہ اس کے بارے میں فاسق اور کافر جیسی زبان بولنے لگے۔ وہ کسی شخص کے فسق اور کفر کو خدا کے اوپر چھوڑ دے گا، اوراپنی ذمے داری صرف یہ سمجھے گا کہ وہ نصیحت اور تلقین کے ذریعے دوسرے انسان کی اصلاح کی کوشش کرتا رہے۔
واپس اوپر جائیں

بولنے پر کنٹرول

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اِسراء کے سفر میں جزاوسزا کے معاملے کو تمثیل کے روپ میں دکھایا گیا۔ اُن میں سے ایک تمثیلی واقعہ یہ تھا: مرّ بثور عظیم یخرج من ثقب صغیر یرید أن یرجع فلا یستطیع۔ قال:ہذا الرجل یتکلم بالکلمۃ فیندم فیرید أن یردہا فلا یستطیع۔ (رواہ الطبرانی والبزّار، بحوالہ فتح الباری، جلد 7، صفحہ 63، باب حدیث الإسراء) یعنی معراج کے دوران رسول اللہ ایک عظیم الجثہ بیل کے پاس سے گزرے۔ آپ نے دیکھا کہ وہ ایک چھوٹے سوراخ سے نکلتا ہے، پھروہ چاہتا ہے کہ وہ واپس جائے، مگر وہ واپس نہیں جاسکتا۔ آپ کو بتایا گیا کہ یہ اُس انسان کی مثال ہے جو ایک بات کہتا ہے، پھر اس پر شرمندہ ہوتا ہے۔ وہ چاہتا ہے کہ وہ اپنی بات کو واپس لے لے، مگر وہ اس کو واپس لینے پر قادر نہیںہوتا۔
یہ اُس انسان کی مثال ہے جو غیر ذمے دارانہ طورپر کسی کے خلاف ایک منفی بات کہہ دیتا ہے، پھر وہ دیکھتا ہے کہ اس کی منفی بات سے ایک بڑا فتنہ پیدا ہوگیا ہے۔ اب وہ چاہتا ہے کہ وہ اپنی بات کو واپس لے، مگر وہ اس پر قادر نہیں ہوتا۔ اس کی منفی بات ایک فتنے کو جگا دیتی ہے۔ وہ ایک ایسے فتنے کا باعث بن جاتی ہے جس کو کہنے والے نے کبھی سوچا بھی نہ تھا۔
اِس حدیث کا مدعا یہ ہے کہ آدمی کو بولنے کے معاملے میں بہت زیادہ محتاط رہنا چاہیے۔ اگر آدمی کوئی مثبت بات بولے تو اس میں کسی فتنے کا اندیشہ نہیں ہے۔
لیکن منفی بات کا معاملہ اِس سے مختلف ہے۔ منفی بات ہمیشہ بہت تیزی سے پھیلتی ہے اور پھیلنے کے وقت اس میں مزید اضافہ ہوتا رہتا ہے۔ ابتدا میں وہ بظاہر ایک چھوٹی بات معلوم ہوتی ہے، لیکن لوگوں کے درمیان پھیلنے کے بعد وہ نہایت سنگین صورتِ حال اختیار کر لیتی ہے، یہاں تک کہ آخر کار اس کے نتیجے میں نفرت اور تشدد کا جنگل اگ آتا ہے۔ ایسی حالت میں آدمی کے اوپر فرض ہے کہ وہ نتیجہ (result)سے پہلے سوچے، وہ بولنے سے پہلے اس کے نتیجے پر غور کرے۔
واپس اوپر جائیں

اکرام یا تکلف

موجودہ زمانے میں یہ عام رواج ہے کہ لوگ اپنے مہمان کے کھانے پینے کے لیے غیر معمولی اہتمام کرتے ہیں اور اُس پر بہت زیادہ پیسہ خرچ کرتے ہیں۔ اگر اُن سے کہا جائے کہ یہ اسراف ہے اور وہ اپنے وقت اور مال کا ضیاع ہے، تووہ کہیں گے کہ یہ تو شریعت کی تعلیم ہے۔ شریعت میں ’اکرامِ ضیف‘ کا حکم دیا گیا ہے، اِس لیے ہم ایسا کرتے ہیں۔
مگر یہ سرتا سر ایک بے بنیاد بات ہے۔ شریعت میں جس اکرامِ ضیف کا حکم ہے، وہ صرف بقدرِ ضرورت ہے، نہ کہ بقدرِ تکلف۔ یہ صحیح ہے کہ حدیث میںاکرامِ ضیف کی تعلیم دی گئی ہے۔ حدیث میں آیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو شخص اللہ پر اور آخرت کے دن پر یقین رکھتا ہو، اُس کو چاہیے کہ وہ اپنے مہمان کا اکرام کرے (مَن کان یؤمن باللہ والیوم الآخرفلْیکرم ضیفہ)صحیح البخاری، حدیث نمبر6018 ۔ مگر اکرام کا مطلب ہر گز تکلف نہیں۔ اکرام سادہ معنوں میں ایک انسانی اور اخلاقی نوعیت کی چیز ہے، نہ کہ کوئی نمائش اور تکلف کی چیز۔
مہمان کے لیے اکرام کے نام پر تکلف کرنے سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صراحت کے ساتھ منع فرمایا ہے۔ چناں چہ حضرت سلمان کہتے ہیں کہ : نہیٰ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم أن نتکلف للضّیف (الجامع الصغیر ، جلد 2 ، صفحہ 1159 ) یعنی رسول اللہ نے ہم کو اِس بات سے منع فرمایا کہ ہم مہمان کے لیے تکلف کریں۔ اِسی طرح، ایک اورروایت کے مطابق، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: أناوأتقیاءُ أمّتی بُرآء من التکلف ( کشف الخفاء، جلد 1، صفحہ 236) یعنی میں اور میری امت کے متقی لوگ تکلف سے بہت زیادہ دور رہنے والے ہیں۔
نفسیاتی اعتبار سے یہ کہنا صحیح ہوگا کہ مہمان کی آمد کے موقع پر جوتکلف کیا جاتا ہے، وہ حقیقۃً لوگوں کے نزدیک، خود اپنے اکرام کی ایک صورت ہوتی ہے، نہ کہ مہمان کے اکرام کی صورت۔ حقیقت یہ ہے کہ جس آدمی کے اندر تقویٰ کی صفت موجود ہو، وہ کبھی تکلف جیسی نمائشی چیز کا تحمل نہیں کرسکتا۔
واپس اوپر جائیں

دوسرے کے لیے دعاء

ایک روایت حدیث کی مختلف کتابوں میں آئی ہے۔ صحیح مسلم کے الفاظ یہ ہیں: دعوۃ المرء المسلم لأخیہ بظہر الغیب مستجابۃ، عند رأسہ ملک موکَّل، کلّما دعا لأخیہ بخیر، قال الملک الموکّل بہ آمین ولک بمثل (کتاب الذکر والدعاء، باب فضل الدعاء للمسلمین بظہر الغیب) یعنی آدمی جب اپنے بھائی کی غیر موجودگی میں اُس کے لیے دعاء کرتا ہے تو ایسی دعاء قبول ہوتی ہے۔ اس کے پاس ایک فرشتہ موجود رہتا ہے۔ جب بھی وہ اپنے بھائی کے لیے خیر کی دعاء کرتا ہے تو فرشتہ کہتا ہے کہ تمھاری دعاء قبول ہو اور اسی کے مثل تمھارے لیے بھی۔
دوسرے کی غیر موجودگی میں اس کی بھلائی کے لیے دعا کرنا ، ہمیشہ انسانی خیر خواہی کے جذبے سے ہوتا ہے۔ انسان کے لیے سچی خیر خواہی ایک عظیم عبادت ہے۔
جب بھی کسی آدمی کے اندر دوسرے انسان کے لیے سچی خیر خواہی کاجذبہ ابھرے اور وہ اُس انسان کی غیر موجودگی میں اس کے لیے اللہ سے دعاء کرے، تو وہ ضرور قبول ہوتی ہے۔ ایسی دعا کبھی ضائع نہیں جاتی۔
لیکن کوئی بھی دعاء سنت اللہ کو منسوخ کرنے والی نہیں بن سکتی۔ دعاء کی قبولیت ہمیشہ سنت اللہ کے مطابق ہوتی ہے۔ جہاں تک دعاء کرنے والے کی ذات کا تعلق ہے، اس کو اپنے جذبۂ خیر خواہی کی بنا پر ضرور ثواب ملے گا۔لیکن جس شخص کے لیے دعاء کی گئی ہے، اُس کے لیے دعاء کی قبولیت اِس پر منحصر ہے کہ وہ شخص واقعۃً خود اپنے اندر اِس کا کتنا زیادہ استحقاق رکھتا ہے۔
اللہ کی سنت کے مطابق ایسا نہیں ہوسکتا کہ دوسرا شخص خود اپنی ذات میں قبولیت کا استحقاق نہ رکھتا ہو، اِس کے باوجود اس کو دعاء کا فائدہ حاصل ہوجائے۔ کسی کے لیے دعاء کرنا بلاشبہہ ایک عبادت ہے۔ لیکن کسی کے حق میں دعاء کا قبول ہونا خالص ایک خدائی معاملہ ہے۔ یہ صرف اللہ کو معلوم ہے کہ ذاتی استحقاق کے اعتبار سے کون اِس کا اہل ہے اور کون اِس کا اہل نہیں۔
واپس اوپر جائیں

اعلیٰ عبادت

ایک روایت کے مطابق، پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: المؤمن الذی یخالط الناس ویصبر علی اذاہم أعظم اجراً من الذی لا یخالطہم ولا یصبر علی أذاہم (ابن ماجہ کتاب الفتن، الترمذی کتاب القیامۃ، مسند احمد 2؍43) یعنی وہ مومن جو لوگوں کے ساتھ اختلاط کرتا ہے اور ان کی ایذاؤں پر صبر کرتا ہے اس کا اجراس مومن سے زیادہ بڑا ہے جو کہ لوگوں کے ساتھ اختلاط نہیں کرتا اور ان کی ایذاؤں پر صبر نہیں کرتا۔
اس حدیث میں اِختلاط(interaction) سے مراد سادہ طورپر صرف اختلاط نہیں ہے۔ بلکہ اس سے مراد وہ اختلاط ہے جس کے نتیجہ میں لوگوں کی طرف سے ایذاء کا تجربہ پیش آئے۔ اختلاط اپنے آپ میں ایذاء کا سبب نہیں ہے۔ اگر آپ لوگوں سے اس طرح ملیں کہ لوگوں سے میٹھے انداز میں بولیں، لوگوں کے ساتھ سمجھوتے کا طریقہ اختیار کریں، آپ لوگوں سے تفریحی باتیں کریں، آپ اپنے کلام میں وہ باتیں بولیں جو لوگ سننا چاہتے ہیں تو آپ لوگوں کی نظر میں ہر دِل عزیز بن جائیں گے۔ پھر آپ کو لوگوں کی طرف سے صرف اچھے سلوک کا تجربہ پیش آئے گا۔
مثلاً اگر آپ دو قوموں کے جھگڑے میںاپنی قوم کی ہر حال میں وکالت کریں اور دوسری قوم کو ہر حال میںبُرا بتائیں تو یقینی طورپر آپ کی قوم آپ کو اپنا ہیرو بنا لے گی۔ اگر آپ لوگوں کو ایسی باتیں بتائیں جس میں ان کو اپنے فخر پسند مزاج کی غذا ملتی ہو تو کوئی آپ کو کیوں ستائے گا۔ اگر آپ لوگوں کو ایسی کہانیاں سُنائیں جن میں انہیں سَستی قیمت پر جنت مل رہی ہو تو کوئی وجہ نہیں کہ لوگ آپ کو ستانے کے لیے کھڑے ہوجائیں۔ لوگوں کے اقتصادی مطالبات، ان کی قومی شکایتیں، ان کے سیاسی موقف کو درست مان کر اگر آپ وہ بولی بولیں جس میں انہیں اپنا موقف درست نظر آتا ہو تو کوئی شخص بھی آپ کو ستانے والا نہیں ملے گا۔
حقیقت یہ ہے کہ حدیث میں اختلاط سے مراد مُجرَّد اختلاط نہیں ہے۔ بلکہ اِس سے مراد وہ اختلاط ہے جس میں آپ وہ باتیں کہیں جو لوگوں کے مزاج کے خلاف ہو۔ جس میں ان کے موقف کو غلط ٹھہرایا گیا ہو۔ جس میں انہیں ان کی غلطیوں پر سرزنش کی گئی ہو۔
حقیقت یہ ہے کہ اس حدیث میں اختلاط سے مراد وہ اختلاط ہے جس میں آپ لوگوں کے غلط رویّے کی نشاندہی کرکے ان پَر تنقید کریں، جس میں آپ لوگوں سے ان کی روش میں تبدیلی کا مطالبہ کریں، آپ لوگوں سے ایسی باتیں کہیں جس میں لوگوں کو اپنا وجود غلط نظر آنے لگے۔
اِس دوسری صورت میں ایسا ہوتا ہے کہ لوگوں کی طرف سے آپ کو ایذا رسانی کا تجربہ ہوتا ہے۔ لوگ آپ کی تنقیدی باتوں پر بھڑک کر آپ کے مخالف بن جاتے ہیں۔ لوگ اپنے آپ کو جائز ٹھہرانے کے لیے آپ کی کردار کُشی کرنے لگتے ہیں۔ ایسا شخص لوگوں کے لیے ان کو برہنہ (expose) کرنے کا سبب بن جاتا ہے۔
لوگوں کی طرف سے ایذا رسانی کا یہ تجربہ خاص طور پر اُس وقت پیش آتا ہے جب کہ آپ شریعت کے اُس حکم پر عمل کریں جس کو ’’امر بالمعروف اور نہی عن المنکَر‘‘کہاگیا ہے، یعنی لوگوںکو معروف کا حکم کرنا اور اُن کو منکر سے روکنا۔ اس عمل میں لازماً ایسا ہوتا ہے کہ آپ کو لوگوں کا احتساب کرنا پڑتا ہے۔ لوگوں کے اوپر تنقید کرنے کی صورتیں پیش آتی ہیں۔ لوگ جن برائیوں میں مبتلا ہیں اُن پر اُنہیں ٹوکنا پڑتا ہے۔ حتیٰ کہ اگر لوگ جہاد کے نام پر تشدد کررہے ہوں تو ان کی مذمت کرنی پڑتی ہے۔ اگر اکابر کے نام پر اُنہوں نے غلط کو صحیح بنا رکھا ہو تو اُس کا تجزیہ کرکے بتانا پڑتا ہے کہ حقیقی معنوں میں صحیح کیا ہے اور غلط کیا۔ اگر وہ اپنے قومی مفاد کے لیے دین کا استحصال کررہے ہوں تو اُس کے خلاف کھل کر بولنا پڑتا ہے کہ حقیقی معنوں میں صحیح کیا ہے اور غلط کیا۔ اختلاط کی یہی وہ صورتیں ہیں جو اختلاط کو ایذا رسانی کے ہم معنٰی بنادیتی ہیں۔مزید یہ کہ داعی جب مَدعو قوم کے ساتھ دعوتی اختلاط کرتا ہے تو اُس وقت داعی کو مَدعو قوم کی بہت سی نارَوا چیزوں اور رسومات کو گوارا کرنا پڑتا ہے، جو اُس کے لیے اجنبی اور نادرست ہوتی ہیں۔ یہ چیزیں داعی کے لیے تکلیف دہ ہوتی ہیں۔ مگر دعوتی کام کی یہ لازمی قیمت ہے۔ اِس کے بغیر دعوتی عمل ممکن نہیں۔
واپس اوپر جائیں

دنیا کی حقیقت

حضرت ابوہریرہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: الدنیا ملعونۃٌ، ملعونٌ ما فیہا إلاّ ذکر اللہ، وما والاہ، وعالماً ومتعلما (ابن ماجہ، کتاب الزّہد؛ الترمذی، کتاب الزہد) یعنی دنیا ملعون ہے اور جو کچھ دنیا کے اندر ہے، وہ سب ملعون ہے، سواذکراللہ کے اور وہ چیز جو اُس کے قریب ہو، اور عالم اور طالبِ علم۔
دنیا اور ذکر اللہ دونوں ایک دوسرے سے الگ نہیں ہیں۔ یادِ الٰہی کے لیے دنیا کو پوائنٹ آف ریفرنس بنا لینا، یہی وہ چیز ہے جس کو اِس حدیث میں ذکر اللہ کہاگیا ہے۔ اگر یہ یاد اللہ کے نام کے ساتھ ہو تووہ براہِ راست ذکر ہے۔ اور اگر نام کے بغیر اللہ کو یاد کیا جائے تو وہ بالواسطہ ذکر۔ اِسی طرح، وہ عالم اور وہ طالبِ علم خدا کے نزدیک مطلوب عالم اور طالبِ علم ہیں جو اپنے علم کو ذکر ِ الٰہی کا ذریعہ بنائیں۔
دنیا یا دنیا کی چیزوں کا خالق بھی اللہ ہے۔ اِس لیے دنیا فی نفسہ ملعون نہیں ہوسکتی۔ یہ دراصل دنیا کا استعمال ہے جو اس کو ملعون یا غیر ملعون بناتا ہے۔ جو شخص دنیا کو پاکر خدا کو بھول جائے، اس کے لیے دنیا ملعون کا درجہ رکھتی ہے۔ اور جس شخص کے لیے دنیا کو پانا یادِ الٰہی کا ذریعہ بن جائے، اُس کے لیے دنیا رحمت اور سعادت کی چیز ثابت ہوگی۔
حقیقت یہ ہے کہ موجودہ دنیا آزمائش (test) کے لیے بنائی گئی ہے۔ دنیا کی تمام چیزیں آزمائشی پرچے (test papers) کی حیثیت رکھتی ہیں۔ یہ پرچے اِس لیے ہیں، تاکہ ناکام ہونے والوں اور کامیاب ہونے والوں کو ایک دوسرے سے الگ کردیا جائے۔
جس شخص نے دنیا کی چیزوں سے یادِ خداوندی کی غذا لی وہ اِس آزمائش میں کامیاب ہوا۔ اِس کے برعکس، جس آدمی کے لیے دنیا کی چیزیں خالق سے دوری اور فراموشی کا سبب بن گئیں، وہی وہ انسان ہے جو آزمائش میں ناکام ہوگیا۔ اِس طرح، دنیا بہ اعتبارِ استعمال، کسی کے لیے ذریعۂ لعنت ہے اور کسی کے لیے ذریعۂ رحمت۔
واپس اوپر جائیں

تحفہ کلچر

ایک بیرونی سفر میں میری ملاقات کویت کے ایک عرب پروفیسر سے ہوئی۔ ان کے ہوٹل کے کمرہ میں ہم دونوں نے نماز پڑھی۔ اس وقت وہ ایک رسٹ واچ پہنے ہوئے تھے۔ انھوںنے بیزاری کے ساتھ گھڑی کو اتارا اور اس کو میز پر رکھ دیا۔ انھوں نے کہا کہ یہ گھڑی ٹھیک کام نہیں کرتی، وہ چلتے چلتے رک جاتی ہے۔ میںنے پوچھا تو انھوںنے بتایا کہ یہ تحفہ کی گھڑی ہے۔ میںنے مزید پوچھا تو انھوںنے کہا کہ ابھی حال میں کسی نے ان کویہ گھڑی تحفہ میں دی ہے۔ میں نے پوچھا کہ کیا کویت میں بھی تحفہ دینے والوں کا یہی مزاج ہے۔ انھوںنے کہا کہ تحفہ کے معاملے میں ہر جگہ کے لوگوں کا مزاج ایک ہی ہے، یعنی ایسی چیز دینا جو کار آمد ہونے سے زیادہ نمائشی ہو۔
تحفہ کے بارے میں یہ شکایت میں نے بہت سے لوگوں سے سنی ہے۔ میں ذاتی طورپر اس قسم کے تحفہ کو ایک گناہ کا فعل سمجھتا ہوں۔ اس لیے کہ ایسا تحفہ تبذیر (فضول خرچی) کے ہم معنی ہے۔ اور تبذیر کو قرآن میں ایک شیطانی عمل کہاگیا ہے (الاسراء27 )۔ اس قسم کے نمائشی تحفہ میں صرف مال ضائع ہوتا ہے، ایسا تحفہ کسی حقیقی ضرورت کو پورا نہیں کرتا۔
حدیث میں آیا ہے کہتہادوا تحابّوا (الأدب المفرد للبخاری، حدیث نمبر594 ) یعنی ایک دوسرے کو ہدیہ دو، اس سے آپس میں محبت بڑھے گی۔ اِس حدیث کے مطابق، صحیح ہدیہ وہ ہے جو آپس میں سچی محبت بڑھائے۔ جو ہدیہ محبت پیدا کرنے کے بجائے آپس میں کدورت پیدا کرے، جس سے ایک دوسرے کے بارے میں رائے خراب ہوجائے، ایسا ہدیہ بلاشبہہ ہدیہ کی ضد ہے، نہ کہ حقیقی معنوں میں کوئی ہدیہ۔
تحفہ کی دو قسمیں ہیں۔ ایک، نمائشی تحفہ اور دوسرے، حقیقی ضرورت کا تحفہ۔ عام طورپر لوگ نمائشی تحفہ دیتے ہیں۔ ایسے تحفہ میں پیسہ تو خرچ ہوجاتا ہے، لیکن وہ تحفہ کسی آدمی کے لیے کار آمد ثابت نہیں ہوتا۔ اِس معاملے میں صحیح طریقہ یہ ہے کہ آدمی یا تو حقیقی تحفہ دے، یا وہ سرے سے کوئی تحفہ نہ دے۔ نمائشی تحفہ دینا ہر گز سنتِ رسول کی پیروی نہیں ہے۔ نمائشی تحفہ دینا صرف ایک جرم ہے، نہ کہ کوئی اچھا کام۔
واپس اوپر جائیں

سجدۂ قربت

قرآن کی سورہ نمبر 96 میں ارشاد ہوا ہے: واسجد واقترب(العلق19 ) یعنی سجدہ کرو اور قریب ہو جاؤ۔ حدیث میں آیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: أقرب ما یکون العبد من ربّہ وہو ساجد، فأکثروا الدعاء(صحیح مسلم، کتاب الصلاۃ) یعنی بندہ اپنے رب سے سب سے زیادہ قریب اُس وقت ہوتا ہے، جب کہ وہ سجدے میں ہوتا ہے، اِس لیے تم سجدے کی حالت میں زیادہ سے زیادہ دعا کرو۔ قربتِ خداوندی کا یہ معاملہ صرف شکلِ سجدہ پر نہیں ہے، بلکہ روحِ سجدہ پر ہے۔ ایک واقعہ اِس معاملے کی وضاحت کرتا ہے۔
بنگلور کا واقعہ ہے۔ ایک ہندو نوجوان کی بعض عادتوں سے اُس کا باپ سخت ناراض ہوگیا۔ اُس نے اپنے بیٹے کو گھر سے نکال دیا۔ ایک عرصے تک وہ اِدھر اُدھر بھٹکتا رہا۔ آخر کار، اس کی ملاقات ڈاکٹراحمد سلطان (وفات1999 ) سے ہوئی۔ ڈاکٹر صاحب نے کہا کہ اگر تم چاہتے ہو کہ تمھارا باپ تم کو دوبارہ قبول کرلے تو اس کی صرف ایک صورت ہے۔ تم خاموشی سے اپنے گھر جاؤ، اوروہاں پہنچ کر دروازہ کھٹکھٹاؤ۔ جب دروازہ کھلے اور تمھارا باپ تمھارے سامنے آئے تو تم فوراً ہی باپ کے پیروں پر گر پڑو، اور کہو کہ باپ، مجھ سے غلطی ہوئی، مجھ کو معاف کردے۔ لڑکے نے ایسا ہی کیا۔ جب لڑکا روتے ہوئے اپنے باپ کے پیروں پر گر پڑا تو باپ بھی رونے لگا۔ اس نے اپنے بیٹے کو اٹھا کر سینے سے لگالیا اور اس کو معاف کرکے دوبارہ اپنے گھر میں داخل کرلیا۔
سجدہ بلاتشبیہہ اِسی قسم کی ایک حالت ہے۔ سجدہ کوئی رسمی فعل نہیں ۔ حقیقی سجدہ یہ ہے کہ ایک بندہ شدتِ احساس سے بے چین ہوجائے اور بے تابانہ طور پر وہ اپنا سر زمین پر رکھ دے۔ ایسا سجدہ گویا کہ اپنے رب کے قدموں میں سررکھنے کے ہم معنیٰ ہوتا ہے۔ ایسا سجدہ تسلیم ورضا کی آخری صورت ہے۔ جب کوئی بندہ اِس طرح اپنے آپ کو آخری حد تک خدا کے آگے سرینڈر(surrender) کردے تو خدا کی رحمت کا تقاضا ہوتا ہے کہ وہ اس کو معاف فرما کر اُسے اپنی رحمتوں کے سایے میں لے لے۔
واپس اوپر جائیں

انسان ایک استثنائی مخلوق

پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک ارشاد حدیث کی مختلف کتابوں میں آیا ہے۔ اِس کے مطابق، آپ نے فرمایا: خلق اللہ آدم علیٰ صورتہ (صحیح البخاری، کتاب الإستئذان؛ صحیح مسلم، کتاب البر، کتاب الجنۃ؛مسند احمد، جلد 2 ،صفحہ 244) یعنی اللہ نے آدم کو اپنی صورت پر پیدا کیا۔ اِس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ جسمانی شکل وصورت کے اعتبار سے، انسان خدا کے مانند ہے۔ یہاں ’’صورت‘‘ سے مراد صفات (attributes) ہیں، یعنی اللہ تعالیٰ نے انسان کو محدود طورپر وہ صفات عطا فرمائی ہیں جو اللہ کی ذات میں اپنے کمال درجے میںموجود ہیں۔
انسان پوری کائنات میں ایک استثنائی مخلوق ہے۔ انسان ایک زندہ وجود ہے۔ انسان وہ واحد مخلوق ہے جس کو ایک جامع شخصیت (personality) عطا ہوئی ہے۔ انسان سوچتا ہے، انسان دیکھتا ہے، انسان سنتا ہے، انسان منصوبہ بند عمل کرتا ہے، انسان اپنے حواس خمسہ کے ذریعہ چیزوں سے انجوائے کرسکتاہے۔ اِس قسم کی استثنائی خصوصیات ہیں جو پوری کائنات میں صرف انسان کا حصہ ہیں۔
انسان کو یہ استثنائی عطیات اِس لیے دیے گئے ہیں کہ وہ استثنائی عمل کا ثبوت دے۔ یہ استثنائی عمل خالق کی شعوری معرفت ہے۔ اِس طرح خداوند ِ ذوالجلال نے انسان کو یہ موقع دیا ہے کہ وہ معرفت کے درجے میں خدا کو دریافت کرے۔ وہ غیب کی حالت میں خدا کو دیکھے۔ وہ اختیار رکھتے ہوئے اپنے آپ کو خدا کے آگے بے اختیار کرلے۔ مجبوری کے بغیر وہ اپنے آپ کو خدا کے آگے سرینڈر کردے۔ وہ اپنے شعور کو بیدار کرکے اپنا ذہنی ارتقا کرے، وہ ذاتی دریافت کے درجے میں سچائی کو پائے۔ وہ سجدۂ معرفت کی سطح پر خدا کے آگے جھک جائے۔ وہ پورے عالمِ فطرت کو اپنی روحانی غذا بنالے۔ وہ اپنی شخصیت کا ارتقا اِس طرح کرے کہ وہ خداوند ِ ذو الجلال کے پڑوس میں جگہ پانے کا مستحق بن جائے— جوآدمی اپنے اندر اِس قسم کی شخصیت (personality) نہ بناسکے، وہ صرف انسان نما حیوان ہے، اس کی کوئی قیمت خدا کے یہاں نہیں۔
واپس اوپر جائیں

بعد کے زمانے کا فتنہ

حضرت علی بن ابی طالب سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سیخرج قومٌ فی آخر الزّمان ، أحداث الأسنان، سُفہاء الأحلام، یقولون من خیر قول البَریَّۃ۔ یقرؤن القرآن، لایجاوز إیمانہم حناجرہم، یمرقون من الدین کما یمرق السہم من الرّمیۃ (صحیح البخاری، کتاب استتابۃ المرتدین، باب قتل الخوارج)یعنی آخری زمانے میں کچھ لوگ نکلیں گے، کم عمر والے، کم عقل والے۔ بظاہر وہ اچھی باتیں کریں گے۔وہ قرآن کو پڑھیںگے، مگرایمان اُن کے حلق سے تجاوز نہ کرے گا۔ وہ دین سے اِس طرح نکلے ہوئے ہوں گے جس طرح تیر شکار کے اوپر سے نکل جاتا ہے۔اِس حدیث میںایک چیز مابین السطور (between the lines) ہے۔ اس کو شامل کرنے کے بعد ہی یہ حدیث پوری طرح سمجھی جاسکتی ہے، وہ مابین السطور یہ ہے کہ آئندہ ایسے حالات پیدا ہوں گے جو لوگوں کو یہ موقع دیں گے وہ علم اور تجربہ کی کمی کے باوجود نمایاں ہوجائیںگے، وہ لوگوں کے درمیان بڑے بڑے درجے حاصل کرلیں گے۔
موجودہ زمانہ وہی زمانہ ہے جس کی پیشین گوئی حدیث میں کی گئی تھی۔موجودہ زمانے کو دیکھ کر اندازہ ہوتا ہے کہ بعد کو پیدا ہونے والے حالات سے کیا مراد ہے۔ وہ ہے میڈیا، اسٹیج، آزادی، جمہوریت، دولت کی فراوانی، مظاہرہ کی سیاست ، مسلمانوں کی عظیم اکثریت، وغیرہ۔آج صاف نظر آتا ہے کہ اِن نئی چیزوں نے کس طرح لوگوں کو یہ موقع دے دیا ہے کہ وہ بے صلاحیت ہونے کے باوجود خوش نما الفاظ بول کر لوگوں کے درمیان اونچا مقام پالیں ، جو داخلی اعتبار سے سطحی ہونے کے باوجود ظاہری نمائش کے ذریعے عوامی مقبولیت حاصل کرلیں، جو قرآن کی روح سے خالی ہونے کے باوجود محض اپنی خوش الحانی کے ذریعے شہرت حاصل کرلیں، جو خدا کے خوف اور آخرت سے غافل ہونے کے باوجود عوامی تقریریں کرکے لوگوں کو اپنا گرویدہ بنالیں۔ یہ سب صنعتی دور میں پیدا ہونے والے نئے مواقع کی بناپر پیش آئے گا۔ افراد ہمیشہ حالات سے پیدا ہوتے ہیں، نہ کہ حالات کے بغیر۔
واپس اوپر جائیں

ضرورت، یا خواہش پرستی

ایک روایت کے مطابق، پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: إنّ من السَّرَف أن تأکل کلَّ ما اشتہیت (ابن ماجۃ، کتاب الأطعمۃ) یعنی یہ اسراف ہے کہ تم ہر وہ چیز کھاؤ جس کے کھانے کو تمھارا دل چاہے۔ یہی بات حضرت عمر فاروق نے اِن الفاظ میں کہی: کفیٰ بالْمرء سرفاً أن یأکل کلَّ ما اشتہاہ(کنزل العمال، حدیث نمبر35919)۔ یعنی آدمی کے مُسرف ہونے کے لیے یہ بات کافی ہے کہ وہ ہر وہ چیز کھائے جس کے کھانے کو اس کا دل چاہے۔
سرف اور اسراف کے لفظی معنیٰ — فضول خرچی (waste) کے ہیں، یعنی اپنے مال کو ایسی چیزمیں خرچ کرنا جو آدمی کے لیے ضروری نہ ہو، وہ اس کی صرف ایک خواہش (desire) ہو، نہ کہ اس کی حقیقی ضرورت (need)۔
ہر آدمی دو چیزوں کے درمیان ہوتا ہے— ضرورت ، اور خواہش۔اپنے مال کو ضرورت کے بقدر خرچ کرنا، بلاشبہہ ایک جائز فعل ہے۔ لیکن خواہش کی تکمیل کے لیے اپنے مال کو خرچ کرنا، ایک ایسا فعل ہے جس کے لیے انسان کو آخرت کی عدالت میں جواب دینا پڑے گا۔
اِس معاملے میں مومنانہ طریقہ یہ ہے کہ جب بھی آدمی کے سامنے ایساکوئی تقاضا پیش آئے جس میں مال کو خرچ کرنا ہو، تو وہ سنجیدگی کے ساتھ سوچے کہ یہ تقاضا اس کی حقیقی ضرورت کے لیے ہے، یا صرف اس کی خواہش کی بنا پر۔ اگر وہ تقاضا اس کی حقیقی ضرورت کی بنا پر ہو، تو وہ اس میں اپنا مال خرچ کرے۔ لیکن اگر اس کو محسوس ہو کہ یہ اس کی ضرورت کا معاملہ نہیں ہے، بلکہ وہ صرف اس کی خواہش کا معاملہ ہے، تو وہ فوراً اُس سے رک جائے اور ایسی کسی مد میں اپنا مال خرچ نہ کرے۔ اِس معاملے میں آدمی کو ہر دن اپنا جائزہ لینا چاہیے۔ اگر ایک دن کے لیے بھی اُس نے اس جائزے میں کوتاہی کی، تو اس کے بعد وہ اسراف کے ڈھلوان (slope) پر جا پڑے گا اور پھر اس پر پھسلتا ہی چلا جائے گا، یہاں تک کہ وہ اس کی آخری حد پر پہنچ جائے۔ اس کے بعد درمیان میں رکنا، یا واپس لوٹنا ، اس کے لیے ممکن نہ ہوگا۔
واپس اوپر جائیں

دولت پرستی کا فتنہ

ایک روایت کے مطابق، پیغمبر ِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لکلّ أمّۃ فتنۃ، وفتنۃ أمّتی المال (مسند احمد، جلد 4 ، صفحہ 160 ) یعنی ہر امت کا ایک فتنہ تھا، اور میری امت کا فتنہ مال ہے۔ یہاں یہ بات قابل غور ہے کہ مال تو ہر زمانے میں انسان کے لیے فتنہ بنا رہا ہے، پھر اس کو خاص طورپر امتِ محمدی کا فتنہ کیوں کہاگیا۔ یہ خصوصیت شدت کی بنا پر ہے۔ مال کی حیثیت بلاشبہہ ہر زمانے میں فتنے کی رہی ہے، لیکن پیغمبر اسلام کی امت کا زمانہ صنعتی دور (industrial age) تک وسیع تھا۔ اِسی مستقبل کے اعتبار سے آپ نے یہ انتباہ (warning) فرمایا۔
مال کی اہمیت خرید و فروخت کے سامان کے اعتبار سے ہے۔ جدید صنعتی دور سے پہلے خرید و فروخت کے آئٹم بہت کم ہوتے تھے، اِس لیے اُس زمانے میں مال کی اہمیت بھی نسبتاً کم تھی۔ لیکن جدید صنعتی دور کے بعد خرید وفروخت کے سامانوں (consumer goods)کی تعداد بہت زیادہ بڑھ گئی ہے۔ اِسی کے ساتھ سامانوں کی چمک دمک میں بہت زیادہ اضافہ ہوگیا۔ اِس صورتِ حال نے مال کو جدید صنعتی دور میں سب سے بڑا فتنہ بنادیا ۔
قدیم زمانے میں سادہ طورپر مال کی محبت کا مسئلہ تھا، لیکن موجودہ زمانے میں مال نے پرستش کا درجہ حاصل کرلیا ہے۔ اب انسان کی ساری زندگی دولت رُخی (money-oriented) بن گئی ہے۔ اب مال کی کشش نے لوگوں کا یہ حال کیا ہے کہ مال ہر ایک کے لیے اس کا سب سے بڑا کنسرن (supreme concern) بناہوا ہے۔
ہر آدمی اپنے تمام وقت اور اپنی ساری توانائی کو زیادہ سے زیادہ مال کے حصول میں لگائے ہوئے ہے۔ اب مال نے عملاً ہر ایک کے لیے معبود کا درجہ حاصل کرلیا ہے۔ موجودہ زمانے کا سب سے بڑا امتحان یہ ہے کہ آدمی اپنے آپ کو مال کی محبت کے فتنے سے بچا سکے۔ وہ مال کو ثانوی درجے میں رکھے، اور دین کے تقاضوں کو اپنی زندگی میںاوّلین حیثیت دے۔
واپس اوپر جائیں

عجلت پسندی

قرآن کی سورہ نمبر 21 میں ارشاد ہوا ہے: خُلق الإنسان من عجل(الأنبیاء37 ) یعنی انسان پیدائشی طورپر عجلت پسند ہے۔ ایک حدیثِ رسول میں بتایا گیا ہے کہ: التأنّی من اللہ، والعجلۃ من الشیطان(التّرمذی، کتاب البرّوالصلۃ) یعنی بُردباری اللہ کی طرف سے ہے اور عجلت شیطان کی طرف سے۔انسانی فکر اور انسانی عمل دونوں کے لیے دو طریقے ہوتے ہیں— ایک ہے عجلت کا انداز، اور دوسرا ہے بردباری کا انداز:
To proceed hurriedly; to proceed unhurriedly
اصل یہ ہے کہ انسان کے اندر ایک صفت وہ رکھی گئی ہے جس کو حساسیت (sensitivity) کہاجاتا ہے۔ یہ حساسیت ایک استثنائی نوعیت کی قیمتی صفت ہے۔ لیکن ہر دوسری صفت کی طرح، اِس صفت کا بھی پلس پوائنٹ (plus point) اور مائنس پوائنٹ(minus point) ہے۔ اِس صفت کا پلس پوائنٹ مثال کے طورپر حیا ہے۔ اِسی طرح، عجلت اِس صفت کا ایک مائنس پوائنٹ ہے۔ یہ دراصل حساسیت ہے جس کی وجہ سے آدمی عجلت پسند بن جاتا ہے۔
حساسیت، خدا کی ایک عظیم نعمت ہے۔ اگر حساسیت نہ ہو تو آدمی حیوان کے مانند ہوجائے گا۔ بُرائی کو برائی سمجھنے کا مزاج اس کے اندر سے ختم ہوجائے گا۔ عجلت کا مزاج اِسی حساسیت کا ایک منفی نتیجہ ہے۔ آدمی کسی چیز سے متاثر ہوتا ہے اور فوری طورپر ایک رائے بنا لیتا ہے، یا فوری طورپر وہ کوئی اقدام کردیتا ہے۔ فکر یا عمل میںاِس قسم کا عاجلانہ انداز اِسی حساسیت کا ایک غیر مطلوب اظہار ہے۔ آدمی کو چاہیے کہ وہ اپنے عجلت پسندی کے مزاج کو عقل کے تابع بنائے۔ وہ ایسا کرے کہ بولنے اور کرنے سے پہلے سوچے۔ وہ سوچنے کے بعد کوئی بات کہے اور سوچنے کے بعد کوئی عمل کرے۔ عجلت پسندی کو قابو میں رکھنے کا یہی واحد طریقہ ہے— عجلت پسندی کا مزاج تو ختم نہیں ہوسکتا، البتہ عقل کے تابع رکھ کر اس کو مفید بنایا جاسکتا ہے۔
واپس اوپر جائیں

اولاد پرستی کا فتنہ

ایک حدیثِ رسول میں بتایا گیا ہے کہ سب سے زیادہ گھاٹے میں وہ شخص ہے جو دوسرے کی دنیا بنانے کے لیے اپنی آخرت کو کھودے (أذہب آخرتہ بدنیا غیرہ، ابن ماجہ، کتاب الفتن)۔ یہ حدیث موجودہ زمانے میں سب سے زیادہ اُن لوگوں پر چسپاں (apply) ہوتی ہے جو صاحبِ اولاد ہیں۔ موجودہ زمانے میں صاحبِ اولاد لوگوں کا حال یہ ہے کہ ہر ایک کے لیے اس کی اولاد اُس کا سب سے بڑا کنسرن (supreme concern) بنی ہوئی ہے۔ ہر ایک کا یہ حال ہے کہ وہ اپنی اولاد کے لیے زیادہ سے زیادہ دنیا کمانے میں مصروف ہے، اور خود اپنی آخرت کی خاطر کوئی حقیقی کام کرنے کے لیے آدمی کے پاس وقت ہی نہیں۔
موجودہ زمانے میں ہر آدمی اِس حقیقت کو بھول گیا ہے کہ اس کی اولاد اُس کے لیے صرف امتحان کا پرچہ (الأنفال28 ) ہے۔ اولاد اس کو اِس لیے نہیں ملی ہے کہ وہ بس اپنی اولاد کو خوش کرتا رہے، وہ اپنی اولاد کی دنیوی کامیابی کے لیے اپنی ساری توانائی لگادے۔
موجودہ زمانے میں بہت سے لوگ ہیں جو بظاہر مذہبی وضع قطع بنائے رہتے ہیں اور رسمی معنوں میں صوم و صلاۃ کی پابندی بھی کرتے ہیں، لیکن عملاً وہ اپنا سارا وقت اور اپنی بہترین صلاحیت صرف دنیا کمانے میں لگائے رہتے ہیں، صرف اِس لیے کہ جب وہ مریں تو اپنی اولاد کے لیے وہ زیادہ سے زیادہ سامانِ دنیا چھوڑ کر جائیں۔
مگر ایسے لوگ صرف اپنے آپ کو دھوکہ دے رہے ہیں۔ خدا کو دینے کے لیے اُن کے پاس صرف کچھ ظاہری رسوم ہیں اور جہاں تک حقیقی زندگی کا تعلق ہے، اس کو انھوں نے صرف اپنی اولاد کے لیے وقف کررکھا ہے۔ یہ خدا پرستی نہیں ہے، بلکہ وہ حدیث کے الفاظ میں اولاد پرستی ہے۔ اور یہ ایک حقیقت ہے کہ اولاد پرستی کا طریقہ کسی کو خدا پرستی کا کریڈٹ نہیں دے سکتا۔ خدا پرستی، زندگی کا ضمیمہ (appendix) نہیں، حقیقی خدا پرستی وہ ہے جو انسان کی پوری زندگی کا اِحاطہ کیے ہوئے ہو۔
واپس اوپر جائیں

رعایت ایک سنتِ رسول

حضرت انس سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اصحاب کو خطاب کرتے ہوئے فرمایا: یَسِّروا ولا تعسِّرُوا، وبشِّروا ولاتُنَفِّرُوا (صحیح البخاری، کتاب العلم) یعنی تم لوگوں کے ساتھ آسانی کا معاملہ کرو،تم لوگوں کے ساتھ سختی کا معاملہ نہ کرو۔ تم لوگوں کو خوش خبری دو، تم لوگوں کو متنفر نہ کرو۔
اِس حدیثِ رسول میں دراصل انسانی رعایت کی تعلیم دی گئی ہے۔ حدیثوں کا مطالعہ کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنتوں میں سے ایک سنت یہ ہے کہ انسان کے ساتھ آخری حد تک رعایت کا معاملہ کیا جائے۔قول یا عمل ، کسی میں بھی شدت کا انداز اختیار نہ کیا جائے۔اِس رعایت کا مطلب لوگوں کو اُن کے حال پر چھوڑنا نہیں ہے، بلکہ اِس کا مطلب یہ ہے کہ اصلاح کے عمل کے لیے صحیح نقطۂ آغاز (starting point)اختیار کیا جائے۔ اصلاح کا صحیح طریقہ یہ ہے کہ اعمال کے ظاہری پہلوؤں کے بارے میں رعایت کا معاملہ کیا جائے اور زیادہ زور اور تاکید اعمال کے داخلی پہلوؤں پر دیا جائے۔ کیوںکہ ظواہر کی اصلاح سے داخلی اصلاح نہیںہوتی، بلکہ اِس کے برعکس، داخلی اصلاح سے ظواہر کی اصلاح ہوتی ہے۔
رعایت کا فائدہ یہ ہوتا ہے کہ آدمی کو دین پر عمل کرنا، زیادہ مشکل نہیںمعلوم ہوتا ۔ وہ متوحش ہوئے بغیر دینی اعمال کو اختیار کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ اِس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ پہلے آدمی کے داخل کی اصلاح ہوتی ہے، پھر دھیرے دھیرے اس کے ظواہر بھی دین کے رنگ میں رنگ جاتے ہیں۔ رعایت دراصل حکیمانہ طریقِ کار کا دوسرا نام ہے، اور یہ ایک واقعہ ہے کہ حقیقی اصلاح ہمیشہ حکیمانہ طریقِ کار کے ذریعے حاصل ہوتی ہے، نہ کہ غیر حکیمانہ طریقِ کار کے ذریعے۔مُصلح کا طریقہ ہمیشہ رعایت کا ہونا چاہیے۔ مصلح کا سارا زور اِس پر ہونا چاہیے کہ وہ لوگوں کے اندر جذبۂ عمل پیدا کرے۔ عمل کا جذبہ پیدا ہوتے ہی آدمی وہ کام خود کرنے لگتا ہے جس کو شدت پسند مصلح ناکام طورپر انجام دینا چاہتا ہے۔
واپس اوپر جائیں

سنّت کیا ہے

حضرت انس بن مالک کی ایک روایت الدارمی میں اِن الفاظ میں آئی ہے: إذا وُضع الطّعام فاخلعوا نِعالکم، فإنہ أروح لأقدامکم (سُنن الدَّارمی، کتاب الأطعمۃ؛ مشکاۃ المصابیح، حدیث نمبر4240 )۔ یعنی جب کھانا رکھا جائے تو تم اپنے جوتے اتار دو، کیوں کہ ایسا کرنے میں تمھارے پاؤں کے لیے راحت ہے۔
اِس حدیث میں کھانے کے وقت جوتا اتارنے کی مصلحت یہ بتائی گئی ہے کہ یہ تمھارے لیے زیادہ پُر راحت طریقہ ہے۔ اِس سے معلوم ہوا کہ کھانے کے وقت جوتا اتارنا، کوئی مطلق نوعیت کی سنت نہیں، اس کا مقصد صرف راحت ہے۔ یہی معاملہ اُن تمام ’’سنتوں‘‘ کا ہے جن میں آدابِ حیات کو بتایا گیا ہے۔ آدابِ حیات کے بارے میں کوئی طریقہ مطلق طورپر اچھا، یا بُرا نہیں ہوتا، بلکہ اُس کا تعلق تمام تر راحت سے ہوتا ہے۔ جس وقت جس طریقے میں انسان کے لیے راحت ہو، وہی طریقہ سنت کا طریقہ قرار پائے گا۔مثال کے طورپر آپ کو کار میں بیٹھنا ہے۔ جیسا کہ معلوم ہے، کار میں دائیں اور بائیں دونوں طرف دروازے ہوتے ہیں۔ اگر آپ کار میں اُس کے دائیں طرف کے دروازے سے بیٹھ رہے ہوں، تو سہولت یہ ہوگی کہ آپ پہلے اپنا بایاں پاؤں کار میں داخل کریں۔ اِسی طرح اگر آپ کار کے بائیں دروازے سے اس میں بیٹھ رہے ہوں، تو آپ کے لیے سہولت یہ ہوگی کہ آپ پہلے اپنا دایاں پاؤں کار میں داخل کریں۔ اس کے برعکس طریقہ اختیار کرنا، آپ کے لیے غیر ضروری مشقت کا باعث ہوگا۔ ٹھیک یہی معاملہ کار سے اترنے کا بھی ہے۔
ایسی حالت میں اگر کوئی شخص کار میں بیٹھنے کی سنت یہ بتائے کہ اُس میں داخل ہوتے ہوئے ہرحال میں اپنا دایاں پاؤں کارکے اندر داخل کرو، اور اترتـے ہوئے ہر حال میں اپنا بایاں پاؤں اس کے اندر سے نکالو، تو ایسا کرنا راحت کے بجائے زحمت کا باعث بن جائے گا۔ جب کہ آدابِ زندگی کے بارے میں سنت ہمیشہ راحت پر مبنی ہوتی ہے، نہ کہ غیرضروری مشقت پر۔
واپس اوپر جائیں

Monday, 2 May 2016

Al Risala | May 2016 (الرسالہ،مئی)

4

-قرآن کی تعلیم

5

- استقامت کا حکم

6

- جنت کی مجلسیں

7

- جاہلوں سے اعراض

8

- علم کی اہمیت

9

- خوش قسمت انسان

10

- مومنانہ غوروفکر

11

- آسان فارمولا

12

- غلط سوچ

13

- ذہنی ارتقا

14

- تنقید یا الزام تراشی

15

- سوچنے کا ماڈل

16

- ذاتی عقل، علمی عقل

21

- حکمت کا راز

22

- اختلاف کا معاملہ

23

- مدح، تنقید

26

- ایک مردِ مومن

28

- کنٹری بیوشن کا سوال

29

- غلطی کا اعتراف

30

- توبہ کا عمل

31

- منفی سوچ کا مزاج

32

- اختلاف ایک برکت

33

- نیت، بصیرت

35

- عورت اور مرد

36

- خوشگوار تعلق کا راز

37

- انسان کا عجز

38

- ممکن ، ناممکن

39

- وزڈم میگزین

40

- سوال و جواب

44

- خبرنامہ اسلامی مرکز


قرآن کی تعلیم

ایک حدیث رسول ان الفاظ میں آئی ہے: خیرکم من تعلم القرآن وعلمہ ۔(صحیح البخاری، حدیث نمبر 5027)تم میں اچھا وہ ہے جس نے قرآن کو سیکھا اور قرآن کو سکھایا۔اس حدیث میں تعلیم اور تعلم سے مراد صرف قرآن کے عربی متن کا تعلیم و تعلم نہیں ہے۔ بلکہ اس کا مفہوم اس سے زیادہ وسیع ہے۔اس حدیث میں قرآن کے علم کے ساتھ متعلقات قرآن کا علم بھی شامل ہے۔
قرآن کے متعلق علوم سے مراد تمام انسانی علوم ہیں۔ سب سے پہلے اس میں وہ علوم شامل ہیں جن کا حوالہ قرآن میں کسی پہلو سے آیا ہے۔مثلا تاریخ ، ارضیات اور فلکیات ،وغیرہ۔ قرآن معروف معنوں میں علمی کتاب نہیں ہے۔ مگر قرآن میں مختلف علوم کے بارے میں جزئیاتی اشارے موجود ہیں۔ عالم کے لیے ضروری ہے کہ وہ ان علوم کو بقدرِ ضرورت پڑھے تاکہ وہ قرآن کی علمی تشریح کرسکے۔
قرآن ایک دعوتی کتاب ہے۔ قرآن تمام انسانوں کو خطاب کرتے ہوئے ان کو اپنا پیغام دیتا ہے۔ اور پھر حکم دیتا ہے کہ قرآن کا پیغام اس طرح پیش کرو جو ان کے ذہن کو ایڈریس کرنے والا ہو(النساء63)۔ اس لحاظ سے اس حکم کے توسیعی مفہوم میں وہ تمام علوم شامل ہوجاتے ہیں جو انسان کے ذہن پر چھائے ہوئے ہیں۔ کیوں کہ ان علوم کا تجزیہ کیے بغیر آدمی قرآن کی باتوں پر یقین نہیں کرسکتا۔
قرآن پر صرف ایمان لانا کافی نہیں ہے۔ بلکہ ضروری ہے کہ مومن کے اندر قرآن کی صداقت پر یقین ہو۔ یہ یقین اسی وقت پیدا ہوسکتا ہے جب کہ قرآن سے متعلق علوم کا مطالعہ کیا جائے۔ اسی طرح جو لوگ قرآن کے مدعو ہیں، ان کے اندر بھی ایک سوچ ہوتی ہے جو پیشگی طور پر ان کے اندر موجود ہوتی ہے۔ اس بنا پر ضروری ہے کہ مدعو کے سامنے قرآن کی تعلیم اس طرح پیش کی جائے کہ مدعو کو اس کی صداقت پر یقین ہوجائے۔ اس لیے ضروری ہے کہ عالم مدعو کے علوم سے واقفیت حاصل کرے۔
واپس اوپر جائیں

استقامت کا حکم

ایک حدیث رسول ان الفاظ میں آئی ہے عن سفیان بن عبد اللہ الثقفی، قال قلت یا رسول اللہ حدثنی بأمر أعتصم بہ، قال قل ربی اللہ ثم استقم، قلت یا رسول اللہ ما أخوف ما تخاف علی، فأخذ بلسان نفسہ، ثم قال ہذا.(سنن الترمذی، حدیث نمبر2410) سفیان بن عبد اللہ الثقفی روایت کرتے ہیں کہ میں نے کہا کہ اے اللہ کے رسول، مجھے ایک ایسی بات بتائیےجس کو میں مضبوطی کے ساتھ پکڑ لوں۔ آپ نے فرمایاکہ کہو کہ اللہ میرا رب ہے، اور پھر اس پر قائم ہوجاؤ۔ میں نے کہا کہ اے اللہ کے رسول مجھے سب سے زیادہ کس چیز سے ڈرنا چاہیےجس کا آپ مجھ پر خوف کھاتے۔آپ نے اپنی زبان پکڑی، پھر فرمایا کہ اس سے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھنے والے کو قول پر استقامت کاحکم دیا۔ قول پر استقامت کیا ہے۔وہ یہ ہے کہ زندگی میں بار بار ایسے معاملات پیش آئیں گے جو تم کو اپنے قول سے ہٹانے والے ہوں، مگر تم اس سے غیر متاثر رہ کر اپنے قول پر جمے رہنا۔ اس کی صورت یہ ہے کہ تم ہر ایسی بات کو اللہ کے حوالے کردو، اور اپنے قول کی طرف لوٹ جاؤ۔
قول سے ہٹنے کا سبب زیادہ تر زبان کی بنا پر ہوتا ہے۔ اجتماعی زندگی میں بار بار ایسا ہوتا ہے کہ کوئی شخص زبان سے ایسی بات کہہ دیتا ہے جو سننے والے کو بری معلوم ہوتی ہے۔ اس کو غصہ آجاتا ہے، وہ بدلہ لینے کے درپے ہوجاتا ہے، وہ چاہنے لگتا ہے کہ کہنے والے کو نقصان پہنچا کراس کو سبق سکھائے۔ ایسے تمام مواقع پر انسان کو یہ کرنا ہے کہ وہ زبان کے شر سے اپنے آپ کو بچائے۔ زبان کا غلط استعمال بات کو بڑھاتا ہے، اور زبان کا صحیح استعمال بات کو ختم کردیتا ہے۔
زندگی میں اکثر بحران (crisis) زبان کی وجہ سے پیش آتے ہیں۔ آدمی کو چاہیے کہ وہ کرائسس منیجمنٹ (crisis management)کا آرٹ سیکھے۔ وہ بحران کو مینیج (manage) کرکے اس کو ابتدا ہی میں ختم کردے۔
واپس اوپر جائیں

جنت کی مجلسیں

جنت صرف عیش کی جگہ نہیں ہے، بلکہ وہ اعلی درجے کی سرگرمیوں کی جگہ ہے۔ انھیں میں سے ایک اعلی سرگرمی وہ ہے جس کو جنت کی مجلسیں کہا جاسکتا ہے۔ اس جنتی سرگرمی کا ذکر قرآن میں ان الفاظ میں آیا ہے وَنَزَعْنَا مَا فِی صُدُورِہِمْ مِنْ غِلٍّ إِخْوَانًا عَلَى سُرُرٍ مُتَقَابِلِینَ (15:47)ا ور ان کے سینوں کی کدورتیں ہم نکال دیں گے، سب بھائی بھائی کی طرح رہیں گے، تختوں پر آمنے سامنے۔ دوسرے مقام پر یہ الفاظ آئے ہیں أُولَئِکَ لَہُمْ رِزْقٌ مَعْلُومٌ™ فَوَاکِہُ وَہُمْ مُکْرَمُونَ™ فِی جَنَّاتِ النَّعِیمِ ™ عَلَى سُرُرٍ مُتَقَابِلِینَ ™(37:41-44)ان کے لیے معلوم رزق ہوگا۔ میوے، اور وہ نہایت عزت سے ہوں گے۔آرام کے باغوں میں ۔تختوں پر آمنے سامنے بیٹھے ہوں گے۔
اس سے معلوم ہوتا ہے کہ جنت کا ماحول انتہائی درجے کا پر راحت ماحول ہوگا۔ وہاں جنت میں داخل ہونے والے لوگ آمنے سامنے (face to face) بیٹھیں گے، اور اعلی معرفت کے ماحول میں باہم گفتگو کریں گے۔ یہ باہم گفتگو کرنے والے لوگ وہ ہوں گے، جو دنیا کی زندگی میں اعلی معرفت حاصل کرچکے ہوں۔ جو ذہنی ارتقا (intellectual development) کے بلند درجے پر ہوں گے۔ ان میں سے ہر شخص اعلی درجے کی مجلس میں شرکت کرنے کے لیے کامل معنوں میں تیار شخص (prepared personality) کی حیثیت رکھتا ہوگا۔ یہ جنتی زندگی کا ایک نہایت اعلی تجربہ ہوگا، جو اہل جنت کو حاصل ہوگا۔
جنت کی ان مجالس کا موضوع کلام کیا ہوگا۔ وہ قرآن کی ایک آیت سے معلوم ہوتا ہے: وَقِیلَ الْحَمْدُ لِلَّہِ رَبِّ الْعَالَمِین(39:75)۔اور کہا جائے گا کہ ساری حمد اﷲ کے لیے ہے، سارےعالم کا خداوند۔یہ آیت جنت کے بارے میں ہے۔ حمد الٰہی یا معرفت خداوندی بلاشبہ ایسا موضوع ہے جو لامحدود حد تک وسیع ہے۔ اس موضوع کا تعلق کبھی نہ ختم ہونے والے کلمات اللہ اور آلاء اللہ سے ہے۔
واپس اوپر جائیں

جاہلوں سے اعراض

اسلام کا ایک اہم اصول ہے جس کو قرآن میں جاہلوں سے اعراض کہا گیا ہے(الاعراف199 )۔ سیرت ابن ہشام میں ایک واقعہ نقل کیا گیا ہے قدم على رسول اللہ صلى اللہ علیہ وسلم، وہو بمکة، عشرون رجلا أو قریب من ذلک من النصارى، حین بلغہم خبرہ من الحبشة، فوجدوہ فی المسجد، فجلسوا إلیہ وکلموہ وسألوہ، ورجال من قریش فی أندیتہم حول الکعبة، فلما فرغوا من مسألة رسول اللہ صلى اللہ علیہ وسلم عما أرادوا، دعاہم رسول اللہ صلى اللہ علیہ وسلم إلى اللہ عز وجل وتلا علیہم القرآن. فلما سمعواا لقرآن فاضت أعینہم من الدمع، ثم استجابوا للہ ، وآمنوا بہ وصدقوہ، وعرفوا منہ ما کان یوصف لہم فی کتابہم من أمرہ. فلما قاموا عنہ اعترضہم أبو جہل ابن ہشام فی نفر من قریش، فقالوا لہم: خیبکم اللہ من رکب! بعثکم من وراءکم من أہل دینکم ترتادون لہم لتأتوہم بخبر الرجل، فلم تطمئن مجالسکم عندہ، حتى فارقتم دینکم وصدقتموہ بما قال، ما نعلم رکبا أحمق منکم. أو کما قالوا. فقالوا لہم:سلام علیکم، لا نجاہلکم، لنا ما نحن علیہ، ولکم ما أنتم علیہ، لم نأل أنفسنا خیرا۔ (سیرۃ ابن ہشام، طبعۃ مصر، 1955، 1/391-92)
اس واقعے میں بتایا گیا ہے کہ رسول اللہ کے پاس کچھ نصرانی لوگ حبش سے آئے تھے۔ انھوں نے آپ کی باتیں سنیں، پھر انھوں نے آپ کے ہاتھ پر اسلام قبول کرلیا۔ جب وہ رسول اللہ کی صحبت سے نکلے تو ان کی ملاقات ابوجہل سے ہوگئی۔ ابوجہل نے ان سے کہا کہ تم لوگ بہت احمق ہو، تم لوگوں نے اس شخص کی بات سنی ، اور پھر اس کے مومن بن گئے۔ تم کچھ لوگوں کے نمائندہ بن کر آئے تھے، تم کو اس شخص کے بارے میں تحقیق کرنا چاہیے تھا اور جا کر اپنے لوگوں کو بتانا چاہیے تھا۔ انھوں نےجواب میں اعراض کا طریقہ اختیار کیا۔ قابل غور ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان لوگوں کو اعراض کا فلسفہ نہیں بتایا تھا۔ لیکن انھوں نے خود سے اعراض کے طریقے پر عمل کیا۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ایمان آدمی کے اندر ذہنی بیداری لاتا ہے، آدمی کے اندر وہ چیز پیدا کرتا ہے جس کو تخلیقی فکر (intellectual thinking) کہا جاتا ہے۔
واپس اوپر جائیں

علم کی اہمیت

علم کی اہمیت کے بارے میں بہت سی حدیثیں ہیں۔ ایک حدیث رسول ان الفاظ میں آئی ہے ومن سلک طریقا یلتمس فیہ علما، سہل اللہ لہ بہ طریقا إلى الجنة(صحیح مسلم، حدیث نمبر 2699)یعنی جو شخص ایک راستے پر علم کے حصول کے لیے چلے، اللہ اس کے ذریعے اس کے لیے جنت کے راستے کو آسان کردیتا ہے۔
علم کے راستے پر چلنے کا مطلب یہ ہے کہ آدمی سچائی کے حصول کے لیے علمی مطالعہ کا طریقہ اختیار کرے۔ ایسا انسان اگر واقعۃً سچائی کا طالب ہے تو اس کا علمی مطالعہ اس کے یقین کو بڑھائے گا۔ سچائی کے نئے نئے گوشے اس پر کھلیں گے۔ سچائی کو وہ زیادہ گہری سطح پر دریافت کرے گا۔ سچائی پر اس کا یقین مسلسل طور پر بڑھتا چلا جائے گا۔علمی سفر اس کے لیے جنت کا سفر بن جائے گا۔
اس کا علمی مطالعہ اس کے لیے ایک ایسا فکری عمل (intellectual process) بن جائے گا، جو مسلسل طور پر اس کے ذہنی ارتقا میں اضافہ کرے گا۔ اس کی شخصیت ربانی شخصیت بن جائے گی۔ اس کی سوچ ، اس کی گفتگو، اس کا طرز عمل، ہر چیز میں پاکیزگی آتی چلی جائے گی۔ یہاں تک کہ وہ ایک مزکیّٰ شخصیت (طہٰ76) بن جائے گا، جس کے لیے فرشتے جنت کے تمام دروازے کھول دیں، اور یہ کہیں کہ جس دروازے سے تم چاہو، جنت میں داخل ہوجاؤ۔
علم کا حصول آدمی کے ذہنی افق کو بلند کرتا ہے۔ علم کا حصول آدمی کے اندر تخلیقی فکر (creative thinking) پیدا کرتا ہے۔ علم آدمی کو اس قابل بناتا ہے کہ وہ معرفت حق کے اعلی درجات تک پہنچے۔ علم آدمی کو اندھیرے سے اجالے میں لاتا ہے، علم آدمی کو محدودیت سے نکالتا ہے، اور اس کو لامحدود فضا میں پہنچا دیتا ہے۔ علم آدمی کے اوپر دانش (wisdom) کے وہ دروازے کھول دیتا ہے، جو کسی اور ذریعے سے آدمی کے اوپر کبھی نہیں کھلتے۔ علم آدمی کو اس قابل بناتا ہے کہ وہ اپنے فطری امکانات کو اپنے لیے واقعہ بنا سکے۔
واپس اوپر جائیں

خوش قسمت انسان

ایک حدیث میں سات ایسے انسانوں کا ذکر ہے، جو قیامت کے دن اللہ کے سائے میںجگہ پائیں گے۔ ان میں سے ایک انسان کا ذکر ان الفاظ میں آیا ہے وَرجل قلبہ معلّق فی المساجدِ۔ (صحیح البخاری، حدیث نمبر660)یعنی وہ انسان جس کا دل مسجد میں اٹکا ہوا ہو۔
اس حدیث میں مسجد کا لفظ علامتی معنی میں ہے۔ حقیقت میں اس سے مراد وہ انسان ہے جس نے اللہ کے دین کو اپنا سول کنسرن (sole concern) بنا لیا ہو۔ وہ اللہ رب العالمین کے بارے میں سوچے۔ وہ اپنی زندگی کے ہر موقعے پر اللہ کو یاد کرے۔ اللہ کی عبادت کرنا، اس کا محبوب مشغلہ بن گیا ہو۔ اس کا بولنا، اس کا کرنا، سب اللہ کے رنگ میں رنگ گیا ہو۔ اللہ کے دین کی دعوت کو اس نے اپنی زندگی کا واحد مشن بنا لیا ہو۔ وہ اللہ کے لیے جینے والا، اور اللہ کے لیے مرنے والا بن جائے۔ اس کا چلنا بھی اللہ کے لیے ہو، اور اس کا رکنا بھی اللہ کےلیے ہو۔
رجل قلبہ معلق فی المساجد میں جو بات کہی گئی ہے، وہ حدیث میں بظاہر مسجد کی نسبت سے کہی گئی ہے، لیکن وہ ایک عام انسانی صفت ہے۔ اصل یہ ہے کہ ہر انسان کی کوئی ’’مسجد‘‘ہوتی ہے۔ اس کا دل ہر لمحہ اپنی اس مسجد سے اٹکا ہوا ہوتا ہے۔ وہ کسی لمحہ اپنی اس مسجد سے غافل نہیں ہوتا۔
اس کا مطلب یہ ہے کہ ہر انسان کا ایک مقصود (goal) ہوتا ہے۔ وہ اپنی پوری توانائی کو خرچ کرکے اس مقصود کو حاصل کرنا چاہتا ہے۔ وہ اسی کے لیے سوچتا ہے، اور وہ اسی کے حصول کے لیے منصوبہ بناتا ہے۔ وہ ہر لمحہ یہ جائزہ لیتا رہتا ہے کہ اس نے اپنے مقصود کے لیے کیا کیا، اور کیا نہیں کیا۔ وہ اپنے اسی مقصود کو لے کر سوتا ہے، اور اپنے اسی مقصود کو لے کر جاگتا ہے۔
یہی معاملہ ایک دین دار آدمی کا ہے۔ دین دار آدمی کا کنسرن (concern) صرف ایک ہوتا ہے، اور وہ ہے اللہ کی رضا حاصل کرنا، اور اس کے نتیجے میں اپنے آپ کو ابدی جنت کا مستحق بنانا۔ اس سے کم کوئی چیز آدمی کو دین دار نہیں بناتی۔
واپس اوپر جائیں

مومنانہ غوروفکر

ایمان لانے والوں کے بارے میں قرآن کا ایک بیان یہ ہے: قَالَتِ الْاَعْرَابُ اٰمَنَّا قُلْ لَّمْ تُؤْمِنُوْا وَلٰکِنْ قُوْلُوْٓا اَسْلَمْنَا وَلَمَّا یَدْخُلِ الْاِیْمَانُ فِیْ قُلُوْبِکُمْ(49:14) یعنی اعراب کہتے ہیں کہ ہم ایمان لائے، کہو کہ تم ایمان نہیں لائے۔ بلکہ یوں کہو کہ ہم نے اسلام قبول کیا، اور ابھی تک ایمان تمھارے دلوں میں داخل نہیں ہوا۔
اسلام کا آغاز کلمہ ایمان کے اقرار سے شروع ہوتا ہے، مگر اللہ کے نزدیک اتنا ہی کافی نہیں۔ آدمی کے لیے ضروری ہے کہ وہ اِس لسانی سطح کے ایمان کو عقلی سطح کا ایمان بنائے۔ یہ گویا کلمہ گوئی کے بعد اس کی تکمیل ہے۔ اسی تکمیلی ایمان کو قرآن میں داخل القلب ایمان کہا گیاہے۔ اس آیت میں قلب سے مراد دل (heart) نہیں بلکہ قلب سے مراد ذہن (mind) ہے۔ داخل القلب ایمان کوئی پراسرار واقعہ نہیں، وہ مکمل معنوں میں ایک شعوری ارتقا کا معاملہ ہے۔
اصل یہ ہے کہ قبول اسلام کے بعد انسان کی زندگی میں ایک فکری عمل (intellectual process) شروع ہوتا ہے جو اس کی آخری عمر تک جاری رہتا ہے ۔وہ قرآن میں تدبر کرتا ہے، وہ سنت رسول کا مطالعہ کرتاہے، وہ اپنے ہر تجربہ اور مشاہدہ پر غور وفکر کرتاہے، وہ زندگی کے تمام معاملات کا تجزیہ (analysis) کرتاہے۔ یہ ایک مسلسل تفکیری عمل ہے، جو شعور کی سطح پر مسلسل جاری رہتاہے۔
اس عمل کو ایک لفظ میں مومنانہ غور وفکر کا عمل کہا جاسکتا ہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ اس کے اندر ایک ارتقا یافتہ ذہن (developed mind) تیار ہوتا ہے۔ اس طرح آدمی اس قابل ہوجاتا ہے کہ وہ ہر تجربہ کو اپنے ایمان کی غذا بنالے، وہ ہر کرائسس کو مینیج(manage)کرکے اس کو بے اثر کردے، وہ ہر منفی سوچ کو مثبت سوچ میں تبدیل کرلے، وہ ہر اختلاف پر غور کرکے اپنے اتحاد کو بدستور باقی رکھے۔
واپس اوپر جائیں

آسان فارمولا

مولانا سید سلیمان ندوی (وفات1953) ایک مشہور عالم تھے۔ ان کو کئی قسم کی مصیبتیں پیش آئیں۔ اسی پریشانی کی حالت میں پاکستان میں ان کا انتقال ہوگیا۔ اپنے آخری زمانے میں انھوں نے کسی سے اس کا ذکر کرتے ہوئے کہا:
ہم ایسے رہے یا کہ ویسے رہے وہاں دیکھنا ہے کہ کیسے رہے
اس شعر میں زندگی کی ایک تلخ حقیقت کو بالکل سادہ انداز میں بیان کردیا گیا ہے۔ یہ ایک واقعہ ہے کہ موجودہ دنیا مسائل کی دنیا ہے۔ یہاں ہر عورت اور ہر مرد کو مسائل کے درمیا ن جینا پڑتا ہے۔ اس بنا پر اکثر لوگ پریشانی کی حالت میں زندگی گزارتے ہیں۔ اس مسئلے کا آسان فارمولا یہ ہے کہ جب آپ کو اپنی مصیبت یاد آئے تو مذکورہ شعر کو پڑھ لیں۔ اس کے بعد آپ دیکھیں گے کہ پریشانی کا احساس ختم ہوگیا۔ ذہن کو نارمل بنانے کا یہ نہایت آسان فارمولاہے۔
یہ فارمولا ایک حدیثِ رسول پر مبنی ہے۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں ایک واقعہ پیش آیا جس کو غزوۂ خندق کہا جاتا ہے۔ اس موقعہ پر مدینہ کے اہل ایمان سخت مشکلات سے دوچار ہوئے۔ قرآن میں اس کا ذکر ان الفاظ میں آیا ہے: ہُنَالِکَ ابْتُلِیَ الْمُؤْمِنُونَ وَزُلْزِلُوا زِلْزَالًا شَدِیدًا (33:11)۔یعنی اس وقت ایمان والے امتحان میں ڈالے گئے اور بالکل ہلا دئے گئے۔
اس موقعہ پر پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ تاریخی جملہ کہا تھا جو ان الفاظ میں نقل ہوا ہے: اللہم لا عیشَ إلا عیش الآخرہ، فاغفر للأنصار والمہاجرہ (صحیح البخاری، حدیث نمبر6414۔صحیح مسلم، حدیث نمبر1805) ۔یعنی اے اللہ، زندگی تو آخرت کی زندگی ہے۔ پس تو انصار اور مہاجرین کی مغفرت فرما۔ مولانا سید سلیمان ندوی کے الفاظ میں، یہ دنیا امتحان گاہ ہے۔ یہاں تو اسی قسم کے حالات پیش آئیں گے۔اصل زندگی آخرت کی زندگی ہے۔ اے اللہ ، تو وہاں ہم کو جنت میں داخل فرما۔ یہی اصل کامیابی ہے۔
واپس اوپر جائیں

غلط سوچ

عبد اللہ ابن مسعود کا ایک قول طبرانی نے المعجم الکبیر میں نقل کیا ہے۔ اس کے الفاظ یہ ہیںعن عبد اللہ، قال إن من أکبر الذنب أن یقول الرجل لأخیہ اتق اللہ، فیقول علیک نفسک أنت تأمرنی (المعجم الکبیر، حدیث نمبر8587)۔یعنی یہ ایک بہت بڑا گناہ ہے کہ آدمی اپنے بھائی سے یہ کہے : اللہ سے ڈرو، تو وہ جواب میں کہے: تم اپنی فکر کرو،تم مجھ کو نصیحت کروگے۔یہ جواب صحیح ذہن کی نمائندگی نہیں۔ صحیح ذہن یہ ہے کہ آدمی کو جب نصیحت کی جائے تو وہ سوچ میں پڑجائے۔اور اپنی اصلاح کی فکر کرنے لگے۔ نصیحت کرنے والا خواہ کوئی بھی ہو، لیکن نصیحت کو ہمیشہ نصیحت کے اعتبار سے لینا چاہیے۔ اس اعتبار سے نہیں کہ کرنے والا کون ہے۔
صحابی کے اس قو ل کو توسیعی معنی میں لیا جائے تو وہ اس ذہن پر بھی منطبق ہوتا ہے جو لوگوں کے درمیان اپنے اور غیر کی تفریق میں جیتے ہیں۔ جن کا حال یہ ہے کہ اگر ان سے یہ کہا جائے کہ مسلمانوں کا یہ فریضہ ہے کہ وہ عام انسانوں تک اسلام کا پیغام پہنچائیں۔ تو وہ جواب دیں گے کہ پہلے مسلمانوں کی اصلاح کرلیجیے، اس کے بعد غیر مسلموں میں تبلیغ کیجیے گا۔
اسلامی تعلیم کے مطابق، اس قسم کی تفریق درست نہیں۔ ہر مسلمان کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ جن لوگوں کے درمیان رہتا ہے، ان کو وہ ہر موقعہ پر اللہ کا پیغام پہنچائے۔ خواہ یہ لوگ مسلم ہوں یا غیرمسلم۔یہ پیغام رسانی انسان کے ساتھ خیرخواہی کا تقاضا ہے۔ اور خیر خواہی کے معاملے میں اس قسم کی تفریق درست نہیں۔
پیغام رسانی کی یہ ذمہ داری ہر مسلمان کے اندر انسان دوستی (human-friendly) کامزاج بناتی ہے۔ انسان کی ہمدردی کے لیے اس کا یہ جذبہ ہر حال میں ظاہر ہوتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اپنے اور غیر کی تفریق بے حسی کی علامت ہے۔ ایمان آدمی کو حساس انسان بناتا ہے۔ اور حساس انسان اس قسم کی تفریق کا تحمل نہیں کرسکتا۔
واپس اوپر جائیں

ذہنی ارتقا

اسلام میں سب سے زیادہ مطلوب چیز فرد کا تزکیہ ہے، یعنی ربانی تصورِ حیات کے مطابق، ذہنی ارتقا۔ کسی صاحبِ عقیدہ کے اندر جو اعلی صفات مطلوب ہیں، اُن کا اصل ذریعہ یہی ذہنی ارتقا ہے۔ علمی اعتبار سے، ذہنی ارتقا کا ذریعہ قرآن وحدیث کا مطالعہ ہے۔ کوئی آدمی جتنا زیادہ مطالعہ کرے گا، اتنا ہی زیادہ اس کے اندر وہ علمی بنیاد پائی جائے گی جو تزکیہ کے عمل کے لیے ضروری ہے۔
لیکن تزکیہ یا ذہنی ارتقا کے لیے ایک اور چیز مطلوب ہے۔ اس کو نفسیاتی بنیاد کہاجاسکتا ہے۔ اِس نفسیاتی بنیاد کو علماء نے اِن الفاظ میں بیان کیا ہے: الإیمان بین الرجاء والخوف ۔ یعنی ایمان امید اور خوف کے درمیان ہے۔ دوسرے الفاظ میں یہ کہ مومن ہمیشہ ایک قسم کے شک (suspicion) کی حالت میں جیتا ہے۔ کبھی وہ اللہ کی رحمت کو یاد کرکے یقین کا تجربہ کرتا ہے اور کبھی وہ اپنی کوتاہیوں کو سوچ کر شبہہ کی حالت میں مبتلا ہوجاتا ہے۔ یہ ایمانی کیفیت اتنی زیادہ عام ہے کہ صحابہ کا بھی اِس معاملے میں استثنا نہیں۔
ایسا کیوں ہوتا ہے۔ اِس کا سبب یہ ہے کہ فطرت کے نقشے کے مطابق، یہی وہ واحد طریقہ ہے جس کے ذریعے آدمی کا ذہنی ارتقا مسلسل طورپر جاری رہے۔ شبہہ کی یہ حالت دراصل ایک قسم کا ذہنی شاک (intellectual shock) ہے، اور نفسیات کا مطالعہ بتاتا ہے کہ انسان کے اندر ذہنی ترقی صرف شاک ٹریٹمنٹ (shock treatment) کے ذریعہ ہوتی ہے۔
اللہ کو یہ مطلوب ہے کہ انسان خود دریافت کردہ حقیقت (self-discovered reality) پر کھڑا ہو۔ اور خود دریافت کردہ حقیقت کے حصول کا واحد طریقہ یہ ہے کہ انسان کے اندر مسلسل طورپر سوچ کا عمل (thinking process) جاری رہے۔ اعلىٰ علم و معرفت کے حصول کے لیے ’’میں نہیں جانتا‘‘ کی نفسیات درکار ہے، نہ کہ ’’میں جانتا ہوں‘‘ کی نفسیات۔
واپس اوپر جائیں

تنقید یا الزام تراشی

کسی شخص کو غلط بتانے کے لیے جب آپ کے پاس کوئی دلیل نہ ہو بلکہ صرف الزام ہو تو سمجھ لیجیے کہ آپ خود غلطی پر ہیں— عقل اور اسلام دونوں کا تقاضا ہے کہ آدمی کسی کے خلاف بولے تو صرف اُس وقت بولے، جب کہ اپنی بات کو ثابت کرنے کے لیے اُس کے پاس کوئی حقیقی دلیل ہو۔ اگر اُس کے پاس حقیقی دلیل نہیں ہے، اور وہ عیب زنی اور الزام تراشی کی زبان میں اپنی بات پیش کررہا ہے تو یہ بلا شبہہ ایک عظیم گناہ ہے۔وہ انسان کو قتل کرنے کے ہم معنی ہے۔ ایسے شخص سے آخرت میں کہا جائے گا کہ تم دوسرے کے خلاف جو الزام لگاتے تھے، اُس کو دلیل سے ثابت کرو اور جب وہ اپنی بات کو دلیل سے ثابت نہ کرسکے گا تو اُس سے کہا جائے گا کہ جو الزام تم نے دوسرے کے اوپر لگایا تھا، اُس کی سخت تر سزا تم خود بھگتنے کے لیے تیار ہو جاؤ۔
عیب زنی اور الزام تراشی کے لیے، صحیح لفظ کردار کشی (character assassination) ہے۔ کسی کے خلاف الزام تراشی کرنا، اُس کو کردار کے اعتبار سے قتل کرنے کے ہم معنی ہے۔ یہ جسمانی قتل سے کم گناہ نہیں۔ حدیث میں آتا ہے کہ ایک مومن پر دوسرے مومن کی تین چیزیں حرام ہیں۔ اُس کا خون، اُس کا مال، اور اُس کی عزت(کل المسلم على المسلم حرام دمہ ومالہ وعرضہ)۔صحیح مسلم، رقم الحدیث6706۔ اِس حدیث میں بظاہر مسلم کا لفظ ہے۔ لیکن وسیع تر انطباق کے اعتبار سے، اس کا تعلق ہر انسان ،ہر عورت اور ہر مرد سے ہے۔ جو آدمی اِس بات کو جانتا ہو کہ آخر کار اُس کو اللہ کے سامنے حاضر ہونا ہے، وہ اِس معاملہ میں کانپ اٹھے گا۔ وہ اِس حرام فعل سے، اُس سے بھی زیادہ بچےگا جتنا کہ کوئی شخص سانپ اور بچھو سے بچتا ہے۔
تنقید (criticism) ہر انسان کا ایک جائز حق ہے۔ مگر تنقید کو لازماً مبنی بر دلیل ہونا چاہئے۔ جس تنقید کے ساتھ دلیل شامل نہ ہو، وہ سخت گناہ ہے۔ علمی تنقید بلا شبہہ ایک خیر ہے، مگر غیر علمی تنقید بلاشبہہ ایک شر۔
واپس اوپر جائیں

سوچنے کا ماڈل

قرآن کی ایک آیت یہ ہے:قُلْ کُلٌّ یَعْمَلُ عَلَى شَاکِلَتِہِ فَرَبُّکُمْ أَعْلَمُ بِمَنْ ہُوَ أَہْدَى سَبِیلًا (17:84)۔ اس آیت میں شاکلہ سے مراد سوچنے کا ماڈل ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ لوگ خود اپنے ذہن کے مطابق اپنی سوچ کا ماڈل بنا لیتے ہیں۔ حالاں کہ صحیح طریقہ یہ ہے کہ لوگ رب العالمین کے ماڈل کو جانیں اور اس کے مطابق سوچیں اور رائے قائم کریں۔
اس آیت کو موجودہ زمانے پر منطبق کیجیے تو معلوم ہوگا کہ موجودہ زمانے کے مسلمانوں کا سوچنے کا ماڈل میڈیا کی بنیاد پر بنا ہے۔ میڈیا ایک بزنس ہے۔ میڈیا کا کام خبروں کو فروخت (sell)کرنا ہے۔ چوں کہ عام طور پر لوگ منفی خبروں کو زیادہ دلچسپی کے ساتھ سنتے اور پڑھتے ہیں۔ اس لیے میڈیا عملاً منفی خبروں کا میڈیا بن گیا ہے۔ مسلمان روزانہ اسی قسم کی خبروں کو سنتے اور پڑھتے ہیں اور انھیں خبروں کا چرچا کرتے ہیں۔ اس لیے ان کے سوچنے کا ماڈل وہی بن گیا ہے جو میڈیا کا ماڈل ہے۔
یہ ماڈل رب العالمین کے نزدیک بلاشبہ قابلِ رد ہے۔ صحیح طریقہ یہ ہے کہ مسلمان ربانی ماڈل کے مطابق سوچیں۔ ربانی ماڈل، قرآن کے مطابق مبنی بر امن (peace)ماڈل ہے۔ یعنی چیزوں کو مثبت انداز میں دیکھنا اور امن کے مطابق اپنے عمل کا منصوبہ بنانا۔ مگر عملاً موجودہ زمانے کے مسلمان اس سے تقریباخالی ہیں۔
موجودہ زمانے کے مسلمانوں کے لیے صحیح آغاز یہ ہے کہ وہ اپنے سوچنے کے ماڈل کو بدلیں۔ وہ چیزوں کو منفی نظر سے سوچنے کا طریقہ ختم کریں۔ وہ منفی چیزوں میں بھی مثبت پہلو دریافت کریں۔ بظاہر ناموافق باتوں کو بھی وہ موافق زاویۂ نظر سے دیکھیں۔ نفرت ، شکایت، احتجاج ، سازش، جیسے الفاظ کو وہ اپنی ڈکشنری سے نکال دیں۔ جب تک ایسا نہیں ہوگا، مسلمانوں کو اللہ کی نصرت ملنے والی نہیں۔ کیوں کہ اللہ کی نصرت ان لوگوں پر آتی ہے جو شاکلۂ خویش کے بجائے شاکلۂ رب پر اپنی زندگی کو قائم کریں۔
واپس اوپر جائیں

ذاتی عقل، علمی عقل

2 مارچ 2009 کو نئی دہلی کے انٹرنیشنل سنٹر (لودھی روڈ) میں ایک سیمنار ہوا۔ اِس سیمنار میں جدید تعلیم یافتہ افراد شریک ہوئے۔ اس کا موضوع آزادئ اظہار رائے (freedom of expression) تھا۔ اِس موضوع کے تحت، اِس سیمنار میں حسب ذیل سوال پر مذاکرہ ہوا:
Is the Quran subject to rational scrutiny?
سیمنار کی دعوت پر راقم الحروف نے بھی اس میں شرکت کی۔ میںنے دیکھا کہ کانفرنس کے تمام شرکاء پرجوش طورپر اِس نظریے کی وکالت کررہے ہیں کہ قرآن کوئی منزَّہ عن الخطاء کتاب (infallible book) نہیں ہے۔ ہم کو یہ حق ہونا چاہئے کہ ہم اپنی عقل کو استعمال کرتے ہوئے قرآن پر فکری تنقید کرسکیں۔
اِس مذاکرہ اور اِس قسم کے دوسرے مذاکروں میں شرکت کے بعد میرا احساس یہ ہے کہ لوگ عقل (reason) کا لفظ تو بہت بولتے ہیں، لیکن لوگوں کو شاید یہ نہیں معلوم کہ عقل کی حدود کیا ہیں اور عقل کے استعمال سے کیا مراد ہے۔ اصل یہ ہے کہ عقل کے استعمال کی دو صورتیں ہیں۔ ایک ہے، ذاتی عقل (personal reason) کے تحت بولنا۔ اور دوسرا ہے، علمی طورپر ثابت شدہ حقائق کی روشنی میں عقل کا استعمال کرنا۔ علمی اعتبار سے ذاتی عقل کی کوئی اہمیت نہیں، عقل کا صرف وہی استعمال درست ہے جو ثابت شدہ حقائق کی بنیاد پر کیاگیا ہو:
One's reason is only the capacity to understand. Reason itself is not an authority. The scientific method in this regard is that if one has some idea, one has to examine it on the basis of scientifically established facts. Only after this, one's idea will be regarded as correct. Otherwise, it is simply personal reason or pure reason. In this sense, reason is of two kinds:
1. Reason verified by scientific facts.
2. Reason unsupported by such verification.
مذکورہ سیمنار میں، میںنے یہ بات کہی تو وہاں کوئی شخص اس کو رد نہ کرسکا۔ تاہم ایک صاحب نے کہا کہ اگر کوئی شخص اپنی ذاتی عقل سے کوئی رائے بنائے تو اس کی قدروقیمت کیا ہے۔
What, if any, is the validity of reason unsupported by scientific verification?
میں نے کہا کہ محض ذاتی عقل کی بنیاد پر جورائے قائم کی جائے، وہ دوسروں کے لئے ناقابلِ قبول ہوگی۔ کسی شخص کی ذاتی رائے دوسروں کے لئے اسی وقت قابلِ قبول ہوسکتی ہے جب کہ وہ ثابت کرے کہ اس کی رائے مسلّمہ علمی بنیاد پر قائم ہے:
Personal reason unsupported by scientific data is invalid. If one wishes to follow his personal reason, he may do so. But he certainly should not expect that others will subscribe to such kind of thought. If you want to convince others you will have to substantiate your personal views on the basis of scientifically established data.
قرآن کی صداقت
میرے تجربے کے مطابق، قرآن کے ذیل میں ریشنل اسکروٹنی (rational scrutiny) کا لفظ ایک غیر متعلق (irrelevant) لفظ ہے۔ قرآن کے ذیل میں زیادہ صحیح بات یہ ہے کہ اس کے لیے ریشنل اسٹڈی (rational study) کا لفظ استعمال کیا جائے۔ قرآن نے اِس معاملے میں مطالعے کا جو اصول مقرر کیا ہے، وہ بلا شبہہ ایک علمی اصول ہے۔اِس سلسلے میں قرآن کی ایک آیت یہ ہے: لو کان من عند غیر اللہ لوجدوا فیہ اختلافاً کثیرا (4:82) یعنی اگر یہ (قرآن) اللہ کے سوا کسی اور کی طرف سے ہوتا تو وہ اس کے اندر بڑا اختلاف پاتے۔
اِس آیت کے مطابق، قرآن کی صداقت(veracity) کو جاننے کا معیار یہ ہے کہ قرآن کے بیانات کا علمی مسلّمات (scientific facts) سے تقابل کرکے دیکھا جائے۔ اگر دونوں میں کوئی ٹکراؤ نہ ہو تو وہ اِس بات کا ثبوت ہوگا کہ قرآن ایک ایسی کتاب ہے جس کی صداقت عقلی معیار پر ثابت ہورہی ہے۔ یہی قرآن کے عقلی مطالعے کا واحد طریقہ ہے۔
قرآن کے بیان کا ایک حصہ وہ ہے جس میں زمین وآسمان، یعنی فزیکل ورلڈ(physical world) کے بارے میں کچھ بیانات دیے گیے ہیں۔ یہ موضوع،قرآن اور سائنس کے درمیان مشترک ہے۔ قرآن پر عقلی غور وفکر کا صحیح طریقہ یہ ہے کہ یہ دیکھا جائے کہ مشترک موضوعات میں قرآن نے جو حوالے دئے ہیں، وہ سائنس کے مسلمات سے مطابقت رکھتے ہیں یا اُس سے ٹکرارہے ہیں۔ راقم الحروف نے اِس حیثیت سے تفصیلی مطالعہ کیا ہے۔ میں نے اپنی دوسری کتابوں (مذہب اور جدید چیلنج، عقلیات اسلام، وغیرہ) میں مثالوں کے ذریعہ یہ واضح کیا ہے کہ اِن مشترک موضوعات میں قرآن کے بیان اور سائنس کے بیان میں کوئی ٹکراؤ نہیں۔
یہ واقعہ قرآن کی صداقت (veracity) کا ایک عقلی ثبوت ہے۔ مشترک موضوعات میں قرآن کے بیان کے درست ہونے سے ہم کو یہ قرینہ (probability)ملتا ہے کہ ہم یہ قیاس کرسکیں کہ غیر مشترک موضوعات میں بھی قرآن کے بیانات درست ہیں۔ اِس طریقِ استدلال کو سائنس میں معقول (valid) قرار دیا گیا ہے اور اِس کو استدلال بذریعہ احتمال (argument from probability) کہاجاتا ہے، یعنی معلوم دنیا کے بارے میں قرآن کے بیانات کے درست ثابت ہونے سے یہ قرینہ ملتا ہے کہ غیر معلوم دنیا کے بارے میں بھی قرآن کے بیانات احتمالی طورپر (probably) درست ہیں۔ اِس اصولِ استدلال کے بارے میں مزید معلومات کے لیے حسب ذیل کتابیں ملاحظہ فرمائیں۔
Science and the Unseen World by Arthur Eddington
Human Knowledge by Bertrand Russell
علم کی دو قسمیں
عقل کا استعمال کسی خلا میں نہیں ہوتا، بلکہ وہ موجودہ دنیا میں ہوتاہے جس دنیاکے اندر ہم زندگی گزارتے ہیں، مطالعے سے معلوم ہوتا ہے کہ اِس دنیا کی تمام چیزیں ایک قسم کی نہیں ہیں، بلکہ یہاںتنوع (diversity)پایا جاتا ہے۔ چنانچہ فلاسفہ نے علم کی دوقسمیں کی ہیں — چیزوں کا علم(knowledge of things)، سچائی کا علم (knowledge of truths)۔
انسان کے پاس صرف ایک ہی ذریعہ ہے جس سے وہ اِن علوم تک پہنچ سکتا ہے اور وہ عقل (reason) ہے۔ آدمی اپنی عقل کو استعمال کرکے دونوں قسموں کے علم تک رسائی حاصل کرسکتا ہے۔ انسان کےپاس ذاتی طورپر، عقل کے سوا، کوئی دوسرا ذریعہ نہیں جس سے وہ اِن علوم سے واقفیت حاصل کرسکے۔
تاہم جس طرح علوم کی دو قسمیں ہیں، اُسی طرح عقل کے استعمال کی بھی دو قسمیں ہیں۔ جہاں تک چیزوں کو جاننے کا معاملہ ہے، اُن کے سلسلے میں مشاہدہ (observation) اور تجربہ (experience) کے ذرائع کو استعمال کرنا ممکن ہے، طبیعی علوم (physical sciences) کے مطالعے کا دائرہ چیزیں (things) ہیں، اِس لیے طبیعی علوم میں اصلاً مشاہدہ اور تجربہ کے ذرائع کو استعمال کیا جاتا ہے۔
اب سوال یہ ہے کہ علم کا دوسرا دائرہ، یعنی سچائیوںتک کس طرح پہنچا جائے۔ موجودہ زمانے کے علماءِ سائنس کا اِس پر اتفاق ہے کہ وہ چیز جس کو سچائی کہا جاتا ہے، اُس تک پہنچنے کا صرف ایک ذریعہ ہے اور وہ استنباط (inference) ہے، یعنی مشاہداتی حقائق کے حوالے سے، غیرمشاہداتی حقائق کے علم تک پہنچنا۔
بیسویں صدی کے نصف اول تک طبیعی سائنس (physical science) کی دنیا میں عام طورپر یہ سمجھا جاتا تھا کہ علم وہی ہے جو مشاہداتی ذرائع سے معلوم ہو۔ لیکن علم کا سفر جب عالمِ کبیر (macroworld)سے گزر کر عالمِ صغیر (microworld) تک پہنچا تو یہ مفروضہ ٹوٹ گیا۔ اب یہ تسلیم کرلیا گیا کہ استنباط بھی علم کے حصول کا ایک ذریعہ ہے، شرط یہ ہے کہ وہ مسلّمہ علمی قواعد کی بنیاد پر کیاگیا ہو۔ یہی وہ مقام ہے جہاں عقلی طریقِ مطالعہ اور اسلامی طریقِ مطالعہ کا فرق ختم ہوجاتا ہے۔ عقلی طریقِ مطالعہ، اسلام کے مطالعے کے لیے بھی اتنا ہی مفید بن جاتا ہے جتنا کہ دوسرے علوم کے لیے۔
اسلام کے عقائد کا تعلق عالمِ غیب (unseen world) سے ہے، اِس لیے بظاہر وہ عقلی مطالعے سے باہر کی چیز معلوم ہوتا ہے، لیکن استنباط کو مستندطریقِ مطالعہ ماننے کے بعد یہ فرق باقی نہیں رہتا۔ مثال کے طورپر وحی (revelation) کو لیجیے۔ اسلام کےمطابق، قرآن وحی پر مبنی ایک کتاب ہے۔ وحی مشاہدے سے باہر کی چیز ہے، اِس بنا پر بیسویں صدی کے نصف اول تک یہ سمجھا جاتا تھاکہ قرآن صرف ایک عقیدے کی کتاب ہے، اس کی صداقت کو عقلی بنیاد پر ثابت نہیں کیا جاسکتا۔ لیکن اب جب کہ استنباطی استدلال کو مستند استدلال سمجھا جاچکا ہے، اب اصولی طورپر یہ فرق باقی نہیں رہا۔
قرآن میں ایسے بیانات موجود ہیں جو استنباطی اصول کے مطابق، یہ ثابت کرتے ہیں کہ قرآن کا تعلق ایک ایسے ماخذ (source) سے ہے جو انسانی علم سے ماورا اپناوجود رکھتا ہے۔ اس معاملے کی ایک مثال وہ ہے جو قدیم مصر کے فرعون (Pharaoh Ramesses II) کے جسم سے تعلق رکھتا ہے۔(تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو: راقم الحروف کی کتاب ’’عظمتِ قرآن‘‘ )
ہر اتوار کو نظام الدین ویسٹ سی پی ایس سنٹر پر ساڑھے دس بجے سے صدر اسلامی مرکز کا خطاب ہوتا ہے۔ یہ خطاب پروگرام میں موجود سامعین کے علاوہ انٹر نیٹ پر لائیو کاسٹ کیا جاتا ہے، جسے مختلف مقامات پر سامعین سنتے ہیں۔ فروری2016 میں ان موضوعات پر خطاب ہوئے:
l تیس سکنڈ کا معاملہ
A Matter of 30 Seconds
| February 7, 2016
l خدا کا منصوبۂ تخلیق
The Creation Plan of God |
February 14, 2016
l خوفِ خدا
Fear of God |
February 21, 2016
lزاویۂ نظر
Angle of Vision
February 28, 2016
ان تمام خطابات کو سننے کے لیے ، اس لنک پر کلک کریں:
http://www.cpsglobal.org/podcast/sunday-lectures
واپس اوپر جائیں

حکمت کا راز

ایک روایت کے مطابق، پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: رأس الحکمة مخافة اللہ (الجامع الصغیر للسیوطی، حدیث نمبر4361) یعنی اللہ کا خوف حکمت کا سرا ہے۔
یہ حدیثِ رسول انسانی فطرت کی ایک حقیقت کو بتاتی ہے۔ وہ حقیقت یہ ہے کہ حکمت (wisdom) کسی کے اندر صرف کتابوں کے مطالعے کے ذریعے نہیں آتی، حکمت کے لیے ایک اور چیز لازمی طورپر ضروری ہے۔ اور وہ اللہ کا خوف ہے۔ خوفِ خدا کے بغیر آدمی صاحبِ علم تو بن سکتا ہے، لیکن وہ صاحبِ حکمت نہیں بن سکتا۔ اِس کا سبب یہ ہے کہ حکمت کے لیے معلومات کے علاوہ، ایک اور چیز ضروری ہے اور وہ کامل حقیقت پسندی (realistic approach) ہے۔ کامل حقیقت پسندی کے لیے ضروری ہے کہ آدمی تواضع (modesty) کی اُس آخری حد پر پہنچ چکا ہو جس کو کٹ ٹو سائز (cut to size) کہاجاتا ہےاور کٹ ٹو سائز انسان (man cut to size) کو وجود میں لانے کا راز صرف ایک ہے۔ اور وہ کامل معنوں میں اللہ کا خوف ہے۔
کوئی انسان جب دوسرے انسانوں کے درمیان ہوتا ہے تو ہر انسان اُس کو اپنے ہی جیسا ایک انسان دکھائی دیتا ہے۔ اِس بنا پر کسی انسان کے اندر یہ طاقت نہیں کہ وہ دوسرے انسان کو کٹ ٹو سائز انسان بنا سکے۔ یہ واقعہ صرف قادرِ مطلق خدا پر کامل ایمان کے ذریعے حاصل ہوتا ہے۔ انسان کی اِس فطرت کی بنا پر اِس معاملے میں صحیح فارمولا یہ ہے کہ — قادرِ مطلق خدا پر یقین سے انسان کا کٹ ٹو سائز ہونا، کٹ ٹو سائز انسان کے اندر کامل درجے میں حقیقت پسندی کا آنا اور کامل حقیقت کی بنا پر چیزوں کو ویسا ہی دیکھنا جیسا کہ وہ فی الواقع ہیں۔ یہی وہ حقیقت پسندانہ سوچ ہے جس کے نتیجے کا نام حکمت (wisdom) ہے۔
کسی انسان کے اندر یہ صفت ہمیشہ خدا کی نسبت سے پیدا ہوتی ہے، لیکن انسان چوں کہ سماج کے اندر رہتا ہے، اِس لیے اِس صفت کا عملی ظہور انسان کی نسبت سے ہوتا ہے۔ انسان کی نسبت سے اِس صفت کے ظہور ہی کا دوسرا نام حکمت ہے۔
واپس اوپر جائیں

اختلاف کا معاملہ

قرآن میں ایک حکم ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے: یٰٓاَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْٓا اِنْ جَاۗءَکُمْ فَاسِقٌۢ بِنَبَاٍ فَتَبَیَّنُوْٓا اَنْ تُصِیْبُوْا قَوْمًۢا بِجَــہَالَةٍ فَتُصْبِحُوْا عَلٰی مَا فَعَلْتُمْ نٰدِمِیْنَ (49:6) یعنی اے ایمان والو، اگر کوئی فاسق تمھارے پاس خبر لائے تو تم اچھی طرح تحقیق کرلیا کرو، کہیں ایسا نہ ہو کہ تم کسی گروہ کو نادانی سے کوئی نقصان پہنچا دو، پھر تم کو اپنے کئے پر پچھتانا پڑے۔
قرآن کی اس آیت میں اجتماعی زندگی کا ایک اصول بتایا گیا ہے۔ وہ یہ کہ جب کوئی شخص کوئی اختلافی بات کہے تو سننے والے کو ایسا نہیں کرنا چاہئے کہ وہ اس کو بدنیتی کا معاملہ سمجھ لے، اور کہنے والے کو برا آدمی سمجھنے لگے۔ اس کے بجائے صحیح طریقہ یہ ہے کہ اس طرح کے معاملے کو تحقیق کا معاملہ سمجھا جائے نہ کہ کسی شخص کے بارے میں رائے قائم کرنے کا معاملہ۔ کسی کے بارے میں رائے قائم کرنا صرف اتمام حجت کے بعدجائز ہے، اس سے پہلے نہیں۔
اصل یہ ہے کہ شکایت یا اختلاف کا سبب اکثر حالات میں بے خبری اور غلط فہمی ہوتا ہے۔ لوگ معاملے کے بارے میں صحیح معلومات نہ ہونے کی بنا پر ایک مخالفانہ رائے قائم کرلیتے ہیں۔ کسی کے بارے میں اس طرح رائے قائم کرنا درست نہیں۔ اسلامی تعلیم کے مطابق، اتمام حجت سے پہلے تحقیق ہے، اور اتمام حجت کے بعد رائے قائم کرنا۔
اجتماعی زندگی میں اکثر ایسا ہوتا ہے کہ لوگوں کو ایک دوسرے کے خلاف شکایت ہوجاتی ہے۔ یہ شکایت بڑھتے بڑھتے نفرت بن جاتی ہے، اور نفرت کے بعد مزید برائیاں پیدا ہوتی ہیں۔ مثلاً ایک دوسرے کو بدنام کرنا، ایک دوسرے کے خلاف الزام تراشی کرنا، ایک دوسرے کو اپنا دشمن سمجھ لینا۔ اس قسم کی اجتماعی خرابیوں کا سبب ہمیشہ یہی ہوتا ہے کہ لوگ تحقیق کے بغیر رائے قائم کرلیتے ہیں، وہ جو کچھ سنتے ہیں، اس کو درست سمجھ لیـتے ہیں۔ اس طریقے کا نتیجہ بے حد سنگین ہے— دنیا میں ندامت اور آخرت میں مواخذہ۔
واپس اوپر جائیں

مدح، تنقید

احادیث میںکثرت سے یہ تلقین کی گئی ہے کہ تم کسی کی مدح نہ کرو۔ مثلاً رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ: اذا رأیتم المداحین فاحثوا فی وجوہہم التراب (صحیح مسلم، حدیث نمبر3002) یعنی جب تم مدح کرنے والوں کو دیکھو تو اُن کے منہ پر مٹی ڈال دو۔ اسی طرح ایک روایت میںآیا ہے: سمع النبی صلی اللہ علیہ وسلم یثنی علی رجلٍ و یطریہ فی مدحہ، فقال أہلکتم او قطعتم ظہر الرجل (صحیح بخاری، حدیث2663) یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سُنا کہ ایک شخص دوسرے شخص کی تعریف کررہا ہے اور اُس کی تعریف میں وہ مبالغہ کررہا ہے۔ آپ نے فرمایا کہ تم نے اس شخص کو ہلاک کردیا یا یہ فرمایا کہ تم نے اُس کی کمر توڑ دی۔
اسی طرح خلیفۂ ثانی عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے بارہ میںایک روایت میں آیا ہے کہ اُنہوں نے کہا: المدح الذبح (الأدب المفرد، باب ما جاء فی التمادح)۔یعنی مدح کرنا آدمی کو ذبح کرنا ہے۔ اسی طرح ایک روایت میں آیا ہے کہ حضرت عمر نے ایک شخص کو دوسرے شخص کی تعریف کرتے ہوئے سُنا تو اُنہوں نے کہا: عقرت الرجل، عقرک اللہ(الأدب المفرد، باب ماجاء فی التمادح) یعنی تم نے اُس شخص کو ذبح کردیا، اللہ تمہارے ساتھ بھی ایسا ہی کرے۔
حدیث اور آثارکی کتابوںمیں اس طرح کی بہت سی روایتیں آئی ہیں۔ اُن سے معلوم ہوتا ہے کہ مدح کا طریقہ دینی مزاج کے خلاف ہے۔ بعض اوقات اعتراف واقعہ یا اورکسی مصلحت سے کسی کی تعریف کی جاسکتی ہے۔ مگر عمومی طورپر اسلام میںاُس چیز کو سخت نا پسند کیا گیا ہے جس کو مدح خوانی یا قصیدہ گوئی کہا جاتاہے۔ اس قسم کی تعریف مادح کے لیے مصلحت پرستی ہے اورممدوح کے لیے اُس کو عُجب کی غذا دینا ہے۔ اس لیے یہ فعل مادح اورممدوح دونوں کے لیے ہلاکت خیز ہے۔
تاہم یہ بات قابل غور ہے کہ احادیث میں تعریف کی مذمت تو کی گئی ہے مگر تنقید کی مذمت نہیں کی گئی ۔ غالباً کوئی بھی صحیح حدیث ایسی نہیں جس میںتنقید کے فعل کو اُس طرح مطلق طورپر مذموم قرار دیا گیا ہو جس طرح مدح کو مذموم قرار دیا گیا ہے۔ بلکہ اس کے برعکس تنقید کی حوصلہ افزائی کی گئی ہے۔ مثلاً بہت سی حدیثوں میں لسان کے ذریعہ نہی عن المنکر کا حکم آیا ہے اوراُس کوایمان کی لازمی علامت بتایا گیاہے۔ اسی طرح حدیث میں بتایا گیا ہے کہ سلطان کے سامنے کلمۂ حق کہنا ایک افضل جہاد ہے، وغیرہ۔
ظاہر ہے کہ اس قسم کا کام تنقید ہی کی زبان میںہوگا، نہ کہ تعریف کی زبان میں۔ جب بھی ایک شخص کسی برائی کو دیکھے، خواہ برائی کرنے والا کوئی عام آدمی ہو یا خاص آدمی، اور پھر وہ اُس کے خلاف لسانی جہاد کرے تو یہ لسانی جہاد عین وہی فعل ہوگا جس کو تنقید کہا جاتاہے۔ نقد یا تنقید در اصل لسانی جہاد کا ہی دوسرا نام ہے۔
اب سوال یہ ہے کہ شریعت میں مدح اور تنقید کے درمیان یہ فرق کیوں کیا گیا ہے۔ اس فرق کا سبب یہ ہے کہ مدح ایک اخلاقی برائی ہے جب کہ تنقید ایک اعلیٰ درجہ کی علمی اور اخلاقی خوبی ہے۔ کسی معاشرہ میں مدح کا رواج پورے معاشرہ کو منافقت کامعاشرہ بنادیتا ہے۔ اس کے مقابلہ میں جس سماج میںتنقید اور اختلاف کو سننے کا مزاج ہو وہ معاشرہ ذہنی اور فکری ترقی کی طرف رواں دواں رہتا ہے۔
تنقید ایک مسلسل احتساب کا عمل ہے۔ تنقید زندہ معاشرہ کی علامت ہے۔ کسی معاشرہ میں تنقید کا عمل نہ ہونا یا تنقید کو بُرا سمجھنا صرف اُس وقت ہوتا ہے جب کہ معاشرہ زوال کا شکار ہوگیا ہو۔ وہ زندگی کی حرارت کھو بیٹھا ہو۔ کھلے ذہن کے ساتھ سوچنے کی صلاحیت اُس کے اندر باقی نہ رہی ہو۔ تنقید کی حیثیت ایک علمی اور فکری چیلنج کی ہے۔ چیلنج ہر قسم کی ترقی کی واحد ضمانت ہے۔ جس معاشرہ میںچیلنج نہ ہو وہ معاشرہ کبھی ترقی نہیں کرسکتا۔ اسی طرح جو معاشرہ تنقید سے محروم ہوجائے وہ علمی اور فکری ترقی سے بھی محروم ہوجائے گا۔
اس معاملہ کی تفصیل میںنے اپنی کتاب دین انسانیت کے باب ’’حریت فکر‘‘ میں بیان کی ہے اور اسلام کے دور اول کی مثالوں سے اُس کو واضح کیا ہے۔ تاہم تنقید اور تنقیص میں بہت زیادہ فرق ہے۔ یہاںتک کہ یہ کہنا درست ہوگا کہ تنقید مکمل طورپر جائز ہے اور تنقیص مکمل طورپر ناجائز ۔ تنقید بلاشبہہ ایک مطلوب چیز ہے اور تنقیص بلا شبہہ ایک غیر مطلوب چیز۔
تنقید در اصل علمی اختلاف کا دوسرا نام ہے۔ حقائق و واقعات کی روشنی میںخالص موضوعی انداز میںکسی معاملہ کا تجزیہ کرنا وہ چیز ہے جس کو تنقید کہا جاتا ہے۔ تنقید خواہ بظاہر کسی شخص کے افکار و آراء کے حوالہ سے ہو، مگراپنی حقیقت کے اعتبار سے وہ معاملہ کی اصولی وضاحت ہوتی ہے۔ اُس میں غلط اور صحیح کے درمیان تقابل ہوتا ہے، نہ کہ ایک شخص اور دوسرے شخص کے درمیان۔
اس کے برعکس تنقیص ایک شخصی عیب جوئی ہے۔ تنقیص کرنے والے کے سامنے اصلاً کسی امرِحق کی وضاحت نہیں ہوتی بلکہ ایک شخص کی تذلیل اورتحقیر ہوتی ہے جس کو اُس نے کسی وجہ سے اپنا مخالف سمجھ لیا ہے۔ تنقیص صرف ایک غیر اخلاقی فعل ہے، وہ کسی درجہ میں بھی کوئی علمی واقعہ نہیں۔ تنقید کا عمل اگر علمی اصول کی بنیاد پر ہوتا ہے تو تنقیص کا عمل کسی شخص کے خلاف ذاتی سبّ وشتم کی بنیاد پر۔
ملّی تعمیر کاکام سب سے پہلے ملّت کے افراد میں
شعور پیدا کرنے کا کام ہے۔ اِس کی بہترین صورت یہ ہے کہ
الرسالہ مشن کو ایک ایک بستی اور ایک ایک گھر میں پہنچایا جائے۔
واپس اوپر جائیں

موت کی یاد: ایک صحت مند عمل

ایک اسٹڈی کے ذریعے یہ معلوم ہوا ہے کہ موت کے بارے میں سوچنا ایک اچھی عادت ہے۔ وہ تندرستی کے لیے مفید ہے۔ اِس کا یہ فائدہ ہے کہ آدمی اپنی ترجیحات اور اپنے نشانے کو دوبارہ قائم کرتاہے۔ ایک نئے سائنسی تجزیے میں بتایاگیاہے کہ اگر آدمی کسی قبرستان سے گزرے، تب بھی وہ غیر شعوری طور اُس سے سبق لیتاہے اور اس کے اندر مثبت تبدیلی آتی ہے اور اس کے اندر دوسروں کی مدد کرنے کا جذبہ پیدا ہوتا ہے۔ اِس سے پہلے یہ سمجھا جاتا تھا کہ موت کے بارے میں سوچنا خطرناک ہے، اِس سے تخریبی ذہن پیدا ہوتا ہے۔ موت کی یاد سے تعصب اور تشدد کا جذبہ ابھرتاہے۔
Thinking about death boosts health
Thinking about death can actually be a good thing as an awareness of mortality can improve physical health and help in prioritizing one’s goals and values, as new study has revealed. According to a new analysis of recent scientific studies, even non-conscious thinking about death like walking by a cemetery could prompt positive changes and promote helping others. Past research suggests that thinking about death is destructive and dangerous, fuelling everything from prejudice and greed to violence.
(The Times of India, New Delhi, April 21, 2012, p. 21)
عام طورپر یہ سمجھا جاتاتھا کہ موت کے بارے میں سوچنے سے عمل کا جذبہ سرد پڑ جاتا ہے۔ اِس سے آدمی کے اندر منفی سوچ پیدا ہوتی ہے، مگر یہ صرف ایک قیاسی بات تھی۔ اِس مسئلے کا باقاعدہ علمی مطالعہ کیاگیا تو معلوم ہوا کہ معاملہ اِس کے بالکل برعکس ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ موت کے بارے میں سوچنا ایک اچھی عادت ہے۔ اِس سے آدمی کے اندر صحت مند صفات پیدا ہوتی ہیں۔
قرآن میں آیا ہے: کُلُّ نَفْسٍ ذَائِقَةُ الْمَوْتِ (3:185)۔ یعنی ہر شخص کو موت کا ذائقہ چکھنا ہے۔ اِس سلسلے میں ایک حدیثِ رسول اِن الفاظ میں آئی ہے أکثروا ذکر ہادم اللذات، الموت (سنن الترمذی، حدیث نمبر2307)۔یعنی موت کو بہت زیادہ یاد کرو، وہ لذتوں کو ڈھا دینے والی ہے۔ موت کی یاد حقیقت ِ حیات کی یاد ہے۔ موت کی یاد آدمی کو بتاتی ہے کہ اس کے پاس لامحدود وقت نہیں۔ کسی بھی لمحہ وہ وقت آسکتا ہے، جب کہ اس کی موجودہ زندگی ختم ہوجائے۔
اِس طرح موت کی یاد آدمی کے اندر جلدی کا احساس (sense of urgency) پیدا کرتی ہے۔ آدمی کے اندر یہ محرک (incentive) پیدا ہوتاہے کہ وہ اپنے کام کو جلد پورا کرے، کیوں کہ کچھ معلوم نہیں کہ کب وقت ہوجائے اور کام کرنے کا موقع باقی نہ رہے۔ اِس طرح موت کی یاد آدمی کو منصوبہ بند عمل کرنے پر ابھارتی ہے۔ اور منصوبہ بند عمل بلا شبہہ زندگی میں سب سے بڑی چیز ہے۔
موت کی یاد آدمی کے اندر ذہنی بیداری (intellectual awakening)کی صفت پیدا کرتی ہے۔ موت کی یاد آدمی کی چھپی ہوئی ذہنی صلاحیتوں کو جگاتی ہے۔ موت آدمی کے لیے ذہنی ارتقا (intellectual development) کا ذریعہ ہے۔
اسلامی نظریہ حیات کے مطابق، موت کی یاد کا فائدہ بے شمار گُنا بڑھ جاتا ہے۔ اسلامی نظریۂ حیات بتاتا ہے کہ آدمی کی زندگی موت پر ختم نہیں ہوتی۔ موت کے بعد ایک اور زندگی ہے جو کہ ابدی طورپر قائم رہنے والی ہے۔ آدمی موت سے پہلے کے دور حیات میں جیسا عمل کرے گا، اُسی کے مطابق، وہ موت کے بعد کے دورِ حیات میں کامیاب یا ناکام رہے گا۔ یہ احساس آدمی کے اندر مقصدیت کا شعور پیدا کرتا ہے۔ وہ زیادہ با معنی انداز میں زندگی گزارنے کے قابل بن جاتا ہے۔
عام تصور کے مطابق، موت کی یاد صرف موت کی یاد ہے، یعنی خاتمۂ حیات کی یاد۔ لیکن اسلامی تصورِ حیات کے مطابق، موت کی یاد کا مطلب یہ ہے کہ آدمی بعد از موت دورِ حیات کے لیے تیاری کرے۔ وہ آج کی زندگی کو ایک موقع (opportunity)سمجھے، جب کہ وہ بعد کو آنے والے ابدی دورِ حیات کے لیے عمل کرسکتا ہے۔ یہ تصورِ موت آدمی کو اِس حقیقت کی یاد دلاتاہے— زندگی صرف ایک بار ملتی ہے۔ اب یہ آدمی کے اپنے اوپر ہے کہ وہ اپنی زندگی کو کامیاب بناتا ہے یا ناکام۔ وہ اِس پہلے اور آخری موقع کو استعمال کرتا ہے یا وہ اُس کو کھو دیتا ہے۔
واپس اوپر جائیں

کنٹری بیوشن کا سوال

ایک صاحب نے کہا کہ میں آپ کی تحریریں پڑھتا ہوں۔ آپ کی تحریریں مجھ کو مفید معلوم ہوتی ہیں۔ لیکن کچھ لوگ کہتے ہیں کہ آپ دوسروں کا کنٹری بیوشن نہیں مانتے۔ میں نے کہا کہ میرے بارے میں یہ بات بالکل بے بنیاد ہے۔ میں جو کچھ کہتاہوں وہ صرف یہ ہے کہ موجودہ زمانہ ایک نیا زمانہ ہے۔ مگر ہمار ے لکھنے والے لوگ رد عمل کی نفسیات کی بنا پرموجودہ زمانے سے بے خبر رہے، عربی داں بھی اور انگریزی داں بھی۔ اس بے خبری کی بنا پر ایسا ہوا کہ انھوں نے جو کچھ لکھا وہ جدید تقاضوں کے لحاظ سے غیر متعلق (irrelevant) تھا، وہ جدید ذہن کو ایڈریس کرنے والا نہ تھا۔
یہ بات میں تین موضوعات کے بارے میں کہتا ہوں — معرفت، دعوت، جدید چیلنج۔ موجودہ زمانے کے لکھنے والوں نے بظاہر اسلام کے ہر پہلو پر کتابیں لکھیں، مگر ان کی کتابیں جدید فکری مستویٰ کے مطابق نہ تھیں۔اگر کسی کو میری بات سے اختلاف ہو تو وہ متعین مثال کی زبان میں بتائےکہ مذکورہ تین موضوعات پر کس مصنف نے کون سی کتاب لکھی ہے۔ کسی اور پہلو سے کس کا کنٹری بیوشن کیا ہے،وہ ایک الگ سوال ہے۔ میری مذکورہ بات سے اس کا کوئی براہ راست تعلق نہیں۔کسی کتاب کو جانچنے کا معیار یہ ہے کہ وہ مخاطب کے ذہن کو ایڈریس کرنے والی ہو۔ اس حقیقت کو قرآن میں ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے وَقُلْ لَہُمْ فِی أَنْفُسِہِمْ قَوْلًا بَلِیغًا (4:63)۔ اور ان سے ایسی بات کہو جو ان کے دلوں میں اتر جائے۔
دوسرے لفظوں میں یہ کہ بات کو پنٹریٹنگ (penetrating) اسلوب میں کہنا۔یعنی ایسے اسلوب میں جو مخاطب کے ذہن کو ایڈریس کرنے والا ہو۔ اس اصول کا تقاضا ہے کہ بولنے والا بولنے سے پہلے مخاطب کے ذہن کو غیر متعصبانہ انداز میں پڑھے۔ وہ مخاطب کے ذہن کو اس طرح دیکھے جس طرح مخاطب خود اس کو دیکھتا ہے۔ مخاطب کی اس طرح دریافت کے بعد ہی یہ ممکن ہے کہ کہنے والا اپنی بات کو اس طرح کہے جو مخاطب کے ذہن کو ایڈریس کرنے والی بن جائے۔ اس طرح کے کلام کی دو لازمی شرطیں ہیں، یعنی مخاطب سے کامل واقفیت اور اس سے کامل خیرخواہی۔
واپس اوپر جائیں

غلطی کا اعتراف

اگر کسی سے معاملہ کرتے ہوئے، آپ سے کوئی غلطی ہوجائے۔ اس کے بعد آپ شرمندہ ہوں، اور فوراً یہ کہہ دیں کہ بھائی صاحب، مجھ سے غلطی ہوگئی۔ مجھ کو معاف کردیجیے:
Sorry, I was wrong !
اگر آپ ایسا کہیں۔ تو آپ کی طرف سے یہ غلطی پر معافی مانگنے کا معاملہ ہوتا ہے۔ لیکن دوسرے شخص کے لیےوہ اس کے ضمیر (conscience) کو جگانے کا معاملہ بن جاتا ہے۔ اس کا ضمیر اس سے کہتا ہے کہ دوسرے شخص نے شرافت کا ثبوت دیا ہے۔ تم کو بھی اسی طرح شرافت کا ثبوت دینا چاہیے۔ وہ اگر اپنی غلطی کی معافی مانگ رہا ہے تو تم کو بھی اس کے ساتھ اسی درجے کا کوئی معاملہ کرنا چاہیے۔
غلطی کی معافی مانگنا بظاہر ایک پسپائی کا معاملہ ہے۔ لیکن انسانی نفسیات کے اعتبار سے وہ اقدام کا ایک معاملہ ہے۔ معافی مانگنے والااپنے شرافت کا ثبوت دے کر فریقِ ثانی کو مجبور کرتا ہے کہ وہ بھی اس کے ساتھ شرافت کا ثبوت دے۔ تاکہ لوگوں کی نظر میں اور خود اپنی نظر میں وہ کم تر ثابت نہ ہو۔
غلطی کرنے کے بعد اپنی غلطی کا اعتراف نہ کرنا، معاملے کو بڑھاتا ہے۔ اس کے برعکس، غلطی کرنے کے بعد غلطی کا اعتراف کرنا معاملےکو ختم کردیتا ہے۔ ایک واقعہ جو انسانوں کے درمیان نفرت کا سبب بن سکتا تھا، وہ دونوں کو ایک دوسرے کا دوست بنا دیتا ہے۔ آدمی نے غلطی کرکے جو کچھ کھویا تھا، وہ غلطی کا اعتراف کر کے اس سے بہت زیادہ پالیتا ہے۔
غلطی کرنے کے بعد ، اپنی غلطی کی صفائی پیش کرنا یا یہ ثابت کرنے کی کوشش کرنا کہ اس کی غلطی ، غلطی نہیں تھی، صرف نادانی کاکام ہے۔ صحیح طریقہ یہ ہے کہ آدمی غلطی کرنے کے بعد فوراً اپنی غلطی کومان لے۔ فورا اپنی غلطی کا اعتراف نہ کرنا ایک موقعے کو کھونے کے ہم معنی ہے، ایک ایسا موقعہ جو دوبارہ کبھی آنے والا نہیں۔
واپس اوپر جائیں

توبہ کا عمل

قرآن کی تعلیمات میں سے ایک تعلیم وہ ہے جس کو توبہ کہا گیا ہے۔ حدیث کے الفاظ میں توبہ کی اصل حقیقت ندامت (repentance) ہے(مسند احمد، حدیث نمبر3568)۔ توبہ کرنے والے کے لیے قرآن میں یہ الفاظ آئے ہیں: فَأُولَئِکَ یُبَدِّلُ اللہُ سَیِّئَاتِہِمْ حَسَنَاتٍ (25:70)۔یعنی اللہ ایسے لوگوں کی برائیوں کو بھلائیوں سے بدل دے گا۔
اس کے مطابق ، توبہ ایک ایسی چیز ہے جس سے سیٔہ (برائی) حسنہ (نیکی) میں بدل جاتی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جو سچے ایمان والے ہوں ،وہ جب غلطی کرتے ہیں تو اس کے بعد ان کے اندر شدید ندامت پیدا ہوتی ہے۔ یہ ندامت ان کے لیے ایک ذہنی صدمہ (intellectual shock) بن جاتی ہے۔ ان کے ذہن میں ایک شدید ہل چل پیدا ہوتی ہے۔ اس ذہنی ہل چل کے ذریعے ان کے اندر ایک تخلیقیت (creativity) جاگتی ہے۔ ان کے اندر ذہنی ارتقا کا عمل جاری ہوجاتا ہے۔ فطرت کے قانون کے مطابق ، اس عمل (process) کو ان الفاظ میں بیان کیا جاسکتا ہے— غلطی، اس کے بعد ندامت، اور پھر نتیجۃً ذہنی ارتقا:
mistake + repentance = intellectual development
اجتماعی زندگی میں ایسا ہوتا ہے کہ ایک شخص کی بات دوسرے شخص کے اندر غصہ پیدا کرتی ہے۔ اس وقت انسان دو امکان (options)کے درمیان رہتا ہے۔ یا وہ فرشتے کی آواز کو سنے اور اس کی پیروی کرے، یا وہ شیطان کی آواز کو سنے اور اس کے پیچھے چلنے لگے۔ فرشتے کی آواز سننے کا یہ نتیجہ ہوتا ہے کہ آدمی کے اندر محاسبہ (introspection) کا عمل جاگتا ہے۔ وہ اپنے اوپر نظر ثانی کرنے لگتا ہے۔ اس طرح آدمی کے اندر خود احتسابی کا عمل جاگتا ہے، جو باعتبارِ نتیجہ ذہنی ارتقا کا سبب بن جاتا ہے۔ اس کو وہ حقیقتیں سمجھ میں آنے لگتی ہیں، جو اس سے پہلے اس کے لیے نامعلوم بنی ہوئی تھیں۔ اس کے مقابلے میں جو شخص رد عمل کا شکار ہوجائے، اس کا وہ حال ہوگا جو قرآن کی ایک آیت میں بیان ہوا ہے (الاعراف202 )۔
واپس اوپر جائیں

منفی سوچ کا مزاج

قرآن میں ایک کردار کا ذکر ان الفاظ میں آیا ہے۔ یہ دو آیتیں ہیں، ان کا ترجمہ یہاں نقل کیا جاتا ہے۔ یعنی اور ان کو اس شخص کا حال سناؤ جس کو ہم نے اپنی آیتیں دی تھیں تو وہ ان سے نکل بھاگا۔ پس شیطان اس کے پیچھے لگ گیا اور وہ گمراہوں میں سے ہوگیا۔ اور اگر ہم چاہتے تو اس کو ان آیتوں کے ذریعہ سے بلندی عطا کرتے مگر وہ تو زمین کا ہو رہا اور اپنی خواہشوں کی پیروی کرنے لگا۔ پس اس کی مثال کتے کی سی ہے کہ اگر تو اس پر بوجھ لادے تب بھی ہانپے اور اگر چھوڑ دے تب بھی ہانپے۔ یہ مثال ان لوگوں کی ہے جنھوں نے ہماری نشانیوں کو جھٹلایا۔ پس تم یہ احوال ان کو سناؤ تاکہ وہ سوچیں۔(7:175-176)
یہاں آیت سے مراد ربانی رہنمائی ہے اور ہانپنے سے مراد شکایت کا مزاج (complaining mentality)ہے۔جو شخص یا گروہ ربانی رہنمائی سے سبق نہ لے ، وہ ہر حال میں شیطان کا پیرو بن جائے گا۔ ایک صورتِ حال میں ایک قسم کی منفی بات کہے گا اور اگر صورتِ حال بدل جائے تو وہ دوسری قسم کی منفی بات بولنا شروع کردے گا۔مثلا ایک شخص اگر شیطان کے زیر اثر منفی انداز میں سوچنے کا عادی بن جائے ۔تواس کا حال یہ ہوگا کہ اگر اس کو ایک اعتبار سے اچھے حالات ملیں تو وہ غلط تقابل کرکے اس میں شکایت کا ایک پہلو نکال لے گا۔اور اگر حالات بدل جائیں تو وہ دوبارہ اپنے بےاعترافی کے مزاج کی بنا پر ایک اور پہلو شکایت کا نکال لے گا۔ وہ دونوں حالتوں میں منفی بولی بولے گا۔ ایک نوعیت کے حالات ہوں تب بھی، اور دوسرے نوعیت کے حالات ہوں تب بھی۔
اصل یہ ہے کہ قانونِ فطرت کے مطابق، زندگی کسی کے لیے بھی مکمل طور پر بے مسئلہ نہیں ہوتی۔ کبھی ایک مسئلہ تو کبھی دوسرا مسئلہ۔ اس معاملے کا حل صرف ایک ہے۔ وہ یہ کہ آدمی اپنی منفی سوچ کو بدلے۔ وہ بظاہر شکایت کے حالات میں بھی مثبت ذہن سے سوچنے کا طریقہ اپنائے،وہ مکمل طور پر مثبت انداز میں سوچنے والا بن جائے۔
واپس اوپر جائیں

اختلاف ایک برکت

عمر بن عبدلعزیز (وفات101 ھ)کو اسلام کی تاریخ میں پانچویں خلیفۂ راشد کا درجہ دیا جاتا ہے۔ ان کا ایک قول ان الفاظ میں نقل کیا گیا ہے: ما سرنی لو أن أصحاب محمد صلى اللہ علیہ وسلم لم یختلفوا، لأنہم لو لم یختلفوا لم تکن رخصة (المقاصد الحسنۃ، حدیث نمبر39)۔ یعنی میرے لیے یہ چیز باعث مسرت نہیں کہ اصحاب محمد میں اختلاف نہ ہوتا، اس لیے کہ اگر وہ اختلاف نہ کرتے تو ہم کو رخصت کا فائدہ نہ ملتا۔
عبادتی امور میں صحابہ کا اختلاف بعد کے زمانے میں مختلف فقہی اسکول کا ذریعہ بن گیا۔ اس کا سبب یہ تھا کہ بعد کے علماء نے اختلاف کے معاملے میں ترجیح کا طریقہ اختیار کیا۔ یعنی مختلف مسالک میں کسی ایک طریقہ کو راجح اور کسی کو مرجوح قرار دینا۔ اس سے فقہ میں مختلف مدرسے بن گیے۔ اور بالآخر امت کے اندر فقہی تشدد پیدا ہوگیا۔
عمر بن عبدالعزیز کا یہ قول ایک حدیث پر مبنی ہے۔ پیغمبراسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: أصحابی کالنجوم بأیہم اقتدیتم اہتدیتم (جامع بیان العلم و فضلہ، حدیث نمبر 1760)۔ یعنی میرے اصحاب ستاروں کی مانند ہیں، تم ان میں سے جس کی بھی پیروی کرو، تم ہدایت پر رہوگے۔
صحابہ کا اختلاف اساسی امور (basics)میں نہیں ہے۔ بلکہ وہ جزئی امور(non-basics) میں ہے۔ اس طرح کے جزئی امور میں ہمیشہ تنوع (diversity)مطلوب ہوتی ہے۔ اس طرح کے جزئی امور میں توحد (یکسانیت) تلاش کرنا، غیر فطری ہے۔ صحیح طریقہ یہ ہے کہ اس طرح کے جزئی اختلاف کو تنوع پر محمول کیا جائے، ان کو توحد کا موضوع نہ بنایا جائے۔ اس اصول کو اختیار کرنے کی صورت میں امت کے اندر اتحاد باقی رہے گا۔ اس کی خلاف ورزی کا نتیجہ یہ ہوگا کہ امت کے اندر اختلاف و انتشار پیدا ہوجائے گا۔ ایک امت کئی فرقوں میں بٹ جائے گی۔ یہ اختلاف بڑھ کر غلو اور تشدد کی صورت اختیار کرلے گا۔ اسلام کی بعد کے زمانے کی تاریخ اس کی تصدیق کرتی ہے۔
واپس اوپر جائیں

نیت، بصیرت

اسلام میں نیت کی اہمیت بہت زیادہ ہے۔ لیکن صرف نیت کافی نہیں۔ ایک آدمی کے اندر اچھی نیت (good intention) موجود ہو تو وہ بلاشبہ انفرادی زندگی کے اعتبار سےایک کامیاب انسان بن سکتا ہے۔ لیکن جہاں تک اجتماعی زندگی کا سوال ہے۔ اس کی کامیابی کے لیے ایک اور چیز لازمی طور پر ضروری ہے۔ یہ بصیرت (wisdom) ہے۔بصیرت کے بغیر کوئی شخص اجتماعی زندگی کے امتحان میں پورا نہیں اترسکتا۔ خواہ وہ نیت کے اعتبار سے کتنا ہی اچھا انسان ہو۔ اس کا سبب یہ ہے کہ اجتماعی زندگی میں ہمیشہ بحران کی صورتیں پیدا ہوتی ہیں۔ اجتماعی زندگی میں وہی شخص کامیاب ہوسکتا ہے جس کے اندر بحران کو مینیج کرنے کی صلاحیت (art of crisis management) پائی جاتی ہو۔ اور یہ صفت صرف اسی شخص کے اند رپائی جاتی ہے جو ایک صاحبِ بصیرت انسان ہو۔
اسلام کے ابتدائی دور میں دونوں قسم کی مثالیں موجود ہیں۔ ایک مثال خالد بن ولید کی ہے۔ وہ اسلامی فوج کے سردار تھے۔ خلیفۂ دوم عمر کے زمانے میں ان کے ساتھ ایک ایسا واقعہ پیش آیا جو عام انسان کو بہت زیادہ برہم کرسکتا ہے۔ لیکن حضرت خالد بن ولید ایک با بصیرت انسان تھے، اس کو انھوں نے یہ کہہ کر اپنے لیے غیر موثر بنادیا: انی لا اقاتل فی سبیل عمر، ولکن اقاتل فی سبیل رب عمر ۔یعنی میں عمر کے راستے میں نہیں لڑتا، بلکہ میں عمر کے رب کے راستے میں لڑتا ہوں۔
دوسری تقابلی مثال سعد بن عبادہ کی ہے۔ سعد بن عبادہ مدینے کے قبیلۂ خزرج کے سردار تھے۔ہجرت سے پہلے بیعت عقبہ ثانیہ کے موقع پر انھوں نے اسلام قبول کیا تھا۔ ہجرت کے بعد وہ رسول اللہ کے ساتھی بن گیے۔ مدینے میں اسلام جو تیزی سے پھیلا، اس میں ان کا بڑا ہاتھ تھا۔ رسول اللہ کی آخری زندگی تک وہ اسی طرح اپنے حال پر قائم رہے۔ وہ اس وقت بدل گیے، جب کہ رسول اللہ کی وفات کے بعد ابوبکر صدیق کے ہاتھ پر خلافت کی بیعت ہوئی۔ روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ خلافت کا مستحق وہ انصار کو سمجھتے تھے۔ انھوں نے ابوبکر صدیق کے ہاتھ پر خلافت کی بیعت نہیں کی۔ اس کے بعد جب دوسرے مہاجر، عمر بن خطاب خلیفہ منتخب ہوئے تب بھی انھوں نے خلیفۂ دوم کے ہاتھ پر بیعت نہیں کی۔ وہ اسی حال پر قائم رہے۔ یہاں تک کہ وہ مدینہ میں ایک غیر مطلوب شخص بن گیے۔ اب وہ مدینہ چھوڑ کر شام چلے گیے۔ وہاں ہجرت کے پندرھویں سال ان کی وفات ہوگئی۔
خالد بن ولید اور سعد بن عبادہ دونوں اپنی انفرادی زندگی میں اچھے انسان تھے۔ لیکن دونوں کا دو مختلف انجام ہوا۔ خالد بن ولید کو مرکزی قیادت سے اختلاف ہوا۔ یہ ان کے لیے بحران کا وقت تھا۔ لیکن انھوں نے اپنی بصیرت سے اس بحران کو مینیج کرلیا۔ اس طرح ان کا اختلاف ان کی زندگی میں غیر موثر بن کر رہ گیا۔ اس کے برعکس سعد بن عبادہ کو مرکزی قیادت سے اختلاف ہوا۔ یہ ان کے لیے ایک بحران کا وقت تھا۔ وہ اس بحران کو مینیج نہ کرسکے۔ نتیجہ یہ ہوا کہ وہ صحابہ کی جماعت سے کٹ گیے۔
انفرادی زندگی کے مقابلے میں اجتماعی زندگی کا معاملہ بالکل مختلف ہے۔ انفرادی زندگی میں دوسروں سے اختلاف کی نوبت نہیں آتی۔ لیکن اجتماعی زندگی میں ہمیشہ اختلافات پیدا ہوتے ہیں۔ یہ اختلاف ایک امتحان (test) ہوتا ہے۔ جس آدمی کے اندر بصیرت (wisdom) کی صلاحیت موجود ہو، وہ اپنی بصیرت سے اس کی حقیقت کو سمجھ لے گا، اور اس کا منفی اثر قبول کرنے سے بچ جائے گا، لیکن جس انسان کے اندر بصیرت (wisdom) کا مادہ موجود نہ ہو، وہ اس بحران (crisis) کو مینیج کرنے میں ناکام رہے گا۔
مینیج نہ کرنے کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ اس آدمی کے ساتھ جو واقعہ پیش آتا ہے ، اس کو وہ غلط معنی میں لے لیتا ہے۔ ایک واقعہ جو فطری اسباب کے تحت پیش آیا، اس کے بارے میں وہ یہ سمجھے گا کہ میری حق تلفی ہوئی، میری قربانیوں کو نظر انداز کردیا گیا۔ مجھ پر دوسروں کو ترجیح دی گئی۔ میں سازش کا شکار ہوا، میری خدمات کونظر انداز کردیا گیا، وغیرہ۔ اس قسم کے خیالات اس کے ذہن پر چھاجائیں گے۔ اس کے اندر یہ صلاحیت نہ ہوگی کہ وہ معاملے کو صحیح زاویے سے دیکھے، اور اس کے برے اثر سے اپنے آپ کو بچا لے۔
واپس اوپر جائیں

عورت اور مرد

عورت اور مرد کے درمیان دو متضاد نسبتیں ہیں۔اور وہ ہے کامل حیاتیاتی مطابقت کے باوجود کامل حیاتیاتی فرق۔یہ تخلیق کا انوکھا توازن (unique balance) ہے۔اور یہ ایک اہم تمدنی مقصد کے لیے ہے۔ مگر بظاہر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ تخلیق کی اس حکمت کو شاید کسی نے نہیں سمجھا۔
قرآن میں اس حکمت کو دولفظوں میں اس طرح بیان کیا گیا ہے بَعْضُکُمْ مِنْ بَعْضٍ (3:195)۔ قرآن کی یہ آیت اشارہ کی زبان میں تھی۔ تدبر کے ذریعہ اس کی تفصیل کو جاننا تھا۔ لیکن بظاہر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ انسان نے اس حقیقت کو نہ قرآنی مطالعہ کے ذریعہ سمجھا اور نہ سیکولر مطالعہ کے ذریعہ۔
قدیم تاریخ میں یہ ہوا کہ انسان نے عورت کو مرد کے مقابلے میں کم سمجھا۔ اس بنا پر وہ فطرت کے مطابق، عورت کا صحیح استعمال دریافت نہ کرسکا۔ جدید تہذیب (modern civilization) کے زمانہ میں صنفی مساوات (gender equality) کا نظریہ اختیار کیا گیا۔ مگر یہ جدید نظریہ صرف قدیم نظریہ کا ردعمل (reaction) تھا۔ اس طرح قدیم ذہن اور جدید ذہن، دونوں افراط و تفریط کا شکار ہوئے اور اصل حقیقت تک پہنچنے میں ناکام رہے۔قدیم ذہن کے مطابق، اگر عورت اور مرد کے درمیان صنفی نامساوات (gender inequality) تھی تو جدید ذہن نے بتایا کہ عورت اور مرد کے درمیان صنفی مساوات (gender equality)ہے ۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ عورت اور مرد کے درمیان تکمیلی نسبت (gender complementarity) کا تعلق ہے۔
تخلیقی نقشہ کے مطابق عورت اور مرد ایک دوسرے کے لیے کاگ وھیل (cogwheel) کی مانند ہیں۔وہ ایک دوسرے کا تکملہ (complement) ہیں۔ دونوں میں سے ہر ایک کے اندر ایک اضافی خصوصیت (additional quality) ہے جس کے ذریعہ دونوں مل کر مقصدِ تخلیق کو پورا کرتے ہیں۔
واپس اوپر جائیں

خوشگوار تعلق کا راز

ایک شادی شدہ نوجوان نے سوال کیا کہ شوہر اور بیوی کے درمیان خوشگوار تعلق کا فارمولا کیا ہے۔ میں نے کہاکہ اس کا سادہ فارمولا صرف ایک ہے— مرد عورت کے جذباتی مزاج (emotional nature) کو برداشت کرے، اور عورت مردکے بے لچک مزاج (stubborn nature) کو برداشت کرے۔ اس کے بعد، ان شاءاللہ ،ساری عمر دونوں کے درمیان خوشگوار تعلق قائم رہے گا:
A woman should learn to adjust with the stubborn nature of a man, and a man should learn to adjust with the emotional nature of a woman.
عورت اور مرد ،دو متضاد (opposite) صنف نہیں ہیں،بلکہ دونوں ایک دوسرے کا تکملہ (counterpart) ہیں۔ اس بنا پر دونوں کے اندر بعض اضافی خصوصیات رکھی گئی ہیں۔ عورت کے اندر اگر جذبات زیادہ ہیں تو وہ اس کی اضافی خصوصیت ہے، وہ کسی کمی کی بات نہیں ۔ اسی طرح مرد کے اندر اگربے لچک مزاج ہے تو وہ اس کی کمزوری نہیں بلکہ وہ اس کی اضافی خصوصیت ہے۔ زندگی میں دونوں چیزیں یکساں طور پر ضروری ہیں۔ عورت اور مرد دونوں کو چاہیے کہ وہ اس فرق کو تخلیقی نظام (creation plan) کا حصہ سمجھیں۔ اگر دونوں اس حقیقت کو جان لیں تو دونوں کے اندر ایک دوسرے کے اعتراف کا مزاج پیدا ہوگا، نہ کہ شکایت اور ٹکراؤ کا مزاج۔
اپنے جذباتی مزاج کی بنا پر، عورت کے اندر نرمی ہوتی ہے۔ اس کے اندر یہ صلاحیت ہوتی ہے کہ وہ معاملے کو نرمی کے ساتھ سلجھائے۔ اسی طرح مرد کے بے لچک مزاج کا یہ فائدہ ہے کہ جہاں ضرورت ہو کہ معاملے کو زیادہ مضبوطی کے ساتھ ڈیل (deal)کیا جائے ، وہاں مرد اپنا رول ادا کرے۔ اس طرح عورت اور مرد دونوںکو یہ موقع ملتا ہے کہ وہ اپنا اپنا حصہ ادا کرتے ہوئے، زندگی کا نظام کامیابی کے ساتھ چلائیں۔
واپس اوپر جائیں

انسان کا عجز

قرآن میں آیا ہے  خُلِقَ الْإِنْسَانُ ضَعِیفًا ۔(4:28)یعنی انسان کمزور پیدا کیا گیا ہے۔ انسان کی کمزوری اس کی تخلیق میں شامل ہے۔ وہ کسی بھی تدبیر کے ذریعے ایسا نہیں کرسکتا کہ وہ ضعیف مخلوق کے بجائے قوی مخلوق بن جائے۔
ضعف انسان کی ایک ایسی عام صفت ہے کہ اگر انسان سوچے تو وہ ہر لمحہ اس کو یاد کرتا رہے گا ۔ مثلا آپ کھانا کھارہے ہیں، اگر آپ یہ سوچیں کہ میرا معدہ کھانے کو قبول نہ کرے تو میرے لیے میرا کھانا پتھر کی مانند بن جائے گا۔ آپ چیزوں کو دیکھ رہے ہیں ، اب آپ سوچیں کہ میری آنکھ سے اگر بینائی کا خاتمہ ہوجائے تو سورج کی روشنی میں بھی مَیں چیزوں کو دیکھ نہیں سکتا۔ یہی حال ان تمام چیزوں کا ہے جن کو آدمی روزانہ استعمال کرتا ہے۔ اور جن کی وجہ سے وہ زندہ رہتا ہے اور چلتا پھرتا رہتا ہے اور اپنے سارے کام کرتا ہے۔
انسان کا ضعف اس کے لیے صرف ضعف نہیں ۔ بلکہ وہ اس کے لیے وزڈم (wisdom) کا سب سے بڑا ذریعہ ہے۔ آدمی اگر اپنے عجز اور ضعف کو سوچے تو اس کے اندر سےبڑائی کا جذبہ ختم ہو جائے گا۔ وہ پورے معنوں میں متواضع (modest)انسان بن جائے گا۔ اور بلاشبہ تواضع ،انسان کی سب سے بڑی صفت ہے۔ اسی طرح آدمی اگر اپنے ضعف کو یاد کرے تو وہ کبھی اپنے خالق کی یاد سے غافل نہ ہوگا۔ کیوں کہ اس کا ضعف اس کو یاد دلائے گا کہ دنیا میں زندہ رہنے کے لیے اس کو ایک قابلِ اعتماد سہارا درکار ہے۔ اور یہ قابلِ اعتماد سہاراقادرِ مطلق خدا کے سوا کوئی اور نہیں۔
جس آدمی کو اپنے ضعیف ہونے کا زندہ شعور ہو، وہ آخری حدتک حقیقت پسند (realist) انسان بن جائے گا۔ وہ اپنے بارے میں زیادہ اندازہ (overestimation) کا شکار نہ ہوگا۔ اس کے اندر سے سرکشی کا مزاج پوری طرح ختم ہوجائے گا۔ وہ ایک ایسا انسان بن جائے گا جس کی نظر ہمیشہ خود اپنی کوتاہیوں پر ہوگی نہ کہ دوسرو ں کی غلطیوں پر۔
واپس اوپر جائیں

ممکن ، ناممکن

آپ جس عورت یا مرد سے ملیں، ہر ایک کو اندر سے غم گین (sad) پائیں گے۔ اس کا سبب کیا ہے۔ اس کا سبب صرف ایک ہے۔ اور وہ ہے لوگوں کا حقیقت پسند (realist)نہ ہونا۔ لوگ عام طور پر اس حقیقت سے بے خبر ہیں کہ دنیا میں وہ صرف اس چیز کو پاسکتے ہیں جو فطرت کے قانون کے مطابق ان کے لیے ممکن الحصول ہو، فطرت کے قانون کے مطابق جو چیز ان کے لیے ممکن الحصول نہ ہو، وہ ان کو ملنے والی ہی نہیں۔
اس حقیقت سےبے خبری کی بنا پر لوگ یہ غلطی کرتے ہیں کہ وہ ممکن اور ناممکن کے درمیان فرق نہیں کرتے۔ وہ ایسی چیز کے حصول کو اپنا مقصود بنا لیتے ہیں جو حقیقت کے اعتبار سے ان کو ملنے والی ہی نہ تھی۔ اگر آدمی اس حقیقت کو جانے اور وہ اپنی زندگی کا منصوبہ اس کے مطابق بنائے تو وہ اپنی زندگی کو یقینا زیادہ کار آمد بنا سکتا ہے۔
ہر آدمی کا پہلا فرض یہ ہے کہ وہ یہ دریافت کرے کہ دنیا کا نظام خالق کے مقرر کردہ قانونِ فطرت پر چل رہا ہے۔ یہ قانون کسی کے لیے بھی بدلنے والا نہیں۔ اس لیے ہر آدمی کی پہلی ضرورت یہ ہے کہ وہ فطرت کے قانون کو دریافت کرے، اور اپنی زندگی کا نقشہ اس کے مطابق بنائے۔ کوئی بھی شخص جو ایسا نہیں کرے گا، اس کے لیے اس دنیا میں کامیابی کا حصول ممکن نہیں۔
ایک جرمن مدبر نے درست طور پر کہا ہے کہ — سیاست ممکن کا کھیل ہے۔
Politics is the art of the possible
یہ اصول صرف سیاست کے لیے نہیں ہے بلکہ وہ زندگی کے ہر معاملے کے لیے ہے۔ جو شخص ایک ایسی چیز کو اپنا نشانہ بنائے گا جو فطرت کے قانون کے مطابق اس کو ملنے والی نہیں ہے، وہ یقینا ناکام ہو کر رہ جائے گی۔ اس کے برعکس جو شخص ممکن دائرے میں اپنا منصوبہ بنائے گا، وہ یقینا کامیابی کا مرتبہ حاصل کرے گا۔
واپس اوپر جائیں

وزڈم میگزین

ماہنامہ الرسالہ کا پہلا شمارہ اکتوبر 1976 میں شائع ہوا۔ اس وقت دہلی کے ایک تعلیم یافتہ مسلمان نے ماہنامہ الرسالہ پر اپنا تبصرہ کرتے ہوئے کہا تھا: آپ کا میگزین چلنے والا نہیں، اس کا سبب یہ ہے کہ آپ کا میگزین ایک سجسٹیو (suggestive) میگزین ہوگا۔ جب کہ آج کا انسان صرف ایسے میگزین کو چاہتا ہے جو انفارمیٹیو (informative) میگزین ہو۔ واقعات نے بتایا کہ مذکورہ مسلمان کی رائے درست نہ تھی۔ انھوں نے ثنائی طرز فکر (dichotomous thinking)کے تحت اپنا تبصرہ کیا تھا۔ ان کو شاید یہ معلوم نہ تھا یہاں میگزین کی ایک تیسری صورت بھی ہے، جس پر ان کا تبصرہ منطبق نہیں ہوتا۔ اور وہ ہے وزڈم میگزین (wisdom magazine) ۔ وزڈم میگزین ہمیشہ کامیاب ہوتا ہے، خواہ وہ کسی بھی زبان میں جاری کیا جائے۔
وزڈم کا مطلب دانش یا حکمت ہے۔ مثلاً ایک صاحب سے ملاقات ہوئی۔ وہ انجنیر ہیں۔ اور ایک یوروپین کمپنی میں سروس کرتے ہیں۔ معاشی اعتبار سے وہ ایک کامیاب انسان ہیں۔ ان کے پاس رہنے کے لیے ذاتی فلیٹ ہے۔ سواری کے لیے کار ہے۔ان کے بچے انگریزی اسکول میں پڑھ رہے ہیں۔ یہ سب کچھ کمپنی کی سروس کی بنا پر ہے۔ لیکن گفتگو کے دوران انھوں نے اپنی کمپنی کی شکایت کی ۔ انھوں نے کہا کہ کمپنی میں ایک امتیاز (discrimination) پایا جاتا ہے۔ وہ یہ کہ ان کے یہاں انڈین کی تنخواہ کم ہوتی ہے، اور وائٹ یوروپین کی تنخواہ بہت زیادہ۔
میں نے کہا کہ آپ کی شکایت درست نہیں۔ آپ غلط تقابل (wrong comparison) کا شکار ہیں۔ آپ یورپین کمپنی کا تقابل انڈین کمپنی سے کررہے ہیں۔ اس کے بجائے آپ کو ایک انڈین کمپنی کا تقابل دوسری انڈین کمپنی سے کرنا چاہیے۔اگر آپ صحیح تقابل(right comparison) کا طریقہ اختیار کریں تو آپ کی شکایت ختم ہوجائے گی۔ یہ وزڈم کی بات ہے۔ لوگوں کے اندر عام طور پر یہ وزڈم نہیں ہوتی۔ اس لیے وہ شکایت میں جیتے ہیں۔ ایسے حالت میں لوگوں کو ایک ایسے میگزین کی ضرورت ہے جو ان کے معاملات میں وزڈم کی بات بتائے۔
واپس اوپر جائیں

سوال و جواب

سوال
2015 سے میں ماہ نامہ الرسالہ کا قاری ہوں۔ آپ کی کتابیں بالخصوص پیغمبر انقلابـــــ، غیر ملکی سفر نامے، وغیرہ کا مطالعہ کرچکا ہوں۔ پوسٹ گریجویشن میں تاریخ خصوصی مضمون ہے۔ ایم اے کے دوران آپ کے مضمون تاریخِ انسانی کے مطالعے سے تاریخ کے متعلق مستفید ہوا۔ عالمی منظر نامے سے واقفیت رکھنے کے لیے Indian Express پڑھتا ہوں۔ انسانی تاریخ کے مختلف مراحل کو ذہن میں رکھ کر اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ آپ کا مشن صلح حدیبیہ پر اتفاق، صبر وضبط کا فارمولا، ہی انسانی زندگی اور اس کی بقاء اور ارتقاء کے لئے لازم ہیں۔اس دور انسانی میں جس میں آپ اور ہم جی رہے ہیں، آپ حالات کی سنگینی سے زیادہ واقف ہیں۔ ایسے وقت میں جب کہ لوگ اسلام کے نام پر، اسلام کو اس طرح پیش کررہے ہیں جو اسلام کی تعلیمات کے منافی ہیں،صلح حدیبیہ ماڈل کو سامنے رکھ کر مسلمانوں کو کیا کرنا چاہئے۔ صبر وضبط اپنی جگہ ، ان کی غلط فہمی رفع کرنے کے لئے کس راستے کا انتخاب کیا جائے۔(محمد اسماعیل اشفاق احمد، مسلم پورہ، مالے گاؤں)
جواب
ہمارا لٹریچر پورا کا پورا اسی سوال کا جواب ہے۔ آپ نے ابھی صرف چند کتابیں پڑھیں ہیں، اس لیے آپ کو یہ شک پیدا ہوا۔ اگر آپ تمام کتابیں پڑھیں، اور اسی کے ساتھ ہمارا ماہنامہ الرسالہ (اردو)، اور اسپرٹ آف اسلام (انگریزی) کا مطالعہ جاری رکھیں تو آپ کے تمام سوالات رفع ہو جائیں گے، ان شاء اللہ۔
اصل یہ ہے کہ عام طور پر لوگ وقتی مسائل میں الجھے رہتے ہیں۔ لوگوں کا یہی مزاج ہے جو لوگوں کے اندر ردعمل (reaction) کی نفسیات پیدا کرتا ہے۔ ردعمل کی نفسیات مزید بڑھ کر نفرت کی نفسیات بن جاتی ہے۔ اور نفرت کی نفسیات آخرکار لوگوں کو تشدد تک پہنچادیتی ہے۔ لوگوں کا حال یہ ہوجاتا ہے کہ اگر وہ فعال تشدد (active violence) میں مبتلا نہ ہوں تب بھی وہ منفعل تشدد (passive violence)کا شکار ہوکر رہ جاتے ہیں ۔اس نفسیات کا سب سے زیادہ برا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ لوگ مثبت سوچ سے محروم ہو جاتے ہیں۔ حالاں کہ مثبت سوچ ہی تمام ترقیات کا اصل زینہ ہے۔
سوال
میں الرسالہ کا مستقل قاری ہوں۔ یہاں چند سوالوں کی وضاحت مطلوب ہے، براہِ کرم رہنمائی فرمائیں۔
1- آپ نے اعتدال کے موضوع پر کئی مضامین لکھے ہیں، مگر یہ باہم متضاد معلوم ہوتےہیں۔ آپ نے اپنی کتاب ’’دین انسانیت‘‘ میں لکھا ہے کہ:’’معتدل انداز کا تعلق زندگی کےتمام معاملات سے ہے۔ ہر معاملے میں آدمی کو افراط اور تفریط سے بچنا ہے۔ ہر معاملے میں، دوانتہاؤں کے درمیان بین بین والی صورت اختیار کرنا ہے‘‘(صفحہ 125)۔ تاہم الرسالہ کے حالیہ شماروںمیں ، آپ اس کے برعکس لکھ رہے ہیں۔ اب آپ فرمارہے ہیں کہ’’اعتدال‘‘ کا تعلق تمام معاملات سے نہیں، بلکہ صرف عملی معاملات سے ہے۔(الرسالہ، جولائی 2014، ص 41، اکتوبر، ص 40، ستمبر 2015 ص 21)۔ مزید یہ کہ آپ نے حالیہ شمارے میں، اعتدال کا تقابل ’’حق وضلال‘‘ سے کیا ہے، جب کہ اعتدال کے مقابلے میں ہمیشہ افراط وتفریط کا لفظ استعمال ہوتا ہے۔ اس کی کیا وجہ ہے؟
2۔ آپ کی کتابوںمیں دعوت پر سب سےزیادہ زور دیا گیا ہے۔ سوال یہ ہے کہ دعوت کے علاوہ، ایک مومن پر، حقوق اللہ اور حقوق العباد کے تحت، دین کے دوسرے جو تقاضے ہیں، دین میں اُن کی اہمیت کیا ہے؟ مثلاًنماز، زکوة، حج، والدین کی خدمت، گھر والوں، پڑوسیوں اور دوسرے انسانوں کی نسبت سے عائدہونے والے حقوق وفرائض، وغیرہ۔
3۔ حدیث میں ’’عزل‘‘ کے بارے میں آیا ہے، کیا یہ جائز ہے۔ اِس کے متعلق آپ کی رائےکیا ہے۔(محمد نسیم خاں، لکھنؤ)
جواب
(1) میری پہلی عبارت میں آپ ’’تمام معاملات‘‘کے ساتھ’’عملی‘‘کا اضافہ کر دیں تو آپ کا شبہ اپنے آپ ختم ہوجائے گا۔ اعتدال کے بارے میں مَیں نے جو بات لکھی ہے، اس کو آپ نے غور سے نہیں پڑھا۔ آپ دوبارہ اس کو غور سے پڑھیے تو آپ کو اپنے سوال کا جواب مل جائے گا۔ میرا اصل نقطہ نظر یہ ہے کہ اعتدال کا تعلق فکری امور سے نہیںہے، بلکہ عملی معاملات سے ہے۔ یہ کوئی نئی بات نہیں ہے ، بلکہ عملا تمام علماء کے درمیان یہ مسئلہ متفق علیہ رہا۔ اگرچہ علماء اس مسئلے کو بتانے کے لیے دوسرے الفاظ استعمال کرتے ہیں۔
(2) میری تحریروں میں دعوت پر زور دیا گیا ہے۔ اس کا مطلب دوسرے فرائض کی نفی نہیں، بلکہ مطلوب صورت کی اہمیت کو بتانا ہے۔ ہماری کتابوں میں دوسرے پہلووں پر بھی لکھا گیا ہے۔ البتہ موقعہ کے لحاظ سے دعوت الی اللہ کے فریضہ پر زیادہ زور دیا گیا ہے۔ آپ ہماری تفسیرِ قرآن ، تذکیر القرآن پڑھیں اس میں آپ کو ہماری ساری باتیں مل جائیں گی۔
(3) عزل کے بارے میں میرا مسلک وہی ہے جو صحیح البخاری کی روایت سے ثابت ہے۔ اس کو آپ پڑھ لیں۔ اس معاملہ میں الگ سے میری کوئی رائے نہیں ہے۔ البخاری کے ان الفاظ پر آپ غور کیجیے: عن جابر رضی اللہ عنہ، قال کنا نعزل والقرآن ینزل۔(حدیث نمبر 2508) ان الفاظ پر غور کرکے آپ خود اپنے سوال کا جواب پاسکتے ہیں۔
سوال
مولانا آپ نے 1 نومبر 2015 کی سنڈے تقریر میں جو فرمایا اس میں سے چند باتوں پر مزید وضاحت مطلوب ہے:
1 ۔ پولٹکس کے ساتھ جب مذہب مل جائے تو تقدس آجاتا ہے، اس کا کیا مطلب ہے۔
2 ۔دین اور سیاست میں جدائی اور دین پرسنل چوائس ہے اور سیاست سماجی قبولیت کی بنیاد پر ہوتا ہے، میں فرق کیا ہے۔
3۔ سیاست میں دین کو کب داخلہ ملے گا، کیا اس وقت جب کہ لوگ اس کے لیے تیار ہوں۔( حافظ سید اقبال احمد عمری، عمر آباد، تمل ناڈو)
جواب
1 ۔ پولٹکس جب سیکولر ذہن کے ساتھ چلائی جائے تو وہ ایک دنیوی معاملہ ہوتا ہے۔ اس بنا پر سیکولر پولٹکس میںفیصلے کی بنیاد ہمیشہ عقل ہوتی ہے۔ایسے لوگ ہمیشہ اپنی سرگرمیوں کو نتیجے کے اعتبار سے جانچتے ہیں۔ ان کی سرگرمی اگر مثبت نتیجہ پیدا کرے تو وہ اس پر قائم رہیں گے، اور اگر ان کی سرگرمیاں بے نتیجہ دکھائی دیں تو وہ ان پر از سر نو غور کریں گے۔ وہ اپنی سرگرمیوں کی نئی منصوبہ بندی کریں گے۔ اس کے برعکس، مذہبی ذہن کے لو گ جب پولٹکس اختیار کریں تو اپنے مزاج کی بنا پر ان کے لیے سارا مسئلہ عقیدہ کا مسئلہ بن جاتا ہے۔ اس بنا پر ان کی پولٹکس،دوسرے مذہبی اعمال کی طر ح مقدس بن جاتی ہے۔ وہ اس پر نظر ثانی نہیں کرتے، خواہ اسی راستے میں وہ تباہ ہوکر رہ جائیں۔ وہ ہلاکت کو شہادت کا درجہ دے کر ہر حال میں اس پر قائم رہتے ہیں۔
2 ۔ سیاست ہمیشہ ایک حریف (rival) پیدا کرتی ہے۔ سیاست سسٹم میں بدلاؤ کا نشانہ دیتی ہے۔ اس بنا پر اول دن سے ایسا ہوتا ہے کہ جن لوگوں کا سیاست پر عملی قبضہ ہے، ان سے ٹکراؤ شروع ہو جاتا ہے۔ اس ٹکراؤ سے بچنے کی عملی صورت یہ ہے کہ سیاست کو عقیدہ کا مسئلہ نہ بنا یا جائے، بلکہ اس کو سماجی انتخاب کا مسئلہ بنادیا جائے۔
3 ۔ مذہب میں عملی سیاست کا داخلہ عقیدہ کی بنیاد پر نہیں کیا جائے گا۔ بلکہ سماجی حالات کی بنیاد پر کیا جائے گا۔ جیسے سماجی حالات ویسی عملی سیاست۔ ایک حدیث کا مطالعہ کرکے اس حقیقت کو سمجھا جاسکتا ہے عن عائشةقالت إنما نزل أول ما نزل منہ سورة من المفصل، فیہا ذکر الجنة والنار، حتى إذا ثاب الناس إلى الإسلام نزل الحلال والحرام، ولو نزل أول شیء لا تشربوا الخمر، لقالوا لا ندع الخمر أبدا، ولو نزل لا تزنوا، لقالوا لا ندع الزنا أبدا، لقد نزل بمکة على محمد صلى اللہ علیہ وسلم وإنی لجاریة ألعب{بَلِ السَّاعَةُ مَوْعِدُہُمْ وَالسَّاعَةُ أَدْہَى وَأَمَرُّ} [54:46] وما نزلت سورة البقرة والنساء إلا وأنا عندہ۔(صحیح البخاری، حدیث نمبر4993)۔
واپس اوپر جائیں

خبرنامہ اسلامی مرکز— 243

l ترجمہ کتاب ابھی حال ہی میں صدر اسلامی مرکز کی انگریزی کتاب آئڈیالوجی آف پیس کا عربی ورزن ’عقیدة السلام‘ کے نام سے سعودی عرب سے شائع ہوا ہے۔ اس کتاب کو سعودی عرب کے ایک معروف ادارہ ’العبیکان ‘نے شائع کیا ہے۔ کتاب کا عربی ترجمہ بسام عثمان احمد ابوزید نے کیا ہے۔ سی پی ایس انٹرنیشنل کی ویب سائٹ سے اس کتاب کا پی ڈی ایف ورزن ڈاؤن لوڈ کیا جاسکتا ہے۔
l سی پی ایس کی ایک نئی ٹیم مغربی بنگال کے رسڑا (ضلع ہگلی )میں کچھ مہینوں پہلے بنی ہے۔ کولکاتا ٹیم کےتعاون سے ٹیم نے اپنی ایکٹیوٹی کی شروعات رسڑا میں ایک لائبریری کے افتتاح کے موقع پرکی ۔ اس موقع پر انھوں نےانگلش ترجمہ قرآن ، اسپرٹ آف اسلام وغیرہ، علاقہ کے ڈی ایس پی اور دوسرے پولیس آفیسرس کو پیش کیا۔ سب نے اس گفٹ کو خوشی اور شکریہ کے ساتھ قبول کیا۔
l کناڈا چیپٹر خواجہ کلیم الدین صاحب (امریکا )کی اطلاع کے مطابق، مسٹر عاصم شفیع ، ان کی بیوی مہوش اور دیگر احباب نے کناڈا میں دعوہ ورک شروع کردیا ہے۔ ان لوگوں نے آفیشیل طور پر سی پی ایس کناڈاکے لیے وہاں کی حکومت سے منظوری حاصل کی ہے ۔ اور مذکورہ بینر کے تحت یہ لوگ کناڈا میں مدعو حضرات کے درمیان دعوہ لٹریچر تقسیم کررہے ہیں۔
l 30 دسمبر 2015 کو سی پی ایس کولکاتا کے مسٹر سیف اللہ مغربی بنگال کے گورنر جناب کیشری ناتھ ترپاٹھی سے ملے اور ان کو صدر اسلامی مرکز کے قرآن کا انگریزی ترجمہ، ایج آف پیس اور اسپرٹ آف اسلام، ٹررزم: اٹس روٹ کاز اینڈ سولوشن (لیفلیٹ)،پیش کیا۔ جناب گورنر صاحب نے مسٹر سیف اللہ کا شکریہ ادا کیا اور خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ان کے پاس انگلش میں قرآن نہیں تھا۔ وہ اس کو ضرور پڑھیں گے۔گورنر مغربی بنگال کے اے ڈی سی مسٹر سنہاسس دِرگھانگی کو بھی دعوتی لٹریچر پیش کیا گیا۔
l 10دسمبر2015 کو سی پی ایس سہارن پور ٹیم کے ڈاکٹر اسلم صاحب نے صدر اسلامی مرکز کی کتاب ’دی ایج آف پیس ، اسپرٹ آف اسلام اور دوسری کتابیں شوبھت یونی ورسٹی (دہلی)کے چیر مین ڈاکٹر شوبھت کمار کو بطور ہدیہ دیا۔ ڈاکٹر شوبھت نے بھی ڈاکٹر اسلم کو گیتا پیش کی اور پیس ہال سہارن پور کو دیکھنے اور صدر اسلامی مرکز سے ملاقات کی خواہش کا اظہار کیا۔ اس موقعے پر ہریانہ کے بی ڈی ایس کالج کے چیئر مین مسٹر روندر رانا اور ڈاکٹر راکیش پنور چیئر مین شکھمبھر کالج بھی موجود تھے۔
l 18-27دسمبر 2015 کو الہٰ آباد میں ایک نیشنل بک فیئر منعقد ہوا اس میں سی پی ایس الہ آباد کے ممبر ابرار صاحب نے محمد اوصاف اور محمد عتیق کے تعاون سے ایک بک اسٹال لگایا۔ اسٹال پر آنے والے زیادتر افراد غیرمسلم تھے جو کہ قرآن لینے کے لیے آئےتھے۔اسی کے ساتھ ان کو معاون لٹریچر بھی دیا گیا۔ ان سے گفتگو کے دوران محسوس ہوا کہ یہ سبھی لوگ صراط مستقیم کے متلاشی ہیں۔ حق کی تلاش انھیں قرآن کی طرف کھینچ لائی ہے۔قرآن کے بعد سب سے زیادہ لوگوں کی خواہش محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے حالاتِ زندگی کو پڑھنے کی تھی۔ اس دوران \یہ بات پتہ چلی کہ زیادہ تر غیر مسلم حضرات صدراسلامی مرکز اور ان کی کتابوں سے واقف ہیں۔ انھوں نے اپنے گہرے تاثر کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ مولانا جیسے اسکالر کی ضرورت ہر دور میں تھی اور ہے۔ انھوں نے مولانا کے لیے دعا بھی کی۔
l 16-18 دسمبر 2015 کو چتنی بھون، ناگپور میں ایک سہ روزہ پرنسپل ایجوکیشنل کانفرنس کا انعقاد عمل میں آیا۔ کانفرنس کا موضوع تھا، ہارمنی تھرو ایجوکیشنــ(Harmony through Education)۔ ناگپور کامپٹی الرسالہ ٹیم کے ممبر جناب ساجد احمد خان نےاس پروگرام میں اپنے کالج کی جانب سے شرکت کی۔ کانفرنس کے آخری دن مہاراشٹر کے وزیر اعلی جناب دیویندر فڈناویس اس میں بطور مہمان خصوصی شریک ہوئے۔اس موقع پرجناب ساجد احمد خان نے وزیر اعلی موصوف کوقرآن کا انگلش ترجمہ اور دی ایج آف پیس دیا۔ اور ان سے یہ درخواست کی کہ مہاراشٹرا کے اردو اسکولوں میں الرسالہ کو سبسکرائب کیا جائے،کیوں کہ اس سے امن شانتی کا سبق ملتا ہے۔ یہ دیکھ کر اس موقع پرموجودتمام لوگ بشمول کنوینر مسز مرینالی دستر نے مائیک کے ذریعہ ان سے قرآن کے لیے فرمائش کی۔جناب ساجد صاحب نے تمام لوگوں کی ریکویسٹ نوٹ کی ۔ ان کو مطلوبہ دعوتی لٹریچر بعد کو انشاء اللہ بھیج دیا جائے گا۔یہاں پر ایک قابلِ ذکر بات یہ ہے کہ اس ملاقات کا انتظام پروگرام کے کنوینر مسٹر وجے پھانسکر (ان کا ذکر اس سے پہلے الرسالہ کے خبرنامہ میں آچکا ہے) نےکروایا تھا۔
l دسمبر کی 25 سے 31 تاریخ کے درمیان صدر اسلامی مرکز نے سی پی ایس دہلی کی ٹیم کے ساتھ کناڈا کا سفر کیا۔ یہ سفر کناڈا کی ایک کانفرنس میں شرکت کے لیے تھا۔ اس کانفرنس کا نام ہے Reviving the Islamic Spirit (RIS)۔ یہ کانفرنس کناڈا کے مسلم نوجوانوں کی تنظیم ہر سال منعقد کرتی ہے۔ اس درمیان، مختلف موضوعات پر صدر اسلامی مرکز نے لکچر دیے، اور مختلف لوگوں سے سوال و جواب اور انٹرایکشن ہوا۔ اس کے علاوہ کناڈا کے ایک دوسرے اسلامک سینٹر نیو مارکیٹ اسلامک سینٹر میں بھی صدر اسلامی مرکز کا خطاب ہوا۔ دعوتی رضاکاروں نے ان تمام مواقع پر قرآن کا ترجمہ اور دعوتی لٹریچر لوگوں کے درمیان تقسیم کیا۔ صدر اسلامی مرکز نے اس سفر پر اپنے تجربات کو اپنے دو سنڈےخطاب میں بیان کیا ہے۔ ـ’’میرے کناڈا کے سفر کا سبق (Lessons from My Journey to Canada )ـ‘‘۔ اور’’کناڈا کے تجربات (Experiences at Canada )‘‘۔ ان دونوں تقریروں کو سی پی ایس کی ویب سائٹ پر سنا جاسکتا ہے۔
l مسٹر حمید اللہ حمید، کشمیر نےممبئی اور پونا کا دورہ کیاتھا ۔ وہاں انھوں نے مختلف لوگوں سے ملاقات کی۔ ان کی دعوتی رپورٹ ملاحظہ ہو۔ 27 دسمبر کو پریس کلب ممبئی میں صحافی مسٹر وجے سنگھ نے Lunch پر مدعو کیا۔ مختلف اخبار نویسوں سے اسلام اور امن کے موضوع پر کافی دیر تک گفتگو ہوئی۔ آخر میں ممبئی ٹیم کے ممبران نسیم خان، مسٹر اجمل خان، مسٹر محبوب بھائی اور ڈاکٹر جنید شیخ نے صحافیوں کو قرآن اور The Age of Peace ہدیہ میں دیں۔ وہ کافی خوش ہوئے اور ایک صحافی مسٹر نوین کمار نے بتایا کہ وہ پہلے ہی سے چاہتے تھے کہ اپنی بیٹی کو قرآن پڑھائیں۔
29دسمبر کو مسٹر اجیت پرساد (Director U.T.I.) کے ساتھ ممبئی سے پونہ روانہ ہوا۔ پورے تین گھنٹہ سے زائد کا سفر اسلام، امن، آخرت اور خدا کے موضوع پر گفتگو میں گزرا۔ ہم نے اجیت پرساد صاحب کو قرآن اور دوسرے دعوتی لٹریچر دیئے۔ وہ کافی خوش ہوئے۔ ایسا لگتا تھا کہ وہ برسوں سے اس کے منتظر ہیں۔
2 جنوری 2016 کو پروفیسر سوشیلا بھان اور ڈاکٹر چوپرا سے انڈیا انٹرنیشنل سنٹر میں ملاقات ہوئی۔ ان کو The Age of Peaceخصوصی طورپر تحفہ میںدی گئی۔ اس پورے سفر میں اعلی تعلیم یافتہ غیر مسلم حضرات کے تاثرات سے پتہ چلا کہ وہ اسلام کو گہرائی کے ساتھ جاننے کے خواہش مند ہیں۔ (حمید اللہ حمید، کشمیر)
l 17-24 جنوری کومغربی بنگال اردو اکیڈمی بک فیئر حاجی محسن اسکوائر میں منعقد ہوا۔کولکاتا سی پی ایس ٹیم نے اس بک فیئر میں اپنا اسٹال لگایا۔ اس کا انتظام ٹیم کے ممبرمحمد عبداللہ، آفتاب عالم، شمیم احمد خان وغیرہ نے سنبھالا۔ انھوںنے بک فیئر میں آنے والوں سے انٹرایکش کیا اور ان کو قرآن اور دوسرے دعوتی لٹریچر دیئے۔
l 20 جنوری 2016 کو ہندستان ٹائمس نے ایک پروگرام فُوار (Fuaar) سہارن پور میں منعقد کیا۔ اس پروگرام کا مقصد تھا کہ غریب ونادار بچوںکو کیسے اس لائق بنایا جائے کہ وہ قوم وملک کی تعمیر وترقی میں اپنا اہم رول ادا کرسکیں۔ اس میں علاقہ کے معروف مفکرین مدعو تھے۔ڈاکٹر اسلم (سی پی ایس، سہارن پورٹیم) نے کہاکہ اس دنیا میں کوئی مفلس اور نادار نہیں۔ اس دنیا میں کچھ لوگ حقیقی استطاعت رکھتے ہیں اور کچھ امکانی استطاعت رکھتےہیں۔ضرورت ہے کہ ہم ان کو ہمت اور حوصلہ دیں کہ وہ اپنے امکان کو حقیقت میں تبدیل کرسکیں۔پروگرام کے اختتام پر قرآن اور دعوہ لٹریچر شرکاء کے درمیان تقسیم کیا گیا۔
l ناگپورکامپٹی الرسالہ ٹیم کی اطلاع کے مطابق، ٹیم کے ایک ممبر جناب شجاع احمد خان نے اپنے ریٹائرمنٹ کی الوداعی تقریب میں دعوتی کام کیا۔ اس موقع پر انھوں نےانگلش ،ہندی اور مراٹھی میں قرآن کی 200 کاپیاں تمام شرکاء کے درمیان تقسیم کیں۔ جناب موصوف ڈیپارٹمنٹ آف آڈیٹر جنر ل اور ٹیلی گراف سے اکاؤنٹ آفیسر کی حیثیت سے ریٹائر ہوئے۔
l خواجہ کلیم الدین صاحب امریکا کی اطلاع کے مطابق،مسٹرسمیع عزیز یو ایس اے میں سی پی ایس کے نئے ممبر ہیں۔ انھوں نے ہارٹ فورڈ سیمنری سے گریجویٹ کیا ہے۔ اب وہ ایک ڈیڈیکیٹڈ داعی ہیں۔ وہ چرچ میں جاکر اسلام پر لکچر دیتےہیں اور صدر اسلامی مرکز کا انگلش ترجمہ قرآن، وہاٹ از اسلام اور دوسرے لٹریچر لوگوں کو دیتےہیں۔
l جماعت اسلامی ہند کی جانب سے ایک انٹرفیتھ سیمینار ملّت ہال، باری نگر جمشید پور میں منعقد ہوا۔یہاں سی پی ایس ٹیم نے اس میں ایک اسٹال لگایا اور ترجمہ قرآن اور دعوہ لٹریچر تقسیم کیے۔ تمام مقررین کودعوتی لٹریچر پر مشتمل ایک ایک گفٹ پیکٹ دیا گیا۔ اس پروگرام میں جن لوگوں نے شرکت کی ان میں یہ نام قابلِ ذکر ہیں، مسٹر لیو جان ڈی سوزا( فادر لوپٹاہال چرچ) مسٹر سردار اندر جیت سنگھ (صدر آل گرودوارا، جمشید پور) پروفیسر چندیشور خان، سابق سینئر اے جی ایم (ٹاٹا موٹرس) کے نام شامل ہیں۔
l 13-26جنوری 2016 چنئی پونگل بک فیئر کا انعقاد ہوا۔ اس بک فیئر میں گڈورڈ بکس چنئی نے حصہ لیا۔ اور آنے والے لوگوں کے درمیان ترجمہ قرآن اور پیس لٹریچر بڑے پیمانے پر تقسیم کیا گیا۔ اس بک فیئر کے دوران یونیورسل پبلیکیشن (Universal Publication) نے صدر اسلامی مرکز کی کتابیں تمل زبان میں ترجمہ کرکے ان کو شائع کرنے کا وعدہ کیا ہے۔یہ ادارہ تمل زبان میں بڑے پیمانے پر اسلامی کتابیں شائع کرتاہے۔
l 24 جنوری 2016 کو سنٹر فار پیس اینڈ اسپریچولٹی (الہ آباد) کی طرف سے مقامی طور پرایک دعوہ میٹ کا انعقاد ہوا۔ اس میں توفیق احمد ، رجت جی، محمد اوصاف، محمد شعیب اور مولانا ابرار صاحبان نے شرکت کی۔ یہ ایک افتتاحی ملاقات تھی۔ اس کا مقصد تھا کہ دعوتی کام کو کیسے مزید آگے بڑھایا جائے۔اب یہ میٹنگ انشاء اللہ ہر ہفتے ہو گی۔
l مدعو کی جانب سے دعوتی موقع  26جنوری 2016 کو سی پی ایسی ممبئی ٹیم نے ودودرا، گجرات کی ایک این جی او ’ناگرک فورم‘ کی دعوت پر ودودرا کا دورہ کیا۔ یہ ٹیم 4 افرادپر مشتمل تھی، مسٹر ساجد انور (ممبئی)، ڈاکٹر جنید (ممبئی)،مسٹر محبوب ہنتگی(ممبئی)، اور مولانافیاض الدین عمری (حیدرآباد)۔ ممبئی ٹیم کا تاثر یہ تھا کہ یہ دورہ اب تک کا ایک انوکھا دورہ تھا۔ ناگرک فورم نے ممبئی ٹیم کو اسلام کی نمائندگی کرنے کے لیے دعوت دی تھی۔ مسٹر محبوب ہنتگی کی اطلاع کے مطابق، اس این جی او کے صدر کنوینر جناب جنک بھائی راؤ نے سارا انتظام کیا تھا۔اس پروگرام میں فیاض الدین عمری کی تقریر ہوئی جو کہ شرکاء نے کافی پسند کی۔ اس کے بعد سوال وجواب کا دور ہوا۔ لوگوں کی گہری دلچسپی کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ ایک صاحب نے کہا کہ میرے یہاں 120 ملازم ہیں۔ آپ ان کے لیے ایک پروگرام بنائیں۔ میں سارا انتظام کروںگا۔ ایک صاحب نے پوچھاکہ آپ کا سنٹر گجرات میں ہے۔ ہم نے کہا کہ نہیں۔ انھوں نے جواب دیا کہ آپ آئیں اور اپنا سنٹر یہاں کھولیں، ہم آپ کو پورا سپورٹ کریں گے۔ایک صاحب نے کہا کہ آپ مولانا کے ساتھ یہاں آئیں ہم ایک بڑا پروگرام رکھیں گے۔15 لوگوں نے اسپرٹ آف اسلام کو سبسکرائب کیا۔ تمام شرکاء کے درمیان قرآن اور دعوتی لٹریچر تقسیم کیے گیے۔
l کیرلا میں کوٹایم انٹرنیشنل بک فیسٹ کا انعقاد ہوا۔ اس میں پیس سنٹر(کیرلا) نے حصہ لیا۔اس کے ممبران نے بک فیسٹ میں آنے والے شرکاء سے انٹرایکشن کیا اور ان کے درمیان ترجمہ قرآن اور دعوہ لٹریچر تقسیم کیے۔ تمام لوگوں کی طرف سے نہایت حوصلہ افزا رسپانس دیکھنے کو ملا۔یہ دس روزہ بک فیر 30 جنوری 2016 کو شروع ہواتھا۔
l 30جنوری 2016 کوماتا سندری کالج فار وومن ( آئی ٹی او، نئی دہلی)نے ایک بڑے پروگرام میں اپنا میگزین اسپیس فار آل (SFA: Space for All) لانچ کیا۔ اس پروگرام میں صدر اسلامی مرکز نے مہمان اعزازی کی حیثیت سے شرکت کی اور ’یونیورسل کنسرن اینڈ یونیورسل ویلفیر‘ کے موضوع پر خطاب کیا۔اس کے علاوہ مہمانوںمیں پروفیسر پریم سنگھ چندوماجرا(ایم پی، آنندپور صاحب) ،پروفیسرڈاکٹر جسپال سنگھ (وی سی، پنجابی یونیورسٹی، پٹیالہ) ایس ـترلوچن سنگھ (سابق ممبر آف پارلیمنٹ و سابق چیرمین مائنارٹی کمیشن، گورنمنٹ آف انڈیا) ، وغیرہ تھے۔ ان تمام شرکاء کے درمیان دعوہ لٹریچر تقسیم کیے گئے۔
l دہلی فیلڈ ٹیم مختلف مقامات اور مناسبت سے مسلسل دعوت\ کا کام کررہی ہے ۔ جیسےجے پور لٹریچر فیسٹول، 23-24 جنوری 2016 ۔ ماتا سندری کالج ، 30 جنوری 2016۔ جواہر لال نہرو یونیورسٹی،نئی دہلی 10 فروری 2016۔ اسٹریٹ دعوہ بمقام سنٹ اسٹفین کالج، نارتھ کیمپس دہلی یونیورسٹی، نئی دہلی،20 فروری 2016۔ والک آف ہوپ(سری فورٹ آڈیٹوریم، نئی دہلی) 21 فروری 2016۔ کانفرنس آن اسپریچول وزڈم(انڈیا اسلامک سنٹر، نئی دہلی) 25 فروری 2016۔وینکٹیشور کالج (نئی دہلی) 27 فروری2016 ۔ ان تمام جگہوں پر مدعو کی طرف سے کافی حوصلہ بخش رسپانس ملا۔ ٹیم کے ممبرس نے بڑی تعدا میں دعوہ لٹریچر تقسیم کیا۔
l I write this email to thank you and your grandfather Maulana Wahiduddin Khan for taking time and filling the questionnaire that I had sent via Mr. Hafiz Iqbal. The inputs given by him were very helpful and not only did it help me gain better understanding but also helped take my dissertation to a higher qualitative level. The very fact that you all took time to fill the questionnaire sent by a nobody such as me speaks volumes of your humility and zest. I find the work done by Maulana Saheb extremely enriching and necessary in today's time. I admire him for his efforts at bringing in peace and right understanding. I wish that one day we see a united world living in peace and harmony though diverse in many ways. I pray for Maulana Saheb’s and your good health and well being. Thanking you. (Lenoy Jose SJ, Satyanilayam, Chennai)
l Thank you very much for sending these impressive videos of Maulana. I am very inspired by Maulana’s speeches, especially his Sunday talks. (Javed Khan)
l From the past couple of days, I am able to experience peace of mind by listening to Maulana's audio and video lectures. (Aamir Bhat, Srinagar)
اردو اور انگلش ویڈیو، آڈیو دیکھنے،سننے اور ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے ان پیجز پر جائیں:
http://www.cpsglobal.org/videos
http://www.cpsglobal.org/podcasts
واپس اوپر جائیں