Pages

Tuesday, 2 August 2016

Al Risala | August 2016 (الرسالہ،اگست)

4

-اللہ کے بندے

5

- خدا کی رہنمائی

6

- محبت کا جذبہ

7

- نفس کا شر کیا ہے

8

- اعلاء کلمۃ الاسلام

26

- حکیمانہ تربیت

28

- تاریخ کا نیا دور

29

- ایک اجتماعی اصول

30

- مومن کی صفات

31

- ماحی کا مطلب

32

- مشن اور تاریخ

34

- فرشتوں پر عقیدہ

35

- دعوتی مشن

36

- دعوت عام، اصلاح امت

37

- پیغامِ کشمیر

38

- حق کی پکار

39

- موت کی یاد

40

- دنیا اور آخرت

41

- ڈرو اس سے جو وقت ہےآنے والا

42

- کلام کا فتنہ

43

- دینی مدارس

44

- اینگر انرجی کا استعمال

45

- سوال و جواب

46

- خبرنامہ اسلامی مرکز


اللہ کے بندے

ایک حدیثِ رسول ان الفاظ میں آئی ہے:عن ابن عباس، رضی اللہ عنہما، قال:قال رجل: یا رسول اللہ، من أولیاء اللہ؟ قال:الذین إذا رؤوا ذکر اللہ (مسند البزار، حدیث نمبر5034)۔ یعنی ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا، اے اللہ کے رسول، اولیاء اللہ کون ہے، آپ نے فرمایا: وہ لوگ جن کو دیکھا جائے تو اللہ کی یاد آئے۔
اس حدیث رسول میں’’ وہ لوگ جن کو دیکھا جائے‘‘ ـکا مطلب ہے، جب تم ان سے ملو۔ اصل یہ ہے کہ ایک ربانی انسان جب سچائی کو دریافت کرتا ہے، اور وہ اللہ کے خوف و محبت میں جینے والا بن جاتا ہے تو اس کے اندر سنجیدگی کا انداز پیدا ہوجاتا ہے۔ اس کی ہر بات میں براہ راست یا بالواسطہ طور پر اللہ کا ذکر ہوتا ہے۔ وہ ہر معاملے کو اللہ کی نظر سے دیکھنے لگتا ہے۔ اس کے نتیجے میں یہ ہوتا ہے کہ اس کی زندگی، عام انسان سے مختلف زندگی بن جاتی ہے۔ اس کی باتوں میں اللہ کا رنگ پیداہوجاتا ہے۔ وہ جو کچھ کہتا ہے، اس میں سننے والوں کے لیے رزق رب موجود ہوتا ہے۔ غیر متعلق باتیں اس کی زبان سے نہیں نکلتیں۔ بلکہ وہ جو کچھ کہتا ہے وہ تعلق باللہ کے زیر اثر ہوتا ہے۔ ان باتوں کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ اس کے پاس بیٹھنے والوں کو اس سے ایسی چیزیں ملنے لگتی ہیں جو دوسروں سے نہیں ملتی۔
محمد بن إسماعیل بن صلاح نے اس حدیث کی تشریح کرتے ہوئے یہ کہا ہے: ویحتمل أن المراد أنہم یذکّرون العباد باللہ تعالى(التَّنویر شرح الجامع الصغیرِ، الریاض، 2011، جلد 2، صفحہ 588)۔ یعنی احتمال یہ ہے کہ اس کا مطلب یہ ہو کہ وہ لوگوں کو تذکیر کرتے ہیں، لوگوں کو اللہ کی یاد دلاتے ہیں۔ اس شرح کے مطابق، جو واقعہ پیش آتا ہے، وہ صرف رویت کا نتیجہ نہیں ہوتا بلکہ تذکیر کا نتیجہ ہوتا ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ اس حدیث میں جو بات کہی گئی ہے، وہ کوئی پر اسرار بات نہیں ہے، بلکہ وہ ایک معلوم صفت ہے جو فطری اسباب کے تحت کسی کے اندر پیدا ہوجاتی ہے۔
واپس اوپر جائیں

خدا کی رہنمائی

ایک حدیث رسول میں ایک دعا ان الفاظ میںآئی ہے: اللہم اہدنی وسدّدنی (صحیح مسلم، حدیث نمبر2725)۔ یعنی اے اللہ ، مجھ کو ہدایت دے اور مجھ کو راہ راست کی طرف رہنمائی فرما۔اس دعا میں اھدنی کا مطلب یہ ہے کہ مجھ کو صراط مستقیم پر چلنے کی ہدایت فرما۔ اس کے بعد دعا میں دوسرا لفظ سدّدنی ہے۔ یعنی مجھ کو راہ راست کی طرف رہنمائی (show the right way) فرما۔ غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ صراط مستقیم کی ہدایت کے بعد بھی انسان کو ایک خدائی توفیق کی ضرورت ہے۔ اسی کو یہاں سدّدنی کے لفظ میں بیان کیا گیا ہے۔ اور وہ ہے ڈسٹرکشن (distraction) سے بچنا۔ یہ وہی بات ہے جس کو قرآن میں اتباع سبل (الانعام 153) کے الفاظ میں بیان کیا گیا ہے۔ یعنی یہ کہ آدمی شاہراہ سے اپنے سفر کا آغاز کرے، اس کے بعد وہ درمیان میں چھوٹے چھوٹے غیر متعلق راستوں کی طرف مڑ جائے۔ یہاں تک کہ چلتے چلتے وہ اصل شاہراہ سے دور ہو جائے۔
انسان کی ایک گمراہی یہ ہے کہ وہ ہدایت کی صراطِ مستقیم کو اختیار نہ کرسکے۔ انسان کی دوسری گمراہی یہ ہے کہ وہ آغاز میں شاہراہ سے اپنے سفر کو شروع کرے۔ لیکن درمیان میں اس کو شاہراہ کے دائیں یا بائیں ایسی چیزیں ملیں جو اس کے سفر کے رخ کو بدل دیں، وہ شاہراہ سے ہٹ کر چھوٹے چھوٹے غیر متعلق راستوں میں چل پڑے۔ یہ دونوں قسم کا انسان بھٹکا ہوا انسان ہے۔ پہلا انسان اگر سفر کے آغاز میں بھٹکا ہوا تھا، تو دوسرا انسان سفر کے درمیان میں بھٹک کر راہ سے بے راہ ہوگیا۔جس طرح مادی سفر کے لیے ایک شاہراہ ہوتی ہے، اوراسی کے ساتھ شاہراہ کے دونوں طرف چھوٹے راستے بھی۔ اسی طرح سچائی کے سفر کی بھی ایک شاہراہ ہے، اسی کے ساتھ شاہراہ کے دونوں طرف چھوٹے راستے بھی۔ جو آدمی سچائی کی شاہراہ پر چلتا رہے، وہ مطلوب منزل پر پہنچے گا۔اس کے برعکس، جو آدمی چھوٹے راستوں کو اختیار کرے، وہ اپنی منزل سے بھٹک جائے گا۔ اس گمراہی سے بچنے کی صورت صرف یہ ہے کہ آدمی ہمیشہ اللہ سے بھٹکاؤ سے بچنے کی توفیق مانگتا رہے۔
واپس اوپر جائیں

محبت کا جذبہ

انسان کے اندر محبت کا جذبہ فطری طور پر پایا جاتا ہے، وہ نہایت گہرائی کے ساتھ ہر انسان کے اندر موجود ہے۔ محبت کے جذبے کو اگر خدا کے لیے خالص کیا جائے تو وہ توحید ہے، اور اگر ایسا ہو کہ محبت کا کوئی اور آبجکٹ (object of love) بن جائے تو وہ غلط ہے، اور اسی کا نام شرک ہے۔
قرآن میں اہل ایمان کی ایک صفت ان الفاظ میں بتائی گئی ہے:وَالَّذِینَ آمَنُوا أَشَدُّ حُبًّا لِلَّہِ (2:165)۔ اور جو اہلِ ایمان ہیں ، وہ سب سے زیادہ اﷲ سے محبت رکھنے والے ہیں۔ حُب شدید کا مطلب اسٹرانگ افکشن (strong affection) ہے۔ اس قسم کا اسٹرانگ افکشن صرف اللہ رب العالمین سے ہونا چاہیے۔
انسان کے لیے سچائی سے انحراف کا سب سے بڑا سبب ڈسٹریکشن (distraction) ہوتا ہے۔ اس معاملے میں محبت کا رول سب سے زیادہ اہم ہے۔ کسی انسان کو اگر اللہ کے سوا کسی اورسے حُب شدید ہو جائے تو وہ انحراف یا ڈسٹریکشن کی ایک صورت ہو گی۔ اور اس قسم کا انحراف یا ڈسٹریکشن کسی انسان کے لیے بے حد سنگین ہے۔ وہ انسان کو راہ راست سے ہٹا دیتا ہے۔
آدمی کو جس سے حُب شدید ہو اسی کے لحاظ سے اس کی اخلاقیات بنتی ہیں۔ اسی کے لحاظ سے اس کی سوچ بنتی ہے۔ اسی کے لحاظ سے اس کی گفتگو کا انداز متعین ہوتا ہے۔ اسی کے لحاظ سے اس کے معاملات تشکیل پاتے ہیں۔ اسی کے لحاظ سے اس کی زندگی کا رخ متعین ہوتا ہے۔
ہر انسان پر لازم ہے کہ وہ اس کا جائزہ لیتا رہے کہ اس کے حُب شدید کا جذبہ کس کے لیے ہے۔ اگر اس کے اندر حُب شدید کا جذبہ اللہ کے لیے ہے، تو اس کو شکر کرنا چاہے۔ اور اگر اس کے اندرحُب شدید کا جذبہ اللہ کے سوا کسی اور کے لیے ہو تو آدمی کو چاہیے کہ وہ اس کی تصحیح کرے۔ اس معاملے میں وہ اپنی اصلاح کرے۔وہ کوشش کرے کہ موت سے پہلےوہ سب سے زیادہ اللہ سے ڈرنے والا اور اللہ سے محبت کرنے والا بن جائے۔ اس معاملے میں کوئی انسان تاخیر کا تحمل نہیں کرسکتا ہے۔
واپس اوپر جائیں

نفس کا شر کیا ہے

ایک حدیث رسول میں ایک دعا ان الفاظ میں آئی ہے: اللہم ألہمنی رشدی، وأعذنی من شر نفسی(سنن الترمذی، حدیث نمبر3483)۔ یعنی اے اللہ، مجھ کو صحیح راستے کی ہدایت دے، اور مجھ کو میرے نفس کے شر سے بچا۔رُشد کے معنی ہیں راہ راست، یا ہدایت کا راستہ۔ یعنی وہ راستہ جس پر چل کر انسان کو دنیا اور آخرت کی فلاح حاصل ہوتی ہے۔
یہ راستہ قرآن و سنت میں واضح طور پر بتادیا گیا ہے۔ ہدایت کے راستے کو جاننا اور اس پر عمل کرنا، انسان کے لیے کوئی مشکل کام نہیں۔ پھر وہ کیا چیز ہے جس کو یہاں نفس کا شر بتایا گیا ہے۔اس سے مراد یہ ہے کہ آدمی سچائی کو جانے لیکن غلط تاویل کرکے اس کی صورت کو بدل دے۔
غلط تاویل ہمیشہ نفس کے شر کی وجہ سے ہوتی ہے۔ غلط تاویل کی گنجائش بہت زیادہ ہے ۔ یہاں تک کہ ایک واضح حکم کو بھی غلط تاویل کے ذریعے کچھ سے کچھ کیا جاسکتا ہے۔مثلا قرآن میں آیا ہے کہ نماز قائم کرو۔اگر انسان کے اندر شر نہ ہو تو وہ نہایت آسانی کے ساتھ اس کا مطلب سمجھ سکتا ہے، لیکن اگراس کے اندر شر ہو، یعنی اس کی نیت درست نہ ہو تو وہ عجیب و غریب تاویل کرکے اس کا مفہوم کچھ سے کچھ بنادے گا۔ مثلا اقامت صلاۃ کا مطلب ہے اقامت نظام، اقامت صلاۃ کا مطلب ہے سماج میں سدھار لانا، اقامت صلاۃ کا مطلب وہی چیز ہے جس کو اس زمانے میں سوشل سروس کہا جاتا ہے، وغیرہ۔
نفس کے شر سے بچنا آدمی کا اپنا کام ہے۔ صرف دعا کے الفاظ بولنے سے آدمی نفس کے شر سے بچ نہیں سکتا ہے۔اصل یہ ہے کہ اس معاملے میں پچاس فیصد آدمی کا اپنا کام ہے، اور بقیہ پچاس فیصد دعا کا کام ہے۔ اس معاملے کا صحیح طریقہ یہ ہے کہ آدمی صدق نیت کے ساتھ راہ راست کو دریافت کرے۔ اس کے اندر اس پر عمل کرنے کا سچا جذبہ موجود ہو۔ پھر وہ اللہ سے اس پر استقامت کی دعا کرے۔وہ اللہ سے اس بات کی مدد مانگے کہ شیطان اس پر حاوی نہ ہوجائے۔ وہ شیطان کی تزئین اور اس کے وسوسہ کو پہچانے، اور اپنے آپ کو اس سے بچائے۔
واپس اوپر جائیں

اعلاء کلمۃ الاسلام

بن لادن جیسے لوگ اور القاعدہ جیسی تحریکوں کو جو غیر معمولی مقبولیت حاصل ہوئی ہے، وہ کوئی سادہ بات نہیں۔ اس کے پیچھے وہ عمومی مسلم سائیکی (psyche)ہے جو موجودہ زمانے کے مسلمانوں میں اتنی زیادہ پھیلی ہوئی ہے کہ شاید کوئی مسلمان بھی اس سے خالی نہیں۔ یہ ایک واقعہ ہے کہ بن لادن کو تمام مسلمانوں کی عالمی سپورٹ حاصل ہوئی۔ اسی بنا پر ایسا ہوا کہ وہ اسلام کے نام پر اتنی زیادہ جرأت کے ساتھ اپنی تخریبی کارروائیاں جاری کر سکے۔ اگر بن لادن جیسے کو یہ اعتماد حاصل نہ ہو کہ پوری مسلم ملّت ان کے ساتھ ہے تو وہ اتنے زیادہ بے حوصلہ ہو جائیں گے کہ کسی دشمن کی گولی کے بغیر اپنے آپ ہی ان کا خاتمہ ہو جائے گا۔
حقیقت یہ ہے کہ بن لادن کے ظاہرہ کو سمجھنے کے لیے دور جدید کے مسلمانوں کو سمجھنا ہوگا۔ موجودہ زمانے کے تقریباً تمام مسلمان ایک عمومی احساس شکست میں جی رہے تھے۔ قرآن و حدیث میں وہ پڑھتے تھے کہ اسلام خدا ئے برتر کا دین ہے اور اسی کو حق ہے کہ وہ دنیا میں غالب ہو کر رہے۔ حدیث میں آیا ہے: الاسلام یعلو ولا یُعلیٰ(سنن الدار قطنی، حدیث نمبر3620)۔ آج کا مسلم مائنڈ یک طرفہ طور پر یہ سمجھتا ہے کہ اسلام غلبے کا دین ہے۔ اسی کے ساتھ ہر مسلمان اس احساس میں جی رہا ہے کہ موجودہ زمانے میں اسلام مغلوب ہو کر رہ گیا ہے۔
اس عمومی نفسیات کے دوران جب مسلمانوں نے دیکھا کہ بن لادن ان کے مفروضے کے مطابق اسلام کے سب سے بڑے دشمن کو چیلنج کر رہا ہے۔ حتی کہ انہوں نے دیکھا کہ11 ستمبر 2001 کو بن لادن نے’’اسلام دشمن ملک‘‘کے مینار عظمت کو ڈھا دیا تو انہوں نے سمجھ لیا کہ بن لادن ہی ان کاوہ مطلوب شخص ہے جس کو خدا نے اسلام کے کلمے کو دوبارہ بلند کرنے کے لئے پیدا کیا ہے۔ چناںچہ وہ خوش ہو کر اس کے ساتھ ہوگئے اور اس کو ہر قسم کا تعاون فراہم کرنے لگے۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ سب کچھ بے بنیاد خوش فہمی کے سوا اور کچھ نہیں۔ بن لادن کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں اور نہ ایسا ہے کہ بن لادن ازم کے ذریعے اسلام کا کلمہ بلند ہوجائے گا۔
اس معاملے میں مسلمانوں کی غلطی کا آغاز اٹھارویں صدی سے ہوتا ہے۔ اسلام کے آغاز کے بعد تقریباً ایک ہزار سال تک کم وبیش دنیا کے بڑے حصے پر مسلمانوں کی سلطنت قائم رہی۔ اس زمانے میں مسلمان واحد سپر پاور کی حیثیت رکھتے تھے۔ پھر نشاۃ ثانیہ کے بعد مغربی قوموں کا عروج ہوااور مسلمانوں کی تمام سلطنتیں ختم ہو گئیں۔ مثلاً اسپین میں دولت غرناطہ، ترکی میں عثمانی خلافت، انڈیا میں مغل سلطنت وغیرہ۔ دوسری عالمی جنگ کے بعد مسلم ملکوں کو سیاسی آزادی ملی مگر یہ آزادی دوبارہ اقتصادی غلامی کے ہم معنی بن گئی۔
دور جدید میں مسلم سلطنتوں کا خاتمہ مسلمانوں کی اس غلط فکری کا آغاز تھا۔اس کا بھیانک Culminationبن لادن جیسے لوگوںکی صورت میں ظاہر ہوا۔ مسلم رہنمائوں نے مسلمانوں کے سیاسی زوال کو اسلام کے کلمے کے زوال کے ہم معنی سمجھ لیا۔ حالانکہ دونوں کا ایک دوسرے سے کوئی تعلق نہ تھا۔
دور جدید میں مسلم سلطنتوں کا زوال دراصل کچھ مسلم حکمراں خاندانوں (dynasties)کا زوال تھا۔ وہ ہر گز اسلام کا زوال نہ تھا۔ دور جدید میں اسلام کا زوال دراصل نظریۂ اسلام کا زوال ہے۔ یہ واقعہ بلا شبہہ مغربی تہذیب کے عروج کے بعد پیش آیا۔ تاہم اس کا کوئی تعلق مسلم سیاست کے زوال سے نہ تھا۔ اگر اس کا تعلق مسلم سیاست کے زوال سے ہوتا تو اب تک وہ ختم ہو چکا ہوتا۔ کیوں کہ دوسری عالمی جنگ کے بعد دوبارہ مسلمانوں کی آزاد سلطنتیں قائم ہوگئیں۔ اس وقت دنیا میں مسلمانوں کی 57آزاد سلطنتیں ہیں، مگر وہ اسلام کے نظریاتی زوال کے عمل کو روک نہ سکیں۔
اصل یہ ہے کہ اسلام کےنظریاتی زوال کا سبب اس سے زیادہ گہرا ہے جو کہ مسلمانوں کے سیاسی زوال کا سبب بنا۔ اس معاملے کو درست طور پر سمجھنے کے لیے ہمیں پچھلی تاریخ کی ایک تصویر سامنے رکھنی ہوگی۔ اسی کے بعد ہی اس معاملے کی نوعیت کو سمجھا جا سکتا ہے۔
اسلام کا آغاز 610 عیسوی میں ہوا۔ اسلام توحید کا مذہب تھا۔ جب کہ اُس وقت تقریباً ساری دنیا میں شرک کا غلبہ تھا۔ مشرکانہ کلچر ہر ملک میں چھایا ہوا تھا، جس کو وقت کے حکمرانوں کی سیاسی سپورٹ حاصل تھی۔ اُس وقت اسلام کا مقابلہ توحید ورسس شرک کی حیثیت رکھتا تھا۔ دور اول کے مسلمانوں نے شرک کے مقابلے میں ہر قسم کی قربانیاں دیں۔ یہاں تک کے شرک کا دَور عملاً ختم ہو گیااور توحید کا دَور شروع ہوگیا۔
تاریخ بتاتی ہے کہ یہ دور تقریباً ایک ہزار سال تک چلتا رہا۔ دوبارہ ایسا نہیں ہوا کہ شرک طاقتور ہوکر مذہبِ توحید کے مقابلے میں کھڑا ہو جائے۔ مگر قرونِ وسطیٰ میں مغرب کا وہ انقلاب، جس کو نشاۃ ثانیہ کہا جاتا ہے، ایک نئے طاقت ور حریف کی حیثیت سے سامنے آیا۔ اس کا واضح آغاز سولھویں صدی میں ہوا ۔ اور چند صدیوں کے عمل کے بعد اس نے انتہائی طاقت ور حیثیت حاصل کرلی۔
اسلام کا یہ نیا طاقت ور حریف وہ تھا جس کو ایک لفظ میں سائنٹفک الحاد کہا جا سکتا ہے۔ سائنس علمِ فطرت کی حیثیت سے نہ مذہبی تھی اور نہ غیر مذہبی۔ مگر جدید سائنسی دَور میں یورپ میں ایسے مفکرین اٹھے جنہوں نے سائنس کی دریافتوں کو بطور خود الحاد کے حق میں استعمال کیا۔ یہاں تک کہ انہوں نے یہ اعلان کردیا کہ جدید سائنس نے ثابت کردیا ہے کہ تمام مذاہب، بشمول اسلام، صرف توہم پرستی کی پیداوار تھے۔ اس موضوع پر پچھلے دوسو سالوں میں ہزاروں کتابیں لکھی گئی ہیں۔ ان میں سے ایک کتاب کا ٹائٹل اس نوعیت کی تمام کتابوں کی نمائندگی کرتا ہے۔ یہ ٹائٹل تھا:
God is dead
سائنٹفک الحاد نہایت تیزی سے پھیلا۔ یہاں تک کہ وہ علم کے تمام شعبوں پر چھا گیا۔ اس سائنٹفک الحاد نے بظاہر جدید دلائل کے ذریعے یہ ثابت کیا کہ خدا کا کوئی وجود نہیں، وحی کی کوئی حقیقت نہیں، کوئی کتاب مقدس کتاب نہیں، جنت اور جہنم سب محض فرضی کہانیاں ہیں۔
اس جدید فکر کا آغاز سرآئزک نیوٹن (وفات1727) سے ہوا۔ پھر ایک کے بعد ایک ایسے سائنس داں پیدا ہوئے جن کی تحقیقات جدید الحاد کو تقویت دیتی رہیں۔ اگر چہ ان سائنس دانوں میں سے کوئی بھی سائنس دان معروف معنوں میں، منکرِ خدا یا منکرِ مذہب نہیں تھا، مگر ان کی تحقیقات نے بالواسطہ طور پر جو فکر پیدا کیا وہ یہی تھا۔
مثال کے طور پر نیوٹن اور دوسرے سائنس دانوں نے یہ دکھایا کہ کائنات میں جو کچھ ہو رہا ہے اس میں ایک پرنسپل آف کازیشن کام کر رہا ہے۔ قدیم تو ہماتی زمانے میں انسان نیچر کو پُراسرار سمجھتا تھا۔ فطرت کے ہر واقعے کے بارے میں وہ یہ گمان کرتا تھا کہ جو ہوا ہے وہ پُراسرار طور پر ہو گیا ہے۔ مگر سائنس نے جب واقعات کے پیچھے اس کا ایک مادّی سبب دریافت کیا تو شعوری یا غیرشعوری طور پر یہ مان لیا گیا کہ ان کا خالق خدا نہیں ہے بلکہ کچھ اسباب ہیں جو واقعات کی تخلیق کر رہے ہیں۔ چناںچہ جدید ملحد مفکرین کی طرف سے یہ دعویٰ کردیا گیا :
If events are due to natural causes, they are not due to supernatural causes.
یہ الحاد جو علم کے زور پر اٹھا، یہی وہ چیز تھی جس کے بعد وہ صورتِ حال پیدا ہو گئی جس کو کلمۂ اسلام کی مغلوبیت سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ عام طور پر لوگ خدا کے وجود پَر شک کرنے لگے۔ مذہب کی صداقت ان کے نزدیک مشتبہ ہو گئی۔ اسلام ان کو دَور علم سے پہلے کا مذہب دکھائی دینے لگا۔
یہ ایک coincidenceتھاکہ جس زمانے میں مسلم سلطنتوں کو زوال ہوا تقریباً اسی زمانے میں اسلام کی نظریاتی صداقت کو بھی مشتبہہ سمجھا جانے لگا۔ تاہم یہ ایک زمانی اتفاق تھا، ورنہ ایسا ہرگز نہ تھا کہ مسلمانوں کے سیاسی زوال کی بنا پر اسلام کا نظریاتی زوال پیش آگیا ہو۔ مگر اس دَور کے تقریباً تمام مسلم مفکرین اس غلط فہمی کا شکار رہے۔ انہوں نے معاملے کا گہرائی کے ساتھ جائزہ لیے بغیر یہ سمجھ لیا کہ مسلمانوں کے سیاسی زوال ہی کا یہ نتیجہ ہے کہ اسلام کو نظریاتی زوال پیش آرہا ہے۔ اس غلط اندازے کی بنا پَر انہوں نے ساری دنیا میں سیاسی جہاد شروع کردیا۔ مسلم ملکوں اور غیر مسلم ملکوں دونوں جگہ پر کوشش کی جانے لگی کہ مسلمان کے سیاسی اقتدار کا دَور دوبارہ واپس لایا جائے۔ ان کا مشترک طورپر یہ خیال تھا کہ جب تک ایسا نہ ہو، اسلام کا کلمہ دوبارہ غالب نہ ہو سکے گا۔ حالاں کہ کلمۂ اسلام کے غلبے سے مراد حق کا نظریاتی غلبہ تھا، جب کہ مسلم اقتدار کا مطلب صرف یہ تھا کہ ایک کمیونٹی یا ایک خاندان کی سیاسی حکومت قائم ہو جائے۔
مگر یہ سوچ سر تا سر بے بنیاد ہے، اور اس کے بے بنیاد ہونے کے لیے یہ ثبوت کافی ہے کہ دو سو سالہ سیاسی جہاد کے باوجود کلمۂ اسلام کا غلبہ ممکن نہ ہو سکا۔ میسور کے سلطان ٹیپو (وفات1799) سے لے کر فلسطین کے یاسر عرفات (وفات 2004) تک دو سو سال کا طویل زمانہ ہے۔ اس مدت میں مسلمانوںنے اپنے خیال کے مطابق غلبۂ اسلام کے لیے اپنے جان و مال کی اتنی زیادہ قربانیاں دی ہیں جو پچھلے چودہ سو سال کی مجموعی قربانیوں سے بھی زیادہ ہیں، مگر یہ ساری قربانیاں سر تا سر بے سود ہو گئیں۔ یہاں تک کہ دوسری عالمی جنگ کے نتیجے میں مسلمانوں کو یہ فائدہ ملا کہ ان کی پچاس سے زیادہ آزاد سلطنتیں بن گئیں، مگر جہاں تک غلبۂ اسلام کا سوال ہے وہ بدستور ایک بے تعبیر خواب بنا ہوا ہے۔
اصل یہ ہے کہ موجودہ زمانے میں اسلام کی مغلوبیت کا معاملہ، اسلام کی نظریاتی مغلوبیت کا معاملہ ہے۔ یہ مغلوبیت اس لیے پیش آئی کہ اسلام کو موجودہ زمانے کی علمی اور نظر یاتی تائید حاصل نہ ہو سکی۔ اب دوبارہ یہ غلبہ صرف اس وقت حاصل ہو سکتا ہے جب کہ زمانۂ جدید کے معیار کے لحاظ سے وقت کی علمی اور نظریاتی تائید اسلام کے حق میں فراہم کی جائے۔
اسلام کے ابتدائی ظہور کے بعد اسلام کو جو غلبہ حاصل ہوا، وہ بھی حقیقتاً مسلمانوں کے سیاسی غلبے کا نتیجہ نہ تھا، بلکہ وہ بھی اسلام کے نظریاتی غلبہ کا نتیجہ تھا۔ جیسا کہ معلوم ہے، خلافتِ عباسیہِ کے دَور میں مسلمانوں نے اس زمانے کے علوم کا مطالعہ کیا۔ اس زمانے تک علمِ انسانی نے جو لٹریچر تیار کیا تھا، ان کا ترجمہ عربی زبان میں کیا گیا، اور پھر بہت بڑے پیمانے پر اُن کا جائزہ لیا گیا۔ ان علوم کی تعلیم کے لیے تاریخ کے سب سے بڑے ادارے قائم کیے گیے۔ اسی کی ایک علامتی مثال یہ ہے کہ راجر بیکن (وفات1292) جس نے انگلینڈ میں سب سے پہلی یونیورسٹی (کیمبرج یونیورسٹی) قائم کی، وہ قُرطبہ کی مسلم یونیورسٹی کا پڑھا ہوا تھا۔
یہ ایک لمبی تاریخ ہے اور اس پر سیکڑوں کتابیں لکھی گئی ہیں۔ مثال کے طور پر پروفیسر ہٹی کی کتاب ہسٹری آف دی عربس کا مطالعہ بتاتا ہے کہ اس دَور کے مسلمانوں نے اپنے زمانے کے علوم پڑھ کر اسلام کی علمی تشریح کی اور اسلام کی علمی بالا دستی کو دلائل کی زبان میں ثابت کیا۔ حتی کہ اہلِ علم کے لیے اسلام کا نظریہ ایک ایسا نظریہ بن گیا جو پوری طرح ایک علمی مسلّمہ کی حیثیت رکھتا تھا۔ اسلام کو ماننا علم کو ماننا تھا، اور اسلام کا انکار کرنا، علم کا انکار کرنا تھا۔
قدیم زمانے میں جن علوم کو ترقی حاصل ہوئی وہ زیادہ تر فلسفیانہ حیثیت رکھتے تھے۔ ان علوم کی بنیاد قدیم یونانی منطق پر قائم تھی۔ جس کو قیاسی منطق (syllogism)کہا جاتا ہے۔ مسلمانوں نے اس یونانی منطق کو استعمال کر کے اس کو بھر پور طور پر اسلام کا مؤید بنا دیا۔ یہاں تک کہ خالص علمی طور پر کسی کے لیے یہ گنجایش باقی نہ رہی کہ وہ علمی بنیاد پر اسلام کی صداقت کا انکار کرسکے۔
مگر موجودہ زمانے میں جدید سائنس کے ظہور کے بعد پوری صورتِ حال بالکل بدل گئی۔ جدید سائنس نے قدیم سیاسی منطق کو ڈھا دیا۔ اب ایک نئی منطق ظہور میںآئی، جس کو سائنسی منطق (scientific logic)کہا جاتا ہے۔ قدیم یونانی منطق قیاسات پر قائم تھی، اس کے مقابلے میں جدید سائنسی منطق حقائق پر قائم ہوتی ہے۔ اس فرق نے قدیم دَور کو ختم کردیا۔ اسی کے ساتھ وہ دَوربھی ختم ہوگیا جو اسلامی نظریات کے لیے علمی بنیاد بنا ہوا تھا۔ گویا کہ کلمۂ اسلام کی مغلوبیت کا سبب اس کے حق میں نظریاتی بنیاد(base)کا خاتمہ تھا، نہ کہ کسی سیاسی بنیاد کا خاتمہ۔
دَور جدید میں جب یہ علمی انقلاب آیا تو ضرورت تھی کہ مسلمانوں میں دوبارہ وہی علمی سرگرمیاں جاری ہوں جو عباسی خلافت کے دَور میں جاری ہوئی تھیں۔ اب ضرورت تھی کہ مسلم علماء جدید افکارکو پڑھ کر ان کو گہرائی کے ساتھ سمجھیں اور اسلام کی نظریاتی بنیاد کو ازسرِنو جدید علمی مسلَّمات پر قائم کریں، جیسا کہ دورِ قدیم کے مسلم علماء نے اپنے زمانے میں کیا تھا۔ مگر بَر وقت ایسا نہ ہو سکا۔ اس کا سبب یہ تھا کہ اِس زمانے کے تقریباً تمام علماء نظریاتی اسلام اور مسلم اقتدار کو الگ کر کے نہ دیکھ سکے:
They failed to differentiate between Muslim rule and Islamic ideology.
اسی بے خبری کی بنا پر انہوں نے یہ سمجھا کہ مسلمانوں کے سیاسی زوال کا یہ نتیجہ تھا کہ اسلام کو نظریاتی زوال پیش آگیا۔ چناںچہ وہ مغربی قوموں کے خلاف سیاسی لڑائی میں مشغول ہو گیے۔ کیوں کہ ان کے نزدیک یہی قومیں مسلمانوںکے سیاسی زوال کا سبب تھیں۔ مگر یہ ایک بھیانک قسم کا غلط اندازہ تھا۔ یہ ایسا ہی تھا جیسے ایک شخص جو تعلیم حاصل نہ کرنے کی وجہ سے جاہل رہ گیا ہو، اس کو تعلیم یافتہ بنانے کے لیے جسمانی طاقت کا انجکشن دیاجانے لگے۔ حالاں کہ یہ معلوم ہے کہ کوئی شخص صرف جسمانی تندرستی کی بنا پر تعلیم یافتہ نہیں بن سکتا۔
اس معاملے میں مزید غلطی یہ ہوئی کہ مغربی قوموں سے سیاسی نفرت کی وجہ سے مسلم علماء اور رہنما مغرب کی زبان اور مغرب کی سائنس سے بھی نفرت کرنے لگے۔ انہوں نے کوشش کی کہ ان کی نسلیں مغربی تعلیم سے دور رہیں تاکہ ان کا ایمان اور اسلام محفوظ رہے۔ حالاں کہ یہ معاملہ سادہ طور پر تحفظِ اسلام کا مسئلہ نہ تھا بلکہ وہ اسلام کو دوبارہ نئی علمی بنیاد فراہم کرنے کا مسئلہ تھا۔ مسلمانوں کی طرف سے یہ دہرا غلط اندازہ تھا۔ جس نے مسلمانوں کو اس شعور سے محروم کردیا کہ وہ دوبارہ اسلام کے لیے مضـبوط علمی بنیاد فراہم کرنے کی کوشش کر سکیں۔
اسلام عین اسی عالمی قانون کا ایک مظہر ہے، جس کے تحت ساری کائنات چل رہی ہے۔ اسلام فطرت کا دین ہے۔ اس لیے اسلام اسی طرح ہمیشہ زندہ رہتا ہے جس طرح سورج ہمیشہ زندہ رہتا ہے۔ کوئی بدلی وقتی طورپرروشن سورج کو ڈھانپ سکتی ہے۔ لیکن بدلی کے ہٹتے ہی دوبارہ سورج کا روشن چہرہ اسی طرح سامنے آجاتا ہے جس طرح وہ پہلے تھا۔
سورج کے چہرے سے بدلی کے چھٹنے کا یہ واقعہ خود سائنس میں، اس کے بعد کے دَور میں، پیش آنا شروع ہو گیا تھا۔ اس اعتبار سے سائنس کے دو دَور ہیں۔ایک دَور البرٹ آئن سٹائن (وفات1955) سے پہلے کا ہے اور دوسرا، البرٹ آئن سٹائن کے بعدکا۔ اس کا خلاصہ یہ ہے کہ نیوٹن سے لے کر آئن سٹائن تک سائنس کی تحقیق اُس دنیا تک محدود تھی جس کو عالمِ کبیر (macroworld)کہا جاتا ہے۔اس زمانے میں یہ سمجھا جاتا تھا کہ دنیا کی تمام چیزیں اپنے آخری تجزیے میں ایٹم کا مجموعہ ہیں۔ اور ایٹم ایک ایسی چیز ہے جس کو تَولا اور ناپا جا سکتا ہے۔
اس بنا پر اُ س دَور میں یہ نظریہ بنا کہ حقیقی وجود صرف اسی چیز کا ہے جو توَلی اور ناپی جا سکے۔ جو چیز تَول اور ناپ میں نہ آئے اس کا کوئی حقیقی وجود بھی نہیں۔
مگر آئن سٹائن کے زمانے میں ایک انقلابی واقعہ پیش آیا۔ اس زمانے میں یہ ہوا کہ انسانی علم میکرو ورلڈ (macroworld)سے گزر کر مائکرو ورلڈ (microworld)تک پہنچ گیا۔ اب معلوم ہوا کہ ایٹم ہماری دنیا کا آخری ذرہ نہیں۔ خود ایٹم بھی ایک مجموعہ ہے، جو الکٹران اور پروٹان کے ملنے سے بنا ہے۔ مگر تحقیق نے بتایا کہ الکٹران، ایٹم کی طرح کوئی مادّی ذرّہ نہیں، بلکہ الکٹران غیر مرئی لہروں (waves)کا نام ہے۔ ان لہروں کو دیکھا نہیں جاسکتا۔ ان کے بارے میں صرف یہ ممکن ہے کہ بالواسطہ اثرات کے ذریعے اُن کے وجود کے بارے میں کچھ اندازسے قائم کیے جاسکیں۔
ایٹم کا لہروں میں تبدیل ہو جانا، سائنس میں ایک بے حد اہم واقعہ تھا۔ اس کا ایک نتیجہ یہ ہوا کہ استنباط (inference)کو ایک ٹھوس علمی بنیاد حاصل ہوگئی۔ اب یہ مان لیا گیا :
Inferential argument is as valid as direct argument.
منطق میں اس تبدیلی نے سائنس کی دنیا میں انقلاب پیدا کردیا۔ آئن سٹائن سے پہلے تک یہ کہا جاتا تھا کہ مذہب میں صرف سکنڈری آرگمنٹ (secondary argument)ممکن ہے۔ مذہب میں پرائمری آرگمنٹ (primary argument)ممکن نہیں۔ چوں کہ مذہب یا اسلام کے عقائد پر تمام استدلالات استنباطی نوعیت کے ہوتے ہیں، اور مذکورہ تقسیم میں استنباط ایک سکنڈری استدلال کی حیثیت رکھتا ہے۔ اس لیے مذہب کو ان علوم میں شامل کر لیا گیا تھا جن کو (speculative)سائنسیز کہا جاتا ہے۔
مگر ایٹم کے ٹوٹنے کے بعد جب منطق میں تبدیلی آئی اور استنباطی استدلال کو عین سائنسی استدلال کا درجہ مل گیا تو اس کے بعد مذہب یا اسلام کی علمی بنیاد میں بھی تبدیلی آگئی۔ اب مذہبی یا استنباطی استدلال کے طریقے کو پرائمری استدلال کا درجہ حاصل ہو گیا، جب کہ اس سے پہلے اس کو صرف سکنڈری استدلال کا درجہ ملا ہوا تھا۔
اب خود علمِ انسانی میں نئے واقعات پیش آنے لگے۔ مثال کے طور پَر سائنس کے دورِ اوّل کے ذہن کو لے کر برطانیہ کے جولین ہکسلے (وفات1975) نے ایک کتاب لکھی، جس میں دکھایا گیا تھا کہ اب انسان کو خداکی ضرورت نہیں، اب انسان خود ہی اپنا سب کچھ بَن سکتا ہے۔ اس کتاب کا ٹائٹل یہ تھا:
Man Stands Alone
اس کے بعد امریکا کے ڈاکٹر کریسی ماریسن (وفات: 1951) نے ایک اور کتاب چھاپی، جس میں سائنسی حقائق کی روشنی میں دکھایا گیا تھا کہ انسان صرف مخلوق ہے، وہ خدا کا درجہ نہیں لے سکتا۔ اس دوسری کتاب کا ٹائٹل یہ تھا:
Man does not Stand Alone
اس طرح برٹرینڈر سل (وفات1975) نے اپنی کتاب Why I am not a Christian میں لکھا کہ آرگمینٹ فرام ڈزائن(argument from design) خدا کے وجود کو ثابت کرنے کے لیے ایک سائنٹفک استدلال ہے۔ مگر ڈارونزم نے اس استدلال کو ڈیسٹرائے کردیا ہے۔ اس کے جواب میں پروفیسر لون Arnold Henry Moore Lunn)، وفات1974ء) نے ایک کتاب لکھی، جس کا نام تھاThe Revolt Against Reason ۔اِس کتاب میں دکھایا گیا تھا کہ ڈارونزم خود ایک غیر ثابت شدہ نظریہ ہے۔ پھر وہ آرگمینٹ فرام ڈزائن کے ثابت شدہ نظریے کو کیسے ڈیسٹرائے کر سکتا ہے۔
علمِ انسانی میں اس تبدیلی کے بعد ایسا محسوس ہوا کہ اب مذہب اور سائنس کی دوری ختم ہو رہی ہے۔ دونوں ہی علم کے یکساں پہلو ہیں۔ سائنس کے اس دوسرے دَور میں بہت سے اعلیٰ ذہن اُبھرے ، جنہوں نے جدید حقائق کو لے کر بتایا کہ مذہبی صداقتیں اتنی ہی حقیقی ہیں، جتنا کہ مادّی صداقتیں۔
قدیم نیو ٹینین دَور کو پہلا دھکّا اس وقت لگا جب کہ یہ ثابت ہوا کہ روشنی کے بارے میں نیوٹن کی مادی تعبیر (corpuscular theory of light) درست نہ تھی۔ نیوٹن کے نظریے کی غلطی پہلی بار اس وقت ظاہر ہوئی جب علماء نے روشنی کی مادّی تشریح کرنے کی کوشش کی۔ یہ کوشش انہیں ایتھر (ether)کے عقیدے تک لے گئی، جو بالکل مجہول اور غیر ثابت شدہ عنصر تھا۔ کچھ نسلوں تک یہ عجیب و غریب عقیدہ چلتا رہا۔ روشنی کی مادّی تعبیر ثابت کرنے کے لیے زبردست کوششیں کی گئیں۔
لیکن میکسویل(Maxwell)کے تجربات کی اشاعت کے بعد یہ مشکل ناقابل عبور نظر آنے لگی۔ کیوں کہ اس سے ظاہر ہوتا تھا کہ روشنی ایک برقی مقناطیسی مظہر (electromagnetic phenomenon) ہے۔ یہ خلا بڑھتا رہا۔ یہاں تک کہ وہ دن آیا جب علمائے سائنس پر واضح ہوا کہ نیوٹن کے نظریات میں کوئی چیز مقدس نہیں۔ بہت دنوں کے تذبذب اور بجلی کو مادی (mechanical)ثابت کرنے کی آخری کوششوں کے بعد بالآخر بجلی کو ناقابل تحویل عناصر (irreducible elements)کی فہرست میں شامل کردیا گیا۔
یہ بظاہر ایک سادہ سی بات ہے۔ مگر در حقیقت یہ بہت معنی خیز فیصلہ ہے۔ نیوٹن کے تصور میں ہم کو سب کچھ اچھی طرح معلوم تھا۔ اس کے مطابق ایک جسم کی کمیت اس کی مقدار مادہ تھی، طاقت کا مسئلہ حرکت سے سمجھ میں آجاتا تھا، وغیرہ وغیرہ۔ اس طرح یقین کرلیا گیا تھا کہ ہم اس فطرت کو جانتے ہیں جس کے متعلق ہم کلام کر رہے ہیں۔ مگر بجلی کے مطالعہ سے معلوم ہوا کہ اس کی فطرت (nature)ایسی ہے جس کے متعلق ہم کچھ نہیں جان سکتے۔ اس کو معلوم اصطلاحوں میں تعبیر کرنے کی ساری کوششیں ناکام ہوگئیں۔ وہ سب کچھ جو ہم بجلی کے متعلق جانتے ہیں وہ صرف وہ طریقہ ہے جس سے وہ ہمارے پیمائشی آلات کو متاثر کرتی ہے— اب ہم سمجھ سکتے ہیں کہ یہ بات کس قدر اہم ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ایک ایسے وجود (entity)کو طبیعیات میں تسلیم کر لیا گیا جس کے متعلق ہم اس کے ریاضیاتی ڈھانچے کے سوا اور کچھ نہیں جانتے۔
اس کے بعد اس نہج پر اس قسم کے اور بھی وجود تسلیم کئے گئے۔ اور یہ مان لیا گیا کہ یہ لامعلوم ہستیاں بھی سائنسی نظریات کے بنانے میں وہی حصہ ادا کرتی ہیں جو قدیم معلوم مادہ ادا کرتا تھا۔ یہ حقیقت قرار پا گیا کہ جہاں تک علم طبیعات کا تعلق ہے، ہم کسی چیز کے اصلی وجود کو نہیں جان سکتے۔ بلکہ صرف اس کے ریاضیاتی ڈھانچے(mathematical structure)کو جاننے کی کوشش کر سکتے ہیں۔ اب اعلیٰ ترین سطح پریہ تسلیم کر لیا گیا ہے کہ ہمارا یہ خیال کہ ہم اشیاء کو ان کی آخری صورت میں دیکھ سکتے ہیں، محض فریب تھا۔ نہ صرف یہ کہ ہم نے دیکھا نہیں ہے بلکہ ہم اسے دیکھ بھی نہیں سکتے۔
پروفیسر اڈنگٹن (Eddington)کے نزدیک ریاضیاتی ڈھانچہ کا علم ہی وہ واحد علم ہے جو طبیعیاتی سائنس ہمیں دے سکتی ہے۔
’’جمالیاتی، اخلاقی اور روحانی پہلوئوں سے قطع نظر، کمیت مادہ، جوہر، وسعت اور مدت وغیرہ، جو خالص طبیعیات کے دائرے کی چیزیں سمجھی جاتی ہیں، ان کی کیفیت کو جاننا بھی ہمارے لئے ویسا ہی مشکل ہوگیا ہے جیسے غیر مادی چیزوں کی حقیقت کو جاننا۔ موجودہ طبیعیات اس پوزیشن میں نہیں ہے کہ وہ ان چیزوں سے براہ راست واقف ہوسکے۔ ان کی حقیقت ادراک سے باہر ہے۔ ہم ذہنی خاکوں کی مدد سے اندازہ کرتے ہیں۔ مگر ذہن کا کوئی عکس ایک ایسی چیز کی بعینہ نقل نہیں ہو سکتا جو خود ذہن کے اندر موجود نہ ہو۔ اس طرح اپنے حقیقی طریق مطالعہ کے اعتبار سے طبیعیات ان خارج ازادراک خصوصیتوں کا مطالعہ نہیں کرتی بلکہ وہ صرف مطالعہ برآلہ (Pointer-reading) ہے جو ہمارے علم میں آتا ہے۔ یہ صحیح ہے کہ یہ مطالعہ عمل کائنات کی بعض خصوصیات کو منعکس کرتا ہے، مگر ہماری اصل معلومات آلاتی مطالعہ سے متعلق ہیں نہ کہ وہ خصوصیات کے بارے میں ہیں۔ آلاتی مطالعہ کو اشیاء کی حقیقی خصوصیات سے وہی نسبت ہے جو ٹیلی فون نمبر کو اس شخص سے جس کا وہ فون نمبر ہے‘‘۔
The Domain of Physical Science - Essay in Science Religion and Reality
یہ واقعہ کہ سائنس صرف ڈھانچہ کی معلومات تک محدود ہے، بڑی اہمیت کا حامل ہے۔ کیونکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ حقیقت ابھی پورے طور پر معلوم شدہ نہیں ہے۔ اب یہ نہیں کہا جاسکتا کہ ہمارے احساسات یا خدا سے اتصال کا عارفانہ تجربہ اپنا کوئی خارجی جواب (objective counterpart)نہیں رکھتا۔ یہ قطعی ممکن ہے کہ ایسا کوئی جواب خارج میں موجود ہو۔ ہمارے مذہبی اور جمالیاتی احساسات اب محض مظاہر فریب(illusory phenomenon)نہیں کہے جاسکتے جیسا کہ پہلے سمجھا جاتا تھا۔ نئی سائنسی دنیا میں مذہبی عارف بھی ایک حقیقت کے طور پر رہ سکتا ہے۔
The Limitations of Science (pp. 138-42)
سائنٹفک فلاسفہ نے اس قسم کی تشریحات شروع کردی ہیں۔ مارٹن وائٹ (Morton White) کے الفاظ میں—بیسویں صدی میں فلسفیانہ ذہن رکھنے والے سائنس دانوں نے ایک نئی جنگ (Crusade)کا آغاز کردیا ہے۔ جس میں وہائٹ ہیڈ،ایڈنگٹن اور جینز کے نام خاص طور پر قابل ذکر ہیں۔‘‘(The Age of Analysis, [pp. 84]) ان علماء کا فکر صریح طور پر کائنات کی مادی تعبیر کی نفی کرتا ہے۔ مگر ان کی اصل خصوصیت یہ ہے کہ انہوں نے خود جدید طبیعیات اور ریاضیات کے نتائج کے حوالے سے اپنا نقطۂ نظر پیش کیا ہے۔ ان میں سے ہر ایک کے بارے میں وہی الفاظ صحیح ہیں جو مارٹن وائٹ نے وائٹ ہیڈ کے متعلق لکھتے ہیںکہ وہ ایک بلند ہمت مفکر ہے جس نے مادہ پرستی کے شیروں کو عین ان کے بھٹ میں للکارا ہے۔
He is a heroic thinker who tries to beard the lions of intellectualism, materialism and positivism in their own bristling den.
انگریز ماہر ریاضیات اور فلسفی الفرڈنارتھ وائٹ ہیڈ (وفات1947) کے نزدیک جدید معلومات یہ ثابت کرتی ہیں کہ فطرت بے روح مادہ نہیں، بلکہ زندہ فطرت ہے۔
Nature is Alive (p. 84)
انگریز ماہر فلکیات سرآرتھر اڈنگٹن (وفات1944) نے موجودہ سائنس کے مطالعہ سے یہ نتیجہ نکالا ہے کہ کائنات کا مادہ ایک شئے ذہنی ہے :
The stuff of the world is mind-stuff. (p.146)
ریاضیاتی طبیعیات کا انگریز عالم سر جیمز جینز (وفات1946) جدید تحقیقات کی تعبیر ان الفاظ میں کرتا ہے کہ کائنات، مادی کائنات نہیں بلکہ تصوراتی کائنات ہے:
The universe is a universe of thought. (p. 134)
یہ انتہائی مستند سائنس دانوں کے خیالات ہیں جن کا خلاصہ جے ڈبلیو این سولیون کے الفاظ میں یہ ہےکہ کائنات کی آخری ماہیت ذہن ہے{ FR 1537 } :
The ultimate nature of the universe is mental. (p. 145)
یہ ایک عظیم تبدیلی ہے جو پچھلی نصف صدی کے دوران میں سائنس کے اندر ہوئی ہے۔ اس تبدیلی کا اہم ترین پہلو، جے .ڈبلیو.این. سولیون کے الفاظ میں یہ نہیں ہے کہ تمدنی ترقی کے لئے زیادہ طاقت حاصل ہو گئی ہے۔ بلکہ یہ تبدیلی وہ ہے جو اس کی مابعد الطبیعیاتی بنیادوں (Metaphysical Foundation)میں واقع ہوتی ہے۔
The Limitations of Science, (pp. 138-50)
برطانیہ کے مشہور ماہر فلکیات اور ریاضی داں سرجیمز جینز (Sir James Jeans)کی کتاب ’’پراسرار کائنات‘‘ غالباً اس پہلو سے موجودہ زمانے کا سب سے زیادہ قیمتی مواد ہے۔ اس کتاب میں موصوف خالص سائنسی بحث کے ذریعہ اس نتیجے تک پہنچتے ہیں :
’’جدید طبیعیات کی روشنی میں کائنات مادی تشریح (material representation) کو قبول نہیں کرتی۔ اور اس کی وجہ میرے نزدیک یہ ہے کہ اب وہ محض ایک ذہنی تصور (mental concept)ہوکر رہ گئی ہے۔‘‘
The Mysterious Universe, 1948 (p. 123)
جینز کے الفاظ میں:
If the universe is a universe of thought, then its creation must have been an act of thought. (pp. 133-34)
یعنی جب کائنات ایک تصوراتی کائنات ہے تو اس کی تخلیق بھی ایک تصوراتی عمل سے ہونی چاہئے۔ وہ کہتا ہے کہ مادہ کو امواج برق سے تعبیر کرنے کا جدید نظریہ انسانی تخیل کے لئے بالکل ناقابل ادراک ہے۔ چناںچہ کہا جاتا ہے کہ ہو سکتا ہے کہ یہ لہریں محض امکان کی لہریں (waves of probability)ہوں جن کا کوئی وجود نہ ہو— یہ اور اس طرح کے دوسرے وجود سے سر جیمز جینز اس نتیجے تک پہنچا ہے کہ کائنات کی حقیقت مادہ نہیں، بلکہ تصور ہے۔ یہ تصور کہاں واقع ہے۔ اس کا جواب یہ ہے کہ وہ ایک عظیم کائناتی ریاضی داں (mathematical thinker)کے ذہن میں ہے۔ کیونکہ اس کا ڈھانچہ، جو ہمارے علم میں آتا ہے، وہ مکمل طور پرریاضیاتی ڈھانچہ ہے۔ یہاں میں اس کا ایک اقتباس نقل کروں گا:
’’ یہ کہنا صحیح ہوگا کہ علم کا دریا پچھلے چند سالوں میں ایک نئے رخ پر مڑا ہے۔ تیس سال پہلے ہم نے یہ سمجھ لیا تھا کہ ہم ایک ایسی حقیقت کے سامنے ہیں جو اپنی نوعیت میں مشینی (mechanical) قسم کی ہے۔ ایسا نظرآتا تھا کہ کائنات ایٹموں کے ایک ایسے بے ترتیب انبار پر مشتمل ہے جو اتفاقی طور پر اکھٹا ہوگئے ہیں اور جن کا کام یہ ہے کہ بےمقصد اور اندھی طاقتوں کے عمل کے تحت، جو کوئی شعور نہیں رکھتیں، کچھ زمانے کے لئے بے معنی رقص کریں جس کے ختم ہونے پر محض ایک مردہ کائنات باقی رہ جائے۔ اس خالص میکانکی دنیا میں، مذکورہ بالا اندھی طاقتوں کے عمل کے دوران میں، زندگی محض اتفاق سے وجود میں آگئی۔ کائنات کا ایک بہت ہی چھوٹا گوشہ یا امکان کے طورپر اس طرح کے کئی گوشے کچھ عرصے کے لئے اتفاقی طور پر ذی شعور ہو گئے ہیں اور یہ بھی ایک بے روح دنیا کو چھوڑ کر بالآخر ایک روز ختم ہو جائیں گے۔ آج ایسے قوی دلائل موجود ہیں جو طبیعی سائنس کو یہ ماننے پر مجبور کرتے ہیں کہ علم کا دریا ایک غیر مشینی حقیقت (non-mechanical reality)کی طرف چلا جارہا ہے۔ کائنات ایک بہت بڑی مشین کے بجائے ایک بہت بڑے خیال(great thought)سے زیادہ مشابہ معلوم ہوتی ہے۔ ذہن (mind) اتفاقاً محض اجنبی کی حیثیت سے اس مادی دنیا میں وارد نہیں ہوگیا ہے۔ اب ہم ایک ایسے مقام پر پہنچ رہے ہیں کہ ذہن کا عالم مادی کے خالق اور حکمراں کی حیثیت سے استقبال کریں۔ یہ ذہن بلاشبہہ ہمارے شخصی ذہن کی طرح نہیں ہے۔ بلکہ ایسا ذہن ہے جس نے مادی ایٹم سے انسانی دماغ کی تخلیق کی۔ اور یہ سب کچھ ایک اسکیم کی شکل میں پہلے سے اس کے ذہن میں موجود تھا۔ جدید علم ہم کو مجبور کرتا ہے کہ ہم دنیا کے بارے میں اپنے خیالات پر نظرثانی کریں جو ہم نے جلدی میں قائم کر لئے تھے—— ہم نے دریافت کر لیا ہے کہ کائنات ایک منصوبہ ساز یا حکمراں (designing or controlling power)کی شہادت دے رہی ہے جو ہمارے شخصی ذہن سے بہت کچھ مشابہ ہے۔ جذبات و احساسات کے اعتبار سے نہیں بلکہ اس طرز پر سوچنے کے اعتبار سے جس کو ہم ریاضیاتی ذہن (Mathematical Mind)کے الفاظ میں ادا کر سکتے ہیں۔‘‘
The Mysterious Universe. (pp. 136-38)
بیسویں صدی کے نصف اوّل میں مذکورہ کام جو ہو رہا تھا، اس کو ایک لفظ میں، spiritualization of scienceکہا جا سکتا ہے۔ یہ کام اس وقت اعلیٰ ترین سائنسی دماغ کر رہے تھے۔ مثلاً وائٹ ہیڈ، سرآرتھراڈنگٹن اور سر جیمز جینز، وغیرہ۔ مگر بیسویں صدی کے نصف آخر میں ہم دیکھتے ہیں کہ اس قسم کے اعلیٰ دماغ دوبارہ اِس علمی تحریک کو نہ مل سکے، جس کو ہم نے اسپریچولائزیشن آف سائنس کا نام دیا ہے۔
اس کا سبب غالباً عالمی سماج میں وہ نیا ظاہرہ تھا جس کو کنزیومر ازم کہا جاتا ہے۔ کنزیومرازم کی غیر معمولی مقبولیت نے صرف ان چیزوںکو اہمیت دے دی جو مارکٹ ایبل تھیں۔مذکورہ عمل تھیورٹیکل سائنس سے تعلق رکھتا تھا۔ اور تھیوریٹکل سائنس میں کمرشیل ویلو زیادہ نہیں ہوتی۔ اس لیے تمام اعلیٰ دماغ ٹکنکل سائنس کے شعبوں میں کام کرنے لگے۔ کیوں کے تمام بڑے بڑے اقتصادی فائدے سائنس کے ٹکنکل شعبوں سے متعلق ہو گئے تھے۔ اس طرح تھیوریٹکل سائنس میں ریسرچ کا کام اپنی آخری تکمیل تک پہونچنے سے پہلے رُک گیا۔ اب ضرورت تھی کے بڑے بڑے مذہبی دماغ اس کام میں لگیں اور اس کو اس کی آخری تکمیل تک پہونچائیں۔ مگر بدقسمتی سے ایسا نہ ہو سکا۔ مذہبی حلقے میں اعلیٰ دماغ موجود تھے۔ مگر وہ اِس اصل کام کو چھوڑ کر دوسرے کاموں میں لگ گیے۔
جدید تہذیب کے ظہور کے بعد اہلِ مذاہب کے لیے یہ نیا مسئلہ پید ا ہوگیا تھا کہ لوگ جدید تعلیم اور جدید افکار سے متاثر ہو کر مذہب کے روایتی عقیدے پر شک کرنے لگے تھے۔ چناںچہ تمام بڑے بڑے مذہبی دماغ اس کے دفاع میں لگ گیے۔ ہندوئوں میں اس زمانے میں بڑے بڑے دماغ پیدا ہوئے مثلاً ڈاکٹر رادھا کرشنن (وفات1975 ) وغیرہ۔ مگر یہ لوگ ہندو مذہب کی میتھالوجی کے حق میں بطور خود ریشنل پروف فراہم کرنے میں مصروف ہوگیے۔ اسی طرح عیسائیوں میں بڑے بڑے دماغ پیدا ہوئے۔ مثلاً ڈاکٹربلی گراہم، وغیرہ۔ ان لوگوں نے بھی یہی کیا کہ عیسائیت کے روایتی عقائد، تثلیث اور کفاّرہ وغیرہ کو بطور خود عقلی بنیاد فراہم کرنے میں مصروف ہو گیے۔
جہاں تک مسلمانوں کا تعلق ہے، ان کے یہاں بھی اسی زمانے میں بڑے بڑے دماغ پیداہوئے مثلاً سید جمال الدین افغانی، وغیرہ۔مگر مسلم اہلِ دماغ ایک اور غلطی میں مبتلا ہو گیے۔ عین اسی زمانے میں یہ ہوا کہ مسلمانوں کو سیاسی زوال پیش آگیا۔ چناںچہ مسلمانوں کے تمام اعلیٰ دماغ پولٹکل محاذ پر مصروف ہو گیے۔ کچھ افراد نے پولٹکل لڑائی کے لیے اپنی زندگی وقف کردی۔ کچھ اور افراد نے اسلام کو پولٹکل انٹرپریٹیشن دینے کو سب سے بڑا کام سمجھ لیا۔ اس طرح یہ ہوا کہ مسلم اہلِ دماغ سیاست کے جنگل میں کھو گیے۔ وہ مذکورہ عمل کو آگے بڑھانے میں ناکام رہے۔
یہ حقیقت ہے کہ موجودہ زمانے میں سب سے بڑا کام اعلائے کلمۂ اسلام کا ہے۔ مگر اس کام کے لیے نہ تو مسلّح جہاد کی ضرورت ہے اور نہ اسلام کوپولٹکل ثابت کرنے سے اسلام میں کوئی پیش رفت ہو سکتی ہے، اور نہ بن لادن جیسے لوگ اسی معاملے میں کوئی پازیٹیو رول ادا کرسکتے ہیں۔ اس قسم کی تدبیروں کے غلط ہونے کے لیے یہی کافی ثبوت ہے کہ دوسو سال تک مسلمانوں کی کئی جنریشن ان راہوں میں قربانی دیتی رہی مگر اصل مطلوب مقصد ایک فیصد بھی حاصل نہ ہو سکا۔
اِس پہلو سے موجودہ زمانے کا سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ اسلام نے اپنے حق میں انسانی علم کی بنیاد کھودی ہے۔ یہ علمی بنیاد دوبارہ اس طرح فراہم ہو سکتی ہے کہ اُس عمل کو آخری تکمیل تک پہنچایا جائے، جس کو ہم نے اسپریچویلائزیشن آف سائنس کہا ہے۔ ضرورت ہے کہ مسلمانوں کے اعلیٰ دماغ اس کام میں اپنے آپ کو وقف کریں آج مسلمانوں کو بن لادن جیسے لوگوں کی ضرورت نہیں، بلکہ یہ ضرورت ہے کہ ان کے اندر وائٹ ہیڈ، آرتھراڈ نگٹن اور جیمز جینز جیسے افراد پیدا ہوں۔ بن لادن جیسے لوگ صرف تخریب کا کام کر سکتے ہیں، جب کہ آج اصل ضرورت یہ ہے کہ مثبت تعمیر کا کام کیا جائے۔ خاص طور پَر علمی اور سائنسی تعمیر۔
قرآن میں یہ خبردی گئی ہے کہ خدا نے انسان کو دنیا کی تمام چیزوں کا علم دے دیا ( وَعَلَّمَ آدَمَ الْأَسْمَاءَ کُلَّہَا)البقرۃ،آیت30۔ انسانی برین کے بارے میں جدید دریافت گویا اس آیت کی تفسیر ہے۔ جدید دریافت بتاتی ہے کہ ہر انسانی برین میںبے شمارپارٹکلس ہوتے ہیں۔ ایک اندازے کے مطابق ایک سو میلین، بلین بلین سے زیادہ پارٹکل۔ یہ کوئی سَینڈ پارٹکل کے مانند نہیں، بلکہ وہ انفارمیشن پارٹکل ہیں۔ ان پارٹکل کے ذریعے گویا خدا نے ہر قسم کی معلومات کو انسانی دماغ میں فیڈ کردیا ہے۔ ان پارٹکل میں فزکل معلومات بھی ہیں اور اسپریچول معلومات بھی۔
موجودہ زمانے میں سائنس دانوں نے کائنات کو دریافت کر کے بے شمار چیزیں بنائی ہیں۔ یہ دریافتیں در اصل دریافتیں نہیں ہیں بلکہ وہ انسانی دماغ میں پہلے سے موجود انھیں انفارمیشن پارٹکلس کی اَن فولڈنگ ہیں۔ اس طرح انسان نے بہت بڑی مقدار میں اپنے دماغ میں فیڈ کی ہوئی فزیکل معلومات کو ان فولڈ کرنے میں کامیابی حاصل کی ہے۔
مگر جہاں تک دماغ میں فیڈ کی ہوئی اسپریچول انفارمیشن کا تعلق ہے اس کا بڑا حصہ ابھی تک اَن فولڈ نہ ہوسکا۔دماغ میں فیڈ کی ہوئی اسپریچول انفارمیشن کو اَن فولڈ کرنے کا کام ابھی باقی ہے۔ موجودہ زمانے کے مسلم اہلِ دماغ کو یہی کام کرنا ہے۔ یہی وہ کام ہے جس کو انجام دینے پر اعلائے کلمۂ اسلام کا دروازہ ان کے لیے کھُلے گا۔
***************************************
اپنا گھر ، ٹسٹ گھر
اس دنیا میں آدمی ایک گھر بناتا ہے اور اس کو وہ ’’اپنا گھر‘‘ کہتا ہے۔وہ اپنے نام پر اس کا نام رکھتا ہے۔یہی معاملہ تمام چیزوں کا ہے۔مگر حقیقت یہ ہے کہ اس دنیا میں ہر گھر، ٹسٹ ہاوس ہے۔ اس دنیا میں ہر کار، ٹسٹ کار ہے۔اس دنیا میں ہر پراپرٹی، ٹسٹ پراپرٹی ہے۔اس دنیا میں ہر اولاد، ٹسٹ اولاد ہے۔اس دنیا کی تمام چیزیں ٹسٹ کا سامان ہیں۔مگر آدمی اس سب سے بڑی حقیقت کو بھولا ہوا رہتا ہے،یہاں تک کہ اچانک موت آتی ہے اور وہ تمام چیزوں کو چھوڑ کر بالکل تنہا اگلے مرحلہ حیات میں داخل ہو جاتا ہے۔اس وقت اس کو معلوم ہوتا ہے کہ جن چیزوں کو میں اپنی چیز سمجھتا تھا،وہ خدا کی طرف سے امتحان کے لیے وقتی طور پر ملی ہوئی تھیں۔پچھلا دور حیات ختم ہوتے ہی وہ سب کی سب مجھ سے چھین لی گئیں۔اب مجھے ایک ایسی دنیا میں رہنا ہے جہاں مجھے مکمل طور پر محرومی کی حالت میں زندگی گزارنا ہے۔اس سے مستثنی صرف وہ لوگ ہوں گے جن کو ان کے حسن عمل کے نتیجے میں دوبارہ تمام چیزیں بطور انعام دے دی جائیں گی۔
واپس اوپر جائیں

حکیمانہ تربیت

انسان کی زندگی میں ابتدائی تقریباً دس سال کو حیاتیاتی اعتبار سے تیاری کا دور (formative period) کہا جاتا ہے۔ اس ابتدائی دورِ حیات میں انسان کی شخصیت کا بڑا حصہ عملا ً بن کر تیار ہوجاتا ہے۔ انسان کی زندگی میںیہ ابتدائی مدت، تربیت کے نقطۂ نظر سے بہت زیادہ اہم ہے۔
پیغمبر اسلام نے اس تربیتی مقصد کے لیے اپنی زندگی میں دو اشخاص کو خصوصی طور پر چنا۔ ایک، علی ابن ابی طالب اور دوسرے، عائشہ بنت ابی بکر۔ دونوں کو آپ نے یہ موقع دیا کہ وہ کم عمری میں آپ کی صحبت میں رہ کر تربیت پائیں، اور وہ چیز حاصل کریں جس کو قرآن(البقرۃ129) میں حکمتِ رسول (prophetic wisdom)کہا گیا ہے۔
حکیمانہ تربیت کا یہ مقصد صرف کم عمری میں حاصل کیا جاسکتا تھا۔ آپ نے علی ابن ابی طالب کو اپنی صحبت میں رکھنے کا یہ طریقہ اختیار فرمایا کہ آپ کم عمری میں ان کےکفیل بن گیے۔عائشہ ایک خاتون تھیں، اس لیے ان کے لیے یہ طریقہ قابلِ عمل نہ تھا۔ چناں چہ آپ نے عائشہ بنت ابی بکر سے کم عمری میں نکاح کرلیا۔ روایات کے مطابق،یہ نکاح اس وقت ہوا جب کہ عائشہ کی عمر چھ سال تھی، اوررخصتی اس وقت ہوئی جب کہ ان کی عمر نو سال ہو چکی تھی (صحیح البخاری، حدیث نمبر5188) ۔
کچھ لوگوں نے عائشہ کی عمرِ نکاح کے بارے میں تاویل کا طریقہ اختیار کیا ہے ۔ مگر یہ ایک غیر ضروری کوشش ہے۔یہ زاویۂ نظرکے فرق کا معاملہ ہے۔ یہ لوگ اس واقعہ کو نکاح کے زاویۂ نظر سے دیکھتے ہیں۔ مگر اپنی حقیقت کے اعتبار سے یہ تیاری کی مدت (formative period) میں پیغمبرانہ تربیت کا معاملہ ہے۔
نتیجہ اس توجیہہ کی تصدیق کرتا ہے۔ چناں چہ یہ بات علماء کے درمیان ایک ثابت شدہ حقیقت سمجھی جاتی ہے ، یہ تسلیم کیا جاتا ہے کہ علی اور عائشہ، دونوں بصیرت اور تفقہ کے اعتبار سے تمام صحابہ میں امتیازی درجہ رکھتے ہیں۔
رسول سے استفادے کی ایک صورت یہ تھی کہ آپ کے اقوال کو محفوظ کرلیا جائے ، اور اس کو لوگوں سے بیان کیا جائے۔ اس معاملہ میں ابو ہریرہ امتیازی حیثیت رکھتے ہیں۔ دوسری صورت یہ تھی کہ رسول اللہ کی باتوں کو سن کر اور آپ کے عمل کو دیکھ کر حقائق کا استنباط کیا جائے۔ یہ دوسرا فائدہ صرف متواتر صحبت کے ذریعے حاصل ہوسکتا تھا۔ اس دوسرے مقصد کے لیے علی ابن ابی طالب اور عائشہ بنت ابی بکر کا کم عمری میں انتخاب کیا گیا۔
مثال کے طور پر علی ابن طالب کا ایک قول ان الفاظ میں آیا ہے:قیمة کل امرئ ما یحسن (جامع بیان العلم و فضلہ، حدیث نمبر 608-9)۔یہ بات ان الفاظ میں کسی حدیث رسول میں نہیں آئی ہے۔ یہ رسول کی صحبت سے مستنبط کی ہوئی ایک حکمت ہے۔ اس بات کو اس طرح کہا جاسکتا ہے کہ کسی انسان کی قدر و قیمت اس اعتبار سے متعین ہوتی ہے کہ وہ اپنے کام کو کتنے امتیاز کے ساتھ انجام دیتا ہے :
The value of a person lies in his excellence .
یہی معاملہ عائشہ بنت ابی بکر کا ہے۔ حضرت عائشہ کے استنباطات مشہور ہیں۔ یہ تمام استنباطات اعلیٰ حکمت کا نمونہ ہیں۔ وہ رسول اللہ کی صحبت سے اخذ کی ہوئی حکمت کی باتیں ہیں۔ مثلا حضرت عائشہ کا یہ حکیمانہ قول :ما خیر النبی صلى اللہ علیہ وسلم بین أمرین إلا اختار أیسرہما(صحیح البخاری، حدیث نمبر6786)۔یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جب بھی دو میں سے ایک کا انتخاب کرنا ہوتا تو آپ ہمیشہ آسان تر کا انتخاب کرتے تھے:
Whenever the Prophet had to choose between the two, he always opted for the easier of the two.
رسول اللہ سے سنی ہوئی باتوں کو حدیث کہا جاتا ہے۔ علی اور عائشہ کا امتیاز استنباط کے پہلو سے ہے۔ انھوں نے رسول اللہ کی صحبت میں رہ کر حکمت کی باتیں اخذ کیں۔ اور ان کو اپنی زبان میں بیان کیا۔ کم عمری میںان دونوںصاحبان کے لیے صحبت رسول بہت مفید تھی۔ اس صحبت نے ان کے اندر اخذ (grasp) کی طاقت کو بہت بڑھا دیا۔
واپس اوپر جائیں

تاریخ کا نیا دور

اسلام ساتویں صدی عیسوی میں آیا۔ اہل اسلام کی جدو جہد کے نتیجے میں اب دنیا میں ایک انقلاب آچکا ہے۔ روایات میں اس انقلاب کی پیشین گوئی موجود ہے۔ایک روایت کے مطابق پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لا ہجرة بعد الفتح (صحیح البخاری، حدیث نمبر 2783)۔ اس حدیث میں ہجرت اور فتح کے الفاظ صرف وقتی معنی میں نہیں ہیں ، بلکہ وہ دور (age) کے معنی میں ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اسلامی انقلاب کے بعد دنیا میں ایک نیا دور آئے گا، اب ساتویں صدی کے ماڈل پر کام نہیں ہوگا۔ یعنی اب دعوت ، ہجرت، جہاد کا ماڈل عملاًغیر متعلق ہوگیا ہے۔ اب وہ حالات بدل چکے ہیں جس میں ہجرت اور قتال پیش آیاتھا۔ اب صرف زمانے کی رعایت کے مطابق دعوت الی اللہ کا پرامن کام کرنا ہوگا۔ بقیہ نتائج اپنے آپ حاصل ہوتے رہیں گے۔
اسی طرح ایک روایت میں آیا ہے کہ کسریٰ ہلاک ہوگیا اب کوئی کسریٰ نہیں، اور قیصر ہلاک ہوگیا اب کوئی قیصر نہیں(صحیح البخاری، حدیث نمبر 3120)۔ اس میں بھی کسریٰ اور قیصر کے الفاظ علامتی طور پر استعمال ہوئے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ شہنشاہیت کا دور (age of imperialism) ختم ہوگیا۔ اب دنیا میں دوبارہ شہنشاہیت کا دور آنے والا نہیں۔
اس حدیثِ رسول میں پیشین گوئی کی زبان میں ایک تاریخی حقیقت کو بیان کیا گیا ہے۔ وہ یہ کہ اسلام کے بعد دنیا سے بادشاہت اور شہنشاہیت کا دور ختم ہوجائے گا۔ قدیم زمانے میں بادشاہی نظام اور شہنشاہی نظام کی بنا پردینی تحریک کو حکومتی نظام کی طرف سے ایذا رسانی (persecution) کا معاملہ پیش آتا تھا۔ اب دینی تحریک کے لیے ایسا معاملہ پیش آنے والا نہیں۔ اب دینی تحریک کی منصوبہ بندی خالص غیر سیاسی بنیاد پر ہوگی۔ اب دینی تحریک کو شروع سے آخر تک امن کے حالات میں کام کرنے کا موقع ملے گا، نہ کہ تشدد کے حالات میں۔ اب قیامت تک کسی تحریک کے لیے تشدد کے حا لات پیش آنے والے نہیں۔
واپس اوپر جائیں

ایک اجتماعی اصول

ایک حدیث رسول ان الفاظ میں آئی ہے:عن عبادة بن الصامت الانصاری، بایعنارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم على السمع والطاعة، فی منشطنا ومکرہنا، ... وأثرة علینا، وأن لا ننازع الأمر أہلہ(صحیح البخاری،حدیث نمبر7056)۔ یعنی ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیعت کی سمع و طاعت پر، پسند پر بھی اور ناپسند پر بھی، اور اس پر کہ دوسروں کو ہمارے اوپر ترجیح دی جائے، اور اس پر کہ ہم صاحب امر سے نزاع نہ کریں۔
اس حدیث میں جس معاملے کا ذکر ہے، اس کا تعلق صرف رسول اور صرف اصحابِ رسول سے نہیں ہے۔ وہ ایک عام اجتماعی اصول ہے جس کی پابندی ہر دور میں ضروری ہے۔ کیو ں کہ اس طرح کا معاملہ ہمیشہ اور ہر اجتماع میں پیش آتا ہے۔ مثلا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ابتدائی زمانے میں انصار اور مہاجرین کے درمیان کوئی فرق نہ تھا۔ مگر جب رسول اللہ کی وفات کے بعد خلافت کا دور آیا تو اس اصول کو اختیار کیا گیا کہ الائمۃ من قریش (مقدمہ ابن خلدون،بیروت، 1988، صفحہ 242)۔یعنی خلافت کے معاملےمیں انصار کے اوپر مہاجرین کو ترجیح دینا۔
یہ جوہوا، یہ بر بنائے ضرورت تھا، نہ کہ بر بنائے فضیلت۔ اسی طرح موجودہ زمانے میں اگر کوئی تحریک کتابت اور لیتھو پرنٹنگ کے زمانے میں شروع ہو تو روایتی لوگ تمام کاموں کو انجام دیں گے۔ لیکن تحریک آگے بڑھ کر جب کمپیوٹر اور جدید ٹکنالوجی کے دور میں داخل ہوجائے تو حالات کا تقاضا ہوگا کہ وہ لوگ کام کو سنبھال لیں جولوگ اپنی تعلیم و تربیت کے اعتبار سے کمپیوٹر اور جدید ٹکنالوجی کے استعمال کو جانتے ہیں۔ ایسا واقعہ ترجیح (preference) کی بنا پر نہیںہوگا، بلکہ وہ مکمل طور پر ضرورت کی بنا پر ہوگا۔ اس حدیثِ رسول میںاجتماعی اخلاقیات کا ایک اصول بتایا گیا ہے۔ وہ یہ کہ جب ایسا کوئی معاملہ پیش آئے، جو بظاہر ترجیح (preference) کادکھائی دیتا ہو تو اس کو دل کی آمادگی کے ساتھ قبول (accept)کیا جائے۔
واپس اوپر جائیں

مومن کی صفات

قرآن کے مطابق، مومن کی بنیادی صفات دو ہیں-اللہ سے حُبّ شدید (2:165) اور اللہ سے خشیت شدید (9:18)۔ مومن کی دوسری تمام صفات انھیں دو صفتوں کے مختلف پہلو ہیں۔ کوئی انسان جب اللہ رب العالمین کو دریافت کرتا ہے تو اس کے اندر فطری طور پر یہ دو اعلیٰ صفات پیدا ہوتی ہیں۔ یہ دونوں صفتیں جب گہرائی کے ساتھ زندگی کا حصہ بن جاتی ہیں تو اس سے وہ شخصیت بنتی ہے جس کو مومن کی شخصیت کہا جاتا ہے۔
ایک انسان جب اللہ کی عظیم نعمتوں (great blessings) کا شعور حاصل کرتا ہے تو اس کے نتیجے کے طور پر اس کے اندر وہ صفت پیدا ہوتی ہے جس کو قرآن میں اللہ سے حُبّ شدید کہا گیا ہے۔ اسی طرح انسان جب اپنے عجز اور اپنی عبدیت کو شعوری طور پر دریافت کرتا ہے تو اس سے وہ صفت پیدا ہوتی ہے جس کو قرآن میں خشیت شدید یا خوفِ شدید کہا گیا ہے۔
ایمان کی یہ دونوں صفات دراصل معرفت کے نتیجے میں پیدا ہوتی ہیں۔ معرفت جتنی اعلی درجے کی ہوگی، اتنی ہی اعلی درجے کی صفات آدمی کے اندر پیدا ہوں گی۔ انسان کے اند رکوئی بھی صفت ایک علاحدہ ضمیمہ کے طور پر پیدا نہیں ہوتی۔ بلکہ وہ داخلی شعور کا ایک خارجی اظہار ہوتا ہے۔ ہر ایمانی صفت کے پیچھے گہرے معنوں میں تدبر اور تفکر موجود رہتا ہے۔
ایمانی معرفت کوئی قانونی بات نہیں۔ کسی کو قانونی احکام بتانے سے اس کے اندر معرفت پیدا نہیں ہوگی۔ اس کا طریقہ یہ ہے کہ آدمی کو پہلے مطالعہ کرنے والااور غور وفکر کرنے والا بنایا جائے۔ جب ایسا ہوگا تو اس کے بعد کسی انسان کے اندر وہ اعلی صفت پیدا ہوگی جس کو معرفت کہا جاتا ہے۔
یہی سچے مومن کو پہچاننے کا واحد معیار ہے۔ یہ معیار جس انسان کے اندر پایا جائے، وہی انسان سچا مومن ہے۔ اور جس انسان کے اندر یہ دونوں صفات نہ پائی جائیں، وہ اللہ کے نزدیک سچا مومن نہیں ، خواہ ظاہر پسند انسانوں کو وہ کتنا ہی بڑا آدمی دکھائی دیتا ہو۔
واپس اوپر جائیں

ماحی کا مطلب

ایک حدیث میں پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا مشن بتایا ہے ، اس کا ایک جزء یہ ہے: أنا الماحی الذی یمحو اللہ بی الکفر(صحیح البخاری، حدیث نمبر 3532)۔ یعنی میں مٹانے والا ہوں، اللہ میرے ذریعے کفر کو مٹائے گا۔ اس حدیث میں ماحی کا لفظ آیا ہے۔ ماحی کا لفظی مطلب ہے مٹانے والا۔ یہاں مٹانے کا لفظ کسی فوجی معنی میں نہیں ہے بلکہ وہ تمام تر نظریاتی معنی میں ہے۔ یعنی کفر جس نظریاتی بنیاد (ideological base)پر کھڑا ہے، اس نظریاتی بنیاد کودلائل کے ذریعے بے وزن بنادینا۔ کفر کے عقیدے کو اس کی نظریاتی اساس سے محروم کردینا۔ اس معاملے کا کوئی تعلق جنگ و قتال سے نہیں ہے۔
کفر ایک عقیدہ ہے جو انسان کے دماغ میں بطور ایک فکر کے موجود ہوتا ہے۔ فکر کو جنگ کے ذریعے ختم نہیں کیا جاسکتا ۔ بلکہ فکر کو صرف جوابی فکرکے ذریعے ختم کیا جاسکتا ہے۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے اصحاب کی کوششوں سے عرب میں ایک انقلابی عمل (revolutionary process) جاری ہوا، جو نہایت موثر طور پر پوری تاریخ میں چلتا رہا۔ جیسا کہ حدیث ( البخاری، حدیث نمبر 3062)میں آیاہے۔ اس انقلابی عمل میں سیکولر لوگوںکی تائید بھی ضرور حاصل ہوگی۔ یہاں تک کہ یہ انقلابی عمل اپنی آخری حد تک پہنچ جائے ۔
موجودہ زمانے میں جس چیز کو ماڈرن سویلائزیشن کہا جاتا ہے، وہ اسی انقلابی عمل کی تکمیل ہے۔ اب اکیسویں صدی میں ’’کفر‘‘ اپنی نظریاتی طاقت کو کھوچکا ہے۔ آج کی دنیا میں انسان کو مکمل معنوں میںمذہبی آزادی حاصل ہے۔ اب وسائل پر کسی کی اجارہ داری (monopoly)نہیں ہے۔ اب تمام مواقع (opportunities) ہر ایک کےلیے کھلے ہوئے ہیں۔ کسی کو یہ حق نہیں رہا کہ وہ اپنے نظریے کو جبراً دوسروں کے اوپرنافذ کرے۔ اب دلیل کی طاقت تمام تر دین حق کو حاصل ہوچکی ہے۔ قدیم زمانے میں ایک اللہ کی عبادت پر بھی روک (العلق: 9-10) تھی۔ آج ایک اللہ کے دین کی اشاعت و تبلیغ کے لیے دنیا کے تمام دروازے پوری طرح کھلے ہوئے ہیں۔
واپس اوپر جائیں

مشن اور تاریخ

پیغمبرِ اسلام کا ایک مشن تھا۔ اس مشن کو ایک لفظ میں توحید کی آئڈیالوجی کہہ سکتے ہیں۔ یعنی انسان کو اس کے خدا سے متعارف کرنا۔ خالق اور مخلوق کے درمیان وہ تعلق قائم کرنا جو حقیقتِ واقعہ کی نسبت سے مطلوب ہے۔یہی توحید ہے، اور کسی انسان کی ابدی کامیابی یہ ہے کہ وہ اپنی زندگی کو اس توحید پر قائم کرے، وہ ایک سچا موحد بن جائے۔
پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے 610 عیسوی میں مکہ میں اپنے مشن کا آغاز کیا۔ 632 عیسوی میں مدینہ میں آپ کی وفات ہوگئی۔ 23 سا ل کی اس پوری مدت میں آپ مسلسل طور پر اپنے مشن کی اشاعت میں مشغول رہے۔ 23 سال کی اس مدت میں جو واقعات پیش آئے، وہ پیغمبرِاسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی تاریخ کا ایک حصہ ہیں۔ توحید کی حیثیت نظریہ کی ہے، اور تاریخ کی حیثیت حالات کی نسبت سے پیش آنے والے واقعات کی۔
جو شخص پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کا مطالعہ کرے، اس کے لیے ضروری ہے کہ وہ آئڈیالوجی اور تاریخ کے اس فرق کو بخوبی طور پر جانے۔ اس فرق کو ملحوظ کیے بغیر جو شخص پیغمبر ِ اسلام کی سیرت کا مطالعہ کرے، وہ یقیناً غلط فہمی کا شکار ہوجائے گا۔ وہ بطورِ خود پیغمبر ِ اسلام کی ایک موضوعی تصویر (objective picture) بنائے گا، مگر یہ تصویر پیغمبر اسلام کی حقیقی تصویر نہ ہوگی، وہ غلط فہمی پر مبنی ایک تصویر ہوگی۔
مثال کے طور پر کچھ لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ پیغمبر ِ اسلام کی زندگی کے تین دور ہیں'-دعوت، ہجرت ، جہاد۔ ان تین ادوار کے مجموعے سے جو نقشہ بنے، وہ پیغمبر ِ اسلام کی زندگی کا مکمل نقشہ ہے۔ مگر یہ تعبیر درست نہیں۔ کیوں کہ دعوت پیغمبر ِ اسلام کی زندگی کا اصل حصہ (real part) ہے، ہجرت اور جہاد (بمعنی قتال) پیغمبرِ اسلام کی زندگی کا صرف اضافی حصہ (relative part)ہے۔ یعنی دعوت کا عمل آپ کے حقیقی مشن کی نسبت سے آپ کی زندگی کا حصہ تھا۔ جب کہ ہجرت اور جہاد(بمعنی قتال) زمانی تاریخ کی نسبت سے آپ کی زندگی کا حصہ بنا۔ دوسرے الفاظ میں یہ کہ اگر زمانی حالات مختلف ہوتے تو دعوت آپ کی زندگی میں ضرور شامل رہتی، لیکن ہجرت اور جہاد (بمعنی قتال) آپ کی زندگی میں شامل نہ ہوتے۔
ساتویں صدی عیسوی میں جب پیغمبر ِ اسلام نے توحید کا مشن شروع کیا تو اس وقت عرب میں قبائلی دور (tribal age) پایا جاتا تھا۔ آج ساری دنیا میں تہذیب (civilization) کا دور آچکا ہے۔ آج اگر کوئی شخص پیغمبر ِ ِاسلام کے مشن کا احیاء (revival) کرےتو پرامن دعوت کا حصہ تو ضرور اس کی تحریک میں موجود ہوگا۔ لیکن آج نہ قدیم طرز کی ہجرت کی ضرورت ہے اور نہ جنگ و قتال کی۔ آج دورِ تہذیب میں زمانی حالات ہر اعتبار سے بدل چکے ہیں۔ اب اگر کوئی شخص آج کے حالات میں یہ کرے کہ وہ ہجرت اور قتال کے طریقے کو سنت رسول سمجھ کر دہرانے لگے تو یقینا وہ غلطی کرے گا۔ وہ سنت رسول کے نام پر سنت رسول سے انحراف کا مرتکب بن جائے گا۔
کرنے کا اصل کام
بیسویں صدی کے نصف اول میں بیشتر مسلم ممالک مغربی طاقتوں کے زیر اقتدار تھے ، خواہ براہ راست طور پر یا بالواسطہ طور پر ۔ اس کے بعد آزادی کی تحریکیں چلیں ۔ آج یہ تمام مسلم ممالک سیاسی طور پر آزاد ہیں ۔ ان ملکوں کی تعداد تقریبا 60 تک پہنچ چکی ہے ۔ گنتی کے اعتبار سے اقوام متحدہ کے ممبروں میں سب سے زیادہ تعداد مسلم ملکوں کی ہے ۔ اس کے باوجود عالمی سیاسی نقشہ پر مسلمانوں کا کوئی وزن نہیں ۔ اس کا سبب یہ ہے کہ قدیم زمانہ میں سیاسی اقتدار ہی سب کچھ ہوا کرتا تھا۔ مگر موجودہ زمانہ میں سیاسی اقتدار کی حیثیت ثانوی بن گئی ہے ۔ اب تعلیم اور سائنس اور ٹکنالوجی اور اقتصادیات کی اہمیت ہے ... اس لئے آج کرنے کا اصل کام یہ ہے کہ موجودہ زمانہ کی مسلم نسلوں کو ان غیر سیاسی شعبوں میں آگے بڑھایا جائے۔
واپس اوپر جائیں

فرشتوں پر عقیدہ

ایک شخص جب اسلام کو قبول کرتا ہے تو وہ کچھ عقائد کا اقرار کرتا ہے۔ ان میں سے ایک عقیدہ فرشتوں (angels) کا عقیدہ ہے۔ فرشتوں پر عقیدہ رکھنا، مذہب اسلام کا ایک لازمی حصہ ہے۔ یہ فرشتے اللہ کے حکم سے ساری دنیا کا نظام چلارہے ہیں۔ اس سلسلے میں ایک حدیث رسول ان الفاظ میںآئی ہے: ما فیہا موضع أربع أصابع إلا وملک واضع جبہتہ ساجداً للہ (سنن الترمذی، حدیث نمبر 2312)۔یعنی کائنات میں چار انگل جگہ بھی ایسی نہیں ہے جہاں ایک فرشتہ اپنی پیشانی کو جھکائے ہوئےاللہ کے لیے سجدہ کی حالت میں نہیں ۔
بعض روایات میں ساجداًللہ کے بجائے یمجّد اللہ (شرح السنۃ للبغوی، حدیث نمبر4172)کے الفاظ آئے ہیں۔ یعنی اللہ کی تمجید کرتے ہیں۔ حدیث میں سجدہ یا تمجید کا مطلب معروف سجدہ یا تمجید نہیں ہے۔ بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ کے احکام کی کامل تعمیل میں لگا ہونا ۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ کائنات کے انتظام میں ا تنے زیادہ فرشتے لگے ہوئے ہیں کہ کائنات ان کی تعداد سے بھر گئی ہے۔
کائنات میں ہم دیکھتے ہیں کہ ہر لمحہ ایک عمل جاری ہے۔ زمین اور بقیہ کائنات میں مسلسل طور پر انتہائی اعلی درجے کی سرگرمیاں موجود ہیں۔ موجودہ زمانےمیں اکثر سائنسدانوں کا یہ ماننا ہے کہ کائنات کے اندر ذہین ڈیزائن (intelligent design) پائی جاتی ہے۔ یہ ذہین ڈیزائن صرف موجود نہیں ہے، بلکہ وہ ہر لمحہ متحرک ہے۔ ہرلمحہ اس کے اندر بامعنی سرگرمیاں جاری ہیں۔ کہکشاؤں کی گردش، شمسی نظام، زمین کے اوپرلائف سپورٹ سسٹم ، وغیرہ ۔ ایسااس کے بغیر نہیں ہوسکتا کہ کچھ غیرمعمولی طاقتوںکا اس کے اوپر کنٹرول ہو۔ وہ نہایت آئڈیل انداز میں اس کا انتظام کرنے میں مشغول ہوں۔ کائنات میں یہ بے خطا انتظام گویا خاموش زبان میں اعلان کررہا ہے کہ اس کے کچھ انتظام کار ہیں۔ یہ انتظام کارخالق کے حکم سے اس کا معیاری انتظام کرنے میں مشغول ہیں ۔
واپس اوپر جائیں

دعوتی مشن

قرآن میں پیغمبروں کامشن بتاتے ہوئے ارشاد ہوا ہے:إِنَّا أَخْلَصْنَاہُمْ بِخَالِصَةٍ ذِکْرَى الدَّارِ (38:46)۔ہم نے ان کو ایک خاص مشن ، آخرت کی یاد دہانی کے لیے چن لیا تھا۔ اس آیت میں پیغمبر کے حوالے سے داعی کا کردار بتایا گیا ہے۔ چننے کا یہ معاملہ داعی کی اہلیت کی بنا پر ہوتا ہے۔ جب ایک شخص اپنے آپ کو دعوتی مشن کا اہل ثابت کرتا ہے تو اللہ کی طرف سے اس کو مشن کے لیے منتخب کرلیا جاتا ہے۔ منتخب کرنے کا مطلب یہ ہے کہ اس کو خصوصی طور پر اللہ کی مدد حاصل ہوتی ہے تاکہ وہ دعوت کے مشن کو درست طور پر انجام دے سکے۔
خدا کا خاص کام کیا ہے جس کے لیے وہ انسانوں میں سے اپنے پیغمبر چنتا ہے۔ وہ ہے آخرت کے گھر کی یاد دہانی۔ پیغمبروں کا خاص مشن ہمیشہ یہ رہا ہے کہ وہ انسانوں کو اس حقیقت سے باخبر کریں کہ انسان کی اصل منزل آخرت ہے۔ اور انسان کو اسی کی تیاری کرنا چاہیے۔ انسان کا سب سے بڑا مسئلہ یہی ہے اور اس دنیا میں سب سے بڑا کام یہ ہے کہ اس کو اس سنگین مسئلہ سے آگاہ کیا جائے۔
پوری تاریخ میں انسان اس سوال پر سوچتا رہا ہے کہ انسان کی تخلیق کا مقصد کیا ہے۔ اس سلسلے میں سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ انسان اپنی پیدا ئش کے اعتبار سے فل فل مینٹ سیکینگ انیمل (fulfilment-seeking animal) ہے۔ لیکن اس دنیا میں کسی بھی شخص کو پورے معنوں میں فل فلمینٹ نہیں ملتا۔ انسان اس زمین پر پیدا ہوتا ہے۔ وہ ساری عمر تکمیلِ آرزو (fulfilment)کے لیے کوشش کرتا ہے۔ لیکن آخر کار وہ اپنی آرزووں کی تکمیل کے بغیر حسرت کی موت مرجاتا ہے۔
داعی کا مشن اسی سوال کا جواب ہے۔ داعی انسان کو یہ بتاتا ہے کہ تمھاری زندگی کے دو دور ہیں: قبل از موت دور، اور بعد از موت دور۔ جو چیز تم قبل از موت دور میں تلاش کررہے ہو، وہ بعد از موت دور میں رکھی گئی ہے۔موجودہ دورِ حیات تیاری کا مرحلہ ہے، نہ کہ پانے کا مرحلہ۔
واپس اوپر جائیں

دعوت عام، اصلاح امت

جس طرح صلاۃ اور زکاۃ دین کے دو الگ الگ شعبے ہیں، اسی طرح دعوت اور اصلاح دین کے دو الگ الگ شعبے ہیں۔ اگر دعوت عام اور اصلاح امت ، دونوں کو ایک سمجھ لیا جائے تو دونوں میں سے کسی کا بھی تقاضا پورا نہیںہوگا۔ جس طرح صلاۃ اور زکاۃ دونوں کو ایک سمجھ لیا جائے تو نہ صلاۃ کا تقاضا پورا ہوگا اور نہ زکاۃ کا۔
اصلاح امت دراصل امت کی ایک داخلی ضرورت ہے۔ فطرت کے قانون کے مطابق، امت کے اندر ہمیشہ زوال کا عمل جاری رہتا ہے۔ اس لیے ضروری ہوتا ہے کہ امت کی ہر نسل میں احیاء (revival) کا عمل جاری رہے، امت کی ہر نسل میں دین کی اسپرٹ کو دوبارہ زندہ کیا جاتا رہے۔ یہ امت کے علماء کا ایک مستقل فریضہ ہے۔ لومۃ لائم (المائدہ54)کا اندیشہ کیے بغیر اس فریضے کو مسلسل طور پر جاری رکھنا ضروری ہے۔
دعوت الی اللہ سے مراد وہی چیز ہے جس کو قرآن میں انذار و تبشیر (النساء165) کہا گیا ہے۔ اس سے مراد یہ ہے کہ ہر قوم اور ہر انسانی گروہ کو مسلسل طور پر یہ بتانا کہ ان کے پیدا کرنے والے نے ان کو کس لیے پیدا کیا ہے۔ خالق کا تخلیقی نقشہ (creation plan) کیا ہے۔ ابدی کامیابی کیا ہے، اور ابدی خسران کیا ہے ۔ یہ دین کی عمومی پیغام رسانی کا کام ہے۔
دعوت کے دو خاص تقاضا ہیں۔ اس کو قرآن میں ناصح اور امین (الاعراف68) کے الفاظ میں بیا ن کیا گیا ہے۔ یعنی مدعو کے ساتھ کامل خیر خواہی اور دعوت کے معاملے میں پوری دیانت داری۔ اس کا ایک تقاضا یہ بھی ہے کہ دعوت کو مدعو کی قابلِ فہم زبان میں بیان کیا جائے۔ دعوت کو ایسے اسلوب میں بیان کیا جائے جو مدعو کے ذہن کو ایڈریس کرے۔ دعوت محض اعلان (announcement) کا نام نہیں ہے ، بلکہ وہ مدعو کے ساتھ کامل رعایت کا نام ہے۔ داعی کے لیے ضروری ہے کہ وہ یک طرفہ حسنِ تعلق کی روش اختیار کرے۔ تاکہ داعی اور مدعو کے درمیان اعتدال کی فضا باقی رہے۔
واپس اوپر جائیں

پیغامِ کشمیر

مسٹر حمید اللہ حمید، اور ان کے ساتھیوں کی کوشش سے جو کشمیر میں انٹرنیشنل پیس سینٹر بنا ہے، اس کے افتتاحی پروگرام کے تحت آپ لوگ یہاں اکٹھا ہوئے ہیں۔ میں آپ لوگوں کے لیے اور آپ کے مشن کے لیے دعا کرتا ہوں۔ اللہ آپ کو کامیابی عطا فرمائے۔
مسلمانوں کا مشن یہ ہے کہ وہ اللہ کے بندوں کو اللہ کا پیغام پہنچائیں۔ اس اعتبار سے کشمیر کی اہمیت اور زیادہ بڑھ جاتی ہے۔ کیوں کہ کشمیر کی حیثیت ایک ٹورسٹ اسٹیٹ کی ہے۔ یہاں مسلمانوں کے ساتھ بڑی تعداد میں دوسری قوموں کے لوگ موجود ہیں۔ ہر دن بڑی تعداد میں ٹورسٹ یہاں آتے ہیں۔ یہ سب لوگ آپ کے لیے ایک ذمہ داری ہیں۔ آپ کو یہ کرنا ہے کہ ان سب لوگوں کو اللہ کا پیغام کسی ملاوٹ کے بغیرپہنچائیں۔
آپ میں سے ہر شخص اپنے اندر انسان فرینڈلی بیہیویر (human-friendly behaviour) پیدا کرے۔ انسانوں کی خیر خواہی کے بغیر دعوت کا کام انجام نہیں دیاجا سکتا۔میں آپ کو دعوت کے لیے ایک ٹو پوائنٹ فارمولا (two-point formula) دیتا ہوں۔ آ پ کو یہ کرنا ہے کہ غیر مسلموں کے لیے اسلام کو ان کی ڈسکوری بنائیں، اور مسلمانوں کے لیے اسلام کو ان کی ری ڈسکوری بنائیں۔کیوں کہ غیر مسلم اگر اسلام سے بے خبر ہیں تو مسلمان اسلام کے معاملے میں غافل ہو گیے ہیں۔
کشمیر کو سیب کی سرزمین کہا جاتا ہے۔ سیب کی تاریخ یاد دلاتی ہے کہ کس طرح نیوٹن نے سیب کے گرنے کو لے کر نیچر کا ایک قانون دریافت کیا۔ سیب کا واقعہ اہل کشمیر کو یاد دلاتا ہے کہ وہ اس سے آگے بڑھ کر یہ کریں کہ وہ سیب کے خالق کو دریافت کریں، اور اس کے پیغام کو ساری دنیا میں پھیلادیں۔کشمیر کے لوگ امیر کبیر شاہ ہمدان کو اپنا بڑا مانتے ہیں۔ امیر کبیر نے کشمیر میں دعوت کے کام کا آغاز کیا تھا۔ اب کشمیریوں کو یہ کرنا ہے کہ وہ دعوت کے کام کو اس کے اتمام (culmination) تک پہنچائیں۔
واپس اوپر جائیں

حق کی پکار

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دعوت حق کی ذمہ داری سونپی گئی تو آپ نے مکہ کے باشندوں کو صفا پہاڑی کے پاس جمع کیا اور فرمایا کہ اے لوگو، جس طرح تم سوتے ہو اسی طرح تم مروگے۔ اور جس طرح تم جاگتےہو اسی طرح تم دوبارہ اٹھائے جاؤگے۔ اس کے بعد یا تو ابدی جنت ہے یا ابدی جہنم۔ یہ سن کر ابو لہب نے کہا، تمھارا برا ہو، کیا تم نے ہم کو اسی لئے بلایا تھا (تبا لک، ما جمعتنا إلا لہذا)۔ صحیح البخاری، حدیث نمبر 4971۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب مدینہ کے سردار بن کر مدینہ میں داخل ہوئے تو اس وقت بھی آپ نے اسی قسم کی تقریر فرمائی۔ اس وقت بھی آپ کے پاس کہنے کی جو سب سے بڑی بات تھی وہ یہ تھی کہ اے لوگو، اپنے آپ کو آگ کے عذاب سے بچاؤ، خواہ کھجور کے ایک ٹکڑے کے ذریعہ کیوں نہ ہو (اتقوا النار ولو بشق تمرة)۔ صحیح البخاری، حدیث نمبر 1417۔
اسلامی مرکز کا مقصد اسی پیغمبرانہ دعوت کو زندہ کرنا ہے۔ لوگ مسائل زندگی کے لئے اٹھتےہیں۔ ہم مسائل موت کے لئےاٹھے ہیں۔ کیا کوئی ہے جو اس مشن میں ہمارا ساتھ دے۔ لوگوں کو جنگ اور فساد کے شعلے دکھائی دیتےہیں۔ کیا کوئی ہے جس کو جہنم کے بھڑکتے ہوئے شعلے دکھائی دیتےہوں تاکہ وہ ہمارا ساتھ دے کر دنیا والوں کو جہنم کے شعلوں سے ڈرائے۔لوگوں کو شہروں کی رونقیں دکھائی دیتی ہیں۔ ہم ان انسانوں کی تلاش میں نکلے ہیں جن کو قبرستان کے ویرانے دکھائی دیں۔ ایسے انسانوں سے دنیا پٹی ہوئی ہے جن کو یہ محرومی بیتاب کئےہوئے ہے کہ ان کو کسی ادارہ میں داخلہ نہیں ملا۔ ہم کو وہ انسان درکار ہیں جن کو یہ غم بدحواس کردے کہ کہیں وہ جنت کے داخلہ سے محروم نہ ہوجائیں۔ لوگ دنیا کی بربادی کا ماتم کررہے ہیں۔ ہم ان انسانوں کو ڈھونڈ رہے ہیں جو آخرت کی بربادی کے اندیشے میں دیوانے ہوچکےہوں۔خداکی دنیا میں آج سب کچھ ہو رہا ہے ۔ مگر وہی ایک کام نہیں ہو رہا ہے جو خدا کو سب سے زیادہ مطلوب ہے۔ یعنی آنے والے ہولناک دن سے لوگوں کو آگاہ کرنا۔ اگر انسان اس پکار کے لئے نہ اٹھیں تو اسرافیل کا صور اسے پکارے گا۔ مگر آہ، وہ وقت جاگنے کا نہیں ہوگا۔ وہ ہلاکت کا اعلان ہوگا نہ کہ آگاہی کا الارم۔(الرسالہ، جنوری 1984)
واپس اوپر جائیں

موت کی یاد

موت کے بارے میں ایک حدیث رسول ان الفاظ میں آئی ہے: أکثروا ذکر ہادم اللذات، یعنی الموت (سنن ابن ماجہ، حدیث نمبر4258)یعنی موت کو یاد کرو جو لذتوں کو ڈھادینے والی ہے۔ موت ایک قسم کا شخصی زلزلہ ہے۔ جس طرح زلزلے کے مقابلے میں آدمی کو کوئی اختیار نہیں ہوتا، اسی طرح موت ایک ایسا یک طرفہ حملہ ہے جس کے مقابلے میں انسان کو مطلق کوئی اختیار نہیں ۔ موت خود اپنے فیصلے کے تحت آتی ہے ، آدمی کو لازماً اس کو اختیار کرنا پڑتا ہے، خواہ وہ اس کو چاہے یا نہ چاہے۔
سروے کے مطابق، آدمی کی اوسط عمر تقریباً ستر سال ہے۔ مزید یہ کہ کسی انسان کو یہ نہیں معلوم کہ کب اس کا آخری وقت آجائے گا۔ یہ احساس آدمی کے لیے ہر دنیوی لذت کو بے لذت بنا دیتا ہے۔ مال، سیاسی اقتدار، شہرت، وغیرہ ہرچیز اس کو بے معنی معلوم ہونے لگتی ہے۔ اس کی زندگی ایک ایسے انتظار کے ہم معنی بن جاتی ہے جس کے متعلق اس کو کچھ بھی نہیں معلوم کہ اس کا انتظار کس حد پر جا کر ختم ہوگا، وہ آج کہاں ہے اور کل وہ کس مقام پر ہوگا۔
یہ معاملہ معروف لذتوں تک محدود نہیں رہتا۔ بلکہ وہ ہر لذت تک پہنچ جاتا ہے۔ مثلا انسان کا یہ مزاج ہے کہ اگر اس کو کسی سے اختلاف پیدا ہوجائے تووہ اس کی کردار کشی (character assassination) کر کے خوش ہوتا ہے۔ اس کی تصویر (image)کو بگاڑنا اس کا محبوب مشغلہ بن جاتا ہے۔ برے انداز میں اس کا چرچا کرنا اس کو اچھا معلوم ہونے لگتا ہے، خواہ اس کی بات اپنی حقیقت کے اعتبار سے بے بنیاد کیوں نہ ہو۔ یہ سب اسی لیے ہوتا ہے کہ وہ موت سے غافل ہے۔ اگر اس کو موت کا زندہ یقین ہو تو وہ اس قسم کی منفی باتوں سے رک جائے گا۔ کیوں کہ وہ سوچے گا کہ موت آتے ہی اس کی منفی باتیں اتنا زیادہ بے وزن ہوجائیں گی کہ کوئی اس کو سننے والا بھی نہ ہوگا۔ حتی کہ اس کے اپنے الفاظ بھی اس کا اپنا ساتھ چھوڑ دیں گے۔
واپس اوپر جائیں

دنیا اور آخرت

انسان موجودہ دنیا میں پیدا ہوتاہے۔ یہاں وہ اپنے صبح وشام گزارتا ہے۔ مختلف تجربات کے دوران یہاں اس کی زندگی کا سفر جاری رہتا ہے۔ ان تجربات کے ذریعہ شعوری یا غیر شعوری طورپر انسان کا ذہن یہ بن جاتا ہے کہ یہی موجودہ دنیا حقیقی دنیا (real world) ہے۔ اس کے مقابلہ میں اس کو محسوس ہوتاہے کہ آخرت کی دنیا تصوراتی دنیا(imaginary world) ہے۔دونوں دنیاؤں کے درمیان بظاہر اس فرق کی بنا پر یہ ہوتا ہے کہ انسان کا تفکیری عمل (thinking process) موجودہ دنیا کی سطح پر جاری ہوجاتاہے۔ اس کی سوچ اور اس کی منصوبہ بندی میں عملاً آخرت کا کوئی مقام باقی نہیں رہتا۔
یہ انسان کے لئے سب سے بڑا مسئلہ ہے۔ وسیع تر انجام کے اعتبار سے صحیح یہ ہے کہ انسان کے اندر آخرت رخی سوچ (Akhirat-oriented thinking)بنے، نہ کہ دنیا رخی سوچ۔انسان کو اس معاملہ میں بے راہ روی سے بچانے کے لئے فطرت نے یہ انتظام کیا ہے کہ موجودہ دنیا کو مسائل کی دنیا (دار الکبد) بنا دیا۔ یہ مسائل انسان کے لئے اسپیڈ بریکر (speed breaker) کی حیثیت رکھتے ہیں۔ یہ مسائل اس لئے ہیں کہ انسان موجودہ دنیا کو حقیقی دنیا نہ سمجھے بلکہ آخرت کے اعتبار سےاپنی زندگی کی تعمیر کرے۔نفسیات کے ماہرین کا یہ کہنا ہے کہ انسان کی امتیازی صفت یہ ہے کہ اس کے اندر تصوراتی فکر (conceptual thinking) پائی جاتی ہے۔ یہی وہ صفت ہے جو انسان کو دوسری مخلوقات سے ممتاز بناتی ہے۔ یہ تخلیقی صفت بتاتی ہے کہ انسان سے کیا مطلوب ہے۔ وہ مطلوب یہ ہے کہ انسان اپنی زندگی کا مقصد تصوراتی فکر کے ذریعے بنائے۔
موجودہ دنیا ایک دکھائی دینے والی دنیا ہے۔ اس کے مقابلے میں آخرت ایک نہ دکھائی دینے والی دنیا۔ اس واقعہ کے مطابق، یہ عین درست بات ہے کہ انسان موجودہ دنیا کے مقابلے میں آخرت کی دنیا کو اپنا مقصود بنائے۔ انسان تصوراتی فکر کی صفت رکھتا ہے، اس لیے اس کی زندگی کا مقصد بھی تصوراتی اعتبار سے قابلِ دریافت ہونا چاہیے۔
واپس اوپر جائیں

ڈرو اس سے جو وقت ہےآنے والا

دنیا کی زندگی امتحان (test) کی زندگی ہے۔ یہاں کوئی بھی قانون یا کوئی بھی عدالت انسان کو مجبور نہیں کر سکتی کہ وہ ہمیشہ درست رویہ پر قائم رہے۔ انسان کو درست رویہ پر قائم کرنے والی چیز صرف ایک ہے۔ وہ یہ کہ آدمی کے دل میں یہ احساس بیٹھ جائے کہ وہ کسی بھی حال میں اللہ رب العالمین کی پکڑ سے بچنے والا نہیں ہے۔ اللہ رب العالمین کے مقابلے میں اس کے پا س چھپنے کی کوئی جگہ نہیں۔ اس کے پاس کوئی بھی ایسی تدبیر نہیں جو اس کے اور اللہ رب العالمین کے درمیان پردہ بن جائے۔ وہ اللہ رب العالمین کے مقابلےمیں مکمل طور پر بے بس ہے۔
یہ سوچ اگر حقیقی معنوں میں کسی انسان کے اندر پیدا ہوجائے تو اس کی پوری شخصیت کے اندر ایک انقلاب آجائے گا۔ اس کی روز و شب کی سرگرمیاں بدل جائیں گی، اس کی سوچ کا انداز بدل جائے گا، اس کا زاویۂ نظر بدل جائے گا، اس کے رائے قائم کرنے کا انداز بدل جائے گا، خیر و شر کے بارے میں اس کا تصور بدل جائے گا، اس کی پوری زندگی خدا رخی زندگی بن جائے گی، اس کی پوری سوچ پر آخرت کی جوابدہی کا تصور چھاجائے گا، وغیرہ۔
اس انقلاب کو قرآن و سنت میں تزکیہ کہا گیا ہے۔ اس مبنی بر تزکیہ سوچ کا نتیجہ یہ ہوگا کہ اس کے اندر ایک نئی شخصیت بننا شروع ہوجائے گی، ایک ایسی شخصیت جس کے اندر اللہ سے محبت ہو، اللہ سے خوف ہو۔ موت سے قبل کی دنیا کے بجائے موت کے بعد کی دنیا کی تعمیر اس کا سب سے بڑا کنسرن بن جائے گا۔ اس سوچ کا سب سے بڑا نتیجہ یہ ہوگا کہ اس کے اندر سے فکری جمود (intellectual stagnation) کا خاتمہ ہوجائے گا۔ اس کے بجائے اس کے اندر تخلیقی فکر (creative thinking) بیدار ہوجائے گی۔ اس کی ہر صبح نئی صبح ہوگی، اس کا ہر دن نیا دن ہوگا۔ پوری کائنات اس کے لیے فکری غذا بن جائے گی۔ اس کو ایسا محسوس ہوگا، جیسے کہ اس کو فرشتوں کی صحبت حاصل ہوگئی ہے۔
واپس اوپر جائیں

کلام کا فتنہ

تجربہ بتاتا ہے کہ کچھ لوگ بظاہر حکمت کی بات کہتے ہیں، لیکن اپنی حقیقت کے اعتبار سے ان کی بات ایک غیر حکیمانہ بات ہوتی ہے۔ایسے لوگ بے حد خطرناک ہوتے ہیں۔وہ خوبصورت الفاظ میں ایک ایسی بات کہتے ہیں جو بظاہر صحیح معلوم ہوتی ہے، لیکن اپنی حقیقت کے اعتبار سے وہ غلط ہوتی ہے۔جو لوگ تجزیہ کی صلاحیت نہیں رکھتے، وہ ایسےلوگوں کی باتوں کو سن کر غلط فہمی کا شکار ہوجاتے ہیں۔
مجھے ایک بار ایک سیمینار میں شرکت کرنے کا اتفاق ہوا۔ وہاں مختلف مذاہب کے لوگ بلائے گیے تھے۔ مجھے اسلام پر بولنا تھا۔ مجمع کی رعایت سے میں نے اسلام کی بعض تعلیمات کا ذکر کیا۔ ایک تعلیم یافتہ مسلمان وہاں موجود تھے۔ان کا نظریہ تھا کہ ’’اسلام ایک مکمل ضابطۂ حیات‘‘ ہے۔ پروگرام کے بعد انھوں نے میری تقریر پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا: آ پ نے اسلام کواس کی ٹوٹیلیٹی (totality) میں پیش نہیں کیا۔
میں نے کہا کہ اسلام ایک دعوتی مشن ہے۔ دعوتی کلام میں بات کو ٹوٹیلیٹی (totality) کے اسلوب میں پیش نہیں کیا جاتا، بلکہ ہمیشہ اس کو سامع (audience) کی نسبت سے پیش کیا جاتا ہے۔ داعی کا نشانہ یہ ہوتا ہے کہ وہ ایسے اسلوب میں کلام کرے جو سامع کے ذہن کو ایڈریس کرنے والا ہو۔قرآن میں اس اسلوب کو کلمہ ٔسوا(آل عمران: 64) کے الفاظ میں بیان کیا گیا ہے۔
گفتگو کا معیار یہ نہیں ہے کہ آدمی اپنی بات کو خوبصورت الفاظ میں بیان کردے۔ گفتگو کا معیار یہ ہے کہ آدمی جو بات کہے،وہ تجزیہ (rational analysis)کے معیار پر درست ثابت ہو۔ خوبصورت الفاظ اکثر دھوکے میں ڈالنے والے ہوتے ہیں۔ آدمی کو چاہیے کہ خوبصورت الفاظ میں کی گئی تقریر اور تحریر کو صرف سن کر یا پڑھ کر نہ مان لے، بلکہ وہ اس پر غور کرے۔وہ اس کو ہر پہلو سے جانچے۔اہل علم سے اس پر تبادلۂ خیال (discussion) کرے۔ اس کے بعد وہ اس کے بارے میں اپنی رائے بنائے۔
واپس اوپر جائیں

دینی مدارس

ایک صاحب جو خود دینی مدرسہ کے تعلیم یافتہ ہیں۔ انھوں نے کہا کہ موجودہ دینی مدارس میں علم نبوت تو ہے، مگر وہاں نور نبوت نہیں ۔ میں نے کہا کہ کوئی دینی مدرسہ آپ کو صرف علم دین دے سکتا ہے۔ وہ چیز جس کو آپ نورِ نبوت کہتے ہیں، وہ معرفت کی چیز ہے۔ اور معرفت ایک ایسا علم ہے جو خود اپنی دریافت کے ذریعہ حاصل ہوتا ہے۔ کوئی نصاب یا کوئی دینی ادارہ آپ کو معرفت نہیں دے سکتا۔
میں نے کہا کہ موجودہ دینی مدارس کی اصل کمی وہ نہیں ہے جو آپ سمجھتے ہیں۔ بلکہ اصل کمی یہ ہے کہ ان مدارس میں کھلا پن (openness) موجود نہیں ہے۔ اس بنا پر طلبہ کے اندر تخلیقی فکر (creative thinking) اور معرفت یا آپ کے الفاظ میں نورِ نبوت پیدا نہیں ہوتی۔ معرفت تخلیقی فکر کا نتیجہ ہے۔ بند ماحول میں کبھی وہ چیز نہیں پیدا ہوسکتی جس کو معرفت کہا جاتا ہے۔
مدرسے کے نصاب کے ذریعے ایک طالب علم متون (texts) کو پڑھتا ہے۔ مگر کھلاپن (openness) طالب علم کو اس قابل بناتا ہے کہ وہ نصاب کی کتابوں کے باہر جو علمی ذخیرہ ہے، اس سے بھی فائدہ اٹھائے۔ وہ اپنے اندر علمی گہرائی پیدا کرے۔ وہ وسعت نظر کا حامل بنے۔ وہ اپنے اندر یہ صلاحیت پیدا کرے کہ مدرسے کی حدود سے باہر جو وسیع تر دنیا ہے، اس سے واقفیت حاصل کرے۔ وہ کتابوں کے دائرے سے باہر انسانوں کے دائرے میں داخل ہوجائے۔
یہ ضروری ہے کہ طالب علم اپنے موضوع کے متون سے واقف ہو۔ لیکن اس کے علاوہ ایک اور بڑی ضرورت ہے، وہ یہ ہے کہ طالب علم اپنے زمانے کو جانے۔وہ زندگی کے وسیع تر دائرے سے باخبر ہو۔ یہ چیز صرف خارجی مطالعہ سے حاصل ہوسکتی ہے۔ خارجی مطالعہ سے مراد صرف کتابی مطالعہ نہیں ہے، بلکہ دیگر اہل علم سے تبادلۂ خیال کے ذریعے اپنے ذہنی افق کو وسیع کرنا بھی اس میں شامل ہے۔یعنی دینی موضوعات کے علاوہ سیکولر موضوعات سے بقدر ضرورت آشنا ہونا۔
واپس اوپر جائیں

اینگر انرجی کا استعمال

ایک صاحب نے کہا کہ میں بنیادی طور پر ایک امن پسند انسان ہوں۔ لیکن مجھ کو لوگوں کی غلط باتوں پر سخت غصہ آجاتا ہے۔ اس وقت میں مشتعل ہو کر ایسی باتیں کرنے لگتا ہوں جو میرے عام مزاج کے خلاف ہوتی ہیں۔ انھوں نے کہا کہ میں اپنی اس عادت پر کس طرح قابو پاؤں۔
میں نے کہا کہ جو آدمی آپ کو مشتعل کرتا ہے، یا آپ کو غصہ دلاتا ہے، وہ آپ کا محسن (benefactor) ہے۔ کیوں کہ جب کوئی شخص آپ کو غصہ دلاتا ہے اور آپ غصہ ہوجاتے ہیں۔ اس وقت آپ کا مائنڈ طاقت ور انرجی ریلیز کرتا ہے۔ اس کومیں اینگر انرجی (anger energy)کہتا ہوں۔غصہ کے علاوہ کسی اور سبب سے یہ انرجی ریلیز نہیں ہوتی۔ غصہ کے وقت آپ کے اندر ایک نئی طاقت جاگ اٹھتی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اینگر انرجی کے وقت آدمی جتنا اسٹرانگ ہوجا تا ہے، اتنا اسٹرانگ وہ کبھی کسی تجربے کے وقت نہیں ہوتا۔ اس اعتبار سے دیکھیے تو اینگر انرجی آپ کا بہت بڑا اثاثہ ہے۔ عام طور پر لوگ اینگر انرجی کو منفی معنوں میں استعمال کرتے ہیں۔ لیکن اگر اینگر انرجی کو تعمیر کے مقصد کے لیے استعمال کیا جائے تو اینگر انرجی کی طاقت سے آپ ایک ایسا کام کرسکتے ہیں، جو آپ اِس کے بغیر نہیں کرسکتے تھے۔
آدمی کے اندر جب اینگر انرجی بھڑکتی ہے تو وہ کچھ دیر کے لیے مین نہیں رہتا بلکہ سوپر مین بن جاتا ہے۔ اس کے اندر ایک نئی طاقت پیدا ہوجاتی ہے۔ اس کے اندر ایک نیا عزم (determination) جاگ اٹھتا ہے۔ وہ اس قابل ہوجاتا ہے کہ نئی طاقت کے ساتھ اپنا کام کرسکے۔ اینگر کا لمحہ آدمی کے اندر چھپی ہوئی بالقوہ (potential)طاقت کو بالفعل (actual) طاقت میں تبدیل کردیتا ہے۔ اس اعتبار سے دیکھیے تو غصہ زحمت میں رحمت (blessing in disguise) کا مصداق ہے۔ شرط صرف یہ ہے کہ آدمی غصہ کے وقت اپنے آپ کو بھڑکنے سے بچائے، وہ اپنے آپ کو اعتدال کی حالت پر قائم رکھے۔
واپس اوپر جائیں

سوال و جواب

سوال
جناب مولانا صاحب یہ میرا تیسرا خط ہے۔ میں نے پچھلے خطوط میں آپ سے عرض کیا تھا کہ میرے واسطے دعا فرمائیں کہ میری دعا خدائے تعالی کے دربار میں قبول ہو۔
میری دعا سو فیصد فطری اور ہر طرح سے واجب اور قابلِ قبول ہے۔ اس لئے آپ سے گزارش ہے کہ میرے واسطے آپ خدا کے دربار میں دعا گو ہوں۔ مجھے یقین ہے کہ آپ کی دعا سے میری سب مشکلات دور ہوں گی۔ میری یہ دعا اِسی دنیا میں قبول ہو اور آخرت کے لئے اس کو نہ رکھا جائے۔ میں دنیا میں ہی اس کا ثمرہ دیکھنا چاہتا ہوں۔
آپ خدا تعالی سے دعا فرمائیں کہ وہ میری مدد کرے اور جلد از جلد میرے سامنے نتیجے ظاہر ہوں۔ میں ہمیشہ آپ کا شکر گزار رہوں گا اور دعا قبول ہونے کی صورت میں دین کی ہر تعلیم پر عمل کرنے کی پوری کوشش کروں گا۔( عمر رفیق، سری نگر)
جواب
آپ کی یہ دعا آدابِ دعا کے مطابق نہیں۔ دعا حقیقتاً ایک شخصی عمل ہے۔ یہ تصوردرست نہیں کہ آدمی کسی اور سے اپنے لیے دعا کرنے کے لیے کہے۔ اسلام میں دعا کرنا ہے، اسلام میںدعا کروانا نہیں ہے۔
دوسری بات یہ ہے کہ دعا کو مشروط دعا نہیں ہونا چاہیے۔ صحیح طریقہ یہ ہے کہ آدمی اللہ سے یہ کہے کہ خدایا، میرے یہ مسائل ہیں، تو میرے لیے وہ فیصلہ فرماجس میں میری دنیا اور آخرت کے لیے خیر ہو۔
انتظار بھی حل ہے
مختلف زبانوں میں جو مثلیں مشہور ہیں وہ دراصل لمبے انسانی تجربات کے بعد بنی ہیں ۔ ان میں سے ہر مثل کامیابی کا ایک یقینی فارمولہ ہے اس طرح کی ایک انگریزی کہاوت یہ ہے-انتظار کرو اور دیکھو:
Wait and see
واپس اوپر جائیں

خبرنامہ اسلامی مرکز— 244

1۔ 4 مئی 2016 کو ہنری مارٹن انسٹی ٹیوٹ، حیدرآبادمیں اسلامک سمر کیمپ کا افتتاح کیا گیا۔ اس موقع پر حیدرآباد ٹیم کے مولانا فیاض الدین عمری اور مولانا عبدالسلام عمری کو افتتاحی جلسہ میں تلاوت قرآن اور تلاوت کی ہوئی آیتوں کے ترجمہ و تشریح کے لیےمدعو کیا گیا تھا۔ ان دونوں نے مذکورہ پروگرام میں شرکت کی اورسامعین کو قرآن کی تلاوت اور اس کا پیغام سنایا۔
2۔ 9مئی 2016 کو ناگپور و کامٹی الرسالہ مشن ٹیم کے ممبران محمد عرفان رشیدی صاحب اور ساجد احمد خان صاحب نے وروڑ، ضلع امراوتی کا دورہ کیا ۔ شہر کی جامع مسجد میں الرسالہ قارئین سے ملاقات ہوئی – اس پروگرام میں تقریباً 15 افراد جمع ہوئے جس میں مفتی زاہد خان صاحب سابق ہیڈ ماسٹر، سید میر رستم صاحب سابق پرنسپل اوروروڑ مسلم لائبریری کے ممبران کے علاوہ شہر کے دیگر ذمہ دار افراد نے بھی شرکت کی ۔ میٹنگ میں دعوت الی اللہ کی اہمیت اور اس کام کو کس طرح انجام دیا جائے اس موضوع پر بات ہوئی ۔ اس موقع پر مولانا وحید الدین خان صاحب کا ناگپور ٹیم کے نام ریکارڈیڈ پیغام بھی سنا یا گیا ۔ وروڑ کے ساتھیوں کو انگریزی، مراٹھی، ہندی قرآن اور دعوہ لٹریچر بھی دیے گئے ۔ لوگوں نے اسے خوشی سے قبول کیا اور دعوہ ورک کرنے کا عزم کیا ۔
3۔ الرسالہ مشن سے وابستہ ڈاکٹر سفینہ تبسم بہت دنوں سے اجمیر میں دعوتی کام کررہی ہیں۔ وہ درگاہ خواجہ معین الدین چشتی، مقامی ہسپتال، اور سی آر پی ایف کیمپ وغیرہ مقامات پر قرآن تقسیم کرتی ہیں۔ 11 مئی 2016 کو انھوں نے اپنے والد ڈاکٹر اسلم (سی پی ایس سہارنپور)کے ساتھ مل کر اجمیر کے مشہور ہسپتال، متل ہاسپٹل کے سرجن اور دیگر ڈاکٹروں کوہندی اور انگریزی ترجمہ قرآن اور دی ایج آف پیس پیش کیا۔ تمام لوگوں نے شکریہ کے ساتھ اس کو قبول کیا۔ اس موقع پر ڈاکٹر سمن، اور مسٹر مشاہد بھی موجود تھے۔
4۔ 14-16 مئی 2016 کے درمیان کشمیر کے بارہ مولا میں کک باکسنگ چمپین شپ کا انعقاد کیا گیا ۔ یہ پروگرام انڈین آرمی کے گڈویل پروگرام کے تحت منعقد کیا گیا تھا۔ اس موقع پر کشمیر کی دعوہ ٹیم نے پروگرام میں موجود لوگوں کے درمیان ترجمہ قرآن اور دعوہ لٹریچر تقسیم کیا ۔ جن لوگوں نے قرآن لیا ان میں کرنل این ایس بیولی (N S Bevli)، کمانڈنگ آفیسر اور سکریٹری آرمی گڈویل اسکول، تنگمارگ بھی شامل ہیں۔
5۔ ترکی سے ملی خبروں کے مطابق، ترکی کی سب سے بڑی مسجد سلیمانیہ میں گڈورڈ بکس کا چھپا ہوا ترجمہ قرآن بڑی تعداد میں تقسیم کیا جاتا ہے۔ اس مسجد میں ایک دن کے اندر تقریبا دس ہزار سیاح آتے ہیں، جن کے درمیان مسجد میں موجود دعوہ سینٹر دعوہ لٹریچر تقسیم کرتا ہے۔
6۔ خواجہ کلیم الدین صاحب امریکا کی خبر کے مطابق، صدر اسلامی مرکز کی کتاب، قیامت کا الارم کا پرتگیزی زبان میں ترجمہ ہوچکا ہے۔ اس وقت نظر ثانی کا کام چل رہا ہے۔
7۔ کشمیر ٹیم جگہ جگہ دعوتی کام کر رہی ہے۔ مثلا 4 مئی کو ایک ٹیم نے مشہور ٹورسٹ ریزورٹ گلمرگ میں سیاحوں کے درمیان ترجمہ قرآن اور دعوہ لٹریچر تقسیم کیا۔
8 ۔مسٹر حمید اللہ حمید کی سربراہی میں کشمیر ٹیم نے بیروہ میں ایک دعوہ سینٹر قائم کیا ہے۔ اس سینٹر کا افتتاحی جلسہ 5 جون 2016 کو کیا گیا، جس میں کشمیر کے دعاۃ شریک ہوئے۔ دہلی ٹیم کی طرف سے مسٹر رجت ملہوترا اور مز نغمہ صدیقی نے پروگرام میں حصہ لیا۔ اس جلسہ میں صدر اسلامی مرکز کا پیغام پڑھ کر سنایا گیا۔ یہ پیغام اس شمارہ میں شامل ہے۔ ذیل میں مبارک باد کا ایک اور پیغام درج کیا جارہا ہے:
Dear Friend Hamidullah Hamid, Heartiest congratulations and best wishes to you and your entire team on the occasion of the inauguration of International Centre for Peace at Apna Ghar, Beerwa on 5 June 2016. The Centre is dedicated for the development of peace and spirituality. (Pramil Kr Bharat, National Convener, Tyagarchana Shanti Mission(
9۔ فیس بک اور دیگر ویب سائٹس پر موجود صدر اسلامی مرکز کی تقاریر اور آرٹیکلس وغیرہ ، پڑھنے کے بعد قارئین اپنے تاثر کا اظہار کرتے رہتے ہیں۔ ذیل میں ان میں سے کچھ نقل کیے جاتے ہیں:
l •••• ••آپ کی باتیںبڑی حوصلہ افزا ، حقیقت پر مبنی اور پر امید ہیں۔ اس ناامیدی کے دور میں ایسی فضا قائم کرنا از حد ضروری ہے۔اللہ خوب جزا دے۔(حمزہ نعمانی، سعودی عرب)
l •جنوری 2016 کا الرسالہ بہت عمدہ ہے، اور داعی کی تربیت کے لیے ایک انمول خزانہ ہے۔ میرے خیال میں اسلامی مشن کے ہر ایک داعی کو اپنے اندر وہ تمام اوصاف ڈیولپ کرنےہوں گے جن کا آپ نے تذکرہ کیا ہے۔بہت بہت شکریہ۔ اللہ تعالی آپ کو دنیا و آخرت میں عظیم بھلائی عطا فرمائے۔ (طاہر سعید، پنجاب، پاکستان)
l اللہ اکبر، اتنی خوبصورتی، ایک چیز کو سمجھانے میں آج تک نہیں دیکھی۔ (عمران خان، اسلام آباد)
l میں الرسالہ کو پچیس سال سےپڑھتا ہوں۔بہت اچھا اور ایک نئی سوچ و فکر کا یہ ماہنامہ ہے۔ ملت اسلامیہ کو صبر و تحمل سے کام لینے کی دعوت دیتا ہے۔ اس میگزین کو اپنے مطالعہ میں ضرور رکھنا چاہیے۔ (مولانا اظہار حسن ندوی، مقیم حال قطر)۔
l I am a great admirer of Maulana Wahiduddin (b. 1925). Although he had a Muslim religious education, he was always secular, and preached brotherhood between all communities. He is truly a great man. I have met him on a few occasions. In 1992, when the atmosphere was highly charged throughout India due to the Babri Mosque incident, he felt the necessity to convince people of the need to restore peace and amity between the two communities, so that the country might once again tread the path of peace. To fulfill this end, he went on a 15-day Shanti Yatra (peace march) through Maharashtra along with Acharya Muni Sushil Kumar and Swami Chidanand, addressing large groups of people at 35 different places on the way from Mumbai to Nagpur. This Shanti Yatra contributed greatly to the return of peace in the country. It is because of his advocacy of peace on the subcontinent and throughout the world and his espousal of the cause of communal harmony that he is respected by all communities and in every circle of society. Invited to meetings by all religious groups and communities within India and abroad, Maulana Wahiduddin Khan is, in effect, India’s ambassador of communal amity, spreading the universal message of peace, love and harmony. Directly addressing individuals, he has been re-engineering minds in order to develop positive citizens of the world – who can live together peacefully – so that the culture of peace and brotherhood may spread at a universal level. Over decades, he has prepared
واپس اوپر جائیں

Saturday, 2 July 2016

Al Risala | July 2016 (الرسالہ،جولائی)

4

-روزہ اور قرآن

5

- شبِ قدر کس کے لیے

6

- افضل انسان

7

- امانت کیا ہے

8

- مغفرتِ خداوندی

9

- مشیر کی اہمیت

10

- مقصد شریعت

11

- قرآن ایمپائر

12

- نصرت کا قانون

13

- بیماری کا مثبت پہلو

15

- شیطان سے بچیے

16

- اذیت پر صبر

17

- جامع نصیحت

18

- زوال کی علامت

19

- فتووں کی شریعت

20

- داعی کا اخلاق

21

- غلطی کے بعد

22

- اصل مسئلہ

23

- نفس کا شر کیا ہے

24

- والرُجز فاہجر

25

- مثبت روش کا نتیجہ

26

- مشتعل نہ ہونے کا کرشمہ

28

- مواقع کا استعمال

29

- بڑوں کی صحبت

31

- آخری گیت

32

- منافق کا کردار

33

- خوشی کا حصول

34

- پختگی کیا ہے

35

- میرٹ کلچر، تعلقات کلچر، تزکیہ کلچر

36

- امن کا مسئلہ

37

- جنگ کوئی انتخاب نہیں

38

- سماجی تعلقات

39

- شادی کا مسئلہ

40

- غیر ادیب کی ادبی تخلیق

41

- ریزرویشن کے بغیر

42

- معکوس پبلسٹی

43

- سوال وجواب

45

- خبرنامہ اسلامی مرکز


روزہ اور قرآن

قرآن خدا کی کتاب ہے۔ اس کو رمضان کے مہینے میں اُتارا گیا۔ حقیقت یہ ہے کہ رمضان کا مہینہ قرآن کا مہینہ ہے۔ چنانچہ امت میں قدیم زمانے سے یہ رواج ہے کہ رمضان کے مہینے میں قرآن کو بہت زیادہ پڑھا جاتا ہے۔ قرآن کایہ مطالعہ اگر سمجھ کر کیا جائے تو اس سے غیر معمولی دینی فائدہ حاصل ہوگا۔رمضان میں قرآن کی زیادہ سے زیادہ تلاوت کی جاتی ہے۔ رمضان میں رات کے وقت تراویح کی نماز پڑھی جاتی ہے۔ یہ گویاحالت قیام میں قرآن کا اجتماعی مطالعہ ہے۔نیز اعتکاف اس لیے ہے کہ رمضان کے مہینے میں آدمی کچھ دن ایسے گزارے ، جب کہ وہ زیادہ سے زیادہ قرآن کے مطالعے میں مشغول رہے۔
ایک شخص روزہ رکھ کر قرآن کی تلاوت کرتا ہے۔ اس دوران وہ اس آیت تک پہنچتاہے: شَہْرُ رَمَضَانَ الَّذِی أُنزِلَ فِیہِ الْقُرْآنُ ( 2:187)۔ اس آیت سے وہ دریافت کرتا ہے کہ رمضان شہر القرآن (قرآن کا مہینہ) ہے۔ پھر وہ قرآن کی تلاوت کے دوران یہ آیت پڑھتا ہے: کِتَابٌ أَنزَلْنَاہُ إِلَیْکَ مُبَارَکٌ لِّیَدَّبَّرُوا آیَاتِہِ وَلِیَتَذَکَّرَ أُولُو الْأَلْبَابِ( 38:29)۔ اس آیت سے وہ یہ معلوم کرتاہے کہ قرآن اس لئے آیا ہے کہ لوگ اس پر تدبر (غوروفکر) کریں۔ اس دریافت کے بعد وہ یہ طے کرتا ہے کہ رمضان کے مہینہ میں وہ قرآن کا مطالعہ کرے گا اور رمضان کے مہینہ میں کم ازکم ایک بار ضرور وہ قرآن کو سمجھ کر پڑھے گا۔
روزہ قرآن کے مطالعے کی تحریک ہے۔روزہ آدمی کو قرآن سے وابستہ کرتا ہے۔ روزہ آدمی کو اس مقصد کے لیے یکسو کرتا ہے کہ وہ زیادہ سے زیادہ قرآ ن کو سمجھنے کی کوشش کرے۔ روزہ دارگویا اپنے آپ کو قرآن کے مطالعے کے لیے فارغ کرتا ہے۔ روزہ کے مہینے میں آدمی کے اندر جو نفسیات بنتی ہے، وہ قرآن فہمی کے لیے خصوصی طور پر مفید ہے۔اس اعتبار سے یہ کہنا صحیح ہوگا کہ روزہ کا مہینہ آدمی کو قرآن سے قریب کرنے کا مہینہ ہے۔ ر`وزے کامقصد یہ ہے کہ آدمی تقوی کی اسپرٹ کے ساتھ قرآن کا مطالعہ کرے۔
واپس اوپر جائیں

شب قدر کس کے لیے

شب قدر (لیلۃ القدر) رمضان کے مہینے کی آخری عشرے میں کسی طاق رات کو آتی ہے۔ شب قدر کو پانے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ وہ رمضان کی جس رات کو آئے ، وہ اپنے آپ روزے دار کو حاصل جائے۔بلکہ اس کے لیے تیاری ضروری ہے۔ شب قدرکی برکت صرف اس انسان کو ملے گی جو تیار شخصیت کے ساتھ اس میں داخل ہو۔
شب قدر کا ذکر قرآن کی سورہ نمبر 97میں آیا ہے۔ اس سورہ کا ایک جزء یہ ہے تَنَزَّلُ الْمَلَائِکَةُ وَالرُّوحُ فِیہَا بِإِذْنِ رَبِّہِمْ مِنْ کُلِّ أَمْر، سَلَامٌ (القدر5-6 )۔ فرشتے اور روح اس رات میں اپنے رب کی اجازت سے اُترتے ہیں ،ہر حکم لے کر۔وہ رات سراسر امن ہے۔
On that night, the angels and the Spirit come down by the permission of their Lord with His decrees for all matters, ; it is all peace.
قرآن کی اس آیت کے مطابق ، شب قدر امن کی رات (night of peace) ہے۔ شب قدر کے بارے میں قرآن کے الفاظ بتاتے ہیں کہ وہ تیار شخصیت (prepared personality) کون ہے جس کو فطرت کے قانون کے مطابق اس رات کی برکتوں میں حصہ ملے گا۔
یہ شخصیت پر امن شخصیت (peaceful personality) ہے۔ یعنی وہ شخصیت جس کو حقیقت کی دریافت اس طرح ہوئی ہو کہ وہ پورے معنوں میں مثبت سوچ (positive thinking) والاانسان بن گیا ہو۔ اس کی معرفت نے اس کے اندر خلق عظیم (القلم4 )کی صفت پیدا کردی ہو۔ اس کے نتیجے میں اس کا حال یہ ہوجائے کہ اس کے دل میں دوسروں کے لیے محبت اور خیر خواہی کے سوا کچھ نہ ہو۔ وہ تشدد پسند انسان کے بجائے امن پسند انسان بن گیا ہو۔ وہ ردعمل (reaction) کی نفسیات سے مکمل طور پر خالی ہو۔ یہی وہ انسان ہے جس کو شب قدر کی برکتیں حاصل ہوں گی۔
واپس اوپر جائیں

افضل انسان

ایک حدیث ان الفاظ میں آئی ہے: قیل لرسول اللہ صلى اللہ علیہ وسلم أی الناس أفضل؟ قال کل مخموم القلب، صدوق اللسان ، قالوا صدوق اللسان، نعرفہ، فما مخموم القلب؟ قال ہو التقی النقی، لا إثم فیہ، ولا بغی، ولا غل، ولا حسد(سنن ابن ماجہ، حدیث نمبر 4216)۔ یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا کہ لوگوں میں افضل انسان کون ہے، آپ نے جواب دیا: وہ انسان جو مخموم القلب ہو، اور صدوق اللسان ہو۔ لوگوں نے کہا کہ صدوق اللسان (سچ بولنے والا) ہم جانتے ہیں، پس مخموم القلب کیا ہے۔ آپ نے جواب دیا: یہ وہ انسان ہے جس کے اندر تقوی ہو، جوپاکباز ہو، جس کے اندر گناہ گاری نہ ہو، جس کے اندر سرکشی نہ ہو، جس کے اندر کینہ نہ ہو، جس کے اندر حسد نہ ہو۔ مخموم القلب کون ہے، اس کو اگر بدلے ہوئے الفاظ میں بتایا جائے تو وہ مثبت انسان (positive person) ہوگا۔ یعنی مخموم القلب انسان وہ ہے جو منفی سوچ (negative thinking)سے خالی ہو، جو مخالف حالات کے درمیان مثبت سوچ کے ساتھ جینے والا انسان ہو۔ جس کے دل میں ہر ایک کے لیے صرف مثبت جذبات پائے جاتے ہوں۔
ایسا انسان اپنے سماج کا بے مسئلہ انسان ہوگا۔ یہی وہ انسان ہے جو دعوت الی اللہ کے کام کے لیے اہل انسان ہے۔ اس کے دل میں ہر ایک کے لیے خیر خواہی ہوگی۔ اور خیر خواہی (well-wishing) کی صفت کے بغیر کوئی شخص دعوت الی اللہ کا کام انجام نہیں دے سکتا ۔ داعی صرف وہ انسان بن سکتا ہے جو انسان دوست (human-friendly) انسان ہو۔ اس کا سبب یہ ہے کہ مدعو کی طرف سے ہمیشہ کوئی نہ کوئی ایسی ناخوشگوار بات پیش آتی ہے جو داعی کو منفی انسان بنادے۔ اس لیے داعی کے لیے ضروری ہے کہ وہ یک طرفہ اخلاقیات کا حامل ہو، وہ رد عمل کی نفسیات سے پوری طرح پاک ہو۔ اس کے دل میں ہر ایک کے لیے ہمدردی کے جذبات پائے جاتے ہوں۔ جو انسان اس قسم کی مثبت شخصیت کا حامل نہ ہو، وہ کبھی دعوت الی اللہ کا کام مطلوب انداز میں انجام نہیں دے سکتا۔
واپس اوپر جائیں

امانت کیا ہے

خدا کے نقشۂ تخلیق کےمطابق ، انسان امانت الٰہی کا امین ہے۔ اس سلسلے میں قرآن کا بیان یہ ہے ہم نے امانت کو آسمانوں اور زمین اور پہاڑوں کے سامنے پیش کیا تو انھوں نے اس کو اٹھانے سے انکار کیا اور وہ اس سے ڈر گئے، اور انسان نے اس کو اٹھا لیا۔ بے شک وہ ظالم اور جاہل تھا۔ تاکہ اللہ منافق مردوں اور منافق عورتوں کو اور مشرک مردوں اور مشرک عورتوں کو سزادے۔ اور مومن مردوں اور مومن عورتوں کی توبہ قبول کرے۔ اور اللہ بخشنے والا، مہربان ہے(33:72-73)۔
امانت کا لفظی مطلب ٹرسٹ (trust) ہے۔ انسان کو جو امتیازی صفات دی گئی ہیں، وہ اس کے پاس بطور امانت ہیں۔حدیث میں آیا ہے خلق اللہ آدم على صورتہ (صحیح البخاری، حدیث نمبر6227)۔ یعنی اللہ نے انسان کو اپنی صورت پر پیدا کیا ہے۔ جو صفتیں (attributes) خالق کے اندر کمال کے درجے میں پائی جاتی ہیں ، وہ انسان کو شمّہ (iota) کے بقدر عطا کی گئی ہیں۔
ان صفات کے ساتھ انسان کوکامل اختیار دیا گیا ہے۔ آدمی کا امتحان یہ ہے کہ وہ اپنی اس آزادی کا غلط استعمال نہ کرے۔ بلکہ اس کو جائز حدود کے اندر استعمال کرے۔ جائز حدود کے اندر آزادی کو استعمال کرنے والے کے لیے ابدی زندگی میں جنت کا انعام ہے۔ اور جو شخص اپنی آزادی کا غلط استعمال کرے، اس کے لیے جہنم کی سزا ہے۔
اس سلسلہ ٔبیان کا آخری حصہ یہ ہے: وَیَتُوبَ اللَّہُ عَلَى الْمُؤْمِنِینَ وَالْمُؤْمِنَاتِ۔ اِس سے معلوم ہوا کہ مطلوب عمل سے مراد معیاری عمل نہیں ہے۔ انسان اپنی بشری کمزوری کی بنا پر ضرور غلطیاں کرے گا۔ اس لیے نجاتِ آخرت کا معیار غلطی سے پاک ہونا نہیں ہے، بلکہ یہ ہے کہ غلطی کرنے کے بعدانسان کے اندر ندامت (repentance) کا شدید جذبہ پیدا ہو۔ وہ دوبارہ اللہ کی طرف رجوع کرے۔ وہ اپنی غلطی کا سچا اعتراف کرکے اللہ سے معافی کا طالب ہو۔یہی وہ انسان ہے جس کو ابدی جنت میں داخلہ ملے گا۔
واپس اوپر جائیں

مغفرتِ خداوندی

سورہ الزمر کی ایک آیت ہے، جس کے بارے میں صحابی عبد اللہ ابن عمر نے کہا : ہذہ أرجى آیة فی القرآن (تفسیر القرطبی )۔ یعنی یہ قرآن کی سب سے زیادہ پر امید آیت ہے۔ قرآن کی وہ آیت یہ ہے: قُلْ یَاعِبَادِیَ الَّذِینَ أَسْرَفُوا عَلَى أَنْفُسِہِمْ لَا تَقْنَطُوا مِنْ رَحْمَةِ اللَّہِ إِنَّ اللَّہَ یَغْفِرُ الذُّنُوبَ جَمِیعًا إِنَّہُ ہُوَ الْغَفُورُ الرَّحِیمُ (39:53)۔ یعنی کہو کہ اے میرے بندو، جنھوں نے اپنی جانوں پر زیادتی کی ہے، اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہو۔ بے شک اللہ تمام گنا ہوں کو معاف کردیتا ہے، وہ بڑا بخشنے والا، مہربان ہے۔
اپنے آپ پر زیادتی ( to commit excesses against one’s own soul) ایک عام لفظ ہے۔ اس میں ہر قسم کی غلطیاں شامل ہیں۔ حدیث میں آیا ہے : کل بنی آدم خطاء (سنن ابن ماجہ، حدیث نمبر 4251)۔ مگر اسی کے ساتھ انسان کے اندر ضمیر (conscience) ہے۔ انسان اپنی خواہش کے تحت غلطی کرتا ہے، لیکن اس کے بعد اس کا ضمیر جاگ اٹھتا ہے۔ اور اس کو شدت کے ساتھ ملامت کرتا ہے کہ اب تمھارا انجام کیا ہوگا۔
یہ احساسِ خطا اکثر آدمی کو مایوسی کی طرف لے جاتی ہے۔ مگر یہ آیت بتاتی ہے کہ آدمی کو چاہیے کہ وہ غلطی کے ارتکاب کے بعد مایوسی کے بجائےاللہ کے سامنے مغفرت کا طالب بنے۔وہ زیادہ سے زیادہ دعا کرے، اور اللہ کی طرف زیادہ سے زیادہ رجوع کرے۔
طلبِ مغفرت کوئی سادہ بات نہیں، یہ ایک نفسیاتی طوفان کا معاملہ ہے۔ طلبِ مغفرت آدمی کی روحانیت کو جگاتی ہے۔ طلبِ مغفرت سے آدمی کی معرفت میں اضافہ ہوتا ہے۔ اس کے نتیجے میں یہ ہوتا ہے کہ آدمی کے اندر شخصیت کے ارتقاء (personality development) کا عمل تیز ہوجاتا ہے۔ یہ عمل (process) اگر بھر پور طور پر جاری رہے تو اس کا نتیجہ قرآن کے الفاظ میں یہ ہوتا ہے کہ آدمی کے سیئات حسنات میں بدل جاتے ہیں(الفرقان70)۔
واپس اوپر جائیں

مشیر کی اہمیت

ایک حدیث رسول ان الفاظ میں آئی ہے:إذا أراد اللہ بالأمیر خیرا جعل لہ وزیر صدق، إن نسی ذکرہ، وإن ذکر أعانہ، وإذا أراد اللہ بہ غیر ذلک جعل لہ وزیر سوء، إن نسی لم یذکرہ، وإن ذکر لم یعنہ (سنن ابی داؤد، حدیث نمبر2932)یعنی اللہ جب کسی حاکم کے ساتھ خیر چاہتا ہے تو اس کو ایک سچا وزیر دے دیتا ہے، اگر حاکم بھولے تو وہ اس کو یاد دلائے، اور جب وہ یاد دلائے تو وہ اس کی مدد کرے۔ اور جب اللہ کسی حاکم کے ساتھ اس سے مختلف معاملہ کرتا ہے تو وہ اس کو ایک برا وزیر دے دیتا ہے، اگر حاکم بھولے تو وہ اس کو یاد نہ دلائے، اور اگر وہ یاد دلائے تو وہ اس کی مدد نہ کرے۔
اس حدیث میں حاکم اور وزیر کی مثال کے ذریعے مشیر کی اہمیت کو بتایاگیا ہے۔ ہر انسان کے ساتھ رسمی یا غیر رسمی طور پر کچھ دوست اور مشیر ہوتے ہیں۔ یہ مشیر اگر سچے ہیں تو وہ ہمیشہ خیر خواہی والا مشورہ دیں گے، اور اگر مشیر سچے نہیں ہیں تو وہ ایسے مشورہ دیں گے جن سے آدمی کا کوئی بھلا ہونے والا نہیں۔ لیکن یہ معاملہ یک طرفہ نہیں ہے، بلکہ دو طرفہ ہے۔ دوست یا مشیر کا سچا ہونا یا سچا نہ ہونا ، اس کا تعلق پچاس فیصد خود آدمی سے ہے۔ آدمی اگر خوشامد پسند ہو تو اس کے ارد گرد جھوٹے دوست اور جھوٹے مشیر جمع ہوجائیں گے۔ اس کے برعکس، اگر آدمی حقیقت پسند ہو تو اس کے دوست اور مشیر بھی سنجیدہ اور حقیقت پسند ہوں گے۔
آدمی کی یہ ضرورت ہے کہ اس کے پاس سچے دوست اور سچے مشیر ہوں۔ ایسے لوگ آدمی کی طاقت ہیں۔ وہ اس کو خیر کا مشورہ دیں گے، شر سے بچائیں گے۔لیکن یہ آدمی کے اپنے اوپر منحصر ہے کہ وہ کس قسم کے لوگوں کو اپنے گرد اکٹھا کرتا ہے۔ آدمی کو چاہیے کہ اس معاملے میں وہ نہایت باشعور ہو تاکہ اس کے اردگرد صرف خیر پسند افراد اکٹھا ہوں۔اس معاملے میں ایک اہم بات یہ ہے کہ آدمی کے اندر تنقید کو سننے کا مزاج ہو، وہ انسان کی قدر کرنا جانتا ہو۔ وہ خوشامد سے خوش ہونے والا، اور تنقید کو برا ماننے والا نہ ہو۔ جس آدمی کے اندر یہ صفت ہو، اس کے گرد یقینا اچھے لوگ جمع ہوں گے۔
واپس اوپر جائیں

مقصد شریعت

اسلام کا مقتضی صرف دو ہے۔ داخلی طور پر یہ کہ ہر مسلم تقویٰ کی زندگی اختیار کرے۔ خارجی طور پراہل اسلام کا مشن، دعوت الی اللہ ہے۔ یعنی اللہ کے پیغامِ رحمت کو پر امن انداز میں تمام انسانوں تک پہنچانا۔ اس معاملے میں سیاسی اقتدار کا اصل رول سماج میں موافق حالات قائم کرنا ہے۔ اور امت کے افراد اور امت کے اداروں کا رول یہ ہے کہ وہ پر امن منصوبہ بندی کے ذریعے ساری دنیا میں دعوت و اشاعت کا وہ کام انجام دیں جو پیغمبروں نے اپنے زمانے میں انجام دیا تھا۔
دین کے اس تصور کی روشنی میں جو نقشہ بنتا ہے ۔ وہ یہ ہے کہ ہر مومن اپنے آپ کو دین حق سے باخبر کرے۔ اس بات کو حدیث میں ان الفاظ میں بیا ن کیاگیا ہے: طلب العلم فریضة على کل مسلم (سنن ابن ماجہ، حدیث نمبر 224) ۔یعنی ہر مومن کا یہ فرض ہے کہ وہ اپنے آپ کو دینی اعتبار سے ایک تیار ذہن (prepared mind)بنائے۔ جہاں تک سیاسی اقتدار کا تعلق ہے، اس کا کام شریعت کی تنفیذ (enforcement of Shariah) نہیں ہے۔ بلکہ یہ ہے کہ جو اہل ایمان شریعتِ اسلامی کے پیرو (follower) بننا چاہتے ہیں، ان کے لیے موافق حالات فراہم کرنا۔ تاکہ وہ کسی غیر ضروری رکاوٹ کے بغیر دین کے تقاضوں کو پورا کرسکیں۔
قرآن وحدیث سےیہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ اگر حکومت کی تخت پر غیر مسلم حکمراں ہو ۔اور وہ مذکورہ معنوں میں اہل اسلام کے لیے موید (supporter) بن سکتا ہو تو غیر مسلم حکمراں بھی اہل ایمان کے لیے قابلِ قبول ہوگا۔ اسی اصول کے تحت یوسف علیہ السلام نے اپنے زمانے کے غیرمسلم حکمراں کو قبول کیا تھا۔ اور اسی اصول کے مطابق مکی دور میں کچھ صحابہ نے حبش کے غیر مسلم حکمراں کو قبول کیا تھا۔ جب کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مشورہ پرمکہ سے ہجرت کرکے حبش گیےاور وہاںدس سال سے زیادہ عرصے تک مقیم رہے۔موجودہ زمانے کی سیکولر حکومت بھی عین اسی تصور کے مطابق ہے۔اس لیے موجودہ زمانے کی سیکولر حکومت بھی مسلمانوں کے لیےقابلِ قبول ہونا چاہیے۔
واپس اوپر جائیں

قرآن ایمپائر

قدیم زمانہ مواقع (opportunities) کی موناپلی (monopoly) کا زمانہ تھا۔ اس لیے قدیم زمانے میں صرف ایک ہی قسم کا ایمپائر بن سکتا تھا۔ اور وہ پولیٹکل ایمپائر تھا۔ قدیم زمانے میں جتنے ایمپائر بنے وہ سب کے سب سیاسی ایمپائر تھے۔ موجودہ زمانہ خاتمۂ اجارہ داری (de-monopolization) کا زمانہ ہے۔ اس سےسارے مواقع ہر ایک کے لیے کھل گیے۔ اس بنا پر یہ ممکن ہو گیا کہ کوئی بھی شخص یا گروپ خالص پرامن طریقۂ کار کے ذریعے اپنا ایمپائر کھڑا کر سکے۔
اس نئے امکان کو ابھی تک زیادہ تر سیکولر لوگوں نے استعمال کیا ہے۔ نئے مواقع سے فائدہ اٹھاکر انھوں نے اپنے اپنے ایمپائر بنا لیے ہیں۔ مثلا ایجوکیشنل ایمپائر، انڈسٹریل ایمپائر، انسٹی ٹیوشنل ایمپائر (institutional empire)، وغیرہ۔
مگر مذہب کےمعاملے میں اس امکان کو استعمال کرنے کا میدان ابھی تک خالی ہے۔ یہ کہنا صحیح ہوگا کہ مذہب کے میدان میں اس امکان کو استعمال کرنے کا سب سے بڑا میدان یہ ہے کہ قرآن ایمپائر بنایا جائے۔ امکان (potential) کے اعتبار سے قرآن ایمپائر آج بھی موجود ہے۔ ضرورت صرف یہ ہے کہ اس امکان کو عمل کی صورت میں کھڑا کیا جائے۔
پولیٹکل ایمپائر کے لیے ضرورت ہوتی تھی کہ بہت سے ملکوں میں ایک بادشاہ کی حکومت قائم ہو۔ مگر موجودہ زمانے میں قرآن ایمپائر بنانے کے لیے کسی بڑے زمینی رقبے کی ضرورت نہیں، آج چھوٹے زمینی رقبہ میں بھی قرآن ایمپائر بنایا جاسکتا ہے۔
موجودہ زمانے میں کمیونی کیشن (communication) اور دوسرے عالمی وسائل نے ٹکنالوجی کو ہر دوسری چیز کا بدل بنادیا ہے۔ ا ٓج یہ ممکن ہوگیا ہے کہ ایک چھوٹے مرکز کو جدید وسائل کے استعمال سے عالمی سطح کا قرآن ایمپائر بنادیا جائے۔ قرآن کا مختلف زبان میں ترجمہ خود اتنا بڑا کام ہے کہ اس کی بنیاد پر ایک اعلی درجے کا قرآن ایمپائر کھڑا کیا جاسکے۔
واپس اوپر جائیں

نصرت کا قانون

سورہ یوسف قرآن کی 12 ویں سورہ ہے۔ پوری سورہ میں حضرت یوسف کا قصہ بیان ہوا ہے۔ سورہ کے خاتمہ پر قرآن میں دو آیتیں آئی ہیں۔ ان کا ترجمہ یہ ہے: یہاں تک کہ جب پیغمبر مایوس ہوگئے اور وہ خیال کرنے لگے کہ ان سے جھوٹ کہا گیا تھا تو ان کو ہماری مدد آ پہنچی۔ پس نجات ملی جس کو ہم نے چاہا اور مجرم لوگوں سے ہمارا عذاب ٹالا نہیں جاسکتا۔ ان کے قصوں میں سمجھ دار لوگوں کے لئے بڑی عبرت ہے۔ یہ کوئی گھڑی ہوئی بات نہیں، بلکہ تصدیق ہے اس چیز کی جو اس سے پہلے موجود ہے اور تفصیل ہے ہر چیز کی۔ اور ہدایت اور رحمت ہے ایمان والوں کے لئے۔
حضرت یوسف اللہ کے ایک پیغمبر تھے لیکن ان کے ساتھ بہت انوکھے واقعات پیش آئے۔ وہ ایک گاؤں میں پیدا ہوئے۔ ان کے خاندان کی معاش تھی بکریاں پالنا، ان کو چرانا اور ان کے دودھ پر گزارا کرنا۔ پھر ان کے ساتھ یہ معاملہ پیش آیا کہ خود ان کے بھائیوں نےان کو ایک اندھے کنویں میں ڈال دیا۔ وہ کنویں میں کچھ دن بے یارومددگار پڑے رہے۔ پھر ایک قافلہ نے ان کو کنویں سے نکالا اور مصرلے جاکر وہاں کے بازار میںان کو بیچ دیا۔ اس کے بعد وہ غلام بن کر ایک گھر میں رہے۔ وہاں ان پر ایک الزام لگایا گیا۔ پھر وہ جیل میں ڈال دئے گئے جس میں وہ کئی سال تک رہے۔ ان تمام سخت مراحل کے بعد وہ وقت آیا جب کہ ان پر اللہ کی نصرت آئی۔
حضرت یوسف کو کبھی جنگ وقتال کا مرحلہ پیش نہیں آیا۔ ان پر جو سختیاں گزریں وہ سب غیر جنگی حالات میں گزریں ۔ اس سے معلوم ہوا کہ سورہ کے آخر میں نصرت سے پہلے جن سخت حالات کا ذکر ہے ان کا تعلق جنگ وقتال سے نہیں ہے بلکہ عام حالات میں پیش آنے والے واقعات سے ہے۔ یہ واقعات ہر سچے انسان کی زندگی میں مختلف صورتوں میں پیش آتے ہیں۔
ایسا کیوں ہے۔یہ دراصل اس لئےہے کہ انسان اللہ کی نصرت کا آخذ (recipient) بنے۔مذکورہ آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ اگر آدمی کا کیس سچائی کا کیس ہے تو اس کو ضرور اللہ کی مدد آتی ہے۔ خواہ وہ مایوسی کی سطح پر پہنچنے کے بعد آئے۔
واپس اوپر جائیں

بیماری کا مثبت پہلو

بیماری بظاہر ایک غیر مطلوب چیز ہے۔ لیکن گہرائی کے ساتھ غور کیاجائے تو بیماری میں بھی ایک عظیم مثبت پہلو موجود ہے۔ روایات میں آیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب کسی مریض کی عیادت کرنے کے لیے اس کے گھر جاتے تو آپ بیمار سے کہتے: لا بأسَ، طَہور إن شاء اللہ۔ (صحیح البخاری، حدیث نمبر 5656)۔ یعنی کوئی حرج نہیں، یہ پاکیزگی کا ذریعہ ہے۔
محدث ابن حجر نے اس حدیث کی بابت لکھا ہے :إن شاءاللہ یدل على أن قولہ طہور، دعاء لا خبر۔ یعنی یہاںان شاء اللہ کا لفظ اس بات کی دلیل ہے کہ رسول اللہ کا یہ قول خبر نہیں ہے بلکہ وہ دعاء ہے ۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ آپ کا یہ قول دعاء کی صورت میں ایک خبر ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ بیمار کے اندر مثبت سوچ پیدا ہو، بیماری کے باوجود وہ مایوس نہ ہو۔ اس دعاءمیں انسان کے لیے تسکین کا ایک پہلو موجود ہے۔ اس لیے کہ بیماری کے بعد اکثر انسان کو شفا حاصل ہوتی ہے (26:80)۔ اس طرح بیماری کے واقعےمیں یہ سبق پایا جاتا ہے کہ اس دنیا کا نظام بازیابی (recovery)کے اصول پر بنا ہے۔ یہاں کا اصول یہ ہے کہ کسی درخت کی ایک شاخ ٹوٹ جائے تو وہاں دوبارہ ایک نئی شاخ نکل آئے۔ انسان کو کوئی بیماری لاحق ہو تو اس کے بعد قانونِ فطرت کے مطابق وہ دوبارہ صحت مند ہو جائے۔اس طرح اس دنیا میں کسی چیز کو کھونے کے بعد اس کو پانا (regaining of something lost) کا معاملہ ہے۔
نقصان کے بعد تلافی یا بازیابی کا یہ اصول ہر قسم کے نقصان پر صادق آتا ہے، مالی نقصان ، سیاسی نقصان، وغیرہ۔ اس بنا پر انسان کے لیے اس دنیا میں کسی بھی حال میں شکایت کا موقع نہیں (no place for complaint)۔ انسان کے لیے اس قانون کی اہمیت بہت زیادہ تھی ، اس لیے انسان کے لیے اس معاملے کو بیماری یا حادثہ وغیرہ کی صورت میں ذاتی تجربہ (personal experience) کی حیثیت دے دی گئی۔
تلافی مافات کے اس اصول کا تعلق جس طرح فرد کے لیے ہے، اسی طرح وہ قوم کے لیے بھی ہے۔ ایک قوم زوال کا شکار ہونے کے بعد دوبارہ زندہ ہوسکتی ہے۔ ایک تہذیب ختم ہوجائے تو اس کے بعد دوبارہ اس کا احیاء (revival) کیا جاسکتا ہے۔ ایک حدیث میں آیا ہے کہ آدمی بیماری میں مبتلا ہو،پھر وہ عیادت کرنے والوں کے سامنے اس کا شکوہ نہ کرے تواس کے لیے جنت لکھ دی جاتی ہے۔ (شعب الایمان للبیہقی، حدیث نمبر8801)
عیادت کرنے والوں سے شکایت نہ کرنے پر جنت ملنے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ جو آدمی شکایت نہ کرے تو اس کو اپنے آپ جنت حاصل ہو جائےگی ۔ بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ غیر شکایتی نفسیات سے گہری سوچ پیدا ہوتی ہے۔ پھر اس کے مطابق اس کے اندر جنتی شخصیت کی تعمیر ہونے لگتی ہے۔ یہاں تک کہ آدمی اس قابل ہوجاتا ہے کہ اس کو جنت کا مستحق قرار دیا جائے۔
کسی نقصان پراس کی تلافی کا اصول ایک اہم فطری اصول ہے۔ مستحق شخص کو یہ تلافی لازماً حاصل ہوتی ہے۔ لیکن اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ جو چیز کھوئی گئی ہے وہی چیز اس کو دوبارہ مل جائے۔ یہ تلافی اکثر کسی متبادل صورت میں حاصل ہوتی ہے۔ آدمی کو چاہیے کہ وہ اس متبادل تلافی کو پہچانے۔ مثلا یہ ہوسکتا ہے کہ اس کا نقصان تو مالی نوعیت کا ہو، لیکن تلافی کے طور پر اس کو جو چیز ملے وہ نفسیاتی ہو۔ یعنی سبق کی صورت میں یا ذہنی ارتقا کی صورت میں، یا روحانی ترقی کی صورت میں۔ ایسا بھی ہوسکتا ہے کہ نقصان تو دنیا میں ہو لیکن اس کی تلافی آخرت میں کی جائے۔
انسان کا تمام معاملہ سوچ پر مبنی ہے۔ انسان کو چاہیے کہ وہ کبھی ردعمل (reaction) کی نفسیات میں مبتلا نہ ہو۔ بلکہ جب بھی کوئی ناخوشگوار صورتِ حال پیش آئے تو وہ معتدل ذہن کے ساتھ اس پر غور کرے۔ وہ منفی واقعہ میں مثبت واقعہ کو دریافت کرنے کی کو شش کرے۔ اگر وہ ایسا کرے گا تو اس کو قانونِ فطرت کی تائید حاصل ہوگی۔ وہ منفی واقعہ میں مثبت پہلو کو دریافت کرلے گا۔ اور اس طرح وہ اپنے آپ کو مایوسی سے بچانے میں کامیاب ہوجائے گا۔ حقیقت یہ ہے کہ مایوسی ایک غیر فطری چیز ہے، وہ کوئی فطری چیز نہیں۔
واپس اوپر جائیں

شیطان سے بچیے

شیطان کس طرح انسان کو بہکاتا ہے۔ اس کا ایک طریقہ یہ ہے کہ کسی معمولی بات کو زیادہ بڑھا چڑھا کر انسان کو دکھانا۔ نظر انداز کرنے والی بات کو اس طرح سنگین صورت میں پیش کرنا کہ انسان کو غصہ آجائے، اور وہ ایسا کام کرنے لگے جو اس کو نہیں کرنا چاہیے۔ اس کی ایک مثال خلیفۂ دوم عمر بن خطاب کا واقعہ ہے۔ عمر بن خطاب بلاشبہ ایک عادل خلیفہ تھے۔ لیکن مدینہ کے ایک شخص ابولولوفیروز کے ساتھ ایک واقعہ پیش آیا۔ اپنی حقیقت کے اعتبار سے وہ ایک معمولی واقعہ تھا، مگر شیطان نے ابولولو کو اتنا زیادہ بھڑکایا کہ اس نے سازش کرکے عمر بن خطاب کو قتل کردیا۔
انسان کو چاہیے کہ وہ اس معاملے میں بے حد چوکنا رہے۔ جب بھی کوئی منفی بات اس کے ذہن میں آئے تو وہ اس کو شیطان کی بات سمجھے ۔وہ ایسی بات کو فوراً اپنے ذہن سے نکال دے۔ وہ اس بات کا تجزیہ کرکے اس کو اپنے ذہن میں غیر موثر بنادے۔
ہر عورت اور مرد کی یہ ذمے داری ہے کہ وہ اتنا ہوش مند بنے کہ شیطان اس کو بہکانا چاہے لیکن وہ اس کو بہکانے میں کامیاب نہ ہو۔ اس معاملے میںقرآن کی ایک متعلق آیت کا ترجمہ یہ ہے: جو لوگ ڈر رکھتے ہیں جب کبھی شیطان کے اثر سے کوئی برا خیال انھیں چھو جاتا ہے تو وہ فوراً چونک پڑتے ہیں اور پھر اسی وقت ان کو سوجھ آ جاتی ہے۔(الاعراف201)
موجودہ دنیا میں کوئی شخص، نفس اور شیطان کے حملوں سے خالی نہیں رہ سکتا۔ ایسے موقع پر جو چیز آدمی کو بچاتی ہے وہ صرف اللہ کا ڈر ہے۔ اللہ کا ڈر آدمی کو بے حد حساس بنادیتا ہے۔ یہی حساسیت موجودہ امتحان کی دنیا میں آدمی کی سب سے بڑی ڈھال ہے۔ جب بھی آدمی کے اندر کوئی غلط خیال آتا ہے یا کسی قسم کی منفی نفسیات ابھرتی ہے تو اس کی حساسیت فورا اس کو بتادیتی ہے کہ وہ پھسل گیا ہے۔ ایک لمحہ کی غفلت کے بعد اس کی آنکھ کھل جاتی ہے، اور وہ اللہ سے معافی مانگتے ہوئے دوبارہ اپنے کو درست کرلیتا ہے— حساسیت آدمی کی سب سے بڑی محافظ ہے، جب کہ بے حسی آدمی کو شیطان کے مقابلے میں غیر محفوظ بنادیتی ہے۔
واپس اوپر جائیں

اذیت پر صبر

ایک روایت حدیث کی مختلف کتابوں میں آئی ہے۔ مسند احمد کے الفاظ یہ ہیں:عن ابن عمر، عن النبی صلى اللہ علیہ وسلم :’’ المؤمن الذی یخالط الناس، ویصبر على أذاہم، أعظم أجرا من الذی لا یخالطہم، ولا یصبر على أذاہم‘‘۔ قال :حجاج :’’خیر من الذی لا یخالطہم‘‘ (حدیث نمبر 5022)۔ یعنی عبد اللہ ابن عمر کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، وہ مومن جو لوگوں سے مخالطت کرتا ہے، اور ان کی اذیت پر صبر کرتا ہے، وہ اجر میں اس سے زیادہ ہے جو مخالطت نہیں کرتا، اور لوگوں کی اذیت پر صبر نہیں کرتا۔ایک اور روایت میں یہ الفاظ ہیں، وہ بہتر ہے ان سے جو لوگوں سےمخالطت نہ کرے۔
مخالطت کا مطلب ملنا جلنا (social intercourse) ہے۔ جو شخص اپنے آپ میں جینے والا ہو، اس کو لوگوں کی طرف سے کوئی اذیت نہیں پیش آئے گی۔ لیکن جو شخص لوگوں کے درمیان رہے، لوگوں کے ساتھ اس کا انٹر ایکشن ہوتا ہو، لوگوں کے ساتھ اس کے معاملات پیش آئیں، ایسے آدمی کو فطری طور پر دوسروں کی طرف سے چھوٹی یا بڑی اذیت پیش آئے گی۔ تنہائی کی زندگی گزارنے والے کے مقابلے میں مخالطت کی زندگی گزارنے والا افضل کیوں ہوتا ہے۔
اس کا سبب فطرت کا ایک اصول ہے۔ فطری نظام کے تحت ہر آدمی بے پناہ صلاحیتوں کے ساتھ پیدا ہوتا ہے۔ لیکن یہ صلاحیتیں اس کے اندر بالقوۃ (potential) کے طور پر ہوتی ہیں۔ اس بالقوۃ کو بالفعل (actual) بنانے کا طریقہ یہ ہے کہ انسان کو شاک کا تجربہ پیش آئے۔ فطرت کا نظام شاکنگ ٹریٹمنٹ (shocking treatment) کے اصول پر قائم ہے۔ جو آدمی شاک کو سہے، اس کے فطری امکانات ان فولڈ (unfold) ہوتے رہتے ہیں، اس کا ذہنی ارتقا (intellectual development) ہوتا رہے گا۔ اس کے برعکس، جو شخص صدمہ (shock) کو برداشت کرنے کے لیے تیار نہ ہو، تو اس کے اندر ذہنی ارتقا کا عمل جاری نہیں ہوگا۔ وہ جیسا پیدا ہوا تھا، ویسے ہی مرجائے گا۔
واپس اوپر جائیں

جامع نصیحت

ایک صاحب نے کہاکہ آپ مجھ کو ایک جامع نصیحت کیجیے، جس کا تعلق دنیا اور آخرت دونوں کی فلاح سے ہو۔ میں نے کہا کہ قرآن کی روشنی میں میرا جواب یہ ہے کہ صبر کا طریقہ اختیار کیجیے۔ اور پھر آپ اللہ کی توفیق سے دنیا میں بھی کامیاب ہوں گے اور آخرت میں بھی۔
اصل یہ ہے کہ انسان کے اندر ایک مستقل خدائی گائڈ موجود ہے۔ یہ انسان کا ضمیر (conscience) ہے ۔ انسان کا ضمیر ایک بے خطا رہنما ہے۔ وہ ہمیشہ انسان کو صحیح راستے کی طرف رہنمائی کرتا ہے۔ لیکن اسی کے ساتھ انسان کے اندر مختلف قسم کی خواہشیں ( desires) ہیں۔ قرآن میں ضمیر کو نفس لوامہ کہا گیا ہے، اور خواہشوں کو نفس امارہ۔
انسان کا ضمیر ہر موقعہ پر اس کو صحیح رہنمائی دیتا ہے، لیکن اسی کے ساتھ یہ ہوتا ہے کہ انسان کی خواہشیں انسان کو اپنی طرف کھیچنے لگتی ہیں۔ اس طرح ضمیر اورخواہش کے درمیا ن ایک ٹکراؤپیدا ہوجاتا ہے۔ اس ٹکراؤ میں اکثر خواہش غالب آتی ہے اور انسان ضمیر کی آواز کو نظر انداز کرکے خواہش کی طرف دوڑ پڑتا ہے۔ یہ واقعہ دنیا کے معاملات میں بھی پیش آتا ہے اور آخرت کے معاملات میں بھی۔
اس نازک وقت میں جو چیز انسان کے کام آتی ہے، وہ صبر ہے۔ انسان اگر صبر کا ثبوت دے تو وہ اپنی خواہشات پر کنٹرول کرے گا۔ اس طرح وہ اس میں کامیاب ہوجائے گا کہ وہ صراطِ مستقیم سے انحراف ( deviate)نہ کرے۔ اور ضمیر کی آواز پر چلتے ہوئے ، اپنا سفر صحیح سمت میں جاری رکھے۔یہاں تک کہ وہ کامیابی کی منزل تک پہنچ جائے۔اسی لیے قرآن میں بتایا گیا ہے کہ صبر پر انسان کو سب سے زیادہ انعام دیاجاتا ہے(الزمر10 )۔
عملی اعتبار سے زندگی میں سلبی صفت کی اہمیت ایجابی صفت سے بھی زیادہ ہے۔ جو آدمی صرف کرنا جانے اور رکنا نہ جانے، وہ کبھی اپنی زندگی میں اعلیٰ کامیابی حاصل نہیں کرسکتا۔ زندگی کا معاملہ موٹر کارکے معاملہ جیسا ہے۔ موٹر کار میں اگر بریک نہ ہوتو خواہ موٹر کار کتنی ہی اچھی ہو، وہ منزل پر نہیں پہنچ سکتی۔موٹر کار میں جو اہمیت بریک کی ہے،وہی اہمیت زندگی میں صبر کی ہے۔
واپس اوپر جائیں

زوال کی علامت

ایک حدیث رسول ان الفاظ میں آئی ہے: لَتُنْقَضَنَّ عُرى الإسلام عُروة عروة، فکلما انتقضت عروة تَشبّث الناس بالتی تلیہا، وأولہن نقضا الْحُکْمُ وآخرہن الصلاة۔ (مسند احمد، حدیث نمبر22160) یعنی اسلام کی کڑیاں ایک ایک کرکے توڑ دی جائیں گی۔ جب بھی کوئی ایک کڑی ٹوٹے گی تو لوگ اس کے بعد والی کڑی سے چمٹ جائیں گے، اور ان کڑیوں میں سے پہلی کڑی جو ٹوٹے گی وہ حُکم ہوگا، اور آخری کڑی جو ٹوٹے گی وہ نماز ہوگی۔
اس حدیث میںایک تمثیل کے ذریعے امت کے زوال کی حالت بتائی گئی ہے۔ زوال کا آغاز حُکم کے خاتمے سے ہوتا ہے۔ حُکم کا مطلب حکمت (wisdom) ہے۔ یہاں حکمت کا لفظ عام معنی میں نہیں بلکہ دینی معنی میں ہے۔ یعنی امت کے افراد میں حکمتِ دنیا تو باقی رہتی ہے لیکن حکمتِ دینی کا خاتمہ ہوجاتا ہے۔ نماز سے مراد ، نماز کی صورت (form)نہیں بلکہ نماز کی اسپرٹ ہے۔ زوال کے زمانے میں لوگ بظاہر نماز کا اہتمام تو کرتے ہیں لیکن عملاًوہ فارم کی نماز ہوتی ہے نہ کہ اسپرٹ کی نماز۔
حکم اور صلاۃ دونوں کے خاتمے کا سبب ایک ہوتا ہے۔ اور وہ ہے دین کی حقیقت گم ہوجانا، اور اس کا صرف کلچر کی سطح پر باقی رہنا۔ حکم سے مراد دین کی سمجھ ہے۔زوال کے زمانے میں یہ ہوتا ہے کہ لوگوں کا تعلق زیادہ سے زیادہ اپنے دنیوی معاملات سے ہوجاتا ہے۔ اس کے نتیجے میں فطری طور پر یہ ہوتا ہے دین کے بارے میں لوگوں کی حساسیت پہلے کم ہوتی ہے اور پھر ختم ہوجاتی ہے۔ہمیشہ یہ ہوتا ہے کہ لوگ اپنے دنیوی معاملات میں مشغول رہتے ہیں۔ اس مشغولیت کے بنا پر عملا یہ ہوتا ہے کہ دین کی حساسیت صرف وہ لوگ زندہ رکھ پاتے ہیں جو عملی مشغولیت کے باوجود فکری طور پر بیدار ہوں اوربالقصد سوچ کی سطح پر دین کی اسپرٹ کو باقی رکھیں۔ اس کے برعکس اگر ایسا نہ ہوتواس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ لوگوں کے اندر سے دین کی سمجھ ختم ہوجاتی ہے، اور لوگ بے روح فارم کو دین سمجھ لیتے ہیں۔
واپس اوپر جائیں

فتووں کی شریعت

پرنٹنگ پریس 1440 ءمیں ایجاد ہوا۔ ا س کا موجد جرمنی کا گوٹن برگ (Johannes Gutenberg) ہے۔ مسلم دنیا میں پرنٹنگ پریس زیادہ دیر میں عام ہوا۔ 1727ء میں ترکی میں ابراہیم متفرقہ نے پرنٹنگ پریس قائم کیا۔پریس کا قیام کوئی معمولی واقعہ نہ تھا..... (مگراس وقت کے) بااقتدار علماء نے اسے ــ’’بدعت‘‘ تصور کیا، شیخ الاسلام نے فتوی دیا کہ (اس پر) مذہبی کتابوں کا چھاپنا شرعاً ممنوع ہے۔ (اشخاص و افکار، ضیاء الحسن فاروقی، ص 16-17،این سی پی یو ایل، نئی دہلی، 2011)۔
حرمت کے فتووں کا رواج اصحابِ رسول کے زمانے میں موجود نہ تھا۔ بعد کے زمانے میں جب امت میں زوال آیا تو علماء تقلید کی روش پر قائم ہوچکے تھے۔ وہ ہر نئی چیز کو توحش کی نظر سے دیکھنے لگے۔ وہ ہر نئی چیز کو شریعت کے خلاف سمجھنے لگے۔ یہی وہ زمانہ ہے جب کہ حرمت کے فتووں کا رواج عام ہوا۔ بدقسمتی سے یہ سلسلہ ابھی تک جاری ہے۔
’’حرمت کی شریعت‘‘ کے اس رواج کا سبب کیا ہے۔ اس کا سبب زمانے سے بے خبری (unawareness) ہے۔ بعد کے زمانے میں علماء اپنے وقت کی علمی ترقیوں سے بے خبر ہوگیے۔ اس بنا پر وہ ہر نئی چیز کو غلط سمجھنے لگے۔ اگر یہ علماء جدید حالات سے واقف ہوں، اگر وہ وقت کے علمی معیار پر نئے مسائل کا سامنا کرنے کی اہلیت رکھتے ہوں تو وہ نئے حالات کا مطالعہ کریں گے۔ وہ علمی انداز میں اس کا تجزیہ کریں گے۔ اور پھر وقت کی علمی سطح پر اس کی نوعیت کو بیان کریں گے۔ وہ تکفیر کی زبان استعمال کرنے کے بجائےعلمی تجزیہ کی زبان استعمال کریں گے۔ بلکہ وہ نئے پیدا شدہ حالات کو اپنے ذہنی ارتقا کے لیے فکری خوراک بنا لیں گے۔ مگر بد قسمتی سے بعد کے زمانے کے مسلم علماء اس اہلیت کا ثبوت نہ دے سکے۔ ہر چیز جو ان کی سمجھ میں نہیں آئی، اس پر وہ منفی ردعمل کا اظہار کرنے لگے۔ یہ ذہنی جمود کی حالت ہے۔ اور ذہنی جمود کی حالت اسلام میں مطلوب نہیں۔
واپس اوپر جائیں

داعی کا اخلاق

مشہور صحابی انس بن مالک کی ایک روایت ان الفاظ میں آئی ہے :شج النبی صلى اللہ علیہ وسلم یوم أحد، فقال:’’کیف یفلح قوم شجوا نبیہم؟‘‘. فنزلت:لیس لک من الأمر شیء۔(صحیح مسلم حدیث نمبر1791)۔ انس بن مالک کہتے ہیں کہ غزوۂ احد کے موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم زخمی ہوگیے۔ اس وقت آپ نے فرمایا: وہ قوم کیسے فلاح پائے گی، جو اپنے نبی کو زخمی کرے۔ اس پر قرآن میں یہ آیت اتری ، تم کو اس معاملےمیں کوئی دخل نہیں ۔
اس روایت سے معلوم ہوتا ہےکہ داعی کا اخلاق کیا ہونا چاہیے۔ داعی کو چاہیے کہ وہ یکطرفہ اخلاقیات کا طریقہ اختیار کرے۔ یعنی مدعو کے سلوک پر کوئی شکایت نہ کرنا۔ شکایت اور احتجاج سے پوری طرح اوپر اٹھ جانا، ہر حال میں ردعمل کی نفسیات سے کامل طور پر پاک ہونا۔
داعی اپنے مدعو کا مکمل طور پر خیر خواہ ہوتا ہے۔ یہی خیر خواہی کی اسپرٹ داعی کے اندر وہ اخلاقیات پیدا کرتی ہے جو داعی کو کامل طور پر ایک بے شکایت انسان بنا دیتی ہے۔ داعی کے اندر یک طرفہ اخلاقیات کی یہ صفت لازمی طور پر ضروری ہے۔ داعی اگر اس کردار کا حامل نہ ہو تو وہ کبھی دعوت الی اللہ کا کام نہیں کرسکتا۔
دعوت سے مراد دعوت الی اللہ ہے۔ داعی اپنا دعوتی کام اللہ کے لیے کرتا ہے۔ وہ اپنے عمل کے لیے اللہ سے اجر کی امید رکھتا ہے۔ مدعو کا رویہ خواہ کچھ ہو، داعی ہر تجربے کو اللہ کی نسبت سے دیکھتا ہے۔ داعی کے اندر اگر ردعمل کا مزاج پیدا ہوجائے ، وہ اپنے مدعو سے ٹکراؤ شروع کردے تو اس کی دعوت ، وہ دعوت نہ ہوگی جو اللہ کو مطلوب ہے۔ اللہ کو یہ مطلوب ہے کہ دعوت کے ذریعے انسان کے اوپر حجت تمام ہو۔ اس کو یہ کہنے کا موقع باقی نہ رہے کہ ہم بے خبر تھے۔ داعی کے اندر یکطرفہ اخلاقیات کا مقصد یہ ہے کہ مدعو کے لیے کسی قسم کا عذر باقی نہ رہے،مدعو کے ساتھ آخرت میں جو معاملہ کیا جائے وہ ہر اعتبار سے ایک جائز معاملہ ہو۔
واپس اوپر جائیں

غلطی کے بعد

غلطی کرنے کے بعد اکثر لوگ دوسری غلطی یہ کرتے ہیں کہ غلطی کی صفائی دینے کی کوشش کرتے ہیں۔ صحیح یہ ہے کہ غلطی کرنے کے بعد یہ دریافت کیا جائے کہ غلطی کیوں ہوئی۔ غلطی کی صفائی پیش کرنے والے کا انجام یہ ہوتا ہے کہ جہاں وہ پہلے تھا، وہیں وہ بعد کو بھی باقی رہتا ہے۔ اس کے برعکس، غلطی کا سبب دریافت کرنے والے کو یہ فائدہ حاصل ہوتا ہے کہ وہ اپنی غلطی کو دوبارہ دہرانے سے بچ جاتا ہے۔
یہ ایک فطری حقیقت ہے۔ اس حقیقت کو حدیث میں ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے :عن أنس، قال :قال رسول اللہ صلى اللہ علیہ وسلم: کل بنی آدم خطاء، وخیر الخطائین التوابون (ابن ماجہ، حدیث نمبر 4251)۔ یعنی ہر انسان غلطی کرنے والا ہے، اور سب سے اچھا غلطی کرنے والا وہ ہے جو غلطی کے بعد توبہ کرے۔
اصل یہ ہے کہ کسی انسان کے پاس کلی علم نہیں۔ اس بنا پر انسان ہمیشہ غلط رائے قائم کرتا ہے۔ اس کے منصوبہ میں ہمیشہ غلطیاں ہوتی ہیں۔ انسان کی خوبی یہ نہیں ہے کہ وہ کبھی غلطی نہ کرے۔ انسان کی خوبی یہ ہے کہ کسی وجہ سےغلطی کرنے کے بعد جب اس پر اپنی غلطی ظاہر ہوجائے تو وہ فوراً رجوع کرے، وہ اپنی غلطی کا اعتراف کرتے ہوئے ، اپنے عمل کو مطابقِ حقیقت بنائے۔ وہ کھلے طور پر اعتراف کرے کہ اس سے پہلے اس سے غلطی ہوگئی تھی۔ اب وہ اپنی رائے کو بدلتا ہے، اور زیادہ درست انداز میں اپنے کام کا نقشہ بناتا ہے۔
جو آدمی اپنی غلطی کا اعتراف نہ کرے، اس کی قیمت اس کو یہ دینی پڑے گی کہ وہ بدستور اپنی غلط روش پر قائم رہے۔ اس طرح وہ ایک طرف یقین سے محروم ہوجائے گا۔ کیوں کہ ایک بات کو درست نہ سمجھتے ہوئے وہ اس پر قائم رہے گا۔ دوسرا نقصان یہ ہوگا کہ اس کا عمل نتیجہ خیز ثابت نہ ہوگا، اس کا منصوبہ مطلوب نتیجے تک پہنچنے میں کامیاب نہ ہوگا۔
واپس اوپر جائیں

اصل مسئلہ

موجودہ زمانے کے مسلمانوں کا اصل مسئلہ کوئی خارجی سازش نہیں۔ ا ن کا اصل مسئلہ یہ ہے کہ وہ دورِ حاضر سے بے خبر ہوگیے ہیں۔ مسلمان یہ سوچتے ہیں کہ دورِ حاضر ان کے لیے مسائل کا دور (age of problems)ہے۔ مگر حقیقت اس کے بر عکس ہے۔ موجودہ زمانہ مسلمانوں کے لیے مواقع کا زمانہ (age of opportunities)ہے۔
ایک روایت کے مطابق، پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وعلى العاقل أن یکون بصیرًا بزمانہ (صحیح ابن حبان، حدیث نمبر361)۔ یعنی دانش مند کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنے زمانے سے با خبر ہو۔ آدمی جب اپنے زمانے سے باخبر ہو تو وہ اپنے عمل کی صحیح منصوبہ بندی کرے گا۔ او ر اگر وہ زمانے سے بے خبر ہوجائے تو اس کی سوچ بھی غلط ہوجائے گی، اور اس کی منصوبہ بندی بھی غلط۔
اکثر تعلیم یافتہ مسلمانوں کا خیال ہے کہ امریکا اسلام دشمن ہے۔ اس نظریہ کو عام طور پر اسلاموفوبیا (Islamophobia)کہا جاتا ہے۔ مگر یہ بات مکمل طور پر بے بنیاد ہے۔ کوئی بھی شخص امریکا کا سفر کرے، تو وہ پائے گا کہ وہاں کے مسلمان خوب ترقی کر رہے ہیں۔ وہاں بڑی تعداد میں مسجدیں اور اسلامی سینٹر قائم ہیں۔ مذہبی اعتبار سے وہاں مسلمانوں کو کوئی بھی رکاوٹ نہیں۔ اس لیے صحیح بات یہ ہے کہ خود مسلمان امریکو فوبیا (Americophobia) میں مبتلا ہیں، نہ کہ امریکا اسلامو فوبیا میں۔
موجودہ زمانے کا ایک خاص پہلو یہ ہے کہ اس میں متعصبانہ فکر کا خاتمہ ہوگیا ہے۔ جدید دور کا کلچر تمام تر ایک ہی اصول پر قائم ہے۔ اور وہ ہے مسابقت (competition)۔ مغربی دنیا کا فارمولا ایک لفظ میں یہ ہےcompete or perish
مسلمان اپنی روایتی سوچ کی بنا پر یہ سمجھتے ہیں کہ مغرب ان کے خلاف سازش کرتا ہے، مغرب میں ان کے خلاف تعصب کیا جاتا ہے۔ یہ سب باتیں بالکل بے بنیاد ہیں۔ مسلمان صرف ایک کام کریں۔ وہ یہ ہے کہ وہ جدید تعلیم میں امتیازی درجہ حاصل کریں۔ اس کے بعد ان کو کسی سے کوئی شکایت نہ ہوگی۔
واپس اوپر جائیں

نفس کا شر کیا ہے

ایک حدیث رسول میں ایک دعا ان الفاظ میں آئی ہے: اللہم ألہمنی رشدی، وأعذنی من شر نفسی(سنن الترمذی، حدیث نمبر3483)۔ یعنی اے اللہ، مجھ کو صحیح راستے کی ہدایت دے، اور مجھ کو میرے نفس کے شر سے بچا۔رُشد کے معنی ہیں راہ راست، یا ہدایت کا راستہ۔ یعنی وہ راستہ جس پر چل کر انسان کو دنیا اور آخرت کی فلاح حاصل ہوتی ہے۔
یہ راستہ قرآن و سنت میں واضح طور پر بتادیا گیا ہے۔ ہدایت کے راستے کو جاننا اور اس پر عمل کرنا، انسان کے لیے کوئی مشکل کام نہیں۔ پھر وہ کیا چیز ہے جس کو یہاں نفس کا شر بتایا گیا ہے۔اس سے مراد یہ ہے کہ آدمی سچائی کو جانے لیکن غلط تاویل کرکے اس کی صورت کو بدل دے۔
غلط تاویل ہمیشہ نفس کے شر کی وجہ سے ہوتی ہے۔ غلط تاویل کی گنجائش بہت زیادہ ہے ۔ یہاں تک کہ ایک واضح حکم کو بھی غلط تاویل کے ذریعے کچھ سے کچھ کیا جاسکتا ہے۔مثلا قرآن میں آیا ہے کہ نماز قائم کرو۔اگر انسان کے اندر شر نہ ہو تو وہ نہایت آسانی کے ساتھ اس کا مطلب سمجھ سکتا ہے، لیکن اگراس کے اندر شر ہو، یعنی اس کی نیت درست نہ ہو تو وہ عجیب و غریب تاویل کرکے اس کا مفہوم کچھ سے کچھ بنادے گا۔ مثلا اقامت صلاۃ کا مطلب ہے اقامت نظام، اقامت صلاۃ کا مطلب ہے سماج میں سدھار لانا، اقامت صلاۃ کا مطلب وہی چیز ہے جس کو اس زمانے میں سوشل سروس کہا جاتا ہے، وغیرہ۔ نفس کے شر سے بچنا آدمی کا اپنا کام ہے۔ صرف دعا کے الفاظ بولنے سے آدمی نفس کے شر سے بچ نہیں سکتا ہے۔اصل یہ ہے کہ اس معاملے میں پچاس فیصد آدمی کا اپنا کام ہے، اور بقیہ پچاس فیصد دعا کا کام ہے۔ اس معاملے کا صحیح طریقہ یہ ہے کہ آدمی صدق نیت کے ساتھ راہ راست کو دریافت کرے۔ اس کے اندر اس پر عمل کرنے کا سچا جذبہ موجود ہو۔ پھر وہ اللہ سے اس پر استقامت کی دعا کرے۔وہ اللہ سے اس بات کی مدد مانگے کہ شیطان اس پر حاوی نہ ہوجائے۔ وہ شیطان کی تزئین اور اس کے وسوسہ کو پہچانے، اور اپنے آپ کو اس سے بچائے۔
واپس اوپر جائیں

والرُجز فاہجر

پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کا مشن توحید کا مشن تھا۔ آپ نے اپنا مشن 610 عیسوی میں قدیم مکہ میں شروع کیا۔ اس وقت ابتدائی دور میں آپ کے لیے قرآن میں جو ہدایات نازل ہوئیں، ان میں سے ایک یہ تھی: وَالرُّجْزَ فَاہْجُر (74:5)۔ یعنی رُجز کو چھوڑ دو۔ رجز کا لفظی مطلب گندگی (dirt) ہے۔ یہ لفظ یہاں آپ کے ذاتی کردار کے اعتبار سے نہیں ہے، بلکہ دعوت کےطریقہ کار کے اعتبار سے ہے۔
قدیم مکہ میں رُجز کو چھوڑنے کا مطلب کیا تھا۔ اس کو پیغمبر اسلام کی عملی سیرت کی روشنی میں متعین کیا جائے تو وہ یہ ہوگا— مکہ میں اگر چہ تمھارے لیے ناموافق حالات ہیں، مگر تم اس معاملے میں حکیمانہ طریقہ اختیار کرو، اور چیزوں کو غلط زاویۂ نظر (wrong angle) سے دیکھنا چھوڑ دو۔
اس معاملے کی ایک مثال سورہ نمبر 94 میں ان الفاظ میں ملتی ہے: وَرَفَعْنَا لَکَ ذِکْرَکَ (الانشراح4:)۔ یعنی تمھارے مشن کے خلاف لوگ پروپیگنڈہ کررہے ہیں،لیکن تم اس پروپیگنڈے کو پبلسٹی (publicity) کے معنی میں لو۔ اور اس کو اپنے دعوتی مشن کے لیے ایک موقع (opportunity) کے طور پر استعمال کرو۔
اس معاملے کی ایک اور مثال یہ ہے کہ قدیم مکہ میںلوگوں نے مقدس کعبہ کے اندر تقریباً تین سو ساٹھ بت رکھ دیے تھے۔ یہ بظاہر ایک اشتعال انگیز بات تھی۔ لیکن پیغمبر اسلام اس پر مشتعل نہیں ہوئے۔ آپ نے وقتی طور پر اس کو نظر انداز کیا۔ اس کے بجائے آپ نے یہ کیا کہ کعبہ میں بتوں کی موجودگی کی بنا پر وہاں ہر روز مشرکین کا جو اجتماع ہوتا تھا، اس کو اپنے لیے بطور آڈینس (audience) استعمال کیا۔ آپ خاموشی کے ساتھ وہاں جاتے اور لوگوں کو قرآن سناتے۔ روایات میں اس واقعے کو ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے: وعرض علیہم الإسلام، وتلا علیہم القرآن(سیرت ابن ھشام، مصر 1955، 1/428)۔
واپس اوپر جائیں

مثبت روش کا نتیجہ

اسلام کی ایک تعلیم قرآن میں ان الفاظ میں آئی ہے: وَلَا تَسْتَوِی الْحَسَنَةُ وَلَا السَّیِّئَةُ ادْفَعْ بِالَّتِی ہِیَ أَحْسَنُ فَإِذَا الَّذِی بَیْنَکَ وَبَیْنَہُ عَدَاوَةٌ کَأَنَّہُ وَلِیٌّ حَمِیم (41:34)۔اور بھلائی اور برائی دونوں برابر نہیں ،تم جواب میں وہ کہو جو اس سے بہتر ہو پھر تم دیکھو گے کہ تم میں اور جس میں دشمنی تھی، وہ ایسا ہو گیا جیسے کوئی دوست قرابت والا۔قرآن کی اس آیت میں عام اجتماعی زندگی میں حسنِ اخلاق (good behaviour)کا حکم نہیں دیا گیا ہے۔ حسن اخلاق بلاشبہ ایک اہم اسلامی قدر (Islamic value) ہے۔ لیکن قرآن کی اس آیت میں جو بات کہی گئی ہے، وہ عداوت کی نسبت سے ہے، نہ کہ نارمل تعلقات کی نسبت سے۔
اسلام ایک مشن ہے، پرامن دعوتی مشن۔ باعتبارِ حقیقت یہ مشن پوری طرح پرامن اور غیر سیاسی مشن ہے۔ لیکن کسی ماحول میں جب اس مشن کے لیے کام کیا جائے تو کچھ لوگ نظریاتی بنیاد پر اس کے خلاف ہوجاتے ہیں۔ اس طرح داعی اور مدعو کے درمیان عملاً نزاع (controversy)کی صورت پیدا ہوجاتی ہے۔ ایسے موقعے پر مدعو کی طرف سے داعی کی مخالفت شروع ہوجاتی ہے۔ مذکورہ قرآنی تعلیم اسی طرح کی نزاعی صورتِ حال کے بارے میں ہے۔
اس طرح کی صورتِ حال میں داعی کو یہ حکم دیا گیا ہے کہ وہ ہرگز اپنے کلام میں منفی رد عمل (negative reaction) کا طریقہ اختیار نہ کریں۔ بلکہ وہ یک طرفہ طور پر مثبت رسپانس (positive response)کی روش پر قائم رہیں۔ داعی اگر اپنے آپ کو منفی ردعمل سے بچائے، مکمل طور پر دونوں کے درمیان اعتدال کی فضا قائم رہے، تو فطرت اپنا کام کرے گی۔ فطری پراسس کے تحت مدعو کی نفسیات بدلنا شروع ہو جائے گی، یہاں تک کہ یہ واقعہ پیش آئے گا کہ جو شخص بظاہر مخالف نظر آرہا تھا، وہ داعی کا حامی اور موافق بن جائے گا۔ منفی ردعمل مدعو کی ایگو (ego) کو بھڑکاتا ہے، مثبت رسپانس اس کو معتدل بنا دیتا ہے۔
واپس اوپر جائیں

مشتعل نہ ہونے کا کرشمہ

کسی بات کا جواب اگر مشتعل ہوکر دیا جائے تو اس کا نتیجہ منفی صورت میں نکلتا ہے۔ اور اگر آدمی سخت بات سنے مگر وہ اپنے اعتدال کو نہ کھوئے، بلکہ اشتعال کے بغیر جواب دے تو نتیجہ معجزاتی طور پر موافق صورت میں نکلے گا۔اس کا سبب یہ ہے کہ اشتعال انگیز جواب سے سننے والے کی انا بھڑک اٹھتی ہے۔ وہ غیر ضروری طور پر دشمن بن جاتا ہے۔ اس کے برعکس، اگر معتدل انداز میں جواب دیا جائے تو سننے والے کا ضمیر جاگ اٹھتا ہے۔ اور گفتگو فطری انداز میں ہونے لگتی ہے۔ پیدائشی طور پر ہر آدمی آپ کا دوست ہے۔ اس کے بعد آپ کا رویہ یا تو اس کی دوستی کو باقی رکھتا ہے یا اس کو دشمن بنا دیتا ہے۔ اس نوعیت کی ایک تاریخی مثال یہاں نقل کی جاتی ہے۔
تیرھویں صدی عیسوی میں تاتاری قبائل (Mongols)نے عباسی سلطنت پر حملہ کر دیا۔ انھوں نے سمرقند سے لے کر حلب تک مسلم سلطنت پر قبضہ کرلیا۔ اس کے کچھ سال بعد یہ معجزاتی واقعہ ہوا کہ تاتاری قبائل کی اکثریت نے اسلام قبول کر لیا۔ اسلام کے دشمن اسلام کے خادم بن گیے۔
اس تاریخی واقعہ پر پروفیسر ٹی ڈوبلیو آرنلڈ(Thomas Walker Arnold,
[1864-1930])نے ریسرچ کی ہے۔ ان کی کتاب دی پریچنگ آف اسلام (The Preaching of Islam) کے باب ‘Spread of Islam among the Mongols’ کے تحت اس کی تفصیل دیکھی جاسکتی ہے۔
اس زمانے میں تاتاری لوگ مسلمانوں کو سخت حقیر سمجھنے لگے تھے۔ اس دور کا ایک واقعہ یہ ہے کہ ایک دن تاتاری شہزادہ تغلق تیمور خاں نے ایک ایرانی مسلمان، شیخ جمال الدین کو دیکھا۔ اس نے نفرت کے ساتھ کہا کہ تم اچھے یا میرا کتا اچھا۔ شیخ جمال الدین نے اس کو سن کر معتدل انداز میں جواب دیا، اگر میرا خاتمہ ایمان پر ہوا تو میں اچھا۔ اور اگر میرا خاتمہ ایمان پر نہیں ہوا تو تمھارا کتا اچھا۔یہ جواب سن کر شہزادہ کا غصہ ختم ہوگیا۔ اور اس نے شیخ کے ساتھ اچھا برتاؤ شروع کردیا۔ پروفیسر آرنلڈ نے اس واقعہ کواپنی کتاب میں ان الفاظ میں نقل کیا ہے:
Tūqluq Timūr Khān (1347-1363), is said to have owed his conversion to a holy man from Bukhārā, by the name Shaykh Jamāl al-Dīn. This Shaykh, in company with a number of travellers, had unwittingly trespassed on the game-preserves of the prince, who ordered them to be bound hand and foot and brought before him. In reply to his angry question, how they had dared interfere with his hunting, the Shaykh pleaded that they were strangers and were quite unaware that they were trespassing on forbidden ground. Learning that they were Persians, the prince said that a dog was worth more than a Persian. “Yes,” replied the Shaykh, “if we had not the true faith, we should indeed be worse than the dogs.” Struck with his reply, the Khan ordered this bold Persian to be brought before him on his return from hunting, and taking him aside asked him to explain what he meant by these words and what was “faith”. The Shaykh then set before him the doctrines of Islam with such fervour and zeal that the heart of the Khān that before had been hard as a stone was melted like wax, and so terrible a picture did the holy man draw of the state of unbelief, that the prince was convinced of the blindness of his own errors, but said, “Were I now to make profession of the faith of Islam, I should not be able to lead my subjects into the true path. But bear with me a little and when I have entered into the possession of the kingdom of my forefathers, come to me again.” (London, 1913, p. 235)
شیخ جمال الدین سے ملاقات کے بعد کچھ اور واقعات پیش آئے یہاں تک کہ تغلق تیمور خاں نے اسلام قبول کرلیا۔ اس کے بعد اس نے حکمت کے ساتھ لوگوں کو اسلام کے بارے میں بتایا۔ یہاں تک کہ تاتاریوں کی اکثریت اسلام میں داخل ہوگئی۔ شیخ جمال الدین کا مشتعل جواب تاریخ کو دوسرا رخ دے دیتا۔ لیکن ان کے معتدل جواب نے تاریخ کو صحیح رخ پر ڈال دیا۔
واپس اوپر جائیں

مواقع کا استعمال

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نبوت کے بعد تیرہ سال تک مکہ میں رہے۔ اس کے بعد آپ نے مدینہ کی طرف ہجرت فرمائی۔ مدینہ کے لوگوں نے بہت جلد آپ کو اپنا قائد تسلیم کرلیا۔ اس کا راز یہ تھا کہ آپ کی ہجرت سے تقریبا پانچ سال پہلے مدینہ (یثرب) کے دو قبائل ، اوس اور خزرج کے درمیان جنگ ہوئی۔ جو جنگ بعاث کے نام سے مشہور ہے۔ اس جنگ میں دونوں قبیلوں کے بڑے بڑےسردار مارے گئے۔ اس سلسلے میں حضرت عائشہ کی ایک روایت ان الفاظ میں آئی ہے: کان یوم بعاث، یوما قَدمہ اللہ لرسولہ(صحیح البخاری، حدیث نمبر3777) ۔ یعنی آپ کی ہجرت سے پہلے جنگ بعاث کا ہونا، یہ اللہ کی طرف سے آپ کی ایک مدد تھی۔
اس جملہ کی شرح کرتے ہوئےشارحین نے لکھا ہے : لو کان صنادیدہم أحیاء لما انقادوا لرسول اللہ صلى اللہ علیہ وسلم حبا للریاسة (عمدۃ القاری للعینی، بیروت، 17/64۔ الکواکب الدراری فی شرح صحیح البخاری للکرمانی، بیروت ، 1981، 15/139)۔یعنی اگر ان کے بڑے بڑے سردار اس وقت زندہ ہوتے تو وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہرگز اطاعت نہ کرتے، اپنی سرداری کی محبت میں۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس صورتِ حال کو سمجھا، اور نہایت حکمت کے ساتھ اس کو استعمال کیا۔ حقیقت یہ ہے کہ صرف سرداروں کا ماراجانا کافی نہ تھا، بلکہ یہ بھی ضروری تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وہاں پہنچنے کے بعد نہایت حکمت کا طریقہ اختیار فرمائیں۔ تاکہ کوئی نیا مسئلہ پیدا نہ ہوجائے۔
حقیقت یہ ہے کہ اہل ایمان کے لیے موافق حالات ہمیشہ پیدا ہوتے ہیں۔ مگر صرف حالات کا پیدا ہونا کافی نہیں۔ یہ بھی ضروری ہے کہ مسلم قائدین ان حالات کو سمجھیں، اور پیدا شدہ مواقع کو حکمت کے ساتھ استعمال (avail) کریں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ حکیمانہ طریقہ بھی اہل ایمان کے لیے ایک سنت کی حیثیت رکھتا ہے۔
واپس اوپر جائیں

بڑوں کی صحبت

ایک نوجوان انڈیا میں پیدا ہوئے۔ انڈیا میں انھوں نے تعلیم حاصل کی۔ تعلیم میں ان کو اعلیٰ درجے کی ڈگری ملی۔ پھر وہ یوروپ چلے گیے۔ اب وہ یوروپ کے ایک ترقی یافتہ شہر میں آرام و آسائش کی زندگی گزارہے ہیں۔ اس نوجوان کی بہن ابھی انڈیا میں رہتی ہے۔ بھائی سے ٹیلیفون پر بہن کی بات ہوئی۔ بہن نے بے تکلفی کے انداز میں کہا کہ تم انڈیا واپس آجاؤ۔ یہ سن کر بھائی نے جواب دیا— کیا میں پاگل ہوں۔
مذکورہ بھائی ابھی جوانی کی عمر میں ہیں۔ یورپ کے شہر میں وہ اچھی صحت کے ساتھ رہ رہے ہیں۔ ان کو ابھی زندگی کے گہرے مسائل کا تجربہ نہیں۔ اگر وہ جانتے کہ ان کی جوانی اور صحت ہمیشہ باقی رہنے والی نہیں۔ دوسرے انسانوں کی طرح وہ بھی ایک دن بوڑھے اور ضعیف ہوجائیںگے۔ اس کے بعد زندگی ان کے لیے اسی طرح ایک بوجھ (burden) بن جائے گی جس طرح دوسرے بوڑھے مردوں اور عورتوں کے لیے بن جاتی ہے تو وہ اس قسم کا جواب نہ دیتے۔ اس واقعے کو سن کر مجھے ایک حدیث رسول زیادہ واضح طور پر سمجھ میں آئی۔اس حدیث کے الفاظ یہ ہیںعن ابن عباس أن النبی صلى اللہ علیہ وسلم قال:البرَکة مع أکابرکم (صحیح ابن حبان، حدیث نمبر559)۔ یعنی برکت تمھارے اکابر کے ساتھ ہے۔ ایک اور روایت میں یہ الفاظ آئے ہیں الخیر مع أکابرکم (مجمع الزوائد و منبع الفوائد، حدیث نمبر12618)۔ یعنی خیر تمھارے اکابر کے ساتھ ہے۔
اس حدیث میں اکابر کا لفظ پر اسرار بزرگی کے معنی میں نہیں ۔ بلکہ یہ لفظ زندگی کی ایک فطری حقیقت کو بتاتا ہے۔ اکابر کا لفظ یہاں معمر اشخاص (seniors) کے معنی میں ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ افراد جو صحیح زندگی گزاریں اور پھر وہ زیادہ عمر تک پہنچ جائیں۔ تو فطری طور پر وہ زیادہ اہل دانش (man of wisdom) بن جاتے ہیں۔ ان کی باتیں سننے والے اور ان کے ساتھ بیٹھنے والے کو ان سے حکمت و دانائی کی باتیں معلوم ہوتی ہیں۔
معمر (senior) آدمی کو چند اضافی مواقع مل جاتے ہیں۔ اس کو موقع ملتا ہے کہ وہ زیادہ مدت تک علم سیکھے، وہ زیادہ مدت تک زندگی کا تجربہ حاصل کرے۔ اسی کے ساتھ بڑھاپے کی عمر تک پہنچنے کی بنا پر اس کو زندگی کے شدائد (difficulties) کو جھیلنا پڑتا ہے۔ اس کے نتیجے میں اس کے اندر سنجیدگی اور تواضع (modesty) آجاتی ہے۔ یہ صفت اس کو زندگی کے ایسے پہلووں سے آگاہ کرتی ہے جس سے جوان لوگ بالکل بے خبر رہتے ہیں۔
معمر (senior) انسان اگر فطری زندگی گزارے تو اپنی عمر کے آخری حصے میں اس کے اندر ایسی دانش (wisdom)پیدا ہوجاتی ہے جو جوانی کے عمر میں آدمی کے اندر نہیں ہوتی۔ وہ ایسی بصیرت افروز باتیں کرنے لگتا ہے جس سے کم عمر انسانوں کی باتیں خالی ہوتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ایسے انسان کی باتوں میں زیادہ خیر اور زیادہ برکت (نفع بخشی) شامل ہوجاتی ہے۔
آدمی جب پیدا ہوتا ہے اور پھر بچپن سے جوانی کی عمر تک پہنچتا ہے توپہلے مرحلۂ حیات میں اس کو بجلی جیسی توانائی حاصل ہوتی ہے۔ اس کے اندر عزم ہوتا ہے۔ وہ حوصلہ مندانہ انداز میں زندگی کی سرگرمیوں میں شریک ہوتا ہے۔ یہ حالات اس کے اندر ایک پراعتماد شخصیت بنا دیتے ہیں۔ وہ سمجھنے لگتا ہے کہ میں سب کچھ ہوں۔ میں جو چاہوں کرسکتا ہوں۔ میں اپنی مرضی کے مطابق اپنے لیے ایک زندگی کی تعمیر کرسکتاہوں۔
مگر دھیرے دھیرے اس کی عمر بڑھتی ہے۔ وہ ایجنگ (ageing)کے دور میں داخل ہوجاتا ہے۔ اب وہ محسوس کرتا ہے کہ اس کے ہاتھ پاؤں میں پہلے جیسی طاقت نہیں رہی۔ اس کا حافظہ اس طرح کام نہیں کرتا جس طرح وہ پہلے کام کرتا تھا۔ اس کا دماغ ، اور اس کی آنکھ ، اور اس کے کان ، اور دوسرے اعضا اگرچہ بظاہر پہلے کی طرح ہیں، لیکن ہر ایک میں کمزوری آچکی ہے۔
یہ وہ دور ہوتا ہے جب کہ انسان کے اندر ایک نئی شخصیت ابھرنے لگتی ہے۔ وہ ایک حقیقت شناس انسان بن جاتا ہے۔ پہلے اگر وہ بے احتیاطی کے فیصلےکرتا تھا تو اب وہ اپنے فیصلوں میں زیادہ محتاط بن جاتا ہے۔ یہی وہ دورِ حیات ہے جس کی طرف مذکورہ حدیث میں اشارہ کیا گیا ہے۔
واپس اوپر جائیں

آخری گیت

رتن سنگھ (پیدائش 1927) اردو کے ایک مشہور ادیب ہیں۔ ایک گفتگو کے دوران ان کے انٹرویور ڈاکٹرریحانہ سلطانہ نے ان سے پوچھا، آپ اپنی نمائندہ کہانی کس کہانی کو مانتے ہیں۔ انھوں نے جواب دیا، نمائندہ کہانی تو ابھی مجھے لکھنی ہے۔ کب سرسوتی مہربان ہوجائے، کہہ نہیں سکتا۔ (ماہنامہ اردو دنیا، دہلی، اکتوبر2015، صفحہ 9) نوبیل انعام یافتہ رابندر ٹیگور نے اپنی کتاب گیتانجلی میںاپنے بارے میں لکھا ہے : ساری عمر بینا کے تاروں کو سلجھانے میں بیت گئی، جو انتم گیت میں گانا چاہتا تھا، وہ میں نہ گاسکا۔
یہ احساس تقریبا ہر ادیب اور صاحبِ قلم کے یہاں پایا جاتا ہے۔ اس کا سبب کیا ہے۔ اس کا سبب یہ ہے کہ انسان پیدائشی طور پر آئڈلسٹ (idealist) ہوتا ہے۔ وہ چاہتا ہے کہ اپنے آئڈیل کو لفظوں میں ڈھال سکے، لیکن ایسا ممکن نہیں ہوتا۔ اس کا سبب ایک فطری تضاد ہے جس سے ہر انسان زندگی میں دوچار رہتا ہے۔ وہ یہ ہے کہ فطرت سے وہ خود تومعیار پسند مزاج لے کر پیدا ہوتا ہے، لیکن اپنے خیال کےاظہار کے لیے اس کے پاس جو الفاظ ہوتے ہیں، وہ معیار سے کمتر ہوتے ہیں۔ اس تضاد کی بنا پر ہر باذوق انسان کا یہ حال ہوتا ہے کہ وہ عملاً ایک تشنگی میں جیتا ہے، اور آخرکار اسی تشنگی میں مرجاتا ہے ۔
انسان کی اس تشنگی کے پورا ہونے کا مقام صرف جنت ہے۔ یہ تشنگی اس بات کی دعوت دیتی ہے کہ انسان اس پر سنجیدگی کے ساتھ سوچے، جو آدمی حقیقی معنوں میں متلاشی (seeker) بن کر اس پر غور کرے گا، وہ ضرور اس کا جواب پالے گا۔ اور پھر اس کو یہ معلوم ہوجائے گا کہ وہ کس چیز کو اپنی تلاش کی منزل بنائے— انسان اپنی پیدائش کے اعتبار سے جنت کا طالب ہے۔ انسان طالب ہے، اور جنت اس کا مطلوب۔ انسان کی کامیابی کا راز یہ ہے کہ وہ اس حقیقت کو جانے، اور اس کو اپنا منزل مقصود بنائے۔
واپس اوپر جائیں

منافق کا کردار

منافقت (hypocrisy) ایک عام انسانی کردار ہے۔ منافقت یہ ہے کہ آدمی کے اندر دہرا معیار (duplicity) کا انداز پایا جاتا ہو۔ ایسا آدمی دو چہرے والا (double-faced) آدمی ہوتا ہے۔ و ہ گفتگو میں اپنے آپ کو جیسا ظاہر کرتا ہے، اندر سے وہ ویسا نہیں ہوتا ۔ ایسے لوگوں کو حضرت مسیح نے ’’سفیدی پھری ہوئی قبروں‘‘ سے تشبیہہ دی ہے۔ یعنی اندر سے تو وہ تاریک کردار کا آدمی ہے مگر باہر سے وہ اپنے آپ کو صاف ستھرا بنائے ہوئے ہے۔
عربی زبان میں کہا جاتا ہے کہ ’نافق الیربوع ‘ یعنی جنگلی چوہا سوراخ میں داخل ہوگیا۔ یہ ایک چھوٹا چوہا ہے جو اپنے آپ کو بل میں چھپائے رہتا ہے۔ یہی حال منافق انسان کا ہے۔ وہ اپنی شخصیت کو مصنوعی الفاظ بول کر چھپائے رہتا ہے۔ حالاں کہ اس کی اصل شخصیت اس کے بول سے بالکل مختلف ہوتی ہے۔
منافق انسان دنیوی پہلو سے بھی ناقابل اعتبار ہوتا ہے، اور دینی پہلو سے بھی ناقابل اعتبار۔ ایسا آدمی اگر چہ کوشش کرتا ہے کہ وہ اپنے آپ کو پوری طرح چھپائے رکھے لیکن دوسرے انسان کہیں نہ کہیں اس کو پہچان لیتے ہیں۔ اس کے بعد لوگوں کی نظروں میں اس کا اعتبار ختم ہوجاتا ہے۔
منافق انسان کی سب سے بڑی کمزوری یہ ہوتی ہے کہ وہ ایک قابل پیشین گوئی کردار (predictable character)کا حامل نہیں ہوتا۔ایسے انسان کے اوپر بھروسہ نہیں کیا جاسکتا۔ اس لیے کہ وہ زبان سے کچھ اور بولتا ہے مگر حقیقت کے اعتبار سے وہ کچھ اور ہوتا ہے۔ وہ اپنی گفتگو میں بظاہر اچھا نظر آتا ہے لیکن اپنے حقیقی کردار کے اعتبار سے وہ بالکل مختلف ہوتا ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ منافق آدمی حیوان سے بھی کم تر درجے کا آدمی ہے۔ اس لیے کہ حیوان اپنے کردار کو چھپاتا نہیں، جب کہ منافق ہمیشہ اس کوشش میں رہتا ہے کہ اس کا اصل کردار لوگوں کی نظروں سے چھپارہے۔
واپس اوپر جائیں

خوشی کا حصول

خوشی ہر آدمی چاہتا ہے۔ لیکن مطلوب خوشی کسی کو نہیں ملتی۔ چنانچہ خوشی عملا ایک ناقابل حصول چیز بنی ہوئی ہے۔ برٹش فلسفی برٹرینڈ رسل نے خوشی (happiness)کے موضوع پر ایک کتاب لکھی ہے۔ اس میں وہ بتاتا ہے کہ اس دنیا میں خوشی کسی کے لیے قابلِ حصول نہیں۔ اس معاملے میں اسلام نے ایک فطری فارمولا اختیار کیا ہے۔قرآن میں بتایا گیا ہے اطمینانِ قلب انسان کو صرف اللہ کی یاد (الرعد28 )سے حاصل ہوتا ہے۔ یعنی قرآن میں دو چیزوں کو ایک دوسرے سے الگ کردیا گیا ہے، مادی لذت (physical pleasure) اور ذہنی اطمینان (intellectual satisfaction)۔ اللہ کے نقشۂ تخلیق کے مطابق ، مادی لذت کامل معنوں میں صرف جنت میں ملے گی۔ اس دنیا میں جو چیز مل سکتی ہے، وہ ہے ذہنی اطمینان۔اور وہ بلاشبہ ہر انسان کے لیے قابلِ حصول ہے۔
ذہنی اطمینان یہ ہے کہ آدمی صورتِ حال کی معقول توجیہہ دریافت کرسکے۔ مثلا آپ ٹرین پکڑنے کے لیے اسٹیشن گیے۔ آپ اسٹیشن پر ٹرین کے مقرر وقت کے مطابق جاتے ہیں۔ وہاں پہنچ کر آپ کو معلوم ہوتا ہے کہ ٹرین دو گھنٹہ لیٹ ہے۔ اگر آپ کو لیٹ ہونے کا سبب معلوم نہ ہوتو آپ پریشان ہوجائیں گے۔ لیکن اگر آپ کو معلوم ہوجائے کہ ٹرین کے لیٹ ہونے کا واقعی سبب کیا ہے۔ تو آپ مطمئن ہوجائیں گے اور ذہنی سکون کے ساتھ ٹرین کی آمد کا انتظار کریں گے۔
خالق نےموجودہ دنیا کو امتحان کے لیے پیدا کیا ہے اور آخرت کو انعام کے لیے۔ اس لیے موجودہ دنیا میں مادی لذت کسی کو پورے معنوں میں نہیں مل سکتی۔ لیکن یہ ممکن ہے کہ آدمی صورتِ حال کی توجیہہ کرکے ذہنی اطمینان حاصل کر لے۔ اسلام کے مطابق خوشی کا فارمولا یہی ہے۔ مادی لذت کے معاملے میں آپ یہ کیجیے کہ ملے ہوئے پر قناعت کیجیے۔ اور نہ ملے ہوئے کو آخرت کے خانے میں ڈال دیجیے۔ اس طرح آپ کا ذہن آزاد ہوجائے گااور واقعات کی صحیح توجیہہ کر کے آپ ذہنی اطمینان حاصل کر لیں گے۔ خالق کے تخلیقی نقشے کے مطابق خوشی کے حصول کا یہی قابلِ عمل فارمولا ہے۔
واپس اوپر جائیں

پختگی کیا ہے

امریکی خاتون جرنلسٹ این لینڈرس(Esther Pauline, alias Ann Landers ) 1918 میں پیدا ہوئیں، 2002 میں ان کی وفات ہوئی۔ انھوں نے درست طور پر کہا ہے — پختگی اس صلاحیت کا نام ہے کہ آپ ان لوگوں کے ساتھ پر امن طور پر رہ سکیں جن کوآپ بدل نہیں سکتے:
Maturity is the ability to live in peace with those whom we cannot change.
یہ بلاشبہ ایک دانش مندی کی بات ہے۔ اس بات کو مزید معنوی اضافہ کے ساتھ اس طرح کہا جاسکتا ہے— پختگی اس صلاحیت کا نام ہے کہ آدمی اپنے منصوبہ کو ان حالات کے مطابق دوبارہ بنا سکے، جن کو وہ بدل نہیں سکتا:
Maturity is the ability to reset your plan according to the situation you cannot change.
اجتماعی زندگی میں بار بار ایسا ہوتا ہے کہ آدمی اپنے عمل کے لیے ایک منصوبہ (plan) بناتا ہے۔ مگر تجربے کے بعد معلوم ہوتا ہے کہ اس کا منصوبہ اصولی طور پر بظاہر درست ہونے کے باوجودعملی اعتبار سے ورکیبل (workable) نہ تھا۔
اس تجربے کے بعد آدمی دوبارہ اپنے مقصد کے لیے نیا منصوبہ بناتا ہے، ایسا منصوبہ جو حالات کے مطابق، زیادہ قابل عمل ہو۔ تجربے کی روشنی میں دوبارہ سوچنا اور اور زیادہ قابل عمل انداز میں اپنا منصوبہ بنانا بلاشبہ دانشمندی ہے۔
کامیاب منصوبہ کے لیے صرف یہی کافی نہیں کہ وہ منصوبہ بنانے والے کے نزدیک درست منصوبہ ہو۔ اسی کے ساتھ لازمی طور پر ضروری ہے کہ وہ حالات کے مطابق، ورکیبل (workable) بھی ہو۔ تجربے کے بعدآدمی کو جب محسوس ہو کہ اس کا منصوبہ قابلِ عمل نہ تھا تو اس کو فوراً اپنے منصوبہ پر نظر ثانی کرنا چاہیے۔
واپس اوپر جائیں

میرٹ کلچر، تعلقات کلچر، تزکیہ کلچر

ترقی یافتہ قومیں (developed nations) میں میرٹ کلچر (merit culture) رائج ہے۔ غیر ترقی یافتہ قوموں (underdeveloped nations) میں تعلقات کلچر کواہم سمجھا جاتا ہے۔ اس کے مقابلے میں ربانی معاشرہ وہ ہے جہاں تزکیہ کلچر پایا جائے۔ میرٹ کلچر کے ماحول میں ساری اہمیت اس بات کی ہوتی ہے کہ کوئی شخص کتنا زیادہ لائق (competent) ہے۔ ایسے ماحول میں لائق آدمی کو جگہ ملتی ہے، اور جو شخص لائق نہ ہو، اس کو رد کردیا جاتا ہے۔
جس معاشرہ میں تعلقات کلچر کا رواج ہو، وہاں یہ حال ہوتا ہے کہ ہر آدمی ذمہ داروں سے تعلق (contact) بنانے کی کوشش میں لگا رہتا ہے۔ اس کو اپنی ذاتی استعداد بڑھانے کی فکر نہیں ہوتی، البتہ وہ رات دن اس کوشش میں لگا رہتا ہے کہ ذمہ داروں سے خوب تعلق قائم کرے۔ اس کا ذہن یہ ہوتا ہے کہ تعلقات سے کام بنتے ہیں ، نہ کہ ذاتی استعداد سے۔
ربانی معاشرہ ان دونوں سے مختلف ہوتا ہے۔ ربانی معاشرہ میں ہر ایک کا کنسرن (concern) تزکیہ ہوتا ہے۔ یعنی اپنی اصلاح، اپنے آپ کو اس قابل بنانا کہ وہ اللہ کی عنایتوں کا مستحق قرار پائے، اپنے اندر وہ شخصیت بنانا جس کو شریعت میں مزکیّ شخصیت کہا جاتا ہے۔ یعنی وہ شخصیت جس کو آخرت میں جنت میں داخلہ کے لیے منتخب کیا جائے۔
دوسرے معاشروں میں لوگوں کی توجہ کا مرکز انسان ہوتے ہیں۔ یعنی اپنے آپ کو انسان کی نسبت سے لائق بنانا یا انسان کی نسبت سے اپنے آپ کو قابل قبول بنانا۔ اس کے برعکس، ربانی معاشرہ میں انسان کی توجہ کا مرکز تمام تر صرف اللہ ہوتا ہے۔ ایسے معاشرہ میں انسان اپنے آپ کو اس نظر سے دیکھنے کی کوشش کرتا ہے، جس نظر سے اس کا رب اس کو دیکھے گا۔ ایسے معاشرہ میں انسان اپنی کامیابی کو آخرت کے اعتبار سے جانچتا ہے، نہ کہ دنیا کے اعتبار سے۔ ایسے معاشرہ میں انسان کا تصور یہ ہوتا ہے کہ کامیاب انسان وہ ہے جس کو جنت میں داخلہ ملے، اور ناکام انسان وہ ہے جو جنت میں داخلہ سے محروم ہوجائے۔
واپس اوپر جائیں

امن کا مسئلہ

امن (peace) کا مسئلہ کوئی مذہبی مسئلہ نہیں ہے، وہ فطرت کا ایک قانون ہے۔ اس دنیا کے پیدا کرنے والے نے دنیا کا نظام فطرت کے قانون کے تحت بنایا ہے۔ ہر معاملے کا ایک فطری قانون ہے۔ جو آدمی اس فطری قانون کا اتباع کرے گا، وہ کامیاب ہوگا۔ اور جو شخص اس کی خلاف ورزی کرےگا، وہ ناکام ہوکر رہ جائے گا۔
اصل یہ ہے کہ دنیا کے خالق نے ہر انسان کو آزادی عطا کی ہے۔ ہر انسان پوری طرح آزاد ہے کہ وہ جو چاہے کرے، اور جو چاہے نہ کرے۔ اس بنا پر ہر سماج میں امکانی طور پر ٹکراؤ کا ماحول قائم ہوجاتا ہے۔ ایک شخص کی آزادی دوسرے شخص کی آزادی سے ٹکراتی ہے۔ یہی وہ صورتِ حال ہے جو ہر سماج میں نفرت اور تشدد کا ماحول پیدا کردیتی ہے۔
اس مسئلے کا حل کیا ہے۔ کوئی شخص اس پوزیشن میں نہیں کہ وہ لوگوں سے ان کی آزادی چھین لے۔ ایسی حالت میں کسی سماج میں امن صرف اس وقت قائم ہوسکتا ہے، جب کہ لوگ ایسا فارمولادریافت کریں، جس میں آزادی کو برقرار رکھتے ہوئے، امن قائم ہوجائے۔ یہ فارمولاصرف ایک ہے۔اور وہ ہے اصولِ اعراض (principle of avoidance)۔ یعنی ٹکراؤ سے ہٹ کرکے اپنا سفر طے کرنا۔
اعراض کا اصول ایک کائناتی اصول ہے۔ کائنات اسی اصول پر قائم ہے۔ کائنات میں بے شمار ستارے اور سیارے ہیں۔ ہر ایک مسلسل طور پر خلا میں حرکت کررہاہے۔ مگر ان کے درمیان کبھی ٹکراؤ نہیں ہوتا۔ اس کا سبب یہ ہے کہ ہر ستارہ اور سیارہ اصول اعراض کے مطابق، اپنے اپنے مدار (orbit)پر گردش کر رہا ہے۔ یہی اصول انسانوں کو بھی اپنی چوائس سےاختیار کرنا ہے۔ اس کے سوا کوئی اور طریقہ نہیں جس کے ذریعے انسانی دنیا میں امن قائم ہوسکے۔ امن کا معاملہ مذہبی عقیدہ کا معاملہ نہیں ، بلکہ وہ فطرت کا معاملہ ہے۔ امن ہر ایک کی ضرورت ہے، خواہ وہ مذہبی انسان ہو یا سیکولر انسان۔
واپس اوپر جائیں

جنگ کوئی انتخاب نہیں

امریکا کی قیادت میں صدام حسین کے خلاف عرا ق کی جنگ ہوئی۔ یہ جنگ 2003 سے 2009 تک جاری رہی۔ اس جنگ میں بظاہر امریکا کو جیت ہوئی۔ لیکن اس کے بعد اسلامک اسٹیٹ آف عراق اینڈ سیریا (ISIS) کی صورت میں ایک شدید تر مسئلہ پیدا ہوگیا۔ سابق برطانی وزیر اعظم ٹونی بلیر جو اس جنگ میں بطور حلیف شریک تھے، انھوں نے اس جنگ کو ایک غلطی قرار دیا ہے :
Iraq war contributed to rise of IS: Britain’s former PM Tony Blair has apologised for mistake made over the Iraq war and said there were '“elements of truth” to claims that the 2003 US-led invasion was the principle cause of the rise of IS. (The Times of India, New Delhi, October 26, 2015, p.22)
اس معاملے میںزیادہ صحیح بات یہ ہے کہ عراق وار انتخاب کی غلطی کا ایک کیس تھا۔ اس جنگ میں امریکا اور برطانیہ کے چار ہزار سے زیادہ فوجی مارے گیے۔ اس جنگ کا خرچ تقریبا تین ٹریلین ڈالر تھا۔ لیکن نتیجہ برعکس صورت میں نکلا، خلیج کا مسئلہ پہلے سے بھی زیادہ شدید ہوگیا۔
اصل یہ ہے کہ جنگ کی نفسیات کے مطابق ، جنگ کا خاتمہ اس طرح نہیں ہوتا کہ ایک فریق دوسرے فریق کو ہرادے۔ عملا یہ ہوتا ہے کہ ہارا ہوا فریق اپنی ہار کو تسلیم نہیں کرتا، بلکہ اس کے اندر انتقام (revenge) کی نفسیات جاگ اٹھتی ہے۔ منفی ردعمل کا یہ جذبہ اتنا شدید ہوتا ہے کہ اگر اس کے اندر جوابی جنگ کی طاقت نہ ہو تو وہ خود کش بمباری (suicide bombing) کا طریقہ اختیار کر لیتا ہے۔ یعنی اپنے آپ کو ہلاک کر کے فریقِ ثانی کو نقصان پہنچانا۔ جنگ کوئی انتخاب (choice) نہیں۔ صحیح انتخاب یہ ہے کہ جنگی صورتِ حال کو پر امن طور پر مینج کرنے کی کوشش کی جائے۔اپنے آپ کو مثبت بنیادوں پر اتنا طاقت ور بنایا جائے کہ خود مثبت تعمیر فتح کے لیے کافی ہوجائے۔
واپس اوپر جائیں

سماجی تعلقات

قرآن میں انسانی زندگی کے ایک پہلو کو ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے: وَہُوَ الَّذِی خَلَقَ مِنَ الْمَاءِ بَشَرًا فَجَعَلَہُ نَسَبًا وَصِہْرًا وَکَانَ رَبُّکَ قَدِیرًا (25:54)اور وہی ہے جس نے انسان کو پانی سے پیدا کیا۔ پھر اس کو خاندان والا اور سسرال والا بنایا۔ اور تمھارا رب بڑی قدرت والا ہے۔
انسان کو سماجی حیوان (social animal) کہا جاتا ہے۔ حیوانوں کے اندر سماجی تعلقات نہیں ہوتے۔ جب کہ انسانوں کے درمیان سماجی تعلقات ہوتے ہیں۔ یہ سماجی تعلقات دو طریقہ سے قائم ہوتے ہیں۔ ایک ، خونی رشتہ (blood relationship)کے ذریعے، اور دوسرے، ازدواجی تعلقات (wedlock) کے ذریعے۔ یہ دونوں چیزیں فطری طور پر انسان کے اندر موجود ہوتی ہیں۔ انسان کی اسی فطرت کی بنا پر سماج (society) بنتا ہے، اور اسی کی ترقی سے تہذیب وجود میں آتی ہے۔ انسانوں کے درمیان اگر سماج نہ ہو تو تہذیب کا وجود بھی نہ ہوگا۔
انسان کو اللہ تعالی نے جن امتیازی اوصاف کے ساتھ پیدا کیا ہے، ان میں سے ایک اہم صفت وہ ہے جو قرآن کی اس آیت میں بیا ن کی گئی ہے۔ انسان کے اندر فطری طور پر رشتے کے مذکورہ اسباب موجود نہ ہوں تو انسانوں کے درمیان سماج نہیں بنے گا۔ اور اگر سماج نہ بنے تو انسانوں کے اندر اجتماعیت وجود میں نہ آئے گی۔ انسان بھی اسی طرح جنگلوں میں رہے گا، جس طرح حیوانات جنگلوں میں رہتے ہیں۔
جنگل میں حیوانات رہتے ہیں لیکن ان کے درمیان سماجی نوعیت کا کوئی نظام نہیں ہوتا۔ سماجی تعلقات صرف انسان کی صفت ہے۔ سماجی تعلقات کی بے حد اہمیت ہے۔ اسی سماجی تعلقات کی وجہ سے انسانی زندگی کی تمام ترقیاں ہوتی ہیں۔ حتی کہ تہذیب اسی سماجی زندگی کا ایک اعلی اظہار ہے۔ سماجی تعلقات نہ ہوں تو انسانی زندگی بھی حیوانی زندگی بن کر رہ جائے گی۔
واپس اوپر جائیں

شادی کا مسئلہ

ایک صاحب نے اپنی پسند کی ایک خاتون سے شادی کی۔ شادی کے کچھ دنوں بعد ان سے میری ملاقات ہوئی۔ گفتگو کے دوران انھوں نے کہا کہ شادی سے پہلے مجھے ایسا محسوس ہوتا تھا کہ میرا ہوائی جہاز فضا میں اڑ رہا ہے۔ مگر شادی کے بعد ایسا معلوم ہواجیسےکہ میرا جہاز کریش (crash) ہوگیا، اور میں جہاز کے ساتھ زمین پر گرپڑا ۔
یہ ایک شخص کی بات نہیں۔ شادی سے پہلے اور شادی کے بعد کے معاملے میں اکثر لوگوں کا احساس کم و بیش یہی ہوتا ہے۔ ایسا کیوں ہے۔ اس کا بنیادی سبب یہ ہے کہ عورت اپنے مزاج کے اعتبار سے جذباتی ہوتی ہے۔ بچپن سے شادی کی عمر تک وہ اپنے خونی رشتوں کے درمیان رہتی ہے۔ اس بنا پر اس کو اپنے خونی رشتوں سے خصوصی لگاؤ ہوجاتا ہے۔ جب کہ شادی کے بعد اس کو اپنے سسرالی رشتوں (in laws) کے ساتھ رہنا پڑتا ہے۔عورت ، شعوری یا غیر شعوری طور پر، اپنے آپ کو اس فرق کے ساتھ ہم آہنگ نہیں کرپاتی۔ اس سے طرح طرح کے مسائل پیدا ہوتے ہیں۔ اور شادی عملاً، پرابلم میرج (problem marriage) بن جاتی ہے۔
اس مسئلے کا حل یہ نہیں ہے کہ سسرالی رشتوں اور غیر سسرالی رشتوں کا فرق ختم ہو۔ یہ ایک فطری فرق ہے جو ہمیشہ باقی رہے گا۔ اس مسئلے کا عملی حل صرف ایک ہے۔ وہ یہ کہ آدمی شعوری طور پر یہ جان لے کہ وہ ایک فطری مسئلہ سے دوچار ہے۔ جس کووہ ختم نہیں کرسکتا۔ آدمی اگر شعوری طور پر اس بات کو جان لے تو اس کے اندر ایڈجسمنٹ (adjustment)کا مزاج پیدا ہوگا۔ اس کے اندر یہ سوچ بیدا رہوجائے گی— جس مسئلے کو میں بدل نہیں سکتا اس کو مجھے نبھانا چاہیے، اس کے ساتھ مجھے ایڈجسٹ کرکے رہنا چاہیے۔اس فرق کا ایک مثبت پہلو ہے۔ یہ فرق آدمی کو ذہنی جمود (intellectual stagnation)سے بچاتا ہے۔ اس بنا پر آدمی کے اندر ذہنی ارتقا کا عمل رکے بغیر جاری رہتا ہے۔
واپس اوپر جائیں

غیر ادیب کی ادبی تخلیق

ایک طالب علم نے ادب کے موضوع پر ایک کتاب لکھی ۔ اس نے اپنی یہ کتاب ایک اسکالر کو یہ کہہ کر پیش کی کہ یہ میری پہلی تخلیق ہے ۔ اسکالر نے کتاب دیکھ کر کہاکہ یہ ایک غیر ادیب کی ادبی تخلیق ہے۔اسی طرح ایک شخص نے ایک غیر علمی کتاب لکھی اور اس کو شائع کیا۔ ایک عالم نے کتاب دیکھنے کے بعد تعجب سے کہا: ایک غیر مصنف نے تصنیف تیار کی ہے۔
یہ کلچر غیر ترقی یافتہ ملکوں میںبہت عام ہے۔ یہاں اکثر ایسا ہوتا ہے کہ ایک غیر امام، امام بن جاتا ہے۔ ایک غیر لیڈر، لیڈر بن جاتا ہے۔ ایک غیر عالم، عالم بن جاتا ہے۔ ایک غیر ڈاکٹر، ڈاکٹر بن جاتا ہے۔ ایک غیر مصنف، مصنف بن جاتا ہے۔ ایک غیر صحافی، صحافی بن جاتا ہے، وغیرہ۔ اس قسم کی صورتِ حال کو دیکھ کر ان ملکوں میں ایک مثل عام ہے— نیم حکیم خطرۂ جان، نیم ملا خطرۂ ایمان۔
میری ملاقات ایک نوجوان سے ہوئی۔ انھوں نے کہا کہ میں نے آپ کی کتابیں پڑھی ہیں۔ مجھے آپ کی کتابیں بہت پسند ہیں۔ میں بھی اسی طرح کی کتاب لکھنا چاہتا ہوں۔ مجھے اس سلسلے میں مشورہ دیجیے۔ میں نے کہا :آپ بیس سال عربی کتابیں پڑھیے۔ بیس سال انگریزی کتابیں پڑھیے۔ بیس سال لکھنے کی مشق کیجیے۔ اس کے بعد آپ کو لکھنا آجائے گا۔
کسی کام کو اچھی طرح انجام دینے کے لیے لمبی مدت تک تیاری کرناضروری ہوتا ہے۔ بغیر لمبی مدت کی تیاری کے کوئی شخص قابلِ ذکر کام انجام نہیں دے سکتا۔اس حقیقت کوالطاف حسین حالی نے اپنے ایک شعر میں اس طرح بیان کیا ہے:
اک عمر چاہیے کہ گوارا ہو نیش عشق رکھی ہے آج لذتِ زخم جگر کہاں
علی ابن ابی طالب کا ایک قول ہے قیمۃ کل امرء ما یحسن(جامع بیان العلم، حدیث نمبر608)۔ زندگی کااصول یہ ہے کہ آدمی یہ دریافت کرے کہ وہ کس کام کو زیادہ بہتر طور پر انجام دے سکتا ہے، اسی کو وہ انجام دے۔ کم تر درجے کا کام انجام دینا صرف وقت کا ضیاع ہے، اس کا کوئی حقیقی فائدہ نہیں۔
واپس اوپر جائیں

ریزرویشن کے بغیر

ایک صاحب نے کہا کہ انڈیا میں مسلمانوں کے لیے ریزرویشن بہت ضروری ہے۔ ریزرویشن کے بغیر وہ اس ملک میں ترقی نہیں کرسکتے ہیں۔ میں نے کہا کہ انڈیا ہو یا کوئی دوسرا ملک، ہر جگہ فطرت کا ایک ہی اٹل قانون ہے۔ اس قانون کے مطابق، ریزرویشن کسی کمیونٹی کے لیے ترقی کا ذریعہ نہیں۔
ریزرویشن، برعکس طور پر، ترقی میں رکاوٹ ہے۔ ریزرویشن آدمی کے اندر کامپٹیشن کی اسپرٹ ختم کردیتا ہے۔ ریزرویشن کے ذریعے کسی کو کوئی معمولی فائدہ تو مل سکتا ہے۔ لیکن ریزرویشن کے ذریعے بڑی ترقی نہیں ہوسکتی۔ اگر آپ کسی کو فیور نہ دیں تو آپ اس کو زیادہ بڑی چیز دیتے ہیں۔ اور وہ محنت کا محرک (incentive) ہے۔
فیور نہ ملنے کی وجہ آدمی کےاندریہ سوچ جاگتی ہے کہ مجھے کسی کی مہربانی سے کچھ ملنے والا نہیں۔ اس بنا پر میرے لیے ایک ہی صورت ہے۔ وہ یہ کہ محنت کرکے میں میرٹ (merit) میں آنے کی کوشش کروں۔ یہ سوچ اس کے اندر محنت کے حق میں ایک کمپلشن (compulsion)پیدا کرتی ہے۔ اس کی سوئی ہوئی طاقتیں جاگ اٹھتی ہیں۔ پہلے اگر وہ مین (man)تھا تو اب وہ سوپر مین (superman)بن جاتا ہے۔ اور آخر کار بڑی کامیابی تک پہنچ جاتا ہے۔
محنت کے ذریعے آگے بڑھنے والے انسان کے اندر اور بھی کئی خصوصیات پیدا ہوتی ہیں۔ اس کے اندر خود اعتمادی (self-confidence) پیدا ہوتی ہے۔ اس کے اندر حقیقت پسندی (realistic approach)آتی ہے۔ اس کے اندر شکایت کی نفسیات ختم ہوجاتی ہے۔ وہ دوسروں کے لیے اچھی مثال قائم کرتا ہے۔ وہ وقت اور مال دونوں کے استعمال کے معاملے میں سخت محتاط ہوجاتا ہے۔ وہ سماج کا ایک دینے والا(giver) ممبر بن جاتا ہے۔
واپس اوپر جائیں

معکوس پبلسٹی

عبداللہ اینڈ کمپنی لمیٹیڈ ایک سگریٹ ساز کمپنی تھی جو 1902 میں لندن میں قائم ہوئی۔ وہ سگار اور سگریٹ بناتی تھی۔ اس کمپنی کا ایک سگریٹ جس کا نام عبد اللہ تھا، بہت مقبول ہوا۔ اس مقبولیت کا راز یہ ہے کہ کمپنی کے کچھ آدمی مشہور برٹش رائٹر جارج برنارڈ شا (George Bernard Shaw) (وفات1950) کے پاس گئے اور ان سے کہا کہ آپ ہماری سگریٹ کے بارے میں کچھ لکھ دیجئے۔ برنارڈ شا نے کہا: میں اسموکنگ کے خلاف ہوں، میں کیسے اس کے بارے میں لکھوں۔ کمپنی والوں نے کہا کہ آپ یہی بات لکھ دیجئے۔ برنارڈ شا غصہ ہوگیا۔ اس نے غصے میں ایک کاغذ اٹھایا اور اس پر یہ الفاظ لکھ دیئے:
“Don't smoke, even Abdulla”,
کمپنی والوں نے برنارڈ شا کے الفاظ اخبار میں چھاپ دیئے۔ جب لوگوں نے برنارڈ شا کا یہ ریمارک پڑھا تو عبداللہ سگریٹ کے بارے میں ان کا شوق بڑھ گیا۔ سگریٹ کی دکانوں پر عبد اللہ سگریٹ خریدنے والوں کی بھیڑ لگ گئی۔ یہاں تک کہ عبد اللہ سگریٹ اس زمانے کا سب سے زیادہ بکنے والا سگریٹ بن گیا، کمپنی والوں نے اس سے بہت پیسہ کمایا۔
اگر بولنا الٹا نتیجہ پیدا کرنے والا ہو تو آدمی کو چاہئے کہ وہ چپ رہے۔ کبھی خاموشی کے ذریعے وہ مقصد زیادہ بہتر طور پر حاصل کیا جاسکتا ہے جس مقصد کو انسان بول کر حاصل کرنا چاہتا ہے۔ کیوں کہ اصل چیز نتیجہ ہے نہ کہ بولنا۔
اس دنیا میں جس طرح بولنا ضروری ہے، اسی طرح چپ رہنا بھی ضروری ہے۔ یہ آدمی کی دانش مندی کا امتحان ہے کہ وہ یہ جانے کہ کب اس کو بولنا ہے اور کب اس کو بولنے سے رک جانا ہے۔ آدمی کو چاہیے کہ وہ حالات کا جائزہ لے ، وہ نتیجہ کو سامنے رکھتے ہوئے اپنے عمل کا منصوبہ بنائے۔ عمل وہی درست ہے جو نتیجہ خیز ہو۔
واپس اوپر جائیں

سوال وجواب

سوال
غیبت اور تنقید میں کیا فرق ہے، اس کی وضاحت فرمائیں ۔(شہنواز ظفر، دہلی)
جواب
غیبت کا حکم قرآن کی سورہ الحجرات آیت نمبر 12 میں آیا ہے۔ اسی طرح غیبت کے بارے میں ایک مشہور حدیث  ہے۔ یہ حدیث صحیح مسلم حدیث نمبر 2589 کے تحت موجود ہے۔ علماء نے اس پر کافی لکھا ہے۔ آپ اس کے بارے قرآن کی تفسیروں اور حدیث کی شرحوں میں دیکھ سکتے ہیں۔
غیبت کی تعریف اس طرح کی جاتی ہے: آدمی کسی شخص کے پیٹھ پیچھے اس کے متعلق ایسی بات کہے جو اگر اسے معلوم ہو تو اس کو ناگوار گزرے۔ یہ غیبت کی درست تعریف ہے۔ لیکن تنقید (criticism) کا معاملہ اس سے الگ ہے۔ غیبت اور تنقید کو ہم معنی سمجھنا صحیح نہیں۔
غیبت کی اصل پیٹھ کے پیچھے برائی کرنا (backbiting) ہے۔ یہ بلاشبہ ایک اخلاقی برائی ہے۔ اور قرآن و حدیث میں جس چیز کو برا بتایا گیا ہے وہ یہی غیر اخلاقی عادت ہے۔ کسی کی برائی اگر اس کے سامنے کی جائے تو اس آدمی کو موقع ہوتا ہے کہ وہ اس کی وضاحت کرے۔ آدمی کی غیر موجودگی میں اس کی برائی کرنا اس لیے غلط ہے کہ اس کی وضاحت کرنے کے لیے وہ وہاں موجود نہیں ہوتا۔
غیبت ایک اخلاقی برائی ہے۔ اس کے مقابلے میں تنقید ایک علمی ضرورت ہے۔ اس اعتبار سے تنقید کا زیادہ درست لفظ تجزیہ (analysis) ہے ۔ تجزیہ ایک ایسی علمی ضرورت ہے جس کے بغیر علم کا ارتقاء نہیں ہوسکتا۔ تنقید کو غیبت کے ہم معنی سمجھنا اور اس پر پابندی لگانا علمی ترقی اور ذہنی ڈیولپمنٹ (intellectual development) کو ختم کردیتا ہے۔ اس کے بعد جو چیز باقی رہتی ہے، وہ ذہنی جمود (intellectual stagnation) ہے۔علمی تنقید کا تعلق کسی شخص کی ذاتی برائی بیان کرنا نہیں ہوتا۔ اس کا مقصد صرف یہ ہوتا ہے کہ معلوم حقائق (known facts) کی بنیاد پر کسی کے نقطہ نظر کا صحت و سقم بیان کرنا۔
شخصی برائی اور علمی تجزیہ کے درمیان یہ فرق ہے کہ شخصی برائی کا صحیح یا غلط ہونا صرف وہی آدمی جان سکتا ہے جس کی ذات کے بارے میں برائی کی گئی ہو۔ اس کی ذات کے باہر ایسا کوئی ذریعہ نہیں ہوتا جس سے یہ معلوم کیا جاسکے کہ اس کی ذات کے بارے میں جو کچھ کہاگیا ہے وہ درست ہے یانہیں۔ اسی لیے شخصی برائی (غیبت) کی یہ لازمی شرط ہے کہ اس کو جب بیان کیا جائے تو وہاں خود وہ شخص موجود ہو جس کی ذات کے بارے میں برائی بیان کی گئی ہے۔
تجزیاتی تنقید (critical analysis) کا معاملہ اس سے مختلف ہے۔تجزیاتی تنقید ہمیشہ معلوم حقائق (known facts)کی بنیاد پر ہوتی ہے۔ اس کے بارے میں ہمیشہ خارجی ریکارڈ موجود ہوتا ہے۔ اس لیے ریکارڈ سے تقابل کرکے یہ معلوم کیا جاسکتا ہے کہ تنقید کرنے والے کی تنقید درست تھی یا غلط۔
مثلا اگر آپ کسی کے بارے میں یہ کہیں کہ وہ منافق ہے۔ تو یہ قول ایک سبجکٹیو (subjective) قول ہوگا۔ اس قول کی تحقیق کرنے کے لیے کوئی خارجی مواد نہیں ملے گا۔ اس لیے اس طرح کے بیان کے لیے ضروری ہے کہ متعلق شخص وہاں موجود ہو تاکہ وہ ایسے کسی قول کی خود سے وضاحت کرسکے۔ اس کے برعکس، اگر آپ کسی کے بارے میں یہ کہیں کہ اس نے اپنی فلاں مطبوعہ کتاب میں فلاں واقعہ کی تعریف غلط لکھی ہے، توہر شخص کو یہ موقع ہوتا ہے کہ وہ اس مطبوعہ کتاب کو حاصل کرے اور تاریخی ریکارڈ سے تقابل کرکے اس بیان کا صحیح یا غلط ہونا معلوم کرے۔ یہی وجہ ہے کہ کسی شخص کی ذات کے بارے میں تنقیص ناجائز ہے۔ اور کسی شخص کی بات کا علمی تجزیہ کرنا عین جائز ہے۔
واپس اوپر جائیں

خبرنامہ اسلامی مرکز— 243

1۔ ابھی حا ل میں صدر اسلامی مرکز کے ترجمہ قرآن کو فرنچ زبان میں گڈورڈ بکس (نئی دہلی) نے شائع کیا ہے۔ اس کا مقصد لوگوں تک زیادہ سے زیادہ قرآن کو پہنچانا ہے۔اس فرنچ ترجمہ کومز شہناز بنبیکٹا نے صدر اسلامی مرکز کے ترجمہ قرآن (انگلش) سے تیار کیا ہے۔ وہ پیرس (فرانس) میں رہتی ہیں۔
2۔ ندوة المجاہدین (کیرلا) کے اسٹیٹ جنرل سکریٹری جناب صلاح الدین مدنی نے صدر اسلامی مرکز کے امن کے موضوع پر منتخب انگریزی مضامین کو ملیالم زبان میں“Samathanathintey Samskaram” یعنی ’کلچر آف پیس‘ کے نام سے ریلیز کیا۔اس موقع پر سیاسی پارٹی کے لیڈران بھی اسٹیج پر موجود تھے۔ مسٹر شبیر علی ، چیپٹر ہیڈ کیرالا ٹیم نے صدر اسلامی مرکز کے پیس مشن کا تعارف کرایا اور تمام شرکاء کے درمیان ملیالم زبان میں دعوتی لٹریچر تقسیم کیا گیا۔
3۔ 21فروری 2016 کو سری فورٹ آڈیٹوریم (نئی دہلی) میں واک آف ہوپ (Walk of Hope) کی طرف سے ایک پروگرام منعقد ہوا۔ یہ این جی او امن وبھائی چارہ کے لیے کام کرتی ہے۔اس میں صدر اسلامی مرکز نے خطاب کیا۔اس کے علاوہ سی پی ایس دہلی کے ممبران نے پروگرام میں شریک ہونے والوں کے درمیان دعوہ لٹریچر تقسیم کیا ۔
4۔ 26فر وری 2016 کو انڈیا انٹرنیشنل سنٹر، لودھی روڈ، نئی دہلی میں 'اسپریچول وزڈم اینڈ ہولسٹک ورلڈ آرڈر ' کے عنوان سے ایک کانفرس کا انعقاد ہوا۔ اس میں صدر اسلامی مرکز نے بین مذاہب تعلقات کے موضوع پر ایک تقریر کی۔ اس پروگرام کی خاص بات یہ رہی کہ آرگنائزر نے خود سے صدر اسلامی مرکز کے ترجمۂ قرآن اور دیگر دعوتی لٹریچر کو لوگوں کے درمیان تقسیم کیا، نیز پروگرام کے مقام پر ایک کارنر میں دعوتی لٹریچر رکھنے کا موقع دیا۔ تمام لوگوں نے خوش دلی سے ترجمہ قرآن اور سپورٹنگ لٹریچرس حاصل کیا۔
5۔ 28 فروری 2016کو اٹلی کے ایک وفد نے مسٹر ماریو کونتی(Mario Conti) کی قیادت میں صدر اسلامی مرکز سے ان کی رہائش گاہ، نظام الدین ویسٹ ، نئی دہلی میں ملاقات کی۔ اس موقع پر صدر اسلامی مرکز نے مختلف موضوعات پر گفتگو کی ۔ اس کے بعد ان کو دعوہ لٹریچرگفٹ کیاگیا۔اس موقع پر ثانی اثنین خاں کی انگریزی کتاب ’’مائی فرسٹ قرآن اسٹوری بک‘‘ کے اٹالین زبان میں ترجمے کا اجرا بھی کیا گیا۔ واضح رہے کہ یہ گروپ اس سے پہلے بھی صدر اسلامی مرکز سے ملاقات کرچکا ہے۔
6۔ گڈ ورڈ بکس (Goodword Books)نے مختلف انٹرنیشنل بک فیر میں شرکت کی ۔ جیسےمسقط بک فئیر، عمان، چائنا بک فیر، دبئی بک فیسٹیول وغیرہ۔ ان تمام بک فیئر میں آنے والے لوگوں کے درمیان ترجمہ قرآن اور دعوہ لٹریچر تقسیم کیا گیا۔
7۔ کشمیر میں بڑے پیمانے پر دعوتی کام کیا جارہا ہے۔ حال ہی میںشمالی کشمیر میں تعینات فوجیوں کے درمیان تقسیم کرنے کے لئے 400 ترجمہ قرآن بھیجے گئےاور 100 ترجمہ قرآن ہماچل پردیش ہائی کورٹ کے ججوں اور وکلاء کے لئے بھیجے گئے۔اس کے علاوہ ہوٹلوں کے ذریعہ سیاحوں کے درمیان بڑے پیمانے پر دعوتی کام کیا جارہا ہے۔ جناب عبد السلام حمید نجار (منیجرہوٹل دار السلام، سری نگر) ہوٹل میں آنے والے لوگوں کو ترجمہ قرآن پیش کرتے ہیں۔ اور 100 کاپیاں پنجاب ہوٹل (سری نگر) میں سیاحوں کے لئے رکھی گئی ہیں۔نیز سری نگر کے دیگر ہوٹلوں میں بھی انگلش ترجمہ قرآن سیاحوں کے لئے رکھےگئے۔ واضح ہو کہ کشمیر میں آنے والے سیاحوں کی اکثریت یورپ کی ہوتی ہے۔ جن کے درمیان یہ کام کشمیر ٹیم کے تعاون سے انجام دیا جارہا ہے۔(مسٹر حمید اللہ حمید، کشمیر)۔
8۔ 27 مارچ 2016 کو انگلش میگزین لائف پازیٹیو نئی دہلی کی طرف سے انڈیا ہیبٹیٹ سنٹر (نئی دہلی) میں ایک پروگرام کا انعقاد ہوا۔یہ پروگرام میگزین کے بیسویں سالگرہ کی مناسبت سے منعقد کیا گیا تھا۔اس موقع پر صدر اسلامی مرکز کو مہمانِ خصوصی کے طور پر مدعو کیا گیا تھا۔ ڈاکٹر کرن سنگھ (ایم پی، راجیہ سبھا) بھی اسٹیج پر موجود تھے۔اس پروگرام میں صدر اسلامی مرکز نے حاضرین سے خطاب کیا۔ دوران پروگرام سی پی ایس ممبران نے لوگوں میں دعوہ لٹریچر تقسیم کیا۔
9۔ صدر اسلامی مرکز نے 20مارچ 2016 کے اپنے سنڈے خطاب میں اسوہ رسول پر خطاب کیا۔ اس خطاب کا پس منظر یہ تھا کہ لاہور میں سی پی ایس پاکستان نے ایک سینٹر کا افتتاح کیا ہے۔ اس مناسبت سےسی پی ایس پاکستان سے تعلق رکھنے والے تقریباً 50 ممبران مختلف علاقوں سے لاہور میں اکٹھا ہوئے تھے۔ انھوں نے اجتماعی طور پر صدر اسلامی مرکز کا خطاب سنا اور سی پی ایس کے پیغام کو پاکستانی عوام تک پہنچانے کے عہد کی تجدید کی۔
10۔ پاکستان سے موصول ہونے والی ایک اور خبرکے مطابق، 23مارچ 2016 کو سی پی ایس راولپنڈی (پاکستان) کی خواتین کا ہفتہ وار اجتماع ہوا۔اس اجتماع میں مس شبانہ ادیب نے تذکیر القرآن سے سورہ شعراء کی آخری آیات کی تفسیربتائی۔ حدیث کے بعد الرسالہ مارچ 2016 کے مضمون ’’شخصیت کی تعمیر‘‘ اور واٹس ایپ 919999944119)+)سے موصول ہونے والے لکچر ’’لیک آف تھنکنگ‘‘ (Lack of Thinking)پر ڈسکشن ہوا۔ اس کے بعد صدر اسلامی مرکز کی کتاب ’’اسلام ایک تعارف‘‘ سےایک چیپٹر پڑھ کر سنایا گیا۔ آخر میں دعا کے بعد یہ پروگرام ختم ہوا۔
11۔ 31مارچ 2016 ، سی پی ایس راولپنڈی کی ممبر شبانہ ادیب نے رزلٹ ڈے پر مقامی اسکول میں الرسالہ اور مولانا کی دیگر کتابیں اساتذہ ، والدین اور مہمانان خصوصی میں تقسیم کیں۔تمام لوگوں نے ان کوشکریہ کے ساتھ قبول کیا۔
12۔ 20 مارچ 2016 کو انڈیا ہیبٹٹ سنٹر میں پنگوئن انڈیااور اسپرنگ فیور کے اشتراک سے ایک لٹریری فیسٹ کا انعقاد کیا گیا۔ اس موقع پر سی پی ایس دہلی کی ایک ٹیم نے ترجمہ قرآن اور دعوہ لٹریچر لوگوں کے درمیان تقسیم کیا۔ شرکاء نے نہایت خوشی اور جذبہ تشکر کے ساتھ اس کو قبول کیا۔قرآن حاصل کرنے کے لئے لوگوں میں اتنا زیادہ شوق تھا کہ پروگرام شروع ہونے سے پہلے ہی پورا اسٹاک ختم ہوگیا ۔ ایک خاتون نے اپنےتبصرہ میں کہا کہ خدا مجھ سے چاہتا ہے کہ میں اس کو پڑھوں۔ایک صاحب نے کہا کہ آپ کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک اس کو پہنچانا ہے۔یہ الفاظ جہاں مثبت اور حوصلہ بخش پیغام دے رہے ہیں وہیں ہماری ذمہ داریوں کومزید بڑھا رہے ہیں۔
13۔ 3اپریل 2016 کو صدر اسلامی مرکز نے C-29 نظام الدین ویسٹ میں’’مولانا وحید الدین خاں پیس فاؤنڈیشن ‘‘ کا افتتاح کیا۔ اس فاؤنڈیشن کا مقصد سیکولر دنیا میں اسلام کا مثبت تعارف کرانا ہے۔اس موقعے پر صدر اسلامی مرکز نے دعوت کی اہمیت پر ایک تقریر کی۔ اس تقریر کو سی پی ایس کی ویب سائٹ پر پوڈکاسٹ (Podcast) کے تحت سنا جاسکتا ہے۔ اس خطاب کو سن کر مس شبینہ مہتاب نے اپنے گہرے تاثر کا اظہار اس طرح کیا آپ کا ہر ہر لفظ اتنا زیادہ متاثر کرتا ہے کہ وہ سیدھا دل و دماغ میں اتر جاتا ہے۔ آپ کا خطاب سننے کے بعد ہم نے فیصلہ کیا ہے کہ ہمارا پہلا اور آخری کام دعوتی عمل ہے۔
14۔ 7 اپریل 2016مسٹر اشوک تیاگی (جنرل سکریٹری، انٹرنیشنل چیمبرآف میڈیا اینڈ انٹرٹینمینٹ انڈسٹری) نے صدر اسلامی مرکز سے ملاقات کی۔اور روحانیت اور امن پر تبادلہ خیال کیا۔ آخر میں ان کو صدر اسلامی مرکز کی کتابوں کا ایک سیٹ دیا گیا۔ موصوف نے شکریہ کے ساتھ اسے قبول کیا۔
15۔ 17-13 اپریل 2016 کے درمیان سی پی ایس ممبئی اور حیدرآباد ٹیم اور تامل ناڈو ٹیم نے چنئی میں دعوۃ میٹ کا انعقاد کیا۔اس کا مقصد دعوتی مواقع کو استعمال کرنا اور دعوہ ورک کو اپنے چیپٹر کے اندر تحریک دینا اور داعی ہنٹگ تھا۔ چنئی میں مختلف پروگرام اور لوگوں سے ملاقات کے علاوہ ، میٹ کے شرکاء نے تامل ناڈو کے مختلف علاقوں کا دورہ کیا۔ مثلا کوئمبتور، آمبور وشارم، وانمباڑی، اور عمر آباد۔اس میں الرسالہ کے قارئین، علماء اور مسلم و غیرمسلم قائدین سے ملاقات کی گئی، اور اسلام کے پرامن مشن کو آگے بڑھانے پر اتفاق کیا گیا۔
16۔ 16 اپریل 2016 کو سی پی ایس سہارن پور کی ٹیم نے ڈاکٹر اسلم خان کی قیادت میں واگھہ بارڈر کا دورہ کیا۔ اس کا مقصد دونوں قوموں کے درمیان امن کے پیغام کو پہنچانا تھا۔ بارڈر پر موجود انڈیا کے افسران نے سی پی ایس ٹیم کا پرجوش خیر مقدم کیا۔ ٹیم نے ہند-پاک بارڈر پر دعوت کا کام کیا۔ اور بارڈر انچارج جناب ہرمندر سنگھ کے ساتھ انٹرایکشن کیا۔
ذیل میں کچھ تاثرات دیے جارہے ہیں
l میں نے ایک صاحب کو انگلش ترجمہ قرآن گفٹ کیا۔ وہ چند سکنڈ میری طرف دیکھتے رہے پھرانھوں نے کہا کہ میں نے سعودی عرب میں 5سال سے زیادہ کام کیا ہے۔ وہاں پر کسی نے مجھ کو قرآن کی ایک بھی کاپی نہیں دی تاکہ میں اس کو سمجھ سکوں۔ انھوں نے کچھ مزید نسخے مانگے تاکہ وہ انھیں اپنے احباب کو دے سکیں۔ وہ اب بھی میرے رابطے میں ہیں۔(نغمہ صدیقی، نئی دہلی)
l آپ کی کتابوں نے میری پوری زندگی کو بدل دیا ہے۔ اللہ آپ کو آخرت میں نوازے۔(جاوید اقبال، ویسٹ بنگال)
l سی پی ایس کی طرف سے پوری دنیا میں مسلم اور غیر مسلم حضرات کو ترجمہ قرآن پوسٹ کے ذریعے ارسال کیا جاتا ہے۔ ترجمہ قرآن کی کاپی موصول ہونے کے بعد ایک صاحب نے اپنے گہرے تاثر اور شکریہ کا پیغام ان الفاظ میں بھیجا ہے
Dear Team CPS, I am very pleased to see that this copy of the Holy Book has been delivered to me via post. It is a great pleasure for me to have this wonderful book. And the best thing is that it has translation along with it. Now I can easily understand the Holy Quran without any difficulties. May God bless you for such a wonderful job you are doing. Thank you. (Abdul Muizz)
l امریکا میں خواجہ کلیم الدین صاحب نے ایک جیل میں انگلش ترجمہ قرآن بھیجا تھا ۔ اس پر درج ذیل ای میل موصول ہوئی:
May Allah reward you for sending copies of the Quran! It is a great help in dawah. (Khalil Abdul Khabir, Chaplain, Onondaga Correctional Facility, New York)
l بنگلور ٹیم نے کرشچن انٹرفیتھ کانفرنس میں شرکت کی تھی۔ اس پر بنگلور ٹیم کو شکریہ کا درج ذیل خط موصول ہوا:
Dear Madam Fathima Sarah, Thank you so much for your presentation at our Indian Theological Meeting. You have presented a very refreshing and inspiring vision of Islam with much clarity and conviction. All our participants appreciated your presentation. Ultimately, what God wants from us is to live as authentic humans and relate with one another as humans and bring glory to God. May God bless you for all your good works! (Fr Jacob Parappally, 27 April 2016, 39th Annual Meet and Conference, Bangalore)
واپس اوپر جائیں