Pages

Sunday, 1 January 2017

Alrisala January 2017 (الرسالہ جنوری)

7

-تخلیق کی منزل

14

-پیغمبر اسلام کا رول

18

-اخوان رسول

20

-ماکان و ما یکون

22

-دورِ تائید

26

-قتال، جہاد

29

-معاونِ اسلام تہذیب

32

-قرآن اور عصر جدید

40

-سیاسی اقتدار کی نوعیت

42

-عہد اسلام

44

-انسانیت انتظار میں

45

-مسلمان اور دور حاضر

46

-اجتہاد کا فقدان

48

-حکمت کی آفاقیت

49

- ایک خط

50

- ایک انٹرویو کا خلاصہ


تخلیق کی منزل

تخلیق کی منزل (goal of creation) کیا ہے۔ یعنی پیدا کرنے والے نے کیوں موجودہ دنیا کو پیدا کیا۔ اس تخلیقی عمل کا مقصد کیا ہے، اور یہ تخلیقی سفر آخر کار کہاں تک پہنچنے والا ہے۔ قرآن اور انسانی تاریخ کے مطالعے سے اس کا جو جواب معلوم ہوتا ہے، اس کو یہاں درج کیا جارہا ہے۔
اس سوال کا جواب مختصر طور پر یہ ہے کہ تخلیق کا مرکزی کردار انسان ہے، اور تخلیق کی منزل جنت (Paradise) ہے۔جو کہ انسان کے لیے معیاری دنیا (ideal world) ہے۔آغاز سے اختتام تک یہ ایک لمبا سفر ہے، جو مختلف مراحل سے گزرتا ہے، اور آخر کار وہ ابدی جنت تک پہنچتا ہے۔ آخری دور کے بارے میں قرآن میں یہ بتایا گیا ہے:یَوْمَ تُبَدَّلُ الْأَرْضُ غَیْرَ الْأَرْضِ وَالسَّمَاوَاتُ (14:48)۔ یعنی جس دن یہ زمین ایک اور زمین سے بدل دی جائے گی اور آسمان بھی۔ اس تبدل (change) کا مطلب یہ ہے کہ موجودہ دنیا کو بدل کر وہ دنیا بنائی جائے گی، جس کو قرآن میں آخرت کی دنیا کہا گیا ہے۔
یہ دوسری دنیا ایک معیاری دنیا ہوگی۔ موجودہ دنیا میں صالح اور غیر صالح، دونوں ملی جلی حالت میں آباد ہیں۔ اسی کے نتیجے میںیہاں ہمیشہ وہ غیر مطلوب صورتِ حال پیدا ہوتی ہے، جس کو منفی طور پر پرابلم آف ایول (problem of evil) کہا جاتا ہے۔اگلی دنیا میں دونوں قسم کے انسانوں کو ایک دوسرے سے الگ کردیا جائے گا۔اس کے بعد زمین ایک اور زمین کی صورت میں ہمیشہ کے لیے قائم ہوجائے گی۔
اس واقعہ کو زبور اور قرآن، دونوں میں بیان کیا گیا ہے۔ قرآن کے الفاظ یہ ہیں: وَلَقَدْ کَتَبْنَا فِی الزَّبُورِ مِنْ بَعْدِ الذِّکْرِ أَنَّ الْأَرْضَ یَرِثُہَا عِبَادِیَ الصَّالِحُونَ (21:105) ۔ موجودہ زبور میںیہ حوالہ ان الفاظ میں موجود ہے: بدکردار کاٹ ڈالے جائیں گے لیکن جن کو خداوند کی آس ہے ملک کے وارث ہوں گے— شریروں کی نسل کاٹ ڈالی جائے گی۔صادق زمین کے وارث ہوں گے اور اس میں ہمیشہ بسے رہیں گے :
For evildoers shall be cut off: but those that wait upon the Lord, they shall inherit the earth....the seed of the wicked shall be cut off. The righteous shall inherit the land, and dwell therein forever. (Psalms, 37:9 & 28-29)
یہ وارثین ساری نسل انسانی کے صالح افراد ہوں گے، جن میں امت محمدی کے صالح افراد بھی شامل ہیں۔
تخلیق کے ادوار
قرآن سے معلوم ہوتا ہے کہ خالق نے کائنات کو چھ ادوار (periods)کی صورت میں بنایا ہے۔ اس واقعہ کا ذکر قرآن میں سات بار آیا ہے۔ ان آیتوں میں سے ایک آیت یہ ہے: اللَّہُ الَّذِی خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ وَمَا بَیْنَہُمَا فِی سِتَّةِ أَیَّامٍ(32:4)۔ یعنی اللہ ہی ہے جس نے پیدا کیا آسمانوں اور زمین کو اور جو ان کے درمیان ہے، چھ دنوں میں۔
ان آیات میں چھ ایام سے مراد چھ ادوار (six periods) ہیں۔ دور کا مطلب یہ ہے کہ کائنات کو بیک وقت دفعۃً پیدا نہیں کیا گیا، بلکہ ان کو اسباب و علل (cause and effect) کی صورت میں پیدا کیا گیا۔ تخلیق کی یہ صورت اس لیے اختیار کی گئی تاکہ انسان اپنی عقل کی روشنی میں ان کا مطالعہ کرسکے، اور تخلیق کی حکمت کو اپنے لیے ذہنی تشکیل کا سامان بنا سکے۔
انسانی علوم کے ذریعہ کائنات کا جو مطالعہ کیا گیا ہے،ان کو لے کر اگر ان چھ ادوار کو متعین کیا جائے تو وہ یہ ہوگا:
(1) بگ بینگ (big bang)
(2) لٹل بینگ (little bang) یا سولر بینگ (solar bang)
(3) واٹر بینگ (water bang)
(4) پلانٹ بینگ (plant bang)
(5) انیمل بینگ (animal bang)
(6) ہیومن بینگ (human bang)
یہ تاریخ کے چھ معلوم ادوار ہیں۔ سائنسی اندازے کے مطابق چھ ادوار کی یہ مدت تقریبا تیرہ بلین سال ہے۔اس مدت میں موجودہ کائنات عدم سے وجودمیں آئی، اور مختلف مراحل سے گزرتے ہوئےاپنی موجودہ صورت میں بن کر تیار ہوئی۔ اس کے بعد انسان کی جو تاریخ بنی، اور جس طرح وہ مختلف مراحل سے گزرتے ہوئے اپنا سفر طے کررہی ہے، اس کا مختصر بیان یہاں درج کیا جاتا ہے۔
صراط مستقیم
خالق کی مقرر کردہ ایک صراط مستقیم (right path) ہے، جو اس بات کی ضامن ہے کہ اس پر چلنے والا انسان اپنی مطلوب منزل پر ضرور پہنچے ۔ پیغمبروں کے ذریعہ اور آسمانی کتابوں کے ذریعہ خالق نے مسلسل طور پر ایسا کیا کہ انسان کے پاس اپنے پیغمبر بھیجے، اور ان کے ذریعہ اپنی کتاب ہدایت بھیجی۔ اس کامقصد یہ تھا کہ انسان درست راستہ (right track) پر چلتا رہے، وہ اس سے بے راہ (derail) نہ ہونے پائے۔
ساتویں صدی عیسوی میں اللہ رب العالمین نے خاتم النبیین کو بھیجا۔ آپ نے اور آپ کے اصحاب نے غیر معمولی جد و جہد کے ذریعہ ایک ایسا انقلاب برپا کیا، جس کے ذریعہ بعد کے زمانے میں ایک تاریخی عمل (historical process) جاری ہوگیا۔ اس تاریخی عمل نے وہ مواقع کھولے، جن کے ذریعہ دنیا میں تہذیبی انقلاب (civilizational revolution) آیا۔
مادی تہذیب
موجودہ زمانے میں ہم اپنے آپ کوجس تہذیب کے دور میں پاتے ہیں اس تہذیب کو عام طور پرمغربی تہذیب (western civilization) کہا جاتا ہے۔ مگر اپنی حقیقت کے اعتبار سے یہ ایک مادی تہذیب (material civilization) ہے۔ یہ مادی تہذیب خدا کے تخلیقی نقشے کے مطابق ایک مقدرتہذیب تھی۔ اس مادی تہذیب کا پیشگی حوالہ قرآن کی اس آیت میں ملتا ہے:سَنُرِیہِمْ آیَاتِنَا فِی الْآفَاقِ وَفِی أَنْفُسِہِمْ حَتَّى یَتَبَیَّنَ لَہُمْ أَنَّہُ الْحَقّ أَوَلَمْ یَکْفِ بِرَبِّکَ أَنَّہُ عَلَى کُلِّ شَیْءٍ شَہِیدٌ ُ (41:53)۔یعنی مستقبل میں ہم ان کو اپنی نشانیاں دکھائیں گے آفاق میں بھی اور خود ان کے اندر بھی۔ یہاں تک کہ ان پر ظاہر ہوجائے گا کہ یہ حق ہے۔ اور کیا یہ بات کافی نہیں کہ تیرا رب ہر چیز کا گواہ ہے۔
یہاں آیات سے مراد وہ قوانین فطرت ہیں جو تخلیقی طور پر اس دنیا میں ہمیشہ سے موجود تھے۔ ’’ہم نشانیاں دکھائیں گے‘‘ کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالی کچھ انسانوں کو توفیق دے گا کہ وہ فطرت کے مخفی قوانین (hidden laws of nature) کو دریافت کریں، اور اس طرح دین خداوندی کی تائید (support) کے لیے ایک عقلی بنیاد (rational base)فراہم ہو۔ اس تہذیب نے انسانی دنیا اور مادی دنیا میں چھپی ہوئی جن حقیقتوں کو دریافت کیا ہے، وہ دین خداوندی کی حقانیت کی تصدیق کرنے والی ہیں۔
موجودہ دنیا میں انسان کو آباد کرنے کا اصل مقصد یہ ہے کہ وہ معرفت (realisation) کا سفر کرے، اور اپنی شخصیت کو اعلی ارتقاء کے درجے تک پہنچائے۔ اس تہذیب نے انسان کے لیے غور و فکر کا ایک نیا فریم ورک (framework) دیا۔ اس نے غورو فکر کے لیے انسان کو نئی معلومات (data) دیا۔ اس نے انسان کو نئے وسائل (resources) دیے۔ یہ تمام چیزیں اس لیے ہیں کہ انسان اپنے سفر معرفت کو زیادہ کامیابی کے ساتھ جاری رکھ سکے، اور اپنے آپ کو ایک سیلف میڈ مین (self-made man) کی حیثیت سے ڈیولپ کرے۔
مخلوق کامل
انسان کو ایک مکمل مخلوق کی حیثیت سے پیدا کیا گیا ہے۔ انسان کو بے شمار صلاحیتیں دی گئی ہیں۔ مگر یہ صلاحیتیں اس کو بالقوۃ(potential) کی صورت میں دی گئی ہیں۔ ان بالقوۃ صلاحیتوں کو بالفعل (actual) میں بروئے کار لانا، انسان کا اپنا کام ہے۔ انسان سے یہ مطلوب ہے کہ وہ اپنے آپ کو خود تعمیر کردہ انسان (self-made man) کی صورت میں ڈیولپ (develop)کرے۔ سیلف ڈیولپمنٹ (self development)کے اس عمل (process) میں انسان کومعلوماتی تائید کی ضرورت تھی۔ مادی تہذیب نے فطرت (nature)کی حقیقتوں کو دریافت کرکے انسان کو یہی تائید (support) فراہم کی ہے۔
موجودہ زمانے کے مسلمانوں کے اندر جو متشددانہ سرگرمیاں جاری ہیں، وہ غیر متعلق سرگرمیاں ہیں۔ یہ گویادرمیانی جدو جہد کے دور کو تکمیل کے دور میں دوبارہ غیر ضروری طور پر زندہ کرنا ہے۔ موجودہ دور سے پہلےدو فریق ہوا کرتے تھے، دوست اور دشمن۔ لیکن اب یہ ثنائیت (dichotomy) بدل چکی ہے۔ اب دنیا میں صرف دوست اور موید (friend and supporter)موجود ہیں۔اب اہل اسلام کا کام تکمیل کے مثبت مواقع کو اویل (avail) کرنا ہے، نہ کہ دور جدو جہد کے واقعات کا غیر ضروری طور پر اعادہ(repeat) کرنا، جس سے مسائل میں اضافہ کرنے کے سوا کچھ اور ملنے والا نہیں۔
روحانی سماج
تخلیق کا اصل مقصود انسان ہے۔ تخلیقی عمل کے دوران جو چیزیں وجود میں آئیں، وہ سب صرف اس لیے تھیں کہ انسان اپنے سفر معرفت کو کامیابی کے ساتھ طے کرسکے۔ اس پورے عمل (process) کے ذریعہ جو آخری چیز مطلوب ہے، وہ یہ کہ ایک اعلی درجے کا روحانی سماج (spiritual society) بنے، جو اُس معیاری دنیا میں بسائے جانے کے قابل ہو جس کو جنت (Paradise) کہا گیا ہے۔جنت ایک پر فکٹ دنیا (perfect world) ہے، جو ان انسانوں کی آباد کاری کے لیے بنائی گئی ہے جو اپنے آپ کو اس کا اہل (competent) ثابت کریں۔
دنیا میں انسان کو کامل آزادی حاصل ہے۔ وہ آزاد ہے کہ اپنے آپ کو جیسا چاہے، ویسا بنائے۔ اس لیے موجودہ دنیا میں اعلی معیار کا روحانی سماج نہیں بن سکتا۔ یہاں صرف اعلی معیار کے روحانی افراد بن سکتے ہیں۔ تخلیقی منصوبے کے مطابق جو بات ہونے والی ہے، وہ یہ کہ پوری انسانی تاریخ کے خاتمے پر اعلی درجے کے روحانی افراد کو منتخب کرکے انھیں ابدی جنت میں بسنے کا موقع دیا جائے،اور باقی لوگوں کو چھانٹ کر ان سے الگ کردیا جائے۔
اس اعلیٰ درجے کے روحانی سماج میں کون لوگ شامل ہوں گے، ان کا ذکر قرآن میں چار گروہ کی صورت میں کیا گیا ہے۔ قرآن کے الفاظ یہ ہیں:وَمَنْ یُطِعِ اللَّہَ وَالرَّسُولَ فَأُولَئِکَ مَعَ الَّذِینَ أَنْعَمَ اللَّہُ عَلَیْہِمْ مِنَ النَّبِیِّینَ وَالصِّدِّیقِینَ وَالشُّہَدَاءِ وَالصَّالِحِینَ وَحَسُنَ أُولَئِکَ رَفِیقًا (4:69)۔ یعنی اور جو اللہ اور رسول کی اطاعت کرے گا، وہ ان لوگوں کے ساتھ ہوگا جن پر اللہ نے انعام کیا، یعنی پیغمبر اور صدیق اور شہید اور صالح۔ کیسی اچھی ہے ان کی رفاقت۔
اس اعلیٰ سماج کی خصوصیت یہ بتائی گئی ہے کہ وہ حسن رفاقت کا سماج ہوگا۔ وہاں کوئی انسان دوسرے انسان کے لیے کوئی مسئلہ (nuisance) پیدا نہیں کرے گا۔ ہر انسان دوسرے انسان کا بہترین ساتھی ہوگا۔ ہر انسان قابل پیشین گوئی کردار (predictable character) کا حامل ہوگا۔ ہر انسان دوسرے انسان کا سچارفیق ہوگا، کوئی انسان دوسرے انسان کا حریف نہ ہوگا۔ ہر انسان اعلی اخلاقی اقدار (high moral values) کا حامل ہوگا۔ ہرانسان کامل درجے میں سچائی اور دیانتداری (honesty) کی صفات سے متصف ہوگا، وغیرہ۔
اس تخلیق کے مطابق جو تصویر بنتی ہے، وہ یہ ہے کہ اللہ نے چاہا کہ وہ اعلی درجے کی ایک دنیا بنائے۔ اسی اعلی درجے کی دنیا کا نام جنت (Paradise) ہے۔ اس تخلیق کا نقشہ اس اعتبار سے بنایا گیا جو اعلیٰ درجے کے مطلوب انسان کو وجود میں لانے میں مددگار ہوسکے۔ چوں کہ یہ انسان وہ تھے جو سیلف میڈ مین (self-made man) کے معیار پر پورے اترے۔ اس لیے اس تخلیقی منصوبہ کے مکمل ہونے میں تقریبا تیرہ بلین سال لگے۔ اس تخلیقی مدت کو اس طرح بنایا گیا کہ انسان اپنی عقل (reason) کو استعمال کرکےان کو اپنی تعمیر شخصیت کے لیے استعمال کرسکے۔
دعوت، اکیسویں صدی میں
خالق کی تخلیقی اسکیم (creation plan) ہمیشہ سے ثابت شدہ حقیقت تھی۔ لیکن بیسویں صدی کے بعد دنیا میں ایک نیا دور آیا ہے۔ جب کہ نظری حقیقتیں، مادی حقائق کی روشنی میں قابل فہم (understandable) بن گئیں۔ مثلا غیب پر ایمان قدیم زمانے میں ایک عقیدہ کی بات تھی۔ موجودہ زمانے میں کوانٹم فزکس (quantum physics) کی دریافت کے بعد یہ صرف نظری بات نہ رہی، بلکہ پرابیبیلٹی (probability) کے درجے میں تقریباً قابل یقین حقیقت بن گئی۔ پرابیبلٹی جدید سائنس کا ایک اہم اصول ہے۔ کہا جاتا ہے:
probabilty is less than certainty but it is more than perhaps
موجودہ زمانے میں جن چیزوں کو سائنسی حقیقت (scientific fact) کہا جاتا ہے، ان سب کا معاملہ یہی ہے۔ ان میں سے ہر ایک پرابیبیلٹی کے درجے میںمسلمہ حقیقت بنی ہیں، نہ کہ مشاہدہ کے درجے میں۔ یہی معاملہ مذہبی عقائد یاتصورات کا ہے۔ اِس زمانے میں مذہبی تصورات اسی تسلیم شدہ درجے میں ثابت شدہ بن چکے ہیں، جس درجے میں مسلّمہ سائنسی حقائق ۔
فائنل رول
تخلیقی نقشہ کے مطابق، تاریخِ انسانی میں ایک فائنل رول مقدر ہے۔ یعنی آخرت کے ظہور سے پہلے حقیقت کا ایک آخری اعلان۔ یہ آخری اعلان خدا کی توفیق سے ایک ایسا گروہ انجام دے گا، جو پورے تاریخی پراسس کی آخری پیداوار ہو، جو تخلیقی ارتقا کے آخر میں وجود میں آیاہو، جس پر پوری تاریخ منتہی ہوئی ہو،جو ماضی اور حال کے تمام تاریخی ڈیولپمنٹ (historical development) کا مثبت شعور رکھتا ہو۔
یہ گروہ وہ ہوگا جو کتاب تاریخ کے آخری پیراگراف کو لکھے گا۔ جو اپنے آفاقی شعور کی بنا پر اِس قابل ہوگا کہ انسانیت کے لیے حجت بن جائے۔ جو تمام مواقع (opportunities) کو مثبت طور پراستعمال کرے۔اور پھر خدائی سچائی کا وہ عالمی اعلان کرے، جس کے بعد کوئی انسان بےخبری کا عذر پیش نہ کرسکے۔یہی وہ حقیقت ہے جس کو حدیث میں عالمی ادخال کلمہ سے تعبیر کیا گیا ہے۔حدیث کے الفاظ یہ ہیں: لا یبقى على ظہر الأرض بیت مدر، ولا وبر إلا أدخلہ اللہ کلمة الإسلام (مسند احمد، حدیث نمبر 23814)
واپس اوپر جائیں

پیغمبر اسلام کا رول

پیغمبر اور اصحاب پیغمبر کے بارے میں قرآن میں یہ آیت آئی ہے:مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللَّہِ وَالَّذِینَ مَعَہُ أَشِدَّاءُ عَلَى الْکُفَّارِ رُحَمَاءُ بَیْنَہُمْ تَرَاہُمْ رُکَّعًا سُجَّدًا یَبْتَغُونَ فَضْلًا مِنَ اللَّہِ وَرِضْوَانًا سِیمَاہُمْ فِی وُجُوہِہِمْ مِنْ أَثَرِ السُّجُودِ ذَلِکَ مَثَلُہُمْ فِی التَّوْرَاةِ وَمَثَلُہُمْ فِی الْإِنْجِیلِ کَزَرْعٍ أَخْرَجَ شَطْأَہُ فَآزَرَہُ فَاسْتَغْلَظَ فَاسْتَوَى عَلَى سُوقِہِ یُعْجِبُ الزُّرَّاعَ لِیَغِیظَ بِہِمُ الْکُفَّارَ وَعَدَ اللَّہُ الَّذِینَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ مِنْہُمْ مَغْفِرَةً وَأَجْرًا عَظِیمًا (49:29)۔ محمد اللہ کے رسول ہیں اور جو لوگ ان کے ساتھ ہیں وہ منکروں پر سخت ہیں اور آپس میں مہربان ہیں۔ تم ان کو رکوع میں اور سجدہ میں دیکھو گے، وہ اللہ کا فضل اور اس کی رضامندی کی طلب میں لگے رہتے ہیں۔ ان کی نشانی ان کے چہروں پر ہے سجدہ کے اثر سے، ان کی یہ مثال تورات میں ہے۔ اور انجیل میں ان کی مثال یہ ہے کہ جیسے کھیتی، اس نے اپنا انکھوا نکالا، پھر اس کو مضبوط کیا، پھر وہ اور موٹا ہوا، پھر اپنے تنے پر کھڑا ہوگیا، وہ کسانوں کو بھلا لگتا ہے تاکہ ان سے منکروں کو جلائے۔ ان میں سے جو لوگ ایمان لائے اور نیک عمل کیا، اللہ نے ان سے معافی کا اور بڑے ثواب کا وعدہ کیا ہے۔
اس آیت میں اصحاب رسول کے بارے میں بتایا گیا ہے کہ وہ منکروں پر شدید ہیں۔ اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ وہ منکروں پر سخت گیر ہوتے ہیں، بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ منکروں کا اثر قبول نہیں کرتے۔ یعنی وہ مضبوط سیرت (strong character) کے لوگ ہیں۔ ان کی یہ صفت ان کو اس کمزوری سے بچاتی ہے جس کو قرآن میں مضاہاۃ (التوبۃ30:) کہا گیا ہے۔ یعنی اپنے دین کے معاملے میں خارجی کلچر کا اثر قبول کرلینا۔
پھر اصحاب رسول کی یہ صفت بیان کی کہ وہ آپس میں مہربان ہیں۔ یہ اخلاقی برتاؤکی بات نہیں ہے۔ بلکہ اس سے مراد ان کا طاقت ور باہمی اتحاد ہے۔ وہ کسی اختلاف کو شکایت (complaint) کامعاملہ نہیں بناتے، بلکہ اس کو نظر انداز کرکے ، اپنے متحدہ جد و جہد کو پوری طرح باقی رکھتے ہیں۔ کوئی ناموافق بات کبھی ان کے باہمی اتحاد کو توڑنے والی نہیں بنتی۔
اس کے بعد تراھم الخ کا جملہ ہے۔ یہ جملہ ان کی داخلی ربانی حالت کو بتاتا ہے۔ ان کا یہ ربانی مزاج اس بات کا ضامن ہے کہ وہ ہمیشہ اللہ کی رضا والے راستے پر قائم رہیں۔ ان کی داخلی اسپرٹ کبھی کمزور نہ ہونے پائے۔ اصحاب رسول کی صفت پیشگی طورپر تورات میں بتادی گئی تھی۔موجودہ تورات میں اس کے لیے دس ہزار قدوسیوں (ten thousand saints) کا لفظ موجود ہے (استثناء33:2:) ۔
انجیل کی تمثیل میں اصحاب رسول کا ایک مزید رول یہ بتایا گیا ہے کہ وہ تاریخ میں ایک زرع یا بیج (seed)ڈالنےکا کام کریں گے، جو آخر کار بڑھ کر ایک مکمل درخت بن جائے گا۔ یہاں تمثیل کی زبان میں یہ بات کہی گئی ہے کہ اصحاب رسول اپنی غیر معمولی جدو جہد کے ذریعے انسانی زندگی میں ایک تاریخی عمل (historical process) جاری کریں گے، جو آخر کار ایک عظیم انقلاب تک پہنچے گا۔ اس انقلاب کے دو خاص پہلو تھے۔ان دونوں پہلووں کو قرآن میں اختصار کی زبان میں بتایا گیا ہے۔
صحابہ اور تابعین کے اس رول کو قرآن کی درج ذیل آیت کامطالعہ کرکے سمجھا جاسکتا ہے: الَّذِینَ إِنْ مَکَّنَّاہُمْ فِی الْأَرْضِ أَقَامُوا الصَّلَاةَ وَآتَوُا الزَّکَاةَ وَأَمَرُوا بِالْمَعْرُوفِ وَنَہَوْا عَنِ الْمُنْکَرِ وَلِلَّہِ عَاقِبَةُ الْأُمُورِ (22:41)۔ یعنی یہ وہ لوگ ہیں کہ اگر ہم ان کو ملک میں قدرت دیں تو نماز پڑھیں، زکوٰۃ دیں، نیک کام کرنے کا حکم دیں برے کاموں سے منع کریں اور سب کاموں کا انجام اللہ ہی کے اختیار میں ہے۔
قرآن کی اس آیت میں تمکین فی الارض سے مراد سیاسی استحکام (political stability)  ہے۔ تاریخ بتاتی ہے کہ صحابہ اور تابعین کی جماعت کو جب پولیٹکل استحکام ملا تو اس کو انھوں نے انھیں مقاصد کے لیے استعمال کیا ہے۔ یہ مقاصد تین تھے— عبادت، زکوٰۃ، امر بالمعروف و نہی عن المنکر۔ یہاں ان تینوں سے مراد انفرادی عمل نہیں ہے، بلکہ اجتماعی زندگی میں ان کا نظام قائم کرنا ہے۔
عبادت سے مراد مسجد کا نظام اور حج کا نظام قائم کرنا ہے۔ نیز اس میں دینی تعلیم کا نظام بھی توسیعاً شامل ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ سیاسی استحکام کو انھوں نے کسی سیاسی نشانہ (political goal) کے لیے استعمال نہیں کیا، بلکہ اہل ایمان کی دینی زندگی کو منظم صورت میں قائم کرنے کی کوشش کی۔ اس تنظیم میں زکوۃ کا نظام بھی شامل ہے۔
امر بالمعروف و نہی عن المنکر سے مراد کوئی سیاسی نظام نہیں ہے۔ بلکہ اس سے مراد یہ ہے کہ دین کے تقاضوں کو منظم انداز (organised way) میں انجام دینا۔ مثلا قرآن کو محفوظ کرنا، حدیث کی جمع و تدوین، اسلامی فقہ کو مرتب کرنا، اور دوسرے ان غیر سیاسی کاموں کو انجام دینا، جس کے نتیجےمیں بعد کے زمانے میں امت مسلمہ کا ایک منظم دینی ڈھانچہ قائم ہوا۔ اور جو اب تک کسی نہ کسی صورت میں عملا موجود ہے۔
قرآن کی اس آیت پر غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ یہاں اجر عظیم ( great reward) سے مرادثوابِ عظیم نہیں ہے، بلکہ نتیجہ عظیم ہے، جو بعد کی تاریخ میں پیش آیا۔اس عظیم نتیجہ کو قرآن کی ایک آیت میں اس طرح بیان کیا گیا ہے: سَنُرِیہِمْ آیَاتِنَا فِی الْآفَاقِ وَفِی أَنْفُسِہِمْ حَتَّى یَتَبَیَّنَ لَہُمْ أَنَّہُ الْحَقّ (41:53)۔ یعنی عنقریب ہم ان کو اپنی نشانیاں دکھائیں گے آفاق میں بھی اور خود ان کے اندر بھی۔ یہاں تک کہ ان پر ظاہر ہوجائے گا کہ یہ قرآن حق ہے۔
صحابہ اور تابعین کی کوششوں سے اسلام کا مکمل اظہار ہوا۔ لیکن یہ اظہار روایتی دور (traditional age) کے اعتبار سے تھا۔ اسلام کا ایک اور اظہار ابھی باقی تھا۔ اور وہ تھا عقلی فریم ورک (rational framework) کے مطابق، اسلام کا اظہار۔ اس مقصد کے لیے تاریخ میں ایک نیا انقلاب لانا ضروری تھا۔ یہ انقلاب وہی ہے جو بعد کے دور میں سائنٹفک انقلاب (scientific revolution) کی صورت میں ظاہر ہوا۔ یعنی فطرت کی چھپی ہوئی طاقتوں کو دریافت کرنا۔اور اس کے مطابق، تاریخ میں ایک نیا دور لانا۔ یہ دور عملا وہی ہے جس کو جدید تہذیب (modern civilization) کہا جاتا ہے۔
اس دوسرے دور کا آغاز مسلمانوں نے اپنے دور میں کیا، لیکن اس کی تکمیل بعد کے زمانے میں مغربی قوموں کے ذریعے انجام پائی۔ اس انقلاب کا پراسس مسلم عہد میں شروع ہوا، لیکن اس کی تکمیل بعد کے زمانے میں جدید تہذیب (modern civilization) کی صورت میں دنیا کے سامنے آئی۔
دوسری قوموں کے ذریعے اس کام کا انجام پانا، احادیث رسول میں پیشگی طور پر بتا دیا گیا تھا۔ اس سلسلے میں حدیث کی کتابوں میں جو روایات آئی ہیں، ان میں سے ایک روایت یہ ہے: إن اللہ عز وجل لیؤید الإسلام برجال ما ہم من أہلہ (المعجم الکبیر للطبرانی، حدیث نمبر56)۔ یعنی اللہ اس دین کی تائید ایسے لوگوں کے ذریعے کرے گا، جو اہل اسلام میں سے نہ ہوں گے۔ جدید تہذیب جس کو مغربی تہذیب کہا جاتا ہے، وہ حقائقِ فطرت کے انکشاف پر مبنی ہے۔ قرآن کی زبان میں اس کو آفاقی تہذیب (فصلت53:) کہا جاسکتا ہے۔ اس تہذیب میں اگر بعض غیر مطلوب اجزاء شامل ہیں، تو وہ براہ راست طور پر تہذیب کا حصہ نہیں ہیں، بلکہ وہ مغربی کلچر کا حصہ ہیں۔ مثلا برہنگی (nudity) وغیرہ۔
واپس اوپر جائیں

اصحابِ رسول، اخوان رسول

پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک روایت حدیث کی مختلف کتابوں میں آئی ہے۔ صحیح مسلم کے الفاظ یہ ہیں: وددت أنا قد رأینا إخواننا قالوا:أولسنا إخوانک یا رسول اللہ قال:أنتم أصحابی وإخواننا الذین لم یأتوا بعد (حدیث نمبر249)۔یعنی میری خواہش ہے کہ ہم اپنے بھائیوں کو دیکھیں، لوگوں نے کہا کہ اے خدا کے رسول، کیا ہم آپ کے بھائی نہیں ہیں۔ آپ نے کہا تم میرے اصحاب ہو اور ہمارے بھائی وہ ہیں جو ابھی نہیں آئے۔
اصحاب رسول سے مراد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہم عصر اہل ایمان ہیں۔ اور اخوان رسول سے مراد آپ کی امت کے وہ لوگ ہیں، جو بعد کے زمانے میں ظاہر ہوں گے۔ اصحاب رسول اور اخوان رسول میںسے کوئی افضل یا غیر اٖفضل نہیں ہے۔ دونوں عملاً یکساں درجے کے لوگ ہیں۔ اسلام میں درجہ کا تعلق زمانے سے نہیں ہے، بلکہ تقویٰ سے ہے۔ جیسا کہ قرآن میں آیا ہے: إِنَّ أَکْرَمَکُمْ عِنْدَ اللَّہِ أَتْقَاکُم (49:13)۔ یعنی بیشک اللہ کے نزدیک تم میں سب سے زیادہ باعزت وہ ہے جو سب سے زیادہ صاحب تقویٰ ہے۔
اس حدیث کی تشریح ایک اور حدیث سے ہوتی ہے۔ اس حدیث کے الفاظ یہ ہیں: عن عبد اللہ بن عمرو؛ أن رسول اللہ صلى اللہ علیہ وسلم قال:مثل أمتی کمثل المطر؛ لا یدرى أولہ خیر أم آخرہ (المعجم الکبیر للطبرانی، حدیث نمبر14649)۔عبد اللہ ابن عمرو روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میری امت کی مثال بارش جیسی ہے، نہیں معلوم کہ اس کا اول زیادہ بہتر ہے، یا اس کا آخر۔
اس حدیث رسول میں تمثیل کی زبان میں ایک تاریخی واقعہ کو بتایا گیا ہے۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کا مشن اظہار دین کا مشن تھا۔ اس مشن کے دو دور تھے۔ پہلا دور یہ تھا کہ اسلامی مشن کے راستے میں رکاوٹوں کو ختم کرکے مواقع (opportunities) کے دروازوں کو کھولنا، اور دوسرا دور یہ تھا کہ پیدا شدہ مواقع کو استعمال (avail) کرکے اسلام کا عالمی اظہار کرنا۔ پہلے دور کو حدیث میں تمثیل کی زبان میں اول المطر (first period of rain) کہا گیا ہے۔ اور دوسرے دور کو آخر المطر (second period of rain) کہا گیا ہے۔
صحابہ اور تابعین کے زمانے میں قدیم زمانے کی رکاوٹوں کا خاتمہ کیا گیا۔ مثلا شرک کے غلبہ کو ختم کرنا، بادشاہی نظام کو ختم کرنا، تاریخ میں ایک نیا پراسس جاری کرنا جس کے نتیجے میں وہ واقعہ پیش آئے جس کو قرآن میں تبیین حق (فصلت: 53) کہا گیا ہے۔اسلامی مشن کے اس عالمی اظہار کو حدیث میں مختلف الفاظ میں بیان کیا گیا ہے۔ مثلا یہ روایت : لیبلغن ہذا الأمر ما بلغ اللیل والنہار، ولا یترک اللہ بیت مدر ولا وبر إلا أدخلہ اللہ ہذا الدین (مسند احمد، حدیث نمبر 16957 )۔ یعنی یہ امر (دین) ضرور پہنچے گا وہاں تک جہاں تک دن اور رات پہنچتے ہیں۔ اللہ نہیں چھوڑے گا، مگر یہ کہ ہر چھوٹے اور بڑے گھر میں اس دین کو داخل کردے۔
اظہار دین کا یہ عالمی مشن تاریخ کا سب سے بڑا عالمی مشن تھا۔ اس لیے اللہ نے اس مشن کی تکمیل کو یقینی بنانے کے لیے تاریخ میں ایسے حالات پیدا کیے جب کہ غیر اہل دین بھی اس کے موید بن جائیں۔ اللہ رب العالمین کے اس فیصلہ کو حدیث رسول میں اِن الفاظ میں بیان کیا گیا ہے۔ اس حدیث کا ترجمہ یہ ہے: بے شک اللہ عز و جل اسلام کی تائید ضرور ان لوگوں کے ذریعہ کرے گاجو اہل اسلام نہ ہوں گے (المعجم الکبیر للطبرانی، حدیث نمبر 14640)۔
اکیسویں صدی عیسوی میں یہ تاریخی عمل (historical process) اپنے نکتہ انتہا (culmination) تک پہنچ چکا ہے۔ اب تمام مواقع آخری حد تک کھل چکے ہیں۔ اب اہل اسلام کا ایک ہی مشن ہے، اور وہ ہے اللہ کے پیغام (قرآن ) کو پورے روئے زمین پر بسنے والے انسانوں کی قابل فہم زبان میں پہنچانا۔ اگر اہل اسلام کسی اور غیر متعلق کام میں اپنے آپ کو مشغول کرتے ہیں تو یہ مشغولیت ان کے لیے اس رُجز (المدثر5:) میں ملوث ہونے کے ہم معنی ہوگی جس کو ترک کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔
واپس اوپر جائیں

ماکان و ما یکون

ایک حدیثِ رسول سنن الترمذی اور دوسری کتب حدیث میں آئی ہے۔ احکام القرآن لابن العربی میں اس کو ان الفاظ میں نقل کیا گیا ہے: أول ما خلق اللہ القلم، فقال لہ:اکتب، فکتب ما کان وما یکون إلى یوم الساعة، فہو عندہ فی الذکر فوق عرشہ(احکام القرآن، بیروت، 2003،جلد4، صفحہ420 )۔یعنی اللہ نے پہلی چیز جو پیدا کی ، وہ قلم تھی۔ پھر اللہ نے اس سے کہا کہ لکھ۔ تو اس نے لکھا وہ سب کچھ جو ہوا، یا جو ہوگا قیامت تک۔ پس وہ اللہ کے پاس ذکر میں ہے، اللہ کے عرش کے اوپر۔
اس حدیث میں ’’ماکان وما یکون‘‘ سے مراد کون سے واقعات ہیں۔ تاریخ کے تمام واقعات یا منتخب واقعات۔ تاہم اہل ایمان کے لیے اصل اہمیت ان واقعات کی ہے جو توحید کے مشن سے تعلق رکھتے ہیں۔ اس نوعیت کے واقعات کو جاننا اہل توحید کے لیے ضروری ہے۔ تاکہ ان کی رعایت کرتے ہوئےوہ اپنے دعوتی مشن کی صحیح منصوبہ بندی کرسکیں۔ جیسا کہ ایک حدیث رسول میں آیا ہے: وعلی العاقل ان یکون بصیرا بزمانہ(صحیح ابن حبان، حدیث نمبر 361)۔دانش مند آدمی کو چاہیے کہ وہ اپنے زمانے سے باخبر ہو۔
غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ اس اعتبار سے انسانی تاریخ کے دو دَور ہیں۔ایک وہ جب کہ دنیا دو قسم کے لوگوں میں بٹی ہوئی تھی— مومن اور کافر یا بلیور (believer)اور نان بلیور (non-believer)۔ مگر بعد کے زمانے میں تاریخ میں جو انقلاب آئے گا۔ اس کے بعد یہ تقسیم ختم ہوجائے گی۔ اب دنیا جن دو قسم کے لوگوں میں تقسیم ہوگی، وہ ہوں گے مومن (believer)اور موید (supporter)۔ بعد کے زمانے میں اس تبدیلی کا ذکر حدیث میں ان الفاظ میں کیا گیا ہے: إن اللہ عز وجل لیؤید الإسلام برجال ما ہم من أہلہ (المعجم الکبیر للطبرانی، حدیث نمبر14640)۔ اللہ عز وجل اسلام کی تائیدضرور ایسے لوگوں سے کرے گا، جو اسلام کا حصہ نہ ہوں گے۔
بعد کے زمانے میں ہونے والی اس تبدیلی کا مطلب یہ ہوگا کہ عملا اب جنگ کے دور کا خاتمہ ہوگیا۔ بعد کے اس دور میں بھی اگر اہل ایمان جہاد کے نام پر جنگ کا سلسلہ جاری رکھیں ، تو یہ اپنی حقیقت کے اعتبار سے دین کے مویدین سے جنگ کے ہم معنی ہوگا۔
یہی مطلب ہے اس آیت کا جس میں کہا گیا ہے کہ دین سب اللہ کے لیے ہوجائے گا(الانفال39:)۔ یعنی ایک ایسی دنیا جس میں مومن اور کافر کی تقسیم ختم ہوجائےگی۔ اس کے برعکس، دنیا میں مومن (believer) اورموید (supporter) کی تقسیم قائم ہوجائے گی۔

ایک جلد میں موجود انسائیکلوپیڈیا میں سے ایک وہ ہے جس کا نام ہے:
Pears'’ Cyclopaedia , London
اس انسائیکلوپیڈیا میں مانوتھیزم کے آگے لکھا ہوا ہے کہ توحید اس اصول کا نام ہے کہ یہاں صرف ایک خدا کا وجود ہے۔ خاص توحیدی مذہب عیسائیت ہے:
MONOTHEISM, the doctrine that there exists but one God. The Chief monotheistic religion is Christianity.
یہ انسائیکلوپیڈیا کا وہ اڈیشن ہے جو 1948 میں چھپا تھا۔ پہلے مغربی دنیا میں جو لٹریچر تیار ہوا، اس میں اسی طرح اسلام کو حذف کردیا گیا تھا۔ اپنی اصل کے اعتبار سے بلاشبہ تمام مذاہب توحید کے مذاہب تھے۔ مگر یہ ایک حقیقت ہے کہ آج خالص توحیدی مذہب اسلام ہے۔ کیوں کہ دوسرے مذہب اپنی ابتدائی حالت میں باقی نہیں رہے ہیں۔
مغربی علماء نے اب اپنی اس روش پر نظر ثانی شروع کردی ہے۔ چناں چہ 1977 میں شائع ہونے والی ایک انسائیکلوپیڈیاCollins Concise Encyclopedia:میں اس سلسلہ میں لکھا گیا ہےکہ توحید اس عقیدہ کا نام ہے کہ یہاں صرف ایک خدا ہے، جیسا کہ یہودیت اور عیسائیت اور اسلام میں مانا جاتا ہے:
MONOTHEISM, belief that there is only one God, as in Judaism, Christianity, and Islam.
(ڈائری، 1985)
واپس اوپر جائیں

دورِ تائید

قرآن میں ایک حکم پیغمبراسلام صلی اللہ علیہ وسلم کو ان الفاظ میں دیا گیا ہے: وَقَاتِلُوہُمْ حَتَّى لَا تَکُونَ فِتْنَةٌ وَیَکُونَ الدِّینُ کُلُّہُ لِلَّہ (8:39)۔ یعنی اور ان سے لڑو یہاں تک کہ فتنہ باقی نہ رہے اور دین سب اللہ کے لئے ہوجائے۔غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ قرآن کی اس آیت میں قتال کا لفظ معروف جنگ کے معنی میں نہیں ہے۔ بلکہ وہ انتہائی جد و جہد (utmost struggle) کے معنی میں ہے۔ چوں کہ آپ کی زندگی میں عملا جو کچھ پیش آیا وہ یہی تھا۔ جیسا کہ معلوم ہے، پیغمبر اسلام نے اپنی پوری زندگی میںکبھی کوئی کامل جنگ (full-fledged war) نہیں کی۔ آپ کے مخالف گروپ نے کئی بار آپ پر حملہ کرکے آپ کو جنگ میں الجھانے کی کوشش کی۔ مگر آپ نے ہمیشہ یہ کیا کہ خصوصی تدبیر کے ذریعہ یا تو جنگ کو عملا ًہونے نہیں دیا، یا اس کو جنگ کے بجائے جھڑپ (skirmish) بنا دیا۔ اس معاملے میں آپ کی زندگی مذکورہ قرآنی آیت کی عملی تفسیر ہے۔
آپ کی تاریخ بتاتی ہے کہ مکہ میں آپ کے قتل کا منصوبہ بنایا گیا، لیکن آپ نے مکہ سے ہجرت کرکےقتل و قتال کو عملا ناممکن بنا دیا۔ غزوۂ احزاب کے موقع پرآپ کے مخالفین نے بارہ ہزار کے لشکر کے ساتھ مدینہ پر حملہ کیا۔ مگر آپ نے اپنے اور فریق مخالف کے درمیان خندق کی صورت میں ایک حاجز (buffer) قائم کردیا۔ حدیبیہ کے موقع پر فریقِ ثانی نے جنگ کی صورت پیدا کردی، لیکن آپ نے یک طرفہ صلح کرکے جنگ کو ہونے سے روک دیا۔ فتح مکہ کے موقع پر جنگ یقینی تھی، لیکن آپ نے خصوصی تدبیر کے ذریعہ اس کو پر امن مارچ (peaceful march) میں بدل دیا، وغیرہ۔
دورِ تائید کا آغاز
قدیم زمانے میں جنگ بہت عام تھی۔ قبائل کے درمیان جنگ، بادشاہوں کے درمیان جنگ، وغیرہ۔ لوگ مسائل کو حل کرنے کا ایک ہی طریقہ جانتے تھے— جنگ کا طریقہ ۔ اللہ تعالی نے اپنے پیغمبر کو اس معاملے میں ایک صراطِ مستقیم (الفتح 2:) کی طرف رہنمائی کی ۔ یعنی جنگی ٹکراؤ کے بجائے پر امن تدبیر (peaceful management)کے ذریعے مسائل کو حل کرنا۔ پیغمبر اسلام اور آپ کے اصحاب نے اس تدبیر کو اتنے بڑے پیمانے پر استعمال کیا کہ تاریخ میں نیا دور آگیا۔ یعنی ٹکراؤ کے بجائے تائید کا دور ۔ اس مقصد کے لیے ساتویں صدی عیسوی میں ایک منصوبہ بند عمل کیا گیا۔ جس کے نتیجے میں انسانی تاریخ میں ایک نیا عمل (process) جاری ہوا۔ یہ عمل (پراسس) انیسویں صدی میں اپنی تکمیل (culmination) تک پہنچ گیا۔ اس تکمیلی مرحلہ کو ایک لفظ میں جدید تہذیب (modern civilization) کہا جا سکتا ہے۔ جدید تہذیب اسلام کے لیے ایک تائیدی تہذیب (supporting civilization) ہے۔
اس دورِ تائید کو قرآن میں لِیُظْہِرَہُ عَلَى الدِّینِ کُلِّہِ (9:33) کے الفاظ میں بیان کیا گیا تھا۔ یعنی دین سے تعلق رکھنے والے تمام اسباب دینِ خداوندی کے موافق ہو جائیں۔ دینِ خداوندی اور دین انسانی میں ٹکراؤ کی صورت عملا ختم ہوجائے۔یہ انسانی تاریخ کا ایک عظیم منصوبہ تھا۔ اللہ نے ایسے حالات پیدا کیے کہ اہل ایمان کی جماعت کے علاوہ دوسرے لوگ بھی اس میں موید (supporter) بن گیے۔ یہ پیشین گوئی زیادہ واضح الفاظ میں حدیث کی مختلف کتابوںمیں الفاظ کے معمولی فرق کے ساتھ آئی ہے:
1۔ إن اللہ لیؤید ہذا الدین بالرجل الفاجر (۔ صحیح البخاری ،حدیث نمبر3062)۔
2 ۔ إن اللہ عز وجل لیؤید الإسلام برجال ما ہم من أہلہ (المعجم الکبیر للطبرانی، حدیث نمبر56)۔
 3۔ إن اللہ سیؤید ہذا الدین بأقوام لا خلاق لہم (مسند احمد، حدیث نمبر 20454)۔
4۔  لیؤیدنّ اللہ ہذا الدین بقوم لا خلاق لہم (صحیح ابن حبان، حدیث نمبر4517)۔
ان احادیث کا خلاصہ یہ ہے کہ مستقبل میں ضرور ایسا ہوگا کہ اللہ تعالی اس دین کی تائید ایسے لوگوں کے ذریعے کرے گا جو اہل دین میں سے نہ ہوں گے۔وہ اس کام کو ڈیو لپمنٹ (development) کے نام سے انجام دیں گے۔ لیکن عملاً ان کی پیدا کردہ دنیا تائیدی معنوں میں پرو اسلام (pro-Islam) بن جائے گی۔
موجودہ زمانےمیں یہ واقعہ کامل طور پر انجام پاچکا ہے۔ وہ چیز جس کو مسلمان عام طور پر اسلامو فوبیا (Islamophobia) کہتے ہیں۔ وہ دراصل پرو اسلام ظاہرہ (pro-Islam phenomenon) ہے۔ لیکن مسلمان اپنی بے خبری کی بنا پر ایک مثبت واقعے کو منفی واقعے کے طور پر لیے ہوئے ہیں۔ اس منفی طرز فکر نے مسلمانوں کو بیک وقت دو نقصان پہنچایاہے۔ ایک یہ کہ وہ دورِ حاضر میں بے جگہ کمیونٹی (displaced)بن گیے۔ اور دوسرے یہ کہ وہ جدید مواقع (modern opportunities) کو اسلام کے حق میں استعمال کرنے میں عملا ناکام رہے۔
اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ مغربی قومیں براہ راست معنوں میں اسلام کے حق میں تائیدی رول انجام دے رہی ہے۔ ایسا ہونا غیر فطری ہے۔ اس قسم کا تائیدی رول کبھی کوئی کمیونٹی کسی دوسری کمیونٹی کے لیے انجام نہیں دیتی۔اصل یہ ہے کہ ’’غیر اہل دین‘‘کا یہ تائیدی رول براہ راست طور پر نہیں، بلکہ بالواسطہ طور پر انجام پایا ہے۔
موجودہ زمانے میں صنعتی انقلاب (industrial revolution) ہوا۔ اس کے نتیجے میں دنیا میں ایک نیا ظاہرہ وجود میں آیا جس کو کثیر پیداوار (mass production)کا ظاہرہ کہا جاتا ہے۔ نئے صنعتی نظام کے تحت چیزیں اتنی بڑی مقدار میں تیار ہونے لگیں ، جن کی کھپت مقامی طور پر ناممکن تھی۔ اس کے نتیجے میں مارکیٹ کا نیا تصور پیدا ہوا۔ چیزوں کو کمرشیل نظریے کے تحت تیار کیا جانے لگا۔ اس کے نتیجے میں تاریخ میں ایک نیا انقلاب آیا، جو قدیم زمانے میں موجود نہ تھا۔ قدیم زمانے میں ایک مراعات یافتہ طبقہ (privileged class) موجود ہوتا تھا۔ مثلا بادشاہ اور لینڈ لارڈ، وغیرہ۔ صرف یہی لوگ بڑی چیزوں کو حاصل کرسکتے تھے۔ موجودہ زمانے میں جو کمرشیل انقلاب آیا، اس کے نتیجے میں یہ ہوا کہ ہر چیز ہر ایک کے لیے (everything for everyone)کا کلچر رائج ہوگیا۔اب ہر چیز ہر ایک کے دسترس میں ہوگئی۔ یہ چیز پہلے کبھی دنیامیں موجود نہ تھی۔
مثلا پہلے زمانے میں کوئی بڑی سواری صرف بادشاہ کے لیے ممکن تھی۔ اب ہر آدمی کار اور ہوائی جہاز استعمال کررہا ہے۔ پہلے زمانےمیں پیغام رساں کبوتر (homing pigeon)کسی بہت بڑے آدمی کے لیے قابل استعمال ہوا کرتی تھی۔ مگر آج ہم ایج آف کمیونی کیشن کے زمانے میں ہیں۔ اب ہر انسان کے لیے یہ ممکن ہوگیا ہے کہ وہ ٹکنالوجی کا استعمال کرکےپیغام رسانی کا بڑے سے بڑا مقصد حاصل کرسکے، وغیرہ، وغیرہ۔
موجودہ زمانے میں یہ واقعہ بہت بڑے پیمانے پر انجام پایا۔ یہ گویا مواقع کے انفجار (opportunity explosion) کا زمانہ ہے۔اب ہر آدمی کے لیے یہ ممکن ہوگیا ہے کہ وہ جدید مواقع کو استعمال کرکے بڑے سے بڑا کام انجام دے سکے۔ یہی امکان پوری طرح اہل ایمان کے لیے کھلا ہوا ہے۔ عمومی طور پر پیدا ہونے والا یہ امکان تاریخ کا بالکل نیا ظاہرہ ہے۔یہ نیا ظاہرہ گویاتائید کلچر ہے۔

کہا جاتا ہے کہ شہنشاہ اکبر نے اپنے لڑکے شہزادہ سلیم کی شادی میں اس کو چار سو ہاتھی کا تحفہ دیا تھا۔ یہ چار سو ہاتھی دوہد (گجرات) کے گھنے جنگلوں سے حاصل کیے گیے تھے۔ مگر آج گجرات کے اس علاقہ میں نہ کہیں گھنے جنگل نظر آتے ہیں، اور نہ ہاتھی۔
یہ ایک چھوٹی سی مثال ہے، جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ زمانہ کس طرح بدلتا رہتا ہے۔ ایک جگہ جہاں آج’’جنگل‘‘ نظر آتا ہے، وہاں کل ’’میدان‘‘ نظر آنے لگتا ہے۔ جہاں آج ہاتھیوں کے غول گھومتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں، وہاں جب کل کا سورج نکلتا ہے ہے تو دیکھنے والے دیکھتے ہیں کہ وہاں انسان چل پھر رہے ہیں۔
زمانہ کے اس بدلتے ہوئے روپ میں بے شمار نشانیاں ہیں۔ مگر نشانیوں سے وہی لوگ فائدہ اٹھاتے ہیں، جو ان کی گہرائیوں میں جھانکنے کی بصیرت رکھتے ہوں۔ (ڈائری، 1985)
واپس اوپر جائیں

قتال، جہاد

قتال اور جہاد کا حکم اسلام میں کیا ہے۔ اس معاملے میں فقہاءاسلام کا مسلک سعودی عالم محمد بن ابراہیم التویجری نے کسی قدر تفصیل کے ساتھ لکھا ہے۔ اس کا خلاصہ یہ ہے کہ جہاد کی دو قسمیں ہیں، جہاد اور قتال۔ جہادسے مراد جہاد دعوت ہے اور وہ حسن لذاتہ ہے۔ اس کے مقابلے میں قتال حسن لغیرہ ہے۔ اس کا مقصدلڑ کر فتنہ کو ختم کرنا ہے۔کیوں کہ اس سے دعوت کے دروازے کھل جاتے ہیں۔ (دیکھیے:موسوعة الفقہ الإسلامی، محمد بن إبراہیم التویجری، بیت الافکار الدولیہ، 2009، جلد 5 صفحہ450)۔
اس کا مطلب یہ ہےکہ اسلام میں قتال کا حکم ایک موقت (temporary) حکم ہے اور جہاد کا حکم ایک مستقل حکم۔ قتال فتنہ کو ختم کرنے کے لیے ہے (البقرۃ193: ، الانفال39:)۔ جب فتنہ ختم ہوجائےتو قتال کا حکم بھی موقوف ہوجائے گا۔ اس کے مقابلے میں جہاد برائے دعوت قرآن (الفرقان52:)ہے۔جہاد برائے قرآن یا برائے دعوت الی اللہ ہمیشہ جاری رہے گا۔یہی پر امن دعوت تمام انبیاء کا مشن تھا۔ یہ کبھی موقوف ہونے والا نہیں۔
قرآن کے مطابق، پیغمبر کا کام انذار و تبشیر (النساء165:) تھا۔ یعنی پرا من انداز میں دعوت توحید کا کام انجام دینا۔ یہی کام پیغمبر کے بعد پیغمبر کی امت کا ہے۔ یہ ایک پرامن دعوتی جدو جہد ہے جو قیامت تک کسی توقف کے بغیر جاری رہے گی۔ قیامت کے سوا کوئی بھی دوسری چیز اس کو ختم کرنے والی نہیں۔
اصل یہ ہے کہ اللہ نے انسان کو پیدا کرکے زمین پر آباد کیا، اور اس کے بعد داعیان توحید کو کھڑا کیا جو ہمیشہ پرامن انداز میںانسان کو اس کا مقصد حیات (purpose of creation) بتاتے رہے۔ مگر بعد کے زمانے میں یہ ہوا کہ دنیا میں جبر (despotism)کا نظام قائم ہوگیا۔ خدا کے تخلیقی نقشہ کے مطابق یہ مطلوب ہے کہ انسان کے لیے مذہب کے معاملہ میں ہمیشہ آپشن (options) کھلے رہیں۔ لیکن جبر کے تحت یہ آزادی دنیا میں باقی نہ رہی۔ انسان کو پابند کردیا گیا کہ وہ حکمراں کے عقیدہ (belief) کو مانے، ورنہ اس کو قتل کردیا جائے گا۔ اس صورتِ حال کی بنا پر دنیا سے مذہبی آزادی کا خاتمہ ہوگیااور ساری دنیا میں مذہبی جبر (religious persecution) کا دور قائم ہوگیا۔ یہ صورتِ حال خالق کے تخلیقی نقشہ کے خلاف تھی۔ اس لیے پیغمبر آخر الزماں کے ذریعہ قرآن میں یہ حکم دیا گیا : وَقَاتِلُوہُمْ حَتَّى لَا تَکُونَ فِتْنَةٌ وَیَکُونَ الدِّینُ کُلُّہُ لِلَّہ(8:39)۔ یعنی اور ان سے لڑو یہاں تک کہ فتنہ باقی نہ رہے اور دین سب اللہ کے لئے ہوجائے۔
قرآن کی اس آیت میں فتنہ سے مراد قدیم مذہبی جبر کا نظام ہے، جو خدا کے تخلیقی نقشہ کے مطابق نہ تھا۔ قرآن نے اپنے پیرؤوں کو یہ حکم دیا کہ ہزاروں سال سے قائم شدہ اس مذہبی جبر کے نظام کو ہر حال میں ختم کردو، خواہ اس کے لیے تم کو جنگ کرنا پڑے۔ اس جنگ کا نشانہ صرف ایک تھا۔ اور وہ یہ کہ خالق کے تخلیقی نقشہ کے مطابق عقیدہ (belief) کے معاملے میں انسان کے لیے تمام آپشن (options) کھل جائیں۔ اس معاملے میں انسان کے لیے کوئی جبر باقی نہ رہے۔ ساتویں صدی عیسوی میں پیغمبر اور اصحاب پیغمبر کے ذریعہ یہ آپریشن (operation) شروع ہوا اور انہیں کے زمانہ میں اس آپریشن کا بڑا حصہ انجام پا گیا۔ پہلے قبائلی نظام (tribal system) ختم ہوا۔ اس کے بعد وقت کے دو بڑے ایمپائر ، ساسانی سلطنت (Sassanid Empire) اور بازنطینی سلطنت (Byzantine Empire) کا خاتمہ ہوگیا، جو کہ اس زمانہ میں سیاسی جبر کے نظام کے دو بڑے مرکز بنے ہوئے تھے۔
اس کے بعد تاریخ میں ایک انقلابی عمل (revolutionary process) شروع ہوا۔ یہ عمل مختلف مراحل سے ہوتے ہوئے مسلسل طور پر تاریخ میں جاری رہا۔ یہاں تک کہ 1789 میں وہ واقعہ پیش آیا جس کو انقلاب فرانس (French Revolution) کہا جاتا ہے۔ انقلاب فرانس گویا ختم فتنہ کے عمل (process)کا نقطۂ انتہا (culmination) تھا۔ اب قتال کی کوئی ضرورت نہیں۔ اب اہل توحید کو صرف پرامن دعوت کا کام کرنا ہے۔
مسلمانوں کی بعد کی تاریخ میں اس معاملے میں ایک فکری تبدیلی پیدا ہوگئی۔ وہ یہ کہ عمومی طور پر قتال و جہاد کو ہم معنی الفاظ کے طور پر استعمال کیا جانے لگا۔ یہ بلاشبہ ایک فکری انحراف تھا۔ اس فکری انحراف کی بنا پر یہ نقصان واقع ہوا کہ قتال ایک مستقل عمل کے طورپر مسلمانوں کے درمیان جاری ہوگیا۔ اور دعوت الی اللہ جو اصل مقصود تھا، وہ عملا پس پشت پڑگیا۔ مسلمانوں کے درمیان انحراف کا یہ سلسلہ آج تک جاری ہے۔
اسلام اپنی حقیقت کے اعتبار سے انسان کے ساتھ ہمدردی اور خیر خواہی کا مذہب ہے۔ اسلام کی تعلیم یہ ہے کہ بظاہر اگر کچھ لوگ تم کو اپنے دشمن نظر آئیں تو اپنے حسن اخلاق سے ان کو اپنا دوست بناؤ (فصلت: 34)۔مگر بعد کے زمانے میں جب قتال کو جہاد کے معنی میں استعمال کیا جانےلگا تو صورت حال بدل گئی۔ اب مسلمانوں میں ہم اور وہ (we and they) کا تفریقی کلچر فروغ پانے لگا۔ اب مسلمانوں میں ایک نئی تفریق وجود میں آئی۔ اس تفریق کے تحت، کچھ لوگ اپنے تھے اور کچھ غیر تھے، کچھ مومن تھے اور کچھ کافر، کچھ دوست تھے اور کچھ دشمن۔ اس تفریق کی بنا پر مسلمانوں میں عدم برداشت (intolerance) کا کلچر پیدا ہوا۔ یہ کلچر بڑھتے بڑھتے جنگ اور خودکش بمباری (suicide bombing) تک پہنچ گیا۔
مسلمانوں کے درمیان یہ صورت حال، بلاشبہ ایک مہلک صورت حال ہے۔ اس کا واحد حل یہ ہے کہ مسلمان اجتماعی توبہ (النور 31:)کریں۔ وہ پرتشددقتال کے کلچر کو مکمل طور پر چھوڑ دیں، اور پرامن دعوت کے کلچر کو پوری طرح اختیار کرلیں۔ اس اجتماعی توبہ میں مسلمانوں کے لیے دنیا کی فلاح بھی ہے اور آخرت کی فلاح بھی۔
واپس اوپر جائیں

معاونِ اسلام تہذیب

قدیم یونانی تہذیب سے لے کر جدید مغربی تہذیب (western civilization) تک تقریباً 100 سو تہذیبیں دنیا میں پائی گئی ہیں۔ مگر جدید مغربی تہذیب ایک منفرد تہذیب ہے۔ بقیہ تمام تہذیبیں سیاسی انقلاب کے تحت وجود میں آئیں۔ جب کہ جدید مغربی تہذیب استثنائی طور پر سائنسی انقلاب (scientific revolution) کے تحت وجود میں آئی۔ قدیم تہذیبوں کے بانی سیاسی حکمراں ہوا کرتےتھے۔ مگر جدید مغربی تہذیب کو وجود میں لانے والے وہ لوگ ہیں، جن کو سائنسداں (scientists) کہا جاتا ہے۔
تہذیب کی تاریخ میں اسلامی تہذیب یا مسلم تہذیب کا نام بھی آتا ہے۔ مگر باعتبارِ حقیقت یہ درست نہیں۔جس چیز کو اسلامی تہذیب کہا جاتا ہے، وہ اپنی حقیقت کے اعتبار سے اسلامی تہذیب نہ تھی، بلکہ وہ قدیم یونانی یا رومی تہذیب کی توسیع (expansion) تھی:
What is called Islamic civilization was in fact a modified version of Greco-Roman civilization
تہذیب (civilization) کےلیے موجودہ عرب دنیا میں حضارۃ کی اصطلاح استعمال کی جاتی ہے۔ لیکن اسلام کے دونوں مصادر (sources)، قرآن اور حدیث اس لفظ سے خالی ہیں۔ قرآن و سنت میں اسلامی حضارۃ (civilization) کا تصور موجود نہیں۔ علمائے متقدمین کی کتابوں میں سے کوئی کتاب اسلامی حضارۃ کے موضوع پر پائی نہیں جاتی۔ اس لیے یہ کہنا صحیح ہوگا کہ اسلامی حضارۃ ایک مبتدعانہ تصور ہے ۔اس اصطلاح کا ماخذ وہی چیز ہے جس کو قرآن میں مضاہاۃ (التوبۃ30:) کہا گیا ہے۔
اس موضوع پر مزید غور وفکر سے معلوم ہوتا ہے کہ اسلام میں اسلامی تہذیب کا تصور موجود نہیں ہے۔ البتہ اسلام میں اسلام کی موید تہذیب (supporting civilization) کا تصور موجود ہے۔ یہ تصور پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم  کے ایک قول سے اخذ ہوتا ہے۔ یہ روایت حدیث کی کتابوں میں مختلف الفاظ میں موجود ہے۔ مسند احمد کے الفاظ یہ ہیں: إن اللہ سیؤید ہذا الدین بأقوام لا خلاق لہم (حدیث نمبر 20454)۔یعنی مستقبل میں ضرور ایسا ہوگا کہ اللہ تعالی اس دین کی تائید ایسے لوگوں کے ذریعے کرے گا جن کا (دین میں ) حصہ نہ ہو گا۔
پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ بات ایک پیشین گوئی (prediction) تھی۔ یہ پیشین گوئی آپ نے ساتویں صدی عیسوی میں کی۔ اب ہم اکیسویں صدی میں ہیں، جب کہ اس پیشین گوئی کو چودہ سوسال سے زیادہ گزرچکے ہیں۔ یہ لمبی مدت یہ یقین کرنے کے لیے کافی ہے کہ اب یہ پیغمبرانہ پیشین گوئی یقینی طور پر پوری ہوچکی۔ ضرورت صرف یہ ہے کہ ہم اس کو دریافت کریں۔ اور اس کے مطابق اپنے عمل کا منصوبہ بنائیں۔
غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ پیغمبر کی مذکورہ پیشین گوئی اب پوری طرح واقعہ بن چکی ہے۔ موجودہ زمانے کے مسلمان اگر اس سے بے خبر ہیں تو اس کا سبب صرف تسمیہ (nomenclature) کا فرق ہے۔ یعنی پیشین گوئی ساتویں صدی عیسوی کی زبان میں کی گئی، اب وہ آج کی زبان میں ہمارے سامنے ظاہر ہوئی ہے۔ زبان کے اس فرق کو اگر سمجھ لیا جائے تو معلوم ہوگا کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں جو چیز مستقبل (future)کا واقعہ معلوم ہوتی تھی، وہ اب حال (present) کا واقعہ بن چکی ہے۔ یہاں اس سلسلے میں چند مثالیں نقل کی جاتی ہیں، جس سے یہ بات زیادہ واضح ہوجاتی ہے۔
رسول اللہ کے زمانے میں جو قرآن اترا ، اس کی ایک آیت یہ تھی: وَمَا یَعْزُبُ عَنْ رَبِّکَ مِنْ مِثْقَالِ ذَرَّةٍ فِی الْأَرْضِ وَلَا فِی السَّمَاءِ وَلَا أَصْغَرَ مِنْ ذَلِکَ وَلَا أَکْبَرَ إِلَّا فِی کِتَابٍ مُبِینٍ (10:61)۔ یعنی اور تیرے رب سے ذرہ برابر بھی کوئی چیز غائب نہیں، نہ زمین میں اور نہ آسمان میں اور نہ اس سے چھوٹی اور نہ بڑی، مگر وہ ایک واضح کتاب میں ہے۔ ساتویں صدی میں جب یہ آیت اتری اس وقت انسان جانتا تھا کہ اس دنیا میں سب سے چھوٹی چیز ذرہ ہے۔ مگر 1911میںبرٹش سائنٹسٹ ارنسٹ ردر فورڈ (Ernest Rutherford) کی دریافت سے معلوم ہوا کہ اس دنیا میں ذرہ سے بھی چھوٹی ایک چیز موجود ہے، جو اب سب ایٹمک پارٹکل (sub-atomic particle) کے نام سے عالمی طور پر معلوم ہوچکی ہے۔
تائید کا معاملہ
اسلامی تہذیب اور مؤید اسلام تہذیب کا معاملہ کوئی سادہ معاملہ نہیں۔ اس کا تعلق براہ راست طور پر آدمی کے مزاج سے ہے۔ اسلامی تہذیب کا تصور قدیم زمانہ میں موجود نہ تھا۔ یہ صرف موجودہ زمانہ میں ابھرا ہے۔ بظاہر یہ مسلم فخر کا ایک معاملہ تھا۔ مگر عملاً وہ غلط فکر کا معاملہ بن گیا۔ موجودہ زمانہ میں ایک بہت بڑا واقعہ ہوا جو مسلمان کے لیے نہایت مفید معاملہ تھا۔ یہ واقعہ مغربی تہذیب کا معاملہ تھا۔ مغربی تہذیب مسلمانوں کے لیے حدیث کی زبان میں مؤید دین تہذیب تھی۔ وہ مسلمانوں کے لیے ایک عظیم موقع (great opportunity) تھا جس کو استعمال کرکے مسلمان جدید معیار کے مطابق زیادہ مؤثر انداز میں اسلام کی اشاعت کا کام کرسکتے تھے۔ مگر اسلامی تہذیب کے نام پر فخر پسندی کا مزاج مسلمانوں پر اس طرح چھا گیاکہ وہ اس حقیقت کو دریافت ہی نہ کرسکےکہ مغربی تہذیب ان کے دین کے لیے تائید کا درجہ رکھتی ہے۔ موجودہ زمانہ کے مسلمانوں کی غیر حقیقت پسندانہ سوچ کی وجہ سے مغربی تہذیب کو اسلام دشمن تہذیب سمجھ لیا گیا۔ جب کہ باعتبارِ حقیقت وہ ایک مرید اسلام تہذیب تھی۔ اس غلط فکر کا نقصان اتنا بڑا ہے کہ شاید پوری مسلم تاریخ میں اتنے بڑے نقصان کا کوئی دوسرا واقعہ نہیں۔
مغربی تہذیب نے تاریخ میں پہلی بار مسلمانوں کے لیے نئے مواقع کھولے تھے۔ ان میں سب سے بڑا موقع یہ تھا کہ وہ اسلام کی عالمی دعوت کے ناتمام (unfinished) منصوبہ کو تکمیل تک پہنچاسکیں۔ اور حدیث کے الفاظ میں اللہ کے کلام کو زمین پر آباد چھوٹے اور بڑے گھر میں داخل کردیں ۔ مگر مسلمان اپنی غلط فکری کی وجہ سے جدید مواقع کو اپنے دین کے حق میں استعمال نہ کرسکے۔
واپس اوپر جائیں

قرآن اور عصر جدید

قرآن ساتویں صدی کے ربع اول میں اترا۔ قرآن کا مقصد انسانیت کی اصلاح تھا۔ اپنے زمانے کے اعتبار سے قرآن میں جن مختلف گروہوں کوایڈریس کیا گیا ہے، وہ عملاً 4 قسم کے گروہ ہیں— یہود، عیسائی، مشرک اور کافر۔ اگر کوئی شخص قرآن کو پڑھے تو وہ پائے گا کہ یہ چاروں گروہ قرآن کی دعوت کے بارے میں منفی (negative) ذہن رکھتےہیں۔ چناں چہ قرآن میں ان کے اوپر سخت تنقید کی گئی ہے۔ حتی کہ بعض اوقات ان کے سخت رد عمل کی بنا پر جنگ کی نوبت آگئی۔
بعد کے زمانے کے مسلمان جب قرآن کو پڑھتے ہیں تو وہ قرآن میں ان چاروں گروہوںکا ذکر پاتے ہیں۔ کیوں کہ چاروں گروہوں کے بارے میں ان کے عصری رویہ کی بنا پر سخت تبصرے کیے گیے ہیں۔ قرآن کے یہ سخت تبصرے زمانی سبب (age factor) کی بنا پر ہیں۔ لیکن مسلمان غیر شعوری طور پر یہ سمجھ لیتے ہیں کہ یہ طبقات آج بھی باقی ہیں، اور ان کے بارے میں آج بھی ان کا وہی سخت رویہ ہونا چاہیے، جو رسول اور اصحاب رسول کے زمانے میں تھا۔
موجودہ زمانے میں مسلمانوں کا حال یہ ہے کہ وہ تمام دنیا کو اپنا دشمن سمجھتے ہیں۔ وہ تمام قوموں کے خلاف لڑائی چھیڑے ہوئے ہیں۔ کبھی passive sense میں اور کبھی active senseمیں۔ وہ یہود کو مغضوب قوم سمجھتے ہیں، نصاریٰ کو ضالَ قوم سمجھتے ہیں، وہ مفروضہ کافروں کو جہنمی سمجھتے ہیں، اور اس طرح مشرکوں کو اعتقادی معنوں میں سراسر باطل سمجھتے ہیں۔ مسلمانوں کا یہی مزاج (mindset) ہے جس نے ان کو ساری دنیا کا مخالف بنادیا ہے۔ ان کا نشانہ یہ بن گیا ہے کہ تمام قوموں سے لڑ کر ان کو مغلوب کرنا ہےاور ساری دنیا میں اسلام کا سیاسی اقتدار قائم کرنا ہے۔
مسلمانوں کی یہ سوچ تمام تر ان کی غلط فکری کا نتیجہ ہے۔ ساتویں صدی میں عرب یا اطراف عرب میں جو قومیں موجود تھیں، وہ سب بہت پہلے ختم ہوچکیں۔ اب ان کے نام سے جو قومیں دنیا میں موجود ہیں، وہ خواہ نام کے اعتبار سے قدیم ہوں، لیکن حقیقت کے اعتبار سے وہ جدید ہیں۔
جدید دور ایک اعتبار سے ڈی کنڈیشننگ کا دور (age of deconditioning) ہے۔ جدید دور میں نئے افکار خاص طور پر سیکولر ایجوکیشن نے مکمل طور پر لوگوں کے ذہنوں کو بدل دیا ہے۔ آج کا یہودی مختلف یہودی ہے، آج کا عیسائی مختلف عیسائی ہے۔ اس طرح آج کے مشرک مختلف قسم کے مشرک ہیں۔ یہ قومیں اب اتنا زیادہ بدل چکی ہیں کہ ان کو وہی سمجھ سکتا ہے، جس نے انھیں دوبارہ دریافت (rediscover) کیا ہو۔
قدیم زمانہ کے اعتبار سے یہ لوگ 4 مختلف قوم تھے۔ لیکن جدید زمانہ کے اعتبار سے یہ سب ایک ہی قوم ہیں۔ سب پر ایک ہی لفظ منطبق ہوتا ہے، اور وہ ہے جدید انسانـ۔ قدیم زمانہ کے انسان کے برعکس جدید دور کے انسان کے اندر اصولی طور پر کٹرپن اور تعصب ختم ہوچکا ہے۔ قدیم زمانے میں ساری دنیا میں ہم اور وہ (we and they) کا تصور (concept) رائج تھا۔ اب آج کی دنیا میں عمومی طور پرہم اور ہم (we and we) کا conceptرائج ہوچکا ہے۔
اس صورت حال نے قدیم مساوات (equation)کا خاتمہ کردیا ہے۔ قدیم زمانہ میں دوست اور دشمن (friend and enemy) کا تصور پھیلا ہوا تھا۔ اب یہ ثنویت (dichotomy) ختم ہوچکی ہے۔ آج دنیا میں جس مساوات کا غلبہ ہے، وہ دوست اور مؤید (supporter)کا ہے۔آج کی دنیا میں کوئی کسی کا دشمن نہیں۔ آج کی دنیا میں کوئی شخص یا تو آپ کا دوست ہوگا اور اگر دوست نہ ہو تو وہ آپ کا مؤید ہوگا۔ گویا جس دور کی پیشین گوئی حدیث میں کی گئی تھی، وہ اب واقعہ بن چکی ہے۔
ان روایتوں میں مستقبل کے جس واقعہ کو دین کی نسبت سے بیان کیا گیا ہے، وہ حقیقۃً ساری انسانیت کی نسبت سے ہے۔یعنی مستقبل میں ایک ایسا زمانہ آئے گا، جب کہ دشمنی کا دور اصولی طور پر ختم ہوجائے گا۔ دور کے تقاضے کی بنا پر لوگ ایک دوسرے کے دوست ہوں گے۔ اور اگر دوست نہ ہوں گے تو وہ امکانی طور پر ایک دوسرے کے مؤید بن جائیں گے۔
اسلام سے پہلے ہزاروں سال سے دنیا میں جو کلچر رائج تھا، وہ یہ تھا ——جو میرا دوست نہیں، وہ میرا دشمن ہے۔قدیم زمانہ زراعت (agriculture)اور کنگ شپ (kingship) کا زمانہ تھا۔ اس زمانہ میں ہر ایک کا انٹرسٹ الگ ہوتا تھا۔ گویا کہ وہ زمانہage of differing interest کا زمانہ تھا۔ اُس زمانہ میں باہمی تعلقات کا کلچر وجود میں نہیں آیا تھا۔ لوگ یا تو اپنے اپنے ذاتی دائرے میں رہتے تھے، یا میدان جنگ ( battlefield)میں ایک دوسرے سے ملتے تھے۔ گویا کہ اُس زمانہ میں جو رائج ثنائیت (dichotomy)تھی، وہ دوست اور دشمن کی ڈائیکاٹومی تھی۔ یہ ثنائی کلچر مستقل طور پر دشمنی اور جنگ کا سبب بنا ہوا تھا۔ اِس ثنائی کلچر کی بنا پر دین حق کی اشاعت عملاً ناممکن بن گئی تھی۔ قدیم زمانہ میں جو مذہبی جبر (religious persecution)رائج ہوا،اس کا سبب یہی تھا۔
اللہ تعالی کا منصوبہ یہ تھا کہ اس ثنائیت کو ہمیشہ کے لیے ختم کردیا جائے۔ یہی وہ بات ہے جو قرآن کی اس آیت میں بیان ہوئی ہے:وَقَاتِلُوہُمْ حَتَّى لَا تَکُونَ فِتْنَةٌ وَیَکُونَ الدِّینُ کُلُّہُ لِلَّہِ (8:39)۔ ان سے جنگ کرو، یہاں تک کہ فتنہ باقی نہ رہے، اور دین سب اللہ کے لیے ہوجائے۔ اس آیت میں خدا کی جس اسکیم کا اعلان کیا گیا تھا، اس کا مطلب یہ نہیں تھا کہ ساری دنیا میں حکومتِ الٰہیہ (kingdom of God) قائم کی جائے۔اس آیت میں سیاسی نظریہ کو نہیں بتایا گیا تھا، بلکہ اس میں ایک انسانی نظریہ کو بتایا گیا تھا۔ اور وہ یہ کہ دنیا میں ایک عالمی اصول (universal norm) کے طور پر دوست اور دشمن کی ثنائیت (dichotomy)ختم ہوجائے، اور ایک اور ثنائیت رائج ہوجائے۔ یعنی دوست اور مؤید کی ثنائیت۔یہی وہ تاریخی حقیقت ہے جس کو حدیث میں ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے: اللہ بے شک اس دین کی مدد ایسے اقوام کے ذریعہ کرے گا، جو اہل ایمان میں سے نہ ہوں گے۔
یہ نظام تائید (order of mutual support) دنیا میں کس طرح آئے گا۔ اس کا جواب یہ ہے کہ یہ نظام عملاً جمہوریت (democracy) اور صنعتی تہذیب (industrial civilization) کے ذریعہ دنیا میں آچکا ہے۔ اس سیاسی اور صنعتی نظام کے بعد دنیا میں جو دور آیا ہے، وہ تمام تر باہمی مفاد (mutual interest) پر قائم ہے۔ پچھلے زمانہ میں باہمی مفاد کی حیثیت عمومی کلچرکی نہ تھی۔ موجودہ زمانے میں باہمی مفاد زیادہ ضروری ہوچکا ہے ۔ اس کے بغیر نہ جمہوری سیاست دنیا میں چلائی جاسکتی ہے، اور نہ صنعتی تہذیب قائم کی جاسکتی ہے۔
باہمی مفاد کے اس کلچر نے اب اُس چیز کو لوگوں کے لیے ایک مجبوری (compulsion) کا معاملہ بنا دیا ہے، جس کو پہلے صرف اخلاقی چیز سمجھا جاتا تھا۔ آج کی دنیا میں انسان اس کا تحمل نہیں کرسکتا کہ وہ دوسروں کو اپنا دشمن قرار دے۔ ایسا کرنے کی صورت میں نہ جمہوری سیاست چل سکتی ہے، اور نہ صنعتی تہذیب وجود میں آسکتی ہے۔
زمانہ کی اس تبدیلی کی وجہ سے یہ ہوا کہ قدیم طرز کی یہ ثنائیت ایک ناممکن چیز بن گئی۔ اس اضطرار (compulsion) کی بنا پر دور جدید میں ایک نئی ثنائیت قائم ہوگئی۔ یہ نئی ثنائیت دوست اور مؤید (supporter) کے اصول پر قائم ہے، نہ کہ قدیم زمانہ کی دوست اور دشمنی کی ثنائیت پر۔
موجودہ زمانہ کے جو مسلمان دوسری قوموں کو اپنا حریف یا دشمن سمجھ کر ان سے نفرت کرتے ہیں یا ان سے متشددانہ لڑائی کررہے ہیں، وہ مؤید کی اس حقیقت سے بے خبر ہیں۔ وہ اپنے قدیم ذہن کی بنا پر یہ سوچتے ہیں کہ آج بھی دنیا میں وہی یہود ،وہی نصاریٰ، وہی کافراور وہی مشرک ہیں، جو پہلے تھے۔ حالاں کہ اب اصولی طور پر ان تمام گروہوں کا خاتمہ ہوچکا ہے۔ آج یہ تمام گروہ ایک عمومی کلچر کا حصہ بن کر ایک نئے قسم کے گروہ بن گیے ہیں۔ وہ ایک دوسرے کا مؤید گروہ (supporter) بن گیے ہیں۔ آج ایک انسان کی شناخت (identity)مذہب پرمبنی نہیں ہے، بلکہ تائیدی کلچر پر مبنی ہے۔
وہ تائیدی دور جس کی پیشین گوئی قرآن و حدیث میں کی گئی تھی، وہ اب پچھلے ہزار سالہ تاریخی عمل (historical process) کے ذریعہ دنیا میں عملاً قائم ہوچکا ہے۔ اب مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ مکمل طور پر نفرت اور تشدد کا خاتمہ کردیں۔ جس طرح دوسرے لوگ اپنے سیاسی مفاد یااقتصادی مفاد کو باہمی تعلقات (mutual interest) کے ذریعہ حاصل کررہے ہیں۔ اسی طرح مسلمانوں کو بھی اپنے ملی منصوبہ کو باہمی تعلقات (mutual interest) پر قائم کرنا چاہیے، نہ کہ باہمی ٹکراؤ کی بنیاد پر۔
قدیم تاریخ میں انسانوں کے درمیان جو ناپسندیدہ صورتِ حال قائم تھی، ا س کے حل کے لیے تین انتخاب (option) ممکن تھے۔ ایک یہ کہ صورت حال کو بدستور اپنی حالت پر باقی رکھا جائے۔ اس انتخاب میں اصل مسئلہ بدستور باقی رہتا تھا، اور انسان کو وہ آزادی ملنے والی نہیں تھی، جو خدائی اسکیم (scheme of things) کے مطابق مطلوب تھی۔ یعنی آزادی کے ساتھ اپنے پسندیدہ مذہب یا فکر کو اختیار کرنا۔
دوسرا انتخاب یہ تھا کہ لڑکر اس صورت حال کو ختم کرنے کی کوشش کی جائے، مگر یہ انتخاب بھی غیر مفید تھا۔ کیوں کہ انسانی آزادی کو باقی رکھتے ہوئے، وہ سرے سے قابل عمل ہی نہ تھا۔
تیسرا انتخاب وہ ہے جس کو اختیار کیا گیا، یعنی انسانی تعلقات میں ایسا کلچر رائج کیا گیا، جس میں امن ہر ایک کی ضرورت بن گئی۔ ہر ایک کے لیے یہ ضروری ہوگیا کہ وہ دوسرے کی رعایت (concession) کرتے ہوئے، اپنے لیے راستہ بنانے کی کوشش کرے، نہ کہ دوسروں سے ٹکراؤ کے ذریعہ۔ یہی وہ حکمت ہے، جو خالق نے اس معاملہ میں اختیار کی۔
ان تفصیلات کو سامنے رکھا جائے تو معلوم ہوگا کہ قرآن میں اس سلسلہ میں جو بات کہی گئی ہے، وہ معاصر زمانہ کی رعایت سے تھی، وہ ابدی نہ تھی۔ قرآن کی تعلیمات کے دو حصے ہیں۔ ایک آئڈیالوجی (ideology)، اور دوسرا ہے طریقہ کار (method)۔آئڈیا لوجی کا جو حصہ ہے، ناقابل تبدیلی ہے۔ وہ جیسا پہلے تھا، ویسے ہی اب بھی رہے گا۔ لیکن جہاں تک متھڈ کی بات ہے، اس کا تعلق زمانی اسباب (age factor) سے ہے۔ خالق نے زمانی اسباب کے معاملہ میں تاریخ کو اس طرح مینج (manage) کیا کہ انسان کی آزادی بھی باقی رہے، اور مسئلہ بھی انسانی زندگی کے کسی پہلو کو نظر انداز کیے بغیر حل ہوجائے۔
قدیم زمانہ میں زندگی کا جو نظام رائج تھا، اس میں صرف دو چیزوں کی اہمیت ہوتی تھی: زراعت (agriculture) اور بادشاہت (kingship)۔زرعی زمین کا مالک لینڈ لارڈ ہوتا تھا۔ زمین کے معاملہ میں وہی سب کچھ ہوتا تھا۔ اس طرح حکومت کے معاملہ میں ساری حیثیت بادشاہ کی ہوتی تھی۔ اس نظام کے تحت قدیم زمانہ میں ساری دنیا میں یک طرفہ مفاد (unilateral interest) کا طریقہ رائج تھا۔ اس لیے ہزاروں سال کے درمیان ساری دنیا میں یہی طریقہ رائج تھا۔
مسلم عہد میں آٹھویں صدی عیسوی میں ساسانی سلطنت (Sassanid Empire) اور بازنطینی سلطنت(Byzantine Empire) کو توڑدیا گیا۔ اس کے بعد انسانی زندگی میں ایک نیا تاریخی عمل (historical process) شروع ہوا۔ یہ عمل مختلف مراحل سے گزرتا رہا۔یہاں تک کہ 17ویں صدی میں مغربی یورپ میں اس کی تکمیل ہوئی۔اس کے بعد انسانی زندگی میں ایک نیا دور آگیا۔ یہ نیا دور باہمی مفاد کے اصول پر قائم تھا۔ اب دنیا کا نظام مشترک مفاد(common interest) کے اصول پر چلنے لگا۔ جب کہ اس سے پہلے وہ غیر مشترک مفاد (unilateral interest) کے اصول پر چل رہا تھا۔ اس نئے دور میں دوبڑے انقلابات آئے۔ ایک، جمہوریت (democracy) اوردوسرا، صنعتی تہذیب (industrial civilization)۔
اس صورت حال نے پچھلی مساواتوں (equations) کو یکسر بدل دیا۔ اب دنیا میں نئی ثنائیت (dichotomy) وجود میں آئی، تمام انسانی مفادات دو طرفہ بنیاد پر قائم ہوگیے۔ ٹیچر کا مفاد اسٹوڈنٹ سے، اور اسٹوڈنٹ کا مفاد ٹیچر سے۔ بزنس مین کا مفاد کسٹمرسے، اور کسٹمرس کا مفاد بزنس مین سے، پولیٹکل لیڈروں کا مفاد ووٹرس سے اور ووٹرس کا مفاد پولیٹکل لیڈرس سے، وغیرہ۔ اس طرح دنیا میں پہلی بار وہ دور عمومی طور پر رائج ہوا جس کو حدیث میں تائید کا دور (age of mutual support) کہا گیا ہے۔
اس نئے دور کی پیشین گوئی قرآن میں ان الفاظ میں کی گئی ہے: وَلَا تَسْتَوِی الْحَسَنَةُ وَلَا السَّیِّئَةُ ادْفَعْ بِالَّتِی ہِیَ أَحْسَنُ فَإِذَا الَّذِی بَیْنَکَ وَبَیْنَہُ عَدَاوَةٌ کَأَنَّہُ وَلِیٌّ حَمِیمٌ (41:34)۔یعنی بھلائی اور برائی دونوں برابر نہیں، تم جواب میں وہ کہو جو اس سے بہتر ہو پھر تم دیکھو گے کہ تم میں اور جس میں دشمنی تھی، وہ ایسا ہوگیا جیسے کوئی دوست قرابت والا۔
یہ تاریخ میں خدائی مینجمنٹ (divine management) کا معاملہ تھا۔ قدیم زمانے میں انسانی زندگی دوست اور دشمنی کی ثنائیت (dichotomy) پر قائم تھی۔ تاریخ میں اس نئے انقلاب کے بعد انسانی زندگی میں ایک اور ڈائیکاٹومی قائم ہوئی، جس میں دشمنی کا تصور حذف ہوچکا تھا۔ صرف دو فریق باقی تھے۔ اور وہ تھے، دوست اور موید (supporter)۔
قرآن میں رسول اور اصحاب رسول کو یہ حکم دیا گیا تھا : وَقَاتِلُوہُمْ حَتَّى لَا تَکُونَ فِتْنَةٌ وَیَکُونَ الدِّینُ کُلُّہُ لِلَّہِ (8:39)۔ یعنی ان سے لڑو یہاں تک کہ فتنہ باقی نہ رہے اور دین سب اللہ کے لئے ہوجائے۔ اس آیت کا مطلب یہ نہیں تھا کہ ساری دنیا میں حکومتِ الٰہیہ قائم ہوجائے، بلکہ اس کا مطلب یہ تھا کہ انسانی زندگی میں مخاصمانہ تعلقات (relationship based on rivalry) کے بجائے مویدانہ تعلقات (relationship based on support) پر قائم ہوجائے۔ دنیا سے مذہبی استبداد ختم ہوجائے۔
آج دنیا ایک گلوبل ولیج (global village) بن چکی ہے۔ تیز رفتار کمیونی کیشن نے تمام رکاوٹیں دور کردی ہیں۔ ایک ملک کے دوسرے ملک سے مفادات وابستہ ہوگیے ہیں۔ کسی ملک میں کوئی چیز دستیاب ہے، کسی ملک میں کوئی دوسری چیز دستیاب ہے۔ اس طرح آپسی لین دین بہت زیادہ بڑھ گیا ہے۔ امپورٹ ایکسپورٹ بہت بڑے پیمانہ پر ہورہا ہے۔ ایسا پہلے کبھی تاریخ میں نہیں تھا۔ اس نئے سیناریو (scenario) میں تمام rivalries ختم ہوچکی ہیں۔ اب صرف دوست اور دوست کا equation ہے۔ دوست اور دشمن کا equation ختم ہوچکا ہے۔
اس گلوبل ولیج کی ایک علامت موجودہ زمانہ میں ہوائی سفر (air travel) ہے۔ قدیم بحری اور بری سفر کے برعکس ہوائی جہاز تمام ملکوں کے اوپر پرواز کرتا ہے، خواہ وہ اپنا ملک ہو یا غیر کا ملک ہو۔ اس کے نتیجہ میں انسانوں کی بنائی ہوئی تمام سرحدیں اپنے آپ ٹوٹ گئیں۔ اب عملاً ہر انسان تمام دنیا کا شہری ہے۔ جبکہ قدیم زمانہ میں کوئی انسان صرف اپنے ملک کا شہری ہوتا تھا۔
ایجوکیشن، جاب، سیاحت، تجارت، وغیرہ کے لیے لوگ بڑی تعداد میں ایک ملک سے دوسرے ملک جاتے ہیں۔ ان ممالک میں ان کو ہر طرح کی آزادی ملی ہوئی ہے۔ یہاں تک کہ وہ اپنے مذہب سے لوگوں کو آگاکریں، اس کی بھی آزادی ہے۔ اس نظر سے ہم دیکھیں تو ہمیں محسوس ہوگا کہ آج ساری دنیا ہماری دنیا ہے۔ وہ ساری حد بندیاں ٹوٹ چکی ہیں، جو قدیم دور کا خاصہ تھیں۔ آپ باہر جاکر تعلیم حاصل کریں، بزنس کریں، اپنے مذہب کی پریکٹس کریں، اپنے مذہب کی تبلیغ کریں۔ صرف لاء اینڈ آرڈر کے لیے پرابلم بننے کی اجازت نہیں ۔ آپ پرامن (peaceful) رہ کر ہر ملک میں وہ کام کرسکتے ہیں، جو آپ اپنے ملک میں کرسکتے ہیں۔
یہ نیا دور جو تاریخ میں خدائی انتظام (divine management) کے تحت دنیا میں آیا ہے، وہ عین دینِ خداوندی کے حق میں ہے۔ اب وقت آگیا ہے کہ امت مسلمہ اس حقیقت کو سمجھے۔ وہ ہر قسم کی منفی کارروائیوں کو مکمل طور پر چھوڑ دے۔ کیوں کہ امت مسلمہ کی منفی کارروائیاں محرومی (deprivation) کے اصول پر قائم تھیں۔ اب امت مسلمہ کو اپنی منصوبہ بندی کو مکمل طو رپر یافت (gain) کے اصول پر قائم کرنا ہے۔ اب امت مسلمہ کے لیے مایوسی کا دور ختم ہوگیا ہے۔ اب امت مسلمہ کو کامل امید کی بنیاد پر اپنے عمل کی منصوبہ بندی کرنا ہے۔ یہ منصوبہ بندی تمام تر دعوت کے اصول پر قائم ہونی چاہیے، جس کا بنیادی نشانہ ہو قرآن کی عالمی اشاعت۔

واپس اوپر جائیں

سیاسی اقتدار کی نوعیت

اسلام میں سیاسی اقتدار کی اہمیت صرف ایک اعتبار سے ہے، اور وہ ہے پولیٹکل استحکام (political stability)۔ اسی کو قرآن میں تمکین فی الارض (22:41) کہا گیا ہے۔ اسلام میں سیاسی اقتدار کا اصل مقصد عادلانہ نظام یا قوانین کا نفاذ نہیں ہے،بلکہ سماج میں استحکام قائم کرنا ہے۔ جب استحکام ہوگا تو لوگوں کو یہ موقع ملے گا کہ وہ اپنے اپنے دائرے میں دینی کام کریں۔ مثلاً مسجد کی صورت میں اقامتِ صلاۃ کا نظام، مدرسے کی صورت میں دینی تعلیم کا نظام، حج کی صورت میں مسلمانوں میں اجتماعیت کا نظام ، دعوت کی صورت میں اسلام کی اشاعت کا نظام، وغیرہ۔
یہی وجہ ہے کہ دورِ اول میں جب خلافت کی جگہ خاندانی نظام (dynasty) قائم ہوگیا تو صحابہ ، تابعین، تبع تابعین سے لے کر بعد کے علماء تک عملاًامت کے تمام افراد نے خاندانی نظام حکومت کو قبول کرلیا۔ کیوں کہ اس کے ذریعے سے سماج میں استحکام کا ماحول قائم ہوگیا تھا۔ اس استحکام کی بنا پر اہل ایمان کو موقع ملا کہ وہ دین کے تمام تقاضےپر امن انداز میں پورے کرسکیں۔ مثلاًقرآن کی حفاظت، حدیث کی جمع و تدوین، فقہ کا ارتقاء، مساجد و مدارس کا نظام، عمرہ اور حج کا نظام،اسلامی علوم کی تدوین،وغیرہ۔ یہ سارے کا م پر امن ماحول میں ہزار سال تک جاری رہے۔
بیسویں صدی میں مسلمانوں کے اندر بہت سی تحریکیں اٹھیں۔ ان تمام تحریکوں کااصل نشانہ پولیٹکل اقتدار تھا۔ سب کا کیس ظاہری فرق کے باوجود ایک ہی تھا، اور وہ ہے سیاسی رخ (political orientation) ۔ ان سب کا انجام مشترک طور پر ایک ہی ہوا، اپنے نشانہ کو حاصل کرنے میں ناکامی۔اللہ کی سنت یہ نہیں ہے کہ جو لوگ اسلام کے نشانے کو لے کر اٹھیں، وہ اپنے نشانے کو پورا کرنے میں ناکام رہیں۔ نشانہ پورا نہ ہونے کا معاملہ کسی غیر کی سازش کا نتیجہ نہ تھا۔ اس کا سبب یہ تھا کہ ان بانیان تحریک نے منصوبۂ الٰہی کو نہیں سمجھا، اور خود ساختہ نشانہ لے کر اٹھ گیے۔ ایسی تحریک کے لیے یہی مقدر ہے کہ وہ اپنے نشانے کو پورا کرنے میں ناکام رہے۔ یہ تحریکیں بظاہر اب بھی موجود ہیں تو ان سب پر یہ مثال صادق آتی ہے: تاڑ سے گرا اور کھجور میں اٹکا۔ ان تمام تحریکوں نے یہی کیا کہ انھوں نے اپنے نشانے کی غلطی کا اعلان نہیں کیا۔ البتہ سابق نام کے ساتھ اپنے نئے کام کو جاری رکھا۔ یہ طریقہ دو عملی کا طریقہ ہے، اور دو عملی اسلام میں بلاشبہ غیر مطلوب ہے۔
اس دور کے مسلم بانیانِ تحریک کے ساتھ بظاہر ایک ہی معاملہ پیش آیا۔ ان لوگوں کا فکر پچھلے ہزار سال کے سیاسی حالات میں بنا تھا۔ پچھلے ہزار سال کے دورا ن دنیا میں ہر جگہ پولیٹکل ماڈل کا رواج تھا۔ اس سے ان بانیانِ تحریک کے اندر پولیٹکل مائنڈ سیٹ بنا۔ انھوں نے اپنے اس پولیٹکل مائنڈ سیٹ کو درست سمجھ کر اس کے مطابق تحریک شروع کردی۔ مگر یہ خلاف زمانہ حرکت (anachronism) کا معاملہ تھا۔ اب قدیم دور کا پولیٹکل ماڈل ختم ہوچکا تھا، نئے دور میںصرف ایک ہی ماڈل قابلِ عمل ہے، اور وہ ہے غیرسیاسی (non-political) ماڈل۔ قدیم زمانہ بادشاہت کا زمانہ تھا۔ موجودہ زمانہ جمہوریت (democracy) اور سیکولرزم کا زمانہ ہے۔ سیکولرزم کا مطلب ہے مذہبی ناطرف داری، اور ڈیموکریسی کا مطلب ہے ہر ایک کے لیے مکمل آزادی، ہر ایک کو مواقع کے استعمال کا یکساں حق۔ اس انقلاب سے پہلے مواقع پر صرف بادشاہ کی اجارہ داری (monopoly) ہوا کرتی تھی۔ اب یہ اجارہ داری ختم ہوچکی ہے۔ اب نئے حالات میں تمام مواقع تمام انسانوں کے لیے یکساں طور پر قابلِ استعمال ہوچکے ہیں۔ اب صرف ایک ہی چیز کی پابندی ہے، اور وہ ہے تشدد (violence)۔ دورِ جدید کے مسلم بانیان تحریک نے بظاہر اس راز کو نہیں سمجھا، وہ غیر ضروری طور پر اُس چیز کے لیے لڑتے رہے، جو عملا ان کوحاصل ہو چکی تھی۔
حدیث کے مطابق، بعد کے زمانے میں اسلام کا داعی بادشاہ کی طرح (کالملوک على الأسِرّة) سفر کرے گا (صحیح البخاری، حدیث نمبر 2799) ۔یہاں مثل بادشاہ سفر کرنے کا مطلب یہ ہے کہ جو مواقع قدیم زمانے میں بادشاہوں کے لیے خاص سمجھے جاتے ہیں، وہ مواقع عام داعیان اسلام کو حاصل ہو جائیں گے۔ رکاوٹ کے بغیروہ ساری دنیا میں اسلام کی دعوت پھیلانے کے لیےآزاد ہوں گے۔
واپس اوپر جائیں

عہد اسلام

قرآن و حدیث میں اسلام کے مستقبل کے بارے میں ایسی پیشین گوئیاں (predictions) موجود ہیں، جو بتاتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد جو زمانے آنے والا ہے، وہ اسلام کا زمانہ ہوگا۔ مثلا ایک روایت یہ ہے: صحابہ کہتے ہیں کہ ہم نے رسول اللہ سے شکایت کی، اس وقت آپ کعبہ کے سائے میں اپنی چادر کو تکیہ بنائے ہوئے لیٹےتھے۔ ہم نے کہا کہ کیا آپ ہمارے لیے اللہ سے مدد نہیں مانگتے، کیا آپ ہمارے لیے اللہ سے دعا نہیں کرتے۔ آپ نے فرمایا، تم سے پہلے جو لوگ تھے، ان کا یہ حال تھا کہ آدمی کو پکڑا جاتا، اس کے لیے زمین میں گڈھا کھودا جاتا، پھر اس کو اس میں ڈال دیا جاتا، پھر آرا لایا جاتا تھا اور اس کے سر پر چلایا جاتا تھا، اور اس کو دو ٹکرے کردیا جاتا تھا، اور(کبھی ایسا ہوتا کہ کسی آدمی کے جسم پر)لوہے کی کنگھی کی جاتی ، یہاں تک کہ وہ اس کے گوشت سے بڑ ھ کر اس کی ہڈی تک پہنچ جاتی تھی۔ مگر یہ چیز اس کو اس کےدین سے روکنے والی نہیں بنتی تھی۔
پھر آپ نے فرمایا:واللہ لیتمن ہذا الأمر، حتى یسیر الراکب من صنعاء إلى حضرموت، لا یخاف إلا اللہ، والذئب على غنمہ، ولکنکم تستعجلون۔یعنی خدا کی قسم یہ امر تکمیل تک پہنچے گا، یہاں ایک سوار صنعاء سے حضرموت تک سفر کرے گا، اور اس کو اللہ کے سوا کسی اور کا ڈر نہیں ہوگا، اوراپنی بکریوں پر بھیڑیے کا،مگر تم لوگ جلدی کررہے ہو۔ (صحیح البخاری، حدیث نمبر6943)۔
یہ قول رسول ایک پیشین گوئی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اسلام سے پہلے کی تاریخ میں جو اہل دین پر ظلم کیا جاتا تھا ، وہ اسلام کے بعد کی تاریخ میں اللہ کی مدد سے ختم ہوجائے گا۔ دوسرے لفظوں میں یہ کہ قبل از اسلام کا دور، اگر مخالف اسلام دور تھا تو بعد از اسلام کا دور، موافق اسلام کا دور ہوگا۔ ہمارے ایمان کا تقاضا ہے کہ ہم یہ مانیں کہ اسلام کے بعد کے زمانے میں یہ دور آیا۔ اب اس پیشین گوئی پر تقریبا ڈیڑھ ہزار سال گزر چکے ہیں۔ یقینی ہے کہ یہ دور تاریخ میں آچکا ہے۔ پھر کیا وجہ ہے کہ اہل اسلام اس دور کی آمد سے بے خبر ہیں۔
اس عظیم بے خبری کا سبب کیا ہے۔ اس کا سبب،حدیث کے مطابق یہ ہے کہ بعد کے زمانے کے اکثر لوگوں سے ان کی عقلیں چھن جائیں گی (سنن ابن ماجہ، حدیث نمبر3959)۔اس بنا پر وہ اس قابل نہ رہیں گے کہ وہ کسی واقعہ کا صحیح تجزیہ کرکے اس کی حقیقت کو دریافت کریں۔ عقل کیا ہے۔ عقل اس صلاحیت کا نام ہے کہ آدمی غیر متعلق کو الگ کرکے متعلق کو جان سکے:
Wisdom is the ability to discover the relevant by sorting out the irrelevant.
ایک مثال سے اس کی وضاحت ہوتی ہے۔ مصرکے سید قطب مزید تعلیم کے لیے امریکا گیے۔ وہاں وہ تین سال رہے۔ انھوں نے امریکا کے بارے ایک کتاب لکھی۔ کتاب کا عربی نام یہ ہے، امریکا التی رایت:
The America I have seen
یہ کتاب امریکا کی منفی تصویر پیش کرتی ہے۔ اس کتاب کو پڑھنے کے بعد آدمی وہی رائے قائم کرے گاجو عام طور پر امریکا کے بارے میں عربوں کی رائے ہے۔ عرب عام طور پر امریکاکے بارے میں اپنی رائے، اس الفاظ میں بیان کرتے ہیں: امریکا عدو الاسلام رقم واحد (امریکا اسلام کا دشمن نمبر ایک ہے)۔ اس منفی رائے کا سبب یہ ہے کہ یہ لوگ امریکا کو ایک غیرمتعلق پہلو سے دیکھتے ہیں۔ جو لوگ امریکا کو اسرائیل کے زاویہ سے دیکھتے ہیں، وہ امریکا کو اسلام کا دشمن سمجھتے ہیں۔ اور جو لوگ امریکا کو اس کے کلچر کے اعتبار سے دیکھتے ہیں، وہ لوگ امریکاکو اباحیت (permissiveness )کا ملک سمجھتے ہیں۔ مگر یہ دونوں پہلو امریکا کے غیر متعلق پہلو ہیں۔ اس کا متعلق پہلو یہ ہے کہ امریکا میں سائنسی تحقیق (scientific research) کاسب سے زیادہ کام ہوا ہے۔ غیر متعلق پہلو سے دیکھنے میں امریکا ایک برا ملک نظر آتا ہے، لیکن اگر متعلق پہلو سے دیکھا جائے تو امریکا انسانیت کا محسن ملک نظر آئے گا۔
واپس اوپر جائیں

انسانیت انتظار میں

20 نومبر 2016کو ہمارے ایک ساتھی دہلی ایرپورٹ پر اترے۔ یہاں انھوں نے دیکھا کہ ایک جگہ کچھ ماڈرن قسم کےنوجوان لڑکے اور لڑکیاں کھڑے ہوئے ہیں۔ ہمارے ساتھی کے بیگ میں انگریزی ترجمۂ قرآن موجود تھا۔ وہ ان کے قریب گیے، اور ایک نوجوان کو انگریزی ترجمہ ٔ قرآن یہ کہہ کر پیش کیا کہ یہ آپ کے لیے گفٹ ہے۔ نوجوان نے اس کو دیکھا کہ تو وہ خوشی کے ساتھ کہہ اٹھا: واؤ! (wow!)۔ دوسرے نوجوانوں کو جب معلوم ہوا تو ان لوگوں نے کہا کہ ہم کو بھی واؤ! (wow!) کہنے کا موقع دیجیے۔ ہم بھی چاہتے ہیں کہ ہم قرآن کو پڑھیں اور یہ جانیں کہ اس میں کیا لکھا ہے۔
یہ واقعہ علامتی طور پر ایک نمائندہ واقعہ ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ سارے انسان ، مرد اور عورت دونوں اپنی فطرت کے زور پر اس تلاش میں ہیں کہ وہ جانیں کہ اس دنیا کا خالق کون ہے۔ خالق کے تخلیقی نقشے کے مطابق ہمارے لیے اس دنیا میں زندگی کا صحیح طریقہ کیا ہے۔ خدا نے اپنی کتاب میں ہمیں کیا پیغام دیا ہے۔ یہ شعوری طور پر یا غیر شعوری طور پر ہر مرد اور ہر عورت کے دل کی آواز ہے۔یہ صورت حال کی ایک پکار ہے۔ یہ پکار ان تمام لوگوں کو مخاطب کررہی ہے، جو قرآن کے حامل ہیں۔ ان کا فرض ہے کہ وہ قرآن کو دنیا کی تمام قوموں کی زبانوں میں ترجمہ کرکے شائع کریں، اور اس کو لوگوں تک پہنچائیں، تاکہ لوگ اپنی قابل فہم زبان (understandable language) میں پڑھ کر جان سکیں کہ قرآن میں ان کے لیے کیا پیغام ہے۔
ضرورت ہے کہ ہر شخص اپنے ساتھ ترجمۂ قرآن کے چھپےہوئے نسخے رکھے، اور جب بھی کسی مرد یا عورت سے ملاقات ہو تو اس کو وہ ایک اسپریچول گفٹ کے طور پر پیش کرے۔ یہ حاملین قرآن کے لیے اپنی ذمہ داری کو اداکرنے کی ایک ایسی صورت ہے جو ہر ایک کے لیے پوری طرح قابل عمل ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ قرآن کو تمام انسانوںتک پہنچانا، ہر مسلمان کے لیے ایک فرض کی حیثیت رکھتا ہے۔ اس فرض کی ادائیگی کے بغیر وہ اللہ کے سامنے بری الذمہ قرار نہیں پاسکتے۔
واپس اوپر جائیں

مسلمان اور دور حاضر

آج کل کے علماء جب مسلمانوں کے ’’جدید مسائل‘‘ پر لکھتے اور بولتے ہیں تو وہ عام طور پر قدیم فقہاء کے فتاویٰ کا حوالہ دیتے ہیں۔ وہ قدیم فقہی جزئیات کو ڈھونڈ کر نکالتے ہیں۔ وہ ابن تیمیہ اور دوسرے ائمہ کے حوالے دیتے ہیں۔اس قسم کے حوالے بلاشبہ درست نہیں۔ قدیم فقہا کا ذہن مسلم حکمرانی کے دور میں بنا تھا، ان حضرات کے فتاویٰ آج کے حالات میں قابل انطباق (applicable) نہیں۔
قدیم فقہا ء کا ذہن اپنے زمانی حالات کی بنا پر اس طرح بنا تھا کہ وہ ایک طبقہ کو حاکم اور دوسرے طبقہ کو محکوم سمجھتے تھے۔ ان کے نزدیک ایک علاقہ کی حیثیت بلاد الکفار کی تھی ، اور دوسرے علاقہ کی حیثیت بلاد المسلمین کی۔ وہ اپنے اس ذہن کی بنا پر دنیا کو دارالاسلام اور دار الکفر کی اصطلاحوں میں تقسیم کیے ہوئےتھے۔ موجودہ زمانے میں مسلمانوں کے ساتھ جب کوئی مسئلہ پیش آتا ہے تو ہمارے علماء انھیں اصطلاحات یا اسی فریم ورک (framework)میں اپنا جواب دینے کی کوشش کرتے ہیں۔ وہ اس معاملہ میں قدیم علماء کے حوالے پیش کرتے ہیں۔ مگر تجربہ بتاتا ہے کہ ان جوابات کے باوجود اصل مسئلہ بدستور باقی رہتا ہے۔ وہ نہ مسلمانوں کے ذہن کو مطمئن کرپاتا، اور نہ اصل مسئلے کو حل کرتا۔
موجودہ زمانے کے مسلمانوں کو جاننا چاہیے کہ اب زمانہ یک سر بدل چکا ہے۔ اب سیکولرزم اور جمہوریت کا زمانہ ہے۔ قدیم طرز کی تقسیم اب قابل عمل نہیں رہی۔ آج کے مسلمانوں کے لیے ضروری ہے کہ وہ جمہوری انداز میں سوچیں، وہ سیکولر انداز میں اپنے مسائل کا حل تلاش کریں۔ اب اگر بدستور انھوں نے مسلم اور غیر مسلم کے لیے قدیم انداز کی تقسیم کو جاری رکھا تو آج کی دنیا میں ان کی فکر غیرمتعلق (irrelevant) ہوجائے گی۔ آج کے زمانے کے بارے میں یہ کہنا صحیح ہوگا کہ آج کے ذہن کے مطابق ساری دنیا دار الانسان ہے۔ ذاتی عقیدہ اور عبادت کے سوامسلمانوں کو ہر معاملہ میں آفاقی ذہن کے ساتھ رہنا ہوگا، ورنہ وہ لوگوں کی نظر میں آج کے زمانے کے لیے مس فٹ (misfit) قرار پائیں گے۔
واپس اوپر جائیں

اجتہاد کا فقدان

امت کےدور زوال کے بارے میں ایک حدیث یہ ہے:تنزع عقول أکثر ذلک الزمان، ویخلف لہ ہباء من الناس لا عقول لہم(سنن ابن ماجہ، حدیث نمبر3959)۔ یعنی اُس زمانہ کے اکثر لوگوں کی عقلیں چھن جائیں گی اور ذروں کی طرح لوگ باقی رہ جائیں گے، جن کے پاس عقلیں نہ ہوں گی۔
عقل (reason)تو فطرت کا ایک عطیہ ہے۔ عقل کے معاملے میں ایسا نہیں ہوسکتا کہ ابتدائی نسلوں میں عقل رہے، اور بعد کی نسلوں میں وہ چھن جائے۔ حقیقت یہ ہے کہ عقل کا چھننا، عضویاتی معنی میں نہیں ہے۔ بلکہ وہ سمجھ (understanding) کے معنی میں ہے۔ یعنی عقل تو موجود ہوگی، لیکن سمجھداری موجود نہ ہو گی۔ مزید غور وفکر سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ بعد کی نسلوں میں اجتہادی صلاحیت ختم ہوجائے گی۔ اس لیے وہ اس قابل نہ رہیں گے کہ حالات کے مطابق شریعت کی تطبیق نو (reapplication) کرکے اپنے حالات کے اعتبار سے اس کی پیروی کریں۔
مزید غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ صلاحیت اجتہاد کا خاتمہ کلی طور پر نہ ہوگا۔ وہ اس معنی میں ہوگا کہ جہاں مجبوری (compulsion) کی صورت حال ہو، وہاں تو وہ اجتہاد پر عمل کریں گے۔ لیکن جہان مجبوری کی صورت حال نہ ہوگی ، وہاں وہ اپنے روایتی ذہن پر قائم رہیں گے، اور اجتہاد نہ کرسکیں گے۔ اس کی ایک مثال یہ ہے کہ قرآن میں حج کے بارے میں یہ آیت آئی ہے: وَأَذِّنْ فِی النَّاسِ بِالْحَجِّ یَأْتُوکَ رِجَالًا وَعَلَى کُلِّ ضَامِرٍ یَأْتِینَ مِنْ کُلِّ فَجٍّ عَمِیقٍ (22:27)۔ یعنی اور لوگوں میں حج کا اعلان کردو، وہ تمہارے پاس آئیں گے۔ پیروں پر چل کر اور دبلے اونٹوں پر سوار ہو کر دور دراز راستوں سے آئیں گے۔
اس آیت سے بظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ حاجیوں کو چاہیے کہ وہ اپنے مقامات سے اونٹ پر سفر کرکے مکہ پہنچیں۔ قدیم زمانے میں ایسا ہی ہوتا تھا۔ مگر موجودہ زمانے میں جب مشینی سواری کا دور آیا تو اب کوئی حاجی ایسا نہیں کرتا کہ وہ اب بھی سواری کے لیے اونٹ کا استعمال کرے، اور اس طرح مقامات حج تک پہنچے۔ بلکہ اب تمام حاجی یہی کرتے ہیں کہ دور کے مقامات سے وہ ہوائی جہاز پر سفر کرتے ہیں، اور قریب کے مقامات سے کاروں اور بسوں پر۔ حالاں کہ اس معاملے میں ایسا نہیں ہوا کہ علما نے جمع ہو کر یہ فتوی دیا ہو کہ اب زمانہ بدل گیا۔ اس لیے لوگوں کو چاہیے کہ وہ حیوانی سواری کے بجائے، مشینی سواری پر سفر کرکے مقام حج تک پہنچیں۔
واقعات بتاتے ہیں کہ زمانے کی حالات میں اور بہت سی تبدیلیاں ہوئیں۔ تاہم امت کے عوام یا علما اس معاملے میں ایسا نہ کرسکے کہ وہ اجتہاد کریں اور قدیم طریقے کو چھوڑ کر نئے طریقے پر عمل کریں۔ اس کی ایک مثال یہ ہے کہ موجودہ زمانے میں جدو جہد کا طریقہ بدل گیا ہے۔ قدیم زمانے میں کسی مقصد کے حصول کے لیے متشددانہ جدو جہد (violent struggle) کا طریقہ رائج تھا۔ مگر موجودہ زمانے میں ایسی تبدیلیاں ہوئیں کہ اب متشددانہ جدو جہد کا طریقہ غیر موثر بن گیا۔ اب یہ ممکن ہوگیا کہ پر امن جدو جہد (peaceful struggle) کے ذریعہ ہر قسم کے مقاصد حاصل کیے جاسکیں۔ ایسی حالت میں اجتہاد کا تقاضا تھا کہ موجودہ زمانے کے مسلمان تشدد کے طریقے کو مکمل طور پر چھوڑ دیں، اور امن کے طریقے کو پوری طرح اختیار کر لیں۔ مگر موجودہ زمانے کے مسلمان ایسا نہ کرسکے۔
حالاں کہ اس معاملے میں حدیث رسول میں پیشگی طور پر رہنمائی موجود تھی۔ حضرت عائشہ، رسول اللہ ﷺ کے بارے میں بتاتی ہیں : ما خیر رسول اللہ صلى اللہ علیہ وسلم بین أمرین، أحدہما أیسر من الآخر، إلا اختار أیسرہما (صحیح مسلم، حدیث نمبر2327)۔ یعنی آپ کو جب بھی دو کاموں میں ایک اختیار کرنا ہوتا، جن میں سے ایک دوسرے سے آسان ہوتا، تو آپ ان دونوں میں سے آسان کام کو اختیار فرماتے۔ یہ ظاہر ہے کہ متشددانہ طریقہ کار کے مقابلے میں پر امن طریقہ کار آسان ہے۔ ایسی حالت میں حدیث رسول کے مطابق مسلمانوں پر فرض ہے کہ وہ متشددانہ طریقہ کار کو مکمل طور پر چھوڑ دیں، اور اپنے مقصد کے حصول کے لیے صرف پر امن طریقہ کار پر عمل کریں۔ مگر اجتہاد کے فقدان کی بنا پر موجودہ زمانے کے مسلمان ایسا نہ کرسکے۔
واپس اوپر جائیں

حکمت کی آفاقیت

ایک حدیث رسول سنن الترمذی، سنن ابن ماجہ ،وغیرہ کتب حدیث میں آئی ہے۔ مسند الشہاب القضاعی کے الفاظ یہ ہیں: الحکمة ضالة المؤمن، حیثما وجد المؤمن ضالتہ فلیجمعہا إلیہ (حدیث نمبر146)۔یعنی حکمت مومن کا گمشدہ مال ہے، جہاں بھی مومن اپنے گمشدہ مال کو پائے، وہ اس کو اپنے پاس اکٹھا کرلے۔
حکمت (wisdom) کی بات کیوں مومن کا حق ہے۔ اس کا سبب یہ ہے کہ ہر حکمت ایک ربانی عطیہ ہے۔ اور جو چیز ربانی عطیہ (divine gift) ہو، وہ کسی کی اجارہ داری (monopoly) نہیںہوسکتی۔ ہر ربانی عطیہ ایک آفاقی نعمت ہے۔ اور آفاقی نعمت میں ہر انسان کا مشترک حصہ ہوتا ہے۔ حکمت سے مراد مادی تخلیقات بھی ہیں، اور حکمت و بصیرت کی باتیں بھی۔ جس طرح سورج اور پانی خالق کا آفاقی عطیہ ہے، اسی طرح قانون فطرت (law of nature) میں تحقیق سے حاصل ہونے والی حقیقتیں بھی آفاقی نعمتیں ہیں۔ وہ ہر انسان کا حصہ ہیں، مومن کابھی اور غیرمومن کا بھی۔ عطیات الٰہی میں تفریق یقینا جائز نہیں۔
عطیات الٰہی کے بارے میں یہ آفاقی نظریہ ایک انقلابی نظریہ ہے۔ وہ انسان کی سوچ کو مکمل طور پر بدل دیتا ہے۔مثال کے طور پر وہ محققین جنھوں نے اپنی زندگیاں وقف کرکے فطرت کے قوانین کو دریافت کیا، وہ شخصیتیں بھی پوری انسانیت کا حصہ ہیں۔ اس طرح یہ نظریہ آدمی کے اندر ایک یونیورسل آؤٹ لک (universal outlook) پیدا کرتا ہے۔ اس کے بعد متعصبانہ طرز فکر کی جڑ کٹ جاتی ہے، دوست اور دشمن کی تفریق ختم ہوجاتی ہے، ہر انسان کو دوسرا انسان اپنا دوست نظر آنےلگتا ہے۔ یہ نظریہ نفرت کاقاتل ہے۔ وہ عالمی محبت کو فروغ دینے والا ہے۔
اس حدیث میں حکمت سے مراد صرف حکمت دین نہیں ہے، بلکہ اس سے مراد ہر وہ حکمت ہے، جو درست اور مفید ہو، جو حقیقت واقعہ کے مطابق ہو۔
واپس اوپر جائیں

ایک خط

برادر محترم جناب اقبال لودھیا صاحب، السلام علیکم و رحمۃ اللہ
محمدرفیق لودھیا صاحب کے بارے میں خبر ملی۔ بہت صدمہ ہوا۔ اللہ تعالی مرحوم کو اپنی رحمتوں سے نوازے، اور جنت میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے، اور پس ماندگان کے لیے ہر قسم کی مدد فرمائے۔ میں آپ سب کے لیے اور پورے خاندان کے لیے بہترین دعا کرتا ہوں۔
آپ کے والد ، نور محمد لودھیا صاحب سے میرے بہت اچھے تعلقات تھے۔ نیو یارک کے سفر میں ان کے گھر پر جاکر مَیں ان سے ملا تھا۔ وہ جب انڈیا آتے تو مجھ سے ضرور ملتے۔ یہی محمدرفیق لودھیا صاحب کا بھی معمول تھا۔ اس بنا پر آپ کی فیملی سے میرے ذاتی تعلقات ہوگیے تھے۔ میں برابر محمد رفیق لودھیا صاحب کی صحت کے لیے دعا کرتاتھا۔ لیکن اللہ علیم و خبیر انسان کے لیے جس چیز کو زیادہ بہتر سمجھتا ہے، اس کے لیے اسی کا فیصلہ فرماتا ہے۔ مجھ کو اور آپ کو یہی یقین رکھنا چاہیے کہ اللہ نے جو فیصلہ فرمایا ، اس میں ضرور کوئی حکمت ہوگی، اور اسی کے اندر بہتری ہوگی۔ آپ اپنی فیملی کے تمام افراد سے میرا سلام کہیں، اور میرا یہ پیغام سب کو پہنچادیں۔ اس طرح کے معاملات میں واحد صحیح طریقہ صرف ایک ہے، اور وہ ہے اللہ کے فیصلہ پر راضی رہنا، اور یہ امید رکھنا کہ اللہ نے جو فیصلہ فرمایا ہے، اس میں یقیناً ہمارے لیے بہتری ہوگی۔
یہاں میں آپ کو قرآن کی ایک متعلق آیت یاددلانا چاہتا ہوں، جو ان الفاظ میں آئی ہے:وَالَّذِینَ آمَنُوا وَاتَّبَعَتْہُمْ ذُرِّیَّتُہُمْ بِإِیمَانٍ أَلْحَقْنَا بِہِمْ ذُرِّیَّتَہُمْ وَمَا أَلَتْنَاہُمْ مِنْ عَمَلِہِمْ مِنْ شَیْء (52:21)۔ یعنی جو لوگ ایمان لائے اور ان کی اولاد بھی ان کی راہ پر ایمان کے ساتھ چلی، ان کے ساتھ ہم ان کی اولاد کو بھی اکٹھا کریں گے، اور ہم ان کے عمل میں کوئی کمی نہیں کریں گے۔قرآن کی اس آیت میں آپ حضرات کے لیے پر امید نصیحت ہے، آپ حضرات اپنے والد اور اپنے بھائی کے بہترین طریقے پر قائم رہیں۔ یہ آپ کے لیے دنیا اور آخرت میں اللہ کی طرف سے کامیابی کی یقینی بشارت ہے۔
میں آپ کے لیے اور آپ کے تمام اہل خاندان کے لیے دعا کرتا ہوں، اور امید رکھتا ہوں کہ قرآن کی یہ آیت آپ کے لیے اور آپ کی فیملی کے لیے ایک رہنما آیت ثابت ہوگی۔ اللہ تعالی آپ کے لیے اور آپ کی فیملی کے لیے ہر قسم کے خیر کا فیصلہ فرمائے۔
نئی دہلی، 22نومبر 2016 دعاگو وحید الدین
واپس اوپر جائیں

ایک انٹرویو کا خلاصہ

■ دعوت اسلامی کا مطلب میرے نزدیک دعوت الی اللہ ہے۔موجودہ زمانے میں دعوت الی اللہ کو جو چیلنج درپیش ہے، وہ میرے نزدیک الحادی فکر کا غلبہ ہے۔ اس لیے دعوت اسلامی کی راہ ہموار کرنے کے لیے سب سے پہلے ضرورت یہ ہے کہ دنیا سے الحادی فکر کا غلبہ ختم کیا جائے۔
قدیم زمانہ میں مادی مظاہر کو خدا قرار دے کر انسان نے خدا کو چھوڑ دیا تھا۔ موجودہ زمانہ میں مادی مظاہر کے پیچھے کام کرنے والے سلسلہ اسباب کو خدا قرار دے دیا گیا ہے، اور اسی کا نام الحاد ہے۔ جب تک اس فکری ڈھانچہ کو توڑا نہ جائے کوئی دوسرا کام نہیں کیا جاسکتا۔
■ موجودہ زمانہ کے داعیوں کا اصل مسئلہ وہ ہے جو داخلی ہے۔ وہ ابھی تک دعوت اور قومیت کو اور اسی طرح دعوت اور سیاست کو الگ الگ نہیں کرسکے ہیں۔ جس دن وہ دونوں کو ایک دوسرے سے الگ کرنے میں کامیاب ہوں گے، اسی دن ان کے مسائل کے خاتمہ کا آغاز ہوجائے گا۔
■ صحافت یقیناَ اسلامی دعوت کےلیے نہایت اہم ہے۔ مگر میرا خیال ہے کہ مسلمان ابھی تک صرف قومی صحافت کو جانتے ہیں، وہ عالمی صحافت کے میدان میں داخل نہیں ہوئے۔ عالمی صحافت کے لیے موضوعیت (objectivity)لازمی طور پر ضروری ہے۔
■ جدید علمی انکشافات کو تفسیر قرآن میں استعمال کرنا میرے نزدیک عین درست ہے۔ شرط صرف یہ ہے کہ معیارِ اصلی قرآن ہو، نہ کہ جدید انکشافات۔ یعنی جدید انکشافات کو قرآن کی روشنی میں دیکھا جائے، نہ کہ قرآن کو جدید انکشافات کی روشنی میں۔
■ علمی نظریات کے بدلنے سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ دورِ اول میں جب قرآن نے کہا کہ زمین و آسمان کی نشانیوں پر غور کرو تو انسان نے اپنی اس وقت کی معلومات کی روشنی میں زمین و آسمان پر غور کیا۔ آج بھی یہی ہوگا کہ انسان اپنی موجودہ معلومات کی روشنی میں آیاتِ کون پر غور کرے گا۔ اس کی وجہ سے نہ پہلے کوئی اعتقادی خرابی پیدا ہوئی، اور نہ آج ہوسکتی ہے۔
واپس اوپر جائیں

Friday, 2 December 2016

Alrisala December 2016 (الرسالہ دسمبر)

4

-دین کی حقیقت

5

- فیصلہ کی بنیاد

6

- انسان کی تخلیق

8

- حق کی آواز کو دبانا

9

- عیب پوشی

10

- اصلاحِ امت

12

- اسلام کے نام پر غیر اسلام

13

- جنت، جہنم

14

- دعوتی منصوبہ

16

- بچوں کی تربیت

17

- فقہی زبان، نفسیاتی زبان

18

- استدراکات عائشہ

19

- پسند، ناپسند

20

- شادی شدہ زندگی

21

- شکایت نہیں

22

- زوجین کا تعلق

24

- ربانی پرسنالٹی

26

- علمی سفر

28

- جنت سے محرومی

29

- قومی مزاج، اسلامی مزاج

31

- بابری مسجد کا سبق

32

- ایک تقابلی مثال

33

- نصرتِ الہٰی کا قانون

35

- طلاق کا مسئلہ

37

- شباب کا زمانہ

38

- متوازن شخصیت

39

- انسان کی خصوصیت

40

- حقیقت کا اعتراف

42

- حساسیت

43

- سوال و جواب

45

- خبرنامہ اسلامی مرکز

49

- ضروری اعلان


دین کی حقیقت

قرآن کی سورہ نمبر107 کے الفاظ یہ ہیں:اَرَأَیْتَ الَّذِی یُکَذِّبُ بِالدِّینِ۔ فَذَلِکَ الَّذِی یَدُعُّ الْیَتِیمَ ۔ وَلَا یَحُضُّ عَلَى طَعَامِ الْمِسْکِینِ ۔ فَوَیْلٌ لِلْمُصَلِّینَ۔ الَّذِینَ ہُمْ عَنْ صَلَاتِہِمْ سَاہُونَ ۔ الَّذِینَ ہُمْ یُرَاءُونَ ۔ وَیَمْنَعُونَ الْمَاعُونَ (سورہ الماعون)۔یعنی کیا تم نے نہیں دیکھا اس شخص کو جو جزاء کے دن کو جھٹلا تا ہے۔ ایسا ہی شخص یتیم کو دھکا دیتا ہے۔ اور مسکین کا کھانا دینے پر نہیں ابھارتا۔ پس تباہی ہے ان نماز پڑھنے والوں کے لیے۔ جو اپنی نماز سے غافل ہیں۔ وہ جو دکھلاوا کرتے ہیں۔ اور معمولی ضرورت کی چیزیں بھی نہیں دیتے۔ قرآن کی اس سورہ میں ایک خصوصی اسلوب کو اختیار کیا گیا ہے۔ اس سورہ میںسب سے پہلے نتیجہ کا ذکر ہے۔ اس کے بعد ان چیزوں کا ذکر ہے، جو کسی انسان کو اس نتیجہ تک پہنچانے والی ہیں۔اس سورہ میںپہلی بات تکذیبِ دین ہے۔ یعنی روز جزاء (Day of Judgement)کو نہ ماننا ۔ جو لوگ دنیا میں اس طرح زندگی گزاریں، جیسے حیوان زندگی گزارتا ہے تو وہ اپنے عمل سے اس بات کا مظاہرہ کررہے ہیں کہ ان کے نزدیک دنیا ایک بے مقصد دنیا ہے۔ وہ کسی مقصد کے بغیر شروع ہوئی، اور کسی مقصد تک پہنچے بغیر ختم ہوجائے گی۔ ایسے لوگوں کے لیے آخری انجام ویل ہے۔ یعنی تباہ کن ناکامی۔ ایسے لوگوں کی ظاہری علامت کیا ہے ۔ وہ اپنے آپ کو اونچا اور دوسروں کو نیچا سمجھتے ہیں۔ اس لیے وہ ایسے لوگوں کے لیے کچھ نہیں کر پاتے جن کو وہ اپنے مقابلے میں بے زور سمجھتے ہوں۔ مثلا یتیم اور نادار لوگ۔ وہ جو کچھ کماتے ہیں، اس کو صرف وہ اپنا حق سمجھتے ہیں۔ دوسروں کے لیے ان کی کمائی میں کوئی حصہ نہیں ہوتا۔ وہ اگر بظاہر دین دار ہوں، تب بھی ان کی دین داری صرف کچھ ظواہر کے معنی میں ہوتی ہے۔ ان کی دین داری دین کی حقیقی اسپرٹ سے خالی ہوتی ہے۔ وہ دوسروں کے لیے معمولی درجہ میں بھی دینے والے نہیں بنتے۔
واپس اوپر جائیں

فیصلہ کی بنیاد

پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ربیع الاول 10 ھ کو مدینہ میں ہوئی۔ وفات سے چند مہینہ پہلے 9 ھ میں آپ نے مکہ جاکر حج ادا فرمایا۔ اس موقع پر آپ نے اپنی امت کو آخری ہدایت دیتے ہوئے فرمایا تھا:ترکت فیکم أمرین، لن تضلوا ما تمسکتم بہما: کتاب اللہ , وسنة نبیہ (موطا الامام مالک، حدیث نمبر1874) ۔یعنی میں نے تمھارے درمیان دو امر چھوڑے ہیں، تم ہرگز گمراہ نہ ہوگے، جب تک تم ان دونوں کو پکڑے رہوگے، اللہ کی کتاب اور اللہ کے نبی کی سنت۔ ملا علی قاری نے مرقاۃ المفاتیح شرح مشکاۃ المصابیح میں امر کا مطلب بتایا ہے حَکَم (بیروت، 2002،1/269 )۔ حکم کا مطلب ہے فیصلہ کرنے والا۔ دوسرے لفظوں میں کہا جاسکتا ہے کہ امر سے مراد معیار (criterion) ہے۔ بعد کے زمانے میں جب کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم بذات خود موجود نہ ہوں گے، اس وقت امت کو یہ کرنا ہے کہ جب بھی کوئی مسئلہ پیش آئے تو وہ قرآن اور سنت میں اس مسئلے کا جواب تلاش کرے، اور جو جواب قرآن و سنت میں ملے ، اس کو کسی عذر کے بغیر قبول کرلے۔ مسلمانوں کے لیے یہ جائز نہیں کہ جب کوئی گروہ ان کو اپنا دشمن نظر آئے تو فوراً اس کے خلاف لڑنا شروع کردیں۔ بلکہ انھیں اس کا جواب قرآن و سنت میں تلاش کرنا چاہیے۔ اگر وہ ایسا کریں تو انھیں قرآن میں اس کی واضح رہنمائی ملے گی۔ اس سلسلے میں قرآن کی ایک رہنما آیت یہ ہے: وَلَا تَسْتَوِی الْحَسَنَةُ وَلَا السَّیِّئَةُ ادْفَعْ بِالَّتِی ہِیَ أَحْسَنُ فَإِذَا الَّذِی بَیْنَکَ وَبَیْنَہُ عَدَاوَةٌ کَأَنَّہُ وَلِیٌّ حَمِیمٌ (41:34)۔ یعنی بھلائی اور برائی دونوں برابر نہیں، تم جواب میں وہ کہو جو اس سے بہتر ہو پھر تم دیکھو گے کہ تم میں اور جس میں دشمنی تھی، وہ ایسا ہوگیا جیسے کوئی دوست قرابت والا۔ اس آیت کے مطابق، کوئی گروہ مسلمانوں کا دشمن نہیں ہے۔ اس کے برعکس، پیدائشی طور پر ہر گروہ مسلمانوں کے لیے امکانی دوست کی حیثیت رکھتا ہے۔ اس لیے اس معاملے میں مسلمانوں کی منصوبہ بندی یہ ہونا چاہیے کہ وہ بالقوۃ (potential) دوست کو بالفعل (actual) دوست بنائے۔
واپس اوپر جائیں

انسان کی تخلیق

قرآن کی سورہ نمبر 95 میں انسان کے خالق کی طرف سے یہ الفاظ آئے ہیں:لَقَدْ خَلَقْنَا الْإِنْسَانَ فِی أَحْسَنِ تَقْوِیمٍ ۔ ثُمَّ رَدَدْنَاہُ أَسْفَلَ سَافِلِینَ (التین 4-5 :)۔ ہم نے انسان کو بہترین ساخت پر پیدا کیا۔ پھر اس کو سب سے نیچے پھینک دیا۔ انسان اپنے خالق کا بہترین آرٹ ہے۔ کوئی آرٹسٹ ایسا نہیں کرسکتا کہ وہ ایک بہترین آرٹ کی تخلیق کرے، اور پھر اس کو کوڑا خانے میں ڈال دے۔ یہ اسلوب کی بات ہے۔ حقیقت کے اعتبار سے ان آیتوں کا مطلب یہ ہے کہ اپنی تخلیق کے اعتبار سے انسان کے لیے نہایت اعلی انجام مقدر ہے۔ مگر انسان نے اپنی آزادی کا غلط استعمال کرکے خود سے اپنے آپ کو کوڑے کے ڈھیر میں ڈال دیا۔ انسان کے بارے میں یہ حقیقت قرآن کی ایک اور سورہ میں اس طرح آئی ہے۔ ان آیتوں کا ترجمہ یہ ہے: اور ان کو اس شخص کا حال سناؤ جس کو ہم نے اپنی آیتیں دی تھیں تو وہ ان سے نکل بھاگا۔ پس شیطان اس کے پیچھے لگ گیا اور وہ گمراہوں میں سے ہوگیا۔ اور اگر ہم چاہتے تو اس کو ان آیتوں کے ذریعہ سے بلندی عطا کرتے مگر وہ تو زمین کا ہو رہا اور اپنی خواہشوں کی پیروی کرنے لگا۔ پس اس کی مثال کتے کی سی ہے کہ اگر تو اس پر بوجھ لادے تب بھی ہانپے اور اگر چھوڑ دے تب بھی ہانپے۔ یہ مثال ان لوگوں کی ہے جنھوں نے ہماری نشانیوں کو جھٹلایا۔ پس تم یہ احوال ان کو سناؤ تاکہ وہ سوچیں۔ (الانعام 175-176 :)۔ دونوں آیتوں کا مطالعہ کرنے کے بعد جو بات سمجھ میں آتی ہے، وہ یہ ہے کہ انسان کو اس کے خالق نے تخلیق کے اعتبار سے بہترین ساخت (mould) کے ساتھ پیداکیا۔ لیکن اسی کے ساتھ انسان کو آزادی بھی عطا کردی۔ یہ انسان کے لیے ایک مزید عطیہ تھا کہ وہ اپنی صلاحیتوں کو درست طور پر استعمال کرکے اپنے آپ کو اس درجے تک پہنچائے جو اس کے لیے تخلیق کے اعتبار سے مقدر تھا۔ مگر انسان کی اکثریت نے تخلیق کی اس حکمت کو نہیں سمجھا، اور اپنے آپ کو خود سے تباہ کرلیا۔ تاہم آیتوں کا مزید مطالعہ بتاتا ہے کہ خالق کی عنایت سے انسان کے لیےامکان ختم نہیں ہوا، وہ اس کےلیےبدستور باقی ہے۔ انسان کے لیے یہ امکان باقی ہے کہ اگر اس نے پہلا موقع (first chance) کھودیا ہے تو اپنی زندگی کی نئی منصوبہ بندی (re-planning) کرکے ، وہ دوسرا موقع (second chance) کو اویل (avail) کرسکتا ہے۔ یہ مزید موقع انسان کے لیے اس وقت تک باقی رہے گا جب تک وہ اس دنیا میں زندہ موجود ہو۔ نیا منصوبہ کیا ہے۔ نیا منصوبہ اپنی غلطی کے اعتراف سے شروع ہوتا ہے۔ انسان اگر اپنے ذہن کو بیدار کرے، وہ یہ دریافت کرے کہ اس سے کہاں غلطی ہوئی ہے، کس موڑ پر اس نے پہلے موقع کو کھودیا ہے۔ اس دریافت کے بعد یہ ممکن ہوجاتا ہے کہ انسان حالات کا دوبارہ اندازہ کرے، وہ اپنی تخلیقی صلاحیت کو از سر نو دریافت کرے۔ اس کے بعد وہ پوری سنجیدگی کےساتھ اپنی زندگی کا نیا نقشہ بنائے گا۔ جو مرد یا عورت ایسا کریں، ان کے لیے فطرت کا قانون پوری طرح معاون بن جائے گا۔ ایسے عورت اور مرد دیکھیں گے کہ بہت جلد انھوں نے اپنی چھوٹی ہوئی بس (Missed Bus)کو پالیا ہے۔ جو دنیا پہلے بظاہر ان کی دشمن نظر آتی تھی، وہ اب پوری طرح ان کی دوست بن گئی ہے۔ زندگی میں نئی منصوبہ بندی (re-planning) ہمیشہ ممکن ہوتی ہے۔ یہاں ہمیشہ یہ ممکن ہوتا ہے کہ آدمی اپنی زندگی کا نیا سفر شروع کرے، اور بہت جلد وہ اپنی مطلوب منزل تک پہنچ جائے۔ شرط صرف یہ ہے کہ وہ اس معاملے میں پوری طرح سنجیدہ (sincere) ہو۔ وہ شکایت کی نفسیات سے پوری طرح پاک ہو،وہ اپنی ماضی کی غلطی کو دوبارہ نہ دہرائے، وہ تواضع (modesty) کا طریقہ اختیارکرے، نہ کہ کبر (arrogance) کا طریقہ۔ وہ اپنی غلطی کو ماننے کے لیے ہر وقت تیار رہے۔ جو عورت یا مرد اس کردا ر کا ثبو ت دیں ، ان کو کوئی چیز کامیابی کی منزل تک پہنچنے سے روکنے والی نہیں۔
واپس اوپر جائیں

حق کی آواز کو دبانا

جس شخص کا ذہن بگڑا ہوا ہو، اس کے سامنے سچائی آتی ہے تو وہ اس کے مقابلے میں دحض کا معاملہ کرتا ہے۔ یعنی حق کی آواز کو دبانا۔قرآن میں اس معاملہ کو ان الفاظ میں بتایا گیا ہے: وَمَا نُرْسِلُ الْمُرْسَلِینَ إِلَّا مُبَشِّرِینَ وَمُنْذِرِینَ وَیُجَادِلُ الَّذِینَ کَفَرُوا بِالْبَاطِلِ لِیُدْحِضُوا بِہِ الْحَقَّ وَاتَّخَذُوا آیَاتِی وَمَا أُنْذِرُوا ہُزُوًا (18:56)۔ یعنی رسولوں کو ہم صرف خوش خبری دینے والا اور ڈرانے والا بنا کر بھیجتے ہیں۔ اور منکر لوگ ناحق کی باتیں لے کر جھوٹا جھگڑا کرتے ہیں، تاکہ اس کے ذریعہ سے حق کو باطل ثابت کردیں اور انھوں نے میری نشانیوں کو اور جو ڈر سنائے گئے ان کو مذاق بنا دیا۔ رسول کو مبشر اور منذر بنا کر بھیجنے کا مطلب ہے، دلیل کے ساتھ بھیجنا۔ اللہ کا رسول اپنی بات کو دلائل کی زبان میں پیش کرتا ہے۔ لیکن جو لوگ اپنی غیر سنجیدگی کی بنا پر رسول کی بات کو ماننا نہیں چاہتے، وہ اس کے مقابلے میں دحض کا معاملہ کرتے ہیں۔ وہ دلیل کا جواب دلیل سے دینے کے بجائے استہزاء کے زبان میں اس کو رد کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ یہ ایک بے حد غلط کردار ہے۔ یہ غلطی پر سرکشی کا اضافہ ہے۔ اصل یہ ہےکہ حق کی دعوت ہمیشہ انسانی فطرت کے مطابق ہوتی ہے۔ اگر آدمی سنجیدگی کے ساتھ سوچے تو وہ حق کو اپنی فطرت کے مطابق پاکر اس کو قبول کرلے گا۔ لیکن وہ ظلم اور علو کی بنا پر ایسا نہیں کرتا۔ یہی بات قرآن کی اس آیت میں کہی گئی ہے: وَجَحَدُوا بِہَا وَاسْتَیْقَنَتْہَا أَنْفُسُہُمْ ظُلْمًا وَعُلُوًّا (27:14)۔ یعنی انھوں نے ان کا انکار کیا ظلم اور علوکی بنا پر۔حالاں کہ ان کے دلوں نے ان کا یقین کرلیا تھا۔یہاں ظلم کا مطلب ہے کہ داعی کی دلیل کو استہزاء کے ذریعہ کم دکھانا، اور اپنی بات کو بڑھا چڑھا کر زیادہ اہم بتانا۔ یعنی اپنے غیر سنجیدہ جواب کے ذریعہ یہ ظاہر کرنا کہ داعی کی بات اس قابل ہی نہیں کہ اس کو کوئی وزن دیا جائے۔یہ دونوں طریقے باطل طریقے ہیں۔
واپس اوپر جائیں

عیب پوشی

ایک حدیث رسول ان الفاظ میں آئی ہے: من ستر مسلما سترہ اللہ فی الدنیا والآخرة(سنن ابن ماجہ، حدیث نمبر2544)۔ یعنی جس نے کسی مسلم کے عیب کو چھپایا تو اللہ اس کے عیب کو چھپائے گا، دنیا میںاور آخرت میں۔ اس حدیث میں اس بات کی ممانعت کی گئی ہے کہ کسی عیب کو اس کی بدنامی کے لیے استعمال کیا جائے۔ اس کواس انسان کی امیج بگاڑنے کے لیے غیر متعلق لوگوں سےبیان کیا جائے۔مگر جہاں تک اصلاح کا تعلق ہے۔ وہ ہر مومن کا فریضہ ہے۔ جیسا کہ ایک حدیث میں آیا ہے: المؤمن مرآة المؤمن (سنن ابوداؤد، حدیث نمبر 4918)۔یعنی ایک مومن دوسرے مومن کے لیے آئینہ ہوتا ہے۔اس حدیث کا مطلب یہ نہیں ہے کہ کسی کے عیب کو چھپادیا جائے۔ بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ عیب کو خود عیب والے شخص سے ہمدردی کے انداز میں بتایا جائے۔ آدمی کی امیج کو بگاڑنے کے لیے غیر متعلق لوگوں سے اس کو بیان کرنا ایک ناجائز فعل ہے۔ اگر آپ کو کسی شخص کا عیب معلوم ہو تو آپ کے لیے دو میں سے ایک کا اختیار ہے۔ یا تو اس کو اپنے دل میں رکھیں، کسی سے اس کو بیان نہ کریں، یا متعلق شخص سے ملیں اور ہمدردی اور اصلاح کے جذبے کے تحت اس کو بتائیں۔ یہ طریقہ سماج کے اندر تعمیری ماحول پیدا کرنے کا ذریعہ ہے۔ اس کے برعکس، اگر آپ یہ کریں کہ دوسرے آدمی کے عیب کو کرید کر معلوم کریں اور پھر اس کو اِدھر اُدھر بیان کریں تو یہ قرآن کے الفاظ میں اشاعت فاحشہ (النور: 19) ہے۔ اشاعت فاحشہ سے وہی چیز مراد ہے جس کو موجودہ زمانے میں کردار کشی (character assassination)کہا جاتا ہے۔ اگر آدمی کو کسی سے اختلاف ہو تو وہ دلیل کی زبان میں اس کا جواب دے سکتا ہے۔ لیکن شخصی عیب کو لے کر لوگوں میں اس کو بدنام کرنا ، اس کی سماجی تصویر کو بگاڑنا، منافقت کی پہچان ہے۔
واپس اوپر جائیں

اصلاحِ امت

اصلاح امت کا سوال ہمیشہ نبوت کے دور کے بعد پیدا ہوتا ہے۔ اس لیے اصلاحِ امت کا مطلب ہے----- امت کی بعد کی نسلوں میں جب زوال آجائے تو زوال یافتہ لوگوں کو پیغمبر کے دور کی طرف لوٹانا۔ گویا اصلاح امت کا مقصد ہے: بعد کے دور پیدا ہونے والے امت کے افرادکو نبوت کے دور کی طرف واپس لے جانا۔ یہی بات امام مالک نے اپنے استاد ، وہب ابن کیسان کے حوالے سے ان الفاظ میں کہی ہے: إنہ لا یصلح آخر ہذہ الأمة إلا ما أصلح أولہا، قلت لہ:یرید ماذا؟ قال یرید التقى (مسند الموطا للجوہری، حدیث نمبر 783) ۔ قرآن میں اصحابِ رسول کی صفت اَشِدَّاءُ عَلَی الْکُفَّار (48:29)بتائی گئی ہے۔یعنی وہ دین کے معاملے میں خارجی ماحول کا اثر قبول نہیں کرتے۔ اس کے برعکس، زوال یافتہ قوموں کے بارے میں کہا گیا ہے: یُضَاہِئُونَ قَوْلَ الَّذِینَ کَفَرُوا مِنْ قَبْلُ (9:30)۔ یعنی وہ دین کے معاملے میں خارجی ماحول کا اثر قبول کرلیتے ہیں۔ ان آیات میں کچھ امتوں کے حوالے سے فطرت کا ایک قانون بتایا گیا ہے۔ جب ایک امت اپنے دورِ عروج میں ہو تو وہ اپنے اصولوں میں اتنی پختہ ہوتی ہے کہ وہ ماحول کا اثر قبول کیے بغیر اپنے دینی اصول پر قائم رہتی ہے۔ اس کے برعکس، جب کسی امت پر زوال کا دور آجائے تو اس کے اندر اصول پسندی کا مزاج باقی نہیں رہتا۔ اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ وہ اپنے دین کے معاملے میںماحول کا اثر قبول کرنے لگتی ہے۔ امتوں کے اندر بگاڑ کا سبب یہی ہے۔ کسی امت پر جب زوال کا یہ دور آجائے تو اس کے مصلحین کا فرض یہ ہوتا ہے کہ وہ امت کے احوال کا گہرا مطالعہ کرکے اس کی نوعیت کو سمجھیں۔ وہ بگاڑ کے اصل سبب (root cause) کو دریافت کرکے حقیقت پسندانہ انداز میں اس کے اصلاح کی منصوبہ بندی کریں۔ موجودہ زمانہ ایک ایسا زمانہ تھا جب کہ کمیونزم اور سوشلزم اور ڈیماکریسی کا بہت چرچا ہوا۔ اس کے علم بردار سماجی اور سیاسی نظام (socio-political system)کے انداز میں زندگی کا مطالعہ کرنے لگے۔ اس کے اثر سے موجودہ زمانہ میں مضاہات (imitation)کی ایک نئی صورت وجود میں آئی۔ مسلم مفکرین اسلام کی تعبیر سماجی اور سیاسی نظام (socio-political system) کی صورت میں کرنے لگے۔مثلا انھوں نے یہ کیا کہ قرآن میں جو احکام لازم کے صیغے میں دیے گیے تھے ،ان کو متعدی کے صیغے میں تبدیل کردیا۔ یعنی کتاب اللہ میں جو احکام انفرادی پیروی کے معنی میں دیے گیے تھے، ان کو وہ بذریعہ طاقت نفاذ (enforcement) کی اصطلاحوں میں بیان کرنے لگے، وغیرہ۔ فعل لازم کو فعل متعدی بنانے کی یہ غلطی باعتبارِ نتیجہ امت کے اندر مختلف قسم کی برائیوں کا سبب بن گئی۔ اس کا یہ نتیجہ ہوا کہ امت میں سیاسی انتہاپسندی (political extremism) کا مزاج پیدا ہوگیا۔ لوگ اتھاریٹی سے ٹکراؤ کرنے لگے۔ تاکہ وہ اپنے مطلوبہ نظام کو نافذ کرسکیں۔ اس کے نتیجے میں امت دوگروہوں میں بٹ گئی۔ اس کے بعد امت کےاندر وہ چیز پیدا ہوئی جس کو ریڈیکلائزیشن (radicalization)کہا جاتا ہے۔ فطرت کے قانون کے مطابق، یہ سیاسی انتہاپسندی (political extremism) مکمل طور پر بے نتیجہ ثابت ہوئی۔ اس کے بعد لوگوں کے اندر جو مایوسی پیدا ہوئی ، اس کا انجام ایک شدید تر برائی کی صورت میں ظاہر ہوا۔ اور وہ خود کش بمباری (suicide bombing) ہے۔ خود کش بمباری کا فلسفہ یہ ہے کہ اگر مفروضہ دشمن کو مغلوب نہ کرسکو تو اپنی جان دے کر اس کو نقصان پہنچانے کی کوشش کرو۔ اصلاح امت اپنی نوعیت کے اعتبار سے ایک بے حد نازک کام ہے۔ اس کام میں ہر وقت یہ اندیشہ رہتا ہے کہ آدمی افراط یا تفریط کی نفسیات میں مبتلا ہوجائے، اور پھراس کا کام اصلاح کے بجائے بگاڑ کا سبب بن جائے۔
واپس اوپر جائیں

اسلام کے نام پر غیر اسلام

حدیث کی کتابوں میں بہت سی روایتیں ہیں جو امت مسلمہ کے دور زوال کے بارے میں بطور پیشین گوئی آئی ہیں۔ ان میں سے ایک روایت کے الفاظ یہ ہیں: إن أول ما یکفأ - یعنی فی الإسلام - کما یکفأ الإناء یعنی الخمر . فقیل:کیف یا رسول اللہ وقد بین اللہ فیہا ما بین؟ قال رسول اللہ صلى اللہ علیہ وسلم:یسمونہا بغیر اسمہا فیستحلونہا (سنن الدارمی، حدیث نمبر 2145)۔ عائشہ کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاکہ سب سے پہلے جس کام کو(اسلام میں) اوندھا کردیا جائے گا جیسے برتن اوندھا کردیا جاتا ہے، وہ شراب ہوگی۔ پوچھا گیا اے خدا کے رسول ، ایسا کیوں کر ہوگا جب کہ شراب کے متعلق اللہ احکام بیان کرچکا ہے جو سب پر ظاہر ہیں ؟ آپ نے کہا: لوگ اس کا نام بدل دیں گے پھر اس کو حلال قرار دے لیں گے۔ اس حدیث میں خمر کا لفظ علامت کے طور پر آیا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جب امت مسلمہ پر زوال کا دور آئے گا تو وہ ہر معاملہ میں اسلام کو معنی ً(اسپرٹ کے اعتبار سے)چھوڑدیں گے، لیکن لفظاََ اس کو پوری طرح پکڑے رہیں گے۔ اس طرح وہ ایک ایسا کام کریں گے جس کو غیر اسلام کو اسلامائز کرنا(Islamisation of non-Islam)کہا جاسکتا ہے۔ اصل یہ ہے کہ دورِ زوال میں امت ایسا نہیں کرے گی کہ وہ اسلام کو چھوڑدے۔ بلکہ یہ ہوگا کہ امت عملاً دوسری قوموں کی طرح ایک قوم بن جائے گی۔ لیکن امت کے لوگ اپنی قومی سرگرمیوں کے لیےایسے الفاظ بولیں گے، جو بظاہر اسلامی ڈکشنری کا حصہ معلوم ہوں لیکن حقیقت کے اعتبار سےوہ قومی ڈکشنری کا حصہ ہوں گے۔ مثلا ًوہ اپنی قوم کو امت کے لفظ سے موسوم کریں، وہ اپنی قومی لڑائی کو جہاد کا نام دیں گے، وہ قومی سرگرمیوں کو اسلامی سرگرمیوں کا نام دیں گے، وہ اپنی قومی سیاست کو اسلامی خلافت کہیں گے، وغیرہ۔
واپس اوپر جائیں

جنت، جہنم

ایک حدیث رسول ان الفاظ میں آئی ہے: عن النبی صلى اللہ علیہ وسلم أنہ قال: ما رأیت مثل النار نام ہاربہا، ولا رأیت مثل الجنة نام طالبہا(شعب الایمان للبیہقی، حدیث نمبر383)۔ یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، میں نے جہنم کے مثل کوئی چیز نہیں دیکھی کہ اس سے بھاگنے والا سو جائے اور نہ جنت کےمثل کوئی چیز دیکھی کہ اس کا طلب گار سو جائے۔ ایسا کیوں ہوتا ہے کہ انسان جہنم جیسی غیر مطلوب چیز سے بھاگ نہیں پاتا۔ اور کیوں ایسا ہے کہ انسان جنت جیسی مطلب چیز کو اپنی منزل نہیں بنا پاتا۔ اس کا سبب غفلت (الروم: 7)ہے۔یہ غفلت ظاہر بینی کے مزاج کی بنا پر ہوتی ہے۔اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ آدمی کی سوچ بیدار نہیں ہوتی۔ اس ذہنی عدم بیداری کی بنا پر آدمی ان حقائق سے بے خبر رہتا ہے، جن سے اس کو بہت سے زیادہ باخبر ہونا چاہیے۔ زندگی کی حقیقت کے اعتبار سے انسان کو سب سے زیادہ یہ سوچنا چاہیے کہ خدا کے تخلیقی نقشہ (creation plan)کے مطابق، زندگی کو کامیاب بنانے کا طریقہ کیا ہے۔ اس کے سوا کوئی دوسرا طریقہ زندگی کو کامیاب کرنے کا نہیں۔ اس معاملے میں انسان کے لیے کوئی اختیار (option) موجود نہیں۔ خالق کے تخلیقی نقشہ کے مطابق، کامیاب وہ ہے جو موجودہ دنیامیں اپنی زندگی کی مدت پوری کرنے کے بعد آخرت میں جنت کا مستحق قرار پائے۔ اس برعکس ناکامی یہ ہے کہ آدمی جب موجودہ دنیا میں اپنی مدت پوری کرنے کے بعد آخرت میں پہنچے تو وہاں یہ پائے کہ جہنم کے فرشتے اس کو گرفتار کرنے کے لیے موجود ہیں۔ یہی کسی انسان کے لیے زندگی کا سب سے بڑا مسئلہ ہے۔ کوئی مرد یا عورت اس مسئلہ سے بے خبری کا تحمل نہیں کرسکتا۔ یہی وہ حقیقت ہےجس کو مذکورہ حدیث میں مخصوص انداز میںبیان کیا گیا ہے۔
واپس اوپر جائیں

دعوتی منصوبہ

قرآن کی سورہ نمبر74 نبوت کے بالکل آغاز میں اتری۔ اس سورہ کی چندابتدائی آیتیں یہ ہیں: یَا أَیُّہَا الْمُدَّثِّرُ ۔ قُمْ فَأَنْذِر۔ وَرَبَّکَ فَکَبِّر۔ وَثِیَابَکَ فَطَہِّرْ۔ وَالرُّجْزَ فَاہْجُرْ۔ وَلَا تَمْنُنْ تَسْتَکْثِرُ۔ وَلِرَبِّکَ فَاصْبرِ (المدثر 1-7 :) یعنی اے کپڑا اوڑھ کر لیٹنے والے۔ اٹھ اور لوگوں کو ڈرا۔ اور اپنے رب کی بڑائی بیان کر۔ اور اپنے کپڑے کو پاک رکھ۔ اور گندگی کو چھوڑ دے۔ اور ایسا نہ کرو کہ احسان کرو اور بہت بدلہ چاہو۔ اور اپنے رب کے لیے صبر کرو۔ قرآن کی اس سورہ میں المدثر سے مراد پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔ اس سورہ میں پیغمبر کو یہ بتایا گیا ہے کہ ان کا پیغمبرانہ مشن کیا ہے۔ اور یہ کہ مشن کے آداب کیا ہیں۔ اس کے مطابق، پیغمبر کا اصل مشن انذار ہے۔ انذار کا لفظی مطلب ہے، ڈرانا یا ہوشیار کرنا۔یعنی لوگوں کو خالق کے تخلیقی نقشہ (creation plan of the Creator) سے آگاہ کرنا۔ ہر نبی کا اصل مشن یہی ہوتا ہے اور پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کا مشن بھی یہی تھا۔ آدابِ دعوت میں بنیادی چیز وہ ہے جس کو ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے: وَالرُّجْزَ فَاہْجُرْ۔ یعنی اور گندگی کو چھوڑدے۔مفسرین نے لغت کا اعتبار کرتے ہوئے یہاں رُجز کوبت (اصنام) کےمعنی میں لیا ہے۔ سوال یہ ہے کہ یہاںاصنام کو چھوڑنے سے کیا مراد ہے۔ اس سے مراد اصنام پرستی نہیں ہے ،بلکہ اصنام کی موجودگی ہے۔ اصنام کی یہ موجودگی کعبہ کے اندر تھی۔ اس زمانے میں مکہ کے اوپر مشرک لوگوں کا غلبہ تھا۔ انھوں نے اپنے ذوق کے مطابق، کعبہ کی عمارت میں بت رکھنا شروع کیا۔ یہاں تک کہ ان کی تعدادتقریباً 360 تک پہنچ گئی۔ یہ بت عرب میں پھیلے ہوئے مختلف قبائل کے بت تھے۔ ان بتوں کی وجہ سے عرب کے قبائل سال بھر وہاں آتے رہتے تھے۔ تاکہ وہ اپنے بتوں کی پوجا کریں۔ اس طرح کعبہ عرب میں اجتماع کا ایک مستقل مرکز بن گیا تھا۔ والرجزفاھجرمیں فاھجردراصل فاعرض کے معنی میں ہے۔ اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ اصنام پرستی کو چھوڑدے۔ بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ کعبہ میں اصنا م کی موجودگی کو وقتی طور پر نظر انداز کرو۔ تاکہ دعوت کا مشن کسی رکاوٹ کے بغیر جاری رہے۔ یہ گویا دعوتی طریقہ کار کا ایک کامیاب فارمولا تھا۔ یعنی بتوں کی موجودگی کے مسئلے کو نظرانداز کرو، اور ان بتوں کی وجہ سے کعبہ کےپاس جو مجمع اکٹھا ہوتا ہے، اس کو اپنے مشن کے لیےبطور آڈینس (audience) استعمال کرو۔ قرآن فہمی کے لیے سببِ نزول نہایت اہم ہے۔ ایک سببِ نزول وہ ہے جو لفظی طور پرکسی روایت سے معلوم ہوتا ہے۔ دوسرا سببِ نزول وہ ہے جو تاریخی حالات کے مطالعے سے دریافت ہوتا ہے۔ تاریخی حالات کے اعتبار سے اس آیت کا سبب نزول متعین کیا جائے تو وہ پیغمبر ِ اسلام کے عمل سے مستنبط ہوگا۔ وہ یہ کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم تیرہ سال تک مکہ میں رہے۔ اس زمانے میں آپ یہ کرتے تھے کہ کعبہ کے پاس جمع ہونے والے لوگوں کے پاس جاتے اور کعبہ میں اصنام کی موجودگی کو نظر انداز کرتے ہوئے،ان کو قرآن کی آیتیں سناکر ان کے سامنے اسلام پیش کرتے۔ سیرت کی کتابوں میں اس واقعے کو ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے:عرض علیہم الإسلام، وتلا علیہم القرآن (سیرت ابن ہشام، 1/428)۔ پیغمبر اسلام کا یہ طریقہ ایک دعوتی اصول کی انتہائی مثال ہے۔ یعنی مسائل کو نظر انداز کرتے ہوئے مواقع کو بھرپور طور پر استعمال کرنا۔ دعوت کا موضوع ہمیشہ اور ہر زمانے میں ایک رہے گا۔ لیکن مسائل کی صورتیں بدلتی رہیں گی۔ قدیم زمانے میںاگر یہ مسئلہ تھا کہ کعبہ کی عمارت کےاندر بت رکھ دیے گیےتھے تو موجودہ زمانےمیں حالات کے اعتبار سے مسائل مختلف ہوسکتے ہیں۔ مثلا کسی دنیوی یا سیاسی مقصد کے لیے لوگوں کا ایک مقام پر اکٹھا ہونا۔ ایسے موقعہ پر اگر کوئی غیر دینی فعل کیا جارہا ہے تو داعی کو چاہیے کہ وہ اس کو نظر انداز کرے، اور وہاں پہنچ کر لوگوں کو حق کا پیغام دے۔خواہ زبانی طور پر یا لٹریچر کی تقسیم کے ذریعے۔ داعی کی توجہ ہمیشہ دعوت کے مواقع (opportunities) پر ہونی چاہیے، نہ کہ دعوت کے مسائل (problems)پر۔ یہ حکمتِ دعوت ہے۔اس حکمت کو اختیار کیے بغیر دعوت کا کام موثر طور پر نہیں ہوسکتا۔
واپس اوپر جائیں

بچوں کی تربیت

حدیث کی مختلف کتابوں میں ایک روایت آئی ہے۔ مسند احمد کے الفاظ یہ ہیں: ما نحل والد ولدہ نحلا أفضل من أدب حسن(مسند احمد، حدیث نمبر16710)۔ یعنی کسی باپ کی طرف سے اپنی اولاد کے لیے سب سے اچھا تحفہ یہ ہے کہ وہ اس کو اچھے ادب کا تحفہ دے۔ ادب کا مطلب عربی زبان میں حسن اخلاق (good conduct) ہے۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ کسی انسان کے اندر پہلے اچھی سوچ آتی ہے، اس کے بعد اس کے اندر اچھا اخلاق آتا ہے۔ اچھی سوچ حسن اخلاق کی بنیاد ہے۔ اس اعتبار سے یہ کہنا صحیح ہوگا کہ حدیث کا مطلب یہ ہے کہ آدمی اپنی اولاد کے اندر درست طرز فکر (right thinking)پیدا کرے۔ جس آدمی کے اندر درست طرز فکر ہو، اس کا ہر رویہ درست ہوجائے گا۔ ایسے آدمی کی سوچ درست سوچ ہوگی۔ ایسے آدمی کا سلوک، درست سلوک ہوگا۔ ایسے آدمی کا معاملہ (dealing)، درست معاملہ ہوگا۔ ایسےآدمی کی منصوبہ بندی، درست منصوبہ بندی ہوگی۔ خلاصہ یہ ہے کہ آدمی مکمل طور پر مثبت سوچ (positive thinking)کا حامل ہوگا، وہ منفی سوچ (negative thinking) سے مکمل طور پر خالی ہوگا۔ جس آدمی کے اندر یہ حسنِ ادب موجود ہو، وہ اپنے ہر معاملہ میں ایک بہتر انسان ہوگا۔ ایساآدمی خواہ اپنے گھر کے اندر ہو یا وہ گھر کے باہر ہو، وہ اپنوں سے معاملہ کرے یا غیروں سے معاملہ ۔ ہر حال میں وہ درست رویہ پر قائم رہے گا۔ اس کی درست سوچ ایک ایسا عامل (factor) بن جائے گی، جو اس کو ہر موقع پر بے راہ روی سے بچائے گی۔ ایسا آدمی ایک سنجیدہ انسان ہوگا۔ایسا آدمی ذمہ دارانہ اخلاق کا حامل ہوگا۔ ایسے آدمی کے اندر وہ کردار ہوگا، جس کو قابل پیشین گوئی کردار (predictable character) کہا جاتا ہے۔ بلاشبہ کسی انسان کے لیے اپنے سرپرستوں کی طرف سے یہ سب سے زیادہ قابل قدر عطیہ ہے۔
واپس اوپر جائیں

فقہی زبان، نفسیاتی زبان

نصیحت کے دو طریقے ہیں۔ ایک ہے فقہی زبان میں نصیحت کرنا، اور دوسرا ہے، نفسیات کی زبان میں نصیحت کرنا۔ فقہی زبان اوامر اور نواہی (do’s and don’ts) کی زبان ہوتی ہے۔ اس میں صرف حکم کی زبان ہوتی ہے۔ یعنی یہ کرو اور وہ نہ کرو۔اس طرح کی زبان ان لوگوں کے لیے مفید ہے جو پہلے سے عمل کے لیے تیار ہوں۔ لیکن جو آدمی پہلے سے عمل کے لیے تیار نہ ہو اس کی اصلاح کے لیے امر و نہی کی زبان کافی نہیں ہوسکتی۔ایسے آدمی کے لیے وہ زبان مفید ہے جس کو نفسیات کی زبان کہا جاتاہے۔ نفسیات کی زبان کیا ہے۔یہ وہی زبان ہے جس کو قرآن میں ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے:وَقُلْ لَہُمْ فِی أَنْفُسِہِمْ قَوْلًا بَلِیغًا (4:63)۔یعنی ان سے ایسی بات کہو جو ان کے دل میں اتر جائے۔یہاں دل (نفس )سے مراد عقل ہے۔ یعنی بات کو ایسے اسلوب میں بیان کیا جائے جو مخاطب کی عقل کو ایڈریس کرنے والا ہو۔ جس کو سن کر مخاطب قول کی اہمیت کو دریافت کرے، وہ اس کو غور و فکر کے قابل سمجھے ۔اس کو سن کر آدمی سوچ میں پڑجائے، جو اس کے ذہن کے لیے مہمیز کا کام کرے۔ امر و نہی کی زبان صرف ایسے شخص کے لیے کارآمد ہے جو پہلے سے آپ کی بات کو مانے ہوئے ہو۔ اس کے برعکس، دوسرے قسم کی زبان ہر ایک کے لیے مفید ہے۔ جو شخص اس بات کو پہلے سے مانتا ہواس کے اندر آپ کی بات کی صداقت پر مزید یقین پیدا ہوجائے۔ اور جو شخص آپ کی بات کو پہلے سے نہ مانتا ہو، وہ اس پر غور کرے گا۔ اور عین ممکن ہے کہ اس کو دل سے ماننے والا بن جائے۔ امر و نہی کی زبان فقہی کلام کے لیے درست ہے۔ لیکن دعوت و اصلاح کے میدان میں صرف وہی کلام مفید ہے جو نفسیاتی اسلوب میں کہا گیا ہو، جو آدمی کے عقل کو ایڈریس کرنے والا ہو، جس کو سن کر آدمی کا دل گواہی دے کہ وہ واقعۃ ایک بر حق کلام ہے۔
واپس اوپر جائیں

استدراکات عائشہ

استدراک کا لفظی مطلب ہے، غلطی کی اصلاح کرنا (to make right)۔ حضرت عائشہ کی بہت سی روایتیں ہیں جن کو استدراک کہا جاتاہے۔ ان روایتوں میں حضرت عائشہ نےکسی راوی کی روایت کی تصحیح کی ہے۔ راوی نے کوئی بات رسول اللہ سے منسوب کی تو عائشہ نے کہا کہ رسول اللہ نے یہ بات اس طرح نہیں کہی تھی، بلکہ اس طرح کہی تھی۔ حضرت عائشہ کے اس طرح کے اقوال کو استدراکات عائشہ کہا جاتا ہے۔ اس موضوع پرعلماء حدیث نے متعدد کتابیں لکھی ہیں۔ ایک مشہور کتاب یہ ہے:عین الاصابہ فی استدراک عائشۃ علی الصحابہ للسیوطی(مکتبة العلم القاہرة 1409 ھـ)۔ مصنف نے اس کتاب میں حضرت عائشہ کے 52استدراکات کو جمع کیا ہے۔ حضرت عائشہ کے استدراکات میں سے ایک یہ ہے:بلغ عائشة، أن ابن عمر، یقول:إن موت الفجأة سخطة على المؤمنین، فقالت:یغفر اللہ لابن عمر، إنما قال رسول اللہ صلى اللہ علیہ وسلم:موت الفجأة تخفیف عن المؤمنین، وسخطة على الکافرین(المعجم الاوسط للطبرانی، حدیث نمبر 3129)۔ یعنی عائشہ کو یہ بات پہنچی کہ ابن عمر ایسا کہتے ہیں کہ اچانک کی موت اللہ کی ناراضگی کی علامت ہے۔ تو عائشہ نے کہا کہ اللہ ابن عمر پر رحم فرمائے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ اچانک کی موت مومن پر آسانی (softening)ہے اورکافر پر ناراضگی ہے۔ یہ صرف عائشہ اور ایک راوی کے درمیان مکالمےکا معاملہ نہیں ہے، بلکہ اس سے ایک اصول اخذ ہوتا ہے۔ وہ یہ کہ اسلام میں عورت اور مردکے درمیان درجہ کے اعتبار سےکوئی فرق نہیں ہے۔ عورت اگر اپنے آپ کو علم و عقل کے اعتبار سےتیار کرے تو وہ معاملات میں مردوں کی رہنمائی کرسکتی ہے۔وہ زندگی میںقائدانہ رول ادا کرسکتی ہے۔ایسی عورت شادی شدہ زندگی میں اپنے رفیق حیات کے لیےایک سرمایہ (asset) ہے۔
واپس اوپر جائیں

پسند، ناپسند

زوجین کے بارے میں ایک حدیث رسول ان الفاظ میں آئی ہے: لا یفرک مؤمن مؤمنة، إن کرہ منہا خلقا رضی منہا آخر (صحیح مسلم ، حدیث نمبر1469 :)۔ یعنی کوئی مومن مرد کسی مومن عورت سے بغض نہ کرے، اگر اس کو اس کی ایک بات ناپسند ہو تو اس کے اندر دوسری بات ہوگی جو اس کی مرضی کے مطابق ہو۔ یہ شوہر اور بیوی کے تعلقات کے بارے میں ایک دانش مندانہ نصیحت ہے۔ تخلیقی نقشہ کے مطابق، عورت اور مرد دونوں میں مختلف صلاحیتیں ہوتی ہیں۔ اگر کوئی مرد یا عورت یہ محسوس کرے کہ اس کا ساتھی اس کی پسند کے مطابق نہیں تو اس کی یہ رائے غلط مطالعے کی بنا پر ہوگی۔ کیوں کہ عورت اور مرد دونوں میں مختلف قسم کی صلاحیتیں موجود ہوتی ہیں۔ دونوں کو چاہیے کہ وہ فورا فیصلہ نہ کرے، بلکہ دونوں ایک دوسرے کو سمجھنے کی کوشش کریں۔ اگر وہ ایسا کریں تو دونوں دریافت کریں گے کہ اپنے ساتھی کے اندر اگر ایک بات ایسی تھی جو اس کی پسند کے مطابق نہ تھی، تو ٹھیک اسی وقت اس کے ساتھی کے اندر ایک اور صفت موجود تھی، جو اس کی پسند کے عین مطابق تھی۔ عورت اور مرد دونوں ایک دوسرے کے لیے کاگ وھیل (cogwheel) کی مانند ہیں۔ اگر دونوں کاگ فوری طور پر ایک دوسرے میں فٹ نہ ہورہے ہوں تو دونوں کو چاہیے کہ دونوں ایک دوسرے کے بارے میں سوچیں۔ اگر وہ ایسا کریں تو جلد ہی وہ دریافت کریں گے کہ دونوں کی طرف سے یہ بے خبری کی بات تھی۔ باخبر ہوتے ہی دونوں کو ایسا محسوس ہوگا کہ یہ ان کی اپنی غلطی تھی۔ ورنہ فطرت کے نظام کے مطابق دونوں ایک دوسرے کے لیے درست کاگ وھیل کی مانند بنائے گیے تھے۔ خالق نے کسی کو بے کار نہیں بنایا۔ ہر عورت اور مرد اس لیے پیدا کیے گیے ہیں کہ وہ دونوں مل کر زندگی میں ایک مفید رول ادا کریں۔ فطرت کے اس نقشے کو جاننے کی کوشش کیجیے اور پھر آپ کو کوئی شکایت نہ ہوگی۔
واپس اوپر جائیں

شادی شدہ زندگی

18 نومبر 2015 کو انڈیا کے باہر کے ایک ملک سے ایک مسلم نوجوان کا فون آیا۔ انھوںنے کہا کہ آج میری شادی ہونے والی ہے۔ آپ میرے لئے اور میری ہونے والی بیوی کے لئے دعا کریں۔ میںنے کہا کہ اس معاملے میں سب سے بہتر بات وہ ہے جو ایک حدیث رسول سے معلوم ہوتی ہے ۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: النکاح من سنتی(سنن ابن ماجہ، حدیث نمبر 1846 ) ۔ نکاح میری سنت ہے۔ یعنی نکاح ایک سنت رسول ہے۔ لیکن گہرے معنی کے اعتبار سے اس کا مطلب یہ ہے کہ نکاح اللہ کی ایک سنت ہے۔ یعنی نکاح کا طریقہ خدا کے نقشۂ تخلیق (creation plan of God) کے مطابق ہے۔ اس لئے نکاح کو اس کے وسیع تر معنی میں لینا چاہئے۔ نکاح کرنے والے کو یہ سمجھنا کہ وہ وسیع تر معنی میں خدا کے نقشۂ تخلیق کا ایک حصہ بن رہاہے۔ موجودہ حالت یہ ہے کہ نکاح کے دونوں پارٹنر نکاح کو اپنے اپنے مائنڈ سٹ (mindset) کے مطابق لیتےہیں۔ اگر وہ حقیقت پسند ہوں تو وہ نکاح کو خدا کے مائنڈ سٹ کے مطابق لیں گے اور پھر ان کی شادی شدہ زندگی درست لائن پر چلنے لگے گی۔ اور پھر ان کی زندگی کے تمام معاملات فطرت کے نقشے پر قائم ہوجائیں گے۔ اور زندگی کو فطرت کے نقشے پر چلانا یہی کامیابی کا سب سے بڑا راز ہے۔ موجودہ زمانے میں عورت اور مرد کے معاملے میں سب سے بڑا نظریہ عورت اور مرد کے مساوات (gender equality)کو سمجھا جاتا ہے۔ مگر اس معاملے کا کلیدی اصول صنفی مساوات نہیں ہے بلکہ صنفی رفاقت ہے۔ نکاح کے ذریعےایسا نہیں ہوتا کہ دو مساوی صنفیں یکجا ہوجائیں۔ بلکہ یہ ہوتا ہے کہ دو مختلف صلاحیتیں رکھنے والی صنفیں یکجا ہوجاتی ہیں۔ یہ فطری تقسیم کا معاملہ ہے۔ اور ایسا اس لیے ہے کہ دو مختلف صلاحیتیں باہمی رفاقت سے زندگی کا نظام زیادہ بہتر طور پر چلا سکیں۔ یہ معاملہ گاڑی جیسا ہے۔ گاڑی ہمیشہ دو پہیوں پر چلتی ہے۔ اسی طرح فطرت کے قانون کے مطابق، زندگی کا نظام بھی دو افراد کی شرکت پر چلتا ہے۔
واپس اوپر جائیں

شکایت نہیں

ایک نوجوان شوہر اور بیوی میرے پاس آئے۔ انھوں نے کہا کہ ہم کو نصیحت کیجیے۔ میں نے کہا کہ میں آپ کو صرف ایک نصیحت کروں گا۔ وہ یہ کہ آپ شکایت (complaint) کو اپنے لیے حرام سمجھیے۔ انھوں نے کہا کہ شکایت کو آپ اتنا زیادہ برا کیوں بتاتے ہیں۔ میں نے کہا کہ شکایت کلچر (complaint culture) ایک شیطانی کلچر ہے۔ سب سے پہلا شخص جس نے شکایت کا طریقہ ایجاد کیا، وہ شیطان کا سردار ابلیس تھا۔ اس نے خالق سے شکایت کرتے ہوئے کہا کہ میں انسان سے زیادہ افضل تھا، لیکن تو نے مجھ کو چھوڑ کر انسان کو خلیفہ بنا دیا۔ شیطان کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ انسان کا سب سے بڑا دشمن ہے۔ دشمنی کا یہ کام وہ کس طرح کرتا ہے۔ اُس کا طریقہ یہ ہے کہ جب وہ دیکھتا ہے کہ کسی انسان کے اندر شکایت پیدا ہوئی، تو وہ اس کے اندر شکایت کو اکٹیویٹ(activate) کرنا شروع کردیتا ہے۔ وہ شکایت کی نفسیات کو اتنا زیادہ بڑھاتا ہے کہ انسان شکایت سے مغلوب ہوجاتا ہے، شکایت اس کی شخصیت کا سب سے بڑا حصہ بن جاتی ہے۔ اگر آپ پتھر کا ایک ٹکرا اپنی جیب میں رکھ لیں تو وہ جیسا آج ہے، ویسا ہی سوسال تک رہے گا۔ لیکن شکایت کا معاملہ اس سے مختلف ہے۔ شکایت ہمیشہ گرو (grow) کرتی ہے۔ وہ برابر بڑھتی رہتی ہے۔ شکایت تمام برائیوں کی جڑ ہے۔ شکایت جب ایک بار آگئی تو وہ بڑھ کر نفرت بنے گی، وہ انتقام کی صورت اختیار کرلے گی۔ پھر بڑھتے بڑھتے وہ تشدد کا مزاج پیدا کرے گی۔ یہاں تک کہ آدمی جنگ کے لیے تیار ہوجائے گا۔ یہاں تک کہ اپنے مفروضہ دشمن کے خلاف وہ خود کش بمباری (suicide bombing) کی آخری حد تک پہنچ جائے گا۔شکایت بظاہر صرف ایک برائی ہے، لیکن شکایت بڑھتے بڑھتے ہزار برائی بن جاتی ہے۔ شکایت انسان کی شخصیت کی تعمیر کے لیے ایک قاتل کی حیثیت رکھتی ہے۔
واپس اوپر جائیں

زوجین کا تعلق

انسان کے خالق نے انسان کو زوجین (pair) کی صورت میں پیدا کیا ہے۔ دونوں ایک دوسرے کا نصف ثانی (counterpart) ہیں۔ دونوں شادی شدہ زندگی کی صورت میں مل کر تخلیقی منصوبہ کو پورا کریں۔ خالق کا منصوبہ یہ ہے کہ دونوں ایک دوسرے کا کاگ (cog) بن کر زندگی کاسفر کامیابی کے ساتھ طے کریں۔ دونوں ایک دوسرے کا تکمیلی حصہ (complement) بنیں۔ اس حقیقت کو قرآن کی ایک آیت میں ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے:وَمِنْ آیَاتِہِ أَنْ خَلَقَ لَکُمْ مِنْ أَنْفُسِکُمْ أَزْوَاجًا لِتَسْکُنُوا إِلَیْہَا وَجَعَلَ بَیْنَکُمْ مَوَدَّةً وَرَحْمَةً إِنَّ فِی ذَلِکَ لَآیَاتٍ لِقَوْمٍ یَتَفَکَّرُونَ (30:21)۔ یعنی اور اس کی نشانیوں میں سے یہ ہے کہ اس نے تمہاری جنس سے تمہارے لئے جوڑے پیدا کئے، تاکہ تم ان سے سکون حاصل کرو۔ اور اس نے تمہارے درمیان محبت اور رحمت رکھ دی۔ بیشک اس میں بہت سی نشانیاں ہیں ان لوگوں کے لئے جو غور کرتے ہیں۔ قرآن کی اس آیت میں بتایا گیا ہے کہ تخلیقی نقشہ کے مطابق، عورت اور مرد دونوں ایک دوسرے کے لیے سکون (peace of mind) کا ذریعہ ہیں۔ خالق نے دونوں کے درمیان ایک دوسرے کے لیے محبت رکھی ہے، تاکہ یہ مشترک سفر حسن رفاقت کے ساتھ انجام پائے۔ عورت اور مرد کو یہ سکون ابتدائی طور پر ایک دوسرے کا رفیق حیات (life partner) بننے سے حاصل ہوتا ہے۔ لیکن زیادہ اعلی صورت میں یہ سکون دونوں کو ذہنی سطح پر حاصل ہوتا ہے۔ یہ سکون دونوں کو اس وقت ملتا ہے جب کہ دونوں ایک دوسرے کے لیے انٹلکچول پارٹنر (intellectual partner) بن جائیں۔دونوں مسلسل طور پر ایک دوسرے سے فکری تبادلۂ خیال کرتے رہیں۔ اگر آپ پتھر کے دو ٹکروں کو ایک دوسرے سے ٹکرائیں تو اس کے بعد وہاں ایک چنگاری نکلے گی۔ یہ اسپارکنگ (sparking)فطرت کے ایک قانون کو بتاتی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جب دو چیزیں ایک دوسرے سے ٹکرائیں تو دونوں کے ٹکرانے سے ایک تیسری چیز ایمرج (emerge) کرتی ہے۔یہ اصول جس طرح مادی دنیا کے لیےہے،اسی طرح وہ انسانی دنیا کے لیے ہے۔ عورت اور مرد کو نکاح کی صورت میں یکجا کرنےسے یہی مقصود ہے۔خالق کی منشا یہ ہے کہ ایک عورت اور ایک مرد دونوں مسلسل طور پر ساتھ رہیں۔ دونوں زندگی کی حقیقتوں کے بارے میں ایک دوسرے سے تبادلۂ خیال (exchange) کرتے رہیں۔ دونوں ایک دوسرے کے ساتھ وہ عمل کرتے رہیں جس کو میوچول لرننگ (mutual learning) کہا جاتا ہے۔ اس طرح نکاح کی زندگی دونوں کےلیے ایک سنہری موقع ہے کہ دونوں اپنے لیے ایک انٹلکچول پارٹنر پالیں۔ اور دونوں باہمی تعاون سے اپنے آپ کو فکری اعتبار سے زیادہ ارتقا یافتہ انسان بنائیں۔ یہ بلاشبہ زندگی کا ایک اہم اصول ہے۔ لیکن اس نادر موقع سے فائدہ اٹھانا دونوں کے لیے اسی وقت ممکن ہے جب کہ دونوں اس امکان سے باخبر ہوں، اور دونوں اپنے آپ کو اس باہمی استفادے کے لیے تیار رکھیں۔ اس معاملہ کی ایک اہم شرط یہ ہے کہ دونوں کے درمیان کھلا تبادلہ خیال (open exchange)ہو، اور تبادلۂ خیال کے لیےہمیشہ اعلی موضوعات کو اختیار کیا جائے۔ قرآن میں زوجین کے باہمی تعلق کو ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے: مِنْ ذَکَرٍ أَوْ أُنْثَى بَعْضُکُمْ مِنْ بَعْضٍ (3:195)۔یعنی خواہ وہ مرد ہو یا عورت، تم سب ایک دوسرے سے ہو۔ Man or woman, you are members one of another. عورت اور مرد دونوں بلاشبہ ایک دوسرے کےلیے بہترین پارٹنر ہیں۔ لیکن یہ بات امکان کے اعتبار سے ہے۔ دونوں کے لیے پھر بھی یہ کام باقی رہتا ہے کہ وہ حسن تدبیر سے اس امکان کو واقعہ بنائیں۔ وہ عملا اپنے آپ کو اس پارٹنر شپ کا اہل ثابت کریں۔ بھوپال (مدھیہ پردیش) میں الرسالہ اور مطبوعاتِ الرسالہ کے لئے رابطہ قائم کریں: Shahid Mohd Khan (Yashika Books) Imami Gate Bus Stop, Imami Gate Bhopal-462 001, M.P. Mob: 9300908081
واپس اوپر جائیں

ربانی پرسنالٹی

ایک روایت حدیث کی مختلف کتابوں میں آئی ہے۔ مسند احمد کے الفاظ یہ ہیں: والذی نفسی بیدہ لو أخطأتم حتى تملأ خطایاکم ما بین السماء والأرض، ثم استغفرتم اللہَ لغفر لکم، والذی نفسی بیدہ لو لم تخطئوا لجاء اللہ بقوم یخطئون، ثم یستغفرون اللہ، فیغفر لہم (حدیث نمبر13493)۔ یعنی اس ذات کی قسم جس کے قبضے میں میری جان ہے، اگر تم اتنے گناہ کرو کہ تمہارے گناہوں سے زمین و آسمان کے درمیان کی فضا (space)بھر جائے، پھر تم اللہ تعالیٰ سے معافی مانگو تو وہ تم کو ضرور معاف کر دے گا، اس ذات کی قسم جس کے قبضے میں میری جان ہے، اگر تم گناہ نہ کرو تو اللہ ایک ایسی قوم کو لے آئے گا جو گناہ کرے ، پھر وہ اللہ سے معافی مانگےتواللہ اس کو معاف کر دے گا۔ اصل یہ ہے کہ کسی دینی عمل کے دو پہلو ہیں۔ ایک ہے اس کا کمیاتی پہلو (quantitative aspect)، دوسرا ہے اس کا کیفیاتی پہلو (qualitative aspect)۔ کسی عمل کا جو کمیاتی پہلو ہے، وہ اسی دنیا میں رہ جاتا ہے۔ انسان جب اس دنیا سے نکل کر آخرت کی دنیا میں جاتا ہے تو اس کے پاس اس کے عمل کا صرف کیفیاتی پہلو ہوتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ آخرت کی دنیا میں اللہ تعالی کسی آدمی کے عمل کے کیفیاتی پہلو کو دیکھے گا ، نہ کہ اس کے عمل کےکمیاتی پہلو کو۔ عمل کے اس کیفیاتی پہلو کو قرآن میں قلب سلیم (الشعراء 89 :) کہا گیا ہے۔ قلب سلیم کا لفظی مطلب سلامتی والا دل (sound heart) ہے۔ قلب سلیم سے مراد دوسرے الفاظ میں روحانی اعتبار سے ترقی یافتہ شخصیت (spiritually developed personality)ہے۔ آخرت میں خدا جنت کے اعتبار سے انسانوں کا انتخاب کرے گا۔ اس انتخاب کے لیے جو معیار ہوگا، وہ یہ ہوگا کہ انسان کی وہ داخلی پرسنالٹی کیسی ہے جس کو لے کر وہ آخرت میں پہنچا ہے۔اس حدیث کے مطابق، انسان کے لیے خوف کے مقابلے میں رجاء (hope)کا پہلو غالب ہے۔ یہ حدیث اور اس طرح کی دوسری حدیثوں سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ کے نزدیک عمل کے ظاہری مقدار کے مقابلے میں استغفار کا پہلو زیادہ اہمیت والا پہلو ہے۔خطا کی مقدار خواہ کتنی ہی زیادہ ہو، اگر آدمی استغفار کا ثبوت دیتا ہے تو اللہ کی طرف سے وعدہ ہے کہ وہ اس کو آخرت میں بخش دے گا۔خطا کے بعد استغفار کی اتنی زیادہ اہمیت کیوں ہے۔ اس کا سبب یہ ہے کہ آدمی کی حساسیت (sensitivity) اگر زندہ ہو تو غلطی کرنے کے بعد اس کے اندر شدید طور پر ندامت (repentance) کا جذبہ جاگ اٹھتا ہے۔ اس کو اپنے گناہ پر بہت زیادہ شرمندگی ہوتی ہے۔ وہ مزید اضافہ کے ساتھ اللہ کی طرف رجوع ہوجاتا ہے۔ وہ زیادہ تڑپتے ہوئے دل کے ساتھ اللہ سے مغفرت کا طالب بن جاتا ہے۔ یہی وہ چیز ہے جو کسی خطاکار کے لیے اللہ کی رحمت کے نزول کا سبب بن جاتی ہے۔ آدمی اگر خطا نہ کرے تو اندیشہ ہے کہ اس کے اندر عُجب(pride)کا جذبہ پیدا ہوجائے۔لیکن جب اس سے کوئی خطا سرزد ہوتی ہے تو اس کے بعد اس کے اندر شرمندگی کی کیفیت جاگ اٹھتی ہے۔ احساس خطا کی بنا پر وہ پہلے کے مقابلے میں زیادہ سنجیدہ بن جاتا ہے۔ اس کی تواضع (modesty) میں اضافہ ہوجاتا ہے۔ وہ زیادہ انکساری کے ساتھ اللہ سے معافی کا طالب بن جاتا ہے۔ اس طرح خطا کا احساس آدمی کے اندر ایک نئی شخصیت بیدار کردیتا ہے۔ خطا سے پہلے اگر وہ سادہ الفاظ میں دعا کرتا تھا، تو اب اس کی دعا آنسوؤں کی زبان میں ہونے لگتی ہے۔ خطا سے پہلے اگر اس کی نفسیات یہ ہوتی تھی کہ میں بھی کچھ ہوں تو اب اس کی نفسیات یہ بن جاتی ہے کہ میں کچھ بھی نہیں۔ خطا سے پہلے اگر اس کو اپنے عمل پر اعتماد ہوتا تھا تو اس کا احساس یہ بن جاتا ہے کہ میرا معاملہ تمام تر اللہ کے اوپر منحصر ہے۔ اللہ اگر مجھے معاف کردے تو مجھ کو جنت نصیب ہوسکتی ہے۔ اور اگر اللہ معاف نہ کرے تو مجھ کو جنت ملنے والی نہیں۔ اس طرح خطا کا احساس آدمی کے اندر ربانی شخصیت کی تعمیر میں بہت زیادہ معاون بن جاتا ہے۔ خطا کا احساس آدمی کے اندر اس شخصیت کی تعمیر کرتا ہے جو اس کو جنت میں داخلے کا مستحق بنادے۔خطا کا احساس آدمی کو انسانِ اصلی (man cut to size) بنا دیتا ہے۔
واپس اوپر جائیں

علمی سفر

علمی سفر کا ایک اصول قرآن میں ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے: وَلَا تَقْفُ مَا لَیْسَ لَکَ بِہِ عِلْمٌ (17:36)۔یعنی اور ایسی چیز کے پیچھے نہ لگو جس کی تم کو خبر نہیں۔ یہ علمی سفر کا ایک جامع اصول ہے۔ اس کے مختلف پہلو ہیں۔ اس کا ایک پہلو یہ ہے کہ علمی سفر کو ہمیشہ نتیجہ خیز (result oriented) ہونا چاہیے۔ جو علمی سفر عملا نتیجہ خیز نہ ہونے والا ہو، اس میں زیادہ مشغول ہونا، اپنے وقت کو ضائع کرنا ہے۔ اور وقت کو بچانا، بجائے خود زندگی کا ایک اہم ترین اصول ہے۔یہ بھی ایک ضروری بات ہے کہ آدمی کام کو شروع کرنے کے ساتھ اس کو ترک کرنا بھی جانے۔ علمی سفر عام طور پر اس طرح شروع ہوتا ہے کہ آدمی کے ذہن میں ایک نکتہ (point) آتا ہے۔ وہ چاہتا ہےکہ اس کی تفصیل معلوم کرے۔ اس ذہن کے تحت آدمی اس نکتہ کی علمی تحقیق شروع کردیتا ہے۔ مگر جلد ہی اس کو معلوم ہوتا ہے کہ اس تحقیق کےلیے ضروری ڈیٹا (data) اس کے پاس موجود نہیں۔بظاہر یہ امید نہیں کہ وہ اس معاملہ میں کسی قابل اعتماد رائے تک پہنچ سکتا ہے۔ تو ایسی صورت میں اس کے لیے زیادہ ضروری یہ ہوجاتا ہے کہ وہ اپنے وقت کو بچائے، وہ اپنے وقت کو کسی اور علمی سفر کے لیے استعمال کرے، جس کے لیے اس کے پاس ضروری مواد موجود ہو۔ مثلا آپ اس حدیث کو پڑھیں، جس میں ایک صحابی،أبو زید الأنصاری روایت کرتے ہیں : صلى بنا رسول اللہ صلى اللہ علیہ وسلم صلاة الصبح، ثم صعد المنبر فخطبنا حتى حضرت الظہر، ثم نزل فصلى الظہر، ثم صعد المنبر فخطبنا حتى حضرت العصر، ثم نزل فصلى العصر، فصعد المنبر فخطبنا حتى غابت الشمس، فحدثنا بما کان وما ہو کائن (صحیح مسلم، حدیث نمبر 5149۔مسند احمد، حدیث نمبر22888 )۔ یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم کو صبح کی نماز پڑھائی، پھر آپ منبر پر کھڑے ہوئے، اور آپ نے خطبہ دیا، یہاں تک کہ ظہر کی نمازکا وقت آگیا، پھر آپ اترے، اور آپ نے ظہر کی نماز پڑھائی، پھر آپ منبر پر کھڑے ہوگیے، پھر آپ نے خطبہ دیا یہاں تک عصر کی نماز کا وقت آگیا، آپ اترے اور آپ نے عصر کی نماز پڑھائی، پھر آپ منبر پر کھڑے ہوئے، آپ نے خطبہ دیا، یہاں تک کہ سورج غروب ہوگیا، آپ نے بیان کیا وہ سب کچھ جو ہوا ہے، اور وہ سب کچھ جو ہونے والا ہے۔ اس حدیث رسول کو پڑھ کر اگر آپ کے ذہن میں یہ خیال آئے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے خطبہ میں پوری انسانی تاریخ کا کلنڈر بیان کردیا۔ اس کے بعد آپ اس عالمی کلنڈر کو مرتب کرنے کی کوشش میں لگ جائیں ۔ لیکن جلد ہی آپ کو محسوس ہوگاکہ اس عالمی کلنڈر کو مرتب کرنے کے لیے آپ کے پاس ضروری مواد (material) موجود نہیں ہے، نہ احادیث میں اور نہ تاریخ کی کتابوں میں۔ ایسی صورت میں آپ کو چاہیے کہ اپنی کوشش کو موقوف کردیں۔ آپ ہرگز ایسا نہ کریں کہ ساری عمر اس عالمی کلنڈر کو مرتب کرنے کی کوشش میں لگے رہیں۔ لیکن آخر میں آپ کو معلوم ہو کہ اس قسم کا کلنڈر مرتب کرنا عملاً ممکن ہی نہ تھا۔ زندگی کے حکیمانہ اصولوں میں سے ایک اصول یہ بھی ہے کہ آدمی کسی کام کو شروع کرنے سے پہلے اس کے عملی امکان کا جائزہ لے۔ اگر اس کو نظر آئے کہ اس کا منصوبہ عملی طور پر ایک ممکن منصوبہ ہے تو اس کو چاہیے کہ اس کے لیے کوشش کرے۔ اور اگر ایسا نہ ہو ۔ یعنی آپ کو نظر آئے کہ ضروری معلومات یا ضروری وسائل کی عدم موجودگی کی بنا پر آپ کا منصوبہ واقعہ بننے والا نہیں۔ تو دانش مندی یہ ہے کہ ایسے منصوبے کو فورا چھوڑ دیا جائے۔ ایسے منصوبے کے حصول کے لیے کوشش جاری رکھنا صرف وقت کو ضائع کرنے کے ہم معنی ہے۔ اور وقت کو ضائع کرنا، بلاشبہ کوئی کرنے کا کام نہیں۔ اس اصول کا تعلق آدمی کی انفرادی زندگی سے بھی ہے اور قومی زندگی سے بھی۔اس کا تعلق علمی تحقیق سے بھی ہے اور دوسری نوعیت کے کاموں سے بھی۔ کام کا یہ پہلو اگر آغاز میں غیر واضح ہو، لیکن کام شروع کرنے کے بعد جلد ہی یہ واضح ہوجاتا ہے کہ وہ کام قابل عمل ہے یا نہیں۔ وہ صرف ایک شخصی تخیل ہے یا عملی اعتبار سے قابل حصول نشانہ۔
واپس اوپر جائیں

جنت سے محرومی

قرآن میں بتایا گیا ہے کہ اہل ایمان کو چاہیے کہ وہ جنت کو اتنی گہرائی کے ساتھ دریافت کریں کہ اسی دنیا میں ان کو جنت کا تعارف حاصل ہوجائے(محمد 6:)۔ قرآن کے مطابق، جنت کی دنیا موجودہ دنیا کے متشابہ (similar) ہے۔اس کا مطلب یہ ہے کہ اہل ایمان کو چاہیے کہ وہ موجودہ دنیا کو دیکھ کر اس کے ذریعے جنت کی پہچان حاصل کریں۔ ان کے لیے جنت اسی دنیا میں ایک دریافت کردہ جنت بن جائے۔جب کوئی شخص جنت کو اس طرح دریافت کرے گا تو فطری طور پر وہ آخری حد تک جنت کا مشتاق بن جائے گا۔اس حقیقت کو سامنے رکھ کر موجودہ زمانے کے مسلمانوں کا مطالعہ کیجیے تو معلوم ہوگا کہ تمام دنیا کے مسلمان نفرت اور شکایت کی نفسیات میں جیتے ہیں۔ یہ نفسیات اتنا زیادہ عام ہے کہ مسلمانو ںکے ہر طبقہ، تعلیم یافتہ اور غیر تعلیم یافتہ دونوں کے درمیان یکساں طور پر پائی جاتی ہے۔ مسلمانوںکا یہ منفی ذہن (negative mind) بظاہر دوسروں کے خلاف ہے۔ مگر عملی نتیجہ کے اعتبار سے خود اپنے خلاف ہے۔ وہ مسلمانوں کے اندرسے اس مثبت نفسیات (الفجر: 27)کو ختم کرتا ہے، جو جنت کی یاد میں جینے کے لیے ضروری ہے۔ انسان کی تخلیق اس انداز میں ہوئی ہے کہ وہ دشمنی اور دوستی دونوں کو بیک وقت اپنے اندر جمع نہیں کرسکتا (الاحزاب 4:)۔ جو آدمی شکایت کی نفسیات میں جیتا ہو، وہ شکر کی نفسیات سے خالی ہوگا۔ جو محرومی کی نفسیات میں جیتاہو، وہ عین اسی وقت یافت کی نفسیات میں سوچنے والا نہیں بن سکتا۔ مسلمانوں کی موجودہ نفسیات ، اللہ رب العالمین کے منصوبۂ تخلیق کے خلاف ہے۔ اللہ یہ چاہتا ہے کہ مسلمان موجودہ دنیا میں جنت کی جھلک(glimps) دیکھے۔ تاکہ وہ حقیقی جنت کو یاد کرے، اور اس کا طالب بن جائے۔ مگر مسلمانوں کا موجودہ مزاج ایسی شخصیت کی تخلیق میں رکاوٹ ہے۔ ایسا انسان نفرت اور جھنجھلاہٹ میں جیے گا۔ اور نفر ت و جھنجھلاہٹ والا ذہن جنت جیسی نعمت کی یاد میں جینے والا نہیں بن سکتا۔
واپس اوپر جائیں

قومی مزاج، اسلامی مزاج

ایک مشہور اردو ماہنامہ میں ایک شائع شدہ مقالہ نظر سے گزرا۔ اس کا عنوان یہ تھا: عصر حاضر اور جہاد۔اس مقالہ کے شروع کی سطریں یہ ہیں: مسلمانوں کی ذلت و مظلومیت سے بھرپور تڑپادینے کی حد تک تکلیف دہ تاریخ کے پس منظر سے جہادی تنظیمیں بر آمد ہوئی ہیں۔ بڑی حد تک یہ کہنا صحیح ہوگا کہ آزاد تنظیموں کے ذریعہ (ان کے نزدیک) جہاد کا یہ سلسلہ گزشتہ صدی میں افغانستان میں روسی فوجوں کے خلاف مزاحمت سے شروع ہوا اور اب اس کا نقطۂ عروج داعش وغیرہ کی شکل میں موجود ہے۔ (ستمبر 2016) یہ انداز فکر کسی ایک مسلم رائٹر کا نہیں ہے، بلکہ یہی انداز فکر موجودہ زمانے کے تقریباًتمام مسلم مقررین و محررین کا ہے۔ موجودہ زمانے میں مسلمان جو متشددانہ کارروائیاں کررہے ہیں، ان کو یہ تمام لوگ مسلمانوں کے خلاف ہونے والے مفروضہ مظالم کا نتیجہ قرار دیتے ہیں۔ مگر سوچنےکی بات یہ ہے کہ اس قسم کے شدائد رسول اور اصحاب رسول کے ساتھ زیادہ بڑے پیمانے پر پیش آئے۔ ان شدائد میںسے کا ایک حوالہ قرآن میں ان الفاظ میں دیا گیا ہے: إِذْ جَاءُوکُمْ مِنْ فَوْقِکُمْ وَمِنْ أَسْفَلَ مِنْکُمْ وَإِذْ زَاغَتِ الْأَبْصَارُ وَبَلَغَتِ الْقُلُوبُ الْحَنَاجِرَ وَتَظُنُّونَ بِاللَّہِ الظُّنُونَا ۔ ہُنَالِکَ ابْتُلِیَ الْمُؤْمِنُونَ وَزُلْزِلُوا زِلْزَالًا شَدِیدًا (33:10-11) ۔ یعنی جب کہ وہ تم پر چڑھ آئے، تمہارے اوپر کی طرف سے اور تمہارے نیچے کی طرف سے۔ اور جب آنکھیں پتھرا گئیں اور کلیجے منہ کو آگئے اور تم اللہ کے ساتھ طرح طرح کے گمان کرنے لگے۔ اس وقت ایمان والے امتحان میں ڈالے گئے اور وہ سخت ہلا مارے گیے۔ اس طرح کے شدید حالات کے باوجود رسول اور اصحاب رسول نے کبھی ردعمل (reaction) کا طریقہ اختیار نہیں کیا۔ بلکہ یک طرفہ طور پر صبر (patience) کی روش پر قائم رہے ،اورکامل مثبت بنیادوں پر اپنے عمل کی منصوبہ بندی (planning) کی۔ اس کا نتیجہ اسلام کے دورِ اول میں عظیم کامیابی کی صورت میں نکلا۔ موجودہ زمانے کے مسلمانوں کی سب سے بڑی غلطی یہ ہے کہ انھوں نے اس سنت رسول کو چھوڑ دیا۔ انھوںنے مثبت منصوبہ بندی کے بجائے ردعمل کے تحت منفی سرگرمیوں کا طریقہ اختیار کر لیا۔ آج تمام دنیا کے مسلمان اسی قسم کی سرگرمیوںمیںمشغول ہیں ۔ مسلمانوں کے تقریباً تمام مقرر ین و محررین موجودہ زمانے میں یہی ایک کام کررہے ہیں۔ یہ بلاشبہ ایک مہلک بدعت ہے۔ مسلمان جب تک اس مہلک بدعت کو نہ چھوڑیں ، انھیں ہر گز کوئی کامیابی ملنے والی نہیں۔ خواہ ان کی مفروضہ قربانیوں کی مقدار کتنی ہی زیادہ کیوں نہ ہوجائے۔ رد عمل کے مزاج کا سب سے بڑا نقصان یہ ہے کہ آدمی کی سوچ، منفی سوچ (negative thinking) بن جاتی ہے۔ انسان نفرت اور شکایت میں جینے لگتا ہے۔ اس قسم کی سوچ کا ہلاکت خیز نتیجہ یہ ہے کہ انسان کے اندر فکری ارتقا (intellectual development) کا عمل رک جاتا ہے۔ اس کے لیے ناممکن ہوجاتا ہے کہ وہ درست بنیادوں پر سوچے، اور درست بنیادوں پر اپنے عمل کی منصوبہ بندی کرے۔ مسلم امۃ اگریہ چاہتی ہے کہ اس کی موجودہ صورت حال میں تبدیلی آئے تو وہ صرف ایک تدبیر سے آسکتی ہے۔ وہ یہ کہ مسلمان اپنی تمام موجودہ منفی سرگرمیوں کو یک طرفہ طور پر ختم کردیں، اور انسان کے نصح (خیرخواہی) کے جذبے کے تحت مثبت بنیادوں پر دعوت الی اللہ کاپرامن کام کریں۔اس کے سوا کوئی اور چیز مسلمانوں کے لیے فلاح اور نجات کا ذریعہ نہیں بن سکتی۔ اس دنیا میں کوئی بھی کامیابی صرف دانش مندانہ منصوبہ بندی (wise planning) کے ذریعہ ہوسکتی ہے۔ مفروضہ مظالم کے خلاف فریاد کا کوئی نتیجہ اس دنیا میں نکلنے والا نہیں۔ یہ دنیا فطرت کے محکم قوانین پر چل رہی ہے۔ فطرت کے اس قانون کو جاننا اور اس کے مطابق اپنے عمل کا منصوبہ بنانا ہی اس دنیا میں کامیابی کا واحد راز ہے۔ قرآن کی زبان میں مسلمانوں کے لیے یہ توبۂ جمیع (النور: 31) کا وقت ہے، یعنی یوٹرن (U-turn) لینے کا وقت۔
واپس اوپر جائیں

بابری مسجد کا سبق

6 دسمبر 1992 کو بابری مسجد کے انہدام کا واقعہ پیش آیا۔ اس وقت سے اب تک مختلف زبانوں میں بے شمار مضامین اس موضوع پر لکھے گیے ہیں۔ لیکن ہر مضمون قاری کو صرف منفی سبق (negative lesson) دیتا ہے۔ میرے علم کے مطابق اس موضوع پر اب تک کسی مسلمان نےکوئی ایسا مضمون نہیں لکھا جو کسی مسلمان کو مثبت سبق دے۔ دوسرے لفظوں میں اس معاملے میں غیر متعلق کا خوب چرچا ہے، لیکن متعلق کا کوئی چرچا نہیں۔ اس معاملے میں مثبت طور پر متعلق بات کیا ہے۔ وہ یہ ہے کہ تمام لوگ بابری مسجد کے انہدام کو آغاز (beginning) سمجھتے تھے۔ لیکن عملا یہ ہوا کہ بابری مسجد کا انہدام اس معاملے میں فل اسٹاپ (full stop) بن گیا۔ ایسا کیوں ہوا۔ اس معاملے میں وزڈم کی بات یہ ہے کہ اس سوال کا جواب معلوم کیا جائے۔ اصل یہ ہے کہ انسانی زندگی میں جب بھی کوئی زیادہ بڑے قسم کا بھیانک واقعہ پیش آتا ہے تو وہ ہمیشہ انسانی ضمیر کو شدت کے ساتھ جگا دیتا ہے۔ انسان چیزوں کو نتیجہ کی روشنی میں دیکھنے لگتا ہے۔ اس بنا پر ہمیشہ ایساہوتا ہے کہ بھیانک واقعہ کے بعد ایک مانع عمل (deterrent factor) وجود میں آجاتا ہے۔ یہ مانع عمل ایک ایسا ماحول بناتا ہے، جو خاموش زبان میں یہ پیغام دیتا ہے — اس طرح کے منفی عمل پر اب فل اسٹاپ لگاؤ، اس معاملہ میں ہم مزید کاما لگانے کا تحمل نہیں کرسکتے۔ اس طرح کی مثالیں تاریخ میں بہت سی ملتی ہیں۔ اسی لیے زیادہ بھیانک واقعہ تاریخ میں دوبارہ دہرایا نہیں جاتا۔ مثلاًصلیبی جنگ (Crusades) دوبارہ نہیں ہوئی۔ دوسری عالمی جنگ کے بعد دوبارہ کوئی عالمی جنگ نہیں ہوئی۔ایک بار ایٹم بم گرانے کے بعد دوبارہ ایٹم بم نہیں گرایا گیا، وغیرہ۔ بابری مسجد کا انہدام بھی اسی قسم کا ایک بھیانک واقعہ تھا۔ اس کے بعد انسانی ضمیر حرکت میں آگیا۔ اور بابری مسجد جیسے واقعہ کے اعادہ کو ہمیشہ کے لیے ناممکن بنادیا گیا۔
واپس اوپر جائیں

ایک تقابلی مثال

دوسری عالمی جنگ 1945 میں ختم ہوئی۔ اس کے بعد امریکا نے جاپان کے جزیرہ اوکی ناوا (Okinawa) کو اپنا آرمی بیس بنالیا۔ 2013 کی رپورٹ کے مطابق، اوکی ناوا میں امریکا کے آرمی اسٹاف کی تعداد حسب ذیل ہے: There are approximately 50,000 U.S. military personnel stationed in Japan, along with approximately 40,000 dependents of military personnel and another 5,500 American civilians employed there by the United States Department of Defense. جاپان نے امریکا کی فوجوں کے خلاف کوئی مہم نہیں چلائی۔ جاپان نے امریکی فوج کی موجودگی کو نظر انداز کرتے ہوئے، ایجوکیشن اور انڈسٹری ، وغیرہ کے میدان میں اپنے ڈیولپمنٹ کا کام شروع کردیا۔ آج امریکا کی فوجیں بدستور جاپان میں موجود ہیں ، لیکن اس کے باوجود جاپان کو اپنی پالیسی کا یہ نتیجہ ملا کہ وہ اس وقت دنیا کی عظیم اقتصادی طاقت (economic superpower) بنا ہوا ہے۔ دوسری تقابلی مثال ریاست جموںوکشمیر کی ہے۔ انڈیا 1947 میں آزاد ہوا۔ اس کے بعد وہاں جو حالات پیدا ہوئے، اس کے تحت اُس وقت کے مہاراجہ کشمیرکی طلب پر انڈیا کی آرمی کشمیر میں داخل ہوگئی۔ ایک اندازہ کے مطابق اِس وقت کشمیر میں انڈیا کی تقریباً چھ لاکھ آرمی موجود ہے۔ کشمیریوں نے اپنے لیڈروں کی رہنمائی میں انڈیا کی آرمی کے خلاف پرتشدد تحریک شروع کردی۔ وہ چاہتے تھے کہ انڈیا کی آرمی کشمیر سے واپس جائے۔ آرمی تو واپس نہیں ہوئی، لیکن اس مدت میں کشمیر یوںکو بہت بڑا نقصان اٹھانا پڑا: ایک لاکھ سے زیادہ کشمیری ہلاک ہوگیے،کشمیر کی اقتصادی ترقی رک گئی، کشمیرکا تعلیمی نظام تباہ ہوگیا، کشمیر کے ترقیاتی امکانات غیر استعمال شدہ رہ گیے، مثلاً فروٹس(fruits) کی تجارت، سیاحت (tourism industry) کو ناقابل تلافی نقصان پہنچا، وغیرہ۔ مزید یہ کہ پوری کشمیری قوم منفی قوم بن گئی۔ جب کہ ترقی ہمیشہ مثبت بنیادوں پر ہوتی ہے۔
واپس اوپر جائیں

نصرت الٰہی کا قانون

اللہ رب العالمین کے قوانین میں سے ایک قانون وہ ہے جو اپنے بندے کی مدد کرنے سے تعلق رکھتا ہے۔ اس سلسلے میں قرآن کی ایک آیت ان الفاظ میں آئی ہے: وَلَیَنْصُرَنَّ اللَّہُ مَنْ یَنْصُرُہُ (22:40)۔یعنی بے شک اللہ ضرور اس کی مدد کرے گا جو اللہ کی مدد کرے۔قرآن کی یہ آیت اللہ رب العالمین کے ایک اہم قانون کو بتارہی ہے۔ اس معاملے کو میں اپنے ایک ذاتی واقعہ سے بیان کروں گا۔ میری پیدا ئش یوپی کے ایک گاؤں میں ہوئی۔ میرے گھر میں بڑا آنگن تھا۔ اس میں کچھ درخت اُگے ہوئے تھے۔ میں نے چاہا کہ میں اپنے آنگن میں آم کا ایک درخت لگاؤں ۔ یہ میری نوجوانی کی عمر کا زمانہ تھا۔ میں نے اپنی ناپختہ سوچ کے تحت یہ چاہا کہ میرے گھر میں اچانک ایک بڑا درخت نظر آنے لگے۔ گھر کے باہر ہمارا ایک آم کا باغ تھا۔ اس میں ایک درخت تھا، جو چند سال میں بڑھ کر قد آدم کے برابر ہوچکا تھا۔ میں نے چاہا کہ اس درخت کو میں اپنے گھر کے آنگن میں نصب کروں۔ دوسرے الفاظ میں یہ کہ دس سال کی فطری مدت حذف کرکے ایک دن میں بڑا درخت میرے آنگن میں دکھائی دینے لگے۔ میں نے چند مزدور لگادیے، وہ باغ میں دن بھر کام کرتے رہے۔ یہاں تک کہ شام میں وہ درخت کو ایک چارپائی پر اٹھا کر لائے، اور میرے گھر کے آنگن میں اس کو نصب کردیا۔ میں بہت خوش تھا کہ میں نے دس سال کی فطری مدت کو ایک دن میں حاصل کرلیا ہے۔ مگر صبح کو جب میں اٹھا تو درخت کے پتے مرجھا چکے تھے۔ چند دن کے بعد درخت پوری طرح سوکھ گیا۔ اپنے آنگن کے بارے میں میرا خواب واقعہ نہ بن سکا۔ آنگن میں دوسرے درخت بدستور ہرے بھرے کھڑے تھے، لیکن میرا لگایا ہوا آم کا درخت سوکھ کر چند دن کے اندر ختم ہوگیا۔ اس واقعہ سے میں نے یہ سبق سیکھا کہ اس دنیا کے لیے فطرت کا قانون یہ ہے کہ یہاں کوئی کام دو طاقتوں کے اشتراک سے کامیاب ہو۔ یعنی انسان کا عمل اور قانون فطرت کی معاونت۔ اس دنیا میں انسان کا کوئی منصوبہ کاگ وھیل (cogwheel) کی مانند ہے۔ دندانہ دار پہیہ ہمیشہ دوپہیوں کے مشترک عمل سے چلتا ہے۔ اگر ایک پہیہ عمل نہ کرے تو دوسرے پہیے کے چلنے سے کوئی نتیجہ بر آمد نہ ہوگا۔ مثلا آپ کو زرعی پیداوار حاصل کرنا ہے تو آپ کو اپنا دانہ زرخیر زمین (soil)میں ڈالنا ہوگا، اس کے بعد زمین کے تعاون سے آپ کو سر سبز فصل حاصل ہوگی۔ یہی قانون زندگی کے دوسرے معاملات کا ہے۔ مثلا آپ اسلامی مشن کو اپنا مشن بناتے ہیں، اور افراد کی ایک ٹیم اس کی پشت پر جمع کرتے ہیں تو ٹیم کے ہر فرد کو شعوری طور یہ جاننا ہوگا کہ اس کی اپنی کوشش اسی وقت باآور ہوسکتی ہے، جب کہ اس کے دوسرے ممبر پوری طرح اس کا ساتھ دیں۔ مثلا اجتماعی زندگی میں ہمیشہ ایسا ہوتا ہے کہ ایک شخص کو دوسرے شخص سے کسی بات پر شکایت ہوجاتی ہے۔ ایک شخص کو کبھی یہ محسوس ہوتا ہے کہ اس کو نظر انداز کیا گیا، یا اس کی خدمات کا اعتراف نہیں کیا گیا۔ ایک شخص کو یہ محسوس ہوتا ہے کہ کسی اور کو اس کے اوپر ترجیح دے دی گئی، وغیرہ۔ ایسے ہر موقعے پر ٹیم کے افراد کو یہ جاننا چاہیے کہ جس واقعے کو لے کر وہ منفی (negative) ہورہے ہیں، وہ در اصل اجتماعی کلچر کی بنا پر ہورہا ہے، نہ کہ ان کو بالقصد نظر انداز کرنے کی بنا پر۔ اور یہ اجتماعی کلچر دراصل فطرت کا قانون ہے جو خود خالق نے بنایا ہے۔ جس گروہ کے افراد اس سوچ کے تحت کام کریں، ان کو اللہ کی مدد حاصل ہوگی۔ انھوں نے فطرت کے قانون کو تسلیم کرتے ہوئے گویا کہ اللہ کی مدد کی۔ اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ اللہ بھی ان کی مدد پر آجائے گا اور ان کی کامیابی اتنی ہی یقینی ہوجائے گی، جتنا کہ رات کے بعد سورج کا نکلنا۔ کوئی انسان یا کوئی گروہ جب ایک سچے مشن کے لیے کام کرتا ہے تو خالق کے بنائے ہوئے نظام کے مطابق ،فطرت کا قانون ا س کی مدد پر آجاتا ہے۔ اسی واقعہ کو قرآن میں اس طرح بیان کیا گیا ہے — اگر تم اللہ کی نصرت کروگے تو اللہ بھی ضرور تمھاری نصرت کرے گا، اور تمھاری کامیابی کو یقینی بنادے گا۔
واپس اوپر جائیں

طلاق کا مسئلہ

اسلام میں عورت اور مرد کے درمیان نکاح کو ایک مقدس حیثیت حاصل ہے۔ اس کو ہر حال میں باقی رکھنا چاہیے۔ تاہم چوں کہ یہ تعلق دو غیر خونی رشتوں کے درمیان ہوتا ہے،اس لیے بعض اوقات طرفین کے درمیان اختلافات پیدا ہوجاتے ہیں۔ لیکن ان اختلافات کی حیثیت حتمی نہیں ہوتی ، وہ یقینی طور پر قابل حل ہوتے ہیں۔ اس لیے طرفین کو چاہیے کہ وہ اس معاملے میں جذبات سے اوپر اٹھ کر سوچیں، اور برتر شرعی مصالح کو ملحوظ رکھتے ہوئے، آپس میں نباہ (adjustment) کے طریقے پر عمل کریں۔ لیکن کبھی ایسا ہوسکتا ہے کہ طلاق کا طریقہ عملا ًناگزیر ہوجائے۔ اس معاملے میں ایک حدیث رسول ان الفاظ میں آئی ہے:عن النبی صلى اللہ علیہ وسلم قال: أبغض الحلال إلى اللہ تعالى الطلاق (سنن ابو داوود، حدیث نمبر2178) ۔اس کا مطلب یہ ہے کہ طلاق اگرچہ اسلام میں جائز ہے، لیکن اللہ کے نزدیک طلاق کی حیثیت ایک مبغوض فعل کی ہے۔ نکاح خالق کے تخلیقی منصوبہ کا ایک حصہ ہے۔ اس لیے طرفین کو چاہیے کہ وہ جب نکاح کرلیں تو ہر حال میں اس کو نباہنے کی کوشش کریں۔ طلاق کا ارادہ صرف اس وقت کریں، جب کہ غیر معمولی حالات پیدا ہوچکے ہوں۔ قرآن میں طلاق کا طریقہ ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے: الطَّلَاقُ مَرَّتَانِ فَإِمْسَاکٌ بِمَعْرُوفٍ أَوْ تَسْرِیحٌ بِإِحْسَانٍ(2:229)۔ یعنی طلاق دو بار ہے۔ پھر یا تو قاعدہ کے مطابق رکھ لینا ہے یا خوش اسلوبی کے ساتھ رخصت کردینا۔ اس حکم کا مطلب یہ ہےکہ الگ الگ دو طہروں (دو مہینوں)میں دو مرتبہ میں طلاق دی جائےاور پھر تیسرے طہر (مہینہ)میں یا تو بیوی سے رجوع کرلیا جائے یا حسن و خوبی کے ساتھ اس کو رخصت کردیا جائے ۔ ابتدائی دور میں نکاح و طلاق کا یہی طریقہ اہل اسلام میں رائج تھا۔اوراگر اتفاقی طور پر کسی شخص نے تین طلاق کا لفظ بول دیا تو اس کو غصہ پر محمول کرکے رجوع کا موقعہ دیا جاتا تھا۔ حضرت عمر کی خلافت کے زمانے میں ایسا ہوا کہ اس قسم کے واقعات زیادہ ہونے لگے۔ لوگ اپنی بیوی کے خلاف اظہار غضب کے طور پر کہنے لگےکہ تم کو طلاق، تم کو طلاق، تم کوطلاق۔ یعنی ایک مجلس میں تین طلاق دینے کی تعداد بڑھ گئی۔ حضرت عمر نے یہ حالت دیکھ کر ایک نیا فیصلہ فرمایا۔ انھوں نے ایک مجلس کی تین طلاق کو تین طلاق قرار دے کر فریقین کے درمیان علاحدگی کرادی۔ یہ واقعہ حدیث کی کتابوں میں ان الفاظ میں نقل ہوا ہے: عن ابن عباس، قال:کان الطلاق على عہد رسول اللہ صلى اللہ علیہ وسلم، وأبی بکر، وسنتین من خلافة عمر، طلاق الثلاث واحدة، فقال عمر بن الخطاب: إن الناس قد استعجلوا فی أمر قد کانت لہم فیہ أناة، فلو أمضیناہ علیہم، فأمضاہ علیہم (صحیح مسلم ، حدیث نمبر1472)۔یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور ابوبکر اور دور خلافت عمر کے ابتدائی دو سال تک تین طلاق ایک ہی شمار کی جاتی تھی ۔ عمر بن خطاب نے کہا کہ لوگوں کو جس امر میں مہلت دی گئی تھی اس میں انھوں نےجلدی شروع کردی ہے پس اگر ہم تین ہی نافذ کردیں تو مناسب ہوگا ۔چناں چہ انہوں نے تین طلاق ہی واقع ہوجانے کا حکم دے دیا۔ لیکن اسی کے ساتھ وہ ایسا کرنے والے مردوں کو کوڑے مارکر سخت سزا دیا کرتے تھے(إذا أتی برجل طلق امرأتہ ثلاثا أوجع ظہرہ [سنن سعید بن منصور، حدیث نمبر1074])۔ حضرت عمر کا یہ فیصلہ شریعت میں تبدیلی کے ہم معنی نہ تھا۔ بلکہ اس کی حیثیت ایک انتظامی حکم (executive order) کی تھی۔ اس قسم کا انتظامی حکم عمومی حکم نہیں ہوتا، وہ صرف وقتی حالات میں استثنائی طور پر اختیار کیا جاتا ہے۔ اب جہاں تک طلاق کے معاملے میں شرعی حکم کا تعلق ہے، وہ ہمیشہ کے لیے وہی رہے گا، جو قرآن میں مذکور ہے۔ البتہ اگر کوئی حاکم وقتی حالات کی بنا پر دوبارہ حضرت عمر کے طریقے کو اختیار کرنا چاہے تو وہ عارضی طور پر اس کو اختیارکرسکتا ہے۔ مگر غیر حاکم کو اس معاملے میں کسی تبدیلی کی اجازت نہیں۔
واپس اوپر جائیں

شباب کا زمانہ

پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ قیامت کے دن انسان کے قدم نہیں ہٹیں گے جب تک کہ اس سے چار چیزوں کے بارے میں نہ پوچھا جائے۔ ان میں سے ایک یہ ہے: وعن شبابہ فیما أبلاہ (شعب الایمان للبیہقی، حدیث نمبر 1648)یعنی جوانی کے بارے میں کہ اس کو کس کام میں بِتایا۔شباب کا زمانہ (youth age)وہ ہوتا ہے جب کہ آدمی کی طاقت پوری طرح زندہ ہوتی ہے۔ وہ اس قابل ہوتا ہے کہ وہ جس کام کو چاہے کر ڈالے۔شباب کا زمانہ دو کمزوریوں کے درمیان ہوتا ہے۔ پہلے بچپن اور اس کے بعد بڑھاپا۔ کسی آدمی کے لیےجوانی کا زمانہ ہی حقیقی معنوں میں عمل کا زمانہ ہوتا ہے۔ شباب کے زمانے کے پہلے بھی کمزوری ہے، اور بعد کو بھی کمزوری ہے۔ جس آدمی نے شباب کے زمانے کو ضائع کیا، اس نے گویا اپنی عمر کو ضائع کردیا۔ کسی آدمی کے لیے شباب کا زمانہ سب سے بڑی نعمت کا زمانہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ شباب کے زمانے کے بارے میں قیامت میں زیادہ سخت پوچھ ہوگی۔ شباب کا زمانہ کسی آدمی کی عمر کا سب سے بہتر حصہ ہوتا ہے۔ شباب کے زمانے میں آدمی جو کچھ کرسکتا ہے، اس کا کرنا آدمی کے لیے نہ شباب سے پہلے ممکن ہوتا ہے اور نہ شباب کے بعد۔ لیکن شباب کے زمانے کا ایک مائنس پہلو ہے۔ وہ یہ کہ شباب کا زمانہ آدمی کے لیے پختگی (maturity) سے پہلے کا زمانہ ہے۔ شباب کے زمانے میں آدمی انرجی کے اعتبار سے بھر پور ہوتا ہے، لیکن تجربہ اور ذہنی ارتقا کے اعتبار سے وہ ابھی اپنے غیر ارتقا یافتہ دور میں ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اکثر لوگ سب سے زیادہ غلطی اپنے اس دور میں کرتے ہیں جس کو شباب کا دور کہا جاتا ہے۔ اس پہلو کا تقاضا ہے کہ آدمی اپنے شباب کے زمانے میں بہت زیادہ محتاط (cautious) ہو۔ وہ جو رائے قائم کرے بہت زیادہ سوچ سمجھ کر رائے قائم کرے، اور جو کام کرے اس کا منصوبہ بہت زیادہ غور و فکر کے بعد بنائے۔
واپس اوپر جائیں

متوازن شخصیت

انسان کی نسبت سے قرآن کا نشانہ یہ ہے کہ وہ تربیت کے ذریعہ انسان کو متوازن شخصیت (balanced personality) بنائے۔ اس مقصد کے لیے قرآن نے انسان کو ایک تربیتی اصول ان الفاظ میں دیا ہے:لِکَیْلَا تَأْسَوْا عَلَى مَا فَاتَکُمْ وَلَا تَفْرَحُوا بِمَا آتَاکُمْ ٍ (57:23) یعنی تاکہ تم غم نہ کرو اس پر جو تم سے کھویا گیا۔ اور نہ اس چیز پر فخر کرو جو اس نے تم کو دیا۔ خالق کے منصوبہ کے مطابق، یہی انسان کی مطلوب شخصیت ہے۔ یہ شخصیت صرف تجربات کے درمیان بنتی ہے۔مطالعہ سے آدمی کے علم میں اضافہ ہوتا ہے۔ لیکن تجربہ آدمی کی شخصیت میں تموّج پیدا کرتا ہے۔ تجربات مختلف نوعیت کے ہوتے ہیں۔ یہ تجربات آدمی کے ذہن کو جگاتے ہیں۔ یہ تجربات آدمی کی شخصیت کے غیر متحرک گوشوں کو متحرک بناتے ہیں۔ تجربات آدمی کو زیادہ گہرائی کے ساتھ سوچنے کے قابل بناتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ صرف تجربہ کے ذریعہ انسان، کامل انسان بنتا ہے۔ نظری علم (theoretical knowledge) آدمی کو معلومات دے سکتی ہے لیکن کامیاب زندگی گزارنے کے لیے صرف نظری علم کافی نہیں۔ کامیابی کے لیے ضروری ہے کہ آدمی کے اندر یہ صلاحیت ہو کہ وہ حقائق کی بنیاد پر سوچے اور اپنے عمل کی دانش مندانہ منصوبہ بندی (wise planning) کرسکے۔ یہ صفت کسی انسان کے اندر تجربات کے بغیر پیدا نہیں ہوتی۔ متوازن شخصیت کسی کو پیدائشی طور پر نہیں ملتی۔ متوازن شخصیت مطالعہ اور تجربہ کے ذریعہ تیار ہوتی ہے۔ آدمی کو چاہیے کہ وہ حقیقت کی بنیاد پر سوچے ۔ وہ حقیقت کی بنیاد پر اپنی عقلی تربیت کرے۔وہ موضوعی سوچ (objective thinking) کے ذریعے اپنے آپ کو ایک پختہ شخصیت (mature personality) بنائے۔ یہ خود تعمیری (self preparation)کا ایک کورس ہے۔ اسی خود تعمیری عمل کے کورس سے گزرکر وہ انسان بنتا ہے جواعلیٰ کامیابی کی منزل تک پہنچنے کے لیے ضروری ہے۔
واپس اوپر جائیں

انسان کی خصوصیت

انسان ایک ذی حیات مخلوق ہے۔ سائنسی مطالعے کے مطابق، موجودہ دنیا میں تقریبا ایک ٹریلین (one trillion) کی تعداد میں ذی حیات اشیاء پائی جاتی ہیں۔ان تمام ذی حیات چیزوں میں انسان ایک خصوصی حیثیت رکھتا ہے۔ بقیہ تمام اشیاء کامل طور پر قانون فطرت (law of nature) کی پابند ہیں۔ پوری دنیا میں انسان ایک واحد مخلوق ہے، جس کو کامل آزادی ملی ہوئی ہے۔ وہ خود اپنے اختیار سے اپنے عمل کا انتخاب کرتا ہے۔ اسی امتیازی صفت کو قرآن میں خلافت (البقرۃ: 30) اور امانت (الاحزاب 72:)کہا گیاہے۔ اسی صفت خاص کی بنا پر انسان کے لیے اگلے دورِ حیات میں ابدی جنت کا انعام ہے۔ دوسری ذی حیات اشیاء کے برعکس، انسان کو اپنی زندگی میں ایک امتیازی عمل کا نمونہ پیش کرنا ہے۔ اس کو خود دریافت کردہ سچائی (self-discovered truth) پر کھڑا ہوناہے، اس کو خود اپنے فیصلہ کے تحت صحیح راستہ (right path) پر چلنا ہے، اس کو خود اپنے ارادے کے تحت سیلف کنٹرول (self control) کی زندگی گزارنا ہے، اس کو خود اپنے فیصلہ کے تحت اطاعت (submission) کی زندگی اختیار کرنا ہے۔یہی انسان کا امتیاز ہے۔ مگر ہر عطیہ کے ساتھ ہمیشہ ایک ذمہ داری شامل رہتی ہے۔ چناں چہ انسان کے امتیاز کے ساتھ ایک ذمہ داری بھی شامل ہے۔ اور وہ وہی ہے جس کو امتحان (test) کہا جاتا ہے۔ انسان کا امتحان یہ ہے کہ وہ آزادی کے باوجود اپنے آپ کو اللہ کے آگے جھکادے۔ آزادی کے باوجود وہ اللہ کا فرمانبردار بن جائے۔ آزادی کے باوجود وہ اپنے آپ کو سرکشی اور بے راہ روی سے بچائے۔ وہ خود دریافت کردہ سچائی پر کھڑا ہو، اور خود عائد کردہ پابندی (self-imposed discipline) کا طریقہ اختیار کرے۔ اسی خود انضباطی کے روش کو قرآن میں اور حدیث میں لوجہہ اللہ اور لاجل اللہ کہا گیا ہے۔ یہ عمل جو انسان سے مقصود ہے، وہ اتنا بڑا ہے کہ اس پر خالق نے سب سے بڑا انعام مقدر کیا ہے۔ ایک ایسا انعام جو کسی بھی دوسری مخلوق کو ملنےوالا نہیں۔
واپس اوپر جائیں

حقیقت کا اعتراف

پختگی یہ ہے کہ آدمی اپنے غصہ پر قابو پالے اور اختلافات کو تشدد اور تخریب کے بغیر دور کرسکے۔ پختگی تحمل اور برداشت کا نام ہے اور اس صلاحیت کا کہ وقتی خوشی کو دیر طلب مقاصد کے لیے قربان کردیا جائے۔ پختگی اس استعداد کا نام ہے کہ کسی تلخی کے بغیر، ناخوش گوار اور مایوس کن حالات کا مقابلہ کیاجائے۔ پختگی انکساری کا نام ہے۔ ایک پختہ شخص یہ کہنے کا حوصلہ رکھتا ہے کہ ’’میں غلطی پر تھا‘‘۔ پختگی اس صلاحیت کا نام ہے کہ آدمی ان چیزوں کے ساتھ پُر امن طورپر رہ سکے جن کو وہ بدل نہیں سکتا۔ Maturity is the ability to control anger and settle differences without violence or destruction. Maturity is patience, the willingness to give up immediate pleasure in favour of the long-term gain. Maturity is the capacity to face unpleasantness and disappointment without becoming bitter. Maturity is humility. A mature person is able to say, “I was wrong”. Maturity is the ability to live in peace with things we cannot change. پختگی در اصل حقیقت واقعہ کے اعتراف کا دوسرا نام ہے۔ وہ ساری صفتیں جن کو پختگی کہا جاتا ہے وہ سب حقیقت واقعہ کے اعتراف سے پیدا ہوتی ہیں۔ حقیقت واقعہ کے اعتراف کا مطلب یہ ہے کہ آدمی اس بات کو جانے کہ کہاں اس کی حد ختم ہوتی ہے اور کہاں سے دوسری طاقتوں کی حد شروع ہوجاتی ہے۔ وہ کیا چیز ہے جو فطرت کے قانون کے مطابق، اُس کے لیے ممکن ہے۔ اور وہ کیا چیز ہے جو فطرت کے قانون کے مطابق، اس کے لیے ممکن نہیں۔حقیقتِ واقعہ کا اعتراف آدمی کو اس قابل بناتا ہے کہ وہ اقدام سے پہلے اُس کے انجام کو سوچے، وہ اپنے عمل کی نتیجہ خیز منصوبہ بندی کرے۔ حقیقت واقعہ کا اعتراف آدمی کے اندر یہ بصیرت پیدا کرتا ہے کہ وہ ایک چیز اور دوسری چیز کے درمیان فرق کرے۔ وہ یہ جانے کہ کیا چیز اُس کے لیے قابلِ حصول ہے اور کیا چیز اُس کے لیے قابل حصول نہیں۔ پختہ انسان ہمیشہ کامیاب ہوتا ہے اور بالفرض اگر وہ کسی معاملہ میںکامیاب نہ ہو تو وہ اپنی ناکامی سے سبق لے کر اپنے آپ کو زیادہ صاحب بصیرت بنا لیتاہے، اور اسی کے ساتھ زیادہ طاقتوربھی۔ پختگی کسی انسان کی نہایت اعلیٰ صفت ہے۔ پختہ (mature)کی تعریف ڈکشنری میںاس طرح کی گئی ہے—کہ ایک وجود جس کا نشو ونما پوری طرح ہوا ہو، وہ اپنی ترقی کے کمال تک پہنچا ہو: A being full-grown, or fully developed ایک درخت کی پختگی یہ ہے کہ وہ ابتدائی درجہ سے شروع ہو کر پھول اور پھل کے آخری درجہ تک پہنچ جائے، وہ ہر اعتبار سے ایک مکمل درخت بن جائے۔ اسی طرح انسان کی پختگی یہ ہے کہ وہ اپنی عقلی صلاحیت کے اعتبار سے آخری درجۂ کمال تک پہنچ جائے۔ تاہم انسان کی پختگی کا تعلق صرف حیاتیات یا نفسیات سے نہیں ہے بلکہ اُس کا گہرا تعلق علم سے ہے۔ جو آدمی اپنے علم کو بڑھائے، جوتجربات سے سبق سیکھے، جو دنیا سے معرفت کا رزق لے کر اپنے ذہنی وجودکو مکمل کرے، وہ گویا پختگی کے اعلیٰ مرتبہ تک پہنچا۔ پختہ انسان صاحبِ بصیرت انسان ہوتا ہے۔ پختہ انسان اس حیثیت میں ہوتا ہے کہ وہ معاملات میں صحیح رائے قائم کرے۔ غیر پختہ انسان خوش فہمیوں میں جیتا ہے اور پختہ انسان حقائق میں۔ غیر پختہ انسان جذباتی فیصلہ کرتا ہے اور پختہ انسان جذبات سے اوپر اٹھ کر اپنی رائے بناتا ہے۔ غیر پختہ انسان کا اقدام جلد بازی کا اقدام ہوتا ہے اور پختہ انسان کا اقدام سوچا سمجھا ہوا اقدام۔ غیرپختہ انسان کا طریقہ لڑائی بھڑائی کا طریقہ ہوتا ہے اور پختہ انسان کا طریقہ صبر اور تحمل کا طریقہ۔ غیرپختہ انسان متشددانہ طریقِ کار میںیقین رکھتا ہے اور پختہ انسان پُر امن طریقِ کار میں۔ غیر پختہ انسان اپنی غلطی کا اعتراف نہیں کرتا۔ وہ اپنی غلطی سے کوئی سبق نہیں سیکھتا۔ اس کے برعکس پختہ انسان جب کوئی غلطی کرتا ہے تو فوراً ہی وہ کھلے دل سے اس کا اعتراف کرلیتا ہے۔ غلطی کا یہ اعتراف اُس کے لیے اس بات کی ضمانت بن جاتا ہے کہ وہ ہر تجربہ سے سبق سیکھے۔ وہ اپنی شخصیت کو بہتر سے بہتر بناتا رہے۔ اُس کا ذہنی ارتقاء کسی رکاوٹ کے بغیر مسلسل جاری رہے۔
واپس اوپر جائیں

حساسیت

حساسیت (sensitivity)ایک انسانی صفت ہے۔ حساسیت انسان کے لیے خالق کا ایک تحفہ ہے۔ حساسیت کی وجہ سے ایسا ہوتا ہے کہ آدمی کسی بات کو زیادہ شدت کے ساتھ پکڑتا ہے۔ جو آدمی زیادہ حساس ہو، وہ کسی پوائنٹ کو زیادہ شدت کے ساتھ اخذ کرتا ہے: A highly sensitive person can grasp a point with greater intensity. حساسیت کسی انسان کے لیے بلاشبہ ایک مفید صفت ہے۔ مگر حساسیت کو مفید بنانا، صرف اس انسان کے لیے ممکن ہے جو حساسیت کو کنٹرول میں رکھنے کا آرٹ جانتا ہو۔جو آدمی اپنی حساسیت پر کنٹرول کرنا نہ جانے، اس کی حساسیت اس کے لیے ایک منفی حساسیت بن جائےگی۔ اس کے برعکس جو آدمی اپنی حساسیت کو کنٹرول میں رکھے، اس کی حساسیت اس کے لیے ایک نعمت بن جائے گی۔ انسان کی زندگی میں بہت سے ناپسندیدہ واقعات پیش آتے ہیں۔ یہ ناپسندیدہ واقعات آدمی کی حساسیت میں اضافہ کرتے ہیں۔ آدمی کو چاہیے کہ وہ اس حقیقت کو جانے کہ خالق نے آدمی کے اندر حساسیت کی صفت کیوں رکھی ہے۔ حساسیت کی صفت آدمی کے اندر اس لیے ہوتی ہے کہ وہ آدمی کو ذہنی جمود (intellectual stagnation) کا شکار ہونے سے بچائے،وہ اس کی قوت تمییز (power of differentiation) کو مردہ نہ ہونے دے۔ جس آدمی کے اندر حساسیت نہ ہو، وہ چیزوں کے صرف سطحی پہلو (superficial aspect) کو جانے گا۔ وہ چیزوں کے زیادہ گہرے پہلو سے بے خبر رہے گا۔ حساسیت فطری طور پر ہر عورت اور ہر مرد کے اندر ہوتی ہے۔ لیکن حساسیت کے بے جااستعمال سے آدمی اپنی حساسیت کو غیر موثر (ineffective) بنا لیتا ہے۔ وہ انسان کی صورت میں حیوان بن جاتا ہے۔
واپس اوپر جائیں

سوال و جواب

سوال نومبر 2015 کے الرسالہ کے صفحہ 44 پر جو سوالات آپ سے پوچھے گیے ، ان کے جوابات نہیں دیے گیے۔ کہا گیا کہ آپ کی مختلف کتابوں سے ان کے جوابات اخذ کیے جائیں۔ مشورہ نیک ہے اگر یہ صرف سائل کو دیا جاتا۔ سوالات اہم ہیں۔ چوں کہ آپ ماشاء اللہ عالم ہیں ۔ اس لیے تفصیلی جوابات الرسالہ کے ذریعے مطلوب ہیں۔ ہر قاری کے ذہن میں یہ سوال پیدا ہوتے ہیں۔ اگر ان سوالات کےتفصیلی جوابات دیے جائیں تو الرسالہ کے پورے صفحات کافی نہ ہوں۔ پھر بھی الرسالہ عام طور پر ہر کس ناکس پڑھتا ہے جب کہ کتابیں بہت کم لوگوں کی نظر سے گزرتی ہیں۔ آپ سے درخواست ہے کہ کیے گیے سوالات کے تفصیلی جوابات الرسالہ کے ذریعے دیے جائیں۔ (ایک قاری الرسالہ، ناگپور) جواب اسلام میں سوال کے بجائے تدبراور تفکر پر زور دیا گیا ہے۔ حضرت خضر کے ساتھ حضرت موسی جب سفر پر روانہ ہوئے تو حضرت خضر نے حضرت موسی سے کہا : فَلَا تَسْأَلْنِی عَنْ شَیْء (18:70)۔ اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ سوال نہ کرو، بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ ذہن میں کوئی سوال آئے تو پہلےغور وفکر کرو۔ غور وفکر کرکے آدمی پہلے اپنے آپ کو ذہنی اعتبار سے تیار کرتا ہے۔ سوال کا جواب وہی شخص درست طور پر سمجھتا ہے، جو پہلے سے اپنے آپ کو ایک تیار ذہن (prepared mind) بنا چکا ہو۔ اس حقیقت کو حدیث میں ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کثرت سوال سے منع کرتے تھے (مسند احمد، حدیث نمبر18232)۔ سوال کی کثرت سے منع کرنے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ آدمی سوال نہ کرے۔ بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ آدمی پہلے سوال کے تقاضے کو پورا کرے۔ اس کے بعد وہ سوال کرے۔ اس معاملے میں صحیح طریقہ یہ ہے کہ سوال کرنے سے پہلے آدمی خود غور وفکر کرے۔ اس طرح اس کو ذہنی ارتقا (intellectual development) کا فائدہ حاصل ہوگا۔ اللہ تعالی نے انسان کے ذہن میں غیر معمولی صلاحیت پیدا کی ہے۔ یہ صلاحیت غور وفکر سے بڑھتی ہے۔ اپنے ذہن کو ترقی دینے کا صحیح طریقہ یہ ہے کہ آدمی مطالعہ اور غور وفکر سے اپنے ذہن کو تیار کرتا رہے۔ وہ اپنے اندر زیادہ سے زیادہ اخذ (grasp)کی صلاحیت پیدا کرے۔ وہ اپنے آپ کو اس قابل بنائے کہ کوئی شخص اس کے سوال کا جواب دے تو وہ اپنی طرف سے اس میں کچھ اضافہ کرسکے۔ حقیقی سائل وہ ہے جو جواب کو سن کر اس میں اپنی طرف سے اضافہ کرسکتا ہو۔ مذکورہ حدیث کا مطلب اگر لفظ بدل کربیا ن کیا جائے تو وہ یہ ہوگا— سوال کیوں کرتے ہو۔ اگر تمھارے ذہن میں کوئی سوال آیا ہے تو پہلے خود اپنے ذہن کو استعمال کرکے اس کا جواب معلوم کرنے کی کوشش کرو۔ سوال کو صرف سوال نہ سمجھو، بلکہ اس کو اپنی ذہنی ارتقا کا ذریعہ بناؤ۔ بات کو سن کر فورا سوال کرنا، عجلت پسند ی کی علامت ہے۔ بات کو سن کر پہلے غور وفکر کرنا چاہیے۔ اگر غور وفکر سے وہ بات تک نہ پہنچے تو سمجھنا چاہیے کہ اس نے اپنے ذہن کو تیار کرنے میں کمی کی ہے۔ اس کی توجہ اس پر دینا چاہیے کہ وہ اپنے ذہن کو مزید تیار کرنے کی کوشش کرے۔ یانگون (برما)میں ماہ نامہ الرسالہ اور مطبوعات الرسالہ (اردو، انگلش )کے لیے رابطہ قائم فرمائیں: U SOE WIN (Advocate) No.64/1st Floor, Room 24, 29th Street, Pabedan, Yangon, Myanmar, +95- 5169518 جمشید پور (جھارکھنڈ)میں ماہ نامہ الرسالہ اور مطبوعات الرسالہ کے لیے رابطہ قائم فرمائیں: Ayaz Ahmad Holding- Sae'ban, Gulzar Bagh Colony, Near Amar Jyoti School, Chapal Pul, Pardeeh, Jamshedpur, Jharkhand Pin: 831022, Mob. No. 9199248371, 903196239
واپس اوپر جائیں

خبرنامہ اسلامی مرکز— — 247

دور جدید ، موید اسلام 14 : اگست 2016 کو جامعہ ملیہ اسلامیہ نئی دہلی کے نہرو گیسٹ ہاؤس میں ’اسلام اور دور جدید‘ کے موضوع پر ایک پروگرام ہوا۔ اس میں صدر اسلامی مرکز کا لکچر ہوا۔ صدر اسلامی مرکز نے تقریباً ایک گھنٹہ اس موضوع پر اپنے خیالات پیش کیے اور حاضرین کو بتایا کہ دور جدید کس طرح اسلام کا مؤید ہے۔لکچر کے بعد سوال و جواب کی نشست بھی ہوئی۔ اس پروگرام میں دوسرے اسکالرس نے بھی حصہ لیا۔مثلا الطاف احمد اعظمی۔ تمام شرکاء، طلبہ اور اساتذہ نے صدر اسلامی مرکز کے لکچر کو کافی پسند کیا۔ آخر میں شرکاء کے درمیان دعوہ لٹریچر تقسیم کیا گیا۔ پروگرام کے بعد ای ٹی وی اردو کے نمائندہ نے صدر اسلامی مرکز کا دور جدید میں مسلم مسائل کے موضوع پر ایک انٹرویو لیا۔ سیلف پروگرامر 12 : تا 14 اگست 2016 کو تمل ناڈو، حیدرآباد، ممبئی، کیرالا اور بہار ٹیم کی سی پی ایس میٹ کیرالا میںہوئی۔اس میٹ کے درمیان مختلف پروگرام ہوئے۔ ان میں کچھ آپس کے پروگرام بھی تھے، اور کچھ دوسرے مسلم اور نان مسلم سینٹرس کا دورہ بھی تھا۔مثلاً ایم ای ایس ایجوکیشنل ٹرسٹ ،جے ڈی ٹی اسلام ، کے این ایم مرکز الدعوۃ ، میڈیا ون نیوز چینل،اورسوامی چتانندہ پوری(آدویتا آشرم) ،وغیرہ۔نیز عین المعارف دعوۃ کالج (کنور) کا دورہ ہوا،اس مدرسہ کےمہتمم مولانا انس مولوی نے کافی خوشی اور چاہت کا اظہار کیا ۔ جن اہم شخصیات سے ملاقات ہوئی، ان میں ایک قابل ذکر نام جناب ای ٹی بشیر محمد،ممبر آف پارلیمنٹ، ہے۔ اس کے علاوہ ایک عوامی پروگرام کنور میں منعقد کیا گیا۔ اس کا موضوع تھا دورِ کمیونی کیشن دورِدعوت ہے (Age of Communication is age of Dawah)ہے۔ مدعو آپ کے دروازے پر:وشنو موہن آشرم (چنئی)کےسرپرست شری ہری پرشاد اپنے تین ساتھیوں کے ساتھ صدر اسلامی مرکز سے ملاقات کے لئے آئے۔ ان کی ملاقات کا مقصد تھا صدر اسلامی مرکز کو اپنے یہاں پیس پر ہونے والے پروگرام کے لیے دعوت دینا۔ دوران ملاقات مختلف موضوعات پر باتیں ہوئیں۔ اور تمام لوگوں کو انگریزی ترجمہ قرآن اور دیگر امن پر مبنی کتابیں دی گئیں۔ یہ ملاقات 16 اگست 2016 کو ہوئی۔ ث 31 اگست 2016 کو انڈونیشین کرشچن پروفیسرس کی ایک ٹیم صدر اسلامی مرکز سے ملاقات کے لئے آئی۔ انھوں نے صدر اسلامی مرکز سے پیس اور اسپریچولٹی پر گفتگو کی۔ آخر میں ان کو قرآن اور دوسرے دعوتی لٹریچر دیئے گئے۔ عالمی دَورِ دعوت:صدر اسلامی مرکز کی انگلش کتاب ’وہاٹ از اسلام‘ اور عربی کتاب ’المنہج الربانی فی الدعوة إلى اللہ‘ کا ترجمہ پرتگیزی زبان میں ہوچکا ہے۔ ان کے علاوہ بڑی تعداد میں مولانا کے انگلش اور عربی مضامین کا بھی ترجمہ پرتگیز زبان میں ہوا ہے۔اس کے علاوہ پشتو زبان میں بھی کچھ کتابوں اور لیف لیٹ کا ترجمہ ہوچکا ہے، جیسے مذہب اور سائنس، پیغمبر انقلاب، اللہ اکبر، سفر آخرت۔ اور امن عالم،اپنی تعمیر آپ، بااصول زندگی، مسلمان کی اصل حیثیت۔ ملیالم زبان میں کچھ کتابوں کا ترجمہ ہوچکا ہے، جیسے وہاٹ از اسلام، یکساں سول کوڈ، امن کلچر (منتخب مضامین) وغیرہ۔ نیز صدر اسلامی مرکز کا ترجمہ قرآن اور انگلش کتاب ’واٹ از اسلام‘ چائنیز زبان میں پاکستان سے شائع ہوچکا ہے۔ یہ خاص طورپر پاکستان میں مقیم چینی لوگوں کے درمیان تقسیم کیا جائے گا۔ ث 27اگست تا 8ستمبر 2016 گڈورڈ بکس (دہلی) نے لبنان ، الجیریا ،مراکش میں منعقد ہونے والے بک فیئرس میں حصہ لیا۔ اس دوران کافی تعداد میں ترجمہ قرآن اور دیگر دعوتی لٹریچر مسلم و غیر مسلم کے درمیان تقسیم کیا گیا۔ دورِ تائید : سی پی ایس سہارن پور کی ٹیم کو رادھا ہری مندر میں منعقد ہونے والی ایک میٹنگ میں مدعو کیاگیا تھا۔ ڈاکٹر محمد اسلم خاں نے اس میں مہمان خصوصی کے طور پر شرکت کی ۔ اس موقع پر ان سے دیگر سوالات کے علاوہ سی پی ایس مشن کے بارے میں بھی سوالات کیے گیے۔ انھوں نے کہا کہ ہم (انسان) زمین پر دو مقصد سے بھیجے گئے ہیں۔ ایک، تو خدا کی عبادت اور دوسرے، حق کی دریافت جو کہ کائنات میں چھپی ہوئی ہے اور اس کو لوگوں تک پہنچانا۔ مسجد، مندر گرودوارے اور چرچ اس کام کو بخوبی انجام نہیں دے سکتے۔ اس لیے سی پی ایس نے یہ کام اپنے ذمے لیا ہے اور اس کو پیس ہال (سہارن پور) میں انفرادی ذہن سازی کے ذریعے کیا جارہا ہے۔ یہ پروگرام 15جولائی 2016 کومنعقد کیا گیا تھا۔ ث سی پی ایس کے ممبر اور روشنی آئی بینک کے چیئر مین ڈاکٹر اشوک جین کی والدہ کا انتقال ہوگیا۔ وہ سی پی ایس کا لٹریچر پڑھتے ہیں اور دوسروں میں تقسیم بھی کرتےہیں۔ ان کو ایم این سی کی جانب سے نیتر رتنا ایوارڈ سے سرفراز بھی کیا جاچکا ہے۔ انھوں نے اپنی ماں کی آنکھ بطور عطیہ آئی بینک میں جمع کردیں۔12اگست2016 کو سہارن پور کی انتہائی قدیم بھوتیشور مندر میں ان کی تیرھویں کی رسم ادا کی گئی تھیں۔ سی پی ایس سہارن پور کی ایک ٹیم نے اس میں شرکت کی اور قرآن اور دیگر دعوتی لٹریچر لوگوں کے درمیان تقسیم کیا ۔ ث 27 ستمبر 2016 کو انڈین چیمبر آف کامرس (ICC) نے فائیو اسٹار ہوٹل اوبرائے میں ’’جاگروتی‘‘ کے نام سے ایک کانفرنس کا انعقاد کیا۔ اس کا موضوع ’امپاورمنٹ آف وومن‘‘ تھا۔ اس میں مشہور اسپیکرس مثلاً مس شائنا ای سی (بی جے پی کی ترجمان اور نامور فیشن ڈیزائنر)، مس ساتھیا سرن (فیمینا میگزین کی سابق ایڈیٹر و کتابوں کی مصنف)، مسٹر پی کے مکھرجی(ڈائریکٹر آف أئی سی سی) اور مس جینا مترا بانک ، وغیرہ نے شرکت کی۔ اس موقع پر کولکاتا ٹیم کی متحرک ممبر مس شبینہ علی نے پروگرام میں شرکت کی۔ انھوں نےان تمام حضرات سے انٹرایکشن کیا اور سی پی ایس مشن سے ان کو باخبر کیا۔ساتھ ہی ان کو دعوہ لٹریچر جیسے انگلش قرآن، اسپرٹ آف اسلام اور ایج آف پیس وغیرہپیش کیا،جسے تمام لوگوں نے خوشی اور شکریہ کے ساتھ قبول کیا۔ مس ساتھیا سرن کو جب قرآن دیا گیا تو انھوں نے خوشی سے کہامیں قرآن پڑھنا پسند کروں گی (I love to read the Quran)۔ دعوت بذریعہ سیاحت:\ 4 اگست 2016 سے 2 ستمبر 2016 تک روزانہ الرسالہ مشن گیا (بہار) کے ممبر ان نے حاجیوں کی روانگی کے موقع پر گیا ائرپورٹ پر اعلى تعلیم یافتہ مسلم اور غیر مسلم، اسٹاف اور نان اسٹاف کے درمیان بڑی تعداد میں انگلش، ہندی اور اردو ترجمہ قرآن کے علاوہ اسپرٹ آف اسلام، دی ایج آف پیس، وہاٹ از اسلام وغیرہ تقسیم کیا۔ اس کار خیر کو جنا ب عظیم الدین ضیفی اور مجاہد حسین اوراکرام الدین صاحبان وغیرہ نےانجام دیا ۔ اس کے علاوہ بودھ گیا(Bodh Gaya)میںایک معروف بک شاپ کو دعوہ ورک کے لیے سنٹر بنایاگیا ہے۔یہ دکان محمد شہاب الدین صاحب کی ہے۔یہاں روزانہ بڑی تعداد میں غیر ملکی سیاح کتابوں کے لیے آتے رہتے ہیں۔چناں چہ اس شاپ کے ذریعہ غیرملکی سیاحوں میں بڑی تعداد میں انگلش دعوہ لٹریچر جیسے قرآن، دی ایج آف پیس، اسپرٹ آف اسلام، وہاٹ از اسلام، وغیرہ تقسیم کیا جاتا ہے۔ قرآن کے سلسلہ میںغیر مسلموں کی دلچسپی کو دیکھ مالک دکان محمد شہاب الدین صاحب نے بھی دعوہ ورک کرنے کا عزم کیا ہے۔ نیز مستقبل قریب میں بودھ گیا میں ایک بڑا میلہ لگنے والا ہے جس میں ہزاروں کی تعداد میں ملکی و غیر ملکی سیاح شرکت کریں گے۔ یہاں اسٹال لگایا جائے گا۔ تزکیہ و تربیت : علماء کی ایک ٹیم مولانا سید اقبال احمد عمری اور مولانا سید فیاض الدین عمری کی قیادت میں سی پی ایس مشن سے جڑی ہوئی ہے۔ 1-5 اکتوبر 2016 کے درمیان ان لوگوں نےدہلی کا دورہ کیا، اورصدر اسلامی مرکز کی صحبت میں رہ کر دور جدید ،اسلام،دعوت اسلام وغیرہ کے موضوع پر صدر اسلامی مرکز سے استفادہ کیا۔اس کے علاوہ سی پی ایس دہلی کی ٹیم کے ساتھ مختلف امور پر میٹنگیں ہوئیں۔ اس درمیان یہ طے پایا کہ صدر اسلامی مرکز کی کتابوں سے اردو میں ایک نصاب تیار کیا جائے گا۔ یہ نصاب اِن لوگوں کی نگرانی میں انجام پائے گا۔ ث مہاراشٹرا کی سی پی ایس ٹیم نے دہلی کا دورہ کیا۔ یہاں ان کا قیام 8۔9 اکتوبر 2016 کو رہا۔ اس درمیان انھوں نے صدر اسلامی مرکز سے استفادہ کیا اور دہلی سی پی ایس ممبران سے اپنے دعوہ تجربات شیئر کیے، اور ایک نئے دعوتی عزم کے ساتھ وہ لوگ واپس لوٹے۔ آپ کا مشن، آپ میں تبدیلی: ث I would like to express my views on Al-Risala magazine. First of all, my close friend Mr. M.A. Naeem, M.A., B.Ed., introduced Al-Risala to me in 1976. The magazine impressed me very much and since then I have been its regular reader. The magazine made me a different man compared to what I was earlier. It has made me Akhirat-oriented. I have now started bothering very much about my Akhirat. I explain to my children the different topics published in the magazine. I am deeply impressed regarding your explanation of Akhirat and as well as this world, for Muslims in particular and entire humanity in general. Apart from Al-Risala I have read number of your books to quench my thirst for knowledge of Akhirah. When I was in service, I purchased your books Muhammed: A Prophet for all Humanity and Islam the Creator of Modern Age, and distributed it in my office among my seniors and subordinates to make them aware of Islam and the Prophet. I am doing it now also. I am very much influenced by your writings as they are based on the Quran and Sunnah with concrete proof. I have heard your lectures in Hyderabad thrice. Your lectures are full of knowledge of both science and religion, which impressed me a lot. You are presenting religion in a scientific way which cannot be found among other Islamic scholars. Your writings are unique. What I have written is not an exaggeration, rather it has come from my heart. (Abdul Wahab, Hyderabad, India) ث Al-Risala issue of Oct 2016 is totally different from the regular ones . It is extremely eyeopening for every reader. I cried out when I finished reading this issue. I found that Maulana has tried his utmost in every article to inculcate its indepth meaning, th]e importance of contemplation, the secrets of result-oriented work, the concept of freedom, the difference between real and relative aspects of things, understanding Islamization of individual and socio-political system, practical wisdom of respective aspect, and most importantly the difference between debate and dawah. Maulana has been able to understand and present the true and qualitative picture of religion. He has correctly explained the Creation Plan of God. May God accept his exhaustive work and bless us to spread His message to all mankind. I am thrilled to freely distribute this issue of Al-Risala in my town. Thanks a lot and I pray for Maulana’s good health and long life. (Shakeel Ahmed, Indore, MP)