Pages

Wednesday, 1 March 2017

Alrisala March 2017 (الرسالہ مارچ)

4

-اسلام کیا ہے

5

- انعامات خداوندی

7

- اول المسلمین

8

- ایمان کو سیکھنا

14

- دو دنیائیں

17

- اعتماد علی اللہ

18

- ختم نبوت

19

- ٹرین آف تھاٹ

20

- اسپریچول آؤٹ سورسنگ

22

- مصیبت کیوں

23

- راہ عمل

24

- صبر کی اہمیت

25

- دورِ جدید

26

- سیکولرزم کیا ہے

28

- دین میں تنگی نہیں

29

- اجتہاد کا معاملہ

30

- ملت کی اصلاح

31

- دورِ زوال کا ایک ظاہرہ

33

- حالات کا جائزہ

34

- امیج بلڈنگ

35

- بڑھاپا آنے سے پہلے

36

- شادی کا صحیح طریقہ

38

- عزت نفس

39

- بے شکایت جینا

40

- انتہا پسندی

41

- صحیح طرز فکر

42

- کرائسس مینجمنٹ

43

- درست فیصلہ

44

- بہتر کا انتخاب

45

- سوال و جواب

46

- خبرنامہ اسلامی مرکز


اسلام کیا ہے

اسلام کا لفظی مطلب اطاعت ہے۔ مگر یہ اطاعت جبری نہیں ہے، بلکہ وہ اختیاری ہے۔ انسان کو اس کے پیدا کرنے والے نےآزاد مخلوق کی حیثیت سے پیدا کیا ہے۔ انسان کو اس دنیا میں اپنے اختیار کو استعمال کرنے کے اعتبار سے کامل آزادی حاصل ہے۔ وہ جس طرح چاہے سوچے، وہ جس طرح چاہے کرے۔
اس اعتبار سے یہ کہنا صحیح ہوگا کہ اسلام ایک خود انضباطی نظام (self-imposed discipline) کا نام ہے۔ خالق نے انسان کو پیغمبر کے ذریعےجو دین بھیجا ، اس کی حیثیت رہنما گائڈ کی ہے۔ لیکن فیصلہ پھر بھی انسان کے اپنے اختیار میں ہے۔ اس رہنما گائڈ کا کام انسان کو صرف یہ بتانا ہےکہ صحیح کیا ہے ،اور غلط کیا ۔ لیکن یہ رہنما گائڈ انسان پر کسی قسم کا جبر قائم نہیں کرتا۔ انسان کی زندگی کا یہی وہ پہلو ہے جس کی بنا پر اس کو خلیفہ کہا گیا ہے۔ خلیفہ کا لغوی مطلب ہے بعد کو آنے والا (successor)۔ لیکن مفہوم کے اعتبار سے اس کا مطلب ہے آزاد مخلوق۔ اسی آزادی کے صحیح یا غلط استعمال پر انسان کے ابدی مستقبل کا فیصلہ ہونے والا ہے۔
انسان کو آزادی تو حاصل ہے، لیکن اس کو کسی قسم کا اقتدار حاصل نہیں۔ آزادی کے اعتبار سے اس کو بے روک ٹوک آزادی ملی ہوئی ہے، لیکن اقتدار کے اعتبار سے اس کو کسی قسم کی ذاتی طاقت حاصل نہیں۔ یہی وہ فرق ہے، جس کی بنا پر تمام انسان عملاً احساسِ محرومی میں جیتے ہیں۔ کیوں کہ انسان جو کچھ چاہتا ہے، اس کو حاصل کرنے پر وہ قادر نہیں۔ یہی مقام شیطان کے لیے انسان کے اندر داخلہ کا مقام (entry-point) ہے۔ شیطان اس حقیقت سے باخبر تھا، اسی لیے اس نے آغاز انسانیت میں اللہ رب العالمین سے کہا تھا : وَلَا تَجِدُ أَکْثَرَہُمْ شَاکِرِینَ (7:17)۔ یعنی اور تو ان میں سے اکثر کو شکر کرنے والا نہ پائے گا۔ یہی وہ حقیقت ہے جس کو جاننے کا نام ایمان (معرفت)ہے، اور یہی وہ حقیقت ہے جس کے مطابق زندگی گزارنے کا نام عمل صالح ہے۔
واپس اوپر جائیں

انعامات خداوندی

قرآن کی سورہ الحدید کی ایک آیت یہ ہے:لَقَدْ أَرْسَلْنا رُسُلَنا بِالْبَیِّناتِ وَأَنْزَلْنا مَعَہُمُ الْکِتابَ وَالْمِیزانَ لِیَقُومَ النَّاسُ بِالْقِسْطِ وَأَنْزَلْنَا الْحَدِیدَ فِیہِ بَأْسٌ شَدِیدٌ وَمَنافِعُ لِلنَّاسِ وَلِیَعْلَمَ اللَّہُ مَنْ یَنْصُرُہُ وَرُسُلَہُ بِالْغَیْبِ إِنَّ اللَّہَ قَوِیٌّ عَزِیزٌ (57:25)۔ یعنی ہم نے اپنے رسولوں کو نشانیوں کے ساتھ بھیجا اور ان کے ساتھ اتارا کتاب اور ترازو، تاکہ لوگ انصاف پر قائم ہوں۔ اور ہم نے لوہا اتارا جس میں بڑی قوت ہے اور لوگوں کے لیے فائدے ہیں اور تاکہ اللہ جان لے کہ کون اس کی اور اس کے رسولوں کی مدد کرتا ہے بِن دیکھے، بیشک اللہ طاقت والا، زبردست ہے۔
آیت کے آخری حصہ میں اللہ کی دو صفتوں ، قوی و عزیز (all-strong, almighty) کا ذکر ہے۔ اس میں یہ اشارہ پایا جاتا ہے کہ قرآن کی اس آیت میں اللہ کی کامل اور جامع نعمتوں کا بیان ہے۔ اس اعتبار سے یہ آیت بے حد اہمیت کی حامل ہے۔
قرآن کی اس آیت میں انسان کے اوپر اللہ کی دو بڑی نعمتوں کا ذکر ہے۔ ان دو بڑی نعمتوں کے ذریعے انسان کے لیے تمام سعادتوں کے دروازے کھولے گیے ہیں۔ انسان کو دنیا اور آخرت میں ترقی کے لیے جو کچھ درکار ہے، وہ سب آیت میں بتا دیا گیا ہے۔ تاکہ انسان غور کرکےان کو سمجھے، اور صحیح اسپرٹ کے ساتھ ان کو اپنے حق میں استعمال کرے۔
قرآن کی اس آیت میں رسول سے مراد پیغمبر (prophet) ہیں۔ بینات سے مراد وہ معجز نشانیاں ہیں جو یہ ثابت کرنے کے لیے ہیں کہ پیغمبر حقیقی معنوں میں اللہ کا پیغمبر ہے۔ یہ معجز نشانیاں ایسی ہیں جو ہر ذی عقل انسان کو یہ ماننے پر مجبور کرتی ہیں کہ وہ شخص یقیناً اللہ کا نمائندہ ہے۔ اب اگر کوئی شخص پیغمبر کا انکار کرتا ہے تو اس کے پاس اپنے انکار کا کوئی جواز (justification) موجود نہیں۔ قسط سے مراد وہی چیز ہے جس کو دوسرے مقام پر صراط مستقیم کہا گیا ہے۔ یعنی دنیا میں زندگی گزارنے کا وہ راستہ جو خالق کے نزدیک مقبول راستہ ہے۔
قسط (justice) کے ساتھ یہاں لیقوم کا لفظ آیا ہے۔ یعنی اس سے مراد کسی فرد کا خود اپنی زندگی میں قسط کا پیرو بننا۔ اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ آدمی قسط کا جھنڈا اُٹھائے اور سیاسی اقتدار حاصل کرکے قسط کو لوگوں کے اوپر نافذ (implement) کرے۔ نحوی اعتبار سے یہ کہ قسط کا حکم یہاں لازم کے صیغہ میں ہے، وہ متعدی کے صیغہ میں نہیں۔
حدید کا لفظی مطلب لوہا (iron) ہے۔ غورکرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ یہاں حدید کا لفظ غالباً علامتی طور پر آیا ہے۔ یعنی اس سے مراد وہ چیزیں ہیں جن کو موجودہ زمانے میں ٹکنالوجی کہاجاتا ہے۔ٹکنالوجی کی تعریف یہ کی گئی ہے:
The branch of knowledge dealing with engineering or applied sciences.
حدید ایک علامتی لفظ ہے۔ اس سے مراد وہ تمام معدنیات ہیں جن کو استعمال کرکے موجودہ زمانے کی مشینیں بنتی ہیں، اور ان کو دورِ جدید کی سرگرمیوں میں استعمال کیا جاتا ہے۔
واپس اوپر جائیں

اول المسلمین

قرآن میں ایک حکم ان الفاظ میں آیا ہے: وَأَنَا أَوَّلُ الْمُسْلِمِینَ (6:163)۔ یہاں اول المسلمین کا لفظ آیا ہے۔ اس آیت کا لفظی ترجمہ یہ ہوگا کہ میں پہلا مسلم (first Muslim) بنوں۔ مگر قرآن کی اس آیت کو لفظی معنی میں نہیں لیا جا سکتا ۔ کیوں کہ جس وقت یہ آیت اتری اس وقت بہت سے لوگ اسلام قبول کرچکے تھے۔ اور آپ کی اہلیہ خدیجہ نے تو عین اسی دن اسلام قبول کیا تھا، جب کہ اللہ نے آپ کو اپنا رسول مقرر فرمایا۔
حقیقت یہ ہے کہ اول المسلمین یا اول من اسلم کی آیات لفظی معنی میں نہیں، بلکہ وہ عزم کے معنی میں ہے۔ یعنی اسپرٹ کے معنی میں۔ یہ اسی اسپرٹ کا اظہار تھا، جس کو انگریزی زبان میں ان الفاظ میں بیان کیا جاتا ہے: آئی ول ڈو اٹ (I will do it)۔
حقیقت یہ ہےکہ یہ ایک باعزم صاحب مشن کا کلمہ ہے۔ وہ صاحب مشن کے یقین اور عزم کو بتاتا ہے۔ یہ کلمہ صاحب مشن کی اس اسپرٹ کو بتاتا ہے کہ اگر کوئی میرا ساتھ نہ دے تب بھی میں اس کام کو انجام دوں گا۔ اگر کوئی شخص میرا ساتھی نہ بنے تب بھی میں اس راہ پر چلنا نہیں چھوڑوں گا۔
اس قسم کی عزیمت کی بات کو اس کے لفظی معنی میں لینا درست نہیں۔ بلکہ ایسی بات کو اس کی حقیقی اسپرٹ کے معنی میں لینا صحیح ہوگا۔ اسی قسم کی ایک مثال وہ ہے جو خلیفہ اول ابوبکر صدیق نے اس وقت کہی تھی، جب کہ رسول اللہ کی وفات کے بعد فتنہ پھیل گیا تھا، جس کو حضرت عائشہ نے ان الفاظ میں بیان کیا تھا: لما توفی رسول اللہ صلى اللہ علیہ وسلم، ارتدت العرب (سنن النسائی، حدیث نمبر3094)۔ اس فتنہ کی شدت کے اعتبار سے حضرت عائشہ نے یہ الفاظ کہے ہیں۔یہاں نہ حضرت عائشہ کے قول کو لفظی معنی میں لینا درست ہوگا، اور نہ حضرت ابوبکر کے قول کو لفظی معنی میں لینا درست ہوگا۔ان کا قول یہ ہے:أینقص وأنا حی (جامع الاصول، حدیث نمبر6426)۔ یعنی کیا دین میں کمی کی جائے گی، حالاں کہ میں زندہ ہوں۔
واپس اوپر جائیں

ایمان کو سیکھنا

ایک صحابی صحبت رسول کے بارے میں بتاتے ہوئے کہتے ہیں:عن جندب، قال:کنا مع نبینا صلى اللہ علیہ وسلم فتیانا حزاورة فتعلمنا الإیمان قبل أن نتعلم القرآن، ثم تعلمنا القرآن فنزداد بہ إیمانا، فإنکم الیوم تعلمون القرآن قبل الإیمان (المعجم الکبیر للطبرانی، حدیث نمبر 1678)۔ یعنی جندب بن عبداللہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: ہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے۔ ہم جوانی کی عمر میں تھے۔ پس ہم نے قرآن کا علم حاصل کرنے سے پہلے ایمان سیکھا ، پھر ہم نے قرآن سیکھا تو اس سے ہمارے ایمان میں اضافہ ہوگیا۔اور تم لوگ آج قرآن سیکھتے ہو ایمان سے پہلے۔
انٹرنیٹ پر ایک عرب، محمد العبادی نے اس کی شرح ان الفاظ میں کی ہے: تعلم الإیمان قبل القرآن یعنی تہیئة القلب لتلقی تعالیم القرآن والاہتداء بأنوارہ، فہو کتہیئة الأرض حتى تکون صالحة للزرع(ملتقیٰ اہل التفسیر (vb.tafsir.net)، الإیمان قبل القرآن)۔ یعنیـ" ایمان سیکھنا قرآن سے پہلےـ" کا مطلب یہ ہے دل کو تیار (prepare)کرنا، تاکہ وہ اخذ کرسکےقرآن کی تعلیمات کو، اور اس کی روشنی سے ہدایت پاسکے۔ پس وہ ایسا ہے جیسے زمین کو تیار کرنا تاکہ وہ کھیتی کے قابل ہوجائے۔
اس روایت کا مطلب کنڈیشننگ (conditioning) کے اصول سے سمجھ میں آتا ہے۔ جیسا کہ حدیث میں آیا ہے۔ ہر پیدا ہونے والالازمی طور پر اپنے ماحول سے متاثر ہوتا ہے، یہاں تک کہ وہ ماحول کا پروڈکٹ بن جاتا ہے (صحیح البخاری، حدیث نمبر1385) ۔ ایسی حالت میں ایمان قبول کرنا، اپنے ذہن کے اعتبار سے ایک ایسی چیز کو قبول کرنا ہے جو آدمی کے لیے ایک نئی چیز ہے۔اس لیے ہمیشہ یہ اندیشہ رہتا ہے کہ آدمی نئی چیز کو متاثر ذہن (conditioned mind) کے ساتھ دیکھے، اور اس کو درست طور پر سمجھ نہ سکے۔ ایسی حالت میں ہر آدمی کے لیے ضروری ہے کہ وہ ایمان سے پہلے ایک پیشگی کام کرے۔ یعنی اپنے ذہن کی ڈی کنڈیشننگ (deconditioning) کرکے اس کو تیار ذہن (prepared mind) بنائے، تاکہ وہ نئی چیز کو کھلے ذہن کے ساتھ دیکھے، اور بے آمیز صورت میں اس کو لے سکے۔
یہ گویا تطہیر ذہن (purification of the mind) کا معاملہ ہے۔ اس تطہیر کے بغیر کوئی بھی شخص، ایمان کو حقیقی طور پر نہیں سمجھ سکتا۔ اس تطہیر کے بغیر اگر وہ ایمان قبول کرتا ہے تو وہ اس کے لیے داخل القلب ایمان (الحجرات14:) نہ ہوگا، بلکہ وہ ایمان لپ سروس (lip service) کے طور پر ہوگا، اور لپ سروس والا ایمان شریعت میں معتبر نہیں ۔
تطہیر ذہن کا یہ عمل صرف ابتدائی دور کے کچھ صحابہ کے لیے نہیں تھا، بلکہ وہ ہمیشہ کے لیے اور ہر انسان کے لیے ضروری ہے۔ کوئی بھی شخص جو بعد کے زمانے میں ایمان قبول کرتا ہے، تو اس کو سب سے پہلے اپنے داخل القلب کو مطہّر اور مزکّی بنانا پڑے گا۔ یعنی پوری طرح اپنی ڈی کنڈیشننگ کرنی ہوگی۔ جو شخص اس ابتدائی شرط کو پورا کرے، اسی کا ایمان سچا ایمان ہے۔ جو آدمی اس ابتدائی شرط کو پورا کیے بغیر صرف پیدائش کےطور پر مسلم بن جائے، یا کلمہ کے الفاظ کو زبان سے ادا کرکے اسلام قبول کرلے، اس کا ایمان اللہ کے نزدیک معتبر ایمان نہ ہوگا۔ اس کے لیے ضروری ہوگا کہ وہ یا تو پہلے مرحلے میں یا بعد کے مرحلے میں اپنا محاسبہ کرکےبھر پور طور پر اپنے ذہن کی ڈی کنڈیشننگ کرے۔ اپنے آپ کو مطہَّر اور مزکیّٰ بنائے۔ اس کے بعد ہی، اس کا ایمان معتبر ہوگا۔ اس کے بعد ہی اس کا ایمان اس کے لیے ہدایت کی روشنی بنے گا۔اس کے بعد ہی وہ اس قابل ہوگا کہ وہ اپنی روزمرہ کی زندگی میں اس آیت کا مصداق بنے۔ آیت کا ترجمہ یہ ہے:یعنی کیا وہ شخص جو مردہ تھا پھر ہم نے اس کو زندگی دی اور ہم نے اس کو ایک روشنی دی کہ اس کے ساتھ وہ لوگوں میں چلتا ہے (6:122)۔
حقیقت یہ ہے کہ ایمان و اسلام کا معاملہ ایک پراسس کا معاملہ ہے۔ پہلے آدمی شعوری طور پراس بات کا اعتراف کرتا ہے کہ وہ اب تک بے خبری کی زندگی گزار رہا تھا۔ اندھیرے کے بعد اس پر روشنی کا دروازہ کھلا ہے۔ اس کے بعد وہ اپنا محاسبہ (introspection) کرکے اپنی بھرپور ڈی کنڈیشننگ کرتا ہے، اس کے بعدوہ اپنے آپ کو آلودگی سے پاک کرکےوہ ذہن بناتا ہے جس کو شریعت میں مزکی شخصیت کہا جاتا ہے۔ اس کے بعد وہ وقت آتا ہے جب کہ وہ قرآن کو پڑھے اور اس کو گہرائی کے ساتھ اپنا سکے۔
مبارک لوگ
ایک مشہور حدیث ہے: بدأ الإسلام غریبا، وسیعود کما بدأ غریبا، فطوبى للغرباء (صحیح مسلم، حدیث نمبر145)۔یعنی اسلام شروع ہوا تو وہ اجنبی تھا، اور دوبارہ وہ اجنبی ہوجائے گا، جیسا کہ وہ شروع میں تھا۔ پس مبارک ہیں وہ لوگ جو اجنبی ہوجائیں۔ غریب کا مطلب اجنبی (stranger) ہے۔ اجنبیت کا لفظ ایک تقابلی لفظ ہے۔ یعنی کسی کے مقابلے میں اجنبی ہوجانا۔
ساتویں صدی عیسوی کے ربع اول میں پیغمبر اسلام قدیم عرب میں آئے۔ اس وقت وہاں بنواسماعیل آباد تھے۔ ابتدءاً وہ لوگ دین ابراہیم پر قائم تھے، مگر ان کی بعد کی نسلوں پر زوال آیا۔ وہ لوگ اب بھی دین ابراہیم کا نام لیتے تھے، لیکن وہ عملا ًاصل ابراہیمی دین پر نہ تھے۔ بعد کے زمانے میں حقیقی ابراہیمی دین ان کے درمیان اجنبی ہوچکا تھا۔وہ دین ابراہیم کے ایک خود ساختہ ورزن (version) کو ابراہیم کا دین سمجھنے لگے تھے۔اس اجنبیت کی بنا پر وہ پیغمبر اسلام کے مخالف بن گیے۔ حالاں کہ پیغمبر اسلام، ابراہیم علیہ السلام کے اسی دین کو زندہ کررہے تھے، جس کو رسول اللہ کے معاصر عرب اپنے قومی فخر کے طور پر لیے ہوئے تھے۔
مذکورہ حدیث کے مطابق، یہی معاملہ بعد کے زمانے میں دین اسلام کے ساتھ پیش آئے گا۔ یعنی قرآن وسنت والا دین زوال یافتہ مسلمانوں کے درمیان ایک اجنبی دین بن جائے گا۔بظاہر وہ دین محمدی کا نام لیں گے، اور اس پر فخر کریں گے۔ لیکن حقیقی اعتبار سے وہ دین محمدی سے اتنا دور ہوچکے ہوں گے کہ اصل دین محمدی ان کے لیے ایک اجنبی دین کی حیثیت اختیار کرلے گا۔ دین ابراہیمی اور دین محمدی دونوں اپنی اصل کے اعتبار سے خالص توحید کے مذاہب تھے۔ لیکن بعد کے زمانے میں دونوں کے ماننےوالوںپر زوال آئے گا۔ دونوں کے ماننے والے بظاہر دین ابراہیمی اور دین محمدی کا نام لیں گے، لیکن عملاً وہ اتنا زیادہ بگڑ چکے ہوں گے کہ ان کے درمیان اصل دین ابراہیمی اور اصل دین محمدی، دونوں اجنبی دین کی مانند بن جائیں گے۔
"مبارک اجنبی" سے مراد کون لوگ ہیں۔ اس سے مراد وہ افراد ہیں جو اس معاملے کا مطالعہ غیر متعصبانہ طور پرکریں ، جو کھلے ذہن کے ساتھ باتوں کو دوبارہ سمجھنے کی کوشش کریں، جو اپنی ڈی کنڈیشننگ کرکے اپنے کو اس قابل بنائیں کہ دین محمدی کو اس کی اصل صورت میں پہچان سکیں۔ اس کے بعد وہ بگاڑ کے زمانے میں اصل دین کو دوبارہ دریافت (rediscover) کریں۔ وہ بعد کے زمانے میں بننے والی تاریخ کو حذف کرکے دوبارہ پیغمبر کے لائے ہوئے دین کو سمجھیں۔ ایسے لوگ اگرچہ لوگوں کے نزدیک اجنبی ہوجائیں گے لیکن اللہ کی نظر میں وہ خوش قسمت لوگ ہیں۔ ان کے لیے اللہ کے یہاں بڑے درجات ہیں۔
ساتویں صدی عیسوی میں ایسا ہوا کہ پیغمبر اسلام نے اہل عرب کے سامنے دین ابراہیمی کو اس کی بے آمیز صورت میں پیش کیا (الحج 78:)۔ لیکن قدیم اہل عرب پیغمبر اسلام کے مخالف بن گیے۔ اس کی وجہ کیا تھی۔ جب کہ وہ خود اس بات پر فخر کرتے تھے کہ وہ دین ابراہیم کو ماننے والے لوگ ہیں، تو وہ پیغمبر اسلام کے مخالف کیوں ہوگیے۔ یہ روش اہل عرب کی بعد نسلوں کی تھی۔ یعنی اہل عرب (بنو اسماعیل ) کی بعد کی نسل کے اندر دھیرے دھیرے اصل دین ابراہیم کی اسپرٹ ختم ہوگئی۔ ان کے یہاں دین کے نام سے ایک قومی کلچر بن گیا، جس کو بطور خود وہ دین ابراہیم کا نام دینے لگے۔
جب کہ اصل صورت حال یہ تھی کہ آپ ابراہیمی دین ہی کو ان کے سامنے پیش کررہے تھے۔ ان کی مخالفت کا سبب یہ تھا کہ اصل دین ابراہیم ان کے یہاں اجنبی دین بن چکا تھا۔ وہ اپنے قومی کلچر کو دین ابراہیم کے نام سے جاننے لگے تھے۔ یہی سبب تھا جس کی بنا پر وہ پیغمبر اسلام کے مخالف بن گیے۔ حتی کہ آپ کے خلاف لڑنے کے لیے تیار ہوگیے۔
یہ صورت حال صرف قدیم عربوں کی نہ تھی، بلکہ یہ ایک عمومی تاریخی ظاہرہ ہے، جو ہر قوم کے ساتھ ہمیشہ پیش آتا ہے۔ ہر قوم میں ایسا ہوتا ہے کہ ابتداءاً جو چیز ان کے یہاں مذہب کے طور پر ہوتی ہے، وہ بعد کی نسلوں کے لیے ایک قومی کلچر بن جاتی ہے۔ جب ایسا ہوتا ہے تو بعد کی نسلوں کے لیے اصل مذہب ایک اجنبی چیز بن جاتا ہے۔اس مسئلے کا حل صرف یہ ہے کہ بعد کے زمانے کے لوگ اپنی ڈی کنڈیشننگ کرکے اپنے آپ کو دوبارہ اس قابل بنائیں کہ وہ اصل مذہب کو پہچان سکیں۔
اصلاح امت
امت مسلمہ کی اصلاح ایک مستقل موضوع ہے جس پر لوگوں نے بہت کچھ لکھا ہے اور بہت کچھ بولا ہے۔ یہ ایک ایسا موضوع ہے جس پر مسلسل بحث جاری رہتی ہے۔ تاہم اس موضوع پر ایک متعلق روایت ہے جو اس سلسلے میں ایک رہنما روایت کی حیثیت رکھتی ہے۔ یہ روایت وھب ابن کیسان کی ہے جو اعلیٰ درجہ کے فقیہ مانے جاتے ہیں۔ وہ مدینہ میں پیدا ہوئے۔ یہیں انھوںنے تعلیم پائی، اور کئی صحابہ سے ملاقات کی ۔ مثلا ابن عباس، ابوسعید الخدری،جابر بن عبد اللہ ، ابن الزبیر ، اورعمرو بن أبی سلمة، و غیرہ۔ وہ امام مالک (وفات 179:ھ)تبع تابعی ، وغیرہ کے استاد تھے۔ ان کی وفات 127ھ میںمدینہ میں ہوئی۔
امام مالک اپنے استاد وہب ابن کیسان کے بارے میں کہتے ہیں : کان وہب بن کیسان یقعد إلینا، ثم لا یقوم أبدا حتى یقول لنا إنہ لا یصلح آخر ہذہ الأمة إلا ما أصلح أولہا، قلت لہ: یرید ماذا؟ قال یرید التقى (مسند الموطا للجوہری، حدیث نمبر783)۔یعنی وہب ابن کیسان تابعی ہمارے درمیان بیٹھتے، پھر وہ اٹھنے سے پہلے ہمیشہ یہ کہتے : بیشک اس امت کے آخر کی اصلاح اسی طریقے سے ہوگی، جس طریقے سے اس امت کے پہلے کی اصلاح ہوئی۔ راوی نے پوچھاکہ اس سے وہ کیا مراد لیتے تھے۔ امام مالک نے کہا: اس سے ان کی مراد تقویٰ ہوتی تھی۔
بعد کے زمانے سے مراد زوال کا زمانہ ہے۔ امت کا بعد کا زمانہ خلا کا زمانہ نہیں ہوگا، بلکہ وہ بھر پور سرگرمیوں کا زمانہ ہوگا۔ بعد کے زمانے میں لوگوں کے پاس اپنے ماضی کی بنیاد پر ایک تاریخ ہوگی، ایک کلچر ہوگا، دین کا ایک تصور ہوگا، وغیرہ۔ اس کے باوجود وہ اصل دین سے دور جاچکے ہوں گے۔ ان کی اصلاح کی صورت صرف یہ ہوگی کہ ان کو پیچھے کی طرف لوٹایا جائے۔ ان کو دوبارہ اس دین پر قائم کیا جائے، جو دورِ اول میں رسول اور اصحاب رسول کے درمیان پایا جاتا تھا۔
دوسرے الفاظ میں یہ کہ پیغمبر کے بعد امت کے درمیان ایک تاریخ بننا شروع ہوگی۔ دھیرے دھیرے وہ وقت آجائے گا، جب کہ لوگ اسلام کا نام لیں گے، لیکن عملاً وہ بعد کے زمانے میں بننے والی تاریخ پر کھڑے ہوں گے۔ اب ان کا ماڈل بعد کو بننے والی تاریخ کا ماڈل ہوگا، نہ کہ رسول اور اصحاب رسول کا ماڈل ۔ ایسی حالت میں ضروری ہوگا کہ لوگ اسلام اور مسلم تاریخ کے درمیان فرق کو دریافت کریں۔ وہ بعد میں بننے والی تاریخ کو حذف کرکے اصل اسلام کو جانیں، اور اس پر دوبارہ قائم ہوجائیں۔ گویا کہ ان کے لیے اسلام دریافت ثانی (rediscovery) کا موضوع بن چکا ہوگا۔ اس دریافت ثانی کے بغیر اصل دین ان کے لیے اجنبی بن چکا ہوگا۔ اس اجنبیت کو دور کرنے کی صورت صرف یہ ہوگی کہ وہ اپنی ڈی کنڈیشننگ کریں۔
دونوں زمانےکے فرق کو اس طرح بیان کیا جاسکتا ہے کہ دورِ اول کا دین مبنی بر تقوی ہوگا، مگر زوال کا دور آنے کے بعد لوگوں کے درمیان ایک ایسا دین رائج ہوجائے گا، جو ایک قسم کا قومی دین ہوگا۔ وہ خدا رخی دین نہ ہوگا، بلکہ وہ قومی رخی دین بن جائے گا۔
یہاں یہ سوال ہے کہ تقویٰ کیا چیز ہے۔ جس کے مفقود ہونے کی وجہ سے بعد کے زمانے کے لوگوں کے لیے حقیقی دین اجنبی دین بن جائے گا۔ اس روایت کے مطابق ابتدائی دور کے اہل ایمان تقویٰ کا طریقہ اختیار کرکے اصلاح یافتہ بنے تھے۔ بعد کے زمانے کے لوگوں کو بھی یہی کرنا ہوگا کہ وہ اپنی غیر متقیانہ روش کو چھوڑیں ، اور دوبارہ تقویٰ کے طریقے کو اختیار کریں۔ تقوی سے مراد یہ ہے کہ آدمی ایک ایسی روش کو اختیارکرے جو اللہ کے مواخذہ کے تصورپر مبنی ہو، جو اللہ کے سامنے جوابدہی کے احساس پرقائم ہو۔
واپس اوپر جائیں

دو دنیائیں
خالق نے دو دنیائیں بنائیں۔ ایک انسانی دنیا، اور دوسرے مادی دنیا، جس کو علمی زبان میں نیچر (nature) کہا جاتا ہے۔ کائنات کا مطالعہ کرنے والا، ان دونوں دنیاؤں کے درمیان ایک عجیب فرق پاتا ہے۔ انسانی دنیا اسفل سافلین (التین5:) کی دنیا ہے۔ اس کے مقابلے میں مادی دنیا کے بارے میں خالق کا یہ اعلان ہے کہ لا تری من فطور (الملک3:)۔ دونوں دنیائیں اس طرح ایک دوسرے سے مختلف (different) کیوں ہیں۔
اس کا جواب قرآن میں تلاش کیا جائے ،تو یہ معلوم ہوگا کہ مادی دنیا مسخر دنیا (الجاثیہ13:) ہے۔ یعنی خدمت گار دنیا۔ اس کے برعکس، انسانی دنیا ایک آزاد دنیا ہے۔ دوسرے لفظوں میں یہ ہے بقیہ دنیا اگر خدمت گار دنیا ہے تو انسان اس دنیا کا ماسٹر (master) ہے۔ انسان کو سرداری کا یہ مقام موجودہ دنیا میں بظاہرعمومی طور ملا ہوا مقام دکھائی دیتا ہے۔ لیکن آخری حقیقت کے اعتبار سے یہ مقام انتخابی بنیاد (selective basis) پر ملنے والا ہے۔
انسان کے بارے میں یہ حقیقت قرآن کی اس آیت سے معلوم ہوتی ہے:الَّذِی خَلَقَ الْمَوْتَ وَالْحَیَاةَ لِیَبْلُوَکُمْ أَیُّکُمْ أَحْسَنُ عَمَلًا (67:2)۔ یعنی جس نے موت اور زندگی کو پیدا کیا تاکہ وہ تم کو جانچے کہ تم میں سے کون اچھا کام کرتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ انسان کو ایک ایسی دنیا میں رکھا گیا ہے جہاں ہر قسم کے تجربات پیش آئیں۔ اس کو مسلسل طور پر چیلنج کے درمیان زندگی گزارنا پڑے۔ اس کے لیے مختلف انتخابات (options) ہوں، اور اس کو اپنی عقل کو استعمال کرکے یہ جاننا پڑے کہ اس کو کون سا انتخاب لینا ہے اور کون سا انتخاب چھوڑدینا ہے۔
اس طرح مختلف حالات سے گزرتے ہوئے وہ انسان بنتا ہے جس کو قرآن میں احسن العمل (الملک2:) کہا گیا ہے۔یہی احسن العمل (best in conduct) والے افراد ہیں جن کو منتخب کرکے ابدی جنت میں بسایا جائے گا۔ وہ وہاں خالق کے قرب میں ابدی طور پر اعلیٰ زندگی گزاریں گے۔
دونوں دنیا ؤں کے درمیان جو فرق ہے ،وہ ایک بامعنٰی حکمت پر مبنی ہے۔ موجودہ دنیا ایک امتحانی دنیا (testing ground) ہے۔ اس لیے ضروری تھا کہ وہ غیر معیاری دنیا (perfect world) ہو۔ اگر وہ معیاری دنیا ہو تی تو انسان کو جانچنےکے لیے امتحان گاہ (testing ground) نہیں بن سکتی۔موجودہ دنیا کے غیر معیاری ہونے کی وجہ سے انسان کو یہاںبار بار مسائل (problems) کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ یہی وہ مسائل ہیں جو انسان کے لیے یہ موقع فراہم کرتے ہیں کہ وہ اپنے عمل سے یہ ثابت کرےکہ دو انتخابات میں سے کس انتخاب کو وہ لیتا ہے، اور کس انتخاب کو چھوڑدیتا ہے۔ اگر دونوں دنیائیں یکساں طور پر معیاری ہوتیں تو یہاں وہ عمل (process) جاری نہیں ہوسکتا تھا، جہاں انسان کو مختلف قسم کے چیلنج پیش آئیں۔ یہ در اصل دونوں دنیاؤں کا فرق ہے جس کی وجہ سے بار بار یہاں چیلنج کی صورت حال پیش آتی ہے۔
چیلنج کی صورتِ حال کا نتیجہ یہ ہے کہ اس کی وجہ سے انسان کا ذہن بار بار ٹریگر (trigger) ہوتا رہتا ہے، انسان کے ذہن میں بار بار برین اسٹارمنگ (brainstorming) ہوتی ہے، انسان کے اندر چھپے ہوئے امکانات (potential) جاگتے ہیں۔ اس کی وجہ سے انسان کا ذہن کبھی جمود (stagnation) کا شکار نہیں ہونے پاتا۔ اس کی وجہ سے بار بار ایسا ہوتا ہے کہ انسان کو یہ موقع ملتا ہے کہ وہ اپنے ذہن کو کس رخ پر استعمال کرے،مثبت رخ پر یا منفی رخ پر۔
انسان کے لیے جو مستقبل مقدر کیا گیا ہے۔ اس کے مطابق انسان کو یہ کرنا ہے کہ وہ اپنے آپ کو ایک ترقی یافتہ شخصیت (developed personality) بنائے۔ یہی ترقی یافتہ شخصیت ہے جس کو قرآن میں مزکّی شخصیت کہا گیا ہے۔ یہ مزکّی شخصیت آسانی کے حالات میں نہیں بن سکتی تھی، وہ صرف مشکل حالات میں بننے والی تھی۔ اس لیے خالق نے کائنات میں یہ بامعنی فرق رکھا۔ مزکّی شخصیت وہ ہے جو خود تیار کردہ شخصیت (self-made personality) ہو۔ یہ وہ انسان ہے جو خود دریا فت کردہ معرفت پر کھڑا ہوتا ہے۔ یہ وہ انسان ہے جو اپنے عمل سے یہ ثابت کرتا ہے کہ وہ ماسٹر آف سچویشن (master of situation) تھا، نہ کہ سبجکٹ آف سچویشن۔
موجودہ دنیا آخرت کی دنیا کی نرسر ی (nursery)ہے۔ نرسری وہ ابتدائی مقام ہے جہاں چھوٹے پودوں کو اگایا جاتا ہے تاکہ بعد کوان کو بڑے باغ میں نصب کیا جائے:
Nursery: a place where young plants and trees are grown for planting elsewhere.
موجودہ دنیا کو اس طرح بنایا گیاہے کہ وہ انسان کے لیے ابتدائی نرسری کا مقام بن سکے۔ اور آخرت کی دنیا میں جنت کو اس طرح معیاری انداز میں تعمیر کیا گیا ہے کہ وہ انسان کے لیے ہیبیٹاٹ (habitat) بن سکے۔ تاہم اس ہیبیٹاٹ میں ہر انسان کو عمومی بنیاد پر داخل نہیںکیا جائے گا، بلکہ صرف منتخب بنیاد پر داخل کیا جائے گا۔ یعنی ہر انسان کی پچھلی زندگی کے ریکارڈ (record) کو دیکھا جائے گا۔ اس سابقہ ریکارڈ میں جو مرد یا عورت قابل انتخاب قرار پائیں گے، ان کو آخرت کے ہیبیٹاٹ (جنت) میں باعزت طور پر داخلہ کا موقع دیا جائے گا۔
خالق کے تخلیقی نقشہ (creation plan) کے مطابق یہی دونوں دنیاؤں کی حیثیت ہے۔ یہ خالق کا اپنی تخلیق کے بارے میں فیصلہ ہے ۔ اس فیصلہ میں کبھی کوئی تبدیلی ہونے والی نہیں۔ انسان کو اپنے ذاتی عمل کے بارے میں اختیار حاصل ہے، لیکن انسان کو یہ اختیار ہرگز حاصل نہیں کہ وہ خالق کے نقشے میں کوئی تبدیلی کرے یا اس کو قبول کرنے سے انکار کردے۔ انسان کو بہر حال اسی تخلیقی نقشے کے مطابق یا تو اپنے آپ کو کامیاب بنانا ہے یا ہمیشہ کے لیے ناکامی کے گڑھے میں ڈال دینا ہے۔
واپس اوپر جائیں

اعتماد علی اللہ

خود اعتمادی یا الثقۃ بالنفس(self confidence) کی اصطلاح قرآن یا حدیث میں استعمال نہیں ہوئی ہے۔ اس کے بجائے قرآن و حدیث میں جو لفظ استعمال ہوا ہے، وہ توکل علی اللہ کا لفظ ہے۔ یہ فرق کوئی سادہ بات نہیں۔ یہ ایک بے حد اہم فرق ہے۔ خود اعتمادی کا لفظ ایک ڈسپٹو (deceptive) لفظ ہے۔ اس سے سارا فوکس اپنی ذات پر چلاجاتا ہے، جس کا نتیجہ فخر (pride) ہوتا ہے۔ اس کے برعکس، اگر آپ توکل علی اللہ کا لفظ بولیں تو آپ کا سارا فوکس اللہ پر قائم رہے گا، اور اس کے نتیجے میں آپ کے اندر تواضع (modesty) پیدا ہوگی۔
غور کرنے سے سمجھ میں آتا ہے کہ خود اعتمادی کا کام اصلاً صرف ایک ہے۔ وہ یہ کہ خود اعتمادی آپ کو پہلے قدم (first step) کی ہمت دیتا ہے۔ اس کے بعد سارا کام قوانین فطرت کے تحت انجام پاتا ہے، جو کہ خالق نے اس دنیا میں قائم کیا ہے۔ یہ کہنا صحیح ہوگا کہ کسی معاملے میں خود اعتمادی کا حصہ ایک فیصد ہے، اور قوانین فطرت کا حصہ ننانوے فیصد۔
خود اعتمادی بظاہر ایک اچھی صفت ہے، لیکن اجتماعی زندگی میں وہ اکثر مسئلہ پیدا کرنےکا سبب بن جاتی ہے۔ جس آدمی کے اندر خود اعتمادی ہو، وہ اکثر شعوری یا غیر شعوری طور پریہ سمجھ لیتا ہے کہ کام جو ہوا ہے، وہ صرف اس کی وجہ سے ہوا ہے۔ اس بنا پر وہ چاہنے لگتا ہے کہ کام کا سارا کریڈٹ صرف اس کو ملے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ وہ اجتماعیت کا ایک پرابلم ممبر بن جاتا ہے۔ وہ جب دیکھتا ہے کہ اس کو سارا کریڈٹ نہیں مل رہا ہے تو وہ منفی سوچ میں مبتلا ہوجاتا ہے۔ وہ اس قابل نہیں رہتا کہ اجتماعی زندگی میںجو رول اس کو ادا کرنا تھا، اس رول کو وہ بخوبی طور پر ادا کرسکے۔اس کے برعکس، توکل علی اللہ یا اعتماد علی اللہ کی نفسیات سے انسان کے اندر ہر قسم کے مثبت اوصاف (positive qualities) پیدا ہوتی ہیں۔ وہ اجتماعی زندگی کا ایک صحت مند ممبر بن جاتا ہے۔ وہ اس قابل ہوجاتا ہے کہ وہ اجتماعی زندگی میں اپنے مطلوب رول کو بخوبی طور پر ادا کرسکے۔
واپس اوپر جائیں

ختم نبوت

قرآن میں یہ اعلان کیا گیا ہے کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم پر نبوت ختم ہوگئی۔ اس کا مطلب صرف یہ نہیں ہے کہ آپ کے بعد اب کوئی نبی نہیں آئے گا۔ وسیع تر معنوں میں اس کا مطلب یہ ہے کہ آپ کے بعد انسانی تاریخ ایک نئے دور میں داخل ہوگئی ہے۔ اب کسی انسان کودعویٰ (claim) کی زبان میں بولنے کا حق نہیں ہوگا۔ اب اگر کوئی شخص دین حق کی خدمت کرنا چاہتا ہے تو اس کوصرف یہ کرنا ہوگا کہ وہ مخلصانہ طور پر جس چیز کو اپنی دینی ذمہ داری سمجھے، اس کے لیے وہ اللہ کی مدد کا طالب بنے، اور دعا کرتے ہوئے اس پر عمل شروع کردے۔ اسی کے ساتھ یہ ضروری ہوگا کہ وہ ہر لمحہ اپنی اصلاح کے لیے تیار رہے۔ جب بھی اس پر واضح ہو کہ فہم دین میں اس سے کوئی غلطی ہوئی ہے تو وہ فوراً رجوع کرلے، اور جو دین صحیح اس پر واضح ہوا ہے، دوبارہ اس پر قائم ہوجائے۔
ختم نبوت کا مطلب دعوی کی زبان کا ختم ہونا ہے۔ اب کوئی شخص مدعیانہ زبان بول کر اپنے عمل کا آغاز نہیں کر سکتا۔اجتہاد کا دروازہ اب بھی کھلا ہوا ہے، لیکن مدعیانہ کلام کا دروازہ اب ہمیشہ کے لیے بند ہوچکا ہے۔ مثلا اگر کوئی شخص یہ اعلان کرے کہ میں مہدی موعود ہوں یا میں امام زمانہ ہوں تو اس قسم کا دعویٰ اپنے آپ ہی قابل ردّ قرار پائے گا:
prima facie it stands rejected
اگر کسی شخص کو یہ توفیق ملے کہ وہ دین صحیح کو دریافت کرے، اور اخلاص کے ساتھ وہ اس پر قائم ہوجائے تب بھی اس کو یہ حق نہیں کہ وہ دعویٰ کی زبان بولے۔ باعتبار حقیقت اگروہ ایک ہدایت یاب شخص ہے تو اس کا اعلان صرف آخرت کی عدالت میں کیا جائے گا۔ بطور خود کوئی شخص یہ حق نہیں رکھتا کہ وہ اپنے آپ کو نبی کی مانند ہدایت یاب سمجھے۔پیغمبر اسلام نے کہا تھا: أنا النبی لا کذب (صحیح البخاری، حدیث نمبر 2864)۔ لیکن کسی غیر پیغمبر کو اس طرح کی مدعیانہ زبان میں کلام کرنے کا حق نہیں۔ اب آدمی صرف عمل کا حق رکھتا ہے، دعویٰ کی زبان میں بولنے کا حق کسی کو نہیں۔
واپس اوپر جائیں

ٹرین آف تھاٹ

ایک مومن جس کو اللہ کی دریافت ہوئی ہو، جو کائنات میں اللہ کی نشانیوں کو دیکھتا ہو، جس کو اس کے تدبر نے متوسم (الحجر75:) بنا دیا ہو، ایسا انسان ایک مختلف قسم کا انسان کا ہوتا ہے۔ اس کے ذہن میں ہمیشہ ٹرین آف تھاٹ (train of thought) کا سلسلہ جاری رہتا ہے۔ ہر واقعہ اس کے ذہن کو ٹریگر (trigger) کرتا رہتا ہے۔ اس بنا پر اس کے افکار کا سفر رکے بغیر رات دن جاری رہتا ہے۔
یہی وہ حقیقت ہے جس کو قرآن میں ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے۔ ان آیتوں کا ترجمہ یہ ہے: آسمانوں اور زمین کی پیدائش میں اور رات دن کے باری باری آنے میں عقل والوں کے لئے بہت نشانیاں ہیں۔ جو کھڑے اور بیٹھے اور اپنی کروٹوں پر اللہ کو یاد کرتے ہیں اور آسمانوں اور زمین کی پیدائش میں غور کرتے رہتے ہیں۔ وہ کہہ اٹھتے ہیں اے ہمارے رب، تو نے یہ سب بےمقصد نہیں بنایا۔ تو پاک ہے، پس ہم کو آگ کے عذاب سے بچا (آل عمران 190-191:)۔ اس حقیقت کو سیرت رسول کے حوالے سے ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے:متواصل الأحزان، دائم الفکرة، لیست لہ راحة، طویل السکت، لا یتکلم فی غیر حاجة (شرح السنۃ للبغوی، حدیث نمبر3705)۔ یعنی آپ بے حد سنجیدہ اور مسلسل غور و فکر میں رہتے تھے،آپ کے لیے کوئی راحت نہیں تھی، دیر تک خاموش رہتے، بغیر ضرورت بات نہ کرتے۔
یہی وہ مزاج ہے جو کسی انسان کے اندر وہ اعلیٰ صفت پیدا کرتا ہے جس کو تخلیقی فکر (creative thinking) کہا جاتا ہے۔ تخلیقی فکر والا آدمی ہر آن دنیائے حقیقت کا مسافر بنا رہتا ہے۔ وہ ہر لمحہ معرفت کے نئے آئٹم دریافت کرتا رہتا ہے۔ اس کے نتیجے میں اس کی شخصیت ایک ترقی یافتہ شخصیت (developed personality) بن جاتی ہے۔ یہی ذہنی ارتقا کا اعلیٰ درجہ ہے۔ اس ارتقائی سفر کی لازمی شرط یہ ہے کہ آدمی اپنے آپ کو ہر قسم کے ڈسٹریکشن سے بچائے۔
واپس اوپر جائیں

اسپریچول آؤٹ سورسنگ

آؤٹ سورسنگ ایک جدید تصور ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ایک کمپنی دوسرے کمپنی کے وسائل کو اپنے حق میں استعمال کرے:
Outsourcing means going “out” to find the “source” of what you need.
آؤٹ سورسنگ دراصل استثمار (utilization) کی جدید صورت ہے۔اس لفظ کا باقاعدہ استعمال 1989 میں مغرب میں صنعت و تجارت کے میدان میں شروع ہوا۔ قدیم زمانے میں استثمار کی ایک ہی صورت تھی، اور وہ تھی فوجی استثمار یا سیاسی استثمار۔ یعنی پہلے طاقت کے زور پر دوسروں کے اوپر قبضہ کرنا، اور پھر دوسروں کے وسائل کو اپنے حق میں استعمال کرنا۔
لیکن موجودہ زمانے میں جدید وسائل کی دریافت نے آؤٹ سورسنگ کے تصور کو بدل دیا ہے۔ اب تنظیم (organization) نے یہ ممکن بنادیا ہے کہ فوجی یا سیاسی طاقت کا استعمال کیے بغیر پر امن منصوبہ بندی کے ذریعہ آؤٹ سورسنگ کا فائدہ بڑے پیمانے پر حاصل کیا جائے۔
موجودہ زمانے میں بڑی بڑی کمپنیاں اس طریقے کو وسیع پیمانے پر استعمال کررہی ہیں۔ لیکن ان کی آؤٹ سورسنگ مادی انٹرسٹ کے لیے ہوتی ہے۔ اس کے علاوہ آؤٹ سورسنگ کا ایک اور میدان ہے، اور وہ ہے اسپریچول آؤٹ سورسنگ۔ یعنی دوسروں کے قائم کردہ وسائل کو اپنے روحانی اور ذہنی ارتقا کے لیے استعمال کرنا۔
مثلا آپ ہوائی جہاز کو فضا میں اڑتا ہوا دیکھتے ہیں تو آپ کو یہ آیت یاد آجاتی ہے : وَسَخَّرَ لَکُمْ مَا فِی السَّمَاوَاتِ وَمَا فِی الْأَرْضِ جَمِیعًا مِنْہُ (45:13) ۔یعنی اور اس نے آسمانوں اور زمین کی تمام چیزوں کو تمہارے لیے مسخر کردیا، سب کو اپنی طرف سے۔آپ اس واقعہ کو خالق کی طرف منسوب کردیتے ہیں۔ اور پھر ہوائی جہاز کے ذریعہ آپ تسخیر کی ایک مثال دریافت کرتے ہیں۔ آپ کہتے ہیں کہ رب العالمین کی قدرت کیسی عجیب ہے اس نے مادہ (matter) کو حکم دیا کہ وہ انسان کے حکم سے پرواز کرے۔ تو مادہ انسان کو لے کر فضا میں اڑ کر انسان کو تیز رفتاری کے ساتھ ایک مقام سے دوسرے مقام تک پہنچا رہا ہے، وغیرہ۔
تجارتی آؤٹ سورسنگ کے لیے ضروری ہے کہ آپ کے پاس بہت سے ضروری وسائل موجود ہوں۔ ضروری مادی وسائل کے بغیر آپ کسی کے انفراسٹرکچر سے آؤٹ سورسنگ نہیں کرسکتے۔ مگر اسپریچول آؤٹ سورسنگ کے لیے کسی قسم کی کوئی شرط ضروری نہیں۔ اس کے لیے صرف ایک ہی چیز کی ضرورت ہے، اور وہ ہے آپ کے اندر ارتقا یافتہ ذہن (developed mind) کا موجود ہونا۔
اگر آپ کے اندر ارتقا یافتہ ذہن موجود ہو تو آپ کسی قسم کے ظاہری اسباب کے بغیر ہر واقعہ سے اسپریچول آؤٹ سورسنگ کرسکتے ہیں۔ مادی آؤٹ سورسنگ کی ایک حد ہوتی ہے۔ لیکن اسپریچول آؤٹ سورسنگ کی کوئی حد نہیں۔ اسپریچول آؤٹ سورسنگ کا میدا ن پوری کائنات ہے۔ اسپریچول آؤٹ سورسنگ اپنی نوعیت کے اعتبار سے یونیورسل آؤٹ سورسنگ کے ہم معنی ہے۔
کہا جاتا ہے کہ موجودہ زمانہ کمیونی کیشن (communication) کا زمانہ ہے۔ اس کا مطلب کیا ہے۔ موجودہ زمانےکا کمیونی کیشن دوسرے الفاظ میں آؤٹ سورسنگ کے لیے عالمی وسائل کے استعمال کو ممکن بناتا ہے۔ ابتدائی طور پر انسان اپنے سوچنے کی طاقت کو استعمال کرکے اسپریچول آؤٹ سورسنگ کا عمل شروع کرتا ہے۔ پھر وہ اپنے آس پاس کے وسائل کو اسپریچول آؤٹ سورسنگ کے لیے استعمال کرتا ہے۔ حتی کہ اس کا ذہنی ارتقا (intellectual development) اس کو اس مقام تک پہنچاتا ہے کہ وہ ساری کائنات کو اپنے لیے اسپریچول آؤٹ سورسنگ کا ذریعہ بنا لے۔
اسپریچول آؤٹ سورسنگ کی کوئی حد نہیں۔ جہاز کی پرواز کی ایک حد ہوسکتی ہے، لیکن انسان کی ذہنی پرواز کی کوئی حد نہیں۔ اسپریچول آؤٹ سورسنگ میں وہ چیز بھی پوری طرح شامل ہے جس کو دعوتی آؤٹ سورسنگ کہا جاسکتا ہے۔ موجودہ زمانے میں آؤٹ سورسنگ کے طریقے نے اس کو ممکن بنادیا ہے کہ دعوت کا کام کسی سیاسی طاقت کے بغیر عالمی سطح پر انجام دیا جائے۔
واپس اوپر جائیں

مصیبت کیوں

خالق نے انسان کو احسن تقویم (التین4:) کے ساتھ پیدا کیا۔ اس کے بعد اس کو اسفل سافلین (suffering) میں ڈال دیا۔ یہ معاملہ کسی سزا کے لیے نہیں ہوا، بلکہ رحمت کے لیے ہوا۔ اس لیے کہ انسان کو بے پناہ امکانات (potential) کے ساتھ پیدا کیا گیاہے۔ خالق چاہتا ہے کہ اس کے یہ امکانات واقعہ بنیں۔ اور آزاد انسان کے لیے اپنے امکانات کو واقعہ بنانے کا یہی واحد کورس ہے۔ فطرت کے قانون کے مطابق، مصیبت سے آدمی کی حساسیت جاگتی ہے۔ حساسیت سے سوچ پیداہوتی ہے۔ اور پھر سوچ نئی دریافت تک پہنچتی ہے:
suffering produces sensitivity, sensitivity leads to greater thinking, and thinking results into discovery.
مذکورہ معاملہ کو اس زاویہ سے دیکھیے تو معلوم ہوگا کہ سفرنگ (suffering) انسان کے لیے نعمت (blessing) ہے۔ سفرنگ کا یہ فائدہ ہے کہ آدمی کو یہ موقع ملتا ہے کہ وہ اپنے پوٹنشیل (potential) کو واقعہ (actual) بناسکے۔ یہی وہ واحد طریقہ ہے جس سے انسان کے فطری امکانات ظہور میں آتے ہیں۔ یہ عمل (process) مین (man) کو سوپر مین (superman) بنانے والا ہے۔
تاریخ سے اس کی تصدیق ہوتی ہے۔ تاریخ میں جتنے بڑے بڑے آرٹسٹ ہوئے ہیں، وہ سب سفرنگ سے گزر کر آرٹسٹ بنے ہیں۔مثلاً جان ملٹن (–1608-1674)انگلش زبان کا ایک عظیم شاعر مانا جاتا ہے۔ یہ درجہ اس کو اس کی کتاب فردوس گم گشتہ (Paradise Lost) کی وجہ سے ملا۔ یہ کتاب چھ سال میں مکمل ہوئی ۔ اندھا ہوجانے کی وجہ سے وہ خود اپنے ہاتھ سے لکھ نہیں سکتا تھا۔ اس نے اس کتاب کو املا کرایا:
Milton wrote Paradise Lost entirely through dictation with the help of amanuenses and friends.
واپس اوپر جائیں

راہ عمل

اسلام میں زندگی کا جو تصوردیا گیا ہے، وہ یہ ہے کہ اس دنیا کے بنانے والے نے اس دنیا کو اس طرح بنایا ہے کہ یہاں ہمیشہ عسر کے ساتھ یُسر موجود رہتا ہے۔ ایک اعتبار سے اگر مشکل ہو تو دوسرے اعتبار سے آسانی بھی یہاں ضرور پائی جائے گی۔ اسی کا نام اسلامی حکمت ہے۔ یعنی اسلامی حکمت (Islamic wisdom)کا مطلب ہےعسر میں یُسر کو دیکھنا۔ اس کا تعلق ایک شخص کی ذاتی زندگی سے بھی ہے، اور پوری ملت کی اجتماعی زندگی سے بھی۔
پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی سنتوں میں ایک سنت وہ ہے جو ہجرت کے بعد کے واقعات سے معلوم ہوتی ہے، اور وہ ہے منفی اسباب کے باوجود مثبت بنیاد پر منصوبہ بنانا۔ ہجرت کے بعدمسلمان زخم خوردہ تھے۔ اُس وقت آپ کے لیے ایک آپشن یہ تھا کہ آپ وکٹمائزڈ کمیونٹی(victimized community) کے جذبات (sentiment) کو لے کر اپنا منصوبہ بناتے۔ دوسرا آپشن یہ تھا کہ وسیع تر دنیا میں جو مواقع ہیں، ان کو لے کر منصوبہ بنانا۔ پیغمبر اسلام نے پہلے آپشن کو چھوڑا اور دوسرے آپشن کی بنیاد پر اپنا دعوتی منصوبہ بنایا۔ یہ منصوبہ پوری طرح کامیاب رہا۔
موجودہ زمانے میں دوبارہ مسلمانوں کے سامنے یہی دو آپشن تھے۔ مسلمانوں کی سیاسی بڑائی (political glory) ختم ہوگئی تھی۔ مسلمان اس وقت شکایات (grievances) کی نفسیات میں مبتلا ہوگیے تھے۔ وہ ایک قسم کی وکٹمائزڈ کمیونٹی بن چکے تھے۔ دوسری طرف ملت کے باہر جو دنیا ہے ، اس میں نہایت بڑے بڑے مواقع کھل گیے ہیں۔ اب ایک صورت یہ ہے کہ مسلمانوں کی شکایتی نفسیات کو لے کر ان کا عملی منصوبہ بنایا جائے، اور دوسری صورت یہ ہے کہ دورحاضر کے نئے مواقع کی بنیاد پر مسلمانوں کا ملی منصوبہ بنایا جائے۔پہلی قسم کا منصوبہ سنت رسول کے خلاف ہے۔ اس لیے وہ کبھی کامیاب ہونے والا نہیں، اور دوسرا منصوبہ سنت رسول کے مطابق ہے، اس لیے اس کی کامیابی یقینی ہے۔
واپس اوپر جائیں

صبر کی اہمیت

قرآن کی ایک آیت ان الفاظ میں آئی ہے:وَکَأَیِّنْ مِنْ نَبِیٍّ قَاتَلَ مَعَہُ رِبِّیُّونَ کَثِیرٌ فَمَا وَہَنُوا لِمَا أَصَابَہُمْ فِی سَبِیلِ اللَّہِ وَمَا ضَعُفُوا وَمَا اسْتَکَانُوا وَاللَّہُ یُحِبُّ الصَّابِرِینَ (3:146) ۔ یعنی اور کتنے نبی ہیں جن کے ساتھ ہو کر بہت سے خدا پرستوں نے جنگ کی۔ اللہ کی راہ میں جو مصیبتیں ان پر پڑیں، ان سے نہ وہ پست ہمت ہوئے، نہ انھوں نے کمزوری دکھائی۔ اور نہ وہ دبے۔ اور اللہ صبر کرنے والوں کو دوست رکھتا ہے۔
قرآن کی اس آیت میں سبیل اللہ کے حوالے سے جو بات کہی گئی ہے۔ اس کا تعلق مخصوص طور پر حالت قتال سے نہیں ہے۔بلکہ یہ حکم عام ہے۔یعنی دینی زندگی اختیار کرنے کے بعد دنیا میں جو مصائب و شدائد پیدا ہوتے ہیں، اس پر انھوں نے استقامت کا طریقہ اختیار کیا۔
صبر کا لفظی مطلب برداشت کرنا ہے۔ دانش مند انسان کے لیےیہ برداشت برائے برداشت نہیں ہوتی، بلکہ وہ ایک اسٹراٹیجی (strategy) ہوتی ہے۔ یعنی وقتی صورت حال کو نظر انداز کرتے ہوئے مستقبل کا نقشہ بنانا، وقتی حالات سے اوپر اٹھ کر غیر متاثر ذہن کے ساتھ دوبارہ سوچنا، اور یہ معلوم کرنا کہ پیش آمدہ حالات میں زیادہ موثر عمل کیا ہوسکتا ہے۔ صبر کا مطلب پسپائی نہیں ہے، بلکہ زیادہ بہتر اقدام ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جب ایک طریق عمل کارگر ثابت نہیں ہوا تو اس کے بعد یہ دریافت کرنا کہ دوسرا زیادہ موثر طریقِ عمل کیا ہوسکتا ہے۔
صبرکی حقیقت یہ ہے کہ آدمی حالات کا شکار (victim)نہ بنے، وہ حالات سے غیر متاثر رہ کر سوچے، وہ رد عمل (reaction) سے اوپر اٹھ کر مثبت ذہن کے ساتھ منصوبہ بندی کرے۔ انسان کی زندگی میں ایسی صورتِ حال بار بار پیش آتی ہے۔انفرادی زندگی میں بھی اوراجتماعی زندگی میں بھی۔ اس طرح کی صورتِ حال میں جو شخص مذکورہ معنوں میں صبر کا ثبوت دے، وہی اس دنیا میں کامیاب ہوتا ہے۔
واپس اوپر جائیں

دورِ جدید

نئے زمانے میں جو چیزیں وجود میں آئی ہیں ، ان میں سے ایک جمہوریت (democracy) ہے۔جمہوریت صرف ایک سیاسی نظریہ نہیں، جمہوریت کا تعلق انسان کی پوری زندگی سے ہے۔ جمہوریت نے پہلی بار دنیا میں ہر قسم کی اجارہ داری (monopoly) کومکمل طور پر ختم کردیا۔ جمہوریت کا دور دوسرے الفاظ میں ختم اجارہ داری کا دور (age of demonopolization) ہے۔ جمہوری دور میں ہر چیز ہر ایک کے لیے (everything for everyone) کا نظام رائج ہے۔ جمہوری دور گویامواقع کے انفجار (opportunity explosion) کا دور ہے۔
جمہوریت کو عام طور پر ایک سیاسی نظریہ سمجھا جاتا ہے۔ عملا یہ رائے درست ہے، لیکن حقیقت کے اعتبار سے جمہوریت ایک مکمل کلچر کا نام ہے۔جمہوریت سے پہلے کے دور میں دنیا میں بادشاہت کا نظام قائم تھا۔ بادشاہت کے نظام کے تحت ہر چیز بادشاہ کی اجارہ داری بنی ہوئی تھی۔ مگر جب لمبی جدوجہد کے بعد بادشاہت کا دور ختم ہوا تو یہ صرف ایک سیاسی واقعہ نہ تھا، بلکہ وہ ایک وسیع تر معنوں میں پوری زندگی کا معاملہ تھا۔ اس کے بعد مختلف ہم عصر عوامل کی بنا پر ایسا ہوا کہ بادشاہت کے نظام کا خاتمہ ، اجارہ داری کے نظام کے خاتمہ کے ہم معنی بن گیا۔ جمہوریت نے جس طرح سیاسی اجارہ داری کے کلچر کو ختم کیا اسی طرح فطری طور پر ایسا ہوا کہ اجارہ داری کی دوسری قسمیں بھی ختم ہوگئیں۔
اب اکیسویں صدی میں اجارہ داری کا دور عملاً پوری طرح ختم ہوچکا ہے۔ حقوق انسانی کے موجودہ تصور کے مطابق آج ہر چیز ہر انسان کی ہے۔ اس عموم میں صرف ایک استثنا (exception) ہے، اور وہ تشدد (violence) ہے۔ اگر آپ پر امن رہیں تو آج کی دنیا میں ہر دروازہ آپ کے لیےکھلا ہوا ہے، حتی کہ کوئی بھی دروازہ کسی کے لیے بند نہیں۔ الاّ یہ کہ آدمی اپنی غلطی کی بنا پر کسی دروازے کو خود اپنے اوپر بند کرلے۔
واپس اوپر جائیں

سیکولرزم کیا ہے

سیکولرزم کے بارے میں منصفانہ رائے قائم کرنے کے لیے دو چیزوں میں فرق کرنا ضروری ہے۔ وہ یہ کہ ایک ہے سیکولر فلاسفی، اور دوسری چیز ہے سیکولرپالیسی۔ دونوں کے درمیان واضح فرق ہے۔ جو لوگ اِس فرق کو نہ سمجھیں، وہ سیکولرزم کے بارے میں صحیح رائے قائم نہیں کرسکتے۔
سیکولرفلاسفی ابتداء ً اُن لوگوں کے ذہن کی پیداوار تھی جو ملحدانہ سوچ کا شکار تھے۔ مگر بعد کو فلسفے سے الگ ہوکر سیکولرزم، جمہوری نظام کی عملی پالیسی بن گیا۔عملی پالیسی کی حیثیت سے اُس کا مطلب یہ تھا کہ— مذہبی اُمور کو لوگوں کی انفرادی آزادی کا معاملہ قرار دے دینا، اور مشترک مادّی مفادات کو اسٹیٹ کے دائرے کی چیز سمجھنا۔
قدیم زمانہ مذہبی جبر کا زمانہ تھا۔ موجودہ زمانے میں مذہبی آزادی کو لوگوں کا ایک ناقابلِ تنسیخ حق قرار دے دیا گیا ہے۔ سیکولر پالیسی دراصل لوگوں کی اِسی مذہبی آزادی کا ایک حصہ ہے۔ پہلے زمانے میں یہ طریقہ تھا کہ ایک مذہبی گروہ دوسرے مذہبی گروہ کو آزادی دینے کے لیے تیار نہ ہوتا تھا۔ وہ ان کو مذہبی تعذیب(religious persecution) کا شکار بناتا تھا۔ جدید جمہوریت میںاِس کے برعکس، سیکولر پالیسی کو اختیار کیا گیا، یعنی مشترک مادی امور کو ریاست کے دائرے میں رکھنا اور مذہب اور کلچر کے معاملے میں لوگوں کو کامل آزادی عطا کرنا۔
ہر معاشرے کے لیے ضرورت ہوتی ہے کہ وہاں امن کا ماحول ہو۔ امن کے بغیر کسی بھی قسم کی کوئی ترقی نہیں ہوسکتی۔ سیکولر زم ایک عملی پالیسی کی حیثیت سے قیامِ امن کی یہی تدبیر ہے۔ اِسی تدبیر نے موجودہ زمانے میں ترقی یافتہ ملکوں کو قدیم طرز کی مذہبی لڑائیوں سے بچایا ہے۔ چنانچہ انڈیا سے لے کر امریکا اور برطانیہ تک سیکولر اسٹیٹ کے اصول کو اختیار کیاگیا۔ اِس کا مطلب مذہبی مخالفت نہیں، بلکہ مذہبی عدم مداخلت ہے۔ چناںچہ اِن ملکوں میں ہر مذہبی گروہ کو مکمل آزادی حاصل ہے۔ اِن ملکوں میں جو چیز ممنوع ہے، وہ صرف تشدد ہے، نہ کہ اپنے مذہب پر عمل۔
سیکولر زم کے معاملے میں جو لوگ منفی ذہن رکھتے ہیں، اُس کا سبب یہ ہے کہ وہ دو چیزوں میں فرق نہیں کرتے۔ وہ سیکولر فلاسفی اور سیکولر پالیسی، دونوں کو ایک کرکے دیکھتے ہیں۔ حالاں کہ اِس معاملے میں درست رائے قائم کرنے کے لیے ضروری ہے کہ دونوں کو ایک دوسرے سے الگ کرکے دیکھا جائے۔
سیکولرزم کے بارے میں منفی ذہن رکھنے والے لوگ ایک اور غلط فہمی کا شکار ہیں۔ وہ سیکولر پالیسی کو صرف مشترک مادی امور تک محدود نہیں رکھتے، بلکہ وہ اس کو مذہبی مخالفت کے ہم معنیٰ سمجھ لیتے ہیں۔ حالاں کہ موجودہ زمانے میں سیکولر حکومت کا مطلب مخالفِ مذہب حکومت نہیں ہے، بلکہ اس کا مطلب صرف یہ ہے کہ حکومت مذہبی امور میں عدم مداخلت (non-interference) کی پالیسی کی پابند ہے۔ اِس معاملے میں ساری غلط فہمی اس لیے پیدا ہوئی ہے کہ ان لوگوں نے عدم مداخلت کو مخالفت کے ہم معنیٰ سمجھ لیا۔
اِس معاملے کا ایک پہلو اور ہے۔ وہ یہ کہ مذہبی آزادی کے اصول میں بیک وقت دو قسم کی آزادی شامل ہے— مذہبی عمل اور مذہبی تبلیغ۔ موجودہ زمانے کے تمام سیکولر ملکوں میں یہ دونوں قسم کی آزادی لوگوں کو مکمل طورپر ملی ہوئی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ایک مذہبی گروہ انفرادی طورپر اپنے مذہب پر عمل کرتے ہوئے دوسرے مذہبی گروہوں کے درمیان اپنے مذہب کی پُرامن تبلیغ پوری طرح جاری رکھ سکتا ہے۔ یہ آزادی اِس حد تک حقیقی ہے کہ اِن ملکوں میں بہت سے لوگ اپنا مذہب بدل لیتے ہیں اور ان پر حکومت کی طرف سے کوئی پابندی عائد نہیں کی جاتی ہے۔ مثلاً امریکا میں ہر سال تقریباً ایک لاکھ امریکی، اسلامی مذہب کو اختیار کرتے ہیں۔
اس اعتبار سے دیکھیے تو سیکولر پالیسی کا مطلب یہ ہے کہ کوئی مذہبی گروہ بَر وقت انفرادی دائرے میں اپنے مذہب پر عمل کرتے ہوئے یہ کوشش کرسکتا ہے کہ وہ دوسروں کے فکر اور عقیدے کو بدل سکے۔
واپس اوپر جائیں

دین میں تنگی نہیں

قرآن میں امت مسلمہ کو خطاب کرتے ہوئے ایک آیت آئی ہے۔ اس کا ترجمہ یہ ہے: اور اللہ کی راہ میں کوشش کرو جیسا کہ کوشش کرنے کا حق ہے۔ اس نے تم کو چنا ہے۔ اور اس نے دین کے معاملہ میں تم پر کوئی تنگی نہیں رکھی، تمہارے باپ ابراہیم کا دین۔ اسی نے تمہارا نام مسلم رکھا۔ اس سے پہلے اور اس قرآن میں بھی تاکہ رسول تم پر گواہ ہو اور تم لوگوں پر گواہ بنو۔ پس نماز قائم کرو اور زکوٰۃ ادا کرو۔ اور اللہ کو مضبوط پکڑو، وہی تمہارا مالک ہے۔ پس کیسا اچھا مالک ہے اور کیسا اچھا مدد گار۔ (الحج78:)۔
یہ آیت پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم  کے صرف معاصر اہل ایمان سے متعلق نہیں ہے، بلکہ یہ آیت پوری امت مسلمہ کو خطاب کررہی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ امت مسلمہ کو ایک نئے دور میں دینی کام کرنا ہے۔ یہ دور پچھلے ادوار کے برعکس تنگی کا دور نہیں ہوگا، بلکہ وہ آسانی کا دور ہوگا۔ اس واقعہ کو قرآن کی ایک اور آیت میں دعا کے اسلوب میں اس طرح بیان کیا گیا ہے:وَلَا تَحْمِلْ عَلَیْنَا إِصْرًا کَمَا حَمَلْتَہُ عَلَى الَّذِینَ مِنْ قَبْلِنَا (2:286)۔ اے ہمارے رب، ہم پر وہ بوجھ نہ ڈال جیسا بوجھ تو نے ڈالا تھا ہم سے اگلوں پر۔
مذکورہ آیت میں بتایا گیا ہے کہ امت مسلمہ کا جہاد (مشن) کیا ہوگا۔ وہ مشن یہ ہوگا کہ پیغمبر کے دعوتی کام کو نسل در نسل قیامت تک جاری رکھنا۔ یہ مشن وہی تھا، جو تمام نبیوں کا مشن تھا، یعنی انذار اور تبشیر کا مشن۔ تاریخ کے پچھلے ادوار میں فتنہ (religious persecution) کی وجہ سے ، پچھلے اہل ایمان کو سخت مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ لیکن پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد تاریخ میں ایک نیا دور شروع ہوا، جو مکمل طور پر قدیم قسم کی مشکلات سے پاک تھا۔ اکیسویں صدی میں یہ دور اپنی آخری تکمیل تک پہنچ چکا ہے۔ اب پیغمبر کے دعوتی مشن کو یُسر (آسانی) کے حالات میں انجام دیا جاسکتا ہے، جب کہ قدیم زمانے میں اس کو عُسر (مشکل) کے حالات میں انجام دینا پڑتا تھا۔
واپس اوپر جائیں

اجتہاد کا معاملہ

اجتہاد کا مطلب یہ ہے کہ حالات بدلنے کے بعد ابتدائی حکم کی نئی تطبیق (new application) تلاش کی جائے۔ مثلاً جدید طرز کے صنعتی موزوں کے وجود میں آنے کے بعد اس پر قدیم طرز کے جراب کے حکم کو منطبق کرنا، وغیرہ۔
اجتہاد صحیح بھی ہوسکتا ہے اور غلط بھی۔ لیکن اس اندیشہ کی بنا پر کبھی اجتہاد کے عمل کو روکا نہیں جائے گا۔ صرف یہ کہا جائے گا کہ اجتہاد کے لئے اخلاصِ نیت کو ضروری قراردیاجائے۔ حدیث میں آیا ہے کہ اگر کوئی مومن اجتہاد کرلے اور اس کا اجتہاد درست ہو تو اس پر اس کو دہرا ثواب ملے گا (أصاب فلہ أجران)، اور اگر وہ اخلاص نیت کے باوجود اجتہاد میں غلطی کرجائے تو اس کو اس کے اجتہاد پر ایک ثواب ملے گا (أخطأ فلہ أجر) صحیح البخاری، حدیث نمبر7352۔
تاریخ سے معلوم ہوتا ہے کہ اجتہاد کے معاملہ میں ہمیشہ غلطی کا امکان رہتاہے حتی کہ بڑے بڑے اہل ایمان نے بھی غلطیاں کی ہیں۔ آدمی کو چاہئے کہ جب اس پر اجتہاد کی غلطی واضح ہوجائے تو وہ کھلے طورپر اپنی غلطی کا اعتراف کرے، اور وہ اپنی رائے کو درست کرلے۔
اجتہاد ایک تعمیری عمل ہے۔ اجتہاد سے لوگوں کے اندر تخلیقی سوچ (creative thinking) پیدا ہوتی ہے۔ اس کے برعکس جب اجتہاد کا عمل رک جائے تو یقینی طورپر لوگوں کے اندر ذہنی جمہود (intellectual stagnation) پیدا ہوجائے گا اور ذہنی جمود بلا شبہہ اسلام میں ایک غیرمطلوب چیز ہے۔ جب کوئی آدمی اخلاص نیت کے ساتھ اجتہاد کرے تو فطری طورپر ایساہوگاکہ وہ معاملہ پر گہرائی کے ساتھ غور کرے گا، وہ سنجیدگی کے ساتھ اس کا جائزہ لے گا۔ وہ اس موضوع پر کتابوں کا مطالعہ کرے گا۔ وہ اہلِ علم سے اس موضوع پر تبادلۂ خیال کرے گا۔ یہ تمام چیزیں اخلاص نیت میں شامل ہیں۔ ان چیزوں کا ہونا اخلاص نیت کا ثبوت ہے اور ان چیزوں کا نہ ہونا اس بات کا ثبوت ہے کہ آدمی کے اندر اخلاص نیت (فکری سنجیدگی)موجود نہیں۔
واپس اوپر جائیں

ملت کی اصلاح

قرآن کے مطابق، بعد کے زمانے میں جب ملتِ یہود کا زوال آیا تو اللہ نے ان کے اوپر طاقت ور بندے بھیج دیے (الاسراء 5:)۔یہ واقعہ دوبار ہوا۔ ایک بار 586 ق، م میں بخت نصر (Nebuchadnezzar)تاجدار بابل ونینوا کے ہاتھوں، اور دوسری بار 70ء میں رومی شہنشاہ ٹائٹس (Titus) کے زمانہ میں۔ یہ گویا یہود کے لیے ڈائسپورا (diaspora) میں جانے کا زمانہ تھا۔ یہ یہود کے لیے عذاب یا غضب الٰہی کا معاملہ نہ تھا، یہ در اصل تنبیہ (warning)کا معاملہ تھا۔ یہ اس لیے تھا تاکہ یہود نصیحت پکڑیں اور اپنی اصلاح کریں۔
یہود کی زندگی میں یہ تنبیہی دور لمبی مدت تک جاری رہا۔ اس کے نتیجے میں یہود کے اندر مذہبی اصلاح تو نہیں آئی۔ کیوں کہ زوال کے دور میں انھوں نے جس قومی کلچر کو مذہب کےنام سے اختیار کر رکھا تھا۔ اسی کو وہ موسوی مذہب سمجھتےتھے۔ البتہ سیکولر معنی کے اعتبار سے ان کے اندر بہت بڑی تبدیلی آئی، اور انھوں نے امریکا و یورپ کے ملکوں میں سائنسی تعلیم حاصل کی، اور یہ جانا کہ دورِ جدید کیا ہے۔ یہاں تک کہ سیکولر معنوں میں وہ جدید معیار کے مطابق ایک ترقی یافتہ قوم بن گیے۔ یہود کی تاریخ کا یہ مثبت پہلو موجودہ اسرائیل میں واضح طور پر نظر آتا ہے۔
موجودہ زمانے کے مسلمان بھی اسی تنزل کے دور سے گزر رہے ہیں، اور دوبارہ ان پر اسی طرح اللہ کی طرف سے تنبیہات آ رہی ہیں، جس طرح یہود کے اوپر آئی تھیں۔ موجودہ زمانہ میں جن چیز وںکو ’’اغیار کا ظلم‘‘ کہا جاتا ہے، وہ اپنی حقیقت کے اعتبار سے اغیار کا ظلم نہیں ہے، بلکہ وہ اللہ کی طرف سے آنے والی تنبیہات ہیں۔ تاکہ مسلمان بیدار ہوں اور دوبارہ اصل دینِ اسلام کی طرف لوٹیں۔
لیکن عملاً دوسری بار بھی یہی ہو رہا ہے کہ مسلمانوں کے اندر صحیح معنوں میں دینی بیداری نہیں آرہی ہے۔ کیوں کہ اس وقت ان کے اندر دین اسلام کے نام پر جو قومی کلچر رائج ہے، مسلمانوںنے اسی کو اصل دین محمدی سمجھ لیا ہے۔ اس بنا پر وہ اس کے اوپر شدت کے ساتھ قائم ہیں۔
مگر یہاں مسلمانوں کے ساتھ بھی وہی معاملہ پیش آرہا ہے، جو اس سے پہلے یہود کے ساتھ پیش آیا۔ یعنی ان تنبیہات کے بعد سیکولر بیداری۔ چناں چہ موجودہ زمانے کے مسلمانوں میں یہ منظر دکھائی دے رہا ہے کہ وہ سیکولر تعلیم کی طرف راغب ہورہے ہیں۔ وہ جدید دور میں ترقی یافتہ بننےکی کوشش کررہے ہیں۔ تاہم یہ صرف سیکولر معنی میں ہے۔ یعنی پروفیشنل تعلیم ، سیکولر میدان میں ترقی، اور دورِ جدید میں اپنی جگہ بنانے کی کوشش۔
یہ بات ہر جگہ کے مسلمانوں میں نظر آرہی ہے۔ اگر چہ یہ سیکولر احیاء یہود کےمقابلے میں بہت کم ہے۔ یہود موجودہ زمانے میں سیکولر پہلو سے پورے معنوں میں ایک ترقی یافتہ قوم (developed nation) بن چکے ہیں۔ جب کہ مسلمانوں نے ابھی تک اس راہ میں صرف اپنے سفر کا آغاز کیا ہے۔ دینی شعور کے اعتبار سے ابھی تک ان کے اندر کوئی قابل ذکر احیاء کا واقعہ پیش نہیں آیا۔ تاہم سیکولر اعتبار سے زمانی دباؤ کے نتیجے میں انھوں نے اپنا سفر شروع کردیا ہے، اگرچہ رفتار بہت سست ہے۔
اس معاملے میں اصل غلطی عام مسلمانوں کی نہیں ہے، بلکہ ان کے نام نہاد رہنماؤں کی ہے۔ ان کے رہنما مسلسل طور پر ایک الٹا کام کررہے ہیں۔ مسلمانوں کے اوپر جو تنبیہات آرہی ہیں، وہ اللہ کی طرف سے برائے اصلاح ہیں۔ لیکن مسلم رہنما اپنی بے شعوری کی بنا پر ان خدائی تنبیہات کو دوسری قوموں کے ظلم کے خانے میں ڈالے ہوئے ہیں۔
وہ اپنی تقریروں اور تحریروں کے ذریعہ مسلمانوں کو یہ باور کرارہے ہیں کہ موجودہ زمانے کی غیر مسلم قومیں تمھاری دشمن ہوگئی ہیں۔ وہ تمھارے خلاف سازشیں کررہی ہیں۔ وہ تم کو ترقی کے راستے سے روکے ہوئے ہیں، وغیرہ۔اس معکوس رہنمائی کے اندر دوہرا نقصان پایا ہے۔ ایک طرف یہ کہ یہ رہنمائی مسلمانوں کے اندر اصلاح کا طاقت ور محرک پیدا ہونے میں مستقل رکاوٹ ہے، اور دوسری طرف یہ کہ وہ اللہ کے منصوبہ (scheme of things) میں خلل کے ہم معنی ہے۔
اس طرح یہ رہنما اللہ کے تخلیقی منصوبہ میں مداخلت (intervention) کے مجرم بن رہے ہیں۔یہ اللہ کی سنت ہے کہ جب کوئی امت تنزل کا شکار ہو تو اللہ کی طرف سے اس کے لیے شاک ٹریٹمنٹ کے طور پرتنبیہات آئیں۔ یہ تنبیہات اصلاح کے لیے ہوتی ہیں، لیکن جب ان تنبیہات کو ظلم یا سازش کا نام دیا جائے توان کی تاثیر عملاً ختم ہوجائے گی۔
واپس اوپر جائیں

حالات کا اندازہ

لوہارلوہے کو آگ میں ڈال کر تپاتا ہے۔ یہاں تک کہ لوہا رگرم ہوکر لال ہو جاتا ہے۔ اس وقت لوہار ہتھوڑا مار کر لوہے کو اپنی مرضی کے مطابق بناتا ہے، چپٹا یا گول یا لمبا۔ لوہار اگر لوہے کو گرم کیے بغیر اس پر اپنا ہتھوڑا مارنے لگے تو وہ لوہے کو اپنی مرضی کے مطابق بدلنے میں کامیاب نہ ہو۔ اسی سے انگریزی کی مثل بنی ہے کہ لوہے کو اس وقت مارو جب کہ وہ خوب گرم ہو:
To strike the iron when it is hot
یہی معاملہ انسانی زندگی کا بھی ہے۔ آدمی کو زندگی میں اکثر کوئی اقدام کرنا پڑتا ہے۔ مگر اقدام سے پہلے ضروری ہے کہ حالات کا بھر پور اندازہ کرلیاجائے۔ اگر حالات پوری طرح تیار ہوں تو اقدام مفید ہوگا، ورنہ وہ ناکام ہو کر رہ جائے گا۔
لوہاگرم ہونے پر ہتھوڑا مارنے والااپنے مقصد کو حاصل کرتا ہے۔ جو شخص ٹھنڈے لوہے پر ہتھوڑا مارنے لگے وہ صرف اپنے ہاتھ کو دکھ پہنچائے گا، وہ لوہے کو اپنی مرضی کے مطابق نہیں ڈھال سکتا۔ (ڈائری، 1985)
واپس اوپر جائیں

دورِ زوال کا ایک ظاہرہ

پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم  نے امت کے زوال کے بارے میں پیشین گوئی کے طور پر کہا تھا کہ تم لوگ ضرور پچھلی امتوں کی پیروی کروگے، قدم بقدم۔ یہاں تک کہ اگر وہ لوگ کسی گوہ کے بل میں گھسے ہیں، توتم بھی اس میں گھس جاؤگے (صحیح البخاری، حدیث نمبر7320)۔
گوہ (Monitor Lizard) کے بل میں گھسنا ایک بے عقلی کا کام ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ انھوں نے اگر اپنے دورِ زوال میں کوئی بے عقلی کا کام کیا ہوتو تم اس کو بھی دہراؤگے۔دورِ زوال میں یہ ہوتا ہے کہ لوگوں کے اندر عقلی غور و فکر کا خاتمہ ہوجاتا ہے۔ اس بنا پر وہ اپنے زوال یافتہ مزاج کے تحت ایسے کام کرنے لگتے ہیں، جس کا عقل سے کوئی تعلق نہیں۔
اس کی ایک مثال یہ ہے کہ یہود اپنے دور زوال میں ایک فعل کرتے تھےجس کو فَرضی قصُور وار (scapegoat) ٹھہرانا کہا جاتا ہے۔یعنی اپنی غلطی کو فرضی طور پر کسی دوسرے کے اوپر ڈالنا۔ یہود کے حوالے سے اس معاملے کی ایک مثال بائبل ، عہدنامہ قدیم میں اس طرح آئی ہے:
The other goat, the scapegoat chosen by lot to be sent away, will be kept alive, standing before the Lord. When it is sent away to Azazel in the wilderness, the people will be purified and made right with the Lord. (Leviticus 16:10)
فرضی طور پر کسی دوسرے کو قصور وار (scapegoat) ٹھہرانا موجودہ زمانے کے مسلمانوں میں بہت زیادہ عام ہے۔ موجودہ زمانے کے مسلمان اپنی تمام کمیوں اور غلطیوں کے لیے کسی نہ کسی مسلم دشمن کو دریافت کیے ہوئے ہیں۔ اس کے لیے انھوں نے خود ساختہ طور پر ایک اصطلاح وضع کررکھی ہے، جس کووہ دشمنان اسلام کی سازش کہتے ہیں۔ اسی روش کا دوسرا خود ساختہ نام اسلاموفوبیا (Islamophobia)ہے— اسلاموفوبیا دراصل اسکیپ گوٹ فوبیا (scapegoat) کا دوسرا نام ہے۔ یہ ظاہرہ حدیث رسول کی پیشین گوئی کے عین مطابق ہے۔
واپس اوپر جائیں

امیج بلڈنگ

آج کل ہر پڑھا لکھا مسلمان ایک بات بولتا ہے— اس وقت اسلام کا سب سے بڑا کام امیج بلڈنگ ہے، یعنی بگڑی ہوئی تصویر کو درست کرنا۔ یہ کام بذات خود ایک اہم کام ہے۔ لیکن اسلام کی تصویر بگاڑنے والا کون ہے۔ اس سوال کا جواب ہر ایک یہ دے گا کہ مسلم دشمن طاقتیں اسلام کی تصویر کو بگاڑنے میں لگی ہوئی ہیں۔ یہ اسلا م کے مخالفین کی سازش (conspiracy)کا نتیجہ ہے۔ ہر لکھنے اور بولنے والا مسلمان اس موضوع پر جب لکھتا یا بولتا ہے تو وہ ہمیشہ اسی قسم کی بات کرتا ہے۔ مگر سوال یہ ہے کہ کہنے اور لکھنے والے لمبی مدت سے یہ بات بول رہے ہیں، اور لکھ رہے ہیں، لیکن ان کی ساری کوششیں بے نتیجہ ثابت ہورہی ہیں۔ اس قسم کی باتوں سے اسلام کی تصویر کو درست کرنے میں ایک فی صد بھی کامیابی نہیں ہوئی۔
اس ناکامی کا سبب خود مسلمانوں کا لکھنے اور بولنے والا طبقہ ہے۔ یہ لوگ مفروضہ اسلام دشمنوں کی مفروضہ دشمنانہ باتوں کا انکشاف کرنے میں لگے ہوئے ہیں۔ جب کہ اصل مسئلہ کچھ اور ہے۔ اصل مسئلہ یہ ہے کہ خود مسلمان اسلام کے نام پر غلط کام کرتے ہیں۔ مثلا اپنی قومی لڑائی کو اسلامی جہاد کا نام دینا، وغیرہ۔ اسی کا نتیجہ یہ ہے کہ اسلام کی تصویر لوگوں کی نظر میں بگڑ گئی ۔ اس لیے اس معاملے میں اصلاحی کوشش کا اصل نشانہ مسلمانوں کو بنانا چاہیے ، نہ کہ مفروضہ اسلام دشمن طاقتوں کو۔
امیج بلڈنگ کا کام اگر دوسروں کے خلاف پروٹسٹ سے شروع کیا جائے تو وہ یقینا بے نتیجہ رہے گا۔ صحیح یہ ہے کہ امیج بلڈنگ کے کام کو خود مسلمانوں سے شروع کیا جائے۔ مثلاً لوگوں کو بتایا جائے کہ اسلام اور مسلمان دونوںکا معاملہ ایک دوسرے سے الگ ہے۔مسلمانوں سے یہ کہا جائے کہ تم جہاد کے نام پر قومی لڑائی کو بند کرو۔ تم رسول اللہ کے خلاف گستاخی کے نام پر قتل کا فتویٰ دینااور احتجاج کرنا بند کرو، وغیرہ۔صحیح طریقہ مسئلہ کو حل کرتا ہے، اور غلط طریقہ مسئلہ میں اضافہ کرنے کا سبب بن جاتا ہے۔
واپس اوپر جائیں

بڑھاپا آنے سے پہلے

فطرت کے قانون کے مطابق، انسان اپنی عمر کے تقریبا چالیس سال تک بڑھاپے سے پہلے کے دور میں ہوتا ہے۔ چالیس سال کے بعد اس کے اوپر عملاً بڑھاپے کا دور شروع ہوجاتا ہے، جو قانون فطرت (law of nature) کے تحت کسی بھی وقت اُس کو اِس دنیا سےجدا کردینے والا ہے۔ کسی شاعر نے کہا ہے:
سفینہ بنا رکھیں طوفاں سے پہلے
یہ اصول زیادہ بہتر طور پر انسان کی عمر کے معاملے میں چسپاں (apply) ہوتا ہے۔ یعنی ہر انسان کو چاہیے کہ بڑھاپے سے پہلے کے دورِ حیات میں وہ اپنے آپ کو آخرت کے لیے تیار کرلے۔ کیوں کہ بڑھاپے کے بعد کے دورِ حیات میں کسی کے لیے یہ موقع باقی نہیں رہتا کہ وہ آخرت کے لیے مطلوب قسم کی تیاری کرسکے۔
تاہم چالیس سال کے بعد کسی انسان کے لیے عمر کا جو دور آتا ہے، وہ اس کی زندگی کا بہترین حصہ ہوتا ہے۔ اس دور میں وہ زیادہ سنجیدہ ہوجاتا ہے۔ اس کے اندر پختگی (maturity) آجاتی ہے۔ اس کا ذہنی ارتقا (intellectual development) اپنی تکمیل کے دور میں پہنچ جاتا ہے۔ اس کو ایسے تجربات (experiences) حاصل ہوجاتے ہیں، جو اس کی صحیح طرز فکر کے لیے رہنما بن سکیں۔
چالیس سال کے بعد کسی انسان کی زندگی میں جو دور آتا ہے، وہ اس کے لیے آخرت کی تیاری کا بہترین دور ہوتا ہے۔ اب عملاً وہ فطری انسان (man cut to size)بن چکا ہوتا ہے۔ اب اس کے پاس زیادہ تیار ذہن (prepared mind)ہوتا ہے، جس کی روشنی میں وہ زیادہ درست طور پر اپنے مستقبل کا نقشہ بنا سکے۔چالیس سال کےبعد کی عمر میں زیادہ ممکن ہوجاتا ہے کہ آدمی بے خطا انداز میں اپنے آپ کو آخرت کے لیے تیار کرسکے— دانش مند وہ ہے جو اپنے اس حصۂ عمر کو استعمال کرے، اور غیر دانش مند وہ ہے جو اپنے اس حصۂ عمر کو استعمال کیے بغیرکھودے۔
واپس اوپر جائیں

شادی کا صحیح طریقہ

ہر مسئلے کا یقینی حل ہے، بشرطیکہ مسئلے کو صحیح اصول کے مطابق حل کرنے کی کوشش کی جائے۔ کسی مسئلے کو حل کرنے کی طرف پہلا قدم یہ ہے کہ یہ دریافت کیا جائے کہ جو ہوا اس کا اصل ذمہ دار کون تھا۔ اکثر حالات میں مسئلے کے حل کا آغاز یہ ہوتا ہے کہ آدمی یہ دریافت کرے کہ اصل غلطی خود اس کی ہے، کسی دوسرے کی نہیں۔
مثلا لَو میرج (love marriage)میں نکاح کے وقت شادی کا معاملہ بظاہر محبت کا معاملہ معلوم ہوتا ہے، لیکن نکاح کے بعد شادی کا معاملہ عملاً ذمہ داری کا معاملہ بن جاتا ہے۔ یہ فطرت کا اصول ہے، اور فطرت کے اصول میں کوئی تبدیلی نہیں۔ عملی اعتبار سے دیکھا جائے تو نکاح کا وہی طریقہ درست ہے جس کو ارینجڈ میرج (arranged marriage)کہا جاتا ہے۔ لَومیرج اپنی حقیقت کے اعتبار سے ایک جذباتی میرج ہے، جس کو غلط طور پر لَو میرج کا نام دے دیا گیا ہے۔ لَومیرج کی سب سے بڑی کمزوری یہ ہے کہ اس میں طرفَین کے خاندان کی ذمہ داری عملاً ختم ہوجاتی ہے۔ اب ذمہ داری کا سارا معاملہ صرف دو ناتجربہ کار نوجوانوں کا معاملہ بن جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ لَو میرج بعد کو اکثر ناکام ثابت ہوتی ہے۔
اگر کسی کی لَو میرج پرابلم میرج بن جائے تو اس کے بعد اس کو یہ کرنا چاہیے کہ اپنے مسئلے کا ذمہ دار وہ خود اپنے آپ کو قرار دے، نہ کہ کسی دوسرے کو ۔ ایسا کرنے کے بعد اس کا ذہن صحیح رخ پر کام کرنے لگے گا۔اس کا رویہ حقیقت پسندانہ رویہ بن جائے گا۔ اس کے اندر منفی سوچ باقی نہیں رہے گی۔ اس کا تعلق براہ راست طور پر اللہ سے قائم ہوجائے گا۔ اگر وہ ایسا کرے تو امیدہے کہ دھیرے دھیرے اس کے معاملات درست ہوجائیں گے۔
زندگی کبھی جذبات کی بنیاد پر نہیں چلتی، زندگی ہمیشہ حقائق کی بنیاد پر چلتی ہے۔ انسان کو چاہیے کہ وہ آئڈیلسٹ (idealist)نہ بنے، بلکہ وہ پریکٹکل وزڈم (practical wisdom) کو جانے، اور اس کے مطابق زندگی گزارے۔ جو لوگ اس حقیقت کو نہ جانیں، وہ ہمیشہ شکایت (complaint) میں جئیں گے، وہ اپنی زندگی کو کامیاب زندگی بنانے میں ناکام رہیں گے۔ یہ اصول ایک فرد کے لیے بھی درست ہے، اور پوری قوم کے لیے بھی درست۔
ایک عورت اور ایک مرد کے درمیان فطرت کا ایک اصول ہے۔ نکاح کے ذریعہ زوجین کے درمیان ایک خصوصی تعلق قائم ہوتا ہے۔ دونوں ایک دوسرے کے لیے قریبی طور پر شریک حیات بن جاتے ہیں۔ اس طرح دونوں کو یہ موقع ملتا ہے کہ وہ ایک دوسرے کے لیے فکری ساتھی (intellectual partner) بن کر زندگی کا وہ رول ادا کریں، جو خالق کےنقشے کے مطابق ان سے مطلو ب ہے۔
نکاح کا تعلق دو انسانوں کو یہ موقع دیتا ہے کہ وہ سماج کا ایک مقدس یونٹ بنیں۔ وہ خاندان کی سطح پر پورے سماج کے لیے ایک ماڈل بن جائیں۔ وہ سماج کی تشکیل میں ایک ایسا تعمیری حصہ ادا کریں، جو صرف ایک خاندان کے لیے ممکن ہوتا ہے۔ اگر لوگوں کے اندر یہ شعور پیدا ہوجائے تو ہر سماج ایک درست سماج بن جائے گا— یہی سماجی زندگی کی صالح تعمیر کا واحد طریقہ ہے۔
تیاریٔ ذہن یا نفاذِقانون
عرب ویڈیو ٹیپ کو فیدیو تیب (مسجلۃ تلفزیونیۃ) کہتے ہیں۔ عرب سے آئے ایک شخص نے کہا کہ بعض عرب ملکوں میں سنیما ہاؤس پر پابندی لگادی گئی ہے۔ مگر اس کا نتیجہ یہ ہے کہ ہر گھر میں لوگوں نے وی سی آر لگا لیا ہے، اور اس کے اوپر ہر قسم کی فلمیں دیکھتے ہیں۔ انھوں نے کہا:’’آپ باہر سنیما ہاؤس بند کریں گے تو گھر میں سنیما ہاؤس کھل جائے گا۔‘‘
معاشرہ کا ذہن جب تک تیار نہ کیا گیا ہو تو اوپر سے اصلاحی احکام نافذ کرنے کا نتیجہ ہمیشہ یہی ہوتا ہے۔
(ڈائری، 1985)
واپس اوپر جائیں

عزت نفس

اکثر لوگ خود داری اور عزت نفس (self-respect) کی اصطلاح میں سوچتے ہیں۔ اس سوچ کے تحت وہ کئی بار ایسی روش اختیار کرتے ہیں، جو عملا تکبر (arrogance) کے ہم معنی ہوتی ہے۔ مگر وہ سمجھتے ہیں کہ ہم کو اپنے عزت نفس کی خاطر ایسا کرنا ضروری ہے۔ ایسا نہ کرنے کا مطلب ان کے نزدیک یہ ہوتا ہے کہ آدمی خود اپنی نگاہوں میں اپنے آپ کو ذلیل کرلے۔ مگر یہ سوچ ایک غیر حقیقی سوچ ہے۔
وہ چیز جس کو عزت نفس کہا جاتا ہے، وہ خود حاصل کردہ (self-attained) چیز نہیں ہے۔ بلکہ وہ دوسروں کی عطاکردہ (externally given) چیز ہوتی ہے۔ یہ ایک ایسی چیز جو آپ کو اسی وقت ملتی ہے، جب کہ دوسرے لوگ آپ کو دینے کے لیے تیار ہوں۔
ایسی حالت میں کوئی شخص اگر اپنی کسی روش کے ذریعہ عزت نفس حاصل کرنے کی کوشش کرتا ہے تو وہ ایک غیر حقیقی روش اختیار کرتا ہے۔ کیوں کہ جو چیز دوسروں سےملنے والی ہے ،وہ آپ خود سے اپنے لیے حاصل نہیں کرسکتے۔ ایسا آدمی ایک عمل کرتا ہے، جو اس کے اپنے خیال کے مطابق عزت نفس کے لیے ہوتا ہے، مگروہ عمل دوسروں کی نظر میں تکبر (arrogance) بن جاتا ہے۔ آدمی بطور خود ایک ایسی چیز پانے کی کوشش کرتا ہے جو کسی کو صرف دوسروں سے ملتی ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ فطرت کے قانون کے مطابق، عزت (respect) کسی کو صرف تواضع (modesty ) کے ذریعہ ملتی ہے، کسی اور تدبیر کے ذریعہ نہیں۔ یہی وہ حقیقت ہے جو حدیث میں ان الفاظ میں بیان کی گئی ہے:من تواضع للہ رفعہ اللہ (حلیۃ الاولیاء 7/129 :)۔یعنی جو اللہ کے لیے تواضع اختیار کرتا ہے، اس کو اللہ بلندی عطا کرتا ہے۔ یہ فطرت کا قانون (law of nature) ہے، اور فطرت کا قانون کبھی کسی کے لیےبدلتا نہیں۔ اس دنیا میں کوئی چیز صرف فطرت کے قانون کی پیروی سے حاصل ہوتی ہے، نہ کہ خودساختہ طور پر۔
واپس اوپر جائیں

بے شکایت جینا

شکایت ایک نہایت مہلک عادت ہے۔ لیکن اگر آپ با اصول زندگی اختیار کریں تو آپ کو کسی سے شکایت نہ ہوگی۔بے شکایت بننے کا راز کیا ہے۔ اس کا آسان راز یہ ہے کہ آپ ایک آرٹ کو سیکھ لیں۔ اس آرٹ کوایک لفظ میں شکایت کی مثبت توجیہہ (positive explanation of complaint) کہا جاسکتا ہے۔
اصل یہ ہے کہ شکایت کبھی یک طرفہ نہیں ہوتی، بلکہ وہ ہمیشہ دو طرفہ ہوتی ہے۔ یعنی کچھ آپ نے کیا، پھر کچھ دوسرے نے کیا ۔ اس کے بعد وہ واقعہ دونوں کے لیے شکایت کا سبب بن گیا۔ اگر آپ یہ کریں کہ دوسرے کی کوتاہی پر غصہ ہونے سے پہلے اپنی کوتاہی کو دریافت کریں جو فریق ثانی کے منفی رویہ کا سبب بنی۔ تو آپ فوراً بے شکایت (complaint-free) بن جائیں گے۔ اور بے شکایت زندگی یقیناً تمام انسانی خوبیوں کا واحد راز ہے۔
یہ عام مزاج ہے کہ انسان اپنی کوتاہی کو نظر انداز کرتا ہے، اور دوسرے کی کوتاہی کو زیادہ کرکے دیکھتا ہے۔ یہ دوہری سوچ (double thinking) ہے۔ یہی دوہرا مزاج تمام شکایتوںکا اصل سبب ہے۔ اگر انسان یہ کرے کہ وہ دوسرے کو جس نظر سے دیکھتا ہے، اسی نظر سے وہ اپنے آپ کو بھی دیکھنے لگے تو اچانک شکایت کا خاتمہ ہوجائے گا۔ اس کے بعد ہر سماج مثبت سماج بن جائے گا۔
دنیا کے باغ میں کانٹے بھی ہوتے ہیں، اور پھول بھی۔ لیکن باغ کا کلچر یہ ہے کہ کانٹوں کے باوجود پھول بن کر رہو۔ یہی حال انسانی سماج کا بھی ہوجائے گا۔ انسان بھی اسی کلچر کو اختیار کریں گے کہ وہ بظاہر کانٹوں کے باوجود وہ ایک دوسرے کے ساتھ پھول کی مانند بن کر رہیں۔ جب ایسا ہوگا تو اس کے بے شمار مزید فائدے حاصل ہوں گے۔ سماج کے اندر نفرت اور تشدد کا خاتمہ ہوجائے گا۔ ہر جگہ تشدد کے بجائے امن دکھائی دے گا۔ ہر سماج ایسا بن جائے گاگویا کہ وہ مردوں اور عورتوں کا ایک زندہ باغ ہے۔
واپس اوپر جائیں

انتہا پسندی

انتہا پسندی (extremism)ایک فطری صفت ہے۔ یہ صفت کسی شخص کے اندر کم ہوتی ہے اور کسی شخص کے اندر زیادہ۔ تاہم انتہا پسندانہ مزاج کا ایک تعمیری پہلو ہے اور دوسرا اس کا تخریبی پہلو۔ اس کا تعمیری پہلو یہ ہے کہ آدمی اصول کےمعاملہ میں سخت حسّاس ہو، وہ دوسروں کے حقوق کے معاملہ میں کمی کو گوارا نہ کرے، وہ حق سے انحراف کو دیکھے تو تڑپ اٹھے۔ وہ اپنی غلطی کو شدید طورپر محسوس کرتاہو۔ وہ اپنی کوتاہی کے معاملہ میں اس سے زیادہ شدید ہوجتنا کہ کوئی شخص دوسروں کی کوتاہی کے معاملہ میں شدید ہوتا ہے۔ یہ انتہا پسندی صحت مند انتہا پسندی ہے۔
انتہا پسندی کا دوسرا پہلو یہ ہے کہ وہ منفی رخ اختیار کرے۔ وہ اپنے اس جذبہ کی بنا پر دوسروں سے نفرت کرے۔ وہ دوسروں سے لڑنے کے لیے تیار ہوجائے۔ وہ اصلاح کے نام پر جنگ اور قتل شروع کردے۔ یہ انتہا پسندی کی قابلِ اعتراض صورت ہے۔جب انتہا پسندی اس قسم کی منفی صورت اختیار کرلے تو عملاً وہ ایک برائی (evil) بن جاتی ہے، نہ کہ کو ئی خیر(good)۔
حساسیت (sensitivity) انسان کی خاص صفت ہے۔ اس صفت کا تعمیری استعمال دنیا میں بھلائی لاتا ہے۔ اس کے برعکس جب اس صفت کا غلط استعمال ہونے لگے تو دنیا برائی سے بھر جاتی ہے۔ انتہا پسندی کا مزاج ہمیشہ محاسبہ کا مزاج پیدا کرتا ہے۔ مگر یہ محاسبہ اپنے خلاف ہوناچاہئے۔ اس کے برعکس، اپنی کوتاہیوں سے غافل رہنا اور دوسروں کی کوتاہی پر ان سے لڑائی شروع کردینا، سخت گناہ کی بات ہے۔پہلا کردار اگر ثواب کا موجب ہے تو دوسرا کردار آدمی کو اس قابل بنا دیتا ہے کہ آخرت میں اس کا سخت مواخذہ کیا جائے۔خالق نے کوئی چیز بے سبب پیدا نہیں کی۔ انتہاپسندانہ فطرت کا بھی ایک مقصد ہے۔ وہ یہ کہ آدمی اصول پسندی کے معاملے میں سخت محتاط ہو، لیکن اس فطری جذبے کا غلط استعمال کیا جانے لگے تو وہ خدا کے نزدیک ایک گناہ بن جائے گا۔
واپس اوپر جائیں

صحیح طرز فکر

ابن الاعرابی (وفات231: ھ)کو عربی زبان کا امام کہا جاتا ہے۔ ان کا تعلق عراق سے تھا۔ انھوں نے ایک قدیم عربی قول کو ان الفاظ میں نقل کیا ہے:خذ ما صفا ودع ما کدر(لسان العرب، تحت لفظ الکدر)۔ یعنی جو صاف ہو اس کو لے لو، اور جو صاف نہ ہو اس کو چھوڑ دو۔یہ سادہ الفاظ میں حکمت (wisdom) کی تعریف ہے۔
انسان ایک آزاد مخلوق ہے۔ اس بنا پر انسانی دنیا ہمیشہ افکار کا جنگل رہی ہے۔ افکار کے اس جنگل میں انسان کو سوچنا پڑتا ہے، اور یہ جاننا پڑتا ہے کہ اس کی نسبت سے کون سی بات قابل اخذ ہے اور کون سی بات قابل ترک۔ اس بات کو علمی انداز میں اس طرح کہا جاسکتا ہے کہ حکمت اس صلاحیت کا نام ہے کہ آدمی افکار کے ڈھیر میں متعلق کو دریافت کرے، اور غیر متعلق کو چھانٹ کر الگ کردے:
The ability to discover the relevant after sorting out the irrelevant.
مثلا مغربی تہذیب کو لیجیے۔ جدید مغربی تہذیب میں کچھ چیزیں وہ ہیں جو فطرت کے ابدی قانون پر مبنی ہیں۔ مثلا کشش ارض کا اصول فطرت کا ایک ابدی قانون ہے۔ اس کے مقابلے میں مغربی کلچر ماحول کے اثر سے بنا ہے۔ صاحب فکر آدمی کا کام ہے کہ وہ ان میں تنقیح کرے۔ یعنی خالص کو ردی سے جدا کرکے بیان کرے۔ ایسا کرنے کا نتیجہ یہ ہوگا کہ آدمی کے کلام میں وضوح ( clarity) آئے گا۔ اس کو سننے یا پڑھنے والے آدمی کا ذہن ایڈریس ہوگا۔ وہ فیصلہ کرسکے گا کہ وہ درست طور پر کس طرح سوچے، اور درست طور پر کس طرح اپنے عمل کی منصوبہ بندی کرے۔
اس اعتبار سے کلام کی دو قسمیں ہیں۔ منقح کلام اور غیر منقح کلام۔ منقح انداز میں کلام کرنا ، ایک بے حد مشکل کام ہے۔ یہ کام وہی شخص کرسکتا ہے جو حکیمانہ طرز فکر کا حامل ہو، وسیع مطالعہ کی بنا پر جس کی پہنچ علوم کے سرے تک ہو گئی ہو۔
واپس اوپر جائیں

کرائسس مینجمنٹ

ابوتمام الطائی(188 - 231 ھـ)عربی زبان کا ایک مشہور ادیب اور شاعر ہے۔ اس کی پیدائش شام کی ایک بستی جاسم میں ہوئی۔ ایک بار وہ خراسان جانے کے لیے روانہ ہوئے۔ راستہ میں ہمذان کا علاقہ پڑتا تھا۔ وہاں پر أبو الوفاء ابن سلمة نامی ایک امیر نے ان کو اپنا مہمان بنایا۔ ابھی وہ ہمذان میں ہی تھے کہ شدید برفباری شروع ہوگئی، اور راستہ بند ہوگیا۔ اس موقع پر ابوتمام کو أبو الوفاء ابن سلمة کا کتب خانہ دیکھنے کا موقع ملا۔ یہ کتب خانہ کافی بڑا تھا۔
اس کتب خانے میں جاہلی اور اسلامی ادوار کے عرب شعرا ء کا کلام موجود تھا۔ ابوتمام نے عرب شعرا کے ان مجموعوں کا مطالعہ شروع کیا،اور ان سے منتخب کرکے پانچ کتابیں تیار کیں۔ ان میں سے ایک دیوان الحماسہ ہے۔ابوتمام کا یہ انتخاب، ابتدائی کلامِ عرب کا ایک اہم ماخذ سمجھا جاتا ہے۔
Hamasah is considered one of the primary sources of early Arabic poetry.
آدمی کی زندگی میں اکثر ایسا ہوتا ہے کہ وہ کسی اتفاقی بحران کا شکار ہوجاتا ہے۔ اس کی زندگی کا روٹین معطل ہوجاتا ہے۔ یہ ایک بظاہر ناموافق صورتِ حال ہوتی ہے۔ لیکن اگر آدمی کا ذہن بیدار ہو، وہ کرائسس مینجمنٹ (crisis management)کا فن جانتا ہو تو وہ اپنے وقت کا ایک نیا استعمال دریافت کرسکتا ہے۔ عین ممکن ہے کہ یہ نیا استعمال اس کی زندگی کا سب سے بڑا کارنامہ بن جائے۔ ایک فارسی ضرب المثل اس طرح ہے:
مشکلى نیست کہ آسان نشود ،مرد باید کہ ہراسان نشود
ہر مشکل آسان ہوسکتی ہے، بشرطیکہ آدمی گھبراہٹ میں مبتلا نہ ہو۔ یہ کامیاب زندگی کا ایک اعلیٰ اصول ہے۔ آدمی کے حالات ہمیشہ معتدل اور نارمل نہیں ہوتے۔ زندگی میں اکثر کرائسس کی صورت حال پیدا ہوجاتی ہے۔ آدمی کو چاہیے کہ ایسی صورت حال پیش آنے پر اپنے عمل کا نیا منصوبہ بنائے۔ اس طرح وہ اپنے ناموافق حالات کو موافق حالات میں تبدیل کرلے گا۔
واپس اوپر جائیں

درست فیصلہ

ایک صاحب نے سوال کیا کہ زندگی میں درست فیصلہ (right decision) کیسے لیا جائے۔میں نے کہا کہ درست فیصلہ مطلق معنوں (absolute sense) میں لینا اکثر ممکن نہیں ہوتا۔ اس کا سبب یہ ہے کہ درست فیصلہ لینے کے لیے ضروری ہے کہ آدمی مستقبل کو جانے۔ چوں کہ انسان مستقبل کو نہیں جانتا ،اس لیے معیاری معنوں میں درست فیصلہ لینا بھی انسان کے لیے ایسے حالات میں عملا ممکن نہیں ہوتا۔
درست فیصلہ نہ لے سکنا ،کوئی عیب کی بات نہیں۔ بلکہ یہ ایک رحمت کی بات ہے۔ ضرورت صرف یہ ہے کہ آدمی مثبت ذہن (positive mind) کے ساتھ جینے والا ہو۔ اگر آپ درست فیصلہ نہ لے سکنے کی بنا پر کسی ناکامی سے دوچار ہوجائیں تو ہر گز غمگین نہ ہوں۔ بلکہ صرف یہ سوچیے کہ میرے فیصلہ میں غلطی کہاں تھی۔ اس طرح آپ اس قابل ہوجائیں گے کہ معاملے کے مخفی گوشوں کو سمجھ سکیں، اور اپنے معاملے کی زیادہ بہتر منصوبہ بندی کریں۔
یہ مزاج کسی انسان کے لیے بہت مفید ہے۔ کیوں کہ فیصلہ میں غلطی سے اگر کوئی بات بظاہر بگڑ جائے تو اس کا مطلب صرف یہ ہوتا ہے کہ آپ نے پہلے موقع (first chance) کو کھودیا ہے۔ لیکن جب آپ مثبت سوچ پر قائم ہوں تو آپ کا ذہن فورا یہ دریافت کرلے گا کہ یہاں آپ کے لیے دوسرا چانس (second chance) موجود ہے۔ اس طرح آپ اس قابل ہوجائیں گے کہ دوسرے موقع کو استعمال کرکے بہت جلد اپنے آپ کو کامیاب بنا سکیں، بلکہ شاید پہلے سے زیادہ کامیاب۔
زندگی میں مواقع کبھی محدود نہیں ہوتے۔ مواقع کی تعداد ہمیشہ بے شمار ہوتی ہے۔ آپ اگر ایک موقع کھو دیں تو پیشگی طور پر یہ یقین رکھیے کہ یہاںآپ کے لیے مزید مواقع موجود ہیں، اور ان کو استعمال کرکے از سر نواپنے آپ کو کامیاب بناسکتے ہیں۔ اسی کانام زندگی کی حکمت (wisdom) ہے، اور حکمت ہی کا دوسرانام کامیابی ۔
واپس اوپر جائیں

بہتر کا انتخاب

صحابیٔ رسول عمر و ابن العاص (وفات 642:ء)کے حوالے سے ایک قول کتابوں میں نقل کیا گیا ہے: لیس العاقل الذی یعرف الخیر من الشر، ولکن العاقل الذی یعرف خیر الشرین (المجالسۃ و جواہر العلم،حدیث نمبر 670)۔ یعنی دانش مند وہ نہیں ہے جو خیر اور شر کو جانے، بلکہ دانش مند وہ ہے جو یہ جانے کہ دو شر کے درمیان خیر کیا ہے۔
موجودہ دنیا میں انسان کو مکمل آزادی حاصل ہے۔ اس لیے موجودہ دنیا کا سب سے بڑا مسئلہ آزادی کا غلط استعمال (misuse of freedom) ہے۔ دنیا میں پرابلم آف ایول (problem of evil)کا اصل سبب یہی ہے۔ اس صورت حال کی بنا پر موجودہ دنیا میں کسی کے لیے بھی یہ ممکن نہیں ہوتا کہ وہ اپنے معاملے میں کامل خیر کا انتخاب کرے۔ اس دنیا کے لیے پریکٹکل وزڈم (practical wisdom) یہ ہے کہ آدمی یہ سوچے کہ اس کے اقدام کا نتیجہ کیا نکلے گا۔
اس صورت حال کی بنا پر ایسا ہے کہ موجودہ دنیا میں آدمی کے لیے ہمیشہ کمتر برائی (lesser evil) کے انتخاب کا موقع ہوتا ہے۔ ہمیشہ انسان کے سامنے یہ صورت حال ہوتی ہے کہ وہ دو میں سے ایک کا انتخاب کرے۔ ایسی حالت میں آدمی کے لیے دانش مندی یہ ہے کہ وہ بڑی برائی سے بچے اور چھوٹی برائی کا انتخاب کرے۔ اس اصول کا تعلق خاندانی زندگی سے بھی ہے، سماج سے بھی ہے اور نیشنل لائف سے بھی ۔ اکثر حالات میںا یسا ہوتا ہے کہ آدمی اپنی غیر دانش مندی کی بنا پر ایسا انتخاب (choice) لے لیتا ہے جو اپنے نتیجے کے اعتبار سے بڑی برائی (greater evil) کا سبب بن جاتا ہے۔ آدمی کو چاہیے کہ وہ یا تو اس قسم کے انتخاب کی غلطی نہ کرے یا اگر اس سے ایسی غلطی ہوگئی ہے تو دوسروں کو برا کہنے کے بجائے خود اپنی غلطی کا عتراف کرے۔ اس طرح یہ ممکن ہوجائے گا کہ آدمی کا پہلا اقدام اگر غلط ہوگیا تھا تو وہ دوسری بار صحیح اقدام کرے، وہ اپنی غلطی کی اصلاح کرکے اپنے آپ کو اور دوسروں کو مزید تباہی سے بچالے۔
واپس اوپر جائیں

سوال و جواب

سوال
عام طور پر یہ کہا جاتا ہے کہ مسلمان مورخین نے تاریخ مسلمانان لکھی ہے، تاریخ اسلام نہیں۔میرا سوال یہ ہے اگرتاریخ اسلام لکھی جائے تو اس کے موضوعات کیا ہوں گے۔ (محمد زید،دہلی)
سجواب
تاریخ اسلام دراصل تاریخ پیغمبر کا دوسرا نام ہے۔ رسول اللہ نے اپنی زندگی میں جو کام کیے، وہ اسلام کی تاریخ سے تعلق رکھتے ہیں۔ رسول اللہ نے اپنی زندگی میں جو کام نہیں کیے وہ مسلم تاریخ کا حصہ ہیں، نہ کہ براہ راست طور پر اسلام کی تاریخ کا حصہ۔یہ بات اگر متعین طور پر کہی جائے تو یہ کہنا صحیح ہوگا کہ اسلام کی تاریخ وہ ہے جو تاریخ دعوت ہو۔ جوتاریخ مسلم حکومتوں کی تفصیل بیان کرے، اورجس میں مسلمانوں کی سیاسی سرگرمیوں کی تفصیل ہو، وہ اصلا مسلمانوں کی تاریخ کہی جائے گی، نہ کہ اسلام کی تاریخ ۔
پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کا اصل مشن دعوت الی اللہ تھا۔ دعوت الی اللہ کی نسبت سے جو واقعات پیش آئے وہ اسلام کی تاریخ کا حصہ ہیں۔ ان واقعات کا ذکرغیر تفصیلی انداز میں قرآن میں موجود ہے۔ لیکن جیسا کہ معلوم ہے، بعد کے زمانے میں مسلمانوں میں لڑائیاں ہوئیں۔ انھوں نے سلطنتیں قائم کیں، انھوں نے قلعے اور محلات بنائے، تہذیبی ترقیاں کیں۔ یہ سب بالواسطہ طور پر اسلام کا حصہ ہوسکتے ہیں، لیکن براہ راست طور پر وہ مسلمانوں کی تاریخ کا حصہ ہیں۔
اس حقیقت کا احساس مورخ ابن خلدون (وفات1406:) کو بھی تھا۔ انھوں نے اس کمی کی تلافی کے لیے ایک کتاب لکھی، جس کا نام ہے: کتاب العبر ودیوان المبتدأ والخبر ۔ مگر ان کی یہ کتاب بھی عملاً تاریخ مسلمین بن گئی، وہ تاریخ اسلام نہ بن سکی۔ یہ ضرورت ابھی تک باقی ہے کہ کوئی صاحب علم تمام متعلقہ حوالوں کا از سر نو مطالعہ کرے اور پھر وہ اسلا م کی تاریخ لکھے۔ تاریخ اسلام وہ ہوگی جو پیغمبر اسلام کے مشن کی تاریخ کو بیان کرے۔
واپس اوپر جائیں

خبرنامہ اسلامی مرکز — 249

1۔ 12 نومبر2016 کو ایم سی کے ایس یوگا ودّیا پرانک ہیلنگ ٹرسٹ (MCKS Yoga Vidya Pranic Healing Trust)کی جانب سے تھیاگراج اسٹیڈیم ، دہلی میں امن اور باہمی ہم آہنگی کے موضوع پر ایک پروگرام منعقد کیا گیا تھا۔ اس موقع پر سی پی ایس ممبر مسٹر رجت ملہوترا نے صدر اسلامی مرکز کا پیغام پڑھ کر سنایا۔ صدر اسلامی مرکز کے پیغام کو مذہبی رہنماؤں اور شرکاء نے کافی پسند کیا۔
2۔ 13 نومبر 2016کو کامٹی میں ایک شادی کی تقریب منعقد ہوئی۔ اس میں محمد یونس لٹیانی صاحب (بھوپال) نے مدعوین کے درمیان اردو، ہندی، انگریزی اور مراٹھی قرآن مجید کے نسخے اور دیگر دعوتی لٹریچر تقسیم کیے ۔ ناگپور و کامٹی الرسالہ ٹیم کے ممبران نے اس دعوتی مہم میں اپنا تعاون پیش کیا ۔ اس موقع پر لوگوں نے اپنے تاثرات قلمبند کئے۔ وہ یہ ہیں: میں بہت خوش ہوں کہ پہلی بار کسی بھائی نے مجھےیہ انمول تحفہ دیا ہے(سریندر سنگھ، اونر راج رائل لان، کامٹی)۔ بہت خوشی محسوس ہورہی ہے (وجئے رامبھر، ناگپور)۔اسلامی لٹریچر کو پھیلانے کا یہ بہت ہی unique اور قابل قدر طریقہ ہے، مجھے بہت پسند آیا (محمد ایوب، سابق ڈپٹی منیجر، ایر انڈیا)، وغیرہ۔
3۔ ہم سفر نامی سوشل آرگنائزیشن نے ناکور میں ایک سالانہ جشن کا اہتمام کیا۔ یہ ٹاؤن سہارن پور (مغربی یوپی) سے 36 کلو میٹر کی دوری پر ہے۔ اس میں ضلع کی اہم شخصیات مدعو تھیں۔ اس موقع پر پرسی پی ایس سہارن پور کے ڈاکٹر محمد اسلم خان اور مسٹر محسن بلال کو پیس مشن کے لیے شال، مومنٹو اور سرٹیفکٹ کی صورت میں اعزاز سے نوازا گیا۔ یہ پروگرام 11 نومبر 2016 کو منعقد کیا گیا تھا۔ اس کے علاوہ نومبر کے مہینے میں ہی ڈاکٹر محمد اسلم خان نے اپنے دعوتی ساتھی کے ساتھ ممبئی اور پونے کا دورہ کیا تھا۔ یہاں انھوں نے الرسالہ مشن کے لوگوں سے ملاقات کی اور دعوتی تبادلۂ خیال کیا۔ اس دوران جن معروف لوگوں سے ملاقات اور تعاون حاصل ہوا، وہ یہ ہیں مشہور ریڈیو اناؤنسر امین سیانی، ایڈوکیٹ محترمہ ریکھا کنگر، محترم جوشی اور راہل سیانی، وغیرہ۔
4۔18 نومبر 2016 کو تنوجا بنگال ہینڈ لوم (A Govt. of W.B. Enterprise) نے برلا اکیڈمی آف آرٹس اینڈ کلچر کے تعاون سے برلا اکیڈمی میں ہینڈ لوم کی ترقی کے لیے ایک پروگرام کا انعقاد کیا تھا۔ اس پروگرام کا عنوان ’BALUCHARI Bengal and Beyond‘ تھا۔ اس کا افتتاح مشہور اداکارہ اور ایم پی آف بانکورہ محترمہ من من سین نے کیا۔ محترم سوپن دیب ناتھ مہمان اعزازی تھے۔ ان کے علاوہ اس پروگرام میں کافی تعداد میں اہم شخصیات نے حصہ لیا۔ سی پی ایس ممبر مس شبینہ علی اور شبانہ خاتون نے اس موقع پر لوگوں کے درمیان ترجمہ قرآن اور دیگر دعوتی لٹریچر تقسیم کیے، ساتھ ہی سی پی ایس کے مقاصد سے لوگوں کو واقف کرایا۔ تمام شرکاء نے بہت خوشی کے ساتھ لٹریچر قبول کیا۔
5۔ قارئین الرسالہ حلقہ ناگپور و کامٹی کی ماہانہ میٹنگ بروز اتوار، مورخہ 4 دسمبر 2016، مسجد امان اللہ سیٹھ، مومن پورہ ناگپور میں ہوئی جس میں 8 افراد نے شرکت کی ۔ میٹنگ میں ایک نئے ممبر سید راشد صاحب نے بھی شرکت کی ۔ موصوف اورنگ آباد CPS کے فعال ممبر ہیں ۔فی الحال ملازمت کی وجہ سے ناگپور میں مقیم ہیں ۔ الرسالہ مشن کے تعلق سے اپنے تاثرات کا اظہار کرتے ہوئے انھوں نےکہا کہ ’’میں پہلے ملک کی ایک بڑی جماعت سے جڑا ہوا تھا ۔ اس وقت میرے ذہن میں دوسروں کے خلاف نفرت اور شکایات بھری ہوئی تھیں ۔ لیکن جب میں نے مولانا وحیدالدین خان صاحب کو پڑھا تو یہ ساری منفی باتیں میرے ذہن سے نکل گئیں ۔ اب میری سوچ مکمل طور پر ایک پازیٹو سوچ بن گئی ہے‘‘۔ اس کے علاوہ اس میٹنگ میں دیگر کئی امور پر تبادلہ خیال کیا گیا ۔
6۔ سویڈن کے مسٹر متھیا (Mattias Dahlkvist) صدر اسلامی مرکز کے فکر پر سویڈن کی امیا یونیورسٹی (Umeå University) سے ریسرچ کررہے ہیں۔ دسمبر کے دوسرے ہفتے میں وہ دہلی آئے اور تقریباً ایک ہفتہ دہلی میں ان کا قیام رہا۔ اس دوران انھوں نے صدر اسلامی مرکز سے کئی ملاقاتیں کیں اور اپنی ریسرچ کے لئے ان سےاستفادہ کیا۔
7۔ دورِ جدید کا ایک ظاہرہ بک فیئر بھی ہے۔ اس کے تحت مختلف مقامات پر بک فیئر لگائے جاتے ہیں۔ جہاں بڑی تعداد میں علم دوست حضرات آکر اپنی پسند کی کتابیں حاصل کرتے ہیں۔ سی پی ایس کی نیشنل و انٹرنیشنل ٹیموں نے اور گڈ ورڈ بکس نے ابھی حال میں مختلف بک فیئرمیں اپنے اسٹال لگائےتھے ۔ ذیل میں ان کا ذکر کیا جاتا ہے:
ث17 تا 18 نومبر 2016، کشن گنج، بہار کے معروف انسان اسکول کے گولڈن جبلی کے موقع پر دو روزہ سیمانچل انٹرنیشنل لٹریٍچر فیسٹول کا انعقاد کیا گیا تھا۔ موقع کی مناسبت سے گڈ ورڈ بکس (ڈسٹری بیوٹر) کشن گنج نے یہاں بک اسٹال لگایا ۔ جس میں کثیر تعداد میں مرد، بچے اور خواتین نے بڑی دلچسپی کے ساتھ کتابوں کی خریداری کی۔ اس کے علاوہ CPG ٹیم (بہادر گنج) کی طرف سے نان مسلم بھائیوں اور بہنوں کو ہندی ترجمہ قرآن کے علاوہ خدا کی شرسٹی نرمان یوجنا اور Creation Plan of God جیسے دعوتی لٹریچر دیے گیے جسے انھوں نے نہایت خوشی اور احترام کے ساتھ قبول کیا۔
■ دوحہ (قطر) میں ایک عالمی بک فیئر کا انعقاد 30 نومبر تا 10 دسمبر ہوا۔ اور جدہ بک فیئر 15 دسمبرتا 25 دسمبر 2016 کا انعقادہوا۔ گڈورڈ بکس کی طرف سے دوحہ بک فیر کا انتظام یعقوب عمری صاحب نے سنبھالا۔ اس میں کثرت سے زائرین آئے اور انھوں نے گڈورڈ بکس کی کتابوں اور دعوہ لٹریچر میں کافی دلچسپی لی۔
■ 2تا 4 دسمبر 2016 کو کنڑ ساہیتہ سمیلن کا انعقاد رائچور (کرناٹکا) میں ہوا۔ اس کا انعقاد کرناٹکا حکومت نے کیا۔ تقریباً 400 بک اسٹال اور 150 کمرشیل شاپ نے پورے ہندستان سے شرکت کی۔ تقریباً ایک لاکھ لوگوں نے اس سے استفادہ کیا۔ رائچور ٹیم نے حیدرآباد اور کرناٹک ٹیم کے تعاون سے اپنا اسٹال لگایا۔ اس موقع پرلوگوں کی ایک بڑی تعداد ہمارے اسٹال پر آئی اور سی پی ایس مشن میں اپنی گہری دلچسپی کا اظہار کیا۔
■ کوچی (کیرالا)کے ایرناکولم گراؤنڈ میں 11-2 دسمبر 2016 کو انٹرنیشنل بک فیسٹ منعقد ہوا۔ اس میں مسٹر شبیر علی نے اپنا اسٹال لگایا۔ لوگ کافی تعداد میں اسٹال پر آئے، اور ترجمہ قرآن کے علاوہ دیگر کتابیں حاصل کیں۔
■ سی پی ایس (پاکستان) نے کراچی بک فیئر(19-15دسمبر 2016) میں اپنا اسٹال لگایا۔ اس میں زائرین کی کافی تعداد آئی۔ انھوں نےالرسالہ اور اسپرٹ آف اسلام کے علاوہ صدر اسلامی مرکز کے ترجمہ قرآن اور دیگرلٹریچر کو حاصل کیا۔ کافی تعداد میں لوگوں نے الرسالہ کو سبسکرائب کیا۔ یہ بک فیئر کراچی ایکسپو سینٹر میں لگا تھا۔
■ 15 تا 25 دسمبر 2016 کو حیدرآباد میں کتاب میلے کا انعقاد ہوا۔ اس میں گڈورڈ بکس نے حصہ لیا۔ لوگ کافی تعداد میں اسٹال پر آئے، اور قرآن کے ترجمے (ہندی، انگلش،اردو، تلگو) اوردیگر لٹریچر حاصل کیا۔
■ 25-17 دسمبر 2016 کو بھیونڈی (مہاراشٹر) میں اردو کتاب میلے کا انعقاد عمل میں آیا۔ اس میں الرسالہ قارئین کی جانب سے 6 اسٹال بک کیے گئے تھے۔ دو اسٹال گڈورڈ بکس کے تھے۔ سی پی ایس کی ممبئی ٹیم نے بھی اس میں شرکت کی۔ اس شرکت کا مقصد الرسالہ ریڈر اور دعوتی کام میں دلچسپی رکھنے والے افراد کو تلاش کرنا تھا۔ یہاں ایک صاحب،مسٹر خورشید سے ملاقات ہوئی۔ وہ الرسالہ کے پرانے نسخے تلاش کررہے تھے۔ ان سے الرسالہ مشن کے بارے میں دریافت کیاگیا تو انھوں نے جواب دیا کہ میں مولانا کو بہت زیادہ پسند کرتا ہوں۔ اس کے علاوہ دیگر لوگوں نےبڑی تعدادمیں ترجمہ قرآن حاصل کیا۔صدر اسلامی مرکز کی کتابوں کی مقبولیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ ان کی تقریباً ساری کتابیں فروخت ہوگئیں۔
■ کولکاتا کے حاجی محسن اسکوائر میں مغربی بنگال اردو اکیڈمی نے اردو کتاب میلہ ( 22-13جنوری 2017)کا انعقاد کیا۔ اس موقع پر سی پی ایس( کولکاتا) نے اپنا اسٹال لگا یا۔ یہاں بھی کافی اچھا رسپانس رہا۔
■ دہلی ورلڈ بک فیر(7 تا 15 جنوری 2017) میں سی پی ایس دہلی کی ٹیم نے تمام آنے والوں کے درمیان ترجمہ قرآن اور پیس لٹریچر تقسیم کیا ۔ یہاں سی پی ایس کے رجسٹر میں لوگوں نے اپنے اپنے تاثرات لکھے ۔ مثلاً مس منجو نے لکھا کہ میں نے گزشتہ سال قرآن تقسیم کے بارے میں سنا تھا، اس وقت سے میں انتظار کررہی تھی، آج جیسے ہی شروع ہوا، میں فوراً قرآن لینےکے لیے آگئی۔ یہاں بہت بڑی تعداد میں لوگوں نے قرآن حاصل کیا۔
واپس اوپر جائیں

Wednesday, 1 February 2017

Alrisala February 2017 (الرسالہ فروری)

1

-استقامت کیاہے

2

- ایک سنتِّ رسول

3

- پیغمبر کا نمونہ

4

- امت کا دورِ زوال

5

- والرُجز فاھجر

6

- تاریخ کا سفر

7

- قرآن فہمی

8

- قرآن و سنت کے عجائب

9

- تکرار کی حقیقت

10

- تخلیقی ایمان

11

- اتمام نور

12

- آدم سے مسیح تک

13

- قرآن، کتاب ہدایت

14

- قرآن کا اسلوب

15

- عافیت کی دعا

16

- سزائے قتل

17

- خدا سے ہم کلامی

18

- موقع ومحل کی اہمیت

19

- سکنڈری چوائس

20

- امیج کا مسئلہ

21

- ذہنی تربیت

22

- عدم اطمینان

23

- ایک اجتماعی مسئلہ

24

- غصہ کیوں آتاہے

25

- سوال و جواب

26

- خبر نامہ اسلامی مرکز


استقامت کیاہے

پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو نصیحت کرتے ہوئے کہا:قل ربی اللہ ثم استقم (سنن الترمذی، حدیث نمبر 2410)۔ یعنی کہو کہ اللہ میرا رب ہے اور اس پر جم جاؤ۔ استقامت کا مطلب ہے جم جانا (to stick) ۔ اس کا مطلب ہے ہر حال میں ربانی روش پر قائم رہنا کسی حال میں اپنے قول سے نہ ہٹنا۔ اللہ کو اس طرح رب بنانا کہ وہی انسان کا اصل کنسرن بن جائے۔اصل یہ ہے کہ اللہ کو رب بنانے کی دو صورتیں ہیں۔ایک یہ کہ زبان سے یہ کہہ دینا کہ میںنے اللہ کو اپنا رب بنایا۔ اس کے بعد اس طرح زندگی گزارنا کہ آدمی کا عمل الگ ہو اور اس کا زبانی اقرار الگ۔ ایسے آدمی کا ایمان اللہ کے یہاں معتبر نہیں۔
دوسری صورت یہ ہے کہ آدمی اللہ کو اس طرح اپنا رب بنائے کہ وہی اس کی زندگی کا مشن بن جائے۔ وہ اس کے مطابق سوچے۔ اس کے صبح وشام اس کے مطابق گزریں۔ وہ اسی کے مطابق اپنی زندگی کی منصوبہ بندی کرے۔ وہ اسی کا عامل اور اس کا داعی بن جائے۔ وہ اپنے آپ کو پوری طرح اس میں شامل (involve) کردے۔ یہی دوسری قسم کا انسان وہ ہے کہ جو اللہ کو اپنا رب بنانے کے بعد اس پر قائم ہوجائے۔
استقامت ایک فطری حقیقت ہے۔ ہر انسان اپنی دنیا کے معاملے میں استقامت کا طریقہ اختیار کرتا ہے۔ دنیا میں جو شخص اپنے معاملے میں استقامت کا طریقہ اختیار کرے، وہ کامیاب ہوتا ہے۔ اور جو شخص دنیا میں استقامت کا طریقہ اختیار نہ کرے، وہ ناکام ہوکر رہ جاتا ہے۔
استقامت کا یہی طریقہ آخرت کے معاملے میں بھی مومن کو اختیار کرنا ہے۔ مومن کو چاہیے کہ وہ اپنے ایمانی شعور کو اتنا زیادہ بیدار کرےکہ اس کے ایمان کے ساتھ استقامت کا پہلو شامل ہوجائے۔ ایمان اگر شعوری اقرار ہے تو استقامت ایک شعوری عمل ہے۔ ایمان اور استقامت ، دونوں کے لیے شعوری بیداری لازمی طور پر ضروری ہے۔
واپس اوپر جائیں

ایک سنتِّ رسول

سن چھ ہجری میں پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم فریق مخالف سے امن کا معاہدہ کرنا چاہتے تھے۔ طویل گفت و شنید کے بعد جب معاہدے کی دفعات طے ہوگئیں، اور اس کو کاغذ پرلکھا جانےلگا تو پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے معاہدے کو لکھواتے ہوئے کہا: اکتب یا علی، ہذا ما صالح علیہ محمد رسول اللہ ۔
فریق ثانی کے لیڈر نے فوراً اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ ہم آپ کو رسول اللہ نہیں مانتے۔ آپ محمد رسول اللہ کے بجائے محمد بن عبد اللہ لکھیے، جو کہ ہمارے اور آپ کے درمیان مشترک ہے۔آپ نے بلابحث کہا: امح یا علی، اللہم إنک تعلم أنی رسولک،امح یا علی واکتب، ہذا ما صالح علیہ محمد بن عبد اللہ(مسند احمد، حدیث نمبر3187)۔یعنی اے علی، اس کو مٹادو۔ اے اللہ ، تو جانتا ہے کہ میں تیرا رسول ہوں۔ اے علی، مٹادو اور لکھو، یہ وہ (دفعات) ہیں جن پر محمد بن عبد اللہ نے صلح کیا۔ اس کے بعد صلح کا معاہدہ طے پاگیا۔ اور آپ اپنے اصحاب کے ہمراہ مدینہ واپس آگیے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ معاملہ بلاشبہ اللہ کی رہنمائی کے مطابق تھا۔ اللہ کی رہنمائی کے بغیر آپ ایسا نہیں کرسکتے تھے۔ سورہ الفتح میں اس کی بابت یہ الفاظ آئے ہیں: وَیَہْدِیَکَ صراطًا مُسْتَقِیمًا (48:2)۔ آپ کا یہ عمل بلاشبہ صراطِ مستقیم کا ایک جزء تھا۔ اس لحاظ سے یہ تمام دنیا کے مسلمانوں کے لیے ایک ابدی اصول ہے۔ جس طرح دور اول میں اس اصول کو اختیار کرنے کے نیتجے میں فتح مبین (الفتح1:) حاصل ہوئی۔ اسی طرح بعد کے زمانے میں بھی فتح مبین کو حاصل کرنے کا طریقہ یہی ہے۔ اس کے سوا کوئی دوسرا طریقہ مسلمانوں کو فتح مبین تک پہنچانے والا نہیں۔
منصوبہ بندی کایہ طریقہ ہمیشہ دنیا میں باقی رہتا ہے۔ مثلا موجودہ زمانے میں اہل ایمان یہ چاہتے ہیں کہ ان کو یہ آزادی ہو کہ وہ قرآن کا پیغام ساری دنیا میں کھلے طور پر پہنچائیں۔ لیکن بار بار ایک رکاوٹ پیش آتی ہے۔ وہ یہ کہ آج کا انسان ، اظہار رائے کی آزادی (freedom of expression) کو انسان کا ایک مطلق حق (absolute right)سمجھتا ہے، اور اس کو وہ استعمال کرنا چاہتا ہے۔ حق کے اس استعمال کا دائرہ کبھی پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم تک پہنچ جاتا ہے۔ وہ پیغمبر اسلام کے بارے میں آزادانہ اظہارِ خیال کرتا ہے، اور اس کو اپنا ناقابلِ تنسیخ حق سمجھتا ہے۔ مسلمان اس طرح کے واقعات پر مشتعل ہوجاتے ہیں۔ وہ اس کو شتمِ رسول (blasphemy) قرار دے کر چاہتے ہیں کہ شاتم کو قتل کردیں۔ آج کے لوگوں کے لیے مسلمانوں کی یہ روش قابل قبول نہیں۔ چناں چہ اس پر سخت نزاع شروع ہوجاتی ہے، اور دعوتِ اسلام کا کام جیو پرڈائز (jeopardize) ہوجاتا ہے۔
شتم رسول (blasphemy) پر ہنگامہ کرنا یا شاتم کو قتل کرنے کی کوشش کرنا، اصولاً اسلام کےخلاف ہے۔ قرآن کی کسی آیت یا رسول کے کسی قول میں یہ حکم موجود نہیں۔ تاہم بالفرض اگر کسی کا اصرار ہو کہ یہ اسلام کا ایک حکم ہے تب بھی ضروری ہے کہ مسلمان اس طرح کے واقعے پر مشتعل ہونا مکمل طور پر چھوڑدیں۔ تاکہ دعوتِ اسلام کا کام کسی رکاوٹ کے بغیر جاری رہے۔
رسول کا رسول ہونا بلاشبہ اسلام کا ایک مسلمہ عقیدہ ہے۔ پھر بھی رسول اور اصحابِ رسول نے رسول اللہ کے لفظ کو کا غذ سے مٹادیا۔ اسی سنت پر مسلمانوں کو بھی عمل کرنا ہے۔ ان کو چاہیے کہ وہ اپنی روش کو بدل دیں تاکہ اسلام کا پر امن مشن کسی رکاوٹ کے بغیر مسلسل طور پر جاری رہے۔ اسی روش کا نام حکمت (wisdom) ہے۔ حکمت اسلام کا ایک لازمی اصول ہے۔ حکمت کے بغیراسلام کا مشن کامیابی کے ساتھ جاری نہیں رہ سکتا۔
واپس اوپر جائیں

پیغمبر کا نمونہ

قرآن کی سورہ نمبر 6 میں ایک ساتھ 18 نبیوں کا ذکر ہوا ہے۔ اس کے بعد ارشاد ہے: أُولَئِکَ الَّذِینَ ہَدَى اللَّہُ فَبِہُدَاہُمُ اقْتَدِہْ (الانعام90:)۔ یعنی یہی لوگ ہیں جن کو اللہ نے ہدایت بخشی، پس تم بھی ان کے طریقہ پر چلو۔
قرآن کی اس آیت میں ھدی سےمراد اصلاً عقیدہ نہیں ہے، بلکہ طریقہ کار (method) ہے۔ اللہ کی طرف سے جو پیغمبر دنیا میں آئے، وہ سب یکساں طور پر عقیدہ توحید کے داعی تھے۔ مگر طریقہ کار کا تعلق حالات سے ہوتا ہے۔ اس لیے طریقہ کا ر کے معاملے میں وہ مختلف تھے۔ آیت کا مطلب یہ ہے کہ کسی نبی سے جو طریقہ کا ر ثابت ہو، وہ یکساں طور پر خدائی طریقہ ہے۔ کسی پیغمبر نے اپنے زمانے میں حالات کے اعتبار سے جو طریقہ کار اختیار کیا۔ اگر اسی قسم کے حالات دوبارہ تاریخ میں پیدا ہوں تو دوبارہ وہی طریقہ قابل اختیار ہوجائے گا۔
مثال کے طور پر اسرائیلی پیغمبر حضرت موسیٰ کو لیجیے۔ ان کا زمانہ تیرھویں صدی قبل مسیح کا زمانہ ہے۔ وہ قدیم مصر میں آئے۔ اس وقت وہاں فرعون (Pharaoh) کی حکومت تھی۔ حضرت موسیٰ اللہ کے حکم سے فرعون کے دربار میں گئے۔ وہاں انھوں نے بادشاہ کے سامنے توحید کی دعوت پیش کی۔ بادشاہ ان کی بات سن کر غصہ ہوگیا۔ اور کہا کہ میں تم کو قتل کردوں گا(غافر26:) ۔لیکن پھر فرعون اس پر راضی ہوگیا کہ فوجی میدان کے بجائے، وہ پر امن مقابلے کے میدان میں حضرت موسی کا جواب دے۔
حضرت موسی نے فوراً اس تجویز کو مان لیا۔ انھوں نے یہ نہیں کہا کہ میں تو تمھارا مقابلہ تلوار کے میدان (battlefield) میں کروں گا۔ چناں چہ دونوں فریق کے درمیان یہ مقابلہ پر امن میدان میں ہوا۔ حضرت موسی اس مقابلہ میں پوری طرح کامیاب رہے۔ موجودہ زمانے میں مسلمانوں کے لیے پرامن میدان میں عمل کرنے کا موقع پوری طرح کھلا ہوا ہے۔ ایسی حالت میں اگر وہ پر امن میدان کو چھوڑ کر تشدد کے میدان میں اپنا عمل شروع کریں تو یہ پیغمبر کے نمونے کے سراسر خلاف ہوگا۔
حضرت موسی کے زمانے میں فرعو ن نے یہ کیا تھا کہ وہ پیغمبر کا مقابلہ فوجی میدان کے بجائے پیس فل میدان میں کرے۔اور نتیجہ یہ ہوا کہ اس مقابلے میں حضرت موسی کو مکمل کامیابی حاصل ہوئی۔ اس کی تصویر قرآن میں ان الفاظ میں دی گئی ہے: فَإِذَا ہِیَ تَلْقَفُ مَا یَأْفِکُونَ ( 7:117) ۔
موجودہ زمانے میں اس نوعیت کا واقعہ زیادہ بڑے پیمانے پر پیش آیا ہے۔ جیسا کہ معلوم ہے، موجودہ زمانے میں اقوامِ متحدہ (UNO) نے تمام قوموں کے اتفاق رائے سے یہ فیصلہ کیا ہے کہ قومی تعلقات میں اب جنگ مکمل طور پر ایک متروک طریقہ (abandoned method) ہے۔ اب تمام قومی نزاعات کا فیصلہ صرف پرامن گفت وشنید (peaceful negotiation) کے ذریعے کیا جائے گا۔ معاملے کے کسی فریق کو یہ حق نہیں ہوگا کہ وہ جنگ کے ذریعے تصفیہ کرنے کی کوشش کرے۔
ایسی حالت میں موجودہ زمانے کے اہل ایمان پر فرض کے درجے میں ضروری ہوگیا ہے کہ وہ جنگ کا طریقہ ہمیشہ کے لیے چھوڑ دیں۔ وہ ہرمعاملے کو پر امن گفت و شنید کے ذریعے طے کرنے کی کوشش کریں۔
موجودہ زمانے کے جو مسلمان جنگ کا طریقہ اختیار کیے ہوئے ہیں، وہ ایسا ہی ہےجیسے حضرت موسی کے سامنے امن کا طریقہ کھلا ہوا تھا۔ مگر اس کو چھوڑ کر وہ یہ کہتے کہ میں تو تلوار کے ذریعے فرعون اور اس کے گروہ کا مقابلہ کروں گا۔ اگر حضرت موسی ایسا کرتے تو ان کو اللہ کی مدد حاصل نہ ہوتی۔ کیوں کہ اللہ کی مدد اللہ کے طریقے کو اختیار کرنے پر آتی ہے، کسی اور طریقے پر نہیں۔
موجودہ زمانے میں مسلمانوں کی کوششیں مسلسل طور پر ناکام ہورہی ہیں۔ اس کا سبب یہی ہے کہ انھوں نے اپنی کوشش کے لیے اللہ کا طریقہ اختیار نہیں کیا۔ اس لیے وہ اللہ کی مدد سے محروم ہوگیے۔ اگر مسلمان کامیابی چاہتے ہیں تو ان کو تشدد کا طریقہ چھوڑ کر امن کا طریقہ اختیار کرنا ہوگا۔
واپس اوپر جائیں

امت کا دورِ زوال

ایک حدیث رسول ان الفاظ میں آئی ہے: یوشک أن یأتی على الناس زمان لا یبقى من الإسلام إلا اسمہ، ولا یبقى من القرآن إلا رسمہ، مساجدہم عامرة وہی خراب من الہدى، علماؤہم شر من تحت أدیم السماء من عندہم تخرج الفتنة وفیہم تعود۔ (شعب الایمان للبیہقی، حدیث نمبر1763)۔ یعنی قریب ہے کہ لوگوں پر ایسا زمانہ آئے جب کہ اسلام میں سے اس کا صرف نام باقی رہے ، اور قرآن میں سے صرف اس کا نشان باقی رہے ۔ ان کی مسجدیں آباد ہوں گی لیکن وہ ہدایت سے خالی ہوں گی۔ ان کے علماء آسمان کے نیچے سب سے بری مخلوق ہوں گے، ان سے فتنہ نکلے گا، اور انھیں کی طرف فتنہ لوٹے گا۔
یہ حدیث رسول اپنے مفہوم میں بالکل واضح ہے۔ امت کے بعد کے دور کے بارے میں اس حدیث میں جو خبر دی گئی ہے، وہ اس وقت کی بات ہے جب کہ امت قانونِ فطرت کے مطابق زوال کا شکار ہوجائے گی۔ اس زمانے میں دین کا صرف فارم باقی رہے گا، اسپرٹ کے اعتبار سے امت کے افراد بالکل خالی ہو جائیں گے۔ اس زمانے کے علماء غلط فتوے دیں گے، اور غلط تقریریں کریں گے۔ اس کے نتیجے میں جو فساد برپا ہوگا ، اس کا شکار پہلے عوام ہوں گے اور اس کے بعد خود علماء اس کی زد میں آجائیں گے۔
علماء کے غلط فتووں اور غلط تقریروں سے جو چیزیں پیدا ہوں گی۔ ان میں سے ایک شدت پسندی (غلو) ہوگا۔ یہ غلو پہلے اعتقادی شدت کی شکل میں پیدا ہوگا۔ پھر بڑھتے بڑھتے امت کے افراد آپس میں لڑنے لگیں گے۔ یہ آپس کی لڑائی مزید بڑھے گی۔ یہاں تک کہ خود علماء اس کی زد میں آجائیں گے۔اس وقت علماء جاگیں گے۔ مگر برائی اتنی بڑھ چکی ہوگی کہ ان کا جاگنا ، نہ ان کے کچھ کام آئے گا، اور نہ دوسروں کو اس سے کچھ فائدہ حاصل ہوگا۔ یہ زوال ہر قوم پر آتا ہے۔ اس میں کسی قوم کا کوئی استثناء نہیں۔
واپس اوپر جائیں

والرُجز فاہجر

پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کا مشن توحید کا مشن تھا۔ آپ نے اپنا مشن 610 عیسوی میں قدیم مکہ میں شروع کیا۔ اس وقت ابتدائی دور میں آپ کے لیے قرآن میں جو ہدایات نازل ہوئیں، ان میں سے ایک یہ تھی: وَالرُّجْزَ فَاہْجُرْ (74:5)۔ یعنی رُجز کو چھوڑ دو۔ رجز کا لفظی مطلب گندگی (dirt) ہے۔ یہ لفظ یہاں آپ کے ذاتی کردار کے اعتبار سے نہیں ہے، بلکہ دعوت کےطریقہ کار کے اعتبار سے ہے۔
قدیم مکہ میں رُجز کو چھوڑنے کا مطلب کیا تھا۔ اس کو پیغمبر اسلام کی عملی سیرت کی روشنی میں متعین کیا جائے تو وہ یہ ہوگا— مکہ میں اگر چہ تمھارے لیے ناموافق حالات ہیں، مگر تم اس معاملے میں حکیمانہ طریقہ اختیار کرو، اور چیزوں کو غلط زاویۂ نظر (wrong angle) سے دیکھنا چھوڑ دو۔
اس معاملے کی ایک مثال سورالانشراح میں ان الفاظ میں ملتی ہے: وَرَفَعْنَا لَکَ ذِکْرَکَ (94:4)۔ یعنی تمھارے مشن کے خلاف لوگ پروپیگنڈہ کررہے ہیں،لیکن تم اس پروپیگنڈے کو پبلسٹی (publicity)کے معنی میں لو، اور اس کو اپنے دعوتی مشن کے لیے ایک موقع (opportunity) کے طور پر استعمال کرو۔
اس معاملے کی ایک اور مثال یہ ہے کہ قدیم مکہ میںلوگوں نے مقدس کعبہ کے اندر تقریباً تین سو ساٹھ بت رکھ دیے تھے۔ یہ بظاہر ایک اشتعال انگیز بات تھی۔ لیکن پیغمبر اسلام اس پر مشتعل نہیں ہوئے۔ آپ نے وقتی طور پر اس کو نظر انداز کیا۔ اس کے بجائے آپ نے یہ کیا کہ کعبہ میں بتوں کی موجودگی کی بنا پر وہاں ہر روز مشرکین کا جو اجتماع ہوتا تھا، اس کو اپنے لیے بطور آڈینس (audience)استعمال کیا۔ آپ خاموشی کے ساتھ وہاں جاتے اور لوگوں کو قرآن سناتے۔ روایات میں اس واقعے کو ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے: وعرض علیہم الإسلام، وتلا علیہم القرآن(سیرت ابن ہشام، مصر 1955، 1/428)۔
واپس اوپر جائیں

تاریخ کا سفر

کائنات اور انسان کی صورت میں جو عظیم دنیا ہمارے سامنے ہے، وہ بلاشبہ ایک خدائی منصوبے کے تحت بنائی گئی ہے۔ اور خدائی منصوبے کے مطابق، اس کا ایک بامعنی انجام ہونا مقدر ہے۔ یہ بلاشبہ سنجیدہ مطالعے کا ایک موضوع ہے۔ اس کا تعلق ہر فرد سے بھی ہےاور پوری انسانی تاریخ سے بھی۔ اس معاملے میں متعلق لٹریچر (relevant literature)کے گہرے مطالعے سے جو تصویر بنتی ہے، اس کو یہاں درج کیا جاتا ہے۔
علمی مطالعہ کے مطابق، اللہ رب العالمین نے موجودہ کائنات کا آغاز تقریباً تیرہ بلین سال پہلے کیا۔ اس مدت میں منصوبہ بند اندازمیں تدریجی (gradually) طور پر پوری کائنات وجود میں آئی ۔ اس مدت کو توسیعی تقسیم (broad division)کے مطابق چھ بڑے ادوار (periods) میں تقسیم کیا جا سکتا ہے۔
1 - اس سلسلے میں معلوم طور پر، پہلا واقعہ جو اس کائنات میں پیش آیا، وہ یہ تھا کہ خالق نے تقریبا 13 بلین سال پہلے خلا (space) میں ایک عظیم دھماکہ مینج (manage) کیا۔ اس دھماکہ کو انگلش عالم فلکیات (astronomer) فریڈ ہائل (Fred Hoyle)نے 1949 میں بگ بینگ (Big Bang) نام دیا ۔یہ بگ بینگ اب سائنسی طور پر ایک ثابت شدہ واقعہ (established fact)بن چکا ہے۔ اس دھماکہ سے موجودہ کائنات کا آغاز ہوا۔ اس واقعہ کا ذکر قرآن میں ان الفاظ میں آیا ہے:أَوَلَمْ یَرَ الَّذِینَ کَفَرُوا أَنَّ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ کَانَتَا رَتْقًا فَفَتَقْنَاہُمَا (21:30) ۔یعنی کیا انکار کرنے والوں نے نہیں دیکھا کہ آسمان اور زمین دونوں باہم ملے ہوئے تھے ، پھر ہم نے ان کو کھول دیا۔
اس کا مطلب سائنسی معلومات کی روشنی میں یہ ہے کہ ابتدا میں ایک عظیم گولا(super atom) تھا، جس کے اندر کائنات کے تمام پارٹیکل موجود تھے۔ اس دھماکے کے بعد بگ بینگ کے پارٹیکل (particles)وسیع خلا میں تیزی سے پھیل گیے۔ اور پھر ایک حکیمانہ منصوبہ کے تحت مختلف مراحل سے گزرتے ہوئے ان ذرات(particles) کے مجموعے سےموجودہ کائنات وجود میں آئی۔
2 - مذکورہ تدریجی عمل کا دوسرا بڑا واقعہ وہ ہے جس کو سولر بینگ (Solar Bang) کہا جاسکتا ہے۔ اس کے بعد لمبے عمل (process)کے تحت شمسی نظام اپنے تمام سیاروں (planets) کے ساتھ وجود میں آیا۔ اس کائناتی واقعہ کا ذکر قرآن میں ان الفاظ میں کیا گیا ہے: وَہُوَ الَّذِی خَلَقَ اللَّیْلَ وَالنَّہَارَ وَالشَّمْسَ وَالْقَمَرَ کُلٌّ فِی فَلَکٍ یَسْبَحُونَ (21:33)۔ یعنی اور وہی ہے جس نے رات اور دن اور سورج اور چاند بنائے۔ سب ایک ایک مدار (orbit)میں تیر رہے ہیں۔
یہ شمسی نظام ایک عظیم کہکشاں (galaxy) کے ایک کنارے پر قائم کیا گیا ہے، جس کو ملکی وے (Milky Way) کہا جاتا ہے۔ اس طرح شمسی نظام کو کائنات میں ایک محفوظ علاقہ (area) مل گیا۔اس حقیقت کا اشارہ قرآن کی اس آیت میں کیا گیاہے: فَلَا أُقْسِمُ بِمَوَاقِعِ النُّجُومِ، وَإِنَّہُ لَقَسَمٌ لَوْ تَعْلَمُونَ عَظِیمٌ (56:75-76) ۔یعنی میں قسم کھاتا ہوں ستاروں کے مواقع کی۔ اور اگر تم جانو تو بیشک یہ بہت بڑی قسم ہے ۔یہاں مواقع سے مراد محل وقوع ہے۔ اس میں اس حقیقت کی طرف اشارہ ہے کہ شمسی نظام کو نہایت بامعنی طور پرعظیم ملکی وے کے ایک کنارے پر قائم کیا گیا ہے۔ اس محل وقوع کی بنا پر شمسی نظام کو ایک محفوظ علاقہ (safe area) مل گیا ، جو انسان جیسی مخلوق کی زندگی کے لیے بے حد ضروری ہے۔
3 - کائنات میں تیسرا واقعہ وہ ہے جس کو واٹر بینگ (water bang) کہا جاسکتا ہے۔ یعنی سیارۂ ارض کا ٹھنڈا ہونا اور پھر زمین کے اوپر پانی کے ذخائر کا وجود میں آنا، اور پھر پانی کی وجہ سے ہر قسم کی زندگیوں کا پیدا ہونا۔ اس واقعہ کا ذکر قرآن میں ان الفاظ میں کیا گیا ہے:وَجَعَلْنَا مِنَ الْمَاءِ کُلَّ شَیْءٍ حَیٍّ (21:30)۔یعنی اور ہم نے پانی سے ہر جاندار چیز کو بنایا۔تمام زندہ چیزوں کے وجود کا بڑا حصہ پانی ہوتا ہے۔ جہاں تک انسان کا تعلق ہے ،انسان کا جسم تقریبا 60 پرسنٹ پانی پر مشتمل ہے۔
Water is of major importance to all living things, ; in some organisms, up to 90% of their body weight comes from water. Up to 60% of the human adult body is water.
4 - چوتھا بڑا واقعہ جو زمین پر پیش آیا وہ دنیائے نباتات کا وجود میں آنا تھا۔ اس کو پلانٹ بینگ کہا جاسکتا ہے۔ اس کے بعد زمین جو پہلے خشک کرہ کی مانند تھی، اب سر سبز سیارہ (Green Planet) کی صورت اختیار کرگئی۔اس واقعہ کا اشارہ قرآن میں ان الفاظ میں کیا گیا ہے: وَأَنْزَلْنَا مِنَ الْمُعْصراتِ مَاءً ثَجَّاجًا ، لِنُخْرِجَ بِہِ حَبًّا وَنَبَاتًا، وَجَنَّاتٍ أَلْفَافًا(78:14-16)یعنی اور ہم نے پانی بھرے بادلوں سے موسلا دھار پانی برسایا۔ تاکہ ہم اس کے ذریعہ سے اگائیں غلہ اور سبزی۔ اور گھنے باغ۔
5 - اس سلسلہ کا پانچواں دور وہ ہے جب کہ زمین پر مختلف قسم کی جاندار چیزیں وجود میں آئیں، کیڑے مکوڑوں سے لے کر ہاتھی اور شیر تک۔ تخلیق کے اس پانچویں فیز (phase)کو انیمل بینگ (animal bang) کہا جاسکتا ہے۔ اس کے نتیجہ میں مختلف قسم کے بیشمار جاندار اشیاء (species) پیدا ہوئیں، جن کی واقعی تعداد اب تک نامعلوم ہے:
Eight million seven hundred thousand is the latest estimated total number of species on Earth and the most precise calculation ever offered, according to a study co-authored by a researcher with the United Nations Environment Programme (UNEP). Around 6.5 million species are found on land and 2.2 million (about 25 percent of the total) dwell in the ocean depths. The report also shows that 86% of all species on land and 91% of those in the seas have yet to be discovered, described or catalogued.
6 - اس سلسلہ میں چھٹا بینگ وہ تھا جس کو ہیومن بینگ (Human Bang) کہا جاسکتا ہے۔ اس آخری دور میں انسان کو پیدا کیا گیا ، اور نسل درنسل پھیلتا ہوااس زمین (planet earth)پر آباد ہو گیا۔ بظاہر یہ کہا جاسکتا ہے کہ تقریبا 13 بلین سال کے دوران تمام تخلیقی واقعات منصوبہ بند انداز میں پیش آئے۔ اس کا مقصد یہ تھا کہ آخر کار انسان کو پیدا کرکے اس کو زمین پر آباد کیا جائے۔ اور پھر انسان کو یہ موقع دیا جائے کہ وہ اپنی آزادانہ کوشش سے اس چیز کو وجود میں لائے جس کو تہذیب (civilization) کہا جاتا ہے۔تہذیب گویا محدود معنی میںکلمات اللہ (31:27, 18:109) کی جزئی اَن فولڈنگ (unfolding)تھی۔ فطرت کے اس طریقِ عمل کا یہ نتیجہ تھا کہ انسان کو یہ موقع ملا کہ وہ اپنی عقل کو اعلیٰ ارتقائی درجہ (high level of development) تک پہنچا سکے۔
موجودہ کائنات کے دو حصے ہیں، انسانی دنیا (human world)اور دوسرے غیر انسانی دنیا(non-human world) ۔ غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ غیر انسانی دنیا خارجی طور پر مینج کی جانے والی دنیا (externally managed world) ہے۔ اس کے مقابلے میں انسانی دنیا خود مینج کی جانے والی دنیا (self-managed world) ہے۔ اب تاریخ ایک ایسےاعلی ترقی یافتہ دور (super developed world)کی طرف جارہی ہے جہاں ماضی کے ریکارڈ کے مطابق غیر مطلوب انسانوں کو چھانٹ دیا جائے، اور مطلوب انسانوں کو الگ کرکے یہ موقع دیا جائے کہ وہ آئیڈیل ورلڈ میں ابدی راحت کی زندگی گزاریں۔یہی وہ واقعہ ہے جس کا ذکر بائبل میں ان الفاظ میں آیاہے — صادقین زمین کے وارث ہوں، اور وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے:
The righteous will inherit the land, and dwell in it permanently. (Psalm: 37:29)
بائبل میں مذکور اس حقیقت کو قرآن میں ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے: وَلَقَدْ کَتَبْنَا فِی الزَّبُورِ مِنْ بَعْدِ الذِّکْرِ أَنَّ الْأَرْضَ یَرِثُہَا عِبَادِیَ الصَّالِحُونَ (21:105)۔یعنی اور زبور میں ہم نصیحت کے بعد لکھ چکے ہیں کہ زمین کے وارث ہمارے نیک بندے ہوں گے۔
یہ دنیا پوری تاریخ بشری کے منتخب انسانوں کا معاشرہ ہوگا۔ یہ منتخب افراد دراصل دورِ ماضی کے تربیت یافتہ افراد (trained individuals)ہوں گے۔ یہاںپوری تاریخ کے منتخب افراد (selected people of history) کو یہ موقع ہوگا کہ وہ اعلیٰ فکری سرگرمیوں (high level of intellectual activities) کے مطابق زندگی گزاریں گے۔ اس اعلی معاشرہ (high society)کا ذکر قرآن میں ان الفاظ میں آیا ہے: فَأُولَئِکَ مَعَ الَّذِینَ أَنْعَمَ اللَّہُ عَلَیْہِمْ مِنَ النَّبِیِّینَ وَالصِّدِّیقِینَ وَالشُّہَدَاءِ وَالصَّالِحِینَ وَحَسُنَ أُولَئِکَ رَفِیقًا (4:69)۔ یعنی یہ اہل جنت ان لوگوں کے ساتھ ہوں گے جن پر اللہ نے انعام کیا، یعنی پیغمبر اور صدیق اور شہید اور صالح۔ کیسی اچھی ہے ان کی رفاقت۔ اس اگلے دورِ حیات کو قرآن میں جنت (Paradise)کا نام دیا گیا ہے۔
انسان کائنات کا ہیرو ہے۔ اپنی تخلیقی صلاحیت کے اعتبار سے انسان ایک ابدی مخلوق ہے۔ لیکن انسان موجودہ دنیا میں صرف محدود مدت کے لیے رہتا ہے۔ اس دنیا میں انسان کی اوریج (average) عمر تقریبا 70 سال ہے۔ ابدیت کا طالب انسان عملا ابدیت کو پانے سے محروم رہتا ہے۔ مگر انسان کے لیے یہ محرومی کی بات نہیں۔ ایسا خالق کے تخلیقی پلان کی بنا پر ہوتا ہے، نہ کہ انسان کی اپنی خواہش کی بنا پر۔ خالق کے تخلیقی نقشہ کے مطابق، انسان کو اس دنیا میں صرف محدود مدت تک کے لیے رہنا ہے۔ اس کے بعد انسا ن کو اس کے ہیبیٹاٹ (habitat)میں پہنچادیا جاتا ہے، جہاں اس کو یہ موقع ملے گا کہ وہ اپنی پسند کی دنیا میں ابدی طور پر رہے۔
یہاں انسان کو صرف یہ کرنا ہے کہ وہ خالق کے پلان کو جانے اور اپنے آپ کو اس کے لیے تیار کرے۔ انسان کو پیدا کرنے والا خدا ہے۔ لیکن اپنے ابدی مستقبل کا فیصلہ کرنا مکمل طور پر انسان کے اپنے اختیار میں ہے۔ آدمی کو صرف یہ کرنا ہے کہ وہ اپنے اندر اس پرسنالٹی کو ڈیولپ کرے جس کی وجہ سےوہ اگلی دنیا میں بننے والی پیراڈائزکے لیےمستحق امیدوار(deserving candidate) قرار پائے۔
اس تخلیقی مقصد کی بنا پر ایسا ہوا کہ خالق نے پوری کائنات کو کسٹم میڈ کائنات (custom-made universe) بنایا۔ اس واقعہ کو قرآن میں ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے: وَسَخَّرَ لَکُمْ مَا فِی السَّمَاوَاتِ وَمَا فِی الْأَرْضِ جَمِیعًا مِنْہُ (45:13)۔ یعنی خدا نے آسمانوں اور زمین کی تمام چیزوں کو تمھارے لیے مسخر کردیا، سب کو اپنی طرف سے۔آیت میں جمیعا منہ کے لفظ کا مطلب یہ ہے کہ تسخیر کا یہ معاملہ اتفاقی طور پر نہیں ہوا، بلکہ وہ خالق کے باقاعدہ منصوبہ (well-considered plan) کے تحت ہوا ہے۔
انسان اس پوری کائنات میں ایک خصوصی تخلیق کی حیثیت رکھتا ہے۔انسان کو اس کے خالق نے دماغ (mind) دیا، جو کسی بھی دوسری مخلوق کو عطا نہیں ہوا۔ انسا ن کو اس کے خالق نے لامحدود صلاحیتیں دی ہیں۔ مزید یہ کہ انسان کی خصوصیت یہ ہے کہ اس کو امانت الٰہی (الاحزاب 72:) سے سرفراز کیا گیا۔ انسان واحد مخلوق ہے جس کو کامل آزادی (total freedom) دی گئی ہے۔ انسان کے لیے یہ مقدر کیا گیا ہے کہ اگر وہ آزادی پاکر اس کا غلط استعمال (misuse) نہ کرے، بلکہ آزادی کو وسیع تر تخلیقی نقشہ (Creation plan of God)کےمطابق استعمال کرے تو اس کے لیے ابدی جنت (eternal Paradise) کا انعام (reward)ہے۔
مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ انسان کے سوا جو دوسری مخلوقات ہیں، مادیات، نباتات، حیوانات، وہ سب کی سب فطرت کے قانون (law of nature) کے ماتحت ہیں۔ حتی کہ حیوانات بھی مکمل طور پر اپنی مقرر کردہ جبلت (instinct) کے تحت کام کرتے ہیں۔ یہ صرف انسان ہے جو اس معاملے میں استثناء (exception) کی حیثیت رکھتا ہے۔ انسان کو یہ موقع ہے کہ وہ اپنے ذاتی ارادے کے تحت سوچے اورکامل آزادی کے ساتھ اپنی زندگی کا نقشہ بنائے۔
اس میں شک نہیں کہ انسان مکمل طور پر ایک آزاد مخلوق ہے۔ لیکن یہ آزادی صرف ذاتی عمل کے اعتبار سے ہے۔ یعنی انسان آزاد ہے کہ وہ وسیع تر نقشۂ تخلیق کے مطابق عمل کرے یا اس کا باغی بن جائے۔ لیکن جہاں تک عمل کے نتیجہ کا تعلق ہے، اس پر انسان کو کوئی اختیار حاصل نہیں۔ یہاں خالق نے مقدرکیا ہے کہ انسان اگر خالق کے تخلیقی نقشہ کے مطابق عمل کرے تو اس کے لیے ابدی جنت ہے۔ اور اگر وہ خالق کے تخلیقی نقشہ کی خلاف ورزی کرے تو اس کے لیے ابدی جہنم ہے۔
رب العالمین کے اس تخلیقی نقشہ کو قرآن میں اشارات کی زبان میں بیان کیا گیا ہے۔ مثلا قرآن میں بتایا گیا ہے کہ مادی کائنات کی تخلیق کے بعد انسان کو پیدا کیا گیا ، اور اس کو زمین پر خلیفہ (البقرۃ30:) کی حیثیت سے آباد کیا گیا۔خلیفہ سے مراد وہی چیز ہے جس کو انسانی زبان میں انچارج کہا جاتا ہے۔فرشتے خدا کے حکم کے مطابق، کائنات کا نظام اس طرح چلا رہے ہیں کہ ہمیشہ انسان کے لیے وہ ایک موافق دنیا بنی رہے۔ اس کے بعد انسان نے جب نیچر کے خفیہ رازوں کو دریافت کرنا شروع کیا اور ٹکنالوجی پر مبنی تہذیب کی تشکیل کی تو اس معاملے میں بھی انسان کو مسلسل طور پر فرشتوں کی مدد حاصل رہی۔ اس کا اشارہ پیغمبر نوح کی کشتی سازی کے ذکر میں اس طرح کیا گیا ہے:وَاصْنَعِ الْفُلْکَ بِأَعْیُنِنَا وَوَحْیِنَا (11:37)۔اس سے مستنبط ہوتا ہے کہ یہی واقعہ جدیدتہذیب (modern civilization) کی تشکیل کے معاملہ میں پیش آرہا ہے۔ گویا خالق نے انسان سے یہ کہہ دیا کہ اصنع الحضارۃ باعیننا و وحینا۔ یعنی تہذیب بناؤ ہماری آنکھوں کے سامنے، اور ہماری وحی کے مطابق۔ کہا جاتا ہے کہ اکثر سائنسی دریافتیں کسی نہ کسی اتفاق (chance)کے ذریعہ وجود میں آئیں۔تفصیل کے لیے وکی پیڈیا پر یہ مضمون دیکھا جاسکتا ہے:
"Role of Chance in Scientific Discoveries".
یہ اتفاقات محض اتفاقات نہیں ہیں ، بلکہ وہ فرشتوں کے تعاون کی مثالیں ہیں، جو غیر مرئی مدد کے طور پر سائنسدانوں کو حاصل ہوتی ہیں۔ اس قسم کے اتفاق کے لیے ایک اصطلاح استعمال ہوتی ہے، جس کو سرنڈیپیٹی (Serendipity?) کہا جاتا ہے:
Serendipity is a happy and unexpected event that apparently occurs due to chance and often appears when we are searching for something else. Serendipity...happens in our daily lives and has been responsible for many innovations and important advances in science and technology.
تاریخ انسانی کے دوسرے دور میں ایک نئی دنیا بنائی جائے گی۔ یہ دنیا، اسی زمین و آسمان کے اندر ہوگی۔ لیکن اس وقت زمین و آسمان ایک بدلے ہوئے زمین و آسمان ہوں گے(ابراہیم48:)۔ اسی بدلی ہوئی کائنات میں جنت واقع ہوگی۔ اس جنت کا کیمپس اتنا بڑا ہوگا جتنے بڑے موجودہ زمین و آسمان (آل عمران 143:)ہیں۔ اس اعلی جنت کا انتظام دوبارہ فرشتے کریں گے۔ انسان کے لیے اس جنت میں ہر قسم کی مطلوب چیزیں موجود رہیں گی(فصلت31:) ۔ جنت کی یہی وہ معیاری دنیا ہے جو منتخب لوگوں کے لیے بنائی گئی ہے۔ بائبل میں ان کے لیے صادقین (righteous) کا لفظ آیا ہے، اور قرآن میں اسی کا ہم معنی صالحین کا لفظ استعمال ہواہے۔ یہاں وہ اعلی معرفت کے مطابق زندگی گزاریں گے۔
انسان کےساتھ تخلیق کا یہ معاملہ بیحد نازک معاملہ تھا۔ یہاں ضروری تھا کہ انسان کو صحیح رہنمائی (right guidance) ملے، جو انسان کو خالق کے تخلیقی نقشہ سے باخبر کرے۔ اور یہ بتائے کہ انسان کے لیے اپنی آزادی کو استعمال کرنے کا درست لائحہ عمل کیا ہے۔
انسان کی یہی ضرورت ہے جس کو پورا کرنے کے لیے اللہ نے انبیاء (prophets) بھیجنے کا سلسلہ شروع کیا۔ یہ انبیاء مکمل طور پر انسان تھے۔ البتہ ان کی خصوصیت یہ تھی کہ خالق نے تقریبا 40 سال کی عمر تک ان کا جائزہ لینےکے بعد یہ پایا کہ وہ کارِ نبوت کی انجام دہی کے لیے ذہنی اور اخلاقی اعتبار سے لائق (competent) فرد ہیں۔ اس طرح ہر نبی کی انفرادی خصوصیت کی بنا پر اس کا انتخاب کیا گیا۔ اور فرشتہ جبرئیل کے ذریعہ خالق نے ان کو اپنی رہنمائی، وحی (revelation) کے ذریعہ بھیجی، اور ان پر کتاب نازل کی تاکہ وہ خالق کے نمائندہ (representative) کی حیثیت سے انسان کو درست رہنمائی (right guidance) دیں۔ اور پھر انسان ان کی رہنمائی کے مقابلے میں جو رسپانس (response) دے ، اس کے ریکارڈ کو دیکھ کر ہر انسان کے ابدی مستقبل کا فیصلہ کیا جائے۔
اس حقیقت کو قرآن میں ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے: رُسُلًا مُبَشِّرِینَ وَمُنْذِرِینَ لِئَلَّا یَکُونَ لِلنَّاسِ عَلَى اللَّہِ حُجَّةٌ بَعْدَ الرُّسُلِ (4:165)۔ یعنی اللہ نے رسولوں کو خوش خبری دینے والا اور ڈرانے والا بنا کر بھیجا، تاکہ رسولوں کے بعد لوگوں کے پاس اللہ کے مقابلہ میں کوئی حجت باقی نہ رہے۔
انذار و تبشیر کے الفاظ سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ پیغمبروں کا مشن خالص اخروی مشن تھا۔ ان کے مشن کا فوکس ہمیشہ یہ ہوتا تھا کہ انسان کے لیے وہ کون سا رویہ ہے جو اس کو ابدی جنت تک پہنچانے والا ہے، اور وہ کون سا رویہ ہے جو اس کو اس خطرے (risk) میں ڈالتا ہے کہ اگلے دورِ حیات میں اس کو ابدی طورپر جہنم والوں کے ساتھ شامل کیا جائے۔
پیغمبروں کے ذریعے انسان کو جو رہنمائی ملی، اصولی طور پر اس کا خلاصہ دو چیزیں تھیں:
(1) نظریۂ توحید (Ideology of Tawheed)
(2) طریقِ کار (Method)
پیغمبرانہ طریقِ کار ایک لفظ میں غیر نزاعی طریق کار (non-confrontational method)ہے۔نظریہ اور طریق کار کے اعتبار سے یہی دو چیزیں پیغمبروں کے ذریعے انسان کو دی گئیں۔
پہلے انسان (آدم) سے لے کر محمد بن عبد اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تک ایک لاکھ سے زیادہ پیغمبر انسان کی طرف آئے۔ انھوں نے انسا ن کو بتایا کہ یہ زمین تمھارے لیے ابدی قیام گاہ (eternal habitat) نہیں ہے، بلکہ یہ تمھارے لیے ایک عارضی قیام گاہ (temporary abode) ہے۔ یہاں تمھیں یہ موقع دیا گیا ہے کہ تم اپنی آزادی کا صحیح استعمال کرکے اپنے آپ کو جنت کا مستحق (deserving candidate) بناؤ، اور تاریخِ انسانی کے خاتمہ پر جنت کی شکل میں اپنے مطلوب ابدی ہیبیٹاٹ (habitat) میں جگہ پاؤ۔ ساتویں صدی عیسوی میں محمد عربی کے ظہور کے بعد انبیاء کی آمد کا سلسلہ ختم ہوگیا۔ مگر خالق کے تخلیقی نقشے کے مطابق، انسان پھر بھی پیدا ہوکر زمین پر آباد ہورہے تھے۔ اب یہ سوال تھا کہ بعد کو پیدا ہونے والے انسانوں تک خدائی رہنمائی کی نمائندگی کون کرے۔
ساتویں صدی عیسوی میں ختم نبوت سے پہلے خدا کی طرف سے اس رہنمائی کی ذمہ داری پیغمبروں نے ادا کی۔ اس اعتبار سے تمام پیغمبر امت وسط (middle ummah)کی حیثیت رکھتے تھے۔ ان کے ایک طرف اللہ رب العالمین تھا اور ان کے دوسری طرف تمام انسان۔ انھوں نے اس رہنمائی کو اللہ سے لیا اور پورے معنوں میں ناصح اور امین (الاعراف68:) بن کر اس کو انسانوں تک پہنچایا۔
پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات 632 عیسوی میں مدینہ میں ہوئی۔ آپ اللہ کے آخری رسول تھے۔ آپ نے اپنے بعد ہدایت کے دو مستند ذریعے (authentic sources) چھوڑے، ایک قرآن اور دوسرا سنت رسول۔ اب کوئی پیغمبر دنیا میں آنے والا نہیں ہے۔ لیکن جہاں تک پیغمبر کے مشن کی بات ہے، وہ بدستور جاری ہے۔پہلے انبیاء کی حیثیت امت وسط کی ہوتی تھی، اب پیغمبر آخرالزماں کے متبعین کی حیثیت امت وسط کی ہے۔ اس حقیقت کو قرآن میں ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے: وَکَذَلِکَ جَعَلْنَاکُمْ أُمَّةً وَسَطًا لِتَکُونُوا شُہَدَاءَ عَلَى النَّاسِ وَیَکُونَ الرَّسُولُ عَلَیْکُمْ شَہِیدًا (2:143) ۔ یعنی اور اس طرح ہم نے تم کو امت وسط بنا دیا تاکہ تم ہو بتانے والے لوگوں پر، اور رسول ہو تم پر بتانے والا۔
امت وسط کا مطلب بیچ کی امت (middle community) ہے۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے متبعین سب کے سب امت محمدی ہیں۔ ان کی حیثیت دوبارہ امت وسط کی ہے۔ صرف اس فرق کے ساتھ کہ پیغمبر، خدا اور انسان کے درمیان امت وسط ہوتے تھے۔ اب پیغمبر آخرالزمان کے متبعین ، محمد بن عبد اللہ اور اقوام عالم کے درمیان امت وسط کی حیثیت رکھتے ہیں۔ پیغمبر آخرالزمان کی رہنمائی کو جاننےکا ذریعہ قرآن اور سنت رسول ہے۔ امت کو یہ کرنا ہے کہ خالص موضوعی (objective) انداز میں وہ قرآن اور سنت رسول کا مطالعہ کرے، اوراس کی تعلیمات کو کسی آمیزش کے بغیر پر امن انداز میں ہر دور کے انسانوں تک پہنچاتی رہے۔ یہ کام اس کو تمام اقوام کی قابل فہم زبان میں کرنا ہے۔جیسا کہ قرآن میں آیا ہے:وَمَا أَرْسَلْنَا مِنْ رَسُولٍ إِلَّا بِلِسَانِ قَوْمِہِ لِیُبَیِّنَ لَہُمْ (14:4)۔ اس کی پرکٹیکل صورت یہ ہے کہ قرآن کے تراجم تیار کرکے ان کو ساری دنیا میں پھیلایا جائے۔ یہاں تک کہ حدیث (مسند احمد، حدیث نمبر23814)کے مطابق، وہ ہر چھوٹے اور بڑے گھر میں پہنچ جائے۔ یہی امت محمدی کا ابدی مشن ہے۔
خلاصہ یہ کہ امت محمدی کی حیثیت سے مسلمانوں کا ایک ہی مشن ہے۔ اور وہ ہے دعوت الی اللہ۔دعوت کا یہ پر امن کام مکمل طور پر غیر سیاسی (non-political) اور غیر قومی (non-communal) انداز میں کرنا ہے۔مزید یہ کہ اس کام کو اس اصول کے تحت انجام دینا چاہیے جس کو قرآن میں تالیف قلب (التوبۃ60:) کہا گیا ہے۔ تالیف قلب ایک ابدی اصول ہے۔ وہ کبھی اور کسی حال میں منسوخ ہونے والا نہیں۔
واپس اوپر جائیں

قرآن فہمی

قرآن فہمی کےبارے میں قرآن کی ایک آیت ان الفاظ میں آئی ہے: کِتَابٌ أَنْزَلْنَاہُ إِلَیْکَ مُبَارَکٌ لِیَدَّبَّرُوا آیَاتِہِ وَلِیَتَذَکَّرَ أُولُو الْأَلْبَابِ (38:29)۔ یعنی یہ ایک بابرکت کتاب ہے جو ہم نے تمھاری طرف اتاری ہے، تاکہ لوگ اس کی آیتوں پر غور کریں اور تاکہ عقل والے اس سے نصیحت حاصل کریں۔
قرآن کی اس آیت میں عقل والے سے مراد ڈگری والے(degree holders) نہیں ہیں۔ اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ قرآن کو صرف وہی لوگ سمجھیں گے جو معروف معنوں میں اسکالر ہوں یا جنھوں نے تعلیمی اداروں سے ڈگری حاصل کی ہو۔ اس کا مطلب صرف یہ ہے کہ قرآن کو اس کے گہرے مفہوم کے اعتبار سے صرف وہ لوگ سمجھتے ہیں جو سنجیدہ ہوں، جو قرآن کی آیتوں پر غور کریں، اور جو اپنی خداداد عقل کو استعمال کرکے اس کو سمجھنے کی کوشش کریں۔ یہی لوگ ہیں جو قرآن کے گہرے معانی تک پہنچیں گے، اور قرآن کے پیغام کو سمجھ کر اس سے نصیحت حاصل کریں گے۔
قرآن فطرت کی زبان میں ہے۔ اس حقیقت کو قرآن میں ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے: بَلْ ہُوَ آیَاتٌ بَیِّنَاتٌ فِی صُدُورِ الَّذِینَ أُوتُوا الْعِلْمَ (29:49) ۔یعنی بلکہ یہ کھلی ہوئی آیتیں ہیں ان لوگوں کے سینوں میں جن کو علم عطا ہوا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ آدمی اگر سنجیدہ ہو، وہ اپنی عقلِ فطرت کو زندہ رکھے، وہ تعصب سے پاک ہو کر قرآن کی آیتوں پر غور کرے،اس کے اندر قبولیت (acceptance) کا مزاج ہو تو یقینا وہ قرآن کی روح تک پہنچ جائے گا، وہ قرآنی آیتوں کے گہرے معانی کو دریافت کرلے گا۔قرآن کی ایک اور آیت میں تقویٰ کو علم کا ذریعہ (البقرۃ 282:)بتایا گیا ہے۔ یہاں متقی سے مراد وہ انسان ہےجو حقیقی معنوں میں سچائی کا متلاشی (seeker) ہو۔ جس کے ایمان نے اس کو نفسیاتی پیچیدگی سے پاک روح (complex-free soul) بنادیا ہو۔ جس کے لیے سچائی، اس کا سب سے بڑا کنسرن (concern) بنا ہوا ہو۔
واپس اوپر جائیں

قرآن و سنت کے عجائب

حدیث کی کتابوں میں قرآن کے فضائل کے بارے میں ایک روایت نقل کی گئی ہے۔ اس کا ایک حصہ یہ ہے:لا تنقضی عجائبہ (سنن الترمذی، حدیث نمبر 2906)۔ یعنی قرآن کے عجائب کبھی ختم نہ ہوں گے۔ اس حدیث میں عجائب کا لفظ کسی پر اسرار معنی میں نہیں ہے۔ بلکہ وہ اس معنی میں ہے کہ ہر صورتِ حال کے لیے قرآن میں ہمیشہ رہنمائی موجود رہے گی۔ یہی بات سنت ِرسول کے لیے بھی درست ہے۔ گویا اس حدیث کا پورا مفہوم یہ ہے : لاتنقضی عجائب القرآن و السنۃ ( قرآن و سنت کے عجائبات کبھی ختم نہ ہوں گے)۔
اس حدیث کا مطلب یہ ہے کہ فطرت کے قانون کے مطابق، دنیا کے حالات ہمیشہ بدلتے رہیں گے۔ لیکن اہل علم کے لیے ہمیشہ یہ ممکن رہے گا کہ قرآن و سنت کی نئی تطبیقات (new applications) دریافت کرکے ہر صورتِ حال پر قرآن و حدیث کی تعلیمات کو منطبق کریں۔ وہ ہر بدلے ہوئے حالات میں قرآن و سنت سے رہنمائی حاصل کرتے رہیں۔
یہ مزید رہنمائی اجتہاد کے ذریعے حاصل ہوگی۔ یعنی امت کے اہل علم ہر بار اجتہادی ذہن کے ساتھ غور و فکر کریں گے اور ہر بدلے ہوئے حالات میں قرآن کا انطباق (application) دریافت کرلیں گے۔ اس طرح امت کبھی ربانی رہنمائی سے خالی نہیں ہوگی۔اجتہاد یقینی طور پر اس مسئلے کا حل ہے۔ لیکن اجتہاد کی دو صورتیں ہیں۔ ایک ہے تقلیدی ذہن کے ساتھ اجتہاد کرنا، اور دوسرا ہےتخلیقی ذہن کے ساتھ اجتہاد کرنا۔ تقلیدی ذہن کے ساتھ اجتہاد کا فائدہ محدود رہےگا۔ اجتہاد کا پورا فائدہ امت کو صرف اس وقت ملے گا جب کہ تخلیقی ذہن کے ساتھ اجتہاد کیا جائے۔
تخلیقی ذہن کے ساتھ اجتہاد یہ ہے کہ مجتہد کو ایک طرف قرآن و سنت کا علم ہو اور دوسری طرف وہ، حدیث کے مطابق ، بصیرتِ زمانہ (صحیح ابن حبان، حدیث نمبر361) کی صلاحیت رکھتا ہو۔ وہ خالی الذہن ہو کر زمانے کے حالات سے واقفیت حاصل کرے۔
واپس اوپر جائیں

تکرار کی حقیقت

قرآن کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ اس میں مضامین کی تکرار ہے۔ اس موضوع پر بہت زیادہ کتابیں اور مضامین لکھے گیے۔مثلا ایک مضمون یہ ہے: التکرار فی القرآن الکریم أنواعہ وفوائدہ۔ یہ مقالہ ایک عرب عالم محمد صالح المنجد کا لکھا ہواہے، اور وہ انٹر نیٹ پر موجود ہے۔
مکررات القرآن کے بارے میں ابن تیمیہ نے لکھاہے: ولیس فی القرآن تکرار محض ، بل لابد من فوائد فی کل خطاب ۔ ( مجموع الفتاوى، 1995، مدینہ منورہ،14/408 )۔یعنی قرآن میں جو مکررات ہیں وہ تکرار محض نہیں، بلکہ ہمیشہ ہر تکرار میں کوئی فائدہ مطلوب ہوتا ہے۔
اصل یہ ہے کہ الفاظ اپنے لغوی معنی کے اعتبار سے محدود ہوتے ہیں، لیکن اپنی معنویت کے اعتبار سے کوئی لفظ محدود نہیں ہوتا۔ جب بھی کسی حقیقت کا بیان کیا جائے گا تو الفاظ میں اس کا بیان ہوگا، لیکن معنی کے اعتبار سے اس کے پہلو بہت زیادہ ہوسکتے ہیں۔ ظاہری الفاظ کے اعتبار سے خواہ کوئی بیان محدود نوعیت کا ہو۔ لیکن اپنے معنی کے اعتبار سے وہ متعدد پہلو کا حامل ہوگا۔ یہ متعدد پہلو ہمیشہ تدبر اور غور وفکر سے معلوم ہوتے ہیں۔اس معاملے کی وضاحت قرآن کی ایک آیت سے ہوتی ہے: وَکَذَلِکَ أَنْزَلْنَاہُ قُرْآنًا عَرَبِیًّا وَصَرَّفْنَا فِیہِ مِنَ الْوَعِیدِ لَعَلَّہُمْ یَتَّقُونَ أَوْ یُحْدِثُ لَہُمْ ذِکْرًا ۔(20:113) یعنی اور اسی طرح ہم نے عربی کا قرآن اتارا ہے اور اس میں ہم نے طرح طرح سے وعید بیان کی ہے تاکہ لوگ ڈریں یا وہ ان کے دل میں کوئی سوچ ڈال دے۔
قرآن کی اس آیت کا مطلب یہ ہے کہ جب قرآن میں کوئی بات مکرر بیان کی جائے تو اس کا پہلا مقصد یاد دہانی ہوتا ہے۔ یعنی یہ کہ آدمی بھولی ہوئی بات کو دوبارہ یاد کرے، اور اس میں سبق کا جو پہلو ہے وہ اس کو اپنے ذہن میں تازہ کرے۔ تکرار کا دوسرا مقصد وہ ہے جس کو قرآن کی اس آٰیت میں احداثِ ذکر کہا گیا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر آدمی کے اندر سنجیدگی ہوگی تو وہ اس میں تدبر کرے گا، اس تدبر کے نتیجے میں یہ ہوگا کہ وہ اصل بات کے مزید پہلووں کو دریافت کرے گا۔ کیوں کہ الفاظ خواہ محدود ہوں لیکن باتیں اپنے معنی کے اعتبار سے کبھی محدود نہیں ہوتیں۔ ہمیشہ ایسا ہوتا ہے کہ بات کے بہت سے پہلو ہوتے ہیں۔ آدمی جب اپنی عقل کو استعمال کرکے اس پر غور کرتا ہے تو بات کے دوسرے بہت سے پہلو اس پر کُھلتے ہیں، اور اس طرح اس کا ذہنی ارتقا ہوتا رہتا ہے۔
اصل یہ ہے کہ جب بھی کسی بات کو مکرر بیان کیا جائے تو اس کے ایک حصے کی تکرار ضروری ہوتی ہے۔ کیوں کہ اس کے بغیر بیک گراؤنڈ سامنے نہیں آتا۔ مگر اس کا دوسرا حصہ غیر مکرر ہوتا ہے۔ اس غیر مکرر حصے میں کوئی نیا پہلو موجود ہوتا ہے جو تدبر یا غور و فکر کے ذریعے سمجھ میں آتا ہے۔
کسی بات کے نئے پہلو کی نشاندہی کرنا ہو تب بھی بیک گراؤنڈ کو بتانے کے لیے اس بات کے کچھ اجزا ء کو ہمیشہ دہرانا پڑتا ہے۔ قاری کو چاہیے کہ وہ دہرائی جانے والی بات کو بیک گراؤنڈ کے معنی میں لے، اور غور کرکے یہ دریافت کرے کہ تکرار کا اصل مقصد کیا ہے۔ یہ بامعنی کلام کا ضروری اسلوب ہے۔ جو لوگ اس اسلوب کو تکرار کہیں، وہ کلام کی حکمت کو سمجھنے سے قاصر رہتے ہیں۔ ایسے لوگ اپنے ذہن کو ارتقا یافتہ ذہن بنانے میں ناکام ثابت ہوں گے۔ اس دنیا میں تکرار محض کوئی چیز نہیں۔ سارا معاملہ یہ ہے کہ قاری اپنے ذہن کو حرکت میں لائے، وہ ہمیشہ غور وفکر سے کام لے۔ غور و فکر کے ذریعے وہ کلام کے پوشیدہ پہلوؤں کو دریافت کرے گا۔ اور پھر وہ جانے گا کہ وہ جس چیز کو تکرار کہہ رہا تھا، وہ خود اس کے فہم کا قصور تھا۔
مثال کے طور پر اگر صبح کا وقت ہے اور کوئی شخص یہ کہتا ہے کہ آج بھی دوبارہ اپنے وقت پر صبح کا سورج طلوع ہوگیا۔ تو بظاہر یہ ایک تکرار کی بات ہے۔ لیکن اپنی حقیقت کے اعتبار سے وہ مخاطب کو یہ دعوت دینا ہے کہ طلوعِ آفتاب کے ظاہرہ پر غور کرو۔ تم کو اس میں نئے نئے پہلو سامنے آئیں گے۔ تم نظامِ فطرت کے نئے نئے پہلو ؤںکو دریافت کروگے۔اس طرح تمہارا غور و فکر تمہارے لیے ذہنی ارتقا کا ذریعہ بن جائے گا۔ حقیقت یہ ہے کہ کلام میں تکرار قاری کو اس پراز سر نو غور وفکر کی دعوت دیتی ہے۔ وہ صرف تکرار کا معاملہ نہیں۔مثلا قرآن میں ابلیس اور آدم کا قصہ سات بار بیان ہوا ہے، لیکن غور کیا جائے تو اس میں ستر سے بھی زیادہ پہلو سمجھ میں آئیں گے۔
واپس اوپر جائیں

تخلیقی ایمان

ایک روایت حدیث کی کتابوں میں آئی ہے۔ مسند احمد کے الفاظ یہ ہیں: کنا نصلی یوما وراء رسول اللہ صلى اللہ علیہ وسلم، فلما رفع رسول اللہ صلى اللہ علیہ وسلم رأسہ من الرکعة وقال: ’’سمع اللہ لمن حمدہ‘‘ قال رجل وراءہ:ربنا لک الحمد، حمدا کثیرا طیبا مبارکا فیہ، فلما انصرف رسول اللہ صلى اللہ علیہ وسلم قال:’’من المتکلم آنفا؟‘‘ قال الرجل:أنا یا رسول اللہ، فقال رسول اللہ صلى اللہ علیہ وسلم:’’ لقد رأیت بضعة وثلاثین ملکا یبتدرونہا أیہم یکتبہا أولا ‘‘ (مسند احمد، حدیث نمبر18996) ۔یعنی رفاعہ بن رافع کہتے ہیں کہ ایک دن ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے نماز پڑھ رہے تھے۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب رکوع کے بعد اپنا سر اٹھایا، اور یہ کہا : سمع اللہ لمن حمدہ۔ ایک آدمی جو آپ کے پیچھے کھڑا تھا، اس نے کہا:ربنا لک الحمد، حمدا کثیرا طیبا مبارکا فیہ۔ رسول اللہ نے جب (سلام کے بعد ) منھ پھیرا تو کہا، ابھی کس نے وہ بات کہی تھی، اس آدمی نے کہا : اے اللہ کے رسول، مَیںنے ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، میں نےدیکھا کہ 30 سے زیادہ فرشتے دوڑے اس کی طرف ، تاکہ کون پہلے اس کو لکھے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کو جو نماز سکھائی تھی، اس میں رکوع سے کھڑے ہونے کے بعد مقتدی کو ربنا لک الحمد کہنے کی تعلیم دی تھی۔ لیکن مذکورہ صحابی نے اس کلمہ پر اضافہ کرکے اس طرح کہا: ربنا لک الحمد ، حمدا کثیرا طیبا مبارکا فیہ۔فرشتوں کو یہ طریقہ اتنا زیادہ پسند آیا کہ وہ اس کو لکھنے کے لیے بڑی تعدا د میں دوڑ پڑے۔ فرشتوں کا یہ عمل اضافہ شدہ کلمات کی افضلیت کی بنا پر نہ تھا۔ بلکہ صحابی کے تخلیقی اضافہ (creative addition)کی بنا پر تھا۔
اس سے ایک سنت صحابہ معلوم ہوتی ہے کہ اگر کوئی مومن دعا اور ذکر کے مسنون کلمات پر تخلیقی اضافہ کرسکے تو یہ اس کے لیے ایک عظیم عمل ہوگا۔ جس کو لکھنے کے لیے فرشتے بڑی تعداد میں دوڑ پڑیں۔اس قسم کا اضافہ کوئی سادہ بات نہیں۔ وہ اس بات کا ثبوت ہے کہ کہنے والے کے اندر تخلیقی ایمان موجود ہے۔
اس قسم کے اضافے کی ایک مثال وہ ہے جو غزوۂ خندق( 5 ہجری) سے معلوم ہوتی ہے۔ اس وقت مدینہ کے حالات بہت سخت تھے۔ قرآن میں اس کے بارے میں یہ الفاظ آئے ہیں: وَبَلَغَتِ الْقُلُوبُ الْحَنَاجِرَ(33:7)۔اس وقت کچھ صحابہ نے پریشانی کا اظہار کیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو صبر کی تلقین کی اور دعائیہ انداز میں فرمایا:اللہم لا عیشَ إلا عیشُ الآخرہ، فاغفر للأنصار والمہاجرہ (صحیح مسلم، حدیث نمبر1805)۔ یعنی اے اللہ، زندگی تو آخرت کی زندگی ہے، تو انصار اور مہاجرین کی مغفرت فرما۔
اس حدیث کو پڑھنے کی ایک صورت یہ ہے کہ آپ اس کو ایک کتابی روایت کے طور پر پڑھ لیں۔ اور اس سے ایک تاریخی واقعے کے بارے میں واقفیت حاصل کریں۔ اور دوسرا طریقہ یہ ہے کہ اس واقعے کو پڑھتے ہوئے آپ کا زندہ ایمان آپ کے اندر ایک فکری بھونچال پیدا کردے۔ آپ کا حال یہ ہو کہ اس حدیث کو پڑھتے ہوئے آپ کے دل میں ہیجان پیدا ہوجائے۔ اور پھر شدت تاثر کے تحت آپ کی زبان پر یہ الفاظ آجائیں:اللہم لا فوزَ الا فوزُ الآخرۃ... یعنی اے اللہ، کامیابی تو صرف آخرت کی کامیابی ہے۔ اگر آپ ایسا کریں تو یہ آپ کے لیے اسی قسم کا ایک عمل ہوگا جس کو لکھنے کےلیے فرشتے دوڑ پڑیں۔
دعا اور ذکر کے جو ماثور کلمات ہیں، ان کو دہرانے کا بلاشبہ ثواب ہے۔ لیکن اگر آدمی کے اندر زندہ ایمان ہو، اس کا ذہن بیدار ہو، اس کے صبح و شام یادِ خداوندی میں گزرتے ہوں تو اس کا حال یہ ہوگا کہ جب بھی اس قسم کا کوئی تجربہ پیش آئے تو وہ اس کے جذبات میں تموج پیدا کرنے کا ذریعہ بن جائے گا۔ اس کا تیار ذہن اس کے بارے میں مزید سوچنے لگے گا۔ اس کا تیار ذہن اس کے اندر مزید فکری اضافہ کرے گا۔ یہ اضافہ آدمی کی ایمانی زندگی کا ثبوت ہے۔ اور یہ ایمانی زندگی اتنی قیمتی ہے کہ جب وہ ظاہر ہوتی ہے تو فرشتے اس کو ریکارڈ کرنے کے لیے دوڑ پڑتے ہیں۔ یہی وہ ایمان ہے جس کو یہاں تخلیقی ایمان کا نام دیا گیا ہے۔
واپس اوپر جائیں

اتمام نور

قرآن کی دو آیتوں میں یہ بتایا گیا ہے کہ اللہ تعالی اپنے نور کا اتمام ضرور کرے گا (التوبہ 32:، الصف 8:)۔یہاں نور سے مراد معرفت ہے۔ یعنی اللہ ایسے حالات پیدا کرے گا کہ اعلیٰ معرفت کا حصول انسان کے لیے ممکن ہوجائے گا۔
معرفت الٰہی بلاشبہ دین میں سب سے بڑا مقصود ہے۔معرفت کے لیے ہمیشہ فریم ورک درکار ہوتا ہے۔ جیسا فریم ورک، ویسی معرفت۔ مطالعہ بتاتا ہے کہ قدیم زمانے میں معرفت کے موضوع پر غور و فکر کے لیے صرف روایتی فریم ورک (traditional framework) دستیاب تھا۔ یہ فریم ورک بلاشبہ مفید تھا۔ لیکن وہ رب العالمین کی کامل معرفت کے لیے کارآمد نہ تھا۔ اللہ نے حالات میں تبدیلی کرکے انسان کو ایسے فریم ورک تک پہنچایا جو معرفت کے حصول میں تکمیل کا کام کرے۔ یہ تکمیلی فریم ورک وہی ہے، جس کو موجودہ زمانے میں سائنٹفک فریم ورک کہا جاتا ہے۔
مثلاً پانی فطرت کا ایک ظاہرہ ہے۔ پانی پر غور و فکر کرکے انسان معرفت الٰہی تک پہنچتا ہے۔ قدیم زمانے میں روایتی فریم ورک کے تحت آدمی صرف پانی کے ظاہری پہلوؤں کو لے کر سوچ پاتا تھا۔ اس طرح انسان پانی کی نعمت کو جانتا تھا، لیکن پانی کے اندر جو عظیم حکمتیں پوشیدہ ہیں، ان سے وہ بے خبر تھا۔موجودہ زمانے میں پانی کے سائنسی مطالعے سے اس کے بارے میں سمندری معلومات حاصل ہوئی ہیں۔ دو گیسوں کے ملنے سے پانی کا بننا۔ بارش کے بعد پانی کا سمندروں میں جمع ہونا۔ سمندری پانی میں پریزرویٹو (preservative)کے طور پر نمک کا شامل ہونا۔ پھر سورج کی گرمی سے پانی کا بھاپ میں تبدیل ہونا۔ پھر فضا میں جاکر اس کا بادل کی صورت اختیار کرنا۔پھر زمین کی کشش سے بادل کا بارش کی صورت میں زمین پر برسنا ،وغیرہ۔ ان معلومات نے پانی کے بارے میں ایک عظیم سانٹفک فریم ورک انسان کو دیا ہے، جس پر غور کرنے سے معرفت خداوندی میں بے پناہ حد تک اضافہ ہوتا ہے۔
واپس اوپر جائیں

آدم سے مسیح تک

دنیا میں جتنے بھی پیغمبر آئے ان سب کا مقصد اللہ تعالی کی وحدانیت کا پیغام دینا تھا۔ مگر لوگوں نے عام طور پران کے ساتھ برا سلوک کیا۔ حضرت عیسی کو کوئی ساتھی نہ ملا۔لوگ ان کے قتل کے درپےہوگئے۔ حضرت لوط نے اپنی بستی کو چھوڑا تو ان کے ساتھ ان کی صرف دو بیٹیاں تھیں۔ حضرت نوح کے ساتھ ان کی کشتی کا قافلہ توریت کے بیان کے مطابق صرف آٹھ افراد پر مشتمل تھا۔حضرت ابراہیم جب اپنے وطن عراق سے نکلے تو اُن کے ساتھ اُن کی بیوی سارہ تھیں اور ان کے بھتیجے لوط۔ بعد کو اس قافلہ میں ان کے دو بیٹے اسماعیل اور اسحاق شامل ہوئے۔ حضرت مسیح کو ساری کوششوں کے باوجود صرف 12 آدمی ملے۔ وہ بھی، بائبل کے بیان کے مطابق، آخر وقت میں آپ کو چھوڑ کر بھاگ گئے۔ بیشتر انبیاء کا حال یہی رہا، کوئی تنہا رہ گیا اور کسی کو چند ساتھ دینے والے ملے (صحیح البخاری، حدیث نمبر 5705)۔ قرآن کی یہ آیت اس پوری تاریخ پر ایک تبصرہ ہے: افسوس ہے بندوں کے حال پر جب بھی ان کے پاس کوئی رسول آیا تو انھوں نے اس کی ہنسی اڑائی (یس30:)۔
لوگوں کے اس سلوک کی بنا پر ایسا ہوا کہ قدیم زمانے میں انبیاء کی کوئی تاریخ نہ بن سکی۔ ہر نبی نے عملاً اپنے پیغمبرانہ رول کو ادا کیا۔ لیکن مدون تاریخ (recorded history) میں ان نبیوں کا اندراج نہ ہوسکا۔آخر میں اللہ تعالی نے پیغمبر اسلام کو پیدا کیا۔ اللہ تعالی نے تاریخ میں ایسی تبدیلیاں کیں کہ پیغمبر اسلام کو یہ موقع ملا کہ وہ پیغمبرانہ مشن کو مدون تاریخ کا ایک حصہ بنا دیں۔ اسی حقیقت کو فرانسیسی مستشرق رینان (Ernest Renan)نے ان الفاظ میں بیان کیا ہے — اسلام تاریخ کی مکمل روشنی میں وجود میں آیاIslam was born in the full light of history:
محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ حیثیت تاریخ میں اس طرح ثبت ہوئی کہ عمومی طور پر اہل علم نے اس کا اعتراف کیا۔ آپ کی تاریخی حیثیت پر بہت سی کتابیں لکھی گئیں۔ان میں سے ایک کتاب وہ ہے جو دی ہنڈریڈ(The 100) کے نام سےامریکا سے شائع ہوئی۔
واپس اوپر جائیں

قرآن، کتاب ہدایت

انسان اس دنیا میںپیداہوتا ہے، اور زندگی گزارکر ایک دن مرجاتاہے۔ سروے کے مطابق موجودہ دنیا میں انسان کی اوسط عمر تقریباً 70 سال ہے۔ انسان کی سب سے زیادہ اہم ضرورت یہ ہے کہ اس کو بتایا جائے کہ انسان کی زندگی کا مقصد کیا ہے۔ اس کا حال کیا ہے اور اس کا مستقبل کیاہے۔ موت سے پہلے کیا ہے اور موت کے بعد کیا۔ کس عمل پر انسان کی کامیابی کا انحصار ہے۔
قرآن اسی حقیقت کو بتانے کے لئے اترا ہے۔ قرآن بتاتا ہے کہ خالق کا تخلیقی نقشہ انسان کے بارے میں کیا ہے۔ قرآن واحد کتاب ہے جس کا موضوع تخلیقی منصوبہ ہے۔ قرآن انسان کو وہ ضروری معلومات دیتا ہے جس کی روشنی میںانسان اپنی زندگی کا صحیح منصوبہ (right planning) بنا سکے۔ ایسی حالت میں حاملین قرآن کی یہ لازمی ڈیوٹی ہے کہ وہ قرآن کو دنیا میں بسنے والے تمام انسانوں تک پہنچائیں۔ اور یہ پہنچانا لوگوں کی قابلِ فہم زبان (understandable language) میں ہو،تا کہ وہ اس کو سمجھیں اور قرآن کو ایک رہنما کتاب (guide book) بنا سکیں۔
قرآن کے نزول کو تقریباً ڈیڑھ ہزار سال گزر چکے ہیں۔ اس مدت میں حاملین قرآن نے قرآن کے متن کی حفاظت کے لئے بہت زیادہ کام کیا ہے۔ مگر عجیب بات ہے کہ مختلف قوموں کے درمیان جو مطلوب کام ہے وہ ابھی تک عملاًنہ ہوسکا۔قرآن کے متن کی حفاظت پر توبہت زیادہ کام ہواہے، لیکن قرآن کی معنوی اشاعت کا کام ابھی مستقبل کا انتظار کررہا ہے۔ اس معاملہ میں مسیحی لوگوں نے حاملین قرآن کے لئے راستہ دکھادیا۔ مسیحی لوگوں نے بائبل کے ترجمے دنیا کی تقریباً تمام زبانوں میں تیار کئے ہیں، اور ان کو عمومی طور پر پھیلادیا۔ یہی کام حاملین قرآن کو قرآن کے لئے کرنا ہے۔
اگر اس کام کو قرآن کی معنوی اشاعت کہا جائے تو بلاشبہ وہ پوری امت پر فرض ہے۔ فرض کفایہ نہیں ، بلکہ فرض عین ہے۔ موجودہ زمانے میں اس کام کے تمام ضروری وسائل پوری طرح موجود ہوچکے ہیں۔اب صرف یہ باقی ہے کہ ان وسائل کو قرآن کے پیغام کی اشاعت کے لیے استعمال کیا جائے۔
واپس اوپر جائیں

قرآن کا اسلوب

قرآن کا اسلوب تبیین کا اسلوب ہے، قرآن کا اسلوب تحقیق کا اسلوب نہیں ۔قرآن کا طریقہ حقیقت کو بیان کرنے (statement of fact) کا طریقہ ہے، قرآن میں عقلی تجزیہ (rational analysis) کا طریقہ اختیار نہیں کیا گیا ہے۔ قرآن کے اس اسلوب کو قرآن میں ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے:کِتَابٌ أَنْزَلْنَاہُ إِلَیْکَ مُبَارَکٌ لِیَدَّبَّرُوا آیَاتِہِ وَلِیَتَذَکَّرَ أُولُو الْأَلْبَابِ (38:29)۔ یہ ایک بابرکت کتاب ہے جو ہم نے تمھاری طرف اتاری ہے، تاکہ لوگ اس کی آیتوں پر غور کریں اور تاکہ عقل والے اس سے نصیحت حاصل کریں ۔
عام کتاب کی طرح قرآن میں یہ اسلوب نہیں ہے کہ ہر بات لفظوں میں لکھ دی گئی ہو کہ اس کو پڑھ کر جان لیا جائے۔ بلکہ قرآن میں اساسیات (basics) کو بیان کردیا گیا ہے۔ اب یہ قاری کا کام ہے کہ وہ غور و فکر کرکے اس کی تفصیل (detail) معلوم کرے۔قرآن میں یہ طریقہ اس لیے اختیار کیا گیا کہ آدمی خود دریافت کردہ سچائی (self-discovered truth) پر کھڑا ہو۔ قرآن ایک رہنما کتاب ہے، نہ کہ معلومات کی کتاب۔ اس طرح جب کوئی شخص مطالعہ اور غور و فکر کے ذریعے سچائی کو دریافت کرتا ہے تو سچائی پر اس کو اتھاہ یقین حاصل ہوتا ہے۔ پھر یہ یقین اس کی زندگی میں عمل کی صورت اختیار کرتا ہے۔ وہ اس کی سوچ ، اس کی گفتگو، اس کی عملی سرگرمیوں پر چھا جاتا ہے۔
قرآن کا یہ اسلوب اس کے قاری کے اندر تخلیقی فکر (creative thinking) پیدا کرتا ہے۔یہ ایک حقیقت ہے کہ ذہنی ارتقا کا اعلی درجہ یہ ہے کہ آدمی کے اندر تخلیقی فکر پیدا ہوجائے۔ تخلیقی فکر آدمی کو ذہنی جمود (intellectual stagnation) سے بچانے والی ہے۔وہ آدمی کے لیے اس کے سفر حیات کو ایک زندہ سفر بنا دیتی ہے۔ ایسا آدمی ہر لمحہ اپنے لیے ذہنی غذا (intellectual food) حاصل کرتا رہتا ہے۔ اس طرح اس کی ذہنی زندگی کبھی اور کسی حال میں ختم نہیں ہوتی۔
واپس اوپر جائیں

عافیت کی دعا

عافیت سے متعلق کئی روایتیں حدیث کی کتابوں میں آئی ہیں۔ ان میں سے ایک روایت یہ ہے: عن ابن عمر، قال:قال رسول اللہ صلى اللہ علیہ وسلم:من فُتِح لہ منکم باب الدعاء فُتِحت لہ أبواب الرحمة، وما سُئِل اللہُ شیئا یعنی أحب إلیہ من أن یسأل العافیة(سنن الترمذی، حدیث نمبر3548)۔ عبد اللہ ابن عمر سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس کےلیے دعا کے دروازے کھولے گئے اس کے لئے رحمت کے دروازے کھول دیئے گئے اور اللہ تعالیٰ کے نزدیک اس سے عافیت مانگنا ہر چیز مانگنے سے زیادہ محبوب ہے ۔
اس دنیا میں انسان کو اگرچہ اختیار دیا گیا ہے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ معاملات میں انسان کا دخل ایک فیصد سے بھی کم ہوتا ہے۔ جب کہ اللہ رب العالمین کا دخل ننانوے فیصد سے بھی زیادہ۔ یہی وجہ ہے کہ انسان کے لیے اللہ سے دعا کرنا بہت زیادہ اہم ہے۔ جس انسان کو یہ حقیقت دریافت ہوگئی، اور وہ اس پر قائم ہوگیا، وہ بلاشبہ اللہ کی رحمتوں کے سائے میں آجائے گا۔
اس دنیا میں انسان کے لیے پہلی رحمت کی چیز ایمان ہے۔ یعنی حقیقت حیات کی دریافت۔ اس کے بعد جو چیز سب سے زیادہ اہمیت کی حامل ہے، وہ عافیت ہے۔ عافیت سے مراد وہی چیز ہے جس کو عام طور پر اچھی صحت (good health) کہا جاتا ہے۔ انسان اپنی پیدائش کے اعتبار سے ایک کمزور مخلوق ہے۔ صحت و عافیت میں معمولی خلل انسان کے لیے ناقابل برداشت ہوجاتا ہے۔ جس انسان کو صحت و عافیت حاصل نہ ہو وہ کوئی بھی کام صحیح شکل میں نہیں کرسکتا۔ اس لیے انسان کو چاہیے کہ وہ اللہ سے بہت زیادہ دعا کرے تاکہ وہ اپنی ذمہ داریوں کو درست طور پر ادا کرنے کے قابل ہوجائے۔مگر یاد کیے ہوئے عربی الفاظ کو دہرانے کا نام دعا نہیں ہے، سچی دعا وہ ہے جو معرفت کی دعا ہو۔ جو دل کی گہرائیوں سے نکلے، نہ کہ لفظی تکرار کے طور پر۔ایسی دعا بلاشبہ اللہ تک پہنچتی ہے، اور وہ اللہ کے یہاں قبولیت کا درجہ پاتی ہے۔
واپس اوپر جائیں

سزائے قتل

مسلم علماء اور فقہاء کا یہ ماننا ہے کہ شتم رسول کی سزا قتل ہے(یقتل حداً)۔ یہی معاملہ ان کے نزدیک ارتداد کا بھی ہے۔ مگر یہ بات درست نہیں۔ پہلی بات یہ ہے کہ قرآن و حدیث سے یہ ثابت نہیں کہ ارتداد یا شتم رسول کی سزا قتل ہے۔ اس سلسلہ میں جو حوالے دیے جاتے ہیں ، وہ بلاشبہ نہایت ضعیف ہیں۔(ملاحظہ ہو راقم الحروف کی کتاب شتم رسول کی سزا۔ نیز حکمت اسلام کا باب، مرتد اور ارتداد)۔
تاہم بالفرض اگر کسی کے نزدیک شتم رسول یا ارتدادکی سزا قتل ہو تب بھی کوئی جرم عدالتی کارروائی سے مستثنیٰ نہیں ہوسکتا۔ علماء اور فقہاء جب یہ لکھتے ہیں کہ یقتل حد اً تو اس کے ساتھ انھیں یہ اضافہ کرنا چاہیے کہ بعد المحاکمہ یعنی عدالتی کارروائی (judicial proceedings) کے بعد، نہ کہ اس کے بغیر۔ یہ حکم اتنا عام ہے کہ اس معاملے میں کوئی بھی جرم مستثنیٰ نہیں بن سکتا۔
انسان کو قتل کرنا، انسان کے لیے آخری سزا کے برابر ہے۔ اس کےبعد انسان کچھ کرنے کے لیے موجود نہیں رہتا۔ اس لیےقتل کےمعاملے میںاہل اسلام کو بے حد حساس ہونا چاہیے۔ کسی کو قتل صرف اس وقت کیا جاسکتا ہے، جب کہ اس کے لیے نص صریح موجود ہو، جس میں کسی تاویل کی گنجائش نہ ہو۔ مزید یہ کہ قتل کا فیصلہ ایک با اختیار جج کرسکتا ہے۔ کوئی اور شخص یا گروہ کسی کو قتل کرنےکا ہرگز مجاز نہیں۔قتل کا حکم لگانے سے پہلے لوگوں کو چاہیے کہ وہ قرآن کی اس آیت کو باربار پڑھیں:
مَنْ قَتَلَ نَفْسًا بِغَیْرِ نَفْسٍ أَوْ فَسَادٍ فِی الْأَرْضِ فَکَأَنَّمَا قَتَلَ النَّاسَ جَمِیعًا وَمَنْ أَحْیَاہَا فَکَأَنَّمَا أَحْیَا النَّاسَ جَمِیعًا (5:32) ۔ یعنی جو شخص کسی کو قتل کرے، بغیر اس کے کہ اس نے کسی کو قتل کیا ہو یا زمین میں فساد برپا کیا ہو تو گویا اس نے سارے انسانوں کو قتل کر ڈالا اور جس نے ایک شخص کو بچایا تو گویا اس نے سارے انسانوں کو بچا لیا۔
واپس اوپر جائیں

خدا سے ہم کلامی

ایک حدیثِ رسول میں مومن کی صفت بتانے کے لئے یہ الفاظ آئےہیں: یناجی ربہ (صحیح البخاری، حدیث نمبر 405)۔ یعنی مومن اللہ رب العالمین سے سرگوشی کرتا ہے ۔ اس کو ہمیشہ اللہ سے ہم کلامی کا تجربہ ہوتا رہتا ہے۔
A believer is always in contact with God
غیر مومن کے بارے میں یہ کہنا صحیح ہوگا کہ وہ اپنے دوست سے سرگوشی کرتا رہتاہے (یناجی صدیقہ)۔ لیکن مومن وہ ہے جو معرفت کےدرجہ میں اللہ کو دریافت کرے۔ اپنی ربانی سوچ کی بنا پر اس کو اللہ سے قربت کا تجربہ ہونے لگے۔ وہ محسوس کرنے لگے کہ میں اللہ کے پاس ہوں یا اللہ میرے پاس ہے۔ جب کسی شخص کو یہ ربانی تجربہ ہوتا ہے تو فطری طورپر ایسا ہوتاہے کہ وہ اللہ کو یاد کرنے لگتا ہے۔ وہ سرگوشی (whisper) کی زبان میں اللہ سے ہم کلام ہوجاتا ہے۔ اس کو اللہ کی طرف سے انسپریشن (inspiration) ملنے لگتا ہے۔ اس کو ایسا محسوس ہونے لگتاہے کہ وہ دنیا میں رہتے ہوئے آخرت میں پہنچ گیا ہے۔ وہ انسانوں کے درمیان رہتےہوئے اللہ کا پڑوسی بن گیا ہے۔
اس حدیث میں بندہ اور رب کے درمیان جس مناجات کا ذکر ہے، اس کی تصدیق قرآن سے بھی ہوتی ہے۔قرآن میں یہ آیت آئی ہے: وَإِذَا سَأَلَکَ عِبَادِی عَنِّی فَإِنِّی قَرِیبٌ أُجِیبُ دَعْوَةَ الدَّاعِ إِذَا دَعَانِ (2:186)۔
بندے کی پکار کا اللہ تک پہنچنا انھیں الفاظ میں ہوتا ہے جن الفاظ میں بندے نے اپنے رب کو پکارا ہے۔ بندہ جب پکارتا تو اس کا رب اس کو اسی وقت حقیقی طور پر سن لیتا ہے۔اب سوال یہ ہے کہ اللہ کا جواب کس طرح انسان تک پہنچتا ہے۔یہ الفاظ کے اعتبار سے نہیں ہوتا بلکہ وجدان (intuition)کی سطح پر کیفیت (feeling)کے اعتبار سے ہوتا ہے۔ اس کو محسوس تو کیا جا سکتا ہے لیکن لفظوں میں اس کو بیان نہیں کیا جا سکتا۔
واپس اوپر جائیں

موقع ومحل کی اہمیت

قرآن میں ایک طرف یہ کہا گیاہے کہ اشداء على الکفار (48:29) ۔ دوسری طرف قرآن میں آیا ہے :فَبِمَا رَحْمَةٍ مِنَ اللَّہِ لِنْتَ لَہُمْ ( 3:159)۔اس سے معلوم ہوتاہے کہ اسلام میں کبھی شدت مطلوب ہوتی ہے اور کبھی نرمی۔ یہ شدت اور نرمی کافر اور مسلم کے اعتبار سے نہیں بلکہ موقع ومحل کے اعتبار سےاختیار کی جاتی ہے۔ اس فرق کا سبب حکمت کلام ہے۔ اس کا تعلق اصلاً متکلم سے نہیں ہے، بلکہ سامع (audience) سے ہے۔
اصل یہ ہے کہ لوگوں میں علم وفہم کے اعتبار سے فرق ہوتاہے (یوسف 76:)۔ اسی بنا پر کلام میں بھی فرق مطلوب ہوجاتا ہے۔ کلام میں شدت بھی اتنا ہی مطلوب ہے جتنا کہ کلام میں نرمی۔ مگر اس کا انحصار سامع کی قبولیت (acceptance) سے ہے۔ اگر سامع کے اندر یہ صلاحیت ہو کہ وہ بات کو بات کے لحاظ سے دیکھے نہ کہ اسلوب کے لحاظ سے۔ ایسے شخص کے لئے ہیمرنگ کی زبان (language of hammering) زیادہ مفید ہوگی۔ اس کے برعکس جس آدمی کے اندر شدت کو برداشت کرنے کا مادہ نہ ہو اس سے نرمی کے انداز میں بات کہی جائے گی۔
یہ اصول اجتماعی زندگی کو کامیاب بنانے کے لیے بے حد اہم ہے۔ ایک شخص اگر اکیلا ہو تو اس قسم کا مسئلہ پیدا نہیں ہوگا۔ لیکن اجتماعی زندگی کا معاملہ اس سے مختلف ہے۔ اجتماعی زندگی میں ہمیشہ طرح طرح کے لوگ ہوتے ہیں۔ ہر ایک سے یکساں قسم کا برتاؤ نہیں کیا جاسکتا۔ بلکہ یہ دیکھنا پڑے گا کہ کوئی شخص کس چیز کا تحمل کرسکتاہے، اور کس چیز کا تحمل نہیں کرسکتا۔ یہ فرق حکمت پر مبنی ہوتا ہے، نہ کہ امتیاز پر۔ جو شخص صرف نرمی کا تحمل کرسکتا ہو، اس کے ساتھ سختی کرنا، اس پر ظلم کرنا ہے۔ اس کے برعکس، جو شخص نرمی اور سختی سے اوپر اٹھ کر بات کو حقیقتِ واقعہ کے اعتبار سے دیکھے ، اس کے ساتھ نرمی کا طریقہ اختیار کرنا ، اس کے اوپر ظلم کرنا ہے۔ اس کو ایک ایسے خیر سے محروم کرنا ہے، جس کا وہ پہلے سے انتظار کر رہا تھا۔ اسی کا نام حکمت ہے۔
واپس اوپر جائیں

سکنڈری چوائس

اسلام کی تاریخ بتاتی ہے کہ ابتدائی ربع صدی تک اسلام میں اصولی خلافت قائم رہی ۔اس کے بعد خاندانی خلافت (dynasty-based khilafat) قائم ہوگئی، جو آخر وقت تک چلتی رہی۔ یہ کوئی برائی (evil) کی بات نہیں ہے بلکہ وہ پریکٹکل وزڈم (practical wisdom) کی بات ہے۔ فطرت کے قانون کے مطابق زندگی کا ایک اصول یہ ہے کہ جب پہلا انتخاب (first choice) ممکن نہ ہو تو سکنڈری چوائس (secondary choice) پر راضی ہوجاؤ۔
خاندانی خلافت کا کم از کم یہ فائدہ حاصل ہوا کہ اسلام کی بعد کی تاریخ میں استحکام (stability)کا قیام ممکن ہوگیا۔ اس استحکام کی بناپر بعد کے زمانہ میں اسلام کا ڈھانچہ مسلسل طورپر باقی رہا۔ عبادت کانظام، اسلامی تعلیم کا نظام، اسلام پر مبنی معاشرہ کم از کم فارم کے درجہ میں قائم رہا۔ تاریخ بتاتی ہے کہ علماء اسلام، خاندانی خلافت کے نظام پر راضی ہوگئے۔ اگر وہ اصولی خلافت پر اصرار کرتے تو اسلام کی تاریخ میں استحکام (stability) موجود نہ رہتا۔
سکنڈری چوائس زندگی کا ایک اہم اصول ہے۔زندگی میں اکثر لوگ اپنے معاملات میں فرسٹ چوائس کو لینا چاہتے ہیں، مگر نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ ان کو نہ فرسٹ چائس ملتا ہے ، نہ سکنڈ چوائس۔ زیادہ بہتر پانے کی کوشش میں کم بہتر بھی ان کے ہاتھ سے نکل جاتا ہے۔
سکنڈری چوائس لینا، اپنی حقیقت کے اعتبار سے کوئی کمی کی بات نہیں۔ یہ صرف آغاز (beginning) کی بات ہے۔ اس دنیا میں عقل مندی یہ ہے کہ آدمی ممکن حالت سے اپنے عمل کا آغاز کرے۔ اگر وہ دانش مند منصوبہ بندی کے ساتھ کام کرے گا تو یقینا وہ اعلی کامیابی تک پہنچ جائے گا۔ فرسٹ چوائس اور سکنڈری چوائس صرف آغازِ کار کی بات ہے، وہ انجام کار کا معاملہ نہیں۔ اس راز کو جاننا بلاشبہ زندگی کا اہم ترین اصول ہے۔ جو لوگ اس راز کو نہ جانیں، وہ اپنے آپ کو غیر ضروری مسائل میں مبتلا کرلیتے ہیں۔
واپس اوپر جائیں

امیج کا مسئلہ

ایک تعلیم یافتہ مسلمان نے ایک مضمون شائع کیا تھا: ٹاسک اہیڈ(Task Ahead) ۔ یہ مضمون زیادہ واضح نہ تھا۔ مگر آج کے لحاظ سے سوچا جائے تو آج کرنے کا سب سے بڑا کام اسلام کی امیج بلڈنگ (image building)ہے۔ موجودہ زمانہ میں مختلف اسباب سے اسلام کی امیج یہ بن گئی ہے کہ اسلام تشدد کا مذہب ہے۔ آج سب سے بڑا کام یہ ہےکہ اس تصویر کو بدلا جائے اور عالمی سطح پر یہ اعلان کیا جائے کہ اسلام پورے معنوں میں ایک مذہبِ امن ہے، نہ کہ مذہب ِتشدد۔ تصویر(image) کا مسئلہ بہت سنگین مسئلہ ہے۔ اگر کسی کی امیج بگڑ جائے تو لوگ اس کے بارے میں منفی ہوجاتے ہیں۔ اور جب لوگ کسی کے بارے میں منفی ہوجائیں تو وہ اس کے بارے مثبت ذہن کے تحت نہیں سوچتے۔ وہ اس کی ضرورت نہیں سمجھتے کہ معاملے کا سنجیدگی کے ساتھ مطالعہ کریں، اور پھر ذاتی مطالعے کی بنیاد پر اس کے بارے میں مبنی بر حقیقت رائے قائم کریں۔
اس عوامی نفسیات کی بنا پر اس مسئلے کو مدعو کے اوپر نہیں ڈالا جاسکتا۔ حقیقت پسندی کا تقاضا ہے کہ داعی اس معاملے کی ذمے داری خود قبول کرے۔اس طرح کے معاملے میں صرف تردید یا مذمت کافی نہیں۔ مثلا عام طور پر یہ کہا جاتا ہے کہ اس معاملے کی ذمے داری میڈیا پر آتی ہے۔ مگر یہ کہنا کافی نہیں۔ ضرورت ہے کہ خالص غیر جانب دارانہ انداز میں اس مسئلے کا جائزہ لیا جائے، اور پھر مثبت ذہن کے تحت اس کی تلافی کی کوشش کی جائے۔
اس معاملے میں دوسروں کو ذمے دار قرار دینا ایک بے فائدہ کام ہے۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ دوسرے لوگ خود اپنی رائے نہیں بدلیں گے۔ داعی کو یک طرفہ طور پر یہ کوشش کرنا ہوگا کہ وہ درست منصوبہ بندی کے ذریعے امیج بلڈنگ (image building) کی مہم شروع کرے۔ وہ دوسروں کو ذمہ دار ٹھہرانے کے بجائے ، خود اپنے آپ کو ذمہ دار ٹھہرائے۔یہی اس معاملے میں واحد نتیجہ خیز طریقہ ہے۔
واپس اوپر جائیں

ذہنی تربیت

ذہن سازی ایک اہم ترین کام ہے۔ لیکن ذہن سازی کبھییہ کرو، وہ نہ کرو(dos and don'ts) کی زبان میں نہیں ہوتی۔ ذہن سازی کا آغاز سب سے پہلے یہاں سے ہوتاہے کہ آدمی کے اندر فکری عمل (intellectual process)جاری کیا جائے۔
فکری عمل جاری کرنا مربی کا کام ہے اور فکری عمل کو آخری حد تک پہنچانا زیر تربیت فرد کا کام ہے۔یہی وہ حقیقت ہے جو قرآن کی اس آیت میں بیان کی گئی ہے۔ لِّکَیْلَا تَأْسَوْا عَلَىٰ مَا فَاتَکُمْ وَلَا تَفْرَحُوا بِمَا آتَاکُمْ(57:23) ۔
قرآن کی اس آیت سے معلوم ہوتاہے کہ انسان کی زندگی میں غم کے واقعات دراصل ذہنی صدمہ (intellectual shock) کے لئے ہوتےہیں۔ اس کا مقصد یہ ہوتاہے کہ آدمی کے ذہن میں ہلچل پیداکی جائے۔ اس کے ذہن میں سوچ کا عمل (process) جاری ہو۔ آدمی کی تخلیقیت میںاضافہ ہو یہاں تک کہ وہ خود اپنی سوچ کے تحت ایک حقیقت تک پہنچے۔ آدمی کا مزاج یہ ہے کہ وہ ذاتی تجربہ سے سیکھتا ہے نہ کہ صرف بتا دینے سے۔
ذہنی تربیت ایک دو طرفہ عمل ہے۔ اس کے نصف حصے کا تعلق مربی سے ہے، اوربقیہ نصف حصے کا تعلق اس سے جس کی تربیت مقصود ہے۔دو طرفہ ارادہ اور دو طرفہ کوشش کے بغیر تربیت کا مقصد حاصل نہیں ہوسکتا۔
مربی کی ذمے داری یہ ہے کہ وہ سب سے پہلے خود اپنے آپ کو تیار کرے، وہ زیر تربیت فرد یا افراد کے کیس کو گہرائی کے ساتھ سمجھے۔ ضروری مطالعے کے بعد وہ تربیت کی مبنی بر حقیقت منصوبہ بندی کرے۔ تربیت کے معاملے میں مربی کا صرف عالم ہونا کافی نہیں۔ اسی کے ساتھ لازمی طور پر ضروری ہے کہ مربی زیرتربیت افراد کا مکمل خیر خواہ ہو۔ تربیت نام ہے تین چیزوں کے مجموعے کا— علم، حکمت اور خیر خواہی۔
واپس اوپر جائیں

عدم اطمینان

ایک شخص نے ان بڑے بڑے اسکالرس پر ریسرچ کیا ہے، جو اپنی کسی بڑی دریافت کی بنا پر نوبل پرائز کے لیے منتخب ہوئے۔ اس نے لکھا ہے کہ میں نے یہ پایا کہ ان اسکالرس میں ایک چیز مشترک تھی۔ وہ تھی عدم قناعت (discontentment) ۔وہ علم کے بارے میں کسی حد پر نہیں رکتے تھے۔ اس لیے ان کی ترقی مسلسل جاری رہی۔
بڑے بڑے اہل علم کی جو عدم قناعت علم کے بارے میں ہوتی ہے، وہی عدم قناعت مومن کے اندرمعرفت کے بارے میں ہوتی ہے۔ مومن آخر دم تک معرفت خداوندی کے معاملے میں غیرقانع رہتا ہے۔ اس لیے اس کی معرفت برابر بڑھتی رہتی ہے، وہ کبھی ختم نہیں ہوتی۔
اہل ایمان کے بارے میں یہی وہ حقیقت ہے، جو حدیث میں ان الفاظ میں بیان کی گئی ہے:عن أبی سعید الخدری، عن رسول اللہ صلى اللہ علیہ وسلم قال: لن یشبع المؤمن من خیر یسمعہ حتى یکون منتہاہ الجنة(سنن الترمذی، حدیث نمبر2686)۔ یعنی ابوسعید خدری کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مؤمن خیر کی باتیں سننے سے کبھی سیر نہیں ہوتا یہاں تک کہ اس کی انتہاء جنت پر ہوتی ہے۔ مسند شہاب القضاعی کی روایت (نمبر897) میں خیر اور مومن کے بجائے علم اورعالم کا لفظ آیا ہے۔؃
اصل یہ ہے کہ انسان کی نسبت سے دین کے دو پہلو ہیں۔ ایک ہے معرفت کا پہلو، اور دوسرا ہے دینداری کا فارم ۔ فارم ہمیشہ معلوم ہوتا ہے۔ کچھ افعال انجام دینے کے بعد اس کی حد آجاتی ہے، اور جب کسی چیز کی حد آجائے تو ایسے انسان کے اندر عدم اطمینان کی کیفیت پائی نہیں جائے گی، وہ جو کچھ کررہا ہے، وہ اس پر قانع ہوجائے گا۔
مگر معرفت لامتناہی چیز ہے۔ آدمی کتنا ہی زیادہ معرفت حاصل کرلے،اس کے اندر مزید حصول کا جذبہ کبھی ختم نہ ہوگا۔
واپس اوپر جائیں

ایک اجتماعی مسئلہ

منفی ذہن (negative mind) ہر عورت اور مرد کے اندر اپنے آپ موجود رہتاہے۔ لیکن مثبت ذہن (positive mind) آدمی کو سوچ کر بنانا پڑتا ہے۔ عام طور پر لوگوں کا حال یہ ہے کہ وہ سوچ کر اپنا ذہن نہیں بناتے۔ اس لئے ہر ایک منفی سوچ میں مبتلا رہتاہے۔ یہی وجہ ہےکہ عام طورپر لوگ دوسروں کے بارے میں بہت جلد مخالفانہ رائے قائم کرلیتے ہیں۔ وہ اکثر دوسرے شخص کے منفی پہلو کو لے کر اس کے بارےمیں رائے بناتے ہیں۔ وہ آدمی کے مثبت پہلو کو لے کر رائے نہیں بناتے۔ حالانکہ اگر وہ سوچیں تو وہ پائیں گے کہ ہر ایک کے اندر منفی پہلو کے ساتھ مثبت پہلو بھی موجود رہتاہے۔
اجتماعی زندگی (collective life)کو بہتر بنانے کے لئے سب سے زیادہ اہم اصول یہ ہے کہ آپ دوسرے شخص کے منفی پہلو کو نظر انداز کریں اور مثبت پہلو کو لے کر اس کے بارےمیں رائے بنائیں۔انسانوں کے درمیان حقیقی اتحاد کا یہی واحد اصول ہے۔ کسی سماج میں اتحاد اس لیے نہیں پیدا ہوسکتا کہ لوگ ایسے بن جائیں کہ کسی کو کسی سے شکایت نہ رہے۔ اس قسم کا اتحاد فطرت کے قانون کے خلاف ہے۔ اس لیے وہ عملا بننے والا بھی نہیں۔
اتحاد کا واحد اصول اختلاف کے باوجود متحد ہونا ہے۔ اتحاد ہمیشہ اختلاف کو نظر انداز کرنے سے آتا ہے، نہ کہ اختلاف کو ختم کرنے سے۔ فطرت کے قانون کے مطابق، زندگی کا نظام تنوع (diversity) پر قائم ہے، نہ کہ یکسانیت (uniformity) پر۔ لوگوں میں یکسانیت پیدا کرکے ان کے درمیان اتحاد قائم کرنے کا فارمولا، ایک ناممکن فارمولا ہے۔ خواہ سیکولر دائرہ ہو یا مذہب کا دائرہ، ہر جگہ اختلاف کو برداشت کرنے سے اتحاد آئے گا، نہ کہ لوگوں میں یکسانیت لانے سے جو کہ کبھی وقوع میں آنے والا ہی نہیں۔
واپس اوپر جائیں

غصہ کیوں آتاہے

غصہ ایک عام برائی ہے۔ اکثر لوگوں کا حال یہ ہے کہ جب ان کے مزاج کے خلاف کوئی بات ہوتی ہے تو وہ غصہ ہوجاتے ہیں۔ غصہ ہمیشہ شکایت سے شروع ہوتا ہے۔ اس کے بعد وہ نفرت کی صورت اختیار کرتا ہے۔ یہ نفرت مزید بڑھ کر عناد (enmity) کی شکل اختیار کر لیتی ہے۔ اس کے بعد وہ یہ کرتاہے کہ جس آدمی پر اس کوغصہ آیا اس کو ہر اعتبار سے وہ نیچا دکھانے کی کوشش کرتاہے۔ شعوری یا غیر شعوری طورپر وہ یہ چاہنے لگتا ہے کہ کسی طرح یہ ثابت ہو کہ وہ غصہ کرنے میں درست تھا۔غصہ کی اصل جڑ انانیت (ego) ہے۔ اکثر ایساہوتا ہے کہ لوگ اپنی بے شعوری کی بنا پر اپنے اندر وہ صفت پیدا نہیں کرپاتے جس کو آرٹ آف ایگو مینجمنٹ(art of ego management) کہاجاتا ہے۔ جو آدمی اس آرٹ کو جانے وہ اپنی ذہنی بیداری (intellectual awakening) کی بنا پر اس قابل ہوگا کہ وہ اپنے ایگو کو اپنے عقل کے تابع رکھے نہ کہ خود ایگو (ego)کے تابع ہوجائے۔
غصہ فطرت کا ایک ظاہرہ ہے۔ ہر آدمی کے اندر فطری طور پر غصہ کے جذبات موجود ہوتے ہیں۔ لیکن غصہ کی ایک صورت محمود ہے، اور دوسری صورت غیر محمود۔آدمی کو چاہیے کہ وہ اس فرق کو سمجھے۔ کیوں کہ غصہ کی محمود صور ت جائز ہے، جب کہ غصہ کی غیر محمود صورت ایک گناہ ہے۔
غصہ کی غیر محمود صورت وہ ہے جو غرور (arrogance) کی وجہ سے پیدا ہوتی ہے۔ یعنی اپنے کو بڑا، اور دوسرے کو چھوٹا سمجھنا۔ اس بنا پر اپنے خلاف بات سن کر بھڑک اٹھنا۔ اس قسم کا غصہ کبر کی علامت ہے۔ اور کبر بلاشبہ ایک گناہ ہے۔محمود غصہ وہ ہے جو اصول پسندی کی بنا پر کسی کے اندر پیدا ہوتا ہے۔ جب ایک آدمی اصول پسند (man of principle) ہو تو وہ اصول کے معاملے میں حساس (sensitive)ہوجائے گا۔ اس بنا پر وہ خلاف اصول بات کو برداشت نہیں کرپاتا۔وہ شدید انداز میں اس کے خلاف نکیر کرنا چاہتا ہے۔ وہ بظاہر غصہ ہوتا ہے لیکن حقیقۃ وہ شدت اظہار ہوتا ہے۔
واپس اوپر جائیں

سوال و جواب

سوال
کیا غیرمسلموں میں دعوت کی ذمہ داری ہر ہر مسلمان پر اُسی طرح عائد ہوتی ہے جس طرح پیغمبر پر عائد تھی؟ اس کی وضاحت فرمائیں۔ (عباد افضل، الہ آباد، یوپی)
جواب
آپ کے سوال کا جواب یہ ہے کہ بلاشبہ غیرمسلموں میں دعوت کی ذمہ داری ہر ہر مسلمان پر اُسی طرح عائد ہوتی ہے جس طرح پیغمبر پر عائد تھی۔ دعوت اپنی حقیقت کے اعتبار سے پیدا ہونے والے انسانوں کو یہ بتانا ہے کہ پیدا کرنے والے نے ان کو کس لیے پیدا کیا ، اور آخر کار ان کا خالق اس سے کیا معاملہ کرنے والا ہے۔ اس عمل کو قرآن میں انذار و تبشیر کہا گیا ہے۔ پیدا ہونے والے انسان چوں کہ قیامت تک پیدا ہوتے رہیں گے، اس لیے انذار و تبشیر کا عمل بھی قیامت تک جاری رہے گا۔
اس معاملہ میں پیغمبر کی حیثیت نمونہ (model) کی ہے۔ پیغمبر نے اپنے زمانے میں انذار و تبشیر کا جو کام کیا، وہ ایک اعتبار سے اپنی ذمے داری کی ادائیگی کے طور پر تھا، اور دوسرے اعتبار سے وہ تمام اہل ایمان کےلیے نمونہ کی حیثیت رکھتا تھا۔ حدیث میں آیا ہے: صلوا کما رأیتمونی أصلی(صحیح البخاری، حدیث نمبر631)۔ توسیعی معنی کے اعتبار سے حدیث میں یہ بات بھی شامل ہے کہ تم انذار و تبشیر کا کام اس طرح کرو جس طرح تم مجھ کو کرتے ہوئے دیکھتے ہو۔
قرآن حدیث میں یہ حکم بار بار آیا ہے ۔ مثلا قرآن میں ہے کہ امت محمدی کی حیثیت امت وسط (البقرۃ143:)کی ہے۔ یعنی بیچ کی امت۔ اُس کا کام یہ ہے کہ وہ سچائی کا علم پیغمبر سے حاصل کرے، اور پھر اس کو بعد کے زمانے میں تمام قوموں تک پہنچاتی رہے۔ اسی اعتبار سے اہل ایمان کے بارے میں یہ حدیث آئی ہے : المؤمنون شہداء اللہ فی الأرض (صحیح البخاری، حدیث نمبر2642)۔ یعنی مومن زمین پر اللہ کے گواہ ہیں۔ اس بات کو قرآن کی ایک آیت میں اس طرح بیان کیا گیا ہے : تاکہ میں تم کو اس قرآن کے ذریعہ انذار کروں، اور جس کو پہنچے ( وہ بھی قیامت تک انذار کا کام کرتا رہے)۔الانعام: 19
سوال
میں ماہ نامہ الرسالہ پچھلے دس برسوں سے مطالعہ کر رہاہوں۔ مجھے اس مشن نے بہت اندر تک متاثر کیا ہے، اور مجھے بالکل بدل دیا۔ ایک مرتبہ میں نے آپ سے ملاقات اور انٹر ایکشن کیا تھا۔ اس وقت آپ نے مجھ سے الرسالہ کے متعلق فیڈ بیک مانگا تھا۔لیکن میں اس وقت کچھ بول نہ پایا تھا۔ اب اس خط کے ذریعہ میں اسے لکھ رہا ہوں کہ میرے اندر الرسالہ کی وجہ سےکیا کیا تبدیلیاںآئی ہیں۔ میری پیدائش 1989 میں ہوئی۔ نو سے پندرہ برس کی عمر تک میں نے گھر سے دور رہ کر مدرسہ میں تعلیم حاصل کی۔ اس کے بعد کالج سے گریجویشن اور ایم اے کیا۔ الرسالہ مشن سے جو فائدہ ہوا، ان میں سے چند یہ ہیں۔(1)پہلا فائدہ جو الرسالہ نے دیا، وہ ہے اسلام کی روح سے متعارف کرانا۔ میں ایک تعلیم یافتہ گھر میں پیدا ہوا، دینی ماحول میں رہا، مدرسے میں وقت بِتایا، مگر دین کو دریافت نہ کرپایا تھا۔ دین کے نام پر جو چیز پایا تھا وہ ہے منفی ذہن، شکایتیں، مسلک پرستی، اور قوم پرستی، وغیرہ۔مجھے حیرت ہوتی ہے کہ صبر و شکر جیسی فنڈا منٹل چیز بھی مَیں نہیں جان پایا تھا۔ یہ ماہ نامہ الرسالہ نے مجھے سکھایا۔ماہ نامہ الرسالہ کی بات کو تحقیق کرنے کے لیے میں نے پورے قرآن کو پڑھا، اور ہزاروں احادیث پڑھی، تب جاکر مجھے یقین کے درجے میں صحیح اسلام حاصل ہوا۔ (2)دوسرا زبردست فائدہ یہ ہوا کہ میں نے دین کی سیاسی تعبیر کے انحراف کو سمجھا، اور نام نہاد مجاہد بن کر اپنی زندگی کو ہلاکت میں نہ ڈالا۔ ورنہ بچپن ہی سے مجھےجہاد کو اس طرح بتایا گیا تھا کہ گویاوہی اسلام کا اصل مشن ہے، اور وہی مسلمانوں اور اسلام کے مسئلہ کا حل ہے۔ (3) تیسرا فائدہ یہ ہوا کہ آج آپ کی تعلیمات کی وجہ سے میں یقین (conviction) میں جیتا ہوں۔ جب میں مدرسہ سے نکلا تھا، نئے زمانے کی تبدیلیوں کو دیکھتا تھا، سمجھ نہیں پاتا تھا کہ سچائی کیا ہے۔ دل میں خدا، رسول اور آخرت کا یقین تو تھا، مگر ماڈرن ایج سے مَیں انھیں ریلیٹ (relate) نہیں کر پاتا تھا۔ اس کی وجہ سے میں کنفیوزن اور اسٹریس میں جیتا تھا۔ اس طرح میں نے پانچ برس تک گزارا۔ بڑی مشکل کا دور تھا یہ۔ کیوں کہ میں ہر تھاٹ اور ہر ڈسپلن کو پڑھتا ، مگر اس میں یقین نہیں پاتا تھا۔ لیکن خدا کے فضل سے میں نے ماہ نامہ الرسالہ کے ذریعہ ماڈرن ایج کو اسلام کے ریفرنس میں صحیح طور پر پالیا۔ مجھے اندھیرے سے اجالا ملا۔ مندرجہ بالا تبدیلیاں صرف علاماتی تبدیلیاں ہیں۔ ورنہ الرسالہ نے تو مجھے پوری طرح بدل دیا، سب کچھ بدل دیا۔ آئندہ ان شاء اللہ میں اپنا وقت اور پونجی دین کے کام میں صرف کروں گا۔ دعا کیجیے کہ میں دعوت کے کام کو اپنا مشن بناپاؤں، خدا مجھےمعاف کرے، میرا تزکیہ کرے، اور مجھے جنت نصیب کرے۔ آخر میںشہادت دیتا ہوں کہ آپ نے صحیح معنوں میں دین کا احیا کیا ہے۔ اللہ آپ کی اس عظیم ترین کوشش کو قبول کرے، اور آپ کو اس کا اعلیٰ ترین صلہ دے۔ آمین۔ (محمد اظہر مبارک، بھاگل پور)
جواب
میرا تجربہ ہے کہ صرف فارمل تعلیم ، علم کے حصول کے لیے کافی نہیں۔ خواہ وہ سیکولر تعلیم ہو یا دینی مدرسے کی تعلیم۔ فارمل تعلیم جو اداروں میں ہوتی ہے،اس میں آدمی کسی دوسرے کی بتائی ہوئی باتوں کا علم حاصل کرتا ہے۔ مگر علم کا خزانہ اس سے بہت زیادہ ہے، جتنا کہ کسی بتانے والے نے آپ کو بتایا ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ آدمی فارمل ایجوکیشن کے بعد خود مطالعہ کرے۔ خود مطالعے سے آدمی ، خود دریافت کردہ علم کو حاصل کرے گا۔ اور خود دریافت کردہ علم ہی سے آدمی کو حقیقی معرفت حاصل ہوتی ہے۔
ایجوکیشن کی دو قسمیں ہیں، فارمل ایجوکیشن اورانفارمل ایجوکیشن۔ الرسالہ مشن کی حیثیت انفارمل ایجوکیشن کی ہے۔ ہماری کوشش یہ ہے کہ فارمل ایجوکیشن پائے ہوئے لوگوں کو انفارمل ایجوکیشن مہیا کی جائے، تاکہ ان کی علمی کمی پوری ہو۔ دونوں طریقوں میں کوئی ٹکراؤ نہیں ہے۔ دونوں تعلیمی طریقے ایک دوسرے کے لیے تکمیلی حصہ (complementary part) کی حیثیت رکھتے ہیں۔دونوں طریقوں کو ایک دوسرے سے تقویت حاصل ہوتی ہے۔مثلا مدرسے کی تعلیم سے اگر دین کا روایتی علم حاصل ہوتا ہے تو انفارمل ایجوکیشن کے ذریعہ آدمی دور جدید سے واقفیت حاصل کرتا ہے، اور اس میں شک نہیں کہ کسی انسان کے لیے دونوں ہی ضروری ہے۔
سوال
الرسالہ کے ایک شمارہ میں ہے کہ آپ نے ا یک صاحب کونصیحت کرتے ہوئے یہ کہا تھا کہ ایک آدمی آپ کی جاب لے سکتا ہے، مگر کوئی آپ کی تقدیر نہیں چھین سکتا۔ اس کی وضاحت فرمائیں۔ (ڈاکٹر روشن کمار، گجرات)
جواب
جاب کا تعلق کسی کمپنی سے ہوتا ہے۔ کمپنی کو یہ حق حاصل ہوتا ہے کہ وہ جب چاہے کسی کو جاب دے، اور جب چاہیے کسی کی جاب ختم کردے۔ کمپنی کا یہ حق معاشیات کی دنیا میں ایک مسلّم حق سمجھا جاتا ہے۔اس معاملے میں ہر کمپنی کو یہ حق ہوتا ہے کہ وہ خود اپنی صوابدید کے مطابق جو چاہے فیصلہ کرے، اور جو فیصلہ نہ چاہے نہ کرے۔
لیکن تقدیر کا تعلق وسیع تر دنیا سے ہے۔ تقدیر کی دنیا خالق کی پیدا کی ہوئی دنیا ہے۔ فطرت کے قانون کے مطابق تقدیر کی اس دنیا میں مواقع (opportunities) اتنے زیادہ ہیں کہ ان کا احاطہ نہیں کیا جاسکتا ۔ فطرت کی دنیا میں ایسا ہوتا ہے کہ اگر کوئی شخص آپ سے ایک موقع چھین لے تب بھی وہاں دوسرے مواقع موجود رہتے ہیں ۔ کوئی ادارہ اپنے دیے ہوئے موقع کو واپس لے سکتا ہے۔ لیکن فطرت کی دنیامیں جو مواقع ہیں ، ان کو منسوخ کرنا کسی شخص یا ادارے کے لیے ممکن نہیں۔
لیکن یہ دوسرے مواقع اپنے آپ کسی کو نہیں ملتے۔ جس طرح کوئی آدمی جب ایک موقع حاصل کرتا ہے تو وہ اس کو اس وقت ملتا ہے ، جب کہ اس نے اپنے آپ کو اس کے حسب حال تیار کیا ہو۔ اس لیے آدمی کو چاہیے کہ اگر ایک موقع اس سے چھن جائے تو وہ کسی دوسرے موقع کو دریافت کرے، اور اس کے مطابق اپنے آپ کو دوبارہ تیار کرے۔ جو آدمی ایسا کرے گا، اس کو کبھی کسی کمپنی یا کسی ادارے سے کوئی شکایت نہ ہوگی۔
واپس اوپر جائیں

خبرنامہ اسلامی مرکز — 248

دعوتی سیاحت: سی پی ایس انٹرنیشنل کے چیرمین جناب ثانی اثنین خان نے اکتوبر 2016 میں فرانکفرٹ، جرمنی میں منعقد ہونے والے بک فیر میں شرکت کی اور مختلف لوگوں کے درمیان دعوتی لٹریچر تقسیم کیا۔ اس کے بعد فن لینڈ، سویڈن،ناروے،انگلینڈاور ترکی کا دورہ کیا۔ یہاں انھوں نے مختلف اسلامی آرگنائزیشن کے ذمہ داروں سے ملاقات کی، اور دعوتی کام کو آگے بڑھانے پر تبادلۂ خیال کیا۔ اسکنڈے نیوین ممالک میں ایک بڑی ضرورت محسوس کی کئی کہ مقامی زبان میں پاکٹ سائز ترجمہ قرآن موجود نہیں ہے۔ ان تمام لوگوں نے موجودہ انگریزی ترجمہ قرآن کو دیکھ کر یہ کہا کہ آپ ہمیں اس سائز کا ترجمہ قرآن مقامی زبان میں چھاپ کردیں، تو ہمارے لیے دعوت کا کام آسان ہوگا۔ اس کے علاوہ دوسرے دعوہ لٹریچر کو بھی بہت پسند کیا اور کہا کہ ہم لوگ ان کو دعوتی کام کے لیے ضرور استعمال کریں گے۔ انگلینڈ میں دیگر لوگوں کے علاوہ مشہور نومسلم داعی عبد الرحیم گرین کی آرگنائزیشن کےذمہ داران سے ملاقات کی۔ انھوں نے دعوتی کام میں تعاون کا یقین دلایا۔ نیز ترکی کا سفر بھی کافی امید افزا رہا۔
سیلف پروگرامر: 26اکتوبر تا 6 نومبر کو کولکاتا میں سی پی ایس کی ایک دعوہ میٹ ہوئی۔ اس میں کولکاتا ٹیم کے علاوہ تامل ناڈو سے حافظ سید اقبال احمد عمری، حیدر آباد سے حافظ فیاض الدین عمری ، جمشید پور سے ایاز احمد اور سلیم اختر وغیرہ شریک ہوئے۔ نیز آخری دو دنوں کے لیےسی پی ایس انٹرنیشنل، دہلی کی چیر پرسن ڈاکٹر فریدہ خانم بھی شریک ہوئیں۔ اس دعوہ میٹ کے تحت ایک اہم کام یہ ہوا کہ نارتھ ایسٹ میں دعوتی مواقع کا جائزہ لینے کے لیے ان لوگو ں نے آسام کا دورہ کیا اور مختلف لوگوں سے ملاقات کی۔ اس کے علاوہ مغربی بنگال کے مختلف مدارس ، اسلامی آرگنائزیشن اورنان مسلم تنظیم کے لوگوں سے ملاقاتیں ہوئیں۔ نیز کولکاتا یونیورسٹی میں منعقدہ سمینار میں لوگوں کے درمیان دعوہ لٹریچر تقسیم کیا۔ اس سمینار کا ذکر آگے آرہا ہے۔
ایج آف دعوہ: کلکتہ یونیورسٹی (کولکاتا)نے 4 نومبر 2016 کو امن اور ہارمَنی کے موضوع ہر ایک سیمینار منعقد کیا تھا۔ اس میں سی پی ایس انٹرنیشنل، دہلی کی چیر پرسن ڈاکٹر فریدہ خانم نے اسلام کی نمائندگی کرتے ہوئے Intercultural Prospects for Global Harmony and Peace کے موضوع پر ایک تقریر کی۔ اس کے علاوہ بشپ کالج، کولکاتا میں خدا کا منصوبہ تخلیق (The Creation Plan of God ) کے عنوان سے ایک لکچر دیا۔یہ دورہ بطور خاص کولکاتا ٹیم کی دعوت پر ہوا تھا۔ اس لیے اس دورے میں انھوں نے مقامی سی پی ایس ٹیم سے دعوتی مواقع اور مسائل پر تبادلۂ خیال کیا۔اس موقع پر انھوں نے بنگلہ زبان میں صدر اسلامی مرکز کےترجمہ شدہ لیف لیٹس کا اجراء بھی کیا۔
مدعو آپ کے دروازے پر 31: اکتوبر 2016 کو پتنجلی یوگاپیٹھ (بابا رام دیو،یونیورسٹی) کے ایک نمائندہ وفد نے پیس ہال (سہارن پور) کا دورہ کیا۔ انھوں نے اسپریچول سیشن میں شرکت کی، اوروفد کی ممبر کماری ارچنا موریا نے سامعین سے خطاب کیا۔ آخر میں تمام مہمان اورشرکاء کے درمیان ترجمہ قرآن اور دعوتی لٹریچرتقسیم کیاگیا۔
سماجی مہم، دعوت کا باب 5: نومبر 2016 کو سی پی ایس دہلی کی ایک ٹیم نےتغلق آباد بایوڈائیورسٹی پارک میں منعقدہ شجرکاری مہم میں حصہ لیا۔ یہ مہم ٹائمس آف انڈیا گروپ کی جانب سے آرگنائز کی گئی تھی۔ آرگنائزر نے سی پی ایس ٹیم کا شکریہ ادا کیا، اور آئندہ بھی شرکت کی امید ظاہر کی۔ سی پی ایس ٹیم کی جانب سے جن لوگوں نے اس مہم میں حصہ لیا، وہ یہ ہیں: ڈاکٹر اقبال پردھان ، مسٹر دانیال، جناب وسیم، اور نور محمدصاحبان، وغیرہ۔
مشن اسپرٹ: ناگپور و کامٹی الرسالہ ٹیم کی ماہانہ میٹنگ بروز اتوار، مورخہ 6 نومبر 2016، محمد عرفان رشیدی صاحب کے مکان پر ہوئی ۔ میٹنگ میں شریک ممبران کو مطلع کیا گیا کہ بھوپال CPS ٹیم کے ایک رکن یونس لٹیانی صاحب 13 نومبر کو ایک نکاح کی تقریب میں شرکت کے لئے کامٹی آرہے ہیں ۔ اس موقع پر وہ شرکاء نکاح کے درمیان قرآن مجید اور دیگر دعوتی لٹریچر تقسیم کریں گے ۔ طے پایا کہ انشاء اللہ ناگپور و کامٹی ٹیم کے ممبران اس دعوتی کام میں موصوف کا بھرپور تعاون کریں گے ۔ مزید طے پایا کہ امراوتی کا دعوتی سفر کیا جائے اور اس سلسلے میں ممبئی ٹیم سے رابطہ قائم کر کے پروگرام طے کیا جائے –۔
مدعو انتظار میں 8: نومبر 2016 کو سی پی ایس کے ممبران نے ودیا جیوتی کالج آف تھیولوجی، دہلی کے طلباء کو خطاب کیا۔ انھوں نے قرآن کی تعلیمات، اور پیغمبر اسلام صلى اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات اور اسلام کے ساتھ دوسرے عالمی مذاہب پر اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ پروگرام کے بعد سوال وجواب کا سیشن ہوا۔ آخر میں تمام لوگوں کے درمیان قرآن اور دعوہ لٹریچر تقسیم کیے گیے۔سی پی ایس دہلی کے جن ممبران نے اس پروگرام میں بطور اسپیکر شرکت کی وہ یہ ہیں: مسٹر رجت ملہوترا، مس ماریہ خان، مس نغمہ صدیقی، مس صوفیہ خان اور مولانا فرہاد احمد ۔
جدید کتاب: صدر اسلامی مرکز نے 8 نومبر 2016 کو اپنی نئی کتاب ’لیڈنگ اے اسپریچول لائف‘ (انگلش) کا اجراء کیا۔ یہ کتاب صدر اسلامی مرکز کےان مضامین کا مجموعہ ہے جو انگریزی اخبارٹائمس آف انڈیا میں شائع ہوئے ہیں۔یہ کتاب گڈورڈ بکس سے حاصل کی جاسکتی ہے۔
17نومبر 2016 کو صدر اسلامی مرکز نے اپنی انگریزی کتاب ’واٹ از اسلام‘ کے مراٹھی ایڈیشن کا اجراء کیا۔ اس کامراٹھی ایڈیشن سی پی ایس کی پونے (مہاراشٹرا) ٹیم نے تیار کیا ہے۔ اس کا ترجمہ عبد الحمید صاحب نے کیا ہے۔ اس کتاب کو حاصل کرنے کے لیے الرسالہ کسٹمر سروس سے رابطہ قائم کریں۔
خدائی پیغام گھر گھر: جزیرہ فجی سے موصول اطلاع کے مطابق فجی کےایک علاقہ میں صدر اسلامی مرکز کا انگریزی ترجمہ قرآن اور دعوتی لٹریچر تقسیم کیا گیا۔ لوگوں نے بڑے شوق سے اس کو حاصل کیا۔ بلکہ مزید ترجمہ قرآن اور دعوتی لٹریچر کا کا مطالبہ کیا۔ اس سلسلے میں وہاں سے ایک میسیج موصول ہوا ہے جو نیچے دیا جارہا ہے:
The pamphlets and the Quran copies were all finished, people want to know about Islam in Fiji. Please support us to convey the message of Islam in Fiji.
دعوہ بیداری: یروشلم میں بڑی تعداد میں سیاح آتے ہیں۔ ان کی زیارت کا ایک مقام مسجد اقصی بھی ہے۔ یہاں کچھ فلسطینی نوجوان پر امن انداز میں سیاحوں کے درمیان قرآن تقسیم کرتے ہیں۔ ان کے لیے ایک خوش آئند بات یہ ہوئی ہے کہ مسجد اقصى کی انتظامیہ نے دعوتی کام کی افادیت کو محسوس کیا، اور مسجد اقصی کےبیسمنٹ میں ایک بڑی جگہ ترجمہ قرآن کے لیے مختص کردی ہے، تا کہ قرآن کے اسٹاک میں آسانی ہو،اور دعوتی کام کرنے والےوہاں آنے والے سیاحوں کے درمیان ان کو آسانی سے تقسیم کرسکیں۔ یہاں صدر اسلامی مرکز کا ترجمہ قرآن اور دیگر دعوہ لٹریچر تقسیم کیا جاتا ہے۔ صدر اسلامی مرکز کی مشہور دعوتی کتاب واٹ از اسلام (انگریزی) بھی ہبرو زبان میں چھپ چکی ہے۔ اس کو ایک یہودی اسکالر نے ترجمہ کیا اور چھپوایاہے۔
آپ کے تاثرات : مس دِوّیا ارورہ نے صدر اسلامی مرکز کے مضمون Is Trump Islamophobic : کو اسپیکنگ ٹری ویب سائٹ (www.speakingtree.in)پر پڑھا، اور بہت پسند کیا۔یہ مضمون امریکا کے نو منتخب صدر ڈونالڈ ٹرمپ پر لکھا گیا تھا۔ اس کو سی پی ایس ویب سائٹ پر بھی پڑھا جاسکتا ہے۔ مس ودیا نےاپنا تاثر جن الفاظ میں لکھا ہے ، وہ یہ ہیں:
Amazing article! I really appreciate the factual information Maulana has given besides the Quran's preaching. Unfortunately people get influenced and have such negative thoughts. Hope things settle down.
■ One of the Israili tourists, who was roaming around in Chennai unexpectedly visited our showroom today. When I offered him a copy of 'The Quran' translation, he told that he had got a copy from Haifa (Jerusalem) by one of the 'Goodword Dayees'. The tourist was surprised to know that the same kind of 'Dayee' now addressed him very far away from his native town. So 'CPS mission' is succeeding to train all of its associated dayees to become well-wishers of mankind, irrespective of their nationality, colour, creed, religion, and race. (Kollu Nadeem Ahmed, Chennai)
واپس اوپر جائیں