Pages

Saturday, 2 December 2017

Al Risala | December 2017 (الرسالہ،دسمبر)

4

-زوج یا ہیبیٹاٹ

5

- امید کا سرچشمہ

7

- ایک حدیث

8

- عالیشان مسجدیں

9

- ہر حال میں خیر

10

- ایمانی کیفیات

11

- مثل قرآن

13

- نیچر ورشپ

14

- ایک سنتِّ رسول

16

- جامع تعبیرِِ تاریخ

19

- منسوخ، موقوف

20

- رسول، صحابی، کافر

21

- رسول اللہ کا کارنامہ

22

- رے آف ہوپ

23

- صبر کی عظمت

24

- اجتہاد کا فقدان

26

- رسول اور اصحابِ رسول

28

- معاونِ اسلام تہذیب

30

- تردیدی لٹریچر

31

- دنیا کی تخلیق

32

- تاریخ کا سفر

36

- تعارفی ماڈل

38

- تصور دین

40

- نظریاتی صحبت

41

- سب سے بڑی قربانی

42

- ردّعمل نہیں

43

- کامیابی کا اصول

44

- ذہن کامتحرک ہونا

45

- ذہنی ارتقا کا معیار

46

- خبرنامہ اسلامی مرکز


زوج یا ہیبیٹاٹ

زوج یا ہیبیٹاٹ
قرآن میں ایک آیت ان الفاظ میں آئی ہے: وَمِنْ کُلِّ شَیْءٍ خَلَقْنَا زَوْجَیْنِ لَعَلَّکُمْ تَذَکَّرُونَ (51:49)۔یعنی اور ہم نے ہر چیز سے جوڑے جوڑے بنائے تاکہ تم نصیحت حاصل کرو :
We have created everything in pairs so that perhaps you may take heed.
قرآن کی اس آیت کا خطاب ان لوگوں سے ہے، جوتذکُّر کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ یعنی غور وفکر کرنا اور نصیحت لینا۔ اس سے واضح ہے کہ اس آیت کا خطاب انسان سے ہے۔ وہ انسان سے کہہ رہی ہے کہ تم تخلیق پر غور کرو، اور اس سے نصیحت حاصل کرو۔
مزید غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ یہاں زوج سے مراد وہی چیز ہے جس کو ہیبیٹاٹ (habitat) کہا جاتا ہے۔ اس دنیا میں جتنی چیزیں ہیں، سب کے لیے یہاں ان کا موافق ہیبیٹاٹ موجود ہے۔ مثلاً گردش کرتے ہوئے ستاروں کے لیے وسیع خلا (vast space)، نباتات کے لیے موافق زمین (soil)، حیوانات کے لیے جنگل ، مچھلیکے لیے پانی، وغیرہ۔ اس طرح کائنات میںموجود ہر مخلوق کے لیے اس کا موافق ہیبیٹاٹ موجود ہے۔
مگر یہاں صرف انسان ایک ایسی مخلوق ہے جس کو ، اس کا مطلوب ہیبیٹاٹ حاصل نہیں۔ انسان کو ایسی دنیا ملی ہے، جہاں وہ زندہ رہ سکے، لیکن انسان کو ایسی دنیا حاصل نہیں جہاں اس کے لیے ہر اعتبار سے فل فِل مینٹ (fulfilment) کا سامان موجود ہو۔یہی وجہ ہے کہ انسان اس دنیا میں اس طرح رہتا ہے کہ وہ ہمیشہ ماہیٔ بے آب (fish without water)کی طرح تڑپتا رہتا ہے۔ اس کو کبھی اپنے وجود کا زوج (habitat) حاصل نہیں ہوتا۔ انسان اس فرق پر غور کرے تو وہ جنت کو دریافت کرے گا، اور اپنی زندگی کی منصوبہ بندی اس طرح کرے گا جو اس کو جنت کی منزل تک پہنچانے والا ہو۔ جنت کی دریافت تخلیق کی حکمت کی دریافت ہے۔یہی مطلب ہےقرآن کی اس آیت کا کہ فَفِرُّوا إِلَى اللَّہِ (51:50)۔ یعنی دوڑو اللہ کی طرف۔
واپس اوپر جائیں

امید کا سر چشمہ

قرآن و حدیث میں کئی ایسی آیتیں اور حدیثیں ہیں جو بندوں کے لیے امید کا سر چشمہ ہیں۔ ان میں سےچند حوالے یہ ہیں۔ اس قسم کی ایک آیت قرآن میں یہ ہے :قُلْ یَاعِبَادِیَ الَّذِینَ أَسْرَفُوا عَلَى أَنْفُسِہِمْ لَا تَقْنَطُوا مِنْ رَحْمَةِ اللَّہِ إِنَّ اللَّہَ یَغْفِرُ الذُّنُوبَ جَمِیعًا إِنَّہُ ہُوَ الْغَفُورُ الرَّحِیمُ (39:53)۔ یعنی کہو کہ اے میرے بندو، جنھوں نے اپنی جانوں پر زیادتی کی ہے، اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہو۔ بیشک اللہ تمام گنا ہوں کو معاف کردیتا ہے، وہ بڑا بخشنے والا، مہربان ہے۔
اس آیت کے بارے میں علی ابن ابی طالب کہتے ہیں: ما فی القرآن آیة أوسع من ہذہ الآیة۔ یعنی قرآن میں اس سےزیادہ گنجائش والی کوئی اور آیت نہیں ۔عبد اللہ ابن عمر کہتے ہیں: ہذہ أرجى آیة فی القرآن ۔یعنی یہ قرآن کی سب سے زیادہ امید والی آیت ہے۔ عبد اللہ ابن عباس ایک اور آیت کے بارے میں کہتے ہیں کہ وہ قرآن میں سب سے زیادہ امید والی آیت (أرجى آیة فی القرآن) ہے۔ وہ آیت یہ ہے: وَإِنَّ رَبَّکَ لَذُو مَغْفِرَةٍ لِلنَّاسِ عَلَى ظُلْمِہِمْ(13:6) یعنی تمہارا رب لوگوں کے ظلم کے باوجود ان کو معاف کرنے والا ہے۔دیکھیے تفسیر القرطبی،القاھرۃ، 1969ء، 15/269۔
اس مضمون کی ایک حدیث ان الفاظ میں آئی ہے:عن أبی ہریرة رضی اللہ عنہ، قال: قال رسول اللہ صلى اللہ علیہ وسلم: لما قضى اللہ الخلق کتب فی کتابہ فہو عندہ فوق العرش إن رحمتی غلبت غضبی (صحیح البخاری، حدیث نمبر3194)۔ یعنی حضرت ابو ہریرہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ نے جب مخلوق کو پیدا کرنے کا فیصلہ کیا۔ اس نےاپنی کتاب میں لکھا۔ یہ کتاب اللہ کے پاس عرش کے اوپر ہے۔(اس میں اللہ نے یہ لکھا ہے) :میری رحمت میرے غضب پر غالب ہے۔
اس طرح کی بہت سی آیتیں اور حدیثیں ہیں، جن سے براہ راست یا بالواسطہ طور پر معلوم ہوتا ہے کہ اللہ اپنے بندوں کے ساتھ نہایت رحم و درگزر کا معاملہ کرنے والا ہے۔ یہ بات اللہ رب العالمین کی شان کے مطابق ہے۔ اللہ رب العالمین نے انسان کو آزاد مخلوق کی حیثیت سے پیدا کیا۔ اس لیے اللہ کی شان رحمت کا تقاضا تھا کہ انسان کے ساتھ وہ زیادہ سے زیادہ عفو ودرگزر کا معاملہ کرے۔
حقیقت یہ ہے کہ اللہ کے نزدیک جو چیز سب سے زیادہ ناقابل معافی ہے، وہ سرکشی ہے۔ یہی وہ چیز ہے، جو حدیث میں ان الفاظ میں آئی ہے: لا یدخل الجنة من کان فی قلبہ مثقال ذرة من کبر (صحیح مسلم، حدیث نمبر147)۔ وہ شخص جنت میں داخل نہ ہوگا، جس کے اندر رائی کے دانے کے برابر بھی تکبر ہو۔ اس کے مقابلے میں جو آدمی عجز کا ثبوت دے، جو اپنے آپ کو انانیت (ego) سے خالی انسان بنائے۔ اس کے بارے میں اللہ سے قوی امید ہے کہ اللہ رب العالمین اس کے ساتھ رحمت اور مغفرت کا معاملہ کرے گا۔
اصل یہ ہے کہ جب ایک شخص کے اندر تواضع (modesty) پائی جائےتو غلطی کرنے کے بعد وہ تڑپ اٹھتا ہے۔ وہ عجز سے بھری ہوئی دعائیں کرنے لگتا ہے۔ اس کے قول اور عمل میں انکساری کی کیفیت پیدا ہوجاتی ہے۔ وہ برتری کے جذبے سے مکمل طور پر خالی ہوجاتا ہے۔ اس کے نتیجے میں یہ ہوتا ہے کہ ایک نئی شخصیت اس کے اندر پیدا ہوجاتی ہے۔ وہ پورے معنوں میں ایک مزکّی انسان بن جاتا ہے۔ یہ تبدیلی جو اس کی شخصیت کے اندر پیدا ہوتی ہے۔ یہی در اصل وہ چیز ہے، جو اس کو اس قابل بنا دیتی ہے کہ اس سے عفو و درگزر کا معاملہ کرتے ہوئے، اس کو جنت میں داخلہ دیا جائے۔
جنت اس کے لیے ہے جو جنتی کردار والی شخصیت لے کر آخرت میں پہنچے۔ جنت سے محرومی اور جنت کا ملنا ، دونوں کا تعلق کردار (character)سے ہے۔یہی وہ اصل چیز ہے جو کسی انسان کےلیے آخرت میں کامیابی یا ناکامی کا سبب ہے۔ جنت سے محرومی بھی معلوم اسباب کی بنا پر ہوگی، اور جنت کا پانا بھی معلوم اسباب کی بنا پر ہے ۔
واپس اوپر جائیں

ایک حدیث

ایک روایت سنن ابی داؤد (کتاب الجہاد) اور مسند امام احمد میںآئی ہے۔ البخاری کے الفاظ یہ ہیں:عجِب اللہ من قوم یدخلون الجنة فی السلاسل(صحیح البخاری، حدیث نمبر3010) ۔یعنی اللہ ان پر متعجب ہوتا ہے جو جنت میں زنجیروں میں (بندھے ہوئے) داخل ہوں گے۔ بعض دوسری روایتوں میں یقادوناور یساقون کے الفاظ آئے ہیں۔ یعنی وہ کھینچتے ہوئے اور ہانکتے ہوئے لے جائے جائیں گے۔
اس حدیث میں کچھ اہل ایمان کے ساتھ جس معاملہ کا ذکر ہے وہ آخرت میں پیش آنے والا معاملہ نہیں ہے بلکہ آخرت سے پہلے اسی دنیا میں پیش آنے والا معاملہ ہے۔ یہاں زنجیر کا لفظ دراصل مجبور کن حالات (compulsive situation) کی تعبیر ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ کچھ لوگوں کے ساتھ ایسے مجبورانہ حالات پیش آئیں گے کہ اُن کے لیے اس کے سوا کوئی راستہ باقی نہ رہے گا کہ وہ خدا پرستی اور آخرت پسندی کی زندگی اختیار کریں اور اس طرح گویا بندھے بندھے جنت میں پہنچ جائیں۔
یہ خوش قسمتی اُن افراد کے حصہ میں آئے گی جن کے دل میں اخلاص اور حسن نیت کی چنگاری موجود ہو۔ اللہ تعالیٰ جن لوگوں کے دل میں اس قسم کی استعداد دیکھے گا اُن کی قدر افزائی اس طرح کرے گا کہ اُن کے لیے ایسے حالات پیدا کردے گا جو اُنہیں طوعاً و کرہاً خدا پرستانہ اعمال کی طرف لے جانے والے ہوں۔مصیبت کا جنتی زنجیر بن جانا اُس شخص کے حصہ میںآتا ہے جس کے اندر یہ صلاحیت ہو کہ وہ مصیبت کے وقت اللہ کی طرف رجوع کرے۔ مصیبت جس کے دل کو اس طرح نرم کرے کہ وہ اللہ کی یاد کرنے والا بن جائے— مصیبت اگر لوگوں کے اندر فریاد اورشکایت کا ذہن بنائے تو مصیبت صرف تباہی ہے،اور اگر مصیبت لوگوں کے اندر محاسبۂ خویش کاذہن پیدا کرے تو وہ اُن کے لیے رحمت کا سبب بن جائے گی۔
واپس اوپر جائیں

عالی شان مسجدیں

پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث ایک ان الفاظ میںآئی ہے: ما أمرت بتشیید المساجد۔ قال ابن عباس: لتزخرفنہا کما زخرفت الیہود والنصارى (سنن ابی داؤد، حدیث نمبر 448)۔ رسول اللہ نے فرمایا کہ مجھے بلند و بالا مسجدیں بنانے کا حکم نہیں دیا گیا ہے۔ (اس حدیث کو بیان کرنے کے بعد) عبداللہ ابن عباس نے کہا کہ تم لوگ ضرور مسجدوں کو مزین کروگے جس طرح یہود اور نصاریٰ نے اپنی عبادت گاہوں کو مزین کیا۔ایک اور روایت میںہے کہ رسول اللہ نے کہا کہ جب بھی کسی قوم کا عمل بگڑ جائے، تو وہ اپنی مسجدوں کو مزین کرنا شروع کردیتی ہے۔ (ما ساء عمل قوم قط، إلا زخرفوا مساجدہم)۔ سنن ابن ماجہ، حدیث نمبر 741
یہ پیشین گوئی موجودہ زمانہ میں ایک واقعہ بن چکی ہے، اورہر ملک میںاس کے مناظر دیکھے جاسکتے ہیں۔ جہاں بھی کچھ مسلمان آبادہیں وہاں عالی شان مسجدیں بنائی جارہی ہیں۔ کہیں قصر نما، کہیں قلعہ نما، اور کہیں تاج محل نما۔ شاندار مساجد تعمیر کرنے کا یہ کام امریکہ اور یورپ میں مزید اضافہ کے ساتھ ہورہا ہے۔ کیوں کہ اس سلسلہ میں وہاں زیادہ بہتر ٹکنیکی سہولتیں حاصل ہیں۔ یہاں یہ سوال ہے کہ عالیشان مسجدیں بنانے کو اسلام میںکیوں ناپسند کیا گیا ہے۔ اس کا سبب یہ ہے کہ مسجدوں کی عالیشان تعمیرات امت کے روحانی زوال کی علامت ہیں۔ کیوں کہ جب روح (اسپرٹ) ختم ہوتی ہے تو اس کی تلافی کے لیے مظاہر میںاضافہ ہوجاتاہے۔
عالیشان مسجدوں کا ایک اور پہلو یہ ہے کہ وہ نمود ونمائش والی دینداری کی علامت ہیں۔ شاندار عمارتوں میںنمود ونمائش کے جذبہ کو بے حد تسکین ملتی ہے وہ شکست خوردہ نفسیات کے لئے عظمت و فخر کی تسکین کا سامان ہیں۔موجودہ زمانہ کے مسلمانوں کی عام نفسیات یہ ہے کہ انہوں نے پولٹیکل گلوری کو کھو دیا ہے۔ ایسی حالت میں درودیوار کی عظمت انہیں یہ فرضی تسکین دیتی ہے کہ اب بھی انہوں نے زمین پر اپنی عظمت کا نشان قائم کررکھا ہے۔
واپس اوپر جائیں

ہر حال میں خیر

حدیث میں آیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عجبا لأمر المؤمن، إن أمرہ کلہ خیر، ولیس ذاک لأحد إلا للمؤمن، إن أصابتہ سراء شکر، فکان خیرا لہ، وإن أصابتہ ضراء، صبر فکان خیرا لہ (صحیح مسلم، حدیث نمبر 2999) ۔یعنی مومن کا معاملہ عجیب ہے۔ اُس کے لیے اُس کے ہر معاملہ میں بھلائی ہے۔ اور یہ مومن کے سوا کسی اور کے لیے نہیں۔ اگر اُس کو کوئی خوشی ملتی ہے، وہ شکر کرتا ہے تووہ اُس کے لیے بھلائی بن جاتا ہے۔ اور اگر اُس کو کوئی تکلیف پہنچتی ہے ، وہ صبر کرتا ہے تو وہ اس کے لیے بھلائی بن جاتا ہے۔
مومنانہ روش یہ ہے کہ آدمی کو خوشی ملے تو اُس کا سینہ شکر کے جذبہ سے بھر جائے، اور اگر اُس کو تکلیف کا تجربہ ہو تو وہ اُس کو اللہ کا فیصلہ سمجھ کر اُ س پر راضی رہے۔اس کے برعکس، غیر مومنانہ روش یہ ہے کہ اگر کسی آدمی کو خوشی ملے تو وہ اُس پر فخر کرے، اور اگر اُس کو تکلیف پہنچے تو وہ مایوسی کا شکار ہوجائے۔ یہ مطلوب روش نہیں ہے۔ یہی وہ چیز ہے جس کی طرف قرآن میں اس طرح تنبیہ کی گئی ہے: پس انسان کا حال یہ ہے کہ جب اُس کا رب اُس کو آزماتا ہے اور اُس کو عزت اور نعمت دیتا ہے تو وہ کہتا ہے کہ میرے رب نے مجھ کو عزت دی۔ اور جب وہ اُس کو آزماتا ہے اور اُس کا رزق اُس پر تنگ کر دیتاہے تو وہ کہتاہے کہ میرے رب نے مجھ کو ذلیل کردیا۔ (الفجر15-16:)
موجودہ دنیا میں اصل اہمیت یہ نہیں ہے کہ آدمی نے بظاہر کس حال میں زندگی گزاری، اچھے حال میں یا بُرے حال میں۔ اصل اہمیت کی بات یہ ہے کہ آدمی جس حال میں بھی ہو اُس سے وہ تعلق باللہ کی غذا لے سکے۔ زندگی کا ہر تجربہ اُس کو اللہ سے قریب کرنے والا ثابت ہو۔ اُس کی روح ہر صورتِ حال سے ربّانی غذا لیتی رہے۔ کائنات کے ہر مشاہدہ میں وہ اللہ کا جلوہ دیکھ سکے۔ زندگی کا ہر خوش گوار تجربہ اُس کو اللہ کی رحمت کی یاد دلائے، اور زندگی کا ہر تلخ تجربہ اُس کے لیے تقویٰ کا سبب بنتا رہے۔ ناکامی بھی اُس کو خدا کی یاد دلائے اور کامیابی بھی اُس کو خدا سے قریب کردے۔
واپس اوپر جائیں

ایمانی کیفیات

ایک روایت کے مطابق، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:عرض علی ربی لیجعل لی بطحاء مکة ذہبا. فقلت: لا، یا رب ولکن أشبع یوما وأجوع یوما، أو نحو ذلک، فإذا جعت تضرعت إلیک وذکرتک، وإذا شبعت حمدتک وشکرتک(مسند احمد، حدیث نمبر 22190)۔ یعنی اللہ نے مجھے یہ پیشکش کی کہ تمہارے لیے مکہ کی وادی کو سونابنا دیا جائے۔ میںنے کہا کہ اے میرے رب، نہیں۔ بلکہ میں چاہتاہوں کہ میں ایک دن سیر ہوکر کھاؤں اورایک دن بھوکا رہوں۔ پھرجب مجھے بھوک لگے تو میں تجھ سے تضرع کروں اورتجھ کو یاد کروں اور جب مجھے سیری حاصل ہو تو میں تیری حمد کروں اور تیرا شکر کروں۔
ایمانی کیفیات کاتعلق براہ راست طورپر حالات سے ہے۔ زندگی میں جب بھی کوئی صورت حال پیش آتی ہے تو اس کے لحاظ سے مومن کے لیے ایمانی کیفیات کا سرمایہ موجود رہتا ہے۔ جس طرح احوال کی بہت سی قسمیں ہیں اسی طرح ایمانی کیفیات کی بھی بہت سی قسمیں ہیں، اور ہر قسم میںاُس کے مطابق، آدمی کے اندر ایمانی کیفیات پیدا ہوتی ہیں۔موجودہ دنیا میں آدمی کو امتحان کے لیے رکھا گیا ہے۔ اسی لیے یہاں ہر عورت اور مرد کے ساتھ طرح طرح کے احوال پیش آتے ہیں۔ ایسا اسی لیے ہوتا ہے تاکہ یہ دیکھا جائے کہ کون اپنی جانچ پرپورا اُترا اور کون اس میںناکام ہوگیا۔
آرام کی حالت ہو یا تکلیف کی حالت ہو، دونوں حالتیں اضافی ہیں۔ دونوں حالتوں میںاصل اہمیت یہ ہے کہ اُس وقت کسی عورت یا مرد سے جومطلوب رویہ درکار تھا، اس کا ثبوت اُس نے دیا یا نہیں دیا۔ اصل اہمیت حالات کے مقابلہ میںردعمل کی ہے، نہ کہ خود حالات کی۔یہ حقیقت جس عورت اور مرد پر واضح ہوجائے، اُس کا حال یہ ہوجائے گا کہ اُس کی نظر آرام اور تکلیف پر نہ ہوگی بلکہ اس بات پر ہوگی کہ ملے ہوئے حالات میں اس نے کس قسم کے رد عمل کا ثبوت دیا۔ شکر کا یا ناشکری کا، صبر کا یا بے صبری کا۔ ایسے لوگ ہر حال میں اپنا احتساب کریںگے، نہ کہ خارجی حالات کا شکوہ کرتے رہیں۔
واپس اوپر جائیں

مثل قرآن

ایک لمبی روایت حدیث کی مختلف کتابوں میں آئی ہے، اس کا ایک حصہ یہ ہے: ألا إنی أوتیت الکتاب ومثلہ معہ، ألا إنی أوتیت القرآن ومثلہ معہ ، ألا یوشک رجل ینثنی شبعانا على أریکتہ یقول:علیکم بالقرآن، فما وجدتم فیہ من حلال فأحلوہ، وما وجدتم فیہ من حرام فحرموہ(مسند احمد، حدیث نمبر17174)۔یعنی سن لو، بیشک مجھے کتاب دی گئی ہے اور اسی کے ساتھ اس کے مثل۔ بیشک مجھے قرآن دیا گیاہے اور اسی کے ساتھ اس کے مثل۔سن لو ، قریب ہے کہ ایک آسودہ آدمی اپنے تکیہ سے ٹیک لگائے بیٹھا، کہے گا کہ تمہارے لیے قرآن کافی ہے، پس تم اس میں جو حلال پاؤ تو اسے حلال سمجھو اور جو اس میں تم حرام پاؤ تو اسے حرام سمجھو ۔
اس حدیث میں مثل سے کیا مراد ہے۔ اس سے مراد وہی چیز ہے جس کو قرآن میں حکمت (البقرۃ129:) کہا گیا ہے،یعنی قرآن اور حکمت قرآن ۔حکمت سے مراد وزڈم (wisdom) ہے۔ قرآن کا ابتدائی مفہوم اس کے متن (text) کو پڑھ کر سمجھ میں آتا ہے، اور جہاں تک حکمت کا تعلق ہے، وہ تدبر (ص29:)کے ذریعہ معلوم ہوتا ہے۔ایک روایت میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں ہے: کان متواصل الأحزان، دائم الفکرة، لیست لہ راحة، طویل السکت، لا یتکلم فی غیر حاجة (شرح السنۃ للبغوی، حدیث نمبر3705)۔ یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسلسل حُزن میں رہتے تھے، وہ برابر سوچ میں رہتے، آپ کے لیے کوئی راحت نہیں ہوتی تھی، آپ دیر تک چپ رہتے ، ضرورت کے سوا کسی اور چیز کے لیے آپ نہ بولتے ۔
مذکورہ روایت میں پانچ الفاظ استعمال ہوئے ہیں۔ یہ پانچوں الفاظ ایک ہی حقیقت کے مختلف پہلو ہیں۔ ان سب کا خلاصہ یہ ہے کہ رسول اللہ مسلسل طور پر تدبر اور تفکر میں رہتے تھے۔ حُزن سے مراد غم نہیں ہے، بلکہ اس سے مراد کامل سنجیدگی (total seriousness) ہے۔ یعنی ہر وقت انتہائی سنجیدگی کے ساتھ سوچتےرہنا۔
مثلا ًقرآن کی 29 سورتوں کے آغاز میں وہ حروف آئے ہیں، جن کو حروفِ مقطعات کہا جاتا ہے۔ یہ حروف الگ الگ پڑھے جاتے ہیں، اسی لیے ان کو حروف مقطعات (disjointed letters or disconnected letters)کہا جاتا ہے۔ حروف مقطعات عربی زبان کے حروف تہجی (alphabets) پر مشتمل ہیں۔ اس سے مراد غالباً یہ ہے کہ قرآن اگر چہ بظاہر انسانی زبان میں اترا ہے، اس اعتبار سے اس کا ایک مطلب وہ ہےجو سطور میں ہے، لیکن اس کا دوسرا مطلب وہ ہے جو تدبر کے ذریعہ معلوم ہوتا ہے۔ اسی لیے قرآن میں آیا ہے :کِتَابٌ أَنْزَلْنَاہُ إِلَیْکَ مُبَارَکٌ لِیَدَّبَّرُوا آیَاتِہِ وَلِیَتَذَکَّرَ أُولُو الْأَلْبَابِ (38:29)۔ یعنی یہ ایک بابرکت کتاب ہے جو ہم نے تمہاری طرف اتاری ہے، تاکہ لوگ اس کی آیتوں پر غور کریں اور تاکہ عقل والے اس سے نصیحت حاصل کریں۔
غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ انسان اگر عربی زبان سے بخوبی واقف ہو، اور وہ قرآن کو پڑھے تو قرآن کے متن کے سطور (lines)میں جو بات ہے، اس کو وہ جان لے گا۔ لیکن قرآن کے جو عمیق معانی ہیں، وہ متن کے بین السطور (between the lines) ہیں۔ ان عمیق معانی کو جاننے کا ذریعہ صرف تدبر ہے۔ اگر آدمی حقیقی معنوں میںسنجیدہ اور ہدایت کا طالب ہوتے ہوئے قرآن میں غور و فکر کرے تو وہ قرآن کے گہرے معانی کو دریافت کرلے گا۔ وہ متن قرآن کے اندر چھپی ہوئی حکمت کی دریافت تک پہنچ جائے گا۔
مثلا ً قرآن میں بتایا گیا ہے کہ رسول اللہ کو مشن کے معاملے میں صراط مستقیم کی ہدایت (الفتح2:) ملی۔قرآن کا مطالعہ کیا جائے تو مذکورہ ہدایت کہیں الفاظ (وحی متلو)کی صورت میں نہیں ملے گی۔ پھر رسول اللہ کو اس ہدایت کی معرفت کیسے ہوئی۔ اس کا جواب یہ ہے کہ یہ معرفت آپ کو تدبر کے ذریعہ حاصل ہوئی۔ مزید غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ ہدایت یہ تھی — وکٹمائزڈ کمیونٹی (victimized community) کے جذبات (sentiments) کو لے کر اپنی پلاننگ نہ کرنا، بلکہ وسیع تر دنیا میں جو مواقع (opportunities) ہیں، ا ن کو لے کر اپنے عمل کا پلان بنانا۔
واپس اوپر جائیں

نیچر ورشپ

توحید کیا ہے۔ اس کا ذکر قرآن کی ایک آیت میں ان الفاظ میں کیا گیا ہے: وَمِنْ آیَاتِہِ اللَّیْلُ وَالنَّہَارُ وَالشَّمْسُ وَالْقَمَرُ لَا تَسْجُدُوا لِلشَّمْسِ وَلَا لِلْقَمَرِ وَاسْجُدُوا لِلَّہِ الَّذِی خَلَقَہُنَّ إِنْ کُنْتُمْ إِیَّاہُ تَعْبُدُونَ (41:37)۔یعنی اور اس کی نشانیوں میں سے ہے رات اور دن اور سورج اور چاند۔ تم سورج اور چاند کو سجدہ نہ کرو بلکہ اس اللہ کو سجدہ کرو جس نے ان سب کو پیدا کیا، اگر تم اسی کی عبادت کرنے والے ہو۔
قدیم زمانے میں نیچر ورشپ (nature worship) کا رواج چھایا ہوا تھا۔نیچر ورشپ کے کلچر میں قدیم انسان اتنا زیادہ مسحور ہوگیا تھا کہ وہ پیغمبروں کی لمبی کوشش کے باوجود اس کے سحر سے نہ نکل سکا۔ اس منفی تجربے کے بعد اللہ کے حکم کے مطابق، پیغمبر ابراہیم نے ایک نیا منصوبہ بنایا۔ وہ منصوبہ یہ تھا کہ خصوصی تربیت کے ذریعہ ایک نئی قوم بنا ئی جائے۔ جو اپنی فطرت پر قائم ہو۔
وہ منصوبہ یہ تھا کہ حضرت ابراہیم عراق کو چھوڑ کر اس صحرائی مقام پر جائیں، جہاں اب مکہ آباد ہے، اور یہاں اپنےبیٹے اسماعیل اور اپنی بیوی ہاجرہ کو آباد کریں۔ یہ مقام اس زمانے میں نیچر ورشپ کے ماحول سے بہت دور تھا۔ اس حقیقت کا ذکر پیغمبر ابراہیم کی دعا میں ان الفاظ میں ملتا ہے: رَبِّ اجْعَلْ ہَذَا الْبَلَدَ آمِنًا وَاجْنُبْنِی وَبَنِیَّ أَنْ نَعْبُدَ الْأَصْنَامَ ۔ رَبِّ إِنَّہُنَّ أَضْلَلْنَ کَثِیرًا مِنَ النَّاسِ (14:35-36)۔یعنی اے میرے رب، اس شہر کو امن والا بنا۔ اور مجھ کو اور میری اولاد کو اس سے دور رکھ کہ ہم بتوں کی عبادت کریں۔ اے میرے رب، ان بتوں نے بہت لوگوں کو گمراہ کردیا۔
یہ نیچر ورشپ اس وقت پوری طرح ختم ہوگئی، جب کہ سائنس کی تحقیقات نے یہ ثابت کیا کہ نیچر عامل نہیں ہے، بلکہ وہ معمول ہے۔یعنی نیچر (فطرت) کسی بڑی طاقت کے کنٹرول میں ہے، اس کی اپنی کوئی طاقت نہیں۔ اس تحقیق نے نیچر کو معبودیت کے مقام سے ابدی طور پر ہٹادیا۔
واپس اوپر جائیں

ایک سنتِّ رسول

سن چھ ہجری میں پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم فریق مخالف سے امن کا معاہدہ کرنا چاہتے تھے۔ طویل گفت و شنید کے بعد جب معاہدے کی دفعات طے ہوگئیں، اور ان کو کاغذ پرلکھا جانےلگا تو پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے معاہدے کو لکھاتے ہوئے کہا: اکتب یا علی، ہذا ما صالح علیہ محمد رسول اللہ ۔ فریق ثانی کے لیڈر نے فوراً اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ ہم آپ کو رسول اللہ نہیں مانتے۔ آپ محمد رسول اللہ کے بجائے محمد بن عبد اللہ لکھیے، جو کہ ہمارے اور آپ کے درمیان مشترک ہے۔آپ نے بلابحث کہا: امح یا علی، اللہم إنک تعلم أنی رسولک،امح یا علی واکتب، ہذا ما صالح علیہ محمد بن عبد اللہ(مسند احمد، حدیث نمبر3187)۔یعنی اے علی، اس کو مٹادو۔ اے اللہ ، تو جانتا ہے کہ میں تیرا رسول ہوں۔ اے علی، مٹادو اور لکھو، یہ وہ (دفعات) ہیں جن پر محمد بن عبد اللہ نے صلح کیا۔ اس کے بعد صلح کا معاہدہ طے پاگیا، اور آپ اپنے اصحاب کے ہمراہ مدینہ واپس آگئے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ معاملہ بلاشبہ اللہ کی رہنمائی کے مطابق تھا۔ اللہ کی رہنمائی کے بغیر آپ ایسا نہیں کرسکتے تھے۔ سورہ الفتح میں اس کی بابت یہ الفاظ آئے ہیں: وَیَہْدِیَکَ صِرَاطًا مُسْتَقِیمًا (48:2)۔ آپ کا یہ عمل بلاشبہ صراطِ مستقیم کا ایک جزء تھا۔ اس لحاظ سے یہ تمام دنیا کے مسلمانوں کے لیے ایک ابدی اصول ہے۔ جس طرح دور اول میں اصول کو اختیار کرنے کے نتیجے میں فتح مبین (48:1) حاصل ہوئی۔ بعد کے دور میں بھی فتح مبین کو حاصل کرنے کا طریقہ یہی ہے۔ اس کے سوا کوئی دوسرا طریقہ مسلمانوں کو فتح مبین تک پہنچانے والا نہیں۔
منصوبہ بندی کایہ طریقہ ہمیشہ دنیا میں باقی رہتا ہے۔ مثلاً موجودہ زمانے میں اہل ایمان یہ چاہتے ہیں کہ ان کو یہ آزادی ہو کہ وہ قرآن کا پیغام ساری دنیا میں کھلے طور پر پہنچائیں۔ لیکن بار بار ایک رکاوٹ پیش آتی ہے۔ وہ یہ کہ آج کا انسان ، اظہار رائے کی آزادی (freedom of expression) کو انسان کا ایک مطلق حق (absolute right)سمجھتا ہے، اور اس کو وہ استعمال کرنا چاہتا ہے۔ حق کے اس استعمال کا دائرہ کبھی پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم تک پہنچ جاتا ہے۔ وہ پیغمبر اسلام کے بارے میں آزادانہ اظہارِ خیال کرتا ہے، اور اس کو اپنا ناقابلِ تنسیخ حق سمجھتا ہے۔ مسلمان اس طرح کے واقعات پر مشتعل ہوجاتے ہیں۔ وہ اس کو شتمِ رسول (blasphemy) قرار دے کر چاہتے ہیں کہ شاتم کو قتل کردیں۔ آج کے لوگوں کے لیے مسلمانوں کی یہ روش قابل قبول نہیں۔ چناں چہ اس پر سخت نزاع شروع ہوجاتی ہے۔ اور دعوتِ اسلام کا کام جیو پرڈائز (jeopardize) ہوجاتا ہے۔
شتم رسول (blasphemy) پر ہنگامہ کرنا یا شاتم کو قتل کرنے کی کوشش کرنا، اصولاً اسلام کےخلاف ہے۔ قرآن کی کسی آیت یا رسول کے کسی قول میں یہ حکم موجود نہیں۔ تاہم بالفرض اگر کسی کا اصرار ہو کہ یہ اسلام کا ایک حکم ہے تب بھی ضروری ہے کہ مسلمان اس طرح کے واقعے پر مشتعل ہونا مکمل طور پر چھوڑدیں۔ تاکہ دعوتِ اسلام کا کام کسی رکاوٹ کے بغیر جاری رہے۔
رسول کا رسول ہونا بلاشبہ اسلام کا ایک مسلمہ عقیدہ ہے۔ پھر بھی رسول اور اصحابِ رسول نے رسول اللہ کے لفظ کو کا غذ سے مٹادیا۔ اسی سنت پر مسلمانوں کو بھی عمل کرنا ہے۔ ان کو چاہیے کہ وہ اپنی روش کو بدل دیں تاکہ اسلام کا پر امن مشن کسی رکاوٹ کے بغیر مسلسل طور پر جاری رہے۔ اسی روش کا نام حکمت (wisdom) ہے۔ حکمت، اسلام کا ایک لازمی اصول ہے۔ حکمت کے بغیر اسلام کا مشن کامیابی کے ساتھ جاری نہیں رہ سکتا۔
٭ ٭ ٭٭٭٭ ٭ ٭ ٭٭
میرا عام تجربہ ہے کہ اسکالر لوگوں میںفکری ارتقاء مسلسل جاری رہتا ہے، جب کہ مذہبی لوگوں میںاس طرح فکری ارتقاء نہیں ہوتا۔ مذہبی طبقہ کے لوگ عام طورپر ذہنی ٹھہراؤ کا شکار رہتے ہیں۔ میںاکثر سوچتا رہا ہوں کہ ا س کا سبب کیا ہے۔ اس کا سبب یہ ہے کہ سیکولر لوگوں میںمسلسل فری ڈائلاگ جاری رہتاہے جب کہ مذہبی لوگوں میں فری ڈائلاگ کاعمل جاری نہیںہوتا۔
واپس اوپر جائیں

جامع تعبیرِِ تاریخ

برٹش مورخ آرنلڈ ٹائن بی (Arnold J. Toynbee)نے بارہ جلدوں میں ایک کتاب تیار کی ہے، جو دنیا کی انیس تہذیبوں ( 19 world civilizations) کا مطالعہ ہے۔ اس کی آخری جلد 1961 ء میں چھپی۔تاہم یہ کتاب انسانی تاریخ کا جزئی مطالعہ ہے۔ ایک ایسی کتاب کی ضرورت باقی ہے ، جو انسانی تاریخ کی جامع تعبیر (comprehensive interpretation of history) پیش کرے۔
میں نے اس موضوع کا مطالعہ کیا ہے۔ میرےمطالعہ کے مطابق، یہ موضوع ایک مشکل موضوع ہے۔ کیوں کہ ٹائن بی جیسے مؤرخین کو صرف یہ کرنا تھا کہ وہ تاریخ کے معلوم ریکارڈ کی بنیاد پر تاریخ کی ایک موضوعی تصویر پیش کرے۔ لیکن تعبیر (interpretation) کا معاملہ اس سے مختلف ہے۔ کیوں کہ یہ موضوع تجزیاتی مطالعہ (analytical study) کا موضوع ہے۔ اس میں سب سے زیادہ اہمیت اس بات کی ہوتی ہے کہ مصنف تاریخی معلومات کو سارٹ آؤٹ (sort out) کرکے اس کی بامعنی تعبیر پیش کرے۔ میرے مطالعہ کے مطابق، معلوم تاریخ چھ ادوار (periods) میں تقسیم ہوتی ہے:
1۔ مادی دنیا (material world) ، بگ بینگ (big bang) سے لے کر اب تک۔
2۔ شمسی نظام (solar system) ، جس کے اندر آخر کار انسانی دنیا بنی۔
3۔ انسانی تاریخ (human history)
4 ۔ پیغمبرانہ مشن(prophetic mission)
5 ۔ تہذیبی تائید (civilizational support)
6۔ آخری اعلان (final call)، یعنی انسان کے ایک دورِ حیات کا خاتمہ اور اس کے دوسرے دورِ حیات کا آغاز۔
رب العالمین نے تقریباً تیرہ بلین سال پہلے موجودہ کائنات کی تخلیق کا آغاز کیا۔ سب سے پہلے اس نے پارٹیکلس (particles) یعنی اجزاءِ کائنات کی تخلیق کی۔ پارٹیکلس کا یہ مجموعہ ابتداءمیں ایک عظیم کاسمک بال (cosmic ball) کی صورت میں خلا میں ظاہر ہوا۔ پھر اس کاسمک بال میں انفجار (explosion )ہوا۔ اس کے بعد تمام ستارے اور کہکشائیں (galaxies) وجود میں آئیں۔
دوسرے مرحلہ میں شمسی نظام بنا۔ پھر شمسی نظام کا ایک سیارہ زمین (planet earth)اپنی موجودہ شکل میں وجود میں آیا۔ اس سیارۂ زمین پر پانی، نباتات ، اور حیوانات وجود میں آئے۔ انسان اس زمین پر آباد ہوا۔ پھر انسانوں کے درمیان ایسے ربّانی افراد پیدا ہوئےجنھوں نے خدا کی خصوصی رہنمائی میں دنیا میں پیغمبرانہ مشن جاری کیا۔
ختم نبوت کے بعد تاریخ کا اگلا دورآیا۔ اس دور میں صلیبی جنگوں (1096-1487)کا سلسلہ چلا۔ اس درمیان ایسے حالات پیدا ہوئے جس کے تحت سائنسی ترقیاں شروع ہوئیں۔ یہاں تک کہ جدید تہذیب (modern civilization) وجود میں آئی۔ اس تہذیب نے انسان کے اوپر ترقی کے وہ دروازے کھولے جواگرچہ بالقوہ طور پر ہمیشہ سے موجود تھے، لیکن بالفعل طور پروہ بند پڑے ہوئےتھے۔یہ تہذیب بظاہر ایک سیکولر تہذیب تھی، لیکن عملاً وہ پیغمبرانہ مشن کے موافق (pro-prophetic mission) تہذیب کی حیثیت رکھتی تھی۔ اس تہذیب نے فطرت کے جو راز دریافت کیے، ان کو قرآن میں آفاق و انفس کا اظہار (فصلت53:) کہا گیا ہے۔ یہ تہذیب اپنی حقیقت کے اعتبار سے پیغمبر کے مشن کے لیے ایک مدد گار تہذیب تھی۔ یہی وہ تاریخی واقعہ ہے جس کو حدیث میں تائیدِ دین (المعجم الکبیر للطبرانی، حدیث نمبر14640) کے الفاظ میں بیان کیا گیا ہے۔
جس خدا نے کائنات کی تخلیق کی۔ اسی خدا نے اپنی کتاب ،قرآن کو انسان کے پاس بھیجا ہے۔ اس کتاب کا مطالعہ بتاتا ہے کہ تخلیق کے بارے میں خالق کا منصوبہ کیا ہے۔ اس منصوبہ کے مطابق، موجودہ دنیا اس لیے بنائی گئی ہے کہ یہاں انسان آزادانہ طور پر اپنا عمل کرے۔ انسان اپنے آپ کو ربانی شخصیت (Rabbani Personality) کی صورت میں ڈیولپ کرے۔
انسانی تاریخ کی بامعنی تعبیر (meaningful interpretation)میں صرف ایک چیز لوگوں کے لیے رکاوٹ بنتی ہے۔ وہ یہ کہ اکثر لوگ اپنے خود ساختہ معیار (self-styled criterion) سے انسانی تاریخ کو جانچتے ہیں۔ صحیح یہ ہے کہ انسانی تاریخ کو خالق کے مقرر کردہ معیار کی روشنی میں دیکھا جائے۔ ایسا کرنے کی صورت میں پوری تاریخ ایک بامعنی تاریخ بن جائے گی۔
اصل یہ ہے کہ انسانی دنیا اور مادی دنیا میں ایک بنیادی فرق ہے۔ مادی دنیا فطرت کے لازمی قوانین کے تحت چل رہی ہے۔ اس لیے فطرت کو سمجھنے کا ایک معلوم حتمی معیار موجود ہے۔ اس معیار کو برطانی سائنسداں نیوٹن نے فطرت کے مطالعہ پر کامیابی کے ساتھ منطبق کیا، اس کا انطباق (application) درست ثابت ہوا۔ لیکن انھیں قوانین کو کمیونزم کے بانی کارل مارکس نے انسانی تاریخ پر منطبق کرنا چاہا تو وہ مکمل طور پر ناکام ہوگیا۔خالق نے انسان کو استثنائی طور پر سوچنے اور عمل کرنے کی آزادی عطا کی ہے۔ اس بنا پر انسانی تاریخ کا واحد غیر متغیر نقشہ نہیں بن سکتا۔ انسانی تاریخ کے مطالعے میں یہ کرنا ہوگا کہ اس کے متعلق حصہ (relevant part)کو غیر متعلق حصہ (irrelevant part) سے الگ کیا جائے۔ یعنی تاریخ کے مختلف اجزاء کو سارٹ آؤٹ (sort out)کرکے دیکھا جائے، غیر متعلق اجزاء کو الگ کرکے متعلق اجزاء کی روشنی میں انسانی تاریخ کی تصویر بنائی جائے۔ اس عمل کے بغیر تاریخ کی بامعنی تعبیر نہیں کی جاسکتی۔
قرآن کے مطالعے سے یہ بات سمجھ میں آتی ہے کہ موجودہ دنیا اس لیے بنائی گئی تاکہ انسان فطرت کے قوانین کا مطالعہ کرے، اور ایک تہذیب وجود میں لائے۔ یہ کام اکیسویں صدی میں اپنی تکمیل تک پہنچ چکا۔ اب دوسرا کام یہ ہے کہ آلاءاللہ (الرحمٰن13:)پر مبنی ایک برتر ربانی تہذیب کی تشکیل دی جائے۔ اس برتر تہذیب کو وہ لوگ وجود میں لاسکتے ہیں، جنھوں نے موجودہ دنیا میں اس کے لیے اپنے آپ کو تیار کیا ہو۔ آخرت کی دنیا میں پوری تاریخ سے ایسے تیار شدہ اشخاص (prepared personalities) کو منتخب کرکےجنت کی عظیم دنیا میں جمع کردیا جائے گا۔ تاکہ وہ اگلی برتر تہذیب میں زندگی گزاریں۔
واپس اوپر جائیں

منسوخ، موقوف

دین کے احکام ممکن طور پر دو قسم کے ہوسکتے ہیں۔ ایک وہ جو قابل تنسیخ ہوں، اور دوسرا وہ جن کو منسوخ تو نہ کیا جاسکتا ہو، لیکن ان کو وقتی طور پر موقوف کرنا درست ہو۔ کسی شرعی حکم کو منسوخ (abrogate) کرنا ایک ا صولی معاملہ ہے۔ اور اصولی معاملہ میں تغیر کا حق صرف شارع کو ہے۔ اور جہاں تک موقوف (suspend) کرنے کا معاملہ ہے، وہ ایک اجتہادی معاملہ ہے، اور امت کے علماء دلائل شرعیہ کے ذریعہ بطور اجتہاد ایسا کرسکتے ہیں۔
ہجرت کے بعد وقتی طور پر قبلۂ یہود کو قبلۂ مسلمین قرار دے دیا گیا، لیکن بعد کو یہ حکم متروک ہوگیا (البقرۃ: 143-144)، اور کعبہ ابدی طور پر اہل اسلام کا قبلہ قرار پایا۔ اب کسی کو یہ حق نہیں کہ وہ اس حکم میں تغیر کرے۔کسی حکم کو موقوف قرار دینے کا معاملہ ایک اجتہادی معاملہ ہے۔ مثلاً اعداد قوت کے بارے میں حدیث میں آیا ہے کہ اس سےمراد تیر اندازی ہے۔ رسول اللہ نے قرآن کی آیت پڑھی: وأعدوا لہم ما استطعتم من قوة[8:60] ، اورتین مرتبہ کہا:ألا إن القوة الرمی (صحیح مسلم، حدیث نمبر167) ۔موجودہ زمانے میں اس حکم کی حیثیت ایک موقوف حکم کی ہے، لیکن اگر کسی وقت حالات کا تقاضا ہو کہ رمی (تیراندازنی)کے طریقے کو دوبارہ اختیار کیا جائے، تو اس طریقے کو اختیارکیا جاسکتا ہے۔ گویا کہ کسی حکم کا موقوف ہونا،ہمیشہ مشروط معنی میں ہوتا ہے۔
کسی حکم کو منسوخ قرار دینے کا اختیار صرف شارع کو ہے، یعنی اللہ اور اللہ کے رسول کو ۔ اس کےبرعکس، جہاں تک موقوف قرار دینے کا معاملہ ہے، یہ ایک اجتہادی فعل ہے۔ امت کے علماء کو یہ حق ہے کہ وہ قانونِ ضرورت (law of necessity)کے تحت کسی حکم کو وقتی طور پر موقوف قرار دے دیں۔ اس کی ایک مثال یہ ہے کہ اصحاب رسول کے زمانے میں اہل فتنہ سے قتال کا حکم دیا گیا تھا۔ یہ حکم چوں کہ شریعت کے متن میں موجود ہے، اس لیے کوئی شخص اس کو منسوخ نہیں قرار دے سکتا، البتہ ضرورت شرعیہ کے تحت بطور اجتہاد اس حکم کو موقوف قرار دیا جاسکتا ہے۔
واپس اوپر جائیں

رسول، صحابی، کافر

کسی لفظ کا ایک لغوی مفہوم ہوتا ہے، اور ایک اس کا اصطلاحی مفہوم۔ جب ایک لفظ ایک مخصوص اصطلاح (term) کے معنی میں بولا جانے لگے تو اس لفظ کو اس کے مخصوص اصطلاحی مفہوم ہی میں استعمال کیا جائے گا۔ کسی اور معنی میں اس کو استعمال کرنا درست نہ ہوگا۔ یہ اصول مذہب کے شعبوں میں بھی ہے اور سیکولر شعبوں میں بھی۔
اسلام میں رسول اور صحابی اور کافرکے الفاظ، اصطلاحی الفاظ کی حیثیت رکھتےہیں۔ اب ان کو ان الفاظ کے اصطلاحی معنی ہی میں استعمال کیا جائے گا، کسی اور معنی میں ان کا استعمال درست نہ ہوگا۔ اسلام میں رسول ایک اصطلاحی لفظ ہے۔ اصطلاح کے اعتبار سے اس کا مفہوم ہے فرستادۂ خدا (messenger of God)۔ صحابی سے مراد رسول اللہ کا وہ معاصر انسان ہے جس نے براہ راست آپ سے دین کو پایا ہو، اور اس کو اخلاص کے ساتھ اپنا لیا ۔
اسی طرح اسلام میں کافر بھی ایک اصطلاحی لفظ ہے۔کافر کا لغوی مفہوم ہے انکار کرنے والا۔ مگر اصطلاحی اعتبار سے اس کا مطلب ہے منکر رسول۔ یعنی رسول اللہ کا وہ معاصر انسان جس نے براہ راست رسول سے دین کو پایا لیکن اس نے اس کا اعتراف نہیں کیا، بلکہ وہ اس کا منکر بن گیا۔ اس اعتبار سے اسلام میں کافر کا مطلب ہے، معاصر منکر رسول ۔
کافر کوئی قومی لقب نہیں۔ اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ جو مسلمان نہ ہو وہ کافر ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اصلاً ہر آدمی ایک انسان ہے۔ دنیاوی تعلقات کے اعتبار سے ایک انسان اور دوسرے انسان میں کوئی فرق نہیں۔ فرق کا تعلق اللہ رب العالمین سے ہے۔ قیامت میں اللہ رب العالمین کسی انسان کو جو درجہ دے، وہی اس کا درجہ ہے۔ دنیا کی زندگی میں کسی کو یہ حق نہیں کہ وہ بطور خود کسی کو غیر قوم یا کافر قوم کہے۔ کافر کے لفظ کا رواجی استعمال، ہم اور غیر (we and they) کا تصور پیدا کرتا ہے۔ حالاں کہ اسلام کے مطابق، صحیح تعلق وہ ہے جو ہم اور ہم (we and we) کے تصور پر قائم ہو۔
واپس اوپر جائیں

رسول اللہ کا کارنامہ

جدید تعلیم یافتہ طبقہ اکثر یہ سوال کرتا ہے کہ انسانی تاریخ کی لیے پیغمبر اسلام کی دین (contribution)کیا ہے۔ میں کہوں گا کہ آپ کی دین خاص طور پر دو چیزیں ہیں— موحدانہ تصور خدا(monotheistic concept of God)، عملی آئڈیلزم (practical idealism)۔ یہ دونوں چیزیں انسانی ترقی کے لیے بنیاد کی حیثیت رکھتی ہیں۔ مگر تاریخ میں یہ دونوں چیزیں مفقود رہیں۔ انسان ہمیشہ سے خدا کو مانتا تھا، لیکن وہ خدا کے ساتھ مشرکانہ تصورات کو ملائے ہوئے تھا، وہ خالص توحید پر قائم نہ تھا۔ پیغمبر اسلام نے انسان کوبے آمیز توحید پر قائم کیا۔ یہ بلاشبہ انسان کے لیے پیغمبر اسلام کا سب بڑا نظریاتی تحفہ تھا۔ کیوں کہ یہ صرف خالص توحید ہے جس کے ذریعہ خدا کا تصور صحیح بنیاد پر قائم ہوتا ہے۔
دوسری چیز عملی آئڈیلزم (practical idealism) ہے۔ تاریخ بتاتی ہے کہ انسان ہمیشہ آئڈیلزم کو چاہنے والا بنا رہا۔ لیکن آئڈیلزم عملی طور پر کبھی انسان کو حاصل نہ ہوسکی۔ اس کا سبب یہ ہے کہ انسان نے اس راز کو نہیں جانا کہ اگر چہ وہ پیدائشی طور پر معیار پسند ہے۔ لیکن مختلف اسباب سے اس دنیا میں عملاً آئڈیلزم کا حصول ممکن نہیں ہوتا۔ انسان خوداپنے آپ کو معیار پسند (idealist) بنا سکتاہے۔ لیکن اجتماعی زندگی میں اس قسم کے معیار کا حصول ممکن نہیں۔ اس لیے اجتماعی زندگی میں کامیابی کا راز یہ ہے کہ آدمی عملی آئڈیلزم پر راضی ہوجائے۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے اس اصول کو نہ صرف بتایا بلکہ اپنی عملی زندگی میں اس کا کامل نمونہ بھی قائم کردیا۔ پیغمبر اسلام کی پوری زندگی اس اصول کا عملی نمونہ ہے۔ اس کی ایک مثال یہ ہے کہ اگرچہ آپ کو کامل یقین تھا کہ میں اللہ کا رسول ہوں ۔ لیکن معاہدۂ حدیبیہ کے وقت جب فریق مخالف نے اصرار کیا کہ معاہدہ کے متن سے محمد رسول اللہ کا لفظ نکال دیا جائے، اور اس کی جگہ محمد بن عبد اللہ لکھا جائے تو آپ فوراً اس پر راضی ہوگئے۔ آپ کی یہ رضامندی عملی آئڈیلزم کی بنیاد پر تھی، نہ کہ خالص آئڈیلزم کی بنیاد پر۔
واپس اوپر جائیں

رے آف ہوپ

تخلیق کے قانون کے مطابق، موت ہر عورت اور ہر مرد پر آتی ہے۔ موت کیا ہے۔ موت یہ ہے کہ آدمی موجودہ دنیا سے مکمل طور پر جدا ہوجائے، اور اس دنیا میں پہنچ جائے جس کو آخرت کہا جاتا ہے۔یہ آخرت کی دنیا کیا ہے۔ یہ اللہ رب العالمین کی دنیا ہے۔ وہاں وَالْأَمْرُ یَوْمَئِذٍ لِلَّہِ (الانفطار16:) کا اصول رائج ہے۔ موجودہ دنیا بھی اللہ کے حکم کے تحت ہے۔ لیکن یہاں سب کچھ غیب میں ہو رہا ہے۔ آخرت وہ جگہ ہے، جہاں اللہ کی ہستی ایک مشہود ہستی بن جائے گی۔ جہاں بندہ براہ راست طور پر اپنے رب کے سامنے اپنے آپ کو پائے گا۔
اللہ کا تصور یہ ہے کہ وہ ارحم الراحمین ہے۔ وہ تمام مہربانوں سے زیادہ مہربان ہے ۔ اس کامطلب یہ ہے کہ انسان پر جب موت آتی ہے تو اس کے لیے یہ ایک ایسے سفر کی طرف جانا ہوتا ہے، جہاں اس کی ملاقات اللہ رب العالمین سے ہونے والی ہے، جہاں بندہ اپنے آپ کو معبود کے سامنے کھڑا ہوا پائے گا۔ جب معبود رحمان و رحیم ہے، تو اس کا مطلب یہ ہے کہ بندہ اور رب کی یہ ملاقات یقیناً ایک پُرامید ملاقات ہوگی۔ یہاں بندہ اپنے رب کی طرف سے وہ چیز پائے گا، جس کی امید وہ ایک مہربان رب سے کیے ہوئے تھا۔
ایک حدیث قدسی میں آیا ہے:أنا عند ظن عبدی بی (مسند احمد، حدیث نمبر 9076)۔ یعنی میںبندے کے گمان کے ساتھ ہوں۔ جو انسان یہ یقین رکھتا ہو کہ رب العالمین ایک رحیم و کریم رب ہے، اس کی مہربانیاں ہر مخلوق کا احاطہ کیے ہوئے ہے۔ ایسا انسان ضرور یہ بھی مانے گا کہ جب اس کی ملاقات اللہ سے ہوگی تو وہ اپنے آپ کو ایک ایسے رب کے سامنے کھڑا ہوا پائے گا، جو تمام مہربانوں سے زیادہ مہربان ہے۔بندے کا یہ احساس اس کو ضرور یہ یقین دے گا کہ میرا رب ایک مہربان رب ہے، وہ ضرور میرے ساتھ مہربانی کا معاملہ کرے گا۔ یہ یقین کسی بندے کے لیے اس کی موت کو ایک مثبت موت بنا دیتا ہے۔
واپس اوپر جائیں

صبر کی عظمت

ایک حدیث رسول صحیح البخاری اور صحیح مسلم میں آئی ہے۔ صحیح البخاری کے الفاظ یہ ہیں:عن أبی سعید الخدری رضی اللہ عنہ:إن ناسا من الأنصار سألوا رسول اللہ صلى اللہ علیہ وسلم، فأعطاہم، ثم سألوہ، فأعطاہم، ثم سألوہ، فأعطاہم حتى نفد ما عندہ، فقال: ما یکون عندی من خیر فلن أدخرہ عنکم، ومن یستعفف یعفہ اللہ، ومن یستغن یغنہ اللہ ومن یتصبر یصبرہ اللہ، وما أعطی أحد عطاء خیرا وأوسع من الصبر (صحیح البخاری، حدیث نمبر1469)۔ یعنی انصار کے کچھ لوگوںنے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کچھ مانگا۔ آپ نے ان کو دے دیا، انھوں نے پھر مانگا، آپ نے پھر دے دیا، انھوں نے پھر مانگا، آپ نے پھر دے دیا۔ یہاں تک کہ جو کچھ تھا آپ کے پاس وہ ختم ہوگیا۔ تو آپ نے فرمایا میرے پاس جو کچھ بھی مال ہوگا، میں تم سے بچا نہیں رکھوں گا اور جو شخص سوال سے بچنا چاہے تو اللہ اسے بچا لیتا ہے جو شخص غنا کا طریقہ اختیار کرے تو اللہ تعالیٰ اس کے غنا میں اضافہ کرے گا اور جو شخص صبر کرے گا اللہ تعالیٰ اسے صبر عطا کرے گا اور کسی شخص کو صبر سے بہتر اور کشادہ نعمت نہیں ملی۔
اس کا مطلب یہ ہے کہ پانے کا ایک طریقہ یہ ہے کہ آدمی دوسرے سے مانگ کر حاصل کرلے۔ لیکن اس سے زیادہ اعلی طریقہ یہ ہے کہ آدمی محنت کرے، اور خود اپنی محنت کے ذریعہ حاصل کرے۔اس دنیا میں محنت کے ذریعہ پانے کے مواقع ہر ایک کے لیےکھلے ہوئے ہیں۔ ہر آدمی کے لیے یہ ممکن ہے کہ وہ جو کچھ چاہتا ہے، اس کو وہ اپنی محنت کے ذریعہ حاصل کرے۔
محنت کے ذریعہ حاصل کرنا، کوئی سادہ بات نہیں۔ یہ بہت سے مزید فوائد کا ذریعہ ہے۔ آدمی جب ذاتی محنت سے حاصل کرنا چاہتا ہے، تو وہ اپنی سوچ میں اضافہ کرتا ہے۔ وہ منصوبہ بندی کا طریقہ دریافت کرتا ہے، وہ اپنے آپ کو زیادہ سنجیدہ بناتا ہے۔ وہ اپنے شکر کے جذبات میں اضافہ کرتا ہے۔ وہ اپنے اندر ذہنی ارتقا کے عمل کو جاری کرتا ہے، وغیرہ۔
واپس اوپر جائیں

اجتہاد کا فقدان

امت کےدور زوال کے بارے میں ایک پیشین گوئی حدیث کی کتابوں میں آئی ہے۔الفاظ یہ ہیں:تنزع عقول أکثر ذلک الزمان، ویخلف لہ ہباء من الناس لا عقول لہم(سنن ابن ماجہ، حدیث نمبر3959)۔ یعنی اُس زمانہ کے اکثر لوگوں کی عقلیں چھن جائیں گی اور ذروں کی طرح لوگ باقی رہ جائیں گے، جن کے پاس عقلیں نہ ہوں گی۔
عقل (reason)تو فطرت کا ایک عطیہ ہے۔ عقل کے معاملے میں ایسا نہیں ہوسکتا کہ ابتدائی نسلوں میں عقل رہے، اور بعد کی نسلوں میں وہ چھن جائے۔ حقیقت یہ ہے کہ عقل کا چھننا، عضویاتی معنی میں نہیں ہے۔ بلکہ وہ سمجھ (understanding) کے معنی میں ہے۔ یعنی عقل تو موجود ہوگی، لیکن سمجھداری موجود نہ ہو گی۔ مزید غور وفکر سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ بعد کی نسلوں میں اجتہادی صلاحیت ختم ہوجائے گی۔ اس لیے وہ اس قابل نہ رہیں گے کہ حالات کے مطابق شریعت کی تطبیق نو (reapplication) کرکے اپنے حالات کے اعتبار سے اس کی پیروی کریں۔
مزید غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ صلاحیت اجتہاد کا خاتمہ کلی طور پر نہ ہوگا۔ وہ اس معنی میں ہوگا کہ جہاں مجبوری (compulsion) کی صورت حال ہو، وہاں تو وہ اجتہاد پر عمل کریں گے۔ لیکن جہان مجبوری کی صورت حال نہ ہوگی ، وہاں وہ اپنے روایتی ذہن پر قائم رہیں گے، اور اجتہاد نہ کرسکیں گے۔ اس کی ایک مثال یہ ہے کہ قرآن میں حج کے بارے میں یہ آیت آئی ہے: وَأَذِّنْ فِی النَّاسِ بِالْحَجِّ یَأْتُوکَ رِجَالًا وَعَلَى کُلِّ ضَامِرٍ یَأْتِینَ مِنْ کُلِّ فَجٍّ عَمِیقٍ (22:27)۔ یعنی اور لوگوں میں حج کا اعلان کردو، وہ تمہارے پاس آئیں گے۔ پیروں پر چل کر اور دبلے اونٹوں پر سوار ہو کر دور دراز راستوں سے آئیں گے۔
اس آیت سے بظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ حاجیوں کو چاہیے کہ وہ اپنے مقامات سے اونٹ پر سفر کرکے مکہ پہنچیں۔ قدیم زمانے میں ایسا ہی ہوتا تھا۔ مگر موجودہ زمانے میں جب مشینی سواری کا دور آیا تو اب کوئی حاجی ایسا نہیں کرتا کہ وہ اب بھی سواری کے لیے اونٹ کا استعمال کرے، اور اس طرح مقامات حج تک پہنچے۔ بلکہ اب تمام حاجی یہی کرتے ہیں کہ دور کے مقامات سے وہ ہوائی جہاز پر سفر کرتے ہیں، اور قریب کے مقامات سے کاروں اور بسوں پر۔ حالاں کہ اس معاملے میں ایسا نہیں ہوا کہ علما نے جمع ہو کر یہ فتوی دیا ہو کہ اب زمانہ بدل گیا۔ اس لیے لوگوں کو چاہیے کہ وہ حیوانی سواری کے بجائے، مشینی سواری پر سفر کرکے مقام حج تک پہنچیں۔
واقعات بتاتے ہیں کہ زمانے کے حالات میں اور بہت سی تبدیلیاں ہوئیں۔ تاہم امت کے عوام یا علماء اس معاملے میں ایسا نہ کرسکے کہ وہ اجتہاد کریں اور قدیم طریقے کو چھوڑ کر نئے طریقے پر عمل کریں۔ اس کی ایک مثال یہ ہے کہ موجودہ زمانے میں جدو جہد کا طریقہ بدل گیا ہے۔ قدیم زمانے میں کسی مقصد کے حصول کے لیے متشددانہ جدو جہد (violent struggle) کا طریقہ رائج تھا۔ مگر موجودہ زمانے میں ایسی تبدیلیاں ہوئیں کہ اب متشددانہ جدو جہد کا طریقہ غیر مؤثر بن گیا۔ اب یہ ممکن ہوگیا کہ پر امن جدو جہد (peaceful struggle) کے ذریعہ ہر قسم کے مقاصد حاصل کیے جاسکیں۔ ایسی حالت میں اجتہاد کا تقاضا تھا کہ موجودہ زمانے کے مسلمان تشدد کے طریقے کو مکمل طور پر چھوڑ دیں، اور امن کے طریقے کو پوری طرح اختیار کر لیں۔ مگر موجودہ زمانے کے مسلمان ایسا نہ کرسکے۔
حالاں کہ اس معاملے میں حدیث رسول میں پیشگی طور پر رہنمائی موجود تھی۔ حضرت عائشہ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں بتاتی ہیں : ما خیر رسول اللہ صلى اللہ علیہ وسلم بین أمرین، أحدہما أیسر من الآخر، إلا اختار أیسرہما (صحیح مسلم، حدیث نمبر2327)۔ یعنی آپ کو جب بھی دو کاموں میں ایک اختیار کرنا ہوتا، جن میں سے ایک دوسرے سے آسان ہوتا، تو آپ ان دونوں میں سے آسان کام کو اختیار فرماتے۔ یہ ظاہر ہے کہ متشددانہ طریقۂ کار کے مقابلے میں پر امن طریقۂ کار آسان ہے۔ ایسی حالت میں حدیث رسول کے مطابق مسلمانوں پر فرض ہے کہ وہ متشددانہ طریقۂ کار کو مکمل طور پر چھوڑ دیں، اور اپنے مقصد کے حصول کے لیے صرف پر امن طریقۂ کار پر عمل کریں۔ مگر اجتہاد کے فقدان کی بنا پر موجودہ زمانے کے مسلمان ایسا نہ کرسکے۔
واپس اوپر جائیں

رسول اور اصحابِ رسول

تمام پیغمبروں کےآخر میں اللہ تعالی نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو مبعوث کیا۔ حضرت علی، رسول اللہ کے بارے میں فرماتے ہیں کہ جو بھی آپ کو پہلی بار دیکھتا مرعوب ہوجاتا۔ جو ساتھ بیٹھتا وہ آپ سے محبت کرنے لگتا۔(سنن الترمذی، حدیث نمبر 3638)
ایک حدیث (جامع الاصول، حدیث نمبر9317)میں ہے رسول اللہ فرماتے ہیں کہ میرے رب نے مجھے 9 باتوں کا حکم دیا ہے:
1۔ کھلے اورچھپے ہر حال میں اللہ سے ڈرتا رہوں۔
2۔ غصہ میں ہوں یا خوشی میں ہمیشہ انصاف کی بات کہوں۔
3۔ محتاجی اور امیری میں دونوں حالتوں میں اعتدال پر قائم رہوں۔
4۔ جو مجھ سے کٹے میں اس سے جڑوں۔
5۔ جو مجھے محروم کرے میں اس کو دوں۔
6۔ جو مجھ پر ظلم کرے میں اس کو معاف کردوں۔
7۔ اور میری خاموشی غور وفکر کی خاموشی ہو۔
8۔ میرا بولنا یادِ الٰہی کا بولنا ہو۔
9۔ میرا دیکھنا عبرت کا دیکھنا ہو۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ عقل مند شخص کے لئے لازم ہے کہ اس پر کچھ گھڑیاں گزریں۔ ایسی گھڑی جب کہ وہ اپنے رب سے باتیں کرے۔ ایسی گھڑی جب کہ وہ اپنی ذات کا محاسبہ کرے۔ ایسی گھڑی جب کہ وہ خدا کی تخلیق میں غور کررہا ہو اور ایسی گھڑی جب کہ وہ کھانےپینے کی ضرورتوں کے لئے وقت نکالے۔ (ابن حبان، حدیث نمبر 361)
حضرت ام سلمہ بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ ان کے گھر میں تھے، آپ نے خادمہ کو بلایا، اس نے آنے میں دیر کردی۔ آپ کے چہرے پر غصہ ظاہر ہوگیا۔ اُم سلمہ نے پردے کے پیچھے جاکر دیکھا تو خادمہ کو کھیلتے ہوئے پایا۔ اس وقت آپ کے ہاتھ میں مسواک تھی۔ آپ نے خادمہ کو مخاطب کرتےہوئے فرمایا: اگر قیامت کے دن مجھے بدلہ کا ڈر نہ ہوتا تو میں تجھ کو اس مسواک سے مارتا (لولا خشیة القود یوم القیامة، لأوجعتک بہذا السواک)۔الادب المفرد للبخاری، حدیث نمبر 184
بدر کی جنگ 2 ہجری میں ہوئی ۔ جو لوگ قیدی بن کر آئے وہ رسول اللہ کے بدترین دشمن تھے مگر آپ نے ان کے ساتھ بہترین سلوک کیا۔ اِن قیدیوں میں ایک شخص سہیل بن عمرو تھا۔ وہ اپنی شاعری سے رسول اللہ کے بارے میں گستاخانہ تقریر کرتا تھا۔ حضرت عمر نے مشورہ دیا کہ اس کے سامنے والے دانت توڑ دیے جائیںتاکہ آئندہ یہ تقریر نہ کرسکے۔ لیکن آپ نے فرمایا: اگر میں ایسا کروں تو خدا میرا چہرہ بگاڑ دے گا اگرچہ میں خدا کا رسول ہوں ( لا أمثل بہ فیمثل اللہ بی وإن کنت نبیا)۔سیرۃ ابن ہشام، 1/649
حسن بصری تابعی نے ایک بار اپنے زمانہ کے لوگوں سے کہا: میں نے 70 بدری صحابیوں کو دیکھا ہے۔ ان کا لباس زیادہ تر صوف کا ہوتا تھا۔ اگر تم ان کو دیکھتے تو کہتے کہ یہ مجنون ہیں (مجانین)۔اور اگر وہ تم کو دیکھتے تو کہتے کہ ان کا دین میں کوئی حصہ نہیں ہے (ما لہؤلاء من خلاق)۔اور اگر وہ تمھارے بروں کو دیکھتے تو کہتے کہ یہ لوگ حساب کے دن پر یقین نہیں رکھتے (ما یؤمن ہؤلاء بیوم الحساب)۔حلیۃ الاولیاء و طبقات الاصفیاء، 2/134
عبد اللہ بن مسعود کہتےہیں کہ اصحابِ رسول اس امت کے بہترین لوگ تھے وہ بہت اچھے دل والے، بہت گہرے علم والے اور تکلفات سے دور تھے(کانوا خیر ہذہ الأمة، أبرہا قلوبا، وأعمقہا علما، وأقلہا تکلفا)۔حلیۃ الاولیاء و طبقات الاصفیاء، 1/305۔ رسول اور اصحاب رسول کی یہ زندگی اختیاری زندگی تھی، وہ کسی مجبوری کی بنا پر نہ تھی۔ یہی طریقہ بعد کے لوگوں کے لیے بھی نمونہ ہے۔
واپس اوپر جائیں

معاونِ اسلام تہذیب

تہذیب (civilization) کیا ہے۔ تہذیب ایک جدید اصطلاح ہے۔ اس سے مراد سوشل ترقی کا وہ اسٹیج ہے جو زندگی کے تمام پہلوؤں کو سمیٹے ہوئے ہو۔
Civilization is an advanced stage of human society, where people live with a reasonable degree of organization and comfort and can think about things like art and education.
کلچر ایک قومی ظاہرہ ہے۔ اس کے مقابلے میں تہذیب ایک عمومی انسانی ظاہرہ ۔ تاریخ میں بہت سی تہذیبیں شمار کی جاتی ہیں۔ لیکن مبنی بر فطرت ظاہرہ کے اعتبار سے ایک ہی واقعہ ہے جس کو تہذیب کہا جاسکتا ہے، اور وہ مغربی تہذیب (western civilization) ہے۔ دوسری تہذیبیں اپنی حقیقت کے اعتبار سے قومی کلچر تھیں، نہ کہ کامل معنوں میں تہذیب۔اس سلسلے میں ایک امریکی مصنف کی کتاب بہت مشہور ہوئی:
Samuel P. Huntington: The Clash of Civilizations and the Remaking of World Order (1996)
اس کتاب کا ٹائٹل میرے نزدیک کنفیوزن پیدا کرتا ہے۔ مصنف نے کتاب کا ٹائٹل تہذیبوں کا تصادم بنایا ہے۔ مگر کتاب کا مطالعہ بتاتا ہے کہ اس کا موضوع اپنی حقیقت کے اعتبار سے قومی انٹرسٹ ہے، نہ کہ تہذیبوں کا تصادم۔
مغربی تہذیب اپنی حقیقت کے اعتبار سے مغربی تہذیب نہیں ہے، بلکہ وہ ایک مبنی بر فطرت تہذیب ہے۔ اس اعتبار سے وہ پوری انسانیت کا مشترک سرمایہ ہے۔ کچھ مقامی اثرات کی بنا پر اس کو مغربی تہذیب کہا جاتا ہے۔ لیکن مقامی اثرات کو حذف کرکے دیکھا جائے تو وہ بلاشبہ ایک انسانی تہذیب ہے۔ ہر گروہ اس میں برابر کا حصہ دار ہے۔ حتیٰ کہ مسلم گروہ بھی۔ اضافی پہلوؤں کو نظر انداز کردیا جائے تو مغربی تہذیب کو اسلامی تہذیب کہنا بجا طور پر درست ہوگا۔دوسری تہذیبیں پولیٹکل اقتدار کے تحت بنیں۔ اس کے برعکس، مغربی تہذیب بنیادی طور پراس وقت بنی جب کہ غیرپولیٹکل سائنسدانوں نے کائنات کے فطری قوانین (laws of nature)کو دریافت کیا۔
قرآن کی ایک متعلق آیت ان الفاظ میں آئی ہے: وَسَخَّرَ لَکُمْ مَا فِی السَّمَاوَاتِ وَمَا فِی الْأَرْضِ جَمِیعًا مِنْہ ُ إِنَّ فِی ذَلِکَ لَآیَاتٍ لِقَوْمٍ یَتَفَکَّرُون (45:13)۔ اور اس نے آسمانوں اور زمین کی تمام چیزوں کو تمھارے لیے مسخر کردیا، سب کو اپنی طرف سے۔ بے شک اس میں نشانیاں ہیں ان لوگوں کے لیے جو غور کرتے ہیں۔
تسخیر کا مطلب ہے تابع بنا نا (to subject)۔ تابع کا مطلب یہ ہے کہ انسان کے لیے یہ ممکن ہے کہ وہ دنیا کی چیزوں کو جس طرح چاہے اپنی خدمت کے لیے استعمال کرے۔ مثلا گھوڑا اور بیل میں پیدائشی طور پر یہ صفت ہے کہ انسان جب ان کو اپنا تابع بنا کر کوئی خدمت لینا چاہے تو وہ بآسانی انسان کی خدمت میں لگ جاتے ہیں۔ یہی حال تمام ان چیزوں کا ہے جو ہمارے آس پاس اس دنیا میں پائی جاتی ہیں۔
اس کی دوسری مثال ٹکنالوجی ہے۔ ٹکنالوجی گھوڑے کی طرح خارجی دنیا میں پیشگی طور پر موجود نہ تھی۔ وہ انسان کے لیے ایک ایسی چیز تھی، جس کو وہ دریافت کرے۔ اس کے بعد ہی وہ انسان کے لیے قابل استعمال بنتی ہے۔ انسان نے اپنی عقل کو استعمال کرکے یہ دوسرا کام کیا ۔ اس نے ٹکنالوجی کی مختلف صورتوں کو دریافت کیا، اور پھر تجربہ کے ذریعہ ان کو اپنے لیے قابل استعمال بنایا۔
اس اعتبار سے پوری کائنات انسان کے لیے ایک مسخر کائنات ہے۔ کچھ چیزیں براہ راست طور پر انسان کے قبضہ قدرت میں ہیں، مثلا گھوڑا۔ اور کچھ چیزیں بالواسطہ طور پر انسان کے لیے قابل استعمال ہیں، مثلا موٹر کار اور ہوائی جہاز، وغیرہ۔ اس اعتبار سے پوری دنیا کو معاون انسان دنیا کہا جاسکتا ہے۔
٭ ٭ ٭ ٭ ٭ ٭ ٭
کامل آرام یا کامل خوشی کسی کو اس دنیا میں نہیں مل سکتی ،
کامل مسرت صرف آخرت ہی میں ممکن ہے۔
واپس اوپر جائیں

تردیدی لٹریچر

قرآن کی ایک تعلیم یہ ہے کہ دعوت حق کا کام مثبت انداز میں کیا جائے، منفی انداز میں نہیں۔ اس سلسلے میں قرآن کی مندرجہ ذیل آیت کا مطالعہ کیجیے: وَلَا تَسُبُّوا الَّذِینَ یَدْعُونَ مِنْ دُونِ اللَّہِ فَیَسُبُّوا اللَّہَ عَدْوًا بِغَیْرِ عِلْمٍ (6:108)۔ یعنی اور اللہ کے سوا جن کو یہ لوگ پکارتے ہیں، ان کو گالی نہ دو، ورنہ یہ لوگ حد سے گزر کر جہالت کی بنا پر اللہ کو گالی دینے لگیں گے۔
قرآن کی یہ آیت جب اتری تو اولاً اس کا خطاب اصحاب رسول سے تھا۔ حدیث و سیرت کے ذخیرے سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ صحابہ اس زمانے کے غیر مسلموں سے سبّ و شتم کی زبان بولتے تھے۔ سبّ و شتم کا لفظ یہاں شناعت کے اعتبار سے آیا ہے، نہ کہ واقعہ کے اعتبار سے۔ اصل میں جو واقعہ ہوا تھا ، وہ یہ کہ بعض صحابی نے غیر احسن مجادلہ کی زبان میں بعض یہود سے گفتگو کی۔ مثلا ایک یہودی نے کہا کہ موسی تمام عالم سے افضل ہیں۔اس کو سن کر ایک صحابی نے کہا کہ محمد تمام اہل عالم سے افضل ہیں۔ یہ بات بڑھی، یہاں تک کہ صحابی نے یہودی کو ماردیا۔
مذکورہ آیت میں اہل ایمان کو اسی قسم کے غیر احسن مجادلہ سے روکا گیا ہے۔ کیوں کہ جب بھی غیر احسن انداز میں مجادلہ کیا جائے گا تو اس کا رد عمل (reaction) ہوگا۔ اس اصول کی روشنی میں تردیدی انداز دعوت ، یقینی طور پر غیر اسلامی انداز دعوت ہے۔ کیوں کہ اگر آپ ردّ عیسائیت اور ردّیہودیت کے اسلوب میں کتابیں لکھیں گے، تو دوسرا فریق بھی ردّ اسلام کے انداز میں کتابیں لکھے گا۔ تردیدی اسلوب کا ردّعمل ہمیشہ تردیدی اسلوب کی صورت میںظاہر ہوتا ہے۔
تردیدی اسلوب کی کوئی حد نہیں۔ تردیدی اسلوب جس طرح دوسرےمذاہب کے خلاف ممکن ہے، ٹھیک اسی طرح وہ اسلام کے خلاف بھی ممکن ہے۔ یہ اسلوب کی بات ہے، نہ کہ حق و ناحق کی بات۔ موجودہ زمانہ میں مناظرہ (debate) کا طریقہ نتیجہ کے اعتبار سے اسی سبّ و شتم کا طریقہ ہے۔ دعوت کا موثر اسلوب صرف مثبت اسلوب ہے، تردیدی اسلوب ہرگز نہیں۔
واپس اوپر جائیں

دنیا کی تخلیق

سائنسی دریافت کے مطابق، تقریباً تیرہ بلین سال پہلے خلا (space)میں ایک دھماکہ ہوا۔ اس کو بگ بینگ کہا جاتا ہے۔اس دھماکے کے بعد ہماری دنیا کا آغاز ہوا۔ اس کے بعد ایک منصوبہ بند پراسس (well-calculated planning) کے تحت پوری کائنات وجود میں آئی۔ کہکشائیں (galaxy) وجود میں آئیں، شمسی نظام (solar system) بنا، سیارۂ ارض کی تخلیق ہوئی، پانی ، ہوا، سبزہ اور حیوانات وجود میں آئے۔آخر میں انسان کی آبادی شروع ہوئی۔ یہاں تک کہ موجودہ آباد دنیا وجود میں آئی۔
دنیا میں پیش آنے والے ان واقعات کا مطالعہ کیا جائے تو یہ حقیقت سامنے آتی ہے کہ دنیا کی تخلیق ایک منصوبہ بند انداز میں ہوئی۔ دنیا کے آغاز سے لے کر اب تک جو باتیں پیش آرہی ہیں، وہ سب اس منصوبہ بند تخلیق کی تائید کرتی ہیں۔ اس کے سوا اس ظاہرے کی کوئی اور توجیہہ نہیں کی جاسکتی۔
اب سوال یہ ہے کہ مستقبل کے اعتبار سے دنیا کا انجام کیا ہے۔ قرآن اس واقعہ کو جاننے کا مستند ذریعہ ہے۔ قرآن سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ نے انسان کو ابتلا (الملک 2:)کے لیے پیدا کیا۔ یعنی ایک تربیتی کورس سے گزار کر ایسے لوگوں کو جاننا جوقابل انتخاب ہوں۔ آخر میں اللہ رب العالمین ایسے لوگوں کے ریکارڈ کی بنیاد پر ان کو منتخب کرے گا، اور ان کو آخرت کی ابدی جنت میں داخل کرے گا۔ جنت میں داخلہ کسی اور بنیاد پر نہیں ہوگا، بلکہ صرف اس بنیاد پر ہوگا کہ آدمی نےاپنی آزادی کا غلط استعمال کیا یا صحیح استعمال کیا۔ اس نے اپنے قول و عمل سے اپنے اندر جو شخصیت تعمیر کی، وہ جنت میں رہنے کے قابل ہے، یا اس میں رہنے کے قابل نہیں ہے۔ وہ اپنے پڑوسیوں کے لیے پرابلم پرسن بنے، یا وہ لوگوں کے درمیان پر امن طور پر رہے۔ اسی حقیقت کو حدیث میں ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے:یدخل الجنة أقوام، أفئدتہم مثل أفئدة الطیر(صحیح مسلم، حدیث نمبر 2840) ۔ یعنی جنت میں وہ لوگ داخل ہوں گے، جن کے دل چڑیوں کے دل کی مانند ہوں ۔
واپس اوپر جائیں

تاریخ کاسفر

اللہ کی سب سے بڑی صفت یہ ہے کہ وہ رب العالمین ہے۔ربً یربًُ کا مطلب عربی زبان میں ہوتا ہے:إنشاء الشیء حالا فحالا إلى حدّ التمام (المفردات فی غریب القرآ ن للراغب الأصفہانى، رب)۔ یعنی کسی چیز کو درجہ بدرجہ ترقی دے کر اس کوکمال تک پہنچانا۔ رب العالمین کی اس صفت کا اظہار مادی کائنات میں بھی ہوا ہے، اور انسانی تاریخ میں بھی۔
قرآن میں سات بار یہ بات کہی گئی ہے کہ اللہ نے زمین و آسمان کو چھ دنوں (ستۃ ایام) میں پیدا کیا ۔ چھ دنوں سے مراد چھ ادوار (six periods) ہیں۔ قرآن سے یا سائنس سے واضح طور پر یہ معلوم نہیں ہوتا کہ چھ ادوار سے مراد کیا ہے ۔ لیکن قیاسی طور پر اس کا ایک نقشہ بیان کیا جاسکتا ہے۔
1 - مادی کائنات کا غالبا پہلا دور وہ ہے جس کو قرآن میں اشارۃ رتق اور فتق (الانبیاء30:) کے الفاظ میں بیان کیا گیا ہے۔ بیسویں صدی کے آغاز میں دریافت ہونے والےاس عظیم کائناتی واقعہ کو فریڈ ہائل ( Fred Hoyle) نےبگ بینگ کا نام دیا ہے۔ اس کے مطابق کائنات اپنے آغاز میں ایک بہت بڑے ایٹم (super atom) کی شکل میں خلا میں پیدا ہوا۔ پھر اس گولے میں ایک دھماکہ ہوا ۔ جس کے بعد اس گولہ کے تمام پارٹیکل وسیع خلا میں پھیل گئے اور دھیرے دھیرے موجودہ کائنات بنی۔
2 - دوسرا دور غالبا وہ ہے جس کو امریکی سائنسداں اَلَن بوس ( Alan Boss) نے لٹل بینگ کا نام دیا ہے۔یہ دور وہ ہے جو شمسی نظام (Solar System) سے شروع ہوا۔ یہ شمسی نظام ہماری قریبی کہکشاں (Milky Way) کے ایک کنارے پر واقع ہے۔ اس سے مراد وہ پوری دنیا ہے جس کو شمسی نظام کہا جاتا ہے۔اسی نظام کے اندر ہماری زمین (planet earth) واقع ہے۔
3 - مادی دنیا میں غالباًپیش آنے والا تیسرا بڑا واقعہ وہ ہے جس کو واٹر بینگ کہا جاسکتا ہے۔ زمین کی فضا میں پائی جانے والی دو گیسوں کی ترکیب سے سیال پانی وجود میں آیا۔ جو زندگی کے تمام اقسام کی اصل ہے۔
4 - مادی کائنات کا چوتھا واقعہ وہ ہے جس کو پلانٹ بینگ کہا جاسکتا ہے۔ اس کے بعد زمین کی سطح پر ہرقسم کی ہریالی وجود میں آئی۔ اور زمین کا خشک کرہ ہر قسم کی ہریالی کے وجود میں آنے سے سر سبز و شاداب ہوگیا۔
5 - اس کے بعد زمین پر وہ واقعہ وجود میں آیا جس کو انیمل بینگ (animal bang) کہا جاسکتا ہے۔اس کے بعد زمین پر ہر قسم کے حیوانات وجود میں آئے، مثلاً مچھلی ، چڑیا، ہر قسم کے چوپائے، اور کیڑے مکوڑے، وغیرہ۔ایک اندازہ کے مطابق زمین پر زندہ انواع کی تقریبا 8.7 ملین قسمیں ہیں۔
6 - اس سلسلے میں وہ آخری واقعہ پیش آیا جس کو ہیومن بینگ (human bang) کہا جاسکتا ہے۔ یعنی انسان کا پیدا ہونا، اور انسانی نسلوں کا زمین کے اوپر آباد ہونا۔ انسانی دور زمین کا آخری دور ہے ۔اس کے بعد جو دور آئے گا، وہ آخرت کا ابدی دور ہوگا۔
انسانی تاریخ
یہی معاملہ انسان کے ساتھ پیش آیا۔ اللہ رب العالمین جس طرح عالم مادی کی ربوبیت کررہا ہے، اسی طرح وہ انسانی تاریخ کو بھی مینج (manage) کر رہا ہے۔ تاکہ وہ درست سمت میں سفر کرتے ہوئے اپنی آخری مطلوب منزل تک پہنچ جائے۔
مطالعہ بتاتا ہے کہ انسانی تاریخ کے سفر کے بنیادی طور پر چھ مراحل ہیں۔ یہ تاریخ انسانِ اول آدم سے شروع ہوئی، اور اب اکیسویں صدی میں وہ غالباً اپنے سفر کے آخری مرحلے میں پہنچ چکی ہے۔ یہ مراحل ممکن طور پر حسب ذیل ہیں — انبیاء کا دور، ابراہیمی منصوبے کا دور، خاتم النبیین کا دور، امت مسلمہ کا دور، مغربی اقوام کا دور،فائنل دور۔
اللہ رب العالمین نے انسان کو پیدا کرکے اس کو سیارۂ ارض (planet earth) پر آباد کیا۔ اس طرح انسان کی تاریخ بننا شروع ہوئی۔ تخلیقی منصوبہ (creation plan) کے مطابق،انسان کی آخری منزل جنت (Paradise) ہے۔ جنت گویا انسان کا ابدی ہیبیٹاٹ (eternal habitat) ہے۔ جنت وہ آفاقی جگہ ہے جہاں وہ لوگ ابدی طور پرر ہیں گے، جو موجودہ دنیا میں اپنے آپ کو جنت کے لیے اہل (competent) ثابت کریں۔
تخلیقی منصوبہ کے مطابق، انسان کی زندگی دوادوار میں تقسیم ہے۔ موت سے پہلی کی دنیا اور موت کے بعد کی دنیا۔ موت سے پہلے کی دنیاگویا ایک تربیت گاہ (nursery) کی حیثیت رکھتی ہے، اور موت کے بعد کی دنیا اس کا مطلوب ہیبیٹاٹ (habitat)ہے۔ جہاں اس کو کامل فل فِلمینٹ (fulfilment) کے ساتھ زندگی گزارنے کا موقع ملے گا۔دوسرے الفاظ میں یہ کہ موجودہ دنیا انتخاب کی دنیا (selection ground) ہے، اور بعد کی دنیا وہ ہے جہاں منتخب افراد اپنے آئڈیل کے مطابق ابدی طور پر زندگی گزاریں گے۔
رہنمائی کا انتظام
اس تخلیقی نقشے کے مطابق، انسان کے لیے ایک رہنمائی (guidance) کی ضرورت تھی۔ تاکہ یہاں پیدا ہونے والے عورت اور مرد صحیح راہ (right path) پر چلیں، اور غلط راہوں میں بھٹکنے سے اپنے آپ کو بچائیں۔ اس کے لیے خالق نے ہر نوعیت کا انتظام فرمایا۔ جولوگ اس انتظام سے رہنمائی لیتے ہوئے زندگی گزاریں، وہ یقینی طور پر غلط سمتوں میں بھٹکنے سے بچیں گے، اور اپنی زندگی کو فلاح کی زندگی بنانے میں کامیاب رہیں گے۔
رہنمائی کے معاملے میں خالق نے مختلف سطحوں پر اعلیٰ انتظام کیا ہے۔پہلی سطح فطرت کی سطح ہے۔ فطرت کی سطح پر انسان کو پیدائشی طور پر نیک اور بد کی تمیز(الشمس8:) عطا فرمائی ہے۔ انسان اگر اپنے شعور کو زندہ رکھے تو یقینا فطرت کی رہنمائی اس کے لیے کافی ہوجائے گی۔
دوسرا مرحلہ ارد گرد کی کائنات ہے۔ہمارے گرد و پیش جو مادی کائنات ہے، اس میں خالق نے ہر اچھی بات کے مادی نمونے (material illustrations) رکھ دیے ہیں۔ آدمی کا شعور اگر بیدار ہو تووہ اپنے گرد و پیش کی دنیا میں ہر دن اپنے لیے خاموش رہنمائی پاسکتا ہے۔
رہنمائی کی تیسری سطح یہ ہے کہ خالق نے ہر زمانے میں اور ہر مقام پر اپنے پیغمبر بھیجے، جو لوگوں کو ان کی اپنی قابل فہم زبان میںفلاح کا راستہ بتاتے رہے۔ ساتویں صدی میں خالق نے آخری پیغمبر محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو بھیجا اور ان کے ذریعہ سے رہنمائی کی مستند کتاب (authentic book) بھیج دی۔ پیغمبر آخر الزمان کے بعد یہ رہنمائی اس طرح جاری ہے کہ ایک طرف قرآن اور پیغمبر کا اسوہ لفظی رہنمائی کی صورت میں موجود ہے۔ اور دوسری طرف اللہ کی توفیق سے زندہ رہنما برابر اٹھ رہے ہیں۔
اس حقیقت کو حدیث میں ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے:إن اللہ یبعث لہذہ الأمة على رأس کل مائة سنة من یجدد لہا دینہا (سنن ابو داؤد، حدیث نمبر 4292)۔ یعنی بے شک اللہ اس امت کے لیےہر سو سال کے سرے پر ایسے افراد بھیجے گا جو اس کے لیے اس کے دین کی تجدید (revival) کرتے رہیں گے۔
اس حدیث کا مطلب یہ ہے کہ بعد کے زمانے میں پیغمبر کی آمد کا سلسلہ شخصی معنوں میں ختم ہوجائے گا، مگراس وقت بھی پیغمبرانہ رہنمائی کا سلسلہ جاری رہے گا۔ امت میں ایسے اہل علم افراد پیدا ہوتے رہیں گے جو اللہ کی توفیق سے امت اور عام انسانوں کو خدائی سچائی سے باخبر کرتے رہیں ۔ ان مجددین اور ان کے ساتھیوں کی درست کارکردگی کی یہ ضمانت ہوگی کہ لوگوں کو ہمیشہ یہ موقع حاصل رہے کہ ایسے ہر فرد کے کام کو قرآن و سنت کی روشنی میں جانچیں ، اور صرف اس رہنمائی کو قبول کریں جو قرآن و سنت کی تعلیمات کے مطابق ہو۔ جو رہنمائی قرآن و سنت کے معیار (criterion) پر نہ اترے اس کو رد کردیا جائے۔
اس تشریح کے مطابق ، انسانی تاریخ کا یہ سفر اپنے آخری مرحلے میں پہنچ چکا ہے۔ اب وقت آگیا ہے کہ لوگ زیادہ سے زیادہ توبہ و استغفار کرکے وہ عمل کریں جو آخرت میں ان کے کام آنے والا ہے۔
واپس اوپر جائیں

تعارفی ماڈل

ہر عورت اور مرد جو اس دنیا میں آتے ہیں، وہ فطری طور پر بہت سی خواہشات (desires) لے کر آتے ہیں۔ ہر آدمی چاہتا ہے کہ وہ ان خواہشوں کی تکمیل کرے، لیکن ہر انسان آخر میں محسوس کرتا ہے کہ ساری کوششوں کے باوجود وہ فل فلمنٹ (fulfilment) سے محروم رہا۔ دوسرے الفاظ میں یہ کہ انسان کو اس کا اپناہیبٹاٹ (habitat) نہیں ملا۔
انسان دیکھتا ہے کہ اس دنیا میں چڑیوں کو ان کا ہیبٹاٹ ملا ہوا ہے، مچھلیوں کو ان کاہیبٹاٹ ملا ہوا ہے۔ لیکن انسان اپنے ہیبٹاٹ سے محروم ہے۔ کائنات کا مطالعہ بتاتا ہے کہ یہ ایک مکمل کائنات ہے۔اس دنیا میں ہر طرف کامل ڈیزائن (design) ہے، اس دنیا میں ہر طرف اعلی منصوبہ ہے، اس دنیا میں ہر طرف ذہانت کے نمونے ہیں۔ مگر انسان کا ہیبٹاٹ وسیع دنیا میں کہیں موجود نہیں۔ اس معاملے کو دیکھ کر ایک سائنسداں نے کہا تھاکہ بظاہر انسان بھٹک کر ایک ایسی دنیا میں آگیا ہے، جو اس کے لیے بنائی نہیں گئی:
It appears that the world was not made for him
انسان کا ہیبٹاٹ بظاہر اس دنیا میں ایک گم شدہ آئٹم (missing item) ہے۔ اب اگر آپ اس نظر سے قرآن کا مطالعہ کریں تو آپ دریافت کریں گے کہ قرآن ایک ایسی کتاب ہے جو اس گم شدہ آئٹم کی نشاندہی کررہی ہے۔ یہ ایک ایسا واقعہ ہے جو قرآن کے علمی مطالعہ سے یقینی طور پر معلوم ہوتا ہے۔ (ملاحظہ ہو راقم الحروف کی کتاب عظمت قرآن، صفحات 151)۔قرآن کے مطابق یہ گم شدہ آئٹم وہی ہے جس کو جنت کہا جاتا ہے۔ اس لیے جنت کے بارے میں قرآن انسان کو خطاب کرتے ہوئے بتاتا ہے : اور تمہارے لیے وہاں ہر وہ چیز ہے جس کو تمہارا دل چاہے اور تمہارے لیے اس میں ہر وہ چیز ہے جو تم طلب کرو گے(41:31)۔
مزید مطالعہ بتاتا ہے کہ موجودہ سیارۂ ارض (planet earth) میں وہ تمام آئٹم موجود ہیں، جن کی خواہش انسان کے اندر پائی جاتی ہیں۔ مگر یہ تمام خواہشیں غیر کامل حالت میں ہیں، کوئی بھی خواہش یہاں کامل حالت میں موجود نہیں۔ قرآن میں بتایا گیا ہے کہ اہل جنت جب جنت میں داخل ہوں گے، اور وہاں کی تمام اعلیٰ چیزوں کا تجربہ کریں گے، تو وہ کہیں گےکہ یہ تو وہی ہے جو ہم کو دنیا میں ملا تھا، اور جنت دنیا کی متشابہ (similar) ہوگی(البقرۃ: 25)۔
اس پورے معاملے پر غور کیجیے تو آپ یہ دریافت کریں گے — خالق نے انسا ن کو ایک مکمل وجود کی حیثیت سے پیدا کیا اور اس کو موجودہ زمین پر بسایا۔ مگر انسان اور اس زمین کے اندر ایک عدم مطابقت تھی۔ وہ یہ کہ انسان اپنی تخلیق کے اعتبار سے فل فلمنٹ چاہتا تھا۔ لیکن اس دنیا میں انسان کو کوئی بھی چیز کامل فل فلمنٹ کے درجے میں حاصل نہیں ہے۔ اس دنیا میں جو چیزیں انسان کو ملتی ہیں، وہ صرف بقدر ضرورت ملتی ہیں۔ وہ انسان کو بقدر فل فلمنٹ نہیں حاصل ہوتیں۔ اس محرومی کی بنا پر انسان اس دنیا میں ماہی ٔ بے آب (fish without water) کی طرح تڑپتا ہے، اور اسی حال میں مرکر اس دنیا سے چلا جاتا ہے۔
مطالعے کے مطابق، موجودہ کائنات ایک مکمل کائنات ہے، اس میں کوئی نقص موجود نہیں۔ قرآن (الملک3:)بھی دعویٰ کی زبان میں کہتا ہے کہ اگر تم اس کائنات کا مطالعہ کرو تو تم پاؤگے کہ یہ ایک بے نقص کائنات (flawless universe) ہے۔ آپ کا مطالعہ ایک طرف یہ بتائے گا کہ موجودہ دنیا میں بظاہر انسانی تقاضے کے تمام آئٹم موجود ہیں، مگر یہ تمام آئٹم یہاںنامکمل حالت میں ہیں۔ ان کو حاصل کرنے کے باوجود انسان یہ محسوس کرتا ہے کہ اس کو اپنے فطری تقاضوں کاکامل فل فلمنٹ نہیں ملا۔ قرآن کی روشنی میں آپ کا مطالعہ بتائے گاکہ انسان کا اصل ھیبٹاٹ تو موت کے بعد دوسری زندگی میں ہے، جو ابدی بھی ہے اور کامل بھی۔ موجودہ دنیا میں خالق نے بطور رحمت خاص ایساکیا ہے کہ انسان کے اصل ہیبٹاٹ کا ایک تعارفی ماڈل (introductory model) رکھ دیا ہے۔ تاکہ انسان موت سے پہلے کے دورِ حیات میں موت کے بعد آنے والے دورِ حیات کا ابتدائی تعارف حاصل کرسکے، اور پھر اس کے مطابق اپنی ابدی زندگی کی تعمیر کرے۔
واپس اوپر جائیں

تصور دین

اسلام کی تاریخ ، اپنے آغاز کے بعد تقریباً ہزار سال تک smoothly چلتی رہی۔ اٹھارویں صدی عیسوی سے اس میں خلل واقع ہوا۔ اس کا سلسلہ اب تک جاری ہے۔ حدیث کے الفاظ میں مسلمانوں کے اندر سیف (sword) داخل ہوگئی۔ اس کے نتیجے میں سارا معاملہ جیوپرڈائز (jeopardize)ہوگیا۔ یہ سلسلہ اکیسویں صدی کے فرسٹ کوارٹر تک جاری ہے۔
امام مالک نے اپنے استاد صالح بن کیسان کے حوالے سے کہا تھا کہ اس امت کا آخری حصہ بھی اسی طریقہ کو follow کرنے سے درست ہوگا جس طریقے کو follow کرنے سے اس کا ابتدائی حصہ درست ہوا تھا (مسند الموطا للجوہری، اثر نمبر783)۔ اس طریقے کو ایک لفظ میں منہج السلف کہا جاسکتا ہے۔ آج ضرورت ہے کہ اسی منہج السلف کو دوبارہ زندہ کیا جائے۔
یہ منہج السلف کیا تھا۔ تاریخ کا مطالعہ بتاتا ہے کہ عہد رسالت کے بعد اسلامی تاریخ میں عہد خلافت آیا۔ یہ دور اسلام میں گولڈن پیریڈ تھا۔ یہ دور تقریباً چالیس سال تک جاری رہا۔ یہ دور شوریٰ (الشوریٰ38:) کے اصول پر قائم تھا۔ لیکن چالیس سال کے بعد مسلم دور خاندانی حکومت (dynasty) پر قائم ہوگیا۔ اس کے بعد مسلسل طور پر یہی دور جاری رہا۔ تمام علماء سلف جن کو ہم اکابر کہتے ہیں۔ انھوں نے اس نظام کو قبول کرلیا۔ یہاں تک کہ ان کا اجماع ہوگیا کہ اس سیاسی نظام کے خلاف خروج کرنا حرام ہے۔
ایک اعتبار سے یہی منہج السلف تھا۔ سلف نے ایسا کیوں کیا۔ اس کا سبب یہ تھا کہ خاندانی حکومت کے تحت ایک چیز قائم ہوگئی جو عملاً حکومت کا اصل مقصد ہے۔ اس مقصد کو قرآن میں تمکین فی الارض(الحج41:) کہا گیا ہے۔ آج کل کی زبان میں اس کو سیاسی استحکام (political stability) کہا جاسکتا ہے۔
خاندانی نظام حکومت کے تحت جب سیاسی استحکام قائم ہوا تو پیس(peace) اور نارملسی (normalcy) قائم ہوگئی۔ اس کے نتیجے میں تمام دینی کام کسی رکاوٹ کے بغیر ہونے لگے۔ یہی وہ زمانہ ہے جب کہ قرآن محفوظ ہوا، حدیث کی جمع و تدوین ہوئی، فقہ سے متعلق سارے کام انجام پائے، اسلامی علوم کی تمام بنیادی کتابیں لکھی گئیں۔ مسجد اور مدرسہ اور حج کا نظام قائم ہوا۔ اسلام کی دعوت و اشاعت مسلسل طور پر جاری رہی، وغیرہ۔
جو لوگ یہ کہتے ہیں کہ خلافت راشدہ کے بعد اسلام میںملوکیت آگئی، ان کا کہنا بلاشبہ غلط ہے۔ اس لیے کہ مسئلہ ظاہری ڈھانچے کا نہیں ہے، بلکہ معنوی پہلو کا ہے۔ حکومت سے اصل مقصود کسی ظاہری ڈھانچے کو قائم کرنا نہیں ہے، بلکہ استحکام (stability) قائم کرنا ہے۔ کیوں کہ جب استحکام کی حالت قائم ہوجائے تو ہر قسم کا تعمیری کام کرنا ممکن ہوجاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بعد کو قائم ہونے والا وہ دور جس کو خاندانی دور حکومت کہا جاتا ہے، تمام علمائے سلف نے قبول کرلیا، بلکہ اسی زمانے میں یہ مسئلہ بنا کہ قائم شدہ حکومت کے خلاف خروج کرنا حرام ہے۔
اسلام میں اصل اہمیت مقصد کی ہے، نہ کہ ڈھانچے کی۔ ڈھانچہ خواہ کوئی بھی ہو، اگر شریعت کا مقصد حاصل ہورہا ہے تو اس ڈھانچے کو درست کہا جائے گا۔مقاصد شریعت کی فہرست میں خودساختہ اضافہ کرکے اگر کوئی شخص کہے کہ شریعت کا فلاں مقصد حاصل نہیں ہورہا ہے تو یہ نظام ملوکیت کا نظام ہے، نہ کہ اسلام کا مطلوب نظام ۔ تو اس کا ایسا کہنا قابل قبول نہ ہوگا۔ کیوں کہ مقاصد شریعت میں استنباطی اضافہ کرنا، بذات خود ناقابل قبول ہے۔
٭ ٭ ٭ ٭ ٭ ٭ ٭
ناریل کا درخت پورا کا پورا ایک عجیب قسم کا قدرتی کارخانہ ہے۔ اس کی ہر چیز مفید اور کار آمد ہے۔ ناریل کے درخت کی صفات اگر بیان کی جائیں تو پورا سفرنامہ اسی سے بھر جائے۔ ناریل کے جس خول کے اندر اس کا پانی رہتا ہے اس کی پیکنگ حیرت انگیز حد تک بامعنٰی ہوتی ہے۔ کئی تہہ کے اندر یہ پانی ہوتا ہے۔ اس کے اوپر کا خول نہایت سخت ہوتا ہے۔ وہ بہت مشکل سے ٹوٹتا ہے۔ مگر اس نہایت سخت خول کے سرے پر حیرت انگیز طورپر ایک نرم سوراخ ہوتا ہے جو نہایت آسانی سے کھل جاتا ہے اور اس کے ذریعہ پانی نکال کر پیا جاسکتاہے۔ یہ سوراخ اس بات کا یقینی ثبوت ہے کہ اس کائنات کا خالق ایک عاقل اور باشعور ہستی ہے۔ اس سوراخ میںجو حکمت ہے وہ باشعور خالق کے بغیر ممکن نہیں ہوسکتی۔
واپس اوپر جائیں

نظریاتی صحبت

جو اہل ایمان پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے معاصر تھے، جن کو یہ موقع ملا کہ وہ پیغمبر اسلام سے ملاقات کریں، اور براہ راست طور پر آپ سے دین کی تعلیم حاصل کریں، ان کو صحابہ یا اصحاب رسول کہا جاتا ہے۔ اصحاب رسول کا یہ گروہ زیادہ تر قدیم عرب سے تعلق رکھتا تھا۔ ان کی تعداد عورت اور مرد کو ملا کرتقریباً ایک لاکھ چوبیس ہزار بتائی جاتی ہے۔ معلوم طور پر ابو الطفیل عامر بن واثلہ کنانی آخری صحابی رسول تھے ۔ ان کی وفات غالباً 100 ھـ میں مکہ میںہوئی۔
تاہم پیغمبر اسلام کی ایک توسیعی صحبت (extended companionship)وہ ہے، جس کو نظریاتی صحبت کہا جاسکتا ہے۔ صحبت کی یہ نسبت بعد کےز مانے میں بھی بدستور جاری ہے۔ یہ وہ لوگ ہیں جو محمد بن عبد اللہ کو رسول کی حیثیت سے دوبارہ دریافت کریں۔ جو آپ کی سنت کو اور آپ کے مشن کو اپنی زندگی میں کامل طور پر اپنائیں۔ یہ معاملہ ان کے لیے اتنا بڑا کنسرن (concern)بن جائے کہ وہ ہمیشہ اس سوچ میں رہیں کہ رسول اللہ کا طریقہ حقیقۃً کیا تھا، آپ نے اپنا مشن کس طرح چلایا۔ جو لوگ پیغمبر اسلام کو اس طرح اپنا کنسرن بنائیں، اور اپنی سوچ میں پیغمبر اسلام کو شامل کریں، وہ گویا کہ فکری اور نظری اعتبار سے رسول اللہ کی صحبت میں جی رہے ہیں۔ وہ آج بھی رسول اللہ کے فیض سے اپنا حصہ پارہے ہیں۔ وہ گویا کہ پیغمبر کو نہ دیکھتے ہوئے بھی اس کو دیکھ رہے ہیں، وہ گویا کہ پیغمبر کی صحبت میں نہ ہوتے ہوئے بھی پیغمبر کی صحبت کا فائدہ حاصل کررہے ہیں۔ ایسے لوگوں کے بارے میں کہا جاسکتا ہے کہ وہ نظریاتی معنوں میں اصحاب رسول کے گروہ میں شامل ہوئے۔
عملی معنوں میں صحبت رسول کی نسبت صرف ان لوگوں کو ملی جو آپ کے ہم زمانہ تھے۔ لیکن نظریاتی معنوں میں صحبت رسول کی نسبت ان شاء اللہ ان لوگوں کو بھی ملے گی، جو پیغمبر اسلام کو اپنا کنسرن بنائیں۔یہ وہ لوگ ہیں جو اپنے مطالعہ اور غور وفکر کے ذریعے پیغمبر کو دوبارہ دریافت کریں گے، اور نظریاتی معنوں میں وہ صحابیٔ رسول قرار پائیں گے۔
واپس اوپر جائیں

سب سے بڑی قربانی

عبداللہ بن وابصہ العبسی اپنے باپ سے اپنے دادا کی یہ روایت نقل کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حج کے موسم میں ہماری قیام گاہ پر منیٰ میںآئے۔ ہم جمرۂ اولیٰ پر مسجد الخیف کے قریب ٹھہرے ہوئے تھے۔ آپ اپنے اونٹ پر تھے اور اپنے پیچھے زید بن حارثہ کو بٹھائے ہوئے تھے۔ آپ نے ہم کو توحید کی طرف دعوت دی۔ خدا کی قسم، ہم نے آپ کو کوئی جواب نہیں دیا اور ہم نے اچھا نہیں کیا۔ہم آپ کے بارے میں سن چکے تھے اور یہ بھی سن چکے تھے کہ آپ حج کے موسم میں لوگوں کو اپنے دین کی دعوت دیتے ہیں۔ آپ ہمارے پاس کھڑے ہوکر ہمیں دعوت دیتے رہے اور ہم چپ چاپ سنتے رہے۔اس وقت ہمارے ساتھ میسرہ بن مسروق العبسی بھی تھے۔ انہوں نے ہم سے کہا کہ میں خدا کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ اگرہم اس آدمی کی تصدیق کریں اور اس کو لے جاکر اپنے قافلہ کے بیچ ٹھہرائیں تو یہ بڑا اہم فیصلہ ہوگا۔ خدا کی قسم، اس کا دین غالب ہوکر رہے گا۔ یہاں تک کہ وہ ہر جگہ پہنچ جائے گا۔ قبیلہ کے لوگوں نے کہا کہ اس کو چھوڑو، تم ایسی بات کیوں کہتے ہو جس کو ہم میں سے کوئی ماننے والا نہیں۔
یہ بات سن کر رسول اللہ میسرہ کے بارے میں پُر امید ہوگئے۔ آپ نے ان سے مزید گفتگو کی۔ میسرہ نے جواب دیا کہ آپ کا کلام کتنا اچھا اور کتنا روشن کلام ہے۔ لیکن اگرمیں اس کو مان لوں تو میری قوم میری مخالف ہوجائے گی۔ اور آدمی ہمیشہ اپنی قوم کے ساتھ ہوتا ہے۔ کیوں کہ قوم اگر مدد نہ کرے تو دشمنوں سے مدد کی کیا امید کی جاسکتی ہے ۔( السیرۃ النبویۃ لابن کثیر،2/170)
سب سے بڑی قربانی یہ ہے کہ کوئی شخص اپنی قوم کی روش کے خلاف ایک روش اختیار کرے۔ وہ اپنی قوم کے عام مزاج کے خلاف کام کرے۔ وہ ایسی بات کہے جو قوم کے وقار سے ٹکراتی ہو۔ وہ ایسی پالیسی کی تبلیغ کرے جو قومی پالیسی سے مطابقت نہ رکھتی ہو۔ایساآدمی اپنی قوم سے کٹ جاتاہے۔ وہ خود اپنوں کے درمیان اجنبی بن کر رہ جاتا ہے۔
واپس اوپر جائیں

ردّ عمل نہیں

جب کوئی بات آدمی کی پسند کے خلاف پیش آتی ہے تو ایسے موقع پر لوگ فوراً ردّ عمل (reaction) کا انداز اختیار کرتے ہیں۔ یہ طریقہ غلطی پر غلطی کا اضافہ ہے۔ جب آپ ناپسندیدہ بات پر ردّعمل (reaction) کا اظہار کریں تو اس کے بعد ہمیشہ جوابی ردّعمل پیدا ہوتا ہے۔ اس طرح ردّ عمل کا سلسلہ قائم ہوجاتا ہے۔ یعنی چین ری ایکشن (chain reaction) ۔ اجتماعی زندگی میں یہ سب سے بڑا مسئلہ ہے۔ اس مسئلے کا واحد حل یہ ہے کہ آپ ہر قیمت پر چین ری ایکشن سے اپنے آپ کو بچائیں، اور پھر آپ کی زندگی پرسکون زندگی بن جائے گی۔
یہ ایک حکمت کی بات ہے۔ اس حکمت کا تعلق فرد کی زندگی سے بھی ہے، اور اجتماع کی زندگی سے بھی۔ خاندانی زندگی سے بھی ہے اور سماجی زندگی سے بھی۔ ہر جگہ یہی ہوتا ہے کہ لوگ اپنے آپ کو پہلی غلطی سے نہیں بچاتے، اور جب آپ پہلی غلطی کردیں تو اس کے بعد لازماً دوسری غلطی وجود میں آئے گی، اور پھر ایسا ہوگا کہ چین ری ایکشن کا سلسلہ قائم ہوجائے گا۔ جو صرف تباہی کی حد پر جاکر ختم ہوگا۔
مسلم قومیں تقریباً دو سو سال سے نفرت اور تشدد کا شکار ہیں۔ اس کا سبب کوئی خارجی دشمن نہیں ہے، بلکہ خود مسلم قوموں میں اعلیٰ حکمت (high wisdom) کی کمی ہے۔ ہر جگہ یہی ہورہا ہے کہ لوگ پہلی غلطی کرکے چین ری ایکشن (chain reaction) کی صورت پیدا کردیتے ہیں، اور جب چین ری ایکشن ایک بار وجود میں آجائے تو اس کے بعد وہ نان اسٹاپ جاری رہتا ہے۔ چین ری ایکشن کو پہلے مرحلے میں روک دیجیے، تو اس کے بعد سب کچھ اپنے آپ ٹھیک ہوجائے گا، لیکن اگر آپ ایسا نہ کریں تو اس کے بعد لازماً یہی ہوگا کہ چین ری ایکشن شروع ہوجائے گا، جو کبھی ختم نہ ہوگا۔ حتی کہ اگر لوگ عملی طور پر اس کے قابل نہ رہیں تو وہ سوچ کی سطح پر اس برائی میں مبتلا ہوجائیں گے۔ آخری تباہی سے پہلے کبھی یہ برائی ختم نہ ہوگی۔
واپس اوپر جائیں

کامیابی کا اصول

ایک مصنف نے لکھا ہے— وقت اور سمجھ دونوں اکثر ایک ساتھ نہیں آتے۔ جب وقت آتا ہے تو سمجھ نہیں ہوتی ہے، اور جب سمجھ آتی ہے تو وقت گزرچکا ہوتا ہے۔ آپ کو چاہیے کہ اپنے اندر سمجھ پیدا کریں تاکہ وقت آئے تو آپ اس وقت کو استعمال کرنا جانیں۔یہ بات بظاہر درست معلوم ہوتی ہے، لیکن عملی اعتبار سے وہ قابل عمل نہیں۔
اصل یہ ہے کہ انسان پیشگی طور پر باتوں کو سمجھ نہیں سکتا، وہ تجربہ کے ذریعہ سیکھتا ہے۔ یعنی نقصان پہلے آتا ہے، اور عقل اس کے بعد آتی ہے۔ پہلے آدمی کچھ کھوتا ہے، اس کے بعد وہ دریافت کرتا ہے کہ اس کو پانے کا صحیح طریقہ کیا ہے۔ انسان پہلے اپنے اندازہ(assessment) کی غلطی کا تجربہ کرتا ہے، اور اس کے بعد وہ اس فن کو جانتا ہے کہ صحیح اندازہ کا اصول کیا ہے۔
اس لیے موجودہ دنیا میں کامیابی کاراز یہ نہیں ہے کہ آدمی غلطی نہ کرے۔ بلکہ کامیابی کا راز یہ ہے کہ آدمی اپنی غلطی سے سبق حاصل کرے۔اس اعتبار سے زیادہ صحیح بات یہ ہے کہ آدمی نے اگر پہلے موقع کو کھویا ہے تو وہ اپنا نیا منصوبہ زیادہ بہتر انداز پر بنائے تاکہ وہ دوسرے موقع کو نہ کھوئے۔ اسی اصول کا نام پریکٹکل وزڈم (practical wisdom) ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اس دنیا میں انسان پہلے موقع کو ضرور کھوتا ہے۔ دانش مند آدمی وہ ہے جو پہلے کھونے سے تجربہ حاصل کرے اور پھرزیادہ بہتر منصوبہ بندی کے ذریعہ وہ دوسرے موقع کو حاصل (avail)کرسکے۔
وزڈم کی دو صورتیں ہیں۔ آئڈیل وزڈم (ideal wisdom) اور پریکٹکل وزڈم (practical wisdom)۔ آئڈیل وزڈم اپنی ذات کے لیے درست ہے، لیکن اجتماعی زندگی میں آئڈیل وزڈم قابل حصول نہیں۔ اس لیے زندگی کے لیے صحیح اصول یہ ہے کہ آدمی اپنی ذات کے معاملے میں آئڈیل وزڈم کو اپنائے، لیکن جب معاملہ اجتماعی زندگی کا ہو تو وہ پریکٹکل وزڈم پر راضی ہوجائے— صبر دراصل اسی پریکٹکل وزڈم کا نام ہے۔
واپس اوپر جائیں

ذہن کا متحرک ہونا

ٹرگر (trigger)گن کا ایک پرزہ ہے، جس کو دبانے سے گن (gun)کا نظام نہایت تیزی کے ساتھ متحرک ہوجاتا ہے۔ اسی سے اس کا استعمال ذہن کے لیے ہونے لگا۔یعنی فلاں واقعہ نے آدمی کے مائنڈ کو ٹرگر کردیا۔ انسا ن کے اندر بڑی سوچ یا انقلابی سوچ ہمیشہ اس وقت پیدا ہوتی ہے جب کہ اس کا ذہن (mind) کسی واقعہ سے ٹرگر ہوجائے۔
مائنڈ ہر آدمی کے پاس ہوتا ہے، لیکن ہر آدمی کا مائنڈ ٹرگر نہیں ہوتا۔ اس کا سبب یہ ہے کہ مائنڈ کے ٹرگر ہونے کے لیے ضروری ہے کہ آدمی کا ذہن تیارذہن (prepared mind) ہو۔ جس آدمی کے اندر تیار مائنڈ ہو، اسی کے ساتھ یہ واقعہ ہو گا کہ کسی تجربہ کے پیش آنے پر اس کا مائنڈ ٹرگر ہوجائے، اور اس کے اثر سے وہ کوئی بڑا کام کرڈالے۔
مثال کے طور پر مہاتما گاندھی 1893 میں بحری سفر کرکے بمبئی سے ساؤتھ افریقہ پہنچے۔ اس وقت ساؤتھ افریقہ میں انگریزوں کی حکومت تھی۔ ان کے ساتھ یہ واقعہ پیش آیا کہ سخت سردی کے موسم میںرات کےوقت ان کو پیٹرمارتسبرگ( Pietermaritzburg) اسٹیشن پر زبردستی اتاردیا گیا۔ اِس واقعہ سے مہاتما گاندھی کا مائنڈ ٹرگر ہوگیا۔ انھوں نے خود لکھا ہے کہ اس واقعہ نے میری زندگی کا اگلا کورس متعین کردیا۔ چناں چہ وہ انڈیا واپس آئے، اور ہندوستان کی آزادی کی تحریک میں انقلابی رول ادا کیا۔
آدمی کوئی بڑا کام اس وقت کر پاتا ہے جب کہ اس کا مائنڈ ٹرگر ہوجائے۔ لیکن مائنڈ کا ٹرگر ہونا، ایک ایسا واقعہ ہے جو صرف ایک تیار ذہن کے ساتھ پیش آتا ہے۔ جس آدمی کا ذہن تیار ذہن نہ ہو ، اس کو تجربات پیش آئیں گے لیکن اس کا مائنڈ ٹرگر نہ ہوگا۔ اس بنا پر وہ کوئی بڑا کام بھی نہ کرسکے گا۔ یہ فطرت کا قانون ہے۔ اس معاملے میں کسی عورت یا مرد کا کوئی استثنا نہیں۔ اس اعتبار سے دیکھیے تو زندگی میں چیلنج کا پیش آنا ایک رحمت معلوم ہوگا۔
واپس اوپر جائیں

ذہنی ارتقا کا معیار

ذہنی ارتقا (intellectual development) ہر آدمی کی ایک اہم ضرورت ہے۔ ذہنی ارتقا کے بغیر آدمی عملاً حیوانیت کی سطح پر رہتا ہے۔ وہ انسانیت کے اعلی درجے تک نہیں پہنچتا۔ ذہنی ارتقا کا معیار کیا ہے۔ ذہنی ارتقا کا معیار یہ ہے کہ آدمی کے اندر علمی مزاج (scientific temper) پیدا ہوجائے۔ وہ چیزوں کی صحت کو اپنے ذوق سے پہچان سکے۔
اصل یہ ہے کہ فزیکل سائنس میں یہ ممکن ہوتا ہے کہ ریاضی کے اصول پر کسی چیزکی صحت کو معلوم کیا جاسکے۔ لیکن علوم انسانی (humanities) میں چیزوں کو جانچنے کے لیے اس قسم کا کوئی حتمی معیار ممکن نہیں ہوتا۔ یہاں کسی اہل علم کے لیے جو چیز فیصلہ کن بنتی ہے وہ آخری طور پر اس کا اپنا سائنٹفک ٹمپر ہوتا ہے:
There are no established methods for determining the truth or falsity of a non-factual claim.
آدمی اگر سچے معنوں میں طالب حق ہو ، اور وہ غیر متعصبانہ انداز میں باقاعدہ طور پر زیر بحث موضوع کا مطالعہ کرے تو اس کے اندر وہ ذوق پیدا ہوجائے گا جس کو فرقان (criterion) کہا جاتا ہے۔ وہ اپنے اعلی ذوق کی بنا پر یہ پہچان لے گا کہ حقیقی (factual) کیا ہے، اور غیر حقیقی (non-factual) کیا ہے۔ اسی پہچان کو سائنٹفک ٹمپر کہا جاتا ہے۔
ایسا آدمی ہمیشہ متعلقہ موضوع کا مطالعہ کرے گا، لیکن اکثر حالات میں اس کامطالعہ صرف اس بات کی تصدیق کرے گا کہ اپنے اعلیٰ ذوق کی بنا پر اس نے جو رائے درست سمجھی تھی، وہ باعتبار حقیقت بھی درست ہے۔ کوئی علمی کام کرنے کے لیے آدمی کے اندر اس قسم کا سائنٹفک ٹمپر ضروری ہے۔ یہ علمی ذوق آدمی کے لیے اس کے مطالعے میں اس کا رہنما بن جاتا ہے۔ وہ اپنے اس داخلی ذوق کی بنا پر فکری بھٹکاؤ سے بچ جاتا ہے۔
واپس اوپر جائیں

خبرنامہ اسلامی مرکز — 256

■ بہار اردو اکادمی، پٹنہ کے کانفرنس ہال میں20 مئی 2017 کو ایک پروگرام منعقد کیا گیا تھا۔ اس کا عنوان تھا: قومی اتحاد، اور ہماری ذمہ داری۔ اس موضوع پر مسٹر ابو الحکم دانیال صاحب (صدر سینٹر فار پیس اینڈ آبجیکٹو اسٹڈیز، بہار و جھار کھنڈ، رابطہ نمبر 9852208744) نے خطاب کیا، اور سوال و جواب بھی ہوا۔ پروگرام کے بعد تمام شرکاء کو ترجمۂ قرآن و دیگر دعوتی لٹریچر دیا گیا۔ بہار و جھارکھنڈ میں الرسالہ مشن سے وابستہ ہونے کے لے مذکورہ نمبر پر رابطہ قائم کیا جاسکتا ہے۔
■ دور درشن چینل کےنمائندہ مسٹر مالک اشترنے صدر اسلامی مرکز کا 27 مئی 2017 کو ویڈیو انٹر ویو ریکارڈ کیا۔ اس انٹرویو کا تعلق روزہ سے تھا۔ دوران انٹرویو جو بات کہی گئی، ان میں سے ایک اہم بات یہ تھی کہ روزہ کا ایک مقصد لوگوں کو سچائی اور بھائی چارہ کی طرف لانا ہے۔ اسی تربیت کے لیے ایک مہینہ، رمضان منتخب کیا گیا ہے۔ تاکہ لوگ اس مہینہ میں تربیت پاکر سال بھر سچائی کو مانیں اور بھائی چارے کے ساتھ رہیں۔ آخر میں تمام کرو(crew) ممبرس کو ترجمۂ قرآن اور دیگر کتابوں کا ایک ایک سٹ دیا گیا۔
■ جمشید پور کی سی پی ایس ٹیم نے 30 مئی 2017 کو جے آر ڈی ٹا ٹا اسٹیڈیم کا دورہ کیا، اور وہاں پر موجود کوچ، کھلاڑی اور دیگر لوگوں کو ترجمۂ قرآن اور دیگر دعوتی لٹریچر دیے گئے۔ تمام لوگوں نے شکریہ ادا کیا۔
■ 31 مئی 2017 کو سی پی ایس انٹر نیشنل، دہلی نےاپنے آفس نظام الدین ویسٹ میں ایک پروگرام منعقد کیا۔ اس پروگرام کی وجہ یہ تھی کہ سی پی ایس انٹر نیشنل کی چیر پرسن ڈاکٹر فریدہ خانم کو جامعہ ملیہ اسلامیہ سے ریٹائرمنٹ ملا تھا، اور سی پی ایس کی دو ممبروں، مز سعدیہ خان، اور مز نغمہ صدیقی کو جامعہ ہمدرد سے ڈاکٹریٹ کی ڈگری تفویض کی گئی تھی۔ صدر اسلامی مرکز نے اس موقع پر ایک خطاب کیا، اور تینوں خواتین ممبران کو مومنٹو پیش کیا گیا۔
■ کوڈلور (تامل ناڈو) کےایک مقام منگلم پٹائی میں مسلم ہائی اسکول ہے۔ اس کےپرنسپل مسٹر اوتھیراپتی (Uthirapathi) ایک ہندو ہیں۔ انھوں نے2 جون 2017 کو اپنے طلبہ کو ساتھ لے کر قصبہ کی جامع مسجد میں جمعہ کی نماز کے بعد گڈورڈ بکس سے چھپا ہوا تامل ترجمۂ قرآن اور دیگر تامل لیف لیٹس نمازیوں کے درمیان تقسیم کیا۔
■ خواجہ کلیم الدین صاحب (امریکا) کی کوششوں سے 7 جون 2017 کو مشرقی امریکا کے شہر لاس ویگاس میں 2500 اسپینش ترجمۂ قرآن اور 3000 انگلش ترجمۂ قرآن کی کاپیاںپہنچائی گئیں۔یہ شہر گیمبلنگ کے لیے مشہور ہے۔ خواجہ کلیم الدین صاحب نےایک مقامی مسجد الحراء کے امام ڈاکٹر روح الامین صاحب اور مسٹر جمی وہائٹ ہیڈ (عہدہ میئر کے مسلم امیدوار) سے ملاقات کرکے ان کو اس پر راضی کیا کہ وہ وہاں قرآن کی تقسیم کو یقینی بنائیں۔
■ 20 تا 23 جون 2017کو سی پی ایس کی کولکاتا ٹیم(رابطہ نمبر 9831345685) دہلی آئی۔ ان کی آمد کا مقصد صدر اسلامی مرکز سے استفادہ اور سی پی ایس (دہلی ٹیم) کے ساتھ دعوتی امکانات اور لائحہ عمل پرتبادلۂ خیال کرنا تھا۔ اس موقع پر صدر اسلامی مرکز کی انگریزی کتاب، دی ایج آف پیس کا بنگلہ ترجمہ، نیز اردو کتاب، سوال وجواب (الرسالہ کے سوال وجواب کا مجموعہ)، اور چند انگریزی لیف لیٹس کے بنگلہ تراجم کا اجرا بھی کیا گیا۔یہ تمام کام کولکاتا ٹیم کی کاوش ہے۔ اس سفر میں دی ایج آف پیس کی بنگلہ ترجمہ نگار پروفیسر تنویر نسرین بھی اپنے شوہرکے ساتھ موجود رہیں۔ انھوں نے بھی صدر اسلامی مرکز اور سی پی ایس ٹیم کے ساتھ تبادلۂ خیال کیا۔
■ 2 جولائی 2017 کو انڈین ینگ مسلم سوشل گروپ (اسماعیل پورہ، کامٹی)نے میمن ہال میں عید ملن کا انعقاد کیا تھا۔ اس تقریب میں مسٹر چندر شیکھر کرشنا راؤباونکولے (انرجی و ایکسائزوزیر، حکومت مہاراشٹر) کو مہمان خصوصی کے طور پرمدعو کیا گیا تھا۔ جناب ایم اے وحید (سی پی ایس ممبرناگپور و کامٹی ) نے ان کومراٹھی قرآن اور مراٹھی زبان میں دوسرے دعوتی لٹریچر پیش کئے۔ انھوں نے ان کو بہت ہی خوشی کے ساتھ قبول کیا، اور کہا کہ یہ پہلا موقع ہے جب مجھے اتنا قیمتی تحفہ ملا ہے۔ میں انھیں پہلی فرصت میں فلائٹ کے اندر پڑھوں گا۔
■ 8 اور 9 جولائی 2017 کو سی پی ایس ( ممبئی) نےسی پی ایس علماء ٹیم کے ساتھ امراوتی اور وروڈ کا دعوتی دورہ کیا۔ اس درمیان مختلف لوگوں سے دعوتی ملاقاتیں ہوئیں، اور ایک اسکول میں ٹیچروں کے ساتھ ایک پروگرام ہوا۔
■ 10 جولائی 2017 کی ڈاکٹر حسین مڈور (کیرلا) صدر اسلامی مرکز سے ملاقات کے لئے تشریف لائے۔ وہ صدر اسلامی مرکز کی تحریرں کو پڑھتے ہیں اور کافی متاثر ہیں۔ موصوف اس سے پہلے صدر اسلامی مرکزکو کیرالا بلاکر اپنے پروگرام میں ان کی میزبانی کرچکے ہیں۔
■ 11 جولائی 2017 کو سی پی ایس ناگپور کے ممبر جناب ساجد احمد خان (موبائل نمبر 8237006029) ایس کے پورول کالج میں بطور ممتحن گئے۔ وہاں انھوں نے کالج کے اساتذہ کو مراٹھی زبان میں ترجمہ شدہ قرآن، واٹ از اسلام، موت کی یاد اور کچھ دوسرے دعوہ لٹریچر دئے۔ اسی کے ساتھ سی پی ایس کے پیس مشن کے متعلق ان سے گفتگو کی۔ انھوں نے خوشی خوشی نہ صرف اپنے لیا، بلکہ اپنے دوستوں کے لئے بھی کچھ سٹ حاصل کیے۔
■ 13 جولائی 2017 کو صومالی سفارت خانہ کے ڈپٹی ہیڈ مسٹر احمد محمود کی سرکردگی میں صومالیہ کا ایک ڈیلیگیشن صدر اسلامی مرکز سے ملاقات کے لیے آیا۔ ان حضرات سے صدر اسلامی مرکز نے مختلف موضوعات پر گفتگو کی۔ آخر میں ان کوصدر اسلامی مرکز کی کتابوں کا ایک ایک سٹ بطور ہدیہ دیا گیا۔
■ 14 جولائی 2017 کو افغانستان ایمبسی (انڈیا) کے ڈپٹی چیف محمد میر واعظ بلخی صدر اسلامی مرکز سے ملاقات کے لیے آئے۔ صدر اسلامی مرکز نے ان سے کافی دیر تک مختلف موضوعات پر گفتگو کی۔ دوران گفتگو انھوں نے صدر اسلامی مرکز سے افغانستان میں مذہبی تشدد کو ختم کرنے اور مسلمانوں کودرست رہنمائی دینے میں تعاون کرنے کی درخواست کی۔انھوں نے بتایا کہ ان کے یہاںصدر اسلامی کی کتاب ’وومن بٹوین اسلام اینڈ ویسٹرن سوسائٹی‘ کا فارسی میں ترجمہ شائع ہو چکا ہے، اور اب تذکیر القرآن کے فارسی ترجمہ کا کام چل رہا ہے۔ اس کے علاوہ انھوں نے صدر اسلامی مرکز کی دیگر کتابوں کو فارسی زبان میں منتقل کرانے میں بھی دلچسپی ظاہرکی تاکہ تشدد پسندی کے خلاف وہ ان کتابوں سے مدد لے سکیں۔ آخر میں ان کو صدر اسلامی مرکز کی کتابوں کا ایک سٹ دیا گیا۔
■ افغان ایمبسی نے اپنے ماہانہ نیوز لیٹر میں درج بالا خبر کو شائع کیا تو نیشنل ہیرالڈ کے رپورٹر مسٹر دھیریا مہیشوری نے ذیل کا ای میل لکھا اور صدر اسلامی مرکز کا ایک انٹر ویو لیا:
I am trying to do a feature story on Maulana Sb's efforts in helping tackle radicalisation in Afghanistan. I have been informed that the Afghanistan government wants Maulana Sb to be involved with the youth of the country and guide them in the right direction. I was hoping to meet him sometime early next week and be able to get a bit of background on the development. I believe he has extensive experience in helping the youth of Kashmir. But Afghanistan, with its various tribal factions, may present a different challenge altogether. I would like to explore how he plans on going about this new venture of his. It would be much appreciated if I could be connected to him. Looking forward to hearing from you. (Dhairya Maheshwari, National Herald, New Delhi)
■ 16 جولائی 2017 کو نیشنل میڈیکل کالج (سہارن پور) کی جانب سے کانوڑیوں کے لیے میڈیکل کیمپ کا افتتاح کیا گیا۔ دیوبند کے ایم ایل اے منوج چودھری، اور مسٹر مکیش مشراآئی پی ایس، وغیرہ اس افتتاحی تقریب میں شریک ہوئے۔ پروگرام کے بعد تمام لوگوں کو ترجمہ قرآن و دیگر دعوتی لٹریچر دیا گیا، اورآنے والے کانوڑیوںکے درمیان علاج کے ساتھ ہندی ترجمۂ قرآن و ہندی بک لیٹس کی تقسیم کا سلسلہ شروع ہوا۔
■ کشمیر میں ناسازگار حالات کے باوجود حمید اللہ حمید اور ڈاکٹر مسعود صاحبان کی سرکردگی میں دعوتی کوششیں جاری ہیں۔ 16 جولائی 2017 کو بیروہ کے اپنا گھر میں ایک دعوہ کانفرنس کا انعقاد ہوا۔اس کے علاوہ رام بان مندر میں آنے والے زائرین کے درمیان 500 ترجمۂ قرآن تقسیم کیے گئے۔
■ 16 جولائی 2017 کو ڈبلن یونیورسٹی (آئرلینڈ) کے طلباء اور اساتذہ کے ایک گروپ نے صدر اسلامی مرکز کے سنڈے کلاس میں شرکت کی۔ صدر اسلامی مرکز نے پیس اینڈ انٹرفیتھ ہارمنی کے موضوع پر انگلش میں خطاب کیا۔ آخر میں سوال وجواب کا سیشن ہوا اور تمام شرکاء کو انگلش ترجمۂ قرآن اور تعارف اسلام پر مشتمل لٹریچر دیا گیا۔
■ 22 جولائی 2017 کو فلپائن کی پروفیسر بلنڈا اور ان کے شوہرمسٹر ہینری اسپریٹو نے صدر اسلامی مرکز سے ملاقات کی۔ صدر اسلامی مرکز نے ان سے کافی دیر تک گفتگو کی اور سی پی ایس ممبران سے بھی ان کا انٹرایکشن ہوا۔وہ صدر اسلامی مرکز کی فکر سے کافی متاثر ہیں، اور فلپین میں صدر اسلامی مرکز کی فکر کو پھیلانا چاہتے ہیں۔ انھوں نے فلپین کے اسکولوں میں قرآن کورسس متعارف کرانے پر رضامندی ظاہر کی ہے۔
■ مز فرح ایمان، صوفیہ یونیورسٹی (Sophia University) اٹلی، سے اسلام اور عیسائیت میں انٹرفیتھ ڈائیلاگ کے موضوع پر پی ایچ ڈی کررہی ہیں۔ اپنی پی ایچ ڈی کے لئے وہ جن اسکالرس کا مطالعہ کررہی ہیں، ان میں صدراسلامی مرکز بھی ہیں۔ 26 جولائی 2017 کو انھوں نے اس سلسلے میں صدر اسلامی مرکز سے ملاقات کی، اور تبادلۂ کیا۔ آخر میں ان کو صدر اسلامی مرکز کی کتابوں کا ایک سٹ دیا گیا۔
■ 5 اگست 2017 کو ٹائمس آف انڈیا نے کوکیلابین دھیروبھائی امبانی ہاسپٹل (ممبئی)کے اشتراک سے ہاسپٹل میںآرگن ڈونیشن کے موضوع پر ایک سمینار کا انعقاد کیا۔ اس میں سی پی ایس دہلی کی ممبر مس ماریہ خان نے اسلام کی نمائندگی کی ، اوراسلام میں آرگن ڈونیشن کی اہمیت پر ایک لکچر دیا۔ یہ پروگرام لائیو ٹیلی کاسٹ کیا گیا۔ اس پروگرام میں ممبئی سی پی ایس ٹیم بھی شریک ہوئی، اور شرکاء کے درمیان ترجمہ قرآن و دعوہ لٹریچر تقسیم کیا گیا۔
■ مس ڈیزی خان (امریکا) نے مسلمانوں میں شدت پسندی کو ختم کرنے کی غرض سے ایک کتاب:وائزاپ (Wiseup) کے نام سے ترتیب دی ہے۔ اس کتاب میں انھوں نے 60 علماء کے مضامین شامل کئے ہیں۔ ان میں صدر اسلامی مرکز کا مضمون ‘ہو از پرافٹ محمد؟’ بھی شامل ہے۔ اس سلسلے میں وہ صدر اسلامی مرکز سے ملاقات کے لیے 6 اگست 2017 کو نظام الدین ویسٹ آئی تھیں۔ یہاں انھوں نے مسلمانوں کے اندر موجود تشدد پسندی کو ختم کرنے پر گفتگو کی۔ آخر میں ان کو صدر اسلامی مرکز کی کتابوں کا ایک سٹ دیا گیا۔
■ سی پی ایس سہارنپور (رابطہ نمبر 9997153735)نے 6 اگست 2017 کوعلی گڑھ ہندو مہا سبھا آفس کا دورہ کیا، اور اس کے ذمہ داران بشمول چیئر پرسن مس پوجا سے ملاقات کرکے ان کو ترجمۂ قرآن، اسپرٹ آف اسلام، ریالٹی آف لائف اور دوسری کتابیں تحفہ میں دیں۔ ان لوگوں نے بہت خوشی سے یہ تحفہ قبول کیا ۔
■ 8 تا 10 اگست 2017 کو ہنری مارٹن انسٹیٹیوٹ (حیدرآباد) نے سہ روزہ بین المذاہب مکالمے کا انعقاد کیا۔ اس میں مختلف مذاہب کے نمائندے مدعو تھے۔ سی پی ایس حیدرآباد نے اس میں اسلام کی نمائندگی کی۔ تقریر کے بعد ترجمہ قرآن اور دعوہ لٹریچر تقسیم کیے گیے۔ شرکاء میں موجود فادر فرانسس (چٹاگانگ، بنگلہ دیش) صدر اسلامی مرکز کی تحریر سے کافی متاثر ہیں۔ انھوں نے امن اور آپسی بھائی چارے کو فروغ دینے والی کتابوں کی فرمائش کی تاکہ ان کا مقامی زبان میں ترجمہ کرکے ان کو برما اور بنگلہ دیش کے تشدد زدہ علاقوں میں پھیلایا جائے۔
■ 14 اگست 2017 کو فلم ڈائریکٹر اور پروڈیوسرمسٹر ہرش نارائن نے صدر اسلامی مرکز کا امن کے موضوع پر ایک ویڈیو انٹرویو ریکارڈ کیا۔ یہ انٹرویو ایک ڈاکومینٹری فلم کے لیے تھا، جس کو مختلف فلم فیسٹول میں دکھایا جائے گا۔ آخر میں تمام کرو (crew) ممبرس کو صدر اسلامی مرکز کی کتابوں کا ایک ایک سٹ دیا گیا۔
■ 17تا 22 اگست 2017 کوسی پی ایس کی علماء ٹیم، ممبئی ٹیم اور بنگلور ٹیم دہلی آئی۔ انھوں کے صدر اسلامی مرکز سے دعوتی امور میں استفادہ کیا، اور ایک نئے عزم کے ساتھ واپس گیے۔
■ مسٹر آر بی گپتا، چارج مین، آرڈیننس فیکٹری، ناگپور، کو اتفاقاً قرآن کا ایک میسج ، جس میں اخلاق کی تعلیم کا حکم تھا۔ اس کو پڑھنے کے بعد انھوں نے ناگپور ٹیم کے مسٹر سہیل انجم سے یہ درخواست کی کہ ان کو ہندی ترجمۂ قرآن دیا جائے تاکہ وہ ان کو پڑھیں۔ ان کو ترجمہ قرآن و دیگر دعوتی لٹریچر بطور تحفہ دیا گیا، جس کا انھوں نے تہہ دل سے شکریہ ادا کیا۔(مسٹر عرفان رشیدی، ناگپور)
■ برما سے ملنے والی خبروں کے مطابق، حافظ شوکت صاحب برما کے اندر دعوتی مہم میں کافی سرگرم ہیں ،انہوں نے اپنے ذاتی خرچ ،دولاکھ کیات (برمی کرنسی)کی لاگت سے گاڈ ارائزز کا مقامی زبان میں ترجمہ کیا ہے ، اور اب یہ کتاب پریس میںجانے والی ہے۔ پازیٹو تھنکر فورم، بنگلورو سے ہرماہ ان کواسپرٹ آف اسلام کی 40کاپیاں اور الرسالہ کی 30 کاپیاں جارہی ہیں ۔جنا ب عبدالعزیز (وکیل صاحب) کےنگرانی میں یہ سارا کام چل رہا ہے۔(محمد عبد اللہ برمی، پازیٹو تھنکر فورم، بنگلورو)
■ My husband is currently incarcerated and the institution he is in is in need of Quran. They have a population of about 40-50 individuals practicing Islam. We would greatly appreciate if you can make available to them as many Quran copies as possible. You can send them to the Chaplain at: Institution Chaplain Lin, ASP Fort Grant Unit, 896 S Cook Rd, Safford, AZ 85546
■ Recently I met a gentleman on a flight to Mumbai. He was seated next to me on the plane. During the flight, I offered the Quran and a pamphlet titled The Purpose of Life to him. He graciously accepted them and when he saw Maulana Wahiduddin Khan’s name on the pamphlet, he said he reads his writings in the Speaking Tree column of The Times of India. He said the Maulana was very different from other religious scholars. His writings, he said, were rational, liberal and had a holistic perspective. I told him about the Maulana’s foundation, the Center for Peace and Spirituality, and about our activities at the foundation. He wished us his best wishes for our good endeavour! (Sufia Khan, New Delhi)
■ Maulana Sahib, Jazakallah for a great lecture on the topic Realization of God. I learned from you that we need to be honest, sincere and serious to be able to find God. This is self-discovered truth. God is the Designer of this great universe and we should be able to perceive God from His creations (sun, galaxy, and earth and the precise structure of objects and the interconnecting processes). When we realize all this mind-boggling reality through deep contemplation, then God becomes our sole concern and then we can say,“God, please grant me a home near you!” (Kouser Izhar, New Jersey, US)
واپس اوپر جائیں

Wednesday, 1 November 2017

Al Risala | November 2017 (الرسالہ،نومبر)

4

-سفرنامہ کلچر

5

- ساری زمین مسجد

6

- امن کا معاملہ

7

- اللہ کی معرفت

8

- اللہ کی توفیق

9

- دوڑو جنت کی طرف

10

- داعی کی اسپرٹ

11

- رُجز سے اعراض

12

- سجدہ دورِ آخر میں

13

- دل کی بیماری

14

- دین ایک ، شریعت مختلف

15

- اکڑ کی چال

16

- مومن کی صفت

17

- شتم رسول

18

- عقل کا فقدان

19

- درجات کی بلندی

20

- اختلاف کے باوجود اعتراف

21

- دعوت اور ظلم

22

- روشن ہدایت

24

- حقیقی اہمیت

25

- سماجی آداب

26

- دین میں عقل کا استعمال

28

- مدح، تنقید

31

- القاب کلچر

32

- الأئمۃ المضلون

34

- نصیحت پذیری

35

- کامیاب زندگی

36

- زوال کیا ہے

37

- عورت کا درجہ

38

- اسلامی انقلاب میں عمومی تائید

39

- بزدلی یا حکمت

40

- عمل معیار ہے

41

- بیمار ی سے تطہیر

42

- شدت پسندی نہیں

44

- تشدد کا سبب عدم قناعت

45

- سگریٹ نوشی کی عادت

46

- صلاحیت کا اندازہ

47

- خبرنامہ اسلامی مرکز


سفرنامہ کلچر

مسلمانوں کے جرائد میں اکثر سفرنامے کا کالم ہوتا ہے۔ اس کالم میں کوئی شخص اپنے سفر کے واقعات کو بیان کرتا ہے۔ سفرنامے کا یہ کالم قارئین کے لیے ایک دلچسپی کا صفحہ ہوتا ہے۔ وہ شوق کے ساتھ اس کو پڑھتے ہیں۔ بلکہ اکثر اوقات جریدے کے اُس صفحے کو سب سے پہلے پڑھتے ہیں، جس میں کوئی سفرنامہ شائع ہوا ہو۔
مگر عجیب بات ہے کہ یہ سفرنامے تقریبا ًسب کے سب قرآن کی اس آیت کے مصداق ہوتے ہیں:وَکَأَیِّنْ مِنْ آیَةٍ فِی السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ یَمُرُّونَ عَلَیْہَا وَہُمْ عَنْہَا مُعْرِضُونَ (12:105)۔ یعنی آسمانوں اور زمین میں کتنی ہی نشانیاں ہیں جن پر ان کا گزر ہوتا ہے اور وہ ان پر دھیان نہیں کرتے۔
آیات سے اعراض کا مطلب یہ ہے کہ سفر کے دوران مسافر کو مختلف قسم کے مشاہدات اور تجربات پیش آتے ہیں۔ ان مشاہدات اور تجربات میں کوئی نہ کوئی سبق کا پہلو ہوتا ہے۔ اس میں کوئی نہ کوئی نشانی ہوتی ہے، جو خدا اور آخرت کو یاد دلاتی ہے۔ کوئی نہ کوئی ایسی بات ہوتی ہے جو مسافر کے اندر دینی تڑپ جگادے۔ مگر یہ سفرنامے اس قسم کے آئٹم سے تقریباً خالی ہوتے ہیں۔
اس سلسلے میں قرآن کی ایک اور متعلق آیت یہ ہے:قُلْ سِیرُوا فِی الْأَرْضِ فَانْظُرُوا کَیْفَ بَدَأَ الْخَلْقَ ثُمَّ اللَّہُ یُنْشِئُ النَّشْأَةَ الْآخِرَةَ إِنَّ اللَّہَ عَلَى کُلِّ شَیْءٍ قَدِیرٌ(29:20)۔ یعنی کہو کہ زمین میں چلو پھرو، پھر دیکھو کہ اللہ نے کس طرح خلق کو شروع کیا، پھر وہ اس کو دوبارہ اٹھائے گا۔ بیشک اللہ ہر چیز پر قادر ہے۔ ’’چلو پھرو‘‘ کا مطلب یہ ہے کہ جب زمین میں تمھارا چلنا پھرنا ہو تو تم سفر کے دوران فطرت کےمناظر سے سبق لو۔تم تاریخ کے واقعات سے عبرت حاصل کرو۔ سفر مومن کے لیے اس کی دینی زندگی کا امتداد (extension) ہے۔ حقیقی سفرنامہ وہ ہے جو قاری کے لیے سبق نامہ بن جائے، نہ کہ صرف آمد ورفت نامہ۔
واپس اوپر جائیں

ساری زمین مسجد

مسجد کے حوالے سے ایک روایت حدیث کی مختلف کتابوں میں آئی ہے۔ ایک روایت کے الفاظ یہ ہیں:جعلت الأرض کلہا لی ولأمتی مسجدا وطہورا (مسند احمد، حدیث نمبر22137)۔ یعنی پوری زمین میرے لیے اور میری امت کے لیے مسجد اور پاکی بنادی گئی ۔
اس حدیث میں مسجد کا لفظ علامتی معنی میں ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ میرے بعد تاریخ میں ایک ایسا دور آنے والا ہے جو کہ کامل مذہبی آزادی کا دور ہوگا۔ اہل ایمان آزاد ہوں گے کہ وہ زمین کے جس حصے میں چاہیں دینی سرگرمی جاری کرسکیں ، خواہ وہ عبادت کی سرگرمی ہو یا دعوت کی سرگرمی۔
موجودہ دور میں پیغمبر اسلام کی یہ پیشین گوئی پوری طرح واقعہ بن چکی ہے۔ آج کی دنیا میں اہل ایمان ہر دینی سرگرمی کے لیے آزاد ہیں۔ اب صرف ایک سرگرمی ممنوع ہے، اور وہ ہے مذہب کے نام پر تشدد۔تشدد کی بڑی صورت جنگ ہے، اور تشدد کی چھوٹی صورت یہ ہے کہ آپ دوسروں کے لیے مسئلہ (problem) بن جائیں۔
ساری زمین مسجد ہوجائے گی، اس کا مطلب یہ ہے کہ ساری زمین اور زمین پر بسنے والے تمام لوگ عملاً دین کے موافق (supporter) بن جائیں گے۔ دنیا کی تمام قومیں یا تو دین کی مؤید (supporter) بن جائیں گی، یا کم ازکم ناطرف دار (indifferent)۔ اکیسویں صدی عملاًاسی قسم کی صدی ہے۔ موجودہ زمانے میں جو لوگ نفرت اور تشدد میں جی رہے ہیں، وہ اس بات کا اعلان کرر ہے ہیں کہ وہ ہر اعتبار سے بے خبر ہیں، حالاتِ زمانہ سے بھی اور خود اپنے پیغمبر کی بتائی ہوئی باتوں سے بھی۔
حدیث میں مسجد کے علاوہ دوسرا لفظ طَہور (پاکی) آیا ہے۔ پاکی کا ایک مطلب یہ ہے کہ دنیا پوری کی پوری بطور اصول پر امن دنیا (peaceful world) بن جائے گی۔ اس وقت امن کی حیثیت عموم (rule) کی ہوگی، اور تشدد کی حیثیت صرف استثنا ء(exception) کی۔
واپس اوپر جائیں

امن کا معاملہ

دنیا کا قانون یہ ہے کہ یہاں ہر چیز آپ کو پوٹنشل (potential) کی صورت میں ملتی ہے۔ آپ کویہ کرنا پڑتا ہے کہ آپ اس پوٹنشل کو دریافت کریں، اور پوٹنشل کو ذاتی عمل سے اپنے لیے اکچول (actual)بنائیں۔ مثلا درخت کا پھل آپ کو خود سے حاصل نہیں ہوتا، بلکہ آپ کویہ کرنا پڑتا ہے کہ زرخیر زمین (soil) میں ایک پودا لگائیں۔ اس کی نگہداشت کرتے ہوئےاس کو اگانا شروع کریں۔ اس طرح وہ وقت آتا ہے، جب کہ درخت ایک مکمل درخت بن جائے، اور اپنا پھل آپ کو دینا شروع کرے۔
یہی معاملہ امن کا بھی ہے۔ آج ہم ایج آف پیس میں جی رہے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ امن ایک زندہ امکان کے طور پر ہر جگہ موجود ہوچکا ہے۔اب آپ کا کام یہ ہے کہ امن کو اسپرٹ آف دی ایج کی حیثیت سے دریافت کریں، اور پھر اس کے مطابق اپنے عمل کی منصوبہ بندی کر کے کامیابی حاصل کریں۔ کامیابی کے لیے دو چیزوں کی ضرورت ہے، آئڈیالوجی اور میتھڈ۔ قدیم زمانے میں انسان کے پاس اگر آئڈیالوجی موجود ہو تب بھی کامیابی کا حصول سخت مشکل ہوتا تھا۔
اس کا سبب یہ تھا کہ قدیم زمانے میں صرف پرتشدد طریقہ کار (violent method) ہی قابل حصول تھا۔ پر امن طریقہ کار قدیم زمانے میں قابل عمل ہی نہ تھا۔ موجودہ زمانے میں امن ہر انسان کا ایک حق (right) بن چکا ہے۔ اگر آدمی اپنی طرف سے کسی کو تشدد کا جواز (justification) فراہم نہ کرے تو یقینی طور پر وہ تشدد سے محفوظ رہ سکتا ہے۔آدمی صرف پرامن طریقہ کار کے ذریعہ ہی اپنے مقصد کو پوری طرح حاصل کرسکتا ہے۔ موجودہ زمانے میں سب سے بڑی حکمت یہ ہے کہ آدمی ’’آبیل مجھے مار‘‘کی غلطی نہ کرے۔ اگر انسان ایسا کرسکے تو بلاشبہ وہ امن کو اپنے لیے یقینی بناسکتا ہے۔ دوسرے لفظوںمیں یہ کہ آدمی اگر اپنے آپ کو اشتعال انگیزی (provocation) سے بچائےتو یقینی طور پر وہ دوسروں کے ظلم سے محفوظ رہے گا۔
واپس اوپر جائیں

اللہ کی معرفت

اللہ نے انسان کو پیدا کیا۔ اسی کے ساتھ خالق نے یہ کیا کہ انسان کے جسم میں ہر سیل (cell) کے اندر اپنا شعور پیوست کردیا۔ سائنسی دریافت نے بتایا ہے کہ انسان کے جسم میں کئی ٹریلین (37.2 trillion) سیل موجود ہیں۔ بالقوۃ طور پر ہر سیل کے اندر خالق کی معرفت موجود ہے۔ اس لحاظ سے دیکھیے تو اللہ کی معرفت حاصل ہونے کا مطلب یہ ہے کہ انسان کے اندر بے شمار سطح پر اللہ کا شعور جاگ اٹھے۔ انسان کے اندر معرفت رب کی ایک کائنات وجود میں آجائے۔
انسان کی تخلیق کا مقصد یہ ہے کہ وہ اپنے خالق کی معرفت حاصل کرے۔ سیل کی تخلیق کو لے کر سوچا جائے تو معرفت حاصل کرنے کا مطلب ہے—  انسانی شخصیت کے اندر موجود امکان کو واقعہ بنانا۔ یہ معرفت پوٹنشیل (potential) کے طور پر ہر انسان کے اندر موجود ہے۔ انسان کا کام یہ ہے کہ تدبر اور غور و فکر کے ذریعے وہ اس پوٹنشیل کو ایکچول (actual) بنائے۔ وہ اپنے بالقوۃ عارف ہونے کو دریافت کرے، اور فکری جدوجہد کے ذریعہ اس بالقوۃ کو بالفعل بنا لے۔
اللہ کی معرفت، خالق کائنات کی معرفت ہے۔ خالق کائنات کی معرفت سارے علوم کا خزانہ ہے۔ جس کو خالق کی معرفت حاصل ہوگئی، اس کو تمام چیزوں کی معرفت حاصل ہوگئی۔ جس کو خالق کی معرفت حاصل نہیں ہوئی، وہ علوم کے سرچشمہ سے بے بہرہ رہے گا۔
ایک عالم نے مدارس کے طلبہ کو خطاب کرتے ہوئے کہا کہ: علوم کے سرے پکڑیے۔ یہ ایک مبہم بات ہے۔ صحیح بات یہ ہے کہ خالق کی معرفت حاصل کیجیے، اور پھر آپ تمام علوم کے عارف بن جائیں گے۔ اس کے بعد تمام علوم کے سرے آپ کی پکڑ میں آجائیں گے۔ آپ کو وہ فرقان مل جائے گا، جو آپ کے اندر صحیح اور غلط کی تمیز پیدا کردے گا۔اسی حقیقت کو قرآن کی ایک آیت میں اس طرح بیان کیا گیا ہے:وَاتَّقُوا اللَّہَ وَیُعَلِّمُکُمُ اللَّہُ وَاللَّہُ بِکُلِّ شَیْءٍ عَلِیمٌ (2:282)۔ یعنی اللہ سے ڈرو، اللہ تم کو سکھاتا ہے اور اللہ ہر چیز کا جاننے والا ہے۔
واپس اوپر جائیں

اللہ کی توفیق

اسلام کی تعلیمات میں سے ایک تعلیم وہ ہے جس کو توفیق اِلٰہی کہا جاتا ہے۔ یعنی انسان اس دنیا میں جب بھی کوئی کام کرتا ہے تو وہ اللہ کی توفیق سے کرتا ہے۔ یعنی اللہ جب کسی انسان کے اندر استعداد دیکھتا ہے تو وہ اس کو توفیق عطا کرتا ہے۔ پھر وہ اللہ کی توفیق سے اپنے مقصد میں کامیاب ہوجاتا ہے۔ یہ لوگ اگر اقلیت میں ہوں تب بھی وہ اپنی خصوصی منصوبہ بندی سے کامیاب ہوتے ہیں۔ کیوں کہ ان کے حالات ان کے ذہن کے بند دروازے کھولتے ہیں۔ وہ اپنے غیر معمولی حالات میں بھی ایسی بات دریافت کرلیتے ہیں جو لوگ عام حالات میں دریافت نہیں کرپاتے۔
انسان کو اس دنیا میں کامل آزادی ملی ہے۔ وہ جس طرح چاہے عمل کرے، جس طرح چاہے نہ کرے۔ لیکن جس دنیا میں انسان کو عمل کرنا ہے، وہ دنیا اللہ کی بنائی ہوئی دنیا ہے۔ انسان کے باہر کی پوری دنیا کامل طور پر اللہ کی تخلیق ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ انسان جب کچھ کرنا چاہے تو خارجی دنیا اس کے ساتھ مساعدت(support) کرے۔ اس سے معلوم ہوا کہ انسان اگرچہ اپنے عمل کے لیے آزاد ہے، لیکن وہ کوئی عمل اس وقت کرپاتا ہے، جب کہ اللہ کا نظام اس کے ساتھ مساعدت کرے۔ اسی لیے انسان کو ہمیشہ اللہ سے مدد کی دعا کرنا چاہیے۔ کیوں کہ اس دنیا میں وہ کوئی کام اسی وقت کرسکتا ہے، جب کہ اس کو اللہ کی مدد ملتی رہے۔
یہی وہ حقیقت ہے جس کو تمثیل کی زبان میں حدیث میں اس طرح بیان کیا گیا ہے:إن قلوب بنی آدم کلہا بین إصبعین من أصابع الرحمن، کقلب واحد، یصرفہ حیث یشاء۔ ثم قال :اللہم مصرف القلوب صرف قلوبنا على طاعتک (صحیح مسلم، حدیث نمبر 2654)۔ یعنی تمام اولاد آدم کا دل خدائےرحمان کی انگلیوں میں سے دو انگلی کے درمیان ہے، ایک دل کی طرح، وہ جیسے چاہتا ہے اس میںتصرف کرتا ہے۔ پھرآپ نےدعا کی: اے دلوں میں تصرف کرنے والے، ہمارے دلوں کو اپنی اطاعت کی طرف پھیر ۔اس لیے آدمی کو چاہیے کہ وہ ہمیشہ اللہ سے دعا کرتا رہے۔
واپس اوپر جائیں

دوڑو جنت کی طرف

کسی انسان کو اگر سچائی کی معرفت ہو جائے، تو وہ بہت زیادہ اس بات کا طالب بن جائے گاکہ اس کا خالق اس سے راضی ہوجائے، اور وہ اس کو ابدی جنت میں داخل کرے۔ اس حقیقت کو قرآن میں مختلف الفاظ میں بیان کیا گیا ہے۔ اس سلسلے کی ایک آیت یہ ہے: وَسَارِعُوا إِلَى مَغْفِرَةٍ مِنْ رَبِّکُمْ وَجَنَّةٍ عَرْضُہَا السَّمَاوَاتُ وَالْأَرْضُ أُعِدَّتْ لِلْمُتَّقِینَ (3:133)۔ یعنی اور دوڑو اپنے رب کی بخشش کی طرف اور اس جنت کی طرف جس کی وسعت آسمانوں اور زمین کے برابر ہے۔ وہ تیار کی گئی ہے اللہ سے ڈرنے والوں کے لئے۔
قرآن کی اس آیت میں جو بات کہی گئی ہے ، وہ بطور نتیجہ ہر اس انسان کے اندر پیدا ہوتی ہے جو سچائی کا متلاشی ہو۔ پھر وہ اللہ رب العالمین کو دریافت (discovery)کے درجے میں پائے۔ جو اللہ کے تخلیقی نقشہ (creation plan of God) کی دریافت کے نتیجے میں یہ جان لے کہ اس تخلیقی منصوبے کے مطابق انسان کی کامیابی یہ ہے کہ وہ دنیا میں جنتی شخصیت کو بنائے، اور موت کے بعد آنے والی دنیا میں ابدی جنت میں داخل کیا جائے۔
اللہ کو دریافت کرنا(discovery)در اصل قادر مطلق کے مقابلے میں عاجز مطلق کی دریافت ہے۔ کوئی آدمی اپنے اور اللہ کے مقابلے میں اس نسبت کو دریافت کرے، وہ اپنے پورے وجود کے ساتھ اس بات کا خواہش مند بن جائے گا کہ اللہ اس سے راضی ہوجائے۔ وہ کسی حال میں اس کو اپنی رحمت سے محروم نہ کرے۔ اسی کا نام مغفرت ہے۔ اسی طرح جس شخص کو جنت کی دریافت ہوجائے ، وہ دل و جان سے اس کا حریص بن جائے گا کہ اس کا خالق اس کو ابدی جنت میں داخل کرے۔ اللہ کسی حال میں اس کو جنت سے محروم نہ کرے۔ جنت کی طرف دوڑنا یہ ہے کہ آدمی آخری حد تک جنت کا حریص بن جائے ۔ وہ کسی حال میں جنت کی یاد سے غفلت میں مبتلا نہ ہو۔ وہ جنت کو ہر حال میں اپنا آخری مقصود بنا لے۔
واپس اوپر جائیں

داعی کی اسپرٹ

سورہ الانعام ایک مکی سورہ ہے۔ مکی دور میں پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کو سخت مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ اس وقت مکہ کے لوگ مشرکانہ مذہب پر تھے، اور پیغمبر اسلام کا مذہب توحید پر مبنی تھا۔ اس بنا پر وہ لوگ آپ کے دشمن بن گئے۔ ان حالات میں قرآن کی یہ آیت اتری:قُلْ أَغَیْرَ اللَّہِ أَتَّخِذُ وَلِیًّا فَاطِرِ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَہُوَ یُطْعِمُ وَلَا یُطْعَمُ قُلْ إِنِّی أُمِرْتُ أَنْ أَکُونَ أَوَّلَ مَنْ أَسْلَمَ (6:14)۔ یعنی کہو، کیا میں اللہ کے سوا کسی اور کو مددگار بناؤں جو کہ وجود میں لانے والا ہے آسمانوں اور زمین کا۔ اور وہ سب کو کھلاتا ہے اور اس کو کوئی نہیں کھلاتا۔ کہو مجھ کو حکم ملا ہے کہ میں سب سے پہلے اسلام لانے والا بنوں۔
قرآن کی یہ آیت مین آف مشن (man of mission) کی اسپرٹ کو بتارہی ہے۔ مین آف مشن کی اسپرٹ ہوتی ہے، آئی ول ڈو اٹ (I will do it)۔ دوسرے لفظو ںمیں اس آیت کا مطلب تھا— کوئی توحید پر نہ چلے تو میں اس پر چلوں گا، کوئی توحید کو نہ اپنائے تو میں اس کو اپناؤں گا، کوئی توحید پرست نہ بنے تو میں اکیلا توحید پرست بنوں گا، کوئی اس مشن کے لیے نہ اٹھے تو میں اس کے لیے اٹھوں گا۔
داعی اس انسان کا نام ہے جو نتیجہ کو نہ دیکھے، بلکہ صرف اپنی ذمہ داریوں کو دیکھے۔ جو اس اسپرٹ کے ساتھ کام کرے کہ دنیا میں میرا کوئی حق نہیں، یہاں میری صرف ذمہ داریاں ہی ذمہ داریاں ہیں۔ داعی اس انسان کا نام ہے جس کو اپنے عمل کا نتیجہ ملے تب بھی وہ سرگرم رہے، اور اگر اس کو اپنے عمل کا نتیجہ نہ ملے تب بھی اس کی سرگرمیاں اسی اسپرٹ کے ساتھ جاری رہیں۔
داعی کی کامیابی یہ ہے کہ اس کا رب اس سے راضی ہوجائے۔ داعی کی کامیابی یہ ہے کہ اس کے دل سے انسان کی خیرخواہی کبھی ختم نہ ہو۔ داعی کاسفر دنیا سے شروع ہوتا ہے، اور وہ صرف وہاں ختم ہوتا ہے، جہاں سے آخرت کی ابدی دنیا شروع ہوجاتی ہے۔
واپس اوپر جائیں

رُجز سے اعراض

مکہ کے ابتدائی دور میں پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم پر یہ حکم اترا کہ لوگوں کے درمیان انذار کا کام کرو۔ اس سلسلے میں ایک مزید حکم دیا گیا : وَالرُّجْزَ فَاہْجُرْ (74:5)۔ یعنی رجز کو چھوڑ دو۔ رجز کو چھوڑ نے کا مطلب یہ ہے کہ رجز سے اعراض کرتے ہوئے اپنے مشن کا کام مثبت طور پر جاری رکھو۔
رجز کا لفظی مطلب ہے گندگی(dirt)۔ مزید غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ اس کا مطلب یہ ہے کہ رکاوٹ والی چیزوں سے نہ الجھتے ہوئے اپنا کام جاری رکھو۔اتھارٹی (authority) سے ٹکراؤ نہ کرتے ہوئے اپنا مشن ممکن حدود میں پر امن طور پر جاری رکھو، بے نتیجہ عمل سے دور رہتے ہوئے نتیجہ خیز سرگرمیوں میں اپنی کوشش صرف کرو۔
عام طور پر دیکھا گیا ہے کہ لوگ جب کسی مقصد کے لیے اٹھتے ہیں تو سب سے پہلے رکاوٹوں سے لڑنا شروع کردیتے ہیں۔وہ اتھاریٹی سے ٹکراؤ کو اپنے عمل کا آغاز سمجھ لیتے ہیں۔ اس طرح لوگوں کی طاقتیں ضائع ہوتی ہیں۔ نفرت اور تشدد بڑھتا ہے۔ منفی سرگرمیاں فروغ پاتی ہیں، لیکن مثبت سرگرمیوں کو فروغ پانے کا موقع نہیں ملتا۔ جو ملنے والی چیز ہے اس کو حاصل کرنے کی کوشش نہیں کی جاتی، البتہ جو چیز ملنے والی نہیں، اس پر ساری طاقت خرچ کردی جاتی ہے۔ یہ بلاشبہ غیر حکیمانہ طریقہ ہے۔ لیکن پوری تاریخ میں لوگ اسی طریقے پر عمل کرتے رہے ہیں۔
اصل یہ ہے کہ ہر صورت حال میں مواقع (opportunities) موجود رہتے ہیں۔ مواقع کو استعمال کرکے فوراً ہی نتیجہ خیز عمل شروع کیا جاسکتا ہے۔ لیکن غیر دانش مندانہ سوچ کی بنا پر لوگوں کا دھیان فوراً مسائل (problems) کی طرف چلاجاتا ہے۔ اس معاملے میں قرآن نے ایک ایسی رہنمائی دی جو سرتا سر دانش مندی پر قائم ہے۔ یعنی مسائل اور مواقع کو ایک دوسرے سے ڈی لنک (delink) کرنا، مسائل کو نظر انداز کرتے ہوئے مواقع کو استعمال کرنا:
ignore the problem, avail the opportunity
واپس اوپر جائیں

سجدہ دورِ آخر میں

آخری زمانے کے بارے میں پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک پیشین گوئی حدیث میں ان الفاظ میں آئی ہے:لا تقوم الساعة حتى تکون السجدة الواحدة خیرا من الدنیا وما فیہا(موارد الظمآن، حدیث نمبر1888)۔یعنی قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی، جب تک یہ حال نہ ہوجائے کہ ایک سجدہ دنیا اور اس کی تمام چیزوں سے بہتربن جائے۔
اس حدیث میں سجدہ اپنے لفظی معنی میں نہیں ہے، بلکہ وہ حقیقی سجدہ کے معنی میں ہے۔ ایک اور حدیث میں آیا ہے کہ آخری زمانے میں مسجدیں نمازیوں سے بھری ہوں گی، جب کہ وہ ہدایت سے خالی ہوں گی(شعب الایمان، حدیث نمبر 1763)۔اس لیے مذکورہ حدیث میں سجدہ لفظی معنی میں نہیں ہوسکتا، بلکہ یہاں سجدہ کا لفظ اپنے حقیقی معنی کے اعتبار سے ہے۔
حقیقی سجدہ وہ ہے، جو سجدہ کی اسپرٹ سے بھراہوا ہو۔ اس میں آدمی اپنے آپ کو خدا کے قریب محسوس کرنے لگے۔ آخری زمانے میں لوگ اس قسم کے سجدہ سے محروم ہوجائیں گے۔ اس کا سبب یہ ہوگا کہ اس وقت لوگوں کا سب سے بڑا کنسرن سجدہ نہیں رہے گا، بلکہ مادی انٹرسٹ ان کا سب سے بڑا کنسرن بن جائے گا، وہ رسمی طور پر بظاہر سجدہ کریں گے، لیکن ان کا دل اللہ کے علاوہ کہیں اور اٹکا ہوا ہوگا۔ بظاہر زمین پر وہ اپنا سر رکھیں گے، لیکن ان کے دل میں نہ اللہ کی محبت ہوگی، اور نہ اللہ کا خوف ہوگا۔
یہ زمانہ عظیم فتنے کا زمانہ ہوگا۔ ایسی حالت میں سچا سجدہ صرف اس شخص کو حاصل ہوگا جو اپنی سوچ کے اعتبار سے اپنے آپ کو زمانے سے اوپر اٹھائے۔ جو بھلانے والی چیزوں سے الگ ہوکر اللہ کو یاد کرسکے۔ جو دجالی تزئینات کا پردہ پھاڑ کر اللہ کو دریافت کرے۔ جو اپنے آپ کو اس قابل بنائے کہ اس کا سجدہ رسمی سجدہ نہ ہو، بلکہ وہ ایک عارفانہ سجدہ بن جائے۔ ایسے حالات میں جو شخص سچا سجدہ کرے، اس کا سجدہ بلاشبہ اس کے لیے سب سے بڑے خیر کا سبب بن جائے گا۔
واپس اوپر جائیں

دل کی بیماری

قرآن میں ایک نفسیاتی حقیقت کا اعلان ان الفاظ میں کیا گیا ہے: فِی قُلُوبِہِمْ مَرَضٌ فَزَادَہُمُ اللَّہُ مَرَضًا وَلَہُمْ عَذَابٌ أَلِیمٌ بِمَا کَانُوا یَکْذِبُونَ (2:10)۔ یعنی ان کے دلوں میں روگ ہے تو اللہ نے ان کے روگ کو بڑھا دیا۔ اور ان کے لئے درد ناک عذاب ہے، اس وجہ سے کہ وہ جھوٹ کہتے تھے۔ اس آیت میں قلبی مرض سے مراد نفاق ہے۔ نفاق کوئی پراسرار چیز نہیں۔ وہ فطرت کا ایک ظاہرہ ہے، جو ہمیشہ اور ہر امت میں پیدا ہوتا ہے۔ نفاق کسی مخصوص قوم کی اجارہ داری نہیں۔
اصل یہ ہےکہ کسی امت کی پہلی نسل اخلاص پر کھڑی ہوتی ہے، لیکن امت کی بعد کی نسلوں میں دھیرے دھیرے اخلاص کمزور یا ختم ہوجاتا ہے۔ اب امت کے لیے ان کا دین تاریخی بڑائی (historical glory) کی چیز بن جاتا ہے۔ وہ دین کو اپنے لیے فخر کا عنوان بنا لیتے ہیں۔ امت کے افراد کی یہ نفسیات اس میں مانع ہوتی ہے کہ وہ اپنی کمزوری کا اعتراف کرے۔ وہ اپنی قلبی کمزوری کو خوبصورت الفاظ کے ذریعہ چھپانے کی کوشش کرتے ہیں۔ اسی حالت کا نام نفاق ہے۔
نفاق کا اصل مفہوم چھپانا ہے۔ اسی لیے سرنگ کو نفَق کہتے ہیں۔ یہ لفظ جنگلی چوہے کے لیے بھی استعمال ہوتا ہے، جو خطرہ کے وقت اپنے آپ کو بل میں چھپالیتا ہے۔ انسان کی نسبت سے جب یہ لفظ بولا جائے تواس سے مراد دہرا کردار (double standard) ہے۔ یعنی ایسا انسان جو حقیقت کے اعتبار سے دین سے دور ہوگیا ہو، لیکن خوبصورت الفاظ کے ذریعہ اپنے آپ کو دیندار بتائے۔ دوسرے الفاظ میں حقیقت کے فقدان کی تلافی خوبصورت الفاظ کے ذریعہ کرنا۔ منافقت کا مزاج کسی انسان کے اندر کیوں پیدا ہوتا ہے۔ وہ اس وقت پیدا ہوتا ہے، جب کہ اس کے اندر اسلام کی اسپرٹ باقی نہ ہو، لیکن ظاہری نوعیت کے کچھ عمل کا اظہار کرکے وہ اس بات کی کوشش کرے کہ وہ پورے معنوں میں اسلام پر قائم ہے۔
واپس اوپر جائیں

دین ایک ، شریعت مختلف

اللہ رب العالمین نے انسان کی ہدایت کے لیے ہرزمانے میں پیغمبر بھیجے۔ایک روایت کے مطابق، ان پیغمبروں کی تعداد ایک لاکھ چوبیس ہزار ہے (صحیح ابن حبان، حدیث نمبر 361)۔ قرآن میں بتایا گیا ہے کہ ان تمام انبیاء کا دین ایک تھا، البتہ ان کی شریعتیں مختلف تھیں۔ اس سلسلے میں قرآن کے الفاظ یہ ہیں: لِکُلٍّ جَعَلْنَا مِنْکُمْ شِرْعَةً وَمِنْہَاجًا (5:48)۔ یعنی ہم نے تم میں سے ہر ایک کے لئے ایک شریعت اور ایک طریقہ ٹھہرایا۔
تمام پیغمبروں کا دین ایک تھا، اوروہ دین، دینِ توحید تھا (الشوریٰ 13:)۔یہاں دین سے مراد دینِ توحید ہے۔ یعنی مبنی بر توحید آئڈیا لوجی۔ توحید کی حیثیت ایک ابدی نظریہ (eternal ideology) کی ہے۔ یہ دین کا وہ پہلو ہے جو صلۃ العبد بربہ سے تعلق رکھتا ہے۔ یعنی بندہ اور خدا کے درمیان تعلق کا معاملہ۔ یہ ہمیشہ ایک رہا ہے، اور ہمیشہ ایک رہے گا۔
جہاں تک شریعت کا معاملہ ہے، تو وہ بندہ اور دوسرے انسانوں کے درمیان تعلق سے قائم ہوتا ہے۔ بندہ اور بندہ کے معاملے میں تعلق کی نوعیت ہمیشہ بدلتی رہتی ہے۔ مثلا کبھی حاکم اور محکوم کا رشتہ، اور کبھی انسان اورانسان کا رشتہ، وغیرہ۔ اس لیے اس دوسرے معاملے میں قانون کا ڈھانچہ ہمیشہ ایک نہیں ہوسکتا، وہ حالات کے اعتبار سے بدلتا رہے گا۔
مختلف انبیاء کے درمیان شرائع کا اختلاف اسی بنیاد پر ہے۔ اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ پچھلے زمانے میں انبیاء کے درمیان شریعت کا اختلاف ہوتا تھا، اور اب پیغمبر آخرالزماں کے زمانے میں شریعت ہمیشہ ایک رہے گی۔ یعنی ساتویں صدی عیسوی سے لے کر قیامت تک۔اصل یہ ہے کہ پیغمبر آخرالزماں کے زمانے میں بھی شریعت کا معاملہ وہی رہے گا، جو اس سے پہلے پچھلے انبیاء کے زمانے میں تھا۔ پیغمبر آخر الزماں کے زمانے میں بھی جب حالات بدلیں گے تو ضرورت ہوگی کہ اجتہاد کرکے شریعت محمدی کی نئی تطبیق (new application) دریافت کی جائے۔
واپس اوپر جائیں

اکڑ کی چال

قرآن میں ایک نصیحت ان الفاظ میں آئی ہے: وَلَا تَمْشِ فِی الْأَرْضِ مَرَحًا إِنَّکَ لَنْ تَخْرِقَ الْأَرْضَ وَلَنْ تَبْلُغَ الْجِبَالَ طُولًا (17:37)۔ یعنی زمین میں اکڑ کر نہ چلو۔ تم زمین کو پھاڑ نہیں سکتے اور نہ تم پہاڑوں کی لمبائی کو پہنچ سکتے ہو۔ اس آیت میں مشی (چلنا) صرف چلنے کے معنی میں نہیں ہے، بلکہ اس کا تعلق پورے طریقۂ زندگی سے ہے۔یہاں چال سے مراد انسان کا پورا اخلاقی رویہ ہے۔انسان کے اندر ایک صفت ہے۔ یہ صفت انسان کا سب سے بڑا پلس پوائنٹ ہے اور یہی انسان کا سب سے بڑا مائنس پوائنٹ ہے۔ یہ صفت وہی ہے جس کو انا (ego) کہا جاتا ہے۔ ایک لفظ میں، اس صفت کا پلس پوائنٹ یہ ہے کہ آدمی کے اندر تواضع (modesty)پائی جائے۔ اس صفت کا مائنس پوائنٹ یہ ہے کہ آدمی کے اندر فخر (pride) کا جذبہ پیدا ہوجائے۔
ابلیس نے انسان سے اپنا تقابل کرتے ہوئے کہا تھا: أَنَا خَیْرٌ مِنْہُ خَلَقْتَنِی مِنْ نَارٍ وَخَلَقْتَہُ مِنْ طِینٍ (7:12)۔ یعنی میں اس سے بہتر ہوں۔ تو نے مجھ کو آگ سے بنایا ہے اور آدم کو مٹی سے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ابلیس غلط تقابل (wrong comparison)کا شکار ہوا۔ اپنے خیال کے مطابق، اس کو اپنا پلس پوائنٹ نظر آیا، اور آدم کا مائنس پوائنٹ دکھائی دیا۔
یہی انسان کی عام غلطی ہے۔ انسان اپنے خیال کے مطابق، ہمیشہ غلط تقابل کا شکار ہوتا ہے۔ وہ اپنے پلس پوائنٹ کو دیکھتا ہے، اور دوسرے کے مائنس پوائنٹ کو۔ اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ وہ دوسرےکو کم، اور اپنے کو زیادہ سمجھ لیتا ہے۔ اس تقابل کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ وہ غیر واقعی طور پر اپنے کو بڑا اور دوسرے کو چھوٹا سمجھ لیتا ہے۔ اور پھر اس کے اندر فخر اور غرور کی نفسیات پیدا ہوجاتی ہے۔ آدمی کے اندر وہی صفت غائب ہوجاتی ہے جو انسان کی اصل صفت ہے، اور وہ ہے تواضع (modesty)۔ کوئی چیز اپنے انجام کے اعتبار سے پہچانی جاتی ہے۔ جو طرز فکر آدمی کے اندر تواضع پیدا کرے، وہ صحیح طرز فکر ہے، اور جو طرز فکر آدمی کے اندر برتری کا جذبہ پیدا کرے، وہ بلاشبہ غلط طرز فکر ہے۔
واپس اوپر جائیں

مومن کی صفت

مومن کی مثال ایسے نرم پودے کی سی ہے جس کے پتے سایہ دار ہوتے ہیں۔ جس سمت سے بھی ہوا چلتی ہے وہ اس کو جھکا دیتی ہے۔ جب ہوا رکتی ہے تو وہ سیدھا ہوجاتا ہے۔ یہی حال مومن کا ہے جو مسلسل آزمائشوں کے بار سے دبا رہتا ہے۔ اور کافر کی مثال سخت درخت (ٹھنٹھ) کی طرح ہے، جو ایک حالت میں کھڑا رہتا ہے یہاں تک کہ اللہ اسے جب چاہتا ہے اکھاڑ کر پھینک دیتا ہے۔(صحیح البخاری، حدیث نمبر 5644)
اس حدیث میں پودے کی مثال کے ذریعہ مومن کی صفت تواضع کو بتایا گیاہے ۔ تواضع مومن کی ایک خاص صفت ہے۔ جس انسان کے اندر ایمانی کیفیت ہوگی، اس کے اندر تواضع بھی ضرور ہوگی۔ یہ دونوں چیزیں کبھی ایک دوسرے سے جدا نہیںہوسکتیں۔مومن کے اندر سوکھی لکڑی کی طرح اکڑ نہیں ہوتی بلکہ نرم پودے کی طرح لچک ہوتی ہے۔ اس سے کوئی کوتاہی ہوجائے تو فوراً ہی وہ اپنی غلطی کا اعتراف کرلیتا ہے۔ کسی سے معاملہ پڑے تو وہ ہمیشہ اس کے ساتھ نرم روی کا طریقہ اختیار کرتا ہے۔ نزاع کے موقع پر وہ یک طرفہ طورپر مصالحت کے لیے تیار رہتا ہے۔ حقوق کے جھگڑے میں وہ اپنا حق دوسرے کو دینے پر راضی ہوجاتا ہے تاکہ معاملہ شدت کے مرحلہ تک نہ پہنچے۔
ایک انسان جب دوسرے انسان کے ساتھ شدت کا معاملہ کرتا ہے تو اس کی وجہ یہ ہوتی ہے کہ وہ اس کو اپنے جیسے ایک انسان کا معاملہ سمجھتا ہے۔ یہی نفسیات آدمی کو شدید بناتی ہے۔ مگر مومن اس کے برعکس ہر معاملہ کو خدا کا معاملہ سمجھتا ہے۔ یہ نفسیات اس کے اندر شدت کا خاتمہ کردیتی ہے۔ ایک انسان دوسرے انسان کے مقابلہ میں بڑا ہوسکتا ہے مگر خدا کے مقابلہ میں کوئی بھی انسان نہ بڑا ہے اور نہ طاقتور۔ اسی فرق کا یہ نتیجہ ہے کہ انسان اور انسان کا معاملہ ہو تو ان میں سے کوئی چھوٹا نظر آتا ہے اور کوئی بڑا۔ مگر جب انسان اور خدا کا معاملہ ہو تو تمام انسان یکساں حیثیت اختیار کر لیتے ہیں۔ اب بڑا صرف ایک خدا ہوتاہے اور بقیہ تمام انسان اس کے مقابلہ میں چھوٹے۔
واپس اوپر جائیں

شتم رسول

شتم رسول (blasphemy) کا تصور اسلام میں اجنبی ہے۔ قرآن اور حدیث میں کہیں بھی اس کا حکم موجود نہیں۔ بعد کے دور میں کچھ علماء نے بطور خود یہ تصور وضع کیا، اور اس کو اسلام کا قانونی حصہ بنا دیا۔ پیغمبر اسلا م کو دعوت الی اللہ کا حکم دیا گیا تھا، یعنی خدا کے پیغام سے لوگوں کو باخبر کرنا۔ قرآن میں پیغمبرکے بارے میں یہ الفاظ آئے ہیں: فَذَکِّرْ إِنَّمَا أَنْتَ مُذَکِّرٌ۔ لَسْتَ عَلَیْہِمْ بِمُصَیْطِرٍ (88:21-22)۔ یعنی تم یاد دہانی کرو، تم صرف یاددہانی کرنے والے ہو، تم لوگوں کے اوپر داروغہ نہیں ہو۔یہی ذمہ داری امت محمدی کی ہے۔زندگی کے اسلامی نقشہ میں اس تصور کے لیے کوئی جگہ نہیں کہ جو شخص مفروضہ شتم کا ارتکاب کرے، اس کو مارڈالو۔ شتم کی اصل حقیقت اختلاف ِ رائے (difference of opinion) ہے۔
انسانی آزادی کی بنا پر دنیا میں اختلاف رائے کا معاملہ پیش آتا ہے۔ ایسی حالت میں وہ شخص جس کو مسلمان بطور خود شاتم کہتے ہیں، وہ اپنی حقیقت کے اعتبار سے اختلافی رائے رکھنے کا کیس ہے، نہ کہ شتم کا کیس۔ ایسے انسان کو دلیل کی زبان میں سمجھانے کی کوشش کی جائے گی۔ اگر کوئی شخص آپ کو مختلف رائے رکھنے والا ملے تو آپ کو اس سے پیس فل ڈسکشن کا حق ہے، نہ کہ اس کو مارنے کا حق۔ ایسا انسان مجرم (criminal) نہیں ہے۔وہ خدا کی دی ہوئی آزادی کے غلط استعمال (misuse of freedom) کا کیس ہے۔ جو لوگ ایسے انسان کو قتل کرنے کا اعلان کریں، وہ خود غلط کار ہیں، نہ کہ مفروضہ شاتم ۔
امت محمدی کا مشن پر امن مشن ہے۔ اگر کوئی شخص اپنی آزادی کا غلط استعمال کرتا ہے تو یہ اللہ رب العالمین کے دائرےکا کیس ہے، وہ کسی انسان کے دائرےکا کیس نہیں۔ جو لوگ ایسے انسان کو شاتم رسول کہہ کر اس کو قتل کرنا چاہیں، وہ خود انسانی دائرے سے نکل کر اللہ کے دائرے میں داخل ہونے کی کوشش کررہے ہیں، نہ کہ مفروضہ شاتم رسول ۔
واپس اوپر جائیں

عقل کا فقدان

امت کے بعد کے دور کے بارے میں پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک پیشین گوئی ان الفاظ میں آئی ہے: ذکر رسول اللہ ہرجا بین یدی الساعة حتى یقتل الرجل جارہ وأخاہ وابن عمہ، قالوا:ومعنا عقولنا یومئذ؟ قال:تنزع عقول أکثر أہل ذلک الزمان، ویُخَلَّف لہا ہیماء من الناس، یحسب أحدہم أنہ على شیء ولیس على شیء(الفتن لنعیم ابن حماد، قاہرۃ، 1412ھ ، حدیث نمبر115)۔ یعنی رسول اللہ نے قیامت سے پہلے پیش آنے والے ہرج (فتنہ) کا ذکر کیا،(اور کہا کہ ) یہاں تک کہ آدمی قتل کرے گا اپنے پڑوسی کو، اور اپنے بھائی ، اور اپنےچچاکے بیٹے کو۔ لوگوں نے پوچھا : کیا ان دنوں ہمارے پاس عقل ہوگی۔ آپ نے کہا:اس زمانے میں اکثر لوگوں کی عقلیں چھن جائیں گی، اور دیوانوں کے مانند لوگ بچیں گے۔ان میں سے کوئی شخص یہ سمجھے گا کہ وہ کسی چیز پر ہے، حالاں کہ وہ کسی چیز پر نہ ہوگا۔
اس حدیث پر غور کرنے سے سمجھ میں آتا ہے کہ امت کے دورِ زوال میں یہ ظاہرہ اس بنا پر پیدا ہوگا کہ امت مسلمہ اپنے پہلے دور میں سیاسی عروج پر پہنچ جائے گی۔ اس کے بعد قانونِ فطرت کے تحت اس کا اقتدار اس سے چھن جائے گا، دوسری قومیں اس کی جگہ غلبہ کا مقام حاصل کر لیں گی۔ اس دور میں امت کے اندر وہ ظاہرہ پیدا ہو گا جس کو عظمت رفتہ کا جنون (paranoia) کہا جاتا ہے۔ یہ احساس امت کے افرادکے اندر سخت قسم کی انتقامی دیوانگی پیدا کردے گا۔ امت کے افراد دوسری قوموں سے نفرت کرنے لگیں گے۔ وہ ہر ایک کو اپنا دشمن سمجھ لیں گے۔ وہ انتقامی نفسیات کے تحت چاہیں گے کہ اپنے مفروضہ دشمنوں کو مٹا ڈالیں۔یہاں تک کہ وہ خود اپنے لوگوں کے دشمن ہوجائیں گے۔ کیوں کہ وہ ان کو یہ سمجھنے لگیں گے کہ وہ ان کے دشمنوں کے ایجنٹ ہیں۔ یہ امت کے لیے عقل کے فقدان کا وقت ہوگا۔ وہ ایسے کام کریں گے جن کا تعلق عقل و دانش سے نہ ہوگا۔لیکن وہ بطور خود یہ سمجھیں گے کہ وہ عقل پربھی ہیں ، اور اسلام پر بھی ۔
واپس اوپر جائیں

درجات کی بلندی

قرآن میں ایک نصیحت ان الفاظ میں آئی ہے:یَاأَیُّہَا الَّذِینَ آمَنُوا إِذَا قِیلَ لَکُمْ تَفَسَّحُوا فِی الْمَجَالِسِ فَافْسَحُوا یَفْسَحِ اللَّہُ لَکُمْ وَإِذَا قِیلَ انْشُزُوا فَانْشُزُوا یَرْفَعِ اللَّہُ الَّذِینَ آمَنُوا مِنْکُمْ وَالَّذِینَ أُوتُوا الْعِلْمَ دَرَجَاتٍ وَاللَّہُ بِمَا تَعْمَلُونَ خَبِیرٌ (58:11)۔ یعنی اے ایمان والو، جب تم کو کہا جائے کہ مجلسوں میں کھل کر بیٹھو تو تم کھل کر بیٹھو، اللہ تم کو کشادگی دے گا۔ اور جب کہا جائے کہ اٹھ جاؤ تو تم اٹھ جاؤ۔ تم میں سے جو لوگ ایمان والے ہیں اور جن کو علم دیا گیا ہے، اللہ ان کے درجے بلند کرے گا۔ اور جو کچھ تم کرتے ہو، اللہ اس سے باخبر ہے۔
اجتماعی زندگی میں اکثر ایسے واقعات پیش آتے ہیں، جو بظاہر معمولی ہوتے ہیں۔ لیکن کچھ لوگ اس پر افنڈ (offend) ہوجاتے ہیں۔ وہ یہ سمجھ لیتے ہیں کہ میرے ساتھ امتیازی سلوک (discrimination) کا معاملہ کیا گیا، میرے اوپر تنقید کی گئی۔ میرے کام کا اعتراف نہیں کیا گیا۔ مجھے نیچادکھانے کے لیے میرے خلاف سازش کی گئی۔ میں ترقی کا مستحق ہوں، لیکن لوگ مجھ کو ترقی دینا نہیں چاہتے۔ میں نے کام زیادہ کیا تھا، لیکن مجھے اس کا معاوضہ کم ملا۔ لوگ میرے حاسد بن گئے ہیں، اس لیے مجھے آگے بڑھتے ہوئے دیکھنا، ان کو گوارا نہیں۔ جس درجے کا میں مستحق تھا، وہ درجہ مجھے نہیں دیا گیا، وغیرہ۔
اس قسم کی باتیں ہمیشہ غلط فہمی کا نتیجہ ہوتی ہیں۔ جن لوگوں کے اندر سوچنے کی صلاحیت نہ ہو، وہ لوگ اس قسم کی باتوں سے متاثر ہوجاتے ہیں۔ لیکن جن کے اندر دانش مندی (wisdom) پائی جاتی ہے، وہ اس قسم کی تمام باتوں کو یا تو نظر انداز کردیتے ہیں، یا ان کا مثبت انداز میں تجزیہ کرکے اپنے آپ کو بگاڑ سے بچالیتے ہیں۔جو لوگ اس طرح کے مواقع پر اپنے آپ کو منفی تاثر سے بچائیں، وہ اللہ کی خصوصی نصرت کے مستحق بن جاتے ہیں، اس کے بعد ان کے اندر مزید فکری ترقی ہوتی ہے، جو ان کے درجات کو بڑھانے والی ثابت ہوتی ہے۔
واپس اوپر جائیں

اختلاف کے باوجود اعتراف

صحابہ ان لوگوںکو کہا جاتا ہے، جنھوں نے پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم سے براہ راست تربیت پائی ہو۔ صحابہ کا ہر قول اور ہر عمل پیغمبر اسلام کی تربیت کا نتیجہ تھا۔ اس اعتبار سے یہ کہنا صحیح ہوگا کہ صحابہ پیغمبر انہ اخلاقیات کا توسیعی نمونہ (extended example) تھے۔
صحابہ کے دو گروہ تھے — انصار اور مہاجرین۔ مہاجر صحابہ میں سے دو کے نام یہ ہیں: سعد بن ابی وقاص (وفات55ھ)، خالد بن الولید(وفات 21ھ)۔ ان دونوں کے تعلق سے ایک روایت حدیث کی کتابوں میں آئی ہے۔ روایت یہ ہے: کان بین خالد بن الولید، وبین سعد کلام، قال:فتناول رجل خالدا عند سعد، قال:فقال سعد:مہ، فإن ما بیننا لم یبلغ دیننا(مصنف ابن ابی شیبہ، حدیث نمبر 25535)۔ یعنی خالد بن الولید اور سعد کے درمیان (کسی نزاعی معاملے پر)تکرار ہوگئی۔راوی کہتے ہیں کہ اس کے بعد ایک شخص نے سعد سے خالد کی برائی بیان کی۔ تو سعد نے کہا: دور ہو، ہم دونوں کے درمیان جو معاملہ ہے، وہ ہمارے دین تک نہیں پہنچے گا۔
اس روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ دو صحابی ، سعد بن ابی وقاص او ر خالد بن الولید کے درمیان کوئی ذاتی نزاع پیداہوگئی۔ کسی معاملے پر بات کرتے ہوئے دونوں کے درمیان تکرار ہوگئی۔ اس بات کو لے کر ایک شخص نے سعد بن ابی وقاص سے خالد بن الولید کی برائی بیان کی۔ لیکن سعد ایک اعلیٰ اخلاق والے آدمی تھے۔ انھوں نے فوراً کہا کہ ہمارے اور خالد کے درمیان جو اختلاف ہے، وہ ایک ذاتی نوعیت کا اختلاف ہے۔ اس اختلاف کو ہم ذاتی حد تک رکھیں گے۔ ایسا نہیں ہوسکتا کہ اس کی بنا پر ہم ایک دوسرے کو دین کے اعتبار سے برا سمجھنے لگیں۔ اجتماعی زندگی میں باہمی نزاع کا پیدا ہونا، ایک عام بات ہے، لیکن اہل ایمان کو چاہیے کہ وہ ذاتی معاملے کو دین سے الگ رکھیں۔ ذاتی شکایت کو وہ ایک دوسرے کے دین تک نہ لے جائیں۔ذاتی اختلاف کے باوجود وہ دینی اعتبار سے ایک دوسرےکے اعتراف میں کمی نہ آنے دیں۔
واپس اوپر جائیں

دعوت اور ظلم

بہت سے مسلمان ہیں، جو یہ کہتے ہیں کہ ہم کو غیر مسلموں میں دعوت کا کام کرنا ہے۔ اسی کے ساتھ وہ کہتے ہیں کہ اگر ہم یہ دیکھیں کہ مسلمانوں کے خلاف ظلم ہورہاہے۔ تو ہمیں ظلم کے خلاف لڑائی بھی کرنی ہے۔ ہم کو دونوں کام کرنا ہے، ہم کو دعوت کا کام بھی کرنا ہے، اور اسی کے ساتھ ہم کو ظلم کے خلاف لڑنا بھی ہے— یہ قرآن کی زبان نہیں ہے، بلکہ وہ قومی لیڈر کی زبان ہے۔ قرآن کے مطابق، دعوت کا کام کرنےکی پہلی شرط یہ ہےکہ داعی اپنے مدعو کا ناصح (خیرخواہ) بنے۔ اگر خیر خواہی نہیں تو دعوت بھی نہیں۔ اس سلسلے میں قرآن کی ایک آیت یہ ہے:فَلَا یُنَازِعُنَّکَ فِی الْأَمْرِ وَادْعُ إِلَى رَبِّکَ (22:67)۔ پس اس معاملہ میں وہ تم سے ہرگز نزاع نہ کریں۔ اور تم اپنے رب کی طرف بلاؤ۔
وہ تم سے ہرگز نزاع نہ کریں، یہ ایک عربی اسلوب ہے۔ عربی میں کہا جاتا ہے کہ لایضربنک زید۔ اس جملہ کا لفظی ترجمہ یہ ہے کہ زید ہرگز تم کو نہ مارے۔ مگر حقیقت کے اعتبار سے اس کا مطلب یہ ہے کہ زید کو ہرگز مارنے کا موقع نہ دو۔ قرآن کی اس آیت کے مطابق داعی کو ظلم کے مقابلے میں صبر کرنا ہے، نہ کہ لڑائی کرنا ۔ داعی کو اپنے مدعو سے کسی حال میں لڑنا نہیں ہے۔ اگر چہ بظاہر یہ دکھائی دے کہ مدعو ظلم کررہا ہے تب بھی داعی کو چاہیے کہ وہ ظلم کو مینج (manage) کرے، نہ کہ ظلم کے نام پر مدعو سے لڑائی کرے۔
دعوت الی اللہ کا کام ایک خالص اخروی کام ہے۔ اس کام کو قرآن میں انذار و تبشیر کا کام کہا گیا ہے۔ دعوت کا کام یہ ہے کہ انسان کو یہ بتایا جائے کہ اللہ رب العالمین کا تخلیقی منصوبہ (creation plan) کیا ہے۔ انسان کا اصل کام یہ ہے کہ وہ اپنے آپ کو ایسے متقی انسان کی حیثیت سے ڈیولپ کرےکہ آخرت میں اس کو ابدی جنت میں داخلہ دیا جائے۔ دعوت ایک ایسا کام ہے، جو غیر قومی بھی ہے، اور غیر سیاسی بھی۔ اسلام میں صرف دفاعی جنگ ہے۔ دفاعی جنگ حاکم کا معاملہ ہے۔ داعی کا اس معاملے سے کوئی تعلق نہیں۔
واپس اوپر جائیں

روشن ہدایت

دینِ اسلام ہر اعتبار سے ایک واضح دین ہے۔ حدیث میں آیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قد ترکتکم على البیضاء لیلہا کنہارہا، لا یزیغ عنہا بعدی إلا ہالک (سنن ابن ماجہ، حدیث نمبر43)۔ یعنی میں تمھارے پاس ایک روشن دین چھوڑ رہا ہوں، اس کی راتیں بھی اس کے دن کی طرح ہیں، میرے بعد کوئی اس سےدور نہیں ہوگا سوائے اس آدمی کے جو ہلاک ہونے والا ہے۔
یہاں یہ سوال ہے کہ جب دین اتنا واضح ہے تو اس میں اختلافات کیوں۔ قرآن کی تفسیر میں اختلاف، حدیث کی شرح میں اختلاف ، فقہی مسائل میں اختلاف، وغیرہ۔ رسول اللہ نے فرمایا تھا کہ تم اس طرح نماز پڑھو، جس طرح مجھ کو نماز پڑھتے ہوئے دیکھتے ہو۔ لیکن آپ کے بعد نماز کے مسائل میں اتنے اختلافات ہوئے کہ مسلمانوں کے درمیان کئی مستقل فقہی اسکول بن گئے، وغیرہ۔
یہ اختلاف ایک مطلوب اختلاف ہے۔ یہ اختلاف اس لیے ہے تاکہ لوگ اس پر تدبر کریں۔لوگ خود اپنے ذہن کو استعمال کریں۔ یہاں تک کہ ہر شخص دین کو ری ڈسکور (rediscover) کرے، ہر آدمی خود دریافت کردہ سچائی (self-discovered truth) پر کھڑا ہو۔
نجران کے کچھ حق کے متلاشی لوگ مدینہ آئے تاکہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سچائی کو دریافت کریں۔ یہ قصہ قرآن میں ان الفاظ میں بیان ہوا ہے:وَإِذَا سَمِعُوا مَا أُنْزِلَ إِلَى الرَّسُولِ تَرَى أَعْیُنَہُمْ تَفِیضُ مِنَ الدَّمْعِ مِمَّا عَرَفُوا مِنَ الْحَقِّ (5:83) ۔ یعنی اور جب انھوں نے اس کلام کو سنا جو رسول پر اتارا گیا ہے تو تم دیکھو گے کہ ان کی آنکھوں سے آنسو جاری ہیں، اس سبب سے کہ انھوں نے حق کی معرفت حاصل کر لی۔
آیت میں و اذا سمعوا کے بعد بظاہر علموا (انھوں نے جان لیا )آنا چاہیے تھا۔ مگر یہاں عرفوا کا لفظ آیا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ سننے کے بعد ابتدائی طور پر انھوں نے سچائی کو صرف جانا تھا۔ مگر اپنی طرف سے تدبر کا اضافہ کرکے انھوں نے اپنے جاننے کو معرفت (self-discovery) بنایا۔ ایسا اس لیے ہوا تاکہ وہ خود دریافت کردہ معرفت پر کھڑے ہونے کی سعادت حاصل کر سکیں۔
انسا ن کو اس کے خالق نے صحیح فطرت پر پیدا کیا ہے۔ جیسا کہ قرآن میں آیا ہے:فَأَلْہَمَہَا فُجُورَہَا وَتَقْوَاہَا (91:8)۔ انسان کے آس پاس جو دنیا ہے جس کو قرآن مجید میں زمین و آسمان کے الفاظ میں تعبیر کیا گیا ہے۔ اس میںایسی آیات (signs) ہیں جو خاموش زبان میں سچائی کا اعلان کررہے ہیں۔ تاریخ کے تمام واقعات دین خداوندی کے صداقت کے گواہ ہیں۔ نیز یہ کہ پیغمبر کے ذریعہ قرآن و سنت کی صورت میں ہدایت کا پورا سامان انسان کے لیے مہیا کردیا گیا ہے، وغیرہ۔
اس کے باوجود قانون فطرت کے مطابق، دنیا کی تمام چیزوں کے ساتھ ہمیشہ ایک شبہ کا عنصر (element of doubt) موجود رہتا ہے۔ اس حقیقت کو قرآن میں ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے:وَقَالُوا لَوْلَا أُنْزِلَ عَلَیْہِ مَلَکٌ وَلَوْ أَنْزَلْنَا مَلَکًا لَقُضِیَ الْأَمْرُ ثُمَّ لَا یُنْظَرُونَ۔ وَلَوْ جَعَلْنَاہُ مَلَکًا لَجَعَلْنَاہُ رَجُلًا وَلَلَبَسْنَا عَلَیْہِمْ مَا یَلْبِسُونَ (7:8-9)یعنی اور وہ کہتے ہیں کہ اس پر کوئی فرشتہ کیوں نہیں اتا را گیا۔ اور اگر ہم کوئی فرشتہ اتارتے تو معاملہ کا فیصلہ ہوجاتا، پھر انھیں کوئی مہلت نہ ملتی۔ اور اگر ہم کسی فرشتہ کو رسول بنا کر بھیجتے تو اس کو بھی آدمی بناتے اور ان کو اسی شبہ میں ڈال دیتے جس میں وہ اب پڑے ہوئے ہیں۔
سچائی کی ہدایت اگرچہ انسان کو اللہ رب العالمین کی طرف سے دی گئی ہے۔ لیکن اللہ کو یہ منظور ہے کہ وہ اپنے ہدایت یاب بندوں کو اس بات کا کریڈٹ دے کہ انھوں نے اپنی عقل کو استعمال کرکے ذاتی طور پر سچائی کو دریافت کیا۔ اختلافات کے جنگل میں وہ خود دریافت کردہ سچائی (self-discovered truth) پر کھڑے ہوں۔ یہ اللہ رب العالمین کی طرف سے انسان کے لیے ایک مزید عنایت کا معاملہ ہے۔
واپس اوپر جائیں

حقیقی اہمیت

پیغمبر اسلام کے طریقہ کا ایک پہلو یہ تھا کہ آپ کی نظر ہمیشہ حقائق پر ہوتی تھی،نہ کہ ظواہر پر۔ ظواہر میں اگر بے خبری کی بنا پر کوئی فرق ہوجائے تو اس کو آپ ناقابل لحاظ سمجھتے تھے۔ البتہ حقیقی اہمیت والی باتوں کے بارے میں آپ کا رویہ ہمیشہ بہت سخت ہوتا تھا۔
پیغمبر اسلام کے آخری حج کا ایک واقعہ حدیث کی مختلف کتابوں میںتھوڑے تھوڑے لفظی فرق کے ساتھ آیا ہے۔ یہ آپ کی زندگی کا آخری سال تھا۔ آپ حج کا فریضہ ادا کرنے کے بعد منیٰ میں بیٹھے ہوئے تھے۔ لوگ آپ کے پاس آتے اور حج کے مسائل دریافت کرتے۔ کوئی کہتا کہ مجھے مسئلہ معلوم نہ تھا چنانچہ میںنے ذبح کرنے سے پہلے بال منڈوا لیا۔ کوئی کہتاکہ میںنے رمی سے پہلے نحر (قربانی) کرلی، وغیرہ۔ آپ ہر ایک سے کہتے کہ کرلو، کوئی حرج نہیں۔ اسی طرح بار بارلوگ آتے رہے اور تقدیم اور تاخیر کی بابت سوال کرتے رہے۔ آپ ہر ایک سے یہی کہتے کہ کر لو، کوئی حرج نہیں(افعل ولاحرج) صحیح البخاری، حدیث نمبر 83۔
ابو داؤد کی روایت میں مزید ان الفا ظ کا اضافہ ہے: کوئی حرج نہیں، کوئی حرج نہیں۔ حرج تواس شخص کے لیے ہے جو ایک مسلمان کو بے عزت کرے۔ ایسا ہی شخص ظالم ہے۔ یہی وہ شخص ہے جس نے حرج کیا اور ہلاک ہوا۔ (سنن ابو داؤد، حدیث نمبر 2015)۔ دین میں اصل اہمیت معانی کی ہے، نہ کہ ظواہر کی۔ ایک شخص ظاہری چیزوں کا زبردست اہتمام کرے مگر معنوی پہلو کے معاملہ میں وہ غافل ہو تو ایسا شخص اسلام کی نظر میں بے قیمت ہوجائے گا۔
اللہ ہمیشہ آدمی کی نیت کو دیکھتا ہے۔ نیت اگر اچھی ہے تو ظاہری چیزوں میںکمی یا فرق کو نظر انداز کردیا جاتا ہے۔ لیکن اگر آدمی کی نیت اچھی نہ ہو تو اللہ کی نظر میں اُس کی کوئی قیمت نہیں، خواہ اُس نے ظواہر کے معاملہ میں کتنا ہی زیادہ اہتمام کررکھا ہو۔ ظاہری خوش نمائی سے انسان فریب میں آسکتا ہے مگر ظاہری خوش نمائی کی خدا کے نزدیک کوئی وقعت نہیں۔
واپس اوپر جائیں

سماجی آداب

ایک روایت میں آیا ہے کہ ایک صحابی، وابصہ الاسدی پیغمبر اسلام کے پاس آئے۔ وہ نیکی اور بدی کے تمام سوالات آپ سے پوچھنا چاہتے تھے(لا أدع شیئا من البر والإثم إلا سألتہ عنہ)۔ رسول اللہ نے ان کے سوالات کا جواب نہیں دیا، بلکہ یہ فرمایا: یا وابصة استفت قلبک، واستفت نفسک ’’ ثلاث مرات‘‘، البر ما اطمأنت إلیہ النفس، والإثم ما حاک فی النفس، وتردد فی الصدر، وإن أفتاک الناس وأفتَوک(مسند احمد، حدیث نمبر 18006)۔ یعنی اے وابصہ ، اپنے دل سے فتویٰ پوچھو، اور اپنے جی سے فتویٰ پوچھو (یہ بات آپ نے تین بار کہی، اس کے بعد فرمایا) نیکی وہ ہے جس پر تمھارا دل مطمئن ہو، اور بدی وہ ہے جو تمھارے دل میں کھٹکے۔ اور تمھارے دل میں تردد پیدا ہو۔ چاہے لوگ کچھ بھی فتویٰ دیتے ہوں۔
اس حدیث کا مطلب یہ نہیں ہے کہ ہر آدمی ہر معاملے میں اپنا مفتی خود بن جائے۔ بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ ہرمسئلے کو شرعی مسئلہ نہ بناؤ۔ کھلی ممنوعات کے سوا جو چیزیں ہیں، ان میں کامن سنس (common sense) پر عمل کرو۔
مثلا انڈیا میں ملاقات کے وقت پاؤں چھونے کا رواج ہے۔ یہ عمل کوئی مذہبی عمل نہیں ہے، بلکہ وہ بطور احترام (as a mark of respect) ہوتا ہے۔ ملاقات کے وقت احترام کی مختلف صورتیں ہیں۔ مثلا سر کو یا ہاتھ کو بوسہ (kiss) کرنا، یا رکوع کی مانند جھک جانا، وغیرہ۔ جس طرح سے یہ علامتی طریقے جائز ہیں، اسی طرح علامتی طور پر پاؤں کا چھونا بھی جائز ہے۔
قرآن کے مطابق، حضرت یوسف کے بھائیوں نے حضرت یوسف کے سامنے بوقت ملاقات ایک فعل کیا تھا، جس کے لیے قرآن میں یہ الفاظ آئے ہیں:وَخَرُّوا لَہُ سُجَّدًا (12:100)۔ اس آیت میں معروف سجدہ مراد نہیں ہے۔ بلکہ اس سے مراد بطور تعظیم جھک جانا ہے۔ اس کا تعلق آداب حیات سے ہے، نہ کہ شرعی عبادت سے۔
واپس اوپر جائیں

دین میں عقل کا استعمال

دین میں عقل کا استعمال بلاشبہ عین درست ہے۔ خود قرآن میں لُبّ (عقل) کے استعمال کی ترغیب دی گئی ہے(ص 29:)۔ مگر اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ آدمی یونانی کلامیات کے ماڈل پر اسلام کو جانچنے کی کوشش کرے۔ جیسا کہ الرازی (وفات311:ھ) اور الجوینی (وفات478:ھ) جیسے لوگوں نے کیا۔ قدیم زمانے میںمسلم متکلمین نے دین میں عقل کو استعمال کیا تو اس پر علماء نے سخت نکیر کی۔ مثلاً امام مالک ابن انس، اور امام ابویوسف نے کہا تھا : من طلب الدین بالکلام تزندق (ذم الکلام وأہلہ للہروی ، المدینة المنورة، 1998، 5/71 & 202)۔ یعنی جس نے دین کو کلام کے ذریعہ حاصل کرنا چاہا، وہ زندیق ہوگیا۔ یہ قول بجائے خود بلاشبہ درست ہے۔ لیکن وہ خود عقل کے اعتبار سے نہیں ہے، بلکہ عقل کے ایک غلط استعمال کے اعتبار سے ہے، جوکہ حقیقت میں لفظی موشگافی تھا، نہ کہ حقیقی معنوں میں عقل ۔ حقیقت یہ ہےکہ عقل کا ارتقا صحیح معنوں میں اس وقت سے ہوا، جب کہ دنیا میں عقلی سائنس (scientific reasoning)وجود میں آئی۔
د ین میں عقل کے استعمال کا مطلب ہے کہ دینی مسائل کے معاملے میں عقلی اطمینان (البقرۃ260:) حاصل کرنا۔ تاکہ انسان جب اس دنیا سے جائے تو قلب سلیم (الشعراء 89:) کے ساتھ جائے۔ اس کی ایک مثال قرآن کی ایک آیت ہے، جس کا ترجمہ یہ ہے: تو بہ، جس کو قبول کرنا اللہ کے ذمہ ہے، وہ ان لوگوں کی ہے جو بری حرکت نادانی سے کر بیٹھتے ہیں، پھر جلد ہی توبہ کرلیتے ہیں۔ وہی ہیں جن کی توبہ اللہ قبول کرتا ہے اور اللہ جاننے والا، حکمت والا ہے (4:17)۔
قرآن کی اس آیت میں توبۂ قریب (speedy repentance)کا لفظ کیوں آیا ہے۔اس کا جواب علم النفس کے مطالعے سے معلوم ہوتا ہے۔ انسانی نفسیات کا مطالعہ بتاتا ہے کہ انسان کے دماغ کے تین حصے ہیں۔ شعور (conscious mind)، تحت شعور (sub conscious mind)، لا شعور (unconscious mind)۔ یہ فرق انسان کی فطری ساخت کے مطابق ہے۔ جب آدمی غلطی کرتا ہے تو ابتداءاً غلطی کا شعور اس کے زندہ حافظہ (living memory)میں ہوتا ہے۔ اس وقت آدمی اگر اپنا محاسبہ (introspection)کرے تو ابتدائی مرحلہ میں آدمی اپنی غلطی کو شدت کے ساتھ محسوس کرے گا، اور جلد ہی وہ اپنی غلطی کی اصلاح کرلے گا۔
لیکن اگر آدمی محاسبہ میں دیر کرے۔ تو اس کے بعد غلطی کا احساس اس کے زندہ شعور سے گزرکر اس کے دماغ کے اس حصہ میں چلاجائے گا، جس کو تحت شعور کہا جاتاہے۔ اب غلطی کے بارے میں اس کے اندرحساسیت بہت کم ہوجاتی ہے۔ آدمی نے اگر اب بھی اپنا محاسبہ نہیںکیا تواس کے بعد تیسرا درجہ یہ آتا ہے کہ غلطی کا احساس آدمی کےلاشعور میں چلاجاتا ہے۔ اس تیسرے درجے کو پہنچنے کے بعد آدمی کے اندر غلطی کے بارے میںکامل غفلت کا دور آجاتا ہے۔ اسی کو قرآن میں طول امد سے قساوت کاپیدا ہونا بتایا گیا ہے (الحدید16:)۔ اسی نفسیاتی تجزیے کا دوسرا نام دین کے معاملے میں عقل کا استعمال کرنا ہے۔
اس معاملے کو سمجھنے کے لیے ایک اور آیت قرآنی کا مطالعہ کیجیے۔ اس آیت کا ترجمہ یہ ہے: اے ایمان والو، تم اپنی آوازیں پیغمبر کی آواز سے اوپر مت کرو اور نہ اس کو اس طرح آواز دے کر پکارو جس طرح تم آپس میں ایک دوسرے کو پکارتے ہو۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ تمہارے اعمال برباد ہوجائیں اور تم کو خبر بھی نہ ہو (49:2)۔
اس آیت میں جو بات کہی گئی ہے، وہ صرف پیغمبر کی فضیلت یا پیغمبر کے معاملے میں ادب کے اعتبار سے نہیں ہے، بلکہ اصلاً وہ دین خداوندی کے اعتبار سے ہے۔ حبطِ اعمال کا یہ واقعہ پیغمبر کی مجلس میں بھی پیش آسکتا ہے، اور پیغمبر کی مجلس کے باہر بھی۔ اصل یہ ہے کہ جب دین خداوندی کی کوئی بات ہو تو انسان کو چاہیے کہ نہایت سنجیدگی کے ساتھ وہ اس کوسنے۔ اگر وہ اس کو ایک غیر اہم بات کی طرح سنے گا تو دھیرے دھیرے وہ اس معاملے میں قساوت کا شکار ہوجائے گا، اور پھر بے شعوری کے اس درجے پر پہنچ جائے گا، جب کہ اس کے لیے اپنی اصلاح کرنا ہی ممکن نہ رہے گا۔ ایسے آدمی کا یہ انجام اس لیے ہوگا کہ اس نے قانون فطرت کے مطابق پہلے مرحلہ میں اپنا محاسبہ نہیںکیا۔
واپس اوپر جائیں

مدح، تنقید

احادیث میںکثرت سے یہ تلقین کی گئی ہے کہ تم کسی کی مدح نہ کرو۔ مثلاً رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ : إذا رأیتم المداحین، فاحثوا فی وجوہہم التراب(صحیح مسلم، حدیث نمبر 3002) یعنی جب تم مدح کرنے والوں کو دیکھو تو اُن کے منہ پر مٹی ڈال دو۔ اسی طرح ایک روایت میںآیا ہے:سمع النبی صلى اللہ علیہ وسلم رجلا یثنی على رجل ویطریہ فی مدحہ، فقال:أہلکتم أو قطعتم ظہر الرجل (صحیح بخاری، حدیث نمبر 2663)۔ یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سُنا کہ ایک شخص دوسرے شخص کی تعریف کررہا ہے اور اُس کی تعریف میں وہ مبالغہ کررہا ہے۔ آپ نے فرمایا کہ تم نے اس شخص کو ہلاک کردیا یا یہ فرمایا کہ تم نے اُس کی کمر توڑ دی۔
اسی طرح خلیفۂ ثانی عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے بارہ میںایک روایت میں آیا ہے کہ اُنہوں نے کہا: المدح الذبح (الادب المفرد، حدیث نمبر 336)۔یعنی مدح کرنا آدمی کو ذبح کرنا ہے۔ اسی طرح ایک روایت میں آیا ہے کہ حضرت عمر نے ایک شخص کو دوسرے شخص کی تعریف کرتے ہوئے سُنا تو اُنہوں نے کہا: عقرت الرجل عقرک اللہ (الأدب المفرد، حدیث نمبر335) یعنی تم نے اُس شخص کو ذبح کردیا، اللہ تمہارے ساتھ بھی ایسا ہی کرے۔
حدیث اور آثارکی کتابوںمیں اس طرح کی بہت سی روایتیں آئی ہیں۔ اُن سے معلوم ہوتا ہے کہ مدح کا طریقہ دینی مزاج کے خلاف ہے۔ بعض اوقات اعتراف واقعہ یا اورکسی مصلحت سے کسی کی تعریف کی جاسکتی ہے۔ مگر عمومی طورپر اسلام میںاُس چیز کو سخت نا پسند کیا گیا ہے جس کو مدح خوانی یا قصیدہ گوئی کہا جاتاہے۔ اس قسم کی تعریف مادح کے لیے مصلحت پرستی ہے اورممدوح کے لیے اُس کو عُجب کی غذا دینا ہے۔ اس لیے یہ فعل مادح اورممدوح دونوں کے لیے ہلاکت خیز ہے۔
تاہم یہ بات قابل غور ہے کہ احادیث میں تعریف کی مذمت تو کی گئی ہے مگر تنقید کی مذمت نہیں کی گئی ۔ غالباً کوئی بھی صحیح حدیث ایسی نہیں جس میںتنقید کے فعل کو اُس طرح مطلق طورپر مذموم قرار دیا گیا ہو جس طرح مدح کو مذموم قرار دیا گیا ہے۔ بلکہ اس کے برعکس تنقید کی حوصلہ افزائی کی گئی ہے۔ مثلاً بہت سی حدیثوں میں لسان کے ذریعہ نہی عن المنکر کا حکم آیا ہے اوراُس کوایمان کی لازمی علامت بتایا گیاہے۔ اسی طرح حدیث میں بتایا گیا ہے کہ سلطان کے سامنے کلمۂ حق کہنا ایک افضل جہاد ہے، وغیرہ۔
ظاہر ہے کہ اس قسم کا کام تنقید ہی کی زبان میںہوگا، نہ کہ تعریف کی زبان میں۔ جب بھی ایک شخص کسی برائی کو دیکھے، خواہ برائی کرنے والا کوئی عام آدمی ہو یا خاص آدمی، اور پھر وہ اُس کے خلاف لسانی جہاد کرے تو یہ لسانی جہاد عین وہی فعل ہوگا جس کو تنقید کہا جاتاہے۔ نقد یا تنقید در اصل لسانی جہاد کا ہی دوسرا نام ہے۔
اب سوال یہ ہے کہ شریعت میں مدح اور تنقید کے درمیان یہ فرق کیوں کیا گیا ہے۔ اس فرق کا سبب یہ ہے کہ مدح ایک اخلاقی برائی ہے جب کہ تنقید ایک اعلیٰ درجہ کی علمی اور اخلاقی خوبی ہے۔ کسی معاشرہ میں مدح کا رواج پورے معاشرہ کو منافقت کامعاشرہ بنادیتا ہے۔ اس کے مقابلہ میں جس سماج میںتنقید اور اختلاف کو سننے کا مزاج ہو وہ معاشرہ ذہنی اور فکری ترقی کی طرف رواں دواں رہتا ہے۔
تنقید ایک مسلسل احتساب کا عمل ہے۔ تنقید زندہ معاشرہ کی علامت ہے۔ کسی معاشرہ میں تنقید کا عمل نہ ہونا یا تنقید کو بُرا سمجھنا صرف اُس وقت ہوتا ہے جب کہ معاشرہ زوال کا شکار ہوگیا ہو۔ وہ زندگی کی حرارت کھو بیٹھا ہو۔ کھلے ذہن کے ساتھ سوچنے کی صلاحیت اُس کے اندر باقی نہ رہی ہو۔ تنقید کی حیثیت ایک علمی اور فکری چیلنج کی ہے۔ چیلنج ہر قسم کی ترقی کی واحد ضمانت ہے۔ جس معاشرہ میںچیلنج نہ ہو وہ معاشرہ کبھی ترقی نہیں کرسکتا۔ اسی طرح جو معاشرہ تنقید سے محروم ہوجائے وہ علمی اور فکری ترقی سے بھی محروم ہوجائے گا۔
اس معاملہ کی تفصیل میںنے اپنی کتاب دین انسانیت کے باب ’’حریت فکر‘‘ میں بیان کی ہے اور اسلام کے دور اول کی مثالوں سے اُس کو واضح کیا ہے۔ تاہم تنقید اور تنقیص میں بہت زیادہ فرق ہے۔ یہاںتک کہ یہ کہنا درست ہوگا کہ تنقید مکمل طورپر جائز ہے اور تنقیص مکمل طورپر ناجائز ۔ تنقید بلاشبہ ایک مطلوب چیز ہے اور تنقیص بلا شبہ ایک غیر مطلوب چیز۔
تنقید در اصل علمی اختلاف کا دوسرا نام ہے۔ حقائق و واقعات کی روشنی میںخالص موضوعی انداز میںکسی معاملہ کا تجزیہ کرنا وہ چیز ہے جس کو تنقید کہا جاتا ہے۔ تنقید خواہ بظاہر کسی شخص کے افکار و آراء کے حوالہ سے ہو، مگراپنی حقیقت کے اعتبار سے وہ معاملہ کی اصولی وضاحت ہوتی ہے۔ اُس میں غلط اور صحیح کے درمیان تقابل ہوتا ہے، نہ کہ ایک شخص اور دوسرے شخص کے درمیان۔
اس کے برعکس، تنقیص ایک شخصی عیب جوئی ہے۔ تنقیص کرنے والے کے سامنے اصلاً کسی امرِحق کی وضاحت نہیں ہوتی بلکہ ایک شخص کی تذلیل اورتحقیر ہوتی ہے جس کو اُس نے کسی وجہ سے اپنا مخالف سمجھ لیا ہے۔ تنقیص صرف ایک غیر اخلاقی فعل ہے، وہ کسی درجہ میں بھی کوئی علمی واقعہ نہیں۔ تنقید کا عمل اگر علمی اصول کی بنیاد پر ہوتا ہے تو تنقیص کا عمل کسی شخص کے خلاف ذاتی سبّ وشتم کی بنیاد پر۔
٭ ٭ ٭ ٭ ٭
تبیین حق سے مراد دعوت اعظم ہے۔ یعنی اعلیٰ ترین سطح پر دعوت حق کی ادائیگی۔ یہ وہی بات ہے جس کو قرآن میں ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے:سَنُرِیہِمْ آیَاتِنَا فِی الْآفَاقِ وَفِی أَنْفُسِہِمْ حَتَّى یَتَبَیَّنَ لَہُمْ أَنَّہُ الْحَقُّ (41:53)۔ یعنی عنقریب ہم ان کو اپنی نشانیاں دکھائیں گے آفاق میں بھی اور ان کے انفس میں۔ یہاں تک کہ ان پر ظاہر ہوجائے گا کہ یہ حق ہے۔ یہ ایک تاریخی حقیقت ہے جس کو قرآن میں آفاق و انفس کی آیات کے ذریعےحق کی اعلیٰ تبیین کہا گیا ہے، اور حدیث میں اس کو شہادت اعظم کے لفظ سے تعبیر کیا گیا ہے۔
واپس اوپر جائیں

القاب کلچر

انسان فطری طور پر عظمت پسند ہے۔ اس بنا پر ایسا ہوتا ہے کہ اگر انسان کے پاس حقیقی عظمت نہ ہو تو وہ عظمت کے الفاظ بول کر اپنے اس جذبے کی تسکین حاصل کرتا ہے۔ یہی وہ لوگ ہیں، جن کے اندر القاب کلچر ترقی کرتا ہے۔ مثلا ً اپنی پسند کے افراد کو بڑے بڑے القاب دینا۔ جیسے گریٹ لیڈر، گریٹ تھنکر، گریٹ مائنڈ، وغیرہ۔
اس قسم کا القاب کلچر اسلام میں پسند نہیں کیا گیا ہے۔ چناں چہ صحابہ ہمیشہ سادہ الفاظ بولتے تھے۔ بڑے الفاظ کے ساتھ کسی کا ذکر کرنا، ان کے یہاں رائج نہ تھا۔ اس کا سبب یہ ہے کہ القاب ہمیشہ مبالغہ آمیز ہوتے ہیں۔ اسلام کی اسپرٹ یہ ہے کہ آدمی کو اس کی واقعی حیثیت کے مطابق پکارا جائے۔ مثلاً حضرت عمر نے اپنے لیے امیر المومنین کا لقب اختیارکیا۔ کیوں کہ بطور واقعہ وہ امیرالمومنین ہی تھے۔ ان الفاظ میں کسی قسم کا مبالغہ شامل نہ تھا۔ اس کے برعکس، شخصی سلطنت کے زمانے میں حکمرانوں کو شاہنشاہ جیسے الفاظ بولنا، یعنی بادشاہوں کا بادشاہ، وغیرہ۔ یہ لفظ ایک مبالغہ کا لفظ ہے۔کوئی بھی شخص حقیقت میں بادشاہوں کا بادشاہ نہیں ہوتا۔ لیکن ایسے الفاظ بول کر فرضی طور پر یہ ظاہر کیا جاتا ہے کہ مذکورہ شخص بادشاہوں کا بادشاہ ہے۔
مگر اس کا نقصان یہ ہوتا ہے کہ جن لوگوں کے اندر القاب کلچر رائج ہوجائے، ان کے اندر لازماً ایک چیز ختم ہوجاتی ہے۔ وہ ہے حقیقت پسندانہ سوچ (realistic thinking)،یا اَیز اِٹ اِز سوچ (as it is thinking) ۔ اسی کو سائنٹفک ٹمپر (scientific temper)کہا جاتا ہے۔ القاب کلچر حقیقت پسندانہ سوچ کا قاتل ہے۔اسی حقیقت کو ایک حدیث میں دعا کے الفاظ کے طور پر اس طرح کہا گیا ہے، اے اللہ مجھے چیزوں کو ویسا ہی دکھا، جیسا کہ وہ ہیں(اللہم ارنا الاشیاء کما ھی)۔ القاب کلچر غیر حقیقت پسندانہ مزاج پیدا کرتا ہے۔ جو لوگ اس مزاج کا شکار ہوجائیں، وہ کبھی کوئی بڑا کارنامہ انجام نہیں دے سکتے۔
واپس اوپر جائیں

الأئمۃالمضلون

ایک روایت حدیث کی مختلف کتابوں میںآئی ہے۔ اس روایت کے مطابق، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: أن أخوف ما أخاف علیکم الأئمة المضلون(مسند احمد ، حدیث نمبر 27485)۔ یعنی میں اپنی امت کے بارے میں سب سے زیادہ جس چیز سے ڈرتا ہوں وہ گمراہ کرنے والے لیڈر ہیں۔
اس حدیث میں بعد کو آنے والے جس زمانہ کاذکر ہے اُس سے مراد غالباً صنعتی انقلاب کا زمانہ ہے۔ یہ واقعہ بعد کے زمانہ میں ظہور میں آنے والا تھا۔ جب کہ امت مسلمہ واحد حامل دین کی حیثیت سے دنیا میں باقی رہے گی۔ اس لیے آپ نے اس معاملہ کو اپنی امت کی طرف منسوب فرمایا۔ واضح ہوکہ دوسری روایتوں میں علیکم کے بجائے علی امتی (مسند احمد، حدیث نمبر21297) کے الفاظ آئے ہیں۔ قدیم زمانہ بادشاہت کا زمانہ تھا۔ اس زمانہ میں گمراہ کن لیڈر کے ظہور کے مواقع موجود نہ تھے۔ موجودہ زمانہ میں آزادی، کمیونی کیشن، میڈیا اور لاؤڈ اسپیکر و اسٹیج نے ایسے مواقع پیدا کئے جن میں گمراہ کرنے والے لیڈر ابھریں اور پوری امت کو صراط مستقیم سے بھٹکا دیں۔
یہ جدید قیادتی مواقع ایسے وقت میں ظہور میںآئیں گے جب کہ امت طول أمد کے نتیجہ میں زوال کا شکار ہوچکی ہوگی۔ ایسی حالت میں کرنے کا اصل کام یہ ہوگا کہ جدید مواقع کو استعمال کرکے امت کو پھر سے زندہ کرنے کی کوشش کی جائے۔ مگر یہ ایک بے حد مشکل کام ہوگا۔ اس کے مقابلہ میں آسان کام یہ ہوگا کہ امت کی زوال یافتہ نفسیات کو استعمال کرکے اس کے اوپر اپنی قیادت کی بنیاد رکھ دی جائے۔ یعنی امت جہاں ہے وہیں سے اس کا سفر شروع کردیا جائے۔
یہ گمراہ کرنے والے لیڈر یہی دوسرا کام کریں گے۔ وہ امت کو فضائل کی پر اسرار کہانیاں سنا کر خوش فہمی میں مبتلا کریں گے۔ وہ ماضی کے تاریخی کارنامے بتا کر انہیں فخر کی غذا دیں گے۔ وہ سیاسی تقریریں کرکے ان کے جوش کو ابھاریں گے۔ وہ ادب اور خطابت کے الفاظ میں انہیں گم کریں گے۔ وہ امت کی پسماندگی کا الزام دوسروں کو دے کر جھوٹی نزاع کھڑی کریں گے۔ بائبل کے الفاظ میں، وہ امت کو لوریاں سنائیں گے اور اس طرح وہ امت کو اس کے زوال پر اور پختہ کردیں گے، نہ یہ کہ اس کو زوال کی حالت سے نکالیں۔
یہ وہی طریقہ ہے جس کو استحصال (exploitation) کہا جاتا ہے۔ لوگوں کا حال یہ ہوگا کہ آغاز سے سفر کرنا انہیں ایک بے حد لمبا سفر معلوم ہوگا، وہ اس قسم کی قربانی کے لیے تیار نہ ہوں گے۔ اس لیے وہ آغاز سے سفر کرنے کے بجائے اختتام سے اپنے سفر کی چھلانگ لگادیں گے ، اور پھر خود بھی ہلاک ہوںگے اوراپنی قوم کو بھی ہلاک کریں گے۔
گمراہ کرنے والا لیڈر ہمیشہ یہ کرتا ہے کہ وہ ایسی باتیں بولتا ہے جو لوگوں کو پسند ہو۔ وہ لوگوں کے اندر چھپے ہوئے منفی جذبات کو بھڑکاتا ہے۔ وہ لوگوں کی جھوٹی شکایتوں کو سچا بنا کر دکھاتا ہے۔ اس طرح وہ لوگوں کواپنی طرف کھینچتا ہے۔ اُس کی زبان سے اپنی دل پسند بولی سن کر لوگ اُس کے گرداکٹھا ہوجاتے ہیں۔
گمراہ لیڈر ہمیشہ یہی کرتے رہے ہیں۔ وہ جانتے ہیں کہ اگر لوگوں سے یہ کہا جائے کہ تم اپنی اصلاح کرو تو بہت کم لوگ ہوں گے جو اُس پکار کی طرف متوجہ ہوسکیں۔ اس لیے گمراہ لیڈر یہ کرتے ہیں کہ وہ اپنی قوم کی داخلی کمزوریوں کی بناپر پیش آنے والی ناکامی کا ذمہ دار دوسروں کو ٹھہراتے ہیں۔ وہ اپنی قوم کو بے قصور بتاتے ہیں اور دوسری قوم کو قصور وار۔ یہ چیز اُن کو اپنی قوم کے اندر مقبول بنادیتی ہے۔
جدید صنعتی دور میںنئے ذرائع کی بنا پر اس قسم کے لیڈروں کے لیے ممکن ہوگیا ہے کہ وہ ہر زمانہ سے زیادہ بڑے پیمانہ پر لوگوں کو گمراہ کر سکیں۔ اس صورت حال کا تقاضا ہے کہ قوم کے لوگ آج ہر زمانہ سے زیادہ محتاط رہیں تاکہ وہ گمراہ کرنے والے لیڈروں کی گمراہی کا شکار نہ ہوسکیں۔ یہ صورت حال صرف لیڈر کے ہی لیے خطرناک نہیںہے بلکہ وہ خود قوم کے لیے بھی ایک عظیم خطرہ کی حیثیت رکھتی ہے۔
واپس اوپر جائیں

نصیحت پذیری

کسی انسان کو جب حق کی معرفت حاصل ہوتی ہے اور اس کی سوچ ایمانی سوچ بن جاتی ہے تو فطری طورپر ایسا ہوتا ہے کہ وہ ایک سنجیدہ انسان بن جاتا ہے۔ اسی ایمانی سنجیدگی کا ایک پہلو وہ ہے جس کو نصیحت پذیری کہا جاسکتا ہے۔ قرآن میں اس کے لیے مختلف الفاظ آئے ہیں۔ مثلاً تذکّر (الزمر9:) اعتبار (المؤمنون21:) توسم (الحجر 75:) ، وغیرہ۔اسی طرح حدیث میں بھی اسی قسم کے الفاظ وارد ہوئے ہیں۔ مثلاً وصمتی فکراً ونظری عبرةً (مسند الشہاب القضاعی، حدیث نمبر1159) یعنی میری خاموشی سوچ کی خاموشی ہو،اور میرا دیکھنا عبرت کا دیکھنا ہو۔
ایمان یا حق کی معرفت بھی بذات خود اسی نوعیت کی ایک چیز ہے۔ ایمانی معرفت کیا ہے۔ وہ یہ ہے کہ آدمی مخلوقات پر غور کرکے خالق کو دریافت کرے۔ وہ دیکھنے والی دنیا کے اندر غیب کی دنیا کو پالے۔ قرآن کے الفاظ میں، وہ آیات(خارجی نشانیوں) کے ذریعہ داخلی حقیقتوں کو جان لے۔وہ بصارت کے ساتھ بصیرت کی استعداد حاصل کرلے۔
تدبر و تفکر مومن کا عام مزاج ہوتا ہے۔ اُس کا یہ مزاج ہمیشہ اور ہر جگہ قائم رہتا ہے۔ یہ مزاج اُس کو دائمی طورپر اللہ کی یاد کرنے والا بنا دیتا ہے۔ وہ ہر دن ایسی باتیں دریافت کرتا رہتا ہے جو اُس کے ایمان ویقین میںاضافہ کرنے والی ہوں۔ دوسرے لوگ صرف ظواہر کو دیکھتے ہیں، مگر مومن اپنے اس مزاج کی بنا پر ظواہر میں حقائق کو دریافت کرلیتا ہے۔ تدبر اور تفکر کے اس عمل کے لیے کسی تنہائی یا مخصوص مقام کی ضرورت نہیں۔ یہ عمل مومن کے دماغ میں ہر لمحہ جاری رہتا ہے ، حتیٰ کہ دنیا کے بھرے ہوئے ہنگاموں میں بھی وہ اُس سے منقطع نہیں ہوتا۔
نصیحت پذیری مومن کی روحانی خوراک ہے۔ مومن کے لیے مادی غذا اگر جسمانی تقویت کا ذریعہ ہے تو عبرت و نصیحت اُس کے لیے روحانی غذا کی حیثیت رکھتی ہے۔مادی غذا کے بغیر جسم صحت مند نہیں رہ سکتا،اسی طرح فکری غذا کے بغیر روحانیت کا ارتقاء ممکن نہیں۔
واپس اوپر جائیں

کامیاب زندگی

پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک شخص آیا۔ اس نے کہا کہ آپ مجھے کوئی ایسی بات بتائیے جس کے ساتھ میں جیوں، اور وہ لمبی نہ ہو کہ میں اسے بھول جاؤں۔ آپ نے کہا: لا تغضب(مسند احمد، حدیث نمبر 23468) یعنی تم غصہ نہ کرو۔ یہ موجودہ دنیا میں کامیاب زندگی حاصل کرنے کا سب سے زیادہ یقینی اصول ہے۔ ایک فرد کے لئے بھی اور پوری قوم کے لیے بھی۔
غصہ کیا ہے۔ غصہ در اصل ناپسندیدہ صورتِ حال کا منفی ردعمل (negative reaction) ہے۔ موجودہ دنیا میں مختلف اسباب سے ہر لمحہ کسی نہ کسی ناپسندیدہ صورت حال سے سابقہ پیش آتا ہے۔ کبھی کوئی ایسی بات پیش آجاتی ہے جس سے آپ کی انا(ego) بھڑک اٹھتی ہے۔ کبھی کسی کی ایک روش سے آپ کے اندر انتقام کا جذبہ پیدا ہوجاتا ہے۔ کبھی مفاد کا ٹکراؤ آپ کے اندر مخالفانہ جذبات کو جگا دیتا ہے۔ کبھی ایسا ہوتا ہے کہ کسی سے آپ کی امیدیں پوری نہیں ہوتیں اور آپ کے اندر اس کے خلاف نفرت کے جذبات بھڑک اٹھتے ہیں۔ یہی سب وہ چیزیں ہیں جن کو انسانی زبان میں غصہ کہا جاتاہے۔یہ غصہ آدمی کے لیے بے حد مہلک ہے۔ وہ آدمی سے اس کی سوچنے کی صلاحیت کو چھین لیتا ہے۔ وہ آدمی کو اس قابل نہیں رکھتا کہ وہ حقیقت پسندانہ انداز میں اپنے عمل کا نقشہ بنائے۔ وہ اس کو تعمیر کے بجائے تخریب کے راستہ پر ڈال دیتا ہے۔ آدمی دوسرے کے خلاف غصہ کرتا ہے، مگر اپنی حقیقت کے اعتبار سے وہ ہمیشہ آدمی کے اپنے نقصان کا باعث بنتا ہے۔
موجودہ دنیا آزمائش کی دنیا ہے۔ یہاں ہر ایک کے ساتھ ایسے واقعات پیش آتے ہیں جو اُس کو مشتعل کردیں، جو اُس کے اندر منفی نفسیات کو جگا دیں۔ اس صورت حال کو بدلنا کسی کے لیے ممکن نہیں۔ ایسی حالت میںکامیاب زندگی کی تعمیر کا طریقہ صرف یہ ہے کہ آدمی صبر وتحمل کی روش اختیار کرے۔ وہ اشتعال کے باوجود مشتعل نہ ہونے کا آرٹ سیکھ لے۔ وہ اُن حالات کے ساتھ ایڈجسٹ کرکے رہ سکے جن کو بدلنے کی قدرت اُس کو حاصل نہیں۔
واپس اوپر جائیں

زوال کیا ہے

قرآن میں بتایا گیا ہے کہ یہود ونصاریٰ کو جو آسمانی تعلیم دی گئی تھی اس کا بڑاحصہ انہوں نے بھلا دیا :وَنَسُوا حَظًّا مِمَّا ذُکِّرُوا بِہِ…،فَنَسُوا حَظًّا مِمَّا ذُکِّرُوا بِہِ… (5:13-14)۔اس بھلانے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ یہود و نصاریٰ نے کوئی کانفرنس کرکے اس میں باقاعدہ یہ طے کیاہو کہ آج سے ہم فلاں چند باتیں یادر رکھیں گے اور بقیہ باتوں کو بھلا دیں گے۔ ایسا کبھی نہیںہوتا۔ اس قسم کا بھولنا ہمیشہ تاریخی اور نفسیاتی اسباب کے تحت ہوتا ہے۔ تاریخی طورپر دھیرے دھیرے یہ صورت حال پیدا ہوتی ہے کہ کچھ چیزیں لوگوں کے زندہ حافظے میں باقی رہتی ہیں، اور دوسری چیزیں ان کے زندہ حافظہ سے نکل جاتی ہیں۔ کچھ چیزوں کی اہمیت انہیں یاد رہتی ہے، اور کچھ چیزوں کی اہمیت سے وہ بے خبر ہوجاتے ہیں۔
حدیث میں ہے کہ یہود و نصاری نے بگاڑ پیدا ہونے کے بعدجوکچھ کیا وہی سب مسلمان بھی بعد کے زمانے میں کریں گے (لتتبعن سنن من کان قبلکم)صحیح البخاری، حدیث نمبر7320۔ اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ امت محمدی پر بھی ایسا وقت آسکتا ہے۔ ایسا ہوسکتا ہے کہ لوگ دین کے ایک حصہ سے واقف ہوں اور انہیں دین کے دوسرے حصے کی خبر نہ رہے۔ دین کے بعض حصوں کی ان کے یہاں دھوم ہو اور دوسرے زیادہ بڑے حصہ کو انہوں نے اس طرح چھوڑ رکھا ہو، جیسے کہ وہ جانتے ہی نہیں کہ یہ بھی اس دین کا حصہ ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے پیغمبر کے ذریعہ ان کے پاس بھیجا تھا۔کسی قوم پر جب بھی یہ حالت آتی ہے تو وہ مزاج میں بگاڑ کی بنا پر آتی ہے۔
سب سے پہلے قوموں کا مزاج بگڑتا ہے، پھر اس کے نتیجہ کے طورپر ان کا اخلاق و کردار بھی بدلتا چلا جاتا ہے۔مثلاً مختلف اسباب کے تحت ظواہر کو روح کا بدل سمجھ لینا ۔ اب ایسا ہوتا ہے کہ دین کی ا صل روح کو جاننے اور اپنانے کی فکر نہیں ہوتی بلکہ اس کے خارجی مظاہر ہی کو سب کچھ سمجھ لیا جاتا ہے۔یہ زوال کی علامت ہے اور یہ زوال ہر امت کے ساتھ بہر حال پیش آتا ہے۔
واپس اوپر جائیں

عورت کا درجہ

اسلام میں عورت کادرجہ کیا ہے، اس کا اندازہ ایک حدیث سے ہوتا ہے۔ امام بخاری نے حضرت عبد اللہ ابن عباس سے یہ روایت نقل کی ہے: حضرت بریرہ کے شوہر ایک غلام تھے جن کا نام مغیث تھا۔ گویا کہ میں دیکھ رہا ہوں کہ مغیث اپنی بیوی کے پیچھے چل رہے ہیں اور ان کی آنکھوں سے آنسو جاری ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اے عباس کیا تم کو اس پر تعجب نہیں کہ مغیث کو کتنی زیادہ محبت ہے بریرہ سے اور بریرہ کو کتنا زیادہ بغض ہے مغیث سے۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بریرہ سے فرمایا کہ کیا ہی اچھا ہو کہ تم مغیث کی طرف رجوع کرلو۔ بریرہ نے کہا کہ اے خدا کے رسول، کیا آپ مجھے اس کا حکم دیتے ہیں۔ آپ نے فرمایاکہ میں صرف سفارش کررہاہوں۔ بریرہ نے جواب دیا: تو مجھے اس کی ضرورت نہیں (لا حاجة لی فیہ) صحیح البخاری، حدیث نمبر 5283۔
بریرہ نے اپنے شوہر مغیث سے تفریق کرالی تھی۔ رسو ل اللہ نے بریرہ کو مشورہ دیا کہ تم رجوع کرلو، اور مغیث کے ساتھ زندگی گزارو، مگر بریرہ نے آپ کے اس مشورہ کو قبول نہیں کیا، اور مغیث سے رجوع پر راضی نہیں ہوئیں۔اس واقعہ سے اندازہ ہوتا ہے کہ اسلام میں عورت کو کتنی زیادہ آزادی حاصل ہے۔ اس حدیث کے مطابق، عورت نہ صرف مرد کے برابر ہے بلکہ اس کو یہ حق بھی حاصل ہے کہ خود پیغمبر اگر وحی کی بنیاد پر کوئی مطالبہ کرے تو وہ اس کو ماننے پر مجبور ہے، لیکن پیغمبر کے ذاتی مشورہ کو ماننا اس کے لیے ضروری نہیں۔حقیقت یہ ہے کہ اسلام میں اس اعتبار سے عورت اور مرد کے درمیان کوئی فرق نہیں۔ جو حقوق و فرائض مرد کے ہیں وہ حقوق و فرائض عورت کے بھی ہیں۔ اگر کوئی فرق ہے تووہ فطری سبب کی بنا پر ہے، نہ کہ دونوں جنسوں میں تفریق کی بناپر۔ اس قسم کا فطری فرق جس طرح عورت اور مرد کے درمیان ہے، اسی طرح وہ خود مرداور مرد کے درمیان بھی ہمیشہ موجود رہتاہے۔ یہ فطرت کامعاملہ ہے، نہ کہ فرق کا معاملہ۔
واپس اوپر جائیں

اسلامی انقلاب میں عمومی تائید

پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ کا ایک واقعہ حدیث کی مختلف کتابوں میں آیا ہے۔ ایک غزوہ (جنگ) میںایک شخص نے حصہ لیا اور زبردست جنگی کارنامہ انجام دے کر جنگ کو جیتنے میںمدد دی۔ لیکن جنگ کے آخرمیںپیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلمنے اعلان فرمایا کہ یہ شخص اہل جنت میں سے نہیں ہے بلکہ اہل نار میں سے ہے۔ جن لوگوں نے اس جنگ میں اس کے بہادرانہ کارنامے دیکھے تھے، انہیں آپ کے اس ارشاد پر تعجب ہوا۔ مگر جب تحقیق کی گئی تو معلوم ہوا کہ اس آدمی نے بہادرانہ قتال تو ضرور کیا تھا مگر آخر میں اس نے خود اپنی تلوار سے اپنے کو ہلاک کر لیا۔ گویا کہ اس کا معاملہ خود کشی کا معاملہ تھا، نہ کہ شہادت کا معاملہ۔
اس واقعہ کے بعد پیغمبر اسلام نے حضرت بلال سے کہا کہ اے بلال اٹھو اور یہ اعلان کردو کہ جنت میں صرف وہی شخص جائے گا جو مؤمن ہواوراللہ بے شک اس دین کی مدد فاجر آدمی سے بھی کرے گا (لا یدخل الجنة إلا مؤمن، إن اللہ یؤید الدین بالرجل الفاجر) صحیح البخاری، حدیث نمبر 4203۔ اس حدیث سے ایک اہم اصول معلوم ہوتا ہے۔ وہ یہ کہ اسلام نے انسانی زندگی میں جو ہمہ گیر انقلاب برپا کرنا چاہا تھا، اس کا آغاز اگرچہ مخلص اہل ایمان کریں گے مگر اس کی آخری تکمیل نسل در نسل کے تاریخی عمل کے ذریعہ ہوگی۔ اس تاریخی عمل میں نہ صرف مسلمان بلکہ غیر مسلم بھی مؤثر طورپر اپنا کردار ادا کریں گے۔ پیغمبر اسلام کایہ ارشاد آپ کے بعد کی تاریخ میں مسلسل واقعہ بنتا رہا ہے۔ مثال کے طورپر قرآن میں یہ اعلان کیا گیا تھا کہ آئندہ آفاق و انفس میںایسی حقیقتیں ظاہر ہوں گی جو اسلام کی صداقت کو خالص علمی سطح پر ثابت شدہ بنا دیں (حم السجدہ 53:)۔ موجودہ زمانہ میں سائنسی تحقیق کے بعد جو دریافتیں ہوئی ہیں، انہوں نے اس پیشین گوئی کو حرف بحرف ایک ثابت شدہ حقیقت بنا دیا ہے۔ یہ جدید دریافتیں غیر مسلم قوموں کے ذریعہ ظہور میں آئی ہیں۔ مسلم افرادکا حصہ ان میں تقریباً نہ ہونے کے برابر ہے۔
واپس اوپر جائیں

بزدلی یا حکمت

میرا تجربہ ہے کہ جب لوگوں کے سامنے صبر کے اصول کو بتایا جائے تو وہ اس کو گوسفندی کا اصول یا بزدلی کا اصول سمجھ لیتے ہیں۔ اس قسم کا رد عمل اس بات کا ثبوت ہے کہ ایسے لوگوں میں صحیح طور پر نہ عقلی غور و فکر کاارتقا ہوا، اور نہ اسلامی غور و فکر کا۔ یہ لوگ ایسے رہنماؤں سے متاثر ہوئے ہیں، جو خطابت اور شاعری، اور انشا پردازی کی زبان میں لکھتے اور بولتے ہیں، اور لوگ تجزیہ (analysis) سے بے خبر ہونے کی بنا پر ان کو درست مان لیتے ہیں۔
سوچنے کا آغاز یہاں سے ہونا چاہیے کہ قرآن میں اتنا زیادہ کیوں صبر (patience)کی تعلیم دی گئی ہے۔ اس کا سبب یہ ہے کہ اللہ تعالی نے اس دنیا کا نظام اس طرح بنایا ہے کہ ہرشخص کو اپنے قول و فعل کے لیے پوری آزادی حاصل ہے۔ وہ چاہے تو اپنی آزادی کا صحیح استعمال کرے، اور چاہے تو اپنی آزادی کا غلط استعمال کرے۔ یہ خالق کی عطا کردہ آزادی ہے۔ اس لیے کوئی بھی شخص اس آزادی کو منسوخ نہیں کرسکتا۔
اب انسان کے لیے صرف دو میں سے ایک کا آپشن ہے۔ یا تو وہ ناموافق حالات سے ٹکراؤ کے بجائے ان کوپرامن اندازمیں مینج کرنے کا طریقہ اختیار کرے، اور اس طرح کسی مزید نقصان سے بچتے ہوئے ممکن دائرے میں اپنا مقصد حاصل کرے، یا ابدی طور پر لوگوں سے لڑتا رہے، اور زندگی میں کبھی کوئی بامعنی مقصد حاصل نہ کرسکے۔
صبر بزدلی نہیں، وہ ایک دانشمندانہ اصول ہے۔ صبر کا مطلب ہے کہ ناموافق صورت حال پیدا ہونے کے بعد آدمی ٹکراؤ کو اوائڈ کرے۔ وہbuying time کی حکمت کو استعمال کرتے ہوئے، اپنے عمل کی پرامن منصوبہ بندی کرے۔ وہ فطرت کے اس اصول کوجانے کہ اس کے لیے کیا چیز قابل حصول ہے، اور کیا چیز قابل حصول نہیں۔ کون سا طریقہ اس کو بے مقصد تباہی تک لے جاتا ہے، اور کون سا طریقہ بامقصد جد و جہد کی طرف۔صبر در اصل دانش مندانہ منصوبہ بندی کا نام ہے۔
واپس اوپر جائیں

عمل معیار ہے

بہت پہلے میں نے ایک مضمون پڑھا تھا۔ اس کے لکھنے والے سجاد حیدر یلدرم (وفات 1943:)تھے۔اس مضمون کا عنوان تھا، مجھے میرے دوستوں سے بچاؤ۔ بعد کے تجربات کے ذریعہ میں نے یہ اضافہ کیا کہ مجھے میرے رشتہ داروں سے بچاؤ۔ تجربہ بتاتا ہے کہ رشتہ داروں سے اخلاقی تعلق رکھنا چاہیے۔ ایسے تعلق سے بچنا چاہیے جس میں کوئی مادی انٹرسٹ شامل ہو۔
حضرت عمر فاروق سے ایک شخص نے کسی کی تعریف کی۔ حضرت عمر نے پوچھا کہ کیا ان سے تمھارا کوئی معاملہ پیش آیا ہے۔ اس نے کہا کہ نہیں۔ حضرت عمر نے کہا کہ پھر تمھاری رائے کا کوئی اعتبار نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ انسان کے بارے میں رائے اس وقت قائم کرنا چاہیے جب کہ اس کے ساتھ کوئی عملی تجربہ پیش آیا ہو۔ عملی تجربہ کے بغیر رائے قائم کرنے کا کوئی اعتبارنہیں۔
ایک تابعی کا قول ہے: أدرکت الناس وہم لا یعجبون بالقول ، قال مالک:یرید بذلک العمل ،إنما ینظر إلى عملہ ولا ینظر إلى قولہ (الجامع فی الحدیث لابن وہب، حدیث نمبر406)۔ یعنی میں نے ایسے لوگوں (صحابہ) کو پایا ہے جو باتوں سے متاثر نہیں ہوتے تھے۔امام مالک کہتے ہیں کہ اس سے مراد عمل ہے۔ یعنی انسان کے عمل کو دیکھا جائے گا، نہ کہ اس کے قول کو ۔
یہ بہت زیادہ حکمت کی بات ہے۔ ایسے انسان دنیا میں بہت کم ہوتے ہیں، جو وہی کریں، جو انھوں نے کہا ہے، اور وہی کہیں، جو ان کو کرنا ہے۔ اس لیے کسی آدمی کے بارے میں رائے اس وقت قائم کرنا چاہیے جب کہ اس سے کوئی معا ملاتی تجربہ پیش آیا ہو۔ انسان کو اس کے قول سے پہچاننا، بہت بڑی بھول ہے۔ انسان کو صرف اس کے عمل سے پہچاننا چاہیے۔ اس معاملے میں رشتہ دار کا کوئی استثنا نہیں، بلکہ رشتہ دار سے معاملہ کرتے ہوئے اور بھی زیادہ احتیاط کرنا چاہیے۔ کیوں کہ آدمی اپنے دوستوں اور رشتہ داروں سے اکثر حسن ظن کی بنا پر غلط فہمی میں مبتلا ہوجاتا ہے۔
واپس اوپر جائیں

بیمار ی سے تطہیر

حدیث میں آیا ہے کہ مدینہ میں ایک شخص بیمار ہوا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اُس کی عیادت کے لیے اُس کے گھر گئے۔ وہاں پہنچ کر آپ نے کہا :لا بأس طہور إن شاء اللہ (صحیح البخاری،حدیث نمبر 5662)۔ یعنی کوئی حرج نہیں، ان شاء اللہ یہ پاکی حاصل کرنے کا ذریعہ ہے۔ ایک روایت میں ہے کہ آپ نے کہا: کفارة وطہور (مسند احمد، حدیث نمبر 13616)۔ یعنی یہ کفارہ اور پاکی ہے۔
اس کا مطلب یہ نہیں کہ جب کوئی شخص بیمار ہوتا ہے تو پُر اسرار طورپر اس کے گناہ دھل جاتے ہیں، وہ خود بخود ایک پاکیزہ انسان بن جاتا ہے۔ بلکہ یہ ایک معلوم شعوری واقعہ ہے جو ایک سچے مومن کے ساتھ پیش آتا ہے۔کوئی آدمی اگر بیمار نہ ہو، اُس کا جسم مکمل طورپر ایک صحت مند جسم ہو تو اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ اُس کے اندر شعوری یا غیر شعوری طورپر فخر و ناز کے جذبات پیدا ہوجاتے ہیں۔ اُس کے سینہ میں دردمندانہ احساسات کی پرورش نہیں ہوتی۔ یہاں تک کہ وہ ایک بے حس انسان بن کر رہ جاتا ہے۔لیکن جب ایک مومن بیماری میںمبتلا ہوتا ہے تو وہ اپنے عجز کو دریافت کرتاہے۔ اُس کے اندر دردمندی کی کیفیت پیدا ہو جاتی ہے۔ وہ اپنے بندہ ہونے کی حقیقت کا تجربہ کرتا ہے۔
اس طرح بیماری اُس کو دوسری چیزوں سے دور کرکے اللہ سے قریب کردیتی ہے۔ وہ اللہ کی طرف متوجہ ہوجاتاہے۔ وہ اللہ کو یاد کرنے لگتا ہے۔ اُس کے دل سے دعائیں اور التجائیں نکلنے لگتی ہیں۔ بیماری اُس کے لیے اللہ سے قربت کا ذریعہ بن جاتی ہے۔بیماری بظاہر ایک غیر مطلوب چیز ہے۔ لیکن اگر صحیح اسلامی ذہن ہو تو جسمانی بیماری آدمی کے لیے روحانی صحت کا ذریعہ بن جائے گی۔اس دنیا میںاصل اہمیت ذہنی بیداری کی ہے۔ بیدارذہن ہی اس قابل ہوتا ہے کہ وہ واقعات سے سبق لے۔ اور ذہن کو بیدار کرنے والی سب سے بڑی چیز اس دنیا میںصرف ایک ہے، اور وہ مشکل حالات ہیں۔
واپس اوپر جائیں

شدت پسندی نہیں

ایک حدیث رسول ان الفاظ میں آئی ہے:لا تشددوا على أنفسکم فیشدد علیکم، فإن قوما شددوا على أنفسہم فشدد اللہ علیہم، فتلک بقایاہم فی الصوامع والدیار (سنن أبی داؤد، حدیث نمبر4904)۔یعنی تم اپنے آپ پرسختی نہ کرو ورنہ تمہارے اوپر سختی کی جائے گی۔ کیوں کہ ایک قوم نے اپنے آپ پر سختی کی تو اللّٰہ نے بھی ان پر سختی کی۔ تو انہی لوگوں کے باقیات ہیں گرجوں میں اور خانقاہوں میں۔ اس حدیث میں تشدد سے مرادمحدود طور پر صرف مذہبی تشدد یا انتہا پسندانہ رہبانیت نہیں ہے، بلکہ اس کا تعلق انسانی زندگی کے تمام معاملات سے ہے۔ جس معاملہ میں بھی اعتدال کا طریقہ چھوڑ کر شدت کا طریقہ اختیار کیا جائے گا وہ سب اس حدیث کے حکم میں شامل ہوگا۔
اعتقادی شدت پسندی یہ ہے کہ جزئی اختلافات کی بنا پر ایک دوسرے کی تکفیر اور تفسیق کی جانے لگے۔ اسی طرح عبادتی شدت پسندی یہ ہے کہ فروعی مسالک کی بنیاد پر الگ الگ مسجدیں بنائی جائیں ،اور اس کو امت میں تفریق کی حدتک پہنچادیا جائے۔ اسی طرح معاملاتی شدت پسندی یہ ہے کہ رخصت کوکم تر سمجھ کر ہر معاملہ کو عزیمت کا سوال بنا دیا جائے۔شدت پسندآدمی اپنے آپ میں جیتا ہے۔ وہ صرف اپنی امنگوں کو جانتا ہے۔ اس بنا پر اس کی حیثیت اس انسان جیسی ہو جاتی ہے جو سڑک کو خالی سمجھ کر اس کے اوپر اپنی گاڑی دوڑانے لگے۔ ایسا آدمی کبھی کامیابی کی منزل تک نہیں پہنچ سکتا۔ اس دنیا میں کامیابی کا راز اعتدال پسندی ہے، نہ کہ شدت پسندی۔ شدت پسندی گویا خدا کے تخلیقی نقشہ کے خلاف جینے کی کوشش کرنا ہے، اوراعتدال پسندی خدا کے تخلیقی نقشہ کے مطابق اپنی زندگی کی تعمیر کرنا۔شدت پسندی اپنی ذات کے اعتبار سے تواضع کے خلاف ہے، اور دوسروں کے اعتبار سے رعایتِ انسانی کے خلاف۔ اور یہ دونوں چیزیں بلاشبہ اسلام میں مطلوب نہیں۔
شدت پسندی اللہ کو پسند نہیں۔ جو لوگ شدت پسندی کا طریقہ اختیار کرتے ہیں اُن کا انجام یہ ہوتا ہے کہ متشددانہ طریقہ اُن کی روایات میںشامل ہو کر اُن کے دین کا جزء بن جاتا ہے۔ اس طرح اُن کی بعد کی نسلیں مجبور ہو جاتی ہیں کہ وہ اُن کی پیروی کریں۔ کیوں کہ ایسا نہ کرنے کی صورت میں اُن کو محسوس ہوتا ہے کہ وہ اعلیٰ معیار سے کم تر درجہ کی دین داری اختیار کیے ہوئے ہیں۔
اس شدت پسندی کا تعلق محدود طورپر صرف رہبانیت سے نہیں ہے بلکہ اُس کاتعلق ہر دینی شعبہ سے ہے۔ مثلاً قومی اور سیاسی حقوق کی جدوجہد کے لیے دو ممکن طریقے ہیں۔ ایک پُر امن جدوجہد، اور دوسری پُر تشدد جد وجہد۔ اس معاملہ میں صحیح طریقہ یہ ہے کہ پُرامن اور غیر متشددانہ طریقۂ کار کے ذریعہ اپنے مقصد کے حصول کی جدوجہدکی جائے۔ اس کے برعکس، اگر متشددانہ طریقۂ کار کا انداز اختیار کیا جائے تو اس کےبیک وقت دو نقصان ہوں گے۔ ایک یہ کہ قوم کو غیر ضروری سختیاں برداشت کرنی پڑیں گی۔ دوسرے یہ کہ جب ایک بار متشددانہ طریقۂ کار کی روایت قائم ہوجائے گی تو اُسی کو جدوجہد کے اعلیٰ معیار کی حیثیت حاصل ہوجائے گی۔ متشددانہ طریقۂ کار کو بے نتیجہ سمجھتے ہوئے بھی لوگ اس پر قائم رہیں گے۔ کیوں کہ اس سے ہٹنے کے بعد لوگوں کو محسوس ہوگا کہ انہوں نے خود دین کے مطلوب معیار کو چھوڑ دیا ۔ اُنہوں نے عزیمت کے بجائے رخصت کا راستہ اختیار کرلیا۔ اُنہوں نے اقدام کے بجائے پسپائی کو اپنا طریقہ بنالیا۔
شدت پسندی ہی کی ایک صورت وہ ہے جس کو انتہاپسندی (extremism) کہا جاتا ہے۔ انتہا پسندی یہ ہے کہ آدمی حقائق اورامکانات کو نظر انداز کرکے اپنے عمل کا نقشہ بنائے۔ وہ عقل کے بجائے اپنے جذبات کی رہنمائی میں چلنے لگے۔ وہ دور اندیشی کے بجائے عجلت پسندی کی روش اختیار کر لے۔ وہ تدریج کے بجائے چھلانگ کے ذریعہ اپنا سفر طے کرنا چاہے۔ ایساآدمی یہ کرتا ہے کہ وہ شوق کو اپنے آگے رکھ دیتا ہے اور دور اندیشی کو اپنے پیچھے۔ وہ بھول جاتاہے کہ ہر ایک کی ایک حد ہے، خواہ وہ کوئی فرد ہو یا کوئی گروہ۔ حد کو نظرانداز کرنا ایسا ہی ہے جیسے کوئی شخص جلتے ہوئے انگارے کی گرمی کا اندازہ کرنے کے لیے اُس کو اپنے ہاتھ میں لے لے۔ یا پتھر کو توڑنے کے لیے اپنے سر کو ہتھوڑا بنا لے۔ اس قسم کا ہر فعل حد سے تجاوز کرنا ہے۔ اور حد سے تجاوز کرنے والے لوگ اس دنیا میں کبھی کامیاب نہیں ہوسکتے۔
واپس اوپر جائیں

تشدد کا سبب عدم قناعت

پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک حدیث ان الفاظ میں آئی ہے: قد افلح من أسلم ورزق کفافاً وقنعہ اللہ بما آتاہ(صحیح مسلم، حدیث نمبر 1054) یعنی وہ شخص کامیاب ہوا جواسلام لایا اور جس کو بقدر ضرورت رزق ملا اور وہ اُس پر قانع ہوگیا جواللہ نے اُس کو دیا۔
اس حدیث میں قناعت کا ذکر ہے۔ قناعت کی نفسیات اگر کسی کے اندرپوری طرح پیدا ہوجائے تو وہ اُس کو مکمل طورپر امن پسند بنادے گی۔ اس کے برعکس، جن لوگوں کے اندر قناعت کی نفسیات نہ ہو وہ اپنی حالت پر غیر مطمئن رہیں گے، اور آخر کار جھنجھلاہٹ میں مبتلا ہو کرمتشددانہ کارروائی شروع کردیں گے تاکہ جس چیزکو وہ پُر امن طورپر حاصل نہ کرسکے، اُس کو وہ تشدد کی طاقت سے حاصل کرلیں۔
حقیقت یہ ہے کہ قناعت سے امن کا مزاج پیدا ہوتا ہے، اور عدم قناعت سے تشدد کامزاج۔ قناعت کا جذبہ آدمی کے اندر یہ نفسیات پیدا کرتا ہے کہ وہ ایک پایا ہوا انسان ہے۔ اور جو آدمی اپنے آپ کو پایا ہواانسان سمجھے، وہ کبھی جھنجھلاہٹ اور تشدد کا شکار نہیں ہوسکتا۔
اس کے برعکس معاملہ اس انسان کا ہے جو عدم قناعت کی نفسیات میںمبتلا ہو۔وہ ہمیشہ احساس محرومی کا شکار رہے گا۔ اُس کا یہ احساس اُس کو مسلسل اُکسائے گا کہ جو کچھ اُس نے نہیں پایا اُس کو وہ حاصل کرنے کی کوشش کرے۔ اب اگر اُس نے دیکھا کہ وہ اپنی نہ پائی ہوئی چیز کو پر امن طریقہ سے حاصل نہیںکرسکتا تو وہ تشدد کے طریقوں کو استعمال کرکے اُس کو حاصل کرنا چاہے گا۔
وہ اُن تمام لوگوں کو اپنا دشمن سمجھ لے گا جن کووہ اپنے خیال کے مطابق، اپنی خواہش کی راہ میں رکاوٹ سمجھتا ہے۔ وہ اُن لوگوں سے نفرت کرے گا۔ وہ اُن لوگوں کے خلاف لڑنے کے لیے ہتھیار جمع کرے گا۔ حالانکہ یہ سب نتیجہ ہوگا اس بات کا کہ وہ خدا کے دیے ہوئے پر راضی نہ ہوسکا، وہ قناعت کے بجائے عدم قناعت کا شکار ہوگیا۔
واپس اوپر جائیں

سگریٹ نوشی کی عادت

پاکستان کے سابق فوجی حکمراں جنرل ایوب خان (1907-1974)کو سگریٹ نوشی کی عادت تھی۔ روز صبح ان کا بٹلر سگریٹ کی پیکٹ ٹرے میں رکھ کران کے بیڈ روم میں پہنچادیتا، اور وہ اپنے صبح کا آغاز سگریٹ سے کرتے تھے۔ ایک مرتبہ وہ مشرقی پاکستان کے دورے پر تھے۔وہاں ان کا بنگالی بٹلر ایک دن ان کو صبح کے وقت سگریٹ دینا بھول گیا۔ یہ دیکھ کر جنرل ایوب خاںکو شدید غصہ آیا۔ وہ اس بنگالی بٹلر کوسختی سےڈاٹنے لگے۔ جب جنرل ایوب خان خاموش ہوئے تو بنگالی بٹلر نے انھیں ادب سے کہا کہ کمانڈر میں قوت برداشت ہونی چاہیے تاکہ وہ فوج کو چلائے ۔ آپ کے عدم برداشت سے مجھے پاکستانی فوج اور اس ملک کا مستقل خراب دکھائی دے رہاہے۔ بٹلر کی بات ایوب خان کے دل پر لگی، انھوں نے اسی وقت سگریٹ پیناچھوڑدیا، اس کے بعدپھر کبھی سگریٹ نہیں پیا۔ (ماہنامہ انذار، مئی 2017، صفحہ 28)
عام طور پر یہ سمجھا جاتا ہے کہ سگریٹ پینے کی عادت ہوجائے تو اس کو چھوڑنا بہت مشکل ہوجاتا ہے۔ مگر تاریخ میں اس طرح کے واقعات ہیں کہ ایک شخص جو سگریٹ نوشی کا عادی تھا، اس کو کسی موقعہ پر سخت جھٹکا لگا، اور پھر اسی وقت اس نے سگریٹ پینا چھوڑ دیا، اور پھر کبھی نہیں پیا۔ اس طرح کی عادتیں یا تو فوراً چھوٹتی ہیں، یا کبھی نہیں چھوٹتی ۔
تجربہ ہے کہ کوئی عادت تدریجی طور پر نہیں چھوٹتی ہے۔ وہ اچانک فیصلہ کے تحت چھوٹتی ہے۔ جو لوگ کسی عادت کو تدریجی طور پر چھوڑنا چاہیں، وہ اپنی عادت کو کبھی چھوڑ نہیں پاتے۔ کیوں کہ تدریجی طریقے میں طاقت ور ارادہ (strong will power) کبھی پیدا نہیں ہوتا۔ طاقتور ارادہ ہمیشہ کسی سخت جھٹکے کے بعد پیدا ہوتا ہے۔ طاقتور ارادہ اچانک پیدا ہوتا ہے، نہ کہ تدریجی طور پر۔ آپ کوکوئی بڑا کام کرنا ہے تو طاقتور ارادہ پیدا کیجیے، اس کے بعد بڑا کام کرنا آپ کے لیے آسان ہوجائے گا۔ یہی اس معاملے میں واحد طریقۂ کار ہے۔
واپس اوپر جائیں

صلاحیت کا اندازہ

یہ دیکھا گیا ہے کہ آدمی اکثر اپنے آپ کو اس سے زیادہ سمجھتا ہے، جتنا کہ دوسرے لوگ اس کو سمجھتے ہیں۔ ایسا کیوں ہوتا ہے۔ اس کا سبب یہ ہے کہ آدمی کے اندر صلاحیت ابتدائی طور پر بالقوۃ (potential) طور پر ہوتی ہے، وہ صلاحیت واقعہ اس وقت بنتی ہے، جب کہ کوئی شخص اپنے اس بالقوۃ کوبالفعل (actual) بنا لے۔
عام طور پر لوگ شعوری یا غیر شعوری طور پراس فرق کو نہیں سمجھتے۔ وہ اپنا اندازہ اپنی فطری صلاحیت کے اعتبار سے کرتے ہیں۔ وہ بھول جاتے ہیں کہ کسی کی صلاحیت دوسروں کے لیے صرف اس وقت واقعہ بنتی ہے، جب کہ وہ آدمی اپنی اس صلاحیت کو واقعہ کی شکل دے دے۔صلاحیت ابتدائی طور پر ایک داخلی چیز ہے، جو ظاہری طور پر دکھائی نہیں دیتی۔ اس لیے آدمی خود تو اس کو محسوس کرسکتا ہے۔ لیکن دوسرے لوگوں کے لیے وہ ایک نامعلوم حقیقت بنی رہے گی۔
لوگوں کا یہ مزاج ان کو دوسروں کے بارے میں منفی بنا دیتا ہے۔ وہ سمجھتے ہیں کہ لوگ اس کا اعتراف نہیں کررہے ہیں۔ جو چیز بے خبری کی بنا پر ہوتی ہے، اس کو وہ حسد پر محمول کرلیتے ہیں۔
یہ روش ایک مہلک روش ہے۔ اس معاملے میں آدمی کے لیے دو آپشن (option)ہوتا ہے۔ یا تو وہ لوگوں کے اعتراف اور بے اعترافی سے بے نیاز ہوجائے۔ وہ اس کی پرواہ نہ کرے کہ لوگ اس کو کیا مقام دے رہے ہیں۔ اور اگر وہ یہ چاہتا ہے کہ اس کو لوگوں کے درمیان وہ مقام ملے جس کا وہ اپنے آپ کو مستحق سمجھتا ہے تو اس کو چاہیے کہ وہ لوگوں کی نظر میں اپنے آپ کو اس کے مطابق بنا ئے۔
یہ حقیقت ہے کہ لوگ کسی انسان کو اس کی داخلی صفت کے اعتبار سے نہیں دیکھتے۔ وہ صرف یہ جانتے ہیں کہ خارجی اعتبار سے وہ کیسا ہے۔ خارج کے اعتبار سے آپ جیسے ہوں گے، وہی درجہ آپ کو دوسروں کی نظر میں ملے گا۔ نہ اس سے کم نہ اس سے زیادہ۔
واپس اوپر جائیں

خبرنامہ اسلامی مرکز — 255

■ مسٹر مارسیا ہارمنسین (Marcia Hermansen) شکاگو کی لوئلا یونیورسٹی (Loyola University) میں تھیولوجی کی پروفیسر ہیں۔ انھوں نے 9 مارچ 2017 کو جامعہ ملیہ اسلامیہ (نئی دہلی) میں ایک لکچر دیا۔ اس لکچرکا عنوان تھا— Muslim Theological Approaches to Nonviolence ۔ اس خطاب میں انھوں نے عدم تشدد اور امن کے میدان میں صدر اسلامی مرکز کے کنٹری بیوشن کا بطور خاص اعتراف کیا۔
■ 4 اپریل 2017 کی شام کو امریکا کے مسٹر کیلی کرسپ (Kelly Crisp) صدر اسلامی مرکز سے ملاقات کے لیے آئے۔ مسٹر کیلی اس سے پہلے صدر اسلامی مزکر کی کتابیں پڑھ چکے ہیں۔ دورانِ گفتگو انھوں نے کہا کہ آپ کی کتابیں پڑھنے سے روحانی ارتقا حاصل ہوتا ہے۔ انھوں نے مزید کہا کہ آج سے میں چھوٹی سے چھوٹی چیزوں سے سبق حاصل کرنے کی کوشش کروں گا۔
■ 4 اپریل 2017 کو سی پی ایس (ناگپور ٹیم) کے ممبر جناب ساجد احمد صاحب نے ایس ایس ہائی اسکول اور جونیئر کالج موربا (مہاراشٹر) کا دورہ کیا۔ دورہ کا مقصد پرنسپل اور اسٹاف ممبران میں قرآن اور دعوہ لٹریچرتقسیم کرنا تھا۔ ان میں اکثریت مراٹھی جاننے والوں کی تھی، لہذا ان کو مراٹھی زبان میں قرآن اور دعوہ لٹریچر دیئےگئے۔انھوں نے اس کو بخوشی قبول کیا اورشکریہ ادا کیا۔
■ یونیورسٹی آف نوٹرےڈیم(امریکا) اور انسٹی ٹیوٹ آف سوشل اینڈ ریلیجس تھاٹ (نئی دہلی) کے اشتراک سے دینی مدارس کے فضلا کے لیے ایک پروگرام شروع کیا گیا ہے۔ اس پروگرام کا مقصد مدارس کے ان فضلاء کے اندر جدیدعلمی شعور پیدا کرنا ہے۔اس پروگرام کودہلی میں ڈاکٹر وارث مظہری (لکچرار، اسلامک اسٹڈیز، جامعہ ملیہ اسلامیہـ،نئی دہلی) لیڈ کررہے ہیں۔ 8 اپریل 2017 کو ان حضرات نے صدر اسلامی مرکز سے ملاقات کی اور ان سے استفادہ کیا۔ آخر میں ان سبھی حضرات کو صدر اسلامی مرکز کی کتابوں کا ایک ایک سٹ دیا گیا۔
■ 8 اپریل 2017 کو سی پی ایس (ممبئی ) کے ممبران دہلی تشریف لائے۔ ان کی دہلی آمد کا مقصد صدر اسلامی مرکز سے استفادہ کرنا، اور اپنے دعوتی تجربات کو شیئر کرنا تھا۔ اس سلسلے میں ان کی ایک میٹنگ سی پی ایس کی دہلی ٹیم سے ہوئی، جس میں آئندہ کے دعوتی لائحہ عمل کے بارےمیں تبادلہ خیال ہوا، اور کچھ اہم فیصلے لیے گئے۔
■ 9 اپریل 2017 کو پیس آڈیٹوریم (سہارنپور)میں ڈاکٹر ہانیمان ڈے (Dr. Hahnemann’s Day) کے موقع پر ایک تقریب کا انعقاد عمل میں آیا۔ تقریب کے بعد یوپی اور پنجاب سے آئے ہوئے معزز مہمانوں کوسی پی ایس سہارن پور کی جانب سے بطور تالیف پیس ایوارڈ اور بطور دعوت صدر اسلامی مرکز کی کتابوں کا ایک ایک سٹ دیا گیا۔
■ 11 اپریل 2017 کو ودیا ساگر یونیورسٹی(مدنا پور ،مغربی بنگال) نے بنگال کے عظٰیم اسکالرپنڈت ایشور چندر ودیاساگر کی کتاب کے نئے ایڈیشن کے اجراء کی تقریب کا اہتمام کیا ۔ اس پروگرام میں یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر رنجن چکرورتی شریک تھے۔ اس کے علاوہ اسپیکر کی حیثیت سے جو لوگ شریک ہوئے وہ ہیں، پروفیسر ارون ناگ (ایڈیٹر ، ودیا ساگر رچناسامگرا) اور مسٹر سیباجی پرتیم بسو (پروفیسر آف پولیٹکل سائنس، ودیاساگر یونیورسٹی) ۔ سی پی ایس (کولکاتا )کی متحرک خواتین ممبر،محترمہ شبینہ علی اور شبانہ خاتون نے پروگرام میں شرکت کی۔ انھوں نےوہاںپر موجود تمام اہم شخصیات سے تبادلۂ خیال کیا، اور ان کو دعوتی لٹریچر تحفے میں دیا۔تمام لوگوں نےاس اسپریچول گفٹ کو خوشی اور شکریہ کے ساتھ قبول کیا۔ یہ تقریب کولکاتا کے مشہور وکٹوریہ میموریل ہال میں منعقد کی گئی تھی۔
■ 12 اپریل 2017 کو جمیل احمد ملک صاحب کے صاحبزادے کے ولیمہ کا اہتمام چوپرا لان (ناگپور) میں کیا گیا۔ اس تقریب میں اہم شخصیات مدعو تھیں۔ سی پی ایس (ناگپور ٹیم) کو اس تقریب میں ترجمہ قرآن(مراٹھی، ہندی انگلش اور اردو) اور صدر اسلامی مرکز کے دعوہ لٹریچر کو مہمانوں کے درمیان تقسیم کرنے کی دعوت ملی۔سی پی ایس ٹیم نے مہمانوں کے درمیان ترجمۂ قرآن اور دعوہ لٹریچر بطور تحفہ تقسیم کیا۔
■ 12 اپریل 2017 کو شہاب الدین احمد صاحب (سینئر ممبر،سی پی ایس ، کولکاتا اور سابق ڈپٹی کمشنرآف کمرشیل ٹیکس، حکومت بنگال) نے عالمی یوم صحت کے موقع پرشہر کے مشہور ڈاکٹر اور معزز شخصیات کو صدر اسلامی مرکز کے دعوتی لٹریچربطور تحفہ پیش کیا۔ ان تمام لوگوں نے خوشی اور شکریہ کےساتھ یہ اسپریچول گفٹ قبول کیا۔ ان شخصیات میں ڈاکٹر بشوروپ رائے چودھری ذیابیطس کے علاج، اور ڈائٹ کے لیے عالمی شہرت یافتہ ہیں۔ اس کے علاوہ جناب شہاب الدین صاحب نے اسی دن مسٹر بجالی گھوش ([Bijalee Ghosh] سابق اے ڈی ایم و اسپیشل سکریٹری) کو قرآن اور صدر اسلامی مرکز کی کتابیں ہدیہ میں دیں۔ یہ مسٹر بجالی گھوش کا بحیثیت ہیرنگ آفیسر (hearing officer) ریٹائرمنٹ کا موقع تھا۔ موصوف نے شکریہ کے ساتھ اسپریچو ل گفٹ قبول کیا۔
■ 14 اپریل 2017 کو چنئی میموریل سنٹر میں ڈاکٹر بھیم راؤ امبیڈکر کی یومِ پیدائش کی تقریب کا انعقاد ہوا۔ بین المذاہب ہم آہنگی کے فروغ کے لئے ایک کثیر مذہبی مقدس کتاب کی تلاوت کا اہتمام کیا گیا جس میںمختلف مذاہب ، مثلا ہندو ازم، مسیحیت، بدھ ازم، اور اسلام کے دینی رہنماؤں کو مدعو کیاگیا تھا۔ سی پی ایس چنئی کی طرف سے مولانااسرارالحسن عمری صاحب نے قرآن کی تلاوت کی۔ پروگرام کے بعد شرکاء کے درمیان ترجمہ قرآن تقسیم کیے گئے۔ شرکاء میں بڑی تعداد اعلى افسران کی تھی۔
■ اپریل 2017 میں چائنا کی نائب صدر لیو یانڈونگ (Liu Yandong)نے ترکی کا دورہ کیا تھا۔ اس دوران 19 اپریل 2017 کو وہ استانبول کی تاریخی بلو مسجد (Sultan Ahmet)کو دیکھنے کے لیے گیے۔مسجد کے امام صاحب نے اس موقع پر ان کو چائنیز ترجمۂ قرآن تحفہ میں پیش کیا۔ یہ وہی ترجمۂ قرآن ہےجس کو گڈ ورڈ بکس، دہلی نے شائع کیا ہے۔ واضح ہو کہ ترکی کی دو مسجدوں میں آنے والے سیاحوں کے درمیان گڈ ورڈ بکس سے چھپے ہوئے قرآن کے تراجم تقسیم کیے جاتےہیں۔ ایک ہے بلو مسجد، اور دوسری ،رستم پاشا مسجد (Rüstem Paşa Mosque) ۔
■ 19 اپریل 2017 کو جماعت اسلامی ( چنئی) نے صحافیوں اور مصنفوں کے لیے ایک گٹ ٹو گیدر کا اہتمام کیا۔ سی پی ایس(چنئی) نے اس میٹنگ میں شرکت کی، اور لوگوں سے تبادلۂ خیال کیا، اور دعوہ لٹریچر تقسیم کیا۔
■ 23 اپریل 2017 کو سو سال پرانے انگریزی اخبار ’دی ہندو’ نے اپنے بک ڈے کے موقع پر ایک تقریب ’رائٹرس ورسس ریڈرس میٹس‘ کا اہتمام کیا۔ یہ تقریب اخبار کے ہیڈ کواٹر چنئی میں منعقد ہوئی۔ چنئی سی پی ایس ٹیم نے اس میں شرکت کی اور اخبار کے ایڈیٹوریل ٹیم سے تبادلۂ خیال کیا۔ بعد میں اس پوری گفتگوکو دی ہندو نے ڈنائونسنگ مسلم اکسٹریمزم ('Denouncing Muslim Extremism') کے عنوان سے شائع کیا۔
■ یکم مئی 2017 کو زی ٹی کی طرف سے فائیو اسٹار ہوٹل نور محل (کرنال، ہریانہ) میں ایوارڈ تقریب کا اہتمام کیا گیا، جس میں زی ٹی وی کی جانب سے ڈاکٹر محمداسلم خان(سی پی ایس ، سہارن پور) کو اسپریچوالٹی اور ہیلتھ سیکٹر میں ان کی حصہ داری کے لیے ایوارڈ سے نوازا گیا۔ تقریب کے بعد شرکاء کے درمیان سی پی ایس سہارن پور کی جانب سےترجمۂ قرآن و دعوہ لٹریچر تقسیم کیا گیا۔
■ 2 مئی 2017 کو وائس آف امریکا کے لئے مسٹر ارباب علی نے صدر اسلامی مرکز کا انٹرویو لیا۔ اس انٹرویو کا موضوع ایکسٹریمزم (Extremism) تھا۔ یہ انٹرویو آن لائن لیا گیاتھا۔
■ انٹرفیتھ کانفرنس فار پیس کے عنوان سے ایک سیمینار 6مئی 2014 کو کراچی، پاکستان، میں منعقد ہوا تھا، جس میں مختلف مذاہب کے ماننے والے اسکالروں نے حصہ لیا۔ جیسےکناڈا سے ڈاکٹر تموتھی پال (Timothy Paul)، امریکا سے ڈاکٹر مائک گوش (Mike Ghouse)، اورانڈیا سے صدر اسلامی مرکزنے خطاب کیا۔ صدر اسلامی مزکر کا خطاب بذریعہ انٹرنیٹ ہوا۔اس پروگرام کے کنوینر تھے، ڈاکٹر یعقوب علی شاہ۔ یہ پروگرام فیس بک پر لائیو کاسٹ کیا گیا تھا، جس کو دنیا کے مختلف حصوں میں دیکھا اور پسند کیا گیا۔
■ سی پی ایس کی مقامی ٹیمیں اپنے طور پر آپس میں ملتی جلتی رہتی ہیں، تاکہ مشن کے کام کو بڑھایا جاسکے۔اس سلسلے میں 5 مئی 2017 کوسی پی ایس حیدرآباد ٹیم نے کرنول ٹیم کے ساتھ ایک میٹنگ کی۔اس میں دونوں ٹیموں نے اپنے دعوتی تجربات شیئر کیے، اور آئندہ کے لائحہ عمل کے بارے میں ایک دوسرے سے صلاح ومشورہ کیا۔
■ کولمبیا یونیورسٹی ، امریکا کا ایک پروگرام ہے، جس کے تحت مختلف زبانیں سکھائی جاتی ہیں۔ سکھائی جانے والی زبانوں میں اردو بھی شامل ہے۔ اس پروگرام کا ایک حصہ یہ ہے کہ اہل زبان سے مختلف موضوعات پرویڈیو انٹرویو لے کر ان کو سیکھنے والے طلبا کو دکھایا جائے تاکہ وہ اہل زبان کی طرح زبان کو استعمال کرنا سیکھ سکیں۔ اس کے تحت عید الفطر اور شب برأت کے موضوع پر ایک ڈاکومینٹری فلم بنائی گئی ہے، جو ان طلبا کو دکھائی جائے گی۔ اس کے لیے 11 مئی 2017 کی شام کو صدر اسلامی مرکز اور سی پی ایس چیر پرسن ڈاکٹر فریدہ خانم اورمولانا فرہاد احمد سےاردو زبان میں ویڈیو انٹرویولیا گیا۔ آخر میں انٹرویورمسٹر عامر اور ان کی ٹیم کو صدر اسلامی مرکز کی کتابوں کا ایک سٹ دیا گیا۔
■ مسٹر سترتھا سہارا(Sutirtha Sahara)فری لانس صحافی ہیں، اوربی بی سی، ڈچ ٹی وی اینڈ ریڈیو، دی گارجین، نیوزڈیلی(News Daily) کے لیے لکھتے ہیں۔ انھوں نے 12 مئی 2017 کو تین طلاق کے موضوع پر صدر اسلامی مرکز کا انٹرویو لیا۔ انٹرویو کے بعد ان کو صدر اسلامی مرکز کی کتابوں کا ایک سیٹ دیا گیا۔
■ گڈورڈ بکس (دہلی) کو نیدر لینڈ کے ایمسٹرڈم ایرپورٹ کے قریب کے ایک ہوٹل سےایک ای میل موصول ہوا ہے،جو دعوہ ورک کرنے واولوں کے لیےبہت ہی حوصلہ افزا ہے ، نیز دعوت کے امکان کو بتاتا ہے۔ ای میل کے مطابق، ہوٹل انتظامیہ کی یہ خواہش ہے کہ وہ اپنے ہوٹل کے ہر کمرے میں مہمانوں کے لئے قرآن کی کاپی رکھیں۔ ای میل کے الفاظ یہ ہیں:
Good day, I would like to put in every single room a Quran for our guests. If there is any chance we can get them for free. We have 148 rooms in our hotel in Netherland (Holland). Kind regards (CHARITH PERERA, Housekeeping Manager, Courtyard by Marriott Amsterdam Airport)
■ 18 مئی 2017 کو ہندی اخبار، امر اجالا کے اسپیشل کرسپنڈنٹ گنجن کمار نے صدر اسلامی مرکز کا انٹرویو لیا. دوران انٹرویو جو باتیں ہوئیں، ان میں سے ایک یہ تھی کہ کوئی گورنمنٹ آپ کے لیے کچھ نہیں کرسکتی ہے۔ آپ کو خود آگے بڑھ کر اپنے لیے کرنا ہوگا۔ خاص طورپر تعلیم کے شعبے میں توجہ دینی ہوگی۔انٹرویو کے بعد ان کو قرآن اور دوسری کتابیں دی گئیں۔
■ سی پی ایس چیر پرسن ڈاکٹر فریدہ خانم نے 19 مئی 2017 کو پیس اینڈ اسپریچوالٹی کے موضوع پردی انڈین ہائٹ اسکول(The Indian Heights School)، دوارکا، نئی دہلی، کے اسٹودنٹس کے سامنے خطاب کیا۔ اس پروگرام کا انعقاد ساؤتھ کورین این جی او، انٹرنیشنل پیس یوتھ گروپ، ایچ ڈبلیو پی ایل، ریلیجن اینڈ پیس (HWPL, Religion and Peace) نے کیا تھا۔
واپس اوپر جائیں