Pages

Wednesday, 18 July 2018

Al Risala | August 2018 (الرسالہ،اگست)

4

-حج کی تاریخ

7

- قربانی اور اسلام

22

- انا کی قربانی

23

- اصحابِ رسول

30

- ملتِ ابراہیم

31

- حج کی اجتماعی اہمیت

36

- حج کی اسپرٹ

38

- حقیقی اہمیت

39

- حج: ایک انتباہ

40

- حج کا فائدہ

42

- حج کی معنویت

44

- حج بیت اللہ کے بعد

45

- اخوانِ ابرہیم ، اخوانِ محمد

46

- خبرنامہ اسلامی مرکز —


حج کی تاریخ

حج ایک عالمی اجتماعی عبادت ہے۔ اس کی تاریخیں قمری مہینے کے مطابق مقرر کی گئی ہیں۔ حج کے مراسم مکہ اور اس کے آس پاس کے مقامات پر پانچ دنوں کے اندر 8 ذی الحجہ سے 12 ذی الحجہ تک ادا کیے جاتے ہیں۔حج کی تاریخ پیغمبر ابراہیم اور پیغمبر اسماعیل کی زندگی سے وابستہ ہے۔
اللہ کا یہ منصوبہ تھاکہ توحید کی بنیاد پر ایک انقلاب برپا کیا جائے۔ اِس مقصد کے لیے قدیم دور میں اللہ نے بہت سے پیغمبر بھیجے۔ مگر اِن پیغمبروں کے ذریعے کوئی ٹیم نہیں بنی۔ اِس لیے قدیم زمانے میں مطلوب انقلاب برپا نہ ہوسکا۔ اس کے بعد اللہ تعالی نے حضرت ابراہیم کے ذریعے ایک نیا منصوبہ بنایا۔ اِس منصوبے کے تحت حضرت ابراہیم نے اپنی بیوی ہاجرہ اور اپنے بچے اسماعیل کو عرب کے صحرا میں بسا دیا۔ اِس واقعے کی طرف قرآن میں اِن الفاظ میں اشارہ کیاگیاہے: رَبَّنَآ اِنِّىْٓ اَسْکَنْتُ مِنْ ذُرِّیَّتِیْ بِوَادٍ غَیْرِ ذِیْ زَرْعٍ عِنْدَ بَیْتِکَ الْمُحَرَّم(14:37)۔
ہاجرہ کے شوہر حضرت ابراہیم بن آزر تقریباً ساڑھے چار ہزار سال پہلے عراق میں پیدا ہوئے اور 175 سال کی عمر پا کر اُن کی وفات ہوئی۔ اُنہوں نے اپنے زمانے کے لوگوں کو توحید کی دعوت دی۔ مگر شرک اور بُت پرستی کا غلبہ ان لوگوں کے ذہن پر اتنا زیادہ ہوگیا تھا کہ وہ توحید کے پیغام کو قبول نہ کر سکے۔ حضرت ابراہیم نے ایک سے زیادہ جنریشن تک لوگوں کو توحید کا پیغام دیا۔ مگر اس زمانے میں شرک ایک تہذیب کی صورت اختیار کرکے لوگوں کی زندگی میں اس طرح شامل ہوچکا تھا کہ وہ اس سے الگ ہو کر سوچ نہیں سکتے تھے۔ پیدا ہوتے ہی ہر آدمی کو شرک کا سبق ملنے لگتا تھا۔ یہاں تک کہ ماحول کے اثر سے اُس کا ذہن پوری طرح شرک میں کنڈیشنڈ ہوجاتا تھا۔
اُس وقت اللہ تعالیٰ کے حکم سے حضرت ابراہیم نے ایک نیا منصوبہ بنایا۔ وہ منصوبہ یہ تھا کہ متمدّن شہروں سے باہر غیر آباد صحرا میں ایک نسل تیار کی جائے۔ اسی مقصد کے لیے حضرت ابراہیم نے ہاجرہ اور اسماعیل کو مکہ میں آباد کیا۔اِس صحرائی ماحول میںلمبی مدت تک توالد وتناسل کے ذریعے ایک جان دار قوم تیارہو ئی۔ اِسی قوم کے اندر پیغمبر ِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی پیدائش ہوئی۔ پھر اِسی قوم کے اندر کام کرکے وہ ٹیم بنی جس کو اصحابِ رسول کہا جاتا ہے۔
پیغمبر ِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے مشن کے تحت جو عظیم تاریخ بنی، وہ تمام تر منصوبۂ الٰہی کے تحت بنی۔ پیغمبر ِ اسلام سے پہلے ہزاروں سال کے درمیان خدا کی طرف سے بہت سے پیغمبر آئے۔ اِن پیغمبروں کے زمانے میں توحید کا اعلان توہوا، لیکن توحید کی بنیاد پر کوئی اجتماعی انقلاب نہ آسکا، جب کہ اللہ تعالی کو مطلوب تھا کہ پیغمبر کے ذریعے ایک ایسا موحدانہ انقلاب برپا ہو جو شرک کے دور کو ختم کرے اور توحید کا دور دنیا میں لے کر آئے۔ آخر کار اللہ تعالی کی یہ منشا ہوئی کہ وہ تاریخ میں مداخلت کرے اور خصوصی نصرت کے ذریعے وہ انقلاب برپا کرے جو کہ اللہ کے تخلیقی منصوبے کے تحت ضروری تھا۔ اللہ تعالی کے عام منصوبے کے مطابق، اِس منصوبے کی تکمیل اسباب کی صورت میں کی گئی۔ خاتم النبیین محمد صلی اللہ علیہ وسلم اِس انقلاب کی بنیادی کڑی تھے۔
اللہ تعالی کے اِس خصوصی منصوبے کا آغاز چار ہزار سال پہلے حضرت ہاجرہ، حضرت ابراہیم اور حضرت اسماعیل کے ذریعے عرب کے صحرا میں ہوا۔ اِس منصوبے کے تحت لمبی مدت کے دوران ایک خصوصی نسل تیار کی گئی جس کو بنو اسماعیل کہاجاتاہے۔ اِس نسل کی اعلی خصوصیات کی بنا پر ایک مستشرق نے اس کو ہیروؤں کی ایک قوم (a nation of heroes) کا لقب دیا ہے۔ اِسی خصوصی نسل میں پیغمبر ِ اسلام اور آپ کے اصحاب پیداہوئے۔ اِس کے بعد اللہ کی برتر تدبیر کے تحت بہت سے موافق حالات ظہور میں آئے۔ یہ اپنے آغاز سے انجام تک، ایک انتہائی اعلی نوعیت کا خدائی منصوبہ تھا۔ پیغمبر ِ اسلام اور آپ کے اصحاب کے ذریعے جو عظیم اسلامی تاریخ بنی، وہ در اصل اِسی منصوبۂ الٰہی کا نتیجہ تھی۔
قرآن میں اِس حقیقت کو نہایت واضح الفاظ میں بیان کیا گیا ہے کہ پیغمبر اور اصحابِ پیغمبر کے زمانے میں جو تاریخی انقلاب آیا، وہ کسی فرد کا شخصی کارنامہ نہ تھا، بلکہ وہ براہِ راست طورپر اللہ کے ایک برتر منصوبے کا نتیجہ تھا۔ اِس سلسلے میں قرآن کی دو آیتیں یہ ہیں:یُرِیدُونَ لِیُطْفِئُوا نُورَ اللَّہِ بِأَفْوَاہِہِمْ وَاللَّہُ مُتِمُّ نُورِہِ وَلَوْ کَرِہَ الْکَافِرُونَ ۔ ہُوَ الَّذِی أَرْسَلَ رَسُولَہُ بِالْہُدَى وَدِینِ الْحَقِّ لِیُظْہِرَہُ عَلَى الدِّینِ کُلِّہِ وَلَوْ کَرِہَ الْمُشْرِکُونَ(61:8-9)۔ یعنی یہ لوگ چاہتے ہیں کہ وہ اللہ کے نور کو اپنے منہ سے بجھا دیں، حالاں کہ اللہ اپنے نور کو پورا کرکے رہے گا، خواہ یہ منکروں کو کتنا ہی ناگوار ہو۔وہ اللہ ہی ہے جس نے اپنے رسول کو ہدایت اور دینِ حق کے ساتھ بھیجا، تاکہ اللہ اس کو سب دینوں پر غالب کردے، خواہ یہ مشرکوں کو کتنا ہی ناگوار ہو۔
پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اِس حقیقت کو بار بار نہایت واضح الفاظ میں بیان فرمایا ہے۔ اِس کی ایک مثال یہ ہے کہ آپ کے مشن کے آغاز کے تقریباً 20 سال بعد مکہ فتح ہوا، جو کہ اُس وقت پورے عرب میں ہر اعتبار سے مرکز کی حیثیت رکھتا تھا۔ روایات میں آتا ہے کہ فتحِ مکہ کے وقت جب آپ فاتحانہ حیثیت سے مکہ میں داخل ہوئے تو احساسِ تواضع کے باعث آپ کی گردن جھکی ہوئی تھی، حتی کہ لوگوں نے دیکھا کہ آپ کی داڑھی کجاوے کی لکڑی کو چھورہی ہے۔ اُس وقت کعبہ کے دروازے پر کھڑے ہو کر آپ نے جوخطبہ دیا، اُس میں یہ الفاظ تھے:لَا إِلَہَ إِلَّا اللَّہُ وَحْدَہُ، صَدَقَ وَعْدَہُ، وَنَصَرَ عَبْدَہُ، وَہَزَمَ الْأَحْزَابَ وَحْدَہُ( سنن أبی داؤد،حدیث نمبر 4547)۔ یعنی ایک اللہ کے سوا کوئی اللہ نہیں۔ اللہ نے اپنا وعدہ سچ کر دکھایا۔ اللہ نے اپنے بندے (محمد) کی نصرت کی اور اللہ نے دشمن کی جماعتوں کو تنہا شکست دے دی۔
٭ ٭ ٭ ٭٭
’’لبیک‘‘ یعنی ’’میں حاضر ہوں‘‘، کہنے کامطلب یہ نہیں ہے کہ میں مکہ میں رہنے کے لیے حاضر ہوں۔ یہ وطن چھوڑ کر آنے کا کلمہ نہیں، بلکہ روش چھوڑ کر آنے کا کلمہ ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ میں تیری فرمانبرداری کے لیے حاضر ہوں۔ میں اس کے لیے تیار ہوں کہ تو جو حکم دے، اس پر میں دل و جان سے قائم ہوجاؤں۔’’لبیک‘‘کا اقرار آدمی حج کے مقام پر کرتا ہے، مگر ا س کی عملی تصدیق وہاں سے لوٹ کر اس کو اپنے وطن میں کرنی پڑتی ہے، جہاں اس کو روز وشب میں اپنی زندگی گزارنا ہے۔
واپس اوپر جائیں

قربانی اور اسلام

حج اور عید اضحی کے موقع پر تمام دنیا کے مسلمان ایک مخصوص دن میں خدا کے نام پر جانور کی قربانی کرتے ہیں۔ یہ قربانی عام زندگی سے کوئی علیحدہ چیز نہیں، اس کا تعلق انسان کی تمام زندگی سے ہے۔ اِس کا مطلب یہ ہے کہ اہلِ ایمان کو چاہیے کہ وہ قربانی کی اسپرٹ کے ساتھ دنیا میں رہیں۔ قربانی کی اسپرٹ تمام اسلامی اعمال کا خلاصہ ہے۔
قرآن میں بتایا گیا ہے :وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْإِنْسَ إِلَّا لِیَعْبُدُونِ (51:56) ۔یعنی اور میں نے جن اور انسان کو صرف اس لیے پیدا کیا ہے کہ وہ میری عبادت کریں ۔ عبادت کی حقیقت کیا ہے۔ اس کو پیغمبر ِاسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے ان الفاظ میں بیان کیا ہے:أَنْ تَعْبُدَ اللَّہَ کَأَنَّکَ تَرَاہُ، فَإِنْ لَمْ تَکُنْ تَرَاہُ فَإِنَّہُ یَرَاکَ (صحیح البخاری، حدیث نمبر 50 ؛صحیح مسلم، حدیث نمبر 8)۔ یعنی تم اللہ کی عبادت اس طرح کرو، گویا کہ تم اس کو دیکھ رہے ہو، اور اگر تم اس کو نہیں دیکھتے تو وہ تم کو دیکھتا ہے۔
اِس حدیثِ رسول سے معلوم ہوتا ہے کہ قرآن کے تصورِ عبادت کے مطابق، انسان کے لیے زندگی کا صحیح طریقہ کیا ہے۔ وہ طریقہ یہ ہے کہ انسان، خدا کی ہستی کو اِس طرح دریافت کرے کہ اُس کو ہر لمحہ خدا کی موجودگی (presence) کا احساس ہونے لگے۔
اس کا شعور اِس معاملے میں اتنا بیدار ہو جائے کہ اس کو ایسا محسوس ہونے لگے گویا کہ وہ خدا کو دیکھ رہا ہے۔ یہ احساس اس کی پوری زندگی کو خدائی رنگ میںرنگ دے۔ اس کے ہر قول اور ہر عمل سے ایسا محسوس ہونے لگے جیسے کہ وہ خدا کو دیکھ رہا ہے، جیسے کہ وہ جو کچھ کر رہا ہے، خدا کی براہِ راست نگرانی کے تحت کررہا ہے۔ اِسی زندہ شعور کے ساتھ زندگی گزارنے کا نام عبادت ہے۔ یہ درجہ کسی آدمی کو صرف اُس وقت ملتا ہے، جب کہ اس نے خدا کو اپنا واحد کنسرن (sole concern) بنالیا ہو۔
ارکانِ اسلام اور حج
عبادت کا تعلق انسان کی پوری زندگی سے ہے۔ ان میں سے پانچ چیزیں بنیادی عبادت کی حیثیت رکھتی ہیں۔ وہ پانچ چیزیں کیا ہیں، ان کو پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے ان الفاظ میں بیان کیا ہے:بُنِیَ الإِسْلاَمُ عَلَى خَمْسٍ:شَہَادَةِ أَنْ لاَ إِلَہَ إِلَّا اللَّہُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّہِ، وَإِقَامِ الصَّلاَةِ، وَإِیتَاءِ الزَّکَاةِ، وَالحَجِّ، وَصَوْمِ رَمَضَانَ(صحیح البخاری، حدیث نمبر 8) یعنی اسلام کی بنیاد پانچ چیزوں پر قائم ہے۔اِس بات کی گواہی دینا کہ ایک خدا کے سوا کوئی معبود نہیں۔ اور محمد، اللہ رسول ہیں۔ اور نماز قائم کرنا، اور زکوٰۃ ادا کرنا، اور حج پورا کرنا،اور رمضان کے روزے رکھنا۔
یہ گویا کہ پانچ ستون (pillars) ہیں جن کے اوپر اسلام کی عمارت کھڑی ہوتی ہے۔ عمارت ایک دکھائی دینے والی چیز ہے۔اِس حدیث میں عمارتی ڈھانچے کو بطور تمثیل استعمال کرتے ہوئے اسلام کی حقیقت کو بتایا گیا ہے۔ جس طرح ستونوں کے بغیر کوئی عمارت کھڑی نہیں ہوتی، اسی طرح ان پانچ ارکان کے بغیر اسلام کا قیام بھی نہیںہوتا۔ اسلام کو قائم کرنے کا مطلب یہ ہے کہ ان پانچ ستونوں کو زندگی میں قائم کیا جائے۔
اسلام کے ان پانچ ارکان کی ایک اسپرٹ ہے، اور ایک اس کا فارم ہے۔ اس میں شک نہیں کہ اصل اہمیت ہمیشہ اسپرٹ کی ہوتی ہے، لیکن فارم بھی یقینی طورپر ضروری ہے۔ جس طرح جسم کے بغیر روح نہیں، اسی طرح فارم کے بغیر اسلام بھی نہیں۔ اِس معاملے میں بھی اسپرٹ کا اہتمام بہت ضروری ہے، لیکن یہ اہتمام فارم کے ساتھ ہوسکتاہے، فارم کے بغیر نہیں۔
کلمۂ توحید
ان ارکان میں سے پہلا رکن کلمۂ توحید ہے۔ اس کلمہ کا ایک فارم ہے اور اسی کے ساتھ اس کی ایک اسپرٹ ہے۔ اس کا فارم یہ ہے کہ آپ عربی کے مذکورہ الفاظ (کلمۂ شہادت) کو اپنی زبان سے ادا کریں ۔ کلمہ کی اسپرٹ معرفت ہے، یعنی خدا کو دریافت کے درجے میں پالینا۔ کلمۂ توحید کی وہی ادائیگی معتبر ہے جو معرفت کی بنیاد پر ہو۔ معرفت کے بغیر کلمہ پڑھنا صرف کچھ عربی الفاظ کا تلفّظ ہے، وہ حقیقی معنی میں کلمۂ توحید نہیں۔
یونان کے قدیم فلسفی ارشمیدس (Archimedes) کو یہ جستجو تھی کہ کشتی پانی کے اوپر کیسے تیرتی ہے۔ وہ اس کی تلاش میںتھا۔ ایک دن وہ پانی کے حوض میں لیٹا ہوا نہا رہا تھا۔ اچانک اس کو فطرت کے اس قانون کی دریافت ہوئی جس کو بائنسی (law of buoyancy) کہاجاتا ہے۔ اس وقت اس کے اندر اہتزاز(thrill) کی کیفیت پیدا ہوئی۔ وہ اچانک حوض سے نکلا، اور یہ کہتا ہوا بھاگا کہ: میں نے پالیا، میں نے پالیا(Eureka, Eureka)۔
اِس مثال سے سمجھا جاسکتا ہے کہ کلمہ کی ادائیگی کیا ہے۔ کلمۂ توحید کی ادائیگی دراصل داخلی معرفت کا ایک خارجی اظہار ہے۔ یہ حکم بلا شبہ اسلام کے ارکان میں اولین اہمیت کا حامل ہے، لیکن یہ اہمیت اس کی داخلی معرفت کی بنا پر ہے، نہ کہ صرف لسانی تلفظ کی بنا پر۔
نماز
اسلام کا دوسرا رکن نماز ہے۔ دوسرے ارکان کی طرح نماز کا بھی ایک فارم ہے۔ جیسا کہ معلوم ہے، یہ فارم قیام اور رکوع اور سجود پر مبنی ہے۔ اسی کے ساتھ نماز کی ایک اسپرٹ ہے، وہ اسپرٹ سرنڈر (surrender) ہے، یعنی اپنے آپ کو پوری طرح خدا کے حوالے کردینا۔ خدا کو کامل معنوں میں اپنا مرکز ِ توجہ بنا لینا۔ پورے معنوں میں خدا رخی زندگی (God-oriented life)اختیار کرلینا۔اِسی اسپرٹ کادوسرا نام قرآن میں ذکر ِ کثیر (الاحزاب،33:41) ہے، یعنی خدا کو بہت زیادہ یاد کرتے ہوئے زندگی گزارنا۔ نماز کا مقصد بھی قرآن میں ذکر بتایاگیا ہے (طٰہٰ،20:14) ذکر کامطلب رسمی طورپر صرف کسی قسم کی تسبیح خوانی نہیں، بلکہ ہر موقع پر سچے احساس کے ساتھ خدا کو یاد کرتے رہنا ہے۔
آدمی جب دنیا میں زندگی گزارتا ہے تو وہ مختلف قسم کے مشاہدات اور تجربات سے گزرتا ہے۔ اس وقت اس کے اندر وہ چیز پیدا ہونا چاہیے جس کو قرآن میںتوسّم (الحجر،15:75) کہاگیا ہے، یعنی ہر دنیوی تجربے کو خدا ئی تجربے میں کنورٹ کرتے رہنا۔ ہر چیز سے ربّانی غذا حاصل کرتے رہنا۔ حقیقی نماز وہی ہے جو آدمی کے اندر یہ ذہن پیدا کردے کہ وہ ہر چیز سے اپنے لیے توسّم کی غذا حاصل کرتا رہے۔ نماز کے فارم کے ساتھ جب یہ اسپرٹ شامل ہوجائے تب کسی آدمی کی نماز حقیقی نماز بنے گی، ورنہ حدیثِ رسول کی زبان میں، اس سے کہہ دیا جائے گا:ارْجِعْ فَصَلِّ فَإِنَّکَ لَمْ تُصَلِّ ( صحیح البخاری،حدیث نمبر 757) یعنی جاؤ پھر سے نماز پڑھو، کیوں کہ تم نے نماز نہیں پڑھی۔
روزہ
اسلام کے ارکان میں سے تیسرا رُکن روزہ (صوم)ہے۔ روزہ کا فارم یہ ہے کہ آدمی صبح سے شام تک کھانا اور پینا چھوڑ دے۔ وہ اپنے دن کو بھوک اور پیاس کی حالت میں گزارے۔ روزہ کی اسپرٹ صبر(patience)ہے۔ حدیث میںآیا ہے:ہُوَ شَہْرُ الصَّبْرِ(صحیح ابن خزیمہ، حدیث نمبر 1887)۔ یعنی رمضان کا مہینہ صبر کا مہینہ ہے۔
صبر کیا ہے۔ صبر کا مطلب یہ ہے کہ آدمی دنیا میں سلف ڈسپلن (self-discipline) کی زندگی گزارنے لگے۔ وہ اپنی خواہشوں پرروک لگائے۔ وہ اشتعال انگیزی کے باوجود مشتعل نہ ہو۔ وہ اپنی انا کو گھمنڈ نہ بننے دے۔ وہ لوگوں کے درمیان نوپرابلم (no problem) انسان بن کر رہے۔ سماجی زندگی میں جب اس کو کوئی شاک (shock)لگے تو وہ اس شاک کو اپنے اوپر سہے، وہ اس کو دوسرے تک پہنچنے نہ دے۔
زکوٰۃ
اسلام کا چوتھا رکن زکوٰۃ ہے۔ زکوٰۃ کا فارم یہ ہے کہ آدمی اپنی کمائی کے ایک حصے سے اپنی ضرورتوں کو پورا کرے، اور اپنی کمائی کا کچھ حصہ خدا کے حکم کے مطابق، وہ دوسرے انسانوں پر خرچ کرے۔ یہ زکوٰۃ کا فارم ہے۔ زکوٰۃ کی اسپرٹ انسان کی خیر خواہی ہے، یعنی تمام انسانوں کو اپنا سمجھنا۔ حقیقی معنوں میں انسان دوست رویہ (human-friendly behaviour) اختیار کرنا۔ صرف اپنے لیے جینے کے بجائے، ساری انسانیت کے لیے جینا۔ آدمی اگر زکوٰۃ کی رقم دے دے، لیکن دل سے وہ انسانوں کا خیر خواہ نہ بنے تو اس کی زکوٰۃ ادھوری زکوٰۃ مانی جائے گی۔ ایسے آدمی کی زکوٰۃ پورے معنوںمیں زکوٰۃ نہیں ہوگی(البقرۃ، 2:264)۔
حج
اسلامی ارکان میںسے پانچواں رکن حج ہے۔ حج کے لفظی معنی ہیں قصد کرکے ایک جگہ سے دوسری جگہ جانا۔ شرعی اصطلاح میں، حج سے مراد وہ عبادتی سفر ہے جس میں آدمی اپنے وطن سے نکل کر مکہ (عرب) جاتا ہے اور وہاں ماہِ ذو الحجّہ کی مقرر تاریخوںمیں حج کے مراسم ادا کرتاہے اور خدا کے نام پر جانور کو قربان کرتا ہے۔ یہ حج کا فارم ہے ۔ حج کی اسپرٹ قربانی (sacrifice) ہے۔ حج کا فارم اور حج کی اسپرٹ دونوں جب کسی کی زندگی میںاکھٹا ہوں تو وہ حج کی عبادت کرنے والا قرار پاتاہے۔
حج کے دوران منٰی کے مقام پر تمام حاجی، جانور کی قربانی پیش کرتے ہیں۔ انھیں تاریخوں میں دنیا بھر میں مختلف مقامات پر مسلمان عید اضحی مناتے ہیں۔ عید اضحی گویا کہ حج کی عبادت میں ایک قسم کی جُزئی شرکت ہے۔ عید اضحی کے ذریعے تمام دنیا کے مسلمان مکہ میں کیے جانے والے حج کے ساتھ اپنی وابستگی کا اظہار کرتے ہیں۔
پیغمبر ِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا : یَا رَسُولَ اللَّہِ مَا ہَذِہِ الْأَضَاحِیُّ؟ قَالَ:سُنَّةُ أَبِیکُمْ إِبْرَاہِیمَ (سنن ابن ماجہ، حدیث نمبر 3127)۔ یعنی اے خدا کے رسول، یہ قربانیاں کیا ہیں۔ آپ نے جواب دیا کہ یہ تمھارے باپ ابراہیم کی سنت ہے ۔ اِس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ حج کے زمانے میں جو قربانی دی جاتی ہے، وہ اُس طریقے پر عمل کرنے کے لیے ہوتی ہے جس کا نمونہ حضرت ابراہیم نے قائم کیا تھا۔
اِس لیے حج اور قربانی کی حقیقت کو جاننے کے لیے ضروری ہے کہ اس پہلو سے پیغمبر ِ خدا، حضرت ابراہیم کی زندگی کا مطالعہ کیا جائے۔ اِس مطالعے سے نہ صرف یہ ہوگا کہ ہم کوحج اور قربانی کا تاریخی پس منظر معلوم ہوگا، بلکہ اس کی اصل حقیقت کو سمجھنا بھی ہمارے لیے ممکن ہوجائے گا۔ حج یا عیداضحی میں قربانی دراصل حضرت ابراہیم کی سنت کو دوبارہ زندہ کرنے کا عہد ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ حضرت ابراہیم کی زندگی کی روشنی میں قربانی کی حقیقت کو سمجھنے کی کوشش کی جائے۔
حضرت ابراہیم علیہ السلام
حضرت ابراہیم 1985ق م میں عراق کے قدیم شہر اُر (Ur) میں پیدا ہوئے۔ انھوں نے 175 سال سے زیادہ عمر پائی۔ ’’اُر‘‘ قدیم عراق کی راجدھانی تھا۔ مزید یہ کہ یہ علاقہ قدیم آباد دنیا (میسو پوٹامیا) کا مرکز تھا۔ حضرت ابراہیم نے اپنی تمام اعلیٰ صلاحیتوں اور کامل درد مندی کے ساتھ اپنے معاصرین کو توحید کی طرف بلایا۔ اس وقت کے عراقی بادشاہ نمرود(Nimrod) تک بھی اپنی دعوت پہنچائی۔ لیکن کوئی بھی شخص آپ کی دعوت کو قبول کرنے کے لیے تیار نہ ہوا، حتی کہ آپ جب اتمامِ حجت کے بعد عراق سے نکلے تو آپ کے ساتھ صرف دو انسان تھے— آپ کے بھتیجے او ر آپ کی اہلیہ۔
حضرت ابر اہیم سے پہلے، مختلف زمانوں اور مختلف علاقوں میں خدا کے پیغمبر آتے رہے اور لوگوں کو توحید کی دعوت دیتے رہے۔ لیکن ان تمام پیغمبروں کے ساتھ یکساں طورپر یہ ہوا کہ لوگ ان کا انکار کرتے رہے۔ انھوںنے پیغمبروں کا استقبال استہزا( یٰسٓ،36:30)کے ساتھ کیا۔
حضرت ابراہیم کے اوپر پیغمبر کی تاریخ کا ایک دور ختم ہوگیا۔ اب ضرورت تھی کہ دعوت الی اللہ کی نئی منصوبہ بندی کی جائے۔ اس منصوبہ کے لیے اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم کا انتخاب کیا۔ چنانچہ حضرت ابراہیم اپنی بیوی ہاجرہ اور چھوٹے بچے اسماعیل کے ساتھ عراق سے نکلے، اور مختلف شہروں سے گزرتے ہوئے آخر کار وہاں پہنچے جہاں آج مکہ آباد ہے۔ ایک روایت سے معلوم ہوتا ہے، آپ کا یہ سفر فرشتہ جبرئیل کی رہنمائی میںطے ہوا (تاریخ الطبری، 1/254)۔
ہاجرہ پیغمبر ابراہیم کی بیوی تھیں۔ اُن سے ایک اولاد پیدا ہوئی جس کا نام اسماعیل رکھا گیا۔ ایک خدائی منصوبہ کے تحت، حضرت ابراہیم نے ہاجرہ اوراُن کے چھوٹے بچے (اسماعیل) کو عرب میں مکہ کے مقام پر لے جاکر بسا دیا جو اُس وقت بالکل غیر آباد تھا۔ اس واقعہ کے بارہ میں قرآن میںمختصرطورپر یہ حوالہ ملتا ہے:
’’اور جب ابراہیم نے کہا، اے میرے رب، اس شہر کو امن والا بنا اور مجھ کو اور میری اولاد کو اس سے دور رکھ کہ ہم بتوں کی عبادت کریں۔ اے میرے رب، ان بتوں نے بہت لوگوں کو گمراہ کردیا۔ پس جس نے میری پیروی کی وہ میرا ہے، اور جس نے میرا کہا نہ مانا تو تو بخشنے والا، مہربان ہے۔ اے ہمارے رب، میں نے اپنی اولاد کو ایک بے کھیتی کی وادی میں تیرے محترم گھر کے پاس بسایا ہے۔ اے ہمارے رب، تاکہ وہ نماز قائم کریں۔ پس تو لوگوں کے دل ان کی طرف مائل کردے اور اُن کو فروٹس (fruits) کی روز ی عطا فرما، تاکہ وہ شکرکریں‘‘ (14:35-37)۔
ہاجرہ کے بارے میں قرآن میں صرف مختصر اشارہ آیا ہے۔ تاہم حدیث کی مشہور کتاب صحیح البخاری میں ہاجرہ کے بارے میں تفصیلی روایت موجود ہے۔ یہ روایت یہاں نقل کی جاتی ہے:
’’عبد اللہ بن عباس کہتے ہیں کہ عورتوں میں سب سے پہلے ہاجرہ نے کمر پٹّہ باندھا تاکہ سارہ کو اُن کے بارے میں خبر نہ ہوسکے۔ پھر ابراہیم، ہاجرہ اور اُن کے بچے اسماعیل کو مکہ میں لے آئے ۔ اُس وقت ہاجرہ اسماعیل کو دودھ پلاتی تھیں۔ ابراہیم نے ان دونوں کو مسجد کے اوپری حصہ میں ایک بڑے درخت کے نیچے بٹھا دیا جہاں زمزم ہے۔ اُس وقت مکہ میں ایک شخص بھی موجود نہ تھا اور نہ ہی وہاں پانی تھا۔ ابراہیم نے کھجور کا ایک تھیلا اور پانی کی ایک مشک وہاں رکھ دیا اور خود وہاں سے روانہ ہوئے۔ ہاجرہ اُن کے پیچھے نکلیں اور کہا کہ اے ابراہیم، ہم کو اس وادی میں چھوڑ کر آپ کہاں جارہے ہیں، جہاں نہ کوئی انسان ہے اور نہ کوئی اور چیز۔ ہاجرہ نے ابراہیم علیہ السلام سے یہ بات کئی بار کہی اور ابراہیم نے ہاجرہ کی بات پر کوئی دھیان نہیں دیا۔ ہاجرہ نے ابراہیم سے کہا کہ کیا اللہ نے آپ کو اس کا حکم دیا ہے۔ ابراہیم نے کہا کہ ہاں۔ ہاجرہ نے کہا پھر تو اللہ ہم کوضائع نہیں کرے گا (إذَن لا یُضَیِّعُنَا)۔ ہاجرہ لوٹ آئیں۔ ابراہیم جانے لگے۔ یہاں تک کہ جب وہ مقامِ ثنیہ پر پہنچے جہاں سے وہ دکھائی نہیں دیتے تھے تو اُنہوں نے اپنا رخ ادھر کیا جہاں اب کعبہ ہے اور اپنے دونوں ہاتھ اُٹھا کر یہ دعا کی کہ: اے ہمارے رب، میںنے اپنی اولاد کو ایک ایسی وادی میں بسایا ہے جہاں کچھ نہیں اُگتا، یہاں تک کہ آپ دعا کرتے ہوئے لفظ یشکرون تک پہنچے۔
ہاجرہ اسماعیل کو دودھ پلاتیں اور مشک میں سے پانی پیتیں۔ یہاںتک کہ جب مشک کا پانی ختم ہوگیا تو وہ پیاسی ہوئیں اور ان کے بیٹے کو بھی پیاس لگی۔ انھوں نے بیٹے کی طرف دیکھا تو وہ پیاس سے بے چین تھا۔ بیٹے کی اس حالت کو دیکھ کر وہ مجبور ہو کر نکلیں۔ انھوں نے سب سے قریب پہاڑ صفا کو پایا۔ چنانچہ وہ پہاڑ پر چڑھیں اور وادی کی طرف دیکھنے لگیں کہ کوئی شخص نظر آجائے۔ وہ کسی کو نہ دیکھ سکیں۔ وہ صفا سے اتریں۔ یہاں تک کہ جب وہ وادی تک پہنچیں تو اپنے کُرتہ کا ایک حصہ اُٹھایا پھر وہ تھکاوٹ سے چور انسان کی طرح دوڑیں۔ وادی کو پار کرکے وہ مروہ پہاڑ پر آئیں۔ اُس پر کھڑے ہو کر اُنہوں نے دیکھا تو کوئی انسان نظر نہ آیا۔ اس طرح اُنھوں نے صفا و مروہ کے درمیان سات چکر لگائے۔ عبد اللہ بن عباس کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ لوگ ان دونوں کے درمیان سعی کرتے ہیں۔ پھر وہ مروہ پر چڑھیں۔ اُنہوں نے ایک آواز سُنی۔ وہ اپنے آپ سے کہنے لگیں کہ چپ رہ۔ پھر سُننا چاہا تو وہی آواز سُنی۔ اُنہوں نے کہا کہ تو نے اپنی آواز مجھ کو سنا دی تو اس وقت ہماری مدد کرسکتا ہے۔ دیکھا تو مقام زمزم کے پاس ایک فرشتہ ہے۔ فرشتہ نے اپنی ایڑی یا پنکھ زمین پرمارا، پانی نکل آیا۔ ہاجرہ اُس کو حوض کی طرح بنانے لگیں اور ہاتھ سے اُس کے گرد مینڈ کھینچنے لگیں۔ وہ پانی چلّو سے لے کر اپنی مشک میں بھرتیں۔ وہ جس قدر پانی بھرتیں چشمہ اُتنا ہی زیادہ اُبلتا۔ ابن عباس کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ ہاجرہ پر رحم کرے، اگر وہ زمزم کو اپنے حال پر چھوڑ دیتیں، یا آپ نے یہ فرمایا کہ اگر وہ چلّو بھر کرپانی نہ لیتیں تو زمزم ایک بہتا چشمہ ہوتا۔ہاجرہ نے پانی پیا اور اپنے بیٹے کو پلایا۔ فرشتہ نے ہاجرہ سے کہا کہ تم ضائع ہونے کا اندیشہ نہ کرو۔ یہ اللہ کا گھر ہے۔ یہ بچہ اور اُس کے باپ دونوں اس گھر کو بنائیں گے اور اللہ اپنے گھر والوں کو ضائع نہیں کرتا۔ اُس وقت گھر (کعبہ) ٹیلے کی طرح زمین سے اونچا تھا۔ سیلاب آتا اور وہ اس کے دائیں بائیں جانب سے نکل جاتا۔ کچھ دنوں تک ہاجرہ نے اسی طرح زندگی گزاری۔ یہاںتک کہ جُرہُم قبیلہ کے کچھ لوگ یا جرہم کے گھر والے کَدا ءکے راستہ سے آرہے تھے۔ وہ مکہ کے نشیبی حصہ میں اُترے۔ اُنھوں نے وہاںایک پرندہ کو دیکھا جو گھوم رہا تھا۔ وہ کہنے لگے کہ یہ پرندہ تو پانی پر گھومتا ہے۔ ہم اس وادی میں رہے ہیں اور یہاں پانی نہ تھا۔ اُنہوں نے ایک یا دو آدمی کو خبر لینے کے لیے وہاں بھیجا۔ اُنہوں نے پانی دیکھا۔ وہ واپس لوٹ کر گئے اورلوگوں کو پانی کی خبر دی۔ وہ لوگ بھی آئے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہاجرہ پانی کے پاس تھیں۔ اُنہوں نے ہاجرہ سے کہا کہ کیا تم ہم کو یہاں ٹھہرنے کی اجازت دیتی ہو۔ ہاجرہ نے کہا کہ ہاں لیکن پانی پر تمہارا کوئی حق نہیں۔ اُنہوں نے کہا کہ ہاں۔ عبد اللہ بن عباس کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہاجرہ خود چاہتی تھیں کہ یہاں انسان آباد ہوں۔ اُن لوگوں نے یہاں پر قیام کیا اور اپنے گھر والوں کو بھی بُلا بھیجا، وہ بھی یہیں ٹھہرے۔ جب مکہ میں کئی گھر بن گئے اور اسماعیل جوان ہوگئے اور اسماعیل نے جرہم والوں سے عربی زبان سیکھ لی۔ جرہم کے لوگ اُن سے محبت کرنے لگے تو اُنہوں نے اپنی ایک لڑکی سے اُن کا نکاح کردیا۔ ہاجرہ کا انتقال ہوگیا۔ جب اسماعیل کا نکاح ہوچکا تو ابراہیم اپنی اولاد کو دیکھنے آئے۔ اُنہوں نے وہاں اسماعیل کو نہیں پایا۔ چنانچہ اُن کی بیوی سے اُن کے بارہ میں پوچھا۔ اُس نے کہا کہ وہ ہمارے لیے رزق کی تلاش میں نکلے ہیں۔ ابراہیم نے اُس سے اُن کے گزر بسر اور حالت کے بارہ میں پوچھا۔ اُس نے کہا کہ ہم تکلیف میں ہیں۔ ہم بہت زیادہ تنگی میں ہیں۔ اُس نے ابراہیم سے شکایت کی۔ ابراہیم نے کہا کہ جب تمہارے شوہر آئیں تو تم اُن کو میرا سلام کہنا اور اُن سے یہ بھی کہنا کہ وہ اپنے دروازہ کی چوکھٹ کو بدل دیں۔ جب اسماعیل آئے۔ اُنھوں نے کچھ محسوس کرلیا تھا۔ اُنھوں نے کہاکہ کیا تمہارے پاس کوئی آیا تھا۔ اُس نے کہا کہ ہاں۔ ایک بوڑھا شخص اس اس صورت کا آیا تھا۔ اُنہوں نے آپ کے بارہ میں پوچھا، میں نے اُن کو بتایا۔ اُنہوں نے مجھ سے پوچھا کہ ہماری گزرکیسے ہوتی ہے۔ میں نے کہا کہ بڑی تکلیف اور تنگی سے۔ اسماعیل نے کہا کہ کیا اُنہوں نے تم سے اور کچھ کہا ہے ۔ اُس نے کہا کہ ہاں۔ اُنھوں نے مجھ سے آپ کو سلام کہا ہے اور یہ بھی کہا ہے کہ اپنے دروازہ کی چوکھٹ کو بدل دو۔ اسماعیل نے کہا کہ وہ میرے باپ تھے۔ انھوں نے مجھ کو حکم دیا ہے کہ میں تم کو چھوڑ دوں۔ تم اپنے گھر والوں میں چلی جاؤ۔ اسماعیل نے اُس کو طلاق دے دی۔ اور جرہم کی ایک دوسری عورت سے اُنہوں نے نکاح کرلیا۔ ابراہیم اپنے ملک میں ٹھہرے رہے جس قدر اللہ نے چاہا۔ اس کے بعد ابراہیم اسماعیل کے یہاں آئے تو پھر اُن کو نہیں پایا۔ وہ اسماعیل کی بیوی کے پاس آئے اور اُس سے اسماعیل کے بارہ میں پوچھا۔ اُس نے کہا کہ وہ ہمارے لیے رزق کی تلاش میں نکلے ہیں۔ ابراہیم نے کہا کہ تم لوگ کیسے ہو۔ اس نے کہا کہ ہم لوگ خیریت سے ہیں اورکشادگی کی حالت میں ہیں۔ اُس نے اللہ عزّوجل کی تعریف کی۔ ابراہیم نے کہا کہ تمہارا کھانا کیا ہے۔ اُس نے کہا کہ گوشت۔ ابراہیم نے کہا کہ تم کیا پیتے ہو۔ اُس نے کہا کہ پانی۔ ابراہیم نے دعا کی کہ اے اللہ، تو اُن کے گوشت اور پانی میں برکت دے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اُس وقت مکہ میں اناج نہ تھا۔ اور اگر وہاںاناج ہوتا تو ابراہیم اس میں بھی برکت کی دعا کرتے۔ مکہ کے علاوہ کسی دوسرے ملک کے لوگ اگر گوشت اور پانی پر گزر کریں تو وہ اُن کو موافق نہ آئے۔ ابراہیم نے کہا کہ جب تمہارے شوہر آئیں تو تم اُن کو میرا سلام کہنااور میری طرف سے اُن کو یہ حکم دینا کہ وہ اپنے دروازے کی چوکھٹ کو باقی رکھیں۔ پس جب اسماعیل آئے تو اُنہوں نے کہا کہ کیا تمہارے پاس کوئی شخص آیا تھا۔ اُس نے کہا کہ ہاں، ہمارے پاس ایک اچھی صورت کے بزرگ آئے تھے اور اُس نے آنے والے کی تعریف کی۔ اُنہوں نے مجھ سے آپ کے بارہ میں پوچھا تو میں نے اُنہیں بتایا۔ اُنہوں نے مجھ سے دوبارہ ہمارے گزر بسر کے بارہ میں پوچھا۔ میںنے اُنھیں بتایا کہ ہم خیریت سے ہیں۔ اسماعیل نے کہا کہ کیا انھوں نے تم سے کچھ اور بھی کہا ہے۔ اُس نے کہا کہ ہاں۔ اُنہوں نے آپ کو سلام کہا ہے اور آپ کو حکم دیا ہے کہ آپ اپنے دروازہ کی چوکھٹ کو باقی رکھیں۔ اسماعیل نے کہا کہ وہ میرے باپ تھے اور تم چوکھٹ ہو۔ اُنھوں نے مجھ کو حکم دیا ہے کہ میں تمہیں اپنے پاس باقی رکھوں۔ پھر ابراہیم اپنے ملک میں ٹھہرے رہے جب تک اللہ نے چاہا۔ اس کے بعد وہ آئے اور اسماعیل زمزم سے قریب ایک درخت کے نیچے بیٹھے ہوئے اپنے تیر درست کررہے تھے۔ جب اسماعیل نے ابراہیم کو دیکھا تو وہ کھڑے ہوگئے۔ پس انھوںنے وہی کیا جو ایک باپ اپنے بیٹے سے اور ایک بیٹا اپنے باپ سے کرتا ہے۔ ابراہیم نے کہا کہ اے اسماعیل، اللہ نے مجھ کو ایک حکم دیا ہے۔ اسماعیل نے کہا کہ پھر جو آپ کے رب نے حکم دیا ہے اُسے کر ڈالیے۔ ابراہیم نے کہا کہ کیا تم میری مدد کروگے۔ اسماعیل نے کہا کہ میں آپ کی مدد کروں گا۔ ابراہیم نے کہا کہ اللہ نے مجھ کو یہ حکم دیا ہے کہ میں یہاں ایک گھر بناؤں اور ابراہیم نے اس کے گرد ایک بلند ٹیلہ کی طرف اشارہ کیا۔ اُس وقت اُن دونوں نے گھر کی بنیاد اٹھائی۔ اسماعیل پتھر لاتے تھے اور ابراہیم تعمیر کرتے تھے، یہاں تک کہ جب دیوار اونچی ہوگئی تو اسماعیل یہ پتھر (حجرِ اسود) لائے اور اُس کو وہاں رکھ دیا۔ ابراہیم اُس پتھر پر کھڑے ہو کر تعمیر کرتے تھے اور اسماعیل اُن کو پتھر دیتے تھے۔ اور وہ دونوں کہتے تھے : اے ہمارے رب، تو ہماری طرف سے یہ قبول کر، بیشک تو بہت زیادہ سننے والا اور بہت زیادہ جاننے والا ہے۔ پس وہ دونوں تعمیر کرتے اور اس گھر کے ارد گرد یہ کہتے ہوئے چکر لگاتے کہ اے ہمارے رب، تو ہماری طرف سے یہ قبول کر۔ بیشک تو بہت زیادہ سننے والا اور بہت زیادہ جاننے والا ہے‘‘۔ (صحیح البخاری، حدیث نمبر3364 )
ذبحِ عظیم
اسی دوران یہ واقعہ پیش آیا کہ حضرت ابراہیم نے خواب میں دیکھا کہ وہ اپنے بیٹے اسماعیل کو اپنے ہاتھ سے ذبح کررہے ہیں۔ اس خواب کے مطابق، حضرت ابراہیم اپنے بیٹے کو ذبح کرنے کے لیے تیار ہوگئے۔ لیکن یہ ایک تمثیلی خواب تھا، یعنی اس کا مطلب یہ تھا کہ اب خدائی منصوبہ کے مطابق، اپنے بیٹے کو توحید کے مشن کے لیے وقف (dedicate) کردو، ایک ایسا مشن جو عرب کے بے آب وگیاہ صحرا میں شروع ہونے والا تھا۔
قرآن کی سورہ نمبر 37 میں حضرت ابراہیم کے واقعے کا ذِکر ہے۔ آپ نے اپنے ایک خواب کے مطابق، اپنے بیٹے اسماعیل کو ذبح کرنے کے لیے زمین پر لٹا دیا۔ اُس وقت، اللہ تعالیٰ کی طرف سے فرشتے نے بتایا کہ تمھاری قربانی قبول ہوگئی، اب تم بیٹے کے بدلے ایک دنبہ ذبح کردو۔ چنانچہ آپ نے ایسا ہی کیا۔ اُس موقع پر قرآن میں یہ آیت آئی ہے:وَفَدَیْنَاہُ بِذِبْحٍ عَظِیمٍ(37:107)۔ یعنی ہم نے اسماعیل کو ایک عظیم قربانی کے ذریعے بچا لیا۔
اِس آیت میں ذِبح عظیم (عظیم قربانی) کا لفظ اسماعیل کے لیے آیا ہے، نہ کہ دنبہ کے لیے۔ دنبہ کو حضرت ابراہیم نے بطور فدیہ ذبح کیا، اور اسماعیل کو ایک عظیم تر قربانی کے لیے منتخب کرلیا گیا۔ یہ عظیم تر قربانی کیا تھی، وہ یہ تھی کہ اِس کے بعد اسماعیل کو اپنی ماں ہاجرہ کے ساتھ مکہ کے صحرا میں آباد کر دیا گیا، تاکہ اُن کے ذریعے سے ایک نئی نسل تیار ہو۔ اُس وقت یہ علاقہ صرف صحرا کی حیثیت رکھتا تھا۔ وہاں اسبابِ حیات میں سے کوئی چیز موجود نہ تھی۔ اِس لیے اس کو قرآن میں ذبحِ عظیم کا درجہ دیاگیا ۔یہ عظیم قربانی، اللہ تعالیٰ کا ایک منصوبہ تھا، جس کو فرزند ِ ابراہیم (اسماعیل) کے ذریعے عرب کے صحرا میں عمل میں لایا گیا۔ قرآن (ابراہیم،14:37) میںاِس واقعے کا ذکر مختصر اشارے کے طورپر آیا ہے اور حدیث میںاس کا ذکر تفصیل کے ساتھ ملتا ہے۔
قرآن میںحضرت ابراہیم کے اس خواب کا ذکر سورہ نمبر 37 میںآیا ہے۔ اس میں بتایا گیا ہے کہ پیغمبر ابراہیم نے خواب کے بعد جب اپنے بیٹے کو قربان کرنا چاہا تو اس وقت خدا کے فرشتے نے آپ کو بتایا کہ آپ بیٹے کے فدیہ کے طورپر ایک دنبہ ذبح کردیں۔ چنانچہ حضرت ابراہیم نے ایسا ہی کیا (الصافات،37:107)، اور جیسا کہ صحیح البخاری کی روایت سے معلوم ہوتا ہے، اس کے بعد حضرت ابراہیم نے اپنی بیوی ہاجرہ اور اپنے بیٹے اسماعیل کو عرب کے ایک صحرائی مقام میں آباد کردیا۔ یہ وہی مقام تھا جہاں اب مکہ آباد ہے۔ اسی مقام پر بعد کو حضرت ابراہیم اور آپ کے بیٹے اسماعیل نے کعبہ کی تعمیر کی، اور حج کا نظام قائم فرمایا۔
علامتی ذبیحہ
ہاجرہ اوراسماعیل کو صحرا میں اس طرح آباد کرنے کا مقصد کیا تھا۔ اس کا مقصد تھا ایک نئی نسل بنانا۔ اس زمانے کی شہری آبادیوں میں مشرکانہ کلچر مکمل طورپر چھاچکا تھا۔اس ماحول میں جو بھی پیدا ہوتا وہ مشرکانہ کنڈیشننگ کا شکار ہوجاتا۔ اس بنا پر اس کے لیے توحید کے پیغام کو سمجھنا ممکن نہ رہتا۔ متمدن شہروں سے دور صحرا میں ہاجرہ اور اسماعیل کو اس لیے بسایا گیا تاکہ یہاں فطرت کے ماحول میںان کے ذریعہ سے ایک نئی نسل تیار ہو، ایک ایسی نسل جو مشرکانہ کنڈیشننگ سے پوری طرح پاک ہو۔ تو الد وتناسل کے ذریعہ یہ کام جاری رہا یہاںتک کہ بنو اسماعیل کی قوم وجود میں آئی۔
اسی قوم کے اندر 570 ء میں پیغمبر اسلام محمد بن عبداللہ بن عبد المطلب پیدا ہوئے۔ محمدصلی اللہ علیہ وسلم کو 610 ء میں اللہ تعالیٰ نے نبی مقرر کیا۔ اس کے بعد آپ نے توحید کے مشن کا آغاز کیا۔ بنو اسماعیل کے اندر سے آپ کو وہ قیمتی افراد ملے جن کو اصحابِ رسول کہاجاتا ہے۔ ان لوگوں کو ساتھ لے کر آپ نے تاریخ میں پہلی بار یہ کیا کہ توحید کی دعوت کو فکری مرحلے سے آگے بڑھا کر انقلاب کے مرحلے تک پہنچایا۔
حضرت ابراہیم کے ذریعے جو عظیم دعوتی منصوبہ زیر عمل آیا، حج کی عبادت گویا اسی کاایک ریہرسل ہے۔ ذو الحجہ کے مہینے کی مخصوص تاریخوں میں ساری دنیا کے مسلمان اکھٹا ہو کر ریہرسل کے روپ میں اس تاریخ کو دہراتے ہیں جو حضرت ابراہیم اور ان کی اولاد کے ساتھ پیش آئی۔
اس طرح تمام دنیا کے مسلمان ہر سال اپنے اندر یہ عزم تازہ کرتے ہیں کہ وہ پیغمبر کے اس نمونہ کو اپنے حالات کے مطابق، مسلسل دہراتے رہیں گے۔ ہر زمانے میں وہ دعوت الی اللہ کے اس عمل کو مسلسل زندہ رکھیں گے، یہاں تک کہ قیامت آجائے۔
اس ابراہیمی عمل میں قربانی کو مرکزی درجہ حاصل ہے۔ یہ ایک عظیم عمل ہے جس کی کامیاب ادائیگی کے لیے قربانی کی اسپرٹ ناگزیر طورپر ضروری ہے۔ اس قربانی کی اسپرٹ کو مسلسل طورپر زندہ رکھنے کے لیے حج کے زمانے میں منیٰ میں، اورعیداضحی کی صورت میں تمام دنیا کے مسلمان اپنے اپنے مقام پرجانور کی قربانی کرتے ہیں اور خدا کو گواہ بنا کر اس اسپرٹ کو زندہ رکھنے کا عہد کرتے ہیں۔حج اور عید اضحی کے موقع پر جانور کی جو قربانی کی جاتی ہے، وہ دراصل جسمانی قربانی کی صورت میں با مقصد قربانی کے عزم کے ہم معنی ہے۔ یہ دراصل داخلی اسپرٹ کا خارجی مظاہرہ ہے:
It is an external manifestation of an internal spirit.
آدمی کے اندر پانچ قسم کے حواس (senses)پائے جاتے ہیں۔ نفسیاتی تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ جب کوئی ایسا معاملہ پیش آئے جس میں انسان کے تمام حواس شامل ہوں تو وہ بات انسان کے دماغ میں زیادہ گہرائی کے ساتھ بیٹھ جاتی ہے۔ قربانی کی اسپرٹ کو اگر آدمی صرف مجرد شکل میں سوچے تو وہ آدمی کے دماغ میں بہت زیادہ ذہن نشین نہیں ہوگی۔ قربانی اسی کمی کی تلافی ہے۔
جب آدمی اپنے آپ کو وقف کرنے کے تحت جانور کی قربانی کرتا ہے تو اس میں عملاً اس کے تمام حواس شامل ہوجاتے ہیں۔ وہ دماغ سے سوچتا ہے، وہ آنکھ سے دیکھتا ہے، وہ کان سے سنتا ہے، وہ ہاتھ سے چھوتا ہے، وہ قربانی کے بعد اس کے ذائقے کا تجربہ بھی کرتا ہے۔ اس طرح اس معاملے میں اس کے تمام حواس شامل ہوجاتے ہیں۔ وہ زیادہ گہرائی کے ساتھ قربانی کی اسپرٹ کو محسوس کرتا ہے، وہ اِس قابل ہوجاتا ہے کہ قربانی کی اسپرٹ اس کے اندر بھر پور طورپر داخل ہوجائے، وہ اس کے گوشت کا اور اس کے خون کا حصہ بن جائے۔
قربانی کی حقیقت
حج یا عید ِاضحی کے موقع پر جانور کی قربانی دی جاتی ہے۔ اس قربانی کے دو پہلو ہیں۔ ایک اس کی اسپرٹ، اور دوسرے اس کی ظاہری صورت۔اسپرٹ کے اعتبار سے قربانی ایک قسم کا عہد (pledge) ہے۔ قربانی کی صورت میں عہد کا مطلب ہے عملی عہد (pledge in action) ۔ عہد کے اس طریقے کی اہمیت کو عمومی طورپر تسلیم کیاجاتا ہے۔ اس میں کسی کو بھی کوئی اختلاف نہیں۔
یہاں اس نوعیت کی ایک مثال دی جاتی ہے، جس سے اندازہ ہوگا کہ قربانی کا مطلب کیا ہے۔ نومبر 1962 کا واقعہ ہے۔ ہندستان کی مشرقی سرحد پر ایک پڑوسی طاقت کی جارحیت کی وجہ سے زبردست خطرہ پیداہو گیا تھا۔ سارے ملک میں سنسنی خیزی کی کیفیت چھائی ہوئی تھی۔
اُس وقت قوم کی طرف سے جو مظاہرے ہوئے، اس میں سے ایک واقعہ یہ تھا کہ احمد آباد کے 25 ہزار نوجوانوں نے مشترکہ طورپر یہ عزم کیا کہ وہ ملک کے بچاؤ کے لیے لڑیں گے اورملک کے خلاف باہر کے حملے کا مقابلہ کریں گے، خواہ اسی راہ میں ان کو اپنی جان دے دینی پڑے۔ یہ فیصلہ کرنے کے بعد انھوں نے یہ کیا کہ ان میں سے ہر شخص نے اپنے پاس سے ایک ایک پیسہ دیا اور اس طرح 25 ہزار پیسے جمع ہوگئے۔ اس کے بعد انھوںنے اپنے ان پیسوں کو اس وقت کے وزیر اعظم پنڈت جواہر لال نہرو کی خدمت میں پیش کیا۔ پیسہ دیتے ہوئے انھوںنے ہندستانی وزیر اعظم سے کہا کہ یہ 25 ہزار پیسے ہم 25 ہزار نوجوانوں کی طرف سے اپنے آپ کو آپ کے حوالے کرنے کا نشان ہیں:
To give ourselves to you
مذکورہ نوجوانوں نے اپنی قربانی کا علامتی اظہار 25 ہزار پیسوں کی شکل میں کیا۔ 25 ہزار پیسے خود اصل قربانی نہیں تھے۔ وہ اصل قربانی کی صرف ایک علامت(token) تھے۔ یہی معاملہ جانور کی قربانی کا ہے۔ قربانی کے عمل میں جانور کی حیثیت صرف علامتی ہے۔ جانور کی قربانی کے ذریعے ایک مومن علامتی طورپر اس بات کاعہد کرتا ہے کہ وہ اسی طرح اپنی زندگی کو خدا کی راہ میں پوری طرح لگادے گا۔ اسی لیے قربانی کے وقت یہ کہا جاتا ہے: اللَّہُمَّ مِنْکَ وَلَکَ (سنن ابوداؤد، حدیث نمبر 2795)۔یعنی اے خدا یہ تو نے ہی دیا تھا، اب میں اس کو تیرے سپرد کرتا ہوں۔
٭ ٭ ٭ ٭٭
حج کا اثر یہ ہونا چاہیے کہ حاجی کا ذہن خدا رخی ذہن ہو جائے۔ اس کوخدا کی یاد آنے لگے۔ اس کا دماغ خدا کی باتوں سے بھر جائے۔ اب تک اس کی سوچ اگر اپنی ذات کی طرف چل رہی تھی تو اب اس کی سوچ خدا کی طرف چل پڑے۔
واپس اوپر جائیں

انا کی قربانی

قرآن کی سورہ الزخرف میں فطرت کا ایک قانون اِن الفاظ میں بیان کیا گیا ہے:وَرَفَعْنَا بَعْضَہُمْ فَوْقَ بَعْضٍ دَرَجَاتٍ لِیَتَّخِذَ بَعْضُہُمْ بَعْضًا سُخْرِیًّا(43:32)۔یعنی ہم نے ایک کو دوسرے پر فوقیت دی ہے، تاکہ وہ ایک دوسرے سے کام لیں۔قرآن کی اِس آیت میں سادہ طورپر طبقاتی تفاوت یا طبقاتی امتیاز کی بات نہیں کہی گئی ہے، بلکہ اِس آیت میں طبقاتی حکمت کی بات کہی گئی ہے۔ اِس دنیا میں کوئی بڑا کام صرف اجتماعی کوشش سے ہوسکتا ہے، اور اجتماعی کوشش مفید طورپر صرف اُس وقت وجود میں آتی ہے، جب کہ افرادِ اجتماع کسی ایک شخص کو اپنا لیڈر بنانے پر پوری طرح راضی ہوجائیں۔ اجتماعی کوشش نام ہے— لیڈر کا ماتحت بن کر کوشش کرنے کا۔ جو لوگ اِس اصول پر راضی نہ ہوں، وہ کبھی کوئی بڑا کام نہیں کرسکتے۔
قرآن کی اِس آیت سے سکنڈری رول (secondary role) کی اہمیت معلوم ہوتی ہے۔ اگر ایک سو آدمیوں کا اجتماع ہے تو اس میں 99 لوگوں کو سکنڈری رول پر راضی ہونا پڑتا ہے، اس کے بعد ہی یہ ممکن ہوتا ہے کہ ایک شخص لیڈر بن کر اپنا قائدانہ رول ادا کرسکے۔ اِس اصول کا مظاہرہ روزانہ نمازِ باجماعت کی شکل میں کیا جاتا ہے۔ نماز باجماعت یہ پیغام دیتی ہے کہ— اپنے میں سے ایک شخص کو آگے کھڑا کرکے سب کے سب بیک سیٹ (back seat) پر چلے جاؤ، ایک شخص کو امام بنا کر سب کے سب اس کے مقتدی بننے پر راضی ہوجاؤ۔سکنڈری رول کا معاملہ صرف ایک عملی بندوبست کا معاملہ ہے۔ جہاں تک اہمیت کی بات ہے، سکنڈری رول کی اہمیت قائدانہ رول سے بھی زیادہ ہے۔ قائدانہ رول ادا کرنے والے کو اگر ایک کریڈٹ ملے گا تو سکنڈری رول ادا کرنے والے کو ڈبل کریڈٹ دیا جائے گا۔ کیوں کہ سکنڈری رول ادا کرنے والا شخص، اپنا رول ادا کرنے کے ساتھ مزید یہ کرتا ہے کہ وہ اپنی انا کو قربان کردیتا ہے۔ انا کی قربانی کے بغیر سکنڈری رول کی ادائیگی ممکن نہیں، اور اناکی قربانی بلا شبہ تمام قربانیوں میں سب سے بڑی قربانی ہے۔
واپس اوپر جائیں

اصحابِ رسول

چار ہزار سال پہلے حضرت ابراہیم عراق کے قدیم شہر اُر (Ur) میں پیدا ہوئے۔ وہاں انھوں نے اپنی معاصر قوم کے درمیان اپنا دعوتی مشن جاری کیا۔ لیکن آپ کی قوم کی کنڈیشننگ اتنی زیادہ پختہ ہوچکی تھی کہ وہ آپ کے پیغام کو ماننے کے لیے تیار نہیں ہوئی۔ اِس کے بعد اللہ تعالیٰ کے حکم سے آپ نے ایک نیا منصوبہ شروع کیا۔ اِس منصوبے کا آغاز اِس طرح ہوا کہ آپ اپنی اہلیہ ہاجرہ اور اپنے چھوٹے بیٹے اسماعیل کو عرب کے صحرا میں لے گئے اور وہاں اُنھیں اِس غیر آباد ماحول میں بسا دیا۔
اِس خصوصی منصوبے کے ذریعے عرب میںایک نئی نسل پیدا ہوئی۔ اِسی نسل میں 570 عیسوی میں پیغمبرِ اسلام محمد صلی اللہ علیہ وسلم پیدا ہوئے۔ اِسی نسل میں سے وہ لوگ پیدا ہوئے جن کو اصحابِ رسول کہاجاتاہے۔ اصحابِ رسول دراصل پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے معاصر اہلِ ایمان تھے۔ اصحابِ رسول کو قرآن میں خیر ِ امت (آلِ عمران،3:110) کہاگیا ہے۔ اصحابِ رسول امتیازی اوصاف کے حامل تھے۔ ان کی صفتیں قرآن میں مختلف مقامات پر آئی ہیں۔ اِس سلسلے میں قرآن کی ایک آیت یہاں نقل کی جاتی ہے:
مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللَّہِ وَالَّذِینَ مَعَہُ أَشِدَّاءُ عَلَى الْکُفَّارِ رُحَمَاءُ بَیْنَہُمْ تَرَاہُمْ رُکَّعًا سُجَّدًا یَبْتَغُونَ فَضْلًا مِنَ اللَّہِ وَرِضْوَانًا سِیمَاہُمْ فِی وُجُوہِہِمْ مِنْ أَثَرِ السُّجُودِ ذَلِکَ مَثَلُہُمْ فِی التَّوْرَاةِ وَمَثَلُہُمْ فِی الْإِنْجِیلِ کَزَرْعٍ أَخْرَجَ شَطْأَہُ فَآزَرَہُ فَاسْتَغْلَظَ فَاسْتَوَى عَلَى سُوقِہِ یُعْجِبُ الزُّرَّاعَ لِیَغِیظَ بِہِمُ الْکُفَّارَ وَعَدَ اللَّہُ الَّذِینَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ مِنْہُمْ مَغْفِرَةً وَأَجْرًا عَظِیمًا (48:29)۔ یعنی محمد، اللہ کے رسول ہیں۔ جو لوگ اُن کے ساتھ ہیں، وہ منکروں پر سخت ہیں اور آپس میں مہربان ہیں۔ تم ان کو رکوع میں اور سجدہ میں دیکھوگے۔ وہ اللہ کا فضل اور اس کی رضا مندی کی طلب میں لگے رہتے ہیں۔ ان کی نشانی ان کے چہروں پر ہے، سجدہ کے اثر سے۔ ان کی یہ مثال تورات میں ہے۔ اور انجیل میں ان کی مثال یہ ہے کہ جیسے کھیتی، اُس نے اپنا انکھوا نکالا، پھر اس کو مضبوط کیا، پھر وہ موٹا ہوا اور پھر وہ اپنے تنے پر کھڑا ہوگیا۔ وہ کسانوں کو بھلا لگتا ہے، تاکہ اُن سے منکروں کو جلائے۔ اُن میں سے جو لوگ ایمان لائے اور نیک عمل کیا، اللہ نے اُن کے لیے معافی کا اور بڑے اجر کا وعدہ کیا ہے۔
قرآن کی اِس آیت میں اصحابِ رسول کے امتیازی اوصاف کو دو تاریخی پیشین گوئیوں کے حوالے سے بیان کیا گیا ہے۔ ایک پیشین گوئی وہ جو تورات میں آئی ہے، اور دوسری پیشین گوئی وہ ہے جس کا ذکر انجیل میں موجود ہے۔ تورات میں اصحابِ رسول کا پیشگی ذکر اِن الفاظ میں آیا ہے کہ وہ دس ہزار قدسیوں کے ساتھ آیا :
He came with ten thousands of saints (Deuteronomy 33:2)
بائبل کے اِس حوالے کے مطابق، اصحابِ رسول قدسی کردار (saintly character) کے حامل تھے۔ اصحابِ رسول کی یہ قدسی صفات مذکورہ قرآنی آیت کے مطابق، حسب ذیل ہیں:
والذین معہ
اِن صفات میں پہلی صفت وہ ہے جس کی طرف ’’معہ‘‘کے لفظ میں اشارہ کیاگیا ہے، یعنی پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کا ساتھ دینے والے۔ یہ ساتھ انھوںنے کب دیا تھا۔ انھوںنے پیغمبر اسلام کا یہ ساتھ اُس وقت دیا تھا، جب کہ آپ کی ذات کے ساتھ ابھی تاریخی عظمت جمع نہیں ہوئی تھی۔ انھوںنے پیغمبر اسلام کو خالص جوہر (merit) کی بنیاد پر پہچانا، انھوں نے بظاہر ایک معمولی شخصیت کو غیر معمولی شخصیت کے روپ میں دریافت کیا، انھوں نے تاریخی اعتراف (historical recognition) کے درجے تک پہنچنے سے پہلے آپ کی حیثیت کا اعتراف کیا۔ انھوں نے دورِ عظمت سے پہلے پیغمبر کو اس وقت پہچانا، جب کہ اُس کی ذات ہر قسم کی ظاہری عظمت سے پوری طرح خالی تھی۔
انھوں نے محمد بن عبداللہ بن عبد المطلب کو خدا کے نمائندہ کی حیثیت سے دریافت کرکے اُس کے آگے اپنے آپ کو پوری طرح سرینڈر کردیا، اصحابِ رسول نے ساعتِ عُسرت (التوبۃ،9:117) میں پیغمبر اسلام کا ساتھ دیا۔ یہ ساتھ دینا اُسی وقت ممکن تھا، جب کہ اصحابِ رسول مذکورہ امتیازی صفت کے حامل ہوں۔
أشداء علی الکفار
اصحابِ رسول کی دوسری صفت کو قرآن میں’’أشداء علی الکفار‘‘کے لفظ میں بیان کیاگیا ہے۔ اہلِ کفر پر شدید ہونے کا مطلب یہ ہے کہ وہ اہلِ باطل کے مقابلے میں غیر اثر پذیر (unyielding) کردار کے حامل تھے، مروّجہ افکار، ان کو متزلزل نہیں کرسکتے تھے، وقت کی غالب تہذیب اُن کو مرعوب کرنے والی نہ تھی، مفادات کا نظام ان کو اپنی راہ سے ہٹا نہیں سکتا تھا۔ اصحابِ رسول کی دریافتِ حقیقت اتنی زیادہ گہری تھی کہ وہی اُن کی پوری شخصیت کا واحد غالب عنصر بن گئی۔
رحماء بینہم
اصحابِ رسول کی تیسری صفت کو قرآن میں ’’رحماء بینہم‘‘کے الفاظ میں بیان کیاگیا ہے، یعنی آپس میں ایک دوسرے کے لیے آخری حد تک ہمدرد اور خیر خواہ ہونا۔ اِس صفت کی غیرمعمولی اہمیت اُس وقت سمجھ میں آتی ہے جب کہ اِس حقیقت کو سامنے رکھا جائے کہ اصحابِ رسول کے درمیان وہ تمام اختلافات (differences) موجود تھے جو ہر انسانی گروہ کے درمیان فطری طورپر پائے جاتے ہیں۔ اِس کے باوجود وہ بنیانِ مرصوص (الصّف،61:4) کی طرح باہم متحد رہے، انھوں نے اِس صلاحیت کا ثبوت دیا کہ وہ اختلاف کے باوجود آپس میں متحد ہوسکتے ہیں، وہ شکایتوں کے باوجود ایک دوسرے کے خیرخواہ بن سکتے ہیں، وہ منفی اسباب کے باوجود اپنے اندر مثبت شخصیت کی تعمیر کرسکتے ہیں۔ اصحابِ رسول کی یہی صفت تھی جس کی بنا پر وہ توحید پر مبنی وہ انقلاب لاسکے جس نے تاریخ کا رخ موڑ دیا۔
تراھم رکعاً سجداً
اصحابِ رسول کی چوتھی صفت کو ’’تراھم رکعاً سجداً‘‘کے الفاظ میں بیان کیا گیا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اصحابِ رسول کامل طورپر اللہ کے آگے جھکے ہوئے تھے، ان کے اندر کامل درجے میں خود سپردگی کا مزاج پیدا ہوگیا تھا، اللہ کی کبریائی کی معرفت ان کو اتنے بڑے درجے میں حاصل ہوئی تھی، جب کہ انسان شعوری طورپر اللہ کی قدرتِ کاملہ کا ادراک کرلیتا ہے اور اس کے اندر اپنے عاجزِ مطلق ہونے کا شعور اِس طرح پیدا ہوجاتا ہے کہ وہ اپنی پوری شخصیت کے ساتھ اللہ کے آگے جھک جاتا ہے۔ اس کے دل ودماغ میں اللہ کی بڑائی کے سوا کوئی اور بڑائی باقی نہیں رہتی، اس کا واحدکنسرن (sole concern) اللہ وحدہ لاشریک بن جاتا ہے۔ یہی توحید ِ کامل ہے، اور اصحابِ رسول اِس توحید ِ کامل میں آخری درجے پر پہنچے ہوئے تھے۔
یبتغون فضلاً من اللہ ورضواناً
اصحابِ رسول کی پانچویں صفت وہ ہے جس کو قرآن میں ’’یبتغون فضلاً من اللّٰہ ورضواناً‘‘ کے الفاظ میں بیان کیاگیا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اصحابِ رسول کی معرفت نے اُن کے اندر اللہ کی ذات پر کامل یقین پیدا کردیا تھا، وہ اللہ پر کامل اعتماد (confidence) والے بن گئے تھے، وہ یہ سمجھنے لگے تھے کہ دینے والا بھی اللہ ہے اور چھیننے والا بھی اللہ، کامیابی کا سرا بھی اللہ کے ہاتھ میں ہے اور ناکامی کا سرا بھی اللہ کے ہاتھ میں۔ وہ ہر دوسری چیز سے زیادہ اللہ پر بھروسہ کرنے والے بن گئے تھے، اُن کی امیدیں اور آرزوئیں تمام تر اللہ پر منحصر ہوگئی تھیں۔
سیماہم فی وجوہہم من أثر السجود
اصحابِ رسول کی چھٹی صفت کو قرآن میں’’سیماہم فی وجوہہم من أثر السجود‘‘ کے الفاظ میں بیان کیا گیا ہے۔ اس سے مراد یہ ہے کہ اصحابِ رسول کی دریافتِ حقیقت نے اُن کے اندر آخری حد تک وہ صفات پیدا کردی تھیں جن کو سنجیدگی (sincerity) اور تقویٰ اور تواضع کہاجاتا ہے۔ یہی کمالِ انسانیت کی پہچان ہے، یہی وہ صفات ہیں جو کسی انسان (man)کو اعلیٰ انسان(super man) بناتی ہیں۔ اِن صفات کی حامل شخصیت کو ربانی شخصیت (divine personality) کہا جاتا ہے۔ اصحابِ رسول بلاشبہ اِن صفات میں کمال درجے پر تھے۔
اِس کے بعد اصحابِ رسول کی اُس خصوصیت کو بیان کیاگیا ہے جس کا ذکر انجیل میں حضرت مسیح کی زبان سے اِن الفاظ میں آیا ہےکہ اُس نے ایک اور تمثیل ان کے سامنے پیش کرکے کہا کہ آسمان کی بادشاہی اُس رائی کے دانے کی مانند ہے جس کو کسی آدمی نے لے کراپنے کھیت میں بودیا۔ وہ سب بیجوں سے چھوٹا تو ہے، مگر وہ جب بڑھتا ہے تو سب ترکاریوں سے بڑا اور ایسا درخت ہوجاتا ہے کہ ہوا کے پرندے آکر اس کی ڈالیوں پر بسیرا کرتے ہیں:
Another parable he put forth to them, saying: “The kingdom of heaven is like a mustard seed, which a man took and sowed in his field, which indeed is the least of all the seeds, but when it is grown, it is greater than the herbs and becomes a tree, so that the birds of the air come and nest in its branches”. (Matthew 13: 31-32)
اصحابِ رسول کی جو صفت تورات میں مختصراً اور قرآن میں تفصیلاً بیان کی گئی ہے، اُس کا تعلق اصحابِ رسول کی انفرادی خصوصیات سے ہے۔ یہ اعلیٰ خصوصیتیں ہر صحابی کے اندر کامل درجے میں پائی جاتی تھیں۔ اِن خصوصیات نے ہر صحابی کو، ایک مستشرق کے الفاظ میں، ہیرو (hero) بنا دیا تھا۔
اصحابِ رسول کی دوسری صفت جو انجیل اور قرآن دونوں میںآئی ہے، وہ تمثیل کی صورت میں اُس اجتماعی انقلاب کو بتاتی ہے جو اصحابِ رسول کے ذریعے برپا ہوا تھا۔ یہ تمثیل ایک درخت کی صورت میں ہے۔ اِس درخت کا بیج پیغمبرِ اسلام کی پیدائش سے ڈھائی ہزار سال پہلے صحرائے عرب میں لگایا گیا تھا۔ اس کا آغاز حضرت ابراہیم اور حضرت ہاجرہ اور حضرت اسماعیل کی قربانیوں کے ذریعے ہوا تھا۔ یہ پودا نسل درنسل بڑھتا رہا۔
اصحابِ رسول اِسی تاریخی نسل کا اگلا حصہ تھے۔ اصحابِ رسول نے غیر معمولی قربانی کے ذریعے یہ کیا کہ انھوں نے توحید کے نظریے کو فکری انقلاب کے دور تک پہنچا دیا۔ اِس فکری انقلاب کے بعد تاریخ بشری میں ایک نیا پراسس جاری ہوا۔ بعد کی عالمی تبدیلیاں اِسی انقلابی عمل کا نتیجہ تھیں۔ فرانسیسی مؤرخ ہنری پرین (وفات1935) نے اِس انقلابی واقعے کا اعتراف اِن الفاظ میں کیا ہے — اسلام نے زمین کے نقشے کو بدل دیا، تاریخ کے روایتی دور کا کامل خاتمہ ہوگیا:
Islam changed the face of the globe, the traditional order of history was overthrown.
یعجب الزرّاع
’’یعجب الزرّاع‘‘کے لفظ میں ایک تاریخی پس منظر کی طرف اشارہ ہے۔ رسول اور اصحابِ رسول کے پہلے کی جو دعوتی تاریخ ہے، اُس میں بار بار ایسا ہوا کہ خدا کے داعیوں نے دعوت کا بیج ڈالا، لیکن وہ بڑھ کر ایک شاداب درخت نہ بن سکا۔ یہ واقعہ پہلی بار اصحابِ رسول کے ذریعے پیش آیا۔ دعوت کے عمل میں یہ ارتقا سارے زمین وآسمان کے لیے بے پناہ مسرت کا باعث تھا،جو دعوتِ توحید کو ایک شاداب باغ کی صورت میں دیکھنے کے لیے ہزاروں سال سے اس کا انتظار کررہے تھے۔
لیغیظ بہم الکفار
’’لیغیظ بہم الکفار‘‘کا مطلب یہ ہے کہ وہ اہلِ باطل جو حق کا فروغ دیکھنا نہیں چاہتے تھے، اُن کے لیے حق کے فروغ کا یہ عظیم واقعہ بے پناہ مایوسی کا سبب بن گیا۔ ان کی ہزاروں سال کی خوشیاں خاک میں مل کر رہ گئیں۔ ان کا یہ حوصلہ آخری طورپر ختم ہوگیا کہ وہ حق کو ہمیشہ مغلوب رکھیں گے اور اس کو کبھی ابھرنے کا موقع نہ دیں گے۔ اِس مایوسی میں دونوں گروہ یکساں طورپر شریک تھے، باطل پرست انسان بھی، اور ابلیس کا دشمن ِ حق قافلہ بھی، حق کی یہ کامیابی دونوں ہی کے لیے ان کے منصوبوں کے خاتمہ کے ہم معنی بن گئی۔
ایمان اور عمل صالح
مذکورہ آیت میں آخری بات یہ کہی گئی ہے کہ— اُن میں سے جو لوگ ایمان لائے اور انھوں نے نیک عمل کیا، اللہ نے ان سے معافی کا اور بڑے اجر کا وعدہ کیا ہے۔ یہ بشارت براہِ راست طورپر اصحابِ رسول کے لیے ہے اور بالواسطہ طورپر قیامت تک کے اُن تمام لوگوں کے لیے ہے جو اصحابِ رسول کے رول کو دریافت کریں اور بعد کے زمانوں میں اس کا تسلسل جاری رکھیں۔ تسلسل کو جاری رکھنے کا یہ عمل کوئی سادہ عمل نہیں ۔ اِس کے لیے ایسے افراد درکار ہیں جن کے اندر تخلیقی فکر ہو اور جن کے اندر مجددانہ صلاحیت ہو۔ بعد کی نسلوں میں جو لوگ ایمان اور عملِ صالح کی اِس اعلیٰ صلاحیت کا ثبوت دیں گے، وہ سب مذکورہ قرآنی بشارت میں شامل ہوتے چلے جائیں گے۔
٭ ٭ ٭ ٭٭
اس ابراہیمی منصوبے پر غور کیجیے تو معلوم ہوگا کہ حضرت ابراہیم کی قربانی، قربانی برائے دعوت تھی۔اس کا مطلب یہ تھا کہ عراق کے تجربے کی روشنی میں عرب میں ایک نیا دعوتی منصوبہ بنایا جائے، جو نتیجہ کے اعتبار سے زیادہ موثر ثابت ہو۔ جانور کے ذبیحہ کی صورت میں اس منصوبہ میں شامل افراد کو پیشگی یہ بتایا گیا کہ تم کو اس منصوبہ کی کامیاب تکمیل کے لیے ایک ایسے پرمشقت کورس سے گزرنا ہوگا، جو گویا ذبیحہ (slaughter) جیسے تجربہ کےبرابر ہوگا۔اب وقت آگیا ہے کہ مسلمان دوبارہ حضرت ابراہیم کی اس تاریخ کو دہرائیں ۔ موجودہ زمانہ میں وہ دوبارہ یہ کریں کہ شکایت کے ذہن کو مکمل طور پر ختم کردیں۔ وہ ردعمل کی سرگرمیوں سے مکمل طور پر اپنے کو بچائیں۔ وہ تشدد کی سرگرمیوں کو چھوڑ کر پرامن دعوت کا منصوبہ بنائیں۔ وہ دوبارہ جذبات کی قربانی کا ثبوت دیں۔ موجودہ زمانے میں بھی بظاہر تمثیلی قربانی کا سلسلہ جاری رہے گا، لیکن اسپرٹ کے اعتبار سے ان کو اپنے آپ کو مکمل طور پر بدلنا ہوگا۔ ابراہیم اور اسماعیل کے زمانے میں اگر ڈیزرٹ تھراپی کا طریقہ اختیار کیا گیا تھا تو اب مسلمانوں کو صبر تھراپی (sabr therapy) کا طریقہ اختیار کرنا ہوگا۔
واپس اوپر جائیں

ملتِ ابراہیم

ایک صاحب نے لکھا ہے کہ قرآن میں ایک سے زیادہ بار اتباع ملتِ ابراہیم کا حکم دیا گیاہے۔ یہ ملتِ ابراہیم کیا ہے؟ براہ کرم واضح کریں(ایک قاری الرسالہ، لکھنؤ)۔
اس سوال کا جواب یہ ہے کہ وہ چیز جس کو ہم ملتِ ابراہیم یا ابراہیمی ملت کہتے ہیں، وہ وہی ہے جس کا دوسرا نام اسلام ہے۔ اصل یہ ہے کہ اس وقت دنیا میں تین بڑے آسمانی مذاہب ہیں — دین یہود، دین نصاریٰ، اور دین محمد۔ان تینوں مذاہب کے مورث اعلیٰ حضرت ابراہیم تھے۔اسی لیے حضرت ابراہیم کوقرآن میں امام الناس (البقرۃ، 2:124) کہا گیا ہے۔ تینوں مذاہب کے بانی حضرت ابراہیم کی نسل سے تعلق رکھتے ہیں۔ حضرت ابراہیم کی اسی جامعیت کی بنا پر قرآن میں ان کو امۃ (النحل، 16:120)کہا گیا ہے۔
حضرت ابراہیم تقریباًچار ہزار سال پہلے قدیم عراق میں پیدا ہوئے۔حضرت ابراہیم ایک صاحبِ کتاب پیغمبر تھے(الاعلیٰ، 87:19)۔ اگرچہ ان کی کتاب آج محفوظ نہیں۔ اسی طرح بقیہ تینوں مذاہب کے انبیامیں سے حضرت موسی، اور حضرت مسیح صاحب کتاب پیغمبر تھے۔ تاہم ان کی کتابیں بھی آج پوری طرح محفوظ حالت میں نہیں ہیں۔
حضرت محمد نے اسی بارے میں یہ کہا کہ میں اسی دین کو لے کر آیا ہوں جس دین کو لے کر حضرت ابراہیم آئے تھے(النحل، 16:123)۔ اس اعتبار سے رسول اللہ کا مشن دینِ ابراہیم کی تجدید کا مشن تھا۔ رسول اللہ کو یہ خصوصیت حاصل ہوئی کہ آپ کا لایا ہوا دین ہر اعتبار سے محفوظ دین تھا، اور اب حق کے متلاشی کو اسی دینِ محمدی کی طرف رجوع کرنا ہے۔ کیوں کہ اب اللہ کا دین اپنی محفوظ حالت میں صرف دینِ محمدی میں پایا جاتا ہے۔مکہ کے قریش اگرچہ عملاً شرک پر قائم تھے، لیکن وہ اپنے مذہب کو حضرت ابراہیم کے ساتھ وابستہ کرتے تھے۔ اس لیے وسیع تر پہلو سے قریش بھی اس خطاب میں شامل ہیں۔یہود و نصاریٰ اس خطاب میں براہ راست طور پر شامل تھے، اور قریش بالواسطہ طور پر۔
واپس اوپر جائیں

حج کی اجتماعی اہمیت

حج اسلام کی ایک نہایت اہم سالانہ عبادت ہے۔ وہ قمری کیلنڈر کے آخری ماہ ذو الحجہ میں ادا کیا جاتاہے۔ حج کی عبادت کے مراسم بیت اللہ (مکہ) میں یا اس کے آس پاس کے مقامات پر ادا کیے جاتے ہیں جو عرب میں واقع ہے۔ اس عبادت کو تمام عبادت کا جامع کہا جاتا ہے۔ چنانچہ اس میںہر قسم کے عبادتی پہلو پائے جاتے ہیں۔ انہی میں سے ایک اجتماعی پہلو بھی ہے۔ حج کی عبادت میں اجتماعیت کا پہلو بہت نمایاں طو پر موجود ہے۔ انسائیکلو پیڈیا بریٹانیکا (1984) میں حج کی تفصیل دیتے ہوئے یہ جملہ لکھاگیا ہے:
About 2,000,000 persons perform the Hajj each year, and the rite serves as a unifying force in Islam by bringing followers of diverse background together in religious celebration. (V.IV, p. 844)
تقریباً دو ملین آدمی ہر سال حج کرتے ہیں اور یہ عبادت مختلف ملکوں کے مسلمانوں کو ایک مذہبی تقریب میں یکجا کر کے اسلام میں اتحادی طاقت کا کام کرتی ہے۔
قرآن میں حج کا حکم دیتے ہوئے یہ الفاظ آئے ہیں:وَإِذْ جَعَلْنَا الْبَیْتَ مَثَابَةً لِلنَّاسِ وَأَمْنًا(2:125)۔ یعنی خدا نے بیت اللہ کو لوگوں کے لیے مثابہ بنایا اور اس کو امن کی جگہ بنا دیا۔ مثابہ کے معنٰی عربی زبان میں تقریباً وہی ہیں جس کو آج کل کی زبان میں مرکز کہا جاتا ہے۔ یعنی وہ جگہ جہاں لوگ جمع ہوں۔ جس کی طرف سب لوگ رجوع کریں، جو سب کا مشترک مرجع اور شیرازہ ہو۔
حج کی عبادت کے لیے ہر سال ساری دنیا کے مسلمان مکہ آتے ہیں۔ 2012 میں ان کی تعداد تقریباً3 ملین تھی۔ حج کے موسم میں مکہ اور اس کے آس پاس ہر طرف آدمی ہی آدمی دکھائی دینے لگتے ہیں۔ یہ لوگ مختلف زبانیں بولتے ہیں۔ ان کے حلیے الگ الگ ہوتے ہیں۔ مگر یہاں آنے کے بعد سب کی سوچ ایک ہوجاتی ہے۔ سب ایک اللہ کی عبادت کرتے ہیں۔ حج کے دوران وہ ان کی تمام توجہ کا مرکز بنا رہتا ہے۔ اس طرح حج ایک ایسی عبادت بن جاتا ہے جو اپنے تمام اعمال اور تقریبات کے ساتھ انسان کو اجتماعیت اور مرکزیت کا سبق دے رہا ہے۔
حج کی تاریخ حضرت ابراہیم اور حضرت اسماعیل کی زندگی سے وابستہ ہے۔ یہ دونوں ہستیاں وہ ہیں جن کو نہ صرف مسلمان خدا کا پیغمبر مانتے ہیں بلکہ دوسرے بڑے مذاہب کے لوگ بھی ان کو عظیم پیغمبر تسلیم کرتے ہیں۔ اس طرح حج کے عمل کو تاریخی طور پر تقدس اور عظمت کا وہ درجہ مل گیا ہے جو دنیا میں کسی دوسرے عمل کو حاصل نہیں۔
حضرت ابراہیم قدیم عراق میں پیدا ہوئے۔ حضرت اسماعیل ان کے صاحبزادے تھے۔ اس وقت عراق ایک شاندار تمدن کا ملک تھا۔ آزر حضرت ابراہیم کے والد اور حضرت اسماعیل کے دادا تھے۔ ان کو عراق کے سرکاری نظام میں اعلیٰ عہد یدار کی حیثیت حاصل تھی۔ حضرت ابراہیم اور حضرت اسماعیل کے لیے عراق میں شاندار ترقی کے اعلیٰ مواقع کھلے ہوئے تھے۔ مگر عراق کے مشرکانہ نظام سے وہ موافقت نہ کرسکے۔ ایک خدا کی پرستش کی خاطر انہوں نے اس علاقہ کو چھوڑ دیا جو کئی خداؤں کی پرستش کا مرکز بنا ہوا تھا۔ وہ عراق کے سرسبز ملک کو چھوڑ کر عرب کے خشک صحرا میں چلے گئے جہاں کی سنسان دنیا میں خالق اور مخلوق کے درمیان کوئی اور چیز حائل نہ تھی۔ یہاں انہوں نے ایک خدا کے گھر کی تعمیر کی۔
حضرت ابراہیم اور حضرت اسماعیل کے اس عمل کو دوسرے لفظوں میں اس طرح بیان کیا جاسکتا ہے کہ انہوں نے کئی خداؤں کو اپنا مرجع بنانے کے بجائے ایک خدا کو اپنا مرجع بنایا۔ اور اس مقصد کے لیے بیت اللہ (کعبہ) کی تعمیر کی جو خدائے واحد کی عبادت کا عالمی مرکز ہے۔ یہی مرکزِ توحید حج کے مراسم کی ادائیگی کا مرکز بھی ہے۔
حج کی عبادت میں جو مراسم ادا کیے جاتے ہیں ان کے بعض پہلوؤں کو دیکھیے۔ حج کے دوران حاجی سب سے زیادہ جو کلمہ بولتا ہے وہ یہ ہے:
لبیک اللہم لبیک، لبیک لا شریک لک لبیک، إن الحمد والنعمة لک والملک، لا شریک لک ۔ ( حاضر ہوں خدایا، میں حاضر ہوں۔ حاضر ہوں۔ تیرا کوئی شریک نہیں۔ میں حاضر ہوں۔ تعریف اور نعمت تیرے ہی لیے ہے، اور بادشاہی بھی، تیرا کوئی شریک نہیں۔)
حاجی کی زبان سے بار بار یہ الفاظ کہلوا کر تمام لوگوں کے اندر یہ نفسیات پیدا کی جاتی ہے کہ بڑائی صرف ایک اللہ کی ہے۔ اس کے سوا جتنی بڑائیاں ہیں سب اس لیے ہیں کہ وہ سب اسی ایک عظیم تر بڑائی میں گم ہو جائیں۔ یہ احساس اجتماعیت کا سب سے بڑا راز ہے۔ اجتماعیت اور اتحاد ہمیشہ وہاں نہیں ہوتا جہاں ہر آدمی اپنے کو بڑا سمجھ لے۔ اس کے برعکس جہاں تمام لوگ کسی ایک کے حق میں اپنی انفرادی بڑائی سے دست بردار ہو جائیں وہاں اتحاد اور اجتماعیت کے سوا کوئی اور چیز پائی نہیں جاتی ۔ بے اتحادی بڑائیوں کی تقسیم کا نام ہے اور اتحاد بڑائیوں کی وحدت کا۔
اسی طرح حج کا ایک اہم رکن طواف ہے۔ دنیا بھر کے لوگ جو حج کے موسم میں مکہ میں جمع ہوتے ہیں وہ سب سے پہلے کعبہ کا طواف کرتے ہیں۔ یہ اس بات کا عملی اقرار ہے کہ آدمی اپنی کوششوں کا مرکز و محور صرف ایک نقطہ کو بنائے گا۔ وہ ایک ہی دائرہ میں حرکت کرے گا۔ یہ عین وہی مرکزیت ہے جو مادی سطح پر نظامِ شمسی (solar system) میں نظر آتی ہے۔ نظامِ شمسی کے تمام سیارے ایک ہی سورج کو مرکزی نقطہ بنا کر اس کے گرد گھومتے ہیں۔ اسی طرح حج یہ سبق دیتا ہے کہ انسان ایک خدا کو اپنا مرجع بنا کر اس کے دائرے میں گھومے۔
اس کے بعد حاجی صفا اور مروہ کے درمیان سعی کرتا ہے۔ وہ صفا سے مروہ کی طرف جاتا ہے اور پھر مروہ سے صفا کی طرف لوٹتا ہے۔ اس طرح وہ سات چکر لگاتا ہے۔ یہ عمل کی زبان میں اس بات کا سبق ہے کہ آدمی کی دوڑ دھوپ ایک حد کے اندر بندھی ہوئی ہونی چاہیے۔ اگر آدمی کی دوڑ دھوپ کی کوئی حد نہ ہو تو کوئی ایک طرف بھاگ کر نکل جائے گا اور کوئی دوسری طرف۔ مگر جہاں دوڑ دھوپ کی حد بندی کر دی گئی ہو وہاں ہر آدمی بندھا رہتا ہے۔ وہ بار بار وہیں لوٹ کر آتا ہے جہاں اس کے دوسرے بھائی اپنی سرگرمیاں جاری کیے ہوں۔
یہی حج کے دوسرے تمام مراسم کا حال ہے۔ حج کے تمام مراسم مختلف پہلوؤں سے ایک ہی نشانہ پر چلتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ ایسا معلوم ہوتا ہے جیسے کوئی ربانی مقناطیس ہے جو ’’لوہے‘‘ کے تمام ٹکڑوں کو ایک نقطہ پر کھینچتے چلا جارہا ہے۔
مختلف ملکوں کے یہ لوگ جب مقامِ حج کے قریب پہنچتے ہیں تو سب کے سب اپنا قومی لباس اتار دیتے ہیں اور سب کے سب ایک ہی مشترک لباس پہن لیتے ہیں جس کو احرام کہا جاتا ہے۔ احرام باندھنے کا مطلب یہ ہے کہ بغیر سلی ہوئی ایک سفید چادر نیچے تہمد کی طرح پہن لی جائے اور اسی طرح ایک سفید چادر اوپر سے جسم پر ڈال لی جائے۔ اس طرح لاکھوں انسان ایک ہی وضع اور ایک ہی رنگ کے لباس میں ملبوس ہو جاتے ہیں۔
یہ سارے لوگ مختلف مراسم ادا کرتے ہوئے بالآخر عرفات کے وسیع میدان میں اکھٹا ہوتے ہیں۔ اس وقت ایک عجیب منظر ہوتا ہے۔ ایسا معلوم ہوتا ہے جیسے انسانوں کے تمام فرق اچانک مٹ گئے ہوں۔ انسان اپنے تمام اختلافات کو کھو کر خدائی وحدت میں گم ہوگئے ہیں۔ تمام انسان ایک ہوگئے ہیں جیسے ان کا خدا ایک ہے۔
عرفات کے وسیع میدان میں جب احرام باندھے ہوئے تمام حاجی جمع ہوتے ہیں اس وقت کسی بلندی سے دیکھا جائے تو ایسا نظر آئے گا کہ زبان، رنگ، حیثیت، جنسیت کے فرق کے باوجود سب کے سب انسان بالکل ایک ہوگئے ہیں۔ اس وقت مختلف قومیتیں ایک ہی بڑی قومیت میں ضم ہوتی ہوئی نظر آتی ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ حج اجتماعیت کا اتنا بڑا مظاہرہ ہے کہ اس کی کوئی دوسری مثال غالباً دنیا میں کہیں اور نہیں ملے گی۔
کعبہ مسلمانوں کا قبلۂ عبادت ہے۔ مسلمان ہر روز پانچ وقت اس کی طرف رُخ کرکے نماز پڑھتے ہیں۔ گویا ساری دنیا کے مسلمانوں کا عبادتی قبلہ ایک ہی ہے۔ عام حالت میں وہ ایک تصوراتی حقیقت ہوتا ہے۔ مگر حج کے دنوں میں مکہ پہنچ کر وہ ایک آنکھوں دیکھی حقیقت بن جاتا ہے۔ ساری دنیا کے مسلمان یہاں پہنچ کر جب اس کی طرف رُخ کر کے نماز ادا کرتے ہیں تو محسوس طورپر دکھائی دینے لگتا ہے کہ تمام دنیا کے مسلمانوں کا مشترک قبلہ ایک ہی ہے۔
کعبہ ایک چوکور قسم کی عمارت ہے۔ اس عمارت کے چاروں طرف گول دائرہ میں سارے لوگ گھومـتے ہیں جس کو طواف کہا جاتا ہے۔ وہ صف بہ صف ہو کر اس کے گرد گول دائرہ میںلوگوں کو ایک ہونے اور مل کر کام کرنے کا سبق دیتے ہیں۔ وہ ایک آواز پر حرکت کرنے کا عملی مظاہرہ ہیں۔
ایکتا کے اس عظیم تربیتی نظام ہی کا یہ بھی ایک ظاہری پہلو ہے کہ تمام لوگوں سے ان کے انفرادی لباس اُتروا کر سب کو ایک ہی سادہ لباس پہنا دیا جاتا ہے۔ یہاں بادشاہ اور رعایا کا فرق مٹ جاتا ہے۔ یہاں مشرقی لباس اور مغربی لباس کے امتیازات فضا میں گم ہو جاتے ہیں۔ احرام کے مشترک لباس میں تمام لوگ اس طرح نظر آتے ہیں جیسے کہ تمام لوگوں کی صرف ایک حیثیت ہے۔ تمام لوگ صرف ایک خدا کے بندے ہیں۔ اس کے سوا کسی کوکوئی اور حیثیت حاصل نہیں۔
حج کے مقرر ہ مراسم اگرچہ مکہ میں ختم ہو جاتے ہیں مگر بیشتر حاجی حج سے فارغ ہو کر مدینہ بھی جاتے ہیں۔ مدینہ کا قدیم نام یثرب تھا۔ مگر پیغمبر ِ اسلام نے اپنی زندگی کے آخری زمانے میں اس کو اپنا مرکز بنایا۔ اس وقت سے اس کا نام مدینۃ النبی (نبی کا شہر) پڑ گیا۔ مدینہ اسی کااختصار ہے۔ مدینہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بنائی ہوئی مسجد ہے۔ یہاں آپ کی قبر ہے۔ یہاں آپ کی پیغمبرانہ زندگی کے نشانات بکھرے ہوئے ہیں۔
ان حالات میں حاجی جب مدینہ پہنچتے ہیں تو یہ ان کے لیے مزید اتحاد اور اجتماعیت کا عظیم سبق بن جاتا ہے۔ یہاں کی مسجد نبوی میں وہ اس یاد کو تازہ کرتے ہیں کہ ان کا رہنما صرف ایک ہے۔ وہ یہاں سے یہ احساس لے کر لوٹتے ہیں کہ ان کے اندر خواہ کتنے ہی جغرافی اور قومی فرق پائے جاتے ہوں، انہیں ایک ہی پیغمبر کے بتائے ہوئے راستہ پر چلنا ہے۔ انہیں ایک مقدس ہستی کو اپنی زندگی کا رہنما بنانا ہے۔ وہ خواہ کتنے ہی زیادہ اور کتنے ہی مختلف ہوں، مگر ان کا خدا بھی ایک ہے اور ان کا پیغمبر بھی ایک۔
واپس اوپر جائیں

حج کی اسپرٹ

قرآن میں حج کے تعلق سے دو آیتیں آئی ہیں۔ ان کا ترجمہ یہ ہے: لوگوں میں حج کا اعلان کردو، وہ تمہارے پاس آئیں گے۔ پیروں پر چل کر اور دبلے اونٹوں پر سوار ہو کر جو کہ دور دراز راستوں سے آئیں گے۔ تاکہ وہ اپنے فائدہ کی جگہوں پر پہنچیں اور چند معلوم دنوں میں ان چوپایوں پر اللہ کا نام لیں جو اس نے انھیں بخشے ہیں(22:27-28)۔یہاں منافع سے مرادایمانی منافع ہیں۔حج کے موقع پر ان ایمانی منافع کا ذریعہ وہ چیزیں ہیں، جن کو قرآن میں دوسرے مقام پر شعائر اللہ (البقرۃ، 2:158) کہا گیا ہے، یعنی اللہ کی یادگاریں۔ اللہ کی یادگاروں سے مراد توحید کے مشن کی وہ تاریخی یادگاریں ہیں، جو پیغمبروں کے ذریعے اس علاقے میں قائم ہوئیں۔ حج کے موقع پر جو مراسم ادا کیے جاتے ہیں، وہ سب اسی پیغمبرانہ تاریخ کی یاد دہانی کے لیے ہیں۔
احرام کا مطلب یہ ہے کہ مادی کلچر سے نکل کر آدمی ربانی کلچر میں داخل ہوگیا۔ صفا اور مروہ کے درمیان سعی کرکے حاجی اس عہد کی تجدید کرتا ہے کہ وہ اُمّ ِاسماعیل کی طرح اپنے آپ کو دینِ توحید کے لیے وقف کرے گا۔ جمرات پر کنکریاں مار کر وہ علامتی زبان میں یہ کہہ رہا ہوتاہے کہ میں اسی طرح شیطان کو اپنے آپ سے دور بھگاؤں گا، جس طرح پیغمبر ابراہیم نے شیطان کو اپنے آپ سے دور بھگایا ۔ قربانی کرکے حاجی یہ عہد کرتا ہے کہ وہ مادہ پرستی کو چھوڑ کر خدا پرستی کی زندگی اختیار کرے گا۔ عرفات کے میدان میں اکھٹا ہو کر تمام حاجی اس وقت کو یاد کرتے ہیں، جب میدانِ محشر میں اپنا حساب دینے کے لیے حاضر کیے جائیں گے۔آخر میں حاجی پیغمبر ِ اسلام کی اس پکار کو لے کر واپس ہوتا ہے ، جو پیغمبر ِ اسلام نے 1400 سال پہلے کہا تھا:إِنَّ اللہَ عَزَّ وَجَلَّ بَعَثَنِی رَحْمَةً لِلنَّاسِ کَافَّةً، فَأَدُّوا عَنِّی (المعجم الکبیر للطبرانی، 20/8)۔ یعنی اللہ نے مجھے تمام لوگوں کے لیے رحمت بنا کر بھیجا ہے، اس لیے تم میری طرف سے تمام انسانوں کو میرا پیغام پہنچادو۔ اس میں سبق کا پہلویہ ہے کہ اے مسلمانو، تم لوگ خدا کے دین کی عالمی پیغام رسانی میں سر گرم ہوجاؤ۔ تمھاری دوڑ دھوپ، تمھارا ٹھہرنا اور چلنا، تمھارا چپ ہونا اور بولنا، سب کچھ اسی دعوتی مشن کے لیے وقف ہوجائے۔
حج کو افضل عبادت کہا گیا ہے۔ یہ کوئی پراسرار بات نہیں ہے۔ بلکہ یہ ایک معلوم حقیقت ہے۔ حج کی سالانہ عبادت کے دوران جو عمل کیے جاتے ہیں، ان پر غور کرنے سے یہ واضح ہوتا ہے کہ حج اپنے کثیر فوائد کی بنا پر اس قابل ہے کہ اس کو افضل عبادت کہا جائے۔حج میں ساری دنیا کے مسلمان مختلف علاقوں سے چل کر کعبہ کی سرزمین میں پہنچتے ہیں۔ یہ سفر پتھروں کا سفر نہیں ہوتا، بلکہ زندہ انسانوں کا سفر ہوتا ہے، ایسے انسان جو دیکھنے اور سننے اور سمجھنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ اس طرح جب یہ لوگ حج کے موسم میں دنیا کے مختلف علاقوں سے نکل کر حجاز کی طرف روانہ ہوتے ہیں، تو اس کا فطری نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ ایک عالمی ہل چل وجود میں آجاتی ہے۔ اس اعتبار سے حج کے بارے میں یہ کہا جاسکتا ہے کہ وہ عالمی سطح پر انسانوں کا ایک عبادتی موبلائزیشن ہے۔
تقریباً نصف کروڑ کی تعداد میں جب اہلِ ایمان اپنے گھروں سے نکل کر حج کے سفر پر روانہ ہوتے ہیں، تو اس دوران بار بار ان کا انٹرایکشن دوسروں سے ہوتا ہے۔ اس انٹرایکشن کے دوران اپنے آپ ایسا ہوتا ہے کہ مختلف ملکوں کے لوگوں کے درمیان اسلام کے تعارف کا عمل شروع ہوجاتا ہے۔ حاجی کو ا س سفر کے دوران نئی نئی چیزیں دیکھنے کو ملتی ہیں۔ اس سے اُس کے تجربات میں اضافہ ہوتا ہے۔ اس دوران اُس کی زندگی مختلف مراحل سے گزرتی ہے۔ اس طرح حج کا سفر اس کے لیے دینی سیاحت کے ہم معنی بن جاتا ہے۔ اس سفر کے دوران باربار دوسرے حاجیوں سے اس کے اختلافات ہوتے ہیں۔ مگر قرآن کی آیت (2:197)وَلَا جِدَالَ فِی الْحَجِّ (حج میں لڑائی جھگڑانہیںہے) کے تحت وہ ان اختلافات پر تحمل کا طریقہ اختیار کرتا ہے۔ اس طرح حج اس کے لیے اختلاف کے باوجود اتحاد کی تربیت بن جاتا ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ حج ایک جامع عبادت ہے۔ حج کا عمل ایک ایسی تربیت ہے، جس میں وہ تمام پہلو شامل ہوجاتے ہیں، جو اسلام میں ہر فرد سے مطلوب ہیں۔ تاہم حج کے فائدے صرف اس انسان کو ملتے ہیں، جو زندہ شعور کے ساتھ حج کرے۔
واپس اوپر جائیں

حقیقی اہمیت

پیغمبر اسلام کے طریقہ کا ایک پہلو یہ تھا کہ آپ کی نظر ہمیشہ حقائق پر ہوتی تھی،نہ کہ ظواہر پر۔ ظواہر میں اگر بے خبری کی بنا پر کوئی فرق ہوجائے تو اس کو آپ ناقابل لحاظ سمجھتے تھے۔ البتہ حقیقی اہمیت والی باتوں کے بارے میں آپ کا رویہ ہمیشہ بہت سخت ہوتا تھا۔
پیغمبر اسلام کے آخری حج کا ایک واقعہ البخاری ، مسلم، ابو داؤد میںتھوڑے تھوڑے لفظی فرق کے ساتھ آیا ہے۔ یہ آپ کی زندگی کا آخری سال تھا۔ آپ حج کا فریضہ ادا کرنے کے بعد منیٰ میں بیٹھے ہوئے تھے۔ لوگ آپ کے پاس آتے اور حج کے مسائل دریافت کرتے۔ کوئی کہتا کہ مجھے مسئلہ معلوم نہ تھا چنانچہ میںنے ذبح کرنے سے پہلے بال منڈوا لیا۔ کوئی کہتاکہ میںنے رمی سے پہلے نحر (قربانی) کرلی، وغیرہ۔ آپ ہر ایک سے کہتے کہ کرلو، کوئی حرج نہیں۔ اسی طرح بار بارلوگ آتے رہے اور تقدیم اور تاخیر کی بابت سوال کرتے رہے۔ آپ ہر ایک سے یہی کہتے کہ کوئی حرج نہیں، کوئی حرج نہیں، (لَا حَرَجَ لَا حَرَجَ)مسند احمد، حدیث نمبر 1857۔
ابو داؤد کی روایت (نمبر 2015) میں مزید ان الفا ظ کا اضافہ ہے: کر لو کوئی حرج نہیں۔ حرج تواس شخص کے لیے ہے جو ایک مسلمان کو بے عزت کرے۔ ایسا ہی شخص ظالم ہے۔ یہی وہ شخص ہے جس نے حرج کیا اور ہلاک ہوا۔
دین میں اصل اہمیت معانی کی ہے، نہ کہ ظواہر کی۔ ایک شخص ظاہری چیزوں کا زبردست اہتمام کرے مگر معنوی پہلو کے معاملے میں وہ غافل ہو تو ایسا شخص اسلام کی نظر میں بے قیمت ہوجائے گا۔اللہ ہمیشہ آدمی کی نیت کو دیکھتا ہے۔ نیت اگر اچھی ہے تو ظاہری چیزوں میںکمی یا فرق کو نظر انداز کردیا جاتا ہے۔ لیکن اگر آدمی کی نیت اچھی نہ ہو تو اللہ کی نظر میں اُس کی کوئی قیمت نہیں، خواہ اُس نے ظواہر کے معاملے میں کتنا ہی زیادہ اہتمام کررکھا ہو۔ ظاہری خوش نمائی سے انسان فریب میں آسکتا ہے مگر ظاہری خوش نمائی کی خدا کے نزدیک کوئی وقعت نہیں۔
واپس اوپر جائیں

حج: ایک انتباہ

ایک حدیث ان الفاظ میں آئی ہے :یأتی علی الناس زمانٌ یحجّ أغنیاء الناس للنزاہۃ، وأوساطہم للتّجارۃ، وقرّاؤہم للرّیاء والسُمعۃ، وفقراء ہم للمسئلۃ (کنز العُمّال، حدیث نمبر12363)۔ یعنی لوگوں پر ایک ایسا زمانہ آئے گا، جب کہ مال دار لوگ تفریح کے لیے حج کریں گے، اور اُن کے درمیانی درجے کے لوگ تجارت کے لیے حج کریں گے، اور ان کے علما دکھاوے اور شہرت کے لیے حج کریں گے، اور ان کے غریب لوگ مانگنے کے لیے حج کریں گے۔
یہ حدیث بہت ڈرا دینے والی ہے۔ اس کی روشنی میں موجودہ زمانے کے مسلمانوں کو خاص طور پر اپنا احتساب کرنا چاہیے۔ اُنھیں غور کرنا چاہیے کہ اُن کا حج اِس حدیثِ رسول کا مصداق تونہیں بن گیا ہے۔ مال دار لوگ سوچیں کہ ان کے حج میں تقویٰ کی اسپرٹ ہے ، یا سیر و تفریح (outing) کی اسپرٹ۔ عام لوگ یہ سوچیں کہ وہ دینی فائدے کے لیے حج کرنے جاتے ہیں یا تجارتی فائدے کے لیے۔ علما غور کریں کہ وہ عبدیت کا سبق لینے کے لیے بیت اللہ جاتے ہیں، یا اپنی پیشوایانہ حیثیت کو بلند کرنے کے لیے۔ اِسی طرح غریب لوگ سوچیں کہ حج کو انھوں نے خدا سے مانگنے کا ذریعہ بنایا ہے، یا انسانوں سے مانگنے کا ذریعہ۔
اِس حدیثِ رسول میں پیشین گوئی کی زبان میں بتایا گیا ہے کہ امت پر جب زوال آئے گا تو اُس وقت لوگوں کا حال کیا ہوگا۔ دورِ عروج میں امت کا حال یہ ہوتا ہے کہ دین کا روحانی پہلو غالب رہتا ہے اور اس کا مادّی پہلو دبا ہوا ہوتا ہے۔ دورِ زوال میں برعکس طورپر یہ ہوتا ہے کہ لوگوں کے درمیان دین کا روحانی پہلو دب جاتا ہے اور اس کا مادّی پہلو ہر طرف نمایاں ہوجاتا ہے۔ پہلے دور میں، تقویٰ کی حیثیت اصل کی ہوتی ہے اور مادّی چیزیں صرف ضرورت کے درجے میں پائی جاتی ہیں۔ اس کے برعکس، دورِزوال میں مادی چیزیں اصل بن جاتی ہیں اور کچھ ظاہری اور نمائشی چیزوں کا نام تقویٰ بن جاتا ہے۔ یہی معاملہ حج اور عمرہ کے ساتھ بھی پیش آتا ہے اور اسلام کی دوسری عبادات کے ساتھ بھی۔
واپس اوپر جائیں

حج کا فائدہ

ایک روایت کے مطابق، پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ایک مومن جب حج ادا کرکے اپنے گھر واپس لوٹتا ہے تو وہ اس دن کی طرح ہوجاتا ہے جب کہ اس کی ماں نے اس کو جنم دیا تھا (رَجَعَ کَیَوْمِ وَلَدَتْہُ أُمُّہُ) صحیح البخاری، حدیث نمبر 1820۔
He returns after Hajj like a newborn child.
اِس حدیث کو سمجھنے کے لیے ایک اور حدیث کو دیکھیے۔ ایک اور روایت کے مطابق، پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہر پیدا ہونے والا فطرت پر پیدا ہوتا ہے۔ پھر اس کے والدین اس کو یہودی اور مجوسی اور نصرانی بنا دیتے ہیں(صحیح البخاری،حدیث نمبر 1385)۔
ان دونوں حدیثوں پر غور کرنے کے بعد معلوم ہوتاہے کہ حج کی عبادت اگر صحیح اسپرٹ کے ساتھ کی جائے تو وہ حاجی کے لیے وہی چیز بن جاتی ہے جس کو آج کل کی زبان میں ڈی کنڈیشننگ (de-conditioning) کہا جاتاہے۔
اصل یہ ہے کہ اپنے ماحول کے اعتبار سے ہر آدمی کی کنڈیشننگ ہوتی رہتی ہے۔ حج کی عبادت اس کنڈیشننگ کو توڑنے کا ذریعہ ہے۔ حج ایک ایسا کورس ہے جو ہر آدمی کی کنڈیشننگ کو ختم کرکے اس کو دوبارہ اس کی اصل فطرت پر پہنچا دیتا ہے۔ دوسرے لفظوں میں یہ کہ جو شخص اس سے پہلے مسٹر کنڈیشنڈ (Mr Conditioned) تھا، وہ اب مسٹر نیچر (Mr Nature) بن جاتا ہے۔حج کا یہ فائدہ صرف اس شخص کو ملتا ہے جو حج کی پوری اسپرٹ کے ساتھ حج کی عبادت انجام دے۔ جو آدمی صرف حج کے ظاہری مراسم ادا کرے، اس کے لیے حج صرف ایک آؤٹنگ (outing) ہے، اس سے زیادہ اور کچھ نہیں۔
حج کے بعد
پیغمبرِاسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی عمر کے آخری حصہ میں حج ادا فرمایا۔ اس موقع پرتقریباً تمام صحابہ موجود تھے۔ حج کے دوران آپ نےیوم النحرکو ایک خطبہ دیا۔ یہ خطبہ حجۃ الوداع کے نام سے مشہور ہے۔اِس خطبہ میں آپ نے اپنے اصحاب (معاصر اہلِ ایمان) کو مخاطب کرتے ہوئے کہا:فَلْیُبَلِّغِ الشَّاہِدُ الغَائِبَ(صحیح البخاری، حدیث نمبر1741)۔یعنی جو یہاں موجود ہے، وہ ان تک پہنچادے جو یہاں نہیں ہے۔
غالباً پیغمبرِ اسلام کے اس حکم کا یہ نتیجہ تھا کہ اس کے بعد تمام لوگ دعوت الی اللہ کے پیغمبرانہ کام میں لگ گئے۔ انھوں نے اس وقت کی آباددنیا کے بڑے حصہ میں دین کا پیغام پہنچا دیا۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ حج کا خاتمہ دراصل ایک نئے عمل کا آغاز ہے۔ جہاں حج کے مراسم ختم ہوتے ہیں، وہاں سے ایک اور زیادہ بڑا حج شروع ہوجاتا ہے۔ یہ دعوت الی اللہ ہے۔ گویا کہ حج ایک ٹریننگ ہے اور دعوت الی اللہ اس ٹریننگ کا عملی استعمال۔
ایک حدیث کے مطابق، حج کے مراسم حضرت ابراہیم کی زندگی کے مختلف مراحل کا علامتی اعادہ ہیں۔ حضرت ابراہیم کی پوری زندگی دعوت الی اللہ کی زندگی تھی۔ یہی طریقہ ہر مومن کو اپنی زندگی میں اختیار کرنا ہے۔ مثلاً احرام کیا ہے۔ وہ سادہ زندگی کی علامت ہے۔ طواف سے مراد ڈیڈیکیشن (dedication) ہے۔ سعی اس بات کا پیغام ہے کہ مومن کی دوڑ دھوپ خدا کی طرف ہونی چاہیے۔ جانور کا ذبیحہ قربانی والی زندگی کی تعلیم ہے۔ رمیِ جمرات کا مطلب یہ ہے کہ آدمی شیطان کو اپنے آپ سے دور بھگائے۔ لبیک لبیک کہتے ہوئے عرفات کے میدان میں پہنچنا خدا کے سامنے حاضری کو یاد دلاتا ہے، وغیرہ۔
حج بڑا حج ہے اور عمرہ چھوٹا حج۔ دونوں کا پیغام ایک ہے۔ شریعت کی یہ منشا نہیں کہ لوگ بار بار حج اور عمرہ کرتے رہیں۔ شریعت کی منشا یہ ہے کہ لوگ ایک بار حج اور عمرہ کرنے کے بعد اس کی اسپرٹ کے مطابق زندگی گزاریں اور اس کے پیغام کو ساری دنیا میں پہنچائیں۔
٭ ٭ ٭ ٭٭
اسلامی زندگی کا خلاصہ یہ ہے کہ اپنے آپ کو کنٹرول میں رکھ کر زندگی گزاری جائے۔
واپس اوپر جائیں

حج کی معنویت

کچھ لوگ مجھ سے ملے۔ انھوں نے کہا کہ ہمارے لیے دعا کیجیے، ہم نے بائیسکل کے ذریعہ حج کرنے کا پروگرام بنایا ہے۔ اس سے پہلے بھی حاجیوں کاکئی گروپ مجھ سےملا ہے، جو اسی قسم کی باتیں کرتا تھا۔ مثلاً کوئی بتاتا تھاکہ ہم اونٹ کے ذریعے حج کا سفر کرنے جارہے ہیں، کوئی بتاتا تھا کہ ہم پیدل حج کا سفر کرنے جارہے ہیں، وغیرہ۔ یہ لوگ حج کی صورت (form) کو جانتے ہیں، مگر وہ حج کی معنویت کو نہیں جانتے۔ قرآن میں آیا ہے کہ حج کے لیے سفر کرو، اور اس کے منافع (الحج، 22:28) کو حاصل کرو۔ منافع کا لفظی مطلب ہے فائدہ (benefit)۔ لیکن اس کا مطلب مادی فائدہ نہیں ہے، بلکہ معنوی فائدہ ہے۔ یعنی حج سے حکمت (wisdom) کا سبق حاصل کرو، حج سے زندگی کی حکمتیں دریافت کرو، حج کی عبادت پر غور کرکے اس سے رازِ حیات کو جانو۔
مثلاً آپ حج کے لیے مکہ جائیں اور کعبہ کا طواف کرتے ہوئے آپ دیکھیں کہ کعبہ کی ابراہیمی عمارت اب وہاں موجود نہیں ہے۔ پیغمبر ابراہیم نے کعبہ کو لمبی صورت میں بنایا تھا، جب کہ موجودہ کعبہ چوکور صورت میں ہے، جو کہ قدیم مکہ کے لوگوں نے بطور خود تعمیر کیا تھا۔ قدیم کعبہ کی تقریباً ایک تہائی جگہ حطیم کی صورت میں غیر مسقف پڑی ہوئی ہے۔ پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ نے اِسی کعبہ کا طواف کیا۔ انھوں نے کعبہ کو دوبارہ ابراہیمی صورت میں بنانے کی کوشش نہیں کی۔
یہ واقعہ بتاتا ہے کہ پیغمبر اسلام کی ایک سنت وہ ہے جس کو اسٹیٹس کوازم کہا جاسکتا ہے۔ یعنی موجود حالت پر تعمیرِ نو کی کوشش کرنا۔ گویا کہ موجود حالت کو بدلنے کی تحریک چلانا، سنتِ رسول نہیں ہے۔ بلکہ سنتِ رسول یہ ہے کہ موجود حالت کو چھیڑے بغیر نئی تعمیر کا منصوبہ بنایا جائے۔ موجودہ زمانے کی مسلم تحریکیں سب کی سب اس کی خلاف ورزی کر رہی ہیں۔ ہر تحریک کے لیڈر یہ چاہتے ہیں کہ پہلے حالتِ موجودہ (statusquo) کو بدلیں ، اس کے بعد اپنے منصوبہ کے مطابق تعمیرِ نو کا کام کریں، یہ طریقہ بلاشبہ سنتِ رسول کے خلاف ہے۔
اصل یہ ہے کہ ملت کی تعمیرِ نو کا کام مکمل معنوں میں ایک مثبت کام ہے۔ جب آپ دیکھیں کہ صورت موجودہ یہ ہے کہ ملت کے معاملات پر عملاً کسی گروہ کا قبضہ قائم ہے تو ایسی حالت میں تعمیرِنو کا منصوبہ کامیاب طور پر صرف اس وقت کیا جاسکتا ہے، جب کہ اس کو غیر نزاعی منصوبہ کی بنیاد پر انجام دیا جائے۔ اگر نئے قائدین یہ چاہیں کہ پہلے قابض گروہ سےلڑ کر اس کو ہٹائیں، وہ پہلے اسٹیٹس کو کو بدلیں، اور اس کے بعد نئی تعمیر کا آغاز کریں تو ایسا منصوبہ ہمیشہ ٹکراؤ سے شروع ہوگا۔ ایسے منصوبہ کا آغاز تخریب سے شروع ہوگا، نہ کہ تعمیر سے۔ چنانچہ ایسا منصوبہ اپنے آغاز ہی میں نزاعی (controversial) بن جائے گا۔ لوگوں کی طاقت غیر ضروری قسم کے ٹکراؤ پر چلنے لگے گی۔
اس کے برعکس، اگر اسٹیٹس کو کو برقرار رکھتے ہوئے اپنا کام شروع کردیا جائے تو نزاع کی نوبت نہیں آئے گی، بلکہ تعمیر کا کام اول دن سے تعمیر کے اصول پر جاری ہوجائے گا۔ اب ایک لمحہ بھی تخریب میں ضائع نہیں ہوگا۔
٭ ٭ ٭ ٭٭
مکّہ عرب کا مرکزی شہر تھا۔ قریش نے مکّہ میں دار الندوہ قائم کررکھا تھا۔ دار الندوہ گویا قبائلی پارلیامنٹ تھی۔یہاں تمام اہم اُمور کے فیصلے کیے جاتے تھے۔ پیغمبرِ اسلام کے دادا عبدالمطلب دارالندوہ کے ممتاز ممبروں میں سے ایک تھے۔عام رواج کے مطابق، ایک حوصلہ مند لیڈر کے لیے پہلا ٹارگیٹ یہ تھا کہ وہ دار الندوہ کا رُکن بننے کی کوشش کرے۔ جو گویا اُس وقت کے عرب میں سیاسی طاقت کے مرکز کی حیثیت رکھتا تھا۔لیکن پیغمبرِ اسلام نے دار الندوہ میں داخلے کی کوئی کوشش نہیں کی۔ حتی کہ اُنہوں نے یہ مطالبہ بھی نہیں کیا کہ اپنے دادا عبد المطلب کی خالی سیٹ اُنہیں دی جائے۔دار الندوہ کے معاملے میں پیغمبرِ اسلام نے وہ پُر امن طریقہ اختیار کیا جس کو اسٹیٹس کوازم کہا جاتا ہے۔ یعنی صورتِ موجودہ سے ٹکراؤ نہ کرنا، بلکہ جو صورتِ موجودہ ہے اس کو علی حالہٖ قبول کرلینا۔ مگر پیغمبرِ اسلام کا اسٹیٹس کوازم سادہ طورپر صرف اسٹیٹس کوازم نہ تھا بلکہ وہ مثبت اسٹیٹس کوازم (positive status quoism) تھا۔ یعنی وقت کے نظام سے ٹکراؤ کیے بغیر موجود مواقع کو دریافت کرکے اُسے استعمال کریں ۔ اس طریقِ کار کو فارمولا کی زبان میں اس طرح کہاجاسکتا ہے:
Ignore the problems, avail the opportunities.
واپس اوپر جائیں

حج بیت اللہ کے بعد

قرآن کی سورہ البقرۃمیں حج کا حکم آیا ہے، اس سلسلۂ کلام کی ایک آیت یہ ہے: فَإِذَا قَضَیْتُمْ مَنَاسِکَکُمْ فَاذْکُرُوا اللَّہَ کَذِکْرِکُمْ آبَاءَکُمْ أَوْ أَشَدَّ ذِکْرًا( 2:200)۔ پھر جب تم اپنے حج کے مناسک پورے کرلو تو اﷲ کو یاد کرو جس طرح تم پہلے اپنے باپ دادا کو یاد کرتے تھے، بلکہ اس سے بھی زیادہ۔حج کے مناسک کی ادائیگی کے بعد زیادہ سے زیادہ اللہ کا ذکر کرنے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ کلماتِ ذکر کا بکثرت ورد کیا جائے۔ بلکہ اس سے مراد دعوت الی اللہ ہے۔ یعنی حج کی ابراہیمی سنت کی ادائیگی کے ذریعے جو اسپرٹ تم نے اپنے اندر پیدا کی ہے اس کو لے کر دنیا میں پھیل جاؤ اور اللہ کے پیغام کو دنیا میں بسنے والے تمام انسانوں تک پہنچادو۔اور ہر سال حج کے بعد یہی دعوتی کام کرتے رہو۔
حج کے بعد کے عمل سے مراد دعوت یعنی تمام انسانوں کو خدا کے کریشن پلان سے آگاہ کرنا ہے۔ اس تفسیر کا ماخذ خود سنتِ رسول ہے۔ روایت میں آتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اصحاب کے ساتھ حجۃ الوداع کا فریضہ ادا کیا۔ پھرحج سے واپسی کے بعد آپ مدینہ آئے وہاں آپ نے ایک مفصل خطاب میں اپنے اصحاب کو یہ پیغام دیا:إن اللہ بعثنی رحمة وکافة(للناس)، فأدوا عنی یرحمکم اللہ، ولاتختلفوا علی کما اختلف الحواریون على عیسى بن مریم (سیرت ابن ہشام: 2/607)۔ بیشک اللہ نے مجھے بھیجا ہے رحمت بنا کر اور تمام انسانوں کے لیے، تو تم میری طرف سے لوگوں کو پہنچادو، اللہ تمھارے اوپر رحم فرمائے، اور تم میرے ساتھ اختلاف نہ کرو جیسا عیسی بن مریم کے حواریوں نے کیا ۔
امتِ مسلمہ کا مشن دعوت الی اللہ ہے۔ حج کا مقصد یہ ہے کہ امت کے افراد ہر سال مکہ کے تاریخی مقام پر مجتمع ہوں، یہاں وہ مختلف اعمال کے علامتی اعادہ کے ذریعے پیغمبر کی دعوتی سنت کو یاد کریں۔ اور پھر دعوت الی اللہ کی اسپرٹ کو لے کر دنیا میں پھیل جائیں، جیسا کہ اصحابِ رسول اس دعوتی مقصد کے لیے دنیا میں پھیلے تھے۔
واپس اوپر جائیں

اخوانِ ابرہیم ، اخوانِ محمد

پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم 570 عیسوی میں مکے میں پیدا ہوئے، اور 632 عیسوی میں مدینے میں آپ کی وفات ہوئی۔آپ کا زمانہ پیغمبر ابراہیم علیہ السلام سے تقریباً ڈھائی ہزار سال بعد کا زمانہ ہے۔ آپ پیغمبر ابراہیم کی دعا (سورۃ البقرۃ،2:129)کے نتیجہ میں پیدا ہوئے۔ قرآن میں آپ کے بارے میں ایک آیت آئی ہے، جس کا ترجمہ یہ ہے: پھر ہم نے تمہاری طرف وحی کی کہ ابراہیم کے طریقے کی پیروی کرو جو یکسو تھا اور وہ شرک کرنے والوں میں سے نہ تھا(16:123)۔
یہ کوئی سادہ بات نہیں، یہ در اصل ایک تاریخی حقیقت کا اعلان ہے۔ پیغمبر اسلام اور آپ کے اصحاب وہ لوگ تھے، جن پر ایک تاریخ منتہی (culminate) ہوئی تھی۔ پیغمبر ابراہیم نے اپنی غیر معمولی قربانی کے ذریعے مکے میں ایک تاریخی عمل (historical process) کا آغاز کیا تھا۔ یہ تاریخی عمل اپنے فطری مراحل سے گزرتے ہوئےچھٹی صدی عیسوی میں اپنے نقطۂ انتہا (culmination) تک پہنچا تھا۔ اس وقت عرب میں وہ مخصوص افراد پیدا ہوئے، جو اپنے رول کی بنا پر رسول اور اصحابِ رسول کہے جاتے ہیں۔
رسول اور اصحابِ رسول کی قربانیوں کے ذریعے ساتویں صدی عیسوی میں ایک اور تاریخی عمل (historical process) شروع ہوا۔ اس تاریخی عمل کی تکمیل پر دوبارہ تقریباً ہزار سال کا زمانہ گزرا۔ بیسویں صدی عیسوی میں یہ عمل اپنی تکمیل کو پہنچ گیا۔ اب دوبارہ ایک ایسے گروہ کی ضرورت ہے، جو اس بات کا مصداق ہو کہ بعد کو بننے والا تاریخی عمل اس پر منتہی ہوا ہو۔ اصحابِ رسول کے بعد یہ دوسرا گروہ ہوگا، جس کو حدیثِ رسول میں پیشگی طور پر اخوانِ رسول (صحیح مسلم، حدیث نمبر 249) کا نام دیا گیا ہے۔ گویا کہ پیغمبرِ اسلام اور آپ کے اصحاب اخوانِ ابراہیم تھے، اور بعد کو بننے والا گروہ اخوانِ محمد ہوگا۔ اخوانِ ابراہیم نے دعوتی مشن کو آگے بڑھایا تھا، اب اخوانِ محمد اسی دعوتی مشن کو اگلے مرحلے تک پہنچائیں گے۔
واپس اوپر جائیں

خبرنامہ اسلامی مرکز — 262

■ دعوہ ورک کرتے ہوئے یہ محسوس ہوا کہ مدعو کی طرف سے ہمیں کوئی منفی ردعمل کا تجربہ نہیں ہوا۔ اس کے برعکس، مسلمانوں کی طرف سے کچھ اعتراضات کا سامنا کرنا پڑا۔ اس کی وجہ یہ سمجھ میں آئی کہ آج کا مدعو غیر یقینی کی حالت میں زندگی گزار رہا ہے۔ اسے اپنے بہترین عبدی احساسات کی تکمیل کے لئے کوئی اطمینان بخش مرکز یا ہستی کی تلاش ہے جو اسے صرف اسلام کی تعلیمات میں دکھائی دیتی ہے۔ جب کہ موجودہ مسلمانوں کی یہ حالت ہے کہ وہ روایتی انداز کے دین کو پاکر اطمینان کی حالت میں ہیں۔ اپنے ذہنی کشکول سے باہر نکلنے کی انہیں ضرورت محسوس نہیں ہوتی۔ اس لئے اس طرح کا ردِّعمل ظاہر کرتے ہیں۔ گویا کہ عام فہم الفاظ میں مدعو کی حالت ایک بھوکے پیاسے شخص جیسی ہے کہ وہ اس روحانی غذا کو خوشی سے قبول کر لیتا ہے۔ جب کہ مسلمانوں کی حالت ایسی ہے کہ ان کا پیٹ بھرا ہے، اور وہ ہر نئی غذا میں پسند یعنی choice کو ترجیح دیتے ہیں۔ اللہ ہم سب کو دین کا حقیقی فہم عطا فرمائے ۔ آمین (ساجد احمد خان، ناگپور)
■ سی پی ایس ٹیم (گیا) کے ذریعے انڈیا کے تین مقامات پر غیرمسلم حضرات ترجمۂ قرآن تقسیم کرتے ہیں۔دوسرے الفاظ میں یہ لوگ خدا کے پیغام کو خدا کے بندوں تک پہنچاتے ہیں۔ان کے نام یہ ہیں: مسٹر پینو مارتھی راجیش (آندھرا پردیش)، مسٹر سورو بنرجی (جھارکھنڈ)، مسٹرشنکر بھارتی (بودھ گیا)۔ یہ تمام حضرات گیا ٹیم سے مختلف زبانوں : اردو، ہندی، انگلش، اورتیلگو وغیر ہ میں تراجم قرآن حاصل کرتے ہیں، اور ان کو مسلم و غیرمسلم دونوں کے درمیان تقسیم کرتے ہیں۔اس کے علاوہ گیا ٹیم (8122773742) پورے ہندوستان میں تراجم قرآن فری آف کاسٹ(free of cost) بذریعہ پوسٹ بھیجتی ہے۔
■ کولکاتا کی معروف ناخدا مسجد میں میڈیا پرسنز کا آنا جانا لگا رہتا ہے۔ رمضان (2018) کے موقع پر ایک نئی شروعات اس مسجد میں ہوئی ۔ کولکاتا ٹیم کے جناب بشیر احمد (کولکاتا ٹیم رابطہ نمبر ۹۸۳۱۳۴۵۶۸۵)نے ان تمام جرنلسٹوں کو ترجمۂ قرآن اور دعوتی کتابیں دینے کا اہتمام کیا، جن کو تمام جرنلسٹوں نے بہت خوشی اورشکریے کے ساتھ لیا۔ ایک جرنلسٹ نے قرآن لینے کے دو دن بعد دوبارہ بشیر صاحب کو دیکھا تو بہت گرمجوشی سے ملے، اور ان کو یاد دلایا کہ آپ نے مجھے قرآن دیا تھا، آپ کابہت بہت شکریہ۔ نا خدا مسجد میں صحافیوں کے آنے کا مقصد اسلام کی عملی تصویر، مثلاً نماز کو دنیا کے سامنے پیش کرنا ہوتا ہے۔
■ سی پی ایس انٹرنیشنل کے مختلف حلقوں کی طرف سے ساری دنیا میں بذریعہ پوسٹ قرآن مہیا کرایا جاتا ہے۔ اس کی صورت یہ ہے کہ سی پی ایس انٹر نیشنل کی ویب سائٹ (www.cpsglobal.org) اور گڈ ورڈ بکس (www.goodwordbooks.com) پر لوگ فارم پُر کرتے ہیں، اس کے بعد ان کو مختلف زبانوں میں تراجم قرآن بھیجا جاتے ہیں۔یہ اصل میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اس پیشین گوئی کو حقیقت بنانے کی کوشش ہے، جس میں کہا گیا ہے کہ اللہ اسلام کے کلمہ کو ہر گھر میں داخل کرے گا(مسند احمد، حدیث نمبر 23814)۔ نیز یہ کہ غیر مسلم اسلام کو اس کے اصل سرچشمہ سے دریافت (discover)کریں، اورمسلمان اسلام کی دریافتِ نو (re-discover) کریں۔ مذکورہ ویب سائٹس پر روزانہ بے شمارتعداد میں تراجم قرآن کی درخواست آتی ہیں،اور ان کو فری آف کاسٹ (free of cost)قرآن بھیجا جاتا ہے۔مثلاً سی پی ایس (پونے) کے بزرگ ممبر جناب عبد الصمد صاحب نے مختلف مذاہب کے 5 لوگوں کو بذریعہ پوسٹ قرآن روانہ کیا ہے۔اسی طرح سی پی ایس کے تمام چیپٹرس کے ذریعہ یہ سلسلہ قائم ہے کہ وہ مفت میں تراجمِ قرآن بذریعہ پوسٹ بھیجتے ہیں۔اس سلسلے میں بہت سارے لوگ قرآن ملنے کے بعد اپنے اپنے تاثرات دیتے رہتے ہیں۔ ان میں سے ایک ذیل کا تاثر ہے، جو کہ سی پی ایس انٹرنیشنل (امریکا چیپٹر) کو موصول ہوا ہے:
I appreciate your sending me a free Quran. It's quite alright if it takes a while to arrive here. In the meantime, I have, as you suggested, downloaded the e-book version, and availed myself of other resources on your website as well. I am also bookmarking the website you are showing me where I can watch videos by Wahiduddin Khan. On the day that I found your website, I also went to YouTube and found the CPS International page there, where I can also watch his videos. Thank you for this service you provide. I am a student living on federal loans, and have very little money to live on, so I don't have money to purchase a Quran right now. In the future when my schooling is over and I have more time available, I may well choose to help you distribute al-Quran. Sincerely, (Sam Bailey, USA)
■ اس کے علاوہ بہت سارے لوگ اپنے قرآن پڑھنے کا جو ریزن بھی بتاتے ہیں، اس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ آج کی دنیا اسلام اور قرآن کو اپنی قابل فہم زبان میں سمجھنا چاہتی ہے۔مثلاًذیل میں دیے جا ر ہے کمنٹس کو پڑھیے:
٭ Interested to get more knowledge about Islam.(Mr. Sukhdev Raj, NSW, Australia)
٭ Very eager to learn about the Quran. (Ms. Jeanine Jenkins, Arizona, USA)
٭ I am a Chaplain at Wildwood Correctional complex and wish to provide information on all religions. (Mr. David De Podesta, Alaska, US)
٭ I wish to know much about the Quran and the Muslim faith. (Mr. Gabriel Aondoaseer Agir, Nigeria)
٭ Assalam Alaykum, I am a physician in Gainesville Florida and was approached by the Chaplain of one of the hospitals in town to supply Quran translations for patients. Please let me know how I can order these and provide them to these patients. Thank you and Jazak Allah khair for your efforts.(Dr. Geoffrey Panjeton, Florida)
٭ I would like to learn the teachings of the Quran and the Islamic way of life. So, please send me a copy of the Quran. Basically, I am from Tamilnadu, India, and am living in the USA for the past two months. (Mr. CHANDRASEKAR ARUMUGAM, Georgia, US)
٭ I belong to Hinduism, but I believe in only one God. So I want to read and understand the Quran. (Mr. ROHIT PAL, New Delhi)
٭ I have a few non-Muslim friends who would like to read the Quran. (Mr. Javid Bofi, United Kingdom)
٭ The Quran in Arabic available in Doha is difficult to read for a non-Arab. (Mian Hakim, Doh, Qatar)
٭ I felt very happy to know that you are sending Quran copies free. Thre are two of my friends who are non-muslim. They always wanted me to give them the Quran to read and understand but I was scared to give them. But now I can happily gift them the Quran. (Sana Aliya, Tumakuru, Karnataka)
٭ I actually recite the Quran, but since I received education at an English High school, I am unable to read Urdu, but because of our parents’ guidance, I have learnt Arabic. But I do not want to only recite the Quran, I also want to understand it. So having an English Quran is a good step I have taken. I would also love to distribute the Quran. (Ms. Kainath Shaikh, Mumbai)
٭ I need to have a translation of the Quran so that I may understand it from its depth. I want it because I want to understamd it in my language so I may follow God’s instructions. (Ms. Shumaila Arif, Kanpur)
٭ I am a Sikh, but I always had interest in knowing about other religions. I am verycurious to know about Islam more. (Ms. Baljinder Kaur, Jalandhar)
٭ I really wanted to know the meaning of the Quran, but I had no source to read it. I would be happy if I get a copy of the Quran. (Ms. Ashrin Qureshi, Mumbai)
٭ I would like to receive the Quran in German because I have a friend who is very much interested in Islam and she would like to read this in German. (Ms. Rubya Samsoedien, Dublin, IRELAND)
٭ I am currently in the midst of a spiritual journey that seems not to be ending any time soon. Currently I am reading the Old Testament, then moving on to finally the Quran. I study religion at my university and hope to gain as much spiritual knowledge as possible from the big three monotheisms. (Mr. Jack Betkowski, North Carolina, United States)
٭ We live in Brisbane, Australia. We need Quran for distribution to non-Muslims. There is a huge of demand of the Quran for non-Muslims. We asked about the Quran in few mosques here, like Lutwyche Mosque and Morokka Mosque. They said that they do not have enough copie of the Quran. So we seek 100 copies of English translation of the Quran. (Mohammad Rasel, QLD, Australia)
٭ میں نے قرآن پڑھا ہے، لیکن سمجھا نہیں ہے۔ میں اسے سمجھنا چاہتی ہوں۔ میرا ایک ہی بیٹا ہے، میں چاہتی ہوں کہ وہ بھی قرآن کو صرف پڑھے نہیں، بلکہ اس کو سمجھے، تاکہ اسے جینے میں آسانی ہو۔مجھے مولانا وحید الدین صاحب کی باتیں کافی سمجھ میں آتی ہیں، ان کی باتوں سے میرے سوچنے کا نظریہ بدل گیا ہے۔ یوٹیوب پر میں ان کے ویڈیو دیکھتی ہوں۔ اب قرآن سمجھنا ہے، کیوں کہ پڑھنا کافی نہیں ہے، بلکہ اسے سمجھنا ضروری ہے۔(فیروزہ شیخ، ممبئی)
٭ I have read many books and articles and listened to several audios/videos. I have been inspired by Maulana Wahiduddin Khan. Maulana has clarified many of my misconceptions about Islam and taught the true objective and purpose of Islam. (Mr. Irfanuddin Syed, Mumbai)
٭ I am very inspired by Ustadh Wahiduddin and more devoted to maintaining the deen in my life. Thank you. (Mr. Thomas Steele, Arizona, United States)
٭ By your spriitual guidance lives of many are changing. (Mr. Aejaz Ahmed, Aurangabad)
٭ I like the site (www.cpsglobal.org), because it let me know about Islam. (Mr. Salami Saburi, Nigeria)
■ اوپر مذکور طریقہ سے نہ صرف نان مسلم تک قرآن کا پیغام پہنچایا جاتا ہے، بلکہ بہت سارے ایسے مسلمان بھی ملتے ہیں، جو دعوت کا کام کرنا چاہتے ہیں۔ اس تعلق سے مسٹر طارق بدر (سی پی ایس، پاکستان)نے ذیل کا ای میل روانہ کیا ہے:
Mr. Shahid of CPS Pakistan provided help and support in the Islamabad Book Fair which was held in April 2018. When the book fair started, he, his wife and his full team were available for collecting books and setting up the stall. He is the one who took full responsibility for managing the book fair at the Islamic University where Saifullah and I could not go. It was God’s help at the right time, and I was surprised how these book fairs were managed so smoothly. Such events make me realize that CPS mission is indeed the true mission. Every single person who approaches us is an asset for the mission. (Tariq Badar, CPS Pakistan)
■ سی پی ایس انٹرنیشنل کی طرف سے ایک پروگرام یہ شروع کیا گیا ہے کہ کالج کے طلبہ کے اندر روحانیت اور مذہبی اقدار کیسے پیدا ہو، ان کے مائنڈ کی ری انجنیرنگ کیسےکی جائے۔ اس سلسلے کا ایک تین ماہی پروگرام رام انوجن کالج، نئی دہلی میں 5 فروری 2018 کو شروع کیا گیا تھا۔ اس کے افتتاحی پروگرام میں پروفیسر ایس پی اگروال اور کالج کے سینٹر آف ایتھکس اینڈ ویلیوز کے ڈائریکٹر ڈاکٹر ٹی کے مشرا نے شرکت کی۔ 26 اپریل 2018 کو یہ پروگرام اختتام پذیر ہوا۔ اس موقع پر پروگرام میں شریک ہونے والےکالج 35 اسٹوڈنٹ نے نہایت اچھا تاثر دیا۔ ان میں سے کچھ ذیل میں درج ہیں:
٭ I believe in one God to whom we are accountable. (Akash Kumar).
٭ The Creator—the Almighty—has created this universe as a place where individuals perform their duties and live in society establishing humanity and spreading the Divine message of the Almighty. (Ashish Verma)
٭ The objective of the Culture of Peace Program is the development of individual minds on positive lines towards achieving personal and community betterment. (Rajdeep Singh Thakur)
٭ Ego is not good for our life because it destroys our natural personality. So we have to set aside our ego if we want to gain success in life. (Shivangi Pandey)
٭ I am a bit stubborn about my approach in life. But this program helped me to see people with a different persepctive. (Phuhar Kaushik)
■ در اسلامی مرکز کی تقاریر و تحریروں کو یوٹیوب ، اور فیس بک وغیرہ پر کثرت سے سنا اور پڑھا جاتا ہے۔ اس کو پڑھنے کے بعد بہت سارے لوگ اپنا تاثرلکھتے ہیں۔ ذیل میں ان میں سے کچھ نقل کیے جاتے ہیں:
٭ How nice to discover this teacher today, through the CPS International website. More of the leaders in all the religions need to begin teaching peace, and grounding this in the sort of authentic faith that gives respect and kindness toward those who practice or believe differently. I'll be interested to hear a lot more from Maulana Khan.(Samuel Bailey)
٭ I am new to Islam, thank you for sharing this video. It was so poignant and uplifting. Thank you for showing me another way to touch that place deep inside of me that touches Allah. (Bruce Steven Trahan)
٭ I am really overwhelmed. So long never get such inspiration for cleaning up my heart. Thanks a lot for this precious video.(AI Amin Khan)
■ سعودی عرب سے مز امۃ البشریٰ معز لکھتی ہیں کہ وہ دمام کے المُنی انٹرنیشنل انڈین اسکول میں تین سال پہلے میں جاب کرتی تھیں۔وہاں جاب چھوڑ دینے کے بعد ایک دن میں نےاسکول جاکر وہاں کے پرنسپل سے ملاقات کیا، اور کہا کہ میں یہاں دسویں کلاس کے تمام طلبہ کو قرآن کا ہندی اور انگلش ترجمہ دینا چاہتی ہوں۔ پرنسپل بہت خوش ہوئے، اور کہا کہ آپ بہت صحیح وقت پر آئی ہیں۔ کل دسویں کلاس کے طلبہ کی الوداعی تقریب ہے، آپ آئیں، اور ہر طلبہ کو دیں۔ آج (8 فروری 2018) کو میں قرآن کے ترجمے لے کر اسکول گئی، اور اسکول انتظامیہ کی جانب سے تمام اسٹوڈنٹ کو اکیڈمک سارٹیفکٹ کے ساتھ اسپریچول گفٹ قرآن بھی دیا گیا۔
واپس اوپر جائیں

Sunday, 10 June 2018

Al Risala | July 2018 (الرسالہ،جولائی)

4

- اسلام کا رول

5

- اخوانِ ابرہیم ، اخوانِ محمد

6

- ایک عمل جو انسان کو رب العالمین کا محبوب بنادیتا ہے

8

- عالمی تائید اسلام

11

- ایج آف ریزن

12

- دورِ شخصیت، دورِ استدلال

14

- پیغمبروں والا کام

15

- دینِ خداوندی کے دو دور

19

- دین، تائیدِ دین

20

- سبق کا پہلو

21

- فقہ الاقلّیات

23

- حکومت کا معاملہ

24

- جمہوریت کیا ہے

25

- منصوبۂ تخلیق

36

- معیار کی تبدیلی

37

- پرامن طریق کار

42

- آفاقی طرزِ فکر

44

- نتیجہ خیز آغاز

46

- خبرنامہ اسلامی مرکز


اسلام کا رول

قدیم زمانے میں ہزاروں سال سے دنیا میں شرک کا غلبہ تھا۔ شرک کیا ہے۔ شرک دراصل فطرت کی پرستش (nature worship) کا دوسرا نام ہے۔ اس حقیقت کی طرف قرآن کی اس آیت میں اشارہ کیا گیا ہے: لَا تَسْجُدُوا لِلشَّمْسِ وَلَا لِلْقَمَرِ وَاسْجُدُوا لِلَّہِ الَّذِی خَلَقَہُنَّ (41:37) ۔ خالق نے فطرت (nature) کے اندر عظیم ٹکنالوجی رکھی تھی۔ یہ ٹکنالوجی گویا سویلائزیشن کا انفراسٹرکچر تھا۔ مگر انسان لمبی مدت تک اس نعمت سے بے خبر رہا۔
اسلام کے ذریعے جو مبنی بر توحید انقلاب آیا۔ اس نے تاریخ میں پہلی بار یہ کیا کہ نیچر اور ورشب دونوںکو ایک دوسرے سے الگ (delink) کردیا۔ اس کے بعد تاریخ میں ایک نیا پراسس جاری ہوا۔ اب نیچر تحقیق کا موضوع (object of investigation) بن گئی، جو کہ اسلام سے پہلے پرستش کا موضوع (object of worship) بنی ہوئی تھی۔ اسی پراسس کے آخری مرحلے میں وہ چیز ظہور میں آئی جس کوماڈرن تہذیب کہا جاتا ہے۔ اس انقلاب سے پہلے اقتصادیات کا بنیادی ذریعہ زراعتی زمین (agricultural land) تھا۔ اسی زرعی زمین سے انسان کو سب کچھ ملتا تھا۔ قدیم زمانے میں جو لڑائیاں ہوتی رہیں، وہ اسی زرعی زمین پر قبضے کے لیے ہوا کرتی تھیں۔
جدید تہذیب کے نتیجے میں ایک نیا دور آیا۔ جس کو صنعتی دور (industrial age)کہا جاتا ہے۔ اب اقتصادیات کا سب سے بڑا ذریعہ صنعت (industry) بن گئی، اور صنعت کے لیے زمین پر سیاسی قبضے کی ضرورت نہیں تھی۔ اس طرح جدید صنعتی دور نے عملی طور پر جنگ کو بے فائدہ بنا دیا، اور دنیا میں ایک نیا دور آیا، جس کو دورِ امن (age of peace) کہا جاتا ہے۔اس دورِ امن کو پیدا کرنے کا ذریعہ بظاہر صنعتی انقلاب تھا۔ مگر صنعتی انقلاب کو جس چیز نے پیدا کیا، وہ اسلام تھا۔ اسلام اس دورِ امن کا نظریاتی بانی ہے، اور جدید سویلائزیشن اس دور کو عملی طور پر وجود میں لانے والا ہے۔
واپس اوپر جائیں

اخوانِ ابرہیم ، اخوانِ محمد

پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم 570 عیسوی میں مکے میں پیدا ہوئے، اور 632 عیسوی میں مدینے میں آپ کی وفات ہوئی۔آپ کا زمانہ پیغمبر ابراہیم علیہ السلام سے تقریباً ڈھائی ہزار سال بعد کا زمانہ ہے۔ آپ پیغمبر ابراہیم کی دعا (سورۃ البقرۃ،2:129)کے نتیجہ میں پیدا ہوئے۔ قرآن میں آپ کے بارے میں ایک آیت آئی ہے، جس کا ترجمہ یہ ہے: پھر ہم نے تمہاری طرف وحی کی کہ ابراہیم کے طریقے کی پیروی کرو جو یکسو تھا اور وہ شرک کرنے والوں میں سے نہ تھا(16:123)۔
یہ کوئی سادہ بات نہیں، یہ در اصل ایک تاریخی حقیقت کا اعلان ہے۔ پیغمبر اسلام اور آپ کے اصحاب وہ لوگ تھے، جن پر ایک تاریخ منتہی (culminate) ہوئی تھی۔ پیغمبر ابراہیم نے اپنی غیر معمولی قربانی کے ذریعے مکے میں ایک تاریخی عمل (historical process) کا آغاز کیا تھا۔ یہ تاریخی عمل اپنے فطری مراحل سے گزرتے ہوئےچھٹی صدی عیسوی میں اپنے نقطۂ انتہا (culmination) تک پہنچا تھا۔ اس وقت عرب میں وہ مخصوص افراد پیدا ہوئے، جو اپنے رول کی بنا پر رسول اور اصحابِ رسول کہے جاتے ہیں۔
رسول اور اصحابِ رسول کی قربانیوں کے ذریعے ساتویں صدی عیسوی میں ایک اور تاریخی عمل (historical process) شروع ہوا۔ اس تاریخی عمل کی تکمیل پر دوبارہ تقریباً ہزار سال کا زمانہ گزرا۔ بیسویں صدی عیسوی میں یہ عمل اپنی تکمیل کو پہنچ گیا۔ اب دوبارہ ایک ایسے گروہ کی ضرورت ہے، جو اس بات کا مصداق ہو کہ بعد کو بننے والا تاریخی عمل اس پر منتہی ہوا ہو۔ اصحابِ رسول کے بعد یہ دوسرا گروہ ہوگا، جس کو حدیثِ رسول میں پیشگی طور پر اخوانِ رسول (صحیح مسلم، حدیث نمبر 249) کا نام دیا گیا ہے۔ گویا کہ پیغمبرِ اسلام اور آپ کے اصحاب اخوانِ ابراہیم تھے، اور بعد کو بننے والا گروہ اخوانِ محمد ہوگا۔ اخوانِ ابراہیم نے دعوتی مشن کو آگے بڑھایا تھا، اب اخوانِ محمد اسی دعوتی مشن کو اگلے مرحلے تک پہنچائیں گے۔
واپس اوپر جائیں

ایک عمل جوانسان کو رب العالمین کا محبوب بنا دیتا ہے


اختلاف کے باوجود متحد ہو کر اللہ کے مشن کے لیے کام کرنا ایک ایسا عمل ہے، جو انسان کو معمولی انسان سے بڑھا کر غیر معمولی انسان بنا دیتا ہے۔ ایسا انسان رب العالمین کا محبوب بندہ بن جاتا ہے۔ یہ حقیقت قرآن کی ایک آیت کے مطالعے سے معلوم ہوتی ہے۔ قرآن کی وہ آیت یہ ہے: إِنَّ اللَّہَ یُحِبُّ الَّذِینَ یُقَاتِلُونَ فِی سَبِیلِہِ صَفًّا کَأَنَّہُمْ بُنْیَانٌ مَرْصُوصٌ (61:4)۔ یعنی اللہ تو ان لوگوں کو پسند کرتا ہے جو اس کے راستہ میں اس طرح مل کر قتال کرتے ہیں گویا وہ ایک سیسہ پلائی ہوئی دیوار ہیں۔
قرآن کی اس آیت میں یقاتلون سے مراد یجاھدون ہے۔ یعنی اللہ کے مشن میں بھر پور طاقت کے ساتھ اپنی کوشش جاری رکھنا۔ اللہ کا مشن کیا ہے، اللہ کی مرضی کو اللہ کے بندوں تک پرامن طریقے سے پہنچانا۔ ایسا انسان اللہ کا محبوب بندہ بن جاتا ہے۔ ایسے انسان کو اللہ خصوصی نعمتوں سے سرفراز کرتا ہے۔ ایسے انسان کے لیے فرشتے بہترین دعائیں کرتے ہیں، ایسے انسان کو آخرت میں وہ درجہ ملتا ہے، جو دوسرے انسانوں کو نہیں ملتا۔
دنیا کی زندگی میں جب بھی مل جل کر کوئی کام کیا جائے تو ضرور ایسا ہوتا ہے کہ آپس میں اختلافات (differences)پیدا ہوں ۔ایک کو دوسرے سے شکایت کا تجربہ پیش آئے۔ اجتماعی جدو جہد میں اس قسم کا تجربہ پیش آنا بالکل فطری ہے، جو انسان ایسا تجربہ پیش آنے کے بعد اس کو عذر (excuse)بنا لے، اور شکایت کو عذر بنا کر اجتماعیت سے الگ ہوجائے، وہ اللہ کا غیر محبوب بندہ بن جاتا ہے۔ اس کے برعکس، جو انسان شکایت کو نظر انداز کرے، اوراختلاف کے باوجود متحد ہوکر اپنا کام جاری رکھے، وہ اللہ کا محبوب بندہ بن جاتا ہے۔
اجتماعی جدو جہد میں اختلاف کا پیش آنا، کوئی برائی نہیں، بلکہ وہ ایک موقع (chance) ہے ۔ جب کوئی انسان اختلاف کو ایک موقع کے طور پر استعمال کرے، اور بڑھے ہوئےجذبے کے ساتھ خدا کے مشن کو بدستور جاری رکھے۔ ایسا انسان اپنے آپ کو اس بات کا مستحق بنادیتا ہے کہ اللہ کے یہاں اس کا درجہ بہت بڑھ جائے۔
اس دنیا میں کوئی بڑا کام اجتماعی جدو جہد کے بغیر نہیں ہوسکتا، اور اجتماعی جدو جہد میں اختلافات کا پیدا ہونا یقینی ہے۔ ایسی حالت میں کوئی بڑا کام کس طرح کیا جائے۔ اس کی صورت صرف ایک ہے۔ وہ یہ کہ اختلاف کو انا (ego) کا مسئلہ نہ بنا یا جائے، بلکہ ا س کو اللہ رب العالمین کے خانے میں ڈال دیا جائے۔
حدیث کی کتابوں میں عبادہ بن الصامت سے ایک روایت ان الفاظ میں آئی ہے: بَایَعْنَا رَسُولَ اللہِ صَلَّى اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ عَلَى السَّمْعِ وَالطَّاعَةِ فِی الْعُسْرِ وَالْیُسْرِ، وَالْمَنْشَطِ وَالْمَکْرَہِ، وَعَلَى أَثَرَةٍ عَلَیْنَا، وَعَلَى أَنْ لَا نُنَازِعَ الْأَمْرَ أَہْلَہُ، وَعَلَى أَنْ نَقُولَ بِالْحَقِّ أَیْنَمَا کُنَّا، لَا نَخَافُ فِی اللہِ لَوْمَةَ لَائِم(صحیح مسلم، حدیث نمبر 1709)۔یعنی ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سننے اور اطاعت کرنے کی بیعت کی، مشکل اور آسانی ، خوشی اور ناخوشی ہر حالتوں میں، اور یہ کہ ہمارے اوپر ترجیح دی جائے، اور یہ کہ ہم اولو الامر کے ساتھ اختلاف نہیں کریں گے، اور ہم جہاں بھی ہوں حق بات کہیں گے، اللہ کے بارے میں ملامت کرنے والے سے خوف نہیں کریں گے۔
یہ اجتماعی جدو جہد کا کلچر ہے۔ اس کلچر کا تعلق جنگ سے نہیںہے، بلکہ پر امن جدو جہد سے ہے۔ کسی مشن کے لیے پر امن جدو جہد کرنے میں یہ تمام امتحانات لازماً پیش آتے ہیں۔ ان امتحانات میں پورا اترنا ، وہ عمل ہے، جو انسان کو اللہ کا محبوب بندہ بنا دیتا ہے۔
واپس اوپر جائیں

عالمی تائید اسلام

اللہ رب العالمین کا ایک منصوبہ قرآن میں ان الفاظ میں بیان ہوا ہے:یُرِیدُونَ أَنْ یُطْفِئُوا نُورَ اللَّہِ بِأَفْوَاہِہِمْ وَیَأْبَى اللَّہُ إِلَّا أَنْ یُتِمَّ نُورَہُ وَلَوْ کَرِہَ الْکَافِرُونَ (9:32)۔ یعنی وہ چاہتے ہیں کہ اللہ کی روشنی کو اپنے منہ سے بجھا دیں اور اللہ اپنی روشنی کو پورا کیے بغیر ماننے والا نہیں، خواہ منکروں کو یہ کتنا ہی ناگوار ہو۔ اس آیت میں نور (روشنی)سے مراد دینِ توحید ہے۔ قدیم تاریخ بتاتی ہے کہ اہل شرک نے ہرممکن کوشش کی کہ دینِ توحید کو لوگوں کا دین نہ بننے دے۔ اہل شرک اپنے وقت کے اہل اقتدار سے مل کر تشدد کی حد تک دینِ توحید کے مخالف بن گئے۔ اللہ نے چوں کہ اس دنیا کو آزادی کے اصول پر بنایا ہے، اس لیے اللہ خود اپنے منصوبے کے مطابق، ایسا نہیں کرسکتا تھا کہ وہ لوگوں کا ہاتھ پکڑ لے۔
اللہ نے اس معاملے میں مینجمنٹ کا طریقہ اختیار کیا۔ اللہ نے تاریخ کو اس طرح مینج کیا کہ وہ تدریج کے ساتھ معاونِ توحید تاریخ بن گئی۔ جب کہ اس سے پہلے وہ مخالفِ توحید تاریخ بنی ہوئی تھی۔ اس مقصد کے لیے اللہ رب العالمین نے انسان کی آزادی کو برقرار (maintain) رکھتے ہوئے تاریخ میں ایک عمل (process) جاری کیا ۔یہ پراسس اپنے آخری نتیجے کے طور پر یہ تھا کہ انسان کی آزادی مکمل طور پر باقی رہے، اسی کے ساتھ ایسے امکانات پیدا ہوجائیں، جن کو اویل (avail) کرکے اہلِ توحید آزادانہ طور پر دینِ توحید کو سارے عالم میں پھیلادیں۔اس آیت میں اتمامِ نور کا مطلب ہے— دنیا میں دورِ شرک کے بجائے، توحید کا دور لانا۔
یہ ایک عظیم خدائی منصوبہ تھا۔ اس کو حدیث میں ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے: إِنَّ اللہَ عَزَّ وَجَلَّ لَیُؤَیِّدُ الْإِسْلَامَ بِرِجَالٍ مَا ہُمْ مِنْ أَہْلِہِ(المعجم الکبیر للطبرانی، حدیث نمبر 14640)۔یعنی اللہ اسلام کی تائید ایسے لوگوں سے کرے گا، جو اہل اسلام میں سے نہ ہوں گے۔یہ روایت حدیث کی مختلف کتابوں میں آئی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ تاریخ میں دورِ توحید کا پراسس اتنے ہمہ گیر انداز میں چلے گا کہ نہ صرف اہلِ ایمان ، بلکہ غیر اہلِ ایمان بھی اس تاریخی عمل (historical process) کا حصہ بن جائیں گے۔ مگر خدائی منصوبے کے مطابق، اس تاریخی انقلاب کو اس طرح نہیں لانا تھا کہ انسانی آزادی کو موقوف کردیا جائے۔ بلکہ یہ کام منصوبہ ٔالٰہی کے مطابق، اس طرح ہونا تھا کہ انسانی آزادی بدستور برقرار رہے، اور اسی کے ساتھ تاریخ میں ایک ایسا طاقتور پراسس جاری ہو، جو اس طرح منتہی(culminate) ہو کہ اس کی تکمیل پر دنیا میں وہ دور آئے جو اپنے ساتھ مذہبی آزادی، عالمی ذرائع ابلاغ وغیرہ لائے، جس کے نتیجے میں کسی بھی انسان کے لیے رائے کا اظہار، اور مذہب کی تبلیغ وغیرہ آسان ہوجائے۔ مگر تاریخ میں یہ انقلاب باعتبار مواقع (opportunities) آیا۔ یعنی اہلِ توحید کے لیے یہ موقع کھل گیا کہ اگر وہ چاہیں تو حکیمانہ منصوبے کے ذریعہ اس امکان کو پہچانیں، اور اویل (avail)کریں۔
غالباً یہی وہ حقیقت ہے، جس کی طرف ایک حدیث میں ان الفاظ میں اشارہ کیا گیا ہے: کَانَ الرَّجُلُ فِیمَنْ قَبْلَکُمْ یُحْفَرُ لَہُ فِی الأَرْضِ، فَیُجْعَلُ فِیہِ، فَیُجَاءُ بِالْمِنْشَارِ فَیُوضَعُ عَلَى رَأْسِہِ فَیُشَقُّ بِاثْنَتَیْنِ، وَمَا یَصُدُّہُ ذَلِکَ عَنْ دِینِہِ، وَیُمْشَطُ بِأَمْشَاطِ الحَدِیدِ مَا دُونَ لَحْمِہِ مِنْ عَظْمٍ أَوْ عَصَبٍ، وَمَا یَصُدُّہُ ذَلِکَ عَنْ دِینِہِ، وَاللَّہِ لَیُتِمَّنَّ ہَذَا الأَمْرَ، حَتَّى یَسِیرَ الرَّاکِبُ مِنْ صَنْعَاءَ إِلَى حَضْرَمَوْتَ، لاَ یَخَافُ إِلَّا اللَّہَ، أَوِ الذِّئْبَ عَلَى غَنَمِہِ، وَلَکِنَّکُمْ تَسْتَعْجِلُونَ(صحیح البخاری، حدیث نمبر 3612)۔ یعنی تم سے پہلی امتوں میں سے کسی کے لیے (توحید اختیار کرنے پر )گڑھا کھودا جاتا اور اسے اس میں ڈال دیا جاتا ۔ پھر اس کے سر پر آرا رکھ کر اس کے دو ٹکڑے کر دیے جاتے پھر بھی وہ اپنے دین سے نہ پھرتا ۔ لوہے کے کنگھے اس کے گوشت میں دھنسا کر اس کی ہڈیوں اور پٹھوں پر پھیرے جاتے پھر بھی وہ اپنا ایمان نہ چھوڑتا ۔ خدا کی قسم یہ امر بھی تکمیل کو پہنچے گا اوریہاں تک کہ ایک سوار صنعاء سے حضرموت تک سفر کرے گا،اور اسے اللہ کے سوا اور کسی کا ڈر نہیں ہو گا ، یا بھیڑیے کا (خوف ہو گا) اپنی بکریوں پر، لیکن تم لوگ جلدی بازی کررہے ہو ۔
موجودہ زمانے میں یہ تاریخ اپنی آخری حد تک پہنچ چکی ہے۔ اب اہلِ توحید کو صرف ایک حکمت (wisdom) کو جاننا ہے۔ وہ یہ کہ وہ جو کچھ کریں، پوری طرح پرامن (peaceful) انداز میں کریں۔ وہ کسی حال میں تشدد (violence) کا طریقہ اختیار نہ کریں۔ جب تک وہ پر امن رہیں، سارے مواقع ان کے لیے کھلے رہیں گے۔ وہ صرف اس وقت ان سے چھن سکتے ہیں، جب کہ وہ اس راز کو نہ سمجھیں، اور تشدد کا طریقہ اختیار کرلیں۔
حدیث میں تائیدِ دین کی بات کسی محدود معنی میں نہیں ہے۔بلکہ نہایت وسیع معنی میں ہے۔ مثال کے طور پر رسول اللہ کے زمانے میں کعبہ میں تمام قبائل کے بت رکھے ہوئے تھے۔ اس بنا پر روزانہ وہاں لوگوںکا ایک بڑا مجمع اکٹھا ہوتا تھا۔پیغمبرِ اسلام نے اس اجتماع کو آڈینس (audience) کے روپ میں دیکھا، اور مکہ میں تیرہ سال تک ان مواقع (opportunities) کو دعوتی مقصد کے لیے اویل کرتے رہے۔ جیسا کہ تاریخ بتاتی ہے کہ اس زمانے میں رسول اللہ کو وہ تمام افراد ملے، جن کو اجلّۂ صحابہ کہا جاتا ہے۔
یہ صرف ایک واقعہ نہیں، بلکہ وہ ابدی معنوں میںایک سنتِ رسول ہے۔ ہر زمانے میں اس کو اپلائی (apply) کیا جاسکتا ہے۔ شرط صرف یہ ہے کہ آدمی پوری طرح مثبت سوچ والا ہو، اور کسی بھی قسم کی منفی سوچ کے بغیر حالات کو سمجھنے کی صلاحیت رکھتا ہو۔ مثلاً موجودہ زمانے میں ایک کلچر رائج ہوا ہے، جس کو اجتماع کلچر (gathering culture) کہہ سکتے ہیں۔ کہیں کانفرنس کے نام پر، کہیں ٹورزم کے نام پر، کہیں میٹنگ کے نام پر، کہیں نمائش (exhibition) کے نام پر، کہیں جشن کے نام پر،کہیں فیسٹیول کے نام پر،کہیں بک فیر (book fair)کے نام پر، وغیرہ۔ یہ کلچر اتنا زیادہ عام ہے کہ ہر جگہ اور دنیا کے ہر حصے میں تقریبا ًروزانہ وہ بڑے پیمانے پر ہوتے رہتے ہیں۔ اگر غور کیا جائے تو مکہ میں پیغمبرِ اسلام کو "زیارتِ اصنام" کے نام پرجو موقع ملا تھا، اب وہ ہزاروں گنا زیادہ بڑے پیمانے پر ہر جگہ موجود ہے۔ اس طرح گویا داعی اور مدعو کی دوری ختم ہوچکی ہے۔ان اجتماعات کو دعوت کے لیے استعمال کرنے کے مواقع پوری طرح کھلے ہوئے ہیں، شرط صرف یہ ہے کہ لوگ تشدد سے دور رہیں، اور پرامن منصوبے کے ذریعے اس کو استعمال کریں۔
واپس اوپر جائیں

  ایج آف ریزن


حدیث رسول میں آیا ہے کہ ظہورِ دجال کے وقت ایک شخص دجال کے مقابلے میں حق کی گواہی دے گا(صحیح مسلم ، حدیث نمبر2938) ۔ یہ گواہی تاریخ کی ایک عظیم گواہی ہوگی۔ چنانچہ اس کو حدیث میں شہادتِ اعظم کہا گیا ہے۔ شہادتِ اعظم سے کیا مراد ہے اس کا ایک کُلُو (clue) دجال سے متعلق ایک اور روایت (صحیح مسلم ، حدیث نمبر 2937)میں ملتاہے جس میں حجیج کا لفظ آیا ہے۔ یعنی دلیل و حجت کی سطح پر گواہی دینا۔ حدیث کے اس لفظ کو لے کر اس معاملے کی تشریح کی جائے تو بظاہر اس کا مطلب یہ ہے کہ بعد کے زمانے میں جب دجال کا ظہور ہوگا تو تعقل کا دور (age of reason) آچکا ہوگا۔ دجال بظاہر عقلی اسلوب کو اختیار کرتے ہوئے لوگوں کو فریب میں مبتلا کرے گا۔ اس کے بعد کوئی اللہ کا بندہ اعلیٰ عقلی استدلال کے ذریعے دجال کی پر فریب باتوں کو غلط ثابت کرے گا۔ وقت کے مطابق یہ کام حجت (reason) کی سطح پر ہوگا۔ غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ واقعہ دورِ سائنس میں پیش آئے گا۔ جب کہ مبنی بر تعقل دلائل کا دور آچکا ہوگا۔
سائنسی دور سے پہلے دینِ حق کی گواہی عقلِ عام (common sense) کی سطح پر دی جاتی رہی ہے۔ اس کے بعد دنیا میں سائنسی دور آیا۔ اس دور کو قرآن میں آفاق و انفس کے دلائل کے ظہور (فصلت،41:53) سے تعبیر کیا گیا ہے۔ دجال اسی دور میں ظاہر ہوگا۔ وہ جس ہتھیار سے لوگوں کو فریب میں ڈالے گا، وہ عقلی ہتھیار ہوگا۔ اللہ کی توفیق سے اس زمانے میں ایک بندہ عقل کا زیادہ برتر استعمال کرکے دجال کے فریب کو ختم کردے گا۔ یہی وہ واقعہ ہے جس کو حدیث میں شہادتِ اعظم (great witness) کہا گیا ہے۔
سائنسی دور عقلیاتی دور کے دلائل کے ظہور کا زمانہ ہوگا۔ اس زمانے میں دجال عقلی دلائل کو غلط طور پر اپنے حق میں استعمال کرے گا۔ اس وقت اللہ کی توفیق سے اللہ کا ایک باخبر بندہ اٹھے گا، وہ اس دجال کی دجالیت کا پردہ پھاڑ کر حق کی کامل تبیین کرے گا (فصلت،41:53)۔
واپس اوپر جائیں

دورِ شخصیت، دورِ استدلال

قدیم زمانہ شخصیت کی عظمت (personality cult) کا زمانہ تھا۔ موجودہ زمانہ عقلی استدلال کا زمانہ (age of reason) ہے۔ قدیم زمانے میں ایسا ہوتا تھا کہ ایک شخص جس کو کسی وجہ سے بڑا مان لیا جائے۔ لوگ اس کی باتوں کو اعتقادی طور پر درست سمجھتے تھے، اور عقل کے استعمال کے بغیر اس کی پیروی کرتے تھے۔ اب یہ دور ختم ہوگیا۔ موجودہ زمانے میں اس طرح کی شخصیتیں پیدا نہیں ہوتیں۔ شخصی صلاحیت کے اعتبار سے تو اب بھی لوگ پیدا ہورہے ہیں، لیکن زمانے کے زیرِاثر اب کسی شخص کو اکابر کا درجہ حاصل نہیںہوتا۔
سائنسی انقلاب کے بعد دنیا میں عقلیت کا دور (age of reason) آیا ہے۔ عقلیت کا مطلب عقل پرستی نہیں ہے، بلکہ اس سے مراد ہے عقلی استدلال کی بنیاد پر کسی بات کو ماننا ،اور کسی بات کو نہ ماننا۔ آج وہی تحریک کامیاب تحریک ہے جو آج کے فکری مستویٰ اور اور آج کے مسلمہ استدلال کی سطح پر اپنے نظریے کی تبلیغ کرے۔ اس کے برعکس جو تحریک اکابر اور شیوخ کے حوالے کی بنیاد پر شروع کی جائے، وہ تحریک آج کے معیار کے مطابق سرے سے تحریک ہی نہیں۔
قدیم زمانےمیں شخصیت پرستی کی بنا پر عقلی غور وفکر کا ارتقا (development)نہیں ہوا۔ قدیم زمانے میں ہزاروں سال تک یہ صورتِ حال باقی رہی۔ اسلام نے پہلی بار عقلی غورو فکر کا آغاز کیا۔ قرآن میں بار بار اس قسم کے الفاظ آئے ہیں- تدبر، تعقل ، تفکر، توسم، تذکر، وغیرہ۔ حتیٰ کہ خود قرآن کے بارے میں کہا گیا ہے :کِتَابٌ أَنْزَلْنَاہُ إِلَیْکَ مُبَارَکٌ لِیَدَّبَّرُوا آیَاتِہِ وَلِیَتَذَکَّرَ أُولُو الْأَلْبَابِ (38:29) ۔
لیکن بعد کے زمانے میں مسلمانوں کے اندر عملاً عقلی غور و فکر کا خاتمہ ہوگیا۔ دین میں عقلی غور وفکر کو برا سمجھاجانے لگا۔ حدیث میں عمومی معنوں میں آیا تھا :طَلَبُ الْعِلْمِ فَرِیضَةٌ(ابن ماجہ،حدیث نمبر 224)۔ لیکن بعد کے زمانے میں طلبِ علم سے مراد صرف علم دین کی طلب قرار پایا۔
اس کا سبب بعد کے زمانے میں ہونے والا ماس کنورژن (mass conversion)تھا۔ یعنی بعد کے زمانے میں یہ واقعہ پیش آیا کہ لوگوں نے بڑی تعداد میں اسلام قبول کیا۔ اس طرح امتِ مسلمہ میں نو مسلموں کی تعداد اچانک بہت زیادہ بڑھ گئی۔ یہ لوگ اپنے قدیم مائنڈ سیٹ (mindset) کو لے کر اسلام میں داخل ہوئے تھے۔ کثرتِ تعداد کی بنا پر ان کی فکری تربیت ممکن نہ ہوسکی۔ یہی نوواردین ہیں ، جنھوں نے اپنے قدیم ذہن کی بنا پر عقلی غور و فکر کو اسلام کے خلاف قرار دیا۔یہ ذہن اتنا زیادہ پختہ ہوگیا کہ وہ آج تک جاری ہے۔ اس سے کسی حد تک مستثنیٰ صرف وہ مسلمان ہیں ، جنھوں نے موجودہ زمانے میں سیکولر اداروں میں تعلیم پائی ۔
عباسی دور میں ایک طبقے کے اندر عقلی غور و فکر کا آغاز ہوا، لیکن وہ یونانی فلسفے کے زیرِ اثر ہوا تھا، اس لیے اسلام کے اصول کے اعتبار سے صحیح منہج پر قائم نہ تھا۔ اس لیے اُس وقت کے علماء اس سے متوحش ہو کر اس کے خلاف ہوگئے۔ علماء نے ان لوگوں کے خلاف شدید رد عمل کا اظہار کیا۔ یہاں تک کہ کہا جانے لگا کہ من طلب العلم بالکلام تزندق (البدایۃ و النہایۃ،10/194) ۔ جس نے کلام کے ذریعے علم طلب کیا، وہ زندیق ہوگیا۔
اکیسویں صدی میں وہ وقت آگیا ہے، جب کہ اسلام میں عقلی غور و فکر کا آغاز کیا جائے۔ عقلی غور و فکر دین سے انحراف کا معاملہ نہیں ہے، بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ دین کو عقلی بنیاد (rational basis) پر پیش کیا جائے۔ اہلِ عقل کے فکری مستویٰ پر انھیں دین کو پہنچایا جائے تاکہ ان کا ذہن ایڈریس ہو، اور وہ اسلام پر زیادہ سنجیدگی کے ساتھ غور وفکر کرسکیں۔راقم الحروف کی کتاب مذہب اور جدید چیلنج اسی قسم کی ایک کوشش ہے۔ اس کتاب کا ترجمہ مختلف زبانوں میں شائع ہوچکا ہے۔ مثلاً عربی زبان میں الاسلام یتحدیٰ، اور انگریزی زبان میں گاڈ ارائزز، وغیرہ۔
کچھ مسلمانوں نے اس مقصد کے نام پر ایک تحریک شروع کی، جس کو وہ إسلامیَّة المعرفة (Islamization of knowledge) کہتے ہیں۔ مگر یہ تحریک صحیح خطوط پر نہیں۔ اس معاملے میں اصل کام اسلام کو جدید علم کی بنیاد پر پیش کرنا ہے، نہ کہ جدید علم کو اسلامائز کرنا۔
واپس اوپر جائیں

پیغمبروں والا کام


دعوت الی اللہ کا کام پیغمبر کی غیر موجودگی میں پیغمبر والا کام انجام دینا ہے ۔قدیم زما نےمیں دعوت کا کام پیغمبر اور ان کے ساتھی انجام دیتے تھے۔ اب نبی کی آمد کا سلسلہ ختم ہوگیا۔ اس لیے اب نبی کی امت کو نبی کی نمائندگی میں یہ کام انجام دینا ہے۔یہ کام اسی نہج (method) پر انجام دینا ہے، جس نہج پر پہلے پیغمبر انجام دیتے تھے۔ یہ اصول قرآن کی ایک آیت سے معلوم ہوتا ہے۔ قرآن میں پیغمبر کی زبان سے کہا گیا ہے : وَأُوحِیَ إِلَیَّ ہَذَا الْقُرْآنُ لِأُنْذِرَکُمْ بِہِ وَمَنْ بَلَغَ (6:19)۔ یعنی اور میری طرف یہ قرآن وحی کیا گیا ہے تاکہ میں اس کے ذریعے سے تم کو انذار کروں اور وہ بھی جن کو یہ پہنچے۔
اس آیت کی تفسیر میں مولانا امین احسن اصلاحی نے درست طور پر لکھا ہے - عام طور پر مفسرین نے وَمَنْ بَلَغَ کو ضمیرِ منصوب پر معطوف مانا ہے یعنی یہ قرآن اس لیے مجھ پر وحی کیا گیا ہے کہ میں اس کے ذریعے سے تم کو اور ان سب کو بیدار و ہوشیار کروں جن تک یہ پہنچے۔ لیکن ہمارا خیال یہ ہے کہ یہ ضمیر متکلم پر معطوف ہے۔ یعنی میں اس کے ذریعے سے تم کو خبردار کروں اور جن کو یہ پہنچے وہ بھی اپنی اپنی جگہ پر دوسروں کو اس کے ذریعے سے خبردار کریں۔(تدبر قرآن، سورہ الانعام، آیت 19)۔
یہ امتِ محمدی کی لازمی ذمے داری اور یہ ختمِ نبوت کا لازمی تقاضا ہے۔ کیوں کہ ختمِ نبوت کے بعد نبی کی شخصیت کا دور ختم ہوجاتا ہے۔ لیکن جہاں تک دعوت کا تعلق ہے، اس کو بدستور قیامت تک جاری رہنا ہے۔ یہ امتِ محمدی کی ایسی ذمے داری ہے، جو کسی حال میں موقوف نہیں ہوتی۔ اس ذمے داری کا ذکر قرآن میں مختلف الفاظ میں کیا گیا ہے۔ مثلاً امت وسط، شہادت علی الناس، انذار، ابلاغ، دعوت الی اللہ، تبلیغ ما انزل اللہ، وغیرہ۔ اس اصول کے مطابق، خاتم النبیین کی امت قیامت تک کے لیے داعی کی حیثیت رکھتی ہے، اور ختمِ نبو ت کے بعد پیدا ہونے والے تمام انسان اس کے لیے مدعو کی حیثیت رکھتے ہیں۔
واپس اوپر جائیں

دینِ خداوندی کے دو دور

ایک تاریخی حقیقت کو قرآن میں ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے:سَنُرِیہِمْ آیَاتِنَا فِی الْآفَاقِ وَفِی أَنْفُسِہِمْ حَتَّى یَتَبَیَّنَ لَہُمْ أَنَّہُ الْحَقُّ أَوَلَمْ یَکْفِ بِرَبِّکَ أَنَّہُ عَلَى کُلِّ شَیْءٍ شَہِیدٌ (41:53)۔ یعنی عنقریب ہم ان کو اپنی نشانیاں دکھائیں گے آفاق میں اورانفس میں۔ یہاں تک کہ ان پر ظاہر ہوجائے گا کہ یہ حق ہے۔ اور کیا یہ بات کافی نہیں کہ تیرا رب ہر چیز کا گواہ ہے۔
یہ سورہ ایک مکی سورہ ہے۔ غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ قرآن کی اس آیت میں کسی وقتی صورت حال کا ذکر نہیں ، بلکہ اس میں دینِ خدواندی کی پوری تاریخ کا ایک اجمالی بیان ہے۔ رسول اور اصحاب رسول کی دینی جدو جہد کسی وقتی نشانی کے لیے نہیں تھی، بلکہ اس کا مقصد یہ تھا کہ انسانی تاریخ میں ایک ایسا عمل (process) جاری کیا جائے، جو اللہ کے دین کے کامل اظہار کے ہم معنی بن جائے۔
قرآن میں بتایا گیا ہے کہ پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کا مقصد یہ تھا کہ اللہ کا دین تمام دوسرے دینوں پر غالب ہوجائے(التوبۃ، 9:33)۔ تاریخ بتاتی ہے کہ رسول اللہ کا لایا ہوا دین ساتویں صدی عیسوی میں شرک کے دین پر غالب آگیا۔ رسول اوراصحابِ رسول کی جدو جہد سے شرک کے دین کا دبدبہ ہمیشہ کے لیے ختم ہوگیا۔ اب اگر کہیں شرک کا دین باقی ہے تو وہ کچھ لوگوں کے اندر محض ذاتی عقیدے کی سطح پرباقی ہے۔ اجتماعی غلبے کی شکل میں کہیں بھی شرک کا دین باقی نہیں۔
لیکن بعد کے زمانے میں دینِ الحاد (atheism)وجود میں آیا۔ موجودہ زمانے میں یہی دینِ الحاد نظریاتی اعتبار سے ایک غالب دین کی حیثیت رکھتا ہے۔ یہی واقعہ ہے جس کی بنا پر قرآن کی مذکورہ آیت (فصلت، 41:53)میں مستقبل کا صیغہ استعمال کیا گیا ہے۔ یعنی دینِ شرک کا خاتمہ رسول اور اصحابِ رسول کے زمانے میں ہوا، اور دینِ الحاد کا خاتمہ بعد کے زمانے میں ہوگا۔
قرآن میں اظہارِ دین (التوبۃ، 9:33)کو پیغمبر اسلام کا نشانہ بتایا گیا ہے۔ غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ اس نشانے کی تکمیل کے دو دور ہیں۔ پہلا دور روایتی دور (traditional age) تھا،جس کا اتمام سائنسی انقلاب سے پہلے وقوع میں آیا۔ اس دور میں رسول اور اصحابِ رسول کی جدوجہد سے ایسے حالات پیدا ہوئے، جس کے نتیجے میں تاریخ میں ایک نیا پراسس شروع ہوا، جو موجودہ زمانے میں سائنسی انقلاب تک پہنچا۔ دوسرا دور آفاق و انفس کی نشانیوں کی دریافت (فصلت، 41:53) کے بعد کا دور ہے، جو پچھلے چار سوسال کے اندر سائنسی انقلاب کے ذریعے پیش آیا۔
اسی سائنسی انقلاب کو قرآن میں آفاق و انفس کی نشانیوں کے ظہور سے تعبیر کیا گیا ہے۔ اسی لیے اس دوسرے دور کو قرآن (فصلت، 41:53) میں مستقبل کے صیغے میں بیان کیا گیا ہے۔ گویا تبیینِ حق کے دودور ہیں۔ ایک ہے روایتی دور میں تبیینِ حق، اور دوسرا ہے سائنسی دور میں تبیینِ حق۔ اس دوسرے دور میں وہ علمی فریم ورک (scientific framework)وجود میں آیا، جس کو استعمال کرکے اعلیٰ معرفت حاصل کی جائے، اور دینِ الحاد کا نظری طور پر خاتمہ کردیا جائے۔
تبیینِ حق کے یہ وسائل اکیسویں صدی میں آخری طور پر حاصل ہوچکے ہیں۔ اب یہ پوری طرح ممکن ہوگیا ہے کہ ان نئے امکانات کو استعمال کرکے دینِ الحاد کا نظری خاتمہ کردیا جائے۔ یہی وہ دور ہےجس کی خبر حدیث میں شہادتِ اعظم کے الفاظ میں دی گئی ہے۔ حدیث کے الفاظ یہ ہیں: ہَذَا أَعْظَمُ النَّاسِ شَہَادَةً عِنْدَ رَبِّ الْعَالَمِین (صحیح مسلم، حدیث نمبر2938)۔
حدیث میں بعد کے زمانے میں پیدا ہونے والے ایک عظیم فتنے کا ذکر کیا گیا ہے۔ اس کے لیے حدیث میں فتنۂ دہیماء (ابو داؤد، حدیث نمبر4242)کے الفاظ استعمال کیے گئے ہیں۔فتنۂ دہیماء کا مطلب ہے، سیاہ فتنہ(black days)۔ یعنی ایسا زمانہ جب کہ کچھ دکھائی نہ دے۔ حق اور ناحق کو الگ کرکے دیکھناناممکن ہوجائے۔
بظاہر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ یہ دونوں زمانے ایک ساتھ آئیں گے۔ یعنی ایک طرف سائنسی دریافتوں سے وہ مواقع کھلیں گے، جب کہ دینِ الحاد کو مغلوب کرکے اسلام کے دوسرے دور (تبیین ثانی ) کو مکمل کیا جائے۔ لیکن عین اسی زمانے میں اہلِ باطل ایسے حالات پیدا کردیں گے جو روشن دور کو عملاً تاریک دور بنادیں گے۔ لوگوں کے لیے صحیح اورغلط میں تمیز کرنا ممکن نہ رہے گا۔اس بنا پر لوگوں کے لیے یہ موقع نہ ہوگا کہ وہ پیدا شدہ مواقع کو استعمال کرکے حق کی تبیین ثانی کے عمل کو مکمل کریں۔
اکیسویں صدی میں یہ فتنۂ دہیماء (تاریک فتنہ) آخری طور پر ظاہر ہوچکا ہے۔ موجودہ زمانے میں مسلمانوں کے اندر بظاہر بے شمار سرگرمیاں جاری ہیں۔ مگر حقیقت کے اعتبار سے یہ سرگرمیاں اندھیرے میں چھلانگ کے ہم معنی ہیں۔ ایسامعلوم ہوتا ہے کہ لوگ اس بات کو جانتے ہیں کہ میں مسلمان ہوں، میں امت مسلمہ کا ایک فرد ہوں، لیکن ان کو یہ نہیں معلوم کہ وہ جس زمانے میں ہیں، وہ زمانہ کیا ہے۔
موجودہ زمانہ اپنی حقیقت کے اعتبار سے تبیینِ حق کا زمانہ ہے۔ یعنی وہ زمانہ جس میں امکانی طور پر سچائی کو پوری طرح کھول دیا گیا ہے۔ یہ معلوم کرنا آخری حد تک ممکن ہوگیا ہے کہ حق کیا ہے اور ناحق کیا۔ لیکن لوگوں کا حال یہ ہے کہ وہ اس طرح بے خبری کی حالت میں پڑے ہوئے ہیں ، جیسے کہ وہ اندھیرے میں بھٹک رہے ہوں۔
غالباً یہی وہ زمانہ ہے جس کی حدیث میں ان الفاظ میں خبر دی گئی ہے کہ اس زمانے میں الْأَئِمَّةُ الْمُضِلُّونَ (مسند احمد ، حدیث نمبر27485)ظاہر ہوں۔ یعنی گمراہ کرنے والے رہنما۔یہ گمراہ کرنے والے لوگ کون ہوں گے۔ یہ وہ لوگ ہوں گے جو امت کو غلط نشانے کی طرف دوڑا دیں گے۔ اس دور میں اصل کرنے کا کام تو یہ ہوگا کہ نئے امکانات کو دریافت کرکے لوگوں کو اعلیٰ معرفت پر کھڑا کیا جائے۔ مگر وہ یہ کریں گے کہ امت کو یہ بتائیں گے کہ ساری دنیا تمھاری دشمن ہے، ان سے لڑو۔ اس طرح وہ امت کو منفی سوچ کا کارخانہ بنا دیں گے۔
کچھ لوگ امت کو فرضی فخر (false pride) پر کھڑا کریں گے۔ قدیم یہود کے اندر بگاڑ کے دور میں ایک کلچر پیدا ہوا، جس کو جوئش سپرامیسزم (Jewish supremacism) کہا جاتا ہے۔ یعنی یہودی برتری کا تصور۔ یہ لوگ امت کے افراد میں مسلم برتری (Muslim supremacism) کا کلچر جاری کر دیں گے۔وہ مسلمانوں کو فرضی فخر کی غذا دیں گے، جس سے لوگ وقتی طور پر خوش ہو جائیں ۔ لیکن انھیں دینِ خداوندی کے احیا کا کوئی مثبت نشانہ نہیں ملے گا۔
کچھ لوگ مسلمانوں کو یہ سبق دیں گے کہ تمھارا کام یہ ہے کہ تم ساری دنیا میں اسلام کی عظمت کا جھنڈا لہراؤ ۔اس طرح وہ مسلمانوں کے اندر ایک ایسا ذہن پیدا کردیں گے جو اپنے اعلان کے اعتبار سے تو اسلامی ذہن ہوگا، لیکن اپنے نتیجے کے اعتبار سے صرف تخریبی ذہن۔
ایک حدیث رسول ان الفاظ میں آئی ہے:بَدَأَ الْإِسْلَامُ غَرِیبًا، وَسَیَعُودُ کَمَا بَدَأَ غَرِیبًا، فَطُوبَى لِلْغُرَبَاء (صحیح مسلم، حدیث نمبر145)۔یعنی اسلام شروع ہوا تو وہ اجنبی تھا، اور دوبارہ وہ اجنبی ہوجائے گا، تو مبارک ہیں ایسے اجنبی لوگ۔اس حدیث کا مطلب یہ نہیں ہے کہ بعد کے زمانے میں کوئی دور ایسا آئے گا، جب کہ اسلام کا وجود باقی نہ رہے۔ اسلام کے اجنبی ہوجانے کا مطلب یہ ہے کہ اسلام کے اصل ماڈل کا لوگوں کے لیے اجنبی ہوجانا۔ یعنی اس دور میں اسلام بظاہر پوری طرح موجود ہوگا، لیکن اسلام کی اصل اسپرٹ باقی نہ رہے گی۔ اس زمانے میں اسلام اپنی اسپرٹ کے اعتبار سے مفقود ہوگا، نہ کہ اپنی شکل کے اعتبار سے۔
غالباً اس حدیث کا ایک مطلب یہ ہے کہ بعد کے دور میں لوگ دین کے خود ساختہ ماڈل کو لے کر سرگرم ہوجائیں گے۔ اس لیے ایسی حالت میں جب ان کے سامنے دین کا اصل ماڈل پیش کیا جائے گا تو وہ ان کو اجنبی معلوم ہوگا۔ اس وقت جو لوگ اجنبیت کے پرد ےکو پھاڑ کر اسلام کے اصل ماڈل کو پہچانیں، اور پوری طرح اس کا ساتھ دیں ، وہ اللہ کے نزدیک قابل مبارک باد لوگ ہوں گے۔
٭ ٭ ٭ ٭٭٭
موجودہ مسلمانوں کو اگر مجھے ایک مشورہ دینا ہو تو میں کہوں گا — جذباتی کارروائیوں سے بچئے اور سوچے سمجھے عمل کا طریقہ اختیار کیجئے، اور پھر کامیابی آپ کے لیے اتنا ہی یقینی بن جائے گی جتنا کہ آج کی شام کے بعد کل کی صبح کو سورج کا نکلنا۔
واپس اوپر جائیں

دین، تائیدِ دین

دین کا کام کرنے کی دو سطحیں ہیں۔ ایک ہے ، براہ راست اور عمداً دین کا کام کرنا۔ اور دوسرا یہ ہے کہ آدمی کا ارادہ کچھ اور ہو، لیکن وہ ایسا کام کرے، جو بالواسطہ طور پر دین کے لیے تائید (support)فراہم کرنے والا ہو۔ اس سلسلے میں ایک حدیث رسول آئی ہے، اس کا ترجمہ یہ ہے: اللہ ضرور اس دین کی تائید فاجر انسان کے ذریعے کرے گا (صحیح البخاری، حدیث نمبر 3062)۔
اس حدیث رسول میں فاجر کا لفظ آیا ہے۔ فاجر کا مطلب بدعمل (wicked) آدمی ہے۔ یعنی شریعت کی زبان میں گناہ گار آدمی۔ یہاں یہ سوال ہے کہ کوئی شخص جو ذاتی اعتبار سے ایک گناہ گار آدمی ہو، وہ کیسے دین کے لیے موید (supporter) بن سکتا ہے۔ یہ واقعہ بالواسطہ انداز میں ہوتا ہے۔ اس کی ایک مثال اسٹیفن ہاکنگ (1942-2018) ہے۔ اسٹیفن ہاکنگ نہ مسلم تھا، اور نہ شریعت کا پیرو۔ اس کو ایک سیکولر آدمی کہا جاسکتا ہے۔ البتہ اس نے ایک ایسا کام کیا، جو دینِ اسلام کے عقیدۂ توحید کے لیے ایک مددگار بنیاد (supporting base) کی حیثیت رکھتا ہے۔ اسٹیفن ہاکنگ سے پہلے نیوٹن (1643-1727) نے یہ بتایا تھا کہ کائنات کو چار طاقتیں کنٹرول کرتی ہیں:(1)قوتِ کشش (gravitational force) (2)برقی مقناطیسی قوت (electromagnetic force) (3)طاقت ور نیوکلیر قوت (strong nuclear force) (4) کم زورنیو کلیر قوت (weak nuclear force)۔
اس نظریے پر کام ہوتا رہا، یہاں تک کہ اسٹیفن ہاکنگ نے ریاضیاتی طور پر یہ بتایا کہ یہ طاقتیں چار نہیں ہیں، صرف ایک ہے۔ اس کو اس نے سنگل اسٹرنگ تھیری (single string theory)کا نام دیا۔ اس تحقیق پر غور کیا جائے تو معلوم ہوگا کہ یہ سائنسی نظریہ اسلام کے تصورِ توحید کے لیے ایک نظریاتی تائید (ideological support) کی حیثیت رکھتا ہے۔ اسٹیفن ہاکنگ کی تحقیق کا یہ پہلو بلاشبہ حدیث کی زبان میں بالواسطہ دین کی ایک سائنسی تائید کی حیثیت رکھتا ہے۔
واپس اوپر جائیں

سبق کا پہلو

راقم الحروف کا ایک آرٹکل نئی دہلی کے انگریزی اخباردی ٹائمس آف انڈیا، 16 مارچ 2018 میں شائع ہوا ۔ اس کا عنوان ہے:
The Hawking Effect: Triumph of Human Spirit
یہ آرٹکل برٹش سائنس داں اسٹیفن ہاکنگ کے بارے میں ہے، جس کی وفات 14 مارچ 2018 کو 76 سال کی عمر میں ہوگئی۔ اس مضمون پر تبصرہ کرتے ہوئے ایک عرب عالم نے کہا : ھل یناسب ھذا الکلام عن احد اکبر دعاۃ الالحاد و محاربۃ اللہ فی ھذا العصر ۔ یعنی کیا اس طرح کا کلام اس آدمی کے بارے میں مناسب ہے جو موجودہ زمانے میں الحاد کا ایک بڑا داعی اور خدا کے وجود کا مخالف ہے۔
میرے آرٹکل کے بارے میں یہ تبصرہ ایک غیر واقعی تبصرہ ہے۔ راقم الحروف کا یہ مضمون انٹرنیٹ پر موجود ہے۔ کوئی بھی شخص مذکورہ عنوان کے تحت اس آرٹیکل کو پڑھ سکتا ہے۔ اس آرٹکل کا کوئی تعلق اسٹیفن ہاکنگ کے مدح یا ذم سے نہیں ہے۔ بلکہ اس کی زندگی دو پہلوؤں کو سادہ طور پر بیان کیا گیاہے، جن سے سبق(lesson) ملتا ہے۔ان میں سے ایک یہ ہےکہ اس دنیا میں یہ ممکن ہے کہ معذور شخص بھی ایک بڑا کام کرے، اور دوسر ایہ ہےکہ کائنات میں مکمل ہم آہنگی پائی جاتی ہے، اس لیے یہاں واحد کنٹرول کا نظام ہونا چاہیے۔ اسٹیفن ہاکنگ نے اس پر کام کیا ہے، اور اس کو علمی دنیا میں سنگل اسٹرنگ تھیوری کے نام سے جانا جاتا ہے۔ سنگل اسٹرنگ تھیوری باعتبار حقیقت توحید کی سائنسی تصدیق کے ہم معنی ہے۔
قرآن (البقرۃ،2:26)سے معلوم ہوتا ہے کہ سبق کے لیے کسی بھی چیز کا حوالہ دیا جاسکتا ہے۔ جہاں سبق کا پہلو ہو، وہاں بات کو مطلوب سبق کے اعتبار سے دیکھا جائے گا، بات کا کوئی اور پہلو وہاں حذف ہوجائے گا۔ اس اصول کو قرآن کی مذکورہ آیت کے مطالعے سے معلوم کیا جاسکتا ہے۔
واپس اوپر جائیں

فقہ الاقلّیات

موجودہ زمانے میں مسلم رہنماؤں نے ایک نئی اصطلاح ایجاد کی ہے، جس کو فقہ الاقلیات کہا جاتا ہے۔ فقہ الاقلیات کی تعریف یہ کی جاتی ہے: الأحکـام الفقہیـة المتعلقـة بالمسـلم الذی یعیش خارج بلاد الإسلام ۔ یعنی وہ فقہی احکام جو اس مسلمان سے متعلق ہیں، جو اسلامی ممالک سے باہر رہتاہے۔فقہ الاقلیات کی اصطلاح ایک مبتدعانہ اصطلاح ہے۔ قرآن و حدیث میں اس قسم کی کوئی اصطلاح موجود نہیں۔’’فقہ الاقلیات‘‘ کا تصور مسلمانوں کے لیے غیر ضروری طور پر دوسری قوموں کے ساتھ نارمل طریقے پر رہنے میں مانع بن جاتا ہے۔ مسلمان دہری شخصیت کے ساتھ رہنے پر مجبور ہوجاتے ہیں، جو اپنی نوعیت کے اعتبار سے وہی چیز ہے جس کو منافقت کہا جاتاہے۔ مسلمان جدید دنیا میں ایک مس فٹ کمیونٹی (misfit community) بن کر رہ جاتے ہیں۔
صحیح بات یہ ہے کہ غیر مسلم ریاست اور مسلم ریاست کی تقسیم بذات خود بے بنیاد ہے۔ مسلمانوں کو ساری دنیا میں ایک ہی ذہن کے ساتھ رہنا ہے۔ وہ یہ کہ سارے لوگ انسان ہیں، اورساری دنیا دار الانسان ہے۔ مسلمانوں کو دنیا میں اس طرح رہنا ہے، جیسے کہ وہ اپنے بہنوں اور بھائیوں کے ساتھ رہ رہے ہیں۔یہی حقیقت ایک حدیث رسول سےواضح ہوتی ہے جس کا ترجمہ یہ ہے: تمام انسان آدم کی اولاد ہیں، اور آدم مٹی سے پیدا کیے گئے(سنن الترمذی، حدیث نمبر3955)۔
قرآن و حدیث کے مطالعے سے مسلمانوں کے لیے جو طرزِ زندگی ثابت ہوتی ہے، وہ یہ ہے کہ مسلمانوں کو ہر ماحول میں یہ دیکھنا ہے کہ وہ کون سی روش ہے، جس کو وہ غیر نزاعی طور پراختیار کرسکتے ہیں۔ ان کو چاہیے کہ وہ ہر ماحول میں زندگی کا غیر نزاعی ماڈل دریافت کریں، اور جس ماڈل کو اختیار کرنے میں نزاع پیدا ہوتی ہو، اس کو چھوڑ دیں، خواہ مستقل طور پر یا عارضی طور پر۔ مسلمان کے لیے اصل معیار یہ ہے کہ جہاں بھی ہوں، ٹکراؤ یا نزاع کو اوائڈ کرتے ہوئے زندگی گزاریں۔
بلاشبہ مسلمانوں کے لیے ایک مسنون ماڈل ہے، جو اسوۂ رسول پر قائم ہے۔ لیکن اس مسنون ماڈل میں اصل چیز دعوت الی اللہ ہے، کوئی دوسری چیز اس مسنون ماڈل کا ابدی حصہ نہیں۔ مسلمانوں پر لازم ہے کہ وہ اپنے عمل کی پلاننگ اس طرح کریں کہ وہ جہاں بھی ہوں،دعوت الی اللہ کا پیس فل کام مسلسل طور پر جاری رہے۔ جو روش دعوت الی اللہ کے کا م کو موقوف کردے، یا دعوت الی اللہ کے کام میں رکاوٹ ڈالنے والی ہو، وہ مسلمانوں کو مکمل طور پر چھوڑ دینا ہے۔ یہی مطلب ہے قرآن کی آیت کا کہ وَالرُّجْزَ فَاہْجُرْ (74:5)۔یعنی ڈرٹی پریکٹس (dirty practice) کو چھوڑ دو۔ رسول اللہ نے جو طریقہ مکی اور مدنی دور میں یکساں طور پر اختیار کیا، اس کو دیکھ کر اس کو سمجھا جائے تو وہ یہ ہوگا کہ رجز سے مراد نزاعی طریقہ ہے۔ اس آیت کا مطلب یہ ہے کہ نزاعی طریقہ کو چھوڑدو تاکہ دعوت الی اللہ کاکام پر امن اور معتدل انداز میں جاری رہے۔
اس اصول کے تحت پیغمبر اسلام نے مکے میں بھی اور مدینے میں بھی یکساں طور پر عمل کیا۔ آپ کا اصل گول دعوت الی اللہ تھا۔ جو کام آپ کے دعوتی مشن میں رکاوٹ ڈالے، وہ آپ کے لیے رُجز کی حیثیت رکھتا تھا۔ مثلاً اس وقت مکہ کو بت پرستی کا مرکز بنا دیا گیا تھا۔ کعبہ میں تقریباً 360 بت رکھ دیے گئے تھے۔ لیکن آپ نے ان بتوں کے خلاف براہ راست کوئی تحریک نہیں چلائی۔ بلکہ عملاً ان کو نظر انداز کرتے ہوئے دعوت الی اللہ کا کام جاری رکھا۔ اس اصول کے معاملے میں آپ اس آخری حد تک پہنچے کہ جب آپ ہجرت کرکے مدینہ آئے تو آپ نے تقریباً سولہ مہینے تک یہود کے قبلے کو اپنا قبلہ بنا لیا۔ تاکہ دعوت الی اللہ کے کام کا تسلسل اسمود (smooth) طور پر جاری رہے۔
اہلِ اسلام کے لیے نہ کوئی اقلیتی فقہ ہے، اور نہ کوئی اکثریتی فقہ۔ اہلِ اسلام کو ہر جگہ یہ کرنا ہے کہ وہ سیاسی اور غیر سیاسی نزاع سے پر ہیز کریں۔ وہ امن (peace) کو اصل اجتماعی اصول قرار دے کر معتدل انداز میں زندگی گزاریں۔ وہ عقیدہ اور عبادت،اور اخلاق کے آزاد دائرے میں اپنے آپ کو اسلام کی روش پر قائم کریں، اور وقت کے نظام سے ٹکراؤ کو اپنے لیے شجرِ ممنوعہ سمجھتے ہوئے زندگی گزاریں، وہ أَدُّوا إِلَیْہِمْ حَقَّہُمْ، وَسَلُوا اللَّہَ حَقَّکُمْ(صحیح البخاری، حدیث نمبر 7052) کے فارمولے پر عمل کریں۔
واپس اوپر جائیں

حکومت کا معاملہ

قرآن و سنت اور صحابہ کے عمل پر غور کرنے سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ اسلام میں حکومت کا کوئی واحد آئڈیل ڈھانچہ نہیں ہے۔ حکومت کا معاملہ سماجی صورتِ حال کے تابع ہے، نہ کہ پیشگی طور پر کسی مقرر کردہ معیار کے تابع۔حکومت کا معاملہ نماز اور روزے کی طرح مقدس معاملہ نہیں ہے۔ بلکہ وہ عملی صورت حال کے تابع ہے۔ جیسی عملی صورتِ حال، ویسا ہی حکومت کا ڈھانچہ۔ یہی بات فطرت کے تقاضے کے مطابق ہے۔
اگر حکومت کا پیشگی طور پر کوئی معیاری نظام مقرر کردیا جائے تو موجودہ دنیا میں ایسا معیاری نظام تو کبھی قائم نہیں ہوگا، البتہ معیاری نظام قائم کرنے کے نام پر لوگ ابدی طور پر لڑتے جھگڑتے رہیں گے۔صحیح یہ ہے کہ اسلام میں دعوت اور تعلیم کا عمل ابدی طور پر یکساں حالت میں مطلو ب ہے،اور جہاں تک حکومت کا معاملہ ہے۔ تو اس کا اصول یہ ہے کہ جیسے سماجی حالات، ویسا ہی حکومت اور سیاست کا معاملہ ۔
اسی لیے قرآن میں حکومت کے فارم کے بارے میں مختلف صورتوں کا ذکر آیا ہے۔ مثلاً حضرت سلیمان کی حکومت، ملکۂ سبا کی حکومت، حضرت یوسف کی حکومت، وغیرہ۔ ان میں سے حکومت کا ہرڈھانچہ کسی تنقید کے بغیر قرآن میں مذکور ہے۔ لیکن ان میں سے کسی حکومت کے ڈھانچہ کو نہ تو رد کیا گیا ہے، اور نہ کسی ڈھانچہ کی مدح کی گئی ہے۔
حکومت کے ڈھانچے کو اضافی حیثیت دینا، اپنے اندر بہت بڑی حکمت رکھتا ہے۔ وہ یہ کہ حکومت کا ڈھانچہ خواہ کوئی بھی ہو، اس کے ساتھ ایڈجسٹ کرکے رہو۔ کسی کے ساتھ ٹکراؤ نہ کرو۔حکومت سے اگر ٹکراؤ کی صورت پیدا ہوجائے تو اس کو مینج کرکے یہ کوشش کرنا ہے کہ ٹکراؤ کی نوبت نہ آئے۔ حکومت کے معاملے میں اسلام کا رویہ غیر نزاعی رویہ (non-confrontational approach) ہے۔ اس اصول کی بنا پر یہ ممکن ہوجاتا ہے کہ سماج میں ہمیشہ امن قائم رہے۔
واپس اوپر جائیں

جمہوریت کیا ہے

جمہوریت (democracy) کوئی مذہبی عقیدہ نہیں ہے۔ جمہوریت در اصل سیاست کے پرا من مینجمنٹ (peaceful management) کا دوسرا نام ہے۔ جمہوریت کو مجاریٹی رول کہا جاتا ہے۔ اس کا خلاصہ بھی یہی ہے۔ مجاریٹی رول سوشل مینجمنٹ کا ایک پرامن طریقہ ہے، جو پیس فل سیٹلمنٹ (peaceful settlement) پر مبنی ایک نظام ہے۔ قدیم زمانے میں حکومت کی تبدیلی کے لیے جنگ کی ضرورت ہوتی تھی، موجودہ جمہوریت نے یہ ممکن بنادیا ہے کہ ہر ایک پر امن طور پر اپنی مرضی کا سیاسی نظام بنائے۔ جمہوریت کا اپنا کوئی عقیدہ نہیں ہوتا۔ عوام کی اکثریت جس بات پر راضی ہوجائے، وہی نظام کی بنیاد بن جاتا ہے۔
جمہوریت الیکشن پر مبنی ایک نظام ہے۔ محدود مدت ،مثلاً پانچ سال کے لیے آزاد اور منصفانہ (free and fair) الیکشن کرایا جاتا ہے۔ اس الیکشن میں اکثریت جس رائےپر اتفاق کرلے، وہی محدود مدت کے لیے نظام کی بنیاد قرار پائے گی۔ اس جمہوریت کے نظام میں ہر گروپ کو یہ موقع ہوتا ہے کہ وہ عوام کی رائے کو اپنے حق میں ہموار کرے۔ جمہوریت کا اصول یہ ہے کہ کسی الیکشن کے بعد اکثریت جس رائے کے حق میں ووٹ دے دے، اس کو سب لوگ ایک عملی ضرورت کے طور پر مان لیں۔ جن لوگوں کو اس رائے سے اتفاق نہ ہو، انھیں بھی الیکشن کے نتیجے کو مان لینا چاہیے۔ ان کو یہ موقع ہے کہ وہ عوامی رائے کو اپنے حق میں ہموار کریں، اور اگلے الیکشن تک انتظار کریں۔ جب اگلے الیکشن کا موقع ہو تو وہ لوگوں کو اپنا ہم خیال بنانے کی کوشش کریں۔ اگر اکثریت کی رائے، ان کے موافق ہوجائے تو ان کو موقع مل جائے گاکہ وہ اگلا نظام اپنی رائے کے مطابق بنائیں۔
جمہوریت کا یہ نظام اس لیے ہے کہ سماج میں امن قائم رہے، اور ہر گروپ کو یہ موقع ملے کہ وہ پر امن طریقے پر اپنی رائے کو لوگوں کے درمیان پھیلائے، اور جب لوگ اس کی رائے پر راضی ہوجائیں، تو وہ دوبارہ الیکشن کے ذریعہ اپنی رائے کے مطابق اگلا نظام بنائیں۔
واپس اوپر جائیں

منصوبۂ تخلیق

خد اکے منصوبۂ تخلیق (creation plan)کا اصل ماخذ قرآن ہے۔ قرآن گویا اس منصوبۂ تخلیق کا مستند متن (authentic text) ہے۔ سائنس تخلیق کے مطالعے کا علم ہے۔ اس لحاظ سے یہ کہنا صحیح ہوگا کہ سائنس اس قرآنی متن کی کمنٹری (commentary)ہے۔ یہ کمنٹری وہی چیز ہے، جس کو حدیثِ رسول میں تائیدِ دین بذریعہ غیر اہلِ دین کا نام دیا گیا ہے۔(المعجم الکبیر للطبرانی، حدیث نمبر 14640)
فلکیاتی سائنس (astronomy)کی تحقیق کے مطابق کائنات کا آغاز تقریباً 13 بلین سال پہلے بگ بینگ (Big Bang)سے ہوا۔ خلا (space) میں اچانک ایک کاسمک بال (cosmic ball) ظاہر ہوا۔ اس کاسمک بال کے اندر بہت تیز دھماکا ہوا۔ سائنس داں اس کو بگ بینگ کا نام دیتے ہیں۔ اس کاسمک بال کے اندر وہ تمام پارٹیکل موجود تھے، جن سے موجودہ کائنات بنی ہے۔ اس دھماکےکے بعد کاسمک بال کے تمام پارٹیکل روشنی کی اسپیڈ سے بھی زیادہ تیز رفتار کے ساتھ خلا میں بکھر گئے۔یہ پارٹیکل اگر اسی طرح سفر کرتے رہتے اور خلا کی وسعتوں میں بکھر جاتے تو کائنات وجود میں نہ آتی۔ مگر ایک سکنڈ کے اندر پارٹیکل کی رفتار کم ہوگئی۔اس طرح پارٹیکل جمع ہونا شروع ہوئے، اور پھر تمام ستارے اور سیارے اور کہکشائیں وجود میں آئیں۔سائنسی معلومات کے مطابق، پارٹیکل کے اجتماع سے بننے والی اس دنیا کو چھ دوروں (periods)میں تقسیم کیا جاسکتا ہے:
(1) بگ بینگ (Big Bang) (2) سولر بینگ (Solar Bang)
(3) واٹر بینگ (Water Bang) (4) پلانٹ بینگ (Plant Bang)
(5) اینمل بینگ (Animal Bang) (6) ہیومن بینگ (Human Bang)
تخلیقِ کائنات کے آخری مرحلہ میں زمین پر وہ حالات پیدا ہوئے جن کو لائف سپورٹ سسٹم (life support system) کہا جاتا ہے۔ ایک سائنسداں نے درست طور پر کہا ہے کہ پوری کائنات انسان کے لیے کسٹم میڈ کائنات (custom-made universe) ہے۔ اس کے بعد سیارۂ ارض (planet earth) پر خدا نے آدم (انسان ) کو پیدا کیا، اور آدم کے جوڑے حوا (Eve) کو۔ اس کے بعد مختلف احوال سے گزرتے ہوئےزمین پر انسان کی تاریخ بننا شروع ہوئی۔ خدا نے انسان کو کامل آزاد مخلوق کی حیثیت سے پیدا کیا تھا۔ لیکن اسی کے ساتھ انسانی تاریخ کو مینج (manage) کرنے کا کام خدا نے اپنے کنٹرول میں رکھا۔تاریخ کو مینج کرنے کا کام اس طرح ہوا کہ تاریخ مطلوب رخ پر سفر کرے، وہ مطلوب رخ سے بھٹک کر ڈی ریل (derail) نہ ہونےپائے۔ یہ خدائی منصوبہ اس طرح زیرِ عمل لایا گیا کہ تاریخ کا سفر مطلوب رخ پر جاری رہے، اوراسی کے ساتھ انسانی آزادی بھی پوری طرح برقرار رہے۔
God decided to manage history while maintaining human freedom.
انسانی تاریخ کو مینج کرنے کا یہ کام طویل مدت کے اندر مختلف صورتوں میں انجام پایا، جس کےبنیادی اجزاء غالباً وہی ہیں جن کو آنے والی سطروں میں بیان کیا گیا ہے۔ واضح ہوکہ مینجمنٹ کا مقصد تاریخ کو کنٹرول کرنا نہیں تھا، بلکہ ہر موڑ پر تاریخ کو ری ڈائریکشن (redirection) دینا تھا، تاکہ تاریخ کو ٹوٹل ڈی ریلمنٹ (total derailment) سے بچایا جاسکے۔ تاریخ کو مینج کرنے کا یہ کام نارمل کورس میں نہیں ہوا، بلکہ اس کو جس میتھڈ (method) کے ذریعے کیا گیا، اس کو شاک ٹریٹمنٹ (shock treatment)کہا جاسکتا ہے۔
انسانی تاریخ کی ابتدا
قرآ ن اور بائبل کے مطابق آدم اور حوا کو پیدائش کے بعد سیارۂ ارض پر بسایا گیا۔ ان کی نسل دھیرے دھیرے دجلہ اور فرات کے درمیان اس مقام پر مرتکز ہوگئی، جس کو میسوپوٹامیا (Mesopotamia) کہا جاتا ہے۔ اس زمانے میں سفر کی سہولتیں موجود نہ تھیں۔ اس لیے لمبے عرصے تک آدم کی نسل اسی علاقے میں آباد رہی۔ لیکن آبادی کا یہ اجتماع خالق کے نقشے کےمطابق نہ تھا۔ خالق کو مطلوب تھا کہ آدم کی نسل محدود رقبے سے نکلے، اورپورے کرۂ ارض پر پھیل جائے۔ اس مدت میں آدم کی نسل میں جمود آچکا تھا۔ ان کی نسلوں کے درمیان متفرق قسم کی برائیاں پیدا ہوچکی تھیں۔ اس وقت خدا نے ان کے درمیان پیغمبر نوح کو بھیجا تاکہ وہ ان کو صحیح رہنمائی دیں۔ مگر اپنے جمود میں وہ اتنے زیادہ کنڈیشنڈ ہوچکے تھے کہ کچھ افراد کے سوا ان کی اکثریت نے پیغمبر نوح کی بات کو اختیار نہیں کیا۔
اس لیے خدا نے یہ کیا کہ اس علاقہ میں ایک بڑا طوفان (great flood) آیا۔ اس مدت میں ان کے پیغمبر نوح نے ایک بڑی کشتی تیار کی۔ پیغمبر نوح نے اس ابتدائی انسانی نسل کے منتخب افراد کو اس کشتی پر سوار کیا۔ اس کے بعد یہ کشتی طوفان کے بہاؤ کے تحت چلتی رہی۔ یہاں تک کہ وہ جودی پہاڑ پر پہنچ کر رک گئی(ھود، 11:44)۔ یہ پہاڑ موجودہ ترکی کے ساحلی علاقے پر واقع ہے۔ آدم کی نسل جودی پہاڑ کے علاقے میں اتری اور پھر دھیرے دھیرے 3 بر اعظموں میں پھیل گئی، یعنی ایشیا، یورپ اور افریقہ ۔
ڈیزرٹ تھراپی
آدم کی یہ نسل توالد و تناسل کے ذریعے بڑھتی رہی۔ یہاں تک کہ دوبارہ ان کے اندر جمود (stagnation) آیا۔ ان کے اندر فطرت کی پرستش (nature worship) کا کلچر پھیل گیا۔ خاص طور پر سورج، چاند اور ستاروں کی پرستش۔ اس وقت پیغمبر ابراہیم ان کی ہدایت کے لیے بھیجے گئے۔ انھوں نے لمبی مدت تک تبلیغ کی کوششیں جاری رکھی۔ ان کی کوششوں کے نتیجے میں قوم کے کچھ افراد نے اصلاح قبول کی۔ مگر قوم کی اکثریت بگاڑ کے راستے پر قائم رہی۔
اس وقت خدا کی ہدایت کے تحت پیغمبر ابراہیم نے اپنے کام کی نئی پلاننگ کی۔ انھو ں نے چند افراد کے ایک چھوٹے گروپ کو لے کر عراق سے ہجرت کی۔ یہ قافلہ 3 افراد پر مشتمل تھا، پیغمبر ابراہیم، ان کی بیوی ہاجرہ، اور ان کے بیٹے اسماعیل۔ یہ لوگ عراق سے ہجرت کرکے عرب کے اس مقام پر آئے، جہاں اب مکہ واقع ہے۔ اُس وقت یہ پورا علاقہ ایک صحرائی علاقہ تھا، یعنی ایک غیر متمدن علاقہ ۔ اس وقت خالق کا یہ منصوبہ ہوا کہ تمد ن سے دور اس علاقہ میں ایسی قوم تیار کی جائے جو فطرت کے ماحول میں پرورش پائے، اور اس وقت کے تمدنی بگاڑ سے محفوظ رہے۔ یہ ایک صحرائی منصوبہ تھا۔ اس کو اس اعتبار سے ڈیزرٹ تھراپی (desert therapy) کہا جاسکتا ہے۔ صحرا کے اس سادہ ماحول میں اس قوم کے اندر فطری طور پر توالد و تناسل کا عمل شروع ہوا، جس کے ذریعے اس قوم میں اضافہ ہوتا رہا۔ یہاں تک کہ تقریباً ڈھائی ہزار سال میں ایک نسل بن کر تیار ہوگئی، جس کو بنواسماعیل کہا جاتا ہے۔یہ نسل ایک نہایت جان دار نسل تھی، جس کو ایک مغربی مفکر نے نیشن آف ہیروز (a nation of heroes) کا نام دیا ہے۔
بنو اسماعیل کا رول
وہ لوگ جن کو اصحابِ رسول کہا جاتا ہے، وہ انھیں بنی اسماعیل کی نسل سے تھے۔ ان کا زمانہ ساتویں صدی عیسوی کا زمانہ ہے۔ اس زمانے میں ہر جگہ دنیا میں جبری بادشاہت کا نظام تھا۔ اس وقت عرب کی سرحد پر دو بڑی سلطنتیںتھیں- ایرانی سلطنت (Sasanid Empire)، رومی سلطنت (Byzantine Empire) ۔ یہ سلطنتیں جابر سلطنتیں تھیں۔ ان کی وجہ سے اس وقت کی دنیا میں آزادانہ سوچ کا خاتمہ ہوگیا تھا۔ اس لیے ترقی کا عمل رکا ہوا تھا۔ اس زمانے کی ان سلطنتوں نے خود آغاز کرکے ٹکراؤ کی صورت پیدا کی۔ اس کے نتیجے میں اصحابِ رسول سے ان کا ٹکراؤ ہوا، اور آخر کار مختلف احوال سے گزرتے ہوئےدونوں سلطنتوں کا خاتمہ ہوگیا۔ اس کے بعد دنیا میں آزادیٔ فکر کا دور شروع ہوا۔اس واقعہ کا ذکر بائبل میں ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے : اس نے نگاہ کی اور قومیں پراگندہ ہوگئیں، ازلی پہاڑ پارہ پارہ ہوگئے، قدیم ٹیلے جھک گئے:
He stood, and measured the earth: he beheld, and drove asunder the nations, and the everlasting mountains were scattered, the perpetual hills did bow (Habakkuk, 3:6)
سیاسی جبر کے اس نظام کا خاتمہ ایک بے حد مشکل کام تھا۔ لیکن خدا کی توفیق سے ایسے حالات پیدا ہوئے کہ دونوں سلطنتوں میں باری باری ٹکراؤ ہوا۔ پہلے ایرانیوں نے رومیوں کو بری طرح شکست دی۔ اس کے بعد رومیوں نے جوابی اقدام کرکے ایرانی سلطنت کو توڑ ڈالا۔ یہ دونوں واقعہ دس سال کی مدت میں ہوا۔ جس کا ذکر قرآن میں سورہ الروم کے آغاز میں کیا گیا ہے۔ اس طرح بنو اسماعیل کو یہ موقع ملا کہ وہ آسانی کے ساتھ دونوں جابرانہ سلطنتوں کا خاتمہ کر دے، اور دنیا میں آزادی کے دور کا آغاز ہو۔ اس کے نتیجے میں دنیا میں پہلی بار آزادانہ سوچ (free thinking) اور ترقی کا دروازہ کھلا، اور آخر کار دنیا توہماتی دور سے نکل کر سائنٹفک دور میں داخل ہوگئی۔
اس انقلاب کے بعد ایشیا ، افریقہ اور یورپ میں مسلم دور کا آغاز ہوا۔ اس کا ایک حصہ یہ تھا کہ شام اور فلسطین کے وہ علاقے مسلم اقتدار کے تحت آگئے، جن کو مسیحی لوگ مقدس مانتے تھے۔ اس کے بعد یورپ کی مسیحی قوموں کے اندر یہ جذبہ پیدا ہوا کہ وہ شام و فلسطین کے مقدس علاقوں کو مسلمانوں (بنواسماعیل) کے قبضہ سے واپس لیں۔ اس مقصد کے لیے مسلمانوں اور مسیحیوں کے درمیان بڑے پیمانے پر جنگ کا ایک سلسلہ چھڑگیا۔ یہ جنگی سلسلہ جس کو صلیبی جنگ (crusades) کہا جاتا ہے، وہ تقریباً دو سو سال تک جاری رہا۔ لیکن مسلمان اس زمانے میں اتنا زیادہ طاقت ور ہوچکے تھے کہ دو سو سال کی متحدہ جنگ کے باوجود یورپ کی مسیحی قوموں کو کامل شکست ہوئی، جس کو مؤرّخ گبن نے ذلت آمیز شکست (humiliating defeat) کہا ہے۔ یہ شکست مسیحی قوموں کے لیے ایک دھماکے کے مانند تھی۔ اس دھماکے نے مسیحی قوموں کے اندر نئی سوچ کا آغاز کیا۔ اس کے بعد ابتداء ًنشاۃ ِثانیہ (Renaissance) اور پھر مغربی تہذیب (western civilization) کا دور آیا، اور دنیا کی تصویر یکسر بدل گئی۔
جدید تہذیب کا آغاز
صلیبی جنگوں میں شدید شکست کے بعد یورپ کی مسیحی قوموں میں ایک نئی سوچ پیدا ہوئی۔ اس سوچ کو ایک مبصر نے اسپریچول کروسیڈس (spiritual crusades) کا نام دیا ہے۔ صلیبی جنگوں میں ناکامی کے بعد یورپ کی مسیحی قوموں میں نشاۃِ ثانیہ (Renaissance) کا دور آیا۔ اس سے مسیحی قوموں کا ذہن ٹرگر (trigger)ہوا۔ اس سے ان کے اندر نئی سوچ پیداہوئی۔ یہ سوچ پیدا ہوئی کہ ہم جنگ کے میدان میں مسلمانوں سے نہیں جیت سکتے۔ اس لیے اب ہمیں اس معاملے میں نئی پلاننگ کرنا چاہیے۔ اس طرح دھیرے دھیرے یہ ہوا کہ مسیحی قوموں کے اندر جنگ کے میدان کے بجائے بڑے پیمانے پر فطرت (nature)کا میدان مطالعے کا موضوع بن گیا۔وہ دھیرے دھیرے مکمل طور پر فطرت کے رموز کو دریافت کرنے میں مشغول ہوگئے۔ ان دریافتوں کے بعد دھیرے دھیرے دنیا میں وہ دور آیا، جس کو ٹکنالوجی کا دور (age of technology) کہا جاتا ہے۔ اس پراسس کا آخر ی نتیجہ یہ ہوا کہ مغربی قومیں دنیا کی غالب قومیں بن گئیں۔ یہ واقعہ کسی سازش کے تحت نہیں ہوا، بلکہ ایک فطری عمل (natural process)کے تحت پیش آیا۔
ٹکنالوجی کی اسی دریافت کا یہ نتیجہ تھا کہ جدید تہذیب (modern civilization) وجود میں آئی۔ صنعتی انقلاب (industrial revolution) کا دور دنیا میں آیا۔ ٹکنالوجی کی صورت میں ایک عظیم خزانہ نیچر میں چھپاہوا تھا، وہ سب دریافت ہوا، اور آخر کار یہ دنیا ایک نئے دور میں داخل ہوگئی، جس کو سائنسی تہذیب کا دور کہا جاتا ہے۔
دو عالمی جنگیں
ترقیات کے نتیجے میں فطری طورپر قوموں میں رقابت (rivalry) شروع ہوگئی۔ اس رقابت نے بڑھتے بڑھتے عالمی جنگ کی صورت اختیار کرلی۔ چنانچہ بیسویں صدی میں دو بڑی جنگیں پیش آئیں، جن کو پہلی عالمی جنگ (1914-1918)اور دوسری عالمی جنگ (1939-1945) کہا جاتا ہے۔ تاریخ کے دوسرے بڑے واقعات کی طرح ان جنگوں میں بھی فطرت کے اسباب اپنا کام کر رہے تھے، اور اسی کے نتیجے میں دونوں عالمی جنگیں پیش آئیں۔ لیکن تاریخ کے دوسرے منفی واقعات کی طرح ان جنگوںکا بھی براہِ راست طور پر کوئی مثبت نتیجہ نہ نکلا۔ اس کے نتیجے میں دنیا میں فطری طور پر ایک نئی سوچ پیدا ہوئی۔ وہ یہ کہ جنگ کسی مسئلے کا حل نہیں۔ اس تجرباتی سوچ کے تحت انسانی تاریخ ایک نئے دور میں داخل ہوگئی۔ اس دور کو دورِ جنگ کے بجائے دورِ امن کا نام دیا جاسکتا ہے۔
دونوں عالمی جنگوں کا نتیجہ بتاتا ہے کہ ان جنگوں میں کسی بھی قوم کو کوئی بھی حقیقی کامیابی حاصل نہیں ہوئی۔ ان جنگوں میں اگر کسی کو جیت ہوئی تو اس کی جیت بھی پرک وکٹری (pyrrhic victory) کے ہم معنی تھی۔ مثلاً برطانیہ بظاہر اس جنگ میں کامیاب ہوا، لیکن جنگ کے نتیجے میں وہ اتنا زیادہ کمزور ہوگیا کہ اس کو اپنے ایشیائی مقبوضات سے دستبردار ہونا پڑا، وغیرہ۔
عالمی جنگوں کے بعد فطری اسباب کے تحت قوموں کے اندر نئی سوچ جاگی۔ انھوں نے جنگ کے طریقے کے بجائےامن کے طریقے میں کامیابی کے راستے کو تلاش کیا، اور آخر کار اس تلاش میں وہ کامیاب ہوئے۔ عالمی جنگوں کا نتیجہ یہ تھا کہ دنیا میں پہلی بار اقوامِ متحدہ کی صورت میں مبنی برامن عالمی اتحاد کا دور شروع ہوا۔ دنیا کی تمام قوموں کے اتفاق سے یہ مان لیا گیا کہ کسی مقصد کے حصول کے لیے اب جنگ کا طریقہ ایک متروک طریقہ ہوگا۔ تمام قوموں نے انسان کی فکری آزادی کو عالمی اصول (universal norm) کے طور پر تسلیم کرلیا۔
دورِ امن کا مظاہرہ (demonstration)
دوسری عالمی جنگ کے بعد ایسے حالات پیدا ہوئے کہ مختلف قوموں نے عالمی دباؤ کے تحت اپنی تعمیرِ نو کا پر امن منصوبہ شروع کیا، اور واضح طور پر اس میں کامیابی حاصل کی۔ اس طرح عملی طور پر یہ ثابت ہوگیا کہ جنگ کے نتیجے میں جو چیز ملتی ہے، وہ صرف بربادی ہے۔ اس کے برعکس، مبنی برامن منصوبہ یقینی طور پر کامیابی تک پہنچاتا ہے۔ دوسری عالمی جنگ کے بعد دنیا کی جو تنظیم ِنو ہوئی ،یہ اس کا ایک واضح ثبوت ہے۔
دوسری عالمی جنگ کے بعد برطانیہ کو مجبور کن حالات میں اپنے زیر قبضہ علاقوں کو چھوڑنا پڑا۔ اس کے بعد برطانیہ نے پرامن بنیادوں پر اپنی تعمیرِ نو کا منصوبہ بنایا۔ اس نے اپنے مقصد کے حصول کے لیے نئے نئے میدان دریافت کیے۔ مثلاً ایجوکیشن اور ٹورزم ،وغیرہ۔ اس پر امن منصوبہ بندی کے ذریعے برطانیہ نے دوبارہ وہ سب کچھ حاصل کرلیا، جس کے لیے پہلے بے فائدہ طور پر جنگ اور فتوحات کا طریقہ اختیارکیا جاتا تھا۔
یہی معاملہ یورپ کے دوسرے ملک فرانس کا ہوا۔ فرانس میں جنرل ڈیگال کے اقتدار کا دور آیا۔ اس نے محسوس کیا کہ نو آبادیاتی نظام فرانس کے لیے صرف کمزوری کا سبب بنا ہے۔ ان کالونیوں میں فرانس کو مسلسل طور پر متشددانہ مزاحمت کا سامنا کر نا پڑتا تھا۔ اس متشددانہ مزاحمت کا نتیجہ آخر کار یہ ہوا کہ فرانس نیوکلیر سائنس اور ترقیاتی دوڑ میں دوسری قوموں سے پیچھے ہوگیا ۔ چنانچہ جنرل چارلس ڈیگال کی قیادت میں فرانس نے اپنے تمام افریقی مقبوضات کو یک طرفہ طور پر چھوڑ دیا۔ اس کے بعد فرانس کو یہ موقع ملا کہ وہ اپنی اقتصادیات کو پرامن منصوبے کے تحت از سرِ نو منظم کرے۔ نتیجہ بتاتا ہے کہ فرانس اس نئی منصوبہ بندی کے معاملے میں پوری طرح کامیاب رہا۔ مثلاً آج ہوابازی (aviation) کے معاملے میں فرانس امریکا کے بعد دوسرے نمبر پر ہے۔ جب کہ اس سے پہلے فرانس اس معاملے میں بہت پیچھے تھا۔
یہی معاملہ جرمنی کا ہوا۔ دوسری عالمی جنگ میں جرمنی اس عزم کے ساتھ شامل ہوا تھا کہ وہ پورے یورپ کا قائد بنے گا۔ لیکن دوسری عالمی جنگ کا خاتمہ اس طرح ہوا کہ جرمنی یورپ کا سب سے کمزور ملک بن گیا۔ ان جنگوں کے نتیجے میں جرمنی نے اپنے جغرافی رقبے کا تقریباً ایک تہائی حصہ کھودیا۔ دوسری جنگِ عظیم کے بعد جرمنی نے اپنی نئی منصوبہ بندی شروع کی۔ یہ منصوبہ بندی اپنی نوعیت میں بڑی عجیب تھی، یعنی باقی ماندہ جرمنی (remaining part of Germany) کی بنیاد پر اپنی تعمیرِ نو کرنا۔ یہ شاید تاریخ میں ایک انوکھی منصوبہ بندی تھی۔ یہ منصوبہ بندی کامیاب رہی، او ر آج جرمنی یورپ کی نمبر ایک طاقت بنا ہوا ہے۔ مزید یہ کہ اس نے اپنے کھوئے ہوئے جغرافی رقبے کو دوبارہ کامیابی کے ساتھ حاصل کرلیا۔
اسی قسم کی انقلابی مثال جاپان میں پائی جاتی ہے۔ دوسری عالمی جنگ کے بعد جاپان بظاہر دنیا کا سب سے زیادہ برباد ملک بن چکا تھا۔ تاریخ میں پہلی بار ایسا ہوا کہ جاپان کو نیوکلیر بمباری کا سامنا کرنا پڑا۔ مگر جاپان کی بربادی نے جاپان کے مدبرین کے اندر نئی سوچ پیدا کی۔ اس ناقابلِ برداشت حادثے کو انھوں یکسر بھلا دیا۔جاپان کےمدبرین نے اس منصوبہ پر اپنی قوم کو یہ کہہ کر مطمئن کردیا کہ اگر امریکا نے 1945میں ہمارے ہیروشیما اور ناگاساکی کو تباہ کیا تھا تو اس سے پہلے 1941میں ہم امریکا کے پرل ہاربر کو تباہ کرچکے تھے۔ اس طرح معاملہ برابر ہوگیا۔ ماضی کو بھلاؤ، او ر مستقبل کی تعمیر کرو۔ اس طرح جاپان کے ذریعے یہ مثال قائم ہوئی کہ کس طرح بربادی کے بعد نئی پلاننگ کے ذریعے دوبارہ ایک بڑی کامیابی حاصل کی جاسکتی ہے۔ یہ گویا حالات کی زبان تھی، اور تاریخ میں خالق کا مینجمنٹ اسی طرح حالات کے دباؤ کے تحت اپنا کام کرتا ہے۔
تائیدِ عام
ایک روایت حدیث کی مختلف کتابوں میں آئی ہے۔ الطبرانی نے یہ روایت ان الفاظ میں نقل کی ہے: إِنَّ اللہَ عَزَّ وَجَلَّ لَیُؤَیِّدُ الْإِسْلَامَ بِرِجَالٍ مَا ہُمْ مِنْ أَہْلِہِ (المعجم الکبیر للطبرانی، حدیث نمبر 14640) ۔ یعنی ضرور اللہ تعالی اسلام کی مدد ان لوگوں کے ذریعے کرے گا جو دین میں سے نہ ہوں گے۔ صحیح البخاری میں یہ روایت ان الفاظ میں آئی ہے: إِنَّ اللَّہَ لَیُؤَیِّدُ ہَذَا الدِّینَ بِالرَّجُلِ الفَاجِر (صحیح البخاری، حدیث نمبر 3062)۔ یعنی ضرور اللہ تعالی اس دین کی مدد فاجر انسان کے ذریعے کرے گا۔ یہ در اصل اسلام کے حق میں ایک پیشین گوئی (prediction) ہے۔ یہ پیشین گوئی الفاظ کے معمولی فرق کے ساتھ حدیث کی اکثرمشہور کتابوں میں آئی ہے۔
اس حدیث پر غور کرنے سے سمجھ میں آتا ہے کہ پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد عالمی حالات میں ایک نیا تاریخی عمل (historical process) شروع ہوگا، جو اس حد تک پہنچے گا کہ اللہ کے دین کو عمومی اعتراف (general acceptance) کا درجہ حاصل ہوجائے گا۔ یہ وقت وہ ہوگا جب کہ اپنے اور غیر (we and they)کا فرق مٹ جائے گا۔ کچھ لوگ اگر مومنین ہوں گے تو بقیہ لوگ مؤیدین (supporters) بن جائیں گے۔ اس طرح اہلِ ایمان کو یہ موقع ملے گا کہ وہ کسی بھی قسم کی حقیقی رکاوٹ کے بغیر اللہ کے دین کو سارے عالم میں پہنچائیں۔ اللہ کی کتاب کو ہر گھر میں داخل کردیں ۔
حالات کے مطالعے سے اندازہ ہوتا ہے کہ یہ دور عملاً دنیا میں آچکا ہے۔ اب اشاعت اسلام کے لیے دوسری قوموں کی طرف سے کوئی حقیقی رکاوٹ نہیں۔ اب اگر رکاوٹ پیدا ہوسکتی ہے تو صرف اس وقت جب کہ مسلمان خود اپنی کسی غلطی کی بنا پر لوگوں کو غیر ضروری طور پر اپنا مخالف بنالیں۔وہ ’’آبیل مجھے مار‘‘ کی پالیسی اختیار کرکے دوسروں کے اندر ایسا ردعمل (reaction) پیدا کریں کہ جو ان کے لیے عملاً موافق اقوام بنے ہوئے ہیں، وہ غیر ضروری طور پران کے مخالف بن جائیں۔
تاریخ کے فائنل رول کا زمانہ
اللہ رب العالمین کائنات کا خالق ہے۔ اس نے ایک منصوبے کے تحت انسان کو پیدا کیا۔ اس منصوبے کے تحت رب العالمین نے انسان کو یہ موقع دیا کہ وہ کامل آزادی کے ساتھ زمین (planet earth) پر آباد ہو، اور کامل آزادی کے ساتھ اپنی سرگرمیاں جاری کرے۔ لیکن اسی کے ساتھ خالق انسانی تاریخ کو مینج کرتا رہا۔ مینجمنٹ کے اسی واقعے کو قرآن میں تدبیر امر (السجدۃ، 32:5) کے الفاظ میں بیان کیا گیا ہے۔
انسانی تاریخ کے بارے میں اللہ رب العالمین کا نقشہ یہ تھا کہ انسانی آزادی کو برقرار رکھتے ہوئے تاریخ کو اس طرح مینج کیا جائے کہ فطرت کے تمام امکانات دریافت ہو کر سامنے آجائیں۔ خالق نے یہ طریقہ اس لیے اختیار کیا کہ انسان کے اندر تخلیقی فکر (creative thinking) باقی رہے، اور ترقی کا عمل بھی پوری طرح جاری رہے، اور اس پراسس کے نتیجے میں فطرت میں چھپی ہوئی ٹکنالوجی دریافت ہو،جو آخر کار ایک مکمل تہذیب (civilization) کی صورت اختیار کرلے۔ پھر انسانی تاریخ مختلف حالات سے گزرتے ہوئے یہاں تک پہنچے کہ دنیا میں کمیونی کیشن کا دور آئے، امن کا دور آئے، صنعتی تہذیب کا دور آئے، بڑے پیمانے پر انسان کی نقل و حرکت (mobility) کا دور آئے، علوم کی ترقی کا دور آئے، عالمی انٹرایکشن کا دور آئے، کامل آزادیِ خیال کا دور آئے، کھلے پن (openness) کا دور آئے، وہ تمام حالات پیدا ہوجائیں جب کہ وہ دعوتی پلاننگ کی جاسکے، جس کے ذریعے انسان پر کامل معنوں میں اتمام حجت کا واقعہ انجام پائے۔ غالباً یہی وہ حقیقت ہے جس کو حدیثِ رسول میں شہادتِ اعظم (صحیح مسلم، حدیث نمبر 2938) کہا گیاہے۔
اب انسانی تاریخ اکیسویں صدی کے دور میں پہنچ چکی ہے۔ اس دور میں عالمی شہادت کے تمام موافق حالات مکمل طور پر وقوع میں آچکے ہیں۔ اب پوری طرح ممکن ہوگیا ہےکہ اس دعوتی نشانے کو عملاً ظہور میں لایا جائے، جس کی پیشین گوئی حدیثِ رسول میں ان الفاظ میں کی گئی ہے: لَا یَبْقَى عَلَى ظَہْرِ الْأَرْضِ بَیْتُ مَدَرٍ، وَلَا وَبَرٍ إِلَّا أَدْخَلَہُ اللہُ کَلِمَةَ الْإِسْلَامِ(مسند احمد، حدیث نمبر 23814)۔ یعنی روئے زمین پر کوئی بھی چھوٹا یا بڑا گھر نہیں باقی رہے گا، مگر اللہ اس میں اسلام کے کلمے کو داخل کردے گا۔
عالمی شہادت کا یہ تکمیلی واقعہ امتِ محمدی کے ذریعے انجام پانا ہے۔اس کے مطابق امتِ محمدی کا آخری رول شہادتِ اعظم کی انجام دہی ہے۔ اس واقعے کی عملی صورت یہ ہے - خدا کے کلام (قرآن) کا معیاری ترجمہ ہر زبان میں تیار کرکے اس کو پورے کرۂ ارض پر پھیلانا تاکہ قوموں کی اپنی قابلِ فہم زبان (understandable language) میں اللہ کی ہدایت ہر ایک کے پاس پہنچ جائے، اور اقامتِ حجت کاواقعہ پیش آجائے، تاکہ وہ معاملہ سامنے نہ آئے،جس کا بیان قرآن میں ان الفاظ میں کیا گیا ہے: أَنْ تَقُولُوا یَوْمَ الْقِیَامَةِ إِنَّا کُنَّا عَنْ ہَذَا غَافِلِینَ (7:172)۔ یعنی قیامت کے دن انسان عذر کریں کہ ہم کو اس کی خبر نہ تھی۔
٭ ٭ ٭ ٭٭٭
موجودہ زمانے میں کمیونی کیشن بہت بڑی نعمت ہے، مگر اس نعمت کا اصل استعمال یہ ہے کہ اس کو اسلامی دعوت کے لیے استعمال کیا جائے۔ بدقسمتی سے جدید کمیونی کیشن کو اب تک اسی اصل کام کے لیے استعمال نہ کیا جاسکا۔ اسلامی دعوت یہ ہے کہ اسلام کے مثبت پیغام کو قومی اور سیاسی آلائشوں سے پاک کرکے خالص ربّانی انداز میں پھیلایا جائے۔ جدید کمیونی کیشن نے پہلی بار اس کو ممکن بنایا ہے کہ دعوت کا کام عالمی سطح پر انجام دیا جاسکے۔ جدید کمیونی کیشن کا اصل استعمال یہی ہے۔ جدید کمیونی کیشن کے دعوتی استعمال کے بعد، اس کے دوسرے استعمالات بھی جائز ہوسکتے ہیں۔ مگر دعوتی استعمال کے بغیر اس کے دوسرے استعمالات کا کوئی جواز نہیں۔
واپس اوپر جائیں

معیار کی تبدیلی

موجودہ زمانے میں مسلمان عام طور پر منفی (negative) ہوگئے ہیں۔ وہ سمجھتے ہیں کہ ہم محاصرے کی حالت میں ہیں:
We are under siege
وہ کہتے ہیں کہ موجودہ زمانے میں اسلام دورِ مظلومیت میں ہے۔ اس مزاج کی وجہ سے مسلمانوں میں تشدد کا رجحان پیدا ہوگیا ہے۔ اس منفی ذہنیت کی ذمہ داری تمام تر موجودہ زمانے کے مسلم رہنماؤں پر ہے۔ موجودہ زمانے کے مسلم رہنماؤں نے معیار (criterion) کو بدل دیا۔ ان کے نزدیک اسلام کا بہتر حالت میں ہونا یہ ہے کہ مسلمانوں کی حکومت قائم ہو۔ عثمانی خلافت کی طرح دنیا میں مسلم استعمار قائم ہو۔ مگر یہ معیار غلط ہے۔اس معاملے میں صحیح معیار یہ ہے کہ مسلمانوں کو عمل کی آزادی حاصل ہو، اسلامی دعوت کی راہ میں کوئی رکاوٹ نہ پائی جائے۔
موجودہ زمانے میں اسلام کے لیے مطلوب حالت پوری طرح قائم ہے۔ آج فتنہ (religious persecution)ختم ہوگیا ہے۔ جدید ذرائع پوری طرح اسلام کے لیے سازگار ہیں۔لیکن لوگ اپنے غلط معیار کی بنا پر منفی سوچ میں مبتلا ہوگئے۔ حقیقت یہ ہے کہ آج کا دور اسلام کے لیے تائید کا دور ہے۔ مگر اپنی غلط سوچ کی بنا پر یہ مسلمان سمجھتے ہیں کہ آج کا دور اسلاموفوبیا کا دور ہے۔یہ تمام باتیں بالکل بے اصل ہیں۔ اگر مسلمان اپنے خود ساختہ میعار کو بدل لیں تو اچانک دیکھیں گے کہ دورِ جدید دورِ اسلام ہے۔ وہ اسلام کی تائید (support) کا دور ہے۔
موجودہ زمانے کے مسلمان عام طور پر احساسِ شکست کا شکار نظر آتے ہیں۔ اس کا سبب شکست کا واقعہ نہیں ہے۔ بلکہ ان کا شکست خوردہ نفسیات میں مبتلا ہونا ہے۔ اگر مسلمانوں کی سوچ بدل جائے اور وہ شکست اور فتح کی نفسیات میں سوچنے کے بجائے دعوتی مواقع کی اصطلاح میں سوچنے لگیں، تو اچانک صورت حال بالکل بدل جائے گی۔
واپس اوپر جائیں

پرامن طریق کار

پرامن اسلامی طریقِ کار کیا ہے، اس کی ایک کامیاب مثال کشمیر کی تاریخ میں پائی جاتی ہے۔ کشمیر کو عام طور پر لوگ اس کے قدرتی حسن کی وجہ سے جانتے ہیں، مگر حقیقت یہ ہے کہ یہاں اس سے بھی زیادہ بڑی چیز موجود ہے۔ یہ اسلامی طریقِ کار کا وہ نمونہ ہے جو میر سید علی ہمدانی (1314-1384 ء) کی زندگی میں ملتا ہے۔ موصوف نے، جن کو کشمیری عام طورپر ’’امیر کبیر‘‘ کہتے ہیں، اپنے عمل سے ایک عظیم قابل تقلید نمونہ قائم کیا ہے، جس کی مثال حالیہ صدیوں میں کم ملے گی۔ کشمیر اپنے قدرتی مناظر کی وجہ سے اگر جنت نظیرہے تو اپنے تاریخی نمونے کے ذریعہ وہ ہم کو اسلام کے طریقِ دعوت کی طرف رہنمائی کرتا ہے جو اس سے بھی زیادہ قیمتی ہے۔ ڈاکٹر محمد اقبال (1877-1938 ء) نے امیر کبیرکی بابت کہا تھا:
دستِ او معمارِ تقدیر امم
امیر کبیرکی بابت یہ الفاظ صد فی صد درست ہیں۔ موجودہ مسلم کشمیر زیادہ تر امیر کبیرہی کی کوششوں کا نتیجہ ہے۔ مگر امیر کبیرنے یہ کام ’’شمشیر وسناں‘‘ کے ذریعہ نہیں کیا، انھوں نے یہ کامیابی ’’شمشیر وسناں‘‘ کو ترک کرکے حاصل کی۔ امیر کبیر کی زندگی کا سب سے بڑا سبق یہ ہے کہ —اسلام کو زندہ کرنا چاہتے ہو تو ٹکراؤ کے ذہن کو ہمیشہ کے لیے ختم کردو، مذہبی اور سیاسی جھگڑے کھڑے کرنے سے مکمل پرہیز کرو۔ اس کے بعد تم کو خدا کی نصرتیں ملیں گی اور اسلام اور مسلمانوں کو عزت وسربلندی حاصل ہوگی۔
میر سید علی ہمدانی ایران کے رہنے والے اور تیمور لنگ (1335-1405ء) کے ہم عصر تھے۔ شاہ تیمور ان سے کسی بات پر ناراض ہوگیا اور ان کو ایران سے نکل جانے کا حکم دے دیا۔ اب امیر کبیرکے لیے ایک راستہ یہ تھا کہ وہ تیمور لنگ کے خلاف جہاد کا نعرہ لگائیں اور ایران میں حکومتِ صالحہ قائم کرنے کی جدوجہد کریں، خواہ اس کے نتیجہ میں ان کو شہید ہوجانا پڑے۔ مگر امیر کبیر نے اِس قسم کے سیاسی تصادم سے پرہیز کیا۔ وہ اپنے چالیس ساتھیوں کو لے کر اپنے وطن ہمدان سے نکل پڑے۔ افغانستان ہوتے ہوئے یہ قافلہ 781 ھ میں کشمیر پہنچا۔امیر کبیراس سے پہلے 762ھ میں اپنی سیاحت کے دوران کشمیر کو دیکھ چکے تھے۔
کشمیر پہنچ کر دوبارہ موقع تھا کہ یہاں سے شاہ تیمور کے خلاف سیاسی تحریک چلائی جائے۔ تیمور کے معاصرین میں ایسے لوگ تھے جو بعض سیاسی وجوہ کی بنا پر تیمورسے بغض رکھتے ـتھے۔ امیر کبیر ان کے ساتھ متحدہ محاذ بنا کر تیموری اقتدار کو ختم کرنے کی مہم جاری رکھ سکتے تھے، مگر امیر کبیرنے اس قسم کی کسی بھی کارروائی سے مکمل پرہیز کیا۔ اسی طرح قیادت کا ایک اور راستہ امیر کبیرکے لیے پوری طرح کھلا ہوا تھا۔ یہ اس وقت کے کشمیری مسلمانوں کی اقلیت کے معاشی اور سماجی حقوق کا مسئلہ تھا۔ اس وقت کشمیر میں اگر چہ ایک مسلم خاندان کی حکومت تھی، مگر کشمیری مسلمان، ریاست میں ایک کمزور اور غریب اقلیت کی حیثیت رکھتے تھے، حتی کہ کہا جاتا ہے کہ ان سے جبراً بت خانوں کے نذرانے وصول کیے جاتے تھے۔ امیر کبیران کی طرف سے حقوق طلبی کی مہم چلا کر فی الفور مسلمانوں کے قائد بن سکتے تھے، مگر امیر کبیرنے اس قسم کی ’’ملی سیاست‘‘ سے بھی کوئی سروکار نہ رکھا۔
اسی طرح امیر کبیرکے لیے ایک راستہ یہ تھا کہ وہ ’’انسانیت‘‘ کے پیامبر بن کر اٹھیں، اور ریاست کے مختلف فرقوں کو امن کے ساتھ رہنے کا وعظ سنائیں۔ ایسا کرکے وہ بہت جلد دونوں فرقوں کے درمیان ہر دل عزیزی اور مقبولیت حاصل کرسکتے تھے۔ کیوں کہ ہر وہ تحریک لوگوں کو بہت پسند آتی ہے جس میں حق وباطل کا مسئلہ چھیڑے بغیر رواداری (tolerance)اور میل جول کا اپدیش دیاگیا ہو، جس میں کوئی زد اپنے اوپرپڑتی ہوئی محسوس نہ کرے۔ مگر اس قسم کی تحریک جلسوں اور تقریروں کی سطح پر خواہ کتنی ہی کامیاب نظر آئے، عملی نتیجہ کے اعتبار سے وہ ہمیشہ بے فائدہ ثابت ہوتی ہے۔ مزید یہ کہ اس کام کا اسلامی دعوت سے براہِ راست کوئی تعلق نہیں۔ اس قسم کا کام، اپنی ظاہری خوش نمائی کے باوجود، صرف مسائلِ دنیا کی طرف متوجہ کرنے کا کام ہے، جب کہ اسلامی دعوت کا مقصد یہ ہے کہ لوگوں کو مسائلِ آخرت کی طرف متوجہ کیا جائے۔
امیر کبیرکا پروگرام نہ شاہ تیمور کے خلاف رد عمل کے طورپر بنا، اور نہ کشمیری مسلمانوں کے وقتی حالات سے متاثر ہو کر۔ اس وقت کشمیر میں ایک مسلم راجہ سلطان قطب الدین کی حکومت تھی۔ اس کے اندر بہت سی اعتقادی اور عملی خرابیاں موجود تھیں۔ آپ نے سلطان کو ناصحانہ انداز کے خطوط بھیج کر اس کو اصلاحِ حال کی طرف متوجہ کیا۔ تاہم آپ نے اس کو اقتدار سے ہٹانے اور اس کی جگہ صالح حکمراں لانے کی کوئی مہم نہیں چلائی۔ امیر کبیر نے ان تمام عوامل سے اوپر اٹھ کر سوچا اور خود اپنے مثبت فکر کے تحت اپنا پروگرام بنایا۔ پھر یہ پروگرام بھی کوئی کنونشن یا کانفرنس کا انعقاد نہ تھا۔ یہ تمام تر ایک خاموش عملی پروگرام تھا۔ وہ اور ان کے رفقا ریاست کے مختلف حصوں میں پھیل گئے اور پُر امن طور پریہاں کے باشندوں میں اسلام کی تبلیغ کرنے لگے۔ انھوں نے کشمیریوں کی زبان سیکھی، یہاں کے حالات سے اپنے کو ہم آہنگ کیا۔ اجنبی دیس میں اپنے لیے جگہ بنانے کی مصیبتیں اٹھائیں۔ اس طرح صبر وبرداشت کی ایک زندگی گزارتے ہوئے اپنے خاموش دعوتی مشن کو جاری رکھا۔
کشمیر میں اسلام
کشمیر میں اسلام کا ابتدائی داخلہ اگرچہ محمد بن قاسم (66-96ھ) کے زمانہ میں ہوا۔ تاہم ریاست میں اسلام کی نمایاں اشاعت غالباً سید بلبل شاہ قلندر ترکستانی کے وقت سے شروع ہوئی۔ سات سو سال پہلے کشمیر میں ایک بودھ راجہ رینچن شاہ کی حکومت (1320-23 ء) تھی۔ یہ راجہ سید بلبل شاہ کے ہاتھ پر مسلمان ہوا۔ اس زمانہ میں لوگ اپنے سرداروں کے دین پر ہوتے تھے۔ راجہ کو دیکھ کر کشمیریوں کی ایک تعداد مسلمان ہوگئی۔ سیدبلبل شاہ فقہی مسلک کے اعتبار سے حنفی تھے۔ چنانچہ اس وقت جو لوگ مسلمان ہوئے، وہ ان کے اثر سے حنفی مسلک کے مطابق عبادت کرنے لگے۔ میرسید علی ہمدانی کی تبلیغ سے جب کشمیری باشندے مسلمان ہونے لگے تو ایک مسئلہ پیدا ہوگیا، وہ یہ کہ یہ نومسلم کس فقہی مسلک پر عبادت کریں۔ امیر کبیرخود شافعی المسلک تھے، اور اس وقت کشمیر میں جو مسلمان تھے، وہ حنفی المسلک تھے۔ امیر کبیر اگر ان نومسلموں کو اپنے فقہی مسلک کی تلقین کرتے تو اس کا لازمی نتیجہ یہ ہوتا کہ مسلمانوں میں دو گروہ بن جاتے۔ ایک امیر کبیرکے ہاتھ پر اسلام لائے ہوئے لوگوں کا، دوسرا بقیہ کشمیری مسلمانوں کا۔ حنفی اور شافعی کا یہ جھگڑا نہ صرف دونوں کے مدرسوں اور مسجدوں کو الگ کردیتا، بلکہ اپنے اپنے فقہی مسلک کی صحت و برتری ثابت کرنے کی کوشش میں اصل تبلیغی کام پس پشت پڑجاتا۔کشمیری مسلمان دو جتھوں کی صورت اختیار کرکے ایک دوسرے سے لڑنا شروع کردیتے۔ جو قوت دینِ حق کی اشاعت میں صرف ہوتی، وہ آپس کے جھگڑوں میں بر باد ہوجاتی۔ نسلیں گزر جاتیں مگر یہ اختلاف کبھی ختم نہ ہوتا۔
میر سید علی ہمدانی نے صرف اساساتِ دین کی تبلیغ کی۔ انھوں نے فقہی مسالک کی کوئی بحث نہیں چھیڑی۔ انھوںنے یہاں تک احتیاطسے کام لیا کہ اپنا شافعی المسلک ہونا اپنے پیروؤں سے پوشیدہ رکھا۔ عام مسلمانوں کے ساتھ آپ خودبھی حنفی طریقہ پر نماز پڑھتے اور اپنے ساتھیوں کو بھی اسی کے مطابق عبادت کرنے کی تلقین کرتے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ کشمیر میں ان کو کام کرنے کے مکمل مواقع ملے۔ ان کو ہر طبقہ کا تعاون حاصل رہا۔ غیر متعلق مسائل کے الجھاؤ سے وہ بالکل محفوظ رہے۔ اپنی دعوتی جدوجہد میں ان کو اتنی زیادہ کامیابی ہوئی کہ کشمیر دائمی طورپر مسلم اکثریت کا علاقہ بن گیا۔ امیر کبیر اگر یہاں حنفی مسلک اور شافعی مسلک کی بحثیں چھیڑتے تو ان کو یہ کامیابی نہیں ہوسکتی تھی، اور بالفرض اگر کوئی کامیابی ہوتی تو وہ بھی اِس قیمت پر کہ ان کی آمد کشمیری مسلمانوں کو باہم لڑنے والے دو گروہوں میں بانٹ دینے کا سبب بن جاتی۔
اس کا مطلب یہ نہیں کہ جو لوگ اس راہ پر چلیں ان کا کسی سے اختلاف نہیں ہوگا۔ با مقصد آدمی کے ساتھ ایسا کبھی نہیں ہوتا۔ خود امیر کبیر کے حالات بتاتے ہیں کہ 73 سال کی عمر میں موضع پکھلی (کشمیر) کے کچھ شر پسندلوگوں نے آپ کو زہر دے دیا، اور اسی میں آپ کا انتقال ہوا۔ تاہم اس قسم کا اختلاف محض ذاتی وجوہ سے ہوتا ہے اور وہ داعی کو صرف ذاتی نقصان پہنچاتا ہے، جب کہ ایک غیر دینی مسئلے کو دینی مسئلہ بنانا دین میں فرقہ بندی کو جنم دیتا ہے، جو اتنا بڑا جرم ہے کہ کسی گروہ سے وہ تمام نعمتیں چھن جاتی ہیں جو کتاب ِالٰہی کا حامل ہونے کی حیثیت سے اس کے لیے مقدر کی گئی تھیں۔
امیر کبیرسید علی ہمدانی کی زندگی اسلامی طریقِ کار کی نہایت کامیاب عملی مثال ہے۔ اپنی پُرامن دعوتی جدوجہد میں انھوں نے جس چیز کو مرکز توجہ بنایا، وہ توحید اور آخرت کا مسئلہ تھا۔ اس کے علاوہ سیاسی مسئلے، معاشی مسئلے، فقہی مسئلے، انھوں نے بالکل نہیںچھیڑا۔ وہ اصل دین پر یکسو رہے، نہ کہ متفرقاتِ دین پر۔ اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ وہ عبادت کی ادائیگی میں آداب اور مناسک کے لحاظ کو غیر ضروری سمجھتے تھے۔ وہ ہر ایک کی اہمیت سے بخوبی واقف تھے، اورہر چیز کو انھوں نے بالفعل اختیار کیا۔ تاہم انھوںنے جس چیز کو دعوت کا عنوان بنایا، وہ متفق علیہ دین تھا، نہ کہ سُبُلِ متفرقہ۔
امیر کبیر فقہ کی تمام شرائط کے مطابق مکمل نماز پڑھتے تھے، مگر فقہی اختلافات کے پیچھے پڑنا، ایک مسلک کو غلط ثابت کرکے اس کی جگہ دوسرے مسلک کی ترجیح قائم کرنا، انھوں نے اپنا مشن نہیں بنایا۔ اسی طرح معاشیات کے سلسلے میں انھوں نے ایک راستہ اختیار کیا۔ اگر وہ ایسا نہ کرتے تو وہ اوران کے ساتھی زندہ کیسے رہ سکتے تھے۔ مگر معاشی مسائل کو حل کرنے یا اس کو پوری ملت کا مشترک مسئلہ بنا کر اس کی بنیاد پر تحریک چلانے کا طریقہ انھوں نے اختیار نہیں کیا۔ اسی طرح سیاست کا نعرہ نہ لگانے کے باوجود ان کی ایک سیاست تھی، بلکہ نہایت گہری سیاست تھی۔ اگر ایسا نہ ہوتا تو آج کشمیر کو یہ مقام نہ ملتا کہ یہاں صرف مسلم وزارت بنتی ہے،دوسری وزارت بننے کا یہاں کوئی سوال نہیں۔ کشمیر کو یہ سیاسی عطیہ تمام تر امیر کبیر کی دین ہے۔ اگر چہ معروف معنوں میں انھوں نے کوئی سیاسی پروگرام اپنی زندگی میں نہیں چلایا اور نہ کوئی ان کو ’’سیاسی لیڈر‘‘ کی حیثیت سے جانتا ہے — امیر کبیر ہر چیز کے پیچھے نہیں دوڑے۔ انھوں نے صرف یہ کیا کہ حقیقت کا سِراا پکڑ لیا۔ اس کے بعد تمام چیزیں خود بخود ان کی طرف آتی چلی گئیں۔
٭ ٭ ٭ ٭ ٭
خواجہ نظام الدین اولیا ءنے اپنی ایک مجلس میں فرمایا کہ عام لوگوں کا طریقہ یہ ہے کہ سیدھے کے ساتھ سیدھا اور ٹیڑھے کے ساتھ ٹیڑھا۔ لیکن ہمارے بزرگوں کا یہ کہنا ہے کہ سیدھوں کے ساتھ سیدھا اور ٹیڑھوں کے ساتھ بھی سیدھا۔ اگرکوئی شخص ہمارے سامنے کانٹا ڈالے اور ہم بھی کانٹا ڈالیں تو کانٹے ہی کانٹے ہوجائیں گے۔ اگر کسی نے کانٹا ڈالا ہے تو تم اس کے سامنے پھول ڈالو۔ پھر پھول ہی پھول ہوجائیں گے۔(الرسالہ، اپریل، 2006)
واپس اوپر جائیں

آفاقی طرزِ فکر

قرآن کی آئڈیا لوجی آفاقی آئڈیالوجی ہے۔یہ نقطۂ نظرمختلف انداز سے سارے قرآن میں پھیلا ہوا ہے۔ اس سلسلے کی ایک آیت کا ترجمہ یہ ہے: جو کوئی اللہ کی راہ میں ہجرت کرے ، وہ زمین میں بڑے ٹھکانے اور بڑی وسعت پائے گا، اور جو شخص اپنے گھر سے اللہ اور اس کے رسول کی طرف ہجرت کرکے نکلے، پھر اس کو موت آجائے تو اس کا اجر اللہ کے یہاں مقرر ہوچکا (4:100)۔ قرآن کی یہ آیت زیادہ معنی خیز انداز میں میری سمجھ میں اس وقت آئی، جب کہ میں نے 1971 میں احمد آباد کا سفر کیا۔ یہاں میری ملاقات ایک مسلم نوجوان سے ہوئی۔ وہ انجینئر تھے۔ حال میں انھوں نے ایک فیکٹری بنائی تھی۔ وہ مجھ کو اپنی فیکٹری میں لے گئے۔ ان کی فیکٹری میں ابھی تک کوئی پروفیشنل مینیجر نہیں تھا۔ انھوں نے اپنی فیکٹری کے مختلف حصوں کو دکھاتے ہوئے پروفیشنل مینیجر کے نہ ہونے کا ذکر کیا، اور کہا : اپنی تو لیمیٹیشنس (limitations) آجاتی ہیں، مینجمنٹ سائڈ پر۔
فیکٹری کے مالک کا یہ جملہ سن کر میرا مائنڈ ٹریگر (trigger)ہوگیا۔ میں نے ایک نئے لائن پر سوچنا شروع کردیا۔ میں نے سوچا کہ ہمارے رہنماؤں نے پوری بیسویں صدی اسی سوچ میں گزار دی۔ ایک لفظی فرق کے ساتھ ان کی مشترک سوچ یہ تھی: اپنی تو لیمیٹیشنس آجاتی ہیں، پولیٹکل سائڈ پر۔ پولٹکس کوئی آفاقی نقطہ نظر نہیں ہے۔ پولٹکس کی محدود سرحدیں ہوتی ہیں۔ اس بنا پر ہمارے تمام رہنما گویا زبان حال سے کہہ رہے ہیں کہ اپنی تو لیمیٹیشنس آجاتی ہیں، پولٹکل سائڈ پر۔ اس فکری محدودیت کی بنا پر ہمارے رہنما امت کو آفاقی نقطہ نظر نہ دے سکے۔ ہررہنما کی سوچ کسی نہ کسی پولٹکل سرحد پر رک گئی۔ ہر رہنما فکر ی محدودیت کا شکار ہوا، اور امت کو بھی فکری محدودیت میں مبتلا کردیا۔
حقیقت یہ ہے کہ پولٹکل سرگرمی اور دعوتی عمل دونوں ایک دوسرے کی ضد ہیں۔سیاسی نقطۂ نظر محدود نقطۂ نظر ہوتا ہے۔ اس کے مقابلے میں دعوت کا نقطۂ نظر آفاقی نقطۂ نظر ہوتا ہے۔ آفاقی نقطۂ نظر کی کوئی جغرافی سرحد نہیں ہوتی۔ اس لیے ضروری ہے کہ آج امتِ مسلمہ پولٹکل سرگرمیوں سے ہجرت کرلے، جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مکے سے مدینے کو ہجرت کی تھی۔اس کے بعد ہی وہ دعوتی مشن کو آفاقی طور پر آگے لے جاسکتے ہیں۔
پیغمبرِ اسلام بعثت کے بعد تیرہ سال مکہ میں رہے۔ اس کے بعد آپ نے مدینہ کی طرف ہجرت کی۔ جب آپ نےہجرت کا ارادہ کیا تو اس وقت آپ نے اپنے اصحاب کو پیشین گوئی کی زبان میں خبر دیا تھا۔ اس کا ترجمہ یہ ہے: مجھے ایک بستی کا حکم دیا گیا ہے، جو بستیوں کو کھا جائے گی، لوگ اس کو یثرب کہتے ہیں، اور وہ مدینہ ہے (صحیح البخاری، حدیث نمبر 1871)۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ میرے مشن کے لیے اگرچہ ایک طرف، مکہ میں، رکاوٹ ہے، اس کے باوجود دوسری طرف، مدینہ میں ، اس کا راستہ کھلا ہوا ہے،اس راستے سے یہ ساری دنیا میں پھیلے گا۔
چودہ سو سال کی مدت گزرنے کے بعداب امت حدیث میں مذکور پیشین گوئی کے بعد کے دور میں ہے۔ اس حدیث میں جو بات کہی گئی ہے، اس پر غور کیجیے تو معلوم ہوتا ہے کہ اس کا مطلب یہ ہے کہ تاریخی ارتقا کے نتیجے میں بعد کو کمیونی کیشن (communication) کا زمانہ آئے گا۔ نئے مواقع کے استعمال سے امت کے افراد اپنے دینی مشن کو ساری دنیا میں پہنچانے میں کامیاب ہوجائیں گے۔ یہ دینی مشن ساری سرحدوں سے گزرکر تمام ملکوں میں پھیل جائے گا۔ یہ واقعہ ایک حدیث میں بیان کیا گیا ہے۔ اس حدیث کا ترجمہ یہ ہے: یہ امر ضرور اس حد تک پہنچے گا، جہاں تک رات اور دن پہنچتے ہیں، اور اللہ نہیں چھوڑے گا کسی چھوٹے اور بڑے گھر کو مگر اللہ ضرور اس کے اندر اس دین کو داخل کرے گا(مسند احمد، حدیث نمبر 16957)۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ آج آفاقی دعوت کے تمام مواقع کھل گئے ہیں۔دعوتی سفر میں آج کوئی دیوار یا کوئی سرحد رکاوٹ نہیں۔ پولٹکل تحریک کے لیے ہر طرف سرحدوں کی دیواریں کھڑی ہوئی ہیں۔ لیکن پرامن دعوتی مشن کے لیے کہیں کوئی دیوار حائل نہیں۔ ہر انسان اس کا مخاطب ہے، اور ہر جغرافی حصہ اس کی مملکت میں شامل ہے۔
واپس اوپر جائیں

نتیجہ خیز آغاز

ایک صاحب لکھتے ہیں:میں آپ کی کئی تقریروں کو سننے کے بعد آپ کی اوریجنل اور گہری فکر سے مَیں کافی متاثر ہوا ہوں۔ لیکن آپ کی باتوں کو سننے کے بعد آپ کے اسٹیٹس کو (status quo)کے نظریے کے بارے میں میرے ذہن میں ایک سوال پیدا ہوا ہے۔ وہ یہ کہ اگر اسٹیٹس کو کو قبول کرنا، اتنا ونڈر فل معاملہ ہے تو ہندستان برٹش حکومت کے ماتحت ہی رہتا۔ دوسرے ممالک، جیسے ترکی، ملیشیا، انڈونیشیا، سوڈان، اور نائیجیریا وغیرہ تو اپنے غیر ملکی رولر (rulers)کے تحت ہی باقی رہتے۔ آپ مجھے ان مثالوں کو سامنے رکھتے ہوئے جواب دیجیے۔ (جاوید اظہر خان، پاکستان)
جواب: اسٹیٹس کو کامطلب ہے حالت موجودہ، بطور خاص سماجی اور سیاسی معاملات میں:
the existing state of affairs, particularly with regard to social or political issues.
میں اسٹیٹس کو ازم کو جس معنی میں استعمال کرتا ہوں، اس کا مطلب حالت موجودہ کو باقی رکھنے پر ہمیشہ کے لیے راضی رہنا نہیں ہے، بلکہ اس کا تعلق طریقِ کار سے ہے۔یہ ایک لفظ میں نتیجہ رخی طریقہ کو اختیار کرناہے۔یعنی حالت موجودہ سے براہ راست ٹکراؤ کرنے کے بجائے مواقع کو دریافت کرنا، اور حالت موجودہ کو برقرار رکھتے ہوئے جو ابتدا ممکن ہو، اس سے اپنے عمل کا آغاز کرنا، اور غیر نزاعی (non-confrontational) انداز میں اپنے مقصد کو حاصل کرنے کی پرامن تعمیر کا طریقہ اختیار کرنا۔ اس ماڈل کی ایک کامیاب مثال ساؤتھ افریقہ ہے۔ ساؤتھ افریقہ میںہندستان کی طرح برٹش راج قائم تھا۔ وہاں حالات کے زیر اثر ایسا ہوا کہ براہ راست سیاسی لڑائی کا طریقہ اختیار نہیں کیا گیا، بلکہ ایک مختلف انداز میں کام شروع ہوا۔ یعنی ساؤتھ افریقہ میں کام کا آغاز پولٹکل ایکٹیوزم سے نہیں ہوا، بلکہ ایجوکیشنل اکٹیوزم کے طو رپر ہوا۔
یہ ایک صحیح آغاز (right beginning)کا معاملہ تھا۔یعنی پہلے قوم کو تیار کرنا، اور اس کے بعد سیاسی اقتدار کا ملنا۔انڈیا میں اس سے مختلف ماڈل اختیار کیا گیا۔ ساؤتھ افریقہ میں جو ماڈل اختیار کیا گیا، وہ مختصر طور پر یہ تھا کہ پہلے ایجوکیشن اور اس کے بعد سیاسی اقتدار۔ اس کے برعکس، انڈیا میں جو طریقہ اختیار کیا گیا، وہ یہ تھا کہ پہلے سیاسی اقتدار اس کے بعد تعلیم۔ ترتیبِ کار میں اسی فرق کی بنا پر یہ ہوا کہ انڈیا 1947 میں آزاد ہوگیا، جب کہ ساؤتھ افریقہ بہت بعدمیں1994 میں آزاد ہوا۔ مگر نتیجہ بتاتا ہے کہ ساؤتھ افریقہ کو آزادی کے ساتھ ہی ترقی یافتہ ملک (developed nation) کی حیثیت حاصل ہوگئی، جب کہ انڈیا آزادی کے باوجود ابھی تک صحیح معنوں میں ترقی یافتہ نیشن کے درجے تک نہیں پہنچا۔ اس کا ثبوت یہ ہے کہ یہاں کے نوجوان آزاد ہندوستان کو چھوڑ کر انھیں ملکوں کی طرف چلے جارہے ہیں، جن سے ان کے لیڈروں نے آزادی حاصل کی تھی۔
یہ ماڈل اسلام کی اسپرٹ کے مطابق ہے۔ میرے مطالعے کے مطابق، اسلام میں بھی اسی ماڈل کو اختیار کیا گیا ہے۔ اس ماڈل کو’’حطیم ماڈل‘‘ کا نام دیا جاسکتا ہے۔ رسول اللہ نے مکہ میں اپنے مشن کا آغاز کیا تو کعبہ کی عمارت اپنے ابراہیمی ماڈل پر نہ تھی، بلکہ کعبہ کی عمارت اُس تعمیری بنیاد پر موجود تھی، جس کو رسول اللہ کے زمانے کے مشرکین نے بنایا تھا۔ یعنی کعبہ کی عمارت دو تہائی رقبے پر قائم تھی، اور ایک تہائی رقبہ حطیم کی صورت میں خالی پڑا ہوا تھا۔ پیغمبر اسلام نے حطیم کے معاملے میں اسٹیٹس کو کا طریقہ اختیارکیا، اور کعبے کی موجود عمارت کو عملاً قبول کرتے ہوئے اپنے مشن کا آغاز کردیا۔
قرآن میں حج کے تذکرے کے تحت یہ بیان آیا ہے:لِیَشْہَدُوا مَنَافِعَ لَہُمْ (22:28)۔ یعنی تاکہ وہ ان فائدوں کو دیکھیں جو ان کے لئے ہیں۔اس آیت میں منافع (benefit) کا غالباً ایک پہلو یہ بھی ہے کہ لوگ حطیم کے تاریخی ماڈل کو دیکھیں، اوراس سے سبق لیتے ہوئے، غیر نزاعی بنیاد پر اپنے عمل کی منصوبہ بندی کریں۔ وہ اپنے کام کو وہاں سے شروع کریں، جہاں ہر قدم تعمیرکے ہم معنی ہو۔ جہاں تک پاکستان کا تعلق ہے، آپ کو صرف یہ نہیں دیکھنا چاہیے کہ پاکستان کے نام سے بظاہرایک ملک بن گیا ہے۔ بلکہ یہ دیکھنا چاہیےکہ پاکستان کا جو نشانہ تھا، وہ ابھی تک پورا نہیںہوا، اور اس کا سبب یہی ہے کہ پاکستان کو بنانے میں ’’حطیم ماڈل‘‘ کا طریقہ اختیار نہیں کیا گیا۔
واپس اوپر جائیں

خبرنامہ اسلامی مرکز — 261

■ سماج میں امن و بھائی چارہ پھیلانے کے لیے حکومت یوپی نے نیشنل میڈیکل کالج سہارن پور اور سی پی ایس، سہارن پور کے اشتراک سے ایک پروگرام، پیغامِ محبت کا انعقاد کیا تھا۔ اس میں حکومت یوپی کے کئی وزراء شامل ہوئے۔ اس موقع پر ڈاکٹر محمد اسلم خان (پرنسپل نیشنل میڈیکل کالج اور سی پی ایس کے ایکٹیو ممبر)نے پروگرام میں امن و بھائی چارہ کے موضو ع پر ایک تقریر کی، اور پروگرام میں موجود تمام مہمانان و سامعین کے درمیان ہندی ترجمہ قرآن اور پیس لٹریچر تقسیم کیا گیا۔ یہ پروگرام 4 اکتوبر 2018 کو منعقد ہوا۔
■ راشٹرسنت تکڑو جی مہاراج ناگپور یونیورسٹی کے ہال میں 7 اکتوبر 2017 کو مفسر قرآن و داعی عبد الکریم پاریکھ کی یاد میں ایک جلسہ کیا گیا تھا۔ اس یادگاری جلسہ کے خصوصی مقرر سابق الیکشن کمشنر آف انڈیا، مسٹر ایس وائی قریشی تھے۔ اس موقع پر ناگپور سی پی ایس ٹیم نے سامعین کے درمیان مراٹھی ترجمۂ قرآن اور دیگر دعوتی لٹریچر تقسیم کیا، اور سی پی ایس مشن کا تعارف کروایا۔
■ مسٹر حمید اللہ حمید، مسٹر اے ایم باندے اور مسٹر منظور تانترے، مسٹرجاویدبیگ، اورمسٹر سجاد ڈینڈا صاحبان (سی پی ایس، کشمیر چیپٹر) نے9 اکتوبر 2017 کو سری نگر میں دو پروگراموں میں شرکت کی۔ یہ دونوں پروگرام بالترتیب سری نگر کے ہوٹل للت پیلیس اور SKICCمیں منعقد ہوئے تھے۔ ان پروگراموں میں مز محبوبہ مفتی (سی ایم جموں اینڈ کشمیر)، نوبل انعام یافتہ مسٹر کیلاش ستیارتھی پرکاش ، مسٹر سی کے پرساد (صدر پریس کاؤنسل آف انڈیا )، ڈاکٹر سبھاش چندرا (ہیڈ زی میڈیا لیمٹیڈ)،وغیرہ، موجود تھے۔ ان تمام لوگوں کو صدر اسلامی مرکز کی کتابوں کا ایک ایک سٹ دیا گیا۔ اس کے بعد10اکتوبر 2017 کو مسٹر پرکاش دوبے (سکریٹری، پریس کاؤنسل آف انڈیا) نے ایک وفد کے ساتھ اپنا گھر ، بیروہ کا دورہ کیا ۔اس وقت انھیں سی پی ایس مشن اوراپنا گھر سے متعارف کروایا گیا۔انھوں نے اس پیس فل مشن کو کافی سراہا۔ آخر میں انھیں ترجمہ قرآن اور پیس لٹریچر دیا گیا۔واضح ہو کہ اپنا گھر سی پی ایس کے بہت ہی ایکٹیو ممبر مسٹر حمید اللہ حمید کی نگرانی میں چلنے والا یتیم خانہ اور پیس فل سرگرمیوں کا مرکز ہے۔ اس کے علاوہ سی پی ایس کشمیر کے ایک ممبر، جناب فاروق خان صاحب نے کشمیر میں حکومت ہند کے انٹر لوکیٹر (Interlocutor)مسٹر دنیشور شرماکو ہندی ترجمۂ قرآن دیا۔ یاد رہے کہ مسٹر فاروق خان صاحب پہلے مسلح تنظیم جے کے ایل ایف کے کمانڈر تھے۔ اسی طرح کشمیر میں الرسالہ مشن سے متاثر ہو کر مسلح جدو جہد کا راستہ ترک کرنے والوں کی ایک بڑی تعداد ہے۔

■ودیا جیوتی کالج آف تھیولوجی، نئی دہلی میں سی پی ایس دہلی کے ممبران، مسٹر رجت ملہوترا، مز ماریہ خان، مز صوفیہ خان، مز نغمہ صدیقی، اور مولانا فرہاد احمد نے 17 اکتوبر 2017 کو کرسچن تھیالوجی کے اسٹوڈنٹس کے سامنے قرآن، پیغمبر اسلام، اور مسلمانوں کے متعلق لکچر دیا۔ لکچر کے بعد سوال و جواب کا سیشن بھی ہوا۔ آخر میں تمام سامعین کو انگریزی ترجمۂ قرآن اور دیگر اسلامی لٹریچر دیا گیا۔
■ 20-21 اکتوبر 2017 کو سہارن پور میں دو روزہ دعوہ میٹ کا انعقاد کیا گیا تھا۔ اس دعوہ میٹ میں سی پی ایس کی جن ٹیموں نے حصہ لیا، وہ یہ ہیں: سہارنپور، مہاراشٹر، حیدرآباد، چنئی، اور بہار۔ ان لوگوں نے اس میٹ میں مختلف دعوتی مسائل و مواقع پر اپنے تجربات شیر کیے، اور آئندہ کے لیے ایک نئے عزم کے ساتھ دعوتی کام کو آگے بڑھانے کا عزم کیا۔ نیز دوسرے دن دیوالی ملن کا پروگرام تھا۔ اس موقع پر برادرانِ وطن کے لیے ایک پروگرام کیا گیا، جس میں آنے والے مہمانوں کے درمیان ہندی ترجمہ قرآن اور دیگر دعوتی لٹریچر تقسیم کیا گیا۔ یہ دونوں پروگرام نیشنل میڈیکل کالج، سہارن پور میں منعقد ہوئے۔ اس پروگرام کو ڈاکٹر محمد اسلم خان نے سی پی ایس سہارن پور، اور کالج اسٹاف کے ذریعہ کامیاب بنایا۔
■ سی پی ایس (پونے) کے جناب عبد الصمد صاحب نے پونے کے گُردوارا کمیٹی کے سابق ممبر مسٹر گرومکھ سنگھ راجپال کی اہلیہ اور بیٹے، مسٹر منجیت سنگھ راجپال کو قرآن کا پنجابی ترجمہ قرآن بطور تحفہ دیا۔ ان لوگوں نے انتہائی خوشی اور شکریے کے ساتھ اسے قبول کیا۔ یہ ملاقات غالباً 27 اکتوبر 2017 کو ہوئی۔
■ ممبئی کے کینسر سرجن ڈاکٹر کامران خان صدر اسلامی مرکز سے ملاقات کے لیے 30 اکتوبر 2017 کو صدر اسلامی مرکز کی آفس میں تشریف لائے۔ دوران ملاقات ان سے مختلف موضوعات پرعلمی و میڈیکل سائنس کی گفتگو ہوئی۔ آخر میں ان کو صدر اسلامی مرکز کی کتابوں کا ایک سٹ دیا گیا۔
■ کشمیر کے پونچھ ضلع میں 14 نومبر 2017 کو ایک انٹر فیتھ کانفرنس منعقد کی گئی تھی۔ یہ اس علاقے میں اپنی نوعیت کی پہلی کانفرنس تھی۔ اس میں جن لوگوں نے حصہ لیا، ان میں سے چند یہ ہیں: اچاریہ پرمود سوامی جی، مولانا سید کلب صادق، جناب کمال فاروقی، سکھ گرو مہنت نانگلی اور جناب فاروق مضطر صاحبان, وغیرہ۔ سی پی ایس راجوڑی اس پروگرام میں بحیثیت ایک منتظم شریک تھی، اور انھوںنے لوگوں کے درمیان سی پی ایس کا دعوتی لٹریچر بھی تقسیم کیا۔اچاریہ پرمود سوامی جی نے جب صدر اسلامی مرکز کا نام سنا تو بہت خوش ہوئے ، جب انھیں جموں و کشمیر میں سی پی ایس انٹرنیشنل کی سرپرستی میںہورہی امن کی کو ششوں کے بارے میں بتایا گیا تو انھوں نے سی پی ایس کے کاموں کو بہت سراہا، اور اپنے جموں اور پونچھ مٹھ میں سی پی ایس ممبر ان کو آنے کی دعوت دی۔
■ مسٹر شکیل الرحمن دہلی سی پی ایس کے ایک ایکٹیو داعی ہیں۔ 16 نومبر 2018 کو انھوں نے نئی دہلی کے فورٹِس اسکارٹ ہارٹ ہاسپٹل میں ڈاکٹر پروتی ایر (Parvathi Iyer)کو صدر اسلامی مرکز کی انگریزی کتابوں کا ایک سٹ ، ترجمۂ قرآن، قرانک وزڈم، اور لیڈنگ اے اسپریچول لائف بطور تحفہ دیا۔
■ عید میلاد النبی کے موقع پر ساؤتھ گوا کے Curchorem میں ایک پروگرام منعقد کیا گیا۔ اس موقع پر مدرسہ کے 47 طلبہ اور 3 کالج کے ممتاز اسٹوڈنٹس کو اعزاز سے نوازا گیا۔ جو انعامات دیے گئے، ان میں ترجمہ قرآن بھی شامل تھا۔ اس کے علاوہ سامعین کے درمیان 200 سے زیادہ ہندی اور انگریزی ترجمۂ قرآن تقسیم کیے گئے۔ یہ پروگرام سی پی ایس گوا کے مسٹر ایس سراج صاحب کی صدارت میں 2-4دسمبر 2017 کو منعقد کیا گیا تھا۔
■ بروز اتوار 4 فروری 2018 کو صدر اسلامی مرکز نے خاندانی زندگی (English version: The Secret of Successful Family Life)کا مراٹھی ترجمہ ریلیز کیا۔ یہ ترجمہ سی پی ایس (پونے) نے جناب عبدالصمد صاحب کی نگرانی میں کیا ہے۔ یہ کتاب خاندانی معاملات کے لیے ایک بہترین رہنما کتاب ہے۔
■ گریس پوائنٹ چرچ، نیو ٹاؤن، پنسلوانیا،امریکا میں 25 فروری 2018 کو ایک پروگرام منعقد کیا گیا۔ اس کا عنوان تھا، اپنے پڑوسی سے محبت کیجیے جیسا خود سے کرتے ہیں (Love Thy Neighbor As Thyself)۔ اس پروگرام میں تینوں آسمانی مذاہب، یہودیت، عیسائیت، اور اسلام کے نمائندے شریک ہوئے۔ اسلام کی نمائندگی خواجہ کلیم الدین صاحب (سی پی ایس، امریکا) نے کی۔ وہاں انھوں اسلام کی پر امن باتیں لوگوں کو بتائیں، اور سامعین کے درمیان ترجمۂ قرآن، قرانک وزڈم، اور دیگر کتابچے تقسیم کیا۔ کچھ لوگوں نے یہ کہتے ہوئے کتابیں لیں کہ ہم نے اسلام کے بارے میں منفی باتیں سنی تھیں، آپ نے اسلام کا مثبت رخ دکھا یا ہے، شکریہ۔ اس پروگرام میں فادر ڈیو وولف (Dave Wolf)، اور ربائی آرن گیبر (Aaron Gaber) بھی شریک تھے۔
■ ۲۶ فروری 2018 کو ایک نان مسلم، مسٹر نکل (Mr Nakul) میرے پاس اپنے ایک مسلم دوست کے ساتھ آئے۔ ان کے آنے کا مقصد یہ تھا کہ وہ ایک ہندی ترجمۂ قرآن چاہتے تھے۔ ان کو میں نے ہندی ترجمۂ قرآن، جیون کا ادیش، اور اسلام ایک سوبھاوک دھرم نامی کتابیں دی۔ انھوں نے یہ تمام چیزیں بہت ہی خوشی اور شکریہ کے ساتھ قبول کیا (عیاض احمد، جمشید پور)۔
■ جناب عبد السمیع صاحب (اورنگ آباد )کے مطابق، مسٹر سنتوش نامی ایک نان مسلم بہت دنوں سے قرآن پڑھنا چاہتے تھے۔ انھوں نے اس کاذکر اپنے ایک مسلم دوست سے کیا، مگر ان کو قرآن نہیں ملا۔ بعد میں جب ان کو مسٹر عبد السمیع صاحب صاحب کے بارے میں معلوم ہوا کہ وہ ترجمۂ قرآن دیتے ہیں تو انھوں نے فون کرکے ترجمہ قرآن حاصل کیا۔
■ عکہ شمالی اسرائیل کا ایک پورٹ شہر (port city)جسے انگریزی میں Acre جبکہ عبرانی میں Akko کہا جاتا ہے۔یہ ایک تاریخی شہر ہے۔ یہاں کئی قابل دید مقامات ہیں۔ بہائی مذہب کا قبلہ اور بہا اللہ کا مقبرہ بھی یہیں واقع ہے۔اس شہر کا قدیم حصہ یونیسکوکے عالمی ثقافتی ورثہ قرار دیے گئے علاقوں میں شامل ہے۔ اس لیے پوری دنیا کےسیاح بڑی تعداد میں یہاں آتے ہیں۔ یہاں ایک بہت مشہور مسجد ہے، جسے مسجد الجزار کہا جاتا ہے۔ اس مسجد میں سیاحوں کی بھیڑ لگی رہتی ہے۔ چنانچہ اسرائیل میں دعوتی کام کرنے والے ہمارے ساتھیوں نے مسجد الجزار میں تقسیمِ قرآن اسٹینڈ لگایا ہے، جہاں سے روزانہ سینکڑوں کی تعداد میں آنے والے سیاحوں کے درمیان مختلف زبانوں میں قرآن کے ترجمے تقسیم کیے جاتے ہیں۔
■ سی پی ایس (امریکا)نے اسٹڈی سرکل کے نام سے ایک پروگرام شروع کیا ہے۔ اس کے تحت امریکا کے مختلف اسٹیٹ میں موجود سی پی ایس ممبران کانفرنس کال کے ذریعے صدر اسلامی مرکز کی کتابوں کا مطالعہ کرتے ہیں، اور اس پر اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہیں۔ یہ سلسلہ انھوں نے اگست 2016 میں شروع کیا تھا۔ اس عرصہ میں انھوں نے ’’اظہارِ دین‘‘ کتاب ختم کرلی، اور اب وہ’’ الاسلام‘‘ کا مطالعہ کررہے ہیں۔ مطالعے کا یہ طریقہ پروگرام میں شرکت کرنے والوں کے بقول کافی فائدہ مند ہے۔
■ مسٹر نسیم علی خان صاحب (ممبئی ٹیم) کی کوششوں سے یہ ہوا ہے کہ مہاراشٹر اردو ساہتیہ اکادیمی نے صوبہ کے 36 ضلعوں کی 350 تسلیم شدہ لائبریری کے لیے ماہنامہ الرسالہ سبسکرائب کیا ہے۔ اس کے علاوہ نسیم خان صاحب نے ممبئی سے نکلنے والے مختلف اردو اخبارات میں صدر اسلامی مرکز کے مضامین شائع کرانے کا سلسلہ شروع کیا ہے۔ مثلا ممبئی کے مشہور روزنامہ اردو ٹائمز، ممبئی اردو نیوز، دونوں میں جمعہ کے دن ادارتی صفحہ پر ایک مضمون آتا ہے۔ روزنامہ ہندوستان میں روزانہ ایک مضمون آتا ہے۔ اس کے علاوہ ایک اردو نیوز ایجنسی یو این این، نئی دہلی میں واقع ہے۔ یہ ایجنسی ہندوستان اور ہندوستان کے باہر کے تقریباً 240 اردو اخبارات کو خبریں فراہم کرتی ہے۔ خبروں کے ساتھ یہ ایجنسی صدر اسلامی مرکز کے مضامین بھی اپنے اخباروں کو بھیجتی ہے۔ یہ بھی مسٹر نسیم خان صاحب کی کوششوں سے شروع ہوا ہے۔اس سے یہ سبق ملتا ہے کہ جہاں جہاں اردو اخبار نکلتے ہیں، وہاں پر موجود سی پی ایس مشن کے لوگ اس طرح مشن کی اشاعت کا کام کرسکتے ہیں۔
■ السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ، مولانا صاحب! فروری 2017 میں دہلی کا سفر کئی باتوں میں میرے لئے یادگار سفر رہے گا۔ میں نے محسوس کیا کہ آپ کی تحریروں کو پڑھنے سے جو فائدہ مجھے ملا، وہ یہ ہےکہ میرے ذہن کی تشکیل نو (re-engineering (ہوتی رہی۔ لیکن آپ سے براہِ راست ملنے پر مشن کوبہتر طریقہ سے سمجھنے کا موقع ملا، اور خیالات میں زیادہ وضوح(clarity) حاصل ہوئی۔ خاص طور سے جب سورۂ البقرہ کی آیت نمبر 47 کی تفسیر میں آپ نے بتایا کہ عرب کی سر زمین میں تیل کے ذخائر کا ملنا رب تعالی کے تخلیقی منصوبہ کا ایک حصہ ہے۔وہ یہ کہ اس دولت کو جسے سیال سونا ( Liquid Gold) کہا جاتا ہے، اس کا استعمال اللہ کے پیغام کو اللہ کے بندوں تک پہنچانے کے لئے کیاجائے۔گویا کہ ربِ کائنات یہ اعلان کررہاہے کہ دعوت کا کام تم کرو،اور اس کا بل( bill) ہم ادا کریں گے۔یہ بالکل نئی بات تھی جو میں نے اس سفر میں پائی ہے۔اس سے مجھے اپنے لئے یہ سبق ملا کہ آج بطور ٹیچر مجھے جو آسانیاں حاصل ہیں، اور سماج میں جو قدردانی ملی ہوئی ہے،ان تمام مواقع کوصرف دعوت کے لئے استعمال کرنا ہے،نہ کہ اپنے ذاتی فائدے کے لیے، اور ہرایک داعی کو یہی کرنا چاہیے۔ دوسری اہم بات جو آپ نے ہمیں نصیحت کی، وہ یہ تھی کہ ہر داعی میں دو چیزوں کا موجود ہونا لازمی طور پر ضروری ہے۔ ایک یہ کہ ہر حال میں اللہ کا شکر ادا کرنا، اور دوسرا یہ کہ اللہ کے بندوں سے محبت کرتے رہنا، چاہے ان کی طرف سے کسی بھی طرح کا برتاؤ ملے۔جزاک اللہ مولانا صاحب۔ (ساجد احمد خان ،سی پی ایس، ناگپور)
■ Maulana’s talk is about developing a prepared mind. He had an experience yesterday on how technology has helped him tremendously while writing, by making corrections when needed or in adding or inserting lines. He was able to connect that blessing to the bounties he is receiving from our Creator. He stated in his talk that only those who have a prepared mind (that is, one that uses its capacity to think, ponder and reflect) are able to derive lessons from their everyday experiences, and in consequence bow before the Creator. A prepared mind is a thinking mind. (Kouser Izhar, New Jersey, CPS USA)
■ A message on Quora: I am here to say thank you. You have been a part of the change I have had in my life. I read your Quran translation in English on Amazon kindle book. It helped me in deep understanding of my religion, Islam. Earlier I used to recite the Quran, but now I focus more on its meaning and try to bring it into practice. I am becoming a better person day by day. I have read your answers on Quora and I cannot thank you enough for the knowledge I have taken from such a wise person as you. I respect and adore you a lot. I pray for your health and well-being. (Saba Anjum)
■ I went on a business trip to Austria, which is a German speaking country. I had several opportunities to give the Quran and What is Islam (both in German translations) to many persons. Also had the opportunity to meet people across the world for example, from Bulgaria, a country for which we do not yet have Quran translations available. On the one hand, I felt very fortunate to have the German Quran translation and prayed for Dr. Saniyasnain Sb’s great efforts in making it available, while on the other hand I also felt the need for speeding up translations going on in other international languages. (Sajid Anwar, CPS Mumbai)
■ I really enjoy your intellectual company! I appreceiate your efforts in conveying to people the truth about Islam. (Muhammad Faisal, Lucknow)
واپس اوپر جائیں