Pages

Tuesday, 4 September 2018

Al Risala | October 2018 (الرسالہ،اکتوبر)

4

-شخصیت کی تعمیر

5

- انسان کی عبدیت

6

- معرفت کا کلمہ

9

- جنت کا معاملہ

10

- رزق کا معاملہ

11

- حکومتِ الٰہیہ یا حکومتِ انسانیہ

12

- حکم صرف اللہ کا

13

- خدا اور انسان

14

- معرفتِ الٰہی

15

- امت کی حالت زار

16

- امت میں قتال

19

- صلح پہلا آپشن

20

- تقویٰ بقدر استطاعت

22

- والرجز فاھجر

23

- دنیا اور آخرت

24

- ایمان کے بعد ایمان

26

- خدا کی دریافت

28

- منصوبۂ تخلیق

29

- مصیبت کیوں

30

- داعی کی اسپرٹ

31

- علما کا مقام

32

- قناعت کا سبق

33

- مشورے کی اہمیت

34

- موت کی یاد

35

- زندگی کے قیمتی سال

36

- باہمی انحصار کا دور

37

- غیر عملی نشانہ

38

- ظلم یا چیلنج

39

- دینی شناخت

40

- فطرت کو موقع دو

41

- غصے کا ظاہرہ

42

- شادی شدہ زندگی

43

- عذر کیا ہے

44

- پانے میں کھونا

45

- تخلیقی مشورہ

46

- خبرنامہ اسلامی مر کز


شخصیت کی تعمیر

انسان فطرت کا ایک اعلیٰ عطیہ ہے۔انسان کے اندر ہر قسم کی اعلیٰ صلاحیت فطری طور پر موجود ہوتی ہے۔ لیکن انسان کے اندر جو صلاحیت ہے، وہ پوٹنشل (potential) کے روپ میں ہے۔ اس پوٹنشل کو ایکچول (actual) بنانا، انسان کا اپنا کام ہے۔ انسان کی اس پیدائشی نوعیت کو سمجھنے کے لیے قرآن کی ان دو آیتوں کا مطالعہ کیجیے: أَلَمْ تَرَ کَیْفَ ضَرَبَ اللَّہُ مَثَلًا کَلِمَةً طَیِّبَةً کَشَجَرَةٍ طَیِّبَةٍ أَصْلُہَا ثَابِتٌ وَفَرْعُہَا فِی السَّمَاءِ ۔ تُؤْتِی أُکُلَہَا کُلَّ حِینٍ بِإِذْنِ رَبِّہَا وَیَضْرِبُ اللَّہُ الْأَمْثَالَ لِلنَّاسِ لَعَلَّہُمْ یَتَذَکَّرُونَ (14:24-25) ۔ یعنی کیا تم نے نہیں دیکھا، کس طرح مثال بیان فرمائی اللہ نے کلمۂ طیبہ کی۔ وہ ایک پاکیزہ درخت کی مانند ہے، جس کی جڑ زمین میں جمی ہوئی ہے اور جس کی شاخیں آسمان تک پہنچی ہوئی ہیں۔ وہ ہر وقت اپنا پھل دیتا ہے اپنے رب کے حکم سے، اور اللہ لوگوں کے لیے مثال بیان کرتا ہے تاکہ وہ نصیحت حاصل کریں۔
قرآن کی یہ آیت تمثیل کی زبان میں بتارہی ہے کہ انسانی شخصیت کی تعمیر کا اصول کیا ہے۔ اس آیت میں شجرۂ طیبہ سے مراد صحت مند پودا (healthy plant) ہے۔ صحت مند پودے کو جب زمین میں نصب کردیا جائے تو وہ فوراً زمین اور فضا سے اپنی غذا لینا شروع کردیتا ہے۔ یہ سلسلہ جاری رہتا ہے، یہاں تک کہ وہ ایک پورا درخت بن جاتا ہے۔ یہی معاملہ ایک انسانی وجود کا ہے۔ انسان جب پیدا ہوتا ہے، وہ ایک بالقوۃ انسان کی مانند ہوتا ہے۔ پھر وہ اپنے ماحول سے ہر قسم کی غذا لینا شروع کرتا ہے۔ یہاں تک کہ وہ بڑھتے بڑھتے ایک پورا انسان بن جاتا ہے۔ اس کے اندر وہ تمام عملی اور اخلاقی صفات پیدا ہوجاتی ہیں، جو اس کو اس زمین پر ایک صحت مند زندگی گزارنے کے لیے درکار ہیں۔ انسان کو چاہیے کہ وہ زمین پر موجود تمام امکانات کو اپنے لیے استعمال کرے، اور اپنے آپ کو اللہ کا مطلوب انسان بنائے۔ وہ یہ ہےکہ عملی زندگی میں ہر موقعے پر وہ مطلوب رسپانس (required response) دے، جس کے لیے اس کے خالق نے اس کو موجودہ دنیا میں بھیجا ہے۔
واپس اوپر جائیں

انسان کی عبدیت

قرآن کی سورہ بنی اسرائیل میں واقعۂ اسراء کا ذکر کرتے ہوئے آیا ہے :سُبْحَانَ الَّذِی أَسْرَى بِعَبْدِہِ (17:1)۔ یعنی پاک ہے وہ جو لے گیا ایک رات اپنے عبد کو۔ عبد کا مطلب معروف مفہوم کے مطابق غلام (slave) نہیں ہے، بلکہ اس کا مطلب عارف باللہ (realized person)ہے۔ یعنی وہ انسان جو معرفت کا سفر طے کرتے ہوئے اپنے آپ کو معرفت کے اعلیٰ درجے تک پہنچائے۔ یہ کسی شخص کا ذہنی اور روحانی سفر ہے۔ یہ معرفت کے سفر کا وہ درجہ ہے، جب کہ انسان اپنے آپ کو انٹلکچول دریافت (intellectual discovery) کے درجے تک پہنچاتا ہے، اور اپنے رب سے قربت کا مقام حاصل کرتا ہے۔
یہ ایک واقعہ ہے کہ اللہ رب العالمین انسان کا خالق ہے۔ اللہ رب العالمین نے انسان کو بہترین تخلیق کے ساتھ پیدا کیا۔ اللہ رب العالمین نے انسان کے لیے ایک ایسی کائنات بنائی، جو پورے معنوں میں کسٹم میڈ (custom-made) یونیورس ہے۔انسان کو ایک ایسی دنیا عطا کی، جہاں وہ لامحدود حد تک اپنے ارتقا کا سفر جاری رکھ سکے۔ اس حقیقت کے ادراک کے بعد جو شکر گزار بندہ بنتا ہے، اسی کا نام عبد ہے۔ عبدیت اس بات کا نام ہے کہ انسان اپنی حقیقت اور اپنے رب کی حقیقت کو معرفت کے درجے میں پالے۔ یہ پانا اتنا مؤثر ہو کہ اس کی شخصیت معرفت رب میں ڈھل جائے۔
عبدیت کسی انسان کے لیے درجۂ کمال تک پہنچنے کا نام ہے۔ اسی طرح رب اس دریافت کا نام ہے کہ انسان اپنے رب کو خالق اور محسن کی حیثیت سے درجۂ شعور میں دریافت کرے۔ عبد، انسانی شعور کے اعلیٰ مقام تک پہنچنے کا نام ہے، اور رب کی معرفت خالق کی ہستی کا کامل درجے میں ادراک کرنے کا نام ہے۔ عبد اور رب کے درجے کو سمجھنے کے لیے غلام اور آقا کے الفاظ ناکافی ہیں۔ یہ معرفت کی ڈکشنری کے الفاظ ہیں۔ ان کو صرف عارفانہ ذہن کے ذریعے ہی سمجھا جاسکتا ہے۔
واپس اوپر جائیں

معرفت کا کلمہ

ایک روایت حدیث کی مختلف کتابوں میں آئی ہے۔ یہاں اس کا ترجمہ نقل کیا جاتا ہے: عبد اللہ بن عمرو ابن العاص روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا:اللہ قیامت کے دن میری امت کے ایک فرد کو تمام مخلوق کے سامنے لائے گا، پھر اس کے (اعما ل کا )ننانوے رجسٹر (ایک روایت میں ہے : جس میں اس کی خطائیں ہوں گی)،اس کے سامنے کھولا جائے گا، ہر رجسٹر انتہائےنظر کے مثل ہوگا ( فَیَنْشُرُ عَلَیْہِ تِسْعَةً وَتِسْعِینَ سِجِلًّا کُلُّ سِجِلٍّ مِثْلُ مَدِّ البَصَر)، پھر اللہ پوچھے گا: کیا تم ان میں سے کسی چیز کا انکار کرتے ہو ؟کیا اعمال لکھنے والے محافظ فرشتوں نے کچھ ظلم کیاہے، وہ کہے گا :نہیں، اے رب۔ پھر اللہ کہےگا :کیا تمھارے پاس اس کا کوئی عذر ہے (ایک روایت میں ہے : یا کوئی نیکی ہے، وہ آدمی متحیر ہوجائے گا، اور) کہے گا: نہیں، اے رب۔ پھرا للہ کہے گا:(ایک روایت میں ہے: ہم اپنے پاس تمھاری نیکیاں نہیں دیکھتے ہیں)،لیکن ہمارے پاس تمھاری ایک نیکی ہے اور آج کے دن تم پر کوئی ظلم نہیں ہوگا ( وَإِنَّہُ لَا ظُلْمَ عَلَیْکَ الْیَوْمَ)، پھر ایک بطاقہ (کارڈ)نکالا جائے گا(ایک روایت میںہے: انگلی کے بقدر)، جس میںہوگا:أَشْہَدُ أَنْ لَا إِلَہَ إِلَّا اللَّہُ وَأَشْہَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہُ وَرَسُولُہُ ۔ اللہ کہے گا: اس کو وزن کرو۔ بندہ کہے گا :اے رب،اس کارڈ کی کیا حیثیت ہے، ان رجسٹروں کے مقابلے میں( یَا رَبِّ مَا ہَذِہِ الْبِطَاقَةُ، مَعَ ہَذِہِ السِّجِلَّات)؟ کہا جائے گا کہ آج کے دن تم پر کوئی ظلم نہیں کیا جائے گا، اور پھر تمام رجسٹروں کو ایک پلڑے میںرکھ دیا جائے گا،اور اس کارڈ کو دوسرے پلڑے میں، تمام رجسٹرہلکے ہوجائیں گے، اور کارڈ والاپلڑابھاری ہوجائے گا۔ بیشک اللہ کے نام کے مقابلے میں کوئی چیز بھاری نہیں (فَلاَ یَثْقُلُ مَعَ اسْمِ اللہِ شَیْءٌ) ۔(سنن الترمذی، حدیث نمبر 2639؛ مسند احمد، حدیث نمبر 6994؛ المجالسۃ وجواہر العلم، حدیث نمبر 2295؛ الشریعۃ للآجری، حدیث نمبر 902؛ المعجم الکبیر للطبرانی، 13/19/30)
اس حدیث میں بتایا گیا ہے کہ اس آدمی کے پاس ایک بطاقہ ہوگا، جس میں لکھا ہوگا: أَشْہَدُ أَنْ لَا إِلَہَ إِلَّا اللَّہُ وَأَشْہَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہُ وَرَسُولُہ ُ ۔ یعنی میں شہادت دیتا ہوں کہ نہیں ہے کوئی معبود سوائے اللہ کے، اور میں شہادت دیتا ہوں کہ محمد اس کے بندے اور اس کے رسول ہیں۔ یہ کلمہ اتنا زیادہ بھاری ہوگا کہ اس کی خطاؤں کا ڈھیر اس کے مقابلے میں کم ہوجائے گا، اور یہ کلمہ بھاری ہوجائے گا۔
مذکورہ حدیث کی مزید وضاحت ایک اور روایت پر غور کرنے سےہوتی ہے۔اس طویل روایت کے متعلق جزء کا ترجمہ یہ ہے:ابوہریرہ سے روایت ہے کہ پیغمبر اسلام اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مرتبہ ان سے کہا کہ میرا جوتا لے کر یہاں سے باہر جاؤ، اور جو شخص تمھیں دل کے یقین کے ساتھ لا الٰہ الّا اللہ کہتا ہوا ملے، اس کو جنت کی بشارت دے دو ( فَمَنْ لَقِیتَ مِنْ وَرَاءِ ہَذَا الْحَائِطَ یَشْہَدُ أَنْ لَا إِلَہَ إِلَّا اللہُ مُسْتَیْقِنًا بِہَا قَلْبُہُ، فَبَشِّرْہُ بِالْجَنَّة) ۔ ابو ہریرہ کہتے ہیں کہ میں جوتا لے کر باہر نکلا تو میری ملاقات سب سے پہلے عمر (ابن الخطاب) ہوئی۔ عمر نے کہا: اے ابوہریرہ ! تمھارے ہاتھ میں یہ جوتے کیسے ہیں ؟ میں نے کہا یہ اللہ کے رسول کے جوتے ہیں۔ آپ نے مجھے یہ پیغام دے کر بھیجا ہے کہ جو مجھے دل کے یقین کے ساتھ اس بات کی گواہی دیتا ہوا ملے کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی معبود نہیں، اس کو جنت کی بشارت دے دوں۔ عمر نے یہ سن کر ہاتھ سے میرے سینے پر زور سے مارا، جس سے میںزمین پر گرپڑا۔ عمر نے کہا: اے ابوہریرہ ! لوٹ جاؤ۔ میں لوٹ کر رسول اللہ کے پاس پہنچا اور میں رو پڑنے کے قریب تھا۔ میرے پیچھے عمر بھی آپہنچے۔ رسول اللہ نے کہا: اے ابوہریرہ ! کیا بات ہے ؟ میں نے کہا: میری ملاقات عمر سے ہوئی، اور جو پیغام آپ نے مجھے دے کر بھیجا تھا میں نے ان کو بتایا۔ انہوں نے میرے سینے پر زور سے مارا، جس سے میں زمین پر گرپڑا ،اور اس نے کہا:واپس جاؤ۔ رسول اللہ نے کہا: اے عمر،تم نے ایسا کیوں کیا ؟ عمر نے کہا: اے اللہ کے رسول ! میرے ماں باپ آپ پر قربان ! کیا آپ نے ابوہریرہ کو اپنے دونوں جوتے دے کر حکم دیا تھا کہ جو شخص دل کے یقین کے ساتھ لا الہ الا اللہ کہے اس کو جنت کی بشارت دے دو۔ آپ نے کہا: ہاں ! عمر نے کہا: آپ ایسا نہ کریں، میں ڈرتا ہوں کہ لوگ اسی پر بھروسہ نہ کرلیں۔ اُن کو چھوڑ دیجیے،عمل کرنے کے لیے(فَلَا تَفْعَلْ، فَإِنِّی أَخْشَى أَنْ یَتَّکِلَ النَّاسُ عَلَیْہَا، فَخَلِّہِمْ یَعْمَلُون)۔ رسول اللہ نے کہا: لوگوں کو چھوڑدو(فَخَلِّہِمْ)۔ صحیح مسلم، حدیث نمبر31۔
دونوں روایتوں پر غور کرنے سے سمجھ میں آتا ہے کہ بطاقے میں جس کلمۂ شہادت کا ذکر ہے، وہ باعتبار الفاظ نہیں ہے، بلکہ وہ باعتبارِ معنی ہے۔ شہادت کا کلمہ باعتبارِ حقیقت بلاشبہ اتنا زیادہ بھاری ہے کہ اس کی وجہ سے پہاڑ پھٹ پڑا، اور پیغمبرموسٰی بیہوش ہوکر گرپڑے (الاعراف، 7:143)۔
مذکورہ روایت میں کسی انسان کا جو بطاقہ نکلا تھا، وہ غالباً معرفت کا بطاقہ تھا۔ اس انسان سےاگرچہ بڑی تعداد میں خطائیں سرزد ہوئی تھیں، لیکن اس پر کوئی وقت ایسا گزرا، جب کہ اس کے اوپر نہایت شدت کے ساتھ خطا کا احساس طاری ہوا۔اس وقت شہادتِ حق کا اعتراف اس کی زبان سے اتنی زیادہ طاقت کے ساتھ نکلا، جو اس کی تمام خطاؤں پر بھاری ہوگیا۔ خطاؤں کے شدید احساس سے اس کا سینہ پھٹ پڑا۔ شہادت کا اعتراف اس کی زبان سے سیلاب بن کر نکل پڑا، جس سے زمین و آسمان دہل اٹھیں۔ غالباً اس کی وہ کیفیت ہوئی ہوگی، جو قرآن میں ان الفاظ میں بیان ہوئی ہے:إِنَّمَا الْمُؤْمِنُونَ الَّذِینَ إِذَا ذُکِرَ اللَّہُ وَجِلَتْ قُلُوبُہُمْ وَإِذَا تُلِیَتْ عَلَیْہِمْ آیَاتُہُ زَادَتْہُمْ إِیمَانًا وَعَلَى رَبِّہِمْ یَتَوَکَّلُونَ (8:2)۔ یعنی ایمان والے تو وہ ہیں کہ جب اللہ کا ذکر کیا جائے تو ان کے دل دہل جائیں اور جب اللہ کی آیتیں ان کے سامنے پڑھی جائیں تو وہ ان کا ایمان بڑھا دیتی ہیں اور وہ اپنے رب پر بھروسہ رکھتے ہیں۔ یہی وہ بطاقہ ہے، جس کا ذکر اوپر کی روایت میں آیا ہے۔ بطاقہ (کارڈ )کا واقعہ غالباً اسی حقیقت کا ایک ڈیمانسٹریشن (demonstration)ہوگا۔
٭ ٭ ٭ ٭ ٭ ٭ ٭
جنت کی دنیا میں انسان کامل آزادی کے ساتھ رہے گا، لیکن وہ اتنا زیادہ پختہ اور اتنا زیادہ با شعور ہوگا کہ وہ کسی بھی حال میںاپنی آزادی کا غلط استعمال نہیں کرے گا۔ وہ پوری طرح آزاد ہوتے ہوئے بھی پوری طرح ڈسپلن میں رہے گا۔یہی وہ انسان ہے جس کے سلیکشن کے لیے موجودہ زمینی سیّارہ بنایا گیا۔
واپس اوپر جائیں

جنت کا معاملہ

علامہ ابن القیم کا ایک قول ہے:فإِنَّہُ لَا نَعِیمَ لَہُ وَلَا لَذَّةَ، وَلَا ابْتِہَاجَ، وَلَا کَمَالَ، إِلَّا بِمَعْرِفَةِ اللَّہِ وَمَحَبَّتِہِ، وَالطُّمَأْنِینَةِ بِذِکْرِہِ، وَالْفَرَحِ وَالِابْتِہَاجِ بِقُرْبِہِ، وَالشَّوْقِ إِلَى لِقَائِہِ، فَہَذِہِ جَنَّتُہُ الْعَاجِلَةُ، کَمَا أَنَّہُ لَا نَعِیمَ لَہُ فِی الْآخِرَةِ، وَلَا فَوْزَ إِلَّا بِجِوَارِہِ فِی دَارِ النَّعِیمِ فِی الْجَنَّةِ الْآجِلَةِ، فَلَہُ جَنَّتَانِ لَا یَدْخُلُ الثَّانِیَةَ مِنْہُمَا إِنْ لَمْ یَدْخُلِ الْأُولَى۔وَسَمِعْتُ شَیْخَ الْإِسْلَامِ ابْنَ تَیْمِیَّةَ قَدَّسَ اللَّہُ رُوحَہُ یَقُولُ: إِنَّ فِی الدُّنْیَا جَنَّةً مَنْ لَمْ یَدْخُلْہَا لَمْ یَدْخُلْ جَنَّةَ الْآخِرَةِ(مدارج السالکین،جلد 1، صفحہ 452)۔ میر ا سوال یہ ہے کہ کیا جو لوگ جنۃ العاجلہ ، یعنی دنیا کی جنت کو پائے، اس کے لیے یقینی ہے کہ وہ آخرت کی جنت بھی پائے گا۔(حافظ سید اقبال احمد عمری، عمر آباد، تامل ناڈو)
میرے نزدیک یہ ایک مشکل سوال ہے۔ اس لیے کہ اگرچہ بظاہر ایک درست بات معلوم ہوتی ہے، لیکن دوسری طرف دیکھا جائے تو اس معاملے کی ایک مختلف تصویر سامنےآتی ہے، اور وہ یہ کہ جنت کے معاملے میں شک کا معاملہ شاید کبھی ختم نہیں ہوگا، جب تک کہ انسان جنت میں عملاً داخل نہ ہوجائے۔ کیوں کہ ایک حدیث ِ رسول ہےکہ تم میں سے کسی کو ہر گز اس کا عمل نجات نہیں دلا سکتا( لَنْ یُنَجِّیَ أَحَدًا مِنْکُمْ عَمَلُہ)۔ لوگوں نے کہا: آپ بھی نہیں، اے خداکے رسول۔ آپ نے کہا: میں بھی نہیں، مگر یہ کہ اللہ نے مجھے اپنی رحمت سے ڈھانک لیا ہے، تو خود کوسیدھے راستے پر رکھو، میانہ روی اختیار کرو، صبح و شام کی عبادت کرو، اور رات کے کچھ حصے میں۔ میانہ روی اختیار کرو، میانہ روی۔ تم مراد کو پہنچ جاؤگے (صحیح البخاری، حدیث نمبر 6463) ۔
یہ معاملہ ایک بے حد نازک معاملہ ہے، چنانچہ میں نے اپنی ایک کتاب میں اس طرح لکھا ہے: یہ محبت اور خوف کا ایک ایسا مقام ہے، جس میں آدمی جس سے ڈرتا ہے، اسی کی طرف بھاگتا ہے، جس سے چھننے کا خطرہ محسوس کرتا ہے، اسی سے پانے کی بھی امید رکھتا ہے۔ یہ ایک ایسا اضطراب ہے، جو سراپااطمینان ہے، اور ایسا اطمینان ہے، جو سراپا اضطراب ہے۔
واپس اوپر جائیں

رزق کا معاملہ

قرآن کی ایک آیت ان الفاظ میں آئی ہے:وَمَا تَدْرِیْ نَفْسٌ مَّاذَا تَکْسِبُ غَدًا وَمَا تَدْرِیْ نَفْسٌۢ بِاَیِّ اَرْضٍ تَمُوْتُ (31:34)۔ یعنی اور کوئی شخص نہیں جانتا کہ کل وہ کیا کمائی کرے گا، اور کوئی شخص نہیں جانتا کہ وہ کس زمین میں مرے گا۔ اسی بات کو ایک حدیث میں ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے:إنَّ جِبْرِیلَ عَلَیْہِ السَّلَامُ أَلْقَى فِی رُوعِیَ أَنَّ أَحَدًا مِنْکُمْ لَنْ یَخْرُجَ مِنَ الدُّنْیَا حَتَّى یَسْتَکْمِلَ رِزْقَہُ، فَاتَّقُوا اللَّہَ أَیُّہَا النَّاسُ، وَأَجْمِلُوا فِی الطَّلَبِ(مستدرک الحاکم، حدیث نمبر2136) ۔ یعنی جبریل نے میرے دل میں یہ بات ڈالی کہ تم میں سے کوئی اس دنیا سے ہرگز نہیں جاسکتا، یہاں تک کہ وہ اپنے رزق کو مکمل کردے، اے لوگو، اللہ کا تقویٰ اختیار کرو، اور طلب میں خوبصورتی پیدا کرو۔
قرآن کی اس آیت اور اس حدیثِ رسول کا مطالعہ کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ انسان کی معاش کا معاملہ خالق کی طرف سے طے ہوتا ہے، نہ کہ انسان کے باپ کی طرف سے۔ موجودہ زمانہ اس معاملے کا ایک مظاہرہ (demonstration) ہے۔ موجودہ زمانے میں تقریباً ہر جگہ یہ منظر دکھائی دے رہا ہے کہ باپ اندھا دھند کماتا ہے۔ اس کا یہ کمانا، اور گھر بنانا ، اس لیے ہوتا ہے کہ اس کے بچے اس کے اندر آرام کی زندگی گزاریں۔ لیکن ہر ایک کے ساتھ یہ واقعہ پیش آتا ہے کہ باپ کی بنائی ہوئی دنیا میں رہنا، ان کو نصیب نہیں ہوتا۔ وہ عملاً اس دنیا میں جیتا اور مرتا ہے، جو اس نے خود بنائی تھی۔ گہرائی کے ساتھ دیکھا جائے تو صرف ایک نسل میں زندگی کا سارا نقشہ بدل جاتا ہے۔ باپ نے کچھ چاہا تھا، اور عملاً کچھ اور ہوا۔
اس عام تجربے سے معلوم ہوتا ہے کہ باپ کا کام یہ نہیں ہے کہ وہ رازق بننے کی کوشش کرے۔ باپ کا کام صرف یہ ہے کہ وہ اپنی اولاد کو زندگی کا شعور دے۔وہ اپنی اولاد کو رازِ حیات بتائے۔ وہ اپنی اولاد کو خالق کا تخلیقی نقشہ بتائے، نہ یہ کہ یہ وہ خود خالق کی سیٹ پر بیٹھ جائے۔ باپ کچھ بھی کرے، لیکن عملاً وہی ہوگا، جو خالق نے مقدر کیا ہے۔
واپس اوپر جائیں

حکومتِ الٰہیہ یا حکومتِ انسانیہ

اگر آپ دنیا میں حکومت ِ الٰہیہ قائم کرنے کی تحریک چلائیں، تو اپنی حقیقت کے اعتبار سے وہ حکومت الٰہیہ نہیں ہوگی، بلکہ وہ حکومتِ الٰہیہ کے نام پر انسانی حکومت قائم کرنے کی تحریک ہوگی۔ یہ دنیا پوری کی پوری حکومت ِ الٰہیہ کی دنیا ہے۔ قرآن میں بار بار یہ بات کہی گئی ہے کہ زمین و آسمان کا خالق صرف ایک اللہ ہے، اور اسی کے ہاتھ میں پوری کائنات کا اقتدار ہے۔
اس قسم کی ایک آیت وہ ہے، جس کو آیت الکرسی (البقرۃ، 2:255)کہا جاتا ہے۔ آیت الکرسی گویا اسی حاکم مطلق کاشاہانہ منشور ہے۔ اس منشور میں کائنات کے مقتدرِ اعلی کی طرف سے یہ اعلان کیا گیا ہے :وَسِعَ کُرْسِیُّہُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضُ (2:255)۔ یعنی اس کی حکومت آسمانوں اور زمین پر چھائی ہوئی ہے:
His throne extends over the heavens and the earth.
یہ کائنات پوری کی پوری حکومتِ الٰہیہ کی کائنات ہے۔ پورے زمین و آسمان میں اسی ایک اللہ کی حکومت ہے۔ اس حکومت میں کوئی اس کا شریک نہیں۔انسان کے لیے جائز حکومت کی صرف ایک صورت ہے ۔ وہ یہ کہ وہ محدود معنٰی میں انتظامیہ (administration) ہو، نہ کہ معروف سیاسی تصور کے مطابق، ایک بااقتدار حکومت۔
دنیا میں انسان کو اگر حکومت ملتی ہے، تو وہ بطور امتحان (test) ہے۔ دنیا میں اگر کوئی انسانی حکومت قائم ہوتی ہے ، تو وہ بطور ٹیسٹ ہے(الانعام، 6:165)۔ یہ امتحانی دور صرف قیامت تک کے لیے ہے۔ اس کے بعد اللہ تعالی حکومتِ انسانی کے اس دور کو ختم کردے گا۔ اس حقیقت کا اعلان ایک حدیث میں کیا گیا ہے۔ اس حدیث کا ترجمہ یہ ہے: قیامت کے دن اللہ زمین کو مٹھی میں لے لے گا، اور آسمان کو اپنے دائیں ہاتھ میں لپیٹ لے گا، پھر کہے گا، میں بادشاہ ہوں، کہاں ہیں زمین کے بادشاہ (صحیح مسلم، حدیث نمبر 2787)۔
واپس اوپر جائیں

حکم صرف اللہ کا

قرآن کی ایک آیت ان الفاظ میں آئی ہے:إِنِ الْحُکْمُ إِلَّا لِلَّہِ أَمَرَ أَلَّا تَعْبُدُوا إِلَّا إِیَّاہُ (12:40)۔ یعنی اقتدار صرف اللہ کے لیے ہے۔ اس نے حکم دیا ہے کہ اس کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو۔ قرآن کی اس آیت میں جس حکم کا ذکر ہے، وہ ایک عبادتی حکم ہے، وہ کوئی سیاسی حکم نہیں ہے۔ یعنی اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ خدا کی حکومت بزور ساری دنیا میں قائم کرو۔ بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ خود اپنے آپ کو کامل معنوں میں اللہ کا عبادت گزار بناؤ۔
قرآن کی یہ آیت بتاتی ہے کہ ایک فرد دنیا میں کس طرح رہے۔ اللہ کی عبادت گزاری کا عمل اللہ کی معرفت سے شروع ہوتا ہے۔ انسان پہلے غور و فکر کے ذریعے اللہ رب العالمین کو معرفت کے درجے میں دریافت (discover) کرتا ہے۔ وہ مخلوقات کی دنیا میں خالق کی کارفرمائی کا شعوری علم حاصل کرتا ہے۔ وہ اپنے وجود سے لے کر خارجی دنیا تک ہر جگہ خالق کی کارفرمائی کو دیکھتا ہے۔ وہ دریافت کرتا ہے کہ اس دنیا میں وہ محکوم ہے، وہ حاکم نہیں ہے۔ اس کے لیے حقیقت پسند رویہ صرف سبمیشن (submission) ہے، یعنی وہ اپنے آپ کو اللہ رب العالمین کے سامنے سرینڈر (surrender)کرے۔ وہ بظاہر با اختیار ہونے کے باوجود اللہ کے سامنے بے اختیار ہوکر جھک جائے۔
اسی کا نام معرفت ہے۔دینِ خداوندی کا آغاز معرفت سے ہوتا ہے۔ انسان پہلے اپنی عقل کو استعمال کرکے اللہ رب العالمین کو دریافت کرتا ہے، اور اس کے بعد اس کے تقاضے کے طور پر وہ اللہ رب العالمین کا تابعدار بنتا ہے۔ اس کی سوچ ،اس کا شعور، اس کے جذبات، سب اللہ کے آگے جھک جاتے ہیں۔ وہ سب سے زیادہ اللہ سے محبت کرنے والا بن جاتا ہے۔ اس کا سول کنسرن (sole concern) صرف اللہ رب العالمین بن جاتا ہے۔ جب کوئی شخص اس طرح عبادت کلچر میں ڈھل جائے، تو وہی وہ انسان ہے، جس کو قرآن میں ربانی انسان کہا گیاہے (آل عمران، 3:79)۔
واپس اوپر جائیں

خدا اور انسان

تخلیق کا یہ عجیب معاملہ ہے کہ تخلیق کے واقعات ہر جگہ دکھائی دیتے ہیں، لیکن خالق مکمل طور پر ناقابلِ مشاہدہ ہے۔انسان جب پیدا ہوتا ہے تو وہ شعوری یا غیر شعوری طور پر اپنے خالق کی تلاش میں رہتا ہے، جس طرح کوئی بچہ اپنی گم شدہ ماں کی تلاش میں رہتا ہے۔ لیکن ساری عمر تلاش کرنے کے باوجود انسان اپنے خالق سے بے خبر رہتا ہے۔ وہ اپنے ماں باپ کو جانتا ہے، لیکن وہ اپنے خالق کو نہیں جانتا ۔ اس حقیقت کوفانی بدایونی (1879-1961) نے اس عارفانہ شعر میں بیان کیا ہے:
مجھے بلا کے یہاں آپ چھپ گیا کوئی میں وہ مہماں ہوں، جسے میزباں نہیں ملتا
انسان اگر اپنے خالق کو دیکھ لے، تو وہ اپنے خالق کو اس سے زیادہ مانے گا، جتنا وہ اپنے ماں باپ کو مانتا ہے۔ مگر ایسا نہیں ہوتا۔ اِس کا سبب کیا ہے۔ غالباً خالق چاہتا ہے کہ وہ اپنے بندے کو ایک سرپرائز (surprise) دے۔ وہ اچانک اپنے بندے کے سامنے ظاہر ہو۔ خدا یہ چاہتا ہے کہ وہ اپنے بندے کو ایک ناقابلِ بیان استعجاب (sense of awe) کا تجربہ کرائے۔ خدا یہ چاہتا ہے کہ وہ اپنے بندے کو سب سے بڑی خوشی کا تحفہ دے۔ وہ چاہتا ہے کہ بندہ جب اپنے خدا کو پائے تو وہ اس کے لیے سادہ طور پر صرف پانا نہ ہو، بلکہ وہ اس کے لیے حیرت ناک خوشی کا ایک ایسا تجربہ ہو، جس کو کسی انسان نے نہ دیکھا، اور نہ سنا، اور نہ کسی انسان کے دل پر اس کا تصور گزرا۔
تاہم یہ پر استعجاب تجربہ صرف اس انسان کے حصے میں آئے گا، جو اپنے رب کا سچا متلاشی بنا ہو۔جس کا جینا اور مرنا اپنے رب کے لیے ہو۔جس کی راتیں اور دن اس کی یاد میں بسر ہوں، اور اس کے انتظار میں گزرے ہوں۔ جس نے خدا کو اس طرح تلاش کیا، جس طرح کوئی چھوٹا بچہ اپنی ماں کو اس وقت تلاش کرتا ہے، جب کہ وہ کسی بھیڑ میں اس سے بچھڑ گئی ہو۔ خدا کو پانے کی خوشی اس انسان کے لیے مقدر ہے، جو موجودہ دنیا میں حقیقی معنوں میں خدا کا متلاشی (seeker) بن کر رہا ہے۔ جو لوگ خدا کی یاد میں تڑپے ہوں، وہی وہ لوگ ہیں، جو خدا کو پانے کی خوشی میں حصے دار بنیں گے۔
واپس اوپر جائیں

معرفتِ الٰہی

معرفت کیا ہے۔ معرفت یہ ہے کہ ایک انسان غور و فکر کے ذریعے یہ جان لے کہ اس دنیا کا ایک خالق (Creator) ہے۔ وہ خالق ایک زندہ ہستی ہے۔ وہ کائنات میں اسی طرح موجود ہے، جس طرح سورج ایک روشن حقیقت کے طور پر موجود ہے۔ اس دریافت کے مطابق، خدا صرف ایک عقیدہ نہیں ہے، بلکہ وہ ایک زندہ حقیقت ہے۔ وہ ایک صاحبِ اقتدار ہستی ہے۔ اس حقیقت کو قرآن میں ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہےکہ وَسِعَ کُرْسِیُّہُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْض (2:255):
His throne extends over the heavens and the earth
مومن (believer) کے اندر خدا کا وجود اس طرح ایک زندہ حقیقت کے طور پر ہونا چاہیے کہ خدا کے تصور سے اس کی وہ حالت ہوجائے، جس کو قرآن میں ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے: إِنَّمَا الْمُؤْمِنُونَ الَّذِینَ إِذَا ذُکِرَ اللَّہُ وَجِلَتْ قُلُوبُہُمْ وَإِذَا تُلِیَتْ عَلَیْہِمْ آیَاتُہُ زَادَتْہُمْ إِیمَانًا(8:2)۔ یعنی ایمان والے تو وہ ہیں کہ جب اللہ کا ذکر کیا جائے تو ان کے دل دہل جائیں اور جب اللہ کی آیتیں ان کے سامنے پڑھی جائیں تو وہ ان کا ایمان بڑھا دیتی ہیں :
True believers are those whose hearts tremble with awe at the mention of God, and whose faith grows stronger as they listen to His revelations.
انسان اس دنیا میں اپنے آپ کو ایک زندہ وجود کے طور پر پاتا ہے۔ اسی طرح اس کو زیادہ برتر معنوں میں اس حقیقت کا ادراک ہونا چاہیے کہ یہاں اسی طرح ایک اورزیادہ برتر ہستی موجود ہے۔ اس کو زندہ خدا کا اتنا زیادہ یقین ہونا چاہیے کہ اس کو بالفرض اپنے آپ پر شک ہو، تو ہو، لیکن اللہ رب العالمین کے وجود پر ادنی درجے میں بھی اس کے اندر کوئی شک پایا نہ جائے۔ اس کو اس بات کازندہ یقین ہو کہ وہ ہر لمحہ اللہ کی پکڑ میں ہے۔ یہ یقین و ایمان کسی کو غور و فکر کے ذریعے حاصل ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ یقین کے لیےکوئی دوسرا ذریعہ نہیں۔
واپس اوپر جائیں

امت کی حالت ِزار

آج کل تمام دنیا میں مسلمانوں کی سوچ یہ ہے کہ وہ امتِ مسلمہ کی حالت ِزار کو بیان کرتے ہیں، اورپھر یہ اعلان کرتے ہیں کہ فلاں دشمنِ اسلام طاقت اس کی ذمہ دار ہے۔ مسلمانوں کے لکھنے اور بولنے والے تقریباً سب کے سب یہی بولی بولتے ہیں اور یہی بات لکھتے ہیں۔ حالت ِزار کا یہ تصور اگر درست ہے تو قرآن و سنت کے مطابق، مسلم مقرر اور محرر کو یہ کرنا چاہیے کہ وہ یہ دریافت کریں کہ امتِ مسلمہ سے خدا کی نصرت کیوں اٹھ گئی۔ اس معاملے میں کسی دشمن کا انکشاف کرنا، یقینی طور پر خلافِ اسلام فعل ہے۔
اس نقطۂ نظر کی تائیدمیں بہت سےواضح نصوص موجود ہیں۔ مثلاً قرآن کی اس آیت پر غور کیجیے: یَاأَیُّہَا الَّذِینَ آمَنُوا عَلَیْکُمْ أَنْفُسَکُمْ لَا یَضُرُّکُمْ مَنْ ضَلَّ إِذَا اہْتَدَیْتُمْ (5:105)۔ یعنی اے ایمان والو، تم پر لازم ہے کہ تم اپنی فکر کرو ۔ کوئی گمراہ ہوا تو اس سے تمہارا کچھ نقصان نہیں اگر تم ہدایت پر ہو۔اس آیت کے مطابق مسلمانوں کو چاہیے کہ جب بھی ان کی زندگی میں کوئی مسئلہ پیدا ہو تو اس کا سبب خود اپنے اندر تلاش کریں، کسی دوسرے پر اپنے مسئلے کی ذمہ داری ڈالنے کی کوشش نہ کریں۔
یہ رب العالمین کی قائم کردہ فطرت کا اٹل قانون ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ سبب ہمیشہ آدمی کے اندر ہوتا ہے، نہ کہ اس کے باہر۔ جو لوگ ایسا کریں کہ وہ اپنے باہر سبب ڈھونڈ کر اس کو برا بتائیںیا اس کے خلاف لڑائی چھیڑیں، تو ایسا طریقہ ان کو کوئی فائدہ دینے والا نہیں۔ کیوں کہ اصل سبب تو اندر ہے، اور وہ باہر کے کسی مفروضہ دشمن پر ساری ذمہ داری ڈال رہے ہیں۔ یہ طریقہ خداکی دنیا میں کبھی کارآمد ہونے والا نہیں۔
تشخیص (diagnosis) اگر صحیح ہو تو اس کی بنیاد پر کی ہوئی تجویز (prescription) مفید ہوتی ہے۔ اس کے برعکس اگر تشخیص درست نہ ہو تو اس کی بنیاد پر جو تجویز کی جائے گی، وہ بھی بے اثر ثابت ہوگی۔ یہ ایک اٹل اصول ہے، اور اس اصول میں کوئی استثنا نہیں۔
واپس اوپر جائیں

امت میں قتال

پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشین گوئیوں میں سے ایک پیشین گوئی یہ ہے کہ بعد کے زمانے میں امت کے اندر قتال کا کلچر جاری ہوجائےگا، اور قتال کا یہ کلچر قیامت تک جاری رہے گا۔ یہ روایت حدیث کی مختلف کتابوں میں آئی ہے۔ ایک روایت کے الفاظ یہ ہیں:إِذَا وُضِعَ السَّیْفُ فِی أُمَّتِی لَمْ یُرْفَعْ عَنْہَا إِلَى یَوْمِ الْقِیَامَةِ (سنن ابو داؤد، حدیث نمبر4252)۔یعنی جب میری امت میں تلوار رکھ دی جائے گی تو وہ اس سے قیامت تک نہیں اٹھائی جائے گی۔
امت کے بارے میں یہ حدیث ایک پیشین گوئی کے طور پر آئی ہے۔ اس لحاظ سے امتِ مسلمہ کے بعد کے تاریخی واقعات کی بنیاد پر اس حدیث کی تشریح کی جائے گی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جس وقت یہ بات کہی ، اس وقت اس کا مصداق موجود نہ تھا۔ یہ مصداق آپ کے بعد امت کے اندر پیدا ہوا۔ اس لیے اس حدیث کی تشریح کا صحیح طریقہ یہ ہے کہ امت کے بعد کے زمانے میں اس کا مصداق تلاش کیا جائے، اور پھر اس کی روشنی میں اس حدیث کی شرح کی جائے۔
اب دیکھیے کہ قرآن میں قتال کا حکم کس سیاق (context) میں آیا ہے۔ یہ بات قرآن کی اس آیت سے معلوم ہوتی ہے:وَقَاتِلُوہُمْ حَتَّى لَا تَکُونَ فِتْنَةٌ وَیَکُونَ الدِّینُ کُلُّہُ لِلَّہِ (8:39)۔ یعنی اور ان سے جنگ کرو، یہاں تک کہ فتنہ باقی نہ رہے، اور دین سب اللہ کے لیے ہوجائے۔قرآن کی اس آیت میں قتال کا حکم بھی ہے، اور یہ بھی ہے کہ یہ قتال کب تک جاری رکھنا ہے۔ اس آیت میں فتنہ کا لفظ استعمال ہوا ہے۔ فتنہ کا لفظی مطلب ہے، سونے کو آگ میں ڈال کر تپانا ۔ اسی سے اس لفظ کو ستانے کے مفہوم میں استعمال کیا جانے لگا۔ قرآن کی اس آیت میں فتنہ کا لفظ مذہبی ایذا رسانی (religious persecution)کے معنی میں آیا ہے۔
پیغمبرِ اسلام سے پہلے دنیا میں مذہبی رواداری (religious tolerance) کا وجود نہ تھا۔ اس زمانے میں غالب گروہ کے خلاف مذہب اختیار کرنے والے کو مذہبی ایذا رسانی کا شکار بنایا جاتاتھا۔ یہ کلچر خالق کے تخلیقی نقشے (creation plan) کے خلاف تھا۔ چنانچہ رسول اور اصحابِ رسول کو یہ حکم دیا گیا کہ مذہبی ایذا رسانی (فتنہ) کے خلاف جنگ کرکے اس کو ختم کردو۔ تاکہ تخلیقی نقشہ کے مطابق دنیا میںمذہبی آزادی کا دور آجائے۔
پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کا زمانہ ساتویں صدی عیسوی کے رُبعِ اول کا زمانہ ہے۔ اس وقت جب رسول نے مذہبِ توحید کا مشن شروع کیا تو وہ لوگ آپ کے خلاف ہوگئے، جو مذہبِ شرک پر قائم تھے۔ انھوں نے آپ کے خلاف تشدد اور جنگ کا طریقہ اختیار کیا۔ اس طرح دونوں گروہوں کے درمیان ٹکراؤ ہوا، جو آخر کار یہاں تک پہنچا کہ مذہبی ایذا رسانی کا دور ہمیشہ کے لیے ختم ہوگیا۔ ساتویں صدی عیسوی سے اب تک کی تاریخ بتاتی ہےکہ مذہب کے نام پر ایذا رسانی کا دور اس طرح ختم ہوا کہ وہ دوبارہ عمومی کلچر کے طور پر دنیا میں رائج نہ ہوسکا۔
اس سے معلوم ہوا کہ اسلام میں قتال (جنگ) کا حکم ایک عارضی(temporary) سبب سے تھا۔ جب یہ سبب ختم ہوجائے تو قتال کا حکم بھی عملاً موقوف ہوجائے گا۔ یہی اسلام کی تاریخ میں پیش آیا۔ اسلام کے ابتدائی دور میں ، ماضی کے تسلسل کے تحت جنگ کی صورت پیش آئی ۔ مگر جنگ کا یہ حکم عارضی تھا۔ قرآن کے الفاظ میں جب محاربین اپنا اوزار رکھ دیں(محمد، 47:4)، تو جنگ کا خاتمہ ہوگیا، اور اس کے بعد وہ اصل کام شروع ہوگیا جو اسلام کا مستقل حکم تھا، یعنی دعوت الی اللہ۔ اس کے بعد انیسویں صدی کا زمانہ جب شروع ہوا تو یہ زمانہ حقیقت میں جنگ سے بیزاری اور مذہبی آزادی کو بطور نارم (norm)ماننے کا زمانہ تھا، مگر مسلمانوں نے دوبارہ ایک جنگ شروع کردی۔ بظاہر یہی وہ جنگ ہے جس کا اشارہ بطور پیشین گوئی مذکورہ بالا حدیث ِرسول میں کیا گیا تھا۔ اور اس پیشین گوئی کے مطابق، بظاہر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اس جنگ کا خاتمہ ہونے والا نہیں۔ یہاں تک کہ قیامت آجائے اور خود دنیا کا خاتمہ ہوجائے۔
امت میں یہ دوسرے دور کا جو قتال وجود میں آیا، اس کاکوئی تعلق قرآن کے حکمِ قتال (الانفال، 8:39) سے نہیں ہے۔ یہ خود ساختہ نظریے کے تحت وجود میں آیا ہے۔ قرآن میں قتال کا حکم ختمِ فتنہ (الانفال ، 8:39) کے لیے تھا۔ اس کے برعکس، بعد کے زمانے میں جو قتال امت میں جاری ہوا، وہ مسلم رہنماؤں کے بیان کے مطابق ختم اعدا(to finish the enemies) کے لیے ہے۔ مگر ختم اعدا کے لیے جنگ کرنے کا کوئی تصور اسلام میں نہیں ۔
قرآن کی صراحت کے مطابق، عداوت جنگ کا اشو نہیں ہے، بلکہ وہ دعوت کا اشو ہے۔ مسلمانوں کو اگر کوئی شخص یا گروہ بظاہر دشمن دکھائی دے تو اس سے وہ لڑائی نہیں چھیڑ سکتے۔ ان کو صرف یہ کرنا ہے کہ وہ اس پر پرامن انداز میں دعوت الی اللہ کا کام کریں۔یہ حکم قرآن کی ایک آیت سے نہایت واضح طور پر معلوم ہوتا ہے:وَلَا تَسْتَوِی الْحَسَنَةُ وَلَا السَّیِّئَةُ ادْفَعْ بِالَّتِی ہِیَ أَحْسَنُ فَإِذَا الَّذِی بَیْنَکَ وَبَیْنَہُ عَدَاوَةٌ کَأَنَّہُ وَلِیٌّ حَمِیمٌ (41:34)۔ یعنی بھلائی اور برائی دونوں برابر نہیں، تم جواب میں وہ کہو جو اس سے بہتر ہو پھر تم دیکھو گے کہ تم میں اور جس میں دشمنی تھی، وہ ایسا ہوگیا جیسے کوئی دوست قرابت والا۔
موجودہ زمانے میں مسلمان دشمنانِ اسلام کے نام سے جو مسلّح جنگ چھیڑے ہوئے ہیں، وہ ہرگز قرآن یا اسلام کے مطابق نہیں ہے۔ یہ مسلمانوں کے اپنے خودساختہ جواز (self-styled justification) کی بنیاد پر ہے۔ یہ لوگ قرآن و حدیث کی غلط تشریح کے ذریعے اس کو درست ثابت کررہے ہیں۔ یہ طریقہ غلطی پر سرکشی کا اضافہ ہے۔
اسی غلط توجیہات کی بنیاد پر ہم یہ دیکھ رہے ہیں کہ ان متشددانہ کوششوں کا انجام بالکل برعکس صورت میںنکل رہا ہے۔ مسلمان مسلسل طور پر ذلت آمیز شکست کا تجربہ کررہے ہیں۔ ان کوششوں کا بے نتیجہ ہونا، بلکہ کاؤنٹر پروڈکٹیو (counter-productive) ثابت ہونا اس بات کا ثبوت ہے کہ وہ اللہ کی مرضی کے مطابق نہیں۔ کیوں کہ قرآن میں بار بار یہ وعدہ کیا گیا ہے کہ اگر تم اللہ کے راستے میں کوشش کروگے تو تمہاری کوشش اللہ کی نصرت سے ضرور کامیاب ہوگی۔ اس یقین دہانی کے باوجود مسلمانوں کا ناکام ہونا، اس بات کا ثبوت ہے کہ وہ غلطی پر ہیں، اور غلطی کرنے والے کے لیے توبہ ہے، نہ کہ اپنی غلطی کو مزید جاری رکھنا۔
واپس اوپر جائیں

صلح پہلا آپشن

ایک حدیث رسول ان الفاظ میں آئی ہے:عَنْ عَلِیِّ بْنِ أَبِی طَالِبٍ، قَالَ:قَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّى اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ:إِنَّہُ سَیَکُونُ بَعْدِی اخْتِلافٌ، أَوْ أَمْرٌ، فَإِنِ اسْتَطَعْتَ أَنْ تَکُونَ السِّلْمَ، فَافْعَلْ (مسند احمد، حدیث نمبر695)۔یعنی علی ابن ابی طالب سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میرے بعدعنقریب امت میں اختلافات ہوں گے،یا کچھ معاملات پیش آئیں گے۔ اگر تمہارے لیے ممکن ہو کہ تم صلح کو اختیار کرو، تو ضرور ایسا کرو۔
اس حدیث ِرسول میں بتایا گیا ہے کہ جب اختلاف پیدا ہو تو اس وقت دانش مند آدمی کے لیے پہلا آپشن (option) کیا ہوتا ہے۔ وہ یہ کہ فریقِ ثانی کی شرطوں کو قبول کرتے ہوئے اس سے صلح کرلی جائے۔ اس کا سبب یہ ہے کہ اجتماعی اختلافات کبھی معیار (ideal) کی بنیاد پر طے نہیں ہوتے۔ اختلاف کے معاملے میں انتخاب (option) دو بہتر کے درمیان نہیں ہوتا، بلکہ چھوٹے شر (lesser evil)اور بڑے شر (greater evil)کے درمیان ہوتا ہے۔ اگر آدمی چھوٹے شر پر راضی نہ ہو تو اس کے بعد اس کو جس چیز پر راضی ہونا پڑتا ہے، وہ بڑا شر ہے۔اسی کو حضرت عمر نے خیر الشرین کہا ہے۔
دانش مند آدمی وہ ہےجو صلح کو بڑی چیز سمجھے، نہ کہ اپنے مفروضہ آئڈیل کو ۔ آدمی کو جاننا چاہیے کہ اجتماعی معاملات میں ہمیشہ صرف ایک چیز قابلِ عمل (workable) ہوتی ہے، اور وہ پریکٹکل وزڈم (practical wisdom) ہے، نہ کہ آئڈیل وزڈم (ideal wisdom)۔ آئڈیل وزڈم وہ ہے جو اعلیٰ اصول کے مطابق درست نظر آئے۔ اس کے برعکس پریکٹکل وزڈم وہ ہے، جو عملی طور پر قابل حصول ہو۔ موجودہ دنیا میں ہر انسان کو آزادی حاصل ہے، مگر آئڈیل وزڈم اس دنیا میں قابلِ حصول نہیں ، بلکہ اس دنیا میں جو چیز قابلِ حصول ہے، وہ صرف پریکٹکل وزڈم ہے۔ اسی حقیقت کو جاننے کا نام دانش مندی ہے، اور اس حقیقت سے بے خبری کا نام بے دانشی۔
واپس اوپر جائیں

تقویٰ بقدرِ استطاعت

قرآن کی ایک آیت کا ایک جزءیہ ہے: فَاتَّقُوا اللَّہَ مَا اسْتَطَعْتُمْ(64:16)۔ یعنی پس تم اللہ کا تقویٰ اختیار کرو، جہاں تک ہوسکے۔ اتقوا للہ کا مطلب یہ نہیں ہے کہ بطور حکم اللہ سے ڈرو، بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ سے ڈرنے والے بنو۔تفکر و تدبر کے ذریعے اپنے ذہن کو اس طرح تیار کرو کہ وہ بطور مزاج اللہ سے اندیشہ رکھنے والا بن جائے۔ تقویٰ کسی آدمی کے اندر تربیت کے ذریعے آتا ہے، تقویٰ کوئی ایسی چیز نہیں ، جو خود بخود آدمی کے اندر بطور عطیہ موجود ہو۔ اس حقیقت کو ملحوظ رکھتے ہوئے غورکیجیے تو آیت کا مطلب یہ سمجھ میں آئے گا کہ اپنے آپ کو تقویٰ کے لیے تیار کرو۔ اپنی سوچ کو متّقیانہ سوچ بناؤ۔ اپنے مزاج کو متقیانہ مزاج بناؤ۔ اپنے آپ کو تربیت دے کر ایسا بناؤ کہ تم ہر صورتِ حال میں مثبت رسپانس (positive response) دینے والے بن سکو۔ تقویٰ ایک حاصل کردہ صفت ہے، تقویٰ کوئی ایسی صفت نہیں، جو انسان کو اپنے آپ مل جائے۔
مثال کے طور پر قرآن کی ایک آیت یہ ہے: یَاأَیُّہَا الَّذِینَ آمَنُوا کُونُوا قَوَّامِینَ لِلَّہِ شُہَدَاءَ بِالْقِسْطِ وَلَا یَجْرِمَنَّکُمْ شَنَآنُ قَوْمٍ عَلَى أَلَّا تَعْدِلُوا اعْدِلُوا ہُوَ أَقْرَبُ لِلتَّقْوَى (5:8)۔ اس آیت کا مطلب یہ ہے کہ کوئی قوم آپ کے ساتھ دشمنی کا معاملہ کرے تو ایسے موقعے پر عدل کی روش پر قائم رہنا، یہ تقویٰ ہے۔ اس قسم کا تقویٰ کب پیدا ہوتا ہے۔ وہ اس وقت پیدا ہوتا ہے، جب کہ آدمی کا ذہن اتنا زیادہ تربیت یافتہ ہو کہ وہ ایسا نہ کرے کہ پیش آنے والے واقعے پر بھڑک اٹھے، بلکہ وہ اپنے آپ کو ردّعمل سے بچائے، وہ بے لاگ (objective) انداز میں سوچے کہ میرے ساتھ جو کیا گیا ہے، وہ جوابی کارروائی (retaliation) کی بنا پر تو نہیں۔ اگر ایسا ہے تو ایک متقی انسان خود اپنے آپ کو ذمے دار ٹھہرائے گا۔ وہ سوچے گا کہ آئندہ مجھے ایسی روش سے اپنے آپ کو بچانا ہے، جو فریقِ مخالف کے اندر جوابی ذہن پیدا کرےکہ وہ انتقامی ذہن کے ساتھ میرے خلاف کارروائی کرنے لگے۔ اس لیے مجھے ایسا نہیں کرناہے کہ میں جوابی ذہن کے تحت بھڑک اٹھوں، اور جو غلطی میری ہے، اس کا الزام دوسرے کو دینا شروع کردوں۔
یہ تقویٰ یا متقیانہ روش ہے۔ اس قسم کا تقویٰ کسی آدمی کے اندر فوری طور پر ایک بٹن دباکر پیدا نہیں ہوتا۔انسان کو اپنے آپ کو تربیت دے کر اس قسم کی متقیانہ روش کے لیے تیار کرنا پڑتا ہے۔ اس لیے آیت کا یہ لفظ کہ متقیانہ روش پر قائم رہو، کا مطلب یہ ہے کہ متقیانہ روش کے لیے اپنے آپ کو تیار کرو۔ اپنے ذہن کو منفی ذہن بننے سے بچاؤ، اپنے ذہن میں شکایتی نفسیات پیدا نہ ہونے دو۔ عقلی غور و فکر کے ذریعے اس حقیقت کو دریافت کرو کہ جو معاملہ پیش آتا ہے، وہ یک طرفہ سبب سے نہیں پیش آتا۔ اس کا سبب ہمیشہ دو طرفہ ہوتا ہے۔ اس لیے تقویٰ یہ ہے کہ آدمی اپنی جانب کی غلطی سے خود کو بچائے۔ گویا تقویٰ محاسبۂ خویش کا ایک مثبت نتیجہ ہے۔
تقویٰ اس طرح اچانک نہیں پیدا ہوتا کہ اب تک آپ کا ذہن ایک سوئچ (switch) کے تحت کام کررہا تھا،اب آپ اپنی انگلی کے ذریعے دوسرے سوئچ کو دبادیں ، اور آپ کے اندر متقیانہ روش پیدا ہوجائے۔ تقوی ایک تھنکنگ پراسس (thinking process) کا نتیجہ ہے۔ جس آدمی نے اپنے اندر یہ پراسس جاری نہ کیا ہو، اس کے اندر تقویٰ بھی پیدا نہیں ہوگا۔
فاتَّقُوا اللَّہَ مَا اسْتَطَعْتُم کا مطلب یہ ہے — اخلاص کے ساتھ تم جتنا زیادہ اپنے آپ کو تقویٰ کے لیے تیار کرو گے، اللہ تعالی اس کو قبول فرمائے گا، اور مزید کی توفیق دے گا۔ تقویٰ کوئی جامد چیز نہیں ہے۔ تقویٰ ایک ارتقا پذیر صفت ہے۔ تقویٰ ایک درخت کی مانند ہے۔ تقویٰ کا درخت آدمی خود اپنے اندر لگاتا ہے۔ اس کے بعد اخلاص کے بقدر مزید اس کو توفیق حاصل ہوتی ہے، اور پھر اللہ کی توفیق سے یہ درخت بڑھتا رہتا ہے، یہاں تک کہ اس کا معاملہ وہ ہوجاتا ہے، جوقرآن میں ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے: أَلَمْ تَرَ کَیْفَ ضَرَبَ اللَّہُ مَثَلًا کَلِمَةً طَیِّبَةً کَشَجَرَةٍ طَیِّبَةٍ أَصْلُہَا ثَابِتٌ وَفَرْعُہَا فِی السَّمَاءِ ۔تُؤْتِی أُکُلَہَا کُلَّ حِینٍ بِإِذْنِ رَبِّہَا وَیَضْرِبُ اللَّہُ الْأَمْثَالَ لِلنَّاسِ لَعَلَّہُمْ یَتَذَکَّرُونَ (14:24-25)۔ وہ ہر وقت پر اپنا پھل دیتا ہے اپنے رب کے حکم سے— اس کا مطلب یہ ہے کہ جس درجے کی متقیانہ شخصیت ، اسی درجے کا متقیانہ کردار۔
واپس اوپر جائیں

والرُجز فاھجر

پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے 610 عیسوی میں مکہ میں اپنے مشن کا آغاز کیا۔ آپ کا مشن مبنی بر توحید مشن تھا۔ آپ کا کام یہ تھا کہ آپ لوگوں کو بتائیں کہ صرف ایک اللہ کی عبادت کرو، اللہ کے سوا کسی اور کی عبادت نہ کرو۔ اُس وقت عملی طور پر یہ صورت حال تھی کہ مکہ میں حضرت ابراہیم کا تعمیر کردہ کعبہ تھا، جو ایک اللہ کی عبادت کے لیے بنایا گیا تھا۔ حضرت ابراہیم نے یہ کعبہ تقریباً چار ہزار سال پہلے مکہ کے مقام پر بنایا تھا، لیکن بعد کومکہ کے لوگوںمیں بت پرستی آگئی۔ انھوں نے کعبہ کی عمارت میں بت رکھنا شروع کردیا۔ یہاں تک کہ کعبہ میں بتوں کی تعداد تقریباً تین سو ساٹھ ہوگئی۔
اسی کے ساتھ دوسری صورت حال یہ تھی کہ عرب کے مختلف حصوں سے لوگ کعبہ کی زیارت کے لیے برابر آتے رہتے تھے۔ کعبہ میں رکھے ہوئے تین سو ساٹھ بت در اصل مختلف قبائل کے بت تھے۔ اپنے بتوں کی زیارت کے لیے وہاں ہر دن عربوںکا مجمع اکٹھا ہوتا تھا۔ گویا کہ اس وقت ایک طرف کعبہ میں بتوں کی موجودگی کا مسئلہ تھا، اور دوسری طرف کعبہ کے پاس جمع ہونے والے لوگ تھے، جو رسول اللہ کے لیے عملاً فطری آڈینس (audience) کی حیثیت رکھتے تھے۔
یہ حالات تھے جب کہ قرآن میں سورہ المدثر نازل ہوئی۔ اس سورہ میں پیغمبر اسلام کو حکم دیا گیا کہ تم انذار (دعوت الی اللہ) کا کام کرو، اور جہاں تک کعبہ میں بتوں کی موجودگی کا معاملہ تھا، اس کے بارے میں یہ آیت اتری: وَالرُّجْزَ فَاہْجُرْ (74:5)یعنی اور گندگی کو چھوڑ دے۔
قرآن کی اس آیت میں فاھجر کا لفظ استعمال ہوا ہے۔ عربی زبان میں ھجر یھجُر کا مطلب اعراض (avoidance) ہے۔ یعنی نظر انداز کرنا۔ قرآن کی اس آیت میں پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ حکیمانہ طریقۂ کار (wise method) بتایا گیا کہ کعبہ میں بتوں کی موجودگی کو عارضی طور پر نظر انداز کرو، اور ان کی وجہ سے کعبہ کے پاس جو مجمع اکٹھا ہوتا ہے ، اس کو اپنے لیے بطور آڈینس (audience) استعمال کرو۔
واپس اوپر جائیں

دنیا اور آخرت

انسان موجودہ دنیا میں پیدا ہوتاہے۔ یہاں وہ اپنے صبح وشام گزارتا ہے۔ مختلف تجربات کے دوران یہاں اس کی زندگی کا سفر جاری رہتا ہے۔ ان تجربات کے ذریعے شعوری یا غیر شعوری طورپر انسان کا ذہن یہ بن جاتا ہے کہ یہی موجودہ دنیا حقیقی دنیا ہے۔ اس کے مقابلے میں اس کو محسوس ہوتاہے کہ آخرت کی دنیا تصوراتی دنیا (imaginary world) ہے۔دونوں دنیاؤں کے درمیان بظاہر اس فرق کی بنا پر یہ ہوتا ہے کہ انسان کا تفکیری عمل (thinking process) موجودہ دنیا کے لیول پر جاری ہوجاتاہے۔ اس کی سوچ اور اس کی منصوبہ بندی میں عملاً آخرت کا کوئی مقام باقی نہیں رہتا۔
یہ انسان کے لئے سب سے بڑا مسئلہ ہے۔ وسیع تر انجام کے اعتبار سے صحیح یہ ہے کہ انسان کے اندر آخرت رخی سوچ (Akhirat-oriented thinking)بنے، نہ کہ دنیا رخی سوچ۔انسان کو اس معاملے میں بے راہ روی سے بچانے کے لئے فطرت نے یہ انتظام کیا ہے کہ موجودہ دنیا کو مسائل کی دنیا (دار الکبد) بنا دیا۔ یہ مسائل انسان کے لئے اسپیڈ بریکر (speed breaker) کی حیثیت رکھتے ہیں۔ یہ مسائل اس لئے ہیں کہ انسان موجودہ دنیا کو حقیقی دنیا نہ سمجھے، بلکہ آخرت کے اعتبار سےاپنی زندگی کی تعمیر کرے۔
زندگی کی یہی حقیقت ہے جس کو قرآن میں اس طرح بیان کیا گیاہے:وَلَنَبْلُوَنَّکُمْ بِشَیْءٍ مِنَ الْخَوْفِ وَالْجُوعِ وَنَقْصٍ مِنَ الْأَمْوَالِ وَالْأَنْفُسِ وَالثَّمَرَاتِ وَبَشِّرِ الصَّابِرِینَ۔ الَّذِینَ إِذَا أَصَابَتْہُمْ مُصِیبَةٌ قَالُوا إِنَّا لِلَّہِ وَإِنَّا إِلَیْہِ رَاجِعُونَ ۔ أُولَئِکَ عَلَیْہِمْ صَلَوَاتٌ مِنْ رَبِّہِمْ وَرَحْمَةٌ وَأُولَئِکَ ہُمُ الْمُہْتَدُونَ (2:155-157)۔ یعنی اور ہم ضرور تم کو آزمائیں گے کچھ ڈر اور بھوک سے اور مالوں اور جانوں اور پیداوار کی کمی سے۔ اور ثابت قدم رہنے والوں کو خوش خبری دے دو ۔ جن کا حال یہ ہے کہ جب ان کو کوئی مصیبت پہنچتی ہے تو وہ کہتے ہیں ہم اللہ کے ہیں اور ہم اسی کی طرف لوٹنے والے ہیں۔ یہی لوگ ہیں جن کے اوپر ان کے رب کی شاباشیاں ہیں اور رحمت ہے۔ اور یہی لوگ ہیں جو راہ پر ہیں۔
واپس اوپر جائیں

ایمان کے بعد ایمان

قرآن کی ایک رہنما آیت ان الفاظ میں آئی ہے: یَا أَیُّہَا الَّذِینَ آمَنُوا آمِنُوا بِاللَّہِ وَرَسُولِہِ وَالْکِتَابِ الَّذِی نَزَّلَ عَلَى رَسُولِہِ وَالْکِتَابِ الَّذِی أَنْزَلَ مِنْ قَبْلُ وَمَنْ یَکْفُرْ بِاللَّہِ وَمَلَائِکَتِہِ وَکُتُبِہِ وَرُسُلِہِ وَالْیَوْمِ الْآخِرِ فَقَدْ ضَلَّ ضَلَالًا بَعِیدًا (4:136)۔ یعنی اے ایمان والو، ایمان لاؤ اللہ پر اور اس کے رسول پر اور اس کتاب پر جو اس نے اپنے رسول پر اتاری اور اس کتاب پر جو اس نے پہلے نازل کی۔ اور جو شخص انکار کرے اللہ کا اور اس کے فرشتوں کا اور اس کی کتابوں کا اور اس کے رسولوں کا اور آخرت کے دن کا تو وہ بہک کر دور جا پڑا۔
اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ اہلِ ایمان کو ایمان لانے کے بعد دوبارہ ایمان لانا ہے۔ ایک حدیثِ رسول میں اس حقیقت کو ان الفاظ میں بتایا گیا ہے :قَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّى اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: جَدِّدُوا إِیمَانَکُمْ ، قِیلَ:یَا رَسُولَ اللہِ، وَکَیْفَ نُجَدِّدُ إِیمَانَنَا؟ قَالَ:أَکْثِرُوا مِنْ قَوْلِ لَا إِلَہَ إِلَّا اللہُ (مسند احمد،حدیث نمبر8710)۔ یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا کہ تم لوگ اپنے ایمان کی تجدید کرو، پوچھا گیا: اے خدا کے رسول ہم اپنے ایمان کی تجدید کیسے کریں۔ آپ نے کہا: لا الہ الا اللہ کو زیادہ سے زیادہ ادا کرو۔
روایتوں سے معلوم ہوتا ہے کہ صحابہ کا طریقہ یہ تھا کہ وہ اجتماعی طور پر بیٹھ کر اپنے ایمان کا دوبارہ چرچا کرتے تھے۔اس معاملے پر غور کرنے سے سمجھ میں آتا ہے کہ ایمان کا مطلب یہ نہیں ہے کہ چند قانونی الفاظ ہیں، ان کو اگر آدمی نے دہرادیا تو اس کو ایمان حاصل ہوگیا۔ بلکہ ایمان ایک ایسی حقیقت کا اقرار ہے، جس کی گہرائیاں کبھی ختم نہیں ہوتی ہے۔ جیسا کہ حدیث میں آیا ہے: وَلاَ تَنْقَضِی عَجَائِبُہُ (سنن الترمذی، حدیث نمبر 2906)۔ یعنی اس کے عجائبات ختم نہیں ہوتے۔
اسی حقیقت کو قرآن میں دوسرے مقام پر ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے:لِیَزْدَادُوا إِیمَانًا مَعَ إِیمَانِہِمْ (48:4)۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ایمان ابتدائی طور پر اقرار کا نام ہے۔ لیکن اپنے توسیعی معنی میں وہ مسلسل غور و فکر کا موضوع ہے۔ آدمی جب ایمان پر مسلسل غور فکر کرے، وہ ایمان کو تدبر کا موضوع بنائے تو اس کو بار بار اس معاملے میں نئی حقیقتوں کی ری ڈسکوری ہوتی رہتی ہے۔ وہ بیان کردہ ایمان کو ذاتی اعتبار سے اپنے لیے ری ڈسکوری بناتا ہے۔ اس طرح اس کا ایمان اس کے لیے ری ڈسکورڈ (rediscovered) ایمان بن جاتا ہے۔ یہ ری ڈسکورڈ ایمان ہی وہ چیز ہے جو مومن کے یقین کو بڑھاتا رہتا ہے۔ یہاں تک کہ اس کا اقرار کامل یقین کے درجے تک پہنچ جاتا ہے۔
ابتدائی طور پر ایمان ایک عمومی حقیقت کا اقرار ہے۔ لیکن ایمان کو ری ڈسکور کرنا، آدمی کے ایمان کو ایک نیا درجہ عطا کرتا ہے۔ ایسے آدمی کے ساتھ یہ واقعہ پیش آتا ہے کہ جو ایمان اس کے لیے ابتدائی طو رپر محدود اقرار کے درجے میں تھا، وہ اس کے لیے لا محدود یقین کے ہم معنی بن جاتا ہے۔
ایمان جس آدمی کو حاصل ہوجائے، اس کے لیے اس کا ایمان ایک مسلسل غور و فکر کا موضوع بن جاتا ہے۔ ایمان اس کے ذہن کے لیے ایک ایسا طوفان بن جاتا ہے، جو مسلسل طو رپر اس کو تدبر کرنے والا بنادے۔ تدبر کے ذریعے ایما ن کے نئے نئے پہلو اس پر کھلتے ہیں، وہ بار بار اپنے ایمان کو دریافت کرتا ہے۔ اس طرح وہ اپنے ایمان کی تجدید کرتا رہتا ہے۔ یہ عمل (process) برابر جاری رہتا ہے۔ اسی مسلسل ایمان کو قرآن میں ایماناً مع ایمانہم (الفتح،48:4) کےالفاظ میں بیان کیا گیا ہے۔ گویا ایمان کوئی جامد چیز نہیں ہے، بلکہ وہ اضافہ پذیر چیز ہے۔
٭ ٭ ٭ ٭ ٭
کسی آدمی نے حقیقی اسلام کو پایا ہے یا نہیں، اُس کا معیار صرف ایک ہے، اور وہ فکرِآخرت ہے۔ جس آدمی کا اسلام اُس کے اندر گہرے طورپر آخرت کی فکر پیدا کردے، اُسی نے فی الحقیقت اسلام کو پایا۔ جس آدمی کا اسلام اُس کو جہنم کے بھڑکتے ہوئے شعلوں کو نہ دکھائے، اُس نے اسلام کو پایا ہی نہیں۔اُس نے کسی اور چیز کو پایا ہے اور غلطی سے وہ یہ سمجھ رہا ہے کہ اُس نے اسلام کو پالیا ہے۔
واپس اوپر جائیں

خدا کی دریافت

جس دنیا کو ہم جانتے ہیں، اور جس دنیا میں ہم رہتے ہیں، وہ دنیا اسپیس اور ٹائم (space and time) کی دنیا ہے۔ہماری تمام معلوم چیزیں اسی اسپیس اور ٹائم کے اندر پائی جاتی ہیں۔ ہم تمام معلوم چیزوں کو اسپیس اور ٹائم کی بنیاد پر جانتے ہیں۔ مثلاً فلاں چیز یہاں ہے، اور فلاں چیز وہاں ہے۔ فلاں چیز مغرب میںہے، اور فلاں چیز مشرق میں ہے، وغیرہ۔ ہماری تمام معلوم کائنات اسی طرح اسپیس اور ٹائم کے حوالے سے ہماری دریافت کا حصہ بنتی ہے۔
ان تمام چیزوں میں جن کو ہم جانتے ہیں، یا جن کو ہم جاننا چاہتے ہیں، ان میں سے صرف ایک چیز استثناء کی حیثیت رکھتی ہے۔ وہ زمان و مکان سے سے ما ورا (beyond space and time) ہے۔یہ خدا ہے، جو کہ استثنا کی حیثیت رکھتا ہے۔ خدا کا یہی واحد استثنا ہونا، خدا کو سمجھنے ، اور اس کو یقین کرنے میں مانع ہے۔ خدا کا beyond space and time ہونا، انسان کے لیے خداپر یقین کرنے میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ قدیم عقلیات میں اس کا کوئی جواب نہیں تھا۔ جدید سائنسی عقلیات (scientific rationalism) میں پہلی بار اس کی بابت ایک امکان کی خبر ملی ہے۔ موجودہ زمانے میں سائنس نے قیاس کے درجے میں اس کی خبر دی ہے۔ آئنسٹین کا نظریہ جنرل تھَیری آف ریلیٹیوٹی(general theory of relativity) اسی سے تعلق رکھتا ہے۔
میٹر(matter) کی تلاش کے معاملے میں انسان جس آخری حد پر پہنچا ہے، وہ سب ایٹمک پارٹکل (subatomic particle) ہے۔ سب ایٹمک پارٹکل کی دریافت نے تھیَری آف نالج میں انقلابی تبدیلی کی ہے۔ اب علم کی دنیا میں یہ مان لیا گیا ہے کہ سب ایٹمک پارٹکل جو میٹر (matter) کی فائنل انٹٹی (entity) ہے، وہ براہ راست طور پر قابلِ دریافت نہیں ہے۔ ہم صرف اس کی بالواسطہ دریافت تک پہنچ سکتے ہیں، جو کہ ایفکٹ (effect) تک پہنچ کر ختم ہوجاتی ہے۔ ناقابلِ مشاہدہ سب ایٹمک پارٹیکل اپنی حرکت کے دوران ھیٹ (heat)پیدا کرتے ہیں۔ یہ ھیٹ میٹر کا وہ ایفکٹ ہے، جس کے ذریعے میٹر کا وجود دریافت ہوتا ہے۔ اسی طرح خالق (creator) کا ایفکٹ (effect) مخلوق (creation) ہے۔ یہاں بھی مخلوق (creation) کے ذریعے بالواسطہ طور پر خالق (creator) کی دریافت ہوتی ہے۔ اس دریافت سے تھیَری آف نالج میں ایک تبدیلی آئی ہے۔ اب امکانیات (probability) کو نالج تک پہنچنے کا ایک مستند (authentic) ذریعہ مان لیا گیا ہے۔ اب یہ کہا جارہا ہے :
Probably there is this and that
مزید یہ کہ
Probability is less than certainty but more than perhaps.
اب خدا میں یقین کی بنیاد یہ ہے کہ آدمی اپنے مائنڈ کو اتنا زیادہ ارتقا یافتہ (develop) بنائے کہ وہ جب یہ کہے :
Probably there is a God
تو وہ اس قول کو اس حقیقت میں ڈھال سکے :
Certainly, there is a God
اب پرابیبلیٹی (probability)کو سرٹینٹی (certainty)کی زبان میں دریافت کرنا ہے، جو شخص پرابیبلیٹی کی زبان کوسرٹینٹی (certainty)میں ڈھال سکے، وہی صاحبِ یقین انسان ہے۔ کوئی انسان پرابیبلٹی کو سرٹینٹی (certainty)کے درجے میں کس طرح دریافت کرے، اس کا ذریعہ میتھڈ (method)کی تبدیلی نہیں ہے، بلکہ اس کا ذریعہ یہ ہے کہ آپ خود اپنے ذہن کو اتنا زیادہ ارتقا یافتہ بنائیں کہ آپ پرابیبلٹی کو یقین (certainty) کے درجے میں دریافت کریں۔ یہ خود اپنے مائنڈ کو ڈیولپمنٹ کا معاملہ ہے، نہ کہ میتھڈ میں تبدیلی کا معاملہ۔ یہ منطق (logic) کو ریڈ یفائن (redefine)کرنے کا معاملہ ہے، جو شخص منطق کو ریڈ یفائن کرسکے، وہ اپنے یقین کو بحال کرنے میں کامیاب ہوجائے گا۔ قدیم زمانہ یونانی لاجک کا زمانہ تھا، اور موجودہ زمانہ سائنٹفک لاجک کا زمانہ ہے۔
واپس اوپر جائیں

منصوبۂ تخلیق

قرآن میں بتایا گیا ہے کہ خالق نے انسان کو بہترین ساخت کے ساتھ پیدا کیا ہے، پھر اس کو اسفل سافلین میں ڈال دیا(التین، 95:4-5)۔اس آیت کا مطلب وہی ہے، جو بائبل میں تمثیل کی زبان میں اس طرح آیا ہے: تم نے بہت سا بویا، پر تھوڑا کاٹا(حجی، 1:6)۔
اس کا مطلب یہ ہے کہ انسان کی ساخت اور تخلیقی پلان میں فرق ہے۔ اس دنیا میں انسان زیادہ چاہے گا، مگر ا س کو کم ملے گا۔ انسان زیادہ کا منصوبہ بنائے گا، لیکن عملاً اس کو اپنے منصوبے سے کم ملےگا۔ انسان اجر غیر ممنون چاہے گا، لیکن اس کو صرف اجر ممنون ملے گا۔ انسان اپنی خواہش کے مطابق چاہے گا، لیکن وہ اس دنیا میں رازق کی تقسیم کے مطابق پائے گا۔ انسان اپنے حوصلے کے مطابق چاہے گا، لیکن اس کو خالق کے مقدرات کے مطابق حاصل ہوگا۔
چاہنے اور پانے میں یہ فرق کیوں ہے۔ وہ اس لیے ہے کہ انسان سوچے ، وہ غور کرکے اس فرق کی حکمت کو دریافت کرے۔ انسان اگر ایسا کرے، تو وہ جانے گا کہ خالق کے نقشے کے مطابق دنیا کا ایک ’’آج‘‘ہے، اور اس کا ایک ’’کل‘‘ ہے۔ آج کی دنیا عمل کے لیے ہے، اور کل کی دنیا عمل کا انجام پانے کے لیے ہے۔ آج کی دنیا بونے کے لیے ہے، اور کل کی دنیا اس کا پھل کاٹنے کے لیے ہے۔
ہر عورت اور مرد کو چاہیے کہ وہ خالق کے اس نقشۂ تخلیق کو جانے،اور اس کا اعتراف کرے کہ اس دنیا کو بنانے والا وہ نہیں ہے، بلکہ اس کو بنانے والا کوئی اور ہے۔ دنیا ہر حال میں خالق کے نقشے کے مطابق چلے گی، اس کے اپنے نقشے کے مطابق نہیں چل سکتی ،تو وہ اس کے مطابق اپنی زندگی کی منصوبہ بندی کرے۔ وہ اس حقیقت کو جانے کہ وہ خدا کی دنیا میں جو کچھ پائے گا، خالق کی تقسیم کے مطابق پائے گا۔ انسان اگر خالق کے نقشے کو مان کر چلے، تو اس کے لیے کامیابی ہے، اور اگر وہ اس نقشے سے انحراف کرے، تو وہ ہرگز کامیاب ہونے والا نہیں۔
واپس اوپر جائیں

مصیبت کیوں

قرآن کی کئی آیتیں ایسی ہیں، جن میں بتایا گیا ہے کہ دنیا میں انسان کو طرح طرح کی مصیبتیں پڑیں گی، طرح طرح کے مسائل پیش آئیں گے۔اس کا سبب یہ ہے کہ دنیا کے خالق نے دنیا کو دار الکبد (البلد،90:4) کے طور پر بنایا ہے۔ یہ ایک ایسا معاملہ ہے، جس سے کوئی شخص بچ نہیں سکتا۔ مصیبت (suffering) اس دنیا کی زندگی کا ایک لازمی حصہ (integral part) ہے۔ آخرت سے پہلے یہ حالت کبھی ختم ہونے والی نہیں۔
اس کاسبب یہ ہے کہ مشکلات کا تجربہ انسان کے اندر حساسیت (sensitivity) پیدا کرتا ہے، اور حساسیت انسان کے اندر اخذ (grasp) کی صلاحیت پیدا کرتا ہے۔ اگر انسان کے اندر حساسیت نہ ہو، تو وہ حیوان کی مانند ہو کر رہ جائے گا۔ موجودہ دنیا ایک جنگل کی مانند ہے۔ اس دنیا میں انسان کو افکار کے جنگل کے درمیان جینا پڑتا ہے۔ اس بنا پر اس بات کی ضرورت ہوتی ہے کہ انسان کے اندر شدید حساسیت پیدا ہو، تاکہ وہ ایک چیز اور دوسری چیز کے درمیان فرق کرے۔ وہ متعلق (relevant) اور غیر متعلق میں فرق کرکے ایک کو دوسرے سے الگ کرسکے۔ یہ تفریق بہت زیادہ اہم ہے۔ اسی تفریق (differentiation) سے انسان کے اندر عقلی ارتقا ہوتا ہے۔
اگر آدمی کے اندر حساسیت نہ ہو، تو وہ ایک چیز اور دوسری چیز کے درمیان فرق نہیں کرے گا۔ وہ حکمت (wisdom) کی دریافت سے محروم رہے گا۔ اس کی باتوں میں وضوح (clarity) نہیں ہوگا۔ اس کی سوچ الجھے ہوئے دھاگے کی مانند ہوگی۔اسی لیے رسول اللہ نے اس دعا کی تعلیم دی ہے : أَرِنَا الْأَشْیَاءَ کَمَا ہِیَ(تفسیر الرازی، 1/119)۔ یعنی اے اللہ مجھے چیزوں کو ویسے ہی دکھا ، جیسا کہ وہ ہیں۔ایز اٹ از (as it is)دیکھنے کی یہ صلاحیت کسی کے اندر حساس ذہن کے بغیر پیدا نہیں ہوتی۔اس قسم کا ذہن پیدا ہونے کی شرط صرف ایک ہے، وہ یہ کہ ناموافق تجربہ پیش آنے کی صورت میں انسان اپنے کو شکایتی ذہن سے بچاسکے۔
واپس اوپر جائیں

داعی کی اسپرٹ

سورہ الانعام ایک مکی سورہ ہے۔ مکی دور میں پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کو سخت مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ اس وقت مکہ کے لوگ مشرکانہ مذہب پر تھے، اور پیغمبرِ اسلام کا مذہب توحید پر مبنی تھا۔ اس بنا پر وہ لوگ ابتدا میں آپ کے مخالف بن گئے۔ ان حالات میں قرآن کی یہ آیت اتری:قُلْ أَغَیْرَ اللَّہِ أَتَّخِذُ وَلِیًّا فَاطِرِ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَہُوَ یُطْعِمُ وَلَا یُطْعَمُ قُلْ إِنِّی أُمِرْتُ أَنْ أَکُونَ أَوَّلَ مَنْ أَسْلَمَ (6:14)۔ یعنی کہو، کیا میں اللہ کے سوا کسی اور کو مددگار بناؤں جو کہ وجود میں لانے والا ہے آسمانوں اور زمین کا۔ اور وہ سب کو کھلاتا ہے اور اس کو کوئی نہیں کھلاتا۔ کہو مجھ کو حکم ملا ہے کہ میں سب سے پہلے اسلام لانے والا بنوں۔
پیغمبرِ اسلام کا یہ کلمہ شک کا کلمہ نہیں تھا، بلکہ عزم کا کلمہ تھا۔ یہ اپنی دعوت میں یقین کا اضافہ تھا۔ قرآن کی یہ آیت مین آف مشن (man of mission) کی اسپرٹ کو بتارہی ہے۔ مین آف مشن کی اسپرٹ ہوتی ہے، آئی ول ڈو اٹ (I will do it)۔ دوسرے لفظو ں میں اس آیت کا مطلب یہ تھا — کوئی توحید پر نہ چلے تب بھی میں اس پر چلوں گا، کوئی توحید کو نہ اپنائے تب بھی میں اس کو اپناؤں گا، کوئی توحید پرست نہ بنے تب بھی میں اکیلا توحید پرست بنوں گا، کوئی اس مشن کے لیے نہ اٹھے تب بھی میں اس کے لیے اٹھوں گا۔
دعوت کا کام ہمیشہ داعی کے یقین پر مبنی ہوتا ہے۔ اجتماعی زندگی میں جو کام بھی کیا جائے، اس کے لیے ناقابلِ شکست یقین کی ضرورت ہوتی ہے۔ ناقابلِ شکست یقین کے بغیر کوئی کام کامیابی کے درجے تک نہیں پہنچتا۔ اس قسم کا جملہ ناقابلِ شکست یقین کا اظہار ہوتا ہے، اور داعی کے اندر ناقابلِ شکست یقین کا پایا جانا، دعوت کی کامیابی کا یقینی ذریعہ ہے۔ داعی ٔ وقت کی زبان سے اس قسم کا جملہ دوسرے الفاظ میں اسی عزم کا اظہار ہوتا ہے، جس کو آئی وِل ڈو اسپرٹ (I will do spirit) کہا جاتا ہے۔
واپس اوپر جائیں

علما کا مقام

علما کے بارے میں ایک حدیث رسول ان الفاظ میں آئی ہے: إِنَّ العُلَمَاءَ وَرَثَةُ الأَنْبِیَاءِ، إِنَّ الأَنْبِیَاءَ لَمْ یُوَرِّثُوا دِینَارًا وَلاَ دِرْہَمًا إِنَّمَا وَرَّثُوا العِلْمَ، فَمَنْ أَخَذَ بِہِ أَخَذَ بِحَظٍّ وَافِرٍ (سنن الترمذی، حدیث نمبر2682؛ سنن ابو داؤد، حدیث نمبر 3641)۔ یعنی بیشک علما ابنیا کے وارث ہیں، انبیا نے دینار و درہم کی وراثت نہیں چھوڑی، بیشک انھوں نے علم کی وراثت چھوڑی ہے، پس جس نے اس کو لیا ، اس نے بڑا حصہ پایا۔
اس حدیث میں علما سے مراد سند یافتہ علما نہیں ہیں، بلکہ وہ افراد ہیں، جو حقیقی معنوں میں اہل علم کا درجہ رکھتے ہوں۔ جن کو معرفت کے درجے میں ایمان حاصل ہوا ہو، اور پھر کثرتِ مطالعہ کے ذریعے وہ اس درجے تک پہنچے ہوں، جس کو ایک مشہور قول میں ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے: یک من علم را، دہ من عقل می باید ( ایک من علم کے لیے دس من عقل چاہیے)۔ یعنی صاحبِ معرفت و بصیرت انسان۔ اس معنی میں جو لوگ اہلِ علم ہیں، وہ اپنے علم و معرفت کی بنا پر اس قابل ہوجاتے ہیں کہ وہ دین کا صحیح فہم حاصل کریں، اور دین کو ہر زمانے میں مطلوب انداز میں دنیا کے سامنے پیش کریں۔
اس حدیث میں عالم سے مراد پروفیشنل عالم نہیں ہے، بلکہ عالم سے مراد صاحبِ معرفت عالم ہے۔ یہ وہ علما ہیں، جن کو ان کے علم ِدین نے اس آیتِ قرآن کا مصداق بنا دیا ہو: وَالَّذِینَ آمَنُوا أَشَدُّ حُبًّا لِلَّہِ (2:165)۔ یعنی جو ایمان لائے، وہ اللہ سے سب سے زیادہ محبت کرنے والے ہیں۔اس سے مراد وہ اہلِِ علم ہیں، جن کے علم نے ان کا یہ حال کر دیا ہو کہ اللہ رب العالمین ان کا سب سے بڑا کنسرن بن گیا ہو۔ اس سے مراد وہ لوگ ہیں، جو صرف صاحبِ معلومات نہ ہوں، بلکہ گہرے معنی میں صاحبِ بصیرت بن چکے ہوں۔ اس سے مراد وہ عالم ہیں، جو لکھنے اور بولنے سے پہلے سجدے میں گر کر اللہ سے یہ دعا کرتے ہیں: یَا مُعَلِّمَ إبْرَاہِیمَ عَلِّمْنِی (اعلام الموقعین لابن القیم، 4/198)۔
واپس اوپر جائیں

قناعت کا سبق

قرآن میں بتایا گیا ہے کہ اللہ رب العالمین نے جب انسان اول، آدم اور ان کی بیوی کو پیدا کیا تو دونوںکو جنت میں بسا دیا۔ اس وقت اللہ نے جنت میں ایک درخت نامزد کردیا، اور کہا کہ اس درخت کے پاس نہ جانا اور اس کا پھل نہ کھانا۔مگر کچھ عرصے کے بعد دونوں میں اس کی رغبت پیدا ہوئی اور وہ ممنوعہ درخت (forbidden tree) کے پاس چلے گئے اور اس کا پھل کھالیا۔ اس کے بعد دونوںکو موجودہ دنیا (planet earth) پر بھیج دیا گیا۔ اس واقعے میں تمام انسانوں کے لیے بہت بڑا سبق ہے۔ یہ واقعہ تمثیل کی زبان میں بتاتا ہے کہ اس دنیا میں انسان کو صرف ’’کچھ‘‘ ملے گا ، اس کو ’’سب کچھ‘‘ نہیں مل سکتا۔ سب کچھ صرف اہلِ جنت کے لیے مقدر ہے۔ اسی اصول کا نام قناعت (contentment)ہے۔ اگر دیکھا جائے تو انسان ہر دور میں اس اصول سے غافل رہا ہے۔ وہ جزء کو پاتا ہے، اس کے باوجود وہ کُل کی طرف دوڑتا ہے۔
قناعت کا برعکس لفظ حرص (greed) ہے۔ خالق کے مقرر کردہ نقشے کے مطابق اس دنیا میں کسی آدمی کو یا کسی گروپ کو صرف جزء (part) مل سکتا ہے۔ جو آدمی یا گروپ کُل کی طرف دوڑے، وہ کبھی اپنے نشانے کو حاصل نہیں کرسکتا۔ حریص آدمی کے لیے اس دنیا میں صرف عدمِ آسودگی (discontentment) مقدر ہے۔ اس کے برعکس، قانع آدمی کے لیے اس دنیا میں آسودگی (contentment) مقدرہے۔ یہی فطرت کا قانون ہے۔ جو فرد یا گروہ فطرت کے اس قانون کو سمجھے، اور اس پر چلے، وہی اس دنیا میں کامیاب ہوگا۔ جو فطرت کے اس قانون کو نہ سمجھے، اور خود ساختہ نشانے کی طرف دوڑے، وہ خدا کی اس دنیا میں کبھی کامیاب نہیں ہوسکتا۔
جو آدمی قناعت کا طریقہ اختیارکرے، خدا کی پیدا کی ہوئی پوری دنیا اس کی مؤید (helper) بن جاتی ہے۔ اس کے برعکس، جو لوگ حرص کا طریقہ اختیار کریں، وہ گویا فطرت کے قانون سے لڑرہے ہیں۔ ایسے لوگوں کے لیے صرف یہی مقدر ہے کہ وہ اپنا نشانہ کبھی پورا نہ کرسکیں۔
واپس اوپر جائیں

مشورے کی اہمیت

مشورے کی اہمیت کے بارے میں ایک حدیثِ رسول ان الفاظ میں آئی ہے: کَانَ أَبُو ہُرَیْرَةَ یَقُولُ:مَا رَأَیْتُ أَحَدًا أَکْثَرَ مُشَاوَرَةً لِأَصْحَابِہِ مِنْ رَسُولِ اللَّہِ صَلَّى اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ (صحیح ابن حبان، حدیث نمبر 4872)۔ یعنی ابوہریرہ کہا کرتے تھے کہ میں نے کسی کو نہیں پایا جو اپنے اصحاب سے اتنا زیادہ مشورہ کرتا ہو، جتنا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کیا کرتے تھے۔
مشورہ فطرت کا ایک حکیمانہ اصول ہے۔ مشورہ بظاہر دوسرے سے کیا جاتا ہے، لیکن نتیجےکے اعتبار سے مشورہ کا مطلب ہے، خود اپنے ذہن (mind) کے بند گوشوں کو کھولنا ہے۔ مشورہ کا مقصد اپنے ذہن کو متحرک (active) کرنا ہے۔ مشورہ کوئی یک طرفہ عمل نہیں ۔ مشورہ اپنی حقیقت کے اعتبار سے ایک مشترک ڈسکشن (mutual discussion) ہے۔ مشورے کا مقصد اپنے سوچنے کے دائرے کو بڑھانا ہے۔ مشورہ اپنی حقیقت کے اعتبار سے اپنے آپ کو انفرادیت کے دائرے سے نکال کر آفاقیت کے دائرے میں لانا ہے۔ مشورہ ذہنی ارتقا (intellectual development) کا ایک مؤثر ذریعہ ہے۔مشورہ اپنے تجربے میں دوسرے کے تجربے کو شامل کرنا ہے۔
مشورے کا ایک اخلاقی پہلو بھی ہے۔ مشورے سے تعلقات میں اضافہ ہوتا ہے۔ مشورہ اس بات کا ذریعہ ہے کہ آدمی خول (cell) میں رہنے والا نہ بنے۔مشورہ آدمی کو اس قابل بناتا ہے کہ وہ انفرادی عقل (individual wisdom) کے دائرے سے نکل کر عالمی عقل (universal wisdom) میں جینے والا بن جائے۔ خلیفہ ثانی عمر فاروق کے بارے میں آتا ہے : کان یتعلم من کل احد۔ یعنی وہ ہر ایک سے سیکھتے تھے۔ تعلم اپنی حقیقت کے اعتبار سے ایک مشورہ ہے۔ اس روایت کو لفظ بدل کر اس طرح کہا جاسکتا ہے کہ کان یشاور من کل احد۔یعنی وہ ہر ایک سے مشورہ کرتے تھے۔ مشورے کا مطلب اپنی عقل میں دوسرے کی عقل کو شامل کرنا ہے۔
واپس اوپر جائیں

موت کی یاد

قرآن میں انسان کے بارے میں ایک سنگین حقیقت کا اعلان ان الفاظ میں کیا گیا ہے:کُلُّ نَفْسٍ ذَائِقَةُ الْمَوْتِ(3:185)۔ اس حقیقت کے بارے میں حدیثِ رسول میں یہ الفاظ آئے ہیں:أَکْثِرُوا ذِکْرَ ہَادِمِ اللَّذَّاتِ، الْمَوْتَ (سنن ابن ماجہ، حدیث نمبر4258)یعنی موت کو بہت زیادہ یاد کرو جو لذتوں کو ڈھادینے والی ہے۔
ھادم اللذات کو اگر لفظ بدل کر کہا جائے تو وہ یہ ہوگا کہ موت کی یاد سوپر ڈی کنڈیشننگ (super deconditioning) کا ذریعہ ہے۔ ہر آدمی ضرور اپنے ماحول کی کنڈیشننگ کا شکار ہوتا ہے۔ چنانچہ ہر عورت اور مردلازمی طور پر مسٹر کنڈیشنڈ یا مس کنڈیشنڈ بن جاتے ہیں۔ یہی وہ حقیقت ہے جس کو حدیث میں ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے:کُلُّ مَوْلُودٍ یُولَدُ عَلَى الفِطْرَةِ، فَأَبَوَاہُ یُہَوِّدَانِہِ، أَوْ یُنَصِّرَانِہِ، أَوْ یُمَجِّسَانِہِ (صحیح البخاری، حدیث نمبر 1385)۔
اس عمومی کنڈیشننگ کی بنا پر ہر آدمی کی یہ ضرورت ہے کہ وہ شعور کی عمر کو پہنچنے کے بعد اپنی ڈی کنڈیشننگ کرے۔ ڈی کنڈیشننگ کا یہ عمل (process) عام حالت میں بہت سست ہوتا ہے۔ لیکن موت کا واقعہ ایک دھماکہ خیز واقعہ ہے ۔ آدمی کے اندر اگر موت کی سچی یاد پیدا ہوجائے تو ایک لمحے کے اندر اس کی کنڈیشننگ ٹوٹ جائے گی ۔ موت کی یاد آدمی کو ایک لمحے میں دوبارہ اس کی فطری حالت پر قائم کردیتی ہے۔ ایک لمحے میں آدمی پورے معنوں میں حقیقت پسند (realist) بن جاتا ہے۔ ایک لمحے میں آدمی ایسا ہوجاتا ہے کہ موت کا مسئلہ اس کا واحد کنسرن (sole concern) بن جائے۔
موت کی یاد ہر آدمی کے لیے ایک جبری مصلح کی حیثیت رکھتی ہے۔وہ آدمی کو مجبور کرتی ہے کہ وہ اپنا مصلح آپ بن جائے۔ وہ انتہائی حد تک بے لاگ انداز میں اپنا محاسبہ کرنے لگے۔ وہ سب سے زیادہ اپنے آپ کو آخرت رخی شخصیت بنالے۔
واپس اوپر جائیں

زندگی کے قیمتی سال

آدمی کی اوسط عمر اس دنیا میں تقریباً ستر سال ہے۔ بڑھاپے کی عمر کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ اولڈ از گولڈ(old is gold)۔ یہ قول لفظ بلفظ صحیح ہے۔ بڑھاپے کی عمر میں آدمی سب سے زیادہ اس پوزیشن میں ہوتا ہے کہ وہ اپنے بعد والوں کے لیے اپنا بہترین (best) دوسروں کو دے سکے— زیادہ معلومات، زیادہ تجربہ، زیادہ دانش مندی، زندگی کی زیادہ بہتر پلاننگ۔یہ سنہری موقع ہر اس انسان کے لیے ہے، جس کی عمر زیادہ ہوجائے، بشرطیکہ وہ اس دنیا میں با اصول انسان (man of principle) بن کر زندگی گزارے:
(1) وہ صحت کے فطری اصول کا پابند ہو، تاکہ وہ اپنی عمر کے آخر دور تک دنیا میں قابلِ کار بنا رہے۔
(2) وہ سادہ زندگی گزارے، اوراپنے آپ کو اسراف سے بچائے۔
(3) وہ کسی حال میں اپنے آپ کو کسی غلط عادت میں مبتلا نہ ہونے دے۔
(4) وہ ہر حال میں مثبت سوچ (positive thinking) کا طریقہ اختیار کرے، حتی کہ وہ منفی تجربہ کو مثبت سبق میں تبدیل کرسکے۔
(5) وہ کسی سے امید نہ رکھے۔
(6) وہ اس دنیا میں دینے والا بن کر رہے، نہ کہ لینے والا۔
(7) وہ غصہ سے اس طرح بچے، جس طرح کوئی شخص اپنے آپ کو سانپ بچھوسے بچاتا ہے۔
(8) وہ سچے دل سے لوگوں کا خیرخواہ بنے۔
(9) اگر اس سے کوئی غلطی ہوجائے، تو وہ فوراً اپنی غلطی کا اعتراف کرلے، ایسا ہرگز نہ کرے کہ اپنی غلطی کے لیے عذر (excuse) پیش کرنا شروع کردے۔
(10) وہ لوگوں کے درمیان ہمیشہ متواضع(modest) بن کر رہے۔
واپس اوپر جائیں

باہمی انحصار کا دور

موجودہ زمانہ ایک نیا زمانہ ہے۔ موجودہ زمانے میں ایسے تقاضے وجود میں آئے ہیں، جو پہلے کبھی موجود نہ تھے۔ جو شخص موجودہ زمانے میں رہنمائی کا کام کرنا چاہے، اس کو سب سے پہلے یہ کرنا چاہیے کہ خالص موضوعی ذہن (objective mind) کے ساتھ مطالعہ کرکے نئے زمانے کو سمجھے ، اس کے بعد رہنمائی کا کام کرے۔ اس قسم کی تیاری کے بغیر جو لوگ رہنمائی کے منصب پر کھڑے ہوجائیں، وہ بلاشبہ لوگوں کو بھٹکانے کا کام کررہے ہیں۔ ایسے لوگوں کے لیے یہ کہنا صحیح ہوگا کہ ان پر فرض ہے کہ وہ چپ رہیں، نہ کہ حقیقت سے واقفیت کے بغیر بولنا شروع کردیں۔
ان نئے تقاضوں میں سے ایک تقاضا یہ ہے کہ موجودہ زمانے میں جو صنعتی انقلاب آیا ہے، اس نے اجتماعی زندگی میں ایک نیا دور پیدا کردیا ہے۔ اس دور کو ایک لفظ میں باہمی انحصار کا دور (age of interdependence) کہا جاسکتا ہے— لیڈر کو ووٹر کی ضرورت ہے، تاجر کو کسٹمر کی ضرورت ہے، ڈاکٹر کو مریض کی ضرورت ہے، میڈیا کو ویورس (viewers) کی ضرورت ہے، وغیرہ۔اس نئے تقاضے نے ایک نیا کلچر پیدا کیا ہے۔ اس نئے کلچر کو میوچول انٹرسٹ (mutual interest) کا کلچر کہہ سکتے ہیں۔ ہر ایک کو دوسرے کی ضرورت ہے، ہر ایک کاکام دوسرے پر اٹکا ہوا ہے۔
اس صورتِ حال نے موجودہ زمانے میں ایک نیا جبر (compulsion) پیدا کیا ہے۔ ہر ایک مجبور ہے کہ وہ پر امن طریقے سے رہے، ہر ایک مجبور ہے کہ وہ دوسرے کا احترام کرے۔تاکہ ہر ایک کو دوسرے سے اس کا فائدہ ملتا رہے۔مگر اس دور میں صرف مسلمان ہیں، جن کو ان کے نام نہاد لیڈروں نے اس حقیقت سے بے خبر بنا رکھا ہے۔ مثلاً مسلمانوں نے کشمیر میں ہنگامہ کرکے، وہاں سیب کا بزنس ختم کردیا، مصر میں مسلمانوں نے ہنگامہ کرکے وہاں سے سیاحت کا بزنس ختم کردیا، وغیرہ۔ موجودہ زمانے میں تشدد کی سیاست ایک کاؤنٹر پروڈکٹیو سیاست ہے، مگر لوگ اس حقیقت کو نہیں جانتے، اس لیے وہ خلاف زمانہ حرکت (anachronistic culture) میں مبتلا ہیں۔
واپس اوپر جائیں

غیر عملی نشانہ

رشید کوثر فاروقی (ایم اے انگلش ) ایک باصلاحیت آدمی تھے۔ وہ شعر اور نثر دونوں میں اپنے جذبات کا اظہار کرتے تھے۔ ان کا خاص ذوق ظلم کے خلاف احتجاج تھا۔ انڈیا میں جب ایمرجنسی (1975 to 1977) نافذ کی گئی تھی، تو وہ اس کے مخالف بن گئے۔ اس سلسلے میں ان کی ایک نظم اُس زمانے میں کافی مشہور ہوئی تھی۔ اُس کا ایک شعر یہ تھا:
دماغ بیچئےورنہ اتارلینگے یہ سر دلیل سوچ کہ ہر ظلم کو روا کہیے
رشید کوثر فاروقی اسی قسم کے انقلابی ، زیادہ صحیح الفاظ میں ریڈیکل خیالات میں جیتے رہے۔ یہاں تک کہ 74 سال کی عمر میں مایوسی کی حالت میں اپنے وطن سیتاپور میں 2007 میں ان کا انتقال ہوگیا۔ آخری زمانے میں انھوں نے ایک نظم لکھی تھی، اس کا ایک شعر یہ تھا:
زیست کا راز کھلا گردش ایام کے بعد اِس کہانی کا تو آغاز تھا انجام کے بعد
ایسے بہت سے لوگ ہیں جو اعلیٰ صلاحیت رکھتے تھے۔ انھوں نے جوش کے تحت اپنے لیے کچھ انقلابی نشانے بنائے۔ مگر آخری وقت میں اُن کو معلوم ہوا کہ ان کے نشانے غیر عملی اور ناقابل حصول تھے۔ اسی قسم کے ایک مسلم لیڈر نے آخری زمانے میں اپنے بارے میں کہا تھا:
وہ محروم تمنا کیوں نہ سوئے آسماں دیکھے کہ جو لمحہ بہ لمحہ اپنی کوشش رائیگاں دیکھے
یہ انجام اکثر ان لوگوں کا ہوا ہے، جو غیر معمولی صلاحیت کے حامل تھے ۔ مگر ان کے اندر غیرحقیقی سوچ پیدا ہوگئی۔ انھوں نے اپنے لیے ایسے نشانے بنائے، جو قانونِ فطرت کے تحت پورے ہونے والے نہ تھے۔ نتیجہ یہ ہوا کہ وہ احساسِ ناکامی کے ساتھ دنیا سے چلے گئے۔ ایسے لوگوں کے لیے صحیح یہ تھا کہ وہ اپنی سوچ کی غلطی کا کھلا اعتراف کریں۔ تاکہ دوسروں کو ان کی زندگی سے سبق ملے۔ لیکن عملاً یہ ہوا کہ وہ سارا الزام دوسروں پر دیتے رہے۔ یہاں تک کہ وہ دنیا سے رخصت ہوگئے، مگر دنیا کو جو کچھ وہ دے سکتے تھے، وہ اس کو نہ دے سکے۔
واپس اوپر جائیں

ظلم یا چیلنج

کچھ لوگ جوش کے ساتھ کہتے ہیں کہ ’’120، 130 کروڑ کی آبادی میں صرف 1 کروڑ ظلم کے خلاف کھڑے ہوجائیں، ممکن نہیں کہ ظلم باقی رہے‘‘— یہ بات صرف ایک خطابت (rhetoric) ہے، اس بات کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں۔ موجودہ زمانے میں جو شخصیتیں یا جماعتیں معروف ہیں، وہ اپنے جو کارنامے بیان کرتے ہیں، ان کا مجموعہ 1 کروڑ سے بہت زیادہ ہوتا ہے۔ یعنی ایک کروڑ آدمی آج بھی مفروضہ ظلم کے خلاف کھڑے ہوئے ہیں۔ پھر اس کا نتیجہ کہاں ہے۔ اصل یہ ہے کہ ظالم اور مظلوم کا مفروضہ ہی غلط ہے۔آج کی دنیا میں نہ کوئی ظالم ہے، اور نہ کوئی مظلوم ہے۔ ہر آدمی کو عمل کرنے کا پورا موقع ملا ہوا ہے۔ جو لوگ اس مقابلے میں پیچھے رہ جاتے ہیں، وہ اپنے کو مظلوم بتا کر یہ کہتے ہیں کہ ظالم لوگوں نے ہمیں پیچھے کردیا ہے۔ظالم اور مظلوم کا مفروضہ نااہل رہنماؤں کا پیدا کردہ ہے۔ جو لوگ نااہلی کے باوجود رہنمائی کے میدان میں کھڑے ہونا چاہتے ہیں۔ ان کو سب سے زیادہ آسان یہ بات نظر آتی ہے کہ وہ ظلم و مظلومیت کا افسانہ گھڑیں، اور اس طرح ایک طبقہ کے درمیان کچھ شہرت (popularity) حاصل کریں۔
جو لوگ ایسی باتیں کرتے ہیں، ان کو چاہیے کہ وہ مواقع کو دریافت کریں ، اور مواقع کو بتاکر لوگوں کی مثبت رہنمائی کریں۔ فطرت کے قانون کے مطابق،مسائل خواہ کتنے ہی زیادہ ہوں، مواقع ہمیشہ موجود ہوتے ہیں۔ رہنما کا کام مواقع کی دریافت ہے۔ مسائل کا نام لے کر ان کے خلاف احتجاج کرنا کوئی کام نہیں۔ یہ رہنمائی کے نام پر لوگوں کو بھٹکانے کے سوا اور کچھ نہیں۔ ایسے ہی لوگوں کے بارے میں حدیث میں یہ کہا گیاہے — کہنے کے قابل کوئی بات ہو تو کہو، ورنہ چپ رہو:مَنْ کَانَ یُؤْمِنُ بِاللَّہِ وَالیَوْمِ الآخِرِ فَلْیَقُلْ خَیْرًا أَوْ لِیَصْمُتْ(صحیح البخاری، حدیث نمبر 6018) ۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جس آدمی کے اندر ذمہ داری کا احساس ہو گا، اس کا حال یہ ہوگا کہ کہنے کے قابل کوئی بات ہوگی تو وہ کہے گا، ورنہ وہ چپ رہے گا۔
واپس اوپر جائیں

دینی شناخت

مسلمانوں کا لکھنے اور بولنے والا طبقہ ایک بات نہایت دھوم سے کہتا ہے۔ وہ ہے، مسلمانوں کی دینی شناخت کا تحفظ۔ اس معاملے کا تجزیہ کیا جائے تو معلوم ہوگا کہ دینی شناخت عملاً کلچرل شناخت کا دوسرا نام ہے۔ دینی شناخت کوئی قرآن و سنت کی اصطلاح نہیں ہے۔دینی شناخت اپنی حقیقت کے اعتبار سے کلچرل شناخت کا نام ہے، اور مسلمانوں کی کوئی ایک کلچرل شناخت نہیں ہوسکتی۔ آپ اگر دنیا کا سفر کریں،اور ہر ملک کے مسلمانوں کا جائزہ لیں، تو ہر ملک کے مسلمانوں کی کلچرل پہچان الگ الگ ہوگی۔ شناخت (identity)کا تعلق فارم سے ہے، اور فارم کبھی ایک نہیں ہوسکتا۔
مسلمانوں کی نسبت سے جو مسئلہ ہے، وہ شناخت کا تحفظ نہیں ہے، بلکہ قرآن و سنت کا احیا (revival) ہے۔ مسلمانوں کی اصل ضرورت یہ ہے کہ ان کے اندر معرفت والا ایمان پیدا کیا جائے۔ ان کے اندر وہ ایمان پیدا کیا جائے، جس کو قرآن میں ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے: وَالَّذِینَ آمَنُوا أَشَدُّ حُبًّا لِلَّہِ (2:165)۔ یعنی جو ایمان لائے، وہ اللہ سے سب سے زیادہ محبت کرنے والے ہیں۔ اسی طرح :وَلَمْ یَخْشَ إِلَّا اللَّہَ (9:18)۔ یعنی وہ صرف اللہ سے ڈرتے ہیں۔
شناخت کا تصور فارم پر مبنی ہے۔ فارم کا تعلق دین سے نہیں ہوتا، بلکہ حالات سے ہوتا ہے۔ سماجی حالات اور جغرافی حالات،اس کا تعین کرتے ہیں۔ اس وقت مسلمانوں میں جس چیز کی کمی ہے، وہ فارم کی نہیں ہے، بلکہ ربانی اسپرٹ کی ہے۔ اسلام فارم پر مبنی کلچر نہیں ہے، بلکہ اسلام ربانی اسپرٹ پر مبنی دین کا نام ہے۔ آج ضرورت ربانی اسپرٹ کو زندہ کرنے کی ہے، نہ کہ فارم کو زندہ کرنا۔
ربانی اسپرٹ یہ ہے کہ اہلِ ایمان اللہ سے ڈرنے والے ہوں، وہ اللہ کو اپنا سول کنسرن (sole concern) بنائیں، وہ دینی اقدار (Islamic values) کو اختیار کریں، ان کے اندر قابل پیشین گوئی کردار (predictable character) پایا جاتا ہو، ان کے افراد کے اندر امانت (honesty) ہو، ان کے اندر انسانوں کے لیے خیر خواہی پائی جاتی ہو۔
واپس اوپر جائیں

فطرت کو موقع دو

ترقی کے ہر میدان میں عمل کا صحیح طریقہ یہ ہے کہ فطرت کو کام کرنے کا موقع دیا جائے۔ فطرت کے راستے میں اگر رکاوٹ نہ ڈالی جائے تو ہر کام نہایت درست طریقے سے ہوگا۔ فرد کی ترقی یا سماج کی ترقی کا راز یہ ہے کہ فطرت کو آزادانہ طور پر کام کرنے کا موقع دیا جائے۔ فطرت کا طریقہ یہ ہے— کم سے کم مداخلت، زیادہ سے زیادہ آزادی۔
مثلاً اگر بچے کے ساتھ لاڈ پیار نہ کیا جائے، تو بچہ ذاتی محرک کے تحت ہر کام اچھی طرح انجام دیتا رہے گا۔ سماجی عمل میں مداخلت نہ کی جائے تو سماج چیلنج - رسپانس (challenge-response) کے پراسس کے تحت اپنے آپ ترقی کرتا رہے گا۔ حقیقت یہ ہے کہ فطرت سے بڑا کوئی معلم نہیں۔ فطرت سے بڑا کوئی منصوبہ ساز نہیں۔ جس طرح بہتا ہوا پانی اپنے آپ اپنا راستہ بنالیتا ہے، اسی طرح فطرت اپنے آپ ترقی کا راستہ تلاش کرلیتی ہے۔
فطرت (nature) خالق کی تربیت یافتہ رہنما ہے۔ فطرت کو پیدائشی طور پر معلوم ہے کہ اس کو کس طرح چیلنج کا سامنا کرنا ہے۔ اس کو کیا کرنا ہے، او ر کیا نہیں کرنا۔ فطرت کو معلوم ہے کہ مسائل کے درمیان کس طرح مواقع کو تلاش کرنا ہے، اور اس کو منصوبہ بند انداز میں کیسے اپنی موافقت میں اویل (avail) کرنا ہے۔ فطرت ایک خود کار معلم ہے۔ جس طرح جسم کے ’’ڈاکٹر‘‘کو معلوم ہے کہ اس کو جسم کا داخلی نظام کس طرح چلانا ہے، اسی طرح فطر ت کو معلوم ہے کہ خارجی مواقع کی تنظیم کرتے ہوئے کس طرح اس کو اپنے موافق استعمال کرنا ہے۔
کسی ملک کو ترقی کی طرف لے جانے کے لیے سرکاری پلاننگ کی ضرورت نہیں ہے، بلکہ آزادانہ ماحول کی ضرورت ہے۔ آزادانہ ماحول میں مسابقت (competition) کا رجحان اپنے آپ ملک کا رہنما بن جاتا ہے۔ کسی ملک کی ترقی کے لیے سرکاری کنٹرول کی ضرورت نہیں ہے، بلکہ یہ ضرورت ہے کہ فطرت کو آزادانہ طور پر کام کرنے کا موقع دیا جائے۔
واپس اوپر جائیں

غصے کا ظاہرہ

غصہ (anger) کیا ہے۔ غصہ دراصل جذباتی ہیجان کا دوسرا نام ہے، جو ذہن (mind) کو نہایت گہرائی کے ساتھ متحرک کرنے والا ہے:
Anger is an emotional outburst that triggers deeper parts of the mind.
انسان کا ذہن بے شمار صلاحیتوں کا مالک ہے، مگر عام حالت میں ذہن کے بیشتر حصے خوابیدہ حالت میں رہتے ہیں۔ غصہ آدمی کے ذہن کے تمام حصوں کو متحر ک اور بیدار کردیتا ہے۔ غصہ وقتی طور پر manکوsuper man بنا دیتا ہے۔ غصہ ور آدمی نارمل حالات کے مقابلے میں زیادہ سوچنے والا بن جاتا ہے۔ غصہ ایک ایسی حالت کا نام ہے، جیسے کوئی غیر متحرک بم اچانک پھٹ پڑے۔
غصہ کے وقت آدمی کے ذہن کے بہت سے گوشے کھل جاتے ہیں، جو عام حالت میں بند پڑے ہوئے تھے۔غصہ آدمی کے تجزیہ (analysis)کرنے کی صلاحیت کو بڑھا دیتا ہے۔ غصہ اپنی ذات میں کوئی برائی کی چیز نہیں۔ غصہ کے لیے یہ ضرورت نہیں کہ اس کو ختم کیا جائے، بلکہ غصہ کو کنٹرول کرنے کی ضرورت ہے۔ جب غصہ آئے تو آپ صرف یہ کیجیے کہ غصہ کو چینلائز (channelize) کرنے کی کوشش کیجیے، یعنی غصہ کو تعمیری رخ کی طرف موڑ دیجیے۔
غصہ کو تعمیری رخ پر موڑنا کوئی مشکل کام نہیں ہے۔ آپ کو صرف یہ کرنا ہے کہ جب آپ کو غصہ آئے تو آپ چپ ہوجائیں۔ چپ ہوتے ہی اپنے آپ غصے کا رخ بدلنا شروع ہوجائے گا، اور پھر آپ کو یہ موقع مل جائے گاکہ آپ غصے کو تعمیری رخ دے دیں۔ غصے کے وقت ایک بے حد قیمتی چیز آدمی کے دماغ سے ریلیز ہوتی ہے۔ اس کو اینگر انرجی (anger energy)کہا جاتاہے۔ اینگرانرجی آپ کے جسم سے نکلنے والی سب سے بڑی طاقت کانام ہے۔ اینگر انرجی کو برباد ہونے سے بچائیے۔ اینگر انرجی کو صحیح رخ پر موڑ دیجیے۔ اینگر انرجی کو منضبط (controlled) انداز میں استعمال کیجیے،ا ور پھر غصہ آپ کے لیے ایک صحت مند ظاہرہ بن جائے گا۔
واپس اوپر جائیں

شادی شدہ زندگی

تجربہ بتاتا ہے کہ اکثر شادی ، شادی کے بعد پرابلم شادی بن جاتی ہے۔ ایک صاحب نے کہا کہ میری شادی لو میرج تھی، مگر عملاً یہ ہوا کہ شادی سے پہلے میرا جہاز ہوا میں اڑ رہا تھا، اور شادی کے بعد میرا جہاز کریش ہو کر زمین پر گر پڑا۔ یہ ظاہرہ اتنا زیادہ عام ہے کہ اس میں مشکل سے کوئی استثنا تلاش کیا جاسکتا ہے۔ ایسا کیوں ہے۔ اس کا سبب یہ ہے کہ شادی سے پہلے انسان اپنے گھر میں خونی رشتے دار (blood relationship) کے درمیان ہوتا ہے۔ شادی کے بعد اچانک اس کو غیر خونی رشتے دار (non-blood relationship) کے درمیان زندگی گزارنا پڑتا ہے۔ لوگ عام طو رپر اس فرق کے ساتھ ایڈجسٹ نہیں کرپاتے،اس لیے اختلافات پیدا ہوتے ہیں، جو کبھی کبھی بریک ڈاؤن (breakdown) کی حد تک پہنچ جاتے ہیں۔
خالق نے انسانی زندگی کو جس اصول پر بنایا ہے، اس میں یکسانیت (uniformity) نہیں ہے، بلکہ عدم ِیکسانیت (dis-uniformity) ہے۔ یہ فطرت کا قانون ہے۔ وہ ہر جگہ اور ہمیشہ پایا جاتا ہے۔ اس قانون کا مقصد یہ ہے کہ دو مختلف انسان اپنی مختلف صلاحیتوں کو متحدہ طور پر استعمال کرکے زیادہ مفید انداز میں سماجی زندگی کا حصہ بنیں۔ اگر لوگ اس راز کو سمجھیں تو وہ اپنی افادیت کو ڈبل بنا لیں گے۔ وہ اپنی افادیت میں بہت زیادہ اضافہ کرلیں گے۔ وہ زندگی کی گاڑی کو زیادہ تیز رفتاری کے ساتھ چلانے میں کامیاب ہوجائیں گے۔
فطرت کا یہ قانون دو مختلف صلاحیت کے انسانوں کو یہ موقع دیتا ہے کہ وہ اپنی مختلف صلاحیتوں کو مشترک طور پر استعمال کرکے اپنے آپ کو سماج کا زیادہ مفید عنصر بنا سکیں۔ وہ اپنی افادیت کو ملٹی پلائی (multiply) کرلیں۔اس معاملے میں مشہور انگریزی مقولہ صادق آتا ہے:
If everyone thinks alike, no one thinks very much.
یعنی ہر آدمی یکساں طور پر سوچے تو کوئی شخص زیادہ نہیں سوچے گا۔
واپس اوپر جائیں

عذر کیا ہے

عذر (excuse) کی حقیقت یہ ہے کہ آدمی جب کوئی ضروری کام انجام نہ دے سکے، تو اپنی اس غلطی کا جواز (justification) بیان کرنے کے لیے اس کا کوئی ایسا سبب بیان کرے، جو صرف ایک کہنے کی بات ہو، اس کا کوئی حقیقی سبب نہ ہو۔ گویا عذر اپنی حقیقت کے اعتبار سے ہمیشہ ایک بے بنیاد سبب (false excuse) ہوتا ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ زندگی کبھی عذر سے خالی نہیں ہوسکتی۔ عذر زندگی کا ایک لازمی حصہ ہے۔ اس لیے عذر کبھی سچا عذر نہیں ہوتا۔ انسان کا کام یہ ہے کہ وہ عذر کو عذر نہ بنائے، بلکہ منصوبہ بندی کے ذریعے عذر کو عملا غیر موثر بنادے۔
مثلا آپ کواپنے وعدے کے مطابق کہیں جانا تھا، اور پھر روانگی سے کچھ پہلے بارش شروع ہوجائے۔ اب ایک انسان وہ ہے جو بارش کو عذر بنا کر گھر میں بیٹھ جائے۔ ایسا آدمی ایک کمزور آدمی ہے۔ سچا انسان وہ ہے جو ایسے موقع پر مینج (manage) کرنے کا طریقہ اختیار کرے۔ وہ یاتو چھتری کا استعمال کرکے ٹھیک ٹائم پر اپنے وعدہ کے مقام پر پہنچے، اور اگر بالفرض وہ ایسا نہیں کرسکتا تو بارش ہونے کی صورت میں وہ فوراً صاحب ملاقات کو فون کرے، اور اس کو موجودہ صورتِ حال سے واقف کرائے۔
اس دنیا میں کوئی عذر حتمی عذر نہیں ہے۔ ہر عذر مینیجیبل عذر(manageable excuse) ہوتا ہے۔عذر انسان کے لیے عمل میں رکاوٹ نہیں ہے، بلکہ ذہن کو زیادہ متحرک کرنے کا ایک موقع ہے۔ با اصول آدمی وہ ہے، جو عذر پیش آنے کی صورت میں اپنے ذہن کو استعمال کرکے مزید غور کرے۔ وہ عذر کو مینج (manage) کرکے اس کو حل کرنے کی تدبیر دریافت کرے۔ وہ عذر کو تدبیر ِکار کا مسئلہ سمجھے، نہ یہ کہ اس کو ناقابلِ حل مسئلہ سمجھ کر بے عملی کا طریقہ اختیار کرے۔ عذر نئی تدبیر کا طالب ہے، نہ کہ کام نہ کرنے کا بہانہ۔
واپس اوپر جائیں

کھونے میں پانا اور پانے میں کھونا

زندگی میں دو قسم کے واقعات پیش آتے ہیں۔ زندگی میں آدمی کچھ حاصل کرتا ہے، اور کبھی ایسا ہوتا ہے کہ وہ کچھ کھودیتا ہے۔ دونوں قسم کے واقعات زندگی کا لازمی حصہ ہیں ۔کسی بھی شخص کی زندگی ان سے خالی نہیں ہوتی۔ جب آپ زندگی میں کچھ حاصل کرتے ہیں تو یہ یاتو آپ کی منصوبہ بندی کا نتیجہ ہوتا ہے، یا کچھ اتفاقی واقعات آپ کے لیے مساعد (support)بن جاتے ہیں، اس لیے آپ کو کامیاب کردیتے ہیں۔جب آپ کامیاب ہوں تو یہ دریافت کیجیے کہ آپ کی کامیابی میں کن عوامل (factors)کا دخل ہے۔ ان عوامل کو اگر آپ دریافت کرسکیں تو آپ زندگی کی ایک حکمت (wisdom) کو دریافت کریں گے، جس کو آپ اپنی بعد کی زندگی میںبھی استعمال کرسکتے ہیں۔ یہ عوامل ایک اعتبار سے فطری عوامل ہوتے ہیں، اور دوسرے اعتبار سے وہ زندگی کی حکمت کو بتاتے ہیں۔
یہی معاملہ کھونے کا ہے۔ جب آپ کھوتے ہیں، وہ سادہ معنوں میں کھونا نہیں ہوتا، بلکہ آپ کے لیے ایک تجربہ (experience) ہوتا ہے۔ کھونے کی صورت کو آپ تجربے میں ڈھال دیجیے۔ اس طرح کھونا بھی آپ کے لیے ایک اعتبار سے پانا بن جائے گا۔ زندگی کی حکمت اگر آپ کے لیے ایک ریڈی میڈ وزڈم ہے، تو تجربہ آپ کے لیے ایک ذخیرہ کیے ہوئے (stored) وزڈم کی حیثیت رکھتا ہے۔ زندگی ایک نازک آرٹ ہے۔ زندگی میں پانا بھی آپ کے لیے کھونا بن سکتا ہے، اور اسی طرح کھونا بھی آپ کے لیے پانا بن سکتا ہے۔ اگر آپ پانے کے واقعے میں وزڈم کا عنصر دریافت نہ کرسکیں، تو آپ نے کوئی بڑی چیز نہیں پائی۔ آپ زندگی کے حاشیے پر پہلے بھی تھے، اور اب بھی وہیں پڑے ہوئے ہیں۔ اسی طرح اگر آپ کھونے کے واقعے کو تجربے میں نہ ڈھال سکے تو آپ ڈبل محرومی کا شکار ہوگئے۔ ایک تو وہ جس کو آپ نے کھودیا، اور دوسرا وہ جس کو آپ کھونے کے باوجود پاسکتے تھے، اس کو بھی آپ پانے سے محروم رہے۔
واپس اوپر جائیں

تخلیقی مشورہ

اگر آپ کسی کو اس کی کمی بتائیں ، تو آپ نے اس کو کچھ نہیں دیا ، بلکہ اس سے کچھ چھین لیا۔ اس کو آپ نے کمتری کے احساس میں مبتلا کردیا۔ اس کے بجائے، اگر آپ کی ملاقات کسی نوجوان سے ہو، اور آپ اس سے کہیں کہ زندگی میں ٹاپر (topper)بنو، تو آپ نے اس سے ایک اچھی بات کہی۔ لیکن آپ کا یہ قول کوئی تخلیقی مشورہ (creative advice) نہیں ہے۔ تخلیقی ایڈوائس وہ ہے، جو سننے والے کے اندر کوئی نیا داعیہ (incentive) پیدا کرے۔
مثلاً اگر آپ نوجوان سے یہ کہیں کہ تم ابھی زندگی کے ابتدائی مرحلے میں ہو، تم کو چاہیے کہ تم سب سے پہلے اپنا مطالعہ کرکے یہ معلوم کرو کہ تمھارے اندر کون سی خاص صلاحیت ہے۔ کیوں کہ خالق جب ایک انسان کو پیدا کرتا ہے، تو وہ اس کو کوئی خاص صلاحیت عطا کرتا ہے، تاکہ وہ دنیا میں کوئی نادر (unique)کام انجام د ے سکے، ایسا کام جو کسی نے اب تک انجام نہیں دیا۔ جو آدمی اپنی اس صلاحیت کو دریافت کرے، وہ ضرور کامیاب ہوگا، کیوں کہ ایسا کرکے وہ اپنے خالق کی خصوصی مدد کا مستحق بن جاتا ہے۔ پھر اس خاص صلاحیت کے مطابق، اپنے عمل کی پلاننگ (planning) کرو۔ تمھارے لیے یہ بھی ضروری ہے کہ تم اپنے آپ کو ڈسٹریکشن (distraction) سے بچاؤ۔ کیوں کہ ڈسٹریکشن تم کو بھر پور پلاننگ سے محروم کردے گا۔ اگر کسی نوجوان کو یہ مشورہ دیں تو یہ ایک تخلیقی مشورہ ہوگا۔
تخلیقی مشورہ صرف مشورہ نہیں ہے، بلکہ وہ لائحۂ عمل بھی ہے۔ وہ آدمی کو صرف بتاتا نہیں ہے، بلکہ وہ آدمی کی مدد بھی کرتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ تخلیقی مشورہ وہ سب سے زیادہ قیمتی چیز ہے، جو ایک آدمی کسی دوسرے آدمی کو دے سکتا ہے۔ کسی کو تخلیقی مشورہ دینا کوئی آسان کام نہیں۔ تخلیقی مشورہ وہی آدمی دے سکتا ہے، جو اپنے آپ کو اس مقصد کے لیے تیار کرے، جو دوسرے انسان کا سچا خیرخواہ ہو، جو خود پہلے وہ کام کرے، جس کا مشورہ وہ دوسرے آدمی کو دے رہا ہے۔
واپس اوپر جائیں

خبرنامہ اسلامی مر کز- 264

٭ سی پی ایس انٹرنیشنل کے تحت جو اہم کام ہو رہا ہے ، وہ ہے دنیا کے تمام انسانوں تک خدا کا پیغام ان کی قابلِ فہم زبانوں میں پہنچ جائے۔ اس سلسلے میں گڈ ورڈ بکس کی یہ کوشش رہی ہے کہ زیادہ سے زیادہ زبانوں میں قرآن کے ترجمے شائع کیے جائیں۔ اب تک گڈ ورڈ بکس سے 20 سے زائد تراجم قرآن نیشنل و انٹرنیشنل زبانوں میں چھپ چکے ہیں۔ اب اس سلسلے میں ایک اورترجمہ شامل ہوچکا ہے۔ فلپینو زبان (Filipino language) میں قرآن کا ترجمہ چھپ چکا ہے۔فلپینو زبان فلپائن کی قومی زبان ہے۔نیز سنہالی زبان میں ترجمۂ قرآن حاصل ہوچکا ہے، اور جلد ہی اس کی چھپائی کا کام بھی شروع ہونے کی امید ہے۔ واضح ہو کہ سنہالی یا ‎‎سنہالا‎‎ زبان سری لنکا کی ایک اہم زبان ہے۔
٭  5 مئی 2018 کو مشہور رائٹر اور سابق صحافی مسٹر آسولڈ پریرا (Oswald Pereira) صدر اسلامی مرکز کو اپنی کتاب بطور تحفہ دینے کے لیے آئے۔ انھوںنے ایک کتاب ترتیب دی ہے،اس کتاب کا نام ہے How to Create Miracles in Our Daily Life ۔اس کتاب میں انھوں نے صدر اسلامی مرکز کے چھ مضامین شائع کیے ہیں۔ یہ کتاب اسپریچوالٹی کے موضوع پر ہے۔
٭ 5 مئی 2018 کو انٹرنیشنل پیمانے پر امن اور روحانیت کے لیے کام کرر ہے تین لوگوں کا ایک گروپ صدر اسلامی مرکز سے ملنے کے لیے ان کے آفس نظام الدین ویسٹ میں آیا۔ ان تینوں کے نام یہ ہے: مز لکشمی مینن، مسٹر بین بولر (Ben Bowler) اور مز ینیی (Yanni)۔ یہ پیس اور اسپریچوالٹی کے معاملات میں سی پی ایس انٹرنیشنل کے ساتھ مل کر کام کرنا چاہتے ہیں۔ ان لوگوں سے مختلف موضوعات پر گفتگو ہوئی، اور آخر میں انھیں صدر اسلامی مرکز کی انگریزی کتابوں کا ایک ایک سٹ دیا گیا۔
٭ جناب عیاض احمد، سی پی ایس جمشید پور 31مئی 2018کو اطلاع دیتے ہیں کہ ٹیم ممبر جناب خالد صاحب (فاؤنڈر و صدر MSITI مینگو) نے سن رائز فاؤنڈیشن کی صدر مز دیپیکا موئترا کو ترجمۂ قرآن دیا۔ مز موئترا اسلام سے بہت متاثر ہیں، اور رمضان کے کچھ روزے بھی رکھتی ہیں۔ان کا کہنا ہے کہ اس سے ان کو بہت شانتی ملتی ہے۔اسی طرح 9 جون 2018 کو ایک دوسرے ٹیم ممبر مسٹر شہنواز قمر نے جمشید پور کی مشہور شاعرہ مسز نرملا ٹھاکر کو ترجمہ ٔ قرآن بطور رمضان گفٹ دیا۔ جسے انھوں نے بہت ہی خوشی اور شکریے کے ساتھ لیا۔
٭ جناب ڈاکٹر محمد اسلم خان صاحب کی اطلاع کے مطابق، 4 جون 2018کو سی پی ایس سہارن پور کی جانب سے مسٹر پون کمار (آئی اے ایس)، مسٹر راہل پانڈے (آئی اے ایس) کو صدر اسلامی مرکز کی کتاب، گاڈ ارائزز(God Arises) اور دوسری کتابیں بطور تحفہ دی گئیں۔ مسٹر پون کمار بذاتِ خود کئی کتابوں کے مصنف اورایک متلاشیٔ حق انسان ہیں۔
٭ خواجہ کلیم الدین صاحب (سی پی ایس امریکا) کی اطلاع کے مطابق 7 جون 2018 کو انھیں ایک چرچ میں دعوت دی گئی، تاکہ وہ وہاں موجود کرسچین سامعین کے ساتھ اسلام کے تعلق سے انٹرایکشن کریں۔ انھوں نے وہاں شرکت کی، اور تمام لوگوں سے تبادلۂ خیال کیا، اور تمام لوگوں کو صدر اسلامی مرکز کی انگریزی کتاب ، لیڈنگ اے اسپریچول لائف بطور گفٹ دیا۔ واضح ہو کہ وہاں سامعین کی تعداد 30 تھی۔
 ٭ ۸جون 2018 کو گڈورڈ بکس کے ڈائریکٹر اور سی پی ایس انٹرنیشنل ، نئی دہلی کے ٹرسٹی مسٹر ثانی اثنین خان نے سی پی ایس دہلی کی ممبر مز ماریہ خان کے ساتھ امریکن سفارت خانہ (نئی دہلی) میں منعقدہ افطار پارٹی میں شرکت کی، اور امریکی سفیر اور دیگر ڈپلومیٹ کو انگریزی ترجمہ قرآن بطور گفٹ دیا۔ جب سفارت خانے کے ذمے داران سے سی پی ایس انٹرنیشنل کی سرگرمیوں پر گفتگو ہوئی تووہ لوگ اس بات پر راضی ہوگئے ہیں کہ آئندہ سال سے افطار پارٹی کے موقع پر سی پی ایس انٹرنیشنل (دہلی)کی ممبر مز ماریہ خان کو وہ رمضان کے موضوع پر تقریر کے لیے دعوت بھی دیں گے۔
٭ سی پی ایس انٹرنیشنل، نئی دہلی کے ممبران نے اس مرتبہ عید(2018) کی نماز پارلیمنٹ ہاؤس اسٹریٹ کی مسجد میں ادا کی، اور وہاں آنے والے تمام لوگوں کو ترجمہ قرآن اور صدر اسلامی مرکز کی دیگرکتابیں بطور تحفہ دیں۔ جن لوگوں نے یہ تحفہ حاصل کیا، ان میں مسٹر غلام نبی آزاد، مسٹر شہنواز حسین، وغیرہ سیاسی لیڈران بھی شامل ہیں۔ واضح ہو کہ سی پی ایس انٹرنیشنل ہر سال عید الفطر اور عید الاضحیٰ کے موقعے کو بطور دعوتی مواقع استعمال کرتی ہے، اور مسلمان و غیر مسلموں کے درمیان ترجمۂ قرآن و دیگر دعوتی لٹریچر تقسیم کرتی ہے۔
٭ 16 جون 2018 کو سردار موہندر سنگھ (ڈائریکٹر بھائی ویر سنگھ ساہتیہ سدن، دہلی ) نے عید کی مبارک باد دینے کیے صدر اسلامی مرکز سے ملاقات کی۔ اس وقت ان کو پنجابی ترجمۂ قرآن اور دوسری کتابیں بطور تحفہ دی گئیں۔ سردار موہندر سنگھ نے صدر اسلامی مرکز کی کتابوں کے ریویو میں تعاون کرنے کی خواہش ظاہر کی ہے۔
٭ سی پی ایس امریکا کے متحرک ممبر ڈاکٹر وقار عالم صاحب نے رمضان کے موقع پر دعوت کا یہ طریقہ اختیار کیا کہ انگریزی ترجمۂ قرآن کے ساتھ کچھ گفٹ آئٹم رکھ کر تمام یہود و کرسچین پڑوسیوں کو ان کے گھر جاکر یہ گفٹ دیا۔ تمام لوگوں نے بہت ہی خوشی اور شکریے کے ساتھ یہ گفٹ قبول کیا۔ کئی لوگوں نے ترجمہ قرآن دیکھ کر بہت زیادہ خوشی کا اظہار کیا۔
٭Mr Cem Simsek ترکی کے ایک لائسنس یافتہ ٹورسٹ گائڈ ہیں۔ وہ استانبول میں گائڈ کا کام کرتے ہیں، اور پچھلے سات سالوں سے وہ اپنے ٹورسٹوں کے درمیان دعوتی کام بھی کرتے ہیں۔ وہ اپنے ٹورسٹوں کو اسلام کا تعارف کرواتے ہیں، اور ان کو ترجمۂ قرآن دیتے ہیں۔
٭ اسلامی مرکز کا مشن نہ صرف انڈیا میں پھیل رہا ہے، بلکہ پڑوسی ملک پاکستان میں بھی الرسالہ مشن کو بڑے پیمانے پر پذیرائی مل رہی ہے۔ پاکستان کے مختلف ناشرین کتب صدر اسلامی مرکز کی کتابوں کو شائع کر رہےہیں۔ان کے علاوہ سی پی ایس پاکستان کی صورت میں ایک مضبوط ٹیم وجود میں آچکی ہے، جس کے ذریعے اسلامی مرکز کی اردو میگزین، ماہنامہ الرسالہ اور انگلش میگزین اسپرٹ آف اسلام پاکستان میں چھاپی جاتی ہیں، اورپاکستان میں انھیں بڑے ذوق و شوق سے پڑھا جاتا ہے۔اس کے علاوہ صدر اسلامی مرکز کی کتابیں بڑے ذوق و شوق سے پڑھی جاتی ہیں۔ان کے ذریعے اسلامی مرکز کا پیغام پاکستان کے کونے کونے میں پہنچ رہا ہے۔ذیل میں پاکستان کے چند قارئین کا تاثر دیا جا رہا ہے:
■ جناب طارق بدر صاحب (کو آرڈی نیٹر، سی پی ایس، پاکستان) لکھتے ہیں: پاکستان میں مختلف مقامات کا سفر کرنے کےبعد میں نے یہ جانا کہ مولانا کی فکر کی قبولیت ان کی ذاتی مقبولیت سے زیادہ ہے۔تقریباً تمام علمائے کرام ان سے واقف ہیں، اور ان کی تصانیف کا مطالعہکرچکے ہیں۔حتیٰ کہ آپ سے اختلاف کرنے والے علما بھی دین کے لیےآپ کی خدمات کا اعتراف کیے بغیر نہیں رہتے ۔ہمارے پاس مولانا کی 20 مختلف عنوانات پر ایسی کتابیں ہیں جن کو جامعہ اشرفیہ (لاہور) پاکستان نے شائع کیا ہے۔ یہ ادارہ پاکستان میں دیوبندی مکتبۂ فکر کا ایک بہت بڑا طباعتی ادارہ ہے۔ پچھلے سال انہوں نے 2000 کے قریب مولانا کی کتابیں ہمیں عطیہ کیں، جن میں ظہور اسلام، اسلام اور عصر حاضر، دین کی سیاسی تعبیر وغیرہ شامل ہیں۔ہمیں چاہیے کہ اس قسم کےمواقع سے فائدہ اٹھائیں، اور اس مشن کو آگے بڑھائیں۔
■ مولانا کی کتابوں کے مطالعہ سے یہ فائدہ ہواہے کہ آخرت اور مابعد الموت کے بارے میں میرے اندر فکری بیداری پیدا ہوئی ہے، اور عمل کو شعوری انداز میں کرنے کی کوشش کرنے لگا ہوں۔ مولانا کی کتابوں سے میرے اندر وہ استعداد ہوگئی ہے، جس سے جدید تعلیم یافتہ حضرات میری باتوں کو سمجھ سکیں۔ جمعہ کے بیان میں ان مثالوں کو بیان کرنےسے لوگوں کےدلوں میں دین پر عمل کرنے کاشوق پیداہوگیا ہے۔ مجھے دعوت دینے کے طریقے آگئے ہیں،اورمسائل کو نظر انداز کرکے مواقع پہچاننے کا ذہن میرے اندر مولانا کی کتابوں سے آیا ہے۔ اس طرح کے بے شمار فائدے ہیں، جو میں نے حضرت کی کتابوں وتصنیفات کے مطالعے سے حاصل کی ہیں۔اللہ ہمیں مزید استفادہ کرنے کی توفیق دے (محمد صدیق، امام مسجد، کوئٹہ)
■ میرا تعلق ایک مذہبی گھرانے سے ہے۔مجھے بچپن سے مذہبی لٹریچر کو پڑھنے کا شوق تھا۔میرے والد کا تعلق جماعتِ اسلامی سے تھا۔ میں نے بچپن میں جماعتِ اسلامی کے کسی میگزین میں پہلی مرتبہ مولانا کا نام تعبیر کی غلطی کے کتاب کے حوالے سے سنا تھا۔ لیکن اس وقت کتاب تک رسائی نہ ہوسکی۔2015 میں اس کتاب تک رسائی ہوئی۔ اس کتاب کے مطالعے نے مجھے بے حد متاثر کیا۔چنانچہ میں نے مولانا کی مزید کتابیں ڈاؤنلوڈ کیں، اور ان کا مطالعہ کیا،تو مجھے لگا کہ میں ایک نئی دنیا سے متعارف ہو گیا ہوں۔اس کے بعد میں نے مولانا کی انٹرنیٹ پر موجود تمام تقریروں کو ڈاؤنلوڈ کرکے سنا، جس سے مجھے کافی فائدہ ہوا۔اس وقت میں ابوظہبی میں Quran distributer ہوں، اوراپنے دوستوں کو مولانا کی کتابیں دے کر انھیں ان کا مطالعہ کرنے پر ابھارتا ہوں۔ حقیقت یہ ہے کہ مولانا کے لٹریچر نے میری زندگی کا رخ تبدیل کیا ۔میں پہلےسیاسی اسلام کاکو ماننے والا تھا، اب میں خود کو ایک داعی سمجھتا ہوں۔ اس کے علاوہ جو تبدیلیاں میرے اندر پیدا ہوئی ہیں، ان میں سے چند یہ ہیں: (1)میں ایک شعوری مسلمان بن گیا ہوں۔ (2)میرے اندر غیر مسلم کے لیے خیرخواہی پیدا ہوئی ہے۔ (3)دعوت کی اسپرٹ پیدا ہوئی۔ (4)آخرت کی جواب دہی کا شدید احساس ۔ (5)میرے اندر صبر اور برداشت کا مادہ پیدا ہوا ہے۔ (6)معمولی لغزش کے بارے میں بھی میں بہت حساس ہوگیا ہوں۔ (7)تکبر کے بجائےتواضع کو اپنا چکاہوں۔ (8)نمازوں کو خشوع و خضوع کے ساتھ ادا کرنا۔ (9)دنیا سے بے رغبتی۔ (10)میرے اندر سے نفرت اور انتقام کا جذبہ حیرت انگیز حد تک کم ہوچکا ہے۔ (11)اور سب سے بڑھ کریہ کہ اب میں چھوٹی چھوٹی چیزوں کے بارے میں بھی تدبر اور توسم کا طریقہ اختیار کرتا ہوں۔یہ تمام خصائص میری زندگی کا اثاثہ ہیں۔اس لیے میں مولانا کا بہت احسان مند ہوں۔محمد عامر قریشی (کوھاٹ پاکستان)، مقیم حال ابو ظہبی۔
■ مولانا صاحب کی تعلیم میں ایک سبق بہت نمایاں ہے ۔ وہ یہ کہ معاملات کو گہرے تدبر ، غیر جانبدارانہ انداز میں ، اور سچائی کے ایک طالب علم کی طرح دیکھنا ، سننا اور پڑھنا چاہیے۔ یہی وجہ ہے کہ مولانا صاحب کی تحریروں کی ریکارڈنگ کر کےلوگوں کے درمیان پھیلانے کی کوششیں کرتا ہوں تاکہ جس علم و حکمت سے مجھے فائدہ پہنچ رہا ہے، ان کو دوسرے لوگوں تک بھی آواز کی صورت میں منتقل کرسکوں ۔ (ڈاکٹر خالد سعید، کراچی)
■ مولانا ایک ایسے صوفی ہیں جنہوں نے اللہ سے قربت کا بہت ہی آسان راستہ بتایا ہے ، اس میں نہ ہی تصوف کی پیچیدگیاں ہیں اور نہ ہی کوئی ابہام۔ مولانا کے نظریے کی یہ خاص بات ہے کہ آپ صرف اور صرف توحید کے قائل ہیں۔ پیری مریدی سے نکل کر صرف اور صرف اللہ کی ذات سے مضبوط رشتہ قائم کرنا ، آپ کی تعلیم کا خاصہ ہے۔ (عبد الغفور کندی، کے پی کے)
■ مولانا کی باتیں حوصلہ افزا اور دل و دماغ کو تازگی بخشتی ہیں۔ ان کی ہر تحریر منفی جذبات کے خلاف اینٹی بائیوٹک کی طرح کام کرتی ہیں ۔ اللہ ہمیں عمل کی توفیق عطا فرمائے، آمین (احمد شاہ جمالی، ڈی جے خان)
■ اگر ہم اپنے ارد گرد موجود اسلامی سوچ(روایتی مذہبی سوچ) کا جائزہ لیں تو ایک منفی سوچ پیدا ہوتی ہے۔ یوں لگتا ہے کہ جیسے ہر جگہ اسلام سے نفرت اور مسلمانوں سے دشمنی ہے، لیکن جب ہم مولانا کی تحریروں کو پڑھتے ہیں تو ایک positive احساس بیدار ہوتا ہے، جو بتاتا ہے کہ ہمارے لیے موجودہ زمانے میں کیا مواقع ہیں، اور ہمارےطرز عمل میں غلطی کیا ہے،جس کوہمیں درست کرنے کی ضرورت ہے۔ مولانا کی تحریریں فطری انداز میں کلام کرتی ہیں۔ میں جب کبھی مولاناکو پڑھتا ہوں، مجھے اپنے اندر ایک سکون محسوس ہوتا ہے، یوں لگتا ہے جیسے مجھے میری کھوئی ہوئی کوئی چیزمل گئی یا میں نے اپنی تلاش کا حقیقی حل پا لیا۔ (فیصل عبد الرشید، کراچی)
■ کن الفاظ کے ساتھ مولانا وحیدالدین صاحب کا شکریہ ادا کیا جائے۔ بات اگر کی جائے ان کی تحریروں اور ان کے پیغامات کی تو لاجواب۔ مولانا تو اندھیرے میں امید کا چراغ اور مایوسی میں امید و حوصلہ دینے والے شخص ہیں۔ اگر ایک شخص زندگی کی بازی ہار بیٹھا ہو، اور وہ خودسوزی کے لے تیار ہو ، اس وقت مولانا صاحب کا ایک قول ایسےانسان کو زندگی کی امید دینے کے لیے کافی ہے۔مولاناہار کر جیتنے کا پیغام دیتے ہے ،میل جول اور اتفاق و بھائی چارےکا درس دیتے ہیں ۔خود اعتمادی کا بیج بوتے ہوئے اپنی ذات کی پہچان کرواتے ہیں۔اس عظیم انسان کے کام تاریخ میں ہمشہ زندہ و جاوید رہیں گے۔ (شہزادہ بابل جان، کوئٹہ)
■ مولانا صاحب کی تحریروں کو پڑھنے سے پہلے میرے اندر بہت ہی زیادہ منفی سوچ موجود تھی، مولانا کو پڑھنے کے بعد میرے اندر بہت زیادہ بدلاؤ آیا ہے۔ منفی سوچ مثبت سوچ میں بدل چکی ہے۔ (حسن افضل، ملتان)
■   مولانا کی تحریر کا فوکس امن ہے ، شروع میں یہ بہت broad term محسوس ہوا۔ وقت کے ساتھ ساتھ امن کی اہمیت ذاتی زندگی میں روشناس ہونا شروع ہوئی ۔ پھرپیغمبر اسلام کی زندگی کو جیسے مولانا نے لکھااس سے امن کا مطلب بہت clear ہوتا چلا گیا۔ صبر ، بردباری ، صاف دلی ، اللّہ کی بندگی ، اللّہ کی مخلوق کی خدمت ، اصل جہاد ہے۔ مولانا نے ان دینی اصطلاحات کے درست معنی کو سمجھانے کی کامیاب کوشش کی ۔ جب سوچ کو درست سمت میں فوکس کر دیا جائے تو علم کے راستے خود کھلتے ہیں۔ مولانا نے سمت بھی دکھائی ہے،اور فوکس بھی رکھا ہے۔ اسی وجہ سے نظریات اور مقصد حیات اللّہ کے دین کے مطابق ڈھالنے میں بہت آسانی ہونے لگی۔ سکون سچ سے ملتا ہے۔ ایسے میں قران کا سچ اصل حقیقت سے بیان کر کے سکون کے متوالوں کو ایک راہ دکھا دی ہے۔ ایک مرتبہ کا واقعہ ہے ، مولانا کے ایک کتابی سٹال کے دوران انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی میں اسٹیج پر شور و غل سن کر ایک صاحب نے مجھے کہا کہ ان لوگوں نے مولانا کو نہیں پڑھا، اس لیے شور کر رہے ہیں ۔ اگر پڑھ لیں تو خاموش ہو جائیں گے۔ اس سے بڑا کیا change ہوگا کہ مولانا کی تحریر انسان کو بولنا نہیں، سکونِ خاموشی سکھاتی ہے۔ مولانا کی تحریروں اور لیکچرز سے میں اور میری اہلیہ نے اپنے آپسی ، دنیوی اور معرفتی معمولات کو بہت improve کیا ہے۔ جزاک اللّہ ۔ ( شاہد رانا، اسلام آباد)
واپس اوپر جائیں

Sunday, 5 August 2018

Al Risala | September 2018 (الرسالہ،ستمبر)

4

-دین کا نقطۂ آغاز

5

- زندگی کا مقصد

6

- احسن العمل کون

8

- زندگی کا تصور

9

- عارفانہ صحبت کیا ہے

12

- اقفال قلب

13

- اللہ اکبر، اللہ اکبر

14

- شاکلہ کیا ہے

15

- عظمتِ خداوندی

17

- تخلیق کے دو ادوار

23

- انسان کا دماغ

24

- حاکم کی خیرخواہی

25

- اسلام کے نام پر غیر اسلام

26

- الاضحی، پیغمبر ابراہیم کا منصوبہ

28

- مصلح، متکلم، داعی

29

- ادّعا کا دور ختم

30

- امن کا راستہ

31

- عقل سے محرومی

32

- عورت کی تخلیق

33

- ازدواجی زندگی

34

- نیت پر حملہ

35

- آدابِ تنقید

36

- پازیٹیوزم

37

- پریکٹکل وزڈم

38

- بے باکی یا دانش مندی

39

- بہت دن کم رہا

40

- بڑا آدمی کون

41

- آنکھوں کے بغیر

42

- باس از آلویز رائٹ

43

- سیکولرزم کیا ہے

44

- ایک سوال

46

- خبرنامہ اسلامی مرکز


دین کا نقطۂ آغاز

قرآن کی پہلی آیت یہ ہے:الْحَمْدُ لِلَّہِ رَبِّ الْعَالَمِینَ (1:2)۔ یہ آیت بتاتی ہے کہ دین کا نقطۂ آغاز اللہ رب العالمین کی دریافت پرمبنی ہے۔ یعنی اہلِ دین کو چاہیے کہ وہ سب سے پہلے اللہ رب العالمین کی معرفت حاصل کریں۔ اس کے بعد وہ دینی زندگی کی تعمیر کریں۔ اس ترتیب کو اختیار کرنے سے انسان کے اندر حقیقی معنی میں دینی شخصیت بنے گی۔ اس کے برعکس، کوئی دوسری ترتیب اختیار کی جائے تو دینی شخصیت کی تعمیر و تشکیل نہ ہوسکے گی۔
انسان کی حکومت کا جب آپ تصور کرتے ہیں، تو آپ کے ذہن میں یہ نقشہ آتا ہے کہ ایک بااقتدار صدر یا وزیر اعظم ملک کی زمامِ کار اپنے ہاتھ میں لیے ہوئے ہے، اور پورے ملک کو اپنے نقشے کے مطابق کنٹرول کررہا ہے۔
یہی معاملہ زیادہ بڑے پیمانے پر اور کامل صورت میں اللہ رب العالمین کا ہے۔ اللہ اس دنیا کا حاکم اعلیٰ ہے۔ وہ پوری دنیا، خواہ وہ مادی دنیا ہو یا انسانی دنیا، اس کا کنٹرول اپنے ہاتھ میں لیے ہوئے ہے۔ لیکن دونوں میں ایک فرق ہے۔ جہاں تک مادی کائنات کا معاملہ ہے، اللہ رب العالمین اس دنیا کو مکمل طور پر اپنے ہاتھ میں لیے ہوئے ہے۔ اس کے برعکس، انسانی دنیا کے معاملے میں جزوی طور پر انسان کو آزادی دے دی گئی ہے۔ انسان سے یہ مطلو ب ہے کہ وہ خود انضباطی (self-imposed discipline) کے تحت اللہ رب العالمین کے آگے جھک جائے۔ انسان کو حکومت الٰہیہ قائم کرنا نہیں ہے، بلکہ اپنے آپ کو حکومت الٰہیہ کا پابند بنانا ہے۔
دین کا یہی آغاز امتِ مسلمہ سے مطلوب ہے۔ بظاہر یہ سمجھا جاتا ہے کہ مدرسوں میں دین کی تعلیم و تربیت دی جاتی ہے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ یہاںدرست ترتیب کے ساتھ کام نہیں ہو رہا ہے۔ یعنی مدارس کا طریقہ ہے مسائل کی پابندی سکھانا، جب کہ قرآن کے مطالعے سے معلوم ہوتا ہے کہ دین کا نقطۂ آغاز معرفتِ رب ہے، یعنی اللہ رب العالمین کی دریافت، اور انسانی شخصیت کی تعمیر۔
واپس اوپر جائیں

زندگی کا مقصد
قرآن میں بتایا گیا ہے کہ انسان کے پیدا کرنے والے نے اس کو کَبَد (البلد،90:4) میں پیدا کیا ہے، انسان کے لیے یہ مقدر ہے کہ اس کو مختلف قسم کی مصیبتیں (البقرۃ،2:155) آئیں، اسی طرح بتایا گیا ہے کہ انسا ن کو خُسران میں پیدا کیا گیا ہے(العصر، 103:2)، زندگی کا سفر انسان کے لیے مشقت کا سفر (الانشقاق،84:6) ہے، انسان کو پیدا کرنے کے بعد خالق نے اس کو اسفل سافلین میں ڈال دیا (التین،95:5)، وغیرہ۔
ایک طرف قرآن میں اس قسم کے بیانات ہیں۔ دوسری طرف قرآن میں بتایا گیا ہے کہ انسان ایک مکرم مخلوق (الاسراء،17:70) ہے، انسان کو احسن تقویم (التین،95:4) کے ساتھ پیدا کیا گیا ہے، وغیرہ۔ ان دونوں قسم کی آیتوں میں تطبیق کیا ہے۔ اس کا جواب جنت کے تصور میں ملتا ہے۔ اس سلسلے میں قرآن کی ایک آیت یہ ہے: فَلَا تَعْلَمُ نَفْسٌ مَا أُخْفِیَ لَہُمْ مِنْ قُرَّةِ أَعْیُنٍ جَزَاءً بِمَا کَانُوا یَعْمَلُونَ (32:17)۔ اسی طرح ہے:وَلَکُمْ فِیہَا مَا تَشْتَہِی أَنْفُسُکُمْ وَلَکُمْ فِیہَا مَا تَدَّعُونَ (41:31)، اور فرمایا:وَفِیہَا مَا تَشْتَہِیہِ الْأَنْفُسُ وَتَلَذُّ الْأَعْیُنُ وَأَنْتُمْ فِیہَا خَالِدُونَ (43:71)۔
حقیقت یہ ہے کہ موجودہ دنیا کی مصیبتیں انسان کی تربیت کے لیے ہیں ، نہ کہ تکلیف کے لیے ۔ خالق نے ایک معیاری دنیا بنائی ہے، جنت۔ یہی جنت کی دنیا انسان کا اصل مسکن (habitat) ہے۔ موجودہ دنیا اس لیے بنائی گئی ہے تاکہ انسان اپنے آپ کو احسن العمل (best in conduct)ثابت کرے(الملک،67:2)۔ موجودہ دنیا کی مصیبتوں کا جواب یہ ہے کہ یہی واحد طریقہ ہے جس کے ذریعہ انسان کو تربیت یافتہ انسان بنایا جائے، ان کو اس قابل بنایا جائے کہ وہ جنت میں داخلے کے مستحق ٹھہریں۔ ہر بڑی کامیابی سے پہلے مشقت کا ایک دور آتا ہے۔ یہ مشقت کا دور انسان کی تیاری اور تربیت کے لیےہوتا ہے۔ اگر یہ دور نہ آئے تو انسان کامیابی کو سنبھالنے کے قابل نہیں بنے گا۔ یعنی پہلے تربیتی دور سے گزر کر اپنے آپ کو اہل ثابت کرنا، اور اس کے بعد ابدی جنت میں داخلہ پانا۔
واپس اوپر جائیں

احسن العمل کون

قرآن کی ایک آیت ان الفاظ میں آئی ہے: الَّذِی خَلَقَ الْمَوْتَ وَالْحَیَاةَ لِیَبْلُوَکُمْ أَیُّکُمْ أَحْسَنُ عَمَلًا (67:2)۔اس آیت کے مطابق، تخلیقِ انسانی کا مقصد پوری تاریخ سے ایسے افراد کا انتخاب ہے، جو عمل کے اعتبار سے احسن ہونے کا ثبوت دیں۔ یہاں عمل کا لفظ اپنے جامع معنی میں ہے، یعنی عمل کی ہر قسم کے اعتبار سے احسن۔
انسان کو عمل کے کن پہلوؤں کے اعتبار سے احسن ثابت ہونا چاہیے۔ یہ بات قرآن کی دوسری آیتوں پر غور کرنے سے سمجھ میں آتی ہے۔ مثلاً یہ کہ اس انتخابِ افراد کا مقصد کیا ہے۔ قرآن کی دوسری آیتوں کے مطالعے سے معلوم ہوتا ہے کہ آخرت کی دنیا میں خدا کی ایک قربت گاہ (التحریم، 66:11) ہوگی۔جس کے لیے پوری تاریخ سے بہترین افراد کا انتخاب کیا جائے گا۔ اس قربت گاہ کو بتانے کے لیے دوسری جگہ یہ الفاظ آئے ہیں: إِنَّ الَّذِینَ قَالُوا رَبُّنَا اللَّہُ ثُمَّ اسْتَقَامُوا تَتَنَزَّلُ عَلَیْہِمُ الْمَلَائِکَةُ أَلَّا تَخَافُوا وَلَا تَحْزَنُوا وَأَبْشِرُوا بِالْجَنَّةِ الَّتِی کُنْتُمْ تُوعَدُونَ ۔ نَحْنُ أَوْلِیَاؤُکُمْ فِی الْحَیَاةِ الدُّنْیَا وَفِی الْآخِرَةِ وَلَکُمْ فِیہَا مَا تَشْتَہِی أَنْفُسُکُمْ وَلَکُمْ فِیہَا مَا تَدَّعُونَ۔ نُزُلًا مِنْ غَفُورٍ رَحِیمٍ (41:30-32) ۔ یعنی جن لوگوں نے کہا کہ اللہ ہمارا رب ہے، پھر وہ ثابت قدم رہے، یقیناً ان پر فرشتے اترتے ہیں اور وہ ان سے کہتے ہیں کہ تم نہ اندیشہ کرو اور نہ رنج کرو اور اس جنت کی بشارت سے خوش ہوجاؤ جس کا تم سے وعدہ کیا گیا ہے۔ ہم دنیا کی زندگی میں تمہارے ساتھی ہیں اور آخرت میں بھی۔ اور تمہارے لیے وہاں ہر چیز ہے جس کا تمہارا دل چاہے اور تمہارے لیے اس میں ہر وہ چیز ہے جو تم طلب کرو گے۔ بخشنے والے، مہربان کی طرف سے مہمانی کے طور پر۔
اس سے معلوم ہوا کہ یہ قربت گاہ جنت ہوگی،جو گویاخدائی ضیافت (hospitality) کا مقام ہوگا۔یہاں انسان کو ہر قسم کا فل فلمنٹ (fulfilment)حاصل ہوگا۔ یہ اعلیٰ اقامت گاہ فرشتوں کے انتظام میں بنے گی۔ قرآن کی دوسری آیتوں کو ملا کر دیکھا جائے تو یہ بھی معلوم ہوجاتا ہے کہ ان منتخب افراد کی صفات کیا ہوں گی۔ اس سلسلے میں چند آیتیں یہ ہیں:
1۔ احسن باعتبار معرفت : مِمَّا عَرَفُوا مِنَ الْحَقِّ(5:83)
2۔ احسن باعتبار کلام:وَجَادِلْہُمْ بِالَّتِی ہِیَ أَحْسَنُ (16:125)
3۔ احسن باعتبار اخلاق :ادْفَعْ بِالَّتِی ہِیَ أَحْسَنُ (41:34)
4۔ احسن باعتبار ہمسائگی:وَحَسُنَ أُولَئِکَ رَفِیقًا (4:69)
5۔ احسن باعتبار سلوک:لَا یَسْمَعُونَ فِیہَا لَغْوًا وَلَا تَأْثِیمًا (56:25)، وغیرہ۔
اس قسم کی صفات جنت میں جاکر انسان کے اندر پیدا نہیں ہوں گے، بلکہ اسی دنیا میں انسان کو اپنے اندر یہ صفات پیدا کرنا ہے۔ یعنی ان پہلوؤں کے اعتبار سے جو لوگ موجودہ دنیا کی زندگی میں احسن العمل ثابت ہوں، وہ اللہ کی نظر میں قابلِ انتخاب افراد ہیں۔ فرشتوں کے ریکارڈ کے مطابق، ایسے لوگوں کو منتخب کرکے ایک ایسی دنیا میں جمع کیا جائے گا، جو ابدی ہوگی، اور عَرْضُہَا السَّمَاوَاتُ وَالْأَرْضُ (3:133)کی مصداق ہوگی۔ یعنی جس کی وسعت آسمانوں اور زمین کے برابر ہے۔
اہلِ سائنس نے ارض و سماء کی جو تاریخ دریافت کی ہے، اس سے معلوم ہوتا ہے کہ خالقِ کائنات نے ایک عالم کی تخلیق کی۔ اس عالم میں وہ ساری خوبیاں موجود تھیں، جو انسان جیسی کوئی مخلوق سوچ سکتا ہے۔ لیکن اس وسیع دنیا میں بظاہر رہنے والے لوگ موجود نہ تھے۔ اس کے بعد خالق نے انسان کو پیدا کیا۔ انسان کو مکمل آزادی دے کر سیارۂ ارض پر بسنے کا موقع دیا۔ آزاد ماحول کی یہ دنیا گویا ایک عظیم انسانی نرسری (nursery) تھی۔ اس میں ہر عورت اور مرد کو یہ موقع دیا گیا کہ وہ اپنے آپ کو گرو (grow) کرے، اور یہ ثابت کرے کہ وہ مطلوب معیار کے مطابق پورا اترتا ہے یا نہیں۔ یہ کام فرشتوں کی نگرانی میں پوری تاریخ میں جاری رہا۔ اس تاریخ کے آخر میں یہ ہوگا کہ تمام پیدا ہونے والے عورتوں اور مردوں کو اکٹھا کیا جائے گا، اور فرشتوں کے ریکارڈ کے مطابق، ان میں سے مطلوب افراد کا انتخاب ہوگا، اور ان کو یہ موقع دیا جائے گا کہ وہ جنت کے باغوں میں داخل ہوجائیں، اور ابدی طور پر وہاں ایک ایسی دنیا میں رہیں، جہاں ان کے لیے نہ حزن ہوگا اور نہ خوف (یونس، 10:62)۔
واپس اوپر جائیں

زندگی کا تصور

مسلح جہاد (armed struggle) اسلام میں کوئی اثباتی حکم نہیں ہے، بلکہ وہ ایک سلبی حکم ہے۔ مسلح جد و جہد کو اثباتی حکم کی حیثیت دینا ، یہ تمام تر بعد کی پیداوار ہے۔ اس کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں۔ کمیونسٹ نظریے کے مطابق مسلح جدو جہد یہ ہےکہ قائم شدہ سسٹم کو بزور توڑا جائے، اور اس کی جگہ دوسرا مطلوب سسٹم قائم کیا جائے۔ مگر اس قسم کے تصور کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں۔
اسلام مبنی بر نظام (system based) تصور نہیں ہے، بلکہ وہ مبنی بر فرد (individual based) تصور ہے۔ اسلام کا اصل مقصد تزکیۂ افراد ہے(طہ، 20:76)، نہ کہ تزکیۂ نظام۔ اسلام کے نزدیک کرنے کا اصل کام یہ ہےکہ ہر فرد کے اندر یہ محرک پیدا کیا جائے کہ وہ اپنا تزکیہ کرے۔ یعنی اپنے اندر درست سوچ (right thinking) پیدا کرنا، اپنے اندر ذہنی ارتقا (intellectual development) کا عمل جاری کرنا۔ اپنے آپ کو ایسی شخصیت کی حیثیت سے تیار کرنا ، جو جنت کی معیاری دنیا میں بسائے جانے کے قابل ہو۔جنت میں ایسے افراد کو جگہ ملے گی، جو حسنِ رفاقت (النساء، 4:69) کی صلاحیت رکھتے ہوں۔ اسی معیار کے مطابق اپنے آپ کو مثبت انداز میں تیار کرنا۔ یہی اسلامی عمل کا اصل نشانہ ہے۔
اسلام کے مطابق، زندگی کا تصور یہ ہے کہ انسان کے دورِ حیات کے دو حصے ہیں۔ ایک، قبل از موت دور، اور دوسرا، بعد از موت دور۔ قبل از موت دور کی حیثیت تیاری کی ہے، اور بعد از موت دور کی حیثیت تیاری کے مطابق اپنے عمل کا انجام پانے کی۔ تمثیل کی زبان میں یہ کہا جاسکتا ہے کہ قبل از موت دورِ حیات گویا ایک نرسری (nursery) ہے۔ یہاں انسان کوآزادی کے ساتھ پودے کی مانند اُگنے کا موقع دیا جاتا ہے۔ بعد از موت دور کی حیثیت گویا ھیبیٹاٹ کی ہے۔ خالق کی اسکیم یہ ہے کہ نر سری میں اُگے ہوئے صحت مند پودے کو نکال لیا جائے، اور اس کو ابدی ھیبیٹاٹ میں نصب کردیا جائے۔اس اعتبار سے موجودہ دنیا زندگی کا آغاز ہے، اور بعد کی دنیا زندگی کا انجام۔
واپس اوپر جائیں

عارفانہ صحبت کیا ہے

سچی صحبت وہ ہے، جو معرفت کی صحبت بن گیا ہو۔مثلاً قرآن میں ایک واقعے کا ذکر ان الفاظ میں آیا ہے:وَإِذَا سَمِعُوا مَا أُنْزِلَ إِلَى الرَّسُولِ تَرَى أَعْیُنَہُمْ تَفِیضُ مِنَ الدَّمْعِ مِمَّا عَرَفُوا مِنَ الْحَقِّ یَقُولُونَ رَبَّنَا آمَنَّا فَاکْتُبْنَا مَعَ الشَّاہِدِینَ۔ وَمَا لَنَا لَا نُؤْمِنُ بِاللَّہِ وَمَا جَاءَنَا مِنَ الْحَقِّ وَنَطْمَعُ أَنْ یُدْخِلَنَا رَبُّنَا مَعَ الْقَوْمِ الصَّالِحِینَ (5:83-84)۔ یعنی جب وہ اُس کلام کو سنتے ہیں جو رسول پر اتارا گیا ہے تو تم دیکھو گے کہ ان کی آنکھوں سے آنسو جاری ہیں، اس سبب سے کہ انھوں نے حق کو پہچان لیا۔ وہ پکار اٹھتے ہیں کہ اے ہمارے رب ہم ایمان لائے۔ پس تو ہم کو گواہی دینے والوں میں لکھ لے۔ اور ہم کیوں نہ ایمان لائیں اللہ پر اور اس حق پر جو ہمیں پہنچا ہے جب کہ ہم یہ آرزو رکھتے ہیں کہ ہمارا رب ہم کو صالح لوگوں کے ساتھ شامل کرے ۔
قرآن کے اس حصے میں ایک صحبتِ رسول کا ذکر ہے۔ اُس صحبتِ رسول میں کچھ لوگوں نے پیغمبر کی زبان سے قرآن کا ایک حصہ سنا۔ قرآن کے اس حصے کو سن کر ان کو معرفتِ رب کا تجربہ ہوا۔ یہ تجربہ اتنا گہرا تھا کہ وہ ان کی آنکھوں سے آنسوؤں کی صورت میں بہہ پڑا۔ یہ ایک عارفانہ سنت رسول کا بیان ہے۔ جس طرح رسول اللہ کی دوسری سنتیں قابلِ اتباع ہیں، اسی طرح آپ کی یہ سنت بھی اس قابل ہے کہ وہ اہلِ دین کی مجلسوں میں زندہ ہو۔قرآن کا سچا تذکرہ وہی ہے، جو لوگوں کے دل و دماغ کو ہلادے۔ جو سننے والے کے اندر معرفت کا طوفان پیدا کردے۔ جو آنسوؤں کی صورت میں آنکھوں کے راستے بہہ پڑے۔
انسان کے جسم سے بہت سی چیزیں نکلتی ہیں، مثلاً آنسو،پسینہ، وغیرہ۔ ان میں آنسو ایک مختلف چیز ہے۔ آنسو انسان کے جسم سے نکلنے والا سب سے زیادہ خالص (purest) مادہ ہے۔ آنسو ایک ایسی چیز ہے، جو صرف اس وقت نکلتا ہے، جب کہ آدمی کو معرفت کا تجربہ ہوجائے۔ آنسو بندے کی طرف سے اپنے رب کے لیے سب سے زیادہ خالص تحفہ (purest gift)ہے جو کبھی ردّ (reject) نہیں ہوتا۔اسی لیے آنسو صرف اللہ کے لیے ہے، آنسو کسی غیر اللہ کودینے کی چیز نہیں۔
قرآن میں مذکورہ واقعے میں اس لمحے کا ذکر ہے، جب کہ ایک متلاشی (seeker) انسان ایک صاحبِ معرفت انسان سے ملتا ہے۔ یہ ملنا کوئی سادہ ملنا نہیں ہوتا، بلکہ وہ ذہنی طوفان (brainstorming) کا ایک لمحہ ہوتا ہے۔ یہ ایک ایسا لمحہ ہوتا ہے، جب کہ دو سچے انسانوں کے درمیان ربانی ملاقات کا عمیق تجربہ ہوتا ہے۔ اس ملاقات میں ایک تیسری ہستی شامل ہوجاتی ہے، اور وہ اللہ رب العالمین کے فرشتے ہیں۔ فرشتوں کی شمولیت کی بنا پر یہ ملاقات ایک ربانی قربت کا لمحہ بن جاتی ہے۔ اس ربانی ملاقات کے دوران دینے اور پانے کاایسا تجربہ مل جاتا ہے، جس میںتبادلے کا ذریعہ الفاظ نہ ہوں ، بلکہ آنسو ہوں۔ جب کہ دلوں کے دروازے کھل جائیں، اور دماغ کی کھڑکیاں اس طرح کھل جائیں کہ اس کا کوئی دروازہ بند نہ رہے ۔
یہ رسول اللہ کی ایک صحبت کا واقعہ ہے، جو قدیم مدینہ میں پیش آیا۔ یہ واقعہ صرف مقدس کلام نہیں ہے، بلکہ وہ ایک سنتِ رسول کا کیفیاتی بیان ہے۔ جس طرح رسول اللہ کی دوسری سنتیں قابلِ اتباع ہیں، اسی طرح آپ کی عارفانہ سنتیں بھی اس قابل ہیں کہ وہ اہلِ دین کی مجلسوں میں زندہ ہوں۔ایک صاحبِ معرفت عالم کی صحبت ایک زندہ صحبت ہے۔ وہ حاضرین کے اندر ذہنی طوفان (brainstorming) کا سبب بن سکتی ہے۔
آپ کسی عالم کی کتاب پڑھیں، اس سے بھی آپ کو فائدہ ہوگا۔ لیکن جب آپ ایک سچے عالم کی صحبت میں بیٹھتے ہیں، تو یہ بیٹھنا، آپ کے لیے ایک زندہ تجربہ بن جاتا ہے۔ کتاب اگر آپ کو معلومات دیتی ہے تو ایک عارف کی صحبت سے آپ کو حکمت (wisdom) کا خزانہ مل سکتا ہے۔کتاب کا مطالعہ آپ کی واقفیت میں اضافہ کرتا ہے۔ لیکن ایک عارف کی صحبت آپ کو بتاتی ہے کہ معرفت کا زلزلہ کیا چیز ہے۔ سچی صحبت وہ ہے، جو معرفت کی صحبت بن جائے، جس سے آپ کو رزقِ رب ملنے لگے۔
رزقِ رب
مریم بنت عمران (وفات 100یا 120 ء)ایک ربانی خاتون تھیں، وہ ایک یہودی خاندان میں فلسطین میں 20 ق م میںپیدا ہوئیں۔ان کے تذکرےکے ضمن میںقرآن میں بتایا گیا ہے فَتَقَبَّلَہَا رَبُّہَا بِقَبُولٍ حَسَنٍ وَأَنْبَتَہَا نَبَاتًا حَسَنًا وَکَفَّلَہَا زَکَرِیَّا کُلَّمَا دَخَلَ عَلَیْہَا زَکَرِیَّا الْمِحْرَابَ وَجَدَ عِنْدَہَا رِزْقًا قَالَ یَا مَرْیَمُ أَنَّى لَکِ ہَذَا قَالَتْ ہُوَ مِنْ عِنْدِ اللَّہِ إِنَّ اللَّہَ یَرْزُقُ مَنْ یَشَاءُ بِغَیْرِ حِسَابٍ (3:37)۔ پس اس کے رب نے اس کو اچھی طرح قبول کیا اور اس کو عمدہ طریقے سے پروان چڑھایا اور زکریا کو اس کا سرپرست بنایا۔ جب کبھی زکریا ان کے پاس حجرے میں آتا تو وہ وہاں کچھ رزق پاتا۔ اس نے پوچھا: اے مریم، یہ چیز تمھیں کہاں سے ملتی ہے۔ مریم نے کہا یہ اللہ کے پاس سے ہے۔ بیشک اللہ جس کو چاہتا ہے بےحساب رزق دے دیتا ہے۔
قرآن کی اس آیت میں رزق کا لفظ مادی رزق کے معنی میں نہیں ہے۔ اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ جاڑے کے موسم میں گرمی کا رزق اور گرمی کے موسم میں جاڑے کا رزق۔ بلکہ ا س کا مطلب یہ ہے کہ معرفت کا رزق، اللہ کی دریافت کا رزق۔ حضرت زکریا کا سوال تعجب کے طور پر نہیں ہوتا تھا، بلکہ شکر کے طور پر ہوتا تھا۔
اس رزق سے مراد وہ رزق ہے، جو اللہ کی یاد سے انسان کو ملتا ہے، جو آخرت کی یاد سے انسان کو حاصل ہوتا ہے۔ جو اس یاد سے انسان کو ملتا ہے، جس کا ذکر قرآن میں ان الفاظ میں آیا ہے:إِنَّ فِی خَلْقِ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَاخْتِلَافِ اللَّیْلِ وَالنَّہَارِ لَآیَاتٍ لِأُولِی الْأَلْبَابِ ، الَّذِینَ یَذْکُرُونَ اللَّہَ قِیَامًا وَقُعُودًا وَعَلَى جُنُوبِہِمْ وَیَتَفَکَّرُونَ فِی خَلْقِ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ رَبَّنَا مَا خَلَقْتَ ہَذَا بَاطِلًا (3:190-91)۔
عارفانہ صحبت اس صحبت کا نام ہے، جس میں صرف اللہ کی اور آخرت کی باتیں ہوں، جس میں صرف جنت اور جہنم کی باتیں ہوں۔ جس صحبت سے اللہ رب العالمین کی یاد دلوں میں آئے، جو انسان کے دل و دماغ کو اللہ رب العالمین کی باتوں سے بھر دے۔
واپس اوپر جائیں

اقفالِ قلب

قرآن کی ایک تعلیم سورہ محمد میں ان الفاظ میں آئی ہے:أُولَئِکَ الَّذِینَ لَعَنَہُمُ اللَّہُ فَأَصَمَّہُمْ وَأَعْمَى أَبْصَارَہُمْ ۔أَفَلَا یَتَدَبَّرُونَ الْقُرْآنَ أَمْ عَلَى قُلُوبٍ أَقْفَالُہَا (47:23-24)۔ یعنی یہی لوگ ہیں جن کو اللہ نے اپنی رحمت سے دور کیا، پس ان کو بہرا کردیا اور ان کی آنکھوں کو اندھا کردیا۔ کیا یہ لوگ قرآن میں غور نہیں کرتے یا ان کے دلوں پر تالے لگے ہوئے ہیں۔
یہاں قلب سے مراد عقل ہے، اور اقفال سے مراد وہ چیزیں ہیں، جو انسان کے لیے صریح غور وفکر میں مانع بن جاتی ہیں، مثلاً جمود، تعصب، وغیرہ۔ دل کے لیے سب سے بڑا قفل متعصبانہ سوچ (biased thinking) ہے۔ اگر آدمی کسی ایسے ماحول میں دیر تک رہے، جہاں اس کی تربیت اس طرح ہوجائے کہ وہ موضوعی ذہن (objective mind) کے ساتھ چیزوں کو نہ دیکھ سکے۔ متعصبانہ سوچ میں وہ کنڈیشنڈ (conditioned) ہوجائے تو وہ ایسا ہوجائے گا، گویا کہ اس کی عقل پر ایک تالا لگ گیا ہے۔ وہ چیزوں کو کھلے ذہن کے ساتھ سوچنے کے قابل نہیں رہا ہے۔
متعصبانہ طرزِ فکر دراصل کنڈیشنڈ طرزِ فکر کا نام ہے۔ آدمی جس ماحول میں دیر تک رہے، اس ماحول کے تحت اس کے اندر بہت متاثر طرز فکر بن جاتا ہے۔ اس کا ذہن صرف ایک رخ پر سوچنے لگتا ہے، اس کا ذہن دوسرے رخ پر سوچنے کے قابل نہیں رہتا۔ اس کا حل صرف ایک ہے، اور وہ ہے اپنا محاسبہ کرکے اپنی کمزوری کو دریافت کرنا، اور اس کو بے رحمی کے ساتھ توڑ کر اپنے آپ کو فطرت پر قائم کرنا۔
دلوں کا قفل ماحول کے اثر سے لگتا ہے۔ اس قفل کو کھولنے کا ایک ہی ذریعہ ہے، اور وہ محاسبہ (introspection) ہے۔ غیر جانبدارانہ محاسبہ واحد چیز ہے، جس کے ذریعے آدمی اپنے آپ کو اقفالِ قلب سے بچا سکے ۔ دوسری کوئی چیز انسان کو اس مسئلے سے بچانے والی نہیں۔ محاسبہ کیا ہے۔یہ ایک لفظ میں خود اپنے خلاف سوچنے(anti-self thinking) کا نام ہے۔
واپس اوپر جائیں

اللہ اکبر، اللہ اکبر

اللہ اکبر نماز کا سب سے زیادہ اہم حصہ ہے۔ اذان اور نماز دونوں کو ملا کر دیکھا جائے تو پانچ وقت کی نمازوں میں اللہ اکبر کا کلمہ روزانہ تقریباً تین سو بار دہرایا جاتا ہے، یعنی ہر پانچ منٹ کے بعد ایک بار۔ گویا ایک مسلمان اپنی پوری زندگی میں سب سے زیادہ جوکلمہ سنتا یا بولتا ہے، وہ اللہ اکبر کا کلمہ ہے، یعنی اللہ سب سے بڑا ہے۔
اِس سے معلوم ہوا کہ دینِ اسلام میں سب سے زیادہ اہمیت اِس بات کی ہے کہ ایک مسلمان، اللہ کی عظمت کو دریافت کرے۔ اللہ کی عظمت اس کے شعور کا سب سے زیادہ اہم حصہ ہو۔ اللہ کی عظمت اس کے تفکیری عمل (thinking process) میں اِس طرح شامل ہوجائے کہ وہ کسی بھی حال میں اللہ کی عظمت کے احساس سے غافل نہ ہو۔
اللہ اکبر کا کلمہ کسی انسان کی زندگی میں ایک شاہِ ضرب (master stroke)کی حیثیت رکھتا ہے۔ اگر حقیقی معنوں میں کسی انسان کو اللہ کی دریافت ہوجائے تو اس کے بعد اس کی زندگی میں سب سے بڑا مثبت بھونچال آجائے گا۔ وہ پورے معنوں میں ایک نیا انسان بن جائے گا۔ اللہ اس کی سوچ کا واحد مرکز بن جائے گا۔ اس کی زندگی پورے معنوں میں ایک خدا رخی زندگی بن جائے گی۔
ایسے انسان کا معاملہ یہ ہوگا کہ اللہ اس کا سپریم کنسرن (supreme concern) بن جائے گا۔ اللہ کے سوا ہر چیز اس کی زندگی میں سکنڈری حیثیت اختیار کرلے گی۔ اس کے اندر مادی طرزِ فکر کا خاتمہ ہوجائے گا۔ اس کی سوچ قومی سوچ کے بجائے اصولی سوچ بن جائے گی۔ وہ آخرت کی کامیابی کا حریص بن جائے گا۔ وہ منفی سوچ سے مکمل طورپر پاک ہوجائے گا۔ اس کی شخصیت کامل معنوں میں ایک متواضع (modest)شخصیت بن جائے گی۔ اس کے اندر سے کِبر (arrogance) کا خاتمہ ہوجائے گا — اللہ اکبر ایک اعتبار سے عقیدہ ہے اور دوسرے اعتبار سے وہ ایک شخص کی زندگی کا کامل طریقہ۔حقیقت یہ ہے کہ اللہ اکبر خلاصۂ ایمان ہے۔
واپس اوپر جائیں

شاکلہ کیا ہے

انسان کی ذہنی ساخت (mindset) کے بارے میں قرآن کا ایک بیان ان الفاظ میں آیا ہے: قُلْ کُلٌّ یَعْمَلُ عَلَى شَاکِلَتِہِ فَرَبُّکُمْ أَعْلَمُ بِمَنْ ہُوَ أَہْدَى سَبِیلًا (17:84)۔ یعنی کہو کہ ہر ایک اپنے شاکلہ پر عمل کر رہا ہے۔ اب تمھارا رب ہی بہتر جانتا ہے کہ کون زیادہ ٹھیک راستے پر ہے۔
شاکلہ کے لفظی معنی طریقے کے ہیں، یعنی طریقِ فکر (way of thinking)۔ قرآن میں شاکلہ سے مراد وہ طریقہ ہے، جو ہر انسان کے مزاج کا حصہ ہوتا ہے۔ اب دیکھیے کہ وہ کون سا طریقہ ہے۔ یہ بات ایک حدیثِ رسول سے معلوم ہوتی ہے، جس کا ترجمہ یہ ہے: ہر پیدا ہونے والا فطرت پر پیدا ہوتا ہے، پھر اس کے والدین اس کو یہودی یا نصرانی یا مجوسی بنا دیتے ہیں۔(صحیح البخاری، حدیث نمبر1385 )۔اس حدیثِ رسول کی روشنی میں آیت کا مفہوم متعین کیا جائے تو اس آیت میں موجود اھدی سبیلا سے مراد الفطرۃ ہے، یعنی وہ مزاج یا مائنڈ سیٹ (mindset) جو انسان کو پیدائش سے ملتا ہے۔ یہی اصل فطری مزاج ہے۔ لیکن انسان پیدا ہونے کے بعد ایک ماحول میں رہتا ہے۔ اس ماحول کے اثر سے ہر انسان کی ایک مزاج سازی ہونے لگتی ہے۔ اس مزاج سازی کو آج کل کی زبان میں کنڈیشننگ کہہ سکتے ہیں۔ پھر دھیرے دھیرے ایسا ہوتا ہے کہ اس کی کنڈیشننگ اس پر چھاجاتی ہے۔ اس کی سوچ کنڈیشنڈ سوچ بن جاتی ہے۔
حدیثِ رسول میں یہودی، نصرانی، اور مجوسی کےالفاظ آئے ہیں۔ یہ الفاظ مطلق معنی میں نہیں ہیں، بلکہ علامتی معنی میں ہیں ۔ یعنی آپ کسی ماحول میں جاتے ہیں تو اسی کے مطابق آپ کی کنڈیشننگ شروع ہوجاتی ہے،یہاں تک کہ دھیرے دھیرے انسان اپنے قریبی ماحول کے مولڈ (mould) میں ڈھل جاتا ہے۔ پیدائش کے وقت ہر انسان اپنے فطری ماڈل پر ہوتا ہے، لیکن وہ ماحول سے متاثر ہوکر اسی ماحول میں ڈھلنا شروع ہوجاتا ہے۔آدمی کا پہلا کام یہ ہے کہ وہ اپنی اس کنڈیشننگ کو ڈی کنڈیشنڈ کرے، اپنے آپ کو ماحول کے مولڈ سے نکال کر باہر کرے۔
واپس اوپر جائیں

عظمتِ خداوندی

پیغمبر ِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے معراج کے سلسلے میں جو باتیں بیان کی ہیں، ان میں سے ایک یہ ہے: فَلَمَّا نَزَلْتُ إِلَى السَّمَاءِ الدُّنْیَا، نَظَرْتُ أَسْفَلَ مِنِّی فَإِذَا أَنَا بِرَہْجٍ وَدُخَانٍ وَأَصْوَاتٍ ، فَقُلْتُ:مَا ہَذَا یَا جِبْرِیلُ؟ قَالَ:ہَذِہِ الشَّیَاطِینُ یَحُومُونَ عَلَى أَعْیُنِ بَنِی آدَمَ، أَنْ لَا یَتَفَکَّرُوا فِی مَلَکُوتِ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ، وَلَوْلَا ذَلِکَ لَرَأَوْا الْعَجَائِبَ (مسند احمد، حدیث نمبر 8640)۔ یعنی جب میں آسمانِ دنیا کی طرف اترا تو میں نے اپنے نیچے کی طرف دیکھا۔ تو میں نے پایاکہ وہاں غبار، دھواں، اورشور ہے۔ میں نے کہا: جبریل، یہ کیا ہے۔ جبریل نے کہا: یہ شیاطین ہیں، جو بنی آدم کی آنکھوں پر منڈلا رہے ہیں، تاکہ انسان آسمانوں اور زمین کی ملکوت میں تفکر نہ کریں۔ اگر ایسا نہ ہوتا تو انسان عجائب دیکھتے۔
اس حدیث میں عجائب سے مراد عالم فطرت کے ونڈرس (wonders of nature) ہیں۔ نیچر کے یہ مشاہدات اللہ رب العالمین کی تخلیق کے مشاہدات ہیں۔ ان مشاہدات کو دیکھنے سے اللہ رب العالمین کی عظمت کا تجربہ ہوتا ہے۔ مگر تاریخ کا تجربہ بتاتا ہے کہ اس معاملے میں شیطان غالب آیا، اورشاید وہ پیغمبروں کے سوا ہر ایک کے لیے ان عجائبات کو دیکھنے کی راہ میں مانع بن گیا۔
اس معاملے میں علمائے دین کی تاریخ نہایت عجیب منظر پیش کرتی ہے۔ بڑے بڑے علماے دین میں سے شاید کوئی بھی شخص نہیں جو ان عجائبِ قدرت کو دیکھے، اور ان سے اللہ رب العالمین کا تجربہ حاصل کرے۔ دوربین (telescope) کے وجود میں آنے سے پہلے بھی تاریخ ایسے کسی عالمِ دین کی خبر نہیں دیتی، اور دور بین کے وجود میں آنے کے بعد بھی ایسا کوئی عالمِ دین تاریخ کے تذکرے میں موجود نہیں ہے۔ یہی وجہ ہے کہ تاریخ میں علماے فنّیات تو بہت ملتے ہیں، لیکن عجائبِ فطرت کا کوئی عالم موجود نہیں۔ معرفت کی کتاب ایسے باب سے یکسر خالی ہے۔ اس حدیث میں شیطان کے شورو شغب وغیرہ سے مراد شاید اہلِ مغرب کے خلاف مسلمانوں کے اندر عمومی سطح پر منفی نفسیات کا پیدا ہونا ہے۔
شیاطین کا آنکھوں پر منڈلانا (to hover about) بہت بامعنی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ فطرت کے مظاہر کو مقدس بنا کر انسان سے یہ اسپرٹ چھین رہے ہیں کہ وہ فطرت کے مظاہر پر آزادانہ غور وفکر کریں۔ جو خالق کی معرفت کا سب سے بڑا ذریعہ ہے۔ یہی وہ چیز ہے، جس کو قرآن میں فتنہ (الانفال، 8:39) کہا گیا ہے۔ اس فتنہ کو اسلام نے ختم کیا ہے۔ یعنی اسلام کے ذریعے وہ پراسس شروع ہوا ، جس نے فطرت کے مظاہرکو تقدس (holiness)کے مقام سے ہٹا کر ریسرچ کا موضوع (subject of research) بنا دیا۔ دوسرے الفاظ میں دونوں کو ایک دوسرے سے ڈی لنک (delink) کردیا ۔
اس کے بعد تاریخ میں ایک نیا عمل (process) جاری ہوا۔ اب فطرت کے مظاہر کی آزادانہ ریسرچ (objective research) ہونے لگی۔ مختلف اسباب کی بنا پر یہ کام تمام تر اہل مغرب نے انجام دیا۔ یہ عمل گلیلیو اور نیوٹن کے زمانے میں شروع ہوا۔ اسی عمل (process) کا نقطۂ انتہا وہ ظاہرہ تھا، جس کو تہذیب (civilization) کہا جا تا ہے۔
مغربی تہذیب دراصل اللہ کے تخلیقی عجائب (wonders of creation) کا نام تھی۔ اس تہذیب کے تحت جو سائنس پیدا ہوئی، وہ در اصل وہی چیز تھی، جس کے ذریعے وہی کام انجام پایا جس کو قرآن میں تبیین ِحق (فصلت،41:53) کہا گیا ہے، یعنی خالق کی معرفت بذریعہ تخلیق۔ جیسا کہ حدیث میں پیشین گوئی کے طو رپر آیا ہے:إِنَّ اللَّہَ لَیُؤَیِّدُ ہَذَا الدِّینَ بِالرَّجُلِ الفَاجِرِ (صحیح البخاری، حدیث نمبر 3062)۔ یعنی اللہ اس دین کی مدد فاجر آدمی سے کرے گا۔
مگر معاملہ یہ پیش آیا کہ جس چیز پر مسلمان بھڑک گئے، وہ ان کا فاجر ہونا تھا۔حالاں کہ اس حدیث کا مطلب یہ تھا کہ کلچرل اعتبار سے اگرچہ وہ ایسی باتوں میں مبتلا ہوں گے، جوبرا ہوگا، مگر وہ جو کام انجام دیں گے، وہ اسلام کی تائید کا کام بن جائے گا۔ یعنی اس سے تبیینِ حق کا دروازہ کھلےگا، اور معرفتِ حق کو اعلیٰ پیمانے پر سمجھنا ممکن ہوجائے گا۔
واپس اوپر جائیں

تخلیق کے دو ادوار

تاریخ بتاتی ہے کہ انسان پر ترقی کے دو دور گزرے ہیں۔ ایک وہ ترقی جو فطرت کے دائرے میں انسان کو حاصل ہوئی ۔ دوسری وہ ترقی جو بعد کو انسان نے فطرت کے اندر چھپی ہوئی طاقتوں کو دریافت کرکے حاصل کیا ۔ پہلے دور کو تخلیقِ اول (first creation)کا دور کہا جاسکتا ہے۔ دوسرے دور کو تخلیقِ ثانی (second creation) کا دور کہنا درست ہوگا۔ یہ دونوں دورخود تخلیق کا حصہ ہیں۔ لیکن پہلادور اگر تخلیق کا براہ راست حصہ تھا، تو دوسرا دور تخلیق کا بالواسطہ حصہ ۔
تخلیق کے ان دونوں ادوار کا ذکر قرآن کی اس آیت میں آیا ہے: وَالْخَیْلَ وَالْبِغَالَ وَالْحَمِیرَ لِتَرْکَبُوہَا وَزِینَةً وَیَخْلُقُ مَا لَا تَعْلَمُونَ (16:8) ۔ یعنی اور اللہ نے گھوڑے اور خچر اور گدھے پیدا کیے تاکہ تم ان پر سوار ہو اور زینت کے لئے بھی، اور وہ اور بھی چیزیں پیدا کرے گا جو تم نہیں جانتے:
And (He has created) horses, mules and donkeys so that you may ride them and that they may serve as means of adornment (for you) as well and He will create that you do not know.
اس آیت کےدو حصے ہیں۔ اس کے پہلے حصے میں تین فطری چیزوں کا ذکر ہے، گھوڑا، خچر، اور گدھا۔ان تینوں چیزوں کا ذکر یہاںعلامتی معنی میں ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ نے انسان کو جب پیدا کیا تو ابتدائی دور میں اس کو ہر قسم کی سہولتیں فطرت کے دائرے میں عطا کی۔مثلاً سواری اور باربرداری کے لیے حیوانات، پانی کے لیے دریا اور چشمہ کا پانی، غذا کے لیے زمین کی فطری پیداوار، وغیرہ۔ یہ گویا تخلیقِ اول کا دور تھا۔ قرآن کی آیت کے مطابق، اسی کے ساتھ اللہ نے زمین کے اندر بہت سی اور چیزیں بالقوۃ (potential) طور پر رکھ دیں۔ اس کو آج کل کی زبان میں ٹکنالوجی کہا جاتا ہے۔ ٹکنالوجی زندگی کے تمام ترقیاتی سہولتوں کو کوَر (cover)کرتی ہے۔ مگر یہ ٹکنالوجی قانونِ فطرت کی شکل میں پوشیدہ طور پر ہماری دنیا میں موجود تھی۔ انسان کو اللہ نے عقل دی۔ عقل کے ذریعہ انسان نے فطرت کے ان قوانین کو دریافت کرکے ان کو قابلِ استعمال بنایا۔ یہاں تک کہ ترقی کرتےکرتے ٹکنالوجیکل تہذیب (technological civilization) وجود میں آئی۔ اس ٹکنالوجیکل تہذیب کو تخلیق کا دوسرا دور یا تخلیقِ ثانی کہا جاسکتا ہے۔
اس ٹکنالوجیکل تہذیب میں بیک وقت دو پہلو شامل تھے۔ ایک پہلو یہ تھا کہ اس کے ذریعےانسا ن کو نئی مادی سہولتیں حاصل ہوئیں۔ مثلاً گھوڑے کی جگہ سواری کے لیے موٹر کار اور ہوائی جہاز، وغیرہ۔ اسی کے ساتھ تخلیق ثانی کا ایک اور زیادہ اہم پہلو تھا۔ وہ یہ کہ اس کے ذریعے خدا کے دین پر عمل کرنا زیادہ وسیع تر دائرے میں ممکن ہوگیا۔ تہذیب کا یہ دوسرا پہلو وہ ہے،جس کو دورِ اول کے اہلِ ایمان کی ایک قرآنی دعا میں مستقبل کی زبان میں اس طرح بیان کیا گیا تھا: رَبَّنَا وَلَا تَحْمِلْ عَلَیْنَا إِصْرًا کَمَا حَمَلْتَہُ عَلَى الَّذِینَ مِنْ قَبْلِنَا َ (2:286) ۔ یعنی اے ہمارے رب، ہم پر وہ بوجھ نہ ڈال جیسا بوجھ تو نے ڈالا تھا ہم سے اگلوں پر۔
دین کے اعتبار سے تہذیبی ترقیوں کے دو پہلو تھے۔ ایک، نظریاتی پہلو اور دوسرا، عملی پہلو۔ نظریاتی پہلو یہ تھا کہ تہذیب کے دور میں جو سائنسی دریافتیں ہوئیں، وہ نئی قوت کے ساتھ اسلام کی علمی تصدیق بن رہی تھیں۔ تہذیب کے اس پہلو کا اشارہ قرآن کی اس آیت میں پیشگی طور پر کیا گیا تھا: سَنُرِیہِمْ آیَاتِنَا فِی الْآفَاقِ وَفِی أَنْفُسِہِمْ حَتَّى یَتَبَیَّنَ لَہُمْ أَنَّہُ الْحَقُّ (41:53)۔ یعنی مستقبل میں ہم ان کو اپنی نشانیاں دکھائیں گے آفاق میں بھی اور خود ان کے اندر بھی۔ یہاں تک کہ ان پر ظاہر ہوجائے گا کہ یہ حق ہے۔
قرآن اللہ کے دین کا مستند اعلان ہے۔ قرآن ساتویں صدی عیسوی میں نازل ہوا۔ قرآن میں دینِ خداوندی کے صداقت کے دلائل موجود تھے۔ مگر وہ بظاہر سادہ فطری اسلوب میں تھے۔ اللہ نے مادی دنیا کے اندر بہت سے امکانات قوانینِ فطرت (laws of nature) کی صورت میں پوشیدہ طور پر رکھ دیے تھے۔ مثلاً پانی کے اندر اسٹیم پاور، وغیرہ۔ اسی کے ساتھ انسان کو عقل دی، جس کے ذریعے وہ ان قوانین ِفطرت کو دریافت کرے، اور ان کو اپنے لیے استعمال کے قابل بنائے۔ ان قوانین کو دریافت کرکے ایک نئی تہذیب (civilization)کو وجود میں لانے کے لیے لمبی مدت درکار تھی۔ اس عمل پر تقریباً ہزار سال گزرگئے۔ یہ عمل مختلف مراحل کے ساتھ جاری رہا، یہاں تک کہ وہ چیز وجود میں آئی جس کو جدید تہذیب (modern civilization) کہا جاتا ہے۔
حضرت نوح نے قدیم زمانےمیں جب ایک بڑی کشتی بنائی تو اس کے بارے میں قرآن میں یہ الفاظ آئے ہیں:فَأَوْحَیْنَا إِلَیْہِ أَنِ اصْنَعِ الْفُلْکَ بِأَعْیُنِنَا وَوَحْیِنَا (23:27) ۔ یعنی ہم نے اس کو وحی کی کہ تم کشتی تیار کرو ہماری نگرانی میں اور ہماری وحی کے مطابق۔ غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ غالباً یہی معاملہ جدید تہذیب کی تشکیل کے ساتھ بھی پیش آیا۔ حضرت نوح نےملائکہ کی مدد سے کشتی بنائی تھی۔ اسی طرح دورِ جدید میں انسانوں نے اللہ کی خصوصی رہنمائی (divine inspiration) کے تحت تہذیب کی تشکیل کی۔ گویا اللہ نے انسان کو الہامی زبان میں دوبارہ یہ کہہ کر حکم دیا تھا:اصنع الحضارۃ باعیننا و وحینا۔ یعنی ہماری نگرانی میںاورہمارے انسپریشن (inspiration) کے تحت تہذیب کی تشکیل کرو۔اسی کو جدید اصطلاح میں سرنڈیپٹی (serendipity) کہا جاتا ہے۔
تہذیب کی تشکیل کا یہ کام ایک بے حد تخلیقی کام ہے۔ اس کے لیے ضروری تھا کہ دوسری قوموں کو اس کی تعمیر و تشکیل میں شامل کیا جائے۔ اس واقعے کا ذکر پیشگی طور پر حدیث میں بیان کردیا گیا تھا۔ اس حدیث کا ترجمہ یہ ہے : اللہ تعالی اسلام کی تائید ایسے لوگوں کے ذریعے کرے گا جو اہلِ دین میں سے نہ ہوں گے(المعجم الکبیر للطبرانی، حدیث نمبر 14640)۔
نبوت محمدی کا ظہور
پیغمبرِ اسلام کا ظہور ساتویں صدی عیسوی کے رُبعِ اول میں ہوا۔ خدا کے منصوبہ کے مطابق، یہ ایک فرد (خاتم النبیین) کے ظہور کا معاملہ نہ تھا۔ بلکہ ایک نئے تاریخی دور کو پیدا کرنے کا معاملہ تھا۔ یہ انقلابی دور مختلف مراحل سے گزرتے ہوئے، بیسویں صدی عیسوی کے آخر میں مکمل ہوا۔ اس انقلاب کے پہلے مرحلے میں جو رول مطلوب تھا، وہ زیادہ تر اہل ایمان کے ذریعے وجود میں آیا۔ وہ رول یہ تھا کہ اسلام کو سماجی اور سیاسی اعتبار سے استحکام (stability)حاصل ہوجائے، قرآن محفوظ ہوجائے، امتِ مسلمہ کی تشکیل عمل میں آجائے، علوم ِاسلامی کی تدوین وقوع میں آجائے، دینِ توحید کا تسلسل اسی طرح قائم ہوجائے جس طرح اس سے پہلے دینِ شرک کا تسلسل تاریخ میں قائم ہوگیا تھا، وغیرہ۔
اس سلسلے میں دوسرا کام جو مطلوب تھا، وہ دینِ اسلام کی عالمی اشاعت تھی۔ دینِ اسلام کی اس عالمی اشاعت کے لیے ابتدائی زمانےمیں حالات مساعد نہ تھے۔ تہذیب ِجدید نے بالواسطہ طور پر اس کام کو انجام دیا۔ تہذیبِ جدید کے ذریعے دنیا میں ایک طرف پرنٹنگ پریس اور مواصلاتی دور (age of communication) وجود میں آیا، دنیا میں مکمل معنوں میں مذہبی آزادی کا دور آیا، فطرت (nature)میں موافق اسلام چھپے ہوئے حقائق دریافت ہوئے اور عمومی طور پر وہ ہر ایک کی دسترس میں آگئے، دنیا میں پہلی بار کامل معنوں میں کھلاپن (openness) کا دور آیا، دنیا میں پہلی بار یہ ممکن ہوا کہ ہر آدمی کے لیے مواقع (opportunities)  کے دروازے مکمل طور پر کھل گئے۔ صرف ایک شرط کے ساتھ کہ آدمی تشدد (violence) سے مکمل طور پر پرہیز کرے۔
اس معاملے کا ایک اہم پہلو یہ تھا کہ دنیا میں کمیو نی کیشن کا دور آیا، فاصلہ کا مسئلہ ختم ہوگیا۔ اور بعید مقام تک پیغام رسانی آخری حد تک آسان اور قابل عمل ہوگئی۔ یہ پہلو دعوت کے اعتبار سے بے حد اہم تھا۔ چنانچہ قرآن میں اس آنے والے انقلاب کی طرف پیشگی طور پر اشارہ کردیا گیا تھا۔ یہ اشارہ اس واقعہ کی صورت میں تھا جس کو قرآن میں اسراء (بنی اسرائیل،17:1) کہا گیا ہے۔
مکی دور کے آخری زمانے میں وہ واقعہ پیش آیا، جب کہ پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کو پراسرار طور پر مکہ سے یروشلم لے جایا گیا۔ مکہ سے یروشلم اور پھر یروشلم سے مکہ واپس لایا گیا۔ یہ سفر دو طرفہ اعتبار سے تقریباً 4000 کلو میٹر کا سفر تھا۔قرآن میں اس سفر کو ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے: سُبْحَانَ الَّذِی أَسْرَى بِعَبْدِہِ لَیْلًا مِنَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ إِلَى الْمَسْجِدِ الْأَقْصَى الَّذِی بَارَکْنَا حَوْلَہُ لِنُرِیَہُ مِنْ آیَاتِنَا (17:1)۔ یعنی پاک ہے وہ جو لے گیا ایک رات اپنے بندے کو مسجد حرام سے دور کی اس مسجد تک جس کے ماحول کو ہم نے بابرکت بنایا ہے، تاکہ ہم اس کو اپنی کچھ نشانیاں دکھائیں۔
اس سفر میں آپ کو جو نشانی (sign) دکھائی گئی وہ یروشلم کی کوئی چیز نہ تھی، بلکہ اس سے مراد وہی چیز تھی جس کو قرآن میں اسرا کہا گیا ہے۔ یعنی مکہ اور یروشلم کے درمیان تیز رفتار سفر۔ اس تیز رفتار سفر کا تجربہ اُس وقت آپ کو علامتی طور پر کرایا گیا ۔ اس کا مقصد پیشگی طور پر اُس واقعے کو بتانا تھا، جو آپ کے بعد تاریخ میں مواصلاتی دور (age of communication) کی صورت میں پیش آنے والا تھا۔ یہ مواصلاتی دور جو جدید تہذیب کے ذریعے دنیا میں آیا،وہ اسلام کے دعوتی مشن کے لیے ایک بہت بڑا موافق پہلو تھا۔ اس انقلاب نے عملی طور پر اس بات کو ممکن بنادیا کہ اسلام کا پیغام تیز رفتار ذرائع سے ساری دنیا میں پہنچایا جاسکے۔
اسلام کا مطلوب
اسلام کا اصل مطلوب کوئی نظام قائم کرنا نہ تھا، اور نہ اسلام کا نشانہ یہ تھا کہ ساری دنیامیں اسلام کی سیاسی حکومت قائم کی جائے۔ یہ سب مبتدعانہ تصورات (innovated concepts) ہیں، جو بعد کے دور میں پیدا ہوئے۔ اسلام کا اصل نشانہ صرف ایک تھا، اور وہ وہی ہے، جس کو قرآن میں ان الفاظ میں بیان کیا گیاہے: رُسُلًا مُبَشِّرِینَ وَمُنْذِرِینَ لِئَلَّا یَکُونَ لِلنَّاسِ عَلَى اللَّہِ حُجَّةٌ بَعْدَ الرُّسُلِ(4:165) ۔ یعنی اللہ نے رسولوں کو خوش خبری دینے والے اور آگاہ کرنے والا بنا کر بھیجا، تاکہ رسولوں کے بعد لوگوں کے پاس اللہ کے مقابلے میں کوئی حجت باقی نہ رہے۔
اسلام کا یہ دعوتی نشانہ قدیم زمانے میں صرف محدود طور پر انجام دینا ممکن تھا۔ بعد کو ترقیات کے دور میں یہ امکان پوری طرح وقوع میں آنے والا تھا ،تاکہ اسلام کا یہ نشانہ عالمی سطح پر بلا روک ٹوک انجام پائے۔ اس حقیقت کو قرآن وحدیث میں مختلف الفاظ میں پیشگی طور پر بتادیا گیا تھا۔ اس سلسلے میں ایک حدیث ان الفاظ میں آئی ہے: لَا یَبْقَى عَلَى ظَہْرِ الْأَرْضِ بَیْتُ مَدَرٍ، وَلَا وَبَرٍ إِلَّا أَدْخَلَہُ اللہُ کَلِمَةَ الْإِسْلَامِ (مسند احمد، حدیث نمبر23814)۔ یعنی زمین کی سطح پر کوئی چھوٹا یا بڑا گھر نہیں بچے گا، مگر یہ کہ اللہ اس کے اندر اسلام کا کلمہ داخل کردے گا۔
اسلام اکیسویں صدی میں
اب اسلام کی تاریخ اکیسویں صدی میں ہے۔ آج کا سب سے بڑا کام یہ ہے کہ اسلام کے دعوتی مشن کی منصوبہ بندی (planning) جدید حقائق کی روشنی میں کی جائے۔ جدید پیدا شدہ مواقع (opportunities) کو پوری طرح اسلام کے پرامن عالمی مشن کے لیے استعمال کیا جائے۔ قرآن میں اعلان کیا گیا تھا :تَبٰرَکَ الَّذِی نَزَّلَ الْفُرْقَانَ عَلَى عَبْدِہِ لِیَکُونَ لِلْعَالَمِینَ نَذِیرًا (25:1) ۔ یعنی بڑی بابرکت ہے وہ ذات جس نے اپنے بندے پر فرقان اتارا تاکہ وہ جہان والوں کے لئے ڈرانے والا ہو۔ اس آیت کے مطابق، یہ مطلوب تھا کہ قرآن کے پیغام کو تمام اہلِ عالم تک پہنچایا جائے، اور یہ کام تمام قوموں کی اپنی قابل فہم زبان میں انجام دیا جائے۔ جیسا کہ قرآن میں بتایا گیا ہے: وَمَا أَرْسَلْنَا مِنْ رَسُولٍ إِلَّا بِلِسَانِ قَوْمِہِ لِیُبَیِّنَ لَہُمْ ُ (14:4) ۔ یعنی اور ہم نے جو پیغمبر بھی بھیجا اس قوم کی زبان میں بھیجا، تاکہ وہ ان سے بیان کردے ۔
قرآن کا یہ نشانہ سفر کرتے ہوئے اب اکیسویں صدی عیسوی میں اپنے آخری دور میں پہنچ گیا ہے۔اب ضرورت یہ ہےکہ قرآن کو تمام قوموں کی قابل فہم زبانوں میں ترجمے کرکے ان کو تمام لوگوں تک پہنچایا جائے۔ دسمبر 2015 میں راقم الحروف کا ایک سفر کناڈا کے لیے ہوا تھا۔ وہاں میں نے تعلیم یافتہ مسلمانوں کے ایک اجتماع میں تقریر کرتے ہوئے اس پہلو کا ذکر کیا اور کہا :
What a thrilling idea that in the 21st century, we are in a position to complete the unfinished target of the Quran!
٭ ٭ ٭ ٭ ٭ ٭ ٭
جس طرح خالص دینی معاملات میں اصلاح کا آغاز توبہ سے ہوتا ہے، اُسی طرح قومی اور سیاسی زندگی میں بھی کوئی نیا بہتر آغاز رجوع و اعتراف کے ذریعے ہوتا ہے۔ ماضی کی غلطیوں کو مانے بغیر مستقبل کی کامیاب منصوبہ بندی ممکن نہیںہوتی، اور اِس معاملے میں کوئی استثناء نہیں۔
واپس اوپر جائیں

انسان کا دماغ

انسان نے پانی کے بارے میں بوائنسی (buoyancy)کے قانون کو دریافت کیا، اور پھر اس کے مطابق، کشتیاں بنائیں، اور سمندروں میں بآسانی وہ بڑے بڑے سفر کرنے لگا۔ اسی طرح انسان نے اپنے دماغ کو استعمال کرکے یہ دریافت کیا کہ الیکٹرسٹی کا مطلب ہے الیکٹران کا بہاؤ :
Electricity means flow of electrons
اس دریافت کے بعد انسان نے ڈائنمو (dynamo) بنایا، اور پھر اس میں میگنیٹک فیلڈ (magnetic field) پیدا کرکے یہ انتظام کیا کہ بجلی پیدا ہو، اور بڑے پیمانے پر اس کا استعمال ممکن ہوجائے۔ اسی طرح انسان نے مزید یہ کیا کہ ڈائنمو کے اندر میگنیٹک فیلڈ پیدا ہو، اور وہاں بجلی کی کرنٹ پہنچائی جائے تو وہاں مادے میں حرکت پیدا ہوجائے گی۔ انسان نے کامیابی کے ساتھ ایسا کیا ، اور اس کے ذریعے بے شمار بڑے بڑے فائدے حاصل کیے، وغیرہ، وغیرہ۔
یہ واقعات امکانی طور پر ہمیشہ سے موجود تھے، لیکن عملاً وہ پچھلے پانچ سو سال سے پہلے لامعلوم مدت تک واقعہ (actual)نہ بن سکے۔ ایسا کیوں کر ہوا۔ سائنس کے مورخین یہ کہتے ہیں کہ ایسا اتفاقات (accident) کے ذریعے ہوا۔ مگر صحیح بات یہ ہے کہ یہ ویسا ہی تھا، جیسے قدیم زمانے میں کشتی کا بننا۔ پیغمبر نوح کی کشتی کے بارے میں قرآن میں آیا ہے : وَاصْنَعِ الْفُلْکَ بِأَعْیُنِنَا وَوَحْیِنَا (11:37)۔ میں سمجھتا ہوں کہ یہی واقعہ پوری تہذیب کے بارے میں درست ہے۔ اللہ نے فرشتوں کو انسان کا معلم بنا دیا، اور پھر انسان سے کہا :اصنع الحضارۃ باعیننا، و وحینا۔
سائنسی تحقیقات کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ اکسیڈنٹ کے ذریعے ہوا، صحیح یہ ہے کہ یہ واقعات فرشتوں کی مدد سے انجام پائے۔ ورنہ انسان خود اپنی آزادانہ عقل سے کچھ نہیں کرسکتا تھا۔ جیسا کہ پچھلے لاکھوں سال تک وہ اس معاملے میں کچھ نہ کرسکا۔ یہی وہ واقعہ ہے، جس کو اتفاق کا نتیجہ قرار دے کر serendipity کی اصطلاح وضع کی گئی ہے۔
واپس اوپر جائیں

حاکم کی خیرخواہی

ایک حدیثِ رسول ان الفاظ میں آئی ہے:مَنْ أَرَادَ أَنْ یَنْصَحَ لِسُلْطَانٍ بِأَمْرٍ، فَلَا یُبْدِ لَہُ عَلَانِیَةً، وَلَکِنْ لِیَأْخُذْ بِیَدِہِ، فَیَخْلُوَ بِہِ، فَإِنْ قَبِلَ مِنْہُ فَذَاکَ، وَإِلَّا کَانَ قَدْ أَدَّى الَّذِی عَلَیْہِ لَہُ (مسند احمد، حدیث نمبر 15333)۔ یعنی جو یہ چاہے کہ وہ صاحبِ امر کو اس کے کسی فعل پر خیرخواہانہ نصیحت کرے تو وہ علانیہ طور پر ایسانہ کرے، بلکہ وہ اس کا ہاتھ پکڑے،اور اس کو تنہائی میں لے جائے۔ اگر حاکم اس کی بات کو قبول کر لے تو بہتر ہے، ورنہ اس نے حاکم کے تعلق سے اپنا فرض ادا کردیا۔
حاکم کو اس کی کسی غلطی پر نصیحت کرنا،بلاشبہ ایک اچھا کام ہے۔ لیکن انسان کو چاہیے کہ وہ ایسا کام ہمیشہ نتیجے کو دیکھ کر کرے۔ اگر وہ علانیہ طور پر صاحبِ امر کو نصیحت کرے گا تو عین ممکن ہے کہ وہ بھڑک اٹھے، اور ایسا کوئی اقدام کرے جو دونوں کے درمیان ٹکراؤ کا سبب بن جائے، اور نصیحت کاؤنٹر پروڈکٹیو (counter-productive) بن جائے۔ اس لیے آدمی کو چاہیے کہ وہ ہمیشہ نتیجے کو ملحوظ رکھتے ہوئے نصیحت کرے۔ نتیجہ خیز نصیحت ایک ثواب کا کام ہے، لیکن جو نصیحت ٹکراؤ کا سبب بن جائے، وہ باعتبارِنتیجہ نصیحت نہیں ہے، بلکہ فتنہ انگیزی ہے۔
یہ بات بے حد حکمت پر مبنی ہے کہ صاحبِ امر اگر نصیحت کو قبول کرلے تو ناصح کو اللہ کا شکر اداکرنا چاہیے کہ اس کو ایک نیک کام کرنے کی توفیق ملی، اور اگر وہ نصیحت قبول نہ کرے تو ناصح پر لازم ہے کہ وہ اس کے بعد چپ ہوجائے۔ کیوں کہ ناصح کا جو فریضہ تھا، اس کو ناصح نے ادا کردیا۔ اگر صاحبِ امر نصیحت قبول نہ کرے تو اس کے بعد اس کا اعلان کرنا، یا اس کے خلاف تنقید کی مہم شروع کرنا، نصیحت نہیں ہے، بلکہ اپنے نتیجہ کے اعتبار سے وہ فتنہ انگیزی ہے، اور فتنہ انگیزی اپنے آپ میں ایک بہت بڑا گنا ہ ہے۔ اس سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ صاحب امر اگر غلطی کرے تو اس کو خیر خواہانہ نصیحت کرنا ہے۔ ایسی حالت میں ناصح اگر یہ کرے کہ وہ صاحبِ امر کے خلاف ہتھیار اٹھالے، یا وہ اس کے خلاف اپوزیشن کی تحریک چلائے تو خود ناصح نے ایک ناقابلِ معافی گناہ کا کام کیا۔
واپس اوپر جائیں

اسلام کے نام پر غیر اسلام

امت کے دورِ زوال کے بارے میں ایک روایت حدیث کی مختلف کتابوں میں آئی ہے۔ ایک روایت کے الفاظ یہ ہیں: إِنَّ أَوَّلَ مَا یُکْفَأُ - قَالَ زَیْدٌ:یَعْنِی فی الْإِسْلَامَ - کَمَا یُکْفَأُ الْإِنَاءُ یَعْنِی الْخَمْرَ . فَقِیلَ:کَیْفَ یَا رَسُولَ اللَّہِ وَقَدْ بَیَّنَ اللَّہُ فِیہَا مَا بَیَّنَ؟ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ صَلَّى اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ:یُسَمُّونَہَا بِغَیْرِ اسْمِہَا فَیَسْتَحِلُّونَہَا(سنن الدارمی، حدیث نمبر 2145)۔ یعنی بے شک ( اسلام میں)پہلا (بگاڑ) اوندھاکرنے کی صورت آئے گا ، جیسے برتن اوندھا کیا جاتا ہے، (اور وہ شراب ہوگی)۔ پوچھا گیا کہ ایسا کس طرح ہوگا، حالاں کہ اللہ نے (دین میں )اس کو بیان کردیا جیسا کہ بیان کردیا ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا: لوگ اس کا نام بدل کر کچھ اور نام رکھ دیں گے، پھر وہ اس کو جائز کرلیں گے۔
اس حدیثِ رسول میں خمر (شراب ) کا لفظ علامتی معنوں میں آٰیا ہے۔ یعنی دورِ زوال میں امت کے اندر خواہش پرستی کا دور آجائے گا۔ لوگ دین پر چلنے کے بجائے، اپنی خواہشات پر چلنے لگیں گے۔ اگر کوئی چیز بظاہر ممنوع (prohibited) ہوگی، تو لوگ نام بدل کر اس کا اسلامی نام رکھ لیں گے، اور پھر وہ اس کو جائز کرلیں گے۔ مثلا قوم پرستی کا نام اسلامی حمیت، شادی کی مسرفانہ دھوم کا نام مسنون نکاح،کلچرل رواج کا نام دینی شناخت، وغیرہ۔
موجودہ زمانے میں اس بگاڑ کی ایک عام صورت وہ ہے ، جس کا تعلق دعوت و تبلیغ سے ہے۔ موجودہ زمانے میںمسلمانوں کی شکست خوردہ نفسیات کونہایت منظم (organized)انداز میں ایکسپلائٹ کیا جاتا ہے، اور اس کا نام رکھ دیا جاتا ہے دعوت و تبلیغ۔ کچھ لوگ جن کے اندر قوت کلام ہوتی ہے، اور جو مارکٹنگ (marketing)کا فن جانتے ہیں، وہ اس قسم کے مناظرہ (debate) کو ایک باقاعدہ پروفیشن کے طور پر اختیار کرلیتے ہیں، اور لوگوں کو یقین دلاتے ہیں کہ وہ دعوت و تبلیغ کا کام کررہے ہیں۔
واپس اوپر جائیں

الاضحی، پیغمبر ابراہیم کا منصوبہ

11 ستمبر 2001 کو نیو یارک میں ایک ہولناک واقعہ ہوا، جس کو عام طور پر نائن الیون کہا جاتا ہے۔ اس دن کچھ مسلم نوجوانوں نےچار ہوائی جہازوں کو ہائی جیک کیا، اور ان میں سے دو کو نیویارک کے ورلڈ ٹریڈ سینٹر سے ٹکرادیا۔ اس کے نتیجے میں 104 منزل کا ٹاور فوراً تباہ ہوگیا۔ اس حادثے میں تقریباً تین ہزار آدمی فوری طور پر ہلاک ہوگئے۔ اس واقعہ میں ملوث انیس مسلم ہائی جیکر بھی ہلاک ہوگئے۔چار مسلمان جنھوں نے جہاز کو آخری مرحلہ میں چلایا تھا ، ان کے نام یہ ہیں: محمد عطا، مروان الشحی ، ہانی حنجور، زیاد جراح۔
یہ واقعہ گیارہ ستمبر 2001 کو نیویارک میں ہوا تھا۔ سال 1437 ھ میں کیلنڈر کے اتفاق کی بنا پر عید الاضحی اسی تاریخ (9/11)کےقریب ہوئی ہے۔مگر منصوبے کےاعتبار سے دیکھاجائے تو دونوں واقعے میں فرق ہے۔پہلےواقعہ میںانسان کو ہلاک کرنے کا منصوبہ تھا، تو عید الاضحی کی ابراہیمی یادگار انسان کو زندگی دینے کا منصوبہ ہے۔ اس لحاظ سے عید الاضحی مسلمانوں کو یاد دلارہی ہے کہ تم انسان کی ہلاکت کا منصوبہ چھوڑو ، اور انسان کو زندگی دینے کا منصوبہ بناؤ۔ قرآن کی ایک آیت میں دونوں قسم کے منصوبے کے فرق کو اس طرح بتایا گیا ہے۔ اس آیت کا ترجمہ یہ ہے: اسی سبب سے ہم نے بنی اسرائیل پر یہ لکھ دیا کہ جو شخص کسی کو قتل کرے، بغیر اس کے کہ اس نے کسی کو قتل کیا ہو یا زمین میں فساد برپا کیا ہو تو گویا اس نے سارے آدمیوں کو قتل کر ڈالا اور جس نے ایک شخص کو بچایا تو گویا اس نے سارے آدمیوں کو بچا لیا۔ (المائدہ،5:32)
پیغمبر ابراہیم بن آزر تینوں سامی مذاہب یہودیت، عیسائیت، اور اسلام کے مورث اعلیٰ تھے۔ وہ عراق کے قدیم شہر اُر (Ur)میں پیدا ہوئے۔ وہ 175 سال زندہ رہے، اور 1985 ق م میں ان کی وفات ہوئی۔ وہ پورے معنوں میں ایک مین آف مشن تھے۔ انھوں نے اپنی لمبی عمر میں اپنا مشن عراق میں اور اطراف کے علاقے میں چلایا۔ مگر اپنے خاندان کے چند افراد (بیوی، بھتیجا،بیٹا) کے سوا کوئی ان کو ساتھی نہیں ملا۔ ان کا مشن تاریخ میں امن کا دور لانا تھا ۔ مشن کے اس انجام کا سبب یہ تھا کہ اس زمانے میں ساری دنیا کے انسانوں میں قبائلی کلچر (tribal culture) کا رواج تھا۔ اس کلچر کے تحت لوگ مسلسل طور پر آپس میں لڑتے رہتے تھے۔ اس کے سوا کسی اور کلچر کو وہ جانتے ہی نہ تھے۔ اس کا نتیجہ یہ تھا کہ قدیم زمانے میں دنیا میں کوئی بڑا تعمیری کام نہ ہوسکا۔ قدیم زمانے کے انسان نے لڑائی کی تاریخیں تو بنائی لیکن وہ امن کی تاریخ بنانے میںناکام رہے۔
اللہ کی ہدایت کے مطابق، حضرت ابراہیم نے ایک نیا منصوبہ بنایا۔ وہ تھا، خصوصی تربیت کے ذریعے ایک نئی نسل بنانا۔ یہ صحرائی تربیت (desert therapy) کا طریقہ تھا۔ چنانچہ انھوں نے اپنی بیوی ہاجرہ اور اپنے بیٹے اسماعیل کو لاکر عرب کے غیر آباد صحرا میں بسا دیا۔ یہاں نسل در نسل ڈی کنڈیشننگ کے ذریعے ایک نئی نسل بنی جس کو بنو اسماعیل کہا جاتا ہے۔
یہ نسل تاریخ کی پہلی امن پسند نسل تھی۔ اس واقعے کا ذکر قرآن کی ایک آیت میں اس طرح کیا گیا ہے:وَاعْتَصِمُوا بِحَبْلِ اللَّہِ جَمِیعًا وَلَا تَفَرَّقُوا وَاذْکُرُوا نِعْمَتَ اللَّہِ عَلَیْکُمْ إِذْ کُنْتُمْ أَعْدَاءً فَأَلَّفَ بَیْنَ قُلُوبِکُمْ فَأَصْبَحْتُمْ بِنِعْمَتِہِ إِخْوَانًا وَکُنْتُمْ عَلَى شَفَا حُفْرَةٍ مِنَ النَّارِ فَأَنْقَذَکُمْ مِنْہَا کَذَلِکَ یُبَیِّنُ اللَّہُ لَکُمْ آیَاتِہِ لَعَلَّکُمْ تَہْتَدُونَ (3:103)۔ یعنی اور سب مل کر اللہ کی رسی کو مضبوط پکڑ لو اور پھوٹ نہ ڈالو۔ اور اللہ کا یہ انعام اپنے اوپر یاد رکھو کہ تم ایک دوسرے کے دشمن تھے۔ پھر اس نے تمھارے دلوں میں الفت ڈال دی۔ پس تم اس کے فضل سے بھائی بھائی بن گئے۔ اور تم آگ کے گڑھے کے کنارے کھڑے تھے تو اللہ نے تم کو اس سے بچا لیا۔ اس طرح اللہ تمھارے لئے اپنی نشانیاں بیان کرتا ہے تاکہ تم راہ پاؤ۔
صحرائی تربیت کے ذریعے پیدا ہونے والا یہی وہ امن پسند گروہ ہے، جس کو پیغمبرِ اسلام نے بامقصد بنیاد پر منظم کیا۔ اور پھر ان کو لے کر وہ انقلاب برپا کیا جو تاریخ کا پہلا مبنی بر امن انقلاب تھا۔ اس امن پسند گروہ کی جدو جہد کے ذریعے تاریخ میں ایک نیا پراسس شروع ہوا، جو اس پر امن دور تک پہنچا، جس کو جدید دور (modern age)کہا جاتا ہے۔
واپس اوپر جائیں

مصلح، متکلم، داعی

اسلام 610 عیسوی میں عرب میں شروع ہوا۔ اکیسویں صدی میں دنیا میں اسلام کو ماننے والوں کی تعداد تقریباً ایک بلین اسی لاکھ (1.8 billion)ہے۔ آج مسلمان دنیا کے تقریبا ًہر ملک میں پائے جاتے ہیں۔ اس مجموعے کو امتِ مسلمہ کہا جاتا ہے۔ امتِ مسلمہ کے لیے کام کرنے کے مختلف میدان ہیں۔
ایک کام امت کی اخلاقی اصلاح اور مادی تعمیر کا کام ہے۔ آج کی زبان میں اس کو مسلم ایمپاورمنٹ (Muslim empowerment)کہا جاتا ہے۔ یہ کام کا وہ میدان ہے، جس میں مصلحین تعلیم، اقتصادیات اور سماجی ترقی(social uplift) کے میدان میں کام کرتے ہیں۔اس کام کو دوسرے لفظوں میں تعمیرِ ملت کا کام بھی کہا جاتا ہے۔
دوسرا میدان وہ ہے، جس میں کام کرنے والوں کو متکلم کہا جاتا ہے۔ اس میدان میں کام کرنے والے عقلی دلائل کی روشنی میں اسلام کی برتری ثابت کرتے ہیں۔ اسی کام کا ایک شعبہ وہ بھی ہے، جس کو مناظرہ (debate) کہا جاتا ہے۔ جس دور میں جو عقلی معیار رائج ہو، اس کے اعتبار سے یہ کام انجام دیا جاتا ہے۔
تیسرا کام وہ ہے جس کو قرآن میں دعوت الی اللہ کہا گیا ہے۔ اسی کے ساتھ قرآن میں انذار و تبشیر کے الفاظ آئے ہیں۔ یہ کام پوری طرح آخرت رخی (akhirah-oriented) کام ہے۔ اس کام کے موضوعات اللہ کی معرفت ، جنت کا تعارف، اور آخرت کے اعتبار سے مزکیّٰ شخصیت (purified personality) بنا نا ہے۔
یہ تینوں کام اپنی اپنی جگہ مطلوب کام ہیں۔ لیکن ہر کام کی نوعیت الگ ہے۔ نوعیت کے اس فرق کوذہن میں رکھنا ضروری ہے۔ ورنہ کوئی بھی کام درست طور پر انجام نہیں پاسکتا۔ آدمی کو ایسا ہرگز نہیں کرنا چاہیے کہ وہ ایک میدان والا کام کررہا ہو، اور دوسرے میدان کے کام کا دعویٰ کرے۔
واپس اوپر جائیں

اِدّعا کا دور ختم

موجودہ زمانے کو عقلیت کا دور (age of reason) کہا جاتا ہے۔ اس کا ایک پہلو یہ ہے کہ موجودہ زمانے میں ادّعا (claim) کے لیے کوئی جگہ نہیں۔ موجودہ زمانے میں صرف ان لوگوں کو قبولیت حاصل ہوسکتی ہے، جو عقل کے معیار پر اپنا جواز (validity) ثابت کریں، جن کے پاس صرف اِدًعا (claim) ہو، ان کو موجودہ زمانے میں صرف دماغی مریض کے اسپتال میں جگہ ملے گی، اور کہیں نہیں۔
موجودہ زمانے میں یہ کہنا کہ میں مجدد ہوں، میں مہدی ہوں، میں مسیح ہوں، وغیرہ صرف اس بات کا ثبوت ہے کہ آدمی موجودہ زمانے کے حالات سے بالکل بے خبر ہے۔ وہ ایسی بولی بول رہا ہے، جس کو موجودہ زمانے میں کوئی قبول کرنے والا نہیں۔ ایسے لوگوں کا کیس خلافِ زمانہ روش (anachronism) کا کیس ہے۔
اسی طرح یہ بات بھی موجودہ زمانے میں ناقابلِ قبول ہے کہ میں وقت کا نپولین ہوں، میں وقت کا نیوٹن ہوں، میں وقت کا آئنسٹین ہوں، وغیرہ۔ اسی طرح اس قسم کے القاب بھی غیر زمانی القاب ہیں کہ غزالی زماں، رازی دوراں، بیہقی وقت ، یا یہ کہ فلاں شخص عہد ساز شخصیت کا حامل ہے، وغیرہ۔ یعنی موجودہ زمانے میں کوئی یہ کہے کہ میں ایسا ہوں، میں ویسا ہوں،یافلاں شخص وقت کا یہ ہے،اور فلاں شخص وقت کا وہ ہے، تو کوئی شخص اس کو قابلِ غور نہیں سمجھے گا۔
آج کا دور سائنسی استدلال کا دور ہے۔ آج کے زمانے میں بات کو فرد کے حوالے سے نہیں مانا جاتا ہے، بلکہ دلیل کے حوالے سے مانا جاتا ہے۔حدیث میں آیا ہے :مَنْ کَانَ یُؤْمِنُ بِاللَّہِ وَالیَوْمِ الآخِرِ فَلْیَقُلْ خَیْرًا أَوْ لِیَصْمُت (صحیح البخاری، حدیث نمبر 6018)۔یعنی جو آدمی اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہے، وہ بھلی بات کہے یا چپ رہے۔ آج کا انسان کہے گا کہ تمھارے پاس اگر مبنی بر عقل (reason based) کوئی بات ہے تو بولو، ورنہ چپ رہو۔
واپس اوپر جائیں

امن کا راستہ

جن علاقوں میں تشدد (violence) کے واقعات ہورہے ہیں، ان علاقوں کے لیڈر یہ کہتے ہیں کہ اس علاقے میں امن اس وقت قائم ہوگا جب کہ اس علاقے کے عوام کی جائز خواہشات کو پورا کیا جائے۔ جب تک اس علاقے کے عوام کو ان کا حق نہ دیا جائے، وہاں کبھی امن قائم نہیں ہوسکتا۔
یہ بات جو کہی جاتی ہے، وہ گرامر کے اعتبار سے درست ہے، لیکن حقیقت کے اعتبار سے وہ بالکل بے بنیاد ہے۔ تاریخ میں کبھی اس قسم کا امن قائم نہیں ہوا۔ تاریخ میں اگر کبھی امن قائم ہوا ہے، تو وہ ہمیشہ عوامی مطالبات کو چھوڑنے کی بنیاد پر ہوا ہے، نہ کہ ان کو پانے کی بنیاد پر۔
اسلام کے دورِ اول میں پیغمبرِ اسلام اور مکہ کے قریش کے درمیان نزاع قائم تھی۔ دس سالہ ناجنگ معاہدہ ، صلحِ حدیبیہ کے ذریعے اس نزاع کا خاتمہ ہوا، اور علاقے میں امن قائم ہوا۔ مگر یہ امن قریش کی شرطوں پر قائم ہوا تھا، نہ کہ اہل ایمان کی شرطوں پر۔ حتی کہ اس امن کو پانے کے لیے پیغمبرِ اسلام کو معاہدہ کی دستاویز سے بوقتِ معاہدہ رسول اللہ کا لفظ مٹانا پڑا تھا۔ امن کبھی اپنی شرطوں کی بنیاد پر نہیں ہوتا، بلکہ وہ فریقِ مخالف کی شرطوں کو مان کر ہوتا ہے۔
آج کی دنیا میں جہاں جہاں تشدد کے واقعات ہورہے ہیں، وہ سب اسی لیے ہورہے ہیں کہ لوگ اس شرط کو نہیں جانتے، وہ امن کے لیے اس شرط کا مطالبہ کرتے ہیں کہ ان کی مانگ کو پورا کیا جائے۔ یہ ایک ایسی شرط ہے، جو پر جوش تقریروں میں تو دہرائی جاسکتی ہے، لیکن حقیقت کی دنیا میں ان کو قائم کرنا ناممکن ہے۔ ایسا امن نہ دنیا میں کبھی قائم ہوا، اور نہ وہ کبھی قائم ہوسکتا ہے، جن شرطوں کو پورا کرنا رسول اللہ کے زمانے میں ممکن نہیں ہواتھا، اس کو اب کیسے ممکن بنایا جا سکتا ہے۔
یہ ایک حقیقت ہے کہ امن کا قیام جہاد و قتال کے ذریعے کبھی نہیں ہوتا۔ امن کا قیام ہمیشہ حقیقتِ واقعہ کے اعتراف (acceptance of reality) کی بنیاد پر ہوتا ہے۔حقیقت کو حقیقت کے ذریعے بدلا جاسکتا ہے، نہ کہ پرجوش نعروں کے ذریعے۔
واپس اوپر جائیں

عقل سے محرومی

امت پر جب عمومی بے عقلی کا دور آئے گا تو قانونِ دفع ( البقرۃ، 2:251) کا تقاضا ہوگا کہ اللہ اپنے ایک خاص بندے کو بھیجے جو کامل عقل سے بہرہ ور ہوگا، اور اللہ کی خصوصی نصرت سے سچائی کو کھولے گا،جو کہ صحیح کو صحیح بتائے گا ،اور غلط کا غلط ہونا واضح کرے گا۔ اللہ کا یہ منصوبہ ایک حدیث رسول میں بیان کیا گیا ہے۔ اس کا ترجمہ یہ ہے : زمین کو عدل و انصاف سے بھر دے گا، جیسا کہ وہ پہلے ظلم و زیادتی سے بھری ہوئی تھی(سنن ابی داؤد، حدیث نمبر 4282)۔
اس حدیث میں عدل سے مراد عدل کا نظام نہیں ہے۔ اسی طرح ظلم سے مراد ظلم کا نظام نہیں ہے۔ بلکہ عدل سے مراد عدل کی بات ہے، اور ظلم سے مراد ظلم کی بات ہے۔ اِسی طرح ارض سے مراد ساری زمین (globe) نہیں ہے بلکہ ارض سے مراد ارضِ مسلم ہے۔ یعنی مسلم دنیا میں جب ہر طرف بےعقلی کی باتیں ہونے لگیں گی، تو وہ انسان لوگوں کو ہر پہلو سے عقل کی بات بتائے گا۔ وہ نظریاتی اعتبار سے، نہ کہ عملی اعتبار سے، مسلم دنیا کو بتائے گا کہ عقل کے مطابق سوچنا کیا ہے اورعقل کے مطابق کرنا کیا ہے۔ وہ انسان کوئی حکومت نہیں قائم کرے گا بلکہ وہ ایک نظریاتی دور لائے گا۔
یہ کوئی پر اسرار بات نہیں ہے، بلکہ یہ فطرت کا نظام ہے۔ یہ فطرت کا نظام ہے کہ ہر بار جب لوگوں کی سوچ بگڑ جاتی ہے، اوراس کے نتیجے میں عمل میں بگاڑ آجاتا ہے، تو اس وقت اللہ کی توفیق سے ایسے افراد اٹھتے ہیں، جو لوگوں کو صحیح طرز فکر دیں، جو لوگوں کی کنڈیشنڈ تھنکنگ کو کنڈیشننگ سے پاک کریں، اور صحیح انداز میں سوچنے والا بنائیں۔ ایسا اس لیے ہوتا ہے کہ انسانی سوچ خواہ کتناہی بگڑ جائے لیکن انسان کا ضمیر (conscience) پھر بھی زندہ رہتا ہے۔ یہ ضمیر انسانی معاشرے کے بگاڑ کو کلی بگاڑ بننے نہیں دیتا ۔ ایک حد کے بعد ضمیر جاگ اٹھتا ہے، اور معاشرے کے اندر اینٹی بگاڑ کا پراسس شروع ہوجاتا ہے۔جو ہر رکاوٹ کے باوجود فطرت کی رہنمائی میں جاری رہتا ہے۔ یہاں تک کہ بگاڑ کے بعد اصلاح کا دور آجاتا ہے۔
واپس اوپر جائیں

عورت کی تخلیق

عورت کے بارے میں ایک روایت حدیث کی مختلف کتابوں میں آئی ہے۔ صحیح ابن حبان کے الفاظ یہ ہیں:إِنَّمَا مَثَلُ الْمَرْأَةِ کَالضِّلَعِ، إِنْ أَرَدْتَ إِقَامَتَہَا کُسِرَتْ، وَإِنَّ تَسْتَمْتِعْ بِہَا تَسْتَمْتِعْ بِہَا وَفِیہَا عِوَجٌ، فَاسْتَمْتِعْ بِہَا عَلَى مَا کَانَ مِنْہَا من عوج(صحیح ابن حبان، حدیث نمبر 4180)۔ یعنی عورت کی مثال پسلی کی مانند ہے۔ اگر تم چاہو اس کو سیدھا کرنا تو تم اس کو توڑ دو گے۔ اور اگر تم اس سے فائدہ اٹھانا چاہو تو فائدہ اٹھاؤگے، اور اس کے اندر ایک ٹیڑ ھ ہے، پس تم اس کی ٹیڑھ کے باوجود اس سے فائدہ اٹھاؤ (تو تم اس سے فائدہ پاؤ گے)۔
اس حدیث میں عوج (ٹیڑھ) سے مراد یہ نہیں ہے کہ عورت کے اندر کوئی تخلیقی کجی ہے۔ یہ در اصل تمثیل کی زبان ہے۔ یعنی اس سے مرادوہ مخصوص مزاج ہے، جو عورتوں کے اندر پایا جاتا ہے۔ عورت اپنے مزاج کے اعتبار سے جذباتی (emotional) ہوتی ہے۔ اسی جذباتی مزاج کو پسلی سے تعبیر کیا گیا ہے۔
جذباتی مزاج کیا ہے۔ وہ یہ ہے کہ کسی بات کو عقلی طور پر سوچنے سے پہلے بھڑک اٹھنا۔ کوئی بات مزاج کے خلاف ہو تو ٹھنڈے طریقے سے سوچے بغیر رائے قائم کرلینا۔ کسی بات پر اتنا شدید ہوجانا کہ سمجھنے سمجھانے کا دروازہ بند ہوجائے۔کسی معاملے کو نتیجے کے اعتبار سے نہ دیکھنا، بلکہ صرف جذباتی پہلو سے سوچنا۔ اپنے کو صحیح اور دوسرے کو غلط سمجھ لینا۔ اس قسم کی تمام باتیں جذباتیت (emotionalism) سے تعلق رکھتی ہیں۔
جو آدمی اس طرح کی جذباتیت کا شکار ہوجائے، اس کو صرف اپنے موافق بات سمجھ میں آتی ہے۔اس کے خلاف کوئی بات اس کو سمجھ میں نہیں آتی ہے۔ جو بات اپنے مزاج کےخلاف نظر آئے، اس پر وہ سوچنے کے لیے تیار نہیں ہوتا۔ایسے آدمی کو نرمی سے سمجھایا جاسکتاہے۔ لیکن اس کو سختی سے سمجھانا، ممکن نہیں ہوتا۔
واپس اوپر جائیں

ازدواجی زندگی

ایک شادی شدہ جوڑے سے میری ملاقات ہوئی۔ان کو نصیحت کرتے ہوئے میں نے کہا کہ شادی شدہ زندگی یہ ہے کہ دو آدمی سنجیدہ فیصلہ کرتے ہیں کہ وہ باہم مل کر زندگی کا مشترک سفر طے کریں گے۔ یہ سفر پورا کا پورا تجربات کی صورت میں گزرتا ہے۔ کبھی خوش گوار تجربہ اور کبھی نا خوش گوار تجربہ۔
آپ دونوں کو میری نصیحت صرف ایک ہے۔ وہ یہ کہ جب اس مشترک سفر میں آپ دونوں کو کوئی خوش گوار تجربہ گزرے تو اس پر اللہ رب العالمین کا شکر ادا کیجیے، اور اپنے سفر کو مثبت ذہن کے ساتھ جاری رکھیے۔ اس کے برعکس، اگر آپ کو اس سفر میں کوئی نا خوش گوار تجربہ پیش آئے تو اس سے کوئی سبق سیکھنے کی کوشش کیجئے۔ کیوں کہ ہر نا خوش گوار تجربہ ہمیشہ ایک نیا سبق لے کر آتا ہے۔ وہ اس لیے ہوتا ہے کہ آپ سفر کا اگلا مرحلہ زیادہ بہتر طور پر گزاریں۔
شادی شدہ زندگی اجتماعیت کی اکائی ہے۔ آپ انفرادی زندگی اپنی مرضی کے مطابق گزار سکتے ہیں۔ لیکن اجتماعی زندگی میں دوسروں سے نبھانا ضروری ہوجاتا ہے۔ دوسروں سے نبھانے کا آرٹ سیکھے بغیر اجتماعی زندگی کامیاب نہیں ہوسکتی، خواہ شادی شدہ زندگی ہو یاکوئی اور سماجی زندگی۔
شادی شدہ زندگی صرف شادی کے لیے نہیں ہوتی۔ بلکہ وہ تجربہ سیکھنے کے لیے ہوتی ہے۔ وہ اس لیے ہوتی ہے کہ آدمی یہ سیکھے کہ دوسروں کے ساتھ کامیاب زندگی گزارنے کا طریقہ کیا ہے۔ تجربہ ہمیشہ کئی قسم کا ہوتا ہے۔ تجربے کی زندگی میں خوشگوار واقعات بھی پیش آتے ہیں،اور ناخوشگوار بھی۔ تاہم ہر تجربے میں کوئی نہ کوئی سبق ضرور موجود ہوتا ہے۔ کبھی ایک نئے اصول کی دریافت کی صورت میں ، اور کبھی کسی عملی رہنمائی کی صورت میں ، اور دونوں بلاشبہ یکساں طور پر مفید ہے۔جس آدمی کی زندگی تجربہ سے خالی ہو،اس کی زندگی حکمت (wisdom) سے خالی ہو گی۔
واپس اوپر جائیں

نیت پر حملہ

تنقید (criticism) کے دو طریقے ہیں۔ ایک ہے کسی آدمی کے قول پر ثابت شدہ حقائق کی روشنی میں علمی تجزیہ (analysis)کرنا۔ ایسا تجزیہ جس میں آدمی کی نیت زیر بحث نہ آئی ہو، بلکہ صرف اس کے نقطۂ نظر کاموضوعی (objective) انداز میں جائزہ لیا گیا ہو۔ یہ طریقہ ایک جائز طریقہ ہے۔ قرآن یا حدیث کا کوئی حوالہ ایسا نہیں ہے، جو اس طریقے کو دینِ اسلام کے خلاف بتاتا ہو۔
دوسرا طریقہ یہ ہے کہ کسی آدمی کی طرف ایک ایسی بات کو منسوب کرنا، جس کے بارے میں کوئی ثابت شدہ حوالہ ایسا موجود نہ ہو کہ اس نے جو کچھ کہا یا لکھا ہے، وہ قصداً (intentionally) کہا یا لکھاہے، بلکہ وہ ناقد کا اپنا مفروضہ ہو۔ ایسی تنقید اسلام میں بلاشبہ جائز نہیں ، اور آدمی کو اس دوسرے قسم کی تنقید سے کامل پرہیز کرنا چاہیے۔
مذکورہ تقسیم میں دوسری قسم کی تنقید بے حد خطرناک ہے۔ اگر کوئی شخص ایسی تنقید کا ارتکاب کرے، تو اس کو ڈرنا چاہیے کہ اس کی وجہ سے وہ خود اللہ کی پکڑ میں نہ آجائے۔کیوں کہ حدیث سے غیر مشتبہ طور پر اس کا باطل ہونا ثابت ہوتا ہے۔ اس سلسلے میں ایک حدیث یہاں نقل کی جاتی ہے۔ ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ روایت ہے:أَنَّ النَّبِیَّ صَلَّى اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَقُولُ:لاَ یَرْمِی رَجُلٌ رَجُلًا بِالفُسُوقِ، وَلاَ یَرْمِیہِ بِالکُفْرِ، إِلَّا ارْتَدَّتْ عَلَیْہِ، إِنْ لَمْ یَکُنْ صَاحِبُہُ کَذَلِکَ(صحیح البخاری، حدیث نمبر 6045)۔ یعنی نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا کہ اگر کوئی کسی شخص پر کفر یا فسق کا الزام لگائے، تو وہ خود کہنے والے کی طرف لوٹ جائے گا، اگر دوسرا شخص ایسا نہ ہو۔
کفر یا فسق اپنی حقیقت کے اعتبار سے کوئی خارجی واقعہ نہیں۔ بلکہ اس کا تعلق آدمی کی اپنی نیت سے ہے۔ اس لیے کسی کو کافر یا فاسق کہنا ، اس کی نیت پر حملہ بن جاتا ہے۔ اس لیے کسی کو کافر یا فاسق کہنا کسی حال میں جائز نہیں۔ یہ تمام تر اللہ رب العالمین کا معاملہ ہے، وہ انسان کے بیان کا معاملہ نہیں۔
واپس اوپر جائیں

آدابِ تنقید

تنقید (criticism) ایک جائز فعل ہے۔ ہر شخص کو یہ حق ہے کہ وہ کسی دوسرے شخص پر تنقید کرے۔ لیکن تنقید کا ایک متعین اصول ہے۔ متعین اصول کے مطابق جو تنقید کی جائے، وہ ایک جائز تنقید ہے۔ لیکن جس تنقید میں متعین اصول کی رعایت نہ ہو، وہ تنقید نہیں، بلکہ تنقیص ہے۔ اسلام کی تعلیمات کے مطابق، تنقید بلاشبہ جائز ہے، لیکن تنقیص بلاشبہ ایک ناجائز فعل ہے۔
جائز تنقید اور ناجائز تنقید یا تنقیص میں کیا فر ق ہے۔ ناجائز تنقید یہ ہے کہ آپ کسی شخص کے اوپر تنقید کریں، لیکن یہ تنقید آپ اپنے الفاظ میں کریں۔ یعنی ایسا ہو کہ تنقید تو دوسرے کی ہو، اور الفاظ اس کے اپنے ہوں تو ایسی تنقید جائز نہیں۔ اس کے مقابلے میں اگر آپ ایسا کریں کہ کسی شخص کے اوپرتنقید کریں، تو اس کے اپنے ثابت شدہ الفاظ پر مبنی ہو ۔ایسی تنقید ایک جائز تنقید ہے ۔مثلاً آپ کسی شخص کے بارے میں یہ کہیں کہ اس کے اندر قول و فعل کا تضاد ہے، تو یہ تنقید صرف اس وقت جائز ہوگی، جب کہ آپ زیر تنقید شخص کے قول یا فعل سے اس قسم کا ثابت شدہ حوالہ پیش کریں۔ اگر آپ کے پاس ثابت شدہ حوالہ نہ ہو تو آپ کو ایسی تنقید کرنے کا ہر گز کوئی حق نہیں۔
اسی طرح اگر آپ کسی کے بارے میں یہ کہیں کہ وہ قرآن و حدیث کا نام لیتا ہے، لیکن بات خود اپنی پیش کرتا ہے تو آپ کو اس روش کی کم از کم ایک متعین اور محدد (specific)مثال پیش کرنی ہوگی۔ ثابت شدہ مثال کے بغیر ایسی تنقید صرف ایک بے بنیاد الزام ہے، وہ ہرگز تنقید نہیں۔
اسی طرح اگر آپ کسی کے بارے میں یہ کہیں کہ اس کے پاس ڈبل معیار ہوتا ہے، ایک معیار اپنے لیے، اور دوسرا معیار دوسروں کے لیے۔ تو یہ تنقید بھی صرف اس وقت ایک جائز تنقید ہے، جب کہ زیر بحث شخص کے بارے میں ایک ثابت شدہ مثال دیں، ایسی مثال جو ناقابل تردید حوالوں پر مبنی ہو۔ صرف ایسی تنقید ، تنقید ہے۔ جس تنقید کے ساتھ ایسا ثبوت موجود نہ ہو، وہ سبّ شتم اور عیب جوئی اور الزام تراشی ہے، نہ کہ واقعی معنوں میں ایک جائز تنقید۔
واپس اوپر جائیں

پازیٹیو تھنکنگ، پازیٹیوزم

پازیٹیو تھنکنگ اور پازیٹیوزم (positivism)، دونوں ہم معنی الفاظ نہیں ہیں۔ پازیٹیو تھنکنگ انگریزی ڈکشنری کا ایک عام لفظ ہے، جب کہ پازیٹیوزم ایک خالص فلسفیانہ اصطلاح (philosophical term)ہے۔ پازیٹیو تھنکنگ کا مطلب ہے، مثبت طرزِ فکر، یعنی منفی طرزِ فکر سے پاک سوچ۔ یہ اس انسان کی صفت ہے، جو بے آمیز سوچ (unbiased thinking) کا مالک ہو، جو شکایتی نفسیات سے پاک ہو۔
اس کے برعکس، پازیٹیوزم ایک فلسفیانہ اصطلاح (term) ہے۔ پازیٹیوزم کا بانی فرانسیسی ماہر سماجیات اور فلسفی آگسٹ کامٹے (Auguste Comte) ہے۔یہ نظریہ انیسویں صدی کے وسط میں فروغ پایا۔ پازیٹیوزم کے مطابق، واحد مستند علم، سائنس کا علم ہے، اور یہ علم خالص سائنسی طریقے سے نظریات کے مثبت تصدیق سے حاصل ہوسکتا ہے:
Positivism is the view that the only authentic knowledge is scientific knowledge, and that such knowledge can only come from positive affirmation of theories through strict scientific method.
مثبت طرز فکر (positive thinking)ایک علاحدہ اصطلاح ہے۔ یہ سنجیدہ انسان کی ایک صفت ہے۔ ایسا انسان، جو بے آمیز انداز میں سوچتا ہے، جو موضوعی (objective)انداز میں رائے قائم کرتا ہے، اس کی رائے مبنی بر حقیقت رائے ہوتی ہے، اس کی رائے بے لاگ رائے ہوتی ہے، اس کا نقطۂ نظر خالص فکری نقطۂ نظر ہوتاہے۔ اس طرزِ فکر کو دوسرے الفاظ میں ایز اٹ از تھنکنگ (as it is thinking) کہا جاسکتا ہے، یعنی کسی کمی زیادتی کے بغیر عین حقیقتِ واقعہ کے مطابق سوچنا۔ پازیٹیو تھکنگ ایک عام فکر ہے، جب کہ پازیٹیوزم ایک فلسفیانہ اسکول کا نام ہے۔ پازیٹیوزم کے مطابق، معتبر علم صرف سائنسی علم ہی ہے۔
واپس اوپر جائیں

پریکٹکل وزڈم

عملی دانش مندی در اصل حسنِ تدبیر کا دوسرا نام ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ایک روش جو بظاہر نظری اعتبار سے درست نہ ہو، اس کو دانش مندانہ تدبیر کے طور پر اختیار کرنا، تاکہ عملی اعتبار سے کوئی غیر مطلوب نتیجہ سامنے نہ آئے۔ مثلاً آپ کے اور کسی شخص کے درمیان پراپرٹی کو لے کر ایک نزاع قائم ہوجائے۔اس وقت آپ اس پر مقدمہ بازی کا طریقہ اختیار نہ کریں، بلکہ کچھ نقصان اٹھا کر آؤٹ آف کورٹ سیٹلمنٹ کرلیں، تو یہ پریکٹکل وزڈم کی ایک مثال ہوگی۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں اس کی ایک مثال یہ ہے کہ جب حدیبیہ کا معاہدہ لکھا جانے والا تھا تو آپ نے لکھایا : ہَذَا مَا صَالَحَ عَلَیْہِ مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللہِ ، تو اس پر فریق ثانی نے اعتراض کیا کہ ہم آپ کو پیغمبر نہیں مانتے، آپ محمد بن عبد اللہ لکھیے۔ آپ اس پر راضی ہوگئے ،اور معاہدے کے کاغذ پر لکھوایا: محمد بن عبداللہ(مسند احمد، حدیث نمبر3187)۔ یہ پریکٹکل وزڈم کی ایک مثال تھی۔
سلطان ٹیپو میسورکی ایک بڑی سلطنت کا مالک تھے۔ ان کا مقابلہ ایسٹ انڈیا کمپنی کی فوجوں سے ہوا۔ ٹیپو سلطان کے لیے اس وقت دو آپشن تھے۔ ایک یہ کہ وہ برٹش فوجوں سے صلح کرلے، اور دوسرا یہ کہ وہ برٹش فوجوں سے لڑائی کا طریقہ اختیار کرے۔ٹیپو سلطان نے ٹکراؤ کا طریقہ اختیار کیا۔ اس وقت اس نے یہ مشہور جملہ کہا تھا:شیر کی ایک دن کی زندگی ، گیدڑ کی سو سالہ زندگی سے بہتر ہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ 4 مئی، 1799 کو سرنگاپٹنم میں دورانِ جنگ اس کے قتل کے ساتھ اس کی حکومت بھی ختم ہوگئی۔ اس کے برعکس مثال حیدر آباد کے نظام کی ہے۔ ان کے سامنے بھی برٹش فوجوں سے لڑائی کا چیلنج تھا۔ مگر انھوں نے برٹش فوجوں سے لڑائی نہیں کی، بلکہ برٹش فوجوں سے صلح کرلی۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ حیدر آباد کی ریاست تقریباً دو سو سال تک قائم رہی، اور اس مدت میں اس نے بہت سے مفید کام کیے۔ اس مثال میں برٹش فوجوں سے صلح کرلینا، پریکٹکل وزڈم کا معاملہ تھا، اور برٹش فوجوں سے لڑجانا، پریکٹکل وزڈم کے خلاف ایک معاملہ تھا۔
واپس اوپر جائیں

بے باکی یا دانش مندی

ایک مسلم رہنما کی تعریف میں ایک مضمون دیکھا۔ اس کا ایک جملہ یہ تھا— انہوں نے ملکی مسائل کے ساتھ ساتھ ہندستانی مسلمانوں کے مخصوص مسائل کے بارے میں گہرائی سے غور وفکر کیا، اورہمیشہ پوری بے باکی سے اس پر اظہارِ خیال کیا۔
مشہور شخصیتوں کے بارے میں اکثر اس طرح کا جملہ لکھا اور بولا جاتا ہے۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ مسائل پر بے باکی کے ساتھ اظہارِ خیا ل کرنا، کوئی کام نہیں۔ عملی اعتبار سے دیکھا جائے تو اس طرح کے بےباکانہ اظہارِ خیال کا کوئی فائدہ نہیں۔ صحیح یہ ہے کہ صورتِ حال کا گہرائی کے ساتھ مطالعہ کیا جائے۔ پھر مواقع کی دریافت کی جائے، لوگوں کو بتایا جائے کہ مسائل کے باوجود کون سے مواقع موجود ہیں، جن کو اویل (avail) کرکے ترقی کی طرف کامیاب سفر جاری کیا جاسکتا ہے۔’’بے باکانہ اظہارِ خیال‘‘ دراصل ری ایکشن (reaction) کا دوسرا نام ہے، اور ری ایکشن کا طریقہ صرف مسائل میں اضافہ کرنے والا ہے، نہ کہ مسائل میں کمی کرنے والا۔
اس قسم کے بے باکانہ اظہارِ خیال کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ لوگوں کے اندر منفی سوچ پیدا ہوجاتی ہے۔ پھر منفی سوچ بڑھتے بڑھتے تشدد کی سوچ اختیار کرلیتی ہے۔ لوگ ذہنی طور پر اس قابل نہیں رہتے کہ وہ حقیقت پسندانہ انداز میں سوچیں، اور حقیقت پسندانہ انداز میں اپنے عمل کا منصوبہ بنائیں۔
مبنی بر مسائل سوچ (problem-based thinking) کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ آدمی کا ذہن منفی ذہن بن جاتاہے۔ وہ دوسروں کی مفروضہ یا غیر مفروضہ زیادتیوں پر سوچتا ہے، لیکن خود اپنی کوتاہیوں کا جائزہ نہیں لیتا۔ اس کے اندر یہ ذہن بن جاتا ہے کہ ہر معاملے میں غلطی دوسروں کی ہے، میری کوئی غلطی نہیں۔ ہر مسئلے کے ذمے دار دوسرے لوگ ہیں، میں ذمے دار نہیں۔ اس قسم کی ذہن سازی الٹی ذہن سازی ہے۔ ایسی ذہن سازی قوم کی خدمت نہیں ہے، بلکہ وہ قوم کو غلط رہنمائی کرنے کے ہم معنی ہے۔
واپس اوپر جائیں

بہت دن کم رہا

میر تقی میر ایک اردو شاعر تھے۔وہ آگرہ میں 1723 ء میں پیدا ہوئے، اور لکھنؤ میں 1810ء میں 87 سال کی عمر میں ان کی وفات ہوئی۔ ان کا ایک شعر یہ ہے:
صبح گزری شام ہونے آئی میر تو نہ چیتا اوربہت دن کم رہا
یہ شعر میں نے اپنی نوجوانی کی عمر میں پڑھا تھا۔ اس وقت میں یوپی کے ایک گاؤں میں رہتا تھا۔ اب میں خود بڑھاپے کی عمر کو پہنچ کر اسی تجربے سے گزر رہا ہوں، جو تجربہ اردو شاعر کو پیش آیا تھا۔ مجھے ایسا محسوس ہوتا ہے، جیسے کہ بڑھاپے کی بات کو کہنایا لکھنا اور چیز ہے، لیکن بڑھاپے کی عمر کا تجربہ کرنا، بالکل مختلف چیز ہے۔ نوجوانی کی عمر میں جب میں نے یہ شعر پڑھا تھا، تو یہ صرف ایک شعر معلوم ہوتا تھا۔ لیکن آج جب میں اس شعر کو پڑھتا ہوں، تو وہ ایک حقیقت معلوم ہوتا ہے۔ اب واقعۃً یہ محسوس ہوتا ہے کہ لمبی عمر گزرگئی، اور اب کرنے کے لیے بہت کم وقت باقی رہا۔
ایک بار بیرونی سفر کے دوران میری ملاقات سپریم کورٹ کے ریٹائرڈ جج جسٹس ہنسراج کھنہ سے ہوئی، وہ ریٹائر ہونے کے بعد دلی میں رہتے تھے، اور 2008 میں ان کا انتقال ہوگیا۔ دورانِ سفر ان سے جو باتیں ہوئیں، ان میں سے ایک یہ تھی کہ انھوں نے بتایا کہ جے آر ڈی ٹاٹا (1904-1993)بڑھاپے کی عمر میں میرے پاس قانونی مشورے کے لیے کبھی کبھی آتے تھے۔ ایک بار جے آر ڈی ٹا ٹا نے ان سے کہا تھا: کھنہ صاحب، مُولیہ (capital)تو کھا چکا ہوں، اب بیاج پر جی رہا ہوں۔
بے خبر انسان کے لیے موت صرف زندگی کے خاتمے کا نام ہے، لیکن جو انسان حقیقت سے باخبر ہو، وہ سوچے گا کہ زندگی کے پچھلے دن تو میں کھو چکا، اب زندگی کے چند دن جو باقی ہیں، کیا میں ان کو اویل کرسکتا ہوں۔ کیا یہ ممکن ہے کہ میں غفلت کی زندگی کو اپنے آخری دنوں میں ہوشمندی کی زندگی بنا لوں۔
واپس اوپر جائیں

بڑا آدمی کون

ایک صاحب نے کہا کہ میں اپنے بیٹے کے مستقبل کے بارے میں زیادہ پرامید نہیں۔ اس کے اندر میں فائٹنگ اسپرٹ (fighting spirit) نہیں پاتا، اور دنیا میں ترقی کے لیے فائٹنگ اسپرٹ ضروری ہے۔ میں نے کہا کہ مجھے آپ کی اس رائے سے اتفاق نہیں۔ اس دنیا میں ترقی کے لیے زیادہ بڑی صفت خود اعتمادی (self confidence) ہے۔خود اعتمادی کا مطلب ہےاپنے بل پر کام کرنا، دوسرے پر بھروسہ کرکے چھلانگ نہ لگانا۔ فائٹنگ اسپرٹ والا آدمی اکثر یہ غلطی کرتا ہے کہ وہ ایسی چیز سے ٹکرا جاتا ہے، جو اس کی طاقت سے زیادہ ہو۔
اس کی ایک مثال امریکا کے محمد علی کلے (1942-2016)کا کیس ہے۔ وہ اپنی حد پر قائم نہیں رہا، وہ مس ایڈوینچرزم کا شکار ہوا۔ یہاں تک کہ پارکنسن کا مریض بن گیا، اور اپنے آپ کو کنگ آف دی ورلڈ کہنے والا انسان بےبسی کی حالت میں مرگیا۔ اس کے برعکس، دوسری مثال جے آر ڈی ٹاٹا (1904-1993)کی ہے۔وہ ویزن والا انسان تھا۔ وہ مسلمہ طور پر خود اعتمادی کی صلاحیت رکھتا تھا۔ اس نے نہایت درست پلاننگ کی، اور صنعت کے میدان میں بڑی ترقی حاصل کی، وہ دنیا سے گیا تو اس نے اپنے پیچھے ایک صنعتی ایمپائر چھوڑا۔
عام طور پر ایسا ہوتا ہے کہ آدمی کے اندر ایک ممیز صلاحیت ہوتی ہے، تو اسی کے ساتھ کچھ مشترک صلاحیتیں ہوتی ہیں۔ مثلاً ایک ایڈونچرسٹ آدمی آسانی سے مس ایڈونچرزم کا شکار ہوجاتا ہے۔ مگر جس آدمی کے اندر خود اعتمادی کی صلاحیت ہو، وہ عام طور پر حقیقت پسند بھی ہوتا ہے۔ اس بنا پر اکثر ایسا ہوتا ہے کہ اس کا منصوبہ حقیقت پسندانہ منصوبہ ہوتا ہے۔ اس بنا پر اس کے بارے میں زیادہ امید کی جاسکتی ہے کہ وہ غیر حقیقت پسندانہ منصوبہ سے اپنے آپ کو بچائے گا۔ کامیابی کے لیے صرف ایک صلاحیت کافی نہیں ہوتی۔ بلکہ یہ ضروری ہوتا ہے کہ آدمی کے اندر مجموعی اعتبار سے کچھ مثبت صلاحیتیں موجود ہوں۔
واپس اوپر جائیں

آنکھوں کے بغیر

مرکزِ اطلاعات، فلسطین کی رپورٹ کےمطابق، مراکش کے جنوبی شہر یرکان سے تعلق رکھنے والا عبدالرحمن اوزار نابینا ہونے کے باوجود متعدد عالمی زبانوں فرانسیسی، جرمن، انگریزی، اور اسپانوی وغیرہ میں ماہر ہے۔ پیدائش کے دو ماہ بعد ایک بیماری کے سبب وہ بصارت سے محروم ہوگیا، لیکن اس کا نابینا پن اس کے حصولِ علم کی راہ میں حائل نہیں ہوا۔ میٹرک تک ممتاز نمبروں سے کامیابی نے اس کے حوصلوں کو مہمیز کیا۔ قاضی عیاض یونیورسٹی ، مراکش میں فرانسیسی ادب کی تعلیم کے لیے داخلہ لیا، طب کی تکمیل کے بعد اسلامیات میں گریجویشن اور اس کے بعد قوانینِ اسلامی میں ڈاکٹریٹ کی سند حاصل کی۔ اس کے علاوہ موسیقی اور انفارمیشن ٹکنالوجی کا کورس کیا۔ وہ حافظ بھی ہے۔(اخبار مشرق، دہلی، بحوالہ ماہنامہ معارف، اعظم گڑھ،فروری 2018) ۔
یہ واقعہ انسان کے پوٹنشیل کو بتاتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ہر انسان بے پناہ امکانات کے ساتھ پیدا ہوتا ہے، کوئی انسان محروم انسان کی حیثیت سے پیدا نہیں ہوتا، محرومی کسی واقعہ کا نتیجہ نہیں ہے، وہ صرف بے خبری کا نتیجہ ہے۔ حتی کہ کوئی حادثہ انسان کے لیےفطری امکانات کو ختم نہیں کرتا۔ شرط صرف یہ ہے کہ آدمی بے حوصلہ نہ ہو، بلکہ اپنے فطری امکانات کو دریافت کرے، اور مثبت ذہن کے ساتھ اس کی منصوبہ بندی کرے۔ تاریخ میں ایسی مثالیں بہت ہیں، جب کہ ایک مرد یا عورت کو کوئی حادثہ پیش آیا۔ اس حادثہ نے اس کو بظاہر معذور (disabled) بنا دیا۔ لیکن انسان نے اپنی ری پلاننگ کی۔ اس نے اپنے عمل سے یہ ثابت کیا کہ اگر چہ بظاہر وہ ایک معذور انسان ہے، لیکن وہ ایک اور پہلو سے پوری طرح ڈفرنٹلی ایبلڈ انسان (differently abled person) ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اس دنیا میں انسان کا سفر کبھی رکتا نہیں۔ اگر اس کی پہلی پلاننگ نتیجہ خیز ثابت نہ ہو، تو وہ دوسری پلاننگ (re-planning) کے ذریعہ اپنے آپ کو کامیاب بنا سکتا ہے۔ بشرطیکہ وہ ہررکاوٹ کے بعد اپنے سفر کو از سر نو جاری رکھنے کا آرٹ جان لے۔
واپس اوپر جائیں

باس از آلویز رائٹ

باس از آلویز رائٹ(Boss is always right)—کمپنی کلچر کا ایک بنیادی اصول ہے۔ اس اصول کے بغیر کوئی اجتماعی کام نظم و ضبط کے ساتھ انجام نہیں دیا جاسکتا۔ اسی لیے ہر اجتماعی کام میں ایک شخص کو ذمہ دارِ اعلی بنایا جاتا ہے۔ مزید یہ کہ ذمے دارِ اعلی پر اعتماد کرنا پڑتا ہے کہ وہ صحیح فیصلہ لے گا۔ بوقتِ فیصلہ باس کو کلی اختیار حاصل ہوتا ہے۔ البتہ یہ صحیح ہے کہ بعد کو باس کا احتساب کیا جائے، اور باس سے یہ درخواست کی جائے کہ وہ اپنے فیصلے کا جواز ذمے دار لوگوں کو بتائے۔
جو شخص کسی کمپنی میں کوئی جاب کرے، اس کے لیے لازم ہے کہ وہ باس از آلویز رائٹ کے اصول کو بلاشرط مانے۔ اس اصول کے معاملے میں کسی شخص کا کوئی استثنا نہیں۔ کیوں کہ اس معاملے میں اگر استثنا کے اصول کو مانا جائے، تو کمپنی کا کام درست طور پر انجام نہیں دیا جاسکتا۔ جو آدمی کسی کمپنی میں جاب کررہا ہو، اس کو یہ اختیار تو حاصل ہے کہ وہ جاب کو چھوڑدے، لیکن اس کو یہ اختیار حاصل نہیں کہ وہ باس از الویز رائٹ کے اصول کو ماننے سے انکار کردے، یا جاب پر رہتے ہوئے،اس کی خلاف ورزی کرے۔
باس از الویز رائٹ کوئی عقیدے کی بات نہیں، یہ ایک پریکٹکل وزڈم کی بات ہے۔کوئی آدمی جو کسی کمپنی میں جاب کررہا ہو، یہ اس کی ذاتی ذمے داری ہے کہ وہ کمپنی کے قواعد کو جانے، وہ کمپنی کے اصول و ضوابط کو پوری اسپرٹ کے ساتھ اپنائے۔ کوئی شخص جو کمپنی کے جاب میں ہو، اگر وہ اس اصول کی خلاف ورزی کرے، تو اس کو لازماً اس کا نقصان بھگتنا پڑے گا۔ یہ کمپنی کے اپنے اوپر ہے کہ وہ اس معاملے میں کارکن کو اس کی غلطی پر سزا دے، یا وہ اس کو معاف کردے۔اسی طرح یہ کارکن کی اپنی ذمے داری ہے کہ وہ کمپنی کے ضوابط سے مکمل طور پر باخبر رہے، تاکہ وہ پوری طرح ان ضوابط کا پابند ہو سکے۔ اس معاملے میں کارکن کی طرف سے کوئی عذر قابل قبول نہیں۔ اس معاملے میں کارکن کی صرف ذمے داری ہے، کارکن کا کوئی ناقابل تنسیخ حق (irrevocable right) نہیں۔
واپس اوپر جائیں

سیکولرزم کیا ہے

ایک صاحب نے آپ کے تعلق سے لکھا ہےکہ مولانا وحید الدین خان اپنی تصنیف ’’مسائلِ اجتہاد‘‘ میں لکھتے ہیں:’’حقیقت یہ ہے کہ سیکولرزم کوئی مذہبی عقیدہ نہیں۔ سیکولرزم کا مطلب لامذہبیت نہیں بلکہ مذہب کے بارے میں غیر جانب دارانہ پالیسی اختیار کرنا ہے۔ یہ ایک عملی تدبیر ہے۔ اس کا مقصد یہ ہے کہ مذہبی نزاع سے بچتے ہوئے سیاسی اور اقتصادی امور میں مشترک بنیاد پر ملک کا نظام چلایا جائے۔‘‘ اسلام، سیرتِ رسولؐ اور صحابہ کرام رضوان اللہ اجمعین پر درجنوں کتابیں تحریر کرنے اور منفرد انداز میں تفسیرِ قرآن لکھنے والے جناب مولانا وحید الدین خان صاحب نے سیکولرزم کی جو تعریف (definition) کی ہے، اسے نہ تو نظرانداز کیا جا سکتا ہے اور نہ ہی اس سے صرفِ نظر کیا جانا چاہیے۔ گزارش مگر یہ ہے کہ ہمیں شیخی مارنے سے پرہیز کرتے ہوئے تحمل سے دوسرے کا نقطۂ نظر بھی سننے کا حوصلہ رکھنا چاہیے۔یہاں میرا سوال یہ ہے کہ واقعی کیا سیکولر زم کا مطلب لا مذہبیت نہیں، اس معاملے میں آپ کی رائے کیا ہے؟ (محمد محب اللہ،دہلی)۔
اس کا جواب یہ ہے کہ کچھ مسلم رہنما جو شاید سیکولرزم کے حقیقی معنی سے بے خبر تھے، انھوں نے سیکولرزم کا ترجمہ لامذہبیت یا لادینیت کے لفظ سے کردیا۔ یہیں سے یہ غلطی پیدا ہوئی۔ حقیقت یہ ہے کہ سیکولرزم کا تعلق صرف پریکٹکل وزڈم سے ہے۔سیکولر زم کا صحیح مطلب ہے -مذہبی امور میں ناطرف داری (non-interference) کا کلچر، اورہر ایک کے لیے یکساں مواقع فراہم کرنا:
Secularism seeks to ensure and protect freedom of religious belief and practice for all citizens. It is simply a framework for ensuring equality throughout society - in politics, education, the law and elsewhere - for believers and non-believers alike.
www.secularism.org.uk/what-is-secularism.html
جو لوگ خود ساختہ طور پر مذہب میں پالٹکس کو شامل کرتے ہیں، ان کو یہ تعریف موافق نہیں آتی۔ مگر یہ ان کا ذاتی مسئلہ ہے، علمی اعتبار سے یہ کوئی مسئلہ نہیں۔
واپس اوپر جائیں

ایک سوال

Your analysis of our current circumstances and proposed solutions based upon it, are very logical, practicable and bound to produce results if followed in true spirit. Your guidance for Pakistani citizens on how to participate in these elections so that an honest and God-fearing team may come forth to lead the whole nation and the country to the right direction and the right path is highly required. It might prove quite beneficial for, at least, all those people, who want to use this voting opportunity to develop a better situation. Thanks. (M. Iqbal, Pakistan)
جواب
اس کا سوال کا جواب ایک حدیث رسول میں ملتا ہے۔ اس حدیث کے الفاظ یہ ہیں: عَنْ أَبِی بَکْرَةَ، عَنِ النَّبِیِّ صَلَّى اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ:کَمَا تَکُونُونَ یُوَلَّى أَوْ یُؤَمَّرُ عَلَیْکُمْ (مسند الشہاب القضاعی، حدیث نمبر 577)۔ یعنی ابوبکرۃ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں ، آپ نے کہا: جیسے تم ہوگے،ویسے ہی حاکم تمھارے اوپر ہوں گے۔
اس حدیثِ رسول پر غور کیجیے۔ اس حدیثِ رسول سے ایک اہم سیاسی اصول معلوم ہوتا ہے۔ اس حدیثِ رسول میں کما تکونون کا مطلب یہ ہے کہ جیسا معاشرہ ہوگا، اور یولی او یومرکا مطلب ہے حکمراں۔ مزید غور کیجیے تو اس کا مطلب یہ سمجھ میں آتا ہے کہ جیسا تمھارا معاشرہ ہوگا، ویسے ہی تمھارے حکمراں ہوں گے۔
اب اس حدیث کا مطالعہ ایک آیت کی روشنی میں کیجیے۔ آیت کے الفاظ یہ ہیں: وَأَمْرُہُمْ شُورَى بَیْنَہُمْ (42:38)۔ یعنی وہ اپنا کام آپس کے مشورے سے کرتے ہیں۔ آیت اور حدیث میں فطرت کا ایک قانون بیان ہوا ہے۔ وہ یہ کہ حکومت ایک معاشرتی پروڈکٹ ہے۔ یعنی حکومت اصلاً معاشرے سے بر آمد ہوتی ہے، نہ کہ بیلٹ باکس سے۔ اس لیے لوگوں کو چاہیے کہ وہ جس قسم کی حکومت چاہتے ہوں، ویسا معاشرہ بنانے کی کوشش کریں۔ یعنی پر امن انداز میں افراد پر عمل کرکے معاشرے کی تشکیل کرنا۔ اس معاملے میں صحیح ترتیب یہ ہے — پہلے پرامن انداز میں افراد کی تعمیر، پھر معاشرے کی تشکیل، پھر حکومت کا قیام۔
پاکستان کا اصل مسئلہ یہ ہے کہ 1947 میں جو پاکستان بنا تو تمام رہنماؤں نے یہ سمجھ لیا کہ ایک اسلام پسند قوم وجود میں آگئی ہے۔ اب کرنے کا کام صرف یہ ہے کہ حکومت کی سیاسی زمامِ کار اس قوم کے حوالے کردی جائے۔ یہ مفروضہ سراسر بے بنیاد تھا۔ حقیقت کے اعتبار سے جو چیز وجود میں آئی تھی، وہ جغرافیہ کی زمینی تقسیم تھی، نہ کہ بامقصدقوم کی تشکیل۔ لیکن تمام لیڈروں نے یہ سمجھ لیا کہ وہ بیلٹ باکس سے مطلوب حکومت نکال سکتے ہیں۔ مگر آدھی صدی سے زیادہ مدت کی سرگرم کوشش کے باوجود نتیجے کے اعتبار سے کچھ بھی حاصل نہیں ہوا۔
1971 میں مَیں نے پاکستان کا سفر کیا تھا۔ اس وقت میں نے لاہور میں مولانا ابوالاعلیٰ مودودی کی قیام گاہ پر دوبار ان سے ملاقات کی تھی۔دورانِ گفتگو میں نے کہا تھا کہ آپ کی اسٹریٹیجی نتیجہ خیز ہونے والی نہیں۔ میرے الفاظ میں آپ کی اسٹریٹیجی یہ ہے کہ مسلم لیگ نے اسلامی پاکستان کے نام پر مسلم قوم کے اندر جو ٹیمپو (tempo) پیدا کیا ہے، آپ اس کو اپنی تحریک کے لیے استعمال کرسکتے ہیں۔ مگر یہ ناممکن ہے کہ ٹیمپو کوئی پیدا کرے، اور اس کو استعمال کوئی دوسرا کرے۔ یہ ٹیمپو یا تو مسلم لیگ کے لیے استعمال ہوگا، یا وہ استعمال ہی نہیں ہوگا۔ اس وقت مولانا مودودی نے میری رائے سے اتفاق نہیں کیا، اور پوری طاقت کے ساتھ الیکشن میں کود پڑے۔ انھوں نے پاکستان میں چار بار باقاعدہ طور پر الیکشن میں حصہ لیا، مگر ہر بار الیکشن میں ان کو مکمل ناکامی ہوئی۔ ان کا مفروضہ ایک بے بنیاد مفروضہ ثابت ہوا۔
اہل پاکستان کے لیے اس معاملے میں کوئی شارٹ کٹ نہیں ہے ۔ وہ اپنی جدو جہد کو الیکشن سے شروع نہیں کرسکتے۔ انھیں ہر حال میں یہ کرنا ہوگا کہ وہ سیاسی ٹکراؤ کا طریقہ چھوڑیں، اور کامل معنوں میں پر امن انداز میں پاکستانی قوم کی تعمیر کریں، یعنی تعلیم اور تربیت کے ذریعے۔ پاکستان میں مطلوب حکومت ایک تیار شدہ معاشرے سے برآمد ہوگی، نہ کہ سیاسی ٹکراؤ سے۔
واپس اوپر جائیں

خبرنامہ اسلامی مر کز- 263

■ دعوتی اسفار:سینٹر فار اسلامک ریسرچ اینڈ اسٹڈیز (CIRS) کی جانب سے 7جنوری 2018 کو ایک سیمینار سماجی عدل اور مساوات کے عنوان سے محمڈن اسپورٹنگ کلب ،ساکچی ،جمشید پور میں منعقد کیا گیا۔ ادارہ کی طرف سے حافظ ابو الحکم محمد دانیال (صدر سینٹر فار پیس اینڈ آبجیکٹو سٹڈیز بہار و جھارکھنڈ )کو مدعو کیا گیا ۔اس دعوت پر ابوالحکم محمد دانیال صاحب نے جمشید پور کا دوروزہ سفر کیا ، اور سیمینار میں جمشید پور ٹیم کے ہمراہ شرکت کی اور موضوع پر خطاب کیا ۔سیمینار میں اعلی تعلیم یافتہ برادران وطن بھی بڑی تعداد میں موجود تھے۔جنہوں نے خطاب کو بہت پسند کیا۔پروگرام کے بعد حاضرین کو سیرت رسول(اردو ، ہندی)،The Age of Peaceاور Leading A Spiritual Life بطور اسپریچول گفٹ دیا گیا۔ دوسرے دن ۸جنوری کو الحراء لائبریری میں ایک نشست ’’دعوت کا طریقۂ کار‘‘ پر ہوئی۔جس میں جناب حافظ ابوالحکم محمد دانیال صاحب نے سوال و جواب کے انداز میں گفتگو کی ۔اس کے بعد جناب ایاز صاحب کی رہائش گاہ پر مختلف لوگوں کے ساتھ میٹنگیں ہوئیں، جن میں الرسالہ مشن پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔ اس کے بعد 13 سے 15 جنوری 2018 کو ارریہ اور پورنیہ کا تین روزہ دعوتی سفر ہوا۔ اس دعوتی سفر میں 3 اجتماعات کیے گئے اور 5 نشستیں ٹیم کی تربیت کیلئے رکھی گئیں ۔تین اجتماعات میں سے دواعلیٰ تعلیم یافتہ برادرانِ وطن کے لیے تھا، اور ایک مسلمانوں کے لیے۔ تمام پروگراموں کے بعد شرکت کرنے والے لوگوں کے درمیان ترجمہ قرآن و سیرت کی کتابیں اور دیگر دعوتی لٹریچر گفٹ کیے گئے ۔ اس سفر میں حافظ ابو الحکم محمد دانیال صاحب کے ساتھ پٹنہ سے محمد عزیز الرحمن، محمد ثناءاللہ، محمد شہادت علی، محمد مشتاق، محمد حارث شریک ہوئے، اور ڈاکٹر محمد کمال ،محمد عقیق اور ڈاکٹر عمر صاحبان، ارریہ سے شریک ہوئے۔
■ 4 مارچ 2018 کو سی پی ایس ممبئی ٹیم نے پونے کا سفر کیا۔ یہ سفر سوئزر لینڈ کے مسٹر حسنو (Husnu)سے ملاقات کی غرض سے کیا گیا تھا۔مسٹر حسنونے ابتدائی ایام میں یورپین ممالک کے اندر قرآن ڈسٹریبیوشن میں سی پی ایس انٹرنیشنل کی مدد کی تھی۔ وہ دو مہینے کے لیے پونے آئے ہوئے تھے۔ ان سےممبئی ٹیم کی تقریباً ڈیڑھ گھنٹے کی ملاقات رہی۔ ان سے صدر اسلامی مرکز کے کتابوں اور دعوہ لٹریچر کو جرمن زبان میں ٹرانسلیٹ کرنے پر گفتگو ہوئی، اور ان کو بتایا گیا کہ فی الحال ہمارے پاس صرف جرمن ترجمۂ قرآن اور واٹ از اسلام ہیں۔ انھوں اپنی فیملی کے ساتھ سی پی ایس کا بھرپور تعاون کرنے کا وعدہ کیا اور ساتھ ہی انھوں نے جرمن حکومت کے اعلىٰ عہدیداروں کے درمیان دعوہ ورک کرنے کی خواہش ظاہر کی ہے۔
■ 25 مارچ 2018 کو ممبئی کے مشہور تعلیمی ادارہ انجمن اسلام کے کالیسکر ٹیکنکل کیمپس (پنویل، نئی ممبئی)میں انجینیرنگ، فارمیسی اور ایگریکلچر کے گریجویٹس کے اعزاز میں ایک پروگرام کا انعقاد ہوا۔ اس میں مہمانِ خصوصی مرکزی وزیر برائے اقلیتی امور مختار عباس نقوی تھے۔ اس میں سی پی ایس ممبئی کے ممبر محبوب ہنٹگی نے شرکت کی، اور اپنے بھائی، ڈاکٹر عبد الرزاق ہنٹگی، جو کہ اس کیمپس کے ڈائریکٹر ہیں، کے تعاون سے وزیر موصوف، معزز شخصیات اورتمام مہمانوں کو ترجمۂ قرآن اور دعوتی لٹریچر پیش کیا۔ تمام لوگوں نے بہت خوشی اور شکریہ کے ساتھ قبول فرمایا۔ اسی طرح انھوں نے 3 مئی 2018 کو ایک لائبریری کو تراجم قرآن (انگلش، ہندی، مراٹھی، کنڑا، تیلگو اور پنجابی) بطور تحفہ دیا ۔ لائبریرین ایک پنجابی لیڈی ہیں۔محبوب صاحب نے لائبریرین کو بتایا کہ پنجابی ترجمہ بھائی ہرپریت سنگھ نے کیا ہے، اور وہ دمدمہ صاحب کے جتھے دار ہیں، تو ان کا جواب تھا کہ پھر تو قرآن میں ضرور کچھ اہم بات ہوگی ۔
■ ساری دنیا میں قرآن کو پڑھنے کا رجحان بڑھتا جارہا ہے۔ نومبر 2017 کے خبرنامہ میں یہ بتایا گیا تھا کہ ایمسٹرڈم کے ہوٹل میرٹ (Marriott) نے ڈاکٹر ثانی اثنین خان ( ٹرسٹی سی پی ایس انٹرنیشنل، وڈائریکٹر گڈورڈبکس ،نئی دہلی)سے یہ درخواست کی تھی کہ ان کو اپنے ہوٹل روم کے لیے ترجمۂ قرآن چاہیے۔ اس وقت ان کو فوراً مطلوب تعداد میں ترجمۂ قرآن بھیج دیا گیا تھا۔ لیکن دنیا میں قرآن کو پڑھنے کا رجحان اتنا زیادہ بڑھ چکا ہے کہ ہوٹل میں ٹھہرنے والے لوگ ہوٹل سے قرآن اٹھا کر لے گئے۔ اس کے بعد 15مارچ 2018 کو دوبارہ ہوٹل مینیجر کا ای میل آیا ہے کہ ان کو دوبارہ 100 کاپی ترجمۂ قرآن چاہیے۔ ان کو دوبارہ ترجمہ قرآن بھیج دیا گیا ہے:
I really need more copies of the Koran. Many guests are taking away Koran copies with them. Many rooms are without the Koran. Can we get 100 copies. (Charith Perera, Manager, Courtyard by Marriott Amsterdam Airport)
■ 25 مارچ 2018 بزم ادب کامٹی کے زیر اہتمام کتابوں کے اجرا کی ایک تقریب کامٹی میں منعقد کی گئی۔ اس تقریب میں لفٹننٹ کرنل توقیر منتخب صاحب، سینئر سیکورٹی آفیسر آرڈیننس فیکٹری ناگپور، نے بحیثیت مہمان خصوصی شرکت کی۔ تقریب کے اختتام پر موصوف کوانگریزی ترجمۂ قرآن، واٹ از اسلام، دی ایج آف پیس، اسپرٹ آف اسلام، انسان اپنے آپ کو پہچان اور خاندانی زندگی، کتابیں پیش کی گئیں۔ انہوں نے اسے خوشی سے قبول کیا۔ دورانِ گفتگو انہوں نے کہا کہ وہ مولانا وحید الدین خان صاحب کو جانتے ہیں ۔ محمد عرفان رشیدی صاحب (سی پی ایس ناگپور و کامپٹی) نے ان سے کہا کہ آپ نے اپنی تقریر میں امتِ مسلمہ کو فرقہ بندی سے گریز کرنے اور متحد رہنے کے لئے کہا ہے۔ مولانا وحید الدین خان صاحب کا قول ہے کہ اختلاف کو ختم نہیں کیا جاسکتا، اختلاف کے باوجود متحد رہنا سیکھیے ۔ جواباً انہوں نے کہا بالکل درست بات ہے ایک خاندان میں دوبھائیوں کے خیالات مختلف ہوتے ہیں، لیکن وہ متحد رہتے ہیں ۔
■ مسٹر جاوید احمد (سی پی ایس، کولکاتا) کے ایک فعال ممبر ہیں۔ مارچ (2018) کے مہینے میں ان کا اپنے آبائی وطن نوادہ، بہار جانا ہوا۔ وہاں انھوں نے اپنی بھتیجی مز شبینہ پروین کے ساتھ ناردی گنج کے انگلش اسکول کے اساتذہ کو انگلش بک لٹس کا ایک ایک سٹ بطور تحفہ دیا گیا، جسے ان تمام لوگوں نے خوشی اور شکریہ کے ساتھ قبول کیا۔ اسی کے ساتھ انھوں نے اپنے گاؤں کے لوگوں کو بھی کتابیں دیں،اور مشنری اسکول سینٹ جوزیف (ناردی گنج) کے پرنسپل کو انگلش قرآن اور ریلٹی آف لائف بطور گفٹ دیا، جسے انھوں نے شکریہ اور مسرت کے ساتھ قبول کیا۔
■ مسٹر رفیق احمد تاشے والا(۹۸۴۴۱۳۹۶۱۱)، رانی بنور ،کرناٹکا سے تعلق رکھتے ہیں۔ وہ ایک متحرک سی پی ایس ممبر ہیں۔ پیشے سے اسکول ٹیچر ہیں، وہ خود بھی ماہنامہ الرسالہ پڑھتے ہیں، اور بڑی تعداد میں دوسروں کو پڑھنے کے لیے دیتے ہیں۔ مثلاً انھوں نےمارچ 2018 میں ماہنامہ الرسالہ کی100 کاپیاں اردو داں طبقے میں تقسیم کی ہیں۔ اسی طرح غیر مسلموں کے درمیان بڑی تعداد میں کنڑا ترجمہ قرآن تقسیم کیا ہے۔ مسٹر رفیق بطور خاص ٹیچروں کے درمیان کام کرتے ہیں۔
■ محمد یونس لٹیانی صاحب ( 09131251641) کا تعلق بھوپال، مدھیہ پردیش سےہے۔وہ الرسالہ مشن کے پرانے ممبر ہیں، اور بہت عرصے سے دعوہ ورک کر رہے ہیں۔ ان کےدعوہ ورک کا ایک طریقہ یہ ہے کہ اگر وہ شادی کی کسی محفل میں شرکت کرتے ہیں، تو وہ وہاں اپنی جیب خاص سے کثیر تعداد میں مختلف زبانوں میں قرآن اور دعوہ لٹریچر تقسیمِ کرتے ہیں۔ مثلاً مؤرخہ 17 مارچ 2018کو دہلی میں اورمؤرخہ 26 مارچ 2018 کو بیتیا بہار میںشادی کی دو تقاریب میں انہوں نے قرآن اور دیگر دعوہ لٹریچر مدعوین کے درمیان تقسیم کیے ۔ موصوف کا یہ طریقۂ کار ہمارے لیے بہت inspiring ہے ۔
■ رشین کلچرل سینٹر( رشین کونسلیٹ ،چنئی) نے الور پیٹ، چنئی میں 7 اپریل 2018 کو ایک تقریب منعقد کی تھی۔ اس موقع پر سی پی ایس (چنئی) کے کلو ندیم صاحب نے اس پروگرام میں شرکت کی، اوردیگر لوگوں کے علاوہ نائب کونسل (کلچرل ) مسٹر میخائل گورباتوف (Mikhail Y. Gorbatov) کو ترجمہ قرآن بطور تحفہ دیا۔
■ سی پی ایس سہارن پورکی خصوصیت یہ ہے کہ وہ ان جگہوں پر بھی دعوتی کام کرتی ہے، جہاں عام داعی نہیں جاسکتا۔ مثلا ً 7 اپریل 2018کوزی میڈیا کے ڈائریکٹر مسٹر پردیپ دیانا، اور مسٹر راکیش سریواستو ڈاکٹر محمد اسلم خاں کو زی میڈیا کے شو میں شرکت کے لیے دعوت دینے آئے تھے۔ ان کو سی پی ایس کا لٹریچر بطور تحفہ دیا گیا، جسے ان لوگوں نے شکریے کے ساتھ قبول کیا۔ 15اپریل 2018 کو سہارن پور کے ایس ایس پی شری ببلو کمار کو ڈاکٹر محمد اسلم خاں اور ڈاکٹر سفینہ تبسم نے ترجمۂ قرآن اور قرآن کی ایک آیت کے ترجمے کا ایک خوبصورت فریم بطور تحفہ دیا۔ ایس ایس پی صاحب کے ساتھ آئے ہوئے عملے کے 20 افراد کو بھی قرآن و دیگر لٹریچر دیے گئے۔ یہ پروگرام نیشنل میڈیکل کالج، سہارن پور میں ہوا۔ 25 اپریل 2018 کو یوپی کے منسٹر اور سہارن پور کے ایم ایل اے جناب سنجے گرگ کو سی پی ایس کا لٹریچر دیا گیا۔ ایم ایل اے صاحب نے یہ وعدہ کیا ہے کہ وہ سی پی ایس کے پر امن مشن میں ہر وقت تعاون کے لیے تیار ہیں۔
■ فرات انسٹیٹیوٹ (Euphrates Institute) ایک امریکی این جی او ہے، جو عالمی پیمانے پر سماجی امن اور مذہبی رواداری کے لیے کام کرتا ہے۔ انھوں نے 13 اپریل 2018 کو سی پی ایس انٹرنیشنل کو اپنے ایک ورکشاپ کے لیے مدعو کیا تھا۔ امریکا سے جن ممبران نے شرکت کی، وہ یہ ہیں: مسٹر خواجہ کلیم الدین، اور مز کوثر اظہار، اور انڈیا سے بذریعہ انٹرنیٹ جنھوں نے شرکت کی، وہ یہ ہیں: مسٹر رجت ملہوترا، اور مز ماریہ خان۔ پروگرام بہت کامیاب رہا، اورتمام اسلام، امن، عورت، وغیرہ کے موضوع پر سن کر بہت خوش ہوئے۔ لکچر کے بعد سوال و جواب بھی ہوا۔ ورکشاپ کا یہ پروگرام لائیو کاسٹ ہوا، اور دنیا کے مختلف مقامات پر سنا گیا۔
■ رامانوجن کالج (دلی یونیورسٹی)کے ادارہ تبت ہاؤس کلچرل سینٹر اور سینٹر فار ایتھکس اینڈ ویلوز نے عالمی اخلاقیات پر دوسرا کانکلیو14۔15 اپریل 2018 کو انڈیا ہیبٹاٹ سینٹر، نئی دہلی منعقد کیا تھا۔ اس کا عنوان تھا: پرسپیکٹیو آف ایموشنل انٹیلیجنس اِن ایجوکیشن ۔ اس پروگرام کے ایک پینل ڈسکشن میں سی پی ایس انٹرنیشنل کو اِس موضوع پر اسلامی نکتہ نظر رکھنے کے لیے مدعو کیا گیا تھا۔ سی پی ایس انٹرنیشنل کی جانب سے ڈاکٹر نغمہ صدیقی نے اس موقع پر اسلام کا نقطۂ نظر پیش کیا، اورشرکاء کے درمیان انگریزی ترجمۂ قرآن اور دعوہ لٹریچر تقسیم کیا گیا۔
■ 24 اپریل 2018 کو ساہتیہ اکیڈمی دہلی کی جانب سے ایک کثیر المذاہب پروگرام کا انعقاد کیا گیا۔ اس پروگرام کا ٹاپک تھا: قدیم کتابوں میں صفائی کا تصور(The Concept of Cleanliness in Ancient Texts)۔ اس پروگرام میں خطاب کرنے کے لیے سی پی ایس ممبر ڈاکٹر فریدہ خانم کو بھی دعوت نامہ ملا تھا۔ انھوں نے مذکورہ عنوان کے تحت قرآن اور حدیث کی روشنی میں صفائی کی اہمیت کو واضح کیا جسے سامعین نے کافی پسند کیا۔ آخر میں ترجمہ قرآن اور دعوتی لٹریچر لوگوں میں تقسیم کیے گئے، جنھیں تمام لوگوں نے نہایت خوشی اور احترام سے قبول کیا۔
■ سی پی ایس علما ٹیم نے 11 تا 14 مئی 2018 دہلی کا دورہ کیا، اور صدر اسلامی مرکز کی صحبت میں رہ کر مختلف امور میں رہنمائی حاصل کی۔ یہ ٹیم 8 علما ے دین پر مشتمل تھی۔
■ مسٹر کنال دیشپانڈے پونے سے تعلق رکھتے ہیں۔ وہ بطور سیاحت کشمیر گئے۔ وہاں ان کی ملاقات ایک کشمیری مسلمان، مسٹر ایوب سے ہوئی۔ مسٹر ایوب نے ان سے خواہش ظاہر کی کہ وہ انھیں ترجمۂ قرآن گفٹ کرنا چاہتے ہیں۔ اس کے لیے مسٹر ایوب نے کشمیر ٹیم کے مسٹر حمید اللہ حمید صاحب سے گفتگو کی۔ اسی اثنا میں مسٹر کنال اپنا رابطہ نمبر ایوب صاحب کو دے کر اپنے وطن واپس آگئے۔ مسٹر حمید اللہ حمید نے سی پی ایس پونے کے جناب عبد الصمد صاحب سے رابطہ کیا ، اور قرآن پہنچانے کی درخواست کی۔ چنانچہ عبد الصمد صاحب نے 20 مئی 2018 کو مسٹر کنال دیشپانڈے کومراٹھی ترجمۂ قرآن، دی ایج آف پیس اور دوسری دعوتی کتابیں پہنچائی۔ اسی دن عبدالصمد صاحب نے مہارشٹر کے مشہور میڈیا گروپ ساکال کے بکس اور پبلیکیشن مینیجر مز ایشویریہ کمتھکال کو بھی مراٹھی ترجمۂ قرآن اور دیگر دعوہ لٹریچر دیا۔
■ 31 مئی 2018 کو سی پی ایس (دہلی) کے متحرک ممبر مسٹر رجت ملہوترا فلائٹ کے ذریعے دہلی سے امرتسر جارہے تھے۔ اسی فلائٹ میں مرکزی وزیر برائے ہیومن ریسورس ڈیولپمنٹ مسٹر پرکاش جاوڈکر بھی سفر کررہے تھے۔ مسٹر رجت ملہوترا نے اس موقع کو استعمال کرتے ہوئے انگریزی ترجمۂ قرآن کی ایک کاپی مسٹر جاوڈکر کویہ کہتے ہوئے پیش کی کہ یہ ہماری طرف سے آپ کے لیے اسپریچول گفٹ ہے۔ انھوں نے ہاتھ جوڑ کر ترجمہ ٔقرآن کا نسخہ لیا اور شکریہ اداکیا۔
■ صدر اسلامی مرکز کی فکر پر دنیا کے مختلف ممالک میں اکیڈمک ریسرچ کا کام ہور ہا ہے۔ مثلاً مسٹر فیصل شہزاد سرگودھا یونیورسٹی، پاکستان سے صدر اسلامی مرکز کے سفرناموں پر ایم فل کا مقالہ لکھ رہے ہیں۔ اسی طرح عرب نوجوان یحیٰ بن حبیب عبد اللطیف تیونس کی زیتونیہ یونیورسٹی سے جولائی 2018 میں اپنا پی ایچ ڈی کا مقالہ مکمل کرچکے ہیں۔ ان کے مقالے کا عنوان تھا: تجدید علم الکلام عند وحید الدین خان ۔ریسرچ کا کام انھوں نے دکتور محمد المستیری کی نگرانی میں مکمل کیا۔
■ Br. Khaja Kaleemuddin, We just received two pallets of the Quran before our major event. We are very excited. May Allah reward you and all your dawah team in the US and in India. Special thanks and prayer for our Sheikh Maulana Wahiduddin. May God keep him always in good health and always increase him in knowledge and wisdom and accept his services for conveying the message of Truth. Please covey our salaam to him from Why Islam team in Los Angeles. (Br. Hussain)
■ I had an incredible experience. I lost my hand luggage in the domestic airport and hunting it across airport made me the last person to reach the boarding gate. And there was a VIP entering the same time. It was none other than Ram Vilas Paswan. I quickly took out a copy of the Quran and gave it to him. When he saw what it was, he humbly accepted and asked if he could contact me. I said details of the translator are printed and he is my Guru Maulana Wahiduddin Khan. It was God who made me forget my hand luggage so I could meet him in the end. It was a radio and it was lying for two hours in the same place I forgot it. And I was surprised it went in unnoticed by all passengers and high security. God is with us. (Asad Pervez, New Delhi)
واپس اوپر جائیں