Pages

Sunday, 1 September 2019

Al Risala | September 2019 (الرسالہ،ستمبر)

4

-خدا کا منصوبۂ تخلیق

7

- جنت کیا ہے

8

- جنت کا رول

9

- جنت کس کے لیے

11

- نجاتِ آخرت

12

- جنت ، ایک انعام

13

- جنت اور انسان

14

- جنت کی دریافت

17

- جہاد فی اللہ

21

- روحانی ترقی

22

- جنت کا سماج

23

- حسنِ رفاقت کی دنیا

24

- اہلِ جنت

26

- حزن فری جنت

28

- جنت کی زندگی

29

- طالبِ جنت

30

- جنت کا استحقاق

31

- جنت میں داخلہ

32

- اصحابِ اعراف

33

- انسان کا نجام

34

- پر امید آیات و احادیث

35

- امید کا پیغام

36

- فتنہ ٔعام

37

- انسان کی دریافت

39

- یہ تضاد کیوں

43

- اہلِ جنت کے درجات

47

- انتخابِ ڈائری 1985


خدا کا منصوبۂ تخلیق

اللہ نے ایک معیاری دنیا بنائی۔ ہر اعتبار سے یہ ایک پرفکٹ دنیا تھی۔ اللہ نے یہ مقدر کیا کہ اِس معیاری دنیا میں ایسے افراد بسائے جائیںجو ہر اعتبار سے معیاری انسان ہوں۔ اِس مقصد کے لیے اللہ نے انسان کو پیدا کرکے اِس کو سیارۂ ارض پر آباد کیا۔ اس نے انسان کو مکمل آزادی عطا کی۔ موجودہ دنیا اِس منصوبے کے لیے ایک سلیکشن گراؤنڈ کی حیثیت رکھتی ہے۔ یہاں یہ دیکھا جارہا ہے کہ کون شخص اپنی آزادی کا صحیح استعمال کرتا ہے اور کون شخص اپنی آزادی کا غلط استعمال کرتا ہے۔ تاریخ کے خاتمے پر یہ ہوگا کہ آزادی کا غلط استعمال کرنے والے افراد ریجکٹ کردیے جائیں گے، اور جن افراد نے اپنی آزادی کا صحیح استعمال کیا، اُن کو منتخب کرکے جنت میںآباد کردیا جائے گا۔ جنت کے تصور کوکچھ لوگ انسانی تمناؤں کی خوب صورت نظریہ سازی (beautiful idealization of human wishes) کا نام دیتے ہیں۔ مگر زیادہ صحیح یہ ہے کہ جنت کے تصور کو انسانی تاریخ کی خوب صورت تعبیر(beautiful interpretation of human history) کہا جائے۔
خدا کا تخلیقی منصوبہ
خدا کے اِس تخلیقی منصوبے کے آغاز کا ذکر قرآن کی سورہ البقرہ میں آیا ہے۔ اِن آیات کا ترجمہ یہ ہے:’’اور جب تیرے رب نے فرشتوں سے کہا کہ میں زمین میں ایک خلیفہ بنانے والا ہوں۔ فرشتوں نے کہا: کیا تو زمین میںایسے لوگوں کو بسائے گا جو اُس میں فساد برپا کریں اور خون بہائیں، اور ہم تیری حمد کرتے ہیں اور تیری پاکی بیان کرتے ہیں۔ اللہ نے کہا: میں وہ جانتاہوں جو تم نہیں جانتے۔ اور اللہ نے سکھادیے آدم کو سارے نام، پھر ان فرشتوں کے سامنے پیش کیا اور کہا کہ اگر تم سچے ہو تو مجھے اِن لوگوں کے نام بتاؤ۔ فرشتوں نے کہا کہ تو پاک ہے۔ ہم تو وہی جانتے ہیں جو تو نے ہم کو بتایا۔ بے شک تو ہی علم والا اور حکمت والا ہے‘‘۔ (2:30-32)
اصل یہ ہے کہ فرشتے پورے انسانی مجموعے کو دیکھ کر اپنی رائے بنا رہے تھے۔ اللہ نے ایک مظاہرہ کے ذریعے واضح کیا کہ خدائی تخلیق کا نشانہ مجموعہ نہیں ہے، بلکہ افراد ہیں۔ مجموعے کی سطح پر اگرچہ بگاڑ آئے گا، لیکن افراد کی سطح پر ہمیشہ اچھے افراد وجود میں آتے رہیں گے۔ خدا کے تخلیقی منصوبے کے مطابق، موجودہ دنیا ایک سلیکشن گراؤنڈ (selection ground) ہے، یعنی پورے مجموعے میں سے مطلوب افراد کا انتخاب کرنا۔ تخلیق کا نشانہ یہ نہیں ہے کہ انسان اِسی سیارۂ ارض پر معیاری نظام بنائے، بلکہ تخلیق کا نشانہ یہ ہے کہ ہر دور اور ہر نسل میں سے اُن افراد کو منتخب کیا جائے، جو کامل آزادی کے باوجود اپنے آپ کو بطور خود ضابطۂ خداوندی کا پابند بنا لیں۔
معیاری افراد کا انتخاب
خدا کے اس منصوبۂ تخلیق کے مطابق، خالق نے موجودہ دنیا کو اِس لیے نہیں بنایا ہے کہ یہاں مجموعے کی سطح پر معیاری نظام (ideal system) بنایا جائے۔ حقیقت یہ ہے کہ موجودہ دنیا امتحان کے لیے بنائی گئی ہے۔ یہاں ہر انسان کو کامل آزادی دی گئی ہے، وہ چاہے مصلح بن کر رہے یا مفسد بن کررہے۔ اِس لیے یہاں مجموعہ کی سطح پر کبھی معیاری نظام نہیں بن سکتا۔ معیاری نظام کا مقام صرف جنت ہے، اور وہ جنت ہی میں بنے گا۔
موجودہ دنیا دراصل معیاری افراد کا انتخابی میدان (selection ground) ہے۔ یہاں ہر نسل سے معیاری افراد کا انتخاب کیا جارہا ہے۔ مثلاً آدم کی پہلی نسل میں قابیل، قابلِ رد تھا اور ہابیل، قابلِ قبول۔ یہی معاملہ پوری تاریخ میں پوری طرح جاری ہے۔ ہر دور میں اور ہر نسل میں خدا معیاری افراد کو منتخب کررہا ہے اور غیر معیاری افراد کو رد کررہا ہے۔ ردّوقبول کے اِسی معاملے کو قرآن میں اِن الفاظ میں بیان کیا گیاہے ثُلَّةٌ مِنَ الْأَوَّلِینَ ، وَثُلَّةٌ مِنَ الْآخِرِینَ (56:39-40)۔ یعنی اگلوں میں سے ایک بڑا گروہ، اور پچھلوں میں سے بھی ایک بڑا گروہ۔
قابلِ قبول اور قابلِ رد انسانوں کی یہ مطلوب فہرست جب مکمل ہوجائے گی تو اس کے بعد خالق کائنات موجودہ دنیا کو ختم کرکے ایک اور دنیا بنائے گا، جہاں وہ معیاری دنیا ہوگی، جس کو جنت کہاجاتاہے۔ قابلِ قبول افراد اِس جنت میں بسا دیے جائیں گے، جہاں وہ ابد تک خوف وحزن سے پاک زندگی گزاریں گے۔ اس کے برعکس، ناقابلِ قبول افراد کو رد کرکے کائناتی کوڑے خانے میں ڈال دیاجائے گا، جہاں وہ ابد تک حسرت کی زندگی گزاریں گے۔
انسان سے مطلوب
قرآن میں بتایا گیا ہے کہ انسان کو احسن تقویم کی صورت میں پیدا کیا گیا ہے۔ اس کے ساتھ فرمایا کہ انسان کو اسفل سافلین کی حالت میں ڈال دیا گیا ہے(التین،95:4-5)۔ یہ بات لفظی معنی میں نہیں ہوسکتی۔ کیوں کہ خود قرآن سے ثابت ہوتا ہے کہ موجودہ دنیا انسان کے لیے جنت سے مشابہ دنیا ہے (البقرۃ، 2:25)۔
اس سے معلوم ہوتا ہے کہ موجودہ دنیا کی زندگی مادی معنوں میں اسفل نہیں ہے۔ بلکہ وہ نفسیاتی معنی میں احساسِ محرومی کی زندگی ہے۔ ایسا اس لیے ہے کہ انسان کو اعلیٰ ذوق (high taste) کے ساتھ پیدا کیا گیا ہے۔ اس لیے ایسا ہے کہ موجودہ دنیا کی مادی نعمتیں انسان کو فل فل منٹ (fulfillment) کے درجے میں تسکین نہیں دیتیں۔ خواہ انسان کو دنیوی نعمتیں کتنی ہی زیادہ حاصل ہوجائیں۔ مثلاً امریکا کے بل گیٹس (Bill Gates)کے لیے اس کی دولت تسکین کا ذریعہ نہیں بنی۔چنانچہ انھوں نے اپنی دولت کا بڑا حصہ چیرٹی میں دے دیا۔ امریکا کے صدر ڈونالڈ ٹرمپ (Donald Trump)کو وائٹ ہاؤس میں پہنچ کر سکون نہیں ملا۔ چنانچہ انھوں نے وائٹ ہاؤس کو کوکون (cocoon) بتایا۔
اس معاملے پر غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ انسان سے یہ مطلوب ہے کہ وہ موجودہ دنیا کو جنت کے مشابہ دنیا کے طور پر دریافت کرے۔ دنیا کی جنت خود جنت نہیں ہے، بلکہ وہ جنت ِ آخرت کا ابتدائی تعارف ہے۔انسان کو چاہیے کہ وہ دنیا کی نعمتوں کودیکھ کر جنت ِ آخرت کو دریافت کرے۔ اس کے اندر شکر کا جذبہ پیدا ہو، اور لَئِنْ شَکَرْتُمْ لَأَزِیدَنَّکُمْ (14:7) کے مطابق وہ جنتِ ِآخرت کا مستحق بنے، یعنی اگر تم شکر کرو گے تو میں تم کو زیادہ دوں گا۔
واپس اوپر جائیں

جنت کیا ہے

جنت کوئی پر اسرار قسم کی ناقابلِ فہم چیز نہیں۔ جنت انسان کے لیے پوری طرح ایک قابلِ فہم (understandable) نعمت ہے۔ قرآن میں اس حقیقت کو ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے: (ترجمہ) جب بھی ان کو جنت کے باغوں میں سے کوئی پھل کھانے کو ملے گا تو وہ کہیں گے یہ وہی ہے جو اس سے پہلے ہم کو دیا گیا تھا، اور ملے گا ان کو ایک دوسرے سے ملتا جلتا(2:25)۔
حقیقت یہ ہے کہ جنت موجودہ دنیا کے متشابہ (similar) ہوگی۔ موجودہ دنیا جنت کا نان پرفکٹ ماڈل (non-perfect model) ہے، اور آخرت کی جنت پرفکٹ ماڈل (perfect model)۔ موجودہ دنیا بھی اسی طرح اللہ رب العالمین کی تخلیق ہے، جس طرح آخرت کی جنت اللہ رب العالمین کی تخلیق ہوگی۔ لیکن موجودہ دنیا میں انسان پہلے سے ایک آزاد مخلوق کی حیثیت سے رہ رہا ہے، اس لیے انسانی فساد کی بنا پر موجودہ دنیا اس کے لیے آلودہ دنیا (polluted world) بن گئی ہے۔ جب کہ آخرت کی جنت پورے معنوں میں غیر آلودہ (non-polluted) جنت ہوگی۔ آخرت کی جنت انسان کے لیے ابدی طور پر خوشیوں کی جنت ہوگی، جب کہ موجودہ دنیا جنت کے ایک تعارفی ماڈل کی حیثیت رکھتی ہے۔
موجودہ دنیا انسانی آلودگی (human pollution) کا مقام ہے۔ جب کہ آخرت کی جنت انسانی آلودگی سے پاک و صاف مقام ہے۔ جنت میں ہر چیز اپنی اعلیٰ صورت میں موجود ہوگی۔ جب کہ موجودہ دنیا کا معاملہ یہ ہے کہ تخلیق کے اعتبار سے وہ بھی مثلِ جنت ہے، لیکن موجودہ دنیا میں انسان جنت کا تصور کرسکتا ہے، اس دنیا میں وہ جنت کے نان پلوٹیڈ ماڈل کو دیکھ نہیں سکتا۔ یہ مشاہدہ صرف ان لوگوں کے لیے ممکن ہوگا، جو آخرت میں جنت کو پانے کے لیے مستحق ممبر قرار دیے جائیں۔ اسی لیے آخرت میں اہلِ جنت کو جنت بطور واقعہ ملے گی، جب کہ موجودہ دنیا میں جنت صرف ایک عقیدہ کے درجے میں حاصل ہوتی ہے۔
واپس اوپر جائیں

جنت کا رول

جنت کے عقیدے کاانسان کی زندگی میں بہت بڑا رول ہے۔ انسان کے اندرانا (ego) کا جذبہ بہت زیادہ طاقت ور ہے۔ یہ جذبہ انسان کی ساری سرگرمیوں میں کام کرتا ہے۔ انسان کے لیے سب سے بڑی تباہ کن بات یہ ہے کہ وہ انا(ego) کا شکار ہوجائے۔ اس میں بھی سب سے زیادہ خطرناک چیز ہے، مخفی ایگو (hidden ego)۔ مخفی ایگو سے انسان خود اکثر بے خبر رہتا ہے کہ وہ ایگو کا شکار ہوگیا ہے۔یہی انسان کے لیے سب سے زیادہ خطرناک مسئلہ ہے۔ جنت کا عقیدہ اپنی صحیح صورت میں اس کا روک ہے۔ جنت کا عقیدہ واحد طاقت ور محرک ہے، جو انسان کو ایگوئسٹ بننے سے بچاتا ہے۔ جنت کے طاقت ور عقیدے کے بغیر کوئی انسان ایگو کے فتنے سے بچ نہیں سکتا۔
ایگو کے فتنے کا سب سے زیادہ مہلک پہلو یہ ہے کہ انسان اپنے ہر عمل کا ایک جواز (justification) تلاش کرلیتا ہے۔ وہ غلط کام بھی کرتا ہے تو اس کا ایک مبرر (justified reason) اس کے پاس ہوتا ہے۔ وہ غلط کام کو اس یقین کے ساتھ کرتا ہےکہ وہ ایک درست کام ہے۔ یہ ایک خود فریبی کی بدترین صورت ہے۔
صحیح اور درست کام کی سب سے زیادہ واضح پہچان یہ ہے کہ جو عمل" ظلم کے خلاف" آواز کے نام پر کیا جائے، وہ بلاشبہ ایک غلط کام ہے۔ ایسا کام زندگی کے بگاڑ میں صرف اضافہ کرتاہے، وہ اس میں کمی کرنے کا سبب نہیں بنتا۔ ا س کا اصل محرک ایگو ہوتا ہے۔ اس کے برعکس، صحیح کام وہ ہے، جو مثبت گول (positive goal) کو لے کر کیا جائے، جس کا مقصد کسی مفروضہ ظلم کو مٹانا نہ ہو، بلکہ لوگوں کے اندر مثبت سوچ کو فروغ دینا ہو۔ جب آدمی جنت کے راستے پر چلتا ہے، اگر وہ سنجیدہ ہے، تو اس کا ضمیر اس کو بتائے گا کہ یہ راستہ تم کو جنت سے محروم کردینے والا ہے۔ یعنی جنت کا رسک لے کر تم اس راستے پر آگے بڑھ سکتے ہو۔ ایگو ئسٹ آدمی ضمیر کی بات نہیں سنے گا، لیکن جو آدمی جنت کے معاملے میں سنجیدہ ہو، وہ ضروراس کو سنے گا۔
واپس اوپر جائیں

جنت کس کے لیے

اب یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ یہ جنت کس کے لیےہے۔جنت کا مطلب ہے ابدی عیش (eternal pleasure)کی زندگی۔ یہ ایک بے حد انوکھا تصور ہے۔ میں بہت دنوں سے یہ سوچتا تھا کہ آخر ابدیت کی یہ نعمت کس کو دی جائے گی۔ آخر کار میں نے ایک واقعہ سنا۔ اس سے میری سمجھ میں آیا کہ ابدی جنت کا استحقاق کس کے لیے ہوگا۔
دلی میں ایک تاجر ہیں، جو اب بوڑھے ہوچکے ہیں۔ انھوں نے بزنس میں کافی دولت کمائی۔ مگر ان کا کوئی وارث نہیں تھا، جس کو وہ اپنی دولت دیں۔ آخر کار انھوں نے ایک انوکھا واقعہ کیا۔ ان کا ایک ملازم تھا، جو ساری عمر ان کی خدمت کرتا رہا۔ وہ بے حد وفادار تھا۔ زندگی کے ہر تجربے سے معلوم ہوا کہ وہ ملازم آخری حد تک دل و جان سے ان کا وفادار (loyal) ہے۔ مذکورہ تاجر نے یہ کیا کہ اپنی ساری دولت اس ملازم کو دے دی، اور بڑھاپے کی عمر میں خود بھی جاکر اسی کے گھر میں اس کے ساتھ رہنے لگا۔ اب یہ حال ہے کہ اس کی پوری فیملی دل و جان سے اس تاجر کی خدمت گزاری کررہی ہے۔ اس قصے کو بتاتے ہوئے اس تاجر نے کہا کہ یہ آدمی میرا اتنا زیادہ وفادار ہے کہ ویسا کوئی اپنا بیٹا بھی نہیں ہوسکتا۔ وہ بچپن کی عمر سے میرے ساتھ ہے، اور کبھی اس کی وفاداری میں مجھے شک نہیں ہوا۔ اب جب کہ میں بوڑھا ہوچکا ہوں، یہ آدمی دل و جان سے میری وفاداری کا حق ادا کررہا ہے۔ اس لیے میں نے اپنا سب کچھ اس آدمی کو دے دیا۔ اب میں اتنا زیادہ خوش ہوں کہ شاید ہی کوئی آدمی اتنا زیادہ خوشی کی زندگی گزارتا ہو۔ تادمِ تحریر (31 جنوری 2019) دونوں زندہ ہیں۔ مذکورہ تاجر پہلے دلی کے نظام الدین ویسٹ ;کے علاقے میں رہتے تھے، اور اب دونوں آگرہ کے مضافات (suburb)میں ایک گھر میں ایک ساتھ رہتے ہیں۔
اس واقعے کو جاننے کے بعد مجھے ایک حدیث یاد آئی:خَلَقَ اللَّہُ آدَمَ عَلَى صُورَتِہِ (صحیح البخاری، حدیث نمبر 6227)۔ یعنی اللہ نے آدم کو اپنی صورت پر پیدا کیا۔ اس حدیث کو لے کر میں نے سوچا تو میری سمجھ میں آیا کہ اس کا مطلب شاید یہ ہے کہ انسان کا مطالعہ کرکے کوئی شخص اللہ کو دریافت کرسکتا ہے۔ اللہ کو شاید سب سے زیادہ جو چیز پسند ہے ، وہ یہ ہے کہ اس کا کوئی بندہ ایسا ہو، جو دل و جان سے اس کا وفادار (loyal)ہو۔ کسی بندے کے بارے میں اگر ثابت ہوجائے کہ وہ آخری حد تک اللہ کا کامل وفادار ہے، تو ایسا بندہ اللہ کو اتنا زیادہ محبوب بن جاتاہے کہ اللہ چاہتا ہے کہ وہ ایسے بندے کو سب کچھ دے دے، حتی کہ ابدی جنت (eternal paradise) بھی۔
کامل وفاداری کسی انسان کی سب سے بڑی صفت (quality) ہے۔ جو آدمی حقیقی معنیٰ (real sense) میں اپنے بارے میں یہ ثابت کردے کہ وہ اپنے رب کا کامل وفادار ہے، وہ دل و جان سے پورے معنیٰ میں اللہ والا انسان ہے۔ یہی وہ کامل وفاداربندہ ہے، جس کے انجام کے بارے میں قرآن میں یہ الفاظ آئے ہیں :فِی مَقْعَدِ صِدْقٍ عِنْدَ مَلِیکٍ مُقْتَدِرٍ (54:55) ۔یعنی وہ بیٹھے ہوں گے سچی بیٹھک میں، قدرت والے بادشاہ کے پاس۔
جنت ، خدا کا پڑوس
فرعون کی بیوی آسیہ ایمان لائی تو فرعون غصہ ہوگیا۔اس نے کہا کہ میں تم کو مارڈالوں گا، تم کیوں موسى پر ایمان لائیں۔اس وقت اس خاتون نے کہا تم جو چاہے کرو اب میں تو ایمان لاچکی ہوں۔ قرآن میں ہے کہ اس وقت آسیہ نے ایک دعا کی تھی۔ اس دعا کے الفاظ یہ ہیں: رَبِّ ابْنِ لِی عِنْدَکَ بَیْتًا فِی الْجَنَّةِ(66:11) ۔ یعنی اے میرے رب، میرے لیے اپنے پاس، جنت میں ایک گھر بنادے ۔ اس واقعے سے معلوم ہوتا ہے کہ توحید سے جنت جڑی ہوئی ہے،اور یہ کہ جنت خدا کے پڑوس کا نام ہے۔
خدا رخی زندگی
خدا رخی زندگی یہ ہے کہ آدمی اللہ رب العالمین کو اس طرح دریافت کرے کہ وہ اس کی زندگی میں شامل ہوجائے۔ وہ خدا کی یاد کے ساتھ سوئے، اور خدا کی یاد کے ساتھ جاگے۔ وہ خدا کی دنیا میں خداوالا بن کر رہے۔ دنیا کی ہر چیز اس کو خدا کی یاد دلانے والی بن جائے۔
واپس اوپر جائیں

نجاتِ آخرت

پیغمبرِ اسلام کی ایک روایت حدیث کی اکثر کتابوں میں آئی ہے۔ صحیح مسلم کے الفاظ یہ ہیں: لَا یُدْخِلُ أَحَدًا مِنْکُمْ عَمَلُہُ الْجَنَّةَ، وَلَا یُجِیرُہُ مِنَ النَّارِ، وَلَا أَنَا، إِلَّا بِرَحْمَةٍ مِنَ اللہِ (صحیح مسلم، حدیث نمبر 2817)۔ یعنی تم میں سے کسی کو اس کا عمل جنت میں داخل نہیں کرے گا، اور نہ ہی آگ سے پناہ دے گا، اور نہ میں، سوائے اس کے کہ اللہ کی رحمت کے ذریعے ایساہوگا۔
اس قسم کی روایتوں سے معلوم ہوتا ہے کہ جنت کسی بھی انسان کے لیے اس کے عمل کا معاوضہ نہیں ہے۔ ایسانہیں ہے کہ اگر کسی چیز کی ضروری قیمت آپ کے جیب میں موجود ہے، تو آپ شاپنگ سینٹر سے اس کو قیمت دے کر خرید سکتے ہیں۔ جنت کا معاملہ کسی بھی درجے میں "خرید و فروخت" جیسا نہیں ہے۔ یہ بات صحیح ہے کہ جنت کسی شخص کو عمل کے بغیر نہیں ملے گی۔ لیکن فائنل معنوں میں کسی کے لیے جنت کا داخلہ صرف عمل کی بنیاد پر نہ ہوگا، بلکہ اللہ کی رحمت کی بنیاد پر ہوگا۔
اس کا سبب یہ ہے کہ ابدی جنت اتنی زیادہ قیمتی ہے کہ عمل کی کوئی بھی مقدار اس کا معاوضہ نہیں ہوسکتی۔ حقیقت یہ ہے کہ اس معاملے میں انسانی عمل کی حیثیت ابتدائی استحقاق کے لیے ہے، نہ کہ جنت میں فائنل داخلے کے لیے۔
جنت کا ملنا کسی کے لیے انعامی ٹکٹ کی مانند نہیں ہے، بلکہ اس کا تعلق انسان کی پوری زندگی سے ہے۔ انسان کو ایمان کی توفیق ملنا، استقامت کے ساتھ عمل صالح پر قائم رہنا، غلطی کے بعد سچی توبہ کرنا، عذر کو عذر بنائے بغیر صراطِ مستقیم پر قائم رہنا، ہر صورتِ حال میں اپنے آپ کو منفی جذبات سے پاک رکھنا— اس طرح کے بے شمار مواقع ہیں، جہاں انسان صرف اپنی کوشش سے عمل صالح پر قائم نہیں رہ سکتا۔ اس طرح کے ہر موقعے پر ضرورت ہوتی ہے کہ انسان کو اللہ کی توفیق مسلسل طو رپر حاصل رہے۔ اس لحاظ سے دیکھیے تو یہ معاملہ صرف داخلۂ جنت کا نہیں ہے، بلکہ یہ ہے کہ توفیقِ ایمان سے لے کر موت تک مسلسل طور پر آدمی کو اللہ کی مدد حاصل رہے۔
واپس اوپر جائیں

جنت ، ایک انعام

ایک حدیث رسول ان الفاظ میں آئی ہے لَنْ یُدْخِلَ أَحَدًا عَمَلُہُ الجَنَّةَقَالُواوَلاَ أَنْتَ یَا رَسُولَ اللَّہِ؟ قَالَ:لاَ، وَلاَ أَنَا، إِلَّا أَنْ یَتَغَمَّدَنِی اللَّہُ بِفَضْلٍ وَرَحْمَةٍ، فَسَدِّدُوا وَقَارِبُوا (صحیح البخاری، حدیث نمبر 5673)۔ یعنی کسی آدمی کو اس کا عمل جنت میں ہرگز داخل نہیں کرے گا۔ لوگوں نے پوچھا آپ بھی نہیں ، اے خدا کے رسول؟ آپ نے کہا نہیں، میں بھی نہیں، سوائے اس کے کہ اللہ مجھے اپنے فضل اور رحمت سے ڈھانک لے۔ تو تم لوگ درستگی ، اوراعتدال کا طریقہ اختیار کرو۔
اس حدیث کا مطلب یہ ہے کہ جنت ایک ابدی نعمت ہے، جب کہ انسان کا ہر عمل محدود ہے، اور کوئی محدود عمل، لامحدود نعمت کا عوض(substitute) نہیں بن سکتا۔اس لیے جنت کسی انسان کوفضلِ خداوندی کے طور پر ملے گی ، یعنی جنت مالکِ کائنات کی طرف سے بطور انعا م ہوگی۔ اللہ رب العالمین جس انسان سے راضی ہوجائے، اس کو رضامندی کی علامت کے طور پر جنت دی جائے گی۔ جیسا کہ قرآن میں آیا ہےرَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمْ وَرَضُوا عَنْہُ ذَلِکَ لِمَنْ خَشِیَ رَبَّہُ (98:8)۔ یعنی اللہ ان سے راضی اور وہ اللہ سے راضی، یہ اس شخص کے لیے ہے جو اپنے رب سے ڈرے۔ قرآن میں اس رضامندی کی دو علامتیں بتائی گئی ہیں، محبت اور خشیت۔ محبت کے تعلق سے یہ آیت آئی ہے وَالَّذِینَ آمَنُوا أَشَدُّ حُبًّا لِلَّہِ(2:165)۔ یعنی اور جو ایمان والے ہیں، وہ سب سے زیادہ اللہ سے محبت رکھنے والے ہیں۔ اسی طرح یہ آیت ہےوَلَمْ یَخْشَ إِلَّا اللَّہَ(9:18)۔ یعنی اللہ کے سوا کسی سے نہ ڈرے۔
اس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ اپنے جس بندے کو اس حال میں پائے کہ اس نے اپنے رب کی نعمتوں کا بہت زیادہ ادراک کیا ۔ یہاں تک کہ اس کے اندر اللہ کے لیے وہ چیز پیدا ہوگئی، جس کو انسانی زبان میں محبت کہا جاتا ہے۔ اسی طرح جس نے اللہ رب العالمین کو ا س طرح دریافت کیا کہ اس کو اللہ سے خشیت کے درجے میں تعلق پیدا ہوگیا۔ جس انسان کو اللہ رب العالمین، اس حال میں پائے ، اس کے لیے اللہ رب العالمین کی رحمت کا تقاضا ہوگا کہ اس کو ابدی جنت میں داخلہ دیا جائے۔
واپس اوپر جائیں

جنت اور انسان

جنت اور انسان ایک دوسرے کا مثنیٰ (counterpart) ہیں۔ دونوں ایک دوسرے کے لیے تکمیلی (complementary)چیز کی حیثیت رکھتے ہیں۔ جنت انسان کے لیے بنائی گئی ہے، اور انسان جنت کے لیے۔ حقیقت یہ ہے — جنت مطلوبِ انسان ہے، اور انسان مطلوبِ جنت۔ انسان کے بغیر جنت ادھوری ہے، اور جنت کے بغیر انسان ادھورا۔ یہ بات خود تخلیقی منصوبے میں شامل ہے کہ اِس دنیا میں جنتی انسان تیار ہوں جو جنت کی ابدی دنیا میںبسائے جاسکیں۔
قرآن کی سورہ النساء میں یہ آیت آئی ہے: مَا یَفْعَلُ اللَّہُ بِعَذَابِکُمْ إِنْ شَکَرْتُمْ وَآمَنْتُمْ وَکَانَ اللَّہُ شَاکِرًا عَلِیمًا (4:147)۔یعنی اللہ تم کو عذاب دے کر کیا کرے گا، اگر تم شکر گزاری کرو اور ایمان لاؤ۔اللہ بڑا قدرداں ہے، وہ سب کچھ جاننے والا ہے۔
اِس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ کے تخلیقی منصوبے کا تقاضا اِس طرح پورا نہیں ہوتا کہ لوگ بُرے اعمال کرکے اپنے آپ کو جہنم کا مستحق بنا لیں۔ اللہ کا تخلیقی منصوبہ یہ چاہتا ہے کہ لوگ اپنے آپ کو جنت کا مستحق ثابت کریں اور پھر آخرت میں پہنچ کروہ جنت کے باغوں میں آباد ہوں۔
مفسر ابوالبرکات النسفی (وفات1310 ء) نے مذکورہ آیت کی تشریح کے تحت لکھا ہے: الإیمانمعرفۃ المنعم، والشکرالاعتراف بالنعمۃ (تفسیر النسفی، 1/259) یعنی ایمان، منعم کی معرفت ہے، اور شکر، نعمت کے اعتراف کا نام ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ یہ دونوں چیزیں ایک دوسرے سے جُڑی ہوئی ہیں۔ ایمان کا مطلب یہ ہے کہ آدمی شعوری طور پر اپنے رب کو دریافت کرے، وہ مخلوق کے ذریعے خالق کا تعارف حاصل کرے۔ شکر کا مطلب خدا کی نعمتوں کا اعتراف ہے۔ اِس دنیا میں جو کچھ انسان کو ملا ہوا ہے، وہ سب خدائے برتر کا انعام (blessings)ہے۔ اِس انعام کے لیے دل سے منعم (giver)کا معترف ہونا، بلاشبہ کسی انسان کے لیے سب سے بڑی عبادت کی حیثیت رکھتا ہے۔
واپس اوپر جائیں

جنت کی دریافت

غالباً 1983 کی بات ہے۔ اُس وقت دہلی میں ایک انگریز مسٹر جان بَٹ (John Butt) رہتے تھے۔ اُنہوں نے میری انگریزی کتابیں پڑھی تھیں اور میری فکر سے کافی مانوس ہوچکے تھے۔ ملاقات کے دوران ایک بار میں نے اُن سے کہا کہ قلم میری محبوب چیز ہے۔ میںنے بہت سے قلم استعمال کیے، مگر مجھے اپنی پسند کا قلم ابھی تک نہیں ملا۔ اُنہوں نے کہا کہ میں جلد ہی لندن جانے والا ہوں، وہاں سے میں آپ کے لیے ایک اچھا قلم لے آؤں گا۔
کچھ عرصے کے بعد وہ مجھ سے ملے، اور انگلینڈ کا بنا ہوا ایک قلم مجھے دیتے ہوئے کہا کہ میں نے لندن اور آکسفورڈ کی مارکیٹ میںکافی تلاش کے بعد یہ قلم (فاؤنٹین پین) حاصل کیا ہے۔ تاہم مجھے امید نہیں کہ یہ قلم آپ کی پسند کے مطابق ہوگا۔ میں نے کہا ، کیوں۔ اُنہوں نے کہا کہ میںجانتا ہوں کہ آپ ایک پرفیکشنسٹ(perfectionist) ہیں اور دنیا میں چونکہ کوئی بھی قلم پرفیکٹ قلم نہیں، اس لیے آپ کوکوئی بھی قلم پسند نہیں آئے گا۔اصل یہ ہے کہ ہر آدمی پیدائشی طورپر پرفیکشنسٹ ہے۔ یہ کہنا صحیح ہوگا کہ انسان ایک کمال پسند حیوان ہے:
Man is a perfection-seeking animal.
انسانی فطرت کا یہی خاص پہلو ہے جس کی بنا پر ہر آدمی کا یہ حال ہے کہ وہ محرومی (deprivation) کے احساس میںمبتلا رہتا ہے۔ حتیٰ کہ وہ لوگ جو دنیا کا ہر سامان حاصل کرلیتے ہیں وہ بھی محرومی کے احساس سے خالی نہیں ہوتے۔
اس کا سبب یہ ہے کہ انسان اپنی فطرت کے اعتبار سے پرفیکشنسٹ ہے مگر جس دنیا میں وہ رہتا ہے اُس کی کوئی بھی چیز پرفیکٹ نہیں۔ اس طرح انسان کی طلب اور دنیا کی قابلِ حصول چیزوں کے درمیان ایک عدم مطابقت (incompatibility) پیدا ہوگئی ہے۔ دونوں کے درمیان یہی عدم مطابقت انسان کے اندر محرومی کے احساس کا اصل سبب ہے۔
انسان اپنی آرزوؤں کی تکمیل کے لیے دنیا میں جدوجہد شروع کرتا ہے۔ یہاں تک کہ وہ وقت آتا ہے جب کہ وہ دولت، اقتدار، سازوسامان اور دوسری مطلوب چیزیں حاصل کر لیتا ہے۔ مگر اُس کو محسوس ہوتا ہے کہ اپنی مطلوب چیزوں کو پانے کے بعد بھی وہ بدستور محرومی کے احساس سے دوچار ہے، اب بھی وہ یافت کے احساس تک نہ پہنچ سکا۔
اس کا سبب یہ ہے کہ پانے سے پہلے وہ سمجھتا ہے کہ یہی وہ چیز ہے جس کی آرزو وہ اپنے دل میں لیے ہوئے ہے۔ مگر چیز کو پانے کے بعد اُس کو وہ تسکین نہیں ملتی جو کسی مطلوب چیز کی یافت سے ہونی چاہیے۔ کیوں کہ اُس کے دل میںجو آرزو تھی وہ پرفیکٹ چیز کے لیے تھی۔ جب کہ دنیا کی ہر چیز غیر پرفیکٹ(imperfect) ہے، اور ظاہر ہے کہ کسی پرفیکشنسٹ کو غیر پرفیکٹ میںتسکین نہیں مل سکتی۔
اس مسئلے کا حل صرف ایک ہے، اور وہ یہ کہ آدمی جنت کو اپنا نشانہ بنائے۔ جنت پورے معنوں میں ایک پرفیکٹ ورلڈ (perfect world) ہے، جب کہ اُس کے مقابلے میں موجودہ دنیا صرف ایک اِم پرفیکٹ ورلڈ (imperfect world) کی حیثیت رکھتی ہے۔ انسان اپنی پیدائش کے اعتبار سے جس پرفیکٹ ورلڈ کا طالب ہے، وہ جنت ہے۔ جنت کی معرفت نہ ہونے کی وجہ سے آدمی موجودہ دنیا میں اپنی آرزوئیں تلاش کرنے لگتا ہے اور اپنی فطرت اورخارجی دنیا کے درمیان عدم مطابقت کی بنا پر محرومی کے احساس کا شکار ہوجاتا ہے۔
اس مسئلے کا حل صرف یہ ہے کہ آدمی کے اندر وہ شعوری انقلاب لایا جائے کہ وہ جنت کی معرفت حاصل کرسکے۔ اس معرفت کے حصول کے بعد اُس کی مایوسی کا احساس اپنے آپ ختم ہوجائے گا۔ کیوں کہ وہ جان لے گا کہ جن چیزوں میںوہ اپنی آرزوؤں کی تسکین ڈھونڈھ رہا ہے، اُن میںاُس کے لیے تسکین کا سامان موجود ہی نہیں۔ اس دریافت کے بعد اُس کی توجّہ جنت کی طرف لگ جائے گی۔ اس کے بعد وہ موجودہ دنیا کی چیزوں کو ضرورت کے طورپر لے گا، نہ کہ مطلوب کے طورپر۔ اور جب کسی آدمی کے اندر یہ سوچ پیدا ہوجائے تو اُس کے بعد اُس کا حال یہی ہوگا کہ وہ یافت کے احساس میں جینے لگے گا، نہ کہ محرومی کے احساس میں۔
موجودہ دنیا پانے سے زیادہ کھونے کی جگہ ہے۔ یہاں ہر مرد اور عورت کو بار بار یہ احساس ہوتا ہے کہ فلاں چیز اُس سے کھوئی گئی۔ فلاں موقع اُس کے ہاتھ سے نکل گیا۔ فلاں شخص نے اُس کو نقصان پہنچادیا۔ اس قسم کے چھوٹے یا بڑے حادثات ہر ایک کو بار بار پیش آتے ہیں۔ کسی بھی مرد یا عورت کے لیے ان نقصانات سے بچنا ممکن نہیں۔
اس قسم کے نقصانات ہر ایک کو پیش آتے رہتے ہیں۔ اب سوال یہ ہے کہ ان نقصانات کی تلافی کی صورت کیا ہے۔ اس کی صورت صرف ایک ہے، اور وہ جنت کا یقین ہے۔ جس آدمی کو خدا کی جنت پر یقین ہو اُس کا حال یہ ہوگا کہ ہر نقصان کے بعد وہ یہ کہہ سکے گا کہ دنیا کا یہ نقصان تو بہت چھوٹا ہے۔ جنت کے مقابلے میں اس نقصان کی کوئی حقیقت نہیں۔ دنیا کے ہر نقصان کے بعد وہ اور زیادہ خدا کی طرف متوجہ ہوجائے گا۔ وہ خدا سے اور زیادہ جنت کا طالب بن جائے گا۔
قرآن میں جنت کی یہ صفت بتائی گئی ہے کہ وہاں آباد ہونے والے لوگوں کے لیے نہ خوف ہوگا اور نہ حُزن (البقرہ، 2:38)۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ دنیا میں انسان کو جو زندگی ملتی ہے وہ کبھی اور کسی کے لیے خوف اور حُزن سے خالی نہیں ہوتی۔ موجودہ دنیا کا نظام اس ڈھنگ پر بنا ہے کہ یہاں حقیقی معنوں میں خوف اور حزن سے خالی زندگی کا حصول ممکن ہی نہیں۔ ایسی حالت میںآدمی کے لیے واحد درست رویّہ یہ ہے کہ وہ دنیا کو اپنا مقصود نہ بنائے۔ وہ دنیا کو صرف یہ حیثیت دے کہ وہ حقیقی منزل کی طرف جانے کا ایک راستہ ہے۔
اسی حقیقت کو ایک حدیث میں ان الفاظ میں بتایا گیا ہے اللَّہُمَّ لاَ عَیْشَ إِلَّا عَیْشُ الآخِرَہْ (صحیح البخاری، حدیث نمبر2961) ۔ یعنی راحت اور مسرّت کا حصول صرف آخرت میں ممکن ہے۔ دنیا میں راحت و مسرّت تلاش کرنا ایسا ہی ہے جیسے کوئی مسافر ریلوے اسٹیشن پر اپنے لیے ایک آرام دہ گھر بنانے کی کوشش کرے۔ ہر مسافر جانتا ہے کہ اسٹیشن گھر بنانے کے لیے نہیںہوتا۔ اسی طرح موجودہ دنیا عملِ جنت کے لیے ہے، نہ کہ تعمیر جنت کے لیے۔ جنت کو اپنی منزل مقصود بنانا صرف عقیدے کی بات نہیں، وہ مقصد حیات کی بات ہے، ایسا مقصد جس کے سوا کوئی اور مقصد انسان کے لیے ممکن نہیں۔
واپس اوپر جائیں

جہاد فی اللہ

جہاد کی ایک قسم وہ ہے جس کو قرآن میں جہاد فی اللہ (الحج، 22:78) کہاگیا ہے۔ یعنی اللہ میں جہاد۔ اللہ میں جہاد کیا ہے۔ اللہ میں جہاد ہے آیات اللہ(signs of God) میں غور وفکر کرنا۔تخلیق میں چھپی ہوئی حکمت (wisdom) کو دریافت کرنا۔جہاد فی اللہ کی ایک مثال قرآن میں وہ ہے، جو پیغمبر ابراہیم کے حوالے سے ان الفاظ میں بیان ہوئی ہے مَلَکُوتَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ (الانعام، 6:75)۔ یعنی آسمان اور زمین کے عجائبات (wonders) ۔ قرآن میں دوسرے مقام پر یہ حقیقت ان الفاظ میں بیان ہوئی ہے أَوَلَمْ یَنْظُرُوا فِی مَلَکُوتِ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَمَا خَلَقَ اللَّہُ مِنْ شَیْءٍ(7:185)۔ یعنی کیا انھوں نے آسمانوں اور زمین کے نظام پرغور نہیں کیا، اور ان چیزوں پر جواللہ نے پیدا کی ہیں۔ اللہ کے پاس عطیات کا خزانہ اتنا بڑا ہے کہ اگر وہ ہر ایک کو اس کی طلب کے مطابق دے دے تب بھی اس کے خزانے میں کوئی کمی نہیں آئے گی۔
اس حقیقت کو ایک حدیث رسول میں اس طرح بیان کیا گیا ہے  یَا عِبَادِی لَوْ أَنَّ أَوَّلَکُمْ وَآخِرَکُمْ وَإِنْسَکُمْ وَجِنَّکُمْ قَامُوا فِی صَعِیدٍ وَاحِدٍ فَسَأَلُونِی فَأَعْطَیْتُ کُلَّ إِنْسَانٍ مَسْأَلَتَہُ، مَا نَقَصَ ذَلِکَ مِمَّا عِنْدِی إِلَّا کَمَا یَنْقُصُ الْمِخْیَطُ إِذَا أُدْخِلَ الْبَحْر(صحیح مسلم، حدیث نمبر 2577)۔ اے میرے بندو ! اگر تمہارے اگلے پچھلے، جن و انس ایک کھلے میدان میں جمع ہوجائیں، اور مجھ سے سوال کریں پھر میں ہر انسان کو اس کے سوال کے مطابق عطا کروں تو اس سے میرے خزانوں میں اتنی کمی بھی نہیں ہوگی جتنی سوئی کو سمندر میں ڈبونے سے ہوتی ہے۔
غالباً اسی حقیقت کا ادراک (realization) پیغمبر سلیمان کی زبان سے دعا کی صورت میں ہوا تھا، جو قرآن میں ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے رَبِّ اغْفِرْ لِی وَہَبْ لِی مُلْکًا لَا یَنْبَغِی لِأَحَدٍ مِنْ بَعْدِی إِنَّکَ أَنْتَ الْوَہَّابُ(38:35) ۔یعنی اے میرے رب، مجھ کو معاف کردے اور مجھ کو ایسی سلطنت دے جو میرے بعد کسی کے لیے سزاوار نہ ہو، بیشک تو بڑا دینے والا ہے۔
سلیمان بن داؤد کو ان کی دعا کے مطابق انوکھےقسم کا سیاسی اقتدار عطا کیاگیا، جو ان کے سوا کسی اور انسان کو کبھی نہیں ملا۔ لیکن خدا کے خزانے میں عطیے کی یہی ایک انوکھی صورت نہیں ہےجو حضرت سلیمان کو عطا ہوئی۔اس کے سوا دوسری ہزاروں صورتیں ہیں، جو تاریخ میں دوسرے انسانوں کو عطا ہوئیں۔ اسی طرح عطیات کے دوسرے بہت سےمیدان ہیں جو دوسرے انسانوں کو عطا ہوئے۔ عطیات کا یہ سلسلہ کبھی ختم نہیں ہوا۔ آج بھی کسی انسان کے لیے یہ ممکن ہے کہ وہ ایک منفرد عطیۂ الٰہی کا طالب بنے، اور اللہ اس کے استحقاق کو دیکھ کر یہ منفرد عطیہ اس کو دے دے۔
عطیۂ الٰہی کیایک مثال حکمت خداوندی ہے۔ اس کائنات میں حکمت خداوندی (divine wisdom)کے بے شمار آئٹم ہیں۔ اگر کوئی انسان سچے دل سے اس کا طالب بنے کہ اس کو حکمت خداوندی کا ایک ایسا آئٹم دے دیا جائے، جو کسی اور کو نہ ملا ہو تو یقیناً اللہ اس پر قادرہے۔ اس نے جس طرح حکم کی ایک صورت سلیمان بن داؤد کو دی، جو نہ ان سے پہلے کسی کو ملی، نہ ان کے بعد۔ اسی طرح اللہ اس پر قادر ہے کہ وہ کسی طالب کو حکمت خداوندی کا ایک ایسا آئٹم دے دے، جو نہ اس سے پہلے کسی کو ملا ہو، نہ اس کے بعد کسی کو ملے۔ اور اس عطیہ کے باوجوداللہ کے خزانۂ حکمت میں کوئی کمی واقع نہ ہو۔
اسلامی جہاد کا سب سے بڑا میدان تدبر ہے یعنی فکری جہاد (intellectual jihad) ۔ فکری جہاد سے بڑا کوئی جہاد نہیں۔ اسی حقیقت کو ابن عباس اور ابو الدرداءنے ان الفاظ میں بیان کیاہے تَفَکُّرُ سَاعَةٍ خَیْرٌ مِنْ قِیَامِ لَیْلَةٍ (العظمۃ لابی الشیخ الاصبہانی، اثر نمبر 42؛ حلیۃ الاولیاء، جلد 1، صفحہ208)۔ یعنی ایک ساعت کے لیے تفکر کرنا رات میں قیام (اللیل) سے بہتر ہے۔
فکری جہاد سب سے بڑاجہاد اس لیے ہے کہ وہ معرفت اور دعوت سے جڑاہوا ہے۔ فکری جہادکی ایک مثال صحابیٔ رسول ابوذر کی ہے۔ ان کے متعلق روایت میں آیا ہے کہ وہ رات دن سوچتے رہتے تھے(حلیۃ الاولیاء، جلد 1،صفحہ164)۔ یہ فکری جہاد بلا شبہ سب سے بڑا جہاد ہے۔ اس کا سبب یہ ہے کہ فکری جہاد کا رشتہ معرفت اوردعوت الی اللہ سے جڑا ہوا ہے۔ فکری جہاد کے ذریعے جب کسی شخص کا ذہنی ارتقا (intellectual development) ہوتا ہے تو وہ اس قابل ہوجاتا ہے کہ وہ آیات اللہ (signs of God) اور آلاء اللہ (Marvels of Nature) کو زیادہ سے زیادہ دریافت کریں اور اس طرح خالق کے بارے میں اپنی معرفت کو بے پناہ حد تک بڑھاتا چلا جائے۔ اسی طرح جو شخص فکری جہاد کرے، وہ اپنے داعیانہ صلاحیت میں بہت اضافہ کرے گا۔ اس کافکری مستوی (intellectual level) بہت بڑھ جائے گا۔ وہ اس قابل ہوجائے گا کہ دعوت الی اللہ کا کام اعلیٰ ترین سطح پر انجام دے سکے۔
فکری جہاد کا فائدہ دنیا سے آخرت تک چلا گیا ہے۔ اس کی ایک مثال قرآن کی پہلی آیت ہے الْحَمْدُ لِلَّہِ رَبِّ الْعَالَمِینَ۔ یہ پہلی آیت مومن کے اس درجۂ معرفت کو بتاتی ہے، جو ایک مومن فکری جہاد کے ذریعے دنیا کی زندگی میں حاصل کرتا ہے۔ اسی طرح قرآن میں بتایا گیا ہے کہ اہلِ جنت جب جنت میں داخل ہوجائیں گے تو جنت میں ان کے آخر قول کو ان الفاظ میں بیان کیا گیاہےوَآخِرُ دَعْوَاہُمْ أَنِ الْحَمْدُ لِلَّہِ رَبِّ الْعَالَمِینَ (10:10)۔یعنی اور ان کی آخری بات یہ ہوگی کہ ساری تعریف اللہ کے لیے ہے جو رب ہے سارے جہان کا۔
اس کا مطلب یہ ہے کہ مومن موجودہ دنیا میں فکری جہاد اس لیے کرتا ہے کہ وہ اعلیٰ ترین سطح پر ذہنی ارتقا کا درجہ حاصل کرے۔ قرآن میں جنت کو دارالمتقین (النحل، 16:30) کہاگیا ہے۔ انسانی زبان میں اس کو اس طرح کہا جاسکتا ہے کہ جنت ایسے انسانوں کا مقام ہے، جو مجلسِ خداوندی میں کلام کرنے کے قابل ہوسکیں۔ دنیا میں فکری جہاد کا اصل مقصد یہی ہے کہ جب آخرت کی دنیا میں پہنچے تو وہاں وہ خداوندی سطح پر کلام کرنے کے قابل ہوچکا ہو۔
اسلام میں جہاد کا مطلب قتال(جنگ) نہیں ہے، بلکہ پرامن جدوجہد ہے۔ اس جدوجہد کا نشانہ کسی دوسرے کی گردن کاٹنا نہیں ہوتا بلکہ خود اپنے آپ کو اللہ کے راستے میں مشقت کے مراحل سے گزارتے ہوئے ثابت قدم رہنا۔ مشقت کے یہ مراحل آدمی کے اندر ایک نفسیاتی ہیجان پیدا کرتے ہیں۔ آدمی دردوکرب کے لمحات سے گزرتے ہوئے اللہ کو پکارتاہے۔
یہ پکار(دعا) سادہ طور پر کچھ الفاظ کو زبان سے دہرا لینا نہیں ہے، بلکہ فکر کے مراحل ہیں، یعنی جب آدمی اس قسم کے لمحات سے گزرتا ہے تو اس کی سوچ میں گہرائی پیدا ہوجاتی ہے۔ اس کی تخلیقیت میں اضافہ ہوجاتا ہے۔ اس کے اندر گہری فکر (deep thinking) آجاتی ہے۔ وہ وزڈم کی اس اعلیٰ سطح پر آجاتا ہے جہاں اللہ سے اس کا گہراتعلق قائم ہوجاتا ہے۔ وہ اللہ کا ہوجاتا ہے، اور اللہ اس کا۔
جنت کی سرگرمیاں
جنت کے بارے میں قرآن میں مختلف بیانات آئے ہیں۔ ایک بیان یہ ہے إِنَّ الَّذِینَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ کَانَتْ لَہُمْ جَنَّاتُ الْفِرْدَوْسِ نُزُلًا ۔ خَالِدِینَ فِیہَا لَا یَبْغُونَ عَنْہَا حِوَلًا۔ قُلْ لَوْ کَانَ الْبَحْرُ مِدَادًا لِکَلِمَاتِ رَبِّی لَنَفِدَ الْبَحْرُ قَبْلَ أَنْ تَنْفَدَ کَلِمَاتُ رَبِّی وَلَوْ جِئْنَا بِمِثْلِہِ مَدَدًا (18:107-109)۔ یعنی بیشک جو لوگ ایمان لائے اور انھوں نے نیک عمل کیا، ان کے لیے فردوس کے باغوں کی مہمانی ہے۔ اس میں وہ ہمیشہ رہیں گے۔ وہ وہاں سے کبھی نکلنا نہ چاہیں گے۔ کہو کہ اگر سمندر میرے رب کی نشانیوں کو لکھنے کے لیے روشنائی ہوجائے تو سمندر ختم ہوجائے گا اس سے پہلے کہ میرے رب کی باتیں ختم ہوں، اگرچہ ہم اس کے ساتھ اسی کے مانند اور سمندر ملا دیں۔
یہاں قرآن میں بتایا گیا ہے کہ جنت کی زندگی اتنی خوشگوار ہوگی کہ وہ کبھی اس سے نکلنا نہ چاہیں گے۔ اس کے بعد اگلی آیت یہ ہے کہ اللہ کے کلمات اتنے زیادہ ہیں کہ کتنا ہی زیادہ ان کو لکھا جائے، وہ کبھی ختم نہ ہوں گے۔
اس سے معلوم ہوتا ہے کہ جنت میں اہلِ جنت کا ایک مشغلہ یہ ہوگا کہ وہ کلمات اللہ کا مطالعہ کریں، وہ کلمات اللہ کو دریافت کریں، اور پھر کلمات اللہ کو قلم بند کریں۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ جنت میں اہلِ جنت کی مشغولیت اسی قسم کی ہوگی، جو موجودہ دنیا میں سائنسدانوں کی ہوتی ہے۔ مشہور برطانی سائنسداںنیوٹن (1643-1727) سے اس کےعلم کے بارے میں پوچھا گیا۔ اس نے کہا کہ جو ہم جانتے ہیں، وہ ایک قطرہ ہے، اور جو کچھ ہم نہیں جانتے ہیں، وہ ایک سمندر ہے
What we know is a drop, what we don't know is an ocean.
یہی تجربہ اہلِ جنت کے ساتھ جنت میں بہت زیادہ اضافہ کے ساتھ ہوگا۔
واپس اوپر جائیں

روحانی ترقی

روحانی ترقی کیا ہے۔ روحانی ترقی اپنی داخلی شخصیت میں ربّانی بیداری لانے کا دوسرا نام ہے۔ مادی خوراک انسان کے جسمانی وجود کو صحت مند بناتی ہے۔ اسی طرح انسان کا روحانی وجود ان لطیف تجربات کے ذریعے صحت مند بنتا ہے جن کو قرآن میں رزقِ رب (ربّانی غذا) کہا گیا ہے۔
16جولائی2004 کا واقعہ ہے۔ اس دن دہلی میں سخت گر می تھی۔ دوپہر بعد دیر تک کے لیے بجلی چلی گئی۔ چھت کا پنکھا بند ہوگیا۔ میں اپنے کمرے میں سخت گرمی کی حالت میں بیٹھا ہوا تھا۔ دیر تک میں اسی حالت میں رہا یہاں تک کہ بجلی آگئی اور پنکھا چلنے لگا۔
یہ ایک اچانک تجربہ کا لمحہ تھا۔ پنکھا چلتے ہی جسم کو ٹھنڈک ملنے لگی۔ ایسا محسوس ہوا جیسے اچانک مصیبت کا دور ختم ہوگیا اور اچانک راحت کا دوسرا دور آگیا۔ اس وقت مجھے پیغمبر اسلام کی وہ حدیثیں یاد آئیں جن میں بتایا گیا ہے کہ دنیا مومن کے لیے مصیبت کی جگہ ہے۔ جب مومن کی موت آئے گی تو اچانک وہ اپنے آپ کو جنت کے باغوں میں پائے گا۔ دنیوی زندگی کا پُر مصیبت دور اچانک ختم ہوجائے گا، اور عین اسی وقت پُر راحت زندگی کا دور شروع ہوجائے گا۔
جب یہ تجربہ گز را تو میری فطرت میں چھپے ہوئے ربّانی احساسات جاگ اٹھے۔ مادی واقعہ روحانی واقعہ میں تبدیل ہوگیا۔ میرے دل نے کہا کہ کاش، خدا میرے ساتھ ایسا ہی معاملہ فرمائے۔ جب میرے لیے دنیا سے رخصت ہونے کا وقت آئے تو وہ ایک ایسا لمحہ ہو جو اچانک دور ِمصیبت سے دورِ راحت میں داخلے کے ہم معنٰی ہوجائے۔
روحانیت در اصل ایک ذہنی سفر ہے، ایک ایسا سفر جو آدمی کو مادیت سے اوپر اُٹھا کر معنویت تک پہنچا دے۔ یہ سفر داخلی سطح پر ہوتا ہے۔ دوسرے لوگ بظاہر اس سفر کو نہیں دیکھتے لیکن خود مسافر انتہائی گہرائی کے ساتھ اس کو محسوس کرتا ہے۔ روحانیت انسان کو انسان بناتی ہے۔ جس آدمی کی زندگی روحانیت سے خالی ہو، اُس میں اور حیوان میں کوئی فرق نہیں۔
واپس اوپر جائیں

جنت کا سماج

جنت کے پڑوسی کیسے ہوں گے، اس کا ذکر قرآن کی ایک آیت میں کیا گیا ہے۔ اس آیت کا ترجمہ یہ ہے: جو اللہ اور رسول کی اطاعت کرے گا، وہ ان لوگوں کے ساتھ ہوگا جن پر اللہ نے انعام کیا، یعنی پیغمبر اور صدیق اور شہید اور صالح۔ کیسی اچھی ہے ان کی رفاقت (4:69)۔
جنت کیا ہے۔ جنت وہ معیاری دنیا ہے، جہاں پوری تاریخ کے منتخب افراد آباد کیے جائیں گے۔ ان کی ایک صفت یہ ہوگی کہ ان سے ان کے پڑوسیوں کو حسنِ رفاقت کا تجربہ ہوگا۔وہ ہر اعتبار سے اپنے ساتھیوں کے لیے بہترین پڑوسی ثابت ہوں گے۔ ایسے لوگ جن کے ساتھ رہنا، ہر اعتبار سے خوش گوار تجربہ ثابت ہو۔
ایسے پڑوسی کون لوگ ہیں۔ وہ جو اپنے پڑوسیوں کے لیے قابل پیشین گوئی کردار (predictable character) کے حامل ہوں۔ جن سے دوسروں کو کسی قسم کے نیوسنس (nuisance) کا تجربہ نہ ہو۔ جن کے ساتھ بیٹھنا، جن کے ساتھ بات چیت کرنا، ایک خوش گوار تجربہ کی مانند ہو۔ جن کے پڑوسی ان سے کبھی لغو اور تاثیم (الواقعۃ، 56:25) کی بات نہ سنیں ۔ ایسے لوگ جن کے ساتھ کچھ لمحہ گزارنا، پُر بہار چمنستان کے ماحول میں زندگی گزارنے کے ہم معنی ہو۔
اس بات کو ایک لفظ میں اس طرح بیان کیا جاسکتاہے کہ ایک پڑوسی اپنے دوسرے پڑوسی کے لیے قابل پیشین گوئی کردار کا حامل ثابت ہو۔ ایسا نہ ہو کہ اس نے حسنِ توقع کی بنیاد پر اپنے پڑوسی کے بارے میں کوئی ایک رائے قائم کی ہو، اور عملاً وہ اس کے بجائے دوسرے کردار کا آدمی ثابت ہو۔ ہر پڑوسی اپنے پڑوسی کے لیے اسی طرح اچھا انسان ثابت ہو، جس طرح کہ اس نے پیشگی طور پر اس کے بارے میں رائے قائم کی ہے۔ ایک پڑوسی کو دوسرے پڑوسی سے یہ کہنا نہ پڑے کہ وہ اس سے کس قسم کے ساتھی کی امید رکھتا ہے۔ وہ اپنے پڑوس میں کس قسم کے انسان کو دیکھنا چاہتا ہے۔ دوسرا آدمی خود ہی اس بات کو جانے، اور خود ہی اس کے مطابق زندگی گزارے۔
واپس اوپر جائیں

حسنِ رفاقت کی دنیا

قرآن میں جنت کے معاشرے کا نقشہ ان الفاظ میں بتایا گیا ہے: وَمَنْ یُطِعِ اللَّہَ وَالرَّسُولَ فَأُولَئِکَ مَعَ الَّذِینَ أَنْعَمَ اللَّہُ عَلَیْہِمْ مِنَ النَّبِیِّینَ وَالصِّدِّیقِینَ وَالشُّہَدَاءِ وَالصَّالِحِینَ وَحَسُنَ أُولَئِکَ رَفِیقًا (4:69)۔ یعنی اور جو اللہ اور رسول کی اطاعت کرے گا، وہ ان لوگوں کے ساتھ ہوگا جن پر اللہ نے انعام کیا، یعنی پیغمبر اور صدیق اور شہید اور صالح۔ کیسی اچھی ہے ان کی رفاقت۔
Excellent are they as companions!
جنت کے ماحول کو بتانے کے لیے یہ الفاظ بہت بامعنی ہیں کہ جنت کا معاشرہ حسنِ رفاقت کا معاشرہ ہوگا۔ بہترین ساتھی (excellent companion) کا لفظ بہت جامع معنی میں ہے۔ اس سے مراد ایسے لوگ ہیں، جن کے اندر قابلِ پیشین گوئی کردار (predictable character) ہو۔ جواپنے ساتھی کے لیے مکمل معنوں میں بے مسئلہ انسان(no-problem person) بنے ہوئے ہوں۔ جو ایک دوسرے کے لیے ہمیشہ مددگار بنے رہیں۔ جن کے اندر نفع بخشی کا کردار پایا جاتا ہو۔جو اپنے سماج میں دینے والے انسان (giver person)بن کر رہیں، نہ کہ لینے والے انسان (taker person) بن کر زندگی گزاریں۔ جن کے اندر کامل معنوں میں ایک دوسرے کے لیے خیرخواہی کا مزاج پایا جاتا ہو۔ جو دہرے کردار (double standard) کی صفت سے آخری حد تک خالی ہوں۔
حسنِ رفاقت کا معیار صرف آخرت کے لیے نہیں ہے۔ عین یہی کردار موجودہ دنیا میں بھی مطلوب ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ جو افراد دنیا کی زندگی میں اس معیار پر پورے اتریں، وہی آخرت کے جنتی سماج کے لیے منتخب کیے جائیں گے۔ آخرت میں حسنِ رفاقت کا سماج دنیا کے منتخب افراد کا مجموعہ ہوگا، جس کو قرآن میں احسن العمل افراد کا مجموعہ (الملک، 67:2) کہا گیا ہے۔ جنت ایک اعلیٰ قسم کی اجتماعی زندگی ہوگی، نہ کہ صرف انفرادی زندگی۔
واپس اوپر جائیں

اہلِ جنت

جنت رب العالمین کا پڑوس ہے (التحریم،66:11)۔جنت ان لوگوں کے لیے ہے، جو دنیا میں خداوند رب العالمین کی یاد میںجینے والے ہوں، وہی لوگ ابدی جنت میں بسائے جائیں گے۔جہاں ان کو خداوندِ رب العالمین کی قربت حاصل ہوگی۔ جو لوگ منفی سوچ (negative thinking) میں جینے والے ہوں، وہ دنیا میں بھی خداوند رب العالمین کی قربت سے محروم رہیں گے، اور آخرت میں بھی۔
موجودہ دنیا تربیت گاہ ہے، اور آخرت کی دنیا تربیت یافتہ لوگوں کا مقام۔ جنت میں صرف منتخب افراد رہائش کا درجہ پائیں گے۔ وہ لوگ جو دنیا کی زندگی میں اپنے آپ کو اس قابل ثابت کریں کہ وہ منظم زندگی گزارنا جانتے ہیں۔ جن کے اندر قابلِ پیشین گوئی کردار موجود ہے۔ جنت میں ان لوگوں کو داخلہ ملے گا، جو اپنے عمل سے یہ ثابت کریں کہ ان کے اندر تخلیقی (creative)صلاحیت موجود ہے۔ جو یہ ثابت کریں کہ وہ آزادی کے باوجود ذمے دارانہ زندگی (disciplined life) گزارنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ جنت ان لوگوں کے لیے ہے، جو پورے معنی میں باشعور ہوں۔ جو پورے معنیٰ میں بے مسئلہ انسان ہوں۔ جو اپنے اندر سیلف کنٹرول (self-control) کی صلاحیت رکھتے ہوں۔ وہ منظم اخلاقیات سے متصف ہوں، وغیرہ۔
اسی طرح جنت کے بارے میں قرآن میں آیا ہے :حَسُنَ أُولَئِکَ رَفِیقًا (4:69)۔ یعنی کیسی اچھی ہے ان کی رفاقت۔ اس سے معلوم ہوا کہ جنت حسنِ رفاقت (excellent companionship) کی دنیا ہے۔ دنیا میں اسی کا امتحان ہورہا ہے۔ یہاں یہ دیکھا جارہا ہے کہ وہ کون شخص ہے، جو اس بات کا ثبوت دیتا ہے کہ اجتماعی زندگی میں اس کے اندر سیلف ڈسپلن کی صفت اعلی درجے میں پائی جاتی ہے، جو کسی کے دباؤ کے بغیر دوسروں کے لیے بہترین ہمسایہ بن کر رہنے والا ہے۔ جس آدمی کے اندر حسن رفاقت کی صفت ہو، جو کسی دباؤ کے بغیر سیلف ڈسپلن کے ساتھ ہر حال میں رہ سکتا ہے، ایسے ہی لوگ ہیں، جو جنت میں داخلے کے لیے منتخب کیے جائیں گے۔
اسی طرح قرآن میں بتایا گیاہے کہ اہل جنت کے لیے جنت کا رزق ایک معلوم رزق ہوگا۔ یعنی جنت ان کے لیے ایک ایسی چیز ہوگی، جس کی دریافت ان کو دنیا میں ہوچکی تھی ۔ اس سلسلے میںقرآن کے الفاظ یہ ہیں وَیُدْخِلُہُمُ الْجَنَّةَ عَرَّفَہَا لَہُمْ ( 47:6) ۔ یعنی اور ان کو جنت میں داخل کرے گا جس کی اس نے انھیں پہچان کرا دی ہے۔ گویا کہ موجودہ دنیا ایک ایسی دنیا ہے جو جنت کے متشابہ دنیا (similar world)کی حیثیت رکھتی ہے ، جیسا کہ قرآن میں ایک دوسرے مقام پر یہ الفاظ آئے ہیں کُلَّمَا رُزِقُوا مِنْہَا مِنْ ثَمَرَةٍ رِزْقًا قَالُوا ہَذَا الَّذِی رُزِقْنَا مِنْ قَبْلُ وَأُتُوا بِہِ مُتَشَابِہًا( 2:25)۔یعنی جب بھی ان کو ان باغوں میں سے کوئی پھل کھانے کو ملے گا تو وہ کہیں گے یہ وہی ہے جو اس سے پہلے ہم کو دیا گیا تھا، اور ملے گا ان کو ایک دوسرے سے ملتا جلتا۔
دوسری طرف حدیث میں آیا ہےکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا :حُجِبَتِ الجَنَّةُ بِالْمَکَارِہِ(صحیح البخاری، حدیث نمبر 6487)۔ یعنی جنت کو مکارہ سے ڈھانک دیا گیا ہے۔ مکارہ کا مطلب ناپسندیدہ (undesirable) ہے۔ اس پر غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ جنت ایک ایسی چیز ہے، جس کا تعارفی ماڈل اسی دنیا میں موجود ہے، لیکن وہ مکارہ سے ڈھکا ہوا ہے۔ مومن کا کام یہ ہے کہ وہ اپنے آپ کو ذہنی اعتبار سے اتنا زیادہ ارتقا یافتہ بنائے کہ وہ مکارہ کے پردے کو ہٹا کر پیشگی طور پر جنت کو دریافت کرسکے۔
یہ صلاحیت کسی فرد کے اندر کیسے پیدا ہوتی ہے۔ وہ اس طرح پیدا ہوتی ہے کہ آدمی کے اندر موت و حیات کے منصوبے پر گہرا یقین ہو، وہ گہرے یقین کے ساتھ یہ جانے کہ موجودہ دنیامیں ہر لمحہ فرشتوں کے ذریعے اس کا ریکارڈ تیار ہورہا ہے۔ جو مرد یا عورت جنتی اخلاقیات کے معیار پر پورے اتریں، صرف وہ جنت میں داخلہ پائیں گے، اور جو لوگ اس معیار پر پورے نہ اتریں، وہ کائنات کے کوڑے خانے میں پھینک دیے جائیں گے۔ جہاں وہ ابدی طور پر اس حسرت میں تڑپتے رہیں کہ ان کو ایک ہی موقع ملا تھا، اس موقع کو انھوں نے اپنی نادانی سے کھودیا۔
واپس اوپر جائیں

حزن فری جنت

مغفرت کے بعد اہل جنت جب جنت کی ابدی دنیا میں داخلہ پائیں گے، تو ان کی زبان سے یہ الفاظ نکلیں گے: الْحَمْدُ لِلَّہِ الَّذِی أَذْہَبَ عَنَّا الْحَزَنَ إِنَّ رَبَّنَا لَغَفُورٌ شَکُورٌ (35:34)۔ یعنی حمد ہے اللہ کی جس نے ہم سے غم کو دور کردیا۔ بیشک ہمارا رب معاف کرنے والا، قدر کرنے والا ہے۔
موجودہ دنیا اسباب و علل کی دنیا ہے۔ یہ دنیا بے رحم مادی قوانین کی بنیاد پر چل رہی ہے۔ اس کے مقابلے میں انسان ایک حساس (sensitive) مخلوق ہے۔ اس بنا پر اس دنیا میں انسان کو بار بار کسی نہ کسی تکلیف کا تجربہ ہوتا ہے۔ اس طرح کے تجربات والی دنیا سے گزر کر جب اہل جنت ایک نئی کامل دنیا میں پہنچیں گے، جو جنت کی دنیا ہوگی، تو وہ پائیں گے کہ مادی دنیا کے برعکس، جنت کی دنیا ہر اعتبار سے ایک بے حزن دنیا (suffering-free world) ہے، تو ان کو ایک عجیب قسم کی خوشی حاصل ہوگی۔ پچھلے دورِ حیات کے برعکس، جنت کی حزن فری دنیا ان کو اتنا زیادہ پرمسرت معلوم ہوگی کہ وہ محسوس کریں گے کہ اس بے پایا ں خوشی کے اظہار کے لیے ان کے پاس الفاظ نہیں ہیں۔
حقیقت یہ ہے کہ انسان ایک متلاشیٔ مسرت مخلوق (pleasure-seeking animal) ہے۔ وہ ساری عمر ایک ایسی زندگی کی تلاش میں رہتا ہے، جہاں اس کو ابدی معنوں میں خوشیوں سے بھری زندگی حاصل ہوجائے۔ خوشی کی تلاش انسان کا سب سے بڑا مطلوب ہے، مگر تجربہ بتاتا ہے کہ ہر قسم کی تلاش کے باوجود انسان کو اس دنیا میں کبھی سچی خوشی حاصل نہیں ہوتی۔ حتی کہ ان لوگوں کو بھی نہیں ، جن کے پاس دولت اور اقتدار کے خزانے موجود ہیں۔ ایسی حالت میں جب اہل جنت کو ایک ایسی دنیا ملے گی، جو ہر اعتبار سے سچی مسرت کی دنیا ہوگی، تو ان کو تعجب خیز خوشی (pleasant surprise)کا اعلیٰ تجربہ ہوگا۔ اس وقت وہ چاہیں گے کہ شکر کے گہرے احساس کے تحت سجدے میں گر پڑیں، اور کبھی سر نہ اٹھائیں۔ جنت کی خوشی ایک ناقابلِ بیان خوشی ہے، جو انسانی زبان میں بیان نہیں کی جاسکتی۔
قرآن میں جنت کی نعمتوںکامختلف الفاظ میں بار بار ذکر آیا ہے۔ایک مقام پر یہ الفاظ آئے ہیں  فِی جَنَّاتِ النَّعِیمِ...لَا مَقْطُوعَةٍ وَلَا مَمْنُوعَةٍ (56:12 & 33)۔ یعنی نعمت کے باغوں میں ... کبھی نہ ختم ہونے والی اور بےروک ٹوک ملنے والی ۔
In the Gardens of Bliss...neither interrupted, nor prohibited.
یہ الفاظ بے حد اہم ہیں۔ انسان کی فطرت کا مطالعہ بتاتا ہے کہ انسان ایک ایسی مخلوق ہے، جو آخری حد تک مسرت پسند (pleasure-seeking) مخلوق کی حیثیت رکھتا ہے۔ مزید یہ کہ انسان غیر منقطع خوشی (uninterrupted pleasure) کا طالب ہے۔ایسی لامتناہی نعمت تلاش بسیار کے باوجود کسی کو حاصل نہیں ہوتی۔ ایسی نعمتوں والے باغات کسی انسان کو صرف جنت میں مل سکتے ہیں۔ اس جنت کی مزید صفت یہ ہوگی کہ وہ انسان کو ابدی طور پر حاصل رہے گی۔
اس بات کو ایک حدیث رسول میں ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے:یُقَالُ لِأَہْلِ الْجَنَّةِإِنَّ لَکُمْ أَنْ تَصِحُّوا فَلَا تَسْقَمُوا أَبَدًا ،وَإِنَّ لَکُمْ أَنْ تَعِیشُوا فَلَا تَمُوتُوا أَبَدًا،وَإِنَّ لَکُمْ أَنْ تَنْعَمُوا فَلَا تَبْأَسُوا أَبَدًا،وَإِنَّ لَکُمْ أَنْ تَشِبُّوا فَلَا تَہْرَمُوا أَبَدًا (المعجم الصغیر للطبرانی، حدیث نمبر 213؛ صحیح مسلم، حدیث نمبر 2837)۔ یعنی اہل جنت سے کہا جائے گا: تم صحت مندرہو کبھی بیمار نہیں پڑوگے، تم زندہ رہو تم پر کبھی موت نہیں آئے گی،تم آسائش کی زندگی گزارو کبھی کوئی پریشانی تم کو پیش نہیں آئے گی، تم جوان رہو کبھی تم بوڑھے نہیں ہوگے۔
ایسی دنیا جو ابدی طور پر غم سے خالی ہو۔ وہ بلاشبہ انسان کی سب سے بڑی تمنا ہے۔ جنت انسانی فطرت کی طلب ہے۔ جنت انسانی خوابوں کی تکمیل ہے۔ جنت انسان کی آخری آرزو ہے۔ جنت وہ مقام ہے، جہاں پہنچ کر انسان کی تمام خواہشیں پوری ہوجائیں گی، یہاں تک کہ اس کی کوئی آرزو باقی نہ رہے گی۔ جنت رب العالمین کا قرب ہے، جس سے بڑی کوئی جگہ انسان کے لیے نہیں ہوسکتی۔
واپس اوپر جائیں

جنت کی زندگی

قرآن میں بتایا گیا ہے کہ اہل جنت جب جنت میں پہنچیں گے، تو وہ جنتی زندگی کے بارے میں کہیں گے: وَقَالُوا الْحَمْدُ لِلَّہِ الَّذِی أَذْہَبَ عَنَّا الْحَزَنَ إِنَّ رَبَّنَا لَغَفُورٌ شَکُورٌ(35:34)۔ یعنی شکر ہے اللہ کا جس نے ہم سے حزن کو دور کردیا۔ بیشک ہمارا رب معاف کرنے والا، قدر کرنے والا ہے۔
اس آیت میں حزن کا لفظ بہت بامعنی ہے۔ حزن کا مطلب ہے، تکلیف (sorrow)۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ انسان کے لیے سب سے زیادہ ناقابل برداشت چیز حزن ہے۔ حزن کو دورکرنے کا مطلب یہ ہے کہ اس چیز کو دور کرنا، جو انسان کا سب سے زیادہ ناقابلِ برداشت معاملہ ہوتا ہے۔ انسان ایک کمزور مخلوق ہے۔ انسان سب کچھ برداشت کرلیتا ہے۔ لیکن حزن (تکلیف) اس سے برداشت نہیں ہوتی۔ انسان کی نسبت سے یہ لفظ ایک بے حد نفسیاتی لفظ ہے۔ انسان اگر سوچے تو جنت میں حزن نہ ہونا، اس کے لیے انتہائی پرکشش لفظ ہے۔ کیوں کہ انسان ایسی جگہ کے لیے سب کچھ کر نے کو راضی ہوجائے گا، جہاں حزن نہ ہو۔ اگر اس کو یقین ہوجائے کہ جنت حزن سے خالی جگہ ہے، تو وہ جنت کو پانے کے لیے سب کچھ کرنے کو تیار ہوجائے گا۔جنت کا تصور آدمی کو اسی یقین پر جینے والا بناتا ہے۔
جنت میں حزن نہ ہونے کا مطلب یہ ہے کہ جسمانی کرب(physical pain) کی ہر قسم سے جنت محفوظ ہوگی۔ آدمی اگر جسمانی حزن سے بچا ہوا ہو، تو اس کو نیند کے وقت اچھی نیند آئے گی، وہ کھانے کے وقت سکون سے کھانا کھائے گا۔ اٹھنا، بیٹھنا، چلنا پھرنا، اس کے لیے آسان ہوجائے گا۔ اس کے لیے زندگی ایک پرسکون زندگی بن جائے گی۔اس کو دن کا سکون بھی حاصل ہوجائے گا، اور رات کا سکون بھی۔ جو کام بھی وہ کرے گا، معتدل انداز میں کرے گا۔ اس کے لیے یہ ممکن ہوجائے گا کہ اپنا ہر کام کامل یکسوئی کے ساتھ انجام دے۔ زندگی اسی کے لیے زندگی ہے، جو حزن کی کیفیت سے بچا ہوا ہو۔ جو آدمی حزن کی کیفیت میں مبتلا ہو، وہ بظاہر زندہ ہوگا، لیکن اس کی زندگی چین سے خالی ہوگی۔
واپس اوپر جائیں

طالبِ جنت

ایک حدیث رسول میں طالب جنت کے لیے یہ الفاظ آئے ہیں: مَا رَأَیْتُ... مِثْل الجَنَّةِ نَامَ طَالِبُہَا (سنن الترمذی، حدیث نمبر 2601)۔ یعنی میں نے نہیں دیکھا، جنت جیسی چیز، جس کا طالب سورہا ہے۔اس سے معلوم ہوا کہ جنت اس کے لیے ہے، جو سراپا طالب جنت بن جائے۔ جو جنت کی حقیقت کو اتنی زیادہ گہرائی کے ساتھ دریافت کرے کہ جنت اس کا انتظار بن جائے۔ وہ جنت کی یاد میں سوئے، اور جنت کی یاد میں جاگے۔ جس کا احساس یہ بن جائے کہ اللہ نے اگر اس کو جنت نہ دی تو اس کا حال کیا ہوگا۔ اگر وہ آخرت میں جنت سے محروم ہوجائے، تو اس کا کتنا زیادہ برا حال ہوجائے گا۔ اس کے لیے زندگی کتنی بڑی مصیبت بن جائے گی۔
جنت کا طالب وہ ہے، جو جنت کو دیکھے بغیر جنت کو دیکھنے لگے۔ جو جنت کو پانے سے پہلے جنت کا طالب حقیقی بن جائے۔ طالب جنت کی تصویر قرآن کی ایک آیت میں اس طرح بیان کی گئی ہے:وَیُدْخِلُہُمُ الْجَنَّةَ عَرَّفَہَا لَہُمْ (47:6)۔ یعنی اور ان کو جنت میں داخل کرے گا جس کی اس نے انھیں پہچان کرا دی ہے۔ اس آیت میں جنت کی معرفت کو اللہ کی طرف منسوب کیا گیا ہے۔ مگر وہ مومن کی صفت ہے۔ مومن وہ ہے، جو جنت کو اس طرح دریافت کرے کہ جنت اس کا شوق بن جائے۔ اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ جنت کیا ہے، اس سے لوگوں کو پیشگی طور پر آگاہ کردیا گیا ہے۔ بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ صاحبِ ایمان جنت کے بارے میں اپنی معرفت کو اتنا زیادہ بڑھاتا ہے کہ جنت اس کے لیے پیشگی طور پر ایک معلوم چیز بن جاتی ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ جنت ایک ایسا مطلوب ہے، جو اپنی نوعیت کے اعتبار سے طالبِ جنت کا مثنی (counterpart) ہے۔ وہ فطری طور پر انسان کا ایک معلوم مسکن ہے۔ گویا کہ جنت انسان کے لیے ہے، اور انسان جنت کے لیے۔ لیکن جنت کا شوق جنت کے حصول کے لیے کافی نہیں، اس کے لیے ضروری ہے کہ آدمی ضروری تیاری کرے۔
واپس اوپر جائیں

جنت کا استحقاق

قرآن کی ایک آیت یہ ہے جَزَاؤُہُمْ عِنْدَ رَبِّہِمْ جَنَّاتُ عَدْنٍ تَجْرِی مِنْ تَحْتِہَا الْأَنْہَارُ خَالِدِینَ فِیہَا أَبَدًا رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمْ وَرَضُوا عَنْہُ ذَلِکَ لِمَنْ خَشِیَ رَبَّہُ (98:8)۔ یعنی ان کا بدلہ ان کے رب کے پاس ہمیشہ رہنے والے باغ ہیں جن کے نیچے نہریں جاری ہوں گی، ان میں وہ ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے۔ اللہ ان سے راضی اور وہ اللہ سے راضی، یہ اس شخص کے لیے ہے جو اپنے رب سے ڈرے۔
اس سورہ میں جس دو طرفہ رضامندی کی بات کہی گئی ہے، اس کا مطلب کیا ہے۔اس آیت میں اہل جنت کی کہانی اس طرح بیان کی گئی ہے کہ یہ وہ لوگ ہیں، جو اللہ سے راضی ہوگئے۔ بندے کا اللہ سے راضی ہونے کا مطلب یہ ہے کہ اللہ رب العالمین کے تخلیقی نقشے کے مطابق، بندے کو زندگی گزارنے کا جو نمونہ ملاتھا، بندے نے دنیا میں اس کے مطابق زندگی گزاری۔ بندہ اللہ کے تخلیقی نقشے پر دل سے راضی ہوا۔ اس کے بعد اللہ بھی اس پر راضی ہوگیا کہ وہ اپنے وعدے کے مطابق، ایسے بندے کے لیے اپنی جنت کے دروازے کھول دے۔
انسان کے لیے جنت کوئی خریداری کا معاملہ نہیں، بلکہ وہ رضامندی کا معاملہ ہے۔یہ اللہ رب العالمین کی رحمت کا معاملہ ہے کہ وہ انسان کے لیے جنت کو رضامندی کا معاملہ قرار دیتا ہے۔اپنی اصل حقیقت کے اعتبار سے جنت انعام کا معاملہ ہے، لیکن انسان کا درجہ بڑھانے کے لیے اللہ نے اس کو رضامندی کا معاملہ قرار دے دیا ہے۔ یہی مطلب ہے اس دوطرفہ رضامندی کا۔
جو بندہ اللہ کے تخلیقی نقشے پر راضی ہوجائے، وہ کامل رضامندی کے ساتھ خدا کے بنائے ہوئے نقشۂ حیات پر چلنے لگے گا۔یہ طریقِ حیات صرف ان لوگوں کے لیے ممکن ہے، جو صرف اللہ سے ڈرنے والے ہوں۔ اس طریقِ زندگی کو اختیار کرنے کا محرک (incentive) صرف خشیتِ رب ہے۔ جو آدمی خشیت رب سے خالی ہو، وہ ایسے طریقِ زندگی کو اختیار نہیں کرے گا۔ چنانچہ ایسے لوگوں کے لیے یہی مقدر ہے کہ اس کے سفر کی آخری منزل ابدی جنت سے محرومی ہو۔
واپس اوپر جائیں

جنت میں داخلہ
قرآن میں ایک حقیقت کچھ لفظی فرق کے ساتھ دو جگہ بیان ہوئی ہے۔ ایک مقام پر یہ الفاظ ہیں: أَمْ حَسِبْتُمْ أَنْ تَدْخُلُوا الْجَنَّةَ وَلَمَّا یَأْتِکُمْ مَثَلُ الَّذِینَ خَلَوْا مِنْ قَبْلِکُمْ مَسَّتْہُمُ الْبَأْسَاءُ وَالضَّرَّاءُ وَزُلْزِلُوا حَتَّى یَقُولَ الرَّسُولُ وَالَّذِینَ آمَنُوا مَعَہُ مَتَى نَصْرُ اللَّہِ أَلَا إِنَّ نَصْرَ اللَّہِ قَرِیبٌ (2:214)۔دوسری جگہ اس حقیقت کو ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے: أَمْ حَسِبْتُمْ أَنْ تَدْخُلُوا الْجَنَّةَ وَلَمَّا یَعْلَمِ اللَّہُ الَّذِینَ جَاہَدُوا مِنْکُمْ وَیَعْلَمَ الصَّابِرِینَ(3:142)۔ اسی طرح قرآن میں دوسرے مقام پر یہ بتایا گیا ہے کہ جنت صرف مزکّی شخصیتوں کے لیے ہے (طہٰ، 20:76) ۔
یہاں یہ سوال ہے کہ تزکیہ کا تعلق سخت حالات سے کیا ہے۔ کیا وجہ ہے کہ جب تک سخت حالات پیش نہ آئیں، آدمی کا تزکیہ مکمل نہیں ہوتا۔ اس کا سبب یہ ہے کہ تزکیہ کے عمل میں سب سے زیادہ اہم رول ڈی کنڈیشننگ کا ہے۔ جیسا کہ حدیث سے ثابت ہے کہ ہر آدمی کے ساتھ یہ پیش آتا ہے کہ اس کے والدین اس کو اپنے آبائی مذہب پر پختہ کردیتے ہیں (صحیح البخاری، حدیث نمبر 1385) ۔ تزکیہ کا سب سے اہم عمل یہ ہے کہ وہ انسان کی پختہ تاثر پذیری کو توڑے۔انسان جو کہ ایمان سے پہلے ماحول کا پروڈکٹ بنا ہوا تھا، وہ ایمان کے اثر سے ربانی شعور کا پروڈکٹ بن جائے۔ اسی کا نام تزکیہ ہے۔ تزکیہ در اصل سیلف ڈی کنڈیشننگ کا دوسرا نام ہے، یعنی اپنی متاثر شخصیت کو غیر متاثر شخصیت بنانا۔ فطرت پر پڑے ہوئے پردے کو پھاڑ کر انسان کو دوبارہ اپنی فطری حالت پر قائم کرنا۔ یہ تزکیہ ہے، اور تزکیہ سخت حالات ہی میں مکمل صورت میں انجام پاتا ہے۔ سخت حالات کے بغیر کسی شخص کے اندر ڈی کنڈیشننگ کا پراسس جاری نہیں ہوتا۔ سخت حالات انسان کو آخری حد تک جھنجھوڑ دیتے ہیں۔ سخت حالات گویا کسی انسان کے لیے "ایپل شاک" کی مانند ہیں۔ نیوٹن کو ایپل شاک کے بغیر زمین کی قوت ِکشش کا ادراک نہیں ہوا۔ اسی طرح مومن کے لیے سخت حالات ایپل شاک کا درجہ رکھتے ہیں۔ اس تجربے کے بغیر کوئی شخص کامل معنوں میں مزکیّٰ شخصیت نہیں بنتا۔
واپس اوپر جائیں

اصحابِ اعراف

قرآن میں آخرت کے ایک گروہ کا ذکر ہے، جن کو اصحاب الاعراف (الاعراف، 7:46-49) کہا گیا ہے۔اعراف عرف کی جمع ہے۔ اس کا لفظی مطلب عربی زبان میں بلندی کے ہوتے ہیں۔ اعراف والے کا مطلب ہے بلندیوں والے۔یہ کون لوگ ہیں۔ اس سے مراد پیغمبروں اور داعیوں کا گروہ ہے جنہوں نے مختلف وقتوں میں لوگوں کو حق کا پیغام دیا۔ قیامت میں جب لوگوں کا حساب ہوگا اور ہر ایک کو معلوم ہوچکا ہوگا کہ اس کا انجام کیا ہونے والا ہے اور داعیٔ حق کی بات جو وہ دنیا میں کہتا تھا،اس کی سچائی آخری طور پر صحیح ثابت ہوچکی ہوگی اس وقت ہر داعی اپنی قوم کو خطاب کرے گا۔ خدا کے حکم سے آخرت میں ان کے لیے خصوصی اسٹیج مہیا کیا جائے گا، جس پر کھڑے ہو کر پہلےوہ اپنے ماننے والوں کو خطاب کریں گے۔ یہ لوگ ابھی جنت میں داخل نہیں ہوئے ہوں گے، مگر وہ اس کے امید وار ہوں گے۔ اس کے بعد ان داعیانِ حق کا رخ دعوتِ حق جھٹلانے والوں کی طرف کیا جائے گا۔ وہ ان کی بری حالت دیکھ کر کمال عبدیت کی وجہ سے کہہ اٹھیں گے کہ خدایا ہمیں ان ظالموں میں شامل نہ کر۔ وہ گروہ منکرین کے لیڈروں کو ان کے چہرہ کی ہیئت سے پہچان لیں گے، اور ان سے کہیں گے کہ تم کو اپنے جس جتھے اور اپنے جس سازوسامان پربھروسہ تھا، اور جس کی وجہ سے تم نے پیغام حق کو جھٹلا دیا، وہ آج تمہارے کچھ کام نہ آسکا۔
" وہ ابھی جنت میں داخل نہیں ہوئے ہوں گے مگر وہ امید وار ہوں گے۔ـ" اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ دوسرے صالحین پہلے جنت میں چلے جائیں گے، اور اصحابِ اعراف بعد کو جائیں گے۔ یہ تقدیم و تاخیر کی بات نہیں ہے، بلکہ آخرت کے اعتبار سے لوگوں کے انجام کی بات ہے۔ جو لوگ دعوت کا کام کریں گے، ان کا معاملہ سادہ معاملہ نہیں ہوگا، بلکہ وہ دنیا کے مفادات سے محرومی کی بنیاد پر انجام پائے گا ۔ یہ وہ لوگ ہوں گے، جو دعوت یا شہادت کی قیمت ادا کرکے دعوت کا اور شہادت کا کام انجام دیں گے، اور پھر آخرت میں اس کا انعام پائیں گے۔
واپس اوپر جائیں

انسان کا انجام

انسان کو قرآن میں مکرم مخلوق (الاسراء، 17:70) کہا گیا ہے۔ انسان پیدا ہوتا ہے ، پھر وہ بچپن اور نوجوانی اور جوانی اور بڑھاپے کے مراحل سے گزرتا ہے۔ آخر کار وہ مرجاتا ہے۔ اس دنیا میں موت ہر آدمی کا آخری مقدر ہے۔ آدمی دنیا کی زندگی میں بہت کچھ حاصل کرتا ہے۔ مگر آخری انجام ہر ایک کا صرف ایک ہے۔ جیسا کہ قرآن میںہے:(ترجمہ) تم ہمارے پاس اکیلے اکیلے آگئے جیسا کہ ہم نے تم کو پہلی مرتبہ پیدا کیا تھا، اور جو کچھ اسباب ہم نے تم کو دیا تھا، وہ سب کچھ تم پیچھے چھوڑ آئے(6:94)۔
اب سوال یہ ہے کہ انسان کا انجام کیا ہے۔ موت کے بعد انسان کے ساتھ کیا پیش آتا ہے۔جہاں تک میں سمجھتا ہوں، انسان کو ایک کام کرنا ہے۔ وہ یہ کہ اپنے ضمیر (conscience) کو بچا کر رکھے۔ ضمیر کے بارے میں قرآن میں آیا ہے:’’پھر اس کو سمجھ دی، اس کی بدی کی اور اس کی نیکی کی‘‘(91:8)۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ انسان کو حقیقت کا علم پیدائشی طور پر دیا گیا ہے۔ حقیقت کا علم اس کے اندر گہرائی کے ساتھ موجود ہے۔ یہ اتنا زیادہ طاقت ور انداز میں ہے کہ کوئی انسان اس سے انکار نہیں کرسکتا۔مگر اس سے وہی فائدہ اٹھا سکتا ہے، جو اپنے ضمیر کو ہر حال میں زندہ رکھے۔ایسی حالت میں انسان کے لیے کرنے کا ایک کام یہ ہے کہ وہ اپنے ضمیر کو مردہ نہ ہونے دے، تاکہ وہ اپنے ضمیر کی طرف رجوع کرے۔
اگر انسان اپنے ضمیر کو لے کر سوچے گا، تو وہ کبھی راستے سے بھٹک نہیں سکتا۔ ضمیر اس کے لیے ایسا گائڈ بن جائے گا، جو ہر حال میں اس کومنزل تک پہنچائے۔اس کا طریقہ یہ ہے کہ جب ضمیر کسی بات پر ٹوکے، تو وہ فوراً اس کی آواز کو سنے۔ جب تک آدمی ایسا کرے گا، اس کا ضمیر زندہ رہےگا۔ اس کے برعکس، جب ایسا کیا جائے کہ ضمیر کے ٹوکنے کی پرواہ نہ کی جائے، تو دھیرے دھیرے ضمیر بے حس ہوجائے گا۔ اسی کو کہتے ہیں ضمیر کا مردہ ہوجانا۔
واپس اوپر جائیں

پر امید آیات و احادیث

امام سیوطی (وفات 911ھ) نے لکھا ہے کہ قرآن کی پر امید آیتوں کی تعداد دس سے کچھ زیادہ ہے (الاتقان فی علوم القرآن، 4/149) ۔ان میں سے ایک آیت یہ ہے:قُلْ یَا عِبَادِیَ الَّذِینَ أَسْرَفُوا عَلَى أَنْفُسِہِمْ لَا تَقْنَطُوا مِنْ رَحْمَةِ اللَّہِ إِنَّ اللَّہَ یَغْفِرُ الذُّنُوبَ جَمِیعًا إِنَّہُ ہُوَ الْغَفُورُ الرَّحِیمُ (39:53)۔ یعنی کہو کہ اے میرے بندو، جنھوں نے اپنی جانوں پر زیادتی کی ہے، اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہو۔ بیشک اللہ تمام گنا ہوں کو معاف کردیتا ہے، وہ بڑا بخشنے والا، مہربان ہے۔
اسی طرح احادیث میں بھی اس قسم کے پرامید اقوال آئے ہیں۔ ایک حدیث رسول ان الفاظ میں آئی ہے:لَمَّا خَلَقَ اللہُ الْخَلْقَ، کَتَبَ کِتَابًا، فَہُوَ عِنْدَہُ فَوْقَ الْعَرْشِ:إِنَّ رَحْمَتِی سَبَقَتْ غَضَبِی (مسند احمد، حدیث نمبر 7528)، و فی روایۃ : إِنَّ رَحْمَتِی غَلَبَتْ غَضَبِی(مسند احمد، حدیث نمبر8127)۔ یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، جب اللہ نے مخلوق کو پیدا کیا تو اس نے ایک کتاب لکھی۔ یہ کتاب اس کے پاس عرش کے اوپر ہے: بیشک میری رحمت میرے غضب سے آگے ہے۔ ایک اور روایت میں ہے: بیشک میری رحمت میرے غضب پر غالب ہے۔
قرآن کی مذکورہ آیت ایک بے حد پرامید آیت ہے۔ اسی طرح حدیث بھی ایک بہت پر امید حدیث ہے۔ دونوں میں جو مشترک بات ہے، وہ یہ ہے کہ اس امید کی بنیاد رحمت ہے۔ اللہ رب العالمین کی صفات میں ایک صفت اس کا رحیم و کریم ہونا ہے۔ وہ اپنے بندوں کے ساتھ ہمیشہ رحمت کا معاملہ فرماتا ہے۔ اللہ رب العالمین کی یہ صفت بندے کے لیے بلاشبہ سب سے زیادہ پر امید صفت ہے۔ اللہ رب العالمین کا رحیم و کریم ہونا، اس کے بندوںکو یہ موقع دیتا ہے کہ وہ ایسے الفاظ میں اپنے رب کو پکاریں، جو اللہ کی رحمت کو انووک کرنے والا ہو۔ اگر بندہ ایسی دعا کرے تو وہ گویا اسم اعظم کے ساتھ اپنے رب کو پکارتا ہے، اور جو آدمی اسم اعظم کے ساتھ اپنے رب کو پکارے تو اللہ رب العالمین اس کی پکار کو ضرور قبول فرماتا ہے۔
واپس اوپر جائیں

امید کا پیغام

قرآن کی ایک آیت ان الفاظ میں آئی ہے: قُلْ یَاعِبَادِیَ الَّذِینَ أَسْرَفُوا عَلَى أَنْفُسِہِمْ لَا تَقْنَطُوا مِنْ رَحْمَةِ اللَّہِ إِنَّ اللَّہَ یَغْفِرُ الذُّنُوبَ جَمِیعًا إِنَّہُ ہُوَ الْغَفُورُ الرَّحِیمُ (39:53)۔ یعنی کہو کہ اے میرے بندو جنھوں نے اپنی جانوں پر زیادتی کی ہے، اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہو۔ بیشک اللہ تمام گنا ہوں کو معاف کردیتا ہے، وہ بڑا بخشنے والا، مہربان ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ انسان کو دنیا میں طرح طرح کے فتنوں کے درمیان زندگی گزارنا پڑتا ہے۔ اس کو ہمیشہ یہ اندیشہ رہتا ہے کہ کہیں وہ فتنوں کا شکار نہ ہوجائے۔ چنانچہ اکثر صحابہ اور بزرگوں نے اس حیثیت سے قرآن پر غور کیا ہے۔ ان کی رائیںتفسیر کی کتابوں میں آئی ہیں، ان میں سے چند یہ ہیں: وَقَالَ عَلِیُّ بْنُ أَبِی طَالِبٍ: مَا فِی الْقُرْآنِ آیَةٌ أَوْسَعُ مِنْ ہَذِہِ الْآیَةِ... وَقَالَ عَبْدُ اللَّہِ بْنُ عُمَرَ:وَہَذِہِ أَرْجَى آیَةٍ فِی الْقُرْآنِ فَرَدَّ عَلَیْہِمُ ابْنُ عَبَّاسٍ وَقَالَ أرجى آیة فی القرآن قول تَعَالَى:وَإِنَّ رَبَّکَ لَذُو مَغْفِرَةٍ لِلنَّاسِ عَلى ظُلْمِہِمْ (تفسیر القرطبی،جلد 15، صفحہ 269)۔یعنی علی ابن علی طالب کہتے ہیں کہ قرآن میں اس آیت سے زیادہ وسیع آیت کوئی دوسری نہیں ہے۔ عبد اللہ ابن عمر کہتے ہیں کہ یہ آیت سب سے زیادہ امید والی آیت ہے، ابن عباس نے جب یہ سنا تو کہا کہ اس کے بجائےسب سے زیادہ امید والی آیت یہ ہے: وَإِنَّ رَبَّکَ لَذُو مَغْفِرَةٍ لِلنَّاسِ عَلى ظُلْمِہِم (13:6)۔یعنی تمہارا رب لوگوں کے ظلم کے باوجود ان کو معاف کرنے والا ہے۔
اس سلسلے میں ایک حدیث ان الفاظ میں آئی ہے: لَمَّا قَضَى اللَّہُ الخَلْقَ کَتَبَ فِی کِتَابِہِ فَہُوَ عِنْدَہُ فَوْقَ العَرْشِ إِنَّ رَحْمَتِی غَلَبَتْ غَضَبِی(صحیح البخاری، حدیث نمبر 3194)۔یعنی اللہ نے جب تخلیق کا فیصلہ کیا تو اس نے ایک کتاب اپنے پاس لکھی,یہ اس کے پاس عرش کے اوپر ہے: میری رحمت میرے غضب پر غالب ہے۔اس طرح کی آیتیں اور حدیثیں انسان کو زندگی کا حوصلہ دیتی ہیں۔
واپس اوپر جائیں

فتنہ ٔعام

ایک حدیث رسول ان الفاظ میں آئی ہےسَتَکُونُ فِتَنٌ، القَاعِدُ فِیہَا خَیْرٌ مِنَ القَائِمِ، وَالقَائِمُ خَیْرٌ مِنَ المَاشِی، وَالمَاشِی فِیہَا خَیْرٌ مِنَ السَّاعِی، مَنْ تَشَرَّفَ لَہَا تَسْتَشْرِفْہُ، فَمَنْ وَجَدَ مَلْجَأً أَوْ مَعَاذًا، فَلْیَعُذْ بِہِ (صحیح البخاری، حدیث نمبر 7082)۔ یعنی عنقریب فتنے ہوں گے۔ اس میں بیٹھنے والا، کھڑے رہنے والے سے بہتر ہوگا، اور کھڑا رہنے والا، چلنے والے سے بہتر ہوگا، اور چلنے والا کوشش کرنے والے سے بہتر ہوگا، جو اس کی طرف جھانکے گا، وہ اس میں واقع ہو جائے گا، تو جو بھی کوئی پناگاہ یا بچنے کی جگہ پائے، تو وہ اس میں پناہ لے لے۔
اس حدیث میں ایک عمومی فتنہ کا ذکر ہے۔ اس سے مراد غالباً وہ دور ہے، جب کہ ٹکنالوجی کی دریافت کے نتیجے میں مواقع (opportunities) بہت زیادہ بڑھ جائیں گی۔ ہر آدمی کو دکھائی دے گا کہ وہ بھی ان سب چیزوں کو پاسکتا ہے، جو بظاہر دوسرا آدمی پائے ہوئے ہے۔ مال کے اعتبار سے، سیاسی عہدے کے اعتبار سے، مادی فائدے کے اعتبار سے امکانات اتنے زیادہ بڑھ جائیں گے کہ اس کی رسائی ہر آدمی تک ہو جائے گی۔ گھر کے معاملے میں، اپنی فیملی کے معاملے میں، اپنے بچوں کے معاملے میں ،ہر آدمی بڑی بڑی ترقی کا خواب دیکھنے لگے گا۔ یہ فتنہ ہر آدمی کو مادہ پرست بنا دے گا۔ ہر آدمی پر ایک ہی شوق غالب ہوگا کہ وہ اور اس کی فیملی زیادہ سے زیادہ دنیوی ترقی حاصل کرے۔
مادی ترقی کی دوڑ اس زمانے میں اتنا زیادہ عام ہوجائے گی کہ دوسری چیز آدمی کو نظر ہی نہیں آئے گی۔ دنیا پرستی کا کلچر مکمل طور پر آخرت پسندی کے اوپر غالب آجائے گا۔ آدمی کو نظر آئے گا کہ جنت جب مجھ کو اسی دنیا میں مل رہی ہے، تو میں جنت کو پانے کے لیے آخرت کا انتظار کیوں کروں۔ کوئی آدمی اگر خود دنیا کی ترقی حاصل نہ کرسکا، تو وہ اپنی اولاد کو ترقی کی اس دوڑ میں ہمہ تن شامل کردے گا۔
واپس اوپر جائیں

انسان کی دریافت

خدا تمام خوبیوں کا سرچشمہ ہے—
God is the eternal source of all kinds of beauty and goodness.
خدا نے انسان کو بنایا۔ انسان اپنی ذات میں ایک مکمل وجود ہے۔ اس کے اندر ہر قسم کی اعلیٰ صلاحیتیں کمال درجہ میں موجود ہیں۔ انسان کے دماغ (brain) میں 100 million billion billion پارٹیکل ہیں۔ یہ واقعہ اس بات کی علامت ہے کہ انسان کے خالق نے انسان کے اندر لامحدود صلاحیتیں رکھ دی ہیں۔
اسی کے ساتھ انسان کو ایک ایسی انوکھی چیزدی گئی ہے، جو وسیع کائنات میں کسی کو حاصل نہیں۔ یہ ہے احساسِ مسرَت۔ انسان اس کائنات میں واحد مخلوق ہے جو pleasure کا احساس رکھتا ہے اوروہ pleasure سے انجوائے کرنے کی لامحدود capacity رکھتا ہے۔ انسان کے لیے ہر چیز امکانی طور پَر خوشی کا ذریعہ ہے۔
خدا نے اسی قسم کی انوکھی صلاحیتوں کے ساتھ انسان کو پیدا کیا ۔ اس کے بعد خدا نے ایک حسین دنیا بنائی جس کا نام اس نے جنت رکھا۔ جنت ایک perfect world ہے، جس میں ہر قسم کا pleasure اپنی آخری perfectصورت میں موجود ہے۔ انسان اور یہ جنت دونوں گویا ایک دوسرے کا مثنیٰ (کاؤنٹر پارٹ) ہیں۔ انسان جنت کے لیے ہے اور جنت انسان کے لیے۔ جنت وہ جگہ ہے جہاں انسان کو پورا fulfillment ملے۔ جنت گویا انسان کی تکمیل ہے۔ جنت کے بغیر انسان بے معنی ہے، اور انسان کے بغیر جنت بے معنٰی۔ جنت کے بغیر انسان کی زندگی ادھوری ہے، اور انسان کے بغیر جنت ادھوری۔
انسان اس جنت کا امکانی باشندہ ہے، مگر یہ جنت کسی انسان کو پیدائشی یا نسلی حق کے طورپر نہیں ملتی۔ جنت میں داخلہ کی شرط یہ ہے کہ انسان یہ ثابت کرے کہ وہ اپنی خصوصیات کے اعتبار سے اس کا مستحق ہے۔
موجودہ دنیا کو خدا نے اسی مقصد کے لیے selection ground کے طور پر بنایا ہے۔ موجودہ دنیا کے حالات اس طرح بنائے گئے ہیں کہ یہاں کا ہر جز انسان کے لیے ایک ٹسٹ پیپر کی حیثیت رکھتا ہے۔ یہاں انسان ہر لمحہ trial پر ہے۔ خدا ہر انسان کے قول و عمل کا record تیار کر رہا ہے۔ اسی recordکی بنیاد پر یہ فیصلہ کیا جائے گا کہ وہ کون عورت اور مرد ہیں ،جو جنت میں بسانے کے لیے اہل باشندہ کی حیثیت رکھتے ہیں۔
انسان کو اس دنیا میں مکمل آزادی ملی ہوئی ہے۔ یہ آزادی انعام کے طورپر نہیں بلکہ test کے طور پر ہے۔ خدا یہ دیکھ رہا ہے کہ انسان اپنی آزادی کو کس طرح استعمال کرتا ہے۔ جو عورت اور مرد اپنی آزادی کو خدا کے نقشہ کے مطابق درست طورپر استعمال کریں، ان کو جنّت میں بسانے کے لیے چُنا جائے گا اور جو لوگ آزادی کو misuse کریں وہ Day of Judgement میںقابلِ رد (rejected lot) قرار پائیں گے۔
انسان کی زندگی دو دوروں میں تقسیم ہے۔ قبل ازموت دور (pre-death period) اور بعد ازموت دور (post-death period) ۔قبل از موت دور امتحانی دور(trial period)ہے، اور بعد ازموت دور انعام پانے کا دور (reward period) ۔ یہی وہ سب سے بڑی حقیقت ہے، جس کو جاننے اور اختیار کرنے میں انسان کی کامیابی اور ناکامی کا راز چھپا ہوا ہے۔
ôôôôô
جنت کے حصول کا مدارجس چیز پر ہے، وہ ہے اپنی خواہشوں پر کنٹرول کرنا اور اپنی عقل کو ترقی دینا ۔ انسان کے اندر بہت سی خواہشیں ہیں۔ اِسی خواہش کے راستے سے شیطان نے آدم کے اوپر حملہ کیا، اور وہ کامیاب ہوگیا۔ ہر خواہش انسان کے اندر شیطان کے داخلے کا دروازہ ہے۔ آدمی کو چاہیے کہ وہ اپنی خواہش کے ہر دروازے پر چوکی دار بنا رہے، تاکہ شیطان اس کے اندر داخل ہو کر اُس کو خدا کی رحمت سے دور نہ کرسکے۔
واپس اوپر جائیں

یہ تضاد کیوں

شیلے(Percy Bysshe Shelley) ایک انگلش شاعر ہے۔ وہ 1792ءمیں پیدا ہوا، اور 1822ءمیں اس کی وفات ہوئی۔ اس نے ایک بار کہا تھا کہ ہمارے سب سے زیادہ شیریں نغمے وہ ہیں جو سب سے زیادہ غم ناک نغمے ہیں:
Our sweetest songs are those that tell of saddest thought.
یہ ایک عام تجربے کی بات ہے ۔ ہر عورت اور مرد کا یہ حال ہے کہ اس کو دردناک کہانیاں یا غم انگیز اشعار زیادہ پسند آتے ہیں۔ اکثر مقبول ناول وہ ہیں جو طَربیہ نہیں ہیں بلکہ المیہ ہیں۔ اسی طرح اکثر ایسا ہوتا ہے کہ وہ گیت کار زیادہ مقبول ہوتے ہیں جو پُر سوز لہجے میں گانے کی صلاحیت رکھتے ہوں۔ ایسا کیوں ہے۔ کیا وجہ ہے کہ پُر سوز اشعاریا پُر سوز کہانیاں انسان کے دل کے تاروں کو چھیڑنے میں زیادہ کامیاب ہیں۔ اس کا سبب یہ ہے کہ ہر انسان عملاً محرومی یا عدم یافت کی نفسیات میں جیتا ہے۔ ایسی حالت میں خوشی کی بات اس کو غیر واقعی معلوم ہوتی ہے۔اس کے مقابلے میں غم کی بات اس کو زیادہ مبنی بَر واقعہ نظر آتی ہیں۔
زیادہ گہرائی کے ساتھ مطالعہ کیجیے تو معلوم ہوگا کہ انسان ایک لذت پسند حیوان ہے:
Man is a pleasure-seeking animal.
ناقابلِ پیمائش حد تک وسیع کائنات کے اندر انسان ایک استثنائی مخلوق ہے۔ اِس عالم میں انسان ایک واحد مخلوق ہے، جو احساس لذّت کی صفت رکھتا ہے۔ یہ انسان کی انوکھی صفت ہے کہ وہ مختلف قسم کی لذّتوں کا احساس رکھتا ہے اور اس سے لطف اندوز ہوسکتا ہے۔ وسیع کائنات میں بے شمار مخلوقات ہیں مگر لذت سے لطف اندوز ہونے کی صفت استثنائی طورپر صرف انسان کے اندر پائی جاتی ہے۔
انسان کے لیے سوچنا بھی لذت ہے، دیکھنا بھی لذّت ہے، سننا بھی لذت ہے، بولنا بھی لذّت ہے، کھانا اور پینا بھی لذت ہے، سونگھنا بھی لذت ہے اور چھونا بھی لذت ہے، حتی کہ ہری گھاس کا لان ہواور اس پرآپ ننگے پاؤں چلیں تو اِس لمس میں بھی آپ کو بے پناہ لذت محسوس ہوگی۔
مگر یہاں ایک عجیب تضاد پایا جاتا ہے۔ انسان کے اندر لذت کااحساس تو انتہا درجے میں موجود ہے، مگر لذت سے لطف اندوز ہونا اس دنیا میں اس کے لیے ممکن نہیں۔ میں ایک بار کشمیر گیا، وہاں پہلگام کے علاقے میں ایک پہاڑی دریا ہے، جو پہاڑوں کے اوپر برف پگھلنے سے جاری ہونے والے چشموں کے ذریعہ سے بنتا ہے۔اس کا پانی انتہائی خالص پانی ہے۔ جب میں پہلگام پہنچا اور وہاں دریا کے صاف و شفاف پانی کو دیکھا تو مجھے خواہش ہوئی کہ میںاس کا پانی پیوں۔ میں نے بہتے ہوئے دریا سے ایک گلاس پانی لے کر پیا تو وہ مجھے بہت زیادہ اچھا لگا، تمام مشروبات سے زیادہ اچھا۔ میں نے ایک گلاس کے بعد دوسرا گلاس پیا، یہاں تک کہ میں چھ گلاس پانی پی گیا۔
چھٹے گلاس کے بعد بھی میرا اشتیاق باقی تھا، مگر میںمزید پانی نہ پی سکا۔ اب میرے سر میں سخت درد شروع ہوگیا ۔ درد اتنا شدید تھا کہ مجھے فوراً وہاں سے واپس ہونا پڑا۔ میں واپس ہوکر سری نگر پہنچا۔ سری نگر میں ایک کشمیری تاجر کے یہاں میرے شام کے کھانے کا انتظام تھا۔ کئی اور لوگ اِس موقع پر بلائے گئے تھے۔ میں وہاں پہنچا تو میرے سر میں اتنا شدید درد ہو رہا تھا کہ میں کھانے میں شریک نہ ہوسکا۔ بلکہ ایک اور کمرے میں جاکر لیٹ گیا۔
یہی حال دنیا کی تمام لذتوں کا ہے۔ انسان دولت کماتا ہے۔ اقتدار حاصل کرتا ہے۔ اپنی پسند کی شادی کرتا ہے۔ اپنے لیے شان دار گھر بناتا ہے۔ عیش کے تمام سامان اکھٹا کرتا ہے۔ مگر جب وہ یہ سب کچھ کر چکا ہوتا ہے، تو اس کو معلوم ہوتا ہے کہ اس کے اور لذتوں کے درمیان ایک حتمی رکاوٹ حائل ہے۔ کسی بھی لذت سے وہ اپنی خواہش کے مطابق لطف اندوز نہیں ہوسکتا۔ لذت کے تمام سامان بھی اس کو خوشی اور سکون دینے میں ناکام رہتے ہیں۔
لذتوں کے بارے میں انسان کی خواہش لامحدود ہے۔ مگر لذتوں کو استعمال کرنے کے لیے وہ خود ایک محدودصلاحیت رکھنے والا انسان ہے۔ انسان کی یہی محدودیت ہر جگہ اس کے اور سامانِ لذت کے درمیان حائل ہوجاتی ہے۔ سب کچھ پانے کے بعد بھی وہ بدستور احساسِ محرومی میں مبتلا رہتاہے۔ انسان کی جسمانی کمزوری، جوانی کا زوال، بڑھاپا، بیماری، حادثات اور آخر میںموت، مسلسل طورپر اس کی خواہشوں کی نفی کرتے رہتے ہیں۔ لذت کا سامان حاصل کرلینے کے باوجود یہ ہوتاہے کہ جب وہ اس کو استعمال کرنا چاہتا ہے تو خواہش کی تکمیل سے پہلے ہی اس کی طاقت کی حد آجاتی ہے۔ وہ ایک ختم شدہ طاقت(spent force) کی مانند بن کر رہ جاتا ہے۔
اس تضاد کو لے کر مزید مطالعہ کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ یہ تضاد در اصل تضاد نہیں ہے، بلکہ وہ ترتیب کے فرق کا نتیجہ ہے۔ وہ فرق یہ ہے کہ فطرت کے نظام کے تحت، انسان کے لیے یہ مقدر کیاگیا ہے کہ وہ موت سے قبل کے دَور میں اپنی مطلوب لذتوں کا صرف تعارف حاصل کرے، اور موت کے بعد کے دَور میں ان لذتوں کو حقیقی طورپر اور مکمل طورپر حاصل کرے۔
یہ ترتیب اتفاقی نہیں ہے، وہ خود فطرت کا حصہ ہے، وہ فطرت کے پورے نظام میں پائی جاتی ہے۔ اِس دنیا میں انسان کو جو کامیابی بھی ملتی ہے، وہ اسی ترتیب کے اصول کے تحت ملتی ہے۔ اس دنیا کی کوئی بھی کامیابی ترتیب کے اس اصول سے مستثنیٰ نہیں۔
زراعت میں پہلے بونا ہوتا ہے، اس کے بعد کاٹنا۔ باغبانی میںپہلے پَودا اُگانا ہوتا ہے، اور اس کے بعد اس کا پھل حاصل کرنا۔ لوہے کو پہلے پگھلانا ہوتا ہے، اور اس کے بعد اس کو اسٹیل بنانا۔ غرض اس دنیا میں جتنی بھی چیزیں ہیں، ان میں سے ہرایک کے ساتھ یہی ترتیب اور تدریج کا معاملہ ہوتا ہے۔ ہر چیز پہلے اپنے ابتدائی دَور سے گزرتی ہے، اور پھر وہ اپنے انتہائی مرحلے تک پہنچتی ہے۔ فطرت کے اِس اصول میں کسی بھی چیزکا کوئی استثنا نہیں۔
یہی معاملہ انسان کا ہے۔ انسان کو لذت کا لامحدود احساس دیا گیا ہے،مگر لذتوں سے لامحدود طور پر تمتُّع کرنے کا سامان موت کے بعد آنے والی اگلی دنیا میں رکھ دیا گیا ہے۔ موجودہ دنیا میں آدمی اپنی لذت طلبی کی صلاحیت کو دریافت کرتا ہے اور اگلی دنیا میں وہ اپنی لذت طلبی کے مطابق، لذت کے تمام سامانوں کو حاصل کرے گا۔ موت سے پہلے کے مرحلۂ حیات میں لذت کا احساس، اور موت کے بعد کے مرحلۂ حیات میں لذت سے تمتع۔
خالقِ کائنات نے اپنے تخلیقی نقشے کے مطابق، ایسا کیا ہے کہ موجودہ دنیا میں وہ انسان کو ممکن لذتوں کاابتدائی تعارف کراتا ہے۔ اس طرح وہ انسان کو یہ پیغام دے رہا ہے کہ اگر تم اِن لذتوں سے ابدی طورپر اور کامل طورپر متمتّع ہونا چاہتے ہو تو اپنے اندراس کا استحقاق پیدا کرو۔
یہ استحقاق کیا ہے۔ یہ استحقاق، ایک لفظ میں یہ ہے کہ آدمی اپنے آپ کو پاکیزہ روح (purified soul) بنائے (طہ، 20:76)۔یعنی وہ اپنے آپ کو ہر قسم کے منفی احساسات سے پاک کرے۔ وہ اپنے آپ کو لالچ، خود غرضی، حسد، بددیانتی، جھوٹ، غصّہ، انتقام، تشدّد اور نفرت جیسے تمام غیر انسانی جذبات کا شکار ہونے سے بچائے۔ وہ اپنے اندر وہ اعلیٰ انسانی شخصیت پیدا کرے جو مکمل طورپر مثبت شخصیت ہو۔ جو اپنے اعلیٰ اوصاف کے اعتبار سے اس قابل ہو کہ وہ خدا کے پڑوس میں رہ سکے۔ جو شیطانی انسان سے اوپر اٹھ کر ملکوتی انسان (divine personality) بن جائے۔
انسان کی زندگی دو مرحلوں میں تقسیم ہے،—موت سے پہلے اور موت کے بعد۔ اس مرحلۂ حیات کا نسبتاً مختصر حصّہ موت سے پہلے کے دو رمیں رکھا گیا ہے، اور اس کا زیادہ طویل عرصہ موت کے بعد کے دَور میں۔ انسان کی کہانی کو اگر صرف موت سے پہلے کے مرحلۂ حیات کی نسبت سے دیکھا جائے تو وہ ایک المیہ(tragedy) نظر آئے گی۔ لیکن اگر انسان کی کہانی کو موت کے بعد کے مرحلۂ حیات کو سامنے رکھ کر دیکھا جائے تو وہ مکمل طورپر ایک (comedy) نظر آنے لگے گی۔
فطرت کے اس تخلیقی نقشہ (creation plan) کے مطابق، انسان ایک انتہائی نازک مقام پر کھڑا ہوا ہے۔ وہ ایک ایسے مقام پر ہے جہاں اس کو دو ممکن انتخابات میںسے ایک کا انتخاب کرنا ہے— موجودہ دنیا کے مواقع کو فطرت کے نقشے کے مطابق استعمال کرنا، اور پھر ابدی لذتوں میں جینے کا مستحق بن جانا۔ یا موجودہ دنیا میں غفلت کی زندگی گذارنا، اوربعد کے دورِ حیات میں ابدی طورپر لذتوں سے محروم ہوجانا۔
واپس اوپر جائیں

اہلِ جنت کے درجات

قرآن کی سورہ الحدید میں جنت کا ذکر کرتے ہوئے یہ الفاظ آئے ہیں سَابِقُوا إِلَى مَغْفِرَةٍ مِنْ رَبِّکُمْ وَجَنَّةٍ عَرْضُہَا کَعَرْضِ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ(57:21)۔ یعنی لوگو، دوڑو اپنے رب کی معافی کی طرف اور ایسی جنت کی طرف جس کی وسعت آسمان اور زمین کی وسعت کے برابر ہے۔ دوسری جگہ اہل جنت کی زبان سے یہ خبر دی گئی ہے  وَقَالُوا الْحَمْدُ لِلَّہِ الَّذِی صَدَقَنَا وَعْدَہُ وَأَوْرَثَنَا الْأَرْضَ نَتَبَوَّأُ مِنَ الْجَنَّةِ حَیْثُ نَشَاءُ فَنِعْمَ أَجْرُ الْعَامِلِینَ (39:74)۔یعنی اوروہ کہیں گے کہ شکر ہے اُس اللہ کا جس نے ہمارے ساتھ اپنا وعدہ سچ کر دکھایا اور ہم کواس زمین کا وارث بنادیا۔ ہم جنت میںجہاں چاہیں مقام کریں۔ پس کیا خوب بدلہ ہے عمل کرنے والوں کا ۔
قرآن کے اس بیان سے اندازہ ہوتاہے کہ جنت ایک ایسی دنیا ہوگی جو تمام جنتیوں کے لیے کھلی ہوئی ہوگی۔ کوئی جنتی انسان اس وسیع دنیا میں جہاں چاہے گا اپنا مبوّأ (اقامت گاہ) بنا سکے گا۔ اقامت یا سکونت کے اعتبار سے ہرجنتی کو یکساں آزادی حاصل ہوگی۔
دوسری آیتوں اورحدیثوں سے یہ ثابت ہے کہ جنت میں فرق مراتب ہوگا۔ کچھ جنتی افراد دوسرے جنتیوں کے مقابلے میںزیادہ اونچی جنت کے مالک ہوں گے۔ مثلاً قرآن کے مطابق، اُن میں سے کچھ سابق ہوں گے، اور کچھ مقتصد (الفاطر، 35:32)۔ اب سوال یہ ہے کہ یہ فرق مراتب کس اعتبار سے ہوگا۔ غور کرنے سے یہ سمجھ میںآتا ہے کہ یہ فرق استمتاع (enjoyment) کے اعتبار سے ہوگا۔ جنت اپنے ظواہر کے اعتبار سے غالباً ہر ایک کے لیے یکساں ہوگی، مگر جنت کی نعمتوں سے محظوظ ہونے کا جو معاملہ ہے، وہ ہر ایک کے لیے یکساں نہ ہوگا۔ کسی کو جنت کی نعمتوں سے زیادہ حظّ ملے گا، اورکسی کو نسبتاً کم۔
محظوظیت کا یہ فرق معرفت یا شعور کے فرق کی بنیاد پر ہوگا۔ دنیا کی زندگی میں جو شخص شعور یا معرفت کے جس درجے پر پہنچا ہوگا، اُسی درجے کے برابر وہ جنت کی نعمتوں سے محظوظ ہوسکے گا۔ گویا مکانی اعتبار سے جنت کے تمام افراد یکساں طورپر اقامت میں شریک ہوں گے، مگر جو شخص شعوری اعتبار سے ارتقا کے جس درجے پر ہوگا اُسی نسبت سے وہ جنت کی نعمتوں سے متمتع ہوسکے گا۔
اس معاملے کو سمجھنے کے لیے ایک حدیث کا مطالعہ کیجیے۔ محدث البیہقی نے ایک روایت ان الفاظ میں نقل کی ہے:أَنَّ عَبْدَ اللہِ بْنَ رَوَاحَةَ قَالَ لِصَاحِبٍ لَہُ تَعَالَ حَتَّى نُؤْمِنَ سَاعَةً . قَالَأَوَلَسْنَا بِمُؤْمِنَیْنِ؟ قَالَ:بَلَى، وَلَکِنَّا نَذْکُرُ اللہَ فَنَزْدَادُ إِیمَانًا(شعب الایمان للبیہقی، حدیث نمبر 49)۔ یعنی عبداللہ ابن رواحہ صحابی نے اپنے ایک ساتھی سے کہا کہ آؤ، ہم ایک ساعت کے لیے ایمان لائیں۔ ساتھی نے کہا کہ کیا ہم مومن نہیں ہیں؟ ابن رواحہ نے کہا کہ ہاں، مگر جب ہم اللہ کو یاد کرتے ہیں تو ہم اپنے ایمان میںاضافہ کرتے ہیں۔
اس روایت سے اندازہ ہوتا ہے کہ ایک انسان وہ ہے جو کلمۂ توحید کا اقرار کرنے کے بعد یہ سمجھے کہ وہ صاحب ایمان ہوگیا، جو ایمان اُس کو ملنا تھا وہ اُسے مل گیا۔ ایمان یا عقیدہ کے اعتبار سے اب اُسے کچھ اور پانا نہیں ہے۔ اس کے مقابلے میںدوسرا انسان وہ ہے جو بار بار اللہ کو یاد کرے، وہ اللہ پر غور و فکر کرے۔ اور اس طرح وہ اپنی معرفت ایمانی کو بڑھاتا رہے۔ اُس کا ایمان مسلسل شعوری ترقی کرتا رہے۔
اس مثال سے اندازہ ہوتا ہے کہ اصحاب ایمان میں معرفت کے اعتبار سے درجات ہوتے ہیں۔ کوئی اعلیٰ معرفت کے درجے پر ہوتا ہے اورکوئی اُس سے کم معرفت کے درجے پر۔ معرفتِ حق کا یہ فرق جنت میں استمتاع کے اعتبار سے فرق پیدا کردے گا۔
ایک مومن وہ ہے جس نے قرآن میں الْحَمْدُ لِلَّہِ رَبِّ الْعَالَمِینَ پڑھا، تو اُس نے کسی شک اورتردد کے بغیر اس حقیقت کو مان لیا۔ اُس نے یقین (conviction) کے درجے میں اُس کو قبول کرلیا۔ قرآن کا دوسرا قاری وہ ہے کہ جب اُس نے الْحَمْدُ لِلَّہِ رَبِّ الْعَالَمِینَ پڑھا تو اس آیت میں تخلیق الٰہی کے ایسے گہرے معانی اُس کے ذہن میں تازہ ہوگئے کہ اُس کے اندر اہتزاز (thrill) کی کیفیت پیدا ہوگئی۔ وہ حمد خداوندی کے جذبے سے سرشار ہوگیا۔
اسی طرح ایک مومن وہ ہے جس کے سامنے اللہ کا ذکر کیا جائے تو وہ اُس کو ایک سچائی مان کر اُس کو قبول کرلے۔ مثلاً چھینک آنے پرایک شخص اگر کہے :الْحَمْدُ لِلَّہِ ، تو اُس کو سن کر اُس کی زبان پر یہ کلمہ آجائے کہ یرحمک اللہ۔ اس کے مقابلے میں دوسرا مومن وہ ہے جس کے سامنے اللہ کا ذکر کیا جائے تو اپنی بڑھی ہوئی معرفت کی بنا پر اُس کا یہ حال ہوکہ اللہ کی عظمت کے احساس سے اُس کے بدن کے رونگٹے کھڑے ہوجائیں۔ اللہ کی کبریائی کو سوچ کر اُس کا دل دہل اُٹھے، جیسا کہ قرآن میں ہے إِنَّمَا الْمُؤْمِنُونَ الَّذِینَ إِذَا ذُکِرَ اللَّہُ وَجِلَتْ قُلُوبُہُمْ وَإِذَا تُلِیَتْ عَلَیْہِمْ آیَاتُہُ زَادَتْہُمْ إِیمَانًا وَعَلَى رَبِّہِمْ یَتَوَکَّلُونَ (8:2)۔یعنی ایمان والے تو وہ ہیں کہ جب اللہ کا ذکر کیا جائے تو ان کے دل دہل جائیں اور جب اللہ کی آیتیں ان کے سامنے پڑھی جائیں تو وہ ان کا ایمان بڑھا دیتی ہیں اور وہ اپنے رب پر بھروسہ رکھتے ہیں۔
اسی طرح ایک مومن وہ ہے جس نے قرآن میںیہ آیت پڑھی:وَالَّذِی ہُوَ یُطْعِمُنِی وَیَسْقِینِ (26:79)۔ یعنی اور جو مجھ کو کھلاتا ہے اور پلاتا ہے۔ اُس نے اس آیت کو اُس کے ظاہری مفہوم کے اعتبار سے لیا اور اُس کی زبان پر شکر کے الفاظ آگئے۔ دوسرا مومن وہ ہے جو اس آیت کو پڑھے تو اُس کے ذہن میںحقائق کاایک دفتر کھل جائے۔ وہ سوچے کہ زمین وآسمان کے اندر بے شمار سرگرمیاں ظہور میں آئیں۔ اُس کے بعد یہ ممکن ہوا کہ وہ چیز بن کر تیار ہوجس کو ہم کھانا اور پانی کہتے ہیں اور جو زندگی کی بقا کے لیے لازمی طورپر ضروری ہے۔ یہ سوچ کر اُس کے سینے میں کمالاتِ خداوندی کے اعتراف کا ایک سمندر موجزن ہوجائے۔ حتیٰ کہ یہ احساس اُس کی آنکھوں سے آنسوؤں کی شکل میں بہہ پڑے۔
یہ دونوں ہی مومن حمد خدا وندی کے احساس کے حامل ہیں۔ مگر معرفت کے فرق کے اعتبار سے دونوں کے درمیان اتنا زیادہ فرق پیدا ہوگیا ہے کہ اُس کو لفظوں میں بیان کرنا ممکن نہیں۔
قرآن وحدیث سے ثابت ہے کہ جو لوگ سچے دل کے ساتھ ایمان لائیں، جن کی نیتیں درست ہوں۔ جو بقدر استطاعت اللہ کے احکام کی پابندی کریں، وہ جنت میں جائیں گے۔ مگر یہ ایمان کا ابتدائی درجہ ہے۔ ایمان کا اعلیٰ درجہ وہ ہے جو معرفت کے سفر کے ساتھ ترقی کرتا رہتا ہے۔ جو ربّانی سمندر میں فکری غوطہ لگانے سے حاصل ہوتا ہے۔ اس میںشک نہیں کہ دونوں قسم کے اصحابِ ایمان کے لیے جنت ہے۔ مگر جنت کی نعمتوں سے محظوظ ہونے کے معاملہ میںایک مومن اوردوسرے مومن کے درمیان وہی فرق ہوجائے گا، جو دنیا میںمعرفت حق کے اعتبار سے دونوں کے درمیان پایا جاتا تھا۔
واپس اوپر جائیں

انتخابِ ڈائری 1985

26 جنوری 1985
لارڈ میو نے اپنا ایک واقعہ لکھا ہے کہ وہ ایک بار ایک جزیرے میں تھے۔ وہاںانھیں غروب آفتاب کا منظر دیکھنے کا موقع ملا۔ وہ لکھتے ہیں کہ یہ منظر اتنا حسین تھا کہ میں نے چاہا کہ اس کو ہمیشہ دیکھتا رہوں:
I wish I could see this sunset forever.
نیچر بے حد حسین ہے۔ اس کو دیکھنے سے کبھی آدمی کا جی نہیں بھرتا۔ آدمی چاہتا ہے کہ نیچر کو مستقل طور پر دیکھتا رہے۔ مگر زندگی کے تقاضے اس کو مجبور کرتے ہیں، اور اس سے سیر ہوئے بغیر وہ اس کو چھوڑ کر چلا جاتا ہے۔
نیچر (nature)موجودہ دنیا میں جنت کی نمائندہ ہے۔ وہ آخرت کی جنت کی ایک جھلک ہے۔ جنت میں جو لطافت، جو حسن، جو بے پناہ کشش ہوگی، اس کا ایک دور کا مشاہدہ موجودہ دنیا میں نیچر کی صورت میں ہوتا ہے۔ نیچر ہم کو جنت کی یاد دلاتی ہے۔ وہ ہم کو بتاتی ہے کہ دنیا میں جنت والے عمل کرو تاکہ آخرت میں خدا کی جنت کو پاسکو۔ دنیا میں آدمی جنت کی جھلک سے بھی پوری طرح لطف اندوز نہیں ہوسکتا۔ مگر آخرت کی کامل دنیا میںآدمی کے لیے ممکن ہوگا کہ وہ جنت سے آخری حد تک لطف اندوز ہوسکے۔
6 مئی 1985
آخرت میںخدا کی جنت کے دروازے ان لوگوں کے لیے کھولے جائیں گے، جو دنیا میں اپنے دل کے دروازے خدا کی نصیحت کے لیے کھولیں۔
جنت اور جہنم کا فیصلہ دراصل دل کی دنیا میں ہوتا ہے۔ خدا اپنے کسی بندے کے ذریعہ آدمی کے دل کے دروازہ پر دستک دیتا ہے۔ وہ کسی بندۂ خاص کے ذریعے اس کے پاس اپنا پیغام بھیجتا ہے۔ یہ لمحہ کسی انسان کی زندگی میں نازک ترین لمحہ ہوتا ہے۔ اگر وہ اس وقت اپنے دل کے دروازے کھول دے تو گویا کہ اس نے اپنی جنت کا دروازہ کھول لیا۔ اگر وہ اس وقت اپنے دل کے دروازے بند رکھے تو گویا اس نے اپنے اوپر جنت کے دروازے کو بند کرلیا— اس دنیا میں حق کو قبول کرنا یا حق کا انکار کرنا ہی وہ خاص لمحہ ہے جب کہ آدمی کے لیے ابدی جنت یا ابدی جہنم کا فیصلہ ہوتا ہے۔
23 مئی 1985
غالباً 1970 میں مجھے تاج محل دیکھنے کا اتفاق ہوا۔ تاج محل کو دیکھنے سے پہلے تاج محل کے بارے میں بہت سے مضامین پڑھے تھے۔ ان مضامین میں تاج محل مجھے بہت عظیم محسوس ہوتا تھا۔ مگر جب میںنے تاج محل کو دیکھا تو وہ اس سے بہت کم تھا جو میںاپنے ذہن میں سمجھ رکھا تھا۔
یہی حال تمام انسانی مصنوعات کا ہے۔ انسانی ساخت کی کسی چیز کے بارے میں اسے دیکھنے سے پہلے جو میری رائے تھی وہ اس کو دیکھنے کے بعد باقی نہ رہی۔ ہر انسانی چیز دیکھتے ہی اس سے کم نظر آئی جو دیکھنے سے پہلے محسوس ہوتی تھی۔مگر فطرت کے مناظر کا معاملہ اس سے مختلف ہے۔ کوئی فطری واقعہ اس سے بہت زیادہ عظیم ہے جو دیکھنے سے پہلے سن کر یا پڑھ کر میں سمجھ رہا تھا۔
اس کی وجہ یہ ہے کہ فطرت کا ہر واقعہ اتھاہ حد تک عظیم اور حسین ہے، انسانی الفاظ اس کو پوری طرح بیان نہیں کرپاتے۔ یہاں ہر بولا ہوا لفظ اصل حقیقت سے بہت کم ہوتاہے۔ یہی وجہ ہے کہ فطرت دیکھنے میں اس سے زیادہ نظر آتی ہے جتنا کہ وہ پڑھنے یا سننے میں محسوس ہو رہی تھی۔
19 ستمبر 1985
موجودہ زمانے کے ماہرین نے اندازہ لگایا ہے کہ انسان کے دماغ (brain) میں جو پارٹیکل ہیں وہ پوری کائنات کے مجموعی پارٹیکل سے بھی زیادہ ہیں۔ انسانی دماغ کی استعداد بے پناہ ہے مگر کوئی بڑے سے بڑا انسان بھی اب تک اپنے دماغ کو دس فی صد سے زیادہ ا ستعمال نہ کرسکا۔
حقیقت یہ ہے کہ آدمی ایک امکان ہے۔ مگر موجودہ دنیا اپنی محدودیتوں کے ساتھ اس امکان کے ظہور کے لیے ناکافی ہے۔ انسانی امکان کے ظہور میں آنے کے یے ایک لامحدود اور وسیع تر دنیا درکار ہے— جنت کی دنیا، ایک اعتبار سے، اسی لیے بنائی گئی ہے کہ وہاں آدمی کے امکانات پوری طرح ظہور میں آسکیں۔
14 اکتوبر 1985
جنت کے بارے میں قرآن میں ’’عندکَ‘‘ (تمھارے پاس) اور ’’عند ربّہم‘‘ (ان کے رب کے پاس)کے الفاظ آئے ہیں۔ اس سے میں یہ سمجھا ہوں کہ جنت مجلسِ خداوندی میں جگہ پانے کا دوسرا نام ہے۔ خدا کی صفت خاص یہ ہے کہ وہ پرفکٹ (perfect) ہے۔ خدا کے قریب جو دنیا ہوگی وہاں ہر چیز پرفکٹ ہوگی۔ وہاں پرفکٹ باتیں ہوں گی۔ پرفکٹ سلوک ہوگا۔ پرفکٹ سامان ہوںگے۔یہ ایک پرفکٹ ماحول ہوگا، اور پرفکٹ ماحول میں جینے ہی کا نام جنت ہے۔
یہ پرفکٹ دنیا اتنی زیادہ قیمتی ہے کہ انسان کا کوئی بھی عمل، خواہ وہ کتنی ہی مقدار میں ہو، اس کی قیمت نہیں بن سکتا۔ حقیقت یہ ہے کہ کسی بھی شخص کو اپنے عمل کی قیمت پر جنت میں جگہ نہیں مل سکتی۔ تاہم ایک چیز ہے جو جنت کی قیمت ہے۔ اوروہ ہے پرفکٹ تھنکنگ۔ آدمی عمل کی سطح پر پرفکٹ نہیں بن سکتا۔ مگر سوچ (تھنکنگ) کی سطح پر وہ پرفکٹ بن سکتا ہے۔ یہی وہ چیز ہے جو موجودہ دنیا میں آدمی کو حاصل کرنا ہے، اور یہی وہ چیز ہے جو کسی آدمی کو جنت میں داخلے کا مستحق بنائے گی۔
19 اکتوبر 1985
جنت صبر کے اُس پار ہے، مگر اکثر لوگ جنت کو صبر کے اِس پار تلاش کرنے لگتے ہیں۔
6 نومبر 1985
قرآن میں اہل جنت کے بارہ میں آیا ہے کہ وہ با اقتدار بادشاہ کے پاس سچی نشستوں پر بیٹھے ہوئے ہوں گے ( فِی مَقْعَدِ صِدْقٍ عِنْدَ مَلِیکٍ مُقْتَدِرٍ )54:55۔
موجودہ دنیا میں آدمی جھوٹی نشستوں پر بیٹھا ہوا ہے۔ آخرت میں آدمی سچی نشستوں پر بٹھایا جائے گا۔ ہر آدمی فریب اور استحصال کے ذریعہ اونچی جگہ پائے ہوئے ہے۔ یہاں ہم کو ایسے لوگوں کے درمیان زندگی گزارنا پڑتا ہے، جو اپنے آپ کو اس کا پابند نہیں سمجھتے کہ وہ اپنے اختیار کو صرف عدل کے دا ئرے میں استعمال کریں۔
آخرت کا معاملہ اس سے مختلف ہوگا۔ اللہ تعالیٰ کو ہر قسم کا کامل اختیار حاصل ہے۔ مگر اس نے اپنے آپ کو اس کا پابند بنا رکھا ہے کہ وہ عدل اور رحمت کے دائرہ ہی میں اپنے اعلیٰ اختیارات کو استعمال کرے ( کَتَبَ عَلَى نَفْسِہِ الرَّحْمَةَ [6:12]) اسی کے ساتھ وہ ایک ایسی ہستی ہے، جو اعلیٰ ترین معیاری ذوق رکھتا ہے۔ وہ پرفکٹ سے کم پر کبھی راضی نہیں ہوتا۔ ایسے شہنشاہ کے پڑوس میں جگہ پانا کس قدر پر مسرت اور لذیذ ہوگا اس کا اندازہ نہیں کیا جاسکتا۔
22 نومبر 1985
قرآن میں اہلِ جنت کی صفات میں سے ایک صفت یہ بیان ہوئی ہے کہ وہ اس دن کی مصیبت سے ڈرتے ہیں جو ہر طرف پھیل پڑے گی۔ وہ اللہ کی محبت میں محتاج کو اور یتیم کو اور قیدی کو کھلاتے ہیں۔ (اور یہ کہتے ہیں) کہ ہم جو تم کو کھلاتے ہیں تو صرف اللہ کی خوشی چاہنے کے لیے کھلاتے ہیں۔ ہم تم سے نہ بدلا چاہتے ہیں، اور نہ شکر گزاری۔ ہم اپنے رب سے ایک ایسے دن کے بارے میں ڈرتے ہیں جو بڑی اداسی والا اور سختی والا ہوگا(76:7-10)۔ان آیات کو پڑھ کر ایک صاحب نے کہا کہ ایسے موقع پر یہ الفاظ عربی میں کہنا چاہیے یا اس کو اپنی زبان میں بھی کہا جاسکتا ہے۔
میں نے کہا کہ آپ اس آیت کا مطلب نہیں سمجھے۔ اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ جب کسی حاجت مند کی مدد کی جائے تو اس وقت زبان سے یہ الفاظ دہرائے جاتے رہیں۔ اس سے مراد الفاظ نہیں بلکہ احساسات ہیں۔ یعنی جب کسی کے ساتھ حسن سلوک کیا جائے تو آدمی کے دل میں یہ احساس طاری ہونا چاہیے۔ اس کا یہ مطلب نہیں کہ وہ ان الفاظ کو یاد کرلے اور ہر ایسے موقع پر ان الفاظ کو دہرادیا کرے۔ کبھی زبان سے کچھ الفاظ بھی نکل پڑتے ہیں مگر اصلاً یہاں جس چیز کا ذکر ہے وہ احساسات ہی ہیں۔
19 دسمبر1985
قرآن میں آیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے اوپر رحمت کو لکھ رکھا ہے ( کَتَبَ عَلَى نَفْسِہِ الرَّحْمَةَ [6:12]) ۔موجودہ دنیا میں انسان کے پاس اقتدار ہے۔ مگر اس نے اپنے آپ کو رحمت اور عدل کا پابند نہیںکیا ہے، اس لیے موجودہ دنیا فساد اور خرابیوں سے بھر گئی ہے۔مگر آخرت میں سارا اقتدار صرف ایک اللہ کے پاس ہوگا، اور اللہ نے ہر قسم کا مطلق اختیار رکھنے کے باوجود اپنے آپ کو رحمت اور عدل کا پابند کر رکھا ہے۔ اس لیے آخرت کی دنیا سراپا خیر ہوگی۔ وہاں صرف وہی ہوگا جو از روئے حق ہونا چاہیے، اور وہ نہ ہوسکے گا جو از روئے حق نہیں ہونا چاہیے— آخرت کی یہ خصوصیت آخرت کو ایک معیاری دنیا بنا دے گی۔ اسی معیاری دنیا کا دوسرا نام جنت ہے۔
24 مئی 1985
بہت سی باتیں اس وقت سمجھ میں آتی ہیں جب کہ آدمی کا دل زندہ ہو اور اس کا شعور بیدار ہو۔ مسلمان موجودہ زمانے میں ایک ایسی قوم بن گئے ہیں، جو دل ودماغ کی زندگی سے محروم ہو۔ یہی وجہ ہے کہ مسلمان بہت سی باتوں کو سمجھ نہیں پاتے اور بدقسمتی سے جن باتوں کو وہ نہیں سمجھتے وہی وہ باتیں ہیں جو زندگی میں سب سے زیادہ اہمیت رکھتی ہیں۔
مثلاً کبھی نہ کرنے کا نام کرنا ہوتا ہے۔ کبھی بولنا اس کا نام ہوتا ہے کہ آدمی چپ رہے۔ یہ بلاشبہ زندگی کی سب سے زیادہ گہری حقیقت ہے مگر وہ ایک ایسی چیز ہے جس کے لیے بہت زیادہ گہری شخصیت درکار ہے۔
آدمی ایک ایسی مخلوق ہے جو لازماً مشغول رہنا چاہتا ہے۔وہ عین اپنی فطرت کے تحت ہر وقت کچھ نہ کچھ کرنے پر مجبور ہے۔ اس لیے نہ کرنے پر وہی شخص راضی ہوسکتا ہے جس کے پاس نہ کرنے کے وقت بھی کچھ کرنے کے لیے ہو۔ وہی انسان چپ رہ سکتا ہے جو خاموشی کے وقت بھی اپنے پاس بولنے کا سامان رکھتا ہو۔
الرسالہ میں یہ باتیں کہی جاتی ہیں تو موجودہ مسلمان کو وہ معمہ معلوم ہوتی ہیں۔ اگر یہ مسلمان اندر سے خالی نہ ہوتے بلکہ ان کے اندر کا وجود خدا کی یافت سے ایک زندہ وجود بن چکا ہوتا تو انھیں یہ بات معمہ نہ معلوم ہوتی۔
اس وقت وہ جان لیتے کہ آدمی جب چپ ہوتا ہے تو وہ اپنے خدا سے سرگوشیاں کرنے لگتا ہے۔ باہر کی دنیا میں جب بظاہر اس کے قدم رک جاتے ہیں تو وہ اپنے اندر ہی اندر مارچ کرنے لگتا ہے۔ خارجی تدبیروں سے جب وہ منقطع ہوجاتا ہے تو اس کا رشتہ قوت کے اس لازوال سرچشمے سے جڑ جاتا ہے جو کسی واقعے کو ظہور میں لانے کے لیے خارجی تدبیروں کا محتاج نہیں۔
1 جون 1985
انسان کی اعلیٰ ترین تعریف میرے نزدیک یہ ہے کہ وہ دلیل کے آگے جھک جائے، وہ طاقت کے بغیر محض دلیل کی بنیاد پر امر واقعہ کا اعتراف کرلے۔
مگر میری زندگی کا سب سے زیادہ تلخ تجربہ یہ ہے کہ آدمی دلیل کے آگے نہیں جھکتا۔ وہ صرف طاقت کے زور کو جانتا ہے، وہ دلیل کے زور کو نہیں جانتا۔
موجودہ دنیا میں آدمی دلیل کا انکار کرکے خوش ہوجاتا ہے اور طاقت کا اعتراف کرکے اپنے کو عقل مند سمجھتا ہے۔ مگر یہ کسی انسان کا وہ سب سے بڑا جرم ہے جو سب سے زیادہ خدا کے غضب کو دعوت دینے والا ہے۔
جو لوگ موجودہ دنیا میں دلیل کے آگے نہ جھکیں وہ اپنے آپ کو اس خطرے میں مبتلا کرتے ہیں کہ آخرت کی دنیا میں انھیں فرشتوں کی طاقت کے آگے جھکایا جائے۔ مگر اُس دن کا جھکنا کسی کے کچھ کام نہ آئے گا۔ دلیل کے آگے جھکنا آدمی کے لیے جنت کا دروازہ کھولتا ہے۔ جب کہ طاقت کہ آگے جھکنا صرف اس لیے ہوتا ہے کہ آدمی کو مجبور کرکے جہنم کے گڑھے میںدھکیل دیا جائے۔
دلیل کے آگے جھکنا خدا کے آگے جھکنا ہے۔ جو لوگ دلیل کے آگے نہ جھکیں وہ گویا خدا کے آگے سرکشی کررہے ہیں۔ جو لوگ خدا کے آگے سرکشی کریں اور پھر اسی حال میں مر جائیں ان کو خدا کبھی معاف نہیں کرے گا۔
12 جون 1985
تقسیم ہند (1947) کے وقت لاہور کی کل آبادی گیارہ لاکھ تھی۔ اس میں پانچ لاکھ مسلمان تھے اور پانچ لاکھ سکھ۔ اور ایک لاکھ ہندو تھے۔ پاکستان بننے کے بعد وہاں کے مسلمانوں نے لاہور کو سکھوںاور ہندوؤں سے خالی کرالیا۔ موجودہ لاہور تمام تر مسلمانوں کا شہر ہے۔
اسی طرح دہلی میں مسلمان تقسیم سے پہلے چھائے ہوئے تھے۔ مگر 1947 کے ہنگامہ میںمسلمانوں کی ایک بڑی تعداد کو دہلی چھوڑ کر پاکستان جانا پڑا۔ تاہم اب بھی دہلی میںمسلمان بڑی تعداد میں آباد ہیں۔1947 میں دہلی کی آبادی تقریبا اتنی ہی تھی جتنی اس وقت لاہور کی تھی۔ مگر آزادی کے بعد اس کی آبادی تیزی سے بڑھنا شروع ہوئی۔ 1951 میں دہلی کی آبادی 17 لاکھ ہوگئی۔ 1985 میں دہلی کی آبادی 77 لاکھ تک پہنچ گئی۔ اس میں مسلمانوں کی تعداد تقریباً 10 فی صد ہے۔
دہلی میں مسلمانوں کے ساتھ جو کچھ ہوا اس پر مسلمان شکایتیں کرتے ہیں۔ مگر یہی معاملہ اس سے زیادہ بڑے پیمانہ پر خود مسلمانوں نے ہندوؤں اور سکھوں کے ساتھ کیا، اس کو وہ بالکل نظر انداز کیے ہوئے ہیں۔
یہ دہرا طریقہ سراسر باطل ہے۔ یہ اسلامی تعلیم کے خلاف ہے۔ حدیث میں اہلِ جنت کی خصوصیت یہ بتائی گئی ہے کہ یہ وہ لوگ ہیں جنھوں نے دوسروں کے بارے میں وہی فیصلہ کیا جو فیصلہ ان کا خود اپنے بارے میں تھا (وَحَکَمُوا لِلنَّاسِ کَحُکْمِہِمْ لِأَنْفُسِہِمْ)مسند احمد، حدیث نمبر 24379۔ پھر مذکورہ طرزِ عمل کے بعد وہ کیسے امید کرتے ہیں کہ آخرت میں وہ اللہ کے محبوب بندے قرار دیے جائیں گے۔
19 جون 1985
ہر دو آدمی کے درمیان ان کا خدا کھڑا ہوا ہے۔ خدا ہر وقت ہر آدمی کی بات سن رہا ہے تاکہ اس کے مطابق لوگوں کے درمیان انصاف کرے۔
اگر آدمی کو اس واقعے کا احساس ہو تو اس کا وہی حال ہوگا جو ایک آدمی کا عدالت میں ہوتا ہے۔ عدالت میںہر آدمی بالکل ناپ تول کر بولتا ہے۔ کیوں کہ وہ جانتا ہے کہ اگر کوئی بات خلاف قاعدہ منھ سے نکل گئی تو وہ فوراً عدالت کی پکڑ میںآجائے گا۔ اسی طرح اللہ پر عقیدہ رکھنے والا جو کچھ بولتا ہے اس احساس کے تحت بولتا ہے کہ خدا اس کو سن رہا ہے۔ یہ احساس اس کو مجبور کردیتا ہے کہ وہ کوئی غلط بات اپنے منھ سے نہ نکالے۔
انسان سے اگر غلطی ہوجائے اور وہ فوراً اس کا اعتراف کرلے توگویا کہ اس نے خدا کے سامنے اعتراف کیا۔ اور اگر وہ غلطی کا اعتراف نہ کرے تو گویا کہ اس نے خدا کے سامنے اپنی غلطی کا اعتراف نہیں کیا۔
حقیقت یہ ہے کہ سارا معاملہ خدا کا معاملہ ہے۔ لوگ معاملات کو انسان کا معاملہ سمجھتے ہیں۔یہی وجہ ہے کہ وہ سرکشی اور بے انصافی کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ وہ غلطی کرکے بھی غلطی کا اعتراف نہیں کرتے۔
میرا مزاج یہ ہے کہ اگر میں کوئی خلافِ حق بات کہہ دوں اور اس کے بعد مجھے معلوم ہو کہ یہ بات حق کے خلاف تھی تو میں اس کو افورڈ (afford )نہیں کرسکتا کہ میں اس کا اعتراف نہ کروں۔ میں حق کے آگے جھک نہ جاؤں۔ اگر میں ایسا نہ کروں تو مجھے ایسا محسوس ہوا ہے کہ خدا خود ظاہر ہو کر میرے سامنے آیا اور کہا کہ میرے سامنے جھک جا اس کے باوجود میں خدا کے سامنے نہیں جھکا۔
حق کے سامنے نہ جھکنا ایسا ہی ہے جیسے کسی کے سامنے خدا آیا ا ور وہ اس کے سامنے نہیں جھکا۔
9 ستمبر 1985
رچرڈ کشنگ (Richard Cardinal Cushing) کا قول ہے کہ مذہبی شخصیتوں کے ساتھ جنت میں رہنا بہت عظیم ہے، مگر ان کے ساتھ زمین پر رہنا ایک مصیبت ہے:
It is great to live with saints in heaven, but it is hell to live with them on earth.
یہ در اصل مذہبی شخصیتوں پر طنز ہے۔ مذہبی لوگ وعظ کہتے ہیں کہ ہمارے بتائے ہوئے راستے پر چلو تو تم کو موت کے بعد کی زندگی میں جنت ملے گی۔ مگر خود ان مذہبی شخصیتوں کا کردار اکثر نہایت برا ہوتا ہے۔ گویا کہ دنیا میں ان کے ساتھ رہنا جہنم میں رہناہے۔ جب کہ ان کے قول کے مطابق ان کے طریقے پر چلنا اگلی زندگی میں جنت میں داخل ہونا ہے— مذہبی شخصیتوں کے قول و عمل کا یہ تضاد اکثر مذاہب میں پایا جاتا ہے۔
17 اکتوبر 1985
حدیث میں آیا ہے :الدُّنْیَا سِجْنُ المُؤْمِنِ وَجَنَّةُ الکَافِرِ (صحیح مسلم، حدیث نمبر 2956)۔ یعنی دنیا مومن کے لیے قید خانہ اور کافر کے لیے جنت ہے۔
اس کی وجہ یہ ہے کہ مومن خدا کے پڑوس میں رہناچاہتا ہے اور دنیامیں اس کو انسانوں کے پڑوس میں رہنا پڑتا ہے۔ اس کی نظروں میں ’’پرفکٹ‘‘ سمایا ہوا ہوتاہے اور دنیا میں اس کو ’’امپرفکٹ‘‘ سے نباہ کرناپڑتا ہے۔وہ کامل سچائی کا طلب گار ہوتا ہے اور دنیا میں وہ دیکھتا ہے کہ جھوٹ اور ناانصافی اور دھاندلی کی حکمرانی ہے۔ وہ اصول پسند ہوتا ہے جب کہ دنیا میں اس کو ہر طرف بے اصولی کا راج دکھائی دیتا ہے۔
غیر مومن با اصول یا آئیڈیلسٹ نہیں ہوتا۔ اس کے سامنے صرف اپنا ذاتی مفاد ہوتا ہے، خواہ وہ جس طرح بھی ملے۔ وہ ہر صورتِ حال میں ڈھل کر اپنا مفاد محفوظ کرلیتا ہے۔ وہ صحیح اور غلط کے جھنجھٹ میں نہیں پڑتا اسی لیے اسے کوئی پریشانی بھی لاحق نہیں ہوتی۔
13 نومبر 1985
شیطان کی شیطانی سے بچنا ممکن ہے، مگر انسان کی شیطانی سے بچنا ممکن نہیں۔ کیوں شیطان صرف بہکاتا ہے مگر انسان عملی طور پر آپ کے اوپر حملہ آور ہوتا ہے۔ شیطان صوتی کثافت (noise pollution) پیدا نہیں کرتا، جب کہ انسان لاؤڈاسپیکر لگا کر شور کرتا ہے، اور آپ کے سکون کو درہم برہم کردیتا ہے۔ شیطان آپ کے اثاثہ پر قبضہ کرنے کا اختیار نہیں رکھتا، جب کہ انسان آپ کے اثاثہ پر ناجائز قبضہ کرتا ہے، اور آپ کو جھگڑے اور مقدمات میں الجھا کر آپ کے سارے تعمیری منصوبہ کو ملیامیٹ کردیتا ہے۔ ابلیس ’’بے سلطان‘‘شیطان ہے۔ مگر انسان وہ شیطان ہے جس کو وقتی طورپر سلطان بھی دے دیا گیاہے۔
آخرت میں اگر کوئی جہنم کا سب سے برا درجہ ہے تو وہ یقینا انسان کے لیے ہوگا نہ کہ شیطان کے لیے۔ انسان کا جرم شیطان سے بہت زیادہ بڑھا ہوا ہے اس لیے انسان کی جہنم بھی شیطان کے مقابلہ میں زیادہ ہولناک ہونی چاہیے۔ شاید اسی لیے قرآن میں آیا ہے  إِنَّ الْمُنَافِقِینَ فِی الدَّرْکِ الْأَسْفَلِ مِنَ النَّارِ (4:145)۔ یعنی بیشک منافقین دوزخ کے سب سے نیچے کے طبقے میں ہوں گے۔
14 نومبر 1985
دنیا میں آدمی کو بہت سی چیزیں حاصل ہیں— اس کا اپنا وجود، اس کا گھر اور جائداد، اس کے دوست اور راشتہ دار، اور دوسرے اسباب اور سامان۔
یہ جو کچھ انسان کو موجودہ دنیا میں حاصل ہے، ان کے بارے میں دو نقطۂ نظر ہوسکتا ہے— ایک یہ کہ یہ سب چیزیں ہماری ہیں، ہم ان کے مالک ہیں۔ دوسرا یہ کہ ہم ان میں سے کسی چیز کے خود مالک نہیں۔ ہر چیز خدا کی ہے۔ جو کچھ ہمارے پاس ہے وہ سامانِ امتحان کے طورپر ہے نہ کہ سامانِ ملکیت کے طورپر۔
پہلا ذہن ناشکری کا ذہن ہے اور دوسرا ذہن شکر گزاری کا ذہن۔ پہلے ذہن کے تحت جو زندگی بنتی ہے اس کا نام کفر ہے اور دوسرے ذہن کے تحت جو زندگی بنتی ہے اس کا نام اسلام ہے۔ پہلے ذہن کے تحت زندگی گزارنے والے کے لیے جہنم ہے اور دوسرے ذہن کے تحت زندگی گزارنے والے کے لیے جنت۔
واپس اوپر جائیں

Thursday, 1 August 2019

Al Risala | August 2019 (الرسالہ،اگست)

4

-حج کا مقصد

5

- دعا کیسے کریں

8

- الخیر فیما وقع

9

- قرآن، کتاب مہجور

10

- دعوت کے کام میں استقامت

12

- اسلامی دعوت

21

- اسلام دورِ جدید میں

24

- فراہی اسکول کا کنٹری بیوشن

26

- عظیم قربانی

28

- دعوہ ایکسپلوزن

30

- دنیاانتظار میں ہے

32

- امن کا مقصد

33

- سیلف گلوری

34

- اسلامی نظام

39

- میل ملاپ کا سماج

40

- ایک سنگین برائی

41

- بڑھاپے کا دور

43

- پختگی کیا ہے

44

- صحیح طرزِ فکر

45

- ہار کے بعد جیت

46

- خواتین کو مشغولیت دیجیے

47

- جاپانی قوم کی ترقی کا راز

48

- خبرنامہ اسلامی مرکز


حج کا مقصد

حج کے سلسلے میں قرآن میں جو آیتیں آئی ہیں، اس کا ایک حصہ یہ ہے:لِیَشْہَدُوا مَنَافِعَ لَہُمْ (22:28)۔یعنی تاکہ وہ اپنے فائدے کے لیے حاضر ہوں۔قرآن کی اس آیت میں حج کی نسبت سے منافع کا ذکر آیا ہے۔منافع کا لفظی مطلب ہے فائدہ (benefit)۔ منافع منفعت کی جمع ہے، یعنی کئی قسم کے فائدے۔ قرآن کی اس آیت میں بظاہر کسی متعین فائدے کا ذکر نہیں ہے۔ اس سے یہ اخذ ہوتا ہے کہ منافع کا تعلق غور و فکر سے ہے، نہ کہ کسی متعین حوالے سے۔ اگر حاجی اس معاملے میں ایک تیار ذہن (prepared mind) بنا ہوا ہو، اور اس تیار ذہن کو لے کر وہ حج کا سفر کرے تو حج کے مقامات کو دیکھ کر اس کا ذہن ٹریگر ہوگا، اور وہ اپنے لیے منافع کا پہلو دریافت کرے گا۔
میں نے 1982 میں ایک عرب شیخ سلیمان القائد کے ساتھ حج کا سفر کیا تھا۔ وہاں میرا وقت مراسم حج کے علاوہ صرف کعبہ کے پاس رہنے میں گزرتا تھا۔ میں کعبہ کو دیکھ کر اس کے بارے میں مسلسل غور کرتا تھا۔ اس غور و فکر کے دوران ایک بات میرے ذہن میں یہ آئی کہ قرآن کی آیت میںمنافع کا لفظ ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ حج کے سفر میں مختلف قسم کے منافع موجود ہیں۔ آدمی اپنے غور و فکر کے دوران ان منافع کو دریافت کرسکتا ہے۔ مثلا میں نے جب کعبہ کو دیکھا تو میں نے پایا کہ ابراہیمی کعبہ کی تعمیر ریکٹینگل شیپ کے مطابق تھی۔ لیکن بعد کو قدیم عمارت کے ٹوٹنے کے بعد کعبہ کی جو عمارت بنا ئی گئی، وہ ایک چوکورعمارت ہے۔ قدیم تعمیر کے لحاظ سے تقریباً ایک تہائی جگہ خالی چھوٹی ہوئی ہے، جس کو حطیم کہا جاتا ہے۔ اس سے میرے ذہن نے یہ مطلب نکالا کہ اگر کوئی قدیم عمارت ٹوٹ جائے، اور اس کی جگہ نئی عمارت بنانا ہو تو بہتر ہے کہ اس کو باقی ماندہ رقبے پر بنایا جائے۔ مثلاًامت مسلمہ پہلے ایک بڑی ایمپائر کی صورت میں تھی۔ اب وہ ایمپائر ٹوٹ چکی ہے۔ ایسی حالت میں اگر امت مسلمہ کی تشکیل نو کی جائے تو وہ باقی ماندہ حصہ پر کی جائے گی۔ یہ صحیح نہ ہوگا کہ قدیم ایمپائر کو دوبارہ کھڑا کرنے کی کوشش سے اس کی تعمیر ِ نو کا آغاز کیا جائے۔
واپس اوپر جائیں

دعا کیسے کریں

’’میرے لیے ایک سائیکل خرید دیجیے‘‘ بیٹے نے باپ سے کہا۔ باپ کی آمدنی کم تھی۔ وہ سائیکل خریدنے کی پوزیشن میں نہ تھا۔ اس نے ٹال دیا۔ لڑکا بار بار کہتا رہا اور باپ بار بار منع کرتا رہا۔ بالآخر ایک روز باپ نے ڈانٹ کرکہا ’’میں نے کہہ دیا کہ میں سائیکل نہیں خریدوں گا۔ اب آئندہ مجھ سے اس قسم کی بات مت کرنا‘‘۔
یہ سن کر لڑکے کی آنکھوں میں آنسو آگئے۔ وہ کچھ دیر چپ رہا۔ اس کے بعد روتے ہوئے بولا: ’’آپ ہی تو ہمارے باپ ہیں۔ پھر آپ سے نہ کہیں تو اور کس سے کہیں‘‘۔ اس جملہ نے باپ کو تڑپا دیا۔ اچانک اس کا انداز بدل گیا۔ اس نے کہا: اچھا بیٹے اطمینان رکھو میں تمھارے لیے سائیکل خریدوں گا۔ اور کل ہی خریدوں گا‘‘۔ یہ کہتے ہوئے باپ کی آنکھوں میں آنسو آگئے۔ اگلے دن اس نے پیسہ کا انتظام کرکے بیٹے کے لیے نئی سائیکل خرید دی۔
لڑکے نے بظاہر ایک لفظ کہا تھا۔ مگر یہ ایک ایسا لفظ تھا جس کی قیمت اس کی اپنی زندگی تھی، جس میں اس کی پوری ہستی شامل ہوگئی تھی۔ اس لفظ کا مطلب یہ تھا کہ اس نے اپنے آپ کو اپنے سرپرست کے آگے بالکل خالی کردیا ہے۔ یہ لفظ بول کر اس نے اپنے آپ کو ایسے نقطہ پر کھڑا کردیا جہاں اس کی درخواست اس کے سرپرست کے لیے بھی اتنا ہی بڑا مسئلہ بن گئی جتنا خود اس کے لیے۔
اس واقعہ سے سمجھا جاسکتا ہے کہ ذکرِ الٰہی کی وہ کون سی قسم ہے جو میزان کو بھر دیتی ہے اور جس کے بعد خدا کی رحمتیں بندے کے اوپر امنڈ آتی ہیں۔ یہ رٹے ہوئے الفاظ کی تکرار نہیں ہے۔ نہ اس کا کوئی ’’نصاب‘‘ ہے۔ یہ ذکر کی وہ قسم ہے جس میں بندہ اپنی پوری ہستی کو انڈیل دیتا ہے۔ جب بندہ اپنے آپ کو اپنے رب کے ساتھ اتنا زیادہ شامل کردیتا ہے کہ ’’بیٹا‘‘ اور ’’باپ‘‘ دونوں ایک ترازو پر آجاتے ہیں — یہ وہ لمحہ ہے جب کہ ذکر محض لغت کا لفظ نہیں ہوتا بلکہ ایک شخصیت کے پھٹنے کی آواز ہوتا ہے۔ اس وقت خدا کی رحمتیں اپنے بندے پر ٹوٹ پڑتی ہیں۔ بندگی اور خدائی دونوں ایک دوسرے سے راضی ہوجاتے ہیں— قادر مطلق عاجز مطلق کو اپنی آغوش میں لے لیتاہے۔
مادی حالات ، روحانی دعائیں
حضرت موسی علیہ السلام پر قتل کاالزام عائد ہوگیا، اور مصری سرداروں نے مشورہ کیا کہ انھیں ہلاک کردیں، تو پیغمبر موسیٰ مصر سے مدین چلے گئے۔ مدین اس زمانہ میں، خلیج عقبہ کے مشرقی اور مغربی کناروں پر واقع علاقہ کو کہا جاتا تھا،جہاں بنی مدیان آباد تھے۔ یہ مقام فرعونِ مصر کی سلطنت سے باہر تھا۔ اس لیے حضرت موسی نے مصر سے نکل کر مدین کا رخ کیا۔
قرآن میں ہے کہ جب آپ خوف اور اندیشہ کی حالت میں سفر کررہے تھے تو اللہ کو یاد کرتے ہوئے آپ کی زبان سے یہ کلمہ نکلا:عَسَى رَبِّی أَنْ یَہْدِیَنِی سَوَاءَ السَّبِیلِ (28:22)۔یعنی امید ہے کہ میرا رب مجھے ٹھیک راستہ کی طرف رہنمائی کرے گا۔
بعض مفسرین قرآن نے اس کو محض راستہ کی تلاش کے معنی میں لیا ہے۔ ایک مفسر اس کی تشریح کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
’’یعنی ایسے راستہ پر جس سے میں بخیریت مدین پہنچ جاؤں‘‘۔
یہ الفاظ اس کیفیت کی ترجمانی کے لیے بہت ناقص ہیں، جو حضرت موسی کے دل میں پیدا ہوئی تھی، یہ ایک مومنانہ کلمہ ہے نہ کہ عام معنوں میں محض ایک راستہ کے مسافر کی دعا۔ حضرت موسی کو اگرچہ مادی حالات نے مصر سے نکال کر مدین کے راستہ پر ڈالا تھا، مگر بندۂ مومن کا یہ حال ہوتاہے کہ مادی واقعات کے اندر بھی اس کی زبان سے روحانی دعائیں نکلتی ہیں۔ بظاہر وہ اس زمین میں راستہ تلاش کررہا ہوتا ہے، مگر زمین میں راستہ کی تلاش اس کے لیے دوسری دنیا کی یاد دہانی بن جاتی ہے، مگر اس کے اندر کا طوفان پکار رہا ہوتاہے— ’’خدایا! مجھے وہاں پہنچا دے جہاں میں تجھ کو پاسکوں۔ کیوں کہ انسان کی حقیقی منزل وہی ہے‘‘۔
حضرت موسیؑ کا یہ کلمہ ایک نازک ایمانی کیفیت کا کلمہ ہے۔ اس کو سفر اور جغرافیہ کے الفاظ میں بیان نہیں کیا جاسکتا۔
جو لوگ حقیقی معنوں میں اپنے رب کو پالیں، ان کے جینے کی سطح بالکل دوسری ہوجاتی ہے۔ وہ موجودہ دنیامیں رہتے ہوئے بھی آخرت کی فضاؤں میں پہنچ جاتے ہیں۔ وہ آج کی لذتوں اور تلخیوں کو دیکھتے ہوئے کل کی جنت اور جہنم کو یاد کرنے لگتے ہیں۔ مومن حقیقت میں وہی ہے جو دنیا میں آخرت کے عالم کو دیکھ لے۔ جو حالتِ غیب میں رہتے ہوئے حالتِ شہود میں پہنچ جائے۔ غیر مومن پر بھی وہ دن آئے گا جب کہ وہ آخرت کی دنیا کو اپنی آنکھوں سے دیکھے گا۔ مگریہ اس وقت ہوگا جب کہ غیب وشہود کا فرق مٹ چکا ہوگا۔ جب قیامت کی چنگھاڑ سارے پردوں کو پھاڑ دے گی۔ مگر اس وقت کا دیکھنا کسی کے کچھ کام نہ آئے گا۔ کیونکہ وہ بدلہ پانے کا وقت ہوگا نہ کہ ایمان ویقین کا ثبوت دینے کا وقت۔
رزقِ روحانی کا دستر خوان
ساری کائنات مومن کے لیے رزق روحانی کا دستر خوان ہے ۔موجودہ دنیا کی تمام چیزوں کو اس طرح بنایا گیا ہے کہ ان کو دیکھ کر انسان عبرت حاصل کرے ، ان کے ذریعہ وہ ان ربانی کیفیات کو پالے جو ان کے اندر ان لوگوں کے لیے رکھ دی گئی ہیں جو اللہ سے ڈرنے والے ہوں ۔ ڈھاک (flame of the forest)ایک معمولی درخت ہے ۔ مگر اس کے اوپر بے حد حسین پھول اُگتے ہیں ۔ موسم خزاں کے پت جھڑ کے بعد اس کا درخت بظاہر ایک سوکھی لکڑی کی مانند ، اس سے بھی زیادہ ایک سوکھی زمین پر کھڑا ہوتا ہے ۔ اس کے بعد ایک خاموش انقلاب آتا ہے ۔ حیرت انگیز طور پر نہایت خوش رنگ پھول اس کی شاخوں میں کھل اٹھتے ہیں ۔ سوکھی لکڑی کا ایک ڈھانچہ لطیف اور رنگین پھولوں سے ڈھک جاتا ہے ۔ ایسا معلوم ہوتا ہے گویا ایک محروم اور بے قیمت وجود کے لیے خدا نے خصوصی طور پر اپنی خوب صورت چھتری بھیج دی ہے ۔
ایسا اس لیے ہوتا ہے کہ کوئی بندۂ خدا اس کو دیکھ کر کہے —’’خدایا ! میں بھی ایک ڈھاک ہوں، تو چاہے تو میرے اوپر حسین پھول کھلا دے ۔ میں ایک ٹھنٹھ ہوں ، تو چاہے تو مجھ کو سر سبز وشاداب کر دے ۔ میں ایک بے معنی وجود ہوں ، تو چاہے تو میری زندگی کو معنویت سے بھر دے ۔ میں جہنم کے کنارے کھڑا ہوں تو چاہے تو مجھ کو جنت میں داخل کر دے ۔
واپس اوپر جائیں

الخیر فیما وقع

ایک مشہور عربی قول ان الفاظ میں آیا ہے:الخیر فیما وقع۔ یعنی جو ہوا، وہی بہتر ہے:
What happens, happens for the good.
یہ قول غالباً امید خیر کے معنی میں ہے۔ یعنی معاملے کا سرا سب کا سب اللہ رب العالمین کے ہاتھ میں ہے۔ اس لیے یہ امید رکھو کہ جو ہوا، اس میں خداوند رحمٰن و رحیم نے ہمارے لیے کوئی خیر رکھا ہوگا۔ اس طرح یہ قول گویا دعا کے معنی میں ہے۔ ایک حدیث قدسی میں آیا ہے : إِنَّ رَحْمَتِی غَلَبَتْ غَضَبِیْ(صحیح البخاری، حدیث نمبر 3194)۔ یعنی میری رحمت میرے غضب پر غالب ہے۔ جب بندوں کے بارے میں اللہ رب العالمین کا یہ فیصلہ ہے تو بندے کو ہر حال میں اپنے رب سے خیر کی امید کرنا چاہیے۔
لیکن یہ ضروری نہیں ہے کہ اللہ کے فیصلۂ رحمت کا نتیجہ فورا ًسامنے آجائے۔ نتیجے میں تاخیر ہوسکتی ہے، لیکن اصولی اعتبار سے اللہ کا فیصلہ بہرحال بندے کے لیے رحمت پر مبنی فیصلہ ہوگا۔ بندہ اپنی سوچ کے لحاظ سے رحمت کا طالب ہوتا ہے، لیکن اللہ کا فیصلہ رحمت کے عمومی مصلحت کے مطابق ظاہر ہوتا ہے۔ اس لیے عین ممکن ہے کہ بندہ جلدی کا طالب ہو، لیکن اللہ کا فیصلہ بندے تک تاخیر کے ساتھ پہنچے۔ ایسی حالت میں بندہ کو چاہیے کہ وہ ہر حال میں امید پر قائم رہے۔ وہ ہر حال میں یقین رکھے کہ اللہ رب العالمین اس کے ساتھ رحمت کا معاملہ فرمائے گا، خواہ اس فیصلے کا ظہور تاخیر کے ساتھ ہو، یا جلد ہی اس کا ظہور سامنے آجائے۔
بندہ اپنی خواہش کے مطابق طالب بن جاتا ہے، لیکن اللہ کا فیصلہ اپنے مقرر منصوبہ کے مطابق ظاہر ہوتا ہے۔اللہ کو زیادہ بہتر طور پر معلوم ہے کہ بندہ کےلیے خیر کس چیز میں ہے۔ اللہ کا فیصلہ خود اپنے فیصلے کے مطابق ظاہر ہوتا ہے، نہ کہ بندے کی خواہش کے مطابق۔ بندہ کو یقین رکھنا چاہیے کہ اس کے حق میں اللہ کا جو فیصلہ بھی ہو، بہر حال وہ اس کے لیے خیر پر مبنی ہوگا۔
واپس اوپر جائیں

قرآن، کتاب مہجور

قرآن کی سورہ الفرقان میں ایک آیت ان الفاظ میں آئی ہے:وَقَالَ الرَّسُولُ یَارَبِّ إِنَّ قَوْمِی اتَّخَذُوا ہَذَا الْقُرْآنَ مَہْجُورًا(25:30)۔ یعنی رسول کہے گا کہ اے میرے رب، میری قوم نے اس قرآن کو بالکل چھوڑ دیا تھا۔
اس آیت سے اولاً وہ لوگ مراد ہیں جن کے سامنے قرآن آتا ہے، مگر وہ اس پر ایمان نہیں لاتے۔ جیسا کہ مکی دور میں قریش نے کیا۔ تاہم اس نفسیات کا عملی مظاہرہ کبھی ان لوگوں کی طرف سے بھی ہوتاہے جو بظاہر قرآن کو ماننے والوں کی فہرست میں داخل ہوں۔ مولانا شبیر احمد عثمانی اپنی تفسیر قرآن میں آیت کے ذیل میں لکھتے ہیں:
’’آیت میں اگرچہ مذکور صرف کافروں کا ہے۔ تاہم قرآن کی تصدیق نہ کرنا، ا س میں تدبر نہ کرنا، اس کی تلاوت نہ کرنا، اس کی تصحیح قرأت کی طرف توجہ نہ کرنا، اس سے اعراض کرکے دوسری لغویات یا حقیر چیزوں کی طرف متوجہ ہونا، یہ سب صورتیں درجہ بدرجہ ہجرانِ قرآن کے تحت داخل ہوسکتی ہیں‘‘۔
قرآن کے ماننے والوں کے لیے قرآن کو ’’کتاب مہجور‘‘ بنانے کی یہ شکل کبھی نہیں ہوتی کہ اس کا احترام وتقدس لوگوں کے دلوں میں باقی نہ رہے۔ برکت اور تقدس کا نشان ہونے کی حیثیت سے وہ ہمیشہ اس کو اپنے طاق کی زینت بنائے رہتے ہیں۔ البتہ وہ اس سے فکری رہنمائی لینا چھوڑ دیتے ہیں۔ خدا کی کتاب میں ان کے لیے ذہنی غذا نہیں ہوتی۔ وہ ان کی حقیقی زندگی کا سرمایہ نہیں بنتی۔ وہ ان کی دنیا پرستانہ زندگی کے لیے ’’برکت کا تعویذ‘‘ تو ضرور ہوتی ہے مگر آخرت کی رہنما کتاب کی حیثیت سے ان کی زندگی میں اس کا کوئی مقام نہیں ہوتا— یہ مطلب ہے خدا کی کتاب کو ’’کتاب مہجور‘‘ بنا دینے کا۔
واپس اوپر جائیں

دعوت کے کام میں استقامت

قرآن میں پیغمبر ِ اسلام کو خطاب کرتے ہوئے ایک آیت ان الفاظ میں آئی ہے فَاصْبِرْ کَمَا صَبَرَ أُولُو الْعَزْمِ مِنَ الرُّسُلِ وَلَا تَسْتَعْجِلْ لَہُمْ کَأَنَّہُمْ یَوْمَ یَرَوْنَ مَا یُوعَدُونَ لَمْ یَلْبَثُوا إِلَّا سَاعَةً مِنْ نَہَارٍ بَلَاغٌ فَہَلْ یُہْلَکُ إِلَّا الْقَوْمُ الْفَاسِقُونَ (46:35)۔ یعنی پس تم صبر کرو جس طرح ہمت والے پیغمبروں نے صبر کیا۔ اور ان کے لیے جلدی نہ کرو جس دن یہ لوگ اس چیز کو دیکھیں گے جس کا ان سے وعدہ کیا جا رہا ہے تو گویا کہ وہ دن کی ایک گھڑی سے زیادہ نہیں رہے۔ یہ پہنچا دینا ہے۔ پس وہی لوگ برباد ہوں گے جو نافرمانی کرنے والے ہیں۔
دعوت الی اللہ کا کام ایک بے حد نازک کام ہے۔ اس کام میں داعی کو ہر قدم پر استقامت (perseverance) کا ثبوت دینا پڑتا ہے۔ استقامت سے مراد یہ نہیں ہے کہ داعی اور مدعو کے درمیان لڑائی ہو، اور آپ اس میں جم کر مقابلہ کریں۔ بلکہ اس کا مطلب ہے صبر و برداشت کی استقامت۔ دعوت الی اللہ کا کام پورا کا پورا صبر و برداشت کا امتحان ہے— مدعو کی بے رخی کو برداشت کرنا، مدعو کی کڑوی باتوں کو برداشت کرنا، مدعو کی گالیوں کے جواب میں ان کے لیے دعائیں کرنا، وغیرہ۔
دعوت الی اللہ کا کام یک طرفہ صبر کا کام ہے۔ دعوتی اخلاق یہ ہے کہ مدعو آپ سے بد سلوکی کرے، اور آپ اس کے ساتھ اچھے اخلاق پر قائم رہیں۔ داعی کے اخلاق کو ایک حدیث میں ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہےأمَرَنی ربی أن أصَلَ مَنْ قَطَعَنی، وأعطی مَنْ حَرَمَنی، وأعْفُوَ عَمَّنْ ظَلَمَنی (جامع الاصول، حدیث نمبر 9317)۔ یعنی اللہ نے مجھے حکم دیا ہے کہ میں اس سے جڑوں، جو مجھے کاٹے، اور میں اس کو عطا کروں، جو مجھے محروم کرے، اور اس کو معاف کردوں، جس نے مجھ پر ظلم کیا۔
دعوت الی اللہ کا کام ایک ایسا کام ہے، جس میں مدعو کے مقابلے میں داعی کا کوئی حق نہیں ہوتا، اس کی صرف ذمے داریاں ہی ذمے داریاں ہوتی ہیں۔مثلا پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کا مشن یہ تھا کہ بت پرستی کے کلچر کو دنیا سے ختم کیا جائے، لیکن آپ نے پہلے لمبی مدت تک اس بت پرستی کے کلچر کو برداشت کیا، حتی کہ آپ نے اس کو بھی برداشت کیا کہ لوگ مقدس کعبہ کو عملاً بت پرستی کا مرکز بنادیں۔ آپ نے کعبہ میں بت پرستی کو برداشت کرتے ہوئے، اس کو آپ بطور موقع استعمال کریں۔ چنانچہ آپ نے کعبہ میں بت پرستی کے اجتماع کو اپنے لیے لمبی مدت تک بطور آڈینس (audience) استعمال کیا۔ کعبہ میں آپ نے بت پرستی کی سرگرمیوں کو دیکھا، اور اس پر کبھی احتجاج یا ٹکراؤ نہیں کیا، وغیرہ۔
موجودہ زمانے میں دعوتی تیاری کا پہلا کام یہ ہے کہ اہلِ ایمان اس حقیقت کو دریافت کریں کہ ان کی حیثیت داعی کی ہے، اور دوسری اقوام کی حیثیت مدعو کی۔ موجودہ زمانے کے مسلمان ماضی کے اثر کے تحت اس حقیقت سے بے خبر ہوگئے ہیں ۔ و ہ اپنے آپ کو ایک قوم اور دوسرے لوگوں کو دوسری قوم سمجھتے ہیں۔ یہ دو قومی نظریہ ہے، اور دو قومی نظریہ ایک سراسر غیر اسلامی تصور ہے۔ یہ ایک مبنی بر جہالت تصور ہے۔ قرآن و حدیث میں اس کی کوئی اصل موجود نہیں۔
پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم ایک انقلابی پیغمبر تھے۔ مگر یہ انقلاب ایک پراسس کے روپ میں لمبی تاریخ کے دوران ظہور میں آیا، نہ کہ کسی اچانک اعلان کے ذریعے۔ یعنی پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم بلاشبہ ایک عالمی پیغمبر تھے۔ لیکن اس کا ظہور یکبارگی نہیں ہوا، بلکہ تاریخی پراسس کی صورت میں لمبی مدت کے دوران ہوا۔ اس تاریخی پراسس میں صرف امتِ محمدی شامل نہیں تھی، بلکہ دوسری اقوام نے بھی اس تاریخی پراسس میں حصہ لیا۔ اس نکتے کو سمجھنا بہت ضروری ہے۔
اکیسویں صدی میں امتِ محمدی کو اپنا فائنل رول ادا کرنا ہے۔ یہ فائنل رول ان کے لیے فرض عین کی حیثیت رکھتا ہے۔ یہ فائنل رول وہی ہے جس کو قرآن میں اعلیٰ سطح پر تبیینِ حق (فصلت، 41:53) کہا گیا ہے، اور حدیث میں غالباًاسی دعوتی عمل کو شہادتِ اعظم (صحیح مسلم، حدیث نمبر 2938) کا درجہ دیا گیا ہے۔
واپس اوپر جائیں

اسلامی دعوت

The Need for Re-orientation in Islamic Da‘wah
پیغمبر ِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کا مشن دعوت الی اللہ (اسلامی دعوت) تھا۔ آپ نے یہ کام 610 ء میں مکہ میںشروع کیا۔ اُس وقت آپ اِس مشن میں تنہا تھے، پھر دھیرے دھیرے لوگ اسلام قبول کرتے رہے۔اور آپ کے ساتھیوں کی تعداد بڑھتی رہی۔ ابتدائی تیرہ سال تک اسلامی دعوت کا کام اسی طرح چلتا رہا۔ اُس وقت سارا فوکس اسلام کی بیسک آئڈیالوجی پر تھا، یعنی توحید اور آخرت۔
اُس وقت مکہ میں مشرکین کا غلبہ تھا۔ مکی دور کے آخر میں وہاں کے مشرک سرداروں نے محسوس کیا کہ اسلام کی تحریک اُن کے لیے خطرہ بن رہی ہے۔ ا ب انھوں نے سختی کا طریقہ اختیار کیا۔ وہ رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھیوں پر تشدد کرنے لگے، یہاںتک کہ انھوںنے یہ فیصلہ کیا کہ وہ پیغمبر ِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کو قتل کر ڈالیں۔ اِس مقصد کے لیے وہ ضروری تیاریاں کرنے لگے۔ اُس وقت، پیغمبر اسلام کے ساتھیوں میں جوابی مقابلے کا ذہن پیدا ہوا۔ انھوں نے چاہا کہ اپنی طاقت کو مجتمع کرکے وہ مشرکین سے لڑیں۔ اُس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ کہہ کر لوگوں کو خاموش کردیا کہ تم لوگ صبر کرو، کیوں کہ مجھے لڑنے کا حکم نہیں دیا گیا ہے (اصبروا فإنى لم أومر بالقتال) المواہب اللدنیة بالمنح المحمدیةجلد 1، صفحہ 199۔
اگر آپ کار پر ایک جگہ سے دوسری جگہ جانے کے لیے سفر کریں تو درمیان میں بار بار دوسرے مقامات کو جانے والے راستے آتے ہیں۔ آپ اِن راستوں کی طرف نہیں جاتے، بلکہ اپنی گاڑی کو سیدھے رخ پر چلاتے رہتے ہیں، یہاںتک کہ آپ منزل پر پہنچ جاتے ہیں۔ یہی معاملہ اسلامی تحریک کا ہے۔ اسلامی تحریک کا اصل نشانہ دعوت الی اللہ ہے، مگر تحریک جب عملاً جاری ہوتی ہے تو سفر کے دوران بار بار موڑ کے مقامات آتے ہیں۔ ایسے مواقع پر ضروری ہوتا ہے کہ تحریک کو کسی اور طرف مڑنے سے بچایا جائے، اور اُس کا سفر دعوت الی اللہ کی منزل کی طرف جاری رکھا جائے۔
مکی دور کے آخر میں اِس قسم کی ایک صورت حال پیش آئی۔ اُس وقت اگر ایسا ہوتا کہ اہلِ ایمان کی جماعت، مشرکین کی جماعت کے ساتھ متشددانہ ٹکراؤ شروع کردے تو اِس کا مطلب یہ تھا کہ اسلامی تحریک، دعوت الی اللہ کی صراطِ مستقیم سے ہٹ کر قتال کی جانب مُڑ گئی۔ ایسا ہونے کا مطلب یہ تھا کہ مشرک سردار اپنے مقصدمیں کامیاب ہوگئے۔
یہ وقت، دعوت کی سمتِ سفر کی دوبارہ تصحیح (re-orientation) کا تھا۔ اُس وقت پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے مکہ سے ہجرت کا فیصلہ کیا۔ ہجرت کیا تھی، وہ فرار (flight) یا پسپائی نہ تھی، ہجرت دراصل ایک تدبیر تھی، جس کے ذریعے پیغمبر اسلام نے اسلامی دعوت کو متشددانہ ٹکراؤ کی طرف مڑنے سے بچایا۔ اِس تدبیر سے آپ کو یہ موقع مل گیا کہ دعوت الی اللہ کا جو کام آپ مکہ میںکررہے تھے، اس کو آپ مدینہ میںجاری رکھیں۔ ہجرت اپنی حقیقت کے اعتبار سے مقامِ عمل کی تبدیلی تھی، نہ کہ سادہ طورپر ترکِ وطن۔ اِس تدبیر کا غیر معمولی فائدہ ہوا۔ چنانچہ اسلام تیزی سے مدینہ اوراطرافِ مدینہ میں پھیلنے لگا۔
مگر مکہ کے مشرک سرداروں کو یہ بات پسند نہ آئی۔ انھوںنے اسلامی تحریک کو بزور ختم کرنے کا فیصلہ کیا۔ یہ مشرک سردار اُس وقت عرب میں سیاسی لیڈر کی حیثیت رکھتے تھے۔ اُن کو ہر قسم کے ذرائع حاصل تھے۔ ان کو وہ طاقت بھی حاصل تھی، جس کو موجودہ زمانے میں ٹرانس بارڈر ملٹری کیپیبلٹی (trans-border military capability) کہاجاتا ہے، یعنی سرحد کو پار کرکے حملہ کرنے کی صلاحیت۔
اب مکہ کے مشرک سرداروں نے یہ فیصلہ کیا کہ وہ اپنی فوج تیار کریں اور اقدام کرکے مدینہ پر باقاعدہ حملہ شروع کردیں۔ اِس معاملہ کا پہلا بڑا واقعہ وہ تھا، جس کو غزوۂ بدر (2 ہجری) کہاجاتا ہے۔ اس کے بعد غزوۂ اُحُد (3 ہجری) کا واقعہ پیش آیا۔ اِس طرح جھڑپوں کی صورت میں کئی متشددانہ واقعات پیش آئے۔
مشرکین مکہ کے جنگی ارادوں نے دوبارہ اسلامی تحریک کے لیے خطرہ پیدا کردیا کہ وہ دعوت الی اللہ کے راستے سے ہٹ کر قتال کے راستے کی طرف مڑ جائیں۔ اُس وقت دوبارہ اُس تدبیر کو اختیار کرنے کی ضرورت تھی، جس کو ہم نے ری اورین ٹیشن (re-orientation) کہاہے۔ اب پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے مخصوص تدبیر کے ذریعے مشرکین سے ختم ِ جنگ کا وہ معاہدہ فرمایا، جس کو معاہدۂ حدیبیہ (Hudaybiyah Agreement) کہاجاتاہے۔ یہ معاہدہ 6 ہجری میں طویل گفت وشنید کے بعد کیا گیا۔ اِس معاہدے میں پیغمبر اسلام نے مشرک سرداروں کی تمام شرطوں کو یک طرفہ طورپر مان لیا، صرف اِس لیے کہ آپ اُنھیں راضی کریں کہ وہ جنگ کا راستہ چھوڑ کر قیامِ امن کے طریقے کو اختیار کرلیں۔اِس معاہدے کا یہ تاریخ ساز فائدہ ہو ا کہ اسلامی تحریک جنگی انحراف سے ہٹ کر دعوت الی اللہ کے راستے پر آگئی۔ اِس کے بعد رسول اور اصحابِ رسول کو یہ موقع ملا کہ وہ نہ صرف عرب میں، بلکہ بیرونِ عرب تک اسلامی دعوت کے کام کو منظم طورپر پھیلا سکیں۔
حدیبیہ ایگری مینٹ کی اِسی غیر معمولی اہمیت کی بنا پر اُس کو فتح مبین (الفتح، 48:1)کہا گیا ہے، یعنی کھلی ہوئی فتح۔ یہاں یہ بات قابلِ غور ہے کہ حدیبیہ ایگری مینٹ فریقِ مخالف کی شرطوں پر کیاگیا تھا۔ حتی کہ اس کے بارے میں صحابہ کی اکثریت کا یہ خیال تھا کہ یہ معاہدہ پسپائی کا معاہدہ ہے۔ اِس کے باوجود کیوں قرآن نے اس کو فتحِ مبین قرار دیا۔
قرآن کا یہ اعلان دراصل فطرت کے اس قانون کا بیان ہےکہ اس دنیا میں ٹکراؤ کے مقام پر پیچھے ہٹنے والے آگے بڑھتے ہیں۔ یہاں شکست پر راضی ہونے والے کو کامیابی حاصل ہوتی ہے۔ فطرت کے قانون کے مطابق، اِس دنیامیں ہار کا نتیجہ جیت کی صورت میں نکلتا ہے:
Success is the outcome of defeat.
بدقسمتی سے بعد کی صدیوں میں مسلمان اِس پیغمبرانہ حکمت کو بھول گئے۔ حدیبیہ اسپرٹ سے لوگ اتنا زیادہ غافل ہوگئے کہ بعد کی پوری تاریخ میں کوئی بھی شخص نظر نہیں آتا، جو اِس عظیم حکمت کو سمجھے اور دوبارہ مسلمانوں کے اندر حدیبیہ اسپرٹ کو زندہ کرنے کی کوشش کرے۔ مزید بد قسمتی یہ ہے کہ موجودہ زمانے میں بھی بے خبری کا یہ سلسلہ جاری ہے۔ آج ایسے لوگ تو بہت ملیں گے جو حدیبیہ کی بات کو پسپائی قرار دیں گے، لیکن ایسے لوگ تقریباً معدوم ہیں، جو حدیبیہ کے اندر چھپے ہوئے دعوتی امکانات کو سمجھ سکیں۔خلافتِ راشدہ کے بعد اسلام، سیاسی عظمت کے دور میں داخل ہوگیا۔ اب اسلام نے ایمپائر کی صورت اختیار کرلی— اُموی ایمپائر، عباسی ایمپائر، فاطمی ایمپائر، اندلسی ایمپائر، مغل ایمپائر، عثمانی ایمپائر، وغیرہ۔ یہ دور تاریخی اعتبار سے عظمت کا دور تھا، لیکن دعوت الی اللہ کے اعتبار سے وہ انحراف (diversion) کا دور بن گیا۔
اب مسلمانوں میں دعوتی ذہن کے بجائے سیاسی ذہن عام ہوگیا۔ اسی سیاسی ذہن کے تحت یہ کہاجانے لگا کہ مسلمان زمین میں خدا کے خلیفہ (vicegerent of God) ہیں۔ہمارا کام یہ ہے کہ ہم ساری دنیا میں اسلام کی حکومت قائم کریں۔ اِسی سوچ کے زیرِ اثر یہ نظریہ پیدا ہوا کہ مسلم ممالک ’دارالاسلام‘ ہیں اور غیر مسلم ممالک ’دار الحرب‘ یا ’دارالکفر‘ کی حیثیت رکھتے ہیں۔ اِس نظریے کا یہ منفی نتیجہ نکلا کہ مسلمان دوسری قوموں کو مدعو کے بجائے حریف اور رقیب کے روپ میں دیکھنے لگے۔ مسلمان عمومی طورپر دعوت الی اللہ کے طریقےسے ہٹ کر سیاسی اقتدار کے منحرف راستے پر چلنے لگے۔
اِن بعد کی صدیوں میںاگرچہ عمومی سطح پر مسلمانوں کا ذہن یہی تھا، لیکن جُزئی طورپر مسلمانوں کے اندر ایسے گروہ اٹھتے رہے، جو غیر سیاسی میدان میں اسلام کو آگے بڑھاتے رہے۔ مثال کے طورپر محدثین نے سیاسی سرگرمیوں کو چھوڑ کر اپنے آپ کو حدیثِ رسول کی خدمت میںلگایا۔ صوفیا نے حکمرانوں سے دوری اختیار کرکے روحانی ارتقا کا کام کیا، جس کا فائدہ دعوت الی اللہ کے اعتبار سے بھی ظاہر ہوا۔ اِسی طرح ایسے علما پیدا ہوتے رہے جنھوں نے سیاسی جہاد سے الگ رہ کر مسجد اور مدرسے جیسے ادارے سنبھال لیے، اور اُن کے ذریعے بالواسطہ طورپر دعوت کی اسپرٹ زندہ رکھی۔
اِسی قسم کی غیر سیاسی شخصیتوں کا ایک بڑا کارنامہ وہ ہے، جو تیرھویں صدی عیسوی میں پیش آیا۔ تاتاری قبائل بعض وجوہ سے مسلمانوں کے مخالف بن گئے۔ انھوںنے ایک بڑا لشکر تیار کرکے عباسی سلطنت پر حملہ کردیا۔ انھوںنے سمرقند سے لے کر بغداد اور حلب تک، مسلم علاقے کو زبردست نقصان پہنچایا۔ انھوںنے ہلاکو خان کے زیر قیادت 1258 ء میں عباسی سلطنت کا خاتمہ کردیا۔ لیکن اس کے بعد یہ ہوا کہ ان تاتاری فاتحین نے اسلام قبول کرلیا۔ یہ واقعہ اتنا حیرت انگیز تھا کہ مورخین نے اس کا مندرجہ ذیل قسم کے الفاظ میں اعتراف کیا:
The conquerors have accepted the religion of the conquered.
(T.W. Arnold, The Preaching of Islam, London, 1913, p. 2)
The religion of the Muslims had conquered, where their arms had failed. (P.K. Hitti, History of the Arabs, London, 1989, p. 488)
انیسویں صدی عیسوی میں اسلام کی تاریخ ایک نئے دور میں داخل ہوتی ہے۔ اب ایسا ہوا کہ مغربی قومیں جدید سائنس اور جدید ٹکنالوجی سے مسلح ہو کر مسلم علاقوں میں داخل ہوگئیں۔ انھوںنے ایشیا اور افریقہ کے مسلم ملکوں پر براہِ راست یا بالواسطہ قبضہ کرلیا۔ اِس دور کو نوآبادیاتی دور (colonial period) کہاجاتا ہے۔ اِس دور میں دعوت الی اللہ کے نقطۂ نظر سے سب سے بڑا انحراف پیدا ہوا۔ اب تمام دنیا کے مسلمان منفی ردّ عمل کا شکار ہوگئے۔ ہر جگہ ایسے مسلم لیڈر اٹھے، جومغربی قوموں کو اسلام کا دشمن بتا کر ان کے خلاف فکری یا عملی لڑائی لڑنے لگے۔
نوآبادیاتی دور ایک اعتبار سے گلوبل انٹریکشن (global interaction) کا دور تھا۔ جدید کمیونی کیشن کی بنا پر ایسا ہوا کہ ساری دنیا میں لوگوں کی آمد ورفت بڑے پیمانے پر ہونے لگی۔ اِس دوران قدرتی طورپر ایسا ہوا کہ مغربی قوموں کا انٹرایکشن مسلمانوں سے ہونے لگا۔ ایک نیا عملی شعبۂ استشراق (orientalism) پیداہوا جس کے تحت، مغربی علماء بڑے پیمانے پر اسلامی مضامین کا مطالعہ کرنے لگے۔
اسلام ایک فطری مذہب ہے، وہ انسان کی فطرت کو اپیل کرتا ہے، وہ ہر متلاشیٔ حق (seeker) کے لیے، اُس کی اپنی تلاش کا جواب ہے۔ اِس بنا پر ایسا ہوا کہ اسلام خود اپنے زور پر لوگوں کے دلوں اور دماغوں میں داخل ہونے لگا۔ مغرب کے سنجیدہ افراد اپنے آپ اسلام قبول کرنے لگے۔ مثلاً برطانیہ میں لارڈ ہیڈلے فاروق، ہنگری میں ڈاکٹر عبد الکریم جُرمانوس، آسٹریا میں ڈاکٹر لیوپولڈ اسد، وغیرہ۔ تاہم یہ دعوتی عمل (da'wah process) زیادہ بڑے پیمانے پر جاری نہ ہوسکا۔ کیوں کہ زیادہ بڑے پیمانے پر دعوتی عمل جاری ہونے کے لیے ضرورت ہے کہ مسلمان براہِ راست دعوتی سرگرمیاں انجام دیں۔ مگر ابلیس نے اپنی تزئین کے ذریعے مسلمانوں کو غیر دعوتی کاموں کی طرف متوجہ کردیا۔ اِس بنا پر دعوتی عمل مسلمانوں کی مین اسٹریم (mainstream) میں داخل نہ ہوسکا۔
ابلیس یا شیطان یہ کام کس طرح کرتا ہے، اس کا جواب قرآن سے معلوم ہوتا ہے۔قرآن میں بتایا گیا ہے کہ خدا کے حکم کے باوجود جب ابلیس، آدم (انسانِ اوّل) کے سامنے نہیں جھکا، تو خدا نے ابلیس کو ملعون قرار دیا۔اِس پر غصہ ہو کر ابلیس نے کہا کہ میں انسان کو تیرے راستے سے بھٹکاؤں گا میں ان کی اکثریت کو تیری رحمت سے دور کردوں گا( لَأُزَیِّنَنَّ لَہُمْ فِی الْأَرْضِ وَلَأُغْوِیَنَّہُمْ أَجْمَعِینَ) الحجر،15:39۔اِس آیت میں ’اِغوا‘ کا لفظ ہے۔ اغوا کے لفظی معنی ہیںسیدھے راستے سے بھٹکانا۔ اِس کا مطلب یہ ہے کہ ابلیس کے لیے جہنم مقدر ہوگئی، اِس لیے انتقامی جذبے کے تحت اس نے کہا کہ میں تمام انسانوں کو تیرے راستے سے منحرف کردوں گا:
I will certainly cause them all to deviate.
ابلیس کے پاس انسان کو بھٹکانے کے لیے مختلف طریقے ہیں۔ ان میں سے ایک طریقہ وہ ہے جو خاص طورپر اہلِ ایمان کے ساتھ مخصوص ہے۔ اہلِ ایمان کی امتیازی صفت یہ ہے کہ وہ پیغمبر ِ آخرالزماں کے بعد داعی الی اللہ کے حیثیت رکھتے ہیں۔ یہ حیثیت بیک وقت دو اعتبار سے نہایت اہم ہے۔ ایک، یہ کہ اگر دعوت الی اللہ کا کام رک جائے تو عام انسانوں کے لیے جنت کی طرف رہنمائی کا عمل ختم ہوجائے گا۔ دوسرے، یہ کہ دعوتی عمل چھوڑنے کی صورت میں خود اہلِ ایمان اپنی اہم ترین حیثیت کھو دیں گے۔ اس لیے اہلِ ایمان کے سلسلے میں ابلیس کی ہمیشہ یہ کوشش ہوتی ہے کہ وہ اُنھیں دعوت الی اللہ کے کام سے غافل کردے۔
ابلیس یہ کام کس طرح کرتا ہے، اُس کا جواب ’اغوا‘ کے لفظ میں موجود ہے، جس کو ابلیس نے اپنے چیلنج کے وقت استعمال کیا تھا۔اغوا کا لفظی مطلب انحراف (deviation) ہے۔ اِس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ اِس معاملے میں ابلیس کا طریقہ کیا ہے۔ وہ طریقہ توجہ کو پھیرنا (distraction) ہے۔ اِس کوشش میںاُس کا انحصار تزئین پر ہوتا ہے، یعنی دعوت کے سوا کسی اور چیز کو مزیّن کرکے یہ کوشش کرنا کہ لوگ دعوتی راستے کو چھوڑ کر کسی اور راستے کی طرف سرگرم ہوجائیں۔ دعوتی کام کی اہمیت کو گھٹانا، اور غیر دعوتی کا م کی اہمیت کو بڑھانا، یہ اِس معاملے میں ابلیس کا خاص حربہ ہے، جس کو وہ ہر زمانے کے مسلمانوں کے اوپر استعمال کرتا ہے۔
دوسری عالمی جنگ نے نو آبادیاتی طاقتوں کو اتنا کم زور کردیا کہ وہ ایشیا اورافریقہ میں اپنے سیاسی قبضے کو باقی رکھنے کے قابل نہ رہے۔ چنانچہ دھیرے دھیرے نو آبادیاتی دور کا خاتمہ ہوگیا۔ نوآبادیاتی دور نے مغل سلطنت اور عثمانی سلطنت کا خاتمہ کیا تھا، اِس کے نتیجے میںعالمی سطح پر مسلمانوں کے اندر مغربی قوموں کے خلاف منفی ذہن پیدا ہوگیا۔ سیاسی ایمپائر کو کھونے کا غم مسلمانوں کے ذہن میں اتنی قوت سے بیٹھ گیا تھا کہ وہ یہ بھی بھول گئے کہ نو آبادیاتی دور کے خاتمے نے اُن کو نئی سیاسی زندگی دے دی ہے۔
پہلے اگر مسلمانوں کے خیال کے مطابق، انھوں نے اپنے پولیٹکل ایمپائر کو کھویا تھا تو اب قومی ریاستوں (nation states) کی صورت میں اُس کو دوبارہ انھوں نے مزید اضافے کے ساتھ حاصل کرلیا ہے۔ چنانچہ اب زمین کے مختلف حصوں میں 57 مسلم ریاستیں قائم ہیں۔ اِن مختلف ریاستوں کو آج جو ذرائع حاصل ہیں، وہ قدیم زمانے میں کسی بھی مسلم ایمپائر کو حاصل نہ تھے۔
جدید حالات نے مسلمانوں کے لیے دعوت کے نقطۂ نظر سے بہت سے نئے امکانات کھول دیے تھے۔ مثلاً کمیونی کیشن، مذہبی آزادی، عالمی انٹریکشن، وغیرہ۔ لیکن مسلمان اِن جدید مواقع کو دعوت الی اللہ کے لیے استعمال نہ کرسکے۔ دوبارہ ایسا ہوا کہ وہ مختلف قسم کے انحرافات (distractions) کا شکار ہوگئے، اور دعوت کے راستےسے بھٹک کر دوسرے غیر دعوتی راستوں میںسرگرم ہوگئے۔ مثلاً مدعو سے نفرت اور متشددانہ ٹکراؤ، مدعو پر اپنی برتری قائم کرنے کے لیے مناظرہ، اپنا علاحدہ قومی تشخص برقرار رکھنے کے لیے کمیونٹی ورک، وغیرہ۔
موجودہ زمانے میں تقریباً عالمی پیمانے پر مسلم رہنماؤں نے یہ غلطی کی ہے کہ ہر جگہ سیاسی شکایتوں کو لے کر انھوں نے لڑائی چھیڑ دی، کہیں غیر مسلم قوموں سے اور کہیں خود اپنی سرزمین کے مسلم حکمرانوں سے۔ یہ لڑائی مسلم حکومتوں نے نہیں، بلکہ مسلم رہنماؤں نے اس کی قیادت کی۔ یہ بلاشبہ ایک غیر اسلامی فعل تھا۔ غیر مسلم قوموں سے مسلمانوں کو سیاسی، یا قومی شکایتیں لے کر لڑنا نہیں ہے، بلکہ شکایتوں کو نظر انداز کرکے پُرامن طورپر اُنھیں دعوتِ حق کا مخاطب بنانا ہے۔ سیاسی اور قومی شکایتوں کی بنیاد پر مدعوقوموں سے لڑائی چھیڑنا بلا شبہ اسلامی تعلیمات کے خلاف ہے۔ قرآن میں واضح طورپر یہ حکم دیاگیا ہے کہ مدعو کی طرف سے پیش آنے والی ایذاؤں پر صبر کرو۔ شکایتی باتوں کو نظر انداز کرتے ہوئے، مثبت انداز میں انھیں حق کا پیغام پہنچاتے رہو۔
یہی معاملہ مسلم حکمرانوں کا ہے۔ علما کے اتفاقِ رائے کے مطابق، مسلم حکمرانوں کے خلاف خروج کرنا حرام ہے۔ اِس معاملے میں مسلم رہنماؤں کے لیے کرنے کا کام صرف ایک ہے، وہ یہ کہ مسلم حکمرانوں سے سیاسی ٹکراؤ نہ کرتے ہوئے، دعوت اور تعلیم کے میدان میں پُر امن جدوجہد کریں اور ایسا کرتے ہوئے مرجائیں— مگر موجودہ زمانے میں علما اور رہنماؤں کی بڑی اکثریت نے اِس کے خلاف عمل کیا۔ اِس کے نتیجے میں دعوت الی اللہ کا کام انجام نہ پاسکا، حالاں کہ وہ مسلمانوں کے اوپر فرض کے درجے میں ضروری تھا۔
مسلمانوں کا ایک اور گروہ ہے جس نے مسلم ٹکراؤ کا کام تو نہیں کیا، لیکن انھوںنے ایک اور کام کیا جو عملی ٹکراؤ سے کم نقصان دہ نہ تھا۔ یہ مناظرہ یا ڈبیٹ(debate) ہے۔ یہ لوگ متشدّدانہ ہتھیار استعمال نہیں کرتے، البتہ وہ اسٹیج پر لفظوں کے ذریعے وہی کام انجام دے رہے ہیں، جو دوسرے لوگ مقابلے کے میدان میں ہتھیاروں کے ذریعے انجام دے رہے ہیں۔ اِس قسم کے لوگ اپنے کام کو دعوت کا عنوان دیے ہوئے ہیں، حالاں کہ وہ دعوت نہیں ہے، بلکہ وہ مناظرہ یا ڈبیٹ ہے، اور مناظرہ یا ڈبیٹ کا دعوت سے کوئی تعلق نہیں۔
اصل یہ ہے کہ موجودہ زمانے کے مسلمان شکست خوردہ نفسیات(defeatist mentality) میں مبتلا ہیں۔ وہ شعوری یا غیر شعوری طورپر اِس احساس میں جی رہے ہیں کہ وہ دوسری قوموں کے مقابلے میں شکست کھاگئے ہیں۔ اب ایک خطیب اسٹیج پر کھڑا ہوتا ہے اور وہ لفظوں کی دنیا میں فاتحانہ مظاہرہ کرکے مسلمانوں کو یہ تسکین دیتا ہے کہ خواہ مقابلے کے میدان میں ہم دوسروں سے ہارچکے ہوں، لیکن اسٹیج کے اوپر ہم اُن کو شکست دے رہے ہیں۔ یہی نفسیات ہے جس کی بنا پر مسلمان ایسے خطیبوں کی باتوں پر تالیاں بجاتے ہیں اور اُس وقت خوب خوش ہوتے ہیں، جب کہ خطیب اسٹیج پر کھڑا ہوکر یہ کہتا ہے — اِن سب لوگوں کے اوپر بلڈوزر چلا دو:
Bulldoze them all!
ت ت ت ت ت ت ت ت
حقیقت یہ ہے کہ موجودہ زمانہ میں وسیع پیمانہ پر یہ امکان پیدا ہوا ہے کہ آج کے انسان کو اسلام کی دعوت دی جائے ۔ مگر یہ اُسی وقت ممکن ہے جب کہ انسان کو اسلام پھولوں کا ایک گلدستہ معلوم ہو نہ کہ کانٹوں کا ایک مجموعہ ۔ وہ جب اسلام کا تعارف پائے تو اسے محسوس ہو کہ وہ اس کے اپنے دل کی آواز ہے ۔ یہ عین وہی دینِ رحمت ہے جس کی تلاش میں وہ مد توں سے سر گرداں تھا۔اس کے لیے داعی کو مدعو کی زیادتیوں پر یک طرفہ صبر کرنا ہے ۔ یہ صبر اس لیے ہوتا ہے تاکہ داعی اور مدعو کے درمیان اعتدال کی فضا باقی رہے ، وہ کسی حال میں بگڑنے نہ پائے ۔ آج کا انسان مذہبِ امن کی تلاش میں ہے ۔ ایسی حالت میں اہل اسلام کو یک طرفہ صبر کر کے ہر حال میں ٹکرا ئو کی روش سے باز رہنا ہے ، تاکہ اسلام کے مذہبِ امن ہونے کی حیثیت مدعو کی نظر میں مجروح نہ ہونے پائے ۔ آج کا انسان دینِ روحانیت کی تلاش میں ہے ۔ ایسی حالت میں اسلام کے داعیوں کو آخری حد تک اس سے پرہیز کرنا ہے کہ وہ اسلام کو اس انداز سے پیش کریں کہ جدید انسان کو وہ صرف سیاسی اور حکومتی نظام کی کوئی اسکیم نظر آئے ۔آج کا انسان اسلام کے دروازہ پر کھڑا ہوا ہے ، اپنی حقیقت کے اعتبار سے وہ صرف اسلام کا طالب ہے ۔ دعوت کا عمل اگر درست طور پر کیا جائے تو بیشتر انسان اسلام کو اپنے دل کی آواز پائیں گے۔
واپس اوپر جائیں

اسلام دورِ جدید میں

اسلام چونکہ آخری دین ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ وہ اپنے وجود کے اعتبار سے قیامت تک باقی رہے۔ اسی لیے دین کا تحفظ بھی ایک ضروری اور مطلوب کام ہے۔ موجودہ زمانہ کی بعض تحریکوں نے اس اعتبار سے یقیناً مفید خدمات انجام دی ہیں۔ وہ اسلام کے فکری اور عملی نقشے کی محافظ ثابت ہوئی ہیں۔ بعض ادارے قرآن اور حدیث اور اسلامی مسائل کے علم کو زندہ رکھے ہوئے ہیں۔ بعض جماعتیں اسلامی عبادات کے ڈھانچہ کو ایک نسل سے دوسری نسل تک پہنچانے کا کام کررہی ہیں۔ کچھ اور ادارے قرآن وحدیث کا متن صحت وصفائی کے ساتھ چھاپ کر ہر جگہ پھیلا رہے ہیں۔ یہ تمام کام بجائے خود مفید ہیں، مگر بہر حال وہ تحفظ دین کے کام ہیں نہ کہ دعوتِ دین کے کام۔ جہاں تک اسلام کو دعوتی قوت کی حیثیت سے زندہ کرنے کا سوال ہے، وہ موجودہ زمانہ میں ابھی تک واقعہ نہ بن سکا۔ حتی کہ بظاہر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ لوگوں کو شاید اس کا شعور بھی نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ وہ اکثر ایسے کاموں کو اسلامی دعوت کا عنوان دے دیتے ہیں جن کا اسلامی دعوت سے کوئی تعلق نہیں ہوتا۔
موجودہ زمانہ میں کسی حقیقی اسلامی کام کے آغاز کی پہلی شرط یہ ہے کہ ہم اس صورت حال کو ختم کریں جس نے ساری دنیا میں اسلامی تحریک کو سیاسی تحریک کے ہم معنی بنا رکھا ہے۔ مسلمان ہر ملک میں وقت کے حکمرانوں کے خلاف شور وشر برپا کرنے میں مشغول ہیں۔ کہیں ان کی یہ تحریک غیر مسلم اقتدار کے خلاف برپا ہے، اور کہیں وہ ایک اسلامی سیاسی فلسفہ کے زیر سایہ کام کررہی ہے اور کہیں فلسفہ اور نظریہ کے بغیر متحرک ہے۔ کہیں اس نے ملّی عنوان اختیار کررکھا ہے اور کہیں نظامی عنوان۔ تاہم سارے فرق واختلاف کے باوجود نتیجہ سب کا ایک ہے — حریفوں کے خلاف محاذ کے نام سے نقصان میں اضافہ کرتے رہنا۔ اس اعتبار سے دیکھیے تو مسلمانوں نے موجودہ زمانہ میں بالکل الٹی کارکردگی کا ثبوت دیا ہے۔ خدانے دعوتِ حق کی راہ سے سیاسی رکاوٹ کو دور کرکے انھیں موقع دیا تھا کہ وہ آزادانہ حالات میں خدا کے تمام بندوں تک خدا کا پیغام پہنچا دیں۔ وہ خدا کے بندوں کو خدا کی اس اسکیم سے باخبر کردیں جس کے تحت اس نے انسان کو پیدا کیا ہے اور جس کے مطابق وہ ایک ایک شخص کا حساب لینے والا ہے۔ مگر انھوں نے دوبارہ نئے نئے عنوان سے اپنے خلاف سیاسی رکاوٹیں کھڑی کرلیں۔ خود ساختہ سیاسی جہاد میں ہر ایک مشغول ہے۔ مگر دعوتی جہاد میں اپنا حصہ ادا کرنے کی فرصت کسی کو نہیں۔
قرآن میں ہے کہ اللہ اس کی مدد کرتا ہے جو اللہ کی مددکرے (الحج، 22:40)۔ ہر دور میں خدا اپنے دین کے حق میں کچھ امکانات کھولتاہے۔ اس وقت ضرورت ہوتی ہے کہ کچھ لوگ ہوں جو خدا کے اشارہ کو سمجھیں، اور خدا کے منصوبہ میں اپنے آپ کو شامل کردیں۔ صحابہ کرام وہ خوش نصیب لوگ ہیں، جنھوں نے اپنے زمانہ میں خدائی منصوبہ کو سمجھا، اور اپنے آپ کو پوری طرح اس کے حوالہ کردیا۔ اس کا نتیجہ وہ عظیم انقلاب تھا جس نےانسانی تاریخ کے رخ کو موڑ دیا۔
بارش کا آنا خدا کے ایک منصوبہ کا خاموش اعلان ہے۔ یہ کہ آدمی اپنا بیج زمین میں ڈالے تاکہ خدا اپنے کائناتی انتظام کو اس کے موافق کرکے اس کے بیج کو ایک پوری فصل کی صورت میں اس کی طرف لوٹائے۔ کسان اس خدائی اشارہ کو فوراً سمجھ لیتا ہے، اور اپنے آپ کو اس خدائی منصوبہ میں پور ی طرح شامل کردیتا ہے۔ اس کا نتیجہ ایک لہلہاتی ہوئی فصل کی صورت میں اس کو واپس ملتاہے۔ اسی طرح موجودہ زمانہ میں، ہزار سالہ عمل کے نتیجہ میں، اللہ تعالی نے اپنے دین کے حق میں کچھ نئے مواقع کھولے تھے۔ یہ مواقع کہ اقتدار کا حریف بنے بغیر توحید اور آخرت کی دعوت کو عام کیا جائے۔ جو کام پہلے معجزاتی سطح پر انجام دینا پڑتاتھا، اس کو عام طبیعیاتی استدلال کی سطح پر انجام دیا جائے۔ جو کام پہلے تعصب کے ماحول میں کرنا پڑتا تھا، اس کو مذہبی رواداری کے ماحول میں کیا جائے۔ جو کام پہلے ’’حیوانی رفتار‘‘ سے کیا جاتا تھا اس کو ’’مشینی رفتار‘‘ کے ساتھ انجام دیا جائے۔
یہ موجودہ زمانہ میں خدا کا منصوبہ تھا۔ خدا نے سارے بہترین امکانات کھول دیے تھے اور اب صرف اس کی ضرورت تھی کہ خدا کےکچھ بندے ان کو استعمال کرکے ان امکانات کوواقعہ بننے کا موقع دیں۔ مگر مسلم قیادت خداکے اس منصوبہ میں شامل ہونے کے لیے تیار نہ ہوئی۔ اس نے نئے نئے عنوانات کے تحت وہی سیاسی جھگڑے دوبارہ چھیڑ دیے، جن کو خدا نے ہزار سالہ عمل کے نتیجہ میں ختم کیا تھا۔ انھوں نے اسلامی دعوت کو سیاسی اور قومی دعوت بنا کر دوبارہ اسلام کو اقتدار کاحریف بنا دیا اور کہا کہ یہی عین خدا کا پسندیدہ دین ہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ مدعو قوموں کے ساتھ ہر جگہ بالکل بے فائدہ قسم کی مقابلہ آرائی شروع ہوگئی، اور سارے نئے امکانات غیر استعمال شدہ حالت میں پڑے رہ گئے۔مسلمانوں اور دیگر قوموں کے درمیان داعی اور مدعو کا رشتہ قائم نہ ہوسکا۔
کام کی ایک سوسال سے بھی زیادہ لمبی مدت مسلمانوں نے کھو دی۔ یہاں تک کہ شیطان نے دوبارہ قدیم شرک کی جگہ جدید شرک (کمیونزم) کوکھڑا کردیا۔ اب کم از کم کمیونزم کے زیر تسلط علاقوں میں دوبارہ کام کرنے کی وہی مشکلات پیدا ہوگئی ہیں ،جو اس سے پہلے شرک کے زیر تسلط علاقوں میں پائی جاتی تھیں۔ تاہم غیر کمیونسٹ دنیا میں اب بھی کام کے مواقع کھلے ہوئے ہیں،اور یہاں پندرھویں صدی ہجری میں اس صالح جدوجہد کا آغاز کیاجاسکتا ہے جو چو دھویں صدی ہجری میں نہ کیا جاسکا۔
ت ت ت ت ت ت ت ت
یہود کا ذکر قرآن میں اصلاً خود یہود کے لیے نہیں ہے۔ قرآن میں یہود کا لفظ بطور مثال ہے۔ یہود کی مثال سے امتِ محمدی کو متنبہ کیا گیا ہے کہ تم اس انجام سے اپنے آپ کو بچاؤ۔ اس کا اشارہ قرآن کی اس آ ٓیت میں ملتا ہے:(ترجمہ) کیا ایمان والوں کے لیے وہ وقت نہیں آیا کہ ان کے دل اللہ کی نصیحت کے آگے جھک جائیں۔ اور اس حق کے آگے جو نازل ہوچکا ہے، اور وہ ان لوگوں کی طرح نہ ہوجائیں جن کو پہلے کتاب دی گئی تھی، پھر ان پر لمبی مدت گزر گئی تو ان کے دل سخت ہوگئے (فَطَالَ عَلَیْہِمُ الْأَمَدُ فَقَسَتْ قُلُوبُہُمْ)، اور ان میں سے اکثر لوگ نافرمان ہیں(57:16)۔ یہ کسی امت کے دورِ زوال کی بات ہے، جو طول اَمد کے بعد فطرت کے قانون کے مطابق لازماًپیدا ہوتا ہے۔ ا س دور تک پہنچنے کے بعد امت کے افراد میں ایمان کا شعور ایک رسمی شعور بن جاتا ہے۔ اس دور میں امت کے افراد کے اندر آخرت کا زندہ احساس باقی نہیں رہتا ۔ اس دور تک پہنچنے کے بعد امت کے افراد میں خشیت (ڈر) کی صفت باقی نہیں رہتی۔ ان کے لیے ایمان ایک رسمی عقیدہ بن جاتا ہے۔
واپس اوپر جائیں

فراہی اسکول کا کنٹری بیوشن

مولانا حمیدالدین فراہی (1863-1930)قرآن کی تفسیر میں ایک تفسیری اسکول کے بانی سمجھے جاتے ہیں۔اگر چہ مولانا حمید الدین فراہی اپنی فکر کی بنیاد پر کوئی مکمل تفسیر قرآن نہ لکھ سکے۔ لیکن ان کے انقلابی فکر سے بہت سے اہل علم کو ذہنی تحریک ملی، اور انھوں نے قرآن کی تفسیر میں بہت سے قیمتی نکتے دریافت کیے۔
مولانا حمید الدین فراہی کے منہج کو اختیارکرنے والوں میں سے ایک مولانا جلیل احسن ندوی اصلاحی (1914-1981) تھے۔ انھوںنے قرآن کی ایک آیت کی تفسیر میں ایک اشکال کو نہایت خوبی کے ساتھ دور کیا ہے۔ اس نکتے کو میں نے اپنی تفسیر تذکیر القرآن میں اس طرح درج کیا ہے:
برادران یوسف روانہ ہونے لگے تو حضرت یوسف نے ازراہ محبت اپنا پانی پینے کا پیالہ (جو غالباً چاندی کا تھا) اپنے بھائی بن یامین کے سامان میں رکھ دیا۔ اس کی خبر نہ بن یامین کو تھی اور نہ دربار والوں کو۔ اس کے بعد خدا کی قدرت سے ایسا ہوا کہ غلہ ناپنے کا شاہی پیمانہ (جو خود بھی قیمتی تھا) کہیں ادھر ادھر (misplace) ہوگیا۔ تلاش کے باوجود جب وہ نہیں نکلا تو کارندوں کا شبہ برادرانِ یوسف کی طرف گیا جو ابھی ابھی یہاں سے روانہ ہوئے تھے۔ ایک کارندہ نے آواز دے کر قافلہ کو بلایا۔ پوچھ گچھ کے دوران انہوں نے بطور خود چوری کی وہ سزا تجویز کی جو شریعتِ ابراہیمی کی رو سے ان کے یہاں رائج تھی۔ یعنی جو سارق ہے وہ ایک سال تک مالک کے یہاں غلام بن کر رہے۔
اس کے بعد کارندے نے تلاشی شروع کی۔ اب غلہ کا پیمانہ تو ان کے یہاں نہیں ملا۔ مگر دربار کی ایک اور خاص چیز (چاندی کا پیالہ) بن یامین کے سامان سے برآمد ہوگیا۔ چنانچہ بن یامین کو حسبِ فیصلہ حضرت یوسف کے حوالہ کردیا گیا۔ اگر شاہ مصر کے قانون پر فیصلہ کی قرار داد ہوئی ہوتی تو حضرت یوسف اپنے بھائی کو نہ پاتے۔ کیونکہ شاہ مصر کے مروجہ قانون میں چور کی سزا یہ تھی کہ اس کو مارا جائے، اور مسروقہ چیز کی قیمت اس سے وصول کی جائے۔ اس واقعہ میں حضرت یوسف کی نیت شامل نہ تھی، یہ خدائی تدبیر سے ہوا اس لیے خدا نے اس کو اپنی طرف منسوب فرمایا۔
نوٹ : بن یامین کے سامان میں سقایہ رکھا گیا تھا، جس کی ضمیر ھا ہے۔ مگر شاہی کارندہ صواع تلاش کر رہا تھا جس کی ضمیر ’’ہ‘‘ ہے۔ اب تلاش کے بعد کارندہ نے جو چیز برآمد کی اس کے لیے قرآن میں ضمیر ’’ھا‘‘ استعمال ہوئی ہے (ثُمَّ اسْتَخْرَجَہَا مِنْ وِعَاءِ أَخِیہِ )۔ ضمیر کا یہ فرق بتاتا ہے کہ تلاش کے بعد بن یامین کے سامان سے سقایہ نکلا تھا نہ کہ صواع۔ (تذکیر القرآن، سورہ یوسف 69-76)
اسی طرح مولانا فراہی کے شاگرد مولانا امین احسن اصلاحی (1904-1997) نے مولانا فراہی کے منہج تفسیر پر چلتے ہوئے قرآن کے کئی تفسیری نکتے نہایت خوبی کے ساتھ واضح کیے ہیں۔ اس کی ایک مثال یہ ہے:
لِاُنْذِرَکُمْ بِہٖ وَمَنْ بَلَغَ ، عام طور پر مفسرین نے وَمَنْ بَلَغَ کو ضمیر منصوب پر معطوف مانا ہے یعنی یہ قرآن اس لیے مجھ پر وحی کیا گیا ہے کہ میں اس کے ذریعے سے تم کو اور ان سب کو بیدار و ہوشیار کروں جن تک یہ پہنچے۔ لیکن ہمارا خیال یہ ہے کہ یہ ضمیر متکلم پر معطوف ہے یعنی میں اس کے ذریعے سے تم کو خبردار کروں اور جن کو یہ پہنچے وہ بھی اپنی اپنی جگہ پر دوسروں کو اس کے ذریعے سے خبردار کریں۔ یہ گویا اس ذمہ داری کی یاد دہانی ہے جس کا ذکر دوسرے مقام میں یوں ہوا ہے فَلَوْلا نَفَرَ مِنْ کُلِّ فِرْقَةٍ مِنْہُمْ طَائِفَةٌ لِیَتَفَقَّہُوا فِی الدِّینِ وَلِیُنْذِرُوا قَوْمَہُمْ إِذَا رَجَعُوا إِلَیْہِمْ (توبہ122) پس ایسا کیوں نہ ہوا کہ ان کے ہر گروہ میں سے ایک جماعت دین کا علم حاصل کرنے کے لیے اٹھتی اور تاکہ وہ اپنی قوم کو خبردارکرتی جب کہ ان کی طرف واپس آتی ۔ یہی حقیقت احادیث میں بھی واضح کی گئی ہے۔ چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے تمام صحابہ پر انذار و تبلیغ کی ذمہ داری ڈالی اور فرمایا فلیبلغ الشاھد الغائب۔ پس چاہیے کہ جو لوگ موجود ہیں وہ ان لوگوں کو پہنچا دیں جو موجود نہیں ہیں۔ لِتَکُونُوا شُہَدَاءَ عَلَى النَّاسِ وَیَکُونَ الرَّسُولُ عَلَیْکُمْ شَہِیدًا میں اس امت کا جو فریضہ منصبی بیان ہوا ہے اور جس کی وضاحت ہم اس کے مقام میں کرچکے ہیں، اس سے بھی اسی مفہوم کی تائید نکلتی ہے جس کی طرف ہم نے اشارہ کیا ہے۔ (تدبر قرآن، سورہ الانعام19:)
واپس اوپر جائیں

عظیم قربانی

اسلام کی تاریخ میں دو عظیم قربانی مقدر تھی۔ قربانی کے ان دونوں واقعات سے اسلام کی دوررس تاریخ بننے والی تھی۔ پہلی قربانی مکمل طور پر پیش آچکی ہے۔ دوسری قربانی کے پیش آنے کا تاریخ کو انتظار ہے۔ اس دوسری قربانی کا وقت آخری طور پر آگیا ہے۔ پہلی قربانی ایک پراسس (process) کی صورت میں پیش آچکی ہے۔ دوسری قربانی دوبارہ اسی طرح پراسس کی صورت میں پیش آئے گی ، اور یہ پراسس عملاً شروع ہوچکا ہے۔
پہلی قربانی وہ تھی، جو ابراہیم، اسماعیل اور ہاجرہ کے ذریعے پیش آئی، اوراس کے انقلابی نتائج کا تجربہ ساری دنیا کو پیش آرہا ہے۔ اس عظیم قربانی کا ذکر قرآن میں ان الفاظ میں آیا ہے: وَفَدَیْنَاہُ بِذِبْحٍ عَظِیمٍ (37:107)۔ یعنی ہم نے اس کو ایک عظیم قربانی کے عوض چھڑا لیا۔
پیغمبر ابراہیم کا زمانہ تقریباً ساڑھے چار ہزار سال پہلے کا زمانہ ہے۔ وہ قدیم عراق میں پیدا ہوئے۔ اس وقت دنیا میں مطلق شہنشاہیت (despotism) کا دور تھا۔ کچھ سیاسی خاندانوں نے جابرانہ بادشاہت قائم کر رکھی تھی۔ ان کے پاس نہایت طاقت ور فوجیں ہوا کرتی تھیں۔ وہ اپنے خلاف بغاوت کو طاقت سے کچل دیتے تھے۔ اس دور میں دو بڑی بادشاہتیں قائم ہوگئی تھیں— بازنطینی سلطنت (Byzantine Empire) اورساسانی سلطنت (Sassanid Empire)۔
پیغمبر ابراہیم، ان کے بیٹے اسماعیل اور ان کی بیوی ہاجرہ کی غیر معمولی قربانی کے ذریعے عرب کے صحرا میں ایک قوم تیار ہوئی۔ اس قوم کو ایک مستشرق نے نرسری آف ہیروز کا نام دیا ہے۔ یہ قوم ابراہیم اور اسماعیل کی قربانی سے عرب میں بنی، پھر اس قوم کا ٹکراؤ مذکورہ دونوں سلطنتوں سے ہوا۔ اس سے پہلے خود ان دونوں سلطنتوں کا باہمی ٹکراؤ پیش آیا، جس کے نتیجے میں دونوں سلطنتیں کمزور ہوگئیں۔ اس واقعے کا ذکر قرآن کی سورہ الروم کی ابتدا میں کیا گیا ہے۔ اس کے بعد اس عرب نسل کو ،جس کو بنو اسماعیل کہا جاتا ہے، یہ موقع ملا کہ وہ دونوں سلطنتوں کو ایک کے بعد ایک شکست دے کر ان کا زور پوری طرح توڑ دیں۔ چنانچہ ایسا ہی ہوا۔اب ان جابر سلطنتوں کا زورساری دنیا سے پوری طرح ختم ہوگیا، اور ساری دنیا میں آزادی کا دور آگیا۔
دوسرے دور کا انقلاب بالقوۃ طور پر (potentially) پیش آچکا ہے۔ اب اس پوٹنشل کو اویل (avail) کرنا ہے۔ یہ پوٹنشل موجودہ زمانے کاوہ انقلاب ہے،جس کو دورِ مواصلات (age of communication) کہا جاتا ہے۔ اس انقلاب کی بناپر پہلی بار تاریخ میں کسی مشن کی عالمی اشاعت کا موقع پیدا ہوا ہے۔اس دور کو قرآن کی اشاعت کے لیےبھر پور طور پر استعمال کرنا ہے۔ حدیث میں جس واقعے کو شہادتِ اعظم (صحیح مسلم ، حدیث نمبر 2938) کہا گیا ہے، اس سے مراد یہی گلوبل دعوہ (global dawah) ہے۔ اسی گلوبل دعوہ کو موجودہ ایج آف کمیو نی کیشن میں آخری آسمانی کتاب قرآن کے حق میں استعمال کرنا ہوگا، اور پھر انسان کے اوپر آخری حجت تمام ہوجائے گی۔
جو لوگ اس امکان کو دریافت کریں، اور قربانی کی سطح پر اس کو بروئے کار لانے کی جدو جہد کریں، ان کے لیے تاریخ کا عظیم ترین انعام مقدر ہے۔ یہ واقعہ حدیث کے الفاظ میں اللہ کے نزدیک شہادتِ اعظم ہوگا، اور اس کے لیے اللہ کی طرف سے جزائے اعظم ، یعنی اعلیٰ فردوس کا فیصلہ کیا جائے گا۔
دورِ آخر کی یہ شہادت اعظم کسی مسلح کار روائی کے ذریعے نہیں ہوگی۔ یہ مکمل طور پر ایک پرامن واقعہ ہوگا۔ اس واقعے کو بروئے کار لانے میں پیش کرنے والے جو قربانی پیش کریں گے، وہ گردن کاٹنا یا کٹوانا نہیں ہوگا، یہ تمام تر ایک پرامن جدو جہد (peaceful struggle) کے ذریعے وجود میں آئے گا۔ یہ امنگوں کی قربانی (sacrifice of aspirations) کا معاملہ ہوگا۔
شہادتِ اعظم یا عالمی دعوت کا یہ واقعہ اس طرح ہوگا کہ اس کے لیے کچھ لوگ اپنے آپ کو بھرپور طور پر وقف (dedicate) کریں گے، وہ اپنی اعلیٰ ذہنی صلاحیت کو اپنی ذات کے لیے استعمال کرنے کے بجائے دعوتی مشن کے لیے استعمال کریں گے۔
واپس اوپر جائیں

دعوہ ایکسپلوزن

پیغمبر ِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کا مشن دعوتِ توحید کا مشن تھا۔ آپ نے 610 عیسوی میں مکہ میں اپنا مشن شروع کیا۔ یہ زمانہ پرنٹنگ پریس سے بہت پہلے کا زمانہ تھا۔ اس زمانے میںایسے لوگ بہت کم ہوتے تھے، جو کسی لکھی ہوئی چیز کو پڑھ سکیں۔ مورخ بلاذری نے لکھا ہے کہ رسول اللہ کے زمانے میں قریش میں صرف 17 لوگ ایسے تھے جو لکھنا پڑھنا جانتے تھے(عن أَبِی بکر بْن عَبْد اللَّہِ بْن أبى جہم العدوى قال:دخل الإسلام وفی قریش سبعة عشر رجلا کلہم یکتب) فتوح البلدان للبَلَاذری، ص 453، بیروت،1988
رسول اور اصحاب رسول اگر لکھی ہوئی کتاب کو پڑھوانے کے ذریعہ اپنا مشن پھیلاتے تو تیزی کے ساتھ اسلام کی اشاعت نہیں ہوسکتی تھی۔ اس وقت رسول اور اصحاب رسول نے جو فطری طریقہ اختیار کیا، وہ تھا پڑھ کر سنانا۔ عربوں کی زبان عربی تھی۔ سارے عرب کے لوگ عربی زبان سمجھتے، اور بولتےتھے۔اس کے مقابلے میں ایسے لوگ بہت کم تھے، جو کتاب کو خود سے پڑھ کر دعوت کو سمجھیں، اور اس کو اختیار کریں۔رسول اللہ نے اس زمانے میں عملی طریقہ اختیارکیا، اور وہ تھا قرآن کو پڑھ کر سنانا۔ آپ کا طریقہ یہ تھا کہ آپ عربوں کے چھوٹے اور بڑے اجتماعات میں جاتےاور لوگوں کو قرآن پڑھ کر سناتے، اس طرح بہت جلد قرآن کا پیغام سارے عرب میں پھیل گیا۔
یہی صورت حال الرسالہ کے دعوتی مشن کی ہے۔ ماہنامہ الرسالہ کی زبان اردو ہے۔ اسی طرح اس مشن کے لیے جو کتابیں تیار کی گئی ہیں، وہ بھی زیادہ تر اردو زبان میں ہیں۔ موجودہ زمانے میں ایسے لوگ نسبتاً بہت کم ہیں، جو اردو زبان میں لکھی ہوئی کتابوں کو پڑھ کر سمجھیں، لیکن دوسری طرف اس کا مثبت پہلو یہ ہے کہ اردو زبان کے بولنے اور سمجھنے والے دنیا کے اکثر ملکوں میں پھیلے ہوئے ہیں۔ ایسے لوگوں کی تعداد بہت زیادہ ہے، جو اگرچہ اردو کتاب نہیں پڑھ سکتے، لیکن وہ سن کر بخوبی طور پر اردو زبان کو سمجھ سکتے ہیں۔
اس صورتِ حال میں الرسالہ مشن سے وابستہ لوگوں کے لیے دعوت کا ایک سنہری موقع موجود ہے، اور وہ ہے ماہنامہ الرسالہ یا اس سے متعلق اردو کتابوں کو پڑھ کر لوگوں کو سنانا۔ اس طرح وہ رسول اور اصحاب رسول کی سنت کو دوبارہ زندہ کرنے کا کریڈٹ پاسکتے ہیں۔ مزید یہ کہ ٹکنالوجی نے موجودہ زمانے میں اس کام کو بہت زیادہ آسان بنا دیا ہے۔ وہ یہ کہ وائس ریکارڈنگ کا طریقہ اختیار کرتے ہوئے، الرسالہ اور اس سے متعلق کتابوں کے مضامین کا ریکارڈ تیار کیا جائے، اور ان کو وسیع طور پر لوگوں کے درمیان پھیلایا جائے۔ اس طرح لوگوں کو یہ موقع ہوگا کہ وہ سن کر الرسالہ مشن سے واقفیت حاصل کریں۔کار میں سفر کرتے ہوئے وہ آڈیو ریکارڈنگ کو سنیں۔
الرسالہ مشن سے جڑے ہوئے بہت سے لوگ عملاً اس طریقہ کو استعمال کررہے ہیں، وہ الرسالہ او ر اس سے متعلق کتابوں کا آڈیو تیار کرکے لوگوں کو پہنچارہے ہیں۔ مثلاً ڈاکٹر وقار عالم (امریکا)، مز شبانہ انصاری اور مسٹر سید خالد (پاکستان)، مولانا عبد الباسط عمری (قطر)،وغیرہ ۔تاریخ بتاتی ہے کہ ہر مشن میں ایک اس کا ابتدائی زمانہ ہوتا ہے۔ اس زمانے میں مشن استحکام کا درجہ حاصل کرتا ہے۔ اس کے بعد وہ وقت آتا ہے جس کو مشن کی توسیع عام کا زمانہ کہہ سکتے ہیں۔ الرسالہ مشن سے وابستہ لوگوں کے لیے یہ موقع ہے کہ وہ ماڈرن ٹکنالوجی کو استعمال کرتے ہوئے الرسالہ کی دعوت کو دعوہ ایکسپلوزن (Dawah Explosion) کے دور میں پہنچادیں۔
1979 میں ایران کا انقلاب اسی طرح پیش آیا۔ آیت اللہ خمینی اس زمانے میں یورپ میں تھے۔ وہاں سے وہ اپنی تقریروں کے کیسٹ ایران بھیجتے تھے۔ یہ کیسٹ پورے ایران میں سنے جانے لگیں۔ ایران کے اس انقلاب کو کیسٹ ریولیوشن کہا جاتا ہے:
A powerful and efficient network of opposition began to develop inside Iran, which smuggled cassette speeches by Khomeini, and used other means.
’’کیسٹ ریوولیوشن ‘‘کا یہ طریقہ بلاشبہ دعوت کے غیر سیاسی پر امن کام کے لیے کامیابی کے ساتھ دہرایا جاسکتا ہے۔
واپس اوپر جائیں

دنیاانتظار میں ہے

جولائی 1976 کی چھ تاریخ تھی اور شام 6بجے کا وقت۔ میں شہر کی ایک سڑک سے گزر رہا تھا۔ اتنے میں ایک اجنبی دکان دار نے آواز دے کر مجھے روکا۔
’’مرنے کے بعد کیا آدمی پھر اسی جیون میں واپس آتا ہے‘‘ اس نے پنجابی زبان میں سوال کیا۔
’’نہیں‘‘
’’پھر کہاں جاتاہے‘‘
’’اپنے مالک کے پاس چلا جاتا ہے حساب دینے کے لیے‘‘۔
’’اور اس کے بعد‘‘
’’اس کے بعد نرک میں جاتا ہے یا سورگ میں‘‘۔یہ جواب سن کر بوڑھے دکان دار نے اپنی سیٹ پر پہلو بدلا اور خاموش ہوگیا۔ اس کا چہرہ بتا رہا تھا کہ وہ کسی گہری سوچ میں پڑ گیا ہے۔ مجھے محسوس ہوا کہ اب کچھ اور بولنا اس کی سوچ میں خلل ڈالنا ہوگا۔ میں چند منٹ تک اس کے اگلے سوال کا منتظر رہا اور اس کے بعد آگے بڑھ گیا۔
اسی قسم کا ایک واقعہ مشہور امریکی مشنری بلی گراہم نے لکھا ہے۔ وہ اپنی کتاب ’’ دی سیکرٹ آف ہیپی نس‘‘ میں لکھتا ہے کہ دنیا کے ایک عظیم سیاست داں نے ایک بار اس سے کہا:
I am an old man. Life has lost all meaning. I am ready to take a fateful leap into the unknown. Young man, can you give me a ray of hope.
’’میں بوڑھا ہوچکا ہوں۔ زندگی نے اپنی تمام معنویت کھو دی ہے۔ عنقریب میں نا معلوم دنیا کی طرف ایک فیصلہ کن چھلانگ لگانے والا ہوں۔ اے نوجوان شخص!کیا تم مجھے امید کی کوئی کرن دے سکتے ہو۔‘‘
یہ موت ہر آدمی کا پیچھا کررہی ہے۔ بچپن اور جوانی کی عمر میں آدمی اسے بھولا رہتا ہے۔ مگر بالآخر تقدیری فیصلہ غالب آتا ہے۔ بڑھاپے میں جب اس کی طاقتیں گھٹ جاتی ہیں، تب اسے محسوس ہوتا ہے کہ اب بہر حال کچھ دنوں کے بعد وہ مرجائے گا۔ اس وقت وہ مجبور ہوتا ہے کہ سوچے کہ ’’مرنے کے بعد کیا ہونے والا ہے‘‘۔ اسے تلاش ہوتی ہے کہ وہ کوئی امید کی کرن پالے جو موت کے بعد آنے والے حالات میں اس کو روشنی دے سکے۔
یہ زندگی کا اہم ترین سوال ہے، اس سے باخبر کرنے کے لیے اللہ نے اپنے تمام پیغمبر بھیجے۔ مگر آج جو لوگ پیغمبر کے وارث ہیں، وہ خود بھی شاید اس حقیقت کو بھول چکے ہیں۔ پھر ان سے کیا امید کی جائے کہ وہ دوسروں کو اس حقیقت سے باخبر کرسکیں گے۔
موت کے بعد انسان کے ساتھ کیا پیش آنا ہے، اسی کو بتانے کے لیے قرآن بھیجا گیا ہے۔ حاملینِ قرآن کی سب سے بڑی ذمہ داری یہ ہے کہ دنیا کو اس حقیقت سے باخبر کریں۔ اگر وہ اس کام کو نہ کریں تو قیامت کے دن جب قوموں کا حساب ہوگا وہ اس بات کے مجرم قرار پائیں گے کہ ان کے پاس انسانیت کے لیے اہم ترین خبر تھی مگر انھوں نے لوگوں کو اس سے آگاہ نہ کیا۔
ت ت ت ت ت ت ت ت
حدیث میں آیا ہے کہ تم زمین والوں پر رحم کرو ۔ آسمان والا تم پر رحم کرے گا (ارْحَمُوا مَنْ فِی الأَرْضِ یَرْحَمْکُمْ مَنْ فِی السَّمَاءِ)سنن الترمذی، حدیث نمبر 1924۔ اس رحمت کا تعلق صرف اخلاقی معاملات سے نہیں ہے۔ اس سے بھی زیادہ بڑھ کر اس کا تعلق دعوت الی اللہ سے ہے، یعنی لوگوں کو بتانا کہ وہ کون سی تدبیر ہے، جس کو اختیار کر کے وہ آخرت کی پکڑ سے بچ سکتے ہیں اور اللہ کی ابدی نعمتوں میں اپنا حصہ پا سکتے ہیں۔ اس واقعہ کی خبر بلا شبہ لوگوں کے حق میں رحمت وشفقت کا سب سے بڑا معاملہ ہے ۔
واپس اوپر جائیں

امن کا مقصد

امن کا مقصد فوری فائدہ(immediate gain) حاصل کرنا نہیں ہے، بلکہ مواقع کو پیدا کرنا ہے۔ امن پسندی کا تقاضا یہ ہے کہ جہاں امن کا ماحول موجود ہو، اس کو انسانی ترقی کے لیے استعمال کرنا، اور اگر امن کے حالات موجود نہ ہوں، تو یک طرفہ کوشش کے ذریعے ایسے حالات پیدا کرنا، جو پرامن ماحول بنانے والے ہوں۔
مثلاً اگر کہیں دو قومی نظریہ کا کلچر پایا جاتا ہو، تو اس کو ختم کرنا، اور انسانی نظریے کو فروغ دینا۔ اگر کہیں مطالباتی سیاست کا رواج ہو، تو اس کو یک طرفہ اصلاح کے ذریعے ختم کرنا، اور جدید نظریے کے مطابق، پرامن اور صحت مند مسابقت کو رواج دینا، وغیرہ۔
جدید تہذیب کے تحت جو کلچر بنا ہے، وہ پرامن اور صحت مند مسابقت کا کلچر ہے۔ یہی کلچر اسلام میں بھی مطلوب ہے۔ مسلمانوں میں اگر کہیں اس کے برعکس کوئی کلچر پایا جاتا ہو، تو وہ قدیم قبائلی کلچر کی باقیات کے طور پر ہیں۔ دو قومی نظریہ بھی اسی قسم کی قبائلی باقیات کا نتیجہ ہے۔
امن پسندی کی دو نظریاتی بنیادیں ہیں۔ ایک ہے مبنی بر افادیت امن پسندی۔ مثلاً تجارتی فائدے کے لیے امن پسندی۔ یہ بھی ایک مطلوب امن پسندی ہے۔لیکن اس کا کوئی اخروی انعام نہیں۔ دوسرا ہے، مبنی بر دعوت امن پسندی۔یہ مبنی بر اصول امن پسندی ہے، اور اس کا انعام جنت ہے۔ مبنی بر دعوت امن پسندی آخرت کے انعام کے لیے ہوتی ہے، اور اس کا اجر اللہ کے یہاں بہت زیادہ ہے۔
پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے قریش کے ساتھ جو صلح حدیبیہ کی تھی، وہ مبنی بر دعوت امن پسندی تھی، اور یہ امن پسندی پیغمبرانہ اسوہ سے تعلق رکھتی ہے۔ اس نوعیت کی امن پسندی اس اعلیٰ اخلاقِ نبوی سے تعلق رکھتی ہے، جس کے لیے قرآن میں یہ الفاظ آئے ہیں وَإِنَّکَ لَعَلَى خُلُقٍ عَظِیمٍ (68:4)۔ یعنی اور بیشک تم ایک اعلیٰ اخلاق پر ہو۔
واپس اوپر جائیں

سیلف گلوری

ایک روایت حدیث کی مختلف کتابوں میں الفاظ کے معمولی فرق کے ساتھ آئی ہے۔ مستدرک الحاکم کے الفاظ یہ ہیں: عَنْ أَبِی ہُرَیْرَةَ، عَنِ النَّبِیِّ صَلَّى اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فِیمَا یَحْکِی عَنْ رَبِّہِ عَزَّ وَجَلَّ، قَالَ:الْکِبْرِیَاءُ رِدَائِی، فَمَنْ نَازَعَنِی رِدَائِی قَصَمْتُہُ (مستدرک الحاکم، حدیث نمبر 203)۔ یعنی ابو ہریرہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں، آپ اللہ تعالی سے روایت کرتے ہیں کہ بڑائی میری چادر ہے، میری چادر کو جو مجھ سے چھیننے کی کوشش کرے گا، میں اس کو توڑ دوں گا۔
قصم کا لفظی مطلب ہے توڑنا (to destroy)۔ یہ بات اس حدیث میں دنیا کے اعتبار سے ہے۔ یعنی جو آدمی ذاتی بڑائی (self glory) کے نشانے کو لے کر تحریک چلائے گا، وہ کبھی اپنے نشانے کو پورا کرنے میں کامیاب نہ ہوگا۔خدا اس کی کوششوں اور قربانیوں کو بے نتیجہ بنادے گا۔
بیسویں صدی اس معاملے کی ایک مثال ہے۔ بیسویں صدی میں مسلم دنیا کے اندربڑی بڑی شخصیتیں پیدا ہوئیں۔ ان شخصیتوں نے ہمالیائی تحریکیں چلائیں۔ مگر یہ تمام تحریکیں اپنے نشانے کو پانے میں پوری طرح ناکام رہیں۔ ان شخصیتوں کے حالات بتاتے ہیں کہ ان میں سے ہر ایک کا خاتمہ مایوسی (frustration) میں ہوا۔ یہ افراد طوفان کی طرح اٹھے، مگر وہ بلبلے کی طرح ختم ہوگئے۔
غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ ان شخصیتوں کا مشترک کیس یہ تھا کہ انھوںنے سیاسی نشانہ (political goal) کو اپنا نشانہ بنایا۔ پولیٹکل نشانہ گویا اللہ کی عظمت کو چھیننے کے ہم معنی تھا۔ یہی واحد وجہ ہے کہ غیر معمولی مواقع ملنے کے باوجود یہ افراد اپنے مطلوب نشانے کو پانے میں مکمل طور پر ناکام ہوگیے۔ اہلِ ایمان کے لیے اس دنیا میں صرف ایک ہی صحیح نشانہ ہے، اور وہ دعوت کا نشانہ ہے۔ جو لوگ دعوت الی اللہ کو اپنا نشانہ بنائیں ، وہ اللہ کی مدد سے یقینی طور پر کامیاب رہیں گے۔ یہ کامیابی خدائی معیار کے مطابق حاصل ہوگی، نہ کہ کسی انسان کے ذاتی معیار کے مطابق۔
واپس اوپر جائیں

اسلامی نظام

انیسویں صدی کے نصف آخر میں کمیونسٹ نظریہ پھیلا۔ 1917 میں سوویت یونین میں پہلا کمیونسٹ نظام قائم ہوا۔ اب زیادہ منظم انداز میں اسٹیٹ کی سطح پر کمیونسٹ نظریہ کا پروپیگنڈا پوری طاقت سے ہونے لگا۔ اُس زمانہ میں کمیونزم کا نظریہ اتنا زیادہ پھیلا کہ پروفیسر گالبریتھ کے الفاظ میں: دنیا میں کبھی کسی نظریہ کو اتنا زیادہ فروغ حاصل نہیں ہوا جتنا فروغ کمیونزم کے نظریہ کو حاصل ہوا۔
اس فکری ماحول میں جس طرح دوسرے لوگ متاثر ہوئے اسی طرح مسلمانوں کے بہت سے اہل علم بھی متاثر ہوگئے۔ مثلاً مولانا حسرت موہانی، مولانا حفظ الرحمن سیوہاروی، ڈاکٹر محمد اقبال، جمال عبد الناصر، وغیرہ۔ اس ماحول سے متاثر ہوکر مولانا ابو الاعلیٰ مودودی نے اسلام کو نظام کی اصطلاح میں بیان کرنا شروع کیا۔ اُنہوں نے کہا کہ اسلام ایک مکمل اجتماعی نظام ہے اور مسلم ملّت کا یہ فرض ہے کہ وہ اس آئیڈیل انسانی نظام کو دنیا میں قائم کرے۔ ان لوگوں کے نزدیک جہاد کا مقصد یہ تھا کہ وہ انسانی ساخت کے نظاموں کو مغلوب کرے اور ان کی جگہ اسلام کے اعلیٰ نظام کا غلبہ قائم کردے۔
مگر حقیقت یہ ہے کہ یہ تصور کمیونزم کے رد عمل میں پیدا ہوا۔گویا کہ وہ کمیونزم کا اسلامی ایڈیشن تھا۔ قرآن میں اس کی کوئی بنیاد موجود نہیں۔ حتیٰ کہ پیغمبر ِ اسلام اور خلفائے راشدین کے زمانہ میں بھی ایسا کوئی ’’معیاری نظام‘‘ موجود نہ تھا۔ اگر دین خداوندی کا مقصد دنیا میں معیاری سماجی نظام بنانا ہو تو یہ نشانہ پوری تاریخ میں کبھی کسی پیغمبر کے زمانہ میں پورا نہیں ہوا۔ گویا نظری اور عملی دونوں اعتبار سے یہ تصور ایک غیر ثابت شدہ تصور ہے اور اسی کے ساتھ ناقابلِ عمل بھی۔
قرآن میں جو احکام دیے گئے ہیں وہ زیادہ تر انفرادی نوعیت کے ہیں۔ نہ صرف ایمان اور عملِ صالح بلکہ دوسرے معاملاتی احکام کی نوعیت بھی یہی ہے۔ مثلاً أَقِیمُوا الدِّینَ (42:13)، لِیَقُومَ النَّاسُ بِالْقِسْطِ (57:25)، کُونُوا قَوَّامِینَ لِلَّہِ شُہَدَاءَ بِالْقِسْطِ وَلَا یَجْرِمَنَّکُمْ شَنَآنُ قَوْمٍ عَلَى أَلَّا تَعْدِلُوا اعْدِلُوا (5:8)، وغیرہ بھی اصلاً انفرادی احکام ہیں، نہ کہ حکومت کے ذریعہ نافذ کیے جانے والے احکام۔
یہ صحیح ہے کہ قرآن میں کچھ ایسے قانونی احکام ہیں جو حکومتی معاملات سے تعلق رکھتے ہیں۔ مثلاً چوری، زنا، شراب خوری، قذَف، قتل، وغیرہ۔ مگر اس قسم کے احکام بہت کم ہیں۔ ان احکام کو وضع کرنے کا مقصد ’’معیار ی سماج‘‘بنانا نہیں ہے بلکہ ان کا اصل مقصد یہ ہے کہ سماج میں ضروری نظم برقرار رہے:
It is just to maintain a necessary level of order in society.
اس نقطۂ نظر کا ایک ثبوت یہ ہے کہ معیاری سماج بنانے کے لیے جو نظام مطلوب ہے اس کے کئی انتہائی اہم اجزاء کے بارے میں اسلام میں کوئی واضح حکم موجود نہیں۔ مثال کے طورپر یہ کہ خلیفہ (حاکم) کا تقرر کس طرح کیا جائے— پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد، عمر بن عبد العزیز کو شامل کرتے ہوئے پانچ ایسے صدر ریاست ہوئے ہیں جن کو متفقہ طورپر خلیفۂ راشد کہا جاتا ہے۔ مگر ان پانچوں کے لیے تقرر کا طریقہ الگ الگ اختیار کیاگیا۔ اسی طرح شوریٰ کے بارہ میں کوئی متعین نظام یا ڈھانچہ اسلام کے دور اول میں موجود نہیں جو نمونہ کی حیثیت رکھتا ہو۔
موجودہ دنیا امتحان کے لیے بنائی گئی ہے۔ یہاں ہمیشہ ہر ایک کے لیے ناموافق حالات موجود رہیں گے، تاکہ امتحان کے تقاضے کو پورا کیا جاسکے۔ خدائی تخلیق کے مطابق، معیاری دنیا موت کے بعد صرف جنت میں بنے گی۔ موجودہ دنیا میں انسان کا کام یہ ہے کہ وہ اپنے آپ کو اس قابل بنائے کہ اس کو اگلے دورِ حیات میں بننے والی معیاری دنیا (جنت)میں داخلہ مل سکے۔ موجودہ دنیا میں معیاری سماجی نظام بنانے کی کوشش کرنا گویا جنت کو موجودہ دنیا ہی میں تعمیر کرنا ہے جو خدائی نقشہ کے مطابق، سرے سے ممکن ہی نہیں۔ خود پیغمبر ِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے ہجرت کے بعد مدینہ میں اس کے سابقہ نظام کو علیٰ حالہٖ فتح ِمکہ تک باقی رکھا۔
سماجی نظام کے بارے میں اسلام کا تصور یہ ہے کہ اگر ایسا نظام عملاً موجود ہو جو اہلِ ایمان کے لیے کوئی مسئلہ پیدا نہ کرے تو اُس سے ٹکراؤ نہیں کیا جائے گا۔ اُس کو عملاً تسلیم کرتے ہوئے اُس کے تحت افراد اور ادارے کی سطح پر اسلام کی پیروی جاری رکھی جائے گی۔ یہی وجہ ہے جس کی بنا پر حضرت یوسف نے اپنے وقت کے مشرک بادشاہ سے ٹکراؤ نہیں کیا۔ کیوں کہ وہ ایک عادل بادشاہ تھا اور اس کے تحت پیغمبر یوسف توحید کے تقاضے پورے کرتے ہوئے رہ سکتے تھے۔ اسی طرح پیغمبر اسلام کے اصحاب مکی دور کے آخر میں مکہ سے ہجرت کرکے حبش گئے۔ اس وقت وہاں ایک عیسائی بادشاہ کی حکومت تھی۔ اصحابِ رسول نے اس سے ٹکراؤ نہیں کیا۔ کیوں کہ وہ ایک عادل بادشاہ تھا اور اس نے لوگوں کو مذہبی آزادی دے رکھی تھی۔
یہ تصور کہ اسلام ایک معیاری سماجی نظام ہے اور اس کو دنیا میں عملاً قائم کرنا امت ِ مسلمہ پر فرض ہے، یہ نظریہ اسلام کے اصل مقصد کے خلاف ہے، وہ اسلام کے نشانہ کو بدل دینے والا ہے۔ اسلام کا اصل نشانہ یہ ہے کہ ہر فرد خدا کی معرفت حاصل کرے۔ ہر فرد عبادت اور اخلاقیات میں ربّانی بنے۔ ہر فرد فلاحِ آخرت کو اپنا ہدف بنائے۔ مگر مذکورہ نظریہ آخرت کے بجائے دنیا کو آدمی کا نشانہ بنادیتا ہے۔ وہ تعمیر ِ آخرت کے بجائے تعمیر ِ دنیا کو اپنی منزل مقصود سمجھ لیتا ہے۔ اسلام ایک ربّانی مذہب ہے۔ مگر مذکورہ تصور اسلام کو ایک مادّی اور سیاسی مذہب میں تبدیل کردیتا ہے۔
اسلام کا اصل مقصد یہ ہے کہ آدمی خدا کو دریافت کرے۔ وہ اپنے اندر ربانی شخصیت کی تعمیر کرے (آل عمران، 3:79)۔ وہ اپنے روز مرہ کے واقعات میں حقیقتِ اعلیٰ کی جھلکیاں دیکھنے لگے۔ وہ دنیا کی زندگی کو فتنہ (آزمائش) اور آخرت کی زندگی کواصل مطلوب سمجھنے لگے۔ جو آدمی اس قسم کا ذہن رکھتا ہو اس کے لیے موجودہ دنیا میں معیاری قسم کا سماجی اور سیاسی نظام بنانا ایسا ہی ہے جیسے کہ ٹرین کا کوئی مسافر کسی پلیٹ فارم پر اپنی پسند کا گھر بنانے لگے۔
قرآن میں جنت کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا گیا ہے:لِمِثْلِ ہَذَا فَلْیَعْمَلِ الْعَامِلُونَ (37:61)۔ یعنی ایسی ہی کامیابی کے لیے عمل کرنے والوں کو عمل کرنا چاہیے۔ اسی طرح حدیث میں آیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلمنے کہا:اللَّہُمَّ لاَ عَیْشَ إِلَّا عَیْشُ الآخِرَہْ (صحیح البخاری، حدیث نمبر 2961)۔ یعنی اے اللہ، زندگی تو آخرت کی زندگی ہے۔
اس طرح کی تعلیمات قرآن وحدیث میں کثرت سے آئی ہیں۔ ان تعلیمات سے ایک شخص کے اندر جو ذہن بنتا ہے، وہ مذکورہ نظامی تصور سے مطابقت نہیں رکھتا۔ یہ کہنا صحیح ہوگا کہ مذکو رہ قسم کا نقطۂ نظر آدمی کو ایک قسم کا ’’اسلامی کمیونسٹ‘‘ بناتا ہے۔ وہ حقیقی معنوں میں اسلامی شخصیت کی تعمیر نہیں کرتا۔
اس فرق کو بتانے کے لیے ربانی اسلام اور سیاسی اسلام کا لفظ استعمال کیا جاسکتا ہے۔ ربانی اسلام آدمی کے اندر معرفتِ خداوندی کا ذہن بناتا ہے۔ وہ آدمی کے اندر احتسابِ خویش کا جذبہ پیدا کرتا ہے۔ وہ جنت کے تصور میںجینے لگتا ہے۔ اُس کے صبح وشام آخرت کی یادوں میں بَسر ہونے لگتے ہیں۔ وہ دنیا کی کامیابی کو غیراہم اور آخرت کی کامیابی کو اہم سمجھنے لگتا ہے۔ وہ دنیا کو صرف بقدر ضرورت لینا چاہتا ہے اور آخرت کو بقدرِ شوق۔ اُس کی نظر میں دنیا کی کامیابی غیر اہم بن جاتی ہے اور آخرت کی کامیابی اہم ۔
اس کے برعکس ذہن وہ ہے، جو سیاسی اسلام کے نظریہ کے تحت تیار ہوتا ہے۔ ایسے آدمی کی سوچ سیاسی سوچ ہوتی ہے۔ سیاسی اور حکومتی چیزیں اس کی توجہ کا مرکز بن جاتی ہیں۔ سیاسی نوعیت کی چیزیں شعوری یا غیر شعوری طورپر اس کے لیے اولین بن جاتی ہیں اور ربانی نوعیت کی چیزیں عملاً ثانوی حیثیت اختیار کرلیتی ہیں۔ عبادت کے معاملہ میں وہ صرف اس کے ظاہری فارم پر قناعت کرلیتا ہے۔ اس کے اخلاق سیاسی مصلحتوں کے تابع ہوجاتے ہیں۔ تقویٰ اور خشیت اور اخبات اور تضرع جیسی چیزیں اس کے مزاج کے اعتبار سے اجنبی چیزیں بن جاتی ہیں۔ ایسے لوگوں کی مجلس میں اگر آپ بیٹھیں تو آپ کو زیادہ تر سیاسی باتیں سننے کو ملیں گی، نہ کہ ربّانیت اور للِّٰہیت کی باتیں۔
اسلام کا اصل مقصد فرد بنانا ہے، نہ کہ سماجی اور حکومتی نظام بنانا ۔ جس سماج میں افراد قابل لحاظ تعداد میں تیار ہوجائیں، وہاں یقینا سماجی سطح پر بھی اس کا ظہور ہوگا۔ مگر جہاں تک دعوتی نشانہ کا تعلق ہے، اسلام کا اصل نشانہ تعمیر ِ افراد ہے، نہ کہ سماجی اور حکومتی ڈھانچہ بنانا۔
اسلام کے فکری مطالعہ میں اس کو بطورِ اصول ماننا ضروری ہے۔ اگر اس کو نہ مانا جائے تو کہنے والا یہ کہہ سکتا ہے کہ کسی بھی پیغمبر نے مکمل نظام کے احکام نہیں بتائے اور نہ کسی بھی پیغمبر نے عملی طورپر اس کا کوئی نمونہ پیش کیا۔ حقیقت یہ ہے کہ اس اصول کو ملحوظ نہ رکھنے کی صورت میں تمام پیغمبروں کی تحریک، نعوذ باللہ ، فکری اور عملی دونوں اعتبار سے ناقص اور ناتمام نظر آتی ہے۔
قرآن کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ پیغمبروں کی تحریک کا اصل مقصد یہ تھا کہ ایسے اعلیٰ افراد کو تیار کیا جائے جو آخرت کی ابدی جنت میں بسائے جانے کے قابل ہوں۔ پیغمبروں کی تحریک کا مقصد یہ نہیں تھا کہ آج ہی لوگوں کے لیے ایک ایسی دنیا بنائی جائے جہاں وہ آخرت اور یوم الحساب سے پہلے ہی اپنے رہنے کے لیے ایک جنت کو حاصل کرسکیں۔
ضروری اعلان
مولانا وحید الدین خان صاحب کی منتخب کتابوں کا سیٹ مسجد اور مدرسے اور لائبریری میں پہنچانے کا پروگرام ترتیب دیا گیا ہے۔
(1) بڑا سیٹ ، 21 کتابیں، خاص رعایتی قیمت 1000/- مع پوسٹل چارج
(2) چھوٹا سیٹ، 9 کتابیں، خاص رعایتی قیمت 500/- مع پوسٹل چارج
جو حضرات اپنے خرچ پر ان سیٹ کو کسی مسجد یا مدرسے یا لائبریری میں گفٹ کرنا چاہتے ہیں، وہ گڈورڈبکس ، نئی دہلی میں درج ذیل نمبر پر رابطہ قائم کریں
+91 85888 22672
ے ے ے ےےے
ماہنامہ الرسالہ کو مسجد ، مدرسے اور لائبریری میں پہنچانے کا پروگرام ترتیب دیا گیا ہے۔
خاص رعایتی سبسکرپشن قیمت برائے ایک سال 150/-
جو حضرات کسی مسجد یا مدرسے یا لائبریری میں اپنے خرچ پر جاری کرانا چاہتے ہیں، وہ اس نمبر پر رابطہ قائم کریں
+91 85888 22679
واپس اوپر جائیں

میل ملاپ کا سماج

کلدیپ نائر (Kuldip Nayar) 1923میں سیالکوٹ (پاکستان) میں پیدا ہوئے، اور 2018 میں انڈیا میں ان کی وفات ہوئی۔ تقسیم کے بعد وہ انڈیا آگئے۔ یہاں انھوں نے انگلش جرنلزم میں نمایاں پوزیشن حاصل کی۔ اپنے ابتدائی زمانے میں وہ اردو زبان میں لکھا کرتے تھے۔ انڈیا آنے کے بعد وہ دہلی کے ایک اردو اخبار (وحدت)میں کام کرنے لگے۔ اس زمانے میں ان کی ملاقات حسرت موہانی سے ہوئی، جو کہ اردو کے شاعر تھے۔ انھوں نے کلدیپ نائر میں انگلش کی صلاحیت محسوس کی۔ چنانچہ انھوں نے مشورہ دیا کہ وہ اردو صحافت کو چھوڑ کر انگلش صحافت میں اپنا کیریر بنائیں۔ کلدیپ نائر نے حسرت موہانی کے مشورے کو مان لیا، اور پھر انگلش اخباروں میں لکھنا شروع کیا، یہاں تک کہ ترقی کرتے ہوئےانگلش کے ممتاز صحافی بن گئے، اور ترقی کرتے کرتے انڈیا میں کئی اعلیٰ مناصب حاصل کیا۔ کلدیپ نائر کے تعلقات ہندو مسلم دونوں سے بہت اچھے تھے۔
تقسیم (1947) سے پہلے بر صغیر ہند میں میل ملاپ کا سماج تھا۔ ہندوؤں کو مسلمانوں سے فائدہ پہنچتا تھا، اور مسلمانوں کو ہندوؤں سے فائدہ ملتا تھا۔ اس طرح دونوں کے درمیان اچھے تعلقات قائم تھے۔ اچھے تعلقات کے نتیجے میں دونوں کو ایک دوسرے سے فائدہ پہنچتا تھا، اور دونوں ترقی کر رہے تھے۔ تقسیم کے بعد دونوں فرقوں کے درمیان تعلقات خراب ہوگئے۔ اب مصلحین نے یہ کوشش کی کہ اجلاس اور سیمیناروں کے ذریعے دونوں کے درمیان دوبارہ بہتر تعلقات قائم کیے جائیں۔ مگر اس کوشش میں کوئی قابلِ ذکر کامیابی حاصل نہیں ہوئی۔ اس کا سبب یہ ہے کہ بہتر سماجی تعلقات فطری طور پر قائم ہوتے ہیں۔ وہ جلسہ اور سمینار کے ذریعے قائم نہیں ہوتے۔ ملک کی تقسیم سے پہلے دونوں کے درمیان فطری عمل کے ذریعے اچھے تعلقات قائم تھے۔ مگر تقسیم کے بعد جب یہ فطرت پر مبنی تعلقات ٹوٹ گئے، تو وہ دوبارہ پہلے کی طرح قائم نہ ہوسکے۔ حقیقت یہ ہے کہ بہتر سماجی تعلقات فطری عمل کے ذریعے بنتے ہیں، نہ کہ مصنوعی تدبیروں کے ذریعے۔
واپس اوپر جائیں

ایک سنگین برائی

ایک حدیثِ رسول ان الفاظ میں آئی ہے إِیَّاکُمْ وَالشُّحَّ، فَإِنَّہُ دَعَا مَنْ قَبْلَکُمْ فَاسْتَحَلُّوا مَحَارِمَہُمْ، وَسَفَکُوا دِمَاءَہُمْ، وَقَطَّعُوا أَرْحَامَہُمْ (مسند احمد، حدیث نمبر 9569)۔ یعنی تم اپنے آپ کو حرص سےبچاؤ، کیوں کہ حرص نے تم سے پہلے لوگوں کو ابھارا تو انھوں نے اپنی حرام چیزوں کو حلال کرلیا، اور آپس میں خون ریزی کی، اور آپس میں قطع رحمی کی۔
شح کا مطلب ہے حرص (greed)، یعنی زیادہ چاہنا۔ حرص کا مزاج انسان کے لیے اتنا زیادہ نقصان دہ کیوں ہے ۔ اس کا سبب یہ ہے کہ انسان کے اوپر حرص کا جب غلبہ ہوتا ہے، تو وہ اس کی سوچ کو حرص والی سوچ بنا دیتا ہے۔ وہ اپنی ضرورت سے زیادہ ;کا خواہش مند ہوتا ہے۔ زیادہ چاہنے کا یہ مزاج آدمی کے اندر اور کئی برائیاں پیدا کرتا ہے۔ مثلاً وہ انسان کو اپنا دوست سمجھنے کے بجائے، انسان کو اپنا حریف سمجھنے لگتا ہے۔ وہ دوسروں کو دینے کے بجائے، دوسروں سے لینے کا خواہش مند بن جاتا ہے۔ اس کی سوچ انسان رخی سوچ کے بجائے خود رخی بن جاتی ہے۔ ایسا انسان ایک خود غرض انسان بن جاتا ہے۔
حرص کا مزاج آدمی کے اندر تنگ دلی کی نفسیات پیدا کرتا ہے۔ ایسا آدمی کشادہ دلی کی اعلیٰ نفسیات سے محروم ہوجاتاہے۔ وہ ہر معاملے میں اپنی ذات کو لے کر سوچتا ہے۔ انسانیت عامہ کو لے کر سوچنے کامزاج اس کے اندر پرورش نہیں پاتا ہے۔ ایسا آدمی اس فطری حقیقت سے بے خبر ہوجاتا ہے کہ اس دنیا میں دینے والے کو ملتا ہے، جو آدمی دوسروں کو دینا نہ جانے، اس کو دوسروں کی طرف سے ملنے والا بھی نہیں۔ ایسا آدمی کوئی بڑا منصوبہ نہیں بناسکتا۔ بڑا منصوبہ بنانے کے لیے بڑا دل درکار ہوتا ہے، اور حرص کے مزاج کی بنا پر بڑا دل پہلے ہی اس سے رخصت ہوجاتا ہے۔ حرص بظاہر ایک اخلاقی برائی ہے، لیکن اپنے نتیجے کے اعتبار سے وہ انسان کی پوری شخصیت پر چھاجاتی ہے۔ حریص انسان بظاہر انسان ہوتا ہے، لیکن اپنی حقیقت کے اعتبار سے وہ مثلِ حیوان بن جاتا ہے۔
واپس اوپر جائیں

بڑھاپے کا دور

زندگی میں آدمی کے لیے بہت سے مسئلے آتے ہیں۔ مثلاً بیماری، حادثہ، نقصان، وغیرہ ۔لیکن بڑھاپا ایک بالکل مختلف قسم کا مسئلہ ہے۔ بڑھاپا گویا خاتمۂ حیات کا نام ہے۔ بڑھاپا ہمیشہ پائنٹ آف نو ریٹرن (point of no return) پر آتا ہے۔ بڑھاپا ہر اعتبار سے انسان کے لیے صرف ایک مسئلہ ہے۔
لیکن بڑھاپے کا ایک مثبت پہلو ہے، جو صرف بڑھاپے سے حاصل ہوتاہے، اور وہ عجز (helplessness) کی دریافت ہے۔ عجز کی دریافت دوسرے اسباب سے بھی جزئی طورپر ہوتی رہتی ہے، لیکن کامل معنوں میں عجز کی دریافت صرف بڑھاپے سے حاصل ہوتی ہے۔ کیوں کہ بڑھاپا کسی آدمی کو اس وقت آتا ہے، جب کہ اس کا جسم ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوجائے۔
انسان کاجسم فطری طورپر ایک بہترین ساخت پر قائم ہے۔اس جسم کو تقریباً 80 آرگن (organs)نہایت اعلی مینجمنٹ کے ساتھ چلا رہے ہیں۔ عمر کے بڑھنے کے ساتھ یہ آرگن جزئی یا کلی طورپر اپنا فنکشن بند کردیتے ہیں۔ اس فنکشن کو دوبارہ جاری نہیں کیا جاسکتا۔کسی آرگن کے فیل ہونے کا آخری نتیجہ موت ہوتا ہے۔
عجز بلا شبہ حقیقتِ اعلی کی دریافت ہے۔ حقیقتِ اعلی کی دریافت کے بغیر انسان کی شخصیت ایک ناقص شخصیت ہوتی ہے۔ ناقص شخصیت کا مکمل ہونا، صرف اس وقت ہوتا ہے، جب کہ انسان بڑھاپے کی عمر کو پہنچ جائے۔ بڑھاپے کا دور سب سے بڑی دریافت کا دور ہے۔ لیکن عملاً یہ ہوتاہے کہ بوڑھا انسان مسلسل طور پر صرف شکایت (complaint)میں جیتا ہے۔ کم از کم میں نے کسی بوڑھے انسان کو نہیں پایا، جو بڑھاپے کی عمر کو پہنچنے کے باوجود شکایت کی نفسیات سے بچاہوا ہو۔
اگر غور سے دیکھا جائے تو اکثر حالت میں ایسا ہوتا ہے کہ مادی اعتبار سے انسان کا جسم اگرچہ بوڑھا ہوتا ہے لیکن اس کا ذہن بدستور کام کرتا رہتا ہے۔ مزید یہ کہ اس کاذہن پہلے سے بہتر ہوجاتا ہے۔ کیوں کہ اس کے ذہن میں تجربات کا اضافہ ہوجاتاہے۔ انسان اس قابل ہوجاتاہے کہ وہ زیادہ گہرے انداز میں معاملات پر رائے قائم کرسکے۔ پہلے اگر وہ صرف جاننے والا تھا، اب وہ ایک دانش مند انسان بن جاتا ہے۔ وہ اس قابل ہوجاتاہے کہ وہ زیادہ بصیرت افروز انداز میں معاملات پر اپنی رائے دے سکے۔ وہ لوگوں کو زیادہ صائب (rational) انداز میں درست مشورہ دے سکے۔ بوڑھا انسان ایک پختہ (mature)انسان ہوتا ہے۔ وہ اپنے تجربات کی بنا پر اس قابل ہوتاہے کہ وہ لوگوں کو زیادہ نتیجہ خیز رہنمائی دے سکے۔
انسان کی سب سے بڑی دریافت یہ ہے کہ وہ اپنے خالق (Creator)کو ڈسکور کرے۔ یہ دریافت (discovery) ہر لمحے ہوسکتی ہے۔ لیکن عملاً یہ ہوتا ہے کہ آدمی بڑھاپے سے پہلے بھُلاوہ کلچر میں جیتاہے۔ وہ بھلاوہ کلچر سے صرف اس وقت باہر نکلتاہے، جب کہ وہ بڑھاپے کی عمر کو پہنچے۔ جب اس کے آرگن کام کرنا بند کرنے لگیں۔ یہی اصل عجز کی دریافت کا وقت ہوتا ہے، اور یہی وہ وقت ہوتاہے، جب کہ انسان شعوری طورپر قادر مطلق خدا کو دریافت کرے، لیکن انسان اپنی بے خبری کی بنا پر یہ کرتا ہے کہ اپنی زندگی کے پہلے دور میں وہ بے خبری (unawareness) میں جیتاہے، اور دوسرے دور میں شکایت کی نفسیات میں۔ اس طرح انسان اپنی طاقت کے دَور کو بھی کھو دیتا ہے، اور اپنے ضعف کے دَور کو بھی۔
بڑھاپے کی عمر پختگی(maturity) کی عمر ہوتی ہے۔ اس زمانے میں انسان کا تجربہ (experience)بڑھ جاتا ہے۔ انسان اس قابل ہوتا ہے کہ وہ زیادہ معلومات کی روشنی میں غور وفکر کرے۔ یہ چیزیں انسان کی عقل میں اضافہ کرتی ہیں۔ انسان اس قابل ہو جاتا ہے کہ وہ لوگوں کو زیادہ دانش مندانہ رائے دے سکے۔ عمر رسیدہ آدمی سماج میں اس قابل ہوتا ہے کہ وہ زیادہ دینے والا (giver)بن کر رہ سکے۔ بوڑھا آدمی اگر صرف ایک کام کرے کہ وہ ایک ایسی کتاب لکھے، جس میں اس نے اپنی زندگی کے تجربات بیان کیے ہوں، تو ہر آدمی اپنی سوسائٹی کا ایک عظیم دینے والا(great giver) بن کر دنیا سے رخصت ہوگا۔
واپس اوپر جائیں

پختگی کیا ہے

پختگی (maturity) یہ ہے کہ آدمی اپنے غصہ پر قابو پالے اور اختلافات کو تشدد اور تخریب کے بغیر دور کرسکے۔ پختگی تحمل اور برداشت کا نام ہے اور اس صلاحیت کا کہ وقتی خوشی کو دیر طلب مقاصد کے لیے قربان کردیا جائے۔ پختگی اس استعداد کا نام ہے کہ کسی تلخی کے بغیر، ناخوش گوار اور مایوس کن حالات کا مقابلہ کیاجائے۔ پختگی انکساری کا نام ہے۔ ایک پختہ شخص یہ کہنے کا حوصلہ رکھتا ہے کہ ’’میں غلطی پر تھا‘‘۔ پختگی اس صلاحیت کا نام ہے کہ آدمی ان چیزوں کے ساتھ پُر امن طورپر رہ سکے جن کو وہ بدل نہیں سکتا۔
Maturity is the ability to control anger, and settle differences without violence or destruction. Maturity is patience, the willingness to give up immediate pleasure in favour of the long-term gain. Maturity is the capacity to face unpleasantness and disappointment without becoming bitter. Maturity is humility. A mature person is able to say, “I was wrong”. Maturity is the ability to live in peace with things we cannot change.
پختگی در اصل حقیقت واقعہ کے اعتراف کا دوسرا نام ہے۔ وہ ساری صفتیں جن کو پختگی کہا جاتا ہے، وہ سب حقیقت واقعہ کے اعتراف سے پیدا ہوتی ہیں۔ حقیقت واقعہ کے اعتراف کا مطلب یہ ہے کہ آدمی اس بات کو جانے کہ کہاں اس کی حد ختم ہوتی ہے اور کہاں سے دوسری طاقتوں کی حد شروع ہوجاتی ہے۔ وہ کیا چیز ہے جو فطرت کے قانون کے مطابق، اُس کے لیے ممکن ہے۔ اور وہ کیا چیز ہے جو فطرت کے قانون کے مطابق، اس کے لیے ممکن نہیں۔حقیقتِ واقعہ کا اعتراف آدمی کو اس قابل بناتا ہے کہ وہ اقدام سے پہلے اُس کے انجام کو سوچے، وہ اپنے عمل کی نتیجہ خیز منصوبہ بندی کرے۔
واپس اوپر جائیں

صحیح طرزِ فکر

صحیح طرزِ فکر (right thinking) حکیمانہ طرز فکر کی ایک اعلی قسم ہے۔ اصل یہ ہے کہ ہم جس دنیا میں جیتے ہیں، یا صبح وشام گزارتے ہیں، اس میں چیزیں الگ الگ نہیں ہیں، بلکہ مخلوط (mixed)حالت میں ہیں۔ اس بنا پر بظاہر چیزوں کے بارے میں صحیح رائے قائم کرنا مشکل ہوجاتاہے۔ چیزوں کے بارے میں صحیح رائے اس وقت قائم ہوتی ہے، جب کہ آپ چیزوں کو الگ الگ کرکے دیکھ سکیں۔ اس تجزیاتی مطالعے کے بغیر آدمی کے اندر صحتِ فکرپیدا نہیں ہوسکتی، وہ مبنی بر واقعہ سوچ کا حامل نہیں بن سکتا۔
مثلاً ایک شخص اپنے بارے میں یا اپنی کمیونٹی کے بارے میں یہی کہے گا کہ ہمارے اوپر ظلم ہورہا ہے۔ اگر اس سے یہ کہا جائے کہ تمھارے باپ دادا کا جو اسٹینڈرڈ تھا، کیا تمھارا اسٹینڈرڈ اس سے کم ہے۔ وہ جواب دے گا کہ نہیں اس سے تو بہت اچھا ہے۔ مثلاً میرے باپ دادا بائیسکل پر سفر کرتے تھے، آج میں کار پر سفر کرتاہوں۔ میرے دادا کے زمانے میں بچے معمولی مدرسے میں پڑھتے تھے، آج وہ شہر کے ایک اچھے انگریزی اسکول میں پڑھ رہے ہیں۔ میرے دادا کچے گھر میں رہتے تھے، آج میں اور میرے بچے پکے گھر میں رہ رہے ہیں، وغیرہ۔ اب اگر آپ اس سے پوچھیں کہ جب تمھاری فیملی کا اسٹینڈرڈ پہلے کے مقابلے میں بہت زیادہ بہتر ہے، تو ظلم کہاں ہورہا ہے۔ اب وہ حیران ہوجائے گا، اور کہے گا کہ میں نے اس اعتبار سے کبھی نہیں سوچا۔
اس سے اندازہ ہوتاہے کہ اصل مسئلہ کہاں ہے۔ اصل مسئلہ خارج میں نہیں ہے، بلکہ داخل میں ہے۔ لوگوں کے اندر صحیح طرز فکر نہیں ہے۔ اس لیے لوگ شکایت میں جی رہے ہیں، حالاں کہ انھیں شکر میں جینا چاہیے۔ صحیح طرزِ فکر تجزیاتی فکر کا نام ہے۔ اگر آپ کے اندرڈی ٹیچڈ تھنکنگ (detached thinking)ہو، اگر آپ تجزیاتی انداز میں سوچنا جانتے ہوں، تو آپ درست طرزِ فکر کے حامل بن سکتے ہیں۔
واپس اوپر جائیں

ہار کے بعد جیت

زندگی میں ہار بھی ہے، اور جیت بھی ۔ شکست کا تجربہ بھی ہے، اور فتح کا تجربہ بھی۔ جو آدمی ہر صورتِ حال کو قبول کرنے کے لیے تیار ہو، اس کے لیے کوئی ہار ہار نہیں، کوئی شکست شکست نہیں۔ ایسے آدمی کے لیے ہار بھی جیت ہے، اور شکست بھی فتح ۔ ایسے آدمی کے لیے وقتی طور پر بظاہر نااُمیدی کے حالات پیداہوسکتے ہیں، لیکن مستقل طور پر امید کے حالات کا آنا اس کے لیے کبھی بند ہونے والا نہیں۔ شکست کو نہ ماننا، آدمی کے اندر منفی (negative) سوچ پیدا کرتا ہے۔ اس کے برعکس، شکست کو مان لینا، آدمی کے اندر نئی ہمت پیدا کرتا ہے۔ شکست کو مان لینا اپنے نتیجے کے اعتبار سے یہ ہے کہ ایک آدمی نے اپنے آپ کو اس کے لیے تیار کیا کہ وہ ایک موقع کو کھونے کے بعد دوسرے موقعے کی تلاش کرے، وہ دوسرے موقعے کو اویل کرکے اپنی ہار کو جیت بنالے۔
زندگی میں کبھی حالات یکساں نہیں ہوتے۔ ہر آدمی کے ساتھ ایسا ہوتا ہے کہ اس کے ساتھ ہر قسم کی صورتِ حال پیش آتی ہے، کبھی ایک صورتِ حال اور کبھی دوسری صورتِ حال۔ آدمی اگر ہمت نہ ہارے تو وہ ایک موقع کو کھو کر دوسرے موقع کو اویل کرے گا۔ وہ ایک ہار کے بعد دوبارہ نئی ہمت کے ساتھ جیت حاصل کرنے کی کوشش کرے گا۔آدمی کو چاہیے کہ وہ کبھی ہمت نہ ہارے، وہ ہمیشہ یہ یقین رکھے کہ ہر شام کے بعد دوبارہ صبح کا سورج نکلتا ہے۔ ہر نقصان کے بعد دوبارہ پانے کے راستے کھلتے ہیں۔ زندگی کی کتاب کا ایک چیپٹر بند ہوتا ہے، تو فطرت کے قانون کے مطابق، دوسرا چیپٹر کھل جاتا ہے۔
یاد رکھیے، ایک انسان اپنی کوشش میں ہار سکتا ہے، لیکن جودینے والا ہے، اس کو کبھی ہار نہیں پیش آتی۔ انسان اگر اپنی کھڑکیاں بند کرلے، تب بھی ہوا کے جھونکے اس کی کھڑکیوں سے ٹکراتے رہیں گے، انسان اگر اپنا دروازہ بند کرلے، تب بھی سورج کی روشنی اس کا انتظار کرتی ہے کہ انسان کب اپنا دروازہ کھولے، اور وہ اس کے کمرے میں داخل ہوجائے۔
واپس اوپر جائیں

خواتین کو مشغولیت دیجیے

ایک خاتون کے اندر شکایتی مزاج تھا، اور ان کی فیملی لائف بھی جھگڑے کی وجہ سے درست نہیں تھی۔ اس کے بعد یہ ہوا کہ حالات کی وجہ سے اس کو ایک جاب مل گیا، اور وہ اس میں مشغول ہوگئیں۔ اب معاملہ یہ ہوا کہ وہ گھر میں خوش رہنے لگیں، اوران کی فیملی لائف بھی درست راستے پر چلنے لگی۔ اسی طرح ایک اور خاتون کے بارے میں یہ معلوم ہوا کہ وہ جب گھر میں خالی تھیں، تو ان کی گھریلو زندگی بھی ٹھیک نہیں تھی۔ اس کے بعد یہ ہوا کہ انھوں نے اسکول میں ٹیچر کی جاب حاصل کرلی ، پھر انھوں نے اپنی کمائی سے اپنے شوہر کو عمرہ کروایا۔ اب ان دونوں خواتین کی زندگی ایک باحوصلہ خاتون کی زندگی بن گئی ہے۔ بجائے شکایتی باتوں کے اب وہ تعمیری باتیں کرنا زیادہ پسند کرتی ہیں۔
عام طور پر یہ سمجھاجاتا ہے کہ تربیت کا طریقہ یہ ہے کہ بیٹھ کر سمجھایا جائے۔ تربیت کا زیادہ بہتر طریقہ یہ ہے کہ خواتین کو مشغولیت دی جائے، ان کو مشغول رہنے کا فن سکھایا جائے۔خاص طور پر ایسی مشغولیت جو ان کے لیے مزید آمدنی کا ذریعہ بن جائے۔ مثلاً دونوں خواتین اپنےگھروں میں جب تک خالی تھیں، ان کا گھریلو معاملہ درست نہیں تھا، لیکن جب ان کو جاب کی شکل میں ایک مشغولیت مل گئی، تو ان کی گھریلو زندگی درست ہوگئی۔ مشغولیت اپنے آپ میں تربیت کا ذریعہ ہے۔ مشغولیت آدمی کے اندر تعمیری ذہن پیدا کرتی ہے۔ مشغولیت آدمی کے اندر یہ احساس پیدا کرتی ہے کہ وہ اپنے خاندان میں اپنے سماج کا ایک مفید حصہ ہے۔ مشغولیت آدمی کو اپنے سماج کادینے والا ممبر (giver member) بناتی ہے۔ مشغولیت آدمی کو یہ احساس دیتی ہے کہ دوسرے بہت سے انسانوں کی طرح وہ بھی سماج کا مفید عنصر بن سکتا ہے۔ مشغولیت کے مزید بہت سے فائدے ہیں۔ مثلاً مشغولیت انٹرایکشن میں اضافہ کرتی ہے۔ مشغولیت آدمی کی تخلیقیت (creativity) بڑھاتی ہے۔ مشغولیت آدمی کے اندر وسعتِ نظری (broadmindedness) پیدا کرتی ہے۔ مشغولیت آدمی کی عزت ِنفس میں اضافہ کرتی ہے۔ مشغولیت آدمی کے احساسِ شکر میں اضافہ کرتی ہے۔
واپس اوپر جائیں

جاپانی قوم کی ترقی کا راز

ایک میگزین میں جاپانی قوم کی ترقی پر ایک مضمون چھپا تھا۔ اس مضمون کے مطابق، جاپان کی ترقی کے راز دس ہیں۔ وہ دس راز یہ ہیں:(1) سب سے زیادہ کام کرنے والی قوم(2) احساس ذمہ داری(3) کفایت شعاری(4) ان کے یہاں وفاداری کو انتہائی اہمیت حاصل ہے (5) نئی نئی ایجادات، اور ایجاد شدہ چیزوںمیں جدت کی ہمہ وقت کوشش کرنا(6) ہمت نہیں ہارنا (7)مطالعہ کا کا شوق(8) ٹیم بنا کر کام کرنا(9) بچپن ہی سےاپنے پیروں پر کھڑا ہونا سکھانا (10) ترقی اور ٹکنالوجی کے باوجود اپنے کلچر و ثقافت سے جڑے رہنا۔
جاپان کی ترقی کے لیے یہ دس صفات اصل نہیں ہیں۔ اصل صفت صرف ایک ہے، اور بقیہ صفتیں اس اصل کے نتیجہ کے طور پر پیدا ہوئی ہیں۔ جاپان کی ترقی کا اصل سبب وہ ہے جس کو جاپان کے بادشاہ نے ان الفاظ میں بیان کیا تھا:" ہمیں ناقابل برداشت کو برداشت کرنا ہے، تاکہ ہم نیا جاپان وجود میں لاسکیں۔" حقیقت یہ ہے کہ زندگی میں ہمیشہ کچھ مسائل ہوتے ہیں۔ عام لوگ یہ کرتے ہیں کہ وہ مسائل کو حل کرنے میں الجھ جاتے ہیں، اور پھر یہ ہوتا ہے کہ اپنا سب کچھ خرچ کرنے کے باوجود نہ مسائل حل ہوتے ہیں، اور نہ مطلوب حاصل ہوتا ہے۔ اس کے برعکس، دوسری عالمی جنگ کے بعد جاپان کے سامنے بہت بڑے بڑے مسائل تھے۔ لیکن جاپان نے مسائل کومکمل طورپر نظر انداز کیا، اور اپنی ساری توجہ مواقع کو اویل (avail) کرنے میں لگادیا۔ اسی دانش مندانہ اصول کو اختیار کرنے کا نتیجہ تھا کہ جاپان 25 سال کے بعد ایک نئی عالمی طاقت بن کر ابھر آیا۔
مذکورہ مضمون میں جاپان کے بارے میںجن دس صفات کا ذکر کیا گیا ہے، یہ یا ایسی دس اور صفات ہمیشہ بطور نتیجہ پیدا ہوتی ہیں۔ جب انسان صحیح نقطۂ آغاز (starting point)کو دریافت کرلے، اور اپنی پوری توجہ اسی ایک نشانے کے حصول پر لگادے تو اس کی ذہنی صلاحیتیں، ایک صحیح رخ پر بیدار ہوجاتی ہیں۔ اس کے بعد آدمی کے اندر دوسری تمام خصوصیات اپنے آپ پیدا ہوجاتی ہیں۔
واپس اوپر جائیں

خبرنامہ اسلامی مرکز- 268

— ڈاکٹر ریکو اوکاوا (Dr. Reiko Okawa) اسلامک اسٹڈیز، یونیورسٹی آف جاپان میں پروفیسر ہیں۔ وہ امن کے تعلق سے قرآن کی تفسیر پر ریسرچ کررہی ہیں۔ چنانچہ انھوں نے 29 دسمبر 2018 کوصدر اسلامی مرکز سے ملاقات کی، اور کافی دیر تک انٹریکشن کیا، جس میں اسلام، مسلمان اور حالاتِ حاضرہ پر گفتگو ہوئی۔ صدر اسلامی مرکز نے ان کو بتایا کہ اسلام کی تمام تعلیمات امن، بھائی چارہ اور صلحِ کل پر مبنی ہیں۔ اسلام کو اس کے اوریجنل سورس سے سمجھنے کی ضرورت ہے، نہ کہ مسلمانوں کے عمل سے۔ آخر میں ان کو انگریزی ترجمۂ قرآن اور دوسرے اسلامی لٹریچر بطور تحفہ دیے گئے۔
— 4 جنوری 2019 کو جرمنی سے کرسچن مشنری کا ایک وفد صدر اسلامی مرکز سے ملاقات کے لیے آیا۔ اس گروپ کی آمد کا مقصد اسلامی تعلیمات سے آگاہ ہونا تھا۔ ان سے صدراسلامی مرکز نے خطاب کیا۔ اس کے بعد مس ماریہ خان اور مس راضیہ صدیقی نے بھی خطاب کیا۔ اس کے بعد سوال وجواب کا سیشن تھا۔ آخر میں تمام لوگوں کو قرآن کا جرمن ترجمہ اور جرمن زبان میں دعوتی لٹریچر دیئے گئے۔
— 5 جنوری 2019 کو امریکی طلبا کا ایک گروپ صدر اسلامی مرکز سے ملاقات کے لیے آیا۔ اس کا مقصد اسلام کی مثبت اور بے آمیز تعلیمات سے تعارف حاصل کرنا تھا۔ اس گروپ سے صدر اسلامی مرکز نے خطاب کیا اس کے بعد ماریہ خان اور راضیہ صدیقی نے بھی خطاب کیا۔ آخر میں سوال وجواب کا سیشن ہوا۔ طلبا نے کافی خوشی اور اطمینان کا اظہار کیا۔ ان کو قرآن کا انگلش ترجمہ اور دوسرے لٹریچر دیے گئے۔
— یکم جنوری 2019 سے 8 جنوری 2019 تک سہارنپور اور دہرادون سی پی ایس ٹیم نے مصر کی سیاحت کی۔ اس سیاحت کو سی پی ایس ٹیم نے دعوتی سیاحت میں تبدیل کیا، اور مختلف مقامات پر قرآن اور دعوتی لٹریچر تقسیم کیے گئے۔ مثلا جب یہ لوگ اہرام مصر کو دیکھنے گئے، اور ٹورسٹوں نے ان لوگوںکے ہاتھوں میں انگریزی ترجمہ قرآن دیکھا ، تو سیاحوں نے ان سے مانگ کر ترجمہ قرآن حاصل کیا۔ اس کے بعد 6 جنوری 2019 کو یہ لوگ جامعہ ازہر دیکھنے گئے، تو وہاں کی لائبریری کو انھوں نے ترجمۂ قرآن اور صدر اسلامی مرکز کی دوسری کتابیں بطور تحفہ دیں۔
— سی پی ایس (دہلی) کی جانب سے ایک پروگرام ماسک اوپن ڈے(mosque open day) کے نام سے منعقد کیا جاتا ہے۔ اس کے تحت پارلیمنٹ اسٹریٹ کی مسجد میں 21 جنوری 2019 کو ایک انٹرایکشن رکھا گیا جس میں جواہر لال نہرو یونیورسٹی اور جامعہ ملیہ اسلامیہ (نئی دہلی) کے اسٹوڈنٹس نے شرکت کی۔ مسجد کے امام مولانا محب اللہ ندوی صاحب اور سی پی ایس ممبر مس ماریہ نے سامعین سے خطاب کیا۔ خطاب کے بعد سوال و جواب کا سیشن تھا۔ اس میں طلبہ نے کافی دلچسپی دکھائی اور انھوں نے کافی خوشی اوراطمینان کا اظہار کیا۔ آخر میں طلبہ کے درمیان انگریزی ترجمۂ قرآن اور دعوہ لٹریچر تقسیم کیا گیا۔
— مسٹرخرم قریشی صاحب (سی پی ایس،دہلی، موبائل نمبر0091 9350212002) ایر انڈیا کے کیپٹن پائلٹ ہیں۔ ان کی دعوت کا طریقہ یہ ہے کہ وہ جہاں بھی جاتے ہیں، وہاں مقامی لوگوں سے ملاقات کرتے ہیں، اور ان کو دعوت کے کام پر ابھارتے ہیں، یا دعوتی کام کرنے والوں کے ساتھ ملتے ہیں، اور دعوت کی پلاننگ کرتے ہیں۔ جنوری 2019 میں جب وہ ایر انڈیا کے ذریعے اسرائیل گئے، تو وہاں انھوں نے 21 جنوری 2019 کویروشلم میں موجود سی پی ایس ٹیم کے ممبران سے ملاقات کی۔ ان سے ملنے کے بعد انھوں نےاپنا تاثر ان الفاظ میں لکھا ہے:
I met the team in Jerusalem. They are very hard working and passionate. They give a lot of time to dawah work. I shared a few ideas with them about which they were very excited. I will meet them again with more concrete plans.
— ساجد احمد خان (سی پی ایس، کامٹی- ناگپور ) نے خبر دی ہے کہ ٹیم کے ایک ممبرنے Reliance Polyester کمپنی کےایک ملازم مسٹر دلیپ کو ہندی قران کا ترجمہ جیون کا ادیشیہ اور ستیہ کی کھوج پیش کیا توانہوں نے بڑے ادب کے ساتھ اسے قبول کیا اور کہا کہ میں انہیں ضرور پڑھوں گا۔ آپ لوگ بہت اچھا کام کررہے ہو۔ لیکن یہ پَوِتر کتابیں میں بغیر پیسہ دیے نہیں لے سکتا۔ ہمارے ساتھی نے اصرار کیا کہ سی پی ایس کی طرف سے یہ پیغام سبھی لوگوں کو بغیر کسی قیمت کے دیا جاتا ہے۔ اس کےباوجود مسٹر دلیپ نے انہیں 200 روپےدیے اور کہا کہ میں چاہتاہوں کہ آپ اس پیسے سے مزید کتابیں تقسیم کریں۔
— مولانا وحید الدین خان صاحب کی تحریروں سے میرا روایتی شاکلہ ٹوٹا اور اسلام اور دین کو عصری اور سائنسی بنیادوں پر سمجھنے کی توفیق ملی۔ میںماہنامہ الرسالہ کا 2006 سے قاری ہوں اور مولانا کی اکثر کتابیں پڑھ چکا ہوں۔مثلاً مذہب اور جدید چیلنج، مذہب اور سائنس، فکر اسلامی، مسائل اجتہاد، اسلام دور جدید کا خالق، عقلیات اسلام، وغیرہ۔ اللہ انھیں عمر دراز عطا کرے۔ (محمد قاسم، بلوچستان)
— ہم لوگ مدرسہ میں تعلیم حاصل کررہے ہیں۔ ہمیں مدرسے کے ایک استادنےمشورہ دیا کہ ہم انڈیا کے ایک مفکر مولانا وحیدالدین خاں صاحب کی کتب کا مطالعہ کیا کریں۔ چنانچہ ہم نے راز ِحیات کا مطالعہ کیا ،اس سے ہم لوگوں کوبہت زیادہ motivation ملا۔اسی طرح ہم لوگوں نے پایا کہ مولانا نےاسلام کوجدید سائنٹفک انداز میں پیش کیا ہے، جسے پڑھ کر ہمارا ذہن کھلا اور ہم کو روایت پرستی سے ہٹ کر دین کی صحیح کرن اور اس کی حقیقی تعلیمات سے آگاہی ہوئی۔ ( محمد حمزہ عبد اللہ، محبوب الرحمن، عبد اللطیف، لقمان حکیم، جامعہ ستاریہ اسلامیہ، کراچی)
— My mother is a member of CPS international (Pakistan). On 15 January 2019 she received Al-Risala in Lahore, Pakistan. She was quite excited about it, but I, as a hobby reader, started reading the magazine unintentionally. I am writing this message to express my feelings and thoughts after reading the whole magazine. I belong to a Muslim family and my family background is religious as well. Due to my parents’ encouragement and also my willingness to receive higher education, I spent most of the time of my life in educational institutes. Right now I am an electrical engineer. I am part of a circle that is oriented towards technology, and sometimes I came across arguments from people of my religious community who would express a bad image about technology, and then I would see the same people drawing benefits from the technology they would speak badly about. So this scenario confused me: I thought do real teachings of Islam refrain us from becoming part of the ongoing advancements in technology? . Also, I saw many of my colleagues and friends far from the teachings of Islam. Now, from various religious groups we often get pamphlets to spread among common people to teach them about Islam. But the content of these pamphlets is too tough and I myself get confused and question how the other person will understand the beauty of the Islamic message?. When the other person is not a religious scholar or is not a frequent reader of Islamic studies, so how will he or she understand the content properly?. Writing styles have changed during the past several years. Researchers have been trying to figure out appropriate size of a book, the length of a message and how much time a reader should spend on a specific topic. But many of our Islamic books were written years ago. Those books were the golden heritage for that period of time and for people of that age. The writers of these books wrote taking into consideration the scenarios of that time and the mentality of the people of their time. Today we face a problem when we force our young generation to study the same content that was written many years back to understand Islam. This has been my way of thinking, although I felt that I may be wrong since I have expertise in technology and not in Islamic studies. But today after reading Al-Risala, my thoughts have gained more clarity. Each and every topic, every page, every passage of Al-Risala has answered to my questions. Some of my questions were such that I did not have words to express the confusion of my mind. But this magazine not only gave me the right answers but also made my questions clearer. I started reading the first page, then second and I was not able to stop myself from continuing to read. I was so excited and happy. Whenever I find some answer to my vague thought, I would rush to my parents and repeat the line from the magazine that Maulana Sahab had written. One line that I would like to specifically mention here which I liked the most in the above context: “Islam ki talimat ko asri zehn kay liyay qabile fehm banana.” Maulana sahab has precisely described each topic. I am really thankful to him. I request Maulana Sahab and everyone in this group to pray to Allah to show me the right path and give me the strength to make significant contribution in spreading Islam all around the world. (Syeda Amtul Gilani, Pakistan)
واپس اوپر جائیں