Pages

Friday, 1 November 2019

Al Risala | November 2019 (الرسالہ،نومبر)

4

-سچائی کا سفر

5

- حق کی تلاش

6

- خدا کی دریافت

12

- بے نقص کائنات

14

- زیرو ڈفکٹ کائنات

18

- کائنات بول رہی ہے

25

- ذہین کائنات

26

- کائنات کی توجیہہ

28

- سائنس سے معرفت تک

32

- کائنات کی معنویت

37

- خدا کا وجود

39

- خدا کا وجوداور سائنس

44

- خدا ——انسانی فطرت کی آواز ہے

48

- کائناتی نشانیاں

49

- ایک تجربہ


سچائی کا سفر

سچائی کا سفر ایک فطری سفر ہے۔ وہ اتنا آسان ہے کہ ہر آدمی عین اپنے پاس سے اس کو شروع کرسکتا ہے۔ مثلاً بیان کیا جاتا ہےکہ ایک عرب بدو سے سوال کیا گیا مَا الدَّلِیلُ عَلَى وُجُودِ الرَّبِّ تَعَالَى؟ فَقَالَ:یَا سُبْحَانَ اللَّہِ إِنَّ البعر لیدل عَلَى الْبَعِیرِ، وَإِنَّ أَثَرَ الْأَقْدَامِ لَتَدُلُّ عَلَى الْمَسِیرِ، فَسَمَاءٌ ذَاتُ أَبْرَاجٍ، وَأَرْضٌ ذَاتُ فِجَاجٍ، وَبِحَارٌ ذَاتُ أَمْوَاجٍ أَلَا یَدُلُّ ذَلِکَ عَلَى وجود اللطیف الخبیر؟(تفسیر ابن کثیر، جلد1، صفحہ106)۔ یعنی رب العالمین کے وجود کی دلیل کیا ہے؟ اس نے کہاسبحان اللہ، مینگنی اونٹنی پر دلالت کرتی ہے، قدم کے نشان چلنے والے پر دلالت کرتے ہیں، تو برجوں والا آسمان، اور کشادہ راستوں والی زمین ، اور موجوں والے سمندر ،کیااس ذات پر دلالت نہیں کریں گے، جو بڑا باریک بیں اور بڑا باخبر ہے؟یہ واقعہ ایک عام انسان کا واقعہ ہے۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ خالق کی پہچان کا معاملہ اتنا زیادہ آسان ہے کہ ہر انسان اپنی فطرت کے تقاضے کے طور پر وہ اپنی قریب ترین مثال سے سمجھ سکتا ہے۔ خالق کی دریافت کے لیے کسی لائبریری میں جانے کی یا کسی دور کا سفر کرنے کی ضرورت نہیں۔ شرط یہ ہے کہ آدمی متلاشی (seeker)ہو۔
مثلاً ایک آدمی نے سوال کیا کہ ہم خدا کو کیسے پہچانیں۔ میں نے کہا آپ اپنے ہاتھ اور پاؤں کی انگلیوں کو دیکھیے۔ اگر ایسا ہوتا کہ ہاتھ کی انگلیاں چھوٹی چھوٹی ہوتی، اور پاؤں کی انگلیاں بڑی بڑی ہوتی تو زندگی کتنی مشکل ہوجاتی۔ اتنی گہری پلاننگ صرف خلاق اور رزاق ہی کرسکتا ہے۔اگر آپ ایک ایسے خدا کو نہ مانیں، جو خلاق اور رزاق ہے، تو آپ ہر معلوم چیز کو سمجھنے سے قاصر رہیں گے۔خدا کو پہچاننا اتنا ہی آسان ہے، جتنا کہ خود اپنے آپ کو پہچاننا۔اس قسم کی دریافت کو کامن سنس کی سطح پر خالق کی دریافت کہاجاتا ہے۔ لیکن دریافت کی ایک اور سطح ہے، جو جدید دور میں انسان نے ڈسکور کی ہے، اور وہ ہے سائنسی دلائل کے ذریعے خالق کی دریافت۔ اس حقیقت کی طرف قرآن میں اشارہ کیا گیا ہے (فصلت، 41:53)۔ آج انسان ان دلائل کے ذریعے آسانی کے ساتھ خدا کو دریافت کر سکتا ہے۔
واپس اوپر جائیں

حق کی تلاش

حق کی تلاش ایک فطری تلاش ہے۔ انسان جب پیدا ہوتا ہے، تو وہ سب سے پہلے یہ جاننا چاہتا ہے کہ وہ کیا ہے، وہ کیسے وجود میں آیا، دنیا میں اس کی معنویت کیا ہے۔ اسی کا نام حق کی تلاش ہے۔ یہ ہمیشہ تمام پیدا ہونے والے انسانوں کی مشترک تلاش رہی ہے۔ شاید کوئی بھی انسان اس اسپرٹ سے خالی نہیں۔ کسی نے اس تلاش کو فلسفیانہ تلاش کا درجہ دیا، کوئی اس کو صوفیانہ تلاش سمجھا، کسی نے اس کو مراقبہ (meditation) کے ذریعے دریافت کرنا چاہا، کسی نے یہ سمجھا کہ روحانی ریاضت کے ذریعے وہ اس کو پاسکتا ہے، کسی نے کسی اور طریقے سے اس منزل تک پہنچنے کی کوشش کی۔
جہاں تک راقم الحروف کا اندازہ ہے ، اٹلی کے سائنسداں گلیلیو (1564-1642ء) کے زمانے سے اس تلاش نےایک نیا انداز اختیار کیا۔ اب یہ ہوا کہ اس تلاش کا کمیاتی پہلو (quantitative aspect)، اور اس کا کیفیاتی پہلو (qualitative aspect) ایک دوسرے سے الگ کردیا گیا۔ یہی دور اب تک جاری ہے۔
خورد بین اور دوربین کی دریافت نے اس تلاش میں ایک نئے دور کا اضافہ کیا ہے۔ اب انسان نے یہ جانا کہ اس سوال کا کیفیاتی پہلو (qualitative aspect) عملاً قابلِ دریافت نہیں ہے، لیکن اس کا کمیاتی پہلو (quantitative aspect) بڑی حد تک قابل دریافت ہے۔ اب یہ ہوا کہ دونوں پہلو ایک دوسرے سے الگ ہوگئے۔ کیفیاتی پہلو کچھ مخصوص لوگوں کی دریافت کے موضوع کی حیثیت سے باقی رہا۔ لیکن جہاں تک کمیاتی پہلو کا سوال ہے، سائنس دانوں کی پوری جماعت اس کی دریافت میں مشغول ہوگئی۔ اسی کو آج ہم سائنس کہتے ہیں۔
پھر اس قابلِ مشاہدہ پہلو کے دو حصے ہوگئے۔ ایک وہ جس کو نظری سائنس کہا جاتا ہے، اور دوسرا وہ جس کو تطبیقی سائنس (applied science) کہا جاتا ہے۔ یہ دونوں پہلو ایک دوسرے سے جدا بھی ہیں، اور ایک دوسرے سے ملے ہوئے بھی۔
واپس اوپر جائیں

خدا کی دریافت

Discovery of God
خدا کی فلسفیانہ تلاش (philosophical pursuit of God) کی تاریخ قدیم یونان کے دور تک جاتی ہے۔ سمجھا جاتا ہے کہ پہلا یونانی فلاسفر تھیلز آف میلٹس (Thales of Miletus)تھا، جس کا زمانہ 624-546 قبل مسیح ہے۔ فلسفہ (philosophy) اپنی حقیقت کے اعتبار سے خالق کی تلاش کا نام ہے۔لیکن فلسفہ کبھی خالق کی دریافت میں کامیاب نہ ہوسکا۔ فلسفہ کا موضوع وجود ہے
Philosophy is the study of general and fundamental questions about existence, knowledge, values, reason, mind, and language.
یہ فلسفہ کے مضمون کا ظاہری بیان ہے۔ لیکن اپنی حقیقت کے اعتبار سے فلسفہ خدا (supreme truth)کی علمی تلاش کا دوسرا نام ہے۔ تمام فلسفی کسی نہ کسی عنوان کے تحت حقیقت کی تلاش میں سرگرداں تھے، لیکن کوئی فلسفی اپنی تلاش میں کامیاب نہ ہوسکا۔ برطانی فلسفی برٹرینڈ رسل (1872-1970) کے بارے میں اس کے ایک سوانح نگار نے لکھا ہے کہ برٹرینڈ رسل ایک ایسا فلسفی تھا، جو اپنا کوئی فلسفہ ڈیولپ نہ کرسکا
Bertrand Russell was a philosopher of no philosophy
مگر یہ صرف ایک فلسفی کی بات نہیں۔ بلکہ تمام فلسفیوں کا معاملہ اپنی حقیقت کے اعتبار سے یہی ہے۔ حقیقت اعلیٰ (supreme reality) ہر فلسفی کی تلاش کا موضوع رہا ہے، لیکن کوئی فلسفی اپنی تلاش کا جواب نہ پاسکا۔
اس ناکامی کا راز یہ ہے کہ فلسفیوں کو اپنی تلاش کے لیے صحیح میتھڈالوجی کی دریافت نہ ہوسکی۔ قرآن میں صحیح طریق کار (methodology)کی نشاندہی کی گئی تھی، لیکن اس میتھڈالوجی کو انسان صرف اس وقت دریافت کرسکا، جب کہ اٹلی کے سائنس داں گلیلیو گلیلی (1564-1642)نے دوربین کو فلکیاتی مطالعے کےلیے استعمال کیا۔ گلیلیو گلیلی کو ماڈرن سائنس کا موجد (father of modern science) کہا جاتا ہے۔ جدید سائنس کا آغازاس وقت ہواجب انسان نے 1608ء میں ابتدائی طور پر دوربین ایجاد کی۔ گلیلیو نے 1609ءمیں دوربین کو مزید ڈیولپ کیا، اور پہلی بار دوربین کے ذریعے شمسی نظام (solar system) کا مطالعہ کیا۔
اس معاملے کا آغاز حقیقۃً ساڑھے تین ہزار سال پہلے پیغمبر موسی کے تجربےسے ہوا۔ یہ قصہ قرآن میں ان الفاظ میں بیان ہوا ہے
وَلَمَّا جَاءَ مُوسَى لِمِیقَاتِنَا وَکَلَّمَہُ رَبُّہُ قَالَ رَبِّ أَرِنِی أَنْظُرْ إِلَیْکَ قَالَ لَنْ تَرَانِی وَلَکِنِ انْظُرْ إِلَى الْجَبَلِ فَإِنِ اسْتَقَرَّ مَکَانَہُ فَسَوْفَ تَرَانِی فَلَمَّا تَجَلَّى رَبُّہُ لِلْجَبَلِ جَعَلَہُ دَکًّا وَخَرَّ مُوسَى صَعِقًا فَلَمَّا أَفَاقَ قَالَ سُبْحَانَکَ تُبْتُ إِلَیْکَ وَأَنَا أَوَّلُ الْمُؤْمِنِینَ (7:143)۔
یعنی اور جب موسیٰ ہمارے وقت پر آگیا اور اس کے رب نے اس سے کلام کیا تو اس نے کہا، مجھے اپنے کو دکھا دے کہ میں تجھ کو دیکھوں۔ فرمایا، تم مجھ کو ہرگز نہیں دیکھ سکتے۔ البتہ پہاڑ کی طرف دیکھو، اگر وہ اپنی جگہ قائم رہے تو تم مجھ کو دیکھ سکو گے۔ پھر جب اس کے رب نے پہاڑ پر اپنی تجلّی ڈالی تو اس کو ریزہ ریزہ کردیا، اور موسیٰ بےہوش ہو کر گرپڑا۔ پھر جب ہوش آیا تو بولا، تو پاک ہے، میں نے تیری طرف رجوع کیا اور میں سب سے پہلے ایمان لانے والا ہوں۔
فلاسفہ خدا کی تلاش میں تو سرگرداں رہے، لیکن وہ کبھی یقین کے درجے میں خدا کی دریافت تک نہ پہنچ سکے۔ اس کا سبب یہ تھا کہ ان کا طریقہ غیر عملی تھا، فلسفیانہ طریقے پر خدا تک پہنچنے والے تمام اہل علم خدا کی تلاش کے لیے صحیح میتھڈ (right method) دریافت نہ کرسکے۔ یہ تمام لوگ خدا کو براہ راست دیکھنا چاہتے تھے، حالاں کہ خدا کی معرفت صرف بالواسطہ انداز میں ممکن تھی۔
ہر ایک نے یہ چاہا کہ وہ خدا کو براہ راست طور پر دریافت کریں، جیسے وہ عالم خلق کی دوسری چیزوں کو دریافت کرتے ہیں ۔ لیکن یہ طریقہ خالق (خدا) کے معاملے میں قابل عمل نہ تھا۔ اس لیے وہ کامیاب بھی نہیں ہوا۔ سیکولر فلاسفہ اور مذہبی متکلمین دونوں کا کیس اس معاملے میں ایک ہی ہے۔
اس معاملے کا صحیح طریق کار کیا ہے۔ اس کی رہنمائی تاریخ میں پہلی بار اسرائیلی پیغمبر حضرت موسی کے قصے میں ملتی ہے۔ پیغمبر موسی ساڑھے تین ہزار سال پہلے قدیم مصر میں پیدا ہوئے۔ ان کا قصہ تفصیل کے ساتھ قرآن میں آٰیا ہے۔ ان کے ساتھ یہ واقعہ کوہ طور پر پیش آیا، جو صحرائے سینا میں 2285 میٹر کی بلندی پر واقع ہے۔ اس واقعہ پر غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ انسان خدا کو براہ راست نہیں دیکھ سکتا۔ خدا کے وجود کا علم انسان کو صرف بالواسطہ طور پر حاصل ہوتا ہے، یعنی تخلیق (creation)پر غور کرکے خالق (Creator)کے علم تک پہنچنا۔ پیغمبر موسی کے تجربے کی صورت میں یہ رہنمائی تاریخ میں ساڑھے تین ہزار سال سے موجود تھی، لیکن اہل علم کبھی اس طریقہ کار (methodology)کو اختیار نہ کرسکے۔ وہ بدستور اس کوشش میں لگے رہے کہ وہ خالق کو براہ راست دریافت کرسکیں۔
حدیث کی مشہور کتاب صحیح البخاری میں ایک روایت ان الفاظ میں آئی ہےإِنَّ اللَّہَ لَیُؤَیِّدُ ہَذَا الدِّینَ بِالرَّجُلِ الفَاجِرِ (صحیح البخاری، حدیث نمبر3062)۔یعنی بیشک اللہ ضرور ہی اس دین کی تائید فاجر آدمی کے ذریعے کرے گا۔ اس حدیث میں الرجل الفاجر سے مراد سیکولر انسان ہے۔ اس طرح حدیث میں مستند طور پر یہ سراغ (clue) موجود تھا کہ اس معاملے میں ایک سیکولر انسان ہوگا جو ابتدائی رہنمائی فراہم کرے گا۔ لیکن فلاسفہ اور مسلم متکلمین دونوں اس معاملے میں صحیح رہنمائی تک نہ پہنچ سکے۔
راقم الحروف لمبی مدت تک اس موضوع پر غور کرتا رہا ہے،اور آخر کار اس دریافت تک پہنچا کہ صحیح البخاری میں جس الرجل الفاجر (سیکولر انسان) کا ذکر ہے، وہ غالباًاٹلی کا سائنسداں گلیلیو گلیلی (Galileo Galilei) ہے، جو چار سو سال پہلے پیدا ہوا۔ اس معاملے میں گلیلیو کا رول چونکہ براہ راست نہیں تھا، بلکہ بالواسطہ تھا۔ یعنی اس کی دریافت سے بالواسطہ طور پر اس سوال کا جواب مل رہا تھا کہ خدا کی دریافت تک پہنچنے کا طریق کا ر (method) کیا ہے۔
گلیلیو گلیلی کے زمانے میں ایک واقعہ ہوا، جس کو نیوٹن کے ایپل شاک (apple shock) کی طرح ٹیلی شاک (tele-shock) کہا جاسکتا ہے، یعنی دوربین کی دریافت۔آئن سٹائن نے لکھا ہے کہ گلیلیو جدید سائنس کا بانی تھا
Galileo was the “father of modern science.”
یہ ایک حقیقت ہے کہ گلیلیو سے سائنس میں نئے دور کا آغاز ہوا ہے۔ لیکن اس دور کے آغاز کا اصل سبب یہ تھا کہ اس زمانے میں دور بین (telescope) کو 1608 میں ابتدائی طور پر ہالینڈ میں ایجاد کر لیا گیا تھا۔ اس کے بعد 1609 میں گلیلیو نے اس دوربین کا ترقی یافتہ ورزن (developed version)خود سے تیار کیا،اورپہلی بار دور بین کو استعمال کرکے شمسی نظام (solar system)کا جزئی مشاہدہ کیا ۔ اس مطالعے کے ذریعے گلیلیو نے پہلی بار یہ دریافت کیا کہ ارسطو کا قدیم نظریہ غلط تھا کہ سورج زمین کے گرد گھومتا ہے۔ بلکہ صحیح بات یہ ہے کہ زمین سورج کے گرد گھومتی ہے۔
اس نظریے کو علم کی زبان میں ہیلیو سینٹرک تھیَری (heliocentric theory) کہاجاتا ہے۔ جب کہ اس سے پہلے دنیا میں جیو سینٹرک تھیَری (geocentric theory) کا رواج تھا۔ اس لحاظ سے یہ کہنا صحیح ہوگا کہ جس طرح نیوٹن کی کشش ثقل کا نظریہ ایپل شاک کے واقعے کے بعد دریافت ہوا ، اسی طرح گلیلیو کی دریافت کا آغاز’’ٹیلی شاک‘‘ کے بعد پیش آیا۔ یہی واقعہ جدید سائنس (modern science)کے آغاز کا سبب بنا۔ دوسرے الفاظ میں یہ کہا جاسکتا ہے کہ دور بین کی ایجاد سے نئے سائنسی دور کا آغاز ہوا، اور اس امکان کو پہلی بار جس نے استعمال کیا، وہ اٹلی کا سائنس داں گلیلیو گلیلی تھا۔
گلیلیو کو جدید سائنس کا بانی اس لیے کہاجاتا ہے کہ گلیلیو نے ایک چیز کو دوسری چیز سے ڈی لنک (delink) کردیا۔ اس تعلق سے ڈاکٹر الکسس کیرل(1873-1944) لکھتے ہیں— گلیلیو نے چیزوں کی ابتدائی صفات کو، جو ابعاد اور وزن پر مشتمل ہیں، اور جن کی آسانی سے پیمائش کی جاسکتی ہے، ان ثانوی صفات سے الگ کردیا، جو شکل، رنگ اور بو وغیرہ سے تعلق رکھتی ہیں، اور جن کی پیمائش نہیں کی جاسکتی۔ کمیت کو کیفیت سے جدا کردیا
Galileo, as is well known, distinguished the primary qualities of things, dimensions and weight, which are easily measurable, from their secondary qualities, form, colour, odour, which cannot be measured. The quantitative was separated from the qualitative. The quantitative, expressed in mathematical language, brought science to humanity. The qualitative was neglected. (Man, the Unknown, New York, 1939, p. 278)
کیفیاتی پہلو (qualitative aspect) کو کمیاتی پہلو (quantitative aspect) سے الگ کرنے کے معاملے کو الکسس کیرل نے بظاہر ایک منفی واقعے کے طور پر بیان کیا ہے، لیکن اپنی حقیقت کے اعتبار سے یہی وہ واقعہ ہے، جو سائنس میں نئے انقلاب کا سبب بنا۔ اس علاحدگی (delinking) نے سائنسی تحقیق کے بند دروازے کو کھول دیا، جو فلسفہ کے زیر اثر سائنس پر بند پڑا ہوا تھا۔ اس کے بعد ہر سائنسی شعبہ ، فزکس(physics)، فلکیات(astronomy)، کیمسٹری (chemistry)،وغیرہ ، میں تحقیقات ہونے لگی۔ ان تحقیقات کا براہ راست تعلق مذہب سے نہ تھا، مگر بالواسطہ طور پر وہ پوری طرح مذہب سے تعلق رکھتا تھا۔ اب یہ ہوا کہ سائنس کے شعبوں میں آزادانہ طور پر تحقیق ہونے لگی۔ اس طرح جو سائنسی دریافتیں ہوئیں، وہ بالواسطہ طور پر خدا کے وجود کو ثابت کرنے والی تھیں۔
عملی طور پر گلیلیو گلیلی کے اس طریقِ کار کا مطلب تھا — اشیاء کے قابل مشاہدہ جزء (observable aspect)کو اشیاء کے ناقابل مشاہدہ جزء (unobservable aspect)سے الگ کردینا۔ اس سے پہلے اہل علم دونوں کو ایک دوسرے سے ڈی لنک (delink) نہیں کرسکے تھے۔ وہ ناقابل مشاہدہ پہلو کی دریافت میں مشغول ہونے کی بنا پر قابل مشاہدہ پہلو کی دریافت سے محروم بنے ہوئے تھے۔ اب یہ ہوا کہ سارا فوکس چیزوں کے قابل مشاہدہ پہلو پر آگیا۔ اس طرح یہ ممکن ہوگیا کہ قابل مشاہدہ پہلو کو دریافت کرکے ناقابل مشاہدہ پہلو تک پہنچنا ممکن ہوجائے۔ دوسرے لفظوں میں یہ کہ علمی طور پر یہ ممکن ہوگیا کہ قابل مشاہدہ مخلوق کو دریافت کرکے ناقابل مشاہدہ خالق کی بالواسطہ معرفت حاصل کی جاسکے،یعنی وہ طریقہ جس کو استنباطی طریقہ (inferential method) کہا جاتا ہے۔
سائنسی تحقیق میں اس طریق کار کے استعمال کے نتیجے میں بالواسطہ انداز میں خدائی حقیقتیں قابل دریافت ہوگئیں۔ چنانچہ بیسویں صدی میں اس موضوع پر بڑی تعداد میں مقالات اور کتابیں لکھی گئی ہیں۔یہاں اس قسم کی صرف ایک کتاب کا حوالہ دیا جاتا ہے
The Evidence of God in an Expanding Universe: Forty American Scientists Declare Their Affirmative Views on Religion (John Clover Monsma, G. P. Putnam's Sons, 1958, pp. 250(
اس کتاب کا عربی زبان میں ترجمہ ہوچکا ہے۔اس کا عربی ٹائٹل یہ ہے:اللہ یتجلی فی عصر العلم (مترجم: الدمرداش عبد المجید سرحان، مؤسسة الحلبى وشرکاہ للنشر والتوزیع، 1968)۔
راقم الحروف اپنے بارے میں یہ کہہ سکتا ہے کہ میں نے اسی کام کو اپنا اصل موضوع بنایا۔ وسیع مطالعے کے بعد میں نے اس موضوع پر بہت سے مقالے اور کتابیں شائع کیں۔ ان میں سے ایک بڑی کتاب وہ ہے جو اردو زبان میں مذہب اور جدید چیلنج کے نام سے1966 میں شائع ہوئی۔اس کتاب کا عربی ترجمہ ڈاکٹر ظفر الاسلام خان نے کیا۔ عربی ٹائٹل کا نام ہے الاسلام یتحدی۔ یہ عربی ورزن پہلی بار قاہرہ سے 1976میں چھپا اور یہ 196 صفحات پر مشتمل تھا۔اس کے بعد اس کے بہت سے ایڈیشن بار بار شائع ہوتے رہے ۔ اس کتاب کا انگریزی ترجمہ، گاڈ ارائزز (God Arises)کے نام سےشائع ہوا۔ یہ کتاب 1987 میں پہلی بار دہلی سے چھپی۔
ان دو پہلوؤں کی تفریق (delinking) کے بعد جو سائنسی معلومات سامنے آئیں، ان کو استعمال کرکے مذہب کی صداقت از سرِ نو ثابت شدہ بن گئی۔ اس موضوع پر راقم الحروف نے کثیر تعداد میں مضامین لکھے ہیں۔ اگلے صفحات پر اس قسم کی کچھ مذہبی صداقتوںکا ذکر کیا جاتا ہے۔
واپس اوپر جائیں

بے نقص کائنات

کائنات مکمل طور پر ایک بے نقص (zero-defect)کائنات ہے۔قرآن میں کائنات کے اس پہلو کو ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہےَ ۔ ان آیتوں کا ترجمہ یہ ہے: یعنی جس نے بنائے سات آسمان درجہ بدرجہ، تم رحمٰن کے بنانے میں کوئی خلل نہیں دیکھو گے، پھر نگاہ ڈال کر دیکھ لو، کہیں تم کو کوئی خلل نظر آتا ہے (ھَلْ تَرَى مِنْ فُطُور) ۔ پھر بار بار نگاہ ڈال کر دیکھو، نگاہ ناکام تھک کر تمہاری طرف واپس آجائے گی (67:3-4)۔
قرآن کی اس آیت میں کائنات کوبے فطور (flawless) کہا گیا ہے ۔ جس وقت قرآن میں یہ آیت اتری، اس وقت انسان کو معلوم نہ تھا کہ کائنات ایک بے نقص کائنات ہے۔ انسان سورج چاند کو دیکھتا تھا، سمندروں اور پہاڑوں کو دیکھتا تھا۔ اس سے اس کے اندر ایک تحیر کا احساس (sense of awe) پیدا ہوجاتا تھا۔ اس سے کائنات کی پرستش (nature worship) کا تصور پیدا ہوا۔ خالق کا جو اصل مقصود تھا، وہ یہ تھا کہ انسان کائنات کے بے فطور (flawless) پہلو کو جانے ، اور اس طرح خالق کی قدرت کو دریافت کرے۔ مگر ہزاروں سال تک کائنات کا یہ پہلو غیردریافت شدہ بنا رہا۔
پچھلے تقریباً چار سو سال کے درمیان سائنس کے میدان میں جو دریافتیں ہوئی ہیں، انھوں نے پہلی بار انسا ن کو بتایا کہ کائنات میں کمال درجے کی معنویت پائی جاتی ہے۔ کائنات ویل پلانڈ (well planned) کائنات ہے، کائنات ایک ویل مینجڈ (well managed) کائنات ہے، کائنات ایک ویل ڈیزائنڈ (well designed) کائنات ہے، کائنات ایک ویل ڈسپلنڈ (well disciplined) کائنات ہے۔ اب سائنسداں عام طور پر یہ مانتے ہیں کہ کائنات ایک انٹلجنٹ کائنات (intelligent universe) ہے۔ حتی کہ اب یہ ایک باقاعدہ موضوع بن گیا ہے، جس پر بہت سی کتابیں اور رسالے شائع کیے جارہے ہیں۔
نیوٹن کے زمانے میں کائنات کو ایک میکینیکل کائنات کہا جاتا تھا۔ لیکن مزید ریسرچ سے یہ نظریہ غلط ثابت ہوگیا۔ سائنس کے مختلف شعبوں میں جو ریسرچ ہوئی ہے، اس سے اب یہ بات تقریباً واقعہ (fact) بن چکی ہے کہ کائنات ایک ذہین کائنات (intelligent universe) ہے۔ کائنات کو ذہین کائنات ماننے کے بعد یہ معاملہ ایک لفظی مسئلہ بن جاتا ہے۔ کائنات کو ذہین کائنات ماننا دوسرے لفظوں میں یہ ماننا ہے کہ یہ کائنات ایک ذہین خالق کی تخلیق ہے۔ اس کے سوا اس کا کوئی اور مفہوم نہیں ہوسکتا۔ اس موضوع پر غالباً پہلی باقاعدہ کتاب فریڈ ہائل (Fred Hoyle) کی تھی، جس کا نام تھا ذہین کائنات:
The Intelligent Universe: A New View of Creation and Evolution (1983)
مگر اب ذہین ڈزائن کے موضوع پر بڑی تعداد میں کتابیں اورمقالے چھپ چکے ہیں۔ ان کتابوں اور مقالات کو کسی بڑی لائبریری میں یا انٹر نیٹ پر دیکھا جاسکتا ہے۔
٭ ٭ ٭٭ ٭
ایک سائنس داں، پروفیسر کارل ٹرال نے کہا— میری زندگی کا حاصل بحیثیت سائنٹسٹ اور جغرافیہ داں یہ ہے کہ میں زیادہ سے زیادہ خالق کا شکر گذار ہوگیا ہوں۔
“The fruit of my life as scientist and geographer is to have become more and more deeply grateful to our Creator.”
Prof. Carl Troll was president of the International Geographical Union from 1960 to 1964
سائنس داں جب قدرت کا مطالعہ کرتا ہے تو اس کے اندر قدرت کی عظمت کا بے پناہ احساس ابھرتا ہے۔ اس کا اندرونی وجود اُس ہستی کے آگے جھک جاتا ہے، جس نے اتنی با معنی کائنات بنائی ۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ موجودہ دور میں خدا کے انکار کا ذہن سائنس دانوں نے نہیں بنایا۔ یہ دراصل کچھ ملحد فلاسفہ تھے جنھوں نے سائنسی دریافتوں کو غلط رخ دے کر اس سے خود ساختہ طورپر انکار خدا کا مطلب پیدا کیا۔ حالاں کہ یہ سائنسی دریافتیں زیادہ درست طورپر اقرار خدا کی طرف اشارہ کررہی تھیں۔
واپس اوپر جائیں

زیرو ڈفکٹ کائنات

سیکنڈ ورلڈ وار (1939-1945) کے زمانے میں ایک تصور پیدا ہوا، جس کو زیرو ڈیفکٹ مینجمنٹ کہا جاتا ہے۔اس موضوع پر بہت سے آرٹکل اور بہت سی کتابیں شائع ہوئیں۔ جلد ہی یہ تصور ترقی یافتہ ملکوں میں تیزی سے پھیل گیا۔کئی ملکوں، مثلا ًامریکا اور جاپان، وغیرہ میں اس تصور کو بڑے پیمانے پرعمل میں لانے کی کوشش کی گئی۔ لیکن لمبے تجربے کے بعد یہ مان لیا گیا کہ زیرو ڈیفکٹ مینجمنٹ کا تصور ناقابل حصول ہے۔اس موضوع پر انٹرنیٹ میں کافی مواد موجود ہے۔ آپ نمونے کے طور پر حسب ذیل آرٹکل پڑھ سکتے ہیں:
The Concept of Zero Defects in Quality Management by Chandana Das (www.simplilearn.com)
دور جدید میں صنعتی اعتبار سے ترقی یافتہ ملکوں میں بڑے پیمانے پر یہ کوشش کی گئی کہ زیرو ڈیفکٹ مینجمنٹ قائم کیا جائے۔ اس موضوع پر بڑی تعداد میں ریسرچ ہوئی، اور کتابیں لکھی گئیں۔بیسویں صدی کے تقریباً پورے دور میں یہ کام جاری رہا۔ مگر اس مقصد میں مکمل ناکامی ہوئی۔ حالاں کہ دورِ جدید کے انتہائی ترقی یافتہ ملکوں نے اس عمل میں حصہ لیا۔ مثلاً امریکا اور جاپان، وغیرہ۔ دوسری طرف عین اسی وقت دور جدید کے سائنسی مطالعے سے یہ ثابت ہوا ہے کہ فطرت کا نظام، مثلاً ستاروں اور سیاروں کی گردش ،وغیرہ، انتہائی حد تک بے خطا انداز میں قائم ہیں۔ اگر آپ یہ جاننا چاہیں کہ کل ٹھیک ٹھیک کس وقت سورج نکلے گا، اور کس وقت ٹھیک وہ غروب ہوگا، تو آپ آج ہی اس کو نہایت درست انداز میں معلوم کرسکتے ہیں۔
ایک طرف یہ تجربہ ہے کہ انسانی دنیا میں زیرو ڈیفکٹ مینجمنٹ کا تصور مکمل طور پر ناکام ہوچکا ہے، اور دوسری طرف انسان کے سوا جو مادی دنیا ہے، اس میں یہ تصور کامل طور پر موجود ہے۔ مثلاً اگر آپ یہ جاننا چاہیں کہ 15 اپریل 2025 کو سورج کے طلوع ہونے، اور غروب ہونےکا وقت کیا ہوگا تو پیشگی طور پر آپ یہ معلوم کرسکتے ہیں کہ 15 اپریل 2025کو دہلی میں سورج کے طلوع اور غروب کا وقت حسب ذیل ہوگا:
طلوع آفتاب (Sun rise) 05:56 غروب آفتاب (Sun set) 18:46
سورج کے طلوع و غروب کےبارے میں یہ وقت اسی صحت (accuracy) کے ساتھ ساری دنیا کے بارے میں معلوم کیا جاسکتا ہے۔ اسی طرح پوری مادی دنیاکا نظام کامل صحت کے ساتھ چل رہا ہے۔ مادی دنیا کی سائنس کو اسٹرانومی ، فزکس، کیمسٹری، وغیرہ کہا جاتا ہے۔ اس مادی دنیا کا ریکاڑ ہزاروں سال پہلے، اور ہزاروں سال بعد تک معلوم کیا جاسکتا ہے، اور کسی ادنی فرق کے بغیر وہ یہی رہے گا۔ اس دنیا کے بارے میں اب تک کوئی فرق ریکارڈ نہیں کیا گیا ہے۔
آپ غور کیجیے کہ وہ مادی دنیا جو براہ راست خالق کے مینجمنٹ کے تحت چل رہی ہے، وہ شروع سے اب تک اسی زیرو ڈیفکٹ مینجمنٹ کے اصول پر قائم ہے۔ اس کے مقابلے میں انسان کی دنیا میں ، انسان جو منصوبہ بناتا ہے، مثلاً انڈسٹری کی دنیا ، وہاں انتہائی کوشش کے باوجود زیرو ڈیفکٹ مینجمنٹ کا نظام قائم نہ ہوسکا۔ یعنی ایک طرف اسپیس میں ڈیوائن مینجمنٹ کو دیکھیے، جو زیرو ڈیفکٹ مینجمنٹ کے اصول پر مسلسل چل رہا ہے۔ دوسری طرف ہیومن مینجمنٹ کو دیکھیے۔ اس دوسری دنیا میں تقریباً ایک صدی کی مسلسل کوشش کے باوجودد زیرو ڈیفکٹ مینجمنٹ کا نظام قائم نہ ہوسکا۔اس معاملے میں اگر آپ کو ہیومن مینجمنٹ کا تجربہ جاننا ہو، تو آپ انٹرنیٹ پر موجود اس مضمون کو پڑھیے:
Zero Defects, a term coined by Mr. Philip Crosby in his book “Absolutes of Quality Management” has emerged as a popular and highly-regarded concept in quality management—so much so that Six Sigma is adopting it as one of its major theories. Unfortunately, the concept has also faced a fair degree of criticism, with some arguing that a state of zero defects simply cannot exist. Others have worked hard to prove the naysayers wrong, pointing out that “zero defects” in quality management doesn’t literally mean perfection, but rather refers to a state where waste is eliminated and defects are reduced. It means ensuring the highest quality standards in projects. What Do We Mean by Zero Defects: From a literal standpoint, it’s pretty obvious that attaining zero defects is technically not possible in any sizable or complex manufacturing project.
(www.simplilearn.com. accessed on 13.03.19)
اب اس دو طرفہ تجربے کے اوپر مشہور فارمولے کو منطبق (apply) کیجیے کہ چیزیں اپنی ضد سے سمجھ میں آتی ہیں(تعرف الاشیاء باضدادہا):
It is in comparison that you understand
قرآن کی مختلف آیتوں میں اس بات کی طرف اشارہ کیا گیا ہے کہ انسان موجودہ دنیا میں جو نظام بناتا ہے، اور انسان کے باہر بقیہ کائنات میں جو نظام ہے، دونوں میں تقابل (comparison) کرکے دیکھو۔ یہ تقابلی مطالعہ(comparative study) بتائے گا کہ دونوں دنیاؤں میں بنیادی فرق ہے۔ انسان کی دنیا میں انسان جو نظام بناتا ہے، اس میں ساری کوشش کے باوجود زیروڈیفکٹ مینجمنٹ کا نظام قائم نہ ہوسکا۔ یہاں تک کہ یہ مان لیا گیا کہ انسان کی دنیا میں اس تصور کا حصول ممکن نہیں۔ دوسری طرف خدا کی قائم کردہ مادی دنیا میں یہ تصور پوری تاریخ میں انتہائی صحت (accuracy) کے ساتھ قائم ہے۔
اس فرق پر جب مذکورہ فارمولا کو منطبق کیا جائے تو خود انسانی تجربے کے مطابق یہ ثابت ہوتا ہے کہ اس کائنات کا مالک ایک برتر ہستی ہے، یعنی اللہ رب العالمین۔ انسان کی دنیا اور فزیکل سائنس (exact sciences) کی دنیا میں جو فرق ہے، وہ فرق خدا کے وجود کا ایک قطعی ثبوت ہے۔ یہی وہ حقیقت ہے، جس کو قرآن میں ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے:الَّذِی خَلَقَ سَبْعَ سَمَاوَاتٍ طِبَاقًا مَا تَرَى فِی خَلْقِ الرَّحْمَنِ مِنْ تَفَاوُتٍ فَارْجِعِ الْبَصَرَ ہَلْ تَرَى مِنْ فُطُورٍ۔ ثُمَّ ارْجِعِ الْبَصَرَ کَرَّتَیْنِ یَنْقَلِبْ إِلَیْکَ الْبَصَرُ خَاسِئًا وَہُوَ حَسِیرٌ(67:3-4) ۔ یعنی جس نے بنائے سات آسمان اوپر تلے، تم رحمٰن کے بنانے میں کوئی خلل نہیں دیکھو گے، پھر نگاہ ڈال کر دیکھ لو، کہیں تم کو کوئی خلل نظر آتا ہے۔ پھر بار بار نگاہ ڈال کر دیکھو، نگاہ ناکام تھک کر تمہاری طرف واپس آجائے گی۔
اسی طرح ایک آیت یہ ہے:أَفَلَمْ یَنْظُرُوا إِلَى السَّمَاءِ فَوْقَہُمْ کَیْفَ بَنَیْنَاھَا وَزَیَّنَّاھَا وَمَا لَہَا مِنْ فُرُوجٍ (50:6)۔ یعنی کیا ان لوگوں نے اپنے اوپر آسمان کو نہیں دیکھا، ہم نے کیسا اس کو بنایا اور اس کو رونق دی اور اس میں کوئی رخنہ نہیں۔ موجودہ زمانے میں کائنات کے بے خطا نظام کی یہ دریافت (discovery)اللہ رب العالمین کی ایک صفت کو ثابت شدہ بنا رہی ہے، اور وہ ہے: الْحَیُّ الْقَیُّومُ لَا تَأْخُذُہُ سِنَةٌ وَلَا نَوْمٌ(2:255)۔ یعنی وہ زندہ ہے، سب کا تھامنے والا۔ اس کو نہ اونگھ آتی ہے ،اور نہ نیند۔
٭٭٭٭٭
موجودہ زمانے کے سائنس دانوں نے جن چیزوں کی کھوج کی ہے، ان میں سے ایک بالائی تہذیب (alien civilizations)ہے۔ زمین پر انسانی تہذیب کے علاوہ کیا خلا میں کوئی اور تہذیب ہے، جو ہم سے زیادہ ترقی یافتہ ہے۔ پچھلے 25 برسوں کے سائنسی مطالعے نے کافی حد تک یہ امکان ظاہر کیا ہے کہ کائنات میں ہمارے علاوہ دوسری ’’ٹکنکل سولائزیشن‘‘ بھی ہوسکتی ہے۔
اس قیاس کی وجہ یہ ہے کہ سائنس دانوں کو کائنات میں ماورائی ذہانت (extraterrestrial intelligence) کے آثار ملے ہیں۔ ان آثار کا نتیجہ یہ ہونا چاہیے تھا کہ خدا کے وجود پر لوگوں کا یقین بڑھتا، مگر غیر خدا پرستانہ ذہن کا یہ کرشمہ ہے کہ وہ ماورائی ذہانت کو انسانی ذہانت سمجھ رہے ہیں۔ جو حقیقۃً خدا کا وجود ثابت کررہی ہے، اس کو اس معنی میںلے رہے ہیں کہ کائنات میں کسی سیارہ پر انسانی تہذیب جیسی کوئی اور تہذیب موجود ہے۔ حالاں کہ کائنات میں ’’ذہانت‘‘ کے آثار کا ملنا، اور ذہانت کا نظر نہ آنا، یہ ثابت کرتا ہے کہ یہ ذہانت اپنی نوعیت کے اعتبار سے غیر انسانی اور غیر مرئی (invisible)ہے، نہ کہ انسان کی طرح دکھائی دینے والی۔ (ڈائری، 7 جنوری 1984)
واپس اوپر جائیں

کائنات بول رہی ہے

کیرالا کے عیسائی مشن نے ایک کتابچہ شائع کیا ہے جس کا نام ہے:
Nature and Science Speak about God
اخباری سائز کی اس 28 صفحے کی کتاب میں کائنات کے متعلق سائنسی دریافتوں کے حوالے سے یہ واضح کیا گیا ہےکہ خدا کا وجود ایک حقیقت ہے اور اسے کسی طرح جھٹلایا نہیں جاسکتا— بچھو،بھڑاور اسی طرح کے بہت سے دوسرے پانی اور خشکی کے جاندار ہیں جو ڈنک مار کر دشمن کا مقابلہ کرتے ہیں یا شکار کو قابو میں لاتے ہیں۔ ان کے ڈنک کی نوک پر ایک نہایت چھوٹا سوراخ ہوتا ہے جس کے ذریعہ وہ ایک قسم کا زہر اپنے دشمن کے جسم میں داخل کردیتے ہیں۔ یہ سوراخ اگر ڈنک کے بالکل سرے پر ہوتا تو ڈنک چبھوتے وقت سوراخ بند ہوجاتا۔ اس کے علاوہ خود چبھونے میں ڈنک زیادہ اچھی طرح کام نہ کرتا۔ یہی وجہ ہے کہ ڈنک کی نوک کا سوراخ ہمیشہ ذرا سا ترچھا ہوتا ہے۔ ٹھیک اسی طرح جیسے ڈاکٹر کی سرینج (syringe) میں ہوتا ہے۔‘‘ یہ ایک بہت چھوٹی سی مثال ہے۔ اسی طرح جس چیز کو دیکھیے اس کے اندر ایک نہایت ذہین نقشہ سازی نظر آئے گی۔ کائنات کوڑا کرکٹ کا ایک بے ترتیب انبار نہیں ہے، بلکہ اس کے اندر زبردست مقصدیت اور نظم پایا جاتا ہے۔ کیا ایک شعور ی منصوبہ بندی کے بغیر ایسا ہوسکتا ہے۔
دیمک اپنے قدکے مقابلے میں ہزار گنا بڑا مکان بناتے ہیں۔ اگر ہم اپنی جسامت کی نسبت سے اتنا بڑا مکان بنائیں تو ہم کو ایک میل سے بھی زیادہ اونچی تعمیر کرنی پڑے گی۔ دیمک لکڑی میں رہ سکتے ہیں اور اسی کے اندر اپنے مکانات تراشتے ہیں ان کی زندگی کے مطالعہ سے بے شمار حیرت انگیز واقعات سامنے آئے ہیں۔ صرف ایک مثال لیجیے۔ دیمک لکڑی کو کھاتے ہیں۔ پتھر کے بعد لکڑی تمام معلوم چیزوں میں سب سے زیادہ عسیر الہضم (indigestible)ہے، مگر دیمک کے لیے یہ کوئی مشکل کام نہیں۔ وہ اس مقصد کے لیے مخصوص جبڑے رکھتے ہیں جو آرے کا کام دینے کے ساتھ ساتھ پیسنے کا کام بھی کرتے ہیں۔ تاہم لکڑی خواہ کتنی ہی پیس ڈالی جائے، وہ بہر حال لکڑی ہی رہے گی، اور پیٹ میں جاکر غذا کی ضرورت پوری کرنے کے بجائے صرف بدہضمی پیدا کرے گی۔ پھر کیا چیز ہے، جو دیمک کی مدد کرتی ہے۔ اس کام کے لیے دیمک کی آنتوں میں نہایت چھوٹےچھوٹے خوردبینی کیڑے موجود ہیں۔ یہ کیڑے نگلی ہوئی لکڑی پر مخصوص عمل کرکے اس کے اندر ایسی تبدیلیاں پیدا کردیتے ہیں کہ وہ ہضم ہو کر جزو بدن ہوسکے۔ یہ حیرت انگیز انتظام کون کرتاہے۔
مرغی کے انڈے پر غور کیجئے۔ ہر ایک انڈے میں سات ایسی مختلف خصوصیات پائی جاتی ہیں، جو اتنی اہم ہیں کہ ان میں سے ایک بھی اگر نہ ہو تو انڈا، انڈا نہ رہے گا — چونے کا خول،خول کے اندر مسامات جو ہوا کو گزرنے کا راستہ دیتے ہیں، پتلی جھلی جو اَستر کی طرح چاروں طرف ہوتی ہے، زردی اور سفیدی جو خول کےاندر بچے کی غذا ہیں، بچے کا جرثومہ، تار جو جرثومے کو صحیح رُخ پر باقی رکھتے ہیں۔ان میں سے کسی ایک چیز کو انڈے سے الگ کردیجیے، اور انڈا کبھی بھی چوزے کی پرورش گاہ نہیں بن سکے گا۔ کیا یہ سات مختلف چیزیں محض اتفاق سے یکجا ہوگئی ہیں، ’’اتفاق‘‘ ان سات مختلف چیزوں کی موجودگی کی تشریح نہیں کرسکتا، جو ٹھیک اور بالکل صحیح حالت میں پائی جارہی ہیں۔ اس سے زیادہ عجیب بات یہ ہے کہ اتفاق سے صرف یہی چیزیں کیوں اکھٹا ہوئیں۔ کیوں نہ درخت کی پتّی ، کوئی لکڑی، پتھر کا ایک ٹکڑا اور اس طرح کی ہزاروں چیزیں جن کا موجود ہونا ممکن تھا خول کے اندر آگئیں، جن میں سے کوئی ایک چیز بھی اگر وہاں ہوتی تو وہ سارے انڈے کو برباد کردیتی۔ سب سے زیادہ عجیب بات یہ ہے کہ جب مرغی کا بچہ اس قابل ہوجاتا ہے کہ انڈے سے باہر نکلے، اس وقت اس کی چونچ پر ایک چھوٹی سی سخت سینگ ظاہر ہوتی ہے۔ اس کی مدد سے وہ اپنے خول کو توڑ کر باہر آجاتا ہے۔ سینگ اپنا کام پورا کرکے بچہ کی پیدائش کے چند دن بعد خود بخود جھڑ جاتی ہے۔
خود اپنے وجود پر غور کیجیے۔ انسان کو جو جسم حاصل ہے وہ کس قدر حیرت انگیز ہے۔ دماغ کو دیکھیے۔ ایک ایسا ٹیلی فون اکسچینج جو ہر آن زمین کے تمام مردوں، عورتوں اور بچوں سے تعلق جوڑے ہوئے ہو، ان سے پیغامات وصول کرتا ہو اور ان کے نام پیغام بھیجتا ہو، اگر آپ ایک ایسے ٹیلی فون اکسچینج (exchange)کا تصور کرسکیں تو آپ دماغ کے ناقابل یقین حد تک پیچیدہ نظام کا صرف ایک ہلکا سا اندازہ کرسکتے ہیں۔
آپ کے دماغ(brain)کے اندر تقریباً ایک ہزار ملین عصبی خانے (nerve cells) ہیں۔ ہر خانے سے بہت باریک تار نکل کر تمام جسم کے اندر پھیلے ہوئے ہیں جن کو عصبی ریشے (nerve fibres) کہتے ہیں۔ ان پتلے ریشوں پر خبر وصول کرنے اور حکم بھیجنے کا ایک نظام تقریباً ستر میل فی گھنٹہ کی رفتار سے دوڑتا رہتا ہے۔
دل کو دیکھیے، اس کا اوسط قد چار انچ لمبا اور ڈھائی انچ چوڑا ہوتا ہے۔ اس کا وزن آٹھ اونس سے زیادہ نہیں ہوتا مگر انسانی جسم کا یہ چھوٹا سا پمپ رات دن مسلسل چلتا رہتا ہے۔ اس کی حرکت دن میں ایک لاکھ بار ہوتی ہے اور وہ ہر تیرہ سکنڈ میں تقریباً ایک گیلن خون سارے جسم میں بھیج دیتا ہے۔ ایک سال میں دل جتنا خون پمپ کرتا ہے وہ اتنا ہوتا ہے جو ایک ایسی ٹرین کو پوری طرح بھر سکے، جو 65 بڑے بڑے تیل کے ویگن لیے ہوئے ہو۔ دل کی اس حیرت انگیز کارکردگی کو حاصل کرنے کے لیے عجیب وغریب ہنر مندی کے ساتھ اس کو موزوں ترین بنایا گیا ہے۔
کائنات میں اس طرح کی بے شمار چیزیں ہیں جن کی صرف فہرست بنانے کے لیے ایک پوری لائبریری کی ضرورت ہوگی، جب کہ انسان کا علم کائنات کے موجود حقائق کی نسبت سے کچھ بھی نہیں ہے۔ جو کچھ ہم نے دیکھا ہے، اس سے کہیں زیادہ ہے وہ چیز جس کو دیکھنا ابھی باقی ہے۔
یہ حیرت انگیز کاریگری، یہ مکمل منصوبہ بندی، یہ اعلی ترین ذہانت کیا محض اتفاق (chance) سے وقوع میں آگئی ہے۔ بے شک بعض اوقات محض اتفاق سے بھی کوئی واقعہ ظاہر ہوجاتا ہے۔ مثلاً ہوا کا ایک جھونکا کبھی سرخ گلاب کے زیرہ (pollen) کو اڑا کر سفید گلاب پر ڈال دیتا ہے، جس کے نتیجے میں زرد رنگ کا پھول کھلتا ہے۔ مگر اس قسم کا اتفاق محض جزوی اور خفیف تبدیلیاں پیدا کرسکتا ہے۔ وہ صرف اس مخصوص رنگ کے گلاب کی توجیہہ کرتا ہے، نہ کہ وہ گلاب کے پورے وجود کا سبب ہے۔ اتفاق ہر گز اس کی توجیہہ نہیں کرسکتا کہ ایک مخصوص قسم کا نظام اس قدر تسلسل کے ساتھ کیوں جاری ہے۔ وہ ہم کو نہیں بتاتا کہ ہماری دنیا میں باقاعدگی اور تنظیم کیوں پائی جاتی ہے۔’’اتفاق‘‘ کا عمل کبھی بھی یکساں طور پر نہیں ہوسکتا۔ اتفاق کے لیے ممکن نہیں ہے کہ جو کچھ آج ہوا اسی کو کل بھی وجود میں لائے۔ پھر کیوں تمام چیزیں ہمیشہ یکسانیت کے ساتھ ایک ہی شکل میں ظاہر ہورہی ہیں۔ ان میں نظم اور باقاعدگی کیوں پائی جاتی ہے۔
کچھ دھات کے ٹکڑے ہوا میں اچھالے جائیں تو کیا یہ ممکن ہے کہ وہ ڈھلے ہوئے حروف کی شکل میں زمین پر گریں اور گرتے ہی ایک بامعنی عبارت کی شکل میں کاغذ کے صفحہ پر اکھٹاہوجائیں۔ اگر ایسا محض اتفاق سے نہیں ہوسکتا تو یہ کیوں فرض کرلیا گیا ہے کہ اتنی بڑی دنیا اتنی حیرت انگیز خصوصیات کے ساتھ محض اتفاق سے وجود میں آگئی ہے۔ ایک نظریہ جس کو کسی تجربہ گاہ میں ثابت نہیں کیا جاسکتا اس کو علمی طور پر منوانے کی کیا دلیل ہے۔
دوسری توجیہہ جس پر مادہ پرست علماء انحصار کرتے ہیں وہ قانونِ قدرت (nature)ہے۔ ’’مرغی کے انڈوں سے بچے کیوں 21روز میں نکلتے ہیں، اور شتر مرغ کے انڈوں سے 45 روز میں۔‘‘ اس طرح کے بے شمار سوالات ہیں جن کا جواب مادی علماء کے نزدیک یہ ہے کہ ’’یہ ایک قانونِ فطرت ہے۔‘‘ بظاہر یہ ایک توجیہہ ہے مگر درحقیقت یہ جواب صرف ایک واقعہ کو بیان کرتا ہے۔ قانونِ فطرت کا لفظ بول کر ہم صرف کائنات کے نظم اور اس کی کارکردگی کا اعتراف کرتے ہیں۔ یہ لفظ اس کی توجیہہ نہیں کرتا کہ یہ نظم اور کارکردگی کیوں قائم ہے۔ یہ لفظ صرف یہ بتاتا ہے کہ چیزیں ہمیشہ ایک متعین اصول کے تحت وجود میں آتی ہیں اور ہمیشہ اسی طرح وجود میں آئیں گی۔ اس سے یہ نہیں معلوم ہوتا کہ جو کچھ ہورہا ہے، وہ کیوں ہورہا ہے۔ وہ واقعہ کا سبب نہیں بتاتا بلکہ صرف واقعہ کی تصویر پیش کرتاہے۔
اگر آپ کسی ڈاکٹر سے پوچھیں کہ خون سرخ کیوں ہوتا ہے تو وہ جواب دے گا کہ اس کی وجہ یہ ہے کہ خون میں نہایت چھوٹے چھوٹے سرخ اجزاء ہوتے ہیں(ایک انچ کے ساتھ ہزار ویں حصے کے برابر) جن کو سرخ ذرات کہاجاتا ہے۔
’’درست، مگر یہ ذرات سرخ کیوں ہوتے ہیں؟‘‘
’’ان ذرات میں ایک خاص مادہ ہوتاہے جس کا نام ہیموگلوبن (haemoglobin) ہے، یہ مادہ جب پھیپھڑے میں آکسیجن جذب کرتا ہے تو سرخ ہوجاتا ہے۔‘‘
’’ٹھیک ہے، مگر ہیموگلوبن کے حامل سرخ ذرات آخر کہاں سے آئے۔‘‘
’’وہ آپ کی تِلّی (spleen)میں بن کر تیار ہوتے ہیں۔‘‘
ڈاکٹر صاحب! جو کچھ آپ نے فرمایا، وہ بہت عجیب ہے، مگر مجھے بتائیے کہ ایسا کیوں ہے کہ خون، سرخ ذرّات، تلّی اور دوسری ہزاروں چیزیں اس طرح ایک کُل کے اندر باہم مربوط ہیں، وہ اس قدر صحت کے ساتھ یک جا ہوکر کیسے عمل کرتی ہیں کہ میں سانس لیتا ہوں، میں دوڑتا ہوں، میں بولتا ہوں، میں زندہ ہوں۔‘‘
’’یہ قدرت کا قانون ہے۔‘‘
’’وہ کیا چیز ہے جس کو آپ قانونِ قدرت کہتے ہیں۔‘‘
’’اس سے میری مراد طبیعی اور کیمیاوی طاقتوں کا اندھا عمل ہے۔‘‘
’’مگر کیا وجہ ہے کہ یہ اندھی طاقتیں ہمیشہ ایسی سمت میں عمل کرتی ہیں، جو انھیں ایک متعین انجام کی طرف لے جائے۔ کیسے وہ اپنی سرگرمیوں کو اس طرح منظم کرتی ہیں کہ ایک چڑیا اُڑنے کے قابل ہوسکے، ایک مچھلی تیر سکے اور ایک انسان اپنی مخصوص صلاحیتوں کے ساتھ وجود میں آئے۔‘‘
’’میرے دوست ، مجھ سے یہ نہ پوچھو، سائنس داں صرف یہ بتا سکتا ہے کہ جو کچھ ہورہا ہے وہ کیا ہے۔ اس کے پاس اس سوال کاجواب نہیں ہے کہ جو کچھ ہورہا ہے وہ کیوں ہو رہا ہے۔‘‘
یہ سوال وجواب موجودہ سائنس کی حقیقت واضح کررہا ہے۔ بے شک سائنس نے ہم کو بہت سی نئی باتیں بتائی ہیں۔ مگر اس نے جو کچھ بتایا ہے وہ صرف کچھ ہونے والے واقعات ہیں۔ وہ واقعات کیوں کر ہورہے ہیں اس کا جواب سائنس کے پاس نہیں ہے۔ ایک مکھی کے نازک اعضاء کس طرح کام کرتے ہیں۔ بے شک سائنس نے اس سلسلے میں ہم کو بہت کچھ بتایا ہے، مگر وہ کون ذہن ہے، جس نے سوچا کہ مکھی کو ان نازک اعضاء کی ضرورت ہے، اور اس کو کمال کاریگری کے ساتھ ایسے اعضا فراہم کیے۔ کائنات کے نظم اوراس کی موزونیت کی تشریح کرنے کے لیے اور یہ بتانے کے لیے کہ مختلف قسم کی بے شمار اندھی طاقتیں ایک مخصوص انجام کی طرف اپنا عمل کیوں کرتی ہیں — ہم کو ان طاقتوں کی موجودگی کے سوا کس چیز کی ضرورت ہے۔ ایک بچھے ہوئے بستر کی تشریح محض اس طرح نہیں ہوسکتی کہ آپ چادر، تکیہ اور پلنگ کے نام لے لیں۔ ایک محل، نام ہے لاکھوں اینٹیں اور دوسری چیزیں اپنے صحیح ترین مقام پر نصب ہونے کا۔ انسانی جسم کے کسی چھوٹے سے چھوٹے عضو کے وجود میں آنے کے لیے ضروری ہے کہ کروروں ایٹم ایک منفرد اور مخصوص ترتیب کے ساتھ یک جا ہوں۔ اندھی طاقتیں ہر گز اس طرح کی مقصدیت کا اظہار نہیں کرسکتیں، وہ واقعات کے اندر معنویت اور ہم آہنگی پیدا نہیں کرسکتیں۔
حقیقت یہ ہے کہ فطرت کا قانون کائنات کا ایک واقعہ ہے، وہ کائنات کی توجیہہ نہیں ہے۔ یہ ایک ایسا واقعہ ہے جو خود اپنے وجود کے لیے ایک توجیہہ کا طالب ہے۔ اس موقع پر مصنف کے الفاظ نقل کرنے کے قابل ہیں۔ وہ لکھتا ہے— قانونِ قدرت کائنات کی تشریح نہیں کرتا۔ وہ خود اس کا طالب ہے کہ اس کی تشریح کی جائے
Nature does not explain, she is herself in need of an explanation.
اس کا مطلب یہ ہے کہ کسی چیز میں معنویت کا ہونا، اس بات کا صریح ثبوت ہے کہ اس کے پیچھے کوئی ذہن کام کررہا ہے۔زندگی کا جرثومہ جو ایک مرد کے جسم میں پرورش پاتا ہے، وہ جسم کے دوسرے خلیوں (cells)کے بالکل مشابہ ہوتا ہے، مگر اس میں دوسرے خلیوں سے بالکل مختلف خصوصیت ہوتی ہے، اس کے اندر یہ صلاحیت ہوتی ہے کہ عورت کے ایک خلیہ سے ہم آہنگ ہو کر مکمل طورپر ایک نیا انسان وجود میں لاسکے۔ یہ کس طرح ممکن ہوتاہے کہ دو خلیے جن میں سے ہر ایک دو بالکل مختلف جسموں میں پرورش پاتے ہیں، وہ اس قدر حیرت انگیز طورپر باہم مل کر عمل کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ کیا ایک تخلیقی ذہن کی کارفرمائی تسلیم کیے بغیر اس کی تشریح کی جاسکتی ہے۔
کائنات میں ایک تخلیقی ذہن کو ماننا محض ایک بے بنیاد روایت کو ماننا نہیں ہے۔ دراصل بہت سے ناگزیر نتائج ہم کواس عقیدہ تک پہنچاتےہیں، بے شمار علمی حقیقتیں ہم کو مجبور کرتی ہیں کہ ہم کائنات کے پیچھے ایک ذہن کی کارفرمائی تسلیم کریں۔ ٹھیک اسی طرح جیسے ریڈیو کی آواز ہم کو یہ ماننے پر مجبور کرتی ہے کہ ہم کچھ لہروں کی موجودگی تسلیم کریں، حالانکہ ہم ان لہروں کو بالکل نہیں دیکھتے۔ گلاس میں شکر ڈالیں تو تھوڑی دیر میں وہ اس طرح گھل مل جائے گی کہ آنکھوں کو دکھائی نہیں دے گی۔ مگر زبان سے چکھ کر آپ پانی میں شکر کی موجودگی کو معلوم کرسکتے ہیں۔ اسی طرح خدا آنکھوں کو نظر نہیں آتا مگر جب ہم اپنے گردوپیش کی دنیا کا مطالعہ کرتے ہیں تو ہمارا وجدان (intuition)پکار اٹھتا ہے کہ بےشک یہاں ایک خداہے، اس کے بغیر موجودہ کائنات وجود میں نہیں آسکتی تھی۔
حقیقت یہ ہے کہ علم کے اضافہ نے انسان کو خدا سے دور نہیں کیا بلکہ اور اس کے قریب کیا ہے۔ خدا کے وجود پر شک کرنا محض اپنی جہالت کا اعلان کرنا ہے۔ پاسچر کا قول کس قدر صحیح ہے جس کو مصنف نے کتاب کے صفحہ اول پر درج کیاہے:
A smattering of science turns people away from God—Much of it brings them back to Him.
معمولی علم آدمی کو خدا سے دور کرتاہے، زیادہ علم اس کو خدا سے قریب کرنے والا ہے۔
٭٭٭٭٭
موجودہ زمانہ کے ماہرین نے اندازہ لگایا ہے کہ انسان کے دماغ (brain) میں جو پارٹیکل ہیں وہ پوری کائنات کے مجموعی پارٹیکل سے بھی زیادہ ہیں۔ انسانی دماغ کی استعداد بے پناہ ہے مگر کوئی بڑے سے بڑا انسان بھی اب تک اپنے دماغ کو دس فی صد سے زیادہ استعمال نہ کرسکا۔
حقیقت یہ ہے کہ آدمی ایک امکان ہے۔ مگر موجودہ دنیا اپنی محدودیتوں کے ساتھ اس امکان کے ظہور کے لیے ناکافی ہے۔ انسانی امکان کے ظہور میں آنے کے لیے ایک لامحدود اور وسیع تر دنیا درکار ہے۔
جنت کی دنیا، ایک اعتبار سے، اسی لیے بنائی گئی ہے کہ وہاں آدمی کے امکانات پوری طرح ظہور میں آسکیں۔
واپس اوپر جائیں

ذہین کائنات

نظام شمسی سورج اور ان تمام غیر روشن اجرام فلکی کے مجموعے کو کہتے ہیں، جو براہ راست یا بالواسطہ طور پر سورج کی ثقلی گرفت (gravitational pull)میں ہیں،اور سورج کے اردگرد اپنے مخصوص مدار میں گھوم رہے ہیں۔معلوم نظام شمسی ابھی تک صرف ایک ہے، جس میں ہماری زمین واقع ہے۔ تاہم علمائے فلکیات کا قیاس ہے کہ اس قسم کے مزید ایک ملین نظام شمسی کائنات میں ہوسکتے ہیں۔
کہکشاں اس مجموعہ کو کہتے ہیںجس میں روشن ستارے ایک خاص نظام کے اندر گردش کررہے ہیں۔ ہماری قریبی کہکشاں (Milky Way) جورات کے وقت لمبی سفید دھاری کی شکل میں دکھائی دیتی ہے، اس کے اندر تقریباً ایک کھرب ستارے ہیں۔ ہمارا نظام شمسی(solar system) اسی میں واقع ہے۔
سورج ہماری کہکشاں کی پلیٹ پر اپنے تمام سیاروں کو لیے ہوئے 175 میل فی سکنڈ کی رفتار سے گردش کررہا ہے۔ یہ کہکشاں اتنی وسیع ہے کہ سورج کے اس تیز رفتار سفر کے باوجود کہکشاں کے مرکز کے گرد ایک چکر کو پورا کرنے میں ہمارے نظام شمسی کو 20 کروڑ سال لگ جاتے ہیں۔ اس قسم کی ایک بلین سے زیادہ کہکشائیں وسیع کائنات میں پائی جاتی ہیں، اور ہر کہکشاں کے اندر کئی بلین انتہائی بڑے بڑے ستارے موجود ہیں۔
کہکشاں کے اندر ستارے انتہائی بعید فاصلوں پر واقع ہیں۔ ہمارے سورج سے قریب ترین ستارے کی روشنی جو ایک لاکھ چھیاسی ہزار میل فی سکنڈ کی رفتار سے سفر کررہی ہو، زمین تک اس کے پہنچنے میں 4 سال سے بھی زیادہ وقت لگ جاتا ہے۔
اجرامِ سماوی کے اتنے بڑے نظام کو کیا چیز تھامے ہوئے ہے، فلکیات دانوں کے نزدیک وہ اجرام سماوی کی باہمی کشش ہے۔ کیسی عجیب بات ہے کہ ’’اجرام سماوی کی باہمی کشش‘‘ کے لفظ کی معنویت کوآدمی سمجھ لیتا ہے۔ مگر ’’خدا‘‘ کے لفظ کی معنویت اس کی سمجھ میں نہیں آتی۔
واپس اوپر جائیں

کائنات کی توجیہہ

طبیعیات کے جدیدمطالعے سے معلوم ہوا ہے کہ تقریباً 14 بلین سال پہلے خلا میں ایک کاسمک بال تھا، اس کاسمک بال میں دھماکہ ہوا جس کو بگ بینگ کہاجاتاہے۔ یہ کائنات کا آغاز تھا۔ مطالعہ مزید بتاتاہے کہ دھماکے کے بعد ایک سیکنڈ کے اندر ایک اور واقعہ ہوا جس نے ذروں کو نہایت تیز رفتاری کے ساتھ خلا کی وسعت میں پھیلا دیا۔ اس کے بعد تدریجی طور پر موجودہ کائنات بنی۔
ایٹمی ذرات کے رفتار میں تبدیلی ایک بے حد انوکھا واقعہ ہے۔ یہ واقعہ اپنے آپ نہیں ہوسکتا۔ یہ ایک انٹروینر (intervener) کو بتاتا ہے۔ اتفاق (accident) جیسے الفاظ اس کی توجیہہ نہیں کرسکتے۔ یہ ایک بے حد بامعنی واقعہ تھا اور صرف ایک بامعنی توجیہہ (meaningful explanation) ہی اِس واقعے کی تشریح کرسکتی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اِس قسم کی دریافتوں نے انسان کو معرفتِ الٰہی کے عین دروازے تک پہنچا دیا ہے۔ اب صرف اتنا ہی باقی ہے کہ لفظی طورپر اس کا اعتراف کرلیا جائے۔
Universe Origins: Giant Boost for Big Bang Theory
London: An international team of astrophysicists has discovered the signal left in the sky by the super-rapid expansion of space that would have occurred fractions of a second after everything came into being following the Big Bang. Announcing their finding over a global press call, scientists from Harvard Smithsonian Centre for Astrophysics said researchers from the BICEP2 (Background Imaging of Cosmic Extragalactic Polarization) collaboration have found this first direct evidence for this cosmic inflation, a theory pioneered by Prof Alan Guth among others. Almost 14 billion years ago the universe burst into existence in an extraordinary event that initiated the Big Bang, they said. It has been theorized that in the first fleeting fraction of a second the universe expanded exponentially in what is described as the first tremors of the Big Bang, stretching far beyond the view of our best telescopes. Their data also represents the first images of gravitational waves or ripples in space-time. The team analysed their data for more than three years in an effort to rule out any errors.They also considered whether dust in our galaxy could produce the observed pattern, but the data suggest this is highly unlikely. Harvard theorist Avi Loeb said this work offers new insights into some of our most basic questions: Why do we exist ? How did the universe begin??? These results not only offer strong evidence for inflation, they also tell us when inflation took place and how powerful the process was. These ground breaking results came from observations by the BICEP2 telescope of the cosmic microwave background, a faint glow left over from the Big Bang. (The Times of India, New Delhi, March 19, 2014, p. 23)
٭ ٭ ٭٭ ٭
بظاہر سائنس خدا کے بارہ میں غیر جانب دار ہے۔ مگر یہ غیر جانب داری سراسر مصنوعی ہے۔ سائنسی مطالعہ واضح طورپر یہ بتاتا ہے کہ کائنات کا نظام ایسے محکم انداز میں بنا ہے کہ اس کے پیچھے ایک خالق کو مانے بغیر اس کی توجیہہ ممکن نہیں:
In 1932, Sir James Jeans, an astrophysicist said: “The universe appears to have been designed by a pure mathematician”. (Encyclopedia Britannica [1984] 15/531)
یعنی سرجیمز جینز نے 1932 میںکہا تھا کہ بظاہر معلوم ہوتا ہے کہ کائنات کا نقشہ ایک خالص ریاضی داں نے تیار کیا ہے۔
سر جیمز جینز نے جو بات کہی تھی، دوسرے متعدد سائنس دانوں نے بھی مختلف الفاظ میں اس کا اقرار کیا ہے۔حقیقت یہ ہے کہ کائنات کا ریاضیاتی اصولوں پر بننا، اور اس کا ریاضیاتی اصولوں پر حرکت کرنا، اس بات کا ثبوت ہے کہ اس کے پیچھے ایک ایسا ذہن کام کررہا ہے، جو ریاضیاتی قوانین کا شعور رکھتا ہے۔
واپس اوپر جائیں

سائنس سے معرفت تک

سائنس کیا ہے۔ سائنس در اصل ایک منظم علم کا نام ہے۔ سائنس سے مراد وہ علم ہے جس میں کائنات کا مطالعہ موضوعی طور پر ثابت شدہ اصولوں کی روشنی میں کیا جاتا ہے:
Science: the systematized knowledge of nature and the physical world.
کائنات کی حقیقت کے بارے میں انسان ہمیشہ غور و فکر کرتا رہا ہے۔ سب سے پہلے روایتی عقائد کی روشنی میں ، اس کے بعد فلسفیانہ طرز فکر کی روشنی میں، اور پھر سائنس کے مسلمہ اصولوں کی روشنی میں۔سائنس کا موضوع کائنات (physical world) کا مطالعہ ہے۔ تقریباً چار سو سال کے مطالعے کے ذریعے سائنس نے جو دنیا دریافت کی ہے، وہ استنباط (inference) کے اصول پر خالق کے وجود کی گواہی دے رہی ہے۔ لیکن قدیم زمانے میں غالباً کسی سائنسداں نے کھلے طور پر خدا کے وجود کا اقرار نہیں کیا ہے۔ ان کے بارے میں یہی کہا جاسکتا ہے کہ البرٹ آئن سٹائن (1879-1955) کی طرح ان کا کیس کھلے طور پر خدا کے انکار (atheism)کا کیس نہیں ہے، بلکہ ان کا کیس لا ادری (agnosticism) کا کیس ہے۔
طبیعیاتی سائنس کے میدان میں پچھلی چار صدیوں میں تین انقلابی ڈیولپمنٹ پیش آئے ہیں۔ اول، برٹش سائنس داں نیوٹن کا مفروضہ کہ کائنات کی بنیادی تعمیر ی اینٹ مادہ ہے۔ اس کے بعد بیسویں صدی کے آغاز میں جرمن سائنس داں آئن سٹائن کا یہ نظریہ سامنے آیا کہ کائنات کی تعمیری اینٹ توانائی ہے، اور اب آخر میں ہم امریکن سائنس داں ڈیوڈ بام کے نظریاتی دور میں ہیں، جب کہ سائنس دانوں کی زیادہ سے زیادہ تعداد یہ مان رہی ہے کہ کائنات کی بنیادی تعمیری اینٹ شعور ہے۔ یہ تبدیلیاں لازمی طور پر ایک نئے فلسفے کو جنم دیتی ہیں، جب کہ فلسفہ مادیت سے گزر کر عملا ًروحانیت تک پہنچ گیا ہے:
In the realm of the physical science, we have had three major paradigm shifts in the last four centuries. First, we had the Newtonian hypothesis that matter was the basic building block of the universe. In the early twentieth century, this gave way to the Einsteinian paradigm of energy being the basic building block. And the latest is the David Bohm era when more and more scientists are accepting consciousness to be the basic building block. These shifts have had inevitable consequences for the New Age philosophy, which has moved away from the philosophy of crass materialism to that of spirituality.
وہ دور جس کو سائنسی دور کہا جاتا ہے، اس کا آغاز تقریباً سو سال پہلے مغربی یورپ میں ہوا۔ دھیرے دھیرے عمومی طور پر یہ تاثر بن گیا کہ سائنس حقیقت کو جاننے کا سب سے اعلیٰ ذریعہ ہے۔ جو بات سائنس سے ثابت ہوجائے، وہی حقیقت ہے، جو بات سائنسی اصولوں کے ذریعہ ثابت نہ ہو، وہ حقیقت بھی نہیں۔ابتدائی صدیوں میں سائنس خالص مادی علم کے ہم معنی بن گیا۔ چوں کہ مذہبی حقیقتیں مادی معیار استدلال پر بظاہر ثابت نہیں ہوتی تھیں، اس لیے مذہبی حقیقتوں کو غیر علمی قرار دے دیا گیا۔ لیکن علم کا دریا مسلسل آگے بڑھتا رہا، یہاں تک کہ وہ وقت آیا جب کہ خود سائنس مادی علم کے بجائے عملاً غیر مادی علم کے ہم معنی بن گیا۔
سائنس اور عقیدۂ خدا
پچھلی صدیوں کی علمی تاریخ بتاتی ہے کہ سائنس کے ارتقا کے ذریعے پہلی بار استدلال کی ایسی علمی بنیاد وجود میں آئی جو عالمی طور پر مسلمہ علمی استدلال کی حیثیت رکھتی تھی، پھر اس میں مزید ارتقا ہوا، اور آخر کار سائنس ایک ایسا علم بن گیا جو مسلمہ عقلی بنیاد پر یہ ثابت کر رہا تھا کہ کائنات ایک بالاتر شعور کی کار فرمائی ہے۔ ایک سائنس داں نے کہا ہے —کائنات کا مادہ ایک ذہن ہے:
The stuff of the world is mind-stuff (Eddington)
1927 میں بلجیم کے ایک سائنس داں جارجز لیمٹری (Georges Lemaitre) نے بگ بینگ (Big Bang) کا نظریہ پیش کیا۔اِس نظریے پر مزید تحقیق ہوتی رہی، یہاں تک کہ اِس کی حیثیت ایک مسلّمہ واقعہ کی ہوگئی۔ آخر کار 1965 میں بیگ گراؤنڈ ریڈی ایشن (background radiation) کی دریافت ہوئی۔ اِس سے معلوم ہوا کہ کائنات کے بالائی خلا میں لہر دار سطح (ripples) پائی جاتی ہیں۔ یہ بگ بینگ کی شکل میں ہونے والے انفجار کی باقیات ہیں۔ اِن لہروں کو دیکھ کر ایک امریکی سائنس داں جویل پرائمیک (Joel Primack) نے کہا تھا— یہ لہریں خدا کے ہاتھ کی تحریر ہیں:
The ripples are no less than the handwriting of God.
جارج اسموٹ 1945 میں پیداہوا۔ وہ ایک امریکی سائنس داں ہے۔ اس نے 2006 میں فزکس کا نوبل پرائز حاصل کیا۔ یہ انعام اُن کو ’کاسمک بیک گراؤنڈ ایکسپلورر، کے لیے کام کرنے پر دیاگیا۔ 1992 میں جارج اسموٹ نے یہ اعلان کیا کہ بالائی خلا میں لہردار سطحیںپائی جاتی ہیں۔ یہ بگ بینگ کی باقیات ہیں۔ اُس وقت جارج اسموٹ نے اپنا تاثر اِن الفاظ میں بیان کیا تھا— یہ خدا کے چہرے کو دیکھنے کے مانند ہے:
George Fitzgerald Smoot III (born February 20, 1945) is an American astrophysicist and cosmologist. He won the Nobel Prize in Physics in 2006 for his work on the Cosmic Background Explorer. In 1992 when George Smoot announced the discovery of ripples in the heat radiation still arriving from the Big Bang, he said it was “like seeing the face of God.” (God For The 21st Century, Templeton Press, May 2000)
مشہور سائنس داں ڈاکٹر اسٹیفن ہاکنگ نے کہا ہے :
There is a ‘‘grand design” to the universe, but it has nothing to do with God. Science is coming close to “The Theory of Everything” and when it does, we will know the grand design. (Catherine Giordano: Here’s Why Stephen Hawking Says There Is No God [www.owlcation.com])
وہ ایک دوسری جگہ کہتے ہیں
One can’t prove that God doesn’t exist, but science makes God unnecessary. (www.en.wikipedia.org/wiki/The_Grand_Design_(Book)
کوانٹم فزکس کے نظریے کو اگر اس معاملے پر منطبق کیا جائے تو یہ کہا جاسکتا ہے :
Probably, there is a God
یہ خالص سائنس کا موقف ہے۔ لیکن جہاں انسان کے وجدان (intuition) کا تعلق ہے۔ اس کی سطح پر خدا کا وجود اتنا ہی یقینی ہے، جتنا کہ انسا ن کا وجود۔
جب یہ بات ثابت ہوجائے کہ کائنات کی تخلیق کے پیچھے ایک عظیم ذہن (mind) کی کار فرمائی ہے۔ کائنات کے اندر جو معنویت ہے، جو منصوبہ بندی ہے، جو بے نقص ڈزائن ہے، وہ حیرت انگیز طور پر ایک اعلیٰ ذہن کے وجود کو بتاتا ہے۔ کائنات میں ان گنت چیزیں ہیں۔ لیکن ہر چیز اپنے فائنل ماڈل پر ہے۔ کائنات میں حسابی درستگی اتنے زیادہ اعلیٰ معیار پر پائی جاتی ہے کہ ایک سائنس داں نے کہا کہ کائنات ایک ریاضیاتی ذہن (mathematical mind)کی موجودگی کا اشارہ کرتی ہے۔
اس موضوع پر اب بہت زیادہ لٹریچر تیار ہوچکا ہے، جس کو انٹرنیٹ پر یا لائبریری میں دیکھا جاسکتا ہے۔ کائنات میں انٹلیجنٹ ڈیزائن ہونے کی ایک مثال یہ ہے کہ ہمارا سولر سسٹم جس میں ہماری زمین واقع ہے، وہ ایک بڑی کہکشاں (galaxy)کا ایک حصہ ہے۔ لیکن ہمارا شمسی نظام کہکشاں کے بیچ میں نہیں ہے، بلکہ اس کے کنارے واقع ہے۔ اس بنا پر ہمارے لیے ممکن ہے کہ ہم محفوظ طور پر زمین پر زندگی گزاریں، اور یہاں تہذیب (culture) کی تعمیر کریں:
The centre of the galaxy is a very dangerous place. Being in the outskirts of the galaxy, we can live safely from the hectic activities at the centre.
اس حکیمانہ واقعہ کا اشارہ قرآن میں موجود تھا۔ مگر موجودہ زمانے میں سائنسی مطالعے کے ذریعہ اس کی تفصیلات معلوم ہوئیں، جو گویا قرآن کے اجمالی بیان کی تفسیر ہے۔جب علم کا دریا یہاں تک پہنچ جائے تو اس کے بعد صرف یہ کام باقی رہ جاتا ہے کہ اس دریافت کردہ شعور یا اس ذہن کو مذہبی اصطلاح کے مطابق، خدا (God) کا نام دے دیا جائے۔
واپس اوپر جائیں

کائنات کی معنویت

سائنس فطرت (nature) کے مطالعے کا نام ہے۔ فطرت میں وہ تمام چیزیں شامل ہیں، جن کو ہم کائنات کہتے ہیں۔ سائنسی مطالعے کا آغاز کچھ ابتدائی باتوں سے ہوا، لیکن یہ مطالعہ جتنا زیادہ بڑھتا گیا، اتنا ہی یہ ظاہر ہوتا گیا کہ کائنات ایک بے حد بامعنی کائنات ہے۔ کائنات کی کوئی بھی ایسی تشریح جو کائنات کی معنویت کے اعتراف پر قائم نہ ہو، وہ سائنسی تحقیقات سے مطابقت نہیں رکھتی۔
مثلاً سائنسی مطالعے کے ذریعے معلوم ہوا کہ کائنات کے اندر ایک ذہین ڈیزائن (intelligent design) ہے۔ اب اگر یہ نہ مانا جائے کہ کائنات کے پیچھے ایک ذہین ڈیزائنر (intelligent designer)کام کر رہا ہے تو کائنات کا نادر ظاہرہ ناقابلِ توجیہہ بن جاتاہے۔
اِسی طرح سائنس کے مطالعے نے بتایا کہ ہماری کائنات انسان کے لیےایک کسٹم میڈ (custom-made) کائنات ہے، یعنی وہ انسان جیسی مخلوق کے تقاضوں کے عین مطابق ہے۔ اب اگر ایک ایسے خالق کو نہ مانا جائے جس نے دو الگ الگ چیزوں کے درمیان مطابقت کو قائم کیا، تو اِس ظاہرے کی کوئی قابلِ فہم توجیہہ ممکن نہیں۔ اِسی طرح مختلف شعبوں میں سائنس کا مطالعہ بتاتا ہے کہ کائنات کے مختلف اجزا آپس میں بے حد مربوط ہیں، اور ان کے درمیان ایک انتہائی فائن ٹیوننگ (fine-tuning) پائی جاتی ہے تو اِس مائنڈ باگلنگ (mind-boggling) ظاہرے کی کوئی توجیہہ ہونی چاہیے۔
سائنس کوئی مذہبی سبجیکٹ نہیں، سائنس کا موضوع خالق کی دریافت نہیں۔ سائنس کا موضوع تخلیق (creation)کی دریافت ہے۔ لیکن تخلیق کے مطالعے میں خالق (Creator) کا مطالعہ اپنے آپ شامل ہے۔ اِس لیے تخلیق کا مطالعہ عملاً خالق کا مطالعہ بن گیا۔ سائنس نے اپنے مطالعے کے ذریعے جو چیزیں دریافت کیں، وہ سب خدائی نشانیوں کی دریافت کے ہم معنی بن گئیں، جن کو قرآن میں ’آیات اللہ‘ (signs of God) کہاگیا ہے۔ اِس اعتبار سے یہ کہنا درست ہوگا کہ تخلیق کی معنویت کو دریافت کرنا عملاً ایک بامعنی خالق کے وجود کی دریافت ہے۔
Fine-Tuning in the Universe: “There is plenty of good scientific evidence that our universe began about 14 billion years ago, in a Big Bang of enormously high density and temperature, long before planets, stars and even atoms existed. But what came before [The physicist Lawrence] Krauss in his book discusses the current thinking of physicists that our entire universe could have emerged from a jitter in the amorphous haze of the subatomic world called the quantum foam, in which energy and matter can materialize out of nothing. Krauss’s punch line is that we do not need God to create the universe. The quantum foam can do it quite nicely all on its own. Aczel asks the obvious question: But where did the quantum foam come from? Where did the quantum laws come from? Hasn’t Krauss simply passed the buck? Legitimate questions. But ones we will probably never be able to answer.” ...[The fine-tuning problem] For the past 50 years or so, physicists have become more and more aware that various fundamental parameters of our universe appear to be fine-tuned to allow the emergence of life - not only life as we know it but life of any kind. For example, if the nuclear force were slightly stronger than it is, then all of the hydrogen atoms in the infant universe would have fused with other hydrogen atoms to make helium, and there would be no hydrogen left. No hydrogen means no water. On the other hand, if the nuclear force were substantially weaker than it is, then the complex atoms needed for biology could not hold together. In another, even more striking example, if the “cosmic dark energy” discovered by scientists 15 years ago, were a little denser than it actually is, our universe would have expanded so rapidly that matter could never have pulled itself together to form stars. And if the dark energy were a little smaller, the universe would have collapsed long before stars had time to form. Atoms are made in stars. Without stars there would be no atoms and no life. So, the question is: Why? Why do these parameters lie in the narrow range that allows life. (Book: ‘Why Science Does Not Disprove God’ by mathematician Amir D. Aczel, who is currently researcher in the history of science at Boston University. The above are excerpts taken from a review on the book by physicist Alan Lightman for The Washington Post, April 11, 2014)
سائنس کی شہادت
انسان کی تخلیق کا مقصد قرآن میں ان الفاظ میں بتایا گیا ہے: وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْإِنْسَ إِلَّا لِیَعْبُدُونِ (51:56)۔ یعنی میں نے جن اور انسان کو صرف اس لیے پیدا کیا ہے کہ وہ میری عبادت کریں۔ لیعبدون کی تفسیر صحابی عبد اللہ بن عباس کے شاگرد مجاہد تابعی نے لیعرفون سے کی ہے (وقال مجاہد:إلا لیعبدون:لیعرفون)البحر المحیط، لأبی حیان الأندلسی، 9/562۔ یعنی اللہ کی عبادت کرنے کا مطلب ہے اللہ کی معرفت حاصل کریں۔ ابن کثیر نے اپنی تفسیر میں ابن جریج تابعی کے حوالے سے یہی بات نقل کی ہے۔قال ابن جریج:إلا لیعرفون (تفسیر ابن کثیر، 7/425)۔ ابن جریج نے کہا: تاکہ وہ میری معرفت حاصل کریں۔ اس معرفت کا تعلق انسان سے ہے۔
انسان ایک صاحب ارادہ مخلوق کی حیثیت سے پیدا کیا گیا ہے۔ انسان کی تعریف ان الفاظ میں کی جاتی ہے کہ انسان کے اندر تصوراتی سوچ (conceptual thinking) کی صلاحیت ہے۔ انسان کے لیے معرفت کا تعین اسی بنیاد پر کیا جائے گا۔ اس اعتبار سے انسان کے لیے معرفت کا معیار خود دریافت کردہ معرفت (self-discovered realization) ہے۔ یہی انسان کا اصل امتحان ہے۔ انسان کو یہ کرنا ہے کہ وہ اپنے سوچنے کی طاقت (thinking power) کو ڈیولپ کرے۔ یہاں تک کہ وہ اس قابل ہوجائے کہ وہ سیلف ڈسکوری کی سطح پر اپنے خالق کو دریافت کرلے۔
اس دریافت کے دو درجے ہیں۔ پہلا درجہ ہے کامن سنس کی سطح پر اپنے خالق کو دریافت کرنا، اور دوسرا درجہ ہے سائنس کی سطح پر اپنے خالق کو دریافت کرنا۔ پچھلے ہزارو ں سال سے انسان سے یہ مطلوب تھا کہ وہ اپنے کامن سنس کو بے آمیز انداز میں استعمال کرے۔ وہ اپنی فطرت کو پوری طرح بیدار کرے۔ اس طرح وہ اس قابل ہوجائے گا کہ وہ کامن سنس کی سطح پر اپنے خالق کی شعوری معرفت حاصل کرلے۔ اس دریافت کی صرف ایک شرط تھی، اور وہ ہے ایمانداری (honesty)۔ اگر آدمی کامل ایمانداری کی سطح پر جینے والا ہو تو یقینی طور پر کامن سنس اس کے لیے اپنے خالق کی دریافت کے لیے کافی ہوجائے گی۔
معرفت کی دوسری سطح ، سائنٹفک معرفت ہے۔ یعنی فطرت (nature) میں چھپی ہوئی آیات (signs) کو جاننا، اور ان کی مدد سے اپنے خالق کی عقلی معرفت (rational realization) تک پہنچنا۔ سائنٹفک معرفت کے لیے ضروری تھا کہ آدمی کے پاس غور و فکر کے لیے سائنس کا سپورٹنگ ڈیٹا موجود ہو۔ مجرد عقلی غور و فکر کے ذریعہ سائنٹفک معرفت کا حصول ممکن نہیں۔ سائنٹفک معرفت تک پہنچناکسی کے لیےصرف اس وقت ممکن ہے، جب کہ سائنس کا سپورٹنگ ڈیٹا موجود ہو۔ اس سائنٹفک ڈیٹا کے حصول کا واحد ذریعہ قوانین فطرت (laws of nature) کا علم ہے۔ قدیم زمانے میں انسان کو قوانین فطرت کا علم حاصل نہ تھا۔ اس لیے خالق کی سائنسی معرفت بھی انسان کے لیے ممکن نہ ہوسکی۔
خالق کی ایک سنت یہ ہے کہ وہ انسانی تاریخ کو مینج کرتا ہے، یعنی انسانی آزادی کو برقرار رکھتے ہوئے انسان کو منصوبۂ تخلیق کے مطابق مطلوب حالت تک پہنچاتا ہے۔ خالق اپنا یہ کام انسانی آزادی کو منسوخ کیے بغیر انجام دیتا ہے۔ یہ ایک بے حد پیچیدہ کام ہے، اور اس کو خالق کائنات ہی اپنی بر تر طاقت کے ذریعہ انجام دے سکتا ہے۔ ہمارا کام اس منصوبۂ خداوندی کو سمجھنا ہے، نہ کہ اس کے کورس کو بدلنے کی کوشش کرنا۔ کیوں کہ وہ ممکن ہی نہیں۔
قرآن کے ذریعہ اللہ تعالی نے بار بار اہل ایمان کو یہ بتایا تھا کہ کائنات انسان کے لیے مسخر کردی گئی ہے۔ تم ان تسخیری قوانین کو دریافت کرو، تاکہ تم معرفت کے اس درجے تک پہنچ سکو، جس کو سائنسی معرفت کہا جاتا ہے۔ مگر اہل ایمان اس کام کو کرنےمیںعاجز ثابت ہوئے۔ اس کے بعد اللہ نے اپنی سنت کے مطابق اس کام کے لیے ایک اور قوم کو کھڑا کیا (محمد،47:38) ۔ یہ یورپ کی مسیحی قوم تھی۔ایسا اس طرح ہوا کہ صلیبی جنگوں (Crusades) میں یورپ کی مسیحی قوم کو اتنی سخت شکست ہوئی کہ بظاہران کے لیےجنگ کا آپشن (option)باقی نہ رہا۔ اب عملاًان کےلیے اس کے سوا کوئی چارہ نہ تھا کہ وہ اپنے معاملے کی ری پلاننگ کریں ، اوراپنی کوشش کسی دوسرےمیدان میں جاری رکھیں۔ چنانچہ انھوں نے میدانِ جنگ کے بجائے قوانین فطرت (laws of nature) کے دریافت کی طرف بتدریج اپنی کوششوں کا رخ موڑ (divert) دیا۔
اٹلی کے سائنسداں گلیلیو گلیلی (وفات1642ء) کو فادر آف ماڈرن سائنس ( father of modern science) کہاجاتاہے۔ اس کا سبب یہ ہے کہ یہی وہ پہلا سائنس داں تھا جس سے ماڈرن سائنس کا سفر باقاعدہ صورت میں شروع ہوا۔ یہ عمل تقریباً چار سو سال تک جاری رہا۔ یہاں تک کہ بیسویں صدی میں وہ اپنی تکمیل تک پہنچ گیا۔ بیسویں صدی میں انسان کو وہ تمام سائنٹفک ڈیٹا حاصل ہوگئے، جو خالق کو سائنسی سطح یا ریشنل لیول پر دریافت کرنے کے لیے ضروری تھے۔
اللہ نے جس عالم کو تخلیق کیا، اس کے ہر جزء پر خالق کی شہادت ثبت (stamped) ہے۔ پھر اس نے اس علم سے فرشتوں کو واقف کرایا۔ اس کے بعد اس نے اس حقیقت کو چھپے طور پر (hidden form)اس کائنات میں رکھ دی، جس کو انسان خود سے دریافت کرسکتا تھا۔ یہی وہ چھپی حقیقت ہے جودریافت کے بعد ماڈرن سائنس کےنام سے جانی جاتی ہے۔
٭٭٭٭٭
شہد کے بارے میں انگریزی کا ایک مضمون پڑھا اس میں دوسری باتوں کے ساتھ یہ بھی لکھا ہوا تھاکہ تقریباً 550 شہد کی مکھیاں مسلسل مشغول رہ کر بیس لاکھ سے زیادہ پھولوں کا رس چوستی ہیں تب ایک پاؤنڈ شہد تیار ہوتا ہے۔
Some 550 busy bees have to dip their snouts into as many as 2.5 million flowers to make just one pound of honey.
شہد کی مکھی کے اندر بے شمار نشانیاں (signs)ہیں۔ مذکورہ واقعہ ان میں سے صرف ایک ہے۔ آدمی اگر اس پر غور کرے تو وہ خالق کے کمالات کے احساس سے سرشار ہو جائے۔
واپس اوپر جائیں

خدا کا وجود

خدا کی معرفت اول دن سے میری تلاش کا مرکز رہاہے۔ میرا دن اور میری راتیں اسی تلاش میں گزری ہیں یہاں تک کہ شاید میں یہ کہہ سکتا ہوں کہ میںنے خدا کو پالیا ہے۔
1960 کے آس پاس کی بات ہے۔ میںاپنے بڑے بھائی کے گھر 9 بدرقہ روڈ اعظم گڑھ میں تھا۔ وہاں میری ملاقات شاہ نصیر احمد صاحب سے ہوئی۔ گفتگو کے دوران اچانک انھوںنے کہا: کیا انسان خداکو دیکھ سکتا ہے۔ میری زبان سے نکلا۔ کیا آپ نے ابھی تک خدا کو نہیں دیکھا۔ اس طرح کے تجربات میری زندگی میں بہت زیادہ ہیں ۔ تاہم خداکو دیکھنا مجازی معنی میں ہے، نہ کہ حقیقی معنی میں۔ کیونکہ حقیقی معنی میں اللہ رب العالمین کو دیکھنا اس دنیامیں کسی انسان کے لیے ممکن نہیں۔
میںنے ایک مرتبہ کسی مضمون میں لکھا تھا —خدا کو ماننا عجیب ہے لیکن خدا کو نہ ماننا اس سے بھی زیادہ عجیب ہے۔ جب میں خدا کو مانتا ہوں تو میں زیادہ عجیب کے مقابلہ میں کم عجیب کو ترجیح دیتاہوں
To believe in God is strange, but not believing in God is stranger. When I say that I believe in God I prefer the less strange than the more strange.
البرٹ آئن سٹائن کے ایک جرمن دوست نے اس سے پوچھا کیا آپ اتھیسٹ (atheist) ہیں۔ اس نے کہا کہ نہیں۔ تم مجھ کو زیادہ صحیح طورپر اگناسٹک (agnostic) کہہ سکتےہو۔ اگناسٹک کا مطلب متشکک ہے۔ یعنی کہنے والا یہ کہہ رہا ہے کہ میں نہ یہ کہہ سکتاہوں کہ خدا نہیں ہے، اور نہ یہ کہہ سکتا کہ خدا ہے۔ اس جملہ کا نفسیاتی تجزیہ کیا جائے تو وہ یہ ہوگا کہ خدا کے انکار کے حق میں میرے پاس کوئی دلیل نہیں۔ البتہ سائنٹفک دلائل (scientific evidence) اس معاملہ میں اتنے زیادہ ہیں کہ میں یہ بھی کہنے کی پوزیشن میں نہیں ہوں کہ خدا نہیں ہے۔
آئن اسٹائن کا یہ جملہ ففٹی ففٹی کا جملہ نہیں ہے بلکہ اس کا مطلب یہ ہے :
I can say that probably there is a God but I cannot say in certain terms, 'Yes there is certainly a God'.
کوانٹم فزکس (quantum physics) کی اصطلاح میں میں کہوں گا کہ آئن سٹائن کا یہ کہنا خدا کے اقرار کے ہم معنى ہے۔ کیوں کہ سب ایٹمک پارٹیکل (subatomic particle) کی دریافت کے بعدکوانٹم فزکس میں پرابیبلٹی (probability) کو یقین کے قریب کا درجہ دے دیا گیا ہے۔ اب یہ کہا جاتا ہے :
Probability is less than certainty but certainty is more than perhaps.
٭٭٭٭٭
انسان کے لیے سب سے زیادہ اہم چیزدریافت ہے۔ دریافت ہی سے دنیا کی ترقیاں بھی ملتی ہیں اور دریافت ہی سے آخرت کی ترقیاں بھی۔قرآن کا مطلوب انسان وہ ہے، جو غیب پر ایمان لائے (البقرۃ، 2:3)۔ غیب پر ایمان لانا کیا ہے۔ یہ دوسرے لفظوں میں نا معلوم کو معلوم بنانا ہے۔ یعنی وہی چیز جس کو موجودہ زمانہ میں دریافت (discovery) کہا جاتا ہے۔
دنیوی ترقی کے رازوں کو خدا نے زمین وآسمان کے اندر چھپا دیا ہے۔ انھیں رازوں کو قوانین فطرت (laws of nature) کہا جاتا ہے۔ سائنس میں انھیں رازوں (یا قوانین فطرت) کو دریافت کیا جاتا ہے۔ جوقوم ان رازوں کو دریافت کرے وہ دوسروں سے آگے بڑھ جاتی ہے۔ جیسا کہ موجودہ زمانہ میں ہم مغربی اقوام کو یا ایشیا میں جاپان کی صورت میں دیکھ رہے ہیں۔ ترقی یافتہ قوموں (developed countries) کو تمام ترقیاں ان کی انھیں دریافتوں کی بنیاد پر حاصل ہوئی ہیں۔
اسی طرح عالم آخرت کو اللہ تعالیٰ نے انسان کی نظروں سے پوشیدہ کردیا ہے۔ اب انسان کو اسے دریافت کرنا ہے۔ جوچیز غیب میں ہے اس کو شہود میں لانا ہے۔ اسی دریافت یا اکتشاف کا نام ایمان ہے۔ جو شخص اس ایمان میں جتنا زیادہ آگے ہوگا وہ آخرت میں اتنا ہی زیادہ ترقی اور کامیابی حاصل کرے گا۔
واپس اوپر جائیں

خدا کا وجوداور سائنس

آئن اسٹائن کے بارے میں لوگوں کے درمیان کنفیوژن (confusion)پایا جاتا ہے۔ کچھ لوگ سمجھتے ہیں کہ آئن اسٹائن کا کیس منکرِخدا (atheist) کا کیس تھا۔ کچھ دوسرے لوگ اس کے برعکس رائے رکھتے ہیں۔ مگر آئن اسٹائن کے مختلف بیانات کا مطالعہ کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ آئن اسٹائن منکرِ خدا نہیں تھا، بلکہ وہ خدا کے وجود کے بارے میں شک کی کیفیت میں مبتلا تھا۔
1945 میں امریکی بحریہ کے ایک جونیر افسر گائے رینر(Guy Raner) نے خط کے ذریعہ آئن اسٹائن سے سوال کیا تھا — کیا آپ ڈکشنری کے مفہوم کے اعتبار سے، منکرِ خدا ہیں، یعنی وہ آدمی جو خدا کے وجود میں عقیدہ نہیں رکھتا۔ اِس کے جواب میں آئن اسٹائن نے لکھا کہ آپ مجھ کو لاادریہ کہہ سکتے ہیں، مگر میں پروفیشنل قسم کے منکر خدا سے اتفاق نہیں رکھتا:
In 1997, Skeptic, a hard unbelief science magazine, published for the first time a series of letters Einstein exchanged in 1945 with a junior officer in the US navy named Guy Raner on the same topic. Raner wanted to know if it was true that Einstein converted from atheism to theism when he was confronted by a Jesuit priest with the argument that a design demands a designer and since the universe is a design there must be a designer. Einstein wrote back that he had never talked to a Jesuit priest in his life but that from the viewpoint of such a person, he was and would always be an atheist. He added it was misleading to use anthropomorphical concepts in dealing with things outside the human sphere and that we had to admire in humility the beautiful harmony of the structure of this world as far as we could grasp it. But Raner persisted.''Are you from the viewpoint of the dictionary,'' he wrote back, ''an atheist, one who disbelieves in the existence of a God, or a Supreme Being.'' To this Einstein replied: ''You may call me an agnostic, but I do not share the crusading spirit of the professional atheist whose fervour is mostly due to a painful act of liberation from the fetters of religious indoctrination received in youth.'' (The Times of India, New Delhi, May 18, 2012)
عقیدۂ خدا کے بارے میں آئن اسٹائن کا جو موقف ہے، وہی موقف تقریباً تمام سائنس دانوں کا ہے۔ خدا سائنسی مطالعہ (scientific study) کا موضوع نہیں۔ پھر کیا وجہ ہے کہ سائنس داں خدا کا انکار نہیں کرتے، وہ اپنے آپ کو زیادہ سے زیادہ لا ادریہ (agnostic) بتاتے ہیں، یعنی ایک ایسا موقف جب کہ انسان نہ انکار کرنے کی پوزیشن میں ہو اور نہ اقرار کرنے کی پوزیشن میں۔
یہ صحیح ہے کہ سائنس کے مطالعے کا موضوع مادی دنیا (material world) ہے، مگر مادی دنیا کیا ہے، وہ خالق کی تخلیق (creation) ہے، اِس لیے سائنس کا مطالعہ بالواسطہ طورپر خالق کی تخلیق کا مطالعہ بن جاتا ہے۔ ایک سائنس داں خالق کے عقیدے کا انکار کرسکتاہے، لیکن تخلیقات میں خالق کی جو نشانیاں (signs) موجود ہیں، اُن کا انکار ممکن نہیں۔
اصل یہ ہے کہ سائنس نے جس مادّی دنیا (physical world) کو دریافت کیا ہے، اس میں حیرت انگیز طورپر ایسی حقیقتیں پائی جاتی ہیں جو اپنی نوعیت میں غیر مادی ہیں۔ مثلاً معنویت، ڈزائن، ذہانت اور بامقصد پلاننگ، وغیرہ۔ مادی دنیا کی نوعیت کے بارے میں یہ دریافت گویا خالق کے وجود کی بالواسطہ شہادت ہے۔خدا کے وجود کے بارے میں رائے قائم کرنے کے لیے ایک سائنسی طریقہ یہاں قابلِ انطباق (applicable) ہے، وہ یہ کہ یہ دیکھا جائے کہ سائنس کی دریافت کردہ دنیا کس نظریے کی تصدیق کررہی ہے، انکارِ خدا کے نظریے کی تصدیق یا اقرارِ خدا کے نظریے کی تصدیق۔اِس اصولِ استدلال کو سائنس میںویری فکیشن ازم (verificationism) کہا جاتا ہے۔
سائنس میں استدلال کا ایک اصول ہے، جس کو اصولِ مطابقت(principle of compatibility) کہا جاتا ہے۔ اِس کا مطلب یہ ہے کہ ایک نظریہ جو بذاتِ خود قابلِ مشاہدہ نہ ہو، لیکن وہ مشاہدہ کے ذریعے دریافت کردہ معلومات سے مطابقت رکھتا ہو، تو اِس بالواسطہ شہادت کی بنا پر اِس نظریے کو حقیقت کا درجہ دے دیا جائے گا۔ جس نظریے کے حق میں اِس قسم کی مطابقت موجود ہو، اس کو بالواسطہ تصدیق کی بنا پر بطور حقیقت تسلیم کرلیا جائے گا۔ سائنس کے اِس اصول استدلال کو اگر عقیدۂ خدا کے معاملے میں منطبق کیا جائے تو اصولی طورپر خدا کا عقیدہ ایک ثابت شدہ عقیدہ بن جاتا ہے۔جو سائنس داں اپنے کیس کو لا ادریہ (agnosticism)کا کیس بتاتے ہیں، وہ شعوری یا غیرشعوری طورپر فرار کا طریقہ اختیار کیے ہوئے ہیں۔ وہ خود اپنے علم کے مطابق، خدا کا انکار نہیں کرسکتے، وہ کہہ دیتے ہیں کہ ان کا کیس لا ادریہ (agnostic) کا کیس ہے۔
عقیدۂ خدا اور سائنس
خالص سائنسی نقطۂ نظر کے مطابق، خدا کے وجود کا کوئی ثبوت نہیں۔ سائنس نے اپنے طریقِ مطالعہ کے ذریعے جس چیز کو دریافت کیا ہے، وہ ہے— الیکٹران (electron) اور نیوٹران (neutron) اور پروٹون(proton)۔ مگر اِسی کے ساتھ یہ واقعہ ہےکہ اب تک کسی سائنس داں نے الیکٹرانس اور نیوٹرانس اور پروٹانس کو نہیں دیکھا ہے، نہ آنکھ سے اور نہ خورد بین سے، پھر سائنس داں اُن کے وجود پر یقین کیوں رکھتے ہیں۔ سائنس داں کے پاس اِس کا جواب یہ ہے کہ اگرچہ ہم اُن کو براہِ راست نہیں دیکھتے، لیکن ہم اُن کے اثرات (effects) کو دیکھ رہے ہیں:
Though we cannot see them, we can see their effects.
مزید مطالعہ بتاتا ہے کہ یہ مسئلہ صرف کاز اینڈ افیکٹ (cause and effect) کا مسئلہ نہیں ہے۔ اِس سے زیادہ اہم بات یہ ہے کہ خود سائنس کے مطالعے سے معلوم ہوا ہے کہ کائنات میں اعلی درجے کی ذہانت (intelligence)ہے۔ کائنات میں اعلی درجے کی ہم آہنگی (harmony) ہے۔ کائنات میں اعلی درجے کی منصوبہ بندی (planning) ہے۔ اس بات کو ٹاپ کے سائنس دانوں نے تسلیم کیا ہے۔ مثلاً جیمس جینز، آرتھر ایڈنگٹن، البرٹ آئن اسٹائن، ڈیوڈ فوسٹر (David Foster) اور فریڈ ہائل(Fred Hoyle)، وغیرہ۔ اب یہ بات ثابت ہوگئی ہے کہ، ایک سائنس داں کے الفاظ میں، کائنات کی جنس ،ذہن (mind-stuff) ہے:
Molecular biology has conclusively proved that the “matter of organic life, our very flesh, really is mind-stuff.”
عقیدۂ خدا اور سائنس کے معاملے میں زیادہ صحیح بات یہ ہے کہ یہ کہا جائے کہ مذہب میں جس خدا کو بطور عقیدہ پیش کیاگیا تھا، وہ اگر چہ سائنس کا براہِ راست موضوع نہیں، لیکن سائنس کی دریافتیں بالواسطہ طورپر عقیدہ خدا کی علمی تصدیق (affirmation) کی حیثیت رکھتی ہیں۔ سائنس نے خدا کے عقیدے کو ثابت نہیں کیا ہے، البتہ یہ کہنا درست ہے کہ سائنس نے عقیدہ خدا کے ثبوت کا ڈیٹا فراہم کردیا ہے۔
سائنس کے اسٹینڈرڈ ماڈل میں ایک چیز مسنگ لنک (missing link) کی حیثیت رکھتی تھی۔ یہ ماڈل فعل (action) کو بتاتا تھا، مگر وہ فاعل (actor) کو نہیں بتاتا تھا۔ اس کے مقابلے میں، قرآن کائنات کا جوماڈل دے رہاہے، اس میں فعل اور فاعل دونوں موجود ہیں۔ دوسرے لفظوں میں یہ کہ قرآن میں سبب (cause) کے ساتھ مسبّب (causative factor) کو بھی بتایا گیاہے۔ سائنس جب فعل (ذہانت) کی تصدیق کررہی ہے تو منطقی طورپر اِس کا جواز نہیں کہ وہ فاعل (ذہن) کی تصدیق نہ کرے۔
خدا کا وجود
البرٹ آئن اسٹائن (Albert Einstein) اگرچہ ایک یہودی خاندان میں پیداہوا تھا، لیکن سائنسی مطالعے کے بعد وہ خدا کے وجود کے بارے میں تشکیک میں مبتلا ہوگیا۔ اپنی وفات سے ایک سال پہلے 3 جنوری 1954 کو اس نے ایک اسرائیلی فلسفی ایرک (Eric B. Gutkind) کو جرمن زبان میں ایک خط لکھا۔ اِس خط کا ایک جملہ یہ تھا— خدا کا لفظ اس کے سوا کچھ اور نہیں کہ وہ صرف انسانی کمزوریوں کی ایک پیداوار ہے:
The word God was nothing more than the expression and product of human weaknesses.
آئن اسٹائن نے جس چیز کو ’’انسانی کمزوری‘‘ بتایا ہے، وہ کمزوری نہیں ہے، بلکہ وہ انسان کی ایک اعلی خصوصیت ہے۔ اِس خصوصیت کو درست طورپر اِن الفاظ میں بیان کیا گیا ہے کہ انسان ایک توجیہہ طلب حیوان (explanation-seeking animal)ہے۔ انسان کی یہی خصوصیت تمام علمی ترقیوں کی بنیاد ہے۔ اِسی خصوصیت کی بنا پر انسان چیزوں کی توجیہہ تلاش کرتاہے، اور پھر وہ بڑی بڑی ترقیوں تک پہنچتا ہے۔ انسان کے اندر اگر یہ خصوصیت نہ ہوتی تو انسانی تہذیب (human civilization) پوری کی پوری غیر دریافت شدہ حالت میں پڑی رہتی۔
خود آئن ا سٹائن کے بارے میں بتایا جاتا ہے کہ اپنی عمر کے آخری 30 سال کے دوران وہ ایک سوال کا سائنسی جواب پانے کی کوشش کرتا رہا، مگر وہ اِس میں کامیاب نہ ہوسکا۔ یہ سوال آئن اسٹائن کے الفاظ میں، یونی فائڈ فیلڈ تھیوری (unified field theory)کی دریافت ہے۔ سائنسی اعتبار سے یہ سوال اتنا زیادہ اہم ہے کہ آج وہ تمام نظریاتی سائنس دانوں کی توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے۔ اب اِس سوال کو عام طورپر تھیوری آف ایوری تھنگ (Theory of Everything)کہاجاتا ہے۔
یہ ’تھیوری آف ایوری تھنگ‘ کیا ہے۔ یہ دراصل ایک ایسا ریاضیاتی فارمولادریافت کرنا ہے جو تمام کائناتی مظاہر کی سائنسی توجیہہ کرسکے۔ تھیوری آف ایوری تھنگ کا مطلب ہے:
Theory that explains everything.
ایک سائنسی ادارہ (European Organization for Nuclear Research) کے تحت سوئزر لینڈ میں ایک پروجیکٹ قائم کیاگیا۔ اس کا نام یہ تھا— لارج ہیڈرون کولائڈر (Large Hadron Collider)۔ یہ پروجیکٹ 1998 میں قائم کیا گیا۔ اِس پروجیکٹ پر ایک سو ملین ڈالر خرچ ہوئے۔ اِس میں دنیا کے ایک سو ملک اور دس ہزار سائنس دانوں اور انجینئروں کا تعاون شامل تھا۔ اگر چہ یہ پروجیکٹ کامیاب نہ ہوسکا، تاہم اس کا مقصد بھی یہی تھا کہ ’تھیوری آف ایوری تھنگ‘ کو دریافت کیاجائے۔
’تھیوری آف ایوری تھنگ، یا زیادہ درست طورپر، ایکسپلنیشن آف ایوری تھنگ کی تلاش پر تقریباً 90 سال گزر چکے ہیں، مگر اِس معاملے میں سائنس دانوں کو کامیابی حاصل نہ ہوسکی۔ اِس کا سبب یہ ہے کہ مظاہرِ کائنات کی توجیہہ خدا کے وجود کو مان کر حاصل ہوتی ہے۔ کوئی ریاضیاتی فارمولا کبھی اِس کا جواب نہیںبن سکتا۔ ریاضیاتی فارمولے میں اِس سوال کا جواب تلاش کرنا ایسا ہی ہے جیسے پیاس کو بجھانے کے لیے پانی کے سوا کسی اور چیز کو اس کا ذریعہ بنانے کی کوشش کرنا۔
واپس اوپر جائیں

خدا ——انسانی فطرت کی آواز ہے

1۔ فرانس کی ایک فلم ایکٹرس گائنالولوبرائیگیڈا (Gina Lollobrigida) جنوری 1975ء میں ہندستان آئی تھی۔ ایک پریس کانفرنس میں ایک اخباری رپورٹر سے اس کا سوال وجواب یہ تھا:
To a question whether she believed in God, Gina said: I beleive in God, I believe in God, more when I am on an aeroplane. (The Times of India, 3 January 1975)
ایک سوال کے جواب میں کہ کیا وہ خدا کو مانتی ہے، گائنا نے کہا: میں خدا کو مانتی ہوں، میں خدا کو مانتی ہوں، اس وقت اور بھی زیادہ جب میں ہوائی جہاز میں ہوتی ہوں۔
آدمی جب ہوائی جہاز میں اڑ رہاہو تو اس وقت وہ مکمل طورپر ایسے خارجی اسباب کے رحم وکرم پر ہوتا ہے جن کے توازن میں معمولی فرق بھی اس کو ہلاک کرنے کے لیے کافی ہے۔ انسان کی یہی بے چارگی سمندری سفروں میں بھی ہوتی ہے۔ قرآن میں ارشاد ہوا ہے:’’کیا تم دیکھتے نہیں کہ کشتی سمندر میں اللہ کے فضل سے چلتی ہے، تاکہ وہ تمہیں اپنی قدرتیں دکھائے۔ در حقیقت اس میں نشانیاں ہیں ہر اس شخص کے لیے جو صبر اور شکر کرنے والا ہو۔ اور جب سمندر میںان لوگوں کو موجیں بدلیوں کی طرح گھیر لیتی ہیںتو یہ اللہ کو پکارتے ہیں، اپنے دین کو اسی کے لیے خالص کرکے۔ پھر جب وہ بچا کر انھیں خشکی تک پہنچا دیتا ہے تو ان میں سے کوئی اعتدال پر رہتا ہے، اور ہماری نشانیوں کا انکار وہی کرتا ہے جو بد عہد اور ناشکرا ہے (31:31-32)۔
کوئی شخص خواہ کتنا ہی سرکش اور منکر کیوں نہ ہو، جب مشکل حالات پڑتے ہیں تو وہ بے اختیار خدا کو پکار اٹھتا ہے۔ یہی اس بات کا ثبوت ہے کہ خدا انسانی فطرت کی آواز ہے۔
2۔ روس میں اشتراکی انقلاب اکتوبر 1917ء میں آیا، اورتقریباً 74 سالوں کے بعد 1991 میں وہ ٹوٹ گیا۔اس درمیان اشتراکی حکومت نےمیڈیا، اور اسکول کو اینٹی مذہب پروپیگنڈے سے فلڈ (flood)کردیا۔ اس کے بعد حکومت روس نے یہ دعوی کیا کہ قدیم مذہبی نظام مکمل طورپر ختم کردیا گیا ہے۔
اشتراکی نظریے کے مطابق مذہب، سرمایہ داری نظام کا ضمیمہ (appendix)تھا۔ سرمایہ داری نظام کے خاتمہ کے بعد قدرتی طورپر اس کے ضمیمہ کو بھی ختم ہوجانا چاہیے۔ روسی حکومت کا دعوی ہے کہ اس نے سرمایہ داری نظام کو روس سے ختم کردیا ہے۔ مگر حیرت انگیز بات ہے کہ مذہب اب بھی وہاں زندہ ہے۔ حتی کہ روس کی جدید نسل میں دوبارہ مذہب پروان چڑھ رہا ہے۔
— اس سلسلہ میں ایک دلچسپ واقعہ روسی ڈکٹیٹر مارشل اسٹالن (1879-1964ء)کا ہے۔ اسٹالن خدا کا منکرتھا۔ مگر اس کی زندگی میں ایسے واقعات ہیں جو ثابت کرتے ہیں کہ مشکل اوقات میں وہ بے اختیار خدا کو یاد کرنے لگتا تھا۔ ونسٹن چرچل ( 1874-1965) نے دوسری جنگ عظیم کے موقع پر اگست 1942ء میں ماسکو کا سفر کیا تاکہ ہٹلر کے خلاف دوسرا محاذ (سکنڈ فرنٹ) قائم کرنے کے لیے روسی لیڈروں سے گفتگو کرے۔ چرچل نے اس سلسلہ میں اتحادیوں کا فوجی منصوبہ اسٹالن کے سامنے رکھا، جس کا خفیہ نام ٹارچ(Torch)رکھاگیا تھا۔ اسٹالن چونکہ خود بھی ہٹلر کی بڑھتی ہوئی یلغار سے خائف تھا، اس نے اس فوجی منصوبہ میں گہری دلچسپی لی۔ چرچل کا بیان ہے کہ منصوبہ کی تشریح کے ایک خاص مرحلہ پر جب کہ اسٹالن کی دلچسپیاں اس سے بہت بڑھ چکی تھیں۔ اس کی زبان سے نکلا —خدا اس منصوبہ کو کامیاب کرے:
“May God prosper this undertaking”
(Winston S. Churchill, The Second World War, (Abridgement) Cassell & Company, London, 1965, p. 603)
— سویتلانہ (Svetlana Alliluyeva) روسی ڈکٹیٹر اسٹالن کی بیٹی تھی۔ اس کی پیدائش 1926 کوہوئی، اشتراکی دنیا سے مایوس ہو کر 1966میں وہ ہندستان آئی تھی۔ پھر وہ یورپ چلی گئی، اور 2011 میں اس کی وفات ہوئی۔
اس نے عیسائیت کو اختیار کرلیا تھا۔ اپنے سچائی کے تلاش کا واقعہ لکھتے ہوئےوہ اپنی کتاب ’’صرف ایک سال‘‘ ( Only One Year) میں لکھتی ہے کہ میں ماسکو میں غیر مطمئن تھی ،اور اپنے قلب کی تسکین کے لیے کوئی چیز ڈھونڈ رہی تھی۔ وہ چیز مجھے بائبل کے ان جملوں میں مل گئی — اے خداوند! تو میری روشنی اور نجات دہندہ ہے۔ مجھے تو کسی سے بھی نہیں ڈرنا چا ہئے۔ خداوند میری زندگی کے لیے محفوظ پناہ گا ہ ہے۔ پس میں کسی بھی شخص سے خوف نہیں کھا ؤ ں گا۔ ہو سکتا ہے کہ شریر لوگ مجھ پر چڑھا ئی کریں۔ہو سکتا ہے کہ وہ مجھ پر حملہ کریں گے ، اور مجھے نیست و نابود کر دیں گے،لیکن وہ ٹھو کر کھا ئیں گے اور گریں گے۔ اگر چاہے پو را لشکر بھی مجھ کو گھیر لے، میں نہیں ڈروں گا، اگر جنگ میں بھی لوگ مجھ پر حملہ کریں میں نہیں ڈروں گا
The Lord is my light and my salvation, whom shall I fear? The Lord is the stronghold of my life- of whom shall I be afraid? When the wicked advance against me, to devour me, it is my enemies and my foes, who will stumble and fall. Though an army besiege me, my heart will not fear ; though war break out against me, even then I will be confident. (Psalm, 27:1-3)
— اس سلسلہ میں ایک اور دلچسپ واقعہ وہ ہے جو1973 میں ہندستان میں پیش آیا۔ ایک روسی جہاز (Ilyushin Jet)ہندستان میں مغربی بنگال کی فضا میں پرواز کررہا تھا کہ اس کا انجن خراب ہوگیا۔ ہوا باز کی ساری کوششیں ناکام ہوگئیں، اورجہاز زمین پر گرپڑا۔ ہوا باز سمیت سارے مسافر جل کر ختم ہوگئے۔
چونکہ یہ حادثہ ہندستان کی سرزمین پر ہوا تھا، اس لیے بین الاقوامی قانون کے مطابق ہندستان کو اس کی تفتیش کرنی تھی۔ ہوائی جہازوں کا قاعدہ ہے کہ اس میں آواز ریکارڈ کرنے والی ایک خود کار مشین رکھی جاتی ہے، جس کو عام طورپر بلیکس باکس (Black Box) کہتے ہیں۔ یہ بلیک باکس ہوا باز اور کنٹرول ٹاور کے درمیان گفتگو کو ریکارڈ کرتا رہتاہے۔ اس کو ہوائی جہاز کی دُم میں رکھا جاتا ہے تاکہ ہوائی جہاز کے جلنے کے بعد بھی وہ بچ سکے۔
ہندستانی افسروں نے ہوائی جہاز کے ملبہ سے اس بلیک باکس کو حاصل کیا۔ جب اس بکس کا ٹیپ بجایا گیا تاکہ اس سے تفتیش میں مدد لی جاسکے تو معلوم ہوا کہ بالکل آخری لمحات میں روسی پائلٹ کی زبان سے جو لفظ نکلا، وہ یہ تھا— پیٹر ہم کو بچا
Peter save us.
واضح ہو کہ پیٹر یا پطرس حضرت عیسیٰؑ کے بارہ حواریوں میں سے ایک تھے، اور عیسائیوں کے یہاں بڑے بزرگ مانے جاتے ہیں۔
واپس اوپر جائیں

کائناتی نشانیاں

ایس ٹی کا لرج(1772-1834)ایک مشہور انگریزی تنقید نگار، فلاسفر اور شاعر ہے۔ اس کی ایک نظم کا عنوان ہے
The Rhyme of the Ancient Mariner
اس نظم میں شاعر نے دکھایا ہے کہ ایک ملاح اپنے کسی گناہ کے سبب سمندر میںپھنس گیا ہے۔ اس کے پاس پینے کے لیے میٹھا پانی نہیں ہے۔ کشتی کے چاروں طرف سمندر کا پانی پھیلا ہوا ہے۔ مگر کھاری ہونے کی وجہ سے وہ ان کو پی نہیں سکتا۔ وہ پیاس سے بے تاب ہو کر کہتا ہے — ہر طرف پانی ہی پانی، مگر ایک قطرہ نہیں جس کو پیا جاسکے
Water, water everywhere, / Nor any drop to drink.
جو حال کولرج کے خیالی ملاح کا ہوا، وہی حال امکانی طورپر اس دنیا میں تمام انسانوں کا ہے۔ انسان پانی کے بغیر زندہ نہیں رہ سکتا۔ مگر پانی کا تمام ذخیرہ سمندروں کی صورت میں ہے، جن میں 1/10 حصہ نمک ملا ہوا ہے۔ اس بنا پر سمندر کا پانی اتنا زیادہ کھاری ہے کہ کوئی آدمی اس کو پی نہیں سکتا۔
اس کا حل قدرت نے بارش کی صورت میں نکالا ہے۔ سورج کی گرمی کے اثر سے سمندروں میں تبخیر (evaporation) کا عمل ہوتا ہے۔ سمندر کا پانی بھاپ بن کر فضا کی طرف اٹھتا ہے مگر مخصوص قانون قدرت کے تحت اس کے نمک کا جزء سمندر میں رہ جاتا ہے ،اور صرف میٹھے پانی کا جزء اوپر جاتا ہے۔ یہی صاف کیا ہوا پانی بارش کی صور ت میں دوبارہ زمین پر برستا ہے، اور انسان کو میٹھا پانی عطا کرتا ہے، جس کی انسان کو سخت ترین ضرورت ہے۔
بارش کا عمل ازالۂ نمک (desalination) کا ایک عظیم آفاقی عمل ہے۔ آدمی اگر صرف اس ایک واقعہ پر غور کرے تو اس پر ایسی کیفیت طاری ہو کہ وہ خداکے کرشموں کے احساس سے رقص کرنے لگے۔
واپس اوپر جائیں

ایک تجربہ

18-22 اپریل 1986 کو میں نے بھوپال کا سفر کیا ۔ یہ سفر تامل ناڈو اکسپریس کے ذریعہ ہوا اور واپسی کا سفر بذریعہ ہوائی جہاز طے ہوا۔19 اپریل کی صبح کو سو کر اٹھا، تو ہماری ٹرین مدھیہ پردیش کے میدانو ں میں دوڑ رہی تھی۔ جگہ جگہ درخت اور سبزہ کا منظر تھا۔ صبح کا سورج بلند ہوکر پوری طرح فضا کو روشن کر رہا تھا۔ اس قسم کی ایک دنیا کا وجود میں آنا تمام عجائبات میں سب سے بڑا عجوبہ ہے۔ ایک ایسی دنیا جہاں پانی اور سبزہ ہو، جہاں سورج ایک خاص تناسب سے روشنی اور حرارت پہنچائے، جہاں بے شمار اسباب جمع ہوں، جس نے اس بات کو ممکن بنایا ہے کہ ایک ٹرین تیار ہو، اور زمین کی سطح پر تیز رفتاری کے ساتھ دوڑے۔
بنانے والے نے اس دنیا کو عجیب ڈھنگ سے بنایا ہے۔ یہاں واقعہ دکھائی دیتا ہے، مگر صاحبِ واقعہ نظر نہیں آتا۔ یہاں تخلیق (creation)کا منظر ہر طرف پھیلا ہوا ہے، مگر ان کے درمیان خالق (Creator)بظاہر کہیں موجود نہیں۔ اس صورتِ حال نے بہت سے لوگوں کو خد اکا منکر بنا دیا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ جب ہم خدا کو دیکھتے نہیں، تو ہم کیسے اسے مانیں، مگر خدا کے انکار کے لیے یہ بنیاد کافی نہیں۔
ہم جس ٹرین پر سفر کررہے ہیں وہ ایک بہت بڑی ٹرین ہے۔ وہ 110کیلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے مسلسل دوڑ رہی ہے۔ ہم اس کے اندر بیٹھے ہوئے منزل کی طرف چلے جارہے ہیں۔ بظاہر ہم ریل کے ڈرائیور کو نہیں دیکھتے۔ اس کا نام بھی ہم کو نہیں معلوم۔ مگر ہمیں یقین ہے کہ گاڑی کا ایک ڈرائیور ہے، اور وہی اس کو چلا رہا ہے۔
ہم کو یہ یقین کیوں ہے۔ منکر خدا کہیں گے، اس لیے کہ اگرچہ ہم ڈرائیور کو نہیں دیکھتے، مگر ہم اس کو دیکھ سکتے ہیں۔ ہمارے لیے یہ ممکن ہے کہ کسی بھی اسٹیشن پر اتر کر انجن کے پاس جائیں، اور وہاں اس کو دیکھیں۔ لیکن یہ محض ایک مغالطہ ہے۔ اگر ہم اسٹیشن پر اتر کر انجن کے پاس جائیں، اور گاڑی کے ڈرائیور کو دیکھیں تو ہم کیا چیز دیکھیں گے۔ ہم صرف ہاتھ پاؤں والے ایک جسم کو دیکھیں گے۔مگر کیا یہی دکھائی دینے والا جسم ہے جو گاڑی کو چلا رہا ہے۔ یقیناً نہیں۔ انجن کو چلانے والا دراصل ذہن ہے، نہ کہ ظاہری جسم۔ چنانچہ موت کے بعد ڈرائیور کا جسم پوری طرح موجود رہتاہے، مگر وہ گاڑی کو چلا نہیں پاتا۔ حقیقت یہ ہے کہ یہاں بھی وہی صورت حال ہے — ہم گاڑی کا ایک ڈرائیور مان رہے ہیں، بغیر اس کے کہ ہم نے ڈرائیور کو واقعی طورپر دیکھا ہو۔
موجودہ زمانہ کے منکرین خدا کہتے ہیں کہ یہ دنیا محض اتفاق سے بن گئی ہے۔ اس کا کوئی موجد اور خالق نہیں۔ مگر موجودہ کائنات جیسی با معنی کائنات کا محض اتفاق سے ظہور میں آنا ممکن نہیں۔ یہ ایسا ہی ہے جیسے کسی کباڑ خانہ میں دھماکہ ہونے سے ایک اکسپریس ٹرین برآمد ہوجائے یا اچانک ایک ہوائی جہاز بن کر ہوا میں اڑنے لگے۔
٭٭٭٭٭
لیوس ٹامس (Lewis Thomas) ایک امریکی سائنس داں اور فلسفی ہے۔اس کی پیدائش 1913 میں ہوئی، اور وفات 1993 میں ہوئی۔ بائیولوجی پر اس کی ایک کتاب ہے۔ اس کتاب میں اس نے زمین کی بابت یہ الفاظ لکھے ہیں— وہ خلا میں لٹکا ہوا، اور بظاہر ایک زندہ کرہ ہے
hanging there in space and obviously alive. (Lewis Thomas, The Fragile Species, Collier, 1993, p. 135)
یہ زمین (planet earth) کی نہایت صحیح تصویر ہے۔ زمین ایک اتھاہ خلا (vast space)میں مسلسل گردش کررہی ہے۔ اسی کے ساتھ زمین کے جو احوال ہیں، وہ انتہائی استثنائی طور پر ایک زندہ کرہ کے احوال ہیں۔ یہ چیزیں اتنی حیرت ناک ہیں کہ اگر ان کو سوچا جائے، تو رونگٹےکھڑے ہوجائیں، اور بدن میں کپکپی طاری ہوجائے۔ زمین میں اور بقیہ کائنات میں اتنی زیادہ نشانیاں ہیں کہ اگر کوئی آدمی ان میں سنجیدگی سے (sincerely) غور کرے، تو یہ کائنات اس کے لیے خدا کی معرفت اورجلال و جمال کا آئینہ بن جائے۔
واپس اوپر جائیں

Tuesday, 1 October 2019

Al Risala | October 2019 (الرسالہ،اکتوبر)

4

-قرآن کا نزول

5

- تواصی بالحق،تواصی بالصبر

6

- اولاد کے لیے بہتر عطیہ

7

- ایک پروفیسر کا واقعہ

8

- دعوتی سیاحت

26

- جاننے والوں کا نہ جاننا

28

- مبنی بر مواقع پلاننگ

30

- زندہ قوم، زوال یافتہ قوم

32

- حقیقت پسندانہ سوچ

33

- روحانی ترقی

34

- مثبت اثر لینا

35

- مینج کرنا سیکھیے

36

- رحمت، سیف

37

- بین اقوامی رواج

38

- پیغمبرانہ ماڈل سے انحراف

45

- کنڈیشنڈ سوچ

46

- احتجاج کوئی پالیسی نہیں

47

- الفاظ، الفاظ، الفاظ

48

- آج کا نوجوان

49

- کامیابی اپنے ہاتھ میں

50

- خبرنامہ اسلامی مرکز


قرآن کا نزول

اللہ رب العالمین نے اپنی کتاب قرآن اس لیے اتاری کہ وہ سارے عالم کے لیے انذار کا ذریعہ بنے۔ اس حقیقت کا اعلان سورہ الفرقان میں ان الفاظ میں کیاگیا ہے:تَبَارَکَ الَّذِی نَزَّلَ الْفُرْقَانَ عَلَى عَبْدِہِ لِیَکُونَ لِلْعَالَمِینَ نَذِیرًا (25:1)۔ یعنی بڑی بابرکت ہے وہ ذات جس نے اپنے بندے پر فرقان اتارا تاکہ وہ جہان والوں کے لیے ڈرانے والا ہو۔
قرآن خالق کائنات کے تخلیقی منصوبے کا مستند اعلان ہے۔ انسان کو چاہیے کہ وہ اس خدائی اعلان کو پڑھے، اور اس کے مطابق اپنی زندگی کی منصوبہ بندی کرے۔ قرآن کی ایک اور آیت ان الفاظ میں آئی ہے: وَمَا أَرْسَلْنَا مِنْ رَسُولٍ إِلَّا بِلِسَانِ قَوْمِہِ لِیُبَیِّنَ لَہُمْ (14:4)۔ یعنی اور ہم نے جو پیغمبر بھی بھیجا، اس کی قوم کی زبان میں بھیجا، تاکہ وہ ان سے بیان کردے۔ قرآن کی اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ انذار کا یہ کام ہر قوم کی اپنی قابل فہم زبان (understandable language) میں انجام پائے۔ جیسا کہ معلوم ہے، قرآن کسی بین اقوامی زبان (lingua franca) میں نہیں ہے۔ بلکہ پورا قرآن عربی زبان میں ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ قرآن کا ترجمہ ہر قوم کی اپنی معروف زبان (understandable language) میں کیا جائے۔ اور پھر کمیونی کیشن کے ذرائع کو استعمال کرکے اس کو تمام قوموں کے لیے قابلِ حصول بنایا جائے۔
ساتویں صدی عیسوی میں جب قرآن اترا تو اس زمانے میں پرنٹنگ پریس وجود میں نہیں آیا تھا۔ اس زمانے میں رسول اور اصحابِ رسول قرآن کے عربی متن (Arabic text) کے لیے مقری (reciter)بن گئے۔ بعد کے زمانے میں جب کہ دنیا میں ایج آف کمیونی کیشن آچکا ہے، تو اب قرآن کو عالمی سطح پر پہنچانے کے لیے یہ کرنا ہوگا کہ قرآن کے متبعین، یعنی امت محمدی اس کی عالمی اشاعت کےلیے ڈسٹری بیوٹر بن جائیں۔ یہ ایک ایسا فریضہ ہے، جس کو اگر امتِ محمدی انجام نہ دے، تو اس کا امت محمدی ہونا مشتبہ ہوجائے گا۔
واپس اوپر جائیں

تواصی بالحق،تواصی بالصبر

قرآن کی سورہ العصر میں اہلِ ایمان کی صفت بتاتے ہوئے یہ الفاظ آئے ہیں:وَتَوَاصَوْا بِالْحَقِّ وَتَوَاصَوْا بِالصَّبْرِ (103:3)۔ یعنی وہ ایک دوسرے کو حق کی نصیحت کرنے والے ہوتے ہیں اور وہ ایک دوسرے کو صبر کی نصیحت کرنے والے ہوتے ہیں۔
قرآن کی اِس آیت میں حق سے مراد اہلِ ایمان کی داخلی صفت ہے، اور صبر سے مراد اہلِ ایمان کی وہ صفت ہے، جس کا تعلق خارجی حالات سے ہے۔ ایمان کے معاملے میں اصل مطلوب چیز حق کا اتباع ہے۔ مومن وہ ہے جو حق کو شعوری طورپر دریافت کرے اور پھر عملاً اُس پر قائم ہوجائے۔
مگر یہ فیصلہ کوئی سادہ فیصلہ نہیں۔ جب ایک شخص اتباعِ حق کا فیصلہ کرتا ہے تو یہ فیصلہ ایک ایسی دنیا میں ہوتا ہے جہاں طرح طرح کے مسائل ہیں۔ کبھی کوئی خارجی چیز اس کی خواہش (desire) یا اس کی انا (ego) کو بھڑکاتی ہے اور اس کا اندیشہ پیدا ہوجاتا ہے کہ وہ اپنی خواہش سے متاثر ہو کر حق کے راستے سے ہٹ جائے۔ اِسی طرح کبھی خارجی مشکلات سے اس کے ارادے میں کمزوری پیدا ہوجاتی ہے، اور ضرورت ہوتی ہے کہ اس کو دوبارہ ثابت قدمی پر آمادہ کیا جائے۔
یہی وہ مواقع ہیں، جوتواصی کی ضرورت پیدا کرتے ہیں۔ ایسے مواقع پر اہلِ ایمان سے یہ مطلوب ہے کہ وہ ایک دوسرے کے سچے مددگار بن جائیں۔ وہ خیر خواہانہ نصیحت کے ذریعے ایک دوسرے کو سنبھالیں۔ ایسے مواقع پر وہ ایک دوسرے کو درست مشورہ دے کر یہ کوشش کریں کہ اُن کا ساتھی حق سے منحرف نہ ہونے پائے، وہ صبر کے تقاضوں کو پورا کرتے ہوئے بدستور حق پر قائم رہے۔ تواصی کا مطلب باہمی نصیحت یا باہمی مشورہ ہے۔
مشورہ کی کچھ لازمی شرطیں ہیں — ایک یہ کہ وہ مبنی بر خیر خواہی مشورہ ہو ،اور دوسرے یہ کہ وہ عملی طورپر ایک ممکن العمل مشورہ ہو۔ حقیقی تواصی وہی ہے جس میں یہ شرطیں پائی جائیں۔ تواصی بالحق سے مراد نظری معاملے میں تواصی ہے، اور تواصی بالصبر سے مراد عملی معاملے میں تواصی۔
واپس اوپر جائیں

اولاد کے لیے بہتر عطیہ

اولاد کی تربیت کے سلسلے میں ایک حدیث رسول ان الفاظ میں آئی ہے أَیُّوبُ بْنُ مُوسَى، عَنْ أَبِیہِ، عَنْ جَدِّہِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ صَلَّى اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ:مَا نَحَلَ وَالِدٌ وَلَدًا مِنْ نَحْلٍ أَفْضَلَ مِنْ أَدَبٍ حَسَنٍ (جامع الترمذی، حدیث نمبر 1952)۔ یعنی ایوب بن موسیٰ اپنے والد موسیٰ اور دادا ابن سعید سے نقل کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کوئی باپ اپنے بیٹے کو نیک ادب اور صحیح تربیت سے بہتر کوئی تحفہ نہیں دیتا۔ اس سلسلے میں ایک اور حدیث کے الفاظ یہ ہیں عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ، أَنَّ النَّبِیَّ صَلَّى اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ:لَأَنْ یُؤَدِّبَ الرَّجُلُ وَلَدَہُ، أَوْ أَحَدُکُمْ وَلَدَہُ، خَیْرٌ لَہُ مِنْ أَنْ یَتَصَدَّقَ کُلَّ یَوْمٍ بِنِصْفِ صَاعٍ(مسند احمد، حدیث نمبر 20900)۔ یعنی جابر بن سمرہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا کوئی آدمی اپنی اولاد کو ادب سکھا ئے، یا تم میں سے کوئی اپنی اولاد کو ، وہ اس سے بہتر ہےکہ آدمی ہر روز نصف صاع صدقہ کرے۔
اس حدیث رسول میں در اصل فطرت کے ایک نظام کو بتایا گیا ہے۔ ہر انسان جو پیدا ہونے کے بعد اس دنیا سے کچھ سیکھتا ہے، وہ تجربہ (experience) ہے۔ اس کے بعد وہ دنیا سے چلا جاتا ہے، اور اس کی جگہ دوسرے لوگ آتے ہیں۔ فطرت کے اس نظام کا تقاضا ہے کہ ہر انسان کو چاہیے کہ وہ دنیا سے بہترین تجربات حاصل کرے، اور پھر ان تجربات کو اپنے بعد والوں کے لیے منتقل کرتا رہے۔ اس طرح ہر آنے والی نسل اپنی اگلی نسل سے بہتر زندگی کا سبق سیکھتی رہے گی، اور اس طرح پوری انسانیت تربیت یافتہ نسل کی صورت اختیار کرتی رہے گی۔
فطرت کے اسی نظام کی ایک منظم صورت وہ ہے، جس کو تعلیم کہا جاتا ہے۔ لوگوں نے اپنے تجربات کو نسل در نسل منتقل کرنے کے لیے اس کو ادارے (organization)کی صورت دے دی۔ اسی ادارے کا نام تعلیمی نظام ہے۔ ہر گھر اس ادارے کا ایک ابتدائی حصہ ہے۔تربیتِ اولاد کا عمل ذمے داری کا ایک ظاہرہ ہے، نہ کہ محبتِ اولاد کا ظاہرہ۔
واپس اوپر جائیں

ایک پروفیسر کا واقعہ

دہلی کی ایک یونیورسٹی کے پروفیسر کا قصہ مجھے معلوم ہوا۔ وہ بہت سادہ زندگی گزارتے تھے۔ ان کے پاس سواری کے لیے ایک بائیسکل کے سوا کچھ اور نہ تھا۔ ان کے بچے جب بڑے ہوئے تو انھوں نے اپنے باپ سے کہا کہ اتنے دنوں سے آپ سروس کررہے ہیں اور آپ کے پاس سواری کے لیے ایک بائیسکل کے سواکچھ اور نہیں۔ حالاں کہ یہاں دوسرے لوگوں کے پاس کار ہے، جس پر وہ اور ان کی فیملی کے لوگ سواری کرتے ہیں۔ انھوں نے جواب دیا کہ میری عمر تو بائیسکل پر گزر گئی ، اب اگر تم لوگ کار چاہتے ہو، تو خود کما کر کار خرید لو۔ میں تو اپنے لائف اسٹائل کو بدلنے والا نہیں ہوں۔
اس واقعے میں یہ سبق ہے کہ باپ کو اپنے بیٹے کے حق میں کیسا ہونا چاہیے۔ باپ کو یہ کرنا چاہیے کہ وہ سادہ زندگی گزارے، وہ قناعت کے اصول پر قائم رہے، اور بیٹوں کو یہ موقع دے کہ وہ خود محنت کرکے اپنی آمدنی بڑھائیں۔ وہ اپنی کمائی سے کار خریدیں، اور گھر بنائیں۔ باپ کو ایسا نہیں کرنا چاہیے کہ وہ بیٹے کے لیے کمائی کرے۔ بیٹے کی ترقی خود اپنی محنت کی کمائی سے ہوگی، نہ کہ باپ کی کمائی سے۔
جو باپ اپنے بیٹے کے ساتھ ایسا سلوک کرے، اس کے بیٹے کے اندر اپنے آپ اعلیٰ اخلاقی اوصاف پیدا ہوگا۔ اس کے اندر محنت کا جذبہ پیدا ہوگا۔ اس کے اندر خود اعتمادی کی صفت پیدا ہوگی۔ وہ سادہ زندگی کی اہمیت کو سمجھے گا۔ وہ سماج کو دینے والے (giver) ممبر بنے گا، نہ کہ لینے والا(taker)۔ اس کے اندر شکایت کی نفسیات نہیں پیدا ہوگی، بلکہ وہ مثبت نفسیات کا حامل انسان بن کر تیار ہوگا۔ اس کے اندر سادگی کی نفسیات پرورش پائے گی، جو کہ اعلیٰ اخلاقیات کی اصل ہے۔ ایسا انسان حقیقت پسند انسان بنے گا۔ ایسا انسان اپنے سماج کا پرابلم ممبر نہیں بنے گا، بلکہ وہ اپنے سماج کا مفید ممبر بنے گا۔اچھا انسان اچھی تربیت سے بنتا ہے، نہ کہ لاڈ پیار (pampering) کی کثرت سے۔
واپس اوپر جائیں

دعوتی سیاحت

ایک دعوتی گفتگو
عرب امارات کے سفر(مئی 2004)میں جناب عاطف سید انور علی کاظم (38 سال) سے 9 مئی کی صبح کو ملاقات ہوئی۔ انہوں نے اپنی زندگی کے کچھ انوکھے واقعات بتائے۔ اپنا ایک تجربہ بتاتے ہوئے انہوں نے کہا کہ میرا ملنا جلنا دبئی کے ایک عیسائی سے تھا۔ وہ کسی قدر اسلام کی طرف مائل تھا۔ پھرانھوں نے کہا کہ میں ایک عالم سے ملا اور ان سے کہا کہ آپ میرے ساتھ چل کر اس عیسائی سے ملیں، اور اس کی تالیفِ قلب کے طور پر آپ کی طرف سے اسے ایک تحفہ پیش کیا جائے۔ اس عالم نے کہا :إِنَّ الْعِلْمَ یُؤْتَى وَلَا یَأْتِی (المدخل إلى السنن الکبرى للبیہقی، اثر نمبر686)۔ یعنی علم کے پاس جایاجاتا ہے ،علم خود نہیں آتا۔
یہ قول دراصل امام مالک کا ہے۔ ایک مرتبہ عباسی خلیفہ ہارون رشید نے چاہا تھا کہ امام مالک انھیں اپنی کتاب موطا سنانے کے لیے اس کے محل میں آئیں۔ مگرامام مالک نے کہا کہ آپ کو میرے پاس آنا چاہیے۔ کیوںکہ طالب کو چاہیے کہ وہ خود چل کر علم کے پاس جائے، نہ کہ علم اس کے پاس آئے۔عاطف صاحب نے مذکورہ جملے کی تشریح کرتے ہوئے کہا کہ یہ اصول مسلمانوں کے لیے ہے۔ یہ اصول غیر مسلموں کے لیے نہیں ہے۔ انھوں نے کہا کہ غیر مسلم تک علم پہنچانا دراصل دعوت کا عمل ہے، اور دعوت ہمارا اپنا فریضہ ہے۔ جب ہم اسلام کا علم کسی غیر مسلم تک پہنچاتے ہیں، تو ہم خود اپنا فریضہ انجام دیتے ہیں، اور فریضہ ادا کرنا خود اس کا کام ہے، جس پر وہ چیز فرض ہورہی ہو۔ یہ ایسا ہی ہے، جیسے مجھے نماز کا فرض ادا کرنا ہے، تو مجھے خود مسجد جانا پڑے گا۔ مسجد میرے پاس اٹھ کر نہیں چلی آئے گی۔
عاطف صاحب نے اس کے بعد تبلیغی جماعت کے بعض افراد سے رابطہ قائم کیا اور مذکورہ مسیحی کے بارے میں انہیں بتایا۔ وہ لوگ فوراً وہاں جانے کے لیے تیارہوگئے، کیوںکہ ان کے اندر پہلے ہی سے یہ مزاج تھا کہ دین کو چل کر پہنچانا چاہیے۔ چنانچہ تبلیغی جماعت کے 3 آدمی وہاں گئے۔ انھوں نے کچھ تحفہ (عطر، دعا کی کتاب اور کیسٹ) اس عیسائی کو پیش کیا ،اور اس سے نرمی اور محبت کے ساتھ بات کی اور اس کو دین کا ابتدائی پیغام پہنچایا۔
عاطف صاحب نے مزید بتایا کہ تبلیغی لوگوں کا طریقہ یہ ہے کہ وہ ایسے موقع پر کم از کم تین آدمی کی جماعت بناتے ہیں۔ ان میں سے ایک امیرہوتا ہے، اور دوسرا متکلم، اور تیسرا ذاکر۔ امیر گویا اس جماعت کا قائد ہوتا ہے۔ متکلم کا کام یہ ہے کہ وہ ضرورت کے وقت بات چیت کرے۔ ذاکر کا کام یہ ہے کہ وہ دل ہی دل میں اللہ کو یاد کرتا رہے اور دعا کرتا رہے کہ یہ مشن کامیاب ہو۔ یہ سن کر میں نے کہا کہ یہ طریقہ نہایت فطری ہے۔ وہ اسلام کی اسپرٹ کے عین مطابق ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ مسلمانوں کی ہر مجلس میں یہی طریقہ اختیار کیا جانا چاہیے۔ اس طریقہ کو مسلم کلچر کا ایک جزبن جانا چاہیے۔
عاطف صاحب نے ایک اور بات بتائی۔ انھوں نے کہا کہ حق کے داعی کے اندر تین صفت ہونی چاہیے۔ یہ تین صفتیں انھوں نے قرآن کی ایک آیت سے اخذ کی ہیں۔ وہ آیت یہ ہے: وَمَنْ أَحْسَنُ قَوْلًا مِمَّنْ دَعَا إِلَى اللَّہِ وَعَمِلَ صَالِحًا وَقَالَ إِنَّنِی مِنَ الْمُسْلِمِینَ (41:33)۔ یعنی اور اس سے بہتر کس کی بات ہوگی، جس نے اللہ کی طرف بلایا، اور نیک عمل کیا، اور کہا کہ میں فرماں برداروں میں سے ہوں۔ انھوں نے کہا کہ داعی کے اندر پہلی مطلوب صفت یہ ہے کہ دعوتی کام پر مکمل یقین ہو، اور دوسرا یہ کہ جو چیز داعی دوسروں کو بتارہا ہے وہ خود بھی اس پر عمل کرنے والا ہو، تیسرا یہ کہ آدمی کے اندر تواضع (humbleness)کی صفت پائی جائے۔ ایک سچے داعی کے اندر یہ تین صفتیں ہونی چاہئیں۔ میں نے کہا کہ آپ کا یہ خیال بالکل درست ہے۔ یہی مزاج پوری امت میں ہونا چاہیے۔
دعوت کا ایک طریقہ
ایک غیر مسلم سے ملاقات ہوئی۔ ان سے میں نے روحانیت کے انداز میں کچھ باتیں کہیں۔ وہ میری باتوں کو سن کر متاثر نظر آئے۔ انہوں نے کہا کہ میں سچائی کا متلاشی (seeker) ہوں۔ میں نے کہا کہ آپ کو میں ایک دعا بتاتاہوں۔ آپ اس کو پابندی کے ساتھ روزانہ پڑھیں۔ پھر میں نے یہ قرآنی دعا ایک کاغذ پر لکھی اور اس کو انہیں دیا۔ میں نے کہا کہ آپ اس دعا کو روزانہ پڑھیں۔ وہ دعا یہ تھی:رَبِّ إِنِّی لِمَا أَنْزَلْتَ إِلَیَّ مِنْ خَیْرٍ فَقِیرٌ (28:24)۔یعنیخدایا، جو خیر تو نے میری طرف اُتارا، میں اس کا محتاج ہوں۔انہوں نے کہا کہ میں اس دعا کو روزانہ پڑھوں گا۔(عرب امارات کا سفر)
میڈیا رپورٹنگ
عرب امارات کے سفرمیںایک مسئلہ کی وضاحت کرتے ہوئے میںنے کہا کہ جب بھی کوئی اصلاح کا کام کیا جائے، خاص طور پر جب کہ وہ گہری بنیادوں پر کیا جارہا ہو تو میڈیا میں اس کا چرچا یقینی ہے۔ میڈیا کے مزاج کے مطابق، یہ چرچا تقریباً ہمیشہ منفی انداز سے ہوتاہے۔ اصلاح و دعوت کے میدان میں کام کرنے والے مردوں اور عورتوں کو چاہیے کہ وہ میڈیا کی اس منفی رپورٹنگ کی پروا نہ کریں۔ منفی رپورٹنگ کے اندیشہ کی بنا پر وہ ایسا نہ کریں کہ میڈیا سے اعراض کرنے لگیں۔ حقیقت یہ ہے کہ اس دنیا میں ہر مائنس پوائنٹ کا ایک پلس پوائنٹ ہوتا ہے۔ یہی حال میڈیا کا بھی ہے۔ میڈیا کی ناقص رپورٹنگ پھر بھی ایک مفید کام کرتی ہے، اور وہ آپ کے کام کی پبلسٹی ہے۔ پبلسٹی کے بغیر کوئی بھی کام آگے نہیں بڑھ سکتا۔ پبلسٹی لوگوں کے اندر تجسس پیدا کرتی ہے، اور تجسس پیغام کی اشاعت کا ذریعہ بنتا ہے۔
عصری اسلوب میں اسلامی لٹریچر
’’عصری اسلوب میں اسلامی لٹریچر‘‘ کا مطلب ہے عصری ذہن کے لیے اسلام کو قابلِ فہم (understandable) بنانا۔ مثلاً بنگلور کے روزنامہ سالار کے شمارہ26جولائی 2005 میںپہلے صفحہ پر ایک خبر شائع ہوئی تھی، جس میں بتایا گیا تھا کہ مسلم علماء کے ایک وفد کو خطاب کرتے ہوئے یہاں کے پولیس کمشنر اَجے کمار نے کہا کہ: آپ کو چاہیے کہ جمعہ کے خطبے میں نئی نسل خصوصاً نوجوان طبقے کو آپ ایسا پیغام دیں کہ ان نوجوانوں میں خود اعتمادی، وطن پرستی اور ایک اچھا شہری بننے کا جذبہ پیدا ہو جائے، وہ اپنی زندگی صرف تعمیری کاموں ہی میں صرف کریں، اور کسی طرح کے منفی جذبات ان کے اندر پیدا نہ ہوں‘‘۔
اس خبر کو لے کر بنگلور کے سفر میں محمد ضیاء صاحب نے کہا کہ میں جمعہ کی نماز باقاعدہ طورپر مسجد میںادا کرتا ہوں، اور ہر ہفتے جمعہ کے خطبات سنتا ہوں، اسی کے ساتھ میں مسلم علماء کی تقریروں میں بھی شرکت کرتا ہوں، میںنے پایا کہ کمشنر صاحب نے مسلم علماء سے جو کام کرنے کے لیے کہا ہے، وہ کام بالفعل ہورہا ہے۔ مسلم علماء بر ابر مسلم نوجوانوں کے سامنے قرآن وحدیث کے حوالے سے بہت سی باتیں بتاتے رہتے ہیں، مگر نوجوانوں پر اس کا کوئی اثر نہیں ہوتا۔ ایسی حالت میںاصل سوال یہ ہے کہ مزید کیا کیا جائے۔ کیوں کہ جہاں تک کمشنر صاحب کے مشورے کا تعلق ہے وہ تو علماء پہلے ہی سے انجام دے رہے ہیں۔ انہوں نے پوچھا کہ علماء کی تقریریں بے اثر کیوں ہور ہی ہیں۔
میںنے کہا کہ یہ علماء جو باتیں کرتے ہیں، وہ روایتی زبان میں ہوتی ہیں۔ روایتی زبان اپنا اثر کھو چکی ہے۔ اب ضرورت ہے کہ زمانۂ حاضر کی زبان میں لوگوں کو اسلام کا مثبت پیغام پہنچایا جائے۔میںنے مثال دیتے ہوئے کہا کہ علماء عرصے سے یہ کہتے رہے ہیں کہ اسلام کے خاندانی نظام میں مرد کو قوّام (حاکم) کا درجہ دیاگیا ہے۔ مگر جدیدتعلیم یافتہ خواتین اس پر منفی ردّ عمل کا اظہار کرتی رہی ہیں۔ نئے دَور کی خواتین کا ذہن صنفی مساوات (gender equality) کے نظریے پر بنا ہے۔ اس لیے ان خواتین کی سمجھ میں یہ نہیں آتا کہ مرد کو خاندانی نظام میں قوّام کا درجہ دیا جائے۔
اس سلسلے میں میںنے اپنا تجربہ بتایا۔ میںنے کہا کہ جدید تعلیم یافتہ خواتین، مسلم اور غیر مسلم دونوں، کے درمیان مجھے بار بار خطاب کرنے کا موقعہ ملا ۔ خواتین اکثر قوّامیت کے نظریہ پر اعتراض کرتی تھیں۔ میں نے لفظ بدل کر قوّام کی جگہ باس (boss) کا لفظ استعمال کیا۔ میں نے کہا کہ ہر ادارہ اور ہر دفتر کو منظّم طورپر چلانے کے لیے ایک باس ہوتا ہے۔ کارکن خواتین اپنے دفتروں میں اس باس کو پوری طرح تسلیم کرتی ہیں۔ اسی طرح مرد گھر کا باس ہے۔ پھر اس لیے اعتراض کیوں:
Bossism is a universal principle, and home is not an exception.
میں نے اپنے تجربے میں پایا کہ جدید تعلیم یافتہ خواتین کو جب میں باس کی اصطلاح میں اس بات کو بتاتا ہوں تو وہ فوراً اس کو مان لیتی ہیں۔ ہمارے علماء کو چاہیے کہ وہ جدید علوم سیکھیں، اور وقت کے اسلوب میںاسلام کی تعلیمات پیش کریں۔ اس کے بغیر مسلم نوجوانوں میں کوئی حقیقی تبدیلی نہیں ہوسکتی۔
خدائی ہدایت کی ضرورت
ایک صاحب نے کہا کہ ہم کو خدا کی ہدایت کی کیا ضرورت۔ ہمارا ضمیر ہم کو بتا تا رہتا ہے۔ اگر ہم اپنے ضمیر کی آواز پر چلیں تو وہی نجات کے لیے کافی ہے۔ میںنے کہا کہ ضمیر کوئی قابلِ اعتماد ذریعہ نہیں۔ اس لیے کہ دنیا کی زندگی میں بار بار آدمی کے اوپر ذاتی انٹرسٹ غالب آجاتا ہے۔ مختلف مادّی مصلحتوں کی بنا پر آدمی اپنے ضمیر کے خلاف چلنے لگتا ہے۔ آدمی کی یہ روش اس کے ضمیر کودھیرے دھیرے بے حس بنا دیتی ہے۔ اس کی حسّاسیت یا ختم ہوجاتی ہے یا کمزور پڑ جاتی ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ آدمی کے پاس ضمیر کے علاوہ کوئی اٹل رہنمائی موجود ہو۔ یہ رہنمائی خدا کے سوا کوئی اور نہیں دے سکتا۔(بنگلور کا سفر)
روحانیت اور مذہب
ایک تعلیم یافتہ ہندو سے ملاقات ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ روحانیت دراصل مذہب کا اعلیٰ درجہ ہے۔ اب دنیا میں مذہب کا دَور ختم ہورہا ہے۔ اب ساری دنیا میں روحانیت کا دَور آرہا ہے۔ میںنے کہا اصل بات یہ ہے کہ آپ کی یہ بات رواجی مذہب کے لیے درست ہے۔ عام رَواج میں جس چیز کو مذہب کہا جاتا ہے وہ دراصل مذہب کا ظاہری فارم ہے۔ جہاں تک مذہب کی اصل اسپرٹ کا تعلق ہے، وہ وہی ہے جس کو روحانیت کہا جاتا ہے۔
روحانیت مذہب کا اعلیٰ درجہ نہیں۔ روحانیت مذہب کی اصل اسپرٹ ہے۔ مذہب آدمی کو مادّی سطح سے اُٹھا کر اعلیٰ فکری سطح پر پہنچا دیتا ہے۔ اسی کا نام روحانیت ہے۔ حیوانات جسمانی سطح پر جیتے ہیں۔ انسان کا امتیاز یہ ہے کہ وہ رُوح کی سطح پر جینے لگے۔(بنگلور کا سفر)
کامیابی کا راز
ایک صاحب نے سوال کیا کہ زندگی کی کامیابی کا راز کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر ہم اخلاقی قدروں اور انسانی اصولوں کے مطابق زندگی گذاریں تو ہم کامیابی حاصل کرسکتے ہیں۔ میںنے کہا کہ انسان کی زندگی کے دو مرحلے ہیں۔ ایک ہے موت سے پہلے کی عارضی زندگی اور دوسرا ہے موت کے بعد کی ابدی زندگی۔ آپ جوطریقے بتارہے ہیں، ہوسکتا ہے کہ وہ انسان کو عارضی زندگی میں بظاہر کامیاب کردے۔ مگر موت کے بعد کی ابدی زندگی میں اس قسم کی کامیابی کسی کے لیے مدد گار بننے والی نہیں۔ موت کے بعد کی زندگی کو کامیاب بناننے کے لیے یہ جاننا ہوگا کہ اس کے لیے خالق کا کریشن پلان کیا ہے۔(بنگلور کا سفر)
تمام مذاہب سچے ہیں
کچھ ہندو حضرات سے ملاقات ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ ہمارا ماننا یہ ہے کہ تمام مذہب سچے ہیں۔ آدمی جس مذہب کی بھی پیروی کرے وہ نجات پاجائے گا۔ انہوںنے کہا کہ راستے جُدا ہوسکتے ہیں مگر منزل ایک ہے۔
میںنے کہا کہ ایک تصرف کے ساتھ آپ کی بات درست ہے۔ وہ یہ کہ تمام مذاہب سچے تھے، مگر بعد کو ہر مذہب کے اندر تبدیلیاں ہوگئیں۔ اب صرف قرآن غیر محرّف حالت میں ہے۔ بقیہ تمام مذہبی کتابیں تحریف کی بنا پر غیر مستند ہوچکی ہیں۔ اس لیے اصولی طورپر ہر مذہب کی ابتدائی صداقت کو مانتے ہوئے میں کہوں گا کہ اب قابلِ تقلید کتاب صرف قرآن ہے۔ اب نجات کا دارومدار صرف قرآن کے اتباع پر ہے۔ یہ اس لیے نہیں کہ قرآن افضل کتاب ہے بلکہ اس لیے کہ قرآن دوسری مذہبی کتابوں کے مقابلے میں محفوظ اور مستند حالت میں موجود ہے۔(بنگلور کا سفر)
قومی ذہن، دعوتی ذہن
موجودہ زمانہ میں دعوتی نقطۂ نظر سے سب سے بڑا حادثہ یہ پیش آیا ہے کہ قومی شکایتوں کو لے کر مسلمان تمام دنیا کو اپنا دشمن سمجھنے لگے۔ ہندو، یہودی، عیسائی، امریکن، یوروپین، سب کے سب مسلمانوں کو اپنے دشمن نظر آتے ہیں۔ اُن کو دکھائی دیتا ہے کہ یہ سب لوگ مسلمانوں کے خلاف سازش میں مشغول ہیں۔ اس منفی سوچ کا نتیجہ یہ ہُوا کہ’’ انسانیتِ عامّہ‘‘ مسلمانوں کا کنسرن نہ رہی۔
اسلام کی حقیقی تعلیمات ایک مومن کو انسان فرینڈلی بناتی ہیں۔ جس آدمی کا ذہن قرآن سے بنا ہو وہ دوسری قوموں کو رحمت وشفقت کی نظر سے دیکھے گا۔ وہ یک طرفہ طور پر اُن کا خیر خواہ بنا رہے گا۔ اِسی کا نام مثبت ذہن ہے۔ یہ مثبت ذہن جب مسلمانوں میں ہو تو اس کے نتیجے میں اُن کے اندر حوصلہ اور آفاقیت پیدا ہوگی۔ وہ ہر شعبے میں کامیاب رہیں گے۔ اسی کے ساتھ اُن کا یہ مثبت ذہن دعوت کے عمل کو تیز تر کرنے میں معاون بنے گا۔ (ممبئی کا سفر، نومبر 2004)
ڈبیٹ، دعوت
ایک صاحب کے سوال کا جواب دیتے ہوئے میںنے کہا کہ آرٹ آف تھنکنگ کا سب سے بڑا راز یہ ہے کہ آپ ایک چیز اور دوسری چیز کے فرق کو جانیں۔ مثال کے طورپر آپ لوگ اکثر ڈبیٹ (debate) کو دعوت کہتے ہیں۔ حالاں کہ ڈبیٹ اور دعوت میں بنیادی فرق ہے۔ ڈبیٹ اپنے مقابل میں دوسرے کو زیر کرنے کے لیے ہوتا ہے۔ ڈبیٹ در اصل ایک قسم کی تقریری پہلوانی ہے۔ اس کے مقابلہ میں دعوت ایک درد مندانہ عمل ہے۔ دعوت کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ فریقِ ثانی کو دل سوزی کے انداز میں سچائی کا پیغام پہنچایا جائے تاکہ وہ اُسے اپنے دل کی بات سمجھے اور اُس کو قبول کرلے۔
ڈبیٹ (مناظرہ) اور دعوت دونوں کے نتائج ایک دوسرے سے بالکل مختلف ہیں۔ ڈبیٹ سے ڈبیٹر کے اندر فخر کا جذبہ پیدا ہوتا ہے اور دوسری طرف فریقِ ثانی کے اندر وہ نفرت کا جنگل اُگاتا ہے۔ ڈبیٹ اپنے نتیجے کے اعتبار سے دعوت کا قاتل ہے۔ دعوت کا معاملہ اس سے بالکل مختلف ہے۔ دعوت در اصل محبت و شفقت کا اظہار ہے۔ وہ داعی کے اندر احساسِ ذمے داری کو جگاتی ہے اور دوسری طرف مَدعو کے اندر یہ احساس پیدا کرتی ہے کہ وہ اپنے اندر نظر ثانی کرے اور سچائی کا متلاشی بن جائے، یہاں تک کہ سچائی کو اپنا کر وہ خدا کے ان بندوں میں شامل ہوجائے جن سے خدا قیامت میں راضی ہوگا۔(ممبئی کا سفر، نومبر 2004)
اسلام پر اعتراض کا جواب
ایک صاحب نے معترضین اسلام کا سروے کرکے ساٹھ سوالات بنائے تھے۔ انہوں نے یہ سوالات مجھ کو لکھ کر دیے۔ انہوں نے کہا کہ آپ ان سوالات کا جواب تیار کردیں تو ہم ان کو شائع کرکے بڑی تعداد میں پھیلائیں گے تاکہ اسلام کے خلاف غلط فہمیاں ختم ہوں۔ میںنے کہا کہ یہ کوئی صحیح طریقہ نہیں۔ یہ سوالات ہمیشہ سُنی سنائی باتوں پر ہوتے ہیں۔ وہ کسی گہری سوچ کا نتیجہ نہیں ہوتے۔ یہی وجہ ہے کہ لوگ سوال کاجواب دیتے رہتے ہیں مگر اسلام کے خلاف غلط فہمیاں ختم نہیں ہوتیں۔ صحیح بات یہ ہے کہ لوگوں کے اندر آرٹ آف تھنکنگ پیدا کی جائے۔ لوگوں کو صحیح طرز پر سوچنے والا بنایا جائے۔ اِس کے بعد لوگ خود ہی ہر سوال کا جواب پالیں گے۔ (ممبئی کا سفر، نومبر 2004)
فطرت کو موقع دینا
29 نومبر 2003 کو ناگپور سے دہلی کے لیے میں آندھراپردیش ایکسپریس کے ذریعہ سفر کررہا تھا۔ میرے کَیبن میں ایک ریلوے افسر سفر کر رہے تھے۔ ابتدا میں وہ مجھ سے بالکل بے تعلق رہے۔بظاہر ایسا محسوس ہوتا تھا کہ وہ ایک مغرور آدمی ہیں۔ مگر جب اُنہوں نے مجھ کو قریب سے دیکھا اور میری چند باتیں سنیں، تو وہ بالکل بدل گئے، اور مجھ سے نہایت تواضع کے ساتھ پیش آنے لگے۔ ( واردھا کا سفر)
مدعو کی رعایت
ایک اور سوال کی وضاحت کرتے ہوئے میں نے کہاکہ دعوتی کام کرنے کے لیے ہم نے بہت سے بروشر اور پمفلٹ انگریزی زبان میں شائع کیے ہیں۔ یہ اس لیے ہیں کہ آپ اور دوسرے تمام لوگ ان کو حاصل کرکے اپنے اپنے حلقے میں پھیلائیں۔ ہر ایک کو چاہیے کہ وہ اپنے ہینڈبیگ میںاُن کو رکھے اور ملاقات اور انٹریکشن کے دوران وہ اُنہیں لوگوں تک پہنچا تا رہے۔ ان میں اسلام کو عمومی اور آفاقی انداز میں پیش کیا گیا ہے۔ ہم نے دیکھا کہ مسلمانوں کی تیار کی ہوئی تمام کتابیں شعوری یا غیر شعوری طورپر مسلمانوں کے ذہن کو سامنے رکھ کر لکھی گئی ہیں۔ اس لیے وہ غیرمسلموں کے ذہن کو ایڈریس نہیں کرتیں۔ ہم نے ان کتابچوں کو عمومی انسانی انداز میں تیار کیا ہے۔ تاکہ ہر ایک اس میںسے اپنے تجسس کا جواب پاسکے۔ یہ کتابیں مختصر ہونے کی بنا پر ایسی ہیں کہ آدمی فوراً ہی ان کو پڑھ لے۔ (ممبئی کا سفر، نومبر 2004)
ختم نبوت کا مطلب
ایک موقع پر میں نے ایک حدیث کی وضاحت کی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ: میرے اوپر نبوت ختم ہوگئی، میرے بعد کوئی اور نبی آنے والا نہیں (مسند احمد، حدیث نمبر 23358)۔ اس کا مطلب سادہ طور پر صرف یہ نہیں ہے کہ گنتی کے اعتبار سے پیغمبروں کی فہرست مکمل ہوگئی، بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ پیغمبر اسلام کے بعد اب کسی اور پیغمبر کے آنے کی ضرورت باقی نہیں رہی۔ وہ اسباب ختم ہوگئے، جس کی وجہ سے بار بار پیغمبر بھیجے جاتے تھے۔
میںنے کہا کہ پیغمبر کا مقصد ہدایتِ الٰہی کو انسانوں تک پہنچانا ہے۔ اس کے لیے پیغمبر کا شخصاً موجود ہونا ضروری نہیں۔ اگر ایک ایسا گروہ موجود ہو جو پیغمبر کے نمائندے کی حیثیت سے امرِ حق لوگوں تک پہنچاتا رہے تو ایسی حالت میں پیغمبر مبعوث نہیں کیا جائے گا۔ پیغمبر اسلام کے بعد تاریخ میں پہلی بار ایسا ہوا کہ خدا کا کلام (قرآن) اپنی اصلی حالت میں مکمل طورپر محفوظ ہوگیا۔ یہ حفاظت اِس بات کی ضمانت بن گئی کہ ہر نسل میں اور ہر زمانہ میں ایسے افراد موجود رہیں، جو ہدایتِ الٰہی کی صحیح معرفت حاصل کرکے اُسے دوسروں تک پہنچائیں۔ پیغمبر آخر الزماں سے پہلے اس قسم کی ضمانت موجود نہ تھی اس لیے بار بار پیغمبر بھیجے جاتے رہے۔(ممبئی کا سفر، نومبر 2004)
سفر میں دعوت
ایک مجلس میں میں نے بتایا کہ موجودہ زمانہ میں سفر دعوت کا بہترین ذریعہ ہے۔ اس سلسلے میں میں نے مولانا محمد ذکوان ندوی کا ایک تجربہ بتایا۔ یہ تجربہ ان کے بیان کے مطابق یہ ہے:
’’جون 2005 کو میں نے دہلی اور لکھنؤ کے درمیان ایک سفرکیا۔ یہ سفر گومتی ایکسپریس کے ذریعہ ہوا۔ جب میں اپنی ڈائری لکھ رہا تھا، تومیرے ہم سفر مسٹر ہریش نے سوال کیا: آپ کیا لکھ رہے ہیں؟ میں نے کہا : ڈائری۔ اِس طرح بات چیت شروع ہوئی۔ پھر میں نے انھیں گڈ ورڈ بکس سے چھپے ہوئےہندی اورانگریزی کے کچھ دعوتی پمفلیٹس دیے۔اس کو انھوں نے پڑھا۔وہ ان سے کافی متأثر ہوئے، اور انہوں نے کہا میں آپ لوگوں سے ملنے آؤں گا۔ مسٹر ہریش دہلی کے ایک ٹی وی چینل(آنکھوں دیکھی) کے نمائندہ ہیں۔ انہوں نے کہاکہ آپ کوجب بھی کو ئی پروگرامکرنا ہو، فون کیجئے ۔ میں اپنی ٹیم کے ساتھ آؤں گا اور پروگرام ریکارڈ کرکے نشر کروں گا۔
دوسری سیٹ پر بیٹھے ہوئے ایک صاحب مسٹر شنکر رَونِیار (غازی آباد) نے بھی بڑھ کر ایک پمفلٹ لیا اور اس کو پڑھنے کے بعد کہا: بہت اچھا لکھا ہے۔ مگر اس میں کچھ کٹّر پنتھ ہے۔ میں نے کہا کہ پمفلٹ میں لکھی ہوئی کوئی ایک بات بتائیے جس سے آپ نے یہ جانا کہ اس میں کٹر پنتھ ہے؟ اس پر وہ خاموش ہوگئے۔ پھر انہوں نے کہا : اسلام میں چار شادی کا حُکم ہے جس کی کوئی لاجک میری سمجھ میں نہیں آتی۔ میں نے کہا: آپ کی عمر مجھ سے بہت زیادہ ہے، آپ مجھے کسی ایک مسلم فیملی کا نام بتائیے جس نے چار شادیاں کی ہوں۔ تھوڑی دیر خاموش رہنے کے بعد انہوں نے کہا: میرے علم میں تو ایسا کوئی آدمی نہیں۔ میں نے کہا: جو چیز عملاً موجود نہیں اس میں اُلجھنے کی ضرورت کیا ہے۔ تھوڑی دیر گفتگو کرنے کے بعد وہ دوسرے پمفلٹ دیکھنے لگے۔ پھر کافی اختلاط شروع ہوگیا، اور کئی لوگوں نے سوالات شروع کردیے۔ مسٹر شنکر رونیار نے ہندی کتابچہ سَفَلتا کے سُوتر پڑھا اور کہا : اس کا لکھنے والا تو بڑا گیانی معلوم ہوتا ہے۔ وہ کافی متاثر ہوئے، انہوں نے کہا کہ اِس رائٹر سے تو ملنا چاہیے۔ میں ضروردہلی آکر ان سے ملوں گا، اور آشیر واد لوں گا۔ سامنے بیٹھی ہوئی دو ’’غیر مسلم‘‘ خواتین نے بھی دوسرے ہندی انگریزی پمفلٹس کے علاوہ ’’سفلتا کے سوتر‘‘ دیکھا اور بہت پسند کیا۔ میں نے پوچھا کہ آپ نے اس کتابچے سے کیا سیکھا؟ انہوں نے کہا مجھے اس سے حوصلہ ملا، اور میں نے سیکھا کہ آدمی کو کسی بھی حال میں اپنا حوصلہ نہیں کھونا چاہیے۔
دورانِ گفتگو بہت سے لوگوں نے شوق سے CPS کے کتابچے لیے، ایک صاحب مسٹر ہریش کمار (پنجاب) اپنی سیٹ سے اُٹھ کر میرے پاس آئے اور کچھ کتابچے حاصل کیے۔ میں نے ان سے کچھ باتیں کیں اور پوچھا آپ کیا کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا میں نغمے گاتا ہوں۔میں نے کہا کہ سچا نغمہ ایک خدائی نغمہ ہے۔ آپ سچے نغمے گائیے۔ اس پر وہ مسکرائے اور کتابچے لے کر اپنی فیملی کے ساتھ بیٹھ گئے۔ تھوڑی دیر کے بعد میرے پاس آئے اور کہا میں آپ سے مل کر بہت خوش ہوا۔ آپ نے تو میری آنکھیں کھول دیں۔ مجھے آپ سے محبت محسوس ہورہی ہے۔ آپ برائے کرم میری اس کتاب پر ’’اُردو‘‘ میں میرا نام اور اپنا فون نمبر لکھ دیں۔ میں نے کہا آپ اُردو جانتے ہیں۔ انہوں نے کہا نہیں،بس آپ کی یادگار ہوجائے گی۔
دورانِ سفر اِن حضرا ت سے دعوتی انداز میں باتیں ہوتی رہیں۔ اس طرح نو گھنٹے کا یہ سفر خدا کے فضل سے ایک دعوتی سفر بن گیا۔ اپنی منزل پر پہنچنے کے بعد اُن لوگوں نے کہا ’’آپ کا بہت بہت شکریہ کہ آپ کی وجہ سے ہمارا سفر بہت اچھا گذرا۔ اس سفر میں ہمیں سچائی ملی، یہ سفر ہمارے لیے ایک تاریخی سفر بن گیا۔‘‘
یہ تجربہ بتاتا ہے کہ موجودہ زمانہ میں دعوت کے امکانات کتنے بڑھ گئے ہیں۔ سفر اور دوسرے مواقع پر ایسا ہوتا ہے کہ بار بار لوگوں سے ملاقاتیں ہوتی ہیں، اگر آدمی کے اندر داعیانہ ذہن موجود ہو تو وہ ان ملاقاتوں کو کامیابی کے ساتھ دعوت کے لیے استعمال کرسکتا ہے۔(ممبئی کا سفر، نومبر 2004)
دعوتی مزاج، فقہی مزاج
17 جولائی 2005 کو اتوار کا اسپریچول کلاس 1، نظام الدین ویسٹ مارکیٹ میںتھا۔ یہاں بلڈنگ کے ایک فلور کو خالی کرکے اس کو ایک ہال کی صورت میں از سر نو بنایا گیا ہے۔ یہ فلور اب ان شاء اللہ اسی خاص مقصد کے لیے استعمال ہوگا۔اس اسپریچول کلاس میں عورت اور مرد دونوں ایک ہال میں بیٹھے ہوئے تھے۔ آج کی ملاقات میں اس پر ایک صاحب نے اعتراض کیا کہ وہاں عورت اور مرد دونوں ایک ہال میں بیٹھے ہوئے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ عورتوں کے لیے ایک علیحدہ کمرہ مخصوص ہونا چاہیے تھا۔ یہ صاحب خود بھی 17 جولائی کے اس پروگرام میں شریک تھے۔
حقیقت یہ ہے کہ معاملے کو دیکھنے کے دو مختلف زاویے ہیں۔ ایک ہے فقہی زاویہ اور دوسرا ہے دعوتی زاویہ۔ فقہی نقطۂ نظر سے آپ کی بات درست ہوسکتی ہے مگر دعوتی مصلحت کے اعتبار سے یہاں دیکھیں تو جو ہورہا ہے وہی آپ کو درست نظر آئے گا۔ آپ چوں کہ دعوتی کام نہیں کررہے ہیں اس لیے آپ اس قسم کی رائے کا اظہار کررہے ہیں۔ اگر آپ اعلیٰ تعلیم یافتہ طبقے میں دعوتی کام کریں تو آپ کی سمجھ میں آئے گا کہ یہاں جو ہورہا ہے عملی طورپر وہی درست ہے۔ یہ دراصل تالیفِ قلب کا مسئلہ ہے اور تالیفِ قلب کی اہمیت کو صرف داعی انسان سمجھ سکتا ہے۔
تالیف قلب کی اہمیت اسلام میں بہت زیادہ ہے۔ اسی لیے زکوۃ کی آٹھ مَدوں میں سے ایک مد تالیفِ قلب کی ہے۔ تالیف قلب سے مراد وہی چیز ہے جس کو دل جوئی کہا جاتا ہے۔ اس کا مقصد یہ ہے کہ لوگوں کے دلوں کو نرم کیا جائے تاکہ وہ کھلے ذہن کے ساتھ اسلام پر غور وفکر کرسکیں۔تالیفِ قلب دراصل ایک دعوتی ضرورت ہے۔ تالیفِ قلب کا مقصد یہ ہے کہ دعوت کے موافق ماحول بنایا جائے۔ اس کی مختلف صورتیں ہیں۔ مثلاً لوگوں کے لیے کوئی مفید رفاہی کام کرنا، لوگوں کے مزاجی بگاڑ کی بنا پر ان کی رعایت کرنا، داعی اور مدعو کے درمیان حالات کو معتدل بنانا، لوگوں کو کس نوعیت کا مادّی فائدہ پہنچانا تاکہ وہ اس سے متاثر ہو کر اسلام پر غور وفکر کرسکیں۔ خلاصہ یہ کہ بزنس میں جس چیز کو کسٹمر فرینڈلی سلوک کہا جاتا ہے، اسی کو مدعوکے اعتبار سے استعمال کرنے کا نام تالیف قلب ہے، یعنی مدعو فرینڈلی سلوک اختیار کرنا۔ (بنگلور کا سفر)
خیرخواہی کا ذہن
ایک سوال یہ تھا کہ غیر مسلموں میں اسلام کا پیغام کیسے پہنچایا جائے۔ میں نے کہا کہ اس سلسلے میں سب سے پہلا کام یہ ہے کہ ان لوگوں کو کافر کہنا چھوڑ دیا جائے۔ حتی کہ دل سے بھی انہیں ایسا نہ سمجھا جائے۔ ان کو صرف انسان سمجھا جائے اور انسان کہا جائے۔ جب تک ایسا نہیں ہوگا ان کے لیے آپ کے دل میں سچی خیر خواہی پیدا نہیں ہوگی، اور سچی خیر خواہی کے بغیر دعوتی کام کا آغاز ہی نہیں ہوسکتا۔
میں نے کہا کہ ایک بزنس مین لوگوں کو صرف کسٹمر کے روپ میں دیکھتا ہے، وہ ان کو مسلم اور کافر، یا اپنی قوم اور غیر قوم کے الفاظ میں نہیں بانٹتا، وہ سب کو یکساں طورپر انسان کے روپ میں دیکھتا ہے۔ اسی طرح سچا داعی وہ ہے ،جو انسان کو اپنے اور غیر، یا دوست اور دشمن میں تقسیم نہ کرے، بلکہ سب کے لیے شفقت کا وہی جذبہ رکھے، جو ایک ماں کے دل میں اپنی اولاد کے لیے ہوتا ہے۔ رسول اللہ نے عرب میں دعوتی کام شروع کیا تو آپ نے یہ فرمایا اے انسانو!، اے میری قوم والو!۔
پیغمبر لوگوں کی ہدایت کا حریص ہوتا ہے۔ یہی پیغمبر کا سب سے بڑا دعوتی سرمایہ ہے۔ آپ قرآن کو پڑھیں تو اس میں اس قسم کی کوئی چیز نہیں ملے گی جس کو آج کل پروگرام کہا جاتا ہے۔ مگر رسول اور اصحابِ رسول کے دل میں لوگوں کی ہدایت کے لیے بے پناہ شفقت اور خیر خواہی موجود تھی۔ یہی جذبہ ان کے لیے دعوتی کام کا سب سے بڑا رہنما بن گیا۔ حقیقت یہ ہے کہ داعی ایک پروگرام ساز انسان ہوتا ہے۔ وہ ہر موقع کے لیے خود ہی پروگرام وضع کرلیتا ہے۔
ایک سوال کے جواب میں میں نے کہا کہ آج کل دعوت کے نام پر بہت سے کام کیے جارہے ہیں، مگر میرے علم کے مطابق یہ سب مطلوب دعوتی کام نہیں۔ ان کاموں میں سے کوئی ڈبیٹ ہے، کوئی اصلاح ہے، کوئی کمیونٹی ورک ہے اور کوئی قومی یا سیاسی کام ہے۔ بذاتِ خود یہ سب کام مفید ہوسکتے ہیں، مگر ان کاموں کو دعوت الی اللہ کا کام نہیں کہا جاسکتا۔(بنگلور کا سفر)
عصر حاضر کا فتنہ
ایک اور بات جو سمجھ میں آئی وہ یہ کہ قدیم زمانہ کا فتنہ اگر شرک تھا تو موجودہ زمانہ کا فتنہ مادّیت یا مال ہے، جیسا کہ حدیث میں آیا ہے: إِنَّ لِکُلِّ أُمَّةٍ فِتْنَةً وَفِتْنَةُ أُمَّتِی الْمَالُ (جامع الترمذی، حدیث نمبر 2336)۔ یعنی بیشک ہر امت کا ایک فتنہ ہے، اور میری امت کا فتنہ مال ہے۔اس کا مطلب یہ ہے کہ نبوت محمدی کے ظہور کے بعد ایک زمانہ ایسا آئے گا جب کہ مال یا مادّیت سب سے بڑا فتنہ بن جائے گا۔
پٹا پرتھی میں تقریباً پچاس ہزار لوگ جمع تھے۔ ان کی ننانوے فیصد تعداد ہندو کمیونٹی سے تعلق رکھتی تھی۔ یہی منظر دوسرے ہندو پیشواؤں کے یہاں نظر آتا ہے۔ عورت اور مرد دونوں بہت بڑی تعدادمیں ان کے آشرموں میں آتے ہیں تاکہ ان کا آشیرواد لے سکیں۔ اس تمام بھیڑ کا محرّک صرف ایک ہے اور وہ ہے مادّی برکت حاصل کرنا۔ ایسے لوگوں کو اگر اسلام کا پیغام پہنچایا جائے تو وہ اس کی طرف اسی وقت متوجہ ہوںگے جب کہ انہیں اسلام میں مادّی فائدہ دکھائی دے، جیسا کہ گُرو لوگوں کے درشن اور آشیرواد سے وہ مفروضہ طور پر سمجھتے ہیں۔ گروؤں کی یہ ساری مقبولیت دراصل فرضی امیدوں کی تجارت (false hopes business) کے ہم معنی ہے، اس کے سوا وہ اورکچھ نہیں۔
ایسی حالت میں اسلام کا مؤثر دعوتی اپروچ یہ ہوسکتا ہے کہ اسلام کے تصور جنت کو اُن کے سامنے نمایا ںکیا جائے۔ لوگوں کو بتایا جائے کہ آپ لوگ اپنا جو مادّی محل بنانا چاہتے ہیں وہ موجودہ دنیا میں بننے والا نہیں۔ موت کے بعد جنت کی دنیا ہی میں آپ کو اپنی خوشیوں کا محل مل سکتا ہے۔ جس جنت کو آپ قبل از موت مرحلۂ حیات میں تلاش کررہے ہیں، وہ صرف بعد از موت مرحلۂ حیات میں حاصل ہوسکتا ہے۔میرے تجربہ کے مطابق یہی اسلوب زیادہ مؤثر ہے۔ اس کو دین کی مادّی تعبیر نہیں کہا جاسکتا۔ کیوں کہ مادّی تعبیر ہمیشہ مادّی دنیا کے حوالے سے کی جاتی ہے۔ جب کہ جنت کی بات جب بھی کی جائے گی آخرت کے حوالے سے کی جائے گی۔ اس کو جنتی تعبیر تو کہہ سکتے ہیں لیکن اس کو مادّی تعبیر نہیں کہا جاسکتا۔(بنگلور کا سفر)
مدعو سےمیل جول
پٹا پرتھی کے سفر سے پہلے میری ملاقات دہلی میں ایک صاحب سے ہوئی، جو ایک بڑے مدرسے میں تدریس کا کام کرتے ہیں۔ اُن سے اِس سفر کا ذکر ہوا تو انہوں نے کہا کہ سائی بابا کے ماننے والے تو اُن کو خدا کہتے ہیں، اس قسم کا عقیدہ کھلا ہوا شرک ہے۔ اس مشرکانہ ماحول میں جانا آپ کے لیے درست نہیں۔ مگر اس کانفرنس میں شرکت کے بعد مجھے ایک ایسی حقیقت دریافت ہوئی جو دعوتی کام کرنے والوں کے لیے بہت ضروری ہے۔ یہاں مجھے معلوم ہوا کہ سائی بابا خود تو اپنے کو خدا نہیں بتاتے ہیں، مگر ان کے معتقدین ان کے بارے میں ایسا ہی کہتے ہیں۔ مگر اہم بات یہ ہے کہ اس کانفرنس میں مجھے اسلام پر بولنے کے لیے بلایا گیا۔ کسی شرط کے بغیر ایک عظیم مجمعے کے سامنے مجھے اسلام پر بولنے کا موقع دیا گیا۔ میں نے اپنی تقریر میںصاف طورپر کہا کہ اسلام کا مقصد ہے انسان کو خدا کا پرستار (worshipper of God) بنانا۔ سائی بابا کے معتقدین ان کی حد درجہ تعظیم کرتے تھے۔ مگر میں یہاں اسی طرح رہا، جس طرح سیکولر کانفرنسوں میں رہتا ہوں۔ میری تقریر کے بعد کسی نے اس پر اعتراض نہیں کیا، بلکہ ہرایک نے اس پر اپنی پسندیدگی کا اظہار کیا۔ خود سائی بابا نے کہا کہ ہم اپنے اسکولوں میں قرآن کو پڑھاتے ہیں، اور ہم اس پر پورا عقیدہ رکھتے ہیں۔
اس تجربے سے مجھے ایک اہم حقیقت کا علم ہوا۔ وہ یہ کہ اکثر ایسا ہوتا ہے کہ کوئی آدمی ایک لفظ بولتا ہے وہ اس لفظ کو خود اپنے ذہن کے اعتبار سے بولتا ہے مگر سننے والا اس کو اپنے ذہن کے اعتبار سے لے لیتا ہے۔ اس سے غیر ضروری قسم کے مسائل پیدا ہوجاتے ہیں۔ مثلاً سیکولر زم کے لفظ کو لیجیے، جدید تعلیم یافتہ لوگ سیکولرزم کا لفظ کثرت سے استعمال کرتے ہیں۔ اس کو سُن کر مذہبی لوگ غصہ ہوتے ہیں۔ وہ سمجھ لیتے ہیں کہ جدید تعلیم یافتہ طبقہ مذہب کا دشمن ہے۔ حالانکہ یہ صرف سمجھنے کا فرق ہے۔ جدید تعلیم یافتہ طبقہ سیکولرازم کو سادہ طورپر ایک جمہوری طریقے کے معنی میں لیتا ہے، اس کے برعکس مذہبی طبقہ سیکولرازم کا ترجمہ ’’لادینیت‘‘ کرکے اُس کو اینٹی مذہب کے معنی میں لے لیتا ہے۔ اس سے مسائل پیدا ہوتے ہیں۔حالاں کہ سیکولرازم صرف ایک غیر جانب دارانہ پالیسی کا نام ہے ،نہ کہ کسی مخالفانہ پالیسی کا نام ۔(بنگلور کا سفر)
اسلامی تحریک کی ابتدا
ایک تعلیم یافتہ مسلمان کے ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے میں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے تیئس سالہ دورِ نبوت کو دو دوروں میں تقسیم کیا جاسکتا ہے —مکّی دور اور مدنی دور۔ یہ دونوں دور تدریجی دور نہیں تھے، بلکہ وہ اضافی (relative) دور تھے۔ دونوں کے درمیان فرق کی اس نوعیت کو سمجھنا بہت ضروری ہے۔
بعض لوگوں نے ان دونوں دوروں کو لے کر اسلام کا ایک انقلابی نظریہ بنایا ہے۔ وہ اس کے حوالے سے کہتے ہیں کہ اسلام کی تحریک دعوت سے شروع ہوتی ہے پھر پُر امن مزاحمت (passive resistance) کا زمانہ آتا ہے۔ اُس کے بعد ہجرت ہوتی ہے اور پھر اہلِ ایمان منظّم ہو کر جنگی اقدام شروع کردیتے ہیں۔ یہ تقسیم سر تا سر بے بنیاد ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ مکّی دور اور مدنی دَور اسلام کی عملی تاریخ کا حصہ ہیں، وہ دعوت الی اللہ کی کسی نظری ترتیب کا اظہار نہیں۔
اصل یہ ہے کہ اسلامی تحریک ہمیشہ دعوت سے شروع ہوتی ہے۔ دعوت سے مراد خدا کے پیغام کو خدا کے بندوںتک پُر امن طورپر پہنچانا ہے۔ اسلامی تحریک اپنے آغاز میں بھی دعوت ہے، اور اپنے اختتام میں بھی دعوت۔ دعوت کے سوا اسلامی تحریک کا کوئی ابدی نشانہ نہیں۔ انسان چوں کہ پیدا ہوتے ہیں، اور کچھ سالوں کے بعد مرجاتے ہیں، اس لیے دعوت کا عمل ایک ایسا عمل ہے، جو ایک جنریشن کے بعد دوسری جنریشن میں جاری رہتا ہے۔ یہ دعوتی عمل جاری رہے گا، یہاںتک کہ قیامت آجائے۔
دعوت کے بعد مزید جو واقعات پیش آتے ہیں ان کا تعلق داعی سے نہیں ہے بلکہ ان کا تعلق مدعو سے ہے۔ دعوت کا عمل یکساں نوعیت کا ایک عمل ہے مگر جن انسانوں کے درمیان دعوت کا عمل کیا جاتا ہے وہ ہمیشہ یکساں نہیں ہوتے۔ دوسرے انسانوں کا یہی فرق مختلف قسم کے واقعات کو ظہور میں لانے کا اصل سبب ہے۔ پیغمبروں کی تاریخ بتاتی ہے کہ دعوت کے بعدکبھی طوفانِ نوح جیسا واقعہ پیش آیا، کبھی مدعو کی طرف سے وہ صورت پیش آئی، جس کا ایک نمونہ حضرت یونس کی زندگی میں ملتا ہے۔ کبھی وہ واقعہ پیش آیا ،جس کی ایک مثال حضرت یوسف کے معاصر بادشاہ کے یہاں دکھائی دیتی ہے۔ اسی طرح مختلف پیغمبروں کے یہاں مختلف نمونے نظر آتے ہیں۔انہی میں سے ایک نمونہ وہ ہے جس کی مثال پیغمبر اسلام کے زمانے میں مکّی اور مدنی دورکی صورت میں پیش آیا۔
اب عالمی افکار کے انقلاب کے بعد دنیا میں بالکل نئی صورت ِ حال سامنے آئی ہے۔ اب دعوت کا طریقہ اور مدعو کا ردّ عمل دونوں بدل چکے ہیں۔ دورِ قدیم کے تجربات کو لے کر بعض یہ کہتے ہیں کہ موجودہ زمانے میں بھی ہم کو اسی طریقے کو دہرانا ہے، مثلاً وہ کہتے ہیں کہ قدیم زمانہ کے داعی آگ میں ڈالے گئے اور اُن سے جنگ کی گئی اور ان کو ملک بدر کیا گیا، یہ سب واقعات موجودہ زمانے کے داعیوں کے ساتھ بھی پیش آنے چاہئیں، ورنہ ان کی دعوت پیغمبرانہ دعوت نہیں قرار پائے گی۔
اس قسم کا نظریہ بلاشبہ ایک بے بنیاد نظریہ ہے۔ اس قسم کے واقعات کا تعلق دعوت سے نہیں بلکہ مدعو کے ردّعمل سے ہے۔ قرآن میںاہلِ ایمان کو یہ دعا سکھائی گئی تھی :رَبَّنَا وَلَا تَحْمِلْ عَلَیْنَا إِصْرًا کَمَا حَمَلْتَہُ عَلَى الَّذِینَ مِنْ قَبْلِنَا (2:286)۔ یعنی اے ہمارے رب! ہم پر بوجھ نہ ڈال جیسا تونے ڈالا تھا ہم سے اگلوں پر۔
حقیقت یہ ہے کہ نبوتِ محمدی کے ظہور کے بعد تاریخ میںتدریجی تغیر کا ایک عمل شروع ہوا۔ جس کے نتیجے میںآخر کار یہ ہوا کہ اسلامی دعوت کے راستے کی تمام رُکاوٹیں ختم ہوگئیں، اور داعیوں کے لیے یہ ممکن ہوگیا کہ وہ آزادانہ ماحول میں دعوت الی اللہ کا عمل جاری کرسکیں۔ مگر بد قسمتی سے زمانۂ جدید کے یہ قیمتی مواقع استعمال نہ ہوسکے۔اس کا سب سے بڑا سبب مذکورہ قسم کا نام نہاد انقلابی نظریہ ہے۔ اس نظریے کے ماننے والوں کے دماغ میں یہ بسا ہوا تھا کہ اگر زندان وسلاسل کی جھنکار بلند نہ ہو اور جنگ وجدال کا معرکہ گرم نہ ہو تو اس کا مطلب یہ ہوگاکہ دعوت الی اللہ کا کام ہی نہیں ہُوا۔ چنانچہ انہوں نے خود ساختہ طور پر مُڈبھیڑ اور مسلّح ٹکراؤ کی صورتیں پیدا کر رکھیں ہیں، اور اس کے بعد پُر فخر طورپر کہتے ہیں کہ دیکھو، ہم وہ لوگ ہیں ،جو حقیقی دعوت الی اللہ کا کام کرتے ہیں۔
انقلابی اسلام کے ان نام نہاد مجاہدین پر صحابیٔ رسول حضرت عبد اللہ بن عمر کے الفاظ صادق آتے ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سخت ہدایات کے باوجود جب خلافت راشدہ کے آخری زمانے میں مسلمان اسلام کے نام پر خونیں لڑائی لڑنے لگے، اُس وقت حضرت عبد اللہ بن عمر نے اس کے خلاف آواز بلند کی۔ انہوں نے کہا کہ تم لوگ اپنے اس متشددانہ عمل کو جہاد سمجھتے ہو حالاں کہ وہ ہر گز جہاد نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے رسول اللہ کی قیادت کے تحت لڑکر فتنے کو ہمیشہ کے لیے ختم کردیا تھا، اب تم اپنی خود ساختہ لڑائی کے تحت اس ختم شدہ فتنے کو دوبارہ زندہ کررہے ہو۔ (صحیح البخاری، حدیث نمبر 4513)(بنگلور کا سفر)
اسلام کیوں قبول کیا
میرے ساتھی نے نومسلم سے پوچھا کہ آپ یہودیت کو چھوڑ کر اسلام میں کیسے آئے۔ انہوں نے جواب دیا کہ پہلے گویا کہ میں چاند پر تھا اور اب میں زمین پر آگیا ہوں:
Earlier I was living on the moon, now I am living on earth.
مذکورہ نومسلم کا مطلب یہ تھا کہ پہلے میں اپنی فطرت کی مطلوب دنیا کے لیے گویا خلا میں سرگرداں تھا اب میںنے اپنی فطرت کی آواز کے مطابق یہ مطلوب دنیا پالی ہے۔ ان کو اسلام کی یہ دریافت ایک صوفی بزرگ کے ذریعہ ہوئی۔ وہ مادّی دنیا سے غیر مطمئن تھے۔ مادی ترقیوں میں انہیں اپنی فطرت کا جواب نہیں مل رہا تھا۔ پھر جب وہ صوفی بزرگ سے ملے تو انہیں روحانیت کی سطح پر اپنی فطرت کا جواب مل گیا۔ میں نے دیکھا کہ وہ اب نہایت اطمینان کی حالت میں ہیں۔ ان کو کامل ذہنی سکون مل گیا ہے۔ وہ اپنا زیادہ وقت ذکر اور تسبیح میں گزارتے ہیں۔ (اسپین کا سفر)
واپس اوپر جائیں

جاننے والوں کا نہ جاننا

ایک صاحب سے ملاقات ہوئی۔ وہ ایک اسکول میں ٹیچر ہیں۔ انھوں نے بتایا کہ الیکشن سے پہلے ہمارے اسکول کے تمام اسٹودنٹ ، ایک کمیونٹی والے اور دوسری کمیونٹی والے ،دونوں مل جل کر رہتے تھے۔ لیکن الیکشن کے بعد ان کے اندر دوری آگئی۔ ہر کمیونٹی کا اسٹودنٹ دوسری کمیونٹی کے اسٹوڈنٹ کو اپنا غیر سمجھنے لگا۔
اس صورتِ حال کا الزام وہ پوری طرح دوسری کمیونٹی کو دے رہے تھے۔ یہی تمام لوگوں کا حال ہے۔ تمام لوگ صورتِ حال کی ذمے داری تمامتر دوسری کمیونٹی پر ڈالے ہوئے ہے۔ وہ اپنی کمیونٹی کو مکمل طور پر معصوم، اور دوسری کمیونٹی کو مکمل طور پر ذمے دار سمجھتے ہیں۔ یہ سراسر بے خبری کی بات ہے۔ نیوٹن (1643-1727)کا مشہور فارمولاہے— ہر عمل کا برابر مگر مخالف ردعمل ہوتا ہے
For every action, there is an equal and opposite reaction.
یہ ایک فطرت کا قانون ہےجس کو نیوٹن نے دریافت کیا تھا، اس لیے اس کو نیوٹن سے منسوب کردیا گیا۔ نیوٹن نے یہ فارمولا مٹیریل ورلڈ کے بارے میں دریافت کیا تھا، لیکن یہی فارمولا خود انسانی دنیا پر بھی منطبق (apply) ہوتا ہے۔ مادی دنیا میں یہ فارمولا غیر شعوری انداز میں منطبق ہوتا ہے، اور انسانی دنیا میں یہ فارمولا شعور کے ساتھ منطبق ہوتا ہے۔
پچھلے دو الیکشن میں ایک کمیونٹی نے سارے ملک میں اس پالیسی پر عمل کیا کہ مخالف پارٹی کو ہراؤ۔ اس نشانے کے لیے پورے ملک میں ایک ملک گیر تحریک چلائی گئی۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ دوسری پارٹی میں اس کا ری ایکشن ہوا۔ ایک کمیونٹی نے جب دوسری کمیونٹی کے بارے میں یہ ایجنڈا اختیار کیا کہ ہمیں دوسری کمیونٹی کو ہرانا ہے، تو دوسری کمیونٹی کے لوگوں میں اس کے رد عمل کے طور پر یہ ذہن عام ہوگیا کہ ہم کو اپنی کمیونٹی کو جتانا ہے۔ غیریَّت(Otherness ) کے اس ماحول میں فطری طور پر ایک دوسرے کے خلاف نفرت پیدا ہوئی۔ ہارنے والی کمیونٹی کے بس میں صرف نفرت تھی، اس نے نفرت کی بات کا چرچا کیا۔ جیتنے والی کمیونٹی کے پاس طاقت تھی، اس نے ہارنے والی کمیونٹی کو اپنے انتقام کا شکار بنایا۔ اس پالیسی کے نتیجے میں جیتنے والی کمیونٹی کے حصے میں تو صرف نفرت آئی۔ لیکن ہارنے والی کمیونٹی کے حصے میں فطری طور پر انتقام آیا۔ اب ہارنے والی کمیونٹی اس انتقام کا شکار ہورہی ہے۔ یہ غیریَّت(otherness) کی پالیسی کا نتیجہ ہے۔
اب دوسری کمیونٹی کو دشمن بتاکر اس کو بُرا بھلا کہنا، یہ مسئلے کا حل نہیں ہے۔ یہ طریقہ صرف نقصان میں اضافہ کرنے والا ہے۔ اس طریقے کا نقصان یہ ہوگا کہ ہر موڑ پر ، ہر معاملے میں ہارنے والی کمیونٹی کو جیتنے والی کمیونٹی کی انتقامی کارروائی کا تجربہ ہوگا۔ نفرت کے جواب میں مزید نفرت پیدا ہوگی۔ مسائل بڑھیں گے۔ نوبت یہاں تک پہنچے گی کہ ہارنے والی کمیونٹی کو پہلے جو کچھ ملا ہوا تھا، وہ بھی اس سے چھن جائے گا۔ قدیم روایتیں سب کی سب ٹوٹ جائیں گی۔ مغایرانہ پراسس (othering process) اتنا زیادہ بڑھے گا کہ راستے میں، بازار میں، اسکول اور کالج میں، ہر جگہ ہارنے والی پارٹی کو اس کا انجام بھگتنا پڑے گا۔
اس مسئلے کا حل صرف ایک ہے، اور وہ ہے ہارنے والی کمیونٹی کو اس بات کا دل سے اعتراف کرنا ہوگا کہ اس کی پالیسی غلط تھی۔ وہ اپنے لیڈروں کی جذباتی باتوں کا شکار ہوگئے۔ اب ہارنے والی پارٹی کو یہ کرنا ہوگا کہ اپنے آپ کو مکمل طور پر بدلے۔ وہ غیریت کے بجائےاپنا پن کا طریقہ اختیار کرے، وہ نفرت کے بجائے انسانوں سے محبت کرنا سیکھے۔ وہ دوسرے کی شکایت کرنے کے بجائے اپنی غلطی کا اعتراف کرنے والی کمیونٹی بنے۔
وہ قرآن کی ان آیات کی حکمت کو سمجھے، اور ان کو دل سے اپنی زندگی میں اپنائے:(ترجمہ) اور بھلائی اور برائی دونوں برابر نہیں، تم جواب میں وہ کہو جو اس سے بہتر ہو پھر تم دیکھو گے کہ تم میں اور جس میں دشمنی تھی، وہ ایسا ہوگیا جیسے کوئی دوست قرابت والا۔ اور یہ بات اسی کو ملتی ہے جو صبر کرنے والے ہیں، اور یہ بات اسی کو ملتی ہے جو بڑا نصیب والا ہے۔ اور اگر شیطان تمہارے دل میں کچھ وسوسہ ڈالے تو اللہ کی پناہ مانگو۔ بیشک وہ سننے والا، جاننے والا ہے۔ (41:34-36)
واپس اوپر جائیں

مبنی بر مواقع پلاننگ

اجتماعی زندگی میں کام کرنے کے دو طریقے ہوتے ہیں۔ ایک ہےغیر نزاعی طریقہ (non-confrontational approach)،اور دوسرا ہے نزاعی طریقہ (confrontational approach)۔ موجودہ زمانے میں جو سیاسی طریقہ عام طورپر رائج ہوا ہے، وہ زیادہ تر نزاعی طریقہ ہوتا ہے، یعنی برسرِ اقتدار پارٹی سے نزاع کرتے ہوئے اپنا طریقِ کار متعین کرنا۔ اس معاملے میں دوسرا طریقہ تعمیری طریقہ ہے۔ تعمیری طریقہ غیر نزاعی بنیاد پر بنایا جاتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ موجود صورتِ حال کو بدلنے کی کوشش نہ کرنا، بلکہ غیر نزاعی انداز اختیارکرنا۔حقیقت یہ ہے کہ موجودہ دنیا آزادی کے اصول پر بنی ہے۔ ہر انسان کو مکمل آزادی ہے۔ ایسی حالت میں جب بھی ایک شخص کوئی کام کرتا ہے، تو اس کو فوراً محسوس ہوتا ہے کہ اس کے کام اور دوسرے کے کام میں ٹکراؤ ہے۔ ایسی حالت میں طریقِ کار کیا ہونا چاہیے۔
اس سلسلے میں جب پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کا مطالعہ کیا جائے، تو معلوم ہوتا ہے کہ آپ کی سنتوں میں سے ایک سنت وہ ہے، جس کو غیر نزاعی طریقہ کہا جاسکتا ہے۔ اس معاملے کی ایک مثال یہ ہے کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے قدیم مکہ میں اپنا مشن شروع کیا، تو اس وقت جو لوگ وہاں آباد تھے، ان کی اکثریت بت پرستی یا عبادت اصنام کے کلچر کو مانتی تھی۔ ایسی حالت میں رسول اللہ کے لیے اپنے مشن کو اختیار کرنا، فوری طور پر ٹکراؤ پیدا کرنے والا تھا۔ پیغمبر اسلام نے اس موقع پر وہ طریقہ اختیار کیا، جس کو حضرت عائشہ نے اپنی زبان میں اس طرح بیان کیا ہےمَا خُیِّرَ رَسُولُ اللہِ صَلَّى اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ بَیْنَ أَمْرَیْنِ، أَحَدُہُمَا أَیْسَرُ مِنَ الْآخَرِ، إِلَّا اخْتَارَ أَیْسَرَہُمَا (صحیح مسلم، حدیث نمبر 2327)۔ یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جب بھی دو معاملے میں سے ایک کا اختیار دیاگیا، جن میں سے ایک دوسرے سے آسان ہو، تو آپ نے دونوں میں سے آسان تر کا انتخاب کیا۔
اختیار ایسر کا مطلب ہے، کنفرنٹیشنل میتھڈ کے بجائے نان کنفرنٹیشنل میتھڈ کو اختیارکرنا۔ رسول اللہ نے قدیم مکہ میں اسی اصول کو منطبق (apply)کیا۔ اس کا طریقہ یہ تھا کہ ٹکراؤ کے بغیر جو پہلو آپ کے لیے ممکن تھا، اس کو اختیار کیا۔ اس وقت کے ماحول میں اس کا طریقہ یہ تھا کہ آپ نے بت پرستی کے کلچر سے براہ راست ٹکراؤ نہیں کیا، بلکہ آپ نے دو چیزوں کو ایک دوسرے سے الگ کرکے دیکھا۔ ایک پہلو تھا بت پرستی کا عمل۔ اور اس کا دوسرا پہلو تھا، بت پرستی کلچر کی وجہ سے لوگوں کا وہاں جمع ہونا۔
آپ نے لوگوں کے جمع ہونے کے پہلو کو لیا، اور ان کو اپنے مشن کے لیے بطور آڈینس استعمال کیا۔ سیرت کی کتابوں میں اس کی بہت سی مثالیں موجود ہیں۔ مثلاً مکہ کا ایک واقعہ ان الفاظ میں نقل ہوا ہے عَاصِمُ بْنُ عُمَرَ بْنِ قَتَادَةَ، عَنْ أَشْیَاخٍ مِنْ قَوْمِہِ، قَالُوا:لَمَّا لَقِیَہُمْ رَسُولُ اللَّہِ صَلَّى اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، قَالَ لَہُمْ:مَنْ أَنْتُمْ؟ قَالُوا:نَفَرٌ مِنْ الْخَزْرَجِ، ... قَالَ:أَفَلَا تَجْلِسُونَ أُکَلِّمُکُمْ؟ قَالُوا:بَلَى. فَجَلَسُوا مَعَہُ، فَدَعَاہُمْ إلَى اللَّہِ عَزَّ وَجَلَّ، وَعَرَضَ عَلَیْہِمْ الْإِسْلَامَ، وَتَلَا عَلَیْہِمْ الْقُرْآنَ...وَکَانُوا ہُمْ أَہْلَ شِرْکٍ وَأَصْحَابَ أَوْثَان(سیرت ابن ہشام، جلد1، صفحہ428)۔ یعنی عاصم بن عمر بن قتادہ اپنی قوم کے بزرگوں سے روایت کرتے ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بنو خزرج کے کچھ لوگوں سے ملے، تو آپ نے ان سے کہا کہ تم کون ہو، انھوں نے جواب دیا کہ ہم خزرج کے لوگ ہیں۔ آپ نے کہا کیا تم لوگ بیٹھوگےتاکہ میں تم لوگوں سے بات کروں ؟ انھوں نے کہاکیوں نہیں۔ وہ لوگ آپ کے ساتھ بیٹھ گئے۔ تو آپ نے ان کو اللہ کی طرف دعوت دی ، اور ان کے سامنے اسلام پیش کیا، اور ان کو قرآن پڑھ کر سنایا۔ اور وہ لوگ اہل شرک تھے، اور بت پوجنے والے۔
٭ ٭ ٭ ٭ ٭ ٭
احیائے اسلام کا مطلب ہے ، تبدیلیٔ زمانہ کے اعتبار سے اسلام کا مطالعہ کرکے اسلام کو سمجھنا، اور اپلائی کرنا۔
واپس اوپر جائیں

زندہ قوم، زوال یافتہ قوم

عبد المحیط خان (1932-2010)میرے چھوٹے بھائی ہیں۔ انھوںنے 1955 میں بنارس ہندو یونیورسٹی سے انجینئرنگ کی ڈگری حاصل کی۔ ایک گفتگو کے دوران انہوں نے بنارس ہندو یونیوسٹی کا اپنا ایک ذاتی تجربہ بیان کیا۔
ہندویونیورسٹی میں ان کو لمڈی ہاسٹل (LIMDI Hostel) میں رکھاگیا۔ اس ہاسٹل کے ہر کمرے میں دو طالب علم کے رہنے کا انتظام تھا۔ ہمارے بھائی کا داخلہ ہوا، تو وہاں کے وارڈن مسٹر وی ۔ پی پانڈے (V.P. Panday) نے کہا کہ تم مسلمان ہو۔ تم کو نماز اور قرآن پڑھنا ہوگا، اس لیے میں تم کو ایک غیر مشترک کمرہ دیتا ہوں، تاکہ تم کو کوئی پریشانی نہ ہو۔ یونیورسٹی کے قاعدہ کے مطابق، صرف مانیٹر کو تنہا اورغیر مشترک کمرہ دیا جاتا تھا۔ چنانچہ مسٹر پانڈے نے ہمارے بھائی کو مانیٹر بنا دیا۔ اس پر انہوں نے کہا کہ میں تو پڑھنے لکھنے والا آدمی ہوں، مانیٹری میں کیسے کروں گا۔ مسٹر پانڈے نے کہا تم کچھ مت کرنا،صرف رجسٹر پر دستخط کر دینا، اور بس۔ بقیہ کام دوسرے لوگ کردیں گے۔چنانچہ ہمارے بھائی تعلیم کی پور ی مدت میںاس کمرہ میں غیر مشترک طورپر رہے۔
میرے بھائی نے بتایا کہ اس واقعہ کا ذکر انہوں نے یوپی کے ایک تعلیم یافتہ مسلمان سے کیا۔ انہوں نے یہ بات سن کر میرے بھائی سے کہا کہ’’مسٹر خان، پانڈے نے نہایت ہوشیاری سے آپ کواچھوت بنا دیا۔‘‘ یہ کوئی اتفاقی بات نہیں۔ یہی موجودہ زمانہ کے مسلمانوں کا عام مزاج ہے۔ موجودہ زمانہ کے مسلمان اپنی زوال یافتہ نفسیات کی بنا پر منفی مزاج (negative mentality) کا شکار ہو گئے ہیں۔ ان کو ہر واقعہ میں صرف منفی پہلو دکھائی دیتا ہے۔ حتیٰ کہ مثبت واقعات میں بھی وہ کوئی نہ کوئی منفی پہلو تلاش کر لیتے ہیں۔ اس کی ایک مثال اوپر کا واقعہ ہے۔
یہ زوال یافتہ قوم کا حال ہے۔ مگر جب کوئی قوم عروج کی حالت میں ہو تو اس کا معاملہ اس سے بالکل مختلف ہوتا ہے۔ اس کو ہر واقعہ میں مثبت پہلو دکھائی دیتا ہے۔ حتیٰ کہ وہ اپنے ایجابی مزاج کی بنا پر اس قابل ہوجاتی ہے کہ وہ منفی واقعہ میں بھی مثبت پہلو دریافت کرلے۔
دور اول کے مسلمانوں کے اندر یہ صفت کامل طورپر موجود تھی۔ اس کی ایک تاریخی مثال یہ ہے کہ خلیفہ ٔ ثانی عمر فاروق کے زمانہ میں مسلم فوجیں ایران میں داخل ہوئیں۔ ان کے اقدامات اتنے کامیاب تھے کہ ایرانی فوجی اپنا حوصلہ کھو بیٹھے۔ وہ ان کے بارے میں کہنے لگے  دیواں آمدند، دیواں آمدند (دیو آگئے، دیو آگئے)الأخبار الطوال للدینوری، صفحہ126۔ اس وقت ایرانی حکومت نے جنگ کو روک کر گفت وشنید (negotiation) کا سلسلہ شروع کیا۔ اس دوران مسلم فوج کے کئی وفد ایرانیوں سے ملے۔ آخری وفد عاصم بن عمرو کا تھا۔ انہوں نے شاہ ایران یزدگرد کے دربار میں پہنچ کر جس بے باکی کا مظاہرہ کیا اس سے شاہ ایران غصہ ہوگیا۔ اس نے حکم دیا کہ مٹی کاایک ٹوکرا لایا جائے۔ اس کے بعد اس نے صحابی کے سرپر مٹی کا یہ ٹوکرا رکھوایا اور حکم دیا کہ ان کو اسی حال میں شہر کے باہر نکال دو۔صحابی اپنے گھوڑے پر سوار ہوکر واپس روانہ ہوئے۔ وہ اسلامی فوج کے سردار سعد بن ابی وقاص کے خیمہ میں پہنچے اور مٹی کا ٹوکرا ان کے سامنے رکھ کر پورا قصہ بتایا۔
شاہ ایران کا یہ سلوک بلاشبہ سخت اشتعال انگیز تھا۔ مگر حضرت سعد غصہ نہیں ہوئے۔ اس کے بجائے انہوں نے کہا کہ تم لوگوں کو خوش خبری ہو کیوں کہ خدا کی قسم انہوں نے اپنے ملک کی کنجیاں ہمارے حوالے کر دیں۔مٹی کا ٹوکرا دینے سے انہوں نے یہ فال لیا کہ ایرانیوں نے خود ہی اپنا ملک ہمارے حوالہ کردیا ہے۔(أَبْشِرُوا فَقَدْ وَاللَّہِ أَعْطَانَا اللَّہُ أَقَالِیدَ مُلْکِہِمْ. وَتَفَاءَلُوا بِذَلِکَ أَخْذَ بِلَادِہِمْ) البدایۃ والنہا یۃ ، جلد 9، صفحہ628۔
اس تقابل سے واضح ہوتا ہے کہ زوال کی نفسیات اور عروج کی نفسیات میںکیا فرق ہے۔ زوال کی نفسیات میں مبتلا لوگ محرومی کے احساس میں جیتے ہیں، چنانچہ وہ ہر واقعہ سے منفی غذا لینے لگتے ہیں۔ اس کے برعکس جو لوگ عروج کی نفسیات میں جیتے ہوں، وہ ہر واقعہ سے مثبت غذ۱ لیتے ہیں۔ وہ اس قابل ہوتے ہیں کہ انتہائی ناموافق حالات میں بھی موافق پہلو تلاش کرلیں، حتیٰ کہ اپنے minus کو بھی اپنے plus میں تبدیل کرلیں۔
واپس اوپر جائیں

حقیقت پسندانہ سوچ

قرآن کی سورہ المائدۃ میں اجتماعی زندگی کے ایک قانون کا ذکر کیا گیا ہے۔آیت کے الفاظ یہ ہیں: یَا أَیُّہَا الَّذِینَ آمَنُوا عَلَیْکُمْ أَنْفُسَکُمْ لَا یَضُرُّکُمْ مَنْ ضَلَّ إِذَا اہْتَدَیْتُمْ(5:105)۔ یعنی اے ایمان والو، تمھارے او پر اپنی ذمہ داری ہے ۔ کسی کی گمراہی تم کو کچھ نقصان نہیں پہنچائے گی اگر تم ہدایت پر ہو۔
قرآن کی اس آیت میں جو بات کہی گئی ہے، وہی بات ایک اور آیت میں اس انداز میں آئی ہے: وَإِنْ تَصْبِرُوا وَتَتَّقُوا لَا یَضُرُّکُمْ کَیْدُہُمْ شَیْئًا(3:120)۔ یعنی اگر تم صبر کرو اور اللہ سے ڈرو تو ان کی کوئی تدبیر تم کو نقصان نہیں پہنچا ئے گی ۔ دونوں آیتوں کے مطالعے سے فطرت کا ایک قانون معلوم ہوتا ہے۔ وہ یہ کہ اس دنیا میں آدمی خود اپنے انجام کو بھگتتا ہے۔ آدمی کا رویہ اگر صابرانہ رویہ ہو، تو وہ لوگوں کی سازش سے یقیناً محفوظ رہے گا۔ اس کے برعکس، اگر اس کا رویہ بے صبری کا رویہ ہو تو وہ لوگوں کی سازش کا شکار ہوتا رہے گا۔ آدمی کو چاہیے کہ وہ ہمیشہ خود اپنا محاسبہ کرے۔ دوسروں کی شکایت کرنے کے بجائے، وہ خود اپنی اصلاح کی کوشش کرتا رہے۔ ایسا آدمی یقینی طور پر دوسروں کے شر سے محفوظ رہے گا۔
انسان کا یہ مزاج ہے کہ وہ اپنے معاملات کو ہمیشہ خوبصورت انداز میں تاویل کرلیتا ہے۔ اپنے غلط کام کو بھی صحیح شکل میں ڈھال لیتا ہے۔ آدمی کا مزاج ہے کہ وہ اپنے چھوٹے سے کام کو بڑھا چڑھا کر پیش کرتا ہے، اور دوسرے کا کام کتنا ہی بڑا ہو، وہ اس کو گھٹا کر دیکھتا ہے۔ اس مزاج کی بنا پر آدمی ہمیشہ خود فریبی میں جیتا ہے۔ اپنے بار ے میں وہ ایک انداز میں سوچتا ہے، اور دوسرے کے بارے میں دوسرے انداز سے۔ انسان کا یہ مزاج اس کے لیے حقیقت پسندانہ سوچ میں سب سے بڑا مانع ہے۔ حقیقت پسندانہ سوچ کا مثبت پہلو یہ ہے کہ وہ انسان کے اندر خود احتسابی کا مزاج پیدا کرتا ہے۔ وہ اپنے آپ کو اسی نظر سے دیکھنے لگتا ہے، جس طرح وہ دوسروں کودیکھتا ہے۔
واپس اوپر جائیں

روحانی ترقی

اسلام کا اصل نشانہ روحانی ترقی ہے۔انسان کی روحانیت جاگے، انسان کے اندر چھپی ہوئی ربانیت بیدار ہو، یہ اسلام کا اصل مقصود ہے۔ قرآن میں اس کو تطہیر اور تزکیہ (التوبة، 9:103) کہاگیا ہے۔
اصل یہ ہے کہ ہر انسان پیدائش سے فطرتِ صحیح لے کر پیداہوتا ہے۔ اس اعتبار سے ہر انسان اپنی ابتدائی شخصیت کے اعتبار سے پاک صاف ہی ہوتاہے۔ مگر دنیا میں زندگی گزارتے ہوئے اس پر خارجی غبار چھا جاتےہیں۔ اس خارجی غبار سے پاک کرنا اور اپنے آپ کو دوبارہ اپنی فطری حالت پر لے جانا، یہی تطہیر اور تزکیہ ہے۔تطہیر اور تزکیہ کا یہ عمل آدمی کو خود کرنا پڑتاہے۔ ایک چھوٹا بچہ اپنے آپ ہی طاہر اور پاک ہوتاہے۔ مگر اس کی یہ حالت کسی ذاتی کوشش کی بنا پر نہیں ہوتی، بلکہ فطرت کی تخلیق کی بناپر ہوتی ہے۔ بڑا ہونے کے بعد جب آدمی اپنے آپ کو روحانی اعتبار سے طاہر اور پاک صاف بناتا ہے تو یہ اس کا اپنا عمل ہوتا ہے۔ یہ شعوری طورپر خود اپنے ارادہ اور اپنی کوشش سے اپنے آپ کو روحانی ترقی کے درجہ تک پہنچانا ہے۔ یہی خود حاصل کردہ روحانی ترقی وہ اصل چیز ہے جو اسلام میں مطلوب ہے۔ اسی کو قرآن میں قلب سلیم کہا گیاہے (الشعراء، 26:89)۔
حدیث میں ہے کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا کرتے ہوئے کہا: اللَّہُمَّ اجْعَلْ فِی قَلْبِی نُورًا(صحیح البخاری، حدیث نمبر6316)۔ یعنی اے اللہ، میرے دل میں نور ڈال دے۔ اسی طرح آپ نے ایک شخص کے بارےمیںیہ دعا کی: اللَّہُمَّ اغْفِرْ ذَنْبَہُ وَطَہِّرْ قَلْبَہُ(مسند احمد، حدیث نمبر 22211)۔یعنی اے اللہ، اس کے گناہ کو بخش دے،اور اس کے قلب کو پاک کردے۔ اسی طرح موطا امام مالک میں حضرت لقمان کا ایک قول اس طرح نقل کیاگیا ہے کہ اللہ دل کو حکمت کے نور سے اسی طرح زندہ کرتاہے جس طرح وہ مردہ زمین کو بارش سے زندہ کرتا ہے (إِنَّ اللہَ یُحْیِی الْقُلُوبَ بِنُورِ الْحِکْمَةِ. کَمَا یُحْیِی الْأَرْضَ الْمَیْتَةَ بِوَابِلِ السَّمَاءِ)موطا امام مالک ،اثر نمبر 2117۔
یہی روحانی ترقی ہے، اور روحانی ترقی ہی اسلام کا اصل مقصود ہے۔ جو آدمی روحانی ترقی سے محروم ہو وہ یقینی طورپر اسلام سے بھی محروم ہوگا۔
واپس اوپر جائیں

مثبت اثر لینا

پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں کئی غزوات پیش آئے، ان میں سے ایک وہ ہے جس کو احد کہا جاتا ہے۔ اس غزوہ میں مسلمانوں میں سے ستر آدمی مارے گئے تھے، اور ستر زخمی ہوئے تھے، یہاں تک کہ رسول اللہ بھی زخمی ہوگئے تھے۔ اس مناسبت سے یہ آیت نازل ہوئی : فَأَثَابَکُمْ غَمًّا بِغَمٍّ لِکَیْلَا تَحْزَنُوا عَلَى مَا فَاتَکُمْ وَلَا مَا أَصَابَکُمْ (3:153)۔یعنی پھر اللہ نے تم کو غم پر غم دیا تاکہ تم رنجیدہ نہ ہو اس چیز پر جو تمہارے ہاتھ سے کھوئی گئی اور نہ اس مصیبت پر جو تم پر پڑے۔ اس موقع پر قرآن میں یہ نصیحت کی گئی — تاکہ تم رنجیدہ نہ ہو اس چیز پر جو تمہارے ہاتھ سے کھوئی گئی:
so that you might not grieve for what you lost,
  یہاں رنجیدہ برائے رنجیدہ نہیں ہوسکتا۔ ضرور ہے کہ رنجیدہ نہ ہونے کا کوئی مثبت مقصد ہو۔ وہ مقصد یہ ہے کہ غزوہ ٔاحد کے موقع پر جو کچھ پیش آیا، وہ بظاہر ایک منفی واقعہ تھا، لیکن تم کو چاہیے کہ اس منفی واقعہ کو مثبت تجربہ میں بدلو۔ ایسا کس طرح ہوسکتا ہے۔ ایسا اس طرح ہوسکتا ہے کہ لوگ خالص غیر متاثر ذہن کے تحت پورے معاملے پر سوچیں، اور خالص سوچ کے ذریعے اس نتیجے تک پہنچیں کہ موت زندگی کا خاتمہ نہیں ، بلکہ وہ نئی زندگی کا آغاز ہے۔
مصیبت پر رنجیدہ نہ ہونا، کوئی سادہ بات نہیں۔ اس کا مطلب ہے کہ آدمی اپنی جسمانی مصیبت کو ذہنی مصیبت نہ بنائے۔ وہ ایسا نہ کرے کہ اس سے جو کچھ کھویا گیا، اس کے غم میں اپنا یہ حال کرلے کہ جو کچھ اب بھی اس کے پاس باقی ہے، اس سے غافل ہوجائے۔آدمی کو چاہیے کہ وہ کھوئے ہوئے کو فراموشی کے خانے میں ڈالے، اور جو کچھ اب بھی اس کے پاس بچا ہوا ہے، اس کو لے کر اپنے عمل کی نئی منصوبہ بندی کرے۔ یہی اس دنیا میں کامیابی کا راز ہے۔ اس دنیا میں ہر ایک کو نقصان کا تجربہ ہوتا ہے۔ عقل مند وہ ہے جو بچے ہوئے کو جانے ، اور اس کی بنیاد پر اپنے لیے نئی زندگی کی تعمیر کرے۔ اسی کا نام دانش مندی ہے، اور یہی دانش مندی اس دنیا میں کامیابی کا واحد راز ہے۔
واپس اوپر جائیں

مینج کرنا سیکھیے

معاملات میں لوگ عام طور پر دو طریقے کو جانتے ہیں۔ ایک ہے، فریقِ مخالف سے ٹکرانا، اور دوسرا ہے، فریقِ ثانی کے مقابلے میں سرینڈر کرنا۔ عام طور پر لوگ ٹکرانے کو بہادری سمجھتے ہیں، اور سرینڈر کرنے کو بزدلی۔ یہ دونوں طریقے غیر حکیمانہ ہیں۔ حکیمانہ طریقہ یہ ہے کہ آپ معاملے کو مینج کرنا سیکھیں۔ یعنی براہ راست مقابلہ کیے بغیر بالواسطہ انداز میں مسئلے کو حل کرنا۔
مثال کے طور پر رسول اللہ ایک بار سفر میں تھے۔ آپ کو خبر ملی کہ فریقِ مخالف کا ایک دستہ آپ کی طرف چلا آرہا ہے۔ آپ نے اپنے ساتھیوں سے کہا: مَنْ رَجُلٌ یَخْرَجُ بِنَا عَلَى طَرِیقٍ غَیْرِ طَرِیقِہِمْ الَّتِی ہُمْ بِہَا؟ أَنَّ رَجُلًا مِنْ أَسْلَمَ قَالَ:أَنَا یَا رَسُولَ اللَّہِ، قَالَ:فَسَلَکَ بِہِمْ طَرِیقًا وَعْرًا أَجْرَلَ بَیْنَ شِعَابٍ، فَلَمَّا خَرَجُوا مِنْہُ، وَقَدْ شَقَّ ذَلِکَ عَلَى الْمُسْلِمِینَ وَأَفْضَوْا إلَى أَرْضٍ سَہْلَةٍ عِنْدَ مُنْقَطِعِ الْوَادِی (سیرت ابن ہشام، جلد 2، صفحہ 309)۔ یعنی آپ نے کہا : کون ہے جو ہم کو اس راستے سے لے کر چلے، جو ان سے الگ راستہ ہو۔ قبیلہ اسلم کے ایک آدمی نے کہا: میں ، اے خدا کے رسول۔ پھر وہ ان کو لے کر ایک دشور راستے سے چلا۔ یہ ایک مشکل بھراراستہ تھا۔ جب وہ اس دشوار راستے سے نکلے، اور یہ راستہ مسلمانوں کے لیے بہت مشقت والا تھا، وہ لوگ وادی کے خاتمے پر کھلے میدان میں پہنچ گئے۔
اس سنت رسول سے معلوم ہوتا ہے کہ ٹکراؤ کا اندیشہ ہو تو اپنا راستہ بدل دیجیے۔ ٹکراؤ کا اندیشہ ہوتو آپ ہرگز ایسا نہ کریں کہ اپنے راستے پر چلتے رہیں، یہاں تک کہ ٹکراؤ کی نوبت آجائے۔ بلکہ سنت کا طریقہ یہ ہے کہ آپ اپنے راستے کو بدلیں۔ اپنے منصوبے کو نئے انداز سے مرتب کریں۔ اس طریقے کو ری پلاننگ (replanning)کہا جاتا ہے۔ ری پلاننگ کا یہ طریقہ ہر جگہ مطلوب ہے۔ گھر کے اندر بھی، اور گھر کے باہر بھی۔ چھوٹے معاملے میں بھی اور بڑے معاملے میں بھی۔ گھریلو معاملے میں بھی اور بڑے بڑے اجتماعی معاملات میں بھی۔
واپس اوپر جائیں

رحمت، سیف

قرآن میں پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کو رحمة للعالمین (الانبیاء، 21:107) کہاگیا ہے۔ حدیث میںآیا ہے کہ آپ نےکہا  وَنَبِیُّ الرَّحْمَةِ (صحیح مسلم، حدیث نمبر 2355) یعنی میں رحمت والا نبی ہوں۔ ایک طرف پیغمبر اسلام کی حیثیت کے بارے میں اس قسم کے کھلے بیانات ہیں۔ دوسری طرف حدیث میں ہے کہ آپ نے فرمایا :إِنَّ اللَّہَ بَعَثَنِی بِسَیْفِی بَیْنَ یَدَیِ السَّاعَةِ، وَجَعَلَ رِزْقِی تَحْتَ ظِلِّ رُمْحِی (سنن سعید بن منصور، حدیث نمبر 2370)یعنی بےشک اللہ نے قیامت سے پہلے مجھے میری تلوار کے ساتھ بھیجاہے، اور میرا رزق میرے نیزے کے سایے کے نیچے رکھ دیاہے ۔
یہ دونوں باتیں ایک دوسرے سے مختلف نظر آتی ہیں۔ مگر ان میں کوئی اختلاف نہیں ہے۔ یہ در حقیقت دو الگ الگ پہلو ہیں۔ رحمت کی بات ایک پہلو سے کہی ہے ،اور سیف کی بات دوسرے پہلو سے۔اصل یہ ہے کہ صرف پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم ہی رحمت کے پیغمبر نہ تھے، بلکہ خدا نے جتنے پیغمبر بھیجے وہ سب پیغمبر رحمت ہی تھے۔ سب کے سب دینِ رحمت ہی لے کر آئے۔ مثال کے طورپر قرآن میں حضرت موسی کی کتاب کو رحمت فرمایا گیا ہے (سورہ ھود، 11:17)۔ مگر فرق یہ ہے کہ پچھلے پیغمبروں کے ساتھ کوئی طاقت ور ٹیم تیار نہ ہوسکی، جو پیغمبروں کے مشن کے حق میں موثر طورپر حمایت اور دفاع کا کام کرسکے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ پچھلے پیغمبروں کے مشن کو مخالفین نے عملی طورپر آگے بڑھنے نہیں دیا۔پچھلے پیغمبروں کے زمانہ میں خدا کا دین صرف فکری تحریک کے مرحلہ میں رہا، وہ فکری انقلاب کے مرحلہ تک نہیں پہنچا۔
اس کے برعکس پیغمبر اسلام کو خدا کی مدد سے ’’اصحابِ سیف‘‘ بالفاظ دیگر، طاقت ورحمایتی گروہ حاصل ہوگیا۔ چنانچہ مخالفین نے جب جارحیت کرکے آپ کے پر امن مشن کو دبانا، اور مٹانا چاہا، تو آپ بھی اپنے ساتھیوں کی مدد سے اس پوزیشن میں تھے کہ ان کی جارحیت کا موثر جواب دے کر ان کے مخالفانہ عزائم کو ناکام بنا دیں۔مذکورہ قسم کی احادیث میں نیزہ اور تلوار کا لفظ آپ کی دفاعی طاقت کو بتانے کے لیے ہے، نہ کہ آپ کی اصل پیغمبرانہ حیثیت کو بتانے کے لیے۔
واپس اوپر جائیں

بین اقوامی رواج

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے آخری زمانہ میں عرب کے دو آدمیوں نے نبوت کا دعوی کیا تھا۔ ایک یمامہ کا مسیلمہ بن حبیب، اور دوسرا صنعاء کا اسود بن کعب عنسی۔ مسیلمہ نے 10ہجری میں ایک خط رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بھیجا۔ اس خط کامضمون یہ تھا: اللہ کے رسول مسیلمہ کی جانب سے اللہ کے رسول محمد کے نام، سلام علیک، اما بعد، بے شک میں نبوت کے معاملہ میں آپ کے ساتھ شریک کیاگیا ہوں، اس لیے نصف زمین ہمارے لیے اور نصف زمین قریش کے لیے۔ مسیلمہ کی طرف سے دو قاصد اس کا یہ خط لے کر مدینہ آئے۔ ان کا نام ابن النواحہ اور ابن اُثال تھا۔ اس کے بعد روایت میں آتا ہے:قَالَ:سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّہِ صَلَّى اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ حِینَ جَاءَہُ رَسُولَا مُسَیْلِمَةَ الْکَذَّابِ بِکِتَابِہِ یَقُولُ لَہُمَا:’’ وَأَنْتُمَا تَقُولَانِ مِثْلَ مَا یَقُولُ؟ ‘‘ قَالَا:نَعَمْ! فَقَالَ:أَمَا وَاللَّہِ لَوْلَا أَنَّ الرُّسُلَ لَا تُقْتَلُ لَضَرَبْتُ أَعْنَاقَکَمَا (راوی کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ کہتے ہوئے سنا جب کہ مسیلمہ کذاب کے دونوں قاصد اس کا خط لے کر آئے، کیا تم دونوں بھی وہی کہتےہو جو وہ کہتا ہے۔ دونوں نے کہا کہ ہاں۔ آپ نے فرمایا کہ خدا کی قسم، اگر یہ بات نہ ہوتی کہ قاصدوں کو قتل نہیں کیا جاتا تو میں تم دونوں کی گردنیں کٹوادیتا )۔راوی حضرت عبد اللہ بن مسعود کہتے ہیں :فَمَضَتِ السُّنة بِأَنَّ الرُّسُلَ لَاتُقْتَلُ (البدایة والنہایة،5/62)۔یعنی پھر یہ سنت جاری ہوگئی کہ قاصدوں کو قتل نہ کیاجائے ۔
اس سنت نبوی سےاسلام کا ایک نہایت اہم اصول معلوم ہوتاہے۔ وہ یہ کہ بین اقوامی معاملات میں بین اقوامی رواج پر عمل کیا جائے گا۔ ہر زمانہ میں بین اقوامی تعلقات کے لیے کچھ رواج ہوتے ہیں۔ موجودہ زمانہ میں بھی اس قسم کے بہت سے رواج ہیں۔ اب اقوامِ متحدہ نے ان کو زیادہ منظم صورت دے دی ہے۔ اس قسم کے تمام رواج مسلم ملکوں میں بھی اسی طرح قابلِ احترام ہوں گے، جس طرح غیر مسلم ملکوں میں ان کو قابلِ احترام سمجھا جاتاہے۔ البتہ اگر اس قسم کے معاملات میں کوئی ایسی چیز یا رواج پایا جائے جو صراحةً حرام ہو۔ مثلاً بین اقوامی میٹنگوں میں شراب پیش کرنا، تو اس مخصوص جز کی حد تک اس کی پیروی نہیں کی جائے گی۔
واپس اوپر جائیں

پیغمبرانہ ماڈل سے انحراف

پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم مکہ میں 570 ء میں پیدا ہوئے۔ آپ پر پہلی وحی 610 ء میں اُتری۔ یہ قرآن کی سورہ نمبر 96 کی ابتدائی آیتیں تھیں۔ اِس کے بعد دوسری وحی المدثّر کی صورت میں اُتری، جو مصحف کی موجودہ ترتیب میں سورہ نمبر 74 کی حیثیت سے شامل ہے۔
سورہ المدثر میں آپ کو آپ کا دعوتی مشن بتاتے ہوئے کہاگیا:قُمْ فَأَنْذِرْ (74:2)۔یعنی تم لوگوں کو بتادو کہ ان کا پیدا کرنے والا خدا ہے اور جلد ہی یوم الدین (Day of Judgement) آنے والا ہے، جب کہ سارے انسان حساب کے لیے خداوندِ ذوالجلال کے سامنے حاضر کیے جائیں گے اور اُن کے دنیوی ریکارڈ کے مطابق، اُن کے ابدی مستقبل کا فیصلہ کیا جائے گا۔سورہ المدثر میں یہ دعوتی حکم دیتے ہوئے مزید یہ کہاگیا تھا :وَلِرَبِّکَ فَاصْبِر (74:7)۔ یعنی تم پوری یکسوئی کے ساتھ اِس دعوتی مشن میں لگ جاؤ اور تمام غیر دعوتی مسائل سے اپنے آپ کو پوری طرح دور رکھتے ہوئے دعوت الی اللہ کا یہ کام انجام دو۔
دعوتِ حق کا یہی ابدی اصول ہے۔ یعنی دعوتی کام میں مکمل یکسوئی، اور غیر دعوتی چیزوں سے مکمل اعراض۔ پیغمبر ِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی پوری زندگی اسی اصول کا عملی نمونہ ہے۔ مثال کے طورپر مکہ کے تیرہ سالہ دور میں عرب کے سرداروں کی طرف سے آپ کو اقتدار کی پیش کش کی گئی۔ انھوں نے کہا کہ:وَإِنْ کُنْتَ تُرِیدُ بِہِ مُلْکًا مَلَّکْنَاکَ عَلَیْنَا۔یعنی اگر تم اقتدار چاہتے ہو تو ہم تم کو اپنے اوپر بادشاہ بنانے کے لیے تیار ہیں۔ آپ نے اِس پیش کش کو نا منظور کرتے ہوئے فرمایا:مَا جِئْتُ بِمَا جِئْتُکُمْ بِہِ أَطْلُبُ أَمْوَالَکُمْ، وَلَا الشَّرَفَ فِیکُمْ، وَلَا الْمُلْکَ عَلَیْکُمْ، وَلَکِنَّ اللَّہَ بَعَثَنِی إلَیْکُمْ رَسُولًا، وَأَنْزَلَ عَلَیَّ کِتَابًا، وَأَمَرَنِی أَنْ أَکُونَ لَکُمْ بَشِیرًا وَنَذِیرًا(سیرۃ ابن ہشام، جلد 1، صفحہ 295-96) یعنی میں جو کچھ لے کرتمھارے پاس آیا ہوں، میں اس کو اس لیے نہیں لایا ہوں کہ میں تمھارا مال طلب کروں، یا تمھارے درمیان فوقیت حاصل کروں، یا تمھارے اوپر بادشاہ بنوں(I seek not sovereignty over you.)، لیکن اللہ نے مجھے تمھاری طرف رسول بنا کر بھیجا ہے، میرے اوپر کتاب نازل کی ہے، اور مجھے یہ حکم دیا ہے کہ میں تمھارے لیے بشیر و نذیر بن جاؤں۔
دعوت (اِنذار و تبشیر) کا کام اللہ تعالیٰ کے نزدیک اتنا زیادہ اہم ہے کہ داعیوں کے لیے یہ ضروری قرار دیاگیا ہے کہ وہ ہر مسائل کو مکمل طور پر نظر انداز کرتے ہوئے اپنی تمام توانائی صرف اِس ایک کام میں لگائیں۔ اور قیامت تک نسل در نسل یہی کام انجام دیتے رہیں۔ پیغمبر نے اپنے زمانے میں اِس اصول کے مطابق، اپنی دعوتی ذمّے داری ادا کی اور آپ کے بعد آپ کی امت کو ہر دور میںاِسی اصول کا اتباع کرتے ہوئے دعوتی کام انجام دینا ہے۔
پیغمبر ِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے اِس معاملے میں اپنی امت کو واضح ہدایات دی ہیں۔ خاص طورپر آپ نے امت کو شدت کے ساتھ تلقین فرمائی کہ تم لوگ سیاسی نزاعات سے دور رہو۔ کیوں کہ سیاسی نزاعات میں الجھنا صرف اِس قیمت پر ہوگا کہ دعوت الی اللہ کا کام رُک جائے گا۔ اِس بارے میں کتبِ احادیث میں کتاب الفتن کے تحت کثرت سے روایتیں موجود ہیں، اِن روایتوں کا خلاصہ اس حدیثِ رسول میں پایا جاتا ہے:أَدُّوا إِلَیْہِمْ حَقَّہُمْ، وَسَلُوا اللَّہَ حَقَّکُمْ (صحیح البخاری، حدیث نمبر 7052)۔ یعنی ان کا حق ان کو ادا کرو، اور اپنا حق اللہ سے مانگو۔
اس کا مطلب یہ ہے کہ حکمرانوں کے حقوق بلا اختلاف ادا کرتے رہو، اور خدا کی طرف سے تم پر جو ذمّے داری ڈالی گئی ہے، اُس کو پوری یکسوئی کے ساتھ انجام دیتے رہو، اور اپنے حقوق کے معاملے میں ٹکراؤ کے راستے پر جانے کے بجائے خدا سے دعا کرو۔ اِس معاملے میں احادیث اتنی زیادہ واضح ہیں کہ علمائے امت نے اِجماعی طورپر، حکمرانوں سے ٹکراؤ (خروج) کو فعل ِ حرام قرار دے دیا ہے۔
اسلام کی تاریخ بتاتی ہے کہ پیغمبر ِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد ایک ہزار سال سے زیادہ مدت تک اِس اصول پر عمل جاری رہا۔ بعض انفرادی مثالوں کو چھوڑ کر برابر ایسا ہی ہوتا رہا کہ امت کی عظیم اکثریت نے اِس اصول کا التزام کیا، تاکہ اسلام کا مثبت دعوتی عمل بلا توقف جاری رہے۔
خلافتِ راشدہ کے آخری زمانے میں بنو ہاشم اور بنو اُمیّہ کے درمیان جنگ چھڑ گئی۔ اُس وقت اصحابِ رسول بڑی تعداد میںموجود تھے، لیکن واقعات بتاتے ہیں کہ اس ٹکراؤ سے اصحابِ رسول تقریباً مکمل طورپر علاحدہ رہے۔ یہ جنگ عملاً دو قبیلوں کی جنگ تک محدود رہی، اصحابِ رسول اُس میں شریک نہیں ہوئے۔
اِس کے بعد بنو امیہ کا دور آیا۔ اُس زمانے میں سیاسی بگاڑ بڑے پیمانے پر پیدا ہو چکا تھا، لیکن صحابہ اور تابعین نے کبھی ایسا نہیں کیا کہ وہ سیاسی اصلاح کے نام پر بنو امیہ سے جنگ چھیڑ دیں۔صحابہ اور تابعین کی پوری جماعت اِس زمانے میں اُسی اصول پر قائم رہی جو پیغمبراسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے دیا تھا، یعنی سیاسی ٹکراؤ سے اعراض اور تعلیم اور دعوت کے میدان میںاسلام کی خدمت انجام دیتے رہنا۔
اِس کے بعد مسلم تاریخ کا وہ دور آیا جس کو بنو عباس کا دور کہا جاتا ہے۔ اِس دور میں بھی مبیّنہ طورپر حکم رانوں میں ہر قسم کے سیاسی بگاڑ موجود تھے۔ مثلاً انھوں نے اسلامی خلافت کو خاندانی ملوکیت میں تبدیل کردیا، وغیرہ۔ اُس زمانے میں علمائے امت کی بڑی تعداد موجود تھی، جن کو عام طور پر محدثین اور فقہاکہاجاتا ہے۔ محدثین اُس زمانے میں خواص امت کی حیثیت رکھتے تھے۔ مگر واقعات بتاتے ہیں کہ انھوںنے اپنے آپ کو مکمل طورپر سیاسی نزاعات سے دور رکھا۔ انھوں نے اپنی ساری طاقت حدیث کی جمع وتدوین میں لگادی۔ اِس کا یہ نتیجہ ہے کہ آج حدیث کا ذخیرہ محفوظ حالت میں ہمارے پاس موجود ہے۔
بنو عباس کے اِس عہد میں علما کا دوسراگروہ پیدا ہوا، جس کو عام طورپر فقہائے اسلام کا گروہ کہاجاتا ہے۔ جیسا کہ معلوم ہے، فقہا کے زمانے میں ہرقسم کے سیاسی بگاڑ پائے جارہے تھے، لیکن اِن فقہا نے سیاسی بگاڑ میںاصلاح کی کوئی مہم نہیں چلائی۔ مثلاً انھوں نے یہ کوشش نہیں کی کہ ملوکیت کو ختم کرکے دوبارہ خلافت کا نظام قائم کریں۔ فقہا کی جماعت نے یا تو اپنے زمانے کے حکم رانوں سے موافقت کا طریقہ اختیار کیا، یا اُن سے الگ رہ کر وہ یکسوئی کے ساتھ اسلام کی خدمت کے کام میں لگے رہے۔ اِسی پالیسی کا یہ نتیجہ تھا کہ فقہ کی تدوین کا عظیم کام انجام پایا۔
اِس کے بعد وہ دور آتا ہے جس کو صوفیا کا دور کہاجاتا ہے۔ یہ دور بنوعباس کے آخری زمانے میں شر وع ہوا، اور مغل کے خاتمے تک پوری طاقت کے ساتھ جاری رہا۔ اِس زمانے میں بھی وہ حالات مسلسل طور پر جاری رہے، جن کو سیاسی بگاڑ کہاجاتا ہے۔ لیکن صوفیا نے کبھی اپنے آپ کو سیاسی معاملات یا سیاسی نزاعات میںنہیں الجھایا۔ وہ پوری یکسوئی کے ساتھ دعوت اور اصلاح کے غیر سیاسی کام میں مصروف رہے۔ اِس کے نتیجے میں ایک طرف یہ ہوا کہ امت کی اخلاقی تربیت ہوتی رہی اور دوسری طرف، اسلام کی دعوتی توسیع عالمی سطح پر جاری رہی۔
یہ عمل پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد ایک ہزار سال سے زیادہ مدت تک جاری رہا۔ یہ ایک عظیم ربّانی حکمت تھی۔ یہ حکمت اِس بات کی ضامن بن گئی کہ سیاسی بگاڑ، یا دُنیوی مسائل کے باوجود دعوت الی اللہ کا بنیادی کام بلا توقف تاریخ میں جاری رہے۔
یہ دعوتی تسلسل پہلی بار انیسویں صدی میں ٹوٹتا ہے، جب کہ مغربی استعمار کا وہ دور آیا جس کو نوآبادیاتی نظام (colonialism) کہا جاتا ہے۔ اِس دور سے پہلے مسلم تاریخ کا وہ دور چلا آرہا تھا جس کو ایک اعتبار سے سیاسی ایمپائر کا دور کہا جاسکتا ہے۔ مغربی نوآبادیات کے دور میں مسلمانوں کا یہ سیاسی ایمپائر عملاً ٹوٹ گیا۔ یہ ایک قسم کے سیاسی بُحران (political crisis) کا معاملہ تھا، اُس وقت اُس رہنمایانہ صلاحیت کی ضرورت تھی، جس کو کرائسس مینج منٹ(crisis management) کہاجاتا ہے۔ اگر چہ اُس وقت عالمی سطح پر مسلمانوں کے اندر بڑے بڑے دماغ موجود تھے، لیکن یہ لوگ اِس بحران میں مطلوب رہ نمائی کا ثبوت نہ دے سکے۔ وہ اِس کے مقابلے میں مثبت عمل کے بجائے منفی ردّ عمل کا شکار ہو کر رہ گئے۔
اِس معاملے میں غالباً پہلا نمایاں نام سید جمال الدین افغانی (وفات1897ء) کا ہے۔ اُن کے زمانے میں ترکی اور ایران اور ہندستان میںابھی تک مسلم سلطنتیں موجود تھیں۔ اِن سلطنتوں نے سید جمال الدین افغانی کے ساتھ غیر معمولی تعاون کا معاملہ کیا۔ لیکن سید جمال الدین افغانی پر سیاسی طرز فکر اتنا غالب تھا کہ وہ مسلم حکمرانوں کے تعاون اور امت کے درمیان اپنی مقبولیت کا مثبت استعمال نہ کرسکے۔ وہ آخر وقت تک منفی سیاست میں مبتلا رہے، یہاں کہ اِس راہ میںاُن کا خاتمہ ہوگیا۔
اِسی طرح مولانا ابوالکلام آزاد (1888-1958) ہندستان کے ایک بڑے مسلم رہ نما تھے۔ ان کو اپنے زمانے میں غیر معمولی مواقع ملے۔ وہ اِن مواقع کو استعمال کرکے دعوت اور اصلاح کا کام بڑے پیمانے پر کرسکتے تھے، لیکن انھوں نے اپنی بہترین صلاحیت کو برٹش ایمپائر کے خلاف لڑنے میں ضائع کردیا، اور اُن کے زمانے کے بہترین مواقع برباد ہوکر رہ گئے۔
اِسی طرح عرب دنیا میں سید قُطب (1906-1966) کو غیر معمولی مواقع ملے، حتی کہ ان کے ہم عصر مصری حکمراں جمال عبدالناصر (1918-1970) نے اُنھیں یہ پیش کش کی کہ وہ تعلیم (education) کی وزارت کو لے لیں، اور قوم کو اسلامی اصولوں پر ایجوکیٹ کرنے کا بنیادی کام کریں۔ لیکن دوبارہ یہی ہوا کہ سید قطب اپنے سیاسی ذہن کی بنا پر تعلیم کی اہمیت کو نہ سمجھ سکے اور نزاعی سیاست میں الجھ گئے۔ وہ اسی بے فائدہ کام میں مشغول رہے، یہاں تک کہ اُن کا آخری وقت آگیا۔
یہی معاملہ سید ابو الأعلیٰ مودودی (1903-1979)کے ساتھ پیش آیا۔ انھوں نے اسلام کی سیاسی تشریح کی تھی، اِس لیے اُن کو کرنے کا سب سے بڑا کام یہ نظر آتا تھا کہ ’’سیاسی انقلاب‘‘ برپا کرنے کی کوشش کی جائے۔ صدر محمد ایوب خاں (1907-1974) پاکستان میںاُن کے ہم عصر حکمراں تھے۔ انھوںنے سید ابوالأعلیٰ مودودی کو یہ پیش کش کی کہ پاکستان میں بڑے پیمانے پر ایک نیشنل یونیورسٹی بنائی جائے۔ وہ اس کا مکمل چارج سید ابوالأعلیٰ مودودی کو دینے کے لیے تیار تھے۔ صدر محمد ایوب خاں کا ماننا یہ تھا کہ پاکستان کے نام سے ایک ملک بن گیا۔ اب ضرورت یہ ہے کہ مسلم نوجوانوں کو اسلامی اصولوں پر تعلیم و تربیت دے کر اُنھیں مستقبل کی تعمیر کے لیے تیار کیا جائے۔ لیکن سید ابوالأعلیٰ مودودی کو اِس کام کی اہمیت سمجھ میں نہ آئی۔ وہ صدر محمد ایوب خاں کو حکمرانی کے مقام سے ہٹانے کی مہم میں لگ گئے۔ اِس کا نتیجہ صرف ناکامی کی صورت میں نکلا۔ سید ابو الأعلیٰ مودودی کی سیاسی سرگرمیوں کا کوئی مثبت نتیجہ نہیں نکلا ،یہاںتک کہ 1979 میں وہ وفات پاگئے۔
اِس فہرست میںایک اور نام میرے نزدیک، بے نظیر بھٹو (1953-2007)کا بھی ہے۔ بے نظیر بھٹو اگر چہ مذہبی شخصیت نہ تھی، لیکن انھیں اِس میدان میں کام کا نہایت اعلیٰ موقع ملا۔ بے نظیر بھٹو کی تعلیم یورپ اور امریکا میں ہوئی تھی۔ انگریزی زبان پر انھیں پوری قدرت حاصل تھی۔ وہ دوبار پاکستان کی پرائم منسٹر بنیں۔ اِس طرح کے مختلف اسباب سے انھیں غیر معمولی شہرت حاصل ہوئی۔ آخری زمانے میں جب کہ وہ لندن میں مقیم ہوگئی تھیں، ان کو مغرب کے اداروں اور یونیورسٹیوں کی طرف سے اسلام پر لیکچر دینے کے لیے بلایا جانے لگا۔
موجودہ زمانے میں اسلام کی ایک بہت بڑی ضرورت وہ ہے، جس کو امیج بلڈنگ (image building) کہا جاتا ہے، یعنی اسلام کی بگڑی ہوئی تصویر کی تصحیح کرنا۔ بے نظیر بھٹو اپنی خصوصی حیثیت کی بنا پر یہ کام اعلیٰ درجے پر کرسکتی تھیں۔ لیکن یہ کام شاید ان کو ایک کمتر کام نظرآیا۔ وہ غالباً سیاسی قیادت کے شوق میں پاکستان دوبارہ لوٹ آئیں، مگر نتیجہ صرف یہ نکلا کہ چند دن کے سیاسی ہنگامے کے بعد 28 دسمبر 2007 کو اُنھیں گولی مار کر ہلاک کردیاگیا ۔ بوقت وفات ان کی عمر صرف 54 سال تھی۔
یہی معاملہ عراق کے حکمراں صدام حسین (1937-2006)کے ساتھ پیش آیا۔ صدام حسین کے بارے میں کہاجاتا ہے کہ وہ عرب حکمرانوں میں سب سے زیادہ ذی علم آدمی تھے۔ ان کے حالات نے اُن کو موقع دیا کہ وہ عراق میںمطلق حکم راں کی حیثیت حاصل کرلیں۔ اِس طرح انھوں نے عراق میں تقریباً 25 سال تک حکمرانی کی۔انھوں نے انتہائی غیر حقیقت پسندانہ انداز اختیار کرتے ہوئے، وہ جنگ چھیڑ دی جس کو وہ امّ المعارک (mother of battles) کہتے ـتھے۔ اِس مفروضہ جنگ کو کامیاب بنانے کے لیے انھوں نے ناعاقبت اندیشانہ اقدامات کیے۔ انھوں نے غیر ضروری طورپر امریکا سے جنگ چھیڑ دی۔ جس کا متوقع انجام صرف یہ ہوا کہ اُن کو 30 دسمبر 2006 کو خود اپنے ملک عراق میں پھانسی دے دی گئی۔
اُس وقت صدام حسین کے پاس عراق کے مختلف مقامات پر بڑے بڑے محل تھے۔ اِس کے علاوہ، ان کے ذاتی اکاؤنٹ میں کئی بلین ڈالر موجود تھے۔ اُن کے لیے یہ ممکن تھا کہ وہ اقتدار کے بجائے ایجوکیشن کو اپنا نشانہ بنائیں۔ اگر وہ اِس طرح تعمیری انداز میں سوچتے تو وہ یقینی طورپر عراق میں کم از کم 8 بڑے بڑے تعلیمی سنٹر قائم کرسکتے تھے۔ یہ اُن کے لیے اپنی زندگی کا بہترین استعمال ہوتا، اور وہ اُن کے بعد اُن کے لیے ایک عظیم صدقۂ جاریہ بن جاتا، لیکن وہ ایسا نہ کرسکے، اور صرف ناکامی کی موت مرکر اِس دنیا سے چلے گئے۔
مسلمانوں کے خطیب پُر جوش الفاظ کے ذریعے مسلمانوں کے ہر فعل کو کم از کم الفاظ کی دنیا میں جائز ثابت کر رہے ہیں۔ مثلاً آج کل مسلمان اپنی منفی سوچ اشتعال کی بنا پر مختلف مقامات پر گن کلچر چلا رہے ہیں، حتی کہ وہ خود کُش بم باری کرتے ہیں۔ اِس بنا پر دوسرے لوگ اُنھیں ٹررسٹ (terrorist) کہنے لگے ہیں۔ اب ایک خطیب اسٹیج پر آتا ہے اور پُرجوش انداز میں کہتا ہے — ہاں، ہم ٹررسٹ ہیں، لیکن ہم ٹررسٹ کس کے لیے ہیں۔ ہم مجرموں کے لیے ٹررسٹ ہیں، جیسا کہ پولس ہوتی ہے:
Every Muslim should be a terrorist. A terrorist is a person, who causes terror. The moment a robber sees a policeman, he is terrified. A policeman is a terrorist for the robber. Similarly, every Muslim should be a terrorist for the anti-social elements of society, such as thiefs, dacoits, and rapists. Whenever, such an anti-social element sees a Muslim, he should be terrified.
اِن باتوں کو سن کر مسلمان خوش ہوتے ہیں اور تالیاں بجاتے ہیں، حالاں کہ یہ سر تاسر ایک لغو بات ہے۔ مجرموں کے خلاف کارروائی کرنا پولس اور عدالت کا کام ہے، وہ عوام کا کام نہیں۔ عام مسلمان کا کام پُرامن نصیحت کرنا ہے، نہ کہ انھیں ٹررائز (terrorize) کرنا۔ اِس قسم کی بات اسلامی تعلیمات کے بھی خلاف ہے، اور سیکولر قانون کے بھی خلاف۔ حیرت یہ ہے کہ مسلمان اِس قسم کی باتیں سن کر صرف تالیاں بجاـتے ہیں۔ اگر وہ مجرمین کے خلاف ٹررسٹ بن جائیں تو وہ خود قانون کی نظر میں مجرم قرار پائیں گے، اور سخت سزا کے مستحق ہوں گے۔
واپس اوپر جائیں

کنڈیشنڈ سوچ

ایک اندازِ فکر موجودہ زمانے کے مسلمانوں میں عام ہے، وہ یہ کہ کسی بھی مسئلے میں اپنے شاکلہ (الاسراء، 17:84) کے تحت سوچنا۔ مگر یہ طریقہ مکمل طور پر ایک غیر اسلامی طریقہ ہے۔ اہل ایمان کے لیے سوچنے کا طریقہ یہ ہونا چاہیے کہ وہ قرآن کا مطالعہ کرکے یہ سمجھنے کی کوشش کریں کہ کسی متعین مسئلہ کے بارے میں قرآن کا حکم کیا ہے۔ مثال کے طور پر جب مسلمانوں پر کوئی مصیبتیں آتی ہیں، تو وہ اس کا الزام دوسروں کو دیتے ہیں۔ مگر اسلامی روش یہ ہے کہ یہ دیکھا جائے کہ اس معاملے میں قرآن کیا کہتا ہے۔ اس سلسلے میں یہاں قرآن کی دو متعلق آیتیں نقل کی جاتی ہیں: وَمَا أَصَابَکُمْ مِنْ مُصِیبَةٍ فَبِمَا کَسَبَتْ أَیْدِیکُمْ وَیَعْفُو عَنْ کَثِیرٍ (42:30)۔ یعنی اور جو مصیبت تم کو پہنچتی ہے تو وہ تمھارے ہاتھوں کے کیے ہوئے کاموں ہی سے پہنچتی ہے، اور بہت سے قصوروں کو وہ معاف کردیتا ہے۔ دوسری آیت یہ ہے: وَإِنْ تَصْبِرُوا وَتَتَّقُوا لَا یَضُرُّکُمْ کَیْدُہُمْ شَیْئًا (3:120) ۔ یعنی اگر تم صبر کرو اور اللہ سے ڈرو تو ان کی کوئی تدبیر تم کو نقصان نہ پہنچا سکے گی۔
دنیا کی زندگی مومن اور غیر مومن ہر ایک کے لیے ایک چیلنج اور مسابقت کا معاملہ ہے۔ خواہ کوئی مومن ہو یا غیر مومن دونوں کو طرح طرح کے حالات کے درمیان اپنا راستہ بنانا پڑتا ہے۔ اس بنا پر انفرادی زندگی کے مقابلے میں اجتماعی زندگی بالکل مختلف ہوجاتی ہے۔ انفرادی زندگی میں کسی کے ساتھ مزاحمت پیش نہیں آتی۔ لیکن اجتماعی زندگی میں بار بار مزاحمت کا پیش آنا لازم ہے۔ اس بنا پر ہمیشہ یہ ہوتا ہے کہ اجتماعی زندگی میں ٹکراؤ کی صورت حال پیدا ہوجاتی ہے۔
ایسی حالت میں ٹکراؤ کی صورتِ حال کو دوسروں کا ظلم بتا نا، ایک غیر فطری بات ہے۔ ٹکراؤ کی صورت حال فطری حالات کا نتیجہ ہے، نہ کہ کسی کے ظلم اور سازش کا نتیجہ۔ اس کا مطلب ہے کہ آدمی اگر اپنے ذاتی شاکلے کے مطابق سوچے تو وہ غیر فطری سوچ ہوگی، اس کے برعکس، اگر وہ فطرت کے قانون کو ملحوظ رکھتے ہوئے سوچے ، تو اس کی سوچ حقیقت پسندانہ سوچ ہوگی۔
واپس اوپر جائیں

احتجاج کوئی پالیسی نہیں

احتجاج (protest) کوئی کام نہیں ہے۔ احتجاج صرف اس بات کا ثبوت ہے کہ آدمی کے پاس مثبت (positive) معنی میں کرنے کا کوئی کام نہیں ہے۔ وہ صرف دوسروں کے خلاف بولنا جانتا ہے۔ اپنے امکانات کو اویل کرنے کا آرٹ اس کو نہیں معلوم۔ وہ احتجاج کرنا تو جانتا ہے، لیکن ری پلاننگ (replanning) کا آرٹ اس کو نہیں معلوم۔
خالق نے انسان کو نہایت اعلی صلاحیت دے کر پیدا کیا ہے۔ انسان ہر جنگل میں اپنا راستہ نکال سکتا ہے۔ انسان ہر مشکل میں نئی تدبیر دریافت کرسکتا ہے۔ انسان ہر ناکامی میں کامیابی کا راز دریافت کرسکتا ہے۔کوئی بند گلی انسان کا راستہ روکنے والی نہیں۔
جہاں ایک راستہ بند ہوجائے، وہاں دوسرا راستہ موجود ہوتا ہے۔ حتی کہ جب سامنے کا راستہ بند ہو، وہاں انسان یہ کرسکتا ہے کہ وہ یوٹرن (U-turn) لے، اور دوسرا راستہ اپنے سفر کے لیے تلاش کرلے۔
میں نے ایک مرتبہ ایک قصہ پڑھا تھا کہ ایک دکان دار کی دکا ن میں آگ لگ گئی، اس کا تمام سامان جل گیا۔ اس واقعے سے وہ مایوس نہیں ہوا، بلکہ اس نے اپنے کام کی ری پلاننگ کی۔ اس نے اپنی دکان کو دوبارہ درست کیا۔ اس نے جلےہوئے سامان کو ردی میں ڈال دیا، او ر تمام سامان نیا خرید کر اپنی دکان میں سجایا۔ اس کے بعد اس نے اپنی دکان پر ایک بورڈ لگا دیا، اس میں لکھا تھااس دکان میں آپ کو ہر سامان نیا ملے گا۔
اس بورڈ کو دیکھ کر لوگوں کے اندر شوق پیدا ہوا۔ وہ اس دکان میں بڑی تعداد میں آنے لگے۔ اس دکان کی بِکری بہت بڑھ گئی۔ یہاں تک کہ وہ دکان پہلے سے بھی بہت زیادہ کامیابی کے ساتھ چلنے لگی۔ اس دنیا میں مسائل بھی ہیں، اور مواقع بھی۔ آدمی کو چاہیے کہ وہ مواقع کو اویل کرنا سیکھے، نہ کہ مسائل پر احتجاج کرنا۔
واپس اوپر جائیں

الفاظ، الفاظ، الفاظ

کچھ لوگ بولتے ہیں، وہ مسلسل طور پر بولتے ہیں، ان کے الفاظ کبھی ختم نہیں ہوتے۔ لیکن یہ الفاظ معانی سے خالی ہوتے ہیں۔ ان کے الفاظ میں نہ کوئی تجزیہ ہوتا ہے، نہ کوئی وزڈم (wisdom) ، نہ کوئی گہری معنویت۔
یہ وہ لوگ ہیں، جن کے پاس الفاظ کے ذخیرے کا کبھی ختم نہ ہونے والا خزانہ ہوتاہے، لیکن یہ الفاظ معنویت سے خالی ہوتے ہیں۔ آپ ان کی باتوں کو گھنٹوں سنتے رہیے، لیکن ان کی باتوں میں آپ کو کوئی حکمت یا کوئی دانشمندی کی بات نہیں ملے گی۔ حتی کہ آپ اس سے بھی بے خبر رہیں گے کہ انھوں نے کیا کہا۔ ان کی باتوں میں آپ کو کوئی ٹیک اوے نہیں ملے گا۔ یہ وہ لوگ ہیں، جن کے پاس حافظہ (memory)ہوتا ہے، مگر ان کے پاس دانش مندی (wisdom) نہیں ہوتی۔ ان کے پاس گہرا مطالعہ نہیں ہوتا۔
فارسی کا ایک مثل ہے:یک من علم را، دہ من عقل می باید۔ یعنی ایک من علم کے لیے دس من عقل چاہیے ۔یہ بات اس وقت پیدا ہوتی ہے، جب کہ آدمی بولنے سے زیادہ سوچے، وہ بولنے سے زیادہ تجزیہ (analysis)کرے، اس کے اندر مثبت سوچ (positive thinking)پائی جاتی ہو، وہ نفرت اور تعصب سےخالی ہو، اس کے اندر وہ صفت ہو تی ہے،جس کو حدیث میں دعا کی شکل میں ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے:اللَّہُمَّ أَرِنَا الْحَقَّ حَقًّا، وَارْزُقْنَا اتّباعہ، وأرنا الباطل باطلا، وارزقنا اجتنابہ ، وَلَا تَجْعَلْہُ مُلْتَبِسًا عَلَیْنَا فَنَضِلَّ(تفسیر ابن کثیر، 1/427)۔ یعنی اے اللہ ہمیں حق کو حق کی صورت میں دکھا، اور اس کے اتباع کی توفیق دے، اور باطل کو باطل کی صورت میں دکھا، اور اس سے بچنے کی توفیق دے، اور اس کو ہمارے اوپر مبہم نہ بنا کہ ہم گمراہ ہو جائیں۔ اسی طرح یہ دعا:اللَّہُمَّ أَرِنَا الْأَشْیَاءَ کَمَا ہِیَ (تفسیر الرازی، 13/37) ۔ اے اللہ، مجھے چیزوں کو اسی طرح دکھا، جیسا کہ وہ ہیں۔
واپس اوپر جائیں

آج کا نوجوان

میرا تجربہ یہ ہے کہ آج کے نوجوان خواہشیں بہت رکھتے ہیں، لیکن وہ غور و فکر کو ضروری نہیں سمجھتے ۔ ان کا یہ طریقہ صحیح ہے یا غلط۔ (ایک قاری الرسالہ، دبئی)
اس سوال کا جواب یہ ہے کہ موجودہ زمانے کے نوجوانوں کا ایک مسئلہ یہ ہے کہ وہ پروفیشن کے اعتبار سے پڑھتے ہیں۔ تعلیم کے وسیع تر مفہوم میں ان کا کوئی مطالعہ نہیں ہوتا ۔ اس لیے وہ پروفیشنل ڈگری لے کر کمائی تو اچھی کرلیتے ہیں، لیکن زمانے سے واقفیت کے بارے میں ان کا بہت زیادہ مطالعہ نہیں ہوتا۔ اس بنا پر ان کا حال یہ ہوتا ہے کہ وہ یہ جانتے ہیں کہ دورِ جدید نے ان کو بہت زیادہ آزادیاں دی ہے۔ لیکن عملا ًوہ آزادی کو بے راہ روی کے لائسنس کے طور پر لے لیتے ہیں۔ وہ آزادی کو اس معنی میں نہیں لیتے کہ آزادی نے قدیم زمانے کی موناپلی (monopoly) کاخاتمہ کردیا ، اب ہر دروازہ ہر ایک لیے کھلا ہوا ہے۔ لیکن وہ اس بات سے عملا ًبے خبر رہتے ہیں کہ آزادی کے ساتھ بہت ذمے داریاں (responsibilities) ہوتی ہیں۔ جو آدمی ذمے داریوں کو نبھانا نہ جانے، اس کو یہ حق نہیں کہ وہ آزادی کا کھلا استعمال کرے۔
یہ صحیح ہے کہ موجودہ زمانے میں ہر ایک کے لیے آزادی کے دروازے کھل گئے ہیں۔ لیکن اجتماعی زندگی (social life) میں کوئی شخص اکیلا نہیں ہوتا۔ اس لیے ہر ایک کے مشترک فائدے کی بات یہ ہے کہ وہ آزادی کو اس طرح استعمال کرے کہ دوسرےا نسانوں کے لیے مسئلہ پیدانہ ہو۔ دوسرے لفظوں میں انسان کو سوچنے کے اعتبار سے مکمل آزادی ہے، لیکن عملی استعمال کے اعتبار سے ہر انسان کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنی آزادی کو محدود دائرے میں استعمال کرے۔
مشہور مقولے کے مطابق، ہر آدمی کو آزادی کا استعمال اس طرح کرنا چاہیے کہ ہر آدمی کی آزادی وہاں ختم ہوجاتی ہے، جہاں دوسرےا نسان کی "ناک" شروع ہوتی ہے۔ دوسرے کو نقصان پہنچاکر آزادی کا استعمال کرنا، آزادی کی نفی ہے۔
واپس اوپر جائیں

کامیابی اپنے ہاتھ میں

کامیابی(success) کیا ہے۔ کامیابی یہ ہے کہ آدمی مواقع کو دریافت کرے۔ وہ مواقع کو منصوبہ بند انداز میں استعمال کرے۔ اسی کے نتیجے کا نام کامیابی ہے۔ کامیابی کسی کو عطیہ کے طور پر نہیں ملتی۔ کامیابی یہ ہے کہ آدمی مواقع کو جانے، وہ مواقع کو منصوبہ بند انداز میں اویل (avail)کرے۔
اس اعتبار سے دیکھیے تو کامیابی ہر انسان کے اپنے بس کی چیز ہے۔ کامیابی کوئی ایسی چیز نہیں جس کو کوئی دوسرا شخص آپ سے چھین لے۔ کامیابی ہر حال میں ہر انسان کے لیے ایک ملی ہوئی چیز ہے۔ کامیابی نہ کوئی شخص کسی کو دیتا ہے، اور نہ کوئی شخص کسی سے چھین سکتاہے۔ کامیابی ہر آدمی کا اپنا ذاتی اثاثہ ہے۔ کوئی دوسرا دے یا نہ دے، ہر حال میں کامیابی آپ کو حاصل رہتی ہے۔
کامیابی فطرت کے عطیات میں اپنا حصہ پانے کا نام ہے۔ جس خالق (Creator)نے آپ کو پیدا کیا ہے، وہی آپ کو دینے والا بھی ہے۔ اسی لیے قرآن میں خالق کو رزاق بتایا گیا ہے۔ رزاق ہر ایک کو دیتا ہے۔ مزید یہ کہ کوئی انسان اتنا طاقت ور نہیں کہ وہ رزاق کے دیے ہوئے رزق کو کسی سے چھین سکے۔ آدمی اگر نادانی نہ کرے، اگر وہ اپنے آپ کو فطرت کے قانون کی خلاف ورزی سے بچائے، تو وہ پائے گا کہ فطرت نے جس طرح مجھ کو ہاتھ پاؤں دیے ہیں، اسی طرح اس نے انسان کو ترقی کے مواقع بھی دیے ہیں۔ آپ ترقی کے مواقع کو پہچانیے، اور اس کو حسنِ تدبیر (better planning)کے ذریعے اویل کیجیے، تو آپ کو نہ کسی سے شکایت ہوگی، اور نہ آپ کبھی مایوسی کا شکار ہوں گے۔
زندگی آپ کا حق ہے۔ کوئی شخص زندگی کو آپ سے چھین نہیں سکتا۔ اسی طرح اس دنیا میں کامیابی بھی آپ کا حق ہے۔ کسی کے بس میں نہیں کہ وہ آپ کی کامیابی کو آپ سے چھین لے۔ آدمی اپنی غلطی کو بھگتتا ہے۔ لیکن وہ کبھی کسی دوسرے کی سازش کا شکار نہیں ہوتا۔ بشرطیکہ وہ فطرت کے قانون کو جانے، اور ا س کو عقل مندی کے ساتھ استعمال کرے۔
واپس اوپر جائیں

خبرنامہ اسلامی مرکز- 269

سی پی ایس انٹرنیشنل کا بنیادی مشن یہ ہے کہ قرآن کے پیغام کو سارے عالم کے انسانوں تک پہنچایا جائے،اور یہ کام تمام قوموں کی قابل فہم زبان میں کیا جائے۔ اس سلسلے کی کچھ اہم سرگرمیاں درج ذیل ہیں
■ 27-28اپریل 2019 کو نئی دہلی کے ہوٹل دی لیلا امبینس میں سی پی ایس انٹرنیشنل کے زیر اہتمام ایک دعوہ میٹ کا انعقاد کیا گیا۔ اس کا عنوان تھا قرآن کانفرنس، قرآن کو دنیا میںپہنچانا(Quran Conference: Taking the Quran to the World)۔ اس کانفرنس کا مقصد یہ تھا کہ دنیا کے کونے کونے میں قرآن کے پیغام کو عام کیا جائے۔ اس میٹ میں سی پی ایس مشن کے تحت کام کرنے والے ہندوستان کے تقریباً تمام داعیوں نے حصہ لیا، اور ایک نئی دعوتی انرجی کے ساتھ واپس ہوئے۔یہ تمام دعاۃ اپنے علاقوں میں دعوتی کام کرتے ہیں، اور انسانیت کو خدا کے منصوبۂ تخلیق سے آگاہ کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔
■ 14 جولائی 2019کو صدر اسلامی مرکز نے نئی دہلی میں قرآن کی ایک ویب سائٹ لانچ کی۔ یہ ویب سائٹ بنگلور ٹیم نے تیار کی ہے۔ اس ویب سائٹ پر بشمول عربی متن قرآن کے26مختلف زبانوں کے ترجمے موجود ہیں۔جو یہاں سے فری ڈاؤن لوڈکیےجاسکتے ہیں۔مثلاً اردو،آسان ہندی،شُدھ ہندی، تیلگو، کنڑا، مراٹھی، گجراتی، بنگالی،ڈوگری، پنجابی، ملیالم۔ اس کے علاوہ انٹرنیشنل زبانوں میں انگلش، سنہالا، اسپینش، چائنیز، فرانسیسی، پرتگیز، اٹالین، جرمن، ڈچ، رشین، تغالوگ (فلپینی زبان)، چیچوا، اورہبرو۔ اس کے علاوہ ہندی،اردو اور انگلش میں قرآن کی تفاسیربھی موجود ہیں ۔ یہ ویب سائٹ تمام انسانوں کو مد نظررکھ کر تیار کی گئی ہے۔ اس کا ایڈریس یہ ہے
www.cpsquran.com
جو حضرات ان تراجم ِ قرآن کی مطبوعہ کاپی (printed copy)حاصل کرنا چاہیں،وہ گڈ ورڈ بکس نئی دہلی سے رابطہ (0120 4504638)قائم کریں۔گڈورڈ بکس میں ان تراجم کے علاوہ دو ترجمے اور بھی موجود ہیں: تامل اور پولش۔
■ ان تراجم کے علاوہ درج ذیل زبانوں میں قرآن کے ترجمے کا کام فائنل مرحلے میں ہے
1.Khasi , 2. Burmese, 3. Thai, 4. Rwandese, 5. Korean, 6. Swahili,
7. Manipuri, 8. Uzbek, 9. Zulu, 10. Shona, 11. Afrikaans, 12. Xhosa, 13. Sotho, 14. Vietnamese, 15. Japanese.
نیز ان زبانوں میں بھی قرآن کے ترجمے کا کام شروع ہوگا
Bosnian, Bulgarian, Romanian, and Icelandic
■ جو صاحب دعوت کے اس عالمی مشن کا حصہ بننا چاہتے ہیں، وہ اس ای میل پر لکھیں
info@cpsglobal.org
واپس اوپر جائیں