Pages

Friday, 1 June 2007

Al Risala | June 2007 (الرسالہ،جون)

2

- مسیحی ماڈل کی آمدِ ثانی

7

- تاریخِ دعوت: آدم سے دابّہ تک

12

- آفاقی مشن

14

- شاہ راہِ دعوت سے انحراف

16

- امتحان، نہ کہ انعام

18

- فیصلہ کن چیز

20

- احکامِ دین

22

- انسان کی منزل

24

- پیغام

26

- ایک خط

28

- سوال اور جواب


مسیحی ماڈل کی آ ِمدثانی

قرآن خدا کا کلام ہے۔ خدائی کلام کا اسلوب انسانی کلام سے مختلف ہوتا ہے۔ اِس کی مثالیں قرآن کے علاوہ پچھلی آسمانی کتابوں میں بھی پائی جاتی ہیں۔ مثلاً بائبل میںبتایا گیا ہے کہ ایک پیغمبر نے اپنے مخاطبین سے کہا— میں تم سے کہتا ہوں کہ اگر یہ چپ رہیں تو پتھر چلا اٹھیں گے:
I tell you that if these should keep silent, the stones would immediately cry out. (Luke, 19:40)
یہ قول خدائی اسلوب میں ہے جو پیغمبر کی زبان سے ادا ہوا ہے۔یہ صرف خدا ہے جو اِس انداز میں کلام کرسکتا ہے۔ اِس قول کا مطلب یہ ہے کہ اگر انسان نہ بولیں تو خدا پتھروں کو حکم دے گا ، اور وہ خدا کی بات بولنے لگیں گے۔
خدائی کلام کا ایک اسلوب یہ ہے کہ حال کی زبان میں مستقبل کی بات کہنا۔ یہ اسلوب اِس حقیقت کا ایک مظاہرہ ہوتا ہے کہ صاحبِ کلام وہ ہستی ہے جو حال سے لے کر مستقبل تک کی تمام چیزوں کو دیکھ رہا ہے۔ اِس اسلوب کی ایک مثال قرآن کی سورہ نمبر 21 میں ملتی ہے۔ خدا نے انسانوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا: أولم یر الذین کفروا أن السمٰواتِ والأرض کانتا رتقاً ففتقناہما (الأنبیاء : 30 ) یعنی کیا انکار کرنے والوں نے نہیں دیکھا کہ زمین اور آسمان دونوں آپس میں ملے ہوئے تھے، پھر ہم نے ان کو پھاڑ کر ایک دوسرے سے الگ کردیا۔
اِس آیت میں خلا کے ایک واقعے کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔ یعنی وہ واقعہ جس کو موجودہ زمانے میں بگ بینگ (Big Bang) کہا جاتا ہے۔ قرآن کی یہ آیت ساتویں صدی عیسوی میںاتری تھی، جب کہ بگ بینگ کے واقعے کو انسان نے پہلی بار صرف بیسویں صدی عیسوی میں جانا۔ اِس کے باوجود قرآن میں اِس کا حوالہ دیتے ہوئے حال کے صیغے میں کلام کیاگیا ہے۔ یہ عالم الغیب خدا کا ایک اسلوب ہے، اِس قسم کا منفرد اسلوب انسانی کلام میں نہیں پایا جاتا۔
اِس اسلوب کی ایک مثال قرآن کی سورہ نمبر 61 میں موجود ہے۔ اِس سورہ کی آخری آیت کا ترجمہ یہ ہے: ’’اے ایمان لانے والو، تم لوگ خدا کے مددگار بنو، جیسا کہ عیسیٰ ابن ِ مریم نے اپنے حواریوں سے کہا کہ کون ہے جو خدا کے لیے میرا مددگار بنتا ہے۔ حواریوں نے کہا کہ ہم ہیں خدا کے مددگار۔ پھر بنی اسرائیل کے ایک گروہ نے مانا اور ایک گروہ نے انکار کردیا۔ پھر ہم نے ماننے والوں کی، اُن کے دشمنوں کے خلاف مدد کی تو وہ ہوگیے غالب‘‘۔ (الصّف: 14 )
اِس آیت کا اسلوب ایک غیر معمولی اسلوب ہے۔ اِس لیے کہ اِس آیت میں واضح طورپر پیروانِ محمد کو پیروانِ مسیح کے ماڈل کو اپنانے کا حکم دیاگیا ہے۔
اِس آیت پر غور کیا جائے تو اس سے ایک نہایت اہم حقیقت کا انکشاف ہوتا ہے۔ یہاں خدا نے حال کی زبان میں مستقبل کے معاملے کو بیان فرمایا ہے۔ اِس کا مطلب یہ ہے کہ آئندہ تاریخ میں ایسی تبدیلیاں واقع ہوں گی کہ محمدی ماڈل زمانی حالات کی نسبت سے، جزئی طورپر، قابلِ انطباق(applicable) نہ رہے گا، اس کے بجائے مسیحی ماڈل، جزئی طورپر، قابلِ انطباق بن جائے گا۔
محمدی ماڈل کیا ہے۔ پیغمبرا سلام صلی اللہ علیہ وسلم نے 610 عیسوی میں مکہ میںاپنے پیغمبرانہ مشن کا آغاز کیا۔ آپ کا مشن دوسرے پیغمبروں کی طرح توحید کا مشن تھا۔ نظریاتی اعتبار سے آپ کے مشن اور دوسرے پیغمبروں کے مشن میںکوئی فرق نہ تھا، لیکن زمانی حالات کے اعتبار سے اُس کا ایک خاص ماڈل بنا۔ اِس ماڈل کی ترتیب یہ تھی— دعوت، ہجرت، جہاد (بہ معنیٰ قتال) اور فتح۔ اس ترتیب کی پیروی کرتے ہوئے آپ کا مشن دعوت سے شروع ہوا اور درمیانی مراحل طے کرتے ہوئے آخر میں فتح تک پہنچا۔
اِس ترتیب میں دعوتِ توحید اپنی نوعیت کے اعتبار سے محمدی ماڈل کا مطلق جز تھی، لیکن بقیہ چیزوں کی حیثیت اِس ماڈل کے اضافی اجزا کی تھی، یعنی ایسے اجزا جو حالات کی نسبت سے بنتے ہیں، نہ کہ نظری یا اعتقادی پہلو سے۔
مختلف اجزا کے درمیان یہ نوعی فرق ایک معلوم فر ق ہے، جو خود قرآن سے ثابت ہوتا ہے۔ قرآن میں پیغمبر اسلام کے علاوہ پچھلے نبیوں کا بھی بار بار ذکر آیا ہے۔ اِس سے معلوم ہوتا ہے کہ پیغمبروں کے معاملے میں خدا کی سنت ایک طرف یہ تھی کہ انھیں ایک ہی دینِ ہدایت دیاگیا ۔ چناں چہ قرآن میںارشاد ہوا ہے: کُلاًّ ہدینا ونوحاً ہدینا (الأنعام: 85) یعنی نظری اور اعتقادی اعتبار سے تمام نبیوں کو ایک ہی دینِ ہدایت عطاکیا گیا۔ دینِ ہدایت کے اعتبار سے ایک پیغمبر اور دوسرے پیغمبر کے درمیان کوئی فرق نہ تھا۔
دوسری طرف قرآن کی ایک اور آیت واضح طور پر بتاتی ہے کہ ایک پیغمبر اور دوسرے پیغمبر کے درمیان فرق موجود تھا۔ اِس حقیقت کو قرآن کی اِس آیت میں بیان کیاگیا ہے: لکلٍّ جعلنا منکم شرعۃً ومنہاجاً (المائدہ: 48)
قرآن کی اِس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ دینِ ہدایت کے اشتراک کے باوجود، ہر نبی کو ایک ایسی چیز بھی دی گئی جو دوسرے نبیوں سے مختلف تھی۔ قرآن کے الفاظ میں یہ ’منہاج‘ ہے۔ منہاج سے مراد وہی چیز ہے جس کو ہم طریقِ کار (method) کہتے ہیں، یعنی ہر نبی کا دین، نظریاتی اعتبار سے ایک تھا، لیکن اس کے انطباق کے معاملے میں زمانی حالات کے اعتبار سے مختلف طریقے اختیار کیے گیے۔
اِس کی مختلف مثالیں پیغمبروں کی تاریخ میں موجود ہیں۔ مثلاً حضرت یوسف اور حضرت موسیٰ دونوں مصر میں پیغمبر بنائے گیے۔ حضرت یوسف نے اپنے زمانے کے مشرک بادشاہ کے اقتدار کے تحت، محکمۂ غذا (ministry of food) کا چارج قبول کرلیا۔ اِس کے برعکس، حضرت موسیٰ کے زمانے کے مشرک بادشاہ سے ان کا ٹکراؤ ہوا، یہاں تک کہ خدا نے حضرت موسیٰ کی مدد کی اور مشرک بادشاہ کو اُس کے لشکر سمیت تباہ کردیا۔
یہی معاملہ پیغمبراسلام ﷺکا بھی ہے۔ آپ بلا شبہہ آخری پیغمبر (final prophet) تھے۔ لیکن آپ ہر صورت حال کے لیے آخری نمونہ (final model) نہ تھے۔ چناں چہ قرآن میں آپ کے لیے ’اُسوۂ حسنہ‘ کا لفظ آیا ہے، نہ کہ اسوۂ کاملہ کا۔ (الاحزاب: 21) کسی پیغمبر کو فائنل ماڈل سمجھنا خدا کے قائم کردہ قانونِ فطرت کی تنسیخ کے ہم معنی ہے۔ ایسی تنسیخ ممکن نہیں، اِس لیے عملی اعتبار سے کسی پیغمبر کا فائنل ماڈل ہونا بھی ممکن نہیں۔ فائنل پرافٹ کا تعلق، دین کے نظریاتی حصے سے ہے۔ اور نظریاتی اعتبار سے بلا شبہہ ایک پیغمبر فائنل پیغمبر ہوسکتا ہے، لیکن ماڈل کا تعلق، خارجی حالات سے ہے۔ یہ حالات ہمیشہ بدلتے رہتے ہیں، اِس لیے عملی اعتبار سے کوئی ایک پیغمبر فائنل ماڈل نہیں بن سکتا۔
قرآن کی اصطلاح کے مطابق، یہ کہنا صحیح ہوگا کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم ’الدّین‘ کے اعتبار سے فائنل پیغمبر تھے، لیکن ’منہاج‘ کے اعتبار سے آپ فائنل ماڈل نہ تھے۔ غالباً یہی وجہ ہے کہ حدیث میں یہ پیشین گوئی کی گئی ہے کہ آخری زمانے میں مسیح دوبارہ نازل ہوں گے۔
جیسا کہ معلوم ہے، پیغمبرآخر الزماں کا زمانۂ نبوت قیامت تک ہے، اس لیے اب آپ کے بعد کسی اور پیغمبر کا شخصی طورپر آنا ناقابلِ فہم بات ہے۔ اِس لیے اِن روایات کو درست مانتے ہوئے ان کی صحیح تاویل یہ ہے کہ بعد کے زمانے میں جو چیز واقع ہوگی، وہ مسیح کی آمد ثانی نہیں ہے، بلکہ مسیح کے ماڈل کی آمد ثانی ہے۔یعنی بعد کے زمانے میں حالات کے اندر ایسی تبدیلیاں واقع ہوں گی کہ حالات کے اعتبار سے حضرت مسیح کا عملی ماڈل زیادہ قابلِ انطباق (applicable) بن جائے گا۔
پیغمبر اسلام کے ماڈل اور پیغمبر مسیح کے ماڈل میں کیا فرق ہے۔ یہ فرق نصوص سے واضح طورپر معلوم ہوتا ہے۔ پیغمبر اسلام کا ماڈل یہ ہے کہ آپ نے مکہ میں اپنے دعوتی مشن کا آغاز کیا۔ اِس کے بعد مخاطبین کی طرف سے سخت مخالفت پیش آئی۔ اِس کے بعد آپ نے مکہ سے ہجرت کرکے مدینہ کو اپنا مستقر بنایا۔
اب مخالفین کی طرف سے حملے کیے گیے۔ اس کے نتیجے میں دفاعی جنگ پیش آئی۔ اِس کے بعد آپ نے اپنے حریفوں سے وہ صُلح کی جو اسلام کی تاریخ میں ’صلح حدیبیہ‘ کے نام سے مشہور ہے۔ آخر میں فتح مکہ کا واقعہ پیش آیا اور پھر عرب میں آپ کا اقتدار قائم ہوگیا۔
اِس کے مقابلے میں مسیح کے ماڈل میںآغاز میں بھی دعوت ہے اور انجام میں بھی دعوت۔ مسیح کے دعوتی ماڈل میں ہجرت اور جہاد (بہ معنی قتال) کے واقعات موجود نہیں۔
محمدی ماڈل میں ہجرت اور جنگ اُس کے واضح اجزا کے طور پر شامل ہیں، لیکن اب حالات نے ہجرت اور جنگ کو ناقابلِ عمل بنا دیا ہے۔ اب ساری دنیا میںماڈرن نیشنل ازم کا زمانہ ہے۔ ہر ملک میں نیشنل حکومتیں قائم ہیں۔ ماڈرن نیشنل ازم نے اب ہجرت جیسے کسی طریقے کو عملی طورپر ناممکن بنا دیا ہے۔یہی معاملہ جنگ کا ہے۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ موجودہ زمانے میں عمومی تباہی کے ہتھیار (weapons of mass destruction) نے جنگ جیسے طریقے کو بالکل ناقابلِ اختیار بنا دیا ہے۔ اب جنگ کا انتخاب صرف ایک دیوانگی کا فعل ہے، اِس کے سوا اور کچھ نہیں۔
دوسری طرف حالات میں جو جدید تبدیلی ہوئی ہے، وہ عین اسلامی دعوت کے حق میں ہے۔ میری مراد جدید تہذیب سے ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ موجودہ زمانے میں ہجرت اور جنگ کے بغیر صرف پُرامن جدوجہد کے ذریعے ایک انٹرنیشنل دعوہ ایمپائر قائم کیا جاسکتا ہے۔ قدیم زمانے میں ساری طاقت سیاسی اقتدار کے پاس ہوتی تھی۔ اب محدود ایڈمنسٹریشن کے سوا ساری طاقت اداروں(institutions) کے پاس چلی گئی ہے۔
اِس نیے امکان کو سیکولر میدان میں دوسرے لوگ بھر پور طورپر استعمال کررہے ہیں۔ مثلاً اِسی نیے امکان کا سیکولر استعمال کرکے یہودیوں نے امریکا میں اپنا میڈیا ایمپائر بنا لیا ہے۔ چینیوں نے ملیشیا میںاپنا کمرشیل ایمپائر بنا لیا ہے۔ عیسائیوں نے ہندستان میں اپنا ایجوکیشنل ایمپائر بنا لیا ہے، مغرب سیاسی اعتبار سے، ہندستان سے واپس چلاگیا تھا، لیکن اب وہ یہاں دوبارہ اپنا انڈسٹریل ایمپائر بنا رہا ہے، وغیرہ۔
اِسی طرح اسلام کے پیرو خالص پر امن تدبیروں کے ذریعے ایک دعوہ ایمپائربنا سکتے ہیں۔مگر دعوہ ایمپائر بنانے کے لیے ضروری ہے کہ نیے حالات کو سمجھا جائے۔ نیے امکانات کو بین اقوامی اصولوں کے مطابق، استعمال کیا جائے۔ یہی وہ حکمت ہے جس کو ہم نے مسیحی ماڈل کے لفظ سے تعبیر کیا ہے۔
واپس اوپر جائیں

تاریخِ دعوت: آدم سے دابّہ تک

تاریخ کیا ہے۔ تاریخ علم کی ایک شاخ ہے جس میں ماضی کامنظم مطالعہ کیا جاتا ہے:
History— a systematic study of past events
قدیم زمانے سے تاریخ کے مطالعے کا یہ طریقہ رہا ہے کہ سیاسی واقعات(plitical events) کو یونٹ بنا کر حالات کو قلم بند کیا جائے۔ مثلاً انڈیا کے حوالے سے اُس کا طریقہ یہ ہوگا کہ پہلے راجاؤں کے عہد کا ذکر کیا جائے اُس کے بعد مغلوں کا دَور، اُس کے بعد انگریزوں کا دَور،اُس کے بعد کانگریس کا دَور، وغیرہ۔ مَوجودہ زمانے میں آرنلڈ ٹائن بی (وفات: 1975 ) نے ایک نیا طریقہ اختیار کیا۔ اُس نے تہذیب (civilization) کو یونٹ بنا کر اپنی مشہور کتاب ’اسٹڈی آف ہسٹری‘ (A Study of History)تیار کی۔
تاریخ کا مطالعہ کیجیے تو اُس میں یہی ترتیب نظر آئے گی، مگر اِس طریقِ مطالعہ میں تاریخ کا ایک اہم پہلو چھوٹ گیا ہے، اور وہ ہے خدا کے پیغمبروں کی تاریخ۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ معروف تاریخ کے ساتھ تاریخ کا ایک اور دھاراہر زمانے میں چلتا رہا ہے۔ یہ پیغمبروں کی تاریخ کا دھارا ہے۔ مگر تاریخ کا یہ دھارا مدوّن تاریخ میں بہت کم رکارڈ ہوسکا۔
پیغمبروں کی تاریخ کا ماخذ نسبتاً بہت محدود ہے۔ بنیادی طورپر اُس کے تین ماخذ ہیں— بائبل، قرآن اور حدیث اور اَثریات(archaeology)۔ ببلکل لٹریچر (Biblical literature)میںاِس سلسلے میں کافی معلومات پائی جاتی ہیں، لیکن وہ بہت کم مستند ہیں۔
قرآن اور حدیث کی حیثیت تاریخ انبیاء کے ایک مستند ماخذ کی ہے، لیکن اہل علم کے نقطۂ نظر کے مطابق، اُس کی حیثیت زیادہ تر اعتقادی ہے۔ آرکیالوجی، یعنی کھدائی کے ذریعے حاصل ہونے والی معلومات اہلِ علم کے نزدیک مستند ہیں، لیکن اُن کا بڑا حصہ استنباطی معلومات کی حیثیت رکھتا ہے۔ تاہم موجودمعلومات کی روشنی میں ہم تاریخ انبیاء کا ایک مختصرخاکہ مرتب کرنے کی کوشش کریں گے۔
مذہبی عقیدے کے مطابق، آدم پہلے انسان تھے اور ساتھ ہی پہلے پیغمبر بھی۔ آدم مکمل معنوں میں ایک انسان تھے۔ آدم کے بعد طویل تاریخ میں برابر خدا کے پیغمبر آتے رہے، ہر زمانے میں اور ہر مقام پر۔ یہ سلسلہ مسیح ابنِ مریم تک جاری رہا۔ اُس کے بعد 570ء میں خدا نے محمد بن عبد اللہ بن عبدالمطلب کو پیدا کیا۔ وہ سلسلۂ نبوت کی آخری کڑی تھے۔ اُن کے بعد اب اور کوئی نبی آنے والا نہیں۔
محمد بن عبد اللہ بن عبد المطلب (صلی اللہ علیہ وسلم)سے پہلے آنے والے پیغمبروں پر خدا کا جو کلام اُترا، وہ اپنی اصل صورت میں محفوظ نہ رہ سکا۔ اِن پیغمبروں کی زندگی کا بھی مستند رکارڈ موجود نہیں۔
پچھلے پیغمبروں کی لائی ہوئی کتاب کیوں صحیح صورت میں محفوظ نہ رہی۔ اس کا سبب بنیادی طورپر یہ ہے کہ کسی پیغمبر کی کتاب یا اس کا کلام صرف اُس وقت صحیح صورت میں محفوظ رہ سکتا ہے جب کہ اُس کے معاصر پیروؤں کی تعداد کافی زیادہ ہو۔ تاکہ خود پیغمبر کی نگرانی کے تحت اُس کے زمانے میں حفاظت کا کام ممکن ہوسکے۔ لیکن پچھلے پیغمبروں کے ساتھ ایسا نہ ہوسکا۔ بعد کی نسلوں نے اپنے پیغمبر کی تعلیمات کو مرتب کرنے کی کوشش کی، لیکن وہ اِس میں کامیاب نہ ہوسکے۔ کیوں کہ اُس وقت تک پیغمبر کی چھوڑی ہوئی تعلیمات میں کافی بگاڑ آچکا تھا۔
مثال کے طور پر حضرت مسیح کو لیجیے۔ حضرت مسیح کے معاصر پَیرو بہت کم تھے۔ اُن کے حالات اتنے سقیم تھے کہ حضرت مسیح کے کلام کو محفوظ کرنا اُن کے لیے ممکن نہ تھا۔ بعد کی نسلوں میں حافظے کی مدد سے حضرت مسیح کے احوال یا ان کا کلام مرتب کیا گیا، لیکن نسل در نسل تبدیلی ہونے کی بنا پر بعد کے ناقلین کو حضرت مسیح کے بارے میں جو کچھ ملا، وہ کافی بدل چکا تھا۔ اب بائبل کی صورت میں جو چیز موجود ہے، وہ حضرت مسیح کے بارے میں بعد کے زمانے کا رکارڈ ہے، جب کہ وہ بدلتے بدلتے اپنی اصل حیثیت کو ختم کرچکا تھا۔
پیغمبر اسلام کے ساتھ خدا کا یہ خصوصی معاملہ ہوا کہ آپ کی لائی ہوئی خدائی کتاب (قرآن) پوری طرح محفوظ ہوگئی۔اِس بنا پر اب نیے پیغمبر کی ضرورت نہیں۔ آپ کی لا ئی ہوئی کتاب اب پوری طرح مستند صورت میں موجود ہے۔ آپ کے متّبعین نسل بعد نسل دنیا میں پائے جارہے ہیں۔ یہ چیزیں پیغمبر کا بدل ہیں۔ پیغمبر نے جو کام ذاتی طور پر کیا تھا، اب وہی کام پیغمبر کے متبعین کے ذریعے نسل در نسل ہوتا رہے گا، یہاں تک کہ قیامت آجائے۔ دوسرے پیغمبروں کی لائی ہوئی کتاب زمانۂ تبدیلی میں مرتب کی گئی، جب کہ پیغمبر اسلام کی لائی ہوئی کتاب دورِ اوّل ہی میں محفوظ کر لی گئی، اِس سے پہلے کہ اُس کے اندر کوئی تبدیلی واقع ہو۔
پیغمبرانہ مشن کی اِس تاریخ کا مطالعہ کیا جائے تو اُس کے چند دور قرار پاتے ہیں۔ یہ اَدوار تاریخی ترتیب کو نہیں بتاتے، بلکہ عمل کی مختلف نوعیت کو بتاتے ہیں۔ اِن اَدوار کو حسب ذیل تقسیمات کی صورت میں بیان کیا جاسکتاہے:
1 - آدم سے لے کر مسیح تک کا زمانہ۔
2 - ہاجرہ اور اسماعیل کے ذریعے ایک نئی نسل کی تیاری۔
3 - اصحاب رسول کی صورت میں ایک منتخب ٹیم کی تشکیل۔
4 - سیاسی جبر کا خاتمہ اور آزادی کے دَور کا آغاز۔
5 - توہماتی طرزِ فکر کا خاتمہ، فطری حقائق کے انکشاف کے بعد سائنسی دلائل کے ذریعے دعوتی کام کا آغاز۔
6 - سائنسی انقلاب کا ظہور میں آنا۔
7 - دابّہ (النمل: 82 ) کا ظہور اور عالمی دورِ دعوت کا آغاز۔
8 - اخوانِ رسول کا رول۔
مذکورہ درجہ بندی میں پہلا زمانہ وہ ہے جو حضرت آدم اور پیغمبر اسلام کے درمیانی زمانے میں آنے والے پیغمبروں سے تعلق رکھتا ہے۔ اِن تمام پیغمبروں کے زمانے میں بظاہر کوئی بڑا انقلابی واقعہ پیش نہیں آیا، لیکن اُن میں سے ہر ایک نے نہایت اہم کام انجام دیا۔
یہ تمام پیغمبر مختلف زمانوں اور مختلف حالات میں آئے۔ ہر ایک نے اپنے زمانے کے لحاظ سے ایک عملی طریقہ، قرآن کے لفظوں میں ’منہاج‘ اختیار کیا۔ اِس اعتبار سے اُن میں سے ہر ایک کو خداپرستانہ زندگی کے لیے ماڈل کی حیثیت حاصل ہے۔ اِن میں سے تقریباً دو درجن پیغمبروں کا ذکر قرآن میں آیا ہے۔ اور اُن کے بارے میں ارشاد ہوا ہے کہ: اولٰئک الذین ہدی اللہ فبہداہم اقتدہ (الأنعام90 :) یعنی اُن میں سے ہر ایک، خدا کے دین کا ماڈل ہے۔ اُن میں سے ہر ایک یہ بتاتا ہے کہ مختلف حالات میں خدا پرستانہ زندگی کی عملی صورت کیا ہونا چاہیے۔
اِس معاملے میں دوسرا رول ہاجرہ اور آلِ ابراہیم کا ہے۔ انھوں نے غیر معمولی قربانی کے ذریعے ایک انقلابی کام انجام دیا۔ اِس کے بعد کام کے دوسرے مراحل پیش آتے رہے۔ ان کی تفصیل میں نے اپنی کتابوں میں پیش کی ہے۔ مثلاً ’اسلام دورِ جدید کا خالق‘ اور ’ظہور اسلام‘ وغیرہ۔
دابّہ کے لفظی معنی ہوتے ہیں رینگنے والا(creeper)۔ جہاں تک میں سمجھتا ہوں، اس سے مراد کوئی عجیب الخلقت حیوان نہیںہے، بلکہ اس سے مراد وہی چیز ہے جس کو موجودہ زمانے میں ملٹی میڈیا (multi media) کہا جاتا ہے۔ ملٹی میڈیا سرعتِ رفتار کے ساتھ حق کے پیغام کو ساری دنیا میں پہنچانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ میرے اندازے کے مطابق، دابّہ کی حیثیت ایک ذریعے کی ہے۔ دابّہ خود نہیں بولے گا، بلکہ وہ دورِجدید کے داعی کی آواز کو لے کر ساری دنیا میں اس کو پہنچادے گا۔ یہاں تک کہ کوئی چھوٹا یا بڑا گھر اُس سے خالی نہ رہے گا۔ دابّہ، داعی کا ہتھیار ہوگا، وہ خود انسان کے مانند کلام نہیں کرے گا۔ واللّٰہ أعلم بالصواب۔
دابّہ کو اگر اس معنیٰ میں لیا جائے کہ وہ ایک عجیب الخلقت حیوان ہوگا اور حیوان ہونے کے باوجود وہ معجزاتی طورپر خود انسانی زبان میں کلام کرے گا۔ ایسا اگر مانا جائے تو یہ حالتِ امتحان کے خاتمے کے ہم معنیٰ ہوگا۔ اور قیامت کے ظہور سے پہلے حالتِ امتحان ختم ہونے والی نہیں۔
روایات کے مطابق، دابّہ کا ظہور قیامت سے پہلے ہوگا۔ اِس بنا پر دابّہ کے ظہور کو ایک ایسا خرقِ عادت واقعہ نہیں مانا جاسکتا جو حالتِ امتحان کو ختم کردینے والا ہو۔دابّہ کے بارے میں تفسیر کی کتابوں میں جو روایات آئی ہیں، اُن میں بتایا گیا ہے کہ: تکلّمہم بلسان ذلق، فتقول بصوت یسمعہ مَنْ قرُب وبَعد (القرطبی، جلد 13 ، صفحہ 238) یعنی دابّہ لوگوں سے تیز زبان میں بولے گا، وہ ایسی آواز میں بولے گا جس کو قریب والے بھی سنیں گے اور دور والے بھی سنیں گے۔
اِس کا مطلب اگر یہ لیا جائے کہ دابّہ کی خود اپنی آواز ساری دنیا میں براہِ راست طورپر سنائی دے گی تو یہ ایک ناقابلِ فہم بات ہے۔ کیوں کہ اگر دابّہ اتنی زیادہ بلند آواز میں بولے کہ ساری دنیا کے لوگ اُس کو براہِ راست طورپر سنیں تو لوگ اُس کو سننے سے پہلے صرف اس کے صوتی دھماکے ہی سے مرچکے ہوں گے۔ اِس قسم کی بلند آواز انسانوں سمیت تمام چیزوں کو دفعۃً تباہ کردے گی۔ اُس کے بعد کوئی سننے والا ہی نہیں ہوگا جس کو کوئی سنانے والا سنائے۔
اِس طرح کی اور بھی کئی باتیں روایات میں آئی ہیں۔ اِس لیے دابّہ کے سلسلے میں جو روایات آئی ہیں، ان کو درست مانتے ہوئے اُن کی تاویل کی جائے گی، نہ یہ کہ ان کو لفظی طورپر درست مان لیا جائے۔میرے مطالعے کے مطابق، دابّہ کمیونی کیشن کے زمانے کا ایک مشینی ہتھیار ہے۔ یہی وہ چیز ہے جس کو آج کل ملٹی میڈیا کہاجاتا ہے۔
حدیث میں بعد کے زمانے کے ایک گروہ کا ذکر کیاگیا ہے، اِس گروہ کو ’اخوانِ رسول‘ کا نام دیا گیا۔میری سمجھ کے مطابق، جولوگ دابّہ کے اِس جدید دعوتی امکان کو استعمال کرکے ساری دنیا میں دینِ حق کا پیغام پہنچائیں، وہی اخوانِ رسول کہے جائیں گے۔ اخوانِ رسول بعد کے زمانے میں وہی عظیم رول ادا کریں گے جو ساتویں صدی عیسوی میںاصحاب رسول نے ادا کیا تھا۔
اصحاب رسول ’خیر امت‘ کا پہلا حصہ تھے۔ ’ اخوانِ رسول‘ خیر امت کا دوسرا حصہ ہوں گے۔ یہ تاریخِ دعوت کا آخری اظہار ہوگا۔ اِس کے بعد نہ موجودہ دنیا باقی رہے گی اور نہ دعوتی عمل کی ضرورت۔ ہٰذا ما عندی والعلم عند اللہ۔
واپس اوپر جائیں

آفاقی مشن

قرآن کی سورہ نمبر 25 کا آغاز اِس آیت سے ہوتا ہے: تبارک الذی نزّل الفرقان علی عبدہ لیکون للعالمین نذیرا( الفرقان: 1 ) یعنی بابرکت ہے وہ ذات جس نے اپنے بندے پر فرقان اتارا، تاکہ وہ سارے عالم کے لیے آگاہ کرنے والا ہو۔
قرآن میں ’عالمین‘ کا لفظ 73 بار آیا ہے۔ اِس سے اندازہ ہوتا ہے کہ قرآن کا پیغام ایک عالمی پیغام ہے۔ قرآن اپنے ماننے والوں کے اندر آفاقی نقطۂ نظر (universal outlook) پیدا کرنا چاہتا ہے۔ خدا، ساری کائنات کو ایک نظرسے دیکھتا ہے۔ خدا کو مطلوب ہے کہ اس کے بندوں کے اندر بھی کائناتی ذہن ہو۔ وہ محدودیت کے خول میں نہ جئیں، بلکہ وہ لا محدود وسعتوں میں جینے والے بنیں۔
یہ آفاقی ذہن کس طرح بنتا ہے۔ جواب یہ ہے کہ دعوت الی اللہ کے ذریعے۔ دعوت الی اللہ کا مطلب ہے— خدا کے پیغامِ ہدایت سے تمام انسانوں کو باخبر کرنا۔ مطالعہ بتاتا ہے کہ قرآن میںاسلام کے صرف چند سواحکام ہیں۔ حدیث میں ہزاروں احکام بیان ہوئے ہیں۔ فقہ میں ان احکام کی تعداد لاکھوں تک پہنچ جاتی ہے۔
غور کیجیے تو یہ تمام احکام بنیادی طورپر مسلم کمیونٹی سے تعلق رکھتے ہیں۔ احکام کی طویل فہرست میں صرف ایک حکم ایسا ہے جو اپنی نوعیت میں عمومی ہے، اور وہ دعوت الی اللہ ہے، یعنی اللہ کے تمام بندوں کو اللہ کا پیغام پہنچانا۔ دعوت کی یہی حیثیت اُس کو ایک آفاقی حکم بنا دیتی ہے۔ بقیہ احکام اگر مسلم رُخی احکام ہیں تو دعوت کی حیثیت انسان رُخی حکم کی ہے۔
مسلمان جب دعوت الی اللہ کا کام کریں گے تو اُس کے نتیجے میں اُن کے اندر فطری طورپر آفاقی ذہن پرورش پائے گا۔ ان کی سوچ اور ان کی پلاننگ د ونوں آفاقیت کی حامل ہوگی۔ ان کے اندر سارے انسانوں کے لیے ہمدردی کا جذبہ ابھرے گا۔ اپنی علاحدہ شناخت بنانے کے بجائے وہ سارے انسانوں کو لے کر سوچیں گے۔ یہ آفاقی مزاج ان کے سارے معاملات کو آفاقی بنا دے گا۔
بعد کے زمانے میں مسلمانوں کے اندر فقہی طرز فکر غالب آگیا۔ فقہی طرز فکر دراصل احکامی طرز فکر ہے۔ جب مسلمانوں میںیہ مزاج پیدا ہوا تو فطری طورپروہ اپنی کمیونٹی کو لے کر سوچنے لگے۔دورِ دعوت میں اگر اُن کے اندراکرامِ انسان کا ذہن تھا تو دورِ فقہ میں ان کے اندر اکرامِ مسلم کا ذہن پیدا ہوگیا۔ سارے انسانوں کو لے کر سوچنے کے بجائے، وہ صرف اپنی ملت کو لے کر سوچنے لگے۔اسلامی ذہن، انسان اور ینٹیڈ ذہن ہے، نہ کہ کمیونٹی اورینٹیڈ ذہن۔
انسان اورینٹیڈ ذہن کو اپنے اندر پیدا کیے بغیر، دعوت الی اللہ کا آفاقی عمل انجام دینا سرے سے ممکن ہی نہیں۔ انسان اورینٹیڈ ذہن سے انسانی ہمدردی کا مزاج پیدا ہوتا ہے اور انسانی ہمدردی کے اِس عمومی مزاج کے بغیر، دعوت کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا۔
واپس اوپر جائیں

شاہ راہِ دعوت سے انحراف

پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے اسلامی تاریخ کے تین زمانوں کو معیاری زمانہ قرار دیا ہے۔ اسی لیے ان کو ’قُرون مشہود لہا بالخیر‘ کہا جاتا ہے۔ وہ تین زمانے یہ ہیں— عہدِ رسالت، عہدِصحابہ، عہدِ تابعین۔ اِن تین قرون کو تین جنریشن بھی کہا جاسکتا ہے۔ پہلی جنریشن وہ ہے جب کہ پیغمبر اسلام کی ذات ، مسلم معاشرے کا مرکز و محور بنی ہوئی تھی۔ دوسری جنریشن وہ ہے جب کہ سماج پر صحابہ کا غلبہ قائم تھا اور تیسری جنریشن وہ ہے جب کہ تابعین مسلم معاشرے میں غالب حیثیت رکھتے تھے۔ اس کے بعد مسلم معاشرے میں زوال کا دور شروع ہوگیا۔
تاریخ بتاتی ہے کہ پہلی تین جنریشن تک اسلام کا اصل مشن دعوت الی اللہ تھا۔ اُس زمانے کے مسلمان، عرب کے اندر اور عرب کے باہر، اسلام کی دعوت پھیلانے میں مشغول رہے۔ اُس زمانے کے مسلمانوں کا حال یہ تھا کہ ساری انسانیت اُن کا کنسرن (concern) بنی ہوئی تھی۔
عباسی دور میں فقہ کی تدوین ہوئی۔ فقہ کی تدوین دراصل احکام کی تدوین کے ہم معنٰی تھی۔ چنانچہ فقہ کی کتابوں میںاحکام سے متعلق تمام ابواب ملتے ہیں، لیکن دعوت الی اللہ کا باب فقہ کی کسی کتاب میں نہیں ملتا۔ یہ ایک ایسی حقیقت ہے جس کا انکار ممکن نہیں۔
یہی وہ زمانہ ہے جب کہ مسلمانوں میں دعوتی ذہن ختم ہوا، اور احکامی ذہن ہر طرف پھیل گیا۔ اسلام کی اشاعت اگرچہ اُس کے بعد بھی جاری رہی، لیکن وہ اسلام کی اپنی داخلی قوت کے ذریعے تھی، نہ کہ مسلمانوں کی کسی دعوتی کوشش کے ذریعے۔ اب مسلمانوں کی تمام سرگرمیاں، فکری اور عملی دونوں، مسلم رُخی (Muslim-oriented) ہوگئی ہیں۔ اب مسلمان عالمی مشن کا عنوان نہ رہے، بلکہ وہ دوسری کمیونٹی کی طرح ایک محدودکمیونٹی بن کر رہ گئے ہیں۔
آج سب سے زیادہ جس سنت کے اِحیاء کی ضرورت ہے، وہ یہی سنتِ دعوت ہے۔ مسلمانوں کے درمیان جب تک سنتِ دعوت کو زندہ نہ کیا جائے، اُن کے اندر کوئی بڑی اسلامی بیداری نہیں آسکتی۔ ’اصلاحِ مسلم‘ کے کام کو تبلیغ و دعوت کا عنوان دینا بھی اِس مسئلے کا کوئی حل نہیں۔ ’اصلاحِ مسلم‘ کے کام کو دعوت کا کام بتانا، صرف یہ ثابت کرتا ہے کہ لوگوں کا ذہن اتنا زیادہ بگڑ چکا ہے کہ وہ یہ بھی نہیں جانتے کہ دعوت الی اللہ کیا ہے۔
دعوت الی اللہ کا مطلب ہے— غیر مسلموں تک خدا کے پیغام کو پہنچانا۔ دعوت الی اللہ کا یہ سب سے زیادہ مطلوب کام صرف احساسِ ذمّے داری کے تحت کیا جاسکتا ہے۔ اِس دعوتی کام کو انجام دینے کے لیے ضروری ہے کہ داعی گروہ کے اندر اپنے مدعوگروہ کے لیے خیر خواہی کا جذبہ ہو۔ اور اس کا سینہ اپنے مدعو کی طرف سے مکمل طورپر نفرت اور شکایت سے خالی ہو۔
دعوت الی اللہ کا یہ کام صرف وہی لوگ کرسکتے ہیں جو اپنے اندر یہ اعلیٰ انسانی صفت رکھتے ہوں کہ وہ نفرت کے باوجود محبت کرسکیں۔ جو شکایت کے باوجود شکایت سے بلند ہو کر سوچنے کا حوصلہ رکھتے ہوں۔ جو آخرت کی پکڑ کے احساس سے اپنا دعوتی فریضہ ادا کرنے کے لیے اٹھے ہوں، نہ کہ کسی اور احساس کے تحت۔
واپس اوپر جائیں

امتحان، نہ کہ انعام

کرنل ولیم سلیمین(Sir William Sleeman) 1848 سے 1854 تک لکھنؤ میں تھا۔ اس نے اپنے قیام اودھ کی یادداشت لکھی ہے جو لندن سے 1854 میں دو جلدوں میں شائع ہوئی۔ اس کا نام ہے:
Journey Through the Kingdom of Oudh.
سلیمین نے جب داراشکوہ کی قبر دیکھی تو اس نے کہا کہ اگر وہ زندہ رہتا اور دہلی کی سلطنت پر اس کا قبضہ ہوجاتا تو تعلیم کی نوعیت اور اسی کے ساتھ انڈیا کا مستقبل بالکل مختلف ہوتا:
Had he lived to occupy the throne, the nature of education, and therewith the destiny of India, would have been different. (p. 572)
کرنل سلیمین نے اپنی کتاب میں اس کا ذکر کیا ہے کہ انگریزوں نے جن ہندستانیوں کو دباکر ان کے اوپر اپنی حکومت قائم کی، ان کے خیالات انگریزی حکومت کے بارے میں کیا تھے۔ اس سلسلے میںانھوں نے کیپٹن لاکٹ کا ذکر کیا ہے جو ہندستانی زبان اچھی طرح جانتے تھے۔ اور اس بنا پر ہندستانیوں سے اپنائیت کے ساتھ بات کرسکتے تھے۔ وہ لکھتے ہیں کہ:
’’کیپٹن لاکٹ نے لکھنؤ میںنواب اودھ کی کمزوریوں اور ان کی حکومت کے ظلم کے متعلق سوالات کیے۔ ان کو جواب دیا گیا کہ ہم پریشان ہیں، ہم کو مزید پریشانی میں نہ ڈالیے۔ یہ سن کر کیپٹن لاکٹ نے کہا کہ ایسا کیوں۔ کیا آپ لوگ پہلے سے زیادہ بہتر حکومت کے ماتحت نہیں ہیں۔ جواب ملا کہ ہاں، مگر اودھ کا نام اور ہمارے ملک کی عزت ختم ہوگئی۔ یہ جواب دینے والا ایک مسلمان تھا۔ ہندو کا جواب شاید اس سے مختلف ہوتا‘‘۔ (جلد دوم، صفحہ 65-66)
مذکورہ مسلمان کے جواب میں وہ معاشرہ جھلک رہا ہے جو اس وقت لکھنؤ میںموجود تھا اور جس میں اس مسلمان نے پرورش پائی تھی۔ اگر اس کی پرورش ایسے ماحول میں ہوتی جہاں قرآن کا چرچا ہوتاہے تو شاید اس کا جواب یہ ہوتا کہ حکومت کوئی انعام کی چیز نہیں ہے بلکہ قرآن کے مطابق، وہ امتحان کی چیز ہے۔ خدا نے ان کو ہٹا کر آپ کو یہاں کا اقتدار دیا ہے، تاکہ دیکھے کہ آپ کیسا عمل کرتے ہیں: ثم جعلناکم خلائف فی الأرض من بعدہم لننظر کیف تعملون (یونس: 14 )یعنی پھر ہم نے اُن کے بعد تم کو ملک میں جاں نشیں بنایا، تاکہ ہم دیکھیں کہ تم کیسا عمل کرتے ہو۔
مذکورہ مسلمان اگر یہ جواب دیتا تو اس کا جواب عین دعوت بن جاتا۔ اس طرح مسلمانوں اور غیر مسلموں کا مجرد اختلاط (interaction) ہی دعوتی عمل جاری ہونے کے لیے کافی ہے، بشرطیکہ مسلمان ضروری اسلامی معلومات رکھتے ہوں۔
واپس اوپر جائیں

فیصلہ کن چیز

لکھنؤ میں ایک اشاعتی ادارہ ’راشٹردھرم پرکاشن‘ ہے۔ اس نے آر ایس ایس کے سابق سرسنچالک گرو گووالکر (وفات: 1973) کی ایک ہندی کتاب چھاپی ہے۔ اس کا نام ہے— ’راشٹرجیون کی سمسیائیں‘ (1960) ۔ گرو گولوالکر نے اپنی اس کتاب میں لکھا ہے کہ :
’’مسلمان اور عیسائی کبھی سچے نیشنلسٹ نہیں ہوسکتے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ سچا نیشنلسٹ بننے کے لیے ضروری ہے کہ آدمی وطن کی زمین کو مقدس سمجھتا ہو۔ مسلمان اور عیسائی اس معیار پر پورے نہیں اترتے۔ اس لیے صرف ہندو ہی سچا نیشنلسٹ ہوسکتا ہے، کیوں کہ وہ بھارت کو مقدس سمجھتا ہے۔ ہندو کے لیے اس ملک کا ایک ایک ذرہ مقدّس ہے۔ اس سے ثابت ہوا کہ ہندو ہی اس ملک میں سچا نیشنلسٹ ہے اور ہندو نیشنل ازم ہی سچا نیشنل ازم ہے‘‘۔
لکھنؤ میں ایک تعلیم یافتہ مسلمان نے اس کتاب کا حوالہ دیا اور بپھرے ہوئے انداز میں وہ اس پر تبصرہ کرنے لگے ۔ انھوں نے کہا کہ اس ملک میں ایسے ایسے نظریات ابھر رہے ہیں جو تمام مسلمانوں کو غدار ثابت کررہے ہیں اور آپ مسلمانوں کو تلقین کررہے ہیں کہ وہ صبر اور اعراض کی پالیسی اختیار کریں۔
میں نے کہا کہ آر ایس ایس 1925 میں بنی۔ اب اس پر تقریباً اسّی سال پورے ہورہے ہیں۔ اس کی پہلی نسل ختم ہوچکی۔ دوسری نسل بوڑھی ہوگئی اور اب تیسری نسل کا دور شروع ہورہا ہے، مگر ملک کے کسی بھی طاقت ور ادارے پر اس کا قبضہ نہ ہوسکا۔ حکومت، صحافت، تعلیم، انڈسٹری، فوج ، قانونی نظام، ٹریڈ یونین، غرض جس شعبے کو بھی دیکھیے، وہ آر ایس ایس کے قبضے سے باہر دکھائی دے گا۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ ملک میں آر ایس ایس کے مقابلے میں غیر آرایس ایس طاقتیں زیادہ مؤثر حیثیت رکھتی ہیں۔ ایسی حالت میں اس سے خائف ہونے کی کیا ضرورت۔
دوسری بات یہ کہ اس دنیا میں آخر کار جو چیزغالب (prevail) ہوتی ہے، وہ حقیقت (reality) ہے نہ کہ کسی کے بولے ہوئے الفاظ۔ نیشنلسٹ یا وطن پرست کون ہے، اس کے بارے میں اصل فیصلہ کن چیز عالمی معیار ہے، نہ کہ آر ایس ایس کے سرسنچالک کے بولے یا لکھے ہوئے الفاظ۔ اور عالمی ذہن بلا شبہہ اس کو رد کررہا ہے۔
نیشنل ازم کی مذکورہ تعریف کے مطابق، تمام ملکوں کے باشندے غدار ہیں، کیوں کہ کسی بھی ملک کے باشندے اپنے ملک کو مقدس نہیں سمجھتے۔ نیشنل ازم کا جو اصول ساری دنیا میں چل رہا ہے وہی انڈیا میں بھی چلے گا۔ کسی کے لیے یہ ممکن نہیں کہ وہ کسی خود ساختہ نظریے کے تحت، انڈیا کو ایک نیشنلسٹ جزیرہ بنا سکے۔
واپس اوپر جائیں

احکامِ دین

دین میں جو احکام دیے گیے ہیں وہ مختلف نوعیت کے ہیں۔ قرآن اور سنت کے مطالعے سے معلوم ہوتا ہے کہ ان احکام کی دو بڑی قسمیں ہیں۔ ایک وہ جو دین کا مطلق حصہ (absolute part) ہیں۔ اور دوسرے احکام وہ ہیں جو دین کا اضافی حصہ (relative part) ہیں۔ مطلق حصہ ہر حال میں یکساںطورپر مطلوب ہوتاہے۔ جب کہ اضافی حصے کی مطلوبیت حالات پر منحصر ہوتی ہے۔ کسی وقت کے حقیقی حالات یہ طے کرتے ہیں کہ ان کا نفاذ کس طرح کیا جائے گا۔
احکام دین کے اس فرق کو سمجھنے کے لیے قرآن اور سنت کے دو حوالوں کا مطالعہ کیجیے۔ قرآن کی سورہ نمبر 109 میںپیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان سے یہ کہلایا گیا ہے کہ کہو کہ اے منکرو، میں ان کی عبادت نہیں کرتا جن کی عبادت تم کرتے ہو۔ (الکافرون: 1-2)
قرآن کی اس آیت میں عبادت کا لفظ آیا ہے۔ اس سے صریح طورپر یہ معلوم ہوتا ہے کہ جہاں تک عبادت کا تعلق ہے، اس کو دین کے ایک مطلق حکم کی حیثیت حاصل ہے۔ عبادت کے معاملے میں دوسروں سے نہ سمجھوتہ ہے اور نہ ایڈجسٹمنٹ۔ ہر مسلمان پر لازم ہے کہ وہ صرف ایک خدا کی عبادت کرے اور اسی ڈھنگ پر عبادت کرے جس طرح اسلام میں بتایا گیا ہے۔ جیسا کہ قرآن سے ثابت ہے، ایک خدا کے سوا کسی اور کی عبادت کرنا شرک ہے اور شرک خدا کے نزدیک ناقابل معافی جرم ہے۔
تاہم اس کا یہ مطلب نہیں کہ عبادت میں اگر دوسروں کی طرف سے کوئی رکاوٹ ہو تو مسلمان اس رکا وٹ کو ختم کرنے کے لیے جنگ چھیڑ دیں۔ پیغمبر اسلام کے مکی دور کی زندگی سے معلوم ہوتا ہے کہ عبادت کے معاملے میں بھی حالا ت کی رعایت کی جائے گی۔
چناںچہ مکہ میں پیغمبر اسلام اور آپ کے اصحاب نے ابتداً کئی سال تک چھپ کر عبادت کی اور باقاعدہ با جماعت نماز کا اہتمام بہت بعد کو مدنی دور میں کیاگیا۔ عبادت کے معاملے میں یہ طریقہ قرآن کے ایک مستقل اصول کے تحت تھا۔ یہ حکم قرآن میں ان الفاظ میں دیاگیا ہے: اللہ کسی بندے پر اس کی طاقت سے زیادہ ذمے داری نہیں ڈالتا (البقرہ: 286) ۔یہی بات قرآن کے دوسرے مقام پر بھی کہی گئی ہے۔ (التغابن: 16)
قرآن اور حدیث کے مطالعے سے معلوم ہوتا ہے کہ دین کے مطلق احکام خاص طور پر تین پہلوؤں سے تعلق رکھتے ہیں— عقیدہ ، عبادت اور اخلاق ۔ یہ تینوں قسم کے احکام اپنی نوعیت کے اعتبار سے مطلق ہیں، یعنی ان پر ہر حال میں عمل کیا جائے گا۔ خود اپنے ارادے سے ان میں کوئی کمی بیشی نہیں کی جائے گی۔ ان کی ادائیگی میںکسی قسم کا فرق صرف اسی وقت کیا جاسکتا ہے جب کہ مجبوری کی کوئی صورت پیدا ہوگئی ہو، جس کو شریعت میںاضطرار (البقرہ : 173) کہاگیا ہے۔
ان تینوں قسم کے احکام میںحالات کی نسبت سے فرق کرنے کی اجازت ہے، مگر یہ اجازت صرف بربنائے مجبوری ہے۔ ان تینوں احکام کا تعلق ایک شخص کے انفرادی رویے سے ہے اور ہر شخص کے ذاتی حالات ہی یہ فیصلہ کرتے ہیں کہ وہ ان کی تعمیل کس طرح کرے۔
احکامِ دین کی تعمیل فہرستِ احکام کے اعتبار سے مطلوب نہیں ہے، بلکہ وہ آدمی کے حالات کے اعتبار سے مطلوب ہے۔ آدمی کے حالات اُس کو جس حد تک اِن احکام پر عمل کرنے کی اجازت دیتے ہیں، اُسی حد تک وہ اُن پر عمل کرنے کا مکلّف ہوگا۔
تعمیل احکام کی یہی ترتیب فطری ترتیب ہے۔ یہی فطری ترتیب ایک شخص اور ایک قوم سے یکساں طورپر مطلوب ہے۔ کسی شخص اور قوم کے حقیقی حالات ہی اِس بات کا فیصلہ کرتے ہیں کہ وہ احکامِ دین کی تعمیل کس طرح کرے۔
واپس اوپر جائیں

انسان کی منزل

انسان اپنے لیے ایک محفوظ دنیا چاہتا ہے، مگر سنامی (دسمبر 2004 ) کا واقعہ بتاتا ہے کہ انسان کو صرف ایک غیر محفوظ دنیا ملی ہے۔ انسان لامحدود زندگی چاہتا ہے، مگر موت کا واقعہ اس کو یاد دلاتا ہے کہ اس کو یہاں جینے کے لیے ایک محدود مدت ملی ہے۔ انسان آئڈیل خوشی چاہتا ہے، مگر مختلف قسم کے حادثات یہ بتاتے ہیں کہ انسان کو اس دنیا میں صرف ایسی خوشی مل سکتی ہے جو اس کے مطلوب آئڈیل سے بہت کم ہے۔ انسان استثنائی طورپر کل (tomorrow) کا تصور رکھتا ہے، مگر اس کو عملاً آج (today) کے سوا کچھ حاصل نہیں ہوتا۔ انسان کے اندر اتھاہ پوٹینشیل موجود ہے، مگر ہر انسان اپنے پوٹینشیل کا ایک فیصد استعمال کرتا ہے اور اس کے بعد اس دنیا سے چلا جاتا ہے۔
ایسا کیوں ہے۔اس سوال کا جواب خود انسان کی فطری ساخت کے اندر موجود ہے۔ استثنائی طورپر انسان کل (tomorrow) کا تصور رکھتا ہے۔ تمام حیوانات صرف آج (today) کے تصور میں جیتے ہیں۔ کرۂ ارض پر انسان واحد ایسی مخلوق ہے جو اپنے اندر کل کا تصور رکھتا ہے۔ یہی فطرت کی طرف سے مذکورہ سوال کا جواب ہے۔ وہ جواب یہ ہے کہ انسان جو چیز اپنے آج میں ڈھونڈ رہا ہے وہ اس کے کل میں موجود ہے۔ وہ اپنے جس مطلوب کو پرزنٹ میں پانا چاہتا ہے وہ خالق کے تخلیقی نقشہ(creation plan) کے مطابق، اس کے مستقبل میں رکھ دیا گیا ہے۔
خالق کے تخلیقی نقشے کے مطابق، انسان کی عمر کے دو حصے ہیں۔ ایک ماقبل موت دَور (pre-death period) اور دوسراما بعد موت دَور (post-death period) ۔ انسان کی مطلوب دنیا (desired world) اس کے ما بعد موت دَور (post-death period) میں رکھی گئی ہے۔ماقبل موت دَورکی حیثیت امتحان گاہ(selective ground) کی ہے۔ جو عورت یا مردماقبل موت دَور میں خود کواہل (qualify) ثابت کریںگے، وہ مابعد موت دَورمیں اپنی مطلوب دنیا (desired world) میں بسائے جانے کے مستحق قرار پائیں گے۔ اسی مطلوب دنیا کا نام جنت ہے۔
سنامی جیسے واقعات ایک وارننگ کی حیثیت رکھتے ہیں۔ اس بات کی وارننگ کہ موجودہ دنیا میں انسان اپنی جنت نہیں بنا سکتا۔ ہماری زمین اگر چہ بہت خوب صورت ہے، مگر وہ اتنا زیادہ پُر خطر (vulnerable)ہے اور یہاں اتنی محدودیتیں (limitations) ہیں کہ وہ جنت کامسکن (abode) نہیں بن سکتی۔ ہماری زمین جنت کا ایک ابتدائی تعارف ہے مگر وہ خود جنت نہیں۔جنت کی تعمیر کے لیے ہم کو ایک اور دنیا چاہیے، ایک ایسی دنیا جو کہ لامحدود (unlimited) ہو۔ جو ہر قسم کے خوف سے پاک ہو۔ جنت ایک کامل (perfect)دنیا چاہتی ہے، جب کہ موجودہ دنیا ہر اعتبار سیغیرکامل(imperfect) ہے ۔ اورغیر کامل زمین پر کامل جنت نہیں بنائی جاسکتی۔
انسان اپنی فطری ساخت کے اعتبار سے جنت کا طالب ہے، مگر انسان کے اندر استثنائی طورپر کل (tomorrow) کا تصور(concept) بتاتا ہے کہ جنت ورلڈ ٹوماررو (world-tomorrow) میں قابل حصول ہے، ورلڈ ٹو ڈے (world-today) میں وہ قابل حصول نہیں۔
اس حقیقت کو جاننا بلاشبہہ سب سے بڑا وزڈم ہے۔ جو لوگ اس حقیقت کو جان کر’کل‘ پر مبنی لائف بنا سکیں وہ کامیاب ہیں اور جو لوگ اپنی زندگی صرف’ آج‘پر مبنی کرکے بنائیں ،وہ ناکام ہیں۔
واپس اوپر جائیں

پیغام

(برائے سوسائٹی فار دی پروموشن آف ریشنل تھنکنگ، احمد آباد- 380007 )
اکثر یہ سوال کیا جاتا ہے کہ مسلمان کیا کریں۔ مگر حقیقی واقعات کے اعتبار سے زیادہ درست سوال یہ ہے کہ دو سوسالہ عمل کے باوجود موجودہ زمانے کے مسلمانوں کی کوششیں بے نتیجہ کیوں ہوگئیں۔ اس سوال کا جواب صرف یہ ہے کہ موجودہ زمانے کے مسلمانوں میں احیاء کے نام سے تحریکیں اُٹھیں وہ سب کی سب ردّ عمل کی تحریکیں تھیں، نہ کہ مثبت عمل کی تحریکیں۔ ردّ عمل کے طورپر جو کام کیا جائے اُس کے بارے میں قدرت کا قانون یہ ہے کہ اُس کا کوئی نتیجہ نہ نکلے۔ موجودہ زمانے کے مسلمانوں کی کوششوں کا بے نتیجہ ہو جانا خود قدرت کے قانون کی بنا پر ہے، نہ کہ کسی کی سازش یا ظلم کی بنا پر۔
ردّ عمل کیا ہے اور مثبت عمل کیا۔ رد عمل یہ ہے کہ اپنے مسئلے کا ذمے داردوسروں کو بتا کر اُن کے خلاف لڑائی چھیڑ دی جائے۔ اور مثبت عمل یہ ہے کہ مسئلے کو خود اپنی کوتاہی کا سبب سمجھا جائے اور اپنے داخلی سبب کو دور کرنے کی کوشش کی جائے۔
موجودہ دنیامقابلہ اور مسابقت کی دنیا ہے۔ اس لیے یہ بات بالکل فطری ہے کہ اس دنیا میں ایک کودوسرے سے زک یا نقصان پہنچے۔ آدمی کو چاہیے کہ وہ اس نقصان کو چیلنج کے طورپر لے۔ وہ سمجھے کہ یہ جو کچھ پیش آیا ہے وہ دوسرے کی تیاری اور میری بے تیاری کا نتیجہ ہے۔ اور پھر اپنی اس کمی کو دور کرکے اس کا حل نکالے، نہ کہ دوسرے کے خلاف شکایت اور احتجاج کا ہنگامہ کھڑا کرے۔
موجودہ حالات میں مسلمانوں کو سب سے پہلے یہ کام کرنا ہے کہ وہ اپنی پوری نسل کو تعلیم یافتہ بنانے کی کوشش کریں۔ تعلیم عورت اور مرد کو باشعور بناتی ہے۔ اور باشعور لوگ ہی معاملات کو گہرائی کے ساتھ سمجھتے ہیں اور اُس کے حل کی واقعی تدبیر اختیار کرکے کامیاب ہوتے ہیں۔
اس سلسلے میں دوسری اہم بات یہ ہے کہ عمل کو منصوبہ بند انداز میں کیا جائے۔ منصوبہ بند عمل حقیقت پسندانہ عمل کا دوسرا نام ہے۔
منصوبہ بند عمل حقائق کی بنیاد پر کیا جاتا ہے اورغیر منصوبہ بند عمل آرزوؤں اور تمناؤں کی بنیاد پر۔ منصوبہ بند عمل نتیجہ رخی (result-oriented) عمل ہوتا ہے اور غیرمنصوبہ بند عمل خواہش رُخی (desire-oriented)عمل۔
منصوبہ بند عمل وہ ہے جس میںداخلی خواہش اور خارجی حالات دونوں کی مکمل رعایت شامل ہو۔ اور غیر منصوبہ بند عمل وہ ہے جس میں صرف داخلی خواہش کا اظہار ہو اور حقائق خارجی سے اُس کا کوئی تعلق نہ ہو۔
واپس اوپر جائیں

ایک خط

برادرِ محترم عبد السلام اکبانی صاحب! السلام علیکم ورحمۃ اللہ
30 مارچ 2007 کو آپ سے ٹیلی فون پر گفتگو ہوئی۔ اُس کے بعد آپ کو یہ خط لکھ رہاہوں۔ 6 ہجری میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور قریش کے درمیان معاہدۂ حدیبیہ پیش آیا۔ اِس پر قرآن کی سورہ نمبر 48 میں یہ آیت اُتری: إنا فتحنا لک فتحاً مبیناً (الفتح : 1)۔ اِس آیت میں ’فتح‘ کا لفظ استعمال ہوا ہے۔ عربی زبان میں فَتَحَ کے معنٰی ہیںکھولنا (to open) ۔ لسان العرب میں بتایا گیا ہے کہ : الفتح نقیض الإغلاق۔ یعنی ’فتح‘ بند کرنے کا اُلٹا ہے۔ عربی میں کہاجاتا ہے کہ : فتح القناۃَ، فجّرہا لیجری فیہا الماء۔یعنی پانی بہنے کے لیے نالی نکالنا۔
حدیبیہ کے موقع پر وہ کون سی بات ہوئی جس کو یہاں فتح سے تعبیر کیا گیا ہے۔ حالاں کہ روایات میں آتا ہے کہ اِس سفر میں شریک ہونے والے جب حدیبیہ سے لوٹ کر مدینہ پہنچے تو یہاں کے لوگوں نے اُن سے کہا: ماہٰذا بفتحٍ( یہ تو کوئی فتح نہیں) سورہ الفتح اتری تو حضرت عمر نے رسول اللہ سے کہا کہ: أوفتح ہو یا رسول اللہ (اے خدا کے رسول، کیا وہ کوئی فتح ہے) القرطبی، جلد16، صفحہ 261۔
یہ ایک تاریخی واقعہ ہے کہ حدیبیہ کے موقع پر مسلمانوں کو بظاہر کوئی فتح حاصل نہیں ہوئی ـتھی۔ پھر وہ کیا چیز تھی جس کو قرآن میں فتح کہاگیا۔ اِس پر غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ یہاں فتح سے مراد سیاسی یا حربی فتح نہیں ہے، بلکہ اُس سے مراد ہے— مواقعِ کار یا مواقعِ دعوت کا کھُل جانا۔
مشہور تابعی الزّہری نے کہاہے : فلما وقع الصّلح مشی الناس بعضہم فی بعض، وعلموا وسمعوا عن اللہ، فما أراد أحد الإسلام إلاّ تمکن فیہ (القرطبی)۔
اصل یہ ہے کہ معاہدۂ حدیبیہ سے پہلے مسلمانوں اور مشرکین کے درمیان حالتِ جنگ قائم ہوگئی تھی۔ اس لیے باہمی انٹریکشن ختم ہوگیا تھا۔ اور انٹریکشن کا خاتمہ، دعوتی عمل کا خاتمہ ہے۔ معاہدۂ حدیبیہ میں یہ دفعہ شامل کی گئی کہ اب سے دس سال تک مسلمانوں اور اُن کے حریفوں کے درمیان جنگ نہیں ہوگی۔ اِس طرح معاہدۂ حدیبیہ کے بعد یہ ہوا کہ دونوں فریقوں کے درمیان کھلا انٹریکشن جاری ہوگیا۔ اور نارمل حالات میں کھُلے انٹریکشن کے نتیجے ہی کا نام اسلام کی دعوتی فتح ہے۔
موجودہ زمانے میں مسلمانوں کا اصل مسئلہ یہ نہیںہے کہ کوئی مفروضہ دشمن اُن کو نقصان پہنچا رہا ہے۔ اِس قسم کا خیال بالکل بے بنیاد ہے۔ قانونِ فطرت کے مطابق، ایسا ہونا ممکن نہیںکہ کوئی دشمن کسی کو نقصان پہنچا سکے۔ قرآن میں بار بار یہ بات مختلف انداز میں کہی گئی ہے کہ انسان کی ناکامیابی کے اسباب اُس کے داخل میں ہوتے ہیں، نہ کہ اُس کے خارج میں (الشوریٰ: 30 )
موجودہ زمانے میں مسلمانوں کا اصل مسئلہ یہ ہے کہ وہ فتحِ سیاسی کو جانتے ہیں، لیکن وہ فتحِ مواقع کو نہیں جانتے۔ حالاں کہ فطرت کے قانون کے مطابق، اِس دنیا میں کام کے مواقع کا کھلنا سب سے بڑی فتح ہے، بلکہ یہی اصل فتح ہے۔
یہ حقیقت پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے حالاتِ زندگی سے پوری طرح واضح ہے۔ میںنے اپنی کتابوں میں اِس کی بہت سی مثالیں دی ہیں۔ لیکن مسلمان پیغمبر اسلام کی سیرت کا مطالعہ پُر اسرار فضیلت اور پُراسرار کمالات کی اصطلاحوں میںکرتے ہیں، اس لیے وہ آپ کی زندگی سے مذکورہ قسم کا سبق نہیں لے پاتے۔ یہ بلاشبہہ موجودہ زمانے کے مسلمانوں کی سب سے بڑی بد قسمتی ہے۔
یہ کوئی سادہ بات نہیں۔ اصل یہ ہے کہ موجودہ زمانے کے مسلم رہنماؤں نے پیغمبرانہ بصیرت کو کھودیا ہے۔ پیغمبر کے لیے اُن کے پاس صرف لفظی نعت خوانی ہے۔ اس صورتِ حال کی اصلاح کے لیے نئی سوچ کی ضرورت ہے۔ نئی سوچ ہمیشہ اعترافِ خطا سے پیدا ہوتی ہے۔ اگرکوئی شخص یا گروہ ماضی میں اپنی غلطی کا اعتراف نہ کرے تو بعد کے زمانے میں بھی وہ اُسی غلطی میں پڑا رہے گا۔ غلطی کا اعتراف کسی نئی اصلاح کا ـآغاز ہے، غلطی کا اعتراف نہیںتو اصلاح کا آغاز بھی نہیں۔
نئی دہلی ، 31 مارچ 2007 دعاگو
وحیدالدین
واپس اوپر جائیں

سوال اورجواب

سوال
دسمبر 2006 کا الرسالہ راقم نے پورا پڑھا۔ اس میں ایک جگہ آپ نے تحریر فرمایا ہے کہ: ’’مسلمانوں کے ہزار سالہ سیاسی اقتدار کا اصل مقصد صرف ایک تھا، اور وہ تھا —قرآن کی حفاظت۔ بقیہ چیزیں جو اس مدت میں مسلمانوں کو حاصل ہوئیں، وہ اپنی نوعیت کے اعتبار سے ضمنی تھیں۔ قرآن کی حفاظت جب تک سیاسی اقتدار پر منحصر تھی اس وقت تک مسلمانوں کو سیاسی اقتدار حاصل رہا اور جب اس حفاظت کی ذمے داری پرنٹنگ پریس نے لے لی تو اب سیاسی اقتدار نے اپنی اہمیت کھو دی، چناںچہ خدا نے اس سے اپنی مدد واپس لے لی۔ یہی اصل سبب ہے جس کی بنا پر مسلمانوں کا سیاسی اقتدار اپنی قدیم شکل میں باقی نہ رہا‘‘۔(الرسالہ، دسمبر 2006، صفحہ 5)
یہ بات راقم کی سمجھ میں نہیں آئی کہ اس سے آپ کیا کہنا چاہتے ہیں۔ اگر اِس کا مقصد یہ ہے کہ اسلام میں اقتدار کی کوئی اہمیت نہیںرہ گئی ہے تو یہ محض آپ کا اپنا استنباط ہے جس کی آپ نے کوئی نقلی دلیل نہیں دی۔ جو عقلی دلیل آپ دے رہے ہیں تاریخ سے اس کی تائید نہیں ہوتی۔ اس کے برعکس اقتدار اسلامی کے مقاصد قرآن صر احت سے یہ بیان کرتا ہے:
الّذین إن مکناہم فی الأرض أقاموا الصلاۃ وأتوا الزکوۃ وأمروا بالمعروف ونھوا عن المنکر وللّٰہ عاقبۃ الأمور۔(اللہ کے دین کے مددگار) وہ لوگ ہیں جنھیں ہم اگر زمین میں اقتدار دیں گے تو وہ نماز قائم کریں گے، زکوٰۃ دیں گے، نیکی کا حکم کریں گے، برائی سے روکیں گے۔اور تمام کاموں کا انجام اللہ کے ہاتھوں میں ہے) الحج: 14 ۔
یہ آیت اِس سلسلے میں نص ہے کہ حقیقی اسلامی اقتدار کے فرائض منصبی کیا کیا ہیں۔ ان فرائض منصبی کی ادائیگی واقامت کے طریقے زمانے کے لحاظ سے الگ الگ ہوسکتے ہیں۔
اِس آیت میں یا اجتماعی احکام سے متعلق احادیث میں کہیں بھی یہ نہیں کہا گیا کہ قرآن کی حفاظت بھی اسلامی اقتدار کے مقاصد میں شامل ہے یا وہی اس کا اصل مقصد ہے۔
تاریخ یہ بتاتی ہے کہ قرآن کی ترتیب و تدوین کا بنیادی کام عہد نبوی میں مکمل ہوگیا۔ اس کے بعد حضرت ابوبکر کے دور سے عہد عثمان رضی اللہ عنہ تک اس کا اتمام ہوا۔ اس کی کاپیاں تیار کرکے پوری مملک میں پھیلادی گئیں۔ اعراب کا مسئلہ حجاج بن یوسف (عہد نبی امیہ کے آغازمیں) مکمل ہوگیا۔ یہ ظاہری پہلو سے قرآن کی حفاظت تھی۔
معنوی طورپر عہد نبوی سے ہی اُس کے حفظ کا محیر العقول انتظام کیاگیا جوآج تک چلا آتا ہے۔ جو عربوں کے حافظے کی مخصوص صلاحیت کے پیش نظر آج کے کمپیوٹر کی طرح کا نظم تھا۔ اس کے بعد قرآن کی جو بھی خدمت ہوتی ہے، حفاظت و اشاعت سے لے کر اس کی تعبیر و تشریح اور اس کے علوم کی ترتیب وتدوین سب کچھ انفرادی طورپر علماء ہی کرتے رہے۔ اس کے لیے انھوں نے استنساخ (ایک نسخے کی نقل تیار کرنا) اور ورّاقی وکتابت جیسے علوم باقاعدہ develope کیے۔ اس پورے عمل میں تاریخ کسی اسلامی حکومت کا باضابطہ شریک ہونا (involvement) ثابت نہیں کرتی۔ البتہ بعض حکمرانوں کے بارے میں یہ ضرور ملتاہے کہ وہ قرآن کی کتابت کرتے تھے اور اسے اجر و ثواب کا باعث خیال کرتے تھے۔
اس لحاظ سے یہ کہنا کیسے صحیح ہوسکتا ہے کہ—مسلمانوں کے ہزار سالہ سیاسی اقتدار کا اصل مقصد صرف ایک تھا اور وہ تھا قرآن کی حفاظت۔ بقیہ چیزیں جو اس میں مدت میں مسلمانوں کو حاصل ہوئیں وہ اپنی نوعیت کے اعتبار سے ضمنی تھیں۔ مدون اسلامی تاریخ ہمارے سامنے اِس کا بالکل برعکس پیش کرتی ہے۔ یعنی یہ کہ ’’اسلامی اقتدار سے بہت سے مقاصد حاصل ہوئے ان میں ضمنی طورپر قرآن کی حفاظت بھی تھی‘‘۔
آپ کی پوری تحریر کا خلاصہ ایک سطر میں یوں کیا جاسکتا ہے کہ ’’اسلام میںسیاسی اقتدار کی کوئی اہمیت ہی نہیں‘‘ اگر یہ خلاصہ درست ہے تو یہ ایک ایسا استنباط ہے جو محتاج دلیل ہے۔ آپ یہ کہیں کہ دورِجدید کے بعض مسلمان علماء نے سیاست و اقتدار کو حد سے زیادہ اہمیت دے دی اور وہ دین کی سیاسی تعبیر کر بیٹھے تو یہ بات بالکل درست ہے لیکن اس کی تردید میں سیاسی اقتدار کی اہمیت ہی ختم کردینا تو ایک دوسری انتہا ہے۔امید ہے کہ اس اشکال پر غور فرمائیں گے اور اس کنفیوژن کو دور کریں گے۔ (ڈاکٹر غطریف شہباز ندوی، نئی دہلی)
جواب
ماہ نامہ ’الرسالہ‘ دسمبر 2006 میں جو بات میں نے لکھی تھی، اُس کا مطلب مختصر طورپریہ تھا کہ جب تک قرآن دورِ طباعت تک نہیں پہنچا تھا، اس کی حفاظت کے لیے اقتدار ایک لازمی ضرورت کی حیثیت رکھتا تھا۔ اِسی زمانی مصلحت کے اعتبار سے حدیث میں آیا ہے کہ: القرآن والسلطان توأمان ۔یعنی قرآن اور اقتدار دونوں توأم (twin) بھائی ہیں۔
لیکن جب طباعت کا زمانہ آگیا اور قرآن کی تاریخ اُس دور میں پہنچ گئی، جب کہ اُس کی حفاظت کے لیے اقتدار کی حیثیت لازمی شرط کی نہ رہی، اب خود غیر سیاسی تدبیر ہی قرآن کی حفاظت کی کامل ضمانت بن گئی۔ اِس لیے اب اقتدار کا معاملہ براہِ راست خدا کا معاملہ نہ رہا، بلکہ وہ مسلمانوں کا اپنا معاملہ بن گیا۔
اس دوسرے دَور میں سیاسی اقتدار کا حصول براہِ راست طورپر مقصود نہ رہا، بلکہ اب یہ ہوگیا کہ اگر مسلمانوں کو حالتِ تمکین حاصل ہوجائے، اگر مسلم معاشرہ اِس درجے تک پہنچ جائے کہ اسلامی قوانین کا نفاذ بھی اُس کے دائرہ استطاعت میں شامل ہوجائے تو اُس وقت سیاسی اقتدار مطلوب بن جائے گا، لیکن اس کی یہ مطلوبیت، حفاظتِ قرآن کی نسبت سے نہ ہوگی، بلکہ مسلمانوں کی اپنی معاشرتی ذمے داری کی نسبت سے ہوگی۔
آپ نے قرآن کی جو آیت (الحج: 41 ) پیش کی ہے، وہ مسلمانوں کا یہ فریضہ نہیں بتاتی کہ تم اسلامی حکومت قائم کرو، بلکہ وہ صرف یہ بتاتی ہے کہ اگر حالات کے ارتقا کے تحت، تم کو اقتدار حاصل ہوجائے تو اُس وقت تمھاری سیاسی ذمّے داری کیا ہوگی۔
سوال
مولانا صاحب میری ایک مخصوص سوچ ہے کہ دنیا میں جس نے بھی اسلام کے لیے کام کیے اُس کی نہ ہی تمام باتیں اِس لائق ہیں کہ ان کو اپنایا جائے اور نہ ہی سب باتیں ایسی ہیں جن کو رد کیا جائے۔ ہمیں کسی کی نیت پر شک نہیں کرنا چاہیے۔ البتہ کسی کی بات سے ہمیں اختلاف ہوسکتا ہے اور یہ ہمارا حق ہے۔ (سہیل بشیر کار، کشمیر)
جواب
1 - ’’کسی کی ہر بات درست نہیں ہوسکتی‘‘ یہ کوئی مطلق بات نہیں۔ اِس طرح کے مفروضے کی بنیاد پر کسی کو غلط قرار نہیں دیا جاسکتا۔ صحیح طریقہ یہ ہے کہ آپ کسی کو اُس وقت تک درست مانیں جب تک اس کی کسی بات کو آپ قرآن اور سنت کی واضح دلیل سے رد نہ کرسکیں۔
اسلام میں اِس قسم کے مفروضے کی کوئی حیثیت نہیں۔ اِس قسم کے بے دلیل مفروضے کا نقصان یہ ہے کہ کہنے والے کے اندر یقین پیدا نہیں ہوتا۔جب کہ یقین ہر ایک کی ایک ایمانی ضرورت ہے۔ یہی وجہ ہے کہ حدیث میں ارشاد ہوا ہے کہ: خیر ما وُقر فی القلوب الیقین، والإرتیابُ من الکفر(البیہقی، وابن عساکر)
اس مزاج کے لوگ ہمیشہ انفرادی زندگی گذاریں گے، وہ کبھی کسی اجتماعی مشن کا حصہ نہ بن سکیں گے۔ وہ یقین کے ساتھ کسی سے جُڑ نہیں سکیں گے۔ وہ شک کے ساتھ جئیں گے اور شک کے ساتھ اِس دنیا سے چلے جائیں گے۔ اِس طرح کے لوگوں کو اپنے اِس مزاج کی دو بھاری قیمت دینی پڑتی ہے— ایک، حق کے معاملے میں بے یقینی اور دوسرے ،اجتماعی زندگی سے محرومی۔
اس طرح کی سوچ کے لوگ اکثر امام مالک کے اس مشہور قول کا حوالہ دیتے ہیں: کل یوخذ منہ و یُردّ۔ مگر مذکورہ قسم کے موقف کی تائید کے لیے یہ حوالہ غلط ہے۔ صحیح بات یہ ہے کہ جب کوئی شخص قرآن اور حدیث کے حوالے سے ایک بات پیش کرے تو اُس کو لینا آپ کے اوپر فرض ہوجائے گا۔ یہ فرضیت صرف اُس وقت ختم ہوگی جب کہ آپ خود قرآن اور حدیث کے دلائل سے اُس کا نادرست ہونا ثابت کردیں۔ اگر آپ کے پاس جوابی دلیل موجود نہیں ہے تو امام مالک کے قول کا حوالہ دے کر مذکورہ قسم کی بات کرنا، میرے نزدیک ایک گناہ کا فعل ہے، وہ کوئی صحیح علمی موقف نہیں۔
سوال
جناب عالی کی خدمت میں مؤدبانہ التماس ہے کہ میں ایک ذاتی معاملے میں کافی دباؤ اور پریشانی کی حالت میں رہتا ہوں۔ لاکھ کوشش کے باوجود حالت جوں کی توں رہتی ہے۔ اس لیے اپنی خاص دعاؤں میںناچیز کو یاد کرکے اس معاملے کی درستی میں ہمارے مسیحا بنیں۔(محمد طاہر، شوپیان، کشمیر)
جواب
دعا کا صحیح طریقہ یہ ہے کہ آدمی متعین طورپر اصل بات لکھے، تاکہ سائل کے لیے دعا کے ساتھ ضروری مشورہ بھی دیا جاسکے۔ اصل واقعہ معلوم کیے بغیر نہ دعا کی جاسکتی ہے اور نہ صحیح مشورہ دیا جاسکتا ہے۔
میرا تجربہ ہے کہ اکثر لوگ کسی ذاتی نادانی کی بنا پر اپنے آپ کو ایک مصیبت میں پھنسا لیتے ہیں، اور اس کے بعد وہ کہتے ہیں کہ ہمارے لیے دعا کیجئے۔ اِس طرح کے معاملے میں سب سے پہلے ضروری ہے کہ واقعے کی اصل نوعیت بتائی جائے، تاکہ صحیح مشورہ دیا جاسکے۔
دوسری بات یہ کہ دعا کوئی لامحدود چیز نہیں۔ دعا کے معاملے میں آدھا کام خود سائل کو کرنا پڑتا ہے۔ اس کے بعدبقیہ آدھے کام کے لیے خدا سے دعا کی جاتی ہے۔ اس کے بغیردعا کرنے کا کوئی فائدہ نہیں۔
سوال
میں مختلف قسم کے فکری سوالات میں الجھا رہتا ہوں۔ میرے پاس مطالعے کا وقت نہیں کہ اپنے سوالات کا جواب پاسکوں۔ ایسی حالت میں میں کیا کروں۔ مزید یہ بتائیے کہ مطالعے کا صحیح طریقہ کیا ہے۔ براہِ کرم رہنمائی فرمائیں۔ (محمد تاج رضا)
جواب
اگر آپ کے پاس مطالعے کے لیے وقت نہیں ہے تو آپ کو سوال اور جواب میں بھی اپنے ذہن کو الجھانا نہیں چاہیے۔ جتنا آپ کا علم ہے، اس کے مطابق نیک نیتی کے ساتھ عمل کرتے رہیے۔
مطالعے کا کوئی فریم ورک نہیں۔ آپ کو جو کتاب ملے اس کو پڑھیے۔ اگر وہ کتاب آپ کو مفید معلوم ہوتو مطالعہ جاری رکھیے، ورنہ اس کا مطالعہ چھوڑ دیجیے۔ پیشگی طورپر مطالعے کا کوئی فریم ورک مقرر نہیں کیاجاسکتا۔
صحیح طریقہ یہ ہے کہ آدمی اپنی طاقت کے بقدر کام کرے۔ طاقت یا وسعت سے زیادہ کرنے کا کوئی آدمی مکلف نہیںہے۔ دین میں اصل اہمیت نیک نیتی اور اخلاص کی ہے۔ بقیہ چیزیں اضافی حیثیت رکھتی ہیں۔
سوال
آج تک میںنے جو بھی کتابیں پڑھیں مجھ پر اُن کاوہ اثر نہ ہوا جو آپ کی تحریروں نے کیا۔ آج عالم یہ ہے کہ جب میں کسی الجھن میں ہوتا ہوں توآپ کی کوئی تحریر پڑھ لیتا ہوں۔ اور مجھے سکون مل جاتا ہے۔ جب میرے ہاتھ میں آپ کی کوئی کتاب ہوتی ہے تومجھے ایسا محسوس ہوتا ہے گویا میرا رہبر میرے ساتھ ہے۔
میںاس سے پہلے بھی لکھ چکا ہوں کہ میرے اوپر عجیب کیفیت ہوتی ہے۔ کسی بات کا اثر فوری طورپر اتنا زیادہ ہوتا ہے کہ میں اس میں نڈھال ہوجاتا ہوں۔ اور میری حالت عجیب ہوجاتی ہے۔ پھر دھیرے دھیرے وہ اثر بالکل ختم ہوجاتا ہے۔ مستحکم ہو کر کوئی فیصلہ نہیں لے پاتا ہوں۔
نہیں چاہتا کہ فضول باتیں میرے ذہن کو منتشر کریں۔ لاکھ کوششوں کے باوجود عجیب عجیب کیفیت ہوتی ہے۔ مثلاً کرکٹ اسٹار سوربھ گانگولی کو ٹیم سے کیوں نکال دیاگیا تھا۔ دھونی کو ٹیم سے باہر رکھنا چاہیے۔ دنیا ان لوگوں کے پیچھے اتنا بھاگتی کیوں ہے۔ سونیا گاندھی پی ایم کیوں نہیں بنیں، من موہن سنگھ کو پی ایم کیوں بنایا گیا۔ امیتابھ بچن کو اب فلموں میں کام کرنا نہیں چاہیے۔ اشوریہ سے ابھشیک کی شادی نہیں ہونی چاہیے تھی۔ اس دور کے بڑے لوگ کس طرح اپنی زندگی گذارتے ہیں ان کے رہنے سہنے کا تصور ذہن کو بھٹکاتا رہتا ہے۔ کیا میرا بھی نام اس دنیا میں ان لوگوں کی طرح کبھی روشن ہوسکے گا، وغیرہ۔
میں نے یہ سب باتیں آج تک نہ کسی کو بتایا نہ لکھا لیکن میرا دل و دماغ آپ کو یہ باتیں بتانے پر مجھے مجبور کررہا ہے اس لیے آپ کو لکھ رہا ہوں۔ آخر یہ سب میرے ساتھ کیوںہوتا ہے۔ دنیا اپنے اپنے کاموں میں مصروف ہے پھر میں کیوں کر ان کا تصور اپنے ذہن میں لیے پھرتا ہوں، ایسا کیوں ہوتا ہے۔ میں یہ جانتا ہوں کہ اگر میرے اس مسئلے کا حل آپ کے پاس نہ ہوگا تو کسی دوسرے کے پاس ہر گز نہ ہوگا۔ (محمدنثار احمد، ہزاری باغ، جھارکھنڈ)
جواب
زندگی کے کچھ حتمی اصول ہیں۔ ہر انسان کے لیے ضروری ہے کہ وہ اِن اصولوں کی پیروی کرے۔ اِن اصولوں کی خلاف ورزی کرنا، اپنی زندگی کو تباہ کرلینے کے ہم معنی ہے۔
زندگی کے انھیں اصولوں میں سے ایک اصول وہ ہے جس کو حدیثِ رسول میں اِن الفاظ میں بیان کیا گیا ہے— مِن حُسن إسلام المرء ترکہ مالا یعنیہ(مسند احمد، ابن ماجہ، مشکاۃ المصابیح، رقم الحدیث: 4840) یعنی آدمی کے بہتر مسلم ہونے کی ایک پہچان یہ ہے کہ وہ اُن چیزوں کو چھوڑ دے، جس میں اُس کے لیے کوئی فائدہ نہیں۔
آپ کا مسئلہ یہ ہے کہ آپ اس اصولِ حیات کو چھوڑے ہوئے ہیں۔ آپ یہ کیجیے کہ ضروری اور غیر ضروری میں فر ق کرنا سیکھئے۔ اپنے وقت اور اپنے دماغ کو صرف اُن چیزوں میں صرف کیجیے جو آپ کی ترقی کے لیے ضروری ہیں، بقیہ چیزوں کو اپنے دماغ سے نکالتے رہیے۔ اِسی اصول کو جارج برنارڈ شا نے اپنے لفظوں میں اِس طرح بیان کیا تھا:
’’سب سے زیادہ غیر تعلیم یافتہ انسان وہ ہے جس کے پاس بھلانے کے لیے کچھ نہ ہو‘‘۔
سوال
ہم حلقۂ الرسالہ غیر مسلموں میں دعوتی کام کررہے ہیں۔ مہاراشٹر میں چوں کہ مراٹھی زبان بولنے والوں کی اکثریت ہے۔ اس لیے آپ کی کتابوں کے مراٹھی ترجموں کی اشد ضرورت محسوس کی جارہی ہے۔
ہمارا خیال ہے کہ جناب عبد السلام چاؤش (ناگ پور) جو مراٹھی زبان پر کافی عبور رکھتے ہیں اور جنھوں نے چاؤش ڈکشنری (مراٹھی- انگریزی) اور کئی کتابیں تصنیف کی ہیں، اس کام کے لیے موزوں اور مناسب آدمی ہیں۔ براہِ کرم آپ ان کے ذمّے یہ کام سُپرد فرمائیں، تاکہ مہاراشٹر کے غیرمسلموں کی اہم ضرورت پوری ہو اور غیر مسلموں میں دعوتی کام میں آسانی ہوسکے۔ الحمد للہ آپ کی کتب انگریزی، عربی، اردو، ہندی اور دیگر عالمی زبانوں میں چھپ رہی ہیں لیکن مراٹھی داں طبقہ اس سے محروم ہے۔ ہمیں امید ہے کہ آپ اس طرف توجہ فرمائیں گے۔
اللہ سے دعا گو ہوں کہ وہ آپ کا سایہ تا دیر ہمارے سروں پر قائم رکھے تاکہ آپ کی رہبری اور رہنمائی میں ہم دعوت کے عظیم الشان کام کو کرسکیں۔ (حافظ زبیر احمد، ناندیڑ)
جواب
عرض یہ ہے کہ دوسروں کے لیے تجویز پیش کرنا کوئی کام نہیں۔ اصل کام یہ ہے کہ دستیاب وسائل کے دائرے میں آدمی اپنا کام شروع کردے، اور بقیہ معاملے کے لیے وہ خدا سے دعا کرتا رہے۔ وسائل کی کمی کا حل، تجویز پیش کرنا نہیں ہے، بلکہ دعا اور کوشش کرنا ہے۔
آج کل یہ عام مزاج بن گیا ہے کہ لوگ ہر معاملے میں تجویز پیش کیا کرتے ہیں۔ تجویز کی حقیقت یہ ہے کہ آدمی اپنی ذمے داری کو دوسرے کے سر ڈال کر یہ سمجھتا ہے کہ میںنے اپنا کام کردیا۔ حالاں کہ یہ محض خوش خیالی ہے۔ صحابہ کا مزاج یہ تھا کہ وہ بقدر استطاعت اپنی ذمے داریوں کو ادا کرتے تھے۔ وہ دوسروں کے لیے کوئی تجویز پیش نہیں کرتے تھے۔ یہی طریقہ صحیح اسلامی طریقہ ہے۔
سوال
میری عمر 29 سال ہے۔ شادی ہوئے قریب دو سال ہوگیے۔ ایک بچہ بھی ہے۔ میںایک گاؤں میں رہتا ہوں۔ لیکن میری شادی شہر میں رہنے والی لڑکی سے ہوئی ہے۔ میری سمجھ سے میری بیوی کسی بھی طرح عقل مند نہیں ہے۔ ہمارے گھر والے اس کو بیٹی کی طرح مانتے ہیں۔ لیکن وہ جب سے میرے گھر آئی ہے گھر والوں کے ساتھ اچھا برتاؤ نہیں کرتی۔ ذرا ذرا سی بات پر غصہ کرنے لگتی ہے اور کسی بات کا فوراً الٹا جواب دے دیتی ہے۔ اس کے ذہن میں ذرا سا بھی اس بات کا اثر نہیں رہتا کہ ہم سسرال میں ہیں اور سسرال والوں کے ساتھ کس طرح پیش آنا چاہیے۔ یہاں تک کہ میرے ساتھ بھی الٹی سیدھی بات بول جاتی ہے۔ لاکھ سمجھاؤ لیکن وہ اپنی عادت سے باز نہیں آتی۔ ایسا بھی نہیں کہ وہ امیر باپ کی بیٹی ہے۔ بلکہ مالی اعتبار سے ہم دونوں گھر والے یکساں ہیں۔ آخر یہ اس کی نادانی ہے یااس کاغرور کہ گھر میںکسی کو کچھ نہیں سمجھتی حالاں کہ کئی بار ہم نے اس کو مارا بھی۔ لیکن پھر بھی اُس کی عادت میں ذرا سا سدھار پیدا نہیں ہوا۔ میں سوچتا ہوں کہ ہر کامیاب مرد کے پیچھے ایک عقل مند عورت کا ہاتھ ہوتا ہے لیکن میرا کیا ہوگا۔ میری زندگی کیسے گذرے گی۔ (ایک قاری الرسالہ، جھارکھنڈ)
جواب
آپ کا خط مؤرخہ یکم اگست 2006 ملا۔ اس کو میںنے غور سے پڑھا۔ میرے نزدیک اس معاملے میں ساری غلطی صرف آپ کی ہے، کسی اور کی نہیں۔
1 - عقل مند عورت، ماں کے پیٹ سے پیدا نہیں ہوتی۔ اس کو تربیت دے کر عقل مند بنانا پڑتا ہے۔ میرے اندازے کے مطابق، آپ نے یہ کام نہیں کیا۔
2 - قرآن میں عورت کو تنبیہ کے لیے علامتی ضرب کی اجازت، استثنائی طورپر، صرف اُس وقت ہے جب کہ اس کے اندر نُشوز (النساء: 34 ) پایا جائے۔ آپ نے جواپنی بیوی کو مارا تو بلا شبہہ اس کا سبب نشوز نہیں تھا۔ اس لیے آپ نے بلا شبہہ ایک سخت غلط کام کیاہے۔آپ اس کی تلافی کے لیے فوراً اپنی بیوی سے معافی مانگیے اور خدا سے اُس کے لیے توبہ کیجیے۔
3 - اپنے تجربے کے مطابق، میںیہ سمجھتاہوں کہ بیوی سے آپ کی شکایت کا سبب صرف یہ ہے کہ وہ آپ کے والدین کی خدمت نہیں کرتی۔ میرے نزدیک، آپ کا یہ مطالبہ بھی غلط ہے۔ کیوں کہ شوہر کے والدین کی خدمت کرنا، بیوی کے شرعی فرائض میں شامل نہیں۔
4 - آپ نے لکھا ہے کہ میرے گھر والے میری بیوی کو بیٹی کی طرح مانتے ہیں ۔ یہ بات بلاشبہہ غلط ہے۔ آپ نے صرف یہ کیا ہے کہ گھر والوں کے بولے ہوئے لفظ کو یک طرفہ طورپر سُن کر اس کو اپنے خط میں نقل کردیا۔ آپ نے خود سے کبھی یہ جاننے کی کوشش نہیں کہ کہ عملاً آپ کے گھر والوں کا رویّہ آپ کی بیوی کے ساتھ کیا ہے۔ میں آپ کے اِس بیان کو قطعی طورپر درست نہیں مانتا۔
5 - آپ کی اصل غلطی یہ ہے کہ آپ مشترک خاندان میں رہتے ہیں۔ آپ کو دو میں سے ایک کام کرنا چاہیے یا تو آپ الگ گھر لے کر بیوی کے ساتھ رہیں، یا آپ کو اگر مشترک خاندان میں رہناہے تو آپ یک طرفہ طورپر صبر کا طریقہ اختیار کریں۔آپ کو میرا مشو رہ ہے کہ آپ میری دو کتابیں ’خاتونِ اسلام‘ اور’ عورت معمارِ انسانیت‘ کا مطالعہ فر مائیں۔
سوال
میرا یہ تیسرا خط ہے جو میں آپ کو لکھ رہا ہوں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ میں اپنی زندگی میں آپ سے جتنا متاثر ہوا ہوں کسی اور سے کبھی متاثر نہ ہو سکا۔
میں ایک غریب گھر کا نوجوان ہوں۔ میرے ماں باپ پڑھے لکھے نہیں ہیں۔ گھر کی آمدنی شروع سے لے کر اب تک بہت کم ہے۔ جس کی وجہ سے گھر میں ہمیشہtension بنا رہتا ہے۔ مالی حالت اچھی نہ ہونے کے باوجود میرے والد نے مجھے M.A. تک کی تعلیم دلائی۔ اب ذریعۂ معاش ڈھونڈنے کی فکر ہوئی۔ میںنے کئی جگہ سرکاری نوکری کی تلاش میں بھر پور کوشش کی لیکن کامیاب نہ ہوسکا۔ اب ہمارے پاس اتنا پیسہ اور وقت نہیں رہا کہ سرکاری ملازمت کی خاطر امتحانات میںشریک ہوسکوں۔ ہمارا کوئی رشتے دار بھی کسی شہر میں نہیںرہتا کہ اُس کا سہارا لے کر میں کسی شہر میں جا کر کوئی private service کی تلاش کرسکوں۔ میری شادی بھی ہوچکی ہے۔ پریشانی دن بدن بڑھتی جارہی ہے۔ دن رات پریشان رہتا ہوں۔ آخر کیا کروں۔ مجھے راہ بتائیں۔ (محمد نثار احمد ، ہزاری باغ، جھارکھنڈ)
جواب
عرض یہ کہ زندگی کی کامیابی کا کوئی پُر اسرار فارمولا نہیں ہے۔ زندگی ہر ایک کے لیے جدوجہد ہے۔ منصوبہ بند عمل ہی کسی کو کامیابی کی منزل تک پہنچا سکتا ہے۔
آپ کے خط سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ نے ایم۔اے کیا ہے۔ مجھے شک ہے کہ آپ نے ایم۔اے کسی ایسے مضمون میں کیا ہے جس کی مانگ مارکیٹ میں موجود نہیں۔ اگر میرا اندازہ صحیح ہو تو یہ آپ کی منصوبہ بندی میں نقص کا ثبوت ہوگا۔
اب آپ کے لیے زندگی میں کوئی شارٹ کٹ نہیں ہے۔ آپ کے لیے صرف دو میں سے ایک صورت کا انتخاب ہے۔ یا تو آپ ایسا کریں کہ اپنی موجودہ لیاقت کی بنیاد پر آپ کو جو کام مل سکتا ہے آپ اس کو لے لیں، خواہ وہ کوئی چھوٹا کام کیوں نہ ہو۔ اور اگر آپ بڑا جاب چاہتے ہیں تو آپ کو پھر سے پیچھے کی طرف لوٹنا ہوگا۔ یعنی آپ ایسی کوئی ڈگری حاصل کریں جو مارکیٹ میں اہمیت رکھتی ہو، یا ایسا کوئی ہنر سیکھیں جس کی بنیاد پر آپ کو آج کے زمانے میں کوئی اچھا جاب مل جائے۔
یاد رکھیے! غم اور ٹینشن میں جینے کا کوئی فائدہ نہیں۔ آپ ماضی کو بھُلا کر مستقبل کے لحاظ سے از سرِ نو اپنا عمل شروع کیجیے، اور پھر یقینا آپ کامیاب ہوجائیں گے۔
سوال
آپ کی کتاب ’’رہنمائے حیات‘‘ پڑھ رہی ہوں۔ بہت اچھی کتاب ہے۔ آپ کی کتابیں بہت اچھی ہوتی ہیں۔ آپ کی کتابیں پڑھنے کے بعد کسی اور کی کتاب پڑھ نہیں سکتی۔ دوسروں کی کتابیں طبیعت پر بھاری لگنے لگتی ہیں۔ جس دن الرسالہ آتا ہے میں اُسی دن اُسے پورا پڑھ لیتی ہوں۔ پھر روزانہ اس کا ایک ایک article پڑھتی ہوں۔ آپ کی تحریریں پڑھ کر سوچ مثبت ہوتی ہے۔ اللہ پر توکّل بڑھتا ہے۔ اور ہم اِس دنیا میں امتحان کے لیے آئے ہیں، یہ احساس قوی ہوتا ہے۔
1 - ’رہنمائے حیات‘ صفحہ 204 ’صبر کا فائدہ‘ میں آپ نے لکھا ہے کہ فکری ارتقاء رُوحانی ارتقاء سے جُڑی ہوئی ہے۔ میرے ذہن میں یہ سوال آرہا ہے کہ فکری اِرتقاء کے نتیجے میں مادّی ترقی ہورہی ہے۔ مگر جو لوگ مادّی طورپر بڑھ رہے ہیں اُن میں رُوحانی ترقی نظر نہیں آتی بلکہ وہ زیادہ materialistic نظر آتے ہیں۔ اِس کو ذرا واضح کردیں کہ فکری ارتقاء اور روحانی اِرتقاء میں کیسے ہم آہنگی ہے۔
2 - شیطانی وسوسوں سے بچنے کا کیا حل ہے۔ سورۃ الفلق اور سورۃ الناس پڑھتی ہوں۔ کیا اِس کے علاوہ کوئی اور طریقہ بھی ہے۔(فرزانہ فیصل، کراچی)
جواب
1 - آپ نے غالباً فکری ارتقاء کو تعلیمی ارتقاء کے معنی میں لے لیا ہے، مگر میرا مطلب یہ نہیں۔ تعلیمی ترقی کا فائدہ صرف یہ ہوا ہے کہ ڈگری یافتہ لوگوں کی تعداد بڑھ گئی ہے۔ مگر فکری ترقی کا مطلب ہے— بصیرت کی ترقی، وزڈم کا بڑھنا اور شعوری ارتقاء۔ اِس اعتبار سے ابھی ہمارا معاشرہ بہت پیچھے ہے۔اس کی ایک پہچان یہ ہے کہ تعلیمی ترقی کے باوجود تمام لوگوں کے اندر منفی سوچ پرورش پارہی ہے۔ جب کہ حقیقی معنوں میں باشعور لوگوں کی پہچان یہ ہے کہ ان کے اندر منفی سوچ کا خاتمہ ہوجائے۔ وہ پوری طرح مثبت سوچ والے انسان بن جائیں۔
روحانیت کا تعلق، ہمارے نزدیک قلب سے نہیںہے بلکہ ذہن سے ہے۔ ذہنی ترقی جب مثبت انداز میں ہوتی ہے تو ا س کے نتیجے کے طورپر وہ چیز بھی پیداہوتی ہے جس کو روحانی ترقی کہا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ فکری ارتقاء لازمی طورپر روحانی ارتقاء سے جُڑا ہوا ہے۔ فکر اوراحساس کا منبع صرف مائنڈ ہے۔ اس لیے دوسری چیزوں کی طرح روحانیت بھی مائنڈ کے ذریعے حاصل ہوتی ہے۔
2 - آپ کے دوسرے سوال کے بارے میں عرض ہے کہ آپ راقم الحروف کی تفسیر ’تذکیر القرآن‘ کا مطالعہ کریں۔
سوال
سورہ یٰسمیںایک آیت ہے— تنزیل العزیز الرّحیم (یٰس:5 )۔ مجھے عربی پر مہارت تو نہیں، تھوڑا علم ہے۔ اسی تھوڑے علم کی بنیاد پر مجھے ایسا لگتا ہے کہ اس آیت میں تنزیلَ کی جگہ تنزیلُ یعنی لام پر فتحہ کی جگہ پیش ہونا چاہیے تھا۔ میں نے کئی عربی دانوں سے رجوع کیا مگر مجھے صحیح جواب ابھی تک نہیں مل پایا ہے۔ مجھے قوی امید ہے کہ آپ اس کی صراحت کریں گے۔ جواب کے لیے مشکور ہوں گا۔ (رستم علی، پٹنہ، بہار)
جواب
سورہ یٰسکی آیت میںلفظ ’تنزیلَ‘کا اعراب حذف کے اصول پر ہے۔ اِس آیت میں تنزیلَ فعل محذوف سے منصوب ہے۔ تفسیر قرطبی میںاس کی تشریح اِن الفاظ میں کی گئی ہے: ’’تنزیلَ العزیزِ الرحیم‘‘ قرأ ابن عامر و حفص والأعمش وحمزۃ والکسائی وخلف: ’’تنزیلَ‘‘ بنصب اللام علی المصدر؛ أی نزّلَ اللہُ ذلک تنزیلاً۔ (القرطبی، جلد 15 ، صفحہ: 6)
سوال
الرسالہ مئی 2006 میںایک سوال کے جواب میںآپ نے لکھا تھا کہ —کسی ایسے شخض کو کافر نہیں کہیں گے جو قبلے کی طرف رُخ کرکے نماز پڑھے۔ لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آج کی تاریخ میں جن لوگوں کو قادیانی یا احمدی کہا جاتا ہے اُن لوگوں کو کافر کس بنا پر کہاجاتا ہے۔ جب کہ وہ لوگ بھی قبلے کی طرف رُخ کرکے نماز پڑھتے ہیں۔ (شبیر احمد وانی، سری نگر، کشمیر)
جواب
کون کافر ہے اور کون کافر نہیں ہے، یہ فیصلہ کرنا خدا کا کام ہے۔ انسان کا کام نہیں۔ موجودہ زمانے میں تکفیر کا جو طریقہ رائج ہوا ہے، میں اس کو غلط سمجھتا ہوں۔ اہلِ ایمان کی ذمّے داری صرف تبلیغ ہے، تکفیر ان کی ذمے داری نہیں۔
سوال
سائنٹفک نقطۂ نظر (scientific attitude) کیا ہے۔ اکثر کہاجاتا ہے کہ فلاں شخص کے اندر سائنٹفک مزاج یا سائنٹفک نقطۂ نظر نہیں ہے۔ اس کا مطلب کیا ہوتا ہے۔ اگر ممکن ہو تو اس کی وضاحت فرمائیں۔ (عبد السلام اکبانی، ناگ پور)
جواب
سائنس کے لفظی معنی علم کے ہیں، مگر جدیداستعمال میںاس سے مراد وہ علوم ہیں جن کو علوم قطعیہ (exact sciences) کہاجاتا ہے۔ قدیم زمانے میں قیاسی منطق کا رواج تھا، اس کے تحت مفروضات کی بنیاد پر رائے قائم کی جاتی تھی۔ موجودہ زمانے میں مسلّمہ حقائق (established facts) پر رائے قائم کی جانے لگی۔ اسی سے سائنسی علوم پیدا ہوئے۔
سائنٹفک نقطۂ نظر مبنی بر حقائق نقطۂ نظر کا نام ہے۔ اس کے برعکس نقطۂ نظر وہ ہے جس کو مبنی بر مفروضات نقطۂ نظر کہا جاسکتا ہے۔ موجودہ زمانے میں نہ صرف مسلمانوں میںبلکہ عام طورپر مشرقی اقوام میں سب سے بڑی کمی یہی ہے کہ ان کے درمیان سائنٹفک نقطۂ نظر کا ارتقاء نہ ہوسکا۔ یہاں ایک تمثیل بیان کرنا، ایک شعر پڑھ دینا، یا ایک لفظی تک بندی پیش کردینے کو بھی دلیل سمجھا جاتا ہے۔ حالاںکہ اس قسم کی چیزیں دلیل نہیں ہیں۔ چند مثالوں سے اس کی وضاحت ہوتی ہے۔
ہندستان کی آزادی (1947) کے بعد پنڈت جواہر لال نہرو یہاں کے وزیر اعظم بنے۔ انھوں نے ملک کی اقتصادی ترقی کے لیے پانچ سالہ پلاننگ کا طریقہ اختیار کیا۔ اس مقصد کے لیے انھوں نے ملک کے اوپر بہت بڑے بڑے ٹیکس عائد کردیے۔ جب ان سے کہا گیا کہ آپ اتنے بڑے بڑے ٹیکس ملک پر کیوں لگارہے ہیں تو انھوں نے ایک تمثیل کے ذریعے اس طرح اُس کا جواب دیا کہ گرمی کے زمانے میں نالوں اور ندیوں کا پانی بھاپ بن کر اڑ جاتا ہے اور ہر طرف سوکھا نظر آنے لگتا ہے۔ مگر یہ پانی فضا میں جاکر بادل بن جاتا ہے اور دوبارہ زمین پر برستا ہے۔ اور زمین میں ہر طرف سرسبزی پھیل جاتی ہے۔ اسی طرح ہم جو ٹیکس لے رہے ہیں تو وہ مختلف ترقیوں کی صورت میں دوبارہ ملک کی طرف لوٹیں گے اور اس کی خوش حالی کو بڑھائیں گے۔
یہ ایک غیر سائنٹفک استدلال ہے جو واقعات پر نہیں بلکہ مفروضات پر مبنی ہے۔ اس لیے کہ بھاپ اور بارش کا معاملہ فطرت کے اٹل قانون کے تحت ہوتا ہے۔ چناںچہ جب زمین کا پانی بھاپ کی صورت میں اوپر جاتا ہے تو اس کے بعد وہ فطرت کے لازمی قانون کے تحت دوبارہ زمین پر واپس آتا ہے اور یکساں طورپر سب کو سیراب کرتا ہے۔
مگر ٹیکس اور پلاننگ کا معاملہ اس سے یک سر مختلف ہے۔ یہاں ٹیکسوں کے ذریعے حاصل شدہ دولت کچھ انسانوں کے پاس جمع ہوتی ہے۔ یہ سرکاری انسان اگر دیانت دارانہ طورپر اس کو لوٹائیں تو وہ عوام کی طرف لوٹے گی ورنہ وہ انھیں کی جیبوں میں رہ جائے گی۔ چناںچہ عملاً یہی ہوا۔ 60 سال سے زیادہ مدت سے نہایت بڑے بڑے ٹیکس عوام سے وصول کیے جارہے ہیں مگر حالت یہ ہے کہ ملک کے تھوڑے سے با اختیار لوگ تو بہت زیادہ امیر ہوگیے اور ملک کی اکثریت کے حصے میں غربت اور مصیبت کے سوا کچھ نہ آیا۔
سوال
میرا نام فاضل محمد وانی، عمر تقریباً 31 سال ہے۔ میں نے Chemistry میں M. Sc. کیا ہے اور کچھ عرصے سے ایک کالج میں contact پر لکچرر ہوں۔
محترم مولانا صاحب! جب بھی میںاپنے حال اور مستقبل کے متعلق سوچتا ہوں تو ایک بے چینی کی لہر دوڑتی ہے۔ میں محسوس کرتا ہوں کہ میںاپنے pattern of life سے مطمئن نہیں ہوں۔اگر چہ اللہ کے فضل سے میری ہمیشہ کوشش ہوتی ہے کہ میںایک اچھے مسلمان کی طرح زندگی گزاروں۔ مثلاً پانچ وقت نماز، روزہ، زکوٰۃ ادا کرنا، سودی معاملات نہ کرنا وغیرہ۔ لیکن اِن سب کے باوجود میرے دل اور ذہن میںایک خلش رہتی ہے۔ میںمحسوس کرتا ہوں کہ یہ سب کافی نہیں۔ ایک تڑپ ہے جو کوئی outlet نہ ملنے کی وجہ سے کبھی کبھی مجھ کو بے بسی اور لاچارگی (اور شاید نا اُمیدی) کی انتہا تک پہنچا دیتی ہے۔
میں شاید اپنے جذبات اور احساسات کی صحیح ترجمانی نہیں کرپاؤں گا۔ مختصراً عرض کروں کہ میں ایک داعی بننا چاہتا ہوں۔ میں ہندستان میں یا ہندستان کے باہر غیر مسلموں میں اِسلام کی تبلیغ کرنا چاہتا ہوں۔میںاس کو اپنا کیریر (career)بنانا چاہتا ہوں۔
تقریباً 2001 کی بات ہے کہ میں ہندستان کے ایک دعوتی ادارے میں گیا اور اُن سے اپنی خواہش کا اظہار کیا۔ لیکن شاید میں اپنے آپ کو واضح نہ کرسکا اور با ت آگے نہ بڑھ سکی۔ اس کے بعد میںنے وقفے وقفے سے South Africa کے دعوتی اداروں کو لکھا (میں صرف اِنھیں اخبار وغیرہ سے جانتا تھا) لیکن کوئی جواب نہ آیا۔ میںنے CPS International کو لکھا، لیکن پھر وہی خاموشی رہی۔
اب میں آپ کو لکھ رہا ہوں اور میں محسوس کرتاہوں کہ شاید یہ میری آخری کوشش ہوگی کیوں کہ اب میری حالت نا اُمیدی سے گزر کر frustration level تک آرہی ہے۔مولانا صاحب، میں خود کو ایک شکست خوردہ اِنسان محسوس کرتاہوں۔
میںاللہ تعالیٰ سے دست بدعا ہوں کہ وہ آپ کا سینہ میرے لیے کھول دے اور آپ میرے متعلق اللہ کی مرضی سے وہ فیصلہ کرسکیں جو میری اِس زندگی اور آنے والی زندگی کے لیے باعث رحمت ہو۔ (فاضل محمد وانی، سری نگر، کشمیر)
جواب
1 - دعوت ایک مشن ہے، دعوت کوئی کیریر(career) نہیں۔ آپ اگر دونوں کے درمیان اِس فرق کو سمجھ لیں تو آپ کا کنفیوژن اپنے آپ ختم ہوجائے گا۔ آدمی کے اندر اگر کیریر کا مزاج ہو تو وہ کوئی خارجی نقشہ تلاش کرنے لگتا ہے جس کے اندر وہ اپنی جگہ پاسکے، لیکن صاحبِ مشن کو کسی خارجی نقشے کی ضرورت نہیں۔ اُس کی ذاتی تڑپ ہی اِس کے لیے کافی ہو جاتی ہے کہ وہ جہاں ہے، وہیں وہ اپنا کام شروع کردے۔
2 - اگر آپ دعوت الی اللہ کا کام کرنا چاہتے ہیں تو سمجھ لیجیے کہ یہ کام خود اپنے آپ سے شروع ہوگا۔ آپ کو یہ کرنا چاہیے کہ آپ اپنا مطالعہ بڑھائیں۔ اپنے آپ کو ذہنی اور فکری اعتبار سے حقیقی داعی بنانے کی کوشش کریں۔ اگر آپ نے یہ فکری تیاری کی ہوتی تو آپ ’’شکست خوردگی‘‘ کے احساس سے دوچار نہ ہوتے۔
3 - اِس وقت ساری دنیا میں کہیں بھی صحیح معنوں میں دعوت کا کام نہیں ہورہا ہے۔ ہر جگہ دعوت کے ساتھ مدعو سے نفرت اور شکایت بھی ساتھ ساتھ جاری ہے۔دعوت کا کام صرف الرسالہ مشن کے تحت ہورہا ہے۔ اگر آپ واقعی دعوت کا کام کرنا چاہتے ہیں تو اپنے مقام پر تعمیر ی ذہن کے تحت رہیے اور ماہ نامہ ’الرسالہ‘ کی ایجنسی لے لیجیے۔ ہمارے یہاں سے اردو، ہندی اور انگریزی میں بہت سی چھوٹی اور بڑی دعوتی کتابیں چھپی ہیں، اُن کو لے کر اپنے آس پاس کے لوگوں میں پھیلائیے۔
یاد رکھیے، دعوت کاکام ممکن سے شروع ہوتا ہے، نہ کہ ناممکن کی طرف چھلانگ لگانے سے۔
سوال
حال ہی میں ہمارے یہاںاپنی برادری میںایک مسئلہ پیش آیا ہے، جس کی تفصیل یہ ہے کہ ایک باپ کے دو بیٹے ہیں جن میں ایک بیٹا دو بچے چھوڑ کر طویل علالت کے بعد چل بسا اور دوسرا بیٹا اگر چہ ابھی جوان اور غیر شادی شدہ ہے اور اس سے کہاگیا تھا کہ وہ اپنے مرحوم بھائی کی بیوہ سے شادی کر لے تاکہ یتیم بچوں کو اپنے ہی گھر میںایک باپ کا سایہ اور اچھی پرورش مل سکے مگر اس نے کسی کی نہ سنی اور صاف صاف بیوہ سے شادی کرنے سے انکار کردیا اور اب اس کی کسی اور لڑکی سے منگنی بھی ہو چکی ہے، نیز ان میں جو بھائی چل بسا وہ کچھ عرصے سے الگ مکان میں رہ رہا تھا اور وہ بڑے پیمانے پر کاروبار بھی کر رہا تھا۔
اب سوال یہ ہے کہ کیا مرحوم کے بچے یعنی پوتے اپنے دادا کے اسی طرح وارث قرار پائیں گے جس طرح ان کا مرحوم باپ وارث تھا یا وہ اپنے باپ کے فوت ہوجانے کی صورت میں اپنے دادا کی میراث سے محروم رہیں گے۔ اس سلسلے میں کچھ علماء سے بھی استفسار کیا گیا ہے اور انھوں نے کہا کہ شریعت اسلامی کی رو سے یتیم پوتے اپنے دادا کی میراث سے بحیثیت وارث کچھ نہیں لے سکیں گے۔ لیکن اگر ان کا دادا چاہے تو وہ اپنے طورسے کچھ حصہ لکھ کردے سکتا ہے یا ان کے حق میں 1/3 کی حد تک وصیت کرسکتا ہے۔
میں نے اس مسئلے کے بارے میں اپنے طورسے بھی کئی کتابوں کا مطالعہ کیا ہے اور حاصل مطالعہ یہ ہے کہ اس مسئلے میں کہ یتیم پوتے اپنے دادا کی میراث کے وارث نہیں ہیں، کے بارے میں تقریباً تمام فقہاء اور ائمہ اربعہ کے درمیان کوئی اختلاف نہیں ہے۔ بلکہ بعض کتابوں سے یہ بھی معلوم ہوا کہ اس مسئلے کے بارے میں غلط فہمیاںاور شبہات منکرین حدیث نے پیدا کرنے کی کوشش کی ہے اور جس سے وہ عام مسلمانوں کو ذخیرۂ حدیث سے بد ظن کرتے ہوئے ان میں اپنے گمراہ کُن خیالات پھیلانا چاہتے ہیں۔ (غلام نبی کشافی، سری نگر، کشمیر)
جواب
محجوب پوتے کے بارے میں یہ صحیح ہے کہ فقہاء کا اتفاق اُس بات پر ہے جو آپ نے تحریر فرمایا۔ مگر میرے علم کے مطابق، فقہاء کا یہ اتفاق قرآن اور حدیث کی کسی واضح نص پر مبنی نہیں ہے۔ اِس معاملے میں صرف ابوبکر صدیق کا ایک قول نقل کیاگیا ہے، اور وہ ہے: ’’الجَدُّ أَبٌ‘‘۔ مگر یہ ایک مبہم قول ہے، اور وہ شرعی ثبوت کے لیے کافی نہیں۔
اِس لیے میری رائے ہے کہ یا تو دادا وراثت کی تقسیم کرکے پوتے کو اس کا پورا حق دے دے۔ بصورتِ دیگر، پوتے کو یہ حق ہے کہ وہ عدالت سے رجوع کرکے اپنا قانونی حق وصول کرے۔
واپس اوپر جائیں

Tuesday, 1 May 2007

Al Risala | May 2007 (الرسالہ،مئی)

2

- روحانی شخصیت کی تعمیر

10

- حلال اورحرام کا تصور

13

- ایک تاریخی جائزہ

17

- بغیر ہدایت

24

- صبرکا وقت عبادت کا وقت ہے

26

- زحمت میں رحمت

27

- دعا کی طاقت

27

- اسلام کی اشاعت

28

- ایک پیغام مشن کے ساتھیوں کے نام

43

- خبر نامہ اسلامی مرکز — 179


روحانی شخصیت کی تعمیر

قرآن اور حدیث کے مطالعے سے معلوم ہوتا ہے کہ خدا کے نزدیک فلاح یاب انسانوں کی جو درجہ بندی ہے، اُس میں بنیادی طورپر تین گروہ شامل ہیں— رسول، اصحابِ رسول، اخوانِ رسول۔ رسول سے مراد وہ لوگ ہیں جنھوں نے وحیِ خداوندی کی سطح پر سچائی کو جانا ۔ اصحابِ رسول سے مراد وہ لوگ ہیں جن کو پیغمبر آخر الزماں صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت (companionship) سے فیض یاب ہونے کا موقع ملا۔ اخوانِ رسول سے مراد وہ لوگ ہیں جو بعد کے زمانے میں ارتقا یافتہ شعور کے ذریعے، رسول اور اصحابِ رسول کے زمانے کو اس طرح دریافت کریں کہ وہ دوبارہ عملاً پیغمبر کی زندہ صحبت (living companionship) کا تجربہ کرسکیں۔
رسول، عام انسانوں میں سے کوئی منتخب انسان ہوتا ہے۔ اُس پر خدا کی طرف سے فرشتے کے ذریعے سچائی کا علم اترتا ہے۔ اسلامی تصور کے مطابق، آدم پہلے پیغمبر تھے۔ آدم سے لے کر مسیح ابنِ مریم تک، ایک لاکھ چوبیس ہزار پیغمبر آئے۔ اِن پیغمبروں نے یکساں درجے میں خدائی سچائی کا اعلان کیا۔ لیکن انھیں اپنے زمانے میں ساتھیوں کی کوئی بڑی جماعت نہ مل سکی۔ چناں چہ یہ پیغمبر مذہبی عقیدے کا حصہ تو بنے، لیکن وہ مذہبی تاریخ کا حصہ نہ بن سکے۔
سلسلۂ نبوت کے آخری فرد محمد بن عبد اللہ تھے۔ وہ 570 ء میں عرب میں پیدا ہوئے۔ 610ء میں ان کو پیغمبری ملی۔ 632 ء میں ان کی وفات ہوئی۔ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو استثنائی طورپر یہ موقع ملا کہ آپ کو خود اپنے زمانے میں طاقت ور ساتھیوں کی ایک ٹیم حاصل ہوگئی۔ یہ لوگ تقریباً ڈیڑھ لاکھ تھے۔ اس طرح محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے یہ ممکن ہوا کہ وہ خدائی مذہب کو تاریخِ بشری کا ایک مستند حصہ بنا دیں۔ اور اس طرح بعد کی نسلوں کے لیے ایک ابدی نمونے کا مقام حاصل کرلیں۔
محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی شخصیت کو اگر نفسیات کی زبان میں بیان کریں تو یہ کہنا صحیح ہوگا کہ آپ ایک اسپریچول جینیس(spiritual genius) تھے۔ رسول کا کام دراصل یہی ہوتا ہے کہ وہ مادّی انسان کو روحانی انسان بنائے۔ رسول اس لیے آتا ہے تاکہ وہ انسان کو خدا کے کریشن پلان سے آگاہ کرے۔ خدا کا کریشن پلان یہی ہے کہ انسان اپنا تزکیہ کرکے اپنے آپ کو اسپریچول انسان بنائے۔ اور اِس طرح اپنے آپ کو جنت میں داخلے کا مستحق ثابت کرے۔
اسپریچولٹی کے لیے قرآنی لفظ ربّانیت (آلِ عمران: 79 ) ہے۔ حقیقی اسپریچول انسان وہ ہے جو ربّانی انسان ہو۔ اسپریچویلٹی کوئی ایسی چیز نہیں جو مراقبہ(meditation) اور یوگا ورزش کے ذریعے حاصل کی جائے۔ اِس قسم کی تمام چیزیں اسپریچویلٹی کا کم تر فارم(reduced form) ہیں۔ اسپریچویلٹی کا واحد ذریعہ رزقِ خداوندی(آل عمران:37 )ہے۔ یہ دراصل روحانی صحت کے اعتبار سے اپنے آپ کو اعلیٰ درجے کا انسان بنانا ہے۔ یہ ایک عظیم ذہنی عمل ہے جو کسی انسان کے اندر آفاقی عمل کے دوران انجام پاتا ہے۔
اسپریچول انسان بننا، امکانی طورپر ہر عورت اور مرد کے لیے ممکن ہے۔ لیکن اسپریچول انسان بننے کے لیے بے پناہ قربانی دینی ہوتی ہے۔ ہر شخص یہ قربانی نہیں دے سکتا۔اس لیے ہرشخص حقیقی معنوں میںاسپریچول انسان بھی نہیں بن سکتا۔اس لیے خدا نے اِس مقصد کے لیے یہ نظام بنایا کہ وہ بعض افراد کو اپنی خصوصی نصرت کے ذریعے ایسے حالات فراہم کرتا ہے کہ وہ اسپریچول جائنٹ (spiritual giant) بن سکے۔ عام انسانوں کا کام یہ ہے کہ وہ اِس اسپریچول جائنٹ کو پہچانیں اور اپنے آپ کو اُس کی غیر مشروط رہنمائی میں دے کر اعلی اسپریچویلٹی کا درجہ حاصل کریں۔
پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم ایک اعتبار سے گویا اِسی قسم کے ایک اسپریچول جائنٹ تھے۔ آپ کے ہم عصر لوگوں میں ایک لاکھ سے زیادہ ایسے افراد نکلے جنھوں نے اِس غیر معمولی معرفت کاثبوت دیا کہ انھوں نے پیغمبر کو خالص جوہر(merit) کی سطح پر پہچانا۔ انھوں نے پیغمبر کو اُس کے ابتدائی دورمیں اُس وقت دریافت کیا جب کہ ابھی وہ پُر عظمت تاریخ کا مینار نہیں بنا تھا۔ یہ بلا شبہہ کسی انسان کے لیے مشکل ترین کام ہے۔ یہ حال کے اندر مستقبل کو دیکھنا ہے۔ پیغمبر کے ہم عصر اہلِ ایمان نے اِس مشکل ترین صفت کا ثبوت دیا، اس لیے وہ اصحابِ رسول کے ابدی مقام پر سرفراز کیے گیے۔
یہ اصحابِ رسول کس طرح اصحابِ رسول بنے۔ اِس پراسس کا نقطۂ آغاز یہ تھا کہ انھوں نے نظریاتی سطح پر خدائی سچائی کو دریافت کیا جس کو ایمان کہا جاتا ہے۔ ایمان کے بعد انھوں نے اپنی عملی زندگی میں اُس نقشے کو اختیار کرلیا جس کی تعلیم انھیں خدا کے رسول کے ذریعے ملی تھی۔ ایسا کرکے وہ گویا اصحابِ رسول کے گروہ میں شامل ہوگیے۔
لیکن اعلیٰ اسپریچول شخصیت کی تعمیر کے لیے صرف اتنا کافی نہیں۔ اعلی اسپریچول شخصیت کی تعمیر اُس عمل کے ذریعے ہوتی ہے جس کو قرآن میں توسُّم (الحجر: 75) کہاگیا ہے، یعنی مادّی حقیقتوں سے ربّانی خوراک حاصل کرنا، روز مرّہ کے مادی واقعات کو روحانی تجربے میں تبدیل کرنا:
Spirituality is the ability to convert daily events into spiritual experiences.
جن معاصر اہلِ ایمان کو پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت ملی، وہ تاریخ کی اعلیٰ ترین اسپریچول شخصیتیں تھیں۔ یہ شخصیتیں کسی پُر اسرار نسبت کے ذریعے نہیں بنیں۔ وہ معلوم فطری قانون کے ذریعے بنیں۔ وہ فطری قانون خاص طورپر یہ تھا کہ پیغمبر نے ایک اسپریچول جائنٹ کی حیثیت سے تزکیہ کے عمل میں اُن کی مسلسل رہنمائی کی۔ یہ رہنمائی خاص طورپر توسم کے ذریعے ہوئی۔ آپ کا طریقہ یہ تھا کہ آپ روزمرزہ کے واقعات اور مشاہدات میںایسے پہلوؤں کی نشان دہی فرماتے تھے کہ یہ واقعات اور مشاہدات اہلِ ایمان کے لیے روحانی خوراک بن جائیں۔ خدا پر زندہ عقیدے کے بعد یہی توسم اصحابِ رسو ل کی روحانی تربیت کا سب سے بڑا ذریعہ تھا۔
قرآن میں اِس عمل کو ذکرِ کثیر (الاحزاب : 41)کہاگیا ہے۔ ذکرکثیر کا لفظی مفہوم ہے— اللہ کو بہت زیادہ یاد کرنا۔ لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ اصحابِ رسول ہر وقت اللہ، اللہ، اللہ، کہتے رہتے تھے۔ اِس قسم کا مفہوم بلا شبہہ ذکرِ کثیر کی تصغیر ہے۔ اِس کا مطلب دراصل یہ ہے کہ روزمرہ کے واقعات اور مشاہدات پر غور کرکے اُن کو روحانی تجربے میںکنورٹ کرنا۔ یہ کنورژن مومن کا رزق ہے۔ اور اِس رزق کو قرآن میں اِس طرح بیان کیا گیاہے: ورزق ربِّک خیر وأبقیٰ (طٰہٰ: 131)
اِس سے اندازہ ہوتا ہے کہ اپنے معاصر اہلِ ایمان کی روحانی تربیت کے لیے آپ کا طریقہ کیا تھا۔ وہ طریقہ توسم پر مبنی ہوتا تھا، یعنی آس پاس کے واقعات اور مشاہدات کو تربیتی غذا میں کنورٹ کرنا۔ اور اِس طرح لوگوں کو اِس قابل بنانا کہ وہ توسم کے ذریعے اپنی مسلسل روحانی تربیت کرتے رہیں۔
اِس تربیتی اسلوب کو سمجھنے کے لیے قرآن کی ایک آیت کا مطالعہ کیجیے: فإذا قضیت الصلوۃ فانتشروا فی الأرض وابتغوا من فضل اللہ واذکروا اللہ کثیراً لعلکم تفلحون (الجمعہ:10 )یعنی اور جب نماز ختم ہوجائے تو تم زمین میں پھیل جاؤ اور خدا کا رزق تلاش کرو اور اللہ کوبہت زیادہ یاد کرو، تاکہ تم فلاح پاؤ۔اِس آیت کا مطلب یہ نہیں ہے کہ زمین میں پھیل کر ہر جگہ خفی یا جلی انداز میں اللہ، اللہ، کرتے رہو، بلکہ اِس کا مطلب یہ ہے کہ تم زمین میں پھیل جاؤ اور اس طرح غور وفکر کے ساتھ رہو کہ فطرت کے مشاہدات اور زندگی کے واقعات تمھارے لیے ربّانی تجربہ یا قرآنی الفاظ میں رزقِ رب بنتے رہیں— احادیث کا بیش تر ذخیرہ گویا اِسی قسم کے توسم کی مثال ہے۔
جیسا کہ عرض کیاگیا، اسپریچول تربیت کے لیے ایک اسپریچول جائنٹ کی صحبت ضروری ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ پیغمبر کے معاصر اہلِ ایمان کو یہ صحبت تو فطری طور پر مل گئی تھی۔ اب بعد کے لوگوں کے لیے اِس تربیتی کورس کے حصول کا ذریعہ کیا ہوگا۔ یہ بلا شبہہ ایک اہم سوال ہے۔ ہمارا عقیدہ ہے کہ خدا یکساں طور پر سارے انسانوں کا رب ہے۔ وہ ایک زمانے کے انسان اور دوسرے زمانے کے انسان کے درمیان یہ فرق نہیںکرسکتا کہ وہ ایک زمانے کے لوگوں کو اعلیٰ روحانی تربیت کے مواقع دے، لیکن دوسرے زمانے کے لوگوں کو اِس سے محروم کردے۔
بلکہ اس کے برعکس، حدیث سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ بعد کے زمانے کے لوگوں کے لیے خداایسے اسباب پیدا کرے گا کہ اگروہ چاہیں تو اِس معاملے میں اور بھی زیادہ بڑا درجہ حاصل کرسکتے ہیں۔ یہ بات اُس حدیث سے ثابت ہوتی ہے جس کے الفاظ یہ ہیں: عبادٌ لیسوا بأنبیاء ولا شہداء یغبطہم النبیون والشہداء لمقعدہم وقربہم من اللہ یوم القیامۃ (مسند احمد، جلد 5، صفحہ 341) یعنی پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ خدا کے کچھ بندے ہیں جو نہ تو پیغمبر ہیںاور نہ شہید ہیں، اُن کے اوپر پیغمبر اور شہید بھی رشک کریں گے، اُن کے اُس درجے اور قربت کی وجہ سے جو انھیں خدا کے یہاں حاصل ہوگا۔ اِس حدیث سے واضح طورپر یہ ثابت ہوتا ہے کہ بعد کے زمانے کے لوگوں کے لیے بھی اعلیٰ درجۂ روحانیت کے مواقع حاصل ہیں، جس طرح پہلے زمانے کے لوگوں کو حاصل تھے۔
جیسا کہ معلوم ہے، احادیث رسول کا تقریباً پورا ذخیرہ کتابوں کی صورت میں آج بھی ہمارے پاس موجود ہے۔ یہ احادیثِ رسول، یا اقوالِ رسول وہی ہیں جن کو آپ کے معاصر اہلِ ایمان نے سُنا اور اُن سے ان کو وہ اعلیٰ روحانی غذا ملی جس نے انھیں اصحابِ رسول کا درجہ دے دیا۔ اب جو چیز غیرموجود ہے، وہ کلام نہیںہے بلکہ صرف متکلم ہے۔ اس کمی کی تلافی خدا کی اِس دنیا میں ناممکن نہیں بلکہ وہ پوری طرح ممکن ہے، بشرطیکہ اِس معاملے کو کامل سنجیدگی کے ساتھ پوری طرح سمجھا جائے۔
ایک محدّث نے بجا طور پر کہا ہے کہ : مَنْ کان فی بیتہ مجموعۃ من الأحادیث، فکأنما فی بیتہ النبیّ یتکلم (جس آدمی کے گھر میںاحادیث کا ایک مجموعہ ہو، اُس کے گھر میں گویا کہ خود پیغمبر کلام کرتا ہوا موجود ہے) یہ بات کسی استعارے کے بغیر درست ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ احیائِ شخصیت بھی اُسی طرح ممکن ہے جس طرح احیاء سنت کو ممکن سمجھا جاتا ہے۔ اِس احیائِ شخصیت کے لیے تین ضروری شرطیں ہیں:
1۔ اِس کی پہلی شرط سنجیدگی ہے۔ لوگوںکو اِس معاملے میں اتنا زیادہ سنجیدہ ہونا چاہیے کہ وہ سچے متلاشی (seeker)بن جائیں۔ وہ ہر قسم کے تعصّبات سے اوپر اٹھ کر چیزوں کو لے سکیں۔ ہمارے اور پیغمبر کے دوران جو دوری ہے، وہ حقیقتاً فاصلے کی دوری نہیں ہے بلکہ مزاج کی دوری ہے۔ اگر آج کے لوگوں کے اندر حقیقی معنوں میں رسول اور اصحاب رسول والا مزاج پیدا ہوجائے تو یہ دوری عملاً غائب ہوجائے گی۔ مزاجی مناسبت ماضی اور حال کے درمیان کا فاصلہ ختم کردے گی۔ آج کا انسان بھی اُسی طرح خدا کے رسول سے جُڑ جائے گا جس طرح معاصر اہلِ ایمان اُن سے جُڑے ہوئے تھے۔
نفسیاتی طورپر یہ ایک ثابت شدہ حقیقت ہے کہ قربت کا تعلق حقیقتاً بعد ِمکانی یا قربِ مکانی سے نہیں ہے بلکہ خود اپنے مزاج سے ہے۔ پیغمبر اسلام کے زمانے میں جو لوگ تھے اُن میں سے بھی صرف انھیں لوگوں کو آپ کی حقیقی قربت ملی جو مزاجی اعتبار سے آپ سے قریب تھے۔ جو لوگ اپنے مزاجی اعتبار سے دور تھے، انھیں پیغمبر کا ہم عصر ہونے کے باوجود قربت کی سعادت حاصل نہیں ہوئی۔
2 - اِس سلسلے میں دوسری چیز یہ ہے کہ خدا کے منصوبے کو سمجھا جائے۔ خدا اپنے منصوبے کے تحت، ہر دور میںایک اسپریچول جائنٹ پیدا کرنا ہے۔ پچھلے زمانوں میں اسپریچول جائنٹ کا یہ درجہ پیغمبروں کو حاصل ہوتا تھا۔ بعد کے زمانے میں خدا ایسا مجدد پیدا کرتا ہے جو اپنی معرفت کے اعتبار سے اسپریچول جائنٹ کا مقام رکھتا ہے۔ ایسا انسان دوسروں کے لیے گویا پیغمبر کی غیر موجودگی کی تلافی ہوتا ہے۔ البتہ یہ تلافی صرف اُن لوگوں کے حصے میں آئے گی جو اُس کو پہچانیں اور پہچان کر اس سے استفادہ کریں۔
3 - بعد کے زمانے میں اِس مقصد کے لیے جو کام کرنا ہے، وہ خاص طورپر یہ ہے کہ اقوالِ رسول کا مطالعہ دوبارہ صحبتِ رسول کے حوالے سے کیا جائے۔ یہ گویا پیغمبر کی تاریخ کو ری پراسس (re-process) کرنا ہے۔ یہ گویا کہ صحبتِ رسول کا احیا کرنا ہے۔ یہ گویا کہ دوبارہ اپنے آپ کو صحبتِ رسول میں لے جانا ہے۔ دوسرے لفظوں میںاِس کو صحبتِ رسول کی توسیع کہہ سکتے ہیں۔ اِس سے کم تر درجے کا کوئی کام اعلیٰ اسپریچول شخصیت پیدا کرنے کا ذریعہ نہیں بن سکتا۔
اِس معاملے میں یہ کرنا ہوگا کہ حدیث کے مطالعے کے سلسلے میں بھی وہی طریقہ اختیار کریں جو قرآن کے مطالعے کے سلسلے میں کیاجاتا ہے۔ قرآن کے مطالعے کا طریقہ، عام طور پر، یہ ہے کہ قرآن کی آیتوں کو اُس کے شانِ نزول یا اسبابِ نزول کی روشنی میں سمجھا جاتا ہے۔ اِسی طرح احادیثِ رسول کا بھی شانِ نزول ہے۔ یہ شانِ نزول کبھی قولِ رسول کے ساتھ اشارۃً یا تفصیلاً موجود رہتا ہے اور کبھی موجود نہیں رہتا۔ ہمیں یہ کرنا ہوگا کہ گہرے مطالعے کے ذریعے حدیثوں کے ساتھ اُس کے شانِ نزول کو شامل کریں۔ اِس طرح ہم اُس صورتِ حال کو جان لیں گے جس صورتِ حال میں پیغمبر اسلام نے کوئی بات کہی۔ حدیثوں کا اِس طرح مطالعہ گویا کہ حدیثِ رسول کے ساتھ صحبتِ رسول کااضافہ کرنا ہے۔ یہ ایک اعتبار سے اعادۂ تاریخ ہے۔ حدیث کے مطالعے کا یہ اسلوب ایک انقلابی اسلوب ہے جو مطالعہ حدیث کو صحبتِ رسول کے ہم معنیٰ بنا دینے والا ہے۔ اِس معاملے کو چند مثالوں کے ذریعے سمجھیں۔
پیغمبر اسلام کے صحابی ابوذر غفاری کہتے ہیں کہ : ولقد ترکنا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ومایتقلّب طائرجناحیہ فی السماء إلا ذکر لنا منہ علماً (مسند احمد، جلد 5، صفحہ 162) یعنی ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اِس حال میں چھوڑا کہ ایک چڑیا بھی اگر آسمان میں اپنا پَر پھڑپھڑاتی تو آپ اُس سے ہم کو ایک علم کی یاد دلاتے تھے۔
اِس مثال میں قولِ رسول کے ساتھ اِس کا پس منظر بھی موجود ہے۔ اِس پر غور کرکے ہم بآسانی یہ سمجھ سکتے ہیں کہ رسول اللہ کے زمانے میں اِس طرح کے واقعات پیش آئے کہ آپ اپنے اصحاب کے ساتھ چل رہے تھے۔ اِس دوران آپ نے دیکھا کہ ایک چڑیا فضا میں اڑتی ہوئی جارہی ہے۔ آپ نے اپنے اصحاب کو فطرت کے اِس ظاہرے کی طرف متوجہ فرمایا۔ غالباً آپ نے قرآن کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا ہوگا کہ اِس کو دیکھو اور قرآن کی اِس آیت پر غور کرو:أولم یروا إلی الطیر فوقہم صٰفّٰتٍ ویقبضن، ما یمسکہنّ إلا الرحمن، إنہ بکل شیئٍ بصیر (الملک: 19) یعنی کیا وہ پرندوں کو اپنے اوپر نہیں دیکھتے، پَر پھیلائے ہوئے، اور وہ ان کو سمیٹ بھی لیتے ہیں۔ رحمان کے سوا کوئی نہیں جو اُن کو تھامے ہوئے ہو۔ بے شک وہ ہر چیز کو دیکھ رہا ہے۔
یہ کوئی سادہ بات نہیں۔ چڑیا فطرت کا ایک انوکھا ظاہرہ ہے۔ اُس پر غور کرتے ہوئے یہ بات سامنے آتی ہے کہ چڑیاں کی ساخت کو مخصوص طورپر اِس طرح بنایا گیا ہے کہ وہ فضا میں اُڑ سکے۔اِسی چڑیا کی نقل کرکے موجودہ زمانے میں ہوائی جہاز بنائے گیے ہیں۔ مچھلی کا جسم پانی کے اعتبار سے بنایا گیا ہے اور چڑیا کی ساخت فضا کے اعتبار سے اور چوپائے کی ساخت سطحِ زمین کے اعتبار سے، وغیرہ۔یہ مختلف ڈزائین اس بات کا ثبوت ہے کہ کائنات اتفاقی طور پر وجود میں نہیں آئی بلکہ وہ ایک ذہین منصوبہ بندی (intelligent planning) کا نتیجہ ہے۔
کچھ اور حدیثیں ہیں جن میں قول تو موجود ہوتا ہے لیکن اس کا پس منظر موجود نہیںہوتا۔ اِس قسم کے اقوال یہ بتاتے ہیں کہ آپ نے ایک منظر کو دیکھا اور پھر آپ نے اُس کو سبق میں کنورٹ کرکے ایک نصیحت کی بات کہی۔ اب ہمارا کام یہ ہے کہ اس قول کوری کنورٹ کرکے دوبارہ ابتدائی مشاہدے سے جوڑ کر دیکھیں۔ جب ہم ایسا کریں گے تو گویا ہم نے اُس لمحے کو زندہ کیا جب کہ پیغمبر بنفسہٖ موجود تھے، اور اپنے ساتھیوں کو بتارہے تھے کہ کس طرح وہ فطرت کے مشاہدات کو روحانی تجربات میں کنورٹ کرکے اپنے تزکیے کا سامان کرسکتے ہیں۔
مثلاً حدیث میں آیا ہے کہ: مثل المؤمن کمثل خامۃ الزرع۔ یہاں ہم کامن سنس سے یہ اضافہ کرسکتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے کچھ اصحاب کے ساتھ چل رہے تھے کہ راستے میں ایک نرم پودا دکھائی دیا۔ وہ ہوا کے جھونکے کے مقابلے میں اکڑتا نہیں تھا بلکہ جھک جاتا تھا۔ اس کو دیکھ کر آپ نے اپنے اصحاب سے فرمایا کہ مومن بھی اسی طرح ایک نرم مزاج والا انسان ہوتا ہے۔ اُس کے اندر ٹکراؤ کا مزاج نہیں ہوتا بلکہ ایڈجسٹمنٹ کا مزاج ہوتا ہے۔
اِس مزاج کا فائدہ مومن کو یہ ملتا ہے کہ غیر متعلق چیزوں میںالجھ کر وہ اپنے اندر ذہنی اور روحانی ارتقا کے عمل کو بلا روک جاری رکھتا ہے۔ اس کے وقت اور اس کی طاقت کا کوئی بھی لمحہ کسی غیر متعلق کام میں ضائع نہیں ہوتا— اِس طرح اقوالِ رسول میں اپنے کامن سنس سے اُس کے ماحول کا تصور کرکے ہم اپنے آپ کو گویا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت میں پہنچا سکتے ہیں۔ ایسا کرنے سے یہ ہوگا کہ جو چیز اصحابِ رسول کو واقعاتی طورپر حاصل تھی، وہ ہم کو تصوراتی طورپر حاصل ہوجائے گی۔ اِس پہلو سے یہ کہنا بالکل درست ہوگا کہ: مَنْ کان فی بیتہ مجموعۃ من الاحادیث کأنما ہو فی صحبۃ النبی صلی اللہ علیہ وسلم (جس کے گھر میںاحادیث رسول کا کوئی مجموعہ موجود ہو، وہ گویا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت میں جی رہا ہے)۔
واپس اوپر جائیں

حلال اورحرام کا تصور

حلال اور حرام کا تصور کوئی پُر اسرار تصور نہیں۔ وہ فطرت کے قانون (law of nature) کا مذہبی نام ہے۔ حلال اور حرام کا مطلب اُن ابدی اصولوں کواپنی زندگی میں اختیار کرنا ہے جو نظام فطرت کے تحت آدمی کی ترقی کے لیے ضروری ہیں۔ اصل یہ ہے کہ خالق نے انسان کو استثنائی طورپر ایک عظیم نعمت دی ہے۔ یہ عظیم نعمت وہی ہے جس کو دماغ کہاجاتا ہے۔ انسان کے دماغ میں لا محدود صلاحیت ہے۔ کہا جاتا ہے کہ ہر فردکے دماغ میںایک سو ملین، بلین، بلین پارٹکل ہیں۔ یہ سارے پارٹکل انفارمیشن پارٹکل ہیں۔ لیکن ابتدائی طور پر یہ تمام پارٹکل خوابیدہ حالت میں ہیں۔ انسان اپنی کوشش سے ان کو اَن فولڈ (unfold)کرتا ہے۔ کوئی آدمی جتنے زیادہ پارٹکل کو ان فولڈ کرے گا، اتنا ہی زیادہ وہ ذہنی اور روحانی ترقی حاصل کرسکے گا۔
انسان کو موجودہ دنیا میں،جینے کے لیے تھوڑی مدت ملی ہے۔ مثلاً نپولین بونا پارٹ (وفات 1821) غیر معمولی دماغ کا حامل ہونے کے باوجود صرف باون سال کی عمر میں مرگیا۔ سید جمالدین افغانی (وفات: 1897)غیرمعمولی دماغ رکھتے تھے۔ لیکن ان کا انتقال صرف اٹھاون سال کی عمر میں ہوگیا، وغیرہ۔
ایسی حالت میں انسان کو اپنے ذہنی امکانات کو ان فولڈ کرنے کے لیے بہت تھوڑا وقت ملا ہے۔ کوئی بھی آدمی اِس نادانی کا تحمل نہیں کرسکتا کہ وہ سو سال یا اُس سے بھی کم مدت میں مرجائے اور اُس کے ننانوے فیصد سے بھی زیادہ ذہنی امکانات واقعہ بننے سے رہ گیے ہوں۔ محدود عمر کے اندر لامحدود امکانات کے حصول کا تقاضا ہے کہ آدمی کسی بھی قیمت پر اِس نقصان کو برداشت نہ کرے۔
اِس نقصان کا سب سے بڑا ذریعہ صرف ایک ہے اور وہ ہے ڈسٹریکشن (distraction)، یعنی ذہنی امکانات کی ان فولڈنگ کے پراسس کا رُک جانا۔ ڈسٹریکشن کیا ہے، اس کو لغت میں اِس طرح بیان کیاگیا ہے:
Distraction is the diverting of the attention of an individual or group from the chosen object of attention onto the source of distraction.
حرام (unlawful) در اصل اِسی ڈسٹریکشن کا مذہبی نام ہے۔ وہ تمام چیزیں جن کو مذہب میں حرام یا منع کیا گیا ہے، وہ سب اِسی لیے حرام یا منع ہیں کہ وہ آدمی کے ذہن کو اصل نشانے سے غیر مفید طورپر ہٹا دیتی ہیں، اور اِس طرح آدمی کے اندر ذہنی ارتقا کا عمل، وقتی طورپر یا مستقل طورپر، رُک جاتا ہے۔
اِس ڈسٹریکشن کی دو قسمیںہیں — حرام اور مکروہ۔ موجودہ دنیا میں کچھ چیزیں ایسی ہیں جو مکمل ڈسٹریکشن (total distraction) کا ذریعہ بنتی ہیں، ایسی چیزوں کو مذہب میں حرام قرار دیا گیا ہے۔ اِن کے علاوہ کچھ اور چیزیں ہیں جو جُزئی ڈسٹریکشن (partial distraction) کا ذریعہ بنتی ہیں، اُن کو حرام تو نہیں قرار دیاگیا، لیکن اُن کو مکروہ بتایا گیا۔ یعنی غیر مطلوب یا قابلِ پرہیز۔
حرام چیزوں میں سے چند چیزیں یہ ہیں— بت پرستی، قتل، زنا، شراب، خنزیر، جوا، وغیرہ۔ جو چیزیں مکروہ قرار دی گئی ہیں، اُن میں سے چند چیزیں یہ ہیں— لڑائی جھگڑا ، عورت مرد کا اختلاط، شاپنگ، آؤٹنگ، رقص وسُرود، بے فائدہ تفریحات، پان سگریٹ، فیشن، میک اپ، پُر تکلف دعوتیں، سامانِ عیش، تحفے تحائف کی رسم، احباب اور اعزّہ کی بے معنٰی دھوم، سماجی تکلفات اور تقریبات ، وغیرہ۔
آدمی کا ذہن فطری طورپر جامد ذہن نہیں ہے۔ وہ ہمیشہ متحرک رہتا ہے۔ اِس کے بعد آدمی مطالعہ، مشاہدہ، انٹلکچول ایکسچینج، غور وفکر، عبرت پذیری، وغیرہ کے ذریعہ جو سیکھتا ہے، وہ مسلسل طورپر انسان کی ذہنی ترقی میں مددگار بن جاتا ہے۔ذہنی ترقی کا یہ عمل ایک مسلسل عمل ہے۔ یہاں تک کہ وہ سونے کی حالت میں بھی جاری رہتا ہے۔ جب بھی آدمی مذکورہ قسم کے محرّمات یا ممنوعات میں مشغول ہوتا ہے تو وہ اُس کے لیے ایک ڈسٹریکشن کا لمحہ ہوتا ہے۔ وہ اُس کے اندر اُس فکری پراسس کو، وقتی یا ابدی طور پر، روک دیتا ہے جو آدمی کے ذہنی ارتقا کے لیے ضروری ہے۔
اِس نظریے کو کسی بھی شخص کا مطالعہ کرکے سمجھا جاسکتا ہے۔ مثلاً جو لوگ بزنس یا تفریحات وغیرہ میں زیادہ مشغول رہتے ہیں، اُن سے بات کیجیے تو معلوم ہوگا کہ اگر چہ وہ اپنے پروفیشن میں بظاہر کامیاب ہیں، لیکن وہ فکری ارتقا کے معاملے میں بالکل پس ماندہ ہیں۔ فکری موضوعات پر اُن سے بات کیجیے تو آپ کو فوراً محسوس ہوگا کہ وہ ذہنی پس ماندگی (intellectual backwardness) کا شکار ہیں۔ لوگ جسمانی دیو (physical giant) ہیں اور ذہنی بَونے (intellectual dwarf) ۔
موجودہ زمانے میں مغربی تہذیب نے تفریحات کو ایک عمومی کلچر کی حیثیت دے دی ہے۔ آج یہ حال ہے کہ آرٹ، ٹی وی، سینما، فیشن، عورت مرد کا اختلاط، تفریحی تقریبات بہت زیادہ عام ہوگئی ہیں۔ قدیم زمانے میں اِس قسم کی تفریحات کا کوئی وجود نہ تھا۔
اب قدیم اور جدید زمانوں کا تقابل کرکے دیکھئے۔ جتنے بڑے بڑے فلسفی ، مصنف، سائنس داں اور مُوجد پیدا ہوئے، وہ تقریباً سب کے سب قدیم زمانے میں پیدا ہوئے۔ موجودہ تفریحات کے زمانے میں شاید کوئی بھی بڑا صاحب دماغ آدمی پیدا نہیں ہوا۔ اِس کا سبب یہ نہیں ہے کہ عالی دماغ لوگ پیدا ہونا بند ہوگیے، بلکہ اِس کا سبب یہ ہے کہ موجودہ زمانے میں ایسی بے شمار چیزیں وجود میں آگئی ہیں جو مسلسل طورپر انسان کے لیے ڈسٹریکشن کا ذریعہ بنی ہوئی ہیں۔ جب کہ قدیم زمانے میں ڈسٹریکشن کے یہ اسباب موجود نہ تھے۔ اِس لیے انسان یکسو ہو کر صرف اپنے علمی یا سائنسی کام میں مشغول رہتا تھا۔
واپس اوپر جائیں

ایک تاریخی جائزہ

قرآن میں ایک تاریخی واقعے کو اِس طرح بیان کیا گیا ہے: ومن الناس من یجادل فی اللہ بغیر علم ولاہدی ولا کتاب منیر (الحج: 8) اِس آیت میں جو بات کہی گئی ہے، وسیع تر انطباق کے لحاظ سے اس کا مطلب یہ ہے کہ کچھ لوگ زندگی کے بارے میں بغیر ہدایت، خدائی اسکیم سے لڑتے ہیں:
Some people defy the divine scheme without having a guidance.
اِس آیت کی روشنی میںغور کیا جائے تو معلوم ہوگا کہ یہ پوری انسانی تاریخ پر ایک تبصرہ ہے۔ ساری تاریخ میں مسلسل یہ ہوتا رہا ہے کہ بڑے بڑے دماغ کسی رہنمائی کے بغیر محض اپنی ذاتی اُپج سے زندگی اور کائنات کی تشریح کرتے رہے۔ اِس طرح انھوں نے انسانیت کے بڑے حصے کو گمراہی کے راستے پر ڈال دیا۔ یہ سلسلہ آج تک جاری ہے۔
فلسفے کی مثال
تمام علوم میں فلسفہ شاید سب سے قدیم علم ہے۔ بڑی تعداد میں اعلیٰ دماغ، فلسفیانہ غور میں مشغول رہے ہیں لیکن فلسفہ انسانی علم میں کوئی مثبت اضافہ نہ کرسکا۔ مثال کے طور پر تقریباً تمام فلسفیوں نے یہ کیا کہ انھوںنے کائنات کے مختلف مظاہر کو وحدت کی اصطلاح میں بیان کرنے کی کوشش کی۔ اِس طرح انھوںنے یہ کیا کہ انھوںنے خالق اور تخلیق دونوں کو ایک قرار دے دیا۔ ان کے نزدیک ایک ہی حقیقت تھی جو مختلف اشیا کی صورت میں اپنا ظہور کررہی تھی۔ اسی فلسفیانہ تفکیر کے نتیجے میں تخلیق کے بارے میں وہ نظریہ پیدا ہوا جس کو وحدتِ وجود(monism) کہاجاتا ہے، سنسکرت میںاسی کو اَدُوئت واد کہتے ہیں۔
یہ نظریہ انسانی فطرت کے خلاف تھا۔ مطالعہ بتاتا ہے کہ انسان کی فطرت میںایک بڑے کا تصور نہایت گہرائی کے ساتھ پیوست ہے۔ انسان اپنے داخلی تقاضے کے تحت، ایک ایسی ہستی کو پانا چاہتا ہے جو اُس سے برتر ہو، جو اس کے لیے اعتماد کا سرچشمہ بن سکے۔ مگر وحدتِ وجود کے نظریے میں اِنسان کی اس تلاش کا جواب نہیں۔ کیوں کہ یہ نظریہ بتاتا ہے کہ انسان خود ہی خدا ہے۔ انسان کے باہر کوئی اور ہستی موجود نہیں جس کو وہ اپنا مرکز ومحور بناسکے۔ اِس طرح وحدتِ وجود کے نظریے نے انسان کی سب سے بڑی طلب کو اس کا مطلوب فراہم کیے بغیر حیرانی اورسرگشتی کی حالت میں چھوڑ دیا۔
دوسری طرف یہ ہوا کہ پوری تاریخ میںپیغمبر اٹھتے رہے۔ انھوںنے بتایا کہ زندگی کی تشریح کا زیادہ صحیح تصور ’وحدتِ وجود‘ نہیں ہے بلکہ توحید (monotheism) ہے۔ اِس پیغمبرانہ تصورکے مطابق، یہاں ایک قسم کی ثنویت (dualism) پائی جاتی ہے۔ یعنی خالق اور تخلیق دونوں ایک دوسرے سے الگ ہیں۔ ایک خدا ہے جس نے انسان کو اور ساری کائنات کو پیدا کیا۔ دوسرے لفظوں میں یہ کہ خالق الگ ہے، اور تخلیق اُس سے الگ۔
اِس پیغمبرانہ تصورکے مطابق، یہ ہوتا ہے کہ نہ صرف انسان اور کائنات کی قابلِ فہم تشریح مل جاتی ہے، بلکہ انسان کو وہ مطلوب بھی حاصل ہوجاتا ہے جس کا تقاضا اس کا پورا وجود کررہا تھا۔
فلسفیانہ توجیہ کے نادرست ہونے کے بہت سے پہلو ہیں، مگر اس کی نادرستگی کا سب سے بڑا پہلو یہ ہے کہ وہ فطرتِ انسانی کے لیے ایک متبائن(incompatable) تصور کی حیثیت رکھتا ہے، اور جو چیز فطرتِ انسانی کے لیے متبائن تصور کی حیثیت رکھتی ہو، وہ اپنے آپ میں قابلِ رد ہے۔ اس کے بعد اس کو رد کرنے کے لیے کسی اور چیز کی ضرورت نہیں۔
پیغمبرانہ ہدایت آدمی کو فکری عمل کے لیے رہنما اصول (guideline)دیتی ہے۔ اِن اصولوں سے رہنمائی لینے والا آدمی فکری بھٹکاؤ سے بچ جاتا ہے۔ وہ اِس قابل ہوجاتا ہے کہ صحیح سمت کا اتباع کرتے ہوئے درست شاہ راہ پر اپنا سفر جاری رکھے، یہاں تک کہ وہ اپنی منزل پر پہنچ جائے۔
سائنس کی مثال
فلسفیکے بعد دوسرا سب سے بڑا علم وہ ہے جس کو سائنس یا علومِ قطعیّہ (exact sciences) کہاجاتا ہے۔ سائنس اُس علم کا نام ہے جس میں مظاہرِ فطرت کی تحقیق کرکے فطرت کے اصول اخذ کیے جائیں اور ان کی روشنی میں مادّی دنیا کی تعمیر کی جائے۔ یہ علم ابتدائی صورت میں بہت پہلے سے موجود تھا، لیکن وہ انیسویں صدی اور بیسویں صدی میںاپنے عروج پر پہنچا ہے۔
سائنس نے انسان کو بہت سی چیزیں دی ہیں۔ یہاں تک کہ تاریخ میں پہلی بار یہ ممکن ہوگیا کہ مادّی قوانین کا اتباع کرکے اپنے لیے ایک پُرکشش دنیا بنائی جاسکے۔ انسان ہمیشہ سے راحت اور آسائش کی زندگی کا طالب رہا ہے۔ سائنس نے پہلی بار ایسا کیا کہ بظاہر اس نے اِس بات کو ممکن بنادیا کہ انسان اپنی خواہشوں کو واقعے کی صورت دے سکے۔
لیکن جہاں تک فکری پہلو کا تعلق ہے، سائنس نے انسان کو ایک بہت بڑی بے راہ روی میں ڈال دیا، ایک ایسی بے راہ روی جو اپنے نتیجے کے اعتبار سے کامل تباہی کے ہم معنٰی ہے۔
وہ فکری گمراہی یہ ہے کہ دنیا میں مختلف قسم کے جو سامانِ حیات موجود ہیں، ان کو سائنس نے صرف یہ حیثیت دی کہ وہ لائف سپورٹ سسٹم (life support system) کے طورپر ہیں۔ حالاں کہ خدا کے تخلیقی نقشے کے مطابق، ان کی اصل حیثیت یہ ہے کہ وہ ٹسٹ سپورٹ سسٹم (test support system) کے طورپر ہیں۔
سامان حیات کے سائنسی تصور کی روشنی میں انسان اور اس سامانِ حیات کے درمیان جو تعلق بنتا ہے، وہ وہی ہے جو حیوانات کا اِن چیزوں کے ساتھ بنا ہوا ہے۔ حیوان اِن چیزوں کو صرف ذریعۂ انتفاع کے طورپر دیکھتا ہے، جس سے کوئی ذمّے داری وابستہ نہ ہو۔ سائنسی خاکے میں یہی حال انسان کا بھی ہوجاتا ہے۔ سائنسی تصور کے مطابق، انسان یہ سمجھنے لگتا ہے کہ دنیوی سازوسامان سے انتفاع اس کے لیے صرف رائٹ(right) کا ایک مسئلہ ہے، وہ ڈیوٹی (duty) کا مسئلہ نہیں۔ یہ تصور انسان کو اُس سطح پر لے جاتا ہے، جس کو حیوانی سطح کہاجاتا ہے۔
اس کے برعکس، سامانِ حیات کے بارے میں پیغمبرانہ تصور یہ ہے کہ یہ تمام چیزیں امتحانی پرچہ (test papers) کی حیثیت رکھتی ہیں۔ ان کے ساتھ براہِ راست طورپر ذمے داری کا تصور جُڑا ہوا ہے۔ اِس طرح پیغمبرانہ تصور آدمی کو مکمل طورپر ڈیوٹی کانشش (duty concious) بنا دیتا ہے۔ سائنسی تصور کے مطابق، یہ حال ہوتا ہے کہ ہر آدمی زندگی کو اِس نظر سے دیکھنے لگتا ہے کہ وہ اِس لیے دنیا میں ہے کہ وہ بقدر امکان آرام اور آسائش کی چیزیں حاصل کرے اور پھر مرجائے۔ جب کہ پیغمبرانہ تصور کا مطلب یہ ہے کہ اِس دنیا میں انسان کو جو کچھ بھی ملتا ہے، وہ صرف اس لیے ہوتا ہے کہ انسان اس کے اندر اپنا امتحان دے، اور پھر موت کے بعد کی ابدی زندگی میں اس کے مطابق، انعام یا سزا کی صورت میں اس کا نتیجہ پائے۔
پیغمبرانہ تصور کے مطابق، خالق نے ہماری زندگی کو دو دَوروں میں تقسیم کیا ہے— موت سے پہلے، اور موت کے بعد۔ موت سے پہلے کا مرحلہ عمل کرنے کا مرحلہ ہے، اور موت کے بعد کا مرحلہ اپنے عمل کا انجام پانے کا مرحلہ۔ سائنسی تصور کے مطابق، زندگی کی معنویت کو سمجھنے کا معیار یہ ہے کہ آدمی اس عارضی مرحلۂ حیات کو کتنا زیادہ پُر آسائش بنا سکا۔ جب کہ پیغمبرانہ تصور کے مطابق، سارا معاملہ جنت سے تعلق رکھتا ہے۔ پیغمبرانہ تصور کے مطابق، انسان کی کامیابی یہ ہے کہ وہ دنیا میں ملی ہوئی ہر چیز کو امتحان کا ایک پرچہ سمجھے۔ وہ چیزوں کے درمیان اِس احساس کے ساتھ رہے کہ اُسے دنیا میں اُس روش کو اختیار کرنا ہے جو موت کے بعد کے طویل تر مرحلۂ حیات میں اس کو کامیاب بنا سکے۔
واپس اوپر جائیں

بغیر ِہدایت

(History of Withouts)
نظریۂ ارتقا کو ماننے والے لوگ زمین پر انسان کی تاریخ کو لاکھوں سال قدیم بتاتے ہیں، لیکن تاریخ کے رکارڈ کے مطابق، زمین پر انسان کی عمر بہ مشکل پچیس ہزار سال پیچھے تک جاتی ہے۔ تاریخی اعتبار سے دیکھا جائے تو انسانی زندگی کے دو پہلوؤں میں بہت زیادہ فرق ملے گا— انسان نے مادّی چیزوں میںتو بہت زیادہ ترقی کی، لیکن انسانی علوم میں لمبی مدت گذر نے کے باوجود کوئی ترقی نہ ہوسکی۔ مٹیریل ترقی کا خواب انسان نے بڑی حد تک پورا کرلیا، لیکن ذہنی اور روحانی ترقی کی سمت میںابھی تک کوئی قابلِ ذکر پیش قدمی نہ ہوسکی۔ اسی کا ایک اظہار درج ذیل کتاب ہے جو پہلی بار 1935 میںچھپی۔ اس کا نام یہ ہے :
Dr. Alexis Carrel, Man the Unknown
اصل یہ ہے کہ ترقی کے لیے ہمیشہ گائڈ لائن کی ضرورت ہوتی ہے۔مٹیریل ورلڈ یا فزکل ورلڈ کا معاملہ یہ ہے کہ اس کی گائڈ لائن خود اِن اشیا کے اندر موجود ہے۔ تجربے کے ذریعے اس قانون کو دریافت کرکے ترقی کا سفر جاری رکھا جاسکتا ہے۔
مثلاً سواری کے میدان میں یہ ہوا کہ پہلے انسان گھوڑے پر سواری کرتا تھا۔ اس کے بعد اس نے پہیے دار گاڑی بنائی۔ اس کے بعد سمندری جہاز بنائے گیے۔ پھر اس نے بائسکل تیار کی۔ اس کے بعد موٹر کار بنی اور پھر ہوائی جہاز اور راکٹ تیار کیے گیے۔ اِن تمام سواریوں کو بنانے کے لیے گائڈ لائن لا آف نیچر کی صورت میں خود اُن چیزوں کے اندر موجود تھی جس کو استعمال کرکے مختلف قسم کی سواریاں بنائی گئیں۔
مگر انسان کے بارے میں سب کچھ لامعلوم تھا۔ مثال کے طورپر انسان جب پیدا ہوتا ہے اور سماج کے اندر رہنا شروع کرتا ہے تو اس کے ذہن کی کنڈیشننگ ہونے لگتی ہے، یہاںتک کہ ہر آدمی مسٹر کنڈیشنڈ بن جاتا ہے، یہ کنڈیشننگ ، آدمی کو اس قابل نہیں رکھتی کہ وہ اپنی دنیا کے بارے میں بے آمیز رائے قائم کرسکے۔ مگر یہ حقیقت صرف بیسویں صدی کے رُبع اوّل میںمعلوم ہوسکی اور وہ بھی صرف پچاس فیصد۔ یہ واقعہ پھر بھی لامعلوم رہا کہ کنڈیشنڈ مائنڈ کی ڈی کنڈیشننگ کرکے اس کو دوبارہ فطری سوچ (natural thinking) پر لایا جاسکتا ہے۔
قرآن خدا کی کتاب ہے۔ قرآن کی اصل حیثیت یہی ہے کہ وہ انسان کے لیے ایک قابل اعتماد گائڈ لائن ہے۔ مذکورہ سوال کا جواب قرآن کی اِس آیت پر غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے: ومن الناس من یجادل فی اللہ بغیر علمٍ ولا ہدًی ولا کتاب منیر(الحج: 8) یعنی لوگوں میں کوئی شخص ہے جو اللہ کی بات میں جھگڑتا ہے، علم اور ہدایت اور روشن کتاب کے بغیر۔
اِس آیت پر غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ انسانی سائنس میں ناکامی کا سبب یہ ہے کہ لوگوں نے گائڈنس کے بغیر انسانی زندگی کو سمجھنا چاہا اور اس کی تشکیل کرنے کی کوشش کی۔ یہی واحد وجہ ہے جس کی بنا پر انسانی سائنس ترقی سے محروم رہی۔ کیوں کہ جب گائڈنس موجود نہ ہو تو آدمی کو اپنے عمل کا نقطہ آغاز ہی نہیں ملے گا، اور جب حقیقی نقطہ آغاز کو جانے بغیر سفر شروع کیاجائے تو ایسا سفر کبھی اپنی منزل تک پہنچنے والا نہیں۔
خالق کے تخلیقی نقشے کو جانے بغیر
کسی پیچیدہ مشین کو بنانے والا انجینئر ہی اس کی گائڈ بک دے سکتا ہے، یہی معاملہ موجودہ دنیا کا ہے۔ موجودہ دنیا کو خدا نے اپنے تخلیقی نقشے کے مطابق بنایا ہے۔ یہ تخلیقی نقشہ زندگی کی حقیقی تعمیر کے لیے ضروری ہے۔ خالق کے تخلیقی نقشے کو جانے بغیر زندگی کا جو تصور قائم کیا جائے گا، وہ حقیقتِ واقعہ کے مطابق نہ ہوگا۔ اور جو منصوبہ حقیقتِ واقعہ کے مطابق نہ ہو اس کے لیے ناکامیابی یقینی ہے۔
خدا کی کتاب قرآن سے معلوم ہوتا ہے کہ خدا نے اِس دنیا کو ٹسٹ کے لیے بنایا ہے۔ اس دنیا سے انسان کے تعلق کی نوعیت وہی ہے جو امتحان ہال سے ایک طالب علم کی ہوتی ہے۔ امتحان ہال میں کوئی طالب علم اس لیے جاتا ہے کہ وہاں وہ مطلوب ٹسٹ دے کر اپنے آپ کو اس بات کا اہل ثابت کرے کہ امتحان ہال کے باہر کی دنیا میں وہ جگہ پانے کا مستحق ہے۔
اسی طرح موجودہ دنیا انسان کے لیے خدائی ٹسٹ دینے کی جگہ ہے۔ موت سے پہلے کی اِس دنیا میں آدمی کو یہ کرنا ہے کہ وہ ٹسٹ میں اپنے آپ کو کامیاب ثابت کرے، تاکہ موت کے بعد کی دنیا میں وہ خدا کے ابدی انعامات کا مستحق قرار پائے۔
انسان کو یہ کرنا ہے کہ وہ خدا کی گائڈبک کے ذریعے دنیا کے بارے میں خدا کے تخلیقی نقشے کو جانے، اور اس سے مطابقت کرتے ہوئے اپنی زندگی کی تشکیل کرے۔ جو لوگ ایسا کریں وہی کامیاب انسان ٹھیریں گے اور جو لوگ ایسا نہ کریں وہ ناکام ہو کر رہ جائیں گے۔
آئڈیل زندگی کی تعمیر
مشہور یونانی فلسفی افلاطون (Plato) تقریباً ڈھائی ہزار سال پہلے یونان میں پیدا ہوا۔ اس کا نشانہ یہ تھا کہ یونان میں ایک اسٹیٹ بنائی جائے جو ہر اعتبار سے آئڈیل ہو۔ اس نے اپنے کتاب آئڈیل اسٹیٹ(Ideal State) میںاس کا نقشہ پیش کیا۔ اس کے نزدیک آئڈیل اسٹیٹ بناناپوری طرح ممکن تھا۔ افلاطون یونان کے شاہی خاندان کا معلم تھا۔ اِس طرح اس کو موقع مل گیا کہ وہ شہزادوں کی تعلیم و تربیت کرکے ایسا مطلوب سیاسی کردار تیار کرے جو اس کی اسٹیٹ میں وہ رول ادا کرسکے جس کو اس نے فلاسفر کنگ(Philosopher King) کا نام دیا تھا۔ مگر افلاطون کی مفروضہ آیڈیل اسٹیٹ کبھی قائم نہ ہوسکی۔
اِس کا سبب یہ نہ تھا کہ اس کے شاگرد سکندر اعظم نے بعد کے مرحلے میںاس کی پیروی نہ کی، بلکہ اس کا سبب فطرت کے تخلیقی نقشے سے بے خبر تھی۔ خدا نے یہ دنیا اِس لیے نہیں بنائی کہ یہاں آئڈیل اسٹیٹ بنائی جاسکے۔ حقیقت یہ ہے کہ خدا کے تخلیقی نقشے کے مطابق ، آئڈیل اسٹیٹ اِس دنیا میں بنانا ممکن ہی نہیں۔ افلاطون نے ایک ناقابلِ عمل منصوبے کو عمل میں لانا چاہا، اس لیے وہ ناکام ہو کر رہ گیا۔ خدا کے تخلیقی نقشے کے مطابق، اگر وہ کسی عملی منصوبے کو زیر عمل لانے کی کوشش کرتا تو ضرور وہ کامیاب ہوسکتا تھا۔
ڈی کنڈیشننگ کے بغیر تفکیری عمل
حدیث میں آیا ہے کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کلّ مولود یولد علی الفطرۃ، فأبواہ یہوّدانہ أو ینصّرانہ، أویمجّسانہ (صحیح البخاری، کتاب الجنائز) یعنی ہر پیدا ہونے والا اپنی اصل فطرت پر پیدا ہوتا ہے، پھر اس کے ماں باپ اس کو یہودی یا مسیحی یامجوسی بنادیتے ہیں۔
اس حدیثِ رسول میں جو بات کہی گئی ہے وہ اب خود سائنسی ریسرچ کے تحت ثابت ہوچکی ہے۔ اب خالص علمی طورپر یہ مان لیاگیا ہے کہ کوئی عورت یا مرد جس ماحول میں پرورش پاتے ہیں، اُس ماحول کے مطابق، ان کے ذہن کی کنڈیشننگ ہوجاتی ہے۔ یہ اصول اتنا زیادہ عام ہے کہ کوئی بھی شخص اس سے مستثنیٰ نہیں۔ کنڈیشننگ کا یہ عمل غیر شعوری طور پر ہوتا ہے۔ چناں چہ یہ پراسس ہر آدمی کے ذہن میں جاری رہتا ہے اور کوئی آدمی بطورِ خود یہ جان نہیں پاتا کہ اس کے ذہن میں مسلسل طور پر کنڈیشننگ کا عمل جاری ہے۔
کنڈیشننگ کا یہ معاملہ پہلی بار بیسویں صدی کے آغاز میں سامنے آیا۔ امریکا میں نفسیات کے پروفیسر واٹسن (J.B. Watson) نے اِس موضوع پر لمبی تحقیق کے بعد 1925 میں اپنی مشہور کتاب بہیویرازم(Behaviourism) چھاپی۔ اس میں بتایا گیا تھا کہ ہر آدمی لازمی طورپر کنڈیشننگ کا معمول بنتا ہے، کوئی بھی انسان اس سے بچ نہیں سکتا۔ واٹسن کا یہ نظریہ اتنا مقبول ہوا کہ عرصے تک وہ یونیورسٹیوں میں نفسیات کے نصاب میں پڑھایا جاتا رہا۔
لیکن واٹسن کے نظریے میں ایک بھیانک کمی تھی۔ اس نے یہ فرض کرلیا کہ یہ کنڈیشننگ جو ہوتی ہے، وہی اصل صورت حال ہے۔ اس نظریے کے مطابق، انسانی شخصیت کی تشکیل وتعمیر نیچر (nature) سے نہیں ہوتی بلکہ نرچر(nurture) سے ہوتی ہے۔ دوسرے لفظوں میں یہ کہ جو آدمی جیسا بن گیا، وہی اس کی ابدی شخصیت ہے۔ اس کو دوبارہ اس کی ابتدائی فطرت کی طرف نہیں لوٹایا جاسکتا۔
یہ نظریہ اگر چہ بیسویں صدی کے آغاز میں پیش کیاگیا، لیکن عملاً وہ پوری تاریخ پر چھایا رہا۔ پچھلے ہزاروں سال کے درمیان جو عورت اور مرد پیدا ہوئے، وہ سب اِس حقیقت سے بے خبر رہے کہ ان کے لیے تفکیری عمل کا آغاز یہ ہے کہ وہ اپنے کنڈیشنڈ مائنڈ کی ڈی کنڈیشننگ کریں، وہ اپنے ذہن کے اوپر سے مصنوعی پردوں کو ہٹا کر اپنے آپ کو اپنی اصل فطرت کی طرف واپس لے جائیں۔ خالق نے خارجی دنیا میں پیاز کی صورت میں اس معاملے کی ایک مادّی مثال رکھ دی تھی۔ پیاز اشارے کی زبان میں لوگوں کو بتارہی تھی کہ پہلے اپنے ذہن کے خارجی پردوں کو ہٹاؤ، اس کے بعد ہی تم چیزوں کو اُن کی بے آمیز صورت میں سمجھ سکتے ہو۔ مگر انسان نے نہ پیاز کی اس مثال سے سبق سیکھا، اور نہ پروفیسر واٹسن اور ان کے ہم نوا اِس حقیقت کو دریافت کرسکے۔ نتیجہ یہ ہوا کہ تاریخ بے خبری کے راستے پر چلتی رہی۔
مثال کے طورپر تاریخ کا مطالعہ کیاجائے تو تمام سیاسی، یا غیر سیاسی تحریکیں ردّ عمل کی تحریکیں نظر آتی ہیں۔ روسو کی تحریک، بادشاہت کے خلاف ردّ عمل کی تحریک تھی۔ مارکس کی تحریک سرمایہ دارانہ نظام کے خلاف رد عمل کی تحریک تھی۔ جمال الدین افغانی کی تحریک مغربی استعمار کے خلاف رد عمل کی تحریک تھی۔ گاندھی کی تحریک برٹش اقتدار کے خلاف رد عمل کی تحریک تھی۔ آیت اللہ خمینی کی تحریک شاہ ایران کے خلاف رد عمل کی تحریک تھی۔ سید قطب کی تحریک یہودیوں کی زائن ازم (Zionism)کے خلاف ردعمل کی تحریک تھی، وغیرہ۔
یہ ایک حقیقت ہے کہ رد عمل کی تحریک ہمیشہ منفی ذہن کا نتیجہ ہوتی ہے۔ آدمی کسی کے بارے میں نفرت میں مبتلا ہوتا ہے اور پھر وہ اس کے خلاف رد عمل کی تحریک چلانے لگتا ہے۔ یہی پوری انسانی تاریخ کی کہانی ہے۔ تمام عورت اور مرد کسی نہ کسی اعتبار سے نفرت میں جیتے رہے، وہ مثبت نفسیات میں جینے والے نہیں بنے۔ اس کا سبب یہ ہے کہ یہ لوگ کنڈیشننگ کے معاملے سے بے خبر تھے۔ وہ اس حقیقت کو سمجھ نہ سکے کہ اپنے ذہن کی ڈی کنڈیشننگ کے بغیر وہ حقائق کو بے آمیز صورت میں دیکھ نہیں سکتے، جب کہ حقائق کو بے آمیز صورت میں دیکھنا ہی مثبت طرز فکر کی پہلی شرط ہے۔
ذہنی انقلاب کے بغیر روحانیت
روحانیت(spirituality) ہمیشہ سے انسان کی دل چسپی کا موضوع رہا ہے۔ اس کے نام ہر حلقے میںالگ الگ لیے جاتے رہے ہیں۔ مثلاً مسٹسزم (Mysticism) اور مراقبہ(Meditation)اور تصوّف (Sufism)، وغیرہ۔ روحانیت کے محاذ پر ہزاروں سال سے زبردست سرگرمیاں جاری ہیں، مگر ابھی تک ان سرگرمیوں کا کوئی حقیقی فائدہ حاصل نہ ہوسکا۔ تمام کوششوں اور ریاضتوں کے بعد جو چیز حاصل ہوئی، وہ صرف بے شعور وجد(ecstasy) ہے، نہ کہ روحانی ارتقاء جو کہ ان سرگرمیوں کا اصل مطلوب تھا۔
اصل یہ ہے کہ قدیم زمانے سے لوگ یہ ماننے لگے کہ انسان کا ذہن سوچ کا مرکز ہے، اور انسان کا دل جذبات و عواطف کا مرکز۔ کیوں کہ روحانیت کو عواطف کی نوعیت کی چیز سمجھ لیا گیا، اس لیے انسان ہمیشہ مبنی بَر قلب روحانیت(heart-based spirituality) پر عقیدہ رکھتا رہا۔ اس مفروضے کی بنیاد پر باقاعدہ فلسفہ وضع کیا گیا۔ یہ مان لیا گیا کہ انسان کا دل ہر قسم کے روحانی خزانوں کا سرچشمہ ہے۔ اور دل میں چھپے ہوئے احساسات کو جگا کر روحانی فیض حاصل کیا جاسکتا ہے۔
لیکن موجودہ زمانے میں سائنسی تحقیقات نے اس مفروضے کو بے بنیاد ثابت کردیا۔ اب یہ قطعیت کے ساتھ معلوم ہوچکا ہے کہ فکر اور جذبات دونوں کا واحد مرکز صرف انسان کا ذہن(mind) ہے۔ جہاں تک دل کا تعلق ہے، وہ صرف گردش خون(circualtion of blood) کا ذریعہ ہے، اس کے سوا اور کچھ نہیں۔(مزید تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو: الرسالہ، نومبر 2004، صفحہ 23 ؛ جون 2005، صفحہ 6 ؛ فروری 2006، صفحہ 28؛ اگست 2006 ، صفحہ 33)
یہی وجہ ہے کہ ہزاروں سال کی روحانی ریاضت کے نتیجے میں انسان کو جو چیز ملی، وہ صرف وجد (ecstasy) تھا، نہ کہ روحانی بنیاد پر ذہنی ارتقاء۔ اس قسم کی روحانیت دراصل، روحانیت کی ایک کم تر صورت (reduced form) ہے، نہ کہ حقیقی معنوں میں روحانی ارتقاء۔
جیسا کہ معلوم ہے، وجد ایک مبہم کیفیت کا نام ہے، جب کہ انسان کی سب سے بڑی خصوصیت یہ ہے کہ وہ ایسا ذہن رکھتا ہے جس کے اندرسوچنے کی صلاحیت ہے۔ انسانی تاریخ کی تمام ترقیاں سوچ کی صلاحیت کو عمل میں لانے سے حاصل ہوئی ہیں۔ ایسی حالت میں ، روحانیت اگر کوئی چیز ہے تو اس کو بھی ذہن کی سطح پر حاصل ہونا چاہیے۔ تمام انسانی ترقیوں کا سرچشمہ انسان کے ذہن میں تفکیری عمل ہے، اِسی طرح روحانی ترقی کا ذریعہ بھی تفکیری عمل کو ہونا چاہیے۔ روحانیت دراصل معرفتِ حقیقت کا اعلیٰ درجہ ہے، وہ مبہم بے خودی جیسے کوئی چیز نہیں۔ اس لیے حقیقی روحانیت وہی ہے جو کسی آدمی کو ذہن کی سطح پر حاصل ہو، نہ کہ قلب کی سطح پر۔
اس حقیقت سے بے خبری کی بنا پر ایسا ہوا کہ پوری تاریخ میںانسان حقیقی روحانیت کے حصول سے محروم رہا۔ اس نے جس چیز کو روحانیت سمجھا، وہ روحانیت نہیں تھی۔ اور جو اصل روحانیت تھی اس سے بے خبری کی بنا پر وہ اس کو حاصل کرنے کی طرف اپنا سفر ہی شروع نہ کرسکا۔ تاریخِ انسانی کا یہ شاید سب سے بڑا المیہ ہے، اس سے بڑا المیہ اور کوئی نہیں۔
واپس اوپر جائیں

صبرکا وقت عبادت کا وقت ہے

مسجد سے اذان کی آواز بلند ہو تو لوگ جان لیتے ہیںکہ خدا کی عبادت کا وقت آگیا۔ وہ تیزی سے چل کر مسجد پہنچتے ہیںتاکہ خدا کی عبادت کرکے اُس کا انعام حاصل کرسکیں۔ اسی طرح جب رمضان کے مہینے کا نیا چاند افق پر دکھائی دیتاہے تو لوگ فوراً سمجھ لیتے ہیں کہ اب روزے کا مہینہ آگیا۔ وہ ضروری تیاریاں شروع کردیتے ہیں تاکہ رمضان کے روزے رکھ کر وہ ثواب حاصل کرسکیں جو خدا نے روزے کی عبادت میںرکھ دیا ہے۔
اسی طرح صبر بھی ایک عبادت ہے۔ جب بھی وہ وقت آجائے جب کہ خدا کی مرضی پر قائم رہنے کے لیے صبر کی قیمت دینا ضروری ہوگیا ہو تو اس کا مطلب یہ ہے کہ صبر والی عبادت کی ادائیگی کا وقت آگیا، وہ عبادت جس پر اللہ نے بے حساب اجر کا فیصلہ فرمایا ہے—إنما یوفی الصابرون أجرہم بغیر حساب(الزّمر: 10 )
ایک آدمی آپ کے ساتھ اشتعال انگیزی کرے اور آپ کے اندر غصے کی آگ بھڑک اٹھے تو ایسی حالت میں اللہ کا حکم ہے کہ تم جوابی غصے کی کارروائی نہ کرو بلکہ اِس پر صبر کی روش اختیار کرتے ہوئے اُس آدمی کو معاف کردو (الشوریٰ: 37) گویا کسی کے دل میں غصے کا آنا اُس کے لیے صبر کی عبادت ادا کرنے کے وقت کا آنا ہے۔ یہ عبادت بلا شبہہ اُسی طرح مطلوب ہے جس طرح دوسری معروف عبادتیں۔
یہی معاملہ دوسرے تمام منفی جذبات کا ہے۔ جب بھی ایک آدمی کے اندر کسی کے بُرے سلوک کے نتیجے میں نفرت، انتقام اور حسد جیسے منفی جذبات بھڑکیں تو یہ اس بات کا خاموش اعلان ہوتا ہے کہ اُس آدمی کے لیے صبر کی اعلیٰ عبادت ادا کرنے کا وقت آگیا۔ وہ فریقِ ثانی کی طرف سے بدسلوکی پر صبر کرکے یک طرفہ طورپر حسن اخلاق کا ثبوت دے اور اس کا مستحق بن جائے کہ اعلیٰ ترین عبادت پر اُس کو اعلیٰ ترین انعام کا مستحق قرار دیا جائے۔
واپس اوپر جائیں

زحمت میں رحمت

دنیا میں ہمیشہ امیری اور غریبی کا فرق پایا جاتا رہا ہے۔ اس فرق کو کچھ لوگ معاشی اور سماجی برائی سمجھتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ یا تو اس دنیا کا کوئی خدا نہیں، اور اگر خدا ہے تو وہ عادل نہیں۔ کیوں کہ یہ خدا کی عادلانہ صفت کے خلاف ہے کہ وہ لوگوں کے درمیان یہ فرق رکھے کہ کچھ لوگ معاشی اعتبار سے اونچے ہوں اور کچھ لوگ معاشی اعتبارسے نیچے۔
یہ اعتراض درست نہیں۔ اصل یہ ہے کہ معاش میں اونچ نیچ کا فرق اچھے اور بُرے کی نسبت سے نہیں ہے۔ یہ دراصل اس لیے ہے کہ انسانی سماج میں مسابقت(competition) کا ماحول قائم ہو۔ مزید یہ کہ کم آمدنی والے لوگ زیادہ بہتر پوزیشن میں ہیں۔ کیوں کہ فطرت کے قانون کے تحت یہ ہوتا ہے کہ غریب طبقے کے حالات اس کی تخلیقیت(creativity) کو بڑھاتے ہیں اور امیر طبقے کے حالات اُس کو غیر تخلیقی (uncreative) بناتے چلے جاتے ہیں۔
فطرت کے اسی قانون کی بنا پر بار بار اس قسم کے واقعات پیش آتے ہیںکہ ایک شخص جو دولت مند گھرانے میںپیدا ہوا تھا وہ عیش وعشرت کا شکار ہوگیا۔ اُس کی صلاحیتیں ترقی نہ کرسکیں۔ آخر کار وہ ایک ناکام انسان کی حیثیت سے مرگیا۔ دوسری طرف یہ برعکس مثال بھی بار بار سامنے آئی ہے کہ ایک شخص غریب ماں باپ کے گھر پیدا ہوا۔ اُس کے حالات نے اُس کو جدوجہد کے راستے پر لگایا۔ وہ دوسروں سے زیادہ محنت کرنے لگا۔ یہاں تک کہ اُس نے غیر معمولی ترقی حاصل کرلی۔
اُس نے بیک وقت دو پہلوؤں سے ترقی کی۔ ایک طرف اُس کے مشکل حالات نے اُس کو زیادہ گہرے تجربات کرائے۔ اُس کا ذہنی ارتقاء دوسروں سے زیادہ ہوا۔ وہ دوسروں سے زیادہ فہم اور بصیرت کا مالک بن گیا۔ اسی کے ساتھ اُس نے مادی اور معاشی اعتبار سے بھی غیر معمولی ترقی کی۔ اُس کو اپنے باپ کی طرف سے غریبی کی وراثت ملی تھی، مگر جب وہ مرا تو اُس نے اپنی اولاد کے لیے دولت اور جائداد کی بہت بڑی وراثت چھوڑی۔
واپس اوپر جائیں

دعاء کی طاقت

مولانا محمد کلیم صدیقی (پھلت) نے اپنے ایک بھانجے کا قصہ لکھا ہے۔ اِس قصے سے معلوم ہوتا ہے کہ دعوت کے لیے دعا کتنی زیادہ اہم ہے۔ اِس قصے کو ہم یہاں اُنھیں کے الفاظ میں نقل کرتے ہیں:
’’نہادھوکر اُس نے نیے کپڑے پہنے اور آٹھ نوسال کے ننھے داعی حمّاد سلمہ کے پاس آیا اور بڑی فکرمندی سے بولا— حماد بھائی، آج تم مجھے مسلمان کرلو۔ رات تم نے اتنا ڈرایا دیا کہ رات کو دیر تک نیند نہیں آئی۔ اور آئی بھی تو بار بار گھبرا کر آنکھ کھلتی رہی۔ اگر میںآج مرگیا اور کلمہ پڑھنے سے رہ گیا تو پھر ہمیشہ نرک (دوزخ) میں جلنا پڑے گا۔ رات کو ’آپ کی امانت‘ میںنے تیسری بار پھرپڑھی۔ ننھے داعی حماد نے اُس کو خوش خوش کلمہ پڑھایا۔ اُس سے کہا— اشوک بھائی،اب آپ کا اسلامی نام محمد عاشق رکھتا ہوں۔ ہمارے ماموں اِسی طرح نام رکھتے ہیں۔ حماد اب اس نیے عاشقِ محمد کو لے کر اپنے والدِ محترم برادرِ نسبتی جناب قمر الاسلام کے پاس آیا اور بتایا کہ ابو، یہ اشوک بھائی ہمارے ڈرائیور ہیں اور کتنے اچھے آدمی ہیں۔ میں ایک ہفتے سے ان کو سمجھارہا تھا۔ میںنے ان کو ’آپ کی امانت‘ بھی دی۔ روزانہ اللہ سے ان کے لیے دعا بھی کرتا تھا۔ آج اللہ نے میری دعا قبول کرلی۔ انھوں نے کلمہ پڑھ لیا اور ان کا نام میںنے محمد عاشق رکھا۔ قمر الاسلام نے عاشق کو گلے لگایا۔ مبارک باد دی اور بولے— میں خود حیرت میں تھا کہ تم نے حماد کو کیا پلا دیا کہ گھر کے سب لوگوں کو چھوڑ کر ایک ہفتے سے یہ ہر وقت تم سے چمٹا رہتا ہے۔ اصل میںاللہ کو تم پر پیار آرہا تھا۔ اللہ نے اس معصوم کو تمھارے ساتھ لگادیا۔ اشوک بولا— سر، یہ ننھا اور پیارا ہمدرد ایک ہفتے سے مجھے سمجھا رہا تھا۔ وہ اِس طرح مجھے سمجھا رہا تھا، مجھے لگتا تھا کہ موت بالکل سر پر کھڑی ہے۔ سورگ اور نرک میرے سامنے ہے۔ کلمہ پڑھ کر مجھے چین سا مل گیا ہے۔ جیسے میں کسی محفوظ قلعے میںآگیا ہوں۔ سر، اب آپ مجھے نماز، وغیرہ سکھائیے اور بتائیے کہ ایک اچھا مسلمان بننے کے لیے مجھے کیا کرنا چاہیے۔
الحمد للہ اشوک اب محمد عاشق ہے۔ اور روز بروز اُس کے ایمان اور اسلام سے تعلق میں اضافہ ہورہا ہے۔ قمر بھائی نے دورکعت صلاۃ الشکر پڑھی اور اس حقیر کو فون کیا کہ بھائی میاں، آپ کے بھانجے حماد کا اکاؤنٹ کھل گیا ہے اور عاشق کے مشرف بہ اسلام ہونے کا واقعہ سنایا۔ اس سے قبل وہ اپنے اسکول بس کے کنڈیکٹر پر بھی کام کررہا تھا‘‘ ۔(ماہ نامہ ارمغان، فروری2007 ، صفحہ: 40 )
واپس اوپر جائیں

اسلام کی اِشاعت

پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد اسلام کی توسیع اور اشاعت نہایت تیزی کے ساتھ ہوئی۔ مؤرخین نے اعتراف کیا ہے کہ جس تیز رفتاری کے ساتھ اسلام دنیامیں پھیلا، اُس تیز رفتاری کے ساتھ کوئی اور مذہب نہیں پھیلا۔ کچھ لوگ یہ کہتے ہیں کہ اسلام کا یہ پھیلاؤ تلوار کے ذریعے ہوا۔ یہ ایک بے بنیاد بات ہے۔ مذہب ایک فکری اعتراف کا معاملہ ہے، مذہب کو کبھی تلوار کے ذریعے پھیلایا نہیں جاسکتا، اور نہ مذہب اسلام کو تلوار کے ذریعے پھیلایا گیا۔
اسلامی تاریخ کے ابتدائی زمانے میں جو لڑائیاں ہوئیں، وہ بادشاہوں کی فوج کے ساتھ ہوئیں۔ عوام سے اِن لڑائیوں کا کوئی تعلق نہ تھا۔ قدیم طریقے کے مطابق، یہ لڑائیاں زیادہ تر بستیوں سے دور کسی غیر آباد مقام پر ہوئیں اور چند روز کے ٹکراؤ کے بعد وہیں اُن کا فیصلہ ہوگیا۔ یہ زمانہ میڈیا سے قبل کا زمانہ تھا۔ چنانچہ عام لوگوں کو اس طرح کے واقعات کی خبر بھی بہت دیر سے ہوتی تھی۔ جنگ کے باوجود عوام کی زندگی بدستور اپنے معمول پر چلتی رہتی تھی۔
اسلام کی ابتدائی تاریخ میں جنگ کی حیثیت ایک استثناء (exception)کی تھی۔ روز مرّہ کے حالات میں جو ہوتا تھا، وہ یہ تھا کہ لوگ ایک دوسرے سے ملتے، اُن کے درمیان پُر امن مذہبی ڈائلاگ ہوتا، لوگ قرآن کو پڑھ کر اس کو سمجھنے کی کوشش کرتے۔ اِس طرح عملاً گویا دو دھارے بن گیے تھے۔ ایک طرف حکمرانوں کی فوجی کارروائی کا دھارا، جو بڑی حد تک عوامی زندگی سے الگ چلتا تھا، اور دوسری طرف اسلام کی پُر امن فکری اشاعت کا دھارا۔ یہ فکری دھارا خاموش انداز میں عوام کے اندر ہمیشہ جاری رہتا۔ اس کے نتیجے میں لوگ اسلام سے متأثر ہوتے اور کسی جبر کے بغیر خود اپنے فیصلے سے وہ اسلام قبول کرلیتے۔
اِس معاملے کی ایک مثال ہندستان میں نظر آتی ہے۔ جیسا کہ معلوم ہے، ہندستان میں اسلام کی اشاعت بڑے پیمانے پر ہوئی، مگر اِس اشاعت کا کوئی تعلق، مسلم حکم رانوں سے نہ تھا۔ یہ زیادہ تر مسلم صوفیوں کے ذریعے ہوا۔ صوفیوں کا اصول، اُن کہ الفاظ میں صلحِ کُل (peace with all) تھا۔ یہی ’صلحِ کل‘ کی پالیسی تھی جو عملاً ہندستان میںاسلام کی عمومی اشاعت کا ذریعہ بنی۔
واپس اوپر جائیں

ایک پیغام مشن کے ساتھیوں کے نام

میں اس وقت آپ سے کچھ ضروری بات کرنا چاہوں گا۔ یہ باتیں میرے طویل تجربات پر مشتمل ہیں۔ مطالعے اور تجربے اور دعا کے بعد میںکہہ سکتا ہوں کہ یہ باتیں بہت اہم ہیں۔ جو عورت اور مرد ہمارے دعوتی مشن کے ساتھ جُڑ کر دعوہ ورک کرنا چاہتے ہیں، اُن کو لازمی طورپر اِن باتوںکو ملحوظ رکھنا ہوگا۔
نتیجہ رُخی کوشش(result-oriented effort)
میرے تجربے کے مطابق، صرف وہی کوششیں درست ہیں جو نتیجہ خیز ہوں۔ بائبل میںکہاگیا ہے—تم نے بہت سا بویا پر تھوڑا کاٹا:
You have sown much, and bring in little (Haggai 1:6)
اِس سے یہ حقیقت معلوم ہوتی ہے کہ لوگ عام طورپر بہت زیادہ کام کرتے ہیں، لیکن وہ صرف اس کا تھوڑا نتیجہ حاصل کرپاتے ہیں۔ ایسا اِس لیے ہوتا ہے کہ لوگ، عام طورپر، اپنے عمل کے نتیجے کو سامنے نہیں رکھتے۔ میںآپ تمام لوگوں سے کہوں گا کہ ہمیشہ اپنے عمل کے نتیجے کو سامنے رکھ کر کام کریں اور صرف وہی کام کریں جس کے بارے میں آپ کو معلوم ہو کہ وہ نتیجہ خیز کام ہے۔
قول کے ساتھ عمل کی اہمیت
دنیا میںزیادہ تر لوگ خوب صورت الفاظ بولتے ہیں۔ میرے تجربے کے مطابق، عمل کے بغیر، خوب صورت الفاظ کوئی حقیقت نہیں رکھتے۔ میں پورے یقین کے ساتھ کہہ سکتا ہوں کہ اچھے عمل کے بغیر اچھے الفاظ گناہ ہیں، نہ کہ کوئی اجر کے قابل چیز:
Good talk without good deeds is a sin, rather than an awardable practice.
اس لیے آپ کو اِس معاملے میں بہت زیاہ محتاط رہنا چاہیے۔ آپ صرف وہی بات کہیں جس پر آپ عمل کرسکیں۔ آپ کواِس معاملے میں بہت زیادہ باہوش رہنا ہوگا کہ لوگوں کی خوب صورت باتوں پر آپ یقین کرلیں۔ آپ کسی کی خوبصورت بات پر صرف اُس وقت یقین کریں، جب اُس کے ساتھ عمل بھی موجود ہو۔ عمل کے بغیر خوب صورت الفاظ کی کوئی اہمیت نہیں۔
ترجیحات پر مبنی جدوجہد
مشن کے لیے ابھی آپ کو بہت سے کام کرنے ہیں۔ اس لیے میں آپ سے کہوں گا کہ آپ اپنی ترجیحات متعین کریں۔ میرے نزدیک ، قرآن کا انگریزی ترجمہ اور اُس کی عالمی اشاعت اِس وقت ہماری اولین ترجیح ہے۔
اولین ترجیح— قرآن کا انگریزی ترجمہ
میں آپ کو پہلے یہ بتا چکا ہوں کہ اِس وقت قرآن کا ایک درست انگریزی ترجمہ کتنا ضروری ہے، اور یہ ترجمہ کس طرح ہمارے دعوتی مشن کو ایک آئی ڈنٹٹی عطا کرے گا۔ اِس لیے ہم کو ترجیحی بنیاد پر ترجمۂ قرآن کے اِس کام کو کرنا ہوگا۔
اِس وقت قرآن بسٹ سیلر(best seller) بن چکا ہے۔ جیسا کہ ابھی گوگل(Google) کے ایک آن لائن ریڈنگ سروے میں بتایا گیا ہے کہ — قرآن، گوگل بُک سرچ کے ٹاپ پر ہے، اور ’آن لائن ریڈنگ‘ میں قرآن سب سے زیادہ پڑھی جانے والی کتاب بن چکا ہے:
The Quran tops Google book search and it has the topmost position as regards online reading.
اِس سروے سے معلوم ہوتا ہے کہ موجودہ زمانے میں قرآن کی کتنی زیادہ ڈمانڈ ہے۔ مارکیٹ میں قرآن کے تقریباً دو درجن انگریزی ترجمے دستیاب ہیں، لیکن المیہ یہ ہے کہ اُن میںسے کوئی ایک ترجمہ بھی ایسا نہیںہے جس کو قرآن کا درست ترجمہ کہا جاسکے۔
ایسی حالت میں قرآن کا ایک درست انگریزی ترجمہ لوگوں کے لیے سب سے زیادہ بڑی خبر کی حیثیت رکھتا ہے۔ اِس لیے جتنی جلد ممکن ہوسکے، ہم کو قرآن کا ایک درست انگریزی ترجمہ تیار کرنا ہوگا۔
اِس وقت ہمارے سامنے ایک مسئلہ درپیش ہے، اور وہ آئی ڈنٹٹی (identity) کا مسئلہ ہے۔ ہمارے پاس کوئی ایسی چیز نہیںہے جو ہمارے دعوتی مشن کے لیے آئی ڈنٹٹی کی حیثیت رکھتی ہو۔ عام طورپر لوگ یہ کہتے ہیں کہ— الرسالہ مشن ایک قسم کا ’ون مین شو‘ ہے:
The Al-Risala mission is a ‘one man show’.
اِس امیج کو بدلنا ضروری ہے، ورنہ ہمارا مشن ایک انٹرنیشنل مشن بننے کے بجائے ایک قسم کافرقہ(sect) بن جائے گا۔ اگر ہم قرآن کا ایک درست انگریزی ترجمہ شائع کرنے میںکامیاب ہوگیے تو انشاء اللہ یہ قرآنی کام ہمارے مشن کے لیے ایک آئی ڈنٹٹی ثابت ہوگا، اور بلا شبہہ یہ سب سے بڑی آئی ڈنٹٹی ہے جس کو ہم اِس دنیامیں حاصل کرسکتے ہیں۔
آئی ڈنٹٹی کے علاوہ، اِس میںایک اور بہت بڑا پہلو موجود ہے، وہ یہ کہ ترجمۂ قرآن کا یہ کام ہمارے دعوتی مشن کے لیے ایک بہت بڑا بوسٹ(boost) ثابت ہوگا۔ ہر مشن کی کامیابی کے لیے ایک ’بوسٹ‘ درکار ہوتا ہے، اور قرآن کا درست انگریزی ترجمہ، انشاء اللہ ہمارے مشن کے لیے اسی طرح کا ایک بوسٹ ثابت ہوگا۔
اردو زبان کی اہمیت
میری شدید خواہش ہے کہ ہمارے دعوتی مشن (سی پی ایس) کے تمام ممبراُردو زبان سیکھیں۔ میری اردو کتابیں، اسلام کے صحیح فہم اور اسلام کی صحیح تعبیر کو سمجھنے کا واحد ذریعہ ہیں۔ ایک حدیث میںارشاد ہوا ہے کہ — لایبقیٰ من الإسلام إلا اسمہ، ولا یبقیٰ من القرآن إلا رسمہ۔ (رواہ البیہقی فی شعب الإیمان، مشکوۃ المصابیح، رقم الحدیث: 276)یعنی بعد کے زمانے میں اسلام کا صرف نام باقی رہے گا اور قرآن کی صرف لکیریں رہ جائیں گی۔
یہ ایک واقعہ ہے کہ بعد کے دَور میں حقیقی اسلام تعبیرات کی کثرت میں گم ہوکر رہ گیا ہے۔ میںنے خدا کے فضل سے اپنی ساری زندگی اسلام کو اُس کے اصل ماخذ(original sources) سے ازسرِ نو دریافت کرنے میں صرف کی ہے۔ اور اپنے اردو لٹریچر کی صورت میں اسلام کی صحیح تعبیر پیش کردی ہے۔
میں پورے یقین کے ساتھ کہہ سکتاہوں کہ کسی آدمی کے لیے میرا اُردو لٹریچر اسلام کی صحیح تعبیر کو سمجھنے کا واحد ذریعہ ہے۔ اِس لٹریچر کا دوسرا کوئی اور بدل نہیں۔ اِس لیے ہر وہ آدمی جو سنجیدگی کے ساتھ ہمارے دعوتی مشن سے جڑنا چاہتا ہو، اُس کے لیے ضروری ہے کہ وہ باقاعدگی کے ساتھ اُردو زبان سیکھے، تاکہ وہ ہماری اردو کتابوں کو سمجھ سکے۔ جو شخص میری اِس بات پر عمل نہ کرے، وہ فکری اندھیرے اور کنفیوژن میں جینے پر مجبور ہوگا۔ وہ اسلام کو اُس کے حقیقی مفہوم میں سمجھنے سے قاصر رہے گا۔ اس لیے میں اِس معاملے میں سی پی ایس ٹیم کے کسی ممبر کو مستثنیٰ کرنے کے لیے تیار نہیں۔
عالمی سطح پر لٹریچر کی اشاعت
میرے علم کے مطابق، میری اردو کتابیں، اسلام کی درست تعبیر کو معلوم کرنے کا واحد ذریعہ ہیں، اِس مقصد کے لیے دوسرا کوئی لٹریچر مفید نہیں۔ میری تمام کتابوں کی اُردو اور دیگر زبانوں میںاشاعت کے لیے آپ کو اپنی تمام تر کوششیں صرف کرنا ہے۔ آپ کو لازماً یہ کوشش کرنا ہے کہ میری تمام کتابیں عالمی سطح پر اشاعت کے لیے چھپ کر تیار ہو جائیں۔ بہت سارا مٹیریل جو میں نے اُردو میں تیار کیا ہے، ابھی اُس کو چھپنا باقی ہے۔ آپ کو لازمی طورپر اُس مٹیریل کی بھی اشاعت کرنا ہے۔ اِس سارے مٹیریل کا انگریزی اور دیگر زبانوں میں ترجمہ اور عالمی سطح پر اس کی اشاعت ضروری ہے۔
ہم کو تمام انسانوں تک اسلام کا پیغام پہنچانے کے لیے پرنٹ میڈیا اور الکٹرانک میڈیا کا بھرپور طورپر استعمال کرنا ہوگا۔ میری کتابوں کے علاوہ ، میری سیکڑوں تقاریر کی آڈیو اور ویڈیو رکارڈنگ ہوچکی ہے۔ آپ کو ٹیلی ویژن، ریڈیو، آڈیوکیسٹ، سی ڈی، وی سی ڈی اور ڈی وی ڈی اور میڈیا کے ذریعے ان چیزوں کو ہر ممکن طریقے سے دنیا کے ہر انسان تک پہنچانا ہے۔
سارے انسانوں تک اسلام کا پیغام پہنچانا، ہمارا مشن ہے۔ مشن کی اِس نوعیت کا تقاضا ہے کہ ہمارے اندر بولنے کی صلاحیت(speaking skill) ہو۔ اس لیے دوسری سرگرمیوں کے ساتھ ضروری ہے کہ ہمارے مشن کے تمام افراد اپنے آپ کو پبلک اسپیکنگ (public speaking) کے لیے تیار کریں۔
موجودہ زمانے میں تقریباً روزانہ میٹنگ، کانفرنس اور سیمنار ہوتے ہیں۔ اِس میں ہر مذہب کے لوگوں کو اپنا پیغام دینے کے لیے بلایا جاتا ہے۔ ہم کو اِس طرح کے تمام مواقع کو استعمال کرناچاہیے۔ اس مقصد کے لیے ضروری ہے کہ ہمارے مشن کا ہر فرد ایک اچھا اسپیکر(speaker) ہو۔ میرا مقصد ہرگز یہ نہیں ہے کہ مشن کا ہر فرد خطیب(orator) بن جائے، تاہم مشن کے ہر آدمی کے لیے ضروری ہے کہ وہ سادہ طورپر ایک اسپیکر بنے۔
ہمارا مشن ایک ربّانی مشن ہے اور ’خطابت‘ کا طریقہ اِس کے لیے مفید نہیں، ہم کو صرف اُن لوگوں کی ضرورت ہے جو سادہ اور واضح انداز میںاپنا پیغام پہنچاسکیں۔ اِس لیے ہم کو اِس مقصد کے لیے بولنے والوں کی ضرورت ہے، نہ کہ خطابت کرنے والوں کی۔
پروگرام ساز افراد
مجھ سے کئی بار یہ سوال کیاگیا ہے کہ آپ کے مشن کا پروگرام کیا ہے۔ میرے تجربے کے مطابق، ایک داعی کو اس طرح کے مختلف حالات سے گذرنا پڑتا ہے کہ اپنی دعوتی ذمے داریوں کو پورا کرنے کے لیے کوئی ایک پروگرام اس کے لیے کافی نہیں ہوسکتا۔ اس لیے میںاِس طرح کے سوال کا جواب ہمیشہ یہی دیتا ہوں کہ— ہمارا کام پروگرام ساز افراد تیار کرنا ہے۔
اس کا مطلب یہ ہے کہ آپ ایسے انسان بنیں جن کے اندر دعوتی اسپرٹ پوری طرح بھری ہوئی ہو۔ یہ دعوتی اسپرٹ اِس بات کے لیے کافی ہوجائے گی کہ آپ مختلف حالات میں خود اپنا دعوتی پروگرام بناسکیں۔ میںنے آپ کو ایک داعی کا واقعہ بتایا تھا۔ وہ ایک ڈاکٹر کو اسلام کی دعوت دینا چاہتے تھے۔ اُن کے اندر دعوتی اسپرٹ بھری ہوئی تھی۔ وہ چاہتے تھے کہ مذکورہ ڈاکٹر سے مل کر کچھ دعوتی چیزیں کسی طرح وہ ڈاکٹر کو پڑھنے کے لیے دے سکیں۔
چناں چہ انھوں نے مذکورہ ڈاکٹر کے کلنک کا ایک کارڈ لیا۔ اور اِس طرح وہ مریضوں کی لائن میں کافی دیر تک اپنی باری آنے کے انتظار میںکھڑے رہے، یہاں تک کہ وہ ڈاکٹر کے پاس پہنچ گیے۔ ڈاکٹر نے اُن سے پوچھا کہ آپ کو کیا تکلیف ہے۔ انھوں نے کہا کہ میں صرف آپ کو کچھ ریڈنگ مٹیریل دینے کے لیے آیا ہوں۔ یہی ایک سچے داعی کی صفت ہے۔ وہ کسی پیشگی پروگرام کا انتظار نہیں کرتا۔ وہ صورتِ حال کے مطابق،خود اپنا پروگرام بنا لیتا ہے۔ اُس کو صرف اسی بات کی دھن ہوتی ہے کہ کس طرح خدا کا پیغام سارے انسانوں تک پہنچ جائے۔
اخوان رسول کا رول
میںنے کئی بار آپ کے سامنے پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی وہ حدیث بیان کی ہے جس میں آپ نے اپنے ’اخوان‘ کا ذکر فرمایا ہے۔ آپ نے فرمایا: وددتُ أَنّا قدرأینا إخواننا، قالوا: أولسنا إخوانک یا رسول اللہ، قال أنتم أصحابی وإخواننا الذین لم یأتوابعد۔ (صحیح مسلم، رقم الحدیث : 367 ) یعنی میری خواہش ہے کہ ہم اپنے اخوان کو دیکھیں۔ صحابہ نے کہا کہ اے خدا کے رسول، کیا ہم آپ کے اخوان نہیں ہیں۔ آپ نے فرمایا کہ تم میرے اصحاب ہو، اور ہمارے اخوان وہ ہیں جو ابھی نہیں آئے۔
مذکورہ حدیث میں پیغمبر اسلام نے اپنے جن ’اخوان‘ کے متعلق بتایا ہے، اُن سے مرادوہ اہلِ ایمان ہیںجو معرفت کی سطح پر رسول کو پہچانیں گے اور بعد کے زمانے میں وہ دعوتی مقصد کے لیے اٹھیں گے، تاکہ سارے انسانوں کوخدا کا ابدی پیغام پہنچا دیں۔اخوانِ رسول معروف معنوں میں کوئی ٹائٹل نہیں، بلکہ وہ ایک ذمے داری ہے۔
’اخوانِ رسول‘ کا لفظ ہزارسال سے پُر اسرار بنا ہوا ہے۔ تاریخ کے کسی دور میں یہ واضح نہ ہوسکا کہ یہ کون لوگ ہوں گے اور مستقبل میںان کا رول کیا ہوگا۔اسلامی تاریخ میںجس طرح، امکانی طورپر، یہ لفظ پہلی بار ایک گروپ پر منطبق ہورہا ہے اُسی طرح یہ بھی پہلی بارواضح ہورہا ہے کہ اخوانِ رسول کا رول کیا ہوگا۔
اِس حدیث سے واضح طورپر یہ معلوم ہوتا ہے کہ مابعد سائنس دَور(post scientific era) میںدعوت الی اللہ کا پیغمبرانہ رول ادا کرنا ابھی باقی ہے، یعنی آج کی زبان میں خدائی سچائی کو اُس کی خالص اور بے آمیز صورت میں انسانوں کے سامنے پیش کرنا۔
سی پی ایس انٹرنیشنل اور الرسالہ مشن کی دعوتی ٹیم ’اخوانِ رسول‘ کے اِس ٹائٹل کے لیے امکانی امیداوار(potential canditates) گروپ کی حیثیت رکھتی ہے۔ آپ میں سے ہر عورت اور مرد کے لیے ضروری ہے کہ وہ اِس امکان کو واقعہ بنائے۔
اِس امکان کو واقعہ بنانا اِس طرح ممکن ہے کہ سب سے پہلے آپ خود اسلام کی معرفت حاصل کریں۔ اور اُس کے بعد قرآن کے صحیح انگریزی ترجمے کی اشاعت اور الرسالہ کی مطبوعہ کتابوں کو دوسرے انسانوں تک پہنچانے کا کام کریں۔ اور اِس طرح حقیقی معنوں میں دعوت الی اللہ کا فریضہ انجام دیں۔
اس کے لیے ضروری ہے کہ آپ کے اندر سارے انسانوں کی خیر خواہی کی اسپرٹ موجود ہو۔ آپ سارے انسانوں کے حقیقی خیر خواہ بن کر اٹھیں۔ آپ کے دل میں ہر ایک کے لیے محبت اور ہمدردی ہو۔ آپ کا ٹارگیٹ کیا ہو، اس کو ایک حدیث میںاِن الفاظ میں بتایا گیا ہے۔ حدیث کے الفاظ یہ ہیں: لا یبقیٰ علی وجہ الأرض بیت مدر و لا وبر إلا أدخلہ اللہ کلمۃ الإسلام (مسنداحمد، مشکاۃ المصابیح، رقم الحدیث: 42)یعنی زمین کی سطح پر کوئی گھر اور کوئی خیمہ ایسا باقی نہیں رہے گا جس میں اللہ تعالیٰ اسلام کا کلمہ داخل نہ فرمادے۔
یہ کوئی پر اسرار بات نہیں۔ یہ حدیث کی زبان میں امکاناتِ دعوت کا اظہار ہے۔ یہ اُس دور کی پیشین گوئی ہے جب کہ ذرائع ابلاغ کا ظاہرہ سامنے آئے گا اور اُس کو استعمال کرکے ہر انسان تک کلمۂ اسلام کو پہنچانا ممکن ہوجائے گا۔ یہ کام صرف اِس طرح ممکن ہے کہ ہم دعوتی مشن کے ساتھ جینے اور مرنے کا عزم کرلیں۔ اور اِس کام کو اپنا اوّلین کنسرن(primary concern) بنا کر بقیہ تمام دوسری چیزوں کو اپنی زندگی میں ثانوی(secondary) حیثیت دے دیں۔
رائے کی قربانی
عمرۃ الحدیبیہ (623ء)کی ادائیگی کے بعد پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اصحاب کے ایک منتخب گروہ کو خطاب کیا۔ آپ نے فرمایا کہ:
’’اے لوگو، اللہ نے مجھے سارے عالم کے لیے رحمت بنا کر بھیجا ہے۔ پس تم میرے بارے میں اختلاف نہ کرو، جیسا کہ حواریوں نے عیسیٰ بن مریم سے اختلاف کیا۔ آپ کے اصحاب نے پوچھا کہ اے خدا کے رسول، حواریوں نے کس طرح اختلاف کیا تھا۔ آپ نے فرمایا کہ عیسی بن مریم نے انھیں اُس چیز کی طرف بلایا جس کی طرف میںنے تمھیں بلایا ہے۔ پس جس کو انھوں نے (دعوتی مقصد کے لیے) قریب کے علاقے کی طرف بھیجا تو وہ اُس پر راضی ہوگیا اور اُس نے اُس کو مان لیا، اور جس کو انھوں نے دُور کے علاقے کے طرف بھیجا تو وہ اُس کو ناگوار معلوم ہوا اور اُس نے اُس پر گرانی محسوس کی۔ عیسیٰ بن مریم نے اللہ سے اِس کی شکایت کی۔ تو جن لوگوں کو ناگواری ہوئی، اُن کا حال یہ ہوا کہ اُن میں سے ہر ایک اُس قوم کی زبان بولنے لگا جس کی طرف اُس کو جانے کے لیے کہاگیا تھا۔‘‘ (سیرۃ النبی لابن ہشام، جلد اوّل، صفحہ: 278)
اِس لیے میں آپ سے کہوں گا کہ دعوتی مشن کے لیے اتحاد بہت ضروری ہے۔ اتحاد کا مطلب ہے— اختلاف کے باوجود متحد رہنا۔ آپ کو یہ ہمیشہ یاد رکھنا چاہیے کہ — اتحاد ہماری طاقت ہے اور اختلاف ہماری کمزوری:
United we stand, divided we fall.
آپ اِس حدیثِ رسول کو اپنے ذہن میں ہمیشہ تازہ رکھیں: مَنْ شذّ شُذَّ إلی النار (الترمذی، کتاب الفتن) یعنی جو شخص اجتماعیت سے الگ ہوا، وہ آگ میں جائے گا۔ یہ حدیث بہت اہم ہے۔اِس حدیث میںاختلاف سے مراد نفسیاتِ اختلاف ہے، نہ کہ مجرّد گروہی اختلاف۔ یعنی اصل برائی عملاً کسی گروہ سے کٹنا نہیں ہے، بلکہ اختلاف برپا کر کے اتحاد کو پارہ پارہ کرنا ہے۔ اس لیے آپ کو یہ سمجھنا ہوگا کہ آپ کبھی بھی اختلافات کو عُذر (excuse) بنا کر دعوتی مشن سے الگ نہ ہوں۔ خدا اس معاملے میں آپ کے کسی بھی عذر کو قبول نہیں کرے گا۔
کوئی آدمی جب کوئی رائے قائم کرتا ہے تو وہ سمجھنے لگتا ہے کہ اُسی کی رائے درست ہے۔ ایسا صرف اُس کی اپنی کنڈیشننگ کی وجہ سے ہوتا ہے۔ اسی لیے بجا طور پر کہاگیا ہے کہ —کسی آدمی کے لیے سب سے بڑی قربانی اپنی رائے کی قربانی ہے۔ اِس لیے آپ کو اپنی رائے کی قربانی دینی ہوگی۔ یہ بلاشبہہ سب سے بڑی قربانی ہے۔ یہی وہ قربانی ہے جس کی قیمت پر آپ متحد ہو کر اپنا دعوتی فریضہ ادا کرسکتے ہیں۔
نیا فیصلہ
دعوتی کام کے دوران آپ کو بار بار نیافیصلہ لینا ہوگا۔نیے نیے مسائل کا حل دریافت کرنا ہوگا۔ جب آپ کوئی فیصلہ لینا چاہیں تو آپ درج ذیل اصولوں کو سامنے رکھیں:
1 - سب سے پہلا اور بنیادی اصول یہ ہے کہ آپ یہ دیکھیں کہ اسلام کے اصل ماخذ قرآن اور حدیث اور اُسوۂ صحابہ، میںاُس مسئلے کا حل کیا ہے۔
2 - اگر آپ اصل ماخذ (قرآن اور حدیث) میںاپنے مسئلے کا حل نہ پاسکیں تو آپ باہمی مشورے سے اُس مسئلے کو حل کریں۔
3 - اگر آپ باہمی مشورے سے کسی نتیجے تک نہ پہنچ سکیں تو یہ دیکھیں کہ اکثریت کا عمل (majority rule) کیا ہے۔
4 - اگر اکثریت کی رائے سے بھی کوئی نتیجہ سامنے نہ آسکے تو آپ قرعہ اندازی (drawing of lots) کا طریقہ اپنائیں۔
مذکورہ طریقِ کار میں سے کسی بھی طریقِ کار کو اپنا کر آپ ضرور کسی فیصلے تک پہنچ جائیں گے۔ اگر آپ یہ جاننا چاہیں کہ کسی معاملے میں خود میری رائے کیا ہوگی تو آپ اُس کو میری لڑکی ڈاکٹر فریدہ خانم سے معلوم کرسکتے ہیں۔
انھوں نے قربانی کی حد تک اپنی پوری زندگی میری تربیت میں گذاری ہے۔ میرے نزدیک وہ میرے مزاج اور میری تحریروں سے سب سے زیادہ واقف ہیں۔ اِس لیے اگر آپ یہ جاننا چاہیں کہ کسی خاص معاملے میں میری رائے کیا ہوگی تو آپ اس کو فریدہ خانم سے معلوم کریں۔ انشاء اللہ اُن سے آپ کو صحیح رہنمائی مل جائے گی۔
میری دعا ہے کہ خدا آپ کی مدد کرے اور آپ اپنی دعوتی ذمے داریوں کو بھر پور طورپر ادا کرکے ’اخوانِ رسول‘ کا رول ادا کرسکیں۔ اور ’اسلام کا کلمہ‘ سطح زمین کے ہرگھر میں پہنچ جائے۔
کرنے کا کام
الرسالہ مشن اور سی پی ایس انٹرنیشنل کے تحت جو پُر امن دعوتی کا کام کرنا ہے، وہ بنیادی طورپر ایک درست انگریزی ترجمۂ قرآن کی اشاعت اور تقاریر کے آڈیو اور ویڈیو کیسٹ اور میری دوسری کتابوں کی توسیع و اشاعت ہے۔
موجودہ زمانے کے مسلمانوں کا یہ ایک ناقابلِ معافی جرم ہے کہ وہ دنیا کو قرآن کا ایک درست انگریزی ترجمہ دینے میںناکام رہے۔ خدا اُس وقت تک ہم پر اپنی رحمت کے دروازے نہیںکھولے گا جب تک ہم اِس کام کو اپنی اولین ترجیح کی حیثیت سے انجام نہ دے دیں۔ اِس لیے جلد ازجلد ہم کو قرآن کا ایک درست انگریزی ترجمہ تیار کرنا ہے۔
قرآن کا یہ انگریزی ترجمہ تیار ہو کر انشاء اللہ گڈ ورڈ بکس (Goodword Books) سے شائع ہوگا۔ دوسرا سب سے زیادہ ضروری کام، تمام ممکن ذرائع کو استعمال کرکے اِس کو عالمی سطح پر تمام انسانوں کے درمیان پھیلانا ہے۔
قرآن کا یہ انگریزی ترجمہ خدائی پیغام کے متن (text) کی حیثیت رکھتا ہے۔ اور صرف قرآن کے ایک درست ترجمے کی اشاعت اور اس کی توسیع کرکے ہم قیامت کے دن خدا کے سامنے یہ کہہ سکتے ہیں کہ— خدایا، میں نے تیری کتاب ہدایت کا صحیح ترجمہ تمام انسانوں تک پہنچا دیا:
O my lord, I have delivered the correct translation of Your book of guidance to mankind.
پیغمبراسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک بار اپنے اصحاب کو خطاب کرتے ہوئے فرمایاتھا: ألاہَل بلّغت۔ یعنی کیا میںنے خدا کا پیغام تم تک پہنچا دیا۔ صحابہ نے اِس کے جواب میں کہا: نشہد أنک قد بلّغتَ وأدّیتَ ونصحتَ۔ یعنی ہم گواہی دیتے ہیں کہ آپ نے خدا کا پیغام پوری خیر خواہی اور امانت کے ساتھ ہم تک پہنچا دیا۔
ہمارے اندر بھی یہی احساس ذمے داری ہونا چاہیے کہ ہم خدا کے پیغام کو ہر انسان تک پہنچا دیں اور کوئی چھوٹا اور بڑا گھر ایسا باقی نہ رہے جہاں اسلام کا کلمہ داخل نہ ہوجائے۔
جہاں تک میری کتابوں کا تعلق ہے تو سب سے پہلے یہ کام ان کتابوں کے انگریزی ترجمے کی اشاعت سے ہوگا۔ کیوں کہ آج دنیا کی آبادی کا ساٹھ فی صد حصہ انگریزی زبان بولتا اور سمجھتا ہے۔ اُس کے بعد حالات کے مطابق، یہ کام دوسری زبانوں تک وسیع ہوگا۔ اِس اشاعتی کام کے بنیادی طورپر چند اجزا ہیں:
1 - قرآن کا صحیح انگریزی ترجمہ کم قیمت پر ساری دنیا میں پھیلانا (قرآن کا یہ انگریزی ترجمہ خدا کے فضل سے سی پی ایس انٹرنیشنل کے تحت زیرتیاری ہے)۔
2 - ’تذکیر القرآن‘ کا ہندی ترجمہ چھپ کر تیارہوگیا ہے۔ آپ میں سے ہر ایک کو اپنی ساری کوشش صرف کرکے زیادہ سے زیادہ انسانوں تک اس کو پہنچانا ہے۔
3 - الرسالہ مشن کی مطبوعہ کتابوں کو زیادہ سے زیادہ پھیلانا۔ مثلاً تذکیر القرآن، مطالعۂ سیرت، مطالعۂ حدیث، مذہب اور جدید چیلنج (God Arises) ، اِن سرچ آف گاڈ(In Search of God) اسلام ری ڈسکورڈ(Islam Rediscovered)، آئڈیا لوجی آف پیس(Ideology of Peace)، کریشن پلان آف گاڈ(Creation Plan of God) ،وغیرہ۔ اِس کے علاوہ، آپ اپنے علاقوں میں لائبریری اور اسٹڈی فورم قائم کریں تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگوں کے لیے ان کتابوں تک رسائی ممکن ہوسکے۔
4 - چھوٹے چھوٹے دعوتی کتابچے(Dawah Booklets) تقریباً تیس کی تعداد میں چھپ چکے ہیں۔ ان کو زیادہ سے زیادہ پھیلانا، یہاں تک کہ وہ تمام تعلیم یافتہ انسانوں تک پہنچ جائیں۔
5 - ’ڈوائن لائٹ سیریز‘ پمفلٹ بھی چھپ کرتیار ہوچکے ہیں۔ یہ پمفلٹ امن اور روحانیت اور اسلام کی حقیقی تصویر پیش کرتے ہیں۔ آدمی اِن مطبوعہ کتابچوں کو ایک نشست میں پڑھ سکتا ہے۔ یہ پمفلٹ مدعو کے ساتھ دعوتی کام کرنے کے لیے معیاری پمفلٹ ہیں۔ اِن کے ذریعے آپ اسلامی تعلیمات اور تصورات(concepts) کو نہایت آسانی کے ساتھ اپنے مدعو تک پہنچا سکتے ہیں۔ آپ کو اِن دعوتی پمفلٹ کے ذریعے اپنے اِرد گرد کے تمام لوگوں تک خدا کا پیغام پہنچانے میںاپنی کوشش صرف کرنا ہے۔
6 - الکٹرانک میڈیا کی اہمیت کو سمجھنا اور دعوتی مقصد کے لیے اس کو زیادہ سے زیادہ استعمال کرنا ہوگا۔ میرے دعوتی لکچر مختلف چینل پر ٹیلی کاسٹ ہورہے ہیں۔ مثلاً: ’گُڈ لائف سیریز‘ — زی جاگرن پر، ’رازِ حیات سیریز‘ — اے آروائی پر، وغیرہ۔ خدا کے فضل سے ہم ’قرآن اور احادیثِ رسول سیریز‘ کو بھی رکارڈ کررہے ہیں۔ اِسی طرح ’حیاۃ الصحابہ سیریز‘ اور اِس کے علاوہ ’حکمتِ ربّانی سیریز‘ بھی تیار کررہے ہیں۔
اب آپ کو یہ کرنا ہے کہ آپ اِن چیزوں کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچائیں۔ آپ اپنے علاقوں میںاپنے طور پر بھی ان پروگراموں کو کسی ٹی وی چینل یا ریڈیو اسٹیشن کے ذریعے نشرکرسکتے ہیں۔
میرے دعوتی لکچر کے آڈیو کیسٹ بھی تیار ہوچکے ہیں۔ اِس وقت اُن کے درج ذیل چھ سیٹ دستیاب ہیں:
1 - ارکان اسلام -2 درسِ حدیث
3 - اسلامی تعلیمات 4 - رسول اللہ ﷺ کا طریقِ کار
5 - تعارفِ اسلام 6 - دعوتِ اسلام
مختلف موضوعات پر وی سی ڈی(VCDs) تیار ہوچکے ہیں۔ مثلاً: ’امن اور تشدد‘ (Peace and Non-violence) اور ’فطرت اور روحانیت‘(Nture as a role Model) ، وغیرہ۔
اس کے علاوہ مختلف موضوعات پر ہم آڈیو کیسٹ، آڈیو سی ڈی، وی سی ڈی اور ڈی وی ڈی بھی تیار کررہے ہیں۔ آپ اِن کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچائیں۔ اپنے طورپر آپ ان چیزوں کو مقامی ٹی وی چینل پر نشر کرسکتے ہیں۔
خدا کے ابدی پیغام کو تمام انسانوں تک پہنچانے کے لیے ہم نے اپنے ویب سائٹ بھی درج ذیل عنوان سے تیار کرلیے ہیں:
www.alrisala.org
www.cps.org.in/cpsglobal.org
آپ زیادہ سے لوگوں کو اِن ویب سائٹس کے متعلق آگاہی دیں۔ مذکورہ وسائل ابلاغ کو استعمال کرتے ہوئے آپ کو متحد ہو کر خدا کا پیغام ہندستان میںاور پھر ساری دنیا کے انسانوں تک پہنچانا ہے۔
ہندستان میںدعوت الی اللہ
حدیث ِ رسول میں ہم کو یہ پیشین گوئی ملتی ہے کہ بعد کے زمانے میں دعوت الی اللہ کا کام کرنے کے لیے ہندستان میںایک مخصوص گروہ (عصابۃ) اٹھے گا۔ حدیث کے الفاظ یہ ہیں — عصابۃ تغزوا الہند(نسائی، کتاب الجہاد، باب غزوۃ الہند) یعنی ایک گروہ ہے جو ہندستان میں غزوہ کرے گا، یہاں ’غزوہ ‘ سے مراد دعوتی جدوجہد ہے۔
یہ مخصوص دعوتی گروہ انڈیا میںبھی دعوت الی اللہ کا کام اُسی طرح کرے گا جس طرح وہ عالمی سطح پر دعوت الی اللہ کے کام کو انجام دے گا اور لوگوں کو جنت کا راستہ دکھائے گا۔ میںپورے یقین کے ساتھ کہہ سکتا ہوں کہ حدیث میں جس دعوتی گروہ کی پیشین گوئی کی گئی ہے، وہ امکانی طورپر سی پی ایس انٹرنیشنل اور الرسالہ مشن کی دعوتی ٹیم ہے۔
خدا کی طرف سے اِس بات کا فیصلہ ہوچکا ہے کہ ہندستان میںدعوت الی اللہ کا کام اس طرح منظم ہو کہ اُس کے ذریعے لوگ خدا کی ابدی رحمت کے سایے میں آسکیں۔ مذکورہ حدیث میں بتایا گیاہے کہ ہندستان میںاٹھنے والا یہ دعوتی گروہ عذاب جہنم سے محفوظ رہے گا (أحرزہما اللہ من النار)، جنت کے دروازے ان کے لیے کھول دیے جائیں گے اور یہ لوگ خدا کی ابدی جنت میں جگہ پائیں گے۔
اس لیے سی پی ایس کی ٹیم کو اس دعوتی کام میں پورے یقین کے ساتھ کامل طورپر شامل ہوجانا ہے۔ سی پی ایسی کی ٹیم کے ہر عورت اور مرد کو چاہیے کہ وہ اپنے آپ کو اس دعوتی گروہ کا ناقابلِ تقسم حصہ بنائے۔ اگر آپ نے اپنی دعوتی ذمے داریوں کو پورا کیا تو خداآپ کو ضرور اُس دعوتی گروہ میں شامل فرمائے گا جس کے لیے اس کی طرف سے پیشگی طورپر خوش خبری اور بشارت دے دی گئی ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا واحد مشن توحید تھا، یعنی لوگوں کو شرک سے نکال کر ایک خدا کی عبادت کی طرف لانا۔ توحید کا یہ مشن دنیا کے بڑے حصے تک پہنچ چکا ہے۔ اِس معاملے میں صرف ہندستان کا استثنا ہے۔ یہاں شرک اب بھی زندہ شکل میں موجود ہے، کیوں کہ یہاںدعوت الی اللہ کا کام مطلوب انداز میں نہ کیا جاسکا۔ تاہم میرے اندازے کے مطابق، اب وہ وقت آچکا ہے کہ ہندستان میں دعوت الی اللہ کے لیے وہ گروہ اٹھے جس کی پیشین گوئی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمائی تھی۔ مجھے یقین ہے کہ یہی دعوتی گروہ وہ ’’عصابۃ‘‘ ہے جس کے لیے خدا کی طرف سے کامیابی کا فیصلہ مقدر ہوچکا ہے۔ میری دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ آپ کو اُس گروہ میں شامل فرمائے۔
واپس اوپر جائیں

خبر نامہ اسلامی مرکز — 179

1 - پٹنہ بُک فیئر کا شمار ہندستان کے بڑے بک فیئر میں ہوتا ہے۔ یہ بُک فیئر پٹنہ کے مشہور گراؤنڈ گاندھی میدان میں لگتا ہے۔ اس بار پٹنہ میں یہ بُک فیئر یکم نومبر 2006 تا 12دسمبر 2006 تک تھا۔ اِس میں پہلی بار گڈورڈبکس (Goodword Books) نے حصہ لیا۔کافی تعداد میں لوگ گڈ ورڈ بکس کے اسٹال پر آئے۔ قرآن کے ہندی اور انگریزی ترجمے جو کافی تعداد میں تھے، وہ بک فیئر کے اختتام سے پہلے ہی ختم ہوگیے۔ صدر اسلامی مرکز کے ہندی ترجمۂ قرآن کو لوگوں نے بہت پسند کیا۔ پٹنہ ہائی کورٹ کے جج مسٹر دتّہ، صدر اسلامی مرکز کے حوالے سے خاص طورپر اسٹال پر آئے۔ انھوں نے صدر اسلامی مرکز کی کتاب ’اسلام ری ڈسکورڈ‘ (Islam Rediscovered) کو اہتمام اور شوق کے ساتھ خریدا۔ پرنٹ میڈیا اور الکٹرانک میڈیا دونوں نے گڈورڈ بکس کے اسٹال کو نمایاں طورپر کور کیا۔ پٹنہ میںالرسالہ مشن اور سی پی ایس انٹرنیشنل سے متعلق احباب بطور خاص مسٹر ایم ٹی خان، مسٹر امام غزالی اور مسٹر اے ایم ایچ دانیال اہتمام کے ساتھ اسٹال پر موجود رہتے تھے۔ یہ لوگ اسلام سے متعلق معلومات حاصل کرنے والے لوگوں کو مثبت انداز میں اسلام کا تعارف پیش کرتے تھے اور صدر اسلامی مرکز کے دعوتی کتابچے(Dawah Booklets)اور سی پی ایس کے دعوتی بروشر(Dawah Brochure) اُن کے درمیان مفت تقسیم کرتے تھے۔(محمد مصطفی عمری)
2 - ای ٹی وی (نئی دہلی) کی ٹیم نے 6 دسمبر 2006 کو صدر اسلامی مرکز کا انٹرویو لیا۔ سوالات کا تعلق، بابری مسجد سانحے سے تھا جس کو اب چودہ سال ہوچکے ہیں۔ جوابات کا خلاصہ یہ تھا کہ یہ مسئلہ کچھ خود ساختہ لیڈروں کا مسئلہ ہے جو اس مسئلے پرعوام کو بھڑکاتے رہتے ہیں۔ اس سے کوئی مثبت فائدہ نکلنے والا نہیں۔
3 - ماہ نامہ ’افکارِ ملّی‘ (نئی دہلی) کے نمائندہ مسٹر اسلم مقبول نے 9 دسمبر 2006 کو صدر اسلامی مرکز کا ایک انٹرویور کارڈ کیا۔ انٹرویو کا موضوع تھا— مسلم تنظیمیں، جوابات کا خلاصہ یہ تھا کہ مسلم تنظیموں کے لیے ضروری ہے کہ وہ مثبت طرز فکر کو اپنائیں۔ مثبت طرزِ فکر ہی تمام ترقیوں کا ذریعہ ہے۔
4 - نئی دہلی کے اُردو روزنامہ راشٹریہ سہارا کے نمائندہ مسٹر اسجدنواز نے 13 دسمبر 2006 کو صدر اسلامی مرکز کا ایک تفصیلی انٹرویو لیا۔ سوالات کا تعلق زیادہ تر حکومت کے تجویز کردہ مرکزی مدرسہ بورڈ سے تھا۔ جوابات کا خلاصہ یہ تھا کہ یہ تجویز اپنی نوعیت کے اعتبار سے وہی ہے جو تمام مسلم ملکوں میں بالفعل قائم ہے۔ البتہ اصل مسئلہ یہ ہے کہ موجودہ زمانے میں ہمارے مدارس کے علماء صرف علماء سند ہیں، وہ حقیقی معنوں میںعلماء دین نہیں۔ اس لیے اِس تجویز کا عملاً مفید ہونا بظاہر مشکوک نظر آتا ہے۔ کیوں کہ عملی طورپر اس بورڈ کو چلانے والے یہی علماء ہوں گے۔ تاہم حکومت کی اس تجویز نے ہمارے مدارس کو ایک بہت اچھا موقع فراہم کیا ہے۔ جیسا کہ بتایا گیا ہے، مرکزی مدرسہ بورڈ کو قانونی حیثیت حاصل ہوگی۔ اس کا پورا بجٹ حکومتِ ہند دے گی، جب کہ اس کا نظام عملاً مسلم علماء کے ہاتھ میں ہوگا۔ ایسی ایک تجویز پر منفی روش کا اظہار کرنا صرف بے دانشی کی بات ہے۔ ایک بات یہ کہی گئی ہے کہ 1857میں علماء نے فتویٰ دیا تھا کہ ہندستان دار الحرب ہوچکا ہے۔ اس کے بعد تقسیم ہند کی تحریک چلی۔ اس تاریخی پس منظر نے مسلمانوں میںایسا ذہن پیدا کردیا ہے کہ وہ ہندستانی حکومت کو غیر کی نظر سے دیکھتے ہیں۔ اس مزاج کو ختم کرنا بے حد ضروری ہے۔ کیوں کہ اس مزاج کی بنا پر مسلمانوں میں منافقانہ کلچر تیزی سے فروغ پارہا ہے۔ یعنی ایک سیاسی نظام کو غیر دینی نظام سمجھنا اور اسی کے ساتھ اس سے بھر پور فائدہ اٹھانا۔
5 - دوردرشن (نئی دہلی) کی ٹیم نے 28 دسمبر 2006 کو صدر اسلامی مرکز کا ویڈیو انٹرویو رکارڈ کیا۔ اس کے انٹرویور مسٹر شمیم تھے۔ جوابات کا خلاصہ یہ تھا کہ عید الاضحی کا مطلب ہے— قربانی کی عید۔ قربانی سے مراد یہ ہے کہ آدمی سچائی کو قربانی کی حد تک اختیار کرے۔ وہ کسی بھی حال میں سچائی کے راستے سے نہ ہٹے۔
6 - این ڈی ٹی وی (نئی دہلی) کی ٹیم نے 30 دسمبر 2006 کو صدر اسلامی مرکز کا ویڈیو انٹرویو کارڈ کیا۔ انٹرویور مسٹر اوما شنکر تھے۔ سوالات کا تعلق، صدر صدام حسین کی پھانسی سے تھا جو آج ہی عراق میں پیش آئی ہے۔ جوابات کا خلاصہ یہ تھا کہ جو کچھ ہوا اُس کے خلاف احتجاج کرنے سے کوئی فائدہ نہیں۔ صدام حسین نے تقریباً 30 سال تک عراق پر ڈکٹیٹرانہ حکومت کی، لیکن آخرمیں انھو ںنے عراقیوں کے نام اپنے ایک پیغام میںعراقیوں کو مثبت طرزِ فکر کا پیغام دیا۔ انگریزی رپورٹنگ میںان کے یہ الفاظ نقل کیے گیے ہیں:
I call on you not to hate Americans, because hate closes all doors of thinking.
یہ بلاشبہہ ایک صحیح پیغام ہے۔ اور نہ صرف عراقیوں کو بلکہ تمام دنیا کے مسلمانوں کو اِس پر عمل کرنا چاہیے۔
7 - دینک ٹی وی (نئی دہلی) کے نمائندہ مسٹر احمد نے 25 جنوری 2007 کو صدر اسلامی مرکز کا ایک انٹرویو رکارڈ کیا۔ سوالات کا تعلق، سچر کمیٹی کی رپورٹ سے تھا۔ جوابات کا خلاصہ یہ تھا کہ ترقی ذاتی محنت سے ملتی ہے، رعایت سے ترقی ممکن نہیں۔
8 - مسٹر باوا جین (مقیم امریکا) اور مسٹر رمیش بھنڈاری (سابق گورنر، یوپی) کی قیادت میںایک تنظیم ’ہندو۔جوئش سمٹ‘ بنی ہے۔ اُس کے تحت 7 فروری 2007 کو ایک ڈائلاگ ہوا۔ یہ پروگرام نئی دہلی کے ہوٹل ’آبرائے کانٹی ننٹل‘ میں منعقد کیا گیا۔ اس میں اسرائیل اور دوسرے مقامات کے یہودی مذہب کے بڑے بڑے پیشوا شریک ہوئے تھے۔اس کا موضوع یہ تھا کہ— اسرائیل اور فلسطین میںامن کس طرح قائم کیا جائے۔ اس کی دعوت پر صدر اسلامی مرکز نے اس میں شرکت کی اور قرآن اور حدیث کے حوالے سے مسئلے کا حل بتایا۔ اُن کی تقریر کا خلاصہ یہ تھا کہ اسلام امن کا مذہب ہے اور وہ ہر حال میں امن کو قائم کرنا چاہتا ہے۔
9 - صدر اسلامی مرکز کے نام ایک خط مورخہ 22 دسمبر 2006 موصول ہوا، جو یہاں نقل کیا جاتا ہے:
محترمی و مکرمی جناب مولانا وحید الدین خاں صاحب السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
الرسالہ جنوری 2007 کا شمارہ بعض حقائق کے انکشاف کے اعتبار سے بہت اہم ہے۔ میںہمیشہ اس احساس سے رنجیدہ رہاہوں کہ آپ ایک مظلوم ترین انسان ہیں۔ گزشتہ تقریباً چالیس سال سے آپ مسلمانوں کو جو مشورے دیتے آئے ہیںاور جن کے صلے میں آپ کو کیا کیا نہ ذہنی اذیتیں برداشت کرنی پڑی ہیں، آج ملک کے تمام مکاتب فکر کے علماء کسی اعتراف اور احساس ندامت کے بغیر ان پر عمل کررہے ہیں۔ مالے گاؤں ہی کی مثال لے لیجئے۔ ستمبر 2006 کو یہاں بم دھماکے ہوئے، 30 افراد ہلاک اور 300 افراد زخمی ہوئے۔ مسلمانوں کے اس صبر کی تمام طبقوں کی جانب سے خوب خوب تعریفیں ہوئیں اور ابھی بھی ہورہی ہیں۔ پولیس افسران، سیاست دان، وزیر اعلیٰ اور وزیر داخلہ شیوراج پاٹل اور سونیا گاندھی نے بھی مسلمانوں کے اس صبر و ضبط کی سراہنا کی۔ حالاں کہ یہ صبر مسلمانوں نے ’بعد از خرابی ٔ بسیار‘ کیا ہے۔ 2001کے فسادات میں مالے گاؤں کے اطراف و جوانب کے لگ بھگ 35دیہاتوں کی مساجد گرادی گئی تھیں اور وہاں کے مسلمانوں کے گھروں کا بھی یہی حال ہوا تھا۔
اس سب کے باوجود کسی شخص میں یہ اخلاقی جرأت نہیں ہے کہ وہ یہ اعتراف کرے کہ آپ طویل عرصے سے مسلمانوں کو یہی مشورہ دیتے آئے ہیں۔ آج جب مختلف طبقات کی جانب سے علما کی رہنمائی کی تعریفیں ہورہی ہیں تو یہ حضرات بڑے آرام سے کسی احساس اور اعتراف کے بغیر اس کریڈٹ کو اپنے کھاتے میں ڈال رہے ہیں۔
تازہ الرسالہ میں دی گئی خط و کتابت سے یہ بھی معلوم ہوا کہ اور بھی کئی طریقوں سے آپ کی حق تلفی اور آپ کے ساتھ ناانصافی ہورہی ہے۔ دین کو عصری اسلوب میںآپ پیش کررہے ہیں تاہم کچھ لوگ ہیں جو بے بنیاد طور پراس کا سہرا اپنی اپنی محبوب شخصیتوں کے سرباندھنے کی کوشش میں لگے ہوئے ہیں۔ اِس سے غلط ذہن بنتا ہے۔ دار الدعوہ کا تصوربھی سب سے پہلے آپ نے پیش کیا، لیکن کوئی بھی اس کااعتراف نہیں کررہا ہے۔ اتنا ہی نہیںبلکہ کچھ لوگ نہایت ڈھٹائی کے ساتھ اس کا بھی کریڈٹ خود لے رہے ہیں۔ دیانت داری کا تقاضا اور ضمیر کی آواز وغیرہ ایسے لوگوں کے نزدیک سب سے معنیٰ ہیں۔ افسوس، صدافسوس، یہ اُن لوگوں کا حال ہے جو شب وروز اخلاقیات کا درس دیتے ہیں۔ (رمضان شکور، مالے گاؤں)
10 - شہر بہرائچ (یوپی) میں برادرم رفیع احمد انصاری (بھٹے والے Tel. 941 544 2201) اور بر ادرم عبد اللہ انصاری کے مخلصانہ تعاون سے الرسالہ مشن کے دعوتی لٹریچر کی اشاعت اور توسیع کے لیے ایک اسٹڈی فورم قائم کیاگیا ہے۔ اس کے تحت، تعلیم یافتہ حضرات کی ایک ٹیم نے الرسالہ کی مطبوعات کا اجتماعی طورپر مطالعہ شروع کردیا ہے۔
11 - لکھنؤ میں برادرم محمد سلمان نوری (ناظم مدرسہ سیدنا عمر فاروق، رستم نگر، چوک لکھنؤ Tel. 983 980 1027))کے تعاون سے دعوتی مقصد کے تحت، ایک دارالمطالعہ قائم ہوگیا ہے۔ اِس سلسلے میں اسلامی مرکز (نئی دہلی) کی طرف سے دعوہ بک لٹس (Dawah Booklets)، اور الرسالہ کی تمام مطبوعات کا ایک مکمل سیٹ اُن کو روانہ کردیا گیا ہے۔
واپس اوپر جائیں