Pages

Saturday, 2 May 2009

Al Risala | May 2009 (الرسالہ،مئی)


اعظم گڑھ کا سفر

ایک پروگرام کے تحت، اعظم گڑھ (یوپی) کا سفر ہوا۔ میرے سوا اِس سفر میں ہماری ٹیم کے پانچ افراد اور شریک تھے— مولانا محمد ذکوان ندوی، مسٹر رامش صدیقی، سعدیہ خان، نغمہ صدیقی، ڈاکٹرفریدہ خانم۔ ہم لوگ 29 دسمبر 2008 کی شام کو دہلی سے اعظم گڑھ گئے، اور 2 جنوری 2009 کو دہلی واپس آئے۔ یہ سفر دہلی- اعظم گڑھ ایکسپریس کے ذریعے ہوا۔ دہلی سے اعظم گڑھ کی مسافت تقریباً آٹھ سو کلو میٹر ہے۔ اِس سفر کا انتظام مسٹر شکیل احمد خاں (مقیم شارجہ) نے کیا تھا۔
اعظم گڑھ میرا وطن ہے۔ وہاں میرے خاندان کے کچھ لوگ رہتے ہیں۔ ایک شادی کی تقریب میں شرکت کے لیے یہ سفرہوا۔ پچھلے تقریبا پچاس برس سے میرا طریقہ یہ تھا کہ میں شادیوں میں شرکت نہیں کرتا تھا۔ کیوں کہ میں شادیوں میں شرکت کو وقت کا ضیاع سمجھتا تھا۔ حال میں مجھے ایک حقیقت کی دریافت ہوئی جو لمبی مدت سے مجھ پر مخفی تھی، وہ یہ کہ شادی کی تقریب دو چیزوں کا نام ہے— ایک، شادی اور دوسرے، اجتماع (gathering) ۔ میری سمجھ میں یہ بات آئی کہ اِن دونوں پہلوؤں کو ایک دوسرے سے الگ کرکے دیکھنا چاہیے۔ شادی کی تقریب اور اس کی دھوم سے اب بھی مجھے کوئی دل چسپی نہیں۔ لیکن ایسے موقع پر لوگوں کا جو اجتماع ہوتا ہے، وہ ایک داعی کے لیے مدعو کی حیثیت رکھتا ہے۔ اِسی نظریے کے تحت ہم لوگ وہاں گئے۔ ہمارے ساتھ پانچ کارٹن میں اسلامی لٹریچر تھا۔ ہمارے ساتھیوں نے وہاں لوگوں سے ملاقاتیں کیں اور اُن کو ہمارے یہاں کی مطبوعہ اسلامی کتابیں پڑھنے کے لیے دیں۔
دہلی سے اعظم گڑھ کے لیے ہمارا سفر جس ٹرین کے ذریعے ہوا، اُس کا نام ’’کیفیات ایکسپریس‘‘ تھا۔ ٹرین کا یہ نام اعظم گڑھ کے ایک مسلم شاعر کیفی اعظمی (وفات: 2002 ) کے نام پر رکھا گیا ہے۔ وہ مشہور فلم اسٹار شبانہ اعظمی کے والد تھے۔ اِس ٹرین کے ذریعے دہلی اور اعظم گڑھ کے درمیان پہلی بار براہِ راست سفر ممکن ہوگیا ہے۔
حال میں پاکستان کی ایک ٹیلی ویژن کمپنی (Geo TV) نے ٹیلی فون پر میرا ایک انٹرویو ریکارڈ کیا۔ اُن کا ایک سوال یہ تھا کہ انڈیا میںمسلمانوں کے ساتھ بہت زیادہ تعصب کیا جاتا ہے۔ اس کا ثبوت انھوں نے یہ دیا کہ شبانہ اعظمی نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ میں نے بمبئی کے ہندوعلاقے میں ایک رہائشی فلیٹ لینا چاہا تھا، لیکن اُس کے مالکان نے یہ کہہ کر انکار کردیا کہ ہم کسی مسلمان کو فلیٹ نہیں دے سکتے۔
میں نے انٹرویور سے کہا کہ یہ اشتعال انگیز حدتک بے معنی بات ہے۔ شبانہ اعظمی اور ان کی فیملی نہایت عزت کے ساتھ انڈیا میں رہتی ہے۔ ان کو کئی نیشنل ایوارڈ دیاگیا ہے۔ اُن کے والد کے نام پر باقاعدہ ایک ایکسپریس ٹرین جاری کی گئی ہے۔ ایسی حالت میں اُن کا یہ کہنا بالکل لغو بات ہے ۔ اور اگر بالفرض ایسا کوئی واقعہ بمبئی میں پیش آیا ہو تو وہ ایک استثناء (exception) ہوگا، اور ایک استثنائی واقعے کو جنرلائز (generalize) کرنا بلاشبہہ ایک مجرمانہ فعل کی حیثیت رکھتا ہے۔
دہلی سے ہم لوگ شام کو تقریباً آٹھ بجے روانہ ہوئے اور اگلے دن بارہ بجے اعظم گڑھ پہنچے۔ اِس سفر میں میرے ساتھیوں نے کئی لوگوں سے ملاقاتیں کیں اور اُنھیں اسلامی لٹریچر دیا۔ اِن میں ٹرین کا ٹکٹ کلیکٹر بھی شامل ہے۔ ہماری ٹیم کے لیے یہ سفر عملاً سفری کلاس (class on wheel) کے ہم معنیٰ تھا۔ میں اپنے ساتھیوں سے مختلف قسم کے موضوعات پر بات کرتا رہا۔
ایک موضوع یہ تھا کہ کنڈیشننگ اور ڈی کنڈیشننگ کیا ہے۔ میںنے کہا کہ ہر عورت اور مرد کے ساتھ یہ واقعہ پیش آتا ہے کہ ماحول کے اثر سے کوئی منفی یا غیر منفی یا غیر واقعی بات اس کے ذہن میں آجاتی ہے۔ آدمی اگر اس پر سوچے یا دوسروں سے اس کا چرچا کرے تو وہ بات اس کے تھنکنگ پراسس میں شامل ہوجائے گی اور پھر دھیرے دھیرے وہ اس کے ذہن کا ایک مستقل جز بن جائے گی۔ اِسی کا نام کنڈیشننگ ہے۔ آدمی کو چاہیے کہ وہ اِس قسم کی بات کو فوراً ہی اپنے ذہن سے نکال دے۔ ذہن سے نکالنے کی اِسی تدبیر کا نام ڈی کنڈیشننگ ہے۔
میںنے مثال دیتے ہوئے بتایا کہ حال میں میری ملاقات ایک صاحب سے ہوئی جو کمپیوٹر سائنس کے ایکسپرٹ ہیں۔ اُن سے میں نے کئی اہم باتیں کہیں، مگر وہ ان کو اخذ (grasp) نہ کرسکے۔ میرا پہلا تاثر یہ تھا کہ ان کی دنیوی کامیابی نے شاید اُن کو احساسِ برتری (superiority complex) میں مبتلا کردیا ہے۔ اِس بنا پر وہ میری بات کو ماننے پر تیار نہیں ہورہے ہیں۔
میں نے اپنے اِس احساس کو دوسروں سے بیان نہیں کیا، بلکہ اُس پر سوچنے لگا۔ میرا مزاج یہ ہے کہ میں کسی کے بارے میں اس کی نیت کو لے کر رائے قائم نہیں کرتا، بلکہ خالص عقلی انداز میں اس کی توجیہہ کرتاہوں۔ چناں چہ میں نے اِس واقعے کو لے کر سوچنا شروع کردیا۔ آخر کار مجھ پر ایک نئی حقیقت کھلی جو اِس سے پہلے میرے اوپر پوری طرح واضح نہ تھی۔ وہ یہ کہ فطری تقسیم کے مطابق، ذہانت کی دو قسمیں ہیں— فکری ذہانت(intellectual intelligence) اور پروفیشنل ذہانت (professional intelligence) ۔ اُس وقت مذکورہ صاحب سے میں نے جو بات کہی، اُس کا تعلق فکری ذہانت سے تھا، مگر وہ اپنی ذہنی ساخت کے اعتبار سے پروفیشنل ذہانت والے آدمی تھے۔ ایسا آدمی ٹکنکل پوائنٹ کو فوراً سمجھ لیتا ہے، لیکن فکری بات کو سمجھنا اس کے لیے مشکل ہوتا ہے۔ داعی کو چاہیے کہ وہ اپنی گفتگو میں اِس فرق کو ملحوظ رکھے۔ غالباً اِسی بات کو ایک حدیث میں اِن الفاظ میں بیان کیاگیا ہے: کلِّم الناسَ علی قدر عقولہم-یعنی لوگوں سے ان کے فہم کے مطابق بات کرو۔
مذکورہ واقعے کے مطابق، کنڈیشننگ کا سبب اکثر حالات میں یہ ہوتا ہے کہ آدمی کسی واقعے کو غلط زاویہ نگاہ (wrong angle) سے دیکھتا ہے اور اس کے مطابق، اپنی ایک رائے قائم کرلیتا ہے جو واقعے کے مطابق نہیں ہوتی۔ آدمی کو چاہیے کہ وہ چیزوں کو ہمیشہ صحیح زوایۂ نگاہ (right angle) سے دیکھنے کی کوشش کرے۔ اور اگر کوئی غلط رائے اس کے ذہن میںآجائے تو وہ فوراً اپنا محاسبہ (introspection) کرے اور اِس طرح اپنے ذہن کو درست کرے۔ یہ محاسبہ بے رحمانہ محاسبہ ہونا چاہیے، ورنہ ڈی کنڈیشننگ کا عمل درست طورپر انجام نہ پاسکے گا۔
آج (29دسمبر 2008) کے اخبار میں ایک خبر یہ تھی کہ مشہور امریکی رائٹر سموئل ہنٹنگٹن (Samuel Huntington)کا انتقال ہوگیا۔ انتقال کے وقت ان کی عمر 81 سال ـتھی۔ ان کو اپنی ایک کتاب کی بنا پر کافی شہرت ملی۔ اِس کتاب کا نام یہ تھا:
The Clash of Civilization and the Remaking of World Order (1996)
سموئل ہنٹنگٹن کے یہ خیالات پہلے ایک آرٹکل کی صورت میںفارین افیرس (Foreign Affairs) میگزین میں چھپے ۔ اس کے بعد مزید اضافے کے ساتھ اُس کو کتابی صورت میں شائع کیا گیا۔ مصنف نے اپنی اِس کتاب میں بتایا تھا کہ مغربی دنیا اور اسلامی دنیا کے درمیان ٹکراؤ (conflict) ناگزیر ہے جس طرح اِس سے پہلے وہ صلیبی حملہ(crusade) کی شکل میں پیش آیاتھا۔ 11ستمبر2001 کو کچھ مسلم انتہا پسندوں نے نیویارک کے ورلڈ ٹریڈ ٹاور پر حملہ کرکے اس کو تباہ کر دیا اور اس کے بعد برابر اِس طرح کے واقعات پیش آتے رہے تو سمجھ لیاگیا کہ ہنٹنگٹن کے بیان کے مطابق، مغربی دنیا اور اسلامی دنیا کے درمیان دوسری کروسیڈ شروع ہوچکی ہے۔میں سمجھتا ہوں کہ یہ ٹکراؤ کسی نہ کسی صورت میں پیش آچکا ہے، لیکن یہ ٹکراؤ اسلام اور مسیحیت کے درمیان نہیں ہے، بلکہ وہ مسلم قوم اور مسیحی قوم کے درمیان ہے۔ وہ ایک قومی ظاہرہ ہے نہ کہ معروف معنوں میں کوئی مذہبی ظاہرہ۔
راستے میں شاہ گنج کا ریلوے اسٹیشن آیا۔ یہاں ٹرین رکی تو شاہ گنج سے متعلق بہت سی یادیں تازہ ہوگئیں۔ شاہ گنج میں پہلے سے بڑی لائن (broad guage) تھی۔ مجھے یاد ہے کہ ایک بار میں اسٹیشن کے قریب ریلوے لائن کے کنارے کھڑا تھا۔ اِس دوران ایک ایکسپریس ٹرین وہاں سے گزری تو اچانک میری زبان سے نکلا— خدا کی قدرت کا دوڑتا ہوا نشان۔ ٹرین جب میدانی علاقوں سے گزرتی ہے تو ریلوے لائن کے دونوں طرف پھیلے ہوئے قدرتی مناظر میرے لیے ایمان میں اضافے کا سبب بن جاتے ہیں۔
آزادی سے پہلے (1945) اِسی شاہ گنج سے میں نے ایک انوکھا سفر کیا تھا۔ میں اپنے گاؤں سے پیدل روانہ ہو کر شاہ گنج پہنچا۔ یہ میرے تلاشِ حق کا زمانہ تھا۔ میں چل رہا تھا اور میری زبان پر یہ شعر جاری تھا:
چلا ہے شوق بے خبر، جنوں میں جانئے کدھر نہ کوئی منزلِ سفر، نہ قید کچھ مقام کی
شاہ گنج اسٹیشن سے میں ایک ایکسپریس ٹرین سے سوار ہوا جو اُس وقت سیدھی لاہور (پاکستان) جاتی تھی۔ یہ ایک عجیب سفر تھا۔ میرے پاس غالباً واپسی کا کرایہ بھی نہ تھا۔ میرے ہاتھ میں صرف ایک چھوٹا سا بیگ تھا۔ لیکن میں ایک نامعلوم شوق کے ساتھ روانہ ہوگیا۔ میرا یہ سفر جزئی طورپر سوامی وویکا نند (وفات: 1902 ) کے سفر سے مشابہ تھا۔ وہ 1893 میں بحری جہاز کے ذریعے کلکتہ سے امریکا (شکاگو) کے لیے روانہ ہوئے۔ اِس سفر میںاُن کے ایک دوست نے ایک طرف کے کرایے کا انتظام کردیا تھا اور سوامی وویکا نند کے پاس واپسی کے کرایے کے لیے پیسے نہ تھے۔ امریکا کے ایک شخص کے تعاون سے سوامی وویکا نند اپنے وطن (کلکتہ) واپس آئے۔ اِسی طرح میں لاہور کی ایک ٹیلرنگ شاپ (B. Lilaram & Sons) کے تعاون سے اعظم گڑھ واپس آیا۔ اِس سفر کی بعض باتیں راقم الحروف کی کتاب ’’ہند-پاک ڈائری‘‘ میں دیکھی جاسکتی ہیں۔
30 دسمبر 2008 کو ہم لوگ اعظم گڑھ ریلوے اسٹیشن پر پہنچے۔ پہلے یہاں میٹر گیج (metre gauge) ہوا کرتی تھی۔ اب یہاں شاہ گنج اور مئو کے درمیان براڈ گیج (broad gauge) بن گئی ہے۔ اب یہاں سے کئی گاڑیاں دور کی مسافت (distant destination) تک کے لیے جاتی ہیں۔مثلاً اعظم گڑھ سے دہلی کے لیے اور اعظم گڑھ سے بمئی کے لیے، وغیرہ۔ لیکن جہاں تک اسٹیشن کی عمارت کا تعلق ہے، اُس میں کوئی بڑی توسیع نہیں ہوئی ہے۔ لوگوں نے بتایا کہ محکمہ ریلوے کی طرف سے یہاں ایک بڑا ریلوے اسٹیشن بننے والا ہے۔
اعظم گڑھ ریلوے اسٹیشن پر ڈاکٹر احمد صفی انصاری اور مسٹر ظہیر الاسلام ظلی موجود تھے۔ یہ لوگ اِس علاقے کے ذمے دار افراد ہیں اور مفید سماجی کام انجام دے رہے ہیں۔ اِس علاقے میں دونوں حضرات کو معزّز حیثیت حاصل ہے۔ اِن لوگوں کے ذریعے اِس علاقے میں کئی پروگرام ہوئے۔
اِس بار میں تقریباً چالیس سال کے بعد اِس علاقے میں آیا تھا۔ اِس سے پہلے مجھے بار بار اعظم گڑھ کے ریلوے اسٹیشن سے گزرنے کا اتفاق ہوا ہے۔ بہت پہلے کی بات ہے۔ ایک بار میں اعظم گڑھ کے ریلوے اسٹیشن پر ٹکٹ کی ونڈو پر کھڑا ہوا تھا۔ ایک دیہاتی آدمی ٹکٹ لینے کے لیے آیا۔ اُس کے پاس نوٹ نہیں تھے۔ وہ اپنی مٹھی میں بہت سی ریزگاری لیے ہوئے تھا۔ اُس نے ونڈو پر جب ٹکٹ لینے کے لیے ریز گاری پیش کی تو ونڈو کے پیچھے بیٹھا ہوا کلرک غصہ ہوگیا۔ اُس نے یہ کہہ کر اُس کو ٹکٹ دینے سے انکار کر دیا کہ اتنی ساری ریزگاری میں کب تک گنوں گا۔ میںنے اپنی جیب سے نوٹ نکالے اور اُس دیہاتی آدمی سے کہا کہ یہ نوٹ تم لے لو اور اپنی ریزگاری مجھے دے دو۔آدمی کچھ بولا نہیں،وہ خاموشی سے وہاں سے ہٹ کر باہر چلا گیا۔اُس دیہاتی آدمی سے دوبارہ میری گفتگو نہ ہوسکی۔ میںنے سوچا کہ اُس آدمی نے ایسا کیوں کیا۔میری سمجھ میں آیا کہ اِس کا سبب بے اعتمادی (mistrust) ہے۔ آج کل کے حالات کی بنا پر ایسا ہوا ہے کہ لوگوں کو ایک دوسرے کے اوپر اعتماد باقی نہیں رہا۔ اُس دیہاتی آدمی نے غالباً یہ سمجھا کہ میں اُس کو جعلی نوٹ دے کر اس کی ریزگاری حاصل کرنا چاہتا ہوں۔ یہ بے اعتمادی بلا شبہہ موجودہ زمانے میں ہمارے سماج کا سب سے بڑا مسئلہ ہے۔
اپنے تجربے کے مطابق، یہاں میں ایک بات لکھنا چاہوں گا۔ جب کوئی ادارہ یا کوئی تنظیم کسی شخصیت کو اپنے یہاں بلاتی ہے تو اکثر ایسا ہوتا ہے کہ وہ وہاں سے شکایت لے کر واپس آتے ہیں۔ میں عرصے تک اِس پر غور کرتا رہا کہ ایسا کیوں ہوتا ہے۔ اپنے موجودہ سفر میں میں نے اس کی حقیقت کو سمجھا۔ اب میں سمجھتا ہوں کہ یہ لوگ اگرچہ شکایت دوسروں کی کرتے ہیں، لیکن غلطی خود ان کی اپنی ہوتی ہے۔
اصل یہ ہے کہ جب بھی کوئی آپ کو اپنے علاقے میں آنے کی دعوت دیتا ہے، جیسا کہ میرے ساتھ اِس سفر میں ہوا، تو فطری اصول کے اعتبار سے وہ صرف دو چیزیں آپ کو فراہم کرتا ہے— ایک، انفراسٹرکچر (infrastructure)، یعنی سفری انتظام، قیام کی سہولتیں اور ضروری اسباب کی فراہمی، وغیرہ، اس کو انفراسٹرکچر کہا جاسکتا ہے۔ دوسری چیز جو مدعو شخصیت کو اُس سے ملتی ہے، وہ اُس کی علاقائی ساکھ (goodwill) ہے، جو مدعو شخصیت کے لیے بے حد کار آمد ہوتی ہے۔ فطری طورپریہی دو چیزیں ہیں جو دعوت دینے والا ادارہ آپ کو فراہم کرتاہے۔ اِس کے بعد دوسری چیز وہ ہے جس کا تعلق آپ کے اپنے پروگرام سے ہے۔ یہ آپ کا اور آپ کے ساتھیوں کا کام ہے کہ وہ آپ کے پروگرام کی منصوبہ بندی کریں۔ اِس معاملے میں آپ کی منصوبہ بندی جتنی زیادہ اچھی ہوگی، اتنا ہی زیادہ آپ کا پروگرام بھی کامیاب ہوگا۔ اگر آپ کا پروگرام زیادہ کامیاب نہ ہو تو اس کا سبب خود اپنی منصوبہ بندی میں ڈھونڈئیے۔ دوسروں کو ہرگز اُس کا ذمّے دار نہ ٹھیرائیے۔ ایسا کرنے کی صورت میں آپ غیرضروری طورپر شکایت کی نفسیات میں مبتلا ہوجائیں گے۔ اور اِس قسم کی شکایت بلا شبہہ عقل کے خلاف بھی ہے اور انسانی شرافت کے خلاف بھی۔
اعظم گڑھ ریلوے اسٹیشن کے پاس ایک گاؤں ہے۔ اس کا نام پَلَھنی ہے۔ آزادی سے پہلے کے زمانے میں ایک کوی (شاعر) نے ایک طنزیہ کہانی کو نظم کیا تھا۔ اس میں بتا گیا تھا کہ اعظم گڑھ کے ایک دیہاتی آدمی نے اپنے بیٹے کو انگریزی تعلیم دلوائی۔ اس کے بعد اُس کے بیٹے کو بمبئی میںایک اعلیٰ عہدہ مل گیا۔ باپ کو اِس خبر سے خوشی ہوئی۔ وہ ٹرین کے ذریعے سفر کرکے بمبئی گیا۔ وہاں جب وہ دفتر میں پہنچا اور اپنے بیٹے سے ملا تو بیٹا اُس وقت سوٹ بوٹ میں ملبوس تھا، اُس نے اپنے دیہاتی باپ سے اِس طرح اعراض کیا جیسے کہ وہ اس کو پہچانتا نہیں۔ باپ کو اِس واقعے سے بہت تکلیف ہوئی۔ وہ واپس ہوکر بمبئی کے ریلوے اسٹیشن پر پہنچا، لیکن اُس کے پاس واپسی کا کرایہ نہ تھا۔ اتفاق سے ایک انگریز اُس کو مل گیا۔ انگریز کو اس کی حالت پر ترس آیا۔ اُس نے کہا کہ چلو میں تم کو ٹکٹ دلوا دیتا ہوں۔ اُس نے دیہاتی آدمی سے جگہ کا نام پوچھا۔ اُس نے کہا کہ پلھنی۔ وہ انگریزونڈو پر گیا اور کلرک سے کہا:
اک ٹکٹ پلھنی کا ہونا مانگتا جس سے بڈھا گھر کو جانا مانگتا
یہ بات سن کر کلرک نے کہا کہ پلھنی نام کا تو کوئی ریلوے اسٹیشن موجود نہیں، پھر بڑی مشکل سے معلوم ہوا کہ پلھنی سے مراد اعظم گڑھ ہے۔ انگریز نے اپنی طرف سے پیسہ ادا کرکے اعظم گڑھ کا ایک ٹکٹ لیا اور دیہاتی آدمی کو واپس اعظم گڑھ بھیج دیا۔
اعظم گڑھ کی وجہ تسمیہ کے بارے میں بتایا جاتا ہے کہ یہاں ایک مسلم نواب تھے، اُن کانام اعظم شاہ تھا۔ اُن کے نام پر تقریباً 1665 ء میں شہر اعظم گڑھ بسایا گیا۔ نواب اعظم شاہ کی فیملی کے لوگ اب بھی شہر کے ایک حصے میں رہتے ہیںجس کا نام سِدھاری ہے۔ میرے استاد مولانا نجم الدین اصلاحی (وفات: 1994 ) اپنے آخری زمانے میں اِسی سدھاری کی مسجد میں رہتے تھے۔ مولانا نجم الدین اصلاحی کی دو کتابیں مشہور ہیں— یادگارِ سلف، مکتوباتِ شیخ الاسلام۔
اعظم گڑھ ریلوے اسٹیشن سے ہم لوگ دو بڑی کاروں کے ذریعے قافلے کی صورت میں شہر کی طرف روانہ ہوئے۔ راستے میں کئی ایسے مقامات آئے جن سے زمانہ ماضی کی کچھ یادیں تازہ ہوگئیں۔ مثلاً راستے میں سڑک کے کنارے ایک قدیم اسکول ہے جو مشن اسکول (قائم شدہ1884 ) کے نام سے مشہور ہے۔ مجھے یاد ہے کہ بچپن کے زمانے میں ایک بار میں اِس اسکول کے سامنے سے گزرا۔ میںنے دیکھا کہ وہاں طلبا کی بھیڑ ہے۔ وہ ایک ونڈو کے سامنے لائن لگائے ہوئے ہیں۔ معلوم ہوا کہ یہاں طلبا کو انعامات تقسیم کیے جارہے ہیں۔ خوش فہمی کے تحت میں بھی اِس لائن میں کھڑا ہوگیا۔ چلتے ہوئے جب میں ونڈو کے پاس پہنچا تو اندر بیٹھے ہوئے آدمی نے کہا— آئڈنٹٹی کارڈ دکھاؤ۔ میںنے کہا کہ میرے پاس تو کوئی آئڈنٹٹی کارڈ نہیں۔ اِس کے بعد اُس نے مجھ کو ونڈوسے ہٹا دیا۔
اُس وقت تو میں نے سادگی کے تحت ایسا کیا تھا۔ بعد کو میں نے سوچا کہ ایسا ہی معاملہ آخرت میں پیش آنے والا ہے۔ وہاں بھی لوگوں کو خدا کے انعامات تقسیم کیے جائیں گے۔بھیڑ کا ہر شخص چاہے گا کہ اس کو یہ خدائی انعام حاصل ہوجائے، اُس وقت ایسا ہوگا کہ کچھ لوگ جن کے پاس استحقاقی کارڈ ہوگا، اُن کو انعام تقسیم کرنے والے فرشتے مبارک باد دیتے ہوئے انعام عطا کریں گے اور بہت سے لوگ وہ ہوں گے جن کے ساتھ استحقاقی کارڈ موجود نہ ہوگا اور وہ اُس دن خدائی انعام کو پانے سے محروم رہ جائیں گے۔ یہ صرف خدا کو معلوم ہے کہ آخرت کے دن کون مستحق قرار پائے گا، اور کون ابدی طورپر استحقاق سے محروم ہو کر قابلِ رد قرار دے دیاجائے گا۔
آگے بڑھے تو وہ مقام آیا جس کو لال ڈِگّی کہاجاتا ہے۔ یہاں شہر اور ٹونس (Tawans) ندی کے درمیان ایک لمبا اوراونچا بند ہے جو انگریزی حکومت کے زمانے میں بنایا گیا تھا۔ اِس مقام سے میری ایک گہری یاد داشت وابستہ ہے۔ اِس یاد کو میں نے اپنے ایک مضمون میںاِس طرح لکھا تھا:
’’ہم اس وقت ایک ہول ناک طوفان کے سرے پر کھڑے ہیںجس نے چند ہفتوں کے اندر اعظم گڑھ کی تقریباً پانچ سو بستیوں کو ویران کردیا ہے۔ شہر کا یہ حال تھا کہ دریا کے پانی نے اس کو چاروں طرف سے گھیر لیا تھا۔ جس کے درمیان پورا شہر بالکل ایک جزیرہ بن گیا تھا۔ بند کے آس پاس رہنے والے لوگ اپنے گھروں کو اِس طرح خالی کررہے تھے کہ اُن کے گھروں کی گرتی ہوئی دیواریں اُن کو رخصت کررہی تھی۔ اِس سیلاب نے پچھلے سو برس کے ریکارڈ توڑ دیے۔
اعظم گڑھ شہر کے گرد ایک بہت بڑا بند ہے جو برٹش دور میں 1871 کے تاریخی سیلاب کے بعد بنایا گیا تھا۔ اِس بند سے اُس وقت شہر کی قسمت بندھی ہوئی تھی۔ اِس بند کے دوسری طرف شہر کی عام سطح سے کئی گز اونچا پانی لگا ہوا تھا۔ ہر گھر میںاسی کا چرچا تھااور ہر شخص کی زبان پر اسی کا تذکرہ تھا، یہاںتک کہ 26اور 27 جولائی 1955 کی درمیانی رات کو ضلع کلکٹر کی طرف سے لاؤڈ اسپیکر کے ذریعے یہ اعلان ہوا— ’’لال ڈگی کا بند ابھی ٹوٹنا چاہتا ہے۔ آپ لوگ اپنی جانوں کو بچانے کے لیے اونچی جگہوں پر چلے جائیں‘‘۔ اُس وقت رات کے ایک بجے تھے۔ سارا شہر جاگ اٹھا اور عجیب سنسنی پھیل گئی۔ لوگ اپنے کچے اور پکے گھروں سے نکل کر بند کی طرف دوڑے۔ سیکڑوں آدمیوں نے پھاوڑا اور بوریا لے کر اُس جگہ مٹی ڈالنی شروع کردی، جہاں سے بند پھٹ گیاتھا۔ ایسے ایسے لوگ جنھوں نے شاید زمین پر کبھی ننگے پاؤں قدم بھی نہ رکھا ہوگا، وہ اپنے سروں پر مٹی کا ٹوکرا لے کر ڈھو رہے تھے۔ درجنوں پیٹرومیکس کی روشنی میں ساری رات کام ہوا اور دوسرے دن دوپہر تک ہوتا رہا۔ بالآخر انجینئر نے کہہ دیا کہ اب بند قابو سے باہر ہے۔ آخر کار بارہ بجے دن کے بعد بند ٹوٹ گیا اور پانی سڑکوں پر بہنے لگا۔ سارے شہر میں کہرام مچ گیا۔ دکانیں بند ہوگئیں۔ لوگ اپنے اپنے ٹھکانوں کی طرف بھاگ رہے تھے اور پانی ان کے پیچھے اِس طرح دوڑ رہا تھا کہ گویا وہ اُن کا پیچھا کررہا ہے۔ زندگی کے مسائل سمٹ کر بس سیلاب کے گرد جمع ہوگئے ، اور چند دنوں کے لیے شہر میں قیامت کا منظر دکھائی دینے لگا۔‘‘ (قرآن کا مطلوب انسان، صفحہ 61 )
آگے بڑھتے ہوئے ہم لوگ شبلی نیشنل کالج کے کیمپس میں داخل ہوئے۔ یہاں کالج کے گیسٹ ہاؤس میں میرے لیے اور میرے ساتھیوں کے لیے قیام کا انتظام کیاگیا تھا۔یہ گیسٹ ہاؤس جدید طرز پر بنایا گیا ہے۔ اُس میں ہر قسم کی سہولتیں موجود ہیں۔ ہمارے میزبان نے بتایا کہ اِس گیسٹ ہاؤس کے کمروں کو رزرو کرنے کے لیے ہم اِس کالج کے پرنسپل ڈاکٹر افتخار احمد کے پاس گئے۔ اُن کو جب میرا نام بتایاگیا تو انھوں نے کہا کہ اُن سے اور ان کی ٹیم سے کوئی کرایہ نہیں لیا جائے گا۔ جب تک وہ یہاں ہیں،وہ ہمارے مہمان ہیں۔ میزبان نے بتایا کہ گیسٹ ہاؤس کے اِن کمروں کا یومیہ کرایہ پندرہ ہزار روپئے ہے۔
اِس تعلیمی ادارے کو مولانا شبلی نعمانی (وفات: 1914 ) نے 1883 میں قائم کیا تھا۔ مولانا شبلی نعمانی نے اپنی خاندانی زمین اس کے لیے وقف کی تھی اور اس کے لیے اپنے رشتے داروں کو بھی راضی کیا تھا۔ پہلے یہ شبلی نیشنل اسکول کے طورپر قائم ہوا تھا۔ اب ترقی کرکے وہ ایک بڑے ڈگری کالج کی صورت اختیار کرچکا ہے۔ اِس وقت اُس کے تین بڑے شعبے ہیں— پرائمری اسکول، ہائی اسکول، ڈگری کالج۔ شبلی نیشنل کالج کے گیسٹ ہاؤس میں مولانا نظام الدین اصلاحی اور جامعۃ الفلاح (بلریا گنج) کے کئی اساتذہ ملاقات کے لیے آگئے۔ اُن سے دیر تک گفتگو ہوئی۔ اِسی گیسٹ ہاؤس میں ڈاکٹر خورشید احمد سے بھی تفصیلی ملاقات ہوئی۔
30 دسمبر 2008 کو دوپہر کے کھانے کا انتظام سیتا پور آنکھ اسپتال (ہرّا کی چُنگی) کے سامنے ایک مقام پر کیا گیا تھا۔اِس موقع پر بہت سے لوگوں سے ملاقاتیں ہوئیں۔ ہمارے ساتھیوں نے یہاں ایک بڑے میز پر اردو، ہندی اور انگریزی زبان میں چھپا ہوا دعوتی لٹریچررکھ دیا۔ لوگوں نے اس کو نہایت شوق سے لیا۔ تھوڑی ہی دیر میں یہ سارا لٹریچر ختم ہوگیا۔ اِس موقع پر کئی اعلیٰ تعلیم یافتہ غیر مسلم حضرات کو قرآن کا انگریزی ترجمہ اور دعوتی لٹریچر مطالعے کے لیے دیاگیا۔
30 دسمبر 2008 کو شام کے کھانے کا انتظام ڈاکٹر خورشید احمد کے مکان (9 ۔ بدرقہ) پر تھا۔ یہ مکان میرے بڑے بھا ئی عبد العزیز خاں (وفات: 1988 ) نے بنوایا تھا۔ ایک عرصے تک میرا قیام اِسی مکان میں رہا ہے۔ اِس مکان سے میری کئی یادیں وابستہ ہیں۔ ایک قابلِ ذکر واقعہ یہاں نقل کیا جاتا ہے—میرے بھائی صاحب نے جب یہ مکان خریدا تو وہاں پڑوس میںایک ہندو ٹھیکے دار کا مکان تھا۔ دونوں کے درمیان ایک خالی جگہ تھی۔ میرے بھائی نے یہ گھر ایک ہومیو پیتھک ڈاکٹر گوڑ سے خریدا تھا۔ اُس وقت یہ گھر ناتمام تھا۔ بعد کو میرے بھائی نے موجودہ حالت میں اس کی تعمیر مکمل کرائی۔اُس گھر سے متصل ایک خالی زمین تھی۔ اس کا رقبہ 50x27 فٹتھا۔ میرے بھائی کا خیال تھا کہ یہ زمین اُن کی اپنی زمین ہے اور وہ گھر کے ساتھ شامل ہے۔ چناں چہ انھوں نے اِس زمین کی گھیرابندی کرکے اُس کو اپنے گھر میں شامل کرلیا اور اس میں کچھ پودے لگا دیے۔
میرے بھائی کے پڑوس میں ایک ہندو ٹھیکے دار کا مکان تھا۔ انھوں نے اِس پر اعتراض کیا۔ انھوںنے کہا کہ یہ زمین میری ہے۔ آپ کو اِس کی گھیرا بندی کرنے کا کوئی حق نہیں ہے۔ اِس طرح اِس زمین پر دونوں کے درمیان ایک نزاع قائم ہوگئی۔
یہ جن سنگھ کا زمانہ تھا۔ ہندو ٹھیکے دار جن سنگھ کے مقامی لیڈروں کے پاس گئے اور اُن سے شکایت کی کہ میرے پڑوس میںایک مسلمان ہے، اُس نے میری زمین پر قبضہ کرلیا ہے۔ یہ سن کر جن سنگھ کے لوگ بھڑک اٹھے۔ وہ اپنے حامی نوجوانوں کی ایک بھیڑ لے کر ہمارے بھائی کے گھر کے سامنے پہنچ گئے اور سڑک پر کھڑے ہو کر اشتعال انگیز نعرے لگانے لگے۔
اُس وقت ہمارے بھائی کے پاس لائسنس یافتہ دو بندوقیں تھیں، نیز اُن کے آفس میںکام کرنے والے ایک درجن سے زیادہ لوگ اُس وقت وہاں موجود تھے۔ ہمارے بھائی نے نہ بندوق اٹھائی اور نہ اپنے آدمیوں کو ساتھ لیا۔ وہ تنہا باہر نکل کر سڑک پر پہنچے۔ یہاں بھی انھوں نے بھیڑ سے خطاب نہیں کیا، بلکہ پہلا سوال یہ کیا کہ آپ کا لیڈر کون ہے۔ اِس کے بعد ایک صاحب آگے آئے۔اُن کا نام مسٹر سونڈ تھا۔ وہ مجمع کی قیادت کررہے تھے۔ ہمارے بھائی نے اُن سے سڑک پر کوئی بات نہیں کی۔ انھوں نے مجمع سے کہا کہ آپ لوگ یہاں ٹھیرئیے۔ اِس کے بعد وہ مسٹر سونڈ کو اپنے ساتھ لے کر اندر دفتر میں آگئے۔ دفتر میں دونوں کرسی پر بیٹھے۔ اِس کے بعد بھائی صاحب نے اُن سے بات شروع کی۔ انھوں نے پوچھا کہ آپ لوگ کیوں یہاں آئے۔ مذکورہ لیڈر اُس وقت غصے میں تھے۔ انھوں نے کہا کہ ہم کو معلوم ہوا ہے کہ آپ نے ہمارے ایک بھائی کی زمین پر قبضہ کرلیا ہے۔ اِس لیے ہم لوگ یہاں آئے ہیں۔ میرے بھائی نے ٹھنڈے انداز میںکہا کہ دیکھئے، زمین پیپر پر ہوتی ہے اور ہمیشہ پیپر ہی سے زمین کا فیصلہ ہوتا ہے۔ آپ ایسا کیجئے کہ زمین سے متعلق میرے پیپر مجھ سے لے لیجئے، اور ٹھیکے دار صاحب کے پاس جو پیپر ہیں، وہ اُن سے لے لیجئے۔ اُس کے بعد آپ اطمینان سے گھر چلے جائیے، پھر آپ ہم دونوںکے پیپر دیکھئے۔ پیپر دیکھنے کے بعد آپ جو فیصلہ کردیں، وہ مجھ کو منظور ہوگا۔
یہ بات سن کر مسٹر سونڈ کا غصہ ختم ہوگیا۔ وہ اطمینان کے ساتھ باہر آئے۔ انھوں نے اپنے ساتھیوں سے کہا کہ— تم لوگ واپس جاؤ۔ خان صاحب نے خود ہم کو جج بنا دیا ہے۔ ہم جو فیصلہ کریں گے، وہ اُس کو مان لیں گے۔ اِس کے بعد مسٹر سونڈ دونوں کاغذات کو چند دن دیکھتے رہے۔ آخر میں انھوں نے کہا کہ ہندو ٹھیکے دار کی مانگ غلط ہے۔ پیپر کے مطابق، یہ زمین پوری کی پوری خاں صاحب کی ہے۔ چناں چہ انھوں نے مکمل طورپر میرے بھائی کے حق میں فیصلہ دے دیا۔ یہ زمین آج بھی 9 -بدرقہ روڈ کا ایک حصہ ہے۔ اِس سفر کے دوران میںنے اِس زمین کو دوبارہ دیکھا۔
محلہ بدرقہ کا مکان ہمارے بھائی نے خرید کر حاصل کیا تھا۔ اِس سے پہلے وہ اِسی علاقے کے ایک اور مکان میں رہتے تھے۔ یہ مکان کرایے پر تھا اور اِس کا نام ’’باقی منزل‘‘ تھا۔ باقی منزل کے ایک کمرے میں میں اپنے بیوی بچوں کے ساتھ رہتا تھا۔ اعظم گڑھ میں میری بیوی کی ایک سہیلی تھیں، اُن کا نام رضیہ تھا۔ رضیہ کے شوہر اور باپ دونوں وکیل تھے۔ معاشی اعتبار سے بظاہر اُن کا تعلق ایک آسودہ فیملی سے تھا۔
ایک دن میں کسی کام سے باہر گیا ہوا تھا۔ واپس آکر جب میں باقی منزل میں اپنے کمرے میں داخل ہوا تو وہاں میری بیوی سابعہ خاتون (وفات 2006 )بیٹھی ہوئی تھیں۔ داخل ہوتے ہی انھوں نے جو پہلی بات کہی، وہ یہ تھی کہ رضیہ کہتی ہیں کہ تمھارے شوہر کوئی معاشی کام نہیں کرتے۔ وہ اپنے بڑے بھائی کی کمائی پررہتے ہیں۔ ان کی زندگی تو اِس طرح گزر جائے گی، لیکن اُن کے بعد تمھارا اور تمھارے بچوں کا کیا حال ہوگا۔ اُس وقت میری بیوی کمرے میں ایک چار پائی پر بیٹھی ہوئی تھیں اور میں وہاں ان کے پاس کھڑا تھا۔ میںنے کھڑے کھڑے جواب دیا۔ مجھے وہ الفاظ اب تک یاد ہیں جو میںنے اُس وقت کہا تھا ۔ میں نے کہا کہ— رضیہ سے کہہ دو کہ یہ کشتی اپنے تمام سواروں سمیت بس اللہ کے حوالے ہے۔
یہ الفاظ جو اچانک میری زبان سے نکلے تھے، غالباً الہامی الفاظ تھے۔ میری بعد کی پوری زندگی اِن الفاظ کی تصدیق بن گئی۔ مجھے ایسا محسوس ہوتا ہے، جیسے کہ قرآن کے یہ الفاظ پوری طرح میری زندگی پر صادق آتے ہیں: ومَن یتوکّل علی اللہ فہو حسبہ ( الطلاق: 3 )
اعظم گڑھ کے زمانۂ قیام میں اعظم گڑھ کی سڑکوں پر میں بار بار چلتا رہاہوں۔ اِن سڑکوں سے میری بہت سی یادیں وابستہ ہیں۔ مثلاً ایک واقعہ وہ ہے جو 15 اگست 1947 کی رات کو پیش آیا۔ جیسا کہ معلوم ہے، 15 اگست 1947 کی رات ہندستان کو برطانیہ سے سیاسی آزادی ملی۔ اِسی لیے اِس موضوع پر چھپنے والی ایک کتاب کا نام یہ ہے— آدھی رات کی آزادی:
Freedom At Midnight
مگر یہ تجربہ نہایت وقتی تھا۔ الجمعیۃ ویکلی میںاِس تجربے کا ذکر کرتے ہوئے میںنے لکھا تھا کہ 15 اگست 1947کی رات کو خوشیوں کے جو چراغ جلائے گئے تھے، وہ سب اگلی صبح کو بجھ چکے تھے۔ یہ چراغ دوبارہ نہیں جلائے گئے۔ مولانا اقبال احمد خاں سہیل (وفات: 1955 ) نے آزادی کے اوپر اِس سے پہلے بہت سے اشعار کہے تھے۔ لیکن آزاد ی کے بعد اُنھیں سخت مایوسی ہوئی۔ چناںچہ انھوںنے بعد کو حسب ذیل شعر لکھا:
شب ِ غم کاٹ دی تھی، جس کے جاں پرور تصور میں
چھپی ہے شب کے پردے میں، وہ صبحِ زر نگار اب تک
میری نوجوانی کے زمانے میںاعظم گڑھ کے شبلی نیشنل کالج میںایک صاحب اُس کے شعبۂ انگریزی میں استاد تھے۔تعلیم کے اعتبار سے اُن کامضمون انگلش لٹریچر تھا، لیکن خیالات کے اعتبار سے وہ کمیونسٹ تھے۔ دن کے وقت وہ کالج میں پڑھاتے تھے اور شام کو اعظم گڑھ کے چوک میں سڑک کے کنارے کھڑے ہو کر کمیونسٹ اخبار بیچتے تھے۔ گویا کہ دن کے وقت وہ ایک پروفیسر تھے اور شام کے وقت وہ ایک ہاکر۔ اُس وقت وہ لوگوں سے کہتے تھے کہ— دیکھو، میں کالج کا پروفیسر ہوں اور یہاں سڑک کے اوپر کھڑے ہو کر کمیونسٹ پارٹی کا اخبار بیچ رہا ہوں۔ ایسی پارٹی کی کامیابی کو کون روک سکتا ہے۔ مجھے یقین ہے کہ کمیون ازم کا نظام ساری دنیا میں قائم ہو کر رہے گا۔
آج میں سوچتا ہوں تو کالج کے مذکورہ استاذ کی بات صرف ایک بے بنیاد خوش فہمی معلوم ہوتی ہے۔ کمیونسٹ نظام 1917 میں روس میں قائم ہوا۔ یہ ایک کُلّیت پسند نظام تھا۔ اُس زمانے میں پریس اور میڈیا کے ذریعے مسلسل پروپیگنڈہ کیا جاتا تھا کہ کمیونسٹ روس میں سرخ جنت بسی ہوئی ہے۔ لیکن 1991 میں جب سوویت روس ٹوٹ کر بکھر گیا اور اس کے گرد آہنی دیواریں باقی نہ رہیں، تو ساری دنیا نے دیکھ لیا کہ سرخ جنت کے اندر صرف سرخ جہنم بسی ہوئی تھی۔
یہی واقعہ نام نہاد اسلام پسندوں کے ساتھ پیش آیاہے۔ اسلام پسندلوگ بھی اپنے خود ساختہ نظریے کے تحت ساری دنیا میں اسلام کا سیاسی نظام بنانے کا خواب دیکھ رہے ہیں، لیکن یہ خواب ابھی تک ٹوٹا نہیں۔ اِس کا سبب یہ ہے کہ اسلام کا سیاسی نظریہ ابھی تک صرف نظریاتی دور میں ہے۔ اُس نے ابھی تک کسی عملی نظام کی صورت اختیار نہیں کی۔ اِسی لیے بہت سے نوجوان ابھی تک اس کے نظریاتی سحر میں جی رہے ہیں۔ عملی نظام کی صورت اختیار کرنا اورعملی نظام کی ناکامی کی صورت میں اس کا منفی انجام دیکھ لینے کا واقعہ اُن کے اوپر ابھی تک نہیں گزرا۔
1947 کے بعد کئی سال تک میں اعظم گڑھ میں مقیم تھا۔ اُس وقت میں اپنے بڑے بھائی عبدالعزیز خاں کے ساتھ باقی منزل (محلہ بدرقہ) میں رہتا تھا۔ بچپن سے میرے مزاج میں شدت پسندی تھی۔ اپنے اِس مزاج کی بنا پر اکثر ایسا ہوتا تھا کہ مجھے کسی سے اختلاف ہوتا تو میں نہایت شدید انداز میں اُس پر تنقید کرتا تھا۔ مگر اسی کے ساتھ میرے اندر خود احتسابی کا مزاج بھی بہت زیادہ تھا۔ چناں چہ تنقید کے بہت جلد بعد مجھے احساس ہوجاتا تھا کہ میری بات اگر چہ درست تھی، لیکن میں نے اپنی رائے کو ظاہر کرنے کے لیے جو سخت انداز اختیار کیا، وہ بہ اعتبار انداز درست نہ تھا۔ میرا یہ احساس اتنا شدید ہوتا تھا کہ میں فوراً یہ کوشش کرتا تھا کہ میں اُس آدمی سے مل کر اُس سے معافی مانگوں۔
میرے ایک ساتھی مولانا احمد محمود اصلاحی اُس زمانے میں اعظم گڑھ میں رہتے تھے۔ انھوں نے ایک بار میرے اِس مزاج کا ذکر کرتے ہوئے کچھ لوگوں سے کہا کہ — یہ اگر کسی کے یہاں بے وقت ملنے کے لیے آئیں تو سمجھ لو کہ وہ اُس سے معافی مانگنے کے لیے آئے ہیں۔
میرے مزاج کی یہ شدت اکثر ایسے معاملات میں ظاہر ہوتی تھی جن کا تعلق سماجی اخلاقیات یا آدابِ حیات سے ہو۔ مثلاً کسی کو میں نے دیکھا کہ وہ اپنا وقت ضائع کررہا ہے، یا کسی کو دیکھا کہ وہ فضول خرچی کررہا ہے، یا کسی نے وعدہ کیا اور اُس نے اپنے وعدے کو پورا نہیں کیا، یا کسی شخص نے مقرر وقت پر اپنے کام کو انجام نہیں دیا، یا کسی شخص نے بات چیت میں کوئی بے اصولی کی بات کہہ دی، اِس طرح کے معاملات میں اکثر میں بہت شدید ہوجاتا تھا اور نہایت سخت انداز میں اس کی گرفت کرتا تھا، چاہے وہ شخص چھوٹا ہو یا بڑا۔ مجھے اکثر یہ احساس ہوتا تھا کہ مجھے درست بات کہنے کا حق ہے، لیکن مجھے درست بات کے نام پر سخت کلامی کرنے کا حق نہیں۔ یہی احساس مجھے بار بار مجبور کرتا تھا کہ میں لوگوں سے اپنے شدتِ کلام کی معافی مانگوں۔
اعظم گڑھ میں جب میں شبلی نیشنل کالج کے گیسٹ ہاؤس میں ٹھیرا ہوا تھا، اُس وقت مجھے اِس کالج سے متعلق ایک واقعہ یاد آیا۔ یہ واقعہ میری زندگی کا ایک بے حد سبق آموز واقعہ ہے۔
یہ 1966 کی بات ہے جب کہ میں اعظم گڑھ میں مقیم تھا اور انگریزی زبان اور انگریزی علوم کے حصول میں بہت زیادہ غرق تھا،ا ُس زمانے میں مجھے یہ احساس ہوا کہ میں جدید مغربی افکار کو سمجھوں۔ برطانیہ کا مشہور فلسفی برٹرینڈ رسل (وفات: 1970 ) کو مغربی فکر کا امام سمجھا جاتا ہے۔ میںنے چاہا کہ میں برٹرینڈ رسل کی کتابوں کو پڑھوں۔ اس کی تلاش میں میں شبلی کالج کی لائبریری میں گیا۔ وہاں ایک الماری میں برٹرینڈرسل کی کتابوںکا ایک سیٹ رکھا ہوا تھا۔ میں نے لائبریرین سے کہا کہ میںاِن کتابوں کو پڑھنا چاہتا ہوں۔ آپ بہ یک وقت اِن میں سے کتنی کتابیں مجھے دے سکتے ہیں۔ لائبریرین نے کہا کہ یہاں اِن کتابوں کو کوئی پڑھتا نہیں ہے، یہ صرف یہاں رکھی ہوئی ہیں۔ آپ پورا سیٹ لے جائیے۔ پڑھ کر واپس کر دیجئے گا۔
میں تمام کتابوں کو لے کر واپس اپنے گھر آگیا۔ میں نے اپنی بیوی سے کہا کہ یہ اُس رائٹر کی کتابیں ہیں جو موجودہ زمانے میں سب سے بڑا ملحد (atheist) انسان سمجھا جاتا ہے۔ یہ سن کر میری بیوی متوحش ہوگئیں۔ انھوںنے کہا کہ اب آپ ضرور گم راہ ہوجائیں گے۔ یہ ایک واقعہ ہے کہ برٹرینڈ رسل اِس دور کا سخت ترین ملحد ہے۔ اِس لحاظ سے، اس کی تصنیفات کو پڑھنا عام ذوق کے مطابق، خطرے سے خالی نہیں تھا۔ مگر خدا کا شکر ہے کہ میں رسل کی دنیا میں داخل ہو کر اُس سے اِس طرح نکلا کہ میرا ایمان پہلے سے زیادہ پختہ ہوچکا تھا۔ برٹرینڈرسل کی کتابوں کو پڑھ کر میںنے جوکچھ پایا، اُس کا مختصر ذکر میں نے اپنی کتاب’’مذہب اور سائنس‘‘ میں کیا ہے۔ یہ کتاب اردو کے علاوہ، عربی اور انگریزی زبان میں بھی چھپ چکی ہے۔ میرے مذکورہ علمی تجربے کو اِس کتاب میں دیکھا جاسکتا ہے۔
اپنی عمر کے ابتدائی دور میں جب میںاعظم گڑھ میں مقیم تھا تو اکثر میں دار المصنفین جایا کرتا تھا، جو میرے گھر سے بہت قریب تھا۔ یہ علمی ادارہ مولانا شبلی نعمانی نے اپنے آخری زمانے میں قائم کیا تھا۔ اِس ادارے سے میری دلچسپی کا سبب زیادہ تر دو ہوا کرتا تھا—اہلِ علم سے ملنا، اور یہاں کے کتب خانے سے استفادہ کرنا۔
اُس وقت مولانا مجیب اللہ ندوی (وفات: 2006 ) یہاں بہ طور رفیق رہا کرتے تھے۔ ایک بار مولانا مجیب اللہ ندوی سے اِس موضوع پر گفتگو ہو رہی تھی کہ آدمی کو کب لکھنے کا کام کرنا چاہئے۔ انھوں نے کہا کہ میں نے اپنے استاد مولانا سید سلیمان ندوی (وفات: 1953 ) سے یہ سوال کیا تھا۔ انھوںنے اِس کاجواب اِن الفاظ میں دیا تھا— اتنا پڑھو، اتنا پڑھو کہ ابلنے لگے۔ اس کے بعد لکھو۔
اُس زمانے میں مولانا شاہ معین الدین احمد ندوی (وفات: 1974 ) دار المصنفین کے ناظم تھے۔ وہ یہاں تنہا رہا کرتے تھے۔ اُن کی صرف ایک صاحب زادی تھیں۔ ایک بار انھوںنے بتایا کہ میںنے اپنی لڑکی کی شادی کی تو اُس موقع پر میں نے نہ بارات بلائی اور نہ کوئی اور رواجی کام کیا۔ میںنے ایک لڑکے سے سادہ طورپر اپنی بیٹی کا نکاح کردیا۔اُس وقت میرے بینک کے کھاتے میں پانچ ہزار روپئے تھے۔ میں نے پانچ ہزار روپئے کا ایک چیک لکھا اور اپنی لڑکی کو دے دیا اور کہا کہ تم لوگ جس طرح چاہو، اِس پیسے کا استعمال کرو۔ یہی میری کل پونجی ہے۔
میں سمجھتا ہوں کہ یہ نکاح کا بہترین طریقہ ہے۔ مگر اِس طرح کی کوئی دوسری مثال میرے علم میںنہیں آئی۔ لوگ عام طورپر یہ کرتے ہیں کہ شادیوں میں بڑی بڑی رقمیں خرچ کرتے ہیں۔ یہ سارا خرچ صرف نمائشی رسموں کے لیے ہوتا ہے۔ اِس کا کوئی فائدہ کسی کو نہیں پہنچتا۔ موجودہ زمانے میں شادیوں میں جس طرح بڑی بڑی رقمیں خرچ کی جاتی ہیں، وہ بلا شبہہ تبذیر مال کے ہم معنیٰ ہیں، اور قرآن میں بتایا گیا ہے کہ جو لوگ تبذیر کا کام کریں، وہ شیطان کے بھائی ہیں (الإسراء: 27 )۔
اعظم گڑھ کے زمانۂ قیام میں میرا سارا وقت کتابوں کے مطالعے میں گزرتا تھا۔ اُس زمانے میں میرا حال یہ تھا کہ میں نہ صرف اپنے گھر پر یا لائبریوں میں کتابوں کا مطالعہ کرتا تھا، بلکہ راستہ چلتے ہوئے بھی میرے پاس کتاب ہوتی تھی اور دونوں ہاتھ میں لیے ہوئے میں اس کو پڑھتا رہتا تھا۔ میری عادت تھی کہ میں ہمیشہ ٹریفک اصول کے مطابق، بالکل بائیں طرف (extreme left) چلتا تھا۔ میری ماں زیب النسا (وفات: 1985 ) کو معلوم ہوا کہ میں راستہ چلتے ہوئے کتاب پڑھتا ہوں تو انھوںنے کہا کہ یہ شخص ضرور ایک دن سڑک پر کسی سواری سے ٹکرا کر مرے گا۔
دار المصنفین کا کتب خانہ مولانا شبلی نعمانی اور مولانا سید سلیمان ندوی کی کوششوں سے قائم ہوا تھا۔ اِس کتب خانے میں قرآن کی عربی تفاسیر، حدیث کی کتابیں اور اسلامی تاریخ کے موضوع پر عربی زبان میں تقریباً تمام مستند کتابیں موجود تھیں۔ اِس طرح مجھے ایک ہی کتب خانے میں اسلام کے بنیادی موضوعات پر گہرے مطالعے کا موقع مل گیا۔
کارل مارکس (وفات: 1883 ) کے بارے میں کہاجاتا ہے کہ اُس نے اقتصادیات اور اُس کے متعلق موضوعات کا تفصیلی مطالعہ جرمنی کے کتب خانے میں کیا تھا۔ اُس زمانے میں اُس کے انہماک کا حال یہ تھا کہ صبح کو جب لائبریری کا دروازہ کھلتا تو کارل مارکس پہلا شخص تھا جو اُس کے اندر داخل ہوتا۔ اِسی طرح شام کو جب لائبریری کا دروازہ بند ہوتا تو کارل مارکس آخری شخص تھا جو اُس سے باہر نکلتا تھا۔ دارالمصنفین کے کتب خانے میں مطالعے کے دوران میرا بھی عرصہ دراز تک یہی حال رہا۔
دوپہر کے وقت لنچ (lunch) کے لیے کتب خانہ بند کیا جاتا تھا۔ میں نے وہاں کے لائبریرین سے کہہ دیا تھا کہ آپ باہر سے دروازہ بند کرکے چلے جائیں اور مجھ کو کتب خانے کے اندر چھوڑ دیں۔ اُس زمانے میں مجھے دوپہر کے کھانے کا وقت نہیں ملتا تھا۔ اِس بنا پر کبھی کبھی بھوک سے مجھے چکر آجاتا تھا۔ اُس زمانے کا ایک واقعہ میں نے اپنی کتاب ’’تعبیر کی غلطی‘‘ میں اِن الفاظ میں نقل کیا ہے:
’’دار المصنفین (اعظم گڑھ) کے کتب خانے کا وسطی کمرہ ہے۔ چاروں طرف تفسیر، حدیث، فقہ، تاریخ، علمِ کلام اور لغت کی ایک درجن سے زیادہ الماریاں دیواروں سے لگی ہوئی رکھی ہیں۔ ایک بجے دن کا وقت ہے۔ کتب خانے کے بیرونی دروازے بند ہوچکے ہیں اور تمام لوگ دوپہر کے وقفے میں اپنے اپنے ٹھکانوں کو جاچکے ہیں۔ مکمل تنہائی کا ماحول ہے۔ ایک طرف میں ہوںاور دوسری طرف کتابیں۔ مسلسل مطالعے کی وجہ سے اُس وقت میری کیفیت یہ ہوچکی تھی کہ ایسا معلوم ہوتا تھا، جیسے کسی نے میرے سارے بدن کا خون نچوڑ لیاہو۔ تفسیر ابن جریر کی ایک جلد دیکھ کر میں اٹھا کہ اُس کو الماری میں رکھ کر دوسری کتاب نکالوں، مگر اٹھا تو کم زوری کی وجہ سے مجھے چکر آگیا اور میں سمت بھول گیا۔ یہ میرا مدت کا جانا پہچانا کمرہ ہے، مگر تھوڑی دیر تک میں وہاں اس طرح کھڑا رہا کہ میری سمجھ میں نہیں آتا تھا کہ میں کدھر جاؤں اور کس الماری سے کتاب نکالوں۔ کچھ دیر کے بعد ہوش آیا تو معلوم ہوا کہ کتابوں کی متعلقہ الماری فلاں سمت میں موجود ہے‘‘ (صفحہ 14)۔
دار المصنفین میں ہال نما ایک بڑا کمرہ ہے جس میں دار المصنفین سے متعلق علماء کی تاریخی یادگاریں رکھی ہوئی ہیں۔ اِنھیں میں سے ایک لکڑی کا پاؤں ہے جس کو مولانا شبلی نعمانی نے حادثے کے بعد استعمال کیا تھا۔ 1907 میں ایسا ہوا کہ شکار کے لیے بھری ہوئی بندوق چل گئی جس کی وجہ سے اُن کا بایاں پاؤں شدید طور پر زخمی ہوگیا، اور بالآخر ڈاکٹروں کے مشورے کے مطابق، اُس پاؤں کو کاٹ دیاگیا۔اِس واقعے کے بعد مختلف شعراء نے حسنِ تعلیل کے طورپر نظمیں لکھیں۔ مولانا اقبال احمد خاں سہیل نے بھی اِس پر کچھ اشعار لکھے تھے۔ اُن کا ایک شعر یہ تھا:
تھا اہلِ عدم کو بھی اشتیاقِ پابوس اک پاؤں وہاں بھی چاہیے تھا جانا
مولانا شبلی نعمانی نے اِس طرح کے حسنِ تعلیل کو پسند نہیں کیا۔ انھوں نے اِس معاملے میں اپنے جذبات کا اظہار اپنے ایک فارسی شعر میں اس طرح کیا تھا:
شبلی ٔ نامہ سیہ را بہ جزائے عملش پابریدند و صدا خاست کہ سر می باید
دوسرے شعراء نے اِس معاملے کو جس طرح نظم کیا تھا، وہ صرف مضمون بندی یا حسنِ تعلیل کے طورپر تھا۔ لیکن مولانا شبلی نعمانی نے اِس واقعے پر جو شعر لکھا، وہ اِس معاملے میںایک مومن کے احساسات کی ترجمانی کرتا ہے۔ مومن کبھی دوسروں کی تعریف سے غلط فہمی میں نہیں پڑتا۔ عین اُس وقت جب کہ لوگ اس کی تعریف کررہے ہوتے ہیں، اس کی اندرونی نفسیات اُس کو اپنی بے حقیقتی یاد دلاتی ہے۔
ڈاکٹر محمد اقبال (وفات: 1938 ) کو دار الصنفین سے اور مولانا سید سلیمان ندوی سے گہرا تعلق تھا۔ اقبال کا خیال تھا کہ اُخروی جنت ایک روحانی جنت ہے۔ ڈاکٹر اقبال نے اپنی کتاب ’’تشکیل جدید الہیاتِ اسلامیہ‘‘ میں لکھا ہے کہ — جنت اور جہنم اَحوال ہیں، مقامات نہیں :
Heaven and Hell are states, not localities.
ڈاکٹر اقبال اور سید صاحب کے درمیان ایک بار جنت کے موضوع پر گفتگو ہوئی۔ اقبال کا کہنا تھا کہ جنت روحانی ہے۔ اِس کے برعکس، سید صاحب کہتے تھے کہ جنت مادی ہے۔ کافی بحث کے بعد دونوں کے درمیان اتفاق نہ ہوسکا۔ آخر کار، سید صاحب نے کہا— ٹھیک ہے، آپ اپنی روحانی جنت میں جائیے گا اور ہم ان شاء اللہ اپنی مادّی جنت میں جائیں گے۔
جنت کے بارے میں اقبال کا مذکورہ نظریہ صرف ایک فلسفیانہ تصور تھا، حقیقت سے اُس کا کوئی تعلق نہیں۔ قرآن کے واضح بیانات اِس تصور کے خلاف ہیں۔ مثلاً قرآن کی سورہ نمبر 2 میں ارشاد ہوا ہے : ’’اور خوش خبری دے دو اُن لوگوں کو جو ایمان لائے اور جنھوں نے نیک کام کیے، اِس بات کی کہ اُن کے لیے ایسے باغ ہوں گے جن کے نیچے نہریں جاری ہوں گی۔ جب بھی اُن کو اُن باغوں میں سے کوئی پھل کھانے کو ملے گا، تو وہ کہیں گے— یہ وہی ہے جو اِس سے پہلے ہم کو دیاگیا تھا۔ اور ملے گا اُن کو اُس سے ملتا جلتا ‘‘( البقرۃ: 25 )۔
حقیقت یہ ہے کہ روحانی جنت کا تصور قرآن کے خلاف بھی ہے اور انسانی فطرت کے خلاف بھی۔ یہ خداکی رحمت سے بعید ہے کہ وہ دنیا میں مومن کو ایسی ذمے داریوں میں ڈالے جس کو انجام دینے کے لیے اُس سے مادی نعمتیں چھوٹ جائیں، لیکن آخرت میں جب وہ مومن کو اس کے عمل کا انعام دے تو وہ صرف پُر اسرار روحانی جنت کی شکل میں ہو۔ مادّی قربانی کا انعام بھی مادی نعمت کی صورت میں ہونا چاہیے۔ یہ انسانی فطرت کا ایسا تقاضا ہے جس سے کوئی بھی شخص مستثنیٰ نہیں۔
30 دسمبر 2008 کو میں اپنی ٹیم کے کچھ افراد کے ساتھ شبلی نیشنل کالج کے گیسٹ ہاؤس میںتھا۔ جامعۃ الفلاح (بلریا گنج، اعظم گڑھ) کے کچھ اساتذہ، مولانا نظام الدین اصلاحی کے ہم راہ ملاقات کے لیے آئے۔ ان حضرات سے دیر تک گفتگو ہوتی رہی۔ پھر انھوں نے ہم لوگوں کو جامعۃ الفلاح آنے کی دعوت دی۔ میں نے اِس دعوت کو قبول کرلیا اور اِس کے مطابق، اگلے دن صبح کو مولانا نظام الدین اصلاحی کے ساتھ جامعۃ الفلاح کا سفر ہوا۔
جامعۃ الفلاح عربی اور دینی تعلیم کا ایک مشہور ادارہ ہے۔ جامعۃ الفلاح پہنچ کر اس کے مختلف شعبوں کودیکھنے کا اتفاق ہوا اور یہاں اساتذہ اور طلبا سے ملاقاتیں ہوئیں۔اِس تعلیمی ادارے کا آغاز 1954 میں ایک معمولی مکتب سے ہوا تھا۔ اِس کے بعد حکیم محمد ایوب (وفات: 2004 ) اور دوسرے اصحاب کی مسلسل کوشش سے وہ اب ایک بڑے جامعہ کی صورت اختیار کرچکا ہے۔ اِس وقت جامعہ کے دو بڑے حصے ہیں۔ دونوں ایک دوسرے سے الگ الگ ہیں۔ ایک حصے کا تعلق طلبا سے ہے، اور دوسرے حصے کا تعلق طالبات سے۔ دونوں میں عالمیت اور فضیلت تک تعلیم ہوتی ہے۔ طلبا کی مجموعی تعداد تقریباً چار ہزار ہے۔ طلبا کے مقابلے میں طالبات کی تعداد زیادہ ہے۔
جامعۃ الفلاح میں میرے دو خطابات ہوئے۔ ایک، طلبا کے درمیان اور دوسرا، طالبات کے درمیان۔ طلبا سے خطاب کا انتظام یہاں کے بڑے ہال میں کیا گیا تھا۔ طلبا اور اساتذہ دونوں یہاں موجود تھے اور پورا ہال مکمل طورپر بھرا ہوا تھا۔ طلبا کے سامنے خطاب کرتے ہوئے میں نے جو کچھ کہا، اُس کا خلاصہ یہاں درج کیا جاتا ہے۔
میرے سامنے نوجوان طلبا بیٹھے ہوئے تھے۔ میں نے کہا کہ جب میںنوجوانوں کو دیکھتا ہوں تو میرا دل بھر آتا ہے۔ میں سوچتا ہوں کہ خدا نے نوجوانوں کی شکل میں اپنی زمین پر کچھ پھول کھلائے ہیں۔ خدا چاہتا ہے کہ یہ پھول مہکیں اور دنیا کو اپنی خوش بو سے معطر کردیں۔ میںنے کہا کہ اِس مدرسے کا نام الفلاح ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ یہ کسی مدرسے کا سب سے زیادہ درست نا م ہے۔ کیوں کہ مدرسہ آدمی کو حقیقی فلاح کاراز بتاتا ہے۔ میںنے کہا کہ آپ کو سب سے پہلے شعوری طورپر یہ جاننا چاہیے کہ آپ نے یہاں آکر زندگی کا صحیح آغاز پالیا ہے۔ آپ نے یہاں آکر علم سے اپنی زندگی کا آغاز کیا ہے۔ اوریہ ایک حقیقت ہے کہ اسلام کا آغاز علم (اقرأ) سے ہوا ہے۔ جس آدمی نے زندگی کا صحیح آغاز پالیا، وہ ضرور اس کے صحیح انجام تک پہنچے گا۔ اِسی حقیقت کو ایک مغربی مفکر نے اِن الفاظ میں بیان کیا ہے— میرے آغاز کار کا طریقہ شروع سے آغاز کرنا ہے:
My way is to begin from the beginning.
اِس موقع پر طلبا کی نسبت سے جو باتیں میں نے بتائیں، اُن میں سے ایک یہ تھی کہ حصولِ علم کے لیے روحِ تجسس (spirit of inquiry) لازمی طورپر ضروری ہے۔ آپ لوگوں کو اپنے اندر تجسس کی اسپرٹ نہایت گہرائی کے ساتھ پیدا کرنا چاہیے۔ پھر میںنے کہا کہ زندگی کی کامیابی کے لیے حضرت علی کا ایک قول بہت زیادہ اہمیت رکھتا ہے۔ وہ قول یہ ہے: قیمۃ المرء مایُحسنہ:
The value of a person lies in excellence.
اِس کے بعد کلّیۃ البنات میںجامعہ کی طالبات سے خطاب کرنے کا موقع ملا۔یہ طالبات نہایت ڈسپلن کے ساتھ جامعہ کے ایک حصے میں بٹھائی گئی تھیں۔ میںنے اپنی تقریر میںایک مغربی مفکر کے اِس قول کو دہرایا— ہر بڑے کام کے آغاز میں ایک عورت موجود ہوتی ہے:
There is a woman at the beginning of all great things.
اِس کی تفصیل کرتے ہوئے میںنے کہا کہ آپ کا یہ مدرسہ آپ کو اِسی قسم کی عظیم خاتون بنانے کے لیے قائم کیاگیا ہے۔ میںنے کہا کہ تاریخ کی عظیم خاتون عائشہ صدیقہ تھیں۔ یہ کہنا صحیح ہوگا کہ وہ مدرسۂ نبوت کی ایک کامیاب طالبہ تھیں۔ تجربے سے معلوم ہوتاہے کہ عورت کے اندر اخذ (grasp)کی صلاحیت مَردوں سے زیادہ ہوتی ہے۔ اُس کا ایک ثبوت حضرت عائشہ کی مثال ہے۔
صحیح البخاری کی روایت کے مطابق، حضرت عائشہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی عام پالیسی کو بتاتے ہوئے کہا: ما خُیِّر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بین أمرین إلا اختار أیسرہما (صحیح البخاری، کتاب الأدب)۔ یہاں قابلِ لحاظ بات یہ ہے کہ رسول اللہ نے لفظی طورپر کبھی یہ بات نہیں کہی تھی۔ اِس کے باوجود عائشہ نے رسول اللہ کی پالیسی کے بارے میں اِس اہم اصول کو اخذ کیا۔ اِس قسم کی اخّاذیت کا ثبوت کسی مرد کے یہاں نہیں ملتا۔
میں نے کہا کہ انگریزی کا ایک مقولہ ہے— لیڈیز فرسٹ (ladies first) ۔ اِس مقولے کی سب سے اعلیٰ مثال پیغمبرانہ تاریخ میں ہے، اور وہ حضرت ہاجرہ کی مثال ہے۔ یہ دراصل ہاجرہ کی عظیم قربانی تھی جس کے ذریعے ہیروؤں کی وہ نسل (nation of heroes) ظہور میں آئی جس میں رسول اور اصحابِ رسول جیسے اعلیٰ افراد پیداہوئے۔ یہ ایک عظیم تاریخی عمل (process) تھا جس کا آغاز ایک عورت کی بے مثال قربانی سے ہوا ۔
میں نے کہا کہ ہر عورت کے لیے اِس دنیا میں ایک بڑا رول مقدر ہوتا ہے۔ اِس رول کو ادا کرنے کی صرف ایک خاص شرط ہے، اور وہ ہے اپنے آپ کو ڈسٹریکشن (distraction) سے بچانا۔ ہر وہ چیز جو آپ کو اپنے مقصد ِ اعلیٰ کی طرف کامل توجہ دینے سے ہٹائے، وہ ڈسٹریکشن کا ذریعہ ہے۔ مثلاً شاپنگ، آؤٹنگ، فیشن، تقریبات اور اولاد، وغیرہ۔ اسلام کے مطابق، اولاد ایک آزمائش (التّغابن: 15 ) ہے۔ اولاد کے بارے میں والدین کی ذمے داری اُن کی حقیقی ضرورت کو پورا کرنا ہے، نہ کہ اُن کو قلبی محبت کا مرکز بنانا۔قلبی محبت کا مرکز صرف خداوند ِ ذوالجلال ہے، نہ کہ اولاد۔
ہر انسان کے اندر پلس پوائنٹ کے ساتھ ایک مائنس پوائنٹ ہوتا ہے۔ یہی معاملہ عورت کا ہے۔ عورت کے اندر پلس پوائنٹ کے ساتھ ایک مائنس پوائنٹ موجود ہے، اور وہ اُس کا آرائش پسندانہ مزاج ہے۔ عورت کو اپنی اِس کم زوری کے بارے میں شعوری طورپر زیادہ بیدار ہونا چاہیے۔ ورنہ ایسا ہوگا کہ عورت کے اوپر اُس کا آرائش پسندانہ مزاج غالب آجائے گا اور وہ زندگی میںاپنا تعمیری رول ادا کرنے سے قاصر رہے گی۔
جامعۃ الفلاح کے پروگرام میںشرکت کے بعد ہم لوگ بذریعہ کار بڈھریا گئے۔اعظم گڑھ شہر سے بڈھریا کا فاصلہ 27 کلومیٹر ہے۔ بڈھریا میرا آبائی وطن ہے۔ راستے میں سڑک کے کنارے چند مقامات آئے۔ اُن میں سے ایک پھریہا تھا۔ پھریہا اعظم گڑھ کا وہ گاؤںہے جہاں 1863 میں مشہور مفسر قرآن مولانا حمید الدین پیدا ہوئے۔ مولانا حمیدالدین نے پھریہا کی تعریب کرکے اُس کو فراہا بنایا اور پھر اس میں یائے نسبت شامل کرکے اپنے نام کے ساتھ فراہی لکھنا شروع کیا۔تعریب کا یہ ذوق اِس علاقے میں کافی بڑھا اور کئی گاؤں کے لوگوں نے اس کی تقلید کی۔ مثلاً سیدھا کے لوگ اپنے کو مستقیمی لکھنے لگے۔ چھاؤں کے لوگ اپنے کو ظلّی لکھنے لگے۔ اَساڑھا کے لوگ مطری لکھنے لگے، وغیرہ۔
مولانا حمید الدین فراہی کا انتقال 1930 میں ہوا۔ میں نے اُن کو دیکھا نہیں۔ لیکن میں یہ کہہ سکتا ہوں کہ اُن کے دو خاص شاگردوں سے مجھے حصول علم کا موقع ملا— مولانا امین احسن اصلاحی (وفات: 1998 )، اور مولانا اختر احسن اصلاحی (وفات: 1985 )۔مولاناحمید الدین فراہی کے بارے میں کئی لوگوں نے اُن کے مختصر تذکرے شائع کیے ہیں۔ مثلاً سید سلیمان ندوی، مولانا امین احسن اصلاحی، وغیرہ۔ لیکن مولانا حمید الدین فراہی پر زیادہ جامع کتاب ڈاکٹر شر ف الدین اصلاحی (مقیم اسلام آباد، پاکستان) نے ’’ذکرِ فراہی‘‘ کے نام سے شائع کی ہے۔ یہ کتاب 840 صفحات پرمشتمل ہے۔ اِس کتاب کی تیاری میں تقریباً 18 سال صرف ہوئے ہیں۔ میرے پاس کتاب کا وہ نسخہ ہے جو 2001 میں دائرۂ حمیدیہ (مدرسۃ الاصلاح، سرائے میر، اعظم گڑھ) سے شائع ہوا ہے۔ معلوم ہوا ہے کہ اِس کتاب کا ایک ایڈیشن دار التذکیر (لاہور) نے شائع کیا ہے۔ اِس میں مصنف نے کچھ اضافے بھی کیے ہیں۔
پھریہا کا گاؤں ایک سڑک کے کنارے واقع ہے۔ یہ سڑک انگریزوں کے زمانے میں بنائی گئی تھی۔ لیکن پھریہا سے ہمارے گاؤں تک پختہ سڑک نہ تھی۔ اب یہاں اچھی سڑک بن گئی ہے۔ ہماری گاڑی اِس سڑک پر گزرتے ہوئے وہاں پہنچی جہاں کُنور ندی واقع ہے۔ یہ ندی ہمارے گاؤں کی سرحد پر ہے۔ اِس ندی کے اوپر ایک پُل ہے۔ اُس وقت یوپی میں پہلی بار برطانی اقتدار کے تحت کانگریسی وزارت بنی تھی۔ مولانا اقبال احمد خاں سہیل اِس صوبائی اسمبلی کے ایک رکن تھے۔ اُن کی کوششوں سے 1937 میں یہاں ایک پل بنایا گیا۔
اُس وقت میں نواجوانی کی عمر میں تھا۔ یہ پل بنا تو میں نے اس کے بارے میں یہشعر لکھا تھا:
بحمدللہ کہ ایں جسرِ عظیم الشاں مکمل شد زسعی ٔ مولوی اقبال احمد خاں مکمل شد
اُس زمانے میں یہ پل میرے لیے غارِ حرا کے مانند بن گیا۔ میں صبح وشام یہاں آتا اور پل کی فصیل پر بیٹھ کر سورج کے نکلنے اور سورج کے ڈوبنے کا منظر دیکھتا رہتا۔ پل کے نیچے دریا بہہ رہا ہوتا تھا۔چاروں طرف دور تک درخت اور کھیت کے سرسبز مناظر تھے جن کے اوپر چڑیاں اڑتی ہوئی نظر آتی تھیں۔ اوپر نیلے آسمان کا پُرشکوہ منظر ہوتا تھا۔ یہاں میں دیر تک اکیلا بیٹھا رہتا تھا اور فطرت کے مناظر میں کھویا ہوا اُس کو دیکھتا رہتا تھا۔ یہ پل گویا کہ میرے لیے تلاشِ حق کے طویل سفر کا ایک ابتدائی مرحلہ تھا۔ فطرت کی یہ دنیا میرے لیے ایک کھلی تربیت گاہ کے ہم معنی بن گئی۔
کنور ندی کے اِس پل سے آگے بڑھ کر ہم گاؤں میں داخل ہوئے تو سب سے پہلے ہمارے سامنے وہ اسکول تھاجس کے سالانہ جلسے میں شرکت کے لیے مجھے بلایا گیا تھا۔ ہمارے گاؤں میںتقریباً ڈیڑھ سو سال پہلے ڈاکٹر عبد العلی کے خاندان نے ’’درس گاہِ اسلامی‘‘ کے نام سے ایک مکتب قائم کیا تھا۔ اس میںاب کافی توسیع ہوچکی ہے۔ میری ابتدائی تعلیم اِسی درس گاہ میں ہوئی۔ میرے بچپن کے زمانے میں یہاں مولانا فیض الرحمن اصلاحی (وفات: 1972 ) اُس کے معلم تھے۔ وہ مدرسۃ الاصلاح کے بانی مولانا محمد شفیع (وفات: 1945 ) کے صاحب زادے تھے۔ اُن سے میں نے ابتدائی تعلیم حاصل کی۔ اِس کے بعد میرے چچا صوفی عبد المجید خاں (وفات: 1949 ) نے مزید تعلیم کے لیے مجھے مدرسۃ الاصلاح (سرائے میر، اعظم گڑھ ) میں داخل کرایا۔
اِس گاؤں کے کنارے ہمارے خاندان کے لوگ رہتے تھے۔ یہ ایک بڑا علاقہ تھا جس میں باغ وغیرہ شامل تھا۔ موجودہ زمانے کے تقاضے کے تحت جب ہمارے خاندان کے لوگ گاؤںسے نکل کر شہروں میں چلے گئے تو یہ پورا علاقہ تقریباً غیر آباد ہوگیا۔ میرے بھتیجے مسٹر شکیل احمد خاں انجینئر جو شارجہ میں رہتے ہیں، اُن سے میری ملاقات ہوئی تو میں نے کہا کہ ہمارے خاندان والوں نے خود تو اپنے بچوں کو پڑھایا، لیکن انھوں نے کوئی تعلیمی ادارہ قائم نہیں کیا۔ اب آپ یہ کیجئے کہ ہمارے خاندان کے گھر اور باغ کو ملا کر جو ایک بڑی جگہ موجود ہے، وہاں ایک معیاری اسکول قائم کردیجئے۔ یہ بات مسٹر شکیل احمد خاں کی سمجھ میں آگئی۔ انھوں نے طے کر لیا کہ یہ کام اُنھیں کرنا ہے۔ چناں چہ انھوں نے لمبی کوشش کے بعد 2000 ء میں یہاں ایک اسکول کی بنیاد رکھ دی۔ پھر ان کو خود خاندان کے ایک فرد ڈاکٹر احمد صفی انصاری کا مقامی تعاون حاصل ہوگیا، جنھوں نے اپنے آپ کو اِس تعمیری کام میں وقف کردیا۔ اِس کا نتیجہ یہ ہے کہ آج یہاں ایک اچھا انگلش میڈیم اسکول وجود میںآچکا ہے۔اِس اسکول کے قیام میں مسٹر یمین الاسلام خاں انجینئر (صاحب زادہ مولانا اقبال احمد خاں سہیل) کا بہت بڑا کنٹری بیوشن ہے۔ اُن کے تعاون کے بغیر اِس کام کو انجام دینا سخت مشکل تھا۔
1971 میںجب میں پاکستان گیا تو وہاں کے ایک اخبار میں میںنے پاکستان کے بارے میں ایک مضمون دیکھا۔ اِس مضمون میں ترتیب کے ساتھ تین لوگوں کی تصویر چھپی ہوئی تھی—ڈاکٹر محمد اقبال، محمد علی جناح اورنواب زادہ لیاقت علی خاں۔ ہر تصویر کے سامنے تین جملے الگ الگ لکھے ہوئے تھے:
He thought, He fought, He sacrificed.
کچھ ایسا ہی معاملہ ہمارے گاؤں کے اِس اسکول کا بھی ہے۔ اِس اسکول کا تصور راقم الحروف نے دیا۔ اِس کے بعد مسٹر شکیل احمد خاں نے اِس کی بنیاد رکھی، اور پھر ڈاکٹر احمد صفی انصاری نے اس کو مکمل کیا، اِس طرح اِن تینوں آدمیوں کو لے کر یہ کہا جاسکتا ہے کہ:
He thought, He founded, He finalized.
مسٹر شکیل احمد خاں وغیرہ نے اِس اسکول کا نام یہ رکھا ہے— ضیاء الدین خاں میموریل اسکول۔ اِس اسکول کا الحاق سی بی ایس سی بورڈ(دہلی) سے ہوچکا ہے۔ اِس اسکول میں اطراف کے تقریباً900 لڑکے اور لڑکیاںتعلیم حاصل کررہے ہیں۔ اسکول کے پاس طلبا کی آمد ورفت کے لیے اِس وقت 9 بسیں ہیں، اِن بسوں کے ذریعے 70 کلومیٹر کے دائرے میں اطراف کے علاقوں سے طلبا اور طالبات اسکول میںآتے ہیں۔
31 دسمبر 2008 کو اسکول کا سالانہ جلسہ (annual function) تھا۔ اس کا اسٹیج اسکول کے وسیع کیمپس میں نہایت پُر رونق انداز میں بنایا گیا تھا۔ اِس پروگرام میں گاؤں کے لوگوں کے علاوہ، طلبا کے سرپرست اور متعلقین حضرات بھی شریک تھے۔ اِس موقع پر اسکول کے طلبا اور طالبات نے مختلف قسم کے پروگرام پیش کیے۔ یہ پروگرام اردو اور ہندی کے علاوہ، زیادہ تر انگریزی زبان میں تھے۔ طلبا اور طالبات نے غیر معمولی طورپر شان دار انداز میں اس کو پیش کیا، جو بلاشبہہ اسکول کے اساتذہ اور ذمہ دارحضرات کی مخلصانہ کوششوں کا نتیجہ تھا۔
یہ فنکشن دیر تک چلتا رہا۔ آخر میں میرا خطاب تھا۔ میںنے اپنی تقریر میں بہادر شاہ ظفر (وفات: 1862 ) کے اِس شعر کو پڑھا:
فیض گر چاہتا ہے، فیض کے اسباب بنا پُل بنا، چاہ بنا، مسجدوتالاب بنا
میں نے کہا کہ ہمارے خاندان نے یہاں یہ چاروں چیزیں بنائیں— پل بھی، کنواں بھی، اور مسجد بھی اور تالاب بھی۔ لیکن یہاں مطلوب رونق پیدا نہ ہوسکی۔ آج یہاں ہر طرف رونق دکھائی دیتی ہے۔ یہ تعلیمی ادارے کا نتیجہ ہے۔ موجودہ زمانے میں سب سے زیادہ اہمیت تعلیم کو ہوگئی ہے۔ موجودہ زمانے کے اکثر معاملات تعلیم سے وابستہ ہوگئے ہیں۔ اِس لیے زندگی میںبیداری اور سرگرمی لانے کے لیے سب سے زیادہ ضروری یہ ہے کہ اچھے تعلیمی ادارے قائم کیے جائیں۔ مولاناالطاف حسین حالی (وفات: 1914 ) جو سرسید احمد خاں (وفات: 1898 ) کے شاگرد تھے، انھوں نے اِس حقیقت کو اِن الفاظ میں بیان کیا تھا:
بس اب وقت کا حکمِ ناطق یہی ہے کہ دنیا میں جو کچھ ہے، تعلیم ہی ہے
بڈھریا (بَرہرہ) میرا آبائی وطن ہے۔ لمبے عرصے کے بعد جب میں یہاں آیا تو اِس سے متعلق بہت سی یادیں تازہ ہوگئیں۔ میرے خاندان کی تاریخ یہ ہے کہ تقریباً پانچ سو سال پہلے میرے مورثِ اعلیٰ حسن خاں سُوات(قدیم افغانستان) سے گھوڑے پر سوار ہوکر انڈیا آئے۔ پہلے وہ جون پور آئے۔ یہاں ایک افغانی خاندان حکومت کرتا تھا۔ اُس کو شاہانِ شرقی کہا جاتا تھا۔ بعد کو ضیاء الدین خاں کے زمانے میں یہ خاندان جون پور سے اعظم گڑھ آیا اور بڈھریا میں آباد ہوا۔ اِسی گاؤں میں میری پیدائش ہوئی۔
جب میں سنِ شعور کو پہنچا تو اکثر میں سوچتا تھا کہ میرے مورثِ اعلیٰ جب افغانستان سے چلے تو راستے میںان کو بر صغیر ہند کے بہت سے بڑے بڑے شہر ملے، لیکن وہ کسی شہر میں آباد نہیںہوئے، بلکہ چلتے چلتے آخر کار وہ بڈھریا میں آباد ہوگئے جو کہ ایک دور اُفتادہ (remote) اور غیر ترقی یافتہ گاؤں تھا۔ اُس کی حکمت میری سمجھ میں نہیں آتی تھی۔ لیکن اب میں سوچتا ہوںتو اِس واقعے میں خداکی عظیم حکمت دکھائی دیتی ہے۔ اگر ہمارے مورثِ اعلیٰ کسی بڑے شہر میں آباد ہوگئے ہوتے تو میرا بھی وہی حال ہوتا جو عام طور پر دوسرے مسلم مفکرین کا ہوا ہے۔ اُن کا ذہن شہر ی حالات کے تحت بنا، فطری حالات میں جو ذہن سازی ہوتی ہے، اُس کا انھیںتجربہ نہ ہوسکا۔
اِس معاملے پر جب میںغور کرتا ہوں تو مجھے اپنے حالات میں اور بنو اسماعیل کے قدیم حالات میں عجیب مشابہت دکھائی دیتی ہے۔ چار ہزار سال پہلے حضرت ابراہیم اپنے وطن عراق سے نکلے۔ راستے میں بہت سے شہر ملے، لیکن وہ اِن میں سے کسی شہر میں آباد نہیںہوئے۔ چلتے چلتے وہ قدیم مکہ کے صحرا میں پہنچے اور یہاں ہاجرہ اور اسماعیل کو آباد کردیا۔ اسی صحرائی ماحول میں رفتہ رفتہ بنو اسماعیل کی نسل بنی جو مخصوص حالات کی بنا پر اپنی اصل فطرت پر قائم تھی۔ اِس نسل سے رسول اور اصحابِ رسول پیدا ہوئے۔ اِسی گروہ میں سے وہ لوگ تیارہوئے جن کو بدر کے موقع پر پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے ’عصابہ‘ کا لقب دیا تھا اور فرمایا تھا کہ— خدایا، اگر تو اِس عصابہ کو ہلاک کردے تو اِس کے بعد زمین پر تیری عبادت نہ ہوگی (اللہم إن تہلک اہذہ العصابۃ، لا تُعبد فی الأرض أبداً)
اصل یہ ہے کہ اِس دنیا میں تمام واقعات اسباب کے پردے میں ہوتے ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اِس قول کا مطلب یہ تھا کہ ایک لمبے تاریخی عمل (historical process) کے بعد یہ عصابہ بنا ہے، اگر یہ لوگ ہلاک ہوجائیں تو دوبارہ ایک لمبا تاریخی عمل درکار ہوگا۔ اور اِس قسم کا تاریخی عمل اِس دنیا میں کبھی ٹھیک اُسی طرح قابلِ اعادہ (repeatable) نہیں ہوتا۔
بنو اسماعیل پر مشتمل عصابہ قدیم روایتی ماحول میں بنا تھا۔ میں جب اپنے حالات پر غور کرتا ہوں تو تعجب خیز طورپر یہ حقیقت سامنے آتی ہے کہ میری زندگی میں اپنی نوعیت کے اعتبار سے اِسی قسم کا عمل نئے حالات کی نسبت سے دوبارہ پیش آیا ہے۔
میرے مورثِ اعلیٰ بھی دور کے ایک ملک افغانستان سے روانہ ہوئے۔ درمیان میںوہ بڑے بڑے شہروں کو چھوڑتے ہوئے ایک دور افتادہ گاؤں (بڈھریا) پہنچے اور یہاں آباد ہوئے۔ قدیم حجاز جس طرح ایک صحرائے فطرت تھا، اُسی طرح بڈھریا کا علاقہ بھی ایک صحرائے فطرت کے ہم معنی تھا، اِس فرق کے ساتھ کے قدیم صحرا ایک خشک صحرا تھا، اور موجودہ صحرا ایک سرسبز صحرا۔ بڈھریا میں میری پیدائش ہوئی تو میرے حالات نے آغاز ہی سے مجھ کو حق کا متلاشی بنا دیا۔ لمبے عرصے کی تلاش کے بعد آخر کار میرے ساتھ دریافتِ حق کا وہ معاملہ ہوا جس کو قرآن میں: ووجدک ضالاً فہدی (الضحیٰ: 7 ) کے الفاظ میں بیان کیا گیا ہے۔
اِس دریافت کے بعد میں نے اللہ کی توفیق سے اپنا دعوتی مشن شروع کیا۔ ابتدائی طورپر میرے گھر والوں نے میرا ساتھ دیا۔ اُس کے بعد دھیرے دھیرے ایک دعوتی ٹیم بنی جس کے افراد نہ صرف دہلی میں، بلکہ دنیا کے مختلف مقامات پر پائے جاتے ہیں۔ میرے گھر والے اگر میرے لیے بلاتشبیہہ اہلِ بیت ہیں تو میرے ساتھی میرے لیے بلاتشبیہہ اصحاب کا درجہ رکھتے ہیں۔ اِس طرح تعجب خیز طور پر یہ واقعہ پیش آیا کہ عصر حاضر میں قدیم عصابہ کی طرح ایک جدید عصابہ وجود میںآیا۔ یہ جدید عصابہ استثنائی طورپر دو صفتوں کا حامل ہے۔ ایک طرف حدیث کے الفاظ میں، اس کو بصیرت زمانہ حاصل ہے اور دوسری طرف وہ استثنائی طورپر دعوت الی اللہ کا بے آمیز شعور رکھتا ہے۔
جب میں اِن باتوں کو سوچتا ہوں تو ایسا معلوم ہوتا ہے ، جیسے خاتمۂ تاریخ (end of history) سے پہلے آنے والے دور میں پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشین گوئی واقعہ بن رہی ہے، یعنی اصحابِ رسول کے بعد جدید تاریخ میں غالباً وہ دوسرا گروہ وجود میں آیا ہے جس کو پیغمبر آخر الزماں صلی اللہ علیہ وسلم نے اخوانِ رسول سے تعبیر کیا تھا۔
بڈھریا میرا مسقطِ رأس(birth place) ہے۔ یکم جنوری 1925 کو جب کہ میں پیدا ہوا، اُس وقت بڈھریا صرف ایک دور افتادہ (remote) معمولی گاؤں تھا۔ سیاسی سرگرمیاں یا تمدنی ترقیاں ابھی تک یہاں نہیں پہنچی تھیں۔ میری ابتدائی تعلیم گاؤں کے مدرسے میں ہوئی۔ یہاں میرے استاذ مولانا فیض الرحمن اصلاحی تھے۔ میرے بچپن اور جوانی کی پوری عمر اِسی ماحول میں گزری۔
میری زندگی کا سب سے انوکھا واقعہ یہ ہے کہ بعد کے زمانے میں کس طرح دعوت الی اللہ میرا مشن بن گیا۔ اُس وقت میرے خاندان میں زیادہ تر شعر و شاعری کا ماحول تھا۔ ہم لوگ اکثر بیت بازی کیا کرتے تھے۔ 1938 میں میرے چچا صوفی عبد المجید خاں نے مدرسۃ الاصلاح (سرائے میر)میں میرا داخلہ کرایا تو یہاں بھی کوئی شہری ماحول نہ تھا۔ مدرسے کا تعلیمی ماحول بھی تمام تر نظمِ قرآن کے مخصوص فراہی فکر پر مبنی تھا۔ اِس پوری مدت میں کہیںبھی میںنے یہ بات نہیں سنی کہ غیر مسلموں کے درمیان دعوتی کام کرنا لازمی طورپر مسلمانوں کی شرعی ذمے داری ہے۔ مدرسے میں اور مدرسے کے باہر میں نے اسلامیات کا جو مطالعہ کیا، اُس میں بھی دعوت کا یہ تصور حذف تھا۔ قرآن کی تفسیروں میں سے کوئی بھی تفسیر دعوت الی اللہ کے تصور کے تحت نہیں لکھی گئی۔ حدیث کے مجموعوں میں جو تراجمِ ابواب ہیں، اُن میں سے کسی بھی کتاب میں دعوت کو ترجمہ باب نہیں بنایا گیا ہے۔ فقہ کے موضوع پر بہت زیادہ کتابیں لکھی گئی ہیں، اُن میں بھی سیاسی اور غزواتی پہلو نمایاں نظر آتا ہے۔ مسلم تاریخ میں جو بڑی بڑی کتابیں لکھی گئی ہیں، اُن میں بھی سارے ابواب ہیں، مگر اُس میں دعوت کا باب موجود نہیں۔ مثلاً الغزالی، ابن تیمیہ، شاہ ولی اللہ دہلوی، وغیرہ کی کتابیں۔ ایسی حالت میں یہ ایک انتہائی انوکھی بات ہے کہ کس طرح بعد کے دور میں دعوت الی اللہ میری زندگی کا واحد مشن بن گیا۔
اسی طرح میری زندگی کا ایک انوکھا پہلو یہ ہے کہ میرے زمانے میں، مسلم دنیا میں ہر طرف، ادبی ذہن چھایا ہوا تھا۔ ادب اور شاعری کا اسلوب غالب اسلوب کی حیثیت رکھتا تھا۔یہ ذہن اتنا زیادہ عام تھا کہ اِس معاملے میں مسلمانوں کے روایتی طبقہ اور انگریزی داں طبقہ کے درمیان کوئی فرق موجود نہ تھا۔ مسلمانوں کا یہ عمومی ذہن آج تک بدستور قائم ہے۔ ایسی حالت میں یہ انتہائی عجیب بات ہے کہ اِس معاملے میں کس طرح میں پوری مسلم ملت میںایک واحد استثنا بن گیا۔ میرے اندر سائنٹفک تھنکنگ پیدا ہوئی۔ میں نے حوصلہ شکن ماحول میں انگریزی زبان سیکھی۔ میں نے جدید علوم کا تفصیلی مطالعہ کیا۔ اور یہ سب کچھ صرف اِس لیے تھا کہ میں عصری ذہن کے سامنے اسلام کی دعوت کو موثر انداز میں پیش کرسکوں، حتی کہ عصری اسلوب میں اسلامی لٹریچر تیار کرنا ہی میرا اصل موضوع بن گیا۔
میرے ساتھ یہ جو استثنائی معاملہ پیش آیا، اُس پر جب میں غور کرتا ہوں تو اِس کی کوئی بھی توجیہہ اِس کے سوا سمجھ میں نہیں آتی کہ اُس کو قرآن کے الفاظ میںاجتباء(انتخاب) کا ایک معاملہ سمجھا جائے۔ اجتباء کے لفظی معنیٰ ہیں— چن لینا (to choose) ۔ اجتباء کے بارے میں قرآن کا تصور یہ ہے کہ خدا، دعوت الی اللہ کے مقصد کے لیے کسی انسان کو چن لیتا ہے، پھر اُس کے لیے ایسے اسباب فراہم کیے جاتے ہیں کہ وہ اپنے زمانے میں دعوت الی اللہ کے کام کو مطلوب اندازمیں کرسکے۔ دعوت کا کام کوئی سادہ کام نہیں۔ یہ موجودہ دنیا میں خدا کی نمائندگی کا کام ہے۔ اِس قسم کی نمائندگی بلاشبہہ اِس دنیا کا مشکل ترین کام ہے۔ یہ کام صرف وہی انسان کرسکتا ہے جس کو خداوند ِ ذوالجلال کی خصوصی نصرت اور توفیق حاصل ہوئی ہو۔
اجتباء کا لفظ مختلف صورتوں میں قرآن میں 10 بار استعمال ہوا ہے۔امام راغب الاصفہانی (وفات: 1108 ء) نے لکھا ہے کہ قرآن کے مطابق، اجتباء کا معاملہ پیغمبر اور غیر پیغمبر دونوں کے ساتھ پیش آتا ہے(المفردات، صفحہ 87 ) ۔اجتباء کے اِس معاملے کا تعلق صُلحاء اور اَتقیاء سے نہیں ہے۔ اُن کا معاملہ ایک مختلف معاملہ ہے۔ اجتباء کا تعلق دراصل اُس مخصوص عمل سے ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے اپنی نصرت قرار دیا ہے (الحج:40 )، یعنی دعوت الی اللہ کا عمل۔
میری شخصیت کا ارتقاء جو بڈھریا اور سرائے میر اور اعظم گڑھ جیسے ماحول میں ہوا، وہ اتنا زیادہ انوکھا ہے کہ بظاہر اس کو اجتباء کے سوا کچھ نہیں کہا جاسکتا ۔ میری پیدائش کا ایک واقعہ شایداِسی کی طرف اشارہ کرتاہے۔ میری والدہ زیب النساء (وفات: 1985 ) بتاتی تھیں کہ بڈھریا کے گاؤں میں میری پیدائش ہوئی۔ جس صبح کو میں پیدا ہونے والا تھا، اُس کی رات کو میری ماں نے یہ خواب دیکھا کہ میں پیدا ہوا ہوں، پھر ایک بہت بڑا ہاتھی آتا ہے۔ وہ اپنی سونڈ سے اٹھا کر مجھ کو اپنی پیٹھ پر رکھ لیتا ہے اور مجھ کو جنگل کی طرف لے کر چلا جاتا ہے۔ میری ماں خواب میں کہتی ہیں کہ دیکھو، اتنا اچھابچہ تھا اور اُس کو ہاتھی اٹھا لے گیا۔
اب سوچتا ہوں تو میری سمجھ میں آتا ہے کہ یہ غالباً بلا تشبیہ اُسی قسم کا ایک واقعہ تھا جس کا ذکر قرآن میں حضرت موسی کے بچپن کے حوالے سے اِن الفاظ میں آیا ہے: واصطنعتک لنفسی (طٰہٰ: 41 ) مجھے ایسا محسوس ہوا ہے کہ مذکورہ خواب غالباً اِس بات کی علامت تھا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے دین کی دعوت کے لیے بچپن ہی سے میرا انتخاب فرمالیا تھا، اور اللہ تعالیٰ کی خصوصی نصرت سے اِس حصے کے تمام مرحلے انجام پاتے رہے۔
اِس معاملے کا مزید انوکھا پن یہ ہے کہ یہ پورا معاملہ مجھے ’’کبّرنی موتُ الکُبراء‘‘ کا مصداق معلوم ہوتا ہے۔یہ ایک حقیقت ہے کہ میں انتہائی قسم کا ایک ضعیف انسان ہوں۔ میںاپنے بارے میں سوچتا ہوں تو مجھے اپنے اندر عجز کے سوا کچھ اور دکھائی نہیں دیتا۔ میری اہلیہ سابعہ خاتون (وفات: 2006) جو 63 سال تک میرے ساتھ رہیں، وہ اکثر میرے بارے میں یہ کہا کرتی تھیں کہ آپ کو لکھنے پڑھنے کے سوا اور کچھ نہیں آتا۔ ایسے ایک بے قیمت انسان کے لیے کیسے یہ ممکن ہوا کہ وہ عصری اسلوب میںاسلامی لٹریچر تیار کرے اور پھر ایسے اسباب مہیا ہوں کہ یہ لٹریچر مختلف زبانوں میں ترجمہ ہو کر تمام دنیا میں پھیل جائے۔
میں نے کئی بار اپنے اِس احساس کو اپنے ساتھیوں کے سامنے ایک کہانی کی صورت میں بیان کیا ہے۔ وہ کہانی یہ ہے کہ قدیم زمانے میں ایک راجا تھا۔ اُس کی کوئی اولاد نہ تھی۔ اس کاانتقال ہوا تو اس کے بعد یہ سوال ہوا کہ راج گدّی پر کس کو بٹھایا جائے۔ درباریوں نے فیصلہ کیا کہ صبح سویرے ہم لوگ باہر جنگل کی طرف جائیں گے، وہاں پہلا جو انسان ملے گا، اُس کو ہم اپنا راجہ مان لیں گے اور اس کو راج گدی پر بٹھا دیں گے۔ درباریوں نے ایسا ہی کیا۔ صبح سویرے وہ جنگل میں پہنچے تو وہاں اُنھیں ایک غریب لکڑہارا دکھائی دیا، جو لکڑی چننے کے لیے وہاں آیا تھا۔ درباری اس کے پاس گئے اور اس سے کہا کہ آج سے تم ہمارے راجا ہو۔ لکڑ ہارے نے کہا کہ میرے ساتھ مذاق نہ کرو، میں تو صرف ایک غریب لکڑہارا ہوں۔ لیکن درباری نہیں مانے۔ انھوں نے اِس لکڑہارے کو پکڑا۔ وہ اس کو شاہی محل میں لائے اور اس کو راج گدی پر بٹھادیا۔
میںنے کہا کہ ایسا ہی کچھ معاملہ میرے ساتھ پیش آیا ہے۔ موجودہ زمانہ ایک بالکل بدلا ہوا زمانہ تھا۔ قدیم دو راگر روایتی دور تھا تو موجودہ دور سائنسی دور۔ ضرورت تھی کہ جدید دور کے اعتبار سے، وقت کے اسلوب میں خدا کے دین کی موثر دعوت پیش کی جائے۔ پچھلے دو سو سال کے اندر اللہ تعالیٰ نے مسلم ملت کے اندر بہت سے اعلیٰ دماغ رکھنے والے افراد پیدا کیے۔ ایسے اعلیٰ دماغ اِسی لیے پیدا کیے گئے تھے کہ وہ جدید تقاضوں کی روشنی میں اسلامی دعوت کا کام کریں۔ لیکن یہ اعلیٰ دماغ رکھنے والے افراد دوسرے میدانوں میں کود پڑے، وہ خالق کی امید کو پورا نہ کرسکے۔ ایسے حالات میں مذکورہ واقعے کی طرح یہاں بھی شاید یہی معاملہ پیش آیا کہ اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کو حکم دیا کہ تم دنیا میں جاؤ اور ایک فلاں ’’لکڑہارے‘‘ کو اِس کام کے لیے چن لو اور اس کو ہر قسم کا سپورٹ دو، تاکہ کامل عجز کے باوجود وہ دورِ جدید میں دعوت کا کام انجام دے سکے۔
میں نے اپنے ساتھیوں سے یہ کہانی بیان کی اور کہا کہ قدیم لکڑہارے کا قصہ تو غالباً صرف ایک قصہ تھا، لیکن میرے لیے وہ ایک صد فی صد حقیقت ہے۔ یہ دراصل اِس معاملے میں دوسرے اعلیٰ صلاحیت والے افراد کی ناکامی تھی جس نے میرے جیسے عاجز اور بے قیمت انسان کو یہ موقع دیا کہ اللہ تعالیٰ کی خصوصی نصرتیں مجھے حاصل ہوں اور میں دورِ جدید میں دعوت الی اللہ کا مطلوب کام کرسکوں۔
مدرسۃ الاصلاح کے ذمے داروں کو معلوم ہوا کہ میں اعظم گڑھ آرہا ہوں تو انھوں نے ٹیلی فون کے ذریعے مولانا محمد ذکوان ندوی سے ربط قائم کیا۔ اس کے بعد مدرسۃ الاصلاح کا ایک پروگرام بنا۔پروگرام کے مطابق، مدرسۃ الاصلاح کے دو اساتذہ مولانا انیس احمد اصلاحی، مولانا سرفراز احمد ندوی بڈھریا آئے۔ ان کے ساتھ 31 دسمبر2008 کی شام کو مدرسۃ الاصلاح کا سفر ہوا۔ یہ سفر بذریعہ کار ہوا۔ ہمارے ساتھ سی پی ایس انٹرنیشنل کی ٹیم کے افراد بھی شامل تھے۔
مدرسۃ الاصلاح 1908 میں قائم ہوا۔ اِس علاقے کے ایک مسلم زمین دار نے مدرسے کے لیے ایک بڑی زمین وقف کردی۔ اِسی زمین پر مدرسۃ الاصلاح کا قیام عمل میں آیا۔ اس کے بانی مولانامحمد شفیع (وفات: 1945) تھے، جو ایک قریبی گاؤں سیدھا سلطان پور کے رہنے والے تھے۔ مولانا اقبال احمد خاں سہیل کے تذکرے کے تحت بتایا گیا ہے کہ ابتدائی دور میں اُن کی عربی اور فارسی تعلیم کے لیے مولانا محمد شفیع صاحب کی خدمات حاصل کی گئیں۔ میری براہِ راست ملاقات مولانا محمد شفیع صاحب سے نہیں ہوئی، البتہ میں اُن کے صاحب زادگان کو اچھی طرح جانتا ہوں۔ اُن سے میرے قریبی تعلقات رہے ہیں۔ مثلاً ڈاکٹر خلیل الرحمن اعظمی، مولانا عبد الرحمن پرواز اصلاحی، وغیرہ۔ مدرسۃ الاصلاح کے تعارف نامے میں بتایا گیا ہے کہ— مولانا شبلی نعمانی نے اس کے ابتدائی اَغراض ومقاصد اور طریقۂ کار کا اجمالی خاکہ تیار کیا۔ مولانا حمید الدین فراہی نے اس کے ابتدائی دور سے لے کر اپنی زندگی کے آخری لمحے تک بحیثیت ناظم مدرسۃ الاصلاح کی خدمت کی۔ مولانا فراہی نے اس کے اغراض ومقاصد کی تکمیل کی اور اس کے لیے نصاب تعلیم مقرر کیا۔
مدرسۃ الاصلاح میں داخل ہونے کے بعد ایک شخص جو پہلی چیز محسوس کرتا ہے، وہ یہاں کی سادگی ہے۔ ہم لوگ مدرسے کے مختلف حصوںمیں گئے۔ ہر جگہ ہم نے نمایاں طورپر جو چیز دیکھی، وہ اس کی سادگی تھی۔ یہاں کے لوگ بھی سادہ اور متواضع نظر آئے۔ مدرسۃ الاصلاح کا یہ ماحول غالباً اُس کے بانیوں کے تصور کی بناپر ہے۔ یہ روایت وہاں اب تک باقی ہے۔ مولانا شبلی نعمانی کو یہاں کی غربت اور سادگی سب سے زیادہ پسند تھی، اور انھوں نے اس کو قائم رکھنے کی سخت تاکید کی تھی۔ مولانا حمید الدین فراہی اُس زمانے میں دار العلوم حیدر آباد میں پرنسپل تھے۔ مولانا شبلی نعمانی نے اُن کو مدرسۃ الاصلاح کے متعلق اپنے ایک خط مورخہ 19 اپریل 1910 میں لکھا کہ: ’’کیا تم چندروز سرائے میر کے مدرسے میں قیام کرسکتے ہو۔ میں بھی شایدآؤں۔اُس کا نظم ونسق درست کردیا جائے۔ اُس کو گروکُل کے طورپر خالص مذہبی مدرسہ بنانا چاہیے، یعنی سادہ زندگی، قناعت اور مذہبی خدمت اس کا مطمحِ زندگی ہو‘‘ (مکاتیبِ شبلی، جلد 2، صفحہ 33)
مجھ کو 1938 میں مدرسۃ الاصلاح میں داخل کیاگیا۔ اُس وقت یہ مدرسہ چند چھوٹی عمارتوں پر مشتمل تھا۔ اب وہاں کئی بڑی بڑی عمارتیں بن گئیں ہیں۔ مثلاً اُس وقت یہاں کا کتب خانہ (دار المعلومات) صرف ایک کمرے پر مشتمل تھا۔ اب یہاں کتب خانے کے لیے ایک مستقل عمارت بن گئی ہے جس میں کتب خانہ قائم ہے۔
اِس دار المعلومات سے میری کئی یادیں وابستہ ہیں۔ یہاں میں تقریباً روزانہ آتا تھا اور کتابوں اور جرائد کا مطالعہ کرتا تھا۔ اُس وقت یہاں مصر کا ایک عربی جریدہ آتا تھا۔ اُس کا نام ’’المقتطَف‘‘ تھا۔ اُس میں ایک بار ایک دل چسپ چیز چھپی تھی۔ اُس میں ایک عمل بتایاگیا تھا جس کے مطابق، آدمی اپنے مستقبل کے بارے میںجان سکتا تھا۔ وہ عمل یہ تھا کہ مخصوص تعداد میں ’’ابراکادابیسن کاتن‘‘ کہو۔ ا س کے بعد ایک خاص عمل کرکے اپنا نتیجہ نکالو۔ اُس وقت امتحان کا زمانہ تھا اور جلد ہی مجھے سالانہ امتحان دینا تھا۔ میںنے مذکورہ عمل کو دہرایا۔ اُس کے بعد اِن الفاظ میں نتیجہ نکلا: ستنجح نجاحاً کبیراً (تم جلد ہی ایک بڑی کامیابی حاصل کروگے)۔ اِس کے بعد امتحان ہوا تو میں اپنے درجے میں فرسٹ آیا۔ یہ صرف ایک اتفاق تھا، ورنہ کسی بھی عمل کے ذریعے مستقبل کو جاننا ممکن نہیں۔
31 دسمبر 2008 کو مغرب کی نماز کے بعد مدرسے کی وسیع مسجد میں طلبا اور اساتذہ کا ایک اجتماع ہوا۔ اِس موقع پر مجھے خطاب کے لیے یہ عنوان دیاگیا تھا—عصرِ جدید اور نوجوانوں کی ذمے داریاں۔ اِس موضوع پر میںنے تقریباً ایک گھنٹہ تقریر کی۔ میں نے اپنی تقریر میں جو باتیں کہیں، اُن میں سے ایک بات یہ تھی کہ دورِ جدید کو معلوم کرنے کے لیے سب سے پہلی ضرورت یہ ہے کہ دورِ جدید کے ذہن کو معلوم کیا جائے۔ اِس معاملے میں علامہ الشاطبی نے اپنی کتاب میں درست طورپر لکھا ہے کہ استدلال نام ہے خصم کے مسلمّۂ عقلی پر اس کو ایڈریس کرنے کا۔ اِس لیے اگر آپ یہ چاہتے ہیں کہ آج کے انسان کو موثر طورپر اسلام کا پیغام پہنچائیں تو آپ کو سب سے پہلے یہ جاننا ہوگا کہ آج کے انسان کا طرزِ فکر کیا ہے اور کون سا طرزِ استدلال اس کے لیے قابلِ قبول استدلال بن سکتا ہے۔
مدرسۃ الاصلاح کے زمانہ قیام کی بہت سی یادیں ہیں۔ میں چاہتا ہوں کہ اِس سفر نامے کے ذیل میں اُن میں سے کچھ کا تذکرہ کردیا جائے۔گاؤں کے مدرسے میں میرے استاد مولانا فیض الرحمن اصلاحی تھے۔ میںنے اِسی مدرسے میں عربی اور فارسی کی تعلیم شروع کردی تھی۔ اسی زمانے میں میںنے عربی کی کئی کتابیں پڑھیں۔ مثلاً کتاب النحو، کتاب الصرف (مولانا عبد الرحمن، امرت سری)۔ اِسی طرح میںنے یہاں فارسی کی کئی کتابیں پڑھیں۔ مثلاً گلستاں اور بوستاں (شیخ سعدی شیرازی)۔ اُس زمانے میں یہ سب کتابیں مجھ کو ایک معمّہ کی طرح نظر آتی تھیں۔ اُس زمانے میں میرے اندر نہ عربی کا کوئی ذوق پیدا ہوا تھا اور نہ فارسی کا کوئی ذوق۔
1938 میں مجھے مدرسۃ الاصلاح میں داخل کرایا گیا۔ یہاں میں نے دوبارہ عربی اور فارسی کی تعلیم حاصل کرنا شروع کیا۔ اچانک مجھے ایسا محسوس ہوا، جیسے کہ میں اندھیرے سے نکل کر اجالے میں آگیا ہوں۔ اب ہر مضمون میری سمجھ میںآنے لگا، یہاں تک کہ میں امتحانات میں اچھے نمبر سے پاس ہونے لگا۔
اِس ذاتی تجربے سے میں نے یہ جانا کہ تعلیم کے لیے ایک پورا ماحول درکار ہوتا ہے۔ عربی علوم کی تعلیم کے لیے مدرسے کا ماحول ضروری ہے۔ اِسی طرح انگریزی علوم کی تعلیم کے لیے کالج اور یونی ورسٹی کا ماحول ضروری ہے۔ انفرادی طورپر پڑھنے سے نہ کسی کو عربی علوم میں درک حاصل ہوسکتا ہے اور نہ انگریزی علوم میں۔ اِس عموم میں استثنا ہوسکتا ہے، لیکن ایسا استثنا صرف ایک نادر استثنا (rare exception) ہے۔
مدرسۃ الاصلاح کی زندگی کا ایک واقعہ وہ ہے جس کو میں نے اپنی کتاب ’’دین وشریعت‘‘ میں درج کیا ہے۔ وہ واقعہ اِس طرح ہے:
’’غالباً 1940 کی بات ہے۔ ہمارے علاقے میں سخت خشک سالی ہوئی۔ برسات کا موسم گزرتا جارہا تھا۔ مگر بارش کا کہیں پتہ نہ تھا۔ کسان روزانہ صبح اٹھتے ہی آسمان کی طرف دیکھتے تھے، مگر بادل کا ایک ٹکڑا بھی کہیں نظر نہ آتا تھا۔ بالآخر جب مایوسی حد کو پہنچ گئی تو یہ تحریک ہوئی کہ استسقاء کی نماز پڑھی جائے۔ مدرسۃ الاصلاح سے تقریباً دو کیلو میٹر دورایک میدان میں مدرسہ کے طلبہ اور اساتذہ اور اطراف کی بستیوں کے مسلمان جمع ہوئے۔ مرحوم مولانا محمد سعید صاحب جو اس وقت مدرسۃ الاصلاح میں استاد تھے اور جن سے میں نے حدیث پڑھی تھی، انھوںنے استسقاء کی نماز پڑھائی اور آخر میں بارش کے لئے دعا کی۔ مجھے وہ دن اچھی طرح یاد ہے۔ ہم لوگ سخت چلچلاتی ہوئی دھوپ میں سفر کرکے وہاں پہنچے تھے اور اس حال میں نماز ادا کی تھی کہ جسم پسینے سے شرابور ہورہا تھا۔ مگر نماز سے فارغ ہو کر جب ہم لوگ واپس ہوئے تو راستے ہی میں بارش شروع ہوگئی۔ کچھ لوگوں نے درختوں کے نیچے پناہ لی اور کچھ لوگ بھیگتے ہوئے اپنے گھروں کو بھاگے۔
اس تجربے میں مجھے ایسا محسوس ہوا کہ میں خدا کی مدد کو اپنی آنکھوں سے دیکھ رہا ہوں۔ یہ واقعہ میرے اِس عقیدہ کا ایک حسّی مظاہرہ بن گیا کہ ’’مانگو تو پاؤ گے، دروازہ کھٹکھٹاؤ تو وہ تمھارے واسطے کھولاجائے گا‘‘۔ اس وقت میری عمر 20 سال کے قریب تھی جب کہ انسان چیزوں کو نہایت شدت کے ساتھ اخذ کرتا ہے۔ چناں چہ یہ تجربہ میرے شعور کا مستقل جز بن گیا۔ وہ میری پوری شخصیت میں اس طرح شامل ہوگیا کہ پھر وہ کبھی مجھ سے جدا نہ ہوسکا۔
اس طرح کے تجربات صرف دینی مدرسہ کے ماحول میں پیش آتے ہیں۔ اِس طرح مدرسہ علم کے حصول کے ساتھ روحانی تربیت کا ذریعہ بن جاتا ہے۔ مدرسہ کے ماحول میں آدمی کو بار بار اعتماد علی اللہ اور معرفتِ آخرت کی خوراک ملتی رہتی ہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ مدرسہ کے ماحول میں تیار ہونے والا انسان علم اور روحانیت دونوں کا مجموعہ ہوتا ہے، نہ کہ یک طرفہ قسم کا انسان، جیسا کہ عام طور پر سیکولر تعلیم گاہوں میں پایا جاتا ہے۔
مدرسہ کی یہ تربیت میرے لئے زندگی کے بعد کے دور میں میرا سب سے بڑا سرمایہ بنی رہی۔ کسی بڑے کام کا حوصلہ اللہ پر اعتماد کے بغیر نہیں کیا جاسکتا۔ اور یہی سرمایہ مدرسہ سے مجھ کو حاصل ہوا۔ مجھے اپنے مقصد حیات کے اعتبار سے مادی ذرائع سے زیادہ اللہ پر بھروسہ کرنا تھا۔ اس قسم کے مشکل فیصلہ پر قائم رہنا میرے لئے زیادہ تر اسی مدرسی تربیت کی بناپر ممکن ہوسکا۔ احیائِ دعوت کا مشن جو میں نے اپنی زندگی میںاختیار کیا، وہ حدیث کی زبان میں معروف دین کے مقابلے میں اجنبی دین کے لئے کھڑا ہونا تھا۔ یہ بلا شبہہ اس آسمان کے نیچے سب سے زیادہ مشکل مشن ہے۔ اِس میں آدمی کو اکیلا ہی سفر کرنا پڑتا ہے۔ پہاڑوں اور سمندروں کو عبور کرنا آسان ہے، مگر اجنبی دین کو لے کر چلنا آسان نہیں۔ اللہ کے فضل سے میں اس دشوار ترین منصوبے پر ہر قسم کی رکاوٹوں اور ناموافق حالات کے باوجود قائم رہا، یہاں تک کہ فضاتبدیل ہوگئی۔ اس انجام کو دیکھنے کے لئے مجھے 40 سال کا صبر آزما انتظار کرنا پڑا۔ اور اس قسم کا انتظار اعتماد علی اللہ کے بغیر ممکن نہیں ہوسکتا۔‘‘(صفحہ 144-145)
میرے زمانہ تعلیم میں مولانا امین احسن اصلاحی (وفات: 1998 ) مدرسۃ الاصلاح کے صدر مدرس تھے۔ میرے تجربے کے مطابق، مولانا موصوف ایک بہترین مدرس تھے۔ وہ اگر مدرسے میں مستقل قیام کرتے تو وہ زیادہ بڑا کام کرسکتے تھے۔ تقسیم ملک (1947) کے وقت وہ پاکستان چلے گئے اور وہیں اُن کا انتقال ہوگیا۔ میرے نزدیک، مولانا موصوف کا مدرسۃ الاصلاح چھوڑ کر پاکستان جانا کوئی درست فیصلہ نہ تھا۔ اگروہ آخر وقت تک مدرسے میں قیام کرتے تو وہ تعمیر ِ افراد کی صورت میںملت کو زیادہ بڑا فائدہ پہنچا سکتے تھے۔
مولانا امین احسن اصلاحی کے اندر ایک خاص صفت تھی جو میں نے اپنے تجربے میں کسی اور استاد کے اندر نہیں پائی، وہ ہے تدریس کے دوران ذہنی تربیت کی غذا دیتے رہنا۔ اِس نوعیت کا ایک نمایاں واقعہ یہاں راقم الحروف کی کتاب ’’دین وشریعت‘‘ سے نقل کیا جاتا ہے:
ٓ’’مدرسۃ الاصلاح میں قرآن خصوصی طورپر داخلِ نصاب تھا۔ یہاں مجھے یہ موقع ملا کہ میں مشہور عالمِ دین اور مفسر مولانا امین احسن اصلاحی (صاحبِ تدبر قرآن) سے براہِ راست قرآن کی تعلیم حاصل کروں۔ مولانا محترم اُس مدرسے میں استادِ تفسیر بھی تھے اور صدر مدرس بھی۔ ایک روز درس قرآن کے دوران قرآن کے تیسویں پارہ کی یہ آیت سامنے آئی: أفلا ینظرون إلی الإبل کیف خلقت (الغاشیۃ: 17 )۔ استاد محترم مولانا امین احسن اصلاحی نے اِس موقع پر طلبہ سے سوال کیا کہ اونٹ کے سُم پھٹے ہوتے ہیں یا وہ جڑے ہوئے ہوتے ہیں، یعنی وہ بیل کی مانند ہوتے ہیں یا گھوڑے کی مانند۔ اس وقت ہماری جماعت میں تقریباً 20 طالبِ علم تھے، مگر کوئی بھی شخص یقین کے ساتھ اس کا جواب نہ دے سکا۔ ہر ایک اٹکل سے کبھی ایک جواب دیتا اور کبھی دوسرا جواب۔
اس کے بعد استاد محترم نے ایک تقریر کی۔ انھوںنے کہا کہ تمھارے جوابات سے اندازہ ہوتا ہے کہ تم لوگ اونٹ کے سُم کی نوعیت کے بارے میں نہیں جانتے۔ پھر انھوںنے عربی زبان کا یہ مقولہ سنایا: ’’لا أدری‘‘ نصف العلم (میں نہیں جانتا، آدھا علم ہے) اس کی تشریح کرتے ہوئے انھوںنے کہا کہ اگر تم لوگ یہ جانتے کہ تم اونٹ کے سم کے بارے میں بے خبر ہو تو گویا کہ اِس معاملے میں تمھارے پاس آدھا علم موجود ہوتا۔ کیوں کہ اپنی لاعلمی کو جاننے کے بعد تمھارے اندر یہ شوق پیدا ہوتا کہ تم اپنے علم کو مکمل کرنے کے لئے یہ معلوم کرو کہ اونٹ کے سُم کیسے ہوتے ہیں۔ اگر لاادری کا شعور تمھارے اندر بیدار ہوتا تو اونٹ پر نظر پڑتے ہی تم اس کے سُم کو غور سے دیکھتے اور پھر تم اپنے نہ جاننے کو جاننا بنا لیتے۔‘‘ (صفحہ 140 )
مدرسے کا یہ واقعہ میرے لئے اتنا موثر ثابت ہوا کہ یہ میرا عمومی مزاج بن گیا کہ میں ہر معاملے میں اپنی ناواقفیت کو جانوں، تاکہ میں ا س کو واقفیت بنا سکوں۔ علمی تلاش کا یہ جذبہ مجھے ابتداء ً مدرسہ سے ملا تھا۔ بعد کو میںنے اس موضوع پر مغربی مصنفین کی کچھ کتابیں پڑھیں، مثلاً اسپرٹ آف انکوائری (Spirit of Inquiry) ۔ ان سے معلوم ہوا کہ تجسس کا یہی جذبہ تمام علمی ترقیوں کی اصل بنیاد ہے۔
کہا جاتا ہے کہ سائنسی دریافتوں کا آغاز شبہات (doubts) سے ہوا۔ سائنس داں ایک واقعے کو دیکھتا ہے، پھر اس کے اندر ایک شبہہ پیداہوتا ہے کہ ایسا کیوں ہوا۔ وہ اس کی تحقیق میں لگ جاتا ہے۔ آخر کار وہ ایک ایسی حقیقت کو دریافت (discover) کرتا ہے جو اِس سے پہلے اس کو معلوم نہ تھی۔ برٹرینڈ رسل کی کتاب وِل ٹو ڈاؤٹ (Will to Doubt) خاص اِسی موضوع پر لکھی گئی ہے۔
اِس معاملے کی ایک مثال بھاپ کی طاقت (steam power) کی دریافت ہے۔ کہا جاتا ہے کہ برٹش سائنس داں جارج اسٹفنسن (George Stephenson) ایک دن اپنے گھر پر تھا۔ اُس نے دیکھا کہ اس کے گھر والے ایک برتن میں پانی گرم کررہے ہیں۔ جب اُس کا درجہ حرات ایک خاص نقطے پر پہنچا تو اندر سے اُبال آیا اور برتن کے اوپر رکھا ہوا ڈھکن اٹھ گیا۔ اُس کو دیکھ کر جارج اسٹفنسن اس کے بارے میں سوچنے لگا۔ اس نے جاننا چاہا کہ برتن میں ابال کیوں آیا اور ڈھکن اوپر کیوں اٹھ گیا۔
اِس پر غور کرتے ہوئے وہ اِس دریافت تک پہنچا کہ پانی کادرجۂ حرارت جب 100 ڈگری سے زیادہ ہوجاتا ہے تو پانی کے سالمات (molecules) ٹوٹنے لگتے ہیں۔ اس کے ایٹم (atoms) منتشر ہونے لگتے ہیں۔ اِس ایٹمی انتشار (atomic disintegration) سے جو طاقت پیدا ہوتی ہے، اس کا نام اسٹیم پاور (steam power) ہے۔جارج اسٹفنسن نے اِس اسٹیم پاور کو دریافت کرکے اس کو انجن میں استعمال کیا اور اس طرح اس نے پہلی بار 1814 میں ایک دخانی انجن (locomotive) کو چلایا۔
دینی مدارس میں عام طورپر تقدس (holiness) کا مزاج چھایا ہوا ہوتا ہے۔ جہاں تقدس آیا، وہاں پُراسراریت آگئی۔ اِس ماحول میں ایسا ہوتا ہے کہ لوگ چیزوں کو مقدس سمجھ لیتے ہیں۔ وہ اُن پر مزید غور فکر کی ضرورت نہیں سمجھتے۔ اِس طرح تقدس کا مزاج فکری ارتقا کے لیے قاتل بن جاتا ہے۔ فکری ارتقا کا آغاز شبہہ(doubt) سے ہوتا ہے۔ شبہہ سے آغاز کرکے آدمی حقیقت کی شعوری دریافت تک پہنچتا ہے۔جہاں شبہہ کو عیب سمجھ لیا جائے، وہاں ذہنی ارتقا کا آغاز بھی نہیں ہوگا۔
مدرسۃ الاصلاح ریلوے لائن کے قریب واقع ہے۔ اس علاقے میں یہ ریلوے لائن برٹش دور میں 1901 میں بچھائی گئی تھی۔ میرے ایک استاد مولانا نور الہدی اصلاحی (وفات: 1972 )تھے۔ وہ شاعر بھی تھے۔ بعض مرتبہ ایسا ہوتا تھا کہ ہماری کلاس چل رہی ہے۔ اِس دوران ریلوے اسٹیشن سے انجن کی سیٹی کی آواز آئی اور پھر مخصوص آواز کے ساتھ ٹرین چلنے لگی۔ اُس وقت مولانا نورالہدی اصلاحی اپنا یہ شعر پڑھتے تھے:
پُو سے سیٹی دیا اور پھر چل پڑی رِل گڑی، رِل گڑی، رِل گڑی
اُس زمانے کا جو ماحول تھا، اُس کی یہ ایک مثال ہے۔ اپنی نوجوانی کی عمر میں، میں ریلوے کے بارے میں اِس سے زیادہ اور کچھ نہ جان سکا۔ بعد کو میں نے جواہر لال نہرو (وفات: 1969 ) کی کتاب (آٹو بیاگریفی) پڑھی۔ اُس میں مصنف نے لکھا تھا کہ انگریزوں نے انڈیا میں جو ریلوے لائن بچھائی ہے، وہ ریلوے نہیں ہے، بلکہ یہ لوہے کی زنجیریں ہیں۔ ان کو انگریزوں نے انڈیا کو اپنی غلامی میں جکڑنے کے لیے بچھایا ہے۔
آزادی سے پہلے کے دور میں، میں ریلوے کے بارے میں اتنا ہی جان سکا تھا۔ اُس زمانے میں ہر طرف اِسی قسم کی منفی باتیں چھائی ہوئی تھیں جو دوسروں کی طرح میرے ذہن کی بھی کنڈیشننگ کررہی تھیں۔ بعد کو جب میںنے براہِ راست طورپر چیزوں کا مطالعہ کیا تو میں نے ذاتی دریافت کے ذریعے یہ جانا کہ برٹش جو نو آبادیاتی نظام کے تحت انڈیا میں آئے، وہ ایک تاریخی عمل کا جز تھے۔ اپنی حقیقت کے اعتبار سے، انڈیا میں اُن کا آنا جدید سائنس اور انگریزی زبان کا انڈیا میں آنا تھا۔ جواہر لال نہرو نے اپنی کتاب (The Discovery of India) میں لکھا ہے کہ عرب جو ہندستان میں آئے، وہ یہاں ایک شان دار کلچر (brilliant culture) لے کر آئے۔ اِسی طرح برٹش جو انڈیا میں آئے، وہ انڈیا میںایک شان دار سائنس لے کر آئے۔ اپنی حقیقت کے اعتبار سے، اُن کا انڈیا میں آنا تاریخ کا ایک مثبت واقعہ تھا، نہ کہ معروف معنوں میں کوئی منفی واقعہ۔
انڈیا میں جو بڑے بڑے عربی مدارس ہیں، اُن سب میں مشترک طورپر ایک نقص پایا جاتا ہے، وہ یہ کہ یہ تمام مدارس، تعلیم برائے مسلک کے اصول پر قائم کیے گئے ہیں۔ جب کہ صحیح یہ ہے کہ مدارس کو تعلیم برائے تعلیم کے اصول پر قائم کیاجائے۔ ہر مدرسے کا اپنا ایک مسلک ہے اور یہی مسلک اس کی تمام تعلیمی سرگرمیوں میں چھایا رہتا ہے۔ مدرسۃ الاصلاح کا اِس معاملے میں کوئی استثنا نہیں۔ مدرسۃ الاصلاح کا مسلک مولانا حمید الدین فراہی کے تصورِ نظمِ قرآن پر قائم ہے۔ نظم قرآن کی الگ سے جو بھی حیثیت ہو، لیکن اس کو مدرسے کا مسلک قرار دینا ہرگز درست نہیں۔
اہلِ علم عام طورپر یہ شکایت کرتے ہیں کہ مدارس میں تعلیم پائے ہوئے افراد کے اندر عام طورپر تعصب اور کٹر پن کا مزاج ہوتا ہے، جب کہ کالجوں اور یونی ورسٹیوں میں تعلیم پائے ہوئے افراد کے اندر عام طورپر تعصب اور کٹرپن کا مزاج نہیں ہوتا۔ اِس کا سبب یہی ہے کہ مدارس میں ’’تعلیم برائے مسلک‘‘ کا اصول رائج ہے، جب کہ سیکولر ادارے’ تعلیم برائے تعلیم‘‘ کے اصول پر چلائے جاتے ہیں۔ یہ کوئی سادہ بات نہیں۔’’تعلیم برائے مسلک‘‘ کا ایک بہت بڑا نقصان ہے، وہ یہ کہ اِن اداروں میں آزادانہ تفکیر کا ماحول نہیں ہوتا۔ اور آزادانہ تفکیر کا خاتمہ ہمیشہ ایک بھاری قیمت پر ہوتا ہے، وہ یہ کہ ایسے ماحول میں تخلیقی فکر (creative thinking) ختم ہوجاتی ہے۔ تخلیقی فکر کا نشو ونما نہ پانا اتنا بڑا نقصان ہے جس کی تلافی کسی بھی دوسری چیز سے ممکن نہیں۔
مدرسۃ الاصلاح سے رات ہی کو ہم لوگ بڈھریا واپس آئے، جو تقریباً تین میل کے فاصلے پر واقع ہے۔ ہم نے بڈھریا میں رات گزاری۔ یکم جنوری 2009 کی صبح کو ہم لوگ قافلے کی صورت میں چھاؤں کی طرف روانہ ہوئے۔ چھاؤں میں ہم لوگوں نے دوپہر کا کھانا کھایا اور یہاں کئی گھنٹے قیام کیا۔
چھاؤں، ضلع اعظم گڑھ کا ایک گاؤں ہے۔ یہاں کا پروگرام مسٹر شکیل احمد خاں نے بنایا تھا۔ پروگرام کے مطابق، ہم کو چھاؤں میںکچھ دیر قیام کرنا تھا۔ چھاؤں میں ایک سبق آموز واقعہ پیش آیا۔ میرے ساـتھیوں نے چاہا کہ میں اس کو دیکھوں اور اس کو اپنے سفر نامے میں شامل کروں۔
چھاؤں تک پختہ سڑک بن گئی ہے۔ ہماری گاڑی چلتے ہوئے مسٹر شاہد کے فارم ہاؤس پر پہنچی۔ یہ فارم ہاؤس 18 بیگہ زمین کے رقبے پر بنایا گیا ہے۔ اُس کو دیکھ کر میںنے کہا کہ میں نے دہلی کے آس پاس کئی فارم ہاؤس دیکھے ہیں، مگر یہ فارم ہاؤس مجھے اُن سے بہتر نظر آتا ہے۔ یہاں پر ایک وسیع اور خوب صورت تالاب ہے۔ مختلف قسم کے پھولوں اور پھلوں کے درخت یہاں موجود ہیں۔ شہروں جیسی فضائی آلودگی (air pollution) یہاں موجود نہیں۔ خالص ہوا، سنہری دھوپ، فطرت کا ماحول اور مکمل سکون، اِس طرح کی چیزوں نے اِس مقام کو جنت کا ایک تعارف بنادیا ہے۔ فضا میں اڑتی ہوئی چڑیاں اس کی خوب صورتی میں مزید اضافہ کررہی تھیں۔ یہاں میں نے ماحول کی نسبت سے کچھ باتیں کہیں جو ویڈیو کی صورت میں اُسی وقت ریکارڈ کرلی گئیں۔ مسٹر شاہد کے بھائی مسٹر ظہیر الاسلام یہاں موجود تھے، انھوں نے ہمارے ساتھ ہر قسم کا تعاون کیا۔
میں نے کہا کہ مسٹر شاہد میرے عزیز ہیں۔ اُن کو میں بچپن سے جانتا ہوں۔ بعض اسباب کی بناپر وہ گھر کو چھوڑ کر بمبئی چلے گئے تھے۔ اُس وقت ظاہری اعتبار سے اُن کے پاس نہ بزنس کرنے کے لیے کوئی سرمایہ تھا اور نہ سروس کرنے کے لیے کوئی ڈگری۔ بظاہر وہ کسی خصوصی صلاحیت کے مالک بھی دکھائی نہ دیتے تھے۔ بمبئی پہنچ کر انھوں نے ایک مزدور کی حیثیت سے اپنا کام شروع کیا، اور وہ تھا گھروں میں پینٹنگ (painting) کرنا۔ وہ اپنا کام نہایت محنت اور توجہ کے ساتھ کرتے تھے۔ چناںچہ اُن کا کام بڑھا، یہاں تک کہ انھوںنے اپنی کمپنی بنا لی۔ اب اُن کا یہ کام ایک بڑے کاروبار کی صورت اختیارکر چکا ہے۔ اُن کا کام اتنا اچھا ہوتا ہے کہ ہر طبقے کے لوگ ان سے اپنا کام لیناپسند کرتے ہیں۔ اپنے کام کے اعتبار سے اُن کو مارکیٹ میں زبردست اعتماد حاصل ہوچکا ہے۔
اِسی کے ساتھ مسٹر شاہد کے اندر اخلاقی صفات بھی پوری طرح پائے جاتے ہیں۔ انھوںنے اپنی کمائی کو فضول ضائع نہیںکیا۔ انھوںنے اپنے آبائی گاؤں (چھاؤں) میںجدید طرز کا ایک فارم ہاؤس بنایا۔ یہ فارم ہاؤس ایک قسم کی صحت گاہ ہے۔ یہاں پہنچ کر آدمی اپنے آپ کو فطرت کی دنیا میں پاتا ہے۔ یہاں منفی احساسات اور ذہنی ٹنشن جیسی چیزیں اپنے آپ ختم ہوجاتی ہیں۔ میں نے اور میرے ساتھیوں نے یہاں چند گھنٹے گزارے۔میں نے اپنی گفتگو میں کہا کہ یہ فارم ہاؤس خاموش زبان میںایک پیغام دے رہا ہے، وہ یہ کہ انڈیا میں مسلمانوں کے لیے ہر قسم کی ترقی کے مواقع پوری طرح موجود ہیں۔ ضرورت صرف دانش مندانہ منصوبہ بندی کی ہے۔ اگر دانش مندی اور منصوبہ بند عمل کا ثبوت دیا جائے تو اِس ملک میں ہر قسم کی کامیابی حاصل کی جاسکتی ہے۔
ہندستان میں اکثر یہ سوال کیا جاتا ہے کہ یہاں کے مسلمان کیا کریں۔ میں کہوں گا کہ مسلمان صرف یہ کریں کہ وہ خدا کا شکر ادا کریں۔ مسلمانوں کے لیڈروں نے پچھلے سو سال کے اندر مسلمانوں کو طرح طرح کے مسائل سے دوچار کیا ہے۔ لیکن خدا کی اِس دنیا میں مواقع اتنے زیادہ ہیں کہ کوئی بھی نادانی اس کا خاتمہ نہیںکرتی۔چناں چہ مسلم رہنماؤں کی مسلسل نادانیوں کے باوجود اب بھی یہاں قیمتی مواقع موجود ہیںجن کو استعمال کرکے مسلمان ہر قسم کی ترقی حاصل کرسکیں۔ اِس صورتِ حال میں مسلمانوں کو صرف شکر کرنا ہے۔ شکایت اور احتجاج جیسی چیزوں کے لیے یہاں کوئی جواز موجود نہیں۔
یکم جنوری 2009 کو جب کہ میں چھاؤں کے اِس فارم ہاؤس میں بیٹھا ہوا تھا، گاؤں کے ایک تعلیم یافتہ مسلمان مجھ سے ملنے کے لیے آئے۔ وضع قطع کے لحاظ سے بظاہر وہ خوش حال دکھائی دیتے تھے۔ حسب معمول میںنے اُن سے کہا کہ اپنے کچھ تجربات بتائیے۔ انھوں نے کہا تجربات کیا، آپ کو معلوم ہے کہ آج کل مسلمانوں کے ساتھ کتنا ظلم ہورہا ہے۔ مسلمانوں کو ان کے حقوق نہیں دیے جارہے ہیں۔ میں نے ان سے زیادہ بات نہیں کی۔
میں سوچنے لگا کہ مثبت واقعات کے درمیان آدمی منفی بات کیوںکرتا ہے۔ اِس کا سبب یہ ہے کہ لوگ اپنے قدموں کے نیچے نہیں دیکھتے۔ وہ اپنے آس پاس کی دنیا کو دیکھ کر رائے نہیں بناتے۔ وہ دور کی خبروں کو لے کر اپنی رائے بناتے ہیں۔اِس بنا پر وہ دیکھتے ہوئے بھی نہ دیکھنے والے بن جاتے ہیں۔ جاننے کے باوجود وہ نہ جاننے والوں کی طرح بولنے لگتے ہیں۔یہ انسان کی عجیب کم زوری ہے کہ منفی باتیں اس کو خوب دکھائی دیتی ہیں۔ لیکن مثبت باتوں کو دیکھنے کے لیے وہ اندھا بن جاتا ہے۔
چھاؤں کے فارم ہاؤس کا موجودہ استعمال صرف یہ ہے کہ وہ لوگوں کے لیے مفت تفریح (free entertainment) کا ذریعہ بنا ہوا ہے۔ عزیزوں اور دوستوں کے علاوہ، ممتاز افراد بھی یہاں آتے ہیں اور تفریح کے کچھ لمحات گزار کر چلے جاتے ہیں۔ میرا احساس ہے کہ یہ اِس مقام کا صرف ایک کم تر استعمال ہے۔ موجودہ زمانے کے اعتبار سے اِس مقام کو کئی تعمیری مقصد کے لیے استعمال کیا جاسکتا ہے۔ مثلاً یہاںایک معیاری اسکول قائم کیا جائے، جیسا کہ بڈھریا میں قائم کیا گیا ہے، یا یہاں ایک اچھا اسپتال بنایا جائے جہاں جدید طرز پر لوگوں کے لیے علاج کا انتظام ہو، وغیرہ۔
موجودہ زمانے میں صنعتی کثافت (industrial pollution) کی بناپر شہروں کی فضا نہایت خراب ہوگئی ہے۔ لوگ مجبورانہ طورپر شہروں میں رہتے ہیں، ورنہ عام طورپر شہروں میں یہ احساس پایا جاتا ہے کہ شہر اب رہنے کے قابل نہیں ہیں۔ ایسی حالت میں اگر فطرت کی اِس دنیا میں اسکول اور اسپتال جیسی چیزیں بنائی جائیں تو لوگ دور دور سے یہاں آئیں گے۔ وہ اس کی بڑی بڑی قیمت دے کر اس سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کریں گے۔اِس طرح اِس مقام پر جب لوگوں کا آنا جانا ہونے لگے گا تو اُس سے ایک اور زیادہ بڑے فائدے کے مواقع نکل آئیں گے اور وہ ہے دعوت الی اللہ، یعنی یہاں آنے اور جانے والوں کے درمیان دعوتی ملاقاتیں، یہاں دعوتی لکچر کا انتظام، دعوت کے مقصد کے تحت لائبریری اور ریڈنگ روم، لوگوں کو دعوتی کتابیں فراہم کرنا، وغیرہ۔
دوپہر کے کھانے کے بعد ہم لوگ چھاؤں سے اعظم گڑھ کے لیے روانہ ہوئے۔ شہر میں داخل ہونے کے بعد ہم لوگ شبلی نیشنل کالج کے گیسٹ ہاؤس میں پہنچے۔ یہاں پہنچ کر ہم لوگوں نے ظہر کی نماز ادا کی۔ نماز کے بعد میں نے مختلف نشستوں میں اپنے کچھ تجربات بیان کیے۔ یہ تجربات تقریر کی صورت میں تھے۔ وہ اُسی وقت ریکارڈ کرلیے گئے۔ ڈاکٹر احمد صفی انصاری اِس پورے سفر میں ہمارے ساتھ تھے۔ان کا پورا تعاون ہم کو حاصل تھا۔
یکم جنوری 2009 کی شام کو عصر کے بعد اعظم گڑھ سے دہلی کے لیے روانگی کا پروگرام تھا۔ لیکن معلوم ہوا کہ ’’کیفیات ایکسپریس‘‘ بہت زیادہ لیٹ ہے۔ اِس لیے ڈاکٹر احمد صفی انصاری کی دعوت پر ہم لوگ گیسٹ ہاؤس سے روانہ ہو کر اُن کے مکان،محلہ ریدوپورپہنچے۔ یہ مکان شہر کے کنارے کھلی جگہ پر واقع ہے۔ یہاں پہنچ کر ہم لوگوں نے رات کا کھانا کھایا۔ یہاں ہماری ٹیم کے لوگوں کے علاوہ خاندان کے کئی افر اد اکھٹا ہوگئے۔ ان کے سامنے مختلف موضوعات پر دیر تک بات ہوتی رہی۔
میں نے جو باتیں کہیں، ان میں سے ایک بات یہ تھی کہ اکثرلوگ پُرخوری (overeating) کا شکار رہتے ہیں۔ اِس کے نتیجے میں طرح طرح کی بیماریاں پیدا ہوتی ہیں۔ مولانا اشرف علی تھانوی (وفات: 1943 ) سے اُن کے ایک شاگرد نے پوچھا کہ آپ اکثر کم خوری کی نصیحت کرتے ہیں۔ اِس کا طریقہ کیا ہے۔ کیسے آدمی کو یہ معلوم ہو کہ اُس نے ضرورت کے بقدر کھانا کھالیا ہے اور اب مزید کھانا پُرخوری کہلائے گا۔ مولانا اشرف علی تھانوی نے کہا کہ کھانا کھانے کے دوران ایک مرحلہ آتا ہے، جب کہ آدمی کا دل چاہتا ہے کہ مزید کھانا کھائیں یا نہ کھائیں۔ یہی مرحلہ کم کھانے کا مرحلہ ہے۔ آدمی کو چاہیے کہ وہ اُس وقت اپنا ہاتھ روک لے اور مزید کھانا نہ کھائے۔
مولانا اشرف علی تھانوی کی یہ بات بالکل درست تھی۔ اِس معاملے میں سائنسی تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ آدمی جب کھانا کھاتا ہے اور ضرورت کے بقدر اس کا پیٹ بھر جاتا ہے تو شعوری طورپر فوراً اُس کو اِس کی خبر نہیں ہوتی۔ شکم سیری کے معاملے کو شعوری طورپر سمجھنے میں تقریباً بیس منٹ لگ جاتے ہیں:
It takes your body about 20 minutes to signal to your brain that it is full. So eat slowly, and stop when you feel half full. (The Times of India, September 28, 2007)
یہاںایک مسلم نوجوان سے ملاقات ہوئی۔ انھوںنے ایک صاحب کی بہت تعریف کی جوان کے نزدیک موجودہ زمانے میں اسلام کے سب سے بڑے ہیرو ہیں۔ یہ صاحب تقریریں کرتے ہیں اور اپنی تقریر میں ایسی باتیں کہتے ہیں جن سے مسلمانوں کو دوسروں کے مقابلے میں فخر کی غذا ملتی ہے۔ مسلمان خوش ہو کر ان کے جلسے میں تالیاں بجاتے ہیں۔ میں نے مذکورہ مسلم نوجوان سے دو باتیں کہیں۔میں نے اُن سے پوچھا کہ جن کو آپ اسلام کا ہیرو بتاتے ہیں، کیا ان کے جلسے میں تالیاں بجائی جاتی ہیں۔ انھوں نے کہا کہ ہاں، میں خود بھی تالیاں بجاتا ہوں۔ میں نے پوچھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صحابہ کی جماعت میں خطاب فرماتے تھے۔ کیا صحابہ وہاں تالیاں بجاتے ـتھے۔ انھوں نے کہا کہ نہیں۔ میںنے کہا کہ جو کام صحابہ نے نہیں کیا، وہ آپ لوگ کرتے ہیں اور اس کو اپنے لئے فخر سمجھتے ہیں، یہ تو بلا شبہہ ایک بدعت ہے اور بدعت کو حدیث میں ضلالت (گمراہی ) کہاگیا ہے۔ ایسی تقریر قابلِ مذمت ہے، نہ کہ قابلِ تعریف۔
دوسرا سوال میں نے ان سے یہ کیا کہ مذکورہ مسلم اسپیکر کی آپ اتنی زیادہ تعریف کرتے ہیں۔ آپ یہ بتائیے کہ ان کی تقریریں سننے یا ان کے پروگرام دیکھنے سے خود آپ کی شخصیت میں کیا تبدیلی ہوئی:
What change do you feel has come to your personality after listening to his speeches.
مذکورہ مسلم نوجوان نے میرے اس سوال کو اِس طرح سنا جیسے کہ ان کے لئے یہ ایک عجیب سوال ہو۔ وہ میرے اِس سوال کے جواب میں اپنی شخصیت کے اندر کسی تبدیلی کا حوالہ نہ دے سکے۔ میں نے کہا کہ مذکورہ مقرر کو آپ اسلامی داعی کہتے ہیں۔ زیادہ صحیح الفاظ میں وہ اسلام کے نام پر تفریح مہیا کرنے والے (Islamic entertainer) ہیں۔ ان کی تقریریں سننا ایسا ہی ہے جیسے تفریح کے لئے کوئی فلم دیکھنا۔ اس قسم کے پروگرام مقرر اور سامع دونوں کے لئے ایک گناہ کی حیثیت رکھتے ہیں۔ اسلامی نقطۂ نظر سے ایسے پروگراموں میں شرکت بھی گناہ ہے اور اس کے لئے کسی قسم کا تعاون دینا بھی گناہ ۔
میں نے کہا کہ اسلامی تقریر کا معیار یہ نہیں ہے کہ اس کو سن کر لوگوں کو اپنی برتری کی غذا ملے، وہ تالیاں بجائیں۔ کوئی شخص ان کو اپنا ہیرو دکھائی دینے لگے۔ اس کے برعکس، اسلام کی تقریر وتحریر کا معیار یہ ہے کہ اس سے لوگوں کے اندر ذاتی محاسبہ (introspection) کی سوچ جاگے۔ اس سے لوگوں کے اندر خدا کا خوف اور آخرت کی پکڑ کا احساس پیدا ہو۔ اس سے لوگوں کی سوچ میں اور ان کے عمل میں بدلاؤ آنے لگے۔ اس سے لوگوں کو دینی غذا ملے اور ان کے ایمان میں اضافہ ہو۔ جس تقریر و تحریر سے لوگوں کو اس قسم کا ذاتی فائدہ حاصل نہ ہو وہ صرف ایک ذہنی تفریح ہے، اس کا دین سے کوئی تعلق نہیں۔
میں نے کہا کہ اگر آپ بزنس کریں توآپ اچھی طرح جانتے ہیں کہ بزنس کا معیار آمدنی (income) ہے۔ جس بزنس کا یہ حال ہوکہ ساری محنت کے باوجود آپ کو اس سے کوئی آمدنی نہ ملے، ایسا بزنس صرف وقت اورمال کا ضیاع ہے، نہ کہ حقیقی معنوں میں کوئی بزنس۔ میںنے کہا کہ ایسے بزنس کو ہر آدمی چھوڑ دے گا۔ یہی معاملہ آپ کو مذکورہ قسم کے پروگرام کے بارے میں کرنا چاہیے۔
میںنے کہا آپ جیسے لوگ بزنس کے معاملے میں سنجیدہ ہیں اِس لئے بزنس کے معاملے کو خوب سمجھتے لیتے ہیں۔ لیکن اسلام کے معاملے میں آپ سنجیدہ نہیں، اس لئے اسلام کی بات آپ کی سمجھ میں نہیں آتی۔ اسلام کے نام سے آپ صرف اپنے قومی فخر کو جانتے ہیں، نہ کہ خود اسلام کو۔
ڈاکٹر احمد صفی انصاری کے گھر سے روانہ ہوکر ہم لوگ اعظم گڑھ ریلوے اسٹیشن پہنچے ۔ واپسی میں ہماری گاڑی بارہ گھنٹے لیٹ ـتھی۔ یہ تاخیر کہر (fog)کی وجہ سے ہوئی تھی۔ ہم لوگ اسٹیشن پہنچے توگاڑی آچکی تھی۔ ہم لوگ گاڑی پر سوار ہوگئے۔ اعظم گڑھ اسٹیشن سے ہم دہلی کے لیے روانہ ہوئے تو رات کے تقریباً بارہ بج چکے تھے۔ یہ رات کا وقت تھا، اِس لیے زیادہ وقت سونے میں گزرا۔اگلے دن 2جنوری 2009 کو رات ایک بجے ہم لوگ دہلی پہنچے۔ ہم لوگ اسٹیشن سے باہر آئے تو یہاں ہمارے ساتھی کار کے ساتھ موجود تھے۔ ہم اُن کے ساتھ روانہ ہو کر دوبارہ نظام الدین ویسٹ پہنچ گئے۔
واپس اوپر جائیں

Thursday, 2 April 2009

Al Risala | April 2009 (الرسالہ،اپریل)

2

-اصلاحِ قلب یا اصلاحِ شعور

3

- سجدۂ قربت

4

- عجلت پسندی

5

- انسان ایک استثنائی مخلوق

6

- رعایت ایک سنتِ رسول

7

- سب سے بڑا فتنہ

8

- اسبابِ شکر کو دریافت کیجیے

9

- قادرِ مطلق، عاجز ِ مطلق

10

- قرآن: تلاشِ فطرت کا جواب

11

- تحفہ کلچر

12

- دعوت اور اقدام کا فرق

13

- خدا کا وجود

14

- تعمیر ِ دنیا، تعمیر ِ شخصیت

15

- یہ بھی جھوٹ ہے

16

- موت کے بعد

18

- امر بالمعروف اور نہی عن المنکر

20

- مسلمان کی اصل حیثیت

22

- بااصول زندگی

24

- جنت کا مستحق کون

26

- پہلی واپسی،دوسری واپسی

29

- بلندفکری

30

- سب سے بڑا مسئلہ

31

- منطقی طرزِ استدلال

32

- خدا اورانسان

33

- اہتزاز یا مشقت

34

- قسمت ِ انسانی

35

- معذوری کے باوجود

36

- خوشی صرف آخرت میں

37

- ذہین آدمی کا فتنہ

38

- شادی شدہ زندگی کے مسائل

39

- رکاوٹ کے بغیر

40

- عادت اور ضرورت

41

- بل تو اپنا بل

42

- سوال وجواب

45

- خبر نامہ اسلامی مرکز


اصلاحِ قلب یا اصلاحِ شعور

قرآن کی سورہ نمبر 26 میںارشاد ہوا ہے کہ آخرت میںجنت میں داخلے کا مستحق وہ قرار پائے گا جو قلبِ سلیم کے ساـتھ وہاں پہنچے: إلاّ مَن أتی اللہ بقلبٍ سلیم (الشعراء:89 ) ۔ یہاں یہ نہیں فرمایا کہ: إلاّ مَن أتی اللہ بأعمالٍ کثیرۃ (مگر وہ شخص جو بہت زیادہ اعمال لے کر آئے)۔ اِس سے معلوم ہوا کہ جنت کی قیمت حقیقتاً کمیاتی عمل نہیں ہے، بلکہ کیفیاتی عمل ہے، یعنی وہ عمل جس کا تعلق قلبِ سلیم سے ہو۔
اِس آیت میں قلب سے مراد معروف معنوں میں دل نہیں ہے، بلکہ شعور ہے۔ سلیم یا سلامت کا مطلب ہوتا ہے— بَری ہونا۔ ضحّاک بن مُزاحم تابعی (وفات: 723 ء)نے قلبِ سلیم کی تفسیر قلبِ خالص سے کی ہے (تفسیر القرطبی)۔ قلبِ سلیم سے مراد ہے— آلائش سے پاک قلب (pure heart)، یعنی جو شخص دنیا میں اپنی فطرت کو آلائش سے بچائے اور صحیح فطرت کے ساتھ آخرت میں پہنچے۔ اِس کو دوسرے لفظوں میں ڈی کنڈیشنڈروح (de-conditioned soul) بھی کہہ سکتے ہیں۔ قلب کا لفظ یہاں اپنے لٹرری معنیٰ میں ہے۔ ادبی استعمالات میں قلب کا لفظ مرکز ِ شعور کے معنیٰ میں رائج ہوگیا ہے۔ اور قرآن انسانی زبان میں نازل ہوا ہے، اِسی مفہوم کے اعتبار سے قرآن میں بھی اِس لفظ کو استعمال کیاگیا ہے۔ حقیقی معنویت کے اعتبار سے، اِس آیت کا مطلب یہ ہے کہ جو انسان اپنے شعور کی اصلاح کرے، جواپنی فطرت کو بعد کی آلائشوں سے پاک کرے، جو ماحول کی کنڈیشننگ کوتوڑکر اپنے آپ کو ایک ڈی کنڈیشنڈ مائنڈ (de-conditioned mind) بنائے۔ ایسے ہی انسان کو خدا کی معرفت حاصل ہوگی، ایسا ہی انسان صراطِ مستقیم پر چل سکے گا۔
اصل یہ ہے کہ ہر انسان صحیح فطرت پر پیدا ہوتا ہے، پھر ماحول کے اثر سے اُس کی فطرت گرد آلود ہوتی رہتی ہے۔ اِن خارجی اثرات سے پاک کرکے فطرت کواس کی اصل حالت پر قائم کرنے کا نام محاسبہیا ڈی کنڈیشننگ ہے۔ یہی بے لاگ محاسبہ اِس بات کا ضامن ہے کہ آدمی صحیح فطرت یا قلبِ سلیم کا حامل ہو۔ اور جو لوگ ایسا کرسکیں، وہی وہ لوگ ہیں جو قلب سلیم کے ساتھ خدا کے یہاں پہنچیں گے اور آخرت میں جنت کی ابدی دنیا میں داخلے کے مستحق قرار پائیں گے۔
واپس اوپر جائیں

سجدۂ قربت

قرآن کی سورہ نمبر 96 میں ارشاد ہوا ہے: واسجد واقترب(العلق:19 ) یعنی سجدہ کرو اور قریب ہو جاؤ۔ حدیث میں آیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: أقرب ما یکون العبد من ربّہ وہو ساجد، فأکثروا الدعاء(صحیح مسلم، کتاب الصلاۃ) یعنی بندہ اپنے رب سے سب سے زیادہ قریب اُس وقت ہوتا ہے، جب کہ وہ سجدے میں ہوتا ہے، اِس لیے تم سجدے کی حالت میں زیادہ سے زیادہ دعا کرو۔ قربتِ خداوندی کا یہ معاملہ صرف شکلِ سجدہ پر نہیں ہے، بلکہ روحِ سجدہ پر ہے۔ ایک واقعہ اِس معاملے کی وضاحت کرتا ہے۔
بنگلور کا واقعہ ہے۔ ایک ہندو نوجوان کی بعض عادتوں سے اُس کا باپ سخت ناراض ہوگیا۔ اُس نے اپنے بیٹے کو گھر سے نکال دیا۔ ایک عرصے تک وہ اِدھر اُدھر بھٹکتا رہا۔ آخر کار، اس کی ملاقات ڈاکٹراحمد سلطان (وفات: 1999 ) سے ہوئی۔ ڈاکٹر صاحب نے کہا کہ اگر تم چاہتے ہو کہ تمھارا باپ تم کو دوبارہ قبول کرلے تو اس کی صرف ایک صورت ہے۔ تم خاموشی سے اپنے گھر جاؤ، اوروہاں پہنچ کر دروازہ کھٹکھٹاؤ۔ جب دروازہ کھلے اور تمھارا باپ تمھارے سامنے آئے تو تم فوراً ہی باپ کے پیروں پر گر پڑو، اور کہو کہ باپ، مجھ سے غلطی ہوئی، مجھ کو معاف کردے۔ لڑکے نے ایسا ہی کیا۔ جب لڑکا روتے ہوئے اپنے باپ کہ پیروں پر گر پڑا تو باپ بھی رونے لگا۔ اس نے اپنے بیٹے کو اٹھا کر سینے سے لگالیا اور اس کو معاف کرکے دوبارہ اپنے گھر میں داخل کرلیا۔
سجدہ بلاتشبیہہ اِسی قسم کی ایک حالت ہے۔ سجدہ کوئی رسمی فعل نہیں ۔ حقیقی سجدہ یہ ہے کہ ایک بندہ شدتِ احساس سے بے چین ہوجائے اور بے تابانہ طور پر وہ اپنا سر زمین پر رکھ دے۔ ایسا سجدہ گویا کہ اپنے رب کے قدموں میں سررکھنے کے ہم معنیٰ ہوتا ہے۔ ایسا سجدہ تسلیم ورضا کی آخری صورت ہے۔ جب کوئی بندہ اِس طرح اپنے آپ کو آخری حد تک خدا کے آگے سرینڈر (surrender) کردے تو خدا کی رحمت کا تقاضا ہوتا ہے کہ وہ اس کو معاف فرما کر اُسے اپنی رحمتوں کے سایے میں لے لے۔
واپس اوپر جائیں

عجلت پسندی

قرآن کی سورہ نمبر 21 میں ارشاد ہوا ہے: خُلق الإنسان من عجل(الأنبیاء: 37 ) یعنی انسان پیدائشی طورپر عجلت پسند ہے۔ ایک حدیثِ رسول میں بتایا گیا ہے کہ: التأنّی من اللہ، والعجلۃ من الشیطان(التّرمذی، کتاب البرّوالصلۃ) یعنی بُردباری اللہ کی طرف سے ہے اور عجلت شیطان کی طرف سے۔
انسانی فکر اور انسانی عمل دونوں کے لیے دو طریقے ہوتے ہیں— ایک ہے عجلت کا انداز، اور دوسرا ہے بردباری کا انداز:
To proceed hurriedly, To proceed unhurriedly
اصل یہ ہے کہ انسان کے اندر ایک صفت وہ رکھی گئی ہے جس کو حساسیت (sensitivity) کہاجاتا ہے۔ یہ حساسیت ایک استثنائی نوعیت کی قیمتی صفت ہے۔ لیکن ہر دوسری صفت کی طرح، اِس صفت کا بھی پلس پوائنٹ (plus point) اور مائنس پوائنٹ(minus point) ہے۔ اِس صفت کا پلس پوائنٹ مثال کے طورپر حیا ہے۔ اِسی طرح، عجلت اِس صفت کا ایک مائنس پوائنٹ ہے۔ یہ دراصل حساسیت ہے جس کی وجہ سے آدمی عجلت پسند بن جاتا ہے۔
حساسیت، خدا کی ایک عظیم نعمت ہے۔ اگر حساسیت نہ ہو تو آدمی حیوان کے مانند ہوجائے گا۔ بُرائی کو برائی سمجھنے کا مزاج اس کے اندر سے ختم ہوجائے گا۔ عجلت کا مزاج اِسی حساسیت کا ایک منفی نتیجہ ہے۔ آدمی کسی چیز سے متاثر ہوتا ہے اور فوری طورپر ایک رائے بنا لیتا ہے، یا فوری طورپر وہ کوئی اقدام کردیتا ہے۔ فکر یا عمل میںاِس قسم کا عاجلانہ انداز اِسی حساسیت کا ایک غیر مطلوب اظہار ہے۔ آدمی کو چاہیے کہ وہ اپنے عجلت پسندی کے مزاج کو عقل کے تابع بنائے۔ وہ ایسا کرے کہ بولنے اور کرنے سے پہلے سوچے۔ وہ سوچنے کے بعد کوئی بات کہے اور سوچنے کے بعد کوئی عمل کرے۔ عجلت پسندی کو قابو میں رکھنے کا یہی واحد طریقہ ہے— عجلت پسندی کا مزاج تو ختم نہیں ہوسکتا، البتہ عقل کے تابع رکھ کر اس کو مفید بنایا جاسکتا ہے۔
واپس اوپر جائیں

انسان ایک استثنائی مخلوق

پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک ارشاد حدیث کی مختلف کتابوں میں آیا ہے۔ اِس کے مطابق، آپ نے فرمایا: خلق اللہ آدم علیٰ صورتہ (صحیح البخاری، کتاب الإستئذان؛ صحیح مسلم، کتاب البر، کتاب الجنۃ؛مسند احمد، جلد 2 ،صفحہ 244) یعنی اللہ نے آدم کو اپنی صورت پر پیدا کیا۔ اِس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ جسمانی شکل وصورت کے اعتبار سے، انسان خدا کے مانند ہے۔ یہاں ’’صورت‘‘ سے مراد صفات (attributes) ہیں، یعنی اللہ تعالیٰ نے انسان کو محدود طورپر وہ صفات عطا فرمائی ہیں جو اللہ کی ذات میں اپنے کمال درجے میںموجود ہیں۔
انسان پوری کائنات میں ایک استثنائی مخلوق ہے۔ انسان ایک زندہ وجود ہے۔ انسان وہ واحد مخلوق ہے جس کو ایک جامع شخصیت (personality) عطا ہوئی ہے۔ انسان سوچتا ہے، انسان دیکھتا ہے، انسان سنتا ہے، انسان منصوبہ بند عمل کرتا ہے، انسان اپنے حواس خمسہ کے ذریعہ چیزوں سے انجوائے کرسکتاہے۔ اِس قسم کی استثنائی خصوصیات ہیں جو پوری کائنات میں صرف انسان کا حصہ ہیں۔
انسان کو یہ استثنائی عطیات اِس لیے دیے گئے ہیں کہ وہ استثنائی عمل کا ثبوت دے۔ یہ استثنائی عمل خالق کی شعوری معرفت ہے۔ اِس طرح خداوند ِ ذوالجلال نے انسان کو یہ موقع دیا ہے کہ وہ معرفت کے درجے میں خدا کو دریافت کرے۔ وہ غیب کی حالت میں خدا کو دیکھے۔ وہ اختیار رکھتے ہوئے اپنے آپ کو خدا کے آگے بے اختیار کرلے۔ مجبوری کے بغیر وہ اپنے آپ کو خدا کے آگے سرینڈر کردے۔ وہ اپنے شعور کو بیدار کرکے اپنا ذہنی ارتقا کرے، وہ ذاتی دریافت کے درجے میں سچائی کو پائے۔ وہ سجدۂ معرفت کی سطح پر خدا کے آگے جھک جائے۔ وہ پورے عالمِ فطرت کو اپنی روحانی غذا بنالے۔ وہ اپنی شخصیت کا ارتقا اِس طرح کرے کہ وہ خداوند ِ ذو الجلال کے پڑوس میں جگہ پانے کا مستحق بن جائے— جوآدمی اپنے اندر اِس قسم کی شخصیت (personality) نہ بناسکے، وہ صرف انسان نما حیوان ہے، اس کی کوئی قیمت خدا کے یہاں نہیں۔
واپس اوپر جائیں

رعایت ایک سنتِ رسول

حضرت انس سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اصحاب کو خطاب کرتے ہوئے فرمایا: یَسِّروا ولا تعسِّرُوا، وبشِّروا ولاتُنَفِّرُوا (صحیح البخاری، کتاب العلم) یعنی تم لوگوں کے ساتھ آسانی کا معاملہ کرو،تم لوگوں کے ساتھ سختی کا معاملہ نہ کرو۔ تم لوگوں کو خوش خبری دو، تم لوگوں کو متنفر نہ کرو۔
اِس حدیثِ رسول میں دراصل انسانی رعایت کی تعلیم دی گئی ہے۔ حدیثوں کا مطالعہ کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنتوں میں سے ایک سنت یہ ہے کہ انسان کے ساتھ آخری حد تک رعایت کا معاملہ کیا جائے۔قول یا عمل ، کسی میں بھی شدت کا انداز اختیار نہ کیا جائے۔
اِس رعایت کا مطلب لوگوں کو اُن کے حال پر چھوڑنا نہیں ہے، بلکہ اِس کا مطلب یہ ہے کہ اصلاح کے عمل کے لیے صحیح نقطۂ آغاز (starting point)اختیار کیا جائے۔ اصلاح کا صحیح طریقہ یہ ہے کہ اعمال کے ظاہری پہلوؤں کے بارے میں رعایت کا معاملہ کیا جائے اور زیادہ زور اور تاکید اعمال کے داخلی پہلوؤں پر دیا جائے۔ کیوںکہ ظواہر کی اصلاح سے داخلی اصلاح نہیںہوتی، بلکہ اِس کے برعکس، داخلی اصلاح سے ظواہر کی اصلاح ہوتی ہے۔
رعایت کا فائدہ یہ ہوتا ہے کہ آدمی کو دین پر عمل کرنا، زیادہ مشکل نہیںمعلوم ہوتا ۔ وہ متوحش ہوئے بغیر دینی اعمال کو اختیار کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ اِس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ پہلے آدمی کے داخل کی اصلاح ہوتی ہے، پھر دھیرے دھیرے اس کے ظواہر بھی دین کے رنگ میں رنگ جاتے ہیں۔ رعایت دراصل حکیمانہ طریقِ کار کا دوسرا نام ہے، اور یہ ایک واقعہ ہے کہ حقیقی اصلاح ہمیشہ حکیمانہ طریقِ کار کے ذریعے حاصل ہوتی ہے، نہ کہ غیر حکیمانہ طریقِ کار کے ذریعے۔مُصلح کا طریقہ ہمیشہ رعایت کا ہونا چاہیے۔ مصلح کا سارا زور اِس پر ہونا چاہیے کہ وہ لوگوں کے اندر جذبۂ عمل پیدا کرے۔ عمل کا جذبہ پیدا ہوتے ہی آدمی وہ کام خود کرنے لگتا ہے جس کو شدت پسند مصلح ناکام طورپر انجام دینا چاہتا ہے۔
واپس اوپر جائیں

سب سے بڑا فتنہ

صحیح مسلم اور مسند احمد میں ایک حدیث آئی ہے۔ حدیث کے الفاظ یہ ہیں: ’’عن جابر، قال: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: إنّ إبلیس یضع عرشہ علی الماء، ثم یبعث سَرایاہ یفتنون الناس، فأدناہم منہ منزلۃ أعظمہم فتنۃ۔ یجیٔ أحدہم فیقول: فعلت کذا وکذا۔ فیقول: ماصنعتَ شیئا۔ قال: ثم یجییٔ أحدہم فیقول: ما ترکتہ حتی فرّقت بینہ وبین امرأتہ۔ قال فیدنیہ منہ، ویقول: نعم، أنتَ۔ قال الأعمش: اُراہ قال ’’فیلتزمہ‘‘، (رواہ مسلم بحوالہ مشکاۃ المصابیح، رقم الحدیث: 71 )۔
حضرت جابر کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ۔ ابلیس اپنا تخت پانی (سمندر) کے اوپر بچھاتا ہے، پھر وہ دستوں کی شکل میںاپنے ساتھیوں کو بھیجتا ہے، تاکہ وہ لوگوں کو فتنے میں ڈالیں۔ ابلیس کے نزدیک درجے کے اعتبار سے سب سے زیادہ قریب وہ ہوتا ہے جس نے لوگوں کو زیادہ بڑے فتنے میں ڈالا ہو۔ ہر ایک آتا ہے اور کہتا ہے کہ میں نے یہ کیا اور میںنے وہ کیا۔ ابلیس کہتا ہے کہ تم نے کچھ نہیں کیا۔ پھر اُن میں سے ایک آتا ہے اورکہتا ہے کہ میں ایک شخص کے پاس پہنچا اور میں نے اس کے اور اس کی بیوی کے درمیان تفریق ڈال دی۔ بس ابلیس اس کو اپنے قریب کرتا ہے۔ اور کہتا ہے کہ ہاں تم نے کام کیا۔ اعمش نے کہا کہ ابلیس اس کو اپنے سینے سے چمٹا لیتا ہے۔
اِس حدیث میں ایک اہم حقیقت کو بیان کیا گیا ہے۔ سماجی زندگی کا یونٹ گھر ہوتا ہے۔ اور گھر اِس طرح بنتا ہے کہ ایک مرد اور ایک عورت شوہر اور بیوی کی حیثیت سے ایک گھر میں رہنا شروع کرتے ہیں۔ ایسی حالت میں اگر شوہر اور بیوی کے درمیان تفریق پڑ جائے تو گویا کہ سماجی عمارت کی ایک اینٹ کم زور پڑ گئی۔ قدیم زمانے میں یہ بُرائی صرف ایک محدود برائی تھی، مگر جدید تہذیب نے اُس کو ایک عالمی برائی کی حیثیت دے دی ہے۔ آج اجڑے ہوئے گھر (broken homes) کا ظاہرہ ایک عالمی ظاہرہ بن چکا ہے جس نے سماجی زندگی کو جنگل کی زندگی بنا دیا ہے۔
واپس اوپر جائیں

اسبابِ شکر کو دریافت کیجیے

اگر آپ لذیذ کھانا کھائیں اور اس کو کھا کر الحمد للہ کہیں تو یہ حیوانی درجے کا شکر ہے۔ کیوں کہ یہ مشاہدہ اور ذائقہ پر مبنی ہے، اور مشاہدہ اور ذائقہ کے درجے کا شکر صرف حیوانی درجے کا شکر ہے، وہ اعلیٰ انسانی درجے کا شکر نہیں۔
انسان کے درجے کا شکر یہ ہے کہ جب کھانا آپ کے سامنے آئے تو اس کو دیکھ کر خدا کا پورا تخلیقی نظام آپ کو یاد آجائے۔ آپ سوچیں کہ یہ تمام غذائی چیزیں پہلے غیر غذائی چیزیں تھیں۔ خدا نے ایک برتر عمل (process) کے ذریعے ایک عظیم واقعہ برپا کیا، وہ تھا غیر غذا (non-food)کو غذا (food) میں تبدیل کرنا۔ اِس طرح ایک کائناتی عمل کے ذریعے یہ تمام غذائی چیزیں وجود میںآئیں۔
پھر آپ یہ سوچیںکہ یہ غذائی چیزیں اپنی ابتدائی صورت میں میرے لیے توانائی (energy) کا ذریعہ نہیں ہوسکتی تھیں۔ چناں چہ خدا نے مزید یہ کیا کہ اُس نے میرے جسم کے اندر ایک پیچیدہ قسم کا نظام ہضم (digestive system) رکھ دیا۔ یہ نظامِ ہضم ایک خود کار نظام ہے۔ جب میں کوئی چیز کھاتا ہوں تو یہ نظام ہضم اِن غذائی چیزوں کو حیرت انگیز طورپر زندہ خلیات(living cells) میں تبدیل کردیتا ہے، پھر یہ زندہ خلیات میرے جسم میں گوشت اور خون جیسی چیزوں میں ڈھل جاتے ہیں۔ یہ سوچ کر آپ کے اندر شکر کا ایسا احساس امنڈے، جس کو الفاظ میں ظاہر کرنے کے لیے آپ اپنے آپ کو عاجز پاتے ہوں۔
اِس مثال سے اندازہ ہوتا ہے کہ انسانی شکر کیا ہے اور حیوانی شکر کیا۔ اگر آپ کے اندر صرف حیوانی درجے کا شکر ہے توآپ ہمیشہ ناشکری کے احساس میں جئیں گے۔ شکر کے اعلیٰ احساس میں جینے کے لیے انسانی درجے کا جذبۂ شکر درکار ہے۔ مگر یہی وہ چیز ہے جو دنیا میں سب سے زیادہ کم پائی جاتی ہے(وقلیل من عبادی الشکور)۔انسان سے اللہ تعالیٰ کو جو شکر مطلوب ہے، وہ انسانی درجے کا شکر ہے۔ صرف حیوانی درجے کا شکر انسان جیسی مخلوق سے قابلِ قبول نہیں ہوسکتا۔
واپس اوپر جائیں

قادرِ مطلق، عاجز ِ مطلق

خدا اورانسان کے درمیان جو نسبت ہے، وہ یہ نہیں ہے کہ خدا کُل ہے اور انسان اس کا جُز ہے۔ خدا سمندر ہے اور انسان اس کا ایک قطرہ ہے۔ اِس قسم کی تمام نسبتیں سر تا سر بے بنیاد ہیں۔ صحیح یہ ہے کہ خدااور انسان کے درمیان ’’ہے ‘‘ اور ’’نہیں‘‘ کی نسبت ہے۔ خدا سب کچھ ہے اور انسان اس کے مقابلے میں کچھ بھی نہیں۔ خدا، واجب الوجود (self-existing) ہے، اور انسان مکمل طور پر اور ہر اعتبار سے خدا کے حکم سے وجود میں آنے والی صرف ایک مخلوق۔
انسان کی صفت یہ ہے کہ وہ ایک صاحبِ شعور مخلوق ہے۔ انسان کے ذریعے اس کائنات میںشعوری عجز کا واقعہ وجود میں آتا ہے، اور بلا شبہہ اِس سے بڑا کوئی دوسرا واقعہ نہیں۔ یہی انسان کی اصل قیمت ہے۔ انسان وہ نادر مخلوق ہے، جو اِس کائنات میں شعورِ قدرت کے مقابلے میں شعورِ عجز کی دوسری انتہا (extent) بناتا ہے۔ وہ کائنات کے صفحے پر ’’عدد‘‘ کے مقابلے میں ’’صفر‘‘ کا ہندسہ تحریر کرتا ہے۔ وہ خداوندی انا کے مقابلے میں اپنے بے انا ہونے کا ثبوت دیتا ہے۔
یہی شعورِ عجز انسان کا سب سے بڑا سرمایہ (asset) ہے۔ یہی کسی انسان کے لیے اس کی سب سے بڑی دریافت (discovery) ہے۔ جب کوئی عورت یا مرد عجز کی زبان بولیں، تو انھوںنے اپنی زبان کا صحیح استعمال کیا۔ اِس کے مقابلے میں جو عورت یا مرد فخر اور سرکشی اور خونمائی اور گھمنڈ اور اظہار برتری کی زبان بولیں، تو انھوںنے اپنی زبان کا غلط استعمال کیا۔ اِس دنیا میں صرف اُس انسان کو جینے کا حق ہے جو اِس کی قیمت ادا کرے، اور یہ قیمت عجز ہے۔ عجز کی قیمت ادا کیے بغیر اِس دنیا میں رہنا بلا شبہہ ایک جُرم کی حیثیت رکھتا ہے۔
عجز دراصل حقیقت شناسی کی اعلیٰ ترین صورت کا نام ہے۔ عجز کوئی مجبورانہ چیز نہیں، عجز دراصل وہ مثبت کیفیت ہے جو حقیقت ِ اعلیٰ کے اختیارانہ اعتراف سے پیدا ہوتی ہے۔ عجز کوئی انفعالی کیفیت نہیں، وہ تمام فعّال کیفیات سے زیادہ بڑی فعّال کیفیت ہے۔
واپس اوپر جائیں

قرآن: تلاشِ فطرت کا جواب

دسمبر 2003 میں اسپین کے شہر اشبیلیہ (Seville) میں ایک انٹرنیشنل کانفرنس ہوئی۔ اس کی دعوت پر راقم الحروف نے بھی اُس میں شرکت کی۔ اِس کانفرنس میں امریکا کے ایک سینئر پروفیسر آئے ہوئے تھے۔ انھوں نے اپنی تقریر میں کہا کہ میں ایک متلاشی ٔ حق(truth seeker) تھا۔ میں آئڈنٹٹی کرائسس (identity crisis) کے مسئلے سے دوچار تھا، پھر میں نے قرآن کو پڑھا ۔ میںنے قرآن میں اپنی آئڈنٹٹی کو دریافت کرلیا:
I have discovered my identity in the Quran.
یہ معاملہ صرف ایک شخص کا نہیں ۔ حقیقت یہ ہے کہ اِس دنیا میں ہر عورت اور مرد آئڈنٹٹی کرائسس (identity crisis)کے مسئلے سے دوچار رہتے ہیں، کوئی شعوری طورپر کوئی غیر شعوری طور پر۔ مگر بیش تر لوگ اِس دریافت سے محروم رہتے ہیں۔ لوگوں کاٹنشن میں مبتلا ہونا، اِسی بنا پر ہوتا ہے۔ ہر آدمی کی سب سے بڑی خواہش یہ ہوتی ہے کہ وہ اپنی آئڈنٹٹی کو جانے، لیکن اِس معرفت میں ناکامی اُس کو ٹنشن میں مبتلا کردیتی ہے۔
اصل یہ ہے کہ کوئی عورت یا مرد جب پیدا ہوکر اِس دنیا میں آتے ہیں، تو فطری طورپر اُن کے ذہن میں اِس قسم کے سوالات ابھرنے لگتے ہیں— میں کون ہوں۔ میںکیسے بن گیا۔ میری زندگی کا مقصد کیا ہے۔ موت کیا ہے، اور موت کے بعد کیا۔ میں کہاں سے آیا ہوں اور مجھے کہاں جانا ہے، وغیرہ۔ اِنھیں سوالات کا نام آئڈنٹٹی کی تلاش ہے۔ برطانی سائنس داں سر جیمزجینز (وفات: 1946 ) نے دیکھا کہ بظاہر دنیا میںاِن سوالات کا جواب موجود نہیں، چناں چہ اس نے اپنی کتاب— پُراسرار کائنات (The Mysterious Universe) میں لکھا ہے کہ — بظاہر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ انسان بھٹک کر ایک ایسی دنیا میں آگیا ہے جو اس کے لیے نہیں بنائی گئی تھی:
Man has strayed into a world that was not made for him.
واپس اوپر جائیں

تحفہ کلچر

ایک بیرونی سفر میں میری ملاقات کویت کے ایک عرب پروفیسر سے ہوئی۔ ان کے ہوٹل کے کمرہ میں ہم دونوں نے نماز پڑھی۔ اس وقت وہ ایک رسٹ واچ پہنے ہوئے تھے۔ انھوںنے بیزاری کے ساتھ گھڑی کو اتارا اور اس کو میز پر رکھ دیا۔ انھوں نے کہا کہ یہ گھڑی ٹھیک کام نہیں کرتی، وہ چلتے چلتے رک جاتی ہے۔ میںنے پوچھا تو انھوںنے بتایا کہ یہ تحفہ کی گھڑی ہے۔ میںنے مزید پوچھا تو انھوںنے کہا کہ ابھی حال میں کسی نے ان کو جلد ہی یہ گھڑی تحفہ میں دی ہے۔ میں نے پوچھا کہ کیا کویت میں بھی تحفہ دینے والوں کا یہی مزاج ہے۔ انھوںنے کہا کہ تحفہ کے معاملے میں ہر جگہ کے لوگوں کا مزاج ایک ہی ہے، یعنی ایسی چیز دینا جو کار آمد ہونے سے زیادہ نمائشی ہو۔
تحفہ کے بارے میں یہ شکایت میں نے بہت سے لوگوں سے سنی ہے۔ میں ذاتی طورپر اس قسم کے تحفہ کو ایک گناہ کا فعل سمجھتا ہوں۔ اس لیے کہ ایسا تحفہ تبذیر (فضول خرچی) کے ہم معنی ہے۔ اور تبذیر کو قرآن میں ایک شیطانی عمل کہاگیا ہے (الإسراء: 27 )۔ اس قسم کے نمائشی تحفہ میں صرف مال ضائع ہوتا ہے، ایسا تحفہ کسی حقیقی ضرورت کو پورا نہیں کرتا۔
حدیث میں آیا ہے کہ: تہادوا تحابّوا (الأدب المفرد للبخاری) یعنی ایک دوسرے کو ہدیہ دو، اس سے آپس میں محبت بڑھے گی۔ اِس حدیث کے مطابق، صحیح ہدیہ وہ ہے جو آپس میں سچی محبت بڑھائے۔ جو ہدیہ محبت پیدا کرنے کے بجائے آپس میں کدورت پیدا کرے، جس سے ایک دوسرے کے بارے میں رائے خراب ہوجائے، ایسا ہدیہ بلاشبہہ ہدیہ کی ضد ہے، نہ کہ حقیقی معنوں میں کوئی ہدیہ۔
تحفہ کی دو قسمیں ہیں۔ ایک، نمائشی تحفہ اور دوسرے، حقیقی ضرورت کا تحفہ۔ عام طورپر لوگ نمائشی تحفہ دیتے ہیں۔ ایسے تحفہ میں پیسہ تو خرچ ہوجاتا ہے، لیکن وہ تحفہ کسی آدمی کے لیے کار آمد ثابت نہیں ہوتا۔ اِس معاملے میں صحیح طریقہ یہ ہے کہ آدمی یا تو حقیقی تحفہ دے، یا وہ سرے سے کوئی تحفہ نہ دے۔ نمائشی تحفہ دینا ہر گز سنتِ رسول کی پیروی نہیں ہے۔ نمائشی تحفہ دینا صرف ایک جرم ہے، نہ کہ کوئی اچھا کام۔
واپس اوپر جائیں

دعوت اور اقدام کا فرق

دعوت پُرامن تبلیغ کا نام ہے۔ اِس کے برعکس، اقدام یہ ہے کہ کسی کے خلاف عملی کارروائی کی جائے، اِس فرق کی بنا پر دونوں کی نوعیت بالکل بدل جاتی ہے۔ پُر امن دعوت کا کام ہر حال میں کیا جائے گا، خواہ لوگ اس کو قبول کریں یا نہ کریں، لیکن عملی اقدام کے معاملے میں اس کے نتیجہ (result) پر غور کرنا لازمی طورپر ضروری ہے۔ اگر نتیجہ نکلنے والا ہو تو یہ اقدام کیا جائے گا اور اگر نتیجہ نکلنے والا نہ ہو تو عملی اقدام سے کامل پرہیز کیاجائے گا۔
دعوت کا انحصار تمام تر داعی کی اپنی ذات پر ہوتا ہے۔ داعی کا اپنا ارادہ کافی ہے کہ دعوت کے عمل کو انجام دیا جائے۔ اگر داعی حقیقی طورپر اپنی دعوتی ذمے داری ادا کردے تو اس کو کامیاب سمجھا جائے گا، خواہ مدعو گروہ نے اُس کی دعوت کو قبول کیا ہو یا نہ کیا ہو۔
عملی اقدام کا معاملہ اِس سے بالکل مختلف ہے۔ عملی اقدام میں ایسا ہوتا ہے کہ فریقِ ثانی کے ساتھ مقابلہ اور ٹکراؤ پیش آتا ہے۔ اِس بنا پر، عملی اقدام دو گروہوں کے درمیان طاقت آزمائی (power struggle) کی صورت اختیار کرلیتاہے۔ ایک فریق دوسرے فریق کو زیر کرنے کے لیے اپنے ذرائع کو استعمال کرنے لگتا ہے۔ یہ مقابلہ آرائی اکثر فساد اور تشدد اور جنگ کی صورت اختیار کرلیتی ہے۔ تجربہ بتاتا ہے کہ عملی اقدام، اکثر حالات میں کاؤنٹر پروڈکٹیو (counter productive) ثابت ہوتا ہے۔
اِس فرق کی بنا پر ہر فرد یا گروہ کے لیے لازمی طورپر ضروری ہے کہ وہ اپنی کوششوں کو پرامن دعوت تک محدود رکھے، وہ ہر گز عملی اقدام نہ کرے۔ عملی اقدام بطور دفاعی کارروائی تو جائز ہوسکتا ہے، لیکن دفاعی صورتِ حال کے بغیر اقدام سرے سے جائز نہیں۔ اِس اصول کی خلاف ورزی کسی بھی حال میں، کسی بھی فرد یا گروہ کے لیے درست نہیں— پُرامن فکری کوشش ہر حال میں کی جاسکتی ہے، لیکن عملی اقدام صرف اُس وقت کیا جائے گا، جب کہ وہ نتیجہ خیز ثابت ہونے والا ہو۔
واپس اوپر جائیں

خدا کا وجود

انسان جب رحمِ مادر (womb) کے خول میں ہوتا ہے، تو اس کو اُس وقت خول کے باہر کی دنیا کے بارے میں کوئی علم نہیں ہوتا۔ اِس خول کے باہر ایک پوری دنیا موجود ہوتی ہے، لیکن بچے کو اِس کی کوئی خبر نہیں ہوتی۔ یہی معاملہ خود انسان کا بھی ہے۔ انسان کی تمام معلومات زمان و مکان (time and space) کے اندر تک محدود ہوتی ہیں۔ وہ زمان ومکان کے باہر کی حقیقتوں کے بارے میں کوئی علم نہیں رکھتا۔
برٹش فلسفی جان اسٹوارٹ مِل (وفات: 1873 ) جب نوجوانی کی عمر میں تھا، اُس وقت اس کے باپ جیمس مل (وفات: 1836 ) نے اُس سے کہا کہ خدا کا عقیدہ ایک غیر عقلی عقیدہ ہے۔ کیوں کہ اگر یہ کہا جائے کہ خدا نے انسان کو پیدا کیا، تو سوال یہ ہے کہ خدا کو کس نے پیدا کیا:
If God created man, who created God.
یہ بات جان اسٹوارٹ مل نے اپنی آٹو بائگریفی میں لکھی ۔ اِس کے بعد اِس بات کو برٹرنڈرسل (وفات: 1970) اور جولین ہکسلے (وفات: 1975 ) جیسے فلاسفہ دہرانے لگے۔ یہ سلسلہ چلتا رہا، یہاں تک کہ جیمس مل کے تقریباً سو سال بعد 1916 میں البرٹ آئن اسٹائن (وفات: 1955 ) نے نظریۂ اضافیت (theory of relativity) پیش کیا۔ اِس نظریے کے تحت آئن اسٹائن نے دکھایا کہ اِس دنیا میں انسان کا ہر علم اضافی(relative) ہے، نہ کہ حقیقی (real) ۔آئن اسٹائن نے ثابت کیا کہ انسان کے پاس کوئی مطلق فریم آف ریفرنس موجود نہیں:
No absolute frame of reference exists.
جیمس مل کے زمانے میں انسان کا علم ایک سائنٹفک خول (scientific womb) کے اندر محدود تھا۔ آئن اسٹائن نے سوسال بعد انسان کو اِس خول کی موجودگی کی خبر دی۔ ایسی حالت میں اب انسان کے لیے عقلی رویہ صرف یہ ہے کہ وہ بالاتر حقائق کے بارے میں اپنی علمی محدودیت (limitations) کا اعتراف کرے، نہ کہ وہ اُن کے بارے میں یقین کے ساتھ علمی بیانات دینے لگے۔
واپس اوپر جائیں

تعمیر ِ دنیا، تعمیر ِ شخصیت

ایک آدمی ایک معاشی کام شروع کرتا ہے۔ اُس میں اس کو کامیابی حاصل ہوتی ہے۔ پیسے کی طاقت سے اس کے سب کام بننے لگتے ہیں۔ وہ اپنے لیے ایک گھر چاہتا ہے تو وہ ایک اچھا گھر بنا لیتا ہے۔ وہ اپنے لئے ایک سواری چاہتا ہے تو اس کو بازار سے ایک اچھی سواری مل جاتی ہے۔ وہ اپنے بچوں کی اچھی تعلیم چاہتا ہے، وہ دیکھتا ہے کہ یہ مقصد بھی اس نے حاصل کرلیا۔ غرض، دنیوی اعتبار سے وہ پورے معنوں میں ایک کامیاب انسان بن جاتا ہے۔
یہ تجربہ آدمی کے اندر یہ ذہن پیدا کرتا ہے کہ اِس دنیا میں پیسہ سب کچھ ہے۔ پیسہ کماؤ اور ہر چیز حاصل کرلو۔ اِسی مزاج کو ایک فارسی شاعر نے اِن الفاظ میں بیان کیا— اے زر، تو خدا نہیں۔ لیکن خدا کی قسم، تو عیب کو چھپانے والا ہے اور حاجتوں کو پورا کرنے والا ہے:
اے زر، تو خدا نۂ ولیکن بہ خدا ستّارِ عیوب وقاضیُ الحاجاتی
دوسری طرف، وہ انسان ہے جو خدا سے ڈرتا ہے، جو خدا پرستی کی زندگی اختیار کرتا ہے، جو آخرت کو اپنی منزلِ مقصود بناتا ہے۔ ایسا شخص بھی ایک دنیا کی تعمیر کرتاہے۔ یہ خود اپنی شخصیت کی تعمیر ہے، جو انسان کے داخل میں ہوتی ہے۔وہ مادّی چیزوں کی طرح لوگوں کو دکھا ئی نہیں دیتی، لیکن بلاشبہہ دنیا کی تعمیر سے زیادہ بڑا کام اپنی شخصیت کی تعمیرہے۔
دنیا کی تعمیر، موت سے پہلے کی زندگی میں ہوتی ہے اور موت کے وقت وہ اِس دنیا میں رہ جاتی ہے۔ موت کے وقت جب آدمی اپنی زندگی کا اگلا سفر کرتا ہے تو وہ دنیا کی چیزوں میں سے کوئی چیز اپنے ساتھ نہیں لے جاتا۔اِس کے برعکس، جو آدمی اپنے اندر ربانی شخصیت کی تعمیر کرتا ہے، وہ ابدی طورپر اس کے ساتھ رہتی ہے۔ ایسا آدمی جب مرتا ہے تو وہ اپنی اِس شخصیت کے ساتھ اگلے دورِ حیات میں داخل ہوتاہے۔ یہ ربانی شخصیت اس کے لیے جنت میں داخلے کا اجازت نامہ ہوتی ہے۔ اپنی اِس شخصیت کی بنا پر وہ جنت میں اپنے لئے ابدی مقام حاصل کرلیتا ہے، اور اِس سے بڑی کوئی کامیابی کسی انسان کے لیے نہیں۔
واپس اوپر جائیں

یہ بھی جھوٹ ہے

ایک صاحب کو میںنے دیکھا کہ ان کا وزن کافی بڑھا ہوا ہے۔ میںنے اُن سے کہا کہ آپ شاید کھانے پینے میں احتیاط نہیں کرتے۔ اِس لیے آپ کا وزن بڑھ گیا ہے۔ انھوںنے کہا کہ نہیں، میںتو روٹی اور سبزی اور روٹی اور دال جیسا سادہ کھانا کھاتا ہوں۔ لیکن جب میں نے اسکروٹنی (scrutiny) کی، تو معلوم ہوا کہ وہ اپنے گھر میں تو سادہ کھانا کھاتے ہیں، لیکن جب وہ باہر نکلتے ہیں تو اکثر وہ جنک فوڈ(junk food) کا استعمال کرتے ہیں۔ ایسا تقریباً روزانہ ہوتاہے۔
یہ بھی ایک جھوٹ ہے اور اِس قسم کے جھوٹ میںاکثر لوگ مبتلا رہتے ہیں۔ ہمارے سماج میں ایسے لوگ بہت کم ملیں گے جو بالکل برہنہ جھوٹ بولیں، لیکن مذکورہ قسم کا جھوٹ تقریباً تمام لوگ بولتے ہیں، حالاں کہ کذبِ جلی اگر گناہ ہے، تو کذبِ خفی بھی بلاشبہہ ایک گناہ ہے۔ د ونوں میں درجہ کے اعتبار سے فرق ہے، لیکن حقیقت کے اعتبار سے دونوں کے درمیان کوئی فرق نہیں۔
عام طورپر لوگوں کا حال یہ ہے کہ وہ یہ چاہتے ہیں کہ وہ دوسروں کی نظر میں اچھے بنے رہیں۔ یہی وہ نفسیات ہے جس کی بنا پر لوگ کذبِ خفی کی برائی میں مبتلا رہتے ہیں، وہ صاف انداز میں بات نہیں کرتے۔ وہ ٹوسٹ(twist) کرکے بولتے ہیں۔ کسی سوال کا جواب وہ اِس انداز میں دیتے ہیں کہ ان کی کم زوری چھپی رہے، وہ لوگوں کے علم میں نہ آئے۔
کذبِ خفی کا سب سے بڑا نقصان یہ ہے کہ اُس سے آدمی کے اندر کم زور شخصیت (weak personality) بنتی ہے۔ کم زور شخصیت اپنی حقیقت کے اعتبار سے وہی چیز ہے جس کو مذہب کی زبان میں منافقت کہاجاتاہے، اور منافقت بلا شبہہ انسان کے لیے ایک سخت تباہ کن چیز ہے۔
آدمی کو صرف یہ نہیں کرنا ہے کہ وہ اپنے آپ کو کھلے کھلے حرام سے بچائے۔ اِس نوعیت کا پرہیز تو ایک حیوان بھی کرتاہے۔ انسان کو اِس سے اوپر اٹھنا ہے۔ انسان کو چاہئے کہ وہ نہ صرف حرام چیزوں سے بچے، بلکہ وہ ایسی چیزوں سے بھی مکمل پرہیز کرے جس سے اس کے اندر کم زور شخصیت کی پرورش ہوتی ہو۔
واپس اوپر جائیں

موت کے بعد

موت ہر انسان کے لیے ایک غیر مطلوب واقعہ ہے۔آدمی لمبی مدت تک جینا چاہتا ہے، مگر وہ اچانک ایک دن مرجاتا ہے۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ آدمی سفر میں تھا، وہ زیادہ دور تک جانا چاہتا تھا، مگر منزل پر پہنچنے سے پہلے موت نے یک طرفہ فیصلے کے تحت، اس کی زندگی کا خاتمہ کردیا۔
ایسا کیوں ہوتا ہے۔ یہ ہر عورت اور ہر مرد کا سوال ہے۔ ہر ایک یہ جاننا چاہتا ہے کہ کیوں کر ایسا ہوتاہے۔ زندگی کیا ہے اورموت کیا۔ کیوں ایسا ہے کہ آدمی زیادہ دن تک جینا چاہتا ہے، مگر اس کو درمیان ہی میں اس کی مرضی کے بغیر، موت کے فیصلے کو قبول کرنا پڑتا ہے۔
جب ہم اِس معاملے پر غور کرتے ہیں تو ہم کو سب سے پہلا سُراغ (clue) ڈی این اے (DNA) کی جدید دریافت میںملتا ہے۔ جیسا کہ معلوم ہے، ہر انسان کے اندر اس کا ڈی این اے بھی موجود ہوتا ہے۔ہر انسان کا ڈی این اے گویا کہ اس کی شخصیت کا مکمل انسائیکلو پیڈیا ہے۔اِس ڈی این اے کو ڈی کوڈ (decode) کیا جائے تو معلوم ہوگا کہ وہ ہماری بڑی سے بڑی انسائیکلو پیڈیا سے بھی سیکڑوں گنا زیادہ بڑا ہے۔ ہر انسان کے ڈی این اے میں اس کی شخصیت (personality) کے تمام چھوٹے اور بڑے پہلو موجود ہیں۔
مگر عجیب بات ہے کہ ڈی این اے انسانی شخصیت کے صرف ایک پہلو کے اندراج سے خالی ہے۔ کسی انسان کے ڈی این اے کا مطالعہ کرکے، اس کے بارے میں ہر بات کو معلوم کیا جاسکتا ہو، مگر صرف ایک بات کو معلوم کرنا ممکن نہیں، اوروہ یہ کہ کسی انسان کی موت کب واقع ہوگی۔ یہ فطرت کی طرف سے اِس بات کا اعلان ہے کہ انسان اپنی حیثیت کے اعتبار سے ایک نہ مرنے والی مخلوق ہے۔ انسان کے لیے مسلسل زندگی ہے، حقیقی معنوں میں اس کی شخصیت پر موت وارد ہونے والی نہیں۔
اب یہاں انسانی شخصیت کے ایک اور پہلو کو شامل کرلیجیے، وہ یہ کہ تمام ذی حیات چیزوں میں صرف انسان ہے جو کل (tomorrow) کا تصور رکھتا ہے۔ تمام حیوانات صرف آج (today) میں جیتے ہیں، کسی حیوان کا کوئی کل نہیں۔ اپنے محدود شعور کے اعتبار سے حیواناتمیں سے ہر ایک کا معاملہ یہ ہے کہ وہ آج میں پیدا ہوئے ا ور آج ہی میں ان کا خاتمہ ہوگیا۔ مگر انسان استثنائی طورپر ایک ایسی مخلوق ہے جو واضح طور پر کل (tomorrow) کا تصور رکھتا ہے۔
اِس معاملے میں درست رائے قائم کرنے کے لیے ایک پہلو کو شامل کرنا ضروری ہے۔ جیسا کہ معلوم ہے، ہر آدمی جو اِس دنیا میں پیدا ہوتا ہے، وہ ان گنت تمناؤں (ambitions) کے ساتھ پیدا ہوتا ہے۔ مگر اِسی کے ساتھ دوسری حقیقت یہ ہے کہ ہر آدمی اِس طرح مرجاتا ہے کہ اس کی تمنائیں پوری نہیں ہوتیں۔ اِس اعتبار سے، ہر آدمی نامکمل تمناؤں(unfulfilled desires) کا کیس ہے۔ کائنات کے عام نظام کو دیکھیے تو یہ واقعہ بالکل بے جوڑ ہے۔ اِس وسیع کائنات میں صرف انسان ہے جو اِس مسئلے سے دوچار ہے، انسان کے سواکوئی بھی دوسری مخلوق اِس مسئلے سے دوچار نہیں۔
یہ صورتِ حال بتارہی ہے کہ اِس مسئلے کا جواب ہونا چاہیے۔ انسان کی تمناؤں کو اُسی طرح فل فل مینٹ ملنا چاہیے جس طرح دوسری مخلوقات کو ملا ہوا ہے۔یہ صورتِ حال بتاتی ہے کہ موجودہ دنیا کے بعد ایک اوردنیا آنے والی ہے، یعنی وہ دنیا جہاں انسان اپنی تمناؤں کی کامل تسکین پاسکے۔
اِس طرح اِس معاملے کا ایک اور پہلو بہت زیادہ اہم ہے، وہ یہ کہ انسان کے اندر فطری طورپر انصاف (justice) کا ذہن پایا جاتا ہے۔ انسان فطری طورپر یہ چاہتا ہے کہ اِس دنیا میں عدل کے ساتھ فیصلہ ہو۔ نیک لوگوں کو ان کی نیکی کا پورا بدلہ ملے، اور بُرے لوگوں کو ان کی برائی کی سزا دی جائے۔ یہ انسانی فطرت کا تقاضا ہے۔ یہ تقاضا بھی چاہتا ہے کہ ایک دنیا آئے، جہاں عدل کا یہ تقاضا پورا ہو۔ کیوں کہ موجودہ دنیا میں ایسا ہونا ممکن نہیں۔
مذکورہ سوالات کو سامنے رکھ کر سوچا جائے تو آخرت(hereafter) کا نظریہ بالکل حقیقی نظریہ معلوم ہوتا ہے۔ آخرت کے نظریے کو ماننے کی صورت میں آدمی کو ہر سوال کا مکمل جواب مل جاتا ہے۔ ہر چیز اپنی جگہ پر درست ہوجاتی ہے:
Every thing falls into place.
واپس اوپر جائیں

امر بالمعروف اور نہی عن المنکر

آج کل مسلمان مختلف مقامات پر متشددانہ کارروائی میں مبتلا ہیں۔ جب اُن کو اِس سے روکا جائے، تو وہ کہتے ہیں کہ ہم تو وہی کررہے ہیں جس کا حکم ہم کو پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے دیا ہے۔ اِس سلسلے میں وہ اُس حدیثِ رسول کو پیش کرتے ہیں جس میںاہلِ ایمان کو تغییر ِ منکَرکا حکم دیاگیا ہے۔ یہ روایت حدیث کی مختلف کتابوں میںآئی ہے۔ صحیح مسلم کے الفاظ یہ ہیں: مَن رأی منکم منکراً فلْیغیّرہ بیدہ، فإن لم یستطع فبلسانہ، فإن لم یستطع فبقلبہ، وذلک أضعف الإیمان (صحیح مسلم، کتاب الإیمان) یعنی تم میں سے جو شخص کسی منکر کو دیکھے، تو وہ اس کو اپنے ہاتھ سے بدل دے، اور اگر وہ اِس کی استطاعت نہ رکھتا ہو تو پھر اپنی زبان سے، اور اگر وہ اس کی استطاعت نہ رکھتا ہو تو پھر اپنے دل سے، اور یہ سب سے زیادہ کم زور ایمان ہے۔دوسری روایت میں اِس حدیث کا پہلا ٹکڑا اِن الفاظ میں آیا ہے: مَن رأی منکراً فاستطاع أن یغیّرہ بیدہ فلیغیّرہ بیدہ (سنن أبی داؤد، کتاب الملاحم) یعنی جو شخص کسی منکر کو دیکھے، تو اگر وہ استطاعت رکھتا ہو تو وہ اس کو اپنے ہاتھ سے بدل دے۔ روایت کے بقیہ الفاظ مشترک ہیں۔
اِس حدیث کو عام طورپر تشدد کے جواز میں پیش کیا جاتاہے، حالاں کہ حدیث میں اِس کا ذکر نہیں ہے۔ اِس حدیث میں منکر کو عملاً بدل دینے، یا عملاً بدل دینے کی استطاعت نہ ہونے کی صورت میں اس کے خلاف بولنے کا ذکر کیاگیا ہے، نہ کہ منکر کو دیکھ کر لوگوں کے اوپر تشدد کرنے کا، یا خود کُش بم باری (suicide bombing) کا۔ اِس حدیث سے متشددانہ کارروائیوں کا جواز ہر گز نہیں نکلتا۔
اِس روایت میں منکر کی تغییر کا لفظ آیا ہے۔ تغییر کے معنی عربی زبان میں بدل دینے (replacement) کے ہیں، یعنی منکَر کی حالت کو بدل کر غیر منکر کی حالت قائم کرنا۔ اِس حدیث میںاصلاحِ حال کا حکم ہے، نہ کہ تخریب اور فساد کا۔
عربی زبان کے مشہور لغت ’لسان العرب‘ میں تغییر کا مفہوم اِن الفاظ میں بتایا گیا ہے— غیّرہ: حوّلہ وبدّلہ کأنہ جعلہ غیر ما کان (40/5) اس کی تغییر کی، یعنی اس کو بدل دیا۔ گویا کہ اس کو ایسا بنا دیا جیسا کہ وہ پہلے نہ تھا۔ امام راغب الاصفہانی (وفات: 1108 )نے اپنی کتاب ’المفردات فی غریب القرآن‘ میں اِس لفظ کی تشریح اِس طرح کی ہے: یقال غیّرتُ داری إذا بنیتہا بنائًً غیر الّذی کان۔ کہاجاتا ہے کہ میں نے اپنے گھر کی تغییر کی، یعنی جب تم اس کی تعمیر کو بدل کر دوسری طرح اس کی تعمیر کرو (صفحہ 368 )۔
موجودہ زمانے میں جگہ جگہ جہاد کے نام پر تشدد کے واقعات ہورہے ہیں۔یہ ’’مقدس تشدد‘‘ مسلم رہ نماؤں کی قیادت میں انجام پارہا ہے۔ اِس فعل میںتقریباً تمام امت شریک ہے۔ اِس لیے کہ جو لوگ براہِ راست اس میں شریک نہیں ہیں، وہ اس کے بارے میں خاموش ہیں۔ اسلامی نقطۂ نظر سے، اُن کی یہ خاموشی بالواسطہ شرکت کا درجہ رکھتی ہے۔ اِس لیے اسلامی اصول کے مطابق، پوری امت کو اِس عمل میں شریک مانا جائے گا، کچھ لوگوں کو براہِ راست طورپر، اور بقیہ لوگوں کو بالواسطہ طورپر۔
واقعات بتاتے ہیں کہ اِس متشددانہ عمل کا کوئی بھی مثبت نتیجہ برآمد نہیں ہورہا ہے۔ اِس عمل کا ہر جگہ صرف ایک ہی نتیجہ نکل رہا ہے، اور وہ تخریب ہے، نہ کہ تعمیر۔ ایسی حالت میں بلا شبہہ یہ کہا جاسکتا ہے کہ یہ متشددانہ کارروائیاں اور جو کچھ ہوں، لیکن وہ تغییر ِ منکر کا عمل ہر گز نہیں۔ تغییر ِ منکر یہ ہے کہ آدمی ناپسندیدہ صورت ِ حال کو بدل کر اس کی جگہ پسندیدہ صورتِ حال قائم کرے۔ اِس کے برعکس، ایک ایسی کوشش جو کاؤنٹر پروڈکٹیو (counter productive) ثابت ہو، وہ یقینی طورپر تخریب اور فساد ہے، نہ کہ کوئی مطلوب اسلامی عمل۔
کسی غیر مطلوب صورتِ حال کو دیکھ کر اس کے خلاف منفی رد عمل ظاہر کرنا، صرف فساد کا ایک عمل ہے، وہ تغیر منکر نہیں۔ تغیر منکر مکمل طورپر ایک مثبت عمل ہے۔ وہ حالات کی اصلاح کے لیے کیا جاتا ہے، نہ کہ حالات کو مزید بگاڑنے کے لیے۔ اصلاحِ حال کا طریقہ یہ ہے کہ غیر متاثر ذہن کے ساتھ حالات کا مطالعہ کیا جائے اور پھر تعمیری منصوبہ بندی کے ذریعے صورتِ حال کو درست کرنے کی کوشش کی جائے۔ جو لوگ اِس کے خلاف کریں، وہ بلاشبہہ مفسد ہیں، نہ کہ مصلح۔
واپس اوپر جائیں

مسلمان کی حیثیت

اپنی اصل حیثیت کے اعتبار سے، مسلمان داعی ہیں اور دوسری تمام اقوام اُن کی مدعو، یعنی مسلمان خدا کے امین ہیں اور اُن کی یہ ذمّے داری ہے کہ وہ اِس امانت کو تمام انسانوں تک پہنچائیں۔ اِسی فرض کی ادائیگی میںاُن کی کامیابی کا راز چھپا ہوا ہے، دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی۔
یہ کوئی سادہ بات نہیں۔ یہ ایک انتہائی نازک خدائی ذمّے داری کا معاملہ ہے۔ مسلمان اپنی اِس ذمے داری کو صرف اُس وقت ادا کرسکتے ہیں، جب کہ وہ اِس ذمے داری کے تقاضوں کو سمجھیں اور اُس کو اپنی زندگی میں بھر پور طور پر استعمال کریں۔ داعی کی ذمّے داری صرف داعیانہ کردار کے ساتھ ادا کی جاسکتی ہے، داعیانہ کردا ر کے بغیر دعوتی ذمّے داری کو ادا کرنا اُسی طرح ناممکن ہے جس طرح کسی عورت کے لیے مادرانہ شفقت کے بغیر ماں کی ذمّے داری کو ادا کرنا۔
قرآن کے الفاظ میں، دعوت کا آغازنُصح (الأعراف: 68 ) سے ہوتا ہے، یعنی مدعو کے لیے یک طرفہ خیر خواہی۔ دعوتی اخلاق کا تقاضا ہے کہ داعی کے دل میں اپنے مدعو کے لیے صرف مثبت جذبات ہوں، منفی جذبات سے اُس کا دل مکمل طورپر خالی رہے۔ اِسی کا نام یک طرفہ خیر خواہی ہے۔ اِس قسم کی یک طرفہ خیر خواہی کے بغیر داعی اپنی داعیانہ ذمّے داری کو ادا نہیں کرسکتا۔
موجودہ دنیا کا نظام اِس طرح بنا ہے کہ یہاں ہمیشہ ایک شخص کو دوسرے شخص سے، اور ایک گروہ کو دوسرے گروہ سے ناخوش گوار تجربات ہوتے رہتے ہیں، ایک کی کوئی بات دوسرے کے لیے اشتعال انگیزی کا سبب بن جاتی ہے۔ یہ فطرت کا نظام ہے، اور فطرت کے نظام کو بدلنا ہرگز کسی کے لیے ممکن نہیں۔ ایسی حالت میں، داعی کے اندر اپنے مدعو کے لیے یک طرفہ خیر خواہی کا جذبہ صرف اُس وقت برقرار رہ سکتا ہے، جب کہ وہ یک طرفہ اخلاقیات کے اصول پر قائم ہو۔ لوگوں کے ساتھ اُس کی روش دوسروں کے عمل کے زیر اثر نہ بنے، بلکہ وہ اُس کے اپنے سوچے سمجھے اصول کے تحت بنی ہو۔ وہ ردّ عمل کی نفسیات سے مکمل طورپر خالی ہو۔
مسلمان داعی گروہ کی حیثیت رکھتے ہیں۔ اِس اعتبار سے، مسلمانوں کے لیے جائز نہیں کہ وہ دوسری قوموں کے خلاف شکایت اور احتجاج کی تحریک چلائیں۔ داعیانہ شریعت میں، شکایت اور احتجاج کے لیے کوئی جگہ نہیں۔ کیوں کہ مسلمان جس قوم کے خلاف شکایت اور احتجاج کی تحریک چلائیں گے، وہ اپنی حقیقت کے اعتبار سے ایک مدعو قوم ہوگی۔ مسلمانوں کے لیے جائز نہیں کہ وہ اپنی مدعو قوم کے ساتھ حریف قوم جیسا معاملہ کریں۔ مسلمانوں کوہر حال میں اور ہر قوم کے ساتھ ہمیشہ معتدل تعلق کو برقرار رکھنا ہے۔ کیوں کہ معتدل تعلقات کے ماحول ہی میں دعوت الی اللہ کا کام ہوسکتا ہے۔ جہاں مسلم اور غیر مسلم کے درمیان معتدل تعلقات نہ ہوں، وہاں دعوت کا کام انجام دینا ممکن ہی نہیں۔
قرآن کی سورہ نمبر 33 میںایک حکم اِن الفاظ میںآیا ہے: دَعْ أذاہم وتوکّل علی اللہ (الأحزاب: 48 ) یعنی اُن کی ایذاؤں کو نظر انداز کرو، اور اللہ پر بھروسہ رکھو۔ اِس آیت کا مطلب یہ ہے کہ انسان سے نہ مانگ کر اللہ سے مانگو، مطالباتی طریقہ چھوڑ کر دعا کا طریقہ اختیار کرو۔ اِسی لیے ہر پیغمبر نے اپنی مدعو قوم سے کہا کہ: لا أسئلکم علیہ مالا(ہود: 11 ) یعنی میں تم سے کسی مادّی فائدے کا طالب نہیں ہوں۔ میں صرف دینے والا ہوں، نہ کہ تم سے کوئی چیز لینے والا۔ اِس سے معلوم ہوا کہ مدعو قوم کے مقابلے میں، حقوق (rights)کے نام پر مطالباتی مہم چلانا، پیغمبرانہ سنت کے مطابق، سرے سے جائز ہی نہیں۔
جیسا کہ معلوم ہے، پیغمبر آخر الزماں صلی اللہ علیہ وسلم پر نبوت ختم ہوگئی۔ مگر جوچیز ختم ہوئی، وہ نبوت ہے، نہ کہ کارِ نوبت۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ اب کوئی نیا پیغمبر آنے والا نہیں۔ لیکن جہاں تک پیغمبرکے دعوتی مشن کی بات ہے، وہ ہمیشہ اور ہر قوم کے درمیان جاری رہے گا۔ پیغمبر کے دعوتی مشن میں، بقدر استطاعت، اپنا حصہ ادا کرے۔ یہ دعوتی عمل ہر فردِ مسلم کے لیے فرض کی حیثیت رکھتا ہے (البقرۃ: 143 ) ۔ جو لوگ اِس فرض کو ادا نہ کریں، اُن کے لیے سخت اندیشہ ہے کہ خدا کے نزدیک، وہ پیغمبر کے امتی ہونے کا حق اپنے لیے کھو دیں۔
واپس اوپر جائیں

بااصول زندگی

دنیا کا نظام اِس طرح بناہے کہ یہاں ہمیشہ ایک کو دوسرے سے اختلاف پیش آتا ہے۔ یہ اختلاف مبنی بر فطرت ہے۔ اِس لیے اُس کو کبھی ختم نہیں کیا جاسکتا۔ ایسی حالت میں، کامیاب زندگی کا اصول صرف ایک ہے، وہ یہ کہ لوگوں کے ساتھ ایڈجسٹ (adjust) کرکے زندگی گزاری جائے۔ اختلاف کو نظر انداز کرکے باہمی مفاد(mutual interest) کی بنیاد پر زندگی کا نظام قائم کیا جائے۔ اِس دنیا میں اِس کے سوا، کوئی انتخاب (option) کسی کے لیے ممکن نہیں۔
اِس معاملے میں، مسلمانوں کا معاملہ دوسروں سے الگ نہیں ہے، البتہ مسلمان کو اِس معاملے میں ایک امتیازی خصوصیت حاصل ہے۔ دوسروں کے لیے یہ ایڈجسٹ مینٹ (adjustment) صرف مفاد (interest) کا ایک معاملہ ہے، مگر مسلمان کے لیے یہ معاملہ ایک اعلیٰ عبادت کا معاملہ بن جاتا ہے۔اِس فرق کا سبب یہ ہے کہ مسلمان کا ایڈجسٹ مینٹ ایک اصول کے تحت ہوتا ہے، جب کہ دوسروں کا ایڈجسٹ مینٹ صرف دنیوی مفاد کے تحت پیش آتا ہے۔
مسلمان اپنی حیثیت کے اعتبار سے، ایک خدائی مشن کے حامل ہیں، یعنی خدا کے ابدی پیغام کو دوسرے تمام انسانوں تک پہنچانا۔پیغام رسانی کا یہ کام صرف اُس وقت درست طورپر انجام پاسکتا ہے، جب کہ مسلمانوں اور غیر مسلم قوموں کے درمیان خوش گوار تعلقات قائم ہوں۔ مسلمان جب دوسری قوموں کے ساتھ ایڈجسٹ مینٹ کا معاملہ کرتا ہے تو اُس کا محرّک (incentive) اُس کا یہی دعوتی ذہن ہوتا ہے۔ وہ ذاتی مفاد کے لیے ایڈجسٹ مینٹ نہیں کرتا، بلکہ وہ صرف اِس لیے ایڈجسٹ مینٹ کرتا ہے، تاکہ اُس کا دعوتی مشن کسی رکاوٹ کے بغیر (peaceful) پُر امن انداز میں جاری رہے۔
محرک کا یہ فرق بہت اہم ہے۔ اِسی فرق کی بنا پر ایسا ہوتا ہے کہ مسلمان کا ایڈجسٹ مینٹ ایک ایسا عبادتی عمل بن جاتا ہے جو اُس کو آخرت میںاجر عظیم کا مستحق بنادے۔ اِس کے برعکس، دوسروں کا ایڈجسٹ مینٹ صرف ذاتی مفاد کی بنیاد پر ہوتا ہے، اِس سے زیادہ اُس کی کوئی اور حیثیت نہیں۔
مذکورہ قسم کا ایڈجسٹ مینٹ موجودہ دنیا کا ایک لازمی قانون ہے۔ اِس معاملے میں کسی بھی شخص یا گروہ کا کوئی استثنا (exception) نہیں۔ اِس کا مطلب یہ ہے کہ مسلمان اگر اصولی بنیاد پر ایڈجسٹ مینٹ نہ کریں تو اُن کو مفاد کی بنیاد پر لازماًایڈ جسٹ مینٹ کا معاملہ کرنا ہوگا۔ مگر ایسی صورت میں ان کا ایڈجسٹ مینٹ عبادت کا عمل نہ ہوگا، بلکہ وہ صرف موقع پرستی (expediency) کا ایک معاملہ ہوگا، یعنی وہی چیز جس کو شریعت کی زبان میں منافقت (hypocrisy) کہاجاتا ہے۔ اصول پسندی، ایک اعلیٰ اخلاقی صفت ہے، اِس کے مقابلے میں، موقع پرستی ایک انتہائی بُری صفت ۔
اِس دنیا میں کسی آدمی کے لیے صرف دو میں سے ایک کا انتخاب (option) ہے— اخلاص، یا منافقت۔ مخلصانہ زندگی میں منافقت کا کوئی مقام نہیں۔ اِسی طرح منافقانہ زندگی میںاخلاص کا کوئی درجہ نہیں۔ دعوتی مشن واحد مشن ہے جو آدمی کو اِس معاملے میں منافقانہ روش سے بچاتا ہے۔ دعوتی مشن آدمی کے اندر یہ مزاج پیدا کرتا ہے کہ وہ اپنے اعلیٰ ربانی مشن کی خاطر دوسروں کے ساتھ ایڈجسٹ مینٹ کا طریقہ اختیار کرے۔ بظاہر اگر چہ داعی بھی ایڈجسٹ مینٹ کا معاملہ کرتا ہے، مگر اُس کا ایڈجسٹ مینٹ اصول کی بنیاد پر ہوتا ہے، نہ کہ مفاد کی بنیاد پر ۔
یہ کوئی سادہ معاملہ نہیں۔ اِس کامطلب یہ ہے کہ مسلمان اگر دعوتی مصلحت کی بنا پر دوسروں کے ساتھ ایڈجسٹ مینٹ نہ کریں تو اُنھیں ذاتی مصلحت کی بنا پر دوسروں کے ساتھ ایڈجسٹ مینٹ کرنا پڑے گا۔ گویا کہ اگروہ دوسروں کے درمیان مخلص بن کر نہ رہیں تو اُنھیں دوسروں کے درمیان منافق بن کر رہنا ہوگا، اور بلاشبہہ منافقانہ زندگی سے زیادہ بُری کوئی چیز اِس دنیا میں نہیں۔
واپس اوپر جائیں

جنت کا مستحق کون

جنت خوشیوں اور راحتوں کی ایک ناقابلِ قیاس دنیا ہے۔ جنت صرف اُن لوگوں کو ملے گی جو ناقابلِ قیاس کردار کی قیمت دے کر، اس کا استحقاق ثابت کردیں۔ جنت، ابدی خدا کے پڑوس میںابدی سیٹحاصل کرنے کا نام ہے (القمر: 55 )۔ اِس قسم کی غیر معمولی اقامت گاہ صرف انھیں خوش قسمت لوگوں کو مل سکتی ہے جواُس کی اعلیٰ قیمت دینے کا حوصلہ کرسکیں۔
جنت کی ناقابلِ قیاس سیٹ کو پانے کے لیے انسان کو ناقابلِ قیاس عمل کا ثبوت دینا ہے۔ اس کے لیے ضروریہے کہ آدمی ناقابلِ مشاہدہ (unobservable) کو قابلِ مشاہدہ (observable) بنا سکے۔ وہ زمان و مکان (time and space) کے اندررہتے ہوئے، زمان ومکان کے باہر دیکھنے والی نگاہ پیدا کرے۔ وہ الفاظ کے تاریک جنگل میں معانی کی روشنی کو پاسکے۔ وہ خواہشوں کے سمندر میں رہتے ہوئے، اپنے آپ کو اِس سمندر میں ڈوبنے سے بچائے۔ وہ انانیت (egoism) کا پہاڑ ہوتے ہوئے، اپنے آپ کو بے انا (egoless) بنا سکے۔ وہ بدخواہ لوگوں کی بھیڑ میں رہتے ہوئے، اپنے آپ کو لوگوں کا خیر خواہ (well wisher) بنائے۔ وہ ایک کم زور انسان ہوتے ہوئے، ایک طاقت ور انسان کا رول ادا کرے۔ وہ کامل آزادی کا مالک ہوتے ہوئے، اختیارانہ طورپر اپنے آپ کو سرینڈر کردے۔ وہ نہ بولے ہوئے الفاظ کو سنے، اورنہ دکھائی دینے والی حقیقت کا اعتراف کرے۔ وہ جھوٹ سے بھری ہوئی دنیا میں سچ بولنے کا ثبوت دے۔ وہ بددیانتی (dishonesty) کے ماحول میں، دیانت داری (honesty) کے رویہ پر قائم رہے۔
خدا کے فرشتے دن رات سرگرم ہیں کہ وہ اُن لوگوں کی فہرست تیار کریں جو آخرت میںخدا کی جنت میںداخلے کے مستحق قرار پائیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جن کی اعلیٰ معرفت نے ان کو اِس قابل بنایا کہ انھوںنے ہر دوسری چیز سے اپنی توجہ ہٹا کر صرف ایک خدا کو اپنا سپریم کنسرن (supreme concern) بنا لیا۔ جن کا حال یہ تھا کہ ان کے شوقِ جنت نے ان کے لیے دنیا کی ہر پر کشش چیز کو بے کشش بنا دیا۔ خدا کی عظمت (glory of God)کے احساس نے جن کے اندر سے فخر (pride)اور بڑائی کے تمام جذبات کو مٹا دیا۔ خدا کی پکڑ کے اندیشے نے جن کا یہ حال کیا کہ لذتوں کے درمیان رہتے ہوئے، لذتوں سے محظوظ ہونا ان کے لیے ممکن نہ رہا۔ جن کا حال یہ ہوا کہ جو آوازیں دوسروں کے لیے قابلِ سماعت آوازیں تھیں، وہ ان کے لیے ناقابلِ سماعت آوازیں بن گئیں۔ جن کو دنیا کی ترقی اور دنیا کی محرومی، دونوں یکساں طورپر بے معنیٰ نظر آنے لگیں۔ جن کا حال یہ تھا کہ اپنے آپ کو صحیح ثابت کرنے کے بجائے، ان کے لیے یہ کہنا زیادہ محبوب بن گیا کہ — میںغلطی پر تھا:
I was wrong
جنت ایک حقیقی مقام ہے۔ وہ حقیقی اوصاف کی قیمت ہی پر کسی کو حاصل ہوگی۔ جنت میں وہ انسان بسائے جائیں گے جو ربانی اوصاف کے حامل ہوں۔ جو لوگ موجودہ دنیا میں اپنے آپ کو اِن ربانی اوصاف کا حامل بنائیں، وہی وہ لوگ ہیں جو جنت میں بسائے جانے کے قابل ٹھیریں گے۔ جنت کسی کو پُراسرار اسباب کے تحت نہیں ملے گی، بلکہ وہ کامل طورپر معلوم اسباب کے تحت ملے گی۔ اور وہ معلوم اسباب یہی ہیں کہ موجودہ دنیا میں آدمی اپنے آپ کو اِن ربانی اوصاف کا حامل بنائے۔ جنت سچے انسانوں کی کالونی ہے۔ موجودہ دنیا میں انھیں سچے انسانوں کا انتخاب (recruitment) کیا جارہا ہے۔ موجودہ دنیا کی زندگی میں جو لوگ کامل طور پر سچے انسان ثابت ہوں، وہی جنت کی ابدی دنیا میں بسائے جانے کے قابل ٹھیریں گے۔
واپس اوپر جائیں

پہلی واپسی،دوسری واپسی

قرآن سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے یہود (بنی اسرائیل) کے لیے پیشگی طورپر دو وعدہ (appointed time) مقرر فرمایا تھا (الإسراء: 4)۔ حضرت ابراہیم کے ذریعے نافذ ہونے والے خدائی منصوبے کے مطابق، یہود کا وطن ارضِ فلسطین قرار پایا ۔ اِس کے بعد ان کی لمبی تاریخ کے دوران یہ مقدر تھا کہ اُن کے ساتھ دوبار یہ واقعہ پیش آئے گا کہ وہ اپنے وطن فلسطین سے نکل کر بیرونی علاقوں میں منتشر ہوجائیں گے اور پھر اپنے وطن فلسطین کی طرف دوبارہ واپس آئیںگے۔ گویا کہ یہود کی نسل دوبار ڈائس پورا (diaspora) کی صورت اختیار کرے گی اور پھر وہ اپنے وطن کی طرف واپس آئے گی۔
حضرت یوسف کے زمانے میں بنی اسرائیل، کنعان (فلسطین) سے ہجرت کرکے مصر گئے۔ اُس وقت اُن کی تعداد 70 تھی (پیدائش: 46: 27 )۔ بائبل کے بیان کے مطابق، اُن کی نسلیں 430 سال تک مصر میںآباد رہیں (خروج: 12:40 )۔ اِس کے بعد حضرت موسیٰ کے زمانے میں مصر سے نکل کر وہ لوگ وادی ٔسینا کے علاقے میں آئے۔ اُس وقت (عورتوں اور بچوں کو چھوڑ کر) اُن کے مردوں کی تعداد 6 لاکھ ہوچکی تھی (خروج: 12: 37 )۔ اس کے بعد وہ 1400 قبل مسیح میں حضرت موسیٰ کے خلیفہ یوشع بن نون (Joshua) کی قیادت میں اپنے وطن فلسطین میں داخل ہوئے۔ یہ یہودی تارکینِ وطن (Jews in diaspora) کے ارضِ فلسطین میں داخلے کا پہلا ’’وعدہ‘‘ تھا۔ یہ داخلہ خدا کے حکم کے مطابق ہوا۔ اِس کا ذکر قرآن کی اِس آیت میں آیا ہے: یا قوم ادخلوا الأرض المقدسۃ التی کتب اللہ لکم (المائدۃ: 21 ) یعنی موسیٰ نے اپنی قوم سے کہا کہ تم لوگ ارضِ مقدس میںداخل ہوجاؤ، جس کو خدا نے تمھارے لیے لکھ دیا ہے۔
اب سوال یہ ہے کہ بنی اسرائیل کے ساتھ دوسرا وعدہ کب پورا ہوا، یا کب پورا ہوگا۔ اِس معاملے میں قرآن کی ایک آیت سے رہنمائی ملتی ہے۔ قرآن کی سورہ نمبر 17 میں یہود کے بارے میں یہ آیت آئی ہے: فإذا جاء وعد الآخرۃ جئنا بکم لفیفًا (الإسراء: 104 ) یعنی جب دوسرے وعدہ کا وقت آئے گا تو ہم تم کو ہر جگہ سے سمیٹ کر (فلسطین میں) لے آئیںگے۔
بنی اسرائیل (یہود) کے ساتھ یہ دوسرا وعدہ کب پورا ہوا، جب کہ وہ فلسطین میں دوبارہ واپس آئے۔ اِس دوسرے وعدہ (وعد الآخرۃ) سے مراد غالباً وہی واقعہ ہے جو بیسویں صدی عیسوی کے نصف آخر میں پیش آیا۔ بال فور ڈکلریشن (Balfour Declaration)کے تحت 1948 میں یہودی تارکینِ وطن (Jews in diaspora) کی واپسی اپنے وطن فلسطین کی طرف شروع ہوئی اور آخر کار فلسطین کے نصف حصے میں ریاستِ اسرائیل کا قیام عمل میں آیا۔
پہلی واپسی کا مقصد یہ تھا کہ یہود کو دوبارہ اُن کابھولا ہوا خدائی سبق یاد دلایا جائے۔ اِس طرح وہ دوبارہ فلسطین میں اِس لیے اکھٹا کیے گئے ہیں کہ اُنھیں خدا کا پیغامِ حق پہنچایا جائے، تاکہ اُن میں جو سعید روحیں ہیں، وہ حق کو قبول کرکے خدا کی ابدی رحمت کی مستحق بنیں۔ اور جو لوگ بھٹکے ہوئے ہیں، اُن کو ایکسپوز (expose) کیا جاسکے۔ حدیث میں نزولِ مسیح کے زمانے میں جس قتل یہود کا ذکر ہے، اُس سے مراد جسمانی قتل نہیں، بلکہ اس سے مراد یہودکو ایکسپوز کرنا ہے، تاکہ قیامت سے پہلے یہ واضح ہوجائے کہ وہ حق پر قائم تھے، یا وہ حق کو چھوڑ کر حق سے دو رچلے گئے تھے۔
اِن واقعات کی روشنی میں یہ کہنا صحیح ہوگا کہ یہود کا اجتماع جو 1948میںاسرائیل کے اندر ہوا، وہ خدائی منصوبے کے عین مطابق تھا۔ اب یہ مطلوب تھا کہ امتِ مسلمہ اُن کو مدعو کے روپ میں دیکھے اور ناصحانہ انداز اختیار کرتے ہوئے اُنھیں حق کا پیغام پہنچائے۔ یہ یہود کے اوپر آخری اتمامِ حجت ہوگا۔ اِس کے بعد اگلا مرحلہ قیامت کا مرحلہ ہوگا۔ یہ مرحلہ خداوند ِ ذوالجلال کے سامنے حاضر ہونے کا مرحلہ ہوگا، یہود کے لیے اور امتِ مسلمہ کے لیے اور ساری دنیا کے لیے ۔
عرب- اسرائیل ٹکراؤ جو 1948 میں شروع ہوا، اُس کا سب سے زیادہ سنگین پہلو یہ ہے کہ 60 سال کے خونی تصادم کے باوجود اس کا کوئی مثبت نتیجہ نہیں نکلا، بلکہ عملاً وہ صرف کاؤنٹر پروڈکٹیو (counter productive) ثابت ہوا ہے۔ جہاد کے نام پر کی جانی والی اِس جنگ کا یہ معکوس نتیجہ کیوں برآمد ہوا۔ اِس کا جواب یہ ہے کہ جہاد اعداء اللہ کے خلاف ہوتا ہے۔ عرب -اسرائیل جنگ اپنی نوعیت کے اعتبار سے کسی دشمن کے خلاف جنگ نہیں، بلکہ وہ حقیقت (reality) کے خلاف جنگ ہے۔ اور یہ ایک واقعہ ہے کہ حقیقت کے خلاف لڑکر کوئی بھی شخص یا گروہ کامیاب نہیں ہوسکتا۔
بائبل کے بیان کے مطابق، فلسطین یہود کے لیے ارضِ موعود (promised land) ہے (استثناء 8:1 )۔ یہی بات قرآن میں اِس طرح کہی گئی ہے کہ فلسطین یہود کے لیے ارضِ مکتوب (assigned land) ہے (المائدۃ: 21 )۔ اِس طرح بائبل اور قرآن دونوں سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ یہودی تارکینِ وطن (Jews in diaspora) کو یہ حق ہے کہ وہ اپنے اصل وطن کی طرف واپس جاکر وہاں آباد ہوں۔ پھر قرآن سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ یہودی تاکینِ وطن دوبار بڑے پیمانے پر اپنے وطن کی طرف واپس ہوں گے۔ واپسی کا پہلا واقعہ حضرت موسی ٰ کے بعد یوشع بن نون کے زمانے میں ہوا۔
اِسی طرح قرآن سے معلوم ہوتا ہے کہ قربِ قیامت سے پہلے یہودی تارکینِ وطن دوسری بار مختلف ملکوں سے سمٹ کر فلسطین واپس آئیںگے۔ یہ واقعہ بطور پیشین گوئی قرآن کی سورہ نمبر 17 میںآیا ہے (الإسراء:104 )۔ اِس آیت کی تشریح میںمفسر ابو الحسن الماوردی (وفات 1058 ء) نے تین اقوال نقل کیے ہیں۔ اُن میں سے ایک قول یہ ہے: وعد الآخرۃ: أی وعد الکرّۃ الآخرۃ فی تحویلہم إلی أرض الشام (تفسیر النکت والعیون) یعنی اِس آیت میں وعدۂ ثانی سے مراد یہودی تارکینِ وطن کی شام (فلسطین) کی جانب دوسری واپسی ہے۔
یہودی تارکینِ وطن کو دوبارہ فلسطین میں بسنے کا موقع دینا ایک عظیم واقعہ تھا۔ اِس کا تقاضا تھا کہ یہودی، خدا کا شکر ادا کریں کہ اس نے ان کی دیرینہ قومی آرزو کو پورا کیا۔ دوسری طرف، ان کے پڑوسی مسلمانوں کا فرض تھا کہ وہ یہود کو دعوتِ حق کا مخاطب بنائیں، وہ ان کوسچائی کا پیغام دیں۔ لیکن عجیب بات ہے کہ اِس معاملے میں دونوں ہی گروہ ناکام ثابت ہوئے۔ نہ یہود نے خداوند ِ ذوالجلال کا شکر ادا کیا، اور نہ مسلمانوں نے اپنی دعوتی ذمے داری کو انجام دیا۔ اِس اعتبار سے دونوں کا کیس بالکل ایک ہے۔ چناںچہ دونوں ہی فریق خدا کی نصرت سے محروم رہ گئے، یہودبھی اور مسلمان بھی۔
واپس اوپر جائیں

بلندفکری

موجودہ دنیا میں آدمی ہر وقت اپنے قریبی حالات میں گھرا رہتا ہے۔ ایسی صورت میں صحیح سوچ کا مالک صرف وہ شخص بنے گا جو اپنے اندر بلند فکری (high thinking) کی صفت پیدا کرے، وہ اپنے قریبی حالات سے اوپر اٹھ کر سوچے، وہ غیر متاثر ذہن کے تحت معاملات پر رائے قائم کرے۔ اِس طرزِ فکر کا فارمولا صرف ایک ہے— اپنی سطح سے اوپر اٹھ کر سوچنا:
To think beyond the limit.
آدمی ہمیشہ کچھ لوگوں کے درمیان زندگی گزارتا ہے۔ لوگوں کی طرف سے اس کو بار بار ناخوش گوار قسم کے تجربات پیش آتے ہیں۔ اِن ناخوش گوار تجربات کی بنا پر ایسا ہوتا ہے کہ اس کے اندر بطور ردّ عمل طرح طرح کے غیر حقیقی جذبات پیدا ہوجاتے ہیں۔ مثلاً غصہ، حسد، نفرت، انتقام، احساسِ برتری، یا احساسِ کم تری، وغیرہ۔ ہر آدمی اِسی قسم کے منفی احساسات کے درمیان زندگی گزارتا ہے۔ یہ احساسات جو ہمیشہ رد عمل کی نفسیات کے تحت پیدا ہوتے ہیں، وہ انسان کو غیر حقیقت پسندانہ سوچ میں مبتلا کردیتے ہیں۔وہ فطرت کے مقرر راستے سے ہٹ کر غیر فطری راستے پر چلنے لگتا ہے۔
اِس دنیا میں کامیابی کا طریقہ صرف یہ ہے کہ آدمی اپنے حالات سے اوپر اٹھ کر سوچ سکے، وہ متاثر ذہن کے تحت کوئی فیصلہ نہ کرے۔ وہ اپنے اندر وہ چیز پیدا کرے جس کو غیر متعصبانہ ذہن، یا تخلیقی فکر (creative thinking) کہاجاتاہے۔ ایسا ہی انسان اِس دنیا میں درست انداز میں سوچے گا اور اپنے عمل کی درست منصوبہ بندی کرے گا اورآخر کار کامیابی کی منزل تک پہنچے گا۔
بلند فکری کسی انسان کے لیے سب سے بڑی نعمت ہے۔ بلند فکری میں جو چیز سب سے بڑی رکاوٹ ہے، وہ ڈسٹریکشن (distraction) ہے، یعنی ذہن کا مختلف سمتوں میں منتشر ہوجانا۔ آدمی کو چاہیے کہ وہ اپنے آپ کوہر قسم کے ذہنی انتشار سے بچائے، تاکہ وہ اپنے اندر صحتِ فکر کو قائم رکھ سکے۔ یہ دراصل صحتِ فکر ہی ہے جو انسان کو حیوان سے ممیز کرتی ہے۔
واپس اوپر جائیں

سب سے بڑا مسئلہ

مشہور امریکی پروفیسر جیرڈ ڈائمنڈ (Jared Diamond) کی پیدائش 1937 میں ہوئی۔ انھوں نے مختلف علوم پر ڈگریاں لیں۔ وہ ایک درجن زبانیں جانتے ہیں۔ ان کا ایک بامعنیٰ قول اِن الفاظ میں نقل کیا گیا ہے— واحد سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ لوگ یہ دریافت نہیں کر پاتے کہ ان کا سب سے بڑا مسئلہ کیا ہے:
The single most important problem is our misguided focus on identifying the single most important problem! (The Times of India, New Delhi, July 6, 2008, p. 28)
یہ بات بالکل درست ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ ایسا کیوں ہوتا ہے کہ لوگ اصل مسئلے کی پہچان کرنے میں ناکام ہوجاتے ہیں۔ اِس کا سبب صرف ایک ہے، اور وہ غیر حقیقت پسندانہ طرزِ فکر (unrealistic approach) ہے۔ لوگوں کا حال یہ ہے کہ عام طور پر وہ جذباتیت یا تعصب، وغیرہ کا شکار رہتے ہیں۔ اِس بنا پر وہ بے آمیزانداز میں سوچ نہیں پاتے۔ ایسے لوگوں کا حال اُس انسان جیسا ہوتا ہے جس کی آنکھ پر رنگین عینک لگی ہوئی ہو اور وہ اپنی اِسی رنگین عینک سے باہر کی چیزوں کو دیکھے۔ایسا آدمی چیزوں کو اپنے رنگین شیشہ کی نسبت سے دیکھے گا، نہ کہ حقیقتِ واقعہ کی نسبت سے۔ اِس دنیا میں غلط عمل ہمیشہ اِسی قسم کے غلط مشاہدے کا نتیجہ ہوتا ہے۔
جب آپ اصل مسئلے کو دریافت نہ کرسکیںتو اس کے بعد آپ اپنے مسئلے کے حل کی جو تدبیر کریں گے، وہ یقینی طورپر ناکام ہوجائے گی۔ آپ کا حال اُس شکاری جیسا ہوگا جو اپنے اصل نشانہ (target) کو صحیح طورپر متعین کیے بغیر اپنی بندوق چلا دے۔
جو آدمی یہ چاہتا ہو کہ وہ اپنے مسئلے کو صحیح طورپر حل کرسکے، اس کو چاہیے کہ سب سے پہلے وہ حقیقت پسندانہ انداز میں اصل مسئلے کی شناخت کرے۔ اور پھر اس کے حل کے لیے ٹھیک مطابقِ واقعہ منصوبہ بندی کرے۔ اِس کے بغیر مسئلے کے حل کی جوبھی تدبیر کی جائے گی، وہ یقینی طورپر ناکام ثابت ہوگی۔
واپس اوپر جائیں

منطقی طرزِ استدلال

ایک عالم سے گفتگو ہوئی۔ میںنے کہا کہ حدیث میں آیا ہے: استفتِ قلبک (اپنے دل سے پوچھ لو)۔ اِس سے معلوم ہوا کہ دین کے تقاضے معلوم کرنے کا ایک ذریعہ قرآن اور حدیث کے علاوہ ہے، اور وہ کامن سنس (common sense)ہے۔ اسلام دین فطرت ہے۔ اِس لیے جو چیز فطری تقاضے کے مطابق ہو، وہ بھی اسلام میں داخل سمجھی جائے گی۔ مثال کے طورپر ہر شخص اپنے ماںباپ سے محبت کرتا ہے۔ وہ اس کو دین کے مطابق سمجھتا ہے۔ حالاں کہ قرآن اورحدیث میں کہیں بھی لفظی طور پر یہ لکھا ہوا موجود نہیں ہے کہ— اپنے ماں باپ سے محبت کرو۔
انھوں نے میری بات کو رد کرتے ہوئے کہا کہ ماں باپ سے محبت کرنے کا حکم قرآن میں موجود ہے، پھر انھوں نے قرآن کی یہ آیت پڑھی: وقضیٰ ربک أن لا تعبدوا إلاّ إیّاہ وبالوالدین إحساناً (الإسراء: 23)۔ میں نے کہا کہ اِس آیت سے آپ کا مدعا ثابت نہیںہوتا۔اِس آیت میں جس چیز کا حکم دیاگیا ہے، وہ ماں باپ کی محبت نہیں ہے، بلکہ ماں باپ کے ساتھ حسنِ سلوک ہے، یعنی ماں باپ کے ساتھ تمام انسانی اور اخلاقی تقاضے پورے کرنا۔ یہ ایک غیرمنطقی استدلال ہے کہ جس آیت میںاخلاقی سلوک کا ذکر ہو، اُس سے قلبی محبت کا حکم نکالا جائے۔
منطقی استدلال کیا ہے۔ منطقی استدلال (logical argument) دراصل درست ریزننگ (correct reasoning) کا نام ہے۔ یعنی وہ استدلال جو حقائق پر مبنی ہو۔ جس میں متعلق (relevant) اور غیر متعلق (irrelevant) کے فرق کو پوری طرح ملحوظ رکھتے ہوئے بات کہی جائے۔ ایسا استدلال جو مخاطب کے مسلّمہ پر مبنی ہو، نہ کہ کسی یک طرفہ مفروضے پر، جس کی بنیاد قطعی امور پر ہو، نہ کہ ظنی امور پر، جو جذباتی طرزِ فکر سے بالکل پاک ہو، جس میں کامل موضوعی فکر(objective thinking) پائی جائے۔ ایسے ہی استدلال کا نام منطقی استدلال ہے۔ اور منطقی استدلال ہی دراصل درست استدلال (correct reasoning)کا درجہ رکھتا ہے۔
واپس اوپر جائیں

خدا اورانسان

مسٹر اے اور مسٹر بی کے درمیان ایک پراپرٹی کے بارے میں نزاع ہوئی۔ مسٹر اے کا کہنا تھا کہ یہ پراپرٹی ان کی ہے اور مسٹر بی نے غلط کارروائی کرکے اُس پر ناجائز قبضہ کرلیا ہے۔ دونوں کے درمیان کافی بات چیت ہوئی، لیکن مسٹر بی اپنی غلطی ماننے پر تیار نہیں ہوئے۔ آخر کار مسٹر اے نے مسٹر بی سے کہا کہ اگر آپ خدا کی کتاب اپنے ہاتھ میں لے کر یہ کہہ دیں کہ یہ پراپرٹی آپ کی ہے، تو میں آپ کے دعوے کو مان لوں گا اور پراپرٹی پر آپ کا قبضہ تسلیم کرلوں گا۔ مسٹر بی نے اِس کے جواب میں کہا — اِس میں خدا کہاں سے آگیا:
How does God come into the picture.
موجودہ زمانے میں یہی تقریباً تمام لوگوں کا حال ہے۔ ہر ایک اپنی مرضی کے مطابق، جو چاہتا ہے وہ کرتا ہے، اور جب اس کو خدا سے ڈرایا جائے تو وہ زبانِ حال یا زبانِ قال سے کہہ دیتا ہے کہ — اِس میں خدا کہاں سے آگیا۔
یہ معاملہ صرف عوام کا نہیں ہے، بلکہ خواص بھی اِسی میں مبتلا ہیں۔ مثلاً موجودہ زمانے میں جب طبیعی سائنس میں ترقی ہوئی اور فطرت کے قوانین دریافت کیے گئے، تو جدید تعلیم یافتہ طبقے نے عام طور پر، خدا کو کائنات سے خارج کردیا۔ انھوںنے کہا جب سارے واقعات فطرت کے قوانین کے تحت ہورہے ہیں، تو پھر کائنات کی توجیہہ کے لیے خدا کو ماننے کی کیا ضرورت۔
خدا اِس دنیا کا خالق اورمالک ہے۔ مگر عجیب بات ہے کہ ساری تاریخ میں انسان، خدا کووہ اہمیت نہ دے سکا جو اہمیت اس کو دینا چاہیے تھا۔ انسان کا اپنا وجود مکمل طورپر خدا کا عطیہ ہے۔ مال اور اولاد کی صورت میںجو کچھ بھی اس کے پاس ہے، وہ خدا کا دیا ہوا ہے۔ روشی اور آکسیجن اورغذا اور پانی جیسی ان گنت چیزیں انسان کو مسلسل طورپر حاصل رہتی ہیں۔ اِن چیزوں کا دینے والا بھی صرف خدا ہے۔ مگر اِس سب سے بڑی حقیقت کا پوری تاریخ میں سب سے کم اعتراف کیا گیا ہے۔ انسان کے پاس خدا کو دینے کے لیے صرف ایک ہی چیز تھی اور وہ تھا اس کا اعتراف، مگر انسان اِسی واحد چیز کو دینے میں ناکام ہوگیا۔
واپس اوپر جائیں

اہتزاز یا مشقت

ایک انگریز شاعر نے ایک نظم لکھی ہے۔ اِس نظم میں بطور خود ایک مفروضہ دنیا کا خوب صورت نقشہ کھینچا گیا ہے۔ اِس مفروضہ دنیا کے ماحول میں مسرت ہی مسرت (happiness)ہے۔ اِس نظم کی ایک لائن یہ ہے— ہر طرف اہتزاز ہی اہتزاز:
Thrill, thrill, all the way
یہ ایک شاعرانہ مفروضہ ہے۔ ایسی کوئی دنیا حقیقت میں یہاںموجود نہیں۔ خالق نے اِس دنیا کو برائے امتحان بنایا ہے، نہ کہ برائے اہتزاز۔ قرآن کی سورہ نمبر 90 میں بتایاگیا ہے کہ خدا نے انسان کو مشقت میں پیدا کیا ہے (البلد:4 )۔ ایسی حالت میں، اِس دنیا میں مسرتوں سے بھری ہوئی زندگی حاصل کرنا کسی کے لیے ممکن ہی نہیں۔ خدا کے تخلیقی پلان کے مطابق، یہ دنیا کبھی مسائل سے خالی نہیں ہوسکتی۔ اِس لیے اِس دنیا کے بارے میں یہ کہنا زیادہ صحیح ہوگا کہ— ہر طرف مشقت ہی مشقت:
Trouble, trouble, all the way
ایسی حالت میں یہ صرف نادانی ہوگی کہ آدمی اِس دنیا میں اپنے لیے خوشیوں اور راحتوں کا ایک محل بنانے کی کوشش کرے، کیوں کہ یہاں ایسا محل بننے والا ہی نہیں۔ عقل مندی یہ ہے کہ آدمی اِس معاملے میں حقیقت پسندی کا طریقہ اختیار کرے۔ وہ پیشگی طورپر یہ یقین کرے کہ اِس دنیا میں اس کو مسائل کے جنگل میںزندگی گزارنا ہے۔ آدمی کو یہاں بے مسائل کی دنیا بنانے کی کوشش نہیں کرنا چاہیے، بلکہ اُس کو مسائل کے ساتھ ایڈجسٹ مینٹ کرنے کا فن سیکھنا چاہیے:
Man has to learn the art of problem management.
ایڈجسٹ کرنے سے انسان کا ذہنی ارتقا ہوتا ہے۔اِس طرح اس کے اندر اعلیٰ شخصیت کی تعمیر ہوتی ہے۔اِس کے ذریعے وہ انسانیتِ اعلیٰ کے مقام پر پہنچنے کے قابل بنتا ہے— زندگی ممکن کے دائرے میں اپنے عمل کی منصوبہ بندی کا نام ہے، نہ کہ ناممکنات کے دائرے میں احمقانہ چھلانگ لگانے کا۔
واپس اوپر جائیں

قسمت ِ انسانی

ایک فرانسیسی مفکر ڈونوائے(Le Comte Donoy) کی ایک کتاب ہے جس کا نام قسمت ِ انسانی (Human Destiny) ہے۔ اِس کتاب میںمصنف نے انسان کے ماضی اور حال سے بحث کی ہے۔ لیکن کتاب کے قاری کو آخر میںکنفیوژن کے سوا کچھ اور نہیں ملتا۔ اِس موضوع پر اور بھی بہت سے لوگوں نے کتابیں لکھیں ہیں، لیکن یہ تمام کتابیں اپنے قاری کو کنفیوژن کے سوا کچھ اور نہیں دیتیں۔وہ آدمی کو کسی مثبت نتیجے تک پہنچانے میں پوری طرح ناکام ثابت ہوئی ہیں۔
اِس کا سبب غالباً یہ ہے کہ انسان کی زندگی میںبہ یک وقت دو متضاد چیزیں پائی جاتی ہیں— جبر، اور اختیار۔ فلاسفہ یہ کرتے ہیں کہ وہ دونوں میں سے کسی ایک کو مرکزی خیال بنا کر اس کے تحت، انسان کی پوری زندگی کی تشریح کرنا چاہتے ہیں۔ مگر وہ عملاً ممکن نہیں۔ جب یہ لوگ جبر کے پہلو کو لے کر تشریح کرتے ہیں تو اختیار کا پہلو چھوٹ جاتا ہے۔ اور جب وہ اختیار کے پہلو کو لے کر تشریح کرنا چاہتے ہیں تو جبر کا پہلو چھوٹ جاتا ہے۔ اِس بنا پر اُن کی فکر میںتضاد پیدا ہوجاتا ہے۔ اور تضاد فکری کا لازمی نتیجہ صرف کنفیوژن (confusion)ہے، اِس کے سوا اور کچھ نہیں۔
اصل یہ ہے کہ انسان کا معاملہ دو پہلوؤں کے درمیان ہے— عمل کے اعتبار سے آزادی، اور انجام کیاعتبار سے مجبوری۔ انسان کا معاملہ یہ ہے کہ پیدا ہوتے ہی وہ ایک لازمی قانون فطرت سے بندھ جاتا ہے۔ اِس قانون سے باہر جانا اس کے لیے ممکن نہیں رہتا۔
انسان پیداہوتے ہی ایک ابدی مخلوق بن جاتا ہے۔ پیدائش سے موت تک کی ایک محدود مدت تک وہ عمل کرنے کے لیے آزاد ہے، مگر وہ اِس کے لیے آازاد نہیںکہ وہ اپنے آپ کو مرنے سے روک سکے۔ وہ محدود مدت تک عمل کرنے کے لیے آزاد ہے، مگر وہ اپنے عمل کے انجام سے اپنے آپ کو بچا نہیں سکتا۔ موت سے پہلے کی زندگی میںوہ آزاد ہے کہ جو چاہے، کرے۔ مگر موت کے بعد کی زندگی میں وہ اپنے آپ کو اپنے عمل کے انجام سے بچانے پر قادر نہیں۔
واپس اوپر جائیں

معذوری کے باوجود

جو لوگ جسمانی اعتبار سے معذور ہوجاتے ہیں، اُن کو پہلے صرف معذور (disabled) کہاجاتا تھا۔ اِس کے بعد، اِس قسم کے لوگوں کے لیے ایک نیا لفظ استعمال ہونے لگا۔ یہ لفظ تھا— فزیکلی چیلینجڈ(physically challenged) یعنی وہ شخص جو جسمانی معذوری کی بنا پر چیلنج سے دو چار ہو۔ اب یہ لفظ بھی متروک ہو رہا ہے۔ اب ایسے افراد کو ڈفرنٹلی ایبلڈ(differently abled) کہا جانے لگا ہے، یعنی وہ شخص جو بہ ظاہر معذوری کے باوجود کسی دوسرے پہلو سے لیاقت کا حامل ہو۔
اِس تبدیلی کا سبب یہ ہے کہ تجربے سے معلوم ہوا کہ جو لوگ کسی جسمانی معذوری سے دوچار ہوتے ہیں، وہ پورے معنوں میں معذور نہیں ہوجاتے، بلکہ ایسا ہوتا ہے کہ ایک اعتبارسے معذور ہونے کے بعد اُن کے اندر ایک اور اعتبار سے لیاقت (ability) پیدا ہوجاتی ہے۔ اِس لیاقت کو استعمال کرکے، وہ سماج کا مفید حصہ بن سکتے ہیں۔
امریکا میںمعذور افراد کے بارے میں ایک رسرچ ہوئی ہے۔ یہ رسرچ امریکا کے ایک جرنل (BMC Neuroscience) میں چھپی ہے۔ اُس کا خلاصہ ٹائمس آف انڈیا (20 اگست، 2008 ) میں حسب ذیل عنوان کے تحت شائع ہوا ہے— انسان آواز کو دیکھ سکتا ہے، اور روشنی کو سن سکتا ہے:
Humans can see sound, hear light.
اِس رسرچ میں بتایا گیا ہے کہ کوئی شخص اندھا ہوجائے، تو اس کے سننے کی طاقت بڑھ جاتی ہے۔ کوئی شخص بہرا ہوجائے، تو اس کے دیکھنے کی طاقت زیادہ ہوجاتی ہے اور اگر کوئی شخص اندھا اور بہرا دونوں ہوجائے، تو اُس کی چھونے کی طاقت (قوتِ لامسہ) میںاضافہ ہوجاتا ہے:
Sensory cell can process an alternative sensation. Where eyesight is poor, the ears take up the slack and stimulate the visual system. This may explain how blind people develop such advanced hearing skills and, similarly, why the deaf often possess superior sight. (p. 37)
واپس اوپر جائیں

خوشی صرف آخرت میں

چارلی چپلن(Charlie Chaplin) ایک برٹش فلم اسٹار تھا۔ اس کی پیدائش 1889 میں ہوئی۔ اور 88 سال کی عمر میں 1977 میںاس کی وفات ہوئی۔ وہ ایک مزاحیہ اداکار(comedian) تھا۔ اس کا شو دیکھ کر لوگ بہت زیادہ ہنستے تھے۔ مگر خود چارلی چپلن اندر سے غم گین رہتا تھا۔ تمام مادّی سازوسامان کے باوجود، اس کو اپنی زندگی میں خوشی حاصل نہیں ہوئی۔
کہا جاتا ہے کہ ایک بار ایک نفسیاتی ڈاکٹر (psychiatrist) کے پاس ایک شخص آیا۔ اُس نے کہا کہ میں بہت زیادہ افسردہ رہتا ہوں، آپ مجھ کو کوئی ایسی تدبیر بتائیے کہ میں خوش رہ سکوں۔ ڈاکٹرنے کہا کہ تم چارلی چپلن کا شو دیکھا کرو۔ آنے والے نے کہا کہ میںہی تو چارلی چپلن ہوں۔ میںدوسروں کو ہنساتا ہوں، لیکن میرا دل اندر سے روتاہے۔
چارلی چپلن ایک کامیڈین (comedian) تھا، مگر جب موت کاوقت قریب آیا، تو وہ اپنی نفسیات کے اعتبار سے ایک ٹریجڈین (tragidian) بن چکا تھا۔ وہ شخص جو دوسروں کو ہنساتاتھا، اس نے اپنی حالت پر ایک بار اِن الفاظ میں تبصرہ کیا کہ— میں بارش میں چلنا پسند کرتا ہوں، تاکہ کوئی میرے بہتے ہوئے آنسوؤں کو نہ دیکھ سکے:
I always like to walk in the rain, so that no one can see me crying.
یہی اِس دنیا میں ہر عورت اورمرد کی کہانی ہے۔ لوگ مصنوعی طورپر ہنستے ہیں، لیکن اندر سے انھیں کوئی خوشی حاصل نہیں ہوتی۔ لوگ مصنوعی طور پر اپنی کامیابی کے قصے بیان کرتے ہیں، لیکن اندر سے وہ شکست خوردہ نفسیات میں مبتلا رہتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ موجودہ دنیا میں کسی کے لیے بھی خوشی اور راحت نہیں۔ خوشی اور راحت صرف آخرت میں ہے جو موت کے بعد آنے والے دورِ حیات میں صرف خدا پرست عورتوں اور مردوں کو حاصل ہوگی۔بنانے والے نے موجودہ دنیا کو عمل کے لیے بنایا ہے۔ یہاں صرف عمل برائے مسرت (happiness) ممکن ہے، نہ کہ خود مسرت کا حصول۔
واپس اوپر جائیں

ذہین آدمی کا فتنہ

ذہانت ایک عظیم نعمت ہے۔ مگر اِسی کے ساتھ ذہانت ایک عظیم فتنہ بھی ہے۔ جو آدمی زیادہ ذہین ہو، اُس کے اندر بہت جلد اپنے بارے میں شعوری یا غیر شعوری طورپر، برتری کا احساس (superiority) پیدا ہوجاتا ہے۔ اِس احساسِ برتری کی بنا پر ایسا ہوتا ہے کہ وہ کسی دوسرے شخص کا اعتراف نہیںکرپاتا۔ اِس بے اعترافی کی مختلف صورتیں ہیں۔
اِس بے اعترافی کی بنا پر بعض افراد کایہ حال ہوتا ہے کہ اُن سے کوئی بات کہی جائے تو فوراً وہ اس کے لیے اپنا کوئی ذاتی حوالہ ڈھنڈ لیں گے۔ وہ کہیں گے کہ میںنے بھی فلاں موقع پر یہ بات کہی تھی۔ کچھ افراد اپنے اِس مزاج کی بنا پر ایسا کرتے ہیں کہ جب اُن سے کوئی بات کہی جائے تو وہ فوراً اُس کو کاٹ دیںگے اور پھر اُسی بات کو خود اپنے لفظوں میں بیان کریں گے۔ اِسی طرح بعض افراد پوری بات کو نظر انداز کرکے ایک شوشہ نکال لیں گے، اور پھر وہ اِس شوشے پر اِس طرح تقریر کریںگے، جیسے کہ یہی شوشہ اصل ہے اور بقیہ باتوں کی کوئی اہمیت نہیں۔
ایک اور قسم اُن افراد کی ہے جن کے سامنے کچھ باتیں کہی جائیں تو وہ اُس کو مثبت ذہن کے ساتھ نہیں سنیںگے۔ اُن کا ذہن اِس تلاش میں رہے گا کہ مختلف باتوں میںسے وہ کوئی ایک بات ڈھونڈ لیں جس میں بظاہر کوئی کم زور پہلو موجود ہو، اور پھر اِسی ایک بات کو لے کر وہ بقیہ کہی ہوئی تمام باتوں کو رد کردیں گے۔
اِس مزاج کا یہ نقصان ذہین آدمی کے حصے میں آتا ہے کہ اس کا ذہنی ارتقا صرف محدود طورپر ہوتاہے، وسیع تر انداز میں اس کا ذہنی ارتقا نہیں ہوتا۔ جو چیزیں اُس کے لیے ذاتی انٹرسٹ کی حیثیت رکھتی ہیں، مثلاً اپنا جاب (job) یا اپنے بچوں کا مستقبل، اس طرح کے معاملے میں وہ پوری طرح سنجیدہ ہوتا ہے۔ اِس لیے ایسے معاملے میںاس کا ذہن اچھی طرح کام کرتا ہے۔ بقیہ معاملات میں وہ سنجیدہ نہیں ہوتا، اِس لیے بقیہ اعتبار سے اس کا ذہنی ارتقا بھی نہیں ہوتا۔ اِس طرح عملاً وہ ایک ذہین بے وقوف، یا بے وقوف ذہین بن کر رہ جاتا ہے۔
واپس اوپر جائیں

شادی شدہ زندگی کے مسائل

شادی بظاہر ایک عورت اور ایک مرد کے درمیان ہوتی ہے، لیکن عملی اعتبار سے وہ دو مختلف کلچر کے درمیان ہوتی ہے۔ اِس حقیقت کو والدین نہیں سمجھتے۔ وہ شادی کے صرف دوسرے پہلوؤں کو جانتے ہیں، اور اِن دوسرے پہلوؤں کے اعتبار سے اپنے لڑکی کی شادی کردیتے ہیں۔ بعد کو جب کلچرل فرق کی بنا پر زوجین کے درمیان مسائل پیدا ہوتے ہیں، تب بھی وہ اصل راز کو دریافت نہیں کرپاتے۔ دونوں فریق صرف یہ کرتے ہیں کہ وہ ایک دوسرے کو برا بتاتے رہتے ہیں۔ نتیجۃً بیش تر شادیوں کا انجام یہ ہوتا ہے کہ— وقتی طور پر دھوم کے ساتھ شادی، اور پھر ہمیشہ کے لیے تلخ زندگی۔
لندن سے میرے پاس ایک مسلم خاتون کا ٹیلی فون آیا۔ ان کی پیدائش پاکستان میں ہوئی۔ اِس کے بعد ان کی شادی ایک ایسے مسلم نوجوان سے ہوئی جس کی پیدائش لندن میں ہوئی تھی۔ خاتون نے ٹیلی فون پر بتایا کہ اُن کی شادی کو کئی سال ہوچکے ہیں، لیکن اُنھیں پُر مسرت ازدواجی زندگی حاصل نہ ہوسکی۔ گفتگو کے دوران میں نے اُن سے صرف دو سوال کیے۔ میں نے پوچھا کہ آپ کے شوہر کردار (character)کے اعتبار سے کیسے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ کردار کے اعتبار سے وہ ایک اچھے انسان ہیں۔ دوسرا سوال میں نے یہ کیا کہ آپ کے شوہر نے کبھی ایسا کہا کہ تم زیادہ بولتی ہو۔ انھوں نے کہا کہ ہاں، ایسا تو وہ اکثر کہتے رہتے ہیں۔
اِس کے بعد میں نے کہا کہ آپ کے مسئلے کی جڑ صرف ایک ہے۔ آپ پاکستانی کلچر کے مطابق، زیادہ بولنے والی شخصیت (outspoken person) ہیں، اور آپ کا شوہر برٹش کلچر کے مطابق، کم بولنے والا شخص (underspoken person) ہے۔ یہی فرق آپ کے شوہر کے اندر باربار جھلاّہٹ (irritation)پیدا کرتا ہوگا۔ اِسی چیز نے آپ کی ازدواجی زندگی کو تلخ بنا دیا ہے۔ آپ صرف یہ کیجیے کہ اپنے آپ کو بدلیے اور بہت کم بولنے کی عادت ڈالیے۔ اِس کے بعد مذکورہ خاتون نے ایسا ہی کیا اور ان کی زندگی ایک خوش گوار زندگی بن گئی۔
واپس اوپر جائیں

رکاوٹ کے بغیر

26 اکتوبر 2002 کو نئی دہلی میں مسٹر محمد یٰسین (بھائی جی) سے ملاقات ہوئی۔ انھوںنے کہا کہ بزنس میںآپ میرے گرو ہیں۔ پھر انھوںنے بتایا کہ وہ گولڈ اور سِلور آرٹیکل کے اکسپورٹر ہیں۔ 20 سال پہلے وہ صرف ایک ’’مزدور‘‘ تھے۔ پھر انھوںنے گولڈ اور سلور کے آرٹیکل بنانے کا ابتدائی کام شروع کیا۔ مگر وہ زیادہ آگے نہ بڑھ سکا۔ اس لائن میں اصل اکسپورٹر ایک ہندو تھے۔ وہ یہ کرتے تھے کہ ہمارے سامان میںکوئی نقص (defect) ہو تو وہ سامان کو رجکٹ (reject) کردیتے تھے، جب کہ وہ ہندو کے بنائے ہوئے سامان کو نقص کے باوجود قبول کرلیتے تھے۔
اسی زمانہ میں میں نے ماہ نامہ الرسالہ میں ایک مضمون پڑھا۔ اس مضمون میں بتایا گیا تھا کہ دوسری عالمی جنگ کے بعد جاپان کو بھی اسی قسم کے تجارتی تعصب کا سامنا تھا۔ جاپان نے اس کا مقابلہ اس طرح کیا کہ اپنی فیکٹریوں میں زیرو ڈفکٹ (zero defect) کا اصول رائج کردیا، یعنی ایسے سامان بنانا جو نقص (defect)سے صد فی صد پاک ہوں۔ اس معیار کو حاصل کرنے کے بعد دنیا کے لیے ناممکن ہوگیا کہ وہ جاپان کو نظر انداز کرے۔میں نے اس بات کو پکڑ لیا اور محنت کرکے اپنے سامانوں کو زیروڈفکٹ کے اصول پر تیار کرنے لگا۔ خدا کا شکر ہے کہ مجھے کامیابی ہوئی اور اب یہ حال ہے کہ 20 سال پہلے کا مزدور آج ایک بڑا اکسپورٹر بنا ہوا ہے۔
موجودہ دنیا چیلنج کی دنیا ہے۔ ایسی حالت میں کامیابی کار از یہ ہے کہ جب بھی کسی آدمی کے ساتھ اس قسم کی کوئی ناموافق صورت حال پیش آئے تو وہ اس کو شکایت اور تعصب کے طور پرنہ لے بلکہ وہ یہ سوچے کہ اس کا موثر مقابلہ کس طرح کیا جاسکتا ہے۔دنیا میں جس طرح ناموافق حالات ہیں، اسی طرح یہاںموافق حالات بھی بہت زیادہ ہیں۔ جو آدمی بھی کھلے ذہن کے تحت سوچے گا، وہ ضرور ناموافق پہلو کے اندر موافق پہلو کو تلاش کرلے گا۔ اور اس طرح اس کے لیے ممکن ہوجائے گا کہ اس کی زندگی کا سفر کسی رکاوٹ سے دوچار نہ ہو، اس کا سفر مسلسل جاری رہے، یہاں تک کہ وہ اپنی منزل پر پہنچ جائے۔
واپس اوپر جائیں

عادت اور ضرورت

آدمی جب کوئی کام بار بار کرے اور برابر کرتا رہے، تووہ دھیرے دھیرے اس کی زندگی کا ایک ایسا حصہ بن جاتا ہے کہ آدمی اس کو اپنی ضرورت سمجھنے لگتا ہے۔ اس کا ذہن یہ بن جاتا ہے کہ اس کے بغیر اس کا کام ہی چلنے والا نہیں۔ مگراس قسم کی چیزیں آدمی کی عادت ہوتی ہیں، وہ اس کی ضرورت نہیں ہوتیں۔ آدمی کو چاہیے کہ وہ عادت اور ضرورت میں فرق کرے۔ ضرورت والی چیز کو تو ضرور وہ اپنی زندگی میں شامل کرے، مگر جو چیز اپنی حقیقت کے اعتبار سے صرف ایک عادت کا درجہ رکھتی ہو، اس کو وہ ہرگز اپنی زندگی کا حصہ نہ بننے دے۔
ضرورت اس چیز کا نام ہے جس کے بغیر زندگی کی بقا ناممکن ہوجاتی ہے۔ اس کے برعکس، عادت وہ چیز ہے جس کا تعلق آرام یا نمائش سے ہے۔ اس طرح کی چیز کو اگر چھوڑ دیا جائے تو اس سے آدمی کی زندگی میں کوئی حقیقی مسئلہ نہیں پیدا ہوتا۔
مجھے اپنی زندگی میں اس قسم کے کئی تجربے ہوئے۔ مثلاً گھر کے رواج کے مطابق، میں شیروانی کا عادی ہوگیا تھا۔ چناںچہ شیروانی پہنے بغیر باہر جانا ایسا معلوم ہوتا تھا، جیسے میں پورا کپڑا نہیں پہنے ہوئے ہوں۔ مگر بعد کو جب مجھ کو شعور آیا تو میںنے شیروانی پہننا چھوڑ دیا۔ دھیرے دھیرے یہ حال ہوگیا کہ اب مجھ کوشیروانی یاد بھی نہیں۔ یہ تجربہ بتاتا ہے کہ شیروانی میرے لیے صرف ایک عادت تھی، وہ میری ضرورت نہیں تھی۔ اِسی طرح کے اورکئی تجربے مجھے اپنی ذاتی زندگی میں پیش آئے۔
حقیقت یہ ہے کہ یہ معاملہ صرف ایک ذاتی مزاج کا معاملہ ہے، وہ خدا کی پیدا کردہ فطرت کا تقاضا نہیں۔ ہر آدمی کو چاہیے کہ وہ اپنے شعور کو اتنا بیدار کرے کہ وہ ضرورت اور عادت میں فرق کرسکے۔ اس کے بعد وہ عادت والی چیزوں کو چھوڑ دے اور ضرورت والی چیزوں کو اپنی زندگی میں باقی رکھے۔ زندگی کی تعمیر میں اس کی اہمیت اتنی زیادہ ہے کہ جو لوگ اس کا لحاظ نہ رکھیں، وہ کبھی اپنی زندگی کی اعلیٰ تعمیر نہیں کرسکتے۔
واپس اوپر جائیں

بل تو اپنا بل

ایک قدیم ہندی مثل ہے کہ — بَل تو اپنا بَل۔ اِس کا مطلب یہ ہے کہ آدمی جو کام کرے، وہ خود اپنی طاقت کی بنیاد پر کرے۔ دوسروں کی طاقت کے بھروسے پر کام کرنا، ایک ایسا تجربہ ہے جوباربار ناکام ہوا ہے۔ اب اِس قسم کے تجربے کو دہرانا، کسی عقل مند آدمی کا کام نہیں ہوسکتا۔
میں نے اپنی زندگی میں بہت سے لوگوں کو دیکھا ہے۔ وہ بزنس کرنا چاہتے تھے۔ ان کے پاس سرمایہ کم تھا۔ اپنے محدود سرمائے سے وہ صرف چھوٹا بزنس کرسکتے تھے۔ انھوں نے بڑے بزنس کے شوق میں بینک سے قرض لے لیا، یا کسی کو اپنا پارٹنر (partner)بنا لیا۔ چند سال کے بعد وہ پریشانی میں مبتلا ہوگئے۔ آخر کار اُن کا بزنس ناکامی کے ساتھ ختم ہوگیا۔
اِس معاملے میں صحیح طریقہ یہ ہے کہ آدمی اپنی محنت اور اپنے سرمائے پر بھروسہ کرے۔ اپنی محنت اور اپنے سرمائے سے اگر وہ صرف چھوٹا کاروبار کرسکتا ہے، تو اُس کو چاہیے کہ وہ چھوٹے پیمانے پر اپنا کام شروع کرے اور دھیرے دھیرے آگے بڑھتے ہوئے ترقی کے مقام تک پہنچے۔ یہی کام کا فطری طریقہ ہے۔ اِس کے برعکس، دوسرا طریقہ چھلانگ (jump)کا طریقہ ہے، اور چھلانگ کا طریقہ اِس دنیا میں کبھی کامیاب نہیں ہوتا۔
چھوٹے چھوٹے چشموں سے مل کر دریا بنتا ہے۔ دھیرے دھیرے بڑھ کر ایک پودا درخت بنتا ہے۔ ذرہ ذرہ کے ملنے سے پہاڑ وجود میں آتے ہیں۔ یہی وہ فطری طریقہ (natural course) ہے جس سے اِس دنیا میں کوئی بڑا واقعہ وجود میں آتا ہے۔ انسان کو بھی اِسی فطری طریقے کی پیروی کرنا ہے۔ اِس دنیا میں کسی اور طریقے کو اختیار کرکے کامیابی حاصل کرنا ممکن نہیں۔ یہی فرد کی کامیابی کا اصول ہے، اور یہی قوم کی کامیابی کا اصول بھی۔ اپنی ذاتی طاقت کے بعد جو چیز آدمی کے کام آتی ہے، وہ فطرت کا نظام ہے، نہ کہ کسی دوست یا پارٹنر کی مدد — اِس دنیا میں آدمی کا واحد مدد گار فطرت کا نظام ہے، نہ کہ کسی دوسرے انسان کا تعاون۔
واپس اوپر جائیں

سوال وجواب

سوال
الرسالہ، ستمبر 2008 میں آپ نے ’’معرفت حدیث، معرفتِ قرآن‘‘ کے عنوان سے لکھا ہے کہ اس کو حاصل کرنے کے لیے کثرتِ مطالعہ اور کثرتِ دعا کی ضرورت ہے۔ جہاں تک میرا خیال ہے، کثرتِ مطالعہ کے بجائے کثرتِ دعوت الی اللہ، اور دعا ہے۔ کیوں کہ صحابہ کو کثرتِ مطالعہ حاصل نہیںتھا۔ دن کو دعوت اور رات کو دعا سے اُن کو اللہ نے معرفتِ حدیث ومعرفتِ قرآن کا حصہ عطا فرمایا تھا۔
میں صرف اِس سوال کا جواب معلوم کرنے کے لیے آپ کو یہ تحریر لکھ رہا ہوں۔ میںآپ کا ہم فکر ہوں، ہم خیال ہوں۔ الرسالہ کے علاوہ، کوئی دوسرا مجلّہ پابندی سے نہیں پڑھتا۔ (حکیم محمدصفدر شریف عمری، تمل ناڈو)۔
جواب
دین کا ایک ظاہری علم ہے۔ یہ علم قرآن اور حدیث کے سادہ مطالعے سے حاصل ہوجاتا ہے۔ دین کے علم کا دوسرا پہلو وہ ہے جس کا تعلق دین کی گہری معرفت سے ہے۔ یہ معرفت غور وفکر کے ذریعے حاصل ہوتی ہے۔ اِس غور وفکر کی مختلف قسمیں ہیں۔ مثلاً محاسبۂ خویش ایک غوروفکر ہے۔ کائنات کا مشاہدہ ایک غور وفکر ہے۔ قرآن اور حدیث کا تحقیقی مطالعہ ایک غورفکر ہے۔دعوت الی اللہ کے دوران اپنی عقل کو متحرک رکھنا ایک غور وفکر ہے۔ کتابوں کا مطالعہ بھی غور وفکر کی ایک صورت ہے۔ غور وفکر کے اِس عمل میںاللہ سے مدد چاہنے کا نام دعا ہے۔ دعا کا تعلق ہر دوسرے عمل سے ہے اور اِسی طرح معرفت سے بھی۔
اصحابِ رسول بظاہر کتابوں کا مطالعہ نہیں کرتے تھے۔ کیوں کہ اُس زمانے میں آج کی طرح مطبوعہ کتابیں موجود نہیں تھیں۔ لیکن حقیقت ِ مطالعہ اُن کی زندگی میں پوری طرح شامل تھی، اور وہ ہے تفکر، تدبر، تذکر اور توسم، وغیرہ۔ اصحابِ رسول کا ذہن مسلسل طورپر اِن چیزوں میں مشغول رہتا تھا۔ مزید یہ کہ ان کے اندر سیکھنے کی طلب بے پناہ حد تک پائی جاتی تھی۔ وہ یہ صلاحیت رکھتے ـتھے کہ چیزوں کو غیر متعصبانہ ذہن کے ساتھ دیکھیں اور بے لاگ طورپر اس کے بارے میں رائے قائم کرسکیں۔ یہی چیزیں مطالعے کا حاصل ہیں، اور اِس معنیٰ میں ہر صحابی پوری طرح ایک صاحب ِ مطالعہ انسان تھا۔
سوال
اکثر لوگ اور علماء کہتے ہیں کہ علمِ نجوم سیکھنا گناہ ہے۔ یہ کس حد تک درست ہے۔ جب کہ حدیث میں آیا ہے کہ علم حاصل کرنا ہر مرد اور عورت پر فرض ہے۔ اُس میں یہ ذکر نہیں ہے کہ وہ کون سا علم ہے۔ علم بہر حال علم ہے۔ وہ علم جو عوامی فلاح وبہبود کے لئے موثر اور فائدہ مند ثابت ہو۔ چوں کہ علمِ نجوم بھی ایک علم ہے، لہذا آپ سے گزارش ہے کہ آپ اِس سوال کا جواب ارسال فرما کر شکریہ کا موقع دیں۔(مولوی ایم ایس بابا تاج، کپواڑہ ، کشمیر)
جواب
علماء نے علوم کی دو قسمیں کی ہیں— علومِ عالیہ، اور علومِ آلیہ۔ علومِ عالیہ سے مراد شریعت کا علم ہے، اور علومِ آلیہ سے مراد وہ علوم ہیں جو معاون علم کی حیثیت رکھتے ہیں۔ علمِ نجوم اپنی نوعیت کے اعتبار سے، علومِ آلیہ میں شامل ہے۔ اصولی طورپر وہ ایک جائز علم ہے۔ لیکن علمِ نجوم کے دو دور ہیں۔ ایک قبل از سائنس، اور دوسرا بعد از سائنس۔ سائنس کے ظہور سے پہلے جو علمِ نجوم دنیا میں رائج تھا، وہ تمام تر توہمات(superstitions) پر مبنی تھا۔ یہ قدیم علمِ نجوم بلا شبہہ ایک غیر مطلوب علم تھا، عقلی اعتبارسے بھی اور اسلامی اعتبار سے بھی۔آج اگر کوئی شخص قدیم علمِ نجوم میں مشغول ہو تو وہ صرف ایک لغو کام میں مشغول ہونے کے ہم معنیٰ ہوگا۔ اور قرآن میں اہلِ ایمان کی یہ صفت بتائی گئی ہے کہ وہ لغو سے اعراض کرتے ہیں۔ (المؤمنون: 3 )
موجودہ زمانے میں علمِ نجوم (astrology) سائنسی اعتبار سے ایک متروک علم بن چکا ہے۔ اب اِس معاملے میں جس علم کا رواج ہے، وہ علمِ فلکیات (astronomy) ہے۔ جدید علمِ فلکیات ایک خالص سائنسی علم ہے، اور مسلمانوں کو بلاشبہہ اِس علم میں درک حاصل کرنا چاہیے، کیوں کہ وہ پورے معنوں میں علومِ آلیہ میں شامل ہے۔
علومِ عالیہ یعنی شرعی علوم کی اہمیت یہ ہے کہ اُس کے ذریعے ہمیں خدا کی معرفت اور دین کا فہم حاصل ہوتا ہے۔ اِس کے مقابلے میں، علومِ آلیہ کی اہمیت یہ ہے کہ وہ موجودہ دنیا میں زندگی کی تعمیر وتشکیل کے لیے مدد گار علم کی حیثیت رکھتے ہیں، اور اہلِ ایمان کے لیے دونوں کا حصول ضروری ہے۔
سوال
قرآن کی سورہ الصافات کی آیت نمبر8 میں شیطان کے مارنے کی بابت تذکرہ آیاہے۔ یہاں شیطان کو مارنے سے کیا مراد ہے۔ تذکیر القرآن صفحہ 1223پر اس کی تشریح درج ہے۔ مگر بار بار اس کا مطالعہ کرنے کے بعد بھی میں اس کی حقیقت کو بھیجنے سے قاصر رہا۔(شاہ عمران حسن، نئی دہلی)
جواب
قرآن سے معلوم ہوتا ہے کہ علوم کی دو قسمیں ہیں— محکمات، اور متشابہات (آل عمران: 7) محکمات سے مراد وہ علم ہے جس میں ضروری معلومات (data) قابلِ حصول ہوں اور اِس بنا پر ان کے بارے میں حتمی رائے قائم کرنا ممکن ہو۔ علم کی اِس قسم کے بارے میں غور وفکر کرنا ایک مطلوب چیز ہے اور اس سے ذہنی ارتقا ہوتا ہے۔
متشابہات سے مراد وہ علم ہے جس میں ضروری معلومات قابلِ حصول نہ ہوں۔ ایسے علمی شعبے میں ہمارے لیے صرف یہ ممکن ہے کہ ہم علمِ قلیل (الإسراء: 85 ) پر قناعت کریں، اور مجمل علم سے زیادہ جاننے کی کوشش نہ کریں۔ کیوں کہ ایسا کرنا ہمیں کسی یقینی علم تک نہیں پہنچائے گا، بلکہ وہ ہمیں کنفیوژن میں مبتلا کردے گا۔ سورہ الصافات کی مذکورہ آیت میں جس واقعے کا ذکر ہے، وہ اِسی علمِ قلیل کے شعبے سے تعلق رکھتا ہے۔ اِس کو علمِ کثیر کے زمرے میں لاکر اس کی تفصیل جاننے کی کوشش کرنا صرف ایک غیر مطلوب فعل ہے۔ اس کے نتیجے میں آدمی کو کنفیوژن کے سوا اور کچھ ملنے والا نہیں۔ اِس طرح کے معاملات میں آدمی کے لیے صرف ایک ہی ممکن راستہ ہے، وہ یہ کہ آدمی اُن کی کُنہ تک پہنچنے کے بجائے، اپنی محدودیت (limitations) کو جاننے کی کوشش کرے۔ اِس طرح کے معاملات میںاپنی محدودیت کو جاننا ہی سب سے بڑا علم ہے۔
واپس اوپر جائیں

خبر نامہ اسلامی مرکز— 193

1 - لوک سبھا ٹی وی (نئی دہلی) کے تحت 3 دسمبر 2008 کو ایک پینل ڈسکشن ہوا۔ یہ ڈسکشن لوک سبھا لائبریری(Lok Sabha Secretariat, Parliament Library) کیبلڈنگ میں ہوا۔ اِس ڈسکشن میں میرے علاوہ، تین اور پینلسٹ موجود تھے۔ ڈسکشن کا موضوع ٹررازم تھا۔ صدر اسلامی مرکز نے اسلامی تعلیمات کی روشنی میں موضوع کی وضاحت کی۔ اِس موقع پر سی پی ایس کے افراد بھی وہاں موجود تھے۔ انھوں نے حاضرین کو اسلامی لٹریچر دیا اور ان سے انٹریکشن کیا۔
2 - ہندی میگزین (نئی دہلی) کے نمائندہ نے 4 دسمبر2008 کو صدر اسلامی مرکز کا ایک تفصیلی انٹرویو ریکارڈ کیا۔ انٹرویو کا موضوع بمبئی ٹرراٹیک تھا۔ سوالات کے دوران بتایاگیا کہ ٹررازم کے لیے اسلام میںکوئی جگہ نہیں۔ جو مسلمان ٹررازم میںشامل ہیں، وہ اسلام کے نام پر ایک ایسا کام کررہے ہیں جس کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں۔ ان کی یہ ایکٹوٹی مکمل طورپر اسلامی تعلیمات کے خلاف ہے۔
3 - سہارا ٹی وی (نوئڈا) کے اسٹوڈیومیں 4 دسمبر 2008 کو ایک پینل ڈسکشن ہوا۔ یہ ڈسکشن بمبئی کے حالیہ بم دھماکے سے متعلق تھا۔ اس کی دعوت پر صدر اسلامی مرکز نے اس میں شرکت کی۔ سوالات کے دوران بتایا گیا کہ یہ صرف ایک مذموم فعل ہے، اسلامی تعلیمات سے اس کا کوئی تعلق نہیں۔ جو لوگ اسلام کے نام پر اسلام کو عالمی سطح پر بدنام کرنے کا یہ فعل کررہے ہیں، اُنھیں چاہیے کہ وہ فوراً اس کو ترک کردیں۔
4 - ترکی کے ٹی وی چینل سہان انٹرنیشنل نیوز ایجنسی (Cihan International News Agency) کے نمائندہ مسٹر عثمان(Osman Unalan) نے 6 دسمبر 2008 کو صدر اسلامی مرکز کا ایک انٹرویو ریکارڈ کیا۔ انٹرویو کا موضوع بمبئی کا حالیہ بم دھماکہ تھا۔ انٹرویو کے دوران سوالات کی وضاحت کی گئی۔ یہ انٹرویو انگریزی زبان میں تھا۔ ترکی میں اِس انٹرویو کو انگریزی کے علاوہ، وہاں کی مقامی زبان میں نشر کیا جائے گا۔
5 - سائی سنٹر(نئی دہلی) میں 11 دسمبر2008 کو صدر اسلامی مرکز کا ایک خطاب ہوا۔ اِس کا موضوع یہ تھا:
Basic Human Values in Islam
اِس بار کے پروگرام میں کیندریہ ودیالیہ کے پرنسپل حضرات کے بجائے مختلف سرکاری افسران شریک تھے۔ یہ افسران ایجوکیشن کے ڈپارٹمنٹ سے وابستہ ہیں۔ ایک گھنٹہ کی تقریر کے بعد سوال وجواب کا پروگرام ہوا۔ اس کے بعد لوگوں کو اسلامی لٹریچر برائے مطالعہ دیا گیا۔
6 - نئی دہلی کے ای ٹی وی نیوز(ETV New) کے نمائندہ مسٹر پرشانت (Prashant) نے 12 دسمبر 2008 کو صدر اسلامی مرکز کا ایک انٹرویو ریکارڈ کیا۔ انٹرویو کا موضوع اسلامی جہاد تھا۔ سوالات کے دوران بتایا گیا کہ اسلامی تعلیمات کے مطابق،جہاد تشددکا نام نہیں ہے، بلکہ جہاد پُرامن جدوجہد کا نام ہے۔
7 - ٹائمس آف انڈیا (12 دسمبر 2008) میں صدر اسلامی مرکز کا ایک مضمون (A Religion of Peace) شائع ہوا۔ نیٹ کے ذریعے عالمی سطح پر بہت سے لوگوں نے اِس مضمون کو پڑھا۔ تقریباً ایک سو لوگوں نے اِس مضمون پر اپنے تاثرات لکھ کر روانہ کیے۔ اُن میں سے چند تاثرات یہاں درج کیے جاتے ہیں:
l I fully agree that today the face of Islam is marred by the wrong ideology developed by a handful of Muslim scholars which has permeated into the psyche of Muslims in general. (Khaja Kaleemuddin, USA)
l It is high time that people like Maulana united to spread the true message of Islam, whatever it is and also explain what exactly ‘Jihad’ means, and whether it is relevant in today’s world. (Vijayalakshmi, Chennai)
l No sensible person, in my opinion, can disagree with Maulana’s views regarding ‘peace vs. terrorism’ and how to promote the former and combat the latter. His insightful article may be adopted as a “Peace Manifesto” for the 21st century by all the peace-activists of the world. It has convincingly shown the right way to make the UNESCO’s lofty vision: “Since the wars begin in the minds of men; it is in the minds of men that the defences of peace must be constructed” (Anis Luqman Nadwi, UAE)
l I fully agree with Maulana; terrorism is an ideology and it has to be countered at an ideological level. We need people with missionary zeal to take this message of peace all across the world. (S. Fakhir Shah, Pakistan)
l The Maulana is an authority not only on the history of Islamic Civilisation but also well versed in Islamic Jurisprudence and I bow my head in reverence to this article. (Mohd. Shahid Ansari, Lucknow)
l I am quite happy and proud that Maulana Wahiduddin Khan has clarified “there is no room for violence in Islam”. I hope this helps reduce any misgivings among practitioners of other religions or would be “Jehadi terrorists”. (Gopala Rao, New Delhi)
l Dear Maulana, greetings from America. Your recent article in the Indian press is to be commended for its courage. I imagine it is going to get some people riled up. It has clarity, spiritual maturity and an all embracing humanity, while remaining respectful of Islam. (Mantoshe Singh Devji, USA)
8 - سی پی ایس انٹرنیشنل اور گڈ ورڈ (نئی دہلی) کی طرف سے 14 دسمبر 2008 کو صدر اسلامی مرکز کے خطاب کا ایک پروگرام منعقدکیاگیا۔ یہ پروگرام نئی دہلی کے انڈیا انٹرنیشنل سنٹر انیکسی میں ہوا۔ اِس کا عنوان یہ تھا:
Spirituality in Daily Life
صدر اسلامی مرکز نے اِس موضوع پر ایک گھنٹہ خطاب کیا۔ خطاب کے بعد حاضرین کو انگریزی میںچھپا ہوا اسلامی لٹریچر برائے مطالعہ دیاگیا۔ حاضرین میںاعلیٰ تعلیم یافتہ ہندو اورمسلم بڑی تعداد میں موجود تھے۔
9 - مسٹر پرویز (Parvis Ghassem Fachandi) امریکا کی پرنسٹون یونی ورسٹی (نیو جرسی) میں انتھراپالوجی کی پروفیسر ہیں۔ ان کا تعلق جرمنی کی ایک مسلم فیملی سے ہے۔ 19 دسمبر2008 کو وہ اسلامی مرکز(نئی دہلی) میں آئے اور صدر اسلامی مرکز سے ملاقات کی۔ ملاقات کے دوران انھوں نے انڈین کلچر اور ہندو مسلم تعلقات کے موضوع پر ایک تفصیلی انٹرویو لیا۔ مسٹر پرویز کو مطالعے کے لیے حسب ذیل کتابیں دی گئیں:
Indian Muslims, The True Jihad, God Arises, The Ideology of Peace
10 - انڈیا اسلامک کلچرل سنٹر (لودھی روڈ، نئی دہلی) کے مین آڈی ٹوریم میں 19 دسمبر 2008 کی شام کو ایک پروگرام ہوا۔ اِس پروگرام کا موضوع یہ تھا:Muslims Initiative Against Terrorism
یہ پروگرام آئی ایم آر سی (Indian Muslims’ Monitoring Research and Response Centre) کی طرف سے کیا گیا تھا۔ اس کی دعوت پر سی پی ایس انٹرنیشنل کے کچھ ممبران نے اس میں شرکت کی اور حاضرین کو ماہ نامہ الرسالہ کے علاوہ، اردو اور انگریزی میں چھپا ہوا اسلامی لٹریچر دیا۔
11 - پیرامڈ اسپریچول سوسائٹی (بنگلور) کی طرف سے نیشنل کالج گراؤنڈ (بسوانہ گُڑی) میں25-31 دسمبر 2008 کو ایک خصوصی اسپریچول بک فیئر لگایا گیا۔ بنگلور میں ایک دعوتی ادارہ (الفلاح پیس اینڈ اسپریچویلٹی سنٹر) قائم ہے۔ اِس بک فیئر میں ادارہ الفلاح نے صدر اسلامی مرکز کے لٹریچر پر مشتمل ایک اسٹال لگایا۔ یہ اس گراؤنڈ میں واحد اسلامی اسٹال تھا۔ یہاں عالمی شہرت یافتہ ہندو اسکالر اور سوامی موجود تھے۔ انھوں نے الفلاح کے اسٹال سے بڑے پیمانے پر اسلامی لٹریچر حاصل کیا۔ لوگوں کو قرآن کا انگریزی ترجمہ اور دعوتی لٹریچر دیاگیا۔
12 - ایلی آرگنائزیشن (Ally Event Organization) کی طرف سے جموں وکشمیر میں 19-28 دسمبر 2008 کو ایک نیشنل بک فیئر لگایا گیا۔ یہ بک فیئر جموں شہر کے سنٹرل مقام گول مارکیٹ (گاندھی نگر)میں ہوا۔ گڈ ورڈس بکس(نئی دہلی) نے یہاں اسٹال لگایا۔ اِس بک فیئر میںیہ واحد اسلامی اسٹال تھا۔ اِس موقع پر الرسالہ سے وابستہ مقامی ساتھیوں نے اپنا غیر معمولی تعاون دیا۔ یہاں مسلم اور غیر مسلم دونوں طبقے کے بہت سے لوگ آئے اور انھوںنے اسلامی لٹریچر حاصل کیا۔ تقریباً 200 لوگوں نے اپنے تاثرات لکھے۔ یہاں صرف دو تاثرات نقل کیے جاتے ہیں:
1. I am highly influenced with the Islam and the Quran, and at the same time the honesty and humble attitude of Mr S. Imran Hasan. I wish for their success by their noble deed of spreading the Islam alongwith message peace. (Dr. Surinder Singh Sodhi, Jammu)
2. I am extremely pleased to see Goodword Books stall and obliged to get free fifts of many books from stal. (Dr Karan, President RWAG, Jammu)
واپس اوپر جائیں