Pages

Wednesday, 2 September 2009

Al Risala | September 2009 (الرسالہ،ستمبر)

2

-روزہ: قرآن کا مہینہ

3

- نماز سے مدد

4

- تبارک اللہ

5

- جنت کی دنیا

6

- دعوت اور حفاظت

7

- خوف ِخدا کی پہچان

8

- اہلِ ایمان کی مدد

9

- حجیت ِ حدیث، افادیت ِ حدیث

10

- گھر کا ماحول

11

- ہاتھی کی دم میں پتنگ

12

- اسلامی تحریک کا نقطۂ آغاز

13

- منطقی علم، فطری شعور

14

- پیغمبرانہ کردار

15

- دعوت کا تقاضا

16

- اسلام دین ِ فطرت

17

- فلسطین کا مسئلہ

37

- دوسرے کے بل پر اقدام

38

- نہیں کہنا سیکھئے

39

- حیاتِ اجتماعی، حیاتِ انفرادی

40

- آمدنی بڑھانے کا مسئلہ

41

- سوال و جواب

43

- خبر نامہ اسلامی مرکز— 197


روزہ: قرآن کا مہینہ

قرآن کی سورہ نمبر 2 میں روزے کا حکم دیتے ہوئے ارشاد ہوا ہے: ’’رمضان کا مہینہ جس میں قرآن اتارا گیا، وہ ہدایت ہے لوگوں کے لیے اور کھلی نشانیاں راستے کی اور حق و باطل کے درمیان فیصلہ کرنے والا، پس تم میں سے جو کوئی اِس مہینے کو پائے، وہ اس کے روزے رکھے‘‘۔ (البقرۃ:185 ) اِس سے معلوم ہوا کہ روزے کا مہینہ خصوصی طورپر قرآن سے استفادے کا مہینہ ہے۔ روزے کا مقصد یہ ہے کہ لوگوں کو ذہنی طورپر تیار کیا جائے، تاکہ وہ قرآن کے مطالعہ اور تدبر سے زیادہ سے زیادہ حصہ پاسکیں۔
15 اگست1947 کی رات میں انڈیا کو برطانیہ سے سیاسی آزادی ملی تھی۔ اِس واقعے پر بہت سی کتابیں شائع ہوئیں ہیں۔ اُن میں سے ایک کتاب وہ تھی جس کو دو مغربی صحافیوں نے لکھا تھا۔ اِس کتاب کا نام یہ تھا—نصف شب کی آزادی:
Freedom at Midnight
اِس کتاب کی تیاری کے لیے دونوں صحافی وقتی طورپر دنیا سے کٹ گئے۔ چناں چہ ایک انٹرویو میں انھوںنے کہا تھا کہ —ہم نے راہب جیسی زندگی گزاری، پھر ہم نے ’’نصف شب کی آزادی‘‘ تیار کی:
We lived like hermits, and we produced Freedom at Midnight.
نزولِ قرآن کے مہینے میں روزے کو فرض کرنے کا مقصد یہی ہے۔ روزے کے مہینے میں یہ مطلوب ہے کہ اہلِ ایمان دنیا سے صرف بقدر ضرورت تعلق رکھیں۔ وہ گویا وقتی طورپر راہبانہ زندگی اختیار کرلیں جس کی آخری صورت معتکف ہوجانا ہے۔ رمضان کے مہینے میں یہ مطلوب ہے کہ اہلِ ایمان اپنی خواہشات پر کنٹرول کریں۔ وہ زیادہ سے زیادہ اپنا وقت بچائیں، وہ قرآن کا مطالعہ کریں، وہ قرآن کے مضامین پر غوروفکر کریں، وہ تراویح کی صورت میں حالتِ نماز میں قرآن کو سنیں۔ اِس طرح وہ سال میں کم ازکم ایک مہینہ خصوصی طورپر قرآن کے مطالعہ اور غور وفکر میں گزاریں۔ اِس مہینہ میں وہ صرف قرآن میں جئیں اور قرآن کو اپنے ذہنی اور روحانی ارتقاء کا ذریعہ بنائیں۔
واپس اوپر جائیں

نماز سے مدد

قرآن میںاہلِ ایمان سے کہا گیا ہے کہ تم لوگ نماز سے مدد لو (البقرۃ: 153) حدیث میںآیا ہے کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کو جب کوئی سخت معاملہ پیش آتا تو آپ نماز کے لیے کھڑے ہوجاتے (إذا حزبہ أمر فزع إلی الصلوۃ ) یہ سادہ معنوں میں صرف ’’نماز‘‘ کی بات نہیں، یہ ایک نہایت اہم بات ہے جس کا تعلق انسان کی پوری زندگی سے ہے۔
اصل یہ ہے کہ اِس دنیا میں بار بار انسان کے ساتھ ایسے معاملات پیش آتے ہیں جن میں وہ اپنے آپ کو عاجز (helpless) محسوس کرنے لگتا ہے۔ یہ ہر عورت اور ہر مرد کا ایک عام تجربہ ہے۔ اِس میں کسی کا بھی کوئی استثناء نہیں— نماز اِسی مسئلے کا ایک کامیاب حل ہے۔
جب کسی آدمی کے اوپر ایسے حالات آتے ہیں تو عام طورپر لوگ دو میں سے کسی ایک ردّ عمل کا اظہار کرتے ہیں— کچھ لوگ ظاہری حالات کو دیکھ کر ناامیدی کا شکار ہوجاتے ہیں اور اس کے نتیجے میں اُس مہلک ذہنی بیماری میں مبتلا ہوجاتے ہیں جس کو ٹنشن (tension) کہا جاتا ہے۔ دوسرا طبقہ وہ ہے جو مفروضہ طورپر کسی غیرِ خدا کو اپنا حاجت روا اور دست گیر سمجھ لیتا ہے اور وہ بے فائدہ طورپر اس کی طرف دوڑنا شروع کردیتا ہے۔
اِس نازک صورتِ حال سے بچنے کے لیے ایک ہی درست اور قابلِ اعتماد طریقہ ہے، اور وہ دعا اور ذکر اور نماز کا طریقہ ہے۔ اِس طرح کے موقع پر جب ایک بندہ وضو کرکے نماز کے لیے کھڑا ہوتا ہے اور دو رکعت یا اس سے زیادہ نماز ادا کرکے خدا سے دعا کرتا ہے تو یقینی طورپر ایسا ہوتا ہے کہ اس کے دل میں سکون آجاتا ہے، اس کو محسوس ہوتا ہے کہ اُس نے اپنے حقیقی کارساز کو پالیا ہے، اس کو پیش آمدہ حالات میں اعتماد کے ساتھ کھڑے ہونے کے لیے ایک مضبوط بنیاد حاصل ہوگئی ہے— نماز ایک عبادت بھی ہے، اور مشکل حالات میں سکون حاصل کرنے کا ذریعہ بھی۔ اِس اعتبار سے نماز کو ہرعورت اور مرد کے لیے ایک نفسیاتی سہارا کہاجاسکتا ہے۔
واپس اوپر جائیں

تبارک اللہ

تبارک کا لفظی مطلب ہے— بہت زیادہ برکت والا۔ یہ لفظ قرآن میں 9 بار آیا ہے۔ یہ لفظ صرف اللہ تعالیٰ کے لیے استعمال ہوتا ہے (وہی کلمۃ لم تستعمل إلاّ للہ وحدہ)۔ تبارک کا لفظ ’برکۃ‘ سے مشتق ہے۔ یہ تفاعل کے وزن پر برکۃ کا مبالغہ ہے۔ برکۃ کے معنی حضرت عبد اللہ بن عباس نے اِن الفاظ میں بیان کیے ہیں: الکثرۃ فی کلّ خیر (لسان العرب 10/396 ) یعنی ہر قسم کے خیر کی کثرت۔
تبارک کا مطلب ہے— ہر پہلو سے اور ہر چیز میںکمالِ خیر کا حامل ہونا۔ مثلاً قرآن میں ہے: فتبارک اللہ أحسن الخالقین (المؤمنون:14 ) اِس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ کی تخلیق ہر پہلو سے کامل ہے، اللہ کی بنائی ہوئی دنیا میںہر چیز اپنے فائنل ماڈل (final model) پر ہے۔ اِس دنیا کا تخلیقی منصوبہ اتنا زیادہ اعلیٰ ہے کہ اس میں کوئی تضاد نہیں، اِس میں کسی قسم کی کوئی کمی نہیں، کسی پہلو سے اس میں ادنیٰ درجے میںکوئی نقص (defect) موجود نہیں۔
انسان کو جو جسم دیاگیا ہے، وہ ہر اعتبار سے ایک بہترین جسم ہے۔ اِس دنیا میں جو لائف سپورٹ سسٹم پایا جاتا ہے، وہ انسان کی تمام ضرورتوں کو آخری حد تک پورا کرنے والا ہے۔ سولر سسٹم اور کہکشائوں کا نظام اپنی ساری وسعتوں کے باوجود پوری طرح خالی از نقص (zero-defect) صفات کا حامل ہے۔ نباتات، جمادات اور حیوانات کی وسیع دنیا اپنے تمام تنوعات کے باوجود ہر پہلو سے کمالِ خیر کے نمونے کی حیثیت رکھتے ہیں۔
اللہ اپنی ذات میں خیرِ کامل ہے۔ اُسی سے خیر وبرکت کاتمام فیضان لوگوں تک پہنچتا ہے۔ یہ سب انسان کے لیے ایک عظیم رحمت (blessing) ہے۔ وہ اِس لیے ہے کہ انسان ان کو دیکھ کر خدا کی بے پایاں عظمت وقدرت کا تعارف حاصل کرے۔ وہ خدا سے سب سے زیادہ محبت کرنے لگے، اور خدا کے بارے میں اس کے اندر خشیت کے اعلیٰ جذبات پیدا ہوں۔ یہی ایمان ہے، اور خدا کی پیدا کی ہوئی دنیا اِسی ایمان کی کائناتی تربیت گاہ۔
واپس اوپر جائیں

جنت کی دنیا

ایک صاحب نے کہا کہ جنت میں داخلے کے لیے ضروری ہے کہ آدمی کے اندر جنتی کردار پایا جاتا ہو۔ مگر مشاہدہ بتاتا ہے کہ ساری تاریخ میں بہت کم لوگ ایسے ہوئے ہیں جو جنتی کردار کے حامل ہوں۔ ایسی حالت میں جنت تو صرف ایک سونی جگہ ہوگی، نہ کہ رونقوں سے بھری ہوئی جگہ۔
میںنے کہا کہ جنت کی سب سے بڑی رونق خود خداوند ِ ذو الجلال کی ذات ہے۔ خدا کے بارے میں قرآن میں آیا ہے کہ وہ آسمان اور زمین کا نور ہے (النور:35 )۔ یہ نور جنت میں بدرجۂ کمال موجود ہوگا۔ پوری جنت خدا کے نور سے بھری ہوئی ہوگی۔ جنت کے ہر عورت اور مرد کو خدا کی موجودگی کا مستقل احساس ہوگا۔ جنت میں ہم اِس قابل ہوں گے کہ خدا کی موجودگی کو مسلسل طورپر محسوس کرسکیں:
We will be able to feel continuously the presence of God.
اِس کے علاوہ، جنت میں خدا کے فرشتے بے شمار تعداد میں موجود ہوں گے۔ تاریخ کے مختلف ادوار میںآنے والے پیغمبر جنت کے ممتاز افراد کی حیثیت سے وہاں موجود ہوںگے۔ اِس کے علاوہ، پوری تاریخ میں پیدا ہونے والی تمام صالح عورتیں اور تمام صالح مرد وہاں اکھٹا کیے جائیںگے۔ اِس طرح وہ بے شمار بچے وہاں بسائے جائیں گے جو معصومیت کی عمر میں مر گئے۔ یہ بچے جنت کی خصوصی رونق ہوںگے۔ غالباً اِنھیں کے بارے میں قرآن میں آیا ہے: ویطوف علیہم ولدان مخلّدون، إذا رأیتہم حسبتہم لؤلؤاً منثوراً (الدھر: 19 ) یعنی ان کے پاس پھر رہے ہوں گے ایسے بچے جو ہمیشہ بچے ہی رہیں گے۔ تم اُنھیں دیکھو تو سمجھو کہ موتی ہیں جو بکھیر دئے گئے ہیں۔
جس جنت میں اتنی زیادہ رونقیں اور اتنی زیادہ پر کیف سرگرمیاں موجود ہوں، وہ جنت ایک سونیجنت کیسے ہوسکتی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ جنت ایک انتہائی پررونق جگہ ہوگی۔ چناں چہ حدیث میں جنت کے بارے میں یہ الفاظ آئے ہیں: فیہا ما لا عین رأت، ولا أذن سمعت، ولا خطر علیٰ قلب بشر (صحیح مسلم، کتاب الجنۃ)۔
واپس اوپر جائیں

دعوت اور حفاظت

قرآن کی سورہ نمبر 5 کی ایک آیت یہ ہے: یٰأیہا الرسول بلّغ ما أنزل إلیک من ربّک، وإن لم تفعل فما بلغتَ رسالتہ، واللہ یعصمک من الناس (المائدۃ: 67 )یعنی اے رسول، جوکچھ تمھارے اوپر تمھارے رب کی طرف سے اترا ہے، تم اس کو پہنچا دو۔ او راگر تم نے ایسانہیں کیا تو تم نے اللہ کے پیغام کو نہیں پہنچایا۔اور اللہ لوگوں سے تمھاری حفاظت کرے گا:
O Messenger, deliver what has been revealed to you from your Lord; and if you do it not, then you have not delivered His message, and God will protect you from the peoples.
قرآن کی اِس آیت سے معلوم ہوتاہے کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی اصل ذمے داری یہ تھی کہ وہ دعوت الی اللہ کے کام کو مکمل طورپر انجام دیں۔ اِسی کام کی انجام دہی پر اُن کے لیے دوسروں کے مقابلے میں کامل حفاظت کا وعدہ تھا۔ پیغمبر اسلام کے بعد اب یہی حیثیت آپ کی امت کی ہے۔ آپ کی امت کی بھی اصل ذمے داری یہ ہے کہ وہ ہر دور میں دعوت الی اللہ کے کام کو انجام دے۔ اِس کام کی انجام دہی پر اس کو لوگوں کے مقابلے میں خدا کی حفاظت حاصل ہوگی۔ اور اگر وہ اِس ذمے داری کو انجام نہ دے تو خدا کی حفاظت بھی اس کو ملنے والی نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ امتِ محمدی کا امتِ محمدی ہونا اُسی وقت متحقق ہوتاہے، جب کہ وہ دعوت الی اللہ کے کام کو درست طور پر انجام دے۔
قرآن کی یہ آیت واضح طورپر بتاتی ہے کہ دعوت الی اللہ امت محمدی کی ذمے داری ہے، اور لوگوں کے مقابلے میں اس کی حفاظت اللہ تعالیٰ کی ذمے داری۔ دوسرے لفظوں میں یہ کہ کوئی بھی دوسرا عمل امتِ محمدی کی حفاظت کی ضمانت نہیں بن سکتا۔ اگر کسی وقت امت یہ محسوس کرے کہ وہ دوسری قوموںکے مقابلے میں غیر محفوظ ہوگئی ہے تو اس کو دوسروں کے خلاف احتجاج (protest) کرنے کے بجائے خود اپنے حال پر غور کرنا چاہیے۔ کیوں کہ اس کی غیر محفوظیت کا سبب متعین طورپر یہ ہوگا کہ اس نے دعوت الی اللہ کے کام کو چھوڑ دیا تھا۔
واپس اوپر جائیں

خوف ِخدا کی پہچان

کسی انسان کے لیے سب سے بڑی یافت یہ ہے کہ وہ اپنے رب کو اِس طرح دریافت کرے کہ وہ اُس سے ڈرنے والا بن جائے۔ خدا کا خوف بلا شبہہ کسی کے دین دار ہونے کی سب سے بڑی علامت ہے۔ خوفِ خدا کی پہچان کیا ہے، اس کو کتاب اللہ کے مطالعے سے جانا جاسکتا ہے۔ اِس سلسلے کی ایک آیت یہ ہے: ولا یجرمنّکم شنئٰان قوم علیٰ ألا تعدلوا، اعدلوا ہو أقرب للتقویٰ (المائدۃ: 8 ) یعنی کسی گروہ کی دشمنی تم کو اِس پر نہ ابھارے کہ تم انصاف نہ کرو۔ انصاف کرو، یہی تقویٰ سے زیادہ قریب ہے۔
اخلاقی اعتبار سے انسان کی دو حالتیں ہوتی ہیں— ایک، معتدل حالت۔ اور دوسری، غیر معتدل حالت۔ معتدل حالت میں ہر انسان با اخلاق ہی ہوتا ہے۔ معتدل حالت کسی آدمی کے صاحبِ تقویٰ ہونے کی پہچان نہیں ہوسکتی۔ صاحبِ تقویٰ ہونے کی پہچان یہ ہے کہ آدمی غیر معتدل حالت میں کس قسم کی روش کا اظہار کرتاہے۔ایک صورت وہ ہے جب کہ آدمی کے ساتھ آپ کے دوستانہ تعلقات ہوں۔ ایسے حالات آپ کے تقویٰ کا امتحان نہیں ہوتے۔ تقویٰ کے امتحان کا وقت وہ ہے جب کہ آدمی کے ساتھ آپ کی اَن بن ہوجائے، جب کہ آدمی آپ کے ساتھ کوئی ایسا معاملہ کرے جو آپ کے لیے شکایت کا باعث بن جائے۔ جب آدمی کی کسی روش پر آپ مشتعل ہوجائیں، یہی وقت دراصل کسی شخص کے تقویٰ کے امتحان کا وقت ہوتا ہے۔
جو آدمی اختلاف کے وقت اعتدال پر قائم رہے، جو دشمنی کے وقت انصاف کی بولی بولے، جو منفی تجربے کے وقت بھی مثبت ردّ عمل کا اظہار کرے، وہی متقی انسان ہے۔ وہی وہ انسان ہے جس کے دل میں اللہ کا ڈر بسا ہوا ہے۔ یہ ڈر اُس کے لیے اِس بات کا ضامن بن گیا ہو کہ وہ ہر حال میں تقویٰ کی روش پر قائم رہے، کسی کا ناروا سلوک اُس کو تقویٰ کی روش سے ہٹانے نہ پائے۔ یہی وہ انسان ہے جس کو اللہ کے یہاں متقی انسانوں میں شامل کیا جائے گا۔
واپس اوپر جائیں

اہلِ ایمان کی مدد

قرآن میںاللہ تعالیٰ نے یہ اعلان کیا ہے کہ وہ اِس دنیا میں اہلِ ایمان کی ضرور مدد کرتاہے۔ اِس سلسلے میں ایک آیت میں یہ الفاظ آئے ہیں: ولن یجعل اللہ للکافرین علی المؤمنین سبیلاً (النساء: 141 ) یعنی اللہ ہر گز اہلِ کفر کو اہلِ ایمان پر کوئی راہ دینے والا نہیں۔
اِس آیت میں ’’کافر‘‘ سے مراد کوئی کافر قوم نہیں ہے۔اِسی طرح سے مومن سے مراد کوئی مومن قوم نہیں ہے۔ اِس آیت میں کافر سے مراد وہ لوگ ہیں جن کا کفرقانونِ الٰہی کے مطابق متحقَّق (established) ہوچکاہو۔ اِسی طرح مومن سے مراد وہ لوگ ہیں جن کا ایمان قانونِ الٰہی کے مطابق متحقق ہوچکا ہو۔ جن گروہوں کے اوپر یہ تحقُّق نہ ہوا ہو، وہ اِس آیت کا مصداق نہیں بن سکتے۔کسی گروہ کے لیے کفر کا تحقق اُس وقت ہوتا ہے جب کہ اُس کو خدا کا پیغام تمام ضروری شرطوں کے ساتھ پہنچایا جائے، یہاں تک کہ اُن کے لیے خدا کا دین ایک معلوم واقعہ بن جائے۔ اِسی طرح اِس آیت میں مومن گروہ سے مراد وہ گروہ ہے جو صبر کے اصول کو اختیار کرتے ہوئے لوگوں کے درمیان رہے، جو ملک اور مال جیسی چیزوں کے لیے لوگوں سے نزاع نہ کرے، دوسرے گروہوں سے ان کا ٹکراؤ کسی بھی دنیوی مقصد کے لیے پیش نہ آئے، وغیرہ۔
یہ مدد اہلِ ایمان کے لیے صرف اُس وقت آتی ہے جب کہ اہلِ ایمان یک طرفہ طورپر مظلوم ہوں، اور اہلِ باطل یک طرفہ طورپر ظالم۔ جب بھی ایسا ہو کہ کچھ لوگ اپنے بارے میںمومن اورمسلم ہونے کا دعویٰ کریں، اِس کے باوجود وہ اہلِ کفر سے مغلوب ہوجائیں، تو یہ اِس بات کا ثبوت ہوگا کہ ایمان اور اسلام کا دعویٰ کرنے والے لوگ اپنے دعوے میں سچے نہیں ہیں۔ خدا کا وعدہ بلا شبہہ سچا ہے، لیکن وہ صرف اُن اہلِ ایمان کے لیے مقدر ہے جو خود بھی سچے مومن ہونے کا ثبوت دے سکیں۔ جب بھی ایسا ہو کہ اہلِ کفر کے مقابلے میں اہلِ ایمان مغلوبیت کا شکار ہورہے ہوں تو اُس وقت اہلِ ایمان کو خود اپنا محاسبہ کرنا چاہیے۔ ایسے موقع پر اہلِ کفر کے خلاف شکایتوں کا طوفان کھڑا کرنا صرف اپنے جرم کو بڑھانے والا ہے، نہ کہ اُس کو گھٹانے والا۔
واپس اوپر جائیں

حجیت ِ حدیث، افادیت ِ حدیث

دین میں صرف قرآن کی حیثیت حجت (authoritative source) کی ہے، یا حدیث ِ رسول بھی دین میں یکساں درجے میںحجت کی حیثیت رکھتی ہے۔ یہ ایک خالص قانونی مسئلہ ہے۔ عملی اعتبار سے جس چیز کی اہمیت ہے، وہ یہ ہے کہ آدمی کے اندر اسلام کی روح زندہ ہو۔ دین پر عمل کرنے کی تڑپ اس کے اندر پیداہوگئی ہو۔ اللہ سے محبت اور اللہ کا خوف اس کے دل میں بھر پور طورپر جاگزیں ہوگیا ہو۔ جن لوگوں کے اندر اسلام کی یہ اسپرٹ پیدا ہوجائے، وہ کسی قانونی فتوے کے بغیر پوری طرح اسلام کو اختیار کرلیں گے، اور جن لوگوں کے اندر اسلام کی روح بیدا رنہ ہوئی ہو، ان کے لیے کوئی بھی قانونی فتویٰ عملی بیداری کا ذریعہ نہیں بن سکتا۔ایک شخص قرآن کو دین میں حجت مانتا ہو، لیکن اس کے اندر دین کی اسپرٹ موجود نہ ہو تو وہ خود قرآن کے احکام پر بھی عمل نہیں کرے گا۔قرآن کے بارے میں وہ بڑی بڑی بحثیں کرے گا، لیکن اس کی حقیقی زندگی قرآن کی تعلیمات سے خالی ہوگی۔
حقیقت یہ ہے کہ اس معاملے میں اصل مسئلہ حدیث کی حجیت کو منطقی طورپر ثابت کرنا نہیں ہے، بلکہ اصل ضرورت یہ ہے کہ حدیث کی دینی اہمیت اور افادیت کو آدمی کے دل میںاس طرح اتار دیا جائے کہ وہ اُس سے انحراف کا تحمل نہ کرسکے۔جب کوئی شخص حدیث کو پڑھتا ہے تو وہ اِس ذہن کے ساتھ اس کو نہیں پڑھتا کہ حدیث خالص قانونی اعتبار سے دین میں حجت ہے، یا نہیں، بلکہ عملاً یہ ہوتا ہے کہ مطالعۂ حدیث کے وقت اس کی ساری توجہ حدیث کے متن (text) پر ہوتی ہے۔ ایسی حالت میں اصل ضرورت یہ ہے کہ آدمی کا شعور اتنا زیادہ بیدار ہو کہ وہ حدیث کے متن میں اس کی بے پناہ افادیت کو اخذ کرنے لگے، حدیث کو پڑھتے ہوئے اس کو ایسا محسوس ہو کہ اس کو معانی کا اتھاہ خزانہ حاصل ہوگیا ہے۔ جب ایساہوگا تو حدیث کی معنویت اس کی پوری شخصیت پر چھا جائے گی۔ ایسی حالت میں اصل ضرورت حدیث کی نوعیت کے بارے میں قانونی یا فقہی بحثوں کی نہیں ہے، بلکہ اصل ضرورت یہ ہے کہ آدمی کے اندر وہ ذہن پیدا کردیا جائے جو حدیث کی بے پناہ دینی افادیت کو سمجھنے لگے۔
واپس اوپر جائیں

گھر کا ماحول

آج کل یہ حال ہے کہ سیکولر آدمی اور مذہبی آدمی کا فرق باہر کی زندگی میں تو نظر آتا ہے، لیکن گھر کی زندگی میں یہ فرق دکھائی نہیں دیتا۔ بہ ظاہر دونوں کا لباس الگ ہوتا ہے۔ سیکولر آدمی اگر گڈ مارننگ (good-morning) کہتا ہے تو مذہبی آدمی السلام علیکم کہتا ہے۔ سیکولر آدمی اگر کلب (club) جاتا ہے تو مذہبی آدمی مسجد جاتا ہے، وغیرہ۔ لیکن یہ فرق باہر کی زندگی کی حد تک ہے۔ گھر کے اندر کے ماحول کو دیکھئے تو سیکولر آدمی کے گھر اور مذہبی آدمی کے گھر کے درمیان کوئی فرق دکھائی نہیں دے گا۔ اور اگر کوئی فرق ہوگا تو وہ صرف ظاہری رسم کے اعتبار سے ہوگا، نہ کہ حقیقت کے اعتبار سے۔
قرآن میں دونوں قسم کے گھروں کی پہچان بتائی گئی ہے۔ غیر مذہبی انسان کے گھر کی پہچان کو جاننے کے لیے قرآن کی سورہ نمبر 84 کی اِس آیت کا مطالعہ کیجئے: إنّہ کان فی أہلہ مسروراً (الانشقاق:13 ) یعنی وہ اپنے اہل کے درمیان خوش رہتا تھا۔ اِس کا مطلب یہ ہے کہ غیر مذہبی انسان کی زندگی خاندان رُخی (family-oriented) زندگی ہوتی ہے۔ وہ اپنے گھر میں آکر محسوس کرتا ہے کہ میں اپنے لوگوں کے درمیان آگیا۔ وہ اپنا سارا وقت اور اپنا پیسہ اپنے اہلِ خاندان میں خرچ کرتا ہے اور مطمئن رہتا ہے کہ میں نے اپنے وقت اور اپنے پیسے کا صحیح استعمال کیا۔ وہ اپنے اہلِ خانہ کو دیکھ کر خوش ہوتا ہے۔ اس کی دل چسپیوں اور اس کی سرگرمیوں کا مرکز اس کے اہلِ خاندان ہوتے ہیں۔ جو لوگ اِس طرح زندگی گزاریں، وہ کبھی خدا کے مطلوب بندے نہیں بن سکتے، خدا کی ابدی رحمتوں میں ان کے لیے کوئی حصہ نہیں۔
مذہبی انسان کے گھر کی پہچان کتابِ الٰہی کی سورہ نمبر 52 کی اِس آیت میں ملتی ہے: إنّا کنّا قبل فی أہلنا مشفقین (الطّور:26 ) یعنی اہلِ جنت کہیں گے کہ اِس سے پہلے ہم اپنے اہل کے درمیان ڈرتے رہتے تھے۔ اس سے معلوم ہوا کہ سچا مذہبی انسان وہ ہے جو ہر وقت خدا کی پکڑ سے ڈرتا ہو، خواہ وہ اپنے گھر کے باہر ہو یا اپنے گھر کے اندر۔ وہ مواخذہ (accountability) کی نفسیات کے تحت زندگی گزارتا ہے، نہ کہ بے خوفی کی نفسیات کے تحت۔
واپس اوپر جائیں

ہاتھی کی دم میں پتنگ

اکثر والدین مجھ سے پوچھتے ہیں کہ موجودہ زمانے میں بچوں کی دینی تربیت کے لیے کیا کیا جائے۔ میرا جواب ہمیشہ ایک رہتا ہے— بچوں کی تربیت سے پہلے خود اپنی تربیت کیجئے۔ موجودہ زمانے میں بچوں کے بگاڑ کا اصل سبب خارجی ماحول نہیں ہے، بلکہ گھر کا داخلی ماحول ہے۔ گھر کا داخلی ماحول کون بناتا ہے، یہ والدین ہیں جو گھر کا داخلی ماحول بناتے ہیں۔ جب تک گھر کے داخلی ماحول کو حقیقی معنوں میں دینی، یعنی آخرت پسندانہ ماحول نہ بنایا جائے، بچوں کے اندر کوئی اصلاح نہیں ہوسکتی۔
موجودہ زمانے کا اصل فتنہ مال ہے۔ آج کل ہر آدمی زیادہ سے زیادہ مال کما رہا ہے۔ اِس مال کا مصرف والدین کے نزدیک صرف ایک ہے، اور وہ ہے گھرکے اندر ہر قسم کی راحت کے سامان اکھٹا کرنا، اور بچوں کی تمام مادّی خواہشوں کو پورا کرنا۔ موجودہ زمانے میں یہ کلچر اتنا زیادہ عام ہے کہ اِس معاملے میں شاید کسی گھر کا کوئی استثنا نہیں، خواہ وہ بے ریش والوںکا گھر ہو، یا باریش والوں کا گھر۔
والدین کے اِس مزاج نے ہر گھر کو مادّہ پرستی کا کارخانہ بنادیا ہے۔ تمام والدین اپنے بچوں کے اندر شعوری یا غیر شعوری طورپر مادّہ پرستانہ ذہن بنانے کے امام بنے ہوئے ہیں۔ اِسی کے ساتھ تمام والدین یہ چاہتے ہیں کہ اُن کے بچے آخرت کی جنت سے بھی محروم نہ رہیں۔ اِسی مزاج کے بارے میں ایک اردو شاعر نے کہا تھا— رند کے رند رہے، ہاتھ سے جنت نہ گئی
مگر یہ صرف ایک خوش خیالی ہے جو کبھی واقعہ بننے والی نہیں۔ تمثیل کی زبان میں یہ ’’ہاتھی کی دم میں پتنگ باندھنا‘‘ ہے۔ موجودہ زمانے کے والدین ایک طرف، اپنے بچوں کو ’’مادّی ہاتھی‘‘ بناتے ہیں۔ دوسری طرف، وہ چاہتے ہیں کہ اِس ہاتھی کی دم میں دین کی پتنگ باندھ دی جائے۔ مگر ایسی پتنگ کا حال صرف یہ ہونے والا ہے کہ ہاتھی ایک بار اپنی دم کو جھٹکا دے اور یہ پتنگ اُڑ کر بہت دور چلی جائے۔ والدین کو چاہیے کہ اگر وہ اپنے بچوں کو دین دار، یعنی آخرت پسند بنانا چاہتے ہیں تو وہ اُس کی قیمت ادا کریں، ورنہ وہ فرضی طورپر اِس قسم کی منافقانہ بات کرنا بھی چھوڑ دیں۔
واپس اوپر جائیں

اسلامی تحریک کا نقطۂ آغاز

پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم ہجرت سے پہلے جب مکہ میں تھے تو وہاں کے سرداروں نے آپ کو حکومت کی پیش کش کی۔انھوں نے کہا: إنْ ترید مُلکاً ملّکناک علینا (اگر تم حکومت چاہتے ہو تو ہم تم کو اپنے اوپر حاکم بنانے کے لیے تیار ہیں)۔ آپ نے فرمایا: ما أطلب الملک علیکم (میں تمھارے اوپر حکومت نہیں چاہتا)۔
پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے اِس جواب سے اسلامی تحریک کا ایک اہم اصول معلوم ہوتا ہے، وہ یہ کہ اسلامی تحریک کا نقطۂ آغاز (starting point) حکومت یا سیاسی اقتدار نہیں ہے، بلکہ اسلامی تحریک کا اصل نقطۂ آغاز فرد کی شخصیت میں تبدیلی لانا ہے، ایک ایک فرد کے ذہن کی تشکیل نو (re-engineering of mind) کرنا ہے۔
اسلامی تحریک کا فارمولا دو نکات (points) پر مشتمل ہے— فرد کی شخصیت میں تبدیلی لانا، اور پولٹکل سسٹم کے معاملے میں حالتِ موجودہ کو تسلیم کر لینا:
Change in personality, statusquoism in system.
اسلامی تحریک کی یہی فطری ترتیب ہے۔ اگر اِس ترتیب کو بدل دیا جائے، یعنی اگر پولٹکل سسٹم کو بدلنے سے تحریک کا آغاز کیا جائے تو سوسال کی جدوجہد کے بعد بھی کوئی مثبت نتیجہ نکلنے والا نہیں۔ فرد کی تبدیلی سے آغاز کرکے نظام کی تبدیلی تک پہنچنا ممکن ہوتا ہے۔ لیکن اگر نظام کی تبدیلی سے آغاز کیا جائے تو ایسی تحریک کسی انجام تک پہنچنے والی نہیں۔ ایسی تحریک صرف تباہی میںاضافہ کرے گی، اِس کے سوا اور کچھ نہیں۔
فرد کے اندر ذہنی تبدیلی سے تحریک کاآغاز کرنے کی صورت میں فی الفور تحریک کو مثبت آغاز مل جاتا ہے۔ لیکن سسٹم سے آغاز کرنے کا نتیجہ صرف یہ ہوتا ہے کہ آخر کار تحریک ایک بند گلی (blind alley) میں پہنچ کر رک جاتی ہے۔ اس کے پیچھے بھی اندھیرا ہوتا ہے اور اس کے آگے بھی اندھیرا۔
واپس اوپر جائیں

منطقی علم، فطری شعور

کسی عورت یا مرد کو سب سے زیادہ محبت اپنی ماں سے ہوتی ہے۔ یہ محبت کسی دلیل یا منطق(logic) کے زور پر نہیں ہوتی۔ وہ مکمل طورپر داخلی شعور کے تحت ہوتی ہے۔ اگر یہ داخلی شعور موجود نہ ہو تو کوئی بھی شخص اپنی ماں سے محبت کا تعلق قائم نہیں کرسکتا۔ یہی معاملہ زیادہ بڑے پیمانے پر خدا کا ہے، جو کہ ہمارا خالق اور مالک ہے۔
خدا کا وجود بلاشبہہ ایک حقیقت ہے، لیکن خدا ہم کو اپنی مادّی آنکھوں کے ذریعے دکھائی نہیں دیتا۔ اِسی طرح عقلی اور منطقی دلائل بھی خدا کے وجود کو ثابت کرنے کے لیے صرف جزئی حد تک کافی ہیں۔ خدا کے بارے میں کوئی بھی عقلی یا منطقی دلیل آدمی کو صرف امکان (probability) کی حد تک پہنچاتی ہے، نہ کہ یقین (conviction) کی حد تک۔یہ خالق کی ایک عظیم رحمت ہے کہ اس نے اپنے شعور کو انسان کی فطرت میں ودیعت کردیا۔ خدا کو پہچاننا انسان کے لیے ویسا ہی ایک حتمی معاملہ بن گیا ہے، جیسا کہ اپنی ماں کو پہچاننا اور اس کے ساتھ خصوصی محبت کا تعلق قائم کرنا۔ یہ فطری شعور ہر ایک کے لیے ایک داخلی جبر (inner compulsion) کی حیثیت رکھتا ہے۔
یہ داخلی شعور انسان کے لیے بہت بڑی نعمت ہے، بلکہ سب سے بڑی نعمت۔ کیوں کہ انسان کی فطرت میں اگر یہ جبری شعور نہ ہوتا تو صرف عقلی یا منطقی استدلال اس کے لیے اطمینان کا سبب نہیں بن سکتا تھا۔ ایسی حالت میںاگر آدمی خدا کومانتا بھی تو وہ کامل یقین کے درجے میں اس کونہیں مان سکتا تھا۔فطری شعور کی غیر موجودگی میں شاید کوئی بھی شخص خدا کا سچا مومن نہ بنتا۔ اِس معاملے میں صرف پیغمبروں کا استثناء ہو سکتا تھا جن کو خدا نے براہِ راست مشاہدے کے ذریعے ایمان کا تجربہ کرادیا ہے۔
انسان کی سب سے بڑی سعادت یہ ہے کہ وہ اپنے خالق کی معرفت حاصل کرسکے۔ ایسی حالت میں اگر صرف منطقی طورپر خدا کو پہچاننا ہوتو وہ انسان کے لیے بہت بڑا رِسک (risk) ہوتا ۔ یہ خالق کی بہت بڑی رحمت ہے کہ اس نے انسان کو اِس سنگین رسک سے بچا لیا۔
واپس اوپر جائیں

پیغمبرانہ کردار

عام لوگ انسان کو دشمن اور دوست میں تقسیم کرتے ہیں، لیکن داعی کے ذہن میں یہ تقسیم نہیں ہوتی۔ داعی کی نظر میں ہر انسان صرف انسان ہوتاہے، خواہ وہ بہ ظاہر اپنا ہو یا غیر۔ داعی کے رویّے کو ایک لفظ میں، انسان دوست (human-friendly) رویہ کہہ سکتے ہیں۔
عام انسان کا مزاج یہ ہوتاہے کہ— دشمن سے بائیکاٹ کرو، دشمن کو بدنام کرو، دشمن سے انتقام لو، دشمن کو ذلیل کرنے کی کوشش کرو، دشمن کے لیے بد دعائیں کرو، دشمن کی کردار کشی کرو، دشمن کو سبق سکھاؤ، وغیرہ۔ یہ طریقہ داعیانہ اسپرٹ کے خلاف ہے۔ جولوگ اس قسم کا مزاج رکھتے ہوں، وہ کبھی خدا کے دین کے داعی نہیں بن سکتے۔اس کے برعکس، داعی کا مزاج مکمل طورپر مثبت مزاج ہوتا ہے۔ داعی کی نظر میں ہر ایک اس کا اپنا ہوتا ہے۔ بہ ظاہر کوئی شخص دشمنی کرے تب بھی داعی کے اندر اس کے خلاف نفرت پیدا نہیں ہوتی۔ داعی کا ذہن یہ ہوتاہے کہ— دشمن کے ساتھ ناصحانہ روش اختیار کرو، اچھے سلوک کے ذریعے دشمن کو اپنا دوست بناؤ، اپنی تنہائیوں میں دشمن کے لیے دعائیں کرو، دشمن سے محبت کرو، دشمن کے بارے میں ہمیشہ پُرامید رہو، دشمن کو اپنے جیسا ایک انسان سمجھو، ہر حال میں دشمن کے خیر خواہ بنے رہو، دشمن کی ہلاکت کا متمنی ہونے کے بجائے اُس کو خدا کی ابدی رحمتوں میں حصے دار بنانے کی کوشش کرو۔ اِس معاملے میں داعیانہ کردار کیا ہے، اس کو ایک شاعر نے پیغمبر کے حوالے سے بجا طور پر اِن الفاظ میں بیان کیا ہے:
راہ میں جس نے کانٹے بچھائے، گالی دی، پتھر برسائے
اُس پر چھڑکی پیار کی شبنم، صلی اللہ علیہ وسلم
دعوت کے عمل کے لیے داعیانہ کردار ضروری ہے۔ جو شخص داعی کا کریڈٹ لینا چاہتا ہو، اُس پر لازم ہے کہ وہ اپنے اندر داعیانہ کردار پیدا کرے۔ داعیانہ کردار کے بغیر داعی بننے کی کوشش کرنا، قرآن کے الفاظ میں، بن کئے پر کریڈٹ لینے کے ہم معنیٰ ہے (یحبّون أن یُحمدوا بما لم یفعلوا)۔ خدا کی اِس دنیا میں ایسا ہونا کبھی ممکن نہیں۔ خدا کے یہاں حقیقی عمل پر کریڈٹ ملتاہے، نہ کہ فرضی دعوے پر۔
واپس اوپر جائیں

دعوت کا تقاضا

دعوت اہلِ ایمان کی ایک لازمی ذمے داری ہے۔ دعوت سے مراد غیر مسلم افراد تک دینِ حق کا پیغام پہنچانا ہے۔ اسلام کا اِشاعتی کام مسلمانوں کے درمیان بھی کرناہے اور غیر مسلموں کے درمیان بھی۔ مسلمانوںکے درمیان جو کام کیا جائے، اس کا نام اصلاح ہے، اور غیر مسلموں کے درمیان جو کام کیا جائے، اس کا نام دعوت الی اللہ۔
جو لوگ مسلمانوں کی اصلاح کا کام کریں، اُن کو مسجدوں میںاور مدرسوں میں اور مسلم اجتماعات میں افراد مل جاتے ہیں۔ وہ وہاں اسلام کا اشاعتی کام کرسکتے ہیں۔ اب سوال یہ ہے کہ جو لوگ غیر مسلموں کے درمیان اسلام کا اشاعتی کام کرنا چاہتے ہیں، وہ کیا کریں۔ اُن کے جو مخاطبین ہیں، وہ ان کو مسجد میں یا مدرسے میں یا مسلم تقریبات میںنہیں مل سکتے۔ غیر مسلم افراد تو صرف اپنے مواقعِ اجتماع میں ملیںگے، نہ کہ مسلمانوں کے مواقعِ اجتماع میں۔
دعوت کے اِس تقاضے کا واحد حل یہ ہے کہ داعی، غیر مسلموں کے اپنے اجتماعات میں جائے اور وہاں وہ ممکن دائرے میںاپنا دعوتی کام کرے۔ لیکن یہ کوئی سادہ بات نہیں۔ غیر مسلم اپنے اجتماعات ہماری شرطوں پر نہیں کرسکتے۔ یہ یقینی ہے کہ غیر مسلم اپنے جو اجتماعات کریں گے، وہ خود اپنی روایت اور اپنے کلچر کے مطابق کریں گے۔ ایسی حالت میں غیر مسلموں کے مواقعِ اجتماعات کو دعوتی مقصد کے لیے استعمال کرنا صرف اُس وقت ممکن ہے، جب کہ اسلام کے اُس اصول کو اختیار کیا جائے جس کو قرآن میں اعراض (avoidance) کہاگیا ہے (الأعراف:199 ) یعنی ایسے مواقع پر اکھٹا ہونے والے لوگوں سے ملنا اور اُن کو اسلامی لٹریچر دینا، اور اِن مواقع پر جو چیزیں غیر مسلموں کے اپنے کلچر سے تعلق رکھتی ہیں، اُن سے اعراض یا صرف ِ نظر کامعاملہ کرنا۔ صبر و اعراض دعوت کا لازمی تقاضا ہے، صبر واعراض کے بغیر دعوت کے کام کو موثر طورپر انجام دینا ممکن نہیں— پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی پوری زندگی اِس حکمتِ دعوت کا عملی نمونہ ہے۔
واپس اوپر جائیں

اسلام دین ِ فطرت

اسلام فطرت کا دین ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اسلام کے قوانین وہی ہیں جو فطرت کے قوانین ہیں۔ سائنس میں جس چیز کو لاز آف نیچر (laws of nature) کہاجاتا ہے، اُس کو اسلام میںالفاظ کی صورت دے دی گئی ہے۔ یہی وہ حقیقت ہے جس کو قرآن میںاِن الفاظ میں بیان کیاگیا ہے: یدبّر الامر یفصّل الآیات (الرعد: 2 ) ۔
اِسی معاملے کی ایک مثال دانت کی صفائی ہے۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے دانت کی صفائی پر بہت زیادہ زور دیا ہے۔ حدیث کی تقریباً تمام کتابوں میں اِس موضوع پر حدیثیں موجود ہیں۔ ایک روایت کے الفاظ یہ ہیں: السّواک مطہرۃ للفم، مَرضاۃ للرب (صحیح البخاری، کتاب الصوم) یعنی مسواک دانت کی صفائی کا ذریعہ ہے، اور خدا کی رضا حاصل کرنے کا ذریعہ ہے۔ ایک روایت میں آپ نے فرمایا کہ دس چیزیں فطرت میں شامل ہیں، اُن میںسے ایک مسواک ہے۔ اِس سلسلے میں ایک امریکی یونی ورسٹی میں ریسر چ کی گئی ہے۔ اِس سے معلوم ہوا ہے کہ دانت کی صفائی کا تعلق انسان کی پوری صحت سے ہے۔ اِس سے نہ صرف منہ کی صفائی ہوتی ہے، بلکہ وہ ہر اعتبار سے انسان کی صحت کے لیے مفید ہے۔ مسواک کی عادت انسان کو دل کے امراض اور فالج سے بچاتی ہے۔ اس کا حافظہ دیر تک باقی رہتا ہے، وغیرہ۔
Keep Mouth Clean
Keeping your teeth brushed and flossed can help preserve memory, say researchers. The study at West Virginia University has found a link between gum disease and memory loss. “Older people might want to know there’s more reason to keep their mouths clean— to brush and floss— than ever,” said Richard Crout, an expert on gum disease and associate dean for research in the WVU School of Dentistry. “You’ll not only be more likely to keep your teeth, but you’ll also reduce your risk of heart attack, stroke and memory loss. “This could have great implications for health of our aging populations,” Crout said. “With rates of Alzheimer’s skyrocketing, imagine the benefits of knowing that keeping the mouth free of infection could cut down on cases of dementia,”, he added.
(The Times of India, New Delhi, June 22, 2009)
واپس اوپر جائیں

فلسطین کا مسئلہ

Realism Returns to Palestine
فلسطین کی جدید تاریخ 1948 سے شروع ہو تی ہے، جب کہ بال فور ڈکلریشن (Balfour Declaration) کے تحت فلسطین کی تقسیم عمل میں آئی۔یہ واقعہ برٹش ایمپائر کے زمانے میں ہوا۔ اِس تقسیم کے تحت جو ہوا، وہ یہ کہ سرزمینِ فلسطین کا تقریباً ایک تہائی حصہ یہود کو آبادکاری (settlement) کے لیے دیا گیا، جو کہ اُس وقت بیرونی علاقوں میں بسے ہوئے تھے۔ اور فلسطین کا تقریباً دو تہائی رقبہ عربوں کے حصے میں آیا، جو کہ پہلے سے وہاں موجود تھے۔
یہود کو یہ حق پہلی عالمی جنگ اور دوسری عالمی جنگ کے دوران محدود کوٹا سسٹم (limited quota system) کے تحت دیاگیا تھا۔ بعد کو اسرائیل کی جو توسیع عمل میں آئی، وہ بال فور ڈکلریشن کا نتیجہ نہ تھی، بلکہ یقینی طور پر وہ عربوں کی اپنی غلط پالیسی کا نتیجہ تھی۔ مثلاً سوئز کمپنی کا پٹّہ (lease) جو 1968 میںاپنے آپ ختم ہورہا تھا، اُس کو 1956 میں یک طرفہ طورپر ختم کردینا۔ فطری طورپر اِس کے نہایت گمبھیر نتائج برآمد ہوئے ۔ اِسی طرح فلسطینی عربوں کا اپنی زمینوں کو زیادہ بڑی قیمت پاکر یہودیوں کے ہاتھ بیچ دینا، وغیرہ۔
یہود،یابنی اسرائیل
یہود یا بنی اسرائیل کون ہیں۔یہ دراصل حضرت ابراہیم کے پوتے، حضرت یعقوب سے نسبت رکھنے والے لوگ ہیں۔ حضرت یعقوب کے چوتھے بیٹے کا نام یہودا (Juda) تھا۔ اُن سے منسوب ہو کر بعد کو یہ لوگ عام طورپر یہودی کہے جانے لگے۔ حضرت یعقوب کا عُرفی نام اسرائیل تھا۔ عبرانی زبان میں اسرائیل کے معنی ہیں: اللہ کا بندہ، جیسا کہ اسماعیل کے معنی ہیں: اللہ کا سننا۔
حضرت ابراہیم کا زمانہ تقریباً چار ہزار سال پہلے کا زمانہ ہے۔ حضرت ابراہیم کے دو بیٹے تھے— اسماعیل اور اسحاق۔ اسماعیل، آپ کے بڑے بیٹے تھے، جو ہاجرہ کے بطن سے تھے۔ اور اسحاق آپ کے چھوٹے بیٹے ـتھے، جو آپ کی دوسری بیوی سارہ کے بطن سے تھے۔ حضرت ابراہیم نے خدا کے حکم سے اپنے بیٹے اسماعیل کو عرب میں آباد کیا۔ اور اپنے دوسرے بیٹے اسحاق کو خدا کے حکم سے فلسطین کے علاقے میں آباد کیا۔ حضرت اسحاق کے بیٹے حضرت یعقوب تھے، جن کا دوسرا نام اسرائیل تھا۔ اِنھیں کی نسل بنی اسرائیل (Children of Israel) کہلائی۔ اپنے آبائی تعلق کی بنا پر، فلسطین، بنی اسرائیل کا وطن قرار پایا، جیسا کہ اِسی طرح کے آبائی تعلق کی بنا پر عرب، بنو اسماعیل کا وطن مانا جاتا ہے۔
یہودی مذہب ایک نسلی مذہب ہے۔ یہودی مذہب میں کنورژن (conversion) کا کوئی تصور نہیں۔ اِس لیے آج جتنے یہودی دنیا میں پائے جاتے ہیں، وہ سب کے سب براہِ راست طورپر حضرت یعقوب (اسرائیل) کی نسل سے تعلق رکھتے ہیں۔ اِس نسبت کی بنا پر تمام یہودیوں کا مشترک وطن فلسطین ہے، جیسا کہ ان کے مورثِ اعلیٰ اسحاق اور یعقوب کا وطن فلسطین تھا۔ بنو اسماعیل کا وطن عرب قرار پانا، اور بنو اسحاق (بنی اسرائیل) کا وطن فلسطین قرار پانا، دونوں کا تقرر حضرت ابراہیم نے کیا، جو کہ براہِ راست خداکے حکم کے تحت تھا۔
قدیم زمانہ مذہبی معاملات میں عدم رواداری (intolerance) کا زمانہ تھا۔ یہود کو بار بار اِس طرح کے ناخوش گوار تجربات پیش آئے۔ چناں چہ ان کی ایک تعداد فلسطین چھوڑ کر باہر جاتی رہی۔ یہی یہودی تارکینِ وطن ہیں جن کو یہودی ڈائس پورا (Jews in diaspora) کہا جاتا ہے۔ ڈائس پورا کا مطلب ہے— وہ یہودی تارکینِ وطن، جو فلسطین کے باہر آباد ہوں:
Diaspora: Jews who lived outside of Palestine.
بالفور ڈکلریشن کے تحت، فلسطین واپسی کا فیصلہ اِنھیں ڈائس پورا میں رہنے والے یہودیوں کی بابت تھا۔
1948میں جب بیرونی علاقوں میں رہنے والے یہودیوںکی ایک تعداد فلسطین واپس آئی، تو اُس وقت عربوں کی طرف سے ان کے خلاف سخت قسم کے منفی ردّ عمل کا اظہار ہوا۔ عربوں کی سب سے بڑی تنظیم الاخوان المسلمون دراصل یہود کے خلاف منفی جذبات کے زیر اثر بنی۔ اُس وقت عرب رہ نماؤں کا یہ نعرہ تھا: سنرمیہم فی البحر (ہم ان یہودیوں کو سمندر میںدھکیل دیں گے)۔ تمام عرب اور غیرعرب مسلم رہ نما یہودیوں کے خلاف سر گرم ہوگئے، یہاں تک کہ پوری مسلم دنیا مخالفِ یہود جذبات سے بھر گئی۔ ہر قسم کے تشدد حتی کہ خود کُش بم باری کو یہودیوں کے خلاف جائز قرار دے دیا گیا۔ مگر یہودکے خلاف تمام سرگرمیاں کاؤنٹر پروڈکٹیو(counter productive)ثابت ہوئیں۔ اِن سرگرمیوں کا نقصان براہِ راست طورپر عربوں کے حصے میں آیا، اور بالواسطہ طورپر تمام دنیا کے مسلمانوں کے حصے میں۔
عرب اور غیر عرب مسلمانوں کی یہ مخالفِ یہود پالیسی واضح طورپر اسلامی تعلیمات کے خلاف تھی۔ بال فور ڈکلریشن کے تحت، فلسطین کی تقسیم، یہودی تارکینِ وطن (Jews in diaspora) کے لیے اپنے وطن کی طرف واپسی کے ہم معنیٰ تھی۔ یہ بات واضح طورپر قرآن کی تعلیم کے عین مطابق تھی۔ قرآن کی سورہ نمبر 5 میں بتایا گیا ہے کہ حضرت موسیٰ کے زمانے میں یہود سے کہاگیا تھا: یا قوم ادخلوا الأرض المقدسۃ التی کتب اللہ لکم (المائدۃ: 21 ) یعنی تم ارضِ مقدس میں داخل ہو جاؤ جس کو خدا نے تمھارے لیے لکھ دیا ہے:
O my people, enter the holy land which God has assigned to you (5:21)
یہ یہود کون تھے۔ یہ وہ یہودتھے جو اُس وقت سینا کے علاقے میں ڈائس پورا کے حیثیت سے رہ رہے تھے۔ اِس آیت میں ارضِ مقدس سے مراد فلسطین ہے۔ اِس آیت کا خطاب حضرت موسیٰ کے ہم عصر یہودی ڈائس پورا سے تھا ، جو فلسطین کے باہر جلا وطنی کی زندگی گزار رہے تھے۔ ’’جس کو اللہ نے تمھارے لیے لکھ دیا ہے‘‘ سے مراد یہ ہے کہ تمھاری یہ واپسی خدائی قانون، بہ الفاظِ دیگر، فطرت کے قانون کے عین مطابق ہوگی۔ کیوں کہ فطرت کے قانون کے مطابق، کسی بھی تارکِ وطن گروہ کو یہ حق ہے کہ وہ اپنے اصل آبائی وطن کی طرف واپس چلاجائے۔
حضرت موسیٰ کے ساتھ جو بنی اسرائیل تھے، وہ کون تھے۔ وہ سب کے سب تارکینِ وطن کے گروہ سے تعلق رکھتے تھے۔ جیسا کہ عرض کیاگیا، حضرت ابراہیم نے اپنے خاندان کی ایک شاخ کو فلسطین کے علاقے میں آباد کیاتھا۔ اِنھیں میں حضرت یوسف پیدا ہوئے، جو حضرت یعقوب کے بیٹے تھے۔ حضرت یوسف کے ساتھ ایسے حالات پیش آئے کہ وہ مصر پہنچ گئے۔ اُس زمانے میں وہاں جس بادشاہ کی حکومت تھی، وہ حضرت یوسف پر مہربان ہوگیا اور اُن کو اپنی حکومت میں ایک بڑا عہدہ دے دیا۔
پھر حضرت یوسف کو جب مصر میں استحکام حاصل ہوا، تو انھوںنے اپنے اہل خاندان، بشمول اپنے والد حضرت یعقوب، سے کہا کہ آپ لوگ فلسطین چھوڑ کر مصر آجائیں۔ اِس طرح یہ لوگ مصر جاکر وہاں آباد ہوئے۔ وہاں ان کی نسل کافی بڑھی، یہاں تک کہ وہ مصر کی ایک با اثر قوم بن گئے۔
حضرت یوسف کے بعد مصر میں سیاسی انقلاب آیا، اور قدیم بادشاہ (Hyksos Kings) کے بجائے ایک نیا خاندان، مصر کا حکم راں بن گیا جس نے فرعون (Pharaoh) کو اپنے خاندانی لقب کے طورپر اختیار کیا۔ فرعون کی اِسی حکومت کے زمانے میں بنی اسرائیل پر مظالم شروع ہوئے، یہاںتک کہ حضرت موسیٰ پیدا ہوئے اور وہ بنی اسرائیل کو مصر سے نکال کر صحرائے سینا میں لے گئے۔ یہ بنی اسرائیل کے سفر کا پہلا مرحلہ تھا۔ اُن کے سفر کا دوسرا مرحلہ یہ تھا کہ وہ دوبارہ اپنے آبائی وطن (فلسطین) میں داخل ہو جائیں اور وہاں جاکر آباد ہوں۔
یہ کہنا صحیح ہوگا کہ حضرت موسیٰ کے زمانے میں جن بیرونی یہودیوں کی واپسی کا منصوبہ براہِ راست خدا کے حکم کے تحت بنایاگیا تھا، وہ قدیم یہودی ڈائس پورا سے تعلق رکھتا تھا۔ اس کے بعد بال فور ڈکلریشن کے تحت، جن بیرونی یہودیوں کی واپسی کا منصوبہ بنا، وہ جدید یہودی ڈائس پورا سے تعلق رکھتا ہے۔
قبلۂ اوّل کی بازیابی کا مسئلہ
عام طورپر مسلمان، فلسطین کے موجودہ مسئلے کو، قبلۂ اوّل کی بازیابی کا مسئلہ سمجھتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے ہجرت کے بعد جب مدینہ میں ایک مسجد (مسجد ِنبوی) تعمیر کی، اور اس میں نماز باجماعت قائم کی، تو اُس وقت آپ نے یہودی طریقے کی پیروی کرتے ہوئے مسجد ِاقصیٰ کو اپنا قبلہ قرار دیا۔ یہ صورتِ حال تقریباً 16 مہینے تک قائم رہی۔ اِس کے بعد قرآن میں تحویلِ قبلہ کا حکم آیا، اور پھر آپ نے اس کی پیروی کرتے ہوئے، کعبہ کو نماز کے دائمی قبلہ کے طورپر اختیار کرلیا۔ اِس واقعے کے حوالے سے مسلمان یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ فلسطین کا مسئلہ، قبلۂ اول کی بازیابی کا مسئلہ ہے۔ اِس اعتبار سے فلسطین کا مسئلہ محض ایک قومی مسئلہ نہیں ہے، بلکہ وہ مسلمانوں کا ایک خالص دینی مسئلہ ہے۔
یہ نظریہ سر تاسر غلط فہمی پر مبنی ہے۔ مسجد ِاقصیٰ کا تعلق، قبلۂ اوّل سے نہیں ہے۔ قرآن میں مسجد ِ اقصیٰ کا ذکر معروف معنوں میں، کسی مسجد کے نام کے طورپر نہیں آیا ہے۔ مسجد ِاقصیٰ کے معنٰی: دور کی مسجد (farthest place of worship) کے ہیں۔ اِس کو دور کی مسجد اِس لیے کہاگیا کہ وہ مکہ سے 765 میل (1232 کلومیٹر) کے فاصلے پر یروشلم میں واقع ہے۔ مسجد اقصیٰ سے مراد یروشلم کی یہودی عبادت گاہ ہے۔
اِس یہودی عبادت گاہ (ہیکل) کو حضرت سلیمان نے 957 قبل مسیح میںتعمیر کیا۔ اِس عبادت گاہ کو بابل (عراق) کے حکم راں نبوخذ نصر(Nebuchadrezzar II) نے 586 قبل مسیح میں مکمل طورپر ڈھادیا۔ ایک عرصے کے بعد یہودیوں نے یہ عبادت گاہ دوبارہ بنائی۔ اِس دوسری عبادت گاہ کو بھی رومیوں نے 70 عیسوی میں ڈھا کر کھنڈر کردیا۔اِس عمارت کی صرف ایک دیوار باقی رہ گئی ہے، جس کو دیوارِ گریہ (Wailing Wall) ، یا مغربی دیوار کہاجاتا ہے۔ نزولِ قرآن کے وقت یہاں کوئی عمارت نہیںـتھی، بلکہ صرف ہیکل کی خالی جگہ (site) تھی۔ خلیفۂ ثانی عمر فاروق کے زمانے میں 638 عیسوی میں مسلمان یروشلم میں داخل ہوئے۔ حضرت عمر نے ہیکل کی جگہ (site)پر کوئی عمارت تعمیر نہیں کی۔ بعد کو اموی دور میں خلیفہ عبد الملک بن مروان (وفات: 705 ء) نے ہیکل کی جگہ 688 عیسوی میں موجودہ مسجد اقصیٰ کی تعمیر کی۔
مسجد اقصیٰ کیمپس میں ایک اور عمارت ہے، جس کو قُبّۃ الصَّخرۃ (Dome of Rock) کہاجاتا ہے۔ یہاں قدیم زمانے سے یہودیوں کا مقدس صخرہ (چٹان) واقع تھا۔ اِسی صخرہ کے اوپر خلیفہ عبد الملک بن مروان نے688 عیسوی میں موجودہ قبہ (گنبد) کی تعمیر کی۔ یہی مقدس چٹان، یا قبۃ الصخرہ، یہودیوں کا قبلہ تھا، اور یہی قبۃ الصخرہ، نہ کہ مسجد ِ اقصیٰ، ہجرت کے بعد عارضی طورپر پیغمبراسلام کا قبلہ بنا تھا۔ صخرہ سنگ خارا کی ایک چوکور چٹان ہے۔ اِس چٹان کو یہودی اپنے لیے مقدس سمجھتے ہیں۔ ان کے نزدیک، یہی وہ صخرہ ہے جس پر حضرت ابراہیم نے اپنے بیٹے کی قربانی پیش کی تھی۔اصلاً اِسی قبۃ الصخرہ کانام بیت المقدس ہے، اور توسیعی معنوں میں، قدیم یروشلم کے پورے علاقے کو بیت المقدس کہا جاتا ہے۔
مسجدِ اقصیٰ کو فلسطینی جدوجہد کی علامت سمجھا جاتا ہے۔ اس کا سبب یہ ہے کہ مسلمان عام طورپر، مسجد اقصیٰ کو ’’قبلۂ اوّل‘‘ سمجھتے ہیں، حالاں کہ قبلۂ اوّل کاکوئی تعلق، مسجد اقصیٰ سے نہیں۔ قبلۂ اوّل اگر کوئی ہوسکتا ہے، تو وہ قبۃ الصخرہ (بیت المقدس) ہے، نہ کہ مسجد اقصیٰ۔ مزید یہ کہ پیغمبر اسلام جب مکہ میں تھے، تو آپ کعبہ کی طرف رخ کرکے نماز پڑھتے تھے۔ ہجرت کے بعد آپ نے تقریباً 16 مہینے تک، قبۃ الصخرہ کی طرف رخ کرکے نماز پڑھی۔ اس کے بعد، خدا کے حکم کے مطابق، آپ دوبارہ کعبہ کی طرف رخ کرکے نماز پڑھنے لگے۔ اِس اعتبار سے دیکھیے تو قبۃ الصخرہ درمیانی قبلہ ہے، نہ کہ پہلا قبلہ۔
اِس حقیقت کی روشنی میں دیکھیے تو ’’قبلۂ اول کی بازیابی‘‘ کا لفظ سرتا سر بے اصل ہے۔ اگر اِس مفروضہ بازیابی کو مسجد اقصیٰ سے منسوب کیا جائے تو مسجد ِاقصیٰ کبھی بھی پیغمبر اسلام کا قبلہ نہ تھی۔ ہجرت (622 ء) کے وقت وہاں صرف یہودی ہیکل کی خالی جگہ (site) تھی، نہ کہ موجودہ قسم کی کوئی مسجد۔ اور جہاں تک قبۃ الصخرہ کی بات ہے، اس کی بازیابی کاکوئی سوال نہیں۔ وہ پہلے بھی یہودی قبلہ تھا، اور اب بھی وہ یہودی قبلہ ہے۔ قبۃ الصخرہ کی بازیابی کا مطالبہ اُسی طرح غیر معقول ہے، جیسے مشرک گروہ کعبہ کی واپسی کا مطالبہ کرے، یہ کہہ کر کہ وہ کبھی اُن کے بتوں کا مرکز تھا۔
بالفور ڈکلیریشن کے تحت 1948 میں جب یہودی باہر سے آکر فلسطین میں بسنے لگے، تو اُس وقت عربوں کی طرف سے صرف ایک ردّ عمل سامنے آیا، اور وہ مسلح جہاد کا ردّ عمل تھا۔ عرب ممالک نے فلسطینیوں کو بہت بڑے پیمانے پر مالی امداد دینا شروع کیا۔ یہودی ریاست کے خلاف متشددانہ کارروائیوں کے ذریعے یہ کوشش کی جانے لگی کہ اس کا بالکل خاتمہ کردیا جائے۔ لیکن عربوں کو اپنے اِس متشددانہ منصوبے میں کوئی کامیابی حاصل نہیںہوئی۔
یہ بلا شبہہ عرب رہ نماؤں کی غلطی تھی۔ یہ عرب رہ نما اگر اسلامی تاریخ سے سبق لیتے، تو اُن کو معلوم ہوتا کہ ان کے لیے ایک اور زیادہ بہتر انتخاب (better choice) موجود ہے۔ وہ یہ کہ وہ اِن آنے والے یہودیوں کا ایک پڑوسی کی حیثیت سے استقبال کریں اور فلسطین کے ڈیولپ مینٹ میں ان کے ساتھ مل کر کام کریں۔ یہ یہودی زیادہ تر مغربی ملکوں سے آئے تھے۔ ان کی اکثریت اعلیٰ تعلیم یافتہ افراد پر مشتمل تھی۔ وہ جدید علوم میں مہارت رکھتے تھے۔ وہ عربوں کے لیے ترقیاتی عمل میںبہترین پارٹنر بن سکتے تھے۔ مگر جذباتیت کے طوفان میںعرب رہ نما معاملے کے اِس مثبت پہلو کو سمجھنے سے قاصر رہے۔
حالاں کہ اسلام کی تاریخ میں مسلم اور یہود کے درمیان اِس تعاون (collaboration) کی نہایت اعلیٰ مثال موجود تھی۔ بعد کے زمانے میں جب بڑی بڑی مسلم حکومتیں قائم ہوئیں، تو اُس زمانے میں مسلمانوں نے ایک نیا کام شروع کیا— قدیم علمی کتابیں جو یونانی اور دوسری زبانوں میں تھیں، اُن کا ترجمہ عربی زبان میں کرنا، اِس مقصد کے لیے مختلف ملکوں سے غیر عربی کتابیں بڑی تعداد میں منگائی گئیں۔ اِسی واقعے کو خواجہ الطاف حسین حالی (وفات: 1914) نے اپنی مسدّس میں ان الفاظ میں بیان کیا ہے:
حریمِ خلافت میں اونٹوں پہ لد کر چلے آتے تھے مصر ویوناں کے دفتر
اِس مقصد کے لیے عباسی دورِ حکومت میں بغداد میں بہت بڑا دارالترجمہ قائم ہوا جس کو بیت الحکمت (832ء) کہاجاتا تھا۔ اِسی طرح دولتِ فاطمیہ نے قاہرہ میں اِسی مقصد کے لیے دارالحکمت (1005 ء) قائم کیا۔ اِن اداروں کے تحت، بڑی تعداد میں قدیم کتابوں کے عربی ترجمے کیے گئے۔ اِس کے بعد جب عرب، اندلس (اسپین) میں داخل ہوئے، او روہاں اپنی حکومت بنائی، تو قرطبہ اور غرناطہ میںبڑے بڑے تعلیمی اور تصنیفی ادارے قائم کیے گئے۔ اِس طرح جو عربی ترجمے کیے گئے، وہ جلد ہی لاطینی زبان میں ترجمہ ہو کر یورپ میں پھیلے۔ یہ صرف ترجمے کا کام نہ تھا، بلکہ عین اُسی کے ساتھ مختلف شعبوں میںتحقیق کا کام بڑے پیمانے پر جاری رہا۔ اِس طرح جو علمی ترقیاں ہوئیں، اُس کے براہِ راست نتیجے کے طورپر یورپ میں نشاۃِ ثانیہ (Renaissance) کا واقعہ پیش آیا۔ اِس طرح اُس زمانے کے مسلمانوں نے قدیم روایتی دور اور جدید سائنسی دور کے درمیان پُل کا کام کیا۔
اِس واقعے کا اعتراف عام طورپر مغربی مؤرخین نے کیا ہے۔ مثال کے طور پر رابرٹ بریفالٹ (وفات: 1948 ) نے اِس معاملے میں عربوں کے رول کا اعتراف کرتے ہوئے لکھا ہے کہ— یہ بہت زیادہ قرینِ قیاس ہے کہ عربوں کے بغیر جدید صنعتی تہذیب سرے سے پیدا ہی نہ ہوتی:
It is highly probable that but for the Arabs, modern industrial civilization would never have arisen at all. (Robert Briffault, Making of Humanity, p. 190)
علم وتحقیق کے میدان میں عربوں نے یہ عظیم کارنامہ کس طرح انجام دیا، جب کہ اِس سے پہلے اِس قسم کے کسی علمی کارنامے کی روایت عربوں کے یہاں موجود نہیں تھی۔ جواب یہ ہے کہ یہ کارنامہ انھوںنے تعاون (collaboration) کی طاقت سے انجام دیا۔ اُس زمانے کے عربوں نے عراق اور مصر اور اسپین میں علم وتحقیق کے جو ادارے بنائے، اُس میں انھوںنے مسیحی اسکالر اور یہودی اسکالر کی خدمات بڑے پیمانے پر حاصل کیں۔ اِن اداروں میں عرب علماء اور غیر عرب اسکالر مل کر کام کرتے تھے۔ اِس تعاون کا نتیجہ وہ شان دار علمی تاریخ ہے، جو قرونِ وسطی کے زمانے میں بنی، اور جس کی بنیاد پر مغربی یورپ نے مزید اعلیٰ ترقی حاصل کی(تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو— پروفیسر فلپ کے ہٹی کی کتاب: تاریخِ عرب (History of the Arabs) ۔
1948 کے بعد یہی امکان دوبارہ فلسطینیوں کے لیے پیدا ہوا تھا، لیکن جذبات سے مغلوب، عرب رہ نماؤں نے غلط رہ نمائی کرکے ان کو تعاون کے بجائے ٹکراؤ کے راستے پر ڈال دیا۔ ایک عظیم تاریخ بنتے بنتے رہ گئی۔اِس امکانی تاریخ کا ایک چھوٹا سا نمونہ عربوں کے زیر اقتدار فلسطین، اور یہود کے زیر اقتدار فلسطین کا تقابل کرکے دیکھا جاسکتا ہے۔ یہود کے زیر اقتدار فلسطین کا یہ حال ہے کہ جہاں 1948 میں خشک صحرا دکھائی دیتا تھا، وہاں آج زراعت اور باغ بانی (horticulture) کی سرسبز دنیا نظر آتی ہے۔ اِس کے برعکس، فلسطین کا جو حصہ عربوں کے زیر اقتدار ہے، وہاں اب بھی پس ماندگی کی وہی حالت ہے جو 1948 میں وہاں پائی جاتی تھی۔
فلسطین کے لوگ اپنے نادان عرب رہ نماؤں کی رہ نمائی میں ایک بے نتیجہ لڑائی لڑ رہے ہیں۔ پہلے اُن کا نشانہ یہ تھا کہ وہ فلسطین کو1948 سے پہلے کی حالت پر لے جائیں۔ اب ان کا نشانہ فلسطین کو 1967 سے پہلے کی حالت کی طرف لے جانا ہے۔ یہ دونوں نشانے بلاشبہہ ناممکن ہیں۔ یہ تاریخ کے سفرکو پیچھے کی طرف لوٹانے کے ہم معنی ہے، اور تاریخ بتاتی ہے کہ ایسا کبھی کسی کے لیے ممکن نہیں ہوا۔ فلسطینیوں کے لیے پہلا انتخاب یہ تھا کہ وہ 1948 کے اسٹیٹس کو (statusquo) پر راضی ہوجائیں۔ اب ان کے لیے دوسرا ممکن انتخاب یہ ہے کہ وہ اپنے آپ کو موجودہ اسٹیٹس کو پر راضی کر لیں۔ اگر انھوںنے اِس دوسرے انتخاب کو بھی کھودیا، تو اس کے بعد کوئی تیسرا انتخاب ان کے لیے کبھی پیش آنے والا نہیں۔ اب تیسرا انتخاب ان کے لیے صرف تباہی اور بربادی کا انتخاب ہے، نہ کہ زندگی اور کامیابی کا انتخاب۔
اسٹیٹس کو ازم (statusquoism) کا مطلب ہے— حالتِ موجودہ کو تبدیلی کے بغیر مان لینا۔ یہ کوئی کم زوری کی بات نہیں، یہ ایک اعلیٰ قسم کی دانش مندانہ پالیسی کا نام ہے۔ فطرت کے نظام کے مطابق، اِس دنیا میں ہمیشہ اور ہر ایک کے لیے کوئی نہ کوئی نزاعی مسئلہ موجود رہتا ہے۔ اِسی کے ساتھ خود نظامِ فطرت کا یہ تقاضا ہے کہ ہر صورتِ حال میںکام کرنے کے مواقع بھی موجود ہوں۔ ایسی حالت میںنتیجہ خیز پالیسی (result-oriented policy) یہ ہے کہ آدمی مسائل (problems) کو نظر انداز کرے اور مواقع(opportunities) کو استعمال کرے۔ نزاعی مسائل سے الجھنا ہمیشہ اِس قیمت پرہوتا ہے کہ مسائل تو ختم نہ ہوں، لیکن قیمتی مواقع استعمال ہونے سے رہ جائیں۔
فلسطین میں عرب رہ نما لمبی مدت سے کھوئی ہوئی زمین (land) کے لیے لڑ رہے ہیں۔ مگر نتیجے کے اعتبار سے دیکھئے تو اُن کی ساری کوششیں اور قربانیاں سرتاسر رائگاں ہوگئیں۔ وہ اپنے نشانے کے مطابق، زمین (land) تو حاصل نہ کرسکے، البتہ یہ نقصان اُن کے حصے میںآیا کہ وہ قیمتی مواقع کو استعمال (avail) کرنے سے محروم رہے۔
موجودہ زمانہ گلوبلائزیشن کا زمانہ ہے۔ قدیم زرعی دور میں ساری اہمیت زمین کی ہوا کرتی تھی، مگر جدید کمیونکیشن کے زمانے میں زمین ایک ثانوی اہمیت کی چیز بن گئی ہے۔ اب ساری اہمیت مواقع کی ہے، جو گلوبلائزیشن کے نتیجے میںہر شخص کو یکساں طور پر حاصل ہے۔ اب ایک شخص بظاہر ایک محدود جگہ پر رہتے ہوئے بھی ساری دنیا کے مواقع کو اپنے لیے استعمال کرسکتا ہے۔ ایسی حالت میں زمین (land) کے حصول کے لیے لڑنا، ایک قسم کی خلافِ زمانہ روش (anachronism) ہے، جو کبھی کسی کے لیے مثبت نتیجہ پیدا کرنے کا ذریعہ نہیںبن سکتی۔
فلسطین کی موجودہ صورتِ حال ایک بحران (crisis) کی صورتِ حال ہے۔ یہ صورتِ حال نہ عربوں کے لیے مفید ہے اور نہ اسرائیل کے لیے مفید۔دونوں کے بہترین مفاد میںیہ بات ہے کہ دونوں معتدل ذہن کے ساتھ مسئلے پر غور کریں اور صورتِ حال کو نارمل بنانے کے لیے کوئی نیا فیصلہ لیں۔ تاہم اِس معاملے میں دونوں فریق کو حقیقت پسندی سے کام لینا ہوگا۔ کوئی ایسی شرط جو دونوں فریقوں کے لیے یکساں طورپر قابلِ قبول نہ ہو، وہ صرف ایک خیالی شرط ہوگی، نہ کہ حقیقت پسندانہ شرط۔
میری فہم کے مطابق، اِس معاملے کا قابلِ عمل حل صرف ایک ہے، وہ یہ کہ عرب حضرات اپنی طرف سے ہر قسم کے تشدد کو کامل طورپر چھوڑ دیں۔ یہ ایک لازمی شرط ہے۔ اِس شرط کو پورا کیے بغیر مسئلے کے حل کی بات کرنا، ایک خیالی دنیا میںسفر کرنا ہے، اورایسا سفر کبھی واقعہ نہیں بنتا۔
جہاں تک اسرائیل کا تعلق ہے، اس کو بھی ایک لازمی شرط کو پورا کرنا ہوگا، وہ یہ کہ اسرائیل، فلسطین میںمقیم عربوں کو وہی حقوق دے، جو اسرائیلی دستور کے رُو سے، اس کے حدود میںرہنے والے باشندوں کو حاصل ہیں۔یعنی عرب لوگ اسرائیل کے خلاف اپنے تشدد کو کامل طورپر چھوڑ دیں، اور اسرائیل اپنے دستور اور حقوقِ انسانی (human rights) کے عالمی اصول کے مطابق، فلسطینی عربوںکو مساوی بنیاد پر اُن کے تمام ضروری حقوق دے دے۔ یہ دو باتیں اگر اصولی طورپر مان لی جائیں، تو ان کی بنیاد پر پُر امن باہمی گفت وشنید (negotiation) کے ذریعے ایک عملی نظام بنایا جاسکتاہے۔
عام طورپر زمین برائے امن (land for peace) کی بات کی جاتی ہے، یعنی زمین دو اورامن لو۔ مگر اپنے علم اور تجربے کی بنیاد پر میںاِس تجویز کو قطعی طورپر ناقابلِ عمل سمجھتا ہوں۔ اِس معاملے میںجوچیز قابلِ عمل ہے، وہ صرف حقوق برائے امن (right for peace) ہے، یہی اِس معاملے میںواحد قابلِ عمل فارمولا ہے۔ اِس فارمولے کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہے کہ اِس کو ماننے کی صورت میں عربوں کو فوری طورپر ایک نقطۂ آغاز (starting point) مل جائے گا۔ اِس وقت فلسطینی تحریک ایک بند گلی (blind alley) میں پھنسی ہوئی ہے۔ مذکورہ تجویز کو اختیار کرنے کی صورت میں یہ ڈیڈ لاک (deadlock) فوری طورپر ختم ہوجائے گا، اور عربوں کو یہ کھُلا موقع مل جائے گا کہ وہ ترقی کی شاہ راہ پر اپنا سفر شروع کردیں۔
فلسطین کے معاملے میں تمام دنیا کے مسلمان، عرب اور غیر عرب دونوں، ایک ہی بات کہتے رہتے ہیں، وہ یہ کہ اسرائیل قبضہ کی ہوئی زمین کو واپس کرے، تو فلسطینی اپنی متشددانہ کارروائیوں کو بند کردیں گے۔ اِس تجویز کو السّلام مع العدل (peace with justice) کہا جاتا ہے۔
جیسا کہ معلوم ہے، بے شمار کوششوں کے باوجود یہ تجویز عمل میں نہ آسکی۔ اِس ناکامی کا سبب صرف ایک ہے، اور وہ یہ کہ یہ فارمولا ایک غیر حقیقت پسندانہ فارمولا ہے، اور کوئی غیر حقیقت پسندانہ فارمولا، حقائق کی اِس دنیا میں کبھی کامیاب نہیں ہوسکتا۔ یہ دنیا فطرت کے اٹل قوانین پر چل رہی ہے۔ اِس دنیا میں وہی فارمولا کامیاب ہوسکتاہے، جس کو فطرت کے قوانین کی حمایت حاصل ہو۔
حقیقت یہ ہے کہ قانونِ فطرت کے مطابق، عدل (justice) امن (peace) کا حصہ نہیں عدل کو امن کے ساتھ بریکٹ کرنا، گریمر کے اعتبار سے درست ہوسکتا ہے، لیکن حقیقت کے اعتبار سے وہ ہر گز درست نہیں۔ کیوں کہ عدل جب بھی کسی کو ملتا ہے، وہ خود اپنی محنت سے ملتا ہے۔ ایسا نہیں ہوسکتا کہ امن کے قیام سے کسی کو عدل حاصل ہوجائے۔
اصل یہ ہے کہ امن کے قیام سے جو چیز حاصل ہوتی ہے، وہ صرف مواقع کار ہیں۔ امن کسی شخص، یا گروہ کے لیے مواقع کا دروازہ کھولتا ہے۔ عدل کے حصول کا کام اِس کے بعد شروع ہوتاہے۔ اور وہ یہ کہ کھلے ہوئے مواقع کو استعمال کرکے اپنے لیے مطلوب عدل حاصل کیا جائے۔
خدا کے فضل سے میںنے تین بار فلسطین کا سفر کیا ہے۔ پہلی بار اگست 1995 میں، دوسری بار اکتوبر 1997 میں اور تیسری بار اکتوبر 2008 میں۔ اِس طرح میں یہ کہہ سکتاہوں کہ مجھے فلسطین کو براہِ راست دیکھنے کا موقع ملا ہے۔ اِس کے علاوہ بہت سے فلسطینی مسلمانوں سے میری ملاقات ہوئی ہے، دہلی کے اندر اور دہلی کے باہر۔ فلسطین کے بارے میں، میں نے بہت سی کتابیں بھی پڑھی ہیں۔ اپنے تجربات کی بنا پر میں یہ کہہ سکتا ہوں کہ فلسطینی قوم ایک زندہ قوم ہے۔ فلسطینی لوگ عام طورپر اعلیٰ صلاحیت کے مالک ہوتے ہیں۔ وہ ’’علم اور جسم‘‘ دونوں میں ممتاز حیثیت کے حامل ہوتے ہیں۔ ایسا ہونا بالکل فطری ہے۔ کیوں کہ وہ ایک ایسے جغرافی علاقے میں پرورش پاتے ہیں، جس کے بارے میں، قرآن میں یہ الفاظ آئے ہیں: الّذی بارکنا حولہ (الإسراء: 1 ) یعنی جس کے ماحول کو ہم نے بابرکت بنایا ہے:
The environs of which, We have blessed.
فلسطینی لوگ اپنے ممتاز فطری اوصاف کی بنا پر بہت بڑے بڑے کام کرسکتے ہیں، وہ ہر میدان میں اعلیٰ ترقی کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ لیکن دورِ جدید کا یہ ایک انوکھا المیہ ہے کہ فلسطین کی یہ بالقوہ صلاحیت (potential) اُن کے حق میں بالفعل (actual) واقعہ نہ بن سکی۔
اِس المیہ کا واحد سبب یہ ہے کہ فلسطین کے لیڈروں نے فلسطینیوں کو نفرت اور تشدد کے راستے پر ڈال دیا۔ انھوںنے غلط طورپر زمین (land) کو سب کچھ سمجھ لیا۔ وہ زمین کو حاصل کرنے کے لیے اپنی جانیں دے رہے ہیں۔ اُن کو معلوم نہیں کہ ایک فلسطینی کی زندگی اُس زمینی خطّہ سے ہزاروں گُنا زیادہ قیمتی ہے، جس کو حاصل کرنے کے لیے وہ ناکام کوشش کررہے ہیں۔ اگر یہ فلسطینی، جدید امکانات سے باخبر ہوتے، تو یقینا وہ جان لیتے کہ اِن امکانات کو استعمال کرکے وہ نہ صرف فلسطین کی سطح پر، بلکہ عالمی سطح پر بڑی بڑی ترقیاں حاصل کرسکتے ہیں۔
آخری بات یہ کہ پُرامن عمل اور متشددانہ عمل کا معاملہ کوئی سادہ معاملہ نہیں۔ یہ براہِ راست طورپر قانونِ فطرت کا معاملہ ہے۔ فطرت کے قانون کے مطابق، پُرامن عمل انسان کی تخلیقیت (creativity) کو بڑھاتا ہے۔ جو گروہ ایسا کرے کہ وہ پُرامن ذرائع تک محدود رہتے ہوئے اپنی جدوجہد کو جاری کرے، ایسا گروہ، فطرت کے قانون کے مطابق، دن بدن تخلیقی گروہ (creative group) بنتا چلا جائے گا۔ اِس کے برعکس، جو گروہ نفرت اور تشدد کا طریقہ اختیار کرے، وہ فطرت کے قانون کے مطابق، دن بدن غیر تخلیقی گروہ (uncreative) بنتا چلا جائے گا۔
یہ فطرت کا اٹل قانون ہے۔ اِس میں کسی کا کوئی استثناء نہیں۔ پُر امن طریقِ کار ہمیشہ کسی گروہ کو تخلیقی گروہ بناتا ہے۔ اِس کے برعکس، نفرت اور تشدد کا طریقہ ہمیشہ غیر تخلیقیت کی طرف لے جاتاہے۔ کوئی بھی دوسرا عمل اِس نقصان کی تلافی نہیںبن سکتا۔ قانونِ فطرت کے مطابق، اِس دنیا میں تمام کامیابیاں تخلیقی گروہ کے لیے مقدّر ہیں، اور تمام ناکامیاں غیر تخلیقی گروہ کے لیے۔
قضیۂ فلسطین کا حل
ابو سعید الخدری الانصاری (وفات: 74 ھ/ 693 ء) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک صحابی ہیں۔ اُن سے 1170 حدیثیں مَروی ہیں۔ انھوں نے پیغمبر اسلام سے سنا ہوا ایک قول اِن الفاظ میں نقل کیا ہے: یخرج رجلٌ من أمتی یقول بسنّتی، ینزل اللہ عزَّ وجلّ لہ القطر من السماء وتُخرِج الارض برکتہا، وتُملأ الأرض منہ قسطاً وعدلاً کما مُلئت جوراً وظلماً، یعمل علی ہذہ الأمۃ سبع سنین، وینزل بیتَ المقدس (رواہ الطَّبرانی فی معجمہ الأوسط، جلد2، صفحہ 15 ) یعنی میری امت میں سے ایک آدمی نکلے گا۔ وہ میری سنت کے مطابق کلام کرے گا۔ اللہ تعالی اس کے لیے آسمان سے بارش نازل کرے گا۔ اور زمین اپنی برکت نکال دے گی۔ اور اس کے ذریعے سے زمین عدل اور قسط سے بھر دی جائے گی، جس طرح وہ ظلم اور جور سے بھر دی گئی تھی۔ وہ اِس امت میں سات سال تک کام کرے گا۔ اور وہ بیت المقدس میں اُترے گا۔
اِس حدیث رسول میں پیشگی طورپر یہ بتایا گیا ہے کہ تاریخ کے آخری زمانے میں ایک اہم واقعہ ہوگا۔ یہ واقعہ بیت المقدس (فلسطین) کے حوالے سے پیش آئے گا۔ یہ واقعہ اِس بات کی علامت ہوگا کہ قیامت بہت قریب آچکی ہے۔ ’’زمین اپنی برکتیں نکال دے گی‘‘ کا مطلب یہ ہے کہ اُس زمانے میں مواقع (opportunities) کی بہت زیادہ کثرت ہوجائے گی۔ اِن مواقع کو استعمال کرکے یہ ممکن ہوجائے گا کہ دنیا میں امن کی عمومی فضا قائم کی جاسکے۔
اِس حدیثِ رسول کی روشنی میں بیت المقدس، یا فلسطین کے مسئلے پر غور کیجیے۔ فلسطین کا مسئلہ اپنی موجودہ صورت میں، بیسویں صدی کے وسط میں پیدا ہوا۔ ابتدائی طورپر یہ مسئلہ عربوں کا ایک قومی، یا جغرافی مسئلہ تھا۔ لیکن تمام مسلمانوں کا مسئلہ بنانے کے لیے اس کو اسلامی مسئلے کی حیثیت سے نمایاں کیاگیا۔ حقیقت یہ ہے کہ موجودہ زمانے میں مسلمانوں کے اندر جو تحریکیں اٹھیں، وہ تقریباً سب کی سب، بر اہِ راست یا بالواسطہ طورپر، فلسطین کے مسئلے کا رد عمل تھیں— الاخوان المسلمون، حماس، القاعدہ، تحریک طالبان، وغیرہ اس کی مثالیں ہیں۔
اِس قسم کی مسلم تحریکیں جوموجودہ زمانے میں مختلف علاقوں میںاُٹھیں، ان کے مجموعے کو صحوۃ إسلامیۃ (Islamic Ressurgence) کہاجاتا ہے۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ یہ تمام تحریکیں صحوۃ فلسطینیۃ(Palestinian Ressurgence) ہیں۔ فلسطین کا مسئلہ اِن تحریکوں میں براہِ راست طور پر شامل ہے، یا بالواسطہ طورپر۔
فلسطین کا مسئلہ اپنی فعّال صورت میں 1948 میں شروع ہوا۔ اِس کے بعد تمام دنیا کے مسلم رہ نما منفی رد عمل میں مبتلا ہوگئے۔ مسلمانوں کے درمیان نفرت اور تشدد کی تحریکیں چل پڑیں۔ اِس نفرت اور تشدد کا پہلا نشانہ اسرائیل تھا اور اس کے بعد برطانیہ اس کا نشانہ بن گیا، کیوں کہ برطانیہ (Biritish Empire) نے بال فور ڈکلریشن کے تحت، اسرائیل کو قائم کیا تھا۔ اس کے بعد نفرت اور تشدد کا یہ مسلم سیلاب امریکا (U.S.A.) کے خلاف متحرک ہوگیا، کیوں کہ امریکا، فلسطین کے اِشو پراسرائیل کی سرپرستی کرنے لگا تھا۔ اِس کے بعد مسلمانوں کے منفی جذبات کا رخ انڈیا جیسے ملکوں تک پھیل گیا جو اسرائیل سے مصالحت کا تعلق قائم کیے ہوئے تھے، یہاں تک کہ منفی جذبات سے بھرے ہوئے یہ مسلمان خود مسلم حکومتوں کے خلاف ہوگئے، کیوں کہ مسلم حکومتیں اسرائیل کے خلاف وہ انتہائی اقدامات نہیں کررہی تھیں جو مسلمان اُن سے چاہتے تھے۔
مذکورہ حدیثِ رسول میں یہ پیشین گوئی کی گئی تھی کہ ’’ارض‘‘ ظلم و جور سے بھر دی جائے گی اور پھر اس کو قسط اور عدل سے بھرا جائے گا۔ یہ ایک تعبیری اسلوب ہے۔ اِس سے مراد یہی مذکورہ صورتِ حال ہے۔ موجودہ زمانے میںعملاً یہی پیش آیا ہے کہ ارضِ فلسطین کے حوالے سے ، ساری دنیا کے مسلمان نفرت اور تشدد میںمبتلا ہوگئے۔ اِسی نفرت اور تشدد کو ’’ظلم اور جور‘‘ سے تعبیر کیا گیا ہے۔ اس کے بعد حدیث کے مطابق، جو ہونا ہے، وہ یہ کہ ’’ارض‘‘ کو قسط اورعدل سے بھر دیا جائے۔ یہ امن کی تعبیر ہے۔ اِس حدیث میں قسط اور عدل سے مراد امن پر مبنی معتدل فضا ہے جو مسلمانوں کے لیے دعوت کے مواقع کو کھولنے والی ہے۔اسلام کا سب سے بڑا کنسرن (concern) دعوت ہے، اور یہ ایک حقیقت ہے کہ نفرت اور تشدد کا ماحول دعوت کے دروازوں کو بند کردیتا ہے، اور امن اور معتدل تعلقات کا ماحول دعوت کے دروازوں کو کھولنے والا ہے۔
حدیث میں جس واقعے کی پیشین گوئی کی گئی ہے، اس کا تعلق نہ جنگ سے ہے اور نہ حکومت سے، یعنی اس مطلوب کے حصول کے لیے نہ تو جنگ کی جائے گی اور نہ وہ حکومت کی طاقت سے قائم ہوگا۔ یہ پورا معاملہ ایک نظریاتی معاملہ ہوگا، یعنی ایک منفی آئڈیالوجی دنیا میں نفرت اور تشدد کے حالات پیدا کرے گی۔ اِس کے مقابلے میں ایک مثبت آئڈیالوجی ابھرے گی، جو دنیا میں امن اور اعتدال کا ماحول قائم کرے گی۔
موجودہ زمانے میںفلسطین کا مسئلہ ساری مسلم دنیا کا مسئلہ بن گیا ہے۔ موجودہ زمانے میں مسلمانوں کے اندر نفرت اور تشدد کا عمومی ماحول پیداہوا۔ اس کا اصل سبب بلا شبہہ فلسطین کا مسئلہ تھا۔ ایسی حالت میں سب سے پہلا ضروری کام یہ ہے کہ فلسطین کے مسئلے کا ایک ایسا حل تلاش کیا جائے جو نفرت اور تشدد کے موجودہ ماحول کو ختم کرسکتاہو۔ یہ حل عربوں یا مسلمانوں کی امنگوں(aspirations) کے مطابق نہیں ہوسکتا۔ یہ حل لازمی طورپر مبنی بر حقیقت فارمولے ہی کے ذریعہ ہوسکتاہے۔ اس معاملے میں عادلانہ حل صرف وہ ہے جو امن قائم کرنے والا ہو، نہ کہ لوگوں کے جذبات کو تسکین دینے والا۔ اِسی بنیادی اصول کو پیش نظر رکھتے ہوئے فلسطین کے مسئلے کامذکورہ بالا تجزیہ پیش کیا گیا ہے۔ اِس تجزیے کی روشنی میںاِس مسئلے کا جو قابلِ عمل منصفانہ حل ممکن ہے، اس کو ذیل میںدرج کیا جاتاہے۔
اِس سلسلے میں پہلی بات یہ ہے کہ عرب اور غیر عرب مسلمانوں کی طرف سے اِس معاملے میںاب تک جو باتیں کہی جاتی رہی ہیں، اُس میں ہمیشہ یہ ظاہر کرنے کی کوشش کی جاتی ہے کہ فلسطین کا اِشو، ظالم اور مظلوم کا اشو ہے، یعنی اسرائیل یک طرفہ طورپر ظالم ہے، اور عرب یک طرفہ طور پر مظلوم۔ مسئلے کا بے لاگ جائزہ بتاتا ہے کہ یہ تقسیم ایک غیر حقیقی تقسیم ہے۔
واقعہ یہ ہے کہ اِس معاملے میں عرب اور اسرائیل، دونوں کی حیثیت یکساں ہے۔ دونوں میں سے کسی کا کیس بھی عدل اور معقولیت پر مبنی کیس نہیں ہے۔ دونوں فریق ایک دوسرے پر جو الزام دیتے ہیں، وہ خود اُس میں برابری کے درجے میں شریک ہیں۔ خالص اصول کی روشنی میں، دونوں میں سے کسی کا کیس بھی موجودہ حالت میں، حق پر مبنی قرار نہیں دیا جاسکتا۔ یہاں اِس سلسلے میںمختصر طورپر چند متعلق پہلوؤں کاذکر کیا جاتا ہے۔
1 - انیسویں صدی عیسوی کے نصف آخر میں یہود کے درمیان ایک تحریک اٹھی جس کو صہیونی تحریک (Zionism) کہاجاتا ہے۔ صہیون (Zion) دراصل یروشلم میں واقع ایک پہاڑی کا نام ہے۔ اِس پہاڑی کو یہودی لوگ مقدس مانتے ہیں اور اس کو وہ یہودی قومیت کا مرکزی نشان سمجھتے ہیں۔ ڈاکٹر ہرزل (Theodor Herzl) کی قیادت میں 1890 میں صہیونی تحریک شروع ہوئی۔ اِس کا پہلا انٹرنیشنل اجلاس 1897 میں سوئزر لینڈ کے شہر باسل (Basel) میں ہوا۔ صہیونی تحریک کا مقصد یہ تھا کہ یہودی ڈائس پورا (Jews in diaspora) کو فلسطین واپس لانا، اور یہاں ان کی نیشنل اسٹیٹ قائم کرنا۔ اِس تحریک کے نتیجے میں بال فور کمیشن قائم ہوا، اور اس کی سفارش کے مطابق، 1948 میں اسرائیل کا قیام عمل میں آیا۔
عرب رہ نماؤں نے متفقہ طورپر یہودی ڈائس پورا کی فلسطین واپسی کی مخالفت کی۔ یہ مخالفت اِس حد تک پہنچی کہ انھوں نے اسرائیل کے خلاف متشددانہ جہاد شروع کردیا۔ یہ مخالفانہ تحریک بڑھتی رہی۔ ساری دنیا کا مسلم پریس، اور ساری دنیا کا مسلم مائنڈ عمومی طورپر اِس سے متاثر ہوگیا۔ کوئی بھی قابلِ ذکر مسلمان نہ تھاجو یہ کہے کہ یہودی ڈائس پورا کو فلسطین آنے کا حق ہے، جس طرح تمام تارکین وطن کو اپنے وطن واپس آنے کا حق ہوتا ہے۔
دوسری طرف، یہودیوں نے بھی ایسا ہی کیا۔ فلسطین میںجو عرب آباد تھے، ان کی بڑی تعداد اسرائیل کے قیام کے بعد فلسطین چھوڑ کر باہر چلی گئی۔ یہ لوگ عرب ڈائس پورا (Arabs in diaspora) کی حیثیت رکھتے ہیں۔ اُن عربوں کو بھی اُسی طرح اپنے وطن واپس آنے کا حق ہے، جس طرح یہودیوں کو اپنے وطن واپس آنے کا حق تھا۔ لیکن یہودی، عربوں کے اِس حق کو ماننے کے لیے تیار نہیں۔
اِس طرح اِس معاملے میں دونوں گروہ مشترک طورپر ایک ہی غلطی کا شکار ہیں۔ عرب رہ نما، یہودی ڈائس پورا کو واپسی کا حق دینے کے لیے تیار نہیں۔ اِسی طرح یہودی رہ نما، عرب ڈائس پورا کو واپسی کا حق دینے کے لیے تیار نہیں۔ اب جو فریق یہ چاہتا ہو کہ اس کو اس کا یہ جائز حق ملے، اس کو سب سے پہلے یہ کرنا ہوگا کہ وہ اپنے سابقہ موقف کی غلطی کا کھلا اعتراف کرے اور پھر دل سے فریقِ ثانی کو اِس معاملے میں اس کا حق دینے پر راضی ہوجائے۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ اِس طرح کے متنازعہ معاملے میں دوسرے کا حق تسلیم کرنے ہی سے اپنا حق ملتا ہے۔ اگر آپ دوسرے کا حق تسلیم نہ کریں، تو آپ کو اپنا حق بھی ملنے والا نہیں۔
2 - 1948 میں بال فور ڈکلریشن کے مطابق، اسرائیل کا قیام عمل میں آیا، تو اُس وقت یہود کو فلسطین کا نصف سے کم حصہ ملا تھا۔ بال فور تقسیم کے مطابق، عربوں کے پاس فلسطین کا نصف سے زیادہ حصہ تھا، جس میں یروشلم بھی شامل تھا۔ اسرائیل کا موجودہ توسیعی رقبہ 1967 کی عرب- اسرائیل جنگ کے بعد بنا ہے۔ اِس لحاظ سے بین اقوامی اصول کے مطابق، اسرائیل کی جائز حدودوہی ہیں جو 1948 میںاس کو حاصل تھیں۔ موجودہ توسیعی رقبہ، اسرائیل کا جائز حصہ نہیں۔ 1948 میں قائم ہونے والا اسرائیل، بین اقوامی طورپر ایک مسلّمہ ریاست کی حیثیت رکھتا تھا۔ موجودہ توسیعی رقبہ، اسرائیل کے لیے غیر قانونی قبضہ (illegal occupation) کی حیثیت رکھتا ہے۔
عرب قیادت یہ مطالبہ کررہی ہے کہ اسرائیل اپنی 1967 کی حد پر واپس چلا جائے۔ عربوں کا یہ مطالبہ خالص اصولی اعتبار سے درست ہے، مگر عملی طورپر وہ ممکن نہیں۔کیوں کہ عرب رہ نما خود بھی اِس سے پہلے 1956 میں وہی فعل کرچکے ہیں جس کا ارتکاب، اسرائیل کی طرف سے 1967 میں ہوا۔ اِس لیے ’البادی أظلم‘ کے اصول کے مطابق، اِس بحرانی صورتِ حال کو پیدا کرنے کی زیادہ بڑی ذمے داری عرب قیادت پر آتی ہے۔ ایسی حالت میں عرب اور اسرائیل، دونوں کے درمیان کوئی حقیقی فرق نہیں۔ جب دونوں فریق یکساں طورپر ایک ہی غلطی کا شکار ہوں، تو کوئی ایک فریق دوسرے فریق کو ذمے دار ٹھہرانے کا حق کھو دیتا ہے۔
جیسا کہ عرض کیاگیا، اِسی نوعیت کی ایک سنگین غلطی وہ تھی جو اِس سے پہلے خود عرب قیادت سوئز کے معاملے میں کرچکی ہے۔ سوئز نہر (Suez Canal)ایک مصنوعی نہر ہے جو میڈی ٹیرینین (Mediterranean) کو ریڈ سی (Red Sea) سے ملاتی ہے۔ یہ نہر یورپین کمپنیوں نے (1859-69) بنائی تھی۔ پھر حکومتِ مصر نے اس کو برٹش اور فرنچ کمپنی (Suez Canal Co.) کو 99 سال کے لیے پٹّہ (lease) پر دے دیا۔ معاہدے کے مطابق، یہ پٹّہ 1968 میں ختم ہورہا تھا۔
لیکن عرب رہ نما اُس زمانے میںرومانوی جوش کا شکار تھے۔ اِس ماحول میںیہ ہوا کہ مصر کے سابق صدر جمال عبد الناصر(وفات: 1970 ) نے 1956 میں یک طرفہ طورپر اِس معاہدے کو ختم کردیا اور یورپین کمپنی کو بے دخل کرکے نہر سوئز کو حکومتِ مصر کے براہِ راست قبضے میں لے لیا۔
اِس کے بعد فطری طورپر ایسا ہوا کہ برطانیہ اور فرانس دونوں سخت برہم ہوگئے۔ انھوںنے مصر کے خلاف انتقامی کارروائی کا منصوبہ بنایا۔ برطانیہ اور فرانس نے اس معاملے میں خاموشی کے ساتھ اسرائیل کی مدد کی اور اسرائیل کے ذریعے مصر پر 1967 میں باقاعدہ حملہ کرادیا۔ 1967 کی اِس جنگ میں مصر کو زبردست شکست ہوئی۔ اس کے بعد اسرائیل نے اپنا رقبہ تقریباً پانچ گنا حد تک بڑھا لیا۔
نہر سوئز کے معاملے میں حکومتِ مصر کی یہ کارروائی بین اقوامی قانون کے سر تا سر خلاف تھی۔عرب قیادت اگر صرف بارہ سال انتظار کرتی، تو 1968 میں نہر سوئز اس کو اپنے آپ مل جاتی، جس طرح ہانگ کانگ پٹہ کے تحت، حکومتِ برطانیہ کے قبضے میں تھا۔ لیکن چین نے اِس معاملے میں پیشگی طورپر قبضے کی کارروائی نہیںکی، بلکہ معاہدے کی مدت کے ختم ہونے کا انتظار کیا، چناں چہ 1997 میں جب یہ معاہدہ ختم ہوا تو فطری طورپر ہانگ کانگ، چین کو واپس مل گیا۔
1956 میں صدر جمال عبد الناصر کا نہر سوئز پر قبضہ کرنا کوئی شخصی فعل نہ تھا، بلکہ تمام عرب قیادت اِس میں شریک تھی۔ اِس واقعے نے عرب قیادت اور اسرائیل دونوں کو ایک سطح پر کھڑا کردیا ہے۔ عرب قیادت مطالبہ کررہی ہے کہ اسرائیل نے 1967 میں فلسطین کی مزید زمین پر ناجائز قبضہ (illegal occupation) کرلیاہے۔حالاں کہ خود عرب قیادت نے 1956 میں اِسی طرح نہرسوئز پر ناجائز قبضہ (illegal occupation) کرلیا تھا۔
خالص انصاف کی رُو سے دیکھا جائے، تو معاہدے کی خلاف ورزی، یا ناجائز قبضے کے معاملے میں عرب قیادت اور اسرائیل، دونوں ایک ہی فعل کے مرتکب ہوئے ہیں۔ جب دو فریق یکساں طورپر ایک ہی غلطی کا شکار ہوں، تو کسی ایک فریق کو یہ حق نہیں رہتا کہ وہ دوسرے فریق کو مجرم ٹھہرائے، جب کہ وہ خود بھی اُسی جرم میں مبتلا ہو۔
اگر کوئی ایک فریق یہ چاہتا ہو کہ وہ دوسرے فریق کی غلطی کی اصلاح کرے، تو مطالبہ کرنے والے فریق کو سب سے پہلے خود اپنی غلطی کا کھلے طورپر اعتراف کرنا چاہیے۔ اپنی غلطی کا کھلا اعتراف کیے بغیر، دوسرے کی غلطی کا اعلان کرنا ایک مضحکہ خیر کارروائی ہے، وہ نہ کوئی درست کام ہے اور نہ اِس کا کوئی مثبت نتیجہ برآمد ہونے والا ہے۔
3 - عرب رہ نما، بلکہ تمام مسلم رہ نما مسلسل طورپر یہ کہتے رہے ہیں کہ اسرائیل ایک ظالم ریاست ہے۔ وہ فلسطینی عربوں کے اوپر بم برساتا ہے۔ اسرائیلی فوج ان کو اپنی گولیوں کا نشانہ بناتی ہے، مگر عین اُسی وقت خود عرب اور غیر عرب مسلمان تشدد کا یہی فعل کررہے ہیں۔ وہ نہ صرف اسرائیل کو اپنے تشدد کا نشانہ بناتے ہیں، بلکہ وہ جس کو اسرائیل کا حلیف دیکھتے ہیں، اس کو بھی اپنے تشدد کا نشانہ بنائے ہوئے ہیں، حتی کہ جہاں ان کے لیے بم اور گولی کا موقع نہیں ہوتا، وہاں وہ خود کش بم باری کے ذریعے ان کو جان اور مال کی ہلاکت میں مبتلا کررہے ہیں۔ مسلم رہ نما، عرب اور غیر عرب دونوں، اسرائیل کے تشدد کا تو خوب تذکرہ کرتے ہیں، لیکن وہ کبھی عربوں اور مسلمانوں کے تشدد کی مذمت نہیںکرتے۔
اِس صورتِ حال نے مسلم قیادت اور اسرائیل دونوں کو ایک سطح پر کھڑا کردیا ہے۔ دونوں یکساں طورپر دہشت اور تشدد پھیلانے کے ذمے دار ہیں۔ ایسی حالت میں دونوں نے اپنے آپ کو دوسرے فریق کے خلاف بولنے سے اخلاقی طورپر محروم کرلیاہے۔ اب اگر دونوں میں سے کوئی فریق، دوسرے کو پُر امن بنانا چاہتا ہے، تو سب سے پہلے اس کو خود پر امن بننا پڑے گا۔ اور اِس معاملے میں پرامن بننے کی پہلی شرط یہ ہے کہ خود اپنے لوگوں کے دہشت اور تشدد کی کھلی مذمت کی جائے۔ اپنے لوگوں کی غلطی پر خاموش رہنا، اور دوسرے لوگوں کی طرف سے اُسی قسم کی غلطی پر بولنا، ایک مجرمانہ فعل ہے۔ اِس کا کوئی مثبت نتیجہ خدا کی اِس دنیا میں نکلنے والا نہیں۔
خلاصہ
اوپر کے تجزیے سے یہ بات پوری طرح واضح ہوجاتی ہے کہ فلسطین کے معاملے میں عرب اور اسرائیل کی حیثیت یہ نہیں ہے کہ اُن میں سے ایک فریق یک طرفہ طورپر ظالم ہے اور دوسرا فریق یک طرفہ طورپر مظلوم۔ اِس معاملے میں صحیح تقسیم یہ ہے کہ اصولی طورپر دونوں فریق یکساں حیثیت رکھتے ہیں۔ ایک فریق جس فعل کاالزام دوسرے فریق کو دے رہا ہے، وہ خود بھی ٹھیک اُسی فعل میں مبتلا ہے۔
ایسی حالت میں فلسطین میں امن کا قیام اُسی وقت ہوسکتا ہے، جب کہ دونوں فریق حقیقت پسندی کا طریقہ اختیار کریں، اور اس معاملے میں حقیقت پسندی یہ ہے کہ ایک فریق دوسرے فریق سے جو کچھ لینا چاہتا ہے، وہ خود بھی دوسرے فریق کو وہی چیز دینے کے لیے تیار ہو۔ یہ بلا شبہہ لینے اور دینے (give and take) کا معاملہ ہے۔ اِس معاملے میں یہی واحد مبنی بر حقیقت پالیسی ہے۔ کوئی دوسرا فارمولا اِس معاملے میں ہر گز قابلِ عمل نہیں۔
واپس اوپر جائیں

دوسرے کے بل پر اقدام

ایک شہر کا واقعہ ہے۔ ایک صاحب کو گھر کی ضرورت تھی۔ چھوٹا فلیٹ خریدنے کے لیے ان کے پاس پیسے تھے، لیکن بڑا فلیٹ خریدنے کے لیے ان کے پاس پیسے نہ تھے۔ بینکوں کے شرائط کے مطابق، ان کو ہاؤس لون (house loan) بھی نہیں مل سکتا تھا۔ ان کے ایک تاجر دوست نے کہا کہ تم کسی مہاجن سے مہاجنی سود پر قرض لے لو، میں جلد ہی مہاجن کا پیسہ ادا کردوں گا۔
مذکورہ صاحب نے مہاجنی سود پر قرض لے کر فلیٹ خرید لیا۔مہاجنی سود کی شرح بینک کی شرح سے بہت زیادہ تھی۔ قرض لیتے ہی وہ سود کے جال میں پھنس گئے۔ ان کے تاجر دوست نے یہ کہہ کر پیسہ دینے سے انکار کردیا کہ میرے کاروبار میں گھاٹا ہوگیا ہے، اِس لیے اب میں تمھاری مدد نہیں کرسکتا۔ مذکورہ صاحب کے لیے یہ صورتِ حال ناقابلِ برداشت تھی۔ وہ سخت قسم کے ٹنشن (tension) کا شکار ہوگئے۔دوسرے کے بل پر اقدام کرنے کا یہ طریقہ ہمارے سماج میں بہت عام ہے۔ عوام وخواص دونوں اِس میں مبتلا ہیں۔ مگر اِس قسم کا ہر اقدام بلا شبہہ ایک مہلک اقدام ہے۔ آدمی کو چاہیے کہ وہ ایسے ہر اقدام سے کامل طور پر بچے۔ وہ اپنے کام کی منصوبہ بندی خود اپنے دستیاب وسائل کی بنیاد پر کرے، وہ دوسروں کے بھروسے پر کبھی کوئی منصوبہ نہ بنائے۔ دوسرے کے بل پر اقدام ہمیشہ کاؤنٹر پروڈکٹیو(counter-productive) ثابت ہوتاہے۔
تجربہ بتاتا ہے کہ اِس معاملے میں کسی کا کوئی استثناء نہیں، حتی کہ سپر پاور کا بھی نہیں۔ جو شخص یا جو ادارہ بھی یہ طریقہ اختیار کرے گا، وہ مزید مسائل کا شکار ہو کر رہ جائے گا۔ صحیح یہ ہے کہ آپ خود اپنے وسائل کی بنیاد پر کام کریں۔ اگر آپ کے وسائل کم ہوں تو آپ کو اس میں اپنی محنت کا اضافہ کرنا چاہیے۔ کم وسائل والا شخص اگر دوسرے کی مدد پر بھروسہ کرتے ہوئے کوئی اقدام کرے تو یقینی ہے کہ وہ جلد یا بد یر اُس کے برے نتائج کا شکار ہوجائے گا۔ دوسرے کے بھروسے پر اقدام ایک ایسی چھلانگ ہے جو آپ کو گڑھے کے سوا کہیں اور گرانے والی نہیں۔
واپس اوپر جائیں

نہیں کہنا سیکھئے

ایک انگریزی رائٹر نے زندگی کے موضوع پر ایک کتاب لکھی ہے۔ اِس میں اس نے کامیاب زندگی کا راز بتایا ہے۔ موضوع کی نسبت سے اس نے کتاب کا نام رکھا ہے— نہیں کہنا سیکھئے:
Learn to say No
یہ بے حد اہم بات ہے۔ اجتماعی زندگی میں بارہا ایسا ہوتا ہے کہ آدمی کو ہاں یا نہیں کہنا پڑتا ہے۔ ایک آدمی اگر لوگوں سے صرف ہاں کہنا جانے تو وہ اپنی ساری زندگی میں غیر ضروری مسائل کا شکار بنا رہے گا۔ وہ اپنے مقصد کو حاصل کرنے میں زیادہ کامیاب نہ ہوگا۔
آدمی کو چاہیے کہ وہ خود اپنے سوچے سمجھے ذہن کے تحت فیصلہ کرے۔ وہ جانے کہ اس کو کس معاملے میں پڑنا ہے اور کس معاملے میں نہیں پڑنا ہے۔ وہ دوسروں سے ہاں کہنے کے ساتھ، نہیں کہنا بھی جانے۔ وہ اقرار کی زبان بولنے کے ساتھ انکار کی زبان بولنا بھی جانتا ہو۔
اِس معاملے کی ایک مثال قرض ہے۔ عربی زبان کا ایک مثل ہے: القرض مِقراض المحبۃ (قرض محبت کی قینچی ہے)۔ اجتماعی زندگی میں بار بار ایساہوتاہے کہ ایک شخص دوسرے شخص سے قرض مانگتاہے۔ لیکن تجربہ بتاتا ہے کہ بہت کم ایسے افراد ہیں جو قرض کی ٹھیک ٹھیک ادائیگی کرتے ہوں۔ ایسی حالت میں قرض دینے کا نتیجہ اکثر یہ نکلتا ہے کہ فریقین کے درمیان تلخیاں بڑھتی ہیں اور محبت کا تعلق دشمنی کے تعلق میں بدل جاتا ہے۔ ایسی حالت میں پُر عافیت طریقہ یہ ہے کہ کسی کو قرض نہ دیا جائے۔ واپسی کی شرط کے بغیر کسی کی مدد کرنا درست ہے، لیکن واپسی کی امید کے ساتھ کسی کو رقم دینا موجودہ زمانے میں عملی اعتبار سے درست نہیں۔
نہیں کہنا کوئی سختی کا معاملہ نہیں ہے، یہ دراصل بااصول انسان کا طریقہ ہے۔ با اصول انسان کے لیے اِس دنیا میں کوئی اور طریقہ عملی طور پر ممکن نہیں۔
واپس اوپر جائیں

حیاتِ اجتماعی، حیاتِ انفرادی

حضرت عمر فاروق کے زمانۂ خلافت کا واقعہ ہے۔ ایک بار حضرت عمر حج کے لیے مکہ گئے۔ وہاں انھوں نے دیکھا کہ ایک بوڑھی خاتون کعبہ کا طواف کررہی ہے۔ وہ اتنی معذور تھی کہ بیٹھ کر اور گھسٹ گھسٹ کر چل رہی تھی۔ وہ دوسروں کے لئے مسئلہ بنی ہوئی تھی۔ حضرت عمر نے اُس کو دیکھ کر کہا: کاش، آپ اپنے گھر پر بیٹھتیں (لو قعدتِ فی بیتک)۔ یہ صرف ایک انفرادی واقعہ نہیں، اِس سے ایک اہم اصول معلوم ہوتا ہے۔اصل یہ ہے کہ زندگی کے دو الگ الگ دائرے ہیں— ایک ہے، حیاتِ انفرادی۔ اور دوسرا ہے، حیاتِ اجتماعی۔ انفرادی دائرے میں آدمی کا معاملہ اس کی اپنی ذات تک محدود ہوتا ہے۔ انفرادی دائرے میںآدمی خواہ جس طرح بھی رہے، اس کا اثر کسی دوسرے انسان تک نہیں پہنچتا۔ وہ اپنی کسی روش سے دوسروں کے لیے مسئلہ (problem) نہیں بنتا۔
مگر حیات ِ اجتماعی کا معاملہ اِس سے بالکل مختلف ہے۔ حیاتِ اجتماعی میںایک آدمی دوسرے بہت سے لوگوں کے ساتھ بندھا ہوا ہوتا ہے۔ اس کی ہر روش براہِ راست یا بالواسطہ طورپر دوسروں کو متاثر کرتی ہے۔ وہ خواہ قصداً دوسروں کو تکلیف دینا نہ چاہے، لیکن جب وہ ایک عمل کرتا ہے تو اس کے نتیجے کے طور پر بہر حال ایسا ہوتا ہے کہ اس کے عمل کے اثرات بلا اعلان دوسروں تک پہنچ جاتے ہیں۔
ایسی حالت میں ہر عورت اور ہر مرد کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنے انفرادی عمل اور اپنے اجتماعی عمل میں فرق کرے۔ جب وہ اکیلا ہو اور صرف اپنی ذات کی سطح پر کوئی عمل کررہا ہو تو اُس وقت وہ اپنے آپ کو آزاد سمجھے۔ لیکن جب وہ دوسرے لوگوں کے درمیان ہو تو وہ اپنے عمل سے پہلے یہ سوچے کہ اس کی وجہ سے دوسروں کے لیے تو کوئی مسئلہ نہیں پیدا ہوگا۔ اگر اس کا عمل دوسروں کے لیے مسئلہ پیدا کرنے والا ہو تو وہ ایسے عمل سے اپنے آپ کو بچائے۔ وہ اپنے عمل کو اِس طرح انجام دے کہ دوسرے لوگ اس کے نقصان سے محفوظ رہیں۔ موجودہ کمیونکیشن کے زمانے میں یہ احتیاط صرف قریبی پڑوسی کے لیے نہیں ہے، بلکہ اس کا تعلق دور کے پڑوسی سے بھی ہوگیا ہے۔
واپس اوپر جائیں

آمدنی بڑھانے کا مسئلہ

ایک صاحب کا ٹیلی فون آیا۔ انھوں نے کہا کہ میں معاشی مسئلے سے دوچار ہوں اور اپنی آمدنی بڑھانا چاہتا ہوں۔ مجھے اضافۂ رزق کی کوئی دعا بتائیے۔ میںنے کہا کہ دوسرے لوگوں کی طرح، آپ کا مسئلہ بھی آمدنی میں کمی کا مسئلہ نہیں ہے، بلکہ خرچ میں زیادتی کا مسئلہ ہے۔ میرا قیاس ہے کہ آپ غیر ضروری طورپر اپنا خرچ بڑھائے ہوئے ہیں۔ اِس بنا پر آپ مصنوعی طورپر معاشی مسئلے کا شکار ہوگئے ہیں۔ آپ صرف یہ کیجئے کہ آپ اپنے خرچ کو گھٹائیے، اس کے بعد آپ کی آمدنی اپنے آپ بڑھ جائے گی۔ انھوں نے اعتراف کیا کہ میرا معاملہ ایسا ہی ہے۔
یہ دیکھا گیا ہے کہ آمدنی خواہ کم ہو یا زیادہ، عام طورپر لوگ معاشی مسئلے کا شکار رہتے ہیں۔ اس کا سبب یہ ہے کہ لوگ اپنے خرچ کو انتظامی حد (manageable limit) کے اندر نہیں رکھتے۔ وہ اپنی عادتوں کو بدلنے کی کوشش نہیں کرتے، وہ صرف اپنی آمدنی کو بڑھانے کی کوشش کرتے رہتے ہیں۔ مگر عملاً یہ ہوتا ہے کہ آمدنی بڑھنے کے ساتھ اُن کا خرچ بھی بڑھ جاتا ہے اور مالی تنگی کا مسئلہ بدستور باقی رہتا ہے۔ یہ معاملہ اپنی حقیقت کے اعتبار سے صرف بے شعوری کا معاملہ ہے، وہ معاشی تنگی یا آمدنی کی کمی کا معاملہ نہیں۔ ایسے حالات میں آدمی کو چاہیے کو وہ اپنے شعور کو بڑھائے، نہ کہ اپنی آمدنی کو بڑھانے کی بے فائدہ کوشش کرتا رہے۔
معاش کے مسئلے کا حل صرف ایک ہے، اور وہ ہے سادگی اور قناعت۔ سادگی آپ کو غیر ضروری خرچ سے بچاتی ہے۔ اور قناعت آپ کو ہر حال میں سکون عطاکرتی ہے۔ مزید یہ کہ سادگی اور قناعت با مقصد انسان کا طریقہ ہے۔ جس آدمی کے سامنے کوئی اعلیٰ مقصد ہو، اُس پر لازم ہے کہ وہ سادگی اور قناعت کا طریقہ اختیار کرے، ورنہ وہ چاہتے ہوئے بھی اپنے مقصد کے لیے کام نہ کرسکے گا۔ وہ دل سے چاہے گا کہ میں با مقصد زندگی گزاروں، لیکن عملاً یہ ہوگا کہ وہ بے مقصد زندگی گزارے گا، اورپھر اِسی حال میں مر جائے گا۔
واپس اوپر جائیں

سوال وجواب

سوال
I would like to seek Maulana Wahiduddin Khan’s guidance about a great issue which has been raised by the “Quantum Physics”. Quantum Physics proves that “All matters are connected” and as such there is existence of real physical world (concept of wahdatul-wujud, being conceived by Muslim Sufis also). At present day, Thomas Campbell, Amit Goswami, Deepak Chopra have come up with different scientific proofs of unity of being in the universe. I want Maulana Wahiduddin Khan to present Islamic viewpoint on “Wahdatul Wujood”. (Faisal, Sharjah)
جواب
آپ کا یہ کہنا درست ہے کہ کچھ مذہبی لوگ کوانٹم فزکس (Quantum Physics) کے سائنسی نظریے سے وحدتِ وجود (monism) کا مذہبی نظریہ نکالتے ہیں۔ مگر یہ صرف ایک مغالطہ (fallacy) ہے۔ کوانٹم فزکس سے اگر کچھ ثابت ہوتا ہے تو وہ یہ کہ عالمِ مادّی (material world) میں وحدت ہے۔ دوسرے لفظوں میں یہ کہ تخلیق کے مختلف مظاہر میں وحدت پائی جاتی ہے۔ مگر اِس سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ خالق اور مخلوق دونوں ایک ہیں۔ جو لوگ اِس سے پہلے اپنے مفروضہ قیاس کے تحت، خالق اور مخلوق کو ایک سمجھے ہوئے تھے، انھوں نے اپنے مخصوص ذہن کی بنا پر یہ فرض کرلیاکہ کوانٹم فزکس اُن کے وحدتِ وجود کے نظریے کی سائنسی تصدیق ہے۔ مگر علمی اعتبار سے، یہ ایک بے بنیاد بات ہے۔
کوانٹم فزکس سے یہ ثابت نہیںہوتا کہ خالق اور مخلوق میں وحدت ہے، بلکہ اس سے صرف یہ ثابت ہوتا ہے کہ مادّی معنوں میں جو عالمِ وجود ہے، اس میں وحدت پائی جاتی ہے۔ مثلاً کوانٹم فزکس نے مادّہ (matter) اور توانائی (energy) کی ثنویت (duality) کو نظری طورپر ختم کردیا ہے۔ مگر کوانٹم تھیوری یا کسی اور تھیوری سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ عالمِ مادّی اپنا خالق آپ ہے، یا سب کچھ ایک خالق کا خود اپنا ظہور ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ کوانٹم فزکس کے بعد بھی یہ سوال بدستور باقی رہتا ہے کہ عالمِ موجودات کو کس نے پیدا کیا۔ اسلام کے نقطۂ نظر سے خالق ایک مستقل بالذات ہستی ہے۔ یہ خالق، مخلوقات سے الگ اپنا وجود رکھتا ہے۔ یہی خالق ہے جس نے اپنے منصوبے کے تحت عالمِ وجود کی تخلیق کی ہے۔
اِس معاملے کا ایک اور پہلو (aspect) یہ ہے کہ کوانٹم فزکس نے بالواسطہ طورپر ایک خدا کے وجود کو ثابت کیا ہے۔ کیوں کہ عالم موجودات میں جو کامل وحدت (harmony)پائی جاتی ہے، وہ ایک قادرِ مطلق خدا کے بغیر ممکن نہیں ہوسکتی۔
سوال
آپ نے اپنی ایک تقریر میں کہا ہے کہ رمضان ’شہر القرآن‘ ہے، یعنی رمضان کا مہینہ قرآن کا مہینہ ہے۔ آپ نے کہا کہ اِس سے مراد قرآن کی تلاوت کرنا یا قرآن کو ختم کرنا نہیں ہے، بلکہ اِس سے مراد قرآن کا مطالعہ کرنا ہے۔ آپ نے کہا کہ تراویح بھی اِسی نوعیت کی ایک چیز ہے۔ تراویح کا مقصد یہ ہے کہ قرآن کو حالتِ نماز میں سنا جائے اور اس پر غور کیا جائے۔ یہاں یہ سوال ہے کہ جو لوگ عربی زبان نہ جانتے ہوں، وہ تراویح میں قرآن کو کیسے سمجھیں گے (پروفیسر نجمہ صدیقی، نئی دہلی)
جواب
اِس مسئلے کا ایک حل یہ ہے کہ امام صاحب پیشگی طورپر نمازیوں کو یہ بتادیں کہ آج وہ قرآن کا کون سا حصہ تراویح میں پڑھیں گے۔ اس کے بعد نمازی یہ کریں کہ وہ قرآن کے اُس حصے کا ترجمہ پڑھ کر مسجد میں آئیں۔ اِس طرح زیر تلاوت قرآن کا مفہوم سمجھنا اُن کے لیے آسان ہوجائے گا۔ دوسرا طریقہ یہ ہے کہ تراویح سے پہلے یا تراویح کے بعد قرآن کے اُس حصے کا ترجمہ پڑھ کر لوگوں کو سنا دیا جائے جو اُس دن تراویح میںپڑھا جانے والا ہے۔
واضح ہو کہ قرآن کا مجموعۂ الفاظ (vocabulary) عام کتابوں کے مقابلے میں بہت کم ہے۔ ایک شخص معمولی کوشش سے اپنے اندر یہ استعداد پیدا کرسکتا ہے کہ وہ قرآن کے بنیادی مفہوم کو سن کر یا پڑھ کر سمجھ سکے۔ مثلاً قرآن کی ایک آیت یہ ہے: وما خلقتُ الجنّ والإنس إلاّ لیعبدون (الذاریات: 56) ایک شخص جو اردو زبان جانتا ہو، وہ نہایت آسانی کے ساتھ سمجھ سکتا ہے کہ اِس آیت کا ترجمہ یہ ہے کہ — میں نے انسانوں اور جن کو صرف اپنی عبادت کے لیے پیدا کیا ہے۔
واپس اوپر جائیں

خبر نامہ اسلامی مرکز— 197

1 - سائی انٹرنیشنل سنٹر (نئی دہلی) میں 10 جون 2009 کو ایک پروگرام ہوا۔ اِس کا موضوع یہ تھا:
Basic Human Values in Islam
اس کی دعوت پر صدر اسلامی مرکز نے اس میں شرکت کی اور موضوع پر اسلامی تعلیمات کی روشنی میں ایک گھنٹے کی تقریر کی۔تقریر کے بعد سوال وجواب کا پروگرام ہوا۔ اِس موقع پر سی پی ایس کے ممبران نے حاضرین کو مطالعے کے لیے اسلامی لٹریچر اور قرآن کا انگریزی ترجمہ دیا۔ حاضرین میںموجود مسٹر ایل وی چھناپّن کو جب قرآن کا ترجمہ دیا گیا تو انھوں نے کہا کہ ایسا لگتاہے، جیسے میں نے خدا کا ہاتھ پکڑ لیا ہے۔
2 - نئی دہلی کے ایف اے این ایس (Foundation for Amity and National Solidarity) کی طرف سے 11 جون 2009 کی شام کو ڈنر رسپشن کا ایک پروگرام ہوا۔ یہ پروگرام نئی دہلی کے امپیریل ہوٹل میں کیا گیا۔ یہ پروگرام سیکولر فورسیز کی کامیابی کے طورپر منسٹر آف پاور مسٹر سُشیل کمار شندے کے اعزاز میں منعقد کیا گیا تھا۔ اِس پروگرام میں ملک کے اعلیٰ تعلیم یافتہ افراد اور بڑی بڑی شخصیات شامل تھیں۔ اِس کی دعوت پر صدر اسلامی مرکز کے ساتھ سی پی ایس کی ٹیم کے ممبران نے اس میں شرکت کی۔ اور حاضرین کو مطالعے کے لیے اسلامی لٹریچر اور قرآن کا انگریزی ترجمہ دیا ۔ لوگوں نے اِس کو بہت شوق سے لیا اور اپنی خوشی کا اظہار کیا۔
3 - صدر اسلامی مرکز نے نئی دہلی میں صدر جمہوریہ ہند مسز پرتبھا پاٹل سے ملاقات کی۔ یہ ملاقات 29 جولائی 2009 کو سرودھرم سنسد کے وفد کے ساتھ راشٹرپتی بھون میں ہوئی۔ صدر جمہوریہ کی فرمائش پر صدر اسلامی مرکز نے سی پی ایس انٹرنیشنل کا مختصر تعارف کرایا۔ انھوںنے بتایا کہ ہمارا مشن پیس اور اسپریچولٹی کا مشن ہے۔ 1947 کے بعد سے یہ مشن خاموشی کے ساتھ اپنا کام کررہا ہے۔ خاص طورپر ہندستانی مسلمانوں میں یہ ہوا ہے کہ ان کے اندر نیگیٹیو سوچ کے بجائے پازیٹیو سوچ بڑے پیمانہ پر پیدا ہوئی ہے۔ کشمیر کے مسلمانوں میں نمایاں تبدیلی (Sea Change) آئی ہے۔ انھوں نے ٹکراؤ کا راستہ چھوڑ کر تعمیر وترقی کا راستہ اپنا لیاہے۔
4 - نئی دہلی کے فکّی(FICCI) آڈی ٹوریم میں 6 اگست 2009 کی شام کو ایک پروگرام ہوا۔ یہ پروگرام مسٹر لال کرشن آڈوانی کی خود نوشت سوانح حیات ’’میرا وطن، میری زندگی‘‘ کے اردو ترجمہ کے رسمِ اجرا کے لیے منعقد کیاگیا تھا۔ یہ پروگرام صدر اسلامی مرکز کی صدارت میں ہوا۔ کتاب کا رسمِ اجرا مسٹر ایم جے اکبر نے کیا۔ صدر اسلامی مرکز نے اپنی صدارتی تقریر میں جو باتیں کہیں، اُن میں سے ایک بات یہ تھی کہ میرا مشن انڈیا کو ’’اسپریچول سپرپاور‘‘ بنانا ہے۔ صدر اسلامی مرکز کی تقریر کے بعد مسٹر آڈ وانی کی تقریر تھی۔ انھوں نے اپنی تقریر میں کہا کہ آج میں نے پہلی بار ’’اسپریچول سپر پاور‘‘ کا لفظ مولانا صاحب کی زبان سے سنا ہے۔ اِس سے ہم کو حوصلہ ملا ہے۔ مولانا صاحب نے آج ہم کو ہمارا لکش دے دیا ۔ اِس پروگرام میں بی جے پی اور دیگر سیاسی پارٹیوں کے اعلیٰ عہدے داران موجود تھے۔ اِس پروگرام میں بڑی تعداد میں مسلم رہنما اور علماء بھی شریک تھے۔ سی پی ایس کی طرف سے تمام حاضرین خاص طور پر مسٹر آڈوانی کو قرآن کا انگریزی ترجمہ دیاگیا۔ انھوں نے بہت خوشی کے ساتھ اس کو لیا اور کہا کہ میں ضرور اِس کو پڑھوں گا۔
5 - چنمئی مشن (لودھی روڈ، نئی دہلی) کے آڈی ٹوریم میں 8 اگست2009 کو ایک پروگرام ہوا۔ یہ پروگرام ’’لائف پازیٹیو میگزین‘‘ کی طرف سے کیاگیا تھا۔ یہ ایک تعزیتی پروگرام تھا۔ اس کی دعوت پر صدر اسلامی مرکز نے اس میں شرکت کی اور انگریزی زبان میں ایک تقریر کی۔ اور قرآن اور حدیث کی روشنی میں اسلام کے تصورِ موت وحیات پر روشنی ڈالی ۔ اِس موقع پر سی پی ایس کی طرف سے لوگوں کو قرآن کا انگریزی ترجمہ دیاگیا۔
6- Thanks for the permission. The Holy Quran is indeed principled way of Managing & Leading life, wish I had read it earlier. In my opinion majority of people are ignorant about the Prophet’s teaching & Goodword’s efforts to spread genuine knowledge by translating it into English is commendable. If people read this, there will be great appreciation & understanding of Islamic principles. The costing of “the the Quran pocket book” is reasonable & affordable by masses & we shall devote space to complete range of Islamic learnings/teachings at www.learningratnas.com (Prabhjot Singh Sood, New Delhi)
7 - سُناری (نیپال) میں قرآن ایجوکیشنل اینڈ ویلفیر سوسائٹی کے نام سے ایک ادارہ قائم ہے۔ اس کی درخواست پر صدر اسلامی مرکز کی منتخب کتابوں کا ایک سیٹ اور دعوتی لٹریچر سی پی ایس کی طرف سے ادارے کو دیاگیا۔ کتابیں موصول ہونے پر ادارے کی طرف سے مولانا شمیم احمد فلاحی نے اس کا شکریہ ادا کرتے ہوئے لکھا ہے کہ ’’سی پی ایس کی طرف سے بہت ساری کتابیں موصول ہوئیں جو اِس تنظیم کے لیے دعوت و تبلیغ کی راہ میں بہت بڑا سرمایہ ہیں۔ ذمے دارانِ ادارہ اِس گراں قدر مخلصانہ تعاون کے لیے سی پی ایس کے بے حد شکر گزار ہیں‘‘۔
8 - نومبر 2008 میں صدر اسلامی مرکز نے قبرص (Cyprus) کا سفر کیا تھا۔ اِس سلسلے میں وہاں کے متعدد اسلامی اداروں کے ذمے داران سے ملاقات ہوئی۔ سفر سے واپسی کے بعد قبرص کی مختلف مساجد اور وہاں کے اسلامی اداروں کے نام بذریعہ ڈاک دعوتی لٹریچر بھیج دیاگیا ہے۔
9 - لوگوں کے اندر دعوتی ترغیب پیدا کرنے کے لیے الرسالہ میں مفت دعوتی لٹریچر فراہم کرنے کا اعلان کیا گیا تھا۔ اِس سلسلے میں بڑی تعداد میں لوگوں کے خطوط موصول ہوئے۔ سی پی ایس کی طرف سے ان حضرات کو مطبوعہ دعوتی میٹریل روانہ کردیاگیا ہے۔ اِس سلسلے میں ادارے کے نام کئی خطوط موصول ہوئے۔ یہاں ایک قابلِ ذکر خط نقل کیا جاتا ہے: ’’محترم، میں الرسالہ کا ایک قدیم قاری ہوں۔ اگرچہ الرسالہ میں مفت دعوتی لٹریچر فراہم کرنے کا اعلان کیاگیا ہے، لیکن مجھے شرم آتی ہے کہ میں خدا کا کام مفت میں فراہم کردہ لٹریچر کے ذریعہ کروں۔ ہم اپنے کام کے لیے تو پیسہ خرچ کریں اور خدا کے کام کے لیے مفت کریڈٹ کے امیدوار ہوں۔ میں اپنا آرڈر بھیج رہا ہوں۔ میں دعوتی لٹریچر کو خرید کر اس کو اللہ کے بندوں تک پہنچانے کی کوشش کروں گا(مہتاب عالم، دھام پور)
10 - ماہ نامہ الرسالہ کا تازہ شمارہ باصرہ نواز ہوا۔ جذباتیت اور انتہاپسندی نے ہمیں بہت نقصان پہنچایا ہے۔ الرسالہ اس پہلو سے وقت کی اہم ضرورت ہے۔ اِس ناچیز کے نام آپ نے الرسالہ جاری فرمایا، اللہ تعالیٰ آپ کو جزائے خیر دے۔ (خورشید احمد فلاحی، محمد اسماعیل فلاحی، جامعۃ الفلاح، بلریا گنج اعظم گڑھ)
11 - محترم ومکرم، آپ کا ارسال کردہ دعوتی لٹریچر بصد شکرو احسان موصول ہوگیا ہے۔ بحمدللہ سبھی کتابیں اور بروشر نہایت مفید و کارآمد اور دل چسپ ہیں۔ آپ کا یہ خوب صورت پیکٹ موصول ہوتے ہی لوگوں کے درمیان تقسیم کرنا شروع کردیا ہے، آپ یقین رکھئے کہ ان شاء اللہ یہ کتابیں تقسیم کرنے میں کوتاہی نہیں برتی جائے گی۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ آپ کے توسط سے اِس گنہ گار کو بھی دعوت کے کام میں قبول کرلے۔ (ڈاکٹر انور حسین خاں، فیض آباد)
12 - میں تین سال سے ’’الرسالہ‘‘ کا قاری ہوں۔ خود بھی پڑھتا ہوں اور اپنے دوستوںاور جان پہچان والوں کو بھی پڑھنے کے لیے دیتاہوں۔ اکثر آپ کاحوالہ بطور دلیل پیش کرتاہوں۔ آپ کا الرسالہ ہماری محفلوں میں تکیہ کلام ہوتا ہے اور آپ کی تحریر پر کھل کر مباحثہ ہوتا ہے۔ مسلم امت کاایک خاص طبقہ آپ کی تحریروں کو پسند کرتا ہے جن کو ہم عرف عام میں انٹلکچولس کہتے ہیں۔ الحمد للہ ہم کو بہت فائدہ ہوتا ہے۔ کشمیر میںآبادی کا ایک بڑا حصہ ذہنی تناؤ، غصہ اور محرومی کا شکار ہے ۔ میں بذاتِ خود خود ساختہ محرومیوں میں گھرا ہوا تھا۔ الرسالہ اور آپ کی دیگر کتابوں نے میری منفی سوچ کو مثبت سوچ میں تبدیل کرنے میں مدد کی۔ دورِ جدید میںالرسالہ کا مسلکی اور گروہی اختلافات میں نہ پڑنا ایک بہترین اصول ہے۔ الرسالہ میرے لئے ’’بدلو سوچ، بدلو زندگی‘‘ جیسا اصول قائم کرتاہے۔ میںالرسالہ کی وجہ سے اصولِ دعوت اور دعوت کی اہمیت سے واقف ہوں، ورنہ میں منفی ادب کی وجہ سے خود ساختہ دنیا میں جی رہا تھا ( صفی احمد، جموں وکشمیر)
13 - ’’تذکیر القرآن‘‘ ہمیشہ میرے مطالعہ کی میز پر رہتی ہے۔ اور جب بھی مجھے کسی سورہ کسی آیت کا ترجمہ یا تفسیر دیکھنے کی ضرورت پڑتی ہے تو سب سے پہلے میں تذکیر القرآن ہی کو دیکھنا پسند کرتا ہوں ۔اس کے بعد میں دوسری عربی اور اردو کی معروف تفاسیر وتراجم کا مطالعہ کرتا ہوں۔ تذکیر القرآن میں متنِ قرآن کا جو ترجمہ دیاگیا ہے، وہ دوسرے اردو تراجم کے مقابلے میں بہت جامع اور اقرب الی القرآن ہے۔ نیز یہ ترجمہ اس وجہ سے بھی قابل قدر ہے کہ اس ترجمہ میں الفاظ کم مگر مفہوم کی بھر پور ادائیگی کا خیال رکھا گیاہے۔ مجھے یاد آرہاہے کہ 1990میں علی گڑھ سے شائع ہونے والے معروف سہ ماہی فکر ونظر کا ایک خصوصی شمارہ ’’قرآنیات‘‘ کے عنوان سے شائع ہوا تھا اور اس میں صفحہ 110 پر ایک مضمون میری نظر سے گزرا تھا۔ اس میں مولانا مودودی، مولانا امین احسن اصلاحی، جاوید احمد غامدی اور آپ کے ترجمہ قرآن پر ایک تقابلی مطالعہ پیش کیاگیا ہے اس میں کئی مقامات پر تذکیر القرآن کا ترجمہ مثالیں دے کر زیادہ بہتر اور قابلِ قدر قرار دیا گیا ہے۔ذاتی طورپر مجھے جب بھی اپنے مضامین میں قرآنی آیات کے ترجمہ کی ضرورت پڑتی ہے ،میں ہمیشہ تذکیرالقرآن کے ترجمہ کو ترجیح دیتا ہوں۔ کیوں کہ یہ ترجمہ اپنے اندر انفرادیت لئے ہوئے اوربہت زیادہ اپیل کرنے والا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ تذکیر القرآن ترجمہ و تفسیر کے اعتبار سے تمام کتب تفاسیر میںاپنی نوعیت کی واحد تفسیر ہے۔ اس تفسیر کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ یہ تفسیر نہ صرف عصری اور سائنٹفک اسلوب تحریر میں ہے، بلکہ ا س میں فقہی موشگافیوں اور تفسیری روایات ونکات سے یکسر کنارہ کرتے ہوئے قرآن کے مرکزی موضوع اور پیغام کو آسان اور عام فہم زبان میں پیش کرنے کی کامیاب کوشش کی گئی ہے۔ تذکیر القرآن کے بارے میں میرا گہرا تاثر یہ ہے کہ اس کا ایک ایک تفسیری نوٹ الہامی معلوم ہوتاہے۔(غلام نبی کشافی، 29 جولائی 2009، سری نگر)
14 - میں آپ کا بے انتہا شکریہ ادا کرتاہوں کہ آپ کے ادارے نے اشاعتِ اسلام کے لئے دعوتی پمفلٹ فراہم کئے۔ میں اللہ تبارک و تعالیٰ کے اس کرم کا اعتراف کرتا ہوں کہ اس نے آپ کو عالمی پیمانے پر اپنے دین کی نشر واشاعت کے لیے کھڑا کیا، اور بندگان خدا کو راہِ حق دکھانے کا ذریعہ بنایا۔ (محمد حنیف قاسمی، مہاراشٹر)
15 - ’’پیغمبر انقلاب‘‘ کو آسامی زبان میں ترجمہ کرکے آپ کو فون کے ذریعہ میں نے اس کی اطلاع دی تھی ۔ بفضل خدا اب یہ کتاب شائع ہونے والی ہے۔ ’’زلزلۂ قیامت، انسان اپنے آپ کو پہچان، یونی فارم سول کوڈ ‘‘کا آسامی زبان میں ترجمہ ہوچکا ہے۔ وقت پر میں نے آپ کو اس کی اطلاع دی تھی۔ اور ان کتابوں کی کاپی بھی آپ کو بھیج دی تھی۔ فی الحال الرسالہ کے شمارہ ’’دینی مدارس‘‘ نمبر کاآسامی ترجمہ طبع ہورہا ہے15-20 دن کے اندر یہ رسالہ پریس سے نکلے گا۔ مترجم نے کتابوںکی ابتدا میں مختصرا آپ کا تعارف دیا ہے جس کا نمونہ حسب ذیل ہے:
’’نئی دہلی سے اردو اور انگریزی زبان میں اشاعت شدہ مولانا وحید الدین خاں صاحب کا ماہ نامہ الرسالہ، ان کی دعوتی اور سائنسی اسلوب میں لکھی ہوئی کتابوں کوبین الاقوامی شہرت ہورہی ہے۔ ان کتابوں کا دنیا کی مختلف زبانوں میں ترجمہ ہوچکا ہے اور مختلف مسلم ملکوں کے اسکول، کالجوںمیں اس کو شامل نصاب کیا گیاہے ۔ بی بی سی میںالرسالہ اردو باقاعدہ پڑھا جاتاہے‘‘۔(محمد افاض الدین ندوی، آسام)
16 - سی پی ایس کی جانب سے جناب مولاناوحید الدین خاں صاحب کی انگریزی اور اردو کتابوں کا ایک منتخب سیٹ معرفت ڈاکٹر خورشید احمد صاحب مکتبہ مرکزیہ جامعۃ الفلاح کو بطور ہدیہ موصول ہوا۔ اس کے لیے ہم آپ کے تہ دل سے مشکور وممنون ہیں۔ (عرفان احمد فلاحی، جامعۃ الفلاح، بلریا گنج ، اعظم گڑھ)
17- The Holy Quran (Translation by Maulana Wahiduddin Khan) is being recieved here very well indeed, Masha Allah. We are giving free to non-Muslims. (Shamshad Khan, Birmingham, UK)
واپس اوپر جائیں

Sunday, 2 August 2009

Al Risala | August 2009 (الرسالہ،اگست)

2

-آنے والا وقت آگیا

3

- دعوت اور عبادت

4

- سچائی کی اہمیت

5

- جہاد اسلام میں

6

- رفیق ِ اعلیٰ کی طرف

7

- اہل وعیال کا فتنہ

8

- ہدایت کس کے لیے

11

- جنت ایک نظریۂ حیات

12

- پہلی زندگی، دوسری زندگی

13

- موت کی خبر

14

- سائنس سے معرفت تک

16

- آیت یا معجزہ

18

- سائنس دانوں کا مذہب

22

- حلال کو حرام بنانا

23

- معنی خیز استثناء

24

- زندگی کی حقیقت

26

- خدا کے بغیر کائنات بے تعبیر

27

- زلزلہ ایک وارننگ

28

- ترجیح کی غلطی

29

- سرّی منافقت، جہری منافقت

30

- اسلامی تحریک کا اصول

31

- انٹلکچول ایمپاورمینٹ

32

- پاکستان کا موجودہ بحران

34

- ہولسٹک اپروچ

35

- جنت یا سراب

36

- قوتِ ارادی کی اہمیت

37

- سیلف میڈ مین

38

- حقیقی کیس، نفسیاتی کیس

39

- خاموش تدبیر کا طریقہ

40

- سوال و جواب

43

- پیغام

44

- خبر نامہ اسلامی مرکز — 195


آنے والا وقت آگیا

بظاہر ایسا معلوم ہوتاہے کہ اکیسویں صدی عیسوی انسانی تاریخ کے خاتمہ کے آغاز کی صدی ہے۔ اب انسان کو غالباً زیادہ لمبی مہلت ملنے والی نہیں۔ اب مستقبل قریب میںجو چیز انسان کے سامنے آنے والی ہے، وہ صرف قیامت ہے، نہ کہ موجودہ دنیاکی مزید توسیع۔
حدیث میں بتایا گیا ہے کہ قیامت اُس وقت آئے گی جب کہ دنیا میں کوئی اللہ اللہ کہنے والا نہ رہے ۔ اللہ اللہ کہنے سے مراد صرف اللہ کا لفظ زبان سے بولنا نہیںہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جب کوئی اللہ سے ڈرنے والا نہ رہے۔ جب لوگوںکے دل اللہ کے خوف سے خالی ہوجائیں، جب اللہ ان کی زندگی میں ان کے کنسرن(concern)کی حیثیت سے باقی نہ رہے۔ جب اُس قسم کے انسان دنیا میں باقی نہ رہیں جن کے بارے میں قرآن میں آیا ہے کہ جب ان کے سامنے اللہ کا ذکر کیا جائے توان کے دل اللہ کی پکڑ کے اندیشے سے دہل اٹھتے ہیں( الذین إذا ذُکر اللّٰہ وجلت قلوبہم)۔
موجودہ زمانہ بلا شبہہ ایسا ہی زمانہ ہے۔ آج خدا کی دنیا میں کوئی ایک بھی انسان ایسا نظر نہیںآتا جو حقیقی معنوں میں اللہ سے ڈرنے والا ہو، نہ مسلمانوں میںاور نہ غیر مسلموں میں۔
جس عورت اور مرد کو دیکھئے وہ بے خوفی کی تصویر نظرآئے گا۔ حتی کہ اگر اس کے سامنے خوف خدا کی بات کی جائے تو وہ اس کو اپنے لئے ایک غیر متعلق (irrelevant) بات سمجھے گا۔ اِس معاملے کی ایک علامت یہ ہے کہ آج کے انسان سے جب یہ کہا جائے کہ قیامت قریب آگئی تو وہ اس کو غیر اہم سمجھ کر کہہ دے گا: ’’ہنوز قیامت دور است‘‘۔ ابھی قیامت کہاں آنے والی ہے۔ کوئی اس کو اِس طرح نظر انداز کرے گا جیسے کہ وہ کوئی قابلِ غور بات ہی نہیں۔پہلے زمانے میں اہلِ ایمان کا یہ حال تھا کہ آندھی آجاتی تھی تو وہ ڈر جاتے تھے کہ کہیں قیامت تو نہیں آگئی۔ آج کے مدعیانِ اسلام کا یہ حال ہے گلوبل وارمنگ کی صورت میں نیچر مسلسل اذان دے رہی ہے، اِس کے باوجود کوئی اِس موضوع پر سنجیدگی کے ساتھ سوچنے والا نہیں۔ شاید لوگ اُس وقت جاگیں گے جب کہ قیامت آچکی ہوگی، لیکن اُس وقت کا جاگنا کسی کے کچھ کام نہیں آئے گا۔
واپس اوپر جائیں

دعوت اور عبادت

قرآن کی سورہ نمبر 73 میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو خطاب کرتے ہوئے ارشاد ہوا ہے: إنّ لک فی النہار سبحاً طویلاً(المزّمل :7 )۔ اِس آیت کا ترجمہ شاہ عبد القادر دہلوی نے اِس طرح کیا ہے— البتہ تجھ کو دن میں شغل رہتا ہے لمبا۔ اِس آیت میں ’سَبْح‘ کا لفظ استعمال ہوا ہے۔ سبح کے لیے عربی تفسیروں میں تقلّب اوراعمال اور اشغال جیسے الفاظ آئے ہیں، یعنی سرگرمیاں (activities) ۔ اب سوال یہ ہے کہ دن کے اوقات میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سرگرمیاں کیا ہوتی تھیں۔ یہ سرگرمیاں یقینی طور پر دعوت الی اللہ کے لیے تھیں، نہ کہ کسی اور کام کے لیے۔
قرآن میں بتایا گیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کے ایمان کے لیے ’باخع‘ (الشعراء:3) بن گئے تھے۔ اِسی طرح قرآن میں آیا ہے کہ آپ، لوگوں کے ایمان کے لیے متاسّف رہتے تھے (الکہف:6 )، یعنی آپ درد وغم کی حد تک اِس بات کے حریص بنے ہوئے تھے کہ لوگ ایمان لائیں۔اِسی بات کو دوسرے مقام پر حضرت نوح کے حوالے سے اِس طرح بیان کیا گیا ہے: ’’نوح نے کہا کہ اے میرے رب، میں نے رات اور دن اپنی قوم کو دعوت دی‘‘ (نوح: 5 ) ۔
اصل یہ ہے کہ ایمان کے تقاضے بنیادی طورپر دو ہیں— عبادت، اور دعوت۔ یہ دونوں تقاضے مومن کی زندگی کا لازمی حصہ ہیں۔ مومن کی زندگی میں دونوں تقاضے مسلسل طورپر جاری رہتے ہیں، رات کے اوقات میں بھی اوردن کے اوقات میں بھی۔لیکن عمومی اعتبار سے اُن کے درمیان ایک تقسیم بن جاتی ہے۔ دن کا زیادہ وقت دعوت میں گزرتا ہے، اور رات کا زیادہ وقت عبادت میں۔ قرآن کی مذکورہ آیت میں اِسی حقیقت کو بیان کیاگیا ہے۔ پیغمبر کی زندگی کا یہ پہلو تمام اہلِ ایمان کے لیے ایک نمونہ ہے۔ اُنھیں بھی یہی کرنا ہے کہ وہ اپنے دن کے اوقات کا زیادہ سے زیادہ حصہ دعوت اور اصلاح کے کام میں گزاردیں، اور رات کے وقت ضرورت کے مطابق آرام کے بعد ذکر اور عبادت اور تلاوتِ قرآن میں مصروف رہیں۔
واپس اوپر جائیں

سچائی کی اہمیت

قرآن کے مطابق، سب سے بڑی نیکی صدق ہے۔ جو لوگ موجودہ دنیا میں صدق پر قائم رہیں گے، اُن کے لیے بشارت ہے کہ وہ جنت کی صورت میں اُس کا انعام پائیںگے (المائدۃ: 119)۔ جنت دراصل صادقین کی کالونی کا دوسرا نام ہے۔ قرآن میں بتایا گیا ہے کہ جنتِ ارضی کے وارث صالح لوگ ہوں گے (الأنبیاء: 105 )۔ اِسی بات کو بائبل میں اِن الفاظ میں بتایاگیاہے— صادق زمین کے وارث ہوںگے، اور وہ اُس میں ہمیشہ بسے رہیں گے:
The righteous shall inherit the land, and dwell in it forever (Psalm 37: 29)
المفرداتمیں صدق کے معنیٰ یہ بتائے گئے ہیں کہ آدمی کے قول اور ضمیر میں، یا اس کے قول اور عمل میں کامل مطابقت ہو (مطابقۃ القول الضمیر والمخبر عنہ معاً)۔ مولانا امین احسن اصلاحی نے صدق کی وضاحت کرتے ہوئے لکھا ہے:’’صدق کی اصل حقیقت کسی شے کا بالکل مطابقِ واقعہ ہونا ہے۔ اس کی روح پختگی اور ٹھوس پن ہے۔ نیزے کی گرہیں دیکھنے میں جیسی مضبوط ظاہر ہورہی ہیں، آزمائش میں بھی وہ ویسی ہی مضبوط ثابت ہوں تو ایسے نیزے کو عربی میں ’صادق الکعوب‘ کہیں گے۔ زبان، دل سے ہم آہنگ ہو، عمل اور قول میں مطابقت ہو، ظاہر اور باطن ہم رنگ ہوں، یہ باتیں صدق کے مظاہر میں سے ہیں، اور انسانی زندگی کا سارا ظاہر وباطن اِنھیں سے روشن ہے۔ یہ نہ ہو تو انسان کی ساری معنویت ختم ہوکر رہ جائے‘‘۔ (تدبر ِقرآن، جلد1 ، صفحہ 645 )۔
خدا کا مطلوب انسان وہ ہے جو پورے معنوںمیں ایک سچا انسان ہو۔ ایسے لوگ آخرت میں سچائی کی سیٹ پر کھڑے ہونے کی سعادت حاصل کریں گے (القمر:55 ) آدمی کو چاہیے کہ وہ براہِ راست معنی میں بھی سچائی پر قائم ہو اور بالواسطہ معنی میں بھی سچائی پر قائم۔ اگر بشری کم زوری کی بنا پر اُس سے اِس پہلو سے کوئی انحراف ہوجائے تو وہ فوراً اس کا اعتراف کرتے ہوئے دوبارہ سچائی کے طریقے کو اختیار کرلے۔ اِس کے بغیر کسی کو جنت میں جگہ ملنے والی نہیں۔
واپس اوپر جائیں

جہاد اسلام میں

جہادکے لفظی معنیٰ پُر امن جدوجہد(peaceful struggle) کے ہیں۔ یہ پر امن جدوجہد دعوت الی اللہ کے ذریعے ہوتی ہے، جیسا کہ قرآن میںآیا ہے: وجاہدہم بہ جہاداً کبیراً (الفرقان: 52 ) یعنی تم اُن سے قرآن کے ذریعے جہاد کرو، بڑا جہاد۔ قرآن کے ذریعے جہاد یقینی طورپر قتال کے معنیٰ میں نہیں ہوسکتا۔ قرآن ایک دعوتی کتاب ہے۔ قرآن کے ذریعے جہاد کا مطلب ہے— پُرامن دعوتی جہدوجہد۔ جہاد اپنے ابتدائی مفہوم کے اعتبار سے یہی ہے کہ قرآن کے پیغام کو عمومی طورپر پھیلانے کے لیے پر امن کوشش کی جائے۔ یہی وہ جہاد ہے جس کے بارے میں حدیث میں آیا ہے کہ وہ قیامت تک مسلسل طورپر جاری رہے گا (ابوداؤد، رقم الحدیث 2532)
جہاد اپنے توسیعی مفہوم میں قتال (war) کے معنی میں آتاہے۔ اِس دوسرے معنی میں جب جہاد کا لفظ آئے تو اس سے مراد وقتی نوعیت کا مدافعانہ قتال ہوگا۔ جہاد بہ معنی قتال کو ایک مسلسل عمل کے طورپر نہیں لیا جاسکتا، کیوں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی ایسا نہیں کیا۔ رسول اللہ کی زندگی میں بار بار ایسے مواقع آئے، جب کہ فریقِ ثانی آپ کو قتال میں الجھانا چاہتا تھا، مگر آپ نے ہر ایسے موقع پر قتال سے اعراض کا طریقہ اختیار کیا۔ مثلاً ہجرت کے وقت، خندق کے وقت، حدیبیہ کے وقت، وغیرہ۔
مذکورہ اصول کی روشنی میں احادیثِ جہاد کو سمجھا جاسکتا ہے۔ قرآن اور حدیث میں جہاد کا لفظ جہاں دعوت کے لیے استعمال ہوا ہے، اگر وہاں جنگ کے ساتھ تخصیص کا قرینہ موجود نہ ہو تو اس کو پر امن دعوتی عمل کے معنی میں لیا جائے گا، جس کے لیے یہ مطلوب ہے کہ وہ مسلسل طورپر امت کے اندر جاری رہے۔ اور جہاں اُس سے قتال کی تخصیص ثابت ہوتی ہو، وہاں اُس سے مراد وقتی نوعیت کی دفاعی جنگ ہوگی، جیسا کہ حدیث میں آیا ہے: اعلموا أن الجنّۃ تحت ظلال السیوف (صحیح البخاری، کتاب الجہاد)۔ جہاد بہ معنی قتال اگر مستقل طورپر مطلوب ہوتا تو اس کے بارے میں حدیث میں یہ الفاظ نہ ہوتے: لا تتمنّوا لقاء العدوّ، وسَلوا اللہ العافیۃ(صحیح البخاری، کتاب الجہاد) یعنی تم دشمن سے مدبھیڑ کی تمنا نہ کرو، اور اللہ سے عافیت مانگو۔
واپس اوپر جائیں

رفیق ِ اعلیٰ کی طرف

قرآن کی سورہ نمبر 66 میں بتایاگیا ہے کہ قدیم شاہ مصر کی مومن بیوی آسیہ کے لیے جب بادشاہ نے موت کا حکم صادر کیا تواس وقت ان کی زبان سے یہ دعا نکلی: ربّ ابن لی عندک بیتاً فی الجنۃ (التحریم: 11) یعنی اے میرے رب، تو میرے لیے جنت میں اپنے پاس ایک گھر بنادے۔ یہ عام مومن کے الفاظ میںکی ہوئی ایک دعاہے۔ یہی دعا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان سے آخر وقت میں پیغمبرانہ انداز میں اِس طرح نکلی: اللہم الرفیق الأعلیٰ۔ (اے اللہ، رفیق اعلیٰ)۔
یہ دونوں دعائیں اپنی حقیقت کے اعتبار سے ہم معنیٰ ہیں۔ پہلی دعا عام مومن کے الفاظ میں کی ہوئی دعا ہے، اور دوسری دعا پیغمبرانہ سطح پر ایک نبی کی زبان سے نکلی ہوئی دعا۔
یہ دونوں دعائیں دراصل موت کی نسبت سے مومنانہ جذبات کا اظہار ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ مومن پر جب موت کا لمحہ آئے تو اس کا احساس مذکورہ قسم کی دعامیں ڈھل جائے۔ اس وقت مومن کا احساس یہ ہونا چاہیے کہ — جب اہل ِ دنیا سے میرا ساتھ چھوٹے تو مجھے خداوند ِذوالجلال کی قربت حاصل ہوجائے۔ مجھے انسانوں کی مجلس سے اٹھنا پڑے تو مجھے فرشتوں کی مجلس میں شامل ہونا نصیب ہوجائے۔ جب موت مجھے اپنے لوگوں سے منقطع کردے تو میں اکیلا نہ ہوجاؤں، بلکہ مجھے اعلیٰ تر مجلس میں خدا کی معیت کی نعمت حاصل ہوجائے۔ میرا سفرِ موت میرے لیے رفاقتِ ادنیٰ سے رفاقتِ اعلیٰ کی طرف سفر بن جائے۔مذکورہ دعا کی حیثیت محض دعائیہ الفاظ کی نہیں ہے۔ وہ سچے مومن کی داخلی تڑپ کا لفظی اظہار ہے۔ ایک سچے مومن کی تمنا یہ ہوتی ہے کہ موجودہ مرحلۂ حیات کے مقابلے میں اگلا مرحلۂ حیات اس کے لیے زیادہ بہتر ثابت ہو۔ موجودہ دارالامتحان میں اس کو خدا کی جو نعمتیں عارضی طورپر ملی ہوئی ہیں، وہ نعمتیں اس کو موت کے بعد کی دنیا میں زیادہ اعلیٰ طورپر خدا کے ابدی انعامات کی صورت میں عطا ہو جائیں۔ موت میرے لئے ناقص دنیا (imperfect world) سے نکل کر ، کامل دنیا (perfect world) میں داخلے کا ذریعہ بن جائے۔
واپس اوپر جائیں

اہل وعیال کا فتنہ

حدیث کی کتابوں میںاہل وعیال کے بارے میں بہت سی روایتیں آئی ہیں۔ اُن میں سے دو روایتیں یہاں نقل کی جاتی ہیں:
حضرت عبد اللہ بن عمر سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: الویل کلّ الویل، لمن ترک عیالہ بخیرٍ، وقدِم علی ربہ بشَرّ(مسند الشہاب القضاعی،جلد 2، صفحہ 24، رقم الحدیث: 304 ) یعنی کامل تباہی وبربادی ہے اُس شخص کے لیے جس نے (موت کے وقت) اپنے عیال کو اچھی حالت میں چھوڑا، اور خود برے حال میں اپنے رب کے پاس پہنچا۔
دوسری روایت کے الفاظ یہ ہیں: یُؤتیٰ برجلٍ یومَ القیامۃ فیقال: أکلَ عیالہ حسناتہ ( تفسیر القرطبی، جلد 18 صفحہ 143 )یعنی قیامت کے دن ایک شخص لایا جائے گا اوراُس سے کہا جائے گا کہ تمھارے اہل وعیال تمھاری نیکیاں کھا گئے۔
قدیم زمانے میں صرف کچھ افراد اِس قسم کے ہوتے تھے، لیکن موجودہ زمانے میں اِس پہلو سے بگاڑ کا یہ حال ہے کہ بظاہر ایسا معلوم ہوتاہے جیسے تمام لوگ اِس تباہ کن کم زوری کا شکار ہوگئے ہیں۔ اِس کم زوری کا سبب حبّ ِعیال ہے۔ بظاہر لوگ خدا کا اور اسلام کا نام لیتے ہیں، لیکن اُن کی محبتیں صرف اپنے اہل وعیال سے ہوتی ہیں۔ لوگوں کا حال یہ ہے کہ اُن کاسب سے بڑا کنسرن اُن کے اہل وعیال ہوتے ہیں۔ وہ اپنے آپ کو اور اپنے مال و اسباب کو اپنے اہل وعیال کے لیے وقف کیے رہتے ہیں۔ موت ایسے لوگوں کے لیے ایک جبری انقطاع(compulsive detachment) کے طورپر آتی ہے۔ ایسے لوگ جب موت کے بعد خدا کے پاس پہنچتے ہیں تو وہاں کے لیے اُن کے پاس کچھ نہیں ہوتا۔
یہ بلاشبہہ سب سے بڑی محرومی ہے۔ یہ دوسروں کی دنیا بنانے کے لیے اپنی آخرت کو تباہ کرنا ہے (أذہب آخرتہ بدنیا غیرہ) مزید یہ کہ یہ اہل وعیال جن کو آدمی اپنا سب کچھ دے دیتا ہے، وہ موت کے بعد اُس سے اِس طرح جدا ہوجاتے ہیں کہ دوبارہ وہ اُس کو کبھی نہیں ملتے۔
واپس اوپر جائیں

ہدایت کس کے لیے

قرآن کی سورہ نمبر 28 میں انسانی ہدایت کا قانون اِن الفاظ میں بیان کیا گیا ہے: إنّک لا تہدی من أحببت ولٰکن اللہ یہدی مَن یشاء، وہو أعلم بالمہتدین (القصص:56 ) یعنی تم جس کو چاہو، اُس کو تم ہدایت نہیں دے سکتے، بلکہ اللہ جس کو چاہتا ہے اس کو وہ ہدایت دیتا ہے۔ اور وہی خوب جانتا ہے جو ہدایت قبول کرنے والے ہیں۔
اِس کا مطلب یہ ہے کہ اِس دنیا میں صرف اُس شخص کو ہدایت ملتی ہے جو خدا کے قانونِ ہدایت کے مطابق، اِس کا طالب ہو۔ اور پھر صحیح طریقے کے مطابق، اس کو پانے کی کوشش کرے۔ اِس مقرر کورس کے اختیار کیے بغیر امتحان کی اِس دنیا میں کسی کو ہدایت نہیں مل سکتی۔
یہی بات ایک حدیثِ قدسی میں اِن الفاظ میں بتائی گئی ہے: یا عبادی، کلّکم ضال إلا مَن ہدیتُہ، فاستہدونی أہدکم (صحیح مسلم، کتاب البرّ والصلۃ والأدب، باب تحریم الظّلم)۔ یعنی اے میرے بندو، سن لوکہ تم سب بھٹکے ہوئے ہو، سوا اُس شخص کے جس کو میں ہدایت دوں۔ پس تم مجھ سے ہدایت طلب کرو، میںتم کوہدایت دوں گا۔ اِس حدیث قدسی میں بھی یہی بات کہی گئی ہے کہ اِس دنیا میں ہدایت کو پانا صرف اُس شخص کے لیے ممکن ہے جو خالق کی طرف سے مقرر کیے ہوئے طریقے کے مطابق، اُس کا طالب بنے۔ اِس کے سوا کوئی اور راستہ ہدایت کی منزل تک پہنچانے والا نہیں۔
انسان کو اللہ تعالیٰ نے ایک ایسا دماغ دیاہے جو اپنے اندر غیر معمولی صلاحیت رکھتا ہے۔ اِنھیں میں سے ایک صلاحیت وہ ہے جس کو حافظہ (memory) کہاجاتا ہے۔ حافظے کے اندر لامحدود طورپر یہ صلاحیت ہے کہ وہ ہر سنی ہوئی یا پڑھی ہوئی چیز کو اپنے اندر محفوظ کرلے ۔ کوئی بھی چیز جو ایک بار انسان کے حافظے میں پڑ گئی، وہ پھر کبھی اُس سے محو نہیں ہوتی، خواہ آدمی بہ ظاہر اس کو بھول گیا ہو۔ ذہن میں چیزوں کے محفوظ ہونے کا یہ معاملہ انسان کے بچپن سے شروع ہوتا ہے اور اس کی آخری عمر تک بلا انقطاع جاری رہتاہے۔
اِس حافظے کی بنا پر انسان کا دماغ افکار کا جنگل (jungle of thoughts) بن جاتا ہے۔ ہدایت کا تعلق صحیح طرزِ فکر سے ہے، نہ کہ افکار کے اِس جنگل میں گم ہوجانے سے۔
اب یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ آدمی اپنے اندر صحیح طرزِ فکر (right-thinking) کیسے پیداکرے۔ اِس کا طریقہ صرف ایک ہے، اور وہ یہ کہ انسان اپنے اندر وہ صفت پیدا کرے جس کو آرٹ آف سارٹنگ آؤٹ (art of sorting out) کہا جاتا ہے، یعنی مختلف قسم کی معلومات کو چھانٹ کر ایک دوسرے سے الگ کرنا،صحیح اور غلط میں فرق کرنا، متعلق (relevant) اور غیر متعلق(irrelevant) کو ایک دوسرے سے الگ کرنا، کسی چیز کو غلط زاویہ (wrong angle) سے نہ دیکھ کر اس کو صحیح زاویہ (right angle) سے دیکھنا۔ منطقی (logical) اور غیرمنطقی (illogical) بات کے درمیان تمیز کرنا، وغیرہ۔
معلومات کے درمیان چھاٹنے (sorting-out) کا یہ عمل کسی آدمی کے لیے اِس بات کی ضمانت ہے کہ وہ غلط رائے قائم کرنے سے بچے اور درست رائے تک پہنچ جائے۔ یہ مسئلہ ہر عورت اور ہر مرد کا مسئلہ ہے۔ ہر عورت اور مرد کو لازمی طورپر اپنے ذہن میں یہ عمل (process) جاری کرنا ہے۔ یہی واحد طریقہ ہے جس کے ذریعے آدمی کے لیے یہ ممکن ہوتا ہے کہ وہ معلومات کے جنگل میں رہتے ہوئے صحیح طرزِ فکر کو اختیار کرسکے۔
افکار کو سارٹ آؤٹ (sortout) کرنے کے اِس عمل کا دوسرا نام ڈی کنڈیشننگ (de-conditioning) ہے۔ ڈی کنڈیشننگ کے انتہائی سنجیدہ عمل کے ذریعے ہی اس کو انجام دیا جاسکتا ہے۔ بنیادی طورپر اِس عمل کے دو طریقے ہیں، یعنی یا تو خود اپنی کوشش سے اس کو انجام دینا، یا دوسروں کو اِس کا موقع دینا کہ وہ اِس عمل میں آپ کی مدد کریں۔ پہلی قسم کا طریقہ محاسبہ (introspection) کا طریقہ ہے۔ اور دوسری قسم کے طریقے کو تنقید (criticism) کہا جاسکتا ہے۔
یہ دونوں قسم کا عمل اُسی وقت مفید ہوسکتا ہے، جب کہ اُس کو پوری شدت کے ساتھ اور بے رحمانہ اندازمیں کیاجائے۔ اِس بے رحمانہ محاسبہ کو دوسرے لفظوں میں، داخلی ہیمرنگ (internal hammering) کہاجاسکتا ہے۔ اور اِس بے رحمانہ تنقید کو دوسرے لفظوں میں، خارجی ہیمرنگ (external hammering) کہا جاسکتا ہے۔ جو عورت اور مرد اپنی حقیقی اصلاح کا طالب ہو، اس کے لیے اِس بے رحمانہ عمل کے سوا کوئی اور انتخاب نہیں۔ اِس معاملے میں تیسرے انتخاب کا مطلب یہ ہے کہ آدمی افکار کے جنگل میں بھٹکتا رہے اور پھر اسی حال میں مرجائے۔ اِس ہیمرنگ کو قبول کرنا اپنے ساتھ سب سے بڑی خیر خواہی ہے، اور اس ہیمرنگ کو قبول نہ کرنا اپنے ساتھ سب سے بڑی دشمنی۔
خالقِ فطرت نے موجودہ دنیا میں ہماری مدد کے لیے ایک انتظام یہ کیا ہے کہ ہر غیر مرئی (invisible) چیز کے لیے مرئی (visible) نمونے قائم کردیے ہیں۔ اِس معاملے کا ایک اظہار، خالق نے چیونٹی (ant) کی صورت میں کیا ہے۔ چیونٹی بہ ظاہر ایک بہت چھو ٹی مخلوق ہے، لیکن وہ ہمارے لیے ایک نہایت سبق آموز عمل کرتی ہے۔ چیونٹی کا معاملہ یہ ہے کہ شکر (sugar) اس کی خوراک ہے، لیکن نمک (salt) اس کی خوراک نہیں۔ اگر آپ ایسا کریں کہ نمک کے ڈھیر کے ساتھ شکر ملا کر رکھ دیں، تو اگر چہ بہ ظاہر نمک اور شکر دونوں کا رنگ ایک ہوگا، لیکن چیونٹی جب وہاں آئے گی تو وہ اِس ڈھیر میں سے صرف شکر کو لے گی اور نمک کو وہ پوری طرح چھوڑ دے گی۔ چیونٹی یہ عمل بے خطا انداز میں کرتی ہے۔ چیونٹی کبھی اِس معاملے میں ایسا نہیں کرتی کہ وہ نمک کو لے لے اور شکر کو چھوڑ دے، یا ان کے درمیان تفریق کیے بغیر ایسا کرے کہ وہ کچھ مقدار نمک سے لے اور کچھ مقدار شکرسے لے لے۔
یہ چیونٹی کی مثال ہے۔ انسان کو بھی یہی نمونہ اپنی زندگی میں اختیار کرنا ہے۔ انسان کو یہ کرنا ہے کہ وہ اپنی حساسیت (sensitivity) کو جگائے، وہ اپنے شعور کو اتنا زیادہ بیدار کرے کہ وہ ایک چیز اور دوسری چیز کے درمیان فرق کرنے لگے۔ وہ ایسا کرے کہ جو چیز درست ہے، اُس کو لے اور جو چیز درست نہیںہے، اس کو چھانٹ کر الگ کردے۔ کسی عورت یا مرد کے لیے سب سے زیادہ ضروری چیز صحیح طرزِ فکر (right thinking) ہے اور مذکورہ عمل کو انجام دیے بغیر کوئی شخص صحیح طرزِ فکر کا حامل نہیں بن سکتا۔ قرآن کے بیان کے مطابق، صحیح طرزِ فکر کے حامل انسان کے پاس ایک روشنی ہوتی ہے جو ہروقت اس کی رہ نمائی کرتی رہتی ہے اور جس کے پاس صحیح طرز ِ فکر نہ ہو، وہ گویا کہ ایک ایسے اندھیرے میں بھٹک رہا ہے، جس سے نکلنا اس کے لیے ممکن نہیں (الأنعام: 123 )۔
واپس اوپر جائیں

جنت ایک نظریۂ حیات

جنت کا عقیدہ سادہ طورپر صرف ایک عقیدہ نہیں ہے، وہ پورے معنوں میں ایک نظریہ حیات ہے۔ جنت کے عقیدہ کا تعلق انسان کی پوری زندگی سے ہے۔ جنت کی اہمیت کو صرف اُس وقت سمجھا جاسکتا ہے، جب کہ اس کو انسان کی پوری زندگی سے جوڑ کر دیکھا جائے۔
انسان کا مطالعہ بتاتا ہے کہ وہ ایک متلاشی ٔ جنت حیوان (paradise-seeking animal) ہے۔ انسان کی پوری فطرت ایک ایسی دنیا چاہتی ہے جو اُس کے لیے آئڈیل دنیا (ideal world) ہو، جہاں اُس کو تمام چیزیں معیاری درجے میں حاصل ہوں۔ اِسی کا نام جنت ہے۔ اور اِس جنت کا حصول ہر عورت اور ہر مرد کا مشترک خواب ہے۔
انسان کی موجودہ حالت کا مطالعہ کیا جائے تو معلوم ہوتاہے کہ تمام انسان آخری حد تک مادّی چیزوں کے حریص بنے ہوئے ہیں۔ ہر آدمی زیادہ سے زیادہ دولت اور زیادہ سے زیادہ طاقت حاصل کرنا چاہتا ہے۔ یہ سب اِسی لیے ہے کہ انسان یہ چاہتا ہے کہ اپنی فطرت میں چھپی ہوئی جنت کو وہ اِس دنیا میں واقعہ بنا سکے۔ مگر یہاں ایک حقیقت اُس کے لیے مستقل رکاوٹ ہے۔ موجودہ دنیا اپنے اسباب کے اعتبار سے ایک غیر معیاری دنیا (imperfect world)ہے۔ اِس قسم کی غیر معیاری دنیا میں، معیاری جنت کی تعمیر سرے سے ممکن ہی نہیں۔
امکان اور واقعہ کے درمیان یہی تضاد اِس دنیا کی تمام برائیوں کا اصل سبب ہے۔ اِسی بنا پر لوگ مستقل طورپر ذہنی تناؤ (tension) میںجیتے ہیں، اِسی بنا پر لوگ تشدد پسند بن جاتے ہیں، اِسی بنا پر لوگ جھنجھلاہٹ (frustration) کا شکار رہتے ہیں۔
اِس مسئلے کا حل صرف ایک ہے، وہ یہ کہ لوگوں کے اندر اِس حقیقت کا شعور پیدا کیا جائے کہ جنت کسی کو صرف اگلی دنیا میں مل سکتی ہے، نہ کہ موجودہ دنیا میں۔ جنت کا عقیدہ آدمی کو حقیقت پسند بنانا ہے، اور حقیقت پسندی ہی تمام کامیابیوں کا واحد راز ہے۔
واپس اوپر جائیں

پہلی زندگی، دوسری زندگی

انسان جب پیدا ہو کر موجودہ دنیا میں آتا ہے تو یہ اس کی پہلی زندگی ہوتی ہے۔ یہاں اُس کی طلب کے بغیر اس کے لیے سب کچھ موجود ہوتا ہے۔ یہاں وہ پاتاہے کہ پیدا ہوتے ہی اس کو ایک پُرمحبت خاندان مل گیا۔ اُس کو ایک ایسی دنیا مل گئی جو انتہائی حدتک اس کے لیے ایک موافق دنیا تھی۔ اس کو ایک مکمل قسم کا لائف سپورٹ سسٹم (life support system)حاصل ہوگیا جس کے بغیر اس کے لیے زندگی ممکن نہ ہوتی۔ یہ ساری چیزیں اُس کو یک طرفہ طورپر حاصل ہوتی ہیں۔ خواہ وہ اُس کو شعوری طورپر محسوس کرے، یا وہ اس کو شعوری طورپر محسوس نہ کرے۔
اِس طرح ایک محدود مدت گزارنے کے بعد آدمی مرجاتا ہے۔ موت کا یہ واقعہ اس کے لیے ایک نئے سفر کا معاملہ ہوتاہے۔ موت کے بعد آدمی ایک ایسی دنیا میں پہنچ جاتا ہے، جہاں دوبارہ وہ اکیلا ہوتا ہے۔ اب بھی وہ پہلے کی طرح ایک زندہ اور حسّاس وجود ہوتا ہے، لیکن پچھلی دنیا میں ملی ہوئی تمام چیزیں اُس سے چھوٹ جاتی ہیں۔ اب وہ پھر اِس کا محتاج ہوتاہے کہ دوبارہ اس کو تمام چیزیں از سرِ نو حاصل ہوجائیں، تاکہ وہ عافیت اور سکون کی زندگی گزار سکے۔
انسان کو پہلی زندگی کاتجربہ اِس لیے کرایا جاتا ہے کہ اُس کے دل سے یہ دعاء نکلے کہ —اے میرے رب، تو نے جس طرح پہلی زندگی میں میری ضرورت کی تمام چیزیں کسی استحقاق کے بغیر مجھے دے دی تھیں، اُسی طرح دوسری زندگی میں بھی تو مجھے میری ضرورت کی تمام چیزیںمزید اضافے کے ساتھ دے دے۔ پہلی زندگی میں میں نے تیرے عطیات کا جو ابتدائی تجربہ کیا تھا، دوسری زندگی میں تو اُس کو انتہائی صورت میں میرے لیے مقدر کردے۔ پہلی زندگی میں تونے جوکچھ مجھے دیا، وہ بھی غیر مستحق ہونے کے باوجود مجھے دیاتھا، دوسری زندگی میں بھی تو غیر مستحق ہونے کے باوجود تمام چیزیں مجھ کو عطا کردے۔ پہلی زندگی میرے لیے تیری نعمتوں کا آغاز تھا، دوسری زندگی میں تو میرے لیے اِن نعمتوں کا اِتمام فرمادے۔
واپس اوپر جائیں

موت کی خبر

ایک شخص کی عمر 75 سال ہوگئی۔ ابتدائی عمر میں اس کی صحت اچھی تھی۔ اب اُس کو بیماریاں لگ گئیں۔ یہ بیماری اس کے لیے موت کی خبر تھی۔ لیکن اس نے بیماری کو صرف علاج کا معاملہ سمجھا۔ اس نے مختلف ڈاکٹروں اور اسپتالوں سے رجوع کرنا شروع کردیا۔ جب اس کا ذاتی سرمایہ ختم ہوگیا تو اس نے قرض لے کر اپنا مہنگا علاج شروع کردیا۔ لیکن اس کو دوبارہ صحت حاصل نہ ہوسکی۔ چند سال بیمار رہ کر وہ مرگیا— یہ ایک انسان کی کہانی نہیں ہے، بلکہ یہی تقریباً تمام عورت اورمرد کی کہانی ہے۔
بڑھاپا ہر آدمی کے لیے اِس بات کی خبر ہوتا ہے کہ موت قریب آگئی۔ اِس کے بعد جب اس کو بیماریاں لگتی ہیںتو وہ آدمی کو مزید جھنجھوڑنے کے لیے ہوتی ہیں۔ وہ اِس لیے ہوتی ہیں کہ آدمی اگر سورہا ہے تو وہ جاگ جائے۔ اور اگر وہ جاگ گیا ہے تو وہ اٹھ جائے۔ اور اگر وہ اٹھ گیا ہے تو وہ چلنے لگے۔ بڑھاپا اور بڑھاپے کے بعد آنے والی کم زوری اور بیماری ہمیشہ اِس لیے آتی ہے کہ آدمی چونک اُٹھے۔ وہ موت سے پہلے موت کی تیاری کرنے لگے۔ وہ موت کے بعدآنے والے حالات پر سوچے اور اس کے مطابق، اپنی زندگی کی آخری منصوبہ بندی کرے۔
لیکن انسان واقعات سے سبق نہیں لیتا۔ بڑھاپا اور بیماری اُس کو موت کی خبر دیتے ہیں، لیکن وہ موت کے بارے میں سوچنے کے بجائے صرف علاج کے بارے میں سوچتا ہے۔ وہ ڈاکٹروں اور اسپتالوں کے پیچھے دوڑتا ہے، یہاںتک کہ وہ ناامیدی کے ساتھ مرجاتا ہے۔ دوبارہ جو چیز اُس کو ملتی ہے، وہ تندرستی نہیں ہے، بلکہ موت ہے۔
یہ ایک ایسی حقیقت ہے جو ہر آدمی روزانہ اپنے آس پاس کے ماحول میں دیکھتاہے، لیکن کوئی آدمی اُس سے سبق نہیں لیتا۔ اِس معاملے میں ہر آدمی اندھا بنا ہوا ہے۔ وہ صرف اِس انتظار میں ہے کہ موت اس کی آنکھ کھولے۔ لیکن موت کے بعد آنکھ کھلنا، کسی عورت یا مرد کے کچھ کام آنے والا نہیں۔
واپس اوپر جائیں

سائنس سے معرفت تک

سائنس کیا ہے۔ سائنس دراصل منظم علم کا نام ہے۔ سائنس سے مراد وہ علم ہے جس میں کائنات کا مطالعہ موضوعی طورپر ثابت شدہ اصولوں کی روشنی میں کیا جائے:
Science: The systematized knowledge of nature and the physical world.
کائنات کی حقیقت کے بارے میں انسان ہمیشہ غور وفکر کرتا رہا ہے۔ سب سے پہلے روایتی عقائد کی روشنی میں، اس کے بعد فلسفیانہ طرزِ فکر کی روشنی میں، اور آخر میں سائنس کے مسلّمہ اصولوں کی روشنی میں۔
طبیعیاتی سائنس کے میدان میں پچھلی چار صدیوں میں تین انقلابی تبدیلیاں پیش آئی ہیں۔ اوّل، برٹش سائنس داں نیوٹن کا مفروضہ کہ کائنات کی بنیادی تعمیری اینٹ مادّہ ہے۔ اِس کے بعد بیسویں صدی کے آغاز میں جرمن سائنس داں آئن سٹائن کا نظریہ سامنے آیا کہ کائنات کی بنیادی تعمیری اینٹ توانائی ہے۔ اور اب آخر میں ہم امریکن سائنس داں ڈیوڈ بام کے نظریاتی دور میں ہیں، جب کہ سائنس دانوں کی زیادہ سے زیادہ تعداد یہ مان رہی ہے کہ کائنات کی بنیادی تعمیری اینٹ شعور ہے۔ یہ تبدیلیاں لازمی طورپر ایک نئے فلسفے کو جنم دیتی ہیں، جب کہ فلسفہ مادّیت سے گزر کر روحانیت تک پہنچ گیا ہے:
In the realm of the physical science, we have had three major paradigm shifts in the last four centuries. First, we had the Newtonian hypothesis that matter was the basic building block of the universe. In the early twentieth century, this gave way to the Einsteinian paradigm of energy being the basic building block. And the latest is the David Bohm era when more and more scientists are accepting consciousness to be the basic building block. These shifts have had inevitable consequences for the New Age philosophy, which has moved away from the philosophy of crass materialism to that of spirituality.
وہ دور جس کو سائنسی دور کہا جاتا ہے ، اُس کا آغاز تقریباً پانچ سوسال پہلے مغربی یورپ میں ہوا۔ دھیرے دھیرے عمومی طورپر یہ تاثر بن گیاکہ سائنس حقیقت کو جاننے کا سبب سے اعلیٰ ذریعہ ہے۔ جو بات سائنس سے ثابت ہوجائے، وہی حقیقت ہے، جو بات سائنسی اصولوں کے ذریعے ثابت نہ ہو، وہ حقیقت بھی نہیں۔
ابتدائی صدیوں میں سائنس خالص مادّی علم کے ہم معنی بن گئی ۔ چوں کہ مذہبی حقیقتیں مادی معیارِ استدلال پر بظاہر ثابت نہیںہوتی تھیں، اِس لیے مذہبی حقیقتوں کو غیر علمی قرار دے دیا گیا۔ لیکن علم کا دریا مسلسل آگے بڑھتا رہا، یہاں تک کہ وہ وقت آیا جب کہ خود سائنس مادی علم کے بجائے عملاً غیرمادّی علم کے ہم معنی بن گئی۔
پچھلی صدیوں کی علمی تاریخ بتاتی ہے کہ سائنس کے ارتقا کے ذریعے پہلی بار استدلال کی ایک ایسی علمی بنیاد وجود میں آئی جو عالمی طورپر مسلّمہ علمی استدلال کی حیثیت رکھتی تھی، پھر اِس میں مزید ارتقا ہوا، اور آخر کار سائنس ایک ایسا علم بن گیا جو مسلّمہ عقلی بنیاد پر یہ ثابت کررہا تھا کہ کائنات ایک بالاترشعور کی کارفرمائی ہے۔ ایک سائنس داں نے کہا کہ — کائنات کا مادّہ ایک ذہن ہے:
The stuff of the world is mind-stuff. (Eddington)
جب یہ بات ثابت ہوجائے کہ کائنات کی تخلیق کے پیچھے ایک عظیم ذہن (mind) کی کار فرمائی ہے۔ کائنات کے اندر جو معنویت ہے، جو منصوبہ بندی ہے، جو بے نقص ڈزائن ہے، وہ حیرت انگیز طورپر ایک اعلیٰ ذہن کے وجود کو بتاتاہے۔ کائنات میںاَن گنت چیزیں ہیں۔ لیکن ہر چیز اپنے فائنل ماڈل پر ہے۔ کائنات میں حسابی درستگی اتنے زیادہ اعلیٰ معیار پر پائی جاتی ہے کہ ایک سائنس داں نے کہا کہ کائنات ایک ریاضیاتی ذہن (mathematical mind) کی موجودگی کی طرف اشارہ کرتی ہے۔
جب علم کا دریا یہاں تک پہنچ جائے تو اس کے بعد صرف یہ کام باقی رہ جاتا ہے کہ اِس دریافت کردہ شعور یا اس ذہن کو مذہبی اصطلاح کے مطابق، خدا (God) کا نام دے دیا جائے۔
واپس اوپر جائیں

آیت یا معجزہ

خدا کے پیغمبروں نے اپنے معاصرین کو جو نشانیاں دکھائیں، اُن کو عام طور پر معجزہ کہاجاتا ہے، مگر یہ اسلامی تعبیر نہیں۔ اِن پیغمبرانہ واقعات کو قرآن اور حدیث میں معجزہ (miracle) کا نام نہیں دیا گیا ہے، بلکہ ان کو آیت (sign) کہا گیا ہے۔ معجزہ (miracle) کہنا گویا کہ ایسے کسی واقعے کو پیغمبرانہ ظاہرہ (prophetic phenomenon) قرار دینا ہے، جب کہ ایسے کسی واقعے کو آیت (sign) کہنا اس کو فطری ظاہرہ (natural phenomenon) بتانا ہے۔
حضرت موسیٰ ایک پیغمبر تھے۔ وہ قدیم مصر میں پیدا ہوئے۔ پندرھویں صدی قبل مسیح میں ان کا مقابلہ اُس وقت کے مصری بادشاہ فرعون (Pharaoh II) سے ہوا۔ بادشاہ کے مطالبے پر حضرت موسیٰ نے اپنی ایک نشانی دکھائی۔ وہ نشانی یہ تھی کہ انھوںنے اپنا عصا زمین پر ڈالا، تو وہ سانپ بن کر زمین پر چلنے لگا۔ اِس واقعے کو بہت سے لوگوں نے دیکھا۔ کچھ لوگ اس سے متاثر ہوئے اور وہ حضرت موسیٰ کے دین پر ایمان لائے۔
یہ واقعہ صرف حضرت موسیٰ کے معاصرین (contemporaries) کے لیے نہ تھا۔ اپنی حقیقت کے اعتبار سے وہ ایک چشم کُشا نشانی (eye-opening sign) کی حیثیت رکھتا تھا۔ ہر زمانے کے لوگوں کے لیے اس کے اندر ایک عظیم سبق تھا۔ حضرت موسی ٰ نے دراصل لوگوں کو خدا کے ایک ابدی اور عمومی قانون کا مشاہدہ کرایا۔ یہ قانون کنورژن کا قانون (law of conversion) تھا۔ حضرت موسیٰ نے خدا کی مدد سے لکڑی کے ایک ٹکڑے کو سانپ کی شکل میں تبدیل کرکے دکھایا کہ اِسی طرح عالمِ فطرت کی ہر چیز تبدیلی (conversion) کے ذریعے ایک صورت سے دوسری صورت اختیار کررہی ہے۔ حضرت موسیٰ نے لوگوں کو جس واقعے کا مشاہدہ کرایا، وہ دراصل کنورژن کا یہی عمومی قانون تھا:
Conversion: The act of changing something from one form to another form.
کنورژن کے اِس فطری اصول کا حوالہ خود قرآن میں موجود ہے۔ قرآن کی سورہ نمبر 52 میں بتایا گیا ہے کہ اِس دنیا میں غیرِ شی ٔ (nothing) شی ٔ (thing) میں تبدیل ہو رہی ہے (الطّور: 35)۔ اِسی طرح قرآن کی سورہ نمبر 76میں بتایاگیا ہے کہ یہاں غیر مذکور (non-being) مذکور (being) میں تبدیل ہورہا ہے (الدّہر: 1) ، وغیرہ۔
حضرت موسیٰ سولھویں صدی قبل مسیح میں پیدا ہوئے اور پندرھویں صدی قبل مسیح میں ان کی وفات ہوئی۔ یہ زمانہ جدید سائنس سے پہلے کا زمانہ (pre-scientific period) تھا۔ اُس وقت اِس قسم کی نشانی صرف خدا کی خصوصی مداخلت (intervention) کے ذریعے ہی لوگوں کو دکھائی جاسکتی تھی۔ جدید سائنس کے ظہور نے اِس بات کو ممکن بنا دیا ہے کہ فطرت کے اِس واقعے کو خودانسانی علم کے ذریعے دریافت کیا جاسکے۔ مستقبل میں پیش آنے والے اِس سائنسی انقلاب کو پیشگی طورپر قرآن میں بتا دیاگیا تھا (حٰمٓ السّجدۃ: 53 )۔
کائنات میں مختلف اور متنوع قسم کی چیزیں پائی جاتی ہیں۔ مطالعہ بتاتا ہے کہ یہ تمام چیزیں کنورژن کے اصول پر وجود میں آئی ہیں، یعنی ایک چیز کا بدل کر دوسری چیز کی صورت اختیار کرلینا۔ حضرت موسیٰ کے زمانے میں یہ ہوا کہ ایک چیز جو سانپ نہیں تھی، وہ سانپ بن گئی۔ یعنی نا سرپنٹ (non-serpent) سرپنٹ میں تبدیل ہوگیا۔ یہی معاملہ اِس دنیا میں ہر چیز کا ہے۔ یہاں غیر آب (non-water) آب (water) میں تبدیل ہورہا ہے۔اِسی طرح غیر ِ درخت (non-tree) درخت میں تبدیل ہورہا ہے۔ یہاں نان لائٹ (non-light) لائٹ میں تبدیل ہو رہی ہے۔ یہاں نان انرجی (non-energy) انرجی کی صورت اختیار کررہی ہے۔ یہاں نان آکسیجن (non-oxygen) آکسیجن میں تبدیل ہورہا ہے، وغیرہ۔
فطرت کے نظام میں کنورژن کا یہ قانون نہایت اہم ہے۔ وہ خدا کے وجود کو اور اس کی ربوبیت کو ثابت کررہا ہے۔ اِس معاملے میں کنورژن کا مطلب ہے مداخلت(intervention) ۔ چیزوں کا بہ طریقِ کنورژن وجود میں آنا، اِس معاملے میں مداخلت کو ثابت کرتا ہے۔ اور جب مداخلت کا فعل ثابت ہوجائے تو مداخلت کرنے والا اپنے آپ ثابت ہوجاتا ہے:
Conversion proves intervention, and when intervention is proved, intervenor is also proved, and God is only the other name of this intervenor.
واپس اوپر جائیں

سائنس دانوں کا مذہب

سائنس کیا ہے۔ سائنس کے لفظی معنی علم (knowledge) کے ہوتے ہیں۔ موجودہ زمانے میں سائنس سے مراد وہ شعبۂ علم ہے جس میں منضبط انداز میںعالمِ فطرت کا مطالعہ کیا جاتا ہے:
Science: The systematized knowledge of nature and the physical world.
سائنسی علوم میں مطالعے کی بنیاد علم الحساب (mathematics) ہوتا ہے ۔ اِس بنا پر اِن علوم میں قطعی نتائج تک پہنچنا ممکن ہوجاتا ہے۔ اِس لیے سائنسی علوم کو علومِ قطعیہ (exact sciences) کہاجاتا ہے۔ سائنس داں اِس شعبۂ علم کا مطالعہ کرتا ہے۔ وہ اِس میں اپنے آپ کو مشغول کرتاہے۔ علومِ قطعیہ میں اِس مشغولیت کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ سائنس داں کے اندر قطعی طرزِ فکر (exact thinking)پیدا ہوجاتی ہے۔
تاریخ بتاتی ہے کہ سائنس دانوں کا ذہن ادیبوں اور شاعروں سے بالکل مختلف ہوتاہے۔ سائنس داں اپنی فکر کے اعتبار سے بے حد حقیقت پسند ہوتا ہے۔ اپنے میدانِ مطالعہ کی بنا پر سائنس داں کے لیے ناممکن ہوجاتا ہے کہ وہ خیالی انداز میں سوچے، وہ ثابت شدہ حقیقت کا انکار کردے۔ سائنسی مطالعہ ایک سائنس داںکوکامل طورپر ایک سنجیدہ انسان بنا دیتا ہے۔
بہت سے اہلِ علم نے اِس معاملے کا مطالعہ مذہب کے زاویۂ نظر سے کیا ہے۔ انھوںنے پایا ہے کہ تمام سائنس داں کسی نہ کسی طورپر اپنے اندر وہ احساس پاتے تھے جس کو مذہبی احساس (religious feeling)کہاجاتا ہے۔ اِس سلسلے میں یہاں دو کتابوںکے نام لکھے جاتے ہیں:
Einstein and Religion, by Max Jammer
The God Delusion, by Richard Dawkins
اِس سلسلے میں بنیادی بات یہ ہے کہ کوئی سائنس داں جب فطرت کا مطالعہ کرتا ہے، تو وہ نہایت گہرائی کے ساتھ اِس حقیقت کا ادراک کرتا ہے کہ فطرت کے نظام میں کامل درجے کی معنویت اور ہم آہنگی پائی جاتی ہے۔سائنس داں کو فطرت کے اِس نظام کے اندر ایک پُراسرارقسم کی طاقت کار فرما نظر آتی ہے۔وہ اپنے آپ کو اِس پوزیشن میںنہیں پاتا کہ وہ اس کی توجیہہ کرسکے۔ اس کے باوجود وہ اس کا اعتراف کرنے پر مجبور ہوتا ہے۔ اِس پُراسرار احساس کو مشہور جرمن سائنس داں آئن اسٹائن (وفات: 1955 ) نے اِن الفاظ میں بیان کیا ہے— ایک شخص جو فطرت کا مطالعہ کرے، اُس کا سب سے زیادہ خوب صورت تجربہ یہ ہوتاہے کہ فطرت میں گہری پُراسراریت ہے۔ تم مشکل سے کوئی ایسا آدمی پاؤگے جو گہراسائنسی ذہن رکھتا ہو، پھر بھی وہ مذہبی احساسات سے خالی ہو:
The most beautiful experience one may enjoy is a ‘sense of mystery; you will hardly find one among the profounder sort of scientific minds without a ‘religious feeling’ (The Times of India, New Delhi, April 5, 2008, p. 20. Quoted by, Andrew Whitaker, Professor of Physics at Queen’s University, Belfast, Ireland.)
سائنس داں فطرت میں اپنے اِس تجربے کو کاسمک ریلیجن (cosmic religion) سے تعبیر کرتے ہیں۔ تاہم سائنس داں عام طورپر خدا (God) کا لفظ استعمال نہیں کرتے۔ اِس کا بنیادی سبب یہ ہے کہ وہ شخصی خدا (personal God) کے تصور کو ماننا نہیں چاہتے۔ کیوں کہ شخصی خدا کے ساتھ اتھارٹی (authority) کا تصور جڑا ہوا ہے، اور اتھارٹی کے ساتھ انعام اور سزا (reward and punishment) کا تصور، اور یہ وہ چیز ہے جس کو کوئی سائنس داں، یا جدید ذہن ماننے کے لیے تیار نہیں۔
سائنس داں فطرت کے مطالعہ کے دوران ایک حیرت انگیز قسم کے پُراسرار احساس سے دوچار ہوتاہے۔ اِس کو ایک احساسِ استعجاب (sense of awe) کا نام دیا جاسکتا ہے۔ یہی احساس کسی سائنس داں کے لیے سب سے بڑی داخلی طاقت ہوتا ہے۔ آئن اسٹائن کے ایک سوانح نگار نے اس کے بارے میںیہ الفاظ لکھے ہیں— آئن اسٹائن اِس کو کاسمک ریلیجن کہتا ہے۔ فطرت کے نظام میں حیران کُن انضباط کی موجودگی، سائنس داں کے لیے ایک ایسا سوال بنی ہوئی ہے جو اُس کو مذہب جیسی ایک سوچ کی طرف لے جاتی ہے:
He called it ‘cosmic religion’ and it was a sense of awe at the nobility and marvelous order which are reflected in nature and in the world of thought. He believed that throughout history, the greatest religious geniuses have followed cosmic religion, and that exploring this order in the laws of science was the motivation for the most celebrated scientists such as Newton and Kepler. Without this feeling of confidence in order and simplicity, science, he felt degenerated into uninspired empiricism.
سائنس، نیچر کے مطالعے کا نام ہے۔ دوسرے لفظوں میں سائنس خدا کی تخلیق کا مطالعہ کرتی ہے۔ اِس مطالعے میں فطری طورپر ایسا ہوتا ہے کہ تخلیقی قوانین میںخالق کی جھلکیاں نظر آتی ہیں۔ سائنس داں کا موضوع اگرچہ فطرت کے قوانین کا مطالعہ ہے، لیکن فطرت کو اس کے فاطر سے الگ نہیں کیا جاسکتا۔ اِس لیے فطرت کے مطالعے کا بالواسطہ نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ سائنس داں، فطرت کی دریافت کے ساتھ فاطر کے بہت قریب آجاتا ہے۔
تقریباً تمام سائنس دانوں نے بالواسطہ انداز میں خدا کے وجود کا اعتراف کیا ہے۔ سرآیزاک نیوٹن (وفات: 1727 ) اور کپلر (وفات: 1630 ) نے اس ہستی کو آرڈر(order) کا نام دیا ہے۔ اس کے بعد اسپنوزا (وفات: 1677 ) اور آئن اسٹائن (وفات: 1955 ) نے اس کو کاسمک اسپرٹ(cosmic spirit) بتایا۔ اس کے بعد سر آرتھر ایڈنگٹن (وفات: 1944 ) اور سرجیمز جینز (وفات: 1946 ) نے اس کو ریاضیاتی مائنڈ (mathematical mind) کا نام دیا۔
تاہم غالباً کسی بھی سائنس داں نے اِس خالق کا اعتراف خدا یاپرسنل گاڈ(personal God) کے الفاظ میں نہیں کیا۔ دوسرے لفظوں میں یہ کہا جاسکتا ہے کہ سائنس دانوں نے خدا کے وجود کا اعتراف بالواسطہ انداز میں توضرور کیا، لیکن براہِ راست انداز میں خدا کے وجود کا کھلا اعتراف ابھی تک سائنٹفک کمیونٹی کی طرف سے نہیں آیا۔
سائنس کے دوبڑے شعبے ہیں— نظریاتی سائنس (theoretical science) اور عملی سائنس (practical science) ۔ خدا کا موضوع نظریاتی سائنس سے تعلق رکھتا ہے۔اِس معاملے میں بد قسمتی سے ایسا ہوا کہ بیسویں صدی کے نصف آخر میں پہنچ کر نظریاتی سائنس میں تحقیق کا کام تقریباً ختم ہوگیا۔ اب صرف انطباقی سائنس (applied science) کے میدان میں تحقیق کا کام ہونے لگا۔کیوں کہ انطباقی سائنس میں مادّی مفاد(material interest) بہت زیادہ شامل ہوگیا۔
نظریاتی سائنس کے میدان میں مزید بڑا کام کرنے کے لیے نہایت اعلیٰ دماغ درکار ہے۔ صرف ڈگری یافتہ لوگ ایسا نہیں کرسکتے۔ موجودہ زمانے میں اِس قسم کا بڑا سائنسی دماغ صرف ایک ہے، اور وہ برطانیہ کا اسٹفن ہاکنگ (Stephen Hawking) ہے۔ اسٹفن ہاکنگ نے نظریاتی سائنس کے میدان میں عملاً بھی کچھ بڑے کام کیے ہیں۔ مثلاً سنگل اسٹرنگ تھیوری (Single String Theory) جو توحید کے نظریے کو اصولی طور پر ثابت کرتی ہے۔ لیکن نظریاتی سائنس کے میدان میں کام کرنے کے لیے اعلیٰ سائنس دانوں کی ایک پوری جماعت درکار ہے۔ اور بدقسمتی سے آج ایسی جماعت موجود نہیں۔
جدید سائنس کی تاریخ بتاتی ہے کہ تدریجی طورپر سائنس اب یہاں تک پہنچ چکی ہے کہ سائنس داں کائنات میں دماغ (mind) جیسے کسی عنصر کی کار فرمائی تسلیم کرتے ہیں۔ حقیقت کے اعتبار سے یہ کہنا درست ہوگا کہ دماغ کو ماننا بالواسطہ طورپر خدا کو ماننے کے ہم معنیٰ ہے۔ اب ضرورت ہے کہ اِس بالواسطہ سائنس کو براہِ راست سائنسی اقرار کے درجے تک پہنچایا جائے۔ یہ بلاشبہہ موجودہ زمانے کا سب سے بڑا علمی اور فکری کام ہے۔ یہ کام کوئی اعلیٰ سائنسی دماغ ہی کرسکتا ہے۔ یہ کام صرف وہ شخص انجام دے گا جو اعلیٰ ریاضیات (higher mathematics) کی زبان میں اس کو انجام دے سکتا ہو۔ شاید یہ کام ڈاکٹر عبد السلام (وفات: 1996 ) انجام دے سکتے تھے، جن کو 1979 میں سائنس کا نوبل پرائز ملا تھا۔ لیکن مسلمانوں کے تعصبانہ مزاج کی بنا پر یہ امکان واقعہ نہ بن سکا۔
واپس اوپر جائیں

حلال کو حرام بنانا

روزی کمانا ہر آدمی کی ایک ضرورت ہے۔ لوگ مختلف کام کرکے اپنے لیے روزی حاصل کرتے ہیں۔ مثلاً سروس، بزنس، زراعت، وغیرہ۔ یہ تمام طریقے روزی کمانے کے جائز طریقے ہیں۔ آدمی کو یہ حق ہے کہ وہ اِن ذرائع میں سے جس ذریعے کو چاہے، اختیار کرے۔
لیکن روزی کمانے کا ایک طریقہ جائز ہے اور دوسرا طریقہ ناجائز۔ جائز وہ ہے جو امانت داری (honesty) کا طریقہ ہے، اورناجائز طریقہ وہ ہے جو خیانت (dishonesty) کا طریقہ ہے۔ اِس معاملے میں شریعت میں سخت تاکید آئی ہے کہ آدمی کو چاہیے کہ وہ صرف جائز طریقے سے اپنی روزی کمائے، وہ کبھی ناجائز طریقے کا استعمال نہ کرے۔
مگر اکثر ایسا ہوتا ہے کہ انسان ضرورت (need) کی حد پر قائم نہیں رہتا، وہ حرص (greed) کا شکار ہوجاتاہے۔ اِس حرص کی سب سے زیادہ بری شکل وہ ہے جب کہ آدمی حلال روزی کو حرام روزی بنا کر استعمال کرے۔ مثلاً سروس کرنا، لیکن ڈیوٹی کو درست طورپر انجام نہ دینا، بزنس کرنا اور کسٹمر کو دھوکہ دے کر پیسہ کمانا، وغیرہ۔ اِس قسم کی عادتوں کا مطلب یہ ہے کہ آدمی اپنی حلال روزی کو حرام روزی بنا کر استعمال کررہا ہے۔ اُس کو جائز رزق ملا تھا، لیکن اُس نے غیر ضروری طورپر اُس کو اپنے لیے ناجائز رزق بنا لیا۔
یہ معاملہ بے حد سنگین معاملہ ہے۔ اکثر لوگ ایسا کرتے ہیں کہ وہ بڑھی ہوئی حرص کی بنا پر اپنی حلال روزی کو اپنے لیے حرام روزی بنا لیتے ہیں۔ اِس کے بعد خوب صورت باتیں کرکے وہ اپنی غلطی کو چھپاتے ہیں۔ وہ جھوٹ بول کر اپنی کم زوری پر پردہ ڈالتے رہتے ہیں۔ وہ بے اصولی کا طریقہ اختیار کرتے ہیں اور اِسی کے ساتھ خوب صورت الفاظ کے ذریعے وہ اپنے کو بااصول ظاہر کرتے رہتے ہیں۔ اُن کا یہ طریقہ برائی پر سرکشی کا اضافہ ہے۔ ایسے لوگ خواہ انسانوں کے سامنے اچھے بنے رہیں، لیکن خدا کی نظر میں وہ نہایت مبغوض انسان ہیں، آخرت میں وہ سخت سزا کے مستحق قرار پائیں گے۔
واپس اوپر جائیں

معنی خیز استثناء

کائنات میں بے شمار الگ الگ چیزیں پائی جاتی ہیں، لیکن کائنات کا ایک عجیب ظاہرہ یہ ہے کہ اس میں عمومی طور پر یکسانیت(uniformity) نہیںہے، بلکہ اُس کے ہر حصے میںاستثناء ات (exceptions) پائے جاتے ہیں۔ کائنات کی یہ استثنائی مثالیں اِس بات کا ثبوت ہیں کہ اِس کائنات کا ایک عظیم خالق ہے۔ استثناء (exception) ذہین مداخلت (intelligent intervention) کا ثبوت ہے اور ذہنی مداخلت ایک ذہین خالق (intelligent Creator) کا ثبوت ہے۔
مثلاً وسیع کائنات میں شمسی نظام (solar system) ایک استناء ہے۔ شمی نظام میں سیارۂ ارض (planet earth) ایک استثناء ہے۔ زمین کا انتہائی متناسب سائز ایک استثناء ہے۔ زمین کی اپنے محور (axis) پر گردش ایک استثناء ہے۔ زمین پر لائف سپورٹ سسٹم(life support system) ایک استثناء ہے۔ زمین پر زندگی ایک استثناء ہے۔ زمین پر انسان ایک استثناء ہے، وغیرہ۔
اِس قسم کے مختلف استثناء جو ہماری دنیا میں پائے جاتے ہیں، وہ سادہ طورپر صرف استثناء نہیںہیں، بلکہ وہ انتہائی حد تک بامعنی استثناء (meaningful exception) ہیں۔ وسیع کائنات میں اِس قسم کے با معنٰی استثناء ات یقینی طور پر اِس بات کا ثبوت ہیں کہ اِس کائنات کا ایک خالق ہے۔ اُس نے ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت اِس کائنات کو بنایا ہے۔ اُس نے جہاں چاہا، چیزوں میںیکسانیت (uniformity) کا طریقہ اختیار کیا، اور جہاں چاہا، کسی چیز کو دوسری چیزوں سے ممیّز اور مستثنیٰ بنادیا۔
مثلاً زندہ اجسام کے ڈھانچے میں باہم یکسانیت (uniformity) پائی جاتی ہے، لیکن اِسی کے ساتھ ہر ایک کا جنیٹک کوڈ (genetic code) ایک دوسرے سے مختلف ہے۔ ہر ایک کے ہاتھ کی انگلیاں ایک دوسرے سے مشابہہ ہیں، لیکن ہر ایک کے انگوٹھے کا نشان (thumb impression) ایک دوسرے سے الگ ہے۔ یکسانیت کے درمیان یہ استثناء یقینی طور پر ایک ذہین تخلیق (intelligent creation) کا ثبوت ہے، نہ کہ اندھے اتفاقات کا نتیجہ۔
واپس اوپر جائیں

زندگی کی حقیقت

26 ستمبر 2008 کی شام کو نئی دہلی کے پارلیمنٹ انیکسی میں ایک خاص فنکشن تھا۔ یہ فنکشن فاؤنڈیشن فار امیٹی اینڈ نیشنل سالیڈریرٹی نے پارلیمنٹ ہاؤس انکسی کے مین کمیٹی روم میں آرگنائز کیا تھا۔ یہ وسیع ہال بھرا ہوا تھا۔ دہلی کے اعلیٰ تعلیم یافتہ لوگ یہاںموجود تھے۔
پروگرام کے مطابق مشہور جرنلسٹ مسٹر خشونت سنگھ (پیدائش 1915 ) کو ان کی خدمات پر اوارڈ دیاگیا۔ یہ اوارڈ لوک سبھا کے اسپیکر مسٹر سوم ناتھ چٹر جی کے ذریعہ دیاگیا۔ اِس موقع پر مسٹرشندے نے کہا کہ مسٹر خوشونت سنگھ کا نظریۂ حیات یہ ہے کہ— زندگی کی اچھی چیزوں سے انجوائے کرو:
Enjoy the good things in life.
اِس موقع پر ان کی دعوت پر راقم الحروف نے اس میں شرکت کی۔ الرسالہ مشن کے تقریباً 10 افراد بھی میرے ساتھ وہاں گئے۔ ان لوگوں نے انگریزی میں چھپا ہوا دعوتی لٹریچر تمام لوگوں کو دیا۔ ان میں وہ پمفلٹ بھی شامل تھا جو ریلٹی آف لائف (Reality of Life) کے نام سے شائع کیاگیا ہے۔ اِس پمفلٹ میں زندگی کا بالکل برعکس نظریہ پیش کیاگیا تھا۔ اس دوسرے نظریہ کو مختصر طورپر ان الفاظ میں بیان کیا جاسکتا ہے— زندگی میںاچھے کام کرو:
Do good things in life.
اِس پروگرام کے چیف گیسٹ مسٹر خوشونت سنگھ تھے۔ ان کی عمر تقریباً 95 سال ہوچکی ہے۔ وہ سیدھے نہیں چل سکتے تھے۔ دو آدمیوں کے سہارے دھیرے دھیرے چل کر وہ اسٹیج پر پہنچے۔ وہ اس طرح وہاں بیٹھے ہوئے تھے کہ ان کے چہرے پر کوئی خوشی نہ ـتھی۔ وہ افسردگی کی تصویر بنے ہوئے تھے۔ جس وقت ان کے تعارف میںان کا مذکورہ فارمولا بتایا گیا، اس وقت وہ اسٹیج پر اس طرح دکھائی دیتے تھے جیسے کہ وہ کہہ رہے ہوں کہ— زندگی کا یہ فارمولا اِس دنیامیں قابلِ عمل نہیں:
Enjoy good things in life only to become so weak that you are unable to enjoy at all.
اِس وقت مذکورہ پمفلٹ (Reality of Life) خوشونت سنگھ سمیت تمام لوگوں کے ہاتھ میں تھا۔ یہ پمفلٹ خاموش زبان میں برعکس طورپر لوگوں کو یہ پیغام دے رہا تھا— زندگی میں اچھے کام کرو، تاکہ تم موت کے بعد کی ابدی دنیا میں زندگی کی خوشیوں کو پاسکو:
Do good things in life so that you may enjoy life eternally in the world hereafter.
ہر زمانے میں انسانوں کی بڑی تعداد یہ سمجھتی رہی ہے کہ موجودہ دنیا اُس کے لیے ٹھیک ویسی ہی ہے جیسے کہ جانور کے لیے سرسبز چراہ گاہ ، یعنی کھاؤ پیو اور خوش رہو، اِس سے زیادہ تمھاری کوئی اور ذمے داری نہیں۔
تاریخ کے تمام زمانوں میں بیش تر لوگ اِسی قسم کی سوچ میں مبتلا رہے ہیں۔ ہر زمانے کے لوگ مختلف انداز میں اپنی اِس سوچ کا اظہار کرتے رہے ہیں۔ مثال کے طورپر شہنشاہ بابر (وفات: 1530) نے کہا تھا کہ — بابر عیش کرلو، کیوں کہ یہ موقع دوبارہ ملنے والا نہیں:
بابر بہ عیش کوش کہ عالم دوبارہ نیست
مگر تجربہ بتاتا ہے کہ اِس دنیا میں کوئی بھی شخص عیش و عشرت کی مطلوب زندگی حاصل نہ کرسکا۔ ہر آدمی کا انجام صرف یہ ہوا کہ وہ موہوم آرزؤں میں جیے اور پھر ناکامی کی موت مر کر اِس دنیا سے چلا جائے۔
زندگی کے معاملے کو سمجھنے کے لیے صحیح طریقہ یہ ہے کہ آدمی خدا کے تخلیقی پلان (creation plan) کو دریافت کرے اور پھر اس کے مطابق اپنی زندگی کی تعمیر کرے۔ خود ساختہ طورپر زندگی کی ایک منزل مقرر کرنا اور اس کے مطابق جینے کی کوشش کرنا کسی کے لیے بھی قابلِ عمل نہیں، نہ عام انسان کے لیے اور نہ نام نہاد قسم کے بڑے انسانوں کے لیے۔ اِس معاملے میں چھوٹے انسان اور بڑے انسان کے درمیان کوئی فرق نہیں۔
واپس اوپر جائیں

خدا کے بغیر کائنات بے تعبیر

البرٹ آئن سٹائن(Albert Einstein) بیسویں صدی کا سب سے بڑا سائنس داں مانا جاتا ہے۔ وہ 1879 میں جرمنی میںپیدا ہوا، اور 1955 میں امریکا میںاس کی وفات ہوئی۔ 1921 میں اس کو فزکس کا نوبل پرائز دیاگیا۔
البرٹ آئن سٹائن نے عالمِ مادّی کا گہرا مطالعہ کیا تھا۔ اُس نے اپنے مطالعے میں پایا کہ کائنات ایک بے حد بامعنیٰ وجود ہے۔ اُس کے ہر پہلو میں اتھاہ حکمتیں چھپی ہوئی ہیں۔ یہ حکمت ومعنویت کائنات میں کہاں سے آئی۔ آئن سٹائن نے کائنات کی بے پایاں حکمت کو دریافت کیا، لیکن اُس کے حکیم کو وہ دریافت نہ کرسکا۔ اُس نے تعجب کے ساتھ کہا — کائنات کے بارے میں سب سے زیادہ حسین تجربہ جو ہم کو ہوتا ہے، وہ پُراسراریت کا تجربہ ہے:
The most beautiful experience we can have is the mysterious.
البرٹ آئن سٹائن کا ایک دوسرا قول اِس معاملے میں یہ ہے— فطرت کے بارے میں سب سے زیادہ ناقابلِ فہم واقعہ یہ ہے کہ وہ ہمارے لیے قابلِ فہم ہے:
The most incomprehensible fact about nature is that it is comprehensible.
سائنس داں کو یہ مشکل کیوں پیش آئی، اِس لیے کہ کائنات کی معنویت (meaning) کو تو اُس کے دماغ نے دریافت کیا، لیکن اِس معنوی نظام کے خالق کو وہ دریافت نہ کرسکا۔ اس بنا پر وہ تعجب کے ساتھ کہتا ہے کہ جب کائنات کی معنویت انسان کے لیے قابلِ مشاہدہ ہے تو اس کے لیے وہ ہستی کیوں ناقابلِ مشاہدہ ہے جس نے کائنات میں اِس معنویت کو پیدا کیا ہے، جب حکمت موجود ہے تو آخر اس کا حکیم کہاں ہے۔حقیقت یہ ہے کہ خدا کے عقیدے کے بغیر کائنات بے معنیٰ بن جاتی ہے۔ یہ صرف خدا کا عقیدہ ہے جو کائنات کی معنویت کو انسان کے لیے قابلِ فہم بناتا ہے۔
واپس اوپر جائیں

زلزلہ ایک وارننگ

6 اپریل 2009 کو ا ٹلی کے وسطی علاقہ(L' Aquila) میں زلزلہ آیا۔ رپورٹ کے مطابق، اِس زلزلے میں ایک سو سے زیادہ آدمی مر گئے اور تقریباً پچاس ہزار آدمی بے گھر ہوگئے۔ زلزلہ والے علاقے کے ایک شخص نے اپنا تاثر بتاتے ہوئے کہا کہ — بم دھماکے جیسی آواز سن کر میں اٹھ گیا۔ ہم بمشکل اُس سے بھاگ کر باہر آئے۔ ہر چیز ہل رہی تھی۔ فرنیچر گررہے تھے۔ مجھے یاد نہیں کہ میںنے کبھی ایسی کوئی چیز اپنی زندگی میں دیکھی ہو:
I woke up hearing what sounded like a bomb. We managed to escape with things falling all around us. Everything was shaking, furniture falling. I don’t remember ever seeing anything like this in my life. (The Times of India, New Delhi, April 7, 2009)
قرآن میں بتایا گیا ہے کہ قیامت اچانک (suddenly) آئے گی(الأعراف: 187 )۔ اِسی طرح زلزلہ بھی اچانک آتا ہے۔ زلزلہ فطرت (nature) کا ایک انوکھا ظاہرہ ہے۔ فطرت کے اندر ہونے والے تمام واقعات بظاہر اسباب وعلل کے تحت پیش آتے ہیں۔زلزلہ ایک ایسا واقعہ ہے جو دوسرے تمام واقعاتِ فطرت کے برعکس بالکل اچانک آجاتاہے۔اِس اعتبار سے زلزلہ آنے والی قیامت کے ساتھ بہت زیادہ مشابہت رکھتا ہے۔
زلزلے کا استثنائی طورپر قیامت سے مشابہ ہونا بے حد اہم ہے۔ اِس سے معلوم ہوتا ہے کہ زلزلہ (earthquake) قیامت کی پیشگی اطلاع ہے۔ موجودہ زلزلہ چھوٹا زلزلہ ہے، اور آئندہ آنے والی قیامت زیادہ بڑا زلزلہ۔ اِس دنیا میں چھوٹا زلزلہ اِس لیے آتاہے، تاکہ انسان ہوش میں آجائے اور بڑے زلزلے کے لیے پیشگی طورپر تیاری کرے۔ چھوٹے زلزلے میں بظاہر کچھ لوگ بچنے میں کامیاب ہوجاتے ہیں، لیکن جب قیامت کا بڑا زلزلہ آئے گا تو کسی بھی عورت یا مرد کے لیے یہ ممکن نہ ہوگا کہ وہ اپنے آپ کو اُس سے بچا سکے۔
واپس اوپر جائیں

ترجیح کی غلطی

مولانا سید ابو الاعلی مودودی (وفات: 1979 ) کی صاحب زادی سیدہ حمیرا مودودی (پیدائش: 1945 ) کی ایک کتاب (صفحات 96 ) چھپی ہے۔ اس کا ٹائٹل یہ ہے: ’’شجرہائے سایہ دار‘‘ اِس کتاب میں انھوں نے اپنے والد کے بارے میں لکھا ہے : ’’ابّا جان ہم سے کہا کرتے تھے کہ اگر مجھے تمھاری تربیت کی پوری طرح مہلت ملتی تو تمھیں دنیا کی مثالی اولاد بناتا۔ چوں کہ میںتم پر بھر پور توجہ نہیں دے سکا، اِس لیے تم سے باز پرس کا حق بھی نہیں رکھتا۔ میںنے اپنا وقت دین کے کاموں اور اللہ تعالی کے دین کی سربلندی کے لیے وقف کردیا ہے، اِس لیے تمھاری تربیت اللہ کے سپرد کرتاہوں‘‘۔ (صفحہ 54 )
مولانا ابو الاعلیٰ مودودی کو پاکستان بننے کے بعد وہاں 32 سال کام کرنے کا موقع ملا۔ اِس پوری مدت میں وہ صرف ایک کام کے لیے سرگرم رہے، پاکستان میں اسلامی ریاست بنانا۔ لیکن تجربہ بتاتا ہے کہ وہ اپنے اِس مقصد میں ایک فی صد بھی کامیاب نہیںہوئے۔ اِس کے برعکس، اگر وہ اپنے گھر کو اسلامی گھر بنانے پر توجہ دیتے تو جیسا کہ خود اُن کا احساس تھا، وہ اپنے گھر کو ایک مثالی گھر بنا سکتے تھے۔
اِسی کا نام غلط ترجیح ہے۔ مولانا ابوالاعلی مودودی کے لیے میدانِ سیاست میں کوئی مثبت نتیجہ برآمد کرنا ممکن نہ تھا، مگر وہ اِس ناممکن دائرے میں سرگرم ہوگئے۔ اِس کے برعکس، اپنے گھر کے دائرے میں مثبت نتیجہ نکالنا اُن کے لیے ممکن تھا، مگر وہ اِس ممکن دائرے میں اپنے آپ کو سرگرمِ عمل نہ کرسکے۔
اِسی کا نام مفکرانہ بے بصیرتی ہے۔ عجیب بات ہے کہ موجودہ زمانے کے تقریباً تمام رہنما اِسی مفکرانہ بے بصیرتی کا شکار ہوگئے۔ موجودہ زمانے کے مشہور رہنماؤں میں سے کوئی ایک شخص بھی نہیں جس نے اِس معاملے میں بصیرت کا ثبوت دیا۔ موجودہ زمانے کے مسلم رہنماؤں کی یہی بے بصیرتی ہے جس نے مسلم ملت کو ہر جگہ بربادی سے دوچار کررکھا ہے۔ بصیرت یہ ہے کہ آدمی نتیجہ خیز میدان میںاپنی کوشش صرف کرے۔ اور بے بصیرتی یہ ہے کہ وہ ایسے میدان میں چھلانگ لگادے، جہاں کوئی مثبت نتیجہ (positive result) نکلنے والا ہی نہ ہو۔
واپس اوپر جائیں

سرّی منافقت، جہری منافقت

قدیم زمانہ سادگی کا زمانہ ـتھا۔ قدیم زمانے میں ہر چیز سادہ ہوا کرتی تھی۔ سادہ انسان ہر بات کو جہری (open) انداز میںکہنا جانتاتھا۔ ایسے ماحول میںجو منافقت پیدا ہوئی، وہ بھی جہری منافقت تھی۔ قدیم زمانے کے لوگ اپنی کم زوریوں کو چھپانے کا فن نہیں جانتے تھے۔ وہ عام طورپر جہری انداز میں کلام کرتے تھے۔ قدیم زمانے کی منافقت بھی ایک معلوم واقعہ ہوتی تھی اور غیر منافقت بھی ایک معلوم واقعہ۔موجودہ زمانے کے انسان کو مہذب (civilized) انسان کہاجاتا ہے۔ موجودہ زمانے میں تکلف اور تصنّع ایک آرٹ بن چکا ہے۔ موجودہ زمانے میں برائیوں کو بھی خوش نما الفاظ میں بیان کیا جاتاہے۔ اِس زمانی صورتِ حال نے منافقت کو بھی ایک نیا انداز عطا کیا ہے۔ آج کے لوگ اِس بات کے ماہر ہوتے ہیں کہ وہ اپنی بات کو خوش نما الفاظ میں چھپا سکیں۔ قدیم زمانہ اگر جہری منافقت کا زمانہ تھا تو موجودہ زمانہ سری منافقت کا زمانہ ہے۔
منافقت کوئی پُر اسرار (mysterious) چیز نہیں۔ منافقت یہ ہے کہ آدمی اپنی برائی کو خوش نما الفاظ کے پردے میں چھپائے ہوئے ہو۔ قرآن کے الفاظ میں، وہ ایک ایسے کام کریڈٹ لینا چاہے جس کو اُس نے انجام ہی نہیں دیا(آل عمران:188 ) یعنی وہ اپنے عمل میں کچھ ہو اور الفاظ میں بناوٹی طورپر وہ اپنے آپ کو کچھ اور ظاہر کرے۔ مثلاً ایک محبوب شخصیت جو صرف شاعراور خطیب اور انشا پرداز ہو، اُس کو مفکر اسلام کا ٹائٹل دیا جائے، مسلم عوام کی اصلاح کا کام کیا جائے اور اُس کو پیغمبرانہ دعوت کہا جائے، ایک جزئی نوعیت کا کام کیا جائے اور اُس کو امر ِ جامع بتایا جائے، سیاسی لیڈری والا کام کیا جائے اور اُس کو ملی خدمت قرار دیا جائے، روایتی اسلوب میں کام کیا جائے اور اس کو عصری اسلوب قرار دیا جائے، قدیم تقاضوں کے تحت کام کیا جائے اور اُس کو جدید تقاضوں کی تکمیل بتایا جائے، تحفظِ اسلام کے نام پر عوامی بھیڑ اکھٹا کی جائے اور اس کو احیائِ اسلام کا درجہ دیا جائے، وغیرہ۔
آدمی جو کام کررہا ہے، اگر وہ اُسی کا نام لے تو یہ منافقت نہ ہوگی۔ لیکن یہ بلا شبہہ منافقت ہے کہ آدمی حقیقت میں ایک کام کرے اور اپنی زبان سے وہ اُس کو کوئی اور کام بتائے۔
واپس اوپر جائیں

اسلامی تحریک کا اصول

اسلامی تحریک کا اصول یہ ہے کہ ٹکراؤ سے کامل پرہیز کرتے ہوئے اپنا مشن چلایا جائے۔ اِس پالیسی کو دو لفظ میں اِس طرح بیان کیا جاسکتا ہے— پولٹکل اسٹیٹس کوازم، نان پولٹکل ایکٹوزم:
Political statusquoism, non-political activism.
اِس کا مطلب یہ ہے کہ سیاسی اقتدار سے ٹکراؤ نہ کرنا اور غیر سیاسی دائرے میں جو مواقع ہیں، اُن کو بھر پور استعمال کرنا۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی پوری زندگی میں یہی طریقہ اختیار فرمایا۔ اِسی طریقے کا یہ نتیجہ تھا کہ آپ کو ہر اعتبار سے غیر معمولی کامیابی حاصل ہوئی۔ اِس طریقے کو دوسرے لفظوں میں، حکیمانہ طریقِ کار کہاجاسکتا ہے۔
اِس طریقِ کار کا فائدہ یہ ہے کہ آدمی کو فوراً ہی اپنے عمل کے لیے ایک نقطۂ آغاز (starting point) مل جاتا ہے۔ اِس کے بعد یہ ممکن ہوجاتاہے کہ آدمی اپنی توانائی کو بے نتیجہ کاموں میں ضائع نہ کرے، وہ اپنی پوری توانائی کو صرف نتیجہ خیز کاموںمیں صرف کرے، وہ تمام موجود امکانات کو اپنے مشن کے حق میں استعمال کرسکے۔
یہ طریقِ کار اِس بات کی ضمانت ہے کہ آدمی کے اندر مکمل طورپر مثبت ذہن باقی رہے، وہ کسی بھی مرحلے میں منفی سوچ (negative thinking) کاشکار نہ بنے۔ وہ ہر انسان کو اپنا بھائی سمجھے۔ اُس کو ہر دنیا اپنی دنیا نظر آئے۔ ہر صورتِ حال کو وہ اپنے لیے موافق صورتِ حال سمجھے۔ شکایت اور احتجاج (protest) سے اُس کا ذہن مکمل طورپر پاک ہو۔
یہ طریق کار (method)دراصل وہی ہے جس کو تدریجی طریقِ کار (gradual method) کہاجاتاہے، یعنی فطری انداز سے ماحول میں تبدیلی لانا۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ اِس دنیا میں تدریجی طریقِ کار ہی نتیجہ خیز طریقِ کار ہے۔ اِس کے سوا جو طریقے ہیں، وہ صرف بربادی میں اضافہ کرنے والے ہیں، اِس کے سوا اور کچھ نہیں۔
واپس اوپر جائیں

انٹلکچول ایمپاورمینٹ

آج کل ایک لفظ بہت استعمال ہوتا ہے، وہ ایمپاور مینٹ(empowerment) کا لفظ ہے۔ایمپاورمینٹ کا مطلب وہی ہے جس کو عربی زبان میں تمکین کہتے ہیں، یعنی طاقت ور بنانا۔ این جی او (NGOs) سے وابستہ لوگ اکثر اِس لفظ کو استعمال کرتے ہیں۔ مثلاً:
Women empowerment, rural empowerment, Muslims empowerment, etc.
اِس قسم کے ایمپاورمینٹ کی جزئی افادیت ہوسکتی ہے، لیکن زیادہ اہم ایمپاورمینٹ، انٹلکچول ایمپاورمینٹ (intellectual empowerment) ہے، یعنی لوگوں کو فکری طاقت دینا، اُن کے اندر معاملہ فہمی کی صلاحیت پیدا کرنا، ان کے اندر آرٹ آف تھنکنگ (art of thinking) پیدا کرنا، ان کو اِس قابل بنانا کہ وہ ایک چیز اور دوسری چیز کے فرق کو سمجھیں، وہ درست منصوبہ بندی کے ساتھ اپنا کام کریں۔ لوگوں کو ایجوکیٹ کرنا، فارمل ایجوکیشن کے معنوںمیں بھی، اور انفارمل ایجوکیشن کے معنوں میں بھی۔
لوگوں کے اندر سب سے زیادہ کمی یہی ہے کہ وہ نہیں جانتے کہ صحیح طرزِ فکر کیا ہے اور غلط طرزِ فکر کیا۔ اِسی کا یہ نتیجہ ہے کہ عام طورپر لوگ شکایت کی نفسیات میں جیتے ہیں۔ وہ اپنی غلط سوچ اور اپنے غلط عمل کی قیمت ادا کرتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ دوسرے لوگوں کی سازش اور ظلم کی بنا پر ایسا ہورہا ہے۔
اِسی بنا پر لوگوں کا یہ حال ہے کہ جہاں چپ رہنا چاہیے، وہاں وہ بولتے ہیں۔ جہاں اقدام نہ کرنا چاہیے، وہاں وہ چھلانگ لگا دیتے ہیں۔ جہاں ایڈجسٹ کرنا چاہیے، وہاں وہ لڑنے کے لیے کھڑے ہوجاتے ہیں۔ جن لوگوں سے دوستانہ تعلق قائم کرنا چاہئے، اُن کو وہ اپنا دشمن سمجھ کر اُن سے دور ہوجاتے ہیں۔ وہ خود ساختہ طورپر دوسروں کو اپنا ’’غیر‘‘ سمجھ لیتے ہیں۔ حالاں کہ اِس دنیا میں ہرشخص اپنا ہے، کوئی بھی کسی کے لیے غیر نہیں۔ اِسی بنا پر لوگ صبر وتحمل کی اہمیت کو نہیں سمجھتے، حالاں کہ اِس دنیا میں کامیابی کا سب سے زیادہ کار گر فارمولا وہی ہے جس کو صبر وتحمل کہا جاتاہے۔
واپس اوپر جائیں

پاکستان کا موجودہ بحران

پاکستان کی فوج اور افغانستان کے طالبان کے درمیان اِس وقت سخت جنگ جاری ہے۔ روزانہ دونوں طرف کے لوگ ایک دوسرے کے ہاتھوں مارے جارہے ہیں، حالاں کہ یہ دونوں فریق مسلمان ہیں۔ دونوں کا یہ دعویٰ ہے کہ ہم اسلامی قانون کو نافذ کرنا چاہتے ہیں۔ یہ صورتِ حال اُس حدیثِ رسول کو یاد دلاتی ہے جس میں آپ نے فرمایا تھا کہ قیامت کے قریب دو مسلم فریقوں کے درمیان جنگ ہوگی، جب کہ دونوں کا دعویٰ ایک ہوگا (لا تقوم الساعۃ حتی تقتتل فئتان عظیمتان من المسلمین، دعوا ہما واحدۃ۔ مسند الحُمیدی، رقم الحدیث: 784، صحیح البخاری، رقم الحدیث:6588 ، صحیح مسلم، رقم الحدیث:5142 )
پاکستان کی فوج نے افغانی طالبان کے خلاف جو لڑائی چھیڑی ہے، اُس کا نام انھوں نے آپریشن راہِ راست (Direct Action) رکھا ہے۔ عجیب بات ہے کہ پاکستان بننے سے پہلے 1946 میں پاکستانی قیادت نے ہندوؤں کے خلاف ڈائریکٹ ایکشن کا اعلان کیا تھا۔ اب پاکستانی قیادت نے خود مسلمانوں کے خلاف ڈائریکٹ ایکشن شروع کردیا ہے۔پاکستان کے ملٹری چیف جنرل اشفاق پرویز کیانی نے کہا کہ — ہم یہاں جو لڑائی لڑ رہے ہیں، اُس میں اور روایتی لڑائی میں بہت فرق ہے۔ یہ ایک ایسی جنگ ہے جس میں دوست اور دشمن کے درمیان تمیز کرنا مشکل ہوگیا ہے:
There is a difference between conventional war and the present one. In the ongoing war, it is difficult to identify friends or foes. (The Times of India, New Delhi. June 16, 2009)
اِس سلسلے میں حدیث کی کتابوں میں مختلف روایتیں آئی ہیں۔ ایک طویل روایت میں یہ الفاظ ہیں: ویُلقیٰ بین الناس التناکُر، فلایکاد أحدٌ أن یعرف أحداً(مسند احمد، جلد 5 ، صفحہ 389) یعنی قربِ قیامت کے وقت ایسا ہوگا کہ لوگوں کے درمیان ایک دوسرے سے بے گانگی پیدا ہوجائے گی۔ لوگوں کا حال یہ ہوگا کہ ایک شخص دوسرے شخص کو نہیں پہچانے گا۔ جنرل کیانی نے جس چیزکو دوست اور دشمن کے درمیان تمیز اٹھ جانا بتایا ہے، اسی کو مذکورہ حدیث میں ’تناکر‘ کے لفظ سے تعبیر کیاگیاہے۔
پاکستانی فوج اور افغانی طالبان کے درمیان جو سنگین صورتِ حال قائم ہے، وہ کسی بیرونی طاقت کی ’’سازش‘‘ کی بنا پر نہیں ہے، وہ تمام تر مسلم لیڈروں کی خود اپنی بھیانک غلطیوں کا نتیجہ ہے۔ اِن میں سے دو مبیّنہ غلطیوں کا یہاں ذکر کیا جاتا ہے۔
1 - پاکستانی قیادت کی پہلی غلطی یہ ہے کہ اس نے اپنے مفروضہ کشمیری جہاد کے لیے غیر فوجی طالبان کو مسلّح کیا۔ یہ بلا شبہہ ایک غیر اسلامی فعل تھا، کیوںکہ اسلام میں اسلحے کا استعمال صرف باقاعدہ فوج کے لیے جائز ہے، غیر فوجی افراد یا تنظیموں (NGOs)کے لیے اسلحے کا استعمال جائز نہیں۔ اب پاکستان میں جو باہمی تشدد ہورہا ہے، وہ اِسی بھیانک غلطی کی قیمت ہے۔ تقریباً یقینی ہے کہ آپریشن راہِ راست سے موجودہ متشددانہ صورتِ حال کا خاتمہ ہونے والا نہیں۔
2 - دوسری بھیانک غلطی وہ ہے جو اسلام کی سیاسی تعبیر کا نتیجہ ہے۔ پاکستان اور طالبان دونوں نے اسلام کی سیاسی تعبیر کو اپنا رکھا ہے۔ سیاسی تعبیر کا نقصان یہ ہے کہ اسلام اتباع (following) کے بجائے نفاذ (enforcement) کا موضوع بن جاتاہے۔ اِس سیاسی تعبیر کے نتیجے میں یہ ہوا کہ پہلے پاکستان اور افغانستان میں سیاسی غلو (political extremism) آیا۔ اِس کے بعد فطری طورپر ٹکراؤ کی سیاست شروع ہوئی، اور آخر میں یہ ذہن پیداہوا کہ طاقت کے زور پر اسلامی قانون کو نافذ کیا جائے۔ چناں چہ طالبان کا نعرہ ہے— شریعت یا شہادت۔
پاکستان اور افغانستان دونوں جس نازک صورتِ حال سے دوچار ہیں، اس کا حل کیا ہے۔ اس کا حل صرف ایک ہے، اور وہ وہی ہے جس کو شریعت کی زبان میں توبہ کہا جاتا ہے، یعنی اپنی غلطی کا کھلا اعتراف اور تشدد کی روش کوچھوڑ کر امن کی بنیادوں پر اپنے عمل کی ازسرِ نو منصوبہ بندی۔ جس طرح خالص دینی معاملات میں اصلاح کا آغاز توبہ سے ہوتا ہے، اُسی طرح قومی اور سیاسی زندگی میں بھی کوئی نیا بہتر آغاز رجوع و اعتراف کے ذریعے ہوتا ہے۔ ماضی کی غلطیوں کو مانے بغیر مستقبل کی کامیاب منصوبہ بندی ممکن نہیںہوتی، اور پاکستان اِس معاملے میں کوئی استثناء نہیں۔
واپس اوپر جائیں

ہولسٹک اپروچ

ایک صاحب نے کہا کہ آپ ہمیشہ دعوت پر زور دیتے ہیں۔ آپ کا یہ اندازیک رُخا انداز (one-sided approach) ہے۔ملت کے اور بہت سے مسائل ہیں۔ مثلاً تعلیم، سیاست اور اقتصادیات،وغیرہ۔ آپ کو مجموعی انداز (holistic approach) اختیار کرنا چاہیے۔ آپ کو کو شش کرنا چاہیے کہ ہماری ملت مجموعی انداز میں ہر اعتبار سے ترقی کرے۔
یہ طرزِ فکر موجودہ زمانے میں بہت عام ہے۔ لیکن حقیقت کے اعتبار سے وہ غیر فطری اور غیرعملی طرزِ فکر ہے۔مجموعی ترقی بذاتِ خودایک مطلوب چیز ہے، لیکن ہر جدوجہد کا ایک نقطہ آغاز (starting point) ہوتاہے۔ نقطۂ آغاز سے شروع کرکے آپ مجموعے تک پہنچ سکتے ہیں۔ لیکن اگر آپ مجموعے سے آغاز کرنا چاہیں تو آپ کہیں بھی نہیں پہنچیں گے۔ اِسی کو ایک مفکر نے ان الفاظ میں بیان کیا ہے— میرا طریقہ شروع سے آغاز کرنا ہے:
My way is to begin from the beginning.
یہی فطرت کا قانون ہے۔ آپ ایک درخت اگانا چاہتے ہیں تو آپ بیج سے اس کاآغاز کرتے ہیں، نہ کہ مجموعی طور پر درخت سے۔ اِسی طرح جب آپ ایک بلڈنگ بنانا چاہتے ہیں تو اس کی تعمیر کا آغاز ایک اینٹ سے ہوتاہے، نہ کہ مجموعی طورپر پوری بلڈنگ سے۔
مسلمان کے لیے ان کی ملی جدوجہد کا آغاز دعوت الی اللہ ہے۔ دعوت الی اللہ سے آغاز کرکے بقیہ تمام چیز یں اپنے آپ حاصل ہوتی چلی جاتی ہیں— فکر کی تصحیح، عمل کی اصلاح، دوسرے انسانوں سے معتدل تعلقات، تعمیر و ترقی کا مزاج، علمی بیداری، مثبت سوچ، زمانہ شناسی، عالمی طرزِ فکر، غرض دعوت الی اللہ تمام صالح اوصاف کا سرچشمہ ہے۔ لوگوں کے اندر دعوت کو زندہ کرنا، اُن کے اندر تمام خوبیوں کو زندہ کرنا ہے۔ گویا کہ دعوت ایک بیج ہے۔ اور بیج بونے کے بعد پورا درخت اپنے آپ اُگ کر تیار ہوجاتاہے۔
واپس اوپر جائیں

جنت یا سراب

کرینا کپور انڈیاکی ایک مشہور فلم اسٹار ہیں۔ ان کو اپنی اداکاری کا معاوضہ کروروں میں ملتاہے۔ ان کے بارے میں ایک رپورٹ نئی دہلی کے انگریزی اخبار ٹائمس آف انڈیا (29 مارچ 2009) میں چھپی ہے۔ اس میں اس فلم اسٹار کے بارے میں مختلف قسم کی باتیں بتائی گئی ہیں۔ ایک اشتہار (Ad) کے کنٹریکٹ پر ان کو 6 کرور روپئے ملے۔ ان سے پوچھا گیا کہ اتنی زیادہ دولت کو وہ کہاں استعمال کریں گی۔ انھوںنے جواب دیا کہ میں یونان میں اپنے لئے ایک گھر خریدوں گی:
I will buy myself a home in Greece.
رپورٹ میںمزید بتایا گیا ہے کہ کرینا نے حال میں اپنا ایک ذاتی گھر بمبئی میں خریدا ہے۔ مگر انھوںنے کہا کہ میرا زیادہ وقت اسٹوڈیو میں گزرتا ہے، اس لئے میرے پاس وقت نہیں ہے کہ میںاپنے گھر میں ٹھہروں اور اس سے انجوائے کرسکوں:
But I spend most of my time in the studio. So I've no time to enjoy my new home.
موجودہ زمانے میں نئے نئے مواقع کھلے تو ہر ایک نے ان مواقع کو زیادہ دولت کمانے کے لئے استعمال کیا۔ مگر تجربہ بتاتا ہے کہ زیادہ دولت صرف زیادہ مسائل لاتی ہے۔ آدمی حاصل شدہ دولت کو انجوائے نہیں کرپاتا۔ وہ اور زیادہ اور زیادہ کے لئے اپنی ساری زندگی لگا دیتا ہے، یہاں تک کہ اس کے لئے وہ وقت آجاتاہے جب کہ وہ تمام چیزوں کو چھوڑ کر ایک ایسی دنیا میں چلا جائے جہاں اس کے پاس کچھ بھی نہ ہو۔ حتی کہ ایسے مواقع بھی نہ ہوں جن کو استعمال کرکے دوبارہ وہ اپنے لئے ایک پر عیش زندگی کی تعمیر کرسکے۔ اس کے پیچھے بھی محرومی ہوتی ہے اور اس کے آگے بھی محرومی۔
کیسا عجیب ہے انسان کا آغاز ، اور کیسا عجیب ہے انسان کا انجام۔یہی وہ حقیقت ہے جو قرآن کی سورہ نمبر 102 میں اس طرح بیان کی گئی ہے: ألہاکم التکاثر، حتی زُرتم المقابر(التکاثر:1-2 ) یعنی بہتات کی حرص نے تم کو غفلت میں رکھا، یہاں تک کہ تم قبروں میں جا پہنچے۔
واپس اوپر جائیں

قوتِ ارادی کی اہمیت

حیوانات میںکچھ بے ریڑھ والے (spineless) حیوان ہوتے ہیں۔ اِسی طرح انسانوں میں بعض انسان ایک ضعیف الارادہ انسان ہوتے ہیں،گویا کہ وہ بے ریڑھ والے (spineless) انسان ہیں۔ وہ کوئی فیصلہ نہیں کرپاتے ۔ وہ بے ہمت اور بے ارادہ (without courage, or will power) شخصیت کے مالک ہوتے ہیں۔ ایسے لوگ اپنی زندگی میںکوئی بڑا کام نہیں کرپاتے۔
حقیقی انسان وہ ہے جو مضبوط قوتِ ارادی کا مالک ہو، جو زندگی کے معاملات میںفیصلہ لے سکے، جو ہاں کے ساتھ نہیں کہنے کی طاقت رکھتا ہو، جو اپنے مقصدکی راہ میں دوسروں کے ساتھ سمجھوتہ نہ کرے، ایسا ہی انسان کوئی بڑاکام کرنے میں کامیاب ہوتا ہے۔ بڑا کام کرنے میں ہمیشہ ایسے واقعات پیش آتے ہیں جو آدمی کا راستہ روکنے والے ہوتے ہیں۔ ضعیف الارادہ آدمی ایسے موقع پر بے ہمت ہو کر بیٹھ جاتا ہے۔اِس کے برعکس، قوی الارادہ آدمی ہر حال میں اپنا سفر جاری رکھتاہے، یہاں تک کہ وہ منزل پرپہنچ جاتا ہے۔
زندگی کے سفر میں ہمیشہ ایسا ہوتا ہے کہ راستے میں کچھ منفی تجربات پیش آتے ہیں۔ یہ منفی تجربات ہمیشہ وقتی ہوتے ہیں۔ جو لوگ فطرت کے اِس راز کو نہ سمجھیں، وہ منفی تجربے کو حتمی سمجھ لیتے ہیں اور اِس بنا پر وہ ہمت کھو بیٹھتے ہیں۔ صحیح یہ ہے کہ آدمی اِن تجربات کو وقتی سمجھے۔ ایسے تجربات پیش آنے کی صورت میں وہ مستقبل پر نظر رکھتے ہوئے اپنا سفر جاری رکھے۔ وہ یہ یقین کرے کہ فطرت کے قانون کے مطابق، لازمی طورپر ایسا ہوتاہے کہ رکاوٹ صرف ایک درمیانی چیز بن کر رہ جائے، وہ اگلے مراحل میں اپنے آپ دور ہوتی چلی جائے۔ جو لوگ فطرت کے اِس قانون کو نہ سمجھیں، وہ ضعیف الارادہ بن جاتے ہیں، اور جو لوگ اِس راز کو سمجھ لیں، وہ مضبوط ارادے سے کام لیتے ہوئے آخر کار کامیابی کی منزل تک پہنچ جاتے ہیں— مقصد کا تعین کیجئے اور اُس پر جم جائیے، یہی اِس دنیا میں کامیابی کا راز ہے۔
واپس اوپر جائیں

سیلف میڈ مین

آزادی (1947) سے پہلے کا واقعہ ہے۔ مشرقی یوپی میںایک زمین دار خاندان تھا۔ اِس خاندان کے ایک صاحب شکار کے شوقین تھے۔ اُن کے پاس لائسنس یافتہ گن تھی۔ پاس کے جنگلوں میں وہ اکثر ہرن، وغیرہ کا شکار کرنے کے لیے جایا کرتے تھے۔ جب وہ شکار کے لیے جاتے تو خاندان کے کئی لوگ اُن کے ساتھ ہوتے تھے، مگر ایک نوجوان کو وہ اپنے ساتھ نہیں لے جاتے تھے۔ یہ نوجوان بچپن میں یتیم ہوگیا تھا۔ وہ اُس نوجوان سے کہتے کہ تم منحوس ہو، تم ساتھ چلوگے تو کوئی شکار نہیں ملے گا۔
یہ ’’منحوس نوجوان‘‘بعد کو ایک خوش قسمت نوجوان بن گیا۔ اس کے حالات اس کو بزنس کی طرف لے گئے۔ اُس نے غیر معمولی محنت کی۔ اُس کے کاروبار میں بہت ترقی ہوئی، یہاں تک کہ پورے خاندان میں وہ سب سے زیادہ دولت مند شخص بن گیا۔ اب وہ خاندان کا ایک باعزت فرد بن گیا۔ ہر طرف اس کی تعریف ہونے لگی۔ بعد کے زمانے میں خاندان کے ایک صاحب نے اس کو ایک عید کارڈ بھیجا۔ اِس عید کارڈ کے اوپر لکھا ہوا تھا— سیلف میڈ مین(self-made man) کے نام جو قطب مینار کی بلندیوں کو بھی پار کرسکتا ہے۔
اِس طرح کے بہت سے واقعات ہیں جو بتاتے ہیں کہ ہر انسان کے اندر ایک عظیم مستقبل چھپا ہوا ہوتا ہے۔ کوئی آدمی اپنی ابتدائی عمر میں بظاہر معمولی دکھائی دے تو یہ نہیں سمجھنا چاہئے کہ فی الواقع وہ ایک معمولی آدمی ہے، عین ممکن ہے کہ وہ ایک غیر معمولی انسان ہو، یعنی اپنی ابتدائی عمر میں وہ بالقوۃ طورپر غیر معمولی انسان ہو، اور اپنی بعد کی عمر میں وہ بالفعل طورپر ایک غیر معمولی انسان بن جائے۔
حقیقت یہ ہے کہ کسی انسان کے ظاہر کو دیکھ کر اُس کو حقیر سمجھنا خدا کی قدرت کا کم تر اندازہ (underestimation) کرنا ہے۔ اِس طرح کا کم تر اندازہ انسانیت کے خلاف بھی ہے اور ایمان کے خلاف بھی۔
واپس اوپر جائیں

حقیقی کیس، نفسیاتی کیس

ایک صاحب بمبئی سے بھوپال آئے۔ رزرویشن کے مطابق، اُن کو بھوپال سے دہلی آنا تھا۔ وہ اتوار کی صبح کو دہلی پہنچنے والے تھے۔ اُن کا پروگرام یہ تھا کہ وہ دہلی میں اتوار کی صبح کو ساڑھے دس بجے ہونے والے سی پی ایس کی اسپریچول کلاس میں شرکت کریں گے اور اس کے بعد وہ اتوار کی شام کو واپس چلے جائیں گے۔ لیکن بھوپال میں اُن کو اپنے گھر سے ایک ٹیلی فون ملا۔ اِس میں بتایا گیا تھا کہ اُن کے ایک رشتے دار کے ساتھ ایک حادثہ پیش آیا ہے۔ ان کی ایک ہڈی میں فریکچر ہوگیا ہے۔ اِس خبر سے وہ اتنا زیادہ مغلوب ہوئے کہ اپنا رزرویشن بدلوا کر وہ بھوپال ہی سے بمبئی کے لیے روانہ ہوگئے۔
جب وہ بمبئی پہنچے تو اُن کے مذکورہ رشتے دار اسپتال کے انٹنسیو کیئر یونٹ (ICU) میں داخل ہوچکے تھے۔ وہ رشتے داروں کی بھیڑ کے ساتھ اسپتال میں باہر کھڑے رہے۔ صرف دو دن کے بعد وہ اپنے رشتے دار سے ملاقات کرسکے۔ مذکورہ صاحب اگر حسب پروگرام دہلی آتے اور سی پی ایس کے کلاس میں شریک ہو کر واپس جاتے، تب بھی وہی ہوتاجو پروگرام بدل کر فوراً بمبئی واپس جانے کی صورت میں پیش آیا۔
اِس طرح کی صورتِ حال ہر عورت اور مرد کے ساتھ اِس دنیا میں پیش آتی ہے، لیکن تقریباً تمام لوگ وہی غلطی کرتے ہیں جو مذکورہ صاحب نے کی۔ وہ حقیقی کیس اور نفسیاتی کیس کے فرق کو سمجھ نہیں پاتے۔ وہ نفسیاتی کیس کو بھی وہی درجہ دے دیتے ہیں جو حقیقی کیس کو دینا چاہیے۔ اِ س کانتیجہ یہ ہوتا ہے کہ اُن کی سرگرمیاں بے فائدہ ہو کر رہ جاتی ہیں۔
زندگی کا ایک اہم اصول وہ ہے جس کو فرق کا اصول (principle of differentiation) کہاجاتاہے۔ دنیا میں جو معاملات پیش آتے ہیں، وہ اکثر ملے جلے ہوتے ہیں۔ ایسی حالت میں ضروری ہوتا ہے کہ آدمی ایک چیز اور دوسری چیز کے درمیان فرق کرنا جانے، وہ حقیقی معاملے اور غیر حقیقی معاملے کو ایک دوسرے سے الگ کرکے دیکھ سکے۔
واپس اوپر جائیں

خاموش تدبیر کا طریقہ

انگریزی زبان کا ایک مقولہ ہے— ایک ہلکا دھکا ایک پہاڑ کواپنی جگہ سے ہٹا سکتاہے:
A gentle push can move a mountain.
اس مقولے میںایک نہایت اہم بات بتائی گئی ہے، وہ یہ کہ معتدل انداز میں کوشش ہمیشہ بڑے بڑے نتیجے پیدا کرتی ہے، اور پُرشور قسم کے ہنگامے نتیجے کے اعتبار سے ہمیشہ بے سود ثابت ہوتے ہیں۔یہ مقولہ دراصل ایک قانونِ فطرت کو بتاتا ہے، اور قانونِ فطرت کے معاملے میں کسی کا کوئی استثناء نہیں۔
کسی مقصد کو حاصل کرنے کے دو طریقے ہیں— ایک، ہنگامہ خیز طریقہ۔ اور دوسرا، خاموش تدبیر والا طریقہ۔ ہنگامہ خیز طریقے سے صرف وقتی شور وشر پیدا ہوتا ہے، مگر نتیجے کے اعتبارسے وہ ہمیشہ بے فائدہ ثابت ہوتا ہے۔ اِس کے برعکس، خاموش منصوبہ اور پُر امن تدبیر کا نتیجہ کامیابی کی صورت میں نکلتاہے۔ ہنگامہ خیز تدبیر صرف نقصان میں مزید اضافہ کرتی ہے، جب کہ خاموش تدبیر کا نتیجہ یہ ہوتاہے کہ وہ کسی مزیدنقصان کا باعث نہیں بنتی اور نشانے کے مطابق، اپنی منزل تک پہنچ جاتی ہے۔ یہ ایک ایسا اٹل اصول ہے جس میں کوئی استثنا نہیں، نہ مذہبی انسان کے لیے اور نہ غیر مذہبی انسان کے لیے۔
موجودہ دنیا میں جب بھی کو ئی آدمی کسی مقصد کو حاصل کرنا چاہتا ہے تواُس میںاس کا اپنا حصہ صرف پچاس فی صد ہوتا ہے، بقیہ پچاس فی صد کا تعلق اُس چیزسے ہوتاہے جس کو قانونِ فطرت (law of nature) کہاجاتا ہے۔
قانونِ فطرت سے موافقت کے بغیر اِس دنیا میں کوئی شخص کامیاب نہیںہوسکتا۔ فطرت کا قانون یہ ہے کہ اپنے مقصد کے لیے جو کوشش کی جائے، وہ حقیقت پسندانہ انداز میں کی جائے۔ حقیقت پسندانہ انداز میں کام کرنا، فطرت سے موافقت کرکے کام کرنا ہے۔ جولوگ ایسا کریں، وہی اِس دنیا میں کامیابی کی منزل تک پہنچتے ہیں۔ اور جو لوگ ایسا نہ کریں، اُن کے لیے اِس دنیا میں ناکامی کے سوا کوئی اور چیز مقدر نہیں۔
واپس اوپر جائیں

سوال و جواب

سوال
9 مئی 2009 کو انڈیا انٹرنیشنل سنٹر (نئی دہلی) میں خدا کے وجود کے موضوع پر انگریزی زبان میں آپ کی ایک تقریر تھی۔ میں اِس تقریر میں شروع سے آخر تک شریک رہا۔میں نے دیکھا کہ سامعین نے خدا کے وجود پر دئے گئے سائنسی دلائل سے پورا اتفاق کیا۔تاہم ایک اعلیٰ تعلیم یافتہ سینئر ہندو خاتون نے تقریر کے بعد مجھ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ مولانا صاحب کی بات سے مجھ کو پورا اتفاق ہے۔ مگر میرا خیال ہے کہ خدا کے وجود پر سائنسی دلائل کی ضرورت نہیں۔ کیوں کہ خدا تو ہمارے اندر موجود ہے۔ براہِ کرام، اِس معاملے کی وضاحت فرمائیں (محمد ذکوان ندوی، نئی دہلی)
جواب
مذکورہ خاتون نے جو بات کہی، وہ کوئی سادہ بات نہیں تھی۔ اصل یہ ہے کہ خدا کے بارے میں دو الگ الگ تصور (concept) پائے جاتے ہیں۔ ایک ہے، توحید (monotheism) ، یعنی خدا کو ایک شخصی وجود (personal God) کے طور پر ماننا۔ اور دوسرا ہے تصورِ وحدتِ وجود(monism) ، یعنی خدا کو غیرشخصی ہستی(impersonal God) کے طورپر ماننا۔ یہ وہی چیز ہے جس کو کچھ دوسرے لوگ داخل میں بسا ہوا خدا (indwelling god) کے لفظ سے تعبیر کرتے ہیں۔
وحدتِ وجود کو سنسکرت میں اُدوئت واد کہا جاتا ہے۔ اِس تصور کے مطابق، خدا صرف ایک اسپرٹ ہے، جس طرح قوتِ کشش (gravity) ایک اسپرٹ ہے۔ وحدتِ وجود کے نظریے کو اگر چہ مسلم صوفیوں نے اختیار کرلیا، لیکن میرے نزدیک وہ سرتاسر ایک بے اصل (baseless) نظریہ ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ وحدتِ وجود کوئی مذہبی تصور نہیں، وہ صرف ایک فلسفیانہ تصور ہے جس کو مذہب میں شامل کرلیاگیا ہے۔ اسی بنا پر ہندو مذہب میں اِس اعتبار سے سخت تضاد پیدا ہوگیا ہے۔ ایک طرف وہ نِراکار خدا (formless god) کو مانتے ہیں اور دوسری طرف وہ دیوتاؤں کی مورتی بنا کر اُس کو آکار(form) کا درجہ دئے ہوئے ہیں۔
موجودہ زمانے میں سائنس نے کائنات کا جو مطالعہ کیا ہے، اُس سے یہ بات ثابت ہوگئی ہے کہ کائنات کی تخلیق اور اس کے انتظام میں ایک برتر ذہن (superior mind) کام کررہا ہے، جس کو ایک سائنس داں نے شعوری وجود (conscious being) کا نام دیا ہے۔ اِس طرح سائنس کی دریافتوں نے وحدتِ وجود کے تحت مفروضہ تصورِ خدا کی مکمل طور پر تردید کردی ہے، جس طرح اُس نے زمین مرکزی (geo-centric) شمسی نظام کی تردید کردی تھی۔ اِس کے برعکس، سائنس کی دریافتیں پورے معنوں میں عقیدۂ توحید کے تحت بیان کردہ تصورِ خدا کی علمی تصدیق بن گئی ہیں۔
سوال
موجودہ زمانے میں ہم دیکھتے ہیں کہ بہت سے لوگ اپنے اپنے انداز میں اسلام کی تعبیرات (interpretations) پیش کررہے ہیں۔ اِس طرح اسلام کے بہت سے تصورات بن گئے ہیں۔ اِس صورتِ حال کو دیکھ کر عام انسان سخت پریشان ہے۔ اُس کی سمجھ میں نہیں آتا کہ وہ کس کے تصورِ اسلام کو درست سمجھے، اور کس کے تصورِ اسلام کو نا درست۔ براہِ کرم، اِس معاملے کی وضاحت فرمائیں (ایک قاری الرسالہ، سری نگر، کشمیر)
جواب
یہ سوال عام طورپر وہ لوگ کرتے ہیں جن کا مطالعہ اسلام کے بارے میں بہت کم ہوتا ہے۔ وہ مختلف لوگوں کی بات سنتے ہیں اور مختلف قسم کی کتاب اپنی مادری زبان میں پڑھتے ہیں۔اُن کے اندر تجزیہ اور محاکمہ (analysis) کی صلاحیت نہیں ہوتی۔ اپنی اِس کمی کی بنا پر وہ اسلام کے بارے میں کنفیوژن (confusion) کا شکار ہوجاتے ہیں۔
اِس قسم کے لوگوں کے لیے صرف دو میں سے ایک کا انتخاب ہے— یا تو وہ اپنی دوسری مصروفیتوں کو چھوڑ کر عربی زبان سیکھیں اور پھر براہِ راست طورپر اسلام کا تفصیلی مطالعہ کریں۔ اِس گہرے مطالعے کے بعد وہ جس نتیجے پر پہنچیں، اُس کو اختیار کرلیں- لیکن اگر وہ اِس قسم کے تفصیلی مطالعے کا موقع نہ رکھتے ہوں تو اُن کے لیے دوسرا انتخاب صرف یہ ہے کہ وہ کسی عالم کو اپنا رہنما بنا لیں۔ مختلف علماء میں سے جس عالم کے علم اور اخلاص پر اُن کو اعتماد ہو، وہ اُس کو پکڑ لیں۔ وہ اس کی کتابوں کو پڑھیں اور جہاں ضرورت ہو، اُس سے رجوع کریں۔ اِن دو کے سوا جو طریقہ وہ اختیار کریں گے، وہ صرف اُن کی گم راہی کو بڑھائے گا، وہ اُن کو ہدایت تک پہنچانے والا نہیں۔
عجیب بات ہے کہ اکثر لوگ اِس کے خلاف عمل کرتے ہیں۔ وہ مختلف علماء اور غیر علماء سے اپنے سوالات پر گفتگو کرتے رہتے ہیں۔ چوں کہ اُن کے اندر محاکمہ کی صلاحیت نہیں ہوتی، اِس لیے وہ ہمیشہ خیالات کے جنگل میں جیتے ہیں اور ہمیشہ کنفیوژن کا شکار رہتے ہیں۔ یہ کوئی سادہ بات نہیں۔ جو آدمی کنفیوژن کا شکا رہو، وہ ہمیشہ بے یقینی کا شکار رہے گا، اور بے یقینی آدمی کو اِس سے محروم کردیتی ہے کہ وہ سچائی کو دریافت کرے اور اُس پر یقین کے ساتھ کھڑا ہوجائے۔
واپس اوپر جائیں

پیغام

یہ جان کر خوشی ہوئی کہ اخبار ’’پربھات‘‘ (میرٹھ، یوپی) کا اردو ایڈیشن (صبا پربھات) نکل رہا ہے۔ یہ اخبار کے لیے گویا کہ ایک نئی پہل ہے۔ میری دعا ہے کہ اخبار کی یہ نئی پہل ہراعتبار سے کامیاب ہو۔
میں سمجھتا ہوں کہ کسی اخبار کا پہلا مقصدیہ ہونا چاہیے کہ وہ وقت کے حالات کی صحیح رپورٹنگ کرے، وہ لوگوں کے اندر درست سوچ پیدا کرے۔ اخبار کسی سماج کا چوتھا ستون مانا جاتا ہے۔ مجھے امید ہے کہ ’’پربھات‘‘ کا ہندی ایڈیشن اور اس کا اردو ایڈیشن دونوں اِس معیار پر پورے اتریں گے۔
اِس وقت ہمارے ہندستانی سماج کو سب سے زیادہ جس چیز کی ضرورت ہے، وہ تعمیری سوچ ہے۔ جس سماج کے لوگوں میں تعمیری سوچ ہو، وہی لوگ اچھا سماج بناتے ہیں۔ افراد کے اندر تعمیری سوچ کے بغیر کوئی سماج اچھا سماج نہیں بن سکتا۔
یہ ایک حقیقت ہے کہ ہر سماج میں ہمیشہ مختلف قسم کی باتیں پیش آتی ہیں، خوش گوار باتیں بھی اور ناخوش گوار باتیں بھی۔ اِس معاملے میں اخبار کا کام ایک ریفارمر (reformer)کا کام ہے۔ اخبار کو یہ کرنا چاہیے کہ وہ اچھی باتوں کو نمایاں کرے اور لوگوں کے اندر یہ مزاج پیدا کرے کہ اگر اُن کو اپنی زندگی میں کچھ ناگوار باتوں کا تجربہ ہو تو وہ اُن کو نظر انداز کرنے کی پالیسی اختیار کریں، وہ ہر حال میں اعتدال کے اصول پر قائم رہیں۔ اِس طرح کے مزاج کو فروغ دینا ہی سب سے بڑا تعمیری کام ہے۔ میں امید کرتا ہوں کہ اخبار ’’پربھات‘‘ صحافت کے میدان میں یہی تعمیری رول ادا کرے گا۔
نئی دہلی، 2 اپریل 2009 دعاگو
وحید الدین
واپس اوپر جائیں

خبر نامہ اسلامی مرکز — 195

1 - نئی دہلی کے انگریزی اخبار ڈی این اے (DNA) کے سینئر اسٹنٹ ایڈیٹر مسٹر پارسا (Parsa Venkateshwar Rao Jr.) نے 18 اپریل 2009 کو صدر اسلامی مرکزکا انٹرویو لیا۔ انٹرویو کا موضوع جِزیہ تھا۔ جزیہ کے بارے میں اسلام کا اصول بتایا گیا ۔ یہ بھی بتایا گیا کہ آج کل طالبان جزیہ کا قانون جس طرح نافذ کررہے ہیں، وہ اسلام کی تعلیم کے مطابق نہیں۔
2 - صدر اسلامی مرکز کا انگریزی ترجمۂ قرآن Book Expo America, J. J. Center, New York میں تقسیم کیا گیا۔ یہ تقسیم تحریک ترسیل قرآن کی طرف سے عمل میں آئی۔لندن بک فیر (20-22 اپریل 2009) میں بھی بڑے پیمانے پر قرآن کا یہ انگریزی ترجمہ لوگوں کو مطالعے کے لیے دیاگیا۔
3 - نئی دہلی کی ایک آئی اسپیشلسٹ(Dr. S. Mazumdar) کو قرآن کے انگریزی ترجمے کا ایک نسخہ دیا گیاتووہ بہت خوش ہوئیں ۔ انھوں نے اپنی خوشی کا اظہار ان الفاظ میں کیا :
How lovely, I was very much wanting to have a copy of the Quran in my house.
4 - انڈیا انٹرنیشنل سنٹر، انیکسی (نئی دہلی) میں 9 مئی 2009 کی شام کو ایک پروگرام ہوا۔ یہ پروگرام سی پی ایس انٹرنیشنل اور گڈ ورڈ بکس (نئی دہلی( کے مشترک تعاون سے ہوا۔ یہ پروگرام صدر اسلامی مرکز کے خطاب کے لیے کیاگیا تھا۔ اس کا موضوع یہ تھا: How to Discover God?
صدر اسلامی مرکز نے اِس موقع پر ایک گھنٹہ تقریر کی۔ تقریر کے بعد سوال وجواب کا پروگرام ہوا۔پورا ہال سامعین سے بھرا ہوا تھا۔ اِس پروگرام میںاعلیٰ تعلیم یافتہ ہندو اور مسلم دونوں طبقے کے افراد بڑی تعداد میں شریک ہوئے۔ ان لوگوں کو مطالعے کے لیے دعوتی لٹریچر اور قرآن کا انگریزی ترجمہ دیا گیا۔ یہ پروگرام انگریزی زبان میں ہوا۔
5- Maulana, This is one of the examples how a group of sisters here working among themselves to educate themselves from the books written by you. This sister sends one or two page articles from one of your books from www.alrisala.org as GEM OF THE DAY as an attachment. This will go a long way in re-engineering of the minds of the people she is targeting to. This particular sister also sends articles from the “Spiritual Message” to college students so that the students share these articles through a social networking website called “Face Book”. Really this is a revolutionary step that will help in bringing a change in the people’s perception of God and Religion. I cannot stay without mentioning about sister Bushra who has strength, stamina, and dedication in successfully bringing the Saturday and Sunday Spiritual classes on Ustream Website for the benefit of the world audience. She is multi-talented person.
We, all working here and over there, need your Du’a to continue to work to convey the message of Islam, the duty entrusted to us by our beloved prophet, to the people around the world. (Kaleem, USA)
6 - صدر اسلامی مرکز سے دینی، علمی اور فکری استفادے کے لیے دنیا کے مختلف مقامات سے لوگ آتے رہتے ہیں۔ مارچ 2008 سے ایک نیا سلسلہ شروع ہوا ہے۔ یہ علماء کی آمد کا سلسلہ ہے۔ ہندستان کے مختلف مقامات کے علماء، خاص طورپر ساؤتھ انڈیا کے علماء برابر صدر اسلامی مرکز سے استفادہ کررہے ہیں۔ یہ لوگ اپنے طورپر قیام و طعام کا انتظام کرکے دہلی میں ٹھیرتے ہیں اور دن کے مختلف اوقات میں صدر اسلامی مرکز کے حلقے میں شریک ہو کر ان سے تربیت لیتے ہیں۔ یہ علماء پہلے سے مختلف دینی اور دعوتی کاموں میں شامل رہے ہیں، مگر ان کا بیان ہے کہ صدر اسلامی مرکز سے استفادہ کرنے کے بعد ہماری آنکھیں کھل گئیں۔ ہم نے پایا کہ اس سے پہلے ہم صرف مظاہر ِدین پر کھڑے ہوئے تھے۔ اب ہم حقیقی دین سے متعارف ہوئے ہیں۔ مزید انھوںنے کہا کہ ابتداء ً کئی مہینے تک ہم نے خالص تنقیدی انداز میں مطبوعات الرسالہ کا گہرا تقابلی مطالعہ کیا۔ ہم نے اپنے مطالعے میں پایا کہ الرسالہ کا لٹریچر قرآن اور سنت کو معیار بنا کر تیار کیا گیا ہے۔ دینی اعتبار سے اِس میں شبہہ کی کوئی گنجائش نہیںہے۔ جو فرق ہے، وہ صرف اسلوب کا فرق ہے، یعنی قرآن اور سنت کی تعلیمات کو عصری اسلوب میں بیان کرنا۔ یہ حضرات الرسالہ اور مطبوعات الرسالہ کو بڑے پیمانے پر دوسرے لوگوں تک پہنچا رہے ہیں۔
7. Mualana Sahab! Thank you for your co-operation. You have given me healthy guidance through positive dose by your literature. I have got positive Islam. Before your guidance, I had been far away from Islam. I wish you may live long. (Makhmoor Alam Ranchwi, West Bengal)
8- My father is a doctor and was a member of Jamat-e-Islami in Pakistan, when he read your book “Mazhab aur Jadid Challenge” in 1990, he was inspired, and then he read and reread almost all of your books, from 1997 he started teaching us 10 to 15 verses of Quran from Tazkirul Quran daily, and this process is continuing till now I, my younger brother and my friends do dawa work in colleges, libraries and in many public areas, whenever we get a chance, the mission of building my future (akhirat) is very much important than all of my material needs. This is all done because of your Dawa Work. I regularly wait for Alrisala monthly and when I recieve it, I study it between the lines, and share it with my friends. I have discovered Islam, I have discovered Allah and I have discovered myself. Your article published in Alrisala Sep. 2008 (On the Threshhold of Doomsday) has brought revolution to many of my friend’s lives. Today I studied Alrisala Feb 2009, the trip to Cyprus, was very spiritual and intellectual. I cried and wept while reading it, because I think that almost all the people are not aware from the reality. (Salman, Pakistan)
9 - مکرمی و محترمی مولانا صاحب، آپ کے بارے میں میرے ذہن میں متضاد رائیں تھیں۔ بھلا ہو میرے سمدھی شکیل احمد خاں کا جنھوںنے ’’الرسالہ‘‘ میرے نام جاری کروادیاہے۔ الرسالہ پڑھ کر میری غلط فہمی دور ہوئی۔ الرسالہ قابل قدر مضامین سے بھر پور پرچہ ہے۔ پڑھنے کے قابل ہوتا ہے۔1973 سے امریکا میں ہوں ۔ متعدد رسائل اردو اور انگلش پڑھتا رہتا ہوں، لیکن الرسالہ کی بات ہی کچھ اور ہے۔ خصوصاً قبرص کاسفر (فروری 2009 )۔ اِس کے علاوہ، جون 2009 کے شمارے میں ’’حیاتیاتی ارتقا کا نظریہ‘‘ بہت ہی معلوماتی مضمون ہے۔ (مقبول رضوی، شکاگو، امریکا)
10- I have looked at the new Quran translation (translated by Maulana Wahiduddin Khan). It is a good translation, and the best we have for dawah in terms of content:
ک The samll size may give the impression that this is a quick read.
ک Cost. We can more easily make this av ailable for free, such as when people walk in to our premises, at dawah tables, etc. (Shabir Ally, Canada)
11 - رمضان سے متعلق صدر اسلامی مرکز کے چار لیفلٹس تیار ہوگئے ہیں— روزہ کی حقیقت، روزہ اور قرآن، روزہ اوراخلاق، رمضان اور عید الفطر۔ رمضان کے مہینے میں لوگوں کے مطالعے کے لیے یہ لیفلٹس اِن شاء اللہ بے حد مفید ثابت ہوںگے۔ آپ اِن لیفلٹس کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے میں ہمارا تعاون کیجئے۔
واپس اوپر جائیں