Pages

Monday, 2 November 2009

Al Risala | November 2009 (الرسالہ،نومبر)

2

-ایک آیت

3

- بے خوفی کی نفسیات

4

- جنت یا جہانِ لذت

5

- عقل اور دین

6

- اعلیٰ معرفت

7

- معرفت کاسفر

8

- خدا کا وجود

9

- موت سے پہلے، موت کے بعد

10

- نماز اور قرآن

13

- تکفیر یا تبلیغ

14

- ایک اجتماعی ضرورت

15

- فطرت کا نظام

16

- بے اعترافی کا مزاج

17

- ردّ عمل، انتہا پسندی

18

- شکایت کا مزاج

19

- دو عظیم فکری انقلابات

26

- تباہ کن غلط فہمی

27

- فخر اور نفرت

28

- مسلمان عالمی محاصرہ میں

29

- شریعتِ محمدی کا نفاذ

30

- ارتقاء یا مغالطہ

31

- تاریخ کے تین دور

32

- اصلاحِ نصاب، یا اصلاحِ ماحول

34

- ہر گھر بگاڑ کا کارخانہ

35

- خدا کا اعتراف نہیں

36

- بچوں کا قبرستان

37

- بحران کا مثبت پہلو

38

- انفرادی آداب، اجتماعی آداب

39

- حرص، قناعت

40

- خیر خواہی یا بد خواہی

41

- سوال وجواب

43

- خبرنامہ اسلامی مرکز


ایک آیت

قرآن کی سورہ نمبر 4 میں ارشاد ہوا ہے: وإن مّن أہل الکتاب إلاَّ لیؤمننّ بہ قبل موتہ (النساء: 159) یعنی اہل کتاب میں سے کوئی شخص ایسا نہیں ہے جو اپنی موت سے پہلے اس (قرآن) پر ایمان نہ لے آئے۔
اِس آیت میں ایک متعین حوالہ (particular reference) کی روشنی میں ایک عمومی (general) بات کہی گئی ہے، وہ یہ کہ اکثر ایسا ہوتا ہے کہ آدمی ایک سچائی کا انکار کرتا رہتا ہے، لیکن اپنے آخری زمانے میں جب کہ وہ اپنی موت کے قریب پہنچ جاتا ہے،اُس وقت وہ محسوس کرتا ہے کہ میرا انکار درست نہ تھا۔ آخر وقت میںاُس کا دل اُس بات کو داخلی طور پر مان لیتا ہے جس کا وہ اپنی پوری زندگی میں انکار کرتا رہا۔
اِس کا سبب یہ ہے کہ سچائی اپنی حقیقت کے اعتبارسے ہر آدمی کے دل کی آواز ہوتی ہے۔ وہ شعوری یا غیر شعوری طورپر اس کی صداقت کو محسوس کرتارہتا ہے۔ لیکن جوانی کی عمرمیں اس کو اپنے اوپر اتنا زیادہ اعتماد رہتا ہے کہ وہ سچائی کے معاملے پر غور کرنے کی ضرورت نہیں سمجھتا۔ وہ سمجھتا رہتا ہے کہ میرا راستہ درست راستہ ہے۔ وہ اپنی بڑائی کو باقی رکھنے کے لیے سچائی کا اعتراف کرنے کے لیے تیار نہیں ہوتا۔
لیکن جب اُس پر بڑھاپا آتا ہے، جب وہ ذہنی اور جسمانی کم زوری کا شکار ہوجاتاہے، جب وہ دیکھتا ہے کہ جلد ہی میری موت آنے والی ہے، اُس وقت حالات کے اثر سے اس کے اندر نظر ثانی کا مزاج پیداہوجاتاہے۔ اس کی دبی ہوئی فطرت ابھر آتی ہے۔ وہ محسوس کرنے لگتا ہے کہ سچائی وہی تھی جس کا میں انکار کرتا رہا، لیکن عزتِ نفس (self-respect)کا خیال اس کو اس سے روک دیتا ہے کہ وہ کھلے طورپر اپنی غلطی کا اعتراف کرے۔ رشید کوثر فاروقی (وفات: 2007 ) نے اپنے ایک شعر میں اِس حقیقت کا اعتراف اِن الفاظ میں کیا ہے:
زیست کا راز کھلا، گردشِ ایام کے بعد اِس کہانی کا تو آغاز تھا، انجام کے بعد
واپس اوپر جائیں

بے خوفی کی نفسیات

آج کل مسلمانوں میں ہر جگہ اسلام کی دھوم ہے۔ مشرق سے مغرب تک ہر جگہ دین کے نام پر بے شمار سرگرمیاں جاری ہیں۔ مگر اِن ہنگامہ خیز سرگرمیوں میں وہی چیز غائب ہے جو دین کی اصل ہے، یعنی اللہ کا خوف جس کو قرآن اور حدیث میں تقویٰ کہاگیا ہے۔
آج کل مسلمانوں کا حال یہ ہے کہ اگر اُنھیں قیامت کی خبر دی جائے تو وہ ایسا جواب دیں گے، جیسے کہ انھیں قیامت کے آنے کاکوئی ڈر نہیں، اس لیے کہ ان کو ’’شفیع المذنبین‘‘ کا وسیلہ حاصل ہے۔ قیامت اگر آئی بھی تو وہ صرف دوسروں کے لیے ہوگی، نہ کہ مسلمانوں کے لیے۔
مسلمانوں کو قیامت سے ڈرائیے تو اُن میں سے کوئی شخص کہے گا کہ ابھی قیامت کہاں، ابھی تو مسیح نازل نہیں ہوئے۔ ابھی تو مہدی نہیں آئے۔ ابھی تو دجال ظاہر نہیں ہوا۔ کوئی کہے گا کہ حدیث میں آیا ہے: مَن مات فقد قامت قیامتہ۔ اِس کا مطلب یہ ہے کہ انفرادی قیامت تو ہر روز آرہی ہے۔ اِسی طرح ایک دن اجتماعی قیامت بھی آجائے گی، پھر اس کے بارے میں فکر مند ہونے کے کیا معنیٰ۔ کوئی کہے گا کہ دنیا اور آخرت کی تمام سعادتیں مسلمانوں کے لیے لکھ دی گئی ہیں، پھر ایسی حالت میں قیامت سے ڈرنے کی کیا ضرورت، وغیرہ۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بعثتُ أنا والساعۃ جمیعًا (مسند احمد، جلد 5، صفحہ 348) یعنی میں اور قیامت دونوں ساتھ ساتھ بھیجے گئے ہیں۔ اِس کو سن کر اصحابِ رسول کا یہ حال ہوا کہ اگر آندھی بھی آجاتی تو وہ ڈر جاتے کہ شاید قیامت آگئی۔ مگر آج کل مسلمانوں کی بے خوفی کا یہ حال ہے کہ اُن سے کچھ بھی کہیے، لیکن ان کے اندر ڈر کی نفسیات نہیں پیدا ہوگی، وہ بدستور بے خوفی کی زندگی گزارتے رہیں گے۔یہ حالت صرف عام مسلمانوں کی نہیں ہے، بلکہ ان لوگوں کی بھی یہی حالت ہے جن کی ظاہری وضع قطع کو دیکھ کر ان کو دین دار مسلمان ہونے کا لقب دیا جاتاہے۔ یہ گراوٹ کا آخری درجہ ہے، اس کے بعد گراوٹ کاکوئی اور درجہ نہیں۔
واپس اوپر جائیں

جنت یا جہانِ لذت

قرآن کی سورہ نمبر 14 میںدنیا کے بارے میں یہ الفاظ آئے ہیں: وآتاکم من کلّ ما سألتموہ (إبراہیم:34 )اِس کے مقابلے میں، جنت کے بارے میں قرآن کی سورہ نمبر 42 میں یہ الفاظ آئے ہیں: ولکم فیہا ما تشتہی أنفسکم (حم السجدۃ:31) اِن دونوں آیتوں پر غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ موجودہ دنیا میں انسان کو تمام چیزیں بقدرِ ضرورت دی گئی ہیں۔ اِس کے مقابلے میں جنت میںانسان کو تمام چیزیں بقدر خواہش دی جائیں گی۔
انسان کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ ایک لذت طلب حیوان (pleasure-seeking animal) ہے۔ لذت ایک انوکھی صفت ہے جو صرف انسان کے اندر پائی جاتی ہے۔ انسان کے اندر ہر قسم کی لذتوں کی بے پناہ طلب موجود ہے۔ لیکن موجودہ دنیا میں کسی بھی عورت یا مرد کی خواہشیں پوری نہیں ہوتیں۔ ہر ایک کے ساتھ یہ ہوتاہے کہ وہ کامل فُل فِل مینٹ (fulfilment) کے حصول کے بغیر مرکر اِس دنیا سے چلا جاتاہے، خواہ وہ امیر ہو یا غریب، خواہ وہ عالم ہو یا جاہل، خواہ وہ عام انسان ہو یا کوئی بادشاہ۔
انسان کی لذتوں کی فہرست بہت لمبی ہے— لذتِ فکر، لذتِ بصارت، لذت سماعت، لذتِ ذائقہ، لذتِ لمس، لذتِ گفتگو، لذتِ رفاقت، لذتِ مطالعہ، لذتِ دریافت، لذتِ مسرت، وغیرہ۔ اِن تمام لذتوں کی طلب انسان کے اندر بے پناہ حد تک موجود ہے، لیکن موجودہ دنیا میں انسان اپنی اِن لذتوں کی تکمیل نہیں کر پاتا۔ وہ اِسی کی تلاش میں رہتا ہے، مگر بہت جلد اس کو موت آجاتی ہے۔ موجودہ دنیا میں اُس کو احساسِ لذت کا تجربہ تو ہوتا ہے، لیکن تکمیلِ لذت کا تجربہ اس کو حاصل نہیں ہوتا۔
ایک ملحدفلسفی نے جنت کو ’’خوش خیالی‘‘ قرار دیتے ہوئے لکھا ہے کہ جنت انسانی تمناؤں کی خوب صورت تخئیل (beautiful idealization of human wishes) ہے۔ مگر زیادہ صحیح بات یہ ہے کہ جنت انسان کی خوب صورت تمناؤں کا پوری طرح وقوع میں آنا (beautiful actualization of human wishes) ہے۔
واپس اوپر جائیں

عقل اور دین

قرآن کی سورہ نمبر 38 میں قرآن کے بارے میں یہ آیت آئی ہے: کتابٌ أنزلناہ إلیک مبارک لیدّبّرواآیاتہ ولیتذکر أولوا الألباب(ص: 29 ) یعنی یہ ایک مبارک کتاب ہے جو ہم نے تمھاری طرف اتاری ہے، تاکہ لوگ اس کی آیتوں پر غور کریں اور تاکہ عقل والے اس سے نصیحت حاصل کریں۔
اِس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ قرآن لفظی تلاوت(recitation) کے لیے نہیں ہے، بلکہ وہ اِس لیے ہے کہ پڑھنے والا اپنی عقل کو استعمال کرتے ہوئے اس کی آیتوں پر غور کرے اور اُس سے وہ نصیحت حاصل کرے جو آیتوں کے اندر چھپی ہوئی ہے۔
عقل کی اہمیت کے بارے میں پیغمبر اسلام ﷺکی بہت سی روایتیں آئی ہیں۔ اِن میں سے ایک روایت کے الفاظ یہ ہیں: لکلّ شییٔ دِعامۃ، ودعامۃ المؤمن عقلہ ( مسند الحارث للہیثمی، رقم الحدیث: 840 ) یعنی ہر چیز کا ایک ستون ہوتا ہے، اور مومن کا ستون اس کی عقل ہے۔
اِس معاملے کی وضاحت ایک اور حدیث سے ہوتی ہے۔ ایک روایت کے مطابق، پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے قرآن کے بارے میں فرمایا کہ قرآن کی ہر آیت کا ایک ظاہرہے اور ایک اس کا باطن ہے (لکل آیۃ منہا ظہر وبطن)۔
قرآن کی آیتوں کا ظاہری مفہوم تو اس کی آیتوں کے ترجمے سے معلوم ہوجاتا ہے، لیکن آیتوں کا جو باطن، یعنی اس کا جو گہرا مفہوم ہے، وہ صرف عقل کے استعمال کے ذریعے ہی معلوم ہوتاہے۔ عقل کے ذریعے آدمی الفاظ پر مزید غور وفکر کرتا ہے۔ اِس غور وفکر کے ذریعے وہ آیتوں کے اندر چھپے ہوئے گہرے معانی تک پہنچتا ہے۔ قرآن کی یہ گہری معرفت ہی آدمی کے اندر اعلیٰ ایمانی کیفیت پیدا کرتی ہے— عقل کے استعمال کے بغیر کسی آدمی کو جو دین حاصل ہوتا ہے، وہ دین کا چھلکا ہے اور عقل کے استعمال کے بعد کسی آدمی کو جو دین حاصل ہوتاہے، وہ دین کا مغز ہے۔
واپس اوپر جائیں

اعلیٰ معرفت

اعلیٰ معرفت بلا شبہہ کسی انسان کا سب سے بڑا سرمایہ ہے۔یہ دراصل اعلیٰ معرفت ہے جو انسان کو حیوان سے ممیّز کرتی ہے۔ اعلیٰ معرفت کو حاصل کرنا، اتنا ہی ممکن ہے جتنا کہ کسی اور چیز کو حاصل کرنا۔ شرط صرف یہ ہے کہ آدمی اس کی قیمت ادا کرے۔ ضروری قیمت ادا کئے بغیر اِس دنیا میں کوئی چیز کسی کو نہیں ملتی، اور اِسی طرح اعلیٰ معرفت بھی۔
اعلیٰ معرفت کے حصول کی قیمت کیا ہے، وہ صرف ایک ہے— معرفت کو اپنی زندگی میں اوّلین درجہ دینا اور بقیہ تمام چیزوں کو ثانوی بنادینا۔ جو عورت یا مرد یہ قیمت اداکریں، وہ ضرور اعلیٰ معرفت کے درجے تک پہنچیں گے۔ اور جو لوگ یہ قیمت ادا نہ کریں، وہ کسی بھی حال میں اعلیٰ معرفت کے درجے تک نہیں پہنچ سکتے، خواہ کسی اور اعتبار سے انھوں نے کتنا ہی زیادہ عمل کیاہو۔
اصل یہ ہے کہ زندگی میں بار بار ایسے مواقع آتے ہیں، جب کہ آدمی اپنے آپ کو دو تقاضوں کے درمیان پاتا ہے، دین کا تقاضا اور دنیا کا تقاضا۔ ایسے موقع پر آدمی اگر یہ کرے کہ وہ دین کے تقاضے کو نظر انداز کرتے ہوئے اپنے دنیوی تقاضے کی طرف جھک جائے، تو ایک بار ایسا کرنا بھی آدمی کے لیے ہلاکت کا سبب بن جاتا ہے۔
اِس طرح شیطان کو یہ موقع مل جاتا ہے کہ وہ آدمی کے سفرِ معرفت کو روک کر اس کو پیچھے کی طرف دھکیل دے۔ یہی وہ حقیقت ہے جو قرآن میں اِس طرح بیان کی گئی ہے:
’’جو لوگ ڈر رکھتے ہیں، جب کبھی اُنھیں کوئی شیطانی خیال چھو جاتاہے تو وہ فوراً چونک پڑتے ہیں، اور پھر اُسی وقت اُن کو سوجھ آجاتی ہے۔ اور جو شیطان کے بھائی ہیں، وہ اُن کو گم راہی میں کھینچے چلے جاتے ہیں، پھر وہ کمی نہیں کرتے۔‘‘ (الأعراف: 201-202 )
حقیقت یہ ہے کہ معرفت کا سفر ایک مسلسل سفر ہے۔ ایک دن کے لیے بھی اگر آدمی نے اپنے سفرِ معرفت کو روکا تو وہ سالوں کے لیے پیچھے چلا جائے گا۔
واپس اوپر جائیں

معرفت کاسفر

گورنمنٹ سروس میں ایک ضابطہ ہے جس کو بریک اِن سروس (break in service) کہاجاتا ہے۔ اگر آپ گورنمنٹ سروس میں ہوں اور آپ بیس سال تک سروس کرتے رہیں، اِس کے بعد اچانک آپ بلا سبب اور بلا اجازت ڈیوٹی پر نہ آئیں تو آپ کی ساری سینئرٹی (seniority) ختم ہوجائے گی۔ آپ پیچھے لوٹ کر دوبارہ وہاں پہنچ جائیں گے،جہاں سے آپ نے سروس شروع کی تھی۔ اِس معاملے کو اصطلاح میں بریک ان سروس کہاجاتا ہے۔
یہی معاملہ معرفت (realization of God) کے سفرکا بھی ہے۔ اگر آپ معرفت کا سفر شروع کریں اور ایک مدت تک آپ مسلسل اُس پر چلتے رہیں، پھر آپ ایک عذر (excuse) لے کر وقتی طورپر معرفت کے سفر کو روک دیں، تو یہ رکنا صرف ایک وقتی رکنا نہ ہوگا، بلکہ وہ بریک اِن معرفت کے ہم معنیٰ بن جائے گا، یعنی آپ پیچھے لوٹ کر دوبارہ اُس ابتدائی مقام پر پہنچ جائیں گے جہاں سے آپ نے اپنا سفرِ معرفت شروع کیا تھا۔
آدمی پر حقیقت کھلتی ہے اور وہ معرفت کا مسافر بن جاتاہے، پھر درمیان میں کچھ غیر متعلق تقاضے پیش آتے ہیں جن کو عذر بنا کر آدمی اپنے سفرِ معرفت کو روک دیتا ہے۔ مثلاً خاندانی تقاضا، مادّی منفعت کا تقاضا، ذاتی رجحان کا تقاضا، وغیرہ۔
ایسے موقع پر آدمی کو چاہئے کہ وہ اِس قسم کے کسی تقاضے کو ہر گز اپنے لیے عذر نہ بنائے۔ وہ دوسرے تمام تقاضوں کو نظر انداز کرتے ہوئے معرفت کے سفر کو جاری رکھے۔ ایسا ہی شخص منزل تک پہنچے گا۔ اور جس آدمی نے کسی غیر متعلق تقاضے کو لے کر اس کو اپنے لیے عذر بنا لیا تو وہ اُس کے لیے بریک اِن معرفت کا واقعہ بن جائے گا۔
یہ ایک نہایت سنگین معاملہ ہے۔ معرفتِ حق کے مسافر کو ایسی غلطی کبھی نہیں کرنا چاہیے، ورنہ وہ ایسے نقصان سے دوچار ہوگا جس کی تلافی دوبارہ ممکن نہیں۔
واپس اوپر جائیں

خدا کا وجود

پچھلے تقریباً پانچ سو سال سے کائنات کا سائنسی مطالعہ جاری ہے۔ اِس مطالعے میں بڑے بڑے دماغ شامل رہے ہیں۔ آخری بات جہاں یہ سائنسی مطالعہ پہنچا ہے، وہ یہ ہے کہ کائنات اتنی زیادہ وسیع ہے کہ انسان کے لیے اُس کو اپنے احاطے میں لانا بظاہر ناممکن ہے۔ تازہ ترین سائنسی تحقیق کے مطابق، انسان کا علم بہ مشکل کائنات کے صرف پانچ فی صد حصے تک پہنچا ہے۔ اِس پانچ فی صد حصے کے معاملے میں بھی انسانی علم کی محدودیت کا یہ عالم ہے کہ ایک سائنس داں نے کہا کہ ہم جتنا دریافت کرپاتے ہیں، اُس سے صرف یہ معلوم ہوتاہے کہ دریافت شدہ چیزیں بھی ابھی تک غیردریافت شدہ چیزوں کی حیثیت رکھتی ہیں۔ ہمارا حال یہ ہے کہ ہم کم سے کم کے بارے میں زیادہ سے زیادہ جان رہے ہیں:
We are knowing more and more about less and less.
خدا کے بارے میں جاننا خالق (Creator) کے بارے میں جاننا ہے۔ مگر تجربہ بتاتا ہے کہ ابھی تک انسان خالق کی تخلیق (creation) کے بارے میں بھی صرف چند فی صد جان سکا ہے۔ ایسی حالت میں کسی انسان کا یہ مطالبہ کرنا کہ خالق کے بارے میں ہم کو قطعی معلومات دو، سرتاسر ایک غیر علمی مطالبے کی حیثیت رکھتا ہے۔ جب انسان کا حال یہ ہے کہ وہ ابھی تک تخلیق کے بارے میں پورا علم حاصل نہ کرسکا تو وہ خالق کے بارے میں پورا علم کیسے حاصل کرسکتا ہے۔
تخلیق کا وجود زمان ومکان(space and time) کے اندر ہے، اور خالق کا وجود ماورائے زمان ومکان(beyond space and time) سے تعلق رکھتا ہے، پھر جو انسان اتنا محدود ہو کہ وہ زمان ومکان کے اندر کی چیزوں کا بھی احاطہ نہ کرسکے، وہ زمان ومکان کے باہر کی حقیقت کو اپنے احاطے میں کس طرح لا سکتا ہے— حقیقت یہ ہے کہ اِس دنیا میں انسان خدا کو صرف عجز کی سطح پر دریافت کرسکتا ہے، نہ کہ علم کی سطح پر۔
واپس اوپر جائیں

موت سے پہلے، موت کے بعد

پوری انسانی تاریخ میں انسان جس سب سے بڑی فراموشی میں مبتلا رہا ہے، وہ صرف ایک ہے، اور وہ موت کا معاملہ ہے۔اِس معاملے میں انسان کی غفلت کا یہ عالم ہے کہ مشکل سے چند ایسے افراد دریافت کیے جاسکتے ہیں جو اِس معاملے میں فراموشی کا شکار نہ ہوں۔
موجودہ دنیادار الامتحان (testing ground)ہے۔ اِس کا مطلب یہ ہے کہ موجودہ دنیا میں انسان کو جو کچھ ملا ہوا ہے، وہ سب کا سب سامانِ امتحان کے طورپر ملا ہوا ہے۔ موت اِس مدتِ امتحان کو ختم کرتی ہے۔ اِس لیے موت کے آتے ہی ہر انسان سے وہ تمام چیزیں اچانک چھن جائیں گی جو اُس کو یہاں امتحان کے طور پر ملی ہوئی تھی۔
موت کے بعد آدمی اچانک ایک نئی دنیا میں داخل ہوجاتا ہے۔ یہ دنیا اپنے عمل کے نتائج پانے کی دنیا ہے۔ موت سے پہلے آدمی اگر سامانِ امتحان میں جی رہا تھا تو موت کے بعد اُس کو اپنے عمل کے نتائج کے درمیان جینا پڑے گا۔ موت سے پہلے کی زندگی عارضی زندگی ہے، یعنی بہ مشکل سو سال، لیکن موت کے بعد کی زندگی ابدی زندگی ہے، اُس کا کبھی خاتمہ ہونے والا نہیں۔
موت سے پہلے کی زندگی میںانسان کو بے شمار چیزیں ملی ہوئی ہیں۔ یہ تمام چیزیں پیدا ہوتے ہی اُس کو اپنے آپ حاصل ہوجاتی ہیں۔ اِس لیے آدمی اِن چیزوں کو فار گرانٹیڈ (for granted) طور پر لیتا رہتا ہے۔ وہ سوچ نہیں پاتا کہ یہ تمام عطیات اچانک اس سے منقطع ہوجائیںگے۔ موت کے بعد آدمی اچانک اپنے آپ کو اِس حال میں پائے گا کہ وہ بالکل تنہا اور بے سہارا ہوگیا۔
اِس سنگین حقیقت کے بارے میں سوچنا انسان کا سب سے بڑا مسئلہ ہے۔ لیکن آدمی بے فکری کی حالت میں پڑا رہتا ہے، یہاں تک کہ وہ اچانک مر کر اِس دنیا سے چلا جاتا ہے۔ وہ اِس حدیث رسول کا مصداق بن جاتاہے: ما رأیتُ مثلَ النار نام ہاربہا، وما رأیت مثل الجنۃ نام طالبہا (الترمذی، کتاب صفۃ جہنم)۔
واپس اوپر جائیں

نماز اور قرآن

اسلوبِ کلام کی دو قسمیں ہیں— دعوتی اسلوب اور قانونی اسلوب۔ دعوتی اسلوب میں صرف بنیادی باتیں اصولی زبان میں بیان کی جاتی ہیں۔ اس کے برعکس، قانونی اسلوب میں محدَّد اور متعین زبان (specific language) استعمال ہوتی ہے۔ قرآن اور حدیث کے درمیان یہی فرق ہے۔ قرآن میں عام طورپر دعوتی اسلوب ہے۔ اور حدیث میں دعوتی اسلوب کے علاوہ، قانونی اسلوب بھی پایا جاتا ہے۔ مثلاً نماز کے بارے میں قرآن میں حافظوا علی الصلوات کا لفظ آیا ہے۔ اور حدیث میں تعین کے ساتھ الصلوات الخمس (صحیح البخاری، کتاب الإیمان) کا لفظ استعمال ہوا ہے۔
قرآن میں دین کے تمام اصول (principles) بیان کیے گئے ہیں، لیکن قرآن میں کسی بھی اصول کو محدّد اسلوب میں بیان نہیں کیا گیا ہے۔ مثلاً قرآن میں پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کو پیغمبر بنانے کا ذکرہے، لیکن قرآن سے معلوم نہیں ہوتا کہ آپ کو یہ پیغمبری کب دی گئی۔ قرآن میں ہجرت کا حکم موجود ہے، لیکن مکہ میں دعوتی کام کس طرح ہوا اور مدینہ میں دعوتی کام کس طرح ہوا، اس کی کوئی تفصیل قرآن میں موجود نہیں۔ قرآن میں فتحِ مبین (الفتح: 1 ) کا ذکر ہے، لیکن قرآن میں فتحِ مبین کی متعین تفصیل موجود نہیں۔ قرآن میں بتایاگیا ہے کہ لوگ فوج درفوج خدا کے دین میں داخل ہوں گے (النصر:2 ) لیکن تعینات کی زبان میں اس کا کوئی ذکر قرآن میں موجود نہیں، وغیرہ۔ ان تمام چیزوں کی تفصیل صرف حدیث سے معلوم ہوتی ہے، نہ کہ قرآن سے۔
قرآن میں بتایا گیا ہے کہ انسان کو صرف عبادتِ الٰہی کے لیے پیدا کیا گیا ہے (الذاریات: 56) یہ بلا شبہہ انسانی زندگی کے مقصد کو جاننے کے اعتبار سے نہایت اہم آیت ہے، لیکن عبادت کے متعین طریقے کیا ہوں، اِس کا علم صرف حدیث سے ہوتا ہے، نہ کہ قرآن سے۔
یہی معاملہ نماز کا ہے۔ قرآن میں نماز کا بنیادی حکم موجود ہے، مثلاً أقم الصلاۃ لذکری (طٰہٰ: 14) تاہم جہاں تک نماز کی محدّد تفصیلات کا معاملہ ہے، وہ قرآن کے عام اصول کے مطابق، قرآن میں موجود نہیں، البتہ حدیث میں اس کی تفصیلات موجود ہیں۔
اِس پہلو سے قرآن کا مطالعہ کیجئے تو معلوم ہوگا کہ نماز کے تمام بنیادی اَجزا قرآن میں مذکور ہیں۔ مثلاً قرأت (الإسراء: 78 ) قیام (المزّمل : 20 )، رکوع (البقرۃ: 43 ) ، سجدہ (البقرۃ:125 )، جماعت کے ساتھ نماز (البقرۃ: 43 )، وغیرہ۔ اب یہ سوال ہے کہ اِن اجزائِ نماز کی مجموعی صورت کیا ہے۔ جب آپ اِن اجزا کو لے کر نماز کی مجموعی شکل بنانا چاہیں تو آپ نماز کی موجودہ شکل کے سوا کوئی اور شکل نہیں بنا سکتے۔ یہ ایک عجیب بات ہے کہ خدا کی پیدا کی ہوئی دنیا میں ہر چیز اپنے فائنل ماڈل پر ہے۔ اِسی طرح نماز بھی اپنے فائنل ماڈل پر ہے۔ یہی واقعہ اِس بات کے ثبوت کے لیے کافی ہے کہ نماز کے جو اجزا قرآن میںبتائے گئے ہیں، ان کی مجموعی شکل موجودہ نماز کے سوا کوئی اور نہیں ہوسکتی۔
غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ پانچ وقت کی نماز کا حکم استنباطی طورپر قرآن میں موجود ہے۔ یہ حکم قرآن کی سورہ نمبر 2 کی اِس آیت میں ملتا ہے: حافظوا علی الصلوات والصلاۃ الوسطیٰ (البقرۃ: 238) یعنی نمازوں کی پابندی کرو، اور بیچ کی نماز کی۔ اِس آیت میں ’’صلوات‘‘ کا لفظ آیاہے۔ عربی قاعدے کے مطابق، صلوات کا اطلاق تین یا اس سے زیادہ عدد پر ہوتا ہے، اس کو دو کے معنی میں نہیں لیاجاسکتا۔ اس کو تین یا تین سے زیادہ کے معنی ہی میں لینا ممکن ہے۔
آیت کے الفاظ کے مطابق، اُس کا مفہوم یہ بنتا ہے کہ — تم نمازوں کی پابندی کرو، اور اُس نماز کی پابندی کرو جو اِن نمازوں کے درمیان میں آتی ہے۔ اب اگر صلوات سے صرف تین نمازیں مراد لی جائیں تو ایسی صورت میں ان کی کوئی درمیانی نماز نہیں بنے گی، کیوں کہ تین نمازوں کی صورت میں ایک طرف ایک نماز ہوگی اور دوسری طرف دو نماز۔ ایسی حالت میں ممکن صورت صرف یہ ہے کہ صلوات سے چار نمازیں مراد لی جائیں۔ اِس سے چار نماز مراد لینے کی صورت میں ایسا ممکن ہوجاتا ہے کہ اُن میںایک اور نماز اِس طرح شامل کی جائے کہ وہ بیچ کی نماز بن جائے۔ ایسی صورت میں بیچ کی نماز کے ایک طرف دو نماز ہوتی ہے، اور دوسری طرف بھی دو نماز— اِس طرح مجموعی طورپر کل پانچ نمازیں بن جاتی ہیں۔ ذیل میں اِس کا نقشہ ملاحظہ ہو:
نماز نماز نماز
نماز نماز نماز نماز
قرآن کی اِس آیت کی یہ تشریح ایک حدیث رسول سے معلوم ہوتی ہے۔ سنن ابی داؤد کی ایک روایت میں بتایا گیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک بار ظہر کی نماز پڑھی۔ اور پھر آپ نے فرمایا: إنّ قبلہا صلاتین وبعدہا صلاتین (کتاب الصلاۃ، باب فی وقت صلاۃ العصر، رقم الحدیث411 ) یعنی اِس نماز سے پہلے دو نمازیں ہیں، اور اِس نماز کے بعد دو نمازیں، یعنی ظہر کی نماز بیچ کی نماز ہے۔ اس کے ایک طرف عشاء اور فجر کی دو نمازیں ہیں، اور اس کے دوسری طرف عصر اور مغرب کی دو نمازیں۔ ملاحظہ ہو ذیل کا نقشہ :
عشاء فجر ظہر عصر مغرب
واپس اوپر جائیں

تکفیر یا تبلیغ

ایک روایت حدیث کی مختلف کتابوں میں آئی ہے۔ صحیح البخاری کے الفاظ یہ ہیں: إذا قال الرجل لأخیہ یا کافر، فقد باء بہ أحدہما (کتاب الأدب، باب مَن أکفر أخاہ) یعنی جب ایک شخص اپنے بھائی کے بارے میں کہے کہ اے کافر، تو یہ قول دونوں میں سے کسی ایک کی طرف ضرور لوٹے گا۔ یعنی مخاطب اگر کافر نہ ہو، تو خود قائل خدا کے نزدیک کافر ہوجائے گا۔
صحیح مسلم میں کتاب الایمان کے تحت، اِس معاملے کی وضاحت کرتے ہوئے امام النووی نے لکھا ہے کہ : واعلم أن مذہب أہل الحق أنہ لا یُکفّر أحد من أہل القبلۃ بذنب (شرح النووی ، جلد1، صفحہ 150) یعنی اہلِ حق کا یہ مسلک ہے کہ کسی بھی گناہ پر اہلِ قبلہ میں سے کسی شخص کی ہر گز تکفیر نہیں کی جائے گی، یعنی جو شخص کعبہ کی طرف رخ کرکے نماز پڑے، اس کی تکفیر نہیں کی جائے گی۔
حقیقت یہ ہے کہ کسی انسان کو کافر قرار دینا صرف خدا کا کام ہے، وہ کسی انسان کا کام نہیں۔ ایمان اور کفر دونوں کا تحقق نیت پر ہوتا ہے، اور نیت کا علم خدا کے سوا کسی اور کو نہیں۔ اِس لیے یہ صرف خدا کا کام ہے کہ وہ کسی کے بارے میں کافر یا مومن ہونے کا فیصلہ فرمائے۔ انسان کا کام صرف یہ ہے کہ وہ کسی کو غلطی پر دیکھے تو وہ اس کو دل سوزی کے ساتھ تبلیغ اور نصیحت کرے، وہ اس کی اصلاح کے لیے اللہ تعالیٰ سے دعا کرے۔ تکفیر گویا کہ خدا کے دائرے میں داخل ہونا ہے، اور خدا کے دائرے میںداخل ہونے کا حق کسی کو بھی نہیں۔
جو شخص دوسرے کو کافر بتائے، وہ خود اپنے بارے میں یہ اعلان کررہا ہے کہ میرے سینے میں لرزاں اور ترساں قلب نہیں۔ جو آدمی حقیقی معنوں میں اللہ سے ڈرتا ہو، وہ کبھی ایسا نہیں کرسکتا کہ وہ کسی کے بارے میں کفر کا اعلان کرے، جب کہ یہ قطعی اندیشہ ہے کہ اگر مخاطب کافر نہ ہو تو خود کہنے والا شخص خدا کے نزدیک کافر قرار پاجائے گا۔ کوئی بھی اللہ سے ڈرنے والا انسان یہ خطرناک رِسک (risk) لینے کا تحمل نہیں کرسکتا۔
واپس اوپر جائیں

ایک اجتماعی ضرورت

حضرت مقدام بن معدیکرب سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: إذا أحبّ الرجلُ أخاہ فلیخبرہ أنہ یحبّہ (أبو داؤد، کتاب الأدب؛ الترمذی، کتاب الزہد) یعنی جب کسی شخص کو اپنے بھائی سے محبت ہو تو وہ اُس کو بتادے کہ وہ اُس سے محبت کرتا ہے۔
اِس حدیث رسول میں محبت سے مراد مخلصانہ محبت یا حقیقی محبت ہے، نہ کہ منافقانہ محبت۔ مخلصانہ محبت ایک قابلِ اجر عمل ہے، جب کہ منافقانہ محبت صرف ایک گناہ کا عمل۔ منافقانہ محبت کا اظہار آدمی کو مزید گنہ گار بناتا ہے، وہ اس کو اجر کا مستحق نہیں بناتا۔
مخلصانہ محبت یا حقیقی محبت ایک عظیم دینی عمل ہے۔ مخلصانہ محبت کوئی آسان کام نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ اگر ذاتی بنیاد پر دو آدمیوں کے درمیان محبت ہو تو وہ بہت جلد ٹوٹ جاتی ہے۔ مخلصانہ محبت وہ ہے جو خدا کے لیے ہو، اور جب دو آدمیوں کے درمیان خدا کے لیے محبت ہو تو وہ ہمیشہ باقی رہتی ہے، وہ کبھی ٹوٹنے والی نہیں۔
اِس حدیث میں محبت سے مراد محبت اور اُس کے تمام لوازم ہیں۔ مثلاً اعتراف، وغیرہ۔ محبت یا لوازِم محبت کو بتانے کی حکمت یہ ہے کہ اِس سے دو افراد کے درمیان مثبت تعلق قائم ہوتاہے۔ اگر محبت یا لوازمِ محبت کو نہ بتایا جائے تو اِس سے غلط فہمیاں پیدا ہوتی ہیں، اور غلط فہمی جب دیر تک باقی رہے تو وہ پختہ ہوجاتی ہے اور قلبی محبت کے باوجود دونوں فریق ایک دوسرے کے خلاف منفی نفسیات کا شکار ہوجاتے ہیں۔
منافقانہ طورپر اظہارِ محبت یا اظہارِ اعتراف جتنا زیادہ برا ہے، مخلصانہ طورپر اظہارِ محبت یا اظہارِاعتراف اتنا ہی زیادہ ضروری ہے۔ اِس مسئلے کی اہمیت شرعی نہیں، بلکہ نفسیاتی ہے۔ یہ اجتماعی زندگی کو صالح بنیادوں پر قائم کرنے کے لیے ضروری ہے، کیوں کہ دل کی حالت کا علم صرف خدا کو ہوتا ہے۔ انسان کسی کے دل کو نہیں پڑھ سکتا، وہ صرف بتانے کے بعد ہی اس کو جانتا ہے۔
واپس اوپر جائیں

فطرت کا نظام

حضرت ابو ہریرہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: إنّ اللہ لیؤید ہذا الدین بالرجل الفاجر (صحیح البخاری، کتاب الجہاد والسیر، با ب إن اللہ یؤیّد الدین) یعنی اللہ بے شک اِس دین کی تائید فاجر شخص کے ذریعے بھی کرے گا۔
اِس حدیث کا تعلق سادہ طورپر صرف دینِ اسلام سے نہیںہے۔ اِس حدیث میں در اصل فطرت کے ایک قانون کو بتایا گیا ہے۔ یہ قانون ابدی بھی ہے اور ہر ایک کے لیے عام بھی۔
اصل یہ ہے کہ خالق نے اِس دنیا کا نظام باہمی انحصار(interdependence) کے اصول پر قائم کیا ہے۔ اِس دنیا میں ہر انسان بالواسطہ یا براہِ راست طورپر دوسرے انسانوں سے جڑا ہوا ہے۔ جب بھی کوئی شخص ایک کام کرتا ہے تو اس میں یقینی طورپر دوسروں کا بھی حصہ ہوتا ہے۔ اِس دنیا میں ہر کامیابی کا تعلق مشترک عمل سے ہوتاہے، خواہ وہ دینی کامیابی ہو یا دنیوی کامیابی۔
فطرت کا یہ نظام اِس لیے ہے، تاکہ لوگوں کے اندر ایک دوسرے کے لیے اعتراف کا جذبہ پیدا ہو، تاکہ لوگ ایک دوسرے کو اپنا خیر خواہ سمجھیں، تاکہ پوری دنیا ایک بڑے خاندان کے مانند ہوجائے، تاکہ ہر ایک دوسرے کو اپنے بھائی اور بہن کے روپ میںدیکھنے لگے۔
باہمی تعاون کے اِس عالمی نظام کے باوجود کیوں ایسا ہے کہ لوگوں میں ایک دوسرے کا اعتراف نہیں۔ اِس کا بنیادی سبب لوگوں کی فخر پسندی (pride) ہے۔ ہر عورت اور مرد کا یہ حال ہے کہ وہ فخر میں جی رہے ہیں۔ فخر کے جذبے کی تسکین صرف اُس وقت ہوتی ہے، جب کہ آدمی یہ سمجھے کہ جو کچھ اُس کو ملا ہے، وہ اس کی اپنی ذاتی صلاحیت کی بنیاد پر ملا ہے۔ فخر کا جذبہ اپنی تسکین کے لیے سارا کریڈٹ خود لینا چاہتا ہے۔ اِس بنا پر وہ دوسروں کا اعتراف نہیں کر پاتا۔ یہ رویہ سرتاسر فطرت کے خلاف ہے۔ اِس سے غیر حقیقت پسندانہ (unrealistic) مزاج پیدا ہوتا ہے، اور غیر حقیقت پسندانہ مزاج سے زیادہ تباہ کن کوئی اور چیز اِس دنیا میں نہیں۔
واپس اوپر جائیں

بے اعترافی کا مزاج

ابلیس نے تخلیقِ آدم کے وقت اپنے اِس منصوبے کا اعلان کیا تھا کہ وہ نسلِ انسانی کی بڑی تعداد کو گم راہی میں ڈال دے گا (الإسراء: 62 )۔ یہ گم راہی کیا ہے۔ یہ گم راہی خود شیطان کے رویّے سے معلوم ہوتی ہے۔ قرآن سے معلوم ہوتا ہے کہ تخلیقِ آدم کے وقت ابلیس نے آدم کا اعتراف نہیں کیا، یہاں تک کہ وہ ابدی طورپر ساری نسلِ انسانی کا دشمن بن گیا (یوسف: 5 )
جیسا کہ قرآن سے معلوم ہوتا ہے، ہر انسان کے ساتھ غیر مرئی طور پر (invisibly) ایک شیطان لگاہوا ہے۔ وہ ہر وقت اور ہر موقع پر آدمی کے اندر اپنے منصوبے کے مطابق، بے اعترافی کا مزاج پیدا کرتا رہتا ہے۔ شیطان کا یہ منصوبہ پوری تاریخ میں کامیاب رہا۔ یہی وجہ ہے کہ ہر عورت اور مرد کا یہ حال ہے کہ اُن کے اندر بے اعترافی کا مزاج (non-appreciating nature) پیدا ہو گیا ہے۔ ہرایک کا یہ حال ہے کہ اگر ننانوے فی صد مثبت بات ہو اور کوئی ایک منفی بات ہو تو لوگ مثبت پہلوؤں کو چھوڑ کر ایک منفی بات کولے لیں گے اور فوراً دوسرے کے بارے میں منفی نفسیات کا شکار ہوجائیں گے۔
یہ ہر انسان کی زندگی کا وہ پہلو ہے جہاں اُس کو سب سے زیادہ الرٹ(alert) رہنا چاہئے۔ جب بھی کسی موقع پر دوسروں کے بارے میں منفی خیال آئے تو فوراً یہ سمجھ لینا چاہیے کہ یہ شیطان کا بہکاوا ہے۔ آدمی کو چاہئے کہ وہ فوراً اپنی ارادی طاقت (will-power) کو عمل میں لاتے ہوئے اُس کو مکمل طورپر اپنے دماغ سے نکال دے۔
اعتراف ایک ملکوتی مزاج ہے، اور بے اعترافی ایک شیطانی مزاج۔ اعتراف سے آدمی کے اندر تواضع (modesty) کا مزاج پیدا ہوتا ہے، اور بے اعترافی سے اِس کے برعکس غیر متواضع مزاج پیدا ہوتا ہے۔ آدمی ہر لمحہ اِن دو امکانات کے درمیان ہوتا ہے۔ ایک رویہ اختیار کرنے سے وہ متواضع انسان بن جاتا ہے، جو کسی انسان کی سب سے بڑی صفت ہے۔ اور دوسرا رویہ اختیار کرنے سے وہ ایک غیر متواضع انسان بن جاتا ہے، جوکسی انسان کے لیے سب سے بُری صفت ہے۔
واپس اوپر جائیں

ردّ عمل، انتہا پسندی

یہ ایک عام تجربہ ہے کہ جب کوئی شخص رد عمل کی نفسیات کے تحت سوچے تو ہمیشہ اس کی سوچ انتہا پسندانہ سوچ بن جاتی ہے۔ ایسا انسان کبھی معتدل انداز میں نہیں سوچ سکتا:
Thinking out of reaction, always takes the form of extremist thinking.
اِس معاملے کی مثالیں مذہب اور غیر مذہب دونوں دائروں میں کثرت سے پائی جاتی ہیں۔ یہ معاملہ اتنا زیادہ عام ہے کہ شاید اِس میں کوئی استثناء (exception) نہیں۔
مثلاً ترکی میں جب 1923 میں عثمانی خلافت کا خاتمہ ہوا تو اُس کو ہمارے علماء اور ہمارے رہنماؤں نے الغائِ خلافت کا نام دیاتھا، یعنی خلافت کے سیاسی ادارے کو ایبالش (abolish) کرنا۔ یہ رد عمل کا کلمہ تھا۔ چناں چہ اِس کے نتیجے میں مسلمانوں کے اندر خلافت کے دوبارہ قیام کے لیے متشددانہ تحریک چل پڑی۔
اِس کے برعکس، اگر اس کو سقوطِ خلافت کا نام دیا جاتا، یعنی خلافت کا ختم ہوجانا تو ایسا نہ ہوتا۔ اِسی طرح اسلام کو جب شریعت کے نفاذ کا معاملہ بتایا جاتا ہے تو وہ رد عمل کی نفسیات کا نتیجہ ہوتا ہے۔ چناں چہ اس کے نتیجے میں مسلح جہاد شروع ہوجاتا ہے۔ اِس کے برعکس، اگر شریعت کی پیروی کا لفظ بولا جائے تو اس سے متشددانہ تحریک نہیں ابھرے گی۔
رد عمل کی سوچ دوسروں کے رویّے کو دیکھ کر جوابی طور پر ابھرتی ہے۔ اِس لیے اس میں ہمیشہ منفی محرک موجود رہتا ہے، جو اس کو تشدد کی طرف لے جاتا ہے۔ اس کے برعکس، مثبت سوچ کے تحت جو ذہن بنتا ہے، وہ ہمیشہ خود احتسابی (self-introspection) کا ذہن ہوتا ہے۔ اس میں اپنی اصلاح آپ کا جذبہ ابھرتا ہے، نہ کہ دوسروں کے خلاف تشدد کا جذبہ۔اِس دنیا کا قانون یہ ہے کہ — جیسی سوچ، ویسا عمل۔ سوچ اگر درست ہوگی تو عمل بھی درست ہوگا۔ اور اگر سوچ غلط ہو تو عمل بھی غلط ہو کر رہ جائے گا۔
واپس اوپر جائیں

شکایت کا مزاج

ایک شخص نے کسی کے بارے میں کچھ شکایت کی بات کی۔ میںنے کہا کہ شکایت قاتلِ روحانیت ہے۔ شکایت اتنی زیادہ بری چیز ہے کہ آپ کو مطلقاً اُس سے دور رہنا چاہیے۔ انھوںنے کہا کہ شکایت سے مطلقاً کیسے بچاجاسکتا ہے، کیوں کہ شکایت کے اسباب اِس دنیا میں ہمیشہ پیش آتے رہتے ہیں۔ میں نے کہا کہ یہی تو آپ کا امتحان ہے کہ آپ شکایت کے باوجود بے شکایت بن کر اِس دنیا میں رہیں،منفی تجربات کے باوجود آپ مثبت نفسیات میں جینا سیکھیں۔یہی اِس دنیا میں انسان کا امتحانی پرچہ (test-paper) ہے۔ ہرایک کو اِس امتحان سے گزر نا ہے۔ اِس امتحان میں کامیاب ہونے والا ہی کامیاب ہے، اور اِس امتحان میں ناکام ہونے والا ہی ناکام۔ مزید یہ کہ یہ ناکامی بھی ابدی ہے، اور یہ کامیابی بھی ابدی۔
شکایت کوئی سادہ چیز نہیں۔ شکایت کے ساتھ ناشکری جڑی ہوئی ہے۔ جس دل میں شکایت ہوگی، وہ شکر کے جذبات سے محروم ہوجائے گا۔ مزید یہ کہ شکایت گندگی کے مانند ہے۔ گندگی کی ایک بوند پانی کے پورے ٹب کو گندا کردیتی ہے۔ اِسی طرح شکایت کی تھوڑی مقدار بھی شکر کی نفسیات سے آدمی کو محروم کردیتی ہے۔ آدمی کو چاہیے کہ وہ اِس معاملے میں اتنا زیادہ حساس ہو کہ وہ کسی بھی حال میں شکر کا ایروژن (erosion) گوارا نہ کرسکے۔ وہ شکایت کی باتوں کو نظرانداز کرتا رہے، تاکہ اس کے شاکرانہ مزاج میں کوئی کمی نہ آنے پائے۔
اِس مہلک برائی سے بچنے کا طریقہ صرف ایک ہے، اور وہ ہے آغاز ہی میں اُس کا خاتمہ کردینا— تھوڑی سی شکایت کو بھی اتنا گھٹائیے، اتنا گھٹائیے کہ اس کو زیرو کے درجے تک پہنچا دیجئے۔ اور شکر کی تھوڑی سی بات کو بھی اتنا بڑھائیے، اتنا بڑھائیے کہ اس کو صد فی صد تک پہنچا دیجئے۔ یہی واحد تدبیر ہے جس کے ذریعے آپ اپنی شخصیت کو ایسا بنا سکتے ہیں کہ آپ کے اندر صرف شکر ہی شکر ہو، ناشکری کا ایک ذرہ بھی آپ کی شخصیت کے اندر باقی نہ رہے۔ شکر کے احساس میںجینے والوں کے لیے ابدی جنت ہے، اور ناشکری کے احساس میں جینے والوں کے لیے ابدی جہنم۔
واپس اوپر جائیں

دو عظیم فکری انقلابات

Two Great Intellectual Revolutions
مذہبی نقطۂ نظر سے انسانی تاریخ میں دو بڑے فکری انقلابات پیش آئے ہیں۔ ایک انقلاب وہ ہے جو اپنی آخری صورت میں ساتویں صدی عیسوی میں پیش آیا۔ اِس انقلاب کے ہیرو وہ لوگ تھے جن کو اسلامی تاریخ میں ’اصحابِ رسول‘ کہاجاتا ہے۔ دوسرا فکری انقلاب لانے والوں کو حدیث میں ’اخوانِ رسول‘ کا نام دیا گیا ہے۔ اصحاب رسول نے شرک (polytheism) کے فکری غلبہ کو ختم کیا تھا اور توحید (monotheism) کے بند دروازوں کو کھولا تھا۔ اخوانِ رسول کے لیے یہ مقدر ہے کہ وہ موجودہ زمانے میں الحاد کے فکری غلبہ کو ختم کرکے دوبارہ توحید کو اس کا غالب مقام عطا کریں۔
امت کے دو گروہ ایسے ہیں جن کو خصوصی تاریخی درجہ حاصل ہے— اصحابِ رسول، اور اخوانِ رسول۔ یہ دونوں پُراسر ار الفاظ نہیں ہیں اور نہ کسی پر اسرار فضیلت کی بنا پر اُن کویہ امتیازی درجہ عطا ہوا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ دونوں گروہ اسلام کی تاریخ میں دو بڑے کارنامے انجام دیں گے۔ اِسی کارنامے کی بناپر وہ بڑا درجہ پائیں گے— اصحابِ رسول کے کارنامے کا تعلق، اسلام کے دورِ اول سے ہے، اور اخوانِ رسول وہ لوگ ہیں جو اسلام کے دورِ آخر میں اپنا کارنامہ انجام دیںگے۔
اصل یہ ہے کہ تاریخ کے دو دور ہیں۔ پہلا، دورِ شرک اور دوسرا، دورِ الحاد۔ قدیم بادشاہت کے زمانے میں شرک کو ریاستی مذہب (state religion) کی حیثیت حاصل ہوگئی تھی۔ اِس بنا پر قدیم زمانے میں مذہبی جبر (religious persecution) کے حالات پیدا ہوئے۔ اصحابِ رسول نے یہ کیا کہ غیرمعمولی جدوجہد اور قربانی کے ذریعے شرک کا رشتہ سیاسی اقتدار سے منقطع کردیا اور اِس طرح شرک کو مکمل طورپر ایک بے زور عقیدہ بنا دیا، اصحابِ رسول کا یہی وہ غیر معمولی عمل تھا جس کی بنا پر دنیا میں مذہبی آزادی (religious freedom) کا دور آیا اور شرک محض ایک بے زور شخصی عقیدہ بن کر رہ گیا۔
بعد کے زمانے میں ایک نیا فتنہ پیداہوا جس کو سائنسی الحاد کہاجاسکتا ہے۔ الحاد (atheism) ہمیشہ سے دنیا میں پایا جاتا رہا ہے۔ لیکن موجودہ زمانے میں ملحد مفکرین کو یہ موقع ملا کہ وہ بظاہر سائنسی دلائل کے ذریعے الحاد کو نئی طاقت کے ساتھ لوگوں کے سامنے پیش کرسکیں۔ مثال کے طورپر ڈارون ازم (Darwinism) کو الحاد کی حمایت میں سائنسی دلیل کے طورپر پیش کرنا۔
موجودہ زمانے کا سائنسی الحاد اصلاً سائنسی الحاد نہیں ہے، بلکہ وہ مغالطہ آمیز قسم کے بظاہر سائنسی دلائل کی بنیاد پر الحادی فکر کی عمارت کھڑی کرنا ہے۔ اب اُن لوگوں کو اخوانِ رسول کا درجہ ملے گا جو اِس فریب کا پردہ چاک کریں اور الحاد کا رشتہ مفروضہ دلائل سے منقطع کردیں، اور اِس طرح الحاد کو بے دلیل اور علمی اعتبار سے بے وزن بنا دیں۔
پچھلے دور میںاصحابِ رسول نے جو کارنامہ انجام دیا، اُس کے لیے اللہ تعالیٰ نے سیکڑوں سال کے عمل کے دوران مخصوص تاریخی حالات پیدا کیے تھے۔ یہ تاریخی حالات وہ مواقع تھے جن کو اصحاب رسول نے سمجھا اور اُن کو دانش مندانہ طورپر استعمال کرکے مطلوب انقلاب برپا کیا۔ اِسی طرح بعد کے زمانے میں اخوانِ رسول کے ذریعے جو فکری انقلاب واقع ہوگا، اس کے لیے ضروری مواقع بھی خدا کی طرف سے پیدا کیے جانے والے ہیں۔ اخوانِ رسول کا کام بھی یہی ہے کہ وہ اپنے دور میں پیدا ہونے والے مواقع کو سمجھیں اوراُن کو دانش مندانہ طورپر استعمال کرکے اُس تاریخی عمل کو انجام دیں جس کو ظہور میں لانا اُن کے لیے مقدر کیاگیا ہے۔ ذیل میں دوسرے دور کے حالات کا مختصر طورپر ذکر کیا جاتاہے۔
جدید الحاد
الحاد (atheism) کوئی نیا ظاہرہ نہیں۔ قدیم زمانے میں بھی کسی نہ کسی صورت میں الحادی فکر پایا جاتا رہا ہے۔ لیکن قدیم زمانے میں الحاد کے لیے کوئی فکری بنیاد (rational base) موجود نہ تھی۔اِس لیے قدیم زمانے میں الحاد کو زیادہ فروغ حاصل نہ ہوسکا۔
موجودہ زمانے میں جب سائنسی تحقیقات سامنے آئیں تو دورِ جدید کے ملحدین نے محسوس کیا کہ وہ سائنسی تحقیقات کو اپنے حق میں ایک علمی ثبوت کے طورپر استعمال کرسکتے ہیں۔ اِس طرح وہ فلسفہ وجود میں آیا جس کو سائنسی فلسفہ (scientific philosophy) کہاجاتا ہے۔ سائنسی فلسفہ کیا ہے۔ سائنسی فلسفہ دراصل مبنی بر سائنس الحاد (science-based atheism) کا دوسرانام ہے۔ اِس طرح بیسویں صدی عیسوی میں بہت سے فلسفی اٹھے جنھوں نے سائنسی تحقیقات کو ملحدانہ فلسفے کے حق میں استعمال کیا۔ اِس طرح وہ جدید الحاد وجود میں آیا جس کو سائنسی الحاد کہاجاسکتاہے۔ اِس موضوع پر کثیر تعداد میں کتابیں لکھی گئیں ہیں۔ بطور مثال یہاں صرف ایک کتاب کا نام درج کیا جاتا ہے:
Julian Huxley, Religion Without Revelation (1967)
سائنسی الحاد، خالص منطقی اعتبار سے، ایک غیر علمی الحاد ہے۔ سائنسی الحاد کے داعیوں نے غیرعلمی طورپر سائنسی حقیقتوں کو اپنے حق میں پیش کرنے کی کوشش کی تھی۔ چناں چہ اِسی زمانے میں ایک اور طبقہ پیدا ہوا جو نسبتاً زیادہ سنجیدہ تھا۔ وہ سائنسی حقائق کے غیر علمی استعمال کے خلاف تھا۔ اِس دوسرے طبقے نے کوشش کی کہ سائنسی حقائق کو اس کے صحیح تناظر (perspective) میں پیش کیا جائے۔ یہ دوسرا طبقہ اپنے اعلان کی حد تک مذہبی نہیں تھا، وہ بظاہر سیکولر تھا۔ لیکن اُس نے یہ اہم کام انجام دیا کہ اس نے جدید ملحدین کو خالص علمی اعتبار سے مکمل طورپر رد کردیا۔ اِس معاملے کے چند خاص پہلو ہیں۔
1 - اُس کا ایک پہلو یہ ہے کہ جدید سائنس (physical science) نے اپنا میدان تمام تر مادّی اشیاء کی تحقیق کو بنایا۔ اِس کے نتیجے میں بڑی بڑی مادی حقیقتیں دریافت ہوئیں اور مادی نظریات قائم ہوئے۔ اِس صورتِ حال کو استعمال کرتے ہوئے جدید ملحدین نے یہ کیا کہ انھوں نے سچائی کی مادّی تعبیر (material interpretation of truth) کا نظریہ وضع کیا۔ انھوں نے یہ ظاہر کرنے کی کوشش کی کہ حقیقت وہی ہے جو مادی اصطلاحوں میں بیان کی جاسکے، جو چیز مادی اصطلاحوں میں بیان نہ کی جاسکے، وہ حقیقت بھی نہیں۔ اِس نظریے کے رد میں کئی مفکرین نے قیمتی کتابیں لکھیں۔ بطور مثال ایک کتاب کا نام یہ ہے:
Bertrand Russell, Human Knowledge (1948)
2 - اِس معاملے کا دوسرا پہلو یہ تھا کہ فزیکل سائنس کے مطالعے سے معلوم ہوا کہ دنیا میں جوواقعات ہوتے ہیں، اُن کے پیچھے کوئی سبب (cause)کارفرما ہوتا ہے۔ مثلاً پانی کو گرم کرنے سے اسٹیم کا وجود میں آنا۔ سائنس کے اس پہلو کو لے کر وہ الحاد موافق نظریہ وضع کیاگیا جس کو اصولِ تعلیل (principle of causation) کہاجاتا ہے۔ اِس نظریے کی بنیاد پر یہ دعویٰ کیا گیا کہ ہماری دنیا میں جو واقعات وجود میں آتے ہیں، وہ کسی مادی سبب کا نتیجہ ہوتے ہیں، نہ کہ کسی خالق کی کارفرمائی کا نتیجہ۔ اِس نظریہ کی تردید میں متعدد قیمتی کتابیں لکھی گئیں۔ مثال کے طورپر اُن میں سے ایک کتاب کا نام یہاں درج کیا جاتا ہے:
James Jeans, The Mysterious Universe (1930)
3 - اِس معاملے میں غالباً سب سے زیادہ گم راہ کن رول چارلس ڈارون (وفات:1882 ) کا ہے۔ اس نے حیاتیاتی نمونوں کے مطالعے کے دوران یہ پایا کہ مختلف حیاتیاتی نمونوں کے درمیان مشابہت (similarity) پائی جاتی ہے۔ اِس کو لے کر اس نے یہ دعویٰ کیا کہ تمام ذی حیات اشیاء ایک ہی مشترک اصل سے نکلی ہیں۔ یہ تصور نظریۂ ارتقا(theory of evolution) کے نام سے جانا جاتا ہے۔ یہ نظریہ جدید دور میں بہت زیادہ پھیلا۔ اس کے بارے میں بے شمار کتابیں لکھی گئیں، یہاں تک کہ جدید علمی حلقے میں اس کو عمومی مقبولیت (general acceptance) حاصل ہوگئی۔
اپنی حقیقت کے اعتبار سے، یہ نظریہ تمام تر علمی مغالطے پر قائم ہے۔ چناں چہ اس کے بارے میں سیکولر علماء نے تحقیق کی اور اِس نظریے کی تردید میں متعدد قیمتی کتابیں شائع ہوئیں۔ مثال کے طورپر اُن میں سے ایک کتاب کا نام یہ ہے:
Arnold Lunn, Revolt Against Reason (1951)
دورِ جدید کے یہ اہلِ علم جن کو ہم نے سیکولر اہلِ علم کہا ہے، انھوںنے بہت بڑا تائیدی رول انجام دیا ہے۔ قدیم زمانے میں بہت سے لوگوں نے عظیم تائیدی رول انجام دیا تھا۔ انھوں نے وہ مواقع پیدا کیے تھے جن کو استعمال کرکے اصحابِ رسول نے شرک کے رد اور توحید کے اثبات کا تاریخی کارنامہ انجام دیا۔ اِسی طرح موجودہ زمانے کے مذکورہ سیکولر اہلِ علم نے ایک عظیم تائیدی رول ادا کیا ہے۔ انھوں نے وہ مواقع پیدا کیے ہیں جن کو استعمال کرکے دوبارہ الحاد کے رد اور توحید کے اثبات کا مطلوب عمل انجام دیا جاسکے۔ بعد میں اٹھنے والے جس گر وہ کو حدیث میںاخوانِ رسول کہاگیا ہے، اُس کا کام غالباً یہی ہوگا کہ وہ جدید مواقع کو پہچانے اوران کو دانش مندانہ استعمال کے ذریعے دوبارہ الحاد کی تردید اور توحید کے اثبات کا مطلوب کارنامہ انجام دے۔
سائنس، الحاد کی تردید
جیسا کہ اوپر عرض کیاگیا، قدیم زمانے میں یہ مطلوب تھا کہ شرک کو رد کرکے توحید کا اثبات کیا جائے۔ یہ کارنامہ اصحابِ رسول نے اپنی کامل صورت میں ساتویں صدی عیسوی میں انجام دیا۔ انھوںنے اپنے زمانے میں پیدا شدہ مواقع کو استعمال کرتے ہوئے ایک ایسا انقلاب برپا کیا جس نے انسانی تاریخ میں ایک نئے عمل (process) کا مؤثر آغاز کیا۔ یہ عمل جاری رہا، یہاں تک کہ شرک، نظریاتی بنیاد (ideological base) سے محروم ہوگیا۔ اب وہ صرف ایک بے روح رسم کے طورپر کچھ توہم پسند لوگوں میں باقی ہے، عملی اعتبار سے وہ ایک زندہ قوت کے طورپر کہیں موجود نہیں۔
یہی معاملہ الحاد کا ہے۔ بیسویں صدی عیسوی میں الحاد بظاہر سائنسی دلائل کے زور پر ابھرا تھا۔ لیکن جلد ہی خود سیکولر حلقے میں ایسے مفکرین پیدا ہوئے جنھوں نے عملی طورپر الحاد کی بظاہر اِس سائنسی بنیاد کو ڈھا دیا اور حقیقت کے اعتبار سے الحاد کو ایک بے دلیل نظریے کی حیثیت دے دی۔ اِس طرح موجودہ زمانے میں دوبارہ امکانی طورپر وہ موافق حالات پیدا ہوئے ہیں جن کو لے کر کچھ لوگ الحاد کو مکمل طورپر رد کردیں اور اس کے بجائے توحید کو ایک ثابت شدہ نظریہ بنادیں، اور اِس طرح وہ اُس رول کو انجام دیں جس کو اخوانِ رسول کے ساتھ منسوب کیا گیا ہے۔
یہ حالات پیدا ہوچکے تھے اور میں اکثر ان کے بارے میں غور کرتا تھا۔ آخر کار 1963 میں ایک واقعہ پیش آیا جو میرے لیے گویا کہ ایک رہنما واقعے کی حیثیت رکھتا تھا۔ اِس واقعے کا ذکر میں نے اپنی کتاب ’’ظہورِ اسلام‘‘ کے آغاز میں اس طرح کیا ہے:
’’ستمبر 1963 کی 21 تاریخ تھی۔ راقم الحروف ندوہ (لکھنؤ) کی مسجد میں تھا اور ظہر کی سنتیں پڑھ کر جماعت کے انتظار میں بیٹھا ہوا تھا۔ ذہن میں خیال گھوم رہا تھا کہ اسلام کے تعارف کے لئے آج ایک ایسی کتاب کی ضرورت ہے جو وقت کی زبان اور اسلوب (modern idiom) میں لکھی گئی ہو اور جدید انسان کو مطالعہ کے لیے دی جاسکے۔ ’’کاش اللہ تعالیٰ مجھے اِس کتاب کے لکھنے کی توفیق دے‘‘ یہ تمنا بے ساختہ دعا کی شکل میں میری زبان سے نکلی اور اس کے بعد یکایک یہ انگریزی لفظ میری زبان پر تھا:
God Arises
یہ گویا کتاب کا نام تھا جو اچانک میرے ذہن میں وارد ہوا۔ اس سے پہلے کبھی یہ فقرہ میرے ذہن میں نہیں آیا تھا، حتی کہ کتاب کے نام کی حیثیت سے اس کی معنویت بھی اُس وقت پوری طرح واضح نہ تھی۔ شام کو عصرکی نماز کے بعد میں حسب معمول لکھنؤ کی نریندر دیو لائبریری گیا جو ندوہ کے قریب دریائے گومتی کے کنارے واقع ہے۔ وہاں ویبسٹر کی لغت میں لفظ Arises کے استعمال دیکھے تو معلوم ہوا کہ یہ لفظ بائبل کی ایک آیت میں استعمال ہوا ہے۔ پورا فقرہ یہ ہے:
Let God arise, let His enemies be scattered.
Let them also that hate Him flee before Him.
As smoke is driven away, so drive them away;
As wax melteth before the fire, so let
the wicked perish at the presence of God
(Psalm 68: 1-2)
’’خدا اٹھے، اس کے دشمن تتر بتر ہوں۔ وہ جو اس کا کینہ رکھتے ہیں، اس کے حضور سے بھاگیں، جس طرح دھواں پراگندہ ہوتا ہے، اسی طرح تو انھیں پراگندہ کر۔ جس طرح موم آگ پر پگھلتا ہے، شریر خدا کے حضور فنا ہوں‘‘۔
یہ میرے لیے ایک انسپریشن (inspiration) تھا۔ یہ گویا ایک قسم کا الہامی تجربہ تھا جو مسجد کے اندر اذان اور اقامت کے درمیان پیش آیا۔ اِس پر غور کرنے کے بعد میںنے سمجھا کہ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک اشارہ ہے، تاکہ میں پیدا شدہ جدید علمی مواقع کا جائزہ لوں اوراُن کو الحاد کی تردید اور توحیدکے علمی اثبات کے لیے استعمال کروں۔ یہ گویا سیکولر اہلِ علم کے پیدا کردہ علمی امکانات کو اسلامائزکرنا تھا۔ اور جدید دور میں اظہارِ دین کے اُس علمی واقعے کو بروئے کار لانا تھا جس کے امکانات وقوع میں آچکے ہیں، لیکن ابھی ان کو استعمال نہ کیا جاسکا۔
اِس موضوع پر میں پہلے بھی کام کر رہا تھا۔ لیکن مذکورہ تجربے کے بعد میرے شعور میں ایک نئی بیداری آئی اور میں اِس قابل ہوگیا کہ زیادہ حوصلے کے ساتھ اِس علمی خدمت کو انجام دوں۔ آخر کار، طویل کوشش کے بعد وہ کتاب وجود میں آئی جو مذکورہ تجربے کی روشنی میں گاڈ ارائزز (God Arises) کے نام سے 1985 میں شائع ہوئی۔ اِس سے پہلے یہ کتاب اردو اور عربی زبان میں چھپ چکی تھی۔ لیکن مذکورہ انگریزی ایڈیشن مزید اضافے کے ساتھ اس کا زیادہ جامع ایڈیشن تھا۔
اِس کے بعد یہی موضوع (modern challenges to Islam) میرا مستقل موضوع بن گیا۔ اس کے بعدمضامین اور کتابوں کی شکل میں میری سیکڑوں کوششیں مختلف زبانوں میں شائع ہوئیں۔ میری اِن تمام تحریروں کا موضوع مشترک طورپر صرف ایک تھا، اور وہ اسلام اور عصری تحدیات تھا۔ بعد کے زمانے میںبراہِ راست یا بالواسطہ طورپر یہی میری زندگی کا مستقل موضوع بن گیا۔
واپس اوپر جائیں

تباہ کن غلط فہمی

عباسی دورمیں مسلمانوں کے اندر دینی زوال آیا۔اس زمانہ میں مسلمانوں کا یہ حال ہوا کہ کچھ رسمی اعمال ا ور مخصوص وضع قطع دینداری کی علامت بن گئے۔
اسی زمانہ میں قُصّاص (story tellers) پیدا ہوئے۔ وہ ان رسمی اعمال کے پراسرار فضائل پر خود ساختہ کہانیاں لوگوں کو سنانے لگے۔ اس طرح لوگ اس رسمی دین داری پر مزید پختہ ہوگئے۔ اپنا محاسبہ (introspection) کرنے کا جذبہ ختم ہوگیا۔
موجودہ زمانہ میں یہی خرابی مزید اضافہ کے ساتھ ظہورمیںآئی ہے۔ موجودہ زمانہ کے مسلمانوں نے ان رسمی اعمال کو دین داری سمجھ لیا۔ دوبارہ ان کے درمیان ایسی شخصیتیں اور ایسی جماعتیں پیدا ہوئی ہیں جو ان رسمی اعمال کے فضائل کے بارے میں لوگوں کو پر اسرار قسم کے قصے کہانی سنارہے ہیں۔ اس طرح وہ مسلمانوں کے اندر محاسبہ کا مزاج تو پیدا نہیں کرتے، البتہ فضیلت کی کہانیوں کے ذریعے وہ ان کے اندر یہ فرضی یقین پیدا کررہے ہیں کہ تمھاری رسمی دین داری ہی اصل دین داری ہے۔ اور اسی کے ذریعہ تم خدا کی نصرتوں کو حاصل کروگے اور آخر کار جنت میں پہنچ جاؤگے۔
یہ بلا شبہہ گم راہی ہے۔ جو لوگ اس گم راہی سے بے خبر ہیں، وہ اندھے پن کا شکار ہیں اور جو لوگ اس سے باخبر ہیں لیکن وہ اس کے بارے میں خاموش ہیں، وہ حدیث کے الفاظ میں ’’گونگے شیطان‘‘ بنے ہوئے ہیں۔ موجودہ زمانہ میں اصلاح امت کا سب سے بڑا کام یہی ہے کہ مسلمانوں کو اس تباہ کن غلط فہمی سے باہر لایا جائے۔
پچھلی امتیں جس بگاڑ کا شکار ہوئیں، اُس بگاڑ کو قرآن میں امانی (البقرۃ: 78 ) کہاگیا ہے۔ امانی سے مراد خوش فہمی (wishful-thinking) ہے، یعنی کچھ رسمی اعمال کرنا اور اُس پر بڑے بڑے انعامات کی امید قائم کرلینا۔ یہی پچھلی امتوں کا بگاڑ تھا، اور حدیث کی پیشین گوئی کے مطابق، یہی خود مسلمانوں کے ساتھ بھی دورِ آخر میں پیش آئے گا۔
واپس اوپر جائیں

فخر اور نفرت

انسان کا مطالعہ بتاتا ہے کہ ہر عورت اور ہر مرد کے اندر ایک نفسیات مشترک طور موجود رہتی ہے — فخر اور نفرت۔ فخر کا جذبہ اپنے لیے، اورنفرت کا جذبہ دوسروں کے لیے۔ ہرآدمی اِنھیں دو احساسات کے درمیان جیتاہے اور اِنھیں دو احساسات کے درمیان مرجاتاہے۔
یہ دونوں جذبات اتنے قوی ہیں کہ فخر کا اگر صرف ایک ذرہ اسے مل جائے تواس کو لے کروہ اپنے فخر کا گنبد کھڑا کردیتا ہے۔ اِس طرح اگر اُس کو نفرت کا ایک ذرہ مل جائے تو اُس کو لے کر وہ دوسروں کو نفرت کا موضوع بنا لیتاہے۔ یہ دونوں جذبے اتنا زیادہ عام ہیں کہ اُس کو انسان کا عالمی مزاج کہاجاسکتاہے۔
اِس مزاج کا یہ نتیجہ ہے کہ ہر آدمی اپنے بارے میں فخر کی نفسیات میں جیتا ہے، اور دوسرے کے بارے میں نفرت کی نفسیات میں۔ یہ دونوں جذبات دھیرے دھیرے انسان کے لاشعور کا حصہ بن جاتے ہیں، یہاں تک کہ انسان کا یہ حال ہوجاتا ہے کہ اُس کو اِس معاملے میں سوچنے کی ضرورت نہیں ہوتی۔ہر صورتِ حال میں یہ چیزیں اپنے آپ اس کے اندر پیدا ہوتی رہتی ہیں۔ ہر صورتِ حال اپنے آپ اُ س کو اپنے لیے فخر کی غذا دینے والی بن جاتی ہے۔
اِس طرح ہر صورتِ حال اپنے آپ اُس کو دوسروں کے بارے میں نفرت کی غذا دیتی رہتی ہے۔ یہ دو طرفہ نفسیاتی عمل آدمی کے اندر اِس طرح مسلسل طورپر جاری رہتا ہے کہ اِس میں اس کی کنڈیشننگ ہوجاتی ہے۔
یہ برائی آدمی کے اندر سوچے بغیر اپنے آپ پیدا ہوتی ہے۔ لیکن جب اُس کو ختم کرنا ہو تو آدمی کو سوچ کر اسے ختم کرنا ہوتا ہے۔ یہ اِس معاملے کا سب سے زیادہ نازک پہلو ہے۔ اِس معاملے میں کوئی شخص اپنی اصلاح اُسی وقت کرسکتا ہے، جب کہ وہ شعوری طورپر اس کو دریافت کرلے، وہ شعوری طورپر اپنے اوپر اصلاح کا عمل کرنے لگے۔
واپس اوپر جائیں

مسلمان عالمی محاصرہ میں

موجودہ زمانے کے تعلیم یافتہ مسلمانوں کا عام مزاج یہ ہے کہ مسلمان عالمی سطح پر زیر محاصرہ (under seige) ہیں۔ اُن کا خیال ہے کہ تمام قومیں مسلمانوں کی مخالف ہیں۔ تمام قوموں نے مسلمانوں کے خلاف سازش کر رکھی ہے۔ تمام قومیں متفقہ طور پر یہ چاہتی ہیں کہ مسلمان دوبارہ ابھرنے نہ پائیں، چناں چہ وہ یہ سمجھتے ہیں کہ ہر سطح پر مسلمانوں کے خلاف کارروائیاں جاری ہیں۔
یہ سوچ سرتاسر ایک بے بنیاد سوچ ہے۔ خالص علمی اعتبار سے اِس کی کوئی حقیقت نہیں۔اصل یہ ہے کہ موجودہ دنیا کا نظام خود خالق کے نقشے کے مطابق، مسابقت (competition) اور چیلنج پر قائم ہے۔ یہ فطرت کا نظام ہے۔ اس نظام کے بناپر کوئی آگے بڑھتا ہے اورکوئی پیچھے ہوجاتاہے، کوئی پانے والا بنتا ہے اور کوئی کھونے والا۔یہ نظام اِس لیے ہے تاکہ زندگی کی سرگرمیاں جاری رہیں، تاکہ ہر فرد اور ہر گروہ کو عمل کا محرک (incentive) ملتا رہے۔
فطرت کے اِس نظام کی بنا پر ایسا ہوتا ہے کہ ایک گروہ اپنی کوشش کے ذریعے آگے بڑھ جاتا ہے اور وہ دوسرے گروہ کو پیچھے چھوڑ دیتاہے۔ ایسی حالت میں پچھڑے ہوئے گروہ کو چاہئے کہ وہ اپنے عمل کی نئی منصوبہ بندی کرے، وہ کھوئی ہوئی بازی کو دوبارہ جیتنے کے لیے اپنی ساری توانائی خرچ کردے۔ زندگی کو چیلنج سمجھنا آدمی کو نیا جذبۂ عمل دیتا ہے۔ اِس کے برعکس، سازش اور دشمنی کا نظریہ آدمی کو منفی نفسیات میں مبتلا کرکے اس کو زندگی کی دوڑ میں پیچھے ڈال دیتا ہے۔
موجودہ زمانے کیمسلمانوں کا مسئلہ یہ ہے کہ انھوں نے اپنے رہنماؤں کی غلط رہنمائی کے نتیجے میں چیلنج کو محاصرہ سمجھ لیا۔ انھوںنے ایک مثبت واقعے کو خالص منفی رخ دے دیا۔ مسلمانوں کی یہی غلط سوچ ہے جس کی اصلاح میں ان کی ترقی کا راز چھپا ہوا ہے۔یہی وہ مقام ہے جہاں موجودہ زمانے کے مسلمان زوال کا شکار ہوئے ہیں۔ اور یہی وہ مقام ہے جہاں وہ اپنی اصلاح کرکے دوبارہ عروج تک پہنچ سکتے ہیں۔
واپس اوپر جائیں

شریعتِ محمدی کا نفاذ

موجودہ زمانے میں انقلاب پسند مسلمانوں کا ایک عمومی نعرہ وہ ہے جس کو شریعتِ محمدی کا نفاذ کہاجاتا ہے۔ یہ بلا شبہہ ایک خود ساختہ نعرہ ہے۔ اِس کی تائید قرآن اور حدیث سے نہیں ہوتی۔ اِس کے برحق ہونے کے لیے ضروری ہے کہ قرآن اور حدیث میں کوئی حکم اِس طرح کے الفاظ میں آیاہو: نفِّذ شریعۃَ محمد( شریعتِ محمدی کو نافذ کرو) اور جب قرآن اور حدیث میں کوئی حکم اِس طرح کے الفاظ میں نہ آیا ہو تو اس کی بنیاد پر سیاست چلانا بلا شبہہ ایک مُبتدعانہ سیاست ہے، وہ کوئی اسلامی کام نہیں۔
نفاذِ شریعت کا تصور کوئی سادہ تصور نہیں، یہ اسلام کے اندر ایک بہت بڑی برائی داخل کرنے کے ہم معنی ہے۔ اِس تصور نے اسلام کو بزور نفاذ (forceful implementation) کا موضوع بنادیا ہے، حالاں کہ اسلام اپنی حقیقت کے اعتبارسے اختیارانہ پیروی کا نام ہے۔’’نفاذِشریعت‘‘ ایک خوب صورت لفظ ہے، لیکن عملی نتیجے کے اعتبار سے وہ تخریب کاری ہے، اور صرف تخریب کاری۔
اسلام کو جب اختیارانہ پیروی کے اعتبار سے لیا جائے تو اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ فرد کے اندر مثبت ذہن پیدا ہوتا ہے، سماج کے اندر تعمیری قدریں فروغ پاتی ہیں، اجتماعی زندگی کے ہر شعبے میں امن قائم ہوتا ہے، وغیرہ۔ اِس کے برعکس، جب اسلام کو بزور نفاذ کا موضوع بنا دیا جائے تو اس کے نتیجے میں لازمی طور پر انتہا پسندی (extremism) کا مزاج پیدا ہوتا ہے۔ سماج میں رواداری (tolerance) کا مزاج ختم ہو جاتا ہے۔
اِس کے نتیجے میں پہلے لوگوں کے اندر شدت پسندی آتی ہے۔ جب شدت پسندی سے مقصد حاصل نہ ہو تو مسلّح ٹکراؤ شروع ہوجاتا ہے، اور جب وہ بھی ناکافی ہو تو اس کے بعد وہ آخری برائی پیدا ہوجاتی ہے جس کو خود کش بم باری (suicide bombing) کہاجاتا ہے۔ اور خود کش بم باری بلاشبہہ وہ برائی ہے جس کے بعد برائی کا کوئی اور درجہ نہیں۔
واپس اوپر جائیں

ارتقاء یا مغالطہ

ریڑھ کی ہڈی انسان کے جسم کا ایک کم زور حصہ ہے۔ ریڑھ کے نیچے کا حصہ بہت جلد متاثر ہوجاتا ہے اور وہ تکلیف شروع ہوجاتی ہے جس کو پیٹھ کا درد (backache) کہاجاتاہے۔ نظریۂ ارتقاء کے حامی اِس کو ارتقائی عمل سے جوڑتے ہیں۔ اُن کا کہنا ہے کہ انسان ابتداء ً چوپائے کی شکل میں تھا، جیسا کہ گھوڑا ہوتاہے۔پھر اُس نے پیچھے کے پاؤں پر کھڑا ہونے کی کوشش کی، یہاںتک کہ وہ انسان کی صورت میں ایک سیدھا حیوان بن گیا۔ اب اس کے پچھلے پاؤں بدستور پاؤں رہے، اور اگلے دونوں پاؤں ہاتھ کی مانند ہوگئے۔ سیدھا حیوان بننے کے بعد اس کا سارا بوجھ ریڑھ کی ہڈی پر آگیا۔ یہی سبب ہے کہ ریڑھ کی ہڈی کا نچلا حصہ نہایت آسانی سے تکلیف کا شکا رہوجاتا ہے۔
یہ سر تا سر ایک مغالطہ ہے۔ چار پیروں والے حیوان کا دو پیروں والا حیوان بن جانا صرف ایک غیرثابت شدہ قیاس ہے۔ دوسری بات یہ ہے کہ ریڑھ کی ہڈی کی تکلیف قدیم زمانے کے انسان کو نہیں ہوتی تھی، یہ صرف موجودہ زمانے کے انسان کا مسئلہ ہے۔ موجودہ زمانے کا انسان کمفرٹ کلچر (comfort culture) میں جیتا ہے۔ اِس قسم کی بیماریاں اِسی کمفرٹ کلچر کا نتیجہ ہیں، اس کا نظریہ ارتقاء سے کوئی تعلق نہیں۔
Backache is a common health problem
With reference to the Backache is a common health problem ‘Talking back’ (TOI, June 13) by Jug Suraiya, backache is indeed one of the most common complaint that people suffer from at some stage in their lives. The most common causes behind the problem are poor posture, improper lifting or bending. A sedentary lifestyle with little or no exercise and overexertion of the body can be harmful too. One explanation for the vulnerability of the lower back is that it is one of the weakest parts in the human body, having evolved from walking on fours to walking upright. This unique evolutionary adaptation is a relatively recent change. As a result, the stresses acting upon the vertebral column are unique in many respects and result in a variety of problems that are peculiar to the human species. A proper posture can go a long way towards providing relief from backaches. (Subhash Kaura, The Times of India, New Delhi, June 15, 2009)
واپس اوپر جائیں

تاریخ کے تین دور

کائنات کی عمر تقریباً 15 بلین سال بتائی جاتی ہے۔ زمین پر انسان کی عمر تقریباً 50 ہزار سال ہے۔ زمین پر انسانی تاریخ کے تین دور ہیں— ابتدائی دورِ تہذیب تک، روایتی فریم ورک سے سائنٹفک فریم ورک تک، غیر معیاری دنیا سے معیاری دنیا تک:
From primitive age to modern civilization.
From traditional framework of mind to scientific framework of mind.
From imperfect world to a perfect world.
انسانی تاریخ کا ابتدائی دور تہذیبی ارتقاء کا دور ہے۔ وہ آدم اور حوا کے بعدشروع ہوا اور بیسویں صدی عیسوی کے آخر میں اپنی تکمیل تک پہنچ گیا۔
قدیم زمانے میں انسان کے پاس سوچنے کا جو فریم ورک تھا، وہ روایتی فریم ورک تھا۔اِس میں دھیرے دھیرے ترقی ہوئی، یہاں تک کہ جدید سائنس (modern science)کا دورآیا اور انسان کو سوچنے کے لیے سائنٹفک فریم ورک حاصل ہوگیا۔
موجودہ دنیا میں وہ تمام مادّی چیزیں موجود ہیں جن کو انسان چاہتا ہے۔ لیکن موجودہ دنیا کی کوئی بھی چیز معیاری چیز نہیں۔ انسان اپنی پیدائش کے اعتبار سے معیار پسند (idealist) ہے، لیکن موجودہ دنیا اُس کی نسبت سے ایک غیر معیاری دنیا ہے۔ یہ تضاد آخر کار ختم ہوگا۔
اِس معیاری دنیا کے بننے کا وقت اب بہت قریب آچکا ہے۔ مگر اِس معیاری دنیا میں صرف منتخب افراد کو جگہ ملے گی۔ موجودہ دنیا میں جن لوگوں نے اپنی اہلیت ثابت کی ہوگی، اُن کو منتخب کرکے اگلی معیاری دنیا میں بسا دیاجائے گا۔ باقی لو گ عالمی کوڑے خانے میں ڈال دیے جائیں گے، پہلا گروہ ابدی راحتوں کی دنیا میں جگہ پائے گا، اور دوسرا گروہ ابدی محرومی کی دنیا میں۔
واپس اوپر جائیں

اصلاحِ نصاب، یا اصلاحِ ماحول

مسلم رہنماؤں کے درمیان عرصے سے یہ تحریک چل رہی ہے کہ دینی مدارس کا نصاب (syllabus) بدلا جائے۔ یہ اصل مسئلے کا صرف کم تر اندازہ ہے۔ دینی مدارس میں بلا شبہہ اصلاح کی ضرورت ہے، لیکن اِس ضرورت کا تعلق اصلاً اصلاحِ نصاب سے نہیں ہے، بلکہ اصلاحِ ماحول سے ہے۔ موجودہ حالت میں خواہ مدارس کا نصاب بدل دیا جائے یا اس کو باقی رکھا جائے، دونوں صورتوں میں یقینی طورپر مطلوب نتیجہ نکلنے والا نہیں۔
دینی مدارس کا اصل مسئلہ یہ نہیں ہے کہ وہاں کا نصاب قابلِ تبدیلی ہے، دینی مدارس کا اصل مسئلہ وہاں کا قدامت پرستانہ ماحول ہے جس کو بدلنا ضروری ہے۔ موجودہ صورتِ حال یہ ہے کہ دینی مدارس میں مکمل طورپر جمود (stagnation) کی فضا قائم ہے۔ اِن مدارس میںآزادانہ سوچ کو شجرِ ممنوعہ سمجھا جاتاہے۔ ہر مدرسے کہ کچھ مقدس اکابر ہیں۔ اِن اکابر کے خلاف سوچنا لوگوں کے نزدیک جرمِ عظیم کا درجہ رکھتا ہے۔ مدارس کا یہی جامد ماحول مدارس کے جدید رول کی ادائیگی میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ جب تک اِس ماحول کو بدلا نہ جائے، مدارس سے یہ امید نہیں کی جاسکتی کہ وہ دورِ جدید میں اپنا مطلوب رول ادا کرسکیں گے۔
مولانا شبلی نعمانی (وفات: 1914 ) نے لکھا تھا کہ ہمارے مدارس میں مُتون پڑھائے جاتے ہیں، فنون نہیں پڑھائے جاتے۔ یہ ایک صحیح بات تھی۔ اِس صورتِ حال کا نتیجہ یہ ہے کہ ہمارے مدارس میں اساتذہ اور طلبا کی سوچ تمام تر کچھ کتابوں اور ان کتابوں کے مصنفین پر مُرتکز رہتی ہے۔ وہ اِنھیں چند کتابوں کو علم سمجھتے ہیں اور ان کے مصنفین کو علماء کا درجہ دیتے ہیں۔ اِس سے طلبا اور اساتذہ کے اندر بند ذہن پیدا ہوتا ہے۔
اس کے برعکس، اگر ہمارے مدارس میں فنون پڑھا جائیں تو اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ موضوعات (subjects) زیر بحث آنے لگیں گے۔اِس طرح غور وفکر کا دائرہ بہت زیادہ وسیع ہوجائے گا۔ اس طرح سوچ کا دائرہ چند مخصوص علماء تک محدود نہیں رہے گا، بلکہ کسی موضوع پر دوسرے اہلِ علم نے جو کچھ لکھا ہے، وہ بھی غور وبحث کے دائرے میں آجائے گا۔ اس طرح لوگوں کے ذہن کھلیں گے۔ لوگوں کا ذہنی ارتقاء ہوگا۔ لوگوں کے اندر تقلید کے بجائے اجتہاد کی صلاحیت ترقی کرے گی۔ ہر آدمی شعوری یا غیر شعوری طورپر یہ چاہنے لگے گا کہ پچھلے لوگ جو کام کرچکے ہیں، میں اُن سے آگے جاؤں، میں علمی ارتقاء کی مزید منزلیں طے کروں۔
اِس معاملے کی ایک مثال مولانا شبلی نعمانی کی زندگی میں پائی جاتی ہے۔ مولانا شبلی نعمانی نہ صرف یہ کہ ایک اچھے عالم تھے، بلکہ وہ ایک فعال آدمی تھے۔ وہ اظہارِ خیال کی آزادی کو بہت زیادہ پسند کرتے تھے۔ وہ جہاں بھی رہتے تھے، وہاں وہ لوگوں کے اندر یہ اسپرٹ پیدا کرتے تھے کہ وہ کھلے ذہن کے تحت سوچیں اور کھلے ذہن کے تحت رائے قائم کریں اور دورِ جدید کے لحاظ سے اعلیٰ قابلیت پیدا کریں۔ اِس سلسلے میں وہ انگریزی زبان سیکھنے پر بھی زور دیا کرتے تھے۔
اِس کے نتیجے میں ایسا ہوا کہ مولانا شبلی کے قیامِ ندوہ (1905-1913) کے زمانے میں وہاں ایک زندہ علمی ماحول پیدا ہوگیا۔ اسی کا یہ نتیجہ تھا کہ مولانا شبلی نعمانی کے زمانے میں کئی اعلیٰ علمی شخصیتیں پیدا ہوئیں۔ مثلاً مولاناسید سلیمان ندوی (وفات:1953 ) ، مولانا ابو الکلام آزاد (وفات: 1958)، مولانا عبدالباری ندوی (وفات:1976 )، مولانا عبد الماجد دریادبادی (وفات: 1977 ) ، وغیرہ۔
تعلیم کے سلسلے میں دو چیزیں بنیادی اہمیت رکھتی ہیں— نصاب، اور اساتذہ۔ کسی تعلیمی ادارے میں بلاشبہہ نصاب کی بہت اہمیت ہے۔ لیکن نتیجے کے اعتبار سے دیکھا جائے تو نصاب سے بھی زیادہ اہمیت اساتذہ کی ہے۔ نصاب کی حیثیت عملاً ایک ذریعہ کی ہے۔ تاہم اِس ذریعہ کا جو استعمال کرتاہے، وہ استاذ ہے۔ استاذ اگر لائق اور فعال ہو تو وہ کسی بھی نصاب کو استعمال کرکے طلبا کے اندر مطلوب روح پیدا کرسکتا ہے، اور اگر استاد لائق اور فعال نہ ہو تو اچھے سے اچھا نصاب بھی عملاً بے نتیجہ ہو کر رہ جائے گا۔
واپس اوپر جائیں

ہر گھر بگاڑ کا کارخانہ

آج کل عام طورپر یہ حال ہے کہ ہر گھر میںایک طرف اپنے بچوں اور اپنے خاندان والوں کی تعریف کی جاتی ہے، اُن کا ذکر ہمیشہ مثبت انداز میں کیا جاتا ہے۔ اِس کے برعکس، جب بھی دوسروں کا چرچا کیا جاتا ہے تو وہ تنقیص کے انداز میں ہوتا ہے۔
اپنوں کے بارے میں مثبت باتوں کا چرچا اور دوسروں کے بارے میں منفی باتوں کا چرچا، یہ کلچر اـتنا زیادہ عام ہے کہ شاید ہی کوئی گھر اِس سے خالی ہو۔
گھر کے اندر سماج کے شہری بنتے ہیں، لیکن مذکورہ کلچر نے گھر کو اِس قابل نہیں رکھا ہے کہ وہ اپنے سماج کے لیے اچھے شہری سپلائی کرے۔ ہر گھر میںایسے عورت اور ایسے مرد بن کر تیار ہورہے ہیں جو اپنوں کے بارے میں مثبت رائے اور دوسروں کے بارے میں منفی رائے رکھتے ہیں، جن کو اپنوں سے محبت ہے اور دوسروں سے نفرت ، جو اپنوں کے بارے میں روادار (tolerant) ہیں اور دوسروں کے بارے میںوہ غیر روادار(intolerant) بنے ہوئے ہیں، جن کے اندر اپنوں کو دینے کا ذہن ہے اور دوسروں سے صرف لینے کا ذہن، جو اپنوں کو برتر سمجھتے ہیںاور دوسروں کو کم تر، جو اپنوں کی ترقی پر خوش ہوتے ہیںاور دوسروں کی ترقی دیکھ کر اُنھیں کوئی خوشی نہیں ہوتی، جو اپنوں کی تکلیف سے فکر مند ہوتے ہیں اور دوسروں کی تکلیف کو دیکھ کر انھیں کوئی فکر مندی لاحق نہیں ہوتی، وغیرہ۔
اِس صورتِ حال کا یہ نتیجہ ہے کہ اب سماجی اقدار (social values) کا تصور ختم ہوگیا ہے۔ اب ایک ہی چیز ہے جو ہر ایک کا واحد کنسرن (sole concern) بنی ہوئی ہے، اور وہ ہے ذاتی مفاد(self-interest) ۔ اِس صورتِ حال نے ہر ایک کو خود غرض اور استحصال پسند بنا دیا ہے، کسی کو کم اور کسی کو زیادہ۔ یہ صورتِ حال بے حد سنگین ہے۔ اِس کی اصلاح جلسوں اور تقریروں کے ذریعے نہیں ہوسکتی، اس کی اصلاح کا طریقہ صرف یہ ہے کہ گھر والے اپنے گھر کے ماحول کو درست کریں۔گھر کے ماحول کو درست کئے بغیر اِس سنگین صورتِ حال کی اصلاح ممکن نہیں۔
واپس اوپر جائیں

خدا کا اعتراف نہیں

آج کل یہ رواج ہے کہ ایک شخص پیسہ کمائے گا اوراس کے بعد وہ ایک کار خرید کر اپنے بیٹے کو دے گا۔ کار کے شیشہ پر لکھا ہوا ہوگا— باپ کی طرف سے تحفہ (Dad's Gift) ۔ یہ کوئی سادہ بات نہیں۔ اپنی حقیقت کے اعتبار سے یہ ناشکری کا کلمہ ہے۔ ایک نعمت جو حقیقۃً خدا کی طرف سے ملی ہے، اس کو خداکی طرف منسوب نہ کرنا، بلکہ اس کو خود اپنے کمالات کے خانے میں ڈال دینا، یہ خدا کے ساتھ بے اعترافی کا معاملہ کرناہے، اور خدا کے ساتھ بے اعترافی بلا شبہہ خدا کی اِس دنیا میں سب سے بڑے جرم کی حیثیت رکھتا ہے۔
قرآن کی سورہ نمبر 27 میں بتایا گیا ہے کہ پیغمبر سلیمان بن داؤد کو ایک مادّی نعمت ملی تو انھوں نے فوراً کہا: ہٰذا من فضل ربّی (النمل:40 ) یعنی یہ میرے رب کے فضل میں سے ہے۔ دوسرے لفظوں میں یہ کہ پیغمبر نے اس کو خدا کی طرف سے عطیہ (God’s gift) قرار دیا۔ یہی صحیح ایمانی طریقہ ہے۔ صاحبِ ایمان وہ ہے جو ہر چیز کو خدا کی چیز سمجھے، جوہر ملی ہوئی چیز کو خدا کی طرف منسوب کرتے ہوئے خدا کا اعتراف کرے۔
دنیا میںانسان کو جوچیزیں ملتی ہیں، وہ بہ ظاہر خود اپنی کوشش کے ذریعے ملتی ہیں، لیکن یہ صرف اس کا ظاہری پہلوہے۔ اصل حقیقت یہ ہے کہ ہر چیز مکمل طورپر خدا کا عطیہ ہوتی ہے۔ انسان کا امتحان یہ ہے کہ وہ ظاہری پردے کو پھاڑ ے، وہ اصل حقیقت کو دریافت کرتے ہوئے ہر ملی ہوئی چیز پر یہ کہہ دے کہ یہ میرے رب کا عطیہ ہے جو براہِ راست طورپر خدا کی طرف سے مجھ کو دیا گیا۔
اِسی اعتراف (acknowledgment) کا مذہبی نام شکر ہے۔ یہاں اُسی شخص کو جائز طورپر رہنے کا حق حاصل ہے جو شکر و اعتراف کی نفسیات کے ساتھ اِس دنیا میں رہے۔ شکر کی یہی نفسیات موجودہ دنیا میں کسی کو جائز طورپر جینے کا حق دیتی ہے۔ اِس کے برعکس، جن لوگوں کے اندر ناشکری اور بے اعترافی کی نفسیات ہو، وہ خدا کی اِس دنیا میں مجرم اور درانداز (intruders) کی حیثیت رکھتے ہیں۔
واپس اوپر جائیں

بچوں کا قبرستان

ایک تعلیم یافتہ مسلمان ہمارے مشن سے جڑے ہوئے تھے۔ اُس وقت ان کے یہاں اولاد نہیں تھی، پھر ان کے یہاں بچے پیدا ہوئے۔ اِس کے بعد وہ دھیرے دھیرے مشن سے دور ہوگئے۔ ایک عرصے کے بعد ان سے ملاقات ہوئی۔ میں نے پوچھا کہ آپ نے دعوتی کام کو کیوں چھوڑ دیا۔ انھوں نے کہا— بچوںکی ذمے داریاں اتنی بڑھ گئی ہیں کہ اب وقت نہیں ملتا۔
موجودہ زمانے میں یہی کم و بیش ہر آدمی کا حال ہے۔ لوگوں کے لیے ان کے بچے ان کا قبرستان بنے ہوئے ہیں۔ ہر آدمی کے لیے اس کے بچے اس کا واحد کنسرن (sole concern) ہیں۔ ہر آدمی اپنا پیسہ، اپنا وقت، اپنی انرجی، غرض جو کچھ اس کے پاس ہے، وہ اس کو اپنے بچوں کے لیے وقف کئے ہوئے ہے۔ دوسروں کے لیے اس کے پاس صرف زبانی ہمدردی (lip service) ہوتی ہے، اور اپنی اولاد کے لیے حقیقی عمل، حتی کہ خدا کے لیے یا خدائی کام کے لیے بھی اس کے پاس صرف الفاظ ہوتے ہیں، اِس سے زیادہ اور کچھ نہیں۔
آج جس شخص سے ملاقات کیجئے، وہ اپنے بچوں کے مستقبل (future) کے لیے فکر مند ہوگا، لیکن وہ خود اپنے مستقبل کے لیے فکر مند دکھائی نہ دے گا۔ یہ عین وہی صورتِ حال ہے جس کو حدیث میں اِن الفاظ میں بیان کیاگیا ہے: أذہب آخرتہ بدنیا غیرہ ۔یعنی سب سے زیادہ گھاٹے میںوہ شخص ہے جو دوسرے کی دنیا بنانے کے لیے اپنی آخرت کھو دے۔
اِس معاملے کا سب سے زیادہ اندوہناک پہلو یہ ہے کہ لوگ محبتِ اولاد میں اتنا زیادہ غرق ہیں کہ وہ اِس حدیثِ رسول کا مصداق بن گئے ہیں: حبّک الشییٔ یعمی ویُصمّ۔ اولاد کی محبت ان پر اتنا زیادہ غالب ہے کہ وہ یہ بھی سوچ نہیں پاتے کہ ہم اولاد کے مستقبل کو بنانے کی فکر میں خود اپنے مستقبل کو تباہ کررہے ہیں۔ اِس بنا پر لوگوں کاحال یہ ہے کہ ان کے پاس زیادہ اہم کاموں کے لیے وقت نہیں۔ مثلاً دینی مطالعہ، دعوہ ورک، آخرت کو سامنے رکھ کر اپنے معاملات کی منصوبہ بندی، وغیرہ۔
واپس اوپر جائیں

بحران کا مثبت پہلو

سگمنڈ فرائڈ (Sigmund Freud) 1856 میں آسٹریا (سنٹرل یورپ) میں پیداہوا، اور 1939 میں اس کی وفات ہوئی۔ وہ نفسیات کا عالم (psychologist)تھا۔
سگمنڈ فرائڈ اپنے ایک غلط نظریے کی وجہ سے کافی بدنام ہوا۔ اُس کا نظریہ یہ تھا کہ — نفسیاتی پیچیدگیاں ابتدائی دورکے جذباتی صدمات کا نتیجہ ہوتی ہیں، وہ دبی ہوئی صنفی توانائی کا اظہار ہیں:
…Symptoms were caused by early trauma, and were expressions of repressed sexual energy.
تاہم فرائڈ کی بعض تحقیقات سبق آموز ہیں۔ اُن میں سے ایک اُس کا یہ قول ہے کہ —زندگی کا ہر بحران امکانی طورپر انسانی شخصیت کے مثبت پہلو کو متحرک کرنے کا سبب بنتاہے:
Every crisis is potentially a stimulus to the positive side of the personality.
یہ فطرت کے نظام کا ایک اہم پہلو ہے۔ خدا کے تخلیقی نظام کے تحت، ایساہوتا ہے کہ انسان کی زندگی میں جب کوئی غیر مطلوب واقعہ پیش آتا ہے تو وہ ایک مطلوب نتیجے کا سبب بن جاتاہے۔
اِس کے بعد آدمی کے اندر نیا شوق، نیا ولولہ اور نیا جذبۂ عمل پیدا ہوتا ہے۔ آدمی کا ذہن زیادہ بیدار ہو کر زیادہ بہتر منصوبہ بندی کرنے لگتا ہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ ہر بحران آدمی کی زندگی میںایک نیا امکان کھول دیتا ہے، ہر ناکامی آدمی کے لیے ایک نئی کامیابی کا سبب بن جاتی ہے۔
آدمی کو چاہئے کہ وہ کسی بھی صورت حال میںمایوس نہ ہو، وہ ہر رکاوٹ کو اپنے لیے ترقی کا نیا زینہ سمجھے، وہ مسئلہ (problem) کو ایک چیلنج سمجھے، نہ کہ صرف ایک مسئلہ۔مسئلے کو صرف مسئلہ سمجھنا آدمی کو مایوسی کی طرف لے جاتاہے، اور مسئلے کو چیلنج سمجھنا آدمی کے لیے نیا دروازہ کھولنے کا سبب بنتا ہے۔
واپس اوپر جائیں

انفرادی آداب، اجتماعی آداب

اگر آپ چند آدمی کے ساتھ کسی مقام پر بیٹھے ہیں۔ قریب کی مسجد سے اذان کی آواز آتی ہے۔ اذان کی آواز سن کر اگر آپ خاموشی کے ساتھ اٹھیں اور مسجد کی طرف تنہا روانہ ہوجائیں تو یہ انفرادی آداب کا معاملہ ہے۔ ایسے موقع پر اس طرح خاموشی کے ساتھ چلے جانے کی نوعیت دوسری ہے۔
اس کے برعکس، اگر آپ ایک ادارہ کے باقاعدہ رکن ہوںاور آپ کی یہ ذمہ داری ہو کہ آپ وہاں روزانہ وقت پر آئیں اور مقرر ذمہ داریوں کو پابندی کے ساتھ ادا کریں۔ اس دوسری صورت میں اگر آپ اپنے ادارے سے اچانک اٹھ کر بغیر کچھ کہے ہوئے روانہ ہوجائیں۔ بعد کو معلوم ہو کہ آپ اپنے کسی نجی کام سے 10 دن کے لئے چلے گئے تھے تو اس طریقہ کا تعلق اجتماعی آداب سے ہے۔ اور اجتماعی آداب کی نسبت سے یہ طریقہ سخت قابلِ اعتراض ہے۔
عام طورپر لوگ انفرادی آداب کے معاملہ میں کافی معلومات رکھتے ہیں، لیکن اجتماعی آداب کے معاملہ میں لوگوں کو بہت کم باتیں معلوم ہیں۔ انفرادی آداب کے بارے میں لوگوں کا شعور جتنا بیدار رہتا ہے، اجتماعی آداب کے بارے میں لوگ اتنا ہی زیادہ بے شعوری میں مبتلا ہیں۔
انفرادی آداب اور اجتماعی آداب میں یہ فرق ہے کہ انفرادی آداب ذاتی محرک کے تحت ہوتا ہے۔ ہر آدمی اپنی ذات کے بارے میں حساس ہوتا ہے، اِس لیے وہ انفرادی آداب کے معاملے کو جلد سمجھ لیتا ہے اور اس کو اپنی زندگی میں شامل کرلیتا ہے۔ لیکن اجتماعی آداب کا معاملہ اِس سے مختلف ہے۔
اجتماعی آداب کے معاملے میں آپ کو دوسروں کے احساسات کو جاننا ہوتا ہے، اجتماعی آداب کے معاملے میں آپ کو اپنے سے باہر کی دنیا کا لحاظ کرنا پڑتا ہے۔ اجتماعی آداب کے معاملے میں کسی انسان کو زیادہ حساس اور زیادہ با شعور ہونا چاہیے، ورنہ وہ اِس معاملے میں بے شعوری کا شکار ہوجائے گا اور ایسی غلطیاں کرے گا جو اجتماعی شریعت کے اعتبار سے قابلِ معافی نہیں۔
واپس اوپر جائیں

حرص، قناعت

یکم جون 2009 کو مسٹر ایس کے سیف الدین (مدراس) سے دہلی میں ملاقات ہوئی۔انھوںنے نصیحت کے لئے کہا۔ میںنے ان کی ڈائری میں یہ الفاظ لکھے:
’’پر سکون زندگی کا راز کم پر راضی ہونا ہے نہ کہ زیادہ کی تلاش میں رہنا۔ کم کی حد ہے لیکن زیادہ کی کوئی حد نہیں۔ اس لیے ایسا ہوتا ہے کہ کم پر راضی ہونے والے کو پرسکون زندگی ملتی ہے۔ لیکن زیادہ کی تلاش کرنے والا کبھی پر سکون زندگی حاصل نہیںکرپاتا‘‘۔
مذہب کی اصطلاح (religious term)میںکم پر راضی ہونے کا نام قناعت ہے اور زیادہ کی تلاش میں رہنے کا نام حرص۔ انھیں دو لفظوں میں زندگی کی پوری کہانی چھپی ہوئی ہے۔ جو آدمی اس حقیقت کو جان لے، و ہی عارف ہے۔ او رجو آدمی ا س حقیقت سے بے خبر رہے، وہی وہ انسان ہے جس کو معرفت حاصل نہیں ہوئی۔
اصل یہ ہے کہ انسان کی خواہشیں لامحدود ہیں، لیکن موجودہ دنیا ہر اعتبار سے محدود ہے۔ محدود دنیا میں لامحدود خواہشات کی تکمیل نہیں ہوسکتی، اس لئے جو لوگ موجودہ دنیا میں اپنی خواہشات کو لامحدود طورپر پورا کرنا چاہیں، وہ ہمیشہ بے اطمینانی کا شکار رہیں گے۔
طلب اور مطلوب کے درمیان فرق ہی کا نام بے اطمینانی ہے۔ جو لوگ اپنی طلب کو محدود نہ کریں، ان کے لئے یہی مقدر ہے کہ وہ ہمیشہ بے اطمینانی میں مبتلا رہیں اور اسی حال میں مرجائیں ۔
ایسی حالت میں عقل مندی یہ ہے کہ آدمی حقیقت واقعہ کو تسلیم کرے، اور حرص کے طریقہ کو ناممکن سمجھ کر قناعت کے طریقہ کو اختیار کرلے۔ قناعت حقیقت پسندانہ رویہ کا دوسرا نام ہے، اور حرص غیر حقیقت پسندانہ رویہ کا دوسرا نام— قناعت کا طریقہ فطرت کے قانون سے موافقت کرنے کا نام ہے، اِس کے مقابلے میں، حرص فطرت کے قانون سے عدم موافقت کا نام۔
واپس اوپر جائیں

خیر خواہی یا بد خواہی

ایک باپ نے اپنی بیٹی کی شادی دور کے مقام پر کی۔ یہ بیٹی اپنے میکہ میں اس طرح رکھی گئی تھی کہ اس نے کبھی کوئی کام نہیں کیا۔ اس کے والدین کی کوشش ہمیشہ یہ ہوتی تھی کہ بیٹی خوش رہے۔ اس کو کوئی تکلیف نہ ہونے پائے۔ مگر باپ جانتا تھا کہ سسرال میں ایسا ہونے والا نہیں ہے۔ اس نے بیٹی کو رخصت کرتے ہوئے کہا کہ اب تم جہاں جارہی ہو، وہ تمھارے لئے ایک مختلف دنیا ہوگی۔ میکہ میں تم کو جو آرام ملا، سسرال میں تم اس کی امید نہ رکھنا۔
باپ نے اپنی سمجھ کے مطابق، یہ مشورہ خیر خواہی کے جذبہ کے تحت دیا۔ لیکن حقیقت کے اعتبار سے وہ بدخواہی کامشورہ تھا۔ حقیقت کے اعتبار سے اس کا مطلب یہ تھا کہ ان کی بیٹی اپنے سسرال میںہمیشہ منفی ذہن کے تحت رہے۔ وہ ہمیشہ احساسِ محرومی کا شکار رہے۔ وہ ہمیشہ یہ سمجھتی رہے کہ میرے میکہ کے لوگ بہت اچھے تھے اور میری سسرال کے لوگ بہت برے ہیں۔ میکہ والوں کے لئے اس کے دل میں جھوٹی محبت اور سسرال والوں کے لیے اس کے دل میں جھوٹی شکایت بھر جائے۔ ساری زندگی وہ اس احساس میں جئے کہ میری شادی غلط ہوگئی۔ وہ ہمیشہ میکہ والوں کو اچھا سمجھے اور سسرال والوں کو ہمیشہ برا سمجھتی رہے۔
موجودہ زمانے میں تقریباً ہر ماں باپ اپنی بیٹی کے حق میںاسی قسم کی فرضی خیر خواہی کرتے ہیں جو عملاً بیٹی کے لئے صرف ایک مستقل بد خواہی بن جاتی ہے۔ بیٹی اپنے میکہ کی کنڈیشننگ کی بنا پر خود سے کبھی اس معاملہ کو سمجھ نہیں پاتی۔ اور ماں باپ کا حال یہ ہوتاہے کہ وہ اس کی کنڈیشننگ کو مزید پختہ کردیتے ہیں، وہ اس کی کنڈیشننگ کا خاتمہ نہیںکرتے۔
صحیح یہ ہے کہ باپ یا تو اپنی بیٹی کے ساتھ لاڈ پیار (pampering) کا سلوک نہ کرے، یا کم ازکم یہ کرے کہ وہ اپنی بیٹی سے بوقتِ رخصت کہہ دے کہ ہم نے جو کچھ کیا، وہ غیر فطری طریقہ تھا، فطری طریقہ وہی ہے جس سے تم کو سسرال میں سابقہ پیش آئے گا۔
واپس اوپر جائیں

سوال وجواب

سوال
عرض یہ ہے کہ ایک بار میں دہلی میں آپ کے پاس آیاتھا۔اُس وقت آپ نے مجھ کو یہ حدیث سنائی تھی: مَنْ صَمَتَ نَجَا۔ یعنی جو چپ رہا اور جس نے بولنے سے پہلے سوچا، وہ کامیاب رہا۔ آپ نے میری ڈائری میں لکھوایا تھا کہ اِس حدیث کو مضبوطی سے پکڑ لیں اور اس کے مطابق اپنی زندگی بنائیں تو آپ کامیاب رہیں گے۔ عرض یہ ہے کہ اِس حدیث کے مطابق، زندگی بنانے کا مطلب کیا ہے، براہِ کرم، مطلع فرمائیں۔ (جواد الحق مظاہری، ہری دوار)
جواب
اِس حدیث میں چپ رہنے کا مطلب کامل معنوں میں چپ رہنا نہیں ہے، بلکہ اس کا مطلب ہے کم بولنا۔ جو آدمی کم بولے، اس کو بیک وقت دو فائدے حاصل ہوتے ہیں— ایک، یہ کہ وہ زیادہ سوچتا ہے۔ کم بولنے کا دوسرا پہلو زیادہ سوچنا ہے۔ جب آدمی بولتا ہے تو اُس وقت وہ سوچ نہیں پاتا۔ اِسی لیے کسی نے بالکل درست طور پر کہا ہے:
When I am speaking, I am not thinking.
کم بولنے کا دوسرا فائدہ یہ ہے کہ آدمی کو یہ موقع ملتا ہے کہ وہ دوسروں کی بات سنے، وہ دوسروں سے سیکھے، وہ دوسروں کے تجربات سے فائدہ اٹھائے۔ حقیقت یہ ہے کہ کم بولنا کوئی سادہ بات نہیں۔ کم بولنا پورے معنوں میں، ایک طریقِ زندگی ہے۔ جو آدمی کم بولنے کے طریقِ زندگی کو اختیار کرے، وہ ضرور اعلیٰ کامیابی حاصل کرے گا۔
سوال
آپ کی باتیں بہت اچھی ہیں، مگر اس وجہ سے نہیں کہ آپ اعمال کو آخرت کے ساتھ جوڑتے ہیں، بلکہ اس لیے کہ ان کی افادیت اِسی دنیا میں ہے۔ آخرت سے متعلق تمام تر باتیں ظنی ہیں اوروہ صرف ظنی ہی ہوسکتی ہیں۔ آخرت کو قطعیت کے ساتھ ثابت ہی نہیں کیا جاسکتا۔ مثلاً حدیث میں ہے کہ میری امت کے 73 فرقے ہوں گے جن میں سے صرف ایک حق پر ہوگا اور باقی گمراہ ۔ ظاہر ہے کہ کوئی بھی عالمِ دین روئے زمین پر ایسا نہیں ہے جو مذکورہ 72 گمراہ فرقوں کی تعیین کرسکے، اور جب آپ تعیین کی قدرت نہیں رکھتے ہیں تو آپ کا علم ظنی سے بھی نچلی سطح پر آجاتاہے۔ نیز قیامت آنے سے پہلے ہی آپ یعنی علماء 72 کے عدد کو پار کرچکے ہیں، پھر مزید کتنے فرقے وجود میں آنے باقی ہیں۔ اس طرح پورا معاملہ ہی گڈ مڈ ہوجاتا ہے۔ علم وہ ہے جوحتمی ہو، جو تبدیلی کو نہ چاہتا ہو، جو پتھر کی لکیر ہو۔ آج کچھ کہا، کل کچھ کہیں گے، یہ کوئی علم نہیں(خط میں نام درج نہیں، پونہ)۔
جواب
1 - خالص سائنسی اعتبار سے دیکھا جائے تو اِس دنیا میں تمام علوم ’’ظنی‘‘ ہیں۔ سائنس کے مطابق، اِس دنیا میں ہماری واقفیت صرف امکان (probability) تک پہنچ سکتی ہے، نہ کہ حتمیت (certainty) تک۔ قرآن میں بتایا گیا ہے کہ انسان کو صرف علمِ قلیل (الإسراء: 85 ) دیاگیا ہے۔ موجودہ زمانے میں سائنس کا بھی یہی موقف ہے۔ اِس موقف کو علمی نقطۂ نظر کہا جاسکتا ہے۔ اس کے سوا علمی طورپر کوئی اور نقطۂ نظر موجودہ دنیا میں ممکن نہیں۔
2 - حدیث میں مذکورہ 72 فرقوں کو نام بنام متعین کرنا، یا یہ متعین کرنا کہ اِ ن میں سے کون سا فرقہ برسرِ حق فرقہ ہے، یہ صرف خدا کا کام ہے، یہ انسان کا کام نہیں۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جو بات فرمائی ہے، وہ گم راہی کی نشان دہی کے اعتبار سے ہے، نہ کہ گم راہ فرقوں کی تعیین کے اعتبارسے۔ دوسرے لفظوں میں یہ کہ اِس حدیث میں تفرّق یا فرقہ بندی کی شناعت سے متنبہ کیا گیا ہے۔ فرقوں کی تعداد بتانا اِس حدیث کا اصل موضوع نہیں۔
واپس اوپر جائیں

خبرنامہ اسلامی مرکز— 198

1 - یکم ستمبر کے انقلاب کی یادگار کے طور پر لیبیا ایمبیسی کی طرف سے ایک پروگرام ہوا۔ یہ پروگرام یکم ستمبر 2009 کی شام کو نئی دہلی کے ہوٹل (Hayatt Regency Hotel) کے بال روم میں ہوا۔ اس کی دعوت پر سی پی ایس کی ٹیم کے تین افراد ن اس میں شرکت کی۔ یہاں مختلف ممالک کے سفرا اور اعلیٰ تعلیم یافتہ افراد موجود تھے۔انھوں نے ان کو قرآن کا انگریزی ترجمہ اور دعوتی لٹریچر دیا۔
2 - پازیٹیو تھنکرس فورم (بنگلور) کے تعاون سے گل برگہ (کرناٹک) کے حلقۂ الرسالہ سے وابستہ افراد نے ستمبر 2009 میں چند دعوتی پروگرام کئے۔ یہ پروگرام گل برگہ کے حسب ذیل مقامات پر کئے گئے— فنکشن ہال، میڈیل کالج، کمپیوٹر کالج، انجنیئرنگ کالج، آیورویدک کالج ۔ اِس موقع پر انھوں نے وہاں کے اعلیٰ تعلیم یافتہ غیر مسلم حضرات سے دعوتی خطاب کیا اور بڑے پیمانے پر حاضرین کو قرآن کا انگریزی ترجمہ مطالعے کے لیے دیا ۔
3 - کمیونٹی آف سینٹ ایجی ڈیو (اٹلی) کے سالانہ پروگرام کے طورپر پولینڈ کے شہر کریکو (Cracow) میں 6-8 ستمبر 2009 کو ایک انٹرنیشنل کانفرنس ہوئی۔ اِس میں مختلف مذاہب کے نمائندے شریک ہوئے۔ عرب علماء بھی اس میں قابل ذکر تعداد میں موجود تھے۔ اِس اجتماع کا موضوع عالمی امن تھا۔ اس کی دعوت پر صدر اسلامی مرکز کے ساتھ سی پی ایس کے چار افراد نے اس میں شرکت کی۔ اِس موقع پر قرآن کا انگریزی ترجمہ بڑی تعداد میں کانفرنس کے شرکا اور پولینڈ کے مقامی لوگوں کو دیاگیا۔ اِس سفر کی روداد ان شاء اللہ سفر نامے کے تحت شائع کردی جائے گی۔
4 - بعد سلام عرض ہے کہ ناچیز کو آپ کا بھیجا ہوا ماہ نامہ الرسالہ پابندی کے ساتھ موصول ہورہاہے۔ میں اس کو ایک ہی نشست میں پڑھ لیتا ہوں۔بلاشبہہ الرسالہ سے ہمیں جو رہنمائی ملتی ہے، اس کی کہیں نظیر نہیں۔ ماہ نامہ کے ہر صفحے میں ایک حیرت انگیز اور ایمان افروز سبق ہر مومن کے لیے موجود ہوتا ہے۔ یقینا پوری دنیاکے مسلمانوں کے لئے اصلاحی اور ذہنی تعمیر کا یہ ایک واحدذریعہ ہے۔ میں اس دعوتی مشن چلانے والے عالم کو لاکھوں سلام کرتا ہوں اور جب تک حیات باقی رہے گی، ان کے لیے دعا کرتا رہوں گا۔میری دیرینہ خواہش ہے کہ آپ کے ہفتہ وار کلاس میں کبھی شرکت کروں۔ میں آپ کا اپنا ہندستانی فوجی ہوں۔ اس وقت دہلی چھاؤنی میں مقیم ہوں۔ خدا کے فضل سے پروموشن کے مقابلاتی امتحان میں کامیاب ہوگیاہوں۔ مستقبل قریب میں چند ماہ کے cadre courseمیں جاؤں گا، پھر warrant officer کے رینک لگ جائیں گے۔ گھر کے سب خورد و کلاں آپ کو سلام عرض کرتے ہیں۔ (محمدآفاق عالم، دہلی چھاؤنی)
5 - الرسالہ جولائی 2009 ء کا شمارہ دیکھا۔ یہ شمارہ گجرات کے سفرنامہ پر مشتمل ہے جو بصیرت افروز ہے۔ اس شمارے کی خاص بات مولانا محمد ذکوان ندوی کی تحریر ’’تاثراتِ سفر‘‘ ہے، جو مجھے بہت خوب لگی اور اس کی ہر بات میرے قلب و ذہن میں اُتر گئی ہے۔میںنے اِس تحریر کو تین بار پڑھا۔ میرے لئے یہ تحریر اس وجہ سے بہت زیادہ اہمیت کی حامل ہے کیوں کہ بعض لوگ عموماً یہ تاثر دینے کی کوشش کرتے ہیں کہ الرسالہ کوئی علمی پرچہ نہیں ہے ، اس کی ہر تحریر میں اکابرین پر تنقید ہوتی ہے جس کی وجہ سے علماء اس کو قابل اعتنا نہیں سمجھتے۔ مگر یہ بصیرت افروز تحریر اُن کے اِس مغالطہ انگیز پروپیگنڈے کی مکمل تردید ہے۔ اِس تحریر سے واضح طور پرمعلوم ہوتا ہے کہ اہلِ علم کے یہاں الرسالہ اور خود حضرت مولانا کی کیا قدر ومنزلت ہے اور وہ مولانا کی تحریروں سے کس قدر استفادہ کر رہے ہیں۔ندوۃ العلماء لکھنؤ سے فارغ علماء پورے عالم اسلام میں معتبر اور اعتدال پسند مانے جاتے ہیں اور جب ندوہ میں علماء اور اساتذہ کا الرسالہ کے تئیں یہ حال ہو تو یہ اِس بات کو سمجھنے کے لیے کافی ہے کہ دوسرے علماء بھی الرسالہ کو بڑے ذوق وشوق سے پڑھتے اور اس سے استفادہ کرتے ہوں گے۔ اس تحریر کے مطالعہ کے بعد مجھ کو مولانا عبد الباری ندوی کی اِس بات سے مکمل اتفاق ہوگیا ہے کہ ’’مولانا وحید الدین خاں جدید طبقہ کی طرف مبعوث ہیں‘‘ بلا شبہہ یہ بات سو فی صد درست ہے۔
یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ عالم اسلام کی شہرت یافتہ شخصیت حضرت مولانا سید ابو الحسن علی ندوی بھی الرسالہ اور مولانا وحید الدین خاں صاحب کی علمی وفکری صلاحیتوں کے معترف تھے اور وہ اس سلسلہ میں مثبت رائے رکھتے تھے۔ الرسالہ ستمبر 1995 ’’ یکساں سول کوڈ ‘‘کے عنوان سے خصوصی شمارے کے طورپر شائع ہوا تو اس شمارے کے حوالے سے ہندوستان کی اہم شخصیات کے متعدد خطوط الرسالہ ،اپریل 1996 میں شائع ہوئے تھے جو پڑھنے سے تعلق رکھتے ہیں اور جن سے اندازہ ہوتا ہے کہ الرسالہ کوئی عام پرچہ نہیں ہے ،بلکہ یہ اپنی نوعیت کا واحد پرچہ ہے اور ہر اعتبار سے اہلِ علم کی خصوصی توجہ کا باعث اور استفادہ کے لائق ہے۔ چناں چہ ان اہم خطوط میں سے یہاں مولاناسیدابو الحسن علی ندوی کے خط کا ایک حصہ نقل کیا جاتا ہے جس سے الرسالہ کی اہمیت کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے:
’’ فاضل گرامی ومحب سامی، مولانا وحیدالدین خاں صاحب وفقہ اللہ لما یحب ویرضیٰ، السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔ اُمید ہے کہ مزاج بخیر ہوگا۔ الرسالہ بابت ستمبر 1995 چند دن ہوئے ملا۔ اس میںآپ کا فاضلانہ مضمون ’’یکساں سول کوڈ‘‘ مطالعہ میںآیا۔ ہمارے علم میں یہ پہلا فاضلانہ اورمبصرانہ مضمون ہے جس میں یونی فارم سول کوڈ کا عالمانہ، مبصرانہ جائزہ لیاگیا ہے، اور تقابلی مطالعہ، ماہرین فن اور قانون سازوں کے بیانات و تجزیہ کی روشنی میں اس کی سطحیت اور عدم ضرورت ثابت کی گئی ہے۔ آپ ہماری طرف سے اس پر دلی مبارک باد قبول فرمائیں۔ اگر اس کو الگ الرسالہ کی صورت میں شائع کردیں اور اس کا انگریزی ترجمہ بھی شائع ہو جائے تو بہت مفید ہوگا۔ انگریزی ترجمہ ماہرین قانون اور سپریم کورٹ کے ججوں کو بھیجا جاسکتاہے۔ اُمید ہے کہ آپ سنجیدگی سے اس پر غور فرمائیں گے اور عجلت سے کام لیں گے۔ ہم نے یہ نمبر محفوظ کرلیا ہے۔ وہ ایک مرجع اور ماخذ کی حیثیت سے کام دے گا۔ اُمید ہے کہ مزاج ہر طرح بعافیت ہوگا ۔ والسلام، طالب دعا ابو الحسن علی ندوی، 20 اگست 1995 ‘‘
کچھ لوگوں کو اس بات پر اشکال ہے کہ مولانا اپنے معاصر علماء کی علمی ودینی خدمات کا اعتراف نہیں کرتے ہیںاور اگر کسی معروف عالم دین کا انتقال ہوجائے تو وہ دوسطر بھی الرسالہ میںنہیں لکھتے ،مگر یہ سرتا سر ایک بے بنیاد بات اور صریح الزام ہے۔ اس الزام کے رد میں یہاں طوالت کے خوف سے میں دوبارہ اول الذکرشخصیت کی مثال پیش کرنا چاہوں گا۔جب مولانا ابو الحسن علی ندوی کا 31 دسمبر 1999 کوانتقال ہوا تو مولانا وحید الدین خاں صاحب نے انتہائی عقیدت مندانہ انداز میں مولانا علی میاں صاحب کی دینی وملی خدمات کا اعتراف کرتے ہوئے ایک جامع اور مفصل تحریر ’’صدی کی شخصیت‘‘ کے عنوان سے لکھی تھی جو الرسالہ مارچ 2000 ء کے شمارے میں شائع ہوئی تھی اور بعد میں یہی تحریر ندوۃ العلماء لکھنؤ سے شائع ہونے والے پندرہ روزہ ’’تعمیر حیات‘‘ کے خصوصی شمارہ ’’مفکراسلام نمبر‘‘ (10 جولائی تا 25 اگست2000 ء) میں بھی شائع ہوئی تھی۔ سب سے زیادہ اہم بات یہ ہے کہ یہ تحریر عنوان اور مواد کے اعتبار سے مولانا ابو الحسن علی ندوی کے دینی وملی خدمات پر لکھی گئی تمام تحریروں پر بھاری تھی، حتی کہ خود اہلِ ندوہ کی تحریر وں پر بھی۔ اس کے ایک ایک لفظ سے خلوص و محبت اور قلبی تعلق کے موتی ٹپکتے تھے۔ یہاں اس تحریر کا ایک مختصر اقتباس بطور نمونہ ملاحظہ کیجئے:
’’مولانا ابو الحسن علی ندوی ایک ہمہ گیر شخصیت کے مالک تھے۔ ان کے اندر بیک وقت مختلف اور متنوع خصوصیات موجود تھیں۔ مولانا سید مناظر احسن گیلانی نے کہا تھا کہ یورپ میں جو کام اکادمی کرتی ہے وہ ہمارے یہاں ایک آدمی کرتاہے۔ مولانا ابو الحسن علی ندوی اسی قول کا ایک زندہ نمونہ تھے۔ وہ ایک فرد تھے، مگر انھوں نے کئی اداروں کے برابر کام کیا‘‘ (الرسالہ، مارچ 2000 ء صفحہ 24)
’’تاثرات سفر‘‘ کے عنوان کے تحت لکھی گئی زیر نظرتحریر نے جو نہایت اہم معلومات فراہم کی ہے، وہ یہ ہے کہ اہل علم حضرات مولانا کی تحریروں خاص طورپرالرسالہ کو بڑی پابندی سے استفادہ کی غرض سے پڑھتے ہیں۔ اور اس سچائی کو ، خواہ وہ اس کا اظہار کریں یا نہ کریں اپنی جگہ تمام علماء یہ مانتے ہیںکہ مولانا فکری اعتبار سے موجودہ دورکے ممتاز اور مستند عالم دین اور قائد ملت ہیں اور انھوںنے جس طرح کی دینی ، علمی، اصلاحی، تعمیری اور فکری خدمات انجام دیں اور اسلام کو از سرِ نو دریافت کے طورپر نئی نسل کے سامنے رکھا اور اسے یہ احساس دلایا کہ اسلام کوئی فرسودہ اور ناقابلِ عمل مذہب نہیں ہے، بلکہ یہ بالکل آج کی چیزہے، وہ صرف انھیں کا حصہ تھا۔ حقیقت یہ ہے کہ مولانا نے اس سلسلے میں عصری اسلوب میں ایسا طاقت ور لٹریچر تیار کیا ہے جو ہر اعتبار سے قابلِ استفادہ اور آنے والے علماء کے لئے دین کی تبلیغ کے سلسلے میں قابل تقلید نمونہ کی حیثیت رکھتا ہے(غلام نبی کشافی، سری نگر، کشمیر، 24 اگست 2009 )۔
6 - امریکا کی جیل میں اصلاحی کام کرنے والے ادارے کی طرف سے ایک خط موصول ہوا۔ ادارے کی فرمائش پر اُن کو قرآن کا انگریزی ترجمہ ہدیۃً بھیج دیاگیا ہے۔ اس سلسلے میں ادارے کا خط درج ذیل ہے:
I volunteer at for the Philadelphia Prison Systems on State Road in Philadelphia, PA. Once a month I visit young teenagers from the age of 15-17. The majority of the young men I speak with say they are Muslims but do not have a Quran. I ordered (5) Qurans last week through Amazon (The Holy Qurna ISBN 81-7808-141-6) and I saw that they came from www.goodwordbooks.com. I would like to order 25 more to give to the students I visit. Thank you (Sister Deborah Saunders, Philadelphia, USA)
7 - امریکا سے ایک خط موصول ہوا۔ حسب فرمائش ان کے پتے پر قرآن کا انگریزی ترجمہ روانہ کردیا گیا ہے۔ یہاں خط کا ایک حصہ نقل کیا جاتا ہے:
Do you have any materials for free to offer to Muslim inmates in prison? I am a prison chaplain at Marion Correctional Institution in Marion, NC. We have a large and devout Muslim community here. (Chaplain Sehested, Philadelphia, USA)
8 - چیپلنس سروسز (امریکا) کی طرف سے قرآن کے انگریزی ترجمہ کے سلسلے میں ایک خط ملا۔ ادارے کو قرآن کی 200 کاپیاں ہدیۃً بھیج دی گئی ہیں۔ اِس سلسلے میں ادارے کے منیجر کا خط یہاں درج کیا جاتا ہے:
We received the 200 copies of the Quran translated by Maulana Wahiduddin Khan. Thank you so very much! we will certainly use these resources not only with our patients and their families, but also as a valuable source of information and healing to the chaplains and hospital staff. You have no idea how comforting it is to our Muslim patients to be able to give them a Quran for them to keep. And now, you have sent us enough Qurans to give to our patients at all three of the hospitals we serve in Berkeley and Oakland, California. Thank you again for your generosity, and may it return to you tenfold! (Karla Droste, office manager, Chaplaincy Services)
واپس اوپر جائیں

Friday, 2 October 2009

Al Risala | October 2009 (الرسالہ،اکتوبر)

2

-روزہ: قرآن کا مہینہ

3

- نماز سے مدد

4

- تبارک اللہ

5

- جنت کی دنیا

6

- دعوت اور حفاظت

7

- خوف ِخدا کی پہچان

8

- اہلِ ایمان کی مدد

9

- حجیت ِ حدیث، افادیت ِ حدیث

10

- گھر کا ماحول

11

- ہاتھی کی دم میں پتنگ

12

- اسلامی تحریک کا نقطۂ آغاز

13

- منطقی علم، فطری شعور

14

- پیغمبرانہ کردار

15

- دعوت کا تقاضا

16

- اسلام دین ِ فطرت

17

- فلسطین کا مسئلہ

37

- دوسرے کے بل پر اقدام

38

- نہیں کہنا سیکھئے

39

- حیاتِ اجتماعی، حیاتِ انفرادی

40

- آمدنی بڑھانے کا مسئلہ

41

- سوال و جواب

43

- خبر نامہ اسلامی مرکز— 197


روزہ: قرآن کا مہینہ

قرآن کی سورہ نمبر 2 میں روزے کا حکم دیتے ہوئے ارشاد ہوا ہے: ’’رمضان کا مہینہ جس میں قرآن اتارا گیا، وہ ہدایت ہے لوگوں کے لیے اور کھلی نشانیاں راستے کی اور حق و باطل کے درمیان فیصلہ کرنے والا، پس تم میں سے جو کوئی اِس مہینے کو پائے، وہ اس کے روزے رکھے‘‘۔ (البقرۃ:185 ) اِس سے معلوم ہوا کہ روزے کا مہینہ خصوصی طورپر قرآن سے استفادے کا مہینہ ہے۔ روزے کا مقصد یہ ہے کہ لوگوں کو ذہنی طورپر تیار کیا جائے، تاکہ وہ قرآن کے مطالعہ اور تدبر سے زیادہ سے زیادہ حصہ پاسکیں۔
15 اگست1947 کی رات میں انڈیا کو برطانیہ سے سیاسی آزادی ملی تھی۔ اِس واقعے پر بہت سی کتابیں شائع ہوئیں ہیں۔ اُن میں سے ایک کتاب وہ تھی جس کو دو مغربی صحافیوں نے لکھا تھا۔ اِس کتاب کا نام یہ تھا—نصف شب کی آزادی:
Freedom at Midnight
اِس کتاب کی تیاری کے لیے دونوں صحافی وقتی طورپر دنیا سے کٹ گئے۔ چناں چہ ایک انٹرویو میں انھوںنے کہا تھا کہ —ہم نے راہب جیسی زندگی گزاری، پھر ہم نے ’’نصف شب کی آزادی‘‘ تیار کی:
We lived like hermits, and we produced Freedom at Midnight.
نزولِ قرآن کے مہینے میں روزے کو فرض کرنے کا مقصد یہی ہے۔ روزے کے مہینے میں یہ مطلوب ہے کہ اہلِ ایمان دنیا سے صرف بقدر ضرورت تعلق رکھیں۔ وہ گویا وقتی طورپر راہبانہ زندگی اختیار کرلیں جس کی آخری صورت معتکف ہوجانا ہے۔ رمضان کے مہینے میں یہ مطلوب ہے کہ اہلِ ایمان اپنی خواہشات پر کنٹرول کریں۔ وہ زیادہ سے زیادہ اپنا وقت بچائیں، وہ قرآن کا مطالعہ کریں، وہ قرآن کے مضامین پر غوروفکر کریں، وہ تراویح کی صورت میں حالتِ نماز میں قرآن کو سنیں۔ اِس طرح وہ سال میں کم ازکم ایک مہینہ خصوصی طورپر قرآن کے مطالعہ اور غور وفکر میں گزاریں۔ اِس مہینہ میں وہ صرف قرآن میں جئیں اور قرآن کو اپنے ذہنی اور روحانی ارتقاء کا ذریعہ بنائیں۔
واپس اوپر جائیں

نماز سے مدد

قرآن میںاہلِ ایمان سے کہا گیا ہے کہ تم لوگ نماز سے مدد لو (البقرۃ: 153) حدیث میںآیا ہے کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کو جب کوئی سخت معاملہ پیش آتا تو آپ نماز کے لیے کھڑے ہوجاتے (إذا حزبہ أمر فزع إلی الصلوۃ ) یہ سادہ معنوں میں صرف ’’نماز‘‘ کی بات نہیں، یہ ایک نہایت اہم بات ہے جس کا تعلق انسان کی پوری زندگی سے ہے۔
اصل یہ ہے کہ اِس دنیا میں بار بار انسان کے ساتھ ایسے معاملات پیش آتے ہیں جن میں وہ اپنے آپ کو عاجز (helpless) محسوس کرنے لگتا ہے۔ یہ ہر عورت اور ہر مرد کا ایک عام تجربہ ہے۔ اِس میں کسی کا بھی کوئی استثناء نہیں— نماز اِسی مسئلے کا ایک کامیاب حل ہے۔
جب کسی آدمی کے اوپر ایسے حالات آتے ہیں تو عام طورپر لوگ دو میں سے کسی ایک ردّ عمل کا اظہار کرتے ہیں— کچھ لوگ ظاہری حالات کو دیکھ کر ناامیدی کا شکار ہوجاتے ہیں اور اس کے نتیجے میں اُس مہلک ذہنی بیماری میں مبتلا ہوجاتے ہیں جس کو ٹنشن (tension) کہا جاتا ہے۔ دوسرا طبقہ وہ ہے جو مفروضہ طورپر کسی غیرِ خدا کو اپنا حاجت روا اور دست گیر سمجھ لیتا ہے اور وہ بے فائدہ طورپر اس کی طرف دوڑنا شروع کردیتا ہے۔
اِس نازک صورتِ حال سے بچنے کے لیے ایک ہی درست اور قابلِ اعتماد طریقہ ہے، اور وہ دعا اور ذکر اور نماز کا طریقہ ہے۔ اِس طرح کے موقع پر جب ایک بندہ وضو کرکے نماز کے لیے کھڑا ہوتا ہے اور دو رکعت یا اس سے زیادہ نماز ادا کرکے خدا سے دعا کرتا ہے تو یقینی طورپر ایسا ہوتا ہے کہ اس کے دل میں سکون آجاتا ہے، اس کو محسوس ہوتا ہے کہ اُس نے اپنے حقیقی کارساز کو پالیا ہے، اس کو پیش آمدہ حالات میں اعتماد کے ساتھ کھڑے ہونے کے لیے ایک مضبوط بنیاد حاصل ہوگئی ہے— نماز ایک عبادت بھی ہے، اور مشکل حالات میں سکون حاصل کرنے کا ذریعہ بھی۔ اِس اعتبار سے نماز کو ہرعورت اور مرد کے لیے ایک نفسیاتی سہارا کہاجاسکتا ہے۔
واپس اوپر جائیں

تبارک اللہ

تبارک کا لفظی مطلب ہے— بہت زیادہ برکت والا۔ یہ لفظ قرآن میں 9 بار آیا ہے۔ یہ لفظ صرف اللہ تعالیٰ کے لیے استعمال ہوتا ہے (وہی کلمۃ لم تستعمل إلاّ للہ وحدہ)۔ تبارک کا لفظ ’برکۃ‘ سے مشتق ہے۔ یہ تفاعل کے وزن پر برکۃ کا مبالغہ ہے۔ برکۃ کے معنی حضرت عبد اللہ بن عباس نے اِن الفاظ میں بیان کیے ہیں: الکثرۃ فی کلّ خیر (لسان العرب 10/396 ) یعنی ہر قسم کے خیر کی کثرت۔
تبارک کا مطلب ہے— ہر پہلو سے اور ہر چیز میںکمالِ خیر کا حامل ہونا۔ مثلاً قرآن میں ہے: فتبارک اللہ أحسن الخالقین (المؤمنون:14 ) اِس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ کی تخلیق ہر پہلو سے کامل ہے، اللہ کی بنائی ہوئی دنیا میںہر چیز اپنے فائنل ماڈل (final model) پر ہے۔ اِس دنیا کا تخلیقی منصوبہ اتنا زیادہ اعلیٰ ہے کہ اس میں کوئی تضاد نہیں، اِس میں کسی قسم کی کوئی کمی نہیں، کسی پہلو سے اس میں ادنیٰ درجے میںکوئی نقص (defect) موجود نہیں۔
انسان کو جو جسم دیاگیا ہے، وہ ہر اعتبار سے ایک بہترین جسم ہے۔ اِس دنیا میں جو لائف سپورٹ سسٹم پایا جاتا ہے، وہ انسان کی تمام ضرورتوں کو آخری حد تک پورا کرنے والا ہے۔ سولر سسٹم اور کہکشائوں کا نظام اپنی ساری وسعتوں کے باوجود پوری طرح خالی از نقص (zero-defect) صفات کا حامل ہے۔ نباتات، جمادات اور حیوانات کی وسیع دنیا اپنے تمام تنوعات کے باوجود ہر پہلو سے کمالِ خیر کے نمونے کی حیثیت رکھتے ہیں۔
اللہ اپنی ذات میں خیرِ کامل ہے۔ اُسی سے خیر وبرکت کاتمام فیضان لوگوں تک پہنچتا ہے۔ یہ سب انسان کے لیے ایک عظیم رحمت (blessing) ہے۔ وہ اِس لیے ہے کہ انسان ان کو دیکھ کر خدا کی بے پایاں عظمت وقدرت کا تعارف حاصل کرے۔ وہ خدا سے سب سے زیادہ محبت کرنے لگے، اور خدا کے بارے میں اس کے اندر خشیت کے اعلیٰ جذبات پیدا ہوں۔ یہی ایمان ہے، اور خدا کی پیدا کی ہوئی دنیا اِسی ایمان کی کائناتی تربیت گاہ۔
واپس اوپر جائیں

جنت کی دنیا

ایک صاحب نے کہا کہ جنت میں داخلے کے لیے ضروری ہے کہ آدمی کے اندر جنتی کردار پایا جاتا ہو۔ مگر مشاہدہ بتاتا ہے کہ ساری تاریخ میں بہت کم لوگ ایسے ہوئے ہیں جو جنتی کردار کے حامل ہوں۔ ایسی حالت میں جنت تو صرف ایک سونی جگہ ہوگی، نہ کہ رونقوں سے بھری ہوئی جگہ۔
میںنے کہا کہ جنت کی سب سے بڑی رونق خود خداوند ِ ذو الجلال کی ذات ہے۔ خدا کے بارے میں قرآن میں آیا ہے کہ وہ آسمان اور زمین کا نور ہے (النور:35 )۔ یہ نور جنت میں بدرجۂ کمال موجود ہوگا۔ پوری جنت خدا کے نور سے بھری ہوئی ہوگی۔ جنت کے ہر عورت اور مرد کو خدا کی موجودگی کا مستقل احساس ہوگا۔ جنت میں ہم اِس قابل ہوں گے کہ خدا کی موجودگی کو مسلسل طورپر محسوس کرسکیں:
We will be able to feel continuously the presence of God.
اِس کے علاوہ، جنت میں خدا کے فرشتے بے شمار تعداد میں موجود ہوں گے۔ تاریخ کے مختلف ادوار میںآنے والے پیغمبر جنت کے ممتاز افراد کی حیثیت سے وہاں موجود ہوںگے۔ اِس کے علاوہ، پوری تاریخ میں پیدا ہونے والی تمام صالح عورتیں اور تمام صالح مرد وہاں اکھٹا کیے جائیںگے۔ اِس طرح وہ بے شمار بچے وہاں بسائے جائیں گے جو معصومیت کی عمر میں مر گئے۔ یہ بچے جنت کی خصوصی رونق ہوںگے۔ غالباً اِنھیں کے بارے میں قرآن میں آیا ہے: ویطوف علیہم ولدان مخلّدون، إذا رأیتہم حسبتہم لؤلؤاً منثوراً (الدھر: 19 ) یعنی ان کے پاس پھر رہے ہوں گے ایسے بچے جو ہمیشہ بچے ہی رہیں گے۔ تم اُنھیں دیکھو تو سمجھو کہ موتی ہیں جو بکھیر دئے گئے ہیں۔
جس جنت میں اتنی زیادہ رونقیں اور اتنی زیادہ پر کیف سرگرمیاں موجود ہوں، وہ جنت ایک سونیجنت کیسے ہوسکتی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ جنت ایک انتہائی پررونق جگہ ہوگی۔ چناں چہ حدیث میں جنت کے بارے میں یہ الفاظ آئے ہیں: فیہا ما لا عین رأت، ولا أذن سمعت، ولا خطر علیٰ قلب بشر (صحیح مسلم، کتاب الجنۃ)۔
واپس اوپر جائیں

دعوت اور حفاظت

قرآن کی سورہ نمبر 5 کی ایک آیت یہ ہے: یٰأیہا الرسول بلّغ ما أنزل إلیک من ربّک، وإن لم تفعل فما بلغتَ رسالتہ، واللہ یعصمک من الناس (المائدۃ: 67 )یعنی اے رسول، جوکچھ تمھارے اوپر تمھارے رب کی طرف سے اترا ہے، تم اس کو پہنچا دو۔ او راگر تم نے ایسانہیں کیا تو تم نے اللہ کے پیغام کو نہیں پہنچایا۔اور اللہ لوگوں سے تمھاری حفاظت کرے گا:
O Messenger, deliver what has been revealed to you from your Lord; and if you do it not, then you have not delivered His message, and God will protect you from the peoples.
قرآن کی اِس آیت سے معلوم ہوتاہے کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی اصل ذمے داری یہ تھی کہ وہ دعوت الی اللہ کے کام کو مکمل طورپر انجام دیں۔ اِسی کام کی انجام دہی پر اُن کے لیے دوسروں کے مقابلے میں کامل حفاظت کا وعدہ تھا۔ پیغمبر اسلام کے بعد اب یہی حیثیت آپ کی امت کی ہے۔ آپ کی امت کی بھی اصل ذمے داری یہ ہے کہ وہ ہر دور میں دعوت الی اللہ کے کام کو انجام دے۔ اِس کام کی انجام دہی پر اس کو لوگوں کے مقابلے میں خدا کی حفاظت حاصل ہوگی۔ اور اگر وہ اِس ذمے داری کو انجام نہ دے تو خدا کی حفاظت بھی اس کو ملنے والی نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ امتِ محمدی کا امتِ محمدی ہونا اُسی وقت متحقق ہوتاہے، جب کہ وہ دعوت الی اللہ کے کام کو درست طور پر انجام دے۔
قرآن کی یہ آیت واضح طورپر بتاتی ہے کہ دعوت الی اللہ امت محمدی کی ذمے داری ہے، اور لوگوں کے مقابلے میں اس کی حفاظت اللہ تعالیٰ کی ذمے داری۔ دوسرے لفظوں میں یہ کہ کوئی بھی دوسرا عمل امتِ محمدی کی حفاظت کی ضمانت نہیں بن سکتا۔ اگر کسی وقت امت یہ محسوس کرے کہ وہ دوسری قوموںکے مقابلے میں غیر محفوظ ہوگئی ہے تو اس کو دوسروں کے خلاف احتجاج (protest) کرنے کے بجائے خود اپنے حال پر غور کرنا چاہیے۔ کیوں کہ اس کی غیر محفوظیت کا سبب متعین طورپر یہ ہوگا کہ اس نے دعوت الی اللہ کے کام کو چھوڑ دیا تھا۔
واپس اوپر جائیں

خوف ِخدا کی پہچان

کسی انسان کے لیے سب سے بڑی یافت یہ ہے کہ وہ اپنے رب کو اِس طرح دریافت کرے کہ وہ اُس سے ڈرنے والا بن جائے۔ خدا کا خوف بلا شبہہ کسی کے دین دار ہونے کی سب سے بڑی علامت ہے۔ خوفِ خدا کی پہچان کیا ہے، اس کو کتاب اللہ کے مطالعے سے جانا جاسکتا ہے۔ اِس سلسلے کی ایک آیت یہ ہے: ولا یجرمنّکم شنئٰان قوم علیٰ ألا تعدلوا، اعدلوا ہو أقرب للتقویٰ (المائدۃ: 8 ) یعنی کسی گروہ کی دشمنی تم کو اِس پر نہ ابھارے کہ تم انصاف نہ کرو۔ انصاف کرو، یہی تقویٰ سے زیادہ قریب ہے۔
اخلاقی اعتبار سے انسان کی دو حالتیں ہوتی ہیں— ایک، معتدل حالت۔ اور دوسری، غیر معتدل حالت۔ معتدل حالت میں ہر انسان با اخلاق ہی ہوتا ہے۔ معتدل حالت کسی آدمی کے صاحبِ تقویٰ ہونے کی پہچان نہیں ہوسکتی۔ صاحبِ تقویٰ ہونے کی پہچان یہ ہے کہ آدمی غیر معتدل حالت میں کس قسم کی روش کا اظہار کرتاہے۔ایک صورت وہ ہے جب کہ آدمی کے ساتھ آپ کے دوستانہ تعلقات ہوں۔ ایسے حالات آپ کے تقویٰ کا امتحان نہیں ہوتے۔ تقویٰ کے امتحان کا وقت وہ ہے جب کہ آدمی کے ساتھ آپ کی اَن بن ہوجائے، جب کہ آدمی آپ کے ساتھ کوئی ایسا معاملہ کرے جو آپ کے لیے شکایت کا باعث بن جائے۔ جب آدمی کی کسی روش پر آپ مشتعل ہوجائیں، یہی وقت دراصل کسی شخص کے تقویٰ کے امتحان کا وقت ہوتا ہے۔
جو آدمی اختلاف کے وقت اعتدال پر قائم رہے، جو دشمنی کے وقت انصاف کی بولی بولے، جو منفی تجربے کے وقت بھی مثبت ردّ عمل کا اظہار کرے، وہی متقی انسان ہے۔ وہی وہ انسان ہے جس کے دل میں اللہ کا ڈر بسا ہوا ہے۔ یہ ڈر اُس کے لیے اِس بات کا ضامن بن گیا ہو کہ وہ ہر حال میں تقویٰ کی روش پر قائم رہے، کسی کا ناروا سلوک اُس کو تقویٰ کی روش سے ہٹانے نہ پائے۔ یہی وہ انسان ہے جس کو اللہ کے یہاں متقی انسانوں میں شامل کیا جائے گا۔
واپس اوپر جائیں

اہلِ ایمان کی مدد

قرآن میںاللہ تعالیٰ نے یہ اعلان کیا ہے کہ وہ اِس دنیا میں اہلِ ایمان کی ضرور مدد کرتاہے۔ اِس سلسلے میں ایک آیت میں یہ الفاظ آئے ہیں: ولن یجعل اللہ للکافرین علی المؤمنین سبیلاً (النساء: 141 ) یعنی اللہ ہر گز اہلِ کفر کو اہلِ ایمان پر کوئی راہ دینے والا نہیں۔
اِس آیت میں ’’کافر‘‘ سے مراد کوئی کافر قوم نہیں ہے۔اِسی طرح سے مومن سے مراد کوئی مومن قوم نہیں ہے۔ اِس آیت میں کافر سے مراد وہ لوگ ہیں جن کا کفرقانونِ الٰہی کے مطابق متحقَّق (established) ہوچکاہو۔ اِسی طرح مومن سے مراد وہ لوگ ہیں جن کا ایمان قانونِ الٰہی کے مطابق متحقق ہوچکا ہو۔ جن گروہوں کے اوپر یہ تحقُّق نہ ہوا ہو، وہ اِس آیت کا مصداق نہیں بن سکتے۔کسی گروہ کے لیے کفر کا تحقق اُس وقت ہوتا ہے جب کہ اُس کو خدا کا پیغام تمام ضروری شرطوں کے ساتھ پہنچایا جائے، یہاں تک کہ اُن کے لیے خدا کا دین ایک معلوم واقعہ بن جائے۔ اِسی طرح اِس آیت میں مومن گروہ سے مراد وہ گروہ ہے جو صبر کے اصول کو اختیار کرتے ہوئے لوگوں کے درمیان رہے، جو ملک اور مال جیسی چیزوں کے لیے لوگوں سے نزاع نہ کرے، دوسرے گروہوں سے ان کا ٹکراؤ کسی بھی دنیوی مقصد کے لیے پیش نہ آئے، وغیرہ۔
یہ مدد اہلِ ایمان کے لیے صرف اُس وقت آتی ہے جب کہ اہلِ ایمان یک طرفہ طورپر مظلوم ہوں، اور اہلِ باطل یک طرفہ طورپر ظالم۔ جب بھی ایسا ہو کہ کچھ لوگ اپنے بارے میںمومن اورمسلم ہونے کا دعویٰ کریں، اِس کے باوجود وہ اہلِ کفر سے مغلوب ہوجائیں، تو یہ اِس بات کا ثبوت ہوگا کہ ایمان اور اسلام کا دعویٰ کرنے والے لوگ اپنے دعوے میں سچے نہیں ہیں۔ خدا کا وعدہ بلا شبہہ سچا ہے، لیکن وہ صرف اُن اہلِ ایمان کے لیے مقدر ہے جو خود بھی سچے مومن ہونے کا ثبوت دے سکیں۔ جب بھی ایسا ہو کہ اہلِ کفر کے مقابلے میں اہلِ ایمان مغلوبیت کا شکار ہورہے ہوں تو اُس وقت اہلِ ایمان کو خود اپنا محاسبہ کرنا چاہیے۔ ایسے موقع پر اہلِ کفر کے خلاف شکایتوں کا طوفان کھڑا کرنا صرف اپنے جرم کو بڑھانے والا ہے، نہ کہ اُس کو گھٹانے والا۔
واپس اوپر جائیں

حجیت ِ حدیث، افادیت ِ حدیث

دین میں صرف قرآن کی حیثیت حجت (authoritative source) کی ہے، یا حدیث ِ رسول بھی دین میں یکساں درجے میںحجت کی حیثیت رکھتی ہے۔ یہ ایک خالص قانونی مسئلہ ہے۔ عملی اعتبار سے جس چیز کی اہمیت ہے، وہ یہ ہے کہ آدمی کے اندر اسلام کی روح زندہ ہو۔ دین پر عمل کرنے کی تڑپ اس کے اندر پیداہوگئی ہو۔ اللہ سے محبت اور اللہ کا خوف اس کے دل میں بھر پور طورپر جاگزیں ہوگیا ہو۔ جن لوگوں کے اندر اسلام کی یہ اسپرٹ پیدا ہوجائے، وہ کسی قانونی فتوے کے بغیر پوری طرح اسلام کو اختیار کرلیں گے، اور جن لوگوں کے اندر اسلام کی روح بیدا رنہ ہوئی ہو، ان کے لیے کوئی بھی قانونی فتویٰ عملی بیداری کا ذریعہ نہیں بن سکتا۔ایک شخص قرآن کو دین میں حجت مانتا ہو، لیکن اس کے اندر دین کی اسپرٹ موجود نہ ہو تو وہ خود قرآن کے احکام پر بھی عمل نہیں کرے گا۔قرآن کے بارے میں وہ بڑی بڑی بحثیں کرے گا، لیکن اس کی حقیقی زندگی قرآن کی تعلیمات سے خالی ہوگی۔
حقیقت یہ ہے کہ اس معاملے میں اصل مسئلہ حدیث کی حجیت کو منطقی طورپر ثابت کرنا نہیں ہے، بلکہ اصل ضرورت یہ ہے کہ حدیث کی دینی اہمیت اور افادیت کو آدمی کے دل میںاس طرح اتار دیا جائے کہ وہ اُس سے انحراف کا تحمل نہ کرسکے۔جب کوئی شخص حدیث کو پڑھتا ہے تو وہ اِس ذہن کے ساتھ اس کو نہیں پڑھتا کہ حدیث خالص قانونی اعتبار سے دین میں حجت ہے، یا نہیں، بلکہ عملاً یہ ہوتا ہے کہ مطالعۂ حدیث کے وقت اس کی ساری توجہ حدیث کے متن (text) پر ہوتی ہے۔ ایسی حالت میں اصل ضرورت یہ ہے کہ آدمی کا شعور اتنا زیادہ بیدار ہو کہ وہ حدیث کے متن میں اس کی بے پناہ افادیت کو اخذ کرنے لگے، حدیث کو پڑھتے ہوئے اس کو ایسا محسوس ہو کہ اس کو معانی کا اتھاہ خزانہ حاصل ہوگیا ہے۔ جب ایساہوگا تو حدیث کی معنویت اس کی پوری شخصیت پر چھا جائے گی۔ ایسی حالت میں اصل ضرورت حدیث کی نوعیت کے بارے میں قانونی یا فقہی بحثوں کی نہیں ہے، بلکہ اصل ضرورت یہ ہے کہ آدمی کے اندر وہ ذہن پیدا کردیا جائے جو حدیث کی بے پناہ دینی افادیت کو سمجھنے لگے۔
واپس اوپر جائیں

گھر کا ماحول

آج کل یہ حال ہے کہ سیکولر آدمی اور مذہبی آدمی کا فرق باہر کی زندگی میں تو نظر آتا ہے، لیکن گھر کی زندگی میں یہ فرق دکھائی نہیں دیتا۔ بہ ظاہر دونوں کا لباس الگ ہوتا ہے۔ سیکولر آدمی اگر گڈ مارننگ (good-morning) کہتا ہے تو مذہبی آدمی السلام علیکم کہتا ہے۔ سیکولر آدمی اگر کلب (club) جاتا ہے تو مذہبی آدمی مسجد جاتا ہے، وغیرہ۔ لیکن یہ فرق باہر کی زندگی کی حد تک ہے۔ گھر کے اندر کے ماحول کو دیکھئے تو سیکولر آدمی کے گھر اور مذہبی آدمی کے گھر کے درمیان کوئی فرق دکھائی نہیں دے گا۔ اور اگر کوئی فرق ہوگا تو وہ صرف ظاہری رسم کے اعتبار سے ہوگا، نہ کہ حقیقت کے اعتبار سے۔
قرآن میں دونوں قسم کے گھروں کی پہچان بتائی گئی ہے۔ غیر مذہبی انسان کے گھر کی پہچان کو جاننے کے لیے قرآن کی سورہ نمبر 84 کی اِس آیت کا مطالعہ کیجئے: إنّہ کان فی أہلہ مسروراً (الانشقاق:13 ) یعنی وہ اپنے اہل کے درمیان خوش رہتا تھا۔ اِس کا مطلب یہ ہے کہ غیر مذہبی انسان کی زندگی خاندان رُخی (family-oriented) زندگی ہوتی ہے۔ وہ اپنے گھر میں آکر محسوس کرتا ہے کہ میں اپنے لوگوں کے درمیان آگیا۔ وہ اپنا سارا وقت اور اپنا پیسہ اپنے اہلِ خاندان میں خرچ کرتا ہے اور مطمئن رہتا ہے کہ میں نے اپنے وقت اور اپنے پیسے کا صحیح استعمال کیا۔ وہ اپنے اہلِ خانہ کو دیکھ کر خوش ہوتا ہے۔ اس کی دل چسپیوں اور اس کی سرگرمیوں کا مرکز اس کے اہلِ خاندان ہوتے ہیں۔ جو لوگ اِس طرح زندگی گزاریں، وہ کبھی خدا کے مطلوب بندے نہیں بن سکتے، خدا کی ابدی رحمتوں میں ان کے لیے کوئی حصہ نہیں۔
مذہبی انسان کے گھر کی پہچان کتابِ الٰہی کی سورہ نمبر 52 کی اِس آیت میں ملتی ہے: إنّا کنّا قبل فی أہلنا مشفقین (الطّور:26 ) یعنی اہلِ جنت کہیں گے کہ اِس سے پہلے ہم اپنے اہل کے درمیان ڈرتے رہتے تھے۔ اس سے معلوم ہوا کہ سچا مذہبی انسان وہ ہے جو ہر وقت خدا کی پکڑ سے ڈرتا ہو، خواہ وہ اپنے گھر کے باہر ہو یا اپنے گھر کے اندر۔ وہ مواخذہ (accountability) کی نفسیات کے تحت زندگی گزارتا ہے، نہ کہ بے خوفی کی نفسیات کے تحت۔
واپس اوپر جائیں

ہاتھی کی دم میں پتنگ

اکثر والدین مجھ سے پوچھتے ہیں کہ موجودہ زمانے میں بچوں کی دینی تربیت کے لیے کیا کیا جائے۔ میرا جواب ہمیشہ ایک رہتا ہے— بچوں کی تربیت سے پہلے خود اپنی تربیت کیجئے۔ موجودہ زمانے میں بچوں کے بگاڑ کا اصل سبب خارجی ماحول نہیں ہے، بلکہ گھر کا داخلی ماحول ہے۔ گھر کا داخلی ماحول کون بناتا ہے، یہ والدین ہیں جو گھر کا داخلی ماحول بناتے ہیں۔ جب تک گھر کے داخلی ماحول کو حقیقی معنوں میں دینی، یعنی آخرت پسندانہ ماحول نہ بنایا جائے، بچوں کے اندر کوئی اصلاح نہیں ہوسکتی۔
موجودہ زمانے کا اصل فتنہ مال ہے۔ آج کل ہر آدمی زیادہ سے زیادہ مال کما رہا ہے۔ اِس مال کا مصرف والدین کے نزدیک صرف ایک ہے، اور وہ ہے گھرکے اندر ہر قسم کی راحت کے سامان اکھٹا کرنا، اور بچوں کی تمام مادّی خواہشوں کو پورا کرنا۔ موجودہ زمانے میں یہ کلچر اتنا زیادہ عام ہے کہ اِس معاملے میں شاید کسی گھر کا کوئی استثنا نہیں، خواہ وہ بے ریش والوںکا گھر ہو، یا باریش والوں کا گھر۔
والدین کے اِس مزاج نے ہر گھر کو مادّہ پرستی کا کارخانہ بنادیا ہے۔ تمام والدین اپنے بچوں کے اندر شعوری یا غیر شعوری طورپر مادّہ پرستانہ ذہن بنانے کے امام بنے ہوئے ہیں۔ اِسی کے ساتھ تمام والدین یہ چاہتے ہیں کہ اُن کے بچے آخرت کی جنت سے بھی محروم نہ رہیں۔ اِسی مزاج کے بارے میں ایک اردو شاعر نے کہا تھا— رند کے رند رہے، ہاتھ سے جنت نہ گئی
مگر یہ صرف ایک خوش خیالی ہے جو کبھی واقعہ بننے والی نہیں۔ تمثیل کی زبان میں یہ ’’ہاتھی کی دم میں پتنگ باندھنا‘‘ ہے۔ موجودہ زمانے کے والدین ایک طرف، اپنے بچوں کو ’’مادّی ہاتھی‘‘ بناتے ہیں۔ دوسری طرف، وہ چاہتے ہیں کہ اِس ہاتھی کی دم میں دین کی پتنگ باندھ دی جائے۔ مگر ایسی پتنگ کا حال صرف یہ ہونے والا ہے کہ ہاتھی ایک بار اپنی دم کو جھٹکا دے اور یہ پتنگ اُڑ کر بہت دور چلی جائے۔ والدین کو چاہیے کہ اگر وہ اپنے بچوں کو دین دار، یعنی آخرت پسند بنانا چاہتے ہیں تو وہ اُس کی قیمت ادا کریں، ورنہ وہ فرضی طورپر اِس قسم کی منافقانہ بات کرنا بھی چھوڑ دیں۔
واپس اوپر جائیں

اسلامی تحریک کا نقطۂ آغاز

پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم ہجرت سے پہلے جب مکہ میں تھے تو وہاں کے سرداروں نے آپ کو حکومت کی پیش کش کی۔انھوں نے کہا: إنْ ترید مُلکاً ملّکناک علینا (اگر تم حکومت چاہتے ہو تو ہم تم کو اپنے اوپر حاکم بنانے کے لیے تیار ہیں)۔ آپ نے فرمایا: ما أطلب الملک علیکم (میں تمھارے اوپر حکومت نہیں چاہتا)۔
پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے اِس جواب سے اسلامی تحریک کا ایک اہم اصول معلوم ہوتا ہے، وہ یہ کہ اسلامی تحریک کا نقطۂ آغاز (starting point) حکومت یا سیاسی اقتدار نہیں ہے، بلکہ اسلامی تحریک کا اصل نقطۂ آغاز فرد کی شخصیت میں تبدیلی لانا ہے، ایک ایک فرد کے ذہن کی تشکیل نو (re-engineering of mind) کرنا ہے۔
اسلامی تحریک کا فارمولا دو نکات (points) پر مشتمل ہے— فرد کی شخصیت میں تبدیلی لانا، اور پولٹکل سسٹم کے معاملے میں حالتِ موجودہ کو تسلیم کر لینا:
Change in personality, statusquoism in system.
اسلامی تحریک کی یہی فطری ترتیب ہے۔ اگر اِس ترتیب کو بدل دیا جائے، یعنی اگر پولٹکل سسٹم کو بدلنے سے تحریک کا آغاز کیا جائے تو سوسال کی جدوجہد کے بعد بھی کوئی مثبت نتیجہ نکلنے والا نہیں۔ فرد کی تبدیلی سے آغاز کرکے نظام کی تبدیلی تک پہنچنا ممکن ہوتا ہے۔ لیکن اگر نظام کی تبدیلی سے آغاز کیا جائے تو ایسی تحریک کسی انجام تک پہنچنے والی نہیں۔ ایسی تحریک صرف تباہی میںاضافہ کرے گی، اِس کے سوا اور کچھ نہیں۔
فرد کے اندر ذہنی تبدیلی سے تحریک کاآغاز کرنے کی صورت میں فی الفور تحریک کو مثبت آغاز مل جاتا ہے۔ لیکن سسٹم سے آغاز کرنے کا نتیجہ صرف یہ ہوتا ہے کہ آخر کار تحریک ایک بند گلی (blind alley) میں پہنچ کر رک جاتی ہے۔ اس کے پیچھے بھی اندھیرا ہوتا ہے اور اس کے آگے بھی اندھیرا۔
واپس اوپر جائیں

منطقی علم، فطری شعور

کسی عورت یا مرد کو سب سے زیادہ محبت اپنی ماں سے ہوتی ہے۔ یہ محبت کسی دلیل یا منطق(logic) کے زور پر نہیں ہوتی۔ وہ مکمل طورپر داخلی شعور کے تحت ہوتی ہے۔ اگر یہ داخلی شعور موجود نہ ہو تو کوئی بھی شخص اپنی ماں سے محبت کا تعلق قائم نہیں کرسکتا۔ یہی معاملہ زیادہ بڑے پیمانے پر خدا کا ہے، جو کہ ہمارا خالق اور مالک ہے۔
خدا کا وجود بلاشبہہ ایک حقیقت ہے، لیکن خدا ہم کو اپنی مادّی آنکھوں کے ذریعے دکھائی نہیں دیتا۔ اِسی طرح عقلی اور منطقی دلائل بھی خدا کے وجود کو ثابت کرنے کے لیے صرف جزئی حد تک کافی ہیں۔ خدا کے بارے میں کوئی بھی عقلی یا منطقی دلیل آدمی کو صرف امکان (probability) کی حد تک پہنچاتی ہے، نہ کہ یقین (conviction) کی حد تک۔یہ خالق کی ایک عظیم رحمت ہے کہ اس نے اپنے شعور کو انسان کی فطرت میں ودیعت کردیا۔ خدا کو پہچاننا انسان کے لیے ویسا ہی ایک حتمی معاملہ بن گیا ہے، جیسا کہ اپنی ماں کو پہچاننا اور اس کے ساتھ خصوصی محبت کا تعلق قائم کرنا۔ یہ فطری شعور ہر ایک کے لیے ایک داخلی جبر (inner compulsion) کی حیثیت رکھتا ہے۔
یہ داخلی شعور انسان کے لیے بہت بڑی نعمت ہے، بلکہ سب سے بڑی نعمت۔ کیوں کہ انسان کی فطرت میں اگر یہ جبری شعور نہ ہوتا تو صرف عقلی یا منطقی استدلال اس کے لیے اطمینان کا سبب نہیں بن سکتا تھا۔ ایسی حالت میںاگر آدمی خدا کومانتا بھی تو وہ کامل یقین کے درجے میں اس کونہیں مان سکتا تھا۔فطری شعور کی غیر موجودگی میں شاید کوئی بھی شخص خدا کا سچا مومن نہ بنتا۔ اِس معاملے میں صرف پیغمبروں کا استثناء ہو سکتا تھا جن کو خدا نے براہِ راست مشاہدے کے ذریعے ایمان کا تجربہ کرادیا ہے۔
انسان کی سب سے بڑی سعادت یہ ہے کہ وہ اپنے خالق کی معرفت حاصل کرسکے۔ ایسی حالت میں اگر صرف منطقی طورپر خدا کو پہچاننا ہوتو وہ انسان کے لیے بہت بڑا رِسک (risk) ہوتا ۔ یہ خالق کی بہت بڑی رحمت ہے کہ اس نے انسان کو اِس سنگین رسک سے بچا لیا۔
واپس اوپر جائیں

پیغمبرانہ کردار

عام لوگ انسان کو دشمن اور دوست میں تقسیم کرتے ہیں، لیکن داعی کے ذہن میں یہ تقسیم نہیں ہوتی۔ داعی کی نظر میں ہر انسان صرف انسان ہوتاہے، خواہ وہ بہ ظاہر اپنا ہو یا غیر۔ داعی کے رویّے کو ایک لفظ میں، انسان دوست (human-friendly) رویہ کہہ سکتے ہیں۔
عام انسان کا مزاج یہ ہوتاہے کہ— دشمن سے بائیکاٹ کرو، دشمن کو بدنام کرو، دشمن سے انتقام لو، دشمن کو ذلیل کرنے کی کوشش کرو، دشمن کے لیے بد دعائیں کرو، دشمن کی کردار کشی کرو، دشمن کو سبق سکھاؤ، وغیرہ۔ یہ طریقہ داعیانہ اسپرٹ کے خلاف ہے۔ جولوگ اس قسم کا مزاج رکھتے ہوں، وہ کبھی خدا کے دین کے داعی نہیں بن سکتے۔اس کے برعکس، داعی کا مزاج مکمل طورپر مثبت مزاج ہوتا ہے۔ داعی کی نظر میں ہر ایک اس کا اپنا ہوتا ہے۔ بہ ظاہر کوئی شخص دشمنی کرے تب بھی داعی کے اندر اس کے خلاف نفرت پیدا نہیں ہوتی۔ داعی کا ذہن یہ ہوتاہے کہ— دشمن کے ساتھ ناصحانہ روش اختیار کرو، اچھے سلوک کے ذریعے دشمن کو اپنا دوست بناؤ، اپنی تنہائیوں میں دشمن کے لیے دعائیں کرو، دشمن سے محبت کرو، دشمن کے بارے میں ہمیشہ پُرامید رہو، دشمن کو اپنے جیسا ایک انسان سمجھو، ہر حال میں دشمن کے خیر خواہ بنے رہو، دشمن کی ہلاکت کا متمنی ہونے کے بجائے اُس کو خدا کی ابدی رحمتوں میں حصے دار بنانے کی کوشش کرو۔ اِس معاملے میں داعیانہ کردار کیا ہے، اس کو ایک شاعر نے پیغمبر کے حوالے سے بجا طور پر اِن الفاظ میں بیان کیا ہے:
راہ میں جس نے کانٹے بچھائے، گالی دی، پتھر برسائے
اُس پر چھڑکی پیار کی شبنم، صلی اللہ علیہ وسلم
دعوت کے عمل کے لیے داعیانہ کردار ضروری ہے۔ جو شخص داعی کا کریڈٹ لینا چاہتا ہو، اُس پر لازم ہے کہ وہ اپنے اندر داعیانہ کردار پیدا کرے۔ داعیانہ کردار کے بغیر داعی بننے کی کوشش کرنا، قرآن کے الفاظ میں، بن کئے پر کریڈٹ لینے کے ہم معنیٰ ہے (یحبّون أن یُحمدوا بما لم یفعلوا)۔ خدا کی اِس دنیا میں ایسا ہونا کبھی ممکن نہیں۔ خدا کے یہاں حقیقی عمل پر کریڈٹ ملتاہے، نہ کہ فرضی دعوے پر۔
واپس اوپر جائیں

دعوت کا تقاضا

دعوت اہلِ ایمان کی ایک لازمی ذمے داری ہے۔ دعوت سے مراد غیر مسلم افراد تک دینِ حق کا پیغام پہنچانا ہے۔ اسلام کا اِشاعتی کام مسلمانوں کے درمیان بھی کرناہے اور غیر مسلموں کے درمیان بھی۔ مسلمانوںکے درمیان جو کام کیا جائے، اس کا نام اصلاح ہے، اور غیر مسلموں کے درمیان جو کام کیا جائے، اس کا نام دعوت الی اللہ۔
جو لوگ مسلمانوں کی اصلاح کا کام کریں، اُن کو مسجدوں میںاور مدرسوں میں اور مسلم اجتماعات میں افراد مل جاتے ہیں۔ وہ وہاں اسلام کا اشاعتی کام کرسکتے ہیں۔ اب سوال یہ ہے کہ جو لوگ غیر مسلموں کے درمیان اسلام کا اشاعتی کام کرنا چاہتے ہیں، وہ کیا کریں۔ اُن کے جو مخاطبین ہیں، وہ ان کو مسجد میں یا مدرسے میں یا مسلم تقریبات میںنہیں مل سکتے۔ غیر مسلم افراد تو صرف اپنے مواقعِ اجتماع میں ملیںگے، نہ کہ مسلمانوں کے مواقعِ اجتماع میں۔
دعوت کے اِس تقاضے کا واحد حل یہ ہے کہ داعی، غیر مسلموں کے اپنے اجتماعات میں جائے اور وہاں وہ ممکن دائرے میںاپنا دعوتی کام کرے۔ لیکن یہ کوئی سادہ بات نہیں۔ غیر مسلم اپنے اجتماعات ہماری شرطوں پر نہیں کرسکتے۔ یہ یقینی ہے کہ غیر مسلم اپنے جو اجتماعات کریں گے، وہ خود اپنی روایت اور اپنے کلچر کے مطابق کریں گے۔ ایسی حالت میں غیر مسلموں کے مواقعِ اجتماعات کو دعوتی مقصد کے لیے استعمال کرنا صرف اُس وقت ممکن ہے، جب کہ اسلام کے اُس اصول کو اختیار کیا جائے جس کو قرآن میں اعراض (avoidance) کہاگیا ہے (الأعراف:199 ) یعنی ایسے مواقع پر اکھٹا ہونے والے لوگوں سے ملنا اور اُن کو اسلامی لٹریچر دینا، اور اِن مواقع پر جو چیزیں غیر مسلموں کے اپنے کلچر سے تعلق رکھتی ہیں، اُن سے اعراض یا صرف ِ نظر کامعاملہ کرنا۔ صبر و اعراض دعوت کا لازمی تقاضا ہے، صبر واعراض کے بغیر دعوت کے کام کو موثر طورپر انجام دینا ممکن نہیں— پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی پوری زندگی اِس حکمتِ دعوت کا عملی نمونہ ہے۔
واپس اوپر جائیں

اسلام دین ِ فطرت

اسلام فطرت کا دین ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اسلام کے قوانین وہی ہیں جو فطرت کے قوانین ہیں۔ سائنس میں جس چیز کو لاز آف نیچر (laws of nature) کہاجاتا ہے، اُس کو اسلام میںالفاظ کی صورت دے دی گئی ہے۔ یہی وہ حقیقت ہے جس کو قرآن میںاِن الفاظ میں بیان کیاگیا ہے: یدبّر الامر یفصّل الآیات (الرعد: 2 ) ۔
اِسی معاملے کی ایک مثال دانت کی صفائی ہے۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے دانت کی صفائی پر بہت زیادہ زور دیا ہے۔ حدیث کی تقریباً تمام کتابوں میں اِس موضوع پر حدیثیں موجود ہیں۔ ایک روایت کے الفاظ یہ ہیں: السّواک مطہرۃ للفم، مَرضاۃ للرب (صحیح البخاری، کتاب الصوم) یعنی مسواک دانت کی صفائی کا ذریعہ ہے، اور خدا کی رضا حاصل کرنے کا ذریعہ ہے۔ ایک روایت میں آپ نے فرمایا کہ دس چیزیں فطرت میں شامل ہیں، اُن میںسے ایک مسواک ہے۔ اِس سلسلے میں ایک امریکی یونی ورسٹی میں ریسر چ کی گئی ہے۔ اِس سے معلوم ہوا ہے کہ دانت کی صفائی کا تعلق انسان کی پوری صحت سے ہے۔ اِس سے نہ صرف منہ کی صفائی ہوتی ہے، بلکہ وہ ہر اعتبار سے انسان کی صحت کے لیے مفید ہے۔ مسواک کی عادت انسان کو دل کے امراض اور فالج سے بچاتی ہے۔ اس کا حافظہ دیر تک باقی رہتا ہے، وغیرہ۔
Keep Mouth Clean
Keeping your teeth brushed and flossed can help preserve memory, say researchers. The study at West Virginia University has found a link between gum disease and memory loss. “Older people might want to know there’s more reason to keep their mouths clean— to brush and floss— than ever,” said Richard Crout, an expert on gum disease and associate dean for research in the WVU School of Dentistry. “You’ll not only be more likely to keep your teeth, but you’ll also reduce your risk of heart attack, stroke and memory loss. “This could have great implications for health of our aging populations,” Crout said. “With rates of Alzheimer’s skyrocketing, imagine the benefits of knowing that keeping the mouth free of infection could cut down on cases of dementia,”, he added.
(The Times of India, New Delhi, June 22, 2009)
واپس اوپر جائیں

فلسطین کا مسئلہ

Realism Returns to Palestine
فلسطین کی جدید تاریخ 1948 سے شروع ہو تی ہے، جب کہ بال فور ڈکلریشن (Balfour Declaration) کے تحت فلسطین کی تقسیم عمل میں آئی۔یہ واقعہ برٹش ایمپائر کے زمانے میں ہوا۔ اِس تقسیم کے تحت جو ہوا، وہ یہ کہ سرزمینِ فلسطین کا تقریباً ایک تہائی حصہ یہود کو آبادکاری (settlement) کے لیے دیا گیا، جو کہ اُس وقت بیرونی علاقوں میں بسے ہوئے تھے۔ اور فلسطین کا تقریباً دو تہائی رقبہ عربوں کے حصے میں آیا، جو کہ پہلے سے وہاں موجود تھے۔
یہود کو یہ حق پہلی عالمی جنگ اور دوسری عالمی جنگ کے دوران محدود کوٹا سسٹم (limited quota system) کے تحت دیاگیا تھا۔ بعد کو اسرائیل کی جو توسیع عمل میں آئی، وہ بال فور ڈکلریشن کا نتیجہ نہ تھی، بلکہ یقینی طور پر وہ عربوں کی اپنی غلط پالیسی کا نتیجہ تھی۔ مثلاً سوئز کمپنی کا پٹّہ (lease) جو 1968 میںاپنے آپ ختم ہورہا تھا، اُس کو 1956 میں یک طرفہ طورپر ختم کردینا۔ فطری طورپر اِس کے نہایت گمبھیر نتائج برآمد ہوئے ۔ اِسی طرح فلسطینی عربوں کا اپنی زمینوں کو زیادہ بڑی قیمت پاکر یہودیوں کے ہاتھ بیچ دینا، وغیرہ۔
یہود،یابنی اسرائیل
یہود یا بنی اسرائیل کون ہیں۔یہ دراصل حضرت ابراہیم کے پوتے، حضرت یعقوب سے نسبت رکھنے والے لوگ ہیں۔ حضرت یعقوب کے چوتھے بیٹے کا نام یہودا (Juda) تھا۔ اُن سے منسوب ہو کر بعد کو یہ لوگ عام طورپر یہودی کہے جانے لگے۔ حضرت یعقوب کا عُرفی نام اسرائیل تھا۔ عبرانی زبان میں اسرائیل کے معنی ہیں: اللہ کا بندہ، جیسا کہ اسماعیل کے معنی ہیں: اللہ کا سننا۔
حضرت ابراہیم کا زمانہ تقریباً چار ہزار سال پہلے کا زمانہ ہے۔ حضرت ابراہیم کے دو بیٹے تھے— اسماعیل اور اسحاق۔ اسماعیل، آپ کے بڑے بیٹے تھے، جو ہاجرہ کے بطن سے تھے۔ اور اسحاق آپ کے چھوٹے بیٹے ـتھے، جو آپ کی دوسری بیوی سارہ کے بطن سے تھے۔ حضرت ابراہیم نے خدا کے حکم سے اپنے بیٹے اسماعیل کو عرب میں آباد کیا۔ اور اپنے دوسرے بیٹے اسحاق کو خدا کے حکم سے فلسطین کے علاقے میں آباد کیا۔ حضرت اسحاق کے بیٹے حضرت یعقوب تھے، جن کا دوسرا نام اسرائیل تھا۔ اِنھیں کی نسل بنی اسرائیل (Children of Israel) کہلائی۔ اپنے آبائی تعلق کی بنا پر، فلسطین، بنی اسرائیل کا وطن قرار پایا، جیسا کہ اِسی طرح کے آبائی تعلق کی بنا پر عرب، بنو اسماعیل کا وطن مانا جاتا ہے۔
یہودی مذہب ایک نسلی مذہب ہے۔ یہودی مذہب میں کنورژن (conversion) کا کوئی تصور نہیں۔ اِس لیے آج جتنے یہودی دنیا میں پائے جاتے ہیں، وہ سب کے سب براہِ راست طورپر حضرت یعقوب (اسرائیل) کی نسل سے تعلق رکھتے ہیں۔ اِس نسبت کی بنا پر تمام یہودیوں کا مشترک وطن فلسطین ہے، جیسا کہ ان کے مورثِ اعلیٰ اسحاق اور یعقوب کا وطن فلسطین تھا۔ بنو اسماعیل کا وطن عرب قرار پانا، اور بنو اسحاق (بنی اسرائیل) کا وطن فلسطین قرار پانا، دونوں کا تقرر حضرت ابراہیم نے کیا، جو کہ براہِ راست خداکے حکم کے تحت تھا۔
قدیم زمانہ مذہبی معاملات میں عدم رواداری (intolerance) کا زمانہ تھا۔ یہود کو بار بار اِس طرح کے ناخوش گوار تجربات پیش آئے۔ چناں چہ ان کی ایک تعداد فلسطین چھوڑ کر باہر جاتی رہی۔ یہی یہودی تارکینِ وطن ہیں جن کو یہودی ڈائس پورا (Jews in diaspora) کہا جاتا ہے۔ ڈائس پورا کا مطلب ہے— وہ یہودی تارکینِ وطن، جو فلسطین کے باہر آباد ہوں:
Diaspora: Jews who lived outside of Palestine.
بالفور ڈکلریشن کے تحت، فلسطین واپسی کا فیصلہ اِنھیں ڈائس پورا میں رہنے والے یہودیوں کی بابت تھا۔
1948میں جب بیرونی علاقوں میں رہنے والے یہودیوںکی ایک تعداد فلسطین واپس آئی، تو اُس وقت عربوں کی طرف سے ان کے خلاف سخت قسم کے منفی ردّ عمل کا اظہار ہوا۔ عربوں کی سب سے بڑی تنظیم الاخوان المسلمون دراصل یہود کے خلاف منفی جذبات کے زیر اثر بنی۔ اُس وقت عرب رہ نماؤں کا یہ نعرہ تھا: سنرمیہم فی البحر (ہم ان یہودیوں کو سمندر میںدھکیل دیں گے)۔ تمام عرب اور غیرعرب مسلم رہ نما یہودیوں کے خلاف سر گرم ہوگئے، یہاں تک کہ پوری مسلم دنیا مخالفِ یہود جذبات سے بھر گئی۔ ہر قسم کے تشدد حتی کہ خود کُش بم باری کو یہودیوں کے خلاف جائز قرار دے دیا گیا۔ مگر یہودکے خلاف تمام سرگرمیاں کاؤنٹر پروڈکٹیو(counter productive)ثابت ہوئیں۔ اِن سرگرمیوں کا نقصان براہِ راست طورپر عربوں کے حصے میں آیا، اور بالواسطہ طورپر تمام دنیا کے مسلمانوں کے حصے میں۔
عرب اور غیر عرب مسلمانوں کی یہ مخالفِ یہود پالیسی واضح طورپر اسلامی تعلیمات کے خلاف تھی۔ بال فور ڈکلریشن کے تحت، فلسطین کی تقسیم، یہودی تارکینِ وطن (Jews in diaspora) کے لیے اپنے وطن کی طرف واپسی کے ہم معنیٰ تھی۔ یہ بات واضح طورپر قرآن کی تعلیم کے عین مطابق تھی۔ قرآن کی سورہ نمبر 5 میں بتایا گیا ہے کہ حضرت موسیٰ کے زمانے میں یہود سے کہاگیا تھا: یا قوم ادخلوا الأرض المقدسۃ التی کتب اللہ لکم (المائدۃ: 21 ) یعنی تم ارضِ مقدس میں داخل ہو جاؤ جس کو خدا نے تمھارے لیے لکھ دیا ہے:
O my people, enter the holy land which God has assigned to you (5:21)
یہ یہود کون تھے۔ یہ وہ یہودتھے جو اُس وقت سینا کے علاقے میں ڈائس پورا کے حیثیت سے رہ رہے تھے۔ اِس آیت میں ارضِ مقدس سے مراد فلسطین ہے۔ اِس آیت کا خطاب حضرت موسیٰ کے ہم عصر یہودی ڈائس پورا سے تھا ، جو فلسطین کے باہر جلا وطنی کی زندگی گزار رہے تھے۔ ’’جس کو اللہ نے تمھارے لیے لکھ دیا ہے‘‘ سے مراد یہ ہے کہ تمھاری یہ واپسی خدائی قانون، بہ الفاظِ دیگر، فطرت کے قانون کے عین مطابق ہوگی۔ کیوں کہ فطرت کے قانون کے مطابق، کسی بھی تارکِ وطن گروہ کو یہ حق ہے کہ وہ اپنے اصل آبائی وطن کی طرف واپس چلاجائے۔
حضرت موسیٰ کے ساتھ جو بنی اسرائیل تھے، وہ کون تھے۔ وہ سب کے سب تارکینِ وطن کے گروہ سے تعلق رکھتے تھے۔ جیسا کہ عرض کیاگیا، حضرت ابراہیم نے اپنے خاندان کی ایک شاخ کو فلسطین کے علاقے میں آباد کیاتھا۔ اِنھیں میں حضرت یوسف پیدا ہوئے، جو حضرت یعقوب کے بیٹے تھے۔ حضرت یوسف کے ساتھ ایسے حالات پیش آئے کہ وہ مصر پہنچ گئے۔ اُس زمانے میں وہاں جس بادشاہ کی حکومت تھی، وہ حضرت یوسف پر مہربان ہوگیا اور اُن کو اپنی حکومت میں ایک بڑا عہدہ دے دیا۔
پھر حضرت یوسف کو جب مصر میں استحکام حاصل ہوا، تو انھوںنے اپنے اہل خاندان، بشمول اپنے والد حضرت یعقوب، سے کہا کہ آپ لوگ فلسطین چھوڑ کر مصر آجائیں۔ اِس طرح یہ لوگ مصر جاکر وہاں آباد ہوئے۔ وہاں ان کی نسل کافی بڑھی، یہاں تک کہ وہ مصر کی ایک با اثر قوم بن گئے۔
حضرت یوسف کے بعد مصر میں سیاسی انقلاب آیا، اور قدیم بادشاہ (Hyksos Kings) کے بجائے ایک نیا خاندان، مصر کا حکم راں بن گیا جس نے فرعون (Pharaoh) کو اپنے خاندانی لقب کے طورپر اختیار کیا۔ فرعون کی اِسی حکومت کے زمانے میں بنی اسرائیل پر مظالم شروع ہوئے، یہاںتک کہ حضرت موسیٰ پیدا ہوئے اور وہ بنی اسرائیل کو مصر سے نکال کر صحرائے سینا میں لے گئے۔ یہ بنی اسرائیل کے سفر کا پہلا مرحلہ تھا۔ اُن کے سفر کا دوسرا مرحلہ یہ تھا کہ وہ دوبارہ اپنے آبائی وطن (فلسطین) میں داخل ہو جائیں اور وہاں جاکر آباد ہوں۔
یہ کہنا صحیح ہوگا کہ حضرت موسیٰ کے زمانے میں جن بیرونی یہودیوں کی واپسی کا منصوبہ براہِ راست خدا کے حکم کے تحت بنایاگیا تھا، وہ قدیم یہودی ڈائس پورا سے تعلق رکھتا تھا۔ اس کے بعد بال فور ڈکلریشن کے تحت، جن بیرونی یہودیوں کی واپسی کا منصوبہ بنا، وہ جدید یہودی ڈائس پورا سے تعلق رکھتا ہے۔
قبلۂ اوّل کی بازیابی کا مسئلہ
عام طورپر مسلمان، فلسطین کے موجودہ مسئلے کو، قبلۂ اوّل کی بازیابی کا مسئلہ سمجھتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے ہجرت کے بعد جب مدینہ میں ایک مسجد (مسجد ِنبوی) تعمیر کی، اور اس میں نماز باجماعت قائم کی، تو اُس وقت آپ نے یہودی طریقے کی پیروی کرتے ہوئے مسجد ِاقصیٰ کو اپنا قبلہ قرار دیا۔ یہ صورتِ حال تقریباً 16 مہینے تک قائم رہی۔ اِس کے بعد قرآن میں تحویلِ قبلہ کا حکم آیا، اور پھر آپ نے اس کی پیروی کرتے ہوئے، کعبہ کو نماز کے دائمی قبلہ کے طورپر اختیار کرلیا۔ اِس واقعے کے حوالے سے مسلمان یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ فلسطین کا مسئلہ، قبلۂ اول کی بازیابی کا مسئلہ ہے۔ اِس اعتبار سے فلسطین کا مسئلہ محض ایک قومی مسئلہ نہیں ہے، بلکہ وہ مسلمانوں کا ایک خالص دینی مسئلہ ہے۔
یہ نظریہ سر تاسر غلط فہمی پر مبنی ہے۔ مسجد ِاقصیٰ کا تعلق، قبلۂ اوّل سے نہیں ہے۔ قرآن میں مسجد ِ اقصیٰ کا ذکر معروف معنوں میں، کسی مسجد کے نام کے طورپر نہیں آیا ہے۔ مسجد ِاقصیٰ کے معنٰی: دور کی مسجد (farthest place of worship) کے ہیں۔ اِس کو دور کی مسجد اِس لیے کہاگیا کہ وہ مکہ سے 765 میل (1232 کلومیٹر) کے فاصلے پر یروشلم میں واقع ہے۔ مسجد اقصیٰ سے مراد یروشلم کی یہودی عبادت گاہ ہے۔
اِس یہودی عبادت گاہ (ہیکل) کو حضرت سلیمان نے 957 قبل مسیح میںتعمیر کیا۔ اِس عبادت گاہ کو بابل (عراق) کے حکم راں نبوخذ نصر(Nebuchadrezzar II) نے 586 قبل مسیح میں مکمل طورپر ڈھادیا۔ ایک عرصے کے بعد یہودیوں نے یہ عبادت گاہ دوبارہ بنائی۔ اِس دوسری عبادت گاہ کو بھی رومیوں نے 70 عیسوی میں ڈھا کر کھنڈر کردیا۔اِس عمارت کی صرف ایک دیوار باقی رہ گئی ہے، جس کو دیوارِ گریہ (Wailing Wall) ، یا مغربی دیوار کہاجاتا ہے۔ نزولِ قرآن کے وقت یہاں کوئی عمارت نہیںـتھی، بلکہ صرف ہیکل کی خالی جگہ (site) تھی۔ خلیفۂ ثانی عمر فاروق کے زمانے میں 638 عیسوی میں مسلمان یروشلم میں داخل ہوئے۔ حضرت عمر نے ہیکل کی جگہ (site)پر کوئی عمارت تعمیر نہیں کی۔ بعد کو اموی دور میں خلیفہ عبد الملک بن مروان (وفات: 705 ء) نے ہیکل کی جگہ 688 عیسوی میں موجودہ مسجد اقصیٰ کی تعمیر کی۔
مسجد اقصیٰ کیمپس میں ایک اور عمارت ہے، جس کو قُبّۃ الصَّخرۃ (Dome of Rock) کہاجاتا ہے۔ یہاں قدیم زمانے سے یہودیوں کا مقدس صخرہ (چٹان) واقع تھا۔ اِسی صخرہ کے اوپر خلیفہ عبد الملک بن مروان نے688 عیسوی میں موجودہ قبہ (گنبد) کی تعمیر کی۔ یہی مقدس چٹان، یا قبۃ الصخرہ، یہودیوں کا قبلہ تھا، اور یہی قبۃ الصخرہ، نہ کہ مسجد ِ اقصیٰ، ہجرت کے بعد عارضی طورپر پیغمبراسلام کا قبلہ بنا تھا۔ صخرہ سنگ خارا کی ایک چوکور چٹان ہے۔ اِس چٹان کو یہودی اپنے لیے مقدس سمجھتے ہیں۔ ان کے نزدیک، یہی وہ صخرہ ہے جس پر حضرت ابراہیم نے اپنے بیٹے کی قربانی پیش کی تھی۔اصلاً اِسی قبۃ الصخرہ کانام بیت المقدس ہے، اور توسیعی معنوں میں، قدیم یروشلم کے پورے علاقے کو بیت المقدس کہا جاتا ہے۔
مسجدِ اقصیٰ کو فلسطینی جدوجہد کی علامت سمجھا جاتا ہے۔ اس کا سبب یہ ہے کہ مسلمان عام طورپر، مسجد اقصیٰ کو ’’قبلۂ اوّل‘‘ سمجھتے ہیں، حالاں کہ قبلۂ اوّل کاکوئی تعلق، مسجد اقصیٰ سے نہیں۔ قبلۂ اوّل اگر کوئی ہوسکتا ہے، تو وہ قبۃ الصخرہ (بیت المقدس) ہے، نہ کہ مسجد اقصیٰ۔ مزید یہ کہ پیغمبر اسلام جب مکہ میں تھے، تو آپ کعبہ کی طرف رخ کرکے نماز پڑھتے تھے۔ ہجرت کے بعد آپ نے تقریباً 16 مہینے تک، قبۃ الصخرہ کی طرف رخ کرکے نماز پڑھی۔ اس کے بعد، خدا کے حکم کے مطابق، آپ دوبارہ کعبہ کی طرف رخ کرکے نماز پڑھنے لگے۔ اِس اعتبار سے دیکھیے تو قبۃ الصخرہ درمیانی قبلہ ہے، نہ کہ پہلا قبلہ۔
اِس حقیقت کی روشنی میں دیکھیے تو ’’قبلۂ اول کی بازیابی‘‘ کا لفظ سرتا سر بے اصل ہے۔ اگر اِس مفروضہ بازیابی کو مسجد اقصیٰ سے منسوب کیا جائے تو مسجد ِاقصیٰ کبھی بھی پیغمبر اسلام کا قبلہ نہ تھی۔ ہجرت (622 ء) کے وقت وہاں صرف یہودی ہیکل کی خالی جگہ (site) تھی، نہ کہ موجودہ قسم کی کوئی مسجد۔ اور جہاں تک قبۃ الصخرہ کی بات ہے، اس کی بازیابی کاکوئی سوال نہیں۔ وہ پہلے بھی یہودی قبلہ تھا، اور اب بھی وہ یہودی قبلہ ہے۔ قبۃ الصخرہ کی بازیابی کا مطالبہ اُسی طرح غیر معقول ہے، جیسے مشرک گروہ کعبہ کی واپسی کا مطالبہ کرے، یہ کہہ کر کہ وہ کبھی اُن کے بتوں کا مرکز تھا۔
بالفور ڈکلیریشن کے تحت 1948 میں جب یہودی باہر سے آکر فلسطین میں بسنے لگے، تو اُس وقت عربوں کی طرف سے صرف ایک ردّ عمل سامنے آیا، اور وہ مسلح جہاد کا ردّ عمل تھا۔ عرب ممالک نے فلسطینیوں کو بہت بڑے پیمانے پر مالی امداد دینا شروع کیا۔ یہودی ریاست کے خلاف متشددانہ کارروائیوں کے ذریعے یہ کوشش کی جانے لگی کہ اس کا بالکل خاتمہ کردیا جائے۔ لیکن عربوں کو اپنے اِس متشددانہ منصوبے میں کوئی کامیابی حاصل نہیںہوئی۔
یہ بلا شبہہ عرب رہ نماؤں کی غلطی تھی۔ یہ عرب رہ نما اگر اسلامی تاریخ سے سبق لیتے، تو اُن کو معلوم ہوتا کہ ان کے لیے ایک اور زیادہ بہتر انتخاب (better choice) موجود ہے۔ وہ یہ کہ وہ اِن آنے والے یہودیوں کا ایک پڑوسی کی حیثیت سے استقبال کریں اور فلسطین کے ڈیولپ مینٹ میں ان کے ساتھ مل کر کام کریں۔ یہ یہودی زیادہ تر مغربی ملکوں سے آئے تھے۔ ان کی اکثریت اعلیٰ تعلیم یافتہ افراد پر مشتمل تھی۔ وہ جدید علوم میں مہارت رکھتے تھے۔ وہ عربوں کے لیے ترقیاتی عمل میںبہترین پارٹنر بن سکتے تھے۔ مگر جذباتیت کے طوفان میںعرب رہ نما معاملے کے اِس مثبت پہلو کو سمجھنے سے قاصر رہے۔
حالاں کہ اسلام کی تاریخ میں مسلم اور یہود کے درمیان اِس تعاون (collaboration) کی نہایت اعلیٰ مثال موجود تھی۔ بعد کے زمانے میں جب بڑی بڑی مسلم حکومتیں قائم ہوئیں، تو اُس زمانے میں مسلمانوں نے ایک نیا کام شروع کیا— قدیم علمی کتابیں جو یونانی اور دوسری زبانوں میں تھیں، اُن کا ترجمہ عربی زبان میں کرنا، اِس مقصد کے لیے مختلف ملکوں سے غیر عربی کتابیں بڑی تعداد میں منگائی گئیں۔ اِسی واقعے کو خواجہ الطاف حسین حالی (وفات: 1914) نے اپنی مسدّس میں ان الفاظ میں بیان کیا ہے:
حریمِ خلافت میں اونٹوں پہ لد کر چلے آتے تھے مصر ویوناں کے دفتر
اِس مقصد کے لیے عباسی دورِ حکومت میں بغداد میں بہت بڑا دارالترجمہ قائم ہوا جس کو بیت الحکمت (832ء) کہاجاتا تھا۔ اِسی طرح دولتِ فاطمیہ نے قاہرہ میں اِسی مقصد کے لیے دارالحکمت (1005 ء) قائم کیا۔ اِن اداروں کے تحت، بڑی تعداد میں قدیم کتابوں کے عربی ترجمے کیے گئے۔ اِس کے بعد جب عرب، اندلس (اسپین) میں داخل ہوئے، او روہاں اپنی حکومت بنائی، تو قرطبہ اور غرناطہ میںبڑے بڑے تعلیمی اور تصنیفی ادارے قائم کیے گئے۔ اِس طرح جو عربی ترجمے کیے گئے، وہ جلد ہی لاطینی زبان میں ترجمہ ہو کر یورپ میں پھیلے۔ یہ صرف ترجمے کا کام نہ تھا، بلکہ عین اُسی کے ساتھ مختلف شعبوں میںتحقیق کا کام بڑے پیمانے پر جاری رہا۔ اِس طرح جو علمی ترقیاں ہوئیں، اُس کے براہِ راست نتیجے کے طورپر یورپ میں نشاۃِ ثانیہ (Renaissance) کا واقعہ پیش آیا۔ اِس طرح اُس زمانے کے مسلمانوں نے قدیم روایتی دور اور جدید سائنسی دور کے درمیان پُل کا کام کیا۔
اِس واقعے کا اعتراف عام طورپر مغربی مؤرخین نے کیا ہے۔ مثال کے طور پر رابرٹ بریفالٹ (وفات: 1948 ) نے اِس معاملے میں عربوں کے رول کا اعتراف کرتے ہوئے لکھا ہے کہ— یہ بہت زیادہ قرینِ قیاس ہے کہ عربوں کے بغیر جدید صنعتی تہذیب سرے سے پیدا ہی نہ ہوتی:
It is highly probable that but for the Arabs, modern industrial civilization would never have arisen at all. (Robert Briffault, Making of Humanity, p. 190)
علم وتحقیق کے میدان میں عربوں نے یہ عظیم کارنامہ کس طرح انجام دیا، جب کہ اِس سے پہلے اِس قسم کے کسی علمی کارنامے کی روایت عربوں کے یہاں موجود نہیں تھی۔ جواب یہ ہے کہ یہ کارنامہ انھوںنے تعاون (collaboration) کی طاقت سے انجام دیا۔ اُس زمانے کے عربوں نے عراق اور مصر اور اسپین میں علم وتحقیق کے جو ادارے بنائے، اُس میں انھوںنے مسیحی اسکالر اور یہودی اسکالر کی خدمات بڑے پیمانے پر حاصل کیں۔ اِن اداروں میں عرب علماء اور غیر عرب اسکالر مل کر کام کرتے تھے۔ اِس تعاون کا نتیجہ وہ شان دار علمی تاریخ ہے، جو قرونِ وسطی کے زمانے میں بنی، اور جس کی بنیاد پر مغربی یورپ نے مزید اعلیٰ ترقی حاصل کی(تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو— پروفیسر فلپ کے ہٹی کی کتاب: تاریخِ عرب (History of the Arabs) ۔
1948 کے بعد یہی امکان دوبارہ فلسطینیوں کے لیے پیدا ہوا تھا، لیکن جذبات سے مغلوب، عرب رہ نماؤں نے غلط رہ نمائی کرکے ان کو تعاون کے بجائے ٹکراؤ کے راستے پر ڈال دیا۔ ایک عظیم تاریخ بنتے بنتے رہ گئی۔اِس امکانی تاریخ کا ایک چھوٹا سا نمونہ عربوں کے زیر اقتدار فلسطین، اور یہود کے زیر اقتدار فلسطین کا تقابل کرکے دیکھا جاسکتا ہے۔ یہود کے زیر اقتدار فلسطین کا یہ حال ہے کہ جہاں 1948 میں خشک صحرا دکھائی دیتا تھا، وہاں آج زراعت اور باغ بانی (horticulture) کی سرسبز دنیا نظر آتی ہے۔ اِس کے برعکس، فلسطین کا جو حصہ عربوں کے زیر اقتدار ہے، وہاں اب بھی پس ماندگی کی وہی حالت ہے جو 1948 میں وہاں پائی جاتی تھی۔
فلسطین کے لوگ اپنے نادان عرب رہ نماؤں کی رہ نمائی میں ایک بے نتیجہ لڑائی لڑ رہے ہیں۔ پہلے اُن کا نشانہ یہ تھا کہ وہ فلسطین کو1948 سے پہلے کی حالت پر لے جائیں۔ اب ان کا نشانہ فلسطین کو 1967 سے پہلے کی حالت کی طرف لے جانا ہے۔ یہ دونوں نشانے بلاشبہہ ناممکن ہیں۔ یہ تاریخ کے سفرکو پیچھے کی طرف لوٹانے کے ہم معنی ہے، اور تاریخ بتاتی ہے کہ ایسا کبھی کسی کے لیے ممکن نہیں ہوا۔ فلسطینیوں کے لیے پہلا انتخاب یہ تھا کہ وہ 1948 کے اسٹیٹس کو (statusquo) پر راضی ہوجائیں۔ اب ان کے لیے دوسرا ممکن انتخاب یہ ہے کہ وہ اپنے آپ کو موجودہ اسٹیٹس کو پر راضی کر لیں۔ اگر انھوںنے اِس دوسرے انتخاب کو بھی کھودیا، تو اس کے بعد کوئی تیسرا انتخاب ان کے لیے کبھی پیش آنے والا نہیں۔ اب تیسرا انتخاب ان کے لیے صرف تباہی اور بربادی کا انتخاب ہے، نہ کہ زندگی اور کامیابی کا انتخاب۔
اسٹیٹس کو ازم (statusquoism) کا مطلب ہے— حالتِ موجودہ کو تبدیلی کے بغیر مان لینا۔ یہ کوئی کم زوری کی بات نہیں، یہ ایک اعلیٰ قسم کی دانش مندانہ پالیسی کا نام ہے۔ فطرت کے نظام کے مطابق، اِس دنیا میں ہمیشہ اور ہر ایک کے لیے کوئی نہ کوئی نزاعی مسئلہ موجود رہتا ہے۔ اِسی کے ساتھ خود نظامِ فطرت کا یہ تقاضا ہے کہ ہر صورتِ حال میںکام کرنے کے مواقع بھی موجود ہوں۔ ایسی حالت میںنتیجہ خیز پالیسی (result-oriented policy) یہ ہے کہ آدمی مسائل (problems) کو نظر انداز کرے اور مواقع(opportunities) کو استعمال کرے۔ نزاعی مسائل سے الجھنا ہمیشہ اِس قیمت پرہوتا ہے کہ مسائل تو ختم نہ ہوں، لیکن قیمتی مواقع استعمال ہونے سے رہ جائیں۔
فلسطین میں عرب رہ نما لمبی مدت سے کھوئی ہوئی زمین (land) کے لیے لڑ رہے ہیں۔ مگر نتیجے کے اعتبار سے دیکھئے تو اُن کی ساری کوششیں اور قربانیاں سرتاسر رائگاں ہوگئیں۔ وہ اپنے نشانے کے مطابق، زمین (land) تو حاصل نہ کرسکے، البتہ یہ نقصان اُن کے حصے میںآیا کہ وہ قیمتی مواقع کو استعمال (avail) کرنے سے محروم رہے۔
موجودہ زمانہ گلوبلائزیشن کا زمانہ ہے۔ قدیم زرعی دور میں ساری اہمیت زمین کی ہوا کرتی تھی، مگر جدید کمیونکیشن کے زمانے میں زمین ایک ثانوی اہمیت کی چیز بن گئی ہے۔ اب ساری اہمیت مواقع کی ہے، جو گلوبلائزیشن کے نتیجے میںہر شخص کو یکساں طور پر حاصل ہے۔ اب ایک شخص بظاہر ایک محدود جگہ پر رہتے ہوئے بھی ساری دنیا کے مواقع کو اپنے لیے استعمال کرسکتا ہے۔ ایسی حالت میں زمین (land) کے حصول کے لیے لڑنا، ایک قسم کی خلافِ زمانہ روش (anachronism) ہے، جو کبھی کسی کے لیے مثبت نتیجہ پیدا کرنے کا ذریعہ نہیںبن سکتی۔
فلسطین کی موجودہ صورتِ حال ایک بحران (crisis) کی صورتِ حال ہے۔ یہ صورتِ حال نہ عربوں کے لیے مفید ہے اور نہ اسرائیل کے لیے مفید۔دونوں کے بہترین مفاد میںیہ بات ہے کہ دونوں معتدل ذہن کے ساتھ مسئلے پر غور کریں اور صورتِ حال کو نارمل بنانے کے لیے کوئی نیا فیصلہ لیں۔ تاہم اِس معاملے میں دونوں فریق کو حقیقت پسندی سے کام لینا ہوگا۔ کوئی ایسی شرط جو دونوں فریقوں کے لیے یکساں طورپر قابلِ قبول نہ ہو، وہ صرف ایک خیالی شرط ہوگی، نہ کہ حقیقت پسندانہ شرط۔
میری فہم کے مطابق، اِس معاملے کا قابلِ عمل حل صرف ایک ہے، وہ یہ کہ عرب حضرات اپنی طرف سے ہر قسم کے تشدد کو کامل طورپر چھوڑ دیں۔ یہ ایک لازمی شرط ہے۔ اِس شرط کو پورا کیے بغیر مسئلے کے حل کی بات کرنا، ایک خیالی دنیا میںسفر کرنا ہے، اورایسا سفر کبھی واقعہ نہیں بنتا۔
جہاں تک اسرائیل کا تعلق ہے، اس کو بھی ایک لازمی شرط کو پورا کرنا ہوگا، وہ یہ کہ اسرائیل، فلسطین میںمقیم عربوں کو وہی حقوق دے، جو اسرائیلی دستور کے رُو سے، اس کے حدود میںرہنے والے باشندوں کو حاصل ہیں۔یعنی عرب لوگ اسرائیل کے خلاف اپنے تشدد کو کامل طورپر چھوڑ دیں، اور اسرائیل اپنے دستور اور حقوقِ انسانی (human rights) کے عالمی اصول کے مطابق، فلسطینی عربوںکو مساوی بنیاد پر اُن کے تمام ضروری حقوق دے دے۔ یہ دو باتیں اگر اصولی طورپر مان لی جائیں، تو ان کی بنیاد پر پُر امن باہمی گفت وشنید (negotiation) کے ذریعے ایک عملی نظام بنایا جاسکتاہے۔
عام طورپر زمین برائے امن (land for peace) کی بات کی جاتی ہے، یعنی زمین دو اورامن لو۔ مگر اپنے علم اور تجربے کی بنیاد پر میںاِس تجویز کو قطعی طورپر ناقابلِ عمل سمجھتا ہوں۔ اِس معاملے میںجوچیز قابلِ عمل ہے، وہ صرف حقوق برائے امن (right for peace) ہے، یہی اِس معاملے میںواحد قابلِ عمل فارمولا ہے۔ اِس فارمولے کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہے کہ اِس کو ماننے کی صورت میں عربوں کو فوری طورپر ایک نقطۂ آغاز (starting point) مل جائے گا۔ اِس وقت فلسطینی تحریک ایک بند گلی (blind alley) میں پھنسی ہوئی ہے۔ مذکورہ تجویز کو اختیار کرنے کی صورت میں یہ ڈیڈ لاک (deadlock) فوری طورپر ختم ہوجائے گا، اور عربوں کو یہ کھُلا موقع مل جائے گا کہ وہ ترقی کی شاہ راہ پر اپنا سفر شروع کردیں۔
فلسطین کے معاملے میں تمام دنیا کے مسلمان، عرب اور غیر عرب دونوں، ایک ہی بات کہتے رہتے ہیں، وہ یہ کہ اسرائیل قبضہ کی ہوئی زمین کو واپس کرے، تو فلسطینی اپنی متشددانہ کارروائیوں کو بند کردیں گے۔ اِس تجویز کو السّلام مع العدل (peace with justice) کہا جاتا ہے۔
جیسا کہ معلوم ہے، بے شمار کوششوں کے باوجود یہ تجویز عمل میں نہ آسکی۔ اِس ناکامی کا سبب صرف ایک ہے، اور وہ یہ کہ یہ فارمولا ایک غیر حقیقت پسندانہ فارمولا ہے، اور کوئی غیر حقیقت پسندانہ فارمولا، حقائق کی اِس دنیا میں کبھی کامیاب نہیں ہوسکتا۔ یہ دنیا فطرت کے اٹل قوانین پر چل رہی ہے۔ اِس دنیا میں وہی فارمولا کامیاب ہوسکتاہے، جس کو فطرت کے قوانین کی حمایت حاصل ہو۔
حقیقت یہ ہے کہ قانونِ فطرت کے مطابق، عدل (justice) امن (peace) کا حصہ نہیں عدل کو امن کے ساتھ بریکٹ کرنا، گریمر کے اعتبار سے درست ہوسکتا ہے، لیکن حقیقت کے اعتبار سے وہ ہر گز درست نہیں۔ کیوں کہ عدل جب بھی کسی کو ملتا ہے، وہ خود اپنی محنت سے ملتا ہے۔ ایسا نہیں ہوسکتا کہ امن کے قیام سے کسی کو عدل حاصل ہوجائے۔
اصل یہ ہے کہ امن کے قیام سے جو چیز حاصل ہوتی ہے، وہ صرف مواقع کار ہیں۔ امن کسی شخص، یا گروہ کے لیے مواقع کا دروازہ کھولتا ہے۔ عدل کے حصول کا کام اِس کے بعد شروع ہوتاہے۔ اور وہ یہ کہ کھلے ہوئے مواقع کو استعمال کرکے اپنے لیے مطلوب عدل حاصل کیا جائے۔
خدا کے فضل سے میںنے تین بار فلسطین کا سفر کیا ہے۔ پہلی بار اگست 1995 میں، دوسری بار اکتوبر 1997 میں اور تیسری بار اکتوبر 2008 میں۔ اِس طرح میں یہ کہہ سکتاہوں کہ مجھے فلسطین کو براہِ راست دیکھنے کا موقع ملا ہے۔ اِس کے علاوہ بہت سے فلسطینی مسلمانوں سے میری ملاقات ہوئی ہے، دہلی کے اندر اور دہلی کے باہر۔ فلسطین کے بارے میں، میں نے بہت سی کتابیں بھی پڑھی ہیں۔ اپنے تجربات کی بنا پر میں یہ کہہ سکتا ہوں کہ فلسطینی قوم ایک زندہ قوم ہے۔ فلسطینی لوگ عام طورپر اعلیٰ صلاحیت کے مالک ہوتے ہیں۔ وہ ’’علم اور جسم‘‘ دونوں میں ممتاز حیثیت کے حامل ہوتے ہیں۔ ایسا ہونا بالکل فطری ہے۔ کیوں کہ وہ ایک ایسے جغرافی علاقے میں پرورش پاتے ہیں، جس کے بارے میں، قرآن میں یہ الفاظ آئے ہیں: الّذی بارکنا حولہ (الإسراء: 1 ) یعنی جس کے ماحول کو ہم نے بابرکت بنایا ہے:
The environs of which, We have blessed.
فلسطینی لوگ اپنے ممتاز فطری اوصاف کی بنا پر بہت بڑے بڑے کام کرسکتے ہیں، وہ ہر میدان میں اعلیٰ ترقی کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ لیکن دورِ جدید کا یہ ایک انوکھا المیہ ہے کہ فلسطین کی یہ بالقوہ صلاحیت (potential) اُن کے حق میں بالفعل (actual) واقعہ نہ بن سکی۔
اِس المیہ کا واحد سبب یہ ہے کہ فلسطین کے لیڈروں نے فلسطینیوں کو نفرت اور تشدد کے راستے پر ڈال دیا۔ انھوںنے غلط طورپر زمین (land) کو سب کچھ سمجھ لیا۔ وہ زمین کو حاصل کرنے کے لیے اپنی جانیں دے رہے ہیں۔ اُن کو معلوم نہیں کہ ایک فلسطینی کی زندگی اُس زمینی خطّہ سے ہزاروں گُنا زیادہ قیمتی ہے، جس کو حاصل کرنے کے لیے وہ ناکام کوشش کررہے ہیں۔ اگر یہ فلسطینی، جدید امکانات سے باخبر ہوتے، تو یقینا وہ جان لیتے کہ اِن امکانات کو استعمال کرکے وہ نہ صرف فلسطین کی سطح پر، بلکہ عالمی سطح پر بڑی بڑی ترقیاں حاصل کرسکتے ہیں۔
آخری بات یہ کہ پُرامن عمل اور متشددانہ عمل کا معاملہ کوئی سادہ معاملہ نہیں۔ یہ براہِ راست طورپر قانونِ فطرت کا معاملہ ہے۔ فطرت کے قانون کے مطابق، پُرامن عمل انسان کی تخلیقیت (creativity) کو بڑھاتا ہے۔ جو گروہ ایسا کرے کہ وہ پُرامن ذرائع تک محدود رہتے ہوئے اپنی جدوجہد کو جاری کرے، ایسا گروہ، فطرت کے قانون کے مطابق، دن بدن تخلیقی گروہ (creative group) بنتا چلا جائے گا۔ اِس کے برعکس، جو گروہ نفرت اور تشدد کا طریقہ اختیار کرے، وہ فطرت کے قانون کے مطابق، دن بدن غیر تخلیقی گروہ (uncreative) بنتا چلا جائے گا۔
یہ فطرت کا اٹل قانون ہے۔ اِس میں کسی کا کوئی استثناء نہیں۔ پُر امن طریقِ کار ہمیشہ کسی گروہ کو تخلیقی گروہ بناتا ہے۔ اِس کے برعکس، نفرت اور تشدد کا طریقہ ہمیشہ غیر تخلیقیت کی طرف لے جاتاہے۔ کوئی بھی دوسرا عمل اِس نقصان کی تلافی نہیںبن سکتا۔ قانونِ فطرت کے مطابق، اِس دنیا میں تمام کامیابیاں تخلیقی گروہ کے لیے مقدّر ہیں، اور تمام ناکامیاں غیر تخلیقی گروہ کے لیے۔
قضیۂ فلسطین کا حل
ابو سعید الخدری الانصاری (وفات: 74 ھ/ 693 ء) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک صحابی ہیں۔ اُن سے 1170 حدیثیں مَروی ہیں۔ انھوں نے پیغمبر اسلام سے سنا ہوا ایک قول اِن الفاظ میں نقل کیا ہے: یخرج رجلٌ من أمتی یقول بسنّتی، ینزل اللہ عزَّ وجلّ لہ القطر من السماء وتُخرِج الارض برکتہا، وتُملأ الأرض منہ قسطاً وعدلاً کما مُلئت جوراً وظلماً، یعمل علی ہذہ الأمۃ سبع سنین، وینزل بیتَ المقدس (رواہ الطَّبرانی فی معجمہ الأوسط، جلد2، صفحہ 15 ) یعنی میری امت میں سے ایک آدمی نکلے گا۔ وہ میری سنت کے مطابق کلام کرے گا۔ اللہ تعالی اس کے لیے آسمان سے بارش نازل کرے گا۔ اور زمین اپنی برکت نکال دے گی۔ اور اس کے ذریعے سے زمین عدل اور قسط سے بھر دی جائے گی، جس طرح وہ ظلم اور جور سے بھر دی گئی تھی۔ وہ اِس امت میں سات سال تک کام کرے گا۔ اور وہ بیت المقدس میں اُترے گا۔
اِس حدیث رسول میں پیشگی طورپر یہ بتایا گیا ہے کہ تاریخ کے آخری زمانے میں ایک اہم واقعہ ہوگا۔ یہ واقعہ بیت المقدس (فلسطین) کے حوالے سے پیش آئے گا۔ یہ واقعہ اِس بات کی علامت ہوگا کہ قیامت بہت قریب آچکی ہے۔ ’’زمین اپنی برکتیں نکال دے گی‘‘ کا مطلب یہ ہے کہ اُس زمانے میں مواقع (opportunities) کی بہت زیادہ کثرت ہوجائے گی۔ اِن مواقع کو استعمال کرکے یہ ممکن ہوجائے گا کہ دنیا میں امن کی عمومی فضا قائم کی جاسکے۔
اِس حدیثِ رسول کی روشنی میں بیت المقدس، یا فلسطین کے مسئلے پر غور کیجیے۔ فلسطین کا مسئلہ اپنی موجودہ صورت میں، بیسویں صدی کے وسط میں پیدا ہوا۔ ابتدائی طورپر یہ مسئلہ عربوں کا ایک قومی، یا جغرافی مسئلہ تھا۔ لیکن تمام مسلمانوں کا مسئلہ بنانے کے لیے اس کو اسلامی مسئلے کی حیثیت سے نمایاں کیاگیا۔ حقیقت یہ ہے کہ موجودہ زمانے میں مسلمانوں کے اندر جو تحریکیں اٹھیں، وہ تقریباً سب کی سب، بر اہِ راست یا بالواسطہ طورپر، فلسطین کے مسئلے کا رد عمل تھیں— الاخوان المسلمون، حماس، القاعدہ، تحریک طالبان، وغیرہ اس کی مثالیں ہیں۔
اِس قسم کی مسلم تحریکیں جوموجودہ زمانے میں مختلف علاقوں میںاُٹھیں، ان کے مجموعے کو صحوۃ إسلامیۃ (Islamic Ressurgence) کہاجاتا ہے۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ یہ تمام تحریکیں صحوۃ فلسطینیۃ(Palestinian Ressurgence) ہیں۔ فلسطین کا مسئلہ اِن تحریکوں میں براہِ راست طور پر شامل ہے، یا بالواسطہ طورپر۔
فلسطین کا مسئلہ اپنی فعّال صورت میں 1948 میں شروع ہوا۔ اِس کے بعد تمام دنیا کے مسلم رہ نما منفی رد عمل میں مبتلا ہوگئے۔ مسلمانوں کے درمیان نفرت اور تشدد کی تحریکیں چل پڑیں۔ اِس نفرت اور تشدد کا پہلا نشانہ اسرائیل تھا اور اس کے بعد برطانیہ اس کا نشانہ بن گیا، کیوں کہ برطانیہ (Biritish Empire) نے بال فور ڈکلریشن کے تحت، اسرائیل کو قائم کیا تھا۔ اس کے بعد نفرت اور تشدد کا یہ مسلم سیلاب امریکا (U.S.A.) کے خلاف متحرک ہوگیا، کیوں کہ امریکا، فلسطین کے اِشو پراسرائیل کی سرپرستی کرنے لگا تھا۔ اِس کے بعد مسلمانوں کے منفی جذبات کا رخ انڈیا جیسے ملکوں تک پھیل گیا جو اسرائیل سے مصالحت کا تعلق قائم کیے ہوئے تھے، یہاں تک کہ منفی جذبات سے بھرے ہوئے یہ مسلمان خود مسلم حکومتوں کے خلاف ہوگئے، کیوں کہ مسلم حکومتیں اسرائیل کے خلاف وہ انتہائی اقدامات نہیں کررہی تھیں جو مسلمان اُن سے چاہتے تھے۔
مذکورہ حدیثِ رسول میں یہ پیشین گوئی کی گئی تھی کہ ’’ارض‘‘ ظلم و جور سے بھر دی جائے گی اور پھر اس کو قسط اور عدل سے بھرا جائے گا۔ یہ ایک تعبیری اسلوب ہے۔ اِس سے مراد یہی مذکورہ صورتِ حال ہے۔ موجودہ زمانے میںعملاً یہی پیش آیا ہے کہ ارضِ فلسطین کے حوالے سے ، ساری دنیا کے مسلمان نفرت اور تشدد میںمبتلا ہوگئے۔ اِسی نفرت اور تشدد کو ’’ظلم اور جور‘‘ سے تعبیر کیا گیا ہے۔ اس کے بعد حدیث کے مطابق، جو ہونا ہے، وہ یہ کہ ’’ارض‘‘ کو قسط اورعدل سے بھر دیا جائے۔ یہ امن کی تعبیر ہے۔ اِس حدیث میں قسط اور عدل سے مراد امن پر مبنی معتدل فضا ہے جو مسلمانوں کے لیے دعوت کے مواقع کو کھولنے والی ہے۔اسلام کا سب سے بڑا کنسرن (concern) دعوت ہے، اور یہ ایک حقیقت ہے کہ نفرت اور تشدد کا ماحول دعوت کے دروازوں کو بند کردیتا ہے، اور امن اور معتدل تعلقات کا ماحول دعوت کے دروازوں کو کھولنے والا ہے۔
حدیث میں جس واقعے کی پیشین گوئی کی گئی ہے، اس کا تعلق نہ جنگ سے ہے اور نہ حکومت سے، یعنی اس مطلوب کے حصول کے لیے نہ تو جنگ کی جائے گی اور نہ وہ حکومت کی طاقت سے قائم ہوگا۔ یہ پورا معاملہ ایک نظریاتی معاملہ ہوگا، یعنی ایک منفی آئڈیالوجی دنیا میں نفرت اور تشدد کے حالات پیدا کرے گی۔ اِس کے مقابلے میں ایک مثبت آئڈیالوجی ابھرے گی، جو دنیا میں امن اور اعتدال کا ماحول قائم کرے گی۔
موجودہ زمانے میںفلسطین کا مسئلہ ساری مسلم دنیا کا مسئلہ بن گیا ہے۔ موجودہ زمانے میں مسلمانوں کے اندر نفرت اور تشدد کا عمومی ماحول پیداہوا۔ اس کا اصل سبب بلا شبہہ فلسطین کا مسئلہ تھا۔ ایسی حالت میں سب سے پہلا ضروری کام یہ ہے کہ فلسطین کے مسئلے کا ایک ایسا حل تلاش کیا جائے جو نفرت اور تشدد کے موجودہ ماحول کو ختم کرسکتاہو۔ یہ حل عربوں یا مسلمانوں کی امنگوں(aspirations) کے مطابق نہیں ہوسکتا۔ یہ حل لازمی طورپر مبنی بر حقیقت فارمولے ہی کے ذریعہ ہوسکتاہے۔ اس معاملے میں عادلانہ حل صرف وہ ہے جو امن قائم کرنے والا ہو، نہ کہ لوگوں کے جذبات کو تسکین دینے والا۔ اِسی بنیادی اصول کو پیش نظر رکھتے ہوئے فلسطین کے مسئلے کامذکورہ بالا تجزیہ پیش کیا گیا ہے۔ اِس تجزیے کی روشنی میںاِس مسئلے کا جو قابلِ عمل منصفانہ حل ممکن ہے، اس کو ذیل میںدرج کیا جاتاہے۔
اِس سلسلے میں پہلی بات یہ ہے کہ عرب اور غیر عرب مسلمانوں کی طرف سے اِس معاملے میںاب تک جو باتیں کہی جاتی رہی ہیں، اُس میں ہمیشہ یہ ظاہر کرنے کی کوشش کی جاتی ہے کہ فلسطین کا اِشو، ظالم اور مظلوم کا اشو ہے، یعنی اسرائیل یک طرفہ طورپر ظالم ہے، اور عرب یک طرفہ طور پر مظلوم۔ مسئلے کا بے لاگ جائزہ بتاتا ہے کہ یہ تقسیم ایک غیر حقیقی تقسیم ہے۔
واقعہ یہ ہے کہ اِس معاملے میں عرب اور اسرائیل، دونوں کی حیثیت یکساں ہے۔ دونوں میں سے کسی کا کیس بھی عدل اور معقولیت پر مبنی کیس نہیں ہے۔ دونوں فریق ایک دوسرے پر جو الزام دیتے ہیں، وہ خود اُس میں برابری کے درجے میں شریک ہیں۔ خالص اصول کی روشنی میں، دونوں میں سے کسی کا کیس بھی موجودہ حالت میں، حق پر مبنی قرار نہیں دیا جاسکتا۔ یہاں اِس سلسلے میںمختصر طورپر چند متعلق پہلوؤں کاذکر کیا جاتا ہے۔
1 - انیسویں صدی عیسوی کے نصف آخر میں یہود کے درمیان ایک تحریک اٹھی جس کو صہیونی تحریک (Zionism) کہاجاتا ہے۔ صہیون (Zion) دراصل یروشلم میں واقع ایک پہاڑی کا نام ہے۔ اِس پہاڑی کو یہودی لوگ مقدس مانتے ہیں اور اس کو وہ یہودی قومیت کا مرکزی نشان سمجھتے ہیں۔ ڈاکٹر ہرزل (Theodor Herzl) کی قیادت میں 1890 میں صہیونی تحریک شروع ہوئی۔ اِس کا پہلا انٹرنیشنل اجلاس 1897 میں سوئزر لینڈ کے شہر باسل (Basel) میں ہوا۔ صہیونی تحریک کا مقصد یہ تھا کہ یہودی ڈائس پورا (Jews in diaspora) کو فلسطین واپس لانا، اور یہاں ان کی نیشنل اسٹیٹ قائم کرنا۔ اِس تحریک کے نتیجے میں بال فور کمیشن قائم ہوا، اور اس کی سفارش کے مطابق، 1948 میں اسرائیل کا قیام عمل میں آیا۔
عرب رہ نماؤں نے متفقہ طورپر یہودی ڈائس پورا کی فلسطین واپسی کی مخالفت کی۔ یہ مخالفت اِس حد تک پہنچی کہ انھوں نے اسرائیل کے خلاف متشددانہ جہاد شروع کردیا۔ یہ مخالفانہ تحریک بڑھتی رہی۔ ساری دنیا کا مسلم پریس، اور ساری دنیا کا مسلم مائنڈ عمومی طورپر اِس سے متاثر ہوگیا۔ کوئی بھی قابلِ ذکر مسلمان نہ تھاجو یہ کہے کہ یہودی ڈائس پورا کو فلسطین آنے کا حق ہے، جس طرح تمام تارکین وطن کو اپنے وطن واپس آنے کا حق ہوتا ہے۔
دوسری طرف، یہودیوں نے بھی ایسا ہی کیا۔ فلسطین میںجو عرب آباد تھے، ان کی بڑی تعداد اسرائیل کے قیام کے بعد فلسطین چھوڑ کر باہر چلی گئی۔ یہ لوگ عرب ڈائس پورا (Arabs in diaspora) کی حیثیت رکھتے ہیں۔ اُن عربوں کو بھی اُسی طرح اپنے وطن واپس آنے کا حق ہے، جس طرح یہودیوں کو اپنے وطن واپس آنے کا حق تھا۔ لیکن یہودی، عربوں کے اِس حق کو ماننے کے لیے تیار نہیں۔
اِس طرح اِس معاملے میں دونوں گروہ مشترک طورپر ایک ہی غلطی کا شکار ہیں۔ عرب رہ نما، یہودی ڈائس پورا کو واپسی کا حق دینے کے لیے تیار نہیں۔ اِسی طرح یہودی رہ نما، عرب ڈائس پورا کو واپسی کا حق دینے کے لیے تیار نہیں۔ اب جو فریق یہ چاہتا ہو کہ اس کو اس کا یہ جائز حق ملے، اس کو سب سے پہلے یہ کرنا ہوگا کہ وہ اپنے سابقہ موقف کی غلطی کا کھلا اعتراف کرے اور پھر دل سے فریقِ ثانی کو اِس معاملے میں اس کا حق دینے پر راضی ہوجائے۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ اِس طرح کے متنازعہ معاملے میں دوسرے کا حق تسلیم کرنے ہی سے اپنا حق ملتا ہے۔ اگر آپ دوسرے کا حق تسلیم نہ کریں، تو آپ کو اپنا حق بھی ملنے والا نہیں۔
2 - 1948 میں بال فور ڈکلریشن کے مطابق، اسرائیل کا قیام عمل میں آیا، تو اُس وقت یہود کو فلسطین کا نصف سے کم حصہ ملا تھا۔ بال فور تقسیم کے مطابق، عربوں کے پاس فلسطین کا نصف سے زیادہ حصہ تھا، جس میں یروشلم بھی شامل تھا۔ اسرائیل کا موجودہ توسیعی رقبہ 1967 کی عرب- اسرائیل جنگ کے بعد بنا ہے۔ اِس لحاظ سے بین اقوامی اصول کے مطابق، اسرائیل کی جائز حدودوہی ہیں جو 1948 میںاس کو حاصل تھیں۔ موجودہ توسیعی رقبہ، اسرائیل کا جائز حصہ نہیں۔ 1948 میں قائم ہونے والا اسرائیل، بین اقوامی طورپر ایک مسلّمہ ریاست کی حیثیت رکھتا تھا۔ موجودہ توسیعی رقبہ، اسرائیل کے لیے غیر قانونی قبضہ (illegal occupation) کی حیثیت رکھتا ہے۔
عرب قیادت یہ مطالبہ کررہی ہے کہ اسرائیل اپنی 1967 کی حد پر واپس چلا جائے۔ عربوں کا یہ مطالبہ خالص اصولی اعتبار سے درست ہے، مگر عملی طورپر وہ ممکن نہیں۔کیوں کہ عرب رہ نما خود بھی اِس سے پہلے 1956 میں وہی فعل کرچکے ہیں جس کا ارتکاب، اسرائیل کی طرف سے 1967 میں ہوا۔ اِس لیے ’البادی أظلم‘ کے اصول کے مطابق، اِس بحرانی صورتِ حال کو پیدا کرنے کی زیادہ بڑی ذمے داری عرب قیادت پر آتی ہے۔ ایسی حالت میں عرب اور اسرائیل، دونوں کے درمیان کوئی حقیقی فرق نہیں۔ جب دونوں فریق یکساں طورپر ایک ہی غلطی کا شکار ہوں، تو کوئی ایک فریق دوسرے فریق کو ذمے دار ٹھہرانے کا حق کھو دیتا ہے۔
جیسا کہ عرض کیاگیا، اِسی نوعیت کی ایک سنگین غلطی وہ تھی جو اِس سے پہلے خود عرب قیادت سوئز کے معاملے میں کرچکی ہے۔ سوئز نہر (Suez Canal)ایک مصنوعی نہر ہے جو میڈی ٹیرینین (Mediterranean) کو ریڈ سی (Red Sea) سے ملاتی ہے۔ یہ نہر یورپین کمپنیوں نے (1859-69) بنائی تھی۔ پھر حکومتِ مصر نے اس کو برٹش اور فرنچ کمپنی (Suez Canal Co.) کو 99 سال کے لیے پٹّہ (lease) پر دے دیا۔ معاہدے کے مطابق، یہ پٹّہ 1968 میں ختم ہورہا تھا۔
لیکن عرب رہ نما اُس زمانے میںرومانوی جوش کا شکار تھے۔ اِس ماحول میںیہ ہوا کہ مصر کے سابق صدر جمال عبد الناصر(وفات: 1970 ) نے 1956 میں یک طرفہ طورپر اِس معاہدے کو ختم کردیا اور یورپین کمپنی کو بے دخل کرکے نہر سوئز کو حکومتِ مصر کے براہِ راست قبضے میں لے لیا۔
اِس کے بعد فطری طورپر ایسا ہوا کہ برطانیہ اور فرانس دونوں سخت برہم ہوگئے۔ انھوںنے مصر کے خلاف انتقامی کارروائی کا منصوبہ بنایا۔ برطانیہ اور فرانس نے اس معاملے میں خاموشی کے ساتھ اسرائیل کی مدد کی اور اسرائیل کے ذریعے مصر پر 1967 میں باقاعدہ حملہ کرادیا۔ 1967 کی اِس جنگ میں مصر کو زبردست شکست ہوئی۔ اس کے بعد اسرائیل نے اپنا رقبہ تقریباً پانچ گنا حد تک بڑھا لیا۔
نہر سوئز کے معاملے میں حکومتِ مصر کی یہ کارروائی بین اقوامی قانون کے سر تا سر خلاف تھی۔عرب قیادت اگر صرف بارہ سال انتظار کرتی، تو 1968 میں نہر سوئز اس کو اپنے آپ مل جاتی، جس طرح ہانگ کانگ پٹہ کے تحت، حکومتِ برطانیہ کے قبضے میں تھا۔ لیکن چین نے اِس معاملے میں پیشگی طورپر قبضے کی کارروائی نہیںکی، بلکہ معاہدے کی مدت کے ختم ہونے کا انتظار کیا، چناں چہ 1997 میں جب یہ معاہدہ ختم ہوا تو فطری طورپر ہانگ کانگ، چین کو واپس مل گیا۔
1956 میں صدر جمال عبد الناصر کا نہر سوئز پر قبضہ کرنا کوئی شخصی فعل نہ تھا، بلکہ تمام عرب قیادت اِس میں شریک تھی۔ اِس واقعے نے عرب قیادت اور اسرائیل دونوں کو ایک سطح پر کھڑا کردیا ہے۔ عرب قیادت مطالبہ کررہی ہے کہ اسرائیل نے 1967 میں فلسطین کی مزید زمین پر ناجائز قبضہ (illegal occupation) کرلیاہے۔حالاں کہ خود عرب قیادت نے 1956 میں اِسی طرح نہرسوئز پر ناجائز قبضہ (illegal occupation) کرلیا تھا۔
خالص انصاف کی رُو سے دیکھا جائے، تو معاہدے کی خلاف ورزی، یا ناجائز قبضے کے معاملے میں عرب قیادت اور اسرائیل، دونوں ایک ہی فعل کے مرتکب ہوئے ہیں۔ جب دو فریق یکساں طورپر ایک ہی غلطی کا شکار ہوں، تو کسی ایک فریق کو یہ حق نہیں رہتا کہ وہ دوسرے فریق کو مجرم ٹھہرائے، جب کہ وہ خود بھی اُسی جرم میں مبتلا ہو۔
اگر کوئی ایک فریق یہ چاہتا ہو کہ وہ دوسرے فریق کی غلطی کی اصلاح کرے، تو مطالبہ کرنے والے فریق کو سب سے پہلے خود اپنی غلطی کا کھلے طورپر اعتراف کرنا چاہیے۔ اپنی غلطی کا کھلا اعتراف کیے بغیر، دوسرے کی غلطی کا اعلان کرنا ایک مضحکہ خیر کارروائی ہے، وہ نہ کوئی درست کام ہے اور نہ اِس کا کوئی مثبت نتیجہ برآمد ہونے والا ہے۔
3 - عرب رہ نما، بلکہ تمام مسلم رہ نما مسلسل طورپر یہ کہتے رہے ہیں کہ اسرائیل ایک ظالم ریاست ہے۔ وہ فلسطینی عربوں کے اوپر بم برساتا ہے۔ اسرائیلی فوج ان کو اپنی گولیوں کا نشانہ بناتی ہے، مگر عین اُسی وقت خود عرب اور غیر عرب مسلمان تشدد کا یہی فعل کررہے ہیں۔ وہ نہ صرف اسرائیل کو اپنے تشدد کا نشانہ بناتے ہیں، بلکہ وہ جس کو اسرائیل کا حلیف دیکھتے ہیں، اس کو بھی اپنے تشدد کا نشانہ بنائے ہوئے ہیں، حتی کہ جہاں ان کے لیے بم اور گولی کا موقع نہیں ہوتا، وہاں وہ خود کش بم باری کے ذریعے ان کو جان اور مال کی ہلاکت میں مبتلا کررہے ہیں۔ مسلم رہ نما، عرب اور غیر عرب دونوں، اسرائیل کے تشدد کا تو خوب تذکرہ کرتے ہیں، لیکن وہ کبھی عربوں اور مسلمانوں کے تشدد کی مذمت نہیںکرتے۔
اِس صورتِ حال نے مسلم قیادت اور اسرائیل دونوں کو ایک سطح پر کھڑا کردیا ہے۔ دونوں یکساں طورپر دہشت اور تشدد پھیلانے کے ذمے دار ہیں۔ ایسی حالت میں دونوں نے اپنے آپ کو دوسرے فریق کے خلاف بولنے سے اخلاقی طورپر محروم کرلیاہے۔ اب اگر دونوں میں سے کوئی فریق، دوسرے کو پُر امن بنانا چاہتا ہے، تو سب سے پہلے اس کو خود پر امن بننا پڑے گا۔ اور اِس معاملے میں پرامن بننے کی پہلی شرط یہ ہے کہ خود اپنے لوگوں کے دہشت اور تشدد کی کھلی مذمت کی جائے۔ اپنے لوگوں کی غلطی پر خاموش رہنا، اور دوسرے لوگوں کی طرف سے اُسی قسم کی غلطی پر بولنا، ایک مجرمانہ فعل ہے۔ اِس کا کوئی مثبت نتیجہ خدا کی اِس دنیا میں نکلنے والا نہیں۔
خلاصہ
اوپر کے تجزیے سے یہ بات پوری طرح واضح ہوجاتی ہے کہ فلسطین کے معاملے میں عرب اور اسرائیل کی حیثیت یہ نہیں ہے کہ اُن میں سے ایک فریق یک طرفہ طورپر ظالم ہے اور دوسرا فریق یک طرفہ طورپر مظلوم۔ اِس معاملے میں صحیح تقسیم یہ ہے کہ اصولی طورپر دونوں فریق یکساں حیثیت رکھتے ہیں۔ ایک فریق جس فعل کاالزام دوسرے فریق کو دے رہا ہے، وہ خود بھی ٹھیک اُسی فعل میں مبتلا ہے۔
ایسی حالت میں فلسطین میں امن کا قیام اُسی وقت ہوسکتا ہے، جب کہ دونوں فریق حقیقت پسندی کا طریقہ اختیار کریں، اور اس معاملے میں حقیقت پسندی یہ ہے کہ ایک فریق دوسرے فریق سے جو کچھ لینا چاہتا ہے، وہ خود بھی دوسرے فریق کو وہی چیز دینے کے لیے تیار ہو۔ یہ بلا شبہہ لینے اور دینے (give and take) کا معاملہ ہے۔ اِس معاملے میں یہی واحد مبنی بر حقیقت پالیسی ہے۔ کوئی دوسرا فارمولا اِس معاملے میں ہر گز قابلِ عمل نہیں۔
واپس اوپر جائیں

دوسرے کے بل پر اقدام

ایک شہر کا واقعہ ہے۔ ایک صاحب کو گھر کی ضرورت تھی۔ چھوٹا فلیٹ خریدنے کے لیے ان کے پاس پیسے تھے، لیکن بڑا فلیٹ خریدنے کے لیے ان کے پاس پیسے نہ تھے۔ بینکوں کے شرائط کے مطابق، ان کو ہاؤس لون (house loan) بھی نہیں مل سکتا تھا۔ ان کے ایک تاجر دوست نے کہا کہ تم کسی مہاجن سے مہاجنی سود پر قرض لے لو، میں جلد ہی مہاجن کا پیسہ ادا کردوں گا۔
مذکورہ صاحب نے مہاجنی سود پر قرض لے کر فلیٹ خرید لیا۔مہاجنی سود کی شرح بینک کی شرح سے بہت زیادہ تھی۔ قرض لیتے ہی وہ سود کے جال میں پھنس گئے۔ ان کے تاجر دوست نے یہ کہہ کر پیسہ دینے سے انکار کردیا کہ میرے کاروبار میں گھاٹا ہوگیا ہے، اِس لیے اب میں تمھاری مدد نہیں کرسکتا۔ مذکورہ صاحب کے لیے یہ صورتِ حال ناقابلِ برداشت تھی۔ وہ سخت قسم کے ٹنشن (tension) کا شکار ہوگئے۔دوسرے کے بل پر اقدام کرنے کا یہ طریقہ ہمارے سماج میں بہت عام ہے۔ عوام وخواص دونوں اِس میں مبتلا ہیں۔ مگر اِس قسم کا ہر اقدام بلا شبہہ ایک مہلک اقدام ہے۔ آدمی کو چاہیے کہ وہ ایسے ہر اقدام سے کامل طور پر بچے۔ وہ اپنے کام کی منصوبہ بندی خود اپنے دستیاب وسائل کی بنیاد پر کرے، وہ دوسروں کے بھروسے پر کبھی کوئی منصوبہ نہ بنائے۔ دوسرے کے بل پر اقدام ہمیشہ کاؤنٹر پروڈکٹیو(counter-productive) ثابت ہوتاہے۔
تجربہ بتاتا ہے کہ اِس معاملے میں کسی کا کوئی استثناء نہیں، حتی کہ سپر پاور کا بھی نہیں۔ جو شخص یا جو ادارہ بھی یہ طریقہ اختیار کرے گا، وہ مزید مسائل کا شکار ہو کر رہ جائے گا۔ صحیح یہ ہے کہ آپ خود اپنے وسائل کی بنیاد پر کام کریں۔ اگر آپ کے وسائل کم ہوں تو آپ کو اس میں اپنی محنت کا اضافہ کرنا چاہیے۔ کم وسائل والا شخص اگر دوسرے کی مدد پر بھروسہ کرتے ہوئے کوئی اقدام کرے تو یقینی ہے کہ وہ جلد یا بد یر اُس کے برے نتائج کا شکار ہوجائے گا۔ دوسرے کے بھروسے پر اقدام ایک ایسی چھلانگ ہے جو آپ کو گڑھے کے سوا کہیں اور گرانے والی نہیں۔
واپس اوپر جائیں

نہیں کہنا سیکھئے

ایک انگریزی رائٹر نے زندگی کے موضوع پر ایک کتاب لکھی ہے۔ اِس میں اس نے کامیاب زندگی کا راز بتایا ہے۔ موضوع کی نسبت سے اس نے کتاب کا نام رکھا ہے— نہیں کہنا سیکھئے:
Learn to say No
یہ بے حد اہم بات ہے۔ اجتماعی زندگی میں بارہا ایسا ہوتا ہے کہ آدمی کو ہاں یا نہیں کہنا پڑتا ہے۔ ایک آدمی اگر لوگوں سے صرف ہاں کہنا جانے تو وہ اپنی ساری زندگی میں غیر ضروری مسائل کا شکار بنا رہے گا۔ وہ اپنے مقصد کو حاصل کرنے میں زیادہ کامیاب نہ ہوگا۔
آدمی کو چاہیے کہ وہ خود اپنے سوچے سمجھے ذہن کے تحت فیصلہ کرے۔ وہ جانے کہ اس کو کس معاملے میں پڑنا ہے اور کس معاملے میں نہیں پڑنا ہے۔ وہ دوسروں سے ہاں کہنے کے ساتھ، نہیں کہنا بھی جانے۔ وہ اقرار کی زبان بولنے کے ساتھ انکار کی زبان بولنا بھی جانتا ہو۔
اِس معاملے کی ایک مثال قرض ہے۔ عربی زبان کا ایک مثل ہے: القرض مِقراض المحبۃ (قرض محبت کی قینچی ہے)۔ اجتماعی زندگی میں بار بار ایساہوتاہے کہ ایک شخص دوسرے شخص سے قرض مانگتاہے۔ لیکن تجربہ بتاتا ہے کہ بہت کم ایسے افراد ہیں جو قرض کی ٹھیک ٹھیک ادائیگی کرتے ہوں۔ ایسی حالت میں قرض دینے کا نتیجہ اکثر یہ نکلتا ہے کہ فریقین کے درمیان تلخیاں بڑھتی ہیں اور محبت کا تعلق دشمنی کے تعلق میں بدل جاتا ہے۔ ایسی حالت میں پُر عافیت طریقہ یہ ہے کہ کسی کو قرض نہ دیا جائے۔ واپسی کی شرط کے بغیر کسی کی مدد کرنا درست ہے، لیکن واپسی کی امید کے ساتھ کسی کو رقم دینا موجودہ زمانے میں عملی اعتبار سے درست نہیں۔
نہیں کہنا کوئی سختی کا معاملہ نہیں ہے، یہ دراصل بااصول انسان کا طریقہ ہے۔ با اصول انسان کے لیے اِس دنیا میں کوئی اور طریقہ عملی طور پر ممکن نہیں۔
واپس اوپر جائیں

حیاتِ اجتماعی، حیاتِ انفرادی

حضرت عمر فاروق کے زمانۂ خلافت کا واقعہ ہے۔ ایک بار حضرت عمر حج کے لیے مکہ گئے۔ وہاں انھوں نے دیکھا کہ ایک بوڑھی خاتون کعبہ کا طواف کررہی ہے۔ وہ اتنی معذور تھی کہ بیٹھ کر اور گھسٹ گھسٹ کر چل رہی تھی۔ وہ دوسروں کے لئے مسئلہ بنی ہوئی تھی۔ حضرت عمر نے اُس کو دیکھ کر کہا: کاش، آپ اپنے گھر پر بیٹھتیں (لو قعدتِ فی بیتک)۔ یہ صرف ایک انفرادی واقعہ نہیں، اِس سے ایک اہم اصول معلوم ہوتا ہے۔اصل یہ ہے کہ زندگی کے دو الگ الگ دائرے ہیں— ایک ہے، حیاتِ انفرادی۔ اور دوسرا ہے، حیاتِ اجتماعی۔ انفرادی دائرے میں آدمی کا معاملہ اس کی اپنی ذات تک محدود ہوتا ہے۔ انفرادی دائرے میںآدمی خواہ جس طرح بھی رہے، اس کا اثر کسی دوسرے انسان تک نہیں پہنچتا۔ وہ اپنی کسی روش سے دوسروں کے لیے مسئلہ (problem) نہیں بنتا۔
مگر حیات ِ اجتماعی کا معاملہ اِس سے بالکل مختلف ہے۔ حیاتِ اجتماعی میںایک آدمی دوسرے بہت سے لوگوں کے ساتھ بندھا ہوا ہوتا ہے۔ اس کی ہر روش براہِ راست یا بالواسطہ طورپر دوسروں کو متاثر کرتی ہے۔ وہ خواہ قصداً دوسروں کو تکلیف دینا نہ چاہے، لیکن جب وہ ایک عمل کرتا ہے تو اس کے نتیجے کے طور پر بہر حال ایسا ہوتا ہے کہ اس کے عمل کے اثرات بلا اعلان دوسروں تک پہنچ جاتے ہیں۔
ایسی حالت میں ہر عورت اور ہر مرد کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنے انفرادی عمل اور اپنے اجتماعی عمل میں فرق کرے۔ جب وہ اکیلا ہو اور صرف اپنی ذات کی سطح پر کوئی عمل کررہا ہو تو اُس وقت وہ اپنے آپ کو آزاد سمجھے۔ لیکن جب وہ دوسرے لوگوں کے درمیان ہو تو وہ اپنے عمل سے پہلے یہ سوچے کہ اس کی وجہ سے دوسروں کے لیے تو کوئی مسئلہ نہیں پیدا ہوگا۔ اگر اس کا عمل دوسروں کے لیے مسئلہ پیدا کرنے والا ہو تو وہ ایسے عمل سے اپنے آپ کو بچائے۔ وہ اپنے عمل کو اِس طرح انجام دے کہ دوسرے لوگ اس کے نقصان سے محفوظ رہیں۔ موجودہ کمیونکیشن کے زمانے میں یہ احتیاط صرف قریبی پڑوسی کے لیے نہیں ہے، بلکہ اس کا تعلق دور کے پڑوسی سے بھی ہوگیا ہے۔
واپس اوپر جائیں

آمدنی بڑھانے کا مسئلہ

ایک صاحب کا ٹیلی فون آیا۔ انھوں نے کہا کہ میں معاشی مسئلے سے دوچار ہوں اور اپنی آمدنی بڑھانا چاہتا ہوں۔ مجھے اضافۂ رزق کی کوئی دعا بتائیے۔ میںنے کہا کہ دوسرے لوگوں کی طرح، آپ کا مسئلہ بھی آمدنی میں کمی کا مسئلہ نہیں ہے، بلکہ خرچ میں زیادتی کا مسئلہ ہے۔ میرا قیاس ہے کہ آپ غیر ضروری طورپر اپنا خرچ بڑھائے ہوئے ہیں۔ اِس بنا پر آپ مصنوعی طورپر معاشی مسئلے کا شکار ہوگئے ہیں۔ آپ صرف یہ کیجئے کہ آپ اپنے خرچ کو گھٹائیے، اس کے بعد آپ کی آمدنی اپنے آپ بڑھ جائے گی۔ انھوں نے اعتراف کیا کہ میرا معاملہ ایسا ہی ہے۔
یہ دیکھا گیا ہے کہ آمدنی خواہ کم ہو یا زیادہ، عام طورپر لوگ معاشی مسئلے کا شکار رہتے ہیں۔ اس کا سبب یہ ہے کہ لوگ اپنے خرچ کو انتظامی حد (manageable limit) کے اندر نہیں رکھتے۔ وہ اپنی عادتوں کو بدلنے کی کوشش نہیں کرتے، وہ صرف اپنی آمدنی کو بڑھانے کی کوشش کرتے رہتے ہیں۔ مگر عملاً یہ ہوتا ہے کہ آمدنی بڑھنے کے ساتھ اُن کا خرچ بھی بڑھ جاتا ہے اور مالی تنگی کا مسئلہ بدستور باقی رہتا ہے۔ یہ معاملہ اپنی حقیقت کے اعتبار سے صرف بے شعوری کا معاملہ ہے، وہ معاشی تنگی یا آمدنی کی کمی کا معاملہ نہیں۔ ایسے حالات میں آدمی کو چاہیے کو وہ اپنے شعور کو بڑھائے، نہ کہ اپنی آمدنی کو بڑھانے کی بے فائدہ کوشش کرتا رہے۔
معاش کے مسئلے کا حل صرف ایک ہے، اور وہ ہے سادگی اور قناعت۔ سادگی آپ کو غیر ضروری خرچ سے بچاتی ہے۔ اور قناعت آپ کو ہر حال میں سکون عطاکرتی ہے۔ مزید یہ کہ سادگی اور قناعت با مقصد انسان کا طریقہ ہے۔ جس آدمی کے سامنے کوئی اعلیٰ مقصد ہو، اُس پر لازم ہے کہ وہ سادگی اور قناعت کا طریقہ اختیار کرے، ورنہ وہ چاہتے ہوئے بھی اپنے مقصد کے لیے کام نہ کرسکے گا۔ وہ دل سے چاہے گا کہ میں با مقصد زندگی گزاروں، لیکن عملاً یہ ہوگا کہ وہ بے مقصد زندگی گزارے گا، اورپھر اِسی حال میں مر جائے گا۔
واپس اوپر جائیں

سوال وجواب

سوال
I would like to seek Maulana Wahiduddin Khan’s guidance about a great issue which has been raised by the “Quantum Physics”. Quantum Physics proves that “All matters are connected” and as such there is existence of real physical world (concept of wahdatul-wujud, being conceived by Muslim Sufis also). At present day, Thomas Campbell, Amit Goswami, Deepak Chopra have come up with different scientific proofs of unity of being in the universe. I want Maulana Wahiduddin Khan to present Islamic viewpoint on “Wahdatul Wujood”. (Faisal, Sharjah)
جواب
آپ کا یہ کہنا درست ہے کہ کچھ مذہبی لوگ کوانٹم فزکس (Quantum Physics) کے سائنسی نظریے سے وحدتِ وجود (monism) کا مذہبی نظریہ نکالتے ہیں۔ مگر یہ صرف ایک مغالطہ (fallacy) ہے۔ کوانٹم فزکس سے اگر کچھ ثابت ہوتا ہے تو وہ یہ کہ عالمِ مادّی (material world) میں وحدت ہے۔ دوسرے لفظوں میں یہ کہ تخلیق کے مختلف مظاہر میں وحدت پائی جاتی ہے۔ مگر اِس سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ خالق اور مخلوق دونوں ایک ہیں۔ جو لوگ اِس سے پہلے اپنے مفروضہ قیاس کے تحت، خالق اور مخلوق کو ایک سمجھے ہوئے تھے، انھوں نے اپنے مخصوص ذہن کی بنا پر یہ فرض کرلیاکہ کوانٹم فزکس اُن کے وحدتِ وجود کے نظریے کی سائنسی تصدیق ہے۔ مگر علمی اعتبار سے، یہ ایک بے بنیاد بات ہے۔
کوانٹم فزکس سے یہ ثابت نہیںہوتا کہ خالق اور مخلوق میں وحدت ہے، بلکہ اس سے صرف یہ ثابت ہوتا ہے کہ مادّی معنوں میں جو عالمِ وجود ہے، اس میں وحدت پائی جاتی ہے۔ مثلاً کوانٹم فزکس نے مادّہ (matter) اور توانائی (energy) کی ثنویت (duality) کو نظری طورپر ختم کردیا ہے۔ مگر کوانٹم تھیوری یا کسی اور تھیوری سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ عالمِ مادّی اپنا خالق آپ ہے، یا سب کچھ ایک خالق کا خود اپنا ظہور ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ کوانٹم فزکس کے بعد بھی یہ سوال بدستور باقی رہتا ہے کہ عالمِ موجودات کو کس نے پیدا کیا۔ اسلام کے نقطۂ نظر سے خالق ایک مستقل بالذات ہستی ہے۔ یہ خالق، مخلوقات سے الگ اپنا وجود رکھتا ہے۔ یہی خالق ہے جس نے اپنے منصوبے کے تحت عالمِ وجود کی تخلیق کی ہے۔
اِس معاملے کا ایک اور پہلو (aspect) یہ ہے کہ کوانٹم فزکس نے بالواسطہ طورپر ایک خدا کے وجود کو ثابت کیا ہے۔ کیوں کہ عالم موجودات میں جو کامل وحدت (harmony)پائی جاتی ہے، وہ ایک قادرِ مطلق خدا کے بغیر ممکن نہیں ہوسکتی۔
سوال
آپ نے اپنی ایک تقریر میں کہا ہے کہ رمضان ’شہر القرآن‘ ہے، یعنی رمضان کا مہینہ قرآن کا مہینہ ہے۔ آپ نے کہا کہ اِس سے مراد قرآن کی تلاوت کرنا یا قرآن کو ختم کرنا نہیں ہے، بلکہ اِس سے مراد قرآن کا مطالعہ کرنا ہے۔ آپ نے کہا کہ تراویح بھی اِسی نوعیت کی ایک چیز ہے۔ تراویح کا مقصد یہ ہے کہ قرآن کو حالتِ نماز میں سنا جائے اور اس پر غور کیا جائے۔ یہاں یہ سوال ہے کہ جو لوگ عربی زبان نہ جانتے ہوں، وہ تراویح میں قرآن کو کیسے سمجھیں گے (پروفیسر نجمہ صدیقی، نئی دہلی)
جواب
اِس مسئلے کا ایک حل یہ ہے کہ امام صاحب پیشگی طورپر نمازیوں کو یہ بتادیں کہ آج وہ قرآن کا کون سا حصہ تراویح میں پڑھیں گے۔ اس کے بعد نمازی یہ کریں کہ وہ قرآن کے اُس حصے کا ترجمہ پڑھ کر مسجد میں آئیں۔ اِس طرح زیر تلاوت قرآن کا مفہوم سمجھنا اُن کے لیے آسان ہوجائے گا۔ دوسرا طریقہ یہ ہے کہ تراویح سے پہلے یا تراویح کے بعد قرآن کے اُس حصے کا ترجمہ پڑھ کر لوگوں کو سنا دیا جائے جو اُس دن تراویح میںپڑھا جانے والا ہے۔
واضح ہو کہ قرآن کا مجموعۂ الفاظ (vocabulary) عام کتابوں کے مقابلے میں بہت کم ہے۔ ایک شخص معمولی کوشش سے اپنے اندر یہ استعداد پیدا کرسکتا ہے کہ وہ قرآن کے بنیادی مفہوم کو سن کر یا پڑھ کر سمجھ سکے۔ مثلاً قرآن کی ایک آیت یہ ہے: وما خلقتُ الجنّ والإنس إلاّ لیعبدون (الذاریات: 56) ایک شخص جو اردو زبان جانتا ہو، وہ نہایت آسانی کے ساتھ سمجھ سکتا ہے کہ اِس آیت کا ترجمہ یہ ہے کہ — میں نے انسانوں اور جن کو صرف اپنی عبادت کے لیے پیدا کیا ہے۔
واپس اوپر جائیں

خبر نامہ اسلامی مرکز— 197

1 - سائی انٹرنیشنل سنٹر (نئی دہلی) میں 10 جون 2009 کو ایک پروگرام ہوا۔ اِس کا موضوع یہ تھا:
Basic Human Values in Islam
اس کی دعوت پر صدر اسلامی مرکز نے اس میں شرکت کی اور موضوع پر اسلامی تعلیمات کی روشنی میں ایک گھنٹے کی تقریر کی۔تقریر کے بعد سوال وجواب کا پروگرام ہوا۔ اِس موقع پر سی پی ایس کے ممبران نے حاضرین کو مطالعے کے لیے اسلامی لٹریچر اور قرآن کا انگریزی ترجمہ دیا۔ حاضرین میںموجود مسٹر ایل وی چھناپّن کو جب قرآن کا ترجمہ دیا گیا تو انھوں نے کہا کہ ایسا لگتاہے، جیسے میں نے خدا کا ہاتھ پکڑ لیا ہے۔
2 - نئی دہلی کے ایف اے این ایس (Foundation for Amity and National Solidarity) کی طرف سے 11 جون 2009 کی شام کو ڈنر رسپشن کا ایک پروگرام ہوا۔ یہ پروگرام نئی دہلی کے امپیریل ہوٹل میں کیا گیا۔ یہ پروگرام سیکولر فورسیز کی کامیابی کے طورپر منسٹر آف پاور مسٹر سُشیل کمار شندے کے اعزاز میں منعقد کیا گیا تھا۔ اِس پروگرام میں ملک کے اعلیٰ تعلیم یافتہ افراد اور بڑی بڑی شخصیات شامل تھیں۔ اِس کی دعوت پر صدر اسلامی مرکز کے ساتھ سی پی ایس کی ٹیم کے ممبران نے اس میں شرکت کی۔ اور حاضرین کو مطالعے کے لیے اسلامی لٹریچر اور قرآن کا انگریزی ترجمہ دیا ۔ لوگوں نے اِس کو بہت شوق سے لیا اور اپنی خوشی کا اظہار کیا۔
3 - صدر اسلامی مرکز نے نئی دہلی میں صدر جمہوریہ ہند مسز پرتبھا پاٹل سے ملاقات کی۔ یہ ملاقات 29 جولائی 2009 کو سرودھرم سنسد کے وفد کے ساتھ راشٹرپتی بھون میں ہوئی۔ صدر جمہوریہ کی فرمائش پر صدر اسلامی مرکز نے سی پی ایس انٹرنیشنل کا مختصر تعارف کرایا۔ انھوںنے بتایا کہ ہمارا مشن پیس اور اسپریچولٹی کا مشن ہے۔ 1947 کے بعد سے یہ مشن خاموشی کے ساتھ اپنا کام کررہا ہے۔ خاص طورپر ہندستانی مسلمانوں میں یہ ہوا ہے کہ ان کے اندر نیگیٹیو سوچ کے بجائے پازیٹیو سوچ بڑے پیمانہ پر پیدا ہوئی ہے۔ کشمیر کے مسلمانوں میں نمایاں تبدیلی (Sea Change) آئی ہے۔ انھوں نے ٹکراؤ کا راستہ چھوڑ کر تعمیر وترقی کا راستہ اپنا لیاہے۔
4 - نئی دہلی کے فکّی(FICCI) آڈی ٹوریم میں 6 اگست 2009 کی شام کو ایک پروگرام ہوا۔ یہ پروگرام مسٹر لال کرشن آڈوانی کی خود نوشت سوانح حیات ’’میرا وطن، میری زندگی‘‘ کے اردو ترجمہ کے رسمِ اجرا کے لیے منعقد کیاگیا تھا۔ یہ پروگرام صدر اسلامی مرکز کی صدارت میں ہوا۔ کتاب کا رسمِ اجرا مسٹر ایم جے اکبر نے کیا۔ صدر اسلامی مرکز نے اپنی صدارتی تقریر میں جو باتیں کہیں، اُن میں سے ایک بات یہ تھی کہ میرا مشن انڈیا کو ’’اسپریچول سپرپاور‘‘ بنانا ہے۔ صدر اسلامی مرکز کی تقریر کے بعد مسٹر آڈ وانی کی تقریر تھی۔ انھوں نے اپنی تقریر میں کہا کہ آج میں نے پہلی بار ’’اسپریچول سپر پاور‘‘ کا لفظ مولانا صاحب کی زبان سے سنا ہے۔ اِس سے ہم کو حوصلہ ملا ہے۔ مولانا صاحب نے آج ہم کو ہمارا لکش دے دیا ۔ اِس پروگرام میں بی جے پی اور دیگر سیاسی پارٹیوں کے اعلیٰ عہدے داران موجود تھے۔ اِس پروگرام میں بڑی تعداد میں مسلم رہنما اور علماء بھی شریک تھے۔ سی پی ایس کی طرف سے تمام حاضرین خاص طور پر مسٹر آڈوانی کو قرآن کا انگریزی ترجمہ دیاگیا۔ انھوں نے بہت خوشی کے ساتھ اس کو لیا اور کہا کہ میں ضرور اِس کو پڑھوں گا۔
5 - چنمئی مشن (لودھی روڈ، نئی دہلی) کے آڈی ٹوریم میں 8 اگست2009 کو ایک پروگرام ہوا۔ یہ پروگرام ’’لائف پازیٹیو میگزین‘‘ کی طرف سے کیاگیا تھا۔ یہ ایک تعزیتی پروگرام تھا۔ اس کی دعوت پر صدر اسلامی مرکز نے اس میں شرکت کی اور انگریزی زبان میں ایک تقریر کی۔ اور قرآن اور حدیث کی روشنی میں اسلام کے تصورِ موت وحیات پر روشنی ڈالی ۔ اِس موقع پر سی پی ایس کی طرف سے لوگوں کو قرآن کا انگریزی ترجمہ دیاگیا۔
6- Thanks for the permission. The Holy Quran is indeed principled way of Managing & Leading life, wish I had read it earlier. In my opinion majority of people are ignorant about the Prophet’s teaching & Goodword’s efforts to spread genuine knowledge by translating it into English is commendable. If people read this, there will be great appreciation & understanding of Islamic principles. The costing of “the the Quran pocket book” is reasonable & affordable by masses & we shall devote space to complete range of Islamic learnings/teachings at www.learningratnas.com (Prabhjot Singh Sood, New Delhi)
7 - سُناری (نیپال) میں قرآن ایجوکیشنل اینڈ ویلفیر سوسائٹی کے نام سے ایک ادارہ قائم ہے۔ اس کی درخواست پر صدر اسلامی مرکز کی منتخب کتابوں کا ایک سیٹ اور دعوتی لٹریچر سی پی ایس کی طرف سے ادارے کو دیاگیا۔ کتابیں موصول ہونے پر ادارے کی طرف سے مولانا شمیم احمد فلاحی نے اس کا شکریہ ادا کرتے ہوئے لکھا ہے کہ ’’سی پی ایس کی طرف سے بہت ساری کتابیں موصول ہوئیں جو اِس تنظیم کے لیے دعوت و تبلیغ کی راہ میں بہت بڑا سرمایہ ہیں۔ ذمے دارانِ ادارہ اِس گراں قدر مخلصانہ تعاون کے لیے سی پی ایس کے بے حد شکر گزار ہیں‘‘۔
8 - نومبر 2008 میں صدر اسلامی مرکز نے قبرص (Cyprus) کا سفر کیا تھا۔ اِس سلسلے میں وہاں کے متعدد اسلامی اداروں کے ذمے داران سے ملاقات ہوئی۔ سفر سے واپسی کے بعد قبرص کی مختلف مساجد اور وہاں کے اسلامی اداروں کے نام بذریعہ ڈاک دعوتی لٹریچر بھیج دیاگیا ہے۔
9 - لوگوں کے اندر دعوتی ترغیب پیدا کرنے کے لیے الرسالہ میں مفت دعوتی لٹریچر فراہم کرنے کا اعلان کیا گیا تھا۔ اِس سلسلے میں بڑی تعداد میں لوگوں کے خطوط موصول ہوئے۔ سی پی ایس کی طرف سے ان حضرات کو مطبوعہ دعوتی میٹریل روانہ کردیاگیا ہے۔ اِس سلسلے میں ادارے کے نام کئی خطوط موصول ہوئے۔ یہاں ایک قابلِ ذکر خط نقل کیا جاتا ہے: ’’محترم، میں الرسالہ کا ایک قدیم قاری ہوں۔ اگرچہ الرسالہ میں مفت دعوتی لٹریچر فراہم کرنے کا اعلان کیاگیا ہے، لیکن مجھے شرم آتی ہے کہ میں خدا کا کام مفت میں فراہم کردہ لٹریچر کے ذریعہ کروں۔ ہم اپنے کام کے لیے تو پیسہ خرچ کریں اور خدا کے کام کے لیے مفت کریڈٹ کے امیدوار ہوں۔ میں اپنا آرڈر بھیج رہا ہوں۔ میں دعوتی لٹریچر کو خرید کر اس کو اللہ کے بندوں تک پہنچانے کی کوشش کروں گا(مہتاب عالم، دھام پور)
10 - ماہ نامہ الرسالہ کا تازہ شمارہ باصرہ نواز ہوا۔ جذباتیت اور انتہاپسندی نے ہمیں بہت نقصان پہنچایا ہے۔ الرسالہ اس پہلو سے وقت کی اہم ضرورت ہے۔ اِس ناچیز کے نام آپ نے الرسالہ جاری فرمایا، اللہ تعالیٰ آپ کو جزائے خیر دے۔ (خورشید احمد فلاحی، محمد اسماعیل فلاحی، جامعۃ الفلاح، بلریا گنج اعظم گڑھ)
11 - محترم ومکرم، آپ کا ارسال کردہ دعوتی لٹریچر بصد شکرو احسان موصول ہوگیا ہے۔ بحمدللہ سبھی کتابیں اور بروشر نہایت مفید و کارآمد اور دل چسپ ہیں۔ آپ کا یہ خوب صورت پیکٹ موصول ہوتے ہی لوگوں کے درمیان تقسیم کرنا شروع کردیا ہے، آپ یقین رکھئے کہ ان شاء اللہ یہ کتابیں تقسیم کرنے میں کوتاہی نہیں برتی جائے گی۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ آپ کے توسط سے اِس گنہ گار کو بھی دعوت کے کام میں قبول کرلے۔ (ڈاکٹر انور حسین خاں، فیض آباد)
12 - میں تین سال سے ’’الرسالہ‘‘ کا قاری ہوں۔ خود بھی پڑھتا ہوں اور اپنے دوستوںاور جان پہچان والوں کو بھی پڑھنے کے لیے دیتاہوں۔ اکثر آپ کاحوالہ بطور دلیل پیش کرتاہوں۔ آپ کا الرسالہ ہماری محفلوں میں تکیہ کلام ہوتا ہے اور آپ کی تحریر پر کھل کر مباحثہ ہوتا ہے۔ مسلم امت کاایک خاص طبقہ آپ کی تحریروں کو پسند کرتا ہے جن کو ہم عرف عام میں انٹلکچولس کہتے ہیں۔ الحمد للہ ہم کو بہت فائدہ ہوتا ہے۔ کشمیر میںآبادی کا ایک بڑا حصہ ذہنی تناؤ، غصہ اور محرومی کا شکار ہے ۔ میں بذاتِ خود خود ساختہ محرومیوں میں گھرا ہوا تھا۔ الرسالہ اور آپ کی دیگر کتابوں نے میری منفی سوچ کو مثبت سوچ میں تبدیل کرنے میں مدد کی۔ دورِ جدید میںالرسالہ کا مسلکی اور گروہی اختلافات میں نہ پڑنا ایک بہترین اصول ہے۔ الرسالہ میرے لئے ’’بدلو سوچ، بدلو زندگی‘‘ جیسا اصول قائم کرتاہے۔ میںالرسالہ کی وجہ سے اصولِ دعوت اور دعوت کی اہمیت سے واقف ہوں، ورنہ میں منفی ادب کی وجہ سے خود ساختہ دنیا میں جی رہا تھا ( صفی احمد، جموں وکشمیر)
13 - ’’تذکیر القرآن‘‘ ہمیشہ میرے مطالعہ کی میز پر رہتی ہے۔ اور جب بھی مجھے کسی سورہ کسی آیت کا ترجمہ یا تفسیر دیکھنے کی ضرورت پڑتی ہے تو سب سے پہلے میں تذکیر القرآن ہی کو دیکھنا پسند کرتا ہوں ۔اس کے بعد میں دوسری عربی اور اردو کی معروف تفاسیر وتراجم کا مطالعہ کرتا ہوں۔ تذکیر القرآن میں متنِ قرآن کا جو ترجمہ دیاگیا ہے، وہ دوسرے اردو تراجم کے مقابلے میں بہت جامع اور اقرب الی القرآن ہے۔ نیز یہ ترجمہ اس وجہ سے بھی قابل قدر ہے کہ اس ترجمہ میں الفاظ کم مگر مفہوم کی بھر پور ادائیگی کا خیال رکھا گیاہے۔ مجھے یاد آرہاہے کہ 1990میں علی گڑھ سے شائع ہونے والے معروف سہ ماہی فکر ونظر کا ایک خصوصی شمارہ ’’قرآنیات‘‘ کے عنوان سے شائع ہوا تھا اور اس میں صفحہ 110 پر ایک مضمون میری نظر سے گزرا تھا۔ اس میں مولانا مودودی، مولانا امین احسن اصلاحی، جاوید احمد غامدی اور آپ کے ترجمہ قرآن پر ایک تقابلی مطالعہ پیش کیاگیا ہے اس میں کئی مقامات پر تذکیر القرآن کا ترجمہ مثالیں دے کر زیادہ بہتر اور قابلِ قدر قرار دیا گیا ہے۔ذاتی طورپر مجھے جب بھی اپنے مضامین میں قرآنی آیات کے ترجمہ کی ضرورت پڑتی ہے ،میں ہمیشہ تذکیرالقرآن کے ترجمہ کو ترجیح دیتا ہوں۔ کیوں کہ یہ ترجمہ اپنے اندر انفرادیت لئے ہوئے اوربہت زیادہ اپیل کرنے والا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ تذکیر القرآن ترجمہ و تفسیر کے اعتبار سے تمام کتب تفاسیر میںاپنی نوعیت کی واحد تفسیر ہے۔ اس تفسیر کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ یہ تفسیر نہ صرف عصری اور سائنٹفک اسلوب تحریر میں ہے، بلکہ ا س میں فقہی موشگافیوں اور تفسیری روایات ونکات سے یکسر کنارہ کرتے ہوئے قرآن کے مرکزی موضوع اور پیغام کو آسان اور عام فہم زبان میں پیش کرنے کی کامیاب کوشش کی گئی ہے۔ تذکیر القرآن کے بارے میں میرا گہرا تاثر یہ ہے کہ اس کا ایک ایک تفسیری نوٹ الہامی معلوم ہوتاہے۔(غلام نبی کشافی، 29 جولائی 2009، سری نگر)
14 - میں آپ کا بے انتہا شکریہ ادا کرتاہوں کہ آپ کے ادارے نے اشاعتِ اسلام کے لئے دعوتی پمفلٹ فراہم کئے۔ میں اللہ تبارک و تعالیٰ کے اس کرم کا اعتراف کرتا ہوں کہ اس نے آپ کو عالمی پیمانے پر اپنے دین کی نشر واشاعت کے لیے کھڑا کیا، اور بندگان خدا کو راہِ حق دکھانے کا ذریعہ بنایا۔ (محمد حنیف قاسمی، مہاراشٹر)
15 - ’’پیغمبر انقلاب‘‘ کو آسامی زبان میں ترجمہ کرکے آپ کو فون کے ذریعہ میں نے اس کی اطلاع دی تھی ۔ بفضل خدا اب یہ کتاب شائع ہونے والی ہے۔ ’’زلزلۂ قیامت، انسان اپنے آپ کو پہچان، یونی فارم سول کوڈ ‘‘کا آسامی زبان میں ترجمہ ہوچکا ہے۔ وقت پر میں نے آپ کو اس کی اطلاع دی تھی۔ اور ان کتابوں کی کاپی بھی آپ کو بھیج دی تھی۔ فی الحال الرسالہ کے شمارہ ’’دینی مدارس‘‘ نمبر کاآسامی ترجمہ طبع ہورہا ہے15-20 دن کے اندر یہ رسالہ پریس سے نکلے گا۔ مترجم نے کتابوںکی ابتدا میں مختصرا آپ کا تعارف دیا ہے جس کا نمونہ حسب ذیل ہے:
’’نئی دہلی سے اردو اور انگریزی زبان میں اشاعت شدہ مولانا وحید الدین خاں صاحب کا ماہ نامہ الرسالہ، ان کی دعوتی اور سائنسی اسلوب میں لکھی ہوئی کتابوں کوبین الاقوامی شہرت ہورہی ہے۔ ان کتابوں کا دنیا کی مختلف زبانوں میں ترجمہ ہوچکا ہے اور مختلف مسلم ملکوں کے اسکول، کالجوںمیں اس کو شامل نصاب کیا گیاہے ۔ بی بی سی میںالرسالہ اردو باقاعدہ پڑھا جاتاہے‘‘۔(محمد افاض الدین ندوی، آسام)
16 - سی پی ایس کی جانب سے جناب مولاناوحید الدین خاں صاحب کی انگریزی اور اردو کتابوں کا ایک منتخب سیٹ معرفت ڈاکٹر خورشید احمد صاحب مکتبہ مرکزیہ جامعۃ الفلاح کو بطور ہدیہ موصول ہوا۔ اس کے لیے ہم آپ کے تہ دل سے مشکور وممنون ہیں۔ (عرفان احمد فلاحی، جامعۃ الفلاح، بلریا گنج ، اعظم گڑھ)
17- The Holy Quran (Translation by Maulana Wahiduddin Khan) is being recieved here very well indeed, Masha Allah. We are giving free to non-Muslims. (Shamshad Khan, Birmingham, UK)
واپس اوپر جائیں