Pages

Sunday, 1 May 2011

Al Risala | May 2011(الرسالہ،مئی)

2

-نماز کے فائدے

3

- اسباب کا پردہ

4

- فیہ ذکرکم

5

- قرآن سارے انسانوں تک

6

- اولاد کی حیثیت

7

- جغرافی اتفاق یا خدائی فیصلہ

8

- بامقصد انسان

9

- خصوصی رحمت کا معاملہ

10

- جنت کی طلب

12

- قرآن کتابِ دعوت

13

- وضو اور قرآن

16

- محرومی کے بعد بھی

17

- وطن سے محبت

18

- تخریبی سیاست

20

- ذہنی ارتقا کا ذریعہ

21

- تفسیری روایات

22

- کنڈیشننگ کوتوڑنا

23

- معرفت کا اسٹیج

24

- قرآن اور بائبل کا فرق

25

- بسترِ مرگ سے

26

- سب کچھ سے بے کچھ کی طرف

27

- غلو کی ایک مثال

28

- شاہِ ہمدان کامشن

31

- اصول پسندی یا شخصیت پرستی

32

- زندگی کا ایک اصول

33

- عذر کے باوجود

34

- ایک سبق آموز واقعہ

35

- اپنے پوٹینشیل کو ایکچول بنائیے

36

- سوال وجواب

40

- خبر نامہ اسلامی مرکز


نماز کے فائدے

ایک صاحب نے کہا کہ قرآن کے مطابق، حقیقی نمازوہ ہے جو خشوع (spirit) کے ساتھ ادا کی جائے (21:1) ۔ میرے جیسے آدمی کو اکثر خشوع والی نماز حاصل نہیں ہوتی، پھر نماز پڑھنے سے کیا فائدہ۔ میں نے کہا کہ جس طرح خشوع والی نماز کا فائدہ ہے، اُسی طرح بے خشوع والی نماز کا بھی فائدہ ہے۔ دونوںہی یکساں طورپر مطلوب ہیں۔
آدمی اگر خشوع والی نماز پڑھے تو اس کو ایک اطمینان حاصل ہوگا۔ وہ خشوع والی نماز (worship with spirit) کا درجہ حاصل کرے گا۔ اِس کے مقابلے میں، اگر کوئی شخص خشوع کے بغیر نماز ادا کرتا ہے، تب بھی اس کا ایک عظیم فائدہ ہے، وہ یہ کہ وہ یہ محسوس کرے گا کہ اس کی نماز بے خشوع کی نماز (worship without spirit) تھی۔ ایسی نماز بھی فائدے سے خالی نہیں۔
حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ احساس کہ میں دین کے تقاضوں کو پورا کرنے میں ناکام رہا، یہ اپنے آپ میں ایک مطلوب احساس ہے۔ آدمی کا احساس اگر یہ ہوکہ میں نے دین کے تقاضے پورے کردئے، تو اندیشہ ہے کہ اس کے اندرعُجب (pride) کا جذبہ پیدا ہو جائے، جو اس کی دین داری کو باطل کردے ۔ اِس کے برعکس، یہ احساس کہ میںنے بظاہر دین کے تقاضے تو پورے کئے، لیکن میرے اندر مطلوب اسپرٹ موجود نہ تھی۔ یہ احساس آدمی کے اندر عجز ا ور تواضع (modesty) کی کیفیت پیدا کرے گا، اور یہ ثابت ہے کہ عجز اور تواضع اپنے آپ میں ایک اعلیٰ ایمانی حالت ہے۔ عُجب کا احساس مواخذے کا سبب بن سکتا ہے، لیکن عجز وتواضع ہر حال میں آدمی کو اجر کا مستحق بناتا ہے۔
مزید یہ کہ پانچ وقت کی نماز آدمی کے لیے ایک ریمائنڈر (reminder) کی حیثیت رکھتی ہے۔ نماز ادا کرنے کے بعد آدمی اپنے اِس احساس کو تازہ کرتا ہے کہ میں اللہ کا بندہ ہوں اور مجھے اللہ کا فرماں بردار بن کر دنیا میں رہنا ہے۔ نماز اِسی قسم کی پنچ وقتہ عملی یاد دہانی ہے۔ نماز قادرِ مطلق خدا کے مقابلے میں، اپنے عجز ِتام کا علامتی اعتراف (symbolic acknowledgement) ہے۔
واپس اوپر جائیں

اسباب کا پردہ

خدا کے وجود پر زندہ یقین سب سے زیادہ مطلوب چیز ہے، لیکن تجربہ بتاتا ہے کہ لوگ خدا کے وجود پر زندہ یقین نہیں کرپاتے، یہاں تک کہ کچھ لوگ اِس انتہا پسندی تک پہنچ جاتے ہیں کہ وہ خدا کے منکر بن جاتے ہیں۔ یہ ظاہرہ پوری انسانی تاریخ میں موجود رہا ہے۔ ایسا کیوں ہے۔
ایسا اِس لیے ہے کہ اِس دنیا میں خدا کے تخلیقی نقشہ کے مطابق، تمام واقعات اسباب وعلل (cause and effect) کی صورت میں پیش آتے ہیں۔ ہر واقعہ جو ہمارے علم میں آتا ہے، بظاہراُس کا ایک سبب دکھا ئی دیتا ہے۔ اِس بنا پر لوگ واقعہ کو اُس کے سبب کی طرف منسوب کردیتے ہیں، ظاہری مشاہدہ کی بنا پر وہ واقعات کو خدا کی طرف منسوب نہیں کر پاتے۔
یہ صورتِ حال ہمیشہ سے تاریخ میں موجود رہی ہے، مگر موجودہ زمانے میں سائنسی دریافتوں کے بعد اُس نے ایک باقاعدہ نظریہ کی صورت اختیار کرلی ہے جس کو قانونِ تعلیل (law of causation) کہاجاتاہے۔ سائنسی تحقیقات نے جب دور بینی اور خورد بینی مشاہدات کے ذریعے کائنات میں ہونے والے واقعات کے پیچھے فطری اسباب کو دریافت کیا تو یہ سمجھا جانے لگا کہ سب کچھ اسباب کے تحت ہورہا ہے۔ سائنسی دریافتوں کے حوالے سے یہ کہاجانے لگا کہ — اگر واقعات فطری اسباب کے تحت ہوتے ہیں تو وہ فوق الفطری اسباب کے تحت نہیں ہوسکتے:
If events are due to natural causes, they are not due to supernatural causes.
یہی موجودہ دنیا میں انسان کا امتحان ہے۔ انسان کو چاہیے کہ وہ اپنے شعور کو اتنا زیادہ ارتقا یافتہ بنائے کہ وہ ظاہری اسباب کے پیچھے خالق کی کارفرمائی کو دیکھ سکے۔وہ یہ دریافت کرسکے کہ اس معاملے میں اسباب محض ایک پردہ ہیں، نہ کہ اصل حقیقت۔
اِسی دریافت کا نام ایمان ہے، اور اِس دنیا میں جو لوگ اِس دریافت کا ثبوت دیں، وہی اللہ کے یہاں اِس قابل ٹھہریں گے کہ اُن کو انعام کے طورپر ابدی جنت میں داخل کیا جائے۔
واپس اوپر جائیں

فیہ ذکرکم

قرآن کی سورہ الانبیاء میں ارشاد ہوا ہے: لقد أنزلنا إلیکم کتابا فیہ ذکرکم (21: 10) یعنی ہم نے تمھاری طرف ایک کتاب اتاری ہے جس میں تمھارا ذکر ہے، پھر کیا تم غور نہیں کرتے۔ قرآن کی اِس آیت میں ’’ذکر‘‘ سے مراداصلاً تذکیر یا یاد دہانی ہے، لیکن اس کا ایک توسیعی مفہوم بھی ہے۔ اِسی مفہوم میں مجاہدتابعی نے کہا: فیہ ذکرکم، أی فیہ حدیثکم (القرطبی 11/273 ) یعنی قرآن میں تمھاری بات ہے۔
راقم الحروف کو مجاہد تابعی کی اِس بات سے اتفاق ہے۔ میں نے خود ایسا کیا کہ قرآن کو بار بار پڑھ کر یہ جاننے کی کوشش کی کہ قرآن میں میرا ذکر کہاں ہے، یعنی قرآن کی وہ آیت کون سی ہے جس کو میں سمجھ سکتا ہوں اس میں میرا معاملہ مذکور ہے۔
آخر کار میں نے قرآن کی ایک آیت میںاپنا حوالہ پالیا۔ وہ قرآن کی سورہ حم السجدہ کی آیت نمبر 53 تھی۔ اس آیت کا ترجمہ یہ ہے: ہم عنقریب اُن کو اپنی نشانیاں دکھائیں گے، آفاق میں اور انفس میں، یہاں تک کہ ان پر واضح ہوجائے کہ یہ (قرآن) حق ہے:
We shall show them Our signs in the universe and within themselves, until it becomes clear to them that this is the Truth. (41: 53)
جدید سائنس دراصل آیات ِ فطرت کا علم ہے۔ چناں چہ میں نے اِس پہلو سے دین کی خدمت کا فیصلہ کرلیا۔ میری تقریباً تمام کتابیں جدید علوم کی نسبت سے اسلام کی تشریح ہیں۔ ابتداء ً میں نے اِس پہلو سے چند پمفلٹ لکھے۔ مثلاً ’’نئے عہد کے دروازے پر‘‘ (1955)، ’’حقیقت کی تلاش‘‘ (1958)۔ اس کے بعد ایک باقاعدہ کتاب’’مذہب اور جدید چیلنج‘‘ (1966) کے نام سے تیار کی ۔ میری تمام کتابیں براہِ راست یا بالواسطہ طورپر اسی موضوع سے تعلق رکھتی ہیں۔میری تمام کتابوں کا ایک ہی مشترک عنوان ہے — عصری اسلوب میں اسلامی لٹریچر۔
واپس اوپر جائیں

قرآن سارے انسانوں تک

دعوت الی اللہ ہر مسلمان پر اُسی طرح فرض ہے جس طرح اس کے اوپر نماز فرض ہے۔ نماز کی ادائیگی کے بغیر ایک شخص مومن نہیں بنتا۔ اِسی طرح دعوت کی ادائیگی کے بغیر اس کا امتِ محمدی کا فرد ہونا متحقّق (established) نہیں ہوتا۔ ہر مسلمان کو چاہیے کہ وہ دعوت کو بھی اُسی طرح اپنی زندگی کا ایک لازمی حصہ بنائے جس طرح وہ نماز کو اپنی زندگی کا ایک لازمی حصہ سمجھتا ہے۔
قرآن کی سورہ العلق میں ارشاد ہوا ہے: علّم بالقلم (96: 4) ۔ دوسرے لفظوں میں یہ کہ دعوت کی تحریک مبنی بر لٹریچر(literature-based) تحریک ہے۔ اصحاب رسول کا اسلوبِ دعوت یہ تھا کہ قرآن ان کے حافظہ میں رہتا تھا اور وہ قرآن کے حصے پڑھ کر مدعو کو سناتے تھے۔ اِسی لیے اُن کو مُقری (پڑھ کر سنانے والا) کہا جاتا تھا۔ موجودہ پرنٹنگ پریس کے زمانے میں اِس کی صورت یہ ہے کہ ہر آدمی قرآن کا ترجمہ اپنے پاس رکھے اور بوقتِ ملاقات وہ اُسے دوسروں کو دیتا رہے۔
اس کی ایک صورت یہ ہے ہر مسلمان اپنی دکان پر یا اپنے آفس میں قرآن کا ترجمہ رکھے اور وہ آنے والوں کو اُسے دیتا رہے۔ اصحابِ رسول اگرقرآن کے مقری بنے ہوئے تھے تو وہ قرآن کا ڈسٹری بیوٹر (distributor) بن جائے۔
پیغمبر کی ذمے داری یہ تھی کہ وہ قرآن کو اپنے زمانے کے لوگوں تک پہنچائے۔ اب پیغمبر کی امت کے لوگوں کی ذمے داری یہ ہے کہ وہ اپنے زمانے کے لوگوں تک خدا کا پیغام پہنچائیں، وہ مسلسل طور پر بعد کی نسلوں میں پیغام رسانی کے اِس کام کو جاری رکھیں(6: 19) ۔
موجودہ زمانے میں مسلمان ساری دنیا میں پھیلے ہوئے ہیں۔ سفر اور آمد ورفت کے دوران ان کی ملاقات دوسروں سے ہوتی ہے۔ اگر ہر مسلمان اپنے ساتھ قرآن کے ترجمے کی مطبوعہ کاپی رکھے تو ساری دنیا کے انسانوں تک قرآن پہنچ جائے گا۔ اِس طرح امتِ محمدی، آخرت میں خدا کے سامنے یہ کہہ سکے گی کہ —ہم نے ساری دنیا کے لوگوں تک تیری کتاب کو پہنچا دیا۔
واپس اوپر جائیں

اولاد کی حیثیت

ایک صاحب کا ٹیلی فون آیا۔ انھوں نے کہا کہ قرآن میں اولاد کو فتنہ کہاگیا ہے (64: 15) اِس کا مطلب کیا ہے۔ انھوںنے کہا کہ مسلمان عام طورپر اولاد کو خدا کا انعام سمجھتے ہیں، کوئی بھی اپنی اولاد کو فتنہ نہیں بتاتا، پھر قرآن کی اُن آیتوں کا کیا مطلب ہے جن میں اولاد کو فتنہ کہاگیا ہے۔
میں نے کہا کہ اولاد اپنے آپ میں فتنہ نہیں ہے۔ زہر اپنے آپ میں زہر ہوتا ہے، مگر اولاد کا معاملہ یہ نہیں ہے کہ وہ اصلاً فتنہ کے طورپر پیدا ہوتی ہو۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ فتنہ بنانے کا معاملہ ہے، نہ کہ بذاتِ خود فتنہ ہونے کا معاملہ۔ والدین کا اپنا غلط مزاج اولاد کو فتنہ بنا دیتا ہے۔ والدین کے اندر اگر صالح مزاج ہو تو اُن کی اولاد اُن کے لیے فتنہ نہیں بنے گی۔
فتنہ کے لفظی معنی آزمائش (test) کے ہیں۔ یہ دنیا دار الامتحان ہے۔ یہاں انسان کو جو چیزیں بھی دی گئی ہیں، وہ سب کی سب امتحان کے پرچے ہیں۔ مال اور اولاد اور دوسری تمام چیزیں بھی امتحان کے پرچے ہیں۔ انسان کو چاہیے کہ وہ ان تمام چیزوں کو اِسی اصل حیثیت سے دیکھے، وہ ہمیشہ یہ کوشش کرے کہ وہ اِس پرچۂ امتحان میں پورا اترے۔
اِس معاملے کا خلاصہ یہ ہے کہ انسان کو چاہیے کہ وہ اپنے خالق کو اپنا سب سے بڑا کنسرن بنائے۔ دوسری دنیوی چیزوں میں سے کوئی بھی چیز، خواہ وہ مال ہو یا اولاد ہو یا اقتدار، وہ اس کا اصل کنسرن (sole concern)نہ بننے پائے۔
جو لوگ اِس امتحان میں پورے نہ اتریں، وہ اللہ کے سوا دوسری چیزوں کو اپنا کنسرن بنالیں، وہ آخرت میں ایک محروم انسان کی حیثیت سے اٹھیں گے، جب کہ اُن کے تمام سہارے ان سے ٹوٹ چکے ہوں گے۔ اس وقت وہ حسرت کے ساتھ کہیں گے: ما أغنی عنّی مالیہ، ہلک عنی سُلطانیہ (69: 28-29)۔ حقیقت یہ ہے کہ اولاد ذمے داری (responsibility)کا ایک معاملہ ہے، نہ کہ فخر (pride)اور مباہات کا کوئی معاملہ۔
واپس اوپر جائیں

جغرافی اتفاق یا خدائی فیصلہ

حضرت موسی کے زمانے میں بنی اسرائیل مصر میں آباد تھے۔ وہ 1447 قبل مسیح میں حضرت موسیٰ کی قیادت میں مصر سے نکلے اور صحرائے سینا (Sinai) میں پہنچ کر وہاں آباد ہوئے۔ اُس وقت ان کی مجموعی تعداد تقریباً 20 لاکھ تھی۔ اُس وقت وہاں صحرا اور پہاڑ کے سوا کچھ اور نہ تھا۔ اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کی معاشیات کے لیے ایک خصوصی انتظام کیا جس کو من وسلویٰ (2: 57) کہاجاتاہے۔ بنی اسرائیل سے یہ مطلوب تھا کہ وہ معاش کے اِس خصوصی انتظام پر خدا کا شکر ادا کریںاور اپنے آپ کو پوری طرح دین کی خدمت میں لگا دیں۔یہی خدائی انتظام موجودہ زمانے میں بنو اسماعیل (امتِ محمدی) کے ساتھ ایک نئی صورت میں کیاگیا ہے۔ عرب دنیا (Arab world) جس کو شرقِ اوسط (Middle East) کہاجاتا ہے، اس کی زمین کے نیچے دنیا کے تیل کا تقریباً 80 فی صد حصہ پایا جاتا ہے۔ یہ ایک استثنائی معاملہ ہے۔ ماہرین اِس کو جغرافی اتفاق (geographical accident) کہتے ہیں، مگر حقیقت کے اعتبار سے وہ جغرافی اتفاق نہیں ہے، بلکہ یہ واقعہ خدا وند عالم کے فیصلے کے تحت پیش آیا ہے۔
یہ خدائی انتظام اِس لیے کیا گیا ہے تاکہ صنعتی دور میں امتِ محمدی معاشیات سے فارغ ہو کر اپنے دینی رول کو ادا کرسکے۔ اِس دینی رول کے دو پہلو ہیں — ایک ہے دین کی حفاظت، اور دوسرا ہے دعوت الی اللہ کے عمل کا جاری رکھنا۔ امتِ محمدی کو اصلاً تیل کی دولت دین کی حفاظت، اور دعوت الی اللہ کے اِسی کام کے لیے دی گئی ہے۔
اِس معاملے میں امتِ محمدی سے جو مطلوب ہے، وہ یہ ہے کہ وہ اپنی ذات کے لیے اُس میں سے صرف ضرورت کے بقدر لیں اور بقیہ تمام مال وہ دین کی حفاظت ودعوت کے کام میں استعمال کریں۔ من وسلویٰ کے خدائی انتظام کے ذریعے امتِ موسیٰ سے جو مطلوب تھا، وہی تیل کے انتظام کے ذریعے اب امتِ محمدی سے مطلوب ہے۔ دونوں کے درمیان ظاہری صورت کے اعتبار سے فرق ہے، لیکن ذمے داری کے اعتبار سے دونوں کے درمیان کوئی فرق نہیں۔
واپس اوپر جائیں

بامقصد انسان

ایک روایت کے مطابق، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: رُبَّ أشعث أغبرَ مدفوع بالأبواب، لو أقسم علی اللہ لأبرّہ (صحیح مسلم، کتاب البر والصلۃ والآداب) یعنی کچھ (اللہ کے بندے) ایسے ہیں جن کے بال بکھرے ہوئے ہیں اور جن کے کپڑے گرد آلود ہیں، جن کے اوپر لوگوں کے دروازے بند ہیں۔ اگر وہ اللہ پر قسم کھالیں تو اللہ ضرور ان کی قسم پوری کرے گا۔
اِس سے مراد کوئی مجذوب انسان نہیں ہے، بلکہ اِس سے مراد بامقصد انسان ہے۔ جو آدمی ربانی مقصد کے لیے اپنے آپ کو وقف کردے، وہ اِس مقصد میں اتنا زیادہ گم ہوجائے کہ اس کو جسمانی آرائش کی کوئی فکر نہ رہے، ربانی مقصد کے سوا جس کا کوئی اور مقصدِ حیات نہ رہے، اُس انسان کے ساتھ اللہ تعالیٰ کا وہ خصوصی معاملہ ہوتا ہے جس کا ذکر مذکورہ حدیث میں کیاگیا ہے۔
تاہم یہ حدیث مطلق معنوں میں نہیں ہے۔ اِس سے مراد مادّی چیزیں یا دنیوی مرغوبات نہیں ہیں۔ اِس قسم کی چیزیں مذکورہ انسان کا ہدف نہیںہوتیں۔ اِس لیے وہ ان کا طالب بھی نہیں بنتا۔
حقیقت یہ ہے کہ اِس سے مراد وہ چیزیں ہیں جو بامقصد زندگی کا تقاضا ہوتی ہیں۔ ایک بامقصد انسان جب اپنے آپ کو ربانی مقصد میں لگا دیتا ہے تو ایسے مواقع آتے ہیں جب کہ اس کو محسوس ہوتا ہے کہ اس کے اپنے وسائل (resources) ناکافی ہیں اور خدا کی خصوصی مدد کے بغیر وہ اپنے مقصدی سفر کو جاری نہیں رکھ سکتا، اُس وقت وہ بے قرار دل کے ساتھ اپنے رب کو پکارتا ہے اور اپنے رب کی طرف سے اس کا مثبت جواب پاتا ہے۔
یہی وہ استثنائی معاملہ ہے جس کا ذکر مذکورہ حدیث میں کیا گیا ہے۔ مذکورہ حدیث کسی انسان کے پراسرار (mysterious)معاملے کو نہیں بتاتی، یہ اُس انسان کے فطری معاملے کو بتاتی ہے جو ربانی مقصد میں اپنے آپ کو آخری حد تک شامل کردے، خدا کے سوا جس کے لیے کوئی اور چیز اُس کے مدعائے حیات کی حیثیت سے باقی نہ رہے۔
واپس اوپر جائیں

خصوصی رحمت کا معاملہ

ایک روایت حدیث کی مختلف کتابوں میں آئی ہے۔ صحیح البخاری نے اس کو چار ابواب، کتاب الادب، کتاب المظالم، کتاب التوحید، کتاب التفسیر، کے تحت درج کیا ہے۔ اِس روایت کا ترجمہ یہ ہے: صفوان بن محرز کہتے ہیں کہ ایک آدمی (سعید بن جبیر التابعی) نے عبد اللہ بن عمر سے پوچھا کہ آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے نجویٰ (خدا اور بندہ کے درمیان سرگوشی) کے بارے میں کیا سنا ہے۔ انھوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم میں سے ایک شخص (حشر کے دن) اپنے رب کے پاس آئے گا، یہاں تک کہ وہ خدا سے بالکل قریب ہوجائے گا۔ اللہ اُس سے کہے گا کہ تم نے ایسا کیا اور ایسا کیا۔ وہ کہے گا کہ ہاں۔ پھر اللہ اس شخص سے کہے گا کہ تم نے ایسا اور ایسا کیا۔ وہ کہے گا کہ ہاں۔ پھر بندہ اپنے (گناہ) کا اقرار کرے گا۔ پھر اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ میں نے دنیا میں تمھاری پردہ پوشی کی، اب آج میں تم کو معاف کرتا ہوں۔ (إنّی سترتُ علیک فی الدنیا، فأنا أغفرہا لک الیوم) صحیح البخاری، کتاب الأدب، باب ستر المؤمن نفسہ۔
مسلم نے اِس روایت کو کتاب التوبہ کے تحت نقل کیا ہے۔ اِس سے اندازہ ہوتا ہے کہ یہ اُس انسان کا کیس ہے جس سے گناہ کا واقعہ ہو جائے، پھر وہ شدید طورپر توبہ اور استغفار کرے، یہ صرف قیامت کا معاملہ نہیں ہے، بلکہ وہ اِس دنیا میں پیش آنے والے ایک واقعے کا اخروی پہلو ہے، یعنی دنیا میں بندہ نے نہایت شدید طورپر توبہ واستغفار کا ثبوت دیا تھا، اِس بنا پر قیامت کے دن اللہ کی خصوصی رحمت اس کی طرف متوجہ ہو گی اور اس کو بخشش کا پروانہ دے دیا جائے گا۔اِس روایت میں دراصل ایسے انسان کا ذکر ہے جس سے بشری تقاضے کے تحت کوئی غلطی سرزد ہوجائے، مگر اِس کے بعد وہ غفلت یا سرکشی کا طریقہ اختیار نہ کرے، بلکہ وہ شدید قسم کے توبہ وانابت کا ثبوت دے۔ یہ توبہ وانابت صرف ایک بار بوقتِ گناہ نہ ہو، بلکہ وہ ساری عمر اللہ سے معافی کا طلب گار بنا رہے، وہ صبح وشام اللہ کی پکڑ سے ڈرتا رہے۔ یہی وہ انسان ہے جس کو قیامت میں مذکورہ قسم کی خصوصی رحمت ومغفرت حاصل ہوگی۔
واپس اوپر جائیں

جنت کی طلب

حدیث میںآیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ما رأیت مثل الجنۃ نام طالبہا (الترمذی، کتاب الجنۃ)۔ اِس حدیث رسول کا مطلب یہ ہے کہ جنت کا مستحق وہ شخص ہے جو حقیقی معنوں میںجنت کا طالب بن جائے۔ مگر انسان اتنا زیادہ غافل ہے کہ وہ جنت جیسی قیمتی چیز کا طالب نہیںبنتا اور غفلت کی نیند سوتا رہتا ہے۔
اصل یہ ہے کہ جب ایک شخص جنت کی اہمیت کو دریافت کرلے اور اپنے پورے وجود کے ساتھ وہ اس کا طالب بن جائے تو یہ کوئی سادہ بات نہیں ہوتی۔ اس کے بعد یہ ہوتا ہے کہ آدمی دنیا کی ہر چیز میں جنت کی جھلک دیکھنے لگتاہے۔ ہر تجربہ اُس کے لیے ایک پوائنٹ آف ریفرنس (point of reference) بن جاتا ہے، جس کے حوالے سے وہ جنت کو یاد کرے اور اللہ سے جنت کی دعا کرتا رہے۔ جنت کی دریافت سے آدمی جنت کا طالب بنتا ہے، اور جب ایک شخص حقیقی معنوںمیں جنت کا طالب بن جائے تو وہ بار بار جنت کی دعا کرتا رہے گا، یہاں تک کہ وہ جنت میں پہنچ جائے۔
مثال کے طورپر ایسا ایک طالبِ جنت، قرآن کو پڑھتے ہوئے سورہ النساء کی اِس اٰیت تک پہنچتا ہے: وإن أردتم استبدال زوجٍ مکانَ زوج واٰتیتم إحداہنّ قنطاراً فلا تأخذوا منہ شیئا (4: 20) یعنی اگر تم ایک بیوی کی جگہ دوسری بیوی بدلنا چاہو اور تم اُس پہلی بیوی کو بہت سا مال دے چکے ہو، تو تم اُس مال میں سے کچھ بھی اُس سے واپس نہ لو۔
ایک طالب جنت جب اِس آیت کو پڑھتا ہے تو اس کے اندر سوچ کا ایک طوفان جاگ اٹھتا ہے۔ اِس آیت میںاللہ تعالیٰ نے اعلیٰ اخلاق کا ایک اصول بتایا ہے، وہ یہ کہ ایک شخص ایک خاتون سے نکاح کرتا ہے۔ اِس تعلق کے دوران وہ اس کو کافی مال دے دیتا ہے۔ اِس کے بعد اُس کے دماغ میں کسی وجہ سے ایک سکنڈ تھاٹ (second thought) آتا ہے۔ وہ چاہتا ہے کہ وہ اِس پہلی بیوی کو طلاق دے دے اور دوسری خاتون سے نکاح کرلے۔ مذکورہ آیت میں بتایا گیا ہے کہ اِس موقع پر تم ایسا نہ کرو کہ سابقہ بیوی سے اپنا دیا ہوا مال واپس لے لو۔ جو مال تم اس کو دے چکے ہو، اُس کو واپس لینا، اعلیٰ اخلاقی اصول کے خلاف ہے۔
قران کی یہ آیت بظاہر طلاق کے بارے میں ہے، لیکن اس کے اندر ایک اہم پوائنٹ آف ریفرنس (point of reference) موجود ہے۔ اِس کو لے کر ایک طالب اپنی جنت کے لیے اللہ سے دعا کرے۔ وہ یہ کہے کہ — خدایا، تونے اپنی کتاب میں یہ اصول بتایا ہے کہ دی ہوئی چیز کو واپس لینا درست نہیں۔ اِسی طرح تو نے مجھے دنیا کی زندگی میں بے شمار چیزیں عطا کیں۔ یہ چیزیں اتنی زیادہ ہیں کہ وہ کسی شوہر کی طرف سے اپنی بیوی کو دئے ہوئے قنطار (treasure) سے ہزاروں بلین گنا سے بھی زیادہ بڑھی ہوئی ہیں۔ پھر کیا تو میرے ساتھ ایسا کرے گا کہ تو مجھے اپنی رحمت کا قنطار دے اور موت کے بعد کے دورِ حیات میں تو مجھ سے تمام دی ہوئی چیزیں واپس لے لے اور مجھ کو محروم کرکے چھوڑ دے۔ جس اعلیٰ اخلاقی اصول کی تعلیم تو نے انسان کو دی ہے، میں امیدکرتا ہوں کہ تو مزید اضافے کے ساتھ یہی اعلیٰ اخلاقی معاملہ میرے بارے میں کرے گا۔
قرآن کی اس آیت میں طلاق کا ایک حکم بیان کیاگیا ہے۔ قرآن میں طلاق کا مادہ 15 بار آیا ہے، لیکن اِس آیت میں استثنائی طورپر طلاق کے بجائے، استبدال (replacement) کا لفظ استعمال کیا گیا ہے۔ یہ لفظی فرق بے حد با معنی ہے۔ یہ ایک طالبِ جنت کو یہ موقع دیتا ہے کہ وہ یہ سوچ سکے کہ استبدالِ زوج کی طرح میرا معاملہ بھی استبدالِ مقام کا معاملہ ہے، یعنی موت کے بعد موجودہ دنیا کو چھوڑ کر آخرت کی دنیا میں جانا۔
اِس مشابہت میں طالب جنت کے لیے ایک بشارت (good tiding) موجود ہے۔ وہ یہ سوچ سکتاہے کہ استبدالِ زوج کا معاملہ میرے استبدالِ مقام کے معاملے پر بھی یکساں طورپر چسپاں (apply) ہوتا ہے۔ یہاں ایک طالبِ جنت یہ امید کرسکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اِس طرح کا لفظی فرق اِس لیے رکھا، تاکہ ایک طالب جنت اِس میں اپنی تصویر دیکھے اور گہری امیدوں کے ساتھ وہ اللہ سے جنت کا طالب بن جائے۔
واپس اوپر جائیں

قرآن کتابِ دعوت

قرآن ایک کتاب دعوت ہے۔ ساتویں صدی عیسوی کے رُبع اول میں جب قرآن اترا تو اُس وقت قرآن ہی دعوت کا سب سے بڑا ذریعہ تھا۔ رسول اور اصحابِ رسول کے طریقِ تبلیغ کے متعلق روایات میں آتا ہے : عرض علیہم الاسلام، وتلا علیہم القرآن (انھوں نے اُن کے سامنے اسلام پیش کیا اور قرآن کا کچھ حصہ ان کو پڑھ کر سنایا)۔
مگر عجیب بات ہے کہ بعد کے زمانے میں قرآن مسلمانوںکے درمیان کتابِ دعوت کی حیثیت سے باقی نہ رہا۔ مسلمان، قرآن کا عربی متن (text) برکت کے طورپر پڑھتے رہے۔ قرآن کے جو ترجمے کئے گئے، وہ بھی یا تو ثواب کے لیے کئے گئے، یا اِس ذہن کے تحت کہ مسلمان اس کو پڑھیں گے۔ غیر مسلموں کے درمیان دعوتی اشاعت کے لیے غالباً قرآن کا ترجمہ نہیں کیا گیا۔انگریزی زبان موجودہ زمانے میں انٹرنیشنل زبان سمجھی جاتی ہے۔ انگریزی زبان میں قرآن کے تقریباً 50 ترجمے موجود ہیں۔ مگر یہ انگریزی ترجمے مدعو فرینڈلی زبان (Mad‘u-friendly language) میں نہیں کئے گئے۔ چنانچہ غیر مسلم جب اِن ترجموں کو پڑھنے کی کوشش کرتے ہیں تو وہ کنفیوژن کا شکار ہوجاتے ہیں۔ ان کو ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے کہ عام انسان کے لیے قرآن سمجھ میں آنے والی کتاب نہیں۔
اِنھیں اسباب کی بنا پر لمبی کوشش کے بعد سی پی ایس (نئی دہلی) نے 2008 میں انگریزی زبان کا ایک نیا ترجمہ شائع کیا ہے۔ یہ ترجمہ ان شاء اللہ مدعو فرینڈلی زبان میں ہے۔ چناںچہ جن غیرمسلم حضرات تک یہ ترجمہ پہنچتا ہے، وہ اس کو شوق سے لیتے ہیں اور دلچسپی کے ساتھ اس کو پڑھتے ہیں۔
حدیث میں بتایا گیا ہے کہ قیامت کے قریب اِدخالِ کلمۂ اسلام کا عمل ہوگا، یعنی ہر گھر میں کلمۂ اسلام پہنچ جائے گا۔ اِس حدیث میںکلمۂ اسلام سے مرادخدا کی کتاب قرآن ہے۔ ادخال الکلمۃ فی کل البیوتسے مراد ادخال القرآن فی کلِ البیوتہے، یعنی ہر گھر میں قرآن کا پہنچ جانا۔ اب ہر مسلمان کا فرض ہے کہ وہ ادخالِ کلمہ کے اِس عمل میں اپنا حصہ ادا کرے۔ یہ دعوتِ اسلام کا ایک ایسا طریقہ ہے جو بلاشبہہ ہر مسلمان کے لیے ممکن ہے، خواہ وہ تعلیم یافتہ ہو یا غیر تعلیم یافتہ۔
واپس اوپر جائیں

وضو اور قرآن

عام طورپر سمجھا جاتا ہے کہ قرآن کوچھونے کے لیے باوضو ہونا ضروری ہے۔ مگر یہ مسئلہ قرآن کی کسی آیت یا حدیث کی روایت سے ثابت نہیں۔ اِس مسئلے کے حق میں کوئی بھی نصِّ شرعی موجود نہیں۔ اِس سلسلے میںجو حوالے دئے جاتے ہیں، وہ سب کے سب استنباط پر مبنی ہیں، نہ کہ کسی نصِ قطعی پر۔ حقیقت یہ ہے کہ قرآن کو چھونے کے لیے وضو کی شرط لگانا، قرآن کے احترام میں غلو کی بنا پر ہے، اور دین میں غلو کا کوئی درجہ نہیں، جیسا کہ حدیث میں آیا ہے: لاغلوَّ فی الإسلام۔
اِس نقطۂ نظر کی تائید میںقرآن کی سورہ الواقعہ کی ایک آیت کا حوالہ پیش کیا جاتا ہے، وہ یہ ہے : إنّہ لقرآن کریم ، فی کتاب مکنون، لا یمسّہ إلاّ المطہرّون۔ تنزیل من ربّ العالمین (56: 77-80) یعنی یہ ایک باعزت قرآن ہے، ایک محفوظ کتاب میں۔ اس کو وہی چھوتے ہیں جو پاک بنائے گئے ہیں۔ اتارا ہوا ہے پروردگار ِ عالم کی طرف سے۔
قرآن کی اس آیت کا کوئی تعلق وضو کے مسئلے سے نہیں۔ اِس آیت میں صرف یہ بتایا گیا ہے کہ قرآن کی تنزیل کا عمل فرشتوں کے ذریعے ہوتا ہے، اور فرشتے ایک ایسی مخلوق ہیں جن کو خدا نے پیدائشی طورپر طاہر بنایا ہے۔ اِس آیت میں جو لفظ استعمال کیا گیا ہے، وہ مُطَہَّر ہے، نہ کہ متوضَّأ،یعنی پاکیزہ نہ کہ باوضو۔ مطہَّرکا لفظ قرآن میںدوسرے مقام پر ازواجِ جنت کے لیے آیا ہے (2: 25) ۔ وہاں بھی یہ مراد نہیں ہے کہ یہ ازواج ہمیشہ باوضو ہوںگی، بلکہ اِس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ نے اُن کو پیدائشی طورپر پاکیزہ اور طاہر بنایا ہوگا: ومطہرّۃٌ للإشعار بأن اللہ طہرّہن (التفسیر المظہری 1/40 )
قرآن کے الفاظ کے مطابق، قرآن کو وہ مخلوق چھوتی ہے جو خود اپنی تخلیق کے اعتبار سے پاکیزہ ہے، جس کو خالق نے پیدائشی طورپر پاک بنایا ہے، یہ مخلوق بلا شبہہ فرشتے ہیں۔ وہ قرآن کو اللہ سے لیتے ہیں اور پیغمبر تک پہنچاتے ہیں۔ قرآن کے الفاظ سے یہ نہیں نکلتا کہ قرآن کو اللہ سے لینے سے پہلے فرشتے وضو کرلیتے ہیں۔فرشتے اپنی اصل تخلیق کے اعتبار ہی سے مکمل طورپر پاکیزہ ہیں۔
اس سلسلے میں دوسرا استدلال اُس واقعے سے کیا جاتا ہے جو روایات میں حضرت عمر بن الخطاب کے اسلام کے بارے میں آیا ہے۔یہ ایک لمبی روایت ہے۔ اس کا ایک جز یہ ہے کہ عمر بن الخطاب کو معلوم ہوا کہ ان کی بہن فاطمہ اور ان کے شوہر سعید بن زید نے اسلام قبول کرلیا ہے۔ اُس وقت تک عمر بن الخطاب اسلام میں داخل نہیں ہوئے تھے۔ عمر بن الخطاب اپنی بہن کے گھر گئے اور دونوں کو اتنا مارا کہ وہ خون آلود ہوگئے۔ خون کو دیکھ کر عمر بن الخطاب کے اندر ندامت پیدا ہوئی۔ انھوں نے اپنی بہن سے کہا کہ مجھے وہ قرآن دکھاؤ جو محمد پر اترا ہے۔ اس کے بعد روایت کے الفاظ یہ ہیں: فقالت فاطمۃ: یا أخی، إنک نجس علی شرکک، وإنہ لا یمسہ إلا المطہرون۔ فقام عمر فاغتسل، فأعطتہ الصحیفۃ (السیرۃ النبویۃ لابن کثیر 2/35) یعنی فاطمہ نے کہا کہ اے میرے بھائی، تم اپنے شرک کی بنا پر نجس ہو، اور قرآن کو صرف پاکیزہ لوگ ہی چھوتے ہیں۔ چناں چہ عمر بن الخطاب اٹھے اور انھوں نے غسل کیا، پھر فاطمہ نے اُن کو صحیفہ (قرآن) دیا۔
اِس روایت سے یہ مسئلہ ثابت نہیں ہوتا کہ قرآن کو چھونے سے پہلے وضو کرنا ضروری ہے۔ اِس روایت سے اگر کوئی چیز نکلتی ہے تو وہ یہ کہ قرآن کو چھونے سے پہلے غسل کرنا ضروری ہے۔ ایسی حالت میں بیان کرنے والوں کو یہ مسئلہ بیان کرنا چاہیے کہ قرآن کو چھونے سے پہلے غسل کرو، غسل کے بغیر قرآن کو چھونا جائز نہیں۔ مزید یہ کہ اِس روایت کے مطابق، فاطمہ نے عمر بن الخطاب کے ہاتھ میں قرآن کا صحیفہ اُس وقت دیا جب کہ ابھی وہ شرک پر قائم ہونے کی بنا پر نجس تھے۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ شرک کا خاتمہ غسل سے نہیں ہوتا، بلکہ وہ توبہ اور کلمۂ شہادت کے ذریعے ہوتا ہے۔ ایسی حالت میں اِس واقعہ سے وضو کا مسئلہ نکالنا سر تا سر ایک غیر متعلق (irrelevant) بات کی حیثیت رکھتا ہے۔
حضرت عمر بن الخطاب کا ایک اور واقعہ روایات میں اِس طرح آیا ہے۔ عمر بن الخطاب ایک بار ایک جماعت کے ساتھ تھے جو کہ ایک صحیفہ کے ذریعہ قرآن کو پڑھ رہے تھے۔ اِس درمیان عمر قضائِ حاجت کے لیے گئے، پھر وہ واپس آئے اور انھوں نے دوبارہ قرآن کو پڑھنا شروع کیا۔ ایک شخص نے اُن سے کہا کہ آپ قرآن پڑھ رہے ہیں، حالاں کہ آپ با وضو نہیں ہیں۔ عمر بن الخطاب نے کہا: مَنْ أفتاک ہٰذا، أمُسیلمۃُ الکذاب، یعنی کس نے تم کہ یہ مسئلہ بتایا ہے، کیا مسیلمہ کذاب نے۔ اِسی طرح سے علی بن ابی طالب کے بارے میں روایت میں آیا ہے کہ وہ صحیفہ کو لے کر قرآن پڑھتے تھے، حالاں کہ وہ باوضو نہیں ہوتے تھے (موطأ امام مالک، شرح العلامۃ عبد الحی اللکنوی، کتاب الطہارۃ، باب الرجل یمس القرآن وہو جنب أو علی غیر وضو، (2/83 ۔
حضرت عمر فاروق کا مذکورہ واقعہ یہ بتاتا ہے کہ اصحابِ رسول کے زمانے میں اِس معاملے میں کیا مزاج پایا جاتا تھا۔ اُس زمانے میں لوگوں کا سارا دھیان تمام تر قرآن کے معانی پر مرتکز ہوتا تھا، نہ کہ اس کے ظاہری مسائل پر۔ یہ مسئلہ کہ وضو کے بغیر قرآن چھونا جائز نہیں، یہ دراصل دورِ صحابہ کے بعد اُس زمانے میں پیدا ہوا جب کہ لوگ ظواہر کو اہمیت دینے لگے اور معنویت کا پہلو پس پشت چلا گیا۔ بعد کے زمانے میں یہ معاملہ صرف قرآن کے ساتھ پیش نہیں آیا، بلکہ دین کے تمام معاملات میں ایسا ہی ہوا۔ لوگ معنوی پہلوؤں پر زور دینے کے بجائے ظاہری مسائل پر زیادہ زور دینے لگے۔ یہ وہی چیز ہے جس کو انتقالِ تاکید (shift of emphasis) کہاجاتا ہے۔ وضو کے بغیر قرآن نہ چھونے کا مسئلہ اِسی بعد کے دور کا ایک ظاہرہ ہے، وہ قرآن اور حدیث کے نصوص سے ماخوذ مسئلہ نہیں۔
واپس اوپر جائیں

محرومی کے بعد بھی

632 ء میں مدینہ میں پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہوئی۔ یہ ایک بے حد نازک لمحہ تھا۔ وہ صحابہ کے لیے ایک سخت صدمہ کی حیثیت رکھتا تھا۔ اُس وقت صحابی رسول ابو بکر صدیق نے ایک نمونہ قائم کیا۔ وہ رسول اللہ کے حجرہ میں آئے۔ انھوںنے آپ کے چہرے سے چادر اٹھا کر آپ کو دیکھا اور پھر کہا: من کان یعبدُ محمداً فإن محمداً قد مات۔ ومن کان یعبد اللہ فان اللہ حی لا یموت( صحیح البخاری، رقم الحدیث: 3667 ) یعنی جو شخص محمد کی عبادت کرتا تھا تو محمد پر موت آچکی۔ اور جو شخص اللہ کی عبادت کرتا تھا تو اللہ زندہ ہے، اس پر کبھی موت آنے والی نہیں۔
یہ ایک صحابی ٔ رسول کی مثال ہے جو اس قسم کے ہر واقعہ کے لیے ایک نمونہ کی حیثیت رکھتی ہے۔ مثلاً ایک شخص کو اپنے بیٹے سے بہت قلبی تعلق ہے۔ نوجوانی کی عمر میں بیٹے کی وفات ہوجاتی ہے۔ اس کا دل اس حادثہ سے بے قابو ہوجاتا ہے۔ ایسے شخص کو چاہئے کہ وہ صحابی رسول کی مثال کو اپنے لیے ایک نمونہ بنائے اور اپنے آپ سے کہے: اگر تم اپنے بیٹے کی پرستش کرتے تھے تو تم کو معلوم ہو کہ تمھارا بیٹا مرگیا۔ اور اگر تم اللہ کی پرستش کرنے والے ہو تو تم کو جاننا چاہیے کہ اللہ زندہ ہے، اُس پر کبھی موت آنے و الی نہیں۔
انسانوں کی دو قسمیں ہیں — خدا میں جینے والے اور غیرِ خدا میں جینے والے۔ جو شخص خدا کے سوا کسی اور چیز کو اپنا کنسرن (concern) بنائے ہوئے ہو، جو خدا کے سوا کسی اور چیز سے قلبی تعلق رکھتا ہو، وہ اُس چیز کے کھونے پر سخت پریشان ہوجائے گا۔ اُس کو ایسا محسوس ہوگا جیسے کہ اس کی دنیا ختم ہوگئی۔ اُس سے وہ چیز چھن گئی جس کے سہارے پر وہ جی رہا تھا۔ ایسے لوگ خدا کے منکر ہیں، خواہ وہ اقرارِ خدا کے الفاظ اپنی زبان سے بولتے ہوں۔ ایسے لوگوں کو آخرت میں خدا کا قرب حاصل ہونے والا نہیں۔
اِس کے برعکس، وہ انسان ہے جو خدا وند ِ ذو الجلال میں جیتا ہو، جس نے خدا کو اپنا سب کچھ بنا رکھا ہو، جس کی سوچ اور جس کے جذبات صرف ایک خدا سے وابستہ ہوگئے ہوں۔ ایسا انسان جب کسی چیز کو کھوتا ہے تو وہ خدا کو اور زیادہ یاد کرنے لگتا ہے۔ ہر محرومی اُس کے لیے خدا کے ساتھ مزید تعلق کا سبب بن جاتی ہے۔
واپس اوپر جائیں

وطن سے محبت

ایک مشہور قول ہے: حبّ الوطن من الإیمان (الدرر المنتثرۃ فی الأحادیث المشتہرۃ، للسیوطی، 1/9) یعنی وطن کی محبت ایمان کا حصہ ہے۔ محدثین عام طورپر اِس قول کو حدیث رسول نہیں مانتے، وہ اِس کو ضعیف یا موضوع قرار دیتے ہیں۔ تاہم کچھ علماء نے اس قول کو معنوی اعتبار سے درست قرار دیا ہے۔ مثلاً آٹھویں صدی ہجری کے مشہور عالم محمد بن عبد الرحمن شمس الدین السخاوی (وفات:1497 ء) نے اِس قول کے بارے میں لکھا ہے کہ: لم أقف علیہ، ومعناہ صحیح (المقاصد الحسنۃ، صفحہ 183 ) یعنی میں اِس حدیث سے واقف نہیں، لیکن اس کا مفہوم درست ہے۔ محدثین کے اصول کے مطابق، امام السخاوی کے اِس قول کا مطلب یہ ہے کہ یہ قول حدیثِ رسول کے طورپر ان کو نہیں ملا، لیکن دینِ اسلام میں اس کی اصل پائی جاتی ہے۔
راقم الحروف کا خیال یہ ہے کہ یہ قول اگر حدیثِ رسول نہ ہو تب بھی وہ حدیث ِ فطرت ہے۔ وہ انسانی فطرت کا ایک لازمی تقاضا ہے، اور فطرت کا تقاضا ہونا ہی اس بات کے لیے کافی ہے کہ حب وطن (patriotism) کو اسلام کا ایک حصہ سمجھا جائے۔ اسلام جب دین فطرت (religion of nature) ہے تو فطرتِ بشری کی ہر چیز اسلام کا ایک حصہ قرار پائے گی۔
ہر انسان کو اپنی ماں سے محبت ہوتی ہے۔ ہر مسلمان اپنی ماں سے محبت کو اپنے ایمان کا ایک حصہ سمجھتا ہے۔ اگرچہ کوئی حدیثِ رسول اِن الفاظ میں موجود نہیں کہ: حب الأم من الإیمان (ماں سے محبت ایمان کا حصہ ہے)۔ اِسی طرح وطن سے محبت بھی بلاشبہہ ہر مسلمان کے لیے ایک ایمانی تقاضے کی حیثیت رکھتی ہے۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ آدمی جس ملک میں پیدا ہوا، جہاں اُس کی پرورش ہوئی، جہاں کی ہوا میں اس نے سانس لیا، جہاں کے لوگوں سے اس کے تعلقات قائم ہوئے، جہاں اُس نے اپنی زندگی کی تعمیر کی، ایسے ملک سے محبت کرنا انسانی شرافت کا تقاضا ہے، اور اِسی طرح وہ انسان کے ایمان واسلام کا بھی تقاضا ۔
واپس اوپر جائیں

تخریبی سیاست

مغربی دنیا کے ایک مشہور مسلم مقرر نے وہاں کے مسلمانوں کی ایک کانفرنس میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ — ظالم حکمراں کے خلاف بغاوت، خدا کے لیے وفاداری ہے:
Rebellion to a tyrant, obedience to God.
یہ جملہ اسلام کی سیاسی تعبیر (political interpretation) کے تحت بننے والے ذہن کی نمائندگی کرتا ہے۔ مسلمانوں کی جدید نسل عام طور پر، اس سیاسی تعبیر سے متاثر ہے۔ آج کی دنیا میں جگہ جگہ اسلامی انقلاب کے نام پر جو ہنگامے جاری ہیں، وہ اِسی سیاسی فکر کا نتیجہ ہیں۔
اِس قسم کی نام نہاد انقلابی سیاست ہر گز اسلامی سیاست نہیں ہے۔ اگر شدید لفظ استعمال کیا جائے تو یہ کہنا صحیح ہوگا کہ یہ اسلام کے نام پر ایک شیطانی سیاست ہے۔ اِس سیاست کا بانی ٔ اول خود شیطان ہے۔ آج جو لوگ اِس قسم کی سیاست کا جھنڈا اٹھائے ہوئے ہیں، وہ بلا شبہہ شیطان کی پیروی کررہے ہیں، نہ کہ اسلام کی پیروی۔
قرآن میں بتایا گیا ہے کہ تخلیقِ انسانی سے پہلے جب اللہ تعالیٰ نے آدم کو پیدا کیا تو اُس وقت وہاں آدم کے سوا دو مخلوق اور موجود تھی — فرشتے اور جنات۔ اللہ نے حکم دیا کہ تم لوگ آدم کے آگے جھک جاؤ۔ فرشتوں نے اللہ تعالیٰ کے اِس حکم کی تعمیل کی، لیکن ابلیس (جنات کا سردار) نے اللہ کے اِس حکم کو ماننے سے انکار کیا، وہ اللہ کا باغی بن گیا۔
یہ انسانی تاریخ میں ، اتھارٹی (authority)کے خلاف بغاوت کا پہلا واقعہ تھا۔ یہ سیاسی بغاوت یا پالٹکس آف اپوزیشن (politics of opposition) بلا شبہہ شیطان کی سنت ہے۔ اتھارٹی سے ٹکرائے بغیر اپنا کام کرنا، یہ ملائکہ کا طریقہ ہے۔ اور اتھارٹی سے ٹکراؤ کرکے پالٹکس آف اپوزیشن کا ہنگامہ کھڑا کرنا، شیطان کا طریقہ۔
عجیب بات ہے کہ شیطان کی یہ منفی سیاست پوری تاریخ میں مسلسل طورپر جاری رہی ہے، اہلِ ایمان کے درمیان بھی اورغیر اہلِ ایمان کے درمیان بھی۔ اِس منفی سیاست کا یہ براہِ راست نتیجہ ہے کہ انسانی تاریخ، تعمیر کی تاریخ بننے کے بجائے، تخریب کی تاریخ بن گئی۔
ایسا کیوں ہے کہ ساری تاریخ اِس قسم کی شیطانی سیاست کی تاریخ بن گئی۔ اُس کا سبب یہ ہے کہ خالق نے انسان کو ایک استثنائی صلاحیت دی ہے، یعنی ایگو(ego)۔ یہ دراصل ایگو ہے جو انسان کو پوری کائنات میں ایک خصوصی درجہ عطا کرتا ہے۔ لیکن انا کے دو پہلو ہیں — پلس پوائنٹ، اور مائنس پوائنٹ۔ اجتماعی زندگی، خواہ وہ خاندانی زندگی ہو، یا خاندان سے باہر کی زندگی، اُس میں ہمیشہ ایسا ہوتا ہے کہ انسان کے ساتھ ایسے تجربات پیش آتے ہیں کہ اس کا ایگو (انا) جاگ اٹھتا ہے۔ اِس طرح کے موقع پر اگر ایسا ہو کہ انسان اپنے آپ کو کنٹرول کرے، وہ ایگو مینجمنٹ (ego management) کا ثبوت دے، تو گویا کہ اُس نے اپنے ایگو کا صحیح استعمال کیا۔ اور اگر ایسا ہو کہ جب اس کا ایگو بھڑکے تو اس کی پوری شخصیت اُس سے متاثر ہو جائے۔ ایسی حالت میں وہ سرکشی کے راستے پر چل پڑے گا۔ یہ اس کے لیے ایگو مینجمنٹ میں ناکام ہونے کا واقعہ ہوگا۔
ایگو کا یہ واقعہ انسان کے درمیان ہر جگہ پیش آرہا ہے۔ یہی واقعہ جب سیاسی میدان میں پیش آئے تو اِسی کا نام پالٹکس آف اپوزیشن ہے، اسی کا نام پولٹکل اتھارٹی کو چیلنج کرنا ہے۔ چوں کہ بیش تر لوگ ایگو مینجمنٹ کے امتحان میں ناکام ہوجاتے ہیں، اِس لیے پوری تاریخ میں وہ منظر دکھائی دیتا ہے جس کو سیاسی تخریب کاری (political destruction) کے الفاظ میں بیان کیا جاسکتا ہے۔
اِس مسئلے کا حل قرآن اور حدیث میں صبر کی سیاست بتایا گیا ہے۔ صبر کی سیاست کوئی پسپائی کی سیاست نہیں ہے، صبر کی سیاست دراصل پولٹکل اسٹیٹس کو ازم (political statusquoism) کا دوسرا نام ہے، یعنی سیاسی اقتدار کے معاملے میں صورتِ موجودہ کو عملاً قبول کرنا، سیاسی اقتدار سے ٹکرائے بغیر، غیر سیاسی میدان میں موجود مواقع کو استعمال کرنا۔ یہی وہ فارمولا ہے جس کو حدیث میں اِن الفاظ میں بیان کیا گیا ہے: إن اللہ یعطی علی الرّفق، ما لا یعطی علی العنف (صحیح مسلم،رقم الحدیث: 2593 ) یعنی اللہ عدم ٹکراؤ کے طریقِ کار پر وہ چیز دیتا ہے جو وہ ٹکراؤ کے طریقِ کار پر کسی کو نہیں دیتا۔
واپس اوپر جائیں

ذہنی ارتقا کا ذریعہ

ابو الدرداء عُویمر بن مالک الانصاری ایک معروف صحابی ہیں۔ وہ مدینہ میں پیدا ہوئے اور 32 ہجری مطابق 652عیسوی میں شام میں ان کی وفات ہوئی۔ اُن کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عُویمر حکیم أمّتی (ابو الدرداء میری امت کے ایک دانش مند شخص ہیں)۔ اِسی طرح ابن الجزری نے ان کے بارے میں کہا: کان من العلماء الحکماء (الأعلام للزرکلی 5/98 ) یعنی ابو الدرداء علم اور حکمت والے لوگوں میں سے تھے۔
ابو الدرداء انصاری کا ایک قول ان الفاظ میں نقل ہوا ہے: لا تفقہ کلَّ الفقہ حتی تمقت الناسَ فی جنب اللہ، ثم ترجع إلیٰ نفسک فتکون أشد لہا مقتاً (مصنّف ابن أبی شیبۃ، رقم الحدیث: 35726 ) یعنی تم پورے معنوں میں دانش مند نہیں ہوسکتے، یہاں تک کہ تمھارا یہ حال نہ ہوجائے کہ تم اللہ کے معاملے میں لوگوں کے خلاف سخت ناپسندیدگی کا اظہار کرو۔ پھر تم اپنی طرف واپس آؤ تو خود اپنی اوپر اُس سے بھی زیادہ ناپسندیدگی کا اظہار کرو۔
مومن کا طریقہ یہ ہے کہ وہ کسی آدمی کے اندر کوئی برائی دیکھتا ہے تو وہ اس کو برداشت نہیں کر پاتا، وہ اس کو اس برائی پر ٹوکتا ہے اور نہایت سخت اندا ز میں وہ اس پر تنقید کرتاہے۔ یہ دوسروں کا محاسبہ کرنے کا معاملہ ہے۔ اِسی کے ساتھ مومن کے اندر خود احتسابی (self-introspection) کا شدید جذبہ ہوتا ہے۔ بعد کو وہ سوچتا ہے کہ اگر چہ میری بات درست تھی، لیکن مجھے یہ حق نہ تھا کہ میں اپنی بات کہنے کے لیے اتنا سخت انداز اختیار کروں۔
یہ خود احتسابی اُس کے لیے ذہنی ارتقا کا ذریعہ بن جاتی ہے۔ اِس کی وجہ سے اس کے ذہن کے نئے گوشے کھل جاتے ہیں۔ اس کی عقل ودانش میں مزید اضافہ ہوجاتا ہے۔ اس کے ذہن کے ایسے دروازے کھل جاتے ہیں جو اب تک کھلے نہ تھے۔ اِس شدید خود احتسابی کے بغیر کسی شخص کا ذہنی اور روحانی ارتقا ممکن نہیں۔
واپس اوپر جائیں

تفسیری روایات

قرآن کی آیتوں کی تفسیر میں بہت سی روایات، حدیث کی کتابوں میں آئی ہیں۔ اِن روایات کو شانِ نزول یا اسباب نزول کی روایت کہاجاتا ہے، اِن روایات کے بارے میں عام طور پر دو نقطہ نظر پائے جاتے ہیں — ایک ، یہ کہ یہ روایات قرآن فہمی کے لیے بنیادی حیثیت رکھتی ہیں۔ دوسرے، یہ کہ یہ روایات قرآن فہمی کے معاملے میں صرف ثانوی ماخذ (secondary source) کی حیثیت رکھتی ہیں، ان روایات کو اولین ماخذ(primary source)کا درجہ حاصل نہیں۔
مگر زیادہ صحیح بات یہ ہے کہ شانِ نزول یا اسبابِ نزول کی روایات ہمارے لیے مستند بیک گراؤنڈ (authentic background) فراہم کرتی ہیں۔ اِس سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ کون سے معاصر حالات تھے جب کہ قرآن کا کوئی حصہ رہنمائی کے طورپر اتارا گیا۔ قرآن کا اسلوب تبیین کا اسلوب ہے۔ تفسیری روایات وہ تاریخی مواد فراہم کرتی ہیں جن کے ذریعے قرآن کی تبیین کو تعین (specification) کی زبان میں بیان کیا جاسکے۔ حقیقت یہ ہے کہ تفسیری روایت کے بغیر قرآن کو پوری طرح سمجھا نہیں جاسکتا۔ مثال کے طور پر إنا فتحنا لک فتحاً مبینا (48: 1) میں صلح حدیبیہ کے واقعہ کا حوالہ دیاگیا ہے، لیکن اِس واقعہ کی تفصیلات پوری سورہ میں کہیں موجود نہیں۔ یہ تفصیلات ہم کو صرف تفسیری روایات میں ملتی ہیں۔ اِس اعتبار سے، تفسیری روایات کی بے حد اہمیت ہے۔
قرآن ایک دعوتی کتاب ہے۔ اِس اعتبار سے، قرآن کا موجودہ اسلوب ایک دعوتی اسلوب ہے۔ اِس دعوتی اسلوب نے قرآن کے اسلوب کو ایک طوفانی اسلوب کا درجہ دے دیا ہے۔ اِسی بنا پر ایسا ہے کہ قرآن جب پڑھا جاتا ہے تو سننے والے پر اس کا غیر معمولی اثر پڑتا ہے۔ یہ اسلوب غالباً کسی بھی دوسری کتاب میں موجود نہیں۔ صرف حضرت مسیح کے مواعظ (exhortations) میں جزئی طورپر یہ اسلوب پایا جاتا ہے۔ اِس اعتبار سے یہ کہنا صحیح ہوگا کہ تفسیری روایات گویا کہ قرآن میں فنی تفصیلات کی عدم موجودگی کی تلافی کی حیثیت رکھتی ہیں۔
واپس اوپر جائیں

کنڈیشننگ کوتوڑنا

ہر عورت اور مرد اپنے ماحول کا اثر قبول کرتا ہے۔ اِس اعتبار سے ہر عورت اور مرد لازمی طورپر متاثر ذہن (conditioned mind) کا کیس بن جاتا ہے، اِس غیر فطری تاثر کو ختم کرنا، یعنی کنڈیشنڈ مائنڈ کی ڈی کنڈیشننگ (de-conditioning) کرنا لازمی طورپر ضروری ہے۔ ڈی کنڈیشننگ کے اِس عمل کو ذہن کی تشکیلِ نو (re-engineering of mind) کہاجاسکتا ہے۔
تزکیہ کے مقصد کو حاصل کرنے کے لیے ہر جگہ بہت سی سرگرمیاںجاری ہیں، لیکن بے شمار سرگرمیوں کے باوجود تزکیہ کا مقصد حاصل نہیں ہوتا۔ اِس کا سبب کیا ہے، اس کا سبب یہ ہے کہ یہ تمام سرگرمیاں لوگوں کی ڈی کنڈیشننگ کے بغیر انجام دی جارہی ہیں، گویا کہ تمام لوگ ایک ایسے سفر میں مشغول ہیں جس کا آغاز ہی نہیں کیا گیا۔ حقیقت یہ ہے کہ ڈی کنڈیشننگ کے بعد ہی کوئی شخص تیار ذہن (prepared mind) بنتا ہے، اور جب تک کوئی شخص تیار ذہن نہ ہو، وہ چیزوں کو متاثر ذہن کے ساتھ لیتا ہے، وہ چیزوں کو بے آمیز ذہن کے ساتھ لینے کے قابل نہیں ہوتا۔
اصل یہ ہے کہ ہر انسان جب پیدا ہوتا ہے تو وہ صحیح فطرت پر پیدا ہوتا ہے، لیکن ماحول کی کنڈیشننگ کے نتیجے میں اس کی فطرت پر پردے پڑنے لگتے ہیں، ٹھیک اُسی طرح جس طرح پیاز کے اوپر تہہ بہ تہہ چھلکا۔ ڈی کنڈیشننگ تمثیل کے طورپر یہ ہے کہ پیاز کے اوپر کے چھلکے ایک ایک کرکے ہٹا دئے جائیں، یہاں تک کہ اندر کا مغز سامنے آجائے۔ اِس اعتبار سے پیاز گویا ڈی کنڈیشننگ کے عمل کی ایک مادّی تمثیل (material example) ہے۔
تزکیہ کے مقصد کے تحت کی جانے والی سرگرمیاں اُس وقت تک بے فائدہ ہیں جب تک اُس کے ساتھ لوگوں کے ذہن کی ڈی کنڈیشننگ نہ کی جائے۔ سب سے بڑی چیز جس کی ڈی کنڈیشننگ کرنا ہے، وہ ہے منفی سوچ (negative thinking) کو ختم کرنا۔ تزکیہ اپنی حقیقت کے اعتبار سے اِسی ڈی کنڈیشننگ کا اسلامی نام ہے۔
واپس اوپر جائیں

معرفت کا اسٹیج

ولیم شیکسپئر (William Shakespeare) ایک انگریز ادیب تھا۔ وہ 1564 میں پیدا ہوا اور 1616 میں اس کی وفات ہوئی۔ وہ شاعر اور ڈرامہ نویس کی حیثیت سے معروف ہے۔ شیکسپئر کا ایک قول ہے — پوری دنیا ایک اسٹیج ہے اور تمام مرد اور عورت اس کے ایکٹر اور ایکٹریس ہیں:
All the world’s a stage, and all the men and are merely players.
اِس قول کا مطلب یہ ہے کہ ایک اسٹوری رائٹر (story writer) جب دنیا کو دیکھتا ہے تو پوری دنیا اس کے دماغ میں ایک بہت بڑی کہانی (story) کے روپ میں ڈھل جاتی ہے۔ ہر طرف اس کو اپنی کہانی کے کردار دکھائی دیتے ہیں۔
یہی معاملہ ایک سچے مومن کا بھی ہے۔ ایک مومن جو ہر وقت خالق کے بارے میں سوچتا ہے، وہ جب عالمِ تخلیق کو دیکھتا ہے تو پورا عالم اس کے لیے معرفت کا عالم بن جاتا ہے۔ اس کو اپنے ہر مشاہدے میں ایمان کی زندہ غذا ملنے لگتی ہے۔ ہر تجربہ (experience)اس کے لیے اس کے یقین میں اضافے کا باعث بن جاتا ہے۔
شیکسپئر کا قول کامیاب اسٹوری رائٹر کو بتاتا ہے۔ یہی معاملہ ایک سچے مومن کا بھی ہے۔ سچا مومن وہ ہے جو غور وفکر کے ذریعے خالق کو دریافت کرے۔ اس کی یہ دریافت اتنی گہری ہو کہ وہ اس کے دل ودماغ پر چھا جائے۔ ایسے آدمی کا حال یہ ہوگا کہ اس کو ہر طرف خالق کی جھلک دکھائی دینے لگے گی۔ وہ ہر مشاہدے میں آلاء اللہ (wonders of God)کو دیکھے گا۔ وہ ہر تجربے میں خالق کی کارفرمائی دریافت کرے گا۔ اس کے لیے پوری کائنات ربانی غذاؤں کا وسیع دستر خوان بن جائے گی۔ یہی معرفت ہے اور ایسے ہی انسانوں کو عارف باللہ کہاجاتا ہے۔ معرفت کوئی پر اسرار (mysterious) چیز نہیں۔ معرفت دراصل خدائی بنیادوں پر پیش آنے والے فکری انقلاب کا دوسرا نام ہے۔
واپس اوپر جائیں

قرآن اور بائبل کا فرق

بائبل کا ایک قدیم نسخہ دریافت ہوا ہے جو سترھویں صدی عیسوی میں تیار کیاگیا تھا۔ اِس نسخے میں ایک عجیب غلطی پائی جاتی ہے۔ بائبل کے ایک باب میں یہ حکم ہے کہ تم زنا نہ کرنا۔ مگر اِس نسخے میں غلطی سے یہ درج ہوگیا کہ — تم زنا کرنا:
Thou shalt commit adultery
یہ ایک چھوٹی سی مثال ہے جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ قدیم آسمانی صحیفوںمیں کس طرح غلطیاں ہوئیں جس کے نتیجے میں یہ قدیم آسمانی صحیفے غیر مستند ہوگئے۔
یہ قرآن کی ایک معجزاتی صفت ہے کہ رسول اور اصحاب رسول نے اور اس کے بعد پوری امت نے اس کی حفاظت کا اتنا زیادہ اہتمام کیا کہ قرآن کے متن (text) میں کسی بھی قسم کی چھوٹی یا بڑی غلطی شامل نہ ہوسکی۔ قرآن آج بھی اُسی طرح ایک محفوظ کتاب (preserved book) ہے، جس طرح وہ ساتویں صدی عیسوی کے رُبع اول میں پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے اوپر نازل ہوا تھا:
‘Wicked Bible’, which shocked readers with the phrase ‘Thou shalt commit adultery’, is to go on public display for the first time. The notorious seventeenth century book will be displayed along with a collection of rare religious texts at Cambridge University. The exhibition will feature a 1631 edition of the Bible in which the word “not” was accidently omitted from the commandments. The books were mostly destroyed and only handful of copies survive. (The Times of India, New Delhi, Tuesday, January 18, 2011 page 19)
یہ ایک مثال ہے جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ قرآن اور دوسری قدیم آسمانی کتابوں میں کیا فرق ہے۔ پچھلی آسمانی کتابوں کے ساتھ کوئی ٹیم نہ بن سکی جو اُن کی حفاظت کا اہتمام کرسکے۔ قرآن کے ساتھ استثنائی طور پر ایک طاقت ور ٹیم بنی اور پھر نسل درنسل ایک طاقت ور امت اس کی حفاظت کا اہتمام کرتی رہی۔ یہی وجہ ہے کہ پچھلی آسمانی کتابیں اپنی اصل صورت میں محفوظ نہ رہ سکیں، جب کہ قرآن اپنی اصل حالت میں مکمل طور پر محفوظ ہے۔
واپس اوپر جائیں

بسترِ مرگ سے

’’امام ابو یوسف (وفات:798 ء) بسترِ مرگ پر ہیں۔ شدید بیمار ہیں اور اِس حالت میں ایک شاگرد عیادت کے لیے جاتا ہے اور جاکر حال پوچھتا ہے، توحال تو مختصراً بتادیا، پھر فوراً اُس شاگرد سے پوچھتے ہیں کہ بتاؤ حج میں رمیِ جمرات سوار ہو کر افضل ہے کہ پیدل افضل ہے۔ شاگرد کہتے ہیں کہ میں نے کہا کہ حضرت، پیدل کرنا افضل ہوگا، کیوں کہ پیدل کرنے میں مشقت زیادہ ہے۔ فرمایا کہ نہیں، کہا اچھا پھر سوار ہو کر کرنا افضل ہوگا۔ فرمایا کہ نہیں، بلکہ پہلے دن کی جمرہ عقبہ کی رمی سوار ہو کر کرنا افضل ہے۔ کیوں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ رمی سوار ہو کر کی تھی، اور باقی دنوں میں پیدل چل کر(رمی) کرنا افضل ہے، کیوں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے (یہ رمی) پیدل چل کر کی تھی۔ یہ مسئلہ اُس کو بتا دیا۔ فرماتے ہیں کہ یہ مسئلہ سن کر جب میں باہر نکلا، چند قدم چلا تھا تو گھر سے لوگوں کے رونے کی آواز آ ئی۔ پتہ چلا کہ روح پرواز کرگئی۔‘‘
ایک مشہور عالم نے علماء کے ایک جلسے میں تقریر کی۔ انھوں نے نہایت جوش کے ساتھ مذکورہ واقعہ بیان کیا، جو اُن کے نزدیک طلب علم کا ثبوت تھا۔ لیکن اگر خالص قرآن اورحدیث اور اسوۂ صحابہ کی روشنی میں دیکھا جائے تو اُس وقت کہنے والے کو طلب آخرت کی بات کہنا چاہیے تھا۔ جب کوئی شخص بستر مرگ پر ہو تو اُس وقت یہ موقع نہیں رہتا کہ آدمی جزئی مسائل میں اپنا دماغ لگائے۔ اُس وقت اس کو صرف موت یاد آنی چاہیے اور ملنے والوں کو آخرت کی یاد دلانی چاہیے۔
بستر مرگ پر ایک مومن کی کیا کیفیت ہونی چاہیے، اس کا اندازہ صحابی ٔ رسول حضرت ابو ہریرہ کے واقعے سے ہوتا ہے۔ مسلم بن بشیر کہتے ہیں کہ ابو ہریرہ اپنے مرضِ موت میں روئے۔ اُن سے پوچھاگیا کہ کیا چیز آپ کو رلا رہی ہے۔ انھوں نے کہا کہ میں تمھاری اِس دنیا کے لیے نہیں روتا، بلکہ میں تو اِس لیے روتا ہوں کہ میرا سفر لمبا ہے اور زادِ راہ کم ہے۔ میںنے ایک ایسے ٹیلے پر صبح کی ہے جو جنت یا جہنم کی طرف اتر رہا ہے۔ مجھے نہیں معلوم کہ مجھے اِن دونوں میں سے کس طرف چلایا جائے گا (أصبحتُ فی صعود مہبطۃ علی جنۃ ونار، فلا أدری إلی أیہما یسلک بی) ۔
واپس اوپر جائیں

سب کچھ سے بے کچھ کی طرف

آدمی جس دنیا میں رہتا ہے، وہاں بظاہر اس کو سب کچھ ملا ہوا ہے— موافق زمین، سورج کی روشنی، ہوا، آکسیجن، پانی، خوراک، خاندان، جماعت، اِدارے، حکومتی نظام، غرض زندگی کی مددگار وہ تمام چیزیں جس کو لائف سپورٹ سسٹم (life support system) کہا جاتا ہے۔ یہ تمام چیزیں آدمی کو پیدا ہوتے ہی مل جاتی ہیں، اورپھر تمام عمر اس کو حاصل رہتی ہیں۔ اس بنا پر آدمی ان چیزوں کو فار گرانٹیڈ (for granted) طور پر لے لیتا ہے، وہ سوچ نہیں پاتا کہ یہ چیزیں کبھی اس سے چھن جائیں گی۔ لیکن ہر آدمی کے لیے مقدر ہے کہ ایک خاص عمر کے بعد ا س پر موت آئے، اور تمام چیزیں اچانک اس سے چھن جائیں، آدمی اب بھی وہی ہو جو کہ موت سے پہلے تھا، لیکن زندگی کے تمام اسباب مکمل طور پر اس کا ساتھ چھوڑ چکے ہوں، سب کچھ رکھنے والا آدمی، ایک لمحہ میں، بے کچھ ہو کر رہ جائے۔ یہ ایک ہونے والا واقعہ ہے، جو لازماً ہر ایک کے سامنے یقینی طور پر آئے گا، عورت کے ساتھ بھی اور مرد کے ساتھ بھی۔ یہی وہ چیز ہے جس پر سوچنے والے سب سے زیادہ سوچیں، یہی وہ چیز ہے جس کو تمام عورت اور مرد اپنا سب سے بڑا کنسرن (concern) بنائیں، یہی وہ چیز ہے جس کے تصور کو لے کر آدمی شام کو سوئے اور صبح کو جاگے۔آدمی کے لئے سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ کیسے ایسا ہو کہ وہ موت کے بعد کی زندگی میں دوبارہ وہ سب کچھ پالے جو موت سے پہلے کی زندگی میں اس کو ملا ہوا تھا۔ یہی ہر انسان کا سب سے بڑا مسئلہ ہے۔ اسی مسئلہ کو حل کرنے میں انسان کی کامیابی ہے، اور اسی مسئلہ کو حل کرنے میں ناکام رہنے کا نام، ناکامیابی ہے۔ انسان کا سفر بظاہر سب کچھ سے بے کچھ کی طرف ہورہا ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ دوبارہ کس طرح یہ ممکن ہو کہ آدمی کا سفر بے کچھ سے سب کچھ کی طرف ہوجائے۔ اس کا واحد راز یہ ہے کہ آدمی خالق کے تخلیقی منصوبہ کو جانے، اور اس کے مطابق اپنی زندگی کا نقشہ بنائے۔ یہ تخلیق کا منصوبہ کیا ہے، وہ یہ ہے کہ آدمی موت سے پہلے کی زندگی میں خدا کے راستے پر چلے، وہ اپنے آپ کو خدا کا مطلوب بندہ بنائے— خود رخی زندگی آدمی کو ابدی تباہی کی طرف لے جاتی ہے اور خدا رخی زندگی اس کو ابدی سعادت تک پہنچانے والی ہے۔
واپس اوپر جائیں

غلو کی ایک مثال

مولانا شبلی نعمانی (وفات: 1914 ) نے اپنے آخری زمانے میں سیرتِ رسول کے موضوع پر ایک کتاب لکھنا شروع کیا۔ اِس کتاب کی تکمیل ان کے شاگرد مولانا سید سلیمان ندوی (وفات: 1953 ) نے کی۔ مولانا شبلی نعمانی نے اپنی کتاب سیرت النبی کی پہلی جلد کے آغاز میں ایک سرنامہ لکھا ہے۔ اِس سرنامہ کے الفاظ یہ ہیں:
’’ایک گدائے بے نوا شہنشاہِ کونین کے دربار میں اخلاص وعقیدت کی نذر لے کر آیا ہے‘‘۔
یہ سرنامہ اُس غلو کی ایک مثال ہے جو بعد کے زمانے کے مسلمانوں نے پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی سخت ترین ممانعت (صحیح مسلم، رقم الحدیث: 2143 )کے باوجود ،اُن کے بارے میں کیا ہے۔ وہ پیغمبراسلام کے لیے ایسے الفاظ بولنے لگے جو صرف خدا کے لیے مخصوص ہیں— شہنشاہِ کونین، سرورِکائنات، وغیرہ۔ اِس طرز فکر کا نتیجہ یہ ہوا کہ مسلمانوں نے اپنے پیغمبر کو وہ درجہ دے دیا جو حقیقۃً رب العالمین کا درجہ ہے۔ مذکورہ سرنامہ کے الفاظ اگر بدلے جائیں اور اس کو خدا کی نسبت سے استعمال کیاجائے تو کہنے والا یہ کہے گا کہ— ایک گدائے بے نوا شہنشاہِ کونین کے دربار میں مغفرت کی بھیک مانگنے آیا ہے۔
اِس معاملے کا دوسرا عظیم تر نقصان یہ ہے کہ جب آپ خالقِ کائنات کو بڑا درجہ دیں تو آپ کی فطرت اس کی تصدیق کرتی ہے اور فطرت کی تصدیق کی بنا پر حقیقی معنوں میں ایسا ہوتا ہے کہ خداوندذوالجلال آپ کی زندگی میں اپنی حقیقی عظمت کے ساتھ شامل ہوجاتاہے۔ لیکن جب اِس قسم کے پُر عظمت الفاظ غیرِ خدا کے لیے بولے جانے لگیں تو وہ صرف الفاظ بن کر رہ جاتے ہیں، فطرت کی تصدیق حاصل نہ ہونے کی وجہ سے وہ آپ کی زندگی میں حقیقی احساس کے طورپر شامل نہیں ہوتے۔ خدا کی عظمت کے لیے بولے جانے والے الفاظ فوراً ہی اپنا حقیقی مصداق پالیتے ہیں، جب کہ غیر خدا کی عظمت کے لیے بولے جانے والے الفاظ اپنا حقیقی مصداق نہ پانے کی وجہ سے صرف الفاظ بن کر رہ جاتے ہیں، اِس سے زیادہ اُن الفاظ کی اور کوئی حقیقت نہیں ہوتی۔
واپس اوپر جائیں

شاہ ہمدان کامشن

Revival of Shah Hamadan’s Mission
میر سید شہاب الدین علی ہمدانی (وفات: 1384 ء) کو ریاست جموں وکشمیر میں ’’معمارِ کشمیر‘‘ کا درجہ حاصل ہے۔ کشمیری مسلمان عام طورپر اُن کو ’’امیرِ کبیر‘‘ کہتے ہیں۔ امیر کبیر 1379ء میں ایران سے کشمیر آئے۔ انھوںنے کشمیر میں اسلام کی تاریخ بنائی۔موجودہ کشمیر زیادہ تر، اُنھیں کی دعوتی کوششوں کا نتیجہ ہے۔ کشمیر کے لوگ اُنھیں کے مشن پرقائم تھے۔ 1947میں بر صغیر ہند میں جو انقلاب آیا، اُس کے ردّ عمل کے طورپر کشمیر میں سیاسی تحریک اٹھی۔ لیکن تجربہ بتاتا ہے کہ یہ سیاسی تحریک اپنے نتیجے کے اعتبار سے، کشمیریوں کے لیے صرف نقصان کا باعث ثابت ہوئی۔ تاہم اِس نقصان کا ایک مثبت پہلو ہے، وہ یہ کہ سیاسی ہنگاموں کا منفی انجام کشمیریوں کے لیے ایک شاک ٹریٹمنٹ (shock treatment) ثابت ہوا ہے۔ کشمیری مسلمانوںمیں یہ ذہن پیدا ہوا ہے کہ وہ اپنے ماضی کی طرف لوٹیں۔ وہ دوبارہ شاہ ہمدان کی طرح پُرامن دعوت کو اپنا نشانہ بنائیں۔ اِس نئے ذہن کو شاہ ہمدان کے مشن کا اِحیاء (Revival of Shah Hamadan’s Mission) کہا جاسکتا ہے۔
میر سید علی ہمدانی ایران میں پیدا ہوئے، وہ تیمور لنگ (وفات: 1405ء) کے ہم عصر تھے۔ شاہ تیمور ان سے کسی بات پر ناراض ہوگیا اور ان کو ایران سے نکل جانے کا حکم دے دیا۔ اب امیر کبیر کے لیے ایک راستہ یہ تھا کہ وہ تیمور لنگ کے خلاف اپوزیشن کی تحریک چلائیں، مگر امیر کبیر نے اِس قسم کے سیاسی تصادم سے مکمل طورپر پرہیز کیا۔ وہ اپنے چالیس ساتھیوں کو لے کر اپنے وطن ہمدان سے نکلے۔ اِس طرح، افغانستان ہوتے ہوئے یہ قافلہ 1379 ء میں کشمیر پہنچا۔
امیر کبیر کا پروگرام نہ شاہ تیمور کے خلاف رد عمل کے طورپر بنا اور نہ کشمیری مسلمانوں کے وقتی حالات سے متاثر ہو کر۔ اُس وقت کشمیر میں ایک مسلم راجہ سلطان قطب الدین کی حکومت تھی۔ اس کے اندر بہت سی اعتقادی اور عملی خرابیاں موجود تھیں۔ امیر کبیرنے سلطان کو ناصحانہ انداز کے خطوط بھیج کر اس کو اصلاحِ حال کی طرف متوجہ کیا، تاہم آپ نے اس کو اقتدار سے ہٹانے اور اس کی جگہ صالح حکمراں کو لانے کی کوئی مہم نہیں چلائی۔ امیر کبیر نے ان تمام عوامل سے اوپر اٹھ کر سوچا اور خود اپنے مثبت فکر کے تحت اپنا پروگرام بنایا۔ یہ تمام تر ایک خاموش عملی پروگرام تھا۔ امیر کبیراور ان کے ساتھی ریاست کے مختلف حصوں میں پھیل گئے اور پُر امن طور پر وہ یہاں کے باشندوں میں اسلام کا پیغام پہنچانے لگے۔ انھوں نے کشمیریوں کی زبان سیکھی، یہاں کے حالات سے اپنے آپ کو ہم آہنگ کیا، اجنبی دیس میں اپنے لیے جگہ بنانے کی مصیبتیں اٹھائیں۔ اِس طرح صبر وبرداشت کی زندگی گزارتے ہوئے انھوںنے اپنے پُرامن دعوتی مشن کو جاری رکھا۔
کشمیر کے ایک تعلیم یافتہ مسلمان سے میری ملاقات ہوئی۔ میں نے کہا کہ آپ لوگوں کے لیے صحیح طریقہ یہ ہے کہ کشمیر میں آپ لوگ شاہ ہمدان کے پُر امن دعوتی مشن کو زندہ کریں۔ شاہ ہمدان کو کشمیر میں غیر معمولی کامیابی حاصل ہوئی۔ اِس کا سبب یہ تھا کہ انھوں نے دعوت کو اپنا واحد مشن بنایا ۔ اُن کے زمانے میں مختلف قسم کے مسائل کشمیر میں موجود تھے، لیکن انھوں نے اِن مسائل کو نظر انداز کیا اور دعوت الی اللہ کو اپنا واحدنشانہ بنایا۔ اِس کے نتیجے میں اُنھیں کشمیر میں غیر معمولی کامیابی حاصل ہوئی۔
مذکورہ کشمیری مسلمان نے کہا کہ شاہ ہمدان کے زمانے میں، کشمیر میں بڑی تعداد میں غیر مسلم پائے جاتے تھے۔آج تو یہاں سب کے سب مسلمان ہیں، پھر ہم کن لوگوں کے اوپر دعوتی کام کریں۔ میں نے کہا کہ کشمیر میں انٹرنیشنل دعوہ ورک کے مواقع پائے جاتے ہیں۔ انڈیا کی آرمی جو بڑی تعداد میں کشمیر میں موجود ہے، اس کا ہر فرد آپ کے لیے مدعو کی حیثیت رکھتا ہے۔ آپ جانتے ہیں کہ کشمیر ایک سیاحتی مقام ہے، اِس لیے ساری دنیا کے سیّاح (tourists) کشمیر میں مسلسل آتے ہیں۔ اس کے علاوہ، کشمیر میں اب بھی ہندوؤں کی ایک تعداد موجود ہے، جن کو کشمیر میں پنڈت کہاجاتا ہے۔ اِسی طرح یہاں کے قدیم مندروں میں ہر سال بڑی تعداد میں یاتری آتے ہیں۔یہ سارے لوگ آپ کے لیے مدعو کی حیثیت رکھتے ہیں۔ آپ لوگوں کے اندر اگر دعوتی شعور پیداہوجائے تو آپ دیکھیں گے کہ کشمیر میں ہر طرف بڑی تعداد میں مدعو پائے جاتے ہیں۔اِسی کے ساتھ کشمیر میں دعوت کا ایک اور میدان کھلا ہواہے۔ یہ وہ مسلمان ہیں جو جدید افکار کی بنا پر اسلام کے بارے میں ذہنی بے اطمینانی کا شکار ہوگئے۔یہ لوگ بھی آپ کے لیے قیمتی مدعو کی حیثیت رکھتے ہیں۔ غیر مسلموں کے لیے آپ کو یہ کرنا ہے کہ اسلام کو آپ اُن کی دریافت (discovery) بنائیں، اور مسلمانوں کے لیے آپ کو یہ کرنا ہے کہ اسلام کو آپ اُن کی دریافتِ نو (re-discovery) بنائیں۔
حقیقت یہ ہے کہ کشمیر کے مسلمانوں کو ڈبل خوش قسمتی کے مواقع حاصل ہیں۔ کشمیر کو جنت نظیر کہاجاتاہے۔ اِس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے کشمیریوں کو دنیا کی جنت دے دی۔ دوسری طرف، اللہ تعالیٰ نے کشمیر میں دنیا بھر کے مدعو بھیج دئے، تاکہ کشمیر کے مسلمان دعوتی کام کرکے آخرت کی جنت بھی حاصل کریں۔ موجودہ زمانہ پرنٹنگ پریس کا زمانہ ہے۔ موجودہ زمانے میں دعوتی کام انتہائی حد تک آسان ہوچکا ہے۔ اسلام پرچھوٹی اور بڑی کتابیں چھپی ہوئی موجود ہیں۔ آپ اِن کتابوں کو اپنے ساتھ رکھئے اور ہر موقع پر اُنھیں لوگوں کو پڑھنے کے لیے دیجئے۔ اِسی طرح دوسرے تمام مواقع کو اسلام کی پُرامن اشاعت کے لیے استعمال کیجئے، خاص طورپر قرآن کا ترجمہ لوگوں کو دیجئے اور اللہ کے یہاں دعوت کا انعام حاصل کیجئے— شاہ ہمدان نے دعوت کے ذریعے کشمیر میں کامیابی حاصل کی تھی، آپ دوبارہ کشمیر میں دعوت کے ذریعے کامیابی حاصل کرسکتے ہیں۔
واپس اوپر جائیں

اصول پسندی یا شخصیت پرستی

تنقید ایک صحت مند علامت ہے۔ تنقید کا مطلب عیب زنی اور الزام تراشی نہیں، بلکہ تنقید کا مطلب ہے — دلائل کی زبان میں اپنا اختلاف بتانا یا کسی نقطۂ نظر کا منطقی تجزیہ کرنا، کسی نقطہ نظر کے حسن وقبح کو علمی انداز میں بیا ن کرنا۔
اِس قسم کی تنقید بلا شبہہ ایک صحت مند علامت ہے۔ تنقید اور تجزیہ کا ماحول مسلسل ذہنی ارتقا کا ضامن ہے۔ جہاں تنقید نہ ہو، وہاں ذہنی جمود پیدا ہوجائے گا:
No criticism leads to intellectual stagnation.
تنقید انسانوں کی پہچان کی ایک کسوٹی ہے۔ اگر آپ کسی بڑی شخصیت پر تنقید کریں اور اس کو سن کر لوگ غصہ ہوجائیں تو وہ شخصیت پرست لوگ ہیں۔ اور اگر آپ کی تنقید کو سن کر لوگ دلیل کی زبان میں اس کا تجزیہ (analysis) کریں تو وہ اصول پسند لوگ ہیں۔
صحت مند تنقید (healthy criticism) کا یہ فائدہ ہے کہ زیر بحث معاملے کے مختلف گوشے واضح ہوتے ہیں۔ لوگوں کو یہ موقع ملتا ہے کہ وہ زیادہ وسیع ذہن کے ساتھ کسی معاملے پر غور کرسکیں۔
جب دو آدمی کھلے ذہن کے ساتھ آپس میں آزادانہ بتادلۂ خیال کرتے ہیں تونئی نئی باتیں سامنے آتی ہیں۔ معاملے کے نئے نئے گوشے کھلتے ہیں۔ اِس طرح طرفین کو یہ موقع ملتا ہے کہ وہ زیادہ منقح اندازمیں بات کو سمجھ سکیں۔
غیر تنقیدی ماحول گویا کہ مقلدانہ ماحول ہے۔ ایسے ماحول میں فطری طورپر ایسا ہوگا کہ لوگوں کے اندر ذہنی جمود پیدا ہوجائے گا، ان کی سوچ محدود ہو کر رہ جائے گی، اُن کے ذہنی افق میں وسعت پیدا نہ ہوسکے گی، وہ نئی حقیقتوں سے بے خبر ہو کر رہیں گے، وہ ترقی کے زیادہ اعلیٰ درجات طے کرنے سے محروم رہ جائیں گے۔ تنقید ذہنی ارتقا (intellectual development) کا ذریعہ ہے، اور تنقید کو شجرِ ممنوعہ قرار دینا ذہنی جمود(intellectual stagnation) کا ذریعہ۔
واپس اوپر جائیں

زندگی کا ایک اصول

مولانا مرغوب الرحمن قاسمی (وفات: 2010 ) دار العلوم دیوبند کے مہتمم تھے۔ اپنی زندگی کے آخری تیس سال تک وہ اِس عہدے پر فائز رہے۔ اپنے کام کی نسبت سے، اُن کے تعلقات بہت سے لوگوں کے ساتھ قائم تھے۔ اِن تعلقات کے لیے مولانا مرحوم کا ایک اصول تھا۔ اِس اصول کو مولانا نور عالم خلیل امینی نے اپنے ایک مضمون میں اِن الفاظ میں بیان کیا ہے:
’’اِس مسئلے میں مولانا کے ذہن میں خانے بنے ہوئے تھے اور وہ اُن میں سے ہر ایک کو اُس خانے میں رکھتے جو انھوں نے اُس کے لیے متعین کیا ہوتا تھا، اور اسی ’’درجہ بندی‘‘ کے اعتبار سے، وہ اُن کے ساتھ حسنِ سلوک اور شفقت کا معاملہ کرتے تھے‘‘۔ (ماہ نامہ الفرقان، لکھنؤ، مارچ 2011، صفحہ 36 )
یہ اصول ہر شخص کے لیے ایک قابلِ تقلید اصول ہے۔ یہ اصول آدمی کو غیر ضروری ٹنشن سے بچاتا ہے۔ ایسا آدمی غیر ضروری قسم کی شکایتوں سے محفوظ رہتاہے۔ یہ ایک عملی اصول (practical formula) ہے اور تعلقات کے معاملے میں عملی اصول ہی ہمیشہ بہتر اصول ہوتا ہے۔
لوگوں کو ایک دوسرے سے شکایتیں کیوں ہوتی ہیں، اِس کا سبب یہ ہوتا ہے کہ اکثر لوگ دوسروں سے، زیادہ امید قائم کرلیتے ہیں اور جب وہ شخص ان کی زیادہ امید (over-expectation) پر پورا نہیں اترتا تو وہ اس کی شکایت کرنے لگتے ہیں۔
اِس مسئلے کا سادہ حل یہ ہے کہ آپ لوگوں کو سمجھنے کی کوشش کیجئے۔ آپ کسی شخص سے وہی امید رکھئے جو باعتبارِ حقیقت اُس سے رکھنا چاہیے۔ جب بھی ایسا ہو کہ ایک شخص آپ کی امید پر پورا نہ اترے تو آپ صرف یہ کیجئے کہ اس کا ’’خانہ‘‘ بدل دیجئے۔ پہلے اگر آپ نے اُس کو کٹیگری اے میں رکھا تھا، تو اب آپ اس کو کٹیگری بی یا کٹیگری سی میں ڈال دیجئے۔ اس کے بعد اُس آدمی کو لے کر آپ کے اندر نہ کوئی ٹنشن ہوگا اور نہ کوئی شکایت۔
واپس اوپر جائیں

عذر کے باوجود

ڈاکٹر طٰہ حسین (وفات:1973 ) مشہور عربی ادیب ہیں۔ وہ 1889 میں مصر میں پیداہوئے۔ انھوںنے الازہر میں تعلیم پائی۔ اس کے بعد انھوں نے فرانس کی یونی ورسٹی ساربونے سے ابن خلدون کے موضوع پر ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کی۔ عربی ادب اور تاریخ پر ان کی تقریباً دو درجن کتابیں موجود ہیں۔ 84 سال کی عمر میں قاہرہ میں ان کا انتقال ہوا۔
ڈاکٹر طہ حسین جب تین سال کے تھے تو وہ چیچک (chicken pox)کی بیماری میں مبتلا ہوئے اور اِسی بیماری میں وہ نابینا (blind) ہوگئے۔ مگر ان کا نابینا ہونا ان کے حصولِ علم میں رکاوٹ نہیںبنا۔ غیر معمولی محنت کے ذریعے ڈاکٹر طہٰ حسین نے عربی زبان میں اتنی ترقی کی کہ وہ عمید الأدب العربی کہے جانے لگے۔
اِس طرح کے واقعات بتاتے ہیں کہ انسان کے اندر فطری طورپر اتنا زیادہ امکانات (potentials) ہوتے ہیں کہ کوئی بھی عذر اس کو اعلیٰ ترقی تک پہنچنے سے روک نہیں سکتا۔
کسی آدمی کا اندھا ہونا بظاہر بہت بڑی معذوری ہے، لیکن تاریخ میں ایسی بہت سی مثالیں پائی جاتی ہیں جب کہ کسی شخص نے اندھا ہونے کے باوجود بڑی بڑی ترقیاں حاصل کیں۔
حقیقت یہ ہے کہ انسان کے لیے کوئی عذر، عذر نہیں۔ کوئی جسمانی نقص، کوئی مالی نقصان، کوئی نامساعد صورتِ حال، کوئی اتفاقی یا غیر اتفاقی حادثہ، انسان کا راستہ روکنے والا نہیں بن سکتا۔ ہر عورت اور مرد لامحدود صلاحیت لے کر پیدا ہوتے ہیں۔ اِسی طرح آدمی کی اپنی ذات کے باہر جو مواقع (opportunitie) ہیں، وہ بھی لامحدود ہیں۔
انسا ن کو چاہیے کہ وہ کسی بھی صورت ِحال میں مایوس نہ ہو، وہ ہر حال میں اپنا حوصلہ برقرار رکھے، وہ ہر ناکامی کو وقتی ناکامی سمجھے۔ جس شخص کے اندر اِس قسم کا عزم (determination) ہو ، کوئی بھی چیز اس کو ترقی سے روکنے والی نہیں بن سکتی۔
واپس اوپر جائیں

ایک سبق آموز واقعہ

مولانا نور عالم خلیل امینی (استاد ادبِ عربی، دار العلوم، دیوبند) نے دیوبند کا ایک واقعہ اِن الفاظ میں بیان کیا ہے:’’24 جولائی 2002 کو دار العلوم دیوبند کے ایک طالب علم کے ساتھ کسی وجہ سے چند شہریوں نے زدوکوب کا معاملہ کیا۔ دار العلوم کے طلبا کی ایک تعداد نوجوانی کے جوش سے مغلوب ہو گئی اور اُن سے دارالعلوم کے چوراہے کی چند دکانوں کو ذرا بہت نقصان پہنچ گیا۔ متعلقہ شہریوں کو بہت تکلیف ہوئی اور انھوں نے حضرت مرحوم (مولانا مرغوب الرحمن قاسمی، مہتمم دار العلوم، دیوبند) سے بڑھا چڑھا کے اِس معاملے کی شکایت کی۔ حضرت نے فرمایا کہ آپ تحریری طور پر دیجئے کہ آپ لوگوں کا واقعۃً کتنا اور کیا کیا نقصان ہوا ہے۔ انھوں نے مبالغے کے ساتھ نقصانات کا اندازہ تحریراً پیش کیا تو حضرت نے فرمایا — دیکھئے، دار العلوم کو قوم جو چندہ دیتی ہے، وہ دارالعلوم کے ضروری مفادات پر خرچ کرنے کے لیے دیتی ہے۔ یہ حقیر اُس کا امین ہے۔ اس میں کوئی خیانت اس کے لیے جائز نہیں، اِس لیے میں دار العلوم کی رقم سے آپ کے نقصانات کی تلافی نہیں کرسکتا۔ آپ لوگ مہینے دو مہینے کا موقع دیجئے کہ میں اپنی زمین کا کوئی حصہ مناسب قیمت پر فروخت کرکے آپ کے نقصانات کا معاوضہ ادا کرسکوں۔ حضرت کی بات سن کر شہریوں کا وفد آب دیدہ ہوگیا اور اُس نے حضرت سے معافی کی درخواست کی کہ حضرت، ہم لوگوںسے شدید غلطی ہوئی کہ ہم نے آپ کو پریشان کیا اور آپ کے لیے ذہنی اذیت کا باعث بنے۔ ہمیں کوئی معاوضہ نہیں چاہیے۔ دار العلوم جیسے آپ کا ہے، ویسے ہی وہ ہمارا بھی ہے‘‘۔ (ماہ نامہ الفرقان، لکھنؤ، مارچ 2011، صفحہ 44 )۔
حقیقت یہ ہے کہ کوئی آدمی پیدائشی طورپر برا نہیں ہوتا۔ جب بھی کوئی شخص مذکورہ قسم کا کام کرتا ہے تو ایسا ہمیشہ وقتی جذبے کے تحت ہوتا ہے۔ آپ اگر جوابی رد عمل کا طریقہ اختیار نہ کریں، بلکہ نرمی اور خیر خواہی کے ساتھ گفتگو کریں تو عین ممکن ہے کہ فریقِ ثانی کو اپنے کام پر شرمندگی ہوجائے اور وہ خود ہی اپنا رویہ بدل لے— منفی رد عمل معاملے کو بگاڑ دیتا ہے، اور مثبت ردّ عمل معاملے کو درست کردیتا ہے۔
واپس اوپر جائیں

اپنے پوٹینشیل کو ایکچول بنائیے

ایک ذہین اور تعلیم یافتہ نوجوان سے ملاقات ہوئی۔ اُن کو دوسروں سے شکایت تھی کہ وہ اُن کا اعتراف نہیں کرتے۔ میں نے کہا کہ اِس معاملے میں غلطی آپ کی ہے، دوسروں کی غلطی نہیں۔ آپ اپنے کو اپنے پوٹیشیل (potential) کے اعتبار سے دیکھتے ہیں اور دوسرے لوگ آپ کو آپ کے ایکچول (actual) کے اعتبار سے دیکھتے ہیں۔ آپ صرف یہ کیجئے کہ آپ اپنے پوٹینشیل کو ایکچول بنائیے، یعنی اپنے امکان کو واقعہ کی صورت دے دیجئے۔ اِس کے بعد آپ کو کسی سے شکایت نہ ہوگی۔
یہی اکثر با صلاحیت لوگوں کا معاملہ ہوتا ہے۔ وہ غیر ضروری طورپر دوسرے لوگوں کی شکایت کرنے لگتے ہیں۔ وہ فرض کرلیتے ہیں کہ دوسروں کے اندر اعتراف کا مادہ نہیں، مگر اِس طرح کے تمام معاملات میںاصل غلطی شکایت کرنے والے کی ہوتی ہے، نہ کہ دوسروں کی۔
یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ اِس دنیا میں اپنے امکان کو واقعہ بنانے سے ایک دن پہلے بھی لوگ کسی کا اعتراف نہیں کرتے۔ اِس دنیا میں کوئی شخص اپنی امکانی صلاحیت کے اعتبار سے تسلیم نہیں کیا جاتا، دنیا اس کو صرف اُس وقت تسلیم کرتی ہے جب کہ اس نے اپنی امکانی صلاحیت کو مسلسل جدو جہد کے ذریعے ایک کھلا واقعہ بنا دیا ہو۔ لوگ عام طورپر ظاہر بیںہوتے ہیں۔وہ امکان کو دیکھ کر رائے قائم نہیں کرتے، بلکہ وہ صرف واقعہ کو دیکھ کر رائے قائم کرتے ہیں۔ ایسی حالت میں انسان کو چاہیے کہ وہ لوگوں کی شکایت نہ کرے، بلکہ وہ قانونِ فطرت (law of nature) کو تسلیم کرتے ہوئے یہ کرے کہ اپنی ساری طاقت اپنے امکان کو واقعہ بنانے میں لگا دے۔ جس دن ایسا ہوگا، اُس دن لوگ کسی اعلان یا مطالبہ کے بغیر آپ کا اعتراف کرلیں گے۔
آدمی کو یہ جاننا چاہیے کہ وہ دوسروں کو بدل نہیں سکتا۔ اُس کے لیے صرف یہ ممکن ہے کہ وہ خود اپنے آپ کو بدل کر، دوسروں کو بدل جانے پر مجبور کردے۔ یہی فطرت کا قانون ہے، اور فطرت کے قانون میں کسی کے لیے کوئی استثنا (exception) نہیں۔
واپس اوپر جائیں

سوال وجواب

سوال
میں سی پی ایس کے دعوتی مشن سے وابستہ ہوں۔ میں غیر مسلموں کو قرآن کا ترجمہ (ہندی، انگریزی) مطالعے کے لیے دیتا ہوں۔ اِس پر بعض لوگوںنے اعتراض کیا۔ وہ کہتے ہیں کہ علماء کے نزدیک، غیر مسلم کے لیے قرآن کا چھونا ہی جائز نہیں۔ میں اِس سلسلے میں علماء کا مسلک جاننا چاہتا ہوں ( خرم قریشی، نئی دہلی)۔
جواب
ابراہیم نخعی اپنے استاد علقمہ بن قیس (وفات: 62 ہجری) کے متعلق کہتے ہیں کہ ان کو جب مصحف (قرآن) کی ضرورت ہوتی تھی تو وہ ایک نصرانی سے کہتے تھے، اور وہ ان کے لیے مصحف لکھ دیتا تھا (إنہ کان إذا أراد أن یتخذ مصحفاً أمر نصرانیاً فنسخہ (المحلی لابن حزم، جلد ۱، صفحہ 84 )
اسی طرح بیان میں کہا گیا ہے کہ حضرت عبد الرحمن بن ابی لیلیٰ کے لیے حیرہ کے ایک نصرانی نے ایک مصحف 70 درہم میں لکھا تھا (أن عبد الرحمن بن أبی لیلی کتب لہ نصرانی من اہل الحیرۃ مصحفاً بسبعین درہماً، مصنف عبد الرزاق، باب بیع المصحف، جلد 8، صفحہ 144)۔ پانچویں صدی ہجری کے مشہور عالم ابن حزم الاندلسی (وفات: 656 ہجری) کسی قید اور شرط کے بغیر علی الاطلاق مسِّ قرآن کے عمومی جواز کے قائل ہیں۔
جولوگ مسِّ قرآن کے عمومی جواز کے قائل ہیں، ان کے استدلال کی ایک بنیاد یہ ہے کہ صلح حدیبیہ کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے شہنشاہ ہرقل کے نام جو مکتوب روانہ کیا تھا، اس میںقرآن کی آیت بھی درج تھی۔ رسول اللہ کایہ مکتوب صحیح بخاری، کتاب بدء الوحی میں مکمل طورپر نقل ہوا ہے۔ ہندستان کے مشہور عالم مفتی کفایت اللہ صاحب نے غیر مسلم کو ترجمہ قرآن دینا جائز بتایا ہے۔ وہ اپنی کتاب ’’کفایت المفتی‘‘ میں لکھتے ہیں کہ قرآن کریم کا ترجمہ مسلمانوں کے حق میں قرآن کا حکم رکھتا ہے، اور اُسے غیر مسلموں کو تبلیغ کے لیے دینا جائز ہے ۔
سوال
ایک اردو پرچے میں ایک مضمون اِس عنوان کے تحت نگاہ سے گزرا — دعوائے مہدویت اور مولانا وحیدالدین خاں۔ اِسی طرح ایک صاحب نے آپ کے بارے میں کہا کہ وہ نبوت کا دعویٰ کرنے والے ہیں۔ براہِ کرم، اِن دونوں باتوں کی وضاحت فرمائیں (سید اقبال احمد عمری، تمل ناڈو)
جواب
(1) مذکورہ مضمون میرے بارے میں ایک غلط فہمی پر مبنی ہے۔ میںنے ہر گز اپنے بارے میں مہدی ہونے کا دعویٰ نہیں کیا ہے۔ میںنے جو کچھ کیا ہے، وہ صرف یہ ہے کہ مہدی کے ظہور کے بارے میںجو حدیثیں آئی ہیں، اپنے فہم کے مطابق، ان کی توجیہہ کی ہے۔ یہ لوگ غالباً اپنے غیر علمی ذہن کی بنا پر توجیہہ (explanation) اور دعویٰ (claim) کا فرق نہیں سمجھتے، حالاں کہ یہ دونوں باتیں ایک دوسرے سے بالکل مختلف ہیں۔ ظہورِ مہدی کے معاملے کی علمی توجیہہ کرنے کا حق بلا شبہہ اہلِ علم کو حاصل ہے، لیکن کسی کو یہ حق حاصل نہیں کہ وہ اِس سلسلے میں کوئی دعویٰ کرسکے۔
حقیقت یہ ہے کہ کوئی غیر سنجیدہ انسان ہی یہ کہہ سکتا ہے کہ — میں مہدی ہوں، سنجیدہ انسان کبھی ایسے الفاظ بول نہیں سکتا۔ اِس کا سبب یہ ہے کہ مہدی کا رول ایک خدائی رول ہے۔ کوئی شخص خدا کی خصوصی توفیق کے ذریعے ہی مہدی کا رول ادا کرے گا۔ ایسی حالت میں مہدی کا دعویٰ کرنا، خدا کے ڈومین (domain) میں داخل ہونا ہے۔
ایک پیغمبر کو حق ہے کہ وہ یہ کہے کہ — أنا النبی لا کذب (میں نبی ہوں، اِس میں کوئی جھوٹ نہیں) کیوں کہ اس کو خدا کی طرف سے فرشتے کے ذریعے براہِ راست یہ بتایا جاتا ہے کہ تم پیغمبر ہو، لیکن مہدی کا معاملہ ایسا نہیں ہے۔ کوئی شخص خدا کی خصوصی توفیق سے، اگر مہدی کا رول ادا کرے، تب بھی اس کے پاس خدا کا فرشتہ یہ بتانے کے لیے نہیں آئے گا کہ تم مہدی ہو۔ ایسی حالت میں کسی انسان کو سرے سے یہ حق حاصل نہیں کہ وہ اپنے بارے میں مہدی ہونے کا دعوی کرے۔ ایسا دعوی کرنے والا اپنے خود ساختہ دعوے کی بنا پر خدا کے یہاں اپنے معاملے کو مشتبہ کرلے گا۔ یہ ایسا ہی ہے، جیسے کوئی شخص اپنے بارے میں یہ دعویٰ کرے کہ میں جنتی ہوں۔ ایسا دعویٰ کرنے والا صرف اپنی جنت کو خدا کی نظر میں مشتبہ قرار دے رہا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ کسی شخص کا جنتی یا مہدی ہونا براہِ راست خدا کے فیصلے کا معاملہ ہے، وہ ہرگز انسان کے فیصلے کا معاملہ نہیں۔ مہدی کے معاملے میں کسی شخص کو صرف توجیہہ وتشریح کا حق حاصل ہے، اِس معاملے میں اُس کو ہر گز دعوے کا حق حاصل نہیں۔ مہدی کا دعویٰ کرنا صرف اپنے آپ کو غیر مہدی ثابت کرنا ہے، وہ ہرگز کسی کے مہدی ہونے کا ثبوت نہیں۔
(2) جو لوگ میرے بارے میں ایسی باتیں کرتے ہیں، وہ بلاشبہہ غیر سنجیدہ لوگ ہیں۔ اگر وہ سنجیدہ ہوتے تو میری تحریروں میں وہ مجھ کو پہچان چکے ہوتے۔ اِس قسم کی باتیں بتاتی ہیں کہ انھوںنے میری تحریروں سے مجھ کو نہیں پہچانا۔
میرا اپنا ذاتی احساس اس کے بالکل برعکس ہے۔ میں اپنے عجز اور بے مائیگی کو سوچتے ہوئے تنہائی میں، اکثر بے اختیار رونے لگتا ہوں۔ میں سوچتا ہوں کہ میرے بارے میں اگر آخرت میں یہ کہہ دیا جائے کہ تم نے جو کام کیا، وہ زیادہ سے زیادہ یہ تھا کہ تم نے کچھ نئی دینی باتیں دریافت کیں، جو کہ متن (text) میں لفظی طورپر موجود نہ تھیں۔ اِسی طرح اگر قیامت میں خدا یہ کہہ دے کہ تمھاری اِن باتوں کی میرے نزدیک کوئی اہمیت نہیں، کیوں کہ میری عظمت وکبریائی اس کے بغیر ہی قائم ہے۔ اِسی طرح فرشتے اگر کہہ دیں کہ ہم تو ابد سے خدا کی تسبیح و تحمید میں لگے ہوئے ہیں، جب کہ تم پیدا بھی نہیں ہوئے تھے۔ اِسی طرح پیغمبر اگر یہ کہہ دیں کہ ہم نے پوری تاریخ میں خدائی سچائی کا اعلان کیا، جب کہ تمھاری کتابیں وجود میں نہیں آئی تھیں۔ اِسی طرح اصحاب رسول اگر یہ کہہ دیں کہ ہم کو اللہ کی توفیق سے، اصحاب رسول کا درجہ ملا، جب کہ ہم نے کبھی تمھارا لٹریچر پڑھا نہیں تھا۔ اِسی طرح اگر ملائکۂ جنت یہ کہہ دیں کہ ہماری فہرست میں جن اہل جنت کا ذکر ہے، اُن میں تمھارے جیسے کسی شخص کا نام درج نہیں، قیامت میںاگر ایسا ہو تو میرا کیا حال ہوگا۔
سوال
مولانا صاحب، میں نے اپ کی آن لائن کافی تقریریں سنی ہیں۔ لیکن میرا سوال یہ ہے کہ ہم کیا کریں، ہم اپنی اصلاح کا سفر کہاں سے شروع کریں۔ پاکستان کے حالات میں آپ ہماری اصلاح کے لیے کیا رہنمائی تجویز فرمائیں گے۔ (بشریٰ عامر، پاکستان)
جواب
پاکستان کا اصل مسئلہ یہ ہے کہ وہ ایک منفی ملک کے طور پر وجود میںآیا۔ جس چیز کو پاکستان کے لوگ ’’نظریۂ پاکستان‘‘ کہتے ہیں، وہ کیا ہے۔ وہ دراصل اینٹی ہندو سوچ (anti-Hindu thinking) کا ایک خوب صورت نام ہے،اور اینٹی ہندو سوچ کا مطلب ہے—اینٹی مدعو سوچ، جو بلاشبہہ اسلام میں حرام ہے۔ پاکستان اولاً اینٹی ہندو فکر کے تحت بنا۔ اس کے بعد دھیرے دھیرے یہ فکر اینٹی آل فکر (anti-all thinking) بن گیا۔ پاکستان کے تمام مسائل دراصل اِسی منفی سوچ (negative thinking) کا نتیجہ ہیں۔
میرے اندازے کے مطابق، اب یہ معاملہ اتنا بڑھ چکا ہے کہ پاکستان میں منفی سوچ کا خاتمہ تقریباً ناممکن ہے۔ مجھے امید نہیں کہ اب پاکستان منفی سوچ سے مثبت سوچ کی طرف لوٹ سکتا ہے۔ یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ اب پاکستان میں مثبت بنیادوں پر اجتماعی اصلاح ممکن نہیں۔ اب صرف ایک ہی چیز ممکن ہے، وہ یہ کہ افراد اپنے آپ کو اِس منفی طوفان سے بچائیں۔ سب سے پہلے آپ خود یہ کیجئے کہ آپ اپنے اندر مکمل معنوں میں مثبت ذہن کی تعمیر کریں، ایک ایسا ذہن جو منفی سوچ سے پوری طرح خالی ہو۔ اِس کے بعد دوسرا کام یہ ہے کہ آپ افراد کی سطح پر دوسروں میں بھی مثبت سوچ والے انسان بنانے کی کوشش کریں، اور جب آپ کو ایسے کچھ ساتھی مل جائیں تو ہفتے وار اجتماع کی شکل میں اُن کو منظم کرنے کی کوشش کریں۔
میرا مشورہ یہ ہے کہ آپ حقیقت پسند (realist) بنیں، رومانی تصورات میں جینے کی ہرگز کوشش نہ کریں۔ اِس مقصد کے لیے ضروری ہے کہ آپ فکرِ اقبال اور فکر مودودی کے خول سے مکمل طورپر باہر آجائیں، ورنہ آپ کے لیے کبھی بھی اپنی اصلاح ممکن نہ ہوگی۔
واپس اوپر جائیں

خبر نامہ اسلامی مرکز — 210

1 - نئی دہلی کے کانسٹی ٹیوشن کلب (Constitution Club) میں 9 جنوری 2011 کی شام کو ایک پروگرام ہوا۔ اِس پروگرام کو ایک جرمن ادارے نے منظم کیا تھا۔ اس کا موضوع یہ تھا:
Inter-religious Dialogue & Discussions for Harmonious Living
پروگرام میں دوسرے مقامی شرکاء کے علاوہ، 25 جرمن طلبا اور اسکالرس نے شرکت کی۔ صدر اسلامی مرکز نے یہاں اسلام کے تعارف پر ایک مختصر تقریر کی اور موضوع پر آدھ گھنٹے انگریزی زبان میں خطاب کیا۔ خطاب کے بعد سوال وجواب کا پروگرام ہوا۔ اِس موقع پر حاضرین کو ’’پرافٹ آف پیس‘‘ اور قرآن کا انگریزی ترجمہ دیاگیا۔
2 - ایوانِ غالب (نئی دہلی) کے آڈی ٹوریم میں 9 جنوری 2011 کو قرآن کانفرنس منعقد کی گئی۔ اِس کی دعوت پر سی پی ایس (نئی دہلی) کے ساتھیوں نے اِس کانفرنس میں شرکت کی اور حاضرین کو دعوتی لٹریچر برائے مطالعہ دیا۔
3 - جنیوا (سوئزر لینڈ) کی ایک رسرچ اسکالر مز صوفیہ (Sophie Schargo) 10 جنوری 2011 کو صدر اسلامی مرکز کے دفتر میںآئیں۔ وہ جنیوا یونی ورسٹی میں اِس موضوع پر ریسرچ کررہی ہیں:
Contradiction Between Secularism and Minorities’ Rights — Case of Muslim Women’s Rights
اُن سے ان کے زیر تحقیق موضوع کے علاوہ، اسلام کے مختلف موضوعات پر بات ہوئی۔ واپس جاتے ہوئے انھوں نے صدر اسلامی مرکز کے بارے میں اپنے تاثر کا اظہار کرتے ہوئے مسٹر رجت ملہوترا سے کہا:
If western peoples know your Maulana’s thoughts they will be astonished.
مز صوفیہ پرافٹ آف پیس اور قرآن کا انگریزی ترجمہ دیاگیا۔
4 - نئی دہلی کے مسٹر اجمل 13جنوری 2011 کو ٹوکیو (جاپان) کے لیے روانہ ہوئے۔ وہ اپنے ساتھ قرآن کا انگریزی ترجمہ اور دعوتی لٹریچر لے گئے تھے۔ انھوں نے جاپان میں اعلیٰ تعلیم یافتہ لوگوں تک اِس لٹریچر کو پہنچایا۔
5 - بڈ گام (کشمیر ) کے ساتھی وہاں موجودانڈین آرمی کو مسلسل قرآن کا انگریزی ترجمہ پہنچارہے ہیں۔ اِس سلسلے میں 14جنوری 2011 کو وہاں کے ایس ایس پی مسٹر اتم چند کو قرآن کا انگریزی ترجمہ اور دعوتی لٹریچر دیا گیا۔
6 - لوک سبھاٹی وی (نئی دہلی) نے 20 جنوری 2011 کو اس موضوع پر صدر اسلامی مرکز کا ایک انٹرویو ریکارڈ کیا:
Common Harmony
انٹرویو کے بعد ٹی وی کی ٹیم کے لوگوں کو دعوتی لٹریچر اور قرآن کا ترجمہ دیاگیا۔
7 - سی پی ایس انٹرنیشنل (نئی دہلی) کے وسیع ہال میں 4-5 فروری 2011 کو ایک اجتماع ہوا۔ یہ کشمیر دعوہ میٹ (Dawah Meet II: Kashmir Chapter) کا اجتماع تھا۔ اِس میں الرسالہ مشن سے وابستہ کشمیر کے 60 لوگوں نے شرکت کی۔ یہ کشمیر کے مختلف مقامات کے نمائندہ افراد کاایک اجتماع تھا۔ اِس میں علماء اور اعلیٰ تعلیم یافتہ لوگ موجود تھے۔ حاضرین کے تاثر کے مطابق، دعوتی اور تربیتی اعتبار سے یہ اجتماع بہت کامیاب رہا۔ اِس موقع پر مختلف لوگوں نے اپنے تاثرات بیان کئے۔ اُن میں سے کچھ تاثرات یہاں مختصراً نقل کئے جاتے ہیں:
ک دعوہ میٹ جس کا اہتمام الرسالہ فورم (کشمیر )کے تعاون سے کیا گیاتھا، ایک تاریخی اجتماع تھا۔ اس دعوتی اجتماع کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہوا کہ کشمیریوں کو الرسالہ مشن کے داعیٔ اوّل اور اس دور کے مجدد مولانا وحید الدین خاں صاحب سے براہِ راست استفادہ کا قیمتی موقع نصیب ہوا۔ اس اجتماع میں مولانا نے براہِ راست کشمیر یوں کو مخاطب کیا اور اُن کی اصل حیثیت اور ذمہ داریوں سے آگاہ کیا۔ مولانا کے بقول، کشمیر میں سخت حالات کے بطن سے ایک دعوہ اکسپلوژن ہونے والا ہے۔ کشمیریوں کے لیے ایک نادر موقع ہے کہ وہ آگے بڑھ کر اس موقع کو استعمال کریں اور اس عظیم امکان کو واقعہ بنائیں۔ اس اجتماع میں مولانانے نہایت اعلیٰ پایہ کے خطابات فرمائے جن سے سامعین کے لیے کشمیر میں کام کے راستے واضح ہوگئے۔ سی پی ایس دہلی کے ممبران نے ہر پہلو سے نظم وضبط اور اعلیٰ کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔ میں خدا سے دست بہ دعا ہوں کہ وہ ہم کواخوانِ رسول کی جماعت میں شامل فرمائے۔(نذیر الاسلام، پلوامہ، کشمیر)
ک اس طرح کی میٹنگ میں شمولیت میرے لیے ایک نیا اور انوکھا تجربہ تھا۔ ’’اگر قرآن مجھے بھی ملا نہ ہوتا تو آج میں آپ کے بیچ نہ ہوتا‘‘۔ مسٹر رجت ملہوترا نے جب یہ الفاظ کہے تو میری انکھوں سے آنسو جاری ہوگئے۔ میں کافی دیر تک اپنے آپ کو سنبھال نہ سکا۔ قرآن کو اپنے غیر مسلم بھائیوں تک پہنچانے کو ہم قرآن کی توہین سمجھتے ہیں۔ اِسی منفی نفسیات نے ہم کو دعوتی مشن سے اندھیرے میں رکھا ہے۔ اِس میٹ سے ہم کوکشمیر کو حقیقی اسلامی کشمیر بنانے کا آغاز مل چکا ہے، جب پتھر کے بدلے کشمیری نوجوانوں کے ہاتھ میں اپنے مدعوکے لیے قرآن ہوگا۔ (مجتبی حسین، سری نگر، کشمیر)
ک یہ دعوہ میٹ کشمیرکی اصل تحریک کو صحیح راستے پر لانے کے لیے سنگ میل کی حیثیت رکھتی ہے۔ شاہ ہمدان نے بے پناہ قربانی دے کر کشمیریوں کو جو تحریک دی تھی، واقعی اس سے انحراف ہوا ہے۔ اللہ کا شکر ہے کہ آج اپنے محسن کے عظیم مشن کی تجدید کے لیے کشمیریوں کی ایک ٹیم ابھر رہی ہے۔ مجھے ایسا محسوس ہو رہا ہے کہ تاریخ پھر ایک بار دہرائی جارہی ہے۔جس مشن کو شاہ ہمدان نے کشمیر میں پھیلایا، اِس میٹ کے ذریعے اب اس کے امکانات ہم پر اس قدر روشن ہوگئے ہیں کہ کشمیریوں کو اسے پوری دنیا میں پھیلانے کا موقع کھل گیاہے۔ (حمید اللہ حمید، بیروہ، کشمیر)
ک الرسالہ مشن نے جو خاص نعمت مجھے عطا کی، وہ مثبت سوچ ہے۔ پہلے میں قوم پرستی کے جذبات میں جی رہا تھا اور میں اپنے مدعو کو اپنا دشمن سمجھ رہا تھا ،لیکن الرسالہ نے مجھے یہ فکرعطا کی کہ تمھارا مدعو تمھیں جنت میں لے جائے گا۔ پہلے میرا مسئلہ، میری قوم کا مسئلہ تھا ،اب یہ آخرت کا مسئلہ بن گیا ہے۔ الرسالہ نے مجھے نئی فکر دی، یعنی غیر مسلم بھائیوں تک اللہ کا کلام پہنچانا۔ الرسالہ مشن سے مجھے خود کی دریافت (discovery) ہوئی اور اب میں مدعو کی خیرخواہی میں جی رہا ہوں، اور اسی پر اپنا خاتمہ چاہتا ہوں۔مولانا وحید الدین خاں صاحب عصر حاضر کے امام ہیں اور ان کی فکر فطرت کی آواز ہے اوراِسی میں پوری انسانیت کی نجات ہے۔ (شفیع احمد ڈار، ہنڈوارا، کشمیر)
ک To be quite honest, I've never had such an experience in my entire life. I still remember each and every word of Maulana sahab. This conference helped me to bring a transformation in my life and freed my mind and soul from the captivity of negativity. The most striking point was "The Revival of Shah Hamadan Mission”. It created a storm within my mind and motivated me to dedicate my life for the mission. (Mohammad Ismail Bhat, Anantnag, Kashmir)
ک I appreciate you & your organizers for conducting such impressive seminars highlighting the real issues of life. (Dr. Rafi, Srinagar, J&K)
ک Muslim Students Association of the University of Carleton and the University of Ottawa in Ottawa , Canada were going to hold "Islam Awarenes Week" separately during the months of February and March, 2011. On this occasion, at their request I loaded 3000 copies of Quran in a van and drove them to Ottawa. This journey of mine became my unique experience for two reasons: One, I felt myself very special carrying God’s word as someone feels carrying a message from the ruler of his country. Second, I was spiritually immersed while driving because I was listening to motivating proceedings of Kashmir Meet being held at New Delhi. I was immensely thanking Allah for giving me such opportunity to carry his message physically and at the same time participating in Dawah meet spiritually. (Khaja Kaleemuddin, USA)
8 - سہارن پور (یوپی) میں ہمارے ساتھی دعوتی کام کررہے ہیں۔ اس کی رپورٹ حسب ذیل ہے:
مولانا کلیم صدیقی (پھلت)’جامعہ سید سلیمان ندوی اینگلو عربک اسکول ‘کا افتتاح کرنے کے لیے 5 فروری 2011 کو سہارن پور تشریف لائے۔ اس پروگرام کی صدارت مولانا رائے پوری نے کی۔ اس میں لوگوں کو قرآن کا انگریزی ترجمہ اور دعوتی مٹیریل دیا گیا۔ دیگر علماء کے علاوہ مولانا کلیم صدیقی صاحب کو بھی صدر اسلامی مرکز کی کتابیں دی گئیں۔
9 - حکومت ہند کی جانب سے 6 فروری 2011 کو سہارن پور میں پدم شری بھارت بھوشن کی قیادت میں ایک آل انڈیا ’یوگا سیمنار‘ منعقد ہوا۔ اس میں ہندستان کے بہت سے وزرا، آئی ایس افسر، میڈیکل سائنس داں اور یوگا گرو شامل ہوئے۔ اس میں سبھی مہمانوں کو قرآن کا انگریزی ترجمہ اور صدر اسلامی مرکز کی کتابیں دی گئیں۔
10 - فادر ڈینئل مسیح (پریسٹ، سینٹ تھامس چرچ ،سہارن پور) نے 7 فروی 2011 کوبتایا کہ وہ قرآن کے جو نسخے سی پی ایس سے لے جاتے ہیں، وہ اس کوچرچ میں ان لوگوں کودیتے ہیں جو سچ مچ خدا سے ملنے کے لئے سنجیدہ ہیں۔ انھوں نے کہا کہ پہلے وہ سمجھتے تھے کہ عیسائی بنانا اچھی بات ہے لیکن مولانا کی کتابیں پڑھ کر ان کا نظریہ بدل گیاہے۔ اب وہ کہتے ہیں کہ اگر خدا کو دریافت کرنا ہے تو قرآن پڑھیے۔
11 - ایک عزیز کی والدہ کی تدفین میں ڈاکٹر محمد اسلم اور ان کے ساتھیوں کا 9 فروری 2011 کو رڑکی جانا ہوا۔ وہاں تدفین کے وقت قبرستان میں حاضرین کو دعوتی لٹریچر دیا گیا۔لوگوں نے اپنی پسندیدگی کا اظہار کیا اور کہا کہ ہم ای ٹی وی (اردو) پر مولانا کو سنتے ہیں۔ ان کی باتیں بہت زیادہ دانش مندی کی ہوتی ہیں اور یہ تنہا عالم ہیں جن کوتمام دنیا کے سبھی مذہب کے لوگ اسلام کے صحیح فکر کو جاننے کے لیے مدعو کرتے ہیں۔
12 - حکومت ہند کے شعبۂ تعلیم کی طرف سے 17 فروری 2011 کو ایک ایجوکیشنل کانفرنس شیوادل اسکول، ہری دوار (اتراکھنڈ) میں ہوئی۔اِس میں ایجوکیشنل ڈائرکٹر اور اتراکھنڈ اور مغربی یوپی کے تعلیم سے متعلق افرادکو مدعو کیا گیا تھا۔ اس پروگرام کے چئر مین سوامی شرد پوری تھے۔ یہاں لوگوں کوہندی اور انگلش پمفلٹ برائے مطالعہ دئے گئے۔ سوامی جی نے کہا کہ میں سارک ایکزی بیشن میں پاکستان گیا تھا۔ وہاں میں نے قرآن دیکھا، لیکن مجھے ہندو سوامی سمجھ کر قرآن دینے سے منع کردیا گیاتھا، لیکن آج میں قرآن پاکر بہت خوش ہوں ۔
13 - ڈاکٹر محمد اسلم خاں کی صاحب زادی ارم کے نکاح (20 فروری 2011 ) کے موقع پر شریک تمام مسلم اور غیرمسلم لوگوں کو قرآن کاترجمہ دیا گیا۔ لوگوںنے بہت شوق سے لیا۔ یہاں مہمان کی حیثیت سے آئے ہوئے فادر ڈینئل مسیح نے، جو سہارن پور کے سبھی گرجا گھروں کے صدر ہیں، کہا کہ کاش سبھی لوگ اسی طرح لوگوں کو قرآن پہنچائیں اور خدا کی کتاب ہر گھر میں داخل ہوجائے۔ انھوں نے آخر میں کہا کہ مجھے مولانا کی کتاب پرافٹ آف پیس اور قرآن پڑھنے سے روحانیت کا احساس ہوتا ہے، مجھے قرآن سے محبت ہے: I love Quran ۔
14 - سی پی ایس سہارن پور کی ٹیم نے 27 فروری 2011 کو پیس ہال میں ایک دعوتی میٹنگ کی جس میں بڑی تعداد میں غیر مسلم آئے۔ اس میں ایک غیر مسلم مسٹر سینی نے کہا— میں بہت دنوں سے یہ دعوتی میٹنگ اٹینڈ کررہاہوں۔ میں یہ بات دعوے کے ساتھ کہہ سکتا ہوں کہ پُنر جنم کی تھیوری تخیلاتی ہے۔ میٹنگ کے آخر میں سبھی لوگوں کو قرآن کا انگریزی ترجمہ دیاگیا۔ قرآن لینے والوں میں باغپت، بلند شہر، بجنور اور سہارن پور کے غیر مسلم شامل تھے۔
15 - راشٹریہ سہارا (اردو) کی فرمائش پر دہلی اور بنگلور ایڈیشن کو سیرتِ رسول کے موضوع پر 18 فروری 2011 اور 25 فروری 2011 کو صدر اسلامی مرکز کا ایک مضمون بھیجا گیا۔ اِس کا عنوان یہ تھا — پیغمبر اسلام: شخصیت کے چند پہلو۔ اس مضمون کو دونوں اخباروں نے نمایاں طور پر شائع کیا۔
16 - جواہر نوودے ودیالیہ (پورنیہ، بہار) کے ایک ٹیچر مسٹر آفتاب انجم 10 فروری 2010 کو دفتر میں آئے۔ وہ الرسالہ کے مستقل قاری ہیں۔ اُن کے ساتھ 8 غیر مسلم طلبا تھے۔ صدراسلامی مرکز نے اِن طلبا سے آدھ گھنٹہ تربیتی موضوع پر بات کی۔ اِن لوگوں کو قرآن کا انگریزی ترجمہ اور دعوتی لٹریچر دیاگیا۔
17 - پاکستان (اسلام آباد) کے دنیا ٹی وی چینل نے 12 فروری 2011 کو صدر اسلامی مرکز کا ایک ویڈیو انٹرویو ریکارڈ کیا۔ اِس کے اینکر ڈاکٹر منیر احمد تھے۔ انٹرویو کا موضوعتھا — رحمۃ للعالمین اور ہمارا دعوتی کردار۔ یہ ایک گھنٹے کا پروگرام تھا۔ یہ پروگرام بعد کو ٹی وی پرنشر کیاگیا۔ چینل کے مطابق، پاکستان میں اِس پروگرام کو بے حد پسند کیا گیااور ناظرین نے کہا کہ ہمارے مسائل کے لیے اگر کوئی قابلِ عمل رہنمائی ممکن ہے تو وہ صرف الرسالہ کے فکر میں ہے۔ پاکستان میں بڑے پیمانے پر الرسالہ اور الرسالہ لٹریچر پھیل رہا ہے۔ پاکستان کے مختلف مقامات پر وہاں کے لوگ ہزاروں کی تعداد میں ہر ماہ الرسالہ اور مطبوعاتِ الرسالہ چھاپ کر لوگوں کے درمیان اس کو پھیلا رہے ہیں۔
18 - برطانیہ کی کنزرویٹیو پارٹی کی پہلی مسلم منسٹر (Cabinet Minister)مز سعیدہ وارثی کو قرآن کا انگریزی ترجمہ اور پرافٹ آف پیس بذریعہ ڈاک روانہ کی گئی۔ کتابیں ملنے پر ان کے دفتر (لندن) سے 15 فروری 2011 کو ایک خط ملا۔ اس خط کا ایک حصہ یہاں نقل کیا جاتا ہے:
I am writing on behalf of Saeeda Baroness Warsi to thank you for the enclosed books. Baroness Warsi looks forward to reading both “The Prophet of Peace” and Maulana Wahiduddin Khan’s translation of the Holy Quran (Gulsum Aytac, Office of the Party, Co-chairman)
19 - آل انڈیا ریڈیو (اردو) پر 16 فروری 2011 کو ڈاکٹر فریدہ خانم کی ایک تقریر نشر کی گئی۔یہ آدھ گھنٹے کی تقریر تھی۔ اِس تقریر کا موضوع تھا ’’اسلام میں خواتین کا مقام‘‘۔
20 - غالب اکیڈمی (نظام الدین، نئی دہلی) میں 21 فروری 2011 کو تنظیم ابنائِ قدیم دار العلوم دیوبند کی طرف سے ایک آل انڈیا کنونشن ہوا۔ اِس موقع پر سی پی ایس (نئی دہلی) کی طرف سے حاضرین کو دعوتی لٹریچر دیاگیا۔
21 - فلسطین کے کنونشن سنٹر(یروشلم) میں 20-25فروری 2011 کو ایک انٹرنیشنل بک فئر (Jerusalem International Book Fair)ہوا۔ اِس بک فئر میں گڈر ورڈ بکس (نئی دہلی) نے بھی اپنا اسٹال لگایا۔یہاں بڑی تعداد میں وزٹرس آئے۔ اِس موقع پر فلسطین کے یہودی اور مسیحی لوگوں کو بڑے پیمانے پر قرآن کا انگریزی ترجمہ اور دعوتی لٹریچر دیا گیا۔ مسجد اقصیٰ کے قریب ایک بڑے ہوٹل میں قرآن کا اسٹینڈ رکھاگیاہے۔یہاں سے بڑی تعداد میں غیر مسلم زائرین قرآن کا ترجمہ حاصل کررہے ہیں۔یہاں چند وزٹرس کے تبصرے (comments) نقل کئے جاتے ہیں:
“I would love to have it, I don’t have one”.
“A prize no one can refuse.”
“It will be an excitement, wish you a success.”
“I would very much like to read it. In fact I have a friend who would be interested in it too, can I take another copy.”
“I got it, you gave me last year, thank you”
“We should read the Quran sometimes to know what the real Islam is, thank you”
“Thank you, excellent, I will take it home and I promise to read it”
“Thank you, it’s worth coming”
“It’s my best bargain of the afternoon.”
“It is important to know each other”
اِس سفر کے دوران گڈورڈ بکس کے نمائندے نے دو دن ترکی میں قیام کیا۔ وہاں انھوں نے زائرین کو قرآن کا انگریزی ترجمہ دیا اور ایک جامع مسجد میں جہاں کثرت سے زائرین آتے ہیں، وہاں کے ذمے دار سے مل کر مسجد میں مستقل طورپر قرآن کا انگریزی ترجمہ رکھوانے کا انتظام کیا۔ یہاں سے غیر مسلم زائرین قرآن کا ترجمہ حاصل کرسکیں گے۔
22 - مسٹر عادل محمد (حیدرآباد) 24 فروری 2011 کو اپنی ٹیم کے ساتھ اسلامی مرکز میں آئے۔ انھوں نے اپنے خصوصی پروگرام ’’ہم بدلیں گے، دیش بدلے گا‘‘ کے موضوع پر صدر اسلامی مرکز کا ایک تفصیلی انٹرویو ریکارڈ کیا۔ بعد کو یہ پروگرام ای ٹی وی (اردو) پر وقفے وقفے سے تین ہفتے تک دکھایا گیا۔
23 - دوحہ (قطر) میں ایک عرب مسٹر سعید کو 25 فروری 2011 کو قرآن کا انگریزی ترجمہ، ریلٹی آف لائف اور پرافٹ آف پیس پر مشتمل ایک کارٹن بھیجا گیا ہے۔ مسٹر سعید قطر میں دعوتی لٹریچر پھیلا رہے ہیں۔
24 - سی پی ایس کی ٹیم کے ذریعے رڑکی میں دعوتی کام جاری ہے۔ اس کی رپورٹ یہاں درج کی جاتی ہے:
The Quran, The Prophet of Peace and other Dawah literature were given as New Year (2011) gifts to influential and intellectual personalities of the locality. They include:
ک Two local MLAs of Uttrakhand, Mr. Suresh Jain [BJP] and Chaudhary Yashweer Singh;
ک Professors from IIT and Retd. Army officers
ک COOs of companies — Mr. R. Shelly (AIS Glass Solutions) and Mr. P S Shirodkar (Glass Tech)
ک Rev. Dr. Dayal M Lall of Roorkee Churches;
ک Principal of St. Ann’s school
The Quran is being spread through various book shops in Roorkee as well as in Dehradun. Some of the prominent shops are Cambridge Book Depot and Jain News Agency in Roorkee and The English Book Depot and Natraj Publishers in Dehradun. (Sajid Anwar)
25 - یورپ کے مختلف ملکوں میں سی پی ایس قرآن کا انگریزی ترجمہ پہنچایا جارہا ہے:
In Europe Brother Husnu Evren and Brother Alper have taken up the responsibility to dispatch the Quran to requesters from the continent. So far many requests have been dispatched. (Sajid Anwar, Mumbai)
A new trend has been observed in the Roorkee region: people are themselves asking for Dawah literature and the Quran, (Sajid Anwar, Roorkee, Uttarakhand)
26 - قرآن کا انگر یزی ترجمہ غیر مسلموں کے درمیان پھیلایا جارہا ہے۔ دو تاثرات ملاحظہ ہوں:
I am very happy to receive the Quran. I carefully read the book and will continue to send it’s massage to others. (Sachin Kumar, Delhi)
I am a Tunisian writer preparing at the moment a English-French-Arabic dictionary of Islam for a publishing house in Lebanon. I have used your English translation of the Quran to prepare the dictionary. In my opinion, the translation by Maulana Wahiduddin Khan is the best of all the translations. (Tarek Abdaoui, Tunisia)
27 - ٹائمس آف انڈیا (نئی دہلی) میں صدر اسلامی مرکز کے مضامین پر چند تاثرات ملاحظہ ہوں:
I salute our esteemed Maulana Wahiduddin Khan for such an outstanding article on Blasphemy He is one of the greatest intellectual leaders of our time. (Tarannum Riyaz, Punjab).
I read the article and am really in awe of this great scholar, we are blessed to have amidst us in these trying times. (Usha Chandra, Secretary, Development Communication, India)
I have read your message “Of Strangers And Friends” in the Speaking Tree Column of The Times of India.( Jan 28, 2011) With every message I read I feel a great deal of bonding with you and the ideals for which you are devoting your life. (Naresh Garg, Delhi)
28 - انگریزی اخبار اور میگزین میں صدر اسلامی مرکز کے مطبوعہ مضامین کی تفصیل حسب ذیل ہے:
Blasphamy and the Islamic Way, Jan 10, 2011 (The Times of India)
Islam Believes in Freedom, Jan, 17, 2011 (India Today)
Of Strangers And Friends, Jan 28, 2011 (The Times of India)
Be Patient, Jan, 29, 2011 (The Times of India)
29 - رومانیہ (یورپ) کے ایک گروپ نے وہاں کی مقامی زبان میں صدر اسلامی مرکز کے دعوتی لٹریچر کا ترجمہ کرے اس کو پھیلانے کا ارادہ کیاہے۔ اِس سلسلے میں ان کو دعوتی لٹریچر اور قرآن کا انگریزی ترجمہ روانہ کردیا گیا ہے۔
30 - سی پی ایس (نئی دہلی) کے ممبران کے مطبوعہ مضامین کی تفصیل حسب ذیل ہے:
Prophet Said be Realistic- Maria Khan, The Times of India, Sep. 9, 2010
Journey of Self-Discovery- Sadia Khan, The Times of India, Feb. 9, 2011
Open Heart, Open Mind- Stuthi Malhotra, The Speaking Tree, Feb. 6, 2011
Keep Your Cool- Raazia Siddiqui, The Speaking Tree, Feb. 27, 2011
31 - نئی دہلی کے ٹی وی چینل زی سلام کے تحت، صدر اسلامی مرکز کے پروگرام ’’اسلامی زندگی‘‘ کی ریکارڈنگ ہورہی ہے۔ یہ پروگرام روزانہ ٹی وی پر نشر ہوتے ہیں۔ اِس پروگرام میں پہلے موضوع کا مختصر تعارف ہوتا ہے، اس کے بعد حاضرین کی طرف سے سوالات ہوتے ہیں۔ یہ پروگرام دنیا کے مختلف ملکوں میں دیکھا جاتا ہے۔ چینل کے فیڈ بیک کے مطابق، زی سلام کے اردو پروگراموں میں یہ پروگرام نمبر ایک پر ہے، وہ سب سے زیادہ پسند کیا جاتا ہے۔جنوری-فروری 2011 کے پروگراموں کی تفصیل ان کے موضوعات کے ساتھ یہاں درج کی جاتی ہے:
ک مذہب اور انسانی زندگی، حجاب کا اسلامی تصور، عورت معمارِ انسانیت (یکم جنوری 2011 )
ک سادگی کی اہمیت، حب وطن اور اسلام، روز مرہ کی زندگی اور اسلام (7 جنوری 2011 )
ک اسلام اور ماڈرن کلچر، مثبت شخصیت کی تعمیر، آخرت ایک ابدی زندگی (18 جنوری 2011 )
ک خدا اور انسان، سچائی کی تلاش، کائنات میں انسان کا مقام (25 جنوری 2011 )
ک اسوۂ رسول، رسولِ رحمت، عصر حاضر میں سیرت رسول کی معنویت (8 فروری 2011 )
ک اسلام دورِ جدید میں، تصوف اور اسلام، مسلمان اور جدید چیلنج (17 فروری 2011 )
ک تزکیہ نفس، مذہب اور سائنس، اسلام میں جنت کا تصور (22 فروری 2011 )
32 - سی پی ایس کے ایک ساتھی مسٹر رجت ملہوترا نے انڈیا کے 200 مختلف مدارس اور علماء کے نام اپنی طرف سے ایک سال (2011) کے لیے الرسالہ جاری کرایا ہے۔ اللہ تعالیٰ ان کو جزائے خیر عطا فرمائے۔
واپس اوپر جائیں

Tuesday, 1 March 2011

Al Risala | March 2011 (الرسالہ،مارچ)

2

-اللہ سے محبت

3

- جنت کا استحقاق

4

- ہدایت اورضلالت

5

- سب سے بڑی یقین دہانی

6

- گروہی ہدایت

7

- تدبر قرآن

8

- مذہبی مضاہاۃ، سیاسی مضاہاۃ

10

- قومی مذہب

11

- قرآن فاتحِ عالم

12

- جہاد کیا ہے

13

- ابنِ تیمیہ کا موقف

14

- احیائِ اسلام

15

- مسلم تاریخ کے تین دور

16

- امتِ محمدی کی ذمے داری

17

- دعوت، دعا

18

- مطالباتی سیاست کا نقصان

19

- غیر ِ خدا میں جینا

20

- رزرویشن کے بغیر

21

- ڈی کنڈیشننگ کا طریقہ

22

- اتباعِ یہود کا کیس

26

- حق کی تلاش

27

- افرادِ کار کی تیاری

28

- شتمِ رسول کا مسئلہ

32

- تحفظِ نبوت، تحفظِ کارِ نبوت

33

- اعتماد کی اہمیت

34

- کھونے میں پانا

35

- صحیح مشورہ، غلط مشورہ

36

- ایک عام کمزوری

37

- سوال وجواب

38

- خبرنامہ اسلامی مرکز


اللہ سے محبت

قرآن کی سورہ البقرہ میں بتایا گیا ہے کہ اللہ پر ایمان لانے والے، اللہ سے شدید محبت رکھتے ہیں (2: 165)۔ اِس آیت میں محبت ِ الٰہی سے کیا مراد ہے۔ صوفیا اس کو عشقِ الٰہی کے معنی میں لیتے ہیں۔ علماء کا عام طور پر ماننا یہ ہے کہ محبتِ الٰہی سے مراد اطاعتِ الٰہی ہے۔ مگر اِن دونوں تفسیروں میں محبت کا اصل مفہوم نہیں آتا۔ محبت دراصل کسی کے ساتھ نہایت گہرے قلبی میلان کا نام ہے، یعنی :
Strong affection, deep emotional attachment.
اللہ کے ساتھ یہ گہرا قلبی میلان اُس انسان کے اندر پیدا ہوتا ہے جو اللہ کے اعلیٰ انعامات کو شعوری طور پر دریافت کرے۔ اللہ نے انسان کو پیدا کیا جب کہ اس کا کوئی وجود نہ تھا (19: 9)۔ اللہ نے انسان کو بہترین صورت عطا فرمائی(40: 64) ، اللہ نے انسان کو اپنی صورت پر بنایا (خلق اللہ آدم علی صورتہ)۔ انسان کو اللہ نے رہنے کے لیے زمین دی، جہاں استثنائی طورپر اس کی ضرورت کی تمام چیزیں موجود تھیں، انسان کے لیے اللہ نے جنت کی صورت میں ایک معیاری دنیا (perfect world) بنائی، انسان کے لیے اللہ تعالی ٰ نے ایک معیاری جنت بنائی، جہاں اس کو پورا فل فلمینٹ حاصل ہو۔ اللہ نے انسان کو عقل دی جو حدیث کے مطابق، تمام مخلوقات میں سب سے زیادہ اکرم واشرف چیز ہے (ما خلق اللہ خلقاً أکرم علیہ من العقل)، اللہ نے انسانوں کے اندر استثنائی طورپر مودَّت پیدا کی جس کی وجہ سے خاندان اور سماج جیسی چیز وجود میں آتی ہے (30: 21) ۔ اِن سب پر مزید یہ کہ اللہ نے انسان کو استثنائی طور پر شعور دیا جس سے وہ انعامات ِ الٰہی کو جانے۔اللہ نے استثنائی طورپر انسان کو احساسِ لذت (sense of pleasure) دیا، جس سے وہ انعامات سے پوری طرح محظوظ ہوسکے۔
اِس طرح کے بے شمار انعامات ہیں جو اللہ نے انسان کو عطا کیے ہیں۔ جب آدمی اِن بے شمار انعاماتِ الٰہی کو سوچتا ہے تو ا س کے اندر وہی کیفیت پیدا ہوتی ہے جس کو قرآن میں حبِّ شدید (2: 165) کے الفاظ میں بیان کیاگیا ہے۔
واپس اوپر جائیں

جنت کا استحقاق

قرآن کی سورہ ابراہیم میں ارشاد ہوا ہے: لئن شکرتم لأزیدنکم (14: 7) یعنی اگر تم دنیا میں اللہ کے عطیات پر شکر کروگے تو تم کو آخرت میں خدا کے عطیات دئے جائیں گے۔
حقیقی شکر سب سے بڑا عمل ہے۔ شکر تمام عبادات کا خلاصہ ہے۔ جو آدمی دنیا کی زندگی میں حقیقی معنوں میں شکر گزاری کا ثبوت دے، وہ آخرت میں دوبارہ خدا کی نعمتوں سے سرفراز کیاجائے گا۔ حقیقی شکر کسی آدمی کو جنت کا مستحق بناتا ہے۔ جنت میں صرف اعلیٰ روحیں داخل کی جائیں گی، اور اعلیٰ روح وہ ہے جو حمد اور شکر کی کیفیات سے بنی ہو۔ اِس اعلیٰ روح کو جنت کے ابدی باغوں میں بسایا جائے گا۔
قرآن میں بتایا گیا ہے کہ جنت والے جب جنت میں داخل کر دئے جائیں گے تو وہ کہیں گے: الحمد للہ الذی أذہب عنا الحزَن(35: 34) یعنی اللہ کا شکر ہے جس نے حزن کو ہم سے دو رکردیا۔
دنیا کی زندگی میں ہر آدمی کا ایک لمحۂ حزن یا زمانۂ حزَن ہوتا ہے۔ اس کے بعد وہ وقت آتا ہے جب کہ وہ اس حزن (sorrow)سے محفوظ ہوجاتا ہے۔ جو آدمی اپنے اِس زمانہ حزن کو اور پھر زمانہ فرحت کو دریافت کرے اور پھر وہ یہ کہہ اٹھے کہ خدایا، تونے دنیا میں میرے حزن کو دور کردیا، اِسی طرح تو آخرت میں میرے حزن کو دور کردے۔ جوآدمی سچے احساس کے ساتھ یہ بات کہے تو یہ بات اس کے لیے ان شاء اللہ جنت میں داخلے کا ٹکٹ بن جائے گی۔ دنیا کی نعمتوں کا اعتراف اس کو آخرت کی نعمتوں کا مستحق بنادے گا۔
اِس قسم کا قول کوئی سادہ قول نہیں۔ اِس کے لیے گہری شعوری بیداری درکار ہے۔ جوآدمی اپنے اندر اِس قسم کی شعوری بیداری پیدا کرے، اُسی کے دل سے اِس قسم کے کلمات نکلتے ہیں جو اس کے لیے جنت میں داخلے کا استحقاق بن جائیں۔ گہری شعوری بیداری کے بغیر کسی شخص کو یہ توفیق ملنے والی نہیں۔
واپس اوپر جائیں

ہدایت اورضلالت

قرآن کی سورہ الاعراف میں ارشاد ہوا ہے: وإن یروا سبیلَ الرُّشدِ لا یتخذوہ سبیلاً، وإن یروا سبیل الغیِّ یتخذوہ سبیلاً (7:146) یعنی اُن کا حال یہ ہے کہ اگر وہ ہدایت کا راستہ دیکھیںتو وہ اُس کو نہ اپنائیں گے اور اگر وہ گم راہی کا راستہ دیکھیں تو وہ اس کو اپنا لیں گے۔
اِس آیت میں جو بات کہی گئی ہے، اُس کا تعلق کسی خاص قوم سے نہیں ہے، بلکہ اس کا تعلق اہلِ کتاب گروہ کی حالتِ زوال سے ہے۔ جب کوئی قوم یا امت اِس حال کو پہنچتی ہے تو اس کے اندر زوال یافتہ نفسیات پیدا ہوجاتی ہے۔ اُس کا ذہن وہی بن جاتا ہے جس کا ذکر مذکورہ آیت میں کیاگیا۔
ایسی قوم غیر حقیقت پسندانہ افکار وخیالات میں جینے لگتی ہے۔ اس بنا پر ایسے لوگ اس کے درمیان مقبول ہوجاتے ہیں جو ہائی پروفائل(high profile) میں بولتے ہوں، لو پروفائل (low profile) میں بولنے والا آدمی ان کے درمیان مقبول نہیں ہوتا۔ ایسے لوگ خود احتسابی (introspection) کو پسند نہیں کرتے، البتہ دوسروں کے خلاف بولنا ان کا محبوب مشغلہ بن جاتا ہے۔ پر امن کام ان کی سمجھ میں نہیں آتا۔ اِ س کے برعکس، تشدد اور ٹکراؤ کی باتیں ان کو بہت اپیل کرتی ہیں۔ دوسروں کا خیر خواہ ہونااُن کے لیے اجنبی بن جاتا ہے۔ وہ اُن لوگوں کی باتوں کو بہت شوق سے سنتے ہیں جو انھیں دوسروں کے ظلم اور سازش کی کہانیاں سنائیں۔ ان کو عمل اور جدوجہد سے رغبت نہیں ہوتی، اِس لیے وہ مطالباتی نعروں کے پیچھے دوڑنے لگتے ہیں، وغیرہ۔
یہ سب زوال یافتہ نفسیات کے مظاہر ہیں۔ جو قوم بھی زوال کی حالت کو پہنچ جائے، اس کا انجام یہی ہوگا، خواہ وہ یہود ہوں یا مسلمان۔ زوال یافتہ نفسیات لوگوں کے اندر بے عملی اور جذباتیت کا مزاج پیدا کردیتی ہے۔ یہی وہ لوگ ہیں جن کو رُشد (ہدایت) کی بات اپیل نہیں کرتی، البتہ غیّ (گمراہی) کی بات کی طرف وہ تیزی سے دوڑتے ہیں۔ ایسے لوگ کبھی خدا کی رحمتوں میں حصہ پانے والے نہیں۔ ایسی قوم کی اصلاح کا آغاز صرف یہ ہے کہ اس کے اندر اپنی حالت پر نظر ثانی کا مزاج پیدا کیا جائے۔
واپس اوپر جائیں

سب سے بڑی یقین دہانی

قرآن کی سورہ الحجر میں پیغمبر کو خطاب کرتے ہوئے ارشاد ہوا ہے: فاصدع بما تُؤمر وأعرض عن المشرکین۔ إنا کفیناک المستہزئین (15: 94-95) یعنی جس چیز کا تم کو حکم دیاگیا ہے، اُس کو تم واضح طور پر لوگوں کو سنادو، اور مشرکوں سے اعراض کرو۔ ہم تمھاری طرف سے استہزا کرنے والوں کے لیے کافی ہیں۔قرآن کی یہ آیت پیغمبر کے واسطے سے ہر اُس شخص کو خطاب کررہی ہے جو پیغمبر کے طریقے پر دعوت الی اللہ کا کام کرے۔ خدا نے نصرت کا جو خصوصی وعدہ اِس آیت میں پیغمبر سے کیا ہے، وہی وعدہ یکساں طورپر ہر داعی کے لیے بھی ہے۔ جو داعی بھی قرآن میں بتائی ہوئی شرطوں کو پورا کرے گا، وہ اِس وعدۂ الٰہی کا مستحق بن جائے گا، استہزا (mockery) کرنے والوں کا استہزا کچھ بھی اس کے دعوتی مشن کو نقصان نہیں پہنچائے گا۔
قرآن میں بتائی ہوئی یہ شرطیں دو ہیں —ایک، کسی کمی یا بیشی کے بغیر پیغمبرانہ دعوت پر کھڑا ہونا۔ دوسرے، مخالفین کی منفی باتوں سے مکمل طورپر اعراض کرنا۔ داعی اگر یہ دوشرطیں پوری کردے تو بلاشبہہ وہ مذکورہ نصرتِ الٰہی کا مستحق بن جائے گا۔
نصرت کا یہ معاملہ کوئی پراسرار معاملہ نہیں ہے۔ اصل یہ ہے کہ جب حق کو اُس کی خالص صورت میں پیش کیا جائے تو لوگوں کو وہ اُن کی فطرت کے عین مطابق نظر آتا ہے۔ لوگوں کا خوداپنا دل گواہی دینے لگتا ہے کہ یہ بلاشبہہ سچائی ہے۔ ایسی حالت میں، داعی اگر مخالفین سے نہ الجھے تو گویا کہ وہ مخاطَبین کو موقع دیتا ہے کہ وہ اپنی فطرت کی آواز کو کسی رکاوٹ کے بغیر سنتے رہیں۔ اِس طرح یہ ہوتا ہے کہ داعی جو جواب لوگوں کو دینا چاہتا ہے، وہ زیادہ بہتر طورپر مخاطبین کی خود اپنی فطرت کی طرف سے اُن کو مل جاتا ہے۔ یہی مطلب ہے اِس کا کہ —اگر تم اعراض کرو تو اللہ تمھاری طرف سے استہزا کرنے والوں کے لیے کافی ہوجائے گا۔ یہ داعی کے لیے اُس کے مشن کے سلسلے میں ایک ایسی یقین دہانی (assurance) ہے جس سے بڑی یقین دہانی بلاشبہہ اور کوئی نہیں ہوسکتی۔
واپس اوپر جائیں

گروہی ہدایت

قرآن کی سورہ البقرہ میںارشاد ہوا ہے: وقالوا کونو ہوداً أو نصاریٰ تہتدوا، قل بل ملّۃ إبراہیم حنیفاً، وما کان من المشرکین (2:135) یعنی وہ کہتے ہیں کہ یہودی یا نصرانی بن جاؤ تو ہدایت پاؤ گے۔ کہو کہ نہیں، بلکہ ابراہیم کا دین (اختیارکرو) جو اللہ کی طرف یکسو تھا، اور وہ شریک کرنے والوں میں نہ تھا۔
قرآن کی اِس آیت میں بتایا گیا ہے کہ کوئی امت جب اپنے دورِ زوال (de-generation) میں پہنچتی ہے تو اس کا کیا حال ہوتا ہے۔ ایسی امت ہدایت (guidance) کو گروہ (community) سے وابستہ کردیتی ہے، نہ کہ اصولی تعلیمات سے۔ یہود ونصاریٰ کا یہی حال اپنے دورِ زوال میں ہوا۔ انھوں نے گروہ کو دین کے ہم معنیٰ سمجھ لیا۔ ان کا عقیدہ یہ ہو گیا کہ وہ ایک نجات یافتہ گروہ ہیں، ہدایت کا معیار یہ ہے کہ آدمی اُن کے گروہ کے ساتھ وابستہ رہے۔ مذکورہ آیت میں ملتِ ابراہیم سے مراد دین ابراہیم ہے۔ گویا کہ یہاں تقابل گروہی ہدایت اور اصولی ہدایت کے درمیان کیاگیا ہے۔
اِس اصول کا تعلق صرف قدیم امتوں، یہودونصاریٰ، سے نہیں ہے، بلکہ بعد کی امت، مسلم امت، بھی یکساں طورپر اس کی مخاطب ہے۔ مسلم امت اگر شعوری یا غیر شعوری طورپر یہ سمجھ لے کہ مسلمان اور اسلام دونوں ایک ہیں۔ وہ یہ عقیدہ بنالے کہ صرف گروہی اعتبار سے جو لوگ مسلم جماعت میں شامل ہیں، وہ اپنے آپ ہدایت پر ہیں اور اُن کے لیے نجات یقینی ہے تو یہ عقیدہ بھی اتنا ہی زیادہ غلط ہوگا جتنا کہ یہودیوں اور مسیحیوں کا عقیدہ۔
خدا کا دین ہمیشہ اصول پر قائم ہوتا ہے، یعنی اللہ سے شدید محبت اور اللہ سے شدید خوف۔ جو لوگ اپنی زندگی میں اِس اصول کو پوری طرح اختیار کریں، وہ خدا کے یہاں ہدایت یاب قرار پائیںگے۔ کسی نسلی جماعت یا کلچرل گروہ سے وابستہ ہونا ہدایت یاب ہونے کا ثبوت نہیں۔ ہدایت کا یہی معیار (criterion)ماضی کے لیے بھی ہے اور ہدایت کا یہی معیارحال کے لیے بھی۔
واپس اوپر جائیں

تدبر قرآن

قرآن کی سورہ ص میں بتایا گیا ہے کہ: کتاب أنزلناہ إلیک مبارک لیدبَّروا اٰیاتہ ولیتذکر أولو الألباب (38: 29) یعنی یہ قرآن ایک بابرکت کتاب ہے جو ہم نے تمھاری طرف اتاری ہے، تاکہ لوگ اس کی آیتوں پر غور کریں اور تاکہ عقل والے اُس سے نصیحت حاصل کریں۔
اِس آیت میں تدبر سے مراد تفکر ہے۔ تفکر کیا ہے، تفکر دراصل عقل کو استعمال کرنے کا دوسرا نام ہے۔ اِس کا مطلب یہ ہے کہ قرآن کو پڑھتے ہوئے اپنی عقل کو کھلا رکھو، کیوں کہ عقلی غور وفکر کے ذریعے ہی کسی کو قرآن سے معنوی نصیحت ملتی ہے، نہ کہ محض لفظی تلاوت سے۔
اِس کا طریقہ یہ ہے کہ آدمی جب قرآن کی تلاوت کرے تو اُس وقت وہ اپنی عقل کو استعمال کرتے ہوئے اس کی تلاوت کرے۔ اسی طرح جب وہ نماز میں قرآن کا کوئی حصہ پڑھے تو وہاں بھی وہ اپنی عقل و فہم کو کھلا رکھتے ہوئیقرآن کی تلاوت کرے۔
کوئی شخص جب اِس طرح قرآن کی تلاوت کرے گا تو بار بار ایسا ہوگا کہ قرآن کی کوئی آیت یا قرآن کا کو ئی لفظ اس کی عقل کو اسٹرائک (strike) کرے گا۔ ایسے موقع پر آدمی کو چاہیے کہ وہ ٹھہر کر اُس پر غور کرے۔ اِس طرح اس کو قرآن سے نصیحت کی غذا ملتی رہے گی۔
مثال کے طورپر قرآن کو پڑھتے ہوئے یہ آیت آپ کے سامنے آئی: فأثابہم اللہ بما قالوا جنات تجری من تحتہا الأنہار (5: 85) ۔ اِس آیت کو پڑھتے ہوے آپ کو یہ حدیث یاد آئی: مَن قال لا إلٰہ إلا اللہ، دخل الجنۃ ( الطبرانی، رقم الحدیث: 2447 )۔
اس کے بعد آپ نے سوچا کہ دونوں آیتوں میں مطابقت کیا ہے ۔ پھر غور کرنے کے بعد آپ کی سمجھ میں آئے گا کہ حدیث میں جس ’’قول‘‘ کا ذکر آیا ہے، اس کی تشریح قرآن سے ہوتی ہے، یعنی حدیث میں جس قول پر جنت کا وعدہ کیاگیا ہے، اُس سے مراد قولِ معرفت ہے، نہ کہ محض لفظی قول۔ یہی وہ چیز ہے جس کو تدبر اورتفکر (contemplation) کہاگیا ہے۔
واپس اوپر جائیں

مذہبی مضاہاۃ، سیاسی مضاہاۃ

یہود ونصاریٰ اپنے دورِ زوال میں جن برائیوں میں مبتلا ہوئے، اُن میں سے ایک برائی وہ ہے جس کو قرآن میں مُضاہاۃ (9: 30) کہاگیا ہے۔ مضاہاۃ کے لفظی معنی مشابہت (imitation) کے ہیں، یعنی غیر دینی طریقے کو دینی نام دے کر اختیار کرلینا۔ مثلاً غیر دینی لوگوں کے یہاں خدا کی پرستش کے بجائے بت کی پرستش کا رواج ہے، اِس سے متاثر ہو کر اس روش کو اختیار کرلینا، مگر اس کو بزرگوں کی پیروی کا نام دے دینا، وغیرہ۔
مضاہاۃ کی ایک صورت وہ ہے جس کو مذہبی مضاہاۃ (religious imitation) کہا جاسکتا ہے۔ بدعت کے تمام طریقے اِسی مذہبی مضاہاۃ کی فہرست میں شامل ہیں۔ بدعت، مجرد بدعت کانام نہیں ہے۔ بدعت در اصل یہ ہے کہ غیر دینی طریقے کو دینی نام دے کر اُس کو اختیار کرلیا جائے۔
موجودہ زمانے میں مضاہاۃ کی ایک اور قسم بہت بڑے پیمانے پر ظاہر ہوئی ہے۔ اس کو سیاسی مضاہاۃ (political imitation) کہاجاسکتا ہے، یعنی سیکولر پارٹیوں اور سیکولر تحریکوں کے طریقے کو اسلامی نام دے کر اس کو اسلامی عمل کے طور پر اختیار کرلینا۔ موجودہ زمانے کے مسلمانوں نے احتجاج (protest) کے طریقے کو بہت بڑے پیمانے پر اختیار کر لیا ہے۔ یہ بلا شبہہ سیاسی بدعت یا سیاسی مضاہاۃ ہے۔ مثلاً اسلامی مسائل کے نام پر احتجاجی بیانات، احتجاجی مظاہرے، احتجاجی کانفرنسیں، احتجاجی ریلی، احتجاجی دھرنا، احتجاجی نعرے، وغیرہ۔
احتجاج (protest) بلاشبہہ سیکولرزم کا طریقہ ہے، وہ اسلام کا طریقہ نہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں مقدس کعبہ کو عملاً بت خانہ بنا دیا گیا تھا، مگر آپ نے اُس پر احتجاج نہیںکیا۔ اِسی طرح تیرہ سالہ مکی دور میں رسول اور اصحابِ رسول پر ہر قسم کے مظالم کئے گئے، لیکن آپ نے اِس پر کوئی احتجاج نہیں کیا۔ دار الندوہ میںآپ کے خلاف بائکاٹ کی تجویزپاس کی گئی، مگر آپ نے اس کے خلاف احتجاج نہیں کیا۔ آپ کو اور آپ کے اصحاب کو اپنے وطن سے نکلنے پر مجبور کیاگیا، لیکن آپ نے اس پر احتجاج نہیں کیا، وغیرہ۔ حقیقت یہ ہے کہ احتجاج (protest) اپنے آپ میں سر تاسر ایک غیراسلامی طریقہ ہے۔ احتجاج کو خوب صورت نام دے کر اس کو اسلامی نہیں بنایا جاسکتا۔ مثلاً پُر امن احتجاج، دینی احتجاج، اپنے حق کے لیے احتجاج، حکمراں کے ظلم کے خلاف احتجاج، پیغمبر کی شان میں گستاخی کے خلاف احتجاج، عبادت خانے کی بے حرمتی کے خلاف احتجاج، اسلام کی توہین کے خلاف احتجاج، وغیرہ۔
اِس مضاہاۃ یا مشابہتِ غیر کی نفسیات کیا ہے۔اِس کا جواب قرآن کی اِس آیت میں ملتا ہے: تشابہت قلوبہم (2: 118) یعنی سوچ کی سطح پر مشابہت۔ دور زوال میں حاملِ کتاب امتوں کا حال یہ ہوتا ہے کہ اُن کے اندر دینِ خداوندی پر مبنی سوچ ختم ہوجاتی ہے۔ خدائی طرزِ فکر ان کے ذہن میں زندہ تصورکے طور پر باقی نہیں رہتا ہے۔ اِس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ وہ آس پاس کے غیر دینی افکار سے متاثر ہوجاتے ہیں۔ خدائی ماڈل عملاً اُن کے لیے ایک غیر معلوم چیز بن جاتا ہے۔ وہ غیر خدائی ماڈل کو دینی ٹائٹل دے کر اختیار کرلیتے ہیں۔
موجودہ زمانے کے مسلمانوں میں مضاہاۃ کی دونوں قسمیں مکمل طور پر آچکی ہیں، مذہبی مضاہاۃ بھی اور سیاسی مضاہاۃ بھی۔ مسلمانوں کے اندر طرح طرح کی جو مبتدعانہ رسمیں ہیں، وہ سب اِس مذہبی مضاہاۃ کا نتیجہ ہیں۔ مثلاً جنم اشٹمی کی جگہ میلاد النبی، ہنومان چالیسہ کی جگہ قرآن خوانی، وغیرہ۔
موجودہ زمانے کے مسلمان ساری دنیا میں ملی سیاست کے نام سے جو سرگرمیاں جاری کئے ہوئے ہیں، وہ سب کی سب بلا استثنا سیاسی مضاہاۃ کا نتیجہ ہیں۔ ملی سیاست یا اسلامی سیاست کے نام پر موجودہ زمانے کے مسلمانوں نے بہت بڑے پیمانے پر غیر اسلام کو اسلامائز کررکھا ہے۔
یہ نام نہاد اسلامی سیاست اپنی حقیقت کے اعتبار سے یہودی سیاست ہے۔ اس کا کوئی فائدہ مسلمانوں کو نہ دنیا میں ملنے والا ہے اور نہ آخرت میں۔ مسلمانوں کے کرنے کا کام دعوت ہے، نہ کہ سیاست۔ مسلمان جب تک مضاہاۃکے یہودی طریقے کو چھوڑ کر دعوت کا طریقہ اختیار نہ کریں، اُس وقت تک وہ خدا کی رحمت سے محروم رہیں گے، دعوت الی اللہ کے بغیر ان کو ہر گز خداکی نصرت ملنے والی نہیں۔
واپس اوپر جائیں

قومی مذہب

یہود نے اپنے دورِ زوال میں جو روش اختیار کی تھی، اس کو قرآن میں اِن الفاظ میں بیان کیاگیا ہے: من الذین ہادُوا یحرّفون الکلم عن مواضعہ (4: 46) یعنی یہود میں سے ایک گروہ (یہودی علماء اور قائدین) کلام کو اس کے موقع ومحل سے ہٹا دیتا ہے۔
اس آیت کی تشریح مفسر القرطبی نے اِن الفاظ میں کی ہے: یتأوّلونہ علی غیر تأویلہ۔ اِس کا مطلب یہ ہے کہ وہ سیاق (context) کو بدل کر کلامِ الٰہی کی تشریح کرتے ہیں۔
اِس معاملے کی ایک مثال اصولی نجات کو گروہی نجات کے ہم معنیٰ بنانا ہے ۔ قرآن میںارشاد ہوا ہے: وقالوا کونوا ہوداً أونصاریٰ تہتدوا، قل بل ملّۃَ إبراہیم حنیفاً (2: 135) یعنی وہ کہتے ہیں کہ یہودی یا نصرانی بنو تو ہدایت یاب ہوگے۔کہو، بلکہ ابراہیم کے دین کی پیروی کرو۔ اِس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہودکی اصل گمراہی کیا تھی۔ یہود کی اصل گمراہی یہ تھی کہ انھوں نے اصولی دین کو قومی دین کے ہم معنیٰ بنا لیا تھا۔ ایک لفظ میں، اُن کا کیس خدائی مذہب کو ملّی بنانا (communalization of divine religion) تھا۔
یہ دراصل دورِ زوال کا ظاہرہ ہے۔ جب کسی اہلِ کتاب گروہ پر زوال آتا ہے تو اُس کا حال یہی ہوجاتا ہے۔ وہ خدائی مذہب کو اپنی قومی خواہشوں پر ڈھال لیتا ہے۔ وہ خدائی مذہب کی ایسی تاویل کرتا ہے جو اس کے قومی مزاج کے مطابق ہو۔
یہی حال موجودہ زمانے میں مسلمانوں کا ہوا ہے۔ انھوں نے خود ساختہ تاویل (interpretation)کے ذریعے اصولی نجات کو گروہی نجات کے ہم معنی بنا لیا ہے۔ موجودہ زمانے میں مسلمانوں کا اسلام عملاً قومی اسلام (communalized Islam) بن گیا ہے۔ وہ اسلام کی تعلیمات کو ایسے الفاظ میں بیان کرتے ہیں جو اُن کی ملی خواہشوں کے مطابق ہوں۔ اِس قسم کا خود ساختہ مذہب اللہ تعالیٰ کے یہاں قبول ہونے والا نہیں، نہ یہودیوں سے اور نہ مسلمانوں سے۔
واپس اوپر جائیں

قرآن فاتحِ عالم

خلیفہ ثانی عمر فاروق کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: إنّ اللہ یرفع بہذا القرآن أقواما ویضع بہ آخرین ( الدارمی، رقم الحدیث: 3365 ) یعنی اللہ اِس قرآن کے ذریعے ایک قوم کو اٹھاتا ہے اور اُسی کے ذریعے وہ دوسری قوم کو گراتا ہے۔ یہ اصول امتِ مسلمہ کی ابتدائی تاریخ میں پوری طرح ایک واقعہ بن چکا ہے۔ مورخین نے عام طور پر اِس حقیقت کا اعتراف کیا ہے۔ مثال کے طورپر پروفیسر فلپ ہٹی (وفات:1978 ) نے اپنی کتاب تاریخ عرب (The History of the Arabs) میں تیرھویں صدی عیسوی میں تاتاری قبائل کے قبولِ اسلام کا حوالہ دیتے ہوئے لکھا ہے کہ — مسلمانوں کے مذہب نے وہاں فتح حاصل کرلی، جہاں اُن کی تلوار ناکام ہوچکی تھی:
The religion of Muslims has conquered, where their arms had failed.
قرآن ایک آئڈیالوجی کی کتاب (book of ideology) ہے۔ اس کے مقابلے میں، تلوار مادی طاقت کی علامت ہے، اور یہ ایک حقیقت ہے کہ تلوار کے مقابلے میں قرآن زیادہ طاقت ور ہے۔ تلوارکی فتح، مفتوح کے خاتمہ کی قیمت پر ہوتی ہے، جب کہ قرآن آدمی کے دل ودماغ کو مسخر کرکے اس کو آپ کا ساتھی بنا دیتا ہے۔ تلوار کی فتح صرف میدانِ جنگ کی فتح ہے، اور قرآن کی فتح خود انسان کی فتح ، اور جب انسان فتح ہوجائے تو گویا سب کچھ فتح ہوگیا۔
قرآن، خدا کا محفوظ ہدایت نامہ ہے۔ قرآن آدمی کی فطرت کو ایڈریس کرتا ہے۔ قرآن آدمی کی تلاش کا جواب ہے۔ قرآن آدمی کو دنیا اور آخرت کی کامیابی کا راز بتاتا ہے۔ مزید یہ کہ قرآن صرف ایک نظریاتی کتاب نہیں، بلکہ اس کی پشت پر ایک واقعاتی تاریخ موجود ہے جو اس کی تسخیری طاقت کی تصدیق کرتی ہے۔ قرآن نظریہ بھی ہے اور تاریخ بھی۔ اِن باتوں نے قرآن کو ابدی طور پر ایک ناقابلِ تسخیر کتاب بنا دیا ہے۔جو لوگ قرآن کی دعوت کو لے کر اٹھیں، اُن کے لیے کسی اور طاقت کی ضرورت نہیں۔ قرآن اپنے آپ میںاُن کی تمام دعوتی ضرورتوں کی تکمیل کے لیے کافی ہے۔ قرآن فاتحِ انسان بھی ہے اور فاتحِ عالم بھی۔
واپس اوپر جائیں

جہاد کیا ہے

جہاد کیا ہے۔ جہاد کے لفظی معنی کوشش (struggle) کے ہیں۔ اِس میںمبالغہ کا مفہوم پایا جاتا ہے، یعنی بہت زیادہ کوشش کرنا۔ قرآن اور حدیث پر غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ جہاد کا لفظ تقریباً اُسی معنی میں استعمال ہوا ہے جس معنی میں آج کل مشن (mission) کا لفظ بولا جاتا ہے۔ مشن کا مطلب ہے — کسی تعمیری مقصد کے لیے سنجیدہ جدوجہد:
Dedicated effort towards a constructive goal.
قرآن میں اِس سلسلے میں یہ آیت آئی ہے: وجاہدوا فی اللہ حق جہادہ، ہو اجتباکم (22: 78) ۔ اِس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ اسلام میں جہاد کا تعلق اُس مخصوص مشن کے لیے ہے جس کے لیے اہل ایمان کا انتخاب کیا گیا ہے۔ یہ مشن شہادت علی الناس (22: 78) کا مشن ہے۔ اس آیت میں شہادت سے مراد دعوت ہے، یعنی خدا کے پیدا کئے ہوئے انسانوں تک خدا کا پیغام پہنچانا۔ یہی دعوت ہے اور یہی دعوتی مشن وہ نشانہ ہے جس کے لیے اہل ایمان کو بھر پور کوشش کرنا چاہیے۔ اپنی زندگی، اپنا وقت، اپنا پیسہ، اپنے وسائل ہر چیز کو اِس مشن میں لگا دینا چاہیے۔
ایک حدیثِ رسول ان الفاظ میں آ ئی ہے: الجہاد ماضٍ منذ بعثنی اللہ إلی أن یقاتل آخر أمتی الدجال، لا یبطلہ جَور جائر ولا عدل عادلٍ( سنن أبی داؤد، رقم الحدیث: 2532 )
اِس روایت کے مطابق، جہاد سے مراد ایک ایسا عمل ہے جو عادل حکمراں کے زمانے میں بھی جاری رہے۔ ایسا عمل صرف پُرامن دعوتی مشن ہوسکتا ہے۔ صحیح مسلم کی ایک روایت کے مطابق، دجال سے جو مقابلہ ہوگا، وہ بھی اسلحہ کے ذریعہ نہیں، بلکہ حجت (argument) کے ذریعہ ہوگا(إن یخرج وأنا فیکم فأنا حجیجہ دونکم)۔ حقیقت یہ ہے کہ جہاد پرامن دعوتی مشن کا نام ہے۔ دوسری کوئی چیز اس کا صرف اضافی جز (relative part) ہے، نہ کہ حقیقی جز۔
واپس اوپر جائیں

ابنِ تیمیہ کا موقف

موجودہ زمانے کے مسلمان مختلف ملکوں میں مسلّح تحریکیں چلا رہے ہیں۔ یہ تمام تحریکیں غیرحکومتی تنظیموں (NGOs) کے تحت چلائی جارہی ہیں۔ ایسے افراد کو غیر ریاستی ایکٹر (non-state actors) کہاجاتا ہے۔ یہ لوگ اپنی مسلح تحریکوں کے جواز کے لیے ابن تیمیہ کے فتوے کا حوالہ دیتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ ابن تیمیہ کے زمانے میں تاتاری جارحیت کا مسئلہ پیداہوا تو ابن تیمیہ نے فتوی ٰ دیا کہ مسلمان اُن کے خلاف لڑیں۔اِسی طرح ہم اپنے زمانے کی جارح طاقتوں سے لڑ رہے ہیں۔یہ حوالہ غلط ہے۔ یہ درست ہے کہ ابن تیمیہ (وفات: 728ھ؍1328ء) کے زمانے میں تاتاری حملے کا مسئلہ پیدا ہوا۔ تاتاریوں نے بغداد کے آخری خلیفہ المستعصمکو1258 ء میں ہلاک کردیا۔ اِس کے بعد مسلح تاتاری مسلم شہروں میں پھیل گئے اور بڑے پیمانے پر وہاں قتل وغارت گری کرنے لگے۔ یہ ابن تیمیہ کا زمانہ تھا۔ انھوں نے مصر وشام کے مسلمانوں سے کہا کہ تم لوگ تاتاری جارحیت کا مقابلہ کرو۔ مگر ابن تیمیہ کا طریقہ یہ نہیں تھا کہ وہ غیر ریاستی عوام کو تاتاریوں سے لڑنے کا فتویٰ دیں۔ اُس وقت اب بھی شام میں مسلم حکمراں ابن النحاس اور مصر کا حکمراں سلطان محمد بن قلاؤون موجود تھا۔ ابن تیمیہ دونوں مسلم حکمرانوں سے ملے اور دونوں کو تاتاریوں کی جارحیت کے خلاف جنگ کے لیے ابھارا۔ اِسی کے ساتھ انھوں نے مصر وشام کی مسجدوں میں تقریریں کرکے مسلم عوام سے کہا تم لوگ اِس دفاعی مہم میں ان مسلم حکمرانوں کا ساتھ دو (تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو، البدایۃ والنہایۃ لابن کثیر، جلد 14 )۔
حقیقت یہ ہے کہ جارح کے خلاف مسلح دفاع صرف ریاست کا کام ہے، وہ عوام کا کام نہیں (الرحیل للإمام)۔ ابن تیمیہ نے اُس وقت کے سلطان سے تاتای جارحیت کا دفاع کرنے کے لیے کہا تھا۔انھوںنے یہ نہیں کہا تھا کہ عوام بذاتِ خود لڑنا شروع کردیں، جیساکہ موجودہ زمانے کے مسلمان کررہے ہیں۔ اسلام میں غیر ریاستی تنظیموں کو صرف پر امن جدوجہد کا حق ہے، مسلح جدوجہد کا حق ہر گز اُن کو حاصل نہیں۔ یہی اسلام کی تعلیم ہے اور یہی ابن تیمیہ کا موقف بھی۔
واپس اوپر جائیں

احیاءِ اسلام

موجودہ زمانے میں احیائِ اسلام سے کیا مراد ہے۔ یہ کوئی سادہ بات نہیں۔ اِس کا مطلب یہ ہے کہ اسلام کو قدیم روایتی زمین کے مقابلے میں جدید سائنسی زمین پر کھڑا کیا جائے، تاکہ اسلام آج کے ذہن کے لیے قابلِ فہم ہوسکے، وہ لوگوں کو عصر حاضر سے ریلیونٹ (relevant) نظر آئے۔
موجودہ زمانے میں اسلام کے احیاء کے لیے جو کام مطلوب ہے، اُس کام کو بنیادی طورپر حسب ذیل تین عنوانات کے تحت بیان کیا جاسکتا ہے:
1 ۔ مبنی بر ذہن روحانیت(mind-based spirituality)
2 ۔ مبنی بر عقل استدلال (reason-based argument)
3۔ مبنی بر امن عمل(peace-based activism)
مبنی بر ذہن روحانیت سے مراد یہ ہے کہ روحانیت یا تزکیہ کو مراقبہ (meditation) کے بجائے فکر وتدبر پر قائم کرنا۔مراقبہ قلب کو مرکز بنا کر کیا جاتا ہے۔ اس کے برعکس، تدبر عقلی غور وفکر کی سطح پر انجام دیا جاتا ہے۔ اس لیے قرآن میں تفکر اور تدبر پر بہت زیادہ زور دیاگیا ہے۔
مبنی برعقل استدلال سے مراد وہی چیز ہے جس کو سائنسی استدلال کہا جاتا ہے، یعنی قیاسات وتمثیلات کے بجائے معلوم حقائق کے حوالے سے اپنا نقطۂ نظر ثابت کرنا۔ یہی موجودہ زمانے میں استدلال کا علمی طور پر مسلّم طریقہ ہے۔مبنی برامن عمل کا مطلب ہے تشدد سے مکمل طورپر بچتے ہوئے صرف پر امن ذرائع (peaceful means)سے اپنے مقصد کے لیے جدوجہد کرنا۔ یہی موجودہ زمانے میں مقصد کے حصول کا زیادہ موثر طریقہ ہے۔ موجودہ زمانے میں مسلّح طریقہ تخریب کے لیے کارگر ہوسکتاہے، مگر تعمیر کے لیے وہ کارگر نہیں۔اِس معاملے کی تفصیل کے لیے ہمارے یہاں کی مطبوعہ کتابوں کا مطالعہ فرمائیں۔ مثلاً انسان کی منزل، مذہب اور سائنس، امنِ عالم اور پیغمبر امن (Prophet of Peace) ، وغیرہ۔
واپس اوپر جائیں

مسلم تاریخ کے تین دور

تعدیل (equation) کے اعتبار سے، مسلم تاریخ کے تین دور ہیں — پہلا دور وہ ہے جو رسول اور اصحاب رسول کے زمانے سے تعلق رکھتا ہے۔ دوسرا دور وہ ہے جب کہ مسلمانوں نے دنیا میں اپنا ایمپائر بنا لیا تھا۔ یہ دور آٹھویں صدی عیسوی سے لے کر سترھویں صدی عیسوی تک جاری رہا۔ تیسرا دور وہ ہے جس کو نوآبادیاتی دور (Colonial Period)کہاجاتا ہے۔ یہ دور اٹھارھویں صدی عیسوی میں شروع ہوا۔ یہ دور بیسویں صدی کے وسط میں عملاً ختم ہوگیا، لیکن نفسیاتی اعتبار سے، موجودہ زمانے کے مسلمان اب بھی اسی کے اثرات کے تحت جی رہے ہیں۔
مسلم تاریخ کے پہلے دور میں مسلم اور غیر مسلم کے درمیان جو تعدیل (equation) تھی، وہ داعی- مدعو کی تعدیل تھی۔ اِس دور میں مسلمان مثبت نفسیات میں جیتے تھے۔ دوسری قومیں ان کے لیے خیر خواہی (نُصح) کا موضوع بنی ہوئی تھیں۔ دوسرے دور میں یہ تعدیل بدل گئی۔ اب مسلمانوں اور دوسری قوموں کے درمیان حاکم -محکوم کی تعدیل قائم ہوئی۔ اِس تعدیل کے دور میں مسلمان احساسِ برتری کا شکار ہوگئے، وہ دوسری قوموں کے مقابلے میں اپنے آپ کو برتر سمجھنے لگے۔ مسلم تاریخ کا تیسرا دور وہ ہے جب کہ نو آبادیاتی طاقتوں نے مسلمانوں کے سیاسی ایمپائر کا خاتمہ کردیا۔ اب مسلمانوں کے درمیان تعدیل کا تیسرا دور آیا۔ اب مسلمان اپنے آپ کو مظلوم اور دوسری قوموں کو ظالم سمجھنے لگے۔
اِس تیسرے دور کی آمد پر مسلمان عام طو رپر منفی نفسیات کا شکار ہوگئے۔ اِس د ور میں مسلمانوں کے اندر تلخی اور شکایت اور احتجاج (protest) کا مزاج پیدا ہوگیا۔ یہ مزاج بڑھتے بڑھـتے اُس انتہا پسندانہ رد عمل تک پہنچ گیا جس کو تشدد (violence) کہا جاتا ہے۔ موجودہ زمانے کے مسلمان عام طور پر اِسی تیسرے دور میں جی رہے ہیں۔ یہ دور، دوسرے لفظوں میں، نفسیاتی خودکشی (psychological suicide)کا دور ہے۔ آج سب سے بڑی ضرورت یہ ہے کہ مسلمانوں کو اِس مہلک نفسیات سے باہر نکالا جائے۔
واپس اوپر جائیں

امتِ محمدی کی ذمے داری

اللہ تعالیٰ کو یہ مطلوب ہے کہ ہر زمانے کے انسانوں تک اللہ کا پیغام پہنچتا رہے (25: 1) ۔ پیغام رسانی کا یہ سلسلہ آدم سے لے کر پیغمبر آخر الزماں محمد صلی اللہ علیہ وسلم تک جاری رہا ۔ اِس پیغام رسانی کا مقصد یہ تھا کہ جن لوگوں کے اندر حق کی طلب ہے، وہ حق کو پالیں۔ اور جو لوگ حق کے طالب نہیں، اُن کا منکر ہونا ایک ثابت شدہ واقعہ بن جائے۔ اِسی بنیاد پر آخرت کی عدالت میں دونوں فریقوں کے لیے جنت یا جہنم کا فیصلہ کیا جائے گا۔پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم ساتویں صدی کے رُبع اول میںآئے۔ آپ آخری پیغمبر تھے۔ آپ کے بعد اللہ کی طرف سے کوئی اور پیغمبر آنے والا نہیں (33: 40) ۔ ختمِ نبوت کا یہ معاملہ کسی پُر اسرار سبب سے نہیں ہوا، اس کا سبب صرف یہ تھا کہ خدا کا کلام قرآن محفوظ ہوگیا (15:9) ، اور اب یہ کافی ہوگیا کہ ہر زمانہ اور ہر نسل کے لوگوں تک اِس محفوظ قرآن کو پہنچا دیا جائے۔ گویا کہ اب قرآن، پیغمبر کا قائم مقام ہے۔ ختم نبوت کے بعد تحفظِ نبوت کا مسئلہ نہیں ہے، بلکہ نبوت کو مسلسل ہر دور میں جاری رکھنے کا مسئلہ ہے۔ اِس کی عملی صورت یہ ہے کہ قرآن کا ترجمہ ہر زبان میں چھاپ کر لوگوں تک پہنچایا جائے اور مسلسل پہنچایا جاتا رہے۔
یہی امتِ محمدی کی اصل ذمے داری ہے۔ امتِ محمدی کا اللہ کی نظر میں امتِ محمدی قرار پانا، اِسی پر موقوف ہے کہ پیغام رسانی کا یہ کام کسی وقفے کے بغیر ہر دورِ تاریخ میں جاری رہے۔ پیغامِ نبوت کے اِس تبلیغِ عام کے مشن میںامتِ محمدی کے ہر فرد کو شریک ہونا ہے، حتی کہ اگر کوئی شخص علم نہ رکھتا ہو تو وہ قرآن کے چھپے ہوئے ترجمے حاصل کرکے اُسے لوگوں تک پہنچائے۔ ملت کے کسی فرد کا امتِ محمدی کا فرد ہونا، اِسی دعوتی کام کی ادائیگی پر موقوف ہے۔ جو لوگ اِس دعوتی کام کو انجام نہ دیں، وہ بلا شبہہ ایک انتہائی سنگین خطرہ مول لے رہے ہیں، وہ یہ کہ حشر کے میدان میںاُن سے یہ کہہ دیاجائے کہ تم امتِ محمدی سے الگ ہوجاؤ، امت محمدی سے تمھارا تعلق نہیں۔امتِ محمدی کا فرد ہونے کے لیے جو چیز لازمی ہے، وہ خود ساختہ محمدی عشق نہیں ہے، بلکہ محمدی مشن میں اپنے آپ کو شریک کرنا ہے۔
واپس اوپر جائیں

دعوت، دعا

ہمارے مشن کے ایک صاحب جو دعوتی کام کرتے ہیں، انھوں نے پوچھا کہ کبھی ایسا ہوتا ہے کہ ہم ایک شخص تک دعوت پہنچانا چاہتے ہیں، لیکن بظاہر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ وہ شخص دعوت کو قبول کرنے والا نہیں ہے۔ ایسی حالت میں ہم کو کیا کرنا چاہیے۔ میں نے کہا کہ دعوت کا فارمولا یہ ہے — جہاں دعوت کے مواقع ہوں، وہاں دعوہ ورک (Dawah work) ، اور جہاں بظاہر دعوت کے مواقع دکھائی نہ دیں، وہاں دعا ورک (Dua work)
لوگوں کا حال یہ ہے کہ جب ان کا کوئی ذاتی مسئلہ پیدا ہوتا ہے تو وہ خدا کی طرف رجوع کرتے ہیں اور مسئلے کے حل کے لیے خدا سے دعا کرتے ہیں، لیکن دعوتی کام (Dawah work) کے معاملے میں وہ دعا کی اہمیت سے بے خبر ہیں۔ حالاں کہ دعا کا تعلق جس طرح دوسری تمام چیزوں سے ہے، اُسی طرح اس کا تعلق دعوت سے بھی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ دعا، دعوت کے لیے لازمی جز کی حیثیت رکھتی ہے۔ دعا کے بغیر دعوت کا کام موثر طورپر انجام نہیں دیا جاسکتا۔
دعا کا تعلق صرف مدعو سے نہیں ہے، بلکہ اس کا تعلق داعی سے بھی ہے۔ داعی کو چاہیے کہ وہ مسلسل طورپر خود اپنے لیے دعا کرتا رہے۔ وہ اللہ سے برابر موثر دعوت کی توفیق مانگتا رہے۔ وہ بار بار اِس کے لیے دعا کرتا رہے کہ اللہ اس کے لیے ایسے اسباب مہیا کردے جس کے ذریعے وہ دعوت کاکام زیادہ بہتر طورپر انجام دے سکے۔
یہی معاملہ مدعو کا ہے۔ داعی اپنے مدعو کا بہت زیادہ خیر خواہ ہوتا ہے۔ خیر خواہی کا یہ جذبہ اس کو مجبور کرتا ہے کہ وہ اپنے مدعو کے حق میں برابر دعا کرتا رہے۔ دعوت کو قبول کرنا ہمیشہ اللہ کی توفیق سے ہوتا ہے۔ اللہ کی توفیق ہی سے کسی انسان کا دل حق کو قبول کرنے کے لیے کھلتا ہے۔ اللہ کی توفیق ہی سے کسی کی کنڈیشننگ ٹوٹتی ہے۔ اللہ کی توفیق ہی سے یہ ہوتا ہے کہ کوئی شخص دعوت پر سنجیدگی سے غور کرے۔ یہ تمام چیزیں تقاضا کرتی ہیں کہ داعی ہمیشہ اپنے مدعو کے لیے اللہ سے دعا کرتا رہے۔
واپس اوپر جائیں

مطالباتی سیاست کا نقصان

پچھلے سو سال کے درمیان مسلمانوں نے مختلف ملکوںمیں بہت سی سیاسی تحریکیں چلائیں۔ اِن تمام تحریکوں کو اگرایک نام دینا ہو تو وہ یہ ہوگا — مطالباتی سیاست، یعنی اپنے حقوق (rights) کو حاصل کرنے کے لیے مطالبہ (demand) اور احتجاج (protest) کی بنیاد پر عوامی تحریکیں چلانا، خواہ پر امن انداز میں یا تشدد کے انداز میں۔ اِن مطالباتی تحریکوں سے موجودہ زمانے کے مسلمانوں کو کوئی مثبت فائدہ نہیں ہوا، البتہ اِس کے نتیجے میں اُن کو ایسے نقصانات ہوئے جن کی تلافی بظاہر ممکن نہیں۔
مطالباتی سیاست، فطرت کے قانون کے خلاف ہے۔ فطرت کے قانون کے مطابق، اِس دنیا میںکسی فرد یا قوم کو جو کچھ ملتا ہے، وہ صرف استحقاق (deservation) کی بنیاد پر ملتا ہے۔ مطالبہ اور شکایت اور احتجاج جیسی تحریکوں کے ذریعے اِس دنیا میں کسی کو کچھ ملنے والا نہیں۔ اِس قسم کی کوئی تحریک صرف اپنے نقصان میں اضافہ کے ہم معنی ہے، نہ کہ نقصان کو دور کرنے کے ہم معنیٰ۔
دوسرا اس سے بھی زیادہ بڑا نقصان یہ ہے کہ مطالباتی سیاست نے موجودہ زمانے کے مسلمانوں کو ایک عظیم نعمت سے محروم کردیا۔ یہ نعمت دعا ہے، یعنی حقیقی جذبۂ طلب کے تحت پوری یکسوئی کے ساتھ اللہ سے مانگنا۔ مطالباتی سیاست اِس قسم کی دعا کے لیے قاتل کی حیثیت رکھتی ہے۔ اللہ نے کسی کے سینے میں دو دل نہیں بنائے(33: 4) ، اِس لیے جب آپ انسان کو نشانہ بنا کر اس کے مقابلے میں مطالباتی تحریک چلائیں تو فطری طور پر یہ ہوتا ہے کہ آپ کے اندر خدا سے مانگنے کی اسپرٹ پیدا نہیں ہوتی۔ ایسے انسان کے پاس خدا سے مانگنے کے لیے صرف رٹے ہوئے الفاظ باقی رہتے ہیں، اور رٹے ہوئے الفاظ کا نام دعا نہیں۔ دعا کی اسپرٹ (spirit)یہ ہے کہ— آدمی، خدا کو دینے والے (giver) کی حیثیت سے دریافت کرے اور پھر دل کی گہرائیوں کے ساتھ وہ خدا کے سامنے طالب بن جائے۔ موجودہ زمانے کے مسلمان اِس قسم کی حقیقی دعا سے محروم ہیں، اور اِس کا سب سے بڑا سبب یہی مطالباتی سیاست ہے۔
واپس اوپر جائیں

غیر ِ خدا میں جینا

موجودہ زمانے کے مسلمانوں کا کیس ایک لفظ میں یہ ہے کہ —وہ خدا میں جینے والے نہیں بنے، وہ غیر خدا میں جی رہے ہیں۔ یہی واحد وجہ ہے جس نے تمام مسلمانوں کو منفی سوچ (negative thinking) میں مبتلا کردیا ہے۔ موجودہ زمانے کے مسلمانوں میں منفی سوچ اتنی زیادہ عام ہے کہ مشکل ہی سے اس میں کسی عورت یا مرد کا استثنا نظر آئے گا۔ موجودہ زمانے کے مسلمانوں کا لکھنا اور بولنا، سب کا سب ان کی منفی سوچ کا اظہار ہے۔
منفی سوچ کا سبب کیا ہے۔ منفی سوچ دراصل شکایت کے نتیجے میں پیدا ہوتی ہے۔ ہر مسلمان کسی نہ کسی کے خلاف شکایت کا جذبہ لئے ہوئے ہے —فلاں نے زمین پر قبضہ کرلیا، فلاں نے اپنی فوجیں مسلم ملک میں اتار دیں، فلاں نے اسلام کی بے حرمتی کردی، فلاں نے ہم کو انصاف نہیں دیا، فلاں ہمارے ساتھ امتیازی سلوک کرتا ہے، وغیرہ۔ہر مسلمان اِس قسم کی شکایتوں میں جیتا ہے۔ اِنھیں شکایتوں نے ہر مسلمان کو منفی سوچ میں مبتلا کردیا ہے۔ مگر منفی سوچ کوئی سادہ معاملہ نہیں۔ منفی سوچ کا مطلب دراصل یہ ہے کہ —انسان نے کسی اور چیز کو وہ اہمیت دے دی جو اہمیت اُسے خدا کو دینا چاہیے:
Making one's concern something else other than God.
خدا کو پانا سب سے بڑی چیز کو پانا ہے۔ جس آدمی کو خدا کی دریافت (discovery) ہوجائے، اس کی سوچ اتنی زیادہ بلند ہوجاتی ہے کہ ہر دوسری چیز اس کی نظر میں حقیر بن جاتی ہے۔ کسی چیز کا کھونا یا پانا دونوں اس کی نظر میں یکساں ہوجاتے ہیں۔ وہ اِس نفسیات میں جینے لگتا ہے کہ — تم جو چیز چاہو مجھ سے چھین لو، لیکن تم خدا کو مجھ سے نہیں چھین سکتے:
You can take away from me whatever you want to, but you cannot take God away from me!
یہ نفسیات ایک مومن کو انتہائی حد تک مثبت سوچ (positive thnking) والا انسان بنا دیتی ہے۔ کسی کے خلاف نفرت کا ایک ذرہ بھی اس کے اندر باقی نہیں رہتا۔
واپس اوپر جائیں

رزرویشن کے بغیر

یوپی بورڈ کے انٹر میڈیٹ امتحانات(مارچ 2010) میں 10 طلبا نے ٹاپ کیا ہے۔ ٹاپ کرنے والے اِن طلبا میں دو مسلمان طالب علم ہیں۔ اُن کے نام یہ ہیں — انشا سیفی، محمد حسن سلمانی۔ (روزنامہ راشٹریہ سہارا، نئی دہلی، 28 مئی 2010، صفحہ 8)
ہمارے رہنما یہ کہتے تھے مسلمانوں کے لیے تعلیم گاہوں میں رزرویشن (reservation) ضروری ہے۔ رزرویشن کے بغیر وہ آگے نہیں بڑھ سکتے۔ لیکن تجربہ بتارہا ہے کہ ترقی کے لیے رزرویشن سے زیادہ یقینی ذریعہ محنت ہے۔ 1947 کے بعد تمام مسلم رہنما، مسلم نوجوانوں کو یہ بتا رہے تھے کہ انڈیا اُن کے لیے ایک پرابلم کنٹری (problem country) ہے۔ تقریباً 50 سال تک مسلمان اِس منفی ذہن میں مبتلا رہے۔ اب مسلمانوں نے حالات کے تحت یہ دریافت کرلیا ہے کہ انڈیا میں اُن کے لیے ہر قسم کے مواقع کھلے ہوئے ہیں۔ اِس دریافت نے اب مسلمانوں کے اندر نیا جوش پیدا کردیا ہے۔ وہ کوشش کرکے ہر میدان میں تیزی سے ترقی کررہے ہیں۔
حقیقت یہ ہے کہ ترقی کرنے کی خواہش ہر انسان کے اندر فطری طورپر موجود رہتی ہے۔ اگر انسان کو غلط رہنمائی کرکے مایوسی میں مبتلا نہ کیاجائے، تو وہ خود اپنے فطری جذبے کے تحت کوشش کے راستے پر چل پڑے گا اور محنت کرکے وہ کامیابی تک پہنچ جائے گا۔
سب سے بڑی رہنمائی یہ ہے کہ انسان کے اندر اپنے ماحول کے بارے میں مایوسی کا جذبہ نہ پیدا کیا جائے۔ اِس قسم کی قیادت جھوٹی قیادت ہے۔ سچی قیادت وہ ہے جو انسان کے اندر امید پیدا کرے،جو حوصلہ بڑھانے والی باتیں کرے، جو مسائل (problems) کے بجائے مواقع (opportunities) کی نشان دہی کرے۔ حقیقت یہ ہے کہ جس آدمی کے پاس صرف مایوسی پیدا کرنے والی خبریں ہوں، اُس پر فرض ہے کہ وہ چپ رہے— خدا کی اِس دنیا میں بولنے کا حق صرف اُس آدمی کو ہے جو لوگوں کو امید کی روشنی دکھائے۔
واپس اوپر جائیں

ڈی کنڈیشننگ کا طریقہ

ہر آدمی کسی ماحول میں پیدا ہوتاہے۔ یہی ماحول ہر آدمی کا ذہن بناتا ہے۔ ذہنی تاثر پذیری کے اِسی عمل کو کنڈیشننگ (conditioning) کہاجاتاہے۔ یہی بلا استثنا ہر آدمی کا معاملہ ہے۔ ہر آدمی کا ذہن کنڈیشنڈ ذہن (conditioned mind) ہے۔ یہی ہر آدمی کا سب سے بڑا مسئلہ ہے۔ یہ کنڈیشننگ ہر آدمی کو فطرت سے ہٹا دیتی ہے۔ اِس لیے ضرورت ہوتی ہے کہ ہر آدمی کی ڈی کنڈیشننگ (de-conditioning) کرکے اس کو فطرت کی طرف واپس لایا جائے۔
اِس ڈی کنڈیشننگ کا صرف ایک طریقہ ہے، اوروہ محاسبہ (introspection) ہے، یعنی سخت انداز میں مسلسل طورپر اپنی اصلاح کا عمل جاری رکھنا۔ کسی آدمی کی یہ اصلاح دو طریقے سے ہوتی ہے — یا تو وہ دوسرے شخص کی سخت تنقید کو برداشت کرے، یعنی خارجی ہیمرنگ (hammering) کو کھلے ذہن کے ساتھ قبول کرے۔ وہ برا مانے بغیر دوسرے شخص کی سخت تنقید کو سن کر اپنے آپ پر نظر ثانی (reassessment) کا عمل کرے۔
اس ڈی کنڈیشننگ کا دوسرا طریقہ وہ ہے جس کو شدید خود احتسابی (self-hammering) کہاجاسکتا ہے، یعنی آدمی اپنے آپ کو دشمن جیسی نظر سے دیکھے۔ وہ ہر صبح وشام اپنا جائزہ لیتا رہے، وہ اپنی ہر غلطی کو شدت کے ساتھ محسوس کرے اور اس کو لے کر اپنا سخت محاسبہ کرے، وہ اپنے اوپر بے رحمانہ تنقید (merciless hammering) کرتا رہے، کسی معاملے میں وہ ہر گز اپنے آپ کو رعایت نہ دے، وہ دوسرے کو الزام دینے کے بجائے ہمیشہ خود اپنے آپ کو ملزم ٹھہرائے، وہ اپنے بارے میں اتنا سخت ناقد بن جائے جیسے کہ وہ اپنا ذبیحہ کررہا ہے۔
ڈی کنڈیشننگ کے یہی دو ممکن طریقے ہیں— آدمی یا تو دوسرے کی بے رحمانہ تنقید کو برداشت کرے، یا وہ خود اپنا بے رحم ناقد بن جائے۔ جو آدمی دوسروں سے میٹھی بات سننا چاہے اور خود ہمیشہ اپنی رعایت کرتا رہے، ایسا آدمی ہمیشہ کنڈیشننگ میں جئے گا، اس کی کبھی ڈی کنڈیشننگ ہونے والی نہیں۔
واپس اوپر جائیں

اتباعِ یہود کا کیس

ڈاکٹر محمد اقبال (وفات: 1938 ) بر صغیر ہند کے عظیم مسلم مفکر مانے جاتے ہیں۔ انھوں نے موجودہ زمانے کے مسلمانوں کے بارے میں کئی باتیں لکھی ہیں۔ اُن کاایک مصرعہ یہ ہے:
یہ مسلماں ہیں جنھیں دیکھ کے شرمائیں یہود!
موجودہ زمانے کے مسلمانوں میں یہود کی جو صفات آئی ہیں، اُن میں سے ایک ہے —اپنے کو مظلوم بتا کر دوسروں کے ظلم پر احتجاج کرنا۔ یہ بلاشبہہ یہود کی صفت ہے۔ اِس مزاج سے اسلام کا کوئی تعلق نہیں۔ مگر عجیب بات ہے کہ موجودہ زمانے کے تقریباً تمام مسلمان اِسی یہودی مزاج کا شکار ہیں۔
قرآن میں بتایا گیا ہے کہ یہود کے اندر جب دینی بگاڑ آیاتو انھوں نے دعوتی ذمے داری کو چھوڑ دیا (3: 187) ، وہ دوسروں کی طرح صرف ایک قوم بن کر رہ گئے۔ اِس غفلت کی بنا پر اللہ تعالیٰ نے یہود پر اپنی تنبیہات (warnings) بھیجیں۔ یہ تنبیہات آسمان سے نہیں آئی تھیں، بلکہ وہ اسباب کی صورت میں انسانوں کے ذریعے اُن پر بھیجی گئی تھیں (17: 5) ۔ مثلاً بابل (عراق) کے حکمراں بخت نصر (Nebuchadnezzar) کے ذریعے 586 قبل مسیح میں، اور رومی حکمراں ٹائٹس (Titus) کے ذریعے 70 عیسوی میں۔
مگر یہودی علماء اور قائدین(religious leaders) نے یہ کیا کہ ایسے تمام واقعات کو انھوں نے خدائی تنبیہہ کے بجائے انسانی ظلم کے خانے میں ڈال دیا۔ یہودی لٹریچر اِس قسم کی داستانوں سے بھرا ہوا ہے۔ اِس پر یہودی علماء نے کثرت سے کتابیں لکھی ہیں۔ مثلاً:
Hasidic Tales of the Holocausts, by Eliach Y, New York, 1982
یہودی علماء کی اِس روش کی بنا پر ایسا ہوا کہ جن واقعات کا نتیجہ یہ ہونا چاہیے تھا کہ وہ اُن سے متنبہ ہو کر خدا کی طرف رجوع کریں، اِس کے بجائے انھو ںنے یہ کیا کہ اِن واقعات کو کچھ انسانوں کی طرف منسوب کرکے انھوں نے اُن لوگوںکے خلاف شکایت (complaint) اور احتجاج (protest) کا ایک پورا کلچر چلا دیا۔ یہ شکایتی کلچر اتنا بڑھا کہ لغت (dictionary) میں باقاعدہ ایسے الفاظ شامل ہوگئے جو یہود کے اوپر دوسروں کے ظلم کو بتانے کے لیے وضع ہوئے تھے۔ گویا کہ ظلمِ یہود کی ایک مستقل ڈکشنری تیار ہوگئی، ظلم یہود کا اتنا زیادہ چرچا ہوا کہ وہ لٹریچر کا ایک جز بن گیا۔
یہودی لٹریچر کا مطالعہ کرکے اُن الفاظ واصطلاحات کو معلوم کیا جاسکتا ہے جو کثرتِ استعمال سے لٹریچر کا جز بن گئے، حتی کہ وہ ڈکشنری میں شامل ہوگئے۔ اِن میںسے کچھ الفاظ یہ ہیں:
Pogrom: Organized killing of Jews
Holocaust: Killing of millions of Jews by the Nazis,
Diaspora: Dispersion of the Jews after the Babylonian exile,
Ghetto: Jewish Slum outside the city as a sign of discrimination.
حدیث میں آیا ہے کہ بعد کے زمانے کے مسلمان یہود کے طریقے کی پیروی کریں گے۔ (لتتبعن شبراً بشبرٍ وذراعاً بذراعٍ)۔ یہ اتباعِ یہود صرف سحروعملیات جیسی چیزوں میں نہیں ہوگا، بلکہ وہ مذکورہ قسم کی سنتِ یہود کے بارے میں بھی ہوگا۔ یہود میں یہ خرابیاں زوال (degeneration) کے نتیجے میں آئی تھیں۔ یہی خرابیاں دوبارہ زوال کے نتیجے میں خود مسلمانوں کے اندر بھی یقینی طورپر پیداہوں گی۔موجودہ زمانے کے مسلمانوں میں یہ خرابی عمومی طورپر پیدا ہوچکی ہے۔ موجودہ زمانے کے مسلمان، عرب اور غیر عرب دونوں آخری حد تک اِ س کا شکار ہوچکے ہیں۔ موجودہ زمانے میں مسلمانوں کے تقریباً تمام لکھنے اور بولنے والے صرف ایک کام کررہے ہیں، اور وہ ہے اپنے مسائل کا الزام دوسروں پر عائد کرکے ان کے خلاف شکایت اور احتجاج کا طوفان برپا کرنا۔ ہر ایک کو مسلم مسائل کے پیچھے ’’اغیار‘‘ کی سازش اور دشمنی دکھائی دیتی ہے۔
یہ بلا شبہہ یہودی روش ہے۔ صحیح یہ ہے کہ مسلمان اِس روش سے توبہ کریں، وہ خود اپنے اوپر نظر ثانی کریں۔ وہ اِس صورتِ حال کو خدا کا انتباہ (warning) قراردے کر خود اپنی کمیوں اور کمزوریوں کو دریافت کریں اور ساری توجہ خود اپنی اصلاح پر لگا دیں، نہ کہ مفروضہ ظالموں کے خلاف ہنگامہ آرائی کرکے وہ خدا کے غضب میں مزید اضافہ کریں۔ اِس کے بغیر اُن کے حالات ہر گز بدلنے والے نہیں۔
خدائی انتباہ کے معاملے کو مفروضہ دشمنوں کی طرف منسوب کرنا کوئی سادہ بات نہیں۔ یہ ایک واقعہ کو غلط طورپر کسی اور سے منسوب کرنا ہے۔ اِس قسم کا مزاج کسی فرد یا قوم کو بہت بڑا فکری نقصان پہنچاتا ہے، اور وہ ہے معاملات کے صحیح تجزیہ (analysis) سے محرومی۔ کامیاب منصوبہ بندی ہمیشہ صحیح تجزیہ پر مبنی ہوتی ہے۔ جب صحیح تجزیہ نہ ہو تو کامیاب منصوبہ بندی بھی عملاً ناممکن ہوجاتی ہے۔
مثال کے طورپر 1948 میں بال فور کمیشن (Balfour Commission) کے تحت، فلسطین کی تقسیم عمل میں آئی۔ فلسطین کا تقریباً نصف حصہ یہود کو ملا، اور تقریباً نصف حصہ عرب مسلمانوں کو دیاگیا۔ بظاہر یہ واقعہ انسان کے ذریعہ پیش آیا، لیکن اپنی حقیقت کے اعتبار سے، وہ اُسی قسم کا ایک خدائی معاملہ تھا جو اِس سے پہلے اِسی ارضِ فلسطین میں یہود کے ساتھ پیش آیا تھا۔ دونوں کے درمیان ظاہری صورت کے اعتبار سے فرق ہے، لیکن حقیقت کے اعتبار سے، اُن کے درمیان کوئی فرق نہیں۔
ماضی میں یہود کے ساتھ جب ایسا واقعہ پیش آیا تو انھوںنے اس کو خدائی واقعہ کے بجائے انسانی واقعہ سمجھا۔ انھوں نے یہ کیا کہ متعلق انسانوں کو اپنا دشمن قرار دے دیا، وہ اُن کے خلاف منفی سوچ اور منفی سرگرمیوں میں مبتلا ہوگئے۔ جو واقعہ اُن سے خدا کی طرف رجوع کا تقاضا کررہا تھا، وہ اُن کے غیر حقیقی رسپانس کے نتیجے میں اُن کے لیے خدا سے مزید دوری کا سبب بن گیا۔
ٹھیک یہی معاملہ موجودہ زمانے میں مسلمانوں کے ساتھ پیش آیا۔ 1948 کے بعد مسلمان، عرب اور غیر عرب دونوں نے وہی غیر حقیقی رسپانس دیا جو اِس سے پہلے یہود نے دیا تھا۔ ذاتی محاسبہ کے بجائے انھوں نے یہ کیا کہ انھوں نے یہود اور یہود کے مفروضہ حلیفوں کے خلاف ہنگامہ آرائی شروع کردی۔ اِس کا نتیجہ فطری طور پر برعکس صورت میں نکلا۔ 1948 میں جو کچھ اُنھیں ملا تھا، 60 برس سے زیادہ مدت کی غیر معمولی قربانیوں کے باوجود انھوں نے اس کو بھی کھو دیا۔ آج تحریکِ فلسطین اپنے آپ کو ایک ایسے مقام پر پارہی ہے جہاں اس کے پاس مایوسی اور محرومی کے سوا اور کوئی سرمایہ نہیں۔
موجودہ زمانے میں مسلمانوں کی تعداد ایک بلین سے زیادہ ہے۔ 57ملکوں میں مسلمانوں کا سیاسی اقتدار قائم ہے۔ اِس کے علاوہ، دنیا کے تقریباً ہر ملک میں مسلمان موجود ہیں۔ ہر جگہ وہ ایک ہی قسم کی بولی بول رہے ہیں، اور وہ یہ کہ— ہم دشمنوں کے محاصرہ (seige) میں ہیں، ہمارے خلاف سازشیں کی جارہی ہیں، عالمی میڈیا ہماری تصویر بگاڑنے میں مصروف ہے، ہمارے ساتھ ہر جگہ امتیاز کا سلوک کیا جاتا ہے، ہم کو دوسرے درجے کا شہری (second class citizen) بنا دیا گیا ہے، وغیرہ۔
اِس قسم کی تمام باتیں بلا شبہہ سنتِ یہود کی پیروی ہیں۔ اصل یہ ہے کہ موجودہ زمانے کے مسلمانوں نے خدا کے دین کو دین ِ مہجور (25: 30) بنا دیا ہے، انھوں نے دعوت الی اللہ کی ذمے داری کو ترک کردیا ہے، انھوںنے اسلام کی اسپرٹ کو بھلا دیا ہے، وہ اسلام کو صرف بطور فارم لیے ہوئے ہیں۔ انھوں نے اپنی قومی سرگرمیوں کو اسلام کا نام دے رکھاہے، وہ انسانوں سے نفرت کرتے ہیں، جب کہ اُنھیں انسانوں کا خیر خواہ بننا چاہیے تھا، آج کے مسلمانوں کا کنسرن (concern) خدا نہیں ہے، بلکہ وہی مادی مفادات ہیں جو دوسری قوموں کا کنسرن بنے ہوئے ہیں۔ مسلمانوں کی سوچ تمام تر دنیا رُخی سوچ بنی ہوئی ہے، جب کہ اس کو خدا رخی سوچ بننا چاہیے، اسلام اب اُن کے لیے فخر(pride) کا موضوع ہے، نہ کہ اتباع کا موضوع، مسلم معاشرے میں امر بالمعروف اور نہی عن المنکر عملاً ختم ہوگیاہے، مسلمانوں کے تقریباً تمام لکھنے اور بولنے والے عملاً اپنی قوم کے ترجمان ہیں، نہ کہ خدا کے دین کے ترجمان، وغیرہ۔
یہ تمام چیزیں مسلمانوں کے زوال کی کھلی علامت ہیں۔ موجودہ زمانے میں مسلمانوں کے خلاف جو کچھ ہور ہا ہے، وہ سب اُن کے اِسی زوال کی بنا پر خدا کی تنبیہات ہیں، نہ کہ انسانوں کا ظلم۔ مگر مسلمان اِن واقعات کو انسانوں کی طرف منسوب کرکے ان کے خلاف چیخ وپکار میں مشغول ہیں۔ مسلمانوں پر فرض کے درجے میں ضروری ہے کہ وہ اِس منفی روش کو مکمل طور پرختم کردیں۔ وہ دوسروں سے نفرت کو چھوڑ دیں اور خود اپنی کوتاہیوں کی اصلاح کریں، یہی مسلمانوں کے تمام مسائل کا واحد حل ہے۔ اِس کے سوا دوسری ہر چیز صرف اُن کی تباہی میں اضافہ کرے گی، وہ ان کی فلاح کا سبب بننے والی نہیں۔
واپس اوپر جائیں

حق کی تلاش

امریکی صحافی الون ٹافلر (Alvin Toffler) کی ایک مشہور کتاب ہے۔ اس کا نام یہ ہے — فیوچر شاک:Future Shock
یہ کتاب پہلی بار 1970 میں چھپی۔ اب تک اس کے 5 ملین سے زیادہ نسخے ساری دنیا میں فروخت ہوچکے ہیں، نیز دنیا کی مختلف زبانوں میں اس کے ترجمے بھی شائع ہوچکے ہیں۔
الون ٹافلر نے اپنی کتاب میں ایک سیمنار (seminar)کا واقعہ لکھا ہے۔ اِس سیمنار میں کنارے کی سیٹ پر ایک آدمی بیٹھا ہوا تھا۔ جب سب لوگ بول چکے تو آخر میں وہ آدمی اٹھا۔ اس نے کہا — میرا نام چارلس اسٹین ہے۔ میں تمام عمر سوئی کے ایک کارخانے میں کام کرتا رہا ہوں۔ میری عمر 77 سال ہے۔ میں وہ چیز پانا چاہتا ہوں جو میں اپنی نوجوانی کی عمر میں نہ پاسکا۔ میں مستقبل کے بارے میں جاننا چاہتا ہوں۔ میں ایک تعلیم یافتہ انسان کی حیثیت سے مرنا چاہتا ہوں:
My name is Charles Stein. I am a needle worker all my life. I am seventy-seven years old, and I want to get what I did not get in my youth. I want to know about the future. I want to die an educated man. (page 427)
گہرائی کے ساتھ غور کیجئے تو مذکورہ آدمی کا مسئلہ حقیقۃً معرفت یا ادراکِ حقیقت تھا، نہ کہ سادہ طورپر صرف ایجوکیشن۔ گویا کہ اپنی حقیقت کے اعتبار سے وہ یہ کہہ رہا تھا کہ میں ایک صاحبِ معرفت انسان (realized man) کی حیثیت سے مرنا چاہتا ہوں۔
یہی ہر انسان کی نفسیات ہے۔ ہر انسان اِس نفسیات میں جی رہا ہے کہ وہ حقیقت کا ادراک نہ کرسکا۔ گویا کہ ہر انسان اِس تلاش میں ہے کہ وہ یہ جان سکے کہ سچائی کیا ہے۔
ہر انسان معرفت کی تلاش میں ہے۔ خوش قسمت انسان وہ ہے جو معرفت کو پالے۔ اُس پر موت آئے تواِس حال میں آئے کہ وہ ایک صاحبِ معرفت انسان بن چکا ہو۔
واپس اوپر جائیں

افرادِ کار کی تیاری

ایک مسلم رہنما نے ایک جلسے میں تقریر کرتے ہوئے کہا— میرا مقصد عصرِ حاضر کے اعتبار سے، افرادِ کار کی تیاری ہے۔ اِس جلسے میں ایک مسلم نوجوان موجود تھا۔ بعدکو یہ نوجوان مذکورہ مسلم رہنما سے ملا۔ اس نے کہا کہ میں اپنے آپ کو آپ کے حوالے کرتا ہوں۔ مجھ کو آپ اپنے مطلوب انسان کی حیثیت سے تیار کیجئے، مگر مذکورہ مسلم رہنما نے نوجوان کی اِس پیش کش پر دھیان نہیں دیا۔ انھوں نے کہا کہ —تم تو صرف ایک شخص ہو۔ جب اِس طرح کے کئی لوگ اکھٹا ہوجائیں گے، اُس وقت میں افراد کی تیاری کے بارے میں اپنا پروگرام شروع کروں گا۔موجودہ زمانے میں بہت سے لوگوں نے یہ کہا کہ وہ عصر حاضر کے اعتبار سے، افرادِ کار تیار کرنا چاہتے ہیں، لیکن اِن میں سے کوئی شخص مطلوب انداز میںیہ کام نہ کرسکا۔ مذکورہ واقعہ بتاتا ہے کہ اِس کا سبب کیا ہے۔ یہ تمام لوگ یہ سمجھتے تھے کہ وہ بھیڑ (crowd) کے سامنے تقریریں کرکے افرادِ کار تیار کریں، حالاں کہ افرادِ کار کی تیاری بھیڑ کو خطاب کرنے سے نہیں ہوتی۔ اُس کا طریقہ صرف ایک ہے اور وہ ہے— فرد پر فوکس کرنا، فرد کی نسبت سے سوچنا اور فرد کی نسبت سے تربیت کا پروگرام بنانا۔اصل یہ ہے کہ رہنما سب سے پہلے افراد کے ذہن کو بخوبی طورپر سمجھنے کی کوشش کرے، وہ افراد کے ذہن کو سامنے رکھتے ہوئے سب سے پہلے خود اپنے آپ کو تیار کرے۔ رہنما جب اِس طرح اپنے آپ کو تیار کر کے بولے گا تو اس کی زبان قولِ بلیغ (4: 63) کی زبان بن جائے گی، اس کی بات ہر ذہن کو ایڈریس کرے گی، اس کی بات ہر فرد کے اندر یہ داعیہ پیدا کرے گی کہ وہ اپنے آپ کو تیار کرکے مطلوب انسان بنائے۔ یہی وہ طرز خطاب ہے جس کے ذریعے افرادِ کار کو تیار کیا جاسکتا ہے۔
اِس کے برعکس، جو لوگ بھیڑ کو لے کر سوچتے ہیں، جو اپنے آس پاس بھیڑ دیکھنا چاہتے ہیں، اُن کا طرزِ خطاب فطری طورپر جذباتی ہوجاتا ہے۔ وہ شعوری یا غیر شعوری طورپر ایسی بات بولنے لگتے ہیں جو بھیڑ کو خوش کرے۔ اِس عوامی طرزِ خطاب کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ آدمی کا ذہنی ارتقا رک جاتا ہے، اور جس آدمی کا خود اپنا ذہنی ارتقا رک جائے، وہ ہر گز افرادِ کار کی تیاری کا عمل انجام نہیں دے سکتا۔
واپس اوپر جائیں

شتمِ رسول کا مسئلہ

پاکستان کے صوبہ پنجاب کے گورنر مسٹر سلمان تاثیر (عمر 66 سال) کو اسلام آباد میں 4 جنوری 2011 کو گولی مار کر ہلاک کردیا گیا۔ اخباری اطلاع کے مطابق، ان کو گولی مارنے والا خود اُن کا باڈی گارڈ ممتاز حسین قادری (عمر 26سال) تھا۔ اس نے گورنر کے اوپر سرکاری گن سے فائرنگ کی۔ اِس حملے میں گورنر پنجاب کو 6 گولیاں لگیں۔ وہ فوراً ہی ہلاک ہوگئے۔ پولس نے قاتل کو گرفتار کرلیا۔ پولس کا کہنا ہے کہ قاتل کا تعلق ایک مذہبی گھرانے سے ہے۔ حراست میں لیے گئے ملزم نے اعتراف کیا ہے کہ اُس نے یہ حملہ اِس لیے کیا کہ گورنر پنجاب نے پاکستان کے ناموسِ رسالت قانون کو ایک کالا قانون کہا تھا۔ (روزنامہ راشٹریہ سہارا، نئی دہلی، 5 جنوری، صفحہ 12 ؛ ٹائمس آف انڈیا، نئی دہلی، 5 جنوری 2011 ، صفحہ 1 )۔
اِس طرح کسی فرد کا کسی شخص کو گولی مار کر ہلاک کرنا بلا شبہہ اسلام میں حرام ہے۔ پہلی بات یہ ہے کہ ناموسِ رسالت کا قانون ایک بے بنیاد قانون ہے۔ اگر کوئی شخص پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف وہ فعل کرے جس کو سب وشتم کہا جاتا ہے، تب بھی اس کا جواب دلیل سے دیا جائے گا، نہ کہ گولی سے۔ بالفرض اگر ایسا کوئی قانون ہو، تب بھی شاتمِ کے خلاف کوئی عام آدمی کارروائی نہیں کرسکتا۔ وہ صرف یہ کرسکتا ہے کہ وہ ایسے شاتم کے معاملے میں عدالت سے رجوع کرے اور پھر باقاعدہ عدالتی کارروائی کے بعد عدالت جو فیصلہ کرے، اس کے مطابق، اس پر عمل کیا جائے۔
موجودہ زمانے کے مسلمان ہر جگہ شتمِ رسول (blasphemy) کے نام پر اِسی قسم کے رد عمل کا مظاہرہ کررہے ہیں، کہیں جلوس اور مظاہرے کی صورت میں اور کہیں شاتم کو قتل کرنے کی صورت میں۔ اس کے نتیجے میں مفروضہ شتم تو بند نہیں ہوا، البتہ اسلام بہت زیادہ بدنام ہوگیا۔ جو لوگ کسی کو شاتمِ رسول قرار دے کر اُس کے خلاف کارروائی کرتے ہیں، وہ خود شاتم سے بھی زیادہ بڑے مجرم ہیں۔ ایسے لوگ کسی بھی حال میں خدا کی پکڑ سے بچ نہیں سکتے۔
سزا کا تعلق خدا سے
پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کو قرآن میں داعی الی اللہ (33: 46) کہاگیا ہے۔ اِس دعوتی مشن کو انجام دینے کے لیے آپ کو قرآن میں جو ہدایت دی گئیں، اُن میں سے ایک ہدایت کو قرآن میں اِن الفاظ میں بیان کیا گیا ہے: فاصدع بما تؤمر وأعرض عن المشرکین۔ إنا کفیناک المستہزئین (15: 94-95) یعنی جس چیز کا تم کو حکم ملا ہے، اس کو تم واضح طورپر لوگوں کے سامنے بیان کردو، اور مشرکوں سے اعراض کرو۔ ہم تمھاری طرف سے اِن استہزا کرنے والوں کے لیے کافی ہیں۔
اِن آیات کو اس کے سببِ نزول کے اعتبار سے دیکھئے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ داعی کو اپنی ساری توجہ دعوت کے کام میں لگانا چاہیے۔ اِس کے بعد اگر ایسا ہوتا ہے کہ مدعو گروہ کی طرف سے منفی رد عمل سامنے آتا ہے، وہ داعی کا مذاق اڑاتے ہیں، وہ داعی کا سب وشتم کرتے ہیں، وہ داعی کو لوگوں کی نظر میں گھٹانے کے لیے توہین واستہزا کے الفاظ استعمال کرتے ہیں، تو ایسی حالت میں داعی کو چاہیے کہ وہ رد عمل کی نفسیات سے بچتے ہوئے یک طرفہ اعراض کا طریقہ اختیار کرے۔ وہ اپنی دعوت کو مزید مدلل کرنے کی کوشش کرے، حتی کہ وہ ایسے لوگوں کی اصلاح کے لیے اپنے رب سے دعا کرے۔ وہ کہے کہ خدایا، تو اِن مخالفین کو میرا ساتھی بنادے، تو ان کو اپنی رحمت کے سائے میں لے لے۔ اِس کے بعد جہاں تک استہزا کرنے والوں کے استہزا کا معاملہ ہے، وہ اس کو پوری طرح خدا پر چھوڑ دے۔ داعی کا کام صرف پر امن دعوت ہے، اس کا کام لوگوں کو سزا دینا نہیں(88: 21-22) ۔
سب وشتم کی حیثیت در اصل آزادی کے غلط استعمال کی ہے۔ سب وشتم کی حیثیت جرم مستوجبِ سزا (cognizable offense) کی نہیں۔ اِس کا مطلب یہ ہے کہ شاتم کو پُرامن نصیحت کی جائے گی، اُس کو مجرم قرار دے کر اس کو جسمانی سزا نہیں دی جائے گی۔ اِس معاملے میں نصیحت کا تعلق داعی سے ہے اور سزا کا تعلق خدا سے۔ داعی اگر شاتم کو سزا دینے کی کوشش کرے تو اِس کا مطلب یہ ہوگا کہ وہ خدا کے کام کو اپنے ہاتھ میں لے لینا چاہتا ہے، اور ایسا کرنا بلا شبہہ ایک سنگین جرم کی حیثیت رکھتا ہے۔
عفوودرگزر کا حکم
قرآن کی سورہ الجاثیہ میں ایک آیت آئی ہے۔ اس کے الفاظ یہ ہیں: قل للذین آمنوا، یغفروا للذین لا یرجون أیّام اللہ، لیجزیَ قوماً بما کانوا یکسبون (45: 14) یعنی ایمان والوں سے کہہ دو کہ وہ اُن لوگوں کے ساتھ عفو ودرگزر کا معاملہ کریں جو ایّام اللہ کے ظہور کی توقع نہیں رکھتے، تاکہ اللہ ایک قوم کو اُس چیز کا پورا بدلہ دے جو وہ کرتی رہی ہے۔
قرآن کی اِس آیت کی تشریح میں مفسر القرطبی نے لکھا ہے: نزلت الآیۃ بسبب أن رجلاً من قریش شتمَ عمر بن الخطاب، فہمّ أن یبطش بہ (تفسیر القرطبی 16/161 ) یعنی یہ آیت اِس واقعے کے بعد اتری کہ قریش کے ایک آدمی نے عمر بن الخطاب کا سب وشتم کیا۔ عمر نے چاہا کہ وہ اس کو پکڑیں اور ماریں۔ اِس موقع پر قرآن میں یہ ہدایت اتری۔
قرآن کی اِس آیت سے اور اِس قسم کی دوسری آیتوں سے ایک اہم اصول معلوم ہوتا ہے، وہ یہ کہ سب وشتم کا معاملہ قانونی سزا (legal punishment) کا معاملہ نہیں ہے۔ کوئی شخص نعوذ باللہ، خدا کا استہزاء کرے، وہ صحابہ کا استہزا کرے، وہ قرآن کا استہزا کرے، تو اِس بنیاد پر اُس کو قانونی مجرم قرار دے کر قانونی سزا نہیں دی جائے گی۔ اِس معاملے میں سزا کا تعلق تمام تر اللہ سے ہے۔ اللہ اپنے علم کے مطابق، ایسے لوگوں کو جو سزا دینا چاہے گا، وہ سزا دے گا۔ ایسے معاملے میں کسی شخص کو سزا دینا اسلام کی حمایت کے نام پر اسلام کے ساتھ بدترین عداوت کے ہم معنیٰ ہے۔
سب وشتم کے معاملے میں مسلمانوں کو جو کرنا ہے، وہ یہ کہ وہ ایسے شخص کے لیے دعا کریں، وہ اُس سے مل کر اُس کو نصیحت کریں، وہ اس کو دلائل کے ذریعے مطمئن کرنے کی کوشش کریں، وہ اس کی اصلاح کی پر امن جدوجہدکریں، وہ اس کو جسمانی سزا دینے کا کام اپنے ذمے نہ لیں۔ مومن کی حیثیت اِس دنیا میں داعی کی ہے، نہ کہ داروغہ (88: 21-22) کی۔
شتم اور ارتداد
عام طور پر یہ سمجھا جاتا ہے کہ اسلام میں شتمِ رسول کی سزا قتل ہے۔ اِسی طرح یہ سمجھا جاتاہے کہ اسلام میں ارتداد (apostasy) کی سزا قتل ہے۔ شتم اور ارتداد کی اِس سزا کو حد (legal punishment) کادرجہ دیا جاتاہے اور سمجھا جاتا ہے کہ شاتم یا مرتَد کو بطور حد قتل کیا جائے گا (یُقتل حدًّا)۔
یہ قانون اسلام کے بعد کی تاریخ میں عباسی دور (750-1258ء) کے فقہاء نے بنایا، مگر اصل اسلامی ماخذ میں اِس قسم کا کوئی حکم موجود نہیں ۔ اِس لیے عین جائز ہے کہ اس حکم کو کالعدم سمجھا جائے اور اس کو غیر اسلامی قرار دے کر رد کردیا جائے۔
اسلامی تاریخ کے مکی دور میں جو اہلِ ایمان ہجرت کرکے حبش (Abyssinia) گئے تھے، اُن میں سے ایک شخص کا نام عبید اللہ بن جحش تھا۔ حبش ایک عیسائی ملک تھا۔ وہاں جاکر عبید اللہ بن جحش عیسائی مذہب سے متاثر ہوئے اور اعلان کے ساتھ اسلام کو چھوڑ دیا۔ یہ واضح طورپر ارتداد کا ایک واقعہ تھا۔ لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی یہ نہیں فرمایا کہ عبید اللہ بن جحش مرتد ہوگئے ہیں، اُن کو بطورحد قتل کردو۔ اِس واقعے سے واضح طور پر معلوم ہوتا ہے کہ شریعتِ محمدی میں ارتداد کی سزا قتل نہیں ہے۔ اِسی طرح مدینہ میں ایک شخص تھا۔ اس کا نام عبد اللہ بن اُبی تھا۔ یہ شخص کھلے طورپر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا شتم کرتا تھا، لیکن رسول اللہ نے کبھی یہ نہیں فرمایا کہ عبد اللہ بن ابی نے شتم رسول کے جرم کا ارتکاب کیا ہے، اِس لیے اس کو بطور حد قتل کردو۔
حقیقت یہ ہے کہ اسلام میں سماجی جرم (social crime) پر سزا ہے، اسلام میں اعتقادی جرم (ideological crime)پر کوئی سزا نہیں۔شاتم اور مرتد کے لیے تبلیغ ونصیحت ہے، نہ کہ قتل کا حکم۔
واپس اوپر جائیں

تحفظِ نبوت، تحفظِ کارِ نبوت

موجودہ زمانے میں مسلم تنظیمیں اور مسلم ادارے جگہ جگہ تحفظِ ختمِ نبوت کے نام سے جلسے کررہے ہیں۔ اِن موقعوں پر مسلمانوں کی بھیڑ اکھٹا ہوتی ہے، مقررین پر جوش تقریریں کرتے ہیں۔ وہاں یہ اعلان کیاجاتاہے کہ ہم ہر قیمت پر ختمِ نبوت کا تحفظ کریں گے۔مگر اِس قسم کے جلسے اور تقریریں سراسر بے معنی ہیں۔ ان کا تعلق نہ اسلام سے ہے اور نہ عقل سے۔
قرآن میں اعلان کیا گیا تھا کہ اللہ خاتم النبیین کی حفاظت فرمائے گا (5:67) ۔ اللہ اپنے آخری کلام قرآن کو ہمیشہ محفوظ رکھے گا(15: 9)۔ اللہ کا یہ فیصلہ پورا ہوا۔ دنیا میں ایسے حالات پیدا ہوئے جس کے بعد خاتم النبیین محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی تاریخ اور آپ کی لائی ہوئی تعلیم پوری طرح محفوظ ہوگئی۔ قرآن پرنٹنگ پریس کے زمانے میں پہنچ کر آخری طور پر محفوظ ہوگیا۔ اب مسئلہ ختم نبوت کے تحفظ کا نہیں ہے، بلکہ اب مسئلہ صرف یہ ہے کہ کارِ نبوت (دعوت الی اللہ) کو ہر زمانے میں مسلسل طورپر جاری رکھا جائے۔
کارِ نبوت سے مراد وہی کام ہے جس کو قرآن میں تبلیغ ما انزل اللہ (5:67) کہاگیا ہے۔ پیغمبراسلام کا مشن در اصل دعوتی مشن تھا۔ مسلمانوں پر فرض ہے کہ وہ اِس دعوتی مشن کو ہر قوم میں اور ہر زمانے میں جاری رکھیں۔ وہ دعوت وتبلیغ کے کام میں پیغمبر آخر الزماں صلی اللہ علیہ وسلم کی قائم مقامی کریں۔ یہی کرنے کا اصل کام ہے اور یہی امتِ محمدی کی اصل ذمے داری۔
اصل یہ ہے کہ نبوت کا سلسلہ ختم ہوگیا، لیکن پیغام نبوت کا سلسلہ جاری ہے۔ اب مسلمانوں کی ذمے داری یہ نہیں ہے کہ وہ نعت خوانی کریں، یا گستاخِ رسول کو قتل کریں، یا تحفظ ختم نبوت کے جلسے کریں۔ یہ سب غیر متعلق کام ہے، اصل کام یہ ہے کہ تمام انسانوں تک خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم کے لائے ہوئے قرآن کو پہنچایا جائے، ہر زمانے کے لوگوں کو اس کے پیغام سے باخبر کیا جائے— تحفظ، خدا کا کام ہے اور دعوت اہلِ اسلام کا کام۔
واپس اوپر جائیں

اعتماد کی اہمیت

سماجی زندگی میں اعتماد (trust) کی بہت زیادہ اہمیت ہے۔ یہ کسی آدمی کے لیے بہت بڑا سرمایہ ہے کہ وہ لوگوں کی نظر میں قابلِ اعتماد بن جائے۔ اِس قسم کا اعتماد کسی کو بہت دیر میں حاصل ہوتا ہے۔ لمبے تجربات کے بعد ہی کسی شخص کو یہ درجہ ملتا ہے کہ وہ لوگوں کی نظر میں ایک قابلِ اعتماد انسان بن سکے۔
کچھ لوگوں کا یہ مزاج ہوتاہے کہ وہ لوگوں کو بے وقوف بنا کر پیسہ کمانا چاہتے ہیں، وہ جھوٹ بول کر لوگوں کا استحصال کرتے ہیں۔ ایسے لوگ زندگی میں کبھی کوئی بڑی کامیابی حاصل نہیں کرسکتے۔ بڑی کامیابی ہمیشہ سچائی کی بنیاد پر حاصل ہوتی ہے۔ دھوکا ایک بار کام آسکتا ہے، لیکن سچائی ہزار بار کام آتی ہے۔ دھوکے کی حد ہے، مگر سچائی کی کوئی حد نہیں۔
جو لوگ خوش نما باتیں کرکے پیسہ کمانا چاہتے ہیں، وہ بہت جلد لوگوں کی نظر میں مشتبہ ہوجاتے ہیں۔ آخر کار اُن کا حال یہ ہوتا ہے کہ لوگ ان کی باتوں پر بھروسہ نہیں کرتے، لوگ اُن سے معاملہ کرنا چھوڑ دیتے ہیں، لوگوں کو ان کی باتوں پر یقین نہیں ہوتا۔ ایسے لوگ چند بار کچھ حاصل کرلیتے ہیں، لیکن بہت جلد ایسا ہوتا ہے کہ لوگ اُن سے کٹ جاتے ہیں۔ لوگوں کا ذہن یہ بن جاتا ہے کہ اِن سے دور رہو۔
کامیابی کیا ہے۔ کامیابی ہمیشہ دوسروں کی قیمت پر ہوتی ہے۔ مثبت بنیاد پر دوسروں سے فائدہ اٹھانے ہی کا دوسرا نام کامیابی ہے۔ لیکن دوسروں سے فائدہ اٹھانا، صرف اُس کے لیے ممکن ہوتا ہے جو خود بھی دوسروں کو فائدہ پہنچائے۔ دوسروں سے فائدہ لینا ہمیشہ دوسروں کو فائدہ پہنچانے کے بعد ہی ممکن ہوتا ہے۔ یہ ایک دوطرفہ (bilateral)معاملہ ہے۔ جو آدمی دوسروں کو کوئی حقیقی فائدہ نہ پہنچائے اور یک طرفہ طورپر خود دوسروں سے فائدہ لینا چاہے، اس کے لیے اِس دنیا میں صرف یہ انجام مقدر ہے کہ وہ کبھی کامیابی اور ترقی (success)حاصل نہ کرسکے۔
واپس اوپر جائیں

کھونے میں پانا

انڈیا میں سول سروس کے امتحانات میں سب سے بڑا امتحان آئی اے ایس (IAS) سمجھتا جاتا ہے۔ یہ وہی امتحان ہے جس کو 1947 سے پہلے آئی سی ایس (ICS) کہاجاتا تھا۔ 2010 میں پورے انڈیا سے چار لاکھ امیدوار اِس امتحان میں شریک ہوئے۔ مئی 2010 میں اِس کا رزلٹ شائع ہوا ہے۔ اِس کے مطابق، آئی اے ایس کے اِس امتحان میں کشمیر کے ایک مسلم نوجوان ڈاکٹر شاہ فیصل (26 سال) نے ٹاپ کا درجہ حاصل کیا ہے۔
اِس کہانی کا ایک سبق آموز پہلو یہ ہے کہ ڈاکٹر شاہ فیصل کے والد غلام رسول شاہ کپواڑہ کے ایک گاؤں میں رہتے تھے۔ وہ اسکول کے ایک ٹیچر تھے۔ ایک بار کچھ ملٹنٹ وہاں آئے اور ان کے گھر میں ٹھہرنے کی فرمائش کی۔ غلام رسول شاہ نے ان کو اپنے گھر میںٹھہرانے سے انکار کردیا۔ اِس پر ملٹنٹ غصہ ہو گئے اور انھوں نے غلام رسول شاہ کو گولی مار کر ہلاک کردیا۔
اِس کے بعد حالات کے دباؤ کے تحت ڈاکٹر شاہ فیصل کی فیملی گاؤں چھوڑکر سری نگر آگئی۔یہاں ان کے لیے، ان کی ماں کے الفاظ میں، ایک ہی آپشن تھا، اور وہ تھا سخت محنت اور یکسوئی (hard work and dedication) ۔ شاہ فیصل کے باپ کے ساتھ جو حادثہ پیش آیا، اُس نے ان کو عمل کا ایک نیا محرک(incentive) دے دیا۔ وہ زیادہ سنجیدہ اور زیادہ محنتی بن گئے۔ باپ کی ناگہانی موت نے اُن کو ایک نئی زندگی دے دی۔ نئی دہلی کے انگریزی اخبار ٹائمس آف انڈیا (7مئی 2010 ) کے رپورٹر نے درست طور پر لکھا ہے کہ — یہ دراصل ایک المیہ تھا جس نے شاہ فیصل کے خاندان کے لیے وسیع تر دنیا کی طرف ایک کھڑکی کھول دی:
It was the tragedy that opened a window to the wider world for the family (p. 1)
آدمی اگر مایوس نہ ہو تو ہر محرومی اس کے لیے ایک نئی یافت کا ذریعہ بن جاتی ہے۔
واپس اوپر جائیں

صحیح مشورہ، غلط مشورہ

افراد کی زندگی میں اور قوموں کی زندگی میں بار بار ایسے معاملات پیش آتے ہیں جن کے مقابلے میں ایک سے زیادہ روش کو اختیار کرنا ممکن ہوتا ہے۔ مثلاً کسی نزاع (controversy) کے موقع پر یہ فیصلہ لینا کہ اس کے مقابلے کے لیے پُرامن طریقِ کار اختیار کیا جائے یا پرتشدد طریقِ کار، معاملہ کو یک طرفہ بنیاد پر ختم کردیا جائے، یا اس کو دوطرفہ بنیاد پر ختم کیا جائے، خاموشی اختیار کرلی جائے، یا فعّال رول ادا کیا جائے، صبر کا طریقہ اختیار کیا جائے، یا ٹکراؤ کا طریقہ، معاملے کو ہر قیمت پر فوراً ختم کردیا جائے یا ا س کے مقابلے میں کوئی لمبی کارروائی کی جائے، وغیرہ۔
ہر ایسے موقع پر دو قسم کے مشیر (advisors)سامنے آتے ہیں— صحیح مشورہ دینے والے اور غلط مشورہ دینے والے۔ تجربہ بتاتا ہے کہ صاحبِ معاملہ شخص اکثر غلط مشورے کو لے لیتا ہے اور صحیح مشورے کو چھوڑ دیتا ہے۔ اِس کی مثالیں ماضی میں بھی دیکھی جاسکتی ہیں اور حال میں بھی۔ سوال یہ ہے کہ کیوں ایسا ہے کہ انسان اپنے معاملات میں صحیح مشورے کو قبول نہیں کرپاتا، وہ اکثر غلط مشورے کو مان لیتاہے۔ اس کا نتیجہ بعد کو نقصان کی صورت میں سامنے آتا ہے۔
اس کا سبب یہ ہے کہ جب کوئی معاملہ پیش آتا ہے تو آدمی کے اوپر جذبات غالب آجاتے ہیں، وہ خالص عقلی (rational)انداز میں نہیں سوچ پاتا۔ اِس بنا پر اکثر ایسا ہوتا ہے کہ آدمی اُس وقت صحیح مشورے کی اہمیت کو سمجھ نہیں پاتا، وہ جذبات کے زیر اثر، غلط مشورے کو لے لیتا ہے، اگر چہ بعد کو اس کا نتیجہ مزید نقصان کی صورت میں بھگتنا پڑے۔ جب بھی کسی کے ساتھ کوئی معاملہ پیش آئے تو وہ اپنے متاثر ذہن کی بنا پر اُس کے بارے میں صحیح رائے نہیں قائم کرپاتا۔ مگر جو شخص معاملے سے الگ ہے، وہ اِس پوزیشن میں ہوتا ہے کہ وہ غیر جانب دارانہ انداز میں سوچے اور صحیح رائے دے سکے۔ ایسی حالت میںصاحبِ معاملہ کو چاہیے کہ دوسرا شخص اگر سنجیدہ ہے تو وہ اُس کی رائے پر دھیان دے اور اگر بے لاگ جائزے میں اس کی رائے درست نظر آئے تو وہ اس کو قبول کرلے۔
واپس اوپر جائیں

ایک عام کمزوری

ایک عوامی مثل ہے — عقل بڑی کہ بھینس۔ اِس کا مطلب یہ ہے کہ گاؤں میں رہنے والا ایک جاہل آدمی جب بھینس کو دیکھتا ہے تو وہ اس کو ایک بھاری بھرکم چیز نظر آتی ہے۔ وہ بھینس کو بڑی چیز سمجھ لیتا ہے۔ عقل (wisdom) کی اہمیت اس کی سمجھ میں نہیں آتی۔ وہ ظاہری علم کی بنا پر یہ سمجھ لیتا ہے کہ بھینس ایک بڑی چیز ہے۔ اِس کے مقابلے میں عقل محض ایک چھوٹی چیز۔
یہ محض گاؤں کے ایک جاہل آدمی کی بات نہیں، یہی شہروں میں رہنے والے تعلیم یافتہ لوگوں کی بات بھی ہے۔ لوگوں کا حال یہ ہے کہ وہ سیاسی اقتدار کو بڑی چیز سمجھتے ہیں۔ وہ بڑی بڑی بلڈنگوں میں قائم ہونے والے ادارے کو بڑی چیز سمجھتے ہیں۔ جس اجتماع میں عوام کی بھیڑ اکھٹا ہو جائے، اس کو وہ بڑا اجتماع سمجھتے ہیں۔ جس آدمی کے پاس شان دار مکان ہو اور اس کے گیٹ کے باہر کاریں کھڑی ہوئی ہوں، وہ اس کو بڑا آدمی سمجھ لیتے ہیں۔ جواخبار میں چھپے اور ٹی وی میں نظر آئے، اس کو وہ بڑی شخصیات (celebrities) میں شمار کرنے لگتے ہیں۔ جو آدمی اسٹیج پر پُرجوش خطابت کرے اور جس کو سن کر سامعین تالیاں بجائیں، اس کو لوگ بڑا مقرر سمجھ لیتے ہیں۔ جو آدمی سڑک پر چلے تو اس کے پیچھے گاڑیوں کا کارواں(motorcade) چل رہا ہو، اس کو وہ معزز انسان سمجھ لیتے ہیں، وغیرہ۔
یہ ایک عمومی کمزوری ہے۔ یہی کمزوری کسی بڑے کام میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ کہا جاتا ہے کہ کوئی بڑا کام ہمیشہ چھوٹے آغاز (humble beginning) سے شروع ہوتا ہے۔ جو لوگ چھوٹے آغاز کی اہمیت کو نہ جانیں، ان کے درمیان کوئی بڑا کام نہیں کیا جاسکتا۔
بڑے کام کے لیے ہمیشہ لوگوں کے تعاون کی ضرورت ہوتی ہے، لیکن جب چھوٹے آغاز کے لیے لوگ اپنا تعاون (co-operation) نہ دیں تو اُن کے درمیان بڑے کام کا آغاز ہی نہیں ہوسکتا۔ اِس قسم کا مزاج کسی بڑے کام کے لیے ایک مستقل رکاوٹ کی حیثیت رکھتا ہے۔
واپس اوپر جائیں

سوال وجواب

سوال
اللہ تعالیٰ نے اسلام کی حفاظت کا وعدہ فرمایا ہے۔ لیکن روایات میںآتا ہے کہ بعد کے زمانے میں امت کے اندر وہی بگاڑ پیدا ہوجائے گا جو پچھلے اہلِ کتاب (یہود ونصاریٰ) کے اندر پیدا ہوا تھا۔ سوال یہ ہے کہ جب اللہ تعالیٰ نے اسلام کی حفاظت کا وعدہ فرمایا ہے تو پھر ایسا کس طرح ممکن ہے کہ امت کے اندر وہی بگاڑ پیداہوجائے جو سابق اہلِ کتاب کے اندر پیداہوا تھا (حافظ ابو الحکم محمد دانیال، پٹنہ، بہار)
جواب
یہ صحیح ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حفاظت کا وعدہ فرمایا ہے (15: 9) ، لیکن اِس حفاظت کا تعلق دینِ اسلام کی حفاظت سے ہے، نہ کہ مسلم قوم کی حفاظت سے (5: 3) ۔ دینِ اسلام کی حفاظت کا مطلب یہ ہے کہ دین کا متن (text) پوری طرح محفوظ رہے گا، تاکہ ہر زمانے میں ہدایت کا طالب اُس سے ہدایت پاسکے۔ لیکن جہاں تک مسلم قوم کا تعلق ہے، وہ اُسی طرح حالتِ امتحان میں ہے جس طرح دوسری قومیں حالتِ امتحان میں ہیں۔ اِس سلسلے میں جتنی بھی روایتیں حدیث کی کتابوں میں آئی ہیں، وہ سب صراحت کے ساتھ بتاتی ہیں کہ دین کا معاملہ اور قوم کا معاملہ ایک دوسرے سے بالکل الگ ہے۔ ختمِ نبوت کا تقاضا ہے کہ دین کا متن قیامت تک محفوظ رہے۔ مگر جہاں تک مسلم قوم کا معاملہ ہے، اُس کے لیے عروج وزوال (rise & fall) کا وہی عام قانون ہے جو دوسری اہلِ کتاب امتوں کے لیے ہمیشہ سے رہا ہے۔ اِس معاملے میں کسی قوم کا کوئی استثنا (exception) نہیں۔
کچھ لوگوں نے غلط طورپر یہ نظریہ بنایا ہے کہ جس طرح دین ایک محفوظ دین ہے، اُسی طرح مسلم امت بھی ایک محفوظ امت ہے۔ مگر یہ ایک خود ساختہ نظریہ ہے، اِس کی کوئی اصل قرآن اور حدیث میں موجود نہیں۔ مثال کے طورپر امت کی محفوظیت کا نظریہ اِس روایت سے نکالا جاتا ہے کہ: إنَّ أمتی لاتجتمع علی الضلالۃ ( ذخیرۃ الحفاظ للقیسرانی، 1/364 ) مگر اِس کا یہ مطلب نہیں کہ امت کی اکثریت ضلالت سے محفوظ رہے گی۔ یہ حدیث افراد کی نسبت سے ہے، نہ کہ مجموعہ کی نسبت سے، یعنی امت کے عام بگاڑ کے زمانے میں بھی کچھ ایسے افراد ہوں گے جوعمومی بگاڑ کے زمانے میں بھی ہدایت پر قائم رہیں گے۔ اِسی لیے ایک اور روایت میں یہ الفاظ آئے ہیں: أن تستجمعوا کلُّکم علی الضلالۃ(مسند إسحاق بن راہوَیہ، رقم الحدیث: 363 ) یعنی بعد کے زمانے میں جب امت میں عام بگاڑ آجائے گا تو اُس وقت بھی کچھ افراد اِس عمومی بگاڑ سے محفوظ رہیں گے۔
سوال
عرض ہے کہ ہندستان کے مخصوص حالات میں مسلمانوں کو ان کی سیاسی زندگی میں قرآن اور حدیث سے کیا رہنمائی ملتی ہے براہِ کرم، واضح فرمائیں۔(محمد یحییٰ ارسلانی قاسمی، پالم کالونی، نئی دہلی)
جواب
اس معاملے میں قرآن اور حدیث کی رہنمائی یہ ہے کہ موجودہ زمانے میں ہندستان کے مسلمان بلکہ ساری دنیا کے مسلمان سیاست کو مکمل طورپر چھوڑ دیں اور وہ صرف غیر سیاسی دائرے میں کام کریں۔ مثلاً تعلیم، دعوت، تجارت اور تعمیر، وغیرہ۔ کام کا تعین ہمیشہ حالات کے اعتبار سے ہوتا ہے، نہ کہ کسی مفروضہ معیار کے اعتبار سے۔ حالات کا لحاظ کئے بغیر کسی مفروضہ معیار کو لے کر جو کام شروع کیا جائے، وہ صرف بے نتیجہ ٹکراؤ پیدا کرے گا، اس کے سوا اور کچھ نہیں۔
موجودہ زمانے کے مسلمان ہر جگہ اپنے سیاسی ذہن کے تحت اپنی سرگرمیاں جاری کئے ہوئے ہیں۔ چوں کہ حالات موافق نہیں ہیں، اِس لیے اِن سیاسی سرگرمیوں کے نتیجے میں اُن کو جو چیز ملی ہے، وہ صرف یہ ہے — شکایت، احتجاج، نفرت، منفی سوچ اور تشدد، وغیرہ۔ اِس طرح کی تمام چیزیں صرف یک طرفہ طورپر مسلمانوں کے نقصان کا باعث ہیں، وہ اُن کو کوئی مثبت نتیجہ دینے والی نہیں۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو قدیم مکہ میں سیاسی اقتدار کی پیش کش کی گئی۔ مکہ کے معاصر سرداروں نے آپ سے کہا: إن ترید مُلکاً، ملّکناک علینا (اگر آپ اقتدار چاہتے ہیں تو ہم آپ کو اقتدار دینے کے لیے تیار ہیں) آپ نے اِس سیاسی پیش کش کو قبول نہیں کیا۔ آپ نے فرمایا: ما أطلب الملک علیکم ( السیرۃ النبویۃ لابن ہشام، 1/296 ) یعنی میں تمھارے اوپر اقتدار کا طالب نہیں: I seek not sovereignty over you.
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اُس وقت کے مکی حالات کے اعتبار سے یہ فیصلہ کیا۔ آج کل کی زبان میں کہا جائے تو وہ یہ ہوگا کہ آپ نے سیاسی عمل (political activism) کے بجائے دعوتی عمل (dawah activism) کا طریقہ اختیار فرمایا۔ اس اعتبار سے، یہ کہنا صحیح ہوگا کہ — آپ نے نتیجے کو سامنے رکھ کر اپنا منصوبہ بنایا، نہ کہ مفروضہ معیار کو سامنے رکھ کر۔
اِس معاملے میں دوسری مثال حضرت یوسف علیہ السلام کی ہے۔ اگر مسلمانوں کا یہ خیال ہو کہ اُن کے لیے موجودہ حالات میں سیاست میں حصہ لینا ضروری ہے، کیوں کہ یہ جمہوری دور ہے اور جمہوری دور میں اگر کوئی گروہ ملک کی سیاسی سرگرمیوں میں شامل نہ ہو تو وہ پولٹکل ایلینیشن (political alienation) میں مبتلا ہوجائے گا، یعنی ایسا گروہ سیاسی اعتبار سے الگ تھلگ ہو کر رہ جائے گا۔ اِس دوسری حالت میں اُن کے لیے سنتِ یوسفی کا نمونہ موجود ہے۔ سنتِ یوسفی جیل میں جانے کا نام نہیں ہے، بلکہ سنتِ یوسفی دراصل سیاسی مصالحت (political adjustment) کا نام ہے۔ قرآن کے مطابق، حضرت یوسف کے زمانے میں مصر کا بادشاہ مشرک تھا۔ وہ شراب پیتا تھا۔ ملک میں اِسی مشرک بادشاہ کا قانون نافذ تھا۔ اِس کے باوجود حضرت یوسف نے مصالحت کا انداز اختیار کرتے ہوئے بادشاہ کے سیاسی نظام میں شرکت قبول کرلی۔ سیاست کا یہ طریقہ موجودہ زمانے میں ہر مسلمان کے لیے کھلا ہوا ہے۔
موجودہ زمانے کے مسلمانوں کا اصل مسئلہ یہ نہیں ہے کہ قرآن اور سنت میں اُن کے لیے واضح سیاسی رہنمائی موجود نہیں۔ اصل یہ ہے کہ وہ اپنے فخر پسندانہ مزاج کی بنا پر سیاسی سرکشی کو سیاست سمجھتے ہیں، اور چوں کہ کسی ملک میں ان کے لیے سیاسی سرکشی کے مواقع حاصل نہیں، اِس لیے وہ شعوری یا غیرشعوری طورپر یہ سمجھتے ہیں کہ قرآن اور سنت میں ان کے لیے سیاسی رہنمائی موجود نہیں۔ اِس معاملے میں اصل مسئلہ مسلمانوں کے خود ساختہ سیاسی شاکلہ (political framework) کو توڑنا ہے۔ موجودہ سیاسی شاکلہ کی موجودگی میں قرآن اور سنت کی رہنمائی مسلمانوں کی سمجھ میں آنے والی نہیں۔
واپس اوپر جائیں

خبرنامہ اسلامی مرکز — 209

1 - نئی دہلی میں 3-14 اکتوبر 2010 کے درمیان کامن ویلتھ گیم (CWG-2010)کا انعقاد ہوا۔ گیم کے دوران بڑے پیمانے پر کھلاڑیوں اور شرکا کو سی پی ایس کی طرف سے قرآن کا انگریزی ترجمہ اور دعوتی لٹریچر دیاگیا۔ ہمارے ساتھی جو کھیل گاؤں (نئی دہلی) میں دعوتی لٹریچر لے کر گئے تھے، ان میں سے ایک ساتھی نے اِس سلسلے میں سی پی ایس کے ایک ممبر سے اِن الفاظ میں اپنا تاثر بیان کیا:
Glory be to God, all the things are turning out very well beyond imagination and the distribution is in full swing.
2 - نئی دہلی کے اسلامک کلچرل سنٹر میں اردو پریس کلب (نئی دہلی) کی طرف سے 15 اکتوبر2010 کو ایک سیمنار ہوا۔ اِس میں ہندو اور مسلمان دونوں شریک ہوئے۔ اس کا عنوان یہ تھا — نیشنل ازم کو کیسے فروغ دیا جائے:
How to Promote Nationalism
اِس کی دعوت پر صدر اسلامی مرکز نے اِس سیمنار (seminar)میں شرکت کی اور موضوع پر 15 منٹ کی ایک تقریر کی۔ ان کی تقریر کا خلاصہ یہ تھا کہ حبّ وطن انسان کی فطرت میں شامل ہے۔ اِس معاملے میں مسلمانوں کے اندر نیا ذہن نوآبادیاتی دور میں پان اسلام ازم (Pan-Islamism) کی تحریک کے تحت پیدا ہوا۔ اس کا مطلب یہ تھا کہ قومیت کا تعلق مذہب سے ہے۔ مولانا حسین احمد مدنی (وفات: 1957 )نے اِس نقطۂ نظر سے اختلاف کرتے ہوئے کہا تھا کہ— فی زمانہ قومیں اوطان سے بنتی ہیں:
In present age, nationhood is based on homeland.
مگر اِس بیان سے مسلمانوں کا ذہن بدل نہ سکا، کیوں کہ مسلم علماء نے یہ کہہ دیا کہ مولانا مدنی نے جو کچھ کہا، وہ انشا نہ تھی، بلکہ خبر تھی۔ ضرورت ہے کہ اِس معاملے میں مسلمانوں کے ذہن کی اصلاح کی جائے، ورنہ مسلمان ہر ملک میں غیر وفادار بن کر رہ جائیں گے۔
3 - الرسالہ مشن سے وابستہ ایک ساتھی نے امام حرم مکی شیخ عبد الرحمن السدیس سے ایک خصوصی پروگرام کے دوران مکہ میں ان کے گھر پر ملاقات کی۔ ملاقات کے وقت انھوں نے دیکھا کہ امام حرم کے مطالعے کی میز پر صدر اسلامی مرکز کی کتاب الإسلام یتحدی رکھی ہوئی ہے۔ ہمارے ساتھی نے امام صاحب سے پوچھا کہ آپ شیخ وحید الدین کو جانتے ہیں۔ امام حرم نے کہا کہ شیخ وحیدالدین دورِ جدید کے عظیم داعی اور مفکر ہیں، ان سے کون ناواقف ہوسکتا ہے۔ انھوں نے کہا کہ دعوتِ اسلامی کے احیاء اور اسلام اور دورِ جدید کی نسبت سے شیخ وحید الدین نے جو کام کیا ہے، وہ بلا شبہہ ایک تجدیدی کام ہے۔ ہمارے ساتھی نے ان کوبتایا کہ شیخ وحید الدین کی تفسیر کا عربی ایڈیشن مصر سے شائع ہوچکا ہے۔ اِس سلسلے میں تذکیر القرآن (عربی) کا ایک سیٹ امام حرم کو صدر اسلامی مرکز کی طرف سے حسب ذیل خط کے ساتھ (22 اکتوبر 2010) کو دستی طورپر روانہ کیا گیا:
إلی فضیلۃ الشیخ د؍عبد الرحمن السدیس حفظہ اللہ السلام علیکم ورحمۃ اللّہ وبرکاتہ
فیطیب لی أن أرفق طیہ نسخۃ من ’’التذکیر القویم فی تفسیر القرآن الحکیم‘‘ (3 مجلدات) وہو أہم وأضخم ما نقل إلی العربیۃ من مؤلفاتی أخیراً. وقد قام بترجمتہ من لغۃ الأردو الأخ أبوصالح أنیس لقمان الندوی وتولی تقدیمہ ونشرہ الأستاذ د؍عبد الحلیم عویس من دار الوفاء القاہریۃ منذ حوالی سنۃ ونصف.
وإذا کان کتابی ’’الإسلام یتحدی‘‘ موجہاً إلی العقل المعاصر عامۃ لإثبات أحقیۃ مبادیٔ الإسلام وخلود رسالتہ فی مواجہۃ تیارات الفکر العلمانی الحدیث؛ فإننی حاولت من خلال تفسیری المتواضع ہذا أن أذکّر المسلمین خاصۃ وہم أمناء علی کتاب اللّٰہ برسالتہم ومسؤولیتہم تجاہہ. ومن ثم یدور ہذا التفسیر حول نقطۃٍ مرکزیۃ ہی ’’الدعوۃ‘‘ والتی تجدونہا مناسبۃ فی کل سطر من سطورہ. فالقرآن الکریم ہو کتاب ’’الدعوۃ إلی اللہ‘‘ أولاً وأخیراً. والامۃ الإسلامیۃ ہی قبل کل شـیئ وبعد کل شیئ’’أمۃ دعوۃ‘‘ وبالتالی علیہا أن تلتمس کل الطرق الحکیمۃ والسلمیۃ المتاحۃ وکل الأسالیب المعاصرۃ والفعالۃ لأجل تبلیغ دعوۃ القرآن إلی البشریۃ جمعاء.
وإننی إذ أہدی ہذا الکتاب إلی فضیلتکم؛ راجیاً أن یحظی بحسن القبول عندکم؛ أسأل اللّٰہ تعالی أن یوفقنا جمیعاً إلی السعی الحثیث الجاد لإدخال کلمتہ إلی کل بیت ’’مدر أو وبر‘‘؛ کما ورد فی حدیث مسند الإمام أحمد. (أخوکم فی اللہ وحید الدین خان)
4 - حکومتِ شارجہ (عرب امارات) کی جانب سے شارجہ ایکسپو سنٹر میں 26 اکتوبر تا 6 نومبر 2010 کے درمیان ایک انٹرنیشنل بک فیر منعقد ہوا۔ اس کا افتتاح شارجہ کے حکمراں دکتور السلطان بن محمد علی القاسمی (71سال) نے کیا۔ اِس بک فیر میں نئی دہلی کے گڈ ورڈ بکس نے حصہ لیا۔ اسٹال پر بڑی تعداد میں لوگ آئے۔ انھوںنے خاص طورپر، صدر اسلامی مرکز کے انگریزی ترجمہ قرآن اور پرافٹ آف پیس کو بے حد پسند کیا اور اس کو شوق سے خریدا۔
5 -یکم نومبر 2010 کو مولانا مکرم حسین قاسمی اور مولانا محمد ذکوان ندوی نے لکھنؤ کے ایک عقدِ نکاح میں شرکت کی۔ یہاں انھوں نے لوگوں کو ماہ نامہ الرسالہ اور دعوتی لٹریچر برائے مطالعہ دیا۔اس موقع پر بہرائچ (یوپی) کے اعلیٰ تعلیم یافتہ ہندوؤں کو قرآن کا ہندی اور انگریزی ترجمہ اور دعوتی لٹریچر دیاگیا۔ جیوتی وسترالے کے مالک مسٹر شرما نے قرآن کو دیکھ کر اپنی غیر معمولی دلچسپی کا اظہار کیا۔ انھوں نے کہا کہ — لمبے عرصے سے میں قرآن کو پڑھنا چاہتا تھا، مگر اب تک میں اس کو حاصل نہ کرسکا تھا۔ انھوں نے کہا کہ اب میں ضرور قرآن کو پڑھوں گا۔
6 -دور درشن (نئی دہلی) کے اردو ٹی وی چینل کی ٹیم نے 10 نومبر 2010 کو صدر اسلامی مرکز کا ایک تفصیلی انٹرویو ریکارڈ کیا۔ انٹرویو حج اور قربانی کے موضوع پر تھا۔ سوالات کے دوران موضوع کی وضاحت کی گئی۔
7 - نظام الدین ویسٹ (نئی دہلی) کے کمیونٹی سنٹر میں 14 نومبر 2010 کو ایک پروگرام ہوا۔ یہ پروگرام کمیونٹی کی طرف سے صدر اسلامی مرکز کو ایک اعزازی ایوارڈ دینے کے لیے کیاگیا تھا۔ اِس موقع پر بڑی تعداد میں ہندو اورمسلم افراد موجود تھے۔ ان لوگوں کو قرآن کا انگریزی ترجمہ اور دعوتی لٹریچر دیاگیا۔
8 - وائی ایم سی اے (Young Men’s Christian Association) کی طرف سے 17 نومبر2010 کو اس کے کیمپس گول مارکیٹ (نئی دہلی) میں ایک سیمنار ہوا۔ یہ سیمنار حقوق اطفال (child rights) کے موضوع پر تھا۔ اس کی دعوت پر صدر اسلامی مرکز نے اس میں شرکت کی اور اسلام کی روشنی میں موضوع پر انگریزی زبان میں آدھ گھنٹہ تقریرکی۔ اِس موقع پر حاضرین کو قرآن کا انگریزی ترجمہ دیاگیا۔
9 - خان مارکیٹ (نئی دہلی) میں 22 نومبر 2010 کو ہمارے ساتھیوں نے وہاں جاکر لوگوں کو قرآن کا انگریزی ترجمہ دیا۔ لوگوں نے اس کو بے حد شوق سے لیا۔
10 - نئی دہلی کے سینٹ ایگنلس فادر اسکول (St. Agnel’s Father School) میں 23 نومبر 2010 کو ایک پروگرام ہوا۔ یہ پروگرام کیرلا کے اسوسی ایشین آف کرسچن فلاسفرس آف انڈیا (ACPI) کی طرف سے شائع کردہ انسائکلوپیڈیا آف فلاسفی (دو جلدیں) کے افتتاح کے موقع پر کیاگیاتھا۔ اس کی دعوت پر صدر اسلامی مرکز نے اس میں شرکت کی اور انگریزی زبان میں علم کی اہمیت پر ایک تقریر کی۔ پروگرام کے صدر سپریم کورٹ کے جسٹس مارکنڈے کاٹجو (Makandey Katju)تھے۔ انھوں نے صدر اسلامی مرکز کے بارے میں اپنے تاثرات کا اظہار کرتے ہوئے کہا:
Maulana Wahiduddin Khan is a role model for India.
اِس پروگرام میں انڈیا کے مختلف کرسچن اسکولوں کے پرنسپل اور اعلیٰ تعلیم یافتہ ہندو اور مسیحی افراد شریک تھے۔ان لوگوں کو پرافٹ آف پیس اور قرآن کا انگریزی ترجمہ دیا گیا۔
11 -سی پی ایس کے کچھ لوگ 24 نومبر 2010 کو نئی دہلی کے لال قلعہ گئے۔ اِس موقع پر انھوں نے وہاں کے زائرین (visitors) کو قرآن کا انگریزی ترجمہ اور دعوتی لٹریچر دیا۔
12 -روڑکی (اتراکھنڈ) کے آئی آئی ٹی کالج میں 28 نومبر 2010 کو مسٹر ساجد انور نے سی پی ایس کی طرف سے صدر اسلامی مرکز کے دعوتی لٹریچر کے لیے ایک بک کارنر (Book Corner)قائم کیا۔ انھوں نے یہاں کے طلبا اور اساتذہ کو قرآن کا انگریزی ترجمہ اور دعوتی لٹریچر دیا۔
13 -سہارن پور سی پی ایس برانچ نے 28 نومبر 2010 کو ایک دعوتی پروگرام کیا۔ اِس میں بطور چیف گیسٹ سوامی چنمیہ آنند (صدر، وویکا نند ٹرسٹ، گروکل، ہری دوار) کو بلایا گیا تھا۔ اِس پروگرام کا موضوع امن اور اسلام تھا۔ اِس پروگرام میں اعلیٰ تعلیم یافتہ غیر مسلم حضرات نے شرکت کی۔ ان لوگوں کو قرآن کا ہندی اور انگریزی ترجمہ اور دعوتی لٹریچر دیاگیا۔ سوامی پریم وکرم نے اپنے لوگوں کو بطور خود قرآن کا ترجمہ دیا۔ اِس موقع پر سوامی اگنی ویش نے صدر اسلامی مرکز کی تفسیر تذکیر القرآن کا ہندی ترجمہ حاصل کیا۔
14 -نئی دہلی کے سائی انٹرنیشنل سنٹر (لودھی روڈ) میں 29 نومبر 2010 کو اس کی دعوت پر صدر اسلامی مرکز نے اس میں شرکت کی۔ تقریر کا موضوع یہ تھا:
Basic Human Values in Islam
صدر اسلامی مرکز نے انگریزی زبان میں موضوع پر ایک گھنٹہ تقریر کی۔ تقریر کے بعد سوال وجواب کا پروگرام ہوا۔ اِس پروگرام میں انڈیا کے مختلف اسکولوں کے پرنسپل نے شرکت کی۔ یہاں لوگوں کو قرآن کا انگریزی ترجمہ دیا گیا۔
15 - پستک میلہ سمیتی (نئی دہلی) کی جانب سے جھارکھنڈ کی راجدھانی رانچی کے تاریخی گراؤنڈ جے پال سنگھ اسٹیڈیم میں 3 دسمبر سے 12 دسمبر 2010 کے درمیان ایک نیشنل بک فیر منعقد ہوا۔ اِس بک فیر میں نئی دہلی سے گڈ وڈ بکس نے حصہ لیا۔ بڑی تعداد میں وزٹرس اسٹال پر آئے۔ بک اسٹال کا انتظام شاہ عمران حسن نے سنبھالا۔
16 - نئی دہلی کے بھائی ویر سنگھ ساہتیہ سدن (گول مارکیٹ) کے ہال میں 8 دسمبر 2010 کو ایک سیمنار ہوا۔ یہ سیمنار گورنمنٹ آف انڈیا کے ڈپارٹمنٹ آف کلچر کی طرف سے کیا گیا تھا۔ اِس کا موضوع یہ تھا:
International Seminar on Guru Granth Sahab.
اِس کی دعوت پر صدر اسلامی مرکز نے اِس میں شرکت کی اور انگریزی زبان میں اسلام کے تعارف پر ایک تقریر کی۔ اِس سیمنار میں سِکھ کمیونٹی کے اعلیٰ تعلیم یافتہ افراد شریک ہوئے۔ سی پی ایس کی طرف سے ان لوگوں کو قرآن کا انگریزی ترجمہ اور دعوتی لٹریچر دیاگیا۔
17 -کشمیر کے انگریزی میگزین (Kashmir Scan) کی نمائندہ مزسماء ثابت نے 16 دسمبر 2010 کو صدر اسلامی مرکز کا ایک تفصیلی انٹرویو ریکارڈ کیا۔ انٹرویو کا موضوع صدر اسلامی مرکز کی زندگی اور اُن کا مشن تھا۔ سوالات کے دوران تفصیل سے دونوں پہلوؤں کے بارے میں بتایا گیا۔
18 - ٹائمس آف انڈیا (نئی دہلی) میں مسلسل صدر اسلامی مرکز کے مضامین شائع ہورہے ہیں۔ اس سلسلے میں قارئین کے تاثرات سی پی ایس کو موصول ہوتے ہیں۔ یہاں اُن میں سے دو تاثرات نقل کئے جاتے ہیں:
I have gone through the ‘Speaking Tree’ column of Times of India with the caption ‘Big Birds of the Storm’ (TOI, Dec. 23, 2010) Your ability to present the cardinal truths in simple language is commendable. I specially appreciate your efferots to enlighten the common man with such great rich spiritual practices which would enhance universal brother-hood and eternal peace in the world. Please accept my sincerest gratitude for the superior job you are doing in the interest of mankind. (Naresh Garg, Managing Trustee, Delhi)
ک Thank you very much for such a beautiful article! Today what I learned from this article was very inspiring for me.Many people tried to explain me how to maintain calmness, but I could not maintain, and this article ('Big Birds of the Storm) did such a work that none ever did anytime! This article was really very good and very inspiring, I will really forward this article (Big Birds of the Storm) to schools and colleges. (Sagar Agarwal, Delhi)
19 - قرآن کا انگریزی ترجمہ اور دعوتی لٹریچر بڑے پیمانے پر غیر مسلموں کے درمیان پھیلایا جارہا ہے۔ لوگ خوشی کے ساتھ اس کو قبول کرتے ہیں۔ اس سلسلے میں یہاں اُن میں سے چند تاثرات نقل کئے جاتے ہیں:
ک I feel so indebted for the great gift I have been waiting, The Quran I just received today at midday, may God bless you abundantly and your team for this great mission, I was not able to read Quran as many I came across were in either Arabic or Roman but now I can read on my own. I am so happy. (Hillary Olola, Homabay, Nairobi, Kenya)
ک I have a great regard for the religion of Islam and particularly, for Maulana Wahiduddin Khan, who interprets the Holy Quran, the Sahih Hadith & the life of the Prophet Muhammad in the most simple and practical manner. (Srinivasan Balakrishnan, Jamshedpur, Jharkhand)
ک I truly believe that Maulana Wahiduddin Khan's understanding of Islam is wonderful and truly beneficial, he is one of the reasons that I have fell in love with Islam all over again. He will most definitely be one of the scholars I continue to read, and if his methodology was firmly promoted all over the world, I believe that many of those Muslims with ideological political agendas can come to see the truth of Islam and Prophet Message, insha Allah. I love Maulana Wahiduddin Khan's understanding of the ahl-Kitab and the respect he shows for other religions. May Allah continue to bless Maulana Wahiduddin Khan and I look forward to becoming a student of his teachings and methodologies. Maulana Wahiduddin Khan’s understanding of true Islam is what the world needs! (Mike Westerfield, Panama, Florida, USA)
ک Maulana Wahiduddin Khan is one of the Islamic scholars that caused Islam to be presented in the modern era. The sole reason behind this is that he presented Islam in a logical and scholarly way. (Muhammad Bilal, Pakistan)
20 - سی پی ایس کی طرف سے مختلف لائبریریوں کو اسلامی کتابیں بھیجی جارہی ہیں۔ لوگ اس کو پسندیدگی کے ساتھ قبول کرکے اپنی لائبریری میں جگہ دیتے ہیں۔ اِس سلسلے میں یہاں ایک خط نقل کیا جارہا ہے:
ک Thank you very much for sending us a set of books from the Centre for Peace and Spirituality International, authored by Maulana Wahiduddin Khan. After the customary review by the Library Book Selection committee, it will be added to our library for utilization of our readers. It is indeed a pleasure to add such well-written books to our library. (Br. Vidyachitanya, Ramakrishna Mission Library, New Delhi)
21 - سی پی ایس کی طرف سے معروف اجتماعی مقامات — ہوٹل، ہاسپٹل، ریلوے اسٹیشن، ائرپورٹ، وغیرہ پر قرآن کے اسٹینڈ رکھے جارہے ہیں۔ لوگ یہاں سے بخوشی قرآن کا انگریزی ترجمہ حاصل کرتے ہیں۔
22 - القرآن انسٹی ٹیوٹ (امین آباد، لکھنؤ) کی طرف سے بڑے پیمانے پر صدر اسلامی مرکز کا انگریزی ترجمہ قراژن غیر مسلموں تک پہنچایا جارہا ہے۔ اللہ تعالیٰ انسٹی ٹیوٹ سے وابستہ تمام معاونین کو جزائے خیر عطا فرمائے۔
23 - حلقہ الرسالہ (بمبئی) کے ساتھیوں نے نومبر 2010 میں ایک مخصوص دعوتی پروگرام بنایاہے۔ یہ ممبئی کی فلم انڈسٹری میں کام کرنے والے اسٹارس (film stars) اور نمائندہ لوگوں سے دعوتی ملاقات کا پروگرام ہے۔ یہ لوگ فرداً فرداً انڈسٹری کے لوگوں سے مل کر ان کو دعوتی لٹریچر پہنچا رہے ہیں۔ انڈسٹری کے کئی اردو داں حضرات نے اپنے پتے پر ماہ نامہ الرسالہ بھی جاری کیا ہے۔ مثلاً مسٹر قادر خان، وغیرہ۔
24 - نئی دہلی کے ٹی وی چینل زی سلام کے اسٹوڈیو میں 24 جولائی 2010 سے صدر اسلامی مرکز کے اسلامی پروگرام کی ریکارڈنگ ہو رہی ہے۔ اس پروگرام کی اینکر مز شگفتہ یاسمین صاحبہ ہیں۔ دسمبر 2010 تک 35 مختلف اسلامی موضوعات پر صدر اسلامی مرکز کے پروگرام ریکارڈ ہو کر نشر ہوچکے ہیں۔ یہ پروگرام سوال وجواب کی شکل میں ہوتا ہے۔
25 - عربی زبان کے مشہور مصری ادیب اور مصنف ڈاکٹر عبد الصبور شاہین (82 سال) کا 26 ستمبر2010 کو قاہرہ میں انتقال ہوگیا۔ صدر اسلامی مرکز کی کتاب الإسلام یتحدی کا عربی ترجمہ اُنھیں کے براہِ راست تعاون سے تیار کیاگیا تھا۔ ڈاکٹر ظفر الاسلام خاں کے حسب ذیل مضمون میں اِس معاملے کی تفصیل دیکھی جاسکتی ہے:
Dr. Abdussabour Shahin (1928-2010)
While hastily turning the pages of the Kuwaiti magazine Al-Mujtama‘ last week, a familiar face stopped me - it was the image of my and millions’ dear teacher Dr Abdussabour Shahin, but the news printed along the photograph was shocking: he died on 26 September 2010 and was buried in Cairo next day after the funeral prayer at his beloved ‘Amr Ibn Al-‘Aas mosque, Egypt’s first mosque built after the Islamic conquest. He had delivered Friday sermons in this very mosque for years until stopped by the authorities. Dr Abdussabour was one of the greatest names in the contemporary Middle East - a teacher, philosopher and linguist. Author of over 70 books, some multi-volume, he was a familiar face on Arabic channels and in Islamic conferences. He was professor of linguistics in Cairo University’s Darul Uloom College and taught in a number of Arabic universities on deputation. He was elected to the Majlis Shoura, the upper house of Egyptian parliament. But the exceptional honour he received was to be the Imam Jumu‘ah of ‘Amr ibn Al-‘Aas mosque where great personalities, like Shaikh Muhammad Al-Ghazali, had traditionally delivered the Friday sermon attended by tens of thousands of people who used to travel to that mosque from various corners of Cairo and nearby Giza. He was a master of French language too and translated many books of the Algerian thinker Malek Bennabi as well as the epoch-making book of Abdullah Draz on morals in Islam. I consider him my real teacher in life. Although I studied in Darul Uloom, but he did not teach me there as he taught in the Arabic department while I was in the department of Islamic history. I had wanted to translated my father’s book, Ilm-e Jadeed ka challenge’ (God Arises) and asked the great ‘alim Shaikh Abdullatif Draz who was a former Vice Chancellor of Al-Azhar and treated me like his son. His suggestion was to go to Dr Abdussabour Shahin as he was the best person for this job. He at once phoned Dr Shahin who, in turn, readily agreed. This was in the early days of 1968. Next, I went to see him with the translation of a few pages of the book. He did not like the translation but liked the content. His disapproval of my translation was repeated again and again and I used to tell him that next day I will bring a better translation. His pet reply was: ‘No, it will be the same again’. Then he used to ask me to explain to him reading the original and he himself used to write those lines. Thus, we continued this onerous task for perhaps eight or nine months with barely a page or so completed in a day. I
used to go to him every evening by trolley bus all the way from Abbasia to his flat on the Qasr al-'Aini Street - a distance of may be 45 minutes each way, spend two-three hours with him and then return to my hostel by around midnight. Thus the book was completed. He soon went to teach in Kuwait University and took the manuscript with him. Soon, the book was published in best possible way titled Al-Islam Yatahadda which made waves in the Arab world and still continues to do four decades later. It helped thwart the secular and westernization onslaught and paved the way for Islamic revival in the Middle East. I soon left Cairo for Libya and from there moved to UK but kept in touch with my teacher who taught me what Arabic is. If I know any amount of Arabic writing, perhaps the best in the Subcontinent, the credit goes to him alone. He was very particular about words and expressions. He was a brave, fearless and highly eloquent Muslim thinker who did not shy away from expressing himself in most difficult situations. I last saw him last year in Makkah during the Dialogue Conference held by King Abdullah. He looked frail, yet attentive and loving as ever. He embraced me, saying ‘‘Habibi’’ - my dear… That was the last time I saw him. May Allah fill his grave with light and award him for his services to Islam and Muslims who will remember him for long. (by Dr. Zafarul Islam Khan, The Milli Gazette, New Delhi, 1-15 Novermber 2010, . 16)
واپس اوپر جائیں