Pages

Friday, 1 February 2013

Al Risala | February 2013 (الرسالہ،فروری)

2

-اتمامِ نور

3

- اسوۂ رسول

4

- بہتر گھر، بہتر سماج

5

- فضائل کی روایات

6

- تخلیقی ضعف ایک رحمت

7

- شکر کا ایک آئٹم

8

- حساب کا وقت

9

- اسلام فطرت کی آواز

12

- پانچ فقہی اسکول

17

- امت میں اختلاف کا مسئلہ

18

- مخاصمت نہیں

19

- دورِ سائنس اور مذہب

33

- امید کی طاقت

34

- کشمیر میں نئی سوچ کی ضرورت

36

- بابری مسجد: ایک پیغام

37

- سوال وجواب

39

- خبر نامہ اسلامی مرکز — 220


اتمامِ نور

قرآن کی سورہ التحریم کی ایک آیت میں اہلِ ایمان کی بابت یہ الفاظ آئے ہیں: یَوْمَ لَا یُخْزِی اللّٰہُ النَّبِیَّ وَالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مَعَہٗ ۚ نُوْرُہُمْ یَسْعٰى بَیْنَ اَیْدِیْہِمْ وَبِاَیْمَانِہِمْ یَقُوْلُوْنَ رَبَّنَآ اَتْمِمْ لَنَا نُوْرَنَا وَاغْفِرْ لَنَا ۚ اِنَّکَ عَلٰی کُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ (66:8) یعنی جس دن خدا، پیغمبر کو اور اس کے ساتھ ایمان لانے والوں کو رسوا نہیں کرے گا- اُن کا نور اُن کے آگے اور ان کے دائیں طرف دوڑ رہا ہوگا- وہ کہہ رہے ہوں گے کہ اے ہمارے رب، تو ہمارے لیے ہمارے نور کو کامل کردے اور ہماری مغفرت فرما- بے شک تو ہر چیز پر قادر ہے-
قرآن کی اِس آیت میں ’نور‘ سے مراد کوئی خارجی نور نہیں ہے، بلکہ اِس سے مراد خود صاحبِ ایمان کی منور شخصیت (radiant personality) ہے- اِسی طرح ’اتمامِ نور‘ سے مراد کوئی خارجی نوعیت کا اتمام نور نہیں ہے، بلکہ وہ ایک ایسا واقعہ ہے جو خود صاحبِ ایمان کی اپنی شخصیت کے اندر پیش آئے گا-
اُن کا نور ان کے دائیں اور ان کے آگے دوڑ رہا ہوگا— اِس کا مطلب یہ ہے کہ ان کی منور شخصیت اتنی زیادہ نمایاں ہوگی کہ وہ لوگوں کو دور سے دکھائی دے گی- سچا مومن جب کوئی عمل کرتا ہے تو اس کے عمل کا خارجی پہلواِس دنیا میں لوگوں کو نظر آجاتا ہے، لیکن اس کے عمل کا باطنی پہلو دکھائی نہیں دیتا-سچے اہلِ ایمان کے عمل کا یہ چھپاہوا پہلو آخرت میں عیاناً ظاہر ہوجائے گا- اِسی حقیقت کو قرآن میں، نورکےدوڑنے سے تعبیر کیاگیا ہے- اتمامِ نور کا مطلب یہ ہے کہ خدایا، جس طرح دنیا میں ہمارے عمل کا خارجی پہلو ظاہرہوا تھا، اُسی طرح تو ہمارے عمل کے داخلی پہلو کو بھی ظاہرکردے-
مثال کے طورپر قرآن میں اہلِ ایمان کے لیے آیا ہے کہ: اَلَّذِیْنَ یُؤْتُوْنَ مَا اٰتَوْا وَّقُلُوْبُہُمْ وَجِلَةٌ (23:60)- اِس آیت میں جس مومنانہ کردار کا ذکر ہے، اُس میں دیکھنے والوں کو صرف یہ نظر آئے گا کہ اُس نے مال کا ایک حصہ کسی کو دیا، لیکن اس کے عمل کا دوسرا پہلو کہ اُس وقت اُس کا دل خوفِ خدا کی کس کیفیت سے بھرا ہوا تھا، اُس کو دنیا میں کسی دیکھنے والے نے نہیں دیکھا- آخرت میں یہ ہوگا کہ ایسا مومن اپنی شخصیت کے دونوں پہلوؤں کے ساتھ نمایاں ہوجائے گا-
واپس اوپر جائیں

اسوۂ رسول

اسلامی تعلیم کے مطابق، پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم ایک کامل پیغمبر ہیں- آپ کی سیرت میں انسان کی زندگی کے لیے بہترین نمونہ موجود ہے- ایک انسان اپنی زندگی کے تمام معاملات میں پیغمبراسلام سے مستند ربانی ہدایت حاصل کرسکتاہے- پیغمبر اسلام بلاشبہہ ایک رول ماڈل (role model)کی حیثیت رکھتے ہیں- اِسی کو قرآن میں اسوہ حسنہ (33:21) کہا گیا ہے-
پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ کامل اسوہ بہ اعتبار فہرست (in terms of list) نہیں ہے، بلکہ وہ بہ اعتبارِ انطباق (in terms of application) ہے- یہ حقیقت ایک حدیثِ رسول سے معلوم ہوتی ہے- اس کے مطابق،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب معاذ بن جبل کو (بطور عامل) یمن کی طرف بھیجا تو آپ نے معاذ بن جبل سے پوچھا کہ جب تمھارے سامنے کوئی معاملہ آئے گا تو تم اس کا فیصلہ کس طرح کروگے- انھوںنے کہا کہ میں اللہ کی کتاب سے اس کا فیصلہ کروں گا- آپ نے فرمایا کہ اگر تم اللہ کی کتاب میں نہ پاؤ- انھوں نے کہا کہ میں رسول اللہ کی سنت سے فیصلہ کروں گا- آپ نے فرمایا کہ اگر تم رسول اللہ کی سنت میں اور اللہ کی کتاب میں بھی نہ پاؤ- انھوں نے کہا کہ میں اپنی رائے سے اجتہاد کروں گا اور اس میں کوئی کمی نہیں کروں گا(أجتہد رأئی ولا اٰلو)- رسول اللہ نے ان کے سینے پر ہاتھ مارا اور فرمایا کہ اللہ کا شکر ہے کہ اس نے رسول کے فرستادہ کو اُس چیز کی توفیق دی جس سے اللہ کا رسول راضی ہے-(سنن أبی داؤد، رقم الحدیث: 3592)
اِس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ معاذ بن جبل کو اعتماد تھا کہ وہ سنت ِ رسول کے ذریعے تمام پیش آمدہ معاملات کا فیصلہ کرسکتے ہیں، لیکن یہ فیصلہ اِس اعتبار سے نہ تھاکہ سنت بہ اعتبارِ فہرست ایک مکمل فہرست ہے، بلکہ اس کا مطلب یہ تھا کہ معلوم فہرست پر اجتہاد کا اضافہ کرکے وہ اس کو مکمل کرسکتے ہیں- اِس روایت سے جو اصول دریافت ہوتا ہے، وہ یہ ہے — سنت پلس اجتہاد برابر ہے کامل اسوہ رسول کے:
Sunnah plus Ijtihad is equal to ‘Uswah-e-Kamilah’
واپس اوپر جائیں

بہتر گھر، بہتر سماج

حضرت عائشہ کی ایک روایت کے مطابق، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: خیرکم خیرُکم لأہلہ، وأنا خیرکم لأہلی (سنن الترمذی، رقم الحدیث: 3895) یعنی تم میں سب سے اچھا وہ ہے جو اپنے گھر والوں کے لیے سب سے اچھا ہو اور میں اپنے گھر والوں کے لیے تم میں سب سے اچھا ہوں-
خاندان کسی سماج کا ایک یونٹ ہے- خاندانوں کے مجموعے ہی کا دوسرا نام سماج ہے- اگر خاندان بہتر ہوگا تو سماج بھی بہتر ہوگا- اور اگر خاندان بہتر نہ ہو تو سماج بھی بہتر نہیں ہوسکتا-ہر شخص کسی خاندان میں پیداہوتا ہے- گویا کہ گھر، خاندان یا سماج کی پہلی تربیت گاہ ہے- اِس لیے اگر کسی سماج کو بہتر بنانا ہے تو خاندان کو بہتر بنانا ہوگا-
تعلیم کی دو قسمیں ہیں — رسمی تعلیم (formal education)، اور غیر رسمی تعلیم (informal education) - رسمی تعلیم کا ادارہ آدمی کو جاب (job) کے لیے تیار کرتا ہے اور غیررسمی تعلیم کا ادارہ سماج کے لیے بہتر افراد بنانے کا ذریعہ ہے- اسکول اور کالج رسمی تعلیم کے ادارے ہیں اور خاندان غیر رسمی تعلیم کے ادارے-سماج کے اندر وسیع تر دائرے میں مثبت اور منفی نوعیت کے جو تجربات ہوتے ہیں، وہ تمام تجربات گھر کے اندر محدود دائرے میں ہوتے ہیں- گھر کے اندر کسی عورت یا مرد کو یہ سیکھنا ہے کہ جب گھر کے کسی فرد سے اس کو تکلیف پہنچے تو وہ اُس کو بھلا دے- اِسی طرح جب گھر کے کسی فرد سے اس کو کوئی فائدہ پہنچے تو وہ دل سے اس کا اعتراف کرے-
جو لوگ اپنے گھر کے اندر اِس طرح کی تربیت حاصل کریں، وہ جب گھر سے نکل کر سماج میں داخل ہوں گے تو وہاں بھی وہ دوسروں کے ساتھ اِسی طرح کا برتاؤ کریںگے- وہ ناخوشگوار باتوں کو بھلائیں گے اور خوش گوار باتوں پر دوسرے کے سلوک کا اعتراف کریں گے- یہی وہ لوگ ہیں جو اخلاقی اعتبار سے بہترین لوگ ہیں- ایسے ہی افراد کسی سماج کو بہتر سماج بناتے ہیں-
واپس اوپر جائیں

فضائل کی روایات

مولانا شبلی نعمانی (وفات: 1914) نے ’’سیرت النبی‘‘ کے مقدمہ میں لکھا ہے کہ : ’’امام بیہقی کتاب المدخل میں ابنِ مہدی کا قول نقل کرتے ہیں: إذا روینا عن النبی صلى اللہ علیہ وسلم فی الحلال والحرام والأحکام شدّدنا فی الأسانید وانتقدنا فی الرجال، وإذا روینا فی الفضائل والثواب والعقاب سہلنا فی الأسانید وتسامحنا فی الرجال (فتح المغیث، صفحہ 120)یعنی جب ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے حلال وحرام اور احکام کے متعلق حدیث روایت کرتے ہیں تو ہم سند میں نہایت تشدد کرتے ہیں، اور راویوں کو پرکھتے ہیں- لیکن جب ہم فضائل اور ثواب اور عقاب کی حدیثیں روایت کرتے ہیں تو ہم سندوں میں سہل انگاری کرتے ہیں اور راویوں کے متعلق چشم پوشی سے کام لیتے ہیں‘‘- )مقدمہ سیرت النبی، 1/52)
تدوین حدیث کے وقت محدثین نے دو قسم کی روایتوں میں جو فرق کیا، وہ بلاشبہہ ایک اجتہادی خطا کا معاملہ تھا- رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی واضح ہدایت کے مطابق، ایسا کرنا اُن کے لیے درست نہ تھا- اِس معاملے میں اصل سوال یہ نہیں تھا کہ جو روایت اُن کو حدیث رسول کے نام پر پہنچ رہی ہے، وہ اپنے متن کے اعتبار سے، مسائل سے متعلق ہے یا فضائل سے متعلق- اصل سوال یہ تھا کہ جس روایت کو پیغمبر ِخدا سے منسوب کیا جارہا ہے، وہ باعتبار انتساب درست ہے یا نہیں- اِس معاملے میں یہ ایک ثانوی بات ہے کہ حدیث میں کوئی قانونی مسئلہ بیان ہوا ہے یا کسی عمل کی فضیلت بیان ہوئی ہے- اصل سوال یہ تھا کہ پیغمبر خدا سے اس کا انتساب سنداً ثابت ہوتا ہے یا نہیں- حقیقت یہ ہے کہ اِس معاملے میں محدثین نے دو قسم کی روایتوں کے درمیان جو تفریق کی، اس کا ہرگز اُنھیں حق نہ تھا- اِس معاملے میں محدثین کی حیثیت صرف ناقل کی تھی، ان کی حیثیت جج کی نہ تھی- ابتدائی دور کے محدثین کو جاننا چاہیے تھا کہ اگر انھوں نے روایتِ حدیث میں کوئی غلطی کردی تو یہ غلطی قیامت تک باقی رہے گی، عملاً وہ کبھی ختم ہونے والی نہیں-
واپس اوپر جائیں

تخلیقی ضعف ایک رحمت

بلیز پاسکل(Blaise Pascal) ایک فرانسیسی سائنس داں تھا- وہ 1623 میں پیدا ہوا اور 1662 میں صرف 39 سال کی عمر میں اس کا انتقال ہوگیا- 18 سال کی عمر میں وہ خرابی صحت (poor health) کا شکار ہوگیا- علاج کے باوجود وہ پھر کبھی صحت مند نہ ہوسکا- بلیز پاسکل ایک مسیحی خاندان میں پیدا ہوا تھا- اپنی آخری عمر میں اس نے سائنس کو چھوڑ دیا اور مذہب (theology) کے مطالعے میں مشغول ہوگیا- پاسکل کی سوانح حیات میں اس کے بارے میں درج ہے کہ — آخری الفاظ جو پاسکل کی زبان سے نکلے، وہ یہ تھے:
Pascal’s last words were: “May God never abandon me”!
پاسکل نے جو کچھ کہا، وہ دراصل انسانی فطرت کی آواز ہے — قرآن میں بتایا گیا ہے کہ: خُلِقَ الإنسانُ ضعیفاً (4: 28) یعنی انسان کمزور پیدا کیاگیا ہے-
انسان کا تخلیقی ضعف انسان کے لیے ایک رحمت ہے- اِسی ضعف کا یہ نتیجہ ہے کہ انسان خدا کے مقابلے میں اپنے عجز (helplessness) کو دریافت کرتا ہے- اگر ایسا نہ ہو تو انسان اپنی حیثیتِ واقعی کی دریافت سے محروم رہ جائے-اِس دنیا میں ہر مائنس پوائنٹ (minus point)کا ایک پلس پوائنٹ (plus point)ہے- نادان آدمی مائنس پوائنٹ میں پھنس کر رہ جاتا ہے اور دانش مند آدمی پلس پوائنٹ کو دریافت کرکے اپنی ترقی کا نیا راز پالیتا ہے-
انسان کا تخلیقی ضعف اُس کو سرکش بننے سے بچاتا ہے، وہ آدمی کے اندر تواضع (modesty) کی صفت پیدا کرتاہے، وہ آدمی کو اِس سے بچاتا ہے کہ وہ بے جا خود اعتمادی (over confidence) کی نفسیات میں مبتلا ہوجائے، وہ آدمی کو انسانِ حقیقی (man cut to size) بننے میں مدد دیتا ہے، وہ انسان کو خدا فراموشی کی برائی میں مبتلا ہونے نہیں دیتا، وہ انسان کو خدا سے قریب کرنے والا ہے، وہ انسان کو اِس قابل بناتا ہے کہ وہ اپنے معاملات کی حقیقت پسندانہ منصوبہ بندی کرسکے-
واپس اوپر جائیں

شکر کا ایک آئٹم

ایک روایت کے مطابق، پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: إذا عطس أحدکم فلیقل الحمد للہ، ولیقل لہ أخوہ أو صاحبہ یرحمک اللہ، فإذا قال: یرحمک اللہ، فلیقل: یہدیکم اللہ ویصلح بالکم(صحیح البخاری، رقم الحدیث: 6224 )یعنی جب تم میں سے کسی شخص کو چھینک آئے تو وہ کہے: الحمد للہ (اللہ کا شکرہے)- اُس وقت اس کا ساتھی یہ کہے: یرحمک اللہ (اللہ کی رحمت ہو تم پر)- اس کے بعد چھینکنے والا کہے: یہدیکم اللہ ویصلح بالکم (اللہ تم کو ہدایت دے اور تمھارے حالات کو درست کردے)
چھینک آنے پر الحمد للہ کہنا محض کوئی رسمی بات نہیں- حقیقت یہ ہے کہ چھینک آنا شکر کا ایک آئٹم ہے- یہ بات ایک تازہ تحقیق سے علمی طورپر ثابت ہوئی ہے- اِس تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ چھینک کوئی بری چیز نہیں، وہ فطرت کا ایک عمل ہے- چھینک سے جسم میں تازگی آتی ہے:
Sneezing revives your body: A sneeze is your body’s way of rebooting naturally and patients with disorders of the nose such as sinusitis sneeze more often as they can’t reboot easily, a new study said. Researchers from the University of Pennsylvania found that our noses require "reboot" by the pressure force of a sneeze. (The Times of India, New Delhi, August 2, 2012, p. 15)
اِس سے معلوم ہوا کہ چھینک آنا کوئی سادہ بات نہیں، چھینک آنا بھی شکر کا ایک آئٹم ہے- ہر چھینک پورے جسم کو تازگی عطا کرتی ہے- مزید یہ کہ چھینک اللہ کی نعمتوں کی ایک یاد دہانی ہے- چھینک کے ذریعے ایک انسان اللہ کی ایک نعمت کو یاد کرکے جب اُس پر شکر ادا کرتاہے تو اُس وقت اس کا ذہن بیدار ہوجاتا ہے- اِس ذہنی بیداری کی بنا پر انسان کو شکر کے دوسرے آئٹم بھی یاد آنے لگتے ہیں- شکر کے ایک آئٹم پر شکر کرکے آدمی شکر کے دوسرے آئٹم پر بھی شکر کرنے کے قابل ہوجاتا ہے-
واپس اوپر جائیں

حساب کا وقت

راجیش کھنہ انڈیا کی فلم انڈسٹری کے پہلے سپر اسٹار تھے- ان کو عوام کے اندر غیر معمولی شہرت حاصل ہوئی، مگر آخری سالوں میں وہ مہلک بیماریوں میں مبتلا ہوگئے- چناں چہ 18 جولائی 2012 کو بمبئی میں ان کی وفات ہوگئی ،جب کہ ان کی عمر صرف 69 سال تھی- کہا جاتا ہے کہ آخری وقت میں انھوں نے اپنے ایک ساتھی سے کہا تھا کہ — ٹائم اب ہوگیا(Time up, pack up) -
حقیقت کے اعتبار سے راجیش کھنہ کا یہ جملہ درست نہیں- اگر وہ زندگی کی حقیقت کو جانتے تو وہ کہتے کہ — ٹائم اب آگیا، یعنی اب زندگی کے دوسرے دور میں داخلے کا وقت آگیا، جہاں خالق کے سامنے پیشی ہوگی اور پورے کارنامۂ زندگی کا حساب لیا جائے گا اور پھر اس کے مطابق، ابدی دورِ حیات کا فیصلہ ہوگا، یعنی ابدی جنت یا ابدی جہنم کا فیصلہ-
ممبئی سی پی ایس ٹیم کے ایک داعی مسٹر محبوب اے ایچ نے راجیش کھنہ کی وفات سے کچھ ماہ پہلے ان کو ہمارے یہاں کا چھپا ہواقرآن کا انگریزی ترجمہ پہنچایا تھا- اِس بات کی کوئی اطلاع نہیں کہ انھوں نے قرآن کے ترجمے کو پڑھا تھا یا نہیں، لیکن یہ واقعہ اور اِس طرح کے دوسرے واقعات ایک انتباہ (warning)کی حیثیت رکھتے ہیں- وہ تمام لوگ جو یہ مانتے ہیں کہ قرآن اللہ کا کلام ہے اور یہ کہ قرآن واحد کتاب ہے جو یہ بتاتی ہے کہ انسان کے لیے اس کے خالق کا منصوبۂ تخلیق (creation plan of God) کیا ہے، اُن پر فرض ہے کہ وہ دنیا کے تمام انسانوں تک اِس کتاب (قرآن) کو پہنچا دیں-
اگر پہنچانے والوں نے قرآن کو تمام انسانوں تک پہنچا دیا تو ان کی ذمے داری اللہ کے یہاں ساقط ہوجائے گی- ایسی حالت میں معاملہ خدااور انسان کے درمیان ہوگا- لیکن اگر پہنچانے والوں نے قرآن کو لوگوں تک نہیں پہنچایا تو وہ خود اِس کے ذمہ دارقرار پائیں گے اور اب معاملہ خدا اور حاملینِ قرآن کے درمیان ہوجائے گا-
واپس اوپر جائیں

اسلام فطرت کی آواز

اسلام انسان کی فطرت کی آواز ہے- اسلام اگر کسی ملاوٹ کے بغیر انسان کے سامنے آئے تو وہ اُس کے ذہن کو ایڈریس کرے گا، وہ خو د اپنے داخلی شعور کے تحت اسلام کی اہمیت کو ماننے پر مجبور ہوجائے گا- تاریخ میں کثرت سے اِس کی مثالیں موجود ہیں- پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے ابتدائی زمانے میں مکہ کے لوگ شرک میں مبتلا تھے- مگر جب قرآن کے ذریعے ان کے سامنے اسلام کا پیغامِ توحید بے آمیز طورپر آیا تو ان کی اکثریت نے اسلام کو اپنے دل کی آواز سمجھ کر اس کو جلد یا بدیر قبول کرلیا-
موجودہ زمانے میں بھی اِس کی مثالیں کثرت سے موجود ہیں- ایک بنگالی ہندو جن کا نام ڈاکٹرنشی کانت چٹوپادھیا (وفات: 1910) تھا، انھوںنے اعلیٰ تعلیم پائی- وہ کئی زبانیں جانتے تھے- انھوں نے اسلام کا مطالعہ کیا- ان کی فطرت نے اسلام کی سچائی کی تصدیق کی- چناں چہ انھوں نے اسلام کو اپنے مذہب کی حیثیت سے قبول کرلیا- اِس کے بعد انھوں نے انگریزی زبان میں کئی کتابیں لکھیں- انھوں نے 1904 میں حیدر آباد (انڈیا) کے ایک جلسے میں اپنے اسلام کا اعلان کیا اور اپنا نام عزیز الدین رکھا-
اِسی طرح مارما ڈیوک پکتھال (Marmaduke Pickthall) ایک انگریز تھے- وہ عیسائی خاندان میں پیدا ہوئے- اسلام کی فطری تعلیمات نے ان کو متاثر کیا- چناں چہ انھوں نے اسلام قبول کرلیا اور اپنا نام محمد پکتھال رکھا- ان کی وفات 1936 میں ہوئی- انھوںنے انگریزی زبان میں قرآن کا مکمل ترجمہ کیا - یہ انگریزی ترجمہ کافی مقبول ہوا-
موجودہ زمانے کے مسلمان یہود کو اسلام کا ازلی دشمن سمجھتے ہیں، مگر یہ بات یقینی طورپر غلط ہے- واقعات بتاتے ہیں کہ ہر زمانے میں یہودی، اسلام قبول کرتے رہے ہیں- مثال کے طورپر عبد اللہ بن سلام مدینہ میں ایک یہودی خاندان میں پیدا ہوئے- وہ مدینہ کے ایک بڑے یہودی عالم تھے- ہجرت کے بعد انھوںنے پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ پر اسلام قبول کرلیا- 663 عیسوی میں مدینہ میں ان کی وفات ہوئی-
اسی طرح کعب الاحبار یمن کے ایک یہودی خاندان میں پیدا ہوئے- وہ ایک بڑے یہودی عالم تھے- انھوں نے اسلام کا مطالعہ کیا اور حضرت ابو بکر صدیق کی خلافت کے زمانے میں اسلام قبول کیا- حضرت عمر کے زمانے میں وہ یمن سے ہجرت کرکے مدینہ آگئے- 652 عیسوی میں شام کے شہر حمص میں ان کی وفات ہوئی-
بعد کی صدیوں میں بھی یہود کے قبولِ اسلام کا سلسلہ جاری رہا- موجودہ زمانے میں فلسطین کے سوال کو لے کر یہود اور مسلمانوں کے درمیان نہایت تلخ فضا قائم ہوگئی ہے- مسلسل طورپر دونوں کے درمیان تشدد کے واقعات ہورہے ہیں- اِس کے باوجود موجودہ زمانے میں بھی یہود میں ایسے افراد پیدا ہوتے رہے جنھوں نے کھلے طور پر اسلام قبول کیا-
اس قسم کی ایک مثال محمد اسد (Leopold Weiss Muhammad Asad) کی ہے- وہ یوکرین (Ukraine) کے ایک یہودی خاندان میں 1900میں پیدا ہوئے اور 1992 میں اسپین میں ان کی وفات ہوئی- انھوںنے اسلام کا مطالعہ کیا اور پھر 1926 میں انھوں نے اسلام قبول کرلیا- انھوںنے انگریزی زبان میں قرآن کی ایک مکمل تفسیر لکھی- اِسی طرح انھوں نے دوسری کتابیں اسلام کے موضوع پر تیار کیں-
اِسی طرح کی ایک مثال مریم جمیلہ کی ہے- وہ 1934 میں نیویارک (امریکا) کے ایک یہودی خاندان میں پیدا ہوئیں- ان کا ابتدائی نام مارگریٹ مارکوس (Margret Marcus) تھا- انھوں نے اسلام کا مطالعہ کیا اور پھر 1961 میں اسلام قبول کرلیا اور اپنا نام مریم جمیلہ رکھا- انھوں نے انگریزی زبان میں اسلام پر کئی کتابیں لکھیں- 31 اکتوبر 2012 کو لاہور (پاکستان) میں ان کا انتقال ہوگیا-
موجودہ زمانے کے مسلمانوں نے سب سے بڑی چیز جو کھوئی ہے، وہ مغل ایمپائر یا عثمانی ایمپائر جیسی چیزیں نہیں ہیں، بلکہ سب سے بڑی چیز جو انھوں نے کھوئی ہے، وہ دعوت الی اللہ کا ذہن ہے- موجودہ زمانے میں پوری دنیا کے مسلمانوں میں دعوت کا حقیقی ذہن مفقود ہے- اگر کوئی شخص دعوت کا نام لیتا ہے تو وہ بھی اپنے خود ساختہ مفہوم میں، نہ کہ قرآن وحدیث کے اصل مفہوم میں-
موجودہ زمانے کے مسلمانوں کا ذہن اسلام پسند ذہن نہیں ہے، بلکہ وہ قوم پسند ذہن ہے- اس قوم پسند ذہن کی بنا پر یہ ہوا ہے کہ ان کی ہر چیز پر قوم پسندی کا ذہن غالب آگیا ہے-
دعوت الی اللہ مسلم ملت کا سب سے بڑا فریضہ ہے- اِسی فریضے کے تصور سے ان کی سوچ درست ہوتی ہے، اِس فریضے کی ادائیگی سے ان کی تمام سرگرمیوں کا رخ صحیح ہوتا ہے، اِسی فریضے کی ادائیگی سے وہ اللہ کی نصرت کے مستحق بنتے ہیں- دعوت الی اللہ کی سوچ مسلم ملت کے لیے گویا ماسٹرفارمولا (master fomula) کی حیثیت رکھتی ہے- مسلمانوں کے اندر اگر دعوت الی اللہ کا تصور زندہ ہو تو ان کے تمام معاملات درست ہوں گے اور اگر دعوت الی اللہ کا تصور ان کے اندر زندہ نہ ہو تو ان کے تمام معاملات بگڑ جائیں گے-
دعوتی شعور کے اِس فقدان کا ایک سنگین نتیجہ یہ ہے کہ موجودہ زمانے کے مسلمان دوسری قوموں کو مدعو کے روپ میں نہ دیکھ سکے اور جب اِن قوموں کے کچھ افراد نے خود اپنی تلاش کے ذریعے اسلام قبول کیا تو وہ ان کو مزید دعوتی کام کے لیے استعمال نہ کرسکے- مثلاً محمد اسد کی ملاقات اسلام قبول کرنے کے بعد ڈاکٹر محمد اقبال (وفات: 1938)سے ہوئی- اقبال خود مسلم ریاست کا خواب دیکھتے تھے- چناں چہ انھوںنے محمد اسد کو بھی مسلم ریاست کے قیام کے بے نتیجہ کام پر ڈال دیا- محمد اسد کے لیے صحیح مشورہ یہ تھا کہ ان کو یہ بتایا جائے کہ وہ یہودیوں اور عیسائیوں میں اسلامی دعوت کا کام کریں، نہ کہ مسلم ریاست کے قیام کے بے نتیجہ کام میں اپنا وقت ضائع کریں-
یہی واقعہ مریم جمیلہ کے ساتھ پیش آیا- اسلام قبول کرنے کے بعد وہ 28 سال کی عمر میں پاکستان آگئیں- یہاں ان کی ملاقات مولانا سید ابو الاعلی مودودی (وفات: 1979)سے ہوئی- مولانا مودودی، اسلام کی سیاسی تعبیر میں یقین رکھتے تھے اور اِسی راستے پر انھوںنے مریم جمیلہ کو بھی ڈال دیا- چناں چہ دونوں میں سے کوئی بھی مطلوب انداز میں دعوت الی اللہ کا کام نہ کرسکا، نہ محمد اسد اور نہ مریم جمیلہ-
واپس اوپر جائیں

پانچ فقہی اسکول

مسلمانوں میں اِس وقت عملاًپانچ بڑے فقہی اسکول قائم ہیں — —مالکی اسکول، حنبلی اسکول، شافعی اسکول، حنفی اسکول، جعفری اسکول۔ یہ تمام فقہی اسکول یہ مانتے ہیں کہ اُن کا دین ایک ہے، اور وہ اسلام ہے۔ اِس کے باوجود کیوں ایسا ہوا کہ ایک مذہب پانچ مذہبوں میں بٹ گیا۔ اُن میں اتنے زیادہ اختلافات ہوئے کہ سخت قسم کی گروہ بندی اور باہمی ٹکراؤ تک نوبت آگئی۔
اِس گروہ بندی کے معاملے کو سمجھنے کے لیے مشہور مالکی عالم یوسف بن عبد اللہ بن محمد بن عبد البرّ (وفات: 1071 ء) کی کتاب ’جامعُ بیان العلم وفضلہ‘ ایک اچھے گائڈ کی حیثیت رکھتی ہے۔ اِس کتاب سے اور اِس موضوع کی دوسری کتابوں سے اِس معاملے کی جو حقیقت سامنے آتی ہے، اُس کو ہم یہاں مختصر طورپر درج کریں گے۔
دوسرے مذہبی نظاموں کی طرح، اسلام کی مذہبی تعلیمات کے دو حصے ہیں— اساسات (basics)، اور فروع(non-basics) ۔ اِس معاملے کی حقیقت کو سمجھنے کے لیے سب سے پہلے یہ جاننا چاہیے کہ اسلام کے دورِ اوّل (عہدِ رسالت، عہدِ صحابہ، عہدِ تابعین) میں یہ دونوں قسم کی چیزیں موجود تھیں، لیکن اُس زمانے میں یہ چیزیں گروہ بندی کا سبب نہیں بنیں۔ اختلافات کی بنیاد پر گروہ بندی کا واقعہ بعد کو عباسی دور میں پیش آیا۔
جیسا کہ معلوم ہے، عباسی دور میں اسلامی علوم کی تدوین ہوئی۔ اس زمانے میں زیادہ بڑے پیمانے پر حدیثیں جمع کی گئیں۔ اِن حدیثوں میں دوسری باتوں کے علاوہ، یہ بھی بتایا گیا تھا کہ اصحابِ رسول کس طرح نماز ادا کرتے تھے۔ اِن روایتوں سے معلوم ہوا کہ نماز کا ایک حصہ وہ ہے جس میں صحابہ کے درمیان کوئی فرق یا اختلاف نہیں پایا جاتا تھا۔ مثلاً ہر صحابی کے بارے میں یہ معلوم ہوا کہ انھوں نے فجر کی نماز دو رکعت پڑھی، ظہر اور عصر کی نماز انھوں نے چار رکعت پڑھی، مغرب کی نماز انھوںنے تین رکعت پڑھی، اور پھر عشا کی نماز انھوں نے چار رکعتوں کے ساتھ پڑھی۔
اِس طرح نماز کا ایک پہلو وہ تھا جس کے بارے میں تمام صحابہ ایک ہی متعین طریقے کے پابند تھے، لیکن اِسی کے ساتھ نماز کے بعض دوسرے پہلوؤں کے بارے میں فرق یا اختلاف پایا جاتا تھا۔ مثلاً کسی نے نماز شروع کرتے ہوئے اپنے سینے پر ہاتھ باندھے، اور کسی نے سینے کے نیچے۔ قرأتِ فاتحہ کے بعد کسی نے آمین دھیرے سے کہی، اور کسی نے زور سے۔ نماز کے دوران کسی نے اللہ اکبر کہتے ہوئے رفعِ یَدین کیا، اور کسی نے نہیں کیا، وغیرہ۔
جمعِ حدیث کے دوران جب عبادت کے اختلافات سامنے آئے، تو اب یہ سوال اٹھا کہ اِن اختلافات کی کیا توجیہہ کی جائے۔ اختلافات کو مٹانا ممکن نہ تھا، کیوں کہ یہ اختلافات سب کے سب ، اصحابِ رسول کی طرف سے آرہے تھے، اور اصحابِ رسول وہ لوگ تھے جنھوں نے براہِ راست طورپر پیغمبر کی عبادت کا مشاہدہ کیاتھا۔اُن کو مخاطَب کرتے ہوئے پیغمبر نے کہا تھا: صلّوا کما رأیتمونی أصلّی (صحیح البخاری، رقم الحدیث: 631/6008) ایسی حالت میں ہر طریقہ اپنی نوعیت کے اعتبار سے مستند حیثیت رکھتا تھا۔ بظاہر یہ سمجھ میں نہیں آتا تھا کہ کس بنیاد پر ایک طریقے کو لیا جائے اور دوسرے طریقے کو چھوڑ دیا جائے۔
اِس موقع پر مسلم فقہا کی دو رائیں ہوگئیں۔ ایک رائے یہ تھی کہ: الحق لا یتعدد (تذکرۃ المؤتسی 1/402) یعنی حق کئی نہیں ہوسکتا، اِس لیے ہمیں عملی طورپر یہ کرنا ہوگا کہ ہم یہاں ترجیح (preference) کے اصول کو رائج کریں، یعنی کسی ایک رائے کو راجح قرار دینا، اور دوسری رائے کو مرجوح قرار دے کر اُس کو چھوڑ دینا۔
مگر اِس کے باوجود مسئلہ باقی رہا، کیوں کہ ترجیح کا اصول ہمیشہ اجتہاد پر مبنی ہوتا ہے اور جہاں اجتہاد آیا، وہاں اختلاف رائے بھی لازماً آئے گا۔ چناں چہ ترجیح کے اِس اصول کا نتیجہ عملی طورپر یہ ہوا کہ لوگوں کے درمیان کئی رائیں بن گئیں۔ ہر ایک نے اپنی رائے کی صحت پر اصرار کیا۔ چناں چہ کسی نے ایک رائے کو ترجیح (preference) دی اور کسی نے دوسری رائے کو، اور اِس طرح لوگ کئی گروہ میں بٹ گئے۔ مختلف فقہی اسکول کے وجود میں آنے کا سبب یہی ہے۔
ترجیح کے اِس اصول پر بحث کرتے ہوئے محمد بن ادریس الشافعی (وفات: 820 ء) نے درست طور پر لکھا ہے کہ : رأیی صواب یحتمل الخطأ، ورأی غیری خطأ یحتمل الصواب (الفتاویٰ الکبریٰ الفقہیۃ 4/313 ) یعنی میری رائے درست ہے، اِس احتمال کے ساتھ کہ وہ غلط ہو۔ اور دوسری کی رائے غلط ہے، اِس احتمال کے ساتھ کہ وہ درست ہو۔
امام شافعی کے اِس قول سے اندازہ ہوتا ہے کہ اِس معاملے میں فقہا کا مسلک کتنا زیادہ غیرمنطقی (illogical) تھا۔ جب ایک رائے کو ترجیح دینے کے بعد بھی اس کی عدم صحت کا احتمال موجود ہے، اور اِسی طرح جب ایک رائے کو ترک کرنے کے باوجود بھی اس کی صحت کا احتمال پایا جائے، تو ایسی ترجیح عملاً سر تاسر بے معنی ہوجاتی ہے۔ اِس کے بعد یہ ناممکن ہوجاتا ہے کہ آدمی پُریقین کیفیت کے ساتھ اپنی عبادت کرسکے، جب کہ عبادت کے ساتھ یقین کا عنصر لازمی طورپر ضروری ہے۔
محدثین کا مسلک اِس معاملے میں فقہاکے مسلک سے مختلف تھا، اور بلاشبہہ وہی مسلک زیادہ درست تھا۔ محدثین کے نقطۂ نظر کا اندازہ احمد بن حنبل (وفات: 855 ء) کے ایک واقعے سے ہوتا ہے۔ محمدبن عبد الرحمن صیرفی کہتے ہیں کہ میں نے احمد بن حنبل سے پوچھا کہ اگر کسی مسئلے میں صحابہ کا اختلاف ہو ، تو کیا تنقید اور تمحیص کرنا چاہیے، تاکہ جس کے ساتھ حق نظر آئے، اس کی پیروی کی جائے۔ احمد بن حنبل نے جواب دیا کہ نہیں۔ انھوں نے کہا، پھرہم کیا کریں۔ احمد بن حنبل نے کہا: تقلّد أیّہم أحببتَ (جامع بیان العلم، صفحہ 83 ) یعنی تم جس صحابی کے قول کو چاہو، لے لو اور اس کے مطابق اس کی پیروی کرو۔
محدثین کے مسلک کا خلاصہ یہ ہے کہ انھوںنے روایتوں کے اِس فرق کو تنوع (diversity) پر محمول کیا، یعنی یہ بھی ٹھیک، اور وہ بھی ٹھیک۔ یہ نظریہ انھوں نے پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی اِس حدیث سے اخذ کیا: أصحابی کا لنجوم، بأیّہم اقتدیتم، اہتدیتم (کشف الخفاء، جلد 1 ، صفحہ 146) یعنی میرے اصحاب ستاروں کی مانند ہیں۔ اُن میں سےتم جس کی بھی پیروی کروگے، راہ یاب ہوگے۔
اِس نقطۂ نظر کی حکمت یہ تھی کہ چیزوں میں ہمیشہ ایسا ہوتا ہے کہ اُن کے کچھ اساسی اجزا ہوتے ہیں، اور کچھ فروعی اجزا۔ یہ ایک عام اصول ہے کہ وحدت (oneness) اساسات میں مطلوب ہوتی ہے۔ جہاں تک فروع (non-basics)کاتعلق ہے، اُن میں ہمیشہ تنوع (diversity) ہوتا ہے- یہ ایک عمومی اصول ہے۔ فروع میں اگر تنوع نہ ہوتواُس سے کٹر پن(rigidity) پیدا ہوتا ہے اور کٹر پن کسی بھی چیز کے لیے مفید نہیں۔
مزیدیہ کہ خدا کی عبادت ایک زندہ عمل کا نام ہے۔ وہ کسی بے روح فارم کو دہرانے کا نام نہیں۔ عبادت کو جب اس کی زندہ اسپرٹ کے ساتھ انجام دیا جائے گا، تو یہی ہوگا کہ عبادت کے بنیاد ی اجزا کی حد تک تو یکسانیت ہوگی، لیکن اس کے فروعی اجزا میں تنوع پیدا ہوجائے گا۔
زندہ عبادت کبھی فروع میں یکسانیت کا تحمل نہیں کرسکتی۔ فروع میں یکسانیت لانے کی کوشش کرنا، عبادت کو بے روح رسموں کا ایک مجموعہ (set of rituals) بنا دینا ہے۔ ایسی عبادت ایک مشینی روبوٹ (robot) کی عبادت ہوگی، نہ کہ کسی زندہ انسان کی عبادت۔ عبادت، اعلیٰ کیفیات کے تحت کیا جانے والا ایک عمل ہے۔ ایسا عمل کبھی یکسانیت کے ساتھ ادا نہیں کیا جاسکتا۔
اصحابِ رسول کی عبادت کے بارے میں جو روایتیں آئی ہیں، ان کا مطالعہ کرنے سے اندازہ ہوتا ہے کہ ان کی عبادت اگرچہ اساسات (basics) کے اعتبار سے یکساں انداز میں ہوتی تھی، لیکن غیر اساسی اجزا کے اعتبار سے، ان کے یہاں ہمیشہ تنوع پایا جاتا تھا۔ اِس قسم کی ایک مثال یہاں نقل کی جاتی ہے جس سے صحابہ کی عبادت کا اندازہ ہوگا۔
پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک صحابی رفاعہ بن رافع الانصاری (وفات: 661 ء) کی ایک روایت ہے، جو حدیث کی مختلف کتابوں میں آئی ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ ایک دن ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے (مغرب کی) نماز پڑھ رہے تھے۔ جب آپ نے رکوع کے بعد اپنا سر اٹھایا، تو آپ نے کہا: سمع اللہ لمن حمدہ۔ آپ کے پیچھے کھڑے ہوئے ایک شحص نے اُس میں اضافہ کرتے ہوئے کہا: ربّنا ولک الحمد، حمداً کثیراً طیّباً مبارکاً فیہ۔نماز ختم ہوئی تو رسول اللہ نے پوچھاکہ کس شخص نے ایسا کہا تھا۔ اُس آدمی نے کہا کہ میں نے۔ رسول اللہ نے فرمایا کہ میں نے تیس سے زیادہ فرشتوں کو دیکھا۔ اُن میں سے ہر ایک سبقت کررہا تھا کہ وہ پہلے اِس عمل کو لکھ لے (رأیتُ بضعۃً وثلاثین ملکاً یبتدرونہا أیہم یکتبہا أوّل) صحیح البخاری، رقم الحدیث: 799۔
اِس طرح کے بہت سے واقعات، حدیث کی کتابوں میں رسول اور اصحابِ رسول کے بارے میں آ ئے ہیں۔ اِن واقعات سے اندازہ ہوتا ہے کہ نماز کسی سیٹ پیٹرن (set pattern) کا نام نہیں، نماز ایک زندہ عمل کا نام ہے۔ کوئی زندہ عمل کبھی لگے بندھے طریقے سے نہیں ہوسکتا۔ زندہ عمل کیفیت سے بھرا ہوا عمل ہوتا ہے، او رکیفت کبھی یکسانیت کی پابند نہیں ہوسکتی۔
اِس سے نماز کے معاملے کو سمجھا جاسکتا ہے۔ نماز کے بنیادی ڈھانچے میں تو ہمیشہ یکسانیت پائی جائے گی، لیکن نماز کے فروعی اجزا ہمیشہ کیفیات کے تابع ہوتے ہیں۔ فروعی پہلوؤں میں کیفیت کا اظہار کبھی ایک طریقے پر ہوگااور کبھی دوسرے طریقے پر۔ حقیقت یہ ہے کہ عبادت کو ہر پہلو سے یکساں قسم کے ڈھانچے کا پابند بنانا، عبادت کی اسپرٹ کے بھی خلاف ہے، اور پیغمبراور اصحاب پیغمبر کے نمونے کے بھی خلاف۔
تاریخ بتاتی ہے کہ محدثین کے زمانے میں، یا اُن سے پہلے، مختلف قسم کے فقہی اسکول موجود نہ تھے۔ یہ اسکول بعد کو فقہا کے دور میں بنائے گئے۔ ابتدائی دور میں مختلف فقہی اسکول کا بننا محض ایک سادہ واقعہ معلوم ہوتا ہے، لیکن دھیرے دھیرے بعد کے زمانے میں، وہ غلو آمیز گروہ بندی کی صورت اختیار کرگیا، جب کہ غلو اسلام میں نہیں (لا غلوَّ فی الإسلام)۔
(نوٹ:  مذکورہ موضوع پر مزید تفصیل کے لیے ملاحظہ ہوراقم الحروف کی کتاب: تجدید ِ دین)
واپس اوپر جائیں

امت میں اختلاف کا مسئلہ

دینی مسائل کے بارے میں اختلاف، امت کے افراد میں ہمیشہ پایا گیا ہے- اِس طرح کے اختلافات کے بارے میں کچھ لوگوں نے شدت اختیار کی ہے اور اس کو حق اور ناحق کا مسئلہ بنادیا- لیکن علماءِ اسلام کی اکثریت یہ مانتی ہے کہ غیر اساسی امور میں اختلاف فطری چیز ہے- ایسے اختلافات کو حق اور ناحق کا مسئلہ نہیں بنانا چاہئے- مثال کے طورپر مشہور حنبلی عالم عبد اللہ بن محمد قدامہ المقدسی (وفات: 1223ء) نے اپنی کتاب ’’المغنی‘‘ کے مقدمہ میں اِس موضوع پر گفتگو کرتے ہوئے لکھا ہے کہ علماءِ امت کا اختلاف ایک رحمتِ واسعہ ہے: اختلافہم رحمة واسعة-
اختلاف کے معاملے کا یہی ایک پہلونہیں ہے کہ اس میں شدت نہ اختیار کی جائے، بلکہ رایوں کے تعدّد کو توسّع پر محمول کرتے ہوئے ہر ایک کا احترام کیا جائے- اِس کے علاوہ، اِس کا ایک مزید مثبت پہلو بھی ہے- اِس معاملے کی طرف ایک روایت میں اشارہ کیا گیاہے: اختلاف أمتی رحمة (تدریب الراوی للسیوطی 2/167 ) یعنی میری امت کا اختلاف ایک رحمت ہے-
اختلاف سادہ طورپر صرف اختلاف نہیں، وہ رائے میں فرق کا نام ہے- اختلاف بند ذہن کو کھولتا ہے- رایوں کا فرق (difference of opinions)لوگوں کے اندر ڈسکشن اور ڈائلاگ کا ماحول پیدا کرتا ہے، وہ فکری ارتقا کا ذریعہ ہے-یہ اختلاف کا صحت مند پہلو ہے - اگر لوگوں میں رائے کا اختلاف نہ ہو تو ایسے گروہ کے اندر ذہنی جمود پیدا ہوجائے گا- اِس کے برعکس، جہاں رائے میں فرق پایا جائے، وہاں ذہنی ارتقا کا سلسلہ جاری رہے گا-
اِس معاملے میں اصل اہمیت کی بات یہ ہے کہ لوگوں کے اندر علمی ذوق ہو- اُن کے اندر طلب پائی جائے- وہ کسی تعصب کے بغیر تبادلہ خیال کرنا جانتے ہوں- جن لوگوں کےاندر یہ مزاج ہو، اُن کے لیے اختلاف فکری ارتقا کا ذریعہ بن جائے گا، وہ لوگوں کے اندر تخلیقی صلاحیت پیدا کرنے کا باعث بنے گا، نہ کہ ذہنی جمود اور انتشار پیدا کرنے کا سبب-
واپس اوپر جائیں

مخاصمت نہیں

مخاصمت اور اختلاف دونوں میں ایک چیز مشترک ہے، وہ یہ کہ دونوں کا آغاز ڈسپیوٹ (dispute) سے ہوتا ہے، لیکن عملی اعتبار سے دونوں میں بہت بڑا فرق ہے- یہ فرق اتنا زیادہ ہے کہ اپنے نتیجے کے اعتبار سے، اختلاف پوری طرح ایک جائز فعل ہے اور مخاصمت پوری طرح ایک ناجائز فعل- درست اختلاف وہ ہے جو تمام تر علمی حقائق پر مبنی ہو، جس میں شروع سے آخر تک معلوم حقائق (objective facts) کی بنیاد پر گفتگو کی جائے-
اِس کے برعکس، مخاصمت میں ساری بحث داخلی نیت پر حملہ اور الزام تراشی پر ہوتی ہے- اختلاف میں رایوں کا بدلنا ممکن ہوتا ہے- ایک فریق کی رائے اگر علمی تجزیے میں درست ثابت ہو تو دوسرا فریق کسی تاخیر کے بغیر اس کو تسلیم کرلیتا ہے-
اختلاف کی حیثیت ایک علمی تبادلہ خیال (scientific discussion) کی ہوتی ہے- اِس سے دونوں فریق کی معلومات میں اضافہ ہوتاہے، وہ دونوں فریق کے لیے ذہنی ارتقا کا ذریعہ بنتا ہے- اختلاف اپنی حقیقت کے اعتبار سے، بحث وتکرار کا نام نہیں ہے، بلکہ وہ ایک اعلی درجے کی علمی تلاش (scientific pursuit) کا نام ہے- اِس میں دونوں فریق ہار اور جیت کے تصور سے اوپر اٹھ کر مشترک طورپر امرِ حق کو دریافت کرنے کی کوشش کرتے ہیں-
اِس کے برعکس، مخاصمت ایک منفی سرگرمی کا نام ہے- مخاصمت ایک ایسا فعل ہے جو ہمیشہ علمی بددیانتی پر قائم ہوتا ہے- مخاصمت ایک ایسا فعل ہے جو غیر علمی بھی ہے اور غیر اخلاقی بھی- مخاصمت کا کوئی بھی مثبت فائدہ نہیں، نہ ایک فریق کے لیے، نہ دوسرے فریق کے لیے-
مخاصمت یہ ہے کہ ایک شخص کو کسی سے عناد ہوجائے، وہ ہر حال میں اس کی تنقیص ، اُس پر عیب زنی اور اس کے خلاف الزام تراشی میں لگا رہے— اختلاف ایک ملکوتی فعل (2:30)ہے اور مخاصمت تمام تر ایک شیطانی فعل-
واپس اوپر جائیں

دورِ سائنس اور مذہب

انسان اپنے آپ کو ایک ایسی دنیا میں پاتا ہے، جہاں تخلیق(creation) ہے، لیکن اِس تخلیق کا خالق (Creator) بظاہر یہاں دکھائی نہیں دیتا۔ اِس دنیا میں ڈزائن ہے، لیکن بظاہر اِس دنیا میں ڈزائنر (designer) نظر نہیں آتا۔اِس دنیا میں واقعات ہورہے ہیں، لیکن واقعات کو وجود میں لانے والا آنکھوں سے اوجھل ہے۔ پوری کائنات ایک عظیم انڈسٹری کی طرح کام کررہی ہے، لیکن اِس انڈسٹری کا انجینئر کسی خورد بین یا دور بین کے ذریعے دکھائی نہیں دیتا۔
انسان کو اِسی سوال کا جواب دینے کے لیے دنیامیں پیغمبر ظاہر ہوئے۔ پیغمبروں نے ہر زمانے میں انسان کو بتایا کہ یہاں محسوسات کے پیچھے ایک غیر محسوس ہستی موجود ہے۔ یہ خدا ہے، اُس کو مانو اور اس کی عبادت کرو۔ گویا کہ پیغمبروں کا رول ایک اعتبار سے، ایک قسم کا استنباطی رول (inferential role) تھا، یعنی انھوں نے انسان کو بتایا کہ تم کو چاہیے کہ تم اپنی عقل کو استعمال کرو اور دکھائی دینے والی چیزوں سے استنباط کرکے، نہ دکھائی دینے والے خدا پر اپنے یقین کی بنیاد قائم کرو۔
پیغمبروں نے اپنے اِس استنباطی رول کو مستند بنانے کے لیے یہ کیا کہ انھوں نے معجزے دکھائے۔ قرآن میں یہ بات اِن الفاظ میںآئی ہے: إنّا أرسلنا رُسُلنا بالبیّنات (57:25)یعنی پیغمبروں نے خرقِ عادت معجزے دکھائے، تاکہ انسان یہ یقین کرسکے کہ پیغمبر جو خبر دے رہے ہیں، وہ ایک درست خبر ہے۔مثال کے طور پر پیغمبر موسیٰ پندرھویں اور سولھویں صدی قبل مسیح کے درمیانی زمانے میں مصر میں آئے۔ اُس وقت وہاں فرعون(Ramesses II) حکومت کررہا تھا۔ فرعون نے کہا کہ اگر تم سچے ہو تو کوئی معجزہ دکھاؤ (7:106)۔فرعون کے اِس مطالبے پر پیغمبر موسیٰ نے اپنا عصا زمین پر ڈالا، جو زندہ اژدہا بن کر زمین پر چلنے لگا۔
پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم 610 ء میں پیغمبر کی حیثیت سے مکہ میں ظاہر ہوئے۔ آپ سے پہلے جو پیغمبر آئے، اُن کا طریقہ یہ تھا کہ وہ اپنے پیغام کی صداقت کے طورپر مذکورہ قسم کے معجزے دکھاتے رہے۔ لیکن پیغمبر اسلام، جو سلسلۂ نبوت کی آخری کڑی تھے، ان کے بعد خارقِ عادت معجزات کا طریقہ ختم کردیاگیا (17:59)-پیغمبر ِ اسلام کے بعد کسی پیغمبر کا آنا موقوف ہوگیا، اور اِسی کے ساتھ خارقِ عادات معجزات پیش کرنے کا سلسلہ بھی۔ اب پیغمبرانہ دعوت غیر پیغمبر داعیوں کے ذریعے دنیا میں جاری ہے، لیکن اب کوئی پیغمبر آنے والا نہیں۔اِس کا سبب یہ ہے کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد ایک طرف یہ ہوا کہ دینِ حق اپنی اصل حالت میں پوری طرح محفوظ ہوگیا، یہاں تک کہ اب اُس میں کسی تحریف یا تبدیلی کا امکان نہیں۔ اب پیغمبرانہ مذہب کا متن بھی محفوظ ہے اور وہ زبان بھی محفوظ ہے جس میں یہ متن اوّلاً نازل ہوا تھا۔
اب سوال یہ ہے کہ معجزے کا بدل کیا ہے۔ پہلے دعوت کی صداقت معجزے کے ذریعے متحقّق کی جاتی تھی، اب دعوت کی صداقت کو متحقق کرنے کا ذریعہ کیا ہے۔ یہ ذریعہ جدید سائنس ہے۔ موجودہ زمانے میں سائنس، قدیم معجزے کا بدل ہے ۔ آج سائنس ٹھیک وہی استدلالی رول انجام دے رہی ہے، جو قدیم زمانے میں معجزات کے ذریعے انجام پاتاتھا۔
مذہب کے حق میں استدلال کے یہ دونوں دَور قرآن میں واضح طورپر بتادئے گئے ہیں۔ پہلے دورِ استدلال کے بارے میں قرآن میں یہ آیت ہے: إنَّا أَرْسَلْنَا رُسُلَنَا بِالْبَیِّنَاتِ (57:25)یعنی ہم نے پیغمبروں کو اپنی صداقت کے ثبوت کے لیے معجزے دئے۔ دوسرے دورِاستدلال کو قرآن میں مستقبل کے صیغے میں بیان کیا گیا ہے۔ اِس سلسلے میں قرآن کی ایک آیت یہ ہے: سَنُرِیْہِمْ اٰیٰتِنَا فِی الْاٰفَاقِ وَفِیْٓ اَنْفُسِہِمْ حَتّٰى یَتَبَیَّنَ لَہُمْ اَنَّہُ الْحَقُّ (41:53)
پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کا ظہور ساتویں صدی عیسوی کے رُبع اوّل میںہوا۔ آپ کے ظہور کے تقریباً ایک ہزار سال بعد جدید سائنس ظاہر ہوئی۔ جدید سائنس کا یہ ظہور محض اتفاقی نہ تھا، وہ پیغمبراسلام کے لائے ہوئے انقلاب کا ایک براہِ راست نتیجہ تھا۔ پیغمبر اسلام کے لائے ہوئے انقلاب کا ایک اہم پہلو یہ تھا کہ اُس نے پہلی بار شرک کے غلبے کو ختم کردیا۔ شرک کے غلبے کے خاتمے کے بعد تاریخ میںایک نیا پراسس شروع ہوا۔ اِس پراسس کے نقطۂ انتہا کا دوسرا نام سائنس ہے۔
شرک کیا ہے۔ شرک دراصل نیچر ورشپ (nature worship) کا دوسرا نام ہے۔ انسان نے قدیم زمانے میں فطرت کے مظاہر کو پرستش کا موضوع بنا دیا تھا۔ اِس طرح شرک، نیچر کی تحقیق اور تسخیر کے عمل کے سلسلے میں ایک قسم کا ذہنی مانع (mental block) بن گیا تھا۔ کیوں کہ جس چیز کو آپ پرستش کا موضوع بنا لیں، اُس کو عین اُسی وقت آپ تحقیق کاموضوع نہیں بناسکتے۔
پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے لائے ہوئے انقلاب کے بعد تاریخ میں ایک نیا عمل شروع ہوا۔ انسان نیچر کی تحقیق میںمصروف ہوگیا۔ یہ تحقیق مسلسل جاری رہی، یہاں تک کہ وہ دریافتیں شروع ہوئیں، جن کو سائنسی دریافتیں کہا جاتا ہے۔ فطرت کے اندر چھپے ہوئے راز معلوم واقعات بن کر سامنے آنے لگے۔ یہ عین وہی چیز تھی جس کو قرآن میں آفاق اور انفُس میں آیات کے ظہور سے تعبیر کیا گیا تھا۔ جدید سائنس دراصل نیچرل سائنس کا دوسرا نام ہے، اور یہ بلاشبہہ قرآن کی پیشین گوئی کا جواب بن کر ظاہر ہوئی ہے۔
اِس اعتبار سے دیکھا جائے تو جدید سائنس قدیم طرز کے معجزات کا بدل ہے۔ جدید سائنس، دینِ حق کا علمِ کلام (Theology)ہے۔ جدید سائنس اُس دین کو علمِ انسانی کے معیار پر ثابت شدہ بنا رہی ہے، جس کو قدیم زمانے میں خارقِ عادت معجزات کے ذریعے ثابت شدہ بنایا جاتا تھا۔
واضح ہو کہ جدید سائنس کے دو پہلو ہیں۔ ایک نظریاتی سائنس (theoretical science) اور دوسرے، ٹکنکل سائنس (technical science)۔ نظریاتی سائنس، جدید ذرائع کو استعمال کرتے ہوئے حقائقِ کون یا حقائقِ کائنات کو دریافت کررہی ہے۔ اِس کے مقابلے میں ،ٹکنکل سائنس اس کے عملی پہلو کا نام ہے۔ ٹکنکل سائنس کے ذریعے جدید مشینی تہذیب وجود میںآئی ہے۔ اِس مقالے میں ہماری بحث ٹکنکل سائنس سے نہیں ہے، بلکہ نظریاتی سائنس سے ہے۔ موجودہ زمانے میں نظریاتی سائنس کا ایک مشہور سائنس داں اسٹفن ہاکنگ(Stephen Hawking) ہے۔ اِس موضوع پر اسٹفن ہاکنگ کی کئی کتابیں چھپ کر شائع ہو چکی ہیں۔
یہ بات ایک حدیثِ رسول میںاِن الفاظ میں ملتی ہے: ما من الأنبیاء نبیّ إلا أعطی من الاٰیات ما مثلُہ اٰمن علیہ البشر۔ وإنّما کان الّذی أوتیتُہ وحیاً أوحاہ اللہ إلیَّ۔ فأرجوا أن أکون أکثرھم تابعاً یومَ القیامۃ (صحیح البخاری، رقم الحدیث: 4981) نبیوں میں سے ہر نبی کو ایسی نشانیاں دی گئیں، جن کو اُس زمانے کے لوگ مانتے تھے۔ اور مجھ کو وحی (قرآن) کا معجزہ دیاگیا۔ اِس لیے میںامید کرتاہوں کہ قیامت میں مجھ پر ایمان لانے والوں کی تعداد سب سے زیادہ ہوگی۔
اصل یہ ہے کہ قدیم زمانے میںعلم انسانی کا ارتقا بہت کم ہوا تھا، اِس لیے یہ ممکن نہ تھا کہ خود علمِ انسانی کے مسلّمات کے حوالے سے دینِ حق کی صداقت کو مدلل کیا جائے۔ اِس لیے قدیم زمانے میں پیغمبروں کے ذریعے خارقِ عادت معجزات دکھائے گئے۔ یہ معجزات معاصر انسان کے مانوس دائرے کے اعتبار سے ہوتے تھے۔ مگر قرآن کے بعد دنیا میں جوانقلاب آیا، اس کے بعد بتدریج ایسا ہوا کہ علمِ انسانی میں غیر معمولی ترقی ہوئی۔ اب یہ ممکن ہوگیا کہ خود علمِ انسانی کے مسلّمات کی سطح پر دین ِ حق کو مدلل کرکے پیش کیا جاسکے۔
دونوں دور میں ایک فرق یہ بھی ہے کہ معجزہ معاصر انسان کو اپنے عجز کا تجربہ کراتا تھا، لیکن اُس میں یہ پہلو شامل نہ تھا کہ مدعو کو خود اپنے مسلّمات کی سطح پر دینِ حق کی دلیل نظر آنے لگے۔ بعد کے زمانے میں جب علمی مسلمات کی سطح پر استدلال ممکن ہوگیا تو فطری طورپر یہ ہوگا کہ اِس قسم کا استدلال مقابلۃً ایک عمومی اور عالمی استدلال بن جائے گا۔ اِس طرح یہ ممکن ہوجائے گا کہ بعد کے زمانے میں ہر انسانی گروہ پیغامِ نبوت کی اہمیت کو سمجھے اور خود اپنے مسلّمات کی روشنی میں اُس پر یقین کرسکے۔ اِس کا ایک فائدہ فطری طور پر یہ ہوگا کہ بعد کے زمانے میں اِس پیغام کو ماننے والوں کی تعداد میں اضافے کا امکان بھی زیادہ بڑھ جائے گا۔
قدیم معجزاتی دلیل اور جدید سائنسی دلیل دونوں میں یہ بات مشترک ہے کہ دونوں ہی استنباط (inference) کی سطح پر دینی عقائد کی دلیل فراہم کرتے ہیں۔ قدیم زمانے میں جب ایک پیغمبر حسّی معجزہ دکھاتا تھا تو ایسانہیں ہوتا تھا کہ معجزہ ایک آئینہ ہو، جس میں پیغمبر کا اصل دعویٰ مشاہداتی طورپر نظر آنے لگے۔ جو کچھ ہوتا تھا، وہ یہ کہ معجزہ دیکھ کر مدعو یہ استنباط کرسکتا تھا کہ جب یہ شخص ایک ایسا واقعہ کررہا ہے جس پر دوسرے انسان قادر نہیں، تو ضرور اِس شخص کو خدا کی نصرت حاصل ہے۔
یہی معاملہ سائنسی دلیل کا بھی ہے۔ سائنسی دلیل میں ایسا نہیں ہوتا کہ پیش کردہ دلیل براہِ راست معنوں میںاصل دعوے کا مظاہراتی ثبوت بن جائے۔ یہاں بھی ایسا ہی ہوتا ہے کہ پیش کردہ دلیل بالواسطہ معنوں میں یہ موقع دیتی ہے کہ استنباطی طورپر وہ اصل دعوے کو قابلِ فہم اور قابلِ یقین بنا دے۔ تاہم جدید سائنسی دلیل میں ایک مزید پہلو موجود ہے، جس کی بنا پر یہ ہوتا ہے کہ پیش کردہ دلیل بالواسطہ معنوں میں یہ موقع دیتی ہے کہ استنباطی طور پر وہ اصل دعوے کو قابلِ فہم اور قابلِ یقین بنادے۔تاہم جدید سائنسی دلیل میں ایک مزید پہلوموجود ہے، جس کی بنا پر اس کو آرگومینٹ پلس (argument plus) کہا جاسکتا ہے، وہ یہ کہ جدید سائنسی دلیل خود مدعو کے عقلی مسلّمہ (rational axiom) کی بنیاد پر قائم ہوتی ہے۔
یہ فرق اُس جدید علم کی بنا پر پیدا ہوا ہے، جس کو نیوکلیرسائنس کہاجاتا ہے۔ قدیم فزیکل سائنس، عالمِ کبیر (macro world) کی سطح پر مبنی تھی۔ مگر بیسویں صدی میں اس کے اندر ترقی ہوئی، اور ایک نئی سائنس وجود میں آئی جس کو نیوکلیر سائنس کہاجاتا ہے۔ نیوکلیر سائنس کے تحت، انسان اِس قابل ہوگیا کہ وہ عالمِ صغیر (micro world) تک رسائی حاصل کرسکے، جب کہ اِس سے پہلے وہ صرف عالمِ کبیر تک محدود تھا- اُس وقت یہ سمجھا جاتا تھا کہ ہر حقیقی چیز اپنا ایک مادّی جسم رکھتی ہے جس کو ناپا اور تولا جاسکے، لیکن عالمِ صغیر کی دریافت نے یہ صورتِ حال بدل دی۔ اب یہ معلوم ہوا کہ چیزیں اپنے آخری تجزیے میںاتنا زیادہ ’’صغیر‘‘ ہوجاتی ہیں کہ اُن کو صرف امکانی لہروں(waves of probability) کا نام دیا جاسکتا ہے۔
عالمِ صغیر کے بارے میں اِس نئی دریافت نے علم میں جو انقلاب پیدا کیا، اس کا ایک پہلو یہ تھا کہ علمی استدلال کا معیار بدل گیا۔ اب یہ معلوم ہوا کہ استنباطی استدلال بھی اتنا ہی معقول استدلال ہے، جتنا کہ غیر استنباطی استدلال یا براہِ راست استدلال ۔ کیوں کہ علم کا دریا اب جس مقام پر پہنچا تھا، وہاں براہِ راست استدلال کا طریقہ قابلِ عمل ہی نہ رہا۔ اب لازم ہوگیا کہ استنباطی استدلال کو بھی معقول استدلال کا درجہ دیا جائے، تاکہ نئے دریافت کردہ عالمِ صغیر کے قوانین کو مرتب کیا جاسکے۔
علمِ انسانی میں اِس ارتقا کے بعد یہ ممکن ہوگیا ہے کہ مذہبی عقائد کو عین اُسی سطح پر ثابت شدہ بنایا جاسکے، جس سطح پر مادّی دنیا کی چیزوں کو ثابت شدہ بنایا جاتا ہے۔ مثلاً یہ کہنا کہ —— دنیا میں ڈزائن کا وجود یہ ثابت کرتا ہے کہ یہاں ایک ڈزائنر موجود ہے، اپنی نوعیت کے اعتبار سے ویسا ہی ایک معقول استدلال ہے، جیسا کہ مادّی دنیا کے بارے میں سائنسی استدلالات ۔
چند مثالیں
یہاں ہم اِس نوعیت کی چند مثالیں درج کریں گے۔ اِن مثالوں سے اندازہ ہوگا کہ کس طرح جدید سائنس، قدیم طرز کے معجزات کا بدل فراہم کررہی ہے۔ کس طرح اب یہ ممکن ہوگیا ہے کہ دینی حقائق، جو پچھلے زمانے میں خارقِ عادت معجزات کی سطح پر پیغمبر کے معاصرین کے سامنے پیش کیے جاتے تھے، اُن کو اب خود علمِ انسانی کے معروف مسلّمات کی بنیاد پر پیش کیاجاسکے۔ گویا کہ اب جدید علمِ کلام نے قدیم معجزے کی جگہ لے لی ہے۔ آج کے ایک داعی کو اپنی دعوت کے حق میں معجزہ دکھانا نہیں ہے، بلکہ اُس کے لیے یہ ممکن ہوگیا ہے کہ وہ وقت کے علمی مسلّمات کی روشنی میں اپنی دعوت کو مدلل کرے۔ وہ جدید ذہن کو خود اُس معیار پر ایڈریس کرسکے جس کا اعتراف وہ پہلے سے کیے ہوئے ہے۔
1 - مذہب کے اعتبار سے سب سے پہلا مسئلہ وجودِ خداوندی کے اِثبات کا ہے۔ اِس معاملے میں علمِ انسانی میں ایک نیا ارتقائی واقعہ وجود میں آیا ہے۔ پہلے، خدا کو صرف عقیدے کا ایک مسئلہ سمجھا جاتا تھا۔ اب وہ انسانی سائنس کے دائرے کی چیز بن چکا ہے۔ یہ کہنا درست ہوگا کہ جدید سائنس نے خدا کے وجودکو ایک سائنسی دلیل کی حیثیت دے دی ہے۔
جیسا کہ معلوم ہے، سائنس کے مطالعے کا موضوع خدایا خالق کا وجود نہیں ہے۔ سائنس کاموضوع نیچر یا تخلیق (creation) کا مطالعہ ہے۔ سائنسی مطالعے کے ابتدائی دور میں یہ سمجھا جاتا تھا کہ تمام چیزیں معلوم اسباب کے تحت وجود میں آتی ہیں، اِس لیے کسی مسبّب کو مطالعے کا موضوع بنانے کی ضرورت نہیں۔ لیکن بعد کے سائنسی مطالعے نے اِس نظریے کو بے بنیاد ثابت کردیا۔سائنس کے تفصیلی مطالعے کے بعد یہ معلوم ہوا کہ نیچر یا کائنات میں ہر وقت ان گنت واقعات ہوتے رہتے ہیں۔ ہر واقعے میں نیچر کے سامنے بے شمار انتخابات (options) ہوتے ہیں، لیکن نیچر ہر موقع پر اُسی انتخابات کو لیتی ہے جو سب سے زیادہ بامعنٰی ہو۔
اِس مطالعے نے سائنس دانوں کو یہ ماننے پر مجبور کیا ہے کہ اِس کائنات کے پیچھے ایک ذہین دماغ (intelligent mind) یا ریاضیاتی دماغ(mathematical mind) ہے۔ نیچر کے پیچھے ایک برتر ذہانت کی موجودگی کو مانے بغیر اس کی توجیہہ ممکن نہیں۔ اِس معاملے کو ایک سائنس داں نے اِن الفاظ میں بیان کیا ہے— کائنات کا مادّہ ایک ذہین مادّہ ہے:
The stuff of the world is mind-stuff.
2 - قدیم زمانے میں یہ کہا جاتا تھا کہ خدا کو ماننے کی صورت میں اُس کو ابدی ماننا پڑتا ہے، جب کہ ہمیں اس کا براہِ راست کوئی علم نہیں۔ مگر کائنات ہمارے لیے ایک معلوم اور مشہود چیز کی حیثیت رکھتی ہے، پھرخدا کو ابدی ماننے کے بجائے کیوں نہ خود کائنات کو ابدی مان لیاجائے۔ لیکن بگ بینگ (Big Bang) کی دریافت کے بعد اِس قسم کے عقیدے کو ماننا ناممکن ہوگیا ہے۔
جیسا کہ معلوم ہے، 2006 کا فزکس نوبل پرائز دو امریکی پروفیسروں کو مشترک طورپر دیاگیا۔ یہ دونوں پروفیسر بگ بینگ کے سائنسی نظریے پر کام کررہے تھے اور اُس پر انھوں نے ایک کتاب چھاپی تھی۔ دونوں پروفیسروں کے نام یہ ہیں:
John C. Mather (60), George F. Smoot (61)
امریکا کے ادارہ ناسا نے 1989میں ایک راکٹ بیرونی خلامیں بھیجا تھا۔ اس کا کام یہ تھا کہ وہ بگ بینگ دھماکے سے نکلنے والے ریڈی ایشن (Cosmic Background Radiation) کا مطالعہ کرے اور اس کا فوٹو لے کر زمین پر بھیجے۔ اس راکٹ کا نام یہ تھا:
Cosmic Background Explorer
اِس تحقیق کے ذریعے حاصل کردہ معلومات کا تجزیہ کرنے سے بگ بینگ کے نظریے پر مزید روشنی پڑی ہے۔ اُس نے اِس نظریے کو اسٹرانگ سپورٹ(strong support) دی ہے، اور کائنات کی عمر کا حتمی تعیّن کردیا ہے۔ اِس تحقیق سے معلوم ہوتا ہے کہ بگ بینگ کا واقعہ 13 بلین سال پہلے ہوا۔ رپورٹ کے الفاظ یہ ہیں:
It helped pinpoint the age of the universe, and supported the Big Bang theory of its birth (The Times of India, October 4, 2006, p. 17).
بگ بینگ کا نظریہ ابتدائی طورپر بیسویں صدی عیسوی کے رُبع اوّل میں دریافت ہوا۔ اِس کا مطلب یہ تھا کہ کائنات کا آغاز ایک عظیم انفجار (explosion) سے ہوا۔ اس کے بعد اِس نظریے پر کام ہوتا رہا، یہاں تک کہ اب یہ نظریہ ایک ثابت شدہ واقعہ بن چکا ہے۔
بگ بینگ کا نظریہ، علم العقائد یا تھیالوجی کے اعتبار سے نہایت اہمیت رکھتا ہے۔ اِس سے خالص انسانی علم کی سطح پر یہ ثابت ہوتا ہے کہ کائنات ابدی نہیں ہے، بلکہ وہ ایک وقتِ خاص پر پیدا ہوئی۔ اس کی یہ پیدائش ایک بہت بڑے دھماکے کے ذریعے ہوئی۔ یہ بات بالکل واضح ہے کہ یہ سب کچھ اتفاقی طورپر نہیںہوسکتا۔ اس کو وقوع میں لانے کے لیے ایک خارجی عامل (external factor) درکار ہے۔ اس طرح بگ بینگ کا واقعہ اِس نظریے کے حق میں ایک مضبوط منطقی سپورٹ بن گیا ہے کہ اِس کائنات کو ایک پیدا کرنے والے نے پیدا کیا۔ بِگ بینگ کا واقعہ معلوم ہونے کے بعد اس کی کوئی دوسری نظریاتی توجیہہ ممکن نہیں۔
3 - کائنات کی ترکیب اِس طرح ہوئی ہے کہ یہاں ہر صداقت (truth) کا مادّی مظاہرہ (physical demonstration) پایا جاتا ہے۔ اِس طرح ایک غور کرنے والے انسان کے لیے تمام غیر مرئی صداقتیں (invisible truths) مرئی سطح (visible level) پر قابلِ فہم بن جاتی ہیں۔ اِس قسم کی مثالوں میں سے ایک مثال وہ ہے جس کو موجودہ زمانے کی فلکیاتی اصطلاح میں بلیک ہول (Black Hole) کہاجاتا ہے۔ بلیک ہول کا نظریہ تقدیر اور تدبیر، یا انسانی آزادی اور خدائی جبر کے درمیان نازک تعلق کو قابلِ فہم بنا رہا ہے۔
فلکیات (astronomy) کے جرمن عالم کارل(Karl Schwarzschild) نے 1907 میں اپنے قیاس کے تحت یہ پیشین گوئی کی کہ خلامیںایسے بڑے بڑے ستارے ہوسکتے ہیں جن کی قوتِ کشش اتنی زیادہ ہو کہ وہ اپنی روشنی کو بھی روکے ہوئے ہوں اور ان کی روشنی باہر نہ آسکتی ہو۔ چوں کہ انسان کسی چیز کو صرف روشنی کی مدد سے دیکھ سکتا ہے، اِس لیے یہ عظیم ستارے خلا میں موجود ہونے کے باوجود انسان کے لیے ناقابلِ مشاہدہ ہیں۔ اِس نظریے پر تحقیق جاری رہی، یہاں تک کہ فلکیات دانوں نے ایسے ستاروں کی امکانی موجودگی پر اتفاق کرلیا، اور ایسے ستاروں کا نام ’بلیک ہول‘ رکھا گیا۔
الٰہیات کے میدان میں قدیم زمانے سے یہ بحث جاری ہے کہ اِس دنیا میں انسان آزاد ہے، یا مجبور۔ بظاہر انسان اِس دنیامیں اپنے آپ کو آزاد پاتا ہے، لیکن جب خدا قادرِ مطلق ہے تو یہ بات ناقابلِ قیاس معلوم ہوتی ہے کہ خدا کی قدرتِ کاملہ کے درمیان انسان کو خود مختاری حاصل ہو۔ اِس تصور پر بہت زیادہ لکھا گیا ہے۔ اردو شاعر میر تقی میر (وفات: 1810 ) نے اِسی بات کو اِس طرح نظم کیا ہے:
ناحق ہم مجبوروں پر، یہ تہمت ہے مختاری کی چاہے ہیں سو آپ کرے ہیں، ہم کو عبث بدنام کیا
مگر یہ اعتراض ایک غیر منطقی اعتراض ہے۔ کیوں کہ خدا کو اگر ہر قسم کا اختیار حاصل ہے تو اُس کو یقیناً یہ بھی اختیار حاصل ہے کہ وہ کسی مقام پراپنی قدرت کو محدود کرلے۔ وہ کامل اختیار رکھتے ہوئے عارضی مصلحت کی بنا پر اپنے اختیار کو وقتی طورپر روک لے۔ یہ قیاس بظاہر ایک نظری قیاس ہے، لیکن بلیک ہول کی دریافت نے اِس قیاس کے لیے مظاہراتی سطح پر ایک عملی تصدیق فراہم کردی۔ بلیک ہول کا نظریہ اِس قیاس کو قابل فہم بنا رہا ہے۔
ایمسٹرڈم (نیدر لینڈس) میں ماہرین ِ طبیعیات (physicists) کی ایک انٹرنیشنل کانفرنس ہوئی۔ اِس موقع پر فزکس کا نوبل پرائز پانے والے ایک سائنس داں مسٹر جیمس واٹسن (James Watson Cronin) نے اپنے مقالے میں بتایا کہ ہماری کائنات کا 96 فی صد حصہ سیاہ مادّہ (dark matter) پر مشتمل ہے۔ اُس کی روشنی یا ریڈی ایشن ہم تک نہیں پہنچتا، اِس لیے ہم اُس کو براہِ راست طورپر دیکھ نہیں پاتے:
Dark matter can not be detected directly, because it does not emit or reflect light or radiation.
جیمس واٹسن نے مزید کہا کہ — ہم سمجھتے ہیں کہ ہم کائنات کو جانتے ہیں، مگر حقیقت یہ ہے کہ ہم ہر چیز کے صرف 4 فی صد حصے کو جان سکتے ہیں:
We think we understand the universe, but we only understand four percent of everything. (The Times of India, September 23, 2007, p. 20)
4 - قرآن خدا کی طرف سے آئی ہوئی ایک محفوظ کتاب ہے۔ قرآن کے آغاز ہی میں یہ آیت شامل ہے: ذٰلِکَ الْکِتَابُ لَا رَیْبَ فِیْہِ (2:2) یعنی یہ خدا کی کتاب ہے۔ اِس میںکوئی شک نہیں۔ اِس کے ساتھ قرآن کا یہ اعلان تھا کہ وہ ابدی طورپر سارے انسانوں کے لیے کتابِ ہدایت ہے۔ وہ کسی زمانے یا کسی مقام کے لیے نہیں ہے، بلکہ ہر دور اور ہر انسانی گروہ کے لیے ہے۔
قرآن کے اِس دعوے کی صداقت کے لیے ضروری تھا کہ بعد کے زمانے کے حالات اس کی تصدیق کرتے رہیں۔ بعد کے زمانے میں ایساکوئی واقعہ پیش نہ آئے جو اِس بیان کی تردید کرنے والا ہو۔ قرآن کا یہ بیان حیرت انگیز طورپر اِس معیار پر پورا اترا ہے۔ راقم الحروف نے اِس موضوع سے متعلق اس کے مختلف پہلوؤں پر کئی مضامین اور کتابیں تیار کی ہیں۔ مثلاً تاریخی پہلو، نفسیاتی پہلو، حیاتیاتی پہلو اور سائنسی پہلو، وغیرہ۔ یہاں اِس سلسلے میںصرف ایک مثال نقل کی جاتی ہے۔
قرآن کی سورہ یونس میں یہ بتایا گیا تھا کہ پندرھویں صدی قبل مسیح میں خدا نے مصر کے فرعون (Ramesses II) کو سمندر میں غرق کیا۔ کیوں کہ اُس نے خدا کے پیغمبر موسیٰ کا انکار کیا تھا۔ اُس وقت خدا نے کہا تھا کہ — آج ہم تمھارے جسم کو محفوظ کردیں گے، تاکہ وہ تمھارے بعد آنے والوں کے لیے ایک نشانی بنے: فَالْیَوْمَ نُنَجِّیْکَ بِبَدَنِکَ لِتَکُونَ لِمَنْ خَلْفَکَ آیَۃً (10: 52)۔
ساتویں صدی کے رُبع اوّل میں جب قرآن میں یہ آیت اُتری تو اِس واقعے پر دو ہزار سال سے زیادہ مدت گزر چکی تھی۔ اُس زمانے میں نہ پرنٹنگ پریس تھا اور نہ کمیونکیشن، اور نہ معلوم تاریخ میں اِس کا کوئی ریکارڈ موجود تھا۔ چناںچہ تمام لوگ اِس واقعے کو بھول چکے تھے۔ اُس زمانے میں کوئی بھی شخص نہ اِس واقعے کو جانتا تھا اور نہ اُس کو یہ خبر تھی کہ کبھی فرعون کا جسم ظاہر ہو کر قرآن کی اِس آیت کی تصدیق کرنے والا ہے۔اِس آیت کے نزول کے ہزار سال بعد انیسویں صدی عیسوی کے نصف آخر میں سائنس نے ایسے طریقے دریافت کیے، جن کے ذریعے قدیم اَجسام کی تاریخ ٹھیک ٹھیک طور پر معلوم کی جاسکے۔ مزید یہ کہ سائنس کی ترقی نے لوگوں کے اندر بہت بڑے پیمانے پر تجسس کا ذہن پیداکیا۔ لوگ ہر میدان میںنئی نئی چیزیں دریافت کرنے کے لیے عالمی سطح پر سرگرم ہوگئے۔
اِسی دوران مغربی یورپ کے کچھ اسکالر مصر پہنچے۔ انھوںنے قاہرہ کے قریب واقع اَہرام کی تحقیق شروع کی۔ طویل کوشش کے بعد انھوںنے دریافت کیا کہ اہرام کے اندر مصر کے قدیم بادشاہوں کے مردہ اجسام مومیائی حالت میں موجود ہیں۔ چناں چہ خصوصی اہتمام کے ساتھ اِن اجسام کو نکالا گیا۔ اِس کے بعد ان اجسام کی جانچ شروع ہوئی۔ سائنس کے جدید طریقوں کے مطابق، ان کی عمر کا تعیّن کیاگیا۔ اِس تحقیق کے دوران حیرت انگیز طورپر معلوم ہوا کہ مصر کے قدیم بادشاہ فرعون کی لاش ایک اہرام میںموجود تھی۔ سائنسی ٹکنیک کے ذریعے جب اس کی عمر کا پتہ کیاگیا تو معلوم ہوا کہ یہ حضرت موسیٰ کا ہم زمانہ شاہِ مصر فرعون کا جسم ہے، جس کی بابت قرآن میں 14 سو سال پہلے اعلان کیاگیا تھا کہ وہ محفوظ حالت میں موجود ہے، اور مستقبل میں وہ انسان کے علم میںآجائےگا۔
اِس حقیقت کاعلم اِس سے پہلے کسی بھی انسان کو حاصل نہ تھا۔ قرآن میںاِس کا صراحتاً ذکر ہونا، اِس بات کا ثبوت ہے کہ قرآن اُس خدا کی کتاب ہے جو ساری باتوںکو جانتا ہے(عالم الغیب والشہادة)۔ اس نے اپنے علم کے تحت قرآن میںیہ آیت اُتاری۔ اِس واقعے میں واضح طورپر جدید سائنس، قرآن کے کتابِ الٰہی ہونے کی تصدیق بن گئی۔
فرانس کے ڈاکٹر موریس بکائی (وفات:1998 ) نے 1975 میں اپنے ساتھیوں کے ہم راہ مصر کا سفر کیا، اور قاہرہ کے میوزیم میںجاکر وہاں براہِ راست طورپر اِس محفوظ جسم کا مشاہدہ کیا۔ اِس واقعے پر پوری طرح مطمئن ہونے کے بعد انھوںنے اپنی کتاب میںنہایت حیرت کے ساتھ یہ الفاظ درج کیے ہیں— وہ لوگ جو مقدس کتابوں کی سچائی کے لیے جدید ثبوت چاہتے ہیں، وہ قاہرہ کے مصری میوزیم میںشاہی ممیوں (Mummies)کے کمرے کو دیکھیں۔ وہاں وہ قرآن کی اُن آیتوں کی شان دار تصدیق پالیں گے جو کہ فرعون کے جسم سے بحث کرتی ہیں:
Those who seek among modern data for proof of the veracity of the Holy Scriptures, will find a magnificent illustration of verses of the Quran dealing with the Pharaoh’s body by visiting the Royal Mummies Room of the Egyptian Museum, Cairo!
5 - دین کے عقائد میںسے ایک بنیادی عقیدہ رسالت کا عقیدہ ہے، یعنی یہ عقیدہ کہ انسان کی رہنمائی کے لیے خدا کی طرف سے ہر زمانے میں پیغمبر آئے۔ اِس سلسلے کے آخری پیغمبر محمد بن عبد اللہ بن عبد المطلب (صلی اللہ علیہ وسلم) ہیں۔ رسالت کے عقیدے کا مطلب یہ ہے کہ انسان اپنی زندگی کے رہنما اصول خود اپنی عقل سے دریافت نہیں کرسکتا۔ انسان کے لیے ضروری ہے کہ وہ اِس معاملے میں خدا کے پیغمبروں پر یقین کرے اور اُن سے اپنے لیے رہنمائی حاصل کرے۔
محمد صلی اللہ علیہ وسلم نہ صرف خدا کے آخری پیغمبر ہیں، بلکہ آپ پر جوخدا کی ہدایت آئی، وہ اپنی کامل شکل میں اور اپنی اصل حالت میں پوری طرح محفوظ ہے۔ پیغمبر اسلام پر جو پہلی وحی اتری تھی، وہ سورہ العلق کی صورت میں قرآن میں موجود ہے۔ اِس ابتدائی وحی میں اللہ تعالیٰ نے کہا تھا کہ: اِقْرَاْ وَرَبُّکَ الْاَکْرَمُ، الَّذِیْ عَلَّمَ بِالْقَلَمِ، عَلَّمَ الْاِنْسَانَ مَا لَمْ یَعْلَمْ(96:3-5) یعنی پڑھ، اور تیرا رب بڑا کریم ہے جس نے علم سکھایا قلم سے۔ انسان کو اُس چیز کا علم دیا جس کا علم اُس کو نہ تھا۔
اِس آیت میں گویا کہ اِس بات کا اعلان ہے کہ انسان خود سے اپنی رہنمائی وضع نہیں کرسکتا۔ دنیوی زندگی کے شعبے مثلاً زراعت، باغ بانی اور انجینئرنگ، وغیرہ کے معاملے میںوہ اپنے تجربات کے ذریعے کچھ علم حاصل کرسکتا ہے، جوانسان کی موجودہ زندگی کی ضرورتوں سے متعلق ہیں۔ لیکن انسان کی ابدی رہنمائی کے لیے جو برتر علم درکار ہے، اُس کو انسان خود سے حاصل نہیں کرسکتا۔ زندگی کے اِس برتر شعبے میں اُس کے لئے پیغمبرانہ رہنمائی سے مدد لینا ضروری ہے۔
قدیم زمانے میں جو بڑے بڑے فلسفی پیدا ہوئے، اُن سب کا موضوع یہی تھا کہ انسانی زندگی کے لیے رہنمایانہ اصول دریافت کیے جائیں، لیکن کئی ہزار سال تک بڑے بڑے دماغوں کی کوششوں کے باوجود فلسفہ اِس قسم کی کسی رہنمائی کو دریافت نہ کرسکا۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ فلسفیانہ کاوشوں نے انسان کو جو چیز دی، وہ صرف کنفیوژن (confusion) تھا، نہ کہ کوئی یقینی رہنمائی۔
کارل مارکس (وفات: 1883) نے فلسفے کی ناکامی پر ایک کتاب لکھی جس کا نام یہ تھا— فلسفے کا افلاس (Poverty of Philosophy) ۔ یہ کتاب کارل مارکس نے اپنے مخصوص نقطۂ نظر کے اعتبار سے لکھی تھی، لیکن عمومی اعتبار سے بھی یہ درست ہے کہ فلسفیانہ غور وفکر، جو تمام تر عقل کی بنیاد پر ہوتا ہے، وہ انسان کو رہنمائی کے ابدی اصول دینے کے معاملے میں پوری طرح ناکام ہے۔ فلسفیانہ شعبے کی یہی ناکامی تھی جس کی بنا پر ایسا ہوا کہ موجودہ سائنس کے ظہور کے بعد فلسفے کا دَور ختم ہوگیا۔ اب فلسفے کی حیثیت زیادہ تر ایک تاریخی شعبے کی ہے، نہ کہ زندہ شعبۂ علم کی۔
یہی معاملہ باطنیّت (mysticism) کے ساتھ پیش آیا۔ باطنی نقطہ نظر کے حاملین کا خیال تھا کہ وہ باطنیّت کے تجربے کے ذریعے سچائی کو دریافت کرسکتے ہیں، مگر ایسا نہ ہوسکا-
باطنیت کیا ہے، اس کی تعریف اِس طرح کی جاتی ہے:
Mysticism: The doctrine that it is possible to attain the higher truth through contemplation and love without the medium of human reason, or without any other external source.
مسٹی سزم کی تاریخ کئی ہزار سال تک پھیلی ہوئی ہے۔ بے شمار لوگوں نے مسٹی سزم کے ذریعے سچائی کو پانا چاہا، لیکن لمبے تجربے کے بعد معلوم ہواکہ مسٹی سزم کے ذریعے آخری چیز جو انسان کو ملتی ہے، وہ صرف ایک ہے اور وہ وَجد(ecstasy) ہے۔ مگر سچائی کے معاملے میں وَجد کی کوئی حقیقت نہیں۔ انسان کے وجود میں سب سے بڑی چیز شعور یا ذہن ہے۔ اِس لیے سچائی کو پانے والا وہی شخص ہے جو ذہن یا شعور کی سطح پر سچائی کو پائے، نہ کہ وجد کی سطح پر۔ وجد دراصل بے شعور ی کی ایک حالت ہے جس کوبے خودی کے خوب صورت لفظ میں بیان کیا جاتا ہے۔ سچائی دراصل شعور کی سطح پر حقیقتِ اعلیٰ کی دریافت کا نام ہے۔
شعور کی سطح پر حقیقتِ اعلیٰ کی دریافت کی ایک مادّی مثال بجلی کے بلب اور پا ور ہاؤس میں ملتی ہے۔ بلب ابتدائی حالت میں ایک بے نور شے ہے۔ اس کے اندر نہ خود روشنی ہے اور نہ وہ دوسروں کو روشنی دینے کی صلاحیت رکھتا ہے، لیکن جب پاور ہاؤس سے اس کا کنکشن قائم ہو جاتا ہے تو اچانک وہ ایک روشن وجود بن جاتا ہے۔ اب وہ خود بھی روشن ہوتا ہے اور دوسروں کو روشنی دینے کی صلاحیت کا مالک بن جاتا ہے۔سچائی کو پانے کا معیار کیا ہے، وہ اِس مادّی واقعے سے معلوم ہوتا ہے۔ سچّائی کو پانا شعوری معنوں میں ایک روشنی کو پانا ہے۔ مسٹی سزم اِس معیار پر پورا نہیں اترتا۔ مسٹی سزم سے آدمی کو جو چیز ملتی ہے، وہ صرف بے شعوری ہے، نہ کہ شعور۔ اور انسان جیسی باشعور ہستی کے لیے بے شعوری کبھی حقیقتِ اعلیٰ کی دریافت کے ہم معنٰی نہیں بن سکتی۔اِس معاملے میں آخری چیز جس کا نام لیا جاسکتا ہے، وہ سائنس ہے۔ جدید سائنس نے بلا شبہہ انسان کو بہت سی چیزیں دی ہیں۔ مثلاً ٹیلی کمیونکیشن اور کنزیومرگڈس (consumer goods)، وغیرہ۔ مگر جہاں تک سچائی کا معاملہ ہے، سائنس نے خود ہی یہ اعلان کردیا ہے کہ سچائی کی دریافت اس کا میدانِ عمل نہیں۔
ایک مغربی اسکالر نے درست طورپر لکھا ہے کہ علم کا میدان بہت وسیع ہے۔ علم کی دوقسمیں ہیں۔ چیزوں کا علم (knowledge of things) ، اور سچائی کا علم (knowledge of truth)۔ اہلِ علم کے درمیان بلا اختلاف یہ بات تسلیم کی گئی ہے کہ سائنس کا دائرہ صرف چیزوں کے علم تک محدود ہے۔ سچائی کا علم سائنس کے دا ئرے سے مکمل طورپر باہر ہے۔ ایسی حالت میںیہ کہنا صحیح ہوگا کہ سائنس اِس مقابلے میں بطور امیدوار بھی شامل نہیں۔
انسان کا مطالعہ بتاتا ہے کہ انسان کو اپنی زندگی کا راستہ متعین کرنے کے لیے گہرے علم کی ضرورت ہے۔ اِس ضرورت کو ڈاکٹر الیکسس کیرل نے اپنی کتاب انسانِ نامعلوم (Man the Unknown) میں بخوبی طورپر واضح کیا ہے۔ مگر اِسی کے ساتھ یہ بھی ایک ثابت شدہ حقیقت ہے کہ انسان خود اپنی کوششوں سے اِس ناگزیر علم کو دریافت نہیں کرسکتا۔ ایک طرف، علم کا ناگُزیر ہونا اور د وسری طرف، انسان کا اس ناگزیرعلم کو دریافت کرنے کے لیے نا اہل ہونا، بتاتا ہے کہ اِس معاملے میںانسان کوایک خارجی رہنمائی کی ضرورت ہے۔ اِس حقیقت کو سامنے رکھتے ہوئے پیغمبر کا مطالعہ کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ بلاشبہہ پیغمبرہی وہ انسان ہے جو خدا کے نمائندے کی حیثیت سے ہمارا حقیقی رہنما ہے۔ (25 دسمبر 2007)
واپس اوپر جائیں

امید کی طاقت

ارنسٹ شیکلٹن (Ernest Shackleton) ایک برٹش مہم جو تھا- اُس نے قطب جنوبی (Antarctica) کی دریافت کو اپنا مشن بنایا- وہ تین خطرناک مہم (expeditions) کا قائد تھا- آخری مہم جس میں 28 آدمی شریک تھے، ایک خطرناک حادثے کا شکار ہوگئی-
اُن کا جہاز سمندر میں کسی چٹان سے ٹکرا کر ٹوٹ گیا- اِس کے بعد شیکلٹن اور ان کے ساتھیوں کو ایک ایسے مقام پر رہنا پڑا جہاں صرف برف کے تودے تھے، وہاںاس کے علاوہ اورکچھ نہ تھا- یہ ایک ہولناک تجربہ تھا جس کی تفصیل حسب ذیل کتاب میں دیکھی جاسکتی ہے:
Endurance: Shackleton’s Incredible Voyage (1959) by Alfred Dansing.
شیکلٹن اور اس کے ساتھی 150 دن تک خالص برف کی دنیا میں رہنے کے بعد محفوظ حالت میں اپنے وطن واپس آگئے- یہ ’’معجزہ‘‘ کیسے ہوا- مصنف کے الفاظ میں، اُس کا راز صرف ایک تھا— پارٹی کے اندر یہ امید کہ ان کو جو صورتِ حال پیش آرہی ہے،وہ صرف عارضی ہے:
Underlying the optimism of the party was the confidence that their situation was only temporary.
کامیابی کا یہ فارمولا ایک عمومی فارمولا ہے- جب بھی آپ کو کوئی مصیبت پیش آئے تو آپ صرف یہ کیجئے کہ اپنے ذہن کو یہ بتائیے کہ یہ مصیبت مستقل نہیں ہے، یہ صرف وقتی اور عارضی ہے (It is all but temporary)-اِس کے بعد ہرمصیبت آپ کے لیے آسان ہوجائے گی- سفر ایک ایسا تجربہ ہے جو ہر ایک کو پیش آتا ہے-
سفر میں کسی کو بھی گھر والی راحت نہیں ملتی، مگر ہر مسافر مطمئن رہتاہے، کیوں کہ اس کو یقین ہوتا ہے کہ ایک عارضی مدت کے بعد وہ بہر حال اپنے گھر پہنچ جائے گا-یہی معاملہ پوری زندگی کا ہے- اپنی زندگی پر اِس فارمولے کو منطبق کیجئے اور پھر کبھی آپ مایوسی کا شکار نہ ہوں گے-
واپس اوپر جائیں

کشمیر میں نئی سوچ کی ضرورت

بی بی سی لندن (اردو) کے ویب سائٹ پر 18 دسمبر 2012 کی اشاعت کے تحت ایک رپورٹ آئی ہے- یہ رپورٹ جموں وکشمیر کی تحریک کے بارے میں ہے- اس کا عنوان ہے— ’’عسکری تحریک سے پُرامن جدوجہد تک‘‘-اس رپورٹ کا متعلق حصہ یہاں نقل کیا جاتاہے:
’’بھارت کے زیر ِ انتظام کشمیر میں مسلح تحریک کا آغاز کرنے والی تنظیم جموں کشمیر لبریشن فرنٹ (JKLF) نے اپنے آئین میں تبدیلی کر کے عسکریت پسندی کو اپنے عزائم سے نکال دیا ہے۔ گذشتہ بیس سال سے زائد عرصے سے جاری بھارت مخالف تحریک کے پس منظر میں اس کو جے کے ایل ایف کی طرف سے ایک بڑی تبدیلی کا اشارہ سمجھا جا رہا ہے۔ تنظیم کے پاکستان کے زیر ِ انتظام کشمیر اور گلگت بلتستان کے لیے صدر ڈاکٹر توقیر گیلانی کا کہنا ہے کہ جے کے ایل ایف ایک عسکری تحریک تھی- اس سے اس نے خود کو ایک پرامن سیاسی تحریک میں بدلا۔ تو اس حوالے سے آئین میں یہ تبدیلی کی گئی کہ جے کے ایل ایف کے مونوگرام میں بندوق کی علامت ختم کردی گئی اور اس کی جگہ ٹہنی کی علامت شامل کردی گئی ہے۔ ڈاکٹرگیلانی نے کہا کہ اس علامت کو بدلنے کا مقصد یہ تاثر دینا تھا کہ کشمیری پرامن حل کی طرف جانا چاہ رہے ہیں اور اس کے لیے وہ پہلا قدم اٹھا رہے ہیں، تاکہ بھارت، پاکستان اور بین الاقوامی برادری کو یہ باور کرایا جائے کہ پرامن ذرائع سے مسئلہ کشمیر کا حل نکالیں۔جے کے ایل ایف کا کہنا ہے کہ تشدد کے ذریعے مقاصد کا حصول اب دنیا کے لیے قابل قبول نہیں رہا اور اقوام عالم کا مسلسل یہ دباؤ رہا کہ بندوق چھوڑ کر پرامن ذرائع اپنائے جائیں۔وادی کشمیر سے تعلق رکھنے والے جے کے ایل ایف کے اہم رہنما اور سابق چیف کمانڈر محمد رفیق ڈار کہتے ہیں کہ مغرب خاص طور پر امریکہ اور برطانیہ اور مشرق وسطی کے کچھ طاقتور ممالک جو مسئلہ کشمیر میں دلچسپی رکھتے تھے اور جن کا پاکستان اور بھارت سے تعلق ہے، ان کی مسلسل کوشش تھی اور اس کے علاوہ ہندوستان کے اندر ایک دانشور طبقہ، جو انسانی حقوق کا بڑاچیمپیئن ہے، اس کی بھی یہ کوشش تھی کہ امن اور پرامن ذرائع کو ایک موقع دیا جائے۔ خیال رہے کہ آزادکشمیر کی حامی تنظیم جے کے ایل ایف پہلی تنظیم ہے جس نے 31 جولائی 1988کو وادی کشمیر میں چار بم دھماکے کر کے ہندستان کے خلاف اعلانِ جنگ کیا تھا... ‘‘ (www.bbc.co.uk/urdu/india)
جموں وکشمیر کی تحریک 1947 کے بعد شروع ہوئی- ابتدا میں وہ پرامن انداز میں چلائی جارہی تھی- کشمیری لیڈر پرامن ذرائع کو استعمال کرتے ہوئے نہایت زور وشور کے ساتھ اس کو چلاتے رہے- 40 سال سے زیادہ مدت تک اِس ’’پرامن‘‘ تحریک کو ناکام طور پر جاری رکھنے کے بعد کشمیر میں نئی لیڈر شپ ابھری- انھوں نے دوسرا آپشن لیا- نئی لیڈر شپ نے 1988سے کشمیر کی تحریک کو تشدد کی بنیاد پر چلانا شروع کردیا، لیکن کشمیر کا یہ دوسرا دور بھی اپنے نتیجے کے اعتبار سے، مکمل طور پر ناکام رہا- بے حساب جانی اور مالی نقصان کے باوجود اِس دوسرے دور میں بھی یہ ہوا کہ کشمیری اپنے مطلوب مقصد کو حاصل کرنے میں مکمل طورپر ناکام رہے،جب کہ اِس پرتشدد جدوجہد میں پاکستان پوری طرح ان کا مددگار بن گیا تھا-
کشمیر کی یہ تاریخ بتاتی ہے کہ کشمیری لیڈر دونوں میدانوں میں مکمل طورپر شکست کھا چکے ہیں، پرامن میدان میں بھی اور عسکریت کے میدان میں بھی- اب اصل مسئلہ کسی تیسرے آپشن کی تلاش کا ہے، نہ کہ ناکام عسکری طریق کار سے، ناکام پرامن طریقِ کار کی طرف دوبارہ لوٹنے کا- کشمیری لیڈروں کی مذکورہ ’’تبدیلی‘‘ خوب صورت الفاظ میں صرف ہلاکت کی توسیع ہے، اِس کے سوا اور کچھ نہیں-یہ نام نہاد تبدیلی صرف یہ ثابت کرتی ہے کہ کشمیری لیڈر جس طرح پہلے دانش مندانہ سوچ سے محروم تھے، اُسی طرح اب بھی وہ دانش مندانہ سوچ سے محروم ہیں-
کشمیریوں کے لیے تیسرا قابل عمل آپشن کیا ہے، وہ صرف ایک ہے اور وہ ہے اسٹیٹس کوازم (statusquoism)، یعنی موجود صورتِ حال کو على حالہ قبول کرلینا اور اپنی تمام کوششوں کو تعمیر و ترقی کے کام میں لگا دینا- اب کشمیریوں کے لیے جو دانش مندانہ راستہ ہے، وہ صرف یہی ہے- یہ تیسرا ممکن راستہ ایک لفظ میں — پرامن تعمیر ہے، نہ کہ صورتِ حال کو بدلنے کے نام پر مفروضہ قسم کی پرامن جدوجہد،جو کہ اپنی حقیقت کے اعتبار سے، نہ پر امن ہے اور نہ جدوجہد-
کشمیریوں کے لیے نیا آغاز صرف یہ ہے کہ وہ اپنے ماضی کی غلطی کا کھلا اعتراف کریں اور نئے ذہن کے ساتھ حقیقت پسندانہ انداز میں اپنی زندگی کی تعمیر کا منصوبہ بنائیں-
واپس اوپر جائیں

بابری مسجد: ایک پیغام

ایک شخص کا قول ہے کہ زندگی میں کوئی موقع (chance) صرف تین بار آتا ہے، چوتھی بار نہیں — بابری مسجد کے مسئلے پر یہ قول پوری طرح صادق آتا ہے- بابری مسجد کے معاملے میں مسلمان تین موقع کھو چکے ہیں، اب چوتھا موقع اُنھیں ملنے والا نہیں-
بابری مسجد کو بے مسئلہ مسجد بنانے کا پہلا موقع وہ تھا جب کہ بابر کے گورنر میر باقی نے 1528 عیسوی میں ایودھیا میں مسجد کی تعمیر کرائی- اُس مقام پر بابری مسجد سے پہلے ہندوؤںکا ایک مقدس اسٹرکچر تھا، جس کو وہ رام چبوترہ یا رام مندر کہتے تھے- میر باقی نے یہ کیا کہ رام چبوترہ کو مسجد کے صحن سے ملا کر مسجد کی تعمیر کروائی- یہ اِس معاملے میں پہلے موقع کو کھونا تھا، کیوں کہ خلیفہ عمر فاروق کے مقرر کردہ ایک اصول کے مطابق، دو عبادت خانوں کو’رمیة حجر‘ (stone's throw) کی دوری پر ہونا چاہیے، لیکن میر باقی نے اِس اصول پر عمل نہ کرکے اول دن سے بابری مسجد کو ایک نزاعی مسجد بنا دیا-
اِس معاملے میں دوسرا موقع وہ تھا جب کہ 1949 میں کچھ ہندوؤں نے بابری مسجد کے اندر تین بت رکھ دئے- اُس وقت مسلمانوں پر لازم تھا کہ وہ اِس معاملے کو عدالت تک محدود رکھیں، لیکن مسلم لیڈر اِس مسئلے کو سڑکوں پر لے آئے- اِس طرح مسلم لیڈروں نے دوسرے موقع کو کھودیا، کیوں کہ سڑک پر آنے کے بعد مسئلہ صرف مزید پیچیدہ ہوجاتا ہے، وہ کبھی حل نہیں ہوتا-
تیسرا موقع وہ تھا جب کہ 1991 میں اُس وقت کی یوپی گورنمنٹ نے یہ پیش کش کی کہ مسلمان اگر مسجد کو ری لوکیٹ (re-locate) کرنے پر راضی ہوں تو وہ مسجد کے لیے مسلمانوں کی پسند کے مطابق، ایک متبادل جگہ اُن کو دینے کے لیے تیار ہے- لیکن مسلمانوں نے اِس پیش کش کو رد کرکے اس تیسرے موقع کو بھی کھودیا-
اِس کے بعد 6دسمبر 1992کو مسجد ڈھا دی گئی- اب بابری مسجد کی تعمیر ثانی کی تحریک چلانا گویا چوتھے موقع کو تلاش کرنا ہے جو کہ سرے سے ملنے والا ہی نہیں- (6 دسمبر 2012)
واپس اوپر جائیں

سوال وجواب

سوال
آپ نے ’’دابہ‘‘ سے متعلق مختلف رائیں دی ہیں- مثلاً تذکیر القرآن میں دابہ سے آپ نے ’’غیر انسانی مخلوق‘‘ مراد لیا ہے- الرسالہ جون 2007 کے شمارہ میں آپ نے دابہ سے ملٹی میڈیا مراد لیا ہے- الرسالہ مئی2010 میں آپ نے دابہ سے ’’ایک انسان‘‘مراد لیا ہے- الرسالہ (جنوری 2013) میں آپ نے دابہ سے کشتی نوح مراد لیا ہے-بر اہِ کرم، اس سوال کی وضاحت فرمائیں- (محمد عبد اللہ، کلکتہ)
جواب
دابہ کے بارے میں اِس سے پہلے میں نے جو کچھ لکھا، وہ بھی قیاس پر مبنی تھا اور الرسالہ جنوری 2013 میں جو بات آپ نے پڑھی، وہ بھی قیاس پر مبنی ہے- تاہم الرسالہ جنوری 2013 میں دابہ کے متعلق جو رائے میں نے دی ہے، وہی میرا آخری قیاس ہے- پہلے قیاس کو اب میں اپنے فکری سفر کا ایک تاریخی حصہ سمجھتاہوں- اِس طرح کا معاملہ صرف میرےساتھ خاص نہیں، اہلِ علم کے ساتھ ہمیشہ اِس طرح کا معاملہ پیش آتا رہاہے-
سوال
میں 1981 سے الرسالہ کا مطالعہ کررہا ہوں- الحمد للہ اِس دوران میں نے خود بھی الرسالہ سے ذاتی طورپر فائدہ اٹھایا ہے اور دوسرے لوگوں کو بھی اس سے فائدہ اٹھانے کی جانب متوجہ کیا ہے- ایک چھوٹی سی لائبریری قائم کرکے الرسالہ مشن کالٹریچر منگوا کر پڑھے لکھے لوگوں کو مطالعہ کے لئے فراہم کرتا ہوں- الرسالہ کے مطالعہ سے میں نے جو باتیں سیکھی ہیں، وہ مختصر طورپردرج ذیل ہیں-
(1) مثبت سوچ اور مثبت پہلو کامیابی کا راز ہے اور منفی سوچ اور منفی طرز عمل ہلاکت وبربادی کا راستہ ہے- (2) انسان کو حقیقت پسند ہونا چاہئے- حقیقت پسندی زندگی کے ہر موڑ پر رہنمائی کرتی ہے- (3) انسان کو امن پسند ہونا چاہئے- (4)آپ نے نئی نسل کی تربیت کے سلسلے میں جو کچھ لکھا ہے، وہ اِس پُرفتن دور میں مثبت سوچ رکھنے والے لوگوں کے لئے ایک قیمتی سرمایہ ہے- (5) آپ نے موجودہ دور میں مایوسی کے شکار نوجوانوں کو زندگی کا جو مثبت پیغام دیا ہے، وہ بہت قیمتی ہے- اگر آج کل کے نوجوان آپ کی اِن تحریروں کی رہنمائی میں آگے بڑھنے کی کوشش کریں تو کوئی وجہ نہیں ہے کہ کامیابی انھیں حاصل نہ ہو- (6) آپ نے خاص طورپر خواتین کو سادگی اور قناعت پسندی اختیار کرنے کی طرف متوجہ کیا ہے، یہ وقت کی ضرورت ہے- فیشن پرستی اور صارفیت (consumerism)کے سیلاب میں بہنے والی خواتین اگر اِن باتوں کی طرف متوجہ ہوں تو سماج سے فتنہ وفساد کا خاتمہ ہوسکتا ہے- (نثار اختر، ابوالکلام آزاد لائبریری، دربھنگہ، بہار)
جواب
ماہ نامہ الرسالہ کے بارے میں آپ کا تاثر قابلِ قدر ہے- اللہ تعالی مزید ترقی عطا فرمائے- میرے تجربے کے مطابق، الرسالہ کے قاری (readers) تین قسم کے ہیں:
1- ایک قسم اُن لوگوں کی ہے جو الرسالہ کو صرف ادب یا معلومات کے لیے پڑھتے ہیں- اُن کو الرسالہ میں ایک ادبی چاشنی ملتی ہے یا الرسالہ سے اُن کو نئی نئی معلومات حاصل ہوتی ہیں، اِس لیے وہ دلچسپی کے ساتھ الرسالہ کو پڑھتے ہیں- یہ وہ لوگ ہیں جو الرسالہ کو محض انٹرسٹ ریڈنگ (interest reading) کے ایک آئٹم کے طورپر لیتے ہیں- ایسے لوگوں کے بارے میں یہ کہنا صحیح ہوگا کہ وہ نہ الرسالہ کو جانتے ہیں اور نہ خود اپنے آپ کو، حتی کہ وہ یہ بھی نہیں جانتے کہ بحیثیت انسان ان کے بارے میں اللہ کا تخلیقی منصوبہ کیا ہے- ایسے لوگ ہمارے نزدیک، الرسالہ کے قاری نہیں ہیں- اُن کو الرسالہ سے وقتی تفریح کے سوا کچھ اور ملنے والا نہیں-
2- الرسالہ کے قاریوںکی دوسری قسم وہ ہے جو الرسالہ سے وہ چیز لیتے ہیں جس کو ’’رازِ حیات‘‘ کہاجاسکتا ہے، یعنی دنیا میں زندگی گزارنے کا تعمیری طریقہ- ایسے لوگ الرسالہ کے قاری ہیں، مگر وہ اس کے قاری نہیں، یعنی انھوں نے الرسالہ سے صرف اس کا قِشر پایا، مگر انھوں نے الرسالہ کا مغز نہیں پایا-انھوں نے بطور خود جو عملی زندگی اختیار کررکھی ہے، اُس کے حق میں انھیں الرسالہ میں کچھ مفید مواد مل جاتا ہے، اِسی کو وہ کافی سمجھتے ہیں- ایسے لوگ الرسالہ کے صرف جزئی قاری ہیں، وہ حقیقی معنوں میں الرسالہ کے قاری نہیں- ایسے کو الرسالہ کا قدر داں کہاجاسکتا ہے، لیکن ان کو الرسالہ شناس نہیںکہاجاسکتا-
3- الرسالہ کا حقیقی قاری وہ ہے جو خالی الذہن (empty mind) ہو کر الرسالہ کو پڑھے، جو الرسالہ میں خدائی حکمت (divine wisdom) کو دریافت کرسکے- اِسی خدائی حکمت کا دوسرا نام معرفت یا ربانیت ہے- ایسے لوگوں کے لیے الرسالہ ذہنی ارتقا اور روحانی بلندی کا ذریعہ بن جائے گا، وہ الرسالہ میں وہ چیز پانے لگیں گے جس کو قرآن میں، رزقِ رب (20:131) کہاگیا ہے، الرسالہ اُن کے لیے اُن کی فطرت کی تلاش کا جواب بن جائے گا، وہ الرسالہ کے مضامین میں انسان کی ابدی سعادت کا راز دریافت کرلیں گے —— میری دعا ہے کہ اللہ تعالی آپ کو الرسالہ کا حقیقی قاری بنائے-
واپس اوپر جائیں

خبر نامہ اسلامی مرکز — 220

1- نئی دہلی کے انڈیا ہیبی ٹیٹ سنٹر میں 2 اکتوبر 2012 کو وینو آئی سنٹر (Venu Eye Centre) کی طرف سے آنکھوں کی صحت کے موضوع پر ایک آل انڈیا پروگرام ہوا- یہاں طلبا کے علاوہ، آنکھ کے مشہور ماہرین موجود تھے- سی پی ایس کی دعوہ فیلڈ ٹیم (DFT) کے کچھ ممبران نے اِس میں شرکت کی اور حاضرین کو قرآن کا انگریزی ترجمہ دیا-واضح ہو کہ انڈیا اور انڈیا سے باہر کے تمام ممبران دعوتی میٹریل بطور خود خرید کر لوگوں تک پہنچاتے ہیں-
2- فرینکفرٹ (جرمنی) میں 14-10 اکتوبر 2012 کے دوران ایک انٹرنیشنل بک فیر ہوا- گڈ ورڈ بکس (نئی دہلی) نے اِس میں شرکت کی- دوسری کتابوں کے علاوہ، جرمن زبان میں بھی اِس موقع پر دوکتابیں تیار کی گئی تھیں — اسلام کیا ہے (Was Bedeutet Islam) اور قرآن کا پاکٹ سائز ترجمہ(Der Koran)-اِس ترجمے میں صدر اسلامی مرکز کا انٹروڈکشن شامل تھا- لوگوں نے اِس کو شوق سے لیا اور اپنے تاثرات کا اظہار کیا- چند تاثرات حسب ذیل ہیں:
“I lived in Dubai for 15 years, but I never saw Quran there.”
“I was impressed by the peaceful meaning of Jihad in the Introduction of the Quran. It is better to read this original sources, rather than knowing from the media”.
3- رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف امریکا میں ایک متنازع فلم بنی جس کے بعد برمنگھم کے مسلمانوں نے ایک میٹنگ کی- اس میٹنگ میں مقامی مسلمانوں نے یہ طے کیا کہ وہ متنازع فلم ’’انوسنس آف مسلمس‘‘ کے خلاف احتجاج کریں گے- شمشاد محمد خان صاحب (IPCI)نے کہا کہ احتجاج کا کوئی فائدہ نہیں- اگر کچھ کرنا ہے تو آپ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی اور تعلیمات پر مشتمل ایک پمفلٹ تیار کرکے اُس کو لوگوں کے درمیان تقسیم کریں- مقامی لوگوں نے اِس رائے کو پسند کیا- چناں چہ برطانیہ میں 5 لاکھ پمفلٹس تقسیم کئے گئے- برطانیہ کے مقامی لوگوں نے اس کو شوق سے لیا اور اِس طریقے کو بہت زیادہ پسند کیا گیا-
4- سہارن پور (یوپی) میں 13 اکتوبر 2012 کو کئی پروگرام ہوئے — وید مندر میں آریہ ست سنگ کا پروگرام، جس میں بڑی تعداد میں مقامی اور غیر مقامی ہندو سوامی اور تعلیم یافتہ حضرات نے شرکت کی- ہوٹل ’’ساگر‘‘ میں شادی کی تقریب، سرسید کا یومِ پیدائش- اِن تمام موقعوں پر لوگوں کو دعوتی لٹریچر دیاگیا- نیز سہیل جویلرس کے شو روم میں قرآن اور دعوتی میٹریل رکھاگیا، تاکہ وہ شو روم میں آنے والے لوگوں کو دیاجاسکے- اِسی طرح حلیمہ اسکول اور ڈفنس کالونی میں سہارن پور کے ساتھیوں کی طرف سے قرآن کا انگریزی ترجمہ اور دعوتی بروشر دئے گئے-
5- نیشنل میڈیکل کالج (سہارن پور) کی طرف سے روزنامہ راشٹریہ سہارا ، اردو میں 17 اکتوبر 2012 کو کالج کی سرگرمیوں پر مشتمل اخبار کے ایک پورے صفحہ (12) پر مشتمل اشتہار دیاگیا- اشتہار کے آخر میں کالج کے انتظامیہ کی طرف سے ایک نوٹ حسب ذیل الفاظ میں شامل کیاگیا تھا — 25 اکتوبر 2012 تک دعوتی کام کرنے والے حضرات کالج سے اردو، ہندی اور انگریزی ترجمہ قرآن مفت حاصل کرسکتے ہیں-
6- سہارن پور کے جے وی جین ڈگری کالج میں 21 اکتوبر 2012کو نوراتری کے موقع پر ہندی روزنامہ ’’دینک جاگرن‘‘ کی طرف سے ایک بڑا پروگرام کیاگیا- اِس پروگرام میں تقریباً 5 ہزار لوگوں نے شرکت کی- اِس پروگرام میں مقامی لوگوں کے علاوہ، اطرف کے بڑے سیاسی اور مذہبی رہنما موجود تھے- سہارن پور کے ساتھیوں نے یہاں لوگوں کو قرآن کا ترجمہ اور دعوتی بروشر دئے- لوگوں نے اس کو شوق سے لیا-
7- نیشنل بک ٹرسٹ (NBT) کی طرف سے 17-21 اکتوبر 2012 کو علی گڑھ میںایک بک فیر ہوا- یہاں گڈورڈ بکس (نئی دہلی) نے اپنا اسٹال لگایا- اِس موقع پر لوگوں کی طرف سے قرآن کے ترجمے (اردو، انگریزی) کی اتنے بڑے پیمانے پر ڈمانڈ تھی کہ دہلی سے دوبارہ علی گڑھ بک اسٹال پر اس کو بھجوایا گیا-
8- • Hyderbad hosted one International convention on Biodiversity (CBD) that was marked by the visit of prime minister Manmohan Singh and several other scholars, academician from world over. This convention was held from 1st till 19th Oct, 2012 and is known as 11th Conference of Parties Convention on Biological Diversity. Hyderabad dawah team took this as an opportunity to reach out to people for Dawah work. We prepared one page document to be distributed in the Fair with the help of internet and Maulana's Book. We went into the Exhibition Hall and distributed it along with. The reality of Life, The Creation Plan of God , & The Quran. They welcomed us warmly. (Hyderabad Dawah team)
9- • Maulana Wahiduddin Khan participated in the World Economic Forum on India 2012, held in Gurgaon, from 6 to 8 November. He shared his views on‘The New Collaborative Space: Future Scenarios for Civil Society, Business and Government Engagement in India.’ The Centre for Peace and Spirituality International team distributed Quran and Maulana's book, The Prophet of Peace, to the delegates.
10- • On November 18, 2012, CPS International members distributed Quran at a book launch in IIC, New Delhi. They gave Quran to personalities such as the Chief Minister of Delhi, Sheila Dikshit, the American Ambassador to India, Nancy Jo Powell, the president of the India International Centre, Soli J. Sorabjee, Member of Parliament N. K. Singh, president of the Indian Liberal Group, Meera Sanyal, Isher Judge Ahluwalia, and economist Jagdish Natwarlal Bhagwati.
11- منسٹری آف ہیومن رسورسیز (نئی دہلی) کی ایک ٹیم نے 26 اکتوبر 2012کو نیشنل میڈیکل (سہارن پور) کا دورہ کیا- اِس موقع پر منسٹری کے لوگوں کو قرآن کا ترجمہ اور دعوتی پمفلٹس دئے گئے- مسٹر پوکھریال نے کہا کہ مولانا وحید الدین خاں کا لٹریچر دیش میں سچ مچ شانتی پھیلا رہا ہے- انھوں نے شکریہ کے ساتھ لٹریچر کا تحفہ قبول کیا-
12- پنجاب یونی ورسٹی (بھٹنڈا) میں 27 اکتوبر سے 4 نومبر 2012 کے درمیان ایک بک فیسٹ (Book Fest) ہوا- اِس میں سی پی ایس دعوہ فیلڈ ٹیم (DFT) کے ممبر مسٹر جنید الاسلام نے دعوتی لٹریچر پر مشتمل ایک بک اسٹال لگایا- یہاں سے بڑے پیمانے پر دعوتی کام ہوا اور لوگوں نے بہت شوق سے قرآن کا ترجمہ حاصل کیا-
13- پیس ہال (سہارن پور) میں 28 اکتوبر 2012 کو اترا کھنڈ اور ہریانہ کے حلقہ الرسالہ کے قارئین کا ایک اجتماع ہوا- اِس اجتماع میں قارئین الرسالہ کے علاوہ، تعلیم یافتہ ہندو حضرات نے شرکت کی- مثلاً سوامی پریم وکرم، سوامی امر پال، وغیرہ- اِس موقع پر سوامی امرپال نے اپنے گہرے تاثرات کا اظہار کیا- انھو ں نے ایک بات یہ کہی کہ اب میں نے آریہ سماج کا منچ چھوڑ دیاہے- اب میں مولانا وحید الدین خاں کے لٹریچر کا ادّھین (مطالعہ) کررہا ہوں- اِس کے علاوہ، آج ہوٹل رائل ریزیڈنسی میں نکاح کی ایک تقریب تھی- یہاں لوگوں کو قرآن کا ترجمہ اور دعوتی بروشر دیا گیا- خاص طورپر شادی شدہ جوڑے کو ’’خاندانی زندگی‘‘ اور ’’عورت معمارِ انسانیت‘‘ کا ایک ایک نسخہ دیاگیا-
14- شارجہ (عرب امارات) میں 7-17 نومبر 2012 کو ایک انٹرنیشنل بک فیر ہوا- اس کے بعد 17-20 اکتوبر 2012 کو استانبول (ترکی) میں ایک انٹرنیشنل بک فیر ہوا- گڈ ورڈبکس (نئی دہلی) نے اِن دونوں بک فیر میں شرکت کی- اِس دوران ایک ترک پبلشر سے تذکیر القرآن ا ور صدر اسلامی مرکز کی دوسری کتابوں کے ترکی ترجمہ اوراشاعت کی بات ہوئی- نیز ترکی کے بڑے ہوٹلوں میں قرآن کا انگریزی ترجمہ رکھوانے کا پروگرام طے کیاگیا-
15- تھروونانتھن پورم (کیرلا) کے کناتکنو پیلیس کیمپس میں 30 اکتوبر سے 5 نومبر 2012 کے درمیان ایک بک فیر ہوا-اِس بک فیر میں گڈ ورڈ بکس (نئی دہلی) نے اپنا اسٹال لگایا- اسٹال کا انتظام مسٹر ممتاز نے سنبھالا-
16- یکم نومبر 2012 کو پھلواری گارڈن (سہارن پور) میں ٹیم کی طرف سے لوگوں کو دعوتی میٹریل دیاگیا-
17- لکھنؤ کے سینٹینیل کالج (قیصر باغ) میں 2 نومبر سے 11 نومبر 2012 کے درمیان ایک بک فیر ہوا- اِس میں گڈورڈ بکس (نئی دہلی) نے اپنا اسٹال لگایا- یہ اسٹا ل بہت کامیاب رہا- اسٹال کا انتظام مسٹر محمد فرقان نے سنبھالا-
18- پونہ (مہاراشٹر) کے گنیش کلا کریڈا منچ میں7نومبرسے 11نومبر 2012 کے درمیان ایک بک فیر ہوا-اس میں گڈورڈ بکس نے اپنا اسٹال لگایا- اسٹال کا انتظام مسٹر محمد فرقان نے سنبھالا-
19 - علی گڑھ مسلم یونی ورسٹی میں 11-12 نومبر 2012 کو کئی پروگرام ہوئے— شعبہ دینیات کی دعوت پر اقرا اکیڈمی، آزاد پبلک اسکول، نیز ابن سینا اکیڈمی کے پروگراموں میں سہارن پورٹیم ممبران نے شرکت کی اور وہاں انٹریکشن کے دوران لوگوں کو دعوتی لٹریچر دیا- اِسی طرح ٹیم کے ممبران نے ڈاکٹر وسیم رانا کی دعوت پر بلند شہر کا سفر کیا- اِس موقع پر دوسرے پروگراموں کے علاوہ، ڈاکٹر رانا کے تحت چلائے جارہے انگلش میڈیم اسکول میں ایک پروگرام ہوا- اِس موقع پر مقامی حضرات اور طلبا کو دعوتی لٹریچر دیاگیا-
20- الٰہ آباد (یوپی) کے جی جی آئی سی گراؤنڈ (سول لائن) میں 23نومبر سے 2 دسمبر 2012کے درمیان ایک بک فیر ہوا- اس میں گڈورڈ بکس (نئی دہلی) نے اپنا اسٹال لگایا- یہاں قرآن کے ہندی اور انگریزی ترجمے کی اتنی زیادہ ڈمانڈ تھی کہ دہلی سے دوبارہ اس کو الٰہ آباد بھیجا گیا-
21- جے پور (راجستھان) کے امبیڈکر سرکل گراؤنڈ میں 24 نومبر سے 2 دسمبر 2012 کے درمیان ایک بک فیرہوا- اِس میں دعوہ فیلڈ ٹیم (سی پی ایس) کے ممبران (مسٹر تمکین قریشی اور خضر اسلام) نے ذاتی انتظام کے تحت ایک بک اسٹال لگایا- کافی لوگوں نے بک اسٹال پر وزٹ کرکے یہاں سے دعوتی لٹریچر حاصل کیا-
22- آئی ایم اے ہال (سہارن پور) میں 27 نومبر 2012 کو سوامی وویکانند کے 150 ویں یومِ پیدائش کے موضوع پر ایک پروگرام ہوا- اس کی دعوت پر ٹیم کے ممبران نے پروگرام میں شرکت کی اور حاضرین کو دعوتی لٹریچر دیا-
23- جمشید پور (جھارکھنڈ) میں ٹیگور سوسائٹی کی طرف سے 23 نومبرسے 2 دسمبر 2012 کے درمیان ایک بک فیر ہوا- یہاںجمشید پور کی الرسالہ ٹیم کے ممبران نے ایک بک اسٹال لگایا-یہاں سے بڑے پیمانے پر لوگوں نے قرآن کا ترجمہ اور اسلامی لٹریچر حاصل کیا- زائرین کو اردو، ہندی اور انگریزی میں چھپے ہوئے دعوتی بروشر بطور گفٹ دئے گئے-
24- سی پی ایس انٹرنیشنل (نئی دہلی) کے ہال میں 1-2 دسمبر 2012 کو ایک اجتماع ہوا- یہ کشمیر دعوہ میٹ کا اجتماع تھا- اِس میں الرسالہ مشن سے وابستہ کشمیر کے 50 لوگوں نے شرکت کی- یہ کشمیر کے نمائندہ افراد کا ایک اجتماع تھا- اِس اجتماع میں علما اور اعلی تعلیم یافتہ طبقے کے لوگ موجود تھے- یہ اجتماع دعوتی اور تربیتی موضوع پر تھا- اِس موقع پر صدر اسلامی مرکز کے 4 خطاب ہوئے- اِس خطاب کا ویڈیو سی پی ایس کے ویب سائٹ پر موجود ہے- اِس موقع پر کشمیری ٹیم کے متعدد لوگوں نے الرسالہ مشن سے متعلق اپنے تاثرات بیان کیے- یہاں اِس سلسلے کے چند تاثرات نقل کیے جاتے ہیں:
— آپ سب الرسالہ مشن کے ساتھی ہیں۔ آپ کو معلوم ہے کہ صحابہ کرام ؓ نے جو اسلام رسول اللہﷺ سے اخذ کیا ہے، اس کے صرف تین نقطے ہیں۔ ایک ہےتوحید کی اعلیٰ معرفت، دوسرا ہے فکر آخرت اور تیسرا ہے رسول اللہ ﷺ کا سچا اتباع۔ یہی الرسالہ مشن کا نصب العین ہے۔ اس لئے اس میں ذرا بھی شبہ نہیں ہے کہ الرسالہ مشن موجودہ دور میں رسول اور اصحاب رسول کی تبعیت میں چلنے والا واحد دعوتی مشن ہے ۔ مسلمانوں پر لازم ہے کہ وہ اپنی صلاحیتوں کے مطابق، اس مشن کا ساتھ دیں۔ یہ ایک بے حد سنجیدہ معاملہ ہے۔ اس معاملہ میں خدا کی رضا حاصل کرنے کا کوئی تیسرا راستہ نہیں ، کیوں کہ خدا مسلمانوں کو’’ شہادت علی الناس‘‘ کے مقام پر دیکھنا چاہتا ہے-کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ الرسالہ مسئلہ کشمیر سے انکار کرتا ہے۔ بات دراصل یہ ہے کہ لوگ جب قومی اور وطنی ذہن سے دیکھتے ہیں تو انھیں مسئلہ کشمیر نظر آتا ہے۔ اس کے برعکس، اگر وہ بحیثیت داعی حق خدا کے تخلیقی منصوبہ کی روشنی میں دیکھیں تو انھیں صرف مسئلہ آخرت دکھائی دے گا جو کہ ہر انسان کا اصل مسئلہ ہے ۔ الرسالہ جیسے بے آمیز مشن کو قبول کرنا ہمیشہ انسانوں کے لئے مشکل ترین کام رہا ہے، کیوںکہ اس راہ میں ہمیشہ انسانوں کی نفس پرستی، دنیا طلبی اور شیطان کی فریب کاریاں حائل ہوجاتی ہیں۔ موجودہ دور میں الرسالہ مشن کو تاریخ میں سب سے زیادہ مخالفت کا سامنا کرنا پڑا ،کیوںکہ اس کی زد ہر خود ساختہ اور بناوٹی اسلام پر پڑتی تھی۔ الرسالہ مشن نے اسلام پر پڑے ہوئے مصنوعی پردوں کو ہٹا کر اس کو اس کی اصل اور ابتدائی صورت میں پیش کیا۔ اس قسم کے مشن کا ساتھ دینے والے وہی لوگ ہوسکتے ہیں جو زندہ فطرت والے ہوں، جو دلائل کی عظمت کو محسوس کرتے ہوں اور جو سچائی کی تلاش اور اس کے استقبال کے انتظار میں رہتے ہوں۔ ظاہر ہے کہ اس قسم کے لوگوں کی تعداد ہمیشہ بہت کم ہوتی ہے۔ لیکن اسی قسم کی نادر روحیں انسانیت کا حاصل ہیں۔ اُن کی قدر و قیمت خدا اور اس کے فرشتوں کے سوا کسی کو معلوم نہیں ۔ میں آپ کی خدمت میں مولانا وحید الدین خاں کے دو تاثرات پیش کرنا چاہتا ہوں۔ یہ ایک آئینہ ہے جس میں ہم الرسالہ مشن کے ساتھی خود کو دیکھ سکتے ہیں۔اپنی ڈائری میں مولانا نے ایک جگہ لکھا ہے کہ ’’دو احساسات ہروقت غم کا پہاڑ بن کر میرے اوپر چھائے رہتے ہیں۔ ایک دعوتِ دین اور اصلاحِ امت کی ذمہ دار ی، دوسرے آخرت کی جواب دہی کامسئلہ —ان دو غموں کے نیچے میری شخصیت گویا کچل کر رہ گئی ہے۔ کتنا جینے کی ضرورت ہے اور حال یہ ہے کہ ایک لمحہ بھی جینے کی طاقت نہیں ۔ اِسی طرح آخرت کی دنیا میں لازمی طورپر داخل ہونا ہے اور آخرت کی دنیا میں داخل ہونے کی ذرابھی ہمت نہیں ‘‘- اسی طرح اپریل 2000میں سہارن پور کے ایک سفر کے دوران ایک صاحب نے مولانا سے کہا کہ میں آپ کی تحریریں برابر پڑھتا رہاہوں اور ان کو پسند کرتا ہو ں، مگر سوال یہ ہے کہ آپ کے بعد کون ؟ مولانا نے جواب میں کہا کہ اکثر لوگ اس طرح کے سوال کرتے ہیں، مگر میں تو یہ سوچتا ہوں کہ میری موجودگی میں کون؟میری دعوتی جدوجہد تقریباً پچاس سال کی مدت تک پھیلی ہوئی ہے۔ اس راہ میں ،میں نے اپنا خون خشک کیا، میری شخصیت ویران ہوگئی، میرے دن اور رات کا سکون چھن گیا، مگر اب بھی ہر طرف وہی حال نظر آتا ہے جس کی مثال انجیل میں ان الفاظ میں دی گئی ہے کہ — ہم نے بانسری بجائی، مگر تم نے رقص نہیں کیا،ہم نے ماتم کیا، مگر تم نہیں روئے۔
محترم ساتھیو،الرسالہ کا دعوتی مشن ہماری صلاحیتوں اور اثاثوں کا بہترین مصرف ہے۔ اسی سے ہم اپنے خالق کی رضا اور خوشنودی حاصل کرسکتے ہیں، دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی۔میں خدا سے دعا کرتا ہوں کہ وہ ہمیں من أنصاری إلی اللہ کے جواب میں نحن أنصاراللہ کہنے کی سچی توفیق عطا فرمائے۔ (نذیر الاسلام ،پلوامہ، کشمیر)
— مولانا محترم، بنا تعارف آپ کی خدمت میں حاضر ہونے کی توفیق بر اہِ راست اللہ تعالی نے نصیب فرمائی- اِس سعادت کے لیے اللہ کا جتنا بھی شکر ادا کروں، وہ کم ہے- بندہ تقریباً 35 سال سے حصول معرفت الٰہی کے لیےمتجسس تھا- اِس کے لیے بے شمار کتب کا مطالعہ کیا، لیکن تسکینِ قلب حاصل نہ ہوئی- اِس تلاش میں میں ناکام رہا اور امید چھوڑ بیٹھا، لیکن قلب میں تڑپ موجود تھی- آخر کار اللہ نے مجھ پر رحم فرمادیا اور مورخہ 30 مارچ 2012بروز جمعہ جب میں نماز جمعہ ادا کرنے کے لیے رام بن بازار (کشمیر)کے قریب کے راستے سے گزر رہا تھا تو میں نے دیکھا کہ اُس راستے میں دور تک کچھ چھپے ہوئے ورق کے پھٹے ہوئے بہت چھوٹے چھوٹے ٹکڑے بکھرے ہوئے ہیں اور لوگ اُن کے اوپر سے چل رہے ہیں- جب میں قریب پہنچا تو ایک چھوٹے سے ٹکڑے پر ‘God’ لکھا ہوا میں نے پڑھا- میں بیٹھ گیا اور اپنے رب کے نام کے ساتھ شامل عبارت کے ورق کو پھاڑ کر پھینکنے کی وجہ معلوم کرنے کے لیے میں نے اُن تمام چھوٹے چھوٹے ٹکڑوں کو اکھٹا کرکے اپنی جیب میں رکھ لیا- بعد فراغت نماز جمعہ، اپنے گھر جاکر میں نے اُن تمام ٹکڑوں کو اپنی اپنی جگہ جوڑنے کی کوشش کی- بہت محنت اور دقت کے بعد آخرکار میں اس پورے ورق کو مکمل طورپر جوڑنے میں کامیاب ہوگیا اوراب اسے پڑھنا شروع کیا- تمام عبارت انگریزی زبان میں تھی اور مضمون کا عنوان یہ تھا: ‘Creation Plan of God’ -تمام عبارت پڑھنے اور سمجھنے کے بعد میری روح میں انقلاب جیسی کیفیت محسوس ہوئی اور میں تڑپ گیا کہ شایدمجھے میری منزل مل گئی- لیکن اس میں مضمون کے مصنف کے بارے میں کوئی جانکاری نہ تھی اور نہ ہی اُن کی کسی کتاب کے بارے میں مجھ کو معلومات حاصل تھی- آخر میں CPS International کا فون نمبر اور پتہ درج تھا- میں نے سی پی ایس (نئی دہلی) کو فون کیا - وہاں سے محترم حمید اللہ حمید بیروہ (کشمیر) سے رابطہ کرنے کی ہدایت ہوئی- میں نے محترم حمید اللہ حمید سے فون پر رابطہ کیا جن کے ساتھ پہلے سے میرا کوئی تعارف نہ تھا- انھوںنے مجھے آپ کی تصانیف— کتاب معرفت، تذکیر القرآن اور ماہ نامہ الر سالہ کی کاپیاں بھیجیں- مطالعے سے مجھے معرفت کیا ہے، اس کے بارے میں معلومات حاصل ہوئی اور معرفت الہی کے درجے تک پہنچنے کا راستہ معلوم ہوا- اُسی دن سی میری روحانی کیفیت میں مکمل تبدیلی آگئی اور آج میں وہ انسان نہیں ہوں جو میں اب سےپہلے تھا- مجھے اپنی 62 سال کی عمر کا وقت بے کار ضائع ہوجانے کا احساس ہوا اور میں اِس فکر میں ڈوب گیا کہ اب میری مغفرت کیسے ہوگی، اب کیا کروں- لیکن آپ کی کتب اور الرسالہ کے مطالعے سے اُمید ہوگئی کہ ابھی جو کچھ عمر کا حصہ باقی ہے، اس میں دعوت دین کا کام کرنے میں لگ جاؤں، تاکہ فلاح پاسکوں- بس ارادہ کرلیا ہے اور دعوت کا کام شروع کردیا ہے- میری آپ سے گزارش ہے کہ میرے حق میں اللہ سے دعا کریں کہ میںدعوت الی اللہ کے اِس مشن میں ثابت قدم رہوں اور کامیاب ہوجاؤں- (محمد اقبال سوہل، پرلوت، ضلع رام بَن، جموں وکشمیر)
— • I attended two days Kashmir Dawah Meet held in New Delhi. Infact, I experienced anda learnt a lot from da’ees of islam. The lectures of Maulana Wahiduddin Khan and the tips given and experiences shared especially with Dawah Field Team, CPS (DFT) boosted me a lot and gave enthusiasm to work for dawah in future. Infact, this annual conference is of great importance for da’ees of the mission. (M Ismail Bhat, Kashmir)
— • The entire Kashmir Dawah meet was such an inspiration that I feel I am re-born with a renewed understanding of my purpose in life. I was listening to the whole program. Everyone spoke from their heart for it reached our hearts. This is a sure sign of speaking from the heart. (Fathima Sarah, Centre for peace Bangalore)
25- مسٹر جگ پال سنگھ (ایم ایل اے، سہارن پور) کے یہاں 6 دسمبر 2012 کو اور ڈاکٹر آر پی شرما کے یہاں 7 دسمبر 2012 کو ان کے بیٹے کے شادی کی تقریب تھی- اِس موقع پر اعلیٰ تعلیم یافتہ حضرات کو قرآن کا ترجمہ دیاگیا- مسٹر پنّا لال (لیڈر آر ایس ایس) کو قرآن کا ترجمہ دیا گیا تو انھوں نے کہا کہ قرآن مجھ کو 80 سال کی عمر میں ملا ہے- اگر پہلے مجھ کو قرآن مل گیا ہوتا تو قرآن پڑھ کر میں اسلام کے بارے میں اپنی رائے بناتا، نہ کہ مسلمانوں کو دیکھ کر- انھو ں نے کہا کہ میں بھی خدا کی اِس کتاب کو انسانوں تک پہنچانے کے پوتر (مقدس) کام میں شامل ہونا چاہتا ہوں-
26- رڑکی (اتراکھنڈ)کے سنٹرم (HTL) میں 8 دسمبر 2012 کو ایک ثقافتی پروگرام ہوا- اِس میں اعلیٰ تعلیم یافتہ لوگوں نے شرکت کی- اِس موقع پر جن لوگوں کو قرآن کا ترجمہ دیا گیا، اُن میں سے ایک ڈاکٹر جے پی نائر تھے- ان کی مسلم بیوی نے کہا کہ اب ہم خود بھی قرآن کا مطالعہ کریں گے اور مسٹر نائر کی فیملی کے لوگوں تک قرآن کا پیغام پہنچائیں گے- قرآن نے ہمارے لیے دعوت کے کام کو بہت آسان بنا دیا ہے-
27- کوچی (کیرلا) کے ارناکلاتھپن گراؤنڈ میں یکم دسمبر سے 10 دسمبر 2012 کے درمیان ایک بک فیر ہوا- اِس میں گڈورڈ بکس (نئی دہلی) نے حصہ لیا- اسٹال کا انتظام مسٹر ممتاز نے سنبھالا-
28- حیدرآباد کے گلوبل پیس آڈی ٹوریم میں 17-21 دسمبر 2012 کو حسبِ ذیل موضوع پر ایک پروگرام ہوا:
Ist World Parliament on Spirituality
اِس کی دعوت پر صدر اسلامی مرکز نے دہلی سے انگریزی زبان میں موضوع پر ایک اسپیچ دی- اِس کے علاوہ، کانفرنس کے لیے ایک پیپر (Global Spirituality Awakening)روانہ کیا گیا، جو کانفرنس کے شرکا کے درمیان تقسیم کیاگیا- یہ دونوں چیزیں سی پی ایس کے ویب سائٹ پر موجود ہیں-
29- تاج ہوٹل (سہارن پور) میں 21 دسمبر 2012 کوہندستان ٹائمس کے طرف سے ایک پروگرام ہوا- پروگرام میں مقامی انڈسٹریلسٹس اور ایجوکیشنلسٹس کے علاوہ، اعلیٰ سرکاری نمائندے موجود تھے- اس کی دعوت پر ٹیم کے ممبران نے پروگرام میں شرکت کی اور بڑے پیمانے پر حاضرین کو قرآن کا ترجمہ اور دعوتی پمفلٹس دئے- لوگوں نے اس کو شوق سے لیا- تاج ہوٹل کی لائبریری میں الرسالہ مطبوعات کا ایک سیٹ بھی رکھا گیا-
30- بنگلور کے پیلیس گراؤنڈس ، مہکری سرکل (گائتری وہار) میں 14-23 دسمبر 2012 کے درمیان ایک بک فیر ہوا- اس میں بنگلور کے دعوہ سنٹر کے ممبران نے ایک بک اسٹال لگایا- یہاں سے بڑی تعداد میں لوگوں نے قرآن کا انگر یزی ترجمہ اور دعوتی لٹریچر حاصل کیا-
31- نئی دہلی کے رام لیلا گراؤنڈ میں 14-23 دسمبر 2012 کے دوران ایک نیشنل بک فیر ہوا- اِس میں سی پی ایس دعوہ فیلڈ ٹیم (DFT) کے ممبر مسٹر جنید الاسلام نے اپنے ذاتی انتظام کے تحت ایک بک اسٹال لگایا- یہاں سے کافی لوگوں نے دعوتی لٹریچر اور قرآن کا ترجمہ حاصل کیا- دعوتی اعتبار سے یہ اسٹال بہت کامیاب ثابت ہوا-
32- نئی دہلی کے ایک پلے گروپ (Pierrot's Troupe) کی طرف سے 16 دسمبر 2012 کی شام کو شری رام سنٹر (نئی دہلی) کے آڈیٹوریم میں ایک پلے شو (لال قلعے کا آخری مشاعرہ) ہوا-دعوہ فیلڈ ٹیم کے ممبران نے یہاں حاضرین کے علاوہ، گروپ ڈائریکٹر ڈاکٹر سعید عالم اور ان کے ساتھیوں خاص طورپر مسٹر ٹام آلٹر (Tom Alter) سے ملاقات کی اور ان کو قرآن کا انگریزی ترجمہ اور دعوتی لٹریچر دیا- گروپ کے ذمے داروں نے کہا کہ ہم کو تعجب ہے کہ آپ نے اس موقع کو اتنے اعلیٰ مقصد کے لیے استعمال کیا- انھوں نے کہا کہ آئندہ جب کہیں ہمارا پلے ہوگا، ہم آپ کو انفارم کردیں گے- آپ وہاں آئیں اور لوگوں کو قرآن کا پیغام پہنچائیں- اس میں آپ کو ہمارا پورا تعاون حاصل رہے گا-
33- نئی دہلی کے نہرو پارک (چانیکہ پوری) میں 23 دسمبر 2012 کو ایک پروگرام ہوا- یہ پروگرام مشہور میوزیشن پنڈت روی شنکر (وفات: 11 دسمبر 2012) کےلیے ٹری بیوٹ (tribute)کے طورپر کیاگیا- اِس میں مختلف سیاسی، سماجی اور ثقافتی شعبوں سے وابستہ اعلیٰ تعلیم یافتہ لوگوں نے شرکت کی- اِس موقع پر سی پی ایس کی دعوہ فیلڈ ٹیم (DFT) کی طرف سے لوگوں کو قرآن کا انگریزی ترجمہ دیاگیا-
34- حیدر آباد (انڈیا) کے نکلیس روڈ پر 14-25 دسمبر 2012 کے درمیان ایک بک فیر ہوا- گڈورڈ بکس (نئی دہلی) نے اِس میں شرکت کی- بک اسٹال کا انتظام مسٹر محمد احمد خان نے سنبھالا-
35- کرسمس (25 دسمبر2012) کے موقع پر سہارن پور ٹیم کے ممبران نے وہاں کے مختلف مقامی چرچ میں جاکر لوگوں سے انٹریکشن کیا اور حاضرین اور چرچ کے فادرس کو قرآن کا انگریزی ترجمہ دیا جس کو انھوں نے شوق سے لیا- سینٹ تھامس چرچ کے فادر مسٹر دانیال نے کہا کہ میں چرچ میں قرآن کا یہ ترجمہ بھی پڑھ کر لوگوں کو سناتا ہوں-
36- دہرادون (اتراکھنڈ) میں 26 دسمبر 2012 کو ایچ آرڈی منسٹری (نئی دہلی) کی طرف سے یوپی اور اتراکھنڈ کے ووکیشنل کالج کے ذمے داروں کی ایک میٹنگ ہوئی- اس کی دعوت پر سہارن پور ٹیم کے ممبران نے اس میں شرکت کی اور حاضرین کو بڑے پیمانے پر واٹ از اسلام (What is Islam) اور قرآن کا انگریزی ترجمہ دیا- لوگوں نے شوق سے لیا اور اپنے تاثرات کا اظہار کیا- مثلاً مسٹر اندر جے ایس آسوال (ڈائریکٹر جن شکچھا سنستھان، دہرادون) نے کہا کہ آج میری زندگی کی تلاش کا جواب مل گیا- میں بچپن سے قرآن کو تلاش کررہا تھا- اِسی طرح مسٹر سنتوش کمار آریہ (مظفر نگر) نے کہا کہ قرآن پاکر آج میرا جیون ایشور رخی(God-oriented) ہوگیا-
37- عمّان (اردن) کے رائل اسلامک سنٹر (The Royal Islamic Strategic Studies Centre) کی طرف سے 200 صفحات پر مشتمل ایک حسب ذیل کتاب شائع ہوئی ہے:
The Muslim 500: The World's 500 Most Influencial Muslims-2012
کتاب میں اسکالرس کی کٹیگری میں صدراسلامی مرکز کا نام حسب ذیل الفاظ میں شامل ;کیا گیا ہے:
Wahiduddin Khan is an Islamic scholar who strongly advocates peace, interfaith, and coexistence. He is the author of over 200 books including a translation and commentary of the Qur’an into simple English. He is also the co-founder,along with his son, Dr. Saniyasnain Khan, of the popular publisher of children’s book – ‘Goodword’. (page 111)
38- دہلی سے انڈیا اور انڈیا کے باہر (امریکا) کے لیے صدر اسلامی مرکز کے ٹیلی فون خطاب کا سلسلہ جاری ہے- یہ خطابات سی پی ایس کے ویب سائٹ پر موجود ہیں- نیز نئی دہلی کے انگریزی اخبار ٹائمس آف انڈیا میں صدر اسلامی مرکز کے مضامین برابر شائع ہورہے ہیں- یہ مضامین سی پی ایس کے ویب سائٹ پر دیکھے جاسکتے ہیں-
39- انگریزی ترجمہ قرآن اور الرسالہ مشن سے متعلق چند تاثرات یہاں درج کیے جاتے ہیں:
— I just want to say I enjoyed reading your opening statement in Quran I got from a booth at a local festival of where I live. I plan to keep reading the Quran and learn its teachings. I'm in search of peace in my life and find Islam to be a very peaceful religion. Thank you. (Walden Corpuz, USA)
— There are some people who are regular readers of Al-Risala in the tribal areas also. These areas need the peace material very much. Al-risala copies and Maulana Sahib's books are regularly being distributed there. There are some Afghan nationals who are working here in Peshawar . (M. Salman, Pakistan)
— Dear Maulana Wahiduddin Khan, I have read every bit of your published writings. Also, I have listened to your recorded speeches to a greate extent and I am still listening to them everyday. I would say at this point, Allah being my witness, that you have done your job of explaining the mission of Islam to us to the fullest extent. You have made it fully comprehensible to us. You have cleansed our hearts of negativity and taught us to love humanity, the supreme concern of Allah. Now it is our duty to take this message to the people all over the world. Therefore, Maulana, I and also on behalf of USA and Canadian team declare our oath of allegiance to you and to your mission that we will dedicate ourselves to spread Allah's message under Al Risala Mission until our last breath no matter what may come. May Allah and His angels be witness to this. (Khaja Kaleemuddin, Pennsylvania - USA)
واپس اوپر جائیں

Tuesday, 1 January 2013

Al Risala | January 2013 (الرسالہ،جنوری)


حضرت نوح کا پیغمبرانہ رول

حضرت نوح،حضرت آدم کے بعد آنے والے پیغمبر ہیں۔ وہ حضرت آدم کی دسویں پشت میں پیدا ہوئے۔ حضرت نوح کی زندگی میں ایک انوکھا واقعہ پیش آیا۔ وہ عظیم طوفان (Great Flood) اور کشتی (Ark) کا واقعہ تھا۔ یہ خصوصی واقعہ اللہ کے منصوبے کے تحت ظاہر ہوا۔ یہ واقعہ قبل از تاریخ دور (pre-historical period) میں پیش آیا۔بظاہر اللہ کو یہ منظور تھا کہ حضرت نوح کا واقعہ بعد تاریخ دور (post-historic period) میں دریافت ہواور وہ بعد کے زمانے کے لوگوں کے لیے نشانی (sign) بنے، جس سے وہ اپنی زندگی میں سبق حاصل کریں۔
حضرت نوح کا واقعہ مدوّن تاریخ (recorded history) میں موجود نہیں۔ حضرت نوح کے واقعے کو جاننے کے صرف دو ماخذ ہیں — قرآن اور بائبل۔ یہاں دونوں متعلق حوالے نقل کئے جاتے ہیں۔ قرآن کی سورہ نمبر 71 کا نام ’نوح‘ ہے۔ اِس سورہ کا ترجمہ یہ ہے:
شروع اللہ کے نام سے جو بڑامہربان، نہایت رحم والاہے
’’ ہم نے نوح کو اس کی قوم کی طرف رسول بناکر بھیجا کہ اپنی قوم کے لوگوں کو خبردار کردو، اس سے پہلے کہ ان پر ایک دردناک عذاب آجائے۔ اس نے کہا کہ اے میری قوم کے لوگو، میں تمھارے لیے ایک کھلا ہوا ڈرانے والا ہوںیہ کہ تم اللہ کی عبادت کرو اور اس سے ڈرو اور میری اطاعت کرو۔ اللہ تمھارے گناہوں سے درگزر کرے گا اور تم کو ایک متعین وقت تک باقی رکھے گا۔ بے شک جب اللہ کا مقرر کیا ہوا وقت آجاتا ہے تو پھر وہ ٹالا نہیں جاتا۔کاش ، تم اس کو جانتے۔ نوح نے کہا کہ اے میرے رب، میں نے اپنی قوم کو شب و روز پکارا۔ مگر میری پکار نے ان کی دوری ہی میں اضافہ کیا۔ اور میں نے جب بھی ان کو بلایا کہ تو انھیں معاف کردے تو انھوں نے اپنے کانوں میں انگلیاں ڈال لیں اور اپنے اوپر اپنے کپڑے لپیٹ لیے اور ضد پر اَڑ گئے اور بڑا گھمنڈکیا۔پھر میں نے ان کو برملا پکارا۔ پھر میں نے ان کو کھلی تبلیغ کی اور ان کو چپکے سے سمجھایا۔ میں نے کہا کہ اپنے رب سے معافی مانگو، بے شک وہ بڑا معاف کرنے والا ہے۔ وہ تم پر آسمان سے خوب بارش برسائے گا، اور تمھارے مال اور اولاد میں ترقی دے گا،اور تمھارے لیے باغ پیدا کرے گا، اور تمھارے لیے نہریں جاری کرے گا۔ تم کو کیا ہوگیا ہے کہ تم اللہ کے لیے عظمت کے متوقع نہیں ہو۔ حالاں کہ اس نے تم کو طرح طرح سے بنایا۔ کیا تم نے دیکھا نہیں کہ اللہ نے کس طرح سات آسمان تہ بہ تہ بنائے۔ اور ان میں چاند کو نور اورسورج کو چراغ بنایا۔ اور اللہ نے تم کو زمین سے خاص اہتمام سے اگایا۔ پھروہ تم کو زمین میں واپس لے جائے گا۔اور پھر اس سے تم کو باہر لے آئے گا۔ اور اللہ نے تمھارے لیے زمین کو ہموار بنایا۔ تاکہ تم اس کے کھلے راستوں میں چلو۔ نوح نے کہا کہ اے میرے رب،انھوں نے میرا کہا نہ مانا اور ایسے آدمیوں کی پیروی کی جن کے مال اور اولاد نے ان کے گھاٹے ہی میں اضافہ کیا، اور انھوں نے بڑی تدبیریں کیں۔ اور انھوں نے کہا کہ تم اپنے معبودوں کو ہرگز نہ چھوڑنا۔اور تم ہر گز نہ چھوڑنا وَدکو اور سُواع کو اور یَغوث کو اور نَسرکو۔ اور انھوں نے بہت لوگوں کو بہکادیا۔اور اب تو ان گمراہوں کی گمراہی میں ہی اضافہ کر۔اپنے گناہوں کے سبب سے وہ غرق کئے گئے، پھر وہ آگ میں داخل کردئے گئے۔پس انھوں نے اپنے لیے اللہ سے بچانے والا کوئی مددگار نہ پایا۔ اور نوح نے کہا کہ اے میرے رب، تو ان منکروںمیں سے کوئی زمین پربسنے والا نہ چھوڑ۔ اگر تونے ان کو چھوڑدیاتو یہ تیرے بندوں کو گمراہ کریں گے اور ان کی نسل سے جو بھی پیدا ہوگا، وہ بدکار اور سخت منکر ہی ہوگا۔ اے میرے رب، میری مغفرت فرما،اور میرے ماں باپ کی مغفرت فرمااور جو میرے گھر میں مومن ہوکر داخل ہو، تو اس کی مغفرت فرما۔اور سب مومن مردوں اور مومن عورتوں کو معاف فرمادے اور ظالموں کے لیے ہلاکت کے سوا کسی چیز میں اضافہ نہ کر‘‘۔(71:1-27)
قرآن کی سورہ ہودمیں حضرت نوح اور ان کے مشن کے بارے میں کسی قدر تفصیل کے ساتھ بتایا گیا ہے۔ قرآن کی اِن آیتوں کا ترجمہ یہ ہے:
’’اور نوح کی طرف وحی کی گئی کہ اب تمھاری قوم میں سے کوئی ایمان نہیں لائے گا، سوا اس کے جو ایمان لاچکا ہے۔ پس تم ان کاموں پر غمگین نہ ہو جو وہ کر رہے ہیں۔ اور ہمارے رو برو اور ہمارے حکم سے تم کشتی بنائو اور ظالموں کے حق میں مجھ سے بات نہ کرو، بے شک یہ لوگ غرق ہوں گے۔ اور نوح کشتی بنانے لگا۔ اور جب اس کی قوم کا کوئی سردار اس پر گزرتا تو وہ اس کی ہنسی اڑاتا، انھوں نے کہا اگر تم ہم پر ہنستے ہو تو ہم بھی تم پر ہنس رہے ہیں۔ تم جلد جان لوگے کہ وہ کون ہیں جن پر وہ عذاب آتا ہے جو اس کو رسوا کردے اور اس پر وہ عذاب اترتا ہے جو دائمی ہے۔یہاں تک کہ جب ہمارا حکم آپہنچا اور طوفان ابل پڑا، ہم نے نوح سے کہا کہ ہر قسم کے جانوروں کا ایک ایک جوڑا کشتی میں رکھ لو اور اپنے گھر والوں کو بھی، سوا ان اشخاص کے جن کی بابت پہلے کہا جاچکا ہے اور سب ایمان والوں کو بھی۔ اور تھوڑے ہی لوگ تھے جو نوح کے ساتھ ایمان لائے تھے۔اور نوح نے کہا کہ کشتی میں سوار ہوجائو، اللہ کے نام سے اس کا چلنا ہے اور اس کا ٹھہرنا بھی۔ بیشک میرا رب بخشنے والا، مہربان ہے۔ اور کشتی پہاڑ جیسی موجوں کے درمیان ان کو لے کر چلنے لگی۔ اور نوح نے اپنے بیٹے کو پکارا جو اس سے الگ تھا۔ اے میرے بیٹے، ہمارے ساتھ سوار ہوجا اور منکروںکے ساتھ مت رہ۔اس نے کہا میں کسی پہاڑ کی پناہ لے لوں گا جو مجھ کو پانی سے بچا لے گا۔ نوح نے کہا کہ آج کوئی اللہ کے حکم سے بچانے والا نہیں، مگر وہ جس پر اللہ رحم کرے۔ اور دونوں کے درمیان موج حائل ہوگئی اور وہ ڈوبنے والوں میں شامل ہوگیا۔ اور کہا گیا کہ اے زمین، اپنا پانی نگل لے اور اے آسمان، تھم جا۔ اور پانی سکھادیا گیا۔ اور معاملہ کا فیصلہ ہوگیا اور کشتی جودی پہاڑ پر ٹھہر گئی اور کہہ دیا گیا کہ دور ہو ظالموں کی قوم۔اور نوح نے اپنے رب کو پکارا اور کہا کہ اے میرے رب، میرا بیٹا میرے گھر والوں میںسے ہے، اور بے شک تیرا وعدہ سچا ہے۔ اور تو سب سے بڑا حاکم ہے۔ خدا نے کہا اے نوح، وہ تیرے گھر والوں میں نہیں۔ اس کے کام خراب ہیں۔ پس مجھ سے اس چیز کے لئے سوال نہ کرو جس کا تمھیں علم نہیں۔ میں تم کو نصیحت کرتا ہوں کہ تم جاہلوں میں سے نہ بنو۔ نوح نے کہا کہ اے میرے رب، میں تیری پناہ چاہتا ہوں کہ تجھ سے وہ چیز مانگوں جس کا مجھے علم نہیں۔ اور اگر تو مجھے معاف نہ کرے اور مجھ پر رحم نہ فرمائے تو میں برباد ہوجائوں گا۔کہا گیا کہ اے نوح، اترو، ہماری طرف سے سلامتی کے ساتھ اور برکتوں کے ساتھ، تم پر اور ان گروہوں پر جو تمھارے ساتھ ہیں۔ اور (ان سے ظہور میں آنے والے) گروہ کہ ہم ان کو فائدہ دیں گے، پھر ان کو ہماری طرف سے ایک درد ناک عذاب پکڑلے گا‘‘۔(11: 36-48)
حضرت نوح کا ذکر بائبل کی کتاب پیدایش (Genesis) میں تفصیل کے ساتھ آیا ہے۔ یہاں اس کا متعلق حصہ نقل کیا جاتاہے:
’’ نوح راست باز انسان تھا اور اپنے زمانہ کے لوگوں میں بے عیب تھا اور وہ خداکے ساتھ ساتھ چلتا تھا۔نوح کے تین بیٹے تھے: سم، حام اور یافث۔اب زمین خدا کی نگاہ میں بگڑ چکی تھی اور ظلم وتشدد سے بھری ہوئی تھی۔خدا نے دیکھا کہ زمین بہت بگڑ چکی ہے، کیوں کہ زمین پر سب لوگوں نے اپنے طور طریقے بگاڑ لیے تھے۔چناںچہ خدا نے نوح سے کہا: میں سب لوگوں کا خاتمہ کرنے کوہوں، کیوںکہ زمین ان کی وجہ سے ظلم سے بھر گئی ہے۔ اس لیے میں یقینا نوع انسان اور زمین دونوں کو تباہ کرڈالوں گا۔ لہذا توگوپھر کی لکڑی کی ایک کشتی بنا۔ اُس میں کمرے بنانا اور اُسے اندر اور باہر سے رال سے پوت دینا۔تو ایسا کرنا کہ کشتی تین سو ہاتھ لمبی، پچاس ہاتھ چوڑی اور تیس ہاتھ اونچی ہو۔تو اس کی چھت سے لے کر ہاتھ بھر نیچے تک روشن دان بنانا۔ کشتی کے اندر تین درجے بنانا، نچلا، درمیانی اور بالائی، اور کشتی کا دروازہ کشتی کے پہلو میں رکھنا۔ دیکھ میں زمین پر پانی کا طوفان لانے والا ہوں، تاکہ آسمان کے نیچے کا ہر جان دار یعنی ہر وہ مخلوق جس میں زندگی کا دم ہے، ہلاک ہوجائے۔ سب جو روئے زمین پر ہیں، مرجائیں گے۔لیکن تیرے ساتھ میں اپنا عہد باندھوں گا اور تو کشتی میں داخل ہوگا۔ تو اور تیرے ساتھ تیرے بیٹے اور تیری بیوی اور تیرے بیٹوں کی بیویاں۔ اور تو تمام حیوانات میں سے دو دو کو جو نر اور مادہ ہوں، کشتی میں لے آنا، تاکہ وہ تیرے ساتھ زندہ بچیں۔ ہر قسم کے پرندوں، جانوروں اور زمین پر رینگنے والے جانداروں میں سے دو دو تیرے پاس آئیں تاکہ وہ بھی زندہ بچیںاور تو ہر طرح کی کھانے والی چیز لے کر اپنے پاس جمع کرلینا، تاکہ وہ تیرے اور اُن کے لیے خوراک کا کام دے۔نوح نے ہرکام ٹھیک اُسی طرح کیا جیسا خدا نے اُسے حکم دیا تھا‘‘۔ (Genesis 6: 9-22)
’’تب خداوند نے نوح سے کہا: تو اپنے پورے خاندان کے ساتھ کشتی میں چلا جا، کیوںکہ میں نے اس نسل میں تجھے ہی راستباز پایا ہے۔ تو تمام پاک جانوروں میں سے سات سات نر اور مادہ اور ناپاک جانوروں میں سے دو دو نر اور مادہ ساتھ لے لینا اور ہر قسم کے پرندوں میں سے سات سات نر اور مادہ بھی لینا تاکہ ان کی نسلیں زمین پر باقی رہیں۔میں سات دن کے بعد زمین پر چالیس دن اور چالیس رات پانی برساؤں گا اور ہر اُس جان دار شے کو جسے میں نے بنایا ہے، مٹادوں گا۔ اور نوح نے وہ سب کیا جس کا خداوند نے اُسے حکم دیا تھا۔ نوح چھ سو برس کا تھا جب زمین پر پانی کا طوفان آیا۔ اور نوح اور اس کے بیٹے اور اُس کی بیوی اور اُس کے بیٹوں کی بیویاں طوفان کے پانی سے بچنے کے لیے کشتی میں داخل ہوگئے۔ پاک اور ناپاک دونوں قسم کے جانوروں اور پرندوں اور زمین پر رینگنے والے جانوروں کے دو دو نر اور مادہ، خدا کے حکم کے مطابق، نوح کے پاس آئے اور کشتی میں داخل ہوئے۔ اور سات دن کے بعد طوفان کا پانی زمین پر آگیا۔جب نوح کی عمر کے چھ سوویں برس کے دوسرے مہینے کی سترھویں تاریخ تھی، اُس دن زمین کے نیچے سے سارے چشمے پھوٹ نکلے اور آسمان سے سیلاب کے دروازے کھل گئے۔ اور زمین پر چالیس دن اور چالیس رات لگاتار مینہ برستا رہا۔اُسی دن نوح اور اُس کی بیوی اپنے تین بیٹوں، سِم، حام اور یافت اور اُن کی بیویوں سمیت کشتی میں داخل ہوئے۔ اور ہر قسم کے چھوٹے بڑے جنگلی جانور ، مویشی، زمین پر رینگنے والے جانور، پرندے اور پروں والے جاندار اُن کے ساتھ تھے۔ یہ تمام جوڑے جن میں زندگی کا دم تھا، نوح کے پاس آئے اور کشتی میں داخل ہوگئے۔ خداکے نوح کو دیئے ہوئے حکم کے مطابق جو جان دار اندر آئے، وہ نر اور مادہ تھے۔ تب خداوند نے کشتی کا دروازہ بند کردیا۔چالیس دن تک زمین پر طوفان جاری رہا اور جوں جوں پانی چڑھتا گیا، کشتی زمین سے اوپر اٹھتی چلی گئی۔پانی زمین پر چڑھتا گیا اور بہت ہی بڑھ گیا اور کشتی پانی کی سطح پر تیرتی رہی۔ پانی زمین پر اس قدر چڑھ گیا کہ سارے آسمان کے نیچے کے تمام اونچے پہاڑ ڈوب گئے۔ پانی بڑھتے بڑھتے پہاڑوں سے بھی پندرہ ہاتھ اوپر چڑھ گیا۔ زمین پر ہر پرندہ، ہر جانور اور ہر انسان گویا ہر جاندار فنا ہوگیا۔ خشکی پر کی ہر شے جس کے نتھنوں میں زندگی کا دم تھا، مرگئی۔ روئے زمین پر کی ہر جاندار شے نابود ہوگئی، کیا انسان، کیا حیوان، کیا زمین پر رینگنے والے جاندار اور کیا ہوا میں اُڑنے والے پرندے، سب کے سب نابود ہوگئے۔ صرف نوح باقی بچا اور وہ جو اُس کے ساتھ کشتی میں تھا۔اور پانی زمین پر ایک سو پچاس دن تک چڑھتا رہا‘‘۔ (Genesis 7: 1-24)
’’لیکن خدا نے نوح اور تمام جنگلی جانوروں اور مویشیوں کو جو اُس کے ساتھ کشتی میں تھے، یاد رکھا اور اُس نے زمین پر ہوا چلائی اور پانی رک گیا۔ اب سمندر کے چشمے اور آسمان کے سیلاب کے دروازے بند کردئے گئے اور آسمان سے مینہ برسنا تھم گیا اور پانی رفتہ رفتہ زمین پر سے ہٹتا گیا اور ایک سو پچاس دن کے بعد بہت کم ہوگیا اور ساتویں مہینہ کے سترھویں دن کشتی اراراط کے پہاڑوں میں ایک چوٹی پر ٹک گئی۔ دسویں مہینہ تک پانی گھٹتا رہا اور دسویں مہینہ کے پہلے دن پہاڑوں کی چوٹیاں نظر آنے لگیں۔چالیس دن کے بعد نوح نے کشتی کی کھڑکی کھول کر ایک کوّے کو باہر اُڑا دیا جو زمین پر کے پانی کے سوکھ جانے تک ادھر اُدھر اُڑتا رہا۔ تب اُس نے ایک فاختہ کو اڑا دیا، تاکہ یہ دیکھے کہ زمین پر سے پانی ہٹا ہے یا نہیں۔ لیکن اُس فاختہ کو اپنے پنجے ٹیکنے کو جگہ نہ مل سکی، کیوں کہ ابھی تمام روئے زمین پر پانی موجود تھا۔ چناں چہ وہ نوح کے پاس کشتی میں لوٹ آئی۔ تب اُس نے اپناہاتھ بڑھا کر اُسے تھام لیا اور کشتی کے اندر لے لیا۔ مزید سات دن انتظار کرنے کے بعد اُس نے پھر سے اُس فاختہ کو کشتی سے باہر بھیجا۔ شام کو جب وہ اُس کے پاس لوٹی تو اُس کی چونچ میں زیتون کی ایک تازہ پتی تھی- تب نوح جان گیا کہ پانی زمین پر کم ہوگیاہے۔ وہ سات دن اور رُکا اور فاختہ کو ایک بار پھر اُڑایا، لیکن اب کی بار وہ اُس کے پاس لوٹ کر نہ آئی۔ نوح کی عمر کے چھ سو برس کے پہلے مہینہ کے پہلے دن تک زمین پر موجود پانی سوکھ گیا۔ تب نوح نے کشتی کی چھت کھولی اور دیکھا کہ زمین کی سطح خشک ہوچکی ہے اور دوسرے مہینہ کے ستائیسویں دن تک زمین بالکل سوکھ گئی۔تب خدا نے نوح سے کہا: اپنی بیوی اور اپنے بیٹوں اور اُن کی بیویوں سمیت کشتی سے باہر نکل آ- اور تمام جانور اور زمین پر رینگنے والے سبھی جاندار، سب پرندے اور ہر وہ شے جو زمین پر چلتی پھرتی ہے، اپنی اپنی جنس کے مطابق کشتی سے باہر نکل آئے۔تب نوح نے خداوند کے لیے ایک مذبح بنایا اور سب چرندوں اور پرندوں میں سے جن کا کھانا جائز تھا، چند کو لے کر اُس مذبح پر سو ختنی قربانیاں چڑھائیں۔ جب اُن کی فرحت بخش خوشبو خداوند تک پہنچی تو خداوند نے دل ہی دل میں کہا: میں انسان کے سبب سے پھر کبھی زمین پر لعنت نہ بھیجوں گا حالاںکہ اُس کے دل کا ہر خیال بچپن ہی سے بدی کی طرف مائل ہوتا ہے اور آئندہ کبھی تمام جانداروں کو ہلاک نہ کروں گا، جیسا میں نے کیا۔جب تک زمین قائم ہے تب تک بیج بونے اور فصل کاٹنے کے اوقات، خشکی اور حرارت، گرمی اور سردی،اور دن اور رات کبھی موقوف نہ ہوں گے‘‘۔ (Genesis, 8: 1-22)
تبصرہ
حضرت نوح کا جو مشن تھا، وہی تمام پیغمبروں کا مشن تھا۔حضرت آدم سے لے کر محمد صلی اللہ علیہ وسلم تک جتنے پیغمبر دنیا میں آئے، اُن سب کا واحد مشن یہ تھا کہ وہ انسان کو اللہ کے تخلیقی منصوبہ (creation plan) سے آگاہ کریں۔ وہ ان کو یہ بتائیں کہ موجودہ دنیا ایک دار الامتحان (testing ground) ہے- یہاں انسان کو آزادی دے کر یہ امتحان لیا جارہا ہے کہ کون شخص اپنی آزادی کا صحیح استعمال کرتا ہے اور وہ کون شخص ہے جو اپنی آزادی کا غلط استعمال کرتا ہے- یہ معاملہ ایک متعین وقت (appointed time) تک کے لیے ہے- اس کے بعدقیامت آئے گی اور قرآن کے الفاظ میں، موجودہ دنیا کو بدل کر ایک اور دنیا (13:48)بنائی جائے گی، جہاں امتحان میں کامیاب ہونے والے ابدی جنت میں جگہ پائیں گے اور امتحان میں ناکام ہونے والوں کا ٹھکانا جہنم ہوگا-
حضرت نوح نے اپنی قوم کو لمبی مدت تک ہر طرح سمجھایا- اس کے بعد یہ ہوا کہ کچھ لوگوں نےآپ کی بات مانی اور زیادہ لوگوں نے آپ کی بات کو ماننے سے انکار کردیا- اس کے بعد وہ وقت آیا جب کہ یہ ظاہر ہوگیا کہ اب مزید کوئی ماننے والا نہیں ہے، بلکہ معاشرہ اتنا زیادہ بگڑ چکا ہے کہ اس میں جو شخص پیداہوگا، وہ صرف غیر صالح بن کر اٹھے گا-
اُس وقت حضرت نوح نے اللہ کے حکم کے مطابق، دعا کی اور پھر وہ واقعہ پیش آیا جس کو طوفانِ نوح کہا جاتا ہے۔ اللہ کے حکم سے حضرت نوح نے ایک بڑی کشتی بنائی۔ حضرت نوح اورر ان کے ماننے والے لوگ اِس کشتی میں سوار ہوئے اور بقیہ تمام لوگ طوفان میں غرق کر دئے گئے۔ صالح لوگوں کو بچا کر ابدی جنت کا مستحق قرار دیاگیا اور غیر صالح لوگ ہلاک ہو کر ابدی جہنم کے مستحق بن گئے۔
طوفانِ نوح کے اِس معاملے کی حیثیت ایک تاریخی مثال کی تھی۔ اللہ نے حضرت نوح کے واقعے کی صورت میں یہ مثال قائم کردی کہ آخری زمانے میں جب انسانی تاریخ کے خاتمے کا وقت ہوگا، اُس وقت دوبارہ اسی طرح کاایک اور زیادہ بڑا زلزلہ خیز طوفان آئے گا جس کو قرآن میں قیامت کا نام دیاگیا ہے۔ قیامت کے بعد خدائی منصوبے کے مطابق، حیاتِ انسانی کا دوسرا دور شروع ہوگا۔ یہ آخرت کا دور ہوگا جو کہ کامل بھی ہوگا اور ابدی بھی۔
حضرت آدم پہلے انسان بھی تھے اور پہلے پیغمبر بھی۔ اللہ نے حضرت آدم کو جو شریعت دی تھی، اُن کی بعد کی نسلیں اُس شریعت پر باقی رہیں، مگر دھیرے دھیرے ان کے اندر زوال آیا۔ یہ زوال شخصیت پرستی (personality cult) کی صورت میں پیدا ہوا۔
ابتداء ً یہ ہوا کہ وہ اپنے بزرگوں، ودّ، سُواع، یغوث، یعوق، نسر (71:23) کے مرنے کے بعد ان کی تعظیم کرنے لگے۔ تعظیم کے بعد ان کے اندر اپنے بزرگوں کی تقدیس کا عقیدہ پیداہوا۔ دھیرے دھیرے ایسا ہوا کہ انھوں نے اپنے اِن بزرگوں کے مجسمے بنائے اور پھر ان کی عبادت شروع کردی۔
جب بگاڑ کی یہ حد آئی تو اللہ نے ان کے درمیان اُنھیں کی قوم سے پیغمبر نوح کو پیدا کیا۔ بائبل کے بیان کے مطابق، پیغمبر نوح، حضرت آدم کی دسویں نسل میں پیدا ہوئے۔ حضرت نوح کو اللہ تعالیٰ نے غیر معمولی طورپر لمبی عمر دی ، یعنی 950 سال۔ قرآن کی سورہ نوح (71)میں حضرت نوح کی دعوت کا خلاصہ بتایا گیا ہے۔ دوسرے انبیا کی طرح حضرت نوح کی دعوت بنیادی طورپر دوچیزوں کی طرف تھی — توحید، اور آخرت۔
مگر قوم کا بگاڑ اتنا زیادہ بڑھ چکا تھا کہ چند لوگوں کو چھوڑ کر بقیہ افراد آپ کی دعوت کو قبول کرنے کے لیے تیار نہیں ہوئے۔ قرآن میں اُن کی طرف سے جو قول نقل کیاگیا ہے، اس کا ترجمہ یہ ہے: ’’انھوںنے کہا کہ تم اپنے معبودوں کو ہر گز نہ چھوڑنا۔ تم ہرگز نہ چھوڑنا ودّ کو اور سواع کو اور یغوث کو اور یعوق کو اور نسر کو‘‘- (71: 23)
یہ صورتِ حال ہمیشہ غلط تقابل (wrong comparison) کی وجہ سے پیدا ہوتی ہے۔ قومِ نوح کے سامنے ایک طرف، ان کا حال کا پیغمبر تھا جواُن کو بظاہر ایک عام آدمی کی طرح دکھائی دیتا تھا۔ دوسری طرف، ان کے ماضی کے قومی اکابر تھے، جن کے گرد اُن کےقُصّاص (story tellers) نے مفروضہ کہانیوں کا خوش نما ہالہ بنا رکھا تھا۔ اِس خود ساختہ تقابل میں اُن کو حضرت نوح ایک معمولی انسان نظر آتے تھے(11:27)۔ اس کے بر عکس، ماضی کی شخصیتیں ان کو بہت بڑی دکھائی دیتی تھیں۔ یہی غلط تقابل تھا جس نے اُن کے اندر وہ بے اصل یقین (false conviction) پیدا کردیا جس کی بنا پر وہ اپنے معاصر پیغمبر کا انکار کردیں۔
جب یہ بات واضح ہوگئی کہ قوم کے اندر اب مزید کوئی فرد ایمان لانے والا نہیں ہے تو اللہ نے یہ فیصلہ کیا کہ اُس علاقے میں ایک عظیم سیلاب لایا جائے جس میں صالح افراد بچالیے جائیں اور غیرصالح افراد سب کے سب ہلاک کردئے جائیں۔ اثریاتی شواہد کے مطابق، قومِ نوح کا مسکن دجلہ اور فرات کے درمیان کا وہ علاقہ تھا جس کو تاریخ میں میسوپوٹامیا (Mesopotamia) کہاجاتا ہے۔
کشتی نوح کا معاملہ
پیغمبر کا انکار کوئی سادہ معاملہ نہیں۔ جو لوگ پیغمبر کا انکار کریں، وہ اِس بات کا ثبوت دے رہے ہیں کہ وہ اِس دنیامیں اللہ کے تخلیقی منصوبے کے مطابق، زندگی گزارنے کے لیے تیار نہیں۔ ایسے لوگ اِس مہلت کو کھو دیتے ہیں کہ وہ خدا کی اِس دنیا میں رہنے کا مزید موقع پاسکیں۔ چناں چہ مختلف قسم کے عذاب کے ذریعے اُن کو ہلاک کردیا جاتا ہے (29:40)۔
قرآن سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت نوح کے مخاطبین کے ساتھ اِس معاملے میں الگ طریقہ اختیار کیا گیا، یعنی ایک عظیم سیلاب (Great Flood) کے ذریعے غیر صالحین کو ہلاک کردینا اور جو صالح افراد ہیں، اُن کو ایک کشتی کے ذریعے بچالینا۔ اِس خصوصی مصلحت کو قرآن کی دو آیتوں میں اِس طرح بیان کیا گیا ہے: وجعلناہا اٰیۃً للعالمین (29:15)یعنی ہم نے ا س(کشتی) کو دنیا والوں کے لیے ایک نشانی بنادیا۔ دوسری جگہ ارشاد ہوا ہے: ولقد ترکناہا اٰیۃً فہل من مدّکر (54:15) یعنی ہم نے اُس (کشتی) کو ایک نشانی کے طور پر باقی رکھا، پھر کوئی ہے سوچنے والا۔
اِس کا مطلب یہ ہے کہ حضرت نوح کے معاملے میں کشتی کا طریقہ اِس لیے اختیار کیاگیا، تاکہ وہ محفوظ رہے اور بعد کے لوگوں کے لیے علامتی طورپر وہ خدا کے تخلیقی منصوبے کو جاننے کا ذریعہ بنے۔
کشتی اور طوفان کا طریقہ
حضرت نوح کی قوم میسو پوٹامیا (Mesopotamia) کے علاقے میں آباد تھی۔ اللہ کے حکم کے تحت، وہاں بہت بڑا سیلاب آیا۔ معلوم تاریخ کے مطابق، یہ اپنی نوعیت کا واحد سیلاب تھا۔ جب سیلاب کا پانی اونچا ہوا اور حضرت نوح کی کشتی اس میں تیرنے لگی تو وہ مختلف سمتوں میں جاسکتی تھی، مگر کشتی نے خدائی حکم کے تحت، ترکی کا رخ اختیا رکیا۔ بظاہر اس کا سبب یہ تھا کہ میسوپوٹامیا سے قریب ترین پہاڑی سلسلہ جہاں گلیشیر بنتے ہوں، وہ جودی یا ارارات کا سلسلۂ کوہ تھا۔ تقریباً 16 سو کلومیٹر کا سفر طے کرکے کشتی نوح ترکی کے مشرق میں واقع جودی پہاڑ پر پہنچی اور وہاں ٹھہر گئی۔
سیلاب کا پانی اترنے کے بعد یہاں کشتی کے لوگ کشتی سےباہر آگئے۔ ان میں تین خاص افراد حضرت نوح کے تین بیٹے تھے — حام، سام، یافث۔ بعد کی انسانی نسل اصلاً حضرت نوح کے انھیں تین بیٹوں کے ذریعے چلی۔ کہا جاتا ہے کہ آپ کے ایک بیٹے یافث (Japheth) یورپ کے علاقے میں آباد ہوئے اور آپ کے دوسرے بیٹے حام (Ham) افریقہ میں آباد ہوئے۔ اور آپ کے تیسرے بیٹے سام (Shem) ایشیا کے علاقے میں آباد ہوئے۔حضرت نوح کے زمانے تک جو انسانی نسل تھی، وہ براہِ راست طورپر حضرت آدم کی نسل تھی۔ حضرت نوح کے بعد جو انسانی نسل دنیا میں پھیلی، وہ زیادہ تر حضرت نوح کے انھیں تین بیٹوں کے ذریعے پھیلی۔
حضرت نوح کی کہانی
حضرت نوح کے ساتھ کشتی میں جو لوگ بچ گئے تھے، وہ بعد کو دنیا کے مختلف علاقوں میں آباد ہوگئے۔ دھیرے دھیرے ان کی نسلیں بڑھیں اور پورے کرۂ ارض پر پھیل گئیں۔ یہ لوگ اپنے ساتھ عظیم سیلاب (Great Flood) کی کہانی لے کر آئے۔ یہی وجہ ہے کہ تقریباً ہر قوم کے اندر ایک عظیم طوفان کی کہانی کسی نہ کسی صورت میں پائی جاتی ہے۔ لمبے عرصے تک حضرت نوح اور ان کے واقعات صرف ایک افسانہ (myth) سمجھے جاتے رہے۔ تاہم چوں کہ بائبل اور قرآن میں اُن کا ذکر موجود تھا، اِس لئے لوگوں کے ذہن میں، خاص طورپر یہودی علما او ر عیسائی علما کے ذہن میں، یہ سوال برابر باقی رہا کہ اگر حضرت نوح کا قصہ ایک حقیقی قصہ ہے تو اس کا تاریخی ثبوت کیا ہے۔اِس کی تلاش اور تحقیق مسلسل جاری رہی۔ چوں کہ حضرت نوح کا واقعہ بائبل میں تفصیل کے ساتھ آیا تھا، اس لیے وہ یہودی علما اور مسیحی علما کی دلچسپی کا موضوع بن گیا۔ بڑے پیمانے پر اِس موضوع کی تحقیق ہونے لگی، خاص طورپر اُس علاقے کی تحقیق جس کو بائبل میں حضرت نوح کا اور ان کی قوم کا علاقہ بتایا گیا تھا۔
بائبل اور قرآن کا فرق
حضرت نوح اور ان کی کشتی کا ذکر بائبل میں بھی آیا ہے اور قرآن میں بھی، مگر دونوں میں ایک فرق ہے۔ بائبل میں کشتی نوح کا ذکر صرف ماضی کے ایک قصہ کے طورپر آیا۔ قرآن میں واقعہ بیان کرنے کے علاوہ، ایک اور بات بتائی گئی ہے، وہ یہ کہ حضرت نوح کی کشتی اللہ تعالیٰ کے خصوصی انتظام کے تحت محفوظ رکھی گئی اور بعد کے زمانے میں ظاہر ہو کر وہ لوگوں کے لئے سبق بنے گی۔ اس سلسلے میں قرآن کی آیتیں یہاں درج کی جاتی ہیں:
فأنجیناہ وأصحاب السفینۃ وجعلناہا اٰیۃً للعالمین (29: 15) یعنی پھر ہم نے نوح کو اور کشتی والوں کو بچا لیا۔ اور ہم نے اس (کشتی) کو دنیا والوں کے لیے ایک نشانی بنا دیا۔
ولقد ترکنا ہا آیۃً فہل من مدّکر (54: 15) یعنی ہم نے اس (کشتی) کو نشانی کے طورپر باقی رکھا، تو کوئی ہے نصیحت حاصل کرنے والا۔
إنا لما طغا الماء حملناکم فی الجاریۃ۔ لنجعلہا لکم تذکرۃً وتعیہا أذن واعیۃ (69:11-12)یعنی جب پانی حد سے گزر گیا تو ہم نے تم کو کشتی میں سوا ر کیا، تاکہ ہم اس (کشتی) کو تمھارے لیے یاددہانی کا ذریعہ بنادیں اور یاد رکھنے والے کان اس کو یاد رکھیں۔
قرآن کی یہ آیتیں ساتویں صدی عیسوی کے رُبع اول میں اتریں۔ اُس وقت ساری دنیامیں کسی کو بھی یہ معلوم نہ تھا کہ حضرت نوح کی کشتی کس مقام پر محفوظ ہے، عرب سے عجم تک ہر ایک کے لیے یہ واقعہ پوری طرح ایک غیر معلوم واقعہ تھا۔
ایسی حالت میں قرآن میں یہ اعلان کیا گیا کہ نوح کی کشتی محفوظ ہے اور وہ مستقبل میں بطور نشانی ظاہر ہونے والی ہے۔ اِس اعلان کی حیثیت ایک غیر معمولی پیشین گوئی کی تھی۔ ہزار سال سے زیادہ مدت تک کشتی نوح کے بارے میں بدستور لاعلمی کی حالت باقی رہی۔ بیسویں صدی کے آخر میں پہلی بار ہوائی تصویر کشی (arial photograhpy) کے ذریعے معلوم ہوا کہ ترکی کی مشرقی سرحد پر واقع پہاڑ کے اوپر کشتی جیسی ایک چیز موجود ہے۔
کشتی نوح کایہ ظہور خداکے ایک عظیم منصوبے کا حصہ ہے، بظاہر وہ انسانی تاریخ کے خاتمے کا ایک ابتدائی اعلان ہے۔ کشتی نوح علامتی طورپر بتارہی ہے کہ دوبارہ ایک آخری اور زیادہ بڑا طوفان آنے والا ہے۔ اِس طوفان کے بعد انسان کا ایک دورِ حیات ختم ہوجائے گا اور انسانی زندگی کا دوسرا دور شروع ہوگا۔ پہلا دور عارضی تھا اور دوسرا دور ابدی ہوگا۔ پہلے دور حیات کا مقام موجودہ دنیا تھی، دوسرے دورِ حیات کا مقام آخرت کی دنیا ہوگی۔
قرآن میں بتایاگیا تھا کہ حضرت نوح کی کشتی محفوظ ہے-اِس کا محفوظ ہونا بے مقصد نہیں ہوسکتا، اِس لیے یہ کہنا درست ہوگا کہ کشتی اِس لیے محفوظ کی گئی ہے، تا کہ وہ بعد کو قیامت سے پہلے ایک تاریخی نشانی کے طور پر ظاہر ہو- اب سوال یہ ہے کہ کشتی نوح کے اس ظہور کی کیا صورت ہوگی- غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ غالباً کشتی نوح کے اِسی ظہورِ ثانی کا واقعہ ہے جس کو قرآن اور حدیث میں ’’دابة‘‘ کے لفظ سے تعبیر کیاگیا ہے-
غالباً کشتی نوح کے ظہور کا یہی واقعہ ہے جس کو قرآن میں دابّہ (27: 82) کے ظہور سے تعبیر کیاگیا ہے۔ دابہ دراصل کشتی نوح کا تمثیلی نام ہے۔ دابہ کے لفظی معنی ہیں — رینگنے والا۔ کوئی بھی چیز جو رینگنے کی رفتارسے چلے، اس کو دابہ کہاجائے گا۔ کشتی نوح پانی کے اوپر رینگ کر چلی تھی، اس لیے یہ قیاس کرنا درست ہوگاکہ تمثیلی طورپر اس کو دابہ کہہ دیا گیا۔
کشتی نوح
ترکی کی ایک امتیازی خصوصیت ہے جو کسی دوسرے ملک کو حاصل نہیں، وہ یہ کہ ترکی وہ ملک ہے جو دورِ اول کے پیغمبر حضرت نوح کی کشتی کی آخری منزل بنا۔جیسا کہ عرض کیاگیا ، تقریباً 5 ہزار سال پہلے حضرت نوح کے زمانے میں ایک بڑا طوفان آیا۔ اُس وقت حضرت نوح اپنے ساتھیوں کو لے کر ایک کشتی میں سوار ہوگئے۔ یہ کشتی قدیم عراق) میسوپوٹامیا) سے چلی اور ترکی کی مشرقی سرحد پر واقع کوہِ ارارات (Ararat Mountain) کی چوٹی پر ٹھہر گئی۔
اِس واقعے کا ذکر بائبل میں اور قرآن میں نیز مختلف تاریخی کتابوں میں بشکلِ کہانی موجود تھا، لیکن کسی کو متعین طورپر معلوم نہ تھا کہ وہ کشتی کہاںہے۔ اِس کا سبب یہ تھا کہ بعد کے زمانے میں مسلسل برف باری کے دوران یہ کشتی برف کی موٹی تہ (glacier) کے اندر چھپ گئی۔ موجودہ زمانے میں گلوبل وارمنگ کے نتیجے میں جگہ جگہ گلیشیر پگھلنے لگے۔ چناں چہ ارارات پہاڑ کے گلیشیر بھی پگھل گئے۔ اس کے بعد کشتی قابلِ مشاہدہ بن گئی۔
بیسویں صدی کے آخر میں کچھ لوگوں نے ہوائی جہاز میں پرواز کرتے ہوئے پہاڑ کے اوپر اِس کشتی کو دیکھا۔ اِس طرح کی خبریں برابر آتی رہیں ، یہاں تک کہ 2010 میں یہ خبر آئی کہ کچھ ماہرین پہاڑ پر چڑھائی کرکے ارارات کی چوٹی پر پہنچے اور کشتی کا براہِ راست مشاہدہ کیا، پھر انھوںنے کشتی کا ایک ٹکڑا لے کر اس کی سائنٹفک جانچ کی۔
اِس سائنٹفک جانچ سے معلوم ہوا کہ کشتی کی عمر متعین طورپر چار ہزار آٹھ سو سال ہے، یعنی وہی زمانہ جب کہ معلوم طورپر طوفانِ نوح آیا تھا:
A group of Chinese and Turkish evangelical explorers said they believe they may have found Noah’s Ark—four thousand metres up a mountain in Turkey. The team say they recoverd wooden specimes from a structure on Mount Ararat in eastern Turkey that carbon dating proved was 4,800 years old, around the same time the Ark is said to have been afloat. (The Times of India, New Delhi, April 28, 2010)
قرآن میں کشتی نوح کا ذکر متعدد مقامات پر آیا ہے۔ اُن میں سے ایک وہ ہے جو سورہ العنکبوت میں پایا جاتا ہے۔ اس کے الفاظ یہ ہیں: فأنجیناہ وأصحابَ السفینۃ، وجعلناہا اٰیۃً للعالمین (29:15)یعنی پھر ہم نے نوح کو اور کشتی والوں کو بچا لیا۔ اور ہم نے اس(کشتی) کو سارے عالم کے لیے ایک نشانی بنادیا:
Then we saved him and those who were with him in the Ark, and made it a sign for mankind.
حضرت نوح کی کشتی تاریخِ انبیا کی قدیم ترین یادگار ہے۔ قرآن کے مذکورہ بیان کے مطابق، اِس قدیم ترین یادگار کو محفوظ رکھنا اِس لیے تھا، تاکہ وہ بعد کے زمانے کے لوگوں کے علم میں آئے اور اُن کے لیے دینِ حق کی ایک تاریخی شہادت بنے۔
مگر یہ سادہ بات نہ تھی، اِس عالمی واقعے کو ظہور میں لانے کے لیے بہت سی شرطیں درکار تھیں۔ اِس کے لیے ضروری تھا کہ کشتی کا اِستوا(11:44)ایک ایسے ملک میں ہو جو اپنے جائے وقوع کے لحاظ سے عالمی رول ادا کرنے کی پوزیشن میں ہو، کشتی نوح کے ظہور کا واقعہ ایک طے شدہ وقت پر پیش آئے، جب کشتی نوح ظاہر ہو تو عالمی کمیونکیشن کا دور آچکا ہو، یہ واقعہ جب ظہور میں آئے تو اُس وقت گلوبل سیاحت (global tourism) کا دور بھی آچکا ہو، پرنٹنگ پریس کا زمانہ آچکا ہو، تاکہ خدا کی کتاب (قرآن) کے مطبوعہ نسخے لوگوں کو دینے کے لیے تیار کئے جاسکیں، دنیا کھلے پن (openness) کے دور میں پہنچ چکی ہو، اِسی کے ساتھ دنیا سے کچھ چیزوں کا خاتمہ ہوچکا ہو۔ مثلاً مذہبی جبر، کٹر پن (rigidity)، علاحدگی پسندی (separatism)،تنگ نظری (narrow-mindness) ، وغیرہ۔
ترکی کے پہاڑ (ارارات) پر کشتی نوح کا موجود ہونا استثنائی طورپر ایک انوکھا واقعہ ہے۔ گلیشیر کاپگھلنا جب اِس نوبت کو پہنچے ، جب کہ پوری کشتی ظاہر ہوجائے اور وہاں تک پہنچنے کے راستے بھی ہموار ہوجائیں تو بلاشبہہ یہ اتنا بڑا واقعہ ہوگا کہ ترکی نقشہ سیاحت (tourist map) میں نمبر ایک جگہ حاصل کرلے گا۔ ساری دنیا کے لوگ اِس قدیم ترین عجوبہ کو دیکھنے کے لیے ترکی میں ٹوٹ پڑیں گے۔
اِس طرح اہلِ ترکی کو یہ موقع مل جائے گا کہ وہ اپنے ملک میں رہتے ہوئے ساری دنیا تک خدا کے پیغام کو پہنچادیں۔ یہ وہ وقت ہوگا کہ جب کہ ترکی میں آنے والے سیاحوں کے لیے قرآن سب سے بڑا گفٹ آئٹم (gift item) بن جائے گا جس میں پیشگی طور پر کشتی نوح کی موجود گی کی خبر دے دی گئی تھی۔
حضرت نوح کی تاریخی کشتی
حضرت نوح کی کشتی لکڑی سے بنائی گئی تھی۔ بعد کو وہ اگر کسی کھلی جگہ پر رہتی تو بہت جلد وہ بوسیدہ ہو کر ختم ہوجاتی۔ مگر جودی کا علاقہ سخت سردی کا علاقہ تھا۔ کشتی کے ٹھہرنے کے بعد یہاں مسلسل طورپر برف باری(snow fall) کا سلسلہ جاری رہا۔
اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ کشتی کے اوپرگلیشیر کی موٹی تہہ جم گئی۔ اس طرح کشتی برف کے موٹے تودے کے نیچے دب کر فرسودگی کے عمل سے محفوظ رہی۔
فطرت کا ایک قانون ہے جس کو ارضیات کی اصطلاح میں فاسلائزیشن (fossilization) کہا جاتا ہے۔ یہ لفظ فاسل (fossil) سے بنا ہے۔ یہ فطرت کا قانون ہے کہ جب کوئی چیز زمین کے نیچے لمبی مدت تک دبی رہے تو وہ مخصوص کیمیائی عمل (chemical process) کے ذریعے تدریجی طورپر اپنی ماہیت تبدیل کرلیتی ہے، وہ لکڑی یا ہڈی کے بجائے پتھر جیسی چیز بن جاتی ہے- فاسلائزیشن کا یہ عمل کم وبیش ایک ہزار سال میں پورا ہوتا ہے اور جب یہ عمل پورا ہوجائے تو وہ چیز اپنی اصل صورت کو باقی رکھتے ہوئے پتھر جیسی صورت اختیار کرلیتی ہے۔ اِس طرح وہ اِس قابل ہوجاتی ہے کہ وہ اپنے وجود کو ہمیشہ باقی رکھے۔
اللہ تعالیٰ کو اپنے منصوبے کے مطابق، حضرت نوح کی کشتی کو محفوظ رکھنا تھا۔ اُس وقت جو سیلاب آیا، وہ ایک بڑے علاقے میں پھیلا ہوا تھا، غالباً دجلہ وفرات (عراق) کے علاقے سے لے کر ترکی کی مشرقی سرحد تک۔ اس سیلاب کے اوپر کشتی بہہ رہی تھی۔ خدا کے فیصلے کے تحت کشتی سیلاب میں بہتے ہوئے جودی پہاڑ کی چوٹی پر پہنچ گئی۔ یہاں لمبی مدت تک وہ عمل جاری رہا جس کے نتیجے میں پوری کشتی فاسل (fossil) میں تبدیل ہوگئی۔
خدائی منصوبے کی تاریخی شہادت
حضرت نوح کی کشتی ہزاروں سال تک گلیشیر کے نیچے محفوظ رہی۔ فطرت کے قانون کے مطابق، کشتی پوری کی پوری ایک فاسل (fossil) بن گئی۔ اِس کے بعد ابتدائی طورپر انیسویں صدی عیسوی کاآخری زمانہ آیا، جب کہ گلوبل وارمنگ (global warming) کا دور شروع ہوا۔ گلوبل وارمنگ کے نتیجے میں یہ ہوا کہ پہاڑوں کے اوپر جمے ہوئے برف کے بڑے بڑے تودے (گلیشیر) دھیرے دھیرے پگھلنے لگے۔ آخرکار یہ ہوا کہ جمی ہوئی برف کا بڑا حصہ پگھل گیا اور وہ پانی کی صورت میں بہہ کر سمندروں میں چلا گیا۔ اس کے بعد برف کے نیچے ڈھکی ہوئی کشتی کھل کر سامنے آگئی۔
دابہ سے مراد یہی کشتی نوح ہے۔ اس سلسلے میں ایک روایت کے الفاظ بہت با معنی ہیں جس میں کہاگیا ہے کہ : أوّل ما یبدوا منہا رأسہا (التفسیر المظہری 7/133 ) دابہ جب نگلے گا توسب سے پہلے اس کا سر ظاہر ہوگا۔
یہ تمثیل کی صورت میں اُس واقعےکا نہایت درست بیان ہے جو کشتی نوح کے ساتھ پیش آیا۔ گلوبل وارمنگ کے نتیجے میں جب برف پگھلنے لگی تو فطری طورپر کشتی کے اوپر کا حصہ کھلا اور پھر دھیرے دھیرے پوری کشتی سامنے آگئی۔
کشتی نوح پر غور کیجئے تو اس کا پورا معاملہ ایک خدائی منصوبہ معلوم ہوتا ہے- — حضرت نوح کی قوم کی ہلاکت کے لیے ایک بڑے سیلاب کا طریقہ اختیار کرنا، پھر کشتی نوح کا ایک متعین رخ پر سفر کرتے ہوئے جودی پہاڑ پر پہنچنا، پھر اس کا گلیشیر کے نیچے دب جانا، پھر فاسلائزیشن کے عمل کے ذریعے اس کا مستقل طورپر محفوظ ہوجانا، پھر گلوبل وارمنگ کے ذریعے اس کا کھل کر سامنے آجانا، پھر بیسویں صدی کا دور آنا، جب کہ پرنٹنگ پریس اور جدید کمیونکیشن اور عالمی سیاحت اور اِس طرح کے دوسرے اسباب کے نتیجے میں یہ ممکن ہوگیا کہ کشتی نوح کو پیغمبروں کی تاریخ کے ایک پوائنٹ آف ریفرنس کے طورپر لیا جائے اور جدید مواقع کو استعمال کرتے ہوئے پیغمبروں کی دعوت کو سارے عالم تک پہنچا دیا جائے- — کشتی نوح کے بارے میں یہی وہ حقیقت ہے جس کا اشارہ قرآن کے اِن الفاظ میں کیا گیا ہے: بسم اللہ مجرٖہا ومُرسٰہا (11: 41)۔
ارضیاتی شواہد
موجودہ زمانے میں ارضیات (Geology) کے بارے میں بہت زیادہ تحقیقات کی گئی ہیں۔ اِن تحقیقات کے نتیجے میں ایک حقیقت یہ سامنے آئی ہے کہ عراق اور ترکی کے درمیان کا جو علاقہ ہے، اُس میں کئی ہزار سال پہلے بہت بڑا سیلاب آیا تھا۔ یہ سیلاب اتنا بڑا تھا کہ اس نے اُس وقت کی آباد دنیا کو پوری طرح تباہ کردیا ۔ اس موضوع پر بہت سی تحقیقات چھپ چکی ہیں۔ ان میں سے ایک اہم تحقیق درج ذیل کتاب کی صورت میں شائع ہوئی ہے جس کو دو مصنفین نے تیار کیاہے:
Noah's Flood: The New Scientific Discoveries About the Event that Changed History, by William Ryan and Walter Pitman, Published: 1999 by Simon & & Schuster, USA, 320 pages
اِن تحقیقات سے یہ بات علمی طورپر ثابت ہوچکی ہے کہ ہزاروں سال پہلے ایک عظیم سیلاب آیا، لیکن محققین اپنے سیکولر (secular) ذہن کی وجہ سے یہ کہتے ہیں کہ مختلف قوموں میں اور اِسی طرح بائبل میں نوح کا جو قصہ بیان ہوا ہے، وہ بعد کو اِسی تاریخی واقعے کو لے کر وضع کیا گیا ہے۔ اُن کے نزدیک یہ تاریخی واقعہ کو کہانی کاروپ دینا (mythicization) ہے، حالاں کہ زیادہ صحیح بات یہ ہے کہ یہ مانا جائے کہ ارضیاتی تحقیق سے جو بات ثابت ہوئی ہے، وہ عظیم سیلاب کے بارے میں اُس واقعے کی تاریخی تصدیق کرتی ہے جو پہلے سے بائبل اور قرآن میں موجود تھا۔
حقیقت یہ ہے کہ بائبل اور قرآن کے نزول کے زمانے میں حضرت نوح اور ان کے عہد میں آنے والے طوفان کے بارے میں تاریخی طورپر کچھ بھی معلوم نہ تھا۔ البتہ قرآن کے بیان میں مزید یہ بھی بتا دیا گیا تھا کہ مستقبل میں حضرت نوح کی کشتی ظاہر ہوگی اور وہ حضرت نوح کے معاملے کی تاریخی تصدیق کرے گی (54:15) ۔
ایسی حالت میں یہ ہونا چاہیے کہ ارضیاتی تحقیق سے جو بات ثابت ہوئی ہے، اس کو بائبل اور قرآن کی تاریخی تصدیق (historical verification)سمجھا جائے، نہ کہ برعکس طورپر یہ کہا جائے کہ قدیم زمانے میں جو عظیم سیلاب آیا تھا، اُس کی بنیاد پر لوگوں نے فرضی کہانی بنا لی۔
Discovery of Human Artifacts Below Surface of Black Sea Backs Theory by Columbia University Faculty of Ancient Flood, By Suzanne Trimel Columbia University, NYC. Columbia University marine geologists William B.F. Ryan and Walter C. Pitman 3rd inspired a wave of archaeological and other scientific interest in the Black Sea region with geologic and climate evidence that a catastrophic flood 7,600 years ago destroyed an ancient civilization that played a pivotal role in the spread of early farming into Europe and much of Asia. The National Geographic Society offered astonishing evidence on Wednesday (9-13-00) to support Ryan's and Pitman’s theory: the discovery of well-preserved artifacts of human habitation more than 300 feet below the Black Sea surface, 12 miles off the Turkish coast. " This is stunning confirmation of our thesis," Dr. Ryan said from his office at Columbia's Lamont-Doherty Earth Observatory on Tuesday. " This is amazing. It's going to rewrite the history of ancient civilizations because it shows unequivocally that the Black Sea flood took place and that the ancient shores of the Black Sea were occupied by humans." Inspiring a re-examination of the role of climate in human history, Drs. Ryan and Pitman's findings in 1996 suggested that the terrifying and swift flood may have cast such a long shadow on succeeding cultures that it inspired the biblical story of Noah's ark. Drs. Ryan and Pitman argued their provocative theory in a 1999 book, “Noah's Flood: The New Scientific Discoveries About the Event That Changed History” (Simon & Schuster). Ryan and Pitman theorized that the sealed Bosporus strait, which acted as a dam between the Mediterranean and Black seas, broke open when climatic warming at the close of the last glacial period caused icecaps to melt, raising the global sea level. With more than 200 times the force of Niagara Falls, the thundering water flooded the Black Sea, then no more than a large lake, raising its surface up to six inches per day and swallowing 60,0000 square miles in less than a year. (www.earth.columbia.edu)
تاریخی سبق
سیکولر علما کے لیے عظیم انقلاب (Great Flood) یا ارارات کے پہاڑ کے اوپر کشتی کی دریافت محض تاریخ کا ایک سبجکٹ ہے، مگر قرآن کی نظر سے دیکھا جائے تو وہ تمام انسانوں کے لیے بہت بڑے سبق کی حیثیت رکھتا ہے۔
یہ واقعہ یاد دلاتا ہے کہ حضرت نوح کے زمانے میں جو طوفان آیا تھا، وہ بعد کو آنے والے زیادہ بڑے طوفان کے لیے ایک پیشگی خبر ہے۔ یہ دریافت گویا ایک وارننگ ہے کہ لوگ متنبہ ہوجائیں اور اُس وقت کے آنے سے پہلے وہ اس کے لیے ضروری تیاری کرلیں۔
حضرت نوح دورِ تاریخ سے پہلے کے پیغمبر ہیں، اِس لیے مدوّن تاریخ میںاُن کا حوالہ موجود نہیں۔ مگرقرآن کا بیان ہے کہ نوح کی کشتی کو خدا باقی رکھے گا، تاکہ وہ بعد والوں کے لیے نشانی ثابت ہو(54:15)۔ عظیم طوفان اور ارارات پہاڑ کے اوپر کشتی کی دریافت قرآن کے اِس بیان کی ایک تاریخی تصدیق (hostorical verification) کی حیثیت رکھتی ہے۔
سبق کا پہلو
ایک 'طویل روایت میں فرشتے کی زبان سے یہ الفاظ آئے ہیں: محمدٌ فَرْقٌ بین الناس (صحیح البخاری، رقم الحدیث: 6852)فرق کا لفظی مطلب ہے: الفصل بین الشیئین- )دو چیزوں کے درمیان فرق کرنا( ۔یعنی محمد، انسانوں کے درمیان فرق کرنے والے ہیں۔
اِس حدیثِ رسول کا مطلب یہ ہے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعے ایسا مشن جاری ہوگا جو صالح اور غیر صالح افراد کو ایک دوسرے سے جدا کردے، تاکہ اللہ ایک گروہ کے لیے انعام کا فیصلہ فرمائے اور دوسرے گروہ کے لیے سزا کا فیصلہ۔
یہ بات صرف پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے خاص نہیں ہے، یہی معاملہ تمام پیغمبروں کا ہے۔ خدا کی طرف سے جتنے پیغمبر آئے، وہ سب اِسی مقصد کے لیے آئے، تاکہ ان کے ذریعے ایک ایسی تحریک چلائی جائے جو انسانوں کو ایک دوسرے سے چھانٹ دے، صالح افراد الگ ہوجائیں اور غیر صالح افراد الگ، تاکہ اِس کے بعد ایک معلوم حقیقت کے طورپر لوگوں کے لیے جنت یا جہنم کا فیصلہ کردیا جائے۔
قدیم زمانے میں جو انبیا آئے، اُن میں سے کم از کم دو ایسے پیغمبر ہیں جنھوں نے اِس معاملے میں ایک تاریخی شہادت (historical evidence) چھوڑ ی جو لوگوں کے لیے مستقل طورپر منصوبہ الٰہی کے بارے میں تاریخی یاد دہانی (historical reminder) کا کام کرتی رہے۔
اِس معاملے میں ایک تاریخی مثال وہ ہے جس کا تعلق حضرت موسیٰ سے ہے۔ حضرت موسیٰ نے قدیم مصر میںاپنا دعوتی کام انجام دیا۔ اس کے نتیجے میں آخر کار وہ وقت آیا، جب کہ دو گروہ ایک دوسرے سے الگ ہو گئے- — ایک، بنی اسرائیل کا گروہ، جس نے حضرت موسی کے پیغام کو قبول کیا اور دوسرے، فرعون اور اس کے ساتھی، جنھوں نے حضرت موسیٰ کے پیغام کو رد کردیا۔ اِس کے بعد قانونِ الٰہی کے مطابق، ایسا ہوا کہ حضرت موسیٰ اور ان کے ساتھی الگ کرکے بچا لئے گئے، اور فرعون اور اس کے ساتھی سمندر میں غرق کردئے گئے۔
اِس معاملے کا تذکرہ کرتے ہوئے قرآن میں بتایا گیا ہے کہ جب آخری وقت آگیا اور فرعون غرق ہونے لگا، اُس وقت اللہ تعالیٰ نے فرمایا: فالیوم ننجّیک ببدنک لتکون لمن خلفک آیۃ (10: 92) یعنی آج ہم تیرے بدن کو بچائیں گے، تاکہ تو اپنے بعد والوں کے لیے نشانی بنے۔
اللہ تعالیٰ کا یہ قول پورا ہوا اور حضرت موسیٰ کے ہم عصر فرعون کی لاش کو حنوط کاری (mummification) کے ذریعے اہرامِ مصر میں محفوظ کردیا گیا۔ فرعون کا یہ جسم اہرامِ مصر میں موجود تھا۔ انیسویں صدی کے آخر میں کچھ مغربی ماہرین نے اس کو نکالا اور کاربن ڈیٹنگ (carbon datinhg) کے ذریعے اس کی تاریخ معلوم کی۔ اس سے معلوم ہوا کہ یہ جسم اُسی فرعون کا ہے جو حضرت موسیٰ کا معاصر (contemporary) تھا۔
فرعون کے جسم کا اِس طرح محفوظ رہنا کوئی سادہ بات نہیں، وہ ایک تاریخی واقعے کی علامتی مثال ہے۔ فرعون کا یہ جسم جو قاہرہ (مصر) کے میوزیم میں محفوظ ہے، وہ اپنی خاموش زبان میں یہ بتا رہا ہے کہ آخر کار انسان کے ساتھ کیا ہونے والا ہے، وہ یہ کہ خدائی منصوبے کے تحت، صالح بندوں کو غیرصالح بندوں سے الگ کردیا جائے اور پھر صالح بندوں کو ابدی جنت میں عزت کی جگہ دی جائے اور غیرصالح لوگوں کو ابدی جہنم میں ذلت کی زندگی گزارنے کے لیے چھوڑ دیا جائے۔
اس قسم کی دوسری مثال حضرت نوح کی ہے۔ حضرت نوح قدیم عراق (Mesopotamia) کے علاقہ میںآئے۔ وہ بہت لمبی مدت تک وہاں کے لوگوں کو بتاتے رہے کہ اللہ نے تم کو پیدا کرکے آزاد نہیں چھوڑ دیا ہے، بلکہ وہ تمھارا امتحان لے رہا ہے۔ وہ دیکھ رہا ہے کہ کون اپنی آزادی کا صحیح استعمال کررہا ہے اور کون غلط استعال کررہاہے۔
جب امتحان کی مدت پوری ہوگی تو خدا کا فیصلہ ظاہر ہوگا اور اچھے انسان اور برے انسان دونوں چھانٹ کر ایک دوسرے سے الگ کردئے جائیں گے۔ اس کے بعد اچھے لوگوں کو جنت میں داخلہ ملے گا اور برے لوگوں کو جہنم میں۔
طوفان سے پہلے حضرت نوح نے اللہ کے حکم سے پیشگی طورپر ایک بڑی کشتی بنالی تھی۔ حضرت نوح اور آپ کے ماننے والے لوگ کشتی میں سوار ہوگئے۔ یہ لوگ اس کشتی کے ذریعے سیلاب کے اوپر تیرتے ہوئے محفوظ رہے۔
اُس وقت اللہ نے جو کہا تھا، اس کو قرآن میں اِن الفاظ میں بیان کیاگیا ہے: قیل یا نوح اہبط بسلام منا وبرکات علیک وعلی أمم ممن معک، و أمم سنمتعہم ثم یمسہم منا عذاب ألیم (11:48)
یہ بات پانچ ہزار سال پہلے کی ہے، جب کہ دنیا میں نہ کوئی تہذیب تھی اور نہ کوئی ٹکنالوجی۔ یہ بات اگرچہ بائبل اور قرآن میں بتائی گئی تھی، لیکن لوگ اس کو مذہبی افسانہ (religious myth) سمجھتے تھے،مگر عجیب بات ہے کہ بیسویں صدی کے آخر میں یہ دونوں باتیں ایک معلوم واقعہ بن گئیں۔ ایک طرف، عراق اور شام کے علاقے میں ایسے آثار ملے جو بتاتے ہیں کہ اس علاقے میں ایک بہت بڑا سیلاب آیاتھا، اور دوسری طرف کشتی نوح جو بھاری برف کے نیچے دبی ہوئی تھی، وہ برف کے پگھلنے سے سامنے آگئی۔ یہ واقعہ ترکی کی مشرقی سرحد پرواقع پہاڑ کے اوپر پیش آیا۔
بیسویں صدی کے وسط تک اِس پورے معاملے کو فرضی کہانی سمجھا جاتا تھا، مگر اب خالص تاریخی شواہد کی بنا پر یہ مان لیا گیا ہے کہ اس علاقے میں ایک ایسا بڑا سیلاب آیا تھا جو نہ اس سے پہلے کبھی آیا اور نہ اس کے بعد۔ یہاں اِس سلسلے میں تفسیر ماجدی سے ایک حوالہ نقل کیا جاتا ہے:
The story of Noachion deluge, so long dismissed as legendary, has at last come to be recognized as 'hisotorical disaster' for which material evidence has bee found in the soil of Ur. (Woolly, ‘Abraham’, p. 170)
Archaelogical evidence has established the reality of the Flood. ( Marston, ‘The Bible Comes Aline’, p. 33)
Both Sumerian and Hebrew legends speak of a flood which destroyed the habitable world as they knew it. (Lt. Col. Wagstaff, a distinguished explorer)
یہی معاملہ کشتی نوح کا ہے۔ قدیم زمانے میں کشتی نوح کا معاملہ ایک مذہبی افسانہ سمجھا جاتا تھا، مگر اب وہ ایک تاریخی واقعہ بن چکا ہے۔
کوئی بھی شخص ترکی کی مشرقی سرحد پر واقع پہاڑی سلسلے کے اوپر ہوائی پرواز کرکے کشتی کو دیکھ سکتا ہے۔ بہت جلد وہ وقت آنے والا ہے جب کہ یہ مقام ٹورسٹ میپ (tourist map) میں خصوصی جگہ حاصل کرلے۔خبروں سے معلوم ہوا ہے کہ ترک گورنمنٹ اِس علاقے کو سیاحتی مقام کے طور پر ڈیولپ کرنے کا منصوبہ بنارہی ہے-
اسلام کی تعلیمات کے مطابق، جب انسانی تاریخ کے خاتمہ کا وقت آئے گا اورآخرت کا دور شروع ہوگا تو فرشتہ اسرافیل صور پھونکے گا۔ یہ صور آواز کی صورت میںنئے دور کی آمد کا اعلان ہوگا۔ کشتی نوح کا ظہور اسی قسم کا ایک واقعہ ہے، صرف اس فرق کے ساتھ کہ صور اسرافیل کے ذریعے جس حقیقت کا اعلان زبانِ قال کی صورت میں کیا جائے گا، کشتی نوح زبانِ حال کی صورت میں اُسی حقیقت کو بیان کرے گی۔
Two members of the search team that claims to have found Noah’s Ark on Mount Ararat in Turkey responded to skepticism by saying that there is no plausible explanation for what they found other than it is the fabled biblical boat that weathered a storm that raged 40 days and 40 nights and flooded the entire Earth. Noah's Ark Ministries International (NAMI) held a press conference April 25, 2010 in Hong Kong to present their findings and say they were “99.9 percent sure” that a wooden structure found at a 12,000-ft. elevation and dated as 4,800 years old was Noah’s Ark. Noah's Ark Ministries International is a subsidiary of Hong Kong-based Media Evangelism Limited, founded in 1989 to publish multimedia for evangelizing. " We don't have anything to hide." says Clara Wei, who is a team member. She says that massive wooden planks, some 20 meters long, were found in wooden rooms and hallways buried in the ice atop Mount Ararat in Eastern Turkey. People could not carry such heavy wood to such a height, nor can vehicles access such a remote location on the mountain. Turkish officials from Agri Province, the location of Mount Ararat, also attended this week’s press conference in Hong Kong. Lieutenant governor Murat Güven and Cultural Ministries Director Muhsin Bulut, both provincial officials, believe the discovery is likely Noah’s Ark, according to the announcement posted on the team's website. Culture and Tourism Minister of Turkey, Ertugrul Gunay, welcomed the finding and said it could boost tourism, according to local newspaper today's Zaman. (www.csmonitor.com)
کشتی نوح یا دابہ
قرآن کی سورہ النمل میں یہ آیت آئی ہے: وإذا وقع القول علیہم أخرجنا لہم دابۃً من الأرض تکلمہم أن الناس کانوا باٰیاتنا لا یوقنون (27: 82) یعنی جب اُن پر بات آپڑے گی تو ہم اُن کے لیے زمین سے ایک دابہ نکالیں گے جو اُن سے کلام کرے گا کہ لوگ ہماری آیتوں پر یقین نہیں رکھتے تھے۔
قرآن اور حدیث دونوں میں بتایا گیا ہے کہ قیامت سے پہلے ایک دابہ نکلے گا۔ دابہ کا ظہور گویا انسانی تاریخ کے ایک دور کا خاتمہ اور دوسرے دور کے آغاز کی علامت ہوگا۔ دابہ کا ظہور عملاً سارے انسانوں کے لیے آخری اتمامِ حجت کے ہم معنی ہوگا۔ اس کے بعد وہی واقعہ زیادہ بڑے پیمانے پر ہوگا جو حضرت نوح کے زمانے میں پیش آیا تھا، یعنی دوبارہ ایک بڑے طوفان کے ذریعے انسانوں میں سے صالح افراد کو بچالینا اور غیر صالح افراد کو ہلاک کردینا۔
حدیث کی کتابوں میں دابہ کے بارے میں جو روایتیں آئی ہیں، اُن میں زیادہ مستند اور معتبر روایت وہ ہے جو صحیح مسلم میں آئی ہے۔ اِس میںصرف یہ بتایاگیا ہے کہ قیامت سے پہلے ایک دابہ نکلے گا (صحیح مسلم، رقم الحدیث:158 )۔
اِس روایت میں اُن باتوں میں سے کوئی بات نہیں ہے جو دوسری روایتوں میںآئی ہے۔مثلاً دابہ کے ساتھ موسی کا عصا ہونا اور سلیمان کی انگشتری ہونا، وغیرہ- ان دوسری روایات میں کافی تعارض پایا جاتاہے، اس لیے محقق علما نے صحیح مسلم کی مذکورہ روایت کے علاوہ، دوسری روایتوں کو عام طورپر ضعیف یا موضوع بتایا ہے- مثلاً امام رازی، علامہ آلوسی، علامہ البانی، وغیرہ- اس معاملے میں صحیح مسلک یہ ہے کہ دابہ کو صرف دابہ کے معنی میں لیا جائے اور اس سے منسوب بقیہ تفصیلات کو غیرمعتبر سمجھ کر اُن کو نظر انداز کردیا جائے-
دابہ کی تحقیق
دابہ کے لفظی معنی ہیں رینگنے والا (creeper) -اپنے استعمال کے اعتبار سے، دابہ کا لفظ حیوان کے لیے خاص نہیں ہے، وہ کسی بھی ایسی چیز کے لیے ~ بولاجاتا ہے جو رینگنے کی رفتار سے چلے- یہ استعمال عربی زبان اور غیر عربی زبان دونوں میں پایا جاتا ہے-
مثلاً کہا جاتا ہے: دبّ الشراب فی عروقہ (مشروب کا اثر رگوں میں سرایت کرگیا )- اسی طرح کہا جاتا ہے کہ: دبّ الجدول (نہر میں پانی کا جاری ہونا)- اسی طرح کہاجاتا ہے: دبّ السُّقم فی الجسم _(جسم میں بیماری کا سرایت کرنا)-اسی لیے ایک مخصوص آلہ ٔحرب کو ’دبّابة‘ کہا جاتا ہے-
اِس مقصد کے لیے دبابہ کا لفظ قدیم زمانے سے رائج ہے- قدیم زمانے میں دشمن کے قلعے تک پہنچنے کے لیے یہ کرتے تھے کہ معکوس یو (inverted U) کی شکل میں ایک گاڑی بناتے تھے جس کے نیچے پہیہ لگا ہوتا تھا- فوجی اس کے اندر داخل ہوجاتا اور پہیہ کے ذریعے اس کو چلاتا ہوا قلعے کی دیوار تک پہنچ جاتا اور پھر قلعے کی دیوار میں نقب لگا کر اس کے اندر داخل ہوجاتا - اس آلہ ٔ حرب کو دبابہ کہا جاتا تھا-
دبابہ کی یہ قدیم ٹیکنک آج کے مشینی دور میں بھی رائج ہے- اِسی اصول کے مطابق، موجودہ زمانے میں ٹینک (tank) بنائے گئے ہیں- موجودہ مشینی ٹینک کو بھی دبابہ کہاجاتا ہے، یعنی وہ حربی گاڑی جو پہیے پر چلتی ہوئی دشمن کے قلعہ تک پہنچ جائے-
دبابہ کی تشریح ;کے تحت یہی بات عربی لغات میں آئی ہے- مثلاً لسان العرب کے الفاظ یہ ہیں: الدّبابةُ: آلة تُتَّخذ من جلود وخشبة، یدخل فیہا الرجال، ویقرّبونہا من الحصن المحاصر لینقبوہ، وتقیم ما یرمون بہ من فوقہم- وفی حدیث عمر رضى اللہ عنہ قال: کیف تصنعون بالحصون؟ قال: نتخذ دبّاباتٍ یدخل فیہا الرجال- (371/1)
رینگنے کا لفظ اپنے اِسی توسیعی مفہوم میں ہر زبان میں استعمال ہوتاہے- مثلاً گھنےکہر میں ٹرین آہستہ رفتار سے چلتی ہے تو کہا جاتا ہے کہ ٹرین رینگ رہی ہے- امریکا کے ناولسٹ جیمس بالڈون (James Baldwin) نے اپنی ایک کہانی میں کشتی کے بارے میں یہ الفاظ لکھے ہیں— پرانی کشتی پانی کے اوپر گھونگھے کی رفتار سے رینگ رہی ہے:
The old boat creaps over the water no faster than a snail.
1- قرآن کی سورہ النمل کی آیتِ دابہ میں ’تکلم‘ بمعنی ینطق نہیں ہے، بلکہ وہ یدلّ کے معنی میں ہے، یعنی دلالت کرنا،شہادت دینا- لفظ ’کلام‘ کے مادّہ کا یہ استعمال خود قرآن میں دوسرے مقام پر موجود ہے- مثلاً سورہ الروم میں ارشاد ہوا ہے: أم أنزلنا علیہم سلطاناً فہو یتکلّم بما کانوا بہ یشرکون(30:35) یعنی کیا ہم نے اُن پر کوئی سند اتاری ہےکہ وہ اُن کو خدا کے ساتھ شرک کرنے کو کہہ رہی ہے-
جس طرح سورہ الروم کی اِس آیت میں کلام بزبانِ حال کے معنی میں آیا ہے، اِسی طرح سورہ النمل کی مذکورہ آیت میں کلام کا مادہ کلامِ حال کے معنی میں آیا ہے، یعنی دونوں ہی آیتوں میں کلام کا مادہ زبانِ حال کے مفہوم میں استعمال ہوا ہے، نہ کہ زبانِ قال کے مفہوممیں-
آیت کا آخری ٹکڑا یہ ہے:
-2 أنّ الناس کانوا باٰیاتنا لایوقنون ›— یہاں آیات (signs) سے کیا مراد ہے- اِس کی وضاحت قرآن کی اِس آیت سے ہوتی ہے: قیل یا نوح اہبط بسلام منا وبرکات علیک وعلى أمم ممن معک وأمم سنمتعہم ثم یمسّہم منا عذاب ألیم (48:11)-
اِس آیت میں ’’مسِّ عذاب‘‘کا ذکر ہے- اسی کے ساتھ یہاں ایک اور چیز محذوف ہے، وہ یہ کہ کچھ افراد بچالئے جائیں گے جس طرح کشتی نوح کے افراد بچا لئے گئے اور دوسرے لوگ جو عذاب کے مستحق تھے، وہ ہلاک کردئے گئے—— سفینہ کا لفظ حضرت نوح کی کشتی کو بتاتا ہے اور دابہ کا لفظ اُس کشتی کے رول کو-
قرآن کی آیتِ دابّہ کے حسب ذیل تین حصے ہیں:
1 . وإذا وقع القول علیہم ۔
2 . أخرجنا لہم دابۃ من الأرض ۔
3 . تکلمہم أن الناس کانوا باٰیاتنا لایوقنون) 27: 82)۔
آیت کے پہلے حصے کا تعلق اللہ کے فیصلے سے ہے، یعنی دابہ کا خروج اُس وقت ہوگا جب کہ اللہ تعالی موجودہ دنیا میں انسانی تاریخ کے خاتمے کا فیصلہ فرما دے۔ آیت کے دوسرے حصے کا تعلق قدرتی حالات سے ہے، یعنی فطری اسباب کے تحت ایسے حالات کا پیداہونا جب کہ دابہ (کشتی نوح) کا برفانی کور (cover)ہٹ جائے اور وہ پورے طورپر لوگوں کے سامنے آجائے۔
آیت کے تیسرے حصے کا تعلق انسان سے ہے، یعنی جب ایسا ہوگا تو یہ انسان کی ذمے داری ہوگی کہ وہ اِس واقعے کو لے کر اس کی تاریخ لوگوں کے سامنے بیان کرے، اِس واقعے میں سبق کا جو پہلو ہے، اس سے لوگوں کو باخبر کرے۔آیت کا تیسرا حصہ جو انسان سے متعلق ہے، اس کا ایک پہلو یہ بھی ہے کہ قرآن کو ماننے والے اس وقت اٹھیں اور قرآن کو تمام لوگوں تک پہنچائیں، کیوں کہ دابہ (کشتی نوح) کا ظہور قرآن کی پیشین گوئی کی تصدیق ہوگی۔
یہ واقعہ لوگوں کے لئے اِس بات کی دعوت ہوگا کہ وہ قرآن کو خدا کی کتاب سمجھ کر پڑھیں اور اس کے ذریعے اُس پیغام کو جو اللہ کی طرف سے پیغمبر وں کے ذریعہ بھیجا گیا تھا،اُس کو ایک ثابت شدہ صداقت کی حیثیت سے قبول کرلیں-
کشتی کا انتخاب کیوں
صورِ اسرافیل قیامت کا ناطق اعلان ہے اور کشتی نوح (دابّہ) قیامت کا غیر ناطق اعلان- صورِاسرافیل جس حقیقت کو بول کر بتائے گا، اسی حقیقت کا اعلان خاموش زبان میں کشتی نوح (دابہ) کے ذریعے کیاجائے گا-
اِس مقصد کے لئے کشتی کا انتخاب کیوں کیا گیا- حسب ذیل پہلوؤں پر غور کرنے سے اندازہ ہوتا ہے کہ قدیم زمانے میں کشتی ہی اس مقصد کا سب سے زیادہ بہتر ذریعہ بن سکتی تھی:
1- سنت اللہ کے مطابق، کشتی کے لئے لفظِ دابّہ کی صورت میں ایک ملتَبَس نام (disguised name) درکار تھا اور کشتی کے لئے لفظِ دابّہ کی صورت میں ایک ملتبس نام نہایت آسانی سے حاصل ہوتا ہے-
2- مطلوب مقصد کے لئے ایک ایسی چیز درکار تھی جو طوفان میں تیر کر ایک جگہ سے دوسری جگہ جائے- یہ کام صرف کشتی کے ذریعےہوسکتا تھا-
3- اِس کام کے لئے ایک ایسا ذریعہ درکار تھا جو کچھ لوگوں کو بچائے اور کچھ لوگوں کو تباہ کردے- یہ کام بھی صرف کشتی کے ذریعے ممکن تھا-
4- اِس کام کے لئے ایک ایسی چیز کی ضرورت تھی جو ہزاروں سال تک برف کے نیچے دب کر باقی رہےاور بعد کو ظاہر ہوکر وہ لوگوں کے سامنے آئے-
5- کشتی کا ایک فائدہ یہ بھی تھا کہ وہ کیمیائی عمل کے تحت فاسل (fossil)بن کر محفوظ رہے، تاکہ وہ بعد والوں کے لئے ایک نشانی بنے-
یہ تمام صفات کشتی میں موجود تھیں- مزید یہ کہ اللہ کی سنت (8: 6) کے مطابق، کشتی وہ واحد چیز تھی جس کے لیے دابّہ کی صورت میں ایک ملتبس نام (disguised name) مل سکتا تھا- اللہ کی سنت کے مطابق، کشتی کا حوالہ کشتی کے نام سے دینا مطلوب نہیں تھا، بلکہ اس کا حوالہ ایک ایسے بالواسطہ نام کے ذریعہ دینا مطلوب تھا جس کو صرف غور کرکے سمجھا جاسکتا ہو- اِس کے لیے دابہ نہایت موزوں نام تھا، کیوں کہ کشتی بھی پانی پر رینگتی ہے اور دابّہ کے لفظی معنى ہیں رینگنے والا-
قرآن میں ہے کہ جب وقت آئے گا تو ہم، لوگوں کے لئے زمین سے ایک دابہ (رینگنے والا) نکالیں گے (27:82)- یہ الفاظ بہت خوبی کے ساتھ اصل واقعہ کو بتاتے ہیں- کیوں کہ کشتی کے ساتھ جو واقعہ پیش آیا، وہ یہ تھا کہ اس کے اوپربرف کی بہت موٹی تہ جم گئی- پھر گلوبل وارمنگ کے زمانے میں برف پگھلنا شروع ہوئی تو دھیرے دھیرے کشتی کھل کر سامنے آگئی- ’’رینگنے والی چیز‘‘کا زمین سے نکلنا بالکل لفظی طورپر اِس واقعہ کی تصویر کشی کررہا ہے-
قرآن میں دابہ کا ذکر جہاں آیا ہے، وہاں صرف یہ بتایا گیا ہے کہ دابہ لوگوں سے ’’کلام‘‘ کرے گا اور یہ خبردے گا کہ لوگوں نے اللہ کی آیتوں (signs) پر یقین نہیں کیا- قرآن میں دابہ کے بارے میں اتنا ہی بتایا گیا ہے- قرآن میں یہ نہیں بتایا گیا ہے کہ لوگ دابہ کی بات سنیں گے تو اس کے بعد تمام لوگ اس کو ماننے والے بن جائیں گے- قرآن سے یہ تو ثابت ہے کہ دابہ لوگوں سے ’’کلام‘‘ کرے گا، لیکن یہ بات قرآن میں نہیں ہے کہ لوگ دابہ کے کلام کو سن کر اُس کے مومن بن جائیں گے-
اِس سے مستنبط ہوتا ہے کہ دابہ (کشتی نوح) کا ظہور دوبارہ اُسی نوعیت کا ہوگا جیسے کہ نوح کے زمانے میں ہوا تھا- حضرت نوح کی دعوت وتبلیغ سے ان کے زمانے کے بہت کم لوگ اُن پر ایمان لائے- اِسی طرح یہی معاملہ بعد کے زمانے میں بھی پیش آئے گا، یعنی دوسری بار بھی صرف کچھ لوگ اس سے اثر قبول کریں گے اور زیادہ لوگ اس کو نظر انداز کردیں گے-
حقیقت یہ ہے کہ بعد کے زمانے میں دابہ (کشتی نوح) کا ظہور صرف اعلان کے لئے ہوگا- اس کے نتیجے میں ایسا نہیں ہوگا کہ تمام لوگ اس کے مومن بن جائیں اور دنیا میں کوئی خدا کا انکار کرنے والا باقی نہ رہے-
پیغمبرانہ یادگاریں
حضرت نوح سے حضرت محمد تک خداکے بہت سے پیغمبر دنیا میں آئے- اُن میں سے تین پیغمبر ایسے ہیں جن کی مادی یادگاریں آج بھی دنیا میں موجود ہیں- یہ تین پیغمبر ہیں— حضرت نوح، حضرت ابراہیم اور حضرت محمد- تین پیغمبروں کی یہ مادی یادگاریں علامتی طورپر دعوت کے تین دور کو بتاتی ہیں- پہلی مادی یادگار حضرت نوح علیہ السلام کی ہے، جو ایک کشتی کی صورت میں آج بھی موجود ہے- یہ کشتی علامتی طورپر بتاتی ہے کہ ایسا ہونے والا نہیں کہ انسانوں کو ان کے حال پر چھوڑ دیا جائے، بلکہ تمام پیدا ہونے والے انسانوں کو آخر کار دو گروہ میں تقسیم کیا جائے گا-
یہ تقسیم لوگوں کے ریکارڈ (record) کے مطابق ہوگی- اور پھر اچھے ریکارڈ والوں کے لیے جنت کا فیصلہ کیا جائے گا اور برے ریکارڈ والوں کے لیے جہنم کا فیصلہ- دوسری مادی یادگار حضرت ابراہیم علیہ السلام کی ہے جو کعبہ کی صورت میں آج بھی مکہ میں موجود ہے-
کعبہ علامتی طورپر اُس غیرمعمولی منصوبہ بندی (extraordinary planning) کی یادگار ہے جب کہ یہاں کے صحرائی علاقہ میں حضرت ابراہیم نے اپنی بیوی ہاجرہ اور اپنے بیٹے اسماعیل کو بسایا اور پھر توالد اور تناسل کے لمبے دور کے بعد وہ نسل تیار ہوئی جس کو بنو اسماعیل کہاجاتاہے- رسول اوراصحابِ رسول اسی نسل کے منتخب افراد تھے- یہ ایک استثنائی گروہ تھا جس کو ایک مستشرق نے ہیروؤں کی قوم (a nation of heroes) کہا ہے-
تیسری مادی یادگار حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی ہے جو مدینہ کی مسجد نبوی کی صورت میں موجود ہے- مسجد نبوی کے اندر حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی قبر واقع ہے-
حضرت محمد اور آپ کے اصحاب کی غیر معمولی کوشش سے انسانی تاریخ میں ایک نیا دور شروع ہوا- اس نئے دور کو دورِ شرک کا خاتمہ اور دورِ توحید کا آغاز کہا جاسکتا ہے- حضرت محمد اور آپ کے اصحاب نے انسانی تاریخ میں ایک نئے عمل (process)کا آغاز کیا- اِس کے نتیجہ میں وہ انقلابی واقعہ پیش آیا جس کو قرآن میں اظہارِ دین (28:48) کہاگیا ہے-
اظہارِ دین سے مراد کوئی سیاسی اظہار نہیں ہے، اِس سے مراد زیادہ وسیع نوعیت کا ایک ہمہ جہتی اظہار ہے- اس کے نتیجہ میں وہ عالمی واقعہ پیش آیا جس کو انفجارِ مواقع (opportunity explosion) کہاجاسکتا ہے-
حضرت محمد اور آپ کے اصحاب کے ذریعے تاریخ میں جو عمل (process) شروع ہوا، وہ اکیسویں صدی عیسوی میں اپنی آخری تکمیل تک پہنچ چکا ہے- اِس انقلاب کے مختلف پہلو ہیں- مثلاً مذہبی آزادی، توحید کے حق میں سائنسی شواہد، عالمی کمیونکیشن، گلوبل موبلٹی (global mobility) ، پرنٹنگ پریس،سیاست کا ڈی سینٹرلائزیشن (decentralization of political power) ، اداروں کا دور (age of institutions)، وغیرہ-
اِنھیں جدید مواقع میں سے ایک یہ ہے کہ نئے حالات کے نتیجہ میں حضرت نوح کی کشتی ظاہر ہوکر لوگوں کے سامنے آگئی جو کہ کئی ہزار سال تک برف کی بھاری تہہ کے نیچے چھپی ہوئی تھی-
دابہ کا نکلنا
قرآن کی سورہ النمل میں قیامت سے پہلے کی ایک نشانی کا ذکر اِن الفاظ میں کیاگیاہے: وإذا وقع القول علیہ أخرجنا لہم دابّۃ من الأرض تکلّہم أن الناس کانوا باٰیاتنا لایوقنون(27:82) اور جب ان پر بات واقع ہوجائے گی تو ہم ان کے لئے زمین سے ایک دابّہ نکالیں گے جو اُن سے کلام کرے گا کہ لوگ ہمارے نشانیوں پر یقین نہیں رکھتے تھے۔
قرآن کی یہ آیت 1400سال سے غیر واضح بنی ہوئی تھی، لیکن حضرت نوح کی کشتی کے بارے میں حال میں جو معلومات سامنے آئی ہیں، اس کی روشنی میں محفوظ طور پر یہ استنباط کیا جاسکتا ہے کہ دابہ سے مرادغالباً حضرت نوح کی کشتی ہے، یعنی پانی کے اوپر رینگنے والا دابہ۔ قرآن میں حضرت نوح کی کشتی کو ایک نشانی (آیت) کہاگیا ہے۔ اِسی طرح قرآن میں دابہ کو بھی ایک آیت کہاگیا ہے۔ کشتی نوح اور دابہ کے درمیان یہ مشابہت بہت بامعنی ہے۔ آغازِ انسانی سے اللہ نے یہ انتظام کیا کہ ہر دور میں خدا کے پیغمبر آئیں اور انسان کو بتائیں کہ ان کے بارے میں اللہ کا تخلیقی منصوبہ (creation plan) کیا ہے، مگر انسان نے اپنی سرکشی کی بنا پر یہ کیا کہ اس نے پیغمبروں کو نظر انداز کیا، حتی کہ انسانیت کی مدون تاریخ (recorded history) میں پیغمبروں کا اندراج نہ ہوسکا، پیغمبر عقیدہ کا معاملہ بن گئے، نہ کہ تاریخی طورپر ثابت شدہ حقیقت کامعاملہ۔ اِس کا نتیجہ یہ ہوا کہ انسان نے بظاہر تخلیق (creation) کو جانا، مگر وہ مقصد تخلیق (purpose of creation) سے بالکل بے خبر رہا۔
قرآن کی مذکورہ آیت میں یہ بتایا گیا ہے کہ قیامت سے پہلے ایسا ہوگا کہ اِس مِتھ (myth) کو توڑ دیا جائے گا۔ اور اِس مِتھ کو توڑنے کا ذریعہ ایک پیغمبر کی ایک تاریخی نشانی کا ظہور ہوگا، جس کا ذکر بائبل اور قرآن دونوں میں موجود ہے۔اِس طرح مذہبی عقیدہ ایک علمی مسلّمہ بن جائے گا-
جیسا کہ عرض کیا گیا، دابہ کا لفظی مطلب ہے رینگنے والا۔حضرت نوح کی کشتی پانی پر رینگنے والی سواری تھی۔ وہ طوفان کے اوپر چلتی ہوئی ترکی کے سرحدی پہاڑ ارارات (Ararat) پر پہنچ گئی۔
اب اکیسویں صدی میں کشتی نوح کا یہ معاملہ ایک واقعہ بن کر سامنے آگیا ہے۔ بہت جلد وہ وقت آنے والا ہے جب کہ وہ پوری طرح منظر عام پر آجائے اور پھر زبانِ حال سے کلام کرکے لوگوں کو بتائے کہ پیغمبر کی جس نشانی کا تم انکار کرتے رہے، وہ اب تمھارے سامنے عیاناً موجود ہے۔
حضرت نوح نے براہِ راست طورپر اپنی قوم سے اور بالواسطہ طورپر تمام انسانیت کو بتایا تھا کہ اللہ کے منصوبے کے مطابق، مقصدِ تخلیق کیا ہے۔ سیارہ ارض پر انسان کا قیام ایک مقرر مدت تک ہے (71:4) یعنی ایک مقرر وقت (apppointed time)تک دنیا میں حالتِ امتحان میں رہنا اور اس کے بعد آخرت میں اللہ کے سامنے حساب کے لئے پیش کردیا جانا۔ یہی زندگی کی وہ حقیقت ہے جس کو حضرت نوح نے اور دوسرے پیغمبر وں نے انسان کو بتایا، لیکن انسان نے اس پیغمبرانہ انتباہ (warning) کو اپنے ریکارڈ سے خارج کردیا۔
دابہ کے ظہور کا ذکر قرآن میں بھی ہے اور حدیث میں بھی، لیکن دونوں جگہ اس کا ذکر مستقبل کی پیشین گوئی کے طورپر ہے، اِس لیے دابہ کے بارے میں شارحین اور مفسرین کی مختلف رائیں ہیں۔ دابہ کے بارے میںمزید مطالعے کے بعد اب میں جس نتیجے پر پہنچا ہوں، اس کو میں نے اِس مضمون میں درج کردیا ہے۔ اب تک کی معلومات کے مطابق، یہی رائے مجھ کو زیادہ درست معلوم ہوتی ہے: ہذا ما عندی، والعلم عند اللہ-
اللہ تعالیٰ کے قانون کے مطابق، کئی بار ایسا ہوا کہ کسی پیغمبر کی قوم پر انکار کے نتیجے میں عذاب آیا۔ مگر دوسرے تمام پیغمبروں کے معاملے میں جو صورت اختیار کی گئی، وہ یہ تھی کہ جب اللہ تعالیٰ کی طرف سے عذاب کا فیصلہ ہوا تو پیغمبر کے ماننے والوں سے کہاگیا کہ تم بستی کو چھوڑ کر چلے جاؤ۔ جب وہ بستی کو چھوڑ کر دور کے علاقہ میں گئے تو مقامی طورپر شدید طوفان یا زلزلہ کے ذریعے منکر قوم کو تباہ کردیا گیا، مگر حضرت نوح کی قوم کے معاملے میں ایک بالکل مختلف طریقہ اختیا رکیا گیا۔
حضرت نوح نے لمبی مدت تک اپنی قوم کو خدا کا پیغام پہنچایا۔ کچھ لوگ آپ پر ایمان لائے اور زیادہ تر لوگ منکر بن گئے۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے حضرت نوح کو حکم دیا کہ تم ایک بڑی کشتی بناؤ۔ اس میں اہلِ ایمان کو اور اسی کے ساتھ مویشیوں کے جوڑوں کو سوار کرو۔ جب یہ سب ہوگیا اور لوگ کشتی میں سوار ہوچکے تو بہت بڑا سیلاب آیا۔ پانی زمین سے بھی نکلا اور آسمان سے بھی برسا۔ پانی کی مقدار اتنی زیادہ تھی کہ اس کی سطح پہاڑی کی چوٹی تک پہنچ گئی۔
اِسی مختلف انداز کی بنا پر یہ ہوا کہ حضرت نوح کی کشتی بعد کی انسانی نسلوں کے لیے محفوظ رہے۔ اِس کی وجہ سے یہ ہوا کہ کشتی زمین سے اوپر اٹھ کر پہاڑ کی بلندی تک پہنچ گئی۔
کشتی نوح کے بارے میں جو بات قرآن میں کہی گئی ہے، اس کی مزید تفصیل دابہ والی آیت سے معلوم ہوتی ہے۔ اِس آیت میں یہ الفاظ ہیں: تکلّمہم أن الناس کانوا باٰیاتنا لا یوقنون (27:82)-اِس آیت کا لفظی ترجمہ یہ ہے کہ دابہ بتائے گا کہ لوگ اللہ کی نشانیوں پر یقین نہیں کرتے تھے۔
اِس آیت میں آیات) نشانیوں) سے مراد پچھلے ادوار میں اللہ کے پیغمبروں کا ظہور ہے۔ اللہ کا ہر پیغمبر اللہ کی طرف سے ایک نشانی ہوتا تھا، مگر قدیم زمانے میں پیغمبروں کے معاصرین نے پیغمبروں کا انکار کیا۔ اِس واقعے کا ذکر قرآن میں اِس طرح کیاگیا ہے: ’’جو رسول بھی اُن کے پاس آیا، وہ اس کا مذاق ہی اڑاتے رہے‘‘۔(36:30)
پیغمبروں کا آیتِ الٰہی ہونا اُن کے مخاطبین کے لیے مجرد ایک نظری شہادت (theoretical evidence) کے ہم معنی ہوتا تھا، اِسی لیے وہ ان کی تکذیب کرتے رہے۔ اللہ تعالیٰ نے چاہا کہ پیغمبر اور پیغمبری کے حق میں ایک مادی شہادت (material evidence) قائم ہو، اور—کشتی نوح بمعنی دابہ غالباًاِسی قسم کی ایک مادی شہادت کا درجہ رکھتی ہے۔
موجودہ زمانے میں کشتی نوح ظاہر ہو کر بزبانِ حال یہ کہہ رہی ہے کہ اے انسانو، تم نے پیغمبر نوح اور ان کے خدائی مشن کا انکار کیا۔ تم نے اپنی تاریخ سے اُن کو اِس طرح حذف کیا جیسے کہ کبھی ان کا وجود ہی نہ تھا۔ اب عیاناً وہ تمھارے سامنے اِس طرح ظاہر ہوچکی ہے کہ اس کا انکار تمھارے لیے ممکن نہیں۔ نظری شہادت کا معاملہ اختیاری اعتراف کی حیثیت رکھتاتھا، مگر مادی شہادت کا معاملہ جبری اعتراف کا درجہ رکھتا ہے۔ اب انسان کے لیے اِس بات کا کوئی منطقی جواز باقی نہیں رہا کہ وہ پیغمبر اور پیغمبرانہ مشن کے معاملے میں انکار کا طریقہ اختیار کرے۔
موجودہ زمانے میں کشتی نوح کا ظہور دین ِ خداوندی کے لیے ایک عظیم تاریخی دلیل کی حیثیت رکھتا ہے، مگر عجیب بات ہے کہ اِس معاملے میں مسلمانوں کا کوئی حصہ نہیں۔ یہ واقعہ تمام تر مسیحی علما اور یہودی علما کی تحقیقات کے ذریعے انسانی علم میںآیا۔ کیوں کہ قرآن کے علاوہ، کشتی نوح کا ذکر بائبل (Old Testament) میں موجود تھا، اِس لیے وہ مسیحی علما اور یہودی علما کا موضوعِ تحقیق بن گیا۔ انھوںنے جدید ذرائع کو استعمال کرتے ہوئے اس کی تحقیق کی اور پھر اپنے نتائج ِتحقیق کو شائع کرکے اس کو عام کردیا۔
قرآن اور بائبل کے بیان کا فرق
یہاں یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ اِس معاملے میں بائبل کے بیان اور قرآن کے بیان میں ایک فرق پایا جاتا ہے۔ بائبل میں کشتی نوح (Noah's Ark) کا ذکر تفصیل سے آیا ہے، مگر ایک بات بائبل میں سرے سے موجود نہیں، اور وہ یہ پیشین گوئی ہے کہ کشتی نوح بعد کے زمانے میں ظاہر ہوگی اور وہ اللہ کی آیت (نشانی) بنے گی۔ کشتی نوح کے اِس پہلو کا ذکر قرآن میں ایک سے زیادہ بار آیا ہے، لیکن بائبل میں وہ سرے سے موجود نہیں۔
یہ اِس بات کا اشارہ تھا کہ قرآن کے مومنین بعد کے زمانے میں کشتی نوح کو تلاش کریں اور اس کو دریافت کرکے بعد کے لوگوں کے لیے اس کو حجت بنادیں۔ یہ کام وہ لوگ کرسکتے تھے جن کے اندر سائنسی تحقیق کا ذوق ہو، مگر موجودہ زمانے کے مسلمانوں کا حال یہ ہے کہ وہ سائنسی تحقیق کے ذوق سے مکمل طورپر خالی ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ اگر مسیحی اور یہودی علما اِس معاملے کی تحقیق نہ کرتے تو شاید تاریخِ نبوت کے اِس معاملے سے انسان ابھی تک بے خبر رہتا۔
کشتی نوح کا ظاہر ہونا کوئی سادہ بات نہیں۔ یہ قیامت سے پہلے قیامت کی آمد کا اعلان ہے۔ یہ اُس تاریخی واقعے کا اعلان ہے کہ خالق نے اپنے پیغمبروں کے ذریعے اپنی مرضی سے باخبر کیا، مگر انسان نے اِس کو نظر انداز کیا۔ یہ تخلیقِ خداوندی اور تاریخ انسانی کے درمیان فرق کو ختم کرنے کا اعلان ہے جس کو انسان نے قائم کررکھا تھا، یعنی خالق کے مقرر کردہ منصوبہ تخلیق کو نظر انداز کرکے زمین پر زندگی گزارنا۔
قیامت کا دن حقیقت کے کلّی ظہور کا دن ہے۔ اِس سے پہلے کشتی نوح (Noa’s Ark) کا ظہور حقیقت کے جزئی ظہور کا دن ہوگا۔ کشتی نوح کا ظہور علامتی طورپر بتائے گا کہ دنیا کے خالق نے انسان کے لیے جو نقشۂ حیات مقرر کیا تھا اور پیغمبروں کے ذریعے جس کا علم بھیجا تھا، انسان نے اس کو کامل طورپر نظر انداز کیا، حتی کہ اس کو اپنی تاریخ سے حذف کردیا۔ کشتی نوح کا ظہور اِس حذف شدہ تاریخ کو دوبارہ سامنے لانے کے ہم معنی ہوگا۔
یہی وہ وقت ہوگا جب کہ خدا کی محفوظ کتاب قرآن کو تمام انسانوں کے سامنے لایا جائے، کیوں کہ قرآن واحد کتاب ہے جس میں پیغمبروں کی تاریخ اور خدا کے منصوبۂ تخلیق کو واضح طورپر بتایا گیاہے۔ کشتی نوح کا ظہور تاریخ انسانی کے ایک گم شدہ باب کی دریافت ہوگا اور قرآن تاریخ کے اِس گم شدہ باب کا مستند بیان (authentic statement) ۔
کشتی نوح اور ترکی
جیسا کہ عرض کیا گیا، حضرت نوح کی کشتی عراق (میسوپوٹامیا) کے علاقہ سے روانہ ہوئی- وہ اپنے چاروں طرف مختلف مقامات کی طرف جاسکتی تھی، لیکن اس نے ایک خاص رخ پر اپنا سفر کیا- پھر وہ چلتی ہوئی ترکی کے مشرقی سرحد پر واقع ایک پہاڑ کے اوپر ٹھہر گئی-
ایسا کیوں ہوا- حضرت نوح کی کشتی کے لئے مختلف آپشن (option) موجود تھے، لیکن اس نے صرف ایک ہی آپشن لیا اور وہ ترکی کے پہاڑ کا آپشن تھا- ایسا بلا شبہہ خدا کی ہدایت پر ہوا- اِس معاملے کو اتفاقی واقعہ کے طورپر نہیں لے سکتے- ہمارے لئے لازم ہے کہ ہم اس کو خالق کے منصوبے کے تحت پیش آنے والا واقعہ سمجھیں-
—اس معاملے پر غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت نوح کی کشتی کے ذریعہ اللہ تعالیٰ کو جو رول مطلوب ہے، اس رول کے لئے زیادہ موزوںمقام اپنی بعض خصوصیات کی بنا پر، ترکی (Turkey) تھا-اللہ تعالیٰ کو یہ معلوم تھا کہ بعد کے زمانے میں ترکی ایک مسلم ملک بنے گا- اللہ تعالیٰ کو معلوم تھا کہ ترکی ایسا ملک ہے جو مشرقی دنیا اور مغربی دنیا کے درمیان جنکشن (junction) کی حیثیت رکھتا ہے-
اللہ تعالیٰ کو معلوم تھا کہ مختلف اسباب سے ترکی میں ساری دنیا کے سیاح کثرت سے آئیں گے- اسی کے ساتھ اللہ تعالیٰ کو یہ بھی معلوم تھا کہ مسلم ملکوں کی لمبی فہرست میں ترکی وہ واحد ملک ہوگا جو مذہبی کٹرپن (religious fanaticism) سے خالی ہوگا اور اس بنا پر وہ سب سے زیادہ موزوں ملک ہوگا جہاں سے کشتی نوح کا مطلوب رول ادا کیا جاسکے-
یہ مطلوب رول کیا ہے- وہ بلا شبہہ دعوت ہے، یعنی اللہ کے تخلیقی منصوبہ سے تمام مرد اور عورت باخبر ہوجائیں- اِس مقصد کے لئے کشتی نوح ایک تاریخی شہادت (historical evidence) کی حیثیت رکھتی ہے- وہ اُس خدائی منصوبہ کی ایک تاریخی یادگار ہے جس کا ظہور حضرت نوح کے ذریعہ ہوا- کشتی نوح براہِ راست طورپر حضرت نوح کی تاریخ کی مادی شہادت ہے اور بالواسطہ طورپر تمام نبیوں کی تاریخ کی مادی شہادت-
اللہ تعالیٰ کو مطلوب تھاکہ قیامت سے پہلے تمام انسانوں کے سامنے اس بات کا محسوس اعلان ہوجائے کہ انسان کے بارے میں اللہ کا منصوبۂ تخلیق کیا تھا- کشتینوح اس خدائی منصوبہ تخلیق (creation plan of God) کی ایک ناقابلِ انکار شہادت ہے- اور مختلف اسباب سے اِس شہادت کی ادائیگی کے لئے سب سے زیادہ موزوں مقام ترکی تھا-
ضرورت ہےکہ تمام دنیا کے مسلمان عموماً اور ترکی کے مسلمان خصوصاً اس خدائی منصوبے کو سمجھیں اور اس منصوبے کی تکمیل کے لئے وہ سارا اہتمام کریں جو اس کے لئے ضروری ہو- مثال کے طورپر وہ کشتی نوح کے مقام کو ایک اعلیٰ درجہ کے ٹورسٹ اسپاٹ (Tourist Spot) کے طورپر ڈولپ (develop) کریں- وہ وہاں آمد ورفت کی تمام سہولتیں مہیا کریں- پھر وہاںاعلیٰ معیار پر وہ یہ انتظام کریں کہ وہاں تربیت یافتہ افراد موجود ہوں، لائبریری موجود ہو- وہاں قرآن کا ترجمہ مختلف زبانوں میں برائے ڈسٹری بیوشن یا برائے فروخت موجود ہو- وہاں اِس بات کا اعلیٰ انتظام کیا جائے کہ کشتی نوح کے حوالے سے پیغمبرانہ مشن لوگوں کے سامنے اطمینان بخش صورت میں آسکے- گویا کہ کشتی نوح کے ظہور کا یہ مقام صرف ایک کشتی کے ظہور کا مقام نہ رہے، بلکہ وہ پورے معنوں میں جدید ترین معیار کا ایک دعوتی سنٹر بن جائے-
خدا کے تخلیقی منصوبے کے مطابق، ہماری زمین کے لئے دو سیلاب مقدر تھا —— ایک، حضرت نوح کے زمانے کا سیلاب اور دوسرا، وہ جو تاریخ بشری کے خاتمے پر پیش آئے گا- کشتی نوح پہلے سیلاب کے لئے تاریخی یادگار کی حیثیت رکھتی ہے، اور دوسرے سیلاب کے لئے اس کی حیثیت تاریخی ریمائنڈر (historical reminder) کی ہے-
اکیسویں صدی عیسوی کے ربعِ اول میں کشتی نوح (دابہ) کا ظہور گویا اِس بات کی وارننگ ہے کہ لوگو، تیاری کرو، کیوں کہ آخری طوفان کا وقت قریب آگیا ہے-
خوش قسمت ہیں وہ لوگ جو اِس خدائی منصوبے کو سمجھیں اوراس کی تکمیل کرکے اللہ کے یہاں اجرِ عظیم کے مستحق بنیں- حقیقت یہ ہے کہ ہزاروں سال تک برف کے تودے میں دبے رہنے کے بعد کشتی نوح کا ظاہر ہونا صورِ اسرافیل سے پہلے کے دور کا سب سے بڑا واقعہ ہے- اِس کے بعد اگلا واقعہ صرف صورِ اسرافیل ہوگا جو گویا اِس بات کا آخری اعلان ہوگا کہ عمل کرنے کا وقت ختم ہوچکا اور عمل کا انجام پانے کا دور آگیا-
عالمی دعوت کی پیشین گوئی
ایک روایت کےمطابق، پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لایبقى على ظہر الأرض بیت مدر ولا وبرإلا أدخلہ اللہ کلمةَ الإسلام، بعزّ عزیز أو ذلّ ذلیل (مسند احمد،رقم الحدیث: 24215) یعنی زمین کے اوپر کوئی گھر یا خیمہ نہیں بچے گا، مگر اللہ وہاں اسلام کا کلمہ داخل کردے گا، عزت والے کو عزت کے ساتھ اور ذلت والے کو ذلت کے ساتھ:
The day will come when the word of God will enter in every home, big or small of the globe, willingly or unwillingly.
اِس حدیث میںیہ پیشین گوئی کی گئی ہے کہ مستقبل میں ایک ایسا وقت آئے گا جب کہ یہ ممکن ہوجائے کہ خدا کا کلمہ (word of God) زمین پر بسنے والے تمام انسانوں تک پہنچ جائے- عالمی دعوت کا یہ واقعہ کوئی پُراسرار واقعہ نہیں ہے- فطرت کے قانون کے مطابق، یہ واقعہ انسانوں کے ذریعہ معروف وسائل کے تحت انجام پائے گا، نہ کہ فرشتوں کے ذریعے یا کسی طلسماتی طریقے کے ذریعے-
اللہ کو جب کوئی کام مطلوب ہوتا ہے تو اُس کی طرف سے موافق حالات فراہم کئے جاتے ہیں، مگر کوئی اعلان نہیں کیا جاتا - یہ انسان کی ذمے داری ہوتی ہے کہ وہ اپنی عقل کو استعمال کرکے فطرت کے اشارے کو سمجھے اور اس کو مطلوب مقصد کے لیے استعمال کرے- اس کی ایک مثال بارش کا معاملہ ہے- بارش اللہ کی طرف سے ہوتی ہے، لیکن یہ کسان کا کام ہے کہ وہ بارش کے خاموش پیغام کو سنے اور اس کو زراعت کے لیے استعمال کرے-
یہی معاملہ دعوت کا ہے- موجودہ زمانہ بالکل نیا زمانہ ہے- اِس زمانے میں بہت سی ایسی چیزیں وجود میں آئی ہیں جو انتہائی حد تک دعوت الی اللہ کے لیے موافق ہیں- مثلاً مذہبی آزادی، پرنٹنگ پریس، سیاحت اور دوسرے مقاصد کے تحت انسانوں کی عالمی حمل ونقل، جدید کمیونکیشن، پرنٹ میڈیا اور الکٹرانک میڈیا کے ذرائع، اسفار کی سہولتیں، وغیرہ-
اِس قسم کے واقعات خاموش زبان میں اعلان کررہے ہیں کہ اللہ کے ماننے والو، اٹھو، حدیث میں جس عالمی دعوت کی پیشین گوئی کی گئی تھی، اس کے مواقع آخری حد تک کھل چکے ہیں- اِن مواقع کو استعمال کرو- اِن مواقع کو استعمال کرتے ہوئے اللہ کے پیغام کو تمام انسانوں تک پہنچادو، تاکہ زمین پر بسنے والا کوئی بھی مرد یا عورت اللہ کے تخلیقی منصوبہ (creation plan) سے بے خبر نہ رہے-
قدیم زمانے میں کوئی بڑا کام حکومت کی حمایت کے بغیر نہیں ہوسکتا تھا، کیوں کہ تمام مواقع حکومت کے قبضے میں ہوتے تھے- موجودہ زمانے میں یہ ہوا ہے کہ مواقع (opportunities) کو سیاسی اقتدار سے الگ کردیاگیا ہے-
قدیم زمانہ اگر حکومت کا زمانہ تھا تو موجودہ زمانہ اداروں (institutions) اور آرگنائزیشن (organizations) کا زمانہ ہے- اب اداروں اور تنظیموں کے ذریعے زیادہ بڑے پیمانے پر وہ سب کیا جاسکتا ہے جو حکومت کے ذریعےصرف جزئی طورپر متوقّع ہوتا تھا- اِسی طرح آج یہ ممکن ہوگیا ہے کہ قدیم پولٹکل ایمپائر سے بھی زیادہ بڑے پیمانے پر دعوہ ایمپائر قائم کیاجائے-قدیم حالات میں پولٹکل ایمپائر صرف محدود جغرافی علاقہ میں قائم ہوسکتا تھا- جدید حالات میں ای ایمپائر (e-empire) کسی رکاوٹ کے بغیر پورے کرہ ارض کی سطح پر قائم کیا جاسکتا ہے- یہ عالمی امکانات بلاشبہہ صرف دعوت الی اللہ کے لئے پیدا کئے گئے ہیں-
امت محمدی کا مشن
امت محمدی کا مشن کیا ہے۔ وہ صرف ایک ہے، اور وہ ہے — پیغام محمدی کو ہر زمانہ میں اور ہرقوم میں پہنچاتے رہنا۔ نسل درنسل اس کو جاری رکھنا، یہاں تک کہ قیامت آجائے۔یہی امتِ محمدی کا واحد مشن ہے۔ یہی امت محمدی کا اصل فریضہ ہے۔
امتِ محمدی کی دنیا وآخرت کی سعادت اسی دعوتی مشن کی انجام دہی پر منحصر ہے۔اِس کے سوا کوئی اور کام ان کو فلاح و سعادت سے ہم کنار کرنے والا نہیں، نہ موجودہ دنیا میں اور نہ آخرت کی دنیا میں۔
حضرت نوح کی اہمیت
قرآن میں بتایا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت نوح کی کشتی کو آیت (sign) کا درجہ دے دیا: ولقد ترکناہا اٰیةً فہل من مدکر(15: 54) یعنی ہم نے کشتی کو ایک نشانی کے طورپر باقی رکھا، تو کیا ہے کوئی نصیحت لینے والا-
اِس تذکیری مقصد کے اعتبار سے حضرت نوح کا انتخاب سب سے زیادہ موزوں انتخاب ہے- حضرت نوح قبل تاریخ دور میں پیدا ہوئے، اِس لئے ہزاروں سال تک یہ سمجھا جاتا رہا کہ خالص تاریخی اعتبار سے حضرت نوح کاکوئی وجود نہیں-
ایسی حالت میں بائبل اور قرآن میں حضرت نوح اور ان کی کشتی کا ذکر کوئی سادہ بات نہ تھی- اِس کی حیثیت نامعلوم تاریخ کے بارے میں ایک پیشین گوئی (prediction) کی تھی-
اِس اعتبار سے دیکھئے تو کشتی اور طوفانِ نوح کا بطور ایک تاریخی واقعہ دریافت ہونا بے حد اہم ہے- وہ ثابت کرتا ہے کہ انسانی زندگی کی نوعیت کے بارے میں قرآن کا بیان بالکل درست ہے- پیغمبروں نے جس آخرت اور اس کے محاسبہ کی خبر دی تھی، وہ بالکل صحیح خبر تھی- دابہ کا ظہور گویا اِسی حقیقت کا ایک خاموش اعلان ہے-
اب آخری وقت آگیا ہے کہ انسان بیدار ہو- وہ دابہ کی خاموش آواز کو سنے، وہ قرآن کا دوبارہ مطالعہ کرے- وہ خدا کے تخلیقی نقشہ(creation plan of God) کو سامنے رکھ کر اپنے عمل کی منصوبہ بندی کرے- شواہد بتاتے ہیں کہ انسانی تاریخ بظاہر اپنے خاتمہ کے دور میں پہنچ چکی ہے-
اب اپنی اصلاح کے لیے انسان کے پاس بہت کم وقت باقی رہ گیا ہے- لوگوں کے لیے فرض کے درجے میں ضروری ہوگیا ہے کہ وہ اُس وقت کی تیاری کریں جس کے لیے قرآن میں یہ الفاظ آئے ہیں: فإذا جاء أجلہم لا یستأخرون ساعةً ولا یستقدمون (34: 7) یعنی جب اُن کا وقت آجائے گا تو وہ نہ ایک گھڑی پیچھے ہٹ سکیں گے اور نہ آگے بڑھ سکیں گے-
آخرت کا اعلان
خدا نے موجودہ زمین (planet earth) کو انسان کے عارضی قیام کے لئے بنایا ہے- اس کی ایک مدت مقرر ہے-زمین کا لائف سپورٹ سسٹم (life support system) بھی اِسی محدود مدت کے اعتبار سے بنایا گیاہے-
خدا کے علم کے مطابق، جب یہ محدود مدت پوری ہوگی تو اس کے فوراً بعد صور پھونک دیا جائے گاجو اِس بات کا اعلان ہوگا کہ انسانی تاریخ کا پہلا دور ختم ہوچکا، اب وہ وقت آگیا ہے، جب کہ انسان کے لئے دوسرے دورِ تاریخ کا آغاز کردیا جائے-
منصوبہ خداوندی کے مطابق، اس کے بعد اِس دنیا کو توڑ کر ایک اور زیادہ بہتر دنیا بنائی جائے گی- اِس دوسری دنیا میں صرف وہ لوگ جگہ پائیں گے جو موجودہ دنیا میں اپنے آپ کو اس کا مستحق امیدوار (deserving candidate) ثابت کرچکے ـتھے-
خدا کو یہ مطلوب ہے کہ صور پھونکے جانے سے پہلے کچھ ایسی نشانیاں ظاہر ہوں جو پیشگی طور پر انسان کو یہ خبر دیں کہ موجودہ دنیا ختم ہونے والی ہے اور دوسری دنیا شروع ہونے والی ہے- تم اپنی غلطیوں کی اصلاح کرلو اور اگلی دنیا میں داخل ہونے کے لئے تیار ہوجاؤ-
اس مقصد کے لئے خدا نے پیشگی طورپر الارم (alarm) دینے کا جو انتظام کیا ہے، اس کو ویک اَپ کال (wake-up call) کہہ سکتے ہیں-اِس الارم یا ویک اَپ کال کی دو خاص نشانیاں ہیں — ایک، فطرت میں ، اور دوسری تاریخ میں- حالات بتاتے ہیں کہ دونوں قسم کے الارم بج چکے- اگرچہ اس کو سننا صرف اُن لوگوں کے لئے ممکن ہے جو خاموش آواز کو سننے کی صلاحیت رکھتے ہوں-
فطرت کے الارم کی ایک نمایاں مثال یہ ہے کہ ہماری زمین میں زندگی کے جو وسائل (resources) رکھے گئے تھے، وہ نہایت تیزی سے ختم ہورہے ہیں- یہ کہنا صحیح ہوگا کہ یہ وسائل اب بظاہر خاتمہ کی آخری حد پر پہنچ چکے ہیں- یہ بات قرآن میں پیشگی طور پربتادی گئی تھی کہ دنیا میں جو وسائلِ حیات ہیں، وہ محدود ہیں، نہ کہ لامحدود (15:21)-
موجود زمانے میں جس طرح ہر چیز تحقیق (research) کاموضوع بنی ہوئی ہے، اسی طرح فطرت کے وسائل (natural resurces) پر بھی بڑے پیمانے پر رسرچ ہورہی ہے- اس سلسلے میں کافی میٹریل چھپ کر سامنے آچکا ہے- یہاں ہم اِس نوعیت کی چند کتابوں کا حوالہ درج کرتے ہیں:
1. The Limits to Growth by Donella H. Meadows, Dennis L. Meadows, Jorgen Randers Universe Books, 1972, pp. 205, Printed in the USA
2. The End of Nature by Bill Mc Kibben, Anchor, 1989, pp. 195, printed in the USA
3. Beyond the Limits Donella Meadows, Dennis Meadows, Jorrgen Randers, Chelsea Green, 1992, Pages 320, Printed in the USA
مذکورہ بالا کتابیں اوراس طرح کی دوسری کتابیں بتاتی ہے کہ فطرت (nature) کے وسائل ابتدا ہی سے محدود ہیں- انسان نے، خاص طورپر موجودہ ترقی کے زمانے میں، ان وسائل کا لامحدود استعمال کیا، جس کا تحمل ہماری محدود دنیا نہیں کرسکتی تھی- اب یہ وسائل اتنا زیادہ کم ہوچکے ہیں کہ ہر طرف سسٹینیبل ڈیولپمینٹ (sustainable development) کی باتیں ہو رہی ہیں- مگر حقیقت یہ ہے کہ یہ سسٹینیبل ڈولپمنٹ کا معاملہ نہیں ہے، بلکہ یہ وسائل کے خاتمہ کا معاملہ ہے-
وسائل کا یہ خاتمہ اتنا زیادہ حتمی بن چکا ہے کہ بعض سائنس دانوں مثلاً اسٹیفن ہاکنگ (Stephen Hawking) نے یہ تجویز کیاہے کہ انسانی نسل کو اگر باقی رکھنا ہے تو ہم کو خلائی بستیاں (space colonies) بنانا چاہیے- مگر ظاہر ہے کہ یہ صرف ایک سائنٹفک جوک (scientific joke) ہے، نہ کہ حقیقی معنوں میں کوئی قابلِ عمل تجویز-
قیامت کے الارم کا دوسرا پہلو وہ ہے جس کو تاریخی پہلو کہا جاسکتا ہے- اس تاریخی پہلو کی غالباً سب سے زیادہ نمایاں مثال نوح کی کشتی (Ark of Noah) کا ظہور ہے- کشتی نوح کے ظہور کا معاملہ کوئی سادہ معاملہ نہیں ہے- وہ تاریخی شہادت (historical evidence) کی زبان میں پیغمبرانہ مشن کا ایک علامتی بیان ہے-
کشتی نوح یا دابّہ گویا زبانِ حال سے یہ کہہ رہے ہیں کہ حضرت نوح اور اسی طرح خداکے دوسرے بہت سے پیغمبر دنیا میں آئے، لیکن انسان نے ان کو اتنا زیادہ نظر انداز کیا کہ اپنی مدوّن تاریخ (recoded history) میں ان کا اندراج تک نہیں کیا-
یہ کشتی نوح یا دابّہ اُس تاریخ کو بیان کررہے ہیں جب کہ پیغمبر نے اپنے زمانے کے انسانوں کو آگاہ کیا کہ اگر انھوں نے پیغمبر کی بات نہیں مانی تو وہ خدا کی پکڑ میں آجائیں گے، اور اب یہ واقعہ عملاً پیش آگیا-حقیقت یہ ہےکہ کشتی نوح یا دابّہ خدا کے تخلیقی منصوبہ (creation plan) کا علامتی اظہار ہیں- وہ خداکے تخلیقی منصوبے کے بارے میں ایک زندہ شہادت (living evidence) کی حیثیت رکھتے ہیں-
محاسبہٴ آخرت کا اعلان
قرآن ساتویں صدی عیسوی کے ربع اول میں اترا- اُس وقت کشتی نوح کا ماضی بھی لامعلوم تھا اور اس کا مستقبل بھی لامعلوم- نزولِ قرآن کی ہزار سال سے بھی زیادہ مدت گزرنے کے بعد کشتی نوح کے ماضی کے بارے میں قرآن کا بیان کامل طورپر درست ثابت ہوا-
اِسی طرح یقینی ہے کہ کشتی نوح کے مستقبل کے بارے میں قرآن کا بیان کامل طورپر درست ثابت ہوگا- ماضی کے بارے میں قرآن کے بیان کا درست ثابت ہونا اپنے آپ میں اِس بات کا ثبوت ہے کہ مستقبل کے بارےمیں بھی اُس کا بیان درست ثابت ہو- ایک پہلو سے قرآن کی اعتباریت (credibility) ثابت ہونے کے بعد دوسرے پہلو سے قرآن کی اعتباریت اپنے آپ درست ثابت ہوجاتی ہے-
حقیقت یہ ہے کہ کشتی نوح کا ظہور علامتی طورپر ایک پوری تاریخ کا ظہور ہے، یہ خدا کے تخلیقی منصوبہ اور اس کے مطابق پیغمبرانہ مشن کی صداقت کا مستند اعلان ہے- کشی نوح کا ظہور انسان کو یہ پیغام دیتا ہے کہ — اے لوگو، محاسبہ کا وقت بہت قریب آچکا- خدا کے سامنے پیش ہونے کی تیاری کرو، اِس سے پہلے کہ تم کو خدا کے سامنے جواب دہی کے لیے کھڑا کردیا جائے-
کشتی نوح کا ظہور سادہ طورپر صرف آرکیالوجی (archaeology) کا ایک آئٹم نہیں ہے، وہ خدا کے تخلیقی پلان کا ایک ناگزیر حصہ ہے- کشتی نوح علامتی طورپر بتاتی ہے کہ پیدا کرنے والے نے انسان کو کس مقصد کے تحت پیدا کیا ہے، اور اِس مقصد کے تحت آخر کار اس کے مستقبل کے بارے میں کیا فیصلہ ہونے والا ہے-
خلاصہٴ کلام
انسان کی تاریخ حضرت آدم سے شروع ہوتی ہے- اِس کے بعد ایک لمبا دور ہے جب کہ خدا کے منتخب بندے اٹھے- انھوں نے پیغمبر کی حیثیت سے لوگوں کو بتایا کہ تخلیق کے بارے میں خالق کا نقشہ کیا ہے- انسان کا خالق انسان سے کیا چاہتا ہے اورآخر کار انسان کا انجام کیا ہونے والا ہے- دعوت یا اعلان کا یہ کام لمبی مدت تک جاری رہا-
اِس کے بعد دوسرا دور وہ ہے جس کو انتباہ (alarm) کا دورکہا جاسکتا ہے، یعنی آنے والے وقت سے  پیشگی طورپر لوگوں کو باخبر کرنا- انتباہ کا یہ کام کشتی نوح کے ظہور ِ ثانی یا دابہ کے حوالے سے انجام پانا تھا- بظاہر انتباہ کا یہ کام ہوچکا اور اب وہ وقت زیادہ دور نہیں جب کہ قبل از قیامت دور ختم ہو اور انسانی تاریخ اپنے خاتمہ (end) تک پہنچ جائے-
اِس کے بعد تیسرا دور شروع ہوگا جس کا آغاز صورِ اسرافیل سے ہوگا- اسلامی عقیدے کی رُو سے جب وہ وقت آجائے گا کہ اللہ کے علم کے مطابق، عمل کی مہلت ختم ہو گئی اور انجام کا دور آگیا، اُس وقت فرشتہ اسرافیل صور پھونکے گا اور پھر اچانک انسانی زندگی کا آخری اور ابدی دور شروع ہوجائے گا جس کی خبر تمام پیغمبروںنے دی تھی-
واپس اوپر جائیں