Pages

Saturday, 1 November 2014

Al Risala | November 2014 (الرسالہ،نومبر)

2

-اِزدیادِ ایمان

3

- کشمیر بیداری

7

- تسخیری عبادت، عارفانہ عبادت

8

- جنت اور انسان

9

- ایک حدیث

10

- وِلاء — بَراء

11

- سبیل ُ اللہ سے انحراف

13

- جہاد وقتال

14

- قرآن سے تعلق

15

- دنیا، آخرت

16

- عمر بن عبد العزیز

17

- دعوت کا ایک موقع

18

- مغرب کا ایجنڈا

20

- دورِ جدید کا مسئلہ

23

- صحبت ِ رسول

25

- فقدانِ شخصیت، فقدانِ معرفت

28

- پیغمبرانہ ماڈل، تاریخی ماڈل

30

- امن پر مبنی ایمپائر

31

- مساوات

33

- صبر کیا ہے

34

- کامل انسان

35

- مسلمانوں کے قومی تقاضے

36

- دعوت الی اللہ

37

- مذہبی انتہا پسندی

39

- سارا جہاں ہمارا

40

- پروموشن کی خبر

41

- ذہنی ارتقا

42

- تلوار بطور تمثیل

43

- شکایت بے جا

44

- خبرنامہ اسلامی مرکز


اِزدیادِ ایمان

ایمان پتھر کی طرح کوئی جامد چیز نہیں- ایمان ایک زندہ حقیقت ہے- ایمان میں مسلسل اضافہ ہوتا رہتا ہے- اِس حقیقت کو قرآن میں ازدیادِ ایمان ( 48:4) کہاگیا ہے- یعنی ایمان کا مسلسل بڑھتے رہنا- یہ اضافۂ ایمان، تدبر کے ذریعہ ہوتا ہے- مومن قرآن میں اور خدا کی نشانیوں میں برابر غور کرتاہے، اِس طرح اُس کو نئے نئے پہلوؤں کی دریافت ہوتی رہتی ہے- اِن دریافتوں کے ذریعہ اُس کے ایمان ویقین میں مسلسل اضافہ ہوتا رہتا ہے-
اِس کی ایک مثال سورج گرہن اور چاند گرہن کا معاملہ ہے- ہزاروں سال پہلے کے زمانے میں جب ایک انسان اِس ظاہرہ کو اپنی آنکھوں سے دیکھتا تھا تو اُس وقت بھی یہ ظاہرہ اس کے ایمان میں اضافہ کا سبب بنتا تھا- وہ سوچتا تھا کہ اللہ کتنا زیادہ قدرت والا ہے- وہ روشن اجسام (سورج، چاند) پر اندھیرے کا پردہ ڈال دیتا ہے- اور پھر اندھیرے کا پردہ ہٹا کر، اُس کو دوبارہ روشن کردیتا ہے- یہ بھی اضافۂ ایمان کا واقعہ ہے- یہ واقعہ بھی صاحب ایمان کے لیے یقینی طورپر اضافۂ ایمان کا ذریعہ بنا ہوا تھا-موجودہ زمانے میں دور بین (telescope) کی ایجاد نے اضافۂ ایمان کے معاملے کو بہت زیادہ بڑھا دیا- آج جب دور بین کی مدد سے سورج گرہن اور چاند گرہن کا مطالعہ کیاگیا، تو معلوم ہوا کہ یہ ظاہرہ اللہ کی عظیم قدرت کا انوکھا نشان ہے- اب دور بینی مشاہدے کے ذریعہ معلوم ہوا کہ یہ گرہن اُس وقت ہوتا ہے، جب تین مختلف سائز کے متحرک اجسام وسیع خلا میں، ایک بے حدمتناسب دوری کے ساتھ ایک وقتِ خاص میں ایک سیدھ میں آجائیں:
Alignment of three moving bodies of different sizes at a particular point in time, in the vast space.
ازدیادِ ایمان کی نعمت اُس انسان کو حاصل ہوتی ہے، جس کے اندر مسلسل تدبر کے ذریعہ تخلیقی فکر (creative thinking) پیدا ہوگئی ہو-
واپس اوپر جائیں

کشمیر بیداری

ستمبر 2014 میں کشمیرمیں ایک تباہ کن سیلاب آیا- ایسے تباہ کن سیلاب کی مثال کشمیر کی سوسال کی تاریخ میں نہیں ملتی- اس تباہی کا سب سے اہم پہلو یہ ہے کہ وہ ایک فطری آفت (natural calamity) تھی، یعنی وہ انسان کی طرف سے نہ تھی، بلکہ وہ براہِ راست خدا کی طرف سے تھی- ایسی حالت میں کشمیریوں کو چاہئے کہ وہ اس معاملے کی حقیقت کو سمجھنے کے لیے خدا کی کتاب قرآن کا مطالعہ کریں-
حقیقت یہ ہے کہ کشمیر کا سیلاب سادہ طور پر ایک سیلاب نہ تھا، بلکہ وہ ایک خدائی انتباہ (Divine warning) تھا- وہ براہِ راست خدا کی طرف سے ایک پیغام تھا- کشمیریوں کو چاہیے کہ وہ اس واقعے کو اسی حیثیت سے دیکھیں- وہ کشمیر کے سیلاب کو خدا کی طرف سے بھیجا ہوا ایک اصلاحی پیغام قرار دیں-
قرآن میں ایک آیت ان الفاظ میں آئی ہے: لَقَدْ اَنْزَلْنَآ اِلَیْکُمْ کِتٰبًا فِیْہِ ذِکْرُکُمْ ۭ اَفَلَا تَعْقِلُوْنَ(21:10)- یعنی ہم نے تمھاری طرف ایک کتاب اتاری ہے جس میں تمھارے لیے نصیحت ہے- کیا تم سمجھتے نہیں- اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ اہلِ ایمان کو چاہئے کہ وہ ہر موقعے پر قرآن کی آیتوں پر غور کریں- وہ ہر سوال کا جواب قرآن میں دریافت کریں- یہی عمل کشمیریوں کو موجودہ حالت میں کرنا چاہئے- یعنی قرآن میں غور کرکے اپنے لیے لائحہ عمل دریافت کرنا، ا ور اس کے مطابق اپنے عمل کا منصوبہ بنانا-
اس حیثیت سے قرآن کا مطالعہ کیجئے تو اس معاملے کی ایک نظیر حضرت یونس علیہ السلام کی زندگی میں ملتی ہے- حضرت یونس آٹھویں صدی قبل مسیح میں پیغمبر کی حیثیت سے نینویٰ (عراق) میں آئے- آپ نے یہاں کے لوگوں کو خدائے واحد کی طرف بلایا- ابتدائی طورپر قوم نے آپ کے پیغام کو نہیں مانا-
قرآن کے الفاظ میں حضرت یونس غضبناک ( 21:87) ہو کر نینویٰ سے باہر چلے گئے- اس کے بعد ایسے حالات پیش آئے کہ ایک سمندری مچھلی نے حضرت یونس کو نگل لیا- وہ تقریباً چالیس دن تک مچھلی کے پیٹ میں رہے- پھر انھوں نے توبہ کی، اللہ نے ان کی توبہ قبول کی، اور ان کو مچھلی کے پیٹ سے باہر نکال دیا( 37:145)- اس کے بعد حضرت یونس اپنی قوم میں واپس آئے، اور دوبارہ قوم کو اللہ کا پیغام پہنچایا- دوسری بار کی کوشش کامیاب ہوئی، اور پوری قوم نے حضرت یونس کے پیغام کو قبول کرلیا-
حضرت یونس کا مچھلی کے پیٹ میں جانا، بلا شبہہ ایک فطری آفت (natural calamity) تھی، اور کشمیریوں کے ساتھ ستمبر 2014 میں جو کچھ پیش آیا، وہ بھی بلا شبہہ ایک فطری آفت (natural calamity) تھی- اس مشابہت سے معلوم ہوتاہے کہ کشمیریوں کے لیے حضرت یونس علیہ السلام کے واقعے میں سبق ہے- کشمیر کے لوگوں کو حضرت یونس کے واقعے پر غور کرنا چاہئے، اور اس کی روشنی میں اپنے لیے عمل کا نیا منصوبہ بنانا چاہئے-
کشمیر کے معاملے پر اس حیثیت سے غور کیجئے تو معلوم ہوتا ہے کہ حضرت یونس کی مثال براہِ راست طور پر کشمیریوں کے اوپر چسپاں ہوتی ہے- اور جیسا کہ قرآن سے معلوم ہوتا ہے، قرآن میں مذکور ہر پیغمبر کا نمونہ مسلمانوں کے لیے یکساں طورپر قابلِ اتباع ہے (6:90)-
حضرت یونس کے معاملے کی حقیقت یہ تھی کہ اہلِ نینویٰ کے لیے حضرت یونس کی دعوتی کوشش ابھی اللہ کے نزدیک تکمیل کی حد تک نہیں پہنچی تھی، مگر حضرت یونس نے ایسا کیا کہ اللہ کی طرف سے حکم ملنے سے پہلے نینویٰ سے ہجرت کرکے باہر چلے گئے- یہی وجہ تھی جس کی بنا پر ان کے  ساتھ مذکورہ واقعہ پیش آیا-
اہلِ ایمان کی یہ منصبی ذمہ داری ہے کہ وہ تمام قوموں تک اللہ کا دین پہنچائیں- دعوت ایک پرامن جدوجہد ہے، جس کو خیر خواہی کے جذبے کے تحت اہلِ ایمان کو انجام دینا ہے- کشمیر کے مسلمانوں نے اپنی اس ذمہ داری کو ادا نہیں کیا- 1947 کے بعد جب کشمیر میں نیا دور آیا تو کشمیر کے مسلمانوں نے پر امن دعوتی جدوجہد کے بجائے پُر شور سیاسی جدوجہد (political activism) شروع کردیا- کشمیریوں کی یہی وہ غلطی ہے جس کی بنا پر خدا نے ستمبر 2014 کی فطری آفت (natural calamity) ان کے اوپر بھیج دی- یہ فطری آفت بلاشبہہ کشمیریوں کے لیے ایک خدائی انتباہ (divine warning) تھی-
حضرت یونس سے دعوت کی ذمہ داری میں جزئی کمی واقع ہوئی تھی، اس کے نتیجے میں وہ سمندری طوفان کا شکار ہوگئے- کشمیریوں نے اپنی دعوتی ذمہ داری کے معاملے میں کامل غفلت کا ارتکاب کیا ہے، ایسی حالت میں ان کے لئے خدا کی پکڑ سے بچنا ممکن نہ تھا-
کشمیر میں دعوت کے بہت زیادہ مواقع ہیں- کشمیریوں کی غلطی یہ ہے کہ انھوں نے دعوت کے ان مواقع کو استعمال نہیں کیا- اب وقت آگیا ہے کہ وہ اجتماعی توبہ ( 24:31) کریں-کشمیر کے مسلمانوں کو چاہئے کہ وہ اپنی سیاسی سرگرمیوں کو ختم کردیں، اور پرامن دعوت کے کام کے لیے سرگرم ہوجائیں- یہی وہ واحدعمل ہے جو خدا کی رحمت کو دوبارہ کشمیر کے مسلمانوں کی طرف واپس لاسکتا ہے-کشمیر کے مسلمان اگر ایسا نہ کریں تو کوئی دوسری سرگرمی ہر گز ان کو اللہ کی رحمت کا مستحق بنانے والی نہیں-
دعوت الی اللہ ایک لازمی فریضہ ہے، دعوت الی اللہ ہر مسلمان کا اصل منصبی مشن ہے- دعوت الی اللہ یعنی اللہ کا پیغام تمام لوگوں تک پہنچانا، ایک ایسا کام ہے جس کی ادائیگی ہر حال میں مطلوب ہے- مسلمان اگر دعوت الی اللہ کا کام نہ کریں تو وہ اللہ کی پکڑ سے بچنے والے نہیں-
کشمیری مسلمانوں کے لیے خاص طور پر اس کی اہمیت اور زیادہ ہے- کشمیرکی امتیازی خصوصیات کی بنا پر لوگ بڑی تعداد میں اس ریاست میں باہر سے برابر آتے رہتے ہیں- یہ آنے والے لوگ بظاہر سیاح یا یاتری، وغیرہ ہوتے ہیں، لیکن اگر انسانی فطرت کے اعتبار سے دیکھئے تو ان میں سے ہر شخص متلاشی (seeker)ہوتا ہے- ان میں سے ہر شخص خاموش زبان میںکہہ رہا ہوتا ہے کہ اے کشمیریو، ہم تمھارے یہاں آئے ہیں تاکہ تم ہم کو وہ سچائی دو جو اللہ کی بھیجی ہوئی ہدایت کی صورت میں تمھارے پاس موجود ہے- اس طرح کشمیر عملاً ایک مدعو لینڈ بن گیا ہے-
مذکورہ پہلوؤں نے کشمیر کو مسلم دنیا میں ایک امتیازی خطے کی حیثیت دے دی ہے- کشمیر میں خدا کے خاص منصوبے کے تحت بے شمار دعوتی اسباب جمع ہوگئے ہیں- دنیا کشمیر کو جنت نظیر (Paradise on Earth) کہتی ہے، انڈیا اس کو اپنا تاج (Crown) بتاتا ہے- مگر حقیقت یہ ہے کہ کشمیر خدا کی جنت کے تعارف کا ایک خصوصی مقام ہے-
عظیم دعوتی مواقع کے پس منظر میں یہ کہنا یقیناً درست ہوگا کہ اس دور میں کشمیر کو اللہ کی طرف سے بلا تمثیل وہ رول ملا ہے، جو دور اول میں مدینہ کو ملا تھا- اس دعوتی امکان (Dawah opportunity) کو استعمال نہ کرنا بلا شبہہ ایک مجرمانہ فعل ہوگا-
اللہ نے کشمیریوں کے لیے دعوت کا عظیم رول مقدر کردیا ہے جس وقت وہ اپنے حقیقی رول کو دریافت کریں گے، اور وہ اس کے لیے اٹھ کھڑے ہوں گے تو وہ وقت کی ایک بریکنگ نیوز (breaking news) ہوگی- عین ممکن ہے کہ کشمیریوں کا یہ عمل موجودہ زمانے میں اسلام اور مسلمانوں کی ایک نئی تاریخ کا آغاز بن جائے-
واپس اوپر جائیں

تسخیری عبادت، عارفانہ عبادت

عبادت الہٰی پوری کائنات کا دین ہے، انسان کا بھی اور دوسری موجودات کا بھی-فرق یہ ہے کہ دوسری موجودات سے تسخیری عبادت مطلوب ہے، یعنی جبری عبادت (compulsory ibadat)، اور انسان سے اختیارانہ عبادت (Ibadat by choice)- اسی اختیارانہ عبادت کو قرآن میں، امانت (33:72) کہاگیا ہے-
مجبورانہ عبادت پر کوئی انعام (reward) نہیں- لیکن اختیارانہ عبادت کا معاملہ، اِس سے  مختلف ہے- اختیارانہ عبادت، ایک ذمہ داری کا معاملہ ہے- اختیارانہ عبادت کے ساتھ، سزا اور انعام دونوں جڑے ہوئے ہیں- اختیارانہ عبادت میں اگر آدمی ناکام ہوجائے، تو اُس کی سخت پکڑ ہوگی- اِس کے برعکس، اختیارانہ عبادت میں جو کامیاب رہے، اُس کے لیے بڑے بڑے انعامات ہیں۔
انسان کو اِس دنیا میں جو اختیار دیاگیا ہے، وہ پوری کائنات کی سب سے بڑی نعمت ہے- اختیار خداوند رب العالمین کی صفت ہے- انسان کو اِس خداوندی صفت کا ایک شمّہ عطا کیا گیا ہے- یہ ایک معلوم حقیقت ہے کہ ہر عطیہ کے ساتھ، ذمہ داری جڑی ہوئی ہوتی ہے- انسان کو جب اختیار کا عظیم عطیہ دیاگیا، تو اُس کے ساتھ ہی یہ لازم ہوگیا کہ یہ دیکھا جائے کہ انسان، اِس عظیم نعمت کا درست استعمال کرتا ہے یا غلط استعمال- اِسی کے ساتھ یہ بھی لازم ہوگیا کہ اختیار یا آزادی کے صحیح استعمال پر انسان کو اعلی انعام دیاجائے، اور اِسی کے ساتھ اختیار اور آزادی کے غلط استعمال پر اُس کو اُس کے مطابق سزا دی جائے-
کائنات کی تمام چیزیں، اللہ کی تسخیری عبادت کررہی ہیں- انسان کی یہ صفت ہے کہ وہ اللہ کی عارفانہ عبادت کرتاہے- وہ اپنے عقل کو استعمال کرکے، اللہ کو دریافت کرتا ہے- وہ اپنے اوپر اللہ کی نعمتوں کا ادراک کرتا ہے- اِس احساس کے ساتھ جب وہ اپنے آپ کو اللہ کے آگے جھکا دیتا ہے، تو اسی کا نام عارفانہ عبادت ہے-
واپس اوپر جائیں

جنت اور انسان

جنت اور انسان ایک دوسرے کا مثنیٰ (counterpart) ہیں۔ دونوں ایک دوسرے کے لیے تکمیلی (complementary)چیز کی حیثیت رکھتے ہیں۔ جنت انسان کے لیے بنائی گئی ہے اور انسان جنت کے لیے۔ حقیقت یہ ہے کہ — جنت مطلوبِ انسان ہے اور انسان مطلوبِ جنت۔ انسان کے بغیر جنت ادھوری ہے، اور جنت کے بغیر انسان ادھورا۔ یہ بات خود تخلیقی منصوبے میں شامل ہے کہ اِس دنیا میں جنتی انسان تیار ہوں جو جنت کی ابدی دنیا میںبسائے جاسکیں۔
قرآن کی سورہ النساء میں یہ آیت آئی ہے: مَا یَفْعَلُ اللّٰہُ بِعَذَابِکُمْ اِنْ شَکَرْتُمْ وَاٰمَنْتُمْ ۭ وَکَانَ اللّٰہُ شَاکِرًا عَلِــیْمًا (4:147) یعنی اللہ تم کو عذاب دے کر کیا کرے گا، اگر تم شکر گزاری کرو اور ایمان لاؤ۔اللہ بڑا قدرداں ہے، وہ سب کچھ جاننے والا ہے۔
اِس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ کے تخلیقی منصوبے کا تقاضا اِس طرح پورا نہیں ہوتا کہ لوگ بُرے اعمال کرکے اپنے آپ کو جہنم کا مستحق بنا لیں۔ اللہ کا تخلیقی منصوبہ یہ چاہتا ہے کہ لوگ اپنے آپ کو جنت کا مستحق ثابت کریں، اور پھر آخرت میں پہنچ کروہ جنت کے باغوں میں آباد ہوں۔
مفسر ابوالبرکات النسفی (وفات: 1310ء) نے مذکورہ آیت کی تشریح کے تحت لکھا ہے: الإیمان: معرفۃ المنعم، والشکر: الاعتراف بالنعمۃ (تفسیر النسفی: 1/259) یعنی ایمان، منعم کی معرفت ہے، اور شکر، نعمت کے اعتراف کا نام ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ یہ دونوں چیزیں ایک دوسرے سے جُڑی ہوئی ہیں۔ ایمان کا مطلب یہ ہے کہ آدمی شعوری طور پر اپنے رب کو دریافت کرے، وہ مخلوق کے ذریعے خالق کا تعارف حاصل کرے۔ شکر کا مطلب خدا کی نعمتوں کا اعتراف ہے۔ اِس دنیا میں جو کچھ انسان کو ملا ہوا ہے، وہ سب خدائے برتر کا انعام (blessing)ہے۔ اِس انعام کے لیے دل سے منعم (giver)کا معترف ہونا، بلاشبہہ کسی انسان کے لیے سب سے بڑی عبادت کی حیثیت رکھتا ہے۔
واپس اوپر جائیں

ایک حدیث

حدیث کی کتابوں میں ایک روایت ان الفاظ میں آئی ہے: ’’عن أبی ہریرة، قال، جلس جبریل إلى النبی صلى اللہ علیہ وسلم فنظر إلى السماء فإذا ملک ینزل، فقال جبریل: إن ہذا الملک ما نزل منذ یوم خلق، قبل الساعة، فلما نزل قال، یا محمد، أرسلنی إلیک ربک، أفملکا نبیا یجعلک،أو عبدا رسولا؟ قال جبریل: تواضع لربک یا محمد۔ قال: بل عبداً رسولاً۔ (مسند أحمد: 7160) یعنی جبریل آئے اور رسول اللہ صلى اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھ گئے۔ انھوں نے آسمان کی طرف دیکھا۔ اُس وقت ایک فرشتہ آسمان سے اتر رہا تھا۔ جبریل نے کہا کہ یہ فرشتہ اپنی پیدائش کے بعد، اس وقت سے پہلے کبھی زمین پر نہیں آیا۔ جب وہ فرشتہ آگیا تو اس نے کہاکہ اے محمد، آپ کے رب نے مجھ کو آپ کے پاس بھیجا ہے۔ اللہ آپ کو بادشاہ نبی بنائے یا عبدرسول۔ جبریل نے کہا کہ اے محمد، اپنے رب کے لیے متواضع بنئے۔ آپ نے فرمایا کہ ہاں، میں عبدرسول بننا پسند کرتاہوں-
یہی وہ بات ہے جس کو قرآن میں وبشراً رسولاً (17:93) کہاگیا ہے۔ مزید یہ کہ یہ بات صرف پیغمبر کے لیے نہیں ہے، بلکہ پیغمبر کی امت کے لیے بھی ہے۔ جیسا کہ معلوم ہے، پیغمبر ہر اعتبار سے امت کے لیے نمونہ ہے اور یقیناً اس حدیث رسول سے معلوم ہوا کہ پیغمبراور پیغمبر کی امت کا منصب یہ نہیں ہے کہ وہ اِس دنیا میں لوگوں کے اوپر سیاسی حکمرانی (political rule)قائم کرے۔ قانونِ فطرت کے مطابق، اِس دنیا میں سیاسی حاکمیت کسی ایک گروہ کی اجارہ داری نہیں۔ اہلِ ایمان کا مقصد یہ ہے کہ وہ دنیا میں عبد اور بشر بن کررہیں ، وہ اِس دنیا میں قانون کے نفاذ کا جھنڈا نہ اٹھائیں، بلکہ خود اپنے آپ کو اللہ کے احکام کا پابند بنائیں۔ اِس دنیا میں انسان کا امتحان اپنی ذات کے اعتبار سے ہے، نہ کہ اقوامِ عالم کے اعتبار سے-پیغمبر نے جو بات اپنے لیے عبد رسول کے الفاظ میں کہی تھی، وہی دوسرے لوگوں کے لیے عبد انسان کے طورپر درست ہے-
واپس اوپر جائیں

وِلاء — بَراء

علماء نے یہ نظریہ وضع کیا ہے کہ مسلمانوں کے لیے، انسانوں کے ساتھ تعلق کی صرف دو بنیادیں ہیں — وِلاء اور بَراء- وِلاء کا مطلب ہے، دوستی رکھنا، اور براء کا مطلب ہے جدائی رکھنا- اِن حضرات کا کہنا ہے کہ مسلمانوں پر یہ فرض ہے کہ وہ وِلاء (دوستی) کا تعلق صرف ان لوگوں سے رکھیں، جو مسلمان ہیں- اور جو لوگ اسلام کے دائرے سے باہر ہیں، ان کو وہ اپنا غیر سمجھیں، اور اُن سے جدائی کا تعلق قائم کریں- یہ ایک قومی نظریہ ہے نہ کہ اسلامی نظریہ-
اِن حضرات نے یہ نظریہ سورہ الممتحنہ کی آیت نمبر ایک اور آیت نمبر چار سے أخذ کیا ہے- مگر یہ نظریہ، ایک بے بنیاد نظریہ ہے- اُس کا اسلامی تعلیمات سے کوئی تعلق نہیں- شانِ نزول کی روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ سورہ الممتحنہ، فتح مکہ سے کچھ پہلے اُس وقت نازل ہوئی، جب کہ حاطب بن ابی بلتعہ کا مشہور واقعہ پیش آیا تھا- چنانچہ سورہ الممتحنہ میں وِلاء اور بَراء کی بات جو کہی گئی ہے، وہ کوئی عمومی بات نہیں ہے، بلکہ اس کا تعلق ان خصوصی حالات سے ہے، جو کہ حاطب ابن ابی بلتعہ کے واقعے کے زمانے میں عرب میں موجود تھے-
حقیقت یہ ہے کہ سورہ الممتحنہ میں جو بات کہی گئی ہے، وہ اُس وقت کے لیے ہے، جب کہ جنگ کے حالات ہوں اور اہلِ اسلام اور غیر اہلِ اسلام عملاً ایک دوسرے کے خلاف برسرِ جنگ (at war) ہوں- اِن آیات کا تعلق اُس صورت حال سے نہیں ہے، جب کہ حالتِ جنگ کا خاتمہ ہوجائے اور دونوں گروہوں کے درمیان امن کی حالت قائم ہوجائے-
موجودہ زمانہ میں جو مسلمان ہیں، ان کا تعلق دوسری قوموں سے قوانینِ امن کی بنیاد پر قائم ہوگا، نہ کہ قوانینِ جنگ کی بنیاد پر- مذکورہ بے بنیاد نظریے کا یہ نتیجہ ہوا ہے کہ موجودہ زمانے کے مسلمان، غیر ضروری طورپر دوسری قوموں کو اپنا دشمن سمجھنے لگے ہیں- وہ اُن سے نفرت کرتے ہیں- حتی کہ وہ اُن کے خلاف تشدد پر اتر آتے ہیں- یہ سب بلاشبہہ، وہ باتیں ہیں، جن کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں-
واپس اوپر جائیں

سبیل ُ اللہ سے انحراف

ایک روایت حدیث کے مختلف کتابوں میں آئی ہے- مسند احمد (رقم الحدیث: 4142) کے الفاظ یہ ہیں: عن عبد اللہ بن مسعود قال: خطّ لنا رسول اللہ صلى اللہ علیہ وسلم یوماً خطًّا، قم قال: ہذا سبیل اللہ، ثم خطّ خطوطاً عن یمینہ وعن شمالہ ثم قال: ہذہ سُبُل متفرقة على کلّ سبیل منہا شیطان یدعوا إلیہ- ثم قرأ ہذہ الایة: ’’وَاَنَّ ھٰذَا صِرَاطِیْ مُسْتَقِـیْمًا فَاتَّبِعُوْہُ ۚ وَلَا تَتَّبِعُوا السُّبُلَ فَتَفَرَّقَ بِکُمْ عَنْ سَبِیْلِہٖ‘‘ (6:153)-
عبد اللہ بن مسعود کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دن ہمارے سامنے زمین پر ایک سیدھی لکیر کھینچی، پھر آپ نے فرمایا کہ یہ اللہ کا رستہ ہے- پھر آپ نے اِس سیدھی لکیر کے دائیں اور بائیں کچھ لکیریں کھینچیں، پھر آپ نے فرمایا کہ یہ متفرق راستے ہیں- اِن متفرق رساتوں میں سے ہر راستے پر ایک شیطان ہے جو اپنی طرف بلا رہا ہے- پھر آپ نے قرآن کی یہ آیت پڑھی: ’’یہ ہے میرا سیدھا راستہ، تم اس کی پیروی کرو- اور تم متفرق راستوں کی پیروی نہ کرو، ورنہ تم بھٹک جاؤگے‘‘-
اِس حدیث رسول کی وضاحت قرآن کی اِس آیت سے ہوتی ہے: قل ہذا سبیلی ادعوا إلی اللہ علی بصیرة أنا ومَن اتبعنی (12:108) یعنی کہو، یہ میرا راستہ ہے- میں اللہ کی طرف بلارہا ہوں پوری بصیرت کے ساتھ، میں بھی اور وہ لوگ بھی جنھوں نے میری پیروی کی ہے-
مذکورہ حوالوں سے معلوم ہوتا ہے کہ اہلِ ایمان کی سرگرمیوں کا اصل نشانہ دعوت الی اللہ ہے- ان کو اِسی صراطِ مستقیم پر تاحیات چلتے رہنا ہے- اُن کی ذمے داری ہے کہ جس طرح پیغمبر نے دعوت الی اللہ کو اپنا مرکزی نشانہ بنایا اور اپنی ساری توانائی اِسی پر صرف کردی، اسی طرح اہلِ ایمان کو چاہیے کہ پیغمبر اسلام کے بعد وہ دعوت الی اللہ کو اپنا مرکزی نشانہ بنائیں اور نسل درنسل اِسی نشانہ پرقائم رہیں-
مگر انسان کی زندگی موجودہ دنیا میں مسائل سے بھری ہوئی ہے-بار بار ایسے خلافِ مزاج واقعات پیش آتے ہیں جو آدمی کو مشتعل کردیں، اور اس کی توجہ کو اصل نشانے سے بھٹکا کر دوسری طرف پھیر دیں-یہی وہ صورتِ حال ہے جو شیطان کو بار بار یہ موقع دیتی ہے کہ وہ اہلِ ایمان کو بھڑکا کر انھیں انحرافی نشانوں کی طرف پھیر دے-وہ دعوت الی اللہ کے راستے سے ہٹ کر لوگوں کی طرف سے پیدا کردہ مسائل میں الجھ جائیں- اہلِ ایمان کو چاہیے کہ وہ اس معاملے میں ہمیشہ اپنا محاسبہ کرتے رہیں- جب بھی وہ دیکھیں کہ کوئی پیش آمدہ صورت حال انھیں دعوت الی اللہ کے راستے سے ہٹا رہی ہے تو وہ اس کو شیطان کا بہکاوا سمجھیں، اور شیطان سے پناہ مانگتے ہوئے دوبارہ وہ دعوت الی اللہ کے راستے پر قائم ہوجائیں-
موجودہ زمانے میں دعوت الی اللہ کے راستے سے یہ انحراف بہت بڑے پیمانے پر پیش آیا ہے- موجودہ زمانے میں مسلمانوں کو دوسری قوموں سے کچھ مادی اور سیاسی شکایتیں پیدا ہوئیں- مسلمان ان شکایتوں پر بھڑک اٹھے اور وہ دوسری قوموں سے لڑنے لگے- موجودہ زمانے کے تقریباً تمام مسلمان اِس انحراف کا شکار ہوگئے- کچھ مسلمان دوسری قوموی کے خلاف منفی بولی بولنے لگے، اور کچھ مسلمان اُن سے باقاعدہ مسلّح ٹکراؤ کرنے لگے- انھوں نے نہ صرف دعوت الی اللہ کے کام کو چھوڑ دیا، بلکہ انھوں نے مزید یہ کیا کہ اپنے مدعو کو اپنا حریف اور دشمن قرار دے دیا- اس طرح اُن کا انحراف اپنی آخری حد پر پہنچ گیا-
یہ معاملہ جو موجودہ زمانے میں مسلمانوں کے ساتھ پیش آیا، وہ بلاشبہہ’سبیل اللہ‘ سے کھلا ہوا انحراف تھا، وہ خدا کی مرضی کے مطابق نہ تھا- اس کا ثبوت یہ ہے کہ دنیا بھر کے تمام مسلم رہنماؤں کی طویل قربانی کے باوجود اس کا کوئی نتیجہ نہ نکلا، بلکہ برعکس طورپر وہ مسلمانوں کی ذلت اور ناکامی میں اضافے کا سبب بن گیا-
موجودہ زمانے کے تمام لکھنے اور بولنے والے مسلمان اس پسپائی کا ذمے دار دوسری قوموں کو بتا کر اُن کے خلاف منفی پروپیگنڈے کی مہم چلائے ہوئے ہیں- یہ سرتاسر ایک بے نتیجہ کام ہے- مسلمانوں کو صرف یہ کرنا ہے کہ وہ اپنی ان تحریکیوں کو انحراف کی تحریکیں قرار دے کر اُنھیں ترک کردیں- وہ دوبارہ دعوت الی اللہ کے مقرر راستے پر قائم ہوجائیں- مسلمانوں کے لیے اصلاً یہ اصلاحِ خویش کا ایک معاملہ ہے، نہ کہ دوسروں کو سازشی قرار دے کر ان کے خلاف منفی مہم چلانے کا معاملہ-
واپس اوپر جائیں

جہاد وقتال

جہاد ایک عربی لفظ ہے- اس کے معنی وہی ہیں جس کو پُرامن جدوجہد (peaceful struggle) کہا جاتا ہے- اس پُر امن جدوجہد سے مراد اصلاً دعوتی جدوجہد ہے، جیسا کہ قرآن کی سورہ الفرقان میںارشاد ہوا ہے: وجاہدہم بہ جہاداً کبیرا (25:52)یعنی پُرامن جدوجہد کے ذریعے لوگوں تک قرآن کا پیغام پہنچانا-
دعوت اصلاً ایک نظریاتی جدوجہد (ideological struggle) ہے- یہ ایک بے حد وسیع کام ہے- اس کے مختلف تقاضے ہیں- دعوت کے کام کو جب اس کے تمام مطلوب تقاضوں کے ساتھ انجام دینے کی کوشش کی جائے تو وہ ایک عظیم جدوجہد بن جاتا ہے- اسی لیے اس دعوتی عمل کو جہاد کہاگیا ہے-
اصلاً جہاد کا مطلب یہی ہے- تاہم بعض اوقات اس کے توسیعی مفہوم کے اعتبار سے، جہاد کے لفظ کو قتال (جنگ) کے معنی میں بھی استعمال کیا جاتا ہے، لیکن یہ اُس کا صرف توسیعی مفہوم ہے- جہاں تک احکام اورآداب کا تعلق ہے، جہاد اور قتال دونوں کے احکام اور آداب ایک دوسرے سے بالکل مختلف ہیں- جہادِ دعوت کا اصل نشانہ فریقِ ثانی کی سوچ کو بدلنا ہوتا ہے، جب کہ قتال کا نشانہ برعکس طورپر فریقِ ثانی کا استیصال کرنا ہے-
جہاد اور قتال کے درمیان ایک بنیادی فرق یہ ہے کہ جہاد بمعنی دعوت ایک عمومی حکم ہے- دعوتی جہاد ہمیشہ اور ہر حال میں کرنا ہے- جہادِ دعوت کا نشانہ اللہ کے پیغام کو اُس کے بندوں تک پہنچانا ہے- دعوتِ انسانی خیر خواہی پر مبنی ایک مثبت کام ہے جو ہر زمانے میں اور ہر نسل میں جاری رہتا ہے- اِس کے برعکس، جہاد بہ معنی قتال ایک وقتی عمل ہے جو صرف اُس وقت کیا جاتا ہے جب کہ کوئی بیرونی ملک کسی مسلم ملک پر مسلح حملہ کردے- اِس حملے کا مقابلہ کرنے کی ذمے داری افراد پر نہیں ہے، اس کی ذمے داری صرف منظّم حکومت پر ہے جو حسب ضرورت اس کا انتظام کرتی ہے-
واپس اوپر جائیں

قرآن سے تعلق

قرآن کے بارے میں ایک روایت اِن الفاظ میں آئی ہے: عن أبی موسى عن النبی صلى اللہ علیہ وسلم قال: تعاہدوا القرآن، فوالذی نفسی بیدہ لہو أشد تفصیا من الإبل فی عقلہا (صحیح البخاری، رقم الحدیث: 5033) یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم قرآن کی حفاظت کرو، کیوں کہ قرآن اُس سے بھی زیادہ تیزی کے ساتھ نکل جانے والا ہے جس طرح اونٹ اپنی رسی سے چھوٹ کر نکل جاتا ہے-
اس حدیث میں قرآن کی حفاظت سے مراد اس کی لفظی حفاظت نہیں ہے، بلکہ اس کی معنوی حفاظت ہے- قرآن کے معانی، بہ الفاظ دیگر، قرآنی طرزِ فکر، ایک ایسی چیز ہے جو صرف اُس وقت آدمی کے ذہن کا حصہ بنتا ہے جب کہ آدمی اس پر مسلسل طورپر سوچے، جب کہ وہ اس کے تفکیری عمل (thinking process) کا مستقل جزء بناہوا ہو- اگر ایسا نہ ہو تو قرآن بہت جلد فراموشی کے خانے میں چلا جائے گا- وہ آدمی کے زندہ حافظہ (living memory) میں باقی نہ رہے گا-
اس کا سبب یہ ہے کہ موجودہ زندگی میں آدمی ہر لمحہ مسائل حیات سے دوچار رہتا ہے- طرح طرح کے دنیوی تقاضے ہر لمحہ آدمی کو اپنی طرف کھینچتے رہتےہیں- قرآن مکمل طورپر ایک کتاب آخرت ہے، جب کہ انسان مکمل طورپر ایک دنیوی مخلوق ہے- یہی وہ فرق ہے جس کی طرف مذکورہ حدیث میں اشارہ کیا گیا ہے-
اس صورت حال میں کسی مومن کے لیے صاحبِ قرآن بننے کی صرف ایک شرط ہے، یہ کہ وہ اپنے اندر تجریدی فکر (detached thinking) کی صلاحیت پیدا کرے- وہ ایک غیر قرآنی دنیا میں قرآنی ذہن کے ساتھ رہ سکے-جب ایسا ہوگا کہ آدمی مسلسل طورپر قرآن کی آیتوں پر غور کرے گا تو وہ قرآن میں نئے نئے معانی کی دریافت کرے گا- اس طرح قرآن پر اس کا یقین بڑھتا چلا جائے گا-
واپس اوپر جائیں

دنیا، آخرت

قرآن میں انسان کے بارے میں ایک عمومی تبصرہ کرتے ہوئے ارشاد ہوا ہے: اِنَّ ہٰٓؤُلَاۗءِ یُحِبُّوْنَ الْعَاجِلَةَ وَیَذَرُوْنَ وَرَاۗءَہُمْ یَوْمًا ثَــقِیْلًا(76:27) یعنی یہ لوگ جلدی ملنے والی چیز کو چاہتے ہیں اور انھوں نے اپنے پیچھے ایک بھاری دن کو چھوڑ رکھا ہے-
انسان کو ابدی مخلوق کی حیثیت سے پیدا کیا گیا ہے، لیکن اس کی مدتِ حیات کے دو حصے ہیں — موت سے قبل (pre-death period) اور موت کے بعد (post-death period)- انسان کی عام کمزوری یہ ہے کہ وہ قبل از موت زندگی کو لے کر سوچتا ہے، بعد از موت زندگی کو لے کر وہ سوچ نہیں پاتا- یہی وہ حقیقت ہے جو قرآن کی مذکورہ آیت میں بیان کی گئی ہے-یہ کوئی سادہ بات نہیں- یہی بات ہے جو انسان کی پوری سوچ کو صحیح رخ یا غلط رخ دیتی ہے- جو شخص موت سے قبل کے مسائل کو لے کر سوچے، اس کے اندر دنیا رخی سوچ (world-oriented thinking) ڈیولپ کرے گی- اس کی سوچ ہر اعتبار سے، غیر حقیقت پسندانہ سوچ بن جائے گی- اس کے برعکس، جو شخص موت کے بعد کے مسائل کو لے کر سوچے، اس کے اندر آخرت رخی سوچ (Akhirat-oriented thinking) ڈیولپ ہوگی- اس کی سوچ ہر اعتبار سے حقیقت پسندانہ سوچ بن جائے گی- حقیقت پسندانہ سوچ ہی کا دوسرا نام صحیح طرزِ فکر (right thinking) ہے- اِسی طرح غیر حقیقت پسندانہ سوچ ہی کا دوسرا نام غلط طرزِ فکر (wrong thinking) ہے-
انسان کے بننے یا بگڑنے کا تمام تر انحصار اِسى بات پر ہے۔ جو شخص اپنے اندر دنیا رخی مزاج ڈیولپ کرے گا تو یہ اس کی پوری سوچ کو غلط رخ پر ڈال دے گا- اِس کے برعکس، جس آدمی کا ذہن آخرت رخی ذہن ہو، اس کے اندر آخرت رخی مزاج ڈیولپ کرے گا جو اس کی پوری سوچ کو صحیح سمت میں جاری کردے گا — یہی وہ چیز ہے جو انسان کی شخصیت کی تعمیر (personality building) میں اصل اہمیت رکھتی ہے-
واپس اوپر جائیں

عمر بن عبد العزیز

عمر بن عبدالعزیز (وفات: 720ء) کی پیدائش مدینہ میں ہوئی۔ مگر خلیفہ کی حیثیت سے وہ شام کے شہر دمشق میں رہے جواس وقت اسلام کادار الخلافہ تھا۔ آپ کی وفات شام کے ایک اورشہر حلب میں ہوئی۔ شام کا ملک جن اسلامی شخصیتوں کی یاد دلاتا ہے ان میں سے ایک ممتاز نام عمر بن عبد العزیز کا ہے۔ جو پانچویں خلیفۂ راشد کہے جاتے ہیں۔
صحابۂ کرام کے بعد پوری اسلامی تاریخ میں عمر بن عبد العزیز واحد شخص ہیں جو صحابہ کے مزاج سے کامل مناسبت رکھتے تھے۔ عمر بن عبدالعزیز کا مشہور واقعہ ہے کہ جراح بن عبد اللہ (عامل خراسان) نے ان سے کہا کہ لوگ کثرت سے مسلمان ہورہے ہیں اس پر ہمیں پابندی لگانا چاہیے ورنہ حکومت کی آمدنی میں بہت زیادہ کمی ہوجائے گی۔کیوں کہ اسلام قبول کرتے ہی آدمی کے اوپر سے جزیہ معاف ہوجاتا ہے۔ عمر بن عبدالعزیز نے جواب دیا: اللہ نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو داعی بنا کر بھیجا ہے، نہ کہ ٹیکس وصول کرنے والا(إن اللّہ إنما بعث محمداً صلى اللہ علیہ وسلم داعیاً، ولم یبعثہ جابیاً) البدایة والنہایة9/213-
عمر بن عبدالعزیز کے اس قول میں جو ’’شعورِ دعوت‘‘ ہے وہ مجھے صحابہ کے بعد کسی بھی دوسرے شخص کے یہاں نظر نہیں آتا۔
عمر بن عبدالعزیز کا زمانہ پہلی صدی ہجری کا آخری زمانہ ہے۔ اس زمانہ میں ہر طرف فتوحات کا چرچا تھا۔ پوری ملت پر سیاسی اور غزواتی طرز فکر چھایا ہوا تھا۔ ایسے حالات میں دعوت کی اہمیت کو سمجھنے کے لیے وہ ذہن درکار تھا جو دور کے خلاف سوچ سکے۔ جو حالات سے اوپر اٹھ کر غیر متاثر انداز میں اپنا ذہن بنانے کی صلاحیت رکھتا ہو۔عمر بن عبد العزیز کا مذکورہ قول اس بات کا ثبوت ہے کہ ان کے اندر یہ نادر ترین صفت بدرجہ اتم موجود تھی۔ انھوں نے دَور کے خلاف سوچا۔ وہ عملاً ’’دورتلوار‘‘ میں تھے، مگر انھوں نے ذہنی سفر کے ذریعہ اپنے آپ کو ’’دوردعوت‘‘ میں پہنچا یا۔
واپس اوپر جائیں

دعوت کا ایک موقع

22-24 دسمبر 2013 کو نئی دہلی کی ایک یونی ورسٹی میں اسلامک اسٹڈیز کے نصاب کے موضوع پر ایک سہ روزہ ورک شاپ منعقد ہوئی- اِس میں ملک کے مختلف حصوں سے آئے ہوئے مسلم دانشور شریک ہوئے- ایک مشہور مسلم اسکالر نے اِس موقع پر اپنا کلیدی خطبہ (keynote address) پیش کیا- اِس تحریری خطبے میں یہ الفاظ درج تھے: ’’اب مشرق ومغرب دونوں طرف اسلامک اسٹڈیز اپنے منفرد تشخص کے ساتھ جانی پہچانی جاتی ہے اور خاص طورپر انڈر گریجویٹ سطح پر، کم ازکم امریکا میں، ایک مقبولِ عام مضمون ہے- طلبا کا اس طرف رجحان اِس لیے بڑھا ہے کہ حالیہ واقعات کی روشنی میں وہ اسلام اور مسلمانوں کو مستقبل کی تشکیل وتوجیہہ میں ایک فیصلہ کن عنصر تسلیم کرتے ہیں‘‘-
یہ اقتباس بتاتا ہے کہ موجودہ زمانے کے اسکالر حضرات کی تحریروں اور تقریروں سےکوئی ذہن کیوں نہیں بنتا- یہ لوگ اپنی بات کو اِس طرح دو طرفہ انداز میں بیان کرتے ہیں جس سے یہ امر واضح نہیں ہوتا کہ محرر یا مقرر کا مقصود کیا ہے- اسکالر حضرات کے اِسی مزاج کی بنا پر اُن کے کلام میں وضوح (clarity)نہیں ہوتی، اور جب کلام میں وضوح نہ ہو تو وہ کسی کے ذہن کو ایڈریس نہیں کرے گا-
یہ سمجھنا کہ ’’اسلام مستقبل کی تشکیل میں فیصلہ کن عنصر‘‘ بننے والا ہے، اس لیے مغربی دنیا میں اسلام کے مطالعے کا رجحان پیدا ہوا ہے، یہ درست نہیں- یہ اصل صورتِ حال کو خود ساختہ مسلم ذہن کے تحت دیکھنا ہے، نہ کہ اصل مغربی ذہن کے تحت- مغربی نوجوانوں کے ایک طبقے میں اسلام (صحیح تر الفاظ میں مسلم) کو جاننے کا ذوق اِس مفروضے کی بنیاد پر نہیں پیدا ہوا ہے کہ اسلام اُن کو مستقبل کا معمار دکھائی دیتا ہے- اِس رجحان کا سبب تمام تر منفی ہے- اِس کا واحد سبب یہ ہے کہ نائن الیون کے بعد اہلِ مغرب مسلمانوں کو (نہ کہ اسلام کو) ایک خطرہ (danger) کے روپ میں دیکھنے لگے ہیں- خود اہلِ مغرب کی طرف سے یہ کوئی مثبت رجحان نہیں، البتہ اِس صورتِ حال نے ہمارے لیے ایک موقع کھول دیا ہے، وہ یہ کہ ہم اُن کے سامنے اسلام کا صحیح تعارف پیش کرکے اُن کے حق میں اپنی دعوتی ذمے داری کو ادا کرسکیں-
واپس اوپر جائیں

مغرب کا ایجنڈا

موجودہ زمانے کے علماء اور مسلم دانشور عام طورپر یہ سمجھتے ہیں کہ دنیائے اسلام کے بارے میں مغرب کا ایک ایجنڈا ہے اور اِس ایجنڈے کو وہ پوری طاقت کے ساتھ نافذ کررہا ہے- اِس سلسلے میں بطور مثال یہاں ایک حوالہ نقل کیاجاتا ہے- یہ حوالہ موجودہ مسلم دنیا کے مشہور دانشور ڈاکٹر محمود احمد غازی (وفات: 2010) کا ہے- انھوں نے الشریعہ اکیڈمی، گوجرانوالہ، پاکستان کے تحت ایک محاضرے میں بتایا کہ 2003 میں وہ جرمنی کی ایک کانفرنس میں شریک ہوئے- اِس کا عنوان یہ تھا:
Is Islam a Threat to the West and Europe?
اِس کانفرنس میں ڈاکٹر محمود احمد غازی نے کہا کہ مسلم مفکرین کی بڑی تعداد کا نقطہ نظر مغرب کے بارے میں یہ ہے کہ اس کے مثبت پہلوؤں سے مسلمانوں کو استفادہ کرنا چاہئے اور اس کے منفی پہلوؤں کو قبول نہیں کرنا چاہئے- انھوں نے بتایا کہ اس کے جواب میں کانفرنس میں موجود مغربی نمائندوں نے کہا کہ مغرب اِن شرائط پر اپنی ٹکنالوجی اور اپنی تہذیب وتمدن سے آپ کو استفادہ کرنے کی اجازت دینے کو تیار نہیں ہوگا- یہ ایک پورا پیکیج ہے جس کو آپ کو جوں کا توں قبول کرنا پڑے گا- اِس میں مغرب آپ کو اخذ وانتخاب (pick and choose)کی اجازت نہیں دے گا (ماہ نامہ الشریعہ، مارچ 2005، صفحہ: 10-12 )
یہ پورا بیان عصر حاضر سے بے خبری کی پیداوار ہے- اِس معاملے میں عصر حاضر کا ذہن وہی ہے جو امریکا کے بارے کہاگہا ہے، یعنی:
The business of America is business
اصل پہلو یہ ہے کہ موجودہ زمانہ کمرشلائزیشن (commercialization) کا زمانہ ہے- موجودہ زمانے کی تشکیل اصلاً جدید صنعت (modern industrialization) نے کی ہے- اِس جدیددور میں ہر چیز ایک قابلِ فروخت آئٹم (purchasable item) بن چکی ہے- اگر آپ پرائس دے سکتے ہوں تو آپ سوئی سے لے کرہوائی جہاز تک ہر چیز خرید سکتے ہیں، اور اگر آپ پر ائس دینے کی پوزیشن میں نہ ہوں تو موجودہ زمانے میں آپ کو کوئی چیز ملنے والی نہیں- اِس معاملے میں مغرب کا اپنا کوئی ایجنڈا نہیں- ایجنڈا کا تصور مسلم ذہن کی پیداوار ہے- جہاں تک مغرب کا تعلق ہے، اُس کا کنسرن صرف یہ ہے کہ وہ دنیا سے تیل اورخام اشیاء حاصل کرے اور پھر اپنا پروڈکٹ تیار کرکے اس کو ساری دنیا میں مہنگے داموں میں فروخت کرے-
’’ایجنڈا‘‘ کا تصور تمام تر مسلم ذہن کی پیداوار ہے جو کہ اپنے تعصبات کی بناپر مغرب سے کامل طورپر بے خبر ہیں- اِس بے خبری کے نتیجے میں مسلمانوں کو صرف ایک چیز ملی ہے، اور وہ ہے مغرب سے بے بنیاد نفرت، اِس کے سوا جدید دور سے کوئی بھی مثبت چیز مسلمان حاصل نہ کرسکے- اِس صورتِ حال کو بیان کرنے کے لیے میرے پاس صرف ایک لفظ ہے اور وہ ہے — فکری دیوالیہ پن (intellectual bankruptcy)-
مسلم علما اور دانش وروں کایہ فکری دیوالیہ پن بہت قدیم ہے- اِس سے پہلے جب نوآبادیات کا دور آیا تو تمام علما اور مسلم دانش وروں نے اُس کو اِسی منفی معنی میں لیا اور غیر ضروری طورپر وہ اس کے خلاف نفرت کلچر اور تشدد کلچر میں مبتلا ہوگئے- حالاں کہ نوآبادیاتی قومیں جو اپنے علاقے سے نکل کر ایشیا اور افریقہ میں داخل ہوئی تھیں، اُن کا مقصد اصلاً اپنی صنعتی پیداوار کے لیے بازار (market)حاصل کرنا تھا- دوسری چیزیں جو اُن کے ساتھ آئیں، وہ نوآبادیاتی نظام کا اضافی حصہ تھیں، نہ کہ حقیقی حصہ-
اِس سنگین بے خبری کا نہایت مہلک انجام ہوا-اولاً یہ کہ اپنے منفی ذہن کی بنا پر مسلمان مغربی تہذیب سے کچھ سیکھنے سے محروم رہے- دوسرا شدید تر نقصان یہ تھا کہ مغربی قوموں کو انھوں نے دشمن کے خانے میں ڈال دیا، وہ ان کو مدعو سمجھنے سے قاصر رہے- اس بنا پر وہ مغربی قوموں کے اوپر اپنی داعیانہ ذمے داری کو ادا نہ کرسکے-
واپس اوپر جائیں

دورِ جدید کا مسئلہ

دورِ جدید (modern age) کا ظہور اچانک نہیں ہوا- دورِ جدید دراصل ایک لمبے تاریخی عمل (historical process) کا نقطۂ انتہا (culmination) تھا- یہ تاریخی عمل ساتویں صدی عیسوی میںاسلامی انقلاب کے بعد شروع ہوا اور بیسویں صدی عیسوی میں وہ اپنی تکمیل تک پہنچا- جدید دور ہی کو دوسرے الفاظ میں، جدید تہذیب (modern civilization) کہا جاتا ہے- اِس اعتبار سے جدید تہذیب ایک موافقِ اسلام تہذیب تھی، نہ کہ مخالف ِ اسلام تہذیب-
جدید تہذیب کے موافقِ اسلام ہونے کا مطلب یہ نہیں تھا کہ اس کے تمام اجزا اپنی تمام تفصیل کے ساتھ عین اسلامی تعلیمات کے مطابق ہیں- حقیقت یہ ہے کہ اِس دنیا میں جب بھی کوئی انقلاب آتا ہے تو وہ اِس طرح نہیں آتا کہ انسانی آزادی(human freedom) کو مکمل طورپر حذف کردیا جائے- حقیقت یہ ہے کہ کوئی بھی انقلاب معیاری انقلاب نہیں ہوتا- انقلاب کی قدروقیمت کو سمجھنے کے لیے ضروری ہے کہ اِس حقیقت کو سامنے رکھا جائے کہ اس کے کچھ اجزا حقیقی ہوتے ہیں اور کچھ اجزا وہ ہوتے ہیں جو انسانی آزادی کی بنا پر اس کے اندر شامل ہوجاتے ہیں-
اِس معاملے میںاسلامی انقلاب کا بھی کوئی استثناء (exception) نہیں- ساتویں اور آٹھویں صدی میں جو اسلامی انقلاب آیا، اس نے تاریخ انسانی کو بہت سے قیمتی تحفے دئے- مثلاً شرک کے دور کو ختم کرکے توحید کے دور کو دنیا میں لانا- تاہم اسلامی انقلاب میں بھی زمانی اسباب کے تحت ایسے اجزا شامل ہوگئے جو معیارِ مطلوب کے مطابق نہ تھے- مثلاً شُورائی خلافت کی جگہ خاندانی حکمرانی (dynasty) کا قائم ہوجانا- اسلام کے نام پر باہمی لڑائیاں، وغیرہ- اسلام کا ظہور بلاشبہہ تاریخِ بشری کے لیے ایک نعمت کا ظہور تھا- لیکن اِس نعمت کو حقیقی طورپر سمجھنے کے لیے ضروری ہے کہ اسلام کی تاریخ کواُن اجزا سے الگ کرکے دیکھا جائے جو خداداد انسانی آزادی کی بنا پر اس کے اندر شامل ہوگئے-
ٹھیک یہی معاملہ جدید مغربی تہذیب کا بھی ہے- جدید مغربی تہذیب نے انسانی تاریخ کو بہت بڑی بڑی چیزیں عطا کیں، جو اِس سے پہلے کبھی انسان کو حاصل نہ تھیں- مثلاً فطرت میں چھپے ہوئے قوانین (natural laws) کو دریافت کرنا، سیاسی زندگی میں بادشاہت کے بجائے جمہوریت کو رواج دینا، انسانی زندگی سے مذہبی جبر کو ختم کرنا، علمی مطالعے کے لیے سائنسی طریقہ (scientific method) کو رواج دینا، عالمی مسائل کے لیے اقوامِ متحدہ کی صورت میں ایک انٹرنیشنل فورم کا قیام، ایسے نئے علوم کا رواج جو اسلام کے لیے بے حد مفید تھے- مثلاً حفریات (excavation)، وغیرہ-
لیکن مغربی تہذیب جب دنیا میں آئی تو وہ اِس طرح نہیں آئی کہ انسانی آزادی حذف ہوگئی- اس کے ساتھ فطری طورپر مطلوب اجزا کے ساتھ ایسے غیر مطلوب اجزا بھی شامل تھے، جو اصلاً خود تہذیب کا حصہ نہ تھے، مگر انسانی آزادی کی بنا پر بظاہر وہ اس کا حصہ بن گئے- مثلاً سیاسی غلبہ حاصل کرنے کے لیے لڑائیاں، انسان کے مادہ پرستانہ مزاج کی بنا پر پیدا ہونے والے مفاسد، استغلال (exploitation)، شخصی اور قومی مفاد (interest) سے پیدا ہونے والی برائیاں، وغیر ہ- مغربی تہذیب کے اندازہ (evaluation) کے لیے ضروری ہے کہ اِس پہلو کو ملحوظ رکھتے ہوئے مغربی تہذیب کا مطالعہ کیا جائے، ورنہ مطالعہ کرنے والا منصفانہ مطالعہ کرنے سے قاصر رہے گا-
مغربی تہذیب کے ظہور کے بعد جو حالات پیداہوئے، اُن کو اگر خالص معیار (ideal) کی روشنی میں دیکھا جائے تو اس کے کچھ اجزا یقیناً مطلوب اجزا نظر آئیں گے اور کچھ اجزا غیر مطلوب- مگر اِن تمام اجزا کو ایک فہرست میں شامل کرکے اگریہ کہا جائے کہ یہ مغرب کا ایجنڈا ہے تو یہ ایک غیرفطری تجزیہ ہوگا- اگر ایجنڈے کے نظریے کو اصولی طور پر درست مان لیاجائے تو عین یہی تبصرہ اسلام کی تاریخ پر صادق آجائے گا- ایک مبصر یہ کہہ سکتا ہے کہ اسلام اگرچہ توحید کاعلم بردارتھا، لیکن اس کے ایجنڈے میں یہ بھی شامل تھا کہ خلافت کے نام پر خاندانی حکمرانی قائم کی جائے، اسلام کی مختلف تعبیرات کرکے لوگ آپس میں لڑائیاں کریں، دار الاسلام اور در الکفر کا نظریہ وضع کر کے غیرمسلم اقوام کے خلاف نفرت کلچر پیدا کیا جائے، وغیرہ-
ایک عالم کا مشہور قول ہے: خذ ما صفا ودع ماکدر- اس قول میں روایتی الفاظ میں وہی بات کہی گئی ہے جس کا ہم نے اوپر ذکر کیا، یعنی انسانی زندگی یا انسانی انقلاب میں ہمیشہ ایسا ہوگا کہ اس کے کچھ اجزا مطلوب اجزا ہوں گے اور کچھ اجزا غیر مطلوب اجزا- مطلوب اجزا وہ ہوں گے جو معیار سے مطابقت رکھتے ہوں، اور غیر مطلوب اجزا وہ ہوں گے جو انسانی آزادی کی بنا پر اس میں شامل ہوجائیں-
اصل یہ ہے کہ اللہ تعالی نے اِس دنیا میں انسان کو آزادانہ اختیار (free choice) کا حق دیا ہے- انسان کا یہ حق قیامت تک منسوخ ہونے والا نہیں- اِس آزادی کو قرآن میں امانت (33:72) کہاگیا ہے- انسان کو اختیار ہے کہ وہ اِس خداداد آزادی کو اپنی مرضی کے مطابق استعمال کرے، خواہ دوسروں کی نظر میں وہ صحیح ہو یا غلط- انسانی زندگی کے تمام واقعات میں انسانی آزادی کے یہ اجزا ہمیشہ شامل رہتے ہیں، حتی کہ اسلام کے ظہور کے بعد امتِ مسلمہ کی تاریخ میں بھی- تاریخ انسانی کے مطالعے کے معاملےمیں اِس نکتے کی بے حد اہمیت ہے- جو لوگ اِس نکتے کو ملحوظ رکھتے ہوئے انسانی تاریخ کا تجزیہ کریں، وہ صحیح نتائج تک پہنچیں گے، اور جو لوگ اِس نکتے کو ملحوظ رکھے بغیر انسانی تاریخ کا تجزیہ کریں، وہ کبھی انسانی تاریخ کے معاملے میں صحیح نتائج تک نہیں پہنچ سکتے-
واپس اوپر جائیں

صحبت ِ رسول

ایک عالم نے کہا ہے : مَن کان فی بیتہ مجموعۃٌ من الأحادیث، فکأنما فیہ نبیٌّ یتکلّم (جس آدمی کے گھر میںحدیثِ رسول کا ایک مجموعہ موجود ہو تو گویا کہ اُس گھر میں کلام کرتا ہوا ایک پیغمبر موجود ہے)۔
اِس کا مطلب یہ ہے کہ جب ایک شخص سچے جذبے کے ساتھ حدیث کی کتاب کو کھولے گا، اور اُس میں موجود اقوالِ رسول کو پڑھے گا تو اُس کو محسوس ہوگا کہ رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اُس سے ہم کلام ہو کر اُس کو براہِ راست نصیحت کررہے ہیں۔
یہی معاملہ صحبت ِ رسول کا بھی ہے۔ اگر آدمی کے اندر سچی اسپرٹ زندہ ہو، اور اُس کے اندر صحیح معنوں میں اتّباعِ رسول کا جذبہ موجود ہو تو آج بھی وہ صحبت ِ رسول کا تجربہ کرسکتا ہے۔
مثلاً رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا طریقہ یہ تھا کہ آپ اپنے دشمن سے نفرت نہیںکرتے تھے، بلکہ آپ اُس کے ساتھ اعلیٰ انسانی سلوک کرتے تھے، اور اُس کی ہدایت کے لیے خدا سے دعا کرتے تھے۔ اب اگر آپ کا کوئی دشمن ہو، مگر آپ اُس کے ساتھ جوابی دشمنی نہ کریں، بلکہ یہ سوچیں کہ رسول اللہ نے اپنے دشمن کے ساتھ جو سلوک کیا تھا، وہی سلوک مجھ کو بھی اپنے دشمن کے ساتھ کرنا چاہیے۔
اِس طرح سوچ کر جب آپ اپنے دشمن کے ساتھ پیغمبر والا برتاؤ کریں تو اُس وقت آپ کو رسول اللہ کے ساتھ ایک خاص نسبت حاصل ہوجائے گی۔ آپ اپنی سوچ اور جذبات کے اعتبار سے، رسول اللہ کے ساتھ خصوصی مناسبت محسوس کرنے لگیں گے۔ یہاںتک کہ یہ جذبہ اتنا ترقی کرے گا کہ آپ کو محسوس ہوگا کہ زمانی دوری ختم ہوگئی ہے اور آپ گویا کہ رسول اللہ کی صحبت میں پہنچ گئے ہیں۔ یہ بلا شبہہ ایک فطری حقیقت ہے، اور کوئی بھی شخص کسی بھی مقام پر اس کا تجربہ کرسکتا ہے۔
اسی طرح رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ آپ کے مخالفین کی طرف سے نہایت نازیبا سلوک کیا گیا ۔ مثلاً آپ کو مجنوں کہا گیا ۔ آپ کو مذَمَّم کہاگیا ۔ آپ کو ساحر اور کذّاب کہا گیا، وغیرہ، لیکن آپ نے کبھی ایسے لوگوں کو منفی جواب نہیں دیا۔ آپ نے اس کے خلاف نہ شکایت کی، نہ احتجاج، بلکہ آپ ایسے لوگوں کے لیے خدا سے دعا کرتے رہے۔ اب اگر کسی کو اِس قسم کا منفی تجربہ ہو،مگر وہ دل کی پوری آمادگی کے ساتھ رسول اللہ کے طریقے کو اختیار کرلے تو ایسے موقع پر اُس کے اندرمخصوص جذبات ابھریں گے۔ وہ اپنے اندر رسول اللہ کے ساتھ ایک خاص تعلق محسوس کرے گا۔ وہ صحبت ِ رسول کا تجربہ کرنے لگے گا۔
صحبت ِ رسول کی دو قسمیں ہیں۔ ایک ، جسمانی صحبت(physical companionship) اور دوسری ہے روحانی یا نفسیاتی صحبت (psychological companionship)۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہم عصر اہلِ ایمان کو آپ کے ساتھ جسمانی صحبت حاصل ہوئی، لیکن بعد کے زمانے کے اہلِ ایمان کو بھی آپ کی روحانی یا نفسیاتی صحبت حاصل ہوسکتی ہے، بشرطیکہ وہ اُس کی شرط کو پورا کریں، اور وہ ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ گہری مزاجی مناسبت۔
صحبت صرف ساتھ بیٹھنے کانام نہیں ہے ، بلکہ اس کا مدار تمام تر مزاجی مناسبت پر ہے- دورِ اول میں بھی اِس کی واضح مثالیں ملتی ہیں- اُس وقت اسلام قبول کرنے والوں میں جو لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مزاجی مناسبت رکھتے تھے، ان کو آپ کی صحبت کا فائدہ ملا- اور جو لوگ آپ سے مزاجی مناسبت نہیں رکھتے تھے، وہ بظاہر آپ سے قریب ہونے کے باوجود صحبت کے فائدےسے محروم رہے- سچے صحابہ اور منافقین کے درمیان جو فرق ہے، وہ اِسی بنا پر ہے- سچے صحابہ کے اندر رسول اللہ سے مزاجی مناسبت تھی، اِس لیے ان کو صحبت ِ رسول کا پورا فائدہ ملا، اور منافقین کے اندر یہ مزاجی مناسبت موجود نہ تھی، اِس لیے وہ رسول اللہ سے قریب رہتے ہوئے بھی صحبت ِ رسول کے حقیقی فائدے سے محروم رہے-
واپس اوپر جائیں

فقدانِ شخصیت، فقدانِ معرفت

قوموں کا عام مزاج یہ ہے کہ وہ اپنی ماضی کی شخصیتوں کی مبالغہ آمیز تصویر بناتے ہیں، یہاںتک کہ ان کی شخصیتیں افسانوی شخصیت (legendary figure) کی حیثیت اختیار کرلیتی ہیں- یہی معاملہ موجودہ زمانے میں مسلمانوں کے ساتھ بڑے پیمانے پر ہوا ہے- موجودہ زمانے کے مسلمانوں نے اپنی ماضی کی شخصیتوں کی مبالغہ آمیز تصویر بنا رکھی ہے- اِس کے نتیجے میں دو بڑا نقصان مسلمانوں کے حصے میں آیا ہے — ماضی کا ضرورت سے زیادہ اندازہ (overestimation) اور حال کا ضرورت سے کم اندازہ (underestimation) -
موجودہ زمانے میں مسلمانوں کے لکھنے اور بولنے والے عام طورپر ایسا کرتے ہیں کہ وہ اپنی ماضی کی شخصیتوں کو یاد کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ مسلمانوں کے موجودہ حالات کو بدلنے کی ایک ہی شکل ہے، وہ یہ کہ مسلمانوں کے اندر قدیم شخصیتیں دوبارہ پیدا ہوں، مگر اِس قسم کی باتیں خوش فہمی کے سوا اور کچھ نہیں-
مثلاً مشہور عرب مورخ خیر الدین الزرکلی (وفات: 1976) نے ماضی کی مشہور مسلم شخصیتوں پر کئی جلدوں میں ایک کتاب تیار کی ہے، اس کا نام ہے: الأعلام- وہ مسلمانوں کے احیاءِ نو کا راز اِس میں سمجھتے تھے کہ ماضی جیسی مسلم شخصیتیں دوبارہ پیدا ہوں- چنانچہ انھوں نے اپنے ایک شعر میں کہا تھا کہ — صلاح الدین ایوبی کو ہمارے درمیان دوبارہ لے آؤ، حطین یا حطین جیسے معرکے دوبارہ گرم کرو:
ہاتِ صلاح الدین ثانیة فینا جدّدی حطّین أو شبہ حطّینا
خیر الدین الزرکلی کا یہ شعر صرف صاحبِ کلام کی زمانے سے کامل بے خبری کی ایک مثال ہے- آج کا زمانہ اور آج کے حالات ہر اعتبار سے بدل چکے ہیں- موجودہ زمانے میں کوئی کام کرنے کے لیے پہلی شرط بصیرتِ زمانہ ہے، نہ کہ صلاح الدین کا دوبارہ پیداہونا- حقیقت یہ ہے کہ موجودہ زمانے میں صلاح الدین ایوبی جیسی شخصیت کے لوگ پیدا ہوئے، مگر عملاً وہ کوئی نتیجہ خیز کام نہ کرسکے، کیوں کہ وہ بصیرتِ زمانہ سے بالکل بے خبر تھے- اس کی ایک مثال فلسطینی لیڈر یاسر عرفات (وفات: 2004) کی ہے- فطری صلاحیت کے اعتبار سے وہ گویا صلاح الدین ثانی تھے، مگر ساری قربانیوں کے باوجود وہ مکمل طورپر ناکام رہے-
اِسی طرح کی ایک مثال ڈاکٹر محمد اقبال کی ہے- انھوں نے شیخ احمد سرہندی کے بارے میں نہایت مبالغہ آمیز تصور قائم کر رکھا تھا- چناں چہ انھوں نے لکھا ہے کہ — مسلم ہندستان نے سب سے بڑا جو مذہبی عبقری پیدا کیا، شیخ احمد سرہندی تھے:
The greatest religious genius produced by Muslim India was Shaikh Ahmad Sarhindi.
شیخ احمد سرہندی جیسی شخصیت تخلیق کے کارخانے میں بار بار پیدا ہوتی ہے- ایسا نہیں ہے کہ یہ مولڈ تخلیق کے کارخانے میں ختم ہوچکا ہے- مثال کے طورپر فطری صلاحیت کے اعتبار سے مولانا ابوالکلام آزاد اُسی درجے کی شخصیت تھے جس درجے کی شخصیت شیخ احمد سرہندی کی تھی- لیکن مولانا آزاد کوئی نتیجہ خیز کام نہ کرسکے- اِس کا سبب دونوں کے درمیان زمانی حالات کا فرق تھا-
مشہور مسلم دانشور ڈاکٹر محمود احمد غازی (وفات: 2010) نے اپنے ایک مقالہ میں عہد ماضی کی مسلم شخصیتوں کا تذکرہ کرتے ہوئے لکھا ہے کہ: ’’اِس نظامِ تعلیم میں نواب سعد اللہ خاں بھی تیار ہوا جو مجدد الف ثانی کا کلاس فیلو تھا اور جو سلطنتِ مغلیہ کا وزیر اعظم بنا- وہ سلطنت ِ مغلیہ جو موجودہ افغانستان، پاکستان، ہندستان، نیپال، بنگلہ دیش، سری لنکا، بھوٹان، سکّم، برما، اِن سب ریاستوں پر مشتمل تھی- اس کے نظام کو سعداللہ خان نے شاہ جہاں کے زمانے میں کامیابی کے ساتھ چلایا تھا‘‘- (ماہ نامہ الشریعہ، پاکستان، مارچ 2005، صفحہ: 14)
سعد اللہ خاں کوئی منفرد شخصیت نہیں تھے- اِس طرح کی شخصیتیں قدرت کے کارخانے میں بار بار پیدا ہوتی ہیں- مثلاً سید جمال الدین افغانی اپنی فطری صلاحیت کے اعتبار سے کسی بھی درجے میں کم نہ تھے- لیکن غیر معمولی سرگرمیوں کے باوجود وہ کوئی نتیجہ خیز کام نہ کرسکے- حقیقت یہ ہے کہ کارنامے کے معاملے میں کسی شخصیت کا حصہ ہمیشہ پچاس فی صد سے کم ہوتا ہے اور حالات کا حصہ ہمیشہ پچاس فی صد سے زیادہ-
موجودہ زمانے کے مسلم مقررین اور محررین کی یہ عام غلطی ہے کہ وہ اپنی ماضی کی شخصیتوں کا تصور ان کے حقیقی قد سے زیادہ (larger than life size) قائم کیے ہوئے ہیں- اِس لیے وہ سمجھتے ہیں کہ اگر یہ شخصیتیں دوبارہ پیدا ہوجائیں تو موجودہ زمانے میں بھی وہ بڑے بڑے کارنامے انجام دے سکتی ہیں- مگر اِس قسم کا تصور مبالغہ آمیز خوش فہمی کے سوا اور کچھ نہیں-
اصل یہ ہے کہ انسانی تاریخ کے دو دور ہیں — قدیم روایتی دور(ancient traditional age)، اور جدید سائنسی دور (modern scientific age)- دونوں دوروں میں ہر اعتبار سے نوعی فرق پایا جاتا ہے- یہ فرق اتنا زیادہ ہے کہ قدیم زمانے کا کوئی بڑے سے بڑا شخص اگر آج پیدا ہوتو وہ کوئی کارنامہ انجام نہیں دے سکتا- ایسا آدمی آج کے حالات میں صرف بے جوڑ (misfit) ہو کر رہ جائے گا، اِس کے سوا اور کچھ نہیں-
حقیقت یہ ہے کہ موجودہ زمانے میں کام کرنے کے لیے پہلی شرط یہ ہے کہ کام کرنے والے لوگ جدید دور کا گہرا مطالعہ کریں- وہ اپنے آپ کو جدید حالات کے اعتبار سے تیار کریں- وہ کامل معنوں میں بصیرِ زمانہ (بصیراً بزمانہ) بنیں- اِس کے بعد ہی وہ آج کے دور میں کوئی حقیقی کام انجام دے سکتے ہیں، خواہ تعلیم وتدریس کا معاملہ ہو یا تصنیف وتالیف کا معاملہ، خواہ ایک ادارہ چلانے کا معاملہ ہو یا حکومت چلانے کا معاملہ، امت کی اصلاح کا معاملہ ہو یا زمانے کی قیادت کا معاملہ، کسی سیمنار کو خطاب کرنے کا معاملہ ہو یا کسی انٹرنیشنل تنظیم کو خطاب کرنےکا معاملہ- غرض زندگی کا جو معاملہ بھی ہو، اس میں رہنمائی کرنے کے لیے دورِ جدید سے کامل واقفیت لازمی طورپر ضروری ہے- جو لوگ یہ واقفیت نہ رکھتے ہوں، وہ اگر جدید دور میں رہنمائی کا منصب سنبھالیں تو اُن کا انجام وہی ہوگا جس کو ایک شاعر نے اپنے اِس شعر میں بیان کیا ہے:
إذا کان الغراب رئیس قوم سیہدیہم إلى دار البوار
واپس اوپر جائیں

پیغمبرانہ ماڈل، تاریخی ماڈل

موجودہ زمانے میں امتِ مسلمہ اپنے دورِ زوال میں ہے- آج کی یہ ایک اہم ضرورت ہے کہ امت کا احیا (revival) کیا جائے، لیکن اِس احیا کی لازمی شرط یہ ہے کہ یہ کام صحیح ماڈل کے مطابق کیا جائے- غلط ماڈل اختیارکرنے سے کبھی امت کا احیا نہیں ہوگا، خواہ ہزاروں سال تک اس کی کوشش کی جاتی رہے-
احیاءِ امت کا صحیح ماڈل صرف ایک ہے، اور وہ پیغمبرانہ ماڈل ہے- یہ ماڈل سنت کی صورت میں پوری طرح محفوظ ہے- ہم کو چاہیے کہ سنت ِ رسول کے اِس محفوظ ماڈل کو مطالعۂ کتب کے ذریعے دریافت کریں اور پھر اس کی روشنی میں امت کے احیا کا کام انجام دیں-
پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات 632 عیسوی میں ہوئی- اس کے بعد امت ِ مسلمہ کی ایک تاریخ بنی- یہ تاریخ ہزار سال سے زیادہ مدت پر پھیلی ہوئی ہے- بدقسمتی سے ایسا ہوا کہ ہر مسلم اہلِ علم نے اِس تاریخ کو نہایت مبالغہ آمیز انداز میں دہرایا- بعد کے زمانے میں لکھی جانے والی کتابیں سب کی سب تاریخ امت کی مبالغہ آمیز تصویر کشی کرتی رہیں- اِس کا نتیجہ یہ ہوا کہ شعوری یا غیر شعوری طورپر امت کے ذہن سے پیغمبرانہ ماڈل پسِ پشت چلا گیا اور تاریخی ماڈل ایک شان دار یاد کے طورپر ہرمسلمان کے دل میں نقش ہوگیا-
اِسی صورت حال کا یہ نتیجہ ہے کہ آج جو شخص احیائِ امت کے لیے اٹھتا ہے، وہ بظاہر اگرچہ اسلام کا نام لیتا ہے، لیکن عملاً مسلم تاریخ کا احیا اس کا نشانہ بن جاتا ہے-
موجودہ زمانے میں احیاءِ امت کی تمام تحریکوں کا یہی انجام ہوا ہے- اِن میں سے کوئی مسلم دورِ حکومت کے احیا کی بات کرتا ہے اور کوئی مسلم تہذیب کے احیا کو اپنا نشانہ بنائے ہوئے ہے، کوئی شرعی قانون کے نفاذ میں مسلم احیا کا راز بتاتا ہے، کوئی جہاد کے نام پر تشدد کلچر پھیلائے ہوئے ہے اور سمجھتا ہے کہ وہ امتِ مسلمہ کا احیا کررہاہے، وغیرہ-
اِس قسم کی تحریکیں موجودہ زمانے میں بہت بڑے پیمانے پر اٹھیں، مگر ہنگامہ خیز جدوجہد کے باوجود وہ عملاً ناکام ثابت ہوئیں- اِس ناکامی کا سبب صرف ایک تھا، وہ یہ کہ اِن تحریکوں کو اللہ کی نصرت حاصل نہیں ہوئی- نصرتِ خداوندی سے محرومی کا سبب مشترک طورپر یہ تھا کہ یہ سب کی سب تحریکیں تاریخی ماڈل کو لے کر کھڑی ہوئیں- اُن میں سے کوئی بھی تحریک حقیقی طورپر پیغمبرانہ ماڈل کو لے کر نہیں اٹھی-
پیغمبرانہ ماڈل اور تاریخی ماڈل کا فرق ایک لفظ میں یہ ہے کہ پیغمبرانہ ماڈل مبنی بردعوت ماڈل ہوتا ہے- اِس کے برعکس، تاریخی ماڈل مبنی بر سیاست، مبنی برتہذیب، مبنی بر قومیت ہوتاہے- اِس دنیا میں کوئی تحریک اللہ کی نصرت سے کامیاب ہوتی ہے اور اللہ کی نصرت صرف پیغمبرانہ ماڈل پر آتی ہے، کسی اور ماڈل پر اللہ کی نصرت کبھی آنے والی نہیں-
واپس اوپر جائیں

امن پر مبنی ایمپائر

قدیم زمانے میں ایمپائر کی ایک ہی معلوم قسم تھی، اور وہ سیاسی ایمپائر (political empire) ہے- موجودہ زمانے میں سیاست کا ڈی سنٹرلائزیشن (decentralization) ہوا ہے- موجودہ زمانے میں ایسے نئے مواقع کھل گئے ہیں جنھوں نے اِس بات کو ممکن بنا دیا ہے کہ غیر سیاسی میدانوں میں بڑے بڑے ایمپائر قائم کئے جاسکیں- مثلاً ایجوکیشن کا میدان، صنعت کا میدان، دعوت کا میدان، وغیرہ-
عجیب بات ہے کہ بظاہر اِن نئے مواقع سے مذہبی لوگ بھی بے خبر ہیں اور سیکولر لوگ بھی- اِسی بے خبری کا یہ نتیجہ ہے کہ اکیسویں صدی میں بھی ہم یہ دیکھتے ہیں کہ سیکولر گروپ بھی تشدد میں مشغول ہے، اور مذہبی گروپ بھی- اگر یہ لوگ جانتے کہ موجودہ زمانے میں تشدد صرف تباہی کا ذریعہ ہے، اب تشدد کے ذریعہ کوئی تعمیری نتیجہ پیدا نہیں کیا جاسکتا، اگر وہ ایسا جانتے تو یقینی طورپر ان کی منصوبہ بندی مختلف ہوتی- وہ پرامن طریقے کو اختیار کرکے ایسی کامیابی حاصل کرلیتے جو تشدد کے ذریعے ہرگز ممکن نہیں-
یہ تاریخ کا تجربہ ہے کہ تشدد کے ذریعے صرف منفی نتائج حاصل کئے جاسکتے ہیں، نہ کہ مثبت نتائج- تشدد کے ذریعے تخریب ہوسکتی ہے، مگر تشدد کے ذریعے کسی بھی تعمیری کام کو انجام نہیں دیا جاسکتا- موجودہ زمانے کے مسلمان لمبی مدت سے مختلف ملکوں میں پُرتشدد تحریکیں چلارہے ہیں، مگر یہ متشددانہ تحریکیں مسلمانوں کو کسی مثبت انجام تک نہ پہنچا سکیں-
حقیقت یہ ہے کہ تشدد کا طریقہ فطرت کے قانون کے خلاف ہے- انسانی سماج سے باہر فطرت کی جو دنیا ہے، اس میں وسیع پیمانے پر سرگرمیاں جاری ہیں، مگر فطرت کے عالمی نظام میں کہیں بھی تشدد نظر نہیں آتا- تشدد صرف انسانی دنیا میں ہے، وہ فطرت کی دنیا میں موجود نہیں- انسان پر لازم ہے کہ وہ تشدد کا طریقہ چھوڑ دے، کیوںکہ فطرت کی دنیا میں صرف فطرت کا اختیار کیا ہوا پرامن طریقہ ہی نتیجہ خیز ہوسکتاہے- فطرت کے خلاف جو طریقہ اختیار کیا جائے، اس کے لیے اِس دنیا میں ناکامی کے سوا کوئی اور انجام مقدر نہیں-
واپس اوپر جائیں

مساوات

اسلام کا ظہور ساتویں صدی عیسوی میں ہوا۔اس سے پہلے کی پوری معلوم تاریخ میں کبھی بھی انسانی مساوات کسی قابلِ لحاظ حیثیت سے کہیں موجود نہ تھی۔ اس کا بنیادی سبب یہ ہے کہ ہر عمل کی پشت پر ایک تائیدی نظریہ درکار ہوتا ہے۔ مگر اسلام سے پہلے مساوات کے حق میں ایسی کوئی نظریاتی بنیاد (ideological base) سرے سے پائی نہیں جاتی تھی۔ قدیم زمانہ کے نظریات کے مطابق عدم مساوات کی صورت حال ہی فطری صورت حال تھی۔ ایسی حالت میں مساوات کا اصول کس طرح لوگوں کے لیے قابل قبول ہوتا۔
زمین کے ایک خطہ میں آوا گمن یا پنر جنم کا عقیدہ لوگوں کے ذہن پر چھایا ہوا تھا۔ اس عقیدہ کے مطابق ایک انسان اور دوسرے انسان کا فرق خود اس کے پچھلے عمل کا نتیجہ تھا۔ اس میں کوئی تبدیلی موت کے بعد اگلے جنم ہی میں ممکن ہوسکتی تھی۔
ایسی حالت میں انسانوں کے درمیان مساوات قائم کرنا سرے سے ممکن ہی نہ تھا۔اسی طرح جب لوگوں نے دیکھا کہ کچھ انسان سیاہ فام ہیںاور کچھ انسان سفید فام تو اس کی بنیاد پر یہ نظریہ بنایا گیا کہ سفید فام برتر نسل (superior race) سے تعلق رکھتے ہیں، اور سیاہ فام کمتر نسل (inferior race) سے۔ یہ نظریہ، خاص طورپر اعلیٰ طبقہ کے لوگوں میں بہت زیادہ پھیلا یہاں تک کہ وہ انسانوں کے درمیان مساوات کے قیام میں مستقل رکاوٹ بن گیا۔
قدیم زمانے میں ساری دنیا میں بادشاہت کا رواج تھا۔ اس رواج کے تحت یہ تفریقی نظریہ لوگوں کے ذہنوں پر چھاگیا کہ سیاسی اعتبار سے انسانوں کی دو قسمیں ہیں۔ ایک حاکم اور دوسرے محکوم یا رعایا۔ یہ ذہن بھی ہزاروں سال تک انسانی سماج کو دو طبقوں میں بانٹنے کا سبب بنا رہا۔ چوں کہ یہ تفریق حاکموں کے لیے نہایت مفید ِمطلب تھی اس لیے وہ اس کو راسخ کرنے کے لیے ہر قسم کے ذرائع استعمال کرتے رہے۔
اس قسم کے مختلف تفریقی نظریات نے قدیم زمانہ میں انسانی مساوات کے تصور کو ایک غیر عملی چیز بنا دیا تھا۔ اسلام نے پہلی بار تفریق انسانیت کے اس ذہن کو توڑا اور وہ حقیقی نظریہ (ideology) فراہم کی جس کی بنیاد پر انسانی مساوات کا قیام عمل میںآسکے۔
اسلام نے یہ تصور دیا کہ جو کچھ تفریق ہے وہ خدا اور انسان یا خالق اور مخلوق کے درمیان ہے، خود انسانوں کے درمیان باہمی طورپر کوئی تفریق نہیں۔ ہر انسان یکساں طور پر خدا کا بندہ ہے۔ اس اصول کے تحت عرب میں جو سماجی انقلاب آیا وہ دھیرے دھیرے تمام دنیا میں پھیل گیا، یہاں تک کہ مساوات کا وہ زمانہ آگیا جس کو آج ہم ساری دنیا میں دیکھ رہے ہیں۔
واپس اوپر جائیں

صبر کیا ہے

صبر کے لفظی معنیٰ ہیں رکنا۔ عربی میں کہتے ہیں: صبرتُ الدابّۃ (میں نے جانور کو چارے سے روک دیا)۔ شریعت میں جس صبرکا حکم دیا گیا ہے۔ اس کی حقیقت اسی سے سمجھی جاسکتی ہے۔ایمانی زندگی بااصول زندگی کا نام ہے۔ مومن انسان ایک بامقصد انسان ہوتا ہے۔ ایسا آدمی جذباتی ردعمل کے تحت کوئی اقدام نہیں کرسکتا۔ اس کے سامنے جب کوئی صورت حال آئے گی تو وہ رک کر سوچے گا کہ اس معاملے میںکون سا ردّ عمل میرے اصول اور مقصد کے مطابق ہے اور کون سا رد عمل میرے اصول اور مقصد کے خلاف ہے۔ دوسرے لفظوں میں یہ کہہ سکتے ہیں کہ پیش آمدہ معاملات میں عاجلانہ جواب (hasty response) کا نام بے صبری ہے، اور سوچے سمجھے جواب (considered response) کا نام صبر۔
اس صبر کا تعلق زندگی کے تمام معاملات سے ہے۔ آپ پر ایک خواہش کا غلبہ ہوتا ہے، مگر آپ ایسا نہیں کرتے کہ خواہش پیدا ہوتے ہی اس کو کر گزریں بلکہ آپ اپنے کو تھام کر سوچتے ہیں اور وہی کرتے ہیں جو شریعت خداوندی کا تقاضا ہے تو یہ صبر ہے۔ کسی شخص سے آپ کو تکلیف پہنچتی ہے۔ آپ کے اندر انتقام کا جذبہ بھڑک اٹھتا ہے۔ مگرآپ اپنے کو روکتے ہیں اور پھر وہ کرتے ہیں جو ایمان کا تقاضا ہے، تو یہ صبر ہے۔ آپ اسلامی دعوت لے کر اٹھتے ہیں، آپ کے راستے میں رکاوٹیں پیش آتی ہیں، اب آپ اندھا دھند اقدام نہیں کرتے، بلکہ سارے پہلوؤں کو شریعت کی روشنی میں جانچتے ہیں اور اس کے بعد وہی کرتے ہیں جو شریعت کے مطابق کرنا چاہیے تو یہ صبر ہے۔ آپ ایسے حالات میں گِھر جاتے ہیں جو آپ کی مرضی کے خلاف ہیں۔ اب آپ فوری جذبے کے تحت اٹھ کر حالات سے لڑنے نہیں لگتے، بلکہ قرآن اور سنت کی روشنی میں پورے معاملے کو جانچتے ہیں اور اس کے بعد وہ کرتے ہیں جو قرآن اورسنت کی منشا ہے، نہ کہ وہ جو آپ کی ذاتی منشا ہے، تو اس کا نام صبر ہے۔صبر مومن کا دستورہے، صبر مومن کا اصولِ حیات ہے۔ صبر وہ حکیمانہ طریق ِ عمل ہے جو مومن اس دنیامیں اختیار کرتا ہے۔ جس آدمی کے اندر صبر کی صفت نہ ہو، اس کے متعلق یہ امر مشتبہ ہے کہ اس کو ایمان کی معرفت ملی ہے، یا ابھی تک اس کو ایمان کی معرفت نہیں ملی۔
واپس اوپر جائیں

کامل انسان

کامل انسان کون ہے۔ کامل انسان وہ ہے جس کے اندر انسانی صفات کامل درجہ میں پائی جاتی ہوں۔ جس کی شخصیت میں اوصافِ آدمیت اپنی کامل صورت میں اکھٹا ہوجائیں۔ جو ان خصوصیات کا عملی نمونہ بن جائے جو امکانی طورپر ہر فرد کے اندر اس کے خالق نے رکھ دی ہیں۔
ایسا انسان متوازن شخصیت کا حامل ہوتا ہے۔ وہ نفسیاتی پیچیدگی سے خالی ہوتا ہے۔ وہ نفس امّارہ پر نفس لوامہ کو غالب کرتا رہتا ہے، یہاں تک کہ وہ النفس المطمئنۃ کا مصداق بن جاتا ہے۔
یہ وہ انسان ہے جو دنیوی چیزوں سے گزر کر حقیقت اعلیٰ میں جینے لگے۔ جو ظاہری اہمیت کی چیزوں سے اوپر اٹھ کر معنوی اہمیت کی چیزوں میں گم ہوجائے، جو ارنا الأشیاء کما ھی کے درجہ میں پہنچ جائے اور چیزوں کو ان کی اصل حقیقت کے اعتبار سے دیکھنے لگے، نہ کہ ان کی اس شکل میں جیسا کہ وہ بظاہر دکھائی دیتی ہیں۔
یہ آدمی وہ ہے جو ایک دلیل کے آگے اس طرح جھک جائے جس طرح کوئی شخص طاقت کے آگے جھکتا ہے۔جو بات کو خود بات کے اعتبار سے دیکھے، نہ کہ اس اعتبار سے کہ وہ اس کے موافق ہے یا اس کے خلاف۔ جو اعلیٰ ترین صلاحیت رکھنے کے باوجود آخری حد تک متواضع بن جائے۔ جس کا حل ہر قسم کے منفی جذبات سے خالی ہو۔ جو اپنے اور غیر کا فرق کیے بغیر لوگوںسے معاملہ کرسکتا ہو۔ جو ذاتی مفاد اور شخصی محرکات سے آخری حد تک بلند ہو۔ جو اپنی ذات میں جینے کے بجائے برتر حقائق پر جیتاہو۔
ہر انسان کو خدا نے امکانی طورپر انسانِ کامل ہی بنایا ہے۔مگر اس امکانی کاملیت کو ایک واقعی شخصیت میں ظاہر کرنا، یہ ہر شخص کا اپنا کام ہے۔ ہر پیدا ہونے والے انسان کا کیس اسفل سافلین کا کیس بن جاتا ہے-یہ اس کی اپنی ارادی کوشش ہے جو دوبارہ اس کو احسن تقویم کے درجے تک پہنچاتی ہے۔کامل انسان بننے کا راز کامل تقوی ہے- یہ دراصل اللہ کا خوف ہے جو کسی انسان کو کامل انسان بنا دیتا ہے- کامل انسان بننے کا کوئی اور طریقہ نہیں-
واپس اوپر جائیں

مسلمانوں کے قومی تقاضے

حقیقت یہ ہے کہ امتِ مسلمہ کا مشن صرف ایک ہے اور وہ ہے دعوت الی اللہ، یعنی ہر زمانے میں اور ہر مقام پر اللہ کا پیغام لوگوں تک پہنچاتے رہنا- قرآن میں یہ بات نہایت واضح ہے- سنتِ رسول سے بھی یہی بات معلوم ہوتی ہے- اِس کے باوجود کیا وجہ ہے کہ اکثر مسلمان دعوت الی اللہ کے کام کی اہمیت کو سمجھ نہیں پاتے- اِس کا سبب ایک ’’مگر‘‘ ہے- یہ مگر،قومی مگرہے- موجودہ زمانے کے مسلمانوں کا عام طورپر یہ حال ہے کہ وہ اپنے قومی مسائل کو لے کر سوچتے ہیں- اِس کے مطابق، وہ سمجھتے ہیں کہ یہ قومیں اُن کے خلاف سازش کرتی رہتی ہیں- یہی سب سے بڑی وجہ ہے جس کی بناپر وہ دعوت کی اہمیت کو سمجھ نہیں پاتے، وہ دعوت کی اہمیت کا اقرار کریں گے، اس کے بعد ایک ’’مگر‘‘ کہہ کر اس کو چھوڑیں گے -
مذکورہ قومی ذہن کی بنا پر ساری دنیا کے مسلمانوں کا حال یہ ہے کہ وہ دوسری قوموں کو اپنا دشمن سمجھتے ہیں- دوسروں کے بارے میں ان کی سوچ پوری کی پوری منفی سوچ بن گئی ہے- دوسری قوموں کےلیے اُن کے دل میں صرف نفرت ہے، نہ کہ خیر خواہی، اور یہ ایک واقعہ ہے کہ دعوت کا کام ہمیشہ دوسروں کے لیے خیر خواہی کے جذبے کےتحت ہوتا ہے- نفرت کے جذبے کے ساتھ کبھی دعوت کا کام نہیں کیا جاسکتا-
اللہ کے تخلیقی منصوبے کے مطابق، اِس دنیا میں مسابقت (competition) اور چیلنج کا نظام قائم ہے- مسلمان جن چیزوں کو بطور خود ظلم اور سازش سمجھتے ہیں، وہ سب کے سب اللہ کے اِسی تخلیقی منصوبے کی بنا پر ہیں- یہ صورتِ حال اِس دنیا میں ہمیشہ تھی اور ہمیشہ باقی رہے گی- اِس لیے مسلمانوں کو یہ کرنا ہے کہ وہ اپنی مفروضہ ’’شکایتوں‘‘ کو اللہ کے خانے میں ڈال دیں، جن کو اب تک وہ دوسری قوموں کے خانے میں ڈالے ہوئے ہیں- ایسا کرنا مسلمانوں کے لیے فرض کے درجے میں ضروری ہے- مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ اپنے آپ کو اِس قومی ذہن سے آزاد کریں، اِس کے بغیر وہ دعوت الی اللہ کی ذمے داری کو ادا نہیں کرسکتے-
واپس اوپر جائیں

دعوت الی اللہ

دعوت الی اللہ تمام پیغمبروں کا مشن تھا اور خود پیغمبر آخر الزماں صلی اللہ علیہ وسلم کا بھی-دعوت الی اللہ کا مطلب ہے اللہ کی طرف بلانا- دعوت الی اللہ عین وہی چیز ہے جس کے لیے قرآن میں انذار وتبشیر کے الفاظ آئے ہیں، یعنی اللہ کی پکڑ سے ڈرانا اور اللہ کے انعام کی خوش خبری دینا-
دعوت الی اللہ کیا ہے، اِس کو دوسرے الفاظ میں اِس طرح بیان کیا جاسکتا ہے کہ دعوت الی اللہ یہ ہےکہ لوگوں کو اللہ کے تخلیقی پلان (creation plan of God) سے آگاہ کیا جائے- لوگوں کو یہ بتایا جائے کہ خالق نے یہ دنیا کیوں بنائی، اُس نےانسان کو یہاں کس لیے آباد کیا، زندگی کیا ہے اور موت کیا-
یہ سوالات ہر انسان کے لیے بنیادی سوالات ہیں- اِنھیں سوالات کے جواب پر انسانی زندگی کی تشکیل ہوتی ہے- اِنھیں سوالات کے جواب سے یہ متعین ہوتاہے کہ انسان کیا کرے اور کیا نہ کرے- اللہ تعالی نے ہر دور میں اپنے پیغمبر بھیجے اور اُن پر وحی کی- اِس وحی کی روشنی میں انھوں نے ہر دور کے انسانوں کو بتایا کہ زندگی کی حقیقت کیا ہے- وہ دنیا میں کس طرح زندگی گزاریں کہ وہ اللہ کی پکڑ سے بچیں اور آخرت کے انعامات کے مستحق قرار پائیں-
ہر پیغمبر اپنے بعد الہامی کتاب کی صورت میں یہ ہدایت اپنے زمانے کے لوگوں کو دیتا رہا، لیکن قدیم دور میں یہ الہامی تعلیمات محفوظ نہ رہ سکیں- یہ واقعہ ہر پیغمبر کے بعد بار بار ہوا- آخر کار اللہ تعالی نےاپنے آخری پیغمبر محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو بھیجا، اور آپ پر اتری ہوئی تعلیمات کو ایک کتاب کی شکل میں محفوظ کردیا جس کو ہم قرآن کہتے ہیں- اب یہی قرآن نبوت کا بدل ہے- اب امتِ محمدی کی یہ ذمے داری ہے کہ وہ ہر دور میں اور ہر نسل میں قرآن کی تعلیمات کو لوگوں تک پہنچاتی رہے- یہ کام اِس طرح موثر انداز میں ہونا چاہیے کہ لوگوں کا ذہن ایڈریس ہو اور وہ اپنے خالق کی منشا کو سمجھیں اور اس کو اپنی زندگی میںاختیار کرسکیں-
واپس اوپر جائیں

مذہبی انتہا پسندی

مذہبی انتہا پسندی(religious extremism) کیا ہے۔ مذہبی انتہا پسندی دراصل دورِ زوال کا ایک ظاہرہ ہے-کوئی امت جب بعد کے زمانے میں زوال (degeneration) کا شکار ہوتی ہے تو اُس وقت امت کے اندر وہ چیز پیدا ہوجاتی ہے جس کو مذہبی انتہا پسندی کہا جاتا ہے۔ زوال کا تعلق فطرت کے ایک قانون سے ہے۔ اِس میں کسی امت کا کوئی استثنا نہیں-
موجودہ زمانے میں امتِ مسلمہ اپنے دورِ زوال میں ہے، اور زوال کے دوسرے مظاہر کی طرح اس کے اندر مذہبی انتہا پسندی آچکی ہے۔ قرآن اور حدیث میں مذہبی انتہا پسندی کے لیے جو لفظ استعمال کیاگیا ہے، وہ غلو ہے۔ کسی امت کی بعد کی نسلوں میں جب زوال آتا ہے تو اُس وقت فطری قانون کے تحت ایسا ہوتا ہے کہ امت کے افراد میں دین کی اسپرٹ ختم ہوجاتی ہے۔ اُن کے درمیان صرف دین کا فارم باقی رہتا ہے۔ مذہبی انتہا پسندی دراصل مبنی بر فارم مذہب کا دوسرا نام ہے۔
کسی امت کے دور زوال میں جب مبنی بر فارم مذہب کا رواج ہوجائے تو ایسا ہوتا ہے کہ دین کے ہر معاملے میں ظواہر کو اہم سمجھ لیا جاتا ہے۔ اُس وقت فطری طور پرایسا ہوتاہے کہ قرآن میں صحتِ تلفظ کو ساری اہمیت حاصل ہوجاتی ہے۔ عبادت کے معاملے میں خشوع کے بجائے ارکان کی ادائیگی کو سب کچھ سمجھ لیا جاتا ہے۔ دینی احکام کے معاملے میں ساری بحث اس کے فنی پہلوؤں پر مرتکز ہوجاتی ہے۔ اسلامی زندگی کا مطلب یہ بن جاتا ہے کہ ایک ظاہری شناخت (identity) کو اختیار کرلیاجائے۔ اسلامی دعوت کا مطلب یہ سمجھ لیا جاتا ہے کہ مروجہ سیاسی نظام کو توڑ کر اس پر قبضہ کرنے کی کوشش کی جائے۔ اسلامی حکومت کا مطلب یہ سمجھ لیا جاتا ہے کہ بالجبر لوگوں کے اوپر شرعی حدود قائم کی جائے۔ اسلامی مفاد کا مطلب یہ سمجھ لیا جاتا ہے کہ تمام قوموں کو اسلام دشمن قرار دے کر اُن کے خلاف نفرت اور تشدد کا ہنگامہ کیا جائے، وغیرہ-
کسی امت کا دور زوال میں پہنچنا کیا ہے، وہ ایک عمومی مثال کے مطابق، تاڑ سے گرکر کھجور پر اٹکنا ہے۔ ایسے وقت میں امت کا حال یہ ہوتا ہے کہ وہ عام قوموں کی طرح صرف ایک مادی قوم بن جاتی ہے۔ تاہم اپنی تاریخی روایات کے مطابق، اس کے لیے ممکن نہیں ہوتا کہ وہ اپنے دین سے قطع تعلق کرلے۔ دین اس کے لیے ایک روایتی وراثت ہوتا ہے۔ دین اس کی قومی شناخت ہوتا ہے۔ دین کی تاریخ اس کے لیے فخر کا سرمایہ ہوتی ہے۔ اس کے ادارے اور اس کی سرگرمیاں، سب کی سب، دین کے نام پر کھڑی ہوتی ہیں۔ دین اب اس کے لیے صرف دین نہیں رہتا، بلکہ وہ اس کی دنیوی حیثیت کی واحد علامت بن جاتاہے-
کسی امت پر جب یہ وقت آتا ہے تو اُس وقت اس کے اندر وہ ظاہرہ فروغ پاتا ہے جس کو مذہبی انتہا پسندی کہا جاتا ہے۔ فطری طورپر اُس وقت اِس مذہبی انتہا پسندی کا اظہار دین کی اسپرٹ میں نہیں ہوتا، بلکہ اس کے ظواہر میں ہوتا ہے۔ اُس وقت دین کا اظہار اُن معاملات میں ہوتا ہے جن کا تعلق زندگی کے دنیوی یا مادّی پہلو سے ہو-
ایک زوال یافتہ امت کے اندر کام کا آغاز افراد کی اصلاح سے ہوتا ہے، نہ کہ اجتماعی اقدام سے۔ ایسی امت کے اندر اگر کوئی اجتماعی ادارہ بنایا جائے، اس کےاندر کوئی حکومت قائم کی جائے، اس کے اندر کوئی تنظیم قائم کی جائے تو ایسا ہر اقدام ہمیشہ نتیجے کے اعتبار سے ناکام ثابت ہوگا۔ کیوں کہ زوال یافتہ امت کے اندر بنائے ہوئے اجتماعی ادارے کے ارکان بھی زوال یافتہ ہوں گے۔ اِس بنا پر اِس قسم کا اجتماعی ادارہ اپنے درودیوار یاظاہری دھوم کے اعتبار سے تو ادارہ نظر آئے گا، لیکن اپنی حقیقت کے اعتبار سے، وہ صرف ایک شان دار قبرستان ہوگا، اِس کے سوا اور کچھ نہیں-
واپس اوپر جائیں

سارا جہاں ہمارا

علامہ اقبال (وفات: 1938) بر صغیر ہند کی نہایت مشہور شخصیت تھے، مسلمانوں کے ہر حلقے میں ان کو مقبولیت حاصل ہوئی۔ ان کا ایک مشہور شعر یہ ہے:
چین وعرب ہمارا، ہندوستاں ہمارا مسلم ہیں ہم، وطن ہے سارا جہاں ہمارا
یہ شعر ایک عرب اسکالر ڈاکٹر عبد الوہاب عزام (وفات: 1959 ء) کو اتنا زیادہ پسند آیا کہ انھوں نے عربی زبان میں اس کا ترجمہ کرکے اس کو شائع کیا۔ اُن کا عربی ترجمہ یہ تھا:
الصین لنا والعُرب لنا والہند لنا والکل لنا
لیکن یہ شعر صحیح اسلامی ذہن کی ترجمانی نہیں-اِس کا ایک ثبوت یہ ہےکہ کسی صحابی یا کسی تابعی نے مسلم کی تعریف اِن الفاظ میں نہیں کی۔ حقیقت کے اعتبار سے یہ بات درست نہیں کہ ساری دنیا مسلمانوں کی دنیا ہے، بلکہ ساری دنیا انسانوں کی دنیا ہے، نہ کہ کسی قوم یا کسی امت کی دنیا۔ قرآن وسنت میں تخلیقِ عالم کا جو تصور دیاگیا ہے، وہ یہی ہے-
صحیح بات یہ ہے کہ ہر مسلم اُسی طرح ایک انسان ہوتا ہے جس طرح دوسرے انسان۔ خدا کی بنائی ہوئی دنیا پر کسی مسلم کا بھی اتنا ہی حق ہے جتنا کہ دوسرے انسانوں کا حق۔ اللہ نے یہ دنیا کسی خاص امت کے لیے نہیں بنائی، بلکہ سارے انسانوں کے لیے بنائی ہے-
البتہ مسئولیت کے اعتبار سے، مسلم یا مسلم امت کی ایک ذمہ داری ہے، اور وہ دعوت الی اللہ کی عالمی ذمے داری ہے۔ مسلمان خاتم النبیین کی امت ہیں۔ اِس اعتبار سے، مسلمانوں کی یہ لازمی ذمے داری ہے کہ وہ اپنے پیغمبر سے ملے ہوئے دینِ خداوندی کو ساری دنیا کے انسانوں تک پہنچائیں اور قیامت تک پہنچاتے رہیں۔ ساری دنیا مسلمانوں کی دنیا نہیں ہے، البتہ ساری دنیا کے انسان مسلمان کے لیے مدعو کی حیثیت رکھتے ہیں-قرآن وحدیث کے اعتبار سے یہی صحیح اسلامی ذہن ہے-
واپس اوپر جائیں

پروموشن کی خبر

ایک صاحب سے ملاقات ہوئی، انھوں نے کہا کہ میرا پروموشن (promotion) ہوگیا ہے، اب مجھے زیادہ تنخواہ ملے گی، زیادہ بڑا گھر رہنے کو ملے گا، اب مجھے زیادہ بڑی گاڑی استعمال کے لیے دی جائے گی- پہلے مجھے سفر کے لیے ریلوے کا پاس (pass) ملتا تھا، اب مجھے سفر کے لیے ہوائی جہاز کا ٹکٹ ملے گا، وغیرہ-اس کو سن کر میںنے سوچا کہ یہی آخرت کا معاملہ بھی ہے- جنت کے معاملے کو دنیا کی اصطلاح میں اسی طرح بیان کیا جاسکتا ہے، جنت کا معاملہ بھی گویا پروموشن کا معاملہ ہے، جن لوگوںکا ریکارڈ موجودہ غیر کامل دنیا میں اچھا ہوگا، ان کو پروموٹ کرکے آخرت کی کامل دنیا (جنت) میں داخل کردیا جائے گا-
یہ صورت حال تقاضا کرتی ہے کہ آدمی دنیا میں بہت زیادہ ہوش مندی کے ساتھ رہے، وہ اپنے ہر معاملے کو اِسی نظر سے جانچے کہ وہ جنّت میں داخلے کے لیے رکاوٹ ہے یا مدد گار- اِس اعتبار سے جس آدمی کا ذہن بیدار ہو، وہ گویا کہ خود اپنا چوکی دار بن جائے گا، وہ اپنی سوچ، اپنی گفتگو، اپنا سلوک، غرض اپنے قول وعمل کی مسلسل طورپر نگرانی کرتا رہے گا، وہ حضرت عمر کے اِس قول کا مصداق بن جائے گا کہ: وزنوا أنفسکم قبل أن توزنوا (کنزل العمال: 44203)یعنی اپنے آپ کو دنیا میں تولو اِس سے پہلے کہ تم کو آخرت میں تولا جائے-
پروموشن کی خبر کی طرح دعوت بھی ایک خبر ہے- اگر کسی شخص پر سچائی منکشف ہوجائے تو اس کےلیے یہ واقعہ جاب میں پروموشن کی خبر سے بلین گنا زیادہ بڑا واقعہ ہوگا- ایسا آدمی اِس کا تحمل نہیں کرسکتا کہ وہ اپنی دریافت کو اپنے ذہن میں لیے رہے اور اس کا اعلان نہ کرے- حقیقت یہ ہے کہ سچائی کی دریافت اپنے آپ کسی آدمی کو داعی بنا دیتی ہے- اگر کوئی شخص یہ دعوی کرے کہ اس نے سچائی کو پالیا ہے، اس کے باوجود وہ دعوت الی اللہ کا کام نہ کرے تو یہ گویا اس بات کا ثبوت ہے کہ اُس نے سچائی کو پایا ہی نہیں-
واپس اوپر جائیں

ذہنی ارتقا

اسلام میں سب سے زیادہ مطلوب چیز فرد کا تزکیہ ہے، یعنی ربانی تصورِ حیات کے مطابق، ذہنی ارتقا۔ کسی صاحبِ عقیدہ کے اندر جو اعلی صفات مطلوب ہیں، اُن کا اصل ذریعہ یہی ذہنی ارتقا ہے۔ علمی اعتبار سے، ذہنی ارتقا کا ذریعہ قرآن وحدیث کا مطالعہ ہے۔ کوئی آدمی جتنا زیادہ مطالعہ کرے گا، اتنا ہی زیادہ اس کے اندر وہ علمی بنیاد پائی جائے گی جو تزکیہ کے عمل کے لیے ضروری ہے-
لیکن تزکیہ یا ذہنی ارتقا کے لیے ایک اور چیز مطلوب ہے۔ اس کو نفسیاتی بنیاد کہاجاسکتا ہے۔ اِس نفسیاتی بنیاد کو علماء نے اِن الفاظ میں بیان کیا ہے: الإیمان بین الرجاء والخوف - یعنی ایمان امید اور خوف کے درمیان ہے۔ دوسرے الفاظ میں یہ کہ مومن ہمیشہ ایک قسم کے شک (suspicion) کی حالت میں جیتا ہے۔ کبھی وہ اللہ کی رحمت کو یاد کرکے یقین کا تجربہ کرتا ہے اور کبھی وہ اپنی کوتاہیوں کو سوچ کر شبہہ کی حالت میں مبتلا ہوجاتا ہے۔ یہ ایمانی کیفیت اتنی زیادہ عام ہے کہ صحابہ کا بھی اِس معاملے میں استثنا نہیں-
ایسا کیوں ہوتا ہے۔ اِس کا سبب یہ ہے کہ فطرت کے نقشے کے مطابق، یہی وہ واحد طریقہ ہے جس کے ذریعے آدمی کا ذہنی ارتقا مسلسل طورپر جاری رہے۔ شبہہ کی یہ حالت دراصل ایک قسم کا ذہنی شاک (intellectual shock) ہے، اور نفسیات کا مطالعہ بتاتا ہے کہ انسان کے اندر ذہنی ترقی صرف شاک ٹریٹمنٹ (shock treatment) کے ذریعہ ہوتی ہے-
اللہ کو یہ مطلوب ہے کہ انسان خود دریافت کردہ حقیقت (self-discovered reality) پر کھڑا ہو۔ اور خود دریافت کردہ حقیقت کے حصول کا واحد طریقہ یہ ہے کہ انسان کے اندر مسلسل طورپر سوچ کا عمل (thinking process) جاری رہے۔ اعلىٰ علم و معرفت کے حصول کے لیے ’’میں نہیں جانتا‘‘ کی نفسیات درکار ہے، نہ کہ ’’میں جانتا ہوں‘‘ کی نفسیات-
واپس اوپر جائیں

تلوار بطور تمثیل

بائبل (نیا عہد نامہ) کے باب متّی میں بتایا گیا ہے کہ حضرت مسیح نے کہا کہ — یہ نہ سمجھو کہ میں زمین پر صلح کرانے آیا ہوں، صلح کرانے نہیں، بلکہ تلوار چلوانے آیا ہوں:
Do not suppose that I have come to bring peace to the earth. I did not come to bring peace, but a sword. (Matthew, 10:34)
مسیحی علما ء اِس قول میں ’’تلوار‘‘ کے لفظ کو تمثیل کے معنی میں لیتے ہیں- اُن کے نزدیک، یہاں تلوار کا لفظ تمثیل کے معنی میں ہے- اِس سے مراد نظریاتی ٹکراؤ ہے- مسیح نے اپنے اِس قول میں عملی تشدد کی وکالت نہیں کی ہے:
Many Christians believe that the sword is a metaphor for ideological conflict and that Jesus is not advocating physical violence.
مسیحی علماء کی یہ تاویل بالکل درست ہے- یہ ایک حقیقت ہے کہ تلوار کا لفظ تمثیل کے طورپر بھی استعمال ہوتا ہے، ادبی لٹریچر میں بھی اور مذہبی لٹریچر میں بھی- اسلام میں بھی تلوار کا تمثیلی استعمال پایا جاتا ہے- اصل یہ ہے کہ تلوار یا جنگ کا لفظ اپنے ادبی استعمال کے لحاظ سے اکثر شدت کے معنی میں استعمال ہوتا ہے، یعنی بھر پور جدوجہد کرنا-
مثلاً کہا جاتا ہے: فائٹ ٹو فنش (fight to finish)- اِس جملے کا مطلب جنگ نہیں ہوتا، بلکہ یہ ہوتا ہے کہ پوری طاقت کے ساتھ اپنے مقصد کو حاصل کرنے کی کوشش کرو، اپنی کوشش میں کسی بھی قسم کی کوئی کمی نہ کرو-لوگوں کا عام مزاج یہ ہے کہ وہ تنقید کو اتنا ہی برا سمجھتے ہیں، جتنا کہ تشدکو- مگر یہ لوگوں کی حساسیت کی بات ہے، ورنہ تنقید ایک پرامن اصلاحی عمل ہے- انسان کو چاہئے کہ وہ تنقید کو مثبت انداز میں لے- وہ تنقید کو برا سمجھنے کے بجائے اس پر غور کرے-
واپس اوپر جائیں

شکایت بے جا

برطانیہ کے ایک ممبر پارلیمنٹ انِاک پاویل (Enoch Powell) نے ان سیاسی لیڈروں پر تبصرہ کیا ہے جومیڈیا کی شکایت کرتے ہیں-اُن کے نزدیک یہ شکایت بے جا ہے- انھوں نے کہا کہ کسی سیاسی لیڈر کی میڈیا سے شکایت ایسی ہی ہے جیسے پانی کے جہاز کا ایک کیپٹن سمندر کی موجوں کی شکایت کرنے لگے:
A politician who complains about the media is like a ship’s captain complaining about the sea.
یہ تبصرہ بالکل درست ہے- مگر یہ صرف سیاسی لیڈر اور میڈیاکی بات نہیں، بلکہ وہ ہر انسان کے لیے عام ہے- کوئی بھی عورت یا مرد جب کسی کی شکایت کرتے ہیں تو حقیقت کے اعتبار سے اُن کی شکایت ایک بے جا شکایت ہوتی ہے وہ ایک ایسے معاملے کو شکایت کا معاملہ بنالیتے ہیں جو اپنی حقیقت کے اعتبار سے شکایت کا معاملہ ہی نہیں-اِس دنیا کا نظام فطرت کے اصول پر قائم ہے- فطرت کے اصول کے مطابق کسی انسان کو جس دنیا میں رہنا پڑتا ہے، وہ گویا ایک سمندر ہے- اجتماعی زندگی ہمیشہ موجوں سے بھرے ہوئے سمندر جیسی ہوتی ہے- اجتماعی زندگی میں ہمیشہ ایسا ہوگا کہ ایک انسان کو موجوں سے سابقہ پیش آئے گا- آدمی کو چاہئے کہ وہ ان موجوں کو اپنے لیے ایک چیلنج سمجھے- وہ موجوں کی شکایت کرنے کے بجائے یہ آرٹ سیکھے کہ وہ کس طرح کامیابی کے ساتھ اِن موجوں سے گزر سکتا ہے-
زندگی میں موج یا چیلنج کا وجود کوئی برائی نہیں- وہ انسان کی بہتری کے لیے ہے، وہ اس لیے ہے کہ انسان کی تربیت کرے، وہ اِس لیے ہے کہ انسان کی عقل میں اضافہ کرے، وہ اِس لیے ہے کہ انسان کو اور زیادہ طاقتور بنائے- زندگی میں مشکلات کی حیثیت تجربہ کی ہے، اور تجربہ کے بغیر کبھی کوئی انسان مکمل نہیں ہوسکتا-آدمی کو چاہئے کہ وہ تجربات سے سیکھے، وہ شکایات کی نفسیات سے آخری حد تک اپنے آپ کو بچائے-
واپس اوپر جائیں

خبرنامہ اسلامی مرکز— 229

1- انٹرنیشنل اسکول فار جین اسٹڈیز کے زیر اہتمام نان وائلنس پر تین ہفتہ کا ایک ورکشاپ منعقد کیا گیا، جس میں امریکہ، کناڈا، زمبابوے، اور پاکستان کے 35 ہائی اسکول ٹیچروں نے شرکت کی۔ مختلف مذاہب کے نمائندوں کو اس میں نان وائلنس کے موضوع پر لکچر کے لیے بلایا گیا تھا ۔ 26 جولائی 2014 کو ڈاکٹر فریدہ خانم نے اسلام کی نمائندگی کرتے ہوئے ان کے درمیان ایک لکچر دیا، موضوع تھا :
The Concept of Non-violence in Islam
لکچر کے بعد سوال و جواب کی نشست ہوئی۔ تمام حاضرین نے بڑے انٹرسٹ کے ساتھ سنا۔ سی پی ایس ممبر مس ماریہ خان اور مس صوفیہ خان نے ان کے درمیان قرآن کا انگلش ترجمہ اور دیگر اسلامی لٹریچر تقسیم کیا، جسے تمام لوگوں نے شکریہ کے ساتھ قبول کیا۔ یہ پروگرام ولبھ اسمارک جین مندر، علی پور میں ہوا تھا۔
2- 30جولائی 2014 کو یونیسیف انڈیا کی جانب سے انٹرفیتھ ہارمنی کے مرکزی موضوع پر ایک سیمینار منعقد کیا گیا ۔ صدر اسلامی مرکز نے اس پروگرام میں افتتاحی خطاب کیا، موضوع تھا: Religion and Social Change ۔ خطاب کےبعد تمام حاضرین کو قرآن اور دوسرے اسلامی لٹریچر دیے گیے۔ تمام حاضرین نے بہت ہی شوق سے اسے قبول کیا۔ یہ تقریر انگریزی زبان میں تھی، اوراس لنک پر اسے سنا جاسکتا ہے:
http://cpsglobal.org/content/religion-and-social-change-july-30-2014
-3 سی پی ایس کی کولکاتا ٹیم نے 2اگست 2014 کوایک انٹر فیتھ ڈائلاگ کا اہتمام کیا۔ اس کا عنوان تھا:
Importance of Peace & and Spirituality in Global Perspective
اس میں مختلف مذاہب کے نمائندے شریک ہوئے۔ مثلا مسٹراو ۔پی۔ شا، اور مسٹر وجئے یوگی (ہندوازم)، مسٹرمونی جی مہاراج (جین ازم)،Rev پی ایس بشپ (کرشچنیٹی)، ٹی ایس والیا (سکھ ازم)، اور ڈاکٹر سید تنویر نسرین (یونیورسٹی آف بردوان)، وغیرہ۔ پروگرام کے اختتام پر تمام لوگوں کو قرآن کا ترجمہ اور دیگر دعوتی لٹریچر دیا گیا۔ جس کو تمام مہمانوں نے بخوشی قبول کیا۔ پروگرام کا اختتام مولانا محمد شفیق قاسمی (امام ناخدا مسجد اور صدر کولکاتا ٹیم) کے کلمات پر ہوا۔
4- ٹائمس آف انڈیا اور کوکیلا دھیروبھائی امبانی ہاسپٹل اینڈ ریسرچ سینٹر کے زیر اہتمام 11 اگست 2014 کو ممبئی میں آرگن ڈونیشن (Organ Donation) پر ایک پروگرام ہوا۔ صدر اسلامی مرکز نے دہلی سے بذریعہ ٹیلی کانفرنسنگ اس میں خطاب کیا۔ دوران خطاب جو بات کہی گئی ان میں سے ایک یہ تھی کہ آرگن ڈونیشن صدقۂ جاریہ(continuous charity) ہے۔ تقریر انگریزی زبان میں تھی، اور یہ پروگرام مذکورہ ہاسپٹل میں منعقد ہوا تھا۔ صدراسلامی مرکز نے اس موضوع پر ایک آرٹیکل بھی لکھا ہے۔ تقریر اور آرٹیکل کو ان دو لنکس بالترتیب پر سنا اور پڑھا جاسکتا ہے:
http://cpsglobal.org/content/organ-donation-august-11-2014
http://cpsglobal.org/content/organ-donation-noble-act
5- سی پی ایس کی ممبئی ٹیم نے 8-11 اگست 2014 کو شولاپور کا دعوتی دورہ کیا۔ یہ ٹیم ممبئی اور پونے کے 8 آٹھ افراد پر مشتمل تھی۔ اور سفر کا دو بنیادی مقصد تھا، ماہ نامہ الرسالہ کے قارئین کو دعوتی کام پر ابھارنا، اور برادرانِ وطن کے درمیان دعوتی کام کرنا۔ دورانِ سفر قارئین الرسالہ کے علاوہ جن دوسرے لوگوں سے ملنے کا موقع ملا، ان میں سے چند اہم یہ ہیں، مفتی محمد یوسف صاحب، قاضی شہر امجد علی صاحب، پرینیتی شندے (ایم ال اے، شولاپور)، وغیرہ۔ یہ سفر مسٹر فاروق فیصل ، ممبئی کی قیادت میں ہوا۔ (محبوب ہنتگی،09619163993 )
6- بی بی سی ٹی وی کی ٹیم 15 اگست 2014 کو اسلامی مرکز کے دفتر میں آئی۔ انھوں نے صدر اسلامی مرکز کے مفصل انٹرویو کی ویڈیو ریکارڈنگ کی۔ سوالات کا تعلق زیادہ ترمسلمانوں کے موجودہ حالت و مسائل سے تھا۔ انٹرویو کے بعد اس کے انٹرویور مسٹر شکیل اختر نے بتایا کہ یہ انٹرویو بی بی سی لندن سے تین زبانوںمیں نشر ہوگا، انگریزی اور اردو اور ہندی ۔
7- ترکی کی ایک تعلیمی این جی او انڈیا لاگ (Indialogue) کے زیر اہتمام چلنے والے کئی اسکولوں میں گڈورڈبکس، دہلی کی جانب سے 100 انگلش ترجمۂ قرآن اورسو سو تمام دعوتی کتابچے ارسال کئے گئے۔
8- صدر اسلامی مرکز کی کتاب الاسلام کا انگریزی ترجمہ گڈورڈبکس سے طبع ہوچکا ہے، انگریزی ورزن کا نام ہے: The Vision of Islam۔ اس کتاب کو اس لنک پر آن لائن پڑھا جاسکتا ہے:
http://cpsglobal.org/books/vision-islam
9- مختلف قسم کے دعوتی تجربات وتاثرات کا ایک حصہ ذیل میں نقل کیا جاتا ہے:
— At the end of our weeklong professional development course at La Salle university, Philadelphia, I gave out copies of Quran translation to my class of 12 fellow teachers from different schools and two professors who facilitated the program. I was a little hesitant at first to give out the copies of Quran as it is customary here to not talk about religion and politics inside the class room. To my surprise, everyone was happy and appreciative to receive the copies of the Quran and said it was a very thoughtful gesture. (Khwaja Kaleemuddin, US)
— 3000 copies of a bigger size Quran published for Serving Islam Team, a prominent dawah group in Hong Kong. This size will now be kept in hotel rooms in Dubai and other places.
— Respected Maulana Sahib, I have read your book, Jeewan Ka Udeshya. I like reading books that are not concerned with either Islam or Hinduism. This book is readable for every living human being. (RC Jain, Jodhpur)
— Feedback of a reader of Spirit of Islam: I received my first edition of the Spirit of Islam early this month and would like to give my feedback. The magazine has umpteen social messages which have been beautifully illustrated in each of its articles. Every article has spiritual significance to convey to its readers. The magazine highlights the essence of spirituality in its true sense, which is synonymous with social peace and harmony. As a teenager myself, everyday comes to me as a challenge. Each day, I am introduced to situations that have the potential to lead me astray and make me take wrong decisions. In such a case, articles such as, Suicide is Not an Option, have profound messages to tell and act as courage boosters! Every article has a small yet, a significant lesson that can come in handy in my everyday life. I consider it my privilege to be introduced to this magazine. I would want to congratulate and convey my gratitude to everyone associated with the Spirit of Islam. I would be looking forward to the future editions of the magazine. (Hemapriya R.)
— Taxi dawah: A taxi driver asked Mr. Javed of the Ministry of Awqaf, UAE, for the English Quran translations so that he could give it to the passengers. We are giving him 100 copies of the Quran for distribution to the tourists. (Seema Jalal, Dubai)
واپس اوپر جائیں

Wednesday, 1 October 2014

Al Risala | October 2014 (الرسالہ،اکتوبر)

2

-عید ِ اضحی کا پیغام

4

- حج: ایک انتباہ

5

- اللہ اکبر، اللہ اکبر

6

- اخلاص کیا ہے

7

- نشانی عقل والوں کے لیے

8

- خدا کا تصور

9

- اجماع، رائے جمہور

10

- کامیاب انسانوں کی ناکامی

11

- ہیرا

12

- فقہی معاملے میں توسع

13

- تخلیق آدم

14

- ڈسکوری، ری ڈسکوری

15

- پرمسرت زندگی کا راز

16

- جوہر شناسی

17

- زندگی اور موت

18

- تنبیہہِ خداوندی یاظلمِ انسانی

19

- بڑھاپے سے سبق لینا

20

- توبہ قریب

21

- روح القدس کا تصور

22

- اختلاف کا مسئلہ

24

- فیملی کلچر کا نقصان

25

- سکینہ، فتح

26

- قریش کلچر

28

- اپنی حد کو جانیے

29

- موت کا تجربہ

30

- خاندان کی اہمیت

31

- جانچ کا معیار

32

- چھ بینگ

33

- ایک انسانی کمزوری

34

- اسلامی تعلیمات کے دو حصے

35

- غصہ کا مثبت پہلو

36

- تکاثر سے قبر تک

37

- دلیل یا شوشہ

38

- ہلاکت کیا ہے

39

- تلاوت کا فائدہ

40

- فکری اعتدال

41

- توازن یا ترجیح

42

- تہذیب یا دعوت

43

- ایک اہم کتاب

44

- خبر نامہ اسلامی مرکز


عید ِ اضحی کا پیغام

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے صحابہ نے پوچھا کہ اے خدا کے رسول، یہ قربانیاں کیا ہیں۔ آپ نے جواب دیا کہ تمھارے باپ ابراہیم کا طریقہ (ماہذہ الأضاحی، قال: سنّۃ أبیکم إبراہیم (مسند احمد،رقم الحدیث: 18797؛ ابن ماجہ، رقم الحدیث: 3127)۔ اِس حدیثِ رسول سے معلوم ہوتا ہے کہ عید ِاضحی کی حقیقت کیاہے، وہ ہے —حضرت ابراہیم کے طریقے کو علامتی طورپر انجام دے کر اُس کو عملی اعتبار سے اپنی زندگی میں شامل کرنے کا عہد کرنا۔
عید اضحی ہر سال ماہِ ذو الحجہ کی مخصوص تاریخوں میں دہرائی جاتی ہے۔ وہ دراصل حج کی عالمی عبادت کاحصہ ہے۔ حج پورے معنوں میں، حضرت ابراہیم کی زندگی کا علامتی اعادہ (symbolic performance) ہے۔ اِس کا ایک حصہ وہ ہے جو ہر مقام پر عید ِ اضحی کی شکل میں جزئی طورپر انجام دیا جاتا ہے۔
حضرت ابراہیم کا مشن عالمی دعوتی مشن تھا۔ آپ نے اِس مشن کے لیے ایک جگہ سے دوسری جگہ کا سفر کیا ۔ آپ نے اپنے اہلِ خاندان کو اِسی کام میں لگایا۔ آپ نے اِس دعوتی مشن کے مرکز کے طورپر کعبہ کی تعمیر کی اور اُس کا طواف کیا۔ آپ نے صفا اور مروہ کے درمیان سعی کرکے بتایا کہ دنیا میں میری دوڑ دھوپ تمام تراللہ کے لیے ہوگی۔ آپ نے قربانی کرکے اپنے اندر اِس عزم کو پیدا کیا کہ آپ اپنی زندگی کو پوری طرح، اللہ کے کام کے لیے وقف کریں گے۔ آپ نے احرام کی شکل میں سادہ کپڑے پہنے جو اِس بات کی علامت تھے کہ ان کی زندگی مکمل طور سادہ زندگی ہوگی۔ آپ نے شیطان کو کنکریاں مار کر اِس بات کا اظہار کیا کہ وہ اپنے آپ کو شیطان کے بہکاوے سے آخری حد تک بچائیں گے، وغیرہ۔
اِسی ابراہیمی طریقِ زندگی کو جزئی طور پرہر سال عید ِ اضحی کے موقع پر تمام مسلمان اپنے اپنے مقام پر دہراتے ہیں۔ اِس طرح یہ عید ِ اضحی، حضرت ابراہیم کے طریقِ حیات کو اپنی زندگی میںاپنانے کا ایک سالانہ عہد ہے۔ یہی وہ نمونہ ہے جس کو سامنے رکھ کر ہر شخص کو یہ جانچنا چاہیے کہ اُس نے عید ِ اضحی کے دن کو صحیح طور پر منایا، یا صحیح طورپر نہیں منایا۔
عید اضحی کے دن مسلمان اپنے قریب کے لوگوں سے ملاقاتیں کرتے ہیں۔ یہ ملاقاتیں گویا اُس دعوتی سرگرمی کی تجدید ہیں جو حضرت ابراہیم نے اپنے وقت کی آباد دنیا میں انجام دیں۔ اِسی طرح آج ہر مسلمان کو اپنے زمانے کے لوگوں کے درمیان دعوتی ذمے داریوں کو ادا کرنا ہے۔ پھرہر جگہ کے مسلمان اللہُ أکْبَرُ اللہُ أکْبَرُ، لاَ إلٰہَ إلاّ اللہُ وَاللہُ أکْبَرُ، اللہُ أکْبَرُ وَلِلّٰہِ الْحَمْدُکہتے ہوئے مسجدوں میں جاتے ہیں اور وہاں دو رکعت نمازِ عید ادا کرتے ہیں اور امام کا خطبہ سنتے ہیں۔ یہ اپنے اندر اِس روح کو زندہ کرنا ہے کہ میں خدا کی پکار پر لبیک کہنے کے لیے تیار ہوں، اور یہ کہ میری پوری زندگی عبادت اور اطاعت کی زندگی ہوگی۔ اِسی کے ساتھ امام کے پیچھے نماز ادا کرنا اور نماز کے بعد خطبہ سننا، اِس بات کا عہد ہے کہ میںاِس دنیامیں اجتماعی زندگی گزاروں گا، نہ کہ متفرق زندگی۔
عید ِ اضحی کے دن قربانی کی جاتی ہے۔ اِس قربانی کے وقت یہ کلمات ادا کیے جاتے ہیں:اِنَّ صَلَاتِیْ وَنُسُکِیْ وَمَحْیَایَ وَمَمَاتِیْ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ(الأنعام:161 ) یعنی بے شک، میری نماز اور میری قربانی اور میرا جینا اور میرا مرنا صرف اللہ رب العالمین کے لیے ہوگا۔
قربانی کے وقت ادا کیے جانے والے یہ الفاظ بتاتے ہیں کہ قربانی کی اصل روح یا اس کی اصل حقیقت کیا ہے۔ قربانی دراصل ایک علامتی عہد (symbolic covenant)ہے۔ اِس علامتی عہد کا تعلق پوری زندگی سے ہے۔ اِس کا مطلب یہ ہے کہ عید اضحی کے دن آدمی علامتی طورپر یہ عہد کرتا ہے کہ اس کی زندگی پورے معنوں میں، خدا رخی زندگی (God-oriented life) ہوگی۔ وہ اپنی زندگی میںعبادتِ الٰہی کو اُس کے تمام تقاضوں کے ساتھ شامل کرے گا۔ وہ اپنے آپ کو خدا کے مشن میں وقف کرے گا۔ وہ دنیا میں سرگرم ہوگا تو خدا کے مشن کے لیے سرگرم ہوگا۔ اُس پر موت آئے گی تو اِس حال میں آئے گی کہ اُس نے اپنے آپ کو پوری طرح خدا کے مشن میں لگا رکھا تھا، وہ پورے معنوںمیں خداوند ِ عالم کا بندہ بناہوا تھا۔ اُس کا جینا خدا کے لیے جینا تھا، نہ کہ خود اپنے لیے جینا۔
واپس اوپر جائیں

حج: ایک انتباہ

حضرت انس بن مالک سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یأتی علی الناس زمانٌ یحجّ أغنیاء الناس للنزاہۃ، وأوساطہم للتّجارۃ، وقرّاؤہم للرّیاء والسُمعۃ، وفقراء ہم للمسئلۃ (کنز العُمّال، رقم الحدیث: 12362 ) یعنی لوگوں پر ایک ایسا زمانہ آئے گا، جب کہ مال دار لوگ تفریح کے لیے حج کریں گے، اور اُن کے درمیانی درجے کے لوگ تجارت کے لیے حج کریں گے، اور ان کے علماء دکھاوے اور شہرت کے لیے حج کریں گے، اور ان کے غریب لوگ مانگنے کے لیے حج کریں گے۔
یہ حدیث بہت ڈرا دینے والی ہے۔ اس کی روشنی میں موجودہ زمانے کے مسلمانوں کو خاص طور پر اپنا احتساب کرنا چاہیے۔ اُنھیں غور کرنا چاہیے کہ اُن کا حج اِس حدیثِ رسول کا مصداق تونہیں بن گیا ہے۔ مال دار لوگ سوچیں کہ ان کے حج میں تقویٰ کی اسپرٹ ہے ، یا سیر و تفریح (outing) کی اسپرٹ۔ عام لوگ یہ سوچیں کہ وہ دینی فائدے کے لیے حج کرنے جاتے ہیں یا تجارتی فائدے کے لیے۔ علماء غور کریں کہ وہ عبدیت کا سبق لینے کے لیے بیت اللہ جاتے ہیں، یا اپنی پیشوایانہ حیثیت کو بلند کرنے کے لیے۔ اِسی طرح غریب لوگ سوچیں کہ حج کو انھوں نے خدا سے مانگنے کا ذریعہ بنایا ہے، یا انسانوں سے مانگنے کا ذریعہ۔
اِس حدیثِ رسول میں پیشین گوئی کی زبان میں بتایا گیا ہے کہ امت پر جب زوال آئے گا تو اُس وقت لوگوں کا حال کیا ہوگا۔ دورِ عروج میں امت کا حال یہ ہوتا ہے کہ دین کا روحانی پہلو غالب رہتا ہے اور اس کا مادّی پہلو دبا ہوا ہوتا ہے۔ دورِ زوال میں برعکس طورپر یہ ہوتا ہے کہ لوگوں کے درمیان دین کا روحانی پہلو دب جاتا ہے اور اس کا مادّی پہلو ہر طرف نمایاں ہوجاتا ہے۔ پہلے دور میں، تقویٰ کی حیثیت اصل کی ہوتی ہے اور مادّی چیزیں صرف ضرورت کے درجے میں پائی جاتی ہیں۔ اس کے برعکس، دورِزوال میں مادی چیزیں اصل بن جاتی ہیں اور کچھ ظاہری اور نمائشی چیزوں کا نام تقویٰ بن جاتا ہے۔ یہی معاملہ حج اور عمرہ کے ساتھ بھی پیش آتا ہے اور اسلام کی دوسری عبادات کے ساتھ بھی۔
واپس اوپر جائیں

اللہ اکبر، اللہ اکبر

اللہ اکبر نماز کا سب سے زیادہ اہم حصہ ہے- اذان اور نماز دونوں ملا کر دیکھا جائے تو پانچ وقت کی نمازوں میں اللہ اکبر کا کلمہ روزانہ تقریباً تین سو بار دہرایا جاتا ہے، یعنی ہر پانچ منٹ کے بعد ایک بار- گویا ایک مسلمان اپنی پوری زندگی میں سب سے زیادہ جوکلمہ سنتا یا بولتا ہے، وہ اللہ اکبر کا کلمہ ہے، یعنی اللہ سب سے بڑا ہے-
اِس سے معلوم ہوا کہ دینِ اسلام میں سب سے زیادہ اہمیت اِس بات کی ہے کہ ایک مسلمان، اللہ کی عظمت کو دریافت کرے- اللہ کی عظمت اس کے شعور کا سب سے زیادہ اہم حصہ ہو- اللہ کی عظمت اس کے تفکیری عمل (thinking process) میں اِس طرح شامل ہوجائے کہ وہ کسی بھی حال میں اللہ کی عظمت کے احساس سے غافل نہ ہو-
اللہ اکبر کا کلمہ کسی انسان کی زندگی میں ایک شاہ ضرب (master stroke)کی حیثیت رکھتا ہے- اگر حقیقی معنوں میں کسی انسان کو اللہ کی دریافت ہوجائے تو اس کے بعد اس کی زندگی میں سب سے بڑا مثبت بھونچال آجائے گا- وہ پورے معنوں میں ایک نیا انسان بن جائے گا- اللہ اس کی سوچ کا واحد مرکز بن جائے گا- اس کی زندگی پورے معنوں میں ایک خدا رخی زندگی بن جائے گی-
ایسے انسان کا معاملہ یہ ہوگا کہ اللہ اس کا سپریم کنسرن (supreme concern) بن جائے گا- اللہ کے سوا ہر چیز اس کی زندگی میں سکنڈری حیثیت اختیار کرلے گی- اس کے اندر مادی طرز فکر کا خاتمہ ہوجائے گا- اس کی سوچ قومی سوچ کے بجائے اصولی سوچ بن جائے گی- وہ آخرت کی کامیابی کا حریص بن جائے گا- وہ منفی سوچ سے مکمل طورپر پاک ہوجائے گا- اس کی شخصیت کامل معنوں میں ایک متواضع (modest)شخصیت بن جائے گی- اس کے اندر سے کبر (arrogance) کا خاتمہ ہوجائے گا — اللہ اکبر ایک اعتبار سے عقیدہ ہے اور دوسرے اعتبار سے وہ ایک شخص کی زندگی کا کامل طریقہ-حقیقت یہ ہے کہ اللہ اکبر خلاصۂ ایمان ہے-
واپس اوپر جائیں

اخلاص کیا ہے

اخلاص کے معنی ہیں خالص (pure) ہونا، ملاوٹ سے پاک ہونا- سیکولراصطلاح میں جس چیز کو سنجیدگی (sincerity) کہا جاتا ہے، دینی اصطلاح میں اُس کا نام اخلاص ہے- اخلاص تمام دینی اعمال کی لازمی شرط ہے- جودینی عمل اخلاص کے ساتھ کیا جائے، وہی عمل دینی عمل ہے اور جس دینی عمل میں اخلاص نہ پایا جائے، وہ بظاہر دینی عمل ہونے کے باوجود دینی اعتبار سے بے قیمت ہو جائے گا-
اصل یہ ہے کہ انسان کا ذہن ایک وسیع جنگل ہے- انسانی ذہن کے اندر طرح طرح کے تقاضے، طرح طرح کی خواہشیں، طرح طرح کے دواعی (motivations) ہمیشہ موجود ہوتے ہیں- اِس واقعے کی بنا پر انسان کے اندر وہ کمزور ی پیدا ہو جاتی ہے جس کو متعصبانہ طرز فکر (biased-thinking) کہا جاتا ہے- ایسی حالت میں اخلاص یہ ہے کہ آدمی اپنے آپ کو تمام فکری ملاوٹوں سے بچائے اور انتہائی حد تک بے آمیزانداز میں اپنی رائے قائم کرے-مثال کے طورپر شہد کی مکھی جب پھولوں سے شہد نکال کر اس کو اپنے چھتے میں جمع کرتی ہے تو وہ کامل خالص پن (purity) کے ساتھ یہ کام انجام دیتی ہے، لیکن ایک تاجر جب اس شہد میں ملاوٹ کرکے اس کو بیچتا ہے تو وہ اس کو غیر خالص بنا دیتا ہے-
یہی معاملہ تمام دینی اور اخلاقی عمل کا ہے- اگر آدمی ایک دینی کام صرف اللہ کے لیے کرے تو وہ اللہ کی نظر میں صاحبِ اخلاص قرار پائے گا- اِس کے برعکس، اگر وہ دینی یا اخلاقی کام کو اِس طرح کرے کہ وہ اِس میں کسی اور ذاتی غرض کو شامل کردے، مثلاً شہرت یا لوگوں کی نظر میں نیک نامی یا کوئی ذاتی مفاد، وغیرہ- اگر کسی شخص کے بظاہر دینی عمل میں اِس طرح کا ذاتی محرک شامل ہوجائے تو اس کا عمل غیر مخلصانہ عمل بن جائے گا- اللہ کی نظر میں ایسے عمل کی کوئی قیمت نہ ہوگی- تاہم اخلاص کا کوئی خارجی معیار نہیں، اخلاص تمام تر داخلی نیت کا معاملہ ہے- اس کو یا تو انسان خود سمجھ سکتا ہے، یا اللہ جو دلوں کی حالت کو جاننے والا ہے-
واپس اوپر جائیں

نشانی عقل والوں کے لیے

ابوالعتاہیہ (وفات: 825ء) عبا سی دور کے ایک عرب شاعر ہیں- اُن کا ایک شعر یہ ہے— ہر چیز میں اس کے لیے ایک نشانی ہے جو بتاتی ہے کہ وہ ایک ہے:
وفی کلّ شیء لہ آیة تدلّ على أنہ الواحد
یہ شعر بجائے خود ایک اچھا شعر ہے، لیکن چیزوں میں نشانیوں (signs) کا موجود ہونا اپنے آپ میں نصیحت کے لیے کافی نہیں- نصیحت کے لیے ضروری ہے کہ چیزوں کو دیکھنے والا صاحبِ عقل ہو- اِسی لیے قرآن میں زمین اور آسمان کی نشانیوں کا ذکر کرنے کے بعد یہ کہاگیا ہے کہ: لآیات لقوم یعقلون (2:164) یعنی اِن نشانیوں سے نصیحت صرف اُن لوگوں کو ملتی ہے جو عقل والے ہوں-
عقل سے مراد سوچنے کی صلاحیت ہے، یعنی چیزوں کو سادہ طورپر نہ لینا، بلکہ اُن پر غور کرنا- قرآن میں آیا ہے کہ: وَکَاَیِّنْ مِّنْ اٰیَةٍ فِی السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ یَمُرُّوْنَ عَلَیْہَا وَہُمْ عَنْہَا مُعْرِضُوْنَ (12:105) یعنی آسمانوں اور زمین میں کتنی ہی نشانیاں ہیں جن پر اُن کا گزر ہوتارہتا ہے اور وہ اُن سے اعراض کرتے ہیں-
اعراض کا مطلب ہے روگردانی کرنا- آیت کا مطلب یہ ہے کہ وہ بار بار نشانیوں (signs) کو دیکھتے ہیں، مگر وہ اس پر دھیان نہیں دیتے، وہ اُس پر زیادہ غور نہیں کرتے، وہ اُس سے سبق لینے کی کوشش نہیں کرتے- نشانیاں بلا شبہہ اپنی ذات میں نشانیاں ہیں، لیکن وہ زندگی کے لیے سبق آموز صرف اُس وقت بنتی ہیں جب کہ آدمی ٹھہر کر ان کے بارے میں سوچے، وہ چیزوں کی گہرائی تک پہنچنے کی کوشش کرے-
نشانیوں سے مراد کوئی محدود چیز نہیں ہے- ہر مشاہدہ اور ہر تجربہ ایک نشانی ہے- ہر واقعے میں نشانی کا ایک پہلو ہے- آدمی کو چاہیے کہ وہ نشانیوں کو دریافت کرے اور اُن کے ذریعے اپنے فکری رزق (intellectual food) کا سامان کرے-
واپس اوپر جائیں

خدا کا تصور

سیکولر فکر رکھنے والے متعدد اہلِ علم نے یہ بات کہی ہے کہ خدا کا کوئی حقیقی وجود نہیں، وہ انسانی ذہن کی تخلیق ہے — خدا، انسان کی ایک عظیم ایجاد ہے:
God is a great invention by man
یہ صرف ایک ورڈ پلے (word play) ہے- زیادہ درست بات یہ ہے کہ اِس طرح کہاجائے کہ — انسان، خدا کی ایک عظیم تخلیق ہے:
Man is a great creation by God
خدا کے وجود کے بارے میں میں علمی غوروفکر سب سے پہلے فلسفہ میں شروع ہوا- فلسفہ اِس معاملے میں کسی حتمی انجام تک نہ پہنچ سکا- گلیلیو اور نیوٹن کے بعد غوروفکر کا سائنسی انداز شروع ہوا- سائنس کا موضوع اگرچہ خالق نہیں تھا، بلکہ اس کے اپنے الفاظ میں، نیچر(nature) تھا- مگر نیچر کیا ہے- نیچر تخلیق کا دوسرا نام ہے- گویا سائنس کا موضوع ہے — خالق کے حوالے کے بغیر مخلوق کا مطالعہ کرنا- سائنسی مطالعے  میں پہلے، نیوٹن کے زمانے میں، یہ مان لیا گیا تھا کہ دنیا ایک میکانکل ڈزائن (mechanical design) ہے- اس کے بعد ردر فورڈ (Ernest Rutherford) کے زمانے میں معلوم ہوا کہ دنیا ایک میننگ فل ڈزائن (meaningful design)ہے- اِس کے بعد فریڈ ہائل (Fred Hoyle) کا زمانہ آیا، جب کہ یہ دریافت ہواکہ دنیا ایک انٹیلجنٹ ڈزائن (intelligent design) ہے-
اِن دریافتوں کو سامنے رکھ کر غور کیاجائے تو یہ کہنا صحیح ہوگا کہ خدا کا وجود علمی طورپر دریافت ہوچکا ہے- اب سارا معاملہ صرف تسمیہ (nomenclature) کا ہے، یعنی یہ کہ اِس دریافت شدہ حقیقت کا نام کیا ہو- فلسفیوں نے اِ س حقیقت کو ورلڈ اسپرٹ (world spirit) کہا تھا- سائنس اِس کو انٹیلجنٹ ڈزائن کہہ رہی ہے- اہلِ مذہب کی زبان میں اِسی حقیقت کا نام خدا (God) ہے-سائنس نے صرف تخلیق کو دریافت کیا، لیکن تخلیق کے دریافت کے ساتھ ہی خالق اپنے آپ دریافت ہوجاتا ہے-
واپس اوپر جائیں

اجماع، رائے جمہور

اسلام میں مصدر شرعی کی حیثیت صرف دو چیزوں کو حاصل ہے— قرآن اور سنت- قرآن اور سنت دونوں ابدی طورپر شرعی مصدر کی حیثیت رکھتے ہیں- قرآن اِس لیے کہ وہ اللہ کا کلام ہے اور سنت اِس لیے کہ وہ اللہ کے پیغمبر کا کلام یا اس کا عمل ہے- قرآن اور سنت کے سوا کسی اور چیز کو یہ درجہ حاصل نہیں-
تیسری چیز وہ ہے جس کو قرآن میں استنباط (4:83) اور حدیث میں اجتہاد کہاگیا ہے- استنباط یا اجتہاد اسلام کی عملی ضرورت ہے- بدلے ہوئے حالات میں اسلام کے ابدی اصولوں کا انطباقِ نو (re-application) درکار ہوتا ہے- اجماع یا رائے جمہور اِس انطباق کی دو عملی صورتیں ہیں-
بعد کے زمانے میں جب کوئی نئی صورتِ حال پیش آئے تو علماءِ اسلام کو یہ کرنا ہوگاکہ وہ اُس پر کام کریں اور استنباط یا اجتہاد کے ذریعے یہ معلوم کریں کہ بدلے ہوئے حالات میں اسلام کی تعلیم کو کس طرح منطبق (apply) کیا جاسکتا ہے- علماء کی یہ رائے اگر کامل اتفاق (consensus)سے بنی ہو تو اس کو اجماع کہا جائے گا اور اگر وہ اکثریت (majority)کی رائے پر بنی ہو تو اس کو رائے جمہور کہا جائے گا- تاہم اجماع یا رائے جمہور دونوں میں سے کوئی بھی ابدی نہیں-
حقیقت یہ ہے کہ دین میں قرآن اور سنت کی حیثیت مطلق مرجع (absolute reference) کی ہے- قرآن وسنت کی تعلیمات اصولاً ہمیشہ اور ہر دور میں قابلِ اتباع رہیں گی- اُن میں حالات کے اعتبار سے، نئی تشریح یا نئی تاویل تو کی جاسکتی ہے، لیکن اُن کا حکمِ شرعی ہونا ہمیشہ یکساں طورپر مطلوب ہوگا- مگر جہاں تک اجماع یا رائے جمہور کی بات ہے، وہ عملی تقاضا (practical reason) کی بنا پر دین کا حصہ ہیں، یعنی جب تک وہ حالات باقی ہیں، جن میں کوئی مسئلہ اجماعی یا جمہوری طورپر بنایا گیا تھا، اُس وقت تک وہ بھی باقی رہیں گے، اور جب حالات بدل جائیں توضرورت ہوگی کہ ازسرِ نو اُن کا حکم متعین کیاجائے-
واپس اوپر جائیں

کامیاب انسانوں کی ناکامی

عظیم ہاشم پریم جی (پیدائش: 1945) دنیا کے عظیم ترین صنعت کاروں میں سے ایک ہیں- اُن کو ایک نہایت کامیاب انسان (super achiever) سمجھا جاتا ہے- انھوں نے ایک بار کہا کہ — زندگی کے بارے میں سب سے زیادہ دلچسپ بات یہ ہے کہ جب آپ اس کو سمجھنے لگتے ہیں تو وہ ختم ہونے کے قریب ہوجاتی ہے-
زندگی کے بارے میں اس قسم کا تاثر اکثر کامیاب لوگوں نے بیان کیا ہے- اصل یہ ہے کہ انسان کی عمرمحدود ہے، لیکن اس کی خواہشیں (desires) لامحدود ہیں- آدمی پختگی کی عمر کو پہنچ کر جب اپنی زندگی شروع کرتا ہے تو اس کو طرح طرح کے تجربات پیش آتے ہیں، منفی تجربات بھی اور مثبت تجربات بھی- لرننگ (learning) کے مختلف احوال سے گزرتے ہوئے وہ ایک ایسے مقام پر پہنچتا ہے جب کہ وہ محسوس کرتاہے کہ اب میں زیادہ بہتر طورپر اپنی منزل کی طرف پیش قدمی کرسکتا ہوں، عین اُس وقت اس کو محسوس ہوتاہے کہ اب میں بوڑھا ہوگیا یا میری موت کا وقت قریب آگیا-
اِس مرحلے میں پہنچ کر اس کا یقین (conviction) مایوسی (frustration) میں تبدیل ہوجاتاہے- اس کو محسوس ہوتا ہے کہ اپنی آخری منزل تک پہنچے بغیر میرا خاتمہ ہورہا ہے- اس احساس کو رابندر ناتھ ٹیگور نے اِن الفاظ میں بیان کیا تھا— میری ساری عمر بینا (ستار) کے تاروں کو سلجھانے میں بیت گئی- جو انتم گیت میں گانا چاہتا تھا، وہ میں نہ گا سکا-
ہر انسان حوصلے کے ساتھ اپنی زندگی شروع کرتاہے اور پھر مایوسی کے ساتھ وہ مرجاتا ہے- اِس المیہ کا سبب صرف ایک ہے — فانی دنیا میں اُس چیز کو پانے کی کوشش کرنا جو صرف آخرت کی ابدی دنیا میں ملنے والی ہے- آدمی کو چاہیے کہ وہ اپنی زندگی شروع کرنے سے پہلے خالق کے تخلیقی نقشے کو جانے- اِس دنیا میں حقیقی کامیابی صرف اُس انسان کے لیے مقدر ہے جو خالق کے نقشے کے مطابق، اپنی زندگی کی تعمیر کرے-
واپس اوپر جائیں

ہیرا

ہیرا (diamond) سب سے زیادہ قیمتی دھات ہے- ہیرا خالص کاربن ہوتا ہے- اس میں وہی بنیادی اجزا ہوتے ہیں جو کوئلے میں پائے جاتے ہیں- قدرتی ہیرا تیار ہونے میں کئی سو سال لگتے ہیں- ہیرا جب نکالا جاتا ہے تو وہ ایک کھردری معدنیات کے مشابہ ہوتا ہے- تراش خراش کے بعد وہ قیمتی ہیرے کی شکل میں بن کر تیار ہوتاہے- نگینہ بنانے میں عام طور پر 35 سے 60 فی صد حصہ صاف کرنے میں کاٹ دیا جاتا ہے- (روزنامہ منصف، حیدرآباد، دکن، 11 جون 2013)
جو ہیرے کامعاملہ ہے، وہی فطرت کے مطابق، انسان کا معاملہ بھی ہے- ہیرے کی طرح انسان بھی ایک پوٹنشل کے روپ میں پیدا ہوتا ہے- اِس پوٹنشل کو ایکچول بنانا انسان کا اپنا کام ہے۔ جو شخص اِس راز کو جانے اور اپنے امکان کو واقعہ بنانے کی کوشش کرے، وہی ’ہیرا انسان‘ ہے- اور جو آدمی ایسا نہ کرسکے، اس کا معاملہ ایسا ہی ہے جیسے کسی ہیرے کے ٹکڑے کو کوڑے خانے میں ڈال دیا جائے-
ہر انسان کے اندر ایک امکانی شخصیت ہوتی ہے- یہ شخصیت کسی انسان کو فطرت کی طرف سے عطا کی جاتی ہے- اِس شخصیت کا ارتقا اپنے آپ نہیں ہوسکتا- یہ کام آدمی کو خود کرنا ہے- یہی آدمی کا اصل امتحان ہے- بعض انسانوں کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ سیلف میڈ مین (self-made man) تھے، مگر حقیقت یہ ہے کہ ہر پیدا ہونے والے انسان کا کیس یہی ہے-
ہر انسان کو یہ کرنا ہے کہ وہ اُس شخصیت (personality) کو دریافت کرے جو فطرت کی طرف سے اُس کو ملی ہے- یہ شخصیت گویا ایک ناتراشیدہ ہیرا ہے- ہر انسان کو یہ کرنا ہے کہ وہ اپنے اِس ناتراشیدہ انسان کو دریافت کرے اور پھر دانش مندانہ منصوبے کے ذریعے وہ اِس ناتراشیدہ ہیرے کو تراشیدہ ہیرا بنائے- جو شخص اِس عمل میں ناکام رہے، اس کے لیے نہ دنیا میں کوئی جگہ ہے اور نہ آخرت میں کوئی جگہ-
واپس اوپر جائیں

فقہی معاملے میں توسع

حج کی روایتوں میں سے ایک روایت یہ ہے کہ اہلِ مدینہ نے عبد اللہ بن عباس سے ایک عورت کے بارے میں پوچھا کہ اس نے (زمانۂ حج میں) طواف کیا، پھر وہ حائضہ ہوگئی- انھوںنے کہا کہ وہ مدینہ واپس چلی جائے- اہلِ مدینہ نے کہا ہم ایسا نہیں کریں گے کہ ہم آپ کے قول کو لیں اور زید بن ثابت الانصاری کے قول کو چھوڑ دیں: لانأخذ بقولک وندع قول زید (صحیح البخاری، کتاب الحج، رقم الحدیث: 1758-1759 )
عبد اللہ بن عباس اور زید بن ثابت دونوں صحابی تھے، لیکن مذکورہ مسئلے میں دونوں کے درمیان اختلاف تھا- عبد اللہ بن عباس کا کہنا یہ تھا کہ مذکورہ کیس میں عورت کے لیے رخصت ہے کہ وہ طواف وداع کیے بغیر اپنے گھر واپس چلی جائے- لیکن زید بن ثابت انصاری کا مسلک یہ تھا کہ ایسی عورت کو حیض کے بعد سات دن قیام کرنا چاہیے اور پھر طواف وداع کرکے اپنے گھر واپس جانا چاہیے-
رائے کے اس اختلاف کے باوجود دنوں صحابہ کے درمیان یا اُن کے پیروؤں کے درمیان وہ غیر مطلوب اختلاف پیدا نہیں ہوا جو موجودہ زمانے میں اِس طرح کی صورتِ حال میں پایا جاتا ہے- اِس کا سبب مسلک میں اختلاف کو برداشت کرنا نہیں تھا، بلکہ اِس کا سبب مسلک میں توسع (diversity) تھا، یعنی یہ بھی ٹھیک ہے اور وہ بھی ٹھیک ہے- مذکورہ عورت اگر حیض کے بعد طوافِ وداع کے بغیر واپس چلی جائے تو اس کو اِس کی رخصت ہے اور اگر وہ ٹھہر جائے اور ایک ہفتے کے بعد طوافِ وداع کرکے واپس جائے، تب بھی ٹھیک-فقہی مسلک میں اختلاف ہمیشہ جزئی نوعیت کا ہوتاہے، اور جزئی نوعیت کے اختلاف میں ہمیشہ توسع مطلوب ہوتاہے، نہ کہ توحد، یعنی ایک مسلک درست ہے اور دوسرا مسلک غلط- یہی وہ حقیقت ہے جو کہ حدیث میں اِن الفاظ میں بتائی گئی ہے: فبأیّہم اقتدیتم، اہتدیتم (مشکاة المصابیح، رقم الحدیث: 6018)-فقہی مسائل میں اختلاف مسلک کو توسع پر محمول کرنا چاہئے، نہ یہ کہ ایک مسلک صحیح ہے، اور دوسرا مسلک غلط۔
واپس اوپر جائیں

تخلیق آدم

ایک حدیث رسول ان الفاظ میں آئی ہے: عن أنس أن رسول اللہ صلى اللہ علیہ وسلم قال لما صوّر اللہ آدم فی الجنة ترکہ ماشاء اللہ أن یترکہ فجعل ابلیس یطیف بہ ینظر ما ہو فلما رآہ أجوف عرف أنہ خلق خلقا لا یتمالک (صحیح مسلم، رقم الحدیث: 6815) یعنی جب اللہ نے جنت میں انسان کی ساخت بنائی تو اللہ نے اس کو ایک مدت کے لیے وہاں باقی رکھا۔ پھر ابلیس آیا۔ وہ آدم کا مطالعہ کرنے لگا کہ وہ کیا ہے۔ پھر اس نے دیکھا کہ وہ اجوف (hollow) ہے۔ اس نے جان لیا کہ آدم کی تخلیق اِس طرح ہوئی ہے کہ اس کے اندر تمالک کی صفت نہیں۔
اِس حدیث کے بارے میں التور بشتی نے لکھا ہے کہ’’ہذا الحدیث مشکل جدا‘‘(یہ حدیث بے حد مشکل ہے) لیکن محدث ابن جوزی نے ایک بات لکھی ہے جو گویا اِس حدیث کو سمجھنے کے لیے کلید کی حیثیت رکھتی ہے: الأجوف ضعیف الصبر ( کشف المشکل من حدیث الصحیحین لابن الجوزی 1716 / 2138)۔ مذکورہ حدیث میں تمالک کا لفظ استعمال ہوا ہے۔ تمالک کا مطلب ہے — سیلف کنٹرول، یعنی اپنے آپ پر قابو رکھنا۔ ابلیس کی یہ تشخیص نہایت درست تھی اور اِس کا پہلا مظاہرہ اِس طرح ہوا کہ جنت میں آدم اپنے آپ پر قابو نہ رکھ سکے۔ انھوں نے واضح ہدایت کے باوجود جنت کے ممنوعہ درخت (forbidden tree) کا پھل کھالیا۔ تمالک میں اِس ناکامی کا نتیجہ یہ ہوا کہ آدم کو جنت سے نکال کر موجودہ زمین پر بھیج دیاگیا-
ابلیس نے انسان کی اِس کمزوری کو پہلے ہی دن دریافت کرلیا تھا۔ اُس نے یہ جان لیا تھا کہ انسان کو صراطِ مستقیم سے ہٹانے کا سب سے زیادہ کارگر طریقہ یہ ہے کہ اس کو ایسی خواہشوں میں مبتلا کیاجائے جہاں وہ اپنے آپ پر قابو نہ رکھ سکے اور اللہ کے بتائے ہوئے راستے سے منحرف ہوجائے-
یہی وہ مقام ہے جہاں انسان کو ابلیس کا مقابلہ کرنا ہے۔ اِس مقابلے کا طریقہ یہ ہے کہ آدمی ابلیس کے وسوسے کو پہچانے۔ یہی وہ چیز ہے جس کو قرآن میں تذکّر (7:201) کہاگیا ہے ۔ اس معاملے میں شیطان کی زد سے بچنے کا طریقہ صرف یہ ہے کہ آدمی اپنے اندر تذکر کی صفت پیدا کرے-
واپس اوپر جائیں

ڈسکوری، ری ڈسکوری

قرآن کی سورہ آل عمران کی ایک آیت میں بتایا گیا ہےکہ — جب اللہ نے پیغمبروں سے عہد لیا کہ جو کچھ میں نے تم کو کتاب اور حکمت دی، پھر تمھارے پاس پیغمبر آئے جو سچا ثابت کرے اُن پیشین گوئیوں کو جو تمھارے پاس ہیں تو تم اُس پر ایمان لاؤ گے اور اس کی مدد کر وگے۔ اللہ نے کہا: کیا تم نے اقرار کیا اور اس پر میرا عہد قبول کیا۔ انھوں نے کہا: ہم اقرار کرتے ہیں۔ فرمایا: اب گواہ رہو اور میں بھی تمھارے ساتھ گواہ ہوں۔ (3:81)
قرآن کی اِس آیت پر غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ حق پر وہ ایمان مطلوب ہے جو معرفت کے درجے میں ہو۔ پیغمبر کے معاصرین میں سے جو لوگ پیغمبر پر ایمان لاتے ہیں، وہ معرفت کے درجے میں سچائی کو دریافت کرکے اس کو قبول کرتے ہیں۔ لیکن پیغمبر کی امت اپنے بعد کے زمانے میں صرف پیدائشی ایمان پر قائم ہوجاتی ہے۔ یہ پیدائشی ایمان اللہ کو مطلوب نہیں، اِس لیے بعد کے زمانے میں ضروری ہوجاتا ہے کہ امت معرفت والے ایمان کا ثبوت دے-
مثلاً قدیم زمانے میں امتِ موسی کے لیے ضروری تھا کہ وہ حضرت مسیح کی سطح پر دوبارہ معرفت والے ایمان کا ثبوت دیں۔ اِسی طرح امتِ مسیح کے لیے ضروری تھا کہ وہ حضرت محمد کی سطح پر ایمان کی شعوری دریافت کریں اور دوبارہ اپنے آپ کو معرفت والے ایمان پر قائم کریں-
اب ختمِ نبوت کے بعد کوئی نیا نبی آنے والا نہیں، لیکن مذکورہ قانون بدستور باقی ہے۔ بعد کے زمانے میں امتِ مسلمہ کی نجات کے لیے پیدائشی ایمان کافی نہیں ہوسکتا۔ امت کے افراد کو بعد کے زمانے میں دوبارہ معرفت والے ایمان کا ثبوت دینا ہے۔ اُن کو یہ کرنا ہے کہ وہ غور وفکر کے ذریعے دینِ خداوندی کو دوبارہ زندہ شعور کی سطح پر دریافت کریں۔ اِس سے کم کوئی چیز اللہ کے یہاں قابلِ قبول نہیں ہوسکتی-بعد کے زمانے میں غیر اہلِ ایمان کو ڈسکوری کی سطح پر خدا کے دین کو پانا ہے، اور اہلِ ایمان کوری ڈسکوری کی سطح پر-
واپس اوپر جائیں

پرمسرت زندگی کا راز

امریکا کے ایک جرنل (The Journal of Positive Psychology)کے شمارہ 19 دسمبر 2012 میں ایک ریسرچ کے نتائج چھپے ہیں۔ یہ ریسرچ امریکا کے د و اسکالرس (academics) نے کی ہے۔ اُن کے نام یہ ہیں:
Yuna L Ferguson, Kennon M Sheldon
اِس ریسرچ میں خوش رہنے کا راز بتایا گیا ہے۔ انھوں نے اپنے تجربات کے ذریعے یہ پایا ہے کہ جو لوگ پرمسرت میوزک (happy music) سنتے ہیں، وہ اپنی زندگی میں خوش رہتے ہیں، اِن میں وہ لوگ زیادہ خوش پائے گئے جنھوں نے باقاعدہ طورپر خوش رہنے کی کوشش کی:
Those who actively tried to feel happier reported the highest level of positive mood afterwards.
پرمسرت میوزک سن کر خوش رہنے کا یہ طریقہ فطرت کے مطابق نہیں، یہ اپنی حقیقت کے اعتبار سے، وہی چیز ہے جس کو غم غلط کرنے کا طریقہ کہاجاتا ہے۔ فطرت کے تخلیقی نقشے کے مطابق، صحیح طریقہ یہ ہے کہ زندگی کے مسائل کو چیلنج (challenge) کے طورپر لیا جائے۔
انسان کی زندگی مسائل سے بھری ہوئی ہے۔ یہ مسائل اِس لیے نہیں آتے کہ کسی مصنوعی تدبیر سے اُن کو بھلا دیا جائے، بلکہ یہ مسائل اِس لیے آتے ہیں کہ ان کو چیلنج سمجھ کر ان کا سامنا کیاجائے۔ اِس طرح آدمی کے ذہن میں ایک قسم کا فکری سنگھرش (intellectual struggle) وجود میں آتا ہے۔ اِس کے ذریعے آدمی کی تخلیقیت (creativity)میں اضافہ ہوتاہے، اس کے اندر ذہنی ارتقا کا عمل جاری ہوتا ہے، اس کے ذریعے آدمی کا جمود (stagnation) ٹوٹتاہے، اس کے اندر حرکت اور فعالیت پیداہوتی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ پرمسرت زندگی کا راز ذہنی ارتقا ءمیں ہے، نہ کہ پرمسرت میوزک سننے میں-
واپس اوپر جائیں

جوہر شناسی

کہاجاتا ہے کہ 1847 میں ایک آدمی نے ایک بچے کے پاس ایک عجیب قسم کا پتھر دیکھا۔ یہ بچہ ہوپ ٹاؤن (Hopetown) جو دریائے اورنج پرواقع ہے،کے ایک کھیت میں کھیل رہا تھا۔ یہ بظاہر ایک گول پتھر تھا۔ اُس شخص نے یہ پتھر بچے کے ہاتھ سے لے کر جب ایک جوہر شناس کو دکھایا تو معلوم ہوا کہ وہ ہیرا (diamond)ہے۔ یہ پتھر 2.122قیراط وزنی تھا۔ اِس ہیرے کو پیرس کی ایک نمائش میں بھی دکھایا گیا(روزنامہ منصف، حیدرآباد، 11 جون 2013 )-
جس طرح پتھر کے معاملے میں جوہر شناسی مطلوب ہے، اسی طرح انسان کے معاملے میں بھی جوہر شناسی مطلوب ہے۔ بے شمار انسان پیدا ہو کر دنیا میں آتے ہیں، لیکن سب یکساں قابلیت کے نہیں ہوتے۔ اُن میں بعض افراد ایسے ہوتے ہیںجو امکانی طورپر خصوصی صلاحیت لے کر پیدا ہوئے ہوں۔ لیکن یہ صلاحیت ایک چھپی ہوئی صلاحیت ہوتی ہے، وہ آواز دے کر اپنے آپ کو نہیں بتاتی۔ ضرورت ہوتی ہے کہ کوئی جوہر شناس ان کی چھپی ہوئی صلاحیت کو پہچانے اور اس کو اظہارکا موقع دے-
کسی آدمی کے جوہر کو پہچاننے کی دو صورتیں ہیں — ایک، یہ کہ آدمی اتنا زیادہ خود شناس ہو کہ وہ خود اپنے آپ کو پہچان لے، یا اس کو کوئی ایسا قدر داں مل جائے جو اس کے جوہر کو پہچانے اور اس کے لیے وہ بوسٹر (booster) بن جائے۔ یہ دونوں نہایت مشکل کام ہیں۔ خود شناس بننے کے لیے کامل درجے کی حقیقت پسندی درکار ہے اور جوہر شناس بننے کے لیے کامل درجے کی خیرخواہی-
تجربہ بتاتاہے کہ یہ دونوں صفتیں لوگوں کے اندر بہت کم پائی جاتی ہیں۔ اِس بنا پر اکثر ایسا ہوتا ہے کہ اعلی صلاحیت کے افراد پیدا ہوتے ہیں، لیکن وہ دنیا میں اپنا استعمال نہیں پاتے، کبھی اِس لیے کہ وہ خود اپنے آپ کو دریافت نہیں کرپاتے اور کبھی اِس لیے کہ دنیا میں اُن کو کوئی سچا خیر خواہ حاصل نہیں ہوتا۔ یہ ایک ایسا امتحان ہے جس میں اکثر لوگ ناکام ثابت ہوئے ہیں-
واپس اوپر جائیں

زندگی اور موت

الرسالہ مشن سے وابستہ ایک خاتون کے ساتھ ایک حادثہ پیش آیا۔ روڈ ایکسیڈینٹ میں ان کے شوہر کا انتقال ہوگیا۔ اُن سے گفتگو کرتےہوئے میں نے کہا کہ اِس معاملے کو آپ قرآن کی دو آیتوں کی روشنی میں دیکھئے(2:155)، (3:185)۔ اِس کے مطابق، موت اللہ کا ایک فیصلہ ہے۔ زندگی بھی اللہ کے فیصلے سے وجود میں آتی ہے اور موت بھی اللہ کے فیصلے سے وقوع میں آتی ہے-
حقیقت یہ ہے کہ موت کوئی ’’حادثہ‘‘ نہیں، موت ایک امتحان (test) ہے۔ موت کو اگر حادثہ (accident) سمجھا جائے تو اُس سے غم کی نفسیات پیدا ہوتی ہے۔ اِس کے برعکس، موت کو اگر امتحان سمجھا جائے تو آدمی کے اندر ایک نیا عزم جاگ اٹھے گا-وہ سمجھے گا کہ اب تک میرا امتحان زندگی کے ذریعے ہورہا تھا، اب میرا امتحان موت کے ذریعے کیا جارہا ہے۔ میری کامیابی یہ ہے کہ میں اِس معاملے کو امتحان کی نظر سے دیکھوں اور اس میں پورا اترنے کی کوشش کروں-
کسی کی موت خواہ وہ حادثے کے طور پر ہو یا بیماری کے طورپر، وہ کبھی بے وقت نہیں آتی۔ ہرانسان جو اِس دنیا میں پیداہوتا ہے، وہ امتحان کے لیے پیداہوتا ہے۔ ہر ایک کے لیے امتحان کی ایک مدت مقرر ہے۔ یہ مقرر مدت پوری ہوتے ہی موت کا فرشتہ آتا ہے اور اس کی روح قبض کرکے اس کو آخرت کی دنیا میں پہنچا دیتا ہے-
آدمی کو چاہیے کہ وہ موت کے معاملے میں حقیقت پسند بنے۔ وہ موت کو ایک اٹل حقیقت کے طورپر تسلیم کرے۔ وہ موت کو اپنے لیے سبق کا ذریعہ بنائے، نہ کہ غم اور افسوس کا ذریعہ-
موت کو حدیث میں ’’ہادم اللذات‘‘ (مسند احمد، رقم الحدیث: 7925)کہاگیا ہے، یعنی لذتوں کو ڈھادینے والا واقعہ۔ اِس کا مطلب یہ ہے کہ جس آدمی کو موت کا حقیقی ادراک ہوجائے، وہ آخری حد تک سنجیدہ ہوجائے گا۔ وہ آج (today) کے بجائے کل (tomorrow) کو اپنا نشانہ (goal) بنا لے گا۔ اس کی زندگی مکمل طورپر آخرت رخی زندگی بن جائے گی-
واپس اوپر جائیں

تنبیہہِ خداوندی یاظلمِ انسانی

موجودہ زمانے کے تمام مسلم رہنما متفقہ طورپر اعلان کررہے ہیں کہ تمام دنیا کے مسلمان غیرمسلم قوموںکی طرف سے ظلم کا شکار ہورہے ہیں۔ یہ بلاشبہہ ایک غلط رہنمائی ہے۔ موجودہ زمانے کے مسلمانوں کے ساتھ جو ناموافق حالات پیش آرہے ہیں، وہ قرآن کے مطابق، تنبیہہ خداوندی کی حیثیت رکھتے ہیں، جیساکہ اِس سے پہلے یہود کے ساتھ پیش آیا۔ یہ واقعات چوں کہ بظاہر کچھ انسانوں کی طرف سے پیش آتے ہیں، اِس لیے ہمارے رہنماؤں نے اِن واقعات کو مفروضہ ظالموں کے ساتھ منسوب کرکے اُن کے خلاف احتجاج اور جوابی تشدد شروع کردیا۔ اگر وہ اِن واقعات کو خدا کی تنبیہات (warnings) سمجھتے تو وہ مسلمانوں کو داخلی اصلاح کی طرف متوجہ کرتے۔ اس کے بعد ایسا ہوتا کہ مسلمان اصلاحِ خویش میں مشغول ہوجاتے، نہ کہ شکایت غیر میں-
موجودہ صورت ِ حال میں قرآن کی یہ آیت ایک خدائی رہنما کی حیثیت رکھتی ہے: فَلَوْلَآ اِذْ جَاۗءَہُمْ بَاْسُنَا تَضَرَّعُوْا وَلٰکِنْ قَسَتْ قُلُوْبُہُمْ وَزَیَّنَ لَہُمُ الشَّیْطٰنُ مَا کَانُوْا یَعْمَلُوْنَ (6:43) یعنی جب ہماری طرف سے اُن پر سختی آئی تو وہ کیوں نہ گڑگڑائے، بلکہ ان کے دل سخت ہوگئے اور شیطان اُن کے عمل کو ان کی نظر میں خوش نما کرکے دکھاتاہے-
اِس کا مطلب یہ ہے کہ جب قوم کے اندر بگاڑ آیا تو اللہ کی طرف سے تنبیہات آئیں۔ اُس وقت چاہیے تھا کہ قوم کے اندر محاسبہ کا جذبہ پیدا ہوتا اور وہ اصلاحِ خویش کی طرف متوجہ ہوجاتے، لیکن عملاً یہ ہوا کہ انھوں نے خود ساختہ توجیہات کے ذریعے اس کو مفروضہ ظالموں کا ظلم قرار دے دیا۔ اِس کا نتیجہ یہ ہوا کہ وہ اپنی غلط سوچ میں اور زیادہ پختہ ہوگئے۔ تنبیہ خداوندی کو ظلمِ انسانی قرار دینا ہمیشہ شیطان کی تزئین کے تحت ہوتاہے۔ موجودہ زمانے کے مسلم رہنما جو کچھ کر رہے ہیں، وہ اپنی حقیقت کے اعتبار سے، یہی نامطلوب تزئین ہے-تنبیہہ ِ خداوندی کو ظلمِ انسانی سمجھنا، بلاشبہہ ایک تباہ کن غلطی ہے-
واپس اوپر جائیں

بڑھاپے سے سبق لینا

انسانی زندگی کا ایک ظاہرہ وہ ہے جس کو بڑھاپا کہاجاتاہے۔ بڑھاپا کوئی غیر مطلوب چیز نہیں۔ بڑھاپے کی عمر میں انسان کے لئے ایک موقع موجود ہوتا ہے، یعنی نصیحت لینا۔ قرآن کی سورہ الفاطر میں یہ بات ان الفاظ میں آئی ہے: اَوَلَمْ نُعَمِّرْکُمْ مَّا یَتَذَکَّرُ فِیْہِ مَنْ تَذَکَّرَ (35:37) یعنی کیا ہم نے تم کو اتنی عمر نہ دی کہ جس کو سمجھنا ہوتا وہ سمجھ سکتا-
انسان اس دنیا میں محدود عمر کے لئے پیدا ہوتا ہے۔ چناں چہ پیدا ہوتے ہی انسان کا کاؤنٹ ڈاؤن شروع ہوجاتا ہے۔ تقریباً 35 سال تک اس کا گراف اوپر کی طرف جاتا ہے۔ اس کے بعد وہ نیچے جانا شروع ہوتا ہے۔ ادھیڑ عمر، بڑھاپا، آخر میں موت ۔ اس درمیان میں اس کو مختلف قسم کے نقصان پیش آتے ہیں۔ مثلاً بیماری، حادثہ، طرح طرح کے مسائل، وغیرہ-
اس طرح آدمی سے ایک ایک چیز چھنتی رہتی ہے۔ پہلے جوانی، پھر صحت، پھر سکون، وغیرہ۔ یہاں تک کہ موت کا وقت آتا ہے۔ اور آدمی کی ہر وہ چیز، جس کو وہ اپنا سمجھتا تھا، یہاں تک کہ اس کا اپنا جسمانی وجود بھی اس سے چھن جاتا ہے۔ اس کے بعد جو چیز باقی رہتی ہے وہ صرف انا (ego)ہے، اس کے سوا اور کچھ نہیں-
موت کا تجربہ کسی انسان کے لئے سب سے زیادہ سنگین تجربہ ہے۔ اس تجربہ کا مطلب یہ ہے کہ آدمی نے اپنے قبل ازموت مرحلۂ حیات میں جو کمایا تھا وہ اس سے ابدی طورپر چھن گیا۔ اِس کے آگےبعد ازموت مرحلۂ حیات کا معاملہ ہے۔ اس دوسرے مرحلہ میں آدمی کو صرف وہ چیز کام آئے گی جو اس نے عمل صالح کی صورت میں اپنے آگے کے لئے بھیجی۔ اس حقیقت کو قرآن میں ان الفاظ میں بیان کیاگیا ہے: یٰٓاَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللّٰہَ وَلْتَنْظُرْ نَفْسٌ مَّا قَدَّمَتْ لِغَدٍ (59:18) یعنی اے ایمان والو، اللہ سے ڈرو، اور ہر شخص دیکھے کہ اس نے کل کے لیے کیا بھیجا-بڑھاپا برائے سبق ہے، بڑھاپا برائے شکایت نہیں-
واپس اوپر جائیں

توبہ قریب

قرآن کی سورہ النساء میں ایک آیت ان الفاظ میں آئی ہے: اِنَّمَا التَّوْبَةُ عَلَی اللّٰہِ لِلَّذِیْنَ یَعْمَلُوْنَ السُّوْۗءَ بِجَہَالَةٍ ثُمَّ یَتُوْبُوْنَ مِنْ قَرِیْبٍ فَاُولٰۗىِٕکَ یَتُوْبُ اللّٰہُ عَلَیْھِمْ ۭ وَکَانَ اللّٰہُ عَلِــیْمًا حَکِـیْمًا (4:14) یعنی توبہ جس کو قبول کرنا اللہ کے ذمہ ہے وہ ان لوگوں کی ہے جو بری حرکت نادانی سے کربیٹھتے ہیں، پھر جلد ہی توبہ کرلیتے ہیں۔ وہی ہیں جن کی توبہ اللہ قبول کرتاہے اور اللہ جاننے والا حکمت والا ہے۔
توبہ کا لفظی مطلب ہے لوٹنا۔ یعنی غلطی کرنے کے بعد اصلاح کی طرف لوٹنا۔ قرآن کے مطابق توبہ کی دو صورتیں ہیں، توبہ قریب اور توبہ بعید-قرآن کے مطابق مطلوب توبہ وہ ہے جو توبۂ قریب ہو۔ توبہ بعید اللہ کے نزدیک مطلوب توبہ نہیں۔ توبہ قریب ایمانی حساسیت کی علامت ہے اور توبہ بعید ایمانی بے حسی کی علامت -توبۂ قریب یہ ہے کہ آدمی کے اندر غلطی کرنے کے بعد شدید قسم کی ندامت (repentance) پیداہو۔ وہ فوراً غلطی کے بعد متنبہ ہوجائے۔ اس کے اندر احساس خطا اتنی شدت کے ساتھ ابھرے کہ وہ اس کا تحمل نہ کرسکے کہ غلطی کے بعد اپنی حالت پر مطمئن بنا رہے۔ شدیداحساس خطا کے ساتھ وہ بلاتاخیر غلطی کی تلافی کرنے کی طرف دوڑ پڑے-
غلطی کے مختلف صورتیں ہیں۔ غلطی اگر مادی نوعیت کی ہے تو وہ جلدسے جلد متعلق شخص کے مالی نقصان کی تلافی کرے۔ اور غلطی اگر اخلاقی نوعیت کی ہے تو وہ فوراً بہتر اخلاقی سلوک کے ساتھ اس کی تلافی کی کوشش کرے-اس معاملہ\ میں سب سے زیادہ سنگین صورت وہ ہے، جب کہ غلطی کی نوعیت ایسی ہو، جس میں اس کی ضرورت ہو کہ غلطی کرنے والا متعلق شخص سے مل کر اپنی غلطی کا اعتراف کرے اور کھلے طورپر اس سے معافی مانگے۔ اس قسم کی توبہ کسی انسان پر بہت شاق گزرتی ہے۔ کیوں کہ اس میں آدمی کی بڑائی ختم ہوتی ہے۔ اس کا برتری کا جذبہ منہدم ہوتا ہے۔ اپنے آپ کو ایک ایسے شخص کے سامنے چھوٹا بنانا پڑتا ہے، جس کے مقابلہ میں اس نے اپنے آپ کو بڑا فرض کرلیا تھا۔ توبہ کی یہ قسم نفی خویش (self negation) کی قیمت پر ہوتا ہے۔ اور نفی خویش بلا شبہہ کسی انسان کے لئے سب سے زیادہ سخت بات ہے-
واپس اوپر جائیں

روح القدس کا تصور

قرآن کی سورہ البقرہ میں حضرت مسیح کے حوالے سے یہ الفاظ آئے ہیں: وَاٰتَیْنَا عِیْسَى ابْنَ مَرْیَمَ الْبَیِّنٰتِ وَاَیَّدْنٰہُ بِرُوْحِ الْقُدُس(2:87) یعنی ہم نے عیسی بن مریم کو کھلی کھلی نشانیاں دیں اور روح القدس سے اس کی تائید کی-
روح القدس کا لفظی مطلب مقدس روح (Holy Spirit) ہے۔ یہ اللہ تعالی کی ایک خصوصی نصرت ہے جو کسی بندے کے اوپر فرشتوں کے ذریعے آتی ہے۔ یہی خصوصی نصرت تھی جو حضرت مسیح پر آئی۔ اِس خصوصی نصرت نے حضرت مسیح کو اِس قابل بنایا کہ وہ اپنے مخالفوں کے ہجوم میں رہتے ہوئے اپنے خدائی مشن کی تکمیل کرسکیں-
روح القدس کا تعلق شخصی طورپر خصائصِ نبوت سے نہیں ہے، وہ حق کے داعی کے لیے اللہ کی خصوصی نصرت کا معاملہ ہے۔ اِس خصوصی نصرت کے استحقاق کا اصول یہ ہے کہ جب کوئی شخص بے آمیز حق کی دعوت کے لیے اٹھے، وہ اِس دعوت کے بارے میں اتنا زیادہ سنجیدہ ہو کہ اپنا سب کچھ اس کے لیے وقف کردے، لیکن قلتِ وسائل کی بنا پر وہ محسوس کرے کہ وہ اپنے مشن کی تکمیل کے معاملے میں آخری حد تک عاجز (helpless) ہوگیاہے-اِس احساسِ عجز کے ساتھ وہ اللہ سے دعائیں کرنے لگے-
مزید یہ کہ خود اللہ کے علم میں یہ بات ہو کہ یہ بندہ واقعی معنوں میں اللہ کے لیے کھڑا ہوا ہے، وہ اپنی طرف سے ساری کوشش کے باوجود واقعةً عاجز ثابت ہو رہاہے-جب اللہ کے علم محیط میں ایک داعی کی یہ حیثیت متحقق ہوجائے تو اُس وقت اللہ اپنے مشن کی تکمیل کے لیے فرشتوں کو یہ حکم دیتاہےکہ اِس بندے کی خصوصی مدد کرو، تاکہ وہ اپنے دعوتی مشن کو اس کی تکمیل تک پہنچا سکے۔ اسی خصوصی نصرت کا نام روح القدس کی تائید ہے-روح القدس، اپنی حقیقت کے اعتبار سے، نصرت کا معاملہ ہے، نہ کہ کرامت کا معاملہ- (12 جون 2014)
واپس اوپر جائیں

اختلاف کا مسئلہ

مسلمانوں کے اندر بڑے پیمانے پر مذہبی اختلافات پائے جاتے ہیں۔ یہ اختلاف بڑھ کر کبھی تشدد کی صورت اختیار کرلیتا ہے۔ عام طورپر سمجھا جاتاہے کہ اِن اختلافات کا سبب مدارس کا نصاب ہے۔ ان کے خیال کے مطابق، اگر مدارس کے نصاب میں اصلاح کردی جائے تو اختلاف کا خاتمہ ہوجائے گا اور لوگوں کے اندر اتحاد واتفاق کی حالت قائم ہوجائے گی۔
مگر یہ اصل صورتِ حال کا کم تر اندازہ (underestimation) ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اختلاف کا سبب فطرتِ انسانی میں ہے، نہ کہ مدارس کے نصاب میں۔ پیدائش کے اعتبار سے، ہر مرد مسٹر ڈفرنٹ(Mr. Different) ہوتا ہے اور ہر عورت مس ڈفرنٹ۔
یہی فطری فرق اختلاف کا اصل سبب ہے۔ اگر تمام مدارس کا نصاب ایک کردیا جائے تب بھی اختلاف باقی رہے گا، کیوں کہ خواہ نصاب کی سطح پر اختلاف نہ ہو تب بھی فطرت کی سطح پر اختلاف موجود رہے گا، وہ کبھی ختم ہونے والا نہیں-
حضرت علی اور حضرت معاویہ دونوں ایک ہی مدرسہ، مدرسۂ نبوت، کے تعلیم یافتہ تھے، اِس کے باوجود دونوں میں اختلاف پیدا ہوا۔ ابو الحسن اشعری اور واصل بن عطا دونوں ایک ہی مدرسے کے تعلیم یافتہ تھے، اِس کے باوجود دونوں میں اختلاف پیدا ہوا۔
موجودہ زمانے میں سرسید احمد خاں اور مولانا قاسم نانوتوی دونوں ایک ہی مدرسہ کے تعلیم یافتہ تھے، اِس کے باوجود دونوں کے درمیان اختلاف پیدا ہوا۔ مولانا شبیر احمد عثمانی اور مولانا حسین احمد مدنی دونوں ایک ہی مدرسہ کے تعلیم یافتہ تھے، اِس کے باوجود دونوں میں اختلاف پیدا ہوا۔ مولانا سیدسلیمان ندوی اور مولانا مسعود علی ندوی دونوں ایک ہی مدرسہ کے تعلیم یافتہ تھے، اِس کے باوجود دونوں میں اختلاف پیدا ہوا-
اصل یہ ہے کہ خواہ دو آدمیوں نے ایک ہی مدرسہ اور ایک ہی نصاب کے تحت تعلیم پائی ہو، لیکن طرز فکر (way of thinking) کی سطح پر ہمیشہ ایک آدمی اور دوسرے آدمی کے درمیان فرق ہوتا ہے- یہی فرق ہے جو اختلاف کا سبب بن جاتا ہے- اِس کے بعد وہ بڑھ کر نفرت اور تشدد تک پہنچ جاتا ہے- یہ اختلاف یا فرق چوں کہ فطرتِ انسانی کا حصہ ہے، اِس لیے وہ کبھی ختم ہونے والا نہیں- ایسی حالت میں اختلاف کے مسئلے کا حل یہ نہیں ہے کہ ناکام طورپر اس کو ختم کرنے کی کوشش کی جائے، بلکہ اس کا حل یہ ہے کہ لوگوں کو اُس اصول کی تعلیم دی جائے جس کو ’’اختلاف کے باوجود اتحاد‘‘ کہاجاتا ہے، یعنی رائے (opinion) کی سطح پر اختلاف، لیکن سماجی تعلق (social relationship) کی سطح پر اتفاق-
انسانوں کے طرز فکر میں اختلاف کوئی غیر مطلوب چیز نہیں، بلکہ وہ عین مطلوب ہے- کیوں کہ اِس اختلاف کی بنا پر ایسا ہوتا ہے کہ لوگوں کے درمیان ڈسکشن اور ڈائیلاگ ہوتا ہے، اور ڈسکشن اور ڈائیلاگ ذہنی ارتقا کا ذریعہ ہے- جہاں ڈسکشن اور ڈائیلاگ نہ ہو، وہاں یقینی طورپر ذہنی جمود (intellectual stagnation) پیدا ہوجائے گا، اور ذہنی جمود سے زیادہ تباہ کن اور کوئی چیز انسان کے لئے نہیں-
واپس اوپر جائیں

فیملی کلچر کا نقصان

موجودہ زمانے میں خاص طورپر اورمشرقی دنیا میں عام طورپر لوگوں کے درمیان ایک ہی کلچر کا رواج ہے اور وہ فیملی کلچر ہے، یعنی پیسہ کمانا اور گھر والوں کے تقاضے پورا کرنا۔ لوگوں کو صرف یہی ایک ماڈل معلوم ہے، اِس کے سوا کسی اور ماڈل کا اُنھیں علم نہیں-
اِس فیملی کلچر کا سب سے بڑا نقصان یہ ہے کہ وہ عملاً تحمیق خاندان (befooling of family) کے ہم معنی بن گیا ہے-اِس کا نتیجہ یہ ہے کہ لوگوں کی سوچ کا دائرہ بہت محدود ہوگیاہے۔ اُن کا ذہن صرف اپنی مادی ضرورتوں کے محدود دائرے میں کام کرتاہے۔ وہ اِس کی ضرورت نہیں سمجھتے کہ وہ اِس محدود دائرے کے باہر سوچیں۔ ان کے یہاں کتابوں کے مطالعے کا ماحول نہیں ہوتا۔ اُن کے یہاں سنجیدہ تبادلہ خیال (serious discussion)کا رواج نہیں ہوتا۔ ان کے یہاں یہ کلچر نہیں ہوتا کہ وہ رشتےداروں کے علاوہ لوگوں سے ملیں اور اُن سے سیکھنے اور استفادہ کرنے کی کوشش کریں۔ وہ اپنے گھر سے باہر نکلتے ہیں تو جاب کے لیے یا تفریح کے لیے یا شاپنگ کے لیے۔ اِس قسم کی چیزوں کے علاوہ، ان کے یہاں ذہنی ارتقا کا کوئی تصور نہیں-
اِس فیملی کلچر کا نقصان یہ ہے کہ لوگ بظاہر مادی اعتبار سے آسودہ زندگی گزار رہے ہیں، لیکن عملاً وہ فکری پس ماندگی (intellectual backwardness) کا شکار ہیں۔ اُن سے کسی سنجیدہ موضوع پر بات کیجئے تو فوراً معلوم ہوجائے گا کہ ان کے اندر کوئی علمی سوچ نہیں، اُن کو حقائقِ عالم کی معرفت نہیں، زندگی کے زیادہ بڑے مسائل کے بارے میں ان کی کوئی رائے نہیں۔ بظاہر وہ انسان نظر آئیںگے، لیکن عملاً وہ صرف ایک خوش پوش حیوان (well-dressed animal) کی مانند ہوں گے-
خاندانی زندگی کی تشکیل اِس طرح ہونی چاہیے کہ وہ لوگوں کے لیے اُن کے ذہنی ارتقا (intellectual development) میں مددگار ہو، نہ کہ لوگوںکے ذہنی ارتقاء کے لیے وہ ایک مستقل رکاوٹ بن جائے-
واپس اوپر جائیں

سکینہ، فتح

قرآن کی سورہ الفتح میں زمانہ رسالت کے اُس واقعے کا ذکر ہے جس کو معاہدہ حدیبیہ کہاجاتا ہے۔ اِس معاہدے کے وقت رسو ل اور اصحابِ رسول کو حدیبیہ سے بظاہر ناکام لوٹنا پڑا تھا۔ لیکن اِس معاہدے کے بعد یہ ہوا کہ رسول اور اصحابِ رسول صرف دو سال کے اندر دوبارہ فاتحانہ انداز میں مکہ میں داخل ہوئے-
ظاہری حالات کے اعتبار سے اصحابِ رسول بوقت معاہدہ سخت پریشان تھے۔ اُس وقت قرآن میں یہ آیت اتری: فَجَــعَلَ مِنْ دُوْنِ ذٰلِکَ فَتْحًا قَرِیْبًا (48:27)۔ قرآن کی اِس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ اصل مطلوب فتح (فتح مکہ) اُس وقت ایک بعید فتح کی حیثیت رکھتی تھی، لیکن اللہ نے اپنی رحمت خاص سے اصحابِ رسول کو ایک فتحِ قریب (near victory) عطا کردی-
یہ فتحِ قریب کیا تھی، اِس کا جواب خود قرآن کی اِس سورہ میں موجود ہے۔ اِس آیت کے الفاظ یہ ہیں: فَاَنْزَلَ السَّکِیْنَةَ عَلَیْہِمْ وَاَثَابَہُمْ فَتْحًا قَرِیْبًا (48:18) یعنی پس اُس نے اُن پر سکینت نازل فرمائی اور ان کو ایک قریبی فتح دے دی۔ یہاں فتحِ قریب سے مراد سکینہ ہے اور فتح بعید سے مراد فتحِ مکہ۔ فتحِ مکہ اگر خارجی فتح تھی تو سکینہ ایک داخلی فتح (internal victory)-
سکینہ کے لفظی معنی اطمینان(tranquillity) کے ہیں۔ یہاں سکینہ سے مراد وہی چیز ہے جس کو ذہنی اطمینان (peace of mind) کہاجاتا ہے۔ یہ سکینہ اللہ کی خصوصی مدد ہے، جو مشکل اوقات میں اہلِ ایمان کے اوپر نازل ہوتی ہے۔ مشکل اوقات حقیقتاً مشکل نہیں ہوتے، بلکہ وہ ایک فطری تاخیر ہے جو منصوبۂ الٰہی کے تحت پیش آتی ہے۔ اِس تاخیر(delay) کو بآسانی گوارا کرنے کے لیے اہلِ ایمان کو اللہ کی طرف سے سکینہ حاصل ہوتا ہے۔ معاہدہ حدیبیہ کے وقت اصحابِ رسول پر جو سخت حالات گزررہے تھے، اس کو سکینہ کے نزول نے آسان کردیا۔ اللہ کی یہ مدد ہر مومن فرد اور ہر مومن گروہ کے لیے ضرورآتی ہے، بشرطیکہ اس کا کیس حقیقی معنوں میں منصوبۂ الٰہی کے مطابق ہو- (21 اپریل 2014)
واپس اوپر جائیں

قریش کلچر

قرآن کی سورہ قریش میں قریش کی نسبت سے اللہ کی ایک سنت بیان کی گئی ہے۔ اس کے الفاظ یہ ہیں: لِاِیْلٰفِ قُرَیْشٍ ۝ اٖلٰفِہِمْ رِحْلَةَ الشِّتَاۗءِ وَالصَّیْفِ ۝ فَلْیَعْبُدُوْا رَبَّ ہٰذَا الْبَیْتِ ۝ الَّذِیْٓ اَطْعَمَہُمْ مِّنْ جُوْعٍ ڏ وَّاٰمَنَہُمْ مِّنْ خَوْفٍ ۝ (106:1-4)یعنی اِس واسطے کہ قریش مانوس ہوئے، جاڑے اور گرمی کے سفر سے مانوس، تو اُن کوچاہیے کہ وہ اُس گھر کے رب کی عبادت کریں جس نے اُن کو بھوک میں کھانا دیا اور خوف سے اُن کو امن دیا-
قدیم مکہ میں قبیلۂ قریش کوسرداری کا مقام حاصل تھا۔ اِس کا سبب یہ تھا کہ وہ کعبہ کے متولی تھے۔ کعبہ کی اہمیت یہ تھی کہ اس میں عرب کے تمام قبائل کے بت رکھے ہوئے تھے، اِس لیےکعبہ تمام عرب قبائل کا مقدس ترین مرکز بن گیا تھا-
قدیم زمانے میں معاشیات کا انحصار زراعت پر تھا، لیکن مکہ میں کوئی زراعت نہ تھی۔ قریش کے لوگ کچھ روایتی سامان کی تجارت کرتے تھے۔ اِس مقصد کے لیے وہ تجارتی اسفار کرتے تھے-اُن کا تجارتی قافلہ سردی کے موسم میں یمن کی طرف جاتا تھا۔ اور گرمی کے موسم میں شام کے علاقے کی طرف۔ قدیم زمانے میں اِس قسم کے قافلوں کو ہمیشہ ڈاکوؤں کا خطرہ رہتا تھا۔ لیکن قریش کے قافلے اِس قسم کے خطرات سے محفوظ تھے، کیوں کہ کعبہ کے خادم اور متولی ہونے کی بنا پر اُن کو عرب کے قبائل میں عزت کا مقام حاصل تھا۔ ایسے موقع پر کسی قریش کی حفاظت کے لیے یہ کافی تھا کہ وہ رہزنوں سے یہ کہہ دے کہ: أنا من حَرَم اللہ-
قرآن کی اِس سورہ میں جس واقعے کا ذکر ہے، وہ صرف قدیم زمانے کے قریش کا ایک معاملہ نہیں ہے، بلکہ وہ اللہ کی ایک سنت کا معاملہ ہے۔ یہ دراصل اللہ کے عطیات کا ذکر کرکے یہ بتایا گیا ہے کہ اللہ اپنے بندوں کو ہر زمانے میں مختلف قسم کی سہولتیں عطا فرماتا ہے، تاکہ وہ اللہ کے شکر کرنےوالے بنیں اور اللہ کی عبادت کے تقاضوں کو پورا کریں۔ قدیم زمانے میں قریش کو جو اقتصادی نعمت حاصل تھی، وہ آج کے انسان کو لاکھوں گنا اضافے کے ساتھ ملی ہوئی ہے۔ قدیم زمانے میں کچھ روایتی سامانوں کی صرف محدود تجارت ہوسکتی تھی۔ باربرداری (transportation) کے لیے بھی صرف اونٹ اور خچر کا ذریعہ دستیاب تھا-مگر موجودہ زمانے میں صنعتی انقلاب نے صورتِ حال کو بالکل بدل دیا ہے۔ موجودہ زمانے کو اقتصادی انفجار(economic explosion) کہاجاتا ہے۔ اب تجارت کی بے شمار صورتیں وجود میں آگئی ہیں۔ اب ہر انسان کے لیے کمائی کے لامحدود ذرائع کھل گئے ہیں-
موجودہ زمانے میں اقتصادی ترقی کے جو مواقع پیدا ہوئے ہیں، وہ اتنے زیادہ ہیں کہ قریش کے زمانے کے اقتصادیات (economics) سے اُن کو کوئی نسبت نہیں۔ یہی معاملہ راستوں کے تحفظ کا بھی ہے۔ قدیم زمانے میں اجتماعی تحفظ کا کوئی نظام موجود نہ تھا، ہر شخص اپنے تحفظ کا خود ذمے دار ہوتا تھا۔ اِسی صورتِ حال کی بنا پر قدیم زمانے میں وہ مسئلہ پیدا ہوا جس کو رہزنی (robbery)کہا جاتا ہے-
برطانی فلسفی جرمی بنتھام (Jeremy Bentham d. 1832)غالباً پہلا شخص تھا جس نے اجتماعی تحفظ کی اہمیت پر زور دیا۔ انگلینڈ میں انیسویں صدی میں پاپولیشن ایکسپلوزن ہوا۔ اس کے بعد وہاں کی سوسائٹی میں جرائم بڑھ گئے۔ اُس وقت وہاں کے ذمے داروں نے محسوس کیا کہ سماجی تحفظ کا باقاعدہ انتظام ہونا چاہیے۔ چنانچہ 1829 میں لندن میں ایک سرکاری تنظیم قائم کی گئی۔ اس کا نام یہ تھا:
Metropolitan Police Services
یہ دنیا میں پولیس کی پہلی سرکاری تنظیم تھی۔ اس کے بعد دھیرے دھیرے ہر ملک کی حکومت نے اس کو اختیار کرلیا۔ اِسی انتظام کا یہ نتیجہ ہے کہ آج ہم جب گھر سے باہر نکلتے ہیں تو ہم کو یقین ہوتا ہے کہ سرکاری طورپر قائم شدہ پولیس کا انتظام ہماری حفاظت کرے گا، ملک کے اندر بھی اور ملک کے باہر بھی۔ یہ انتظام اُس سے لاکھوں گنا بڑا ہے جو قدیم زمانے میں قریش کو کعبہ کے متولی ہونے کی بنا پر حاصل تھا۔ قریش کو قدیم زمانے میں اللہ کی جو نعمت حاصل تھی، وہ موجودہ زمانے کے انسان کو بہت زیادہ اضافے کے ساتھ عطا ہوئی ہے۔ ساتویں صدی عیسوی کے قریش کو جو نوازش محدود سطح پر حاصل تھی، وہ موجودہ زمانے میں لامحدود سطح پر عالمی دائرے میں حاصل ہوگئی ہے۔ اس کا تقاضہ ہے کہ آج انسان زیادہ بڑے پیمانے پر اللہ کا شکر ادا کرے اور زیادہ بڑے درجے میں وہ عبادتِ الٰہی کی ذمے داریوں کو پورا کرے-
واپس اوپر جائیں

اپنی حد کو جانیے

ہر آدمی چاہتا ہے کہ وہ زیادہ سے زیادہ ترقی کرے، ہر آدمی چاہتا ہے کہ وہ بڑی سے بڑی کامیابی حاصل کرے۔ لوگوں کے اِس مزاج کی بنا پر یہ مقولہ بنا ہے کہ — آسمان ہی اس کی حد ہے:
Sky is the limit
یہ مقولہ بہت مشہور ہے۔ لیکن وہ ایک غیر فطری مقولہ ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ انسان کی صلاحیتیں بہت محدود ہیں، انسان اپنی محدود یت (limitations)کی وجہ سے ایک حد تک ہی آگے جاسکتا ہے، اس کے بعد نہیں۔ مذکورہ قسم کے مقولے کا نتیجہ صرف یہ ہوگا کہ آدمی اپنے نشانے کو نہ پائے، البتہ وہ شدید قسم کی مایوسی میں مبتلا ہوجائے، یہاں تک کہ اِسی مایوسی کی حالت میں وہ اِس دنیا سے چلا جائے-
انسان کے لیے صحیح نشانہ ’’آسمان‘‘ نہیں ہے، بلکہ یہ ہے کہ وہ اپنی فطری حد کو جانے اور اس کے مطابق، اپنی زندگی کا منصوبہ بنائے۔ ایسی حالت میں کسی انسان کے لیے صحیح نشانہ یہ ہے کہ وہ خود اپنے اعتبار سے اپنا نشانہ مقرر کرے، وہ یہ کہے کہ:
Stress is the limit
یعنی انسان کے لیے صحیح طریقہ یہ ہے کہ وہ اپنے مقصد کو حاصل کرنے کی کوشش کرے، لیکن جب اس کو محسوس ہو کہ وہ ذہنی تناؤ (stress) کا شکار ہورہاہے تو وہ سمجھے کہ یہاں میری حد آگئی۔ اس کے عمل کی حد اس کا شوق یا اس کا حوصلہ نہ ہو، بلکہ ذہنی سکون (peace of mind) ہو-
انسان کی کامیابی کا راز یہ ہے کہ وہ اپنی صلاحیتوں کو بھر پور طور پر استعمال کرسکے۔ جب تک وہ ذہنی تناؤ سے بچا ہوا ہے، اُس وقت تک اس کو سمجھنا چاہیے کہ وہ اپنی فطری حد کے اندر ہےاور جب وہ دیکھے کہ میں ذہنی تناؤ کا شکار ہو رہا ہوں تو وہ جان لے کہ اب میری حد آگئی۔ اب مجھے توقف کرنا چاہیے، نہ کہ ناکام طور پر آگے بڑھنا۔ اس دنیا میں آدمی جو کچھ پاسکتا ہے، وہ فطرت کے دائرے کے اندر پاسکتا ہے، اس کے باہر نہیں-
واپس اوپر جائیں

موت کا تجربہ

ایک حدیث رسول اِن الفاظ میں آئی ہے: أکثروا ذکر ہادم اللذات الموت(صحیح ابن حبان، رقم الحدیث: 2992) یعنی موت کو کثرت سے یاد کرو جو لذتوں کو ڈھا دینے والی ہے۔ موت ہر شخص کے لیے ایک بھیانک تجربہ ہے۔ موجودہ دنیا میں ہر آدمی اپنی زندگی کی تعمیر کرتا ہے۔ ہر آدمی اپنی بساط کے مطابق، اپنے لئے ایک چھوٹا یا بڑا محل بناتا ہے۔ ہر آدمی اپنی تمام کوشش کر کے اپنی ایک دنیا تعمیر کرتا ہے، لیکن بہت جلد وہ وقت آتاہے جب کہ موت اس کا خاتمہ کردیتی ہے۔ موت ہر انسان کے لیے اس کی بنائی ہوئی دنیا کی نفی (nullification) کے ہم معنی ہے-
اگر آدمی کے اندر حقیقت پسندانہ سوچ ہو تو موت کی یاد ہی اس کی اصلاح کے لیے کافی ہوجائے۔ اس کا دنیا پرستانہ ذہن ختم ہو جائے اور وہ کامل اعتبار سے،آخرت پسند انسان بن جائے۔ دنیا کی تمام خرابیوں کی جڑ صرف ایک ہے اور وہ ہے موت کو حذف کرکے سوچنا۔ اور تمام اچھائیوں کا سرچشمہ یہ ہے کہ آدمی اِس احساس کے ساتھ جئے کہ وہ ایک دن مرنے والا ہے اور اپنی زندگی کا حساب دینے کے لیے رب العالمین کے سامنے پیش ہونے والا ہے۔ موت سے غفلت آدمی کو غیر سنجیدہ بناتی ہے اور موت کا یقین آدمی کو آخری حد تک سنجیدہ بنا دیتاہے-
موت کا تصور انسان سے سرکشی کا جذبہ چھین لیتاہے۔ موت کا تصور آدمی کو یاد لاتاہے کہ وہ صرف ایک عاجز مخلوق ہے۔ موت آدمی کو انسانِ اصلی (man-cut to size) بناتی ہے۔ موت آدمی کے اندر سے بڑائی کا جذبہ چھین لیتی ہے۔ موت کی یاد آدمی کو آخری حد تک متواضع (modest) بنا دیتی ہے۔ یہ صفات آدمی کے اندر ایک داخلی محرک پیدا کردیتی ہیں جو بلاشبہ انسان کی اصلاح کا سب سے زیادہ طاقت ور ذریعہ ہے۔
موت کی یاد آدمی کو اپنی زندگی کے بارے میں آخری حد تک ذمہ دار بنادیتی ہے۔ موت کی یاد بلاشبہہ انسان کے لیے سب سے بڑی مصلح کی حیثیت رکھتی ہے-
واپس اوپر جائیں

خاندان کی اہمیت

خاندان (family) وسیع تر انسانیت کا ایک یونٹ ہے۔ خاندان کے اندر محدود دائرے میں وہ تمام حالات پیش آتے ہیں جو وسیع تر انسانیت کے اندر زیادہ بڑے پیمانے پر پیش آتے ہیں۔ اِس اعتبار سے، خاندان ہر ایک کے لیے گویا ایک تربیتی اسکول ہے۔ ہر آدمی اپنے خاندان کے اندر اُن تمام باتوں کو سیکھ سکتا ہے جو دنیا میں کامیاب زندگی گزارنے کے لیے ضروری ہیں۔ مگر اِس کی ایک شرط ہے، وہ یہ کہ آدمی خاندان پرستی کا شکار نہ ہو۔ وہ اپنے خاندان کو بھی اُس نظر سے دیکھے جس طرح کوئی شخص دوسرے انسانوں کو دیکھتا ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ دنیا میں جتنے مختلف قسم کے کیریکٹر ہیں، وہ سب کیریکٹر ہر آدمی کے اپنے خاندان کے افراد میں موجود ہوتے ہیں۔خاندان ہر آدمی کے لیے روایتی ’’جامِ جمشید‘‘ کی مانند ہے۔ خاندان کے آئینے میں آدمی ہر قسم کے اخلاق کا نمونہ دیکھ سکتا ہے۔ اِس طرح ہر آدمی کے لیے یہ ممکن ہے کہ وہ اپنے خاندان اور رشتے داروں کو دیکھ کر زندگی کا تجربہ حاصل کرے اور اپنی زندگی کی حقیقت پسندانہ انداز میں منصوبہ بندی (planning) کرے-
مگر بہت کم ایسے افراد ہیں جو اِس قریبی امکان سے فائدے اٹھاتے ہیں۔ اِس محرومی کا سبب کیا ہے۔ اس کا سبب صرف ایک ہے اور وہ ہے لوگوں کے اندر موضوعی طرزِ فکر کا نہ ہونا۔ لوگوں کا حال یہ ہے کہ وہ اپنے خاندان کے افراد کے بارے میں بہت جلد متعصبانہ طرز فکر کا شکار ہوجاتے ہیں۔ اُن کو اپنے گھر والوں کی غلطی دکھائی نہیں دیتی۔ وہ خاندان سے باہر کے افراد کے بارے میں غیر ہمدردانہ انداز میں سوچتے ہیں اور اپنے خاندان کے افراد کے بارے میں ہمدردانہ انداز میں۔ وہ خاندان سے باہر کے افراد کو ایک نظر سے دیکھتے ہیں اور اپنے خاندان کے افراد کو دوسری نظر سے-اِس طرح اُن کا حال یہ ہوجاتا ہے کہ وہ نہ اپنوں کی زندگی سے سبق حاصل کرتے ہیں اور نہ دوسروں کی زندگی سے کوئی نصیحت حاصل کرتے ہیں-
واپس اوپر جائیں

جانچ کا معیار

ایک شخص جب شعوری طورپر ایمان کو اختیار کرتا ہے تو اس کے بعد یہ بھی اس کے ایمان کا ایک لازمی تقاضا ہوتا ہے کہ وہ دین کے کام کے لیے اپنے آپ کو وقف کرے، خاص طورپر دعوت الی اللہ کے کام کے لیے۔ اِسی کا نام دینی مشن ہے۔ ایمان اگر کسی انسان کی داخلی صفت ہے تو دینی کام اس کی ایک خارجی صفت-دینی مشن کے معاملے میں اصل معیار یہ نہیں ہے کہ آپ نے مقدار (quantity) کے اعتبار سے کتنا کام کیا، بلکہ اس کا اصل معیار یہ ہے کہ آپ نے اپنے کام کے دوران خود اپنے لیے کیا پایا۔ دینی مشن کے معاملے میں خارجی مقدار کی حیثیت اضافی ہے اور داخلی یافت (internal realization) کی حیثیت حقیقی-
دین کے احکام خواہ وہ انفرادی ہوں یا بظاہر ان کی نوعیت اجتماعی ہو، دونوں حالتوں میں کسی حکم کا پہلا نشانہ ہمیشہ فرد ہوتا ہے۔ ہر دینی حکم کے معاملے میں پہلے یہ دیکھنا ہے کہ ایک فرد نے اس کو کتنا اپنایا، اس کی تعمیل کے دوران ایک فرد کو کتنا ربانی رزق ملا۔ اپنی شخصیت کی تعمیر کے اعتبار سے، اس کو کیا ملا اور کیا نہیں ملا-
کوئی مومن خواہ وہ اکیلا ہو یا وہ اجتماعی زندگی کے اندرہو، ہر حال میں اس کو سب سے پہلے اپنا محاسبہ کرناچاہیے۔ اس کو چاہیے کہ وہ اپنے آپ کو جانچ کر دیکھے کہ کسی دینی عمل یا کسی دینی سرگرمی کے دوران اس کو اپنی ذات کے لیے کیا ملا۔ اپنی ذات کی نسبت سے اس نے کیا پایا اور کیا کھویا-
ہر آدمی کے لیے اِس دنیا میں جانچ کا ایک ہی معیار ہے اور وہ ہے اپنی ذات۔ ہر آدمی کا سب سے بڑا کنسرن یہ ہونا چاہئے کہ اس کے اپنے اندر ذہنی یا روحانی ارتقا ہو۔ وہ اپنے آپ کو شیطان سے دور لے جائے۔ وہ اپنے آپ کو فرشتوں کا ہم نشیں بنائے۔ وہ اپنے آپ کو اِس طرح تیار کرے کہ آخرت میں وہ جنت میں داخلے کا مستحق قرار پائے۔ آخرت میں وہ اللہ کی پکڑ سے بچ جائے اور اللہ کی رحمتوں میں حصے دار بنے-
واپس اوپر جائیں

چھ بینگ

بیسویں صدی کے آغاز میں اُس فلکیاتی واقعہ کی دریافت ہوئی جس کو عام طورپر بگ بینگ (Big Bang) کہا جاتا ہے۔ اِس واقعے کو یہ نام برٹش سائنس داں فریڈ ہائل (Fred Hoyle) نے دیا تھا جس کی وفات 2001 میں ہوئی۔ بگ بینگ کے بعد خلا میں جو واقعات پیش آئے، اُن میں سے ایک واقعہ وہ ہے جس کو سولرسسٹم (solar system) کہا جاتا ہے۔ سولر سسٹم کو ایک امریکی سائنس داں الان باس (Alan Boss) نے لٹل بینگ (Little Bang)کا نام دیا۔ اس کی پیدائش 1951 میں ہوئی-
تسمیہ (nomenclature) کے اِس اصول کو لے کر میں نے سوچا تو میری سمجھ میں آیا کہ پوری تاریخ میں چھ قسم کے بینگ جیسے واقعات پیش آئے ہیں۔ وہ چھ بینگ یہ ہیں:
1. Big Bang (بگ بینگ)
2. Little Bang (شمسی نظام)
3. Water Bang (واٹر بینگ)
4. Plant Bang (پلانٹ بینگ)
5. Animal Bang (اینمل بینگ)
6. Human Bang (ہیومن بینگ)
سائنس دانوں نے کائنات میں اِس طرح کے چھ ادوار کی نشان دہی نہیں کی ہے، لیکن سائنس نے کائنات کے بارے میں جو معلومات فراہم کی ہیں، اُن کو لے کر جب غور کیا جائے تو بظاہر یہ بات درست معلوم ہوتی ہے کہ کائنات میں تخلیق کا جو عمل ہوا ہے، اُس کے غالباً یہی چھ ادوار ہیں۔ اب تک کی سائنسی معلومات اِس تقسیمِ ادوار کی بظاہر تصدیق کرتی ہیں-اِس اعتبار سے چھ ادوار کی تقسیم بالواسطہ طور پر ایک سائنسی تقسیم ہے-
واپس اوپر جائیں

ایک انسانی کمزوری

قرآن کی سورہ المومن میں ارشاد ہوا ہے: وَاَنْذِرْہُمْ یَوْمَ الْاٰزِفَةِ اِذِ الْقُلُوْبُ لَدَى الْحَـنَاجِرِ کٰظِمِیْنَ ڛ مَا لِلظّٰلِمِیْنَ مِنْ حَمِیْمٍ وَّلَا شَفِیْعٍ یُّــطَاعُ ۝ یَعْلَمُ خَاۗىِٕنَةَ الْاَعْیُنِ وَمَا تُخْفِی الصُّدُوْرُ(40:18-19) یعنی اُن کو قریب آنے والی مصیبت کے دن سے ڈراؤ جب کہ دل حلق تک آپہنچیں گے، وہ غم سے بھرے ہوئے ہوں گے۔ ظالموں کا نہ کوئی دوست ہوگا اور نہ کوئی سفارشی جس کی بات مانی جائے۔ اللہ نگاہوں کی خیانت کو جانتا ہے اور وہ اُن باتوں کو بھی جانتا ہے جن کو سینے چھپائے ہوئے ہیں-
اِس آیت میں نگاہ کی خیانت اور دل کا اخفا، دونوں انسان کی ایک کمزوری کو بتاتے ہیں۔ اِس کی وضاحت ضحاک بن مزاحم (وفات: 723 ء) نے اپنے ایک قول میںاِس طرح کی ہے: ہی قول الإنسان: ما رأیتُ وقد رأى، أو رأیت وما رأى (تفسیر القرطبی: 15/303) یعنی اِس سے مراد انسان کا یہ قول ہے جب کہ وہ کہے کہ میں نے نہیں دیکھا، حالانکہ اس نے دیکھا ہو۔ وہ کہے کہ میں نے دیکھا، حالانکہ اس نے نہ دیکھا ہو-اِس سے مراد دراصل وہی چیز ہے جس کو ذہنی بددیانتی (intellectual dishonesty) کہاجاتا ہے۔ یہ کمزوری عورتوں اور مردوں کے درمیان بہت عام ہے۔ لوگ اکثر ایسا کرتے ہیں کہ جو بات اُن کے تصور کے خلاف جاتی ہو، اس کو شعوری یا غیر شعوری طور پر وہ اِس طرح بیان کردیتے ہیں جیسے کہ وہ ماننے کے قابل ہی نہیں-
اِس کے برعکس، صحیح طریقہ یہ ہے کہ آدمی کے اندر ذہنی دیانت داری (intellectual honesty) کی صفت موجود ہو۔ اس کا ضمیر (conscience) اتنا زیادہ زندہ ہو کہ وہ اِس بات کا تحمل نہ کرسکے کہ وہ ایک ثابت شدہ بات کا انکار کرے اور ایک غیر ثابت شدہ بات کو اپنائے ہوئے ہو۔ ذہنی بددیانتی بلاشبہہ کسی انسان کی سب سے بڑی کمزوری ہے، اور ذہنی دیانت داری بلا شبہہ کسی انسان کی سب سے بڑی طاقت۔ پہلا انسان ایک مردہ انسان ہے اور دوسرا انسان ایک زندہ انسان-
واپس اوپر جائیں

اسلامی تعلیمات کے دو حصے

علما کی ہمیشہ یہ روش رہی ہے کہ وہ دین میں کسی ادنی انحراف کو برداشت نہیں کرتے۔ جب بھی وہ دیکھتے ہیں کہ کچھ مسلمان دین کے کسی معاملے میںانحراف کی روش اختیار کررہے ہیںتو وہ اس کے خلاف انکارِ منکر کے اصول پر زبان وقلم کے ذریعے سخت کارروائی کرتے ہیں۔ مگر اُن کا یہ انکارِ منکر دین کی اُن تعلیمات کے معاملے میں ہوتا ہے جن کا تعلق عقیدہ اور عبادت جیسی چیزوں سے ہے۔ اِس کے علاوہ، دین کا ایک اور پہلو ہے، مگر اِس دوسرے پہلو کے بارے میں علما نے ہمیشہ بالکل مختلف روش اختیار کی-
دین کے اِس دوسرے پہلو کی ایک واضح مثال وہ ہے جس کا تعلق حکومت سے ہے۔ یہ ایک معلوم حقیقت ہے کہ قرآن میں حکومت کے معاملےمیں شوری (42:38) کا اصول بتایا گیا تھا، یعنی حکومت کے معاملے کو مسلمانوں کے اجتماعی مشورے سے طے کرنا۔ یہ حکم واضح طور پر خاندانی حکومت (dynasty) کے خلاف ہے-مگر تاریخ بتاتی ہے کہ حضرت معاویہ کے زمانہ (20-60 ہجری) میں حکومت کے ادارے کو خاندانی ادارے کی حیثیت دے دی گئی۔ یہ وہ زمانہ ہے جب کہ مسلم معاشرے میں صحابہ اور تابعین بڑی تعداد میں موجود تھے، مگر اِن تمام لوگوں نے تقریباً بلا اختلاف اسلام میں اِس بظاہر انحراف کو قبول کرلیا۔ اِس کے بعد خاندانی حکومت کا یہی طریقہ عملاً رائج ہو گیا۔ بنو امیہ کے دور اور بنو عباس کے دور سے لے کر مغل سلطنت اور ترکی کی عثمانی خلافت تک بلا انقطاع ہر جگہ یہی طریقہ جاری رہا-
بات صرف اتنی ہی نہیں، بلکہ بعد کے زمانے میں اِس میں مزید اضافہ ہوا۔ تمام علما نے اِس پر اجماع کرلیا کہ قائم شدہ مسلم حکومت کو تسلیم کیاجائے گا، اس کے خلاف خروج حرام ہوگا۔ (اس معاملے کی وضاحت کے لیے ملاحظہ ہو: امام نووی کی شرح صحیح مسلم، جلد 12، صفحہ 229)
یہ کوئی سادہ یا اتفاقی بات نہیں۔ یہ دراصل اسلام کے ایک اہم اصول پر مبنی ہے، وہ یہ کہ اسلام کی تعلیمات کے دو مختلف حصے ہیں۔ ایک حصے کو اسلام کا حقیقی حصہ (real part)کہاجاسکتا ہے اور دوسرے حصے کو اسلام کا اضافی حصہ(relative part) کہاجاسکتا ہے۔ عقیدہ اور عبادت جیسی تعلیمات کا تعلق اسلام کے حقیقی حصے سے ہے اور حکومت یا حکومتی نظام کا تعلق اسلام کے اضافی حصے سے-
واپس اوپر جائیں

غصہ کا مثبت پہلو

غصہ (anger) کو عام طور پر ایک بری چیز سمجھا جاتاہے۔ لیکن خالق نے کوئی بری چیز پیدا نہیں کی۔ اور غصہ بھی ایک تخلیق ہے۔ اس لئے وہ شرّ محض نہیں ہوسکتا-غصہ انسانی فطرت کے اندر جاری ہونے والا ایک عمل ہے۔ غصہ اپنے آپ نہیں آتا۔ غصہ آنے کے لیے ضروری ہے کہ کوئی آدمی آپ کو مشتعل کردے۔ غصہ برین اسٹارمنگ (brain storming) کا ذریعہ ہے۔
جب کسی آدمی کو غصہ آتا ہے تو اس کے دماغ میں غیر معمولی تعداد میں انرجی خارج (release) ہوتی ہے۔ یہ کسی انسان کے لئے ایک بے حد اہم وقت ہوتا ہے۔ اس وقت آدمی کے لئے دو امکانات ہوتے ہیں۔ وہ اپنی خارج شدہ انرجی کو منفی رخ میں ڈائیورٹ (divert) کرے۔ یا وہ اس کو مثبت رخ میں ڈائیورٹ کردے-
آدمی اگر اپنی انرجی کو منفی رخ میں ڈائیورٹ کرے گا تو اس سے اس کے اندر ٹینشن، نفرت، انتقام حتی کہ تشدد کا مزاج پیداہوجائے گا-یہ چیزیں بلا شبہہ انسان کی ہلاکت کا ذریعہ ہیں۔ اس کے برعکس اگر انسان اپنی انرجی کو مثبت رخ میں ڈائیورٹ کرے تو اس سے اُس کے اندر ذہنی ارتقا، فکری تخلیقیت، تعمیری مزاج اور مثبت سوچ پیدا ہوگی۔ اور یہ تمام چیزیں انسان کی شخصیت کی اعلی تعمیر کے لئے نہایت ضروری ہیں-
غصہ کے وقت پیدا ہونے والی انرجی کو مثبت رخ میں ڈائیورٹ کرنے کے لیے کسی مزید کوشش کی ضرورت نہیں۔ یہ عمل فطرت کے قانون کے تحت آدمی کے اندر اپنے آپ ظہور میں آتا ہے۔ شرط صرف ایک ہے۔ اور وہ یہ کہ آدمی غصہ کے وقت چپ ہوجائے۔ اگر آدمی اس وقت اِس ذہنی انضباط (intellectual discipline) کا ثبوت دے تو اس کی فطرت خود عمل کرے گی اور غصہ کے وقت خارج ہونے والی انرجی کو اپنے آپ مثبت رخ پر موڑ دے گی-
واپس اوپر جائیں

تکاثر سے قبر تک

قرآن کی سورہ التکاثر میں انسان کی ایک عمومی حالت کو ان الفاظ میں بتایا گیاہے: اَلْہٰىکُمُ التَّکَاثُرُ ۝ حَتّٰى زُرْتُمُ الْمَقَابِرَ (102:1-2) یعنی زیادہ سے زیادہ کی حرص نے تم کو غفلت میں رکھا، یہاں تک کہ تم قبروں میں جاپہنچے-
انسان کا حال یہ ہے کہ وہ زیادہ سے زیادہ دولت حاصل کرنے کو اپنی زندگی کا مقصد بنا لیتا ہے۔ وہ اِسی عمل میں مشغول رہتا ہے، یہاں تک کہ اس کی موت آجاتی ہے۔ وہ دنیا سے اس احساس کے ساتھ چلا جاتا ہے کہ اس نے جس چیز کے حصول کو اپنا نشانہ بنایا تھا، اس کو وہ حاصل نہ کرسکا-
حقیقت یہ ہے کہ مال برائے ضرورت کی ایک حد ہے۔ اِس کے برعکس مال برائے مال کی کوئی حد نہیں۔ اگر انسان ضرورت کے لئے مال حاصل کرنا چاہے تو ایک حد پر پہنچ کر اس کو اطمینان حاصل ہوجائے گا۔ لیکن انسان اگر مال برائے مال کو اپنی زندگی کا نشانہ بنائے تو اس کی طلب کی کبھی کوئی حد نہیں آئے گی۔ انسان بے اطمینانی کی حالت میں جیے گا، اور بے اطمینانی کی حالت میں مر جائے گا-
امریکا کے مشہور دولت مند بل گیٹس (Bill Gates) نے اپنی زندگی کا مقصد یہ بنایا کہ وہ زیادہ سے زیادہ دولت حاصل کرے۔ انھوںنے ایسا ہی کیا۔ یہاں تک کہ وہ دنیا کے سب سے زیادہ دولت مند آدمی بن گئے۔ لیکن آخر میں ان کو محسوس ہوا کہ میری ضرورت تو محدود ہے۔ پھر اس کثیر دولت کا کیا استعمال۔ انھوں نے اپنے ایک لکچر میں کہا کہ:
Once you get beyond a million dollars, it is the same hamburger.
یعنی تم خواہ کتنی ہی زیادہ دولت حاصل کرلو، مگر تمھاری ضرورت تو بدستور وہی سینڈوچ رہے گی- یہ ہر اُس آدمی کا انجام ہوتا ہے، جو زیادہ دولت کمانے کو اپنا نشانہ بنائے- آخرمیں عدم اطمینان کے سوا کچھ اور اُس کے حصے میں آنے والا نہیں-
واپس اوپر جائیں

دلیل یا شوشہ

ایک بت پرست شخص سے ایک مسلمان نے قرآن کے حوالے سے کہا کہ آپ غیر اللہ کو حاجت روائی کے لیے مت پکارا کریں۔ کیوں کہ قرآن (22:73) میں بتایا گیا ہےکہ سارے بت مل کر ایک مکھی بھی پیدا نہیں کرسکتے، اور اگر ایک مکھی اُن سے کوئی چیز چھین لے تو یہ اُس کو مکھی سے واپس بھی نہیں لے سکتے۔ بت پرست شخص نے جواب دیا کہ ہم لوگ بتوں سے مکھیاں پیدا کرانا نہیں چاہتے۔ اور اگر کوئی مکھی ان بتوں سے کوئی چیز چھین لے جائے تو اِس سے ان کا کیا نقصان ہوتا ہے، وہ تو خزانوں کے مالک ہیں-
بت پرست شخص کی یہ بات دلیل نہیں ہے بلکہ وہ ایک شوشہ ہے۔ قرآن میں جو بات کہی گئی ہے وہ تمثیل کی زبان میں ہے۔ اس کا مقصد، مکھی کا معاملہ بتانا نہیں ہے۔ بلکہ اس کا مقصد مفروضہ اصنام کی کمزوری کو بتاناہے۔ اِس کا مطلب یہ ہے کہ تم اپنے مفروضہ اصنام کے بارے میں یہ عقیدہ رکھتے ہو کہ وہ بارش برساتے ہیں، وہ انسان کو اولاد دیتے ہیں، وہ انسان کے مسائل کو حل کرتے ہیں۔ یہ سب بے بنیاد مفروضات ہیں۔ اِن مفروضات کی کوئی حقیقت نہیں۔ اِس مثال میں مکھی کا لفظ کمزوری کی علامت کے طورپر آیا ہے، نہ کہ مکھی جیسے ایک حیوان کو بتانے کے لیے-
لوگوں میں اِس طرح کا کمزور استدلال بہت عام ہے۔ لوگ عام طورپر دلیل کا جواب دلیل سے دینا نہیں جانتے۔ وہ اکثر ایسا کرتےہیں کہ دلیل کے جواب میں ایک غیر متعلق مثال بیان کردیں گے۔ وہ صاحب دلیل کے خلاف عیب جوئی کی زبان استعمال کریں گے۔ وہ دعوی کی زبان بولیں گے ، حالاں کہ دعوی کی زبان سے کوئی با ت ثابت نہیں ہوتی-
دلیل کے بجائے شوشے کا طریقہ اتنا وسیع ہے کہ اگر کوئی شخص چاہے تو قرآن او ر حدیث کے معاملے میں بھی، وہ اُس کو استعمال کرسکتا ہے، مگر شوشہ محض ایک جوک (joke) ہے، وہ ہرگز کوئی دلیل نہیں-
واپس اوپر جائیں

ہلاکت کیا ہے

ایک روایت کے مطابق، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: إذا سمعت الرجل یقول ہلک الناس فہو أہلکہم (موطأ الإمام مالک، رقم الحدیث: 1802) یعنی جب تم کسی کو یہ کہتے ہوئے سنو کہ لوگ ہلاک ہوگئے تو سب سے زیادہ ہلاکت میں وہی شخص ہے-
اِس حدیثِ رسول میں ’ہلک الناس‘ اپنے لفظی معنی میں نہیں ہے۔ اِس لیے کہ یہ ثابت ہے کہ رسول اور اصحابِ رسول نے خود بھی یہ زبان استعمال کی۔ مثلاً حضرت علی بن ابی طالب نے ایک خطیب کو دیکھا تو کہا کہ: ہلکتَ وأہلکتَ (تم خود بھی ہلاک ہوئے اور تم نے دوسروں کو بھی ہلاک کیا)۔
اِس حدیث رسول میں جس روش کی مذمت کی گئی ہے، وہ دراصل تنقید برائے تنقید (criticism for the sake of criticism) ہے، یعنی لوگوں کو برا بتانا، لیکن یہ نہ بتانا کہ ان کے لیے صحیح بات کیاہے۔ دوسروں کے خلاف منفی ریمارک دینا، لیکن مثبت نصیحت کا طریقہ اختیار نہ کرنا۔ بے دلیل تنقید کرنا، لیکن مدلل تجزیہ کے ذریعے یہ نہ بتانا کہ صحیح کیا ہے اور غلط کیا۔ نفرت کی زبان میں لوگوں کی مذمت کرنا، لیکن خیر خواہی کے انداز میں ان کو نصیحت نہ کرنا-
بلا دلیل تنقید کا فائدہ تو کچھ نہیں، مگر اس کا نقصان بہت زیادہ ہے۔ بادلیل تنقید سے لوگوں کے اندر محاسبہ (introspection) کا مزاج بنتا ہے۔ اِس کے برعکس، بے دلیل تنقید سے لوگوں کے اندر نفرت اور بے اعترافی کا مزاج بنتا ہے۔ بادلیل تنقید، اصلاح کا ذریعہ ہے۔ اور بے دلیل تنقید صرف فساد کا ذریعہ۔
صالح تنقید وہ ہے جس میں خیر خواہی کا جذبہ پایا جائے۔ جس کا مقصد فریق ثانی کی اصلاح ہو۔ اس کے برعکس غیر صالح تنقید کا مقصد صرف یہ ہوتا ہے کہ دوسرے کو بے عزت کرنا اور اس کی برائی بیان کرنا۔ صالح تنقید اسلام میں عین مطلوب ہے۔ اِس کے برعکس، غیر صالح تنقید کے لیے اسلام میں کوئی جگہ نہیں-
واپس اوپر جائیں

تلاوت کا فائدہ

ایک بار ایک سفر میں ایک صاحب میرے ساتھ تھے۔ میں نے دیکھا کہ اُن کے پاس پاکٹ سائز کا ایک معرى قرآن ہے۔ جہاں موقع ملتا ہے، وہ اس کی تلاوت کرنے لگتے ہیں۔ انھوں نے بتایا کہ میرا یہ معمول تقریباً پندرہ سال سے ہے۔ اِس طرح ہر مہینے میں ایک بار میں پورا قرآن پڑھ لیتاہوں۔ میں نے اُن سے کہا کہ آپ ماشاء اللہ روزانہ قرآن کی تلاوت کرتے ہیں۔ آپ بتائیے کہ قرآن کا خلاصہ کیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ میں نے اِس اعتبار سے کبھی غور نہیں کیا۔ میں قرآن کو ثواب کی نیت سے پڑھتا ہوں-یہی عام طورپر لوگوں کا حال ہے۔ لوگ قرآن کو پڑھتے ہیں، لیکن اُن کا پڑھنا برائے تلاوت ہوتا ہے، برائے تدبر نہیں ہوتا۔ موجودہ زمانے میں مسلمانوں کے اندر عام طورپر اسی قسم کی تلاوتِ قرآن کا رواج ہے۔ مگر اصحابِ رسول کے زمانے میں اِس قسم کی تلاوت قرآن کا رواج نہ تھا۔ ایک بار حضرت عائشہ سے ایسے کچھ لوگوں کا ذکر کیاگیا جو معنوی تدبر کے بغیر صرف الفاظ کی تلاوت کے طورپر قرآن کو پڑھتے تھے۔ حضرت عائشہ نے یہ سن کر کہا: اولئک قرءوا ولم یقرءوا (شعب الإیمان، رقم الحدیث: 1925) یعنی انھوں نے قرآن کو پڑھا، مگر انھوں نے قرآن کو نہیں پڑھا-
اِس سلسلہ میں قرآن میں واضح ہدایات موجود ہیں۔ اِس پہلو سے قرآن کی ایک آیت کے الفاظ یہ ہیں: کِتٰبٌ اَنْزَلْنٰہُ اِلَیْکَ مُبٰرَکٌ لِّیَدَّبَّرُوْٓا اٰیٰتِہٖ وَلِیَتَذَکَّرَ اُولُوا الْاَلْبَابِ (38:29) یعنی یہ ایک بابرکت کتاب ہے۔ جو ہم نے تمھاری طرف اتاری ہے، تاکہ لوگ اِس کی آیتوں پر غور کریں اور تاکہ عقل والے اِس سے نصیحت حاصل کریں-قرآن کے نزول کا مقصد یہ نہیں ہے کہ لوگ اس کو تبرک کے طورپر لیں۔ اور اُس سے پراسرار ثواب حاصل کریں۔ بلکہ قرآن کے نزول کا مقصد یہ ہے کہ اس کی آیتوں پر غور کیا جائے۔ اِس سے زندگی کے اصول معلوم کئے جائیں۔ اُس سے کامیابی اور ناکامی کا راز دریافت کیا جائے۔ اُس سے امتوں کے عروج وزوال کا قانون دریافت کیا جائے۔ قرآن سے رہنمائی حاصل کرکے اپنے آپ کو اس طرح تیار کیا جائے جو آدمی کو اللہ کی رحمت وسعادت کا مستحق بنائے-
واپس اوپر جائیں

فکری اعتدال

ایک روایت کے مطابق، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: خیر الأمور أوساطہا (شعب الإیمان للبیہقی، رقم الحدیث: 3605 ) یعنی معاملات میں سب سے بہتر طریقہ درمیانی طریقہ ہے-
اِس حدیثِ رسول میں زندگی کا ایک نہایت اہم اصول بتایا گیا ہے۔ اِس اصول کی اہمیت ہر انسان کے لیے ہے۔ یہ اصول کسی انسان کے ذہنی ارتقا کے لیے بنیادی اصول کی حیثیت رکھتا ہے۔ اِس حدیث رسول کو سمجھنے کے لیے ایک اصول کو ملحوظ رکھنا ضروری ہے، وہ یہ کہ اِس میں ’خیر الأمور‘ کا لفظ آیا ہے، اس میں ’خیر الأفکار‘ کا لفظ نہیں آیا ہے۔ اِس سے معلوم ہوا کہ اِس حدیث میں جس توسط کا ذکر ہے، اس کا تعلق فکری چیزوں سے نہیں ہے، بلکہ اس کا تعلق عملی چیزوں سے ہے، یعنی آدمی کو چاہیے کہ وہ عملی معاملات میں توسط کا طریقہ اختیار کرے، لیکن فکری معاملات کی نوعیت اِس سے مختلف ہے-
توسط اور اعتدال دونوں تقریباً ہم معنی الفاظ ہیں۔ عملی زندگی میں توسط اور اعتدال کی بہت زیادہ اہمیت ہے۔ اعتدال پسندی کا بالمقابل لفظ انتہا پسندی ہے۔ اعتدال پسندی سے اجتماعی زندگی میں امن قائم ہوتا ہے اور انتہاپسندی سے اجتماعی زندگی درہم برہم ہوجاتی ہے۔ اِس لیے اجتماعی زندگی کا بہترین اصول یہ ہے کہ اس کو توسط اور اعتدال پر قائم کیا جائے-
لیکن فکر کا معاملہ اِس سے مختلف ہے۔ فکر کسی آدمی کا ایک ذاتی مسئلہ ہے۔ فکر کے معاملے میں آدمی کے لیے یہ ممکن ہوتا ہے کہ وہ صرف اپنی عقل اور اپنے ضمیر پر چلے۔ اِس لیے صحیح یہ ہے کہ آدمی عملی نوعیت کے اجتماعی معاملات میں آخری حد تک مصالحانہ انداز (compromising attitude) اختیار کرے اور فکر کے معاملے میں آدمی آخری حد تک غیرمصالحانہ انداز (uncompromising attitude) اختیار کرے-یہی اسلام کا طریقہ بھی ہے اور یہی دانش مندی کا طریقہ بھی-(12 جنوری، 2014)
واپس اوپر جائیں

توازن یا ترجیح

ماہ نامہ الرسالہ کے مضامین میں اکثر روحانیت (spirituality) پر زور دیا جاتا ہے- ایک صاحب جو ماہ نامہ الرسالہ کے مستقل قاری ہیں، اِن مضامین کو پڑھنے کے بعد ای میل کے ذریعے اُن کا ایک سوال موصول ہوا ہے- انھوں نے یہ سوال کیا ہے کہ — زندگی کے مادی تقاضے بھی ہیں اور روحانی تقاضے بھی، پھر دونوں تقاضوں کے درمیان توازن (balance) کس طرح قائم کیا جائے:
How can one maintain a balance between spirituality and materialism.
جواب یہ ہے کہ توازن کا اصول غیر فطری اصول ہے- اکثر لوگ ’’توازن‘‘ کے تصور میںالجھے رہتے ہیں،چناں چہ وہ کبھی اپنی زندگی کے مختلف تقاضوں کے درمیان توازن قائم نہیں کرپاتے- نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ وہ ٹنشن (tension)کا شکار ہوجاتے ہیں- توازن کا اصول غیر فطری ہونے کی وجہ سے ایک ناقابلِ حصول چیز ہے، اور جو چیز ناقابلِ حصول ہو، اس کے بارے میں صحیح رویہ صرف یہ ہے کہ اس کو علیٰ حالہ قبول کرلیا جائے-
فطری قانون کے مطابق، زندگی کا نظام ترجیح (priority) کے اصول پر قائم ہے، یعنی زندگی کے ایک تقاضے کو اولین (primary) اہمیت دینا اور دوسرے تقاضے کو ثانوی (secondary) درجے پر رکھنا- اِس معاملے میں یہی واحد قابلِ عمل فارمولا ہے- اِس کے سوا کوئی دوسرا فارمولا سرے سے قابلِ عمل ہی نہیں-
روحانیت اور مادیت کے معاملے میں صحیح طریقہ یہ ہے کہ ترجیح کا اصول اختیار کیا جائے ، یعنی روحانیت کو اولین حیثیت دی جائے اور مادیت کو ثانوی حیثیت- اِس معاملے میں یہی حقیقت پسندی ہے- جو آدمی اِس حقیقت کو نہ مانے، اُس کو اِس کی بھاری قیمت دینی پڑے گی، وہ یہ کہ ایسا شخص ہمیشہ ٹنشن میں جئے گا، وہ ہمیشہ ذہنی سکون (peace of mind) سے محروم رہے گا-
واپس اوپر جائیں

تہذیب یا دعوت

فواد سیزگین (پیدائش: 1924) ترکی کے مشہور اسکالر ہیں۔ وہ ترکی زبان کے علاوہ ، عربی، انگریزی اور جرمن زبان پر بھی قدرت رکھتے ہیں۔ اُن کےاستاد ہیلمٹ رٹر(Helmut Ritter) نے اُن سے کہا تھاکہ اگر تم واقعی اسکالر بننا چاہتے ہو تو روزانہ17 گھنٹے مطالعہ کرو۔ چناں چہ فواد سیزگین اپنا بیش تر وقت مطالعہ کتب میں گزارتے ہیں، حتی کہ اپنی فیملی سے بات کرنے کے لیے اُن کے پاس روزانہ بمشکل دس منٹ ہوتے ہیں-فواد سیزگین کے مطالعے کا موضوع مسلم تہذیب کی تاریخ ہے۔ اِس موضوع پر انھوں نے بہت سے تحقیقی کام کیے ہیں۔ اِس کے علاوہ ترکی اور جرمنی میں انھوں نے اِس موضوع پر ادارے بھی قائم کیے ہیں، فواد سیزگین نے اپنی تحقیق کے ذریعے بہت سی نئی باتیں دریافت کی ہیں۔ مثلاً انھوں نے لکھا ہے کہ کولمبس (وفات: 1504) سے بہت پہلے مسلمانوں نے امریکا کو دریافت کرلیا تھا، وغیرہ-
مسلم تہذیب کا موضوع کسی آدمی کو ایک یونی ورسٹی میں پروفیسر بنا سکتا ہے، لیکن اللہ رب العالمین کے تخلیقی پلان کے مطابق، کسی تہذیب کے علمی مطالعے کی کوئی اہمیت نہیں۔ اصل اہمیت کی بات یہ ہے کہ آدمی اپنے آپ کو خدا کی ابدی جنت کا مستحق بنائے اور لوگوں کو اِس حقیقت سے باخبر کرے-
مثلاً اِس اعتبار سے، اہمیت کی بات یہ نہیں ہے کہ کس نے امریکی براعظم کو پہلے دریافت کیا اور کون وہاں بعد کو پہنچا۔ رب العالمین کے تخلیقی پلان کے مطابق، اصل اہمیت کی بات یہ ہے کہ اہلِ امریکا کو کس نے خدا کا پیغام پہنچایا اور کون اِس فرض کی ادائیگی میں ناکام رہا-
اِس معاملے میں صحیح نقطہ نظر یہ ہے کہ چیزوں کو رب العالمین کے نقشہ تخلیق کے اعتبار سے دیکھا جائے، رب العالمین کے نقشہ تخلیق کے مطابق، زندگی کی منصوبہ بندی کی جائے، رب العالمین کے نقشہ تخلیق کے مطابق، چیزوں کی اہمیت متعین کی جائے اور رب العالمین کے نقشہ تخلیق کے مطابق، اِس دنیا میں اصل اہمیت دعوت الی اللہ کی ہے، نہ کہ کسی موضوع کا علمی مطالعہ وتحقیق۔ تہذیب کا موضوع صرف ایک دنیوی موضوع ہے، جب کہ خالق کے نزدیک اصل اہمیت کا موضوع وہ ہے جس کا تعلق آخرت کی ابدی زندگی سے ہو-
واپس اوپر جائیں

ایک اہم کتاب

مستشرقین کے جواب میں موجودہ زمانے میں بہت کچھ لکھا گیا ہے۔ مگر ان کا اصل جواب یہ ہے کہ علوم اسلام پر ایسی اعلی کتابیں تیار کی جائیں جو اپنی تحقیق اور معلومات کے اعتبار سے مستشرقین کی باتوں کا مثبت جواب بن جائیں۔ اس سلسلے میں یہاں ہم عظیم ترکی عالم فواد سیزگین (Fuad Sezgin) کا ذکر کرنا چاہتے ہیں جنھوںنے اس میدان میں انتہائی قابل قدر کام انجام دیا ہے۔ موصوف نے 25 سالہ مطالعے کے بعد حسب ذیل کتاب جرمن زبان میں تیار کی ہے:
Geshichte des Arabischen, Schrifttums, Leiden, 1967
اِس کتاب کا معیاری عربی ترجمہ دکتور محمود فہمی حجازی اور دکتور فہمی ابوالفضل نے کیا ہے۔ اس کا نام تاریخ التراث العربی ہے۔ وہ تین جلدوں پر مشتمل ہے اور اس کو الہیئة المصریة العامہ للکتاب، قاہرہ نے 1978 میںشائع کیا ہے۔ پہلی جلد تین حصوں پر مشتمل ہے اور اسی طرح دوسری جلدبھی:
المجلد الاول: (1) علوم القرآن (2) علم الحدیث
(3) التدوین التاریخی الى غایة سنة 430 ہجریة تقریباً
المجلد الثانی: (1) الفقہ (2) العقائد (3) التصوف الی غایة سنة 430 ہجریة تقریباً
کتاب کی تیسری جلد تاریخ شعر عربی سے متعلق ہے-
ہر فصل کے شروع میں نہایت قیمتی مقدمہ ہے جس میں خالص علمی اور تاریخی انداز میں متعلق فصل کا تعارف ہے۔ اس کے بعد صحابہ سے لے کر پانچویں صدی ہجری کے ابتدائی نصف تک اُن اسلامی شخصیت کے حالات اور کارنامہ کا محققانہ تذکرہ ہے جو ان موضوعات پر مستند حوالہ کی حیثیت رکھتی ہیں-
یہ کتاب بلا شبہہ اپنی قسم کی واحد کتاب ہے اور اس قابل ہے کہ تمام اسلامی اداروں کے کتب خانوں میں کتب حوالہ کی الماری میں موجود ہو۔ اس موضوع پر ماضی میں متعدد قیمتی کتابیں لکھی گئی ہیں۔ مثلاً ابن الندیم کی الفہرست (377) طاش کبری زادہ (968ھ) کی مفتاح السعادة۔ حاجی خلیفہ (1067ھ) کی کشف الظنون۔ اسماعیل البغدادی ( 1339ھ) کی ہدیة العارفین، وغیرہ-
واپس اوپر جائیں

خبر نامہ اسلامی مرکز — 228

1.13 -15 جون 2014 کو بنگلور میں ایک دعوہ میٹ ہوئی۔ اِس دعوہ میٹ میں الرسالہ مشن سے وابستہ انڈیا کےتقریبا86 ایکٹیوممبران شریک ہوئے- اِس موقع پردعوت اور تربیت کےموضوع پرصدر اسلامی مرکز کےکئی پروگرام ہوئے- اِس کےعلاوہ حاضرین نے اپنے تاثرات بیان کیےاور دعوہ ورک کی پلاننگ کی- اس پروگرام کے درمیان صدر اسلامی مرکز کی نئی کتاب اظہارِ دین کا اجرا بھی عمل میں آیا۔یہ دعوہ میٹ بنگلور کے باہر نیچرل ماحول میں بنے ہوئےہوٹل وستار میں ہوئی ۔ مز سارہ فاطمہ نے مقامی ٹیم کےتعاون سے اس پروگرام کو آرگنائز کیاتھا-اِس دعوہ میٹ کے لکچرز کو اس لنک پر سنا جاسکتا ہے:
http://alquranmission.org/podcasts.aspx
2.20 جون 2014 کو زی نیوز نے عراقی کرائسس پر صدر اسلامی مرکز کا ایک ویڈیو انٹرویو ریکارڈ کیا۔ انٹرویوکے دوران موضوع سے متعلق سوالات کا جواب دیاگیا- گفتگو کے دوران ایک بات یہ کہی گئی کہ ساری دنیا کے مسلمانوں کو یہ بات معلوم نہیں ہے کہ جمہوریت کتنی اہم چیز ہے۔ اس لیے ضرورت یہ ہےکہ انہیں اس بارے میں ایجوکیٹ کیا جائے، تبھی اس قسم کے جھگڑے ختم ہو سکتے ہیں۔
3. 25 جون 2014 کو نیوز چینل آج تک اور ہڈ لائن کے ایک رپورٹر نے ایک انٹرویو لیا۔ انٹر ویو اس بات پر تھا کہ موجودہ عراقی کرائسس کے موقع پر ہندوستان سےشیعہ مسلمانوں کی ایک بڑی تعداد کااپنے مذہبی مقامات کی حفاظت کے لیے عراق جا نا کیسا ہے۔ صدر اسلامی مرکز نے یہ کہا کہ ان کا وہاں جانا ریزلٹ کے اعتبار سےٹھیک نہیں ہوگا، اگرچہ وہ پیس کےنام پر جائیں۔ شیعہ جائیں گے تو سنی ری ایکٹ کریں گے، اور سنی جائیں گےتو شیعہ۔یہ انٹرویو ہندی اور انگریزی دونوں زبانوں میں تھا۔ان دونوں انٹرویوز کو CPS International کی ویب سائٹ پر سنا جا سکتا ہے۔
http://cpsglobal.org/podcast/maulanas-interactions
4. ٹائمس آف انڈیا گروپ کے اسپریچول اخبار اسپیکنگ ٹری کی جانب سے 12-13 جولائی 2014 کو ایک پروگرام آرگنائز کیا گیا۔ اس پروگرام میں صدر اسلامی مرکز نے افتتاحی خطاب کیا۔ تقریر کے بعد کچھ سامعین نے سوال کیے، جس کا صدر اسلامی مرکزنے تشفی بخش جواب دیا۔ اس دو روزہ پروگرام میں سی پی ایس دہلی فیلڈ ٹیم نے شرکت کے لیے آنے والوں کے درمیان قرآن اور دعوتی لٹریچر تقسیم کیا۔ یہ پروگرام انڈیا ہیبی ٹیٹ سینٹر دہلی میں ہوا تھا۔
5. الرسالہ مشن کا کام اب ساؤتھ انڈیا کی ریاست کیرلا میں بھی شروع ہوگیا ہے۔ 19 جولائی 2014 کو کالیکٹ میں ایک سینٹر کا افتتاح عمل میں آیا، جس کا نام سینٹر فار پیس رکھا گیا ہے۔ کیرلا میں الرسالہ مشن سے وابستہ مسٹر شبیر علی نے مقامی ساتھیوں کے تعاون سے اس کو شروع کیا ہے۔
6. 26-28 جون 2014 کو صدر اسلامی مرکز نے اپنے فیملی ممبرس اور سی پی ایس کی ایک ٹیم کے ہمراہ لکھنؤ اور فیض آباد کا سفر کیا، اور وہاں دعوۃ میٹ کی۔ اِس موقع پردعوت اور تربیت کےموضوع پرصدر اسلامی مرکز کےکئی پروگرام ہوئے-جس سے مقامی ساتھیوں کو ایک بوسٹ (boost) ملا۔انہوں نے نئے جذبے کے ساتھ اور زیادہ دعوتی کام کرنے کا عہد کیا ہے۔
7. 17 جولائی 2014 کو اٹلی کے اسپریچول گرو مسٹر ماریو اپنے 90 ڈسائپل کے ساتھ سی پی ایس تشریف لائے۔ اس مناسبت سے صدر اسلامی مرکز نے ان کے درمیان ایک تقریر کی۔ اس کے بعدسوال و جواب کی نششت رہی۔ پروگرام کے آخر میں رمضان کی مناسبت سےتمام لوگوں کی افطار پارٹی ہوئی اور انہیں قرآن اور دیگر دعوتی لٹریچر دیا گیا۔ جس کو تمام لوگوں نے بخوشی قبول کیا۔
8. انڈین کلچر اور ہیریٹیج کی آن لائن اوپن انسائیکلوپیڈیا Sahapedia کی نمائندہ مز نہاریکا گپتا نے 24جولائی 2014کو رمضان اور عید الفطر پر صدر اسلامی مرکزاور سی پی ایس کے ممبران کے انٹرویو لئے۔ دوران انٹرویو صدر اسلامی مرکز نے جو باتیں کہیں ان میں سے ایک یہ تھی کہ رمضان کا بنیادی مقصد انسان میں تقوی ، شکر اور صبر کی صفت پیدا کرناہے۔ یہ انٹرویو انگریزی زبان میں تھا۔
9. 29 جولائی 2014 کو صدر اسلامی مرکز نے عید کے موقع پرایک خطاب کیا۔ اس کا عنوان تھا— —عید کا پیغام۔ یہ پروگرام G-10، نظام الدین ویسٹ میں ہوا۔ اور سی پی ایس ٹیم دہلی کے ممبران اس میں شریک ہوئے۔
10. انڈیااورانڈیاسےباہرکےمختلف مقامات پر ہمارے ساتھی بڑےپیمانےپرقرآن اور دعوتی لٹریچر کی اشاعت کا کام کر رہے ہیں- اب دعوتی کا م کا ایک تخلیقی طریقہ انہوں نے تلاش کیا ہے، اسٹریٹ دعوۃ۔ وہ یہ کہ کسی روڈ کے کنارے، جہاں پبلک کی آمد و رفت رہتی ہے، وہ ایک اسٹال لگا کر پر امن انداز میں لوگوں کو قرآن کا ترجمہ اور دیگر دعوتی لٹریچر دیتے ہیں۔ لوگ بڑے شوق سے اور شکریہ کے ساتھ اسے لیتے ہیں-
11. مختلف قسم کے دعوتی تجربات وتاثرات کا ایک حصہ ذیل میں نقل کیا جاتا ہے:
اس وقت ساری دنیا کے مسلمانوں کے درمیان فلسطینیوں پر اسرائیل کے ظلم کا چرچا ہے۔ مگر عجیب بات یہ ہے کہ بڑے پیمانے پر اسرائیل میں موجود کچھ سنجیدہ عرب مسلمان مقامی یہود اور ٹورسٹوں کے درمیان منظم انداز میں دعوتی کام کر رہے ہیں۔ یہ دعوتی کام الرسالہ مشن کے تعاون سے ہو رہاہے۔ انہوں نے ثانی اثنین خان کو ایک پیغام بھیجا ہے جو یہاں درج کیا جارہا ہے۔ یعنی اللہ کی مدد اور آپ کی کتابوں سے دعوتی کام دن بدن پھیلتا اور مضبوط ہوتا جارہا ہے۔ یہاں لوگ آپ کے دعوتی لٹریچر سے بہت زیادہ متاثر ہوتے ہیں:
اللہ یحفظک اخی ویحفظ والدک الشیخ وحید الدین خان وقل لہ اننا نحبکم باللہ ، وبفضل اللہ اولا وارسال الکتب والمصحف المترجم تتطور الدعوہ بشکل قوی ، ورسالہ الى والدک ان الکثیر من الذین اسلموا تاثروا من طریقة عرض فکرة الاسلام فی الکتیب ۔ وکل عام وانتم بخیر -
— I received a copy of the Quran, and started reading it and I realized how I wasted my life without it. My cousin who is working as Circle Inspector in AP Police, needs a copy of Quran in English. Can you please send it to him? Dua ki Darkhasth. (Samiulla. AP)
— I live in the UK and I am trying to get a copy of an English translation of the Quran in Braille for a blind non-Muslim who is interested in learning about Islam. How can I get hold of MaulanaWahiduddin Khan’s English Translation of the Quran in Braille?? Is it available in the UK?? Thanks! (Nassar Hameed)
واپس اوپر جائیں