Pages

Wednesday, 2 September 2015

Al Risala | September 2015 (الرسالہ،ستمبر)

4

-قرأتِ فاتحہ، روحِ فاتحہ

5

- نعمت کی تحدیث

6

- محبت کا معاملہ

7

- انسان کی تخلیق

8

- غم کے بجائے دعا

9

- تاریخ کا نیا دور

10

- نبی امی

11

- و اما السائل فلا تنہر

12

- آخرت پر ایمان

13

- خدا کا عقیدہ

14

- عاجلانہ اقدام، صابرانہ منصوبہ بندی

15

- نصیحت کا صحیح طریقہ

17

- آیڈیالوجی کی طاقت

18

- دعوت کا اسلوب

19

- دین میں استقامت

20

- دورِ فتنہ

21

- اعتدال کا مطلب

22

- ایک اجتماعی اصول

23

- فساد کی برائی

24

- علمِ معرفت

25

- ایمان اور عمل

26

- ایک سنت ِ رسول

28

- امتیاز ابلیس کی سنت ہے

29

- جنت کی دنیا

30

- اجتہاد کا معاملہ

31

- قتل سب سے بڑی برائی

34

- ذاتی کمال، بصیرِ زمانہ

35

- قدرت کا نظام

36

- سب سے بڑا المیہ

37

- حکمتِ حیات

38

- حقیقی اطمینان

39

- دو دنیائیں

40

- انتہا پسندی

41

- معافی، رائے بدلنا

42

- کلام کا طریقہ

43

- افادہ اور استفادہ

44

- ہر صورتِ حال بہتر

45

- ہر آدمی ایک کیس ہے

46

- اپنی تعمیر آپ

47

- خبرنامہ اسلامی مرکز


قرأتِ فاتحہ، روحِ فاتحہ

نماز کے مسائل میں سے ایک مسئلہ وہ ہے جس کو قرأت فاتحہ خلف الامام کہا جاتا ہے۔ یعنی نماز کے وقت امام کے پیچھے سورہ فاتحہ پڑھنا۔ اس مسئلے پر فقہ کی کتابوں میں بہت زیادہ بحثیں ملتی ہیں۔ لیکن اس سے زیادہ اہم بات یہ ہے کہ قاری کے اندر روحِ فاتحہ (spirit of fatiha) موجود ہو۔ حقیقت یہ ہے کہ روح فاتحہ کے اہمیت اتنی ہے، جتنا کہ نماز کے لئےنیت۔ ایک فقہی مسئلہ یہ کہ نیت کے بغیر نماز نہیں ہوتی۔
مگر یہی بات روح (spirit) کی ہے۔ جب ایک شخص نماز میں کہتا ہے کہ الحمد للہ رب العالمین تو باعتبارنیت اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ نمازی اللہ رب العالمین کی حمد میں سرشار ہے، اور اس کی یہ سرشاری لفظوں کی صورت میں ظاہر ہورہی ہے۔
سورہ فاتحہ کے معانی پر غور کیجیے۔ اس سورہ کی سات آیتوں میں پوری ایمانی زندگی کا خلاصہ ہے۔ اس میں رب العالمین کی نعمتوں پر شکر کا بیان ہے۔ بتایا گیا ہے کہ اللہ قیامت میں سب کے اعمال کی بنیاد پر ان کے ابدی مستقبل کا فیصلہ کرے گا۔ اس میں بتایا گیا ہے کہ بندے کے اندر عبادت اور استعانت کی اسپرٹ موجزن ہونا چاہیے۔ اس میں بتایاگیا ہے کہ ہدایت کو دینے والا صرف اللہ ہے، اور انسان کو اسی سے ہدایت کا طالب ہونا چاہیے۔ اس میں بتایا گیا ہے کہ ہدایت پانے والے لوگ اس دنیا میں انعام یافتہ ہیں۔ اور جن کو اللہ کی طرف سے ہدایت کی توفیق نہ ملے، ایسے لوگ وہ ہیں جو اللہ کے غضب کا مستحق قرار پائے۔
یہ وہ تعلیمات ہیں جو سورہ فاتحہ میں دی گئی ہیں۔ حدیث میں آیا ہے کہ لاصلاۃ الا بفاتحۃ الکتاب(مسند احمد، حدیث نمبر: 22671)۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ سچا نمازی وہ ہے جس کے اندر سورہ فاتحہ کی یہ روح پائی جائے۔نمازی کو چاہیے کہ وہ اسی روح فاتحہ کے ساتھ نماز ادا کرے۔جو نماز اس روح فاتحہ سے خالی ہو وہ نماز، نماز نہیں۔
واپس اوپر جائیں

نعمت کی تحدیث

قرآن کی سورہ نمبر 93 میں رسول اللہ صلى اللہ علیہ وسلم کو خطاب کرتے ہوئے کچھ ربانی عطیات کا ذکر کیا گیا ہے۔سورہ کے آخر میں یہ آیت ہے: وَأَمَّا بِنِعْمَةِ رَبِّکَ فَحَدِّثْ (الضحیٰ:11) یعنی تم اپنے رب کی نعمت کو بیان کرو۔
اس آیت کا مطلب یہ ہے کہ اپنے رب سے ملی ہوئی نعمتوں کو دعوت کا موضوع بناؤ۔خدا کی نعمت کو پوائنٹ آف ریفرنس (point of reference) بنا کر لوگوں کے سامنے دعوت الی اللہ کا چرچا کرو۔انفرادی (particular) واقعے کو جنرلائز (generalize) کر کے اس کو سب کے لئے سبق کا ذریعہ بنادو۔
اس معاملے کی مزید وضاحت کی جائے تو کائناتی سطح پر ملی نعمتیں بھی اس میں شامل ہو جائیں گی۔جب ایک شخص صبح کے وقت سورج کو نکلتا ہوا دیکھے تو اس کو نعمتِ الٰہی کا ایک عجیب احساس ہوگا۔ جب وہ تازہ ہوا میں سانس لے اور آکسیجن جیسی نعمت کو اپنے اندر داخل کرے تو اس کو اللہ کی ایک انوکھی نعمت کا تجربہ ہوگا۔ایک شخص جب پانی کاگلاس ہاتھ میں لے، اور اس کو پی کر اپنی پیاس بجھائے تو اللہ کی ایک انوکھی نعمت کی دریافت کرے گا۔ ان ربانی نعمتوں کو دریافت کرنا اور ان کو دعوت کا موضوع بنانا، یہی تحدیث نعمت ہے۔
نعمت کی تحدیث کا مطلب ہے ، نعمت کی چرچا کرنا۔ مگریہ سادہ بات نہیں۔تحدیثِ نعمت سے پہلے نعمت کی معرفت ہے، اور نعمت کی معرفت سے پہلے اس کے بارے میں غورو فکر کرنا ہے۔ غور و فکر سے پہلے سنجیدگی کی شرط ہے۔ آدمی پہلے سنجیدہ بنتا ہے، اس کے بعد وہ حقیقتوں پر غور کرتا ہے، اس کے بعد اس کو خالق کی معرفت حاصل ہوتی ہے، اس کا سینہ نعمتوں پر شکر سے بھر جاتا ہے۔اس کے بعد اگلا مرحلہ آتا ہے۔ یعنی دوسروں سے اس کا چرچا کرنا، دوسروں کو اپنے احساس میں شریک کرنا، دوسروں کو خالق کی معرفت میں جینے والا بنانا، دوسروں کو اس قابل بنانا کہ وہ آخرت میں جنت کا مستحق قرار پائے۔
واپس اوپر جائیں

محبت کا معاملہ

ایک حدیث رسول ان الفاظ میں آئی ہے: أحبوا اللہ لما یغذوکم من نِعَمِہ وأحبونی بحب اللہ وأحبوا أہل بیتی لحبی (سنن الترمذی ، حدیث نمبر3789)۔ یعنی اللہ سے محبت کرو، اس بنا پر کہ وہ تم کو اپنی نعمتوں سے غذا عطا کرتا ہے، اور مجھ سے محبت کرو اللہ سے محبت کی بنا پر، اور میرے اہل بیت سے محبت کرو میری وجہ سے۔اس حدیث میں تین محبتوں کا ذکر ہے۔ پہلی محبت ہے اللہ کی نعمتوں کی بنا پر اللہ سے محبت کرنا۔ یہاں غذا صرف خوراک کے معنی میں نہیںہے، بلکہ ہر قسم کے عطیات الہی کے معنی میں ہے۔ انسان کو چاہیے کہ وہ اللہ کی نعمتوں کو دریافت کرے۔ ان نعمتوں پر غور و فکر کرے۔ ان نعمتوں کی اہمیت کا باربار چرچا کرے۔ اس طرح فطری طور پر ایسا ہوگا کہ اس کے اندر اللہ سے حُبّ شدید (strong affection) پیدا ہوجائے گا۔ انسان اللہ کو کچھ نہیں دے سکتا۔ انسان کو صرف یہ کرنا ہے کہ وہ اللہ کے عطیات کا گہرا اعتراف کرے۔ اسی گہرے اعتراف کا نام حُبّ الہی ہے۔
اللہ کے لیے پیغمبر سے محبت کرنا یہ ہے کہ پیغمبر کے اس معاملے کو گہرائی کے ساتھ دریافت کرنا کہ پیغمبر کے ذریعے ہم کو وہ ہدایت ملی جو ہم کسی اور طریقے سے حاصل نہیں کرسکتے۔ یہ دریافت جتنی زیادہ شدید ہوگی، اتنی ہی زیادہ آدمی کے اندر پیغمبر خدا کے ساتھ محبت پیدا ہوجائے گی۔
پیغمبر کے اہل بیت سے محبت اس لیے ہے کہ اہل بیت نے پیغمبر کے مشن میں مکمل طور پر ساتھ دیا۔ کسی تکلیف یا شکایت کو انھوں نے عذر نہیں بنایا۔ وہ یک طرفہ وفاداری کے ساتھ پیغمبر سے جڑے رہے۔
محبت کی یہ تینوں قسمیں ایک دوسرے سے الگ الگ نہیں ہیں۔ بلکہ وہ ایک دوسرے سے جڑی ہوئی ہیں۔ اللہ سے محبت کے بعد فطری طور پر پیغمبر سے محبت پیدا ہوجاتی ہے۔ اور پیغمبر سے محبت کے بعد فطری طور پر ایسا ہوتا ہے کہ پیغمبر کے اہل بیت سے آدمی کے اندرمحبت پیدا ہوجاتی ہے۔ کیوں کہ آدمی یہ دریافت کرتا ہے کہ پیغمبر کو اپنے مشن میں طرح طرح کے مشکل حالات پیش آئے، مگر اہل بیت کے تعلق میں کوئی کمی نہیں آئی۔
واپس اوپر جائیں

انسان کی تخلیق

انسان ایک بہترین مخلوق کی حیثیت سے دنیا میں آتا ہے۔ اس کے بعد اس کو مختلف قسم کے مسائل پیش آتے ہیں— نقصان، بیماری، حادثات، بڑھاپا اور آخر میں موت۔ انسان کو اس دنیا میں جو کچھ ملتا ہے، وہ اگر اس کا حق (right) ہو تو کبھی اس کو زوال یا محرومی کا تجربہ نہیں ہونا چاہئے۔ یہ صورتِ حال بتاتی ہے کہ انسان کو اس دنیا میں جو کچھ ملتا ہے، وہ بطور حق نہیں ملتا۔ پھر اس پانے، اور بظاہر کھونے کی توجیہہ کیا ہے۔
قرآن کے مطابق ،یہ پانا بطور ابتلاء (test) ہوتا ہے، یعنی مختلف احوال میں ڈال کر یہ دیکھا جائے کہ لوگوں میں احسن العمل (67:2) کون ہے۔ یعنی وہ کون شخص ہے، جواپنے ذہن کو اتنا بیدار کرے کہ وہ خالق کی نظر میں رائٹ پرسن (right person) قرار پائے۔اسی رائٹ پرسن کو قرآن میں ربانی انسان (3:79) کہا گیا ہے۔آخر میں یہ ہوگا کہ پوری تاریخ سےایسےافراد کو منتخب (select) کیا جائے گا، جنھوں نے اپنے عمل سے ربانی انسان ہونے کا ثبوت دیا۔
اس لحاظ سے انسانی زندگی کے دو دَور ہیں۔ پہلا دور ، عارضی مدت کا دور، دوسرا دور ابدی حیات کا دور۔پہلے دور میں جو افراد کوالیفائی کریں گے، وہ ابدی دور حیات کے لئے منتخب کیے جائیں گے، اور جو لوگ کوالیفائی نہیں کریں گے، خالق کی عدالت میں ان کا انجام وہ ہوگا، جس کو بائبل میں الفضۃ المرفوضہ (rejected silver) کے الفاظ میں بیان کیا گیا ہے۔ اس کے بعد منتخب افراد پر مبنی معاشرہ بنے گا، جہاں وہ ابدی طور پرجنتی ماحول میں زندگی گزاریں گے۔
قرآن میں بتایا گیا ہے کہ جنت کے ابدی معاشرہ میں جگہ پانے والے لوگ کہیں گے: الْحَمْدُ لِلَّہِ الَّذِی أَذْہَبَ عَنَّا الْحَزَنَ (35:34)۔ یعنی شکر ہے اللہ کا جس نے ہم سے غم کو دور کردیا۔یہ جملہ انسان کی پوری زندگی کا خلاصہ ہے۔حقیقت یہ ہے کہ حزَن پہلے دورِ حیات کا ظاہرہ ہے۔ دوسرا دورِ حیات وہ ہے جو ہر قسم کے حزَن سے مکمل طور پر خالی ہوگا۔اسی دوسرے دورِ حیات کا نام جنت ہے۔
واپس اوپر جائیں

غم کے بجائے دعا

قرآن میں ایک پیغمبر کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ انھوں نے مصیبت کے وقت کہا: إِنَّمَا أَشْکُو بَثِّی وَحُزْنِی إِلَى اللَّہِ (12:86) یعنی پیغمبر نے کہا، میں اپنی پریشانی اور اپنے غم کا شکوہ صرف اﷲ سے کرتا ہوں۔پیغمبر کا یہ اسوہ بتاتا ہے کہ مومن کے لیے مصیبت کے وقت صحیح رویہ کیا ہے۔ یہ کہ وہ مصیبت کے وقت غم کرنے کے بجائے دعا کرے، وہ مسئلہ کو اللہ کے خانے میں ڈال دے۔
یہ ایک حکمت کی بات ہے۔ مسئلہ کو اپنے اوپر لینے سے غم کا مزاج بنتا ہے۔ اس کے برعکس، جب مسئلہ کو اللہ رب العالمین کے حوالے کردیا جائے تو اس وقت آدمی کے اندر وہ نفسیات پیدا ہوتی ہے، جس کو ایک فارسی شاعر نے ان الفاظ میں بیان کیا ہے — میں نے اپنے معاملے کو تیرے حوالے کردیا تو ہی اس معاملے کے پہلووں کو بہتر جانتا ہے:
سپردم بتو ما یۂ خویش را تو دانی حسابِ کم و بیش را
اس فارمولے کو غم کرنے کے بجائے دعا کرنا کہا جاسکتا ہے۔ یہ بلاشبہ کسی شخص کے لیے زندگی کا سب سے اچھا اصول ہے۔ اجتماعی زندگی میں بار بار ایسا ہوتا ہے کہ آدمی کو ایسے حالات سے سابقہ پیش آتا ہے، جو اس کو غمگین بنادینے والے ہوں۔ ایسے حالات میں عام طور پرایسا ہوتا ہے کہ لوگ یا شکایت کرتے ہیں، یا غم کی نفسیات میں مبتلا ہوجاتے ہیں۔ اس معاملے کا سب سے اچھا حل یہ ہے کہ مسئلے کو اپنے اوپر نہ لیا جائے، بلکہ اللہ رب العالمین کے حوالے کردیا جائے۔ اس طرح کے معاملے میں آدمی کے بس میں صرف افسوس ہے، مگر اللہ رب العالمین سارے معاملات پر پورا پورا اختیار رکھتا ہے۔ وہ معاملات کو جس طرح چاہے کنٹرول کرے۔ وہ حالات کو دعا کرنے والے کے موافق بنادے۔ ایسی حالت میں یہی روش حقیقت پسندانہ روش ہے کہ معاملے کو اپنے اوپر لینے کے بجائے، اس کو اللہ رب العالمین کے حوالے کردیا جائے۔
واپس اوپر جائیں

تاریخ کا نیا دور

اسلام ساتویں صدی عیسوی میں آیا۔ اہل اسلام کی جدو جہد کے نتیجے میں اب دنیا میں ایک انقلاب آچکا ہے۔ روایات میں اس انقلاب کی پیشین گوئی موجود ہے۔ایک روایت کے مطابق پیغمبر ِاسلام صلى اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لا ہجرة بعد الفتح (صحیح البخاری، حدیث نمبر 2783)۔ اس حدیث میں ہجرت اور فتح کے الفاظ صرف وقتی معنی میں نہیں ہیں ، بلکہ وہ دور (age) کے معنی میں ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اسلامی انقلاب کے بعد دنیا میں ایک نیا دور آئے گا، اب ساتویں صدی کے ماڈل پر کام نہیں ہوگا۔ یعنی اب دعوت ، ہجرت، جہاد کا ماڈل عملاًغیر متعلق ہوگیا ہے۔ اب وہ حالات بدل چکے ہیں جس میں ہجرت اور قتال پیش آیاتھا۔ اب صرف زمانے کی رعایت کے مطابق دعوت الی اللہ کا پرامن کام کرنا ہوگا۔ بقیہ نتائج اپنے آپ حاصل ہوتے رہیں گے۔
اسی طرح ایک روایت میں آیا ہے کہ کسریٰ ہلاک ہوگیا اب کوئی کسریٰ نہیں، اور قیصر ہلاک ہوگیا اب کوئی قیصر نہیں(صحیح البخاری، حدیث نمبر 3120)۔ اس میں بھی کسریٰ اور قیصر کے الفاظ علامتی طور پر استعمال ہوئے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ شہنشاہیت کا دور (age of imperialism)ختم ہوگیا۔ اب دنیا میں دوبارہ شہنشاہیت کا دور آنے والا نہیں۔
اس حدیثِ رسول میں پیشین گوئی کی زبان میں ایک تاریخی حقیقت کو بیان کیا گیا ہے۔ وہ یہ کہ اسلام کے بعد دنیا سے بادشاہت اور شہنشاہیت کا دور ختم ہوجائے گا۔ قدیم زمانے میں بادشاہی نظام اور شہنشاہی نظام کی بنا پردینی تحریک کو حکومتی نظام کی طرف سے ایذا رسانی (persecution) کا معاملہ پیش آتا تھا۔ اب دینی تحریک کے لیے ایسا معاملہ پیش آنے والا نہیں۔ اب دینی تحریک کی منصوبہ بندی خالص غیر سیاسی بنیاد پر ہوگی۔ اب دینی تحریک کو شروع سے آخر تک امن کے حالات میں کام کرنے کا موقع ملے گا نہ کہ تشدد کے حالات میں، اب قیامت تک کسی تحریک کے لیے تشدد کے حا لات پیش آنے والے نہیں۔
واپس اوپر جائیں

نبی امی

اُمی ہونے کا مطلب لوگ unlettered لیتےہیں- مگر یہ ناکافی ہے- رسول اللہ کے بارے میں آتاہے : کان طویل الصمت (مسند احمد: 20810)- یعنی آپ دیر تک چپ رہتے تھے۔مگر یہ چپ رہنا صرف چپ رہنا نہیں تھا- کیوں کہ ایک حدیث میں ہے کہ مجھ کو 9باتوں کا حکم دیاگیا ہے۔ ان میں سے ایک ہے:أن یکون صمتی فکراً(جامع الاصول:9317 )- یعنی میری خاموشی سوچنا ہو- اسی طرح ایک صحابی آپ کے بارے میں کہتے ہیں:متواصل الاحزان دائم الفکرة (المعجم الکبیر:414)۔ اسی طرح نبوت سے پہلے آپ کا معمول تھا کہ آپ غار حرا میں جاتے اور وہاں کئی دن تک ٹھہرتے۔ حضرت عائشہ بتاتی ہیں کہ وہاں بھی آپ اپنا وقت غوروفکر میں گزارتے تھے۔ اس قسم کی روایتوں سے معلوم ہوا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم امی (unlettered)اس معنی میں تھے کہ آپ لکھی ہوئی چیز پڑھ نہیں سکتے تھے۔ لیکن آپ کا تدبر اور غور وفکرہر وقت جاری رہتاتھا۔ تخلیقی فکر (creative thinking) کے اعتبار سے آپ اعلی ترین سطح پر تھے۔
کتاب کے مطالعہ سے آپ کو انفارمیشن ملتی ہے-مگر غور وفکر کرنےسے تخلیقی فکر آتی ہے۔ غوروفکر کے ذریعہ آدمی معلومات کا تجربہ کرتا ہے۔ غوروفکر کے درمیان اس کی ذہنی صلاحیت ارتقا کرتی رہتی ہے۔ غوروفکر کے ذریعہ آدمی کا potential ان فولڈ (unfold)ہوتا ہے۔ اسی کے ساتھ پیغمبر اسلام منفی سوچ (negative thinking) سے پوری طرح محفوظ تھے۔ یہ صفت بھی آپ کے لئے ذہنی ارتقا کا ذریعہ تھی۔ حدیث میں آیا ہے کہ مجھے قرآن دیاگیا ومثلہ معہ (مسند احمد: 17174)۔ یہ قرآن کے ساتھ مثل قرآن کیاہے۔ یہ تدبر اور تفکر کے ذریعہ ذہنی ارتقا ہے۔رسول اللہ کا کیس، ریموٹ کنٹرول کا کیس نہیں تھا۔رسول کا امی ہونا بھی ایک سنت ہے۔ یعنی مطالعہ کتاب کے علاوہ دوسرے ذرائع سے اپنا ذہنی ارتقا کرنا۔ مطالعہ کتب سے آدمی اگر ایک فی صد جانتا ہے تو تدبر اور تفکر کے ذریعہ 99 فی صد۔امّی پلس ہونا ایک پازیٹیو کوالٹی (positive quality) ہے۔
واپس اوپر جائیں

و اما السائل فلا تنہر

قرآن کی سورہ نمبر 93 میں یہ آیت آئی ہے: وَأَمَّا السَّائِلَ فَلَا تَنْہَر۔ وَأَمَّا بِنِعْمَةِ رَبِّکَ فَحَدِّثْ (الضحیٰ : 10-11)۔ اس آیت میں سائل کا لفظ آیا ہے۔ سائل کے معنی ہیں سوال کرنے والا۔ یہاں سائل سے مراد پیسہ مانگنے والا نہیں ہے۔ بلکہ سائل سے مراد وہ شخص ہے جو سچائی کے بارے میں دریافت کرے۔ یہاں سائل سے مراد وہ انسان ہے جس کو متلاشی( seeker) کہا جاتا ہے۔
اگلی آیت میں فرمایا کہ اپنے رب کی نعمت کو بیان کرو۔ یہ آیت سائل کے مطلب کو واضح کردیتی ہے۔ اس کا مطلب یہ کہ طالب حق سے پوری خیرخواہی کے ساتھ ملو۔ طالب حق کے ساتھ ہمدردی کا طریقہ اختیار کرو۔ طالب حق کو دین کی تعلیم اور دین کی حکمت بیان کرو۔ طالب حق سے اس انداز میں گفتگو کرو جو اس کے ذہن کو ایڈریس کرنے والاہو۔ قرآن کی یہ آیت حکیمانہ دعوت کی اہمیت کو بتاتی ہے۔
جب کوئی حق کا متلاشی آپ کے پاس آئے تو وہ ایسے سوالات کر سکتا ہے، جو آپ کے لیے نامانوس سوالات ہوں۔ ایسی حالت میں آدمی کو چاہیے کہ وہ سائل کی بات سنجیدگی کے ساتھ سنے اور خیر خواہی کے ساتھ اس کا جواب دے۔ وہ سائل کو حقیر نہ سمجھے، وہ سائل کے ساتھ رحم دلی کا سلوک کرے۔ اوراگر وہ خود جواب دینے کی پوزیشن میں نہ تو وہ اس کو مشورہ دے کہ تم فلاں فلاں کتاب کا مطالعہ کرو۔ اسی کے ساتھ آدمی کو چاہیے کہ وہ خود سائل کے لیے دعا کرے۔ اور سائل کو بھی بتائے کہ سوال کرنا کافی نہیں ہے، بلکہ اسی کے ساتھ ضروری ہے کہ آدمی ہدایت کے لیے اللہ سے دعا کرے۔
اگر آپ کے پاس سچائی ہے تو وہ آپ کے پاس اللہ کی امانت ہے۔ آپ کی ذمے داری ہے کہ آپ اس امانت کو اللہ کے بندوں تک پہنچائیں۔آپ کے لیے صرف یہ کافی نہیں ہے کہ آپ سائل کو کچھ نہ کچھ جواب دے دیں۔ بلکہ آپ کا جواب ایسا ہونا چاہیے جو سائل کے ذہن کو ایڈریس کرنے والا ہو۔سوال کرنا بھی ذمے داری ہے، اور سوال کا جواب دینا بھی ذمے داری ہے۔
واپس اوپر جائیں

آخرت پر ایمان

آخرت کا عقیدہ، اسلام کا ایک بنیادی عقیدہ ہے۔ آخرت پر عقیدہ کے بغیرکوئی شخص مومن نہیں بن سکتا۔ کوئی شخص یہ کہے کہ میں خدا کومانتا ہوں، میں رسول کو مانتا ہوں، لیکن میں آخرت کے عقیدے کو نہیں مانتا توایسے شخص کو مومن اور مسلم قرار نہیں دیا جائے گا۔
آخرت کا عقیدہ صرف لفظی اقرار کا نام نہیں ہے۔آخرت کا عقیدہ ایک زندہ یقین کا نام ہے۔آخرت کے عقیدے کا مطلب یہ ہے کہ ایک انسان نے زندگی کی حقیقت پر غور کیا۔ اس نے شعوری طور پرآخرت کی حقیقت کو دریافت کیا،اور پھرآخرت اس کے لئے اس کے زندہ ایمان (living faith)کا حصہ بن گئی۔ آخرت کا زندہ یقین اس پر اس طرح چھایا کہ اس کی زندگی ہر اعتبار سے آخرت رخی زندگی (Akhirat-oriented life) بن گئی۔ یہی وہ شخص ہے جو آخرت پر ایمان لانے والا ہے۔
آخرت پر عقیدے کا مطلب ہے— جسمانی اعتبار سے دنیا میں رہتے ہوئے، فکر کے اعتبار سے آخرت میں پہنچ جانا۔ دکھائی دینے والی دنیا میں رہتے ہوئے، نہ دکھائی دینے والی دنیامیں جینے والا بن جانا۔ موجودہ دنیا انسان کے لئے ایک معلوم دنیا ہے۔ یہاں رہتے ہوئے آدمی ہر لمحہ اس کو دیکھتا ہے، اس کا عملاً تجربہ کرتا ہے، وہ اس دنیا میں زندگی گزارتا ہے، اورسوکر صبح کودوبارہ اسی دنیا میں واپس آجاتا ہے۔ موجودہ دنیا ہر وقت اس کو اپنے وجود کا احساس دلاتی ہے۔
ایسی حالت میںآخرت پر زندہ یقین صرف اس شخص کو حاصل ہوگا، جو اپنے آپ کو سوچ کی سطح پر اتنا زیادہ اٹھائے کہ وہ عملاً آخرت میں نہ رہتے ہوئے سوچ کی سطح پر آخرت میں پہنچ جائے، وہ ہر دن اپنی کنڈیشننگ کو توڑتا رہے، وہ ہر صبح و شام آخرت پر اپنے عقیدے کی تجدید کرتا رہے، وہ اپنے اندر تجریدی فکر (detached thinking)کی صلاحیت پیدا کرے۔یہی وہ انسان ہے جو آخرت کا مومن قرار پائے گا، اور یہی وہ انسان ہے جس کے لئے آخرت میں ابدی جنت کے دروازے کھولے جائیں گے۔
واپس اوپر جائیں

خدا کا عقیدہ

برٹش فلسفی برٹرینڈ رسل ایک غیر مذہبی (nonbeliever) انسان تھا۔ اسی طرح جرمن سائنس داں البرٹ آئنسٹائن ایک غیر مذہبی انسان تھا۔ مگر دونوں نے یہ نہیں کہا کہ وہ منکر خدا (atheists) ہیں۔ دونوں نے کہا کہ ان کا کیس agnosticism کا کیس ہے۔ یعنی دونوں نے خدا کے وجود کا انکار نہیں کیا۔ صرف یہ کہا کہ وہ اس معاملے میں اثباتی طور پر کچھ کہنے کی پوزیشن میں نہیں ہیں۔ یہی حال تمام غیر مذہبی لوگوں کا ہمیشہ رہا ہے۔
خدا کے وجود کے بارے میں ایک موقف وہ ہے جس کو غیر علمی موقف کہنا صحیح ہوگا۔ یہ وہ لوگ ہیں، جو صاف لفظوں میں خدا کے وجود کا انکار کرتے ہیں۔ ان لوگوں کا کیس یہ ہے کہ وہ علم کے حدود کو نہیں جانتے، اس لیے وہ اپنی خواہش کے مطابق کچھ بھی بولتے رہتے ہیں۔ ان لوگوں کا قول علمی اعتبار سے قابل اعتبار نہیں ہے۔
دوسرا کیس ان لوگوں کا ہے جنھوں نے علوم کا مطالعہ کیا اور یہ جانا کہ انسانی علم کی حد کیا ہے۔ یہ لوگ جب دیکھتے ہیں کہ خدا ہم کو دکھائی نہیں دیتا تو وہ خدا کے وجود کے بارے میں شک میں مبتلا ہوجاتے ہیں۔ یہ لوگ اپنے علمی ذوق کے بنا پر انکار کے الفاظ نہیں بولتے۔ وہ صرف یہ کہہ کر چپ ہوجاتے ہیں کہ ہم نہیں جانتے کہ خدا ہے یا نہیں۔
دونوں قسم کے لوگ ہر دور میں پائے جاتے رہے ہیں: پہلی قسم کے لوگ بھی اور دوسری قسم کے لوگ بھی۔ پچھلے زمانے میں پہلی قسم کے لوگوں کو ملحد کہا جاتا تھا، اور دوسری قسم کے لوگوں کو لاادریہ۔ موجودہ زمانے میں پہلی قسم کے لوگوں کو اتھیسٹ (atheist) کہا جاتا ہے، اور دوسری قسم کے لوگوں کو اگناسٹک (agnostic) کہا جاتا ہے۔ اس موضوع کو تفصیلی طور پر سمجھنے کے لیے راقم الحروف کی کتابوں کا مطالعہ کرنا چاہیے، مذہب اور جدید چیلنج، اور اسلام اور عصر حاضر۔ان کے علاوہ اظہار دین کا مطالعہ بھی اس سلسلے میںمفید ہوگا۔
واپس اوپر جائیں

عاجلانہ اقدام، صابرانہ منصوبہ بندی

ایک روایت کے مطابق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: التأنی من اللہ، والعجلة من الشیطان (شعب الایمان للبیہقی، حدیث نمبر : 4058)۔ یعنی غور و فکر کرنا اللہ کی طرف سے ہے، اور جلد بازی کرنا شیطان کی طرف سے ۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ کوئی معاملہ پیش آنے پر انسان تأنی کا طریقہ اختیار کرے، اور غور و فکر کرکے اپنی روش متعین کرے۔ تو وہ اللہ کی نصرت کے تحت ہوتا ہے، اور اگر وہ معاملہ پیش آنے کے وقت رد عمل کا طریقہ یا جلد بازی کا طریقہ اختیار کرے تو اس کا عمل شیطان کے زیر اثر ہوتا ہے۔
اصل یہ ہے کہ اجتماعی زندگی میں ہمیشہ طرح طرح کے معاملات پیش آتے ہیں۔ ایسی موقعے پر انسان کے لیے رسپانس (response) کے دو طریقے ہیں۔ ایک ہے عاجلانہ اقدام کا طریقہ۔ ایسا طریقہ ہمیشہ نقصان کا سبب بنتا ہے۔ دوسرا طریقہ یہ ہے کہ آدمی پہلے ٹھنڈے ذہن کے ساتھ سوچے، پھر حالات کا جائزہ لے کر اپنے عمل کا رخ متعین کرے۔ یہ صابرانہ منصوبہ بندی کا طریقہ ہے۔ اس طریقے میں انسان کو اللہ کی مدد حاصل ہوتی ہے، اور وہ کامیابی کی منزل تک پہنچتا ہے۔
آدمی کو اس کے خالق نے سوچنے کی صلاحیت دی ہے۔ ا ٓدمی سوچ کر کسی چیز کے لیے مثبت اور منفی پہلو کو جان سکتا ہے۔وہ یہ معلوم کر سکتا ہے کہ کسی عمل کا نتیجہ کیا ہوگا۔ اگر آدمی ایسا کرے کہ جب کوئی معاملہ پیش آئے تو وہ اپنے خداداد ذہن کو اپنی حالت پر قائم رکھے، وہ غیر متاثر ذہن کے ساتھ تمام پہلوؤں پر غور کرے تو یقینا وہ جان لے گا کہ اس وقت مجھے کیا کرنا ہے، اور کیا نہیں کرنا ہے۔ ایسے آدمی کو اللہ کی مدد حاصل ہوگی، اور وہ اللہ کی مدد سے کامیاب ہوجائے گا۔
اس کے برعکس کیس اس انسان کا ہے، جس کے ساتھ کوئی ناموافق معاملہ پیش آئے تو وہ بھڑک اٹھے، وہ جذباتی ردعمل کے تحت جوابی کارروائی شروع کردے۔ ایسا آدمی کبھی کامیاب نہیں ہوسکتا۔ کیوں کہ اس کی کارروائی میں حالات کا اندازہ شامل نہ ہوگا۔ایسے انسان کو فطرت کے نظام کی تائید حاصل نہ ہوگی۔
واپس اوپر جائیں

نصیحت کا صحیح طریقہ

ایک مسلم مجلہ (اپریل 2015)میں ایک مضمون نظر سے گزرا۔ اس کا عنوان تھا: عالم اسلام انتہاپسندی کے نرغے میں۔اس مضمون میں دنیا بھر کے مسلمانوں سے اپیل کی گئی تھی کہ مذہب کے معاملے میں وہ انتہاپسندی (extremism) کو چھوڑدیں۔ جس نے ماضی میں بھی مسلمانوں کو بہت زیادہ نقصان پہنچایا ہے، اور آج بھی اس کی وجہ سے مسلمانوں کو بہت زیادہ نقصانات ہورہے ہیں۔ ایک طرف مجلے میں مسلمانوں کو یہ نصیحت کی گئی تھی، دوسری طرف اسی مجلہ میں ایک اور مضمون کے تحت درج ہے :گستاخان یورپ گاہے گاہے کائنات کی سب سے عظیم و افضل ہستی کی شان اقدس میں گستاخی کی جسارت کرکے دنیا میں سب سے زیادہ بسنے والے مسلمانوں کی دل آزاری کرتے ہیں اور پھر اس کو آزادیٔ اظہار ِرائے کے نام سے جاری رکھنے پر اصرار بھی کرتے ہیں۔
موجودہ زمانے کے علماء اوررہنماؤں کا عام مزاج یہی ہے۔ ایک طرف وہ بظاہر مسلمانوں کواسلام کے نام پر امن پسندی کی تلقین کریں گے، دوسری طرف وہ یہ کریں گے کہ جدید دور کے تقاضے کے تحت کوئی شخص اگر اسلام کے موضوع پر کوئی اختلافی اظہار رائے کرے تو اس کو" ـپیغمبر ِ اقدس" کی شان میں ناروا گستاخی کہہ کر مسلمانوںکواپنے مذہب کےمعاملے بے حد حساس (sensitive) بنائیں گے۔ حالاں کہ یہ دونوں باتیں ایک دوسرے کی ضد ہیں۔ دنیا میں خالق کے تخلیقی نقشے کے مطابق ہر انسان کو آزادی حاصل ہے۔ اس لیے اگر آپ مسلمانوں کو امن پسند بنا نا چاہتے ہیں تو ان کو حساسیت کی خوراک دینا چھوڑ دیجیے، اور اگر آپ حساسیت کی خوراک دینا نہیں چھوڑسکتے تو مسلمانوں کو امن پسندی کی تلقین بھی مت کیجیے۔ کیوں کہ امن کا ماحول ہمیشہ صبر و تحمل کی قیمت ادا کرنے کے بعد قائم ہوتا ہے۔ جو لوگ اختلافی معاملات میں صبر تحمل کی روش اختیار نہ کرسکیں، وہ اگر امن پسندی کی بات کہتے ہیں تو وہ قرآن کے الفاظ میں ، ایک ایسے عمل کا کریڈٹ لینا چاہتے ہیں، جس کو انھوں نے کیا ہی نہیں(3:188)۔
یہ ایک دوطرفہ رویہ ہے۔ اس دوطرفہ رویہ کے بارے میں قدیم یہود کو تنبیہ کرتے ہوئے قرآن میں یہ اعلان کیا گیا تھا: کیا تم کتابِ الٰہی کے ایک حصے کو مانتے ہو اور ایک حصے کا انکار کرتے ہو (2:85)۔
قرآن کا یہ اعلان موجودہ زمانے کے مسلم علماء اور رہنماؤں پر پوری طرح صادق آتا ہے۔ وہ ایک طرف اسلام کے نام پر مسلمانوں کو امن کی تلقین کریں گے، اسی کے ساتھ وہ دوسری قوموں کی زیادتیوں کا مبالغہ آمیز تذکرہ کرکے مسلمانوں کو مسلسل طور پر مشتعل کریں گے۔ اور جب اس کا منفی نتیجہ سامنے آئے گا تو وہ کہیں گے کہ ایسا دوسری قوموں کی سازش کی وجہ سے ہورہا ہے۔ یہ دوہرا روش قرآن کے مطابق لوگوں کو خدا کی پکڑ کا مستحق بناتی ہے، نہ کہ خدا کے انعام کا۔
اصل یہ ہے کہ موجودہ زمانے کے مسلمان اپنی زوال یافتہ نفسیات کی بنا پر ایک قوم پسند گروہ بن گیے ہیں۔ اسلام کی تعلیم کے مطابق امت مسلمہ ایک داعی گروہ کا نام ہے لیکن دورِ زوال کے نتیجے میں موجودہ زمانے کے مسلمانو ں کا مزاج یہ بن گیا ہے — میری قوم، خوا ہ صحیح ہو یا غلط:
my community, right or wrong
مسلمانوں کے اندر اگر داعیانہ ذہن موجود ہو تو وہ دوسری قوموں کو اپنا مدعو سمجھیں گے، نہ کہ حریف اور رقیب۔ وہ یہ جانیں گے کہ مدعو قوم کے مقابلے میں داعی کی روش ردعمل پر مبنی نہیں ہوتی، بلکہ یک طرفہ صبر پر مبنی ہوتی ہے۔ داعی اگر مدعو کے مقابلے میں رد عمل کا طریقہ اختیار کرے تو قرآن کے الفاظ میں وہ رجز (74:5) کا طریقہ ہوگا، یعنی گندگی کا طریقہ (dirty practice)۔
موجودہ زمانے کے مسلمانوں نے اظہارِ اختلاف کو بطورِ خود رسول کی شان میں گستاخی کا عنوان دے رکھا ہے، یہ سر تا سر بے بنیاد بات ہے ۔ مسلمانوں کے اندر اگر مثبت ذہن ہوتو وہ اظہارِ اختلاف کو تبادلۂ خیال (discussion) کا موضوع بنائیں گے۔ وہ ایسے لوگوں کے لیے مثبت انداز میں لٹریچر تیار کریں گے۔ وہ اظہارِ اختلاف کو دعوت کے مواقع میں تبدیل کردیں گے۔ یہ دنیا اس کے لیے ہے جو منفی تجربے کو مثبت فکر میں تبدیل کرسکے۔
واپس اوپر جائیں

آیڈیالوجی کی طاقت

عن ابن عباس. قال: لما مشوا إلى أبی طالب وکلموہ- وہم أشراف قومہ عتبة بن ربیعة، وشیبة بن ربیعة، وأبو جہل بن ہشام، وأمیة بن خلف، وأبو سفیان بن حرب، فی رجال من أشرافہم- فقالوا: یا أبا طالب إنک منا حیث قد علمت، وقد حضرک ما ترى وتخوفنا علیک وقد علمت الذی بیننا وبین ابن أخیک فادعہ فخذ لنا منہ وخذلہ منا لیکف عنا ولنکف عنہ، ولیدعنا ودیننا ولندعہ ودینہ. فبعث إلیہ أبو طالب فجاءہ فقال: یا ابن أخی ہؤلاء أشراف قومک قد اجتمعوا إلیک لیعطوک ولیأخذوا منک. قال فقال رسول اللہ صلى اللہ علیہ وسلم: یا عم کلمة واحدة تعطونہا تملکون بہا العرب وتدین لکم بہا العجم. (البدایة والنہایة: 3/123)
کچھ لوگوں نےاس حدیث کا یہ مطلب نکالا کہ اسلامی حکومت قائم کرو حالانکہ اس حدیث کا سیاست اور حکومت سےکوئی تعلق نہیں۔ اس حدیث میں کلمہ کی بات کہی گئی ہے نہ کہ حکومت کی۔ کلمہ کا مطلب وہی ہے جس کو آج کل کی زبان میں ideology کہا جاتا ہے۔
اس حدیث میں دراصل آئڈیالوجی کی طاقت کو بتایا گیا ہے۔ قبائلی دور (tribal age) میں لوگ سمجھتے تھے کہ تلوار سب سے بڑی طاقت ہے۔رسول اللہ صلى اللہ علیہ وسلم نے بتایا کہ تمھاری یہ سوچ غلط ہے۔ تم کو آئڈیالوجی کی طاقت معلوم نہیں، اس لیے تم ہمیشہ لڑتے جھگڑتے رہتے ہو۔
تاریخ بتاتی ہے کہ عملا ایسا ہی ہوا۔ اسلام کی آئڈیالوجی توحید کی آئڈیالوجی ہے۔ قدیم زمانے میں اسلام اپنی اسی آئڈیالوجی کی طاقت سے پھیلتا رہا۔ موجودہ زمانے میں جب کہ مسلمان اس احساس میں جی رہے ہیں کہ سیاسی خلافت ختم ہوگئی۔ مگر عین اسی وقت ساری دنیا میں اسلام اپنی آئڈیالوجی کے ذریعے پھیل رہا ہے۔ ہر جگہ لوگ اسلام کی آئڈیالوجی میں سچائی کو دریافت کرتے ہیں۔ اور پھر اسلام کے حلقہ میں شامل ہوجاتے ہیں۔آئڈیالوجی انسان کو مسخر کرتی ہے، اور جب انسان مسخر ہوجائیں تو کوئی اور چیز تسخیر کے لیے باقی نہیں رہتی۔
واپس اوپر جائیں

دعوت کا اسلوب

ربیعہ بن عباد الدیلی روایت کرتے ہیں کہ انھوں نے رسول اللہ کو ذوالمجاز کے سوق میں دیکھا۔ آپ لوگوں کے پاس جاتے اوران سے کہتے: یا أیہا الناس قولوا: لا إلہ إلا اللہ، تفلحوا (مسند احمد: 16023)۔ اس روایت کو لے کر بعض لوگ کہتے ہیں کہ دعوت کا صحیح طریقہ یہ ہے کہ لوگوں سے مل کر ان کو کلمہ پڑھنے کے لیے کہا جائے۔اس کے علاوہ دعوت کا کوئی اور اسلوب درست نہیں ہو سکتا۔
اگر دعوت کا یہی واحد اسلوب تھا تو قرآن میں یقینا اس کو بتایا گیا ہوتا۔ مگر ہم دیکھتے ہیں کہ قرآن میں ایسی کوئی ہدایت موجود نہیں۔ البتہ قرآن کے مطالعے سے اس سلسلے میں کئی اسلوب ملتے ہیں۔ مثلاً یَا أَیُّہَا الْمُدَّثِّرُ قُمْ فَأَنْذِر (74:1-2)۔ اسی طرح اس سلسلے میں قرآن کی ایک آیت یہ ہے: یَا أَیُّہَا الرَّسُولُ بَلِّغْ مَا أُنْزِلَ إِلَیْکَ مِنْ رَبِّکَ (5:66)۔ خود احادیث سے بھی دوسرے اسالیب معلوم ہوتے ہیں۔ مثلا ایک روایت میں یہ الفاظ آئے ہیں:عرض علیہم الإسلام، وتلا علیہم القرآن (سیرت ابن ھشام: 1/428)، وغیرہ۔
اصولی طور پر دعوت کا صرف ایک اسلوب ہے، اور وہ قرآن کی ایک آیت میںاس طرح بتایا گیا ہے: قُلْ لَہُمْ فِی أَنْفُسِہِمْ قَوْلًا بَلِیغًا (4:63)۔یعنی ان سے ایسے اسلوب میں کلام کرو جوان کے ذہن کو ایڈریس کرنے والا ہو۔ اس قرآنی ہدایت کے مطابق ظاہری اعتبار سے دعوت کے مختلف اسلوب ہوسکتے ہیں۔ اسلوب ہمیشہ مخاطب کے اعتبار سے متعین ہوگا۔ پہلے مخاطب کا مطالعہ کیا جائے گا، اور پھر اس کے ذہن کے اعتبار سے ایسا اسلوب اختیار کیا جائے گا جواس کے ذہن کو اپیل کرنے والا ہو۔
دعوت کا نشانہ یہ ہے کہ مدعو کے اوپر اتمام حجت ہوجائے: لِئَلَّا یَکُونَ لِلنَّاسِ عَلَى اللَّہِ حُجَّةٌ بَعْدَ الرُّسُلِ(4:165)۔ حجت کبھی کسی قسم کے مقرر الفاظ کی ادائیگی سے نہیں ہوتی۔ حجت کے لیے ضروری ہے کہ اس میںمدعو کے ذہن کی رعایت کی گئی ہو۔ حقیقت یہ ہے کہ دعوت کا اسلوب مدعو کے اعتبار سے متعین ہوگا، نہ کہ کسی اور اعتبار سے۔
واپس اوپر جائیں

دین میں استقامت

قرآن کی سورہ نمبر3 میں ایک آیت ان الفاظ میں آئی ہے: وَکَأَیِّنْ مِنْ نَبِیٍّ قَاتَلَ مَعَہُ رِبِّیُّونَ کَثِیرٌ فَمَا وَہَنُوا لِمَا أَصَابَہُمْ فِی سَبِیلِ اللَّہِ وَمَا ضَعُفُوا وَمَا اسْتَکَانُوا وَاللَّہُ یُحِبُّ الصَّابِرِینَ (آل عمران: 146)اور کتنے نبی ہیں جن کے ساتھ ہو کر بہت سے اﷲ والوں نے قتال کیا۔ اﷲ کی راہ میں جو مصیبتیں ان پر پڑیں ، ان سے نہ وہ پست ہمت ہوئے ،نہ انھوں نے کمزوری دکھائی۔ اور نہ وہ دبے۔ اور اﷲ صبر کرنے والوں کو دوست رکھتا ہے۔
قرآن میں کہیں بھی پیغمبر اسلام کے علاوہ کسی اور نبی کے قتال کا ذکر نہیں ہے۔ اس لیے یہاں قتال کو لفظی معنی میں لینا درست نہ ہوگا۔ ہر زبان میں یہ اسلوب ہے کہ شدید جدو جہد کے لیے جنگ کے الفاظ بولے جاتے ہیں۔ اسی طرح عربی زبان میں بھی۔
مشہور عربی لغت لسان العرب میںقرآن وحدیث سے متعدد مثالیں پیش کرنے کے بعد بتایا ہے کہ قتال ہمیشہ جنگ کے معنی میں نہیں آتا (ولیس کل قتال بمعنی القتل)۔تفصیل کے لیےملاحظہ ہولسان العرب ، طبعہ بیروت 11/549۔
مذکورہ آیت میں بتایا گیا ہے کہ اللہ کی راہ میں ان کے اوپر جو مصیبتیں پڑیں، ان پر وہ نہ وہن میں مبتلا ہوئے، نہ ضعف میں اور نہ استکانت میں۔ یہ تینوں الفاظ تقریبا ہم معنی ہیں۔ یعنی انھوں نے مصیبت کے وقت کمزوری نہیں دکھائی۔ زبان کا یہ اسلوب ہے کہ تاکید کے لیے ہم معنی الفاظ استعمال کیے جاتے ہیں۔ مثلا یہ کہنا کہ صبر و تحمل اور برداشت کا طریقہ اختیار کرو۔
اللہ کی پسند والی زندگی اختیار کرنا ہمیشہ طرح طرح کے مسائل کا سبب بنتا ہے۔ یہ مسائل کبھی آدمی کو پست ہمت بنادیتے ہیں۔ایسے موقعے پر آدمی کو چاہیے کہ وہ اپنے آپ کو پست ہمتی سے بچائے، اور اس کا سب سے زیادہ موثر طریقہ یہ ہے کہ وہ مسائل کو اللہ کے خانے میں ڈال دے، اور دعاؤ ں کے سائے میں اپنی زندگی گزارتا رہے۔
واپس اوپر جائیں

دورِ فتنہ

رسول اللہ صلى اللہ علیہ وسلم نے بطور پیشین گوئی یہ فرمایا تھا کہ بعد کے زمانے میں امت میں فتنہ (اختلاف و جنگ)کا دور آئے گا۔ اس وقت مخلص اہل ایمان کو کیا کرنا چاہیے۔ اس کے بارے میں ایک روایت ان الفاظ میں آئی ہے: یوشک أن یکون خیر مال المسلم غنم یتبع بہا شعف الجبال ومواقع القطر، یفر بدینہ من الفتن (صحیح البخاری، حدیث نمبر 7088)۔ یعنی قریب ہے کہ وہ وقت آئے جب کہ مومن کا سب سے اچھا مال بکریاں ہوں جن کو لے کروہ پہاڑوںکے اوپر چلاجائے، اور گوشہ کے مقامات میں چلاجائے۔ اور وہاں اپنے کو فتنے سے بچالے۔
اس حدیث میں غنم کا لفظ علامتی طور پر آیا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جب امت میں اختلاف بڑھ جائے، اور لوگوں کے درمیان ٹکراؤ شروع ہوجائے تو سچے صاحب ایمان کو یہ کرنا چاہیے کہ وہ اپنے لیے کوئی ایسا گوشہ حیات تلاش کرلے، جہاں وہ اختلاف و ٹکراؤ سے دور رہ کر زندگی گزارے اور اسی حال میں مرجائے۔
اختلاف اگر مثبت اختلاف کے معنی میں ہو تو اس میں کوئی حرج نہیں۔ لیکن جب اختلاف کی صورت یہ ہو کہ لوگ ایک دوسرے کی نیت پر حملہ کرنے لگیں، اس کے نتیجے میں لوگوں کے درمیان ٹکراؤ شروع ہوجائے، حتی کہ جنگ و قتال کی نوبت آجائے توبلاشبہ وہ برا ہے۔ اس وقت کسی شخص کے لیے نجات کی صورت یہ ہے کہ وہ اپنے آپ کو باہمی ٹکراؤ سے الگ تھلگ کرلے، وہ ذاتی اصلاح کے دائرے میں اپنے کو سمیٹ لے۔
حدیث میں آیاہے: اختلاف امتی رحمۃ (المقاصد الحسنۃ : 39)۔ اس اختلاف سے وہ اختلاف مراد ہے،جو خیر خواہانہ جذبے کے ساتھ تبادلۂ خیال (discussion) کے ہم معنی ہو۔ لیکن وہ اختلاف جو مبنی بر عناد ہو ،جس کا مقصد دوسرے کو نیچا دکھانا ہو، جس میں الزام تراشی کی زبان استعمال کی جائے، ایسا اختلاف بلاشبہ گناہ ہے اور وہ قابل ترک ہے۔
واپس اوپر جائیں

اعتدال کا مطلب

ایک روایت کافی مشہور ہے۔ یہ روایت صحاح ستہ میں موجود نہیں،البتہ وہ دوسری کتب حدیث میں پائی جاتی ہے۔ اس کے الفاظ یہ ہیں: خیرُ الأمورِ أوساطُہا (شعب الایمان للبیہقی، حدیث نمبر7176)۔دوسری روایت میں یہ الفاظ ہیں: خیرُ الأمورِ أوسَطُہا(جامع الاصول: 10/130)۔ یعنی معاملات میں بہتر طریقہ درمیانی طریقہ (middle path)ہے۔
اس روایت میں خیر الامور کا لفظ ہے ، لیکن اکثر لوگوں نے اس کی توسیع کرکے اس کو خیر الافکار کے معنی میں لے لیا ہے۔ مگر یہ درست نہیں۔ یہ روایت عملی معاملات کے لیے ہے، وہ فکری معاملات کے لیے نہیں ۔ مثلا نفل نمازوں یا نفل روزوں کے بارے میں کوئی شخص مسئلہ پوچھے تو اس سے کہا جائے کہ تم درمیانی طریقہ یا اعتدال کا طریقہ اختیار کرو، نہ بہت کم نہ بہت زیادہ۔ اسی طرح انفاق کے معاملے میں کوئی شخص مسئلہ پوچھے تو اس سے بھی یہی کہا جائے گا کہ اعتدال کے ساتھ انفاق کرو۔ جیسا کہ قرآن میں آیا ہے: وَلَا تَجْعَلْ یَدَکَ مَغْلُولَةً إِلَى عُنُقِکَ وَلَا تَبْسُطْہَا کُلَّ الْبَسْطِ فَتَقْعُدَ مَلُومًا مَحْسُورًا (17:29)۔مگر افکار کا معاملہ اس سے مختلف ہے۔ افکار کے معاملے میں یہ دیکھا جائے گا کہ قرآن و سنت کی روشنی میں کون سا فکر ی موقف صحیح ہے اور کون سا فکری موقف غلط۔ مثلا متطرفین (extremists) اور غیرمتطرفین کے درمیان کوئی بیچ کا راستہ یا مسلک اعتدال نہیں ہوتا۔ یہاں یہ بتانا پڑتا ہے کہ دونوں میں سےکون سا گروہ صحیح ہے اور کون سا گروہ غلط۔ فکری معاملے میں قرآن کا اصول یہ ہے کہ حق کے بعد جو چیز ہے وہ ضلالت ہے: فَمَاذَا بَعْدَ الْحَقِّ إِلَّا الضَّلَالُ (10:32)۔
اصل یہ ہے کہ عملی معاملات میں اعتدال کا طریقہ حکمت کا طریقہ ہے۔ اس کے برعکس فکری معاملات میں اعتدال کا طریقہ شبہ نفاق کی حیثیت رکھتا ہے۔ فکری معاملات میں وضوح (clarity)، اور یقین (conviction) مطلوب ہوتا ہے۔ اگر اعتدال کے طریقے کو فکر تک وسیع کیا جائے تو لوگوں کے ذہنوں میں یقین بھی ختم ہوجائے گا، اوروضوح بھی۔
واپس اوپر جائیں

ایک اجتماعی اصول

قرآن کی سورہ نمبر 4میں ایک اجتماعی حکم کو بیان کیا گیاہے۔اس آیت کا ترجمہ یہ ہے: جب ان کو کوئی بات امن یا خوف کی پہنچتی ہے تو وہ اس کو پھیلا دیتے ہیں ۔ اور اگر وہ اس کو رسول تک یا اپنے ذمہ دار اصحاب تک پہنچا تے تو ان میں سے جو لوگ تحقیق کرنے والے ہیں ، وہ اس کی حقیقت جان لیتے۔ اور اگر تم پر اﷲ کا فضل اور اس کی رحمت نہ ہوتی تو تھوڑے لوگوں کے سوا تم سب شیطان کے پیچھے لگ جاتے۔ (النساء: 83)
اس آیت کا ابتدائی مفہوم یہ ہے کہ جنگ اور امن کے حالات کا تعلق حکومت کے ذمہ داروں سے ہوتا ہے، اس لیے اس نوعیت کی کوئی بات ہوتو لوگوں کو چاہیے کہ اس کو حکومت کے ذمہ داروں تک پہنچائیں، تاکہ وہ اس کے بارے میں صحیح کارروائی کر سکیں۔
قرآن کی اس آیت سے ایک اصول معلوم ہوتا ہے۔ وہ یہ کہ کسی شخص کو کسی معاملے سے متعلق کوئی بات کہنا ہوتو اس کو چاہیے کہ وہ بات کو اس سے کہے جس کا اس معاملے سے تعلق ہے۔ متعلق اشخاص سے بات کہنا سماج میں اصلاح پیدا کرتا ہے۔ اور بات کو غیر متعلق اشخاص سے کہنا سماج میں فساد پھیلانے کا سبب بنتا ہے۔
خاص طور پر جب کوئی منفی بات یا شکایت کی بات ہو تو ایسی بات کو غیر متعلق اشخاص سے بیان کرنانہایت بری عادت ہے۔ کسی آدمی کے پاس اگر ایسی کوئی بات ہے تو اس کو چاہیے کہ وہ اس کو اپنے دل میں رکھے اور سب سے پہلے متعلق شخص سے مل کر اس کی وضاحت معلوم کرے۔ یہی طریقہ صحیح اسلامی طریقہ ہے۔
سماج میں اکثر خرابیاں بات سے پیدا ہوتی ہیں۔ لوگو ں کا عام مزاج یہ ہے کہ جب ان کو کوئی بری بات معلوم ہو تو وہ فورا اس کا چرچا شروع کردیتے ہیں۔ یہ چرچا عام طور پر غیر متعلق اشخاص کے درمیان کیا جاتا ہے۔ متعلق شخص سے سنجیدہ انداز میں گفتگو کرنا ہی اس معاملے میں واحد صحیح طریقہ ہے۔
واپس اوپر جائیں

فساد کی برائی

قرآن میں ایک اجتماعی برائی کو ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے: وَإِذَا تَوَلَّى سَعَى فِی الْأَرْضِ لِیُفْسِدَ فِیہَا وَیُہْلِکَ الْحَرْثَ وَالنَّسْلَ وَاللَّہُ لَا یُحِبُّ الْفَسَادَ (2:205)۔ اور جب وہ پیٹھ پھیرتا ہے تو وہ اس کوشش میں رہتا ہے کہ زمین میں فساد پھیلائے اور کھیتوں اور نسل کو ہلاک کرے۔ حالاں کہ اللہ فساد کو پسند نہیں کرتا۔
قرآن کی اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ کوئی انسان یا کوئی گروہ اگر سماج میں ایسی سرگرمی جاری کرے جس کے نتیجے میںلوگ قتل کیے جائیں اور لوگوں کی معاشیات تباہ ہوں تو یہ ایک ایسا فعل ہے جو اللہ کے تخلیقی نقشہ کے خلاف ہے۔ایسی کسی سرگرمی پر اللہ کی مدد نہیں آسکتی۔ ایسی سرگرمی کرنے والے لوگ اللہ کے غضب کے مستحق ہیں، ان کو اللہ کی مدد ہرگز ملنے والی نہیں۔ ایسے لوگ دنیا میں تباہی کی تاریخ بنائیں گے نہ کہ تعمیر کی تاریخ۔
اس سے معلوم ہوا کہ اجتماعی سرگرمی میں صحیح اور غلط کا معیار کیا ہے۔ وہ معیار یہ ہے کہ اجتماعی زندگی میں وہی سرگرمی درست ہے، جو سماج میں مثبت قدروں (positive values) کو فروغ دے، جس سے لوگوں کے درمیان اچھے تعلقات قائم ہوں، جس سے سماج کے ہر طبقے کو فائدہ پہنچے۔اس کے برعکس، جو سماجی سرگرمی سماج کے اندر نفرت اور تشدد پیدا کرے، جس سے لوگوں کی معاشیات تباہ ہوں ، جس کا نتیجہ یہ ہو کہ لوگ ایک دوسرے کو قتل کرنے لگیں۔ ایسی سرگرمی بلاشبہ اللہ کے نزدیک صرف برائی ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ سماجی زندگی میں کسی سرگرمی کا معیار ، اس کا نتیجہ (result) ہے۔ لیڈر کے اوپر فرض ہے کہ اگر وہ دیکھے کہ اس کی سرگرمی سے برا نتیجہ نکل رہا ہے ، لوگوں کی معاشیات تباہ ہورہی ہیں، اور لوگ قتل کیے جارہے ہیں،تو فورا اس کو اعلان کرنا چاہیے کہ ہماری سرگرمی اللہ کی ناراضگی کا سبب بن رہی ہے۔ ہم اس کو فورا ختم کرتے ہیں، اور اللہ سے دعا مانگتے ہیں کہ وہ ہماری غلطی کے لیے ہم کومعاف فرمائے۔
واپس اوپر جائیں

علمِ معرفت

پیغمبرِ اسلام صلى اللہ علیہ وسلم کی ایک حدیث ان الفاظ میں آئی ہے: عن علی بن أبی طالب، قال: قال رسول اللہ صلى اللہ علیہ وسلم:الإیمان معرفة بالقلب، وقول باللسان، وعمل بالأرکان (سنن ابن ماجہ ، حدیث نمبر 65)۔ یعنی علی ابن ابی طالب بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلى اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ایمان قلبی معرفت کا نام ہے، اور زبان سے اقرار کا ، اور ارکان پر عمل کرنے کا ۔
جس طرح بیج سے پورا درخت نکلتا ہے، یہی معاملہ اسلام کا ہے۔ اسلام کا آغاز معرفت (realization of God) سے ہوتا ہے۔ معرفت جب آدمی کے شعور کا حصہ بن جاتی ہے، تو اسی کا نام ایمان ہے۔ معرفت جب یقین (conviction) بن کر آدمی کی زبان پر جاری ہوجائے تو اسی کا نام لسانی اقرار ہے۔ معرفت جب آدمی کے عمل میں ڈھل جائے تو اسی کا نام ارکانِ دین کی عملی پیروی کرنا ہے۔ جس طرح بیج کے اندر پورا درخت ہوتا ہے، اسی طرح معرفت کے اندر پورا اسلام موجود ہوتا ہے۔
معرفت ابتدائی طور پر انسان کے لاشعور (unconscious mind) میں موجود ہوتی ہے۔ پھر آدمی جب غور وفکر کرتا ہے تو معرفت ان فولڈ (unfold) ہونے لگتی ہے۔ قرآن میں تدبر اور کائنات میں غور وفکر کے ذریعے معرفت اپنے ارتقائی درجےتک پہنچتی ہے۔ اسلام کی بعد کی تاریخ میں معرفت کا تصور حذف ہوگیا۔ علم کلام بظاہر معرفت کا علم تھا، لیکن متکلمین نے علم کلام کو یونانیات پر مبنی کردیا۔ اس لیے علم کلام حقیقی معنوں میں معرفت کا علم نہ بن سکا۔ صوفیا نے بظاہر معرفت کو اپنا موضوع بنایا۔ لیکن انھوں نے یہ غلطی کی کہ معرفت کو تدبر (contemplation)یعنی عقلی غور و فکر پر مبنی قرار نہیں دیا، بلکہ انھوں نے مراقبہ (meditation) کو معرفت کا سر چشمہ سمجھ لیا۔ یعنی جوچیز عقل کے ذریعے ملنے والی تھی، اس کو دل (heart) میں تلاش کرنے لگے۔ معرفت دل کے اندر موجود ہی نہ تھی، اس لیےصوفیا کو حقیقی معرفت نہیں ملی۔اس طرح متکلمین بھی معرفت سے محروم ہوگیے اور صوفیا بھی۔یہی معاملہ فقہ کے ساتھ پیش آیا جو معرفت کے بجائے ظواہر احکام کا موضوع بن کر رہ گئی۔
واپس اوپر جائیں

ایمان اور عمل

علماء کے درمیان قدیم زمانے سے یہ بحث چلی آرہی ہے کہ ایمان میں عمل داخل ہے یا نہیں- پچھلی صدیوں میں اِس پر بہت کچھ لکھا گیا ہے- مگر حقیقت یہ ہے کہ یہ ایک غیر متعلق بحث ہے- اِس بحث کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں- یہ بحث ایک حدیثِ رسول کی بنا پر پیدا ہوئی ہے جس میں یہ کہاگیا ہے : مَن قال لا إلہ إلا اللہ، دخل الجنة(صحیح ابن حبان، حدیث نمبر 151)-
اِس حدیث کے ظاہر کو لے کر یہ رائے قائم کرلی گئی کہ قول یا زبان سے کلمہ پڑھنے کا نام ایمان ہے، اور جو شخص زبان سے کلمہ پڑھ لے، وہ ضرور جنت میں داخل ہوگا-
حقیقت یہ ہے کہ ایمان کا معاملہ ایک اساسی معاملہ ہے- ایمان کے معاملے میں صحیح رائے وہی ہے جو دوسری آیتوں اور حدیثوں کو سامنے رکھ کر کی گئی ہو- اِس حیثیت سے جب ایمان کا مطالعہ کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ ایمان اپنی حقیقت کے اعتبار سے بیج (seed)کی مانند ہے۔ جس طرح ایک بیج کے اندر پورا درخت امکانی طور پر موجود ہوتا ہے۔ اسی طرح ایمان کے اندر پورا اسلامی عمل بھی امکانی طور پر موجود ہوتا ہے۔
ایمان کا بیج پورا درخت کس طرح بنتا ہے۔ جواب یہ ہے کہ تدبر اور تفکر کے ذریعے۔ مومن وہ ہے جو معرفت کا حریص ہو۔ جو قرآن و سنت کا مطالعہ کرے، جو خدا کی تخلیق میں مسلسل طور پر غور کرے۔ جو شخص اس طرح کی مومنانہ زندگی اختیار کرتا ہے، اس کا ایمان درخت کی مانند ہر وقت بڑھتا رہتا ہے۔ اس طرح کا عمل اس کے ایمان کو ایک تخلیقی ایمان (creative faith)بنادیتا ہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ ہر دن اس کی معرفت میں اضافہ ہوتا ہے۔ ہر دن اس کے یقین میں اضافہ ہوتا ہے، ہر دن اس کے تعلق باللہ میں اضافہ ہوتا ہے، ہر دن اس کے تزکیہ میں اضافہ ہوتا ہے۔ یہ اضافہ مسلسل طور پر جاری رہتا ہے۔ موت کے سوا کوئی چیز نہیں جو اس عمل کوروک دے۔
حقیقت یہ ہے کہ ایمان جتنا زیادہ قوی ہوگا، اتنا ہی انسان کی عملی زندگی میں اس کا اظہار ہوگا۔
واپس اوپر جائیں

ایک سنت ِ رسول

ایک صاحب جو ایک ٹاؤن میں رہتے ہیں، وہ دہلی آکر مجھ سے ملے۔ انھوں نے کہا کہ میں آپ کے مشن سے اتفاق کرتا ہوں۔ میں چاہتا ہوں کہ آپ ہمارے مقام پر چلیں، وہاں دو دن ٹھہریں۔ ہم وہاں آپ کی تقریر کرائیں گے، اس کے علاوہ لوگ آپ سے ملاقات کریںگے اور ہمارے یہاں کام بڑھے گا۔
میںنے کہا کہ روایتی طورپر آپ لوگ کام کا ایک ہی پیٹرن جانتے ہیں، اور وہ ہے کسی عالم یا کسی بزرگ کو اپنے یہاں لے جانا، اور چند دن ان کو اپنے مقام پر ٹھہرا کر تقریر اور ملاقات کا پروگرام بنانا۔ عام زبان میں اس کو دورہ کہا جاتا ہے۔ مگر زیادہ مفید بات یہ ہے کہ آپ جیسے لوگ اس معاملے میںایک سنت رسول کو زندہ کریں۔پھر میںنے کہا کہ رسول اللہ کی زندگی کے واقعات، سیرت اور حدیث کی کتابوں میں موجود ہیں۔ ان میں جو پیٹرن ملتاہے وہ دورہ والا پیٹرن نہیںہے۔ اس کا پیٹرن یہ ہے کہ ایک شخص رسول اللہ کے پاس آتا ہے، وہ آپ کی باتیں سنتا ہے اور قرآن کو سن کر اس کو یاد کرلیتاہے۔ پھر وہ اپنے مقام پر واپس جاتاہے۔ وہاں کے لوگوں کو وہ قرآن سناتا ہے اور رسول اللہ سے سیکھی ہوئی باتوں کو بتاتا ہے۔
اسی پیٹرن سے اس زمانہ میں رسول اللہ کا مشن پورے عرب میں پھیل گیا۔ دعوت کے اس پیٹرن کو قرآن میں اس طرح بیان کیا گیا ہے: اور یہ ممکن نہ تھا کہ اہلِ ایمان سب کے سب نکل کھڑے ہوں ۔ تو ایسا کیوں نہ ہوا کہ ان کے ہر گروہ میں سے ایک حصہ نکل کر آتا، تاکہ وہ دین میں گہری سمجھ پیدا کرتا اور واپس جا کر اپنی قوم کے لوگوں کو آگاہ کرتا تاکہ وہ بھی پرہیز کرنے والے بنتے۔ (9:122)
پھر میں نے کہا کہ موجودہ زمانہ پرنٹنگ پریس کا زمانہ ہے۔ اِس زمانہ میں اس پیٹرن کو زیادہ بڑے پیمانہ پر استعمال کرنا ممکن ہوگیا ہے-آپ اس پیٹرن کی اہمیت کو سمجھئے اور اس کے مطابق کام کیجئے۔پھر میں نے کہا کہ ہم اس پیٹرن کو موجودہ زمانہ میں زندہ کررہے ہیں۔ ہم قرآن کا ترجمہ مختلف زبانوں میں تیار کرکے چھاپ رہے ہیں۔ آپ قرآن کے ان ترجموں کو ہر جگہ لوگوں کے درمیان پھیلائیے۔ اس کے علاوہ ہم نے جدید ضرورت کے مطابق بڑی تعداد میںاسلامی کتابیں تیار کی ہیں۔ یہ گویا سپورٹنگ لٹریچر ہے۔ آپ ان مطبوعہ کتابوں کو ہر جگہ آسانی کے ساتھ پھیلا سکتےہیں۔ یہی دعوت کا پیغمبرانہ طریقہ ہے۔ اس طریقہ کو استعمال کرکےآپ مشن میں اپنا حصہ ادا کرسکتے ہیں۔
اس پیغمبرانہ طریقے میں مزید بہت سے فائدے ہیں۔ ایک بڑا فائدہ وہ ہے جس کوذاتی شرکت (personal involvement) کہا جاسکتا ہے۔ اس طریقے میں یہ ہوگا کہ آپ منصوبہ بندی (planning)کریں گے۔ آپ لوگوں سے ملیں گے۔ لوگوں کے ساتھ آپ کا انٹرایکشن ہوگا۔ آپ کو نئے نئے تجربات پیش آئیں گے۔ آپ کی دعوہ اسپرٹ میں اضافہ ہوگا۔ لوگوں کے ساتھ آپ کا تعلق بڑھے گا۔ آپ حالات سے باخبر ہوتے چلے جائیں گے۔آپ کا دعوتی کام تنظیم (organization) کی صورت اختیار کرلے گا۔
اس طریقے میں بہت زیادہ فائدے ہیں۔ اس میں یہ ہوتا ہے کہ آپ کو مختلف قسم کے تجربات پیش آتے ہیں جو آپ کی تربیت کا ذریعہ ہیں۔ آپ کے ساتھ ایسے مواقع پیش آتے ہیں جو آپ کے اندر دعوت کی کیفیت کو ابھارتے ہیں۔ حالات کے تقاضے کے تحت، آپ محسوس کرتے ہیں کہ مجھے اپنا مطالعہ بڑھانا چاہیے۔اس عمل کے دوران، آپ انسان کی رعایت کرنا سیکھتے ہیں۔ آپ جب ایک عالم یا ایک بزرگ کو بلاکر ان سے تقریر کرواتے ہیں تو وہ صرف ایک کام ہوتا ہے۔ لیکن جب آپ مذکورہ پیغمبرانہ سنت پر عمل کریں تو آپ کا دعوتی کام ہزار پہلووں والا کام بن جائے گا۔
پیغمبرانہ سنت کے مطابق عمل کرنے سے آپ کے عمل کا فائدہ دگنا ہوجاتا ہے۔ وہ آپ کے لیے بھی مفید ہوتا ہے، اور مدعو کے لیے بھی۔ آپ کے لیے اس کا فائدہ یہ ہے کہ اس کے ذریعے آپ کے ذہنی ارتقا (intellectual development) میں اضافہ ہوتا ہے۔ مدعو کے لیے یہ فائدہ کہ وہ زیادہ بہتر طور پر مشن کے بارے میں واقفیت حاصل کرتا ہے، وہ زیادہ غور و فکر کے ساتھ مشن کے بارے اپنے رویے کا تعین کرتا ہے۔
واپس اوپر جائیں

امتیاز ابلیس کی سنت ہے

مسلمانوں کا لکھنے اور بولنے والاطبقہ اکثر یہ لکھتا اور بولتا ہے کہ اس ملک میں مسلمانوں کے ساتھ امتیاز (discrimination) کا سلوک کیا جاتا ہے۔ یہ بات سرتاسر خلافِ واقعہ ہے۔ مزید یہ کہ یہ ابلیس کی سنت ہے۔ جولوگ امتیاز کی بولی بولتے ہیں، وہ عملاً ابلیس کی پیروی کررہے ہیں۔ قرآن سے معلوم ہوتا ہے کہ انسان سے پہلے جنات کو پیدا کیا گیا(15:27)۔اس کے بعد اللہ نے انسان کو بنایا ، اور یہ اعلان کیا کہ انسان زمین میں خلیفہ ہوگا۔ اس پر جنات کے سردار ابلیس نے اعتراض کیا کہ یہ امتیاز اور ناانصافی کا معاملہ ہے۔ کیوں کہ جنات کو آگ سے پیدا کیا گیا ہے اور آدم کو مٹی سے، اس لیے جنات کا درجہ بڑا ہے۔ ایسی حالت میں جنات کو نظر انداز کرکے آدم کو زمین کا خلیفہ بنانا امتیاز اور ناانصافی کا معاملہ ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ امتیاز (discrimination) کچھ لوگوں کا خود ساختہ لفظ ہے۔حقیقت کے اعتبار سےاس دنیا میں امتیاز کا کوئی وجود نہیں۔ جس چیز کو امتیاز کہا جاتا ہے، وہ اپنی حقیقت کے اعتبار سےنااہلی (incompetence) کا معاملہ ہے۔ آدمی اپنی نااہلی کو چھپانے کے لیے یہ کہہ دیتا ہے کہ میرے ساتھ امتیاز کا معاملہ کیا گیا۔
جب بھی کسی انسان کے دل میں اس قسم کی شکایت پیدا ہو تو اس کو چاہیے کہ وہ دوسروں کو الزام دینے کا طریقہ اختیار نہ کرے، وہ خود اپنے بارے میں سوچے۔ اگر وہ غیر جانبدارانہ طور پر اپنے بارے میں سوچے گا تو وہ جان لے گا کہ یہ دراصل میری اپنی کمزوری تھی جس کی مجھے قیمت دینی پڑی۔ اب اس کا حل یہ ہے کہ میں اپنی کمزوری کو دور کروں۔ اس کے بعد مجھے کسی سے امتیاز کی شکایت نہ ہوگی۔
اجتماعی زندگی میں دوسرے کی شکایت کرنا یا دوسرے پر الزام دینا صرف اپنا وقت ضائع کرنا ہے۔ کیوں کہ اس دنیا میں کوئی دوسرا نہیں ہے، جو اس طرح کی شکایت یا الزام کا مصداق ہو۔ آدمی کو چاہیے کہ اس طرح کی صورت پیش آئے تو وہ فوراً اپنا محاسبہ کرے۔ وہ اپنی کوتاہی کو دریافت کرے، اور اپنی کوتاہی کی تلافی میں لگ جائے۔ یہی بات اسلام کے مطابق ہے، اور یہی بات عقل کے مطابق بھی۔
واپس اوپر جائیں

جنت کی دنیا

قرآن کی سورہ نمبر 35 میں بتایا گیا ہے کہ اہل جنت جب جنت کی زندگی کا تجربہ کریں گے تو اس کا اعتراف کرتے ہوئےان کی زبان سے یہ الفاظ نکلیں گے: الْحَـمْدُ لِلہِ الَّذِیْٓ اَذْہَبَ عَنَّا الْحَزَنَ (35:34) یعنی شکر ہے اللہ کا جس نے ہم سے غم کو دور کردیا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جنت ایک ایسی دنیا ہوگی جو درد اور غم سے مکمل طور پر خالی ہوگی۔
اہل جنت کا یہ کلمہ، ایک بہت معنی خیز کلمہ ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ کون سی دنیا ہے، جو انسان جیسی مخلوق کے لئےخوشیوں کی دنیا بن سکتی ہے۔یہ وہ دنیا ہے جو حزَن (pain) سے خالی ہو۔انسان بے حد حساس مخلوق ہے۔ حزَن کا معمولی ساتجربہ بھی انسان کو بے چین کردیتا ہے۔ انسان کو رہنے کے لئے ایک ایسا محل مل جائےجس میں بظاہر آرام کے تمام سامان موجود ہوں لیکن اسی کے ساتھ اس میں رہنے والےانسان کو کوئی حزَن لاحق ہو۔ مثلا، اس کے ایک دانت میں درد پیدا ہوجائے تو انسان اتنا بے چین ہوجائے گا کہ محل میں موجود آرام و راحت کے تمام سامان اس کے لئے بے معنیٰ ہو جائیں گے۔انسان جیسی مخلوق کے لئے صرف وہ دنیاخوشی کی دنیا بن سکتی ہے، جو حزَن سے مکمل طور پر پاک ہو۔
انسان کی نسبت سے قرآن کا یہ بیان کامل معنوںایک مبنی بر واقعہ بیان (factual statement) ہے۔اتنا زیادہ مبنی بر واقعہ بیان کسی انسان کے لئے ممکن نہیں۔اس اعتبار سے دیکھا جائے تو یہ بیان اس بات کا ایک ثبوت ہےکہ قرآن ایک ایسی ہستی کی کتاب ہے جو تمام حقائق سے کامل واقفیت رکھتا ہے۔
مزید یہ کہ ایک ایسی دنیا بنانا جو کامل معنوں میں انسان کے تخلیقی ساخت سے مطابقت رکھتی ہو، ایک ایسا کام ہے جو صرف رب العالمین کے لئے ممکن ہے۔یعنی ایک ایسا رب جو پورے معنوں میں عالمی اختیارات کا مالک ہو۔ اس طرح یہ آیت خدا کےوجود کا ایک ناقابلِ انکار ثبوت ہے، اور اس بات کا ثبوت بھی کہ قرآن، رب العالمین کا کلام ہے، وہ کسی انسان کا کلام نہیں۔
واپس اوپر جائیں

اجتہاد کا معاملہ

اجتہاد کا مطلب یہ ہے کہ حالات بدلنے کے بعد ابتدائی حکم کی نئی تطبیق (new application) تلاش کی جائے۔ مثلاً جدید طرز کے صنعتی موزہ (socks)کے وجود میں آنے کے بعد اس پر قدیم طرز کے جراب کے حکم کو منطبق کرنا۔
اجتہاد صحیح بھی ہوسکتا ہے اور غلط بھی۔ لیکن اس اندیشہ کی بنا پر کبھی اجتہاد کے عمل کو روکا نہیں جائے گا۔ صرف یہ کیا جائے گا کہ اجتہاد کے لئے اخلاص نیت کی شرط پر زور دیاجائے۔ حدیث میں آیا ہے کہ اگر کوئی مومن اجتہاد کرے اور اس کا اجتہاد درست ہو تو اس پر اس کو دوہرا ثواب ملے گا۔ اور اگر وہ اخلاص نیت کے باوجود اجتہاد میں غلطی کرجائے تو اس کو اس کے اجتہاد پر ایک ثواب ملے گا۔
تاریخ سے معلوم ہوتا ہے کہ اجتہاد کے معاملہ میں ہمیشہ غلطی کا امکان رہتاہے حتی کہ بڑے بڑے اہل ایمان نے بھی غلطیاں کی ہیں۔ آدمی کو چاہئے کہ جب اس پر اجتہاد کی غلطی واضح ہوجائے تو وہ کھلے طورپر اپنی غلطی کا اعتراف کرے اور وہ اپنی رائے کو درست کرلے۔
اجتہاد ایک تعمیری عمل ہے۔ اجتہاد سے لوگوں کے اندر تخلیقی سوچ (creative thinking)پیدا ہوتی ہے۔ اس کے برعکس جب اجتہاد کا عمل رک جائے تو یقینی طورپر لوگوں کے اندر ذہنی جمود (intellectual stagnation) پیدا ہوجائے گا ،اور ذہنی جمود بلا شبہہ اسلام میں ایک غیرمطلوب چیز ہے۔ جب کوئی آدمی اخلاص نیت کے ساتھ اجتہاد کرے تو فطری طورپر ایساہوگاکہ وہ معاملہ پر گہرائی کے ساتھ غور کرے گا، وہ سنجیدگی کے ساتھ اس کا جائزہ لے گا۔ وہ اس موضوع پر کتابوں کا مطالعہ کرے گا۔ وہ اہلِ علم سے اس موضوع پر تبادلۂ خیال کرے گا۔ یہ تمام چیزیں اخلاص نیت میں شامل ہیں۔ ان چیزوں کا ہونا اخلاص نیت کا ثبوت ہے اور ان چیزوں کا نہ ہونا اس بات کا ثبوت ہے کہ آدمی کے اندر اخلاص نیت موجود نہیں۔ یہی وہ حقیقت ہے جو حدیث میں اس طرح بتائی گئی ہے کہ عمل کا دار و مدار نیت پر ہوتا ہے۔
واپس اوپر جائیں

قتل سب سے بڑی برائی

قتل کیا ہے۔ قتل یہ ہے کہ کسی زندہ انسان پر حملہ کرکے اس کا خاتمہ کردیا جائے۔ یہ معاملہ ایک فرد کے ساتھ کیا جائے تو اس کو قتل کہا جاتا ہے، اور یہی معاملہ جب زیادہ بڑے پیمانے پر کیا جائے تو وہ جنگ ہے۔ قتل ہو یا جنگ، وہ ہر حال میں برائی کے افعال ہیں۔ کسی انسان کو مارنا، ایک ایسا فعل ہے، جو اس قابل ہے کہ مارنے والے کو سب سے زیادہ سخت سزا دی جائے۔
ہر انسان خدا کی تخلیق ہے۔ ہر انسان کو اس کے خالق نے اس لیے پیدا کیا ہے تاکہ وہ دنیا میں آزادی کے ساتھ زندگی گزارے اور خالق نے اس کو جس امکان (potential) کے ساتھ پیدا کیا ہے اس کو وہ اپنی محنت سے واقعہ (actual) بنائے۔
حقیقت یہ ہے ہر انسان خالق کا ایک منصوبہ (plan) ہے۔ ایسی حالت میں انسان کو قتل کرنا، گویا خالق کے منصوبے کو قتل کرنا ہے۔ وہ خالق کے منصوبے کو ناکام بنانے کے ہم معنی ہے۔جنگ بظاہر انسان کے خلاف ہوتی ہے، لیکن اپنی حقیقت کے اعتبار سے ہر جنگ خالق کے خلاف جنگ ہے۔
جنگ کا آغاز نفرت سے ہوتا ہے۔ نفرت بڑھ کر تشدد بن جاتی ہے۔ تشدد جب زیادہ بڑے پیمانے پر کیا جائے، اسی کا نام جنگ ہے۔ تشدد کلچر اپنے آغاز میں بھی غلط ہے، اور اپنے انجام میں بھی غلط۔ کوئی بھی منطق (logic) تشدد اور خوں ریزی کو ہرگز جائز ثابت کرنے والی نہیں ۔
ایک درخت زمین سے نکلے اور ہری بھری شاخوں کے ساتھ پروان چڑھنے لگے تو وہ خالق کے منصوبے کا ایک جز ہوتا ہے۔ اگر کوئی شخص ایسے ایک پودے یا درخت کو کاٹ دے تو اس نے بلاشبہ ایک ناقابلِ معافی جرم کیا، اس نے ایک تخلیقی منصوبے کو پورا ہونے سے پہلے ختم کردیا۔ انسان بھی خالق کا ایک زندہ درخت ہے۔ انسان کے لیے خالق کا یہ فیصلہ ہے کہ وہ زمین میں پھیلے یہاں تک کہ وہ باغ بن جائے۔ ایسی حالت میں جو شخص خدا کے باغ پر ہتھیار چلاتا ہے، وہ خود اپنے اوپر ہتھیا ر چلاتا ہے۔ ایسا انسان اپنے پر تشدد عمل سے خدا کے فیصلے کو بدلنا چاہتا ہے، مگر خالق کا فیصلہ کبھی بدلنے والا نہیں۔
خالق کا منشا ہے کہ یہ دنیا انسانوں کا ہرا بھرا باغ بن جائے۔ اس باغ کا ہر درخت پھول اور پھل دے کر دنیا کی ترقی میں اضافہ کرے ، ہر انسان اپنے پوٹنشل (potential) کو ایکچول (actual) بنا کر خالق کے منصوبے کی تکمیل کرے۔ ہر انسان تہذیب (سویلائزیشن )کی ترقی میں اپنا حصہ ادا کرے۔ ہر انسان دنیا میں آزادانہ عمل کرکے خود کچھ پائے، اور اپنے پائے ہوئے کو اگلی نسلوں کی طرف منتقل کرے۔ ہر انسان تاریخ کا ایک صحت مند حصہ (healthy part) بن جائے۔ مگر تشدد کلچر (culture of violence) اس پوری خدائی اسکیم کو برباد کردینے والا ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ تشدد (violence) سب سے بڑا جرم ہے۔ ایسے مجرمین کے لیے بلاشبہ خدا کے یہاں سخت عذاب ہے۔ کوئی بھی خود ساختہ نظریہ تشدد کے مجرمین کو جنت میں پہنچانے والا نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ تشدد پسند انسان دنیا میں کانٹے دار جھاڑی کی حیثیت رکھتا ہے۔ ایسے انسانوں کے لیے یہی مقدر ہے کہ وہ کاٹے جائیں اوران کو ہمیشہ کے لیےکائنات کے کوڑا خانہ میںپھینک دیا جائے۔
امن (peace) تعمیر کا عمل ہے، اس کے مقابلے میں جنگ تخریب کا عمل ہے۔ امن پسند انسان کے لیے خدا کے یہاں ابدی آرام گاہ ہے۔ اور تشدد پسند انسان کے لیے خدا کے یہاں ابدی قید خانہ۔
انسان اس دنیا میں آزاد ہے، لیکن اس کی آزادی محدود آزادی ہے۔ اس کی آزادی اس لیے ہے کہ وہ اس کو خالق کے منصوبے کے مطابق استعمال کرے۔ مگر جو شخص اپنی آزادی کا غلط استعمال کرے، وہ اپنے عمل سے صرف یہ ثابت کررہا ہے کہ وہ اس قابل نہیں تھا کہ اس کو آزادی دی جائے، وہ اس قابل نہیں تھا کہ اس کو عقل دی جائے، جس کے ذریعے وہ اچھے برے کو سمجھ سکتا تھا، اور اپنی زندگی کی درست تشکیل کرسکتا تھا۔
ایسی حالت میں جو انسان اپنی آزادی کا غلط استعمال کرے وہ اپنے آپ کو اس کا مستحق بناتا ہے کہ اگلے دورِ حیات میں اس کو جانور (animal) سے بھی زیادہ بری صورت میں اٹھایا جائے۔ اگلے دورِ حیات میں وہ صرف محرومی کی زندگی گزارے، اگلے دورِ حیات میں اس کا حال یہ ہو کہ وہ پکارے، لیکن کوئی اس کی پکارکا جواب دینے والا موجود نہ ہو، وہ مدد کے لیے آواز دے، لیکن وہاں کوئی اس کی مدد کرنے والا موجود نہ ہو۔
کسی شخص کا انسان کی حیثیت سے پیدا ہونا خالق کا ایک انوکھا انعام ہے۔ مزید یہ کہ وہ خالق کی طرف سے ایک خوش خبری ہے۔ اس بات کی خوش خبری کہ اگر تم نے اپنی موجودہ زندگی کو خالق کے نقشے کے مطابق گزارا، اگر تم نے تشدد کے بجائے امن کو اپنا طریق حیات بنایا تو اگلے دورِ حیات میں تم کو خالق کی مزید عنایات حاصل ہوں گی۔ آج تم انسان (man)کی حیثیت سے پیدا کیے گیے ہو۔ لیکن اگلے دور حیات میں خالق تم پریہ انعام کرے گا کہ وہ تم کو فوق البشر (superman) کا درجہ دے دے گا۔ موجودہ دورِ حیات میں تم نے سب کچھ کرکے بھی بربادی کے سوا کچھ اور نہیں پایا تھا، لیکن اگلے دورِ حیات میں تم خالق کی ایسی نعمتوں کو پالوگے جس کا اس سے پہلے تم نے کبھی گمان بھی نہیں کیا تھا۔
واپس اوپر جائیں

ذاتی کمال، بصیرِ زمانہ

مصلح یا مجدد کا جب ذکر ہوتا ہے، تو اکثر لوگ اس کے ذاتی کمالات کو بیان کرنے لگتے ہیں۔ قدیم زمانے سے چوں کہ دنیا میں شخصیت پرستی (cult of individual) کا طریقہ رائج رہا ہے۔ اس لیے یہ طریقہ معیار بن گیا ہے۔ مصلح یا مجدد کا بیان لوگ اس طرح کرتے ہیں، جیسے کہ ایک فرد کے شخصی کمالات کو بیان کرنا ہی اس کا اصل طریقہ ہے۔ چناں چہ اکثر لوگ مصلح یا مجدد کا بیان اس طرح کرتےہیں، جیسے کہ وہ اس کی قصیدہ خوانی کررہے ہیں۔
مگر یہ طریقہ درست نہیں۔ مصلح یا مجدد کا کام یہ ہے کہ وہ حدیث کے الفاظ میں بصیرِ زمانہ ہو، وہ زمانے کے تقاضے کے مطابق لوگوں کی رہنمائی کرے۔ اس لیے یہ دیکھنا ضروری ہے کہ مصلح یا مجدد اس بات کا حامل ہے یا نہیں۔ اگر وہ اس بات کا حامل نہ ہو تو مصلح یا مجدد کو یہ مشورہ دینا چاہیے کہ تم سب سے پہلے اپنے آپ کو اس کے مطابق بناؤ۔
مصلح یا مجدد کا کام مفتی کے کام سے مختلف ہے۔ مفتی کا کام یہ ہے کہ وہ مسئلہ پوچھنے والے کو مسئلہ بیان کردے۔ لیکن مصلح یا مجدد کی ذمے داری اس سے زیادہ ہے۔ مصلح یا مجدد کو سب سے پہلے اپنے کو دین کا عالم بنانا ہے۔ اس کے بعد اس کی ذمے داری یہ ہے کہ وہ اپنے آپ کو زمانے سے باخبر کرے تاکہ اس کی رہنمائی میں زمانے کی رعایت شامل ہو۔ جس آدمی کی رہنمائی میں زمانے کی رعایت شامل نہ ہو، وہ مصلح یا مجدد کا درجہ پانے کے قابل نہیں۔
دین ہمیشہ کے لیے ایک ہے۔ لیکن زمانی حالات بدلتے رہتے ہیں ۔ اس لیے ضروری ہوتا ہے کہ دین کی ابدی تعلیمات کو اس طرح بیان کیا جائے کہ وہ لوگوں کو اپنے حسب حال دکھائی دے۔ اگر دین کو اس طرح بیان کیا جائے کہ وہ لوگوں کو زمانی تقاضوں کے مطابق نظر نہ آئے تو وہ لوگوں کے ذہن کو ایڈریس نہیں کرے گا۔ اس کے بعد لوگوں کے اندر یہ شوق پیدا نہ ہوگا کہ وہ اس کی پیروی کریں۔ اور اپنی زندگیوںکو اس کے مطابق بنائیں۔
واپس اوپر جائیں

قدرت کا نظام

قدرت کا نظام فرق (difference) کے اصول پر قائم ہے- ہر انسان ایک الگ قسم کی امتیازی صفت (distinctive quality) لے کر پیدا ہوتاہے۔ انسان کی کامیابی یہ ہے کہ وہ اپنی اس امتیازی صفت کو دریافت کرے۔ دریافت کرنے کا یہ کام انسان کو خود کرنا پڑتاہے۔ ہر انسان کو یہ کرنا ہے کہ وہ اس معاملہ میں ذاتی دریافت (self discovery) پر کھڑا ہو۔
ذاتی دریافت کے اس عمل میں سب سے بڑا معاون عنصر (supporting element)یہ ہے کہ انسانی سماج کو مبنی بر میرٹ (merit-based society) بنایا جائے- انسان جب پیدا ہوتا ہے تو اپنے ماحول میں اس کو مختلف قسم کے کام نظر آتے ہیں ۔ وہ مختلف تجربے کرتا ہے۔ اس تجربہ کے دوران اس کو اشارہ ملتا ہے کہ فلاں کام کو میں زیادہ اچھا کرسکتا ہوں۔ یہ اشارہ اس کے لئے اس بات کا ایک طاقت ور محرک (strong incentive)بن جاتاہے کہ وہ اپنی دریافت کردہ امتیازی صفت کو اپنے عمل کا نشانہ بنائے۔ اس طرح مبنی بر میرٹ سماج میں اپنے آپ ایک خاموش عمل شروع ہوجاتاہے۔ یہ آٹومیٹک چینلائزیشن (automatic channelization)کاعمل ہے۔
اگر آدمی سنجیدہ ہو، اور دوسروں کی شکایت کرنے کے بجائے اپنا محاسبہ (introspection) کرنا جانتا ہو تو وہ نہایت آسانی سے یہ دریافت کرلے گا کہ اس کے لیے زندگی کی جدوجہد میں سفر کرنے کی سمت کیا ہے۔ مثلا ایک آدمی نے بزنس شروع کیا اس میں اس نے دیکھا کہ وہ زیادہ کامیاب نہیں ہورہا ہے، تو اس کو یہ جاننا چاہیے کہ اس کے لیے اپنی صلاحیت کے لحاظ سے بہتر طریقہ یہ ہے کہ وہ بزنس کے بجائے سروس کے میدان میں چلاجائے۔ اگر آدمی اس طرح اپنا راستہ متعین کرے تو وہ یقینا اپنے لیے اپنے موافق زندگی کی تعمیر میں کامیاب ہوجائے گا۔آدمی کو چاہیے کہ وہ ہمیشہ اپنا آزادانہ جائزہ لیتا رہے۔ اس طرح وہ اپنے آپ کو دریافت کرے گا اور اپنے آپ کو سماج کا صحت مند ممبر بنانے میں کامیاب ہوجائے گا۔
واپس اوپر جائیں

سب سے بڑا المیہ

انسانی تاریخ کا شاید سب سے بڑا المیہ (tragedy) یہ ہے کہ انسان معرفت اعلیٰ کے حصول سے محروم رہا۔ خدا کی معرفت کا ذریعہ، خدا کی تخلیقات میں غور و فکر کرناہے۔ جدید سائنسی دور سے پہلے انسان تخلیقاتِ الٰہی کے بارے میں بہت کم جانتا تھا۔ چناں چہ قدیم زمانے میں معرفت اعلیٰ تک پہنچنے کے لئے فریم ورک ہی موجود نہ تھا۔
موجودہ زمانے میں سائنسی انقلاب کے بعد انسان کو اعلیٰ فریم ورک حاصل ہوا۔ جس کی پیشگی خبر قرآن میں ان الفاظ میں دی گئی ہے: سَنُرِیہِمْ آیَاتِنَا فِی الْآفَاقِ وَفِی أَنْفُسِہِمْ حَتَّى یَتَبَیَّنَ لَہُمْ أَنَّہُ الْحَقُّ (41:53)۔ لیکن موجودہ زمانے میں جب یہ آفاقی یا سائنسی فریم ورک ظہور میں آیا تو عین اُسی وقت تمام دنیا کے مسلمان سیاسی رد عمل کے نتیجے میں منفی سوچ کا شکار ہوگئے۔ اس طرح وہ مثبت سوچ سے محروم رہے۔
قدیم زمانے کے انسان کے لیےسائنسی فریم ورک نہ ہو نے کی بنا پر معرفتِ اعلیٰ تک پہنچنا مشکل تھا۔ موجودہ زمانے میں سائنسی فریم ورک کے ظہور کے باوجود انسان معرفتِ اعلیٰ تک نہیں پہنچا، اور اس کا سبب یہ تھا کہ موجودہ زمانے کا انسان مثبت سوچ سے محروم ہو گیا۔ یہ بلاشبہ انسان کی سب سے بڑی محرومی تھی۔
اللہ کی معرفت اعلی کسی انسان کے لیے سب سے بڑی نعمت ہے۔ ہر انسان کے لیے یہ ممکن ہے کہ وہ معرفت اعلی تک پہنچ سکے۔ لیکن اس کی شرط یہ ہے کہ وہ اپنے آپ کو منفی سوچ سے مکمل طور پر بچائے۔ وہ ہر حال میں مثبت سوچ میں جینے والا بنے۔ جو لوگ اس شرط کو پورا کریں وہ یقینا معرفت اعلی تک پہنچنے میں کامیاب ہوجائیں گے۔
یہ تاریخ کا المیہ ہے کہ بیشتر انسان کسی نہ کسی بات کو لے کر منفی سوچ کا شکار ہوگیے۔ وہ مثبت سوچ (positive thinking) پر قائم نہ رہ سکے۔ اس بنا پر وہ معرفت کا وعایہ (container) نہیں بنے۔ معرفت اعلی سے محرومی کی یہی سب سے بڑی وجہ ہے۔
واپس اوپر جائیں

حکمتِ حیات

حضرت یوسف ایک اسرائیلی پیغمبر تھے۔ان کو مصر کے بادشاہ نے یہ موقع دیا کہ وہ پورے ملک کے خزائن ارض (یوسف: 55) کو استعمال کریں۔ بادشاہ کی شرط صرف ایک تھی۔ وہ یہ کہ سلطنت کا تخت بدستور اس کے پاس رہے گا۔
Only with regard to the throne, will I be greater than you. (Genesis 41:40)
حضرت یوسف نے بادشاہ کی اس شرط کو مان لیا، اور وہ اپنی آخر عمر تک ملک مصر کے مواقع کو آزادانہ طور پر استعمال کرتے رہے۔ موجودہ زمانے میں بھی یہ موقع مزید اضافے کے ساتھ حاصل ہے۔ موجودہ زمانے میں چالیس سے زیادہ مسلم ممالک ہیں۔ ہر ملک کے مسلم حکمراں زبانِ حال سے یہ کہہ رہے ہیں کہ میرے خلاف اینٹی گورنمنٹ تحریک نہ چلاؤ اور پھر ملک کے تمام مواقع تمہارے لئے آزادانہ طور پر کھلے رہیں گے۔تم تمام غیر سیاسی میدانوں میں عمل کرنے کے لیے آزاد ہو۔
مگر موجودہ زمانے میں یہ امکان غیر استعمال شدہ رہ گیا۔ کسی مسلم ملک میں بھی اس موقع کو استعمال نہ کیا جاسکا۔ اس کا سبب یہ ہے کہ موجودہ زمانے کے مسلم رہنما حضرت یوسف کی اس پیغمبرانہ سنت پر عمل نہ کر سکے۔اس کے برعکس ان مسلم رہنماؤں نے ہر مسلم ملک میں یہ کیا کہ وہ حکومت کے حریف بن گیے۔ انھوں نے اینٹی گورنمنٹ سرگرمیاں شروع کردیں۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ ہر ملک کے حکمراںاپنے دفاع کے طور پر مسلم رہنماؤں کے خلاف ہوگیے۔ ہر مسلم ملک میں مسلم تحریکوں کو کچلنے کی کوشش کی گئی۔ مسلم ملکوں میں دعوت اور تعلیم جیسے میدانوں میں کام کے غیر معمولی مواقع تھے۔ مگر یہ مواقع غیر استعمال شدہ رہ گیے۔مسلم رہنماؤں پر لازم تھا کہ وہ اپنا محاسبہ کرتے، وہ اپنی غلطی کو دریافت کرتے۔ لیکن انھوں نے برعکس طور پر یہ اعلان کیا کہ یہ مسلم حکمراں اسلام دشمن طاقتوں کے ایجنٹ ہیں۔ اب ہر مسلم ملک میں مسلمانوں کے دو گروہ بن گیے۔ حکومتی گروہ اور غیر حکومتی گروہ۔دونوں گروہوں کے درمیان نفرت اور تشدد کا لا متناہی سلسلہ شروع ہو گیا۔
واپس اوپر جائیں

حقیقی اطمینان

زندگی میں سب سے پہلا سوال یہ ہے کہ انسان کے لئے سپریم چیز کیا ہے۔ میں اپنے تجربے کے مطابق کہہ سکتا ہوں کہ کسی انسان کے لئے سپریم چیز پیس آف مائنڈ ہے۔ کسی انسان کے لئے سپریم چیز نہ تو دولت ہے، نہ شہرت (fame) ہے، نہ پاور ہے، اور نہ پاپولیریٹی (popularity) ۔ کسی انسان کے لئے سپریم دریافت وہی چیز ہوسکتی ہے جو اس کو فل فل مینٹ (fulfilment) دے۔ اور تجربہ یہ ثابت کرتا ہے کہ پیس آف مائنڈ کے سوا کوئی اور چیز انسان کو فل فل مینٹ نہیں دیتی۔
پیس آف مائنڈ کی یہ اہمیت کیوں ہے۔ اس کا سبب یہ ہے کہ پیس آف مائنڈ انسان کی نیچر کے مطابق ہے۔ انسان اپنے نیچر کے مطابق یہ چاہتا ہے کہ وہ آخری حد تک اپنے آپ کو مطمئن بنا سکے۔ مگر کسی انسان کو اطمینان صرف داخلی اچیومینٹ (achievement)پر ہوسکتا ہے، خارجی اچیومینٹ پر نہیں۔ اسی داخلی یافت کا دوسرا نام انٹلکچول ڈیولپمینٹ یا اسپریچول ڈیولپمینٹ ہے۔ امریکی دولت مند بل گیٹس (Bill Gates)نے دولت کے بارے میں اپنے تجربے کو ان الفاظ میں بیان کیا:
Once you get beyond a million dollars, it's the same hamburger.
بل گیٹس نےجو بات دولت کے بارےمیں کہی ہے، وہی بات ہر خارجی اچیومینٹ کے لئے درست ہے۔ یہ خارجی اچیومینٹ خواہ دولت ہو، یا بزنس ہو، یا فیم ہو، یا پولٹیکل پاور ہو، یا اور کوئی مادی چیز ہو۔ایسی حالت میں انسان کو چاہئے کہ وہ پیس آف مائنڈ کا فارمولا دریافت کرے۔ اور یہ مقصد صرف انٹلکچول ڈیولپمنٹ کے ذریعہ حاصل ہوسکتاہے- یعنی اسٹڈی اور contemplation کے ذریعہ۔ میں ذاتی طورپر اسپریچول ڈیولپمینٹ کو بہت اہمیت دیتا ہوں، لیکن میرے نزدیک اسپریچول ڈیولپمینٹ ایک مائنڈ بیسڈ ڈسپلن (mind-based discipline) ہے، نہ کہ ہارٹ بیسڈ ڈسپلن (heart-based discipline)۔ مبنی بر قلب میڈیٹیشن (meditation)آدمی کو وجد (ecstasy) تک پہنچا سکتا ہے۔ جب کہ مبنی برذہن میڈیٹیشن آدمی کو انٹلیکچول ڈیولپمینٹ تک پہنچاتا ہے، اور انٹلیکچول ڈیولپمینٹ ہی پیس آف مائنڈ کا سب سے بڑا ذریعہ ہے۔
واپس اوپر جائیں

دو دنیائیں

ایک سائنسی قیاس کے مطابق، کائنات میں ہماری دنیا جیسی دو دنیا ئیں ہیں۔ ایک پازیٹو ورلڈ اور دوسری نیگیٹو ورلڈ۔ یہی قانون ِ فطرت (law of nature) کا تقاضا ہے۔ جس طرح پازیٹو پارٹیکل اور نیگیٹو پارٹیکل کے بغیر ایٹم (atom) کا وجود نہیں ہوسکتا۔ اسی طرح ایک دنیا کے وجود کے لیے دوسری دنیاکا وجود بھی ضروری ہے۔
یہ سائنسی قیاس ہر انسان کا ایک ذاتی تجربہ ہے۔ ہر انسان اپنے ذاتی تجربے کے تحت ایک دنیا پر یقین رکھتا ہے جو بظاہر اس کو دکھائی دیتی ہے، اور جس کے اندروہ اپنی زندگی گزارتا ہے۔یہ دنیا وہ ہے جہاں وہ روزانہ صبح اور شام کے مناظر دیکھتا ہے۔ جس کے اندر وہ اپنی تمام سرگرمیاں جاری کرتا ہے۔ جس کو وہ اپنی آنکھ سے دیکھتا ہے، اور اپنے کان سے سنتا ہے، اور جہاںوہ روزانہ اپنے پاؤں سے چلتا ہے۔
اسی کے ساتھ ہر انسان ایک اور دنیا کا تصور اپنے ذہن میں لیے ہوئے ہے۔ ایک ایسی دنیا جو موجودہ دنیا کے مقابلے میں معیاری دنیا (perfect world) ہوگی، جہاں اس کی تمام خواہشیں ((desiresپوری ہوں گی۔ جہاں اس کو کامل فل فلمینٹ (total fulfilment) ملے گا۔ ہر انسان پیدائشی طور پر پرفکشنسٹ ہوتا ہے۔ اپنے داخلی مزاج کے مطابق وہ اس معیاری دنیا کو پانا چاہتا ہے، مگر کوئی بھی شخص اپنی اس تلاش کا جواب نہیں پاتا، اور اس پر موت کا وقت آجاتا ہے۔ اس طرح ہر انسان کے ذہن میں ایک دنیا وہ ہے جس کو عملاً وہ پائے ہوئے ہے، اور دوسری دنیا وہ ہے جس کو وہ پانا چاہتا ہے، لیکن اس کو پانے میں وہ کامیاب نہیں ہوتا ہے۔
انسان کا یہ ذہن ہر ایک کے لیے اس بات کا ایک داخلی ثبوت ہے کہ یہاں دو دنیائیں موجود ہیں۔ ایک دنیا وہ جس کو وہ حال میں پارہا ہے، اور دوسری دنیا وہ جس کو وہ موت کے بعد مستقبل میں پائے گا۔ پہلی دنیا ہر ایک کا عملی تجربہ ہے۔ اس کے مقابلے میں دوسری دنیا وہ ہے جو ہر ایک کے ذہن میں بسی ہوئی ہے۔
واپس اوپر جائیں

انتہا پسندی

انتہا پسندی (extremism)ایک فطری صفت ہے۔ یہ صفت کسی شخص کے اندر کم ہوتی ہے اور کسی شخص کے اندر زیادہ۔ تاہم انتہا پسندانہ مزاج کا ایک تعمیری پہلو ہے اور دوسرا اس کا تخریبی پہلو۔ اس کا تعمیری پہلو یہ ہے کہ آدمی اصول کےمعاملہ میں سخت حسّاس ہو، وہ دوسروں کے حقوق کے معاملہ میں کمی کو گوارا نہ کرے، وہ حق سے انحراف کو دیکھے تو تڑپ اٹھے۔ وہ اپنی غلطی کو شدید طورپر محسوس کرتاہو۔ وہ اپنی کوتاہی کے معاملہ میں اس سے زیادہ شدید ہوجتنا کہ کوئی شخص دوسروں کی کوتاہی کے معاملہ میں شدید ہوتا ہے۔ یہ انتہا پسندی صحت مند انتہا پسندی ہے۔
انتہا پسندی کا دوسرا پہلو یہ ہے کہ وہ منفی رخ اختیار کرلے۔ آدمی اپنے اس جذبہ کی بنا پر دوسروں سے نفرت کرنے لگے۔ وہ دوسروں سے لڑنے کے لیے تیار ہوجائے۔ وہ اصلاح کے نام پر جنگ اور قتل شروع کردے۔ یہ انتہا پسندی کی قابلِ اعتراض صورت ہے۔جب انتہا پسندی اس قسم کی منفی صورت اختیار کرلے تو وہ عملاً ایک برائی (evil) بن جاتی ہے، نہ کہ کو ئی خیر(good)-
حساسیت (sensitivity) انسان کی خاص صفت ہے۔ اس صفت کا تعمیری استعمال دنیا میں بھلائی کا سبب بنتاہے۔ اس کے برعکس، جب اس صفت کا غلط استعمال ہونے لگے تو دنیا برائی سے بھر جائے گی۔
انتہا پسندی کا مزاج ہمیشہ محاسبہ کا مزاج پیدا کرتا ہے۔ مگر یہ محاسبہ اپنے خلاف ہوناچاہئے۔ اس کے برعکس، اپنی کوتاہیوں سے غافل رہنا اور دوسروں کی کوتاہی پر ان سے لڑائی شروع کردینا سخت گناہ ہے۔ پہلا کردار اگر ثواب کا موجب ہے تو دوسرا کردار آدمی کو اس قابل بنا دیتا ہے کہ اس کا سخت مواخذہ کیا جائے۔
انتہاپسندی ایک فطری صفت ہے، جس طرح اعتدال پسندی ایک فطری صفت ہے۔ انتہاپسندی اس وقت برائی بن جاتی ہے، جب کہ اس کو عقل کے بجائے جذبات کے تابع کردیا جائے۔
واپس اوپر جائیں

معافی، رائے بدلنا

کچھ باتیں ایسی ہیں جو معافی سے ختم ہوجاتی ہیں۔ مثلا کسی کو غصہ آگیا، اور غصے میں اس نے کوئی سخت بات کہہ دی، پھر اس کا غصہ ٹھنڈا ہوا، اس کو اپنی غلطی کا احساس ہوا، اس نے اپنی غلطی کی معافی مانگ لی۔ یہ وہ بات ہے، جو معافی سے ختم ہوجاتی ہے۔
دوسری بات وہ ہے جو اس وقت ختم ہوتی ہے، جب کہ آدمی اپنی رائے بدل لینے کا اعلان کرے۔ مثلا ایک شخص آپ کے بارے میں یہ کہے کہ آپ اسلام دشمن کے ایجنٹ ہیں، اور اس سے آپ کو پیسہ ملتا ہے، یہ بات صرف اس وقت ختم ہوگی جب کہ کہنے والا اپنی غلطی کا اعتراف کرے، اور اعلان کے ساتھ یہ کہے کہ میں نے جو کہا تھا، وہ صحیح نہیں تھا۔
وقتی جذبے کے تحت کوئی غلط بات منھ سے نکل جائے ۔ پھر آدمی کو اس پر شرمندگی ہو، اور وہ صاحب معاملہ سے معافی مانگ لے۔ یہ معافی کا کیس ہوگا۔ صاحب معاملہ کو چاہیے کہ وہ معافی مانگنے کے بعد اس کو معاف کردے۔ وہ دل میں اس کے خلاف کدورت نہ رکھے۔
لیکن جو غلطی سوچی سمجھی رائے کے تحت ہو۔ وہ اس وقت تک قابل معافی نہیں ، جب تک آدمی کا یہ حال نہ ہوجائے کہ وہ اپنی رائے کی غلطی دل سے مان لے۔ وہ سچے اعتراف کے جذبے کے تحت، صاحب معاملہ سے معافی کی درخواست کرے۔ ایسی حالت میں اس کی بات قابل معافی قرار پائے گی۔ اس کے بعد دونوں فریقوں کے لیے لازم ہوگا کہ وہ اس بات کے برے اثرات سے اپنے دل کو پاک کرلیں۔
معافی مانگنا اور معافی قبول کرنا دونوں عبادت کے افعال ہیں۔معافی مانگنے والا معافی کے بعد ایسا ہوجاتا ہے گویا کہ اس نے غلطی نہیں کی تھی۔ اورمعافی مانگنے کے بعد معاف کرنے والے کو اس بات کاکریڈٹ ملتا ہے کہ اس کا دل نفرت و عداوت سے خالی ہے۔اس کے دل میں انسان کے لیے خیرخواہی ہے، نہ کہ نفرت اور انتقام۔
واپس اوپر جائیں

کلام کا طریقہ

گفتگو کے دو طریقے ہیں۔ایک یہ کہ گفتگو کے وقت جب دوسرا شخص آپ سے کوئی سوال کرے تو اس موضوع سے متعلق جو باتیں آپ کے دماغ میں موجودہوں، ان سب کو آپ شروع سے آخر تک دہرانے لگیں۔ یہ طریقہ آدابِ گفتگو کے خلاف ہے۔ ایسے شخص کے بارے میں کہا جائے گا کہ وہ گفتگو کے آداب کو نہیں جانتا۔
دوسرا طریقہ یہ ہے کہ آپ سامنے والے کی بات سنیں، اور پھر یہ سمجھنے کی کوشش کریں کہ سائل کیا بات جاننا چاہتا ہے۔ اور پھر وہی بات بولیں، جو سائل آپ سے سننا چاہتا ہے۔ یہ گفتگو کا صحیح طریقہ ہے۔ اسی قسم کی گفتگو کامیاب گفتگو ہے، اور اسی قسم کی گفتگو نتیجہ خیز گفتگو ہے۔
اکثر لوگوں کا حال یہ ہے کہ گفتگو کے وقت وہ اپنے آپ میں جیتے ہیں۔ وہ دوسرے کی بات سننے سے زیادہ اپنی بات میں مشغول رہتے ہیں۔ ایسے لوگ جب بولتے ہیں تو سننے والے کو ان کی بات سے کوئی فائدہ نہیں ہوتا۔
صحیح یہ ہے کہ آپ دوسرے کی بات کو خالی الذہن ہوکر سنیں، غیر جانب دارانہ انداز میں دوسرے کی بات کو سمجھنے کی کوشش کریں، دوسرے کی بات کو دوسرے کے ذہن سے سنیں نہ کہ خود اپنے ذہن سے۔ جو شخص ایسا کرے، وہی صحیح معنوں میں گفتگو کا طریقہ جانتا ہے۔
گفتگو خالق کی ایک عظیم نعمت ہے۔ انسان کے سوا دوسری کسی مخلوق کو یہ نعمت حاصل نہیں۔ پہاڑ اور سمندر کے درمیان کبھی گفتگو نہیں ہوتی۔ دو جانوروں کے درمیان کبھی تبادلۂ خیال نہیں ہوتا۔ یہ صرف انسان ہے جو کہنے اور سننے کی طاقت رکھتا ہے، اور بامعنی انداز میں تبادلۂ خیال کرتا ہے۔ اس نعمت کا شکر یہ ہے کہ آدمی اپنے اندر درست کلام کی صلاحیت پیدا کرے۔گفتگو کے وقت وہ اس اسپرٹ کے ساتھ گفتگو کرے کہ وہ دوسروں سے کچھ سیکھے اور خود دوسروں کو کچھ دینے کے قابل بات دے۔ وہ صاحب تعلیم بھی ہو اور صاحب تعلّم بھی۔ایسے آدمی کی گفتگو بھی ایک عبادت ہے۔
واپس اوپر جائیں

افادہ اور استفادہ

ابوعبداللہ محمدبن اسماعیل البخاری (وفات 256ھ) اور محمد بن عیسی الترمذی (وفات279ھ)، دونوں ہم عصر تھے۔ دونوں کا شمار اکابر محدثین میں ہوتا ہے۔ اگر چہ امام البخاری کو اولیت حاصل ہے۔ امام الترمذی ، امام البخاری کے شاگرد تھے۔ تاہم امام البخاری نےاپنے شاگرد امام الترمذی سے کہا: ماانتفعتُ بک اکثر مما انتفعتَ بی (التہذیب لابن حجر9 / 389) یعنی میں نے تم سے اس سے زیادہ فائدہ اٹھایا جتنا تم نے مجھ سے فائدہ اٹھایا۔
یہ کوئی فضیلت یا علمی کمال کی بات نہیں، بلکہ وہ ایک فطری حقیقت ہے۔ جو کہ افادہ اور استفادہ کی صورت میں دونوں فریق کو حاصل ہوتا ہے۔ افادہ کا مطلب دوسرے کو فائدہ پہنچانا، جس کو تعلیم کہا جاتا ہے۔ اور استفادہ کا مطلب تعلم(learning) ہے۔یعنی دوسرے سے سیکھنا۔
اصل یہ ہے کہ دو انسان آپس میں سنجیدہ گفتگو کریں، دونوں کے درمیان کھلا ماحول ہو، دونوں کو یہ موقع ہو کہ وہ اپنی بات کو کسی تحفظ (reservation) کے بغیر دوسرے سے کہیں تو ہمیشہ یہ ہوتا ہے کہ دو نقطۂ نظر کےدرمیان ٹکراؤ سے معاملے کا ایک تیسرا پہلو ابھر کر سامنے آتا ہے۔ اس طرح دونوں کو یہ موقع ملتا ہے کہ وہ گفتگو کو اپنے لیے ذہنی ارتقا کا ذریعہ بنائیں، دونوں ایک دوسرے سے سیکھیں بھی اور سکھائیں بھی ۔
دو یا چند انسانوں کے درمیان تبادلۂ خیال (exchange) بہت بڑی نعمت ہے۔ وہ ہمیشہ ہر فریق کے لیے فائدے کا سبب بنتا ہے۔ شرط یہ ہے کہ تبادلہ خیال کے دونوں فریق سنجیدہ ہوں۔ وہ صحیح معنوں میں سچائی کے طالب ہوں۔ ان کے اندر یہ مزاج ہو کہ وہ نہ تعریف سے خوش ہوں اور نہ وہ تنقید کو برا مانیں۔ وہ کسی بات کو بات کے لحاظ سے دیکھیں، نہ کہ اپنی ذات کے اعتبار سے۔ وہ تعصب سے خالی ہوکر اپنی بات کہیں اور دوسرے کی بات سنیں۔ ان کے اندر یہ مزاج نہ ہو کہ اپنی بات کو ہر حال میں صحیح ثابت کرنا ہے، اور دوسرے کی بات کو ہر حال میں رد کرنا ہے۔
واپس اوپر جائیں

ہر صورتِ حال بہتر

مشہور صحابیٔ رسول حضرت علی بن ابی طالب کا قول ہے: الخیر فیما وقع۔ یعنی جو ہوگیا، وہی بہتر ہے۔
Whatever happened, happened for the good.
حضرت علی کا یہ قول فطرت کے قانو ن کو بتاتا ہے۔وہ یہ کہ دنیا میں مواقع کی تعداد بے شمار ہے۔ اگر ایک موقع کھوجائے تو آدمی کے اندر محرومی کا احساس نہیں ہونا چاہیے۔ اس کو یہ امید کرنا چاہیے کہ ایک موقع کھونے کے بعد جلد ہی اس کو دوسرا موقع مل جائے گا، اس طرح اس کی زندگی کا سفر رکے بغیر جاری رہے گا۔
یہ صرف ایک قول نہیں ہے بلکہ فطرت کا ایک عام قانون ہے۔ یہ مومن و غیر مومن سب کے لیے ہے۔ اگر آدمی اس حقیقت کو دھیان میں رکھے تو وہ کبھی مایوس نہیں ہوگا۔ وہ ہر ناکامی کو وقتی سمجھے گا۔ ہر ناکامی کے بعد وہ ا پنی کوشش کو جاری رکھے گا، یہاں تک کہ وہ کامیاب ہوجائے گا۔ یہ بات کوئی پراسرار بات نہیں۔ یہ فطرت کا ایک معلوم قانون ہے۔
خالق نے دنیا کو اس طرح بنایا ہے کہ یہاں مواقع (opportunities) اتنے زیادہ ہیں جو کبھی ختم نہیں ہوں گے۔ کچھ مواقع ایسے ہیں، جو بظاہر دکھائی دیتے ہیں۔ اور زیادہ مواقع ایسے ہیں، جو موجود رہتے ہیں لیکن وہ ظاہری طور پر دکھائی نہیں دیتے۔ آدمی کو چاہیے کہ وہ ہمیشہ پر امید رہے۔ وہ ناموافق حالات میں بھی مواقع کی تلاش جاری رکھے۔ اسی کے ساتھ یہ بھی ضروری ہے کہ وہ اپنے اندر یہ استعداد پیدا کرے کہ وہ مواقع کو اپنے حق میں استعمال کرسکے، مواقع جس ہنر (skill) کا تقاضا کریں، وہ ہنر اپنے اندر پیدا کریں۔
مواقع کو وہی لوگ کامیابی کے ساتھ استعمال کرسکتے ہیں، جن کے اندر مواقع کو استعمال کرنے کے لیے ضروری لیاقت موجود ہو۔ لیاقت کے بغیر مواقع کا کامیاب استعمال ممکن نہیں۔
واپس اوپر جائیں

ہر آدمی ایک کیس ہے

اکثر لوگوں کا یہ حال ہے کہ وہ جب کسی سےاپنی پسند کی بات سنتے ہیں تو وہ اس سے خوش ہوجاتے ہیں، اور اگر وہ اس سے اپنی پسند کے خلاف کوئی بات سنتے ہیں تو وہ اس کے بارے میں بُری رائے قائم کرلیتے ہیں۔ یہ طریقہ آدابِ ملاقات کے خلاف ہے۔ملاقات کا مقصد ایک انسانی مطالعہ ہے، نہ کہ لوگوں کے بارے میں اچھی رائے یا بُری رائے قائم کرنا۔
ہر انسان ایک کامل انسان ہے۔ وہ اپنی ذات میں پوری نوعِ انسانی کا نمائندہ ہے۔ ہر عورت اور مرد کا رد عمل گویا پوری انسانیت کا رد عمل ہے۔ ہر انسان کا مطالعہ گویا پوری انسانیت کا مطالعہ ہے۔ ایک انسان کو جان لینا گویا پوری نوعِ انسانی کو جان لینا ہے۔
اس اعتبار سے ہر انسان گویاانسانیت کی ایک لائبریری ہے۔ اگر آپ کے اندر غیر جانبدارانہ سوچ ہے، اگر آپ تعصب سے خالی ہو کر انسان کا مطالعہ کرسکتے ہیں تو ہر انسان آپ کے لئے پوری انسانیت کے مطالعے کا ذریعہ بن جائے گا۔ آپ ایک انسان کو دریافت کر کے تمام انسانوں کو دریافت کر لیں گے، حتی کہ آپ کا محدود خاندان وسیع تر معنوں میں انسانیت کی ایک لائبریری بن جائے گا۔
ہر انسان کبھی خوش ہوتا ہے، کبھی غمگین ہوتا ہے، کبھی وہ مثبت ردعمل کا اظہار کرتا ہے اور کبھی منفی ردعمل کا اظہار۔ اسی طرح وعدہ پورا کرنا اور وعدہ پورا نہ کرنا، شکایت کو درگزر کرنا اور درگزر نہ کرنا، دیانت داری کے ساتھ معاملہ کرنااور بددیانتی کے ساتھ معاملہ کرنا،صدق بیانی کرنا اور کذب بیانی کرنا، مدلل اختلاف کرنا اور الزام تراشی کرنا،قابلِ پیشین گوئی کردار کا حامل ہونا اور ناقابلِ پیشین گوئی کردار کا نمونہ بن جا نا، وغیرہ۔ اس طرح کا ہر معاملہ بظاہر ایک انسان کی طرف سے پیش آتا ہے، لیکن وسیع تر معنوں میں وہ تمام انسانوں کے سلوک کو بتاتا ہے۔اگرآپ کے اندر گہرا مطالعہ کرنے کی صلاحیت ہو تو آپ ایک فرد کے اندر تمام افراد کو دیکھیں گے۔ آپ ایک خاندان کے اندر پوری انسانیت کے معاملےکو دریافت کرلیں گے۔ بشرطیکہ آپ کے اندر بصیرت (wisdom)کی صلاحیت پائی جاتی ہو۔
واپس اوپر جائیں

اپنی تعمیر آپ

زندگی کی دو قسمیں ہیں۔ ہر انسان جو اس دنیا میں آتا ہے وہ خالق کی طرف سے ایک منفرد صلاحیت (unique quality) کو لے کر آتا ہے۔ اس کے ساتھ ہر انسان ایک غیر معمولی دماغ (mind) لے کر آتا ہے۔ ہر انسان کے لئےیہ ممکن ہوتا ہے کہ اپنے دماغ کو استعمال کرکے اپنی صلاحیت کو دریافت کرے، اور دانش مندانہ پلاننگ کے تحت اپنے پوٹینشل (potential) کو واقعہ (actual) بنائے۔ ہر آدمی کامیابی کے ساتھ اس کو انجام دے سکتا ہے۔ بشرطیکہ وہ حقیقت پسندانہ انداز میں اپنے ذہن کو استعمال کرے۔
اس معاملہ کا دوسرا پہلو وہ ہے جس کو تائیدی نظام (supporting system) کہا جاسکتا ہے۔ فطرت کے مطابق یہ ہونا چاہئے کہ سماج کا نظام مکمل طور پر میرٹ (merit) کی بنیاد پر قائم کیا جائے۔ مبنی بر میرٹ سماج (merit-based society) کے اندر فطری طور پر ایک عمل قائم ہو جاتا ہے، جس کو آٹومیٹک چینلائزیشن (automatic channelization) کہا جاسکتا ہے۔ اس عمل (process) کے دوران اپنے آپ ایسا ہوتا ہے کہ ہر آدمی آخر کار اپنی استثنائی خصوصیت کو دریافت کر لیتا ہے جس کے لئے وہ پیدا کیا گیا تھا۔
اصل یہ ہے کہ ہر آدمی کے اندر اس بات کا طاقتور محرک پایا جاتا ہے کہ وہ اپنے سماج میں امتیازی درجہ حاصل کرے۔ یہ داخلی اسپرٹ اپنا کام کرتی ہے۔ آدمی نے اگر غلط چائس (choice) لے لیا ہے تو وہ اس کو آمادہ کرتی ہے کہ وہ اپنے چائس کو بدلےاور اس چائس کو لے جس میںوہ اکسل (excel) کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اس داخلی اسپرٹ کے ساتھ سماج کے اندر مبنی بر میرٹ نظام شامل ہوجائے تو اس کے بعد لازمی طور پر ایسا ہوتا ہے کہ ہر آدمی اپنے اس خصوصی رول کو پالیتا ہے جس کے لئے وہ پیدا کیا گیا تھا۔انسان اگرچہ پیدا کرنے والے کی طرف سے پیدا کیا جاتا ہے، لیکن اس کے بعد ہر انسان کویہ کرنا پڑتا ہے کہ وہ اپنی تعمیر آپ کرے۔ ہر آدمی اپنے آپ کو سیلف میڈ مین (self-made man ) بنائے۔
واپس اوپر جائیں

خبرنامہ اسلامی مرکز — 237

1- 6 فروری 2015 کو مالیگاؤں سی پی ایس کی ایک ٹیم نے مقامی سینٹ پال چرچ کا دورہ کیا اورچرچ کے منتظمین کے ساتھ وہاں باہمی بھائی چارگی پر ایک میٹنگ کی۔ اس میٹنگ میںمختلف موضوعات پر بات چیت ہوئی ۔ دوران گفتگوچرچ کے ذمہ داروں نے امن کے حوالہ سے صدر اسلامی مرکز کی کوششوں کا ذکر کیا۔میٹنگ کے اختتام پر ان لوگوں کو ترجمہ قرآن اور مراٹھی زبان میں ترجمہ شدہ کتاب پیغمبر امن بطور تحفہ دی گئیں۔
2- کولکاتا کے تین یوتھ مزشرمشتا، مز اننیا اور مسٹردنیش نے پیغمبر اسلام کی زندگی پر مشتمل فلم’دی میسیج‘ دیکھی۔ اس فلم کو دیکھنے کے بعد اسلام اور قرآن کے بارے میں جاننے کا ان کوشوق پیدا۔ تو انھوں نےکولکاتا سی پی ایس ٹیم کی ایک ممبر مز شبینہ علی سےترجمہ قرآن کے لیے درخواست کیا ۔ ان کی درخواست پر11جون 2015 کو انھیں ترجمہ قرآن مجید اور دیگر دعوتی لٹریچر دیا گیا۔ اس کے علاوہ ان کے دوستوں کے درمیان تقسیم کرنے کے لئے ان کو قرآن کی دس کاپیاں اور دعوتی لٹریچر دیئے گئے۔ان لوگوں نے اس کو قبول کرتے ہوئے بے حد خوشی شکریہ کا اظہار کیا۔ (محمد عبد اللہ، کولکاتا)
3- 17 جون 2015 کو انڈیا میں رہائش پذیر رومانین بدھسٹ راہب مسٹر مارسل (Marcel) نے صدر اسلامی مرکز سے ملاقات کی۔ وہ یہ جاننا چاہتے تھے کہ اسلام کے مطابق سچائی کیا ہے۔ صدر اسلامی نے انھیں اپنی زندگی کے تجربات سے بتایا کہ انھیں خدا کی دریافت کیسے ہوئی۔ آخر میں انھیں صدر اسلامی مرکز کی کتابوں کا ایک سیٹ بطور تحفہ دیا گیا۔
4- 23 جون، 2015 کو پونٹیفکل کونسل آف انٹر ریلیجز افیئرس (Pontifical Council for Interreligious Dialogue)کے نمائندوں پر مشتمل کرسچین فادرس کی ایک ٹیم صدر اسلامی مرکز سے ملاقات کے لیے آئی، اور گلوبل کرسچین کمیونٹی کی طرف سےصدر اسلامی مرکز کو رمضان کی مبارکباد پیش کی۔اس میٹنگ کے دوران اس بات پر گفتگو ہوئی کہ مختلف مذاہب کے ماننے والوں کے درمیان امن کو کیسے فروغ دیا جائے ۔ اس اس حوالے سے صدر اسلامی مرکزنے ان سے تفصیلی گفتگو کی-آخر میں ان تمام لوگوں کو انگریزی ترجمہ قرآن اور صدر اسلامی مرکز کی کتابوں کا ایک سیٹ دیا گیا، جس پر انھوںنے بے حد خوشی کا اظہار کیا اور کہا کہ اس ملاقات سے ان کو روحانی خوراک حاصل ہوئی ہے۔
5- 24 جون 2015 کو ریسرچ اسکالر مزبھاؤنا ملک نے صدر اسلامی مرکز کا انٹرویو لیا۔ انٹرویو کے بعد انھیں صدر اسلامی مرکز کی کتابوں کا ایک سیٹ بطور تحفہ دیا گیا، جسے انھوں نے بہت ہی خوشی اور شکریہ کے ساتھ قبول کیا۔
6- 30 جون 2015 کو پیس ہال (سہارن پور) میں روزہ افطار کا ایک پروگرام منعقد کیاگیا ۔ افطار کے بعد سی پی ایس سہارن پور کی چیر پرسن محترمہ شیاما دیوی نے ترجمہ قرآن، پرافٹ آف پیس، گاڈ ارائزز، ریلٹی آف لائف (کتابیں) لوگوں کے درمیان تقسیم کیں۔جن لوگوں نے اس افطار پارٹی میں شرکت کی ان میں قابل ذکر نام یہ ہیں، سوامی پریم، سوامی ڈاکٹر ہرش، ڈاکٹر کے ایل اروڑا( پرنسپل مہاراج سنگھ کالج) اور ڈاکٹرکے کے شرما، وغیرہ۔ (ڈاکٹر محمد اسلم خان، سہارن پور)
7- 3 جولائی 2015 کو بعد نماز جمعہ عبدالصمد صاحب نے سی پی ایس پونہ کی ایک ٹیم کے ساتھ پونہ کے مسلم ادارے اعظم کیمپس میں کتابوں کی فری تقسیم کا پروگرام آرگنائز کیا ۔یہ تجربہ کافی کامیاب رہا۔
8- ذیل میں چند دعوتی تجربات و تاثرات دیئے جارہے ہیں:
— Maulana Sb, thank you for enriching our present life and the life Hereafter with your Sunday lectures. Every lecture provides us with wisdom and insight. May God bless you with good health. (Naseer Uddin, Hyderabad, India)
— سی پی ایس الہ آباد کے سنٹر پر مستقل طور پر مسلم جماعتوں کے ممبران اور کارکن آتے رہتے ہیں۔ ان میں ایک کالج کے پروفیسر بھی ہیں۔ پروفیسر صاحب ترجمہ قرآن ڈسٹری بیوشن کے ساتھ مولانا کی کتابوں کو بھی لوگوں کے درمیان عام کررہے ہیں۔ وہ لوگوں کو ان کتابوںکے مطالعہ کی طرف راغب کرتے ہیں۔ ان کا یہ ماننا ہے کہ مسلم جماعتوں کے کارکنان میں معرفت الہی کی کمی ہے،جس کوصدر اسلامی مرکز کی کتابیں خاص طورسے ’’کتاب معرفت‘‘ کے ذریعہ دور کیا جاسکتا ہے۔ (محمد ابرار نرالا، الہ آباد)
— مَیں جامعہ ملیہ اسلامیہ کے کیمپس میں تھا کہ ایک نوجوان طالب علم میرے پاس آیا اور اس نے مجھ سے پوچھا: ’’(رمضان میں پڑھنے کے لیے)مجھے پاکٹ سائز عربی قرآن چاہئے، یہ کہاں مل سکتا ہے؟‘‘۔ اس وقت میں نے اس کو ترجمہ قرآن دیا اور اس کے دوستوں کے درمیان تقسیم کرنے کے لئے مزید ترجمۂ قرآن کی کچھ کاپیاں دیں۔ (محمد انس، دہلی)
واپس اوپر جائیں

Sunday, 2 August 2015

Al Risala | August 2015 (الرسالہ،اگست)

4

-معرفت کا رزق

5

- جنت کی دنیا

6

- کائناتی عبادت

7

- تدبر کی اہمیت

8

- موت کے بعد

9

- پیغمبر کی حیثیت

10

- نتیجہ ایک اشارۂ ربانی

11

- فتنۂ دہیماء فکری کنفیوژن

25

- شرحِ صدر کیا ہے

26

- تربیت کا ٹکنکل طریقہ

27

- صبر واعراض کا اصول

29

- توحید اور عدل

30

- زمین میں خلافت

31

- ٹیم کی تربیت

32

- دعوت کی ذمے داری

33

- فطرت کا ایک قانون

34

- مدعو فرینڈلی روش

35

- فکر کی تشکیل

36

- اسلام اور دورِ جدید

43

- متبادل کو جانیے

45

- زندہ قومیں کس طرح کام کرتی ہیں

47

- خبرنامہ اسلامی مرکز — 236


معرفت کا رزق

پیغمبر ِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے رمضان کے مہینے کے بارے میں فرمایا: شھر یزداد فیہ رزق المومن (صحیح ابن خزیمہ،حدیث نمبر 1887) یعنی رمضان کا مہینہ وہ مہینہ ہے جس میں مومن کا رزق بڑھادیا جاتا ہے۔یہاں رزق سے مراد مادی رزق نہیںہے، بلکہ معرفت کا رزق ہے۔یہ وہی رزق ہے جس کو قرآن میں رزقِ رب (20:131)کہا گیا ہے۔
اصل یہ ہے کہ روزے کی حالت میں فطری طورپر روزہ دار کی حساسیت بڑھ جاتی ہے۔ وہ زیادہ سے زیادہ اپنے رب کے بارے میں سوچتا ہے۔ وہ زیادہ سے زیادہ قرآن کا مطالعہ کرتا ہے۔ روزہ کے دوران وہ زیادہ یکسوئی کے ساتھ زندگی کی حقیقت پر غور کرتا ہے۔ اس کے نتیجے میںاس کے اندر روحانیت جاگ اٹھتی ہے، اس کی ذہنی بیدار ی میں اضافہ ہوتا ہے، وہ زیادہ سنجیدگی کے ساتھ اللہ کی باتوں پر غور وفکر کرنے لگتا ہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ وہ دین کی حقیقتوں کو زیادہ گہرائی کے ساتھ دریافت کرتا ہے، وہ اس قابل ہوجاتا ہے کہ وہ زیادہ حکمت کے ساتھ اپنے اور دین کے تعلق کو سمجھ سکے۔وہ قرآن کی آیتوں کے گہرے معانی کو دریافت کرے۔
رزق کا اضافہ کوئی پراسرار چیز نہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جب آدمی سچی اسپرٹ کے ساتھ روزہ رکھے تو اس کا ذہن عام دنوں کے مقابلے میں زیادہ بیدار ہوجاتا ہے، اس کی سوچ میں زیادہ گہرائی آجاتی ہے، وہ اللہ کی باتوں میں زیادہ سنجیدگی کے ساتھ غور کرنے لگتا ہے۔ روزہ دار کے اندر یہ بڑھی ہوئی کیفیت اس کو اس قابل بنادیتی ہے کہ وہ دین کے زیادہ گہرے پہلوؤں کا ادراک کرسکے۔ وہ زیادہ گہرے انداز میں معرفت کا رزق حاصل کرسکے۔
روزہ دار کے لیے رزقِ معرفت میں اضافہ صرف بھوک پیاس کی بنا پر اپنے آپ نہیں ہوتا، بلکہ وہ اس وقت ہوتا ہے جب کہ آدمی سچی اسپرٹ کے ساتھ روزہ رکھے۔ اس کا روزہ ، قرآن کے الفاظ میں،تقوی اور شکر کا روزہ بن گیا ہو۔
واپس اوپر جائیں

جنت کی دنیا

قرآن میں جنت کے بارے میں مختلف آیتیں آئی ہیں۔ ان میں سے ایک آیت یہ ہے: فَلَا تَعْلَمُ نَفْسٌ مَا أُخْفِیَ لَہُمْ مِنْ قُرَّةِ أَعْیُنٍ جَزَاءً بِمَا کَانُوا یَعْمَلُونَ (32:17)۔ تو کسی کو خبر نہیں کہ ان لوگوں کے لیے ان کے اعمال کے صلہ میں آنکھوں کی کیا ٹھنڈک چھپا رکھی گئی ہے۔
قرآن کی اس آیت میں جنت کے بارے میں ما اخفی لھم کے الفاظ آئے ہیں، یعنی کیا چھپا رکھا گیا ہے (which is kept hidden)۔ اخفی ماضی کا صیغہ ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جنت آئندہ بننے والی چیز نہیں ہے، بلکہ وہ قرآن کے نزول کے وقت بنی ہوئی موجود تھی۔ اسی لیے قرآن میں دوسری جگہ أُعِدَّتْ لِلْمُتَّقِینَ (3:133) کا لفظ آیا ہے۔ یعنی وہ تیار کی گئی ہے اللہ سے ڈرنے والوں کے لئے۔
قرآن کے مطالعے سے معلوم ہوتا ہے کہ خالق نے انسان کے لیے دو دنیائیں بنائی ہیں۔ ایک موجودہ دنیا (planet earth)، اور دوسری وہ دنیا جس کے لیے قرآن اور حدیث میں جنت کا لفظ استعمال کیا گیا ہے۔ موجودہ دنیا کو ابتلا (آزمائش)کی مصلحت کے تحت بنا یا گیا ہے، اور جنت کو ابدی انعام کی مصلحت کے تحت بنایا گیا ہے۔
قرآن کے مطالعےسے مزید معلوم ہوتا ہے کہ دونوں دنیائیں ایک دوسرے کے مشابہ (2:25)ہیں۔ فرق صرف یہ ہے کہ موجودہ دنیا عارضی ہے اور جنت کی دنیا ابدی۔ موجودہ دنیا میں انسان کو آزادی دی گئی ہے، تاکہ ہر فرد کو جانچ کردیکھا جائے کہ کیا اس کے اندر وہ کردار ہے جو جنت کی معیاری دنیا میں بسائے جانے کے لیے مطلوب ہے۔ جنت چونکہ انعام کی دنیا ہے اس لیے وہاں ہر چیز پرفکٹ اور آئڈیل درجے میں موجود ہے۔جنت ہر قسم کی محدودیت (limitation) اور نقص (disadvantage) سے پاک ہے۔ موجودہ دنیا وقتی ضرورت کے اعتبار سے بنائی گئی ہے، اور جنت انسان کے کامل فُل فِل مینٹ (fulfillment)کے اعتبار سے۔
واپس اوپر جائیں

کائناتی عبادت

قرآن کی سورہ نمبر45 کی ایک آیت یہ ہے: وَسَخَّرَ لَکُمْ مَا فِی السَّمَاوَاتِ وَمَا فِی الْأَرْضِ جَمِیعًا مِنْہُ إِنَّ فِی ذَلِکَ لَآیَاتٍ لِقَوْمٍ یَتَفَکَّرُونَ (الجاثیة : 13)۔ یعنی اللہ نے آسمانوں اور زمین کی تمام چیزوں کو تمھارے لیے مسخر کردیا، سب کو اپنی طرف سے ۔ بےشک اس میں نشانیاں ہیں ان لوگوں کے لیے جو غور کرتے ہیں ۔ قرآن کی اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ ساری کائنات انسان کے لیے بنائی گئی ہے۔
یہاں یہ سوال ہے کہ اس کائناتی تسخیر کا مقصد کیا ہے۔ جیسا کہ معلوم ہے ، کائنات کی وسعت لامحدود حد تک زیادہ ہے۔ اتنی بڑی کائنات انسان کی رہائش گاہ نہیں ہوسکتی۔ یہ بھی ناممکن ہے کہ انسان اتنی بڑی کائنات کو اپنا رزق بنا ئے۔ پھر اس کہنے کا کیا مطلب ہے کہ ساری کائنات انسان کے لیے بنائی گئی ہے۔
قرآن کی دوسری آیتوں، مثلاً سورہ آل عمران کی آخری رکوع کے مطالعے سے معلوم ہوتا ہے کہ کائنات اس لیے بنائی گئی ہے تاکہ انسان اس پر غور کرے۔ یہ غور کرنا ، لُبّ (عقل ) کے ذریعے ہوتا ہے ، نہ کہ کسی جسمانی عمل کے ذریعے۔ قرآن کی دوسری آیتوں سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ کی نشانیاں (signs) اتنی زیادہ ہیں کہ ان کی کوئی گنتی نہیں ہوسکتی۔ یہی وہ لامحدود کائناتی نشانیاں ہیں جن پر عقل سے تدبر کرکے انسان اپنے رب کی کائناتی عبادت کرتا ہے۔
یہ صرف انسان ہے جو یہ صلاحیت رکھتا ہے کہ وہ کائناتی نشانیوں میں تدبر (contemplation) کرے۔ یہ تدبر پہلے روایتی فریم ورک میں کیا جاسکتا تھا۔ اب تدبر کا یہ عمل سائنسی فریم ورک میں کرنا ممکن ہوگیا ہے۔ اس طرح انسان اللہ کی بے پایاں عظمت کو دریافت کرتا ہے۔ وہ اللہ سے حبّ شدید اور خوفِ شدید کا تعلق قائم کرتا ہے۔ وہ آخرت کی ابدی جنت کو اپنے تصور میں لاتا ہے۔یہی تدبر ہے، اور اسی تدبر کو کائناتی عبادت کہا گیا ہے۔
واپس اوپر جائیں

تدبر کی اہمیت

قرآن میں باربار تدبر پر زور دیا گیاہے- قرآن کی سورہ ص میں یہ آیت آئی ہے: کِتٰبٌ اَنْزَلْنٰہُ اِلَیْکَ مُبٰرَکٌ لِّیَدَّبَّرُوْٓا اٰیٰتِہٖ وَلِیَتَذَکَّرَ اُولُوا الْاَلْبَابِ (38:29) یعنی یہ ایک بابرکت کتاب ہے- جو ہم نے تمھاری طرف اتاری ہے، تاکہ لوگ اِس کی آیتوں پر غور کریں اور تاکہ عقل والے اِس سے نصیحت حاصل کریں-قرآن کی اِس آیت میں مبارک کا لفظ اِس معنی میں ہےکہ قرآن کی ہر آیت میں گہرے معانی چھپے ہوئے ہیں- اِن گہرے معانی کو صرف تدبر (contemplation) کے ذریعہ دریافت کیا جاسکتا ہے- اور جب قرآن کی آیتوں پر اِس طرح غور کیا جائے، تو آدمی اُس کے اندر ایسے معانی دریافت کرے گا جو اُس کی عقل کو ایڈریس کرنے والے ہوں- اور اُس کی شخصیت میں ربانی انقلاب لانے کا ذریعہ بن جائیں-
قرآن میں بہت کم ایسی باتیں ہیں، جو صراحت کی زبان میں ہیں- زیادہ تر باتیں اُس میں سراغ (clue) کے اسلوب میں ہیں- یعنی اِن آیتوں میں گہرے معانی کی طرف اشارہ کیاگیا ہے، جو آدمی کے لیے غوروفکر میں رہنمائی دیتے ہیں- یہ اسلوب اِس لیے ہے تاکہ قرآن کے معانی کی دریافت کے ساتھ انسان کے اندر ذہنی ارتقا (intellectual development) کا عمل بھی جاری رہے-
مثلاً قرآن میں بار بار پانی کا ذکر ہے- انسان کے لئے پانی کی اہمیت کو بتایا گیاہے- مگر قرآن میں پانی کے گہرے پہلوؤں کا ذکر نہیں ہے- مثلاً پانی انسان کے لئے بہت سے فوائد کا واحد ذریعہ ہے- طہارت کے لئے اور دوسرے بہت سے فائدوں کے لیے- اِس معاملے میں کوئی بھی چیز پانی کا بدل (substitute)نہیں- مگر قرآن میں اِس حقیقت کو لفظی طورپر نہیں بتایا گیا- مثلاً یہ نہیں کہا گیاہے کہ پانی کا کوئی بدل نہیں (لابَدیل للماء)- پانی کے بارے میں اِس حقیقت کو انسان کے اوپر چھوڑ دیاگیا ہےکہ وہ اِس پر غور کرے، اور پانی کی اِس اہمیت کو دریافت کرکے، خالق کی اعلیٰ معرفت حاصل کرے اور گہرائی کے ساتھ اُس کا `شکر ادا کرے-
واپس اوپر جائیں

موت کے بعد

ایک روایت کے مطابق، پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: إذا مات أحدُکم ؛ فقد قامتْ قیامتُہ (کنز العمال: 42123) یعنی جب کسی شخص کی موت آتی ہے تو موت کے بعد ہی اس کی قیامت شروع ہو جاتی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ موت خاتمۂ حیات نہیں، بلکہ موت ایک دورِ حیات سے نکل کر دوسرے دورِ حیات میں داخلہ ہے۔ایک دور اور دوسرے دور میں کوئی فاصلہ نہیں۔
حقیقت یہ ہے کہ زندگی ایک تسلسل (continuity) کا نام ہے، موت کا معاملہ صرف منتقلی (transfer) کا ایک معاملہ ہے، یعنی آدمی ایک عالَم سے نکل کر دوسرے عالَم میں پہنچ گیا۔
اصل یہ ہے کہ موجودہ دنیا تعمیرِشخصیت (personality building) کا مقام ہے۔ یہاں ہر آدمی اپنی شخصیت کی تعمیر کر رہا ہے۔ یہ شخصیت سازی دو طرح کی ہوتی ہے۔مثبت شخصیت یا منفی شخصیت۔ جو لوگ اس دنیا میں مثبت شخصیت بنائیں گے، وہ موت کے فوراً بعد اپنے آپ کو جنت کے باغوں میں پائیں گے۔اور جو لوگ اپنے اندر منفی شخصیت بنائیں گے، ان کو موت کے بعد جہنم میں جگہ ملے گی۔ یہی بات حدیث میں ان الفاظ میں آئی ہے: إنما القبرُ روضةٌ من ریاضِ الجنةِ أو حفرةٌ من حفرِ النارِ. (سنن الترمذی، حدیث نمبر 2460)یہ حدیث اس وقت سمجھ میں آتی ہے جب کہ ایک اور حدیث کی روشنی میں اس کو سمجھنے کی کوشش کی جائے۔ اس دوسری حدیث کے الفاظ یہ ہیں: إنما ہی أعمالکم تردُّ إلیکم (حلیۃ الاولیاء: 5/125) یعنی یہ ہر انسان کے اعمال ہیں جو آخرت میں اس کی طرف لوٹا دیے جائیں گے۔
انسان اور اس کے عمل کے درمیان کوئی دوری نہیں ہوتی۔ جہاں انسان ہے وہیں اس کے اعمال بھی موجود ہوتے ہیں۔ موجودہ دنیا میں انسان کے اعمال بظاہر دکھائی نہیں دیتے۔ لیکن موت کے بعد فورا وہ ظاہر ہوجائیں گے۔ انسان اپنے آپ کو اچانک اپنے اعمال کے درمیان پائے گا۔ اچھا عمل کرنے والا، اپنے آپ کو اچھے اعمال کے درمیان پائے گا، اور برا عمل کرنے والا اپنے آپ کو برے اعمال کے درمیان پائے گا۔
واپس اوپر جائیں

پیغمبر کی حیثیت

حدیث کی مختلف کتابوں میں ایک روایت آئی ہے۔ صحیح البخاری کے الفاظ یہ ہیں: لا تطرونی، کما أطرت النصارى ابن مریم، فإنما أنا عبدہ، فقولوا عبد اللہ، ورسولہ (صحیح البخاری ، حدیث نمبر 3445)۔یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میری تعریف میں مبالغہ نہ کرو، جیسا کہ نصاری نے ابن مریم کی تعریف میں مبالغہ کیا۔ میں تو صرف اللہ کا ایک بندہ ہوں، تم صرف یہ کہو کہ اللہ کا بندہ اور اس کا رسول۔اس طرح کی اور بھی روایتیں حدیث کی کتابوں آئی ہیں۔ ان روایتوں کا مطالعہ کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی امت کو سختی کے ساتھ منع کیا تھا کہ وہ اپنے پیغمبر کے ساتھ وہ معاملہ نہ کریں جو پچھلی امتوں نے اپنے پیغمبروں کے ساتھ کیا۔ یعنی پیغمبر کو صرف پیغمبر کے درجے میں رکھیں۔ اس کے ساتھ مبالغہ آمیز مدح خوانی کا طریقہ اختیار نہ کریں۔
یہ کوئی سادہ بات نہیں۔ اس نصیحت میں ایک اہم حکمت چھپی ہوئی ہے۔ امت جب پیغمبر کو عبد اور رسول کا درجہ دے تو امت کے اند ر یہ مزاج بنے گا کہ وہ اپنی زندگی میں پیغمبر کی پیروی کرے، وہ اپنے آپ کو پیغمبر کے نمونے پر ڈھالے، وہ ہر معاملے میں اپنے آپ کو ویسا ہی بنائے جیسا کہ پیغمبر نے اپنے آپ کو ہر معاملے میں بنایا۔اطراء کا مطلب ہے مبالغہ آمیز مدح خوانی (to praise highly)۔ امت جب اپنے پیغمبر کے بارے میں اطراء کی روش میں مبتلا ہوجائے تو امت کے افراد کے اندر یہ ذہن بنتا ہے کہ پیغمبر کے بارے میں ہمارا کام یہ ہے کہ اس کی مبالغہ آمیز نعت خوانی کریں۔ اس کے نام کے ساتھ بڑے بڑے القاب شامل کریں۔ پیغمبر کی اسی طرح قصیدہ خوانی کریں ، جس طرح پہلے زمانے میں بادشاہوں کی قصیدہ خوانی کی جاتی تھی۔ اس اطراء کا ایک ظاہرہ یہ ہے کہ امت کے افراد اپنے پیغمبر کے بارے میں بہت زیادہ حساس ہوجاتے ہیں۔ ان کے خیال کے مطابق اگر کوئی شخص پیغمبر کی ذات کےمعاملے میں گستاخی کا کلمہ کہہ دے تو وہ بھڑک اٹھیں گے، اورچاہیں گے کہ ایسے آدمی کو قتل کر ڈالیں۔ ایسے لوگ اپنے پیغمبر کے بارے میں جو کتابیں لکھیں گے ان میں شاعرانہ مبالغہ آرائی تو بہت ہوگی لیکن علمی اور تاریخی مواد ان کے اندر بہت کم پایا جائے گا۔
واپس اوپر جائیں

نتیجہ ایک اشارۂ ربانی

عن أبی ہریرة، قال: قال رسول اللہ صلى اللہ علیہ وسلم: من حسن إسلام المرء ترکہ ما لا یعنیہ(ابن ماجہ، حدیث نمبر: 3976)۔یعنی آدمی کے اسلام کی خوبی یہ ہے کہ وہ اس کام کو چھوڑدے جس میں کوئی فائدہ نہیں۔
یہ حدیث رسول ہم کو ایک معیار (criterion) دیتی ہے۔ جس کی کی روشنی میں ہم اپنے عمل کو جانچتے رہیں۔ جو عمل عملا نتیجہ خیز ثابت ہو، اس پر قائم رہیں، اور جو عمل بے نتیجہ ثابت ہو اس کو چھوڑ دیں۔
اس حدیث کا تعلق عبادت جیسے معاملات سے نہیں ہے۔ بلکہ ان امور سے ہے جو دنیا میں کسی نتیجے کے لیے کیے جاتے ہیں۔ مثلا دشمن سے قتال کا معاملہ اگر ہمارا کوئی دشمن پایا جائے اور ایسے حالات پیدا ہوں کہ اس کے ساتھ قتال کرنا چاہیے ۔ تب بھی قتال برائے قتال کا طریقہ اختیار نہیں کیا جائے گا، بلکہ قتال برائے نتیجہ کا طریقہ اختیار کیا جائے گا۔
مثال کے طور پر موجودہ زمانے کے مسلمان سو سال سے زیادہ مدت سے جہاد کے نام پر قتال کررہے ہیں، وہ اپنے مفروضہ دشمنوں کے خلاف متشددانہ جنگ چھیڑے ہوئے ہیں، لیکن جانی اور مالی قربانیوں کے باوجود اس عمل کا مطلوب نتیجہ مسلمانوں کو نہیں ملا۔ اب مذکورہ حدیث کے مطابق، مسلمانوں کو یہ کرنا ہے کہ وہ توبۂ جمیع (24:31) پر عمل کریں، اور یک لخت اپنی تمام متشددانہ سرگرمیوں کو ختم کردیں۔ جب وہ ایسا کریں گے تو ان کو نظر آئےگا کہ ان کے کرنے کا اصل کام پرامن دعوت ہے نہ کہ متشددانہ سرگرمیاں۔
یہی اس وقت اسلامی تعلیمات کا تقاضا ہے۔ تشدد خواہ جہاد کے نام سے کیا جائے، لیکن وہ تشدد ہے۔ اور عملی اعتبار سے اس کا مثبت نتیجہ نہیں نکلنا اس بات کی علامت ہے کہ اللہ کے نزدیک وہ کوئی مطلوب اسلامی عمل نہیں۔ اگر وہ مطلوب اسلامی عمل ہوتا تو اس پر ضرور اللہ کی نصرت نازل ہوتی۔ جیسا کہ قرآن میں آیا ہے: وَکَانَ حَقًّا عَلَیْنَا نَصْرُ الْمُؤْمِنِینَ (30:47)۔ یعنی اور ہم پر یہ حق تھا کہ ہم مومنوں کی مدد کریں ۔
واپس اوپر جائیں

فتنۂ دہیماء: فکری کنفیوژن

پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک حدیث دورِ فتنہ کے بارے میں آئی ہے- یہ ایک لمبی حدیث ہے، اس کا ایک حصہ یہ ہے: ثم فتنة الدُّہیماء لا تدع أحداً من ہذہ الأمة إلا لطمتہ لطمة (سنن أبی داؤد، حدیث نمبر: 4244) یعنی آخری زمانے میں فتنہ دہیماء ظاہر ہوگا- وہ اتنا زیادہ عام ہوگا کہ امت کا کوئی بھی شخص نہیں بچے گا جو اِس فتنےکی زد میں نہ آجائے:
It will hit everyone without any exception.
اِس حدیثِ رسول میں دُہیماء کالفظ استعمال ہوا ہے- دہیما کے لیے مشہور عربی لغت لسان العرب میں یہ الفاظ آئے ہیں: الفتنة السوداء المظلمة (12/211)- دہیماء کی تصغیر مبالغہ کے لیے ہے، یعنی فتنۂ دہیماء بہت زیادہ سیاہ اور سخت تاریکی پیدا کرنے والا فتنہ ہوگا- اِس حدیثِ رسول کے مطابق، فتنۂ دہیماء کا زمانہ مکمل تاریکی کا زمانہ (age of total darkness) ہوگا- تاریکی سے مراد فکری تاریکی (intellectual darkness)ہے- دوسرے الفاظ میں، اِس کا مطلب ہے — مکمل فکری کنفیوزن (utter intellectual confusion) ۔
قانونِ فطرت کے مطابق، یہ دور اچانک نہیں آئے گا، بلکہ تدریجی عمل (gradual process) کے تحت آئے گا۔ یہ واقعہ خود امتِ مسلمہ کے اندر پیش آئے گا اور یہ اُس حالت کا ایک ظاہرہ ہوگا جس کو زوالِ امت کہاجاتا ہے- مذکورہ روایت کے الفاظ کے مطابق، فتنۂ دہیماء کی یہ صورتِ حال اصلاً خود امت کے اندر پیش آئے گی، نہ کہ امت کے باہر۔
ایک روایت کے مطابق، پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اصحاب کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا کہ میں تم کو ایک ایسے دینِ بیضا پر چھوڑ رہا ہوں جس کی راتیں بھی دن کی طرح روشن ہیں: قد ترکتم على البیضاء، لیلہا کنہارہا (مسند احمد، حدیث نمبر: 17142)۔ مگر بعد کے زمانے میں امت کے اندر بہت زیادہ اختلاف (اختلافا کثیراً) پیدا ہوجائے گا- اِس اختلافِ کثیر سے مراد وہی چیز ہے جس کو مذکورہ حدیث میں فتنۂ دہیماء کہا گیا ہے، یعنی قرآن وحدیث کی تشریح وتعبیر میں اختلافات سے تصورِ دین کا غیر واضح ہوجانا-
اختلاف کا سبب
امت کی بعد کی نسلوں میں فکری اختلاف کا سبب کیا ہے- یہ سبب وہی ہے جو پچھلی امتوں میں پیدا ہوا- پچھلی امتوں کا واقعہ امتِ مسلمہ کے معاملے کو سمجھنے کے لیے ایک تاریخی مثال کی حیثیت رکھتا ہے- یہ حقیقت قرآن کی سورہ البینة میں ان الفاظ میں بیان کی گئی ہے: وَمَا تَفَرَّقَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْکِتٰبَ اِلَّا مِنْۢ بَعْدِ مَا جَاۗءَتْہُمُ الْبَیِّنَةُ ۝ وَمَآ اُمِرُوْٓا اِلَّا لِیَعْبُدُوا اللّٰہَ مُخْلِصِیْنَ لَہُ الدِّیْنَ ڏ حُنَفَاۗءَ وَیُقِیْمُوا الصَّلٰوةَ وَیُؤْتُوا الزَّکٰوةَ وَذٰلِکَ دِیْنُ الْقَیِّمَةِ ۝ (98:4-5) یعنی جو لوگ اہلِ کتاب تھے، وہ واضح دلیل آجانے کے بعد مختلف ہوگئے- حالاں کہ ان کو یہی حکم دیا گیا تھا کہ وہ اللہ کی عبادت کریں ۔ اس کے لیے دین کو خالص کر دیں ، یکسو ہو کر اور نماز قائم کریں اور زکوٰۃ دیں ، اور یہی درست دین ہے۔
پچھلی امتوں میں جو واقعہ پیش آیا، وہ یہ تھا کہ اُن کو اللہ کی کتاب دی گئی تھی، لیکن ان کی بعد کی نسلوں کے درمیان کتاب کی تشریح وتوضیح میں علماء کے درمیان اختلافات پیدا ہوئے- ان اختلافات کی بنا پر امت مختلف گروہوں میں بٹ گئی- اختلاف کا یہی واقعہ، فطرت کے قانون کے مطابق، امتِ مسلمہ کی بعد کی نسلوں میں پیش آئے گا- دونوں کا مشترک سبب ایک ہے-
یہ معاملہ کیوں پیش آتا ہے- اِس کا سبب یہ ہے کہ امت کی ابتدائی نسل میںدین اپنی اسپرٹ کے اعتبار سے زندہ ہوتا ہے- لوگوں پر یہ بات واضح ہوتی ہے کہ دین اصلاً اسپرٹ کا نام ہے- جہاں تک اس کی ظاہری صورت یا فارم (form) کا تعلق ہے، وہ دین کا ایک اضافی حصہ (relative part) ہے- یہ ایک حقیقت ہے کہ اسپرٹ میں ہمیشہ یکسانیت ہوتی ہے- اِس لیے امت جب تک اسپرٹ والے دین پر قائم ہو، اُس وقت تک اس کا اتحاد باقی رہتا ہے، لیکن بعد کے دور میں زوال کی بنا پر اسپرٹ مفقود ہوجاتی ہے اور لوگ دین کے فارم کو اصل دین سمجھ لیتے ہیں- چوں کہ فارم میں ہمیشہ اختلاف ہوتا ہے، اِس لیے امت جب زوال کا شکار ہوکر فارم پر قائم ہوجائے تو ہمیشہ اختلافات پیدا ہوتے ہیں- پہلے اختلاف آتا ہے، پھر فرقہ بندی ہوتی ہے اور پھر مختلف گروہوں کے درمیان تشدد شروع ہوجاتا ہے-
اِس معاملے کی ایک مثال یہ ہے کہ ایک حدیثِ رسول میں آیا ہے : لا صلاة إلا بفاتحة الکتاب (مسند احمد، حدیث نمبر: 22671) یعنی سورہ الفاتحہ کے بغیر کوئی نماز، نماز نہیں- پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد صحابہ کے زمانے میں بھی لوگوں کو معلوم تھا، لیکن اِس کی بنا پر لوگوں کے درمیان کوئی اختلاف پیدا نہیں ہوا، کیوں کہ اس زمانے میں اسپرٹ بھر پور طورپر زندہ تھی- لوگ سمجھتے تھے کہ اصل چیز یہ ہے کہ حالتِ نماز میں سورہ الفاتحہ کے معانی کی یاد دہانی ہوتی رہے- سرّی نمازوں میں ہر آدمی خود سورہ الفاتحہ پڑھتا تھا اور جہری نمازوں میں ہر آدمی یہ سمجھتا تھا کہ امام کی زبان سے سورہ الفاتحہ کو سن کر قرأتِ فاتحہ کا مقصد نیابتاً حاصل ہوگیا-
لیکن بعد کے زمانے میں جب امت کے اندر زوال آیا اور ساری اہمیت عبادت کے فارم کو دی جانے لگی، اُس وقت اِس حدیث کو لے کر لوگوں کے درمیان زبردست اختلاف پیدا ہوگیا- ایک گروہ نے کہا کہ جہری نمازوں میں سورہ الفاتحہ کی نیابةً ادائیگی کافی ہے- دوسرے گروہ نے کہا کہ نہیں، ہرمصلی کو لازماً اپنی نماز میں ذاتی طورپر سورہ الفاتحہ پڑھنا چاہیے، حتی کہ جہری نمازوں میں جب کہ امام بلند آواز سےقرأت کررہا ہو، تب بھی مقتدیوں پر لازم ہے کہ وہ آہستہ آہستہ سورہ الفاتحہ پڑھیں، ورنہ ان کی نماز نہیں ہوگی-
قرآن کی مذکورہ آیت (98:4-5) میں اِسی حقیقت کو بیان کیا گیا ہے- زوال کے دور میں پچھلی امتوں کے درمیان اِسی سبب سے اختلافات پیدا ہوئے- امتِ مسلمہ کے درمیان بھی اس کے زوال کے دور میں یہی صورت حال لازماً پیش آئے گی اور اِس اختلاف کی بنا پر دین میں رایوں کا اختلاف اتنازیادہ بڑھ جائے گا کہ عام انسان کے لیے یہ سمجھنا مشکل ہوجائے گا کہ خدا کا بھیجا ہوا اصل دین (دینِ قیم) کیا ہے-
پیغمبرانہ پیشین گوئی
حضرت علی سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یوشک أن یأتی على الناس زمان لا یبقى من الإسلام إلا اسمہ، ولا یبقى من القرآن إلا رسمہ- مساجدہم عامرة وہی خراب من الہدى۔ علماءہم شر من تحت أدیم السماء، من عندھم تخرج الفتنة وفیہم تعود (شعب الایمان للبیہقی، حدیث نمبر: 1763) یعنی قریب ہے کہ لوگوں کے اوپر وہ زمانہ آئے جب کہ اسلام کا صرف نام باقی رہے اور قرآن کی صرف تحریر باقی رہے۔ ان کی مسجدیں بظاہر آباد ہوں گی، لیکن وہ ہدایت سے خالی ہوں گی- اُن کے علماء آسمان کے نیچے سب سے برے لوگ ہوں گے۔ ان سے فتنہ نکلے گا، اور انھیں کی طرف فتنہ لوٹے گا-
اِس حدیث رسول کے مطالعے سے معلوم ہوتا ہے کہ اِس میں اُس وقت کی پیشین گوئی ہے جب کہ دہیماء کا فتنہ اپنی آخری حد تک پہنچ چکا ہوگا- اُس زمانے میں بظاہر اسلام کے نام پر بڑی بڑی سرگرمیاں دکھائی دیں گی، لیکن اِس سرگرمیوں میں دین کی اصل حقیقت موجود نہ ہوگی۔ قرآن کے نسخے ہر جگہ موجود ہوں گے، لیکن لوگ قرآن کے صرف الفاظ کو جانتے ہوں گے، قرآن کے معانی سے وہ بالکل بے خبر ہوں گے-
امت کا فکری زوال
ایک حدیث رسول میں بتایا گیا ہے کہ: خیر أمتی قرنی،ثم الذین یلونہم، ثم الذین یلونہم (صحیح البخاری، حدیث نمبر: 3650)- اِس حدیث رسول میں اسلام کے تین ادوار کو خیر کے ادوار کہاگیا ہے- اِن ادوار کو قرونِ ثلاثہ یا قرونِ مشہود لہا بالخیر کہا جاتا ہے- اِن تین ادوار سے مراد ہے— عہدِ رسالت، عہدِ صحابہ، عہدِ تابعین- اِن تین ابتدائی ادوار کی مدت پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات (632ء) کے بعد تقریباً ایک سوسال تک جاری رہی- اِس کے بعد وہ دور شروع ہوگیا جو قرونِ مشہود لہا بالخیر کے بعد کا د\ور تھا- گویا کہ اسلام کی تاریخ میں مستند ادوار صرف ابتدائی تین ادوار ہیں- بعد کے ادوار کو اسلام میں مستند حیثیت حاصل نہیں-
اِس مسئلے کی مزید تعیین کی جائے تو کہا جائے گا کہ اسلام کے ابتدائی تین ادوا ر میں اسلام کا فکری مرجع تمام تر قرآن تھا- ثانوی مرجع کے طورپر حدیث بھی اِس میں شامل ہے، کیوں کہ حدیث قرآن کی تشریح ہے- حدیث کے بغیر قرآن کو درست طورپر سمجھنا ممکن نہیں- تقریباً سوسال بعد اسلام کی تاریخ میں ایک نیا دور شروع ہوا جس کو فقہی دور کہا جاسکتا ہے- یہ وہ دور ہے جب کہ ساسانی ایمپائر اور بازنطینی ایمپائر کے علاقے فتح ہوئے اور بتدریج اِس علاقے کے لوگ اسلام میں داخل ہونا شروع ہوئے- اس کے بعد اسلام کی تاریخ میں ایک نیا ظاہرہ پیدا ہوا جس کو عمومی قبولِ اسلام (mass conversion) کہاجاتا ہے- یہ لوگ اسلام سے پہلے مجوسی مذہب یا مسیحی مذہب میں شامل تھے- اِن تمام مذاہب میں اُس وقت سا ری اہمیت صرف فارم (form) کودی جاتی تھی- اِن لوگوں نے جب اسلام قبول کیا تو اپنے قدیم مائنڈ سیٹ (mindset) کے تحت وہ یہ جاننے کی کوشش کرنے لگے کہ اسلام کا فارم کیا ہے- یہی وہ دور ہے جب کہ اسلام کی تاریخ میں وہ شعبہ پیدا ہوا جس کو فقہ کہاجاتاہے-
یہی وہ زمانہ ہے جب کہ حدیثوں کی جمع وتدوین شروع ہوئی- فقہاء نے فارم کے بارے میں لوگوں کے سوالات کا جواب معلوم کرنے کے لیے حدیثوں کو دیکھا۔ احادیث کے ذخیرے میں مختلف صحابہ کی زبان سے یہ بتایا گیا تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کس طرح عبادت کرتے تھے- فقہا کو معلوم ہوا کہ اِس معاملہ میں صحابہ کی روایتیں مختلف ہیں- مثلاً کسی صحابی کی روایت آمین بالسر کے حق میں تھی تو کسی صحابی کی روایت آمین بالجہر کے حق میں تھی۔ احادیث کے ذخیرے میں اِس طرح کے کثیر اختلافات موجود تھے-
یہیں سے مسلمانوںمیں ایک ڈی ریلمنٹ (derailment) شروع ہوا- فقہاء کو یہ کہنا چاہئے تھا کہ دین میں اگرچہ اسپرٹ ایک ہے، لیکن فارم میں تنوع (diversity) پایا جاتا ہے، اِس لیے تم جس صحابی کی روایت پر چاہو عمل کرو- البتہ تم کو سب سے زیادہ دھیان اسپرٹ پر دینا چاہیے- لیکن فقہاء نے یہاں بطور خود یہ اصول وضع کیا کہ فارم کے بارے میں مختلف روایتوں میں کوئی ایک ہی روایت درست ہوسکتی ہے، اِس لیے اِس ذہن کے تحت انھوں نے ترجیح کا اصول وضع کیا- وہ بحث ومباحثے کے ذریعے ایک طریقے کو راجح اور دوسرے طریقہ کو مرجوح قرار دینے لگے- ترجیح کا یہ اصول سب کو ایک رائے پر جمع نہیں کرسکتا تھا، کیوں کی امام شافعی کے الفاظ میں، ساری بحثوں کے باوجود فریقِ ثانی کے حق میں یہ احتمال باقی رہتا تھا کہ شاید اس کی رائے درست ہو-
دین میں اسپرٹ کے بجائے فارم کو اہمیت دینے کا یہ فقہی طریقہ بعد کے لوگوں کے لیے ایک رجحان ساز (trendsetter) واقعہ بن گیا- اِس کے بعد دینی موضوعات پر جو کتابیں لکھی گئیں، وہ تقریباً سب کی سب اِسی نہج پر لکھی گئیں- یہ سلسلہ آج تک جاری ہے — دین بیضا کا دینِ غیر بیضا بن جانے کا اصل سبب یہی ہے-
اگر آپ فقہی کتابوں کا مطالعہ کریں تو آپ پائیں گے کہ فقہ میںبظاہر اسلام کی مختلف تعلیمات زیر بحث آتی ہیں، لیکن عملاً تمام فقہی بحثیں اِن تعلیمات کے فارم پر ہوتی ہیں- فقہ کا یہ پیٹرن اصولی بنیادپر نہیں بنا، بلکہ حالات کے زیر اثر (situational factor) بنا ہے-آپ قرآن کو پڑھیں تو معلوم ہوگا کہ قرآن میں سارا زور اسلام کی اسپرٹ پر دیا گیا ہے، لیکن فقہ میں ایک شفٹ آف ایمفیسس (shift of emphasis) کا واقعہ پیش آیا اور سارا زور اسپرٹ کے بجائے فارم پر دیا جانے لگا-
قرآنی پیٹرن کے بجائے فقہی پیٹرن
اِس کے بعد مزید یہ ہوا کہ فقہ کا یہ اسلوب ، عملاً اہلِ علم کے درمیان عام ہوگیا- بعد کے اہلِ علم نے اِسی پیٹرن کو معیاری پیٹرن کی حیثیت سے اختیار کرلیا- وہ اِسی انداز میں سوچنے لگے اور اِسی انداز پر کتابیں لکھنے لگے- یہ فقہی پیٹرن اتنا زیادہ عام ہوا کہ بعد کے زمانے میں لکھی جانے والی کتابوں میں شاید کوئی بھی کتاب اِس سے مستثنی نہیں-
مثلاً ابن تیمیہ (وفات: 1328ء) کی کتاب ’الصارم المسلول على شاتم الرسول ‘اِسی نہج کی ایک کتاب ہے- اِس کتاب میں ابن تیمیہ نے شاتمِ رسول کے لیے قتل کی سزا بتائی ہے۔ صرف اِس لیے کہ فقہا نے بعد کے زمانے میں یہ حکم وضع کیا کہ شاتم کو بطور سزا قتل کیا جائے گا (یُقتل حدًّا)۔ حالاں کہ قرآن میں اس حکم کی کوئی اصل موجود نہیں- ابن تیمیہ اگر کتبِ فقہ سے اوپر اٹھ کر اِس موضوع پر قرآن کی اسپرٹ کے مطابق، اِس مسئلے پر غور کرتے تو وہ لکھتے کہ شاتم کی حیثیت ایک مدعو کی ہے، شاتم کو دعوت دیناہے، نہ کہ قتل کرنا- شاتم بظاہر دشمن نظرآتا ہو ، تب بھی اپنی فطرت کے اعتبار سے، وہ ایک انسان ہے- اگر اس کے سامنے اسلام کا دین حکیمانہ انداز میں پیش کیا جائے تو عین ممکن ہے کہ وہ اسلام کی حقانیت کا اعتراف کرے اور اس کی دشمنی دوستی میں تبدیل ہوجائے(41:34)۔
اِس طرح کی ایک مثال شاہ ولی اللہ دہلوی (وفات: 1762ء) کی مشہور کتاب حجة اللہ البالغة ہے- اِس کتاب کا ٹائٹل بظاہر قرآن کی ایک آیت (6:149) سے ماخوذ ہے- مگر عملاً یہ کتاب قرآنی پیٹرن پر نہیں لکھی گئی ہے، بلکہ فقہی پیٹرن پر لکھی گئی ہے- یہی وجہ ہے کہ اِس کتاب کے تمام مباحث فقہی اسلوب پر مبنی ہیں- مثلاً اس کتاب میں سُترہ سے لے جہاد تک کے تمام ابواب موجود ہیں، لیکن اِس میں دعوت الی اللہ کا باب موجودنہیں- حالاں کہ اگر مصنف، قرآن کے اسلوب کا تتبع کرتے تو یقیناً وہ اِس حقیقت کو دریافت کرلیتے کہ قرآن میں سب سے زیادہ اہمیت دعوت الی اللہ کو دی گئی ہے- قرآن پورا کا پورا ایک کتاب ِ دعوت ہے-
معانی کے بجائے الفاظ کی اہمیت
اسلام کو مبنی بر فارم مذہب (form-based religion) قرار دینے کا دوسرا شدید تر نقصان یہ ہوا کہ اسلام میں عقلی توجیہہ (rational interpretation) کا مزاج ختم ہوگیا- قرآن وحدیث کے مطالعے میں ساری اہمیت لفظی تشریح (literal interpretation) کو دی جانے لگی- بعد کے زمانے میں مسلم اہلِ علم نے جو کتابیں لکھیں، وہ تقریباً سب کی سب اِسی نہج پر لکھی گئیں- اِس معاملے میں غالباً صرف ایک کتاب مقدمة ابن خلدون کا استثنا ہے- اِس منہج فکر کا نتیجہ یہ ہوا کہ مسلمانوں کےاندرعملاً عقلی غوروفکر مکمل طورپر مفقود ہوگیا-
علامہ انور شاہ کشمیری (وفات: 1934ء) برصغیر ہند کے مشہور عالم ہیں- انھوں نے لکھا ہے کہ حدیث (الحلال بیّن والحرام بیّن) کو سمجھنے کے لیے انھوںنے حدیث کی تمام متداول شرحیں دیکھیں، مگر کسی شرح میں انھیں اس حدیث کی کوئی بامعنی وضاحت نہیں ملی- چناں چہ وہ اپنا تاثر اِن الفاظ میں بیان کرتے ہیں: لم یتحصّل عندنا منہ شیء غیر حلّ الألفاظ (فیض الباری على صحیح البخاری: 153/1) یعنی حلِ الفاظ کے سوا مجھے اِس میں کچھ اور نہیں ملا- علامہ انور شاہ کشمیری کا یہ تبصرہ حدیث کی تمام شرحوں پر صادق آتا ہے-
دو مثالیں
اِس معاملے کو سمجھنے کے لیے یہاں دو مثالیں نقل کی جاتی ہیں- اسلام کی تعلیمات میں ایک مسئلہ وہ ہے جس کو خفین پر مسح کا مسئلہ کہاجاتا ہے، یعنی مسافر آدمی اگر وضو کرکے موزوں کے اوپر مسح کرے تو تین دن تک اُس کو وضو کے موقع پر اپنا پاؤں دھونے کی ضرورت نہیں- اُس کے لیے صرف موزوں کے اوپر مسح کرنا کافی ہوگا- اِس شرعی مسئلے کے بارے میں امام ابو حنیفہ (وفات: 767ء) کہتے ہیں کہ دین کی بنیاد اگر رائے (عقل) پر ہوتی تو میں کہتا کہ پاؤں کے نیچے سے مسح کیا جائے، نہ کہ پاؤں کےاوپر سے-
امام ابو حنیفہ کا یہ قول صرف اِس لیے ہے کہ انھوں نے اِس معاملے میں حدیثِ رسول کو محض الفاظ کے اعتبار سے لیا- انھوں نے اِس حدیث رسول پر عقلی اعتبار سےغور نہیں کیا- اگر وہ اِس حکم پر غور کرتے تو وہ کہتے کہ مسح على الخفین وضو کا بدل نہیں ہے، بلکہ وہ وضو کی ایک علامت ہے- آدمی جب موزے کے اوپر مسح کرتا ہے تو وہ علامتی طور پر وضو کے حکم کی تعمیل کرتا ہے،اور جب وہ علامتی ہے تو یہ بات اضافی ہوجاتی ہے کہ پاؤں کی کس سمت سے مسح کیا جائے-
اِسی طرح اِس معاملے کی ایک مثال ابن قیم الجوزیہ (وفات: 1350ء) کی مشہور کتاب ’طریق الہجرتین وباب السعادتین‘ ہے- اِس کتاب میں مصنف نے ہجرت کی دو تقسیم کی ہے — ایک، اللہ کی طرف ہجرت، یعنی اللہ کی عبادت اور اللہ سے محبت، وغیرہ- دوسرے، رسول کی طرف ہجرت ، یعنی رسول کی سنت کا اتباع-
اسلام میں ہجرت یا مہاجرت صرف ایک چیز کا نام ہے اور وہ صرف ترک وطن (migration)ہے- مصنف نے دو ہجرت کا تصور صرف ایک لفظی بنیاد پر اخذ کیا ہے، وہ یہ کہ صحیح البخاری کی پہلی روایت جو نیت کے بارے میں ہے، اس میںیہ الفاظ آئے ہیں: فمن کانت ہجرتہ إلى اللہ ورسولہ (صحیح البخاری، حدیث نمبر: 54) اس حدیث میں طریقِ ہجرت کو بیان نہیں کیا گیا ہے، بلکہ نیتِ ہجرت کو بیان کیا گیا ہے، یعنی اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ ہجرت کی دو قسمیں ہیں، بلکہ اس کا مطلب صرف یہ ہے کہ اپنی حقیقت کے اعتبار سے، ہجرت صرف وہ ہے جو رضاء الہی کے جذبہ سے کی جائے-
اِس اسلوب کا نقصان یہ ہے کہ اس میں وضوح (clarity) کا خاتمہ ہوگیا ہے- اِس کتاب کو پڑھ کر آدمی صحیح طور پر نہ ہجرت کی حکمت کو سمجھ پاتا ہے اور نہ دوسرے مذکورہ اعمال کی حکمت کو- گویاجدید تعلیم کی اصطلاح میں یہ ایک مائنس مارکنگ (minus marking) کا معاملہ ہے جس میں دونوں قسم کے احکام کی گہری معنویت قاری کے ذہن سے حذف ہوجاتی ہے-
بعد کے زمانے میں جو کتابیں لکھی گئیں، وہ تقریباً سب کی سب اِسی اسلوب پر لکھی گئیں- اسلام کی ابتدائی تین نسلوں تک لوگوں کے درمیان قرآنی طرز فکر غالب تھا- بعد کو مسلمانوں میں جو دور آیا، اس میں عام طورپر فقہی اسلوب کا غلبہ ہوگیا- تاہم پرنٹنگ پریس کے وجود میں آنے سے پہلے اِس ذہن کی اشاعت صرف محدود پیمانے پر ہوسکتی تھی، کیوں کہ اُس زمانے میں کتابیں مخطوطات (manuscripts) کی شکل میں ہوتی تھیں اور مخطوطات کے ذریعے کسی فکر کی عمومی اشاعت ممکن نہیں تھی- اٹھارھویں صدی عیسوی میں جب پریس کا زمانہ آیا تو اس کے بعد مسلم اہلِ علم کی کتابیں چھپ کر عمومی طورپر پھیلنے لگیں، یہاں تک کہ بیسویں صدی میں یہ حال ہوا کہ ہر زبان میں اِس قسم کی مطبوعہ کتابیں اتنا زیادہ عام ہوئیں کہ کوئی بھی مسلمان اُس سے بے خبر نہ رہا-
مذکورہ حدیثِ رسول میں جس فتنۂ دہیماء کا ذکر ہے، وہ اصلاً یہی فتنہ ہے، یعنی قرآنی طرز فکر کا خاتمہ اور فقہی طرزِ فکر کی عمومی اشاعت اور پھر دورِ پریس میں اس کا اتنا زیادہ بڑھ جانا کہ کوئی بھی مسلمان اس کی زد سے محفوظ نہ رہے-
فہمِ دین
دینِ اسلام کی بنیاد قرآن پر ہے- قرآن کا صحیح فہم ہی دین کے صحیح فہم کا ضامن ہے- قرآن کو سمجھنے میں اگر غلطی ہوجائےتو دین کو صحیح طورپر سمجھنا ممکن نہ ہوگا- اصحابِ رسول کو دین ِ اسلام میں ماڈل کی حیثیت حاصل ہے اور اصحابِ رسول کی پوری تربیت اسی قرآن کی بنیاد پر ہوئی تھی-
حضرت جندب بن عبد اللہ البجلی سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: کنا مع النبی صلى اللہ علیہ وسلم، ونحن فتیان حزاورة،فتعلمنا الإیمان قبل أن نتعلم القرآن، ثم تعلمنا القرآن فازددنا بہ إیمانا(ابن ماجہ،حدیث نمبر: 61) یعنی ہم کچھ نوجوان نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ رہتے تھے- ہم نے آپ کے ساتھ رہ کر ایمان سیکھا، اِس سے پہلے کہ ہم قرآن سیکھیں- اِس کے بعد ہم نے قرآن سیکھا تو قرآن ہمارے لیے اضافۂ ایمان کا ذریعہ بن گیا-
اِس روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ قرآن فہمی کے سلسلے میں سب سے پہلا کام یہ ہے کہ قرآن کے مرکزی مضمون (central theme) کو دریافت کیا جائے- قرآن کے مرکزی مضمون کی دریافت ہی وہ چیز ہے جو پوری قرآن کو بامعنی بناتی ہے- جب ایسا ہوتا ہے تو اس کے بعد مومن کے ذہن میں ایک ربانی پراسس جاری ہوجاتا ہے- اِس کے بعد ایک تدریجی عمل کے ذریعے اس کے اندر اُس شخصیت کی تعمیر ہوتی ہے جس کو مومن کہا جاتا ہے-
غور کرنے سے معلوم ہوتاہے کہ قرآن کا مرکزی مضمون یہ ہے کہ انسان کو خالق کے تخلیقی منصوبہ (creation plan of God) سے آگاہ کیا جائے، تاکہ انسان اس کے مطابق، اپنی زندگی کی کامیاب تعمیر کرسکے- اِس تعمیر ِ شخصیت کا آغاز خدا کی معرفت (realization of God) سے ہوتا ہے-
اِس کے بعد آدمی یہ دریافت کرتا ہے کہ اس کو اپنی ذات کی نسبت سے، اللہ کا عبادت گزار بننا ہے، اور دوسرے انسانوں کی نسبت سے، اس کو پُرامن دعوت الی اللہ کا کام کرنا ہے- یہی تین چیزیں ہیں جو ایک انسان کے اندر مومنانہ شخصیت کی تعمیر کرتی ہیں-
وضوح کا مسئلہ
اسلام کے دورِ اول (قرون مشہود لہا بالخیر) میں دین کا یہی تصور غالب تصور کی حیثیت رکھتا تھا- اس کے بعد دھیرے دھیرے اِس میں کمی (erosion) شروع ہوئی اور پھر وہ وقت آیا جب کہ عمومی طور پر دین کا یہ تصورگم ہوگیا- عمر بن عبد العزیز (وفات: 720ء) غالباً اسلام کے دورِاول کے آخری شخص ہیں-
اموی خلیفہ عمر بن عبد العزیز کا زمانہ وہ ہے جب کہ لوگ بڑے پیمانے پر اسلام قبول کررہے تھے- اس کے نتیجے میں بیت المال میں آنے والے جزیہ کی رقم بہت کم ہوگئی تھی- چنانچہ خراسان کے ایک گورنر جراح بن عبد اللہ نے عمر بن عبد العزیز سے شکایت کی اور کہا کہ مفتوح ممالک میں لوگ کثرت سے اسلام قبول کررہے ہیں- چوں کہ اسلام لانے کے بعد جزیہ ساقط ہوجاتا ہے، اس لیے لوگوں کے بکثرت اسلام میں داخل ہونے کی وجہ سے مملکت کا مالیہ بہت کم ہوگیا ہے- اگر یہی حالت رہی تو خزانہ خالی ہوجائے گا- عمر بن عبد العزیز نے گورنر کو لکھا — — اللہ تعالی نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو داعی بنا کر بھیجا تھا ، ٹیکس وصول کرنے والا بنا کر نہیں بھیجا تھا- إن اللہ إنما بعث محمداً صلى اللہ علیہ وسلم داعیاً ولم یبعثہ جابیا (البدایة والنہایة: 9/213)
عمر بن عبد العزیز کےزمانے کے ایک اور گورنر عدی بن ارطاة نے اِس طرح کی شکایت کو لے کر خلیفہ کو لکھا — لوگ بڑی تعداد میںاسلام قبول کررہے ہیں- مجھے ڈر ہے کہ اِس کے نتیجے میں حکومت کے مالیہ میں کمی ہوجائے گی (فإن الناس قد کثروا فی الإسلام، خفت أن یقل الخراج)- اِس کا جواب خلیفہ عمر بن عبد العزیز نے اِن الفاظ میں دیا: واللہ لوددتُ أن الناس کلہم أسلموا، حتى نکون أنا وأنت حرّاثَین نأکل من کسب أیدینا (سیرة عمر بن عبد العزیز، لابن الجوزی: 124) یعنی خدا کی قسم، مجھے یہ پسند ہے کہ سارے لوگ اسلام قبول کرلیں، یہاں تک کہ میں اور تم دونوں کاشت کار بن جائیں اور اپنے ہاتھ کی محنت سے اپنا رزق حاصل کریں-
یہ واقعہ بتاتاہے کہ کلام میں وضوح (clarity) کس طرح پیدا ہوتی ہے- کلام میں وضوح کا راز یہ ہے کہ صاحب کلام کے اندر وہ صفت موجود ہو جس کو قرآن میں فرقان (8:29) کہاگیا ہے، یعنی چیزوں کو سارٹ آؤٹ (sort out)کرکے دیکھنا- ایک چیز کو دوسری چیز سے الگ کرکے رائے قائم کرنا- اِسی اصول تمییز (principle of differentiation) کا نام حکمت ہے اور اِس حکمت کا حامل کوئی شخص جب کلام کرےتو اس کا ذہن فطری طورپر چیزوں کی مختلف نوعیت کو جان لیتا ہے اور اس کے مطابق، کلام کرتا ہے- جس کلام میں یہ صفت پائی جائے اس کے اندر لازمی طورپر وضوح موجود ہوگا-
اِس اعتبار سے، مذکورہ مثال پر غور کیجئے- اِس معاملے کا ایک پہلو یہ تھا کہ کثرتِ اسلام سے حکومت کا مالیہ کم ہورہا تھا- اِس معاملے کا دوسرا پہلو یہ تھا کہ پیغمبر کا اصل مشن یہی تھا کہ لوگوں کو سچائی ملے- خلیفہ عمر بن عبد العزیز نے دونوں پہلوؤں کو الگ کرکے دیکھا، اس لیے وہ ایک واضح اور درست رائے تک پہنچ گئے-
اِس کے برعکس، ان کے دونوں گورنروں کا حال یہ تھا کہ وہ اِس صلاحیتِ فرقان کا ثبوت نہ دے سکے۔ اِس لیے انھوں نے ایک ایسی بات کہی جس میں وضوح موجود نہ تھا، اُن کے کلام میں مالیاتی پہلو کی اہمیت موجود تھی، لیکن اُن کے کلام میں دعوتی پہلو کی اہمیت مفقود ہوگئی تھی-
خلیفہ عمر بن عبد العزیز کے الفاظ بتاتے ہیں کہ اسلام میں کس چیز کو اصل اہمیت حاصل ہے- وہ یہی ہے کہ اپنے اندر مومنانہ شخصیت کی تعمیر کی جائے اور دوسروں کو اللہ کا پیغام پہنچایا جائے- معلوم ریکارڈ کے مطابق، اسلام کی بعد کی تاریخ میں دوبارہ کوئی ایسا شخص پیدا نہیں ہوا جو اِس حقیقت کا شعور رکھتا ہو اور کھلے طورپر اس کا اظہار کرے-
حقیقت یہ ہے کہ وہ چیز جس کو حدیث میں فتنۂ دہیما کہاگیا ہے، اس کا زمانہ خلیفہ عمر بن عبدالعزیز کے بعد ہی شروع ہوگیا تھا- اِس کے بعد وہ بڑھتا رہا، یہاں تک کہ بیسویں صدی میں وہ اپنی کامل صورت میں پوری مسلم امت کے درمیان چھا گیا-
دین کی تعبیر میں اختلاف
فتنہ دہیماء کیا ہے- فتنہ دہیماء کوئی پراسرار چیز نہیں- فتنہ دہیماء دراصل یہ ہے کہ قرآن کا مرکزی مضمون لوگوں پر واضح نہ رہے اور لوگ اپنے اپنے مائنڈ سیٹ (mindset) کے تحت قرآن وسنت کی تشریح وتعبیر کرنے لگیں- اِس کے نتیجے میں افکار اور آرا کا اختلاف اتنا بڑھ جائے کہ اصل حقیقت اس کے اندر گم ہوجائے اور یہ معلوم کرنا سخت دشوار ہوجائے کہ وہ اصل دین کیا ہے جو اللہ نے اپنے پیغمبر کی طرف بھیجا تھا-
پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات سےتقریباً ایک سو سال بعد اسلام کی جو علمی تاریخ بنی، اس کے موضوعی مطالعہ (objective study)سے بخوبی طورپر یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ یہ واقعہ کیوں پیش آیا- عباسی دور میں یہ ہوا کہ دین کی اسپرٹ کے بجائے اس کے فارم کو لے کر ساری بحث ہونے لگی- فارم میں چوں کہ تعدد (diversity)تھا، اِس لیے فطری طورپر لوگوں کی تعبیرات میں بھی تعدد پیداہوگیا- اس کے بعد متن (text) کو لے کر یہ بحثیں شروع ہوئیں کہ کسی لفظ کا کیا مفہوم ہے- الفاظ میں بھی ہمیشہ ایک سے زیادہ مفہوم کی گنجائش ہوتی ہے،اس لیے یہاں بھی یہ واقعہ پیش آیا کہ معانی کامفہوم متعین کرنے میں کثرت سے اختلافات پیدا ہوگئے-اِس طرح بعد کے زمانےمیں دین کی مختلف تعبیرات کو لے کر الگ الگ گروہ بننے لگے، یہاں تک کہ حدیث کے الفاظ میں، امتِ مسلمہ 73 فرقوں میں، بلکہ اُس سے زیادہ فرقوں میں تقسیم ہوگئی- اِسی طرح سیاسی مفاد کے تحت لوگوں کے درمیان اختلافات پیدا ہوئے- ہر فریق اپنے موقف کو قرآن وحدیث سے جائز ثابت کرنے لگا- اِس صورتِ حال نے بھی تعبیراتِ دین میں اختلافات کا ایک جنگل پیدا کردیا-
بیسویں صدی عیسوی میںاِس صورت حال میںمزیداضافہ ہوا- یہ زمانہ وہ تھا جب کہ سیکولر نظام کے غلبے کے تحت مسلمانوں کے درمیان مختلف قسم کی تحریکیں برپا ہوئیں اور پریس کی طاقت کے تحت تیزی سے لوگوں کے درمیان پھیلیں- اِس زمانی اثر کے تحت مسلمانوں کےدرمیان بھی مختلف قسم کی تحریکیں اٹھیں اور مختلف قسم کے نظریات کی اشاعت ہونے لگی- اِس طرح فکری اختلافات کا معاملہ اپنی کمیت کے اعتبار سے، بہت زیادہ بڑھ گیا- بیسویں صدی کے آخر میںفتنہ دہیماء کا کلچر اپنی آخری انتہا تک پہنچ گیا- اب یہ حالت ہوگئی کہ اگر کوئی شخص یہ جاننا چاہے کہ دینِ اسلام اپنی اصل حقیقت کے اعتبار سے کیا ہے تو وہ یقین کے ساتھ کسی نتیجہ تک نہیں پہنچے گا-
فتنہ دہیما یا ذہنی کنفیوزن کایہ معاملہ اب اتنا بڑھ چکا ہے کہ اگر کوئی ایسا لٹریچر تیار ہوجو دینِ اسلام کو دوبارہ اس کے صحیح اسلوب میں بیان کرے، تب بھی عملاً وہ زیادہ مفید نہ ہوگا- صحیح لٹریچر کو عملی طورپر مفید بنانے کے لیے یہ بھی ضروری ہے کہ پچھلے ہزار سال کے دوران لکھی جانے والی کتابوں کو اسلام کے کتب خانے میں کلاسکل لٹریچر (classical literature) کی حیثیت سے محفوظ کردیا جائے- اسلام کی شرح کے اعتبار سے، اس کی مستند حیثیت باقی نہ رہے-
مقصدِ تخلیق
بعد کے دور میں جو فکری کنفیوزن (intellectual confusion) پیدا ہوا، اس کا اصل سبب یہ تھا کہ تعبیرات کے اختلاف کے درمیان یہ حقیقت گم ہوگئی کہ انسان کی تخلیق کا مقصد (purpose of life) کیا ہے- اِس حالتِ انتشار کو ختم کرنے کی صورت صرف یہ ہے کہ انسان کے مقصد تخلیق کو متعین کیا جائے- مقصد تخلیق کے تعین کے بعد ایسا نہیںہوگا کہ اختلافات کا عملاً خاتمہ ہوجائے- جو واقعہ پیش آئے گا، وہ صرف یہ کہ اختلافات کی حیثیت ثانوی (secondary) بن جائے گی۔ اور اختلافات کا ثانوی بن جانا ہی اِس مسئلے کا عمومی حل ہے- اِس کے بعد فطری طورپر یہ ہوگا کہ لوگوں کا ذہنی فوکس بدل جائے گا- لوگوں کی ساری توجہ انسان کے اصل تخلیقی مقصد پر مرتکز ہوجائے گی-
فوکس کے تعدد سے فکری انتشار پیدا ہوتا ہے اور فوکس کے توحد سے فکری اتفاق وجود میں آتا ہے (5 جنوری 2014)
واپس اوپر جائیں

شرحِ صدر کیا ہے

شرح صدر کا مطلب ہے، سینہ کھول دینا۔ عربی میں کہا جاتا ہے: شرح اللہ صدرہ بقبول الخیر فانشرح (اللہ نے اس کے سینے کو حق کی قبولیت کے لیے کھول دیاتو وہ کھل گیا)۔یہ حق کے متلاشی (seeker) کا معاملہ ہے۔ حق کے متلاشی کو جب اللہ کی توفیق سے حق کی دریافت ہوجائے تو اس وقت اس کے دل کی جو مثبت کیفیت ہوتی ہے، اسی کو شرحِ صدر کہا گیا ہے۔
انسان فطری طور پر حق کا متلاشی (seeker of truth) ہے۔ وہ جاننا چاہتا ہے کہ حقیقت کیا ہے۔ وہ اپنی اور کائنات کی تخلیق کے راز کو سمجھنا چاہتا ہے۔ اس کی یہ جستجو جب اس حد کو پہنچے کہ سچائی اس کے لیے ایک خود دریافت کردہ حقیقت (self-discovered reality) بن جائے تو اس کے بعد فطری طور پراس کو ایک ذہنی سکون (peace of mind) حاصل ہوجا تا ہے۔ اسی واقعہ کو شرح صدر سے تعبیر کیا گیا ہے۔
سچائی کو دریافت کرنا انسان کا سب سے بڑا کنسرن (concern) ہے۔ سچائی کو دریافت کرنے سے پہلے انسان ایک حیوان کی مانند ہوتا ہے۔ سچائی کو دریافت کرنے کے بعد انسان حقیقی معنوں میں انسان بن جاتا ہے۔ سچائی کی دریافت یہ ہے کہ انسان کو اپنے تمام سوالات کے جواب مل جائیں۔ وہ اپنے وجود کی معنویت سے باخبر ہوجائے۔ وہ جان لے کہ حقیقت کے اعتبار سے اس کی منزل کیا ہے۔ وہ راستہ کون سا ہے، جس کو اختیار کرکے وہ اس مقام پر پہنچ سکتا ہے، جو اس کی حقیقی منزل ہے۔
شرح صدر آدمی کو یقین (conviction) عطا کرتا ہے۔ شرح صدر کے بعد آدمی کنفیوزن (confusion) سے باہر آجاتا ہے۔ اس کی سوچ میں وضوح (clarity) پیدا ہوجاتی ہے۔ وہ اس قابل ہوجاتا ہے کہ وہ چیزوں کا صحیح تجزیہ (right analysis) کر سکے۔ وہ اس قابل ہوجاتا ہے کہ چیزوں کو صحیح زاویۂ نظر (right angle) سے دیکھنے لگے۔ شرح صدر کے بعد آدمی اس قابل ہوجا تا ہے کہ وہ اپنے خالق کو دریافت کر لے، اور اسی کے ساتھ اپنے آپ کو بھی۔
واپس اوپر جائیں

تربیت کا ٹکنکل طریقہ

آج کل تربیت کے بہت سے طریقے نکلے ہیں— پانچ دن کا مدرسہ، روزانہ ایک آیت، چالیس دن کا چلہ، پندرہ روزہ تربیتی کورس،وغیرہ۔ ان طریقوں کو ایک لفظ میں ٹکنکل طریقہ کہہ سکتے ہیں۔ یہ طریقے عوامی طور پر کافی مقبول ہیں۔ لیکن نتیجہ کے اعتبار سے وہ سب کے سب غیر مفید ہیں۔
ان تمام طریقوں میں ایک بات مشترک ہے۔ وہ یہ ہے کہ بظاہر دھوم کے باوجودان طریقوں کے ذریعے کوئی انسان بن کر تیار نہیں ہوتا۔اس کا سبب یہ ہے کہ انسان کی تربیت کبھی بھی مبنی بر روٹین عمل سے نہیں ہوتی۔ تربیت ہمیشہ ذہنی بیداری (intellectual awakening) کے ذریعے ہوتی ہے، نہ کہ کسی ٹکنکل طریقہ کو دہرانے سے۔
تربیت یہ ہے کہ آدمی کے اندر تخلیقیت (creativity) پیدا کی جائے۔ مسلسل ذہنی خوراک کے ذریعے انسان کو ایسا بنایا جائے کہ وہ خود اپنا مربی بن جائے۔ وہ خود اپنا محاسبہ کرے۔ وہ اپنے اندر اصلاح کا عمل جاری کرے۔ وہ خود اپنی کمیوں اور کوتاہیوں کو دریافت کرے۔ وہ خود مسلسل طور پر اپنا نگراںبن جائے۔
پیشہ ورانہ تربیت (professional training) کسی دوسرے شخص کے ذریعے ممکن ہے، لیکن دینی تربیت ایک ایسا کام ہے جو ہر آدمی کو خود کرنا پڑتا ہے۔ ہر آدمی کو خود یہ جاننا پڑتا ہے کہ کس موقعے پر اس کو کیا سیکھنا ہے، کس موقعے سے اس کو کیا تربیتی غذا لینا ہے، کس موقعے پر اس کو کیا کرنا ہے اور کیا نہیں کرنا ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ تربیت ایک دوامی عمل ہے۔ ہر لمحہ اپنے ساتھ تربیت کا ایک موقع لے کر آتا ہے۔ ہر آدمی کو خود یہ کرنا پڑتا ہے کہ وہ تربیت کے اس موقعے کو پہچانے، اور اس کو اپنی اصلاح کے لیے استعمال کرے۔ تربیت ایک سیلف ٹریننگ (self-training ) کا معاملہ ہے۔ اپنی تربیت آپ وہی شخص کر سکتا ہے، جس کے اندر دو صفت پیدا ہوجائے— محاسبہ اور تفکیر۔
واپس اوپر جائیں

صبر واعراض کا اصول

موجودہ زمانے میں مسلمان عام طور پرشکایت کی نفسیات میں جی رہے ہیں، وہ دوسری قوموں کو غیر بلکہ اپنا دشمن سمجھتے ہیں۔ ان کے مقررین ومحررین ہمیشہ دوسروں کے خلاف شکایت کی زبان استعمال کرتے ہیں۔ اگر ان سے کہا جائے کہ آپ ایسا کیوں کرتے ہیں تو ان کا جواب ہوگا:
Should you ignore Gujarat 2002, Assam, Muzaffarnagar, etc., or the umpteen fake terror cases/encounters or the daily conspiracies of the Sangh Parivar in so many ways that make life difficult for the Muslim community??
مگر اس معاملے میں قرآن کا جواب مختلف ہوگا، اور وہ یہ کہ آپ کو اِس قسم کے منفی واقعات کو نظر اندازہی کرنا ہے۔ آپ کو اپنے مفروضہ دشمن کی نام نہاد سازشوں کو بھلا کر اپنی زندگی کو مثبت بنیاد پر تعمیر کرنا ہے۔ قرآن میںاس طریقے کو صبر واعراض کہاگیا ہے، اور صبر واعراض کے بغیر کوئی قوم اس دنیا میں ہرگز ترقی نہیں کرسکتی۔
اس سلسلہ میں قرآن کی ایک آیت یہ ہے : وَلَنَصْبِرَنَّ عَلَىٰ مَا آذَیْتُمُونا(14:12) یعنی اور جو تکلیف تم ہمیں دوگے ہم اس پر صبر ہی کریں گے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اس دنیا کو بنانے والے نے اس کو آزادی اورمقابلہ (competition) کے اصول پر بنایا ہے۔ یہاں کوئی بھی نظام ہو، اور کسی کی بھی حکومت ہو، ہمیشہ ایک کو دوسرے سے کچھ نہ کچھ ایذاء(harm) کا تجربہ ہوگا- آدمی کو چاہئے کہ وہ اس قسم کے واقعات کو شکایت کا موضوع نہ بنائے بلکہ وہ اس کو مینیج (manage) کرنے کی تدبیر کرے۔
اسی طرح قرآن کی ایک آیت یہ ہے: وَإِن تَصْبِرُوا وَتَتَّقُوا لَا یَضُرُّکُمْ کَیْدُہُمْ شَیْئًا (آل عمران: 120) یعنی اگر تم صبر کرو اور اللہ سے ڈرو تو ان کی کوئی سازش تم کو نقصان نہ پہنچائے گی- اس کا مطلب ہے کہ فطرت کے نظام کے مطابق اس دنیا میں اصل مسئلہ سازش (conspiracy) کی موجودگی نہیںہے، بلکہ اصل مسئلہ یہ ہے کہ لوگوں کے اندر صبر اور تقوی کی صفت نہ پائی جائے۔ اس لئے سازش کے خلاف شکایت کرنا مکمل طورپر ایک بے فائدہ کام ہے۔ کرنے کا اصل کام یہ ہے کہ لوگوں کے اندر صبراور تقوی کی صفت پیدا کی جائے تاکہ سازش کرنے والوں کی سازش عملاً موثر نہ ہوسکے۔\
قرآن کی تعلیمات کا ایک پہلو یہ ہے کہ وہ انسان کو یہ بتاتا ہے کہ انسان کے بارے میں خالق کا تخلیقی منصوبہ (creation plan) کیا ہے۔ انسان کو چاہئے کہ وہ اس تخلیقی منصوبہ کو جانے، اور اس کے مطابق اپنی سرگرمیوں کا نقشہ بنائے۔ کوئی فرد یا کوئی قوم اگر اس تخلیقی منصوبے کو نظر انداز کرے اور خود اپنے ذہن کے مطابق اپنے عمل کا منصوبہ بنائے تو یقینی طورپر اس دنیا میں اس کا منصوبہ ناکام ہوجائے گا۔ یہی حقیقت پسندی ہے، اور اس دنیا میں حقیقت پسندی ہی سب سےبڑا اصول ہے۔
قرآن میں انسان کی پیدائش کی حکمت کو ان الفاظ میں بیان کیاگیا ہے: الَّذِی خَلَقَ الْمَوْتَ وَالْحَیَاةَ لِیَبْلُوَکُمْ أَیُّکُمْ أَحْسَنُ عَمَلًا (67:2)یعنی اللہ نے موت اور زندگی کو پیدا کیا تاکہ وہ تم کو جانچے کہ تم میں سے کون اچھے عمل والا ہے۔ اس حکمت ابتلا کی بنا پر ، ہر انسان کو کامل آزادی دی گئی ہے۔ جب انسان اپنی آزادی کو اپنی مرضی کے مطابق استعمال کرتا ہے تو اس سے فطری طورپر دنیا میں چیلنج اور مسابقت (competition) کا ماحول پیدا ہوتا ہے۔
چیلنج اور مسابقت کا یہ ماحول لازماًدنیا میں رہے گا۔ اس بنا پر یہاںلازماً ایسا ہوگا کہ ایک کو دوسرے کی طرف سے غیر مطلوب صورت حال (unwanted situation)کا سامنا پیش آئے گا۔ اس صورت حال کے خلاف شکایت کرنا بھی بے فائدہ ہے، اور اس سے لڑنا بھی بے فائدہ۔ کامیابی کا طریقہ یہ ہے کہ آدمی حکیمانہ تدبیر کے ساتھ اس کا سامنا کرے۔ خالق کے قائم کردہ نظام کے مطابق اس دنیا میں کامیابی کا یہی واحد اصول ہے۔
اسی حکیمانہ روش کا نام صبر و اعراض ہے۔ صبر واعراض دانش مندانہ طریقِ زندگی کا دوسرا نام ہے۔ صبر واعراض اپنی حقیقت کےاعتبار سے اقدام ہے، اگرچہ نادان لوگ اس کو پسپائی سمجھ لیتے ہیں۔صبر واعراض اعلیٰ انسانی اخلاق کا دوسرا نام ہے۔
واپس اوپر جائیں

توحید اور عدل

اسلام کے دو بنیادی اصول ہیں— توحید اور عدل۔ توحید کا مطلب ہے خالق کو ہر اعتبار سے ایک ماننا۔ کسی بھی اعتبار سےکسی اور کو اس کا شریک (partner)نہ بنانا۔ عدل کا مطلب ہے معاملات میں انصاف (justice) کا طریقہ اختیار کرنا۔ کسی بھی عذر (excuse) کی بنا پر انصاف کے طریقے سے نہ ہٹنا۔ اس انصاف کا تعلق انسان کے قول سے بھی ہے، اور اس کے عمل سے بھی۔
توحید اور عدل دونوں لازم کے معنی میں ہیں، ان میں سے کوئی بھی متعدی کے معنی میں نہیں۔ یعنی دونوں کا تعلق فرد کے رویہ سے ہے۔ فرد سے یہ مطلوب ہے کہ وہ کامل معنوں میں موحّد بنے، اس کی آئڈیالوجی مکمل طور پر توحید (oneness of God) پر مبنی ہو ۔ عدل کا مطلب ہے ایک فرد کا انصاف پر قائم ہونا۔ اس کا قول منصفانہ قول ہو، اس کا عمل تمام تر انصاف پر مبنی ہو۔ توحید کا لفظ انسان کے عقیدہ (belief) کو بتاتا ہے، اور عدل کا لفظ انسان کے سماجی رویہ (social behaviour) کو۔
یہ دونوں الفاظ پیروی کے معنی میں ہیں، نہ کہ نفاذ کے معنی میں۔ جس طرح توحید ذاتی طور پر اختیار کرنے کی چیز ہے، وہ دوسروں کے اوپر نافذ (impose) کرنے کی چیز نہیں۔ یہی معاملہ عدل کا بھی ہے۔ عدل کا مطلب بھی یہی ہے کہ آدمی جن انسانوں کے درمیان رہتا ہے، ان کے ساتھ وہ ہمیشہ انصاف کا طریقہ اختیار کرے، وہ ہر حال میں ناانصافی سے بچے۔
اسلامی مشن کا نشانہ فرد (individual) ہے، نہ کہ نظام (system)۔ اسلام کا مقصد انسان کو اسلامائز کرنا ہے ، نہ کہ سسٹم کو اسلامائز کرنا۔ اس دنیا کے خالق نے انسان کو امتحان (test) کے لیے پیدا کیا ہے۔ ہر آدمی کا یہ امتحان ہے کہ وہ اپنی آزادی کو کس طرح استعمال کرتا ہے، صحیح طور پر یا غلط طور پر۔ اگر اسلام کی تعلیمات کو طاقت کے ذریعےبزور نافذ کیا جائے تو امتحان کا ماحول ختم ہوجائے گا۔ امتحان کا مقصد صرف اس وقت پورا ہوسکتا ہے، جب کہ لوگوں کو آزادی ہو، اور یہ دیکھا جاسکے کہ انھوں نے اپنی آزادی کا صحیح استعمال کیا یا غلط استعمال کیا۔
واپس اوپر جائیں

زمین میں خلافت

قرآن میں بتایا گیا ہے کہ اللہ نے جب انسان کو پیدا کرنے کا ارادہ کیا تو فرمایا: إِنِّی جَاعِلٌ فِی الْأَرْضِ خَلِیفَة (2:30) یعنی میں زمین میں ایک خلیفہ بنانے والا ہوں۔ خلیفہ کا مطلب جانشین یا قائم مقام (successor) ہے، یعنی کسی کی جگہ لے کر اس کی طرف سے اس کا کام کرنے والا۔ اس تشریح کے مطابق اس آیت میں خلیفہ سے مراد خلیفۃ اللہ فی الارض، یعنی زمین میں اللہ کا خلیفہ ہے۔
خلیفہ ایک انسانی زبان کا لفظ ہے۔ انسانی تصور کے مطابق خلیفہ کا مطلب یہ ہے کہ ایک انسان کی وفات کے بعد دوسرا انسان اس کی جگہ آکر اس کی قائم مقامی کرے۔ خلیفہ کا یہ مفہوم انسان کے اعتبار سے ہے۔ جب یہ لفظ اللہ کی نسبت سے بولا جائے تو یہاں موت کے بجائے غیب مراد ہوگا۔ اس کا مطلب یہ ہوگا کہ اللہ جو غیب میں ہے اس کی نمائندگی شہود میں کرنا۔اس آیت میں خلافت یا نمائندگی سے مراد سیاسی نمائندگی نہیں ہے۔ اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ انسان اللہ کا نائب بن کر زمین پر اللہ کی حکومت قائم کرے۔ یہ خلافت اعلان حق کے معنی میں ہے، نہ کہ تنفیذ احکام کے معنی میں۔ اس اعلان سے مراد وہی چیز ہے، جس کو فرشتوںنے تحمید اور تقدیس (2:30) کے الفاظ میں بیان کیا تھا۔ اللہ کی تحمید اور تقدیس ایک اعلی ترین مقصود ہے جس کو کائنات کی ہرچیز ودیعۃً (inherently) کر رہی ہے۔ اب اللہ کو منظور ہوا کہ یہ کام انسان ذاتی دریافت (self discovery) کے طور پر کرے۔
کائنات میں انسان ایک خصوصی تخلیق کی حیثیت رکھتا ہے۔ اس حقیقت کو قرآن میں ان الفاظ میں بتایا گیا ہے کہ مستقبل میں اللہ کی آیات کی تبیین آفاق و انفس (43:53) کی زبان میں کی جائے گی۔ اللہ کو مطلوب تھا کہ ایک مخلوق ہو جو ذاتی دریافت کی سطح پر اس تحمید و تقدیس کا اظہار کرے۔
تحمید و تقدیس سے مراد محض تعریف نہیں ہے، بلکہ کائنات کی سطح پر حقیقت ربانی کا اعلان کرنا ہے، یعنی تخلیق (creation) کو خالق کے خانے میں ڈالنا۔ براہ راست طور پر یہ کام مومن کو انجام دینا ہے، لیکن بالواسطہ طور پر ساری انسانیت کو اس کے حق میں تائیدی رول ادا کرنا ہے، حتی کہ غیر اہل ایمان کو بھی۔
واپس اوپر جائیں

ٹیم کی تربیت

پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے آخری زمانے میں حضرت ابوبکر کو نماز باجماعت کا امام بنایا۔ ایک روایت کے مطابق آپ نے 17 بارایسا کیا، اور دوسری روایت کے مطابق آپ نے 20 بار ایسا کیا(البدایۃ والنہایۃ لابن کثیر: 5/235، دارالفکر، بیروت،1978) ۔ یہ فضیلتِ ابوبکر کا معاملہ نہ تھا۔ بلکہ یہ حکمت کی ایک بات تھی۔ اس سے ایک اہم اصول معلوم ہوتا ہے۔ یہ ایک عام اصول ہے۔ اس کا انطباق (application) پیغمبر کے جاری کیے ہوئے مشن پر بھی ہوتا ہے، اور اسی طرح غیر پیغمبر کے جاری کیے ہوئے مشن پر بھی۔ یہ فطرت کا ایک قانون ہے۔ اور فطرت کا قانون ہمیشہ آفاقی ہوتا ہے۔
کسی مشن کا جو بانی ہوتا ہے، وہ فطری طور پر اس کا قائد (leader) بن جاتا ہے۔ اگر یہ قائد اچانک دنیا سے چلا جائے تو مشن کے اندر ایک ناقابلِ تلافی خلا ہوجائے گا۔ لوگ محسوس کریں گے کہ ٹیم بے قائد (leaderless) ہوگئی ہے۔ اس لیے قائد کوچاہئے کہ وہ اپنے آخری زمانے میں خاموشی کے ساتھ اس پہلو سے ٹیم کی تربیت کرے۔ وہ ٹیم کو اس قابل بنائے کہ قائد جب درمیان سے ہٹ جائے تو ٹیم کی اجتماعیت میں کوئی کمزوری نہ پیدا ہو۔ مشن کی سرگرمیاں قائد کے بعد بھی بدستوراسی طرح جاری رہیں، جس طرح وہ قائد کی موجودگی میں جاری تھیں۔
دانش مند قائد کو چاہئے کہ وہ اپنی موجودگی میں اس اعتبار سے ٹیم کو تیار کرے ۔ وہ ٹیم کو بار بار یہ موقع دے کہ وہ قائد کی مقامی غیر موجودگی کے باوجود مشن کی سرگرمیوں کو انجام دے سکے۔ یہ گویا بالواسطہ قیادت کا طریقہ ہے۔ قائد اگر ٹیم کے درمیان موجود ہو تو وہ براہ راست طور پر اس کی قیادت کرے گا۔ اگر وہ ٹیم کے درمیان موجود نہیں ہے تو گویا کہ وہ بالواسطہ طور پر ٹیم کی قیادت کررہا ہے۔ یہ ایک حکیمانہ طریقہ ہے۔ قائد اور ٹیم دونوں کو اس حکمت سے باخبر ہونا چاہئے۔ تربیت ایک شعوری واقعہ کانام ہے، بے شعوری کے ساتھ کسی ٹیم کی تربیت نہیں ہوسکتی۔
واپس اوپر جائیں

دعوت کی ذمے داری

ایک صاحب برطانیہ سے اپنے مکتوب میں لکھتے ہیں:
آج میں نے مئی 2015 کا اردو الرسالہ انٹرنیٹ پر پڑھنا شروع کیا تو میری نظرایک مضمون ’’مدعو داعی کے دروازے پر‘‘ (صفحہ 11)پر پڑی۔ یہ پڑھتے ہوئے مجھے اپنا ایک واقعہ یاد آگیا جو آپ تک پہنچانا چاہتا ہوں- تین سال پہلے مجھے اپنے چند دوستوں کے ساتھ یونان کے ایک شہر کوس (Kos)کی سیاحت کا موقع ملا- کوس میں ہم لوگوں کوایک تاریخی مسجد دکھائی دی تو نماز کے ارادے سےہم لوگ اس میں داخل ہوئے۔ ہم نے دیکھا کہ وہاں کافی تعداد میں غیرمسلم مسجد کی وزٹ کے لیے داخل ہورہے ہیں۔ پھر ادھر ادھر کچھ دیکھ کر نکل جاتے ہیں۔ میں نے وہاں یہ دیکھا کہ مسجد کے امام صاحب وہاں بیٹھے قرآن کی تلاوت کررہے ہیں اور ان کو اس بات کا بالکل احساس نہیں کہ کون آیا کون گیا۔ مجھے یہ دیکھ کر بہت دکھ ہوا کہ غیر مسلم خود یہاںآتے ہیں لیکن ہم اپنی بے شعوری کی بنا پر ان کو کچھ پیش نہیں کر پاتے- میں اکثر یہ واقعہ یاد کرکے دکھی ہوتا ہوں اور آج پھر آپ کا مضمون پڑھ کر مجھے پورا منظر یاد آگیا- کاش!مسلمان اس کو سمجھ سکتے اوراپنی دعوتی ذمے داری کو اداکرتے- (ایم حنیف، پرسٹن، برطانیہ)
یہ صرف ایک شہر کی بات نہیں ہے۔ یہی معاملہ پوری دنیا کا ہے۔ موجودہ زمانے میں مسلمان تقریبا ہر ملک میں بسے ہوئے ہیں۔ ہر جگہ بڑی تعدا د میں سیاح (tourist) آتے ہیں۔ اس طرح ساری دنیا میں مسلمانوں کو یہ موقع ہے کہ وہ اپنی دعوتی ذمے داری کو اداکریں، اور اللہ کا پیغام تمام انسانوں تک پہنچائیں۔
اس دعوتی ذمے داری کو ادا کرنے کی سب سے آسان صورت یہ ہے کہ ہر مسلمان قرآن کا ترجمہ اور اسلامی لٹریچر اپنے بیگ میں رکھے۔ ہر بار جب اس کا سامنا کسی انسان سے ہو تو وہ اس کو قرآن کا ترجمہ اور اسلامی لٹریچر پیش کرے۔ اس معاملے میں اسلامی لٹریچر کی حیثیت سپورٹنگ لٹریچر کی ہے۔
واپس اوپر جائیں

فطرت کا ایک قانون

قرآن کی سورہ نمبر 43 میں فطرت کا ایک قانون بیان کیا گیا ہے۔وہ آیت یہ ہے: أَہُمْ یَقْسِمُونَ رَحْمَتَ رَبِّکَ نَحْنُ قَسَمْنَا بَیْنَہُمْ مَعِیشَتَہُمْ فِی الْحَیَاةِ الدُّنْیَا وَرَفَعْنَا بَعْضَہُمْ فَوْقَ بَعْضٍ دَرَجَاتٍ لِیَتَّخِذَ بَعْضُہُمْ بَعْضًا سُخْرِیًّا وَرَحْمَتُ رَبِّکَ خَیْرٌ مِمَّا یَجْمَعُونَ (الزخرف: 32) کیا یہ لوگ تیرے رب کی رحمت کو تقسیم کرتے ہیں ۔دنیا کی زندگی میں ان کی روزی کو تو ہم نے تقسیم کیا ہے اور ہم نے ایک کو دوسرے پر فوقیت دی ہے تاکہ وہ ایک دوسرے سے کام لیں ۔ اور تیرے رب کی رحمت اس سے بہتر ہے جو یہ جمع کر رہے ہیں ۔
اس کا مطلب یہ ہے کہ انسان کی تخلیق میں یکسانیت (uniformity) نہیں رکھی گئی ہے۔ بلکہ انسانوں کی تخلیق تفاوت (disparity) کی بنیاد پر کی گئی ہے۔ یعنی کسی انسان کے اندر ایک خصوصیت، اور دوسرے انسان کے اندر دوسری خصوصیت ۔ اس تفاوت کی ایک حکمت ہے۔ اس تفاوت کا مقصددنیا میں انسان کی اجتماعی زندگی کو باہمی انحصار (interdependence) کے اصول پر قائم کرنا ہے۔ یعنی ایک کا کام دوسرے پر منحصر ہونا۔ ایسا اس لیے کیا گیا ہے کہ لوگ اجتماعی زندگی میں مل جل کر رہیں۔ لوگ ایک دوسرے کے رقیب (rival) نہ بنیں، بلکہ وہ ایک دوسرے کے معاون (supporter) بن کر زندگی گزاریں۔
باہمی انحصار کا یہ معاملہ کسی محدود معنی میں نہیں ہے۔ وہ زندگی کے تمام پہلوؤں پر حاوی ہے۔ حتی کہ اس میں سیاست اور حکومت بھی شامل ہے۔ ایسی حالت میں سیاسی اپوزیشن (political opposition) کی پالیسی فطرت کے قانون کے خلاف ہے۔ اس کے بجائے جو چیز مطلوب ہے، وہ یہ کہ سیاسی معاونت (political cooperation) کا مزاج۔ یعنی اگر ایک شخص کو پولیٹیکل اتھاریٹی کا درجہ حاصل ہوتا ہے تو دوسرے لوگ اس سے اس کی اتھاریٹی کو چھیننے کی کوشش نہ کریں، بلکہ اس کی اتھاریٹی کو مانتے ہوئے اس کے ساتھ تعاون کا معاملہ کریں، نہ کہ رقابت کا معاملہ۔
واپس اوپر جائیں

مدعو فرینڈلی روش

قرآن میں دعوت الی اللہ کے کام کو تجارت سے تشبیہ دی گئی ہے۔ تجارت کا یہ معاملہ داعی اور مدعو کے درمیان ہوتا ہے۔ یہ تشبیہ نہایت بامعنی ہے۔ تجارت کا اصول یہ ہے کہ تاجر اپنے گاہک کے ساتھ کسٹمر فرینڈلی (customer friendly) روش اختیار کرے۔ ٹھیک یہی اصول کامیاب دعوت الی اللہ کا بھی ہے۔ حقیقی داعی وہ ہے جو اپنے مدعو کے ساتھ مدعو فرینڈلی روش اختیار کرے۔دعوت صرف اعلان (announcement) نہیں ہے۔ دعوت ایک خیر خواہانہ عمل کا نام ہے۔ دعوت کی کامیابی کے لئے لازمی طور پر ضروری ہے کہ داعی اپنے مدعو کے لئے یک طرفہ طور پر خیرخواہ ہو۔ وہ شکایت کے اسباب کے باوجود کامل طور پر بے شکایت ہوجائے۔
دعوت الی اللہ اہل ایمان کا سب سے بڑا فریضہ ہے۔ دعوت الی اللہ گویا خاتم النبیین کی جانشینی ہے۔دعوت الی اللہ کا کا م کیے بغیر کسی مومن کے لیے پیغمبر کا امتی ہونا مشتبہ ہوجاتا ہے۔دعوت الی اللہ کا مطلب پیغمبر کی غیر موجودگی میں پیغمبر کی ذمہ داری کو نیابتاً ادا کرنا ہے۔ یہ بعد کی انسانی نسلوں کے لیے پیغمبرانہ ذمے داری کی ادائیگی ہے۔یہ گویا پیغمبر کے بعد پیغمبر کی جانشینی ہے۔
پیغمبر نے دعوت کا کام کامل نصح (خیرخواہی) کے ساتھ انجام دیا۔ یہی بعد کے زمانے کے داعیوں کو کرنا ہے۔ دعوت کا کام درست طور پر اسی وقت انجام دیا جاسکتا ہے، جب کہ داعی کے اندر مدعو کے لیے خیرخواہی کی اسپرٹ پائی جاتی ہو۔ داعی کے اندر اگر مدعو کے لیے خیرخواہی موجود نہ ہو تو وہ مدعو کی نظر میں ایک پروفیشن بن جائے گا۔ اور پروفیشن کے طور پر کیا ہوا کام کبھی مدعو کے لیے موثر (effective) نہیں ہوسکتا۔ خیر خواہی کا مطلب یہ ہے کہ داعی کامل طور پر بے شکایت ہو۔ اس کے دل میں مدعو کے لیے منفی جذبات نہ پائے جاتے ہوں۔ مدعو کی طرف سے اگر کوئی تکلیف یا دل آزاری کا معاملہ پیش آئے تب بھی داعی کو چاہیے کہ وہ یک طرفہ طور پر مدعو کے لیے اپنی خیرخواہی کو برقرار رکھے۔ داعی کو اپنے دعوتی عمل کا اجر اللہ سے لینا ہے نہ کہ انسان سے۔ داعی کے اندر اگر یہ ذہن موجود ہو تو مدعو کے بارے میں اس کی خیرخواہی کبھی ختم ہونے والی نہیں۔
واپس اوپر جائیں

فکر کی تشکیل

ایک شاعر نے لکھا:
ہے داد کے قابل میری تجرید تصور کرتا ہوں تجھے غیر کی محفل سے جدا یاد
تجریدِ تصور کا مطلب ہے فکری یکسوئی(detached thinking)۔ یعنی غیر متعلق باتوں سے اپنے کو الگ کرکے صرف مطلوب بات پر دھیان دینا۔ یہ انسان کی ایک امتیازی صفت ہے۔ یہ صفت جس طرح دنیا کے معاملے میں مطلوب ہے، اسی طرح وہ دین کے معاملے میںبھی صحتِ فکر کے لیے مطلوب ہے۔ جو شخص اس صفت کا حامل ہو ، اس کے اندر وہ چیز پائی جائے گی جس کو صحتِ فکر کہا جاتا ہے۔
اصل یہ ہے کہ معاشرہ میں جس بات کا چرچا ہو، لوگ اسی کو لے کر اظہارِ رائے کرنے لگتے ہیں۔ اس سے لوگوں کے اندر متاثر ذہن بنتا ہے۔ مثال کے طور پر اسلامی تاریخ کے ابتدائی دور میں غزوات پیش آئے۔ اس لیے معاشرے میںغزوات کا چرچا ہونے لگا۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ اسلام کے ابتدائی دور میں سیرت پر جو کتابیں لکھی گئیں وہ سب غزواتی پیٹرن پر لکھی گئیں۔ اس کے بعد جب ماس کنورژن (mass conversion) ہوا تو لوگ دینی مسائل جاننے کی کوشش کرنے لگے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ معاشرے میں مسائل کا چرچا کرنے لگا۔ چناں چہ فقہ کی کتابیں مسائل کے پیٹرن میں لکھی جانے لگیں۔ اس کے بعد سیاسی حکومتوں کا دور شروع ہوا تومعاشرے میں سیاست کا چرچا ہونے لگا۔ اب تاریخ کی کتابیں سیاسی پیٹرن پر لکھی جانے لگیں۔ اس کے بعد جب نوآبادیات کا دور آیا تو مسلمانوں کے اندر قابض طاقتوں کے خلاف چرچا ہونے لگا۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ اب جو کتابیں لکھی گئیں، وہ سب رد عمل یا منفی سوچ کے پیٹرن پر لکھی گئیں۔ موجودہ زمانہ میڈیا کا زمانہ ہے۔ میڈیا ہاٹ نیوز (hot news) کی انڈسٹری ہے۔ اس لیے اب ہر مجلس میں اور ہر اجتماع میں یہی پیٹرن رائج ہوگیا ہے۔
ایسی حالت میں کسی مومن کے اندر صحیح اسلامی فکر کا بننا صرف اس وقت ممکن ہے جب کہ اس کے اندر تجریدی تصور کی صلاحیت ہو۔ وہ گردو پیش کے چرچا سے اوپر اٹھ کر خود اپنی سوچ کے تحت اپنی رائے بنائے۔ وہ اپنے اندر، غیر متاثر ذہن کی تشکیل کرے۔
واپس اوپر جائیں

اسلام اور دورِ جدید

موجودہ زمانہ میں نظری اور عملی اعتبار سے بہت سی تبدیلیاں وقوع میں آئی ہیں۔ اس بنا پر موجودہ زمانہ کو نیا زمانہ کہاجاتا ہے- بیسویں صدی اس نئے زمانہ کا نقطۂ انتہا ہے۔ اس زمانہ میں ایک نیا ظاہرہ پیدا ہوا جس کو جدید ذہن (modern mind) کہاجاتا ہے۔ اس صورت حال کی بنا پر یہ ضرورت پیش آئی کہ جدید ذہن کے لئے اسلام کو قابل فہم (understandable) بنایا جائے۔اس مقصد کے لیے مسلم اہلِ علم نے مختلف زبانوں میں کئی کتابیں تیار کیں۔انہی میں سے ایک مشہور کتاب ڈاکٹر محمد اقبال (وفات: 1938) کی ہے، جو خاص اسی موضوع پر لکھی گئی ہے- یہ کتاب اس موضوع پر مصنف کے انگریزی خطبات کا مجموعہ ہے۔ اس کتاب کا نام یہ ہے:
The Reconstruction of Religious Thought in Islam
مگر عجیب بات ہے کہ یہ کتاب اپنے قاری کو کنفیوزن کے سوا کچھ اور نہیں دیتی- کتاب کے مضامین اتنے زیادہ غیر واضح ہیں کہ کوئی شخص یہ نہیں بتاسکتا کہ اس کتاب کا خلاصہ کیا ہے- حتى کہ کتاب کا ٹائٹل (The Reconstruction of Religious Thought in Islam) خود بھی ایک غیر واضح ٹائٹل ہے- اردو میں اس کا ترجمہ یہ ہوگا — الہیاتی افکار کی تشکیل جدید۔ مگر یہ ٹائٹل نہ انگریزی میں قابلِ فہم ہے اور نہ اردو ترجمہ میں قابلِ فہم۔
ڈاکٹر محمد اقبال کی مذکورہ کتاب میں یہ کنفیوزن کیوں پایا جاتا ہے۔ یہ کوئی اتفاقی بات نہیں۔ بلکہ اس کا ایک معلوم سبب ہے۔ اس معلوم سبب کو لے کر سمجھنے کی کوشش کی جائے تو آسانی کے ساتھ مذکورہ کتاب کے مندرجات میں کنفیوزن کا سبب دریافت کیا جاسکتا ہے-حقیقت یہ ہے کہ ڈاکٹر محمد اقبال اصلاً ایک فلسفی آدمی ـتھے۔ انھوں نے قدیم فلسفہ کو بطور سبجیکٹ پڑھا تھا اور اس کا مطالعہ کیا تھا۔ اس تعلیمی پس منظر کی بنا پر ان کے ذہن میں جو ماڈل بنا وہ فلسفیانہ ماڈل تھا۔ وہ چیزوں کو اپنے اسی فلسفیانہ ماڈل کی روشنی میں دیکھتے تھے۔ وہ اپنے مخصوص شاکلہ کی بنا پر ہر چیز کو اسی فلسفیانہ ماڈل میں ڈھالتے رہے۔ مگر فلسفیانہ ماڈل ایک انسان ساز (man-made) ماڈل ہے جب کہ اسلام اس معنی میں کوئی فلسفیانہ مذہب نہیں۔ اسلام فطرت خداوندی پر مبنی ایک مذہب ہے۔
اسلام کی آئیڈیالوجی اور اس کی تعلیمات فطرت خداوندی کے اصولوں پر مبنی ہیں- اس حقیقت کا اعلان قرآن میں ان الفاظ میں کیاگیا ہے: فِطْرَتَ اللَّہِ الَّتِی فَطَرَ النَّاسَ عَلَیْہَا (30:30) اسی طرح فرمایا کہ یُدَبِّرُ الْأَمْرَ یُفَصِّلُ الْآیَاتِ (13:2)۔
ڈاکٹر محمد اقبال کی غلطی یہ ہے کہ انھوں نے اپنے فلسفیانہ ماڈل کو شعوری یا غیر شعوری طورپر معیاری ماڈل سمجھ لیا اوراسی فلسفیانہ ماڈل کے مطابق اسلام کی تشریح کرنے لگے۔ چونکہ فطرت کا ماڈل الگ ہے اور فلسفہ کا ماڈل الگ۔ اس فرق کی بنا پر اقبال کے بیانات میں کنفیوزن پیدا ہوگیا۔
اس معاملہ کی ایک مثال یہ ہے کہ ڈاکٹر محمد اقبال نے قرآن کے جنت اور جہنم کے تصور کو واضح کرنے کی کوشش کی تو جنت اور جہنم کو اپنے اختیار کردہ فلسفیانہ ماڈل میں ڈھال دیا۔ چنانچہ انھوں نے لکھا ہے کہ جنت اورجہنم احوال ہیں، وہ مقامات نہیں:\
Heaven and Hell are states, not localities.
اقبال کے اس بیان میں ایک فطری حقیقت کو فلسفیانہ ماڈل میں ڈھالنے کی کوشش کی گئی ہے۔ یہ ایک عدم مطابقت کا معاملہ ہے۔ اسی عدم مطابقت نے اقبال کے بیان میں کنفیوزن پیدا کردیا۔
اِس نوعیت کی ایک اور مثال حال میں سامنے آئی ہے۔ ایک معاصر مسلم دانشور جنھوں نے اعلی تعلیم حاصل کی، وہ عربی اور انگریزی دونوں زبانوں میں بخوبی دستگاہ رکھتے ہیں- انھوں نے اپنے بیان کے مطابق ستر سال سے زیادہ مد\ت تک اسلامیات کا مطالعہ کیا ہے۔ایک سیمینار میں انھوں نے اِس موضوع پر ایک مقالہ پیش کیا۔ یہ مقالہ ایک مسلم میگزین میں چھپا ہے۔ اور اس کا عنوان یہ ہے:
علم: اسلامائزیشن سے تخلیق کی طرف
یہ عنوان بالکل غیر واضح عنوان ہے۔ اسی طرح اِس مقالے کے بیانات میں بھی وضوح (clarity) موجود نہیں۔ میںنے کئی تعلیم یافتہ لوگوں کو ان کا مقالہ پڑھوایا اور پوچھا کہ اس کا خلاصہ کیا ہے۔ ہر ایک کا جواب یہ تھا کہ ہم کو اِس میں کنفیوزن کے سوا اور کچھ نہیں ملا۔
مصنف نے اپنے اس مقالے میں کہا ہے کہ آج ہم کو تخلیق ِ علم (knowledge creation) کی ضرورت ہے۔ لیکن پورے مقالے میں انھوں نے یہ نہیں بتایا کہ اُن کے نزدیک تخلیق علم کی تعریف (definition) کیا ہے۔ قاری پورے مقالے کو اس طرح پڑھتا ہے کہ اس میں ’’تخلیق علم‘‘ کا لفظ تو بار بار استعمال ہوا ہے، لیکن قاری کو نہیں معلوم کہ اس اصطلاح کا واقعی مفہوم کیا ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ تخلیق علم کوئی معروف اصطلاح نہیں۔ جاپان کے ایک شخص نے غالباً پہلی بار تخلیق ِ علم کی اصطلاح وضع کی۔ وہ اس کو کمپنی کے معاملات کے لیے استعمال کرنا چاہتا تھا، لیکن خود اس جاپانی شخص کے ذہن میں بظاہر اس اصطلاح کا کوئی واضح تصور موجود نہ تھا۔ چنانچہ یہ اصطلاح اپنے عدم وضوع کی بنا پر عمومی طورپر مقبول نہ ہوسکی۔اس موضوع پر غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ اسلام کی جدید وضاحت کے لیے جو کام مطلوب ہے، وہ نہ ’’ری کانسٹرکشن‘‘کا کام ہے اور نہ ’’تخلیقِ علم‘‘ کا کام۔ یہ وہی کام ہے جس کے لیے حدیث میں اجتہاد کا لفظ استعمال ہوا ہے۔ جدید ذہن کو ایڈریس کرنے کے لیے آج جس چیز کی ضرورت ہے، وہ یہی اجتہاد ہے، نہ کہ ری کانسٹرکشن اور تخلیق ِ علم۔
اجتہاد کیا ہے۔ اجتہاد دراصل تطبیقِ نو (reapplication) کا دوسرا نام ہے۔ قرآن اور حدیث میں جو باتیں کہی گئی ہیں، وہ اپنے اسلوب کے اعتبار سے زمانی ہیں، لیکن تطبیق کے اعتبار سے وہ ابدی ہیں۔ اِس حقیقت کو دریافت کرنے کا نام اجتہاد ہے۔ اِس معاملے کی وضاحت کے لیے یہاں قرآن سے کچھ مثالیں درج کی جاتی ہیں:
1۔ قرآن کی سورہ العنکبوت میں ایک آیت اِن الفاظ میں آئی ہے:قُلْ سِیرُوا فِی الْأَرْضِ ثُمَّ انظُرُوا کَیْفَ کَانَ عَاقِبَةُ الْمُکَذِّبِینَ (6:11)
قرآن کی اِس آیت میں ’’سیر فی الأرض‘‘ کا لفظ استعمال ہوا ہے۔ یہ آیت ساتویں صدی کے نصف اول میں اتری، جب کہ دنیا میں پرنٹنگ پریس کا زمانہ نہیں آیا تھا۔اِسی طرح اس وقت قوموں کے عروج وزوال کی تاریخ کے بارے میں کتابیں مرتب نہیں ہوئی تھیں۔ اب یہ سب کچھ ہوچکا ہے۔ اِس لیے قرآن کی اِس آیت کی تفسیر اِس طرح کی جائے گی کہ قوموں کی تاریخ کا مطالعہ کرو اور اس سے سبق حاصل کرو۔ اِس مطالعے سے معلوم ہوگا کہ ہر قوم عروج کے بعد زوال کا شکار ہوتی ہے، یہ تاریخی ظاہرہ اس بات کا ثبوت ہے کہ تاریخ کو کنٹرول کرنے والا انسان نہیں، بلکہ ایک اور بالاتر عامل ہے جو انسانی تاریخ کو کنٹرول کررہا ہے۔
2۔ اِسی طرح قرآن کی ایک اور آیت یہ ہے: وَالْخَیْلَ وَالْبِغَالَ وَالْحَمِیرَ لِتَرْکَبُوہَا وَزِینَةً ۚ وَیَخْلُقُ مَا لَا تَعْلَمُونَ (16:8) یعنی اور اس نے گھوڑے اور خچر اور گدھے پیدا کئے تاکہ تم ان پر سوار ہو اور زینت کے لئے بھی اور وہ ایسی چیزیں پیدا کرتا ہے جو تم نہیں جانتے۔
قرآن کی اِس آیت میں جو اصول اختیار کیاگیا ہے، اس کا ایک مفہوم وہ ہے جو آیت کے زمانہ نزول کے اعتبار سے ہے۔ اِسی کے ساتھ اِس آیت کا ایک وسیع تر مفہوم بھی ہے۔ اِس وسیع تر مفہوم کی روشنی میں آیت کا مطالعہ کیا جائے تو قرآن کی اِس آیت کے الفاظ موجودہ حالات کے اعتبار سے پوری طرح قابلِ انطباق (applicable) ہوجاتے ہیں۔ وہ یہ کہ آیت میں خیل، بغال، حمیر کے الفاظ علامتی طورپر قدیم زمانے کے ورلڈآف نیچر (world of nature) کو بتاتے ہیں۔ اِسی طرح یخلق مالا تعلمون کے الفاظ بعد کے زمانے میں ظہور میں آنے والے ورلڈ آف ٹکنالوجی (world of technology) کو بتارہے ہیں۔
3۔ موجودہ زمانہ میں جو مسائل پیدا ہوئے ہیں ان میں متفقہ طور پر، سب سے بڑا مسئلہ وہ ہے جس کو ماحولیاتی مسئلہ (ecological problem) کہا جاتا ہے۔ بے شمار دماغ اس مسئلہ پر کام کررہے ہیں۔ مگر ابھی تک اس کا حل دریافت نہ ہوسکا- قرآن میں اس سلسلہ میں ایک آیت موجود ہے جو بتاتی ہے کہ اس معاملہ میں صحیح طرز فکر (right way of thinking)کیا ہے-
قرآن کی سورہ الروم میں ایک آیت ان الفاظ میں آئی ہے: ظَہَرَ الْفَسَادُ فِی الْبَرِّ وَالْبَحْرِ بِمَا کَسَبَتْ أَیْدِی النَّاسِ لِیُذِیقَہُم بَعْضَ الَّذِی عَمِلُوا لَعَلَّہُمْ یَرْجِعُونَ(30:41)۔
اِس آیت میں غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ اس میں دورِ صنعت کے اس ظاہرہ کا ذکر ہے جس کو صنعتی کثافت (industrial pollution) کہاجاتا ہے۔ اسی کا نتیجہ ہے کہ فضا اور سمندر دونوں مہلک آلودگی (harmful pollution) کا کیس بن گئے ہیں۔
قرآن کی آیت کے مطابق یہ مسئلہ تمام تر انسانی ساخت کا مسئلہ (man-made problem) ہے- لعلہم یرجعون کا لفظ بتاتا ہے کہ اس مسئلہ کا حل صرف یہ ہے کہ انسان فطری طرز زندگی (natural lifestyle) کی طرف واپس جائے جس کو چھوڑنے کی وجہ سے یہ مسئلے پیدا ہوئے ہیں۔
اجتہاد ایک ضرورت
اجتہاد اصلاً کوئی زمانی ضرورت نہیں، بلکہ وہ ایک فطری ضرورت ہے۔ چنانچہ خود رسول اور اصحابِ رسول کے زمانہ میں بار بار اجتہاد کا عمل کیا گیا۔ اسی طرح آج بھی اجتہاد کیا جائے گا- اجتہاد کے عمل کے لئے نہ کسی نئی اصطلاح کی ضرورت ہے اور نہ کسی نئے منہج کووضع کرنے کی ضرورت۔
موجودہ زمانہ میں اسلام کے موضوع پر بڑی تعداد میں کتابیں لکھی اور چھاپی گئ ہیں۔ ان میں سے جو کتاب کسی معلوماتی موضوع پر ہوتی ہے وہ تو قاری کے لئے قابلِ فہم ہوتی ہے۔ لیکن جو کتابیں اسلام کی توضیح وتعبیر کے مو ضوع پر لکھی گئی ہیں وہ تقریباً سب کی سب کنفیوزن کا شکار ہیں۔ قاری ان کتابوں کو پڑھتا ہے لیکن وہ اس طرح ان کو ختم کرتا ہے کہ ان کے ذریعہ قاری کو کوئی بصیرت حاصل نہیںہوتی-
اس کنفیوزن کا ایک بنیادی سبب یہ ہے کہ یہ تمام حضرات اپنے تجزیہ (analysis) میں ایک چیز اور دوسری چیز کے درمیان فرق کرنے کے اصول (principle of differentiation) نہیں جانتے ہیں- وہ اس فرق کو ملحوظ رکھے بغیر سوچتے ہیں اور اس فرق کو ملحوظ رکھے بغیر لکھتے ہیں۔ اس اصول کو قرآن میں فرقان (8:29)کہاگیا ہے۔ میرے تجربہ کے مطابق، موجودہ زمانے کے تقریباً تمام مقرر اور محرر فرقان کی حکمت سے بے خبر ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی تقریر اور تحریر میں ہمیشہ کنفیوزن رہتا ہے۔
مثلاً تفکیر کے موضوع پر کلام کرتے ہوئے مبنی بر قلب مراقبہ (heart-based meditation) اور مبنی بر ذہن تفکیر (mind-based contemplation) کے فرق کو نہ سمجھنا- فرد (individual) کی اصلاح اور سماجی نظام (social system)کی تعمیر کے درمیان فرق کو ملحوظ نہ رکھنا۔ مسائل دنیا اور مسائل آخرت کے تقاضوں کے درمیان جو نوعی فرق ہے، اس کو سمجھے بغیر اس موضوع پر اظہار خیال کرنا۔ طبیعیاتی سائنس کے موضوع اور انسانیات (humanities)کے موضوع کے درمیان جو بنیادی فرق ہے اس سے گہری واقفیت کے بغیر ان موضوعات پر لکھنا اور بولنا، وغیرہ-
حقیقت یہ ہے کہ جو لوگ فرقان (principle of differentiation) کو نہ جانتے  ہوں ان کو صرف معلوماتی موضوع پر لکھنا اور بولنا چاہئے- ان کو ہر گز تفکیری موضوع پر کلام نہیں کرنا چاہئے- ایسا کرکے وہ اپنے قاری کو صرف کنفیوزن دیں گے وہ اپنے قاری کو واضح رہنمائی دینے سے قاصر رہیں گے۔غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ مذکورہ مسلم دانشور کا مسئلہ بھی وہی ہے جو ان سے پہلے ڈاکٹرمحمداقبال کا مسئلہ تھا۔ دونوں ایک ہی مسئلہ کا شکار ہوئے۔ یعنی اپنے خود ساختہ ماڈل کی بنا پر مسئلہ کو غلط رخ (wrong angle) سےدیکھنا۔ ڈاکٹر محمد اقبال نے انسان ساز فلسفیانہ ماڈل کو لے کر اسلام کو سمجھنا چاہا جو اصلاً فطرت خداوندی پر مبنی تھا- اس عدم مطابقت کی بنا پر ڈاکٹر محمد اقبال اس مسئلہ کی صحیح تشریح وتعبیر کرنے میں ناکام رہے۔
مذکورہ مسلم دانشور کا کیس یہ ہے کہ وہ اصلاً علم اقتصادیات (economics) کے آدمی ہیں۔ اقتصادیات کا علم انسانی زندگی کے نظامی پہلو (infrastructural aspect) سے تعلق رکھتا ہے۔ یہ دوبارہ ایک انسان ساز علم ہے۔ اس بنا پر مذکورہ مسلم دانشور کا ذہن مبنی بر نظام ذہن بن گیا۔وہ اسلام کی تعبیر اپنےنظامی ماڈل کی روشنی میں کرنے لگے۔ جب کہ اسلام کا ماڈل مختلف تھا- علم الاقتصاد کے تحت جو ماڈل بنتا ہے، وہ مبنی بر نظام ماڈل (system-based model) ہے، جب کہ اسلام ایک مبنی برفرد مذہب ہے۔ اسلام کا ماڈل مبنی بر فرد ماڈل (individual-based model) ہے- اس عدم مطابقت کی بنا پر مذکورہ مسلم دانشور اس مسئلہ کی صحیح تعبیر وتشریح میں ناکام رہے۔
اس معاملہ کی ایک مثال یہ ہے کہ مذکورہ مسلم دانشورنے لکھا ہے کہ نیورو سائنس (neuroscience) کے نئے ابھرتے ہوئے ماہرین شاید اس معاملہ میں ہماری مدد کرسکیں۔ مگر یہ بات زیر بحث مسئلہ سے بالکل غیر متعلق (irrelevant) ہے- نیورو سائنس کیا ہے- نیورو سائنس انسان کےاعصابی نظام کے سائنسی مطالعہ کا نام ہے:
"Neuroscience is the scientific study of the nervous system"
زیر بحث مسئلہ کا تعلق مسائل حیات کی توجیہہ (explanation) سے ہے۔ اور یہ ایک معلوم بات ہےکہ سائنس کا کام توجیہہ کرنا نہیں ہے بلکہ صرف فطرت کے عمل کو دریافت کرنا ہے:
Neuroscience deals with the functioning of the mind.
زیر بحث مسئلہ سے انسانی ذہن کا تعلق واضح ہے لیکن یہاں جو مسئلہ ہے وہ مائنڈ کے فکری انطباق کا مسئلہ ہے نہ یہ کہ ذہن فزیکل معنوں میں کس طرح عمل کرتاہے۔
It is a question of the application of the mind, not the functioning of the mind.
مذکورہ مسلم دانشورکے مقالہ میں کنفیوزن کیوں ہے۔ اس کا سبب یہ ہے کہ تعلیم کے زمانے میں موصوف کا سبجیکٹ معاشیات (economics)تھا۔ انھوں نے اسی سبجکٹ میں اعلی تعلیم حاصل کی اور اپنی پوری زندگی اسی سبجکٹ کا مطالعہ کرتے رہے۔ جیسا کہ معلوم ہے معاشیات ایک ایسا سبجکٹ ہے جس میں نظام (system)کے پہلو سے زندگی کا مطالعہ کیا جاتا ہے۔ اس طرح یہ ہوا کہ موصوف کے ذہن میں نظامی ماڈل (system-based model) بن گیا۔ وہ شعوری یا غیر شعوری طورپر نظامی ماڈل کو معیاری ماڈل سمجھنے لگے۔
اس کے بعد انھوں نے اپنے اسی ذاتی شاکلہ کی بنیاد پر اسلام کا مطالعہ کیا۔ انھوں نے چاہا کہ وہ اسلام کو ایک نظامی ماڈل (system-based model) میں ڈھال دیں۔مگر اصل حقیقت یہ تھی کہ اسلام ایک مبنی بر فرد ماڈل تھا، نہ کہ مبنی بر نظام ماڈل۔ اس فرق کو نہ جاننے کی بنا پر ان کے افکار میں کنفیوزن پیدا ہوگیا۔
واپس اوپر جائیں

متبادل کو جانیے

ونسٹن چرچل (Winston Churchill) قدیم برٹش ایمپائر کے وزیراعظم تھے، جس کا ایک حصہ انڈیا تھا۔ اس زمانے میں انڈیا میں فریڈم موومنٹ چل رہی تھی۔ چرچل نے انڈیا کو فریڈم دینے سے انکار کردیا۔ انھوں نے کہا کہ میں برٹش گورنمنٹ کا فرسٹ منسٹر اس لیے نہیں بنا ہوں کہ میں برٹش ایمپائر کے خاتمے کی صدارت کروں:
I have not become the king's First Minister in order to preside over the liquidation of the British Empire.
ونسٹن چرچل برطانیہ کی کنزرویٹیو پارٹی ( Conservative Party) کے لیڈر تھے۔ برطانیہ کی ایک اور پارٹی تھی، لیبر پارٹی (Labour Party)۔ اس کے لیڈر کلیمنٹ اٹلی (Clement Attlee) تھے۔ 1945 کے الیکشن میں لیبر پارٹی جیت گئی، اور اس کے لیڈر کلیمنٹ اٹلی برطانیہ کے پرائم منسٹر بنے۔ ان کی حکومت کے تحت 1947 کو برطانیہ نے انڈیا کو آزادی دے دی۔ 15 اگست 1947 کی رات کو بارہ بج کر ایک منٹ پر ، برٹش وائسرائے ماؤنٹ بیٹن (Lord Mountbatten) نے آل انڈیا ریڈیو پر اعلان کیا کہ آج انڈیا آزاد ہے:
Today, India is free
ونسٹن چرچل اس معاملے میں صرف ایک بات جانتے تھے۔ انڈیا پر برٹش رول کو برقرار رکھنا۔ لیکن کلیمنٹ اٹلی نے دیکھا کہ اب حالات بدل چکے ہیں، اور انڈیا پر برٹش رول قائم نہیں رہ سکتا۔ چناں چہ انھوں نے اس معاملے میں ایک متبادل (alternative) تلاش کیا۔ وہ یہ کہ انڈیا کو پولٹیکل آزادی دینا اور اپنے اقتصادی مفادات (economic interest) کو باقی رکھنا۔ چناںچہ ایسا ہی ہوا۔ 1947 میں برطانیہ نے انڈیا کو سیاسی آزادی دے دی، اور اس کے بعد لمبے عرصے تک وہ انڈیا کی اقتصادیات کا سب سے بڑا پارٹنر بنا رہا۔
1947 سے پہلے انڈیا میں جو سیاسی حالات بنے تھے، وہ بتارہے تھے کہ اب نوآبادیاتی نظام کا دور ختم ہوچکا ہے۔ اب انڈیا میں برٹش حکومت جاری نہیں رہ سکتی۔ ان حالات میں برطانیہ کے مدبرین نے یہ دریافت کیا کہ یہاں ہمارے لیے ایک متبادل (alternative) موجود ہے۔ اور وہ ہے— انڈیا کو سیاسی آزادی دینا، اور اس کے بعد انڈیا میں اپنے اقتصادی مفادات کو محفوظ رکھنا۔ چناں چہ انھوں نے ایسا ہی کیا۔
واقعات بتاتے ہیں کہ 1947 کے بعد لمبی مدت تک برطانیہ کے اقتصادی مفادات بڑی حد تک محفوظ رہے۔ برطانیہ نے جو کچھ سیاسی میدان میں کھویا تھا، اس کو دوبارہ اس نے اقتصادی میدان میں حاصل کرلیا۔یہی دنیا میں کامیابی کا راز ہے۔
جب بھی آپ دیکھیں کہ ایک فارمولا (formula )کام نہیں کر رہا ہے تو سوچئے، بہت جلد آپ دریافت کریں گے کہ یہاں ایک متبادل فارمولا (alternative formula) موجود ہے، جس کے ذریعے آپ اپنی کامیابی کا تسلسل قائم رکھ سکتے ہیں۔
واپس اوپر جائیں

زندہ قومیں کس طرح کام کرتی ہیں

اسٹیٹس مین (یکم ستمبر 1967) کی ایک رپورٹ کو بہت کم اخباروں نے اہمیت دی- یہ ایک امریکی خاتون ڈاکٹر سارہ سی- گڈ شنسکی (Sarah C. Gudschinsky)کی ہندستان میں آمد کی اطلاع تھی- دراصل بہت کم لوگ جانتے ہیں کہ یہ مشنری خاتون کس عظیم مگر خاموش ادارہ کی رکن ہیں اور کس خاص مقصد کے تحت ہندستان آئی ہیں-
ڈاکٹر گڈشنسکی اوکلاہوما یونیورسٹی میں سمرانسٹی ٹیوٹ آف لنگسٹکس (اختصار SIL)کی فیکلٹی کی ممبر ہیں- اس مسیحی ادارہ نے تبلیغ کی دنیا میں ایک بالکل نیا میدان کھولا ہے— وہ اپنے کام کا آغاز ان قدیم قبائل میں کرتے ہیں جو نہایت پس ماندہ ہیں اور جن کی بولیاں ابھی تک پڑھنے لکھنے کی زبانیں نہیں بنی ہیں-
یہ نہایت متمدن اوراعلی تعلیم یافتہ لوگ دنیا کی انتہائی غیر مہذب قوموں میں جاکر برسہا برس رہتے ہیں، ان کی بولیوں کوسیکھتے ہیں،پھر ان کے حروف تہجی بناتے ہیں، قواعد مرتب کرتے ہیں، نصابی کتابیں لکھتے ہیں، پریس قائم کرتے ہیں اور اس طرح ان کی زبانوں کو تحریری زبان بنا کر اور ان میں کتابیں تیار کرکے انھیں پڑھانا شروع کرتے ہیں- ان کی نصابی کتب میں بائبل کاترجمہ بھی ضروری جزو ہوتا ہے-
یہ ان کی خدمت کے لئے ان کی بستیوں میں جدید طرز کے اسپتال کھولتے ہیں- اس تعلیم اور اخلاقی اثر کا نتیجہ یہ ہوتاہے کہ جب یہ قبائل تعلیم یافتہ ہوجاتے ہیں تووہ صرف تعلیم یافتہ نہیں ہوتے بلکہ اسی کے ساتھ عیسائی مذہب کو بھی قبول کرچکے ہوتے ہیں-
اس ادارہ کا سب سے زیادہ نمایاں کام پیرو کے وسیع جنگلوں میںہورہا ہے جہاں کثرت سے قدیم وحشی قبائل بستے ہیں اور جن کے درمیان رابطہ کا ذریعہ صرف ہوائی جہاز اورکشتیاں ہیں- یہ مسیحی مبلّغین ان لق ودق جنگلوں کے اوپر ہوائی جہاز سے اڑتےہیں اور ریڈیو اور ٹرانسمیٹر لے کر عین وحشی قبائل کی بستیوں میں اتر جاتے ہیں جو نہ صرف مہذب انسانوں کے جانی دشمن ہیں بلکہ ان کی بولیاں اتنی مختلف ہیں کہ مہینوں تک ان کو سیکھنے کی صبر آزما جدوجہد کئے بغیر ان سے کوئی بات بھی نہیں کی جاسکتی-
یہ جدوجہد تقریباً آدھی صدی سے جاری ہے اوراس کا نتیجہ یہ ہے کہ آج ان گھنے جنگلوں کے اندر اسکول، اسپتال، گرجا ، ہوائی میدان، ریڈیو اسٹیشن اور نہیں معلوم کیا کیا قائم ہیں اور تیرہ مختلف زبانیں بولنے والے وحشی قبائل کی بہت بڑی تعداد مہذب اور تعلیم یافتہ ہو کر عیسائی ہوچکی ہے- یہ کام جو ابتداء ً شمالی امریکہ کے جنگلوں میں شروع کیا گیا تھا، اب دنیا کے اٹھارہ ملکوں میں پھیلا ہوا ہے-ہندستان میں بھی مہاراشٹر اور مدھیہ پردیش میں دو ایسے ادارے قائم کئے جارہے ہیں اور یہی اس وقت ڈاکٹر گڈ شنسکی کی یہاں آمد کا باعث ہے-
غور کیجئے— آج کی زندہ قومیں کتنی اونچی سطح سے کام کررہی ہیں- انھوں نے اپنے عمل اور جدوجہد کے ذریعہ دنیا سے زندگی کا حق وصول کیا ہے- اس کے برعکس ہمارا کیا حال ہے- ہم نے سمجھ رکھا ہے کہ سطحی تدبیروں اور جذباتی تقریروں سے سارا میدان فتح ہوجائے گا-
(ہفت روزہ الجمعیة، 15 ستمبر 1967)
واپس اوپر جائیں

خبرنامہ اسلامی مرکز — 236

1- چھٹمل پور(سہارن پور) میں 5 مئی 2015 کوایک شادی کے موقع پرصدر اسلامی مرکز کے دعوتی لٹریچر کو لوگوں کے درمیان تقسم کیا گیا۔ اس موقع پر ضلع میرٹھ کے پولیس آفیسر بی آر پندیر (B. R. Pundeer) موجود تھے۔انھوں نےیہ دعوتی لٹریچر خود بھی لیا اور دوسروں کو دیا-اس دعوتی لٹریچر کو سہارن پور کی سی پی ایس ٹیم نے اسپانسر کیا تھا-(ڈاکٹرمحمد اسلم خان، سہارنپور)۔
2- تمل ناڈو کے نیل گری ضلع کے کُنّورمیں ہنری مارٹن انسٹی ٹیوٹ (حیدر آباد) کی طرف سے 10 -13 مئی 2015 کے درمیان سینٹ تھیوڈورس ریٹریٹ سینٹر (Theodore's Retreat Centre)میں ایک انٹر فیتھ کانفرنس کا انعقاد کیا گیا تھا- سی پی ایس (بنگلور) کی ٹیم نے اس میں شرکت کی ۔ کانفرنس میں جن عنوانات کے تحت لکچر دیے گیے ان میں سے چند یہ ہیں: ریلجن اینڈ اسپریچولٹی، اسلام اینڈ پیس اوروومن اِن اسلام۔اس موقع پر تمام شرکاء کے درمیان سی پی ایس کا دعوتی لٹریچر بھی تقسیم کیا گیا- لوگوں نے خوشی کے ساتھ ان کو حاصل کیا-نیز شرکاء کانفرنس کے علاوہ مقامی مسلمانوں سے انفرادی طورپردعوتی انٹرایکشن بھی ہوا-
3- یونیسیف (UNICEF) کی چائلڈ پروٹیکشن اسپیشلسٹ مزڈورا(Dora Giusti) نے صدر اسلامی مرکز کا انٹرویو لیا۔یہ انٹرویو بچوں کے خلاف ہونے والے تشددکی روک تھام کے سلسلے میں تھا۔ صدر اسلامی مرکز نے اس سلسلے میں انھیں مفید مشوروں سے نوازا۔یہ ملاقات 6 جون 2015 کو ہوئی۔ آخر میں انھیں انگلش ترجمہ قرآن اور صدر اسلامی مرکز کی کتابوں کا ایک سیٹ بطور تحفہ دیا گیا، جسے انھوں نے شکریہ کے ساتھ قبول کیا۔
4- الہ آباد میں ترجمہ قرآن ڈسٹریبیوشن کا کام اکتوبر 2013 سے ہورہا ہے۔بطور خاص تعلیم یافتہ افراد کے اجتماعات میں قرآن ڈسٹریبوشن کا کام بڑے پیمانے پر ہورہا ہے۔ مثلاً غوث گرل میموریل کالج اور حمیدیہ گرلس ڈگری کالج میں الوداعیہ تقریب کے موقع پر طلباءنے اپنے اساتذہ اوراپنے سینئرس کو ترجمہ قرآن کے نسخے ہدیہ کیے- اسی طرح خواتین کے اجتماع کے موقع پر قرآن کے نسخے تقسیم کیے گئے۔ اہل حدیث کے ایک پروگرام میں غیر مسلموں کے درمیان ترجمہ قرآن تقسیم کیا گیا، تمام حضرات نے شکریہ کے ساتھ اس کو قبول کیااور اپنی خوشی کا اظہار کیا- (محمدابرار نرالا، الہ آباد)
5- الحمدللہ الرسالہ مشن کا دعوتی کام برما میں کافی عرصہ سے ہورہا ہے۔جناب عبد العزیز صاحب اور مولانا شوکت صاحب ایک ٹیم کے ساتھ مل کر یہ دعوتی کام انجام دے رہے ہیں۔ پچھلے دنوںصدر اسلامی مرکز کی کتاب ’احیاء اسلام‘ کا برمی زبان میں ترجمہ شائع ہوچکا ہے۔ یہ ترجمہ مسٹر جاوید انصاری نے کیا ہے۔اس کے علاوہ پچھلے تین سال سے مستقل طور پرالرسالہ کی کاپیاں وہاں جارہی ہیں-
6- یروشلم (اسرائیل) اور اس کے آس پاس کے علاقہ میں پوری دنیا سے آنے والے سیاحوں کے درمیان دعوتی کام کافی منظم انداز میں ہورہا ہے-چند فلسطینی نوجوانوں نے ’دار السلام برائے تعارف اسلام‘ (DAR AS-SALAM FOR INTRODUCING ISLAM)کے نام سے2013 میں ایک آرگنائزیشن قائم کیا، اور اس کے تحت یہ لوگ اسرائیل میں دعوت کا کام پر امن انداز میں کر رہے ہیں۔یہ لوگ سیاحوں کے درمیان صدر اسلامی مرکز کا انگلش ترجمۂ قرآن اوران کی کتاب ’وہاٹ از اسلام‘ تقسیم کرتے ہیں-
7- ذیل میں چند دعوتی تجربات و تاثرات دیئے جارہے ہیں:
— آپ کی کتابوں کے مطالعے سے مجھے کافی فائدہ ہوا ہے- ایک وقت جب کہ میں پریشانیوں میں مبتلا تھا، آپ کی کتاب ’رازِ حیات‘ کے مطالعہ سے مجھے کافی ہمت اور حوصلہ ملا ، اور ایک نئی طاقت وقوت کے ساتھ زندگی کی جدوجہد کے لئے میں نے خود کو دوبارہ تیار کیا- (عرفان احمد، کینیا)
— میری لینڈ، امریکا سے مز گل زیبا احمد لکھتی ہیں:
Maulana Saheb, I was introduced to your mission in 2004 while I was still in Pakistan. Although I had read other writers before, it was you who introduced me to what Islam demands from us. Since then I have involved myself in dawah work. I use your literature for dawah work and am very thankful to God for this. I always keep copies of the Quran translation and supporting material with me. I share these with people whenever I get a chance. In the USA, we have started holding spiritual classes for women every Saturday. Apart from this, since January 2015, I have been giving a class to my two young nieces and their friend every Sunday at our local public library. They all are around 12 years old. They enjoy reading Spirit of Islam the most. Some of their feedback is given below:
After reading this book, my life has changed drastically. I love how this book explains the meaning of the Quran in scientific and current ways. This book is short and easy to read, but it has a lot of lessons. I have learnt the importance of prayer, peace, and patience. After reading, I’ve realized why Islam is peaceful. (Maira Usman, USA)
Spirit of Islam benefited me by helping me learn about honesty, the importance of not denying the truth, respecting others, and treating everyone equally. (Sara Amin and Vaniya Khan, USA)
واپس اوپر جائیں