Pages

Monday, 2 May 2016

Al Risala | May 2016 (الرسالہ،مئی)

4

-قرآن کی تعلیم

5

- استقامت کا حکم

6

- جنت کی مجلسیں

7

- جاہلوں سے اعراض

8

- علم کی اہمیت

9

- خوش قسمت انسان

10

- مومنانہ غوروفکر

11

- آسان فارمولا

12

- غلط سوچ

13

- ذہنی ارتقا

14

- تنقید یا الزام تراشی

15

- سوچنے کا ماڈل

16

- ذاتی عقل، علمی عقل

21

- حکمت کا راز

22

- اختلاف کا معاملہ

23

- مدح، تنقید

26

- ایک مردِ مومن

28

- کنٹری بیوشن کا سوال

29

- غلطی کا اعتراف

30

- توبہ کا عمل

31

- منفی سوچ کا مزاج

32

- اختلاف ایک برکت

33

- نیت، بصیرت

35

- عورت اور مرد

36

- خوشگوار تعلق کا راز

37

- انسان کا عجز

38

- ممکن ، ناممکن

39

- وزڈم میگزین

40

- سوال و جواب

44

- خبرنامہ اسلامی مرکز


قرآن کی تعلیم

ایک حدیث رسول ان الفاظ میں آئی ہے: خیرکم من تعلم القرآن وعلمہ ۔(صحیح البخاری، حدیث نمبر 5027)تم میں اچھا وہ ہے جس نے قرآن کو سیکھا اور قرآن کو سکھایا۔اس حدیث میں تعلیم اور تعلم سے مراد صرف قرآن کے عربی متن کا تعلیم و تعلم نہیں ہے۔ بلکہ اس کا مفہوم اس سے زیادہ وسیع ہے۔اس حدیث میں قرآن کے علم کے ساتھ متعلقات قرآن کا علم بھی شامل ہے۔
قرآن کے متعلق علوم سے مراد تمام انسانی علوم ہیں۔ سب سے پہلے اس میں وہ علوم شامل ہیں جن کا حوالہ قرآن میں کسی پہلو سے آیا ہے۔مثلا تاریخ ، ارضیات اور فلکیات ،وغیرہ۔ قرآن معروف معنوں میں علمی کتاب نہیں ہے۔ مگر قرآن میں مختلف علوم کے بارے میں جزئیاتی اشارے موجود ہیں۔ عالم کے لیے ضروری ہے کہ وہ ان علوم کو بقدرِ ضرورت پڑھے تاکہ وہ قرآن کی علمی تشریح کرسکے۔
قرآن ایک دعوتی کتاب ہے۔ قرآن تمام انسانوں کو خطاب کرتے ہوئے ان کو اپنا پیغام دیتا ہے۔ اور پھر حکم دیتا ہے کہ قرآن کا پیغام اس طرح پیش کرو جو ان کے ذہن کو ایڈریس کرنے والا ہو(النساء63)۔ اس لحاظ سے اس حکم کے توسیعی مفہوم میں وہ تمام علوم شامل ہوجاتے ہیں جو انسان کے ذہن پر چھائے ہوئے ہیں۔ کیوں کہ ان علوم کا تجزیہ کیے بغیر آدمی قرآن کی باتوں پر یقین نہیں کرسکتا۔
قرآن پر صرف ایمان لانا کافی نہیں ہے۔ بلکہ ضروری ہے کہ مومن کے اندر قرآن کی صداقت پر یقین ہو۔ یہ یقین اسی وقت پیدا ہوسکتا ہے جب کہ قرآن سے متعلق علوم کا مطالعہ کیا جائے۔ اسی طرح جو لوگ قرآن کے مدعو ہیں، ان کے اندر بھی ایک سوچ ہوتی ہے جو پیشگی طور پر ان کے اندر موجود ہوتی ہے۔ اس بنا پر ضروری ہے کہ مدعو کے سامنے قرآن کی تعلیم اس طرح پیش کی جائے کہ مدعو کو اس کی صداقت پر یقین ہوجائے۔ اس لیے ضروری ہے کہ عالم مدعو کے علوم سے واقفیت حاصل کرے۔
واپس اوپر جائیں

استقامت کا حکم

ایک حدیث رسول ان الفاظ میں آئی ہے عن سفیان بن عبد اللہ الثقفی، قال قلت یا رسول اللہ حدثنی بأمر أعتصم بہ، قال قل ربی اللہ ثم استقم، قلت یا رسول اللہ ما أخوف ما تخاف علی، فأخذ بلسان نفسہ، ثم قال ہذا.(سنن الترمذی، حدیث نمبر2410) سفیان بن عبد اللہ الثقفی روایت کرتے ہیں کہ میں نے کہا کہ اے اللہ کے رسول، مجھے ایک ایسی بات بتائیےجس کو میں مضبوطی کے ساتھ پکڑ لوں۔ آپ نے فرمایاکہ کہو کہ اللہ میرا رب ہے، اور پھر اس پر قائم ہوجاؤ۔ میں نے کہا کہ اے اللہ کے رسول مجھے سب سے زیادہ کس چیز سے ڈرنا چاہیےجس کا آپ مجھ پر خوف کھاتے۔آپ نے اپنی زبان پکڑی، پھر فرمایا کہ اس سے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھنے والے کو قول پر استقامت کاحکم دیا۔ قول پر استقامت کیا ہے۔وہ یہ ہے کہ زندگی میں بار بار ایسے معاملات پیش آئیں گے جو تم کو اپنے قول سے ہٹانے والے ہوں، مگر تم اس سے غیر متاثر رہ کر اپنے قول پر جمے رہنا۔ اس کی صورت یہ ہے کہ تم ہر ایسی بات کو اللہ کے حوالے کردو، اور اپنے قول کی طرف لوٹ جاؤ۔
قول سے ہٹنے کا سبب زیادہ تر زبان کی بنا پر ہوتا ہے۔ اجتماعی زندگی میں بار بار ایسا ہوتا ہے کہ کوئی شخص زبان سے ایسی بات کہہ دیتا ہے جو سننے والے کو بری معلوم ہوتی ہے۔ اس کو غصہ آجاتا ہے، وہ بدلہ لینے کے درپے ہوجاتا ہے، وہ چاہنے لگتا ہے کہ کہنے والے کو نقصان پہنچا کراس کو سبق سکھائے۔ ایسے تمام مواقع پر انسان کو یہ کرنا ہے کہ وہ زبان کے شر سے اپنے آپ کو بچائے۔ زبان کا غلط استعمال بات کو بڑھاتا ہے، اور زبان کا صحیح استعمال بات کو ختم کردیتا ہے۔
زندگی میں اکثر بحران (crisis) زبان کی وجہ سے پیش آتے ہیں۔ آدمی کو چاہیے کہ وہ کرائسس منیجمنٹ (crisis management)کا آرٹ سیکھے۔ وہ بحران کو مینیج (manage) کرکے اس کو ابتدا ہی میں ختم کردے۔
واپس اوپر جائیں

جنت کی مجلسیں

جنت صرف عیش کی جگہ نہیں ہے، بلکہ وہ اعلی درجے کی سرگرمیوں کی جگہ ہے۔ انھیں میں سے ایک اعلی سرگرمی وہ ہے جس کو جنت کی مجلسیں کہا جاسکتا ہے۔ اس جنتی سرگرمی کا ذکر قرآن میں ان الفاظ میں آیا ہے وَنَزَعْنَا مَا فِی صُدُورِہِمْ مِنْ غِلٍّ إِخْوَانًا عَلَى سُرُرٍ مُتَقَابِلِینَ (15:47)ا ور ان کے سینوں کی کدورتیں ہم نکال دیں گے، سب بھائی بھائی کی طرح رہیں گے، تختوں پر آمنے سامنے۔ دوسرے مقام پر یہ الفاظ آئے ہیں أُولَئِکَ لَہُمْ رِزْقٌ مَعْلُومٌ™ فَوَاکِہُ وَہُمْ مُکْرَمُونَ™ فِی جَنَّاتِ النَّعِیمِ ™ عَلَى سُرُرٍ مُتَقَابِلِینَ ™(37:41-44)ان کے لیے معلوم رزق ہوگا۔ میوے، اور وہ نہایت عزت سے ہوں گے۔آرام کے باغوں میں ۔تختوں پر آمنے سامنے بیٹھے ہوں گے۔
اس سے معلوم ہوتا ہے کہ جنت کا ماحول انتہائی درجے کا پر راحت ماحول ہوگا۔ وہاں جنت میں داخل ہونے والے لوگ آمنے سامنے (face to face) بیٹھیں گے، اور اعلی معرفت کے ماحول میں باہم گفتگو کریں گے۔ یہ باہم گفتگو کرنے والے لوگ وہ ہوں گے، جو دنیا کی زندگی میں اعلی معرفت حاصل کرچکے ہوں۔ جو ذہنی ارتقا (intellectual development) کے بلند درجے پر ہوں گے۔ ان میں سے ہر شخص اعلی درجے کی مجلس میں شرکت کرنے کے لیے کامل معنوں میں تیار شخص (prepared personality) کی حیثیت رکھتا ہوگا۔ یہ جنتی زندگی کا ایک نہایت اعلی تجربہ ہوگا، جو اہل جنت کو حاصل ہوگا۔
جنت کی ان مجالس کا موضوع کلام کیا ہوگا۔ وہ قرآن کی ایک آیت سے معلوم ہوتا ہے: وَقِیلَ الْحَمْدُ لِلَّہِ رَبِّ الْعَالَمِین(39:75)۔اور کہا جائے گا کہ ساری حمد اﷲ کے لیے ہے، سارےعالم کا خداوند۔یہ آیت جنت کے بارے میں ہے۔ حمد الٰہی یا معرفت خداوندی بلاشبہ ایسا موضوع ہے جو لامحدود حد تک وسیع ہے۔ اس موضوع کا تعلق کبھی نہ ختم ہونے والے کلمات اللہ اور آلاء اللہ سے ہے۔
واپس اوپر جائیں

جاہلوں سے اعراض

اسلام کا ایک اہم اصول ہے جس کو قرآن میں جاہلوں سے اعراض کہا گیا ہے(الاعراف199 )۔ سیرت ابن ہشام میں ایک واقعہ نقل کیا گیا ہے قدم على رسول اللہ صلى اللہ علیہ وسلم، وہو بمکة، عشرون رجلا أو قریب من ذلک من النصارى، حین بلغہم خبرہ من الحبشة، فوجدوہ فی المسجد، فجلسوا إلیہ وکلموہ وسألوہ، ورجال من قریش فی أندیتہم حول الکعبة، فلما فرغوا من مسألة رسول اللہ صلى اللہ علیہ وسلم عما أرادوا، دعاہم رسول اللہ صلى اللہ علیہ وسلم إلى اللہ عز وجل وتلا علیہم القرآن. فلما سمعواا لقرآن فاضت أعینہم من الدمع، ثم استجابوا للہ ، وآمنوا بہ وصدقوہ، وعرفوا منہ ما کان یوصف لہم فی کتابہم من أمرہ. فلما قاموا عنہ اعترضہم أبو جہل ابن ہشام فی نفر من قریش، فقالوا لہم: خیبکم اللہ من رکب! بعثکم من وراءکم من أہل دینکم ترتادون لہم لتأتوہم بخبر الرجل، فلم تطمئن مجالسکم عندہ، حتى فارقتم دینکم وصدقتموہ بما قال، ما نعلم رکبا أحمق منکم. أو کما قالوا. فقالوا لہم:سلام علیکم، لا نجاہلکم، لنا ما نحن علیہ، ولکم ما أنتم علیہ، لم نأل أنفسنا خیرا۔ (سیرۃ ابن ہشام، طبعۃ مصر، 1955، 1/391-92)
اس واقعے میں بتایا گیا ہے کہ رسول اللہ کے پاس کچھ نصرانی لوگ حبش سے آئے تھے۔ انھوں نے آپ کی باتیں سنیں، پھر انھوں نے آپ کے ہاتھ پر اسلام قبول کرلیا۔ جب وہ رسول اللہ کی صحبت سے نکلے تو ان کی ملاقات ابوجہل سے ہوگئی۔ ابوجہل نے ان سے کہا کہ تم لوگ بہت احمق ہو، تم لوگوں نے اس شخص کی بات سنی ، اور پھر اس کے مومن بن گئے۔ تم کچھ لوگوں کے نمائندہ بن کر آئے تھے، تم کو اس شخص کے بارے میں تحقیق کرنا چاہیے تھا اور جا کر اپنے لوگوں کو بتانا چاہیے تھا۔ انھوں نےجواب میں اعراض کا طریقہ اختیار کیا۔ قابل غور ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان لوگوں کو اعراض کا فلسفہ نہیں بتایا تھا۔ لیکن انھوں نے خود سے اعراض کے طریقے پر عمل کیا۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ایمان آدمی کے اندر ذہنی بیداری لاتا ہے، آدمی کے اندر وہ چیز پیدا کرتا ہے جس کو تخلیقی فکر (intellectual thinking) کہا جاتا ہے۔
واپس اوپر جائیں

علم کی اہمیت

علم کی اہمیت کے بارے میں بہت سی حدیثیں ہیں۔ ایک حدیث رسول ان الفاظ میں آئی ہے ومن سلک طریقا یلتمس فیہ علما، سہل اللہ لہ بہ طریقا إلى الجنة(صحیح مسلم، حدیث نمبر 2699)یعنی جو شخص ایک راستے پر علم کے حصول کے لیے چلے، اللہ اس کے ذریعے اس کے لیے جنت کے راستے کو آسان کردیتا ہے۔
علم کے راستے پر چلنے کا مطلب یہ ہے کہ آدمی سچائی کے حصول کے لیے علمی مطالعہ کا طریقہ اختیار کرے۔ ایسا انسان اگر واقعۃً سچائی کا طالب ہے تو اس کا علمی مطالعہ اس کے یقین کو بڑھائے گا۔ سچائی کے نئے نئے گوشے اس پر کھلیں گے۔ سچائی کو وہ زیادہ گہری سطح پر دریافت کرے گا۔ سچائی پر اس کا یقین مسلسل طور پر بڑھتا چلا جائے گا۔علمی سفر اس کے لیے جنت کا سفر بن جائے گا۔
اس کا علمی مطالعہ اس کے لیے ایک ایسا فکری عمل (intellectual process) بن جائے گا، جو مسلسل طور پر اس کے ذہنی ارتقا میں اضافہ کرے گا۔ اس کی شخصیت ربانی شخصیت بن جائے گی۔ اس کی سوچ ، اس کی گفتگو، اس کا طرز عمل، ہر چیز میں پاکیزگی آتی چلی جائے گی۔ یہاں تک کہ وہ ایک مزکیّٰ شخصیت (طہٰ76) بن جائے گا، جس کے لیے فرشتے جنت کے تمام دروازے کھول دیں، اور یہ کہیں کہ جس دروازے سے تم چاہو، جنت میں داخل ہوجاؤ۔
علم کا حصول آدمی کے ذہنی افق کو بلند کرتا ہے۔ علم کا حصول آدمی کے اندر تخلیقی فکر (creative thinking) پیدا کرتا ہے۔ علم آدمی کو اس قابل بناتا ہے کہ وہ معرفت حق کے اعلی درجات تک پہنچے۔ علم آدمی کو اندھیرے سے اجالے میں لاتا ہے، علم آدمی کو محدودیت سے نکالتا ہے، اور اس کو لامحدود فضا میں پہنچا دیتا ہے۔ علم آدمی کے اوپر دانش (wisdom) کے وہ دروازے کھول دیتا ہے، جو کسی اور ذریعے سے آدمی کے اوپر کبھی نہیں کھلتے۔ علم آدمی کو اس قابل بناتا ہے کہ وہ اپنے فطری امکانات کو اپنے لیے واقعہ بنا سکے۔
واپس اوپر جائیں

خوش قسمت انسان

ایک حدیث میں سات ایسے انسانوں کا ذکر ہے، جو قیامت کے دن اللہ کے سائے میںجگہ پائیں گے۔ ان میں سے ایک انسان کا ذکر ان الفاظ میں آیا ہے وَرجل قلبہ معلّق فی المساجدِ۔ (صحیح البخاری، حدیث نمبر660)یعنی وہ انسان جس کا دل مسجد میں اٹکا ہوا ہو۔
اس حدیث میں مسجد کا لفظ علامتی معنی میں ہے۔ حقیقت میں اس سے مراد وہ انسان ہے جس نے اللہ کے دین کو اپنا سول کنسرن (sole concern) بنا لیا ہو۔ وہ اللہ رب العالمین کے بارے میں سوچے۔ وہ اپنی زندگی کے ہر موقعے پر اللہ کو یاد کرے۔ اللہ کی عبادت کرنا، اس کا محبوب مشغلہ بن گیا ہو۔ اس کا بولنا، اس کا کرنا، سب اللہ کے رنگ میں رنگ گیا ہو۔ اللہ کے دین کی دعوت کو اس نے اپنی زندگی کا واحد مشن بنا لیا ہو۔ وہ اللہ کے لیے جینے والا، اور اللہ کے لیے مرنے والا بن جائے۔ اس کا چلنا بھی اللہ کے لیے ہو، اور اس کا رکنا بھی اللہ کےلیے ہو۔
رجل قلبہ معلق فی المساجد میں جو بات کہی گئی ہے، وہ حدیث میں بظاہر مسجد کی نسبت سے کہی گئی ہے، لیکن وہ ایک عام انسانی صفت ہے۔ اصل یہ ہے کہ ہر انسان کی کوئی ’’مسجد‘‘ہوتی ہے۔ اس کا دل ہر لمحہ اپنی اس مسجد سے اٹکا ہوا ہوتا ہے۔ وہ کسی لمحہ اپنی اس مسجد سے غافل نہیں ہوتا۔
اس کا مطلب یہ ہے کہ ہر انسان کا ایک مقصود (goal) ہوتا ہے۔ وہ اپنی پوری توانائی کو خرچ کرکے اس مقصود کو حاصل کرنا چاہتا ہے۔ وہ اسی کے لیے سوچتا ہے، اور وہ اسی کے حصول کے لیے منصوبہ بناتا ہے۔ وہ ہر لمحہ یہ جائزہ لیتا رہتا ہے کہ اس نے اپنے مقصود کے لیے کیا کیا، اور کیا نہیں کیا۔ وہ اپنے اسی مقصود کو لے کر سوتا ہے، اور اپنے اسی مقصود کو لے کر جاگتا ہے۔
یہی معاملہ ایک دین دار آدمی کا ہے۔ دین دار آدمی کا کنسرن (concern) صرف ایک ہوتا ہے، اور وہ ہے اللہ کی رضا حاصل کرنا، اور اس کے نتیجے میں اپنے آپ کو ابدی جنت کا مستحق بنانا۔ اس سے کم کوئی چیز آدمی کو دین دار نہیں بناتی۔
واپس اوپر جائیں

مومنانہ غوروفکر

ایمان لانے والوں کے بارے میں قرآن کا ایک بیان یہ ہے: قَالَتِ الْاَعْرَابُ اٰمَنَّا قُلْ لَّمْ تُؤْمِنُوْا وَلٰکِنْ قُوْلُوْٓا اَسْلَمْنَا وَلَمَّا یَدْخُلِ الْاِیْمَانُ فِیْ قُلُوْبِکُمْ(49:14) یعنی اعراب کہتے ہیں کہ ہم ایمان لائے، کہو کہ تم ایمان نہیں لائے۔ بلکہ یوں کہو کہ ہم نے اسلام قبول کیا، اور ابھی تک ایمان تمھارے دلوں میں داخل نہیں ہوا۔
اسلام کا آغاز کلمہ ایمان کے اقرار سے شروع ہوتا ہے، مگر اللہ کے نزدیک اتنا ہی کافی نہیں۔ آدمی کے لیے ضروری ہے کہ وہ اِس لسانی سطح کے ایمان کو عقلی سطح کا ایمان بنائے۔ یہ گویا کلمہ گوئی کے بعد اس کی تکمیل ہے۔ اسی تکمیلی ایمان کو قرآن میں داخل القلب ایمان کہا گیاہے۔ اس آیت میں قلب سے مراد دل (heart) نہیں بلکہ قلب سے مراد ذہن (mind) ہے۔ داخل القلب ایمان کوئی پراسرار واقعہ نہیں، وہ مکمل معنوں میں ایک شعوری ارتقا کا معاملہ ہے۔
اصل یہ ہے کہ قبول اسلام کے بعد انسان کی زندگی میں ایک فکری عمل (intellectual process) شروع ہوتا ہے جو اس کی آخری عمر تک جاری رہتا ہے ۔وہ قرآن میں تدبر کرتا ہے، وہ سنت رسول کا مطالعہ کرتاہے، وہ اپنے ہر تجربہ اور مشاہدہ پر غور وفکر کرتاہے، وہ زندگی کے تمام معاملات کا تجزیہ (analysis) کرتاہے۔ یہ ایک مسلسل تفکیری عمل ہے، جو شعور کی سطح پر مسلسل جاری رہتاہے۔
اس عمل کو ایک لفظ میں مومنانہ غور وفکر کا عمل کہا جاسکتا ہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ اس کے اندر ایک ارتقا یافتہ ذہن (developed mind) تیار ہوتا ہے۔ اس طرح آدمی اس قابل ہوجاتا ہے کہ وہ ہر تجربہ کو اپنے ایمان کی غذا بنالے، وہ ہر کرائسس کو مینیج(manage)کرکے اس کو بے اثر کردے، وہ ہر منفی سوچ کو مثبت سوچ میں تبدیل کرلے، وہ ہر اختلاف پر غور کرکے اپنے اتحاد کو بدستور باقی رکھے۔
واپس اوپر جائیں

آسان فارمولا

مولانا سید سلیمان ندوی (وفات1953) ایک مشہور عالم تھے۔ ان کو کئی قسم کی مصیبتیں پیش آئیں۔ اسی پریشانی کی حالت میں پاکستان میں ان کا انتقال ہوگیا۔ اپنے آخری زمانے میں انھوں نے کسی سے اس کا ذکر کرتے ہوئے کہا:
ہم ایسے رہے یا کہ ویسے رہے وہاں دیکھنا ہے کہ کیسے رہے
اس شعر میں زندگی کی ایک تلخ حقیقت کو بالکل سادہ انداز میں بیان کردیا گیا ہے۔ یہ ایک واقعہ ہے کہ موجودہ دنیا مسائل کی دنیا ہے۔ یہاں ہر عورت اور ہر مرد کو مسائل کے درمیا ن جینا پڑتا ہے۔ اس بنا پر اکثر لوگ پریشانی کی حالت میں زندگی گزارتے ہیں۔ اس مسئلے کا آسان فارمولا یہ ہے کہ جب آپ کو اپنی مصیبت یاد آئے تو مذکورہ شعر کو پڑھ لیں۔ اس کے بعد آپ دیکھیں گے کہ پریشانی کا احساس ختم ہوگیا۔ ذہن کو نارمل بنانے کا یہ نہایت آسان فارمولاہے۔
یہ فارمولا ایک حدیثِ رسول پر مبنی ہے۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں ایک واقعہ پیش آیا جس کو غزوۂ خندق کہا جاتا ہے۔ اس موقعہ پر مدینہ کے اہل ایمان سخت مشکلات سے دوچار ہوئے۔ قرآن میں اس کا ذکر ان الفاظ میں آیا ہے: ہُنَالِکَ ابْتُلِیَ الْمُؤْمِنُونَ وَزُلْزِلُوا زِلْزَالًا شَدِیدًا (33:11)۔یعنی اس وقت ایمان والے امتحان میں ڈالے گئے اور بالکل ہلا دئے گئے۔
اس موقعہ پر پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ تاریخی جملہ کہا تھا جو ان الفاظ میں نقل ہوا ہے: اللہم لا عیشَ إلا عیش الآخرہ، فاغفر للأنصار والمہاجرہ (صحیح البخاری، حدیث نمبر6414۔صحیح مسلم، حدیث نمبر1805) ۔یعنی اے اللہ، زندگی تو آخرت کی زندگی ہے۔ پس تو انصار اور مہاجرین کی مغفرت فرما۔ مولانا سید سلیمان ندوی کے الفاظ میں، یہ دنیا امتحان گاہ ہے۔ یہاں تو اسی قسم کے حالات پیش آئیں گے۔اصل زندگی آخرت کی زندگی ہے۔ اے اللہ ، تو وہاں ہم کو جنت میں داخل فرما۔ یہی اصل کامیابی ہے۔
واپس اوپر جائیں

غلط سوچ

عبد اللہ ابن مسعود کا ایک قول طبرانی نے المعجم الکبیر میں نقل کیا ہے۔ اس کے الفاظ یہ ہیںعن عبد اللہ، قال إن من أکبر الذنب أن یقول الرجل لأخیہ اتق اللہ، فیقول علیک نفسک أنت تأمرنی (المعجم الکبیر، حدیث نمبر8587)۔یعنی یہ ایک بہت بڑا گناہ ہے کہ آدمی اپنے بھائی سے یہ کہے : اللہ سے ڈرو، تو وہ جواب میں کہے: تم اپنی فکر کرو،تم مجھ کو نصیحت کروگے۔یہ جواب صحیح ذہن کی نمائندگی نہیں۔ صحیح ذہن یہ ہے کہ آدمی کو جب نصیحت کی جائے تو وہ سوچ میں پڑجائے۔اور اپنی اصلاح کی فکر کرنے لگے۔ نصیحت کرنے والا خواہ کوئی بھی ہو، لیکن نصیحت کو ہمیشہ نصیحت کے اعتبار سے لینا چاہیے۔ اس اعتبار سے نہیں کہ کرنے والا کون ہے۔
صحابی کے اس قو ل کو توسیعی معنی میں لیا جائے تو وہ اس ذہن پر بھی منطبق ہوتا ہے جو لوگوں کے درمیان اپنے اور غیر کی تفریق میں جیتے ہیں۔ جن کا حال یہ ہے کہ اگر ان سے یہ کہا جائے کہ مسلمانوں کا یہ فریضہ ہے کہ وہ عام انسانوں تک اسلام کا پیغام پہنچائیں۔ تو وہ جواب دیں گے کہ پہلے مسلمانوں کی اصلاح کرلیجیے، اس کے بعد غیر مسلموں میں تبلیغ کیجیے گا۔
اسلامی تعلیم کے مطابق، اس قسم کی تفریق درست نہیں۔ ہر مسلمان کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ جن لوگوں کے درمیان رہتا ہے، ان کو وہ ہر موقعہ پر اللہ کا پیغام پہنچائے۔ خواہ یہ لوگ مسلم ہوں یا غیرمسلم۔یہ پیغام رسانی انسان کے ساتھ خیرخواہی کا تقاضا ہے۔ اور خیر خواہی کے معاملے میں اس قسم کی تفریق درست نہیں۔
پیغام رسانی کی یہ ذمہ داری ہر مسلمان کے اندر انسان دوستی (human-friendly) کامزاج بناتی ہے۔ انسان کی ہمدردی کے لیے اس کا یہ جذبہ ہر حال میں ظاہر ہوتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اپنے اور غیر کی تفریق بے حسی کی علامت ہے۔ ایمان آدمی کو حساس انسان بناتا ہے۔ اور حساس انسان اس قسم کی تفریق کا تحمل نہیں کرسکتا۔
واپس اوپر جائیں

ذہنی ارتقا

اسلام میں سب سے زیادہ مطلوب چیز فرد کا تزکیہ ہے، یعنی ربانی تصورِ حیات کے مطابق، ذہنی ارتقا۔ کسی صاحبِ عقیدہ کے اندر جو اعلی صفات مطلوب ہیں، اُن کا اصل ذریعہ یہی ذہنی ارتقا ہے۔ علمی اعتبار سے، ذہنی ارتقا کا ذریعہ قرآن وحدیث کا مطالعہ ہے۔ کوئی آدمی جتنا زیادہ مطالعہ کرے گا، اتنا ہی زیادہ اس کے اندر وہ علمی بنیاد پائی جائے گی جو تزکیہ کے عمل کے لیے ضروری ہے۔
لیکن تزکیہ یا ذہنی ارتقا کے لیے ایک اور چیز مطلوب ہے۔ اس کو نفسیاتی بنیاد کہاجاسکتا ہے۔ اِس نفسیاتی بنیاد کو علماء نے اِن الفاظ میں بیان کیا ہے: الإیمان بین الرجاء والخوف ۔ یعنی ایمان امید اور خوف کے درمیان ہے۔ دوسرے الفاظ میں یہ کہ مومن ہمیشہ ایک قسم کے شک (suspicion) کی حالت میں جیتا ہے۔ کبھی وہ اللہ کی رحمت کو یاد کرکے یقین کا تجربہ کرتا ہے اور کبھی وہ اپنی کوتاہیوں کو سوچ کر شبہہ کی حالت میں مبتلا ہوجاتا ہے۔ یہ ایمانی کیفیت اتنی زیادہ عام ہے کہ صحابہ کا بھی اِس معاملے میں استثنا نہیں۔
ایسا کیوں ہوتا ہے۔ اِس کا سبب یہ ہے کہ فطرت کے نقشے کے مطابق، یہی وہ واحد طریقہ ہے جس کے ذریعے آدمی کا ذہنی ارتقا مسلسل طورپر جاری رہے۔ شبہہ کی یہ حالت دراصل ایک قسم کا ذہنی شاک (intellectual shock) ہے، اور نفسیات کا مطالعہ بتاتا ہے کہ انسان کے اندر ذہنی ترقی صرف شاک ٹریٹمنٹ (shock treatment) کے ذریعہ ہوتی ہے۔
اللہ کو یہ مطلوب ہے کہ انسان خود دریافت کردہ حقیقت (self-discovered reality) پر کھڑا ہو۔ اور خود دریافت کردہ حقیقت کے حصول کا واحد طریقہ یہ ہے کہ انسان کے اندر مسلسل طورپر سوچ کا عمل (thinking process) جاری رہے۔ اعلىٰ علم و معرفت کے حصول کے لیے ’’میں نہیں جانتا‘‘ کی نفسیات درکار ہے، نہ کہ ’’میں جانتا ہوں‘‘ کی نفسیات۔
واپس اوپر جائیں

تنقید یا الزام تراشی

کسی شخص کو غلط بتانے کے لیے جب آپ کے پاس کوئی دلیل نہ ہو بلکہ صرف الزام ہو تو سمجھ لیجیے کہ آپ خود غلطی پر ہیں— عقل اور اسلام دونوں کا تقاضا ہے کہ آدمی کسی کے خلاف بولے تو صرف اُس وقت بولے، جب کہ اپنی بات کو ثابت کرنے کے لیے اُس کے پاس کوئی حقیقی دلیل ہو۔ اگر اُس کے پاس حقیقی دلیل نہیں ہے، اور وہ عیب زنی اور الزام تراشی کی زبان میں اپنی بات پیش کررہا ہے تو یہ بلا شبہہ ایک عظیم گناہ ہے۔وہ انسان کو قتل کرنے کے ہم معنی ہے۔ ایسے شخص سے آخرت میں کہا جائے گا کہ تم دوسرے کے خلاف جو الزام لگاتے تھے، اُس کو دلیل سے ثابت کرو اور جب وہ اپنی بات کو دلیل سے ثابت نہ کرسکے گا تو اُس سے کہا جائے گا کہ جو الزام تم نے دوسرے کے اوپر لگایا تھا، اُس کی سخت تر سزا تم خود بھگتنے کے لیے تیار ہو جاؤ۔
عیب زنی اور الزام تراشی کے لیے، صحیح لفظ کردار کشی (character assassination) ہے۔ کسی کے خلاف الزام تراشی کرنا، اُس کو کردار کے اعتبار سے قتل کرنے کے ہم معنی ہے۔ یہ جسمانی قتل سے کم گناہ نہیں۔ حدیث میں آتا ہے کہ ایک مومن پر دوسرے مومن کی تین چیزیں حرام ہیں۔ اُس کا خون، اُس کا مال، اور اُس کی عزت(کل المسلم على المسلم حرام دمہ ومالہ وعرضہ)۔صحیح مسلم، رقم الحدیث6706۔ اِس حدیث میں بظاہر مسلم کا لفظ ہے۔ لیکن وسیع تر انطباق کے اعتبار سے، اس کا تعلق ہر انسان ،ہر عورت اور ہر مرد سے ہے۔ جو آدمی اِس بات کو جانتا ہو کہ آخر کار اُس کو اللہ کے سامنے حاضر ہونا ہے، وہ اِس معاملہ میں کانپ اٹھے گا۔ وہ اِس حرام فعل سے، اُس سے بھی زیادہ بچےگا جتنا کہ کوئی شخص سانپ اور بچھو سے بچتا ہے۔
تنقید (criticism) ہر انسان کا ایک جائز حق ہے۔ مگر تنقید کو لازماً مبنی بر دلیل ہونا چاہئے۔ جس تنقید کے ساتھ دلیل شامل نہ ہو، وہ سخت گناہ ہے۔ علمی تنقید بلا شبہہ ایک خیر ہے، مگر غیر علمی تنقید بلاشبہہ ایک شر۔
واپس اوپر جائیں

سوچنے کا ماڈل

قرآن کی ایک آیت یہ ہے:قُلْ کُلٌّ یَعْمَلُ عَلَى شَاکِلَتِہِ فَرَبُّکُمْ أَعْلَمُ بِمَنْ ہُوَ أَہْدَى سَبِیلًا (17:84)۔ اس آیت میں شاکلہ سے مراد سوچنے کا ماڈل ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ لوگ خود اپنے ذہن کے مطابق اپنی سوچ کا ماڈل بنا لیتے ہیں۔ حالاں کہ صحیح طریقہ یہ ہے کہ لوگ رب العالمین کے ماڈل کو جانیں اور اس کے مطابق سوچیں اور رائے قائم کریں۔
اس آیت کو موجودہ زمانے پر منطبق کیجیے تو معلوم ہوگا کہ موجودہ زمانے کے مسلمانوں کا سوچنے کا ماڈل میڈیا کی بنیاد پر بنا ہے۔ میڈیا ایک بزنس ہے۔ میڈیا کا کام خبروں کو فروخت (sell)کرنا ہے۔ چوں کہ عام طور پر لوگ منفی خبروں کو زیادہ دلچسپی کے ساتھ سنتے اور پڑھتے ہیں۔ اس لیے میڈیا عملاً منفی خبروں کا میڈیا بن گیا ہے۔ مسلمان روزانہ اسی قسم کی خبروں کو سنتے اور پڑھتے ہیں اور انھیں خبروں کا چرچا کرتے ہیں۔ اس لیے ان کے سوچنے کا ماڈل وہی بن گیا ہے جو میڈیا کا ماڈل ہے۔
یہ ماڈل رب العالمین کے نزدیک بلاشبہ قابلِ رد ہے۔ صحیح طریقہ یہ ہے کہ مسلمان ربانی ماڈل کے مطابق سوچیں۔ ربانی ماڈل، قرآن کے مطابق مبنی بر امن (peace)ماڈل ہے۔ یعنی چیزوں کو مثبت انداز میں دیکھنا اور امن کے مطابق اپنے عمل کا منصوبہ بنانا۔ مگر عملاً موجودہ زمانے کے مسلمان اس سے تقریباخالی ہیں۔
موجودہ زمانے کے مسلمانوں کے لیے صحیح آغاز یہ ہے کہ وہ اپنے سوچنے کے ماڈل کو بدلیں۔ وہ چیزوں کو منفی نظر سے سوچنے کا طریقہ ختم کریں۔ وہ منفی چیزوں میں بھی مثبت پہلو دریافت کریں۔ بظاہر ناموافق باتوں کو بھی وہ موافق زاویۂ نظر سے دیکھیں۔ نفرت ، شکایت، احتجاج ، سازش، جیسے الفاظ کو وہ اپنی ڈکشنری سے نکال دیں۔ جب تک ایسا نہیں ہوگا، مسلمانوں کو اللہ کی نصرت ملنے والی نہیں۔ کیوں کہ اللہ کی نصرت ان لوگوں پر آتی ہے جو شاکلۂ خویش کے بجائے شاکلۂ رب پر اپنی زندگی کو قائم کریں۔
واپس اوپر جائیں

ذاتی عقل، علمی عقل

2 مارچ 2009 کو نئی دہلی کے انٹرنیشنل سنٹر (لودھی روڈ) میں ایک سیمنار ہوا۔ اِس سیمنار میں جدید تعلیم یافتہ افراد شریک ہوئے۔ اس کا موضوع آزادئ اظہار رائے (freedom of expression) تھا۔ اِس موضوع کے تحت، اِس سیمنار میں حسب ذیل سوال پر مذاکرہ ہوا:
Is the Quran subject to rational scrutiny?
سیمنار کی دعوت پر راقم الحروف نے بھی اس میں شرکت کی۔ میںنے دیکھا کہ کانفرنس کے تمام شرکاء پرجوش طورپر اِس نظریے کی وکالت کررہے ہیں کہ قرآن کوئی منزَّہ عن الخطاء کتاب (infallible book) نہیں ہے۔ ہم کو یہ حق ہونا چاہئے کہ ہم اپنی عقل کو استعمال کرتے ہوئے قرآن پر فکری تنقید کرسکیں۔
اِس مذاکرہ اور اِس قسم کے دوسرے مذاکروں میں شرکت کے بعد میرا احساس یہ ہے کہ لوگ عقل (reason) کا لفظ تو بہت بولتے ہیں، لیکن لوگوں کو شاید یہ نہیں معلوم کہ عقل کی حدود کیا ہیں اور عقل کے استعمال سے کیا مراد ہے۔ اصل یہ ہے کہ عقل کے استعمال کی دو صورتیں ہیں۔ ایک ہے، ذاتی عقل (personal reason) کے تحت بولنا۔ اور دوسرا ہے، علمی طورپر ثابت شدہ حقائق کی روشنی میں عقل کا استعمال کرنا۔ علمی اعتبار سے ذاتی عقل کی کوئی اہمیت نہیں، عقل کا صرف وہی استعمال درست ہے جو ثابت شدہ حقائق کی بنیاد پر کیاگیا ہو:
One's reason is only the capacity to understand. Reason itself is not an authority. The scientific method in this regard is that if one has some idea, one has to examine it on the basis of scientifically established facts. Only after this, one's idea will be regarded as correct. Otherwise, it is simply personal reason or pure reason. In this sense, reason is of two kinds:
1. Reason verified by scientific facts.
2. Reason unsupported by such verification.
مذکورہ سیمنار میں، میںنے یہ بات کہی تو وہاں کوئی شخص اس کو رد نہ کرسکا۔ تاہم ایک صاحب نے کہا کہ اگر کوئی شخص اپنی ذاتی عقل سے کوئی رائے بنائے تو اس کی قدروقیمت کیا ہے۔
What, if any, is the validity of reason unsupported by scientific verification?
میں نے کہا کہ محض ذاتی عقل کی بنیاد پر جورائے قائم کی جائے، وہ دوسروں کے لئے ناقابلِ قبول ہوگی۔ کسی شخص کی ذاتی رائے دوسروں کے لئے اسی وقت قابلِ قبول ہوسکتی ہے جب کہ وہ ثابت کرے کہ اس کی رائے مسلّمہ علمی بنیاد پر قائم ہے:
Personal reason unsupported by scientific data is invalid. If one wishes to follow his personal reason, he may do so. But he certainly should not expect that others will subscribe to such kind of thought. If you want to convince others you will have to substantiate your personal views on the basis of scientifically established data.
قرآن کی صداقت
میرے تجربے کے مطابق، قرآن کے ذیل میں ریشنل اسکروٹنی (rational scrutiny) کا لفظ ایک غیر متعلق (irrelevant) لفظ ہے۔ قرآن کے ذیل میں زیادہ صحیح بات یہ ہے کہ اس کے لیے ریشنل اسٹڈی (rational study) کا لفظ استعمال کیا جائے۔ قرآن نے اِس معاملے میں مطالعے کا جو اصول مقرر کیا ہے، وہ بلا شبہہ ایک علمی اصول ہے۔اِس سلسلے میں قرآن کی ایک آیت یہ ہے: لو کان من عند غیر اللہ لوجدوا فیہ اختلافاً کثیرا (4:82) یعنی اگر یہ (قرآن) اللہ کے سوا کسی اور کی طرف سے ہوتا تو وہ اس کے اندر بڑا اختلاف پاتے۔
اِس آیت کے مطابق، قرآن کی صداقت(veracity) کو جاننے کا معیار یہ ہے کہ قرآن کے بیانات کا علمی مسلّمات (scientific facts) سے تقابل کرکے دیکھا جائے۔ اگر دونوں میں کوئی ٹکراؤ نہ ہو تو وہ اِس بات کا ثبوت ہوگا کہ قرآن ایک ایسی کتاب ہے جس کی صداقت عقلی معیار پر ثابت ہورہی ہے۔ یہی قرآن کے عقلی مطالعے کا واحد طریقہ ہے۔
قرآن کے بیان کا ایک حصہ وہ ہے جس میں زمین وآسمان، یعنی فزیکل ورلڈ(physical world) کے بارے میں کچھ بیانات دیے گیے ہیں۔ یہ موضوع،قرآن اور سائنس کے درمیان مشترک ہے۔ قرآن پر عقلی غور وفکر کا صحیح طریقہ یہ ہے کہ یہ دیکھا جائے کہ مشترک موضوعات میں قرآن نے جو حوالے دئے ہیں، وہ سائنس کے مسلمات سے مطابقت رکھتے ہیں یا اُس سے ٹکرارہے ہیں۔ راقم الحروف نے اِس حیثیت سے تفصیلی مطالعہ کیا ہے۔ میں نے اپنی دوسری کتابوں (مذہب اور جدید چیلنج، عقلیات اسلام، وغیرہ) میں مثالوں کے ذریعہ یہ واضح کیا ہے کہ اِن مشترک موضوعات میں قرآن کے بیان اور سائنس کے بیان میں کوئی ٹکراؤ نہیں۔
یہ واقعہ قرآن کی صداقت (veracity) کا ایک عقلی ثبوت ہے۔ مشترک موضوعات میں قرآن کے بیان کے درست ہونے سے ہم کو یہ قرینہ (probability)ملتا ہے کہ ہم یہ قیاس کرسکیں کہ غیر مشترک موضوعات میں بھی قرآن کے بیانات درست ہیں۔ اِس طریقِ استدلال کو سائنس میں معقول (valid) قرار دیا گیا ہے اور اِس کو استدلال بذریعہ احتمال (argument from probability) کہاجاتا ہے، یعنی معلوم دنیا کے بارے میں قرآن کے بیانات کے درست ثابت ہونے سے یہ قرینہ ملتا ہے کہ غیر معلوم دنیا کے بارے میں بھی قرآن کے بیانات احتمالی طورپر (probably) درست ہیں۔ اِس اصولِ استدلال کے بارے میں مزید معلومات کے لیے حسب ذیل کتابیں ملاحظہ فرمائیں۔
Science and the Unseen World by Arthur Eddington
Human Knowledge by Bertrand Russell
علم کی دو قسمیں
عقل کا استعمال کسی خلا میں نہیں ہوتا، بلکہ وہ موجودہ دنیا میں ہوتاہے جس دنیاکے اندر ہم زندگی گزارتے ہیں، مطالعے سے معلوم ہوتا ہے کہ اِس دنیا کی تمام چیزیں ایک قسم کی نہیں ہیں، بلکہ یہاںتنوع (diversity)پایا جاتا ہے۔ چنانچہ فلاسفہ نے علم کی دوقسمیں کی ہیں — چیزوں کا علم(knowledge of things)، سچائی کا علم (knowledge of truths)۔
انسان کے پاس صرف ایک ہی ذریعہ ہے جس سے وہ اِن علوم تک پہنچ سکتا ہے اور وہ عقل (reason) ہے۔ آدمی اپنی عقل کو استعمال کرکے دونوں قسموں کے علم تک رسائی حاصل کرسکتا ہے۔ انسان کےپاس ذاتی طورپر، عقل کے سوا، کوئی دوسرا ذریعہ نہیں جس سے وہ اِن علوم سے واقفیت حاصل کرسکے۔
تاہم جس طرح علوم کی دو قسمیں ہیں، اُسی طرح عقل کے استعمال کی بھی دو قسمیں ہیں۔ جہاں تک چیزوں کو جاننے کا معاملہ ہے، اُن کے سلسلے میں مشاہدہ (observation) اور تجربہ (experience) کے ذرائع کو استعمال کرنا ممکن ہے، طبیعی علوم (physical sciences) کے مطالعے کا دائرہ چیزیں (things) ہیں، اِس لیے طبیعی علوم میں اصلاً مشاہدہ اور تجربہ کے ذرائع کو استعمال کیا جاتا ہے۔
اب سوال یہ ہے کہ علم کا دوسرا دائرہ، یعنی سچائیوںتک کس طرح پہنچا جائے۔ موجودہ زمانے کے علماءِ سائنس کا اِس پر اتفاق ہے کہ وہ چیز جس کو سچائی کہا جاتا ہے، اُس تک پہنچنے کا صرف ایک ذریعہ ہے اور وہ استنباط (inference) ہے، یعنی مشاہداتی حقائق کے حوالے سے، غیرمشاہداتی حقائق کے علم تک پہنچنا۔
بیسویں صدی کے نصف اول تک طبیعی سائنس (physical science) کی دنیا میں عام طورپر یہ سمجھا جاتا تھا کہ علم وہی ہے جو مشاہداتی ذرائع سے معلوم ہو۔ لیکن علم کا سفر جب عالمِ کبیر (macroworld)سے گزر کر عالمِ صغیر (microworld) تک پہنچا تو یہ مفروضہ ٹوٹ گیا۔ اب یہ تسلیم کرلیا گیا کہ استنباط بھی علم کے حصول کا ایک ذریعہ ہے، شرط یہ ہے کہ وہ مسلّمہ علمی قواعد کی بنیاد پر کیاگیا ہو۔ یہی وہ مقام ہے جہاں عقلی طریقِ مطالعہ اور اسلامی طریقِ مطالعہ کا فرق ختم ہوجاتا ہے۔ عقلی طریقِ مطالعہ، اسلام کے مطالعے کے لیے بھی اتنا ہی مفید بن جاتا ہے جتنا کہ دوسرے علوم کے لیے۔
اسلام کے عقائد کا تعلق عالمِ غیب (unseen world) سے ہے، اِس لیے بظاہر وہ عقلی مطالعے سے باہر کی چیز معلوم ہوتا ہے، لیکن استنباط کو مستندطریقِ مطالعہ ماننے کے بعد یہ فرق باقی نہیں رہتا۔ مثال کے طورپر وحی (revelation) کو لیجیے۔ اسلام کےمطابق، قرآن وحی پر مبنی ایک کتاب ہے۔ وحی مشاہدے سے باہر کی چیز ہے، اِس بنا پر بیسویں صدی کے نصف اول تک یہ سمجھا جاتا تھاکہ قرآن صرف ایک عقیدے کی کتاب ہے، اس کی صداقت کو عقلی بنیاد پر ثابت نہیں کیا جاسکتا۔ لیکن اب جب کہ استنباطی استدلال کو مستند استدلال سمجھا جاچکا ہے، اب اصولی طورپر یہ فرق باقی نہیں رہا۔
قرآن میں ایسے بیانات موجود ہیں جو استنباطی اصول کے مطابق، یہ ثابت کرتے ہیں کہ قرآن کا تعلق ایک ایسے ماخذ (source) سے ہے جو انسانی علم سے ماورا اپناوجود رکھتا ہے۔ اس معاملے کی ایک مثال وہ ہے جو قدیم مصر کے فرعون (Pharaoh Ramesses II) کے جسم سے تعلق رکھتا ہے۔(تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو: راقم الحروف کی کتاب ’’عظمتِ قرآن‘‘ )
ہر اتوار کو نظام الدین ویسٹ سی پی ایس سنٹر پر ساڑھے دس بجے سے صدر اسلامی مرکز کا خطاب ہوتا ہے۔ یہ خطاب پروگرام میں موجود سامعین کے علاوہ انٹر نیٹ پر لائیو کاسٹ کیا جاتا ہے، جسے مختلف مقامات پر سامعین سنتے ہیں۔ فروری2016 میں ان موضوعات پر خطاب ہوئے:
l تیس سکنڈ کا معاملہ
A Matter of 30 Seconds
| February 7, 2016
l خدا کا منصوبۂ تخلیق
The Creation Plan of God |
February 14, 2016
l خوفِ خدا
Fear of God |
February 21, 2016
lزاویۂ نظر
Angle of Vision
February 28, 2016
ان تمام خطابات کو سننے کے لیے ، اس لنک پر کلک کریں:
http://www.cpsglobal.org/podcast/sunday-lectures
واپس اوپر جائیں

حکمت کا راز

ایک روایت کے مطابق، پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: رأس الحکمة مخافة اللہ (الجامع الصغیر للسیوطی، حدیث نمبر4361) یعنی اللہ کا خوف حکمت کا سرا ہے۔
یہ حدیثِ رسول انسانی فطرت کی ایک حقیقت کو بتاتی ہے۔ وہ حقیقت یہ ہے کہ حکمت (wisdom) کسی کے اندر صرف کتابوں کے مطالعے کے ذریعے نہیں آتی، حکمت کے لیے ایک اور چیز لازمی طورپر ضروری ہے۔ اور وہ اللہ کا خوف ہے۔ خوفِ خدا کے بغیر آدمی صاحبِ علم تو بن سکتا ہے، لیکن وہ صاحبِ حکمت نہیں بن سکتا۔ اِس کا سبب یہ ہے کہ حکمت کے لیے معلومات کے علاوہ، ایک اور چیز ضروری ہے اور وہ کامل حقیقت پسندی (realistic approach) ہے۔ کامل حقیقت پسندی کے لیے ضروری ہے کہ آدمی تواضع (modesty) کی اُس آخری حد پر پہنچ چکا ہو جس کو کٹ ٹو سائز (cut to size) کہاجاتا ہےاور کٹ ٹو سائز انسان (man cut to size) کو وجود میں لانے کا راز صرف ایک ہے۔ اور وہ کامل معنوں میں اللہ کا خوف ہے۔
کوئی انسان جب دوسرے انسانوں کے درمیان ہوتا ہے تو ہر انسان اُس کو اپنے ہی جیسا ایک انسان دکھائی دیتا ہے۔ اِس بنا پر کسی انسان کے اندر یہ طاقت نہیں کہ وہ دوسرے انسان کو کٹ ٹو سائز انسان بنا سکے۔ یہ واقعہ صرف قادرِ مطلق خدا پر کامل ایمان کے ذریعے حاصل ہوتا ہے۔ انسان کی اِس فطرت کی بنا پر اِس معاملے میں صحیح فارمولا یہ ہے کہ — قادرِ مطلق خدا پر یقین سے انسان کا کٹ ٹو سائز ہونا، کٹ ٹو سائز انسان کے اندر کامل درجے میں حقیقت پسندی کا آنا اور کامل حقیقت کی بنا پر چیزوں کو ویسا ہی دیکھنا جیسا کہ وہ فی الواقع ہیں۔ یہی وہ حقیقت پسندانہ سوچ ہے جس کے نتیجے کا نام حکمت (wisdom) ہے۔
کسی انسان کے اندر یہ صفت ہمیشہ خدا کی نسبت سے پیدا ہوتی ہے، لیکن انسان چوں کہ سماج کے اندر رہتا ہے، اِس لیے اِس صفت کا عملی ظہور انسان کی نسبت سے ہوتا ہے۔ انسان کی نسبت سے اِس صفت کے ظہور ہی کا دوسرا نام حکمت ہے۔
واپس اوپر جائیں

اختلاف کا معاملہ

قرآن میں ایک حکم ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے: یٰٓاَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْٓا اِنْ جَاۗءَکُمْ فَاسِقٌۢ بِنَبَاٍ فَتَبَیَّنُوْٓا اَنْ تُصِیْبُوْا قَوْمًۢا بِجَــہَالَةٍ فَتُصْبِحُوْا عَلٰی مَا فَعَلْتُمْ نٰدِمِیْنَ (49:6) یعنی اے ایمان والو، اگر کوئی فاسق تمھارے پاس خبر لائے تو تم اچھی طرح تحقیق کرلیا کرو، کہیں ایسا نہ ہو کہ تم کسی گروہ کو نادانی سے کوئی نقصان پہنچا دو، پھر تم کو اپنے کئے پر پچھتانا پڑے۔
قرآن کی اس آیت میں اجتماعی زندگی کا ایک اصول بتایا گیا ہے۔ وہ یہ کہ جب کوئی شخص کوئی اختلافی بات کہے تو سننے والے کو ایسا نہیں کرنا چاہئے کہ وہ اس کو بدنیتی کا معاملہ سمجھ لے، اور کہنے والے کو برا آدمی سمجھنے لگے۔ اس کے بجائے صحیح طریقہ یہ ہے کہ اس طرح کے معاملے کو تحقیق کا معاملہ سمجھا جائے نہ کہ کسی شخص کے بارے میں رائے قائم کرنے کا معاملہ۔ کسی کے بارے میں رائے قائم کرنا صرف اتمام حجت کے بعدجائز ہے، اس سے پہلے نہیں۔
اصل یہ ہے کہ شکایت یا اختلاف کا سبب اکثر حالات میں بے خبری اور غلط فہمی ہوتا ہے۔ لوگ معاملے کے بارے میں صحیح معلومات نہ ہونے کی بنا پر ایک مخالفانہ رائے قائم کرلیتے ہیں۔ کسی کے بارے میں اس طرح رائے قائم کرنا درست نہیں۔ اسلامی تعلیم کے مطابق، اتمام حجت سے پہلے تحقیق ہے، اور اتمام حجت کے بعد رائے قائم کرنا۔
اجتماعی زندگی میں اکثر ایسا ہوتا ہے کہ لوگوں کو ایک دوسرے کے خلاف شکایت ہوجاتی ہے۔ یہ شکایت بڑھتے بڑھتے نفرت بن جاتی ہے، اور نفرت کے بعد مزید برائیاں پیدا ہوتی ہیں۔ مثلاً ایک دوسرے کو بدنام کرنا، ایک دوسرے کے خلاف الزام تراشی کرنا، ایک دوسرے کو اپنا دشمن سمجھ لینا۔ اس قسم کی اجتماعی خرابیوں کا سبب ہمیشہ یہی ہوتا ہے کہ لوگ تحقیق کے بغیر رائے قائم کرلیتے ہیں، وہ جو کچھ سنتے ہیں، اس کو درست سمجھ لیـتے ہیں۔ اس طریقے کا نتیجہ بے حد سنگین ہے— دنیا میں ندامت اور آخرت میں مواخذہ۔
واپس اوپر جائیں

مدح، تنقید

احادیث میںکثرت سے یہ تلقین کی گئی ہے کہ تم کسی کی مدح نہ کرو۔ مثلاً رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ: اذا رأیتم المداحین فاحثوا فی وجوہہم التراب (صحیح مسلم، حدیث نمبر3002) یعنی جب تم مدح کرنے والوں کو دیکھو تو اُن کے منہ پر مٹی ڈال دو۔ اسی طرح ایک روایت میںآیا ہے: سمع النبی صلی اللہ علیہ وسلم یثنی علی رجلٍ و یطریہ فی مدحہ، فقال أہلکتم او قطعتم ظہر الرجل (صحیح بخاری، حدیث2663) یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سُنا کہ ایک شخص دوسرے شخص کی تعریف کررہا ہے اور اُس کی تعریف میں وہ مبالغہ کررہا ہے۔ آپ نے فرمایا کہ تم نے اس شخص کو ہلاک کردیا یا یہ فرمایا کہ تم نے اُس کی کمر توڑ دی۔
اسی طرح خلیفۂ ثانی عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے بارہ میںایک روایت میں آیا ہے کہ اُنہوں نے کہا: المدح الذبح (الأدب المفرد، باب ما جاء فی التمادح)۔یعنی مدح کرنا آدمی کو ذبح کرنا ہے۔ اسی طرح ایک روایت میں آیا ہے کہ حضرت عمر نے ایک شخص کو دوسرے شخص کی تعریف کرتے ہوئے سُنا تو اُنہوں نے کہا: عقرت الرجل، عقرک اللہ(الأدب المفرد، باب ماجاء فی التمادح) یعنی تم نے اُس شخص کو ذبح کردیا، اللہ تمہارے ساتھ بھی ایسا ہی کرے۔
حدیث اور آثارکی کتابوںمیں اس طرح کی بہت سی روایتیں آئی ہیں۔ اُن سے معلوم ہوتا ہے کہ مدح کا طریقہ دینی مزاج کے خلاف ہے۔ بعض اوقات اعتراف واقعہ یا اورکسی مصلحت سے کسی کی تعریف کی جاسکتی ہے۔ مگر عمومی طورپر اسلام میںاُس چیز کو سخت نا پسند کیا گیا ہے جس کو مدح خوانی یا قصیدہ گوئی کہا جاتاہے۔ اس قسم کی تعریف مادح کے لیے مصلحت پرستی ہے اورممدوح کے لیے اُس کو عُجب کی غذا دینا ہے۔ اس لیے یہ فعل مادح اورممدوح دونوں کے لیے ہلاکت خیز ہے۔
تاہم یہ بات قابل غور ہے کہ احادیث میں تعریف کی مذمت تو کی گئی ہے مگر تنقید کی مذمت نہیں کی گئی ۔ غالباً کوئی بھی صحیح حدیث ایسی نہیں جس میںتنقید کے فعل کو اُس طرح مطلق طورپر مذموم قرار دیا گیا ہو جس طرح مدح کو مذموم قرار دیا گیا ہے۔ بلکہ اس کے برعکس تنقید کی حوصلہ افزائی کی گئی ہے۔ مثلاً بہت سی حدیثوں میں لسان کے ذریعہ نہی عن المنکر کا حکم آیا ہے اوراُس کوایمان کی لازمی علامت بتایا گیاہے۔ اسی طرح حدیث میں بتایا گیا ہے کہ سلطان کے سامنے کلمۂ حق کہنا ایک افضل جہاد ہے، وغیرہ۔
ظاہر ہے کہ اس قسم کا کام تنقید ہی کی زبان میںہوگا، نہ کہ تعریف کی زبان میں۔ جب بھی ایک شخص کسی برائی کو دیکھے، خواہ برائی کرنے والا کوئی عام آدمی ہو یا خاص آدمی، اور پھر وہ اُس کے خلاف لسانی جہاد کرے تو یہ لسانی جہاد عین وہی فعل ہوگا جس کو تنقید کہا جاتاہے۔ نقد یا تنقید در اصل لسانی جہاد کا ہی دوسرا نام ہے۔
اب سوال یہ ہے کہ شریعت میں مدح اور تنقید کے درمیان یہ فرق کیوں کیا گیا ہے۔ اس فرق کا سبب یہ ہے کہ مدح ایک اخلاقی برائی ہے جب کہ تنقید ایک اعلیٰ درجہ کی علمی اور اخلاقی خوبی ہے۔ کسی معاشرہ میں مدح کا رواج پورے معاشرہ کو منافقت کامعاشرہ بنادیتا ہے۔ اس کے مقابلہ میں جس سماج میںتنقید اور اختلاف کو سننے کا مزاج ہو وہ معاشرہ ذہنی اور فکری ترقی کی طرف رواں دواں رہتا ہے۔
تنقید ایک مسلسل احتساب کا عمل ہے۔ تنقید زندہ معاشرہ کی علامت ہے۔ کسی معاشرہ میں تنقید کا عمل نہ ہونا یا تنقید کو بُرا سمجھنا صرف اُس وقت ہوتا ہے جب کہ معاشرہ زوال کا شکار ہوگیا ہو۔ وہ زندگی کی حرارت کھو بیٹھا ہو۔ کھلے ذہن کے ساتھ سوچنے کی صلاحیت اُس کے اندر باقی نہ رہی ہو۔ تنقید کی حیثیت ایک علمی اور فکری چیلنج کی ہے۔ چیلنج ہر قسم کی ترقی کی واحد ضمانت ہے۔ جس معاشرہ میںچیلنج نہ ہو وہ معاشرہ کبھی ترقی نہیں کرسکتا۔ اسی طرح جو معاشرہ تنقید سے محروم ہوجائے وہ علمی اور فکری ترقی سے بھی محروم ہوجائے گا۔
اس معاملہ کی تفصیل میںنے اپنی کتاب دین انسانیت کے باب ’’حریت فکر‘‘ میں بیان کی ہے اور اسلام کے دور اول کی مثالوں سے اُس کو واضح کیا ہے۔ تاہم تنقید اور تنقیص میں بہت زیادہ فرق ہے۔ یہاںتک کہ یہ کہنا درست ہوگا کہ تنقید مکمل طورپر جائز ہے اور تنقیص مکمل طورپر ناجائز ۔ تنقید بلاشبہہ ایک مطلوب چیز ہے اور تنقیص بلا شبہہ ایک غیر مطلوب چیز۔
تنقید در اصل علمی اختلاف کا دوسرا نام ہے۔ حقائق و واقعات کی روشنی میںخالص موضوعی انداز میںکسی معاملہ کا تجزیہ کرنا وہ چیز ہے جس کو تنقید کہا جاتا ہے۔ تنقید خواہ بظاہر کسی شخص کے افکار و آراء کے حوالہ سے ہو، مگراپنی حقیقت کے اعتبار سے وہ معاملہ کی اصولی وضاحت ہوتی ہے۔ اُس میں غلط اور صحیح کے درمیان تقابل ہوتا ہے، نہ کہ ایک شخص اور دوسرے شخص کے درمیان۔
اس کے برعکس تنقیص ایک شخصی عیب جوئی ہے۔ تنقیص کرنے والے کے سامنے اصلاً کسی امرِحق کی وضاحت نہیں ہوتی بلکہ ایک شخص کی تذلیل اورتحقیر ہوتی ہے جس کو اُس نے کسی وجہ سے اپنا مخالف سمجھ لیا ہے۔ تنقیص صرف ایک غیر اخلاقی فعل ہے، وہ کسی درجہ میں بھی کوئی علمی واقعہ نہیں۔ تنقید کا عمل اگر علمی اصول کی بنیاد پر ہوتا ہے تو تنقیص کا عمل کسی شخص کے خلاف ذاتی سبّ وشتم کی بنیاد پر۔
ملّی تعمیر کاکام سب سے پہلے ملّت کے افراد میں
شعور پیدا کرنے کا کام ہے۔ اِس کی بہترین صورت یہ ہے کہ
الرسالہ مشن کو ایک ایک بستی اور ایک ایک گھر میں پہنچایا جائے۔
واپس اوپر جائیں

موت کی یاد: ایک صحت مند عمل

ایک اسٹڈی کے ذریعے یہ معلوم ہوا ہے کہ موت کے بارے میں سوچنا ایک اچھی عادت ہے۔ وہ تندرستی کے لیے مفید ہے۔ اِس کا یہ فائدہ ہے کہ آدمی اپنی ترجیحات اور اپنے نشانے کو دوبارہ قائم کرتاہے۔ ایک نئے سائنسی تجزیے میں بتایاگیاہے کہ اگر آدمی کسی قبرستان سے گزرے، تب بھی وہ غیر شعوری طور اُس سے سبق لیتاہے اور اس کے اندر مثبت تبدیلی آتی ہے اور اس کے اندر دوسروں کی مدد کرنے کا جذبہ پیدا ہوتا ہے۔ اِس سے پہلے یہ سمجھا جاتا تھا کہ موت کے بارے میں سوچنا خطرناک ہے، اِس سے تخریبی ذہن پیدا ہوتا ہے۔ موت کی یاد سے تعصب اور تشدد کا جذبہ ابھرتاہے۔
Thinking about death boosts health
Thinking about death can actually be a good thing as an awareness of mortality can improve physical health and help in prioritizing one’s goals and values, as new study has revealed. According to a new analysis of recent scientific studies, even non-conscious thinking about death like walking by a cemetery could prompt positive changes and promote helping others. Past research suggests that thinking about death is destructive and dangerous, fuelling everything from prejudice and greed to violence.
(The Times of India, New Delhi, April 21, 2012, p. 21)
عام طورپر یہ سمجھا جاتاتھا کہ موت کے بارے میں سوچنے سے عمل کا جذبہ سرد پڑ جاتا ہے۔ اِس سے آدمی کے اندر منفی سوچ پیدا ہوتی ہے، مگر یہ صرف ایک قیاسی بات تھی۔ اِس مسئلے کا باقاعدہ علمی مطالعہ کیاگیا تو معلوم ہوا کہ معاملہ اِس کے بالکل برعکس ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ موت کے بارے میں سوچنا ایک اچھی عادت ہے۔ اِس سے آدمی کے اندر صحت مند صفات پیدا ہوتی ہیں۔
قرآن میں آیا ہے: کُلُّ نَفْسٍ ذَائِقَةُ الْمَوْتِ (3:185)۔ یعنی ہر شخص کو موت کا ذائقہ چکھنا ہے۔ اِس سلسلے میں ایک حدیثِ رسول اِن الفاظ میں آئی ہے أکثروا ذکر ہادم اللذات، الموت (سنن الترمذی، حدیث نمبر2307)۔یعنی موت کو بہت زیادہ یاد کرو، وہ لذتوں کو ڈھا دینے والی ہے۔ موت کی یاد حقیقت ِ حیات کی یاد ہے۔ موت کی یاد آدمی کو بتاتی ہے کہ اس کے پاس لامحدود وقت نہیں۔ کسی بھی لمحہ وہ وقت آسکتا ہے، جب کہ اس کی موجودہ زندگی ختم ہوجائے۔
اِس طرح موت کی یاد آدمی کے اندر جلدی کا احساس (sense of urgency) پیدا کرتی ہے۔ آدمی کے اندر یہ محرک (incentive) پیدا ہوتاہے کہ وہ اپنے کام کو جلد پورا کرے، کیوں کہ کچھ معلوم نہیں کہ کب وقت ہوجائے اور کام کرنے کا موقع باقی نہ رہے۔ اِس طرح موت کی یاد آدمی کو منصوبہ بند عمل کرنے پر ابھارتی ہے۔ اور منصوبہ بند عمل بلا شبہہ زندگی میں سب سے بڑی چیز ہے۔
موت کی یاد آدمی کے اندر ذہنی بیداری (intellectual awakening)کی صفت پیدا کرتی ہے۔ موت کی یاد آدمی کی چھپی ہوئی ذہنی صلاحیتوں کو جگاتی ہے۔ موت آدمی کے لیے ذہنی ارتقا (intellectual development) کا ذریعہ ہے۔
اسلامی نظریہ حیات کے مطابق، موت کی یاد کا فائدہ بے شمار گُنا بڑھ جاتا ہے۔ اسلامی نظریۂ حیات بتاتا ہے کہ آدمی کی زندگی موت پر ختم نہیں ہوتی۔ موت کے بعد ایک اور زندگی ہے جو کہ ابدی طورپر قائم رہنے والی ہے۔ آدمی موت سے پہلے کے دور حیات میں جیسا عمل کرے گا، اُسی کے مطابق، وہ موت کے بعد کے دورِ حیات میں کامیاب یا ناکام رہے گا۔ یہ احساس آدمی کے اندر مقصدیت کا شعور پیدا کرتا ہے۔ وہ زیادہ با معنی انداز میں زندگی گزارنے کے قابل بن جاتا ہے۔
عام تصور کے مطابق، موت کی یاد صرف موت کی یاد ہے، یعنی خاتمۂ حیات کی یاد۔ لیکن اسلامی تصورِ حیات کے مطابق، موت کی یاد کا مطلب یہ ہے کہ آدمی بعد از موت دورِ حیات کے لیے تیاری کرے۔ وہ آج کی زندگی کو ایک موقع (opportunity)سمجھے، جب کہ وہ بعد کو آنے والے ابدی دورِ حیات کے لیے عمل کرسکتا ہے۔ یہ تصورِ موت آدمی کو اِس حقیقت کی یاد دلاتاہے— زندگی صرف ایک بار ملتی ہے۔ اب یہ آدمی کے اپنے اوپر ہے کہ وہ اپنی زندگی کو کامیاب بناتا ہے یا ناکام۔ وہ اِس پہلے اور آخری موقع کو استعمال کرتا ہے یا وہ اُس کو کھو دیتا ہے۔
واپس اوپر جائیں

کنٹری بیوشن کا سوال

ایک صاحب نے کہا کہ میں آپ کی تحریریں پڑھتا ہوں۔ آپ کی تحریریں مجھ کو مفید معلوم ہوتی ہیں۔ لیکن کچھ لوگ کہتے ہیں کہ آپ دوسروں کا کنٹری بیوشن نہیں مانتے۔ میں نے کہا کہ میرے بارے میں یہ بات بالکل بے بنیاد ہے۔ میں جو کچھ کہتاہوں وہ صرف یہ ہے کہ موجودہ زمانہ ایک نیا زمانہ ہے۔ مگر ہمار ے لکھنے والے لوگ رد عمل کی نفسیات کی بنا پرموجودہ زمانے سے بے خبر رہے، عربی داں بھی اور انگریزی داں بھی۔ اس بے خبری کی بنا پر ایسا ہوا کہ انھوں نے جو کچھ لکھا وہ جدید تقاضوں کے لحاظ سے غیر متعلق (irrelevant) تھا، وہ جدید ذہن کو ایڈریس کرنے والا نہ تھا۔
یہ بات میں تین موضوعات کے بارے میں کہتا ہوں — معرفت، دعوت، جدید چیلنج۔ موجودہ زمانے کے لکھنے والوں نے بظاہر اسلام کے ہر پہلو پر کتابیں لکھیں، مگر ان کی کتابیں جدید فکری مستویٰ کے مطابق نہ تھیں۔اگر کسی کو میری بات سے اختلاف ہو تو وہ متعین مثال کی زبان میں بتائےکہ مذکورہ تین موضوعات پر کس مصنف نے کون سی کتاب لکھی ہے۔ کسی اور پہلو سے کس کا کنٹری بیوشن کیا ہے،وہ ایک الگ سوال ہے۔ میری مذکورہ بات سے اس کا کوئی براہ راست تعلق نہیں۔کسی کتاب کو جانچنے کا معیار یہ ہے کہ وہ مخاطب کے ذہن کو ایڈریس کرنے والی ہو۔ اس حقیقت کو قرآن میں ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے وَقُلْ لَہُمْ فِی أَنْفُسِہِمْ قَوْلًا بَلِیغًا (4:63)۔ اور ان سے ایسی بات کہو جو ان کے دلوں میں اتر جائے۔
دوسرے لفظوں میں یہ کہ بات کو پنٹریٹنگ (penetrating) اسلوب میں کہنا۔یعنی ایسے اسلوب میں جو مخاطب کے ذہن کو ایڈریس کرنے والا ہو۔ اس اصول کا تقاضا ہے کہ بولنے والا بولنے سے پہلے مخاطب کے ذہن کو غیر متعصبانہ انداز میں پڑھے۔ وہ مخاطب کے ذہن کو اس طرح دیکھے جس طرح مخاطب خود اس کو دیکھتا ہے۔ مخاطب کی اس طرح دریافت کے بعد ہی یہ ممکن ہے کہ کہنے والا اپنی بات کو اس طرح کہے جو مخاطب کے ذہن کو ایڈریس کرنے والی بن جائے۔ اس طرح کے کلام کی دو لازمی شرطیں ہیں، یعنی مخاطب سے کامل واقفیت اور اس سے کامل خیرخواہی۔
واپس اوپر جائیں

غلطی کا اعتراف

اگر کسی سے معاملہ کرتے ہوئے، آپ سے کوئی غلطی ہوجائے۔ اس کے بعد آپ شرمندہ ہوں، اور فوراً یہ کہہ دیں کہ بھائی صاحب، مجھ سے غلطی ہوگئی۔ مجھ کو معاف کردیجیے:
Sorry, I was wrong !
اگر آپ ایسا کہیں۔ تو آپ کی طرف سے یہ غلطی پر معافی مانگنے کا معاملہ ہوتا ہے۔ لیکن دوسرے شخص کے لیےوہ اس کے ضمیر (conscience) کو جگانے کا معاملہ بن جاتا ہے۔ اس کا ضمیر اس سے کہتا ہے کہ دوسرے شخص نے شرافت کا ثبوت دیا ہے۔ تم کو بھی اسی طرح شرافت کا ثبوت دینا چاہیے۔ وہ اگر اپنی غلطی کی معافی مانگ رہا ہے تو تم کو بھی اس کے ساتھ اسی درجے کا کوئی معاملہ کرنا چاہیے۔
غلطی کی معافی مانگنا بظاہر ایک پسپائی کا معاملہ ہے۔ لیکن انسانی نفسیات کے اعتبار سے وہ اقدام کا ایک معاملہ ہے۔ معافی مانگنے والااپنے شرافت کا ثبوت دے کر فریقِ ثانی کو مجبور کرتا ہے کہ وہ بھی اس کے ساتھ شرافت کا ثبوت دے۔ تاکہ لوگوں کی نظر میں اور خود اپنی نظر میں وہ کم تر ثابت نہ ہو۔
غلطی کرنے کے بعد اپنی غلطی کا اعتراف نہ کرنا، معاملے کو بڑھاتا ہے۔ اس کے برعکس، غلطی کرنے کے بعد غلطی کا اعتراف کرنا معاملےکو ختم کردیتا ہے۔ ایک واقعہ جو انسانوں کے درمیان نفرت کا سبب بن سکتا تھا، وہ دونوں کو ایک دوسرے کا دوست بنا دیتا ہے۔ آدمی نے غلطی کرکے جو کچھ کھویا تھا، وہ غلطی کا اعتراف کر کے اس سے بہت زیادہ پالیتا ہے۔
غلطی کرنے کے بعد ، اپنی غلطی کی صفائی پیش کرنا یا یہ ثابت کرنے کی کوشش کرنا کہ اس کی غلطی ، غلطی نہیں تھی، صرف نادانی کاکام ہے۔ صحیح طریقہ یہ ہے کہ آدمی غلطی کرنے کے بعد فوراً اپنی غلطی کومان لے۔ فورا اپنی غلطی کا اعتراف نہ کرنا ایک موقعے کو کھونے کے ہم معنی ہے، ایک ایسا موقعہ جو دوبارہ کبھی آنے والا نہیں۔
واپس اوپر جائیں

توبہ کا عمل

قرآن کی تعلیمات میں سے ایک تعلیم وہ ہے جس کو توبہ کہا گیا ہے۔ حدیث کے الفاظ میں توبہ کی اصل حقیقت ندامت (repentance) ہے(مسند احمد، حدیث نمبر3568)۔ توبہ کرنے والے کے لیے قرآن میں یہ الفاظ آئے ہیں: فَأُولَئِکَ یُبَدِّلُ اللہُ سَیِّئَاتِہِمْ حَسَنَاتٍ (25:70)۔یعنی اللہ ایسے لوگوں کی برائیوں کو بھلائیوں سے بدل دے گا۔
اس کے مطابق ، توبہ ایک ایسی چیز ہے جس سے سیٔہ (برائی) حسنہ (نیکی) میں بدل جاتی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جو سچے ایمان والے ہوں ،وہ جب غلطی کرتے ہیں تو اس کے بعد ان کے اندر شدید ندامت پیدا ہوتی ہے۔ یہ ندامت ان کے لیے ایک ذہنی صدمہ (intellectual shock) بن جاتی ہے۔ ان کے ذہن میں ایک شدید ہل چل پیدا ہوتی ہے۔ اس ذہنی ہل چل کے ذریعے ان کے اندر ایک تخلیقیت (creativity) جاگتی ہے۔ ان کے اندر ذہنی ارتقا کا عمل جاری ہوجاتا ہے۔ فطرت کے قانون کے مطابق ، اس عمل (process) کو ان الفاظ میں بیان کیا جاسکتا ہے— غلطی، اس کے بعد ندامت، اور پھر نتیجۃً ذہنی ارتقا:
mistake + repentance = intellectual development
اجتماعی زندگی میں ایسا ہوتا ہے کہ ایک شخص کی بات دوسرے شخص کے اندر غصہ پیدا کرتی ہے۔ اس وقت انسان دو امکان (options)کے درمیان رہتا ہے۔ یا وہ فرشتے کی آواز کو سنے اور اس کی پیروی کرے، یا وہ شیطان کی آواز کو سنے اور اس کے پیچھے چلنے لگے۔ فرشتے کی آواز سننے کا یہ نتیجہ ہوتا ہے کہ آدمی کے اندر محاسبہ (introspection) کا عمل جاگتا ہے۔ وہ اپنے اوپر نظر ثانی کرنے لگتا ہے۔ اس طرح آدمی کے اندر خود احتسابی کا عمل جاگتا ہے، جو باعتبارِ نتیجہ ذہنی ارتقا کا سبب بن جاتا ہے۔ اس کو وہ حقیقتیں سمجھ میں آنے لگتی ہیں، جو اس سے پہلے اس کے لیے نامعلوم بنی ہوئی تھیں۔ اس کے مقابلے میں جو شخص رد عمل کا شکار ہوجائے، اس کا وہ حال ہوگا جو قرآن کی ایک آیت میں بیان ہوا ہے (الاعراف202 )۔
واپس اوپر جائیں

منفی سوچ کا مزاج

قرآن میں ایک کردار کا ذکر ان الفاظ میں آیا ہے۔ یہ دو آیتیں ہیں، ان کا ترجمہ یہاں نقل کیا جاتا ہے۔ یعنی اور ان کو اس شخص کا حال سناؤ جس کو ہم نے اپنی آیتیں دی تھیں تو وہ ان سے نکل بھاگا۔ پس شیطان اس کے پیچھے لگ گیا اور وہ گمراہوں میں سے ہوگیا۔ اور اگر ہم چاہتے تو اس کو ان آیتوں کے ذریعہ سے بلندی عطا کرتے مگر وہ تو زمین کا ہو رہا اور اپنی خواہشوں کی پیروی کرنے لگا۔ پس اس کی مثال کتے کی سی ہے کہ اگر تو اس پر بوجھ لادے تب بھی ہانپے اور اگر چھوڑ دے تب بھی ہانپے۔ یہ مثال ان لوگوں کی ہے جنھوں نے ہماری نشانیوں کو جھٹلایا۔ پس تم یہ احوال ان کو سناؤ تاکہ وہ سوچیں۔(7:175-176)
یہاں آیت سے مراد ربانی رہنمائی ہے اور ہانپنے سے مراد شکایت کا مزاج (complaining mentality)ہے۔جو شخص یا گروہ ربانی رہنمائی سے سبق نہ لے ، وہ ہر حال میں شیطان کا پیرو بن جائے گا۔ ایک صورتِ حال میں ایک قسم کی منفی بات کہے گا اور اگر صورتِ حال بدل جائے تو وہ دوسری قسم کی منفی بات بولنا شروع کردے گا۔مثلا ایک شخص اگر شیطان کے زیر اثر منفی انداز میں سوچنے کا عادی بن جائے ۔تواس کا حال یہ ہوگا کہ اگر اس کو ایک اعتبار سے اچھے حالات ملیں تو وہ غلط تقابل کرکے اس میں شکایت کا ایک پہلو نکال لے گا۔اور اگر حالات بدل جائیں تو وہ دوبارہ اپنے بےاعترافی کے مزاج کی بنا پر ایک اور پہلو شکایت کا نکال لے گا۔ وہ دونوں حالتوں میں منفی بولی بولے گا۔ ایک نوعیت کے حالات ہوں تب بھی، اور دوسرے نوعیت کے حالات ہوں تب بھی۔
اصل یہ ہے کہ قانونِ فطرت کے مطابق، زندگی کسی کے لیے بھی مکمل طور پر بے مسئلہ نہیں ہوتی۔ کبھی ایک مسئلہ تو کبھی دوسرا مسئلہ۔ اس معاملے کا حل صرف ایک ہے۔ وہ یہ کہ آدمی اپنی منفی سوچ کو بدلے۔ وہ بظاہر شکایت کے حالات میں بھی مثبت ذہن سے سوچنے کا طریقہ اپنائے،وہ مکمل طور پر مثبت انداز میں سوچنے والا بن جائے۔
واپس اوپر جائیں

اختلاف ایک برکت

عمر بن عبدلعزیز (وفات101 ھ)کو اسلام کی تاریخ میں پانچویں خلیفۂ راشد کا درجہ دیا جاتا ہے۔ ان کا ایک قول ان الفاظ میں نقل کیا گیا ہے: ما سرنی لو أن أصحاب محمد صلى اللہ علیہ وسلم لم یختلفوا، لأنہم لو لم یختلفوا لم تکن رخصة (المقاصد الحسنۃ، حدیث نمبر39)۔ یعنی میرے لیے یہ چیز باعث مسرت نہیں کہ اصحاب محمد میں اختلاف نہ ہوتا، اس لیے کہ اگر وہ اختلاف نہ کرتے تو ہم کو رخصت کا فائدہ نہ ملتا۔
عبادتی امور میں صحابہ کا اختلاف بعد کے زمانے میں مختلف فقہی اسکول کا ذریعہ بن گیا۔ اس کا سبب یہ تھا کہ بعد کے علماء نے اختلاف کے معاملے میں ترجیح کا طریقہ اختیار کیا۔ یعنی مختلف مسالک میں کسی ایک طریقہ کو راجح اور کسی کو مرجوح قرار دینا۔ اس سے فقہ میں مختلف مدرسے بن گیے۔ اور بالآخر امت کے اندر فقہی تشدد پیدا ہوگیا۔
عمر بن عبدالعزیز کا یہ قول ایک حدیث پر مبنی ہے۔ پیغمبراسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: أصحابی کالنجوم بأیہم اقتدیتم اہتدیتم (جامع بیان العلم و فضلہ، حدیث نمبر 1760)۔ یعنی میرے اصحاب ستاروں کی مانند ہیں، تم ان میں سے جس کی بھی پیروی کرو، تم ہدایت پر رہوگے۔
صحابہ کا اختلاف اساسی امور (basics)میں نہیں ہے۔ بلکہ وہ جزئی امور(non-basics) میں ہے۔ اس طرح کے جزئی امور میں ہمیشہ تنوع (diversity)مطلوب ہوتی ہے۔ اس طرح کے جزئی امور میں توحد (یکسانیت) تلاش کرنا، غیر فطری ہے۔ صحیح طریقہ یہ ہے کہ اس طرح کے جزئی اختلاف کو تنوع پر محمول کیا جائے، ان کو توحد کا موضوع نہ بنایا جائے۔ اس اصول کو اختیار کرنے کی صورت میں امت کے اندر اتحاد باقی رہے گا۔ اس کی خلاف ورزی کا نتیجہ یہ ہوگا کہ امت کے اندر اختلاف و انتشار پیدا ہوجائے گا۔ ایک امت کئی فرقوں میں بٹ جائے گی۔ یہ اختلاف بڑھ کر غلو اور تشدد کی صورت اختیار کرلے گا۔ اسلام کی بعد کے زمانے کی تاریخ اس کی تصدیق کرتی ہے۔
واپس اوپر جائیں

نیت، بصیرت

اسلام میں نیت کی اہمیت بہت زیادہ ہے۔ لیکن صرف نیت کافی نہیں۔ ایک آدمی کے اندر اچھی نیت (good intention) موجود ہو تو وہ بلاشبہ انفرادی زندگی کے اعتبار سےایک کامیاب انسان بن سکتا ہے۔ لیکن جہاں تک اجتماعی زندگی کا سوال ہے۔ اس کی کامیابی کے لیے ایک اور چیز لازمی طور پر ضروری ہے۔ یہ بصیرت (wisdom) ہے۔بصیرت کے بغیر کوئی شخص اجتماعی زندگی کے امتحان میں پورا نہیں اترسکتا۔ خواہ وہ نیت کے اعتبار سے کتنا ہی اچھا انسان ہو۔ اس کا سبب یہ ہے کہ اجتماعی زندگی میں ہمیشہ بحران کی صورتیں پیدا ہوتی ہیں۔ اجتماعی زندگی میں وہی شخص کامیاب ہوسکتا ہے جس کے اندر بحران کو مینیج کرنے کی صلاحیت (art of crisis management) پائی جاتی ہو۔ اور یہ صفت صرف اسی شخص کے اند رپائی جاتی ہے جو ایک صاحبِ بصیرت انسان ہو۔
اسلام کے ابتدائی دور میں دونوں قسم کی مثالیں موجود ہیں۔ ایک مثال خالد بن ولید کی ہے۔ وہ اسلامی فوج کے سردار تھے۔ خلیفۂ دوم عمر کے زمانے میں ان کے ساتھ ایک ایسا واقعہ پیش آیا جو عام انسان کو بہت زیادہ برہم کرسکتا ہے۔ لیکن حضرت خالد بن ولید ایک با بصیرت انسان تھے، اس کو انھوں نے یہ کہہ کر اپنے لیے غیر موثر بنادیا: انی لا اقاتل فی سبیل عمر، ولکن اقاتل فی سبیل رب عمر ۔یعنی میں عمر کے راستے میں نہیں لڑتا، بلکہ میں عمر کے رب کے راستے میں لڑتا ہوں۔
دوسری تقابلی مثال سعد بن عبادہ کی ہے۔ سعد بن عبادہ مدینے کے قبیلۂ خزرج کے سردار تھے۔ہجرت سے پہلے بیعت عقبہ ثانیہ کے موقع پر انھوں نے اسلام قبول کیا تھا۔ ہجرت کے بعد وہ رسول اللہ کے ساتھی بن گیے۔ مدینے میں اسلام جو تیزی سے پھیلا، اس میں ان کا بڑا ہاتھ تھا۔ رسول اللہ کی آخری زندگی تک وہ اسی طرح اپنے حال پر قائم رہے۔ وہ اس وقت بدل گیے، جب کہ رسول اللہ کی وفات کے بعد ابوبکر صدیق کے ہاتھ پر خلافت کی بیعت ہوئی۔ روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ خلافت کا مستحق وہ انصار کو سمجھتے تھے۔ انھوں نے ابوبکر صدیق کے ہاتھ پر خلافت کی بیعت نہیں کی۔ اس کے بعد جب دوسرے مہاجر، عمر بن خطاب خلیفہ منتخب ہوئے تب بھی انھوں نے خلیفۂ دوم کے ہاتھ پر بیعت نہیں کی۔ وہ اسی حال پر قائم رہے۔ یہاں تک کہ وہ مدینہ میں ایک غیر مطلوب شخص بن گیے۔ اب وہ مدینہ چھوڑ کر شام چلے گیے۔ وہاں ہجرت کے پندرھویں سال ان کی وفات ہوگئی۔
خالد بن ولید اور سعد بن عبادہ دونوں اپنی انفرادی زندگی میں اچھے انسان تھے۔ لیکن دونوں کا دو مختلف انجام ہوا۔ خالد بن ولید کو مرکزی قیادت سے اختلاف ہوا۔ یہ ان کے لیے بحران کا وقت تھا۔ لیکن انھوں نے اپنی بصیرت سے اس بحران کو مینیج کرلیا۔ اس طرح ان کا اختلاف ان کی زندگی میں غیر موثر بن کر رہ گیا۔ اس کے برعکس سعد بن عبادہ کو مرکزی قیادت سے اختلاف ہوا۔ یہ ان کے لیے ایک بحران کا وقت تھا۔ وہ اس بحران کو مینیج نہ کرسکے۔ نتیجہ یہ ہوا کہ وہ صحابہ کی جماعت سے کٹ گیے۔
انفرادی زندگی کے مقابلے میں اجتماعی زندگی کا معاملہ بالکل مختلف ہے۔ انفرادی زندگی میں دوسروں سے اختلاف کی نوبت نہیں آتی۔ لیکن اجتماعی زندگی میں ہمیشہ اختلافات پیدا ہوتے ہیں۔ یہ اختلاف ایک امتحان (test) ہوتا ہے۔ جس آدمی کے اندر بصیرت (wisdom) کی صلاحیت موجود ہو، وہ اپنی بصیرت سے اس کی حقیقت کو سمجھ لے گا، اور اس کا منفی اثر قبول کرنے سے بچ جائے گا، لیکن جس انسان کے اندر بصیرت (wisdom) کا مادہ موجود نہ ہو، وہ اس بحران (crisis) کو مینیج کرنے میں ناکام رہے گا۔
مینیج نہ کرنے کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ اس آدمی کے ساتھ جو واقعہ پیش آتا ہے ، اس کو وہ غلط معنی میں لے لیتا ہے۔ ایک واقعہ جو فطری اسباب کے تحت پیش آیا، اس کے بارے میں وہ یہ سمجھے گا کہ میری حق تلفی ہوئی، میری قربانیوں کو نظر انداز کردیا گیا۔ مجھ پر دوسروں کو ترجیح دی گئی۔ میں سازش کا شکار ہوا، میری خدمات کونظر انداز کردیا گیا، وغیرہ۔ اس قسم کے خیالات اس کے ذہن پر چھاجائیں گے۔ اس کے اندر یہ صلاحیت نہ ہوگی کہ وہ معاملے کو صحیح زاویے سے دیکھے، اور اس کے برے اثر سے اپنے آپ کو بچا لے۔
واپس اوپر جائیں

عورت اور مرد

عورت اور مرد کے درمیان دو متضاد نسبتیں ہیں۔اور وہ ہے کامل حیاتیاتی مطابقت کے باوجود کامل حیاتیاتی فرق۔یہ تخلیق کا انوکھا توازن (unique balance) ہے۔اور یہ ایک اہم تمدنی مقصد کے لیے ہے۔ مگر بظاہر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ تخلیق کی اس حکمت کو شاید کسی نے نہیں سمجھا۔
قرآن میں اس حکمت کو دولفظوں میں اس طرح بیان کیا گیا ہے بَعْضُکُمْ مِنْ بَعْضٍ (3:195)۔ قرآن کی یہ آیت اشارہ کی زبان میں تھی۔ تدبر کے ذریعہ اس کی تفصیل کو جاننا تھا۔ لیکن بظاہر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ انسان نے اس حقیقت کو نہ قرآنی مطالعہ کے ذریعہ سمجھا اور نہ سیکولر مطالعہ کے ذریعہ۔
قدیم تاریخ میں یہ ہوا کہ انسان نے عورت کو مرد کے مقابلے میں کم سمجھا۔ اس بنا پر وہ فطرت کے مطابق، عورت کا صحیح استعمال دریافت نہ کرسکا۔ جدید تہذیب (modern civilization) کے زمانہ میں صنفی مساوات (gender equality) کا نظریہ اختیار کیا گیا۔ مگر یہ جدید نظریہ صرف قدیم نظریہ کا ردعمل (reaction) تھا۔ اس طرح قدیم ذہن اور جدید ذہن، دونوں افراط و تفریط کا شکار ہوئے اور اصل حقیقت تک پہنچنے میں ناکام رہے۔قدیم ذہن کے مطابق، اگر عورت اور مرد کے درمیان صنفی نامساوات (gender inequality) تھی تو جدید ذہن نے بتایا کہ عورت اور مرد کے درمیان صنفی مساوات (gender equality)ہے ۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ عورت اور مرد کے درمیان تکمیلی نسبت (gender complementarity) کا تعلق ہے۔
تخلیقی نقشہ کے مطابق عورت اور مرد ایک دوسرے کے لیے کاگ وھیل (cogwheel) کی مانند ہیں۔وہ ایک دوسرے کا تکملہ (complement) ہیں۔ دونوں میں سے ہر ایک کے اندر ایک اضافی خصوصیت (additional quality) ہے جس کے ذریعہ دونوں مل کر مقصدِ تخلیق کو پورا کرتے ہیں۔
واپس اوپر جائیں

خوشگوار تعلق کا راز

ایک شادی شدہ نوجوان نے سوال کیا کہ شوہر اور بیوی کے درمیان خوشگوار تعلق کا فارمولا کیا ہے۔ میں نے کہاکہ اس کا سادہ فارمولا صرف ایک ہے— مرد عورت کے جذباتی مزاج (emotional nature) کو برداشت کرے، اور عورت مردکے بے لچک مزاج (stubborn nature) کو برداشت کرے۔ اس کے بعد، ان شاءاللہ ،ساری عمر دونوں کے درمیان خوشگوار تعلق قائم رہے گا:
A woman should learn to adjust with the stubborn nature of a man, and a man should learn to adjust with the emotional nature of a woman.
عورت اور مرد ،دو متضاد (opposite) صنف نہیں ہیں،بلکہ دونوں ایک دوسرے کا تکملہ (counterpart) ہیں۔ اس بنا پر دونوں کے اندر بعض اضافی خصوصیات رکھی گئی ہیں۔ عورت کے اندر اگر جذبات زیادہ ہیں تو وہ اس کی اضافی خصوصیت ہے، وہ کسی کمی کی بات نہیں ۔ اسی طرح مرد کے اندر اگربے لچک مزاج ہے تو وہ اس کی کمزوری نہیں بلکہ وہ اس کی اضافی خصوصیت ہے۔ زندگی میں دونوں چیزیں یکساں طور پر ضروری ہیں۔ عورت اور مرد دونوں کو چاہیے کہ وہ اس فرق کو تخلیقی نظام (creation plan) کا حصہ سمجھیں۔ اگر دونوں اس حقیقت کو جان لیں تو دونوں کے اندر ایک دوسرے کے اعتراف کا مزاج پیدا ہوگا، نہ کہ شکایت اور ٹکراؤ کا مزاج۔
اپنے جذباتی مزاج کی بنا پر، عورت کے اندر نرمی ہوتی ہے۔ اس کے اندر یہ صلاحیت ہوتی ہے کہ وہ معاملے کو نرمی کے ساتھ سلجھائے۔ اسی طرح مرد کے بے لچک مزاج کا یہ فائدہ ہے کہ جہاں ضرورت ہو کہ معاملے کو زیادہ مضبوطی کے ساتھ ڈیل (deal)کیا جائے ، وہاں مرد اپنا رول ادا کرے۔ اس طرح عورت اور مرد دونوںکو یہ موقع ملتا ہے کہ وہ اپنا اپنا حصہ ادا کرتے ہوئے، زندگی کا نظام کامیابی کے ساتھ چلائیں۔
واپس اوپر جائیں

انسان کا عجز

قرآن میں آیا ہے  خُلِقَ الْإِنْسَانُ ضَعِیفًا ۔(4:28)یعنی انسان کمزور پیدا کیا گیا ہے۔ انسان کی کمزوری اس کی تخلیق میں شامل ہے۔ وہ کسی بھی تدبیر کے ذریعے ایسا نہیں کرسکتا کہ وہ ضعیف مخلوق کے بجائے قوی مخلوق بن جائے۔
ضعف انسان کی ایک ایسی عام صفت ہے کہ اگر انسان سوچے تو وہ ہر لمحہ اس کو یاد کرتا رہے گا ۔ مثلا آپ کھانا کھارہے ہیں، اگر آپ یہ سوچیں کہ میرا معدہ کھانے کو قبول نہ کرے تو میرے لیے میرا کھانا پتھر کی مانند بن جائے گا۔ آپ چیزوں کو دیکھ رہے ہیں ، اب آپ سوچیں کہ میری آنکھ سے اگر بینائی کا خاتمہ ہوجائے تو سورج کی روشنی میں بھی مَیں چیزوں کو دیکھ نہیں سکتا۔ یہی حال ان تمام چیزوں کا ہے جن کو آدمی روزانہ استعمال کرتا ہے۔ اور جن کی وجہ سے وہ زندہ رہتا ہے اور چلتا پھرتا رہتا ہے اور اپنے سارے کام کرتا ہے۔
انسان کا ضعف اس کے لیے صرف ضعف نہیں ۔ بلکہ وہ اس کے لیے وزڈم (wisdom) کا سب سے بڑا ذریعہ ہے۔ آدمی اگر اپنے عجز اور ضعف کو سوچے تو اس کے اندر سےبڑائی کا جذبہ ختم ہو جائے گا۔ وہ پورے معنوں میں متواضع (modest)انسان بن جائے گا۔ اور بلاشبہ تواضع ،انسان کی سب سے بڑی صفت ہے۔ اسی طرح آدمی اگر اپنے ضعف کو یاد کرے تو وہ کبھی اپنے خالق کی یاد سے غافل نہ ہوگا۔ کیوں کہ اس کا ضعف اس کو یاد دلائے گا کہ دنیا میں زندہ رہنے کے لیے اس کو ایک قابلِ اعتماد سہارا درکار ہے۔ اور یہ قابلِ اعتماد سہاراقادرِ مطلق خدا کے سوا کوئی اور نہیں۔
جس آدمی کو اپنے ضعیف ہونے کا زندہ شعور ہو، وہ آخری حدتک حقیقت پسند (realist) انسان بن جائے گا۔ وہ اپنے بارے میں زیادہ اندازہ (overestimation) کا شکار نہ ہوگا۔ اس کے اندر سے سرکشی کا مزاج پوری طرح ختم ہوجائے گا۔ وہ ایک ایسا انسان بن جائے گا جس کی نظر ہمیشہ خود اپنی کوتاہیوں پر ہوگی نہ کہ دوسرو ں کی غلطیوں پر۔
واپس اوپر جائیں

ممکن ، ناممکن

آپ جس عورت یا مرد سے ملیں، ہر ایک کو اندر سے غم گین (sad) پائیں گے۔ اس کا سبب کیا ہے۔ اس کا سبب صرف ایک ہے۔ اور وہ ہے لوگوں کا حقیقت پسند (realist)نہ ہونا۔ لوگ عام طور پر اس حقیقت سے بے خبر ہیں کہ دنیا میں وہ صرف اس چیز کو پاسکتے ہیں جو فطرت کے قانون کے مطابق ان کے لیے ممکن الحصول ہو، فطرت کے قانون کے مطابق جو چیز ان کے لیے ممکن الحصول نہ ہو، وہ ان کو ملنے والی ہی نہیں۔
اس حقیقت سےبے خبری کی بنا پر لوگ یہ غلطی کرتے ہیں کہ وہ ممکن اور ناممکن کے درمیان فرق نہیں کرتے۔ وہ ایسی چیز کے حصول کو اپنا مقصود بنا لیتے ہیں جو حقیقت کے اعتبار سے ان کو ملنے والی ہی نہ تھی۔ اگر آدمی اس حقیقت کو جانے اور وہ اپنی زندگی کا منصوبہ اس کے مطابق بنائے تو وہ اپنی زندگی کو یقینا زیادہ کار آمد بنا سکتا ہے۔
ہر آدمی کا پہلا فرض یہ ہے کہ وہ یہ دریافت کرے کہ دنیا کا نظام خالق کے مقرر کردہ قانونِ فطرت پر چل رہا ہے۔ یہ قانون کسی کے لیے بھی بدلنے والا نہیں۔ اس لیے ہر آدمی کی پہلی ضرورت یہ ہے کہ وہ فطرت کے قانون کو دریافت کرے، اور اپنی زندگی کا نقشہ اس کے مطابق بنائے۔ کوئی بھی شخص جو ایسا نہیں کرے گا، اس کے لیے اس دنیا میں کامیابی کا حصول ممکن نہیں۔
ایک جرمن مدبر نے درست طور پر کہا ہے کہ — سیاست ممکن کا کھیل ہے۔
Politics is the art of the possible
یہ اصول صرف سیاست کے لیے نہیں ہے بلکہ وہ زندگی کے ہر معاملے کے لیے ہے۔ جو شخص ایک ایسی چیز کو اپنا نشانہ بنائے گا جو فطرت کے قانون کے مطابق اس کو ملنے والی نہیں ہے، وہ یقینا ناکام ہو کر رہ جائے گی۔ اس کے برعکس جو شخص ممکن دائرے میں اپنا منصوبہ بنائے گا، وہ یقینا کامیابی کا مرتبہ حاصل کرے گا۔
واپس اوپر جائیں

وزڈم میگزین

ماہنامہ الرسالہ کا پہلا شمارہ اکتوبر 1976 میں شائع ہوا۔ اس وقت دہلی کے ایک تعلیم یافتہ مسلمان نے ماہنامہ الرسالہ پر اپنا تبصرہ کرتے ہوئے کہا تھا: آپ کا میگزین چلنے والا نہیں، اس کا سبب یہ ہے کہ آپ کا میگزین ایک سجسٹیو (suggestive) میگزین ہوگا۔ جب کہ آج کا انسان صرف ایسے میگزین کو چاہتا ہے جو انفارمیٹیو (informative) میگزین ہو۔ واقعات نے بتایا کہ مذکورہ مسلمان کی رائے درست نہ تھی۔ انھوں نے ثنائی طرز فکر (dichotomous thinking)کے تحت اپنا تبصرہ کیا تھا۔ ان کو شاید یہ معلوم نہ تھا یہاں میگزین کی ایک تیسری صورت بھی ہے، جس پر ان کا تبصرہ منطبق نہیں ہوتا۔ اور وہ ہے وزڈم میگزین (wisdom magazine) ۔ وزڈم میگزین ہمیشہ کامیاب ہوتا ہے، خواہ وہ کسی بھی زبان میں جاری کیا جائے۔
وزڈم کا مطلب دانش یا حکمت ہے۔ مثلاً ایک صاحب سے ملاقات ہوئی۔ وہ انجنیر ہیں۔ اور ایک یوروپین کمپنی میں سروس کرتے ہیں۔ معاشی اعتبار سے وہ ایک کامیاب انسان ہیں۔ ان کے پاس رہنے کے لیے ذاتی فلیٹ ہے۔ سواری کے لیے کار ہے۔ان کے بچے انگریزی اسکول میں پڑھ رہے ہیں۔ یہ سب کچھ کمپنی کی سروس کی بنا پر ہے۔ لیکن گفتگو کے دوران انھوں نے اپنی کمپنی کی شکایت کی ۔ انھوں نے کہا کہ کمپنی میں ایک امتیاز (discrimination) پایا جاتا ہے۔ وہ یہ کہ ان کے یہاں انڈین کی تنخواہ کم ہوتی ہے، اور وائٹ یوروپین کی تنخواہ بہت زیادہ۔
میں نے کہا کہ آپ کی شکایت درست نہیں۔ آپ غلط تقابل (wrong comparison) کا شکار ہیں۔ آپ یورپین کمپنی کا تقابل انڈین کمپنی سے کررہے ہیں۔ اس کے بجائے آپ کو ایک انڈین کمپنی کا تقابل دوسری انڈین کمپنی سے کرنا چاہیے۔اگر آپ صحیح تقابل(right comparison) کا طریقہ اختیار کریں تو آپ کی شکایت ختم ہوجائے گی۔ یہ وزڈم کی بات ہے۔ لوگوں کے اندر عام طور پر یہ وزڈم نہیں ہوتی۔ اس لیے وہ شکایت میں جیتے ہیں۔ ایسے حالت میں لوگوں کو ایک ایسے میگزین کی ضرورت ہے جو ان کے معاملات میں وزڈم کی بات بتائے۔
واپس اوپر جائیں

سوال و جواب

سوال
2015 سے میں ماہ نامہ الرسالہ کا قاری ہوں۔ آپ کی کتابیں بالخصوص پیغمبر انقلابـــــ، غیر ملکی سفر نامے، وغیرہ کا مطالعہ کرچکا ہوں۔ پوسٹ گریجویشن میں تاریخ خصوصی مضمون ہے۔ ایم اے کے دوران آپ کے مضمون تاریخِ انسانی کے مطالعے سے تاریخ کے متعلق مستفید ہوا۔ عالمی منظر نامے سے واقفیت رکھنے کے لیے Indian Express پڑھتا ہوں۔ انسانی تاریخ کے مختلف مراحل کو ذہن میں رکھ کر اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ آپ کا مشن صلح حدیبیہ پر اتفاق، صبر وضبط کا فارمولا، ہی انسانی زندگی اور اس کی بقاء اور ارتقاء کے لئے لازم ہیں۔اس دور انسانی میں جس میں آپ اور ہم جی رہے ہیں، آپ حالات کی سنگینی سے زیادہ واقف ہیں۔ ایسے وقت میں جب کہ لوگ اسلام کے نام پر، اسلام کو اس طرح پیش کررہے ہیں جو اسلام کی تعلیمات کے منافی ہیں،صلح حدیبیہ ماڈل کو سامنے رکھ کر مسلمانوں کو کیا کرنا چاہئے۔ صبر وضبط اپنی جگہ ، ان کی غلط فہمی رفع کرنے کے لئے کس راستے کا انتخاب کیا جائے۔(محمد اسماعیل اشفاق احمد، مسلم پورہ، مالے گاؤں)
جواب
ہمارا لٹریچر پورا کا پورا اسی سوال کا جواب ہے۔ آپ نے ابھی صرف چند کتابیں پڑھیں ہیں، اس لیے آپ کو یہ شک پیدا ہوا۔ اگر آپ تمام کتابیں پڑھیں، اور اسی کے ساتھ ہمارا ماہنامہ الرسالہ (اردو)، اور اسپرٹ آف اسلام (انگریزی) کا مطالعہ جاری رکھیں تو آپ کے تمام سوالات رفع ہو جائیں گے، ان شاء اللہ۔
اصل یہ ہے کہ عام طور پر لوگ وقتی مسائل میں الجھے رہتے ہیں۔ لوگوں کا یہی مزاج ہے جو لوگوں کے اندر ردعمل (reaction) کی نفسیات پیدا کرتا ہے۔ ردعمل کی نفسیات مزید بڑھ کر نفرت کی نفسیات بن جاتی ہے۔ اور نفرت کی نفسیات آخرکار لوگوں کو تشدد تک پہنچادیتی ہے۔ لوگوں کا حال یہ ہوجاتا ہے کہ اگر وہ فعال تشدد (active violence) میں مبتلا نہ ہوں تب بھی وہ منفعل تشدد (passive violence)کا شکار ہوکر رہ جاتے ہیں ۔اس نفسیات کا سب سے زیادہ برا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ لوگ مثبت سوچ سے محروم ہو جاتے ہیں۔ حالاں کہ مثبت سوچ ہی تمام ترقیات کا اصل زینہ ہے۔
سوال
میں الرسالہ کا مستقل قاری ہوں۔ یہاں چند سوالوں کی وضاحت مطلوب ہے، براہِ کرم رہنمائی فرمائیں۔
1- آپ نے اعتدال کے موضوع پر کئی مضامین لکھے ہیں، مگر یہ باہم متضاد معلوم ہوتےہیں۔ آپ نے اپنی کتاب ’’دین انسانیت‘‘ میں لکھا ہے کہ:’’معتدل انداز کا تعلق زندگی کےتمام معاملات سے ہے۔ ہر معاملے میں آدمی کو افراط اور تفریط سے بچنا ہے۔ ہر معاملے میں، دوانتہاؤں کے درمیان بین بین والی صورت اختیار کرنا ہے‘‘(صفحہ 125)۔ تاہم الرسالہ کے حالیہ شماروںمیں ، آپ اس کے برعکس لکھ رہے ہیں۔ اب آپ فرمارہے ہیں کہ’’اعتدال‘‘ کا تعلق تمام معاملات سے نہیں، بلکہ صرف عملی معاملات سے ہے۔(الرسالہ، جولائی 2014، ص 41، اکتوبر، ص 40، ستمبر 2015 ص 21)۔ مزید یہ کہ آپ نے حالیہ شمارے میں، اعتدال کا تقابل ’’حق وضلال‘‘ سے کیا ہے، جب کہ اعتدال کے مقابلے میں ہمیشہ افراط وتفریط کا لفظ استعمال ہوتا ہے۔ اس کی کیا وجہ ہے؟
2۔ آپ کی کتابوںمیں دعوت پر سب سےزیادہ زور دیا گیا ہے۔ سوال یہ ہے کہ دعوت کے علاوہ، ایک مومن پر، حقوق اللہ اور حقوق العباد کے تحت، دین کے دوسرے جو تقاضے ہیں، دین میں اُن کی اہمیت کیا ہے؟ مثلاًنماز، زکوة، حج، والدین کی خدمت، گھر والوں، پڑوسیوں اور دوسرے انسانوں کی نسبت سے عائدہونے والے حقوق وفرائض، وغیرہ۔
3۔ حدیث میں ’’عزل‘‘ کے بارے میں آیا ہے، کیا یہ جائز ہے۔ اِس کے متعلق آپ کی رائےکیا ہے۔(محمد نسیم خاں، لکھنؤ)
جواب
(1) میری پہلی عبارت میں آپ ’’تمام معاملات‘‘کے ساتھ’’عملی‘‘کا اضافہ کر دیں تو آپ کا شبہ اپنے آپ ختم ہوجائے گا۔ اعتدال کے بارے میں مَیں نے جو بات لکھی ہے، اس کو آپ نے غور سے نہیں پڑھا۔ آپ دوبارہ اس کو غور سے پڑھیے تو آپ کو اپنے سوال کا جواب مل جائے گا۔ میرا اصل نقطہ نظر یہ ہے کہ اعتدال کا تعلق فکری امور سے نہیںہے، بلکہ عملی معاملات سے ہے۔ یہ کوئی نئی بات نہیں ہے ، بلکہ عملا تمام علماء کے درمیان یہ مسئلہ متفق علیہ رہا۔ اگرچہ علماء اس مسئلے کو بتانے کے لیے دوسرے الفاظ استعمال کرتے ہیں۔
(2) میری تحریروں میں دعوت پر زور دیا گیا ہے۔ اس کا مطلب دوسرے فرائض کی نفی نہیں، بلکہ مطلوب صورت کی اہمیت کو بتانا ہے۔ ہماری کتابوں میں دوسرے پہلووں پر بھی لکھا گیا ہے۔ البتہ موقعہ کے لحاظ سے دعوت الی اللہ کے فریضہ پر زیادہ زور دیا گیا ہے۔ آپ ہماری تفسیرِ قرآن ، تذکیر القرآن پڑھیں اس میں آپ کو ہماری ساری باتیں مل جائیں گی۔
(3) عزل کے بارے میں میرا مسلک وہی ہے جو صحیح البخاری کی روایت سے ثابت ہے۔ اس کو آپ پڑھ لیں۔ اس معاملہ میں الگ سے میری کوئی رائے نہیں ہے۔ البخاری کے ان الفاظ پر آپ غور کیجیے: عن جابر رضی اللہ عنہ، قال کنا نعزل والقرآن ینزل۔(حدیث نمبر 2508) ان الفاظ پر غور کرکے آپ خود اپنے سوال کا جواب پاسکتے ہیں۔
سوال
مولانا آپ نے 1 نومبر 2015 کی سنڈے تقریر میں جو فرمایا اس میں سے چند باتوں پر مزید وضاحت مطلوب ہے:
1 ۔ پولٹکس کے ساتھ جب مذہب مل جائے تو تقدس آجاتا ہے، اس کا کیا مطلب ہے۔
2 ۔دین اور سیاست میں جدائی اور دین پرسنل چوائس ہے اور سیاست سماجی قبولیت کی بنیاد پر ہوتا ہے، میں فرق کیا ہے۔
3۔ سیاست میں دین کو کب داخلہ ملے گا، کیا اس وقت جب کہ لوگ اس کے لیے تیار ہوں۔( حافظ سید اقبال احمد عمری، عمر آباد، تمل ناڈو)
جواب
1 ۔ پولٹکس جب سیکولر ذہن کے ساتھ چلائی جائے تو وہ ایک دنیوی معاملہ ہوتا ہے۔ اس بنا پر سیکولر پولٹکس میںفیصلے کی بنیاد ہمیشہ عقل ہوتی ہے۔ایسے لوگ ہمیشہ اپنی سرگرمیوں کو نتیجے کے اعتبار سے جانچتے ہیں۔ ان کی سرگرمی اگر مثبت نتیجہ پیدا کرے تو وہ اس پر قائم رہیں گے، اور اگر ان کی سرگرمیاں بے نتیجہ دکھائی دیں تو وہ ان پر از سر نو غور کریں گے۔ وہ اپنی سرگرمیوں کی نئی منصوبہ بندی کریں گے۔ اس کے برعکس، مذہبی ذہن کے لو گ جب پولٹکس اختیار کریں تو اپنے مزاج کی بنا پر ان کے لیے سارا مسئلہ عقیدہ کا مسئلہ بن جاتا ہے۔ اس بنا پر ان کی پولٹکس،دوسرے مذہبی اعمال کی طر ح مقدس بن جاتی ہے۔ وہ اس پر نظر ثانی نہیں کرتے، خواہ اسی راستے میں وہ تباہ ہوکر رہ جائیں۔ وہ ہلاکت کو شہادت کا درجہ دے کر ہر حال میں اس پر قائم رہتے ہیں۔
2 ۔ سیاست ہمیشہ ایک حریف (rival) پیدا کرتی ہے۔ سیاست سسٹم میں بدلاؤ کا نشانہ دیتی ہے۔ اس بنا پر اول دن سے ایسا ہوتا ہے کہ جن لوگوں کا سیاست پر عملی قبضہ ہے، ان سے ٹکراؤ شروع ہو جاتا ہے۔ اس ٹکراؤ سے بچنے کی عملی صورت یہ ہے کہ سیاست کو عقیدہ کا مسئلہ نہ بنا یا جائے، بلکہ اس کو سماجی انتخاب کا مسئلہ بنادیا جائے۔
3 ۔ مذہب میں عملی سیاست کا داخلہ عقیدہ کی بنیاد پر نہیں کیا جائے گا۔ بلکہ سماجی حالات کی بنیاد پر کیا جائے گا۔ جیسے سماجی حالات ویسی عملی سیاست۔ ایک حدیث کا مطالعہ کرکے اس حقیقت کو سمجھا جاسکتا ہے عن عائشةقالت إنما نزل أول ما نزل منہ سورة من المفصل، فیہا ذکر الجنة والنار، حتى إذا ثاب الناس إلى الإسلام نزل الحلال والحرام، ولو نزل أول شیء لا تشربوا الخمر، لقالوا لا ندع الخمر أبدا، ولو نزل لا تزنوا، لقالوا لا ندع الزنا أبدا، لقد نزل بمکة على محمد صلى اللہ علیہ وسلم وإنی لجاریة ألعب{بَلِ السَّاعَةُ مَوْعِدُہُمْ وَالسَّاعَةُ أَدْہَى وَأَمَرُّ} [54:46] وما نزلت سورة البقرة والنساء إلا وأنا عندہ۔(صحیح البخاری، حدیث نمبر4993)۔
واپس اوپر جائیں

خبرنامہ اسلامی مرکز— 243

l ترجمہ کتاب ابھی حال ہی میں صدر اسلامی مرکز کی انگریزی کتاب آئڈیالوجی آف پیس کا عربی ورزن ’عقیدة السلام‘ کے نام سے سعودی عرب سے شائع ہوا ہے۔ اس کتاب کو سعودی عرب کے ایک معروف ادارہ ’العبیکان ‘نے شائع کیا ہے۔ کتاب کا عربی ترجمہ بسام عثمان احمد ابوزید نے کیا ہے۔ سی پی ایس انٹرنیشنل کی ویب سائٹ سے اس کتاب کا پی ڈی ایف ورزن ڈاؤن لوڈ کیا جاسکتا ہے۔
l سی پی ایس کی ایک نئی ٹیم مغربی بنگال کے رسڑا (ضلع ہگلی )میں کچھ مہینوں پہلے بنی ہے۔ کولکاتا ٹیم کےتعاون سے ٹیم نے اپنی ایکٹیوٹی کی شروعات رسڑا میں ایک لائبریری کے افتتاح کے موقع پرکی ۔ اس موقع پر انھوں نےانگلش ترجمہ قرآن ، اسپرٹ آف اسلام وغیرہ، علاقہ کے ڈی ایس پی اور دوسرے پولیس آفیسرس کو پیش کیا۔ سب نے اس گفٹ کو خوشی اور شکریہ کے ساتھ قبول کیا۔
l کناڈا چیپٹر خواجہ کلیم الدین صاحب (امریکا )کی اطلاع کے مطابق، مسٹر عاصم شفیع ، ان کی بیوی مہوش اور دیگر احباب نے کناڈا میں دعوہ ورک شروع کردیا ہے۔ ان لوگوں نے آفیشیل طور پر سی پی ایس کناڈاکے لیے وہاں کی حکومت سے منظوری حاصل کی ہے ۔ اور مذکورہ بینر کے تحت یہ لوگ کناڈا میں مدعو حضرات کے درمیان دعوہ لٹریچر تقسیم کررہے ہیں۔
l 30 دسمبر 2015 کو سی پی ایس کولکاتا کے مسٹر سیف اللہ مغربی بنگال کے گورنر جناب کیشری ناتھ ترپاٹھی سے ملے اور ان کو صدر اسلامی مرکز کے قرآن کا انگریزی ترجمہ، ایج آف پیس اور اسپرٹ آف اسلام، ٹررزم: اٹس روٹ کاز اینڈ سولوشن (لیفلیٹ)،پیش کیا۔ جناب گورنر صاحب نے مسٹر سیف اللہ کا شکریہ ادا کیا اور خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ان کے پاس انگلش میں قرآن نہیں تھا۔ وہ اس کو ضرور پڑھیں گے۔گورنر مغربی بنگال کے اے ڈی سی مسٹر سنہاسس دِرگھانگی کو بھی دعوتی لٹریچر پیش کیا گیا۔
l 10دسمبر2015 کو سی پی ایس سہارن پور ٹیم کے ڈاکٹر اسلم صاحب نے صدر اسلامی مرکز کی کتاب ’دی ایج آف پیس ، اسپرٹ آف اسلام اور دوسری کتابیں شوبھت یونی ورسٹی (دہلی)کے چیر مین ڈاکٹر شوبھت کمار کو بطور ہدیہ دیا۔ ڈاکٹر شوبھت نے بھی ڈاکٹر اسلم کو گیتا پیش کی اور پیس ہال سہارن پور کو دیکھنے اور صدر اسلامی مرکز سے ملاقات کی خواہش کا اظہار کیا۔ اس موقعے پر ہریانہ کے بی ڈی ایس کالج کے چیئر مین مسٹر روندر رانا اور ڈاکٹر راکیش پنور چیئر مین شکھمبھر کالج بھی موجود تھے۔
l 18-27دسمبر 2015 کو الہٰ آباد میں ایک نیشنل بک فیئر منعقد ہوا اس میں سی پی ایس الہ آباد کے ممبر ابرار صاحب نے محمد اوصاف اور محمد عتیق کے تعاون سے ایک بک اسٹال لگایا۔ اسٹال پر آنے والے زیادتر افراد غیرمسلم تھے جو کہ قرآن لینے کے لیے آئےتھے۔اسی کے ساتھ ان کو معاون لٹریچر بھی دیا گیا۔ ان سے گفتگو کے دوران محسوس ہوا کہ یہ سبھی لوگ صراط مستقیم کے متلاشی ہیں۔ حق کی تلاش انھیں قرآن کی طرف کھینچ لائی ہے۔قرآن کے بعد سب سے زیادہ لوگوں کی خواہش محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے حالاتِ زندگی کو پڑھنے کی تھی۔ اس دوران \یہ بات پتہ چلی کہ زیادہ تر غیر مسلم حضرات صدراسلامی مرکز اور ان کی کتابوں سے واقف ہیں۔ انھوں نے اپنے گہرے تاثر کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ مولانا جیسے اسکالر کی ضرورت ہر دور میں تھی اور ہے۔ انھوں نے مولانا کے لیے دعا بھی کی۔
l 16-18 دسمبر 2015 کو چتنی بھون، ناگپور میں ایک سہ روزہ پرنسپل ایجوکیشنل کانفرنس کا انعقاد عمل میں آیا۔ کانفرنس کا موضوع تھا، ہارمنی تھرو ایجوکیشنــ(Harmony through Education)۔ ناگپور کامپٹی الرسالہ ٹیم کے ممبر جناب ساجد احمد خان نےاس پروگرام میں اپنے کالج کی جانب سے شرکت کی۔ کانفرنس کے آخری دن مہاراشٹر کے وزیر اعلی جناب دیویندر فڈناویس اس میں بطور مہمان خصوصی شریک ہوئے۔اس موقع پرجناب ساجد احمد خان نے وزیر اعلی موصوف کوقرآن کا انگلش ترجمہ اور دی ایج آف پیس دیا۔ اور ان سے یہ درخواست کی کہ مہاراشٹرا کے اردو اسکولوں میں الرسالہ کو سبسکرائب کیا جائے،کیوں کہ اس سے امن شانتی کا سبق ملتا ہے۔ یہ دیکھ کر اس موقع پرموجودتمام لوگ بشمول کنوینر مسز مرینالی دستر نے مائیک کے ذریعہ ان سے قرآن کے لیے فرمائش کی۔جناب ساجد صاحب نے تمام لوگوں کی ریکویسٹ نوٹ کی ۔ ان کو مطلوبہ دعوتی لٹریچر بعد کو انشاء اللہ بھیج دیا جائے گا۔یہاں پر ایک قابلِ ذکر بات یہ ہے کہ اس ملاقات کا انتظام پروگرام کے کنوینر مسٹر وجے پھانسکر (ان کا ذکر اس سے پہلے الرسالہ کے خبرنامہ میں آچکا ہے) نےکروایا تھا۔
l دسمبر کی 25 سے 31 تاریخ کے درمیان صدر اسلامی مرکز نے سی پی ایس دہلی کی ٹیم کے ساتھ کناڈا کا سفر کیا۔ یہ سفر کناڈا کی ایک کانفرنس میں شرکت کے لیے تھا۔ اس کانفرنس کا نام ہے Reviving the Islamic Spirit (RIS)۔ یہ کانفرنس کناڈا کے مسلم نوجوانوں کی تنظیم ہر سال منعقد کرتی ہے۔ اس درمیان، مختلف موضوعات پر صدر اسلامی مرکز نے لکچر دیے، اور مختلف لوگوں سے سوال و جواب اور انٹرایکشن ہوا۔ اس کے علاوہ کناڈا کے ایک دوسرے اسلامک سینٹر نیو مارکیٹ اسلامک سینٹر میں بھی صدر اسلامی مرکز کا خطاب ہوا۔ دعوتی رضاکاروں نے ان تمام مواقع پر قرآن کا ترجمہ اور دعوتی لٹریچر لوگوں کے درمیان تقسیم کیا۔ صدر اسلامی مرکز نے اس سفر پر اپنے تجربات کو اپنے دو سنڈےخطاب میں بیان کیا ہے۔ ـ’’میرے کناڈا کے سفر کا سبق (Lessons from My Journey to Canada )ـ‘‘۔ اور’’کناڈا کے تجربات (Experiences at Canada )‘‘۔ ان دونوں تقریروں کو سی پی ایس کی ویب سائٹ پر سنا جاسکتا ہے۔
l مسٹر حمید اللہ حمید، کشمیر نےممبئی اور پونا کا دورہ کیاتھا ۔ وہاں انھوں نے مختلف لوگوں سے ملاقات کی۔ ان کی دعوتی رپورٹ ملاحظہ ہو۔ 27 دسمبر کو پریس کلب ممبئی میں صحافی مسٹر وجے سنگھ نے Lunch پر مدعو کیا۔ مختلف اخبار نویسوں سے اسلام اور امن کے موضوع پر کافی دیر تک گفتگو ہوئی۔ آخر میں ممبئی ٹیم کے ممبران نسیم خان، مسٹر اجمل خان، مسٹر محبوب بھائی اور ڈاکٹر جنید شیخ نے صحافیوں کو قرآن اور The Age of Peace ہدیہ میں دیں۔ وہ کافی خوش ہوئے اور ایک صحافی مسٹر نوین کمار نے بتایا کہ وہ پہلے ہی سے چاہتے تھے کہ اپنی بیٹی کو قرآن پڑھائیں۔
29دسمبر کو مسٹر اجیت پرساد (Director U.T.I.) کے ساتھ ممبئی سے پونہ روانہ ہوا۔ پورے تین گھنٹہ سے زائد کا سفر اسلام، امن، آخرت اور خدا کے موضوع پر گفتگو میں گزرا۔ ہم نے اجیت پرساد صاحب کو قرآن اور دوسرے دعوتی لٹریچر دیئے۔ وہ کافی خوش ہوئے۔ ایسا لگتا تھا کہ وہ برسوں سے اس کے منتظر ہیں۔
2 جنوری 2016 کو پروفیسر سوشیلا بھان اور ڈاکٹر چوپرا سے انڈیا انٹرنیشنل سنٹر میں ملاقات ہوئی۔ ان کو The Age of Peaceخصوصی طورپر تحفہ میںدی گئی۔ اس پورے سفر میں اعلی تعلیم یافتہ غیر مسلم حضرات کے تاثرات سے پتہ چلا کہ وہ اسلام کو گہرائی کے ساتھ جاننے کے خواہش مند ہیں۔ (حمید اللہ حمید، کشمیر)
l 17-24 جنوری کومغربی بنگال اردو اکیڈمی بک فیئر حاجی محسن اسکوائر میں منعقد ہوا۔کولکاتا سی پی ایس ٹیم نے اس بک فیئر میں اپنا اسٹال لگایا۔ اس کا انتظام ٹیم کے ممبرمحمد عبداللہ، آفتاب عالم، شمیم احمد خان وغیرہ نے سنبھالا۔ انھوںنے بک فیئر میں آنے والوں سے انٹرایکش کیا اور ان کو قرآن اور دوسرے دعوتی لٹریچر دیئے۔
l 20 جنوری 2016 کو ہندستان ٹائمس نے ایک پروگرام فُوار (Fuaar) سہارن پور میں منعقد کیا۔ اس پروگرام کا مقصد تھا کہ غریب ونادار بچوںکو کیسے اس لائق بنایا جائے کہ وہ قوم وملک کی تعمیر وترقی میں اپنا اہم رول ادا کرسکیں۔ اس میں علاقہ کے معروف مفکرین مدعو تھے۔ڈاکٹر اسلم (سی پی ایس، سہارن پورٹیم) نے کہاکہ اس دنیا میں کوئی مفلس اور نادار نہیں۔ اس دنیا میں کچھ لوگ حقیقی استطاعت رکھتے ہیں اور کچھ امکانی استطاعت رکھتےہیں۔ضرورت ہے کہ ہم ان کو ہمت اور حوصلہ دیں کہ وہ اپنے امکان کو حقیقت میں تبدیل کرسکیں۔پروگرام کے اختتام پر قرآن اور دعوہ لٹریچر شرکاء کے درمیان تقسیم کیا گیا۔
l ناگپورکامپٹی الرسالہ ٹیم کی اطلاع کے مطابق، ٹیم کے ایک ممبر جناب شجاع احمد خان نے اپنے ریٹائرمنٹ کی الوداعی تقریب میں دعوتی کام کیا۔ اس موقع پر انھوں نےانگلش ،ہندی اور مراٹھی میں قرآن کی 200 کاپیاں تمام شرکاء کے درمیان تقسیم کیں۔ جناب موصوف ڈیپارٹمنٹ آف آڈیٹر جنر ل اور ٹیلی گراف سے اکاؤنٹ آفیسر کی حیثیت سے ریٹائر ہوئے۔
l خواجہ کلیم الدین صاحب امریکا کی اطلاع کے مطابق،مسٹرسمیع عزیز یو ایس اے میں سی پی ایس کے نئے ممبر ہیں۔ انھوں نے ہارٹ فورڈ سیمنری سے گریجویٹ کیا ہے۔ اب وہ ایک ڈیڈیکیٹڈ داعی ہیں۔ وہ چرچ میں جاکر اسلام پر لکچر دیتےہیں اور صدر اسلامی مرکز کا انگلش ترجمہ قرآن، وہاٹ از اسلام اور دوسرے لٹریچر لوگوں کو دیتےہیں۔
l جماعت اسلامی ہند کی جانب سے ایک انٹرفیتھ سیمینار ملّت ہال، باری نگر جمشید پور میں منعقد ہوا۔یہاں سی پی ایس ٹیم نے اس میں ایک اسٹال لگایا اور ترجمہ قرآن اور دعوہ لٹریچر تقسیم کیے۔ تمام مقررین کودعوتی لٹریچر پر مشتمل ایک ایک گفٹ پیکٹ دیا گیا۔ اس پروگرام میں جن لوگوں نے شرکت کی ان میں یہ نام قابلِ ذکر ہیں، مسٹر لیو جان ڈی سوزا( فادر لوپٹاہال چرچ) مسٹر سردار اندر جیت سنگھ (صدر آل گرودوارا، جمشید پور) پروفیسر چندیشور خان، سابق سینئر اے جی ایم (ٹاٹا موٹرس) کے نام شامل ہیں۔
l 13-26جنوری 2016 چنئی پونگل بک فیئر کا انعقاد ہوا۔ اس بک فیئر میں گڈورڈ بکس چنئی نے حصہ لیا۔ اور آنے والے لوگوں کے درمیان ترجمہ قرآن اور پیس لٹریچر بڑے پیمانے پر تقسیم کیا گیا۔ اس بک فیئر کے دوران یونیورسل پبلیکیشن (Universal Publication) نے صدر اسلامی مرکز کی کتابیں تمل زبان میں ترجمہ کرکے ان کو شائع کرنے کا وعدہ کیا ہے۔یہ ادارہ تمل زبان میں بڑے پیمانے پر اسلامی کتابیں شائع کرتاہے۔
l 24 جنوری 2016 کو سنٹر فار پیس اینڈ اسپریچولٹی (الہ آباد) کی طرف سے مقامی طور پرایک دعوہ میٹ کا انعقاد ہوا۔ اس میں توفیق احمد ، رجت جی، محمد اوصاف، محمد شعیب اور مولانا ابرار صاحبان نے شرکت کی۔ یہ ایک افتتاحی ملاقات تھی۔ اس کا مقصد تھا کہ دعوتی کام کو کیسے مزید آگے بڑھایا جائے۔اب یہ میٹنگ انشاء اللہ ہر ہفتے ہو گی۔
l مدعو کی جانب سے دعوتی موقع  26جنوری 2016 کو سی پی ایسی ممبئی ٹیم نے ودودرا، گجرات کی ایک این جی او ’ناگرک فورم‘ کی دعوت پر ودودرا کا دورہ کیا۔ یہ ٹیم 4 افرادپر مشتمل تھی، مسٹر ساجد انور (ممبئی)، ڈاکٹر جنید (ممبئی)،مسٹر محبوب ہنتگی(ممبئی)، اور مولانافیاض الدین عمری (حیدرآباد)۔ ممبئی ٹیم کا تاثر یہ تھا کہ یہ دورہ اب تک کا ایک انوکھا دورہ تھا۔ ناگرک فورم نے ممبئی ٹیم کو اسلام کی نمائندگی کرنے کے لیے دعوت دی تھی۔ مسٹر محبوب ہنتگی کی اطلاع کے مطابق، اس این جی او کے صدر کنوینر جناب جنک بھائی راؤ نے سارا انتظام کیا تھا۔اس پروگرام میں فیاض الدین عمری کی تقریر ہوئی جو کہ شرکاء نے کافی پسند کی۔ اس کے بعد سوال وجواب کا دور ہوا۔ لوگوں کی گہری دلچسپی کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ ایک صاحب نے کہا کہ میرے یہاں 120 ملازم ہیں۔ آپ ان کے لیے ایک پروگرام بنائیں۔ میں سارا انتظام کروںگا۔ ایک صاحب نے پوچھاکہ آپ کا سنٹر گجرات میں ہے۔ ہم نے کہا کہ نہیں۔ انھوں نے جواب دیا کہ آپ آئیں اور اپنا سنٹر یہاں کھولیں، ہم آپ کو پورا سپورٹ کریں گے۔ایک صاحب نے کہا کہ آپ مولانا کے ساتھ یہاں آئیں ہم ایک بڑا پروگرام رکھیں گے۔15 لوگوں نے اسپرٹ آف اسلام کو سبسکرائب کیا۔ تمام شرکاء کے درمیان قرآن اور دعوتی لٹریچر تقسیم کیے گیے۔
l کیرلا میں کوٹایم انٹرنیشنل بک فیسٹ کا انعقاد ہوا۔ اس میں پیس سنٹر(کیرلا) نے حصہ لیا۔اس کے ممبران نے بک فیسٹ میں آنے والے شرکاء سے انٹرایکشن کیا اور ان کے درمیان ترجمہ قرآن اور دعوہ لٹریچر تقسیم کیے۔ تمام لوگوں کی طرف سے نہایت حوصلہ افزا رسپانس دیکھنے کو ملا۔یہ دس روزہ بک فیر 30 جنوری 2016 کو شروع ہواتھا۔
l 30جنوری 2016 کوماتا سندری کالج فار وومن ( آئی ٹی او، نئی دہلی)نے ایک بڑے پروگرام میں اپنا میگزین اسپیس فار آل (SFA: Space for All) لانچ کیا۔ اس پروگرام میں صدر اسلامی مرکز نے مہمان اعزازی کی حیثیت سے شرکت کی اور ’یونیورسل کنسرن اینڈ یونیورسل ویلفیر‘ کے موضوع پر خطاب کیا۔اس کے علاوہ مہمانوںمیں پروفیسر پریم سنگھ چندوماجرا(ایم پی، آنندپور صاحب) ،پروفیسرڈاکٹر جسپال سنگھ (وی سی، پنجابی یونیورسٹی، پٹیالہ) ایس ـترلوچن سنگھ (سابق ممبر آف پارلیمنٹ و سابق چیرمین مائنارٹی کمیشن، گورنمنٹ آف انڈیا) ، وغیرہ تھے۔ ان تمام شرکاء کے درمیان دعوہ لٹریچر تقسیم کیے گئے۔
l دہلی فیلڈ ٹیم مختلف مقامات اور مناسبت سے مسلسل دعوت\ کا کام کررہی ہے ۔ جیسےجے پور لٹریچر فیسٹول، 23-24 جنوری 2016 ۔ ماتا سندری کالج ، 30 جنوری 2016۔ جواہر لال نہرو یونیورسٹی،نئی دہلی 10 فروری 2016۔ اسٹریٹ دعوہ بمقام سنٹ اسٹفین کالج، نارتھ کیمپس دہلی یونیورسٹی، نئی دہلی،20 فروری 2016۔ والک آف ہوپ(سری فورٹ آڈیٹوریم، نئی دہلی) 21 فروری 2016۔ کانفرنس آن اسپریچول وزڈم(انڈیا اسلامک سنٹر، نئی دہلی) 25 فروری 2016۔وینکٹیشور کالج (نئی دہلی) 27 فروری2016 ۔ ان تمام جگہوں پر مدعو کی طرف سے کافی حوصلہ بخش رسپانس ملا۔ ٹیم کے ممبرس نے بڑی تعدا میں دعوہ لٹریچر تقسیم کیا۔
l I write this email to thank you and your grandfather Maulana Wahiduddin Khan for taking time and filling the questionnaire that I had sent via Mr. Hafiz Iqbal. The inputs given by him were very helpful and not only did it help me gain better understanding but also helped take my dissertation to a higher qualitative level. The very fact that you all took time to fill the questionnaire sent by a nobody such as me speaks volumes of your humility and zest. I find the work done by Maulana Saheb extremely enriching and necessary in today's time. I admire him for his efforts at bringing in peace and right understanding. I wish that one day we see a united world living in peace and harmony though diverse in many ways. I pray for Maulana Saheb’s and your good health and well being. Thanking you. (Lenoy Jose SJ, Satyanilayam, Chennai)
l Thank you very much for sending these impressive videos of Maulana. I am very inspired by Maulana’s speeches, especially his Sunday talks. (Javed Khan)
l From the past couple of days, I am able to experience peace of mind by listening to Maulana's audio and video lectures. (Aamir Bhat, Srinagar)
اردو اور انگلش ویڈیو، آڈیو دیکھنے،سننے اور ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے ان پیجز پر جائیں:
http://www.cpsglobal.org/videos
http://www.cpsglobal.org/podcasts
واپس اوپر جائیں

Saturday, 2 April 2016

Al Risala | April 2016 (الرسالہ،اپریل)

4

-اسلامی تاریخ کا فکری مطالعہ

6

- تاریخ کا مطالعہ

47

- خبرنامہ اسلامی مرکز


اسلامی تاریخ کا فکری مطالعہ

Interpretation of Islamic History
اسلام کانظام صرف تیس سال قائم رہا، اس کے بعد عملامسلمانوں کے درمیان ملوکیت کا نظام قائم ہوگیا— اسلام کے بارے میں تعلیم یافتہ لوگوں کا یہ عام تصور ہے۔ لیکن یہ تصور پوری طرح غلط فہمی پر مبنی ہے۔ زیادہ صحیح بات یہ ہے کہ اسلام اپنی پوری چودہ سو سالہ تاریخ میں مسلسل طور پر اپنی اصل حالت پر قائم رہا ہے اور آج بھی قائم ہے۔تاریخ میں بظاہر جو تبدیلیاں دکھائی دیتی ہیں، وہ اسلام کے اضافی حصہ (relative part)میںہیں، نہ کہ اسلام کے اصل حصہ (real part) میں۔
اس بات کو قرآن میں ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے:کَتَبَ اللَّہُ لَأَغْلِبَنَّ أَنَا وَرُسُلِی إِنَّ اللَّہَ قَوِیٌّ عَزِیزٌ (58:21) ۔یعنی اللہ نے لکھ دیا ہے کہ میں اور میرے رسول ہی غالب رہیں گے۔ بے شک اللہ قوت والا، زبردست ہے۔ اس کا مطلب یہ ہےکہ جس طرح انسانی تاریخ پراللہ کا غلبہ مسلسل طور پر قائم ہے، اسی طرح پیغمبروں کا مشن بھی انسانی تاریخ پر ہمیشہ اور ہر حال میں غالب رہے گا۔ یہ با ت ایک حدیث رسول حسب روایت ابن عباس اس طرح بیان ہوئی ہے: الإسلام یعلو ولا یعلىٰ علیہ (شرح معانی الآثار، حدیث نمبر5267) یعنی اسلام ہمیشہ غالب رہے گا، وہ کبھی مغلوب نہ ہوگا۔
قرآن اور حدیث کے ان بیانات کے مطابق ، اسلامی تاریخ کی وہی تعبیر صحیح ہے جس میں مساوی طور پر تسلسل پایا جائے۔ جو تعبیر اسلامی تاریخ کو خلافت اور ملوکیت کے دو غیر مساوی ادوار میں تقسیم کریں، وہ بداہۃً قابل رد ہیں۔
Prima facie it stands rejected.
انسانی تاریخ کا سفر اجرامِ سماوی (astronomical body) کے سفر کی مانند نہیں ہے۔ اجرامِ سماوی کا سفر ہمیشہ یکساں رفتار (uniform speed) کے ساتھ چلتا ہے۔ لیکن انسانی تاریخ کا سفر ہمیشہ غیر ہموار رفتار سے جاری ہوتا ہے۔ ایسا فطرت کے قانون کے مطابق ہوتا ہے۔ انسانی تاریخ کے بارے میں یہی درست ہے کہ وہ غیر ہموار انداز میں سفر کرے۔ اگر انسانی تاریخ اجرامِ سماوی کی مانند ہموار انداز میں سفر کرنے لگے تو انسانوں کے اندر تخلیقی فکر (creative thinking)کا خاتمہ ہوجائے گا۔ اور خدا کے تخلیقی نقشہ (creation plan) کے مطابق، یہ کوئی مطلوب حالت نہیں۔
تاریخ خواہ بظاہر غیرہموار انداز میں سفر کرے، لیکن خدا تاریخ کو مسلسل طور پر مینج (manage) کر رہاہے۔ اس خدائی انتظام کی بنا پر تاریخ میں ہمیشہ یہ صورتِ حال قائم رہتی ہے کہ متغیر حالات کے درمیان ہمیشہ ایک غیر متغیر حکمت مسلسل طور پر موجود رہتی ہے۔ متغیرحالات کے درمیان اس غیر متغیر حکمت کو دریافت کرنے کا ہی دوسرا نام اسلامی تاریخ کی توجیہہ (interpretation)ہے۔
زیر نظر کتاب کا مقصد یہی ہے۔ یعنی اسلام کی تاریخ کی حکیمانہ توجیہہ دریافت کرنا ۔ اس دریافت میں اہل ایمان کے لیے یقین کا سرمایہ ہے، اور اس میں عام اہل علم کے لیے اسلامی تاریخ کے مطالعے کی صحیح بنیاد ہے۔
وحیدالدین
نئی دہلی، 16 دسمبر 2015
واپس اوپر جائیں

تاریخ کا مطالعہ

قرآن کے بیان (الانبیاء30) نیز سائنسی دریافت کے مطابق، کائنات کی تخلیق کا آغاز غالباً تیرہ بلین سال پہلے بگ بینگ سے ہوا۔اس کے بعد مختلف ادوار پیش آئے۔معلوم تاریخ کے مطابق سب سے پہلے مادی دنیا بنی، یعنی وہ دنیا جہاں ایک وسیع خلا کے اندر بے شمار عظیم کہکشائیں موجود ہیں۔ اس کے بعد وہ دور آیا جب کہ شمسی نظام (solar system) بنا، اور پھر ایک تدریجی عمل کے بعد زمین وجود میں آئی، جہاں انسان کے لئے وہ تمام موافق انسانی اسباب موجود ہیں، جن کے مجموعے کو لائف سپورٹ سسٹم (life support system) کہا جاتا ہے۔
اس کے بعد وہ وقت آیا جب کہ انسان کی تخلیق ہوئی، اور اس کو زمین پرآباد کیا گیا۔اس کے بعد انسانی تاریخ بننےلگی۔پھر خدائی منصوبے کے مطابق پیغمبر آنا شروع ہوئے۔انھوں نے کوشش کی کہ انسانی تاریخ توحید کے رخ پر سفر کرے۔مگر عملا یہ ہوا کہ صرف کچھ مستثنیٰ افراد نے پیغمبروں کی دعوت کو مانا۔ انسانی نسلوں کا قافلہ بڑی تعداد میں آزادی کے غلط استعمال کے نتیجے میں، غیر موحّدانہ راستے پر چل پڑا۔اسی کے ساتھ یہ ہوا کہ انسانی زندگی میںعملاً ملوکیت کا نظام قائم ہوگیا۔ملوکیت اور شرک، دونوں نے مل کرساری دنیا میں جبریت (religious persecution)کا نظام قائم کردیا۔اس طرح یہ ناممکن ہو گیا کہ توحید کے مشن کو پر امن طور پر چلایا جاسکے۔
اس کے بعد تقریباچار ہزار سال پہلےپیغمبر ابراہیم کے ذریعے ایک نیا منصوبہ زیرِ عمل لایا گیا۔ اس منصوبے کو ڈیزرٹ تھراپی (desert therapy)کہا جاسکتا ہے۔اس عمل کے ذریعے عرب کے صحرائی ماحول میںدوہزار سال سے زیادہ مدت کے دوران ایک نئی نسل تیار کی گئی، جو آج کل کی زبان میںکنڈیشننگ سے محفوظ قوم تھی۔یہ وہی نسل ہے جس کو بنو اسماعیل کہا جاتا ہے۔
اس کے بعد ساتویں صدی عیسوی کے رُبع اول میں پیغمبرِ اسلام کا ظہور ہوا۔ انھوں نے اس نسل کے منتخب افراد کے ذریعے ایک جاندار ٹیم تیار کی۔ اس ٹیم نے ایک انقلابی کام انجام دیا۔اس نے ایک عظیم جد و جہد کے ذریعے ایک ایسا انقلاب پیدا کیا، جس سے انسانی تاریخ میں ایک نیا دور شروع ہوا۔اس دور میں ایک نیا تاریخی پراسس (process)جاری ہوا، جس کا نقطۂ انتہا (culmination) وہ دور تھا،جو بیسویں صدی میں اپنی تکمیل تک پہنچا۔اس دور کو سائنسی تہذیب کا دور کہا جاتا ہے۔
یہ سائنسی تہذیب عملاً ایک مادی تہذیب بن گئی۔ مغربی قومیں اس تہذیب کی چمپین تھیں۔اس تہذیب کے دوران مادی کلچر کو فروغ حاصل ہوا۔ مغربی قومیں، غالب قومیں بن گئیں۔ سیکولر طرزِ فکر، علم کے تمام شعبوں پر چھا گیا۔ یہ تہذیب اپنی حقیقت کے اعتبار سے سائنسی تہذیب تھی، لیکن اپنی عمومی تصویر کے اعتبار سے وہ مغربی تہذیب کہی جانے لگی۔
اس طرح بیسویں صدی میں عالمی سطح پر ایک ایسا دور وجود میں آیا، جو گویا مادی افکار کا ایک جنگل تھا۔یہ جنگل بظاہر پوری طرح ایک مادی جنگل تھا۔اس جنگل میں، از اول تا آخر، سب کچھ مادیت کے رنگ میں رنگا ہوا تھا۔بظاہر اس کاکوئی تعلق نہ توحید سے تھا اور نہ ربانیت سے۔
تاہم تہذیب کے اس مادی جنگل میں ایک عظیم ربانی عنصر موجود تھا۔ ٹھیک اسی طرح جس طرح درختوں کے جنگل میں شہدجیسی قیمتی چیز مخفی نکٹر (nectar) کی صورت میں موجود ہوتی ہے۔یعنی مادی تہذیب کے جنگل میں معرفت کا نکٹر۔ اب مطلوب ہے کہ مادی تہذیب کے جنگل سے معرفت کے اس نکٹر کو اکسٹریکٹ (extract) کیا جائے، اور پھر اس کی تدوین اور تنظیم کر کےخدا کے دین کا وہ فکری اظہار کیا جائے، جس کو قرآن میں اتمام نور (الصف: 8) کہا گیا ہے۔
دینِ خداوندی کے اعتبار سےاکیسویں صدی میں کرنے کا سب سےزیادہ مطلوب کام یہی ہے۔ یہ کام اپنی نوعیت کے اعتبار سے اتنا اہم ہے کہ اس کو حدیث میں تاریخ کی عظیم ترین شہادت (گواہی) کہا گیا ہے— ہذا أعظم الناس شہادةً عند رب العالمین (صحیح مسلم، حدیث نمبر 2938)۔
شہد کی مکھی جنگل کے اندر موجود نکٹر کنٹنٹ (nectar content) سے بے خبر ہو تو جنگل اس کو صرف جنگل کی صورت میں دکھائی دے گا۔ لیکن شہد کی مکھی جب جنگل میں موجود نکٹر کنٹنٹ کو جان لے تو جنگل اس کے لئے ایک نعمت کی دنیا بن جاتا ہے۔ یہی معاملہ جدید مادی تہذیب کا ہے۔ آپ اگر تہذیب کے اس مادی جنگل میں موجود معرفت کے اس نکٹرکنٹنٹ سے بے خبر ہوں تو جدید تہذیب آپ کو صرف مادیات کاایک جنگل دکھائی دے گی۔ لیکن اگر آپ اس تہذیب کے اندر موجود معرفت کنٹنٹ سے باخبر ہوجائیں تو جدید تہذیب آپ کےلئے ربانی معرفت کاایک عظیم باغ بن جائے گی۔
اس معاملے کی ایک مثال یہ ہے کہ جدید سائنس کی ترقی ، چرچ اور سائنسی تحقیق کی علاحدگی سے شروع ہوئی۔ اس بنا پر مغربی دنیا میں یہ تصور قائم ہوگیا کہ فریڈم، خیر مطلق (summum bonum) ہے۔یہ تسلیم کرلیا گیا کہ اختلافِ رائے (dissent) انسان کا ناقابلِ تنسیخ حق (right) ہے۔یہ ایک بے حد اہم فیصلہ تھا۔ اس کی بنا پر پہلی بار تاریخ میں ایسا ہوا کہ آزادیٔ رائے (freedom of expression) ایک مسلمہ انسانی حق قرار پایا۔
مذہب کے اعتبار سے یہ ایک بے حد اہم تبدیلی تھی۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ تاریخ میں پہلی بار مذہبی آزادی (religious freedom) انسان کا ایک مسلمہ حق قرار پائی۔ اب یہ ممکن ہوگیا کہ مذہب کے معاملے میں ہر قسم کی رکاوٹ یا مذہبی جبر (religious persecution)کا خاتمہ ہوجائے۔ اس انقلاب نے پہلی بار انسان کو یہ موقع دیا کہ وہ آزادانہ طور پر جس مذہب کو چاہے اختیار کرے، اور جس مذہب کی چاہے تبلیغ کرے۔ صرف ایک شرط کے ساتھ کہ وہ جو کچھ کرے، پرامن (peaceful) انداز میں کرے۔
مگر دورِ جدید کی یہ نعمت ایک مخفی نِکٹر کی صورت میں پائی جاتی تھی، کیوں کہ آزادی جب انسانی حقوق (human rights) میں سے ایک حق قرار پایا تو یہ حق ہر ایک کے لئے تھا، وہ صرف اہل مذہب کے لئے نہیں تھا۔چناں چہ اس کے بعد یہ ہوا کہ ہر آدمی اپنی مرضی کے مطابق اپنی آزادی کا کھلااستعمال کرنے لگا۔ اس طرح عملاً یہ ہوا کہ آزادی کا ایک عظیم جنگل اُگ آیا، جس میں برہنگی (nudity) سے لے کرمذہب کی بے حرمتی (blasphemy) تک ہر منفی چیز موجود تھی۔ مگر اس جنگل کے اندر مذہبی آزادی کا نِکٹر بھی موجود ہے۔ اب ضرورت ہے کہ لوگوں کے اندر شہد کی مکھی والی حکمت موجود ہو،یعنی ناموافق جنگل کو نظر انداز کرتے ہوئےموافق نِکٹر دریافت کرکے اس کو استعمال کرنا۔
خلیفہ کا مطلب
قرآن میں بتایا گیا ہے کہ اللہ نے جب آدم کو پیدا کرنے کا ارادہ کیا تو کہا : إِنِّی جَاعِلٌ فِی الْأَرْضِ خَلِیفَةً (2:30)۔ یعنی میں زمین میں ایک خلیفہ بنانے والا ہوں۔ خلیفہ کا مطلب ہے بعد کو آنے والا(successor)۔ قرآن میں کئی جگہ یہ لفظ اسی معنی میں آیا ہے،مثلا: ثُمَّ جَعَلْنَاکُمْ خَلَائِفَ فِی الْأَرْضِ (10:14) ۔
قرآن کی مذکورہ آیت (2:30) کا مطلب یہ ہے کہ اللہ نے پہلے جنوں کو پیدا کیا (الحجر27)۔ جنوں نے زمین میں فساد برپا کیا۔ اس کے بعد اللہ نے ایک اور مخلوق انسان کی صورت میں پیدا کی۔ اس وقت فرشتوں نے یہ شبہہ ظاہر کیا: أَتَجْعَلُ فِیہَا مَنْ یُفْسِدُ فِیہَا وَیَسْفِکُ الدِّمَاءَ (2:30) ۔ اس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ فرشتوں نے یہ بات جنوں کے تجربہ کی بنیاد پر کہی تھی۔ یعنی جنوں کو آزادی دی گئی ، اس کے بعد انھوں نے فساد پربا کیا۔ اب اگر انسان کو آزاد مخلوق کی حیثیت دی جائے تو وہ بھی آزادی کا غلط استعمال کریں گے اور فساد برپا کریں گے۔
قرآن میں یہ حوالہ گویا بطور انتباہ (warning)ہے۔ یعنی اس طرح انسان کو متنبہ کیا گیا کہ وہ جنوں کی مثال سے سبق لیں، اور آزادی کا غلط استعمال کرکے دوبارہ فساد اور سفک دماء کی غلطی نہ کریں۔ ورنہ ان کو بھی جنوں جیسا انجام بھگتنا پڑے گا۔
قرآن کی اس آیت میںخلیفہ کا لفظ کسی سیاسی معنی میں نہیں ہے۔ وہ صرف اس معنی میں ہے کہ فطرت کے قانون کے مطابق، انسانوں کے اندر توالد و تناسل کا نظام قائم ہوگا، ایک نسل کے بعد دوسری نسل پیدا ہوگی، ایک گروہ کے بعد دوسرا گروہ اس کی جگہ لےگا۔ اس آیت میں خلیفہ کا لفظ انسان کے مشن کو بتانے کے لیے نہیں آیا ہے بلکہ اس کی تخلیقی نوعیت کو بتانے کے لیے آیا ہے۔ جہاں تک انسان کے مشن کا معاملہ ہے، اس کو جاننے کے لیے ہر انسان کو خدا کی کتاب کا مطالعہ کرنا ہوگا۔ خدا کی کتاب سے معلوم ہوگاکہ انسان کو اس زمین پر کس طرح زندگی گزارنا ہے۔
انبیاء کا نمونہ
قرآن میں انبیاء کا ذکر کرتے ہوئے یہ آیت آئی ہے:إِنَّا أَخْلَصْنَاہُمْ بِخَالِصَةٍ ذِکْرَى الدَّارِ (38:46)۔ یعنی ہم نے ان پیغمبروں کو ایک خاص مشن، آخرت کی یاد دہانی کے لیے چن لیا تھا۔ اس سے معلوم ہوا کہ پیغمبروں کے لیے اللہ کی طرف سے مقرر کردہ مشن کیا ہے۔ پیغمبر کی امت کو بھی ہر زمانے میں اسی مشن کی پیروی کرنا چاہیے۔
غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ پیغمبروں کا مشن آخرت کا مشن تھا۔ مگر یہ مشن اتفاقاً نہیں بنتا۔ اس کے لیے پیغمبروں کو تیار کیا جاتا ہے۔ وہ اپنا مشن شروع کرنے سے پہلے غور و فکر کی زندگی گزارتے ہیں۔ وہ یہ جاننے کی کوشش کرتے ہیں کہ انسان کی زندگی کا مقصد کیا ہے۔ انسان کے خالق نے ان کو کس منصوبہ کے تحت پیدا کیا ہے۔ غور و فکرکی اس زندگی کے بعد انھیں اللہ کی طرف سے ہدایت ملتی ہے۔ اور پھر وہ فیصلہ کرتے ہیں کہ اصل یہ ہے کہ انسان کی زندگی آخرت رخی (akhirat-oriented life)ہو، انسان کی سوچ کا مرکز و محور آخرت ہو، وہ اپنی زندگی اس سوچ کے تحت گزارے کہ دنیا میں اس کی جو شخصیت بنے ،وہ آخرت کے اعتبار سے ایک کامیاب شخصیت ہو۔
پیغمبر اس لیے نہیں آتا کہ وہ ملی ورک یا سوشل ورک جیسے کام کرےیا کوئی سیاسی پروگرام چلائے۔ پیغمبر کا مشن یہ ہوتا ہے کہ لوگوں کو زندگی کے اصل مقصد سے آگاہ کرے، وہ لوگوں کو بتائے کہ خالق کے تخلیقی نقشے کے مطابق ، ان کے لیے کامیابی کیا ہے اور ناکامی کیا ۔ وہ دنیا میں کس طرح زندگی گزاریں کہ موت کے بعد جب وہ آخرت کی دنیا میں پہنچیں تو وہ اللہ کے انعام کے مستحق قرار پائیں۔ اللہ کی طرف سے پیغمبروں کو یہ حکم ہوتا ہے کہ وہ اس معاملے میں کسی جھکاؤ (tilt)کا ثبوت نہ دیں، وہ کسی سمجھوتے کے بغیر خدا کا اصل پیغام لوگوں تک پہنچاتے رہیں۔ اس معاملے میں وہ کسی بھی عذر کو استعمال نہ کریں۔
خلافت، ملوکیت
ارسطو (Aristotle) اپنے زمانے کے یونانی بادشاہ (Alexander the Great) کا استاد (tutor) تھا۔ ارسطو کا نظریہ تھا یونان میں آئڈیل حکومت قائم کرنا۔ اس کے لیے اس نے نوجوان الیگزنڈر کی تربیت کرنے کی کوشش کی۔ مگر جب الیگزینڈر یونان کا بادشاہ بنا تو وہ بھی دوسرے حکمرانوں کی طرح صرف ایک اقتدار پسند بادشاہ بن گیا۔ ارسطو کا معیاری حکومت کا خواب واقعہ کی صورت اختیار نہ کر سکا۔
یہی تمام دنیا کے مفکرین اور مصلحین کا انجام ہوا ہے۔ انسانی تاریخ کے تمام سوچنے والے ذہن اسی آئڈیلزم (idealism)کےمسحور کن تخیل (obsession) میں پڑے رہے۔ ہر ایک کا نشانہ صرف ایک تھا۔ وہ ہے دنیا میں آئڈیل نظام قائم کرنا۔ مگر اسی کے ساتھ یہ بھی ایک واقعہ ہے کہ پوری تاریخ میں کوئی بھی شخص اپنے آئڈیل نشانے کو پورا نہ کر سکا۔ ہر ایک کا وہی حال ہوا جو چوتھی صدی قبل مسیح میں ارسطو کا ہوا تھا۔
اس کا سبب کیا ہے۔ یہ کوئی اتفاقی بات نہیں۔ اس کا سبب یہ تھا کہ پولیٹکل آئڈیلزم (political idealism) فطرت کے قانون کے خلاف ہے۔ فطرت کے قانون کے مطابق، اس دنیا کے لیے صحیح سیاسی نظریہ پولیٹکل آئڈیلزم نہیں ہے، بلکہ پولیٹکل پریگمٹزم (pragmatism)ہے۔ آئڈیل سیاست کا حصول اس دنیا میںسرے سے ممکن ہی نہیں۔
آئڈیل نظام کے لیے خالق نے جنت کی دنیا بنائی ہے۔ جنت کی دنیا ہر اعتبار سے آئڈیل اور پرفکٹ ہوگی۔ مگر خالق نے موجودہ دنیا کو آزمائش گاہ (testing ground) کے طور پر بنایا ہے۔ یہاں ہر عورت اور ہر مرد کو اس لیے پیدا کیا جاتا ہے کہ وہ مختلف قسم کے آزمائشی حالات میں رہ کر مثبت رسپانس (positive response) دے۔ تاکہ وہ جنت کے لیے مستحق امیدوار (deserving candidate) قرار پائے۔ اور پھر جنت کی ابدی دنیا میں داخلہ کے لیے اس کا انتخاب کیا جائے۔ اس تخلیقی نقشہ (creation plan) کی بنا پر ہمیشہ یہی ہوگا کہ اس دنیا میں قائم ہونے والا سیاسی نظام انسان کی آزادی کے تابع ہو۔ اور اس بنا پر یہاں کبھی معیاری نظام نہ بن سکے۔
یہی اصول خود مسلم معاشرہ پر بھی منطبق (apply) ہوتا ہے۔ مسلم معاشرے میں افراد تو معیاری ہوسکتے ہیں۔ مگر عملی نظام مجموعی معنی میں کبھی معیاری نہیں ہوگا۔ایک فرد خود اپنی ذاتی سوچ کے تابع ہوتاہے۔اس لیے وہ اپنی ذات کی حد تک اپنے آپ کو جیسا چاہے ،ویسا بنا سکتا ہے۔ لیکن مجموعی نظام ہمیشہ اجتماعی حالات کے تابع ہوتاہے۔ انسان اپنی آزادی کا کبھی درست استعمال کرتا ہے اور کبھی غلط استعمال۔ اس بنا پر اس دنیامیں مجموعی اعتبار سےجو نظام بنے گا ، وہ بیک وقت دونوں قسم کے اجزاء پر مشتمل ہوگا، کچھ درست اور کچھ نادرست۔یہ فرق کسی نقص کی بنا پر نہیں ہوگا۔ بلکہ وہ عین مطلوب ہوگا۔ کیوں کہ وہ خالق کے نقشۂ تخلیق کے مطابق ہوگا۔
کچھ لوگ یہ سوچتے ہیں کہ اسلام میں خلافت کا مطلب معیاری سیاسی نظام ہے۔ اس بنا پر وہ ہمیشہ مسلمانوں کے درمیان معیاری سیاسی نظام بنانے کی تحریکیں چلاتے ہیں ۔ مگر اس قسم کی کوشش سے مطلوب نظام تو قائم نہیں ہوا، البتہ مسلمانوں کے اندر باہمی ٹکراؤ کی غیر مطلوب حالت قائم ہوگئی۔ ایسے مسلم قائدین نے صرف پولیٹکل اپوزیشن کی مثالیں قائم کی ہیں، ان کی کوششوں کا کبھی کوئی مثبت انجام بر آمد نہیں ہوا ۔ خلافت کی اصطلاح اسلام میں افرادِ انسانی کی آزادی کو بتاتی ہے، نہ کہ معیاری سیاسی نظام کو ۔ قرآن کے مطابق انسان کو خلیفہ بمعنی آزاد مخلوق بنایا گیا ہے ۔ اور اس کا مقصد یہ ہے کہ یہ دیکھا جائے کہ انسان اپنی آزادی کا عملی استعمال کس طرح کرتا ہےلِنَنْظُرَ کَیْفَ تَعْمَلُونَ (10:14)۔
قرآن میں اولوالعزم انبیاء (الاحقاف35)کا حوالہ دیا گیا ہے۔ لیکن کسی بھی نبی کے بارے میں یہ نہیں بتایا گیا ہے کہ اس نے اپنے زمانے میں معیاری خلافت کا نظام قائم کیا۔ پیغمبر اسلام صلى اللہ علیہ وسلم  کے بارے میں بھی قرآن کی کسی آیت میں یہ الفاظ نہیں آئے ہیں کہ تمھارا مشن یہ ہے کہ تم دنیا میں معیاری خلافت قائم کرو۔ پیغمبر اسلام کا مشن بھی دوسرے انبیاء (النساء165)کی طرح انذار و تبشیر (الفرقان56) تھا، نہ کہ معیاری معنوں میں کسی سیاسی نظام کا قیام۔پیغمبر اسلام کے بعد صحابہ کے زمانے میں جو سیاسی نظام قائم ہوا، اس میں بھی مسلم حاکم کو خلیفہ نہیں کہا گیا، بلکہ امیر المومنین کہا گیا۔
اس صورتِ حال کا مطلب یہ نہیں ہے کہ خلافت کا نظام ملوکیت کے نظام میں تبدیل ہوگیا۔ بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ وقت کے حالات کے مطابق، جو سیاسی نظام قابلِ عمل (workable) تھا، وہ قائم ہوا اور وقت کے مسلمانوں نے اس کو قبول کیا۔دیکھنے کی بات یہ ہے کہ ہر نظام میں اسلام کا مطلوب تعمیری سفر بدستور جاری رہا۔ حالات میں تغیر کے باوجود ، اس میں کوئی خلل واقع نہیں ہوا۔
تھیسس، اینٹی تھیسس
فریڈرش ہیگل(وفات 1831)اٹھارویں صدی کا مشہور جرمن فلسفی ہے۔ اس نے ایک فلسفہ پیش کیا۔ جس کو تھیسس اور انٹی تھیسس (thesis and anti-thesis) کہا جاتا ہے۔ اس نظریہ کو انسانی تاریخ پر منطبق کرتےہوئے، کارل مارکس نے اپنا مشہور نظریہ جدلیاتی مادیت (dialectical materialism) وضع کیا۔ ہیگل اور مارکس، دونوں نے ایک مشترک غلطی کی۔ تاہم ان کے نظریے میں ایک جزئی صداقت پائی جاتی ہے۔ مزید غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ اس نظریے کی اصل فطرت کے ایک قانون پر قائم ہے۔ یہ قانون وہی ہے جس کو قرآن میں قانون دفع (البقرۃ: 251، الحج: 40) کہا گیا ہے۔
قرآن میں دفع کا لفظ استعمال ہوا ہے۔ دفع کا لفظی مطلب ہے، ہٹانا (to repel)۔ اس سے مراد تاریخ کے وہ انقلابات ہیںجو ایک قوم کو غلبہ کے مقام سے ہٹاتے ہیں او ر اس کے بعد دوسری قوم کو موقع ملتا ہے کہ وہ دنیا کا انتظام سنبھالے۔ اس قسم کے انقلابات تاریخ میں بار بار ہوئے ہیں۔ یہ انقلابات بظاہر انسان کے ذریعے انجام پاتے ہیں۔ لیکن حقیقت کے اعتبار سے وہ خالق کا منیجمنٹ (management) ہوتا ہے۔ خالق انسان کی آزادی کو برقرار رکھتے ہوئے تاریخ کو مینیج (manage) کر رہا ہے۔ یہی وہ واقعہ ہےجس کو قرآن میں دفع کے الفاظ میں بیان کیا گیا ہے۔
اسی تاریخی حقیقت کو ہیگل اور مارکس نے اس طرح بیان کیا کہ ہمیشہ ایسا ہوتا ہے کہ ایک صورت حال یا مقدمہ (thesis) سامنے آتا ہے۔ اس کے بعد خود تاریخی اسباب سے اس کا جوابی مقدمہ (anti-thesis) وجود میں آتا ہے۔اس کے بعد ایک امتزاج (synthesis) وجود میں آتا ہے جو سابق حالت کی جگہ لے لیتا ہے۔ اس طرح تاریخ کا سفر برابر جاری رہتا ہے۔ یہ معاملہ سیکولر تاریخ کے ساتھ بھی پیش آتا ہے اور مذہبی تاریخ کے ساتھ بھی۔
قانونِ فطرت کے مطابق ایسا ہوتا ہے کہ حالات کے تحت ایک ایکشن (action) سامنے آتا ہے۔ پھر اس کے جواب میں ایک ری ایکشن (reaction) پیدا ہوتا ہے۔ اس کے بعد تیسری شکل سامنے آتی ہے، وہ اس صورتِ حال کا رسپانس (response)ہے۔ نیگیٹیو رسپانس (negative response) حالات کو مزید بگاڑتا ہے، اور پازیٹیو رسپانس (positive response) سماج کو ایک بہتر دور کی طرف لے جاتا ہے۔ یہی پوری انسانی تاریخ میں ہوا ہے۔ اس حقیقت کو جاننا، اور ری ایکشن سے بچ کر صورتِ حال کا پازیٹیو رسپانس دینا یہی موجودہ دنیا میں کامیابی کا راز ہے۔
اسلام اور سلطان
اسلام کی تاریخ 610عیسوی میں شروع ہوئی۔ 632 عیسوی میںپیغمبر اسلام صلى اللہ علیہ وسلم  کی وفات کے بعد اس دور کا آغاز شروع ہوا جس کو عام طور پر خلافت کا دور کہا جاتا ہے۔ اس خلافت کی مدت تقریباتیس ( 30)سال ہے۔ اس مدت میں چار صحابی خلیفہ مقرر ہوئے۔ لیکن چاروں خلفاء کا تقرر چار مختلف طریقوں (methods)سے ہوا۔ اس سے معلوم ہوا کہ خلیفہ یا سیاسی قائد (political leader)کے تقرر کا معاملہ اسلام میں مبنی بر نص (based on text)معاملہ نہیں ہے، بلکہ وہ مبنی بر اجتہاد معاملہ ہے۔اس بنا پر اس کے لیے کوئی واحد معیاری ماڈل نہیں ۔ اس کا فیصلہ حالات کی بنیاد پر بذریعہ اجتہاد کیا جاتا ہے۔
خلافت کے بعد امیر معاویہ (وفات41ھ)کا دور شروع ہوا۔ وہ ایک صحابی تھے۔ ان کے زمانے میں حکومت کے لیے خاندانی ماڈل (dynasty) کو اختیار کرلیا گیا۔ اس وقت صحابہ بڑی تعداد میں موجود تھے۔ صحابہ نے اس خاندانی ماڈل کو عملاً قبول کرلیا۔ اس کے بعد اسلام کی پوری سیاسی تاریخ اسی ماڈل پر چلتی رہی۔ صحابہ، تابعین، تبع تابعین، محدثین، فقہاء، علماء سب کے سب اس ماڈل پر راضی ہوگیے۔ اس کے بعد اسلام کی تاریخ میں مختلف مسلم حکومتیں قائم ہوئیں۔ مثلا بنو امیہ کا دور، بنو عباس کا دور، عثمانی ایمپائر، مغل ایمپائر ، وغیرہ۔ یہ تمام اسی خاندانی ماڈل پر قائم ہوئے۔ اور دورِ اول کے وہ تمام لوگ جن کو اسلاف کہا جاتا ہے، ان سب نے اس ماڈل کو عملاًقبول کرلیا۔ اس کا سبب یہ تھا کہ یہ ماڈل تاریخی عمل کے نتیجے میں ایک مقبول ماڈل (historically accepted model) بن چکا تھا۔ یہی خاندانی ماڈل موجودہ زمانے کی عرب ریاستوں میں قائم ہے۔
مسلم علماء کے درمیان منہج سلف کو معیاری منہج مانا جاتا ہے۔ متقدمین یا اسلاف کا یہ منہج جس دور میں بنا وہ پورا دور خاندانی ریاست (dynasty) کا دور تھا۔ اس دور کو تمام علمائے امت نے درست منہج کے طور پر قبول کرلیا ۔ کسی قابلِ ذکر عالم نے اس کے خلاف خروج (revolt) نہیں کیا۔ حتی کہ عباسی دور میں تمام علماء کے اجماع سے یہ مسئلہ بنا کہ مسلم حکمراں کے خلاف خروج کرنا حرام ہے۔ بطور حوالہ مشہور محدث امام نووی (وفات676: ھ) کا ایک قول یہاں نقل کیا جاتا ہے۔ انھوں نے اس معاملے میں منہج سلف کی ترجمانی کرتے ہوئے لکھاہے : وأما الخروج علیہم وقتالہم فحرام بإجماع المسلمین وإن کانوا فسقة ظالمین۔ (شرح النووی علی صحیح مسلم، کتاب الامارۃ،12/229) یعنی مسلم حکمرانوں کے خلاف خروج کرنا اور ان سے قتال کرنا مسلمانوں کے اجماع کے تحت حرام ہے۔ خواہ وہ (کسی کے نزدیک) ظالم اور فاسق ہوں۔
اس زمانے میںیہ مسلم حکمراں کون تھے۔ یہ وہی تھے جو خاندانی حکومت (dynasty) کے اصول کے تحت حکمراں بنے تھے۔ موجودہ زمانے کی عرب ریاستیں اسی خاندانی نظام کا امتداد (continuation) ہیں۔ اس لیے علماءکا یہ متفقہ فتویٰ موجودہ عرب ریاستوں پر بھی عین اسی طرح اپلائی (apply) ہوگا جس طرح وہ اس سے پہلے کی مسلم ریاستوں پر اپلائی ہوتا ہے۔
علماء نے متفقہ طور پر خاندانی حکومت (dynasty) کو کیوں درست ماڈل کے طو رپر مان لیا۔ اس کا سبب یہ ہے کہ اسلام میں حکومت کا اصل مقصد تمکین فی الارض (22:41) ہے ، نہ کہ کسی مخصوص ڈھانچہ کو قائم کرنا۔ تمکین سے مراد سیاسی استحکام (political stability)ہے۔سیاسی استحکام سے معتدل ماحول قائم ہوتا ہے۔ اور معتدل ماحول سے علمائے اسلام اور مصلحین امت کو یہ موقع ملتا ہے کہ وہ کسی رکاوٹ کے بغیر دین کے تمام غیر سیاسی شعبوں کو چلائیں۔
اس معاملے کی ایک حکمت یہ ہے کہ زندگی کا نظام قانون اور حکومت پر کم اور روایات (traditions) پر زیادہ چلتا ہے۔ اور روایات کا معاملہ یہ ہے کہ وہ لمبی مدت تک کے عمل کے بعد کسی سماج میں قائم ہوتی ہیں۔ درست طور پر کہا جاتا ہے کہ روایت ہمیشہ لمبی تاریخ کے بعد بنتی ہے:
It requires a lot of history to make a little tradition.
یہ کہنا صحیح ہوگا کہ حکومت کی حیثیت اگر سیاسی سلطنت (political empire)کی ہے تو روایات کی حیثیت غیر سیاسی سلطنت (non-political empire)کی ہے۔ روایات پر مبنی سلطنت اگر چہ ایک ناقابلِ مشاہدہ سلطنت (unseen empire) ہوتی ہے۔ لیکن کسی سماج کا نظام سب سے زیادہ بلکہ تقریبا 99 پرسنٹ عملاً اسی غیر سیاسی سلطنت کے تحت چلتا ہے۔ یہ غیر سیاسی سلطنت ہمیشہ وہ لوگ بناتے ہیں جوحکومت کے دائرے سے باہر مسلسل طور پر اپنا کام کرتے رہتے ہیں۔
اسلام پر نبیوں کی آمد کا سلسلہ ختم ہوگیا۔ اس لیے ضروری تھا کہ دین کا تسلسل قائم کرنے کے لیے مسلم سماج میں اسلام کا ایک روایاتی ڈھانچہ بنے۔ اسلام کی تاریخ بتاتی ہے کہ رسالت کے زمانے میں مخالفت، بائیکاٹ، لڑائی اور ہجرت جیسے واقعات کی بنا پر حالات کا وہ تسلسل نہیں بنا جس میں روایات قائم ہوں۔ خلافت کے زمانے میں باہمی اختلافات بہت زیادہ ابھر آئے۔ یہاں تک کہ چار میں سے تین خلیفہ کو قتل کردیا گیا۔ اس لیے خلافت کے زمانے میں بھی دینی تسلسل کا مطلوب ماحول نہ بن سکا۔
اللہ اپنے منصوبہ کے مطابق،پورے عالم تخلیق کو مینج (manage) کر رہاہے۔مادی کائنات (physical world) اللہ کے مکمل کنٹرول کے تحت چل رہی ہے۔ انسان کو چوں کہ مقصد تخلیق کے تحت آزادی دی گئی ہے۔ اس لیے انسانی دنیا میں اللہ کا طریقہ مختلف ہے۔ اور وہ ہے انسان کی آزادی کو برقرار رکھتے ہوئے انسانی تاریخ کو مطلوب انداز میں مینج کرنا۔ اس لیے اللہ کی مرضی ہوئی کہ ایسا سیاسی نظام بنے جو مسلسل طور پربلا انقطاع چلنے والا ہو۔ اس کا اشارہ قرآن کی اس آیت میں پایا جاتا ہے إِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّکْرَ وَإِنَّا لَہُ لَحَافِظُونَ (15:9)۔ حفاظت کے وسیع تر معنی میں یہاں پورے دینِ اسلام کی حفاظت شامل ہے۔دورِ رسالت کےتقریباً 30 سال کے بعد امت کے اندر خاندانی حکومت (dynasty) کا جو نظام قائم ہوا، وہ اسی خدائی انتظام کے تحت وقوع میں آیا۔
اسلام کی تاریخ بتاتی ہے کہ خاندانی حکومت کے قیام کے بعد امت کے اندر مطلوب ماحول عملاًقائم ہوگیا۔ اس نظام کو امت نے قبول کرلیا۔ ایسا پریکٹکل وزڈم (practical wisdom) کے تحت ہوا۔ اس نظام کے تحت جوتسلسل قائم ہوا، اس کے زیر اثر دینی روایات بننا شروع ہوگئیں۔ یہی وجہ ہے کہ آج ہم دیکھتے ہیں کہ مسلمانوں کے اندر پورے عالم اسلام میںدین کا ایک روایتی ڈھانچہ عملاً قائم ہے۔ اس کی وجہ سے امت کے ہر فرد کے لیے یہ آسان ہوگیا ہے کہ وہ پیدا ہوتے ہی دین اسلام کو پہچان لے اور اس پر عمل کرنے لگے۔
اسلام کی تاریخ بتاتی ہے کہ قدیم زمانے میں امیر معاویہ کے بعد جب خاندانی ریاست کا نظام قائم ہوا تو حالات میں استحکام پیدا ہوگیا۔ اور تمام دینی کام اسموتھ (smooth) طور پر انجام پانے لگے۔ مثلا قرآن کی حفاظت ، حدیث کی جمع و تدوین، فقہ کی تدوین، علومِ اسلامی کی تدوین ، مسجد و مدرسے کانظام قائم ہونا، حج و عمرہ کا نظام، دین کی تبلیغ و اشاعت ، وغیرہ۔ یہ تمام کام امن اور اعتدال کے ماحول میں انجام پانے لگے۔ علوم اسلامی کا کتب خانہ پورا کا پورا اسی دور میں تیار ہوا۔ یہ کام اس سے پہلے عدم استحکام کی بنا پرکم ہو رہاتھا۔ اور استحکام کے بعد سے یہ نظام عملاًآج تک تقریباً اسی طرح جاری ہے۔
امام مالک بن انس (وفات: 179ھ) اپنے استاد وھب ابن کیسان کے حوالے سے کہتے ہیں: إنہ لا یصلح آخر ہذہ الأمة إلا ما أصلح أولہا۔(مسند الموطا للجوہری، حدیث نمبر 783) یعنی بلاشبہ اس امت کے دورِ آخر کی اصلاح بھی اسی طریقے کی پیروی سے ہوگی جس طریقہ کی پیروی سے امت کے دور اول کی اصلاح ہوئی۔ اولِ امت (earlier ummah) سے مراد وہی دور ہے جس کو متقدمین کا دور یا اسلاف کا دورکہا جاتا ہے۔ اور دورِ اسلاف پورا کا پورا وہی ہے جو خاندانی ریاست کے دور میں وجود میں آیا۔ اس سے یہ بات مستنبط ہوتی ہے کہ دورِ اول میں جس سیاسی ماڈل کو تمام علماء کے اتفاقِ رائے سے قبول کیا گیا تھا اور جس کے نتیجے میں امت کے تمام کام درست طور پر انجام پائے ، وہی ماڈل امت کے بعد کے دور کے لیے بھی درست ہے۔ اسی طریقہ کے مطابق بعد کے زمانے میں بھی امت کی اصلاح ممکن ہے۔
صحابیٔ رسول عبد اللہ ابن عباس بیان کرتے ہیں کہ پیغمبرِ اسلام صلى اللہ علیہ وسلم نے فرمایا  الإسلام والسلطان أخوان توأمان (کنز العمال، حدیث نمبر14613)۔ یعنی اسلام اور سلطان دو جڑواں بھائی ہیں۔ایک اور روایت میں یہ الفاظ آئے ہیں: المُلک و الدین توأمان (کشف الخفاء، حدیث نمبر2329)۔یعنی مُلک اور دین دونوں جڑواں بھائی ہیں۔
ان روایتوں میں سلطان اور مُلک ، دونوں کے معنی ایک ہیں۔یعنی سیاسی اقتدار (political power)۔ اس سے معلوم ہوا کہ اسلام میں سیاسی اقتدار کا رول اصلاً تائیدی رول (supporting role) ہے۔ سیاسی اقتدار کا کام یہ ہے کہ وہ اسلام کےلیے طاقت ور مددگار بنے، وہ اسلام کو شیلٹر (shelter)عطا کرے۔ تاکہ اس کے زیرِ سایہ تمام دینی کام اسموتھ (smooth) طور پر انجام پائیں۔
قرآن میں عدل یا قسط کے معاملے کو متعدی کے صیغے میں بیان نہیں کیا گیا ہے بلکہ لازم کے صیغے میں بیان کیا گیا ہے۔ یعنی عدل کی پیروی کرو(5:8)،قسط پر قائم رہو(4:135)۔ گویا سیاسی اقتدار کا کام عدل و قسط کی تنفیذ (enforcement) نہیں ہے۔ بلکہ وہ یہ ہے کہ وہ سماج میں معتدل حالات قائم کرے تاکہ لوگوں کو یہ موقع ملے کہ وہ کسی رکاوٹ کےبغیر اپنی زندگی میں عدل و قسط کے پیرو بن سکیں۔
سیاسی اقتدار کے اسی رول کی بنا پر اسلام میں سیاسی اقتدار کا کوئی ایک خارجی ماڈل نہیں ہے۔ سیاسی اقتدار کا کام یہ ہے کہ وہ اہل اسلام کو امن اور حفاظت عطا کرے۔ تاکہ دین کے تمام کام معتدل انداز میں انجام پائیں۔ یہی وجہ ہے کہ امت کے علماء نے متفقہ طور پر خاندانی حکومت (dynasty) کے ماڈل کو درست ماڈل کی حیثیت سے قبول کرلیا جو کہ واضح طور پرابتدائی خلافت کے ماڈل سے مختلف تھا۔ کیوں کہ انھوں نے دیکھا کہ اس ماڈل کے تحت اہل اسلام کو امن اور حفاظت کا مقصد بخوبی طور پر حاصل ہورہا ہے۔ اور تمام دینی کام بلا رکاوٹ انجام پارہے ہیںجو کہ اس سے پہلے عملاً پورے طور پرحاصل نہ تھے۔
اسلام کا تاریخی رول
انسان کو اللہ نے آزاد مخلوق کی حیثیت سے بنایا ہے۔ انسان سے یہ مطلوب ہے کہ وہ اپنی عقل کو استعمال کرکے خالق کے تخلیقی نقشہ (creation plan) کو دریافت کرے ۔اور آزادانہ ارادے کے تحت اپنی زندگی کو اس کے مطابق بنائے۔ اس حقیقت کو بتانے کے لیے اللہ نے بار بار اپنے پیغمبر بھیجے۔ ہزاروں سال کے دوران بڑی تعداد میں ہر علاقے میں پیغمبر آئے۔ لیکن انسان پیغمبروں کے ساتھ استہزاء (یس30)کا معاملہ کرتا رہا۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ دینِ خداوندی کی کوئی تاریخ نہیں بنی۔
آخر میں اللہ نے یہ فیصلہ کیا کہ وہ انسانی تاریخ میں مداخلت کرے۔اور پیغمبروں کا مشن جو دعوت کے مرحلے پر ختم ہوتا رہا، اس کو خصوصی تائید کے ذریعے انقلاب (revolution) کے مرحلے تک پہنچائے۔
پیغمبر اسلام صلى اللہ علیہ وسلم کی بعثت اسی مقصد کے ساتھ ہوئی۔ آپ کے ذریعے دینِ خداوندی کودعوت سے شروع کیا گیا ، اور پھراس کو انقلاب کے مرحلے تک پہنچادیا گیا۔ اس کے بعد کسی نئے نبی کی ضرورت نہ تھی، اس لیے اعلان کردیا گیا کہ پیغمبر اسلام سلسلۂ نبوت کے آخری شخص (الاحزاب: 40) ہیں۔
پیغمبراسلام کے حوالے سے قرآن میں تین بار، لِیُظْہِرَہُ عَلَی الدِّیْنِ کُلِّہِ (التوبۃ33، الفتح28، الصف9) کے الفاظ آئے ہیں۔ ان آیتوں میں اظہارِ دین کا لفظ سیاسی حکومت کے معنی میں نہیں ہے، بلکہ وہ نظریاتی انقلاب کے معنی میں ہے۔ یہ ایک پرامن انقلاب ہے۔ موجودہ زمانے میں سائنس کو ایک نظریاتی غلبہ کا درجہ حاصل ہے۔ حالاں کہ سائنس یا سائنسدانوں کی کوئی سیاسی حکومت نہیں۔
اظہارِ دین سے مرادکوئی عملی نظام قائم کرنا نہیں۔ بلکہ اس کا اصل مقصد یہ تھا کہ دینِ خداوندی کے راستے کی تمام رکاوٹوں کوعملا ختم کردیا جائے۔ تاکہ جو انسان دینِ خداوندی کے راستے پر چلنا چاہے، وہ آزادانہ طور پر اس پر چل سکے اور خالق کے تخلیقی نقشہ کے مطابق، اپنی شخصیت ڈیولپ کرنے میں اس کو کوئی خارجی رکاوٹ پیش نہ آئے۔
دینِ حق کی یہ رکاوٹیں بنیادی طور پر دو تھیں، ایک شرک (polytheism) اور دوسرے بادشاہت (kingship)۔ قدیم زمانےمیں شرک اور بادشاہت کے نظام کو رفتہ رفتہ کامل غلبہ حاصل ہوگیا تھا۔ اس بنا پرعملا یہ ناممکن ہوگیا تھا کہ کوئی شخص دینِ خداوندی کے راستے پر کامل آزادی کے ساتھ چل سکے۔ اور اپنے آپ کو اللہ کا مطلوب انسان بنائے۔
اعتقادی اعتبار سے شرک اور عملی اعتبار سے بادشاہت، اس راستے میں مستقل رکاوٹ بنے ہوئے تھے۔ اللہ نے پیغمبرِ اسلام اور آپ کے اصحاب کو خصوصی تائید عطا کی۔ تاکہ ان دونوں نظاموں کو وہ غلبہ کے مقام سے ہٹادیں اور ایسے حالات پیدا کردیں جن میں انسانی تاریخ اپنے مطلوب رخ پر سفر کرسکے۔
پہلے نشانے کو ایک حدیث رسول میں ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے: لا یجتمع دینان فی جزیرة العرب (موطا امام مالک، حدیث نمبر1862)۔ یعنی جزیرۂ عرب میں دو دین اکٹھا نہیں ہوں گے۔ ساتویں صدی میں جب آپ نے یہ فرمایا اس وقت یہ حال تھا کہ مکہ کےمقدس کعبہ کو شرک کا مرکز بنا دیا گیا تھا۔ کعبہ کی عمارت میں تقریبا تین سو ساٹھ بت رکھ دیے گیےتھے۔ یہ دراصل مختلف قبائل کےبت تھے۔ اس لیے مشرک قبائل کے لیے کعبہ نے مذہبِ شرک کے مرکز کی حیثیت حاصل کرلی تھی۔
پیغمبر اسلام صلى اللہ علیہ وسلم نے اللہ کی خصوصی تائید کے تحت ایک دور رس منصوبہ بنایا۔ جس کے نتیجے میں بیس سال کے اندر کعبہ کی حیثیت بدل گئی۔ وہ شرک کے مرکز کے بجائے توحید کا مرکز بن گیا۔ ایسا اس طرح ہوا کہ عرب قبائل کے سردار بڑی تعدا میں اسلام میں داخل ہوئے۔ اس طرح پیغمبر اسلام صلى اللہ علیہ وسلم کو یہ موقع ملا کہ وہ کعبہ کو بتوں سے پاک کردیں، اور ابراہیمی نقشہ کے مطابق اس کو توحید کے مرکز کی حیثیت دے دیں۔
پیغمبر اسلام صلى اللہ علیہ وسلم کے مشن کا دوسرا نشانہ یہ تھا کہ بادشاہت کا دور ہمیشہ کے لیے ختم ہوجائے۔ اس مشن کا ذکر ایک حدیثِ رسول میں ان الفاظ میں آیاہے: إذا ہلک کسرى فلا کسرى بعدہ، وإذا ہلک قیصر فلا قیصر بعدہ(صحیح البخاری، حدیث نمبر3120) یعنی جب کسریٰ ہلاک ہوگا تو اس کے بعد کوئی کسری نہیں ہوگا، اور جب قیصر ہلاک ہوگا تو اس کے بعد کوئی اور قیصر نہ ہوگا۔ کسریٰ سلطنت ایران (Sassanid Empire)کا حکمراں تھا۔ اور قیصر سلطنتِ روم (Byzantine Empire) کا حکمراں تھا۔ یہ دونوں قدیم بادشاہی نظام کی علامت بنے ہوئے تھے۔ اللہ کو یہ منظور تھا کہ یہ دونوں بادشاہتیں ختم ہوجائیں۔ اور پھر اس کے بعد کوئی بادشاہت کا نظام دوبارہ دنیا میں قائم نہ ہو۔
یہ ایک بے حد مشکل منصوبہ تھا۔ اس منصوبہ کو اس طرح آسان بنا دیا گیا کہ پہلے پیغمبرِا سلام کے زمانے میں ساسانی ایمپائر اور بازنطینی ایمپائر میں زبردست ٹکراؤ ہوا۔ اس کے نتیجے میں دونوں سلطنتیں کمزور ہوگئیں۔ اس کا اشارہ قرآن کی سورہ الروم کے ابتدا میں کیا گیا ہے۔ اس منصوبے کی تکمیل عمر فاروق کے زمانے میں ہوئی، جبکہ اہل ایمان سے دونوں بادشاہتوں کا فوجی ٹکراؤ ہوا۔ اور نتیجہ یہ ہوا کہ دونوں سلطنتیں ٹوٹ کر عملا ختم ہوگئیں۔
اس طرح انسانی تاریخ میں ایک نیا دور شروع ہوا۔ یہ دور ایک تاریخی عمل (historical process)کی صورت میں تھا۔ اس تاریخی عمل میں اہل اسلام اور سیکولر گروہوں نے مشترک طور پر کام کیا۔ یہ ایک عظیم تاریخی عمل تھا، جس کی تکمیل یوروپ کی نشا ۃ ثانیہ (Renaissance) کے زمانے میں انجام پائی۔
شرک کے دور کا خاتمہ، توہماتی دور (age of superstition) کا خاتمہ تھا۔ اسلام سے پہلے پوری تاریخ میں توہماتی فکر چھایا ہوا تھا۔ اسلامی انقلاب کے بعد پہلی بار یہ توہماتی دور ختم ہوا۔ اور انسان کے درمیان عقلی تفکیر (rational thinking) آئی۔ جس کے نتیجے میں جدید علوم پیدا ہوئے۔ فطرت کے رموز دریافت ہوئے۔ سائنس کا دور آیا، جس نے انسانی تاریخ کو ایک نئے تاریخی دور میں پہنچادیا۔
قرآن و حدیث کے مطالعے سے معلوم ہوتا ہے کہ اظہارِ دین کے منصوبے میں دو طرح کے اجزاء شامل تھے، ایک وہ جو رسول اور اصحابِ رسول کے زمانے میں واقعہ بن گیا۔ شرک کے دور کا خاتمہ اسی پہلو سے تعلق رکھتا ہے۔ شرک کے دور کا خاتمہ رسول اور اصحابِ رسول کے ذریعے شروع ہوا، اور انھیں کے زمانے میں عملا تکمیل تک پہنچ گیا۔ شرک کا کلچر اگرچہ اب بھی بعض گوشوں میں بظاہر موجود ہے، لیکن اب وہ کہیں بھی غالب حیثیت میں نہیں۔
اظہارِ دین کا دوسرا پہلو وہ ہے جس کو قرآن و حدیث میں مستقبل کے صیغے میں بیان کیا گیا ہے۔ مثلا آیات کے ظہور کے بعدحق کی کامل تبیین (فصلت53)، یا حدیث کا یہ ارشاد: لیبلغن ہذا الأمر ما بلغ اللیل والنہار، ولا یترک اللہ بیت مدر ولا وبر إلا أدخلہ اللہ ہذا الدین، بعز عزیز أو بذل ذلیل (مسند احمد، حدیث نمبر16957)، وغیرہ۔ اظہارِ دین کا یہ دوسرا پہلو، ایک ایسا پہلو تھا جو نسل در نسل گہری کوشش کے بعد مکمل ہونے والا تھا۔ اس لیے اللہ نے یہ مقدر کردیا کہ اس کام میں سیکولر لوگوں کی تائید بھی بھرپور طور پر حاصل ہو۔ یہی وہ حقیقت ہے جو ایک حدیثِ رسول میں ان الفاظ میں بیان کی گئی ہے: إن اللہ لیؤید ہذا الدین بالرجل الفاجر (صحیح البخاری، حدیث نمبر3062)۔
اظہارِ دین کا یہ انقلاب اکیسویں صدی میں اپنےآخری تکمیل تک پہنچ چکا ہے۔ اب اہل ایمان کا یہ کام ہے کہ وہ اس پیدا شدہ مواقع کو بھر پور طور پر دین خداوندی کی عالمی دعوت کے لیے استعمال کریں۔ تاکہ کوئی پیدا ہونے والا انسان اس سے بےخبر نہ رہے کہ اس کے خالق نے اس کو کیوں پیدا کیا ہے۔ اور خالق کا تخلیقی منصوبہ (creation plan)ان کے بارے میں کیا ہے۔
ربّانی انسائکلوپیڈیا
قرآن میںبعض باتیں خبر کی زبان میں ہیں۔ مگر اپنی حقیقت کے اعتبار سے وہ ایک انشاء کا معاملہ ہے۔ قرآن میں اسی نوعیت کی دو آیتیں ہیں۔ ان دونوں کا ترجمہ یہ ہے:
کہو کہ اگر سمندر میرے رب کی نشانیوں کو لکھنے کے لئے روشنائی ہوجائے تو سمندر ختم ہوجائے گا اس سے پہلے کہ میرے رب کی باتیں ختم ہوں، اگرچہ ہم اس کے ساتھ اسی کے مانند اور سمندر ملا ئیں (18:109)۔ اور اگر زمین میں جو درخت ہیں وہ قلم بن جائیں اور سمندر، سات مزید سمندروں کے ساتھ روشنائی بن جائیں، تب بھی اللہ کی باتیں ختم نہ ہوں۔ بے شک اللہ زبردست ہے، حکمت والا ہے۔ (31:27)
قرآن کی ان آیتوں میں ایک عظیم حقیقت کا بیان ہے۔ یہ بیان صرف بیان کے لیے نہیں بلکہ وہ ایک عظیم الٰہی منصوبہ کا اعلان ہے۔ یہ ایک مطلوب چیز ہے کہ عالمِ تخلیق میں کلمات اللہ یا آلاء اللہ کا مطالعہ کیا جائے۔ اور اس کو لکھ کر تیار کیا جائے۔ یہ کام موجودہ دنیا کے محدود حالات میں نہیں ہوسکتا۔ اس کے لیے زیادہ بڑی، ایک لامحدود دنیا درکار ہے۔ آخرت کی دنیا ، اسی قسم کی ایک لامحدود دنیا ہے۔ دوسرے الفاظ میں یہ کہا جاسکتا ہے کہ آخرت کی دنیا میں کرنے کا ایک کام یہ ہوگا کہ کلمات اللہ اور آلاء اللہ کو دریافت کیا جائے اور ان کی بنیاد پر ایک انسائکلوپیڈیائی لائبریری تیار کی جائے۔ یہ عظیم انسائکلوپیڈیا وہی ہوگی جس کو ہم نے ربانی انسائکلوپیڈیا کا نام دیا ہے۔
موجودہ محدود دنیا میں یہ ربانی انسائکلوپیڈیا لکھی نہیں جاسکتی۔ خالق نے اس دنیا کو اس لیے بنایا ہے کہ اس دنیا میں اس عظیم ربانی انسائکلوپیڈیا کے لکھنے والے (writers) تیار کیے جائیں۔ پھر آخرت کی دنیامیں ان افراد کو وہ تمام ضروری مواقع اعلی ترین سطح پر مہیا کیے جائیں، جن کو استعمال کرکے وہ اس ربانی انسائکلوپیڈیا کو تیار کریں۔ یہ کام کوئی مشقت کا کام نہ ہوگا، بلکہ وہ آخری حد تک ایک محظوظ کام (enjoyable task) ہوگا۔ اس واقعے کا اشارہ قرآن کی اس آیت میں کیا گیا ہے: إِنَّ أَصْحَابَ الْجَنَّةِ الْیَوْمَ فِی شُغُلٍ فَاکِہُونَ(36:55) ۔بے شک جنت کے لوگ آج اپنے مشغلوں میں خوش ہوں گے۔
ربانی انسائکلوپیڈیا کی تحریر میں اپنے آپ کو شامل کرنا، بلاشبہ ایک ایسا انقلابی تصور ہے جو آدمی کو آخری حد تک پر شوق بنا دیتا ہے۔ وہ اپنے پورے وجود کی تعمیر اس طرح کرنے لگتا ہے کہ وہ اس عظیم اور مقدس ٹیم کا ایک ممبر بن جائے۔
ربانی انسائکلوپیڈیا کی تیاری کا نشانہ کسی صاحبِ ایمان کے لیے سب سے بڑا نشانہ ہے۔ جو صاحبِ ایمان اس نشانے کو دریافت کرلے، اس کی پوری زندگی بدل جائے گی۔ وہ منفی سوچ (negative thinking) سے پوری طرح خالی ہوجائے گا۔ نفرت، تشدد اور جنگ جیسی چیزوں میں اپنے کو مشغول کرنے کے لیے اس کے پاس وقت ہی نہیں ہوگا۔
قرآن کی مذکورہ آیتوں میں روشنائی اور قلم کا ذکر ہے۔ یہ دوسرے الفاظ میں تصنیفی منصوبہ کا حوالہ ہے۔ ان آیتوں میں روشنائی اور قلم کا لفظ تمثیل کی زبان میں ربانی انسائکلوپیڈیا کی تیاری کے عظیم کام کو بتاتا ہے۔ یہ علامتی طور پر اس پورے انفراسٹرکچر کو بتارہاہے جو ربانی انسائکلوپیڈیا کی تیاری کے لیے کائناتی سطح پر مطلوب ہوں گے۔
قرآن میں جنت کی نعمتوں کا ذکر ہے ۔ قرآن میں بتایا گیا ہے کہ جنت میں اہل جنت کے لیے ہر قسم کی سہولتیں اعلی سطح پر حاصل ہوں گی۔ یہ نعمتیںاپنے آپ میں جنت کی واحد چیز نہیں۔ بلکہ قرآن کے بیان کے مطابق، وہ بطور نُزُل (فصلت32) ہوگی۔ یعنی رب العالمین کی طرف سے مہمانی (hospitality) کے طور پر۔
اسلام نے انسان کے لیے زندگی کا جو تصور(concept) دیا ہے، اس میں نفرت اور تشدد کے لیے کو ئی جگہ نہیں۔ یہ تصور انسان کے اندر اعلی سوچ (high thinking) پیدا کرتا ہے، اس میں ہر قسم کی منفی سوچ اس طرح ختم ہوجاتی ہے جیسے کہ اس کا کوئی وجود ہی نہیں۔ یہ تصور انسان کو مکمل معنوں میں ایک مثبت شخصیت (positive personality) بنا دیتا ہے۔
زندگی کے اس تصور کے مطابق، جنت کا مطلب یہ نہیںہے کہ جنت میووں اور حوروں کی ایک دنیا ہے ، اور آدمی کو صرف یہ کرنا ہے کہ وہ خودکش بمباری (suicide bombing) کی چھلانگ لگا کر اس دنیائے عیش میں پہنچ جائے۔ جنت کا یہ تصور ، جنت کا کمتر اندازہ (underestimation) ہے۔ جنت ایک اعلی نوعیت کی بامعنی سرگرمیوں (meaningful activities) کا مقام ہے۔ نہ کہ محدود معنوںمیں صرف ایک عیش خانہ۔
جنت میں داخلے کی پہلی شرط یہ ہے کہ آدمی اپنے آپ کو جنتی دنیا کے لیے مستحق امیدوار (deserving candidate) بنائے۔ جنت میں داخلے کے لیے موجودہ دنیا میں تیاری کے عظیم جدو جہد کے کورس سے گزرنا ہے۔ اس کے بعد ہی یہ فیصلہ ہوگا کہ کوئی شخص جنت کی دنیا میں داخلے کا استحقاق رکھتا ہے یا نہیں۔
زندگی کا یہ تصور ایک شخص کی زندگی سے دنیا رخی (worldly-oriented)زندگی کا مکمل خاتمہ کردیتا ہے، وہ اس کو پورے معنوں میں آخرت رخی (akhirat-oriented) بنا دیتا ہے۔
توحید ایمپائر
پیغمبر اسلام صلى اللہ علیہ وسلم نے 610 عیسوی میں مکہ میں اپنا پیغمبرانہ مشن شروع کیا ۔ یہ مشن توحید کا مشن تھا۔ یعنی توحید کو نظریاتی اعتبار سے سب سے زیادہ برترنظریہ بنا دینا ۔ مکہ کے سرداروں نے ایک بار آپ کو بلایا، آپ سے پوچھا کہ آپ ہم سے کیا چاہتے ہیں۔ پیغمبر اسلام نے جواب دیا: کلمة واحدة تعطونیہا تملکون بہا العرب، وتدین لکم بہا العجم (سیرت ابن ہشام، جلد 1صفحہ 417 ) ۔ یعنی میں صرف ایک کلمہ چاہتاہوں ، تم وہ کلمہ مجھ کو دے دو، تم عرب کے مالک ہوجاؤ گے، اور عجم تمھارے آگے جھک جائیں گے۔ یہاں کلمہ کا مطلب ہے آئڈیالوجی۔
پیغمبر اسلام نے یہ بات سیاسی اقتدار کے معنی میں نہیں کہی تھی۔ بلکہ وہ نظریاتی غلبہ کے معنی میں تھی۔ اللہ تعالی کو یہ مطلوب تھا کہ دنیا میں ایک ایسا انقلاب آئے جب کہ تمام دلائل توحید کے حق میں ہوجائیں۔ اور تمام مواقع توحید کے موافق ہوجائیں۔ یہی وہ بات ہے جو آپ سے پہلے حضرت مسیح نے ان الفاظ میں کہی تھی: تم اس طرح عبادت کرو:آسمان میں رہنے والے اے ہمارے باپ، تیرا نام مقدس ہے۔ تیری بادشاہی آئے، جس طرح کہ تیرا منشا آسمان میں پورا ہوتا ہے اسی طرح اس دنیا میں بھی پورا ہو:
So pray this way: Our Father in heaven, may Your name be honoured, ​​​​​​​may Your kingdom come, may Your will be done on earth as it is in heaven. (Matthew, 6:9-10)
اللہ کے دین میں جبر نہیں (البقرۃ256)۔ البتہ اللہ کو یہ مطلوب ہے کہ دین کو آخری حد تک مدلل بنا دیا جائے۔ اس کےبعد یہ انسان کا اپنا معاملہ ہو کہ وہ اس کو مانتا ہے یا نہیں مانتا (الکہف29)۔ اس مقصد کے حصول کے لیے یہ ضرورت تھی کہ دین کے موافق ایک انقلاب آئے۔ اس انقلاب کے لیے موحد انسانوں کی ایک ٹیم درکار تھی۔ مگر کسی نبی کے زمانے میں ایسی ٹیم نہ بن سکی۔ اس لیے پچھلے انبیاء کے زمانے میں ان کا مشن انقلاب (revolution) تک نہیں پہنچا۔
پیغمبر ابراہیم کے ذریعے اللہ نے یہ منصوبہ بنایا کہ خصوصی اہتمام کے ذریعے ایسی مطلوب ٹیم تیار کی جائے۔ اس مقصد کے لیے ساڑھے چار ہزار سال پہلے ابراہیم علیہ السلام نے یہ قربانی کی کہ اپنی بیوی ہاجرہ اور اپنے بیٹے اسماعیل کو عرب کے صحرامیں بسادیا۔ اس کے بعد دوہزار سال سے زیادہ مدت میں توالد و تناسل کے ذریعے صحرائی ماحول میں ایک نئی نسل تیار ہوئی۔ تاریخ میں اس نسل کو بنواسماعیل کہا جاتا ہے۔ محمد صلى اللہ علیہ وسلم اور آپ کے اصحاب اسی نسل کے منتخب افراد تھے۔
مطلوب انقلاب اچانک نہیں ظہور میں آسکتا تھا۔اس کے لیے ضرورت تھی کہ تاریخ میں ایک نیا عمل (process) شروع کیا جائے۔ جو انسان کی آزادی کو برقرار رکھتے ہوئے، مختلف مراحل سے گزرے۔ اور پھر وہ اپنے نقطۂ انتہا (culmination) تک پہنچے۔ یہ عمل عرب میں شروع ہوا۔ اور مغرب میں جدید تہذیب (modern civilization)کی صورت میں اپنی تکمیل تک پہنچا۔
اس انقلاب کے دو پہلو تھے۔ ایک یہ تھا کہ علوم کی ترقی اس طرح ہو کہ تمام علمی اور سائنسی دلائل دینِ خداوندی کی تصدیق بن جائیں۔ یہ مستقبل میں پیش آنے والا واقعہ تھا ، جس کی پیشین گوئی قرآن میں ان الفاظ میں کی گئی تھی: سَنُرِیہِمْ آیَاتِنَا فِی الْآفَاقِ وَفِی أَنْفُسِہِمْ حَتَّى یَتَبَیَّنَ لَہُمْ أَنَّہُ الْحَقُّ (41:53)۔یعنی عنقریب ہم ان کو اپنی نشانیاں دکھائیں گے آفاق میں بھی اور خود ان کے اندر بھی۔ یہاں تک کہ ان پر ظاہر ہوجائے گا کہ یہ قرآن حق ہے۔ اس انقلاب کا دوسرا پہلو یہ تھا کہ عملی اعتبار سے یہ اسباب دینِ خداوندی کے مویّد (supporter) بن جائیں۔ یہ انقلاب صرف اہل ایمان کے ذریعے نہیں ہوسکتا تھا۔ اس لیے اللہ نے اس کے لیے دوسری قوموں کو بھی اس عمل کا موید بنا دیا۔ یہ پیشین گوئی ایک حدیثِ رسول میں اس طرح ملتی ہے: إن اللہ لیؤید ہذا الدین بالرجل الفاجر (صحیح البخاری، حدیث نمبر3062 ) ۔
اکیسویں صدی میں یہ تائیدات اپنی آخری صورت میں حاصل ہوچکی ہیں۔ مثلا موجودہ زمانے میں قول و عمل کی آزادی کا انسان کے لیے ایک ناقابلِ تنسیخ حق قرار پانا، ٹکنالوجی کی ترقی کے ذریعے ہر قسم کے امکانات کا اعلی سطح پر کھل جانا، پرامن طریقۂ کا ر کے ذریعہ ہر مقصد کا حصول ممکن ہوجانا، ساری دنیا میں کھلا پن (openness) کا ماحول قائم ہوجانا، وغیرہ۔
ابتدائی دور میں، اس عمل کو مسلسل طور پر جاری رکھنے کے لیے ایک تائیدی شلٹر (supporting shelter)درکار تھا۔ اہل اسلام کو سیاسی طاقت دے کر اس شلٹر کا انتظام کیا گیا۔ انیسویں صدی کے آخر تک اہل اسلام کی یہ سیاسی طاقت اس عمل کو تائیدی شلٹر فراہم کرتی رہی۔ یہاں تک کہ وہ اپنے آخری منزل پر پہنچ گیا۔
بیسویں صدی میں وہ دور آگیا جب کہ یہ عمل اتنا طاقت ور ہوچکا تھا کہ وہ خود اپنی طاقت سے جاری رہ سکے۔ بیسویں صدی میں مسلمانوں کی سیاسی طاقت کمزور ہوگئی۔ لیکن مطلوب عمل خود اپنی طاقت سے مسلسل طور پر جاری رہا۔ جدید دور میں ماڈرن تہذیب کا فروغ، اور 1945 میں اقوامِ متحدہ (UNO) کا قیام وغیرہ ، وہ واقعات ہیں، جب کہ یہ عمل امکانی طور پر اپنی آخری تکمیل تک پہنچ گیا۔ اب تمام دلائل اور تمام مواقع توحید کی آیڈیالوجی کے لیے پوری طرح موافق ہوچکے ہیں۔ اب اہل اسلام کو صرف یہ کرنا ہے کہ وہ اس انقلاب کو شعوری طور پر سمجھیں۔ اور دانش مندانہ منصوبہ بندی کے تحت توحید کی آیڈیالوجی کو اسی طرح ایک معلوم حقیقت بنادیں، جس طرح موجودہ زمانےمیں سائنس کا علم لوگوں کے لیے ایک معلوم حقیقت بن چکا ہے۔
قرآن میں پیغمبر اسلام صلى اللہ علیہ وسلم کے بارے میں یہ اعلان کیا گیا تھا کہ اللہ نے اپنے رسول کو ہدایت اور دینِ حق کے ساتھ بھیجا ہے تاکہ وہ تمام دین پر اس کوغالب کردے(التوبۃ : 33)۔ اس غلبہ سے مراد سیاسی غلبہ نہیں ہے، بلکہ نظریاتی غلبہ ہے۔مزید یہ کہ اس کامطلب یہ نہیں ہے کہ غلبہ کا یہ واقعہ پیغمبر اسلام کے اپنے زمانے میں مکمل طور پر ظاہر ہوجائے گا ۔ بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ تاریخ انسانی میںایک انقلابی عمل (revolutionary process)جاری ہوگا، جو آخرکار دینِ حق کے کامل نظریاتی غلبہ کے ہم معنی بن جائے گا۔
قرآن و حدیث میں کچھ بیانات حال (present) کی زبان میں ہیں، اور کچھ بیانات مستقبل (future) کی زبان میں۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اسلام کی کچھ تعلیمات وہ ہیں جو پیغمبر اسلام کے اپنے زمانے میں پوری ہونے والی تھیں۔ اور کچھ تعلیمات وہ ہیں جو رسول اور اصحابِ رسول کے بعد کے زمانےمیں اپنی تکمیل تک پہنچنے والی تھیں۔
پہلی قسم کی تعلیم کی ایک مثال قرآن کی یہ آیت ہے : الْیَوْمَ أَکْمَلْتُ لَکُمْ دِینَکُمْ (5:3)۔ یعنی آج میں نے تمہارے لئے تمہارے دین کو پورا کردیا۔ قرآن کی اس آیت میں تکمیل سے مراد قرآن کے نزول کی تکمیل ہے۔ قرآن (کتاب اللہ) کا نزول اپنی آخری صورت میں ہوچکا۔ اب قیامت تک کوئی نیا قرآن جزئی یا کلی طور پر اترنے والا نہیں۔
قرآن کی اس آیت میں اکمالِ دین کا لفظ ہے۔ اکمالِ دین میںباعتبارِ تفصیل یہ بات بھی شامل ہے کہ اسلام کے دورِ اول میں قرآن مدون ہوا، پیغمبر کا اسوہ (example) ہر پہلو سے مستند طور پر قائم ہوگیا، کعبہ کو بتوں سے پاک کرکے توحید کا مرکز بنادیا گیا،امت مسلمہ عملا وجود میں آگئی، وغیرہ۔
دوسری قسم کی تعلیم کی ایک مثال قرآن کی یہ آیت ہےیُرِیدُونَ أَنْ یُطْفِئُوا نُورَ اللَّہِ بِأَفْوَاہِہِمْ وَیَأْبَى اللَّہُ إِلَّا أَنْ یُتِمَّ نُورَہُ وَلَوْ کَرِہَ الْکَافِرُونَ (9:32)۔یعنی وہ چاہتے ہیں کہ اللہ کی روشنی کو اپنے منھ سے بجھا دیں حالانکہ اللہ کو اس کے علاوہ کوئی بات منظور نہیں کہ وہ اپنے نور کو پورا کرے، خواہ منکروں کو یہ کتنا ہی ناگوار ہو۔
وہ چاہتے ہیں کہ اللہ کی روشنی کو اپنے منھ سے بجھا دیں— اس آیت کا تعلق پوری انسانی تاریخ سے ہے۔ تاریخ میں مسلسل طور پر اہل انکار یہ کوشش کرتے رہے ہیں کہ ہدایت کے بارےمیں اللہ کا منصوبہ مکمل نہ ہونے پائے۔ مگر قرآن کے نزول کے بعد اللہ نے یہ مقدر کردیا کہ اس معاملے میں کوئی چیز رکاوٹ نہ بنے۔ اور ہدایت کے بارے میں اللہ کا منصوبہ لازمی طور پر مکمل ہوکر رہے۔
اس طرح کی آیتوں یا حدیثوں میں مستقبل کا صیغہ استعمال کیا گیا ہے ۔ یہ اس بات کا اشارہ ہے کہ یہ مقصد خود زمانۂ رسول میں پورا نہیں ہوگا۔ بلکہ وہ اس طرح پورا ہوگا کہ رسول اور اصحاب رسول کے ذریعہ تاریخ میں ایک انقلابی عمل (revolutionary proccss)جاری ہوگا۔ اس عمل کے نقطۂ انتہا (culmination) پر ایسا ہوگا کہ اتمام نور کے بارے میں اللہ کا منصوبہ اپنی آخری تکمیل تک پہنچ جائے گا۔
اللہ کےمنصوبے کے مطابق ، یہ عمل پوری تاریخ میں جاری رہا۔ اس عمل میں مسلم لوگوں کے علاوہ سیکولر لوگوں نے بھی حصہ لیا۔یہ عمل انسانی آزادی کو برقرار رکھتے ہوئے جاری رہا۔ گویا بظاہر انسان کی آزادی قائم تھی، اور زیریں لہر (undercurrent) کے طور پر خدا کا منصوبہ بھی مسلسل طور پر جاری رہا۔ یہاں تک کہ وہ اپنی تکمیل تک پہنچ گیا۔
اسلام کی مدون تاریخ میں یہ واقعہ ایک گمشدہ کڑی (missing link) کی حیثیت رکھتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ساری دنیا کے مسلمان تاریخ کے ایک حصے کو جانتے ہیں، اور وہ تاریخ کے دوسرے حصے سے بے خبر ہیں۔ وہ یہ جانتے ہیں کہ عالمی تاریخ میں مسلمانوں نے کس طرح اپنا رول اداکیا۔ لیکن وہ اس سے بے خبر ہیں کہ عین اسی وقت سیکولر عناصر بھی مسلسل طور پر اپنا تائیدی رول اداکرتے رہے۔
اسلام کا ایک جزء اس کی آئڈیا لوجی ہے۔ یہ آئڈیا لوجی تمام تر قرآن و سنت پر مبنی ہے۔ اسلام کا دوسرا جزء اس کے تائیدی اسباب ہیں۔ اس دوسرے جزء میں دنیا کی تمام قوموں نے حصہ لیا ہے۔ مثلا قدیم زمانہ مذہبی جبر (religious persecution) کا زمانہ تھا، آج انسان کو پورے معنوں میں مذہبی آزادی حاصل ہے۔ قدیم زمانے میں کھلاپن (openness) نہیں ہوتا تھا، آج پوری دنیا کھلے پن کے دور میں پہنچ گئی ہے۔ قدیم زمانے میں کمیونی کیشن (communication) صرف محدود طور پرہوسکتا تھا، آج ماڈرن ٹکنالوجی نے کمیونی کیشن کو لامحدود حد تک بڑھا دیا ہے۔قدیم زمانے میں بین الاقوامی مسلمات (international norms) قائم نہیں ہوئے تھے، موجودہ زمانے میں بین الاقوامی مسلمات بڑے پیمانے پر قائم ہوگئے ہیں۔ قدیم زمانے میں امن اور جنگ کا کوئی مسلمہ اصول نہیں تھا، آج اقوامِ متحدہ (UNO) کے ذریعے امن اور جنگ کا مسلمہ اصول وضع ہوگیا ہے، وغیرہ۔ یہ تمام مسلمات کیسے قائم ہوئے۔ اس کو وجود میں لانے میں بڑا رول سیکولر افراد نے انجام دیا ہے۔
مسلمان اگر اس حقیقت کو جان لیں تو ان کو پوری انسانی تاریخ عملاً اسلام کی تاریخ نظر آئے گی۔ جب کہ اس وقت وہ صرف مسلم تاریخ کو اسلام کی تاریخ سمجھتے ہیں۔ موجودہ حالت میں مسلمانوں کی نفسیات ہم اور وہ (we and they) کے تصور پر بنی ہے۔ لیکن اس حقیقت کو جاننے کے بعد مسلمانوں کی نفسیات ہم اور ہم (we and we) کے تصور پر قائم ہوجائے گی۔ یہ طرز فکر پورے معنوں میں مسلمانوں کے اندر مثبت سوچ (positive thinking) پیدا کردے گی۔ جو بلاشبہ ان کے لیے سب سے بڑی طاقت بن جائے گا۔
دین کا ضروری ڈھانچہ
ایک حدیث رسول ان الفاظ میں آئی ہے: إن الدین لیأرِزُ إلى الحجاز کما تأرِز الحیة إلى جحرہا (سنن الترمذی، حدیث نمبر2630)۔ یعنی دین حجاز میں سمٹ آئے گا، جس طرح سانپ اپنے بل میں سمٹ آتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ فتنہ کے دور میں بھی دین حجاز میں زندہ رہےگا۔
حجاز وہ جغرافی علاقہ ہے جہاں پیغمبرِ اسلام صلى اللہ علیہ وسلم کی بعثت ہوئی، جہاں حر م مکہ اور حرمِ مدینہ واقع ہیں، جہاں اسلام کی تاریخ بنی، جہاں ابراہیم اور اسماعیل اور اس کے بعد رسول اور اصحابِ رسول کی روایات قائم ہوئیں، جو اسلام کی عالمی عبادت ، حج کا مرکز ہے۔حرم وہ مقام ہے جہاں جان کو مارنا کلی طور پر حرام ہے۔
چنانچہ ارض حجاز (عرب) کو مسلمانوں کے درمیان خصوصی احترام کا درجہ حاصل ہوگیا ہے۔ یہ ایک تاریخی حقیقت ہے جس کو پیغمبر اسلام صلى اللہ علیہ وسلم نے پیشین گوئی کی زبان میں فرمایا کہ جب دنیا میں فتنہ پھیل جائے گا تب بھی ارضِ حجاز (عرب) نسبتاً محفوظ رہے گا۔ تشدد کے دور میں بھی مسلمان یہاں احتراماً تشدد سے پرہیز کریں گے۔ اس لیے دین کا وہ ڈھانچہ جس کو قائم رکھنا ہر حال میں ضروری ہے، کسی نہ کسی صورت میں یہاں قائم رہے گا۔
غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ ڈھانچہ کیا ہے۔ وہ ڈھانچہ یہ ہے کہ امت سیاسی ٹکراؤ سے مکمل طور پر پر ہیز کرے۔ اور غیر سیاسی دائرے میں پر امن تعمیر کو ہمیشہ جاری رکھے۔ اس مطلوب کو ایک جملے میں اس طرح بیان کیا جاسکتا ہے:
Political status quoism and dawah activism
پر تشدد نزاعات ہمیشہ سیاسی ایشو پر پیدا ہوتے ہیں۔ اس بنا پر اسلام میں یہ اصول مقرر کیا گیا ہے کہ سیاست کے معاملے میں موجود صورتِ حال (status quo) پر عملاً راضی رہو تاکہ پر امن تعمیر کا ماحول ہمیشہ موجود رہے۔ اس طرح اسلام کا ربانی مشن مسلسل طور پر بلا انقطاع جاری رہے گا۔اس اعتبار سے گویا ارضِ حجاز کو عملاً ایک ماڈل کی حیثیت حاصل ہے۔
سیاست اور تعمیر کے درمیان مذکورہ بندوبست (settlement) ہر مسلم علاقے کے لیے مطلوب ہے۔ حدیث میں ارضِ حجاز کا ذکر استثنائی طور پر اس لیے کیا گیا کہ اس علاقے کی مخصوص حیثیت کی بنا پر یہاں ایک نفسیاتی قسم کا جبر (compulsion) قائم ہوگیا ہے۔ فتنہ کے دور میں بھی عملا ایسا ہوگا کہ مسلمان اس علاقے میں متشددانہ سرگرمیوں سے احتراز کریں گے۔ اس بنا پر یہ علاقہ دورِ فتنہ میں بھی لوگوں کے لیے بلااعلان ایک ماڈل بنا رہے گا۔
مذکورہ حدیث میں حجاز کا لفظ جغرافی مقام کے اعتبار سے نہیں ہے، بلکہ اپنے ماڈل کے اعتبار سے ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ حجاز کے لیے مسلمانوں کے اندر خصوصی احترام کی جو نفسیات پیدا ہوگی، اس کی وجہ سے یہ علاقہ عملاً سیاسی تشدد سے بچا رہے گا۔ اور اس بنا پر وہ لوگوں کے لیے ایک ماڈل کا کام کرے گا۔ یہ علاقہ اپنی صورتِ حال کے اعتبار سے مسلمانوں کو یہ بتاتا رہے گاکہ ہر جگہ تم اسی سیاسی ماڈل کو اختیار کرو تاکہ اسلام کا اصل مشن کسی رکاوٹ کے بغیر مسلسل طور پر جاری رہے۔
نئے دور کا آغاز
پیغمبر اسلام صلى اللہ علیہ وسلم کے مدنی دور میں چھ ہجری میں وہ واقعہ پیش آیا جو اسلامی تاریخ میں صلح حدیبیہ کے نام سے مشہور ہے۔ صلح حدیبیہ اصلاً ایک پر امن معاہدے کا نام تھا۔ اس صلح سے پہلے اہل توحید اور اہل شرک کےدرمیان ٹکراؤ کا سلسلہ جاری تھا۔ جس نے کئی بار جنگ کی صورت اختیار کرلی تھی۔ صلح حدیبیہ کے بعد یہ صورتِ حال ختم ہوگئی۔ اس کے بعد عرب میں ایک نئے دور کا آغاز ہوا، جب کہ اہل ایمان کو یہ آزادی مل گئی کہ وہ ملک میں پر امن طور پر اپنا مشن جاری رکھیں۔ فریقِ ثانی کی طرف سے ان کے لیے متشددانہ مزاحمت پیش نہیں آئے گی۔
یہ معاہدہ جب فریقین کے درمیان طے پاگیا تو اس کے بعد قرآن کی سورہ نمبر 48نازل ہوئی۔ اس سورہ میں اللہ کی طرف سے یہ اعلان کیا گیا : إِنَّا فَتَحْنَا لَکَ فَتْحًا مُبِینًا ™ لِیَغْفِرَ لَکَ اللَّہُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِکَ وَمَا تَأَخَّرَ وَیُتِمَّ نِعْمَتَہُ عَلَیْکَ وَیَہْدِیَکَ صِرَاطًا مُسْتَقِیمًا ™ (الفتح2-1)۔ بے شک ہم نے تم کو کھلی ہوئی فتح دے دی۔ تاکہ اﷲ تمھاری اگلی اور پچھلی خطائیں معاف کردے۔ اور تمھارے اوپر اپنی نعمت کی تکمیل کردے۔ اور تم کوسیدھا راستہ دکھائے۔
قرآن کی اس آیت میں صراطِ مستقیم (straight path) سے کیا مراد ہے۔ معاہدہ حدیبیہ کے وقت اور اس کے بعد جو واقعہ پیش آیا، وہ اس معاملےمیں شانِ نزول کی حیثیت رکھتا ہے۔ اس پس منظر کو لے کر اس آیت کو سمجھنے کی کوشش کی جائے تو معلوم ہوگا کہ یہاں سیدھا راستہ سے مراد مقصد کے حصول کا پر امن طریقہ (peaceful method) ہے۔ صلح حدیبیہ کے بعد پیغمبر اسلام صلى اللہ علیہ وسلم نے پیس فل میتھڈ کے ذریعے اپنے مشن کو زیادہ موثر طور پر جاری رکھا، اور اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ چند سالوں میں پورا عرب اسلام کا علاقہ بن گیا۔ اس سے پہلے عرب میں شرک کا غلبہ تھا۔ اب پورے عرب میں توحید کا غلبہ قائم ہوگیا۔
یہ پر امن طریقہ کار (peaceful method)کا کرشمہ تھا۔ صلح حدیبیہ کے بعد پیغمبر اسلام صلى اللہ علیہ وسلم نے اپنے مشن کی پرامن منصوبہ بندی کی اور اس کا نتیجہ فتح مبین (clear victory) کی شکل میں ظاہر ہوا۔ یہاں فتح مبین سے مراد سیاسی فتح نہیں ہے، بلکہ نظریاتی فتح (ideological victory) ہے۔ اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ اسلام کا نشانہ نظریاتی فتح ہے نہ کہ سیاسی فتح۔ یہاں صلح حدیبیہ کا مقصد صرف عرب میں"فتح مبین" نہیں تھا۔ بلکہ یہ دنیا کے لیے ایک انقلاب کا آغاز تھا۔صلح حدیبیہ کے ذریعے تاریخ میں ایک نیا عمل (process) جاری ہوا۔ یہ عمل مختلف مراحل سے گزرتا ہوا تاریخ میں جاری رہا۔ یہاں تک کہ بیسویں صدی میں وہ اپنی آخری تکمیل تک پہنچ گیا۔ جب کہ اقوامِ متحدہ (UNO) کے عالمی پلیٹ فارم پر دنیا کی تمام قوموں نے متحدہ طور پر یہ طے کیا کہ اب دنیا میں بطور اصول ایک ہی طریقِ کار تسلیم شدہ طریقِ کار ہوگا۔ اور وہ پرامن طریق کار ہے۔ اب اصولی طور پر کسی بھی قوم کو یہ حق نہیں ہوگا کہ وہ اپنے مقصد کے حصول کے لیے متشددانہ طریقہ کار (violent method) کو اختیار کرے۔
تاریخ کو اس مقام تک پہنچانے میں مختلف واقعات کا حصہ ہے۔ ان میں سے دو اہم واقعات وہ ہیں، جن کو پہلی عالمی جنگ(1914-1918)اور دوسری عالمی جنگ (1939-1945) کہا جاتا ہے۔ ان دونوں جنگوں میں دنیا کی تمام بڑی طاقتیں براہ راست طور پر یا بالواسطہ طور پر شریک تھیں۔اس کے باوجود اس جنگ کا کوئی مثبت نتیجہ بر آمد نہیں ہوا۔ جنگ کے ہر فریق کو غیرمعمولی نقصان اٹھانا پڑا۔
یہ دونوں جنگیں تاریخ کی عظیم جنگیں (great wars) کہی جاتی ہیں۔ اس لیے کہ ان جنگوں میں ایسے خطرناک ہتھیار استعمال ہوئے جو اس سے پہلے کبھی استعمال نہیں ہوئے تھے۔ اس کے باوجود کوئی فریق اپنا مقصد حاصل کرنے میں کامیاب نہیں ہوا۔ جان و مال کی بے پناہ قربانی کے باوجود ہر فریق کے حصے میں تباہی کے سوا کچھ اور نہیں آیا۔
ان عظیم جنگوں کے بعد تاریخ میں پہلی بار اس سلسلے میں ایک جبر (compulsion) کی صورتِ حال پیدا ہوئی۔ تمام قوموں نے اصولی طور پر یہ فیصلہ کیا کہ اب ہمارا آپشن (option)صرف پر امن طریق کار ہوگا، جنگ اور تشدد کا طریقہ نہیں۔ چنانچہ دوسری عالمی جنگ کے خاتمہ پر اقوامِ متحدہ وجود میں آئی جو گویا عالمی صلح حدیبیہ کے ہم معنی تھی۔
اس سے پہلے انسانی تاریخ میں اعلان کے ساتھ یا بلااعلان یہ سمجھا جاتا تھا کہ مقصد کے حصول کا واحد ذریعہ جنگ ہے۔ یہ تصور عملا پوری تاریخ میں جاری رہا۔ اس تصور کا باقاعدہ خاتمہ صرف بیسویں صدی کے وسط میں ہوا جب کہ اقوامِ متحدہ کا عالمی ادارہ تمام قوموں کے اتفاق رائے سے قائم ہوگیا۔
امن (peace)اس دنیا کا کائناتی کلچر ہے۔ انسان کے سوا پوری کائنات ہمیشہ سے اسی امن کلچر پر قائم ہے۔ انسان کو خالق نے آزادی عطا کی ہے۔ اس لیے انسانی دنیا میں یہ کلچرعملا قائم نہ ہوسکا۔ اس کا سبب یہ تھا کہ انسان اپنی آزادی کے غلط استعمال کی بنا پر بار بار تشدد کا طریقہ اختیار کرتا رہا۔ یہاں تک کہ خالق نے انسان کی آزادی کو برقرار رکھتے ہوئے، تاریخ کو اس طرح مینج (manage) کیا کہ تاریخ میں عملاً ایک جبر (compulsion) کی صورت پیدا ہوگئی۔ انسان کے لیے اس کے سوا کوئی چارہ نہ رہا کہ انسان جبر اور تشدد کو اصولی طور پرقابلِ ترک قرار دے دے۔ اب اگر دنیا میں کہیں جنگ کا کوئی واقعہ پیش آتا ہے تو اس کی حیثیت ایک استثنا (exception)کی ہوتی ہے۔ جب کہ ماضی کی تاریخ میں جنگ کو عموم کی حیثیت حاصل تھی۔
اب دنیا دو گروہوں میں تقسیم ہوچکی ہے۔ ایک سیکولر دنیا اور دوسرے مسلم دنیا۔ سیکولر دنیا کا مسلمہ معیار (accepted criterion) صرف ایک ہے، اور وہ نتیجہ (result) ہے۔ سیکولر دنیا کا اصول یہ ہے کہ جو عمل بےنتیجہ ہو، اس کو اختیار نہیں کیا جائے گا، صرف وہ عمل اختیار کیا جائے گا جو مطلوب نتیجہ پیدا کرنے والا ہو۔ سیکولر دنیا عقل کے اصول پر چلتی ہے۔ اور عقل کا اصول یہ ہے کہ نتیجہ خیز کام کرو، اور بےنتیجہ کام کو چھوڑ دو۔
اس کی ایک مثال یہ ہے کہ نشاۃ ثانیہ (Renaissance) کے بعد دنیا میں نوآبادیات کا دور آیا۔ نو آبادیاتی نظام اصلاً صنعتی نظام تھا۔ ابتدائی دور میں قدیم تصور کے تحت نوآبادی طاقتوں نے یہ سمجھا کہ ہمیں اپنی صنعت کو فروغ دینے کے لیے پولیٹکل پاور کی بھی ضرورت ہے۔ چناں چہ انھوں نے اپنی صنعتی سرگرمیوں کے ساتھ ہر جگہ پولیٹکل اقتدار قائم کرنے کی کوشش کی، تاکہ وہ اپنی صنعتی سرگرمیوں کو سیاسی شیلٹر (political shelter) عطا کرسکیں۔
لیکن نوآبادی طاقتوں کو تجربے کے بعد محسوس ہوا کہ جدید دور قوم پرستی (nationalism) کا دور ہے۔ اس دور میں سیاسی شیلٹر کا تصور ایک ناقابلِ عمل تصور بن چکا ہے۔ چناں چہ انھوں نے سیاسی شیلٹر کا ایک بدل دریافت کرلیا۔ اور وہ تنظیم (organization) تھا ۔ انھوں نے کامیاب طور پر یہ منصوبہ بنایا کہ سیاسی شیلٹر کے مقصد کو بہتر تنظیم کے ذریعے حاصل کریں۔
اب انھوں نے اپنی صنعتی سرگرمیوں کے لیے صرف دو چیزوں پر ساری توجہ صرف کردی۔ اور وہ تھا— کوالٹی اور آرگنائزیشن۔ انھوں نے بہتر کوالیٹی اور بہتر تنظیم کے ذریعہ زیادہ بڑے پیمانے پر اپنے اس مقصد کو حاصل کرلیا ، جس کو ناکام طور پر نو آبادیات کے تصور کے تحت حاصل کرنے کی کوشش کی گئی تھی۔ جدیددور میں نو آبادی طاقتوں نے جو طریقے استعمال کیے ہیں، ان میں سے دو طریقے وہ ہیں جن کوانوسٹمنٹ (investment) اور آؤٹ سورسنگ (outsourcing) کہا جاتا ہے۔ یہ نئے طریقے مکمل طور پر پرامن اور غیر سیاسی طریقے ہیں ، لیکن ان طریقوں کے ذریعے موجودہ زمانے کی ترقی یافتہ قوموں نے اکیسویں صدی میں بہت بڑے پیمانے پر اپنا صنعتی ایمپائر (industrial empire) قائم کرلیا۔ بغیر اس کے کہ اس کو کسی کی طرف سے مزاحمت کا سامنا پیش آئے۔
یہ حقیقت موجودہ زمانے کی تمام قوموںنے دریافت کرلی۔ اس میں صرف ایک قوم کا استثنا ہے، اور وہ مسلمان ہے۔ آج کی دنیا میں جو تشدد (militancy) جاری ہے، وہ عملا مسلم تشدد (militancy) ہے۔ یہ صرف مسلمان ہیں جو آج کی دنیا میں متشددانہ طریق کار (violent method) کا طریقہ جاری رکھے ہوئے ہیں۔ اس مسلم تشدد کی مثالیں تقریباً ہر روز میڈیا میں آتی رہتی ہیں۔ نائن الیون 2011اور پیرس اٹیک 2015 اس کی چند مثالیں ہیں۔
اس عموم میں مسلمانوں کے استثنا کا سبب کیا ہے۔ اس کا سبب یہ ہے کہ مسلمانوں کے درمیان بعد کی تاریخ میں جو علمی لٹریچر بنا ، وہ امن کے اصول کے بجائے جہاد (بمعنی قتال ) کے اصول پر بنا۔ یہ رسول اور اصحابِ رسول کے دین سے ایک انحراف کے ہم معنی تھا۔ لیکن وہ مسلم اہل علم کے درمیان اتنا زیادہ رائج ہوا کہ آخرکار اس نے عقیدہ کی صورت اختیار کرلیا۔ مسلمانوں کا تشدد مبنی بر عقیدہ تشدد ہے۔ وہ سمجھتے ہیں کہ اسلام کے نام پر لڑ کر مرجاؤ ، اور اس کے بعد سیدھے جنت میں پہنچ جاؤ۔ یہ عقیدہ اتنا زیادہ بڑھا کہ موجودہ زمانے میں ایسے علما پیدا ہوئے جنھوں نے خود کش بمباری (suicide bombing) کو یہ کہہ کر مقدس درجہ دے دیا کہ وہ خود کشی نہیں ہے، بلکہ استشہاد (طلب شہادت) ہے۔ یہ نظریہ بلاشبہ ایک بے اصل نظریہ ہے۔ اس کی تائید میں کوئی بھی آیت یا حدیث موجود نہیں۔ لیکن اب وہ اتنا زیادہ عام ہوچکا ہے کہ کوئی قابلِ ذکر عالم اس کے خلاف بولنے والا نہیں۔ پیغمبر اسلام صلى اللہ علیہ وسلم نے پیشین گوئی کی زبان میں یہ کہا تھا : إذا وضع السیف فی أمتی، فلن یرفع عنہم إلى یوم القیامة (سنن ابن ماجہ، حدیث نمبر3952) ۔
اسلام کی تاریخ
پیغمبرِ اسلام صلى اللہ علیہ وسلم نے 610 عیسوی میں مکہ میں اپنا مشن شروع کیا۔آپ کا مشن دعوتِ توحید کا مشن تھا۔ لوگوں کے لئے اِس پیغمبرانہ مشن کے مآخذ ابتدائی دور میں صرف دو تھے، قرآن اور حدیث۔ قدیم زمانے میں پرنٹنگ پریس موجود نہ تھا،اس لئے لوگ حافظہ اور مخطوطات کے ذریعےاسلام کو سمجھتے رہے۔ ابتدائی دور میںاسلام کو سمجھنے کے لئے قرآن و حدیث کوواحد ماخذ (source)کی حیثیت حاصل تھی۔لوگ قرآن اور حدیث کو پڑھتے اور اس سے اسلام کی تعلیمات اخذ کرتے۔بعد کے زمانہ میں جو تبدیلی پیدا ہوئی،اس نےاس معاملےمیںامت مسلمہ کے لئےاسلام کا ماخذ بدل دیا۔ اب قرآن و حدیث کے بجائے عملاًتاریخ ان کی ذہن سازی کا ذریعہ بن گئی۔
اس عمل کا آغاز دوسری صدی ہجری میں سیرت نگاری سے ہوا۔اِس ابتدائی دور میں سیرت پر جو کتابیں لکھی گئیں، وہ سب غزواتی پیٹرن پر لکھی گئیں۔ مثلا مغازی الواقدی، مغازی موسیٰ بن عقبہ، مغازی ابن اسحاق، وغیرہ۔ پیغمبرِ اسلام صلى اللہ علیہ وسلم کا مشن اصلاً پرامن دعوت کا مشن تھا۔ لیکن ابتدائی دور کی ان کتابوں نے قارئین کو یہ تاثر دیا کہ رسول اللہ صلى اللہ علیہ وسلم کا مشن، ایک ایسا مشن تھا جو جنگ وقتال پر مبنی تھا، نہ کہ اللہ کی طرف پرامن دعوت پر۔
عباسی خلافت 123ھ میں قائم ہوئی۔ اس کے بعد اسلامی موضوعات پر تحریری کام بڑے پیمانے پر شروع ہوا۔ اب وسیع تر معنوں میں اسلام کی تاریخ لکھی جانے لگی۔ لیکن اب بھی بنیادی پیٹرن وہی باقی رہا۔ چناںچہ اس دور میںبھی اسلامی تاریخ کے موضوع پرجوکتابیں لکھی گئیں، وہ عملاً فتوحاتی پیٹرن پر لکھی گئیں۔ مثلا فتوح الشام للواقدی، فتوح البلدان للبلاذری، وغیرہ۔
ایساکیوں ہوا کہ پیغمبرِ اسلام کی سیرت لکھنے کے لئے غزواتی پیٹرن اختیار کیا گیا۔ اسی طرح اسلام کی تاریخ لکھنے کے لئے کیوںفتوحاتی پیٹرن ایک مقبول پیٹرن بن گیا۔جواب یہ ہے کہ ایسا زمانی عنصر (age factor) کی بنا پر ہوا۔ پہلے زمانے میں تاریخ نگاری کا یہی پیٹرن تمام دنیا میں رائج تھا۔بادشاہوں کے قصے، سلطنت کے واقعات، اور حکمرانوں کی لڑائیاں، قدیم زمانے میںاسی قسم کی چیزیں تاریخ کا موضوع بنی ہوئی تھیں۔ اس لئے جب مسلمانوںمیں تاریخ نگاری کا کام شروع ہوا تو انھوں نے زمانی تاثر کے تحت اسلام میں بھی تاریخ نگاری کے اسی رواجی پیٹرن کو اختیار کر لیا۔ یہی وہ چیز ہے جس کو قرآن میں مضاہات (9:30) کہا گیا ہے۔
عبد الرحمٰن ابن خلدون (وفات808 ھ) پہلا شخص ہے، جس نے تاریخ نگاری کے اس پیٹرن پر تنقید کی۔ اس نے کہا کہ تاریخ کو پوری انسانی سرگرمی کا بیان ہونا چاہئے، نہ کہ صرف بادشاہت اور سلطنت کا بیان۔ابن خلدون نے اپنے اِس نقطۂ نظر کو اپنی اس کتاب میں تفصیل کے ساتھ پیش کیا ، جو مقدمہ ابن خلدون کے نام سے مشہور ہے۔ابن خلدون نےخودبھی تاریخ پر ایک کتاب لکھی، جس کاٹائٹل یہ تھا: دیوان المبتدا والخبر فی تاریخ العرب والبربر ومن عاصرہم من ذوی الشأن الأکبر۔ مگر ابن خلدون کی اپنی لکھی کتاب بھی تاریخ نویسی کے بارے میںاس کے بتائے ہوئے معیار پر پوری نہیں اترتی۔ابن خلدون کی تاریخ کی یہ کتاب بھی عملاً اس دورکی دوسری تاریخ کی کتابوں جیسی ایک کتاب بن گئی۔
ظہورِ اسلام کے بعد ہزار سال تک اسلام کی تاریخ پر جو کتابیں لکھی گئیں، وہ تقریباً سب کی سب اسی پیٹرن پر لکھی گئیں، جس کو سیاسی پیٹرن کہنا صحیح ہوگا۔تاریخ کی یہ کتابیں اسلام کو ایک ایسے دین کے طور پر پیش کرتی رہیں، جو عملاً سیاسی نوعیت کے واقعات کا ایک مجموعہ تھا۔
تاریخ نگاری کے اس سیاسی پیٹرن کا سب سے بڑا نقصان یہ ہوا کہ اسلام کی تاریخ سے وہی چیز حذف ہوگئی، جو اس کا اہم ترین جز تھی، اور وہ دعوت الی اللہ ہے۔یہ ایک حقیقت ہے کہ بعد کے دور میں اسلام کی تاریخ کے نام سے جو کتابیں لکھی گئیں، ان میں دعوت کا پہلو سرے سے موجود ہی نہیں۔ مثلاً مورخ ابن اثیر کی کتاب کا نام الکامل فی التاریخ ہے۔لیکن وہ اسلامی تاریخ کا کامل بیان نہیں۔ کیوں کہ اس کتاب میں سیاسی نوعیت کے واقعات کا ذکر تو کیا گیا ہے، لیکن اس میں اسلام کے دعوتی پہلو کی تاریخ موجود نہیں۔ اسی طرح ابن کثیرنے تاریخ کے موضوع پر ایک ضخیم کتاب لکھی ، جس کا نام البدایۃ والنہایۃ ہے، یعنی از اول تا آخر۔ مگر اس کتاب کا حا ل بھی یہ ہے کہ اس میں اسلامی تاریخ کے دوسرے واقعات تفصیل کے ساتھ موجود ہیں، لیکن اسلام کی دعوتی تاریخ اس کے اندر موجود نہیں۔
سیاسی پیٹرن کا تعلق صرف تاریخ کی کتابوں تک محدود نہ رہا۔ یہ پیٹرن ہر شعبہ علم میں چھاگیا۔ مثلا جب حدیث کی تدوین ہوئی تو حدیث کی کتابوں میں کتاب المغازی اور کتاب الجہاد کے ابواب تفصیل کے ساتھ موجود ہیں، لیکن کتاب الدعوۃ والتبلیغ ان میںموجود نہیں۔ اسی طرح عباسی دور میں فقہ پر جو کتابیں لکھی گئیں، ان میں بھی کتاب المغازی اور کتاب الجہاد کے تفصیلی ابواب موجود ہیں، لیکن فقہ کی کسی کتاب میں کتاب الدعوۃ والتبلیغ موجود نہیں، وغیرہ۔ یہی وہ کتابیں تھیں جن کو پڑھ کر بعد کی مسلم نسلوں کا ذہن بنایا۔ اس کے نتیجے میں بعد کے مسلمانوں میں سوچنے کا دعوتی پیٹرن رائج نہ ہوسکا، بلکہ سوچنے کا سیاسی پیٹرن رائج ہوگیا۔ مثلاًشاہ ولی اللہ دہلوی کی ایک کتاب حجۃ اللہ البالغہ ہے،جس کا موضوع اپنے نام کے لحاظ سے حجۃ اللہ ہے، لیکن اس میں دعوت کا باب سرے سے موجود نہیں۔ حالاں کہ قرآن کے مطابق اللہ کی حجت لوگوں کے اوپر دعوت کے ذریعے قائم ہوتی ہے(النساء : 165)۔
عجیب بات ہے کہ اسلامی تاریخ کے دعوتی پہلو پر باقاعدہ کتاب لکھنے کا کام سب سے پہلے ایک مسیحی مستشرق نے کیا۔جس کا ریفرنس یہ ہے:
T. W. Arnold, The Preaching of Islam, first published in 1896
سیاسی پیٹرن پر لکھی ہوئی تاریخ کی کتابوں کے پڑھنے سے جو ذہن بنا، وہ وہی تھا جس کو سیاسی اور قومی ذہن کہا جاسکتا ہے۔تاریخ نگاری کا یہ پیٹرن جاری تھا۔ یہاں تک کہ بیسویں صدی عیسوی کا زمانہ آیا۔بیسویں صدی میں مسلمان نئے حالات سے دو چار ہوئے۔ان کا ایمپائر ،مثلا مغل ایمپائر اور عثمانی ایمپائر ٹوٹ گیا۔مسلمانوں کے اوپر ہر اعتبار سے مغربی قوموں کا غلبہ قائم ہوگیا۔ مغربی قومیں نئی طاقت کے ساتھ ابھریں، اور عملاً سارے عالم پر چھاگئیں، جن میں مسلم قومیں بھی شامل تھیں۔
یہ صورتِ حال مسلمانوں کے لئےایک سیاسی چیلنج بنی ہوئی تھی۔اس کے نتیجے میںمسلمانوں کے اندر سیاسی رد عمل کا ذہن پیدا ہوا۔ اسی زمانے میں کارل مارکس کا نظریۂ تاریخ بڑے پیمانے پر پھیلا۔ کارل مارکس نے جو نظریۂ تاریخ پیش کیا، اس کا خاص پہلو یہ تھا کہ اس نے تاریخ کی ایک مادی تعبیر پیش کی، جس کو مادی تعبیرِ تاریخ (material interpretation of history) کہا جا تا ہے۔ 1917 میں جب کارل مارکس کے پیروؤں (کمیونسٹ پارٹی)کو روس میںحکومت قائم کرنے کا موقع ملا تو اس کے بعد مارکسی فلسفہ ساری دنیا میں لوگوں کی توجہ کا مرکز بن گیا۔
ان حالات کے زیرِ اثر مسلم دنیا میںایک ظاہرہ پیدا ہوا۔ یہ ظاہرہ زیادہ تر زمانی حالات سے تاثر پذیری کا نتیجہ تھا۔ اس کے نتیجے میں یہ ہوا کہ کچھ مسلم مفکرین نے اسلام کو وقت کے معیار کے مطابق ثابت کرنے کے لئے، اسلام کی سیاسی تعبیر (political interpretation of Islam) پیش کرنا شروع کیا۔ ان مسلم مفکرین میں دونام خاص طور پر قابلِ ذکر ہیں،عرب دنیا میں سید قطب مصری (وفات1966)، اور برصغیر ہند میں سید ابولاعلی مودودی (وفات1979)۔
اسلام کی یہ سیاسی تعبیروقت کی مسلم نسلوں کے مزاج کے مطابق تھی۔ چناں چہ وہ عرب اور غیر عرب دنیا میں تیزی سے پھیل گئی۔ اس سیاسی نظریے کے تحت ہر زبان میں لٹریچر تیارکیا گیا۔ جماعتیں اور ادارے بنائے گئے۔ اس سیاسی نظریے کے تحت مسلمانوں میں سرگرمیاں شروع ہوگئیں۔
اسلام کی سیاسی تعبیر کے اس نظریے کے تحت مسلمانوں کے درمیان جو سرگرمیاں شروع ہوئیں، ان کا نشانہ حکومت پر قبضہ کرنا تھا۔ تاکہ ان کے مفروضہ ذہن کے تحت ہر جگہ اسلام کا نظام قائم کیا جاسکے۔مگر ہر قسم کی قربانیوں کے باوجود ان عناصر کو اپنے مقصد میں کامیابی حاصل نہ ہوسکی۔ جو ہوا وہ صرف یہ تھا کہ مسلمان ہر جگہ عملاً دو گروہوں میں بٹ گئے۔ ایک اقتدار پر قابض گروہ اوردوسرا اقتدار سے محروم گروہ۔ ان دونوں طبقوں کے درمیان لامتناہی طور پر حریفانہ تعلق قائم ہوگیا۔
یہ طبقہ جو اپنے آپ کو اسلام پسند (Islamist) کہتا ہے، اس نے جب دیکھا کہ ان کو مسلم ملکوں میں کامیابی حاصل نہیں ہورہی ہے تو انھوں نے خود اپنے آپ پر نظر ثانی نہیں کی بلکہ انھوں نے اس کا الزام مغربی قوموں پر ڈال دیا۔ انھوں نے کہا کہ مغربی قوموں نے سازش کر کے مسلم حکمرانوں کو اپنے موافق بنا لیا ہے۔اب ان کی سیاسی مہم کا نشانہ بیک وقت دو ہوگیا۔ ایک طرف مسلم حکمراں، اور دوسری طرف مغرب کی قومیں۔انھوں نے دونوں کے خلاف نفرت اور تشدد کی سرگرمیاں جاری کردیں۔
مگرآخرکار ان اسلام پسندوں کو نظر آٰیا کہ ساری کوششوں کے باوجود وہ اپنے سیاسی مقصد میں کامیاب نہیں ہورہے ہیں۔ اب ان کے اندر ایک خطرناک رجحان ابھرا، اور وہ خودکش بمباری (suicide bombing)کا رجحان تھا۔ انھوں نے غلط پروپیگنڈے کے ذریعےوقت کے مسلمانوں کو آخری حد تک انتہاپسندی میں مبتلا کردیا۔چناں چہ ان کو مسلمانوں میں ایسے افراد کثرت سے ملنے لگے جو اپنے مفروضہ دشمن کے خلاف خود کش بمباری کے لئے تیار تھے۔اکیسویں صدی میںیہ رجحان پوری شدت کے ساتھ کام کررہا ہے۔یہ رجحان یقینی طور پر کوئی صحت مند رجحان نہیں۔ اس کا مطلب عملاً یہ ہے— اگر تم دشمن کو ہلاک نہیں کرسکتے تو ایساکرو کہ خوداپنے آپ کو ہلاک کرکے کم ازکم دشمن کےاستحکام کو ڈی اسٹیبلائز (destabilize)کرو۔
موجودہ زمانے کے مسلمانوں میں کوئی نیا آغاز لانا صرف اس طرح ممکن ہے کہ ان کے کیس کو گہرائی کے ساتھ سمجھا جائے، اور اجتہادی انداز میں اس معاملے کی نئی منصوبہ بندی کی جائے۔ کسی جذباتی اقدام یا ردعمل کے تحت کوئی کارروائی اس معاملے کا حل نہیں بن سکتی۔ یہ احیائے امت کا معاملہ ہے، اور احیائے امت کا معاملہ ہمیشہ اجتہاد پر مبنی ہوتا ہے۔
راقم الحروف کے نزدیک اس معاملےکا آغاز یہ ہے کہ وہ تمام کتابیں جو براہ راست یا بالواسطہ طور پر سیاسی پیٹرن پر لکھی گئیں، ان سب کو کلاسیکل لٹریچر (classical literature) کا درجہ دے دیا جائے۔ یعنی ان کی اہمیت صرف اس اعتبار سے ہو کہ وہ امتِ مسلمہ کی ماضی کی تاریخ کو سمجھنے میں مدد دے سکتی ہیں، لیکن جہاں تک موجودہ زمانے میں ملت کے احیاء اور اس کے مستقبل کی تعمیر کا سوال ہے، اب بلاشبہ ہم کو نئے لٹریچر کی ضرورت ہے۔ایسا لٹریچر جس میں قرآن و سنت کی روشنی میں نئے حالات کو سمجھا جائے، اور اجتہادی انداز میں عمل کا نقشہ بنایا جائے۔
بعد کے زمانے میں جو ڈیولپمنٹ ہوا، اس کے نتیجے میں امت کے اندر انسان رخی ذہن کے بجائے مسلم رخی ذہن (Muslim-oriented mind)بن گیا۔ مسلمان عام طور پر ہم اور وہ (we and they) کے انداز میں سوچنے لگے۔ مگر یہ ذہن مکمل طور پرایک غیر دعوتی ذہن ہے۔ صحیح ذہن وہ ہے جو ہم اور ہم (we and we) کے تصور پر مبنی ہو۔ اس لحاظ سے موجودہ زمانے میں جو اسلامی لٹریچر تیار ہو اس کو تمام تر انسان رخی سوچ (man-oriented thinking) پر مبنی ہونا چاہئے۔ دعوت الی اللہ کے لئےضروری ہے کہ مسلمانوں کے اندر دوسرے انسانوں کے لئے نصح (خیرخواہی) کا ذہن موجود ہو۔ مسلمانوں کا موجودہ لٹریچر اس اسپرٹ سے خالی ہے۔ آج جس نئے لٹریچر کی ضرورت ہے، اس کو اس کمی سے مکمل طور پرپاک ہونا چاہئے، ورنہ وہ عملاً مطلوب مقصد کے لئے مؤثر نہ ہوگا۔
عہد شباب
ایک روایت حدیث کی مختلف کتابوں میں آئی ہے۔ البخاری کے مطابق، اس کا ابتدائی جزء یہ ہے:یأتی فی آخر الزمان قوم، حدثاء الأسنان، سفہاء الأحلام، یقولون من خیر قول البریة، یمرقون من الإسلام کما یمرق السہم من الرمیة(صحیح البخاری، حدیث نمبر3611)۔
اس حدیث میں ایک ظاہرے کی طرف اشارہ ہے، جس کی ایک انتہائی صورت کو اس حدیث میں بیان کیا گیا ہے۔ مگراس سے قطع نظر اس حدیث سے فطرت کا ایک اصول معلوم ہوتا ہے۔وہ یہ کہ کوئی آدمی جب اپنے عہد شباب (youth age) میں ہوتا ہے تو اس وقت وہ اپنی عقل و فہم کے اعتبار سے غیر پختہ (immature) ہوتا ہے۔ اس لیے کسی آدمی کی اس رائے کو زیادہ قابلِ اعتبار سمجھنا چاہیے جس کو اس نے پختگی کی عمر کو پہنچنے کے بعد ظاہر کی ہو۔
قرآن سے بھی فطرت کا یہ اصول معلوم ہوتا ہے۔ قرآن میں بتایا گیا ہے کہ حضرت موسی جب جوانی کی عمر میں تھے۔ اس وقت انھوں نے مصر کے ایک قبطی کو گھونسا ماردیا، اس کے بعد وہ مرگیا (القصص15 )۔ لیکن حضرت موسیٰ کو عہد شباب میں نبوت نہیں دی گئی۔ بلکہ اس وقت دی گئی جب کہ وہ پختگی کی عمر (age of maturity) تک پہنچ چکے تھے۔ کیوں کہ بحیثیت پیغمبر ان کو قول لیِّن (طہ44 ) کی زبان میں کلام کرنا تھا ۔
مذکورہ حدیث میں مسلم تاریخ کے ایک اہم پہلو کی توجیہہ ملتی ہے۔ مسلم تاریخ اپنے بعد کے زمانے میں نظریاتی انتہاپسندی (ideological extremism) کی طرف چلنے لگی۔ اس کو حدیث میں انتباہ کی زبان میں غلو (ابن ماجہ، حدیث نمبر3029)کہا گیا ہے۔ حدیث کے مطالعے سے مذکورہ تاریخی ظاہرہ کی نفسیاتی توجیہہ معلوم ہوتی ہے۔وہ یہ کہ بعد کے زمانے میں جن حضرات کو مسلمانوں کے اندر مفکر (thinker)کا درجہ ملا، ان کا فکر ان کے عہدِ شباب میں بنا تھا، جب کہ وہ ابھی پختگی کی عمر کو نہیں پہنچے تھے۔ مثلا ابن تیمیہ، عبدالوہاب نجدی، ابوالاعلیٰ مودودی، وغیرہ۔
بعد کی تاریخ میں جن لوگوں کو مسلمانوں کے اندر مفکر کا درجہ ملا، وہ وہی تھے جن کا فکر عہدِ شبا ب میں بنا۔ عہد شباب میں انسان کے اندر جوش کا جذبہ بہت زیادہ ہوتا ہے۔ اس بنا پر اس کے افکار میں اکثر انتہاپسندی کا انداز پیدا ہوجاتا ہے۔ وہ اعتدال کی زبان بولنے کے بجائے، انتہاپسندی کی زبان بولنے لگتا ہے۔ بعد کو اس کا یہ فکر مقدس بن کر لوگوں میں اتنا پھیل جاتا ہے کہ لوگ اس کو نظرثانی کے بغیردرست فکر سمجھ لیتے ہیں۔ یہی واقعہ بعد کے زمانے کے مسلم مفکرین کے ساتھ پیش آیا۔
مثلا ابن تیمیہ کے زمانے میں ایک عیسائی نے پیغمبر اسلام کے بارے کوئی بات کہی۔ اس کو اس وقت کے مسلمانوں نے شتم رسول کا کیس قرار دیا۔ یہ واقعہ ملک شام میں اس وقت پیش آیا جب کہ ابن تیمیہ اپنی جوانی کے عمر میں تھے۔اس وقت انھوں نے عربی میںایک ضخیم کتاب لکھی جس کا ٹائٹل تھا : الصارم المسلول علی شاتم الرسول۔ اس کتاب میں انھوں نے یہ مسئلہ بیان کیا کہ جو آدمی شتم رسول کا مرتکب ہو، اس کی سزا قتل ہے۔ ابن تیمیہ اس وقت اگر پختگی کے عمر میں ہوتے تو یقینا ان کا ردعمل مختلف ہوتا۔ وہ مذکورہ عیسائی سے مل کر اس کو ہمدردانہ انداز میں سمجھاتے۔ وہ ایک ایسی کتاب لکھتے جس میں وہ بتاتے کہ شتم رسول جیسا غیر فطری معاملہ ہمیشہ غلط فہمی کی بنا پر ہوتا ہے۔ اس لیے ایسے آدمی کے اوپر تبلیغ کرنا چاہیے، اور پر امن دعوتی عمل کے ذریعے اس کی اصلاح کی کوشش کرنا چاہیے۔
سید ابوالاعلی مودودی کے زمانے میں ایک واقعہ پیش آیا، اس کے بعد انھوں نے اپنی اردو کتاب الجہاد فی الاسلام لکھی۔ اس وقت وہ اپنی جوانی کی عمر میں تھے۔ چنانچہ انھوں نے جوش و خروش کے انداز میں ایک ایسی کتاب لکھی جس میں جہاد بمعنی قتال کی زبردست وکالت کی گئی تھی۔ حالاں کہ اگر وہ اس وقت پختگی کی عمر میں ہوتے تو شاید وہ ایک اور کتاب لکھتے جس کا عنوان یہ ہوتا، الدعوۃ الی اللہ۔ اس کتاب میں وہ پر امن دعوت کی اہمیت بتاتے اور مسلمانوں کو راغب کرتے کہ وہ پرامن دعوت کے اصول پر اپنے عمل کی منصوبہ بندی کریں۔ یہی معاملہ دوسرے مسلم مفکرین کے ساتھ پیش آیا۔ اب اس کا حل یہ ہے کہ اسلام کو سمجھنے کے لیے براہ راست طور پر قرآن و سنت کا مطالعہ کیا جائے ،نہ کہ بعد کے زمانے میں لکھی ہوئی کتابوں کا۔
امن ایک اقدام
اسلام میں جنگ، دفاع کا اشو (issue of defence) ہے۔ اور امن، اقدام کا اشو (issue of advancement) ہے۔ اسلام میں اہل ایمان کو اجازت نہیں کہ وہ اپنی طرف سے جنگ چھیڑیں ۔ البتہ جہاں تک امن کا تعلق ہے ، اہل ایمان کو یہ کرنا ہے کہ وہ اسلام کی اشاعت کے لیے پرامن اقدام کا منصوبہ بنائیں۔ اسلام کا یہ اصول فطرت کے قانون پر مبنی ہے۔
فطرت کے قانون کے مطابق، جنگ کے ذریعہ کسی مثبت نتیجہ کا حصول ممکن نہیں۔ کیوں کہ جنگ سے کسی بات کا فیصلہ نہیں ہوتا، نہ ہارنے کی صورت میںاور نہ جیتنے کی صورت میں۔ جنگ میں اگر فتح حاصل ہو، تب بھی ہارنے والے فریق کے دل میں انتقام کا جذبہ بھڑک اٹھتا ہے۔ اس لیے جنگ میں فتح بھی ایک نئی جنگ کا آغاز بن جاتی ہے۔
پر امن منصوبہ بندی ہمیشہ اپنا کام کرتی ہے، پرامن منصوبہ بندی کوئی نیا مسئلہ پیدا نہیں کرتی۔ وہ صرف مسئلہ کے حل کی طرف لے جاتی ہے۔ پر امن منصوبہ بندی کے تحت اقدام کرنا، ایک ایسے انجام کی طرف لے جاتا ہے جہاں جنگ کا خاتمہ ہوجائے اور لوگوں کو پر امن سرگرمیوں کے لیے مواقع (opportunities) حاصل ہوجائیں۔
اسلام کے دورِ اول کی تاریخ اس اصول کی تصدیق کرتی ہے۔ پیغمبرِ اسلام صلى اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں اہل ایمان اور ان کے مخالفین کے درمیان کچھ لڑائیاں ہوئیں۔ مثلاً غزوۂ بدر، غزوۂ احد، غزوۂ حنین، وغیرہ۔ مگر ان لڑائیوں سےٹکراؤ ختم نہیں ہوا۔ گویا باعتبارِ نتیجہ عمل کی کوئی حد نہیں آئی۔ قرآن میں فتح کی آیت صرف صلح حدیبیہ کے بعد نازل ہوئی۔ فتح کا مطلب ہے ٹکراؤ کا خاتمہ اور پرامن سرگرمیوںکے لیے موافق ماحول پیدا ہوجانا۔کسی اور غزوہ کے بعد فتح کی آیت نہیں اتری۔
حدیبیہ کا واقعہ 6 ھجری میں پیش آیا۔ اس موقع پر فریق ثانی کی کوشش صرف یہ تھی کہ رسول اور اصحابِ رسول مکہ میں داخل نہ ہوں اور عمرہ کیے بغیر واپس مدینہ چلے جائیں۔ مگر پیغمبرِ اسلام صلى اللہ علیہ وسلم نے خود اپنی طرف سے امن (peace) کی بات چیت (negotiation) شروع کی۔ اس معاملہ میں آپ اس آخری حد تک گیے کہ فریق ثانی کی تمام شرطوں کو یک طرفہ طور پر منظور کر لیا۔ صرف اس مقصد کے لیے کہ دونوں فریقوں کے درمیان صلح ہوجائے اور معتدل حالات قائم ہوجائیں۔ تاکہ کھلے طور پر اسلام کے دعوتی مشن کو جاری کیا جاسکے۔
پیغمبر اسلام صلى اللہ علیہ وسلم نے جب اس طرح فریقِ ثانی سے یک طرفہ شرطوں پر صلح کرلی تو اس کے بعد قرآن کی سورہ نمبر 48 نازل ہوئی۔ اس میں پیشگی طور پر یہ اعلان کردیا گیا کہ یہ پرامن مصالحت باعتبارِ نتیجہ ایک فتح مبین (clear victory) ہے۔ قرآن کی یہ پیشگی خبر صرف چند سالوں میں واقعہ بن گئی، پر امن اقدام باعتبارِ نتیجہ فتح ثابت ہوا۔
اسلام میں جنگ مجبوری کے تحت وقتی دفاع کے لیے ہوتی ہے۔ اس کے برعکس، پر امن منصوبہ اس لیے ہوتا ہے کہ سماج کے اندر مستقل طور پر اعتدال کی حالت قائم ہوجائے۔ ہر فرد کے لیے تعمیری سرگرمیوں کے مواقع حاصل ہوجائیں۔
واپس اوپر جائیں

خبرنامہ اسلامی مرکز242—

l سی پی ایس (کولکاتہ) ٹیم کی ممبر مس شبینہ علی نے آئس اسکیٹنگ رنک اکزبیشن کے شرکاء اور زائرین سے انٹرایکشن کیا اور ان کو قرآن کا ترجمہ اور دعوتی لٹریچر فراہم کیا۔ اکزبیشن میں شریک ہونے والی ایک ٹیچر مس رِچا نرولا نے قرآن کی دو کاپیاں حاصل کیں، ایک اپنے لیے اور دوسری اپنے شاگردوں کے لیے تاکہ وہ قرآن کی تعلیم ان کے اندر عام کرسکیں۔یہ نمائش 1-3 دسمبر 2016 کے درمیان کولکاتامیں منعقد ہوئی تھی۔
l 21-23 ستمبر2015 کو بنگلورکے سی ای او سینٹر میں ایک پروگرام منعقد ہوا۔ اس پروگرام میں محترمہ فاطمہ سارہ (سنٹر فار پیس، بنگلور) نےڈاکٹر فریدہ خانم کی نمائندگی کرتے ہوئے ایک پیپر پڑھا۔ اس کا عنوان تھا :
'Religious Freedom and Conversion in India Today—The Islamic Perspective'
اس کے بعد سوال وجواب کا سیشن ہوا۔ پروگرام کے بعد تمام حاضرین کو انگلش ترجمہ قرآن اور دعوتی لٹریچر کا ایک ایک سیٹ دیا گیا۔ SAIACS Consultation کے تحت اس قسم کا یہ چوتھا پروگرام تھا۔ انگلش میگزین اسپرٹ آف اسلام فروری 2016 میں مذکورہ پیپر اور سوال و جواب کے خلاصہ کو پڑھا جاسکتا ہے۔
l 4 دسمبر سے 15 دسمبر 2015 تک پٹنہ کے گاندھی میدان میں پٹنہ بک فیئر منعقد ہوا۔اس بک فیئر میں گڈورڈ بکس نے شرکت کی۔ اسٹال کا انتظام سنٹر فار پیس اینڈ آبجکٹیو اسٹڈیز، بہار وجھارکھنڈ کے ممبران نے کیا تھا۔ان حضرات نے بک فیئر میں آنے والے لوگوں سے انٹرایکشن کیا اوران کے درمیان دعوہ لٹریچر تقسیم کیا۔ گڈورڈ بکس کی جانب سے مولانا محمد یعقوب عمری نے اس بک فیر میںشرکت کی ۔
l 11 دسمبر 2015 کو فرانس کے نوجوانوں پر مشتمل ایک انٹرفیتھ ٹور گروپ نے صدر اسلامی مرکز کی ملاقات کی اور انٹرفیتھ اور بقائے باہم (coexistence) کے موضوع پرصدر اسلامی مرکز کا انٹرویو ریکارڈ کیا۔انٹرویو کے بعد تمام لوگوں کوانگلش ترجمہ قرآن اور وہاٹ از اسلام ( فرنچ) اور دوسرے دعوتی لٹریچر دیئے گئے۔ تمام لوگوں نے اس کو خوشی اور شکریہ کے ساتھ قبول کیا۔
l 13 دسمبر 2015 کو جناب ایس ایف صدیقی نے اورنگ آباد کے ایک ہاسپٹل میں صدر اسلامی مرکز کا قرآن ترجمہ (مراٹھی) لوگوں کے درمیان تقسیم کیا۔ ہاسپٹل کے ایک ڈاکٹر نے اپنے دلی تاثر کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ میں قرآن کے ایک اچھے ترجمے کی تلاش میں تھا۔ میں نے مولانا کے بارے میں سنا تھا لیکن ان کو کبھی پڑھا نہیں۔ میں قرآن کو اپنے خاندان کے ممبروں کے ساتھ پڑھوںگا۔ آپ کا بہت بہت شکریہ۔
l یوپی کے گورنر جناب رام نائک صاحب نے صدر اسلامی مرکز کی نئی انگریزی کتاب قرآنک وزڈم کا راج بھون میں اجراء کیا۔ انھوں نے صدر اسلامی مرکز کے زیر سرپرستی امن و شانتی اور روحانیت کے لیے ہورہی کوششوں پر اپنائیت اور خوشی کا اظہار کیا ۔سی پی ایس ، لکھنؤ اور سہارن پور کے ممبران جیسے پنڈت ڈاکٹر ہرش وردھن شرما، جج مس الپنا تلوار،مسٹر انیس خان، مسٹر دانش خان اور حافظ محمد سلمان نوری ، وغیرہ راج بھون (لکھنؤ) میں ہونے والے اس پروگرام میں شریک ہوئے تھے۔پروگرام کے بعد گورنر موصوف کو تذکیر القرآن (انگلش) کے ساتھ دوسرے دعوتی لٹریچر کا ایک سیٹ بطور تحفہ دیا گیا۔اس کے علاوہ راج بھون کے تمام اسٹاف کو ہندی قرآن پیش کیاگیا، جسے تمام لوگوں نے خوشی کے ساتھ قبول کیا۔ڈاکٹر محمد اسلم خان نے گورنر موصوف کو سی پی ایس سہارن پور کےزیر اہتمام ہونے والے اسپریچول پروگرام میں شرکت کی دعوت دی۔ (ڈاکٹر محمد اسلم خان ، سہارن پور)
l 22دسمبر 2015 کو مز سونیا سرکار (اسسٹنٹ اڈیٹر، دی ٹیلی گراف) نے صدر اسلامی مرکز کا ایک انٹرویو لیا۔ انٹرویو کا موضوع تھا، انتہا پسندی ;کو روکنے میں سوشل میڈیا کا استعمال ۔ انٹرویو کے بعد اڈیٹر موصوفہ نے سی پی ایس ممبروں سے قرآن سے متعلق مختلف جانکاری حاصل کی، جس میں سب سے اہم جہاد اور پیس تھا۔ انٹرویو کے بعد انٹرویور کو صدر اسلامی مرکز کی کتابوں کا ایک سیٹ دیا گیا۔
l نئے سال 2016کے موقع پر ہندستان ٹائمس نے پنجاب ہوٹل میں ایک انعامی مقابلہ کا انعقاد کیا تھا۔اس میں سہارن پورکے ڈی ایم مسٹر پون کمار ، کمشنر سٹی مسٹر نیرج کمار اور این ایم سی پرنسپل ڈاکٹر اسلم خان نے مہمان خصوصی کے طورپر شرکت کی۔ اس پروگرام میں سی پی ایس ٹیم کے ممبران نے شرکت کی اور تمام شرکاء کو سالِ نو کے تحفے کے طور پر انگلش ترجمہ قرآن اور اسپرٹ آف اسلام میگزین دیا۔ ہندستان ٹائمس کے صدر مسٹر گردیال نے تمام لوگوں کا شکریہ ادا کیا۔
l 16 دسمبر 2015کو اسپیکنگ ٹری (ٹائمس آف انڈیا کے آن لائن و آف لائن اسپریچول اخبار ) کی ایڈیٹوریل ٹیم نے صدر اسلامی مرکز سے ملاقات کی۔ اس ملاقات کا مقصد تھا ، کرسمس کی مناسبت سے شائع ہونے والے اخبار کے اسپیشل نمبر میں صدر اسلامی مرکز سےگیسٹ اداریہ تحریر کروانا۔ چناں چہ20 دسمبر 2015کے شمارہ میں یہ اداریہ شائع ہوا، اور کافی پسند کیا گیا۔اس کا ٹائٹل تھا'Love is the best formula': ۔ اس کے علاوہ ڈاکٹر فریدہ خانم، اور ڈاکٹر ثانی اثنین خان کے مضامین بھی اس شمارہ میں شائع ہوئے۔ ان تمام مضامین کو اسپیکنگ ٹری کے ویب سائٹ کے علاوہ سی پی ایس انٹر نیشنل کی ویب سائٹ پر بھی پڑھا جاسکتا ہے۔
l جمشید پور سے جناب عیاض احمد صاحب لکھتے ہیں کہ آج گائتری پریوار (جمشید پور)کے ٹرسٹی جناب تاراچند اگروال صاحب سے ملاقات ہوئی انھوں نے ہمارے مشن کے بارے میں جاننا چاہا ۔ان کی خواہش پر دعوتی لٹریچر ان کو دیا گیا۔ قرآن کا ہندی ترجمہ دیکھ کر وہ بہت خوش ہوئے اور کہا کہ مجھے اس کی بہت دنوں سے ضرورت تھی ۔
l 8 جنوری 2016 کو صدر اسلامی مرکز نے جرمنی کے ایک وفد سے انڈیا انٹرنیشنل سنٹر، نئی دہلی میں خطاب کیا۔ یہ پروگرام سی پی ایس انٹرنیشنل نے جرمن وفد کے لیے منعقد کیا تھا۔ صدر اسلامی مرکز نے ’’اسلام میں امن کا تصور‘‘ کے موضوع پرخطاب کیا۔ خطاب کے بعد سوال و جواب کا سیشن تھا۔ اس کے علاوہ سی پی ایس کے دوسرے ممبران مس ماریہ خان اور مس صوفیہ خان نے’’آئی ایس آئی ایس کی حقیقت‘‘ اور’’جہاد، اسلام میں‘‘کے موضوع پر بالترتیب خطاب کیا۔ خطاب کے بعد وفد کے تمام شرکاء کو دوسرے دعوتی لٹریچر کے ساتھ جرمن قرآن پیش کیا گیا۔ تمام لوگوں نے خوشی اور شکریہ کے ساتھ اسے قبول کیا۔
l ذیل میں ان تبدیلیوں کا ذکر کیا جارہا ہے ،جو الرسالہ مشن کے ذریعے لوگوں میں آئی ہیں:
السلام علیکم، شکریہ مولاناصاحب! میں پچھلے بارہ تیرہ برس سے الرسالہ اور دوسری کتابوں سے استفادہ کر رہا ہوں. آپ کی تحریریں اور آپ کی آراء نےمتعددمواقع پر اورمختلف مسائل میں میری رہنما\ئی کی ہے.جزاک اللہ احسن الجزاء.(محمد نوشادعالم قاسمی)
1. I read the book Quranic Wisdom by Maulana Wahiduddin Khan. In the book, there is an article called Focused Thinking. This article has had a great impact on me and now I am a changed person.(Rustam Ali)
2. If I were asked what was the greatest achievement in my life, I would certainly say you and your literature, for it is you who have helped me realize God. (Imteyaz Ahmad)
3. Maulana's new book The Age of Peace was reviewed by Somali Chakrabarti in www.newageislam.com, 26 December 2015. Here are some excerpts from the review: 'The Age of Peace not only upholds the need for peace, it also provides the rationale for establishing peace, and outlines the general principles based on which it is possible to establish peace in the society. Backed by innumerable examples from different parts of the world, from the past centuries to the modern age, the author advocates the use of non-confrontational method, peaceful activism, and spreading the message of peace through education and awareness. I had received a copy of this book from a blogger friend and after going through it, I found that it is a very relevant book for all particularly the youth in the turbulent times that we are living in.
واپس اوپر جائیں