Pages

Monday, 1 May 2017

Al Risala | May 2017 (الرسالہ، مئی)

1

-کائناتی نشانیاں

2

- ایمان بالغیب

3

- انسان کا المیہ

4

- جنت کیا ہے

5

- حفاظت دین

6

- خدائی منصوبہ

7

- ہدایت ربانی

8

- لمبی عمر

9

- ہار جیت کا دن

10

- اسلام مکمل ضابطہ ٔ حیات

11

- حکم اللہ کا

12

- دورِ زوال

13

- انسانی تاریخ

14

- علوم کی معرفت

15

- اسلام کی عالمی اشاعت

16

- اسلامی جہاد

17

- غزوۂ ہند

18

- عرب جاہلیت

19

- جدال غیر احسن

20

- اجتہاد کا مسئلہ

21

- جزئیات، کلیات

22

- خدا کا دین

23

- خوارج کا کیس

24

- خالی از معنی کلام

25

- خالص ایمان

26

- خوف اور حکمت

27

- دانش مندانہ طریقہ

28

- گاندھی کا آدرش

29

- مصیبت یا تحریک عمل

30

- سوال و جواب

31

- خبرنامہ اسلامی مرکز


کائناتی نشانیاں

قرآن کی ایک آیت ان الفاظ میں آئی ہے: وَکَأَیِّنْ مِنْ آیَةٍ فِی السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ یَمُرُّونَ عَلَیْہَا وَہُمْ عَنْہَا مُعْرِضُونَ (12:105)۔ یعنی آسمانوں اور زمین میں کتنی ہی نشانیاں ہیں جن پر ان کا گزر ہوتا رہتا ہے اور وہ ان پر دھیان نہیں کرتے۔ اس آیت میں زمین و آسمان سے مراد وہ عالم ہے جس کو کائنات کہا جاتا ہے۔ آیات سے مراد نشانیاں (signs) ہیں۔
اصل یہ ہے کہ کائنات میں جو چیزیں ہیں، ان سب کی تخلیق اس طرح کی گئی ہے کہ ہر چیز انسان کے لیے عملاً ایک سبق بن گئی ہے۔ تمام چیزیں روحانی حقیقتوں (spiritual realities) کی مادی تمثیلات (material illustrations) ہیں۔ انسان کو چاہیے کہ وہ ان سے نصیحت لے، اور اپنے آپ کو خدا کے راستے پر قائم رکھے۔
مثلاً وسیع خلا میں ستاروں کی گردش اس بات کی تمثیل ہے کہ اجتماعی زندگی میں لوگوں کو اپنی سرگرمیاں اس طرح جاری کرنا چاہیے جس میں ایک دوسرے کے ساتھ ٹکراؤ پیش نہ آئے۔ گلاب کا درخت بتاتا ہے کہ اگر تم کانٹوں کے پڑوس میں ہو، تب بھی تم پھول بن کر رہنا سیکھو۔ ہرا بھرا درخت بتاتا ہے کہ تم اپنے آپ کو جمود (stagnation) سے بچاؤ، بلکہ ہمیشہ اپنے آپ کو ترقی دیتے رہو۔
شہد کی مکھی اس معاملے میں ایک انوکھی مثال ہے۔ شہد کی مکھی پہاڑوں اور جنگلوں میں اڑتی ہے۔ وہاں مختلف قسم کی چیزیں ہیں، لیکن شہد کی مکھی صرف پھول پر جاکر بیٹھ جاتی ہے، اور پھر خاموشی کے ساتھ پھول سے اس کانکٹر (nectar) نکالتی ہے، اور اڑ جاتی ہے۔
اس طرح کی ایک مثال دودھ دینے والے جانور ہیں۔ دودھ دینے والے جانوروں کو انسان گھاس اور درخت کی پتیاں کھلاتا ہے۔ لیکن دودھ دینے والے جانور انسان کو اس کے بدلے میں جو چیز لوٹاتے ہیں، وہ دودھ ہے۔ اس طرح دودھ دینے والے جانور یہ سبق دے رہے ہیںکہ دوسرا شخص تم کو خواہ ’’گھاس ‘‘ دے، مگر تم اس کو اس کے جواب میں دودھ کا تحفہ لوٹاؤ۔
واپس اوپر جائیں

ایمان بالغیب

قرآن میں ہدایت یافتہ لوگوں کی یہ صفت بیان کی گئی ہے کہ وہ غیب پر ایمان رکھنے والے(البقرۃ: 3) ہوتے ہیں۔ اس کے مطابق ، ہدایت یافتہ لوگوں کی پہچان یہ ہے کہ وہ غیب پر ایمان رکھنے والے بن جائیں۔یہاں ایمان سے مراد لفظی اقرار نہیں ہے، بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ آدمی کو غیب کے اوپر پورا یقین حاصل ہوجائے۔
یہ یقین کسی آدمی کو کس طرح حاصل ہوتا ہے۔ وہ اس وقت حاصل ہوتا ہے جب کہ آدمی اس معاملے میں مطالعہ اور تدبر کا طریقہ اختیار کرے۔ اس موضوع پر اس کا سنجیدہ غور وفکر اتنا بڑھا ہوا ہو کہ وہ اس کے نزدیک یقینی علم کا درجہ حاصل کرلے۔گویا کہ ایمان بالغیب ایک عمل (process) کے نتیجہ میں حاصل ہوتا ہے۔ آدمی پہلے غیبی حقیقت کو دریافت کرتا ہے۔ پھر یہ دریافت ترقی کرکے اس کے لیے یقین کا درجہ حاصل کرلیتی ہے۔ اس کے بعد آدمی کو وہ اعلیٰ معرفت حاصل ہوتی ہے، جس کو ایمان بالغیب کہا گیا ہے۔
ایمان کسی قسم کے تلفظِ کلمہ کا نام نہیں ہے، بلکہ وہ گہرے تدبر کے ذریعہ حاصل ہونے والی معرفت کا نام ہے۔ جب کوئی آدمی اس معرفت کے درجے تک پہنچتا ہے تو غیب اس کے لیے شہود بن جاتا ہے۔ وہ تخلیق میں خالق کو دریافت کرلیتا ہے۔ جب کسی آدمی کو یہ معرفت حاصل ہوتی ہے تو اس کے ساتھ ہی وہ جان لیتا ہے کہ تخلیق کا مقصد کیا ہے۔ اور اس مقصد تخلیق کے مطابق اس کو دنیا میں کس طرح کی زندگی گزارنا ہے۔ اس کی ذمہ داریا ں کیا ہیں، اور اس کے حقوق کیا ۔ وہ زندگی کی معنویت کو بھی جان لیتا ہے، اور موت کی معنویت کو بھی۔ اس کو دنیا اور آخرت دونوں کی حقیقت کا گہرا علم حاصل ہوجاتا ہے۔ اس معرفت (realization) کے نتیجے میں جو انسان بنتا ہے، اسی انسان کا نام مومن ہے۔ مومن ایک تخلیقی انسان (creative person) ہوتا ہے، اس سے کم کسی چیز کو مومن یا ایمان سمجھنا ، مومن اور ایمان دونوں کا کم تر اندازہ ہے۔
واپس اوپر جائیں

انسان کا المیہ

انسان سے یہ مطلوب ہے کہ وہ جنت کا طالب بنے۔ وہ آخری حد تک جنت کا خواہش مند بن جائے۔ لیکن عملاً ایسا نہیں ہوتا۔ چناں چہ حدیث میں آیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:ما رأیت مثل الجنة، نام طالبہا (المعجم الاوسط للطبرانی، حدیث نمبر1638) ۔ یعنی میں نے جنت کی مانند ایسی کوئی چیز نہیں دیکھی کہ اس کا طلب گار سوتا رہے۔
انسان کا ہیبیٹیٹ (habitat) جنت ہے۔ انسان کو حقیقی خوشی صرف جنت میں مل سکتی ہے۔ مگر جنت موجودہ آنکھوں سےانسان کو دکھائی نہیں دیتی۔ اس لیے انسان جنت کا طالب بننے کے بجائے دنیا کا طالب بن جاتا ہے۔ بچپن کا دور انسان کے لیے بےخبری کا دور ہے۔ جوانی کی عمر میں وہ غیب کی جنت کے بجائے، شہود کی جنت کو اپنا مقصود بنا لیتا ہے۔ بڑھاپے کی عمر میں یہ ہونا چاہیے کہ انسان اپنی عمر بھر کی غلطیوں کی تلافی کرے، اور حقیقی معنوں میں جنت کا طالب بن جائے۔ مگر یہاں بھی وہ اس سے محروم رہتا ہے۔
بڑھاپے کی عمر ایک ایسی عمر ہے، جب کہ انسان کے اندر سے امنگ کا خاتمہ ہوجاتا ہے۔ اس کے اندر پہلے کی طرح جوش و جذبہ باقی نہیں رہتا۔ وہ ایک ایسا انسان بن جاتا ہے جو انسان ہو لیکن وہ جوش و خروش کی صفت سے خالی ہو۔ انسان کی یہ حالت دوبارہ بڑھاپے کی عمر میں بھی اس کو جنت کا طالب بننے سے محروم کردیتی ہے۔ اس کی ساری توجہ اس میںلگ جاتی ہے کہ وہ اپنے آپ کو سنبھالے۔ اپنی بقیہ عمر کو کسی نہ کسی طرح گزار دے۔
یہی تقریباً ہر انسان کی کہانی ہے۔ ہرانسان اپنی فطرت کے اعتبار سے اس طرح پیدا کیا گیا ہے کہ وہ جنت کا طالب بنے۔ وہ جنت کو اپنا منزل مقصود بنائے، لیکن مختلف اسباب سے وہ اپنی پوری عمر غفلت میں گزار دیتا ہے۔ وہ اپنی عمر کے پہلے حصے میں بھی جنت سے غافل رہتا ہے، اور اپنی عمر کے آخری حصہ میں بھی۔
واپس اوپر جائیں

جنت کیا ہے

جنت ہر انسان کے لیے ایک معلوم چیزہے۔ ہر انسان اپنی پیدائش کے اعتبار سے معیار پسند (perfectionist) ہوتا ہے۔ اپنے اس پیدائشی مزاج کی بنا پر ہر آدمی اپنی پسند کی دنیا (desired world) کی تلاش میں رہتا ہے۔ لیکن ہر انسان آخرکار اس دریافت تک پہنچتا ہے کہ اس کی پسند کی دنیا یہاں موجود نہیں ۔
انسان کی فطرت اور خارجی دنیا کے درمیان یہ عدم مطابقت (disparity) ایک سراغ (clue) ہے۔ آدمی اگر اس سراغ پر غور کرے تو وہ یقینا اس دنیا میں ایک دریافت تک پہنچے گا۔ وہ یہ ہے کہ خالق کی تخلیق جب پوری کائنات میں مکمل ہے۔ تو انسان کی زندگی میں یہ خلل (flaw) کیوں۔ یہی دریافت جنت میں داخلے کا آغاز ہے۔ موجودہ دنیا میں انسان دریافت کے درجے میں جنت میں داخل ہوتا ہے،اور آخرت میں وہ واقعہ کے درجے میں جنت میں داخل کیا جائے گا۔
جنت اس انسان کے لیے ہے جو شعور کے اعتبار سے اتنا زیادہ ترقی یافتہ ہو کہ وہ اسی دنیا میں جنت کی معرفت حاصل کرلے۔ اس حقیقت کو قرآن میں ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے:وَیُدْخِلُہُمُ الْجَنَّةَ عَرَّفَہَا لَہُمْ (47:6)۔ جنت معرفت کی قیمت ہے، اور معرفت صرف اس انسان کو حاصل ہوتی ہے، جو جنت کا اتنا زیادہ حریص ہو کہ وہ اس کا متلاشی (seeker)بن جائے۔ یہاں تک کہ وہ اسی دنیا میں معرفت کے درجے میں جنت کو پالے۔
جنت کامل معنوں میں ایک مثبت دنیا (positive world) ہے۔ جنت کی معرفت کی پہچان یہ ہے کہ آدمی مکمل معنوں میں مثبت سوچ (positive thinking) کا حامل بن جائے۔ دوسرے انسانوں کے لیے کسی بھی درجے میں اس کے اندر نفرت کا جذبہ باقی نہ رہے۔ وہ جتنا زیادہ حریص اپنے خیرکے لیے ہے، اتنا ہی زیادہ حریص وہ دوسروں کے خیر کے لیے بن جائے۔منفی سوچ (negative thinking) جہنمی کلچر کی پہچان ہے، اور مثبت سوچ جنتی کلچر کی پہچان ۔
واپس اوپر جائیں

حفاظت دین

قرآن کی ایک آیت کے الفاظ یہ ہیں: إِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّکْرَ وَإِنَّا لَہُ لَحَافِظُونَ (15:9)۔ یعنی ہم نے اس یاد دہانی کو اتارا ہے اور ہم ہی اس کی حفاظت کرنے والے ہیں۔ اس آیت میں عام طور پر مفسرین نے ذکر سے قرآن کو مراد لیا ہے۔ لیکن توسیعی معنی میں اس سے مراد پورا دین ہے۔یہ ایک حقیقت ہے کہ اللہ نے دین اسلام کو نہ صرف نازل کیا ، بلکہ اس کی حفاظت کی ذمہ داری بھی خود اپنے اوپر لے لی۔ تاریخ بتاتی ہے کہ اللہ کا یہ وعدہ کامل معنوں میں پورا ہوا۔ دین اسلام پوری طرح ایک محفوظ دین ہے۔ انسان کے لیے بھٹکنے کا دروازہ ہمیشہ کھلا رہتا ہے، لیکن جو شخص سنجیدگی کے ساتھ دین حق کو جاننا چاہے اس کے لیےکوئی رکاوٹ نہیں۔
دین اسلام کی حفاظت کوئی فضیلت کی بات نہیں ہے، بلکہ اس کی حفاظت ضرورت کی بات ہے۔ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے آخری نبی تھے۔ آپ کے بعد اللہ کوئی نبی بھیجنے والا نہیں۔ اس واقعہ کا تقاضا تھا کہ دین اسلام کو ایک محفوظ دین بنا دیا جائے۔ کیوں کہ اللہ کا دین اللہ کے نبی کے ذریعہ آنے والی ہدایت کو جاننے کا واحد ذریعہ ہوتا ہے۔ پیغمبر کی غیر موجودگی میں اللہ کا دین پیغمبر کا بدل ہوتا ہے۔ اس لیے اللہ نے جب ختم نبوت کا فیصلہ فرمایا تو اسی وقت یہ بھی فیصلہ فرمادیا کہ آخری نبی کے ذریعہ بھیجا جانے والا دین ہمیشہ اپنی اصل حالت میں محفوظ رہے گا۔ اگر ایسا نہ ہوتا تو بعد کے انسانوں کے لیے صراط مستقیم کو جاننے کا کوئی مستند ذریعہ موجود نہ ہوتا۔
اس صورت حال کا دوسرا پہلو وہ ہے جس کا تعلق دین کی حامل امت سے ہے۔ دین محفوظ ہونے کے باوجود یہ ضرورت باقی ہے کہ کوئی انسانی گروہ ہو، جو ہر دور میں دین کی اشاعت کا کام کرتا رہے۔یہ گروہ امت مسلمہ ہے، جس کو پرامن دعوت الی اللہ کا یہ کام بلاتوقف قیامت تک انجام دینا ہے۔ معاملے کا یہ پہلو امت مسلمہ کی ذمہ داری کو بڑھادیتا ہے۔ یعنی امت مسلمہ کو بعد کے زمانے میں دعوت کا وہی کام انجام دینا ہے، جو پیغمبر نے اپنے زمانے میں انجام دیا ۔
واپس اوپر جائیں

خدائی منصوبہ

قرآن میں بتایا گیا ہے کہ اللہ نے فرقان (قرآن) کو اپنے بندے پر اتارا تاکہ وہ سارے عالم کے لئے آگاہ کرنے والا بنے (25:1) ۔اس آیت کے مطابق اول دن سے یہ مطلوب تھا کہ قرآن تمام دنیا کے انسانوں تک پہنچے۔ اس کی جو صورت مقرر کی گئی، وہ قرآن میں رسول کی زبان سے اس طرح بیان کی گئی ہے: اور یہ قرآن میری طرف وحی کیاگیا ہے تاکہ میں اس کو تم لوگوں تک پہنچاؤں اور جن کو یہ قرآن پہنچے وہ اس کو دوسرے لوگوں تک پہنچائیں (6:19)۔
یہ گویا ایک چین ڈسٹری بیوشن (chain distribution) کا معاملہ ہے۔ قرآن رسول کے ذریعہ صحابہ تک پہنچے، صحابہ تابعین تک پہنچائیں، تابعین تبع تابعین تک پہنچائیں۔ اس طرح اہلِ ایمان کی ہر نسل اپنے ہم زمانہ لوگوں تک پہنچاتی رہے۔ یہاں تک کہ قیامت تک پیدا ہونے والے تمام انسانوں تک قرآن پہنچ جائے۔موجودہ زمانہ کے مسلمان عام طورپر شکایت کی بولی بولتے ہیں۔وہ کہتے ہیں کہ ہم مظلوم ہیں۔ ہمارے دشمن ہمارے خلاف سازش کررہے ہیں۔ یہ ساری باتیں غیر متعلق ہیں۔ اہلِ ایمان پر فرض ہےکہ وہ اس قسم کی منفی باتوں کو چھوڑ دیں۔ وہ ہر شکایت کو اللہ کے حوالے کردیں اور اپنے آپ کو مکمل طورپر قرآن کی اشاعت کے کام میں لگا دیں۔ اصحابِ رسول اپنے زمانہ میں قرآن کے مقری بنے ہوئے تھے۔ اب پرنٹنگ پریس کے زمانہ میں ہر مسلمان کو قرآن کا ڈسٹری بیوٹر بن جانا چاہئے۔ ان کو یہ کرنا چاہیے کہ ہر مسلمان اپنے ساتھ مطبوعہ قرآن کے نسخے رکھے اور جس سے ملاقات ہو اس کو یہ کہہ کر پیش کردےThis is a divine gift for you:
قرآن کو لوگوں کی قابل فہم زبان میں پھیلانا امت مسلمہ کا ایک لازمی فریضہ ہے۔ اس فریضے کی ادائیگی کے بغیر امت مسلمہ کا امت مسلمہ ہونا مشتبہ ہوجاتا ہے۔ کوئی بھی دوسرا عمل امت مسلمہ کے لیے اس فریضے کا بدل نہیں بن سکتا۔ اس معاملہ میں کوئی بھی عذر (excuse)اللہ رب العالمین کے یہاں قابل قبول ہونے والا نہیں۔
واپس اوپر جائیں

ہدایت ربانی

قرآن کی ایک رہنما آیت ان الفاظ میں آئی ہے: وَالَّذِینَ جَاہَدُوا فِینَا لَنَہْدِیَنَّہُمْ سُبلَنَا وَإِنَّ اللَّہَ لَمَعَ الْمُحْسِنِینَ (29:69)۔یعنی جن لوگوں نے ہمارےلیے کوشش کی ، ان کو ہم اپنے راستے دکھائیں گے۔ اور یقیناً اللہ محسنین کے ساتھ ہے۔
قرآن کی اس آیت میں بتایا گیا ہے کہ اللہ کی راہ میں کوشش کرنے سے انسان کے لیے راستے کھلتے ہیں۔ اس کا مطلب کیا ہے۔ اس کا ایک مطلب یہ ہے کہ آدمی دین کے نام پر کوئی کوشش شروع کرے اور کچھ دنوں کے بعد معلوم ہوکہ اس کی کوشش عملاً نتیجہ خیز نہیں ہورہی ہے تو اس کو چاہیے کہ وہ اپنے پورے معاملے پر نظر ثانی (rethinking) کرے۔ اگر وہ کھلے ذہن کے ساتھ ایسا کرے ، تو یقینا اس کو یہ رہنمائی ملے گی کہ وہ کون سا زیادہ موثر طریقہ ہے جو زیادہ نتیجہ خیز بن سکتا ہے۔ جو ایسا نہ کرے اس کا انجام یہ ہوگا کہ وہ آخر کار ایک بند گلی (blind alley) میں پھنس کر رہ جائے ۔ ایسے لوگوں کا ماضی بھی برباد اور مستقبل بھی برباد۔
موجودہ زمانے میں تمام مسلمانوں کا حال یہی ہوا ہے۔ موجودہ زمانے میں مسلمانوں نے نو آبادیاتی نظام (colonialism) کے خلاف مسلح جدو جہدکی۔ لیکن یہ جدوجہد نتیجہ کے اعتبار سے مکمل طور پر ناکام ثابت ہوئی۔ اسی طرح انھوں نےفلسطین میں اسرائیل کے خلاف زبردست تحریک چلائی۔ کشمیر میں انھوں نے اپنے مفروضہ دشمن کے خلاف زبردست تحریک چلائی۔ اسی طرح ہر ملک میں انھوں نے کسی کو اپنا دشمن فرض کیا، اور اپنے مفروضہ دشمن کے خلاف پر شور تحریکیں چلائیں۔ لیکن ہر ملک میں ان کی تحریکیں ، باعتبار نتیجہ کامل طور پرناکام ثابت ہوئیں۔
قرآن کی مذکورہ آیت کے مطابق مسلمان اگر چاہتے کہ اللہ کی طرف سے کارگر رہنمائی آئے تو ان کو اپنی تحریکوں پر نظرثانی کرنا ہوگا۔ یہ نظرثانی ان کے لیے جہاد برائے خدا (Jihad for the sake of God) ہوگا۔
واپس اوپر جائیں

لمبی عمر

انسان ہمیشہ سے اس کا طالب رہا ہے کہ اس کو لمبی عمر حاصل ہو۔ اسی لیے اس موضوع پر ہمیشہ سب سے زیادہ ریسرچ کی گئی ہے۔ بادشاہ لوگ قدیم زمانے میں علم طب کی بہت زیادہ سرپرستی کرتے تھے۔ وہ سمجھتے تھے کہ علم طب ان کو لمبی عمر دے سکتا ہے۔ موجودہ زمانے میں میڈیکل سائنس کے شعبے میں سب سے زیادہ ریسرچ اسی موضوع پر ہورہی ہے۔ انسان چاہتا ہے کہ اس کو لمبی عمر (longevity) حاصل ہو۔ مگر اس شعبے میں انسان کواب تک کوئی کامیابی حاصل نہیں ہوئی۔
حقیقت یہ ہے کہ اصل مسئلہ لمبی زندگی کا نہیں ہے، بلکہ زندگی کی کوالٹی (quality) کا ہے۔ بالفرض انسان کو لمبی عمر مل جائے، اور زندگی کی کوالٹی میں بہتری نہ ہو تو لمبی عمر کا کوئی فائدہ نہیں۔ موجودہ حالت میں لمبی عمر انسان کے لیےصرف اس کے مسائل میں اضافہ کرے گی، وہ اس کے مسائل کو حل کرنے والی نہیں ۔
اصل یہ ہے کہ انسان پیدا ہوتا ہے تو وہ بچہ ہوتا ہے، پھر وہ نوجوانی کی عمر میں پہنچتا ہے۔ پھر وہ جوان ہوتا ہے۔ پھر وہ ادھیڑ عمر میں پہنچتا ہے، اس کے بعد وہ بوڑھا ہوجاتا ہے، اور اس کے بعد وہ بستر پر پڑجاتا ہے۔ اس مدت میں انسان مسلسل طور پر مختلف مسائل کی زد میں رہتا ہے: بیماری، حادثہ، بڑھاپا، وغیرہ۔ ایسی حالت میں اصل مسئلہ زندگی کی کوالٹی بڑھانے کا ہے، نہ کہ عمر کو لمبا کرنے کا۔
انسان اپنی زندگی میں جن مسائل سے دوچار ہوتا ہے،ان کا تعلق جسمانی زوال (degeneration) اور ڈی این اے (DNA) سے ہے۔ سائنٹفک ریسرچ کے مطابق، انسان کی پوری زندگی ڈی این اے سے کنٹرول ہوتی ہے، اور ڈی این اے ایک ایسی چیز ہے، جس پر انسان کو کوئی اختیار حاصل نہیں۔ انسان پر بہرحال موت آتی ہے۔ اگر ایسا ہو کہ موت کے بعد کی زندگی میں انسان اسی قانونِ حیات کا موضوع بنا رہے، جس کا موضوع وہ موت سے پہلے کی عمر میں ہوتا ہے، تو انسان کو نہ موت سے پہلے کی زندگی میں سکون حاصل ہوگا، اور نہ موت کے بعد کی زندگی میں۔
اس معاملے پر غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ انسان کے لیے اصل مسئلہ لمبی عمر کا نہیں ہے، بلکہ اصل مسئلہ یہ ہے کہ اس کو ایک نیا جسم حاصل ہوجائے، جوجسمانی زوال سے پاک ہو۔ موجودہ جسمانی وجود کےرہتے ہوئے، لمبی عمر کا کوئی فائدہ نہ موت سے پہلے کے عرصہ حیات میں ہے، اور نہ موت کے بعد کے عرصہ حیات میں۔
اس مسئلے کا حل وہ ہے جس کو قرآن میں خلق جدید (ابراہیم 19:، فاطر 16:) کہا گیا ہے۔ خلق جدید کا مطلب ہے نئی تخلیق (new creation) ۔ یعنی زوال سے پاک ایک نئے جسمانی وجود کا حاصل ہونا، اور اس قسم کی نئی تخلیق خالق کے سوا کسی اور کے قدرت میں نہیں ۔ جو لوگ لمبی عمر چاہتے ہیں، ان کو چاہیے کہ وہ فَفِرُّوا إِلَى اللَّہِ (51:50) کے طریقے پر عمل کریں۔ یعنی زیادہ سے زیادہ اللہ کو یاد کرنا، وہ زیادہ سے زیادہ اللہ کو پکارنا، زیادہ سے زیادہ اللہ سے دعا کرنا تاکہ وہ ان کو مطلوب زندگی عطا کرے۔
قرآن میں بتایا گیا ہے کہ اہل جنت جب جنت میں داخل ہوں گے تو ان کی زبان سے شکر کا ایک کلمہ ان الفاظ میں نکلے گا: الْحَمْدُ لِلَّہِ الَّذِی أَذْہَبَ عَنَّا الْحَزَنَ (35:34)۔ شکر ہے اللہ کا جس نے ہم سے غم کو دور کردیا۔ یہاں حزن (suffering)کا لفظ بہت بامعنی ہے۔ اس میں وہ تمام چیزیں شامل ہیں جو دنیا کی زندگی کو انسان کے لیے بے لذت بنا دیتی ہیں۔ اس میں ہر وہ چیز شامل ہے جو جسمانی اعتبار سے یا خارجی اعتبار سے موجودہ دنیا میں انسان کےلیے پریشانی کا سبب بنتی ہے۔ انسان کی طلب کے اعتبار سے اصل مسئلہ یہ ہے کہ اس کو حزن سے خالی زندگی حاصل ہوجائے۔ حزن کے ساتھ کوئی بھی چیز انسا ن کو خوشی دینے والی نہیں۔
جنت کے بارے میں ایک حدیثِ رسول ان الفاظ میں آئی ہے: من مات من أہل الجنة من صغیر أو کبیر یردون بنی ثلاثین فی الجنة لا یزیدون علیہا أبدا(سنن الترمذی، حدیث نمبر 2562)۔ یعنی اہل جنت میں سے ہر شخص کی عمر تیس سال کردی جائے گی۔ خواہ موت کے وقت وہ اس سے زیادہ کا ہو یا کم کا۔ ان کی عمر اس سے زیادہ کبھی نہیں ہوگی۔اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ جنت میں انسان کو اس کا وہ مطلوب مل جائے گا، جو وہ چاہتا تھا، لیکن وہ اُس کو اِس دنیا میں نہیں ملا۔ یعنی ہمیشہ کے لیے جوانی کی عمر۔ انسان صرف جوانی کی عمر میں اس قابل ہوتا ہے کہ وہ بھرپور زندگی گزار سکے۔ جوانی کی عمر ہر انسان کی سب سے زیادہ مطلوب عمر ہے۔ انسا ن کا یہ مطلوب موت سے پہلے کے عرصۂ حیات میں اس کو نہیں ملتا، لیکن موت کے بعد کے عرصہ حیات میں اس کو یہ مطلوب اعلیٰ صورت میں حاصل ہوجائے گا۔
جنت کے بارے میںایک لمبی حدیث آئی ہے۔ اس کا ایک حصہ یہ ہے: إذا صار أہل الجنة إلى الجنة ..... أتی بالموت حتى یجعل بین الجنة والنار، ثم یذبح، ثم ینادی مناد: یا أہل الجنة لا موت..... فیزداد أہل الجنة فرحا إلى فرحہم (صحیح مسلم، حدیث نمبر2850)۔ یعنی جب جنت والے جنت کی طرف چلے جائیں گے .....تو موت کو جنت اور دوزخ کے درمیان لایا جائے گا پھر اسے ذبح کیا جائے گا پھر ایک پکارنے والا پکارے گا اے جنت والو اب موت نہیں ہے..... اس سے اہل جنت کی خوشی میں مزید اضافہ ہو جائے گا ۔
انسان پیدائشی طور پر ایک مطلوب دنیا کا تصور لے کر پیدا ہوتا ہے۔ اس کی ساری امنگیں، اور اس کی ساری دوڑ دھوپ موجودہ دنیا میں اس مطلوب کو حاصل کرنے میں لگی رہتی ہیں۔ وہ مختلف چیزوں کے بارے میں یہ رائے بناتا ہے کہ وہ مل جائے تو اس کی مطلوب دنیا اس کو حاصل ہوجائے گی۔ مگر تجربہ بتاتا ہے کہ انسان نے پوری کوشش کی ، اور اس کے بعد اس چیز کو پالیا جس کو وہ پانا چاہتا تھا، تاہم آخر میں اس نے دیکھا کہ بظاہر مطلوب کو پانے کے باوجود اس کو خوشی حاصل نہ ہوسکی۔ مثلا ً اس نے مال حاصل کرنا چاہا، اور لمبی کوشش کے بعد اس نے مال حاصل کرلیا، لیکن مال اس کو اس کی مطلوب خوشی نہ دے سکا۔ اسی طرح کچھ لوگوں نے سیاسی اقتدار کو اپنا نشانہ بنایا، اور آخرکار سیاسی اقتدار حاصل کرلیا، لیکن اب اس کو معلوم ہوا کہ سیاسی اقتدار اس کو وہ چیز نہیں دے رہا ہے جو اس کا اصل مطلوب تھا۔حقیقت یہ ہے کہ انسان کی کامیابی صرف یہ ہے کہ وہ اپنے رب کو اور پھر جنت کو پالے۔ اس کے سوا کوئی اور چیز اس کو حقیقی خوشی دینے والی نہیں۔
واپس اوپر جائیں

ہار جیت کا دن

قرآن کی سورہ نمبر 64 میں بتایا گیاہے کہ قیامت کا دن یوم التغابن ہوگا۔ یعنی ہار جیت (loss and gain) کا دن۔ ہار اور جیت ہمیشہ دو فریقوں (parties)کے درمیان ہوتی ہے۔ پھر قیامت کی یہ ہار جیت کن دو فریقوں کے درمیان ہوگی۔
اس سوال کا جواب ایک اور آیت بَعْضُکُمْ لِبَعْضٍ عَدُوٌّ (2:36) میں ملتا ہے۔ اس کے مطابق یہ ہار جیت انسان اور ابلیس کے درمیان ہوگی۔ زرتشت (Zoroaster) نے کہا تھا کہ دنیا خیروشر کی طاقتوں کے درمیان مسلسل جنگ کا میدان ہے۔
The world is a perpetual battleground between good and evil forces.
لیکن تخلیقی منصوبہ کے مطابق زیادہ صحیح بات یہ ہے — دنیا انسان اور ابلیس کے درمیان مسلسل مقابلہ آرائی کا میدان ہے۔
The world is a perpetual battleground between man and Satan.
قرآن کے مطابق موجودہ دنیا امتحان گاہ (testing ground) ہے۔ اس امتحان میں ایک طرف ابلیس اور اس کا لشکر ہے جو مسلسل طورپر یہ کوشش کررہا ہے کہ انسان کو خدا کے راستہ سے ہٹا کر نفس کے راستہ پر ڈال دے۔ اب جو انسان خدا کے راستہ کو چھوڑ کر اپنے نفس کے راستے پر چلنے لگے وہ شیطان کے مقابلہ میں ہار گیا۔ اس کے برعکس جو انسان ذہنی بیداری کا ثبوت دے، جو شیطان کے بہکاوے کے باوجود خدا کے راستہ پرچلتا رہے اس نے شیطان کے مقابلہ میں جیت حاصل کی۔
ہار جیت کا یہ معاملہ اسی موجودہ دنیا میں پیش آتا ہے۔ قیامت کےدن صرف اس کا اظہار ہوگا۔ مثلاً آپ کو کسی نے مشتعل کردیا۔ اب اگر آپ امن پر قائم رہے تو آپ جیت گئے اور اگر آپ بھڑک کر تشدد پر اتر آئے تو آپ ہار گئے۔ اگر آپ کو کسی کی بات بری لگ گئی اور آپ نے اس کو نظر انداز کردیا تو آپ جیت گئےاور اگر آپ غصہ ہو کر اس سے نفرت کرنے لگے تو آپ ہار گئے۔ اگر مقابلہ کی اس دنیا میں آپ پیچھے ہوگئے، آپ نے اپنے پچھڑے پن کا ذمہ دار خود کو بتایا تو آپ جیت گئے اور اگر آپ نے پچھڑے پن کا سبب یہ قرار دیا کہ ایسا دوسروں کی سازش (conspiracy) کی بنا پر ہوا تو آپ ہار گئے۔ اگر کسی نے آپ کے اوپر حملہ کرنا چاہا ا ور آپ نے اس کو مینیج (manage)کیااور جنگ کی نوبت نہ آنے دی تو آپ جیت گئے اور اگر آپ ردّ عمل (reaction)کا شکار ہوکر اس سے لڑنے لگے تو آپ ہار گئے۔
انسان اور ابلیس کے درمیان یہ جنگ ساری عمر جاری رہتی ہے۔ یہی وہ معاملہ ہے جس کے بارےمیں انسان کو سب سے زیادہ ہوشیار رہنا چاہیے۔ ان مواقع پر جو شخص جیت گیا، آخرت میں وہ فرشتوں کی صحبت میں جگہ پائے گا۔ اور جو شخص شیطان کے بہکاوے کا شکار ہوجائے، اس کا وہ انجام ہوگا جو قرآن میں ان الفاظ میں بتایا گیا ہے۔ اللہ نے ابلیس سےخطاب کرتے ہوئے کہا تھا: لَمَنْ تَبِعَکَ مِنْہُمْ لَأَمْلَأَنَّ جَہَنَّمَ مِنْکُمْ أَجْمَعِینَ (7:18) ۔یعنی انسانوں میں سےجو کوئی تیری راہ پر چلے گا تو میں تم سب سے جہنم کو بھر دوں گا۔
ت ت ت ت ت ت ت
موجودہ دنیا میں آدمی خواہ کچھ بھی حاصل کرلے لیکن کسی نہ کسی اعتبار سے اس میں غم کا پہلو شامل رہتا ہے— جسمانی تکلیف، نفسیاتی پریشانی، کھونے کا اندیشہ، حادثہ، بیماری، تکان(boredom) ، تشنۂ تکمیل خواہش (unfulfilled desire)، بڑھاپا، موت، مستقبل کا اندیشہ، ملی ہوئی چیزوں کا امپرفکٹ (imperfect) ہونا، عدم یقین (uncertainty)، آدمی کی محدودیت(limitations)، نتیجہ پر کنٹرول نہ ہونا، دوسروں کا خوف، تردد (tension) ، وغیرہ۔
ت ت ت ت ت ت ت
واپس اوپر جائیں

اسلام مکمل ضابطۂ حیات ؟

اسلام مکمل ضابطۂ حیات (complete system of life)ہے— یہ بات درست بھی ہے اور نادرست بھی۔ اگر اس بات کو اختیاری پیروی (following) کے معنی میں لیا جائے تو بلاشبہ وہ درست ہے۔ اس کے برعکس اگر اس کو نفاذ(enforcement) کے معنی میں لیا جائے تو یقینا وہ ایک نادرست بیان ہے، جس کا قرآن و سنت سے کوئی تعلق نہیں۔
مثلا قرآن میں ہے : یَاأَیُّہَا الَّذِینَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّہَ وَقُولُوا قَوْلًا سَدِیدًا (33:70)۔ یعنی اے ایمان والو، اللہ سے ڈرو اور درست بات کہو۔ اس آیت کا مطلب یہ ہے کہ فردِ مومن کو چاہیے کہ وہ جب بولےتو صحیح بات بولے۔ لیکن اگر اس آیت کا مطلب یہ بتایا جائے کہ ایک ایسا سیاسی نظام قائم کرو، جس میں لوگوں کو مجبور کردیا جائےکہ صرف درست بات بولنا ہے، نادرست بات ہرگز نہیں بولنا ہے۔ تو آیت کا یہ مفہوم ایک خود ساختہ مفہوم ہوگا ، جس کا قرآن سے کوئی تعلق نہیں۔
اسی طرح مثلاً قرآن میں ایک حکم ان الفاظ میں آیا ہے: وَإِذَا قُلْتُمْ فَاعْدِلُوا(6:152)۔ یعنی اور جب تم بولو تو انصاف کی بات بولو۔قرآن کی اس آیت میں ایک انفرادی حکم دیا گیا ہے۔ یعنی ایک فرد مومن کو چاہیے کہ جب وہ بولے تو ہمیشہ سچی بات بولے، وہ کبھی جھوٹ نہ بولے۔ لیکن اگر قرآن کی اس آیت کا مطلب یہ بتایا جائے کہ اے مسلمانو، تم ایک ایسا سیاسی نظام قائم کرو جس میں لوگوں کو بذریعہ طاقت اس بات کا پابند کیا جائے کہ وہ ہمیشہ سچ بولیں، وہ کبھی جھوٹ نہ بولیں۔ تو یہ اس آیت کا ایک خود ساختہ مفہوم ہوگا۔ جس کا قرآن کی اس آیت سے کوئی تعلق نہیں۔
اسی طرح قرآن کی ایک آیت ان الفاظ میں آئی ہے: أَنْ أَقِیمُوا الدِّینَ (42:13)۔ یعنی تم الدین کی پیروی کرو۔ یہ آیت ہر فرد مسلم کو یہ حکم دے رہی ہے کہ وہ اپنی زندگی میں خدا کے بتائے ہوئے دین پر چلے۔اس کے برعکس، اگر اس آیت کا مطلب یہ بتایا جائے کہ دین کا مطلب اسٹیٹ ہے۔ اور اہل اسلام کا یہ فرض ہے کہ وہ اس دینی اسٹیٹ کو بزور زمین پر قائم (establish) کریں،اور لوگوں کو مجبور کریں کہ وہ اس سے انحراف نہ کرنے پائیں۔ اگر کچھ لوگ اس آیت کا یہ مطلب بتائیں تو یہ بلاشبہ آیت کا ایک خودساختہ مفہوم ہوگا۔ اس قسم کے مفہوم کا قرآن کی اس آیت سے کوئی تعلق نہیں۔ اسلام یقینا مکمل ضابطہ حیات ہے، مگر وہ مکمل ضابطہ انفرادی زندگی میںاختیاری پیروی کے معنی میں ہے، نہ کہ حکومت کی طاقت سے سسٹم (socio-political system) کے نفاذ کے معنی میں۔
اسلام کا نشانہ یہ نہیں ہے کہ حاکمانہ طاقت سے کوئی سیاسی اور سماجی نظام قائم کیا جائے، جس میں لوگوں کو مجبور کیا جاسکے کہ وہ اپنی زندگیوں میں صرف دینِ خداوند ی کی اطاعت کریں، ان کو اس سے انحراف کی اجازت نہ ہو۔ اس کے برعکس، اسلام کا نشانہ یہ ہے کہ ہر فرد کے اندر یہ شعور پیدا کیا جائے کہ وہ اللہ سے محبت کریں اور اللہ کا تقویٰ اختیار کریں۔ اس اسپرٹ کو قرآن میں الربانیۃ (آل عمران 79:) کہا گیا ہے۔ قرآن کا نشانہ یہ ہے کہ ہر فرد کے اندر یہ ربانی اسپرٹ پیدا کی جائے ۔ تاکہ وہ اپنی زندگی کے ہر معاملے میں اس ربانی اسپرٹ کی تعمیل کرے۔ وہ جہاں بھی ہو، جس حال میں بھی ہو، اس ربانی اسپرٹ پر اپنے کو قائم رکھے۔
اسلام کی تعلیم کے مطابق، موجودہ دنیا دار الامتحان (الملک2:)ہے، وہ دار النفاذ (place of enforcement)نہیں ۔موجودہ دنیا میں ہر عورت اور ہر مرد کا امتحان (test)لیا جارہا ہے کہ وہ اپنے اختیار کو اللہ کے مقرر کردہ صراطِ مستقیم پر چلنے میں استعمال کرتا ہے یا اس سے انحراف کرنے میں۔ امتحان کی اسی مصلحت کی بنا پر موجودہ دنیا میں انسان کو کامل آزادی دی گئی ہے۔ تاکہ جو چاہے مانے، اور جو چاہے انکار کرے ۔ اس حقیقت کو قرآن میں ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے:وَقُلِ الْحَقُّ مِنْ رَبِّکُمْ فَمَنْ شَاءَ فَلْیُؤْمِنْ وَمَنْ شَاءَ فَلْیَکْفُر(17:29) ۔ یعنی اور کہو کہ یہ حق ہے تمھارے رب کی طرف سے، پس جو شخص چاہے اسے مانے اور جو شخص چاہے نہ مانے۔دوسری جگہ فرمایا: لَسْتَ عَلَیْہِمْ بِمُصَیْطِرٍ (88:22)۔ یعنی تم ان پر داروغہ نہیں ۔
اس لیے قرآن میں ایک اصولی حکم کے طور پرفرمایا: لَا إِکْرَاہَ فِی الدِّینِ قَدْ تَبَیَّنَ الرُّشْدُ مِنَ الْغَیِّ فَمَنْ یَکْفُرْ بِالطَّاغُوتِ وَیُؤْمِنْ بِاللَّہِ فَقَدِ اسْتَمْسَکَ بِالْعُرْوَةِ الْوُثْقَى لَا انْفِصَامَ لَہَا وَاللَّہُ سَمِیعٌ عَلِیمٌ (2:256) ۔یعنی دین کے معاملہ میں کوئی زبردستی نہیں۔ ہدایت، گمراہی سے الگ ہوچکی ہے۔ پس جو شخص طاغوت(شیطان) کا انکار کرے اور اللہ پر ایمان لائے، اس نے مضبوط حلقہ پکڑ لیا جو ٹوٹنے والا نہیں۔ اور اللہ سننے والا، جاننے والا ہے۔
قرآن میں انسان کے بارے میں خالق کا تخلیقی نقشہ ان الفاظ میں بتایا گیا ہے: فَأَلْہَمَہَا فُجُورَہَا وَتَقْوَاہَا ۔ قَدْ أَفْلَحَ مَنْ زَکَّاہَا ۔ وَقَدْ خَابَ مَنْ دَسَّاہَا (91:8-10)۔یعنی پھر اس کو سمجھ دی،اس کی بدی کی اور اس کی نیکی کی۔کامیاب ہوا جس نے اس کو پاک کیا۔اور نامراد ہو ا جس نے اس کو آلودہ کیا۔
خالق کے اس تخلیقی نقشے کے مطابق، ہر عورت اور مرد کو اس کے خالق نے مکمل آزادی دی ہے۔ اس کو یہ موقع دیا ہے کہ وہ اپنے اختیار کے مطابق سوچے اور اس پر عمل کرے۔ یہ تخلیقی نقشہ فطری طور پر ہر ایک کے لیے آزادی کا تقاضا کرتا ہے۔ اس کے مطابق، ضابطۂ حیات مکمل ہو یا غیر مکمل۔ ہر حال میں وہ انسان کے لیے فریڈم آف چوائس کا معاملہ ہے ، نہ کہ کسی اور کی طرف سے جبری نفاذ (compulsory imposition)کا معاملہ ۔ جبری نفاذ کا تصور اس معاملے میں تخلیق کے نظام میں مداخلت کے ہم معنی ہے۔ جو خلاف فطرت ہونے کی بنا پرکبھی ورک (work) کرنے والا نہیں۔
معکوس نتیجہ
مکمل ضابطۂ حیات کے نظریہ کا نتیجہ ہمیشہ معکوس صورت میں نکلے گا۔ مکمل ضابطہ عملاً نامکمل ضابطہ بن کر رہ جائے گا۔ اسلام جو اپنی حقیقت کے اعتبار سے خیرخواہی کا مذہب ہے، وہ عملاً نفرت اور دشمنی کا مذہب بن کر رہ جائے گا۔
جب آپ کہیں کہ اسلام مکمل ضابطۂ حیات (complete system of life) ہے، تو فوراً ایک سوال ذہن میں آتا ہے کہ نظام (system) پر عملاً ہمیشہ کسی گروہ کا قبضہ ہوتا ہے۔ وہ اپنی مرضی کے مطابق جو قانون یا جو طریقۂ حیات پسند کرتا ہے، اس کو وہ رائج کیے ہوئے ہوتا ہے۔ ایسی حالت میں اس قسم کا ذہن فوراً یہ سوچتا ہے کہ مکمل ضابطۂ حیات کو عملاً رائج کرنے کے لیے ضروری ہے کہ زندگی کے نظام پر اس کا مکمل کنٹرول ہو۔ یہی کام اس کو پہلا کام نظر آتا ہے۔
پھر اس کو دکھائی دیتا ہے کہ اس مکمل کنٹرول کے لیے ضروری ہے کہ ’’حکومت کی باگیں‘‘ کسی اور کے قبضہ میں نہ ہوں، بلکہ خود اس کے قبضہ میں ہوں۔ یہاں سے یہ ذہن بنتا ہے کہ اگر اسلام کو مکمل ضابطۂ حیات کے طور پر رائج کرنا ہے تو ہم کو زندگی کے نظام پر مکمل غلبہ حاصل کرنا ہوگا۔
اس طرح ذہن کی توجہ تمام تر اس طرف چلی جاتی ہے کہ ’’اقتدار کی باگیں‘‘ کسی اور کے ہاتھ میں نہ ہوں بلکہ آپ کے ہاتھ میں ہوں۔ پھر فطری طور پر یہ ہوتا ہے کہ یہی تصور آدمی کے دماغ پر پوری طرح چھاجاتا ہے۔ پھر فطری طور پر یہ ہوتا ہے کہ اصلاح ذات کا تصور پہلے ثانوی درجہ (secondary position) میں چلا جاتا ہے اور پھر بالآخر رفتہ رفتہ یہ ہوتا ہے کہ اصلاح ذات کا معاملہ ایک رسمی معاملہ بن کر رہ جاتا ہے۔ ذہن پر جو چیز چھا جاتی ہے وہ نظام (system) کو بدلنا ہے ، نہ کہ اپنی ذات کو بدلنا۔ اس اعتبار سے اگر دیکھیے تو معلوم ہوگا کہ مکمل ضابطۂ حیات کا نظریہ عملاً معکوس نتیجہ کا سبب بن جاتا ہے۔ یعنی اس نظریہ کے نتیجہ میں جو چیز ملتی ہے وہ نفرت اور تشدد کا ماحول ہے، جہاں تک نظام زندگی کا تعلق ہے، وہ نہ مکمل معنوں میں حاصل ہوتا اور نہ نامکمل معنوں میں۔ حقیقت یہ ہے کہ مکمل ضابطہ حیات کا تصور کہنے کے اعتبار سے بظاہر جتنا خوبصورت معلوم ہوتا ہے، عملی نتیجے کے اعتبار سے وہ اتنا ہی زیادہ غلط ہے۔
مکمل ضابطہ، نامکمل اسلام
میری ملاقات ایک تعلیم یافتہ عرب سے ہوئی۔ وہ اسلام کی انقلابی تعبیر سے متاثر تھے۔ گفتگو کے دوران انھوں نے کہا: اسلام دین کامل وشامل۔ یعنی اسلام ایک کامل اورجامع دینی نظام ہے۔ موجودہ زمانہ میں مسلمانوں کا یہ پسندیدہ نقطۂ نظر ہے۔ کچھ لوگ یہ کہیں گے کہ اسلام مکمل ضابطۂ حیات ہے۔ کچھ اور کہیںگے:
Islam is a complete system of life.
اس قسم کی تعبیر بظاہر اسلام کی جامع تعبیر ہے، مگر صحیح یہ ہے کہ وہ اسلام کی ایک ناقص تعبیر ہے۔ اس تعبیر کے مطابق اسلام صرف ایک قسم کا مینول بن جاتا ہے۔ مینول خواہ کتنا ہی زیادہ جامع ہو وہ انسان کے صرف جزئی پہلو کا احاطہ(cover)کرے گا۔ مینول خواہ کتنا ہی زیادہ کامل ہو وہ روبوٹ (robot) کے لئے کامل ہوسکتا ہے۔ انسان ایک فکری حیوان (thinking animal) ہے۔ کوئی بھی مینول انسان کے صرف فزیکل پہلو (physical aspect) کو کور (cover) کرتا ہے، وہ انسان کے عظیم تر انٹلکچول پہلو (intellectual aspect)کا احاطہ نہیں کرتا ۔
صحیح یہ ہے کہ اسلام فزیکل معنوں میں کامل مینول نہیں ہے۔ بلکہ وہ ایک مسلسل تفکیری عمل (continuous thinking process) کے معنی میں مکمل عمل ہے۔ اسلام یہ ہے کہ وہ آدمی کے ذہن (mind) کے لئے ایک فکری طوفان (intellectual storm) بن جائے، وہ آدمی کے اندر مسلسل تفکیری عمل (continuous thinking process) جاری کردے۔وہ آدمی کے اندر ایسی تخلیقیت (creativity) پیدا کردے کہ وہ ہر لمحہ معرفت کے آئٹم دریافت کرتا رہے۔ اس کی شخصیت کو مسلسل طورپر ربانیت کی غذا (divine food) ملتی رہے۔
اس معاملہ کو سمجھنے کے لئے قرآن کی ان دو آیتوں کا مطالعہ کیجئے:
إِنَّ فِی خَلْقِ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَاخْتِلَافِ اللَّیْلِ وَالنَّہَارِ لَآیَاتٍ لِأُولِی الْأَلْبَابِ ۔ الَّذِینَ یَذْکُرُونَ اللَّہَ قِیَامًا وَقُعُودًا وَعَلَى جُنُوبِہِمْ وَیَتَفَکَّرُونَ فِی خَلْقِ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ رَبَّنَا مَا خَلَقْتَ ہَذَا بَاطِلًا سُبْحَانَکَ فَقِنَا عَذَابَ النَّارِ (3:190-191)۔یعنی آسمانوں اور زمین کی پیدائش میں اوررات اور دن کے باری باری آنے میں عقل والوں کے لئے نشانیاں ہیں۔ جو کھڑے اوربیٹھے اور اپنی کروٹوں پر اللہ کو یاد کرتے ہیں اور آسمانوں اور زمین کی پیدائش میں غور کرتے رہتے ہیں۔ وہ کہہ اٹھتے ہیں اے ہمارے رب، تو نے یہ سب بے مقصد نہیں بنایا۔ تو پاک ہے، پس ہم کو آگ کے عذاب سے بچا۔
قرآن کے اس بیان کے مطابق اہل ایمان اُولو الالباب (people of understanding) ہوتے ہیں۔ وہ اپنےاردگرد کی دنیا پر مسلسل طور پر غور کرتے ہیں۔ وہ خدا کی تخلیق میں خدا کی نشانیاں (signs) دریافت کرتے رہتے ہیں۔ ان کا بیدار ذہن فطرت (nature) کے ہر تجربہ میں معرفت کے آئٹم کو دریافت کرتا رہتاہے۔ ان انکشافات کے درمیان اُن کو مسلسل طورپرتخلیق کی معنویت دریافت ہوتی رہتی ہے۔ اس ذہنی عمل (intellectual process) کے نتیجہ میں ان کے اندر وہ ترقی یافتہ شخصیت بن جاتی ہے جس کو قرآن میں مزکیّٰ شخصیت کہاگیا ہے(طہ 76:)۔
مثال کے طورپر دن کی سرگرمیوں سے فارغ ہوکر آپ اپنے بستر پر لیٹے۔ اس وقت آپ کے اندر محاسبہ (introspection) کا عمل جاگ اٹھا۔ آپ اپنے گزرے ہوئے دن پر سوچنے لگے۔ آپ نے دریافت کیا کہ آج کے دن آپ نے کیا صحیح کیا اور کیا غلط کیا۔ اب صحیح کام پر آپ نے اللہ کا شکر ادا کیا اورغلط کام پر آپ کے اندر ندامت (repentance)کا جذبہ جاگ اٹھا۔ رات کی نماز ادا کرنے کے بعد بستر پر جانے سے پہلے آپ نے اللہ سے معافی مانگی اور یہ عہد کیا کہ آئندہ ایسی غلطی نہیں دہرائیں گے ۔
اس طرح سوچتے ہوئے آپ سو گئے۔ پھر آپ صبح کو اٹھے اور فجر کی نماز ادا کرنے کے بعد اپنے آفس گئے۔ یہاں آپ پر مختلف قسم کے تجربات گزرے۔ ہر تجربہ میں آپ کو کوئی ربانی غذاملی۔ مثلاً آپ نے کسی سے ٹیلی فون پر گفتگو کی۔بعیدمواصلات (distant communication) کے اس تجربے کے دوران آپ نے دریافت کیا کہ اللہ نے مادّہ (matter)کو انسان کے لئے اس طرح مسخر کردیا ہے کہ مادہ انسان کے حکم پر اس کے تمام کام انجام دے۔
اس کے بعد آپ اپنے کمرہ سے باہر نکلے اور اپنے گھر کے بیرونی حصہ میں بیٹھ گئے۔ یہاں آپ نے دیکھا کہ سورج بلند ہو کر اپنی روشنی آپ تک پہنچا رہا ہے۔ ہوائیں آپ کو آکسیجن سپلائی کررہی ہیں۔ بادل سمندر کے نمکین پانی کو ڈی سالینیٹ(desalinate) کرکے آپ کو میٹھا پانی پہنچا رہے ہیں۔زمین کی مٹی(soil) آپ کے لئے مختلف خوراک اگا رہی ہے، وغیرہ۔
اس منظر کو دیکھ کر آپ کا ذہن ٹریگر (trigger) ہوا۔ آپ مزید سوچنے لگے کہ روڈ پر کاریں دوڑ رہی ہیں۔ اسی طرح آپ کے چاروں طرف مذکورہ قسم کی فطری سرگرمیاں (natural activities) جاری ہیں۔آپ نے سوچا کہ روڈ پر جو سرگرمیاں دکھائی دیتی ہیں اس کے پیچھے ہیومن مائنڈ (human mind) کی پلاننگ کام کررہی ہے۔ پھر فطرت کی دنیا(world of nature) میں جو بامعنی سرگرمیاں مسلسل طورپر جاری ہیں ان کے پیچھے بھی یقیناً کسی ذہن کی پلاننگ کام کررہی ہے۔ یہ سوچتے ہوئے آپ دریافت کرتے ہیں کہ عالم فطرت کی سرگرمیوں کے پیچھے بھی یقینا کوئی برتر ذہن (Super Mind) ہے، جو سارے معاملات کو نہایت صحت کے ساتھ کنٹرول کررہا ہے۔ یہ سوچ آپ کو خالق تک پہنچاتی ہے اور خالق کے بارے میں آپ کے یقین میں بہت زیادہ اضافہ کردیتی ہے۔
اس مثال سے اندازہ ہوتا ہے کہ اسلام کس معنی میں مکمل دین ہے۔ وہ محدود طورپر مینول (manual) کے معنی میں نہیں ہے۔ بلکہ وہ ربّانیت کے معنی میں ہائی تھنکنگ (high thinking) کا ایک معاملہ ہے۔ جو ہر لمحہ مومن کی شخصیت میں ایمانی اضافہ کرتا رہتا ہے۔
ت ت ت ت ت ت ت
موجودہ دنیا میں ہر انسان کے لیے مسائل بھی ہیں، اور اسی کے ساتھ مواقع بھی۔ غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ مسائل انسان کی پیداوار ہیں۔ اس کے مقابلے میں مواقع خالق کا عطیہ ہیں۔ آپ اس معاملے میں مثبت ذہن پیدا کیجیے، آپ یہ کیجیے کہ مسائل کو نظر انداز کیجیے اور مواقع کو تلاش کرکے ان کو اپنے لیے استعمال کیجیے، اور پھر آپ کو کسی سے کوئی شکایت نہ ہوگی۔ مثال کے طور پر ہماری فضا میں ہوا موجود ہے، جو ہماری زندگی کے لیے بے حد مفید ہے۔ اسی کے ساتھ ہم دیکھتے ہیں کہ یہاں فضائی آلودگی بھی موجود ہے۔ ہوا خالق کا عطیہ ہے۔ اس کے مقابلے میں فضائی آلودگی انسان کا اضافہ۔ ہر آدمی یہ کرتا ہے کہ وہ فضائی آلودگی کو نظر انداز کرکے ہوا کو اپنے لیے استعمال کرتا ہے۔ اسی طرح ہم کو چاہیے کہ ہم مسائل کو نظر انداز کریں، اور مواقع کو تلاش کرکے، ان کو اپنے حق میں استعمال کریں۔ یہی موجودہ دنیا میں کامیابی کا واحد راز ہے۔
ت ت ت ت ت ت ت
واپس اوپر جائیں

حکم اللہ کا

قرآن میں بتایا گیا ہے : إِنِ الْحُکْمُ إِلَّا لِلَّہِ (12:40)۔ یعنی حکم صرف اللہ کے لئے ہے۔ حکم کے لفظی معنی اقتدار کے ہیں۔ اس آیت میں حکم کا مطلب کائناتی اقتدار ہے۔ یعنی اللہ نے اس عالم کو پیدا کیا ہے اوروہی پورے عالم کو کنٹرول کررہا ہے۔ اس آیت میں ایک ایسے واقعے کا ذکر ہے جو بالفعل مکمل طور پر موجود ہے۔ یعنی کائنات ہر اعتبار سے اللہ رب العالمین کے زیر حکم ہے۔ اس عقیدے سے انسان کے اندر اللہ کے لیے کامل سرنڈر (total surrender) کا مزاج بنتا ہے۔
مگرموجودہ زمانے میں کچھ مسلم رہنماؤں نے حکم کا مطلب سیاسی حکم یا سیاسی اقتدار لے لیا۔ اس طرح مسلمانوں کا مشن یہ قرار پایا کہ وہ تمام انسانوں کے اوپر خدا کی سیاسی حکومت قائم کریں۔ چوں کہ عملاً سارے انسانوں کے درمیان خدا کی یا اسلام کی سیاسی حکومت قائم نہ تھی، اس لیے اہل اسلام کا پہلا نشانہ یہ قرار پایا کہ وہ موجود اربابِ حکومت سے ٹکراؤ کرکے ان کو سیاسی اقتدار سے بےدخل کریں تاکہ تمام قوموں کے اوپر خدا کی سیاسی حکومت قائم کی جاسکے۔
’’حکم اللہ کا‘‘ کے عقیدے کا تقاضا یہ تھا کہ اہل ایمان ہر لمحہ تواضع کی نفسیات میں جئیں، وہ ہروقت اپنے آپ کو اللہ کا بندہ سمجھ کر زندگی گزاریں، وہ اپنے ہر قول اور فعل میں اللہ کو یاد رکھیں، ان کا ہر رویہ عہد وانصاف کا رویہ ہو،وہ ہمیشہ اپنے آپ کو اللہ کے آگے جوابدہ (accountable) سمجھیں، ان کی زندگی پوری کی پوری اللہ کے رنگ میں رنگ جائے۔
لیکن حکم کی سیاسی تعبیر کا نتیجہ یہ ہوا کہ مسلمان اہل اقتدار کے مقابلے میں سیاسی اپوزیشن (political opposition) کا رول ادا کرنے لگے۔ کچھ مسلمان فکری اپوزیشن کے اعتبار سے اور کچھ مسلمان عملی اپوزیشن کے اعتبار سے۔ یہ بات اسلام کے نام پر غیر اسلام کو اختیار کرنے کے ہم معنی ہے۔ یہ ایسا نظریہ ہے جو مسلمانوں کو اسلام کے نام پر اسلام سے دور کردینے والا ہے۔اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ مسلمانوں کے پاس دوسروں کو دینے کے لیے نفرت اور تشدد کے سوا کچھ اور چیز نہ ہوگی۔
واپس اوپر جائیں

دورِ زوال

امت پر جب زوال کا دور آئے گا تو قانون دفع ( البقرۃ: 251) کا تقاضا ہوگا کہ اللہ اپنے ایک خاص بندے کو بھیجے جو کامل عقل سے بہرہ ور ہوگا ، وہ اللہ کی خصوصی نصرت سے سچائی کو کھولے گا،وہ صحیح کو صحیح بتائے گا اور غلط کا غلط ہونا واضح کرے گا۔ اللہ کا یہ منصوبہ ایک حدیث میں اس طرح بیان کیا گیا ہے :یملأ الأرض قسطاً وعدلاً کما مُلِئت ظلماً وجورا(سنن ابو داود، حدیث نمبر4282)۔ یعنی وہ زمین کو قسط و عدل سے بھر دے گا۔ جیسا کہ وہ ظلم و جور سے بھری ہوئی تھی۔
اس حدیث میں عدل سے مراد عدل کا عملی نظام نہیں ہے۔ اسی طرح ظلم سے مراد ظلم کا عملی نظام نہیں ہے۔ بلکہ عدل سے مراد عدل کی بات ہےاور ظلم سے مراد ظلم کی بات ۔ اِسی طرح ارض سے مراد ساری زمین (globe) نہیں ، بلکہ ارض سے مراد ارض مسلم ہے۔ یعنی مسلم دنیا میں جب ہر طرف بےعقلی کی باتیں ہونے لگیں گی تو وہ لوگوں کو ہر پہلو سے عقل کی بات بتائے گا۔ وہ نظریاتی اعتبار سے، نہ کہ عملی اعتبار سے مسلم دنیا کو بتائے گا کہ عقل کے مطابق سوچنا کیا ہے اورعقل کے مطابق کرنا کیا ہے۔ یہ انسان کوئی حکومت نہیں قائم کرے گا بلکہ وہ ایک نظریاتی دور لائے گا۔
ان پیشین گوئیوں کو سمجھنے میں ایک رکاوٹ یہ پیش آئی ہے کہ ان نصوص کو سیاسی حکومت کے معنی میں لے لیاگیا ہے۔ سیاسی حکومت توقائم نہیں ہوئی،اس لیے ایسی آیات اور احادیث لوگوں کے لیے ناقابل فہم بنی ہوئی ہیں۔ ایسی آیتوں اور حدیثوں کو غیر سیاسی معنی میں لیا جائے تو فوراً اس کا مطلب قابل فہم ہوجاتا ہے۔ تاہم اس قسم کی آیتوں اور حدیثوں کونظریاتی معنی میں لینے کا مطلب مکمل معنوں میں نظریاتی انقلاب نہیں ہے۔ اس دنیا میں کوئی بھی چیز کامل معنوں میں پیش نہیں آتی، ہر بات محدود معنی میں پیش آتی ہے۔ یہ ذہن بھی لوگوں کے لیے ایسے نصوص کو سمجھنے میں رکاوٹ بنا ہوا ہے۔ ان نصوص میں مستقبل کے بارے میں نہایت اہم بات کہی گئی ہے۔ لیکن ان نصوص کو سمجھنا اسی وقت ممکن ہے جب کہ ان کو غیر سیاسی معنی میں لیا جائے۔ مزید یہ کہ ان کو محدود معنی میں لیا جائے، نہ کہ کامل معنی میں۔
واپس اوپر جائیں

انسانی تاریخ

انسان کی سیاسی تاریخ کے بارے میں ایک حدیث مختلف کتابوں میں آئی ہے۔ایک روایت کے الفاظ یہ ہیں:إذا ہلک کسرى، فلا کسرى بعدہ، وإذا ہلک قیصر، فلا قیصر بعدہ۔ ( مسند احمد، حدیث نمبر10502)۔ یعنی جب کسری ہلاک ہوگا توا سکے بعد کوئی اور کسری نہ ہوگا، اور جب قیصر ہلاک ہوگا تو اس کے بعد کوئی اور قیصر نہ ہوگا۔
جیسا کہ معلوم ہے عرب کی سرحد پر اس زمانے میں دو بڑی سلطنتیں قائم تھیں۔ ایک ساسانی سلطنت اور دوسری بازنطینی سلطنت۔ مسلم خلافت کے زمانے میں ان دونوں سلطنتوں سے مسلمانوں کا ٹکراؤ ہوا۔ اس ٹکراؤ کے بعد دونوں سلطنتیں ختم ہوگئیں۔ اور پھر اس کے بعد اس نام کی کوئی سلطنت موجود نہ رہی۔
اس حدیث پر غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ مذکورہ معاملہ کا مطلب یہ نہ تھا کہ ساری دنیا میں مسلمانوں کی سلطنت قائم کی جائے۔ بلکہ اس کا مطلب صرف ایک دور کو ختم کرکے دوسرے دور کو لانا تھا۔ اور یہ واقعہ پوری طرح عمل میں آگیا۔ قیصر و کسری کی سلطنت کا خاتمہ قدیم طرز کی بادشاہت کا خاتمہ بن گیا۔ جو ساری دنیا میں جبر کانظام قائم کرنے کا ذریعہ تھیں ۔ اسی لیے اس قسم کی بادشاہت کو ڈسپوٹزم (despotism) کہا جاتا ہے۔
مگر یہ سیاسی نظام اچانک ختم نہیں ہوسکتا تھا۔ فطر ت کے قانون کے مطابق صرف یہ ممکن تھا کہ وہ تدریجی طور پر ختم ہو۔ چناں چہ ان سلطنتوں کےخاتمہ کے بعد ایک نیا عمل (process) جاری ہوا، جو آخر کار جبری بادشاہت کو ختم کرنےکا ذریعہ بن گیا۔اس خاتمہ کا مطلب حکومت پر قبضہ کرنا نہیںتھا، بلکہ یہ تھا کہ دنیا میں مذہبی آزادی کا دور آئے، اور پرامن دعوت کا کام پوری طرح ممکن ہوجائے۔ اکیسویں صدی اسی نئے دور کی صدی ہے۔ اب مسلمانوں کو کسی سے جنگ نہیں کرنا ہے۔ بلکہ تمام قوموں میں پر امن دعوت کا کام انجام دینا ہے۔
واپس اوپر جائیں

علوم کی معرفت

ایک مشہور عالم کی تقریر مدارس کے طلبہ کے سامنے ہوئی۔ اس میں انھوں نے طلبہ کو مشورہ دیتے ہوئے کہا: علوم کے سرے پکڑیے۔ ان کی تقریر میں تعینات کی زبان میں یہ واضح نہیں تھا کہ علوم کے سرے کا مطلب کیا ہے۔ بظاہر یہ ایک خطابت (rhetoric ) ہے، نہ کہ کوئی واضح رہنمائی۔
حقیقت یہ ہےکہ اصل بات علوم کے سرے پکڑنے کی نہیں ہے، بلکہ علوم کی معرفت حاصل کرنے کی ہے۔ کسی شعبۂ علم کی معلومات حاصل کرنا آسان ہے۔ لیکن اس کی گہری معرفت ایک مشکل کام ہے۔ معلومات متعلق کتابوں کے حوالے سے حاصل کی جاسکتی ہیں۔ لیکن معرفت کے لیے ضروری ہے کہ اس پر غیر متعصبانہ انداز میں غور کیا جائے،ا ور کھلے انداز میں رائے قائم کی جائے۔
علم کی معرفت کے معاملے میں سب سے زیادہ اہم بات یہ ہے کہ ہر علم میں مختلف قسم کے پہلو شامل رہتے ہیں۔ اس لیے کسی علم کے بارے میں درست رائے قائم کرنےکے لیے لازمی شرط یہ ہے کہ آدمی کے اندر معلومات کو سارٹ آؤٹ (sort out) کرنے کی صلاحیت ہو۔ وہ متفرق چیزوں کو سارٹ آؤٹ کرکے متعلق (relevant) کو غیر متعلق (irrelevant) سے الگ کرسکے۔ اس لیے علوم کی معرفت کے معاملے میں اصل اہمیت علوم کا سرا پکڑنے کی نہیں ہے، بلکہ ضرورت یہ ہے کہ آدمی کے اندریہ ذہن پیدا کیا جائے کہ اس کے اندر وہ صلاحیت(acute sense) آ جائے کہ وہ متعلق کو غیر متعلق سے الگ کرکے دیکھ سکے۔
مثلا انڈیا کی کسی ریاست میں الیکشن ہو، اور وہاں ایک پارٹی کی جیت ہوجائے تو اس طرح کے معاملے میں انسان کو یہ جاننا چاہیے کہ وہ کیا چیز ہے جس کی حیثیت وقتی ظاہرے کی ہے، اور وہ کیا چیز ہے جو بالآخرپریویل (prevail) کرے گی، اور پھر وہ مستقل اور غیر مستقل کو ایک دوسرے سے الگ کر کے اپنی رائے قائم کرے۔
دنیا کا نظام ابدی حقائق پر مبنی ہے، نہ کہ وقتی قسم کی باتوں پر۔ اس سلسلے میںایک درست انگریزی مقولہ ہے جس میں اسی فطری قانون کو بتایا گیا ہے۔ وہ یہ کہ — اس دنیامیں ہمیشہ سچائی کو بقا ملتی ہے:
let truth prevail
کسی آدمی کے دانش مند ہونے کا سب سے بڑا ثبوت یہ ہے کہ وہ فطرت کے اِس قانون کو جانے، جو کہ ایک اٹل قانون ہے، اور کبھی بدلنے والا نہیں ہے۔ اس فطری قانون کو جاننے کے بعد جو رائے بنے گی، وہ ایک دانش مندانہ رائے ہوگی، اور اس فطری قانون کو جانے بغیر جو رائے بنے، وہ ایک سطحی رائے ہوگی۔ جو گریمر کے اعتبار سے تو صحیح ہوسکتی ہے، لیکن حقیقت کے اعتبار سےایسی رائے کی کوئی قیمت نہ ہوگی۔
مثال کے طور پر انڈیا جیسا ایک ملک ہو یا امریکا جیسا ایک ملک۔ دونوں جمہوریت کے زمانے کے ملک ہیں۔ دونوں میں الیکشن کے ذریعہ کوئی فرد حکومت کا عہدہ حاصل کرتا ہے۔ مگر اس عہدیدار کی کارکردگی کی مدت صرف چند سال تک محدود ہوتی ہے۔ مزید یہ کہ وہ قدیم زمانے کی طرح مطلق العنان بادشاہ (despotic king) نہیں ہوتا، بلکہ وہ ایک متفقہ دستور (constitution) کا پابند ہوتا ہے۔ اس لیے ایسا منتخب صدر یا وزیر اعظم خواہ بولنے کے لیے کچھ بھی بولے، لیکن عملاً جو چیز ملک میں قائم ہوگی، وہ دستور اور جمہوریت ہے، نہ کہ کسی وقتی عہدیدار کا ایک قول ۔
اس طرح کے موضوعات پر جو لوگ لکھیں یا بولیں، ان کو زندگی کے اس قانون کو جاننا چاہیے، اور اسی قانون کی روشنی میں صورت حال کا جائزہ لینا چاہیے۔ اگر وہ اس محکم قانون کو جانے بغیر لکھیں یا بولیں تو ان کے لکھنے اور بولنے کی کوئی قیمت نہ ہوگی۔ ایسی بات کو جو شخص لکھے، وہ اپنے وقت کو ضائع کررہا ہے، اور جو پڑھے، وہ بھی اپنے وقت کو ضائع کررہا ہے۔آدمی کو چاہیے کہ وہ صرف ایسی بات لکھے یا بولے جو حقیقی معنوں میں نتیجہ خیز ہو۔ ورنہ ایسی بات لکھنے یا بولنے سے باز رہے۔یہی وہ حقیقت ہے جو حدیث رسول میں ان الفاظ میں بیان کی گئی ہے:من حسن إسلام المرء ترکہ ما لا یعنیہ (سنن الترمذی، حدیث نمبر2317)۔
واپس اوپر جائیں

اسلام کی عالمی اشاعت

عن ابن عباس، قال: لَمَّا مَشَوْا إلى أبی طالبٍ وکلَّموہُ وہُمْ أَشرافُ قومِہِ عُتْبةُ بنُ ربیعةَ وشیبَةُ بنُ رَبیعةَ وأبو جَہلِ بنُ ہِشامٍ وأمیَّةُ بنُ خَلَفٍ وأبو سُفیانَ بنُ حربٍ فی رجالٍ من أشرافِہمْ فقالوا یا أبا طالبٍ إنَّکَ منَّا حیثُ قدْ علِمتَ وقدْ حضَرَکَ ما تَرى وتَخَوَّفْنا علیکَ وقد علِمتَ الَّذی بینَنا وبینَ ابنِ أخیکَ فادْعُہُ فخُذْ لنا مِنہُ وَخُذْ لہ منَّا لیَکُفَّ عنَّا ولِنَکُفَّ عنہُ ولِیدَعَنا ودینَنا ولِندَعَہُ ودینَہُ فبعثَ إلیہِ أبو طالبٍ فجاءہُ فقالَ یا ابنَ أخی ہؤلاءِ أشرافُ قومِکَ قد اجتمعوا إلیک لیُعطوکَ ولیأخُذوا منکَ قال فقال رسولُ اللَّہِ صلَّى اللَّہُ علیہِ وسلَّمَ یا عَمِّ کلمةٌ واحِدَةٌ تُعطونَہا تملِکونَ بہا العَرَبَ وتَدینُ لَکُم بہا العَجَمُ (البدایة والنہایة3/123)۔
کچھ لوگوں نے اس روایت کا یہ مطلب نکالا ہے کہ امت مسلمہ کا یہ نصب العین ہے کہ وہ ساری دنیا میںاسلام کی حکومت قائم کریں۔ مگر اس روایت کا سیاست اور حکومت سےکوئی تعلق نہیں۔ اس روایت میں کلمہ (word)کی بات کہی گئی ہے نہ کہ حکومت قائم کرنے کی ۔ کلمہ کا مطلب وہی ہے جس کو آج کل کی زبان میں ideology کہا جاتا ہے۔اس روایت میں کلمہ کی عالمی توسیع سے مراد یہ ہے کہ اسلام کی آئڈیالوجی ساری دنیا تک پھیلے گی۔ کوئی قلعہ یا کوئی دیوار اس کی توسیع میں رکاوٹ نہ بن سکیں گے۔ اس بات کو ایک اور حدیث میں ان الفاظ میں بیان گیا گیا ہے:لیبلغن ہذا الأمر ما بلغ اللیل والنہار، ولا یترک اللہ بیت مدر ولا وبر إلا أدخلہ اللہ ہذا الدین (مسند احمد، حدیث نمبر16957)۔ یعنی یہ دین ہر اس جگہ تک پہنچ کر رہے گا جہاں دن اور رات پہنچتے ہیں۔ اور اللہ کوئی چھوٹا یا بڑا گھر نہیں چھوڑے گا جہاں اس دین کو داخل نہ کر دے۔
اب وہ وقت آگیا ہے کہ دین کی عالمی اشاعت کا کام کیا جائے۔ مگر جن لوگوں نے ان احادیث کو سیاسی معنی میں لے لیا، وہ غیر ضروری طور پر دنیا سے نظری یا عملی جنگ چھیڑے ہوئےہیں۔
واپس اوپر جائیں

اسلامی جہاد

جہاد کا لفظ جُہد سے بنا ہے ۔ ا س کا معنی ہےکوشش (struggle)۔ کسی تعمیری مقصد کے لیے بھرپور کوشش کرنے کو عربی زبان میں جہد یا جہاد کہا جاتا ہے۔ جہاد یا جہد کا لفظ اصلاً پر امن جدو جہد کے لیے آتا ہے۔ اس لفظ کا براہ راست طور پر جنگ و قتال سے کوئی تعلق نہیں ۔جہاد میں مبالغہ کا مفہوم پایا جاتا ہے، یعنی کامل جدو جہد (utmost struggle) ۔
قرآن میں جہاد کا مادہ 35 بار استعمال ہوا ہے۔ہر بار اس لفظ کا استعمال پرامن کوشش کے معنی میں ہے۔ جنگ کے لیے قرآن میں قتال کا لفظ آیا ہے۔ اور پرامن جدو جہد کے لیے جہاد کا لفظ۔ اس سلسلے میں قرآن کی ایک آیت یہ ہے:وَجَاہِدْہُمْ بِہِ جِہَادًا کَبِیرًا (25:52)۔ اور اس سے جِہادِ کبیر کرو، قرآن کے ذریعے۔یعنی لوگوں کے درمیان قرآن کی تعلیمات کو پھیلانے کے لیےبڑا جہاد کرو۔
حدیث میں بھی جہاد کا یہی مفہوم آیا ہے۔ جیسا کہ حدیث میں ہے:الجہاد ماض منذ بعثنی اللہ إلى أن یقاتل آخر أمتی الدجال، لا یبطلہ جور جائر، ولا عدل عادل(سنن ابو داوود، حدیث نمبر2532)۔ یعنی جہاد جاری ہے اس وقت سے جب کہ اللہ نے مجھے مبعوث فرمایا، اس وقت تک ، جب تک کہ میری امت کا آخری حصہ دجال سے قتال کرے گا۔ ظالم کا ظلم اور عادل کا عدل اس کو موقوف نہیں کرے گا۔
یہاں یہ سوال ہے کہ جہاد کواگر قتال کے معنی میں لیا جائے تو یہ بات قابل فہم نہ ہوگی ۔ کیوں کہ ظالم کے ساتھ قتال کا تو جوازہوسکتا ہے لیکن عادل کے ساتھ قتال کا کوئی جواز نہیں۔ اس بنا پر یہاں جہاد کو ایسی پرامن کوشش کے معنی میں لیا جائے گا جو ہر حال میں جاری رہےگا۔ اور اس سے مراد پرامن دعوتی جہاد کی کوشش ہے۔
قرآن و حدیث کے مطالعے سے یہ بات سمجھ میں آتی ہے کہ جہاد ایک ایسی پرامن جدو جہد ہے جو ہمیشہ اور ہر حال میں جاری رہتی ہے۔ اس سے مراد دعوت اور اصلاح کی جدو جہد ہے۔ دعوت عمومی دائرے میں ، اور اصلاح امتِ مسلمہ کے دائرے میں۔ یہ پرامن جہاد ایک ایسی ضرورت ہے جو نسل در نسل جاری رہتا ہے۔ کوئی بھی صورتِ حال اس کو ساقط کرنے والی نہیں۔
اس کے برعکس ،قتال ایک وقتی چیز ہے۔ قتال کی ضرورت ہمیشہ دفاع (defence) کے وقت پیش آتی ہے۔ جب فریقِ مخالف کی طرف سے قتال روک دیا جائے تو اہل اسلام کے لیے جائز نہیں کہ وہ خود سے کسی کے خلاف جنگ چھیڑیں۔ اس سلسلے میں قرآن میں واضح آیتیں موجود ہیں۔ مثلاً قرآن کی ایک آیت یہ ہے: وَقَاتِلُوا فِی سَبِیلِ اللَّہِ الَّذِینَ یُقَاتِلُونَکُمْ وَلَا تَعْتَدُوا إِنَّ اللَّہَ لَا یُحِبُّ الْمُعْتَدِینَ (2:190) ۔ یعنی اور اللہ کی راہ میں ان لوگوں سے لڑو جو لڑتے ہیں تم سے۔ اور زیادتی نہ کرو۔ اللہ زیادتی کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔
اس آیت کے پہلے حصے میں یہ بات بتائی گئی ہے کہ اہل اسلام صرف ان کے ساتھ جنگ کرسکتے ہیں، جو ان کے خلاف جنگ چھیڑیں۔ آیت کے دوسرے حصّے یہ معلوم ہوتا ہے کہ اہل اسلام کے لیے یہ جائز نہیں کہ وہ خود اپنی طرف سے جنگ کا آغاز کریں۔ جہاد بمعنی قتال کے بارے میں فقہاء کا مسلک یہ ہے کہ جہاد بمعنی قتال بذاتِ خود مقصود نہیں ہے، بلکہ کسی اور مقصد کے لیے بطور وسیلہ مطلوب ہے۔ اس سلسلے میں یہاں تین اقوال نقل کیے جاتے ہیں:
1۔ ینقسم الجہاد فی سبیل اللہ إلى قسمین:الأول جہاد الدعوة إلى اللہ بین الناس....وہذا أعظم أنواع الجہاد، وأعظم من قام بہ الأنبیاء والرسل، وہو جہاد حسن لذاتہ، وہو مقصد بعثة الأنبیاء والرسل....الثانی القتال فی سبیل اللہ ....وہذا الجہاد حسن لغیرہ(موسوعۃ الفقہ الاسلامی، محمد بن إبراہیم بن عبد اللہ التویجری،5/449-50)۔ یعنی جہاد کی دو قسمیں ہیں۔ ایک ،لوگوں کے درمیان دعوت الی اللہ کا جہاد.... یہ سب سے اعلی درجہ کا جہاد ہے، اور انبیاء کے کاموں میں سب سے اعلی کام ۔ یہ جہاد بذات خود حسن ہے۔ انبیاء اور رسولوں کی بعثت کا مقصد یہی ہے.... دوسرا، قتال فی سبیل اللہ ہے....یہ جہاد (بمعنی القتال) برائے جہاد مطلوب نہیں ، بلکہ وہ ایک اور مقصد کے لیے بطور وسیلہ مطلوب ہوتا ہے۔
2 ۔ مسجد نبوی کے سابق مدرس عطیہ محمد سالم (وفات1999:)لکھتے ہیں: الجہاد وسیلة ولیس غایة....أن القتال فی الإسلام لیس غایة لذاتہ، ولکنہ وسیلة للوصول إلى غایة(شرح الأربعین النوویة، درس نمبر 85)۔ جہاد (بمعنی قتال) ایک وسیلہ ہے، وہ بذاتِ خود مقصود نہیں ہے....اسلام میں قتال بذاتِ خود مقصود نہیں ہے، بلکہ وہ ایک وسیلہ ہے، جو ایک اور مقصد کے لیے اختیار کیا جاتا ہے۔
3 ۔ القتال مما یدل على أنہ غیر مقصود فی ذاتہ وإنما ہو مقصود لغیرہ(محمد بن عبد السلام الأنصاری،القتال لیس غایة الجہاد [www.assakina.com])۔یعنی قتال شریعت میں بذاتِ خود مطلوب نہیں ہے، بلکہ وہ کسی اور مقصد کے لیے مطلوب ہوتا ہے۔وہ مزید لکھتے ہیں: أما حین تکون تلک الغایات یمکن التوصل إلیہا بغیر القتال فلا شک أنہ حینئذ یعتبر الإقدام علیہ غیر مأمور بہ۔یعنی ایسے مقاصد جن کا حصول قتال کے بغیر ممکن ہو ، تو یقیناً اس وقت ا قدام (جنگ)کرنا ایساہوگا، جس کا حکم نہیں دیا گیا ہے۔اس سے معلوم ہوا کہ جہاد بمعنی پرامن دعوت بلاانقطاع ہر حال میں جاری رہتا ہے۔ لیکن قتال صرف اس وقت ہے جب کہ فریق ثانی کی جارحیت کی وجہ سے اس کی ضرورت پیش آجائے۔
ت ت ت ت ت ت ت
انسان کو استثنائی ذہن دیاگیا اور پھر اس کو آزادی عطا کی گئی۔ اس کا مقصد یہ تھاکہ انسان اپنے ذہن کو استعمال کرے، اور پھر وہ خود دریافت کردہ معرفت پر کھڑا ہو۔ مخلوقات سے اصل چیز جو مطلوب ہے، وہ حمد ہے۔ پوری کائنات اللہ رب العالمین کی مجبورانہ حمد کررہی ہے۔ مگر انسان کو یہ کرنا ہے کہ وہ اپنے اختیار کو استعمال کرتے ہوئے، آزادانہ طورپر خدائی سچائی کو دریافت کرے، اور کسی جبر کے بغیر اس پر کھڑا ہو۔
ت ت ت ت ت ت ت
واپس اوپر جائیں

غزوۂ ہند

ایک حدیث رسول ان الفاظ میں آئی ہے: عن ثوبان قال:قال رسول اللہ صلى اللہ علیہ وسلم:عصابتان من أمتی أحرزہما اللہ من النار:عصابة تغزو الہند، وعصابة تکون مع عیسى ابن مریم علیہما السلام (سنن النسائی، حدیث نمبر 3175، مسند احمد، حدیث نمبر 22396)۔ یعنی ثوبان کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میری امت کے دو گروہ ہیں، جن کو اللہ نے آگ سے بچا لیا ہے۔ ایک گروہ جو ہند کا غزوہ کرے، اور دوسرا گروہ وہ جو عیسیٰ ابن مریم کے ساتھ ہوگا۔
غزوہ کا لفظی مطلب ہے قصد کرنا، ارادہ کرنا ۔غزوہ کا لفظ اصل میں پرامن سفر کے معنی میں ہے۔ البتہ دوسرے الفاظ کی طرح ’’غزوہ‘‘ میں بھی استعمال کے اعتبار سے معانی کا اضافہ ہوجاتاہے۔ جیسے اردو میں’’چلنا ‘‘ اصلاً پرامن سفر کے لیے ہے۔ لیکن اگر یہ کہاجائے کہ ہم دشمن سے مقابلہ کے لیے چلے، تو یہاں چلنا برائے جنگ ہوجائے گا۔
حدیث میں ’’غزوۂ ہند‘‘ کا مطلب صرف یہ ہے کہ امت مسلمہ کا کوئی گروہ ہندوستانی علاقے میں اسلام کی اشاعت کے لیے سفر کرکے آئے گا۔ مثلاً ساتویں صدی عیسوی کے آخر میں ابتدائی مسلمانوں کے ایک قافلہ کا سفر کرکے جنوبی ہند (مالا بار) میں آنا، اور یہاں اسلام کی اشاعت کا کام کر نا، یا عباسی دور میں صوفیاء کی جماعت کا ایران کے علاقے سے چل کر ہندوستان کے علاقے میں آنا، اور یہاں اسلام کی پر امن اشاعت کرنا۔ اس حدیث ِرسول میں جنگ کا کوئی ذکر نہیں۔ اس حدیث کے حوالے سے ہندوستان میں جنگ چھیڑنے کا کوئی جواز نہیں۔
عیسیٰ ابن مریم کے حوالہ میں نہ جنگ کا ذکر ہے، اور نہ ہندوستان کا ۔ اس کا مطلب صرف یہ ہے کہ کسی علاقے میں عیسیٰ ابن مریم کا دعوتی مشن شروع ہوگا، اور امت مسلمہ کا ایک گروہ اس پر امن مشن کا ساتھ دے گا۔
واپس اوپر جائیں

عرب جاہلیت

عرب میں اسلام سے پہلے جو زمانہ تھا، اس کو جاہلیت کا زمانہ کہا جاتا ہے۔ جاہلیت کے لفظی معنی ہیں بے خبری (ignorance)۔ بلاشبہ یہ لوگ توحید سے بے خبر تھے، لیکن ان کے اندر اعلی درجے کی انسانی صفت موجود تھی۔ واقعات بتاتے ہیں کہ عربوں میں انسانی اخلاق اور انسانی شرافت اعلیٰ درجے میں موجود تھی۔ اس کی ایک مثال یہ ہے کہ مکی دور میں ایک بار پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم صفا کے پاس تھے۔ وہاں ابوجہل (عمرو بن ہشام) آیا۔ اس نے آپ کو بہت زیادہ برا بھلا کہا۔ ایک عورت اس منظر کو دیکھ رہی تھی۔ پیغمبر اسلام نے کچھ نہیں کہا، آپ خاموشی کے ساتھ وہاں سے چلے گیے۔اس کے بعد آپ کے چچا، حمزہ بن عبد المطلب وہاں آئے۔ مذکورہ عورت نے حمزہ کو یہ قصہ بتایا، اور کہا کہ تھوڑی دیر پہلے اگر تم وہاں ہوتے تو دیکھتے کہ تمھارے بھتیجے کو ابوجہل نے کتنا زیادہ برا بھلا کہا ۔ حمزہ کو غصہ آگیا۔ اس وقت ان کے پاس لوہے کی کمان تھی۔ وہ ابوجہل کے پاس گیے، اور اس کو اتنے زور سے مارا کہ خون بہنے لگا۔ یہ دیکھ کر ابوجہل کےقبیلہ بنو مخزوم کے لوگ اٹھے، انھوں نے چاہا کہ حمزہ سے اپنے سردار کا انتقام لے۔ لیکن ابوجہل نے یہ کہتے ہوئے لوگوں کو روک دیا: حمزہ کو چھوڑ دو، کیوں کہ میں نے ان کے بھتیجے کو بہت زیادہ برا بھلا کہہ دیا تھا ( قد سببت ابن أخیہ سبا قبیحا)۔ سیرۃ ابن ہشام 1/292
ابو جہل نے اسلام قبول نہیں کیا،لیکن اس کے اندر عرب کردار بھرپور طور پر موجود تھا۔ اسی عرب کردار کی وجہ سےاس نے اس وقت ردعمل کا مظاہرہ نہیں کیا۔ بلکہ یہ دیکھا کہ اگر حمزہ نے مجھ کو مارا تو میں نے بھی حمزہ کے بھتیجےمحمد کو بہت زیادہ برا بھلا کہا تھا۔ یہ ایک مثال ہےجس سے اندازہ ہوتا ہے کہ اسلام سے پہلے عربوں کا قومی کردار کیا تھا۔ ان کے اندر اعلیٰ انسانی اوصاف موجود تھے۔ یہی وہ حقیقت ہے جس کو ایک حدیث میں ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے:خیارہم فی الجاہلیة خیارہم فی الإسلام، إذا فقہوا (صحیح البخاری، حدیث نمبر3353)۔
واپس اوپر جائیں

جدال احسن، جدال غیر احسن

دعوتی اسلوب کے بارے میں قرآن کی ایک آیت ان الفاظ میں آئی ہے:ادْعُ إِلَى سَبِیلِ رَبِّکَ بِالْحِکْمَةِ وَالْمَوْعِظَةِ الْحَسَنَةِ وَجَادِلْہُمْ بِالَّتِی ہِیَ أَحْسَنُ إِنَّ رَبَّکَ ہُوَ أَعْلَمُ بِمَنْ ضَلَّ عَنْ سَبِیلِہِ وَہُوَ أَعْلَمُ بِالْمُہْتَدِینَ (16:125)۔ یعنی اپنے رب کے راستے کی طرف حکمت اور اچھی نصیحت کے ساتھ بلاؤ اور ان سے اچھے طریقہ سے بحث کرو۔ بیشک تمہارا رب خوب جانتا ہے کہ کون اس کی راہ سے بھٹکا ہوا ہے اور وہ ان کو بھی خوب جانتا ہے جو راہ پر چلنے والے ہیں۔
جدال احسن سے مراد ناصحانہ اسلوب میں دعوت ہے۔ یعنی ایسا اسلوب جو مدعو فرینڈلی ہو، جو مخاطب شخص یا گروہ کے لیے ہمدردی اور خیرخواہی پر مبنی ہو، جو پورے معنوں میں متواضعانہ اسلوب میں ہو، جو ایسے حکیمانہ اسلوب میں ہو جو مخاطب کے ذہن کو ایڈریس کرنے والا ہو۔ ایسا اسلوب جس میں کوئی شخصی برتری یا قومی فخر کا پہلو نہ پایا جاتا ہو۔ جو دعا کی اسپرٹ سے بھرا ہوا ہو۔جس میں داعی ہر لمحہ یہ سوچتا ہو کہ اس کے منھ سے کوئی ایسی بات نہ نکلے جو خدا کے یہاںاس کی پکڑ کا سبب بن جائے۔جو مکمل معنوں میں ذمہ داری کے احساس سے بھرا ہوا ہو۔
اس کے برعکس جدال غیر احسن وہ ہے جو خود ساختہ طریقے پر مبنی ہو، جس میں دعوت کے لیے مناظرہ (debate) کا انداز اختیار کیا جائے۔ جس کا نشانہ یہ ہو کہ مخاطب کو کم تر دکھا یاجائے اور اپنے آپ کو برتر ثابت کیا جائے۔ جو سنجیدگی اور متانت سے خالی ہو۔ جس کو سن کر حاضرین تالیاں بجائیں، اور اپنے لیے قومی فخر کی غذا حاصل کریں۔
دعوت کے کام کو دعوت الی اللہ کا کام بتایا گیا ہے۔ دعوت کا درست کام وہ ہے جس کے اندر نصح اور خیر خواہی (الاعراف 68:) کی اسپرٹ بھر پور طور پر موجود ہو۔ دعوت کا کام خالصۃً اللہ کی رضا کے لیے کیا جاتا ہے۔ اس لیے اس میں شروع سے آخر تک اللہ کا رنگ (البقرۃ 138:) پوری طرح موجود ہوتا ہے۔ اس کا واحد محرک آخرت میں اللہ کی رضا حاصل کرناہو تا ہے۔
واپس اوپر جائیں

اجتہاد کا مسئلہ

ایک لمبی حدیث میں یہ الفاظ آئے ہیں:وعلى العاقل أن یکون بصیرا بزمانہ (صحیح ابن حبان، حدیث نمبر361)۔یعنی دانش مند کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنے زمانے کا جاننے والا ہو۔ اس حدیث میں عاقل سے مراد وہ مومن ہے جو امت مسلمہ کی رہنمائی کے لیے اجتہاد کا فریضہ انجام دے۔ اجتہاد کا مطلب اپنے زمانے کی نسبت سےاسلام کی کسی تعلیم کی تطبیق نو (reapplication) کو دریافت کرنا ہے۔ اس لیے مجتہد کے لیے ضروری ہے کہ وہ ایک طرف دین اسلام کو بخوبی طور پر جانے ، اور دوسری طرف وہ اپنے زمانے سے پوری طرح آگاہ ہو۔اس دوطرفہ واقفیت کے بغیر کوئی شخص اجتہاد کا کام درست طور پر انجام نہیں دے سکتا۔
مثلاً قرآن کی ایک آیت ان الفاظ میں آئی ہے: وَقَاتِلُوہُمْ حَتَّى لَا تَکُونَ فِتْنَةٌ (2:193)۔ اس معاملے میں مجتہد کا کام یہ ہے کہ وہ جانے کہ ساتویں صدی میں اہل اسلام کو قتال کا حکم دیا گیا تھا، تو وہ ایک مشروط حکم تھا۔ اس کا مطلب تھا قتال تا ختم ِفتنہ۔ دوسرے الفاظ میں یہ کہ اسلام میں قتال کی حیثیت حسن لذاتہ کی نہیں ہے، بلکہ اس کی حیثیت حسن لغیرہ کی ہے۔
مجتہد جب ان دونوں پہلوؤں سے بخوبی واقفیت حاصل کرے گا تو وہ امت مسلمہ کو یہ رہنمائی دے گا کہ اب زمانہ اس اعتبار سے پوری طرح بدل چکا ہے۔ اب اسلام کے خلاف کوئی فتنہ دنیامیں باقی نہیں ۔ اس لیے اب اہل اسلام کو قتال نہیں کرنا ہے، بلکہ اللہ کا شکر ادا کرتے ہوئے یہ کرنا ہے کہ دعوت الی اللہ کے کام کو پر امن طور پر انجام دیا جائے۔ اس معاملے میں ان کی منصوبہ بندی پوری طرح امن پر مبنی ہونا چاہیے۔
اب موجودہ زمانے میں دعوت الی اللہ کا کام تو بدستور امت مسلمہ پر فرض ہے، لیکن طریق دعوت اب مکمل طور پر پر امن بن چکا ہے۔ اب نئے زمانے میں یہ ممکن ہوگیاہے کہ کسی بھی رکاوٹ کے بغیر اشاعت اسلام اور دعوت الی اللہ کاکام بھرپور طور پر انجام دیا جائے۔
واپس اوپر جائیں

جزئیات، کلیات

مسلمانوں کے اندر ایک ظاہرہ وہ ہے جس کو مسلکی اختلاف کہا جاتا ہے۔ مسلکی اختلافات کی بنا پر فرقے بن گیے ہیں، اور ان فرقوں کی درمیان تشدد عام ہوگیا ہے، کبھی فکری تشدد اور کبھی عملی تشدد۔مسلکی اختلافات کی حقیقت کیا ہے۔ یہ سب کے سب جزئی اختلافات ہیں۔ یہ در اصل غلو (extremism) ہے جس نے ان اختلافات کو مسئلہ بنا دیا، ورنہ یہ کوئی مسئلہ تھا ہی نہیں۔
بعد کو ماس کنورزن (mass conversion)کے زمانے میں جب یہ جزئی اختلافات ظاہر ہوئے ، اس وقت بعض علماء نے کہا کہ یہ جزئی اختلافات ہیں۔یہ اختلافات حقیقت میں تنوع کی مثال ہیں، نہ کہ فرق کی مثال۔ اورتنوع کے معاملے میں ہمیشہ تعدد (diversity) ہوتی ہے۔ یعنی یہ مسلک بھی درست اور وہ مسلک بھی درست۔
کچھ دوسرے علماء نے اس کو نہیں مانا، انھوں نے ان اختلافات کو توحد کے معیار سے جانچنا شروع کردیا۔ انھوں نے کہا کہ الحق لایتعدد۔ انھوں نے جزئیات کو حق اور ناحق کا مسئلہ بنا دیا۔ یہیں سے یہ ہوا کہ جواختلافِ تنوع تھا، وہ اختلافِ تفرق کے ہم معنی بن گیا، اور بڑھتے بڑھتے ایسا ہوگیا گویا کہ یہ مختلف مسالک نہیں ہیں، بلکہ مختلف مذاہب ہیں۔
حقیقت یہ ہے زندگی میں ہمیشہ اختلاف بمعنی فرق ہوتا ہے۔ اس قسم کا اختلاف بذات خود کوئی برائی نہیں ہے۔ اختلاف کو پرامن گفت و شنید کا موضوع بنایا جائے تو کوئی مسئلہ پیدا نہیں ہوگا۔ لیکن جب اختلاف کو حق اور ناحق کا مسئلہ بنادیا جائے تو اس وقت اختلاف عملاً برائی کی صورت اختیار کرلیتا ہے۔ پھر نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ پہلے فرقہ بندی آتی ہے، اس کے بعد تکفیر آتی ہے، اور پھر لڑائی شروع ہوجاتی ہے۔ اصل یہ ہے کہ دوسری چیزوں کی طرح مذہب میں بھی کلیات اور جزئیات ہوتے ہیں۔ کلیات توحد کا موضوع ہیں، اورجزئیات تعدد کا موضوع۔یعنی کلیات میں صرف ایک ہی مسلک درست ہوتا ہے، جب کہ جزئیات میں ایک سے زیادہ مسلک درست ہوسکتے ہیں۔
واپس اوپر جائیں

خدا کا دین

اکثر یہ کہا جاتا ہے کہ قرآن ایک ہے، اور سنت رسول ایک ہے، پھر علما کے درمیان اختلافات کیوں۔ یہ اعتراض درست نہیں۔اصل یہ ہے کہ اختلافات جزئی مسائل میں ہیں۔ اور جزئی مسائل میں کبھی یکسانیت نہیں ہوتی ، جزئی مسائل میں ہمیشہ تعدد ہوتا ہے۔ یعنی یہ کرلو تب بھی ٹھیک ، اور وہ کرلو تب بھی ٹھیک۔
جہاں تک کلی مسائل کا تعلق ہے، ان میں اصلاً کوئی اختلاف نہیں۔کلی مسائل میں ہمیشہ یکسانیت ہوتی ہے۔ کلی مسائل میں اگر اختلاف ہے تو وہ غلط تعبیر کی بنا پر ہے، نہ کہ صحیح تفسیر کی بنا پر۔ کلی مسائل میں یہ معلوم کرنا کہ کون سا نقطہ نظر صحیح ہے اور کون سا غلط، نہایت آسان ہے۔ آپ متعین اصولوں کی روشنی میں غور و فکرکیجیے، آپ نہایت آسانی سے معلوم کرلیں گے کہ کون سی تشریح درست ہے اور کون سی تشریح درست نہیں۔
مثلا قرآن میں ہے: اعْدِلُوا (المائدۃ8:)۔اس آیت کو لے کر اگر کوئی شخص سیاسی تفسیر کرے، اوریہ کہے کہ اس آیت میں مسلمانوں کو یہ حکم دیا گیا ہے کہ وہ عدل کا نظام قائم کریں، اور خلاف عدل نظام کو توڑ دیں۔آپ تدبر کے ذریعہ بآسانی معلوم کرسکتے ہیں کہ قرآن کی یہ تفسیر درست نہیں۔ کیوں کہ اعدلوا ایک لازم کا صیغہ ہے۔ یعنی اس کا مطلب ہے، انصاف پر چلو، یا عدل کی پیروی کرو۔ مگر اس کوغلط طور پر متعدی کے معنی میں لے لیا گیا ہے۔ یعنی آیت میں جس عدل کی پیروی کا حکم دیا گیا ہے، اس کو بدل کر اس معنی میں لےلیا گیا کہ اس دنیا میں عدل کا نظام قائم کرو۔
اس تشریح سے معلوم ہوتا ہےکہ آیت یا حدیث کے ذیل میں صحیح اور غلط کو معلوم کرنا نہایت آسان ہے۔ آپ کھلے ذہن کے تحت قرآن یا حدیث کا مطالعہ کیجیے ، لغت اور نحو و صرف کے اصولوں کے مطابق اس کو سمجھنے کی کوشش کیجیے تو آپ آسانی کے ساتھ اس کے اصل مفہوم تک پہنچ جائیں گے۔
واپس اوپر جائیں

خوارج کا کیس

اگر سچائی اور جھوٹ کے بارے میں حساسیت اور عمل کی پابندی اور حکم الہی میں حساسیت کولے کر سوچا جائے تو خوارج کا نام آتا ہے۔ پھر کیوں ان کو مین اسٹریم مسلمانوں سےخارج کیا گیا۔کیا ایسا اس لیے کیا گیا کہ وہ عمل کرنے کے ساتھ ساتھ سختی سے عمل کروانے میں بھی حساس تھے۔ اس کی صحیح توجیہ کیا ہوسکتی ہے۔(حافظ سید اقبال عمری، چنئی)
خوارج کا فرقہ پہلی صدی ہجری میں حضرت علی کے زمانے میں ابھرا۔ یہ لوگ پہلے حضرت علی کے گروہ میں شامل تھے۔ پھر حضرت علی سے اختلاف کرکے وہ باہر نکل گیے۔ اس بنا پر ان کو خوارج کہا جاتا ہے۔ وہ خود اپنے آپ کو الشراۃ کہتے تھے۔ یعنی اللہ کے دین کی خاطر اپنے آپ کو بیچنے والے۔ یہ لوگ اسی طبقہ سے تعلق رکھتے تھے، جن کو قرآن میں اَعراب (الحجرات14:) کہا گیا ہے۔یہ غیر تعلیم یافتہ افراد تھے، جن کا کلچر شدت پسندی تھا۔ یہ لوگ دراصل غلو(extremism) کا انتہائی کیس تھے۔ آج کل کی زبان میں ان کو ریڈیکلائزڈ مسلم (radicalized muslim)کہا جاسکتا ہے۔یہ لوگ کلمہ پڑھ کر مسلم سماج میں شامل ہوگیے۔ لیکن ان کی درست تربیت نہ ہوسکی۔اس لیے ان لوگوں کے اندر شدت پسندی کا قدیم مائنڈ سیٹ موجود رہا۔ معمولی اختلاف کی بنا پر وہ لوگوں کی تکفیر کرتے تھے۔ وہ اپنی شدید غلو پسندی کی بنا پر ہر اس شخص یا گروہ کو قابل قتل سمجھتے تھے، جو ان کے غالی نظریات سے اختلاف کرتا ہو۔ اسی انتہا پسندی کی بنا پر انھوں نے حضرت علی قابل گردن زدنی قرار دیا۔ کیوں کہ ان کے خیال کے مطابق انھوں نے تحکیم کے معاملے میں اللہ کے بجائے حَکم (arbitrator) کے فیصلہ کو اختیار کیا تھا۔
خوار ج کا کیس یہ نہیں تھا کہ وہ حساس تھے۔ جائز حساسیت وہ ہے جو پر امن حساسیت ہو۔ ایسی حساسیت جو اپنے مخالفین کو قابل قتل سمجھے، وہ حساسیت نہیں ہے، بلکہ غیر مطلوب غلو ہے۔ ایسے لوگ بلاشبہ ناحق پر ہیں۔ کیوں کہ انھوں نے اسلام کا خودساختہ معیار قائم کیا۔ جس کا ان کو حق نہیں تھا۔ خوارج اسلام میں وہ پہلے لوگ ہیں جنھوں نے اسلام میں تھاٹ کرائم (thought crime)کا نظریہ داخل کیا۔ اس قسم کا انتہاپسندانہ عقیدہ رکھنے والوں کا کیس حساسیت کا کیس نہیں ہے، وہ خدا کے دین کو بدلنے کا کیس ہے۔ ایسے لوگ اگر اپنے عقیدے کو اپنے دل میں رکھیں تو ان کو ان کے حال پر چھوڑ دیا جائے۔ لیکن اگر وہ اپنے عقیدے کی تبلیغ کریں ، اور اپنے مخالفین کو گردن زدنی قرار دے کر ان کو مارنے لگیں تو وہ اسلام کے اعتبار سے مجرم قرار پائیں گے۔
خوارج کا کیس دراصل سیاسی اختلافات سے پیدا ہونے والا ایک شدید مسئلہ ہے۔ اسلام کے بعد کی تاریخ میں جب مسلمانوں کو سیاسی اقتدار حاصل ہوا تو مسلمانوں میں اختلافات بھی پیدا ہوئے۔ یہ اختلاف پہلے صرف اختلاف کے درجے میں تھا،اس کی ایک علامت سعد بن عبادہ کا معاملہ ہے، جن کو اگرچہ اختلاف تھا۔ مگر وہ پرامن دائرے میں تھا۔ بعد کو اس اختلافات میں شدت آئی ، اور عملی ٹکراؤ شروع ہوگیا۔اس دور میں ہر گروہ نے اپنے نظریے کو مشَدّد (مضبوط) کرنے کے لیے، اس کو اسلامائز کرنا شروع کیا۔ یعنی اسلامی تعلیمات سے ان کو درست ثابت کرنا۔
اس کے نتیجے میں مسلمانوں کے اندر شدت پسند فرقے پیدا ہوئے۔ شیعہ گروہ نے یہ دعویٰ کیا کہ علی ابن ابی طالب کے سوا بقیہ تینوں خلفاء کی خلافت غیر قانونی (unlawful) ہے۔ خوارج نے علی ابن ابی طالب کی تکفیر کی، وغیرہ ۔ یہی غلو ہے۔ اس کا سبب یہ ہے کہ غلو ابتدائی طور پر بظاہر بے ضرر انداز میں شروع ہوتا ہے۔ لیکن بڑھتے بڑھتے وہ خطرناک صورت اختیار کرلیتا ہے۔ اس سے پورے مسلم سماج میں انارکی ، نفرت، باہمی قتل جیسی برائیاں داخل ہوجاتی ہیں۔ اس لیے اسلام میں اس ظاہرے کو نہایت برا مانا گیا ہے۔ حتی کہ اگر وہ اپنے عقیدے کو عملی صورت دینا شروع کریں تو قائم شدہ حکومت کو یہ حق ہوگا کہ یا تو وہ ان سے پر امن بات چیز کریں، جیسا کہ حضرت عمر بن عبدالعزیز نے کیا، او ر اگر پر امن بات چیت کافی نہ ہو تو حکومت کو یہ بھی حق ہے کہ و ہ سخت کارروائی کرکے ان کا خاتمہ کردے، جیسا کہ حجاج بن یوسف نے کیا۔ موجودہ زمانے میں جن لوگوں نے حکومت کو عقیدہ کا درجہ دیا، وہ عملا ًدور جدید کے خوارج کی حیثیت رکھتے ہیں۔
واپس اوپر جائیں

خالی از معنی کلام

قرآن کی ایک آیت میں ایک کردار کو ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے:لَا خَیْرَ فِی کَثِیرٍ مِنْ نَجْوَاہُمْ إِلَّا مَنْ أَمَرَ بِصَدَقَةٍ أَوْ مَعْرُوفٍ أَوْ إِصْلَاحٍ بَیْنَ النَّاسِ(4:114)۔ یعنی ان کی اکثر سرگوشیوں میں کوئی بھلائی نہیں۔ بھلائی والی سرگوشی صرف اس کی ہے جو صدقہ کرنے کو کہے یا کسی نیک کام کے لئے کہے یا لوگوں میں صلح کرانے کے لئے کہے۔
نجویٰ کا لفظی مطلب سرگوشی (whisper) ہے۔ لیکن یہاں وسیع تر معنی میں اس سے مراد انسانی کلام ہے۔ اس آیت میں اس انسانی کلام کو خیر سے خالی کلام کہا گیا ہے، جو معنویت سے خالی ہو۔ جس میں الفاظ تو بہت ہوں لیکن اس میں معانی کا خزانہ (content) موجود نہ ہو۔ کلام کی دو قسمیں ہیں۔ ایک وہ کلام جو گہرے غور وفکر اور ذمہ داری کے احساس کے تحت بولا جائے۔ ایسا کلام بامعنی کلام ہوگا۔ اس سے سننے والے کو حکمت (wisdom) ملے گی۔ اس کے اندر زیر بحث مسئلے کا صحیح تجزیہ ہوگا۔ وہ کلام برائے کلام کا مصداق نہ ہوگا، بلکہ کلام برائے خیر کا مصداق ہوگا۔ ایسا کلام بلاشبہ ایک مطلوب کلام ہے۔ وہ بولنے والے کے لیے بھی سعادت کا ذریعہ ہے، اور سننے والےکے لیے بھی سعادت کا ذریعہ۔
دوسرا کلام وہ ہے جس میں الفاظ کی کثرت ہو لیکن معانی کی قلت۔ جس سے آدمی کو کوئی حکمت کی بات معلوم نہ ہو۔ جو کلام برائے کلام کا مصداق ہو۔ جس کو سننے کے بعد آدمی کو کوئی ٹیک اوے (take away) نہ ملے۔
کلام ایک امانت ہے۔ بولنے والے کو چاہیے کہ وہ بولنے سے پہلے سوچے اور بولنے کے بعد اپنا محاسبہ کرے۔کلام ایک اعلی انسانی سرگرمی ہے۔ کلام کو اس کے تقاضے کے مطابق ہونا چاہیے۔ مطلوب کلام وہ ہے جس کو پیش کرنے سے پہلے بولنے والے نے اس پر ضروری غور و فکر کیا ہو۔ جس کو بولنے سے پہلے بولنے والے نے ضروری ہوم ورک (homework) کیا ہو۔
واپس اوپر جائیں

خالص ایمان

ایمان کے بارے میں قرآن کی ایک آیت ان الفاظ میں آئی ہے:الَّذِینَ آمَنُوا وَلَمْ یَلْبِسُوا إِیمَانَہُمْ بِظُلْمٍ أُولَئِکَ لَہُمُ الْأَمْنُ وَہُمْ مُہْتَدُونَ (6:82)۔ یعنی جو لوگ ایمان لائے اور نہیں ملایا انھوں نے اپنے ایمان میں کوئی ظلم، انھیں کے لئے امن ہے اور وہی سیدھی راہ پر ہیں۔ایمان میں ملاوٹ سے مراد یہ ہے کہ ایمان کے ساتھ کسی ایسے عقیدہ یا علم کو شامل کیا جائے جو ایمان کے منافی (inconsistent) ہو۔
ظلم کے اصل معنی ہے مجاوزة الحق او مجاوزة الحدیعنی حق یا حد سے تجاوز کرنا ۔ مثلا ً ایمان باللہ کے ساتھ یہ عقیدہ رکھنا کہ کچھ ہستیاں اللہ سے خصوصی قربت رکھتی ہیں، اور ان کی بات اللہ کے یہاں مانی جاتی ہے۔ لیکن اس آیت میں ایمان کے ساتھ ملاوٹ کا لفظ نہایت وسیع معنی میں ہے۔ اس میں ہر وہ چیز آسکتی ہے جو عقیدہ توحید سے مطابقت نہ رکھتی ہو۔
توحید میں یہ ملاوٹ زیادہ تر مضاہات (التوبۃ30:)کی بنا پر ہوتی ہے، اور مضاہات کا مطلب ہے نقل کرنا (to imitate)۔ یہ مضاہات ہمیشہ ماحول کے اثر سے ہوتی ہے۔ اس کی ایک مثال یہ ہے کہ موجودہ زمانے کے سیکولر حلقوںمیں سیاسی فکر کو بہت فروغ حاصل ہوا ہے ، اس بنا پر موجودہ زمانے میں سیاسی مضاہات کا ایک ظاہرہ پیدا ہوگیا ہے۔قرآن میں حُکم (یوسف40:)کا لفظ فوق فطری حکم کے معنی میں آیا ہے۔ مگر مضاہات کرکے کچھ مسلمانوں نے اس کو سیاسی حکم کے معنی میں لے لیا، اور اس سے ان لوگوں نے یہ مطلب نکالا کہ مسلمانوں کا مشن زمین پر خدا کی سیاسی حکومت قائم کرنا ہے۔ یہ مضاہات عین وہی چیز ہے جس کو قرآن میں ظلم کہا گیا ہے۔
یہ مضاہات جس کو قرآن میں ظلم کہا گیا ہے، اس کی کوئی ایک صورت نہیں ہے۔ ہر زمانے میں اس کی نئی صورتیں ہوسکتی ہیں۔ اہل علم کا یہ فرض ہے کہ وہ اپنے زمانے کے مضاہات کو پہچانیں، اور اہل اسلام کو اس سے باخبر کریں۔
واپس اوپر جائیں

خوف اور حکمت

ایک حدیث رسول ان الفاظ میں آئی ہے:رأس الحکمة مخافة اللہ عز وجل (شعب الایمان للبیہقی، حدیث نمبر730)۔ یعنی حکمت کا سرا اللہ کا خوف ہے۔ حکمت سے مراد وہی چیز ہے جس کو وزڈم کہاجاتا ہے۔ یہاں یہ سوال ہے کہ اللہ کے خوف سےانسان کے اندر وزڈم کی صفت کس طرح پیدا ہوتی ہے۔ خوفِ خدا اور وزڈم میں کیا تعلق ہے۔ اس حدیث رسول میں جاننے کی جو بات ہے وہ یہی ہے۔
وزڈم کیا ہے۔ وزڈم یہ ہے کہ آدمی کے اندر یہ صلاحیت ہو کہ وہ کسی معاملے کے غیر متعلق پہلوؤں (irrelevant aspects)سے الگ ہوکر سوچے۔ جس آدمی کے اندر یہ صلاحیت ہو وہ اس قابل ہوجاتا ہے کہ وہ معاملے کے بارے میں پوری طرح موضوعی رائے (objective opinion) تک پہنچ جائے۔ وہ معاملے کےبارے میں ایز اٹ از (as it is) انداز میں سوچ سکے۔ اس صلاحیت کی بنا پر آدمی اس قابل ہوجاتا ہے کہ وہ معاملے کے بارے میں وہی رائے قائم کرے، جو از روئے واقعہ ہونا چاہیے۔ اس عین درست رائے کا نام وزڈم ہے۔
انسان عام طور پر مختلف قسم کے غیر متعلق اثرات کے تحت سوچتا ہے۔ مثلاً غصہ ، نفرت، احساس برتری، جذباتیت، انانیت، وغیرہ ۔ یہ چیزیں آدمی کی رائےکو متاثر رائے (biased opinion) بنادیتی ہیں۔ اس طرح کی غیر درست سوچ آدمی کو غیر حکیمانہ سوچ والا انسان بنادیتی ہے۔
اگر واقعی معنی میں کسی کے اندر اللہ کا خوف ہو تو وہ آدمی کی شخصیت کو نہایت گہرائی کے ساتھ متاثر کرتا ہے۔ اللہ کا خوف آدمی کے اندر ایک فکری انقلاب پیدا کردیتا ہے۔ اللہ کا خوف آدمی کے اندر نہایت گہرائی کے ساتھ اپنا محاسبہ آپ (introspection) کا مزاج پیدا کردیتا ہے۔ اس طرح خوف خدا کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ آدمی کے اندر تمام غیر متعلق عوامل ختم ہوجاتے ہیں۔ اور وہ پورے معنوں میں انسانِ اصلی (man cut-to-size) بن جاتا ہے۔ ایسا انسان اپنی فطرت پر قائم ہوجاتا ہے۔ یہی وہ چیز ہے جس کو حدیث میں حکمت (wisdom)کہا گیا ہے۔
یہی وہ صفت ہے جس کا ثبوت اصحاب رسول نے صلح حدیبیہ کے وقت دیا تھا۔ اس واقعہ کا ذکر قرآن میں ان الفاظ میں آیا ہے: إِذْ جَعَلَ الَّذِینَ کَفَرُوا فِی قُلُوبِہِمُ الْحَمِیَّةَ حَمِیَّةَ الْجَاہِلِیَّةِ فَأَنْزَلَ اللَّہُ سَکِینَتَہُ عَلَى رَسُولِہِ وَعَلَى الْمُؤْمِنِینَ وَأَلْزَمَہُمْ کَلِمَةَ التَّقْوَى وَکَانُوا أَحَقَّ بِہَا وَأَہْلَہَا وَکَانَ اللَّہُ بِکُلِّ شَیْءٍ عَلِیمًا (48:26) ۔ یعنی جب انکار کرنے والوں نے اپنے دلوں میں حمیت پیدا کی، جاہلیت کی حمیت، پھر اللہ نے اپنی طرف سے سکینت نازل فرمائی اپنے رسول پر اور ایمان والوں پر، اور اللہ نے ان کو تقویٰ کی بات پر جمائے رکھا اور وہ اس کے زیادہ حق دار اور اس کے اہل تھے۔ اور اللہ ہر چیز کا جاننے والا ہے۔
While those who deny the truth made it a prestige issue [ in their hearts ], the bigotry of the days of ignorance, God sent His tranquility down on to His Messenger and believers and firmly established in them the principle of righteousness, for they were indeed better entitled to it and more worthy of it. God has full knowledge of all things.
صلح حدیبیہ کا معاملہ جو پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے مدنی دور میں پیش آیا، وہ ایک بے حد نازک معاملہ تھا۔ فریق ثانی نے اپنے بگڑے ہوئے مزاج کی بنا پر اس کو اپنے لیے عزت کا سوال بنا لیا۔ اس بنا پر وہ اس معاملے میں بے حد جذباتی ہوگیے۔ اس کے برعکس ، اصحاب رسول کے اندر متقیانہ مزاج تھا۔انھوں نے اپنے تحمل کو باقی رکھا۔ اس بنا پر وہ اس قابل ہوگیے کہ وہ اس معاملے کو خالص عقل (wisdom) کے تحت سوچیں۔ یہ ایک تاریخی مثال ہے جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ خوف خدا سے کس طرح آدمی کے اندر وزڈم کی صلاحیت پیدا ہوجاتی ہے۔
ت ت ت ت ت ت ت
خدا کے دین میں ذمہ داری بقدر استطاعت کا اصول ہے۔ استطاعت سے زیادہ کا مکلّف بنانا
اللہ کا طریقہ نہیں۔ یہ اصول فرد (individual) کے لئے بھی ہے، اور سوسائٹی کے لئے بھی۔
واپس اوپر جائیں

دانش مندانہ طریقہ

صحابی رسول عمیر بن حبیب بن خماشہ نے اپنے بیٹے کو نصیحت کرتے ہوئے کہا:من لا یرضى بالقلیل مما یأتی بہ السفیہ یرضى بالکثیر (المعجم الاوسط للطبرانی، حدیث نمبر 2258) ۔ یعنی جو شخص نادان کی طرف سے پیش آنے والے چھوٹے شر پر راضی نہ ہوگا، اس کو نادان کے بڑے شر پر راضی ہونا پڑے گا۔
اس قولِ صحابی میں اجتماعی زندگی کی ایک حکمت کو بتایا گیا ہے۔ اجتماعی زندگی کبھی یکساں نہیں ہوتی۔ اجتماعی زندگی میں ہمیشہ مختلف قسم کے مسائل پیش آتے ہیں۔ اس بنا پر بار بار ایسا ہوتا ہے کہ ایک شخص کو دوسرے کی طرف سے ایسا تجربہ پیش آئے گا جو اس کی مرضی کے خلاف ہوگا، ایسے موقع پر صحیح طریقہ یہ ہے کہ اعراض کیا جائے، نہ کہ ٹکراؤ شروع کردیا جائے۔
اگر آپ ایسے موقعے پر ٹکراؤ کا طریقہ اختیار کریں تو وہ ہمیشہ چین ری ایکشن (chain reaction) کا سبب بنے گا۔ نتیجہ یہ ہوگا کہ آپ ہمیشہ خارجی مسائل میں الجھے رہیں گے، اور کبھی اپنے منصوبے کے مطابق موثر عمل شروع نہ کرسکیں گے۔دوسروں کے خلاف کارروائی کرنے کا مطلب یہ ہے کہ آدمی نے اپنے آپ کو خود اپنے کام میں استعمال نہیں کیا، بلکہ اس کو دوسروں کی مخالفت میں ضائع کردیا۔
اس مسئلے کا واحد حل یہ ہے کہ صبر و اعراض کا طریقہ اختیار کیا جائے۔ دوسرے الفاظ میں اوائڈنس (avoidance) کا طریقہ۔ اس طرح کے معاملے میں یہی واحد طریقہ قابل عمل ہے، کوئی دوسرا طریقہ اس معاملہ میں ورک (work) کرنے والا نہیں۔ جب آدمی دوسرے کی طرف سے پیش آنے والے ناخوش گوار تجربے پر اعراض کا طریقہ اختیار کرتاہے تو وہ اس کے لیے ایک پرو سیلف (pro-self) طریقہ ہوتا ہے۔ اس طرح وہ خود اپنے وقت اور اپنی انرجی (energy)کو بچاتا ہے، تاکہ اس کو وہ خود اپنے فائدے کے لیے استعمال کرے۔
واپس اوپر جائیں

گاندھی کا آدرش

(مہاتما گاندھی کے ڈیڑھ سو سالہ تقریب کی مناسبت سے سیواگرام آشرم، واردھا کے لیے صدر اسلامی مرکز نےیہ پیغام دیا ہے)
مہاتما گاندھی کو انڈیا کے لوگ اپنا آدرش مانتے ہیں۔ یہ آدرش کس معنی میں ہے۔ دو لفظ میں وہ یہ ہے — سادہ زندگی، اونچی سوچ (simple living, high thinking)۔
مہاتما گاندھی کی سادہ زندگی کو سارے لوگ جانتے ہیں۔ مثلاً وہ دھوتی پہنتے تھے۔ لیکن ان کی دھوتی بہت زیادہ سادہ ہوتی تھی۔ دھوتی کی اسٹنڈرڈ لمبائی 4.5 میٹر ہوتی ہے۔ لیکن مہاتما گاندھی اس کے آدھے سائز کی دھوتی پہنتے تھے۔ اسی طرح مہاتما گاندھی کا طریقہ ہر معاملے میں سادہ ہوتا تھا۔ مہاتما گاندھی نے انڈیا کے لوگوں کے لیے جو لائف اسٹائل چھوڑا ہے ، وہ آخری حد تک سادہ تھا۔
مہاتما گاندھی کی زندگی کا دوسرا اصول یہ تھا کہ ری ایکشن کو اوائڈ کرتے ہوئے امن کا طریقہ اختیار کرنا۔ مہاتما گاندھی ساؤتھ افریقہ میں قانون کی پریکٹس کرتے تھے۔1893 میں ان کو ساؤتھ افریقہ کے Pietermaritzburgریلوے اسٹیشن پر ٹھنڈی رات میں جبراً ٹرین سے باہر نکال دیا گیا، جب کہ ان کے پاس فرسٹ کلاس کا ٹکٹ تھا۔ یہ اس وقت ہوا جب کہ ساؤتھ افریقہ میں برٹش رول قائم تھا۔1915 میں مہاتما گاندھی ساؤتھ افریقہ چھوڑ کر انڈیا آئے۔ اس کے بعد یہاںبرٹش رول کے خلاف آزادی کی تحریک شروع کی۔ لیکن انھوں نےاپنی تحریک تمام تر اہنسا (non-violence) کی بنیاد پر چلائی۔ گویا کہ ساؤتھ افریقہ میں برٹش رول کے زمانے میں ان کے اوپر تشدد (violence)کیا گیا۔ لیکن انڈیا میں انھوں نے برٹش رول کے خلاف جو تحریک چلائی وہ مکمل طور پر اہنسا (non-violence)پر مبنی تھی۔ مہاتما گاندھی کا آدرش واد انھیں دو اصولوں پر مبنی تھا — سادگی اور اخلاقی بلندی۔ یہی مہاتما گاندھی کا پیغام ہے۔ ان کی روح پکار رہی ہے کہ اگر انڈیا میں ترقی کا دور لانا ہے تو ہم کو مہاتما گاندھی کے دو اصولوں کو اپنانا ہے۔ ایک یہ کہ ہم ذاتی زندگی میں مکمل طور پر سادگی کا طریقہ اختیار کریں، اور دوسرے یہ کہ ہم اپنی قومی جدو جہد میں جو بھی تحریک چلائیں وہ مکمل طور پر امن (peace) پر مبنی ہو۔ کسی حال میں ہم تشدد کا طریقہ اختیار نہ کریں۔
نئی دہلی، 28جنوری 2017 وحید الدین
واپس اوپر جائیں

مصیبت یا تحریک عمل

دنیا کی زندگی میں انسان کو طرح طرح کی مصیبتیں (sufferings) پیش آتی ہیں۔ فلسفی لوگ اس کو پرابلم آف ایول (Problem of Evil) کہتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ خدا اگر قادرِ مطلق ہے تو دنیا میں مختلف قسم کی سفرِنگ کیوں۔ مگر یہ سفرِنگ کا مسئلہ نہیں بلکہ وہ چیلنج (challenge) کا مسئلہ ہے۔ اپنی حقیقت کے اعتبار سے وہ مصیبت نہیں ہے ، بلکہ وہ مطالبۂ عمل ہے۔اس مسئلے کو انسانی ذہن سے نہیں دیکھنا چاہیے، بلکہ اس کو خالق کے اپنے منصوبۂ تخلیق (creation plan) کی نسبت سے دیکھنا چاہیے۔
خالق کے منصوبے کے مطابق، انسان سے یہ مطلوب ہے کہ وہ اپنے اندر تخلیقی فکر (creative thinking) کی صفت پیدا کرے۔ اور تخلیقی فکر کی صفت کبھی نارمل حالات میں پیدا نہیں ہوتی۔ بلکہ وہ ایسے حالات میں پیدا ہوتی ہے، جہاں انسان کو بار بار شاک (shock) کا تجربہ ہو۔
اصل یہ ہے کہ خالق نے انسان کو امکانی صلاحیتوں (potentials) کے ساتھ پیدا کیا ہے۔ یہ بالقوۃ صلاحیتیں، اپنے آپ ظہور میں نہیں آتیں۔ اس معاملے میں خالق نے شاک ٹریٹمنٹ (shock treatment)کا اصول رکھا۔ یہ صلاحیتیں شاک ٹریٹمنٹ کے ذریعہ بیدار ہوتی ہیں۔ اگر شاک ٹریٹمنٹ نہ ہو تو یہ صلاحیتیں خفتہ (dormant) حالت میں پڑی رہیں گی۔ انسان اپنے فطری امکانات کو واقعہ بنانے میں ناکام رہے گا۔
فطرت کا یہ اصول سیکولر لوگوںکے لیے بھی ہے اور مذہبی لوگوں کے لیے بھی۔ اس معاملے میں کسی گروہ کا کوئی استثنا نہیں۔ تاریخ گواہ ہے کہ جن لوگوںکے ساتھ شاک ٹریٹمنٹ کا معاملہ ہوا، انھوں نے بڑی بڑی ترقیاں حاصل کیں۔ اس کے برعکس، جن کولوگوں کے ساتھ شاک ٹریٹمنٹ کا معاملہ نہیں ہوا، وہ بڑی ترقی حاصل کرنے میں ناکام رہے۔یہ فطرت کاایک اٹل قانون ہے، وہ کبھی بدلنے والا نہیں۔
واپس اوپر جائیں

سوال و جواب

سوال
خلافت کے معاملے میں صرف مولانا مودودی اور سید قطب کی وجہ سے اتنی تبدیلی آئی ہے یا یہ شروع سے رہا ہے کہ خلافت کو امت نے اپنا مشن سمجھا ۔تقریباً تمام مسالک فکر کے حاملین کو پڑھنے اور سننے سے ایسا لگتا ہےکہ خلافت ہمارا مشن ہے۔ لیکن مولانا، آپ کو پڑھنے کے بعد تو ایسا لگتا ہے کہ خلافت ہمارا بالکل مشن نہیںہے۔آخرکیا وجہ ہے، وضاحت کریں۔(سراج احمد ندوی، ممبئی)
جواب
امت مسلمہ کا مشن خلافت کا نظام قائم کرنا ہے۔ یہ بلاشبہ ایک مبتدعانہ تصور ہے۔ بیسویں صدی سے پہلے کبھی کسی نے یہ بات نہیں کہی۔ بیسویں صدی میں یہ تصور مسلمانوں کے اندر بطور مضاھات (التوبۃ 30)آیا۔ بیسویں صدی میںکمیونسٹ تحریک کے زیر اثر’’نظام قائم کرو‘‘ کا نظریہ پھیل گیا۔ اسی سے مسلمانوں میں یہ ذہن بنا کہ خلافت کا نظام قائم کرو۔
قرآن میں کہیںبھی یہ حکم نہیں آیا ہے کہ اے مسلمانو، تمھارا فرض ہے کہ تم زمین پر خلافت کا نظام قائم کرو۔ پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم پر جو حکم اترا ، وہ یہ تھا کہ تم لوگوں کو دعوت دو، ان کے اوپر انذار و تبشیر کرو۔ قرآن میں کوئی حکم ان الفاظ میں نہیں آٰیا ہے کہ یا محمد اقم دولۃ الاسلام، یا محمد نفذ الشریعۃ  الاسلامیۃ۔ اس لیے جو لوگ یہ کہتے ہیں کہ مسلمانوں کے اوپر فرض ہے کہ وہ خلافت کا نظام قائم کریں، ان کو سب سےپہلے اس مضمون کا کوئی حکم قرآن کے حوالے سے بتانا چاہیے۔
سارے لوگوں کا ایک بات بولنا کوئی ثبوت نہیں کہ ان کا کہنا صحیح ہے۔ موجودہ زمانے کے تقریباً تمام مسلمان، منفی بولی بول رہے ہیں۔ حالاں کہ اسلام میں منفی بولی بولنا جائز نہیں۔ تمام مسلمان یہ کہتے ہیں کہ ہم سازشوں میں گھرے ہوئے ہیں۔ حالاں کہ یہ سوچ اسلامی تعلیم کے خلاف ہے۔بے شمار مسلمان باہمی قتل اور خود کش بمباری میں مشغول ہیں ۔حالاں کہ ایسا فعل سراسر اسلام میں حرام ہے۔ آپ کو چاہیے کہ آپ قرآن و حدیث کو دیکھیں ، نہ کہ اس کو کہ لوگ کیا بات بول رہے ہیں۔
واپس اوپر جائیں

خبرنامہ اسلامی مرکز — 251

اسلاموفوبیا نہیں:امریکا کے نو منتخب صدر، ڈونالڈ ٹرمپ کےمعاون اسٹیو بَنین (Steve Bannon) کی جانب سے خواجہ کلیم الدین صاحب (سی پی ایس، امریکا) کو یہ درخواست ملی کہ انھیں انگریزی قرآن چاہیے۔ یہ درخواست انھیں سی پی ایس ویب سائٹ (www.cpsglobal.org) کے ذریعہ ملی۔ خواجہ کلیم الدین صاحب نے انھیں، انگریزی تفسیر، ترجمہ قرآن، لیڈنگ اسپریچول لائف، دی ایج آف پیس، پرافٹ آف پیس وغیرہ پوسٹ کر دیاہے۔
دعوتی دورہ: ممبئی سی پی ایس ٹیم کے پروگرام کا ایک حصہ یہ بھی ہے کہ یہ لوگ مختلف علاقوں کا وقتاً فوقتاً دعوتی دورہ کرتے رہتے ہیں۔اسی کے تحت جنوری کی 22-21 تاریخ کو ان لوگوں نے تلنگانہ کے ایک علاقہ، بھینسا کا دورہ کیا۔ اس پروگرام میں ممبئی ٹیم کے علاوہ ناگپور، آکولہ، نانڈیر، پونے، پربھنی، بیڑ، حیدرآبادکے علاوہ مقامی طور پر موجود الرسالہ کے قارئین نے حصہ لیا۔اس دعوتی سفر کے نتیجے میں مقامی طور پر سات لوگوں کی ایک ٹیم تشکیل دی گئی ہے، تاکہ اس علاقہ میں دعوت کا کام ہوسکے۔ یہ دعوتی سفر کافی فائدہ مند رہا۔ الرسالہ کے ایک پرانے قاری نے اپنا تاثر بیان کرتے ہوئے کہا کہ انھیں الرسالہ سے تین بنیادی باتیں حاصل ہوئی ہیں۔ وہ یہ ہیں: اللہ دیکھ رہا ہے، فرشتے لکھ رہے ہیں، اور مجھے مرنا ہے۔

■ ممبئی ٹیم کے تعلق سے ایک اہم خبر یہ بھی ہے کہ 7-8جولائی 2017یہ لوگ کو امراوتی کا دورہ کریں گے۔ خواہش مند حضرات درج ذیل نمبر پر رابطہ قائم کرسکتے ہیں۔ مسٹر محبوب ہنتگی (096191 63993)، ڈاکٹر جنید (09967480701)۔
دعوہ فرینڈلی دنیا:کولکاتا کے مشہور وکٹوریہ میموریل ہال میں ٹاٹا اسٹیل کولکاتا لٹریری میٹ کا انعقاد 25-29 جنوری 2017 کو عمل میں آیا۔ پروگرام کے اختتام سے ایک دن پہلے کھیل کی دنیا سے تعلق رکھنے والی مشہور ہستیوں نے اس میں شرکت کی۔ مثلا سنیل گواسکر، ابھینو بندرا، اور مس دیپا ملک، وغیرہ۔ کولکاتا سی پی ایس ٹیم کی مس شبینہ علی نے ان تمام لوگوں کو انگریزی ترجمہ قرآن اور پیس لٹریچر دیا۔ جسے تمام مہمان و شرکاء نے شکریہ کے ساتھ قبول کیا۔
■ جئے پور، راجستھان میں ہر سال لٹریچر فیسٹیول کا انعقاد ہواکرتا ہے، جس میں ملک و بیرون ملک کی علمی، ادبی، اور دیگر فنون کی دنیا سے تعلق رکھنے والی ہستیاں شریک ہوتی ہیں۔ بڑی تعداد میں علم و فن کے شائقین بھی آتے ہیں۔ اس سال یہ فیسٹیول19 تا 23 جنوری 2017 کو منعقد ہو ا۔ یہاں سی پی ایس دہلی و راجستھان کی ٹیم نے آنے والوں کو ترجمہ قرآن اور دیگر پیس لٹریچر دیا۔ سی پی ایس دہلی سے مسٹر فراز خان، مسٹر اجئے دیویدی، مسٹر وکرانت، مسٹردانیال، اور راجستھان سے انیس محمد ، اورڈاکٹر سفینہ تبسم، وغیرہ نے حصہ لیا۔
■ 3 تا 19 جنوری 2017 کے درمیان بدھ گیا، بہار میں بدھ مت کا کال چکر میلہ لگتا ہے۔ اس میں ہرسال پوری دنیا سے ہزاروں کی تعداد میں مقامی و بیرونی سیاح آتے ہیں۔ مانو وکاس کلیان سمیتی (گیا) نے اس سال یہاں بڑی تعداد میں انگریزی ترجمہ قرآن کے علاوہ اردو، ہندی، فرنچ، جرمن، چائنیز، اور اسپینش ترجمہ قرآن اور دوسرے دعوتی لٹریچر لوگوں کے درمیان تقسیم کیا۔ بہت سے لوگ ایسے بھی تھے، جو تقسیم قرآن کا سن کر اس کو تلاش کرتے ہوئے وہاں تک پہنچے، اور شکریہ کے ساتھ ترجمہ قرآن و دیگر لٹریچر حاصل کیا۔ جن لوگوں نے اس میں حصہ لیا وہ یہ ہیں، عظیم الدین ضیفی، محمد ارمان، مجاہد حسین، قصیب رضا، محمد شہاب الدین وغیرہ۔ نیز یہ کہ گیا ٹیم (موبائل نمبر9931625297)انڈیا کے اندر بذریعہ پوسٹ لوگوں کو قرآن پہنچاتی ہے۔
مدعو آپ کے دروازے پر: سی پی ایس دہلی نے آئی آئی سی میں ایک انٹر فیتھ پروگرام منعقدکیا ۔ یہ پروگرام بون (جرمنی) کی این جی او Der Missionszentrale der Franziskaner کے ممبران کے لیے تھا، جو ہر سال انڈیا آتے ہیں، اورصدر اسلامی مرکز کی تقریر سنتے ہیں، سی پی ایس کے ممبران ان سے انٹرایکشن کرتے ہیں۔ انٹر ایکشن سے پہلے وہ مسجد میں جاکر نماز کا طریقہ دیکھتے ہیں، اور اسلام کی باتیں سنتے ہیں۔ پروگرام کے اختتام پر تمام لوگوں کو جرمن زبان میں ترجمہ قرآن و دیگر انگریزی کتابیں دی گئیں۔یہ پروگرام 14 جنوری 2017 کو منعقد ہوا تھا۔
دنیا قرآن کی تلاش میں:کولکاتا کے QUEST مال میں 22 جنوری 2017 کوایک پروگرام منعقد کیا گیا تھا۔ اس موقع پر شہر کی علمی دنیا سے تعلق رکھنے والی ہستیاں موجود تھیں۔ یہ پروگرام چندریما بھٹا چاریہ، کی ایک کتاب کے اجرا کی مناسبت سے تھا۔ اس میں موجود تمام لوگوں کو انگریزی ترجمہ قرآن دیا گیا۔ تمام لوگوں نے خوشی کے ساتھ لیا۔ پروگرام کی روح رواں مس بھٹا چاریہ ایک مشہور انگریزی اخبار کی ایسوسی ایٹ ایڈیٹر ہیں۔ ان کو جب قرآن اور دیگر دعوتی لٹریچر دیا گیا تو انھوں نےقرآن کو دیکھ کر خوشی سے کہا:
‘ 'Oh, Wow, Quran, I would love to read it’!'
کتاب میلہ :جنوری کی 25 تاریخ سے فروری کی 5 تاریخ تک کولکاتا کے میلان میلہ کامپلکس میں بک فیئر کا انعقاد کیا گیا تھا۔ اس میں سی پی ایس کولکاتا نے حصہ لیا۔ بڑی تعداد میں لوگ سی پی ایس کے اسٹال پر آئے، اور ترجمہ قرآن کے علاوہ دعوتی لٹریچر حاصل کیا۔
مواقع کا استعمال: ہری دوار میں 10 فروری 2017 کوایک شادی کا پروگرام ہوا۔ یہ شادی مشہور فزیشین اور بی جے پی لیڈر ڈاکٹر پہل سینی کی بیٹی کی تھی۔ اس مناسبت سے ان کو ترجمہ قرآن اور دعوہ لٹریچر بطور گفٹ دیا گیا۔ اس کے علاوہ شادی میں شریک دیگر مہمانوں کو بھی ترجمہ قرآن اور دیگر لٹریچر دیا گیا۔ یہ دعوتی کام سہارن پور ٹیم کے ڈاکٹر اسلم خان نے انجام دیا۔
■ 11 فروری 2017 کو آئی آئی سی دہلی میں ایک پروگرام منعقد ہوا۔ اس پروگرام میں صدر اسلامی مرکز نے زندگی اور موت کے تعلق سے خطاب کیا، یہ پروگرام ایک تعزیتی پروگرام تھا جو صدر اسلامی مرکز کے داماد جناب اطہر صدیقی صاحب کی وفات (7 فروری 2017) کی مناسبت سے رکھا گیا تھا۔ پروگرام کے اختتام پر تمام حاضرین کو ترجمہ قرآن اور دیگر لٹریچر دیے گیے۔
روشنی کی کرن:افغانستان سے ملی خبر کے مطابق، وہاں نوجوانوں کی ایک ٹیم تیار ہوگئی ہے۔ 12 مارچ 2017 کوقندھار سے مسٹر جلا ل الرحمن شرر تشریف لائے ، اور صدر اسلامی مزکر کو ان کی کتاب امن عالم کا پشتو ترجمہ (اسلام؛ سولہ کہ جکرہ)پیش کیا۔ اس کے علاوہ یہ لوگ صدر اسلامی مرکز کی کئی کتابوںکا پشتو زبان میں ترجمہ کرچکے ہیں۔ مثلاً مذہب اور سائنس، راز حیات، پیغمبر انقلاب، آخری سفر،رازِ حیات ، اور اللہ اکبر۔ نیزتین لیف لیٹس کے پشتوترجمے ہوچکے ہیں۔ مثلاً بااصول زندگی، اپنی تعمیر آپ، مسلمان کی اصل حیثیت۔ خواہش مند حضرات یہ تینوں پشتو لیف لیٹس گڈورڈ بکس، دہلی سے حاصل کرسکتے ہیں۔ اس کے علاوہ تذکیر القرآن کے پشتو ترجمہ کا کام چل رہا ہے۔
قرآن کی عالمی اشاعت : ذیل میں دعوتی فکر رکھنے والے ایک نوجوان کا تجربہ بیان کیا جارہا ہے، جس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ ساری دنیا میں الرسالہ مشن ، یعنی قرآن کو گھر گھرمیں پہنچانے کی تحریک پھیلتی جارہی ہےـ:
I had two experiences I would like to share with everyone. A few months back I was in New York and had taken a room in a youth hostel. There was a common place in the building where we can have breakfast and one morning I noticed an European girl with Maulana’s translation of the Quran. I went over to her and asked her about it. She said someone had given it to her at Times Square. A few days back, I was in Jamshedpur. There is bookstore run there by a 90-year old man. He told me he had been following Maulana as far back as he could remember and had been selling Al-Risala since its very first edition. He had a lot of other nice things to say as well. Maulana's work and influence has genuinely reached across the world. From India to New York, I can feel the mission working everytime I step into a bookstore and find Maulana's work. Congratulations to all of you! (Asad Pervez, New Delhi)
واپس اوپر جائیں

Saturday, 1 April 2017

Al Risala | Apr 2017 (الرسالہ، اپریل)

1

-توبہ کی نفسیات

2

- عافیت کی دعا

3

- رسول سے تعلق

4

- گفتگو کے اصول

5

- عدم اطمینان

6

- اختلاط کی اہمیت

7

- غضب، رحمت

8

- تزکیہ کیا ہے

9

- شرک کیا ہے

10

- عقل سے محرومی

11

- اصلاح اور محاسبہ

12

- دعا، قبولیتِ دعا

13

- فروغ وسائل انسانی

14

- کنڈیشننگ کا مسئلہ

15

- قابل عمل طریقِ کار

16

- عہد اسلام

17

- قتل کی سزا

18

- حضرت عائشہ کا نکاح

19

- دجالیت کیا ہے

20

- تاجر کا معاملہ

21

- دین میں غلو

22

- فقہ الاقلیات

23

- عورت کی تخلیق

24

- غلطی کا اعتراف

25

- تجربہ کی دنیا

26

- دیباچہ

27

- سوال و جواب

28

- خبرنامہ اسلامی مرکز


توبہ کی نفسیات

انسان کی نفسیات میں اس کے خالق نے ایک خصوصیت رکھی ہے، جس کو عام طور پر ندامت (repentance) کہا جاتا ہے۔ یہ خصوصیت ایک سچے مومن کے اندر مزید اضافہ کے ساتھ ہوتی ہے۔ یہ خصوصیت انسان کے لیے ایک عجیب رحمت ہے۔ اس کا ذکر قرآن میں ان الفاظ میں آیا ہے:فَأُولَئِکَ یُبَدِّلُ اللَّہُ سَیِّئَاتِہِمْ حَسَنَاتٍ (25:70)۔یعنی اللہ ایسے لوگوں کی برائیوں کو بھلائیوں سے بدل دے گا:
Allah will change their evil deeds into good deeds
یہ معاملہ جو اہل ایمان کے ساتھ پیش آتا ہے، وہ صرف ’’برائی‘‘ کی بنا پر نہیں ہوتا، بلکہ اس شدید ندامت کی بنا پر ہوتا ہے، جو برائی کرنے کے بعد ان کے اندر پیدا ہوئی ہو۔ ندامت (repentance) کا مثبت پہلو یہ ہے کہ وہ آدمی کے اندر اس بات کا شدید جذبہ پیدا کرتی ہے کہ آدمی اپنی اصلاح کرے، اور برائی کے بعد مزید شدت کے ساتھ بھلائی کا راستہ اختیار کرے۔ ندامت کے ذریعہ پیش آنے والایہی مثبت جذبہ ہے جو اللہ کے قانون کے مطابق برائی کو بھلائی میں تبدیل کردیتا ہے۔
برائی کی ایک صورت وہ ہے جب کہ کوئی آدمی جب برائی کرنے کے بعد اسی پر قائم ہوجائے ۔ ایسے آدمی کی برائی اس کو اور زیادہ برا بنا دیتی ہے۔ لیکن جس آدمی کا یہ حال ہو کہ برائی کرنے کے بعد اس کے اندر انٹراسپکشن (introspection) پیدا ہو ۔ وہ یہ فیصلہ کرے کہ اب مجھے دوبارہ برائی نہیں کرنا ہے، بلکہ اس کے برعکس ،مجھے بھلائی کے راستے پر مزید اضافہ کے ساتھ چلنا ہے۔ تو ایسے آدمی کے لیے اس کی برائی برعکس طور پر بھلائی کا محرک بن جاتی ہے۔ وہ مزید اضافہ کے ساتھ بھلائی کے راستے پر چلنے لگتا ہے۔ یہی وہ صفت ہے جو ایک سچے مومن کی برائی کو بھلائی میں بدل دیتی ہے۔
واپس اوپر جائیں

عافیت کی دعا

عافیت سے متعلق کئی روایتیں حدیث کی کتابوں میں آئی ہیں۔ ان میں سے ایک روایت یہ ہے: قال رسول اللہ صلى اللہ علیہ وسلم:من فُتِح لہ منکم باب الدعاء فُتِحت لہ أبواب الرحمة، وما سُئِل اللہُ شیئا یعنی أحب إلیہ من أن یسأل العافیة(سنن الترمذی، حدیث نمبر3548)۔ یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس کےلیے دعا کے دروازے کھولے گئے اس کے لئے رحمت کے دروازے کھول دیئے گئے اور اللہ تعالیٰ کے نزدیک اس سے عافیت مانگنا ہر چیز مانگنے سے زیادہ محبوب ہے ۔
اس دنیا میں انسان کو اگرچہ اختیار دیا گیا ہے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ معاملات میں انسان کا دخل ایک فیصد سے بھی کم ہوتا ہے۔ جب کہ اللہ رب العالمین کا دخل ننانوے فیصد سے بھی زیادہ۔ یہی وجہ ہے کہ انسان کے لیے اللہ سے دعا کرنا بہت زیادہ اہم ہے۔ جس انسان کو یہ حقیقت دریافت ہوگئی، اور وہ اس پر قائم ہوگیا، وہ بلاشبہ اللہ کی رحمتوں کے سائے میں آجائے گا۔
اس دنیا میں انسان کے لیے پہلی رحمت کی چیز ایمان ہے۔ یعنی حقیقت حیات کی دریافت۔ اس کے بعد جو چیز سب سے زیادہ اہمیت کی حامل ہے، وہ عافیت ہے۔ عافیت سے مراد وہی چیز ہے جس کو عام طور پر اچھی صحت (good health) کہا جاتا ہے۔ انسان اپنی پیدائش کے اعتبار سے ایک کمزور مخلوق ہے۔ صحت و عافیت میں معمولی خلل انسان کے لیے ناقابل برداشت ہوجاتا ہے۔ جس انسان کو صحت و عافیت حاصل نہ ہو وہ کوئی بھی کام صحیح شکل میں نہیں کرسکتا۔ اس لیے انسان کو چاہیے کہ وہ اللہ سے بہت زیادہ دعا کرے تاکہ وہ اپنی ذمہ داریوں کو درست طور پر ادا کرنے کے قابل ہوجائے۔مگر یاد کیے ہوئے عربی الفاظ کو دہرانے کا نام دعا نہیں ہے، سچی دعا وہ ہے جو معرفت کی دعا ہو۔ جو دل کی گہرائیوں سے نکلے، نہ کہ لفظی تکرار کے طور پر۔ایسی دعا بلاشبہ اللہ تک پہنچتی ہے، اور وہ اللہ کے یہاں قبولیت کا درجہ پاتی ہے۔
واپس اوپر جائیں

رسول سے تعلق

ایک صاحب نے یہ سوال کیا ہے کہ— اللہ سے حب شدید مطلوب ہے، مگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نسبت سے جو چیز مطلوب ہے، وہ صرف اتباع ہے، یا اتباع کے ساتھ emotional attachment بھی۔
اس کو جواب یہ ہے کہ رسول اللہ سے جو اتباع مطلوب ہے وہ سادہ اتباع نہیں ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ رسول اللہ نے انسان کو ایک ایسی صراط مستقیم دکھائی، جو انسان کو جنت تک پہنچانے والی ہے۔ اس طرح کا عطیہ اپنے آپ میں صاحب عطیہ کے بارے میں ایموشنل اٹیچمنٹ پیدا کرتا ہے۔ یہ ایموشنل اٹیچمنٹ ذاتی فضیلت کی بنا پر نہیں ہے، بلکہ رسول اللہ کےکنٹری بیوشن کی بنا پر ہے۔یعنی پیغمبر سے ہم کو جو ہدایت ملتی ہے، جب انسان کو اس ہدایت کا گہرا شعور حاصل ہوتاہے تو اپنے آپ اس کو رسول اللہ سے ایموشنل اٹیچمنٹ پیدا ہوجاتا ہے۔ذاتی فضیلت صرف اللہ کا حصہ ہے، جو کہ واجب الوجود ہے۔ بقیہ تمام انسان اللہ کے پیدا کیے ہوئے ہیں، بشمول پیغمبر ۔ اس اعتبار سے ذاتی فضیلت صرف اللہ رب العالمین کو حاصل ہے۔ ذاتی فضیلت کے معنی میں اللہ کا کوئی شریک نہیں۔ بقیہ انسانوں کا درجہ اس کے عمل سے متعین ہوتا ہے، نہ کہ ذاتی فضلیت کی بنا پر۔
اللہ سے محبت اس اعتبار سے مطلوب ہے کہ اللہ نے ہم کو پیدا کیا، اسی سے ہم کو تمام چیزیں ملی ہیں۔ اس کے مقابلے میں رسول سے ایموشنل اٹیچمنٹ اس اعتبار سے پیدا ہوتا ہے کہ رسول نے بے پناہ قربانی کے بعد اپنے آپ کو اس کا مستحق بنا یا کہ اللہ ان پر اپنی وحی اتارے، اور ان کو یہ توفیق دے کہ وہ اسوۂ حسنہ بن کر تمام انسانوں کے لیے ایمانی زندگی کا ماڈل بن جائے۔ ایموشنل اٹیچمنٹ بہت اہم ہے۔ لیکن مطلق نوعیت کا ایموشنل اٹیچمنٹ ایک مومن کو صرف اللہ کے ساتھ قائم ہوتا ہے۔ مطلق نوعیت کے ایموشنل اٹیچمنٹ میں کوئی اللہ کا شریک نہیں۔ اسی حقیقت کو حدیث میں ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے:إنما أنا قاسم واللہ یعطی (صحیح البخاری، حدیث نمبر71)۔
واپس اوپر جائیں

گفتگو کے اصول

مشہور صحابی عبد اللہ ابن مسعود کا ایک قول ان الفاظ میں آیا ہے: ما أنت بمحدث قوما حدیثا لا تبلغہ عقولُہم، إلا کان لبعضہم فتنة (صحیح مسلم، مقدمہ، 1/11)۔ یعنی اگر تم کسی جماعت کو ایسی بات بتاؤ جو ان کے عقلوں تک نہ پہنچے تو یہ ان میں سے کچھ لوگوں کے لیے فتنہ کا سبب بن جائے گا۔اس کا مطلب یہ ہے کہ کلام اور سامع کے معیار فہم میں مطابقت ہونی چاہیے۔ مثال کے طور پر آج کا زمانہ عقلی زمانہ (the age of reason)ہے۔ اگر آپ ایک درست بات قدیم روایتی انداز میں کہیں تو ایسی بات آج کے انسان کے ذہن کو ایڈریس نہیں کرے گی۔ نتیجہ یہ ہوگا کہ عدم فہم کی بنا پر، وہ اس کا منکر بن سکتا ہے۔ حالاں کہ اگر بات کو ایسے اسلوب میں کہا جائے جو مخاطب کے لیے قابل فہم (understandable) ہو تو عین ممکن ہے کہ وہ اس کو قبول کرلے۔
مثال کے طور پر اگر آپ یہ کہیں کہ مستشرقین (orientalist) اسلام کےدشمن ہیں تو یہ بات آج کے ایک تعلیم یافتہ انسان کی سمجھ میں نہیں آئے گی۔ وہ آپ کی بات کو بے اصل سمجھ کر رد کردے گا۔ اس کے برعکس اگر آپ یہ کہیں کہ مستشرقین کا نقطہ نظر موضوعی (objective)ہوتا ہے۔ اس لیے وہ صرف اس بات کو سمجھ پاتے ہیں جو موضوعی استدلال (objective reasoning) پر مبنی ہو۔ اس کے برعکس جو بات اعتقادی (subjective) انداز میں کہی جائے، وہ ان کے لیے قابل فہم نہیں ہوتی۔ اس لیے ان کا ذہن ایسی بات کو قبول کرنے کے لیے تیار نہیں ہوتا۔ اگر آپ اپنی بات کو اس انداز میں کہیں تو آج کا تعلیم یافتہ انسان اس کو قبول کرنے میں کوئی دشواری محسوس نہ کرے گا۔ یہی وہ حقیقت ہے جس کو قرآن میں وَقُلْ لَہُمْ فِی أَنْفُسِہِمْ قَوْلًا بَلِیغًا (4:63) کے الفاظ میں بیان کیا گیا ہے۔ قرآن کے اس اصول کے مطابق کلام کو ایسے اسلوب میں ہونا چاہیے جو مخاطب کے ذہن کو ایڈریس کرنے والا ہو۔ گفتگو میں جتنی اہمیت صحت کلام کی ہے، اتنی ہی اہمیت اس میں اسلوب کلام کی بھی ہے۔
واپس اوپر جائیں

عدم اطمینان

ایک شخص نے ان بڑے بڑے اسکالرس پر ریسرچ کیا ہے، جو اپنی کسی بڑی دریافت کی بنا پر نوبل پرائز کے لیے منتخب ہوئے۔ اس نے لکھا ہے کہ میں نے یہ پایا کہ ان اسکالرس میں ایک چیز مشترک تھی۔ وہ تھی عدم قناعت (discontentment) ۔وہ علم کے بارے میں کسی حد پر نہیں رکتے تھے۔ اس لیے ان کی ترقی مسلسل جاری رہی۔
بڑے بڑے اہل علم کی جو عدم قناعت علم کے بارے میں ہوتی ہے، وہی عدم قناعت مومن کے اندرمعرفت کے بارے میں ہوتی ہے۔ مومن آخر دم تک معرفت خداوندی کے معاملے میں غیرقانع رہتا ہے، اس لیے اس کی معرفت برابر بڑھتی رہتی ہے، وہ کبھی ختم نہیں ہوتی۔
اہل ایمان کے بارے میں یہی وہ حقیقت ہے، جو حدیث میں ان الفاظ میں بیان کی گئی ہے: عَنْ أَبِی سَعِیدٍ الخُدْرِیِّ، عَنْ رَسُولِ اللہِ صَلَّى اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ:لَنْ یَشْبَعَ الْمُؤْمِنُ مِنْ خَیْرٍ یَسْمَعُہُ حَتَّى یَکُونَ مُنْتَہَاہُ الجَنَّةُ(سنن الترمذی، حدیث نمبر2686)۔مسند شہاب القضاعی کی روایت (نمبر897) میں خیر اور مومن کے بجائے علم اورعالم کا لفظ آیا ہے۔ یعنی ابوسعید خدری کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مؤمن(عالم)خیر (اور علم)کی باتیں سننے سے کبھی سیر نہیں ہوتا یہاں تک کہ اس کی انتہاء جنت پر ہوتی ہے۔
اصل یہ ہے کہ انسان کی نسبت سے دین کے دو پہلو ہیں۔ ایک ہے معرفت کا پہلو، اور دوسرا ہے دینداری کا فارم ۔ فارم ہمیشہ معلوم ہوتا ہے۔ کچھ افعال انجام دینے کے بعد اس کی حد آجاتی ہے۔ اور جب کسی چیز کی حد آجائے تو ایسے انسان کے اندر عدم اطمینان کی کیفیت پائی نہیں جائے گی، وہ جو کچھ کررہا ہے، وہ اس پر قانع ہوجائے گا۔
مگر معرفت لامتناہی چیز ہے۔ آدمی کتنا ہی زیادہ معرفت حاصل کرلے،اس کے اندر مزید حصول کا جذبہ کبھی ختم نہ ہوگا۔
واپس اوپر جائیں

اختلاط کی اہمیت

ایک حدیث مختلف کتابوں میں آئی ہے۔ایک روایت کے الفاظ یہ ہیں:المؤمن الذی یخالط الناس ویصبر على أذاہم، أعظم أجرا من الذی لا یخالط الناس ولا یصبر على أذاہم۔ (مسند احمد، حدیث نمبر23098) یعنی وہ مومن جو لوگوں سے میل جول رکھتا ہے، اور ان کی اذیت پر صبر کرتا ہے، اس کا اجر اس سے زیادہ ہے جو لوگوں سے میل جول نہیں رکھتا، اور ان کی اذیت پر صبر نہیں کرتا۔اس حدیث میں اختلاط کا مطلب میل جول (interaction) ہے۔ ایک شارح حدیث نے اس کی شرح کرتے ہوئے کہا کہ إن الخلطة أفضل من العزلة (تحفۃ الاحوذی7/177) یعنی تنہائی کی زندگی کے مقابلے میں میل جول کی زندگی زیادہ افضل ہے۔ اختلاط کی زندگی کا افضل ہونا صرف اخلاق کے معنی میں نہیں ہے۔ اس سے زیادہ وہ شخصیت کی تعمیر (personality development) کے معنی میں ہے۔
یہ فائدہ اس وقت ہوتا ہے جب کہ انسان کے اندر سنجیدگی ہو۔ اس کے اندر سوچنے اور نصیحت لینے کا مزاج ہو۔تو ہر اختلاط اس کے لیے ذہنی ارتقا کا ذریعہ بن جائے گا۔لوگوں سے انٹرایکشن کے درمیان اس کو طرح طرح کے تجربات پیش آتے ہیں۔وہ لوگوں سے نئی نئی باتیں سیکھتا ہے۔ اختلاط کے دوران اس کو موقع ملتا ہے کہ وہ اپنی فکری اصلاح کرے۔ اس کو موقع ملتا ہے کہ وہ لوگوں کی معلومات سے اپنے علم میں اضافہ کرے۔ اس کو موقع ملتا ہے کہ وہ اپنی فکری محدودیت کو عالمی فکر میں تبدیل کرسکے۔انٹرایکشن کا یہ فائدہ اس انسان کو ملتا ہے جس کے اندر سیکھنے کا مزاج (spirit of learning) ہو۔ جوباتوں کو غیر متعصبانہ انداز میں دیکھ سکے۔ وہ جو کچھ سنے اس کو آبجکٹیو (objective) انداز میں لے، نہ کہ سبجکٹیو (subjective) انداز میں ۔ اس کے اندر اعتراف کا مادہ ہو۔ وہ کسی رائے کو سچائی کے اعتبار سے دیکھے، نہ یہ کہ وہ کس شخص کی رائے ہے۔ وہ پورے معنوں میں نفسِ مطمئنہ (complex-free soul) کی حیثیت رکھتا ہو۔
واپس اوپر جائیں

غضب، رحمت

اللہ کی صفت غضب بھی ہے اور رحمت بھی۔ اگر کوئی شخص یہ سمجھے کہ اللہ نے انسان کو اس لیے پیدا کیا کہ وہ اس کو اپنے غضب کا تجربہ کرائے تو یہ بلاشبہ اللہ رب العالمین کا ایک کمتر اندازہ (underestimation) ہوگا۔زیادہ صحیح بات یہ ہے کہ یہ کہاجائے کہ اللہ رب العالمین نے انسان کو اس لیے پیدا کیا کہ اللہ رب العالمین اس کو اپنی رحمت کا تجربہ کرائے۔ یہی تصور اللہ رب العالمین کی شان کے مطابق ہے۔
اسی حقیقت کو حدیث میں ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے: إن رحمتی سبقت غضبی (صحیح البخاری، حدیث نمبر7422)۔ دوسری روایت کے الفاظ یہ ہیں: إن رحمتی غلبت غضبی (مسند اسحاق ابن راہویہ، حدیث نمبر459)۔ یعنی میرے غضب پر میری رحمت غالب ہے۔
باپ کے اندر اپنے بیٹے کے لیے ایک اعلیٰ شریفانہ جذبہ ہوتا ہے جس کو پدرانہ شفقت (fatherliness)کہا جاتا ہے۔ یہ جذبہ باپ کو مجبور کرتا ہے کہ وہ اپنے بیٹے کی غلطی کو سنبھالے، وہ اپنے بیٹے کو اس کی غلطی کا انجام بھگتنے نہ دے۔ یہ صفت بلاشبہ خالق کے اندر بے شمار گنا زیادہ ہے۔ اس صفت کی بنا پر جس طرح خالق کے غضب پر اس کی رحمت غالب آجاتی ہے۔ اسی طرح بندے کا بھی یہ حال ہوتا ہے کہ جب وہ اپنے مہربان خالق کے بارے میں سوچتا ہے تو اس کی رجاء (hope)اس کے خوف پر غالب آجاتی ہے۔ وہ یہ امید کرتا ہے کہ اس کا مہربان خالق اس کی غلطیوں کو سنبھالے گا، وہ اس کو اس کی غلطیوں کے انجام سے بچالے گا۔
زندگی کا یہ تصور اگر آدمی کے اندر یہ مزاج پیدا کرتا ہے کہ ایک طرف وہ ہمیشہ آخرت کے مواخذہ سے ڈرتا رہے تو دوسری طرف یہ مزاج اس کے اندر یہ نفسیات پیدا کرتا ہے کہ وہ ہمیشہ اپنے خالق کے بارے میں پر امید (hopeful) بنا رہے۔ اسی حقیقت کو قرآن میں ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے:وَیَدْعُونَنَا رَغَبًا وَرَہَبًا (21:90)۔
واپس اوپر جائیں

تزکیہ کیا ہے

قرآن کے مطابق، جنت میں داخلہ ان افراد کو ملے گا، جنھوں نے دنیا میں اپنا تزکیہ کیا ہوگا۔ مثلا قرآن کی ایک آیت کے الفاظ یہ ہیں:قَدْ أَفْلَحَ مَنْ زَکَّاہَا (91:9)۔ یعنی وہ شخص کامیاب ہوا جس نے اپنا تزکیہ کیا۔ اور دوسری جگہ ہے:جَنَّاتُ عَدْنٍ تَجْرِی مِنْ تَحْتِہَا الْأَنْہَارُ خَالِدِینَ فِیہَا وَذَلِکَ جَزَاءُ مَنْ تَزَکَّى (20:76) ۔ یعنی ان کے لئے ہمیشہ رہنے والے باغ ہیں جن کے نیچے نہریں جاری ہوں گی۔ وہ ان میں ہمیشہ رہیں گے۔ اور یہ بدلہ ہے اس شخص کا جس نے اپنا تزکیہ کیا۔
تزکیہ کیا ہے۔ یہ ایک حدیث رسول کے مطالعے سے سمجھ میں آتا ہے۔ ایک حدیث میں بتایا گیا ہے کہ ہر انسان الفطرۃ پر پیدا کیا گیا ہے۔ مگر ماحول کے اثر سے وہ غیر فطری زندگی اختیار کرلیتا ہے(صحیح البخاری، حدیث نمبر1385)۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ہر آدمی پیدائشی طور پر مزکیّٰ شخصیت (فطرت صحیحہ) پر پیدا ہوتا ہے۔ لیکن ماحول کی کنڈیشننگ (conditioning) کی وجہ سے وہ ایک مصنوعی شخصیت بن جاتاہے۔ ایسی حالت میں تزکیہ یہ ہے کہ آدمی اپنے اس مسئلہ کو جانے اور اپنی ڈی کنڈیشننگ (deconditioning) کرکے دوبارہ اپنے آپ کو فطری شخصیت بنائے۔ یہی وہ فطری شخصیت ہے جو مزکّی شخصیت ہوگی۔
ڈی کنڈیشننگ دوسرے الفاظ میں سیلف کرِکشن (self-correction) کے عمل کا نام ہے۔ سیلف کرکشن یا ڈی کنڈیشننگ کا یہ کام کوئی دوسراشخص نہیں کرسکتا۔ یہ کام ہر آدمی کو خود کرنا پڑتا ہے۔ ہر عورت اور مرد کا پہلا فرض ہے کہ وہ اپنا محاسبہ (introspection) کرے۔ وہ ڈھونڈ ڈھونڈ کر اپنے اندر سے ہر ایسے آئٹم کو نکالے جو باعتبار پیدائش بظاہر اس کے اندر موجود نہ تھے۔ لیکن بعد کو وہ ماحول کی کنڈیشننگ کی بنا پر اس کی شخصیت کا حصہ بن گیے۔ جب کوئی شخص سنجیدگی کے ساتھ اپنی ڈی کنڈیشننگ کرے گا تو اس کے بعد اپنے آپ ایسا ہوگا کہ آدمی کی فطری شخصیت پاک ہوکر سامنے آجائے۔ اسی پاکیزہ شخصیت کا نام مزکّی شخصیت ہے۔
واپس اوپر جائیں

شرک کیا ہے

شرک سب سے بڑا گناہ ہے۔ قرآن میں بتایا گیا ہے کہ اللہ دوسرے گناہوں کو معاف کردے گا، لیکن وہ شرک کو معاف نہیں کرے گا ( النساء 48:، 116)۔ شرک اپنی حقیقت کے اعتبار سے یہ ہے کہ انسان کسی کو اللہ کا برابر (equal) سمجھے، اور اس کے ساتھ اللہ جیسا معاملہ کرے۔ اس سلسلے میں قرآن کی ان دو آیتوں کا مطالعہ کیجیے: الَّذِی جَعَلَ لَکُمُ الْأَرْضَ فِرَاشًا وَالسَّمَاءَ بِنَاءً وَأَنْزَلَ مِنَ السَّمَاءِ مَاءً فَأَخْرَجَ بِہِ مِنَ الثَّمَرَاتِ رِزْقًا لَکُمْ فَلَا تَجْعَلُوا لِلَّہِ أَنْدَادًا وَأَنْتُمْ تَعْلَمُونَ (2:22)۔یعنی وہ ذات جس نے زمین کو تمہارے لئے بچھونا بنایا اور آسمان کو چھت بنایا، اور اتارا آسمان سے پانی اور اس نے پیدا کئے پھل تمہاری غذا کے لئے۔ پس تم کسی کو اللہ کے برابر نہ ٹھہراؤ، حالاں کہ تم جانتے ہو۔دوسری آیت یہ ہے: وَمِنَ النَّاسِ مَنْ یَتَّخِذُ مِنْ دُونِ اللَّہِ أَنْدَادًا یُحِبُّونَہُمْ کَحُبِّ اللَّہِ وَالَّذِینَ آمَنُوا أَشَدُّ حُبًّا لِلَّہِ (2:165)۔ یعنی کچھ لوگ ایسے ہیں جو اللہ کے سوا دوسروں کو اس کا برابر ٹھہراتے ہیں۔ وہ ان سے ایسی محبت رکھتے ہیں جیسی محبت اللہ سے رکھنا چاہئے۔ اور جو اہل ایمان ہیں، وہ سب سے زیادہ اللہ سے محبت رکھنے والے ہیں۔
توحید یہ ہے کہ انسان اللہ سے سب سے زیادہ محبت کرے۔ اور شرک یہ ہے کہ انسان حُبً شدید کے معاملے میں اللہ کے سوا کسی اور کو شریک کرلے۔ توحید اور شرک دونوں اصلاً اعتقادی صفات ہیں۔ بقیہ چیزیں مظاہر شرک ہیں، نہ کہ حقیقت شرک۔خدا کی دریافت ایک ایسی ہستی کی دریافت ہے جو انسان کا خالق ہے۔ ان تمام چیزوں کو دینے والا ہے جو انسان کو اپنی زندگی کے لیے درکار ہیں۔ خدا کی اس حیثیت کا گہرا ادراک جب کسی آدمی کو ہوتا ہے تو وہ اللہ کو اپنا سب کچھ سمجھنے لگتا ہے۔ اس کے نتیجے میں انسان کے اندر اپنے رب کے لیے بے پناہ محبت پیدا ہوجاتی ہے۔ اس کے دل کی گہرائیوں میں اللہ کے سوا کسی اور کے لیے جگہ نہیں ہوتی۔ اللہ کی دریافت کا لازمی نتیجہ اللہ سے محبت ہے، اور اللہ سے محبت کا یہ لازمی نتیجہ ہے کہ دوسری تمام محبتیں اس کے دل سے نکل جائیں۔
واپس اوپر جائیں

عقل سے محرومی

ایک طویل حدیث میں امت مسلمہ کے دورِ زوال کی پیشین گوئی کی گئی ہے، اس حدیث کا ترجمہ یہ ہے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نےکہا: قیامت کے قریب ہرج ہوگا۔ میں نے کہا اے اللہ کے رسول ہرج سے کیا مراد ہے ؟ آپ نےکہا: قتل۔ کسی نے پوچھا اے اللہ کے رسول ہم تو اب بھی ایک سال میں اتنے اتنے مشرکوں کو قتل کرتے ہیں۔ اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس سے مراد مشرکوں کا قتل نہیں ہے، بلکہ تم میں سے بعض اپنے بعض کو قتل کرے گا، حتی کہ ایک آدمی اپنے پڑوسی کو، اپنے چچازاد بھائی کو،اور اپنے قرابت دار کو قتل کرے گا۔ لوگوں میں سے کسی نے کہا، اے اللہ کے رسول اس دور میں ہماری عقلیں ہمارے ساتھ ہوں گی ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا کہ نہیں۔ اس زمانہ میں اکثر لوگوں کی عقلیں چھن جائیں گی، اور گر د وغبار کی مانند لوگ باقی رہیں گے۔ ان کے پاس عقلیںنہیں ہوں گی۔ (سنن ابن ماجہ،حدیث نمبر 3959)
یہاں عقل چھننےسے مراد عقل کے درست استعمال کے لیے نااہل ہوجانا ہے۔ اس بنا پر ایسا ہوگا کہ لوگ ناحق طور پر ایک دوسرے کو قتل کرنے لگیں گے۔ مزید غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ اس حدیث میں بعد کے زمانے میں پیدا ہونے والے اس واقعہ کا ذکر ہے جب کہ امت اپنے دورِ زوال میں پہنچ جائے گی۔ اس کے اندر تقلیدی فکر بہت زیادہ عام ہوچکی ہوگی۔ لوگ اپنے روایتی اکابر کی سوچ سے باہر نکل کر سوچنے کے قابل نہ رہیں گے۔اس بنا پروہ اس صلاحیت سے محروم ہوجائیں گے کہ وہ اپنے زمانے کے بدلے ہوئے حالات کو سمجھیں، اورحالات کے مطابق اسلام کی تعلیمات کی تطبیق نو (reapplication) دریافت کرسکیں۔مثلا زمانے کی تبدیلی کے نتیجے میں جنگ کا دور ختم ہوجائے گا۔ نئے حالات میں ممکن ہوجائے گا کہ پرامن طریقہ کار کے ذریعہ وہ سب کچھ حاصل کیا جاسکے، جس کو پچھلے دور میں’’سیف‘‘ کے ذریعہ ممکن سمجھا جاتا تھا۔ مگر اجتہادی بصیرت کے فقدان کی بنا پر وہ اس تبدیلی کو سمجھنے سے محروم رہیں گے، اور اپنے عمل کی پر امن منصوبہ بندی نہ کرسکیں گے۔
واپس اوپر جائیں

اصلاح اور محاسبہ

ابو الدراء ایک انصاری صحابی ہیں۔ مدینہ میں پیدا ہوئے، اور 72 سال کی عمر میں اسکندریہ کے اندر 32 ھ میں ان کی وفات ہوئی۔ ان کا ایک قول اس طرح نقل کیا گیا ہے:لا یفقہ الرجل کل الفقہ حتى یمقت الناس فی جنب اللہ ثم یرجع إلى نفسہ فیکون لہا أشد مقتا (کنزالعمال، حدیث نمبر 29528)۔ یعنی کوئی آدمی اپنی سمجھ میں کامل نہیں ہوسکتا، حتی کہ اس کا یہ حال ہوجائے کہ وہ اللہ کے لیے دوسروں پرسخت ہو، پھر جب اپنی طرف توجہ کرے تو وہ اپنے لیے اس سے بھی زیادہ سخت ہو۔ دوسروں کا محاسبہ کرنا صرف اس کے لیے جائز ہے، جو خود اپنا محاسبہ اس سے بھی زیاد ہ سخت انداز میںکرتا ہو۔ جو شخص مومن ہوتا ہے، وہ مصلح بھی ہوتا ہے۔ یعنی اپنی اصلاح کے ساتھ دوسروں کی اصلاح کا طالب ہونا۔ جب وہ دوسروں کے اندر کوئی کمی کی بات دیکھتا ہے، تو اپنے احساس کے تقاضے کے تحت وہ مجبور ہوتا ہے کہ وہ نہایت واضح انداز میں اس کی نکیر کرے۔
اس طرح کی نکیر بلاشبہ ایک ثواب کا کام ہے۔ لیکن جو آدمی سچے جذبے کے ساتھ دوسروں کے بارے میں حساس ہو، وہ یقینا اپنے بارے میں شدید حساس ہوتا ہے۔ اس کی یہ حساسیت ایک طرف دوسروں کے بارے میں اس کو ناقد بناتی ہے۔ دوسری طرف یہی حساسیت اس کے اندر یہ سوچ پیدا کرتی ہے کہ اگر میں نے تنقید کرنے میں کوئی غلطی کی ہے تو اللہ یقینا میری سخت پکڑ کرے گا۔ مومن کی حساسیت اس کے اندر دو طرفہ صفت پیدا کرتی ہے۔ ایک طرف دوسروں کو نصیحت کرنااور دوسری طرف شدید انداز میں اپنا محاسبہ (introspection) کرنا۔ اس طرح مومن کی یہ دو طرفہ حساسیت اس کی شخصیت کی تعمیر میں معاون ہوتی ہے۔ ایک طرف یہ حساسیت اس کو اس قابل بناتی ہے کہ وہ درست انداز میں اصلاح کا کام کرے، اور دوسری طرف یہ حساسیت اس کو اس سے بچاتی ہے کہ وہ اس عمل میں کسی زیادتی سے اپنے آپ کو بچائے۔وہ دوسرے کی غلطی کو بتانے والا بھی بن جاتا ہے، اور اپنی غلطی کی اصلاح کرنے والا بھی۔
واپس اوپر جائیں

دعا، قبولیتِ دعا

قرآن میں دعا کی بابت ایک آیت ان الفاظ میں آئی ہے: وَقَالَ رَبُّکُمُ ادْعُونِی أَسْتَجِبْ لَکُمْ إِنَّ الَّذِینَ یَسْتَکْبِرُونَ عَنْ عِبَادَتِی سَیَدْخُلُونَ جَہَنَّمَ دَاخِرِینَ (40:60)۔ یعنی اور تمہارے رب نے فرما دیا ہے کہ مجھ کو پکارو، میں تمہاری دعا قبول کروں گا۔ جو لوگ میری عبادت سے سرتابی کرتے ہیں، وہ عنقریب ذلیل ہو کر جہنم میں داخل ہوں گے۔
آیت کے الفاظ سے بظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ اللہ ہر دعا کو قبول کرتا ہے۔ لیکن دوسرے بیانات سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ دعا کی یہ قبولیت صرف پاک کلمہ (فاطر 10:) کے لیے ہے۔ یعنی وہ پکار جو اللہ کے قانون کے مطابق ایک درست پکار ہو۔ مثلا اگر کوئی شخص یہ دعا کرے کہ شیطان ہمیشہ کے لیے نابود ہوجائے تو ایسا کبھی ہونے والا نہیں۔ کیوں کہ اللہ کے فیصلے کے مطابق شیطان کو قیامت تک باقی رہنا ہے۔اسی طرح اگر کوئی شخص کسی گروہ کو اپنا دشمن فرض کرلے، اور یہ دعا کرے کہ میرے یہ تمام دشمن ہلاک ہوجائیں تو ایسی دعا بھی ہرگزقبول نہ ہوگی۔ کیوں کہ کسی گروہ کی ہلاکت کے لیے اللہ کا اپنا قانون ہے، اس کا تعلق کسی کی دعا سے نہیں۔
اسی طرح اگر کچھ لوگ کسی گروہ سے قومی لڑائی لڑیں اور یہ دعا کریں کہ خدایا تو اپنے وعدے کےمطابق ہمیں ان کے مقابلے میں اپنی نصرت عطا فرما۔ تو ایسی دعا بھی قبول ہونے والی نہیں۔ کیوں کہ اللہ کی نصرت اپنے قانون کے مطابق آتی ہے۔ ہمارے اپنے مفروضہ دشمنوں کے خلاف نہیں۔سچی دعا وہ ہے جو سچے انسان کے دل سے نکلے۔ اسی طرح دعا کی قبولیت اس وقت ہوتی ہے، جب کہ دعا اللہ کے راستے میں کامیابی کے لیے کی گئی ہو، نہ کہ خود ساختہ راستے میں کامیابی کےلیے۔ آدمی کو چاہیے کہ پہلے وہ اپنے آپ کو مزکیّٰ شخصیت بنائے۔ پھر وہ اللہ کے منصوبہ کو سمجھے، اور اللہ کے منصوبہ کے مطابق اپنے آپ کو اُس پر لگائے۔ جو لوگ اس شرط کو پورا کریں، ان کی دعا ضرور قبول ہوگی۔
واپس اوپر جائیں

فروغ وسائل انسانی

امریکی عالم اقتصادیات جان آر کامنس (John R. Commons) نے 1893 میں ایک کتاب شائع کی، دی ڈسٹری بیوشن آف ویلتھ (The Distribution of Wealth) ۔ اس کتاب میں اس نے پہلی بار ہیومن ریسورس (human resource)کی اصطلاح استعمال کی۔ ابتدائی طور پر اس اصطلاح کو انڈسٹریل کلچر کی ایک ضرورت کے طور پر لیا گیا تھا۔ لیکن بعد کو توسیعی طور پر یہ اصطلاح انسانی وسائل کے ڈیولپمنٹ (human resource development) کے معنی میں بھی استعمال ہونے لگی۔
یہ اصطلاحی توسیع آغاز ہی سے اپنے اندر غلط فہمی کا ایک پہلو رکھتی تھی۔ وہ یہ کہ جس طرح مادی دنیا میں مادہ کو خارجی ڈیولپمنٹ کے ذریعہ ترقی کے مرحلے تک پہنچایا جاسکتا ہے، اسی طرح انسا ن کو بھی خارجی تربیت کے ذریعہ اعلی تربیت تک پہنچانا ممکن ہے۔ مثلاً اُور (ore) کو ڈیولپ کرکے جس طرح اسٹیل (steel) کے درجے تک پہنچانا ممکن ہوتا ہے، اسی طرح غیر اعلی انسان کو بھی خارجی تربیت کے ذریعہ اعلی انسان کے درجے تک پہنچایا جاسکتا ہے۔ مگر اس تصور میں ایک چیز حذف ہوگئی۔ وہ یہ کہ انسان اگر چہ جسمانی اعتبار سے بظاہر ایک مادی وجود ہے، لیکن اپنے دماغ کے اعتبار سے وہ مکمل طور پر ایک غیر مادی ظاہرہ (non-material phenomenon) کی حیثیت رکھتا ہے۔ اس فرق کا مطلب یہ ہے کہ انسان بنایا نہیں جاتا، بلکہ وہ اپنے آپ کو خود اپنی سوچ کے تحت تیار کرتا ہے۔ انسان ایک سیلف میڈ (self-made) مخلوق ہے۔
ایک حدیث رسول
ایک حدیث رسول ان الفاظ میں آئی ہے: کل مولود یولد على الفطرة، فأبواہ یہودانہ، أو ینصرانہ، أو یمجسانہ (صحیح البخاری، حدیث نمبر1385)۔ یعنی ہر پیدا ہونے والا فطرت پر پیدا ہوتا ہے، پھر اس کے والدین اس کو یہودی یا نصرانی یا مجوسی بنا لیتے ہیں۔
یہاں والدین کا لفظ علامتی معنی میں ہے، یعنی ماحول (environment) ۔ آدمی جس طرح کے ماحول میں زندگی گزارتا ہے، اسی کے مطابق اس کی کنڈیشننگ ہوتی رہتی ہے۔ چناں چہ ہر انسان ایک کنڈیشنڈ انسان ہوتا ہے۔ مگر یہ کنڈیشننگ اوپری نوعیت کی ہوتی ہے۔اس کنڈیشننگ کے باوجود انسان کی اصل فطرت بدستور اپنی جگہ باقی رہتی ہے۔اس اعتبار سے ہر انسان کا پہلا کام یہ ہے کہ وہ اپنے ذہن کی ڈی کنڈیشننگ (deconditioning) کرے۔ وہ اپنے آپ کو شعوری عمل (intellectual process) کے ذریعے ایک نیا انسان بنائے۔ اس سے پہلے اگر وہ کنڈیشننگ کا ایک کیس تھا تو وہ دوبارہ اپنے آپ کو فطرت کا ایک کیس بنائے۔
اس عمل کے دوران انسان مزید یہ کرتا ہے کہ وہ اپنے آپ کو دریافت کرتا ہے۔ اس عمل (process) کے دوران وہ یہ دریافت کرتا ہے کہ خالق نے اس کے اندر کون سی انفرادی صفت رکھی ہے۔ تخلیق کے اعتبار سے ہر مرد مسٹر ڈیفرنٹ ہے اور ہر عورت مس ڈیفرنٹ ۔ اس منفرد شخصیت کو دریافت کرنے کے بعد ہی انسان کی اصل تعمیر کا کام شروع ہوتا ہے۔ انڈسٹری کے کلچر میں آدمی کو معدنیات جیسا ایک مخلوق سمجھا جاتا ہے۔ انڈسٹری کا کلچر آدمی کو خود اپنی ضرورت کے مطابق تربیت دے کر اس قابل بناتاہے کہ وہ اس کی مشین کا ایک پرزہ بننے کے قابل ہوسکے۔
لیکن انسان اس انڈسٹریل تصور سے بہت زیادہ ہے۔ انسان کے اندر یہ صلاحیت ہے کہ وہ اپنے آپ کو دریافت کرے۔ اور اس خود دریافت کردہ تخلیق کے مطابق اپنے آپ کو اعلی مقصد کے لیے ڈیولپ کرے۔ یہ ایک سیلف ڈیولپمنٹ کا عمل (process) ہے۔ یہی سیلف ڈیولپمنٹ کا عمل انسان کو مین (man)سے بڑھا کر سوپر مین بناتا ہے۔ اسی سیلف ڈیولپمنٹ کے بعد آدمی اس قابل بنتا ہے کہ وہ اپنے آپ کو اعلی کامیابی (super-achievement) تک لے جائے۔ اس لحاظ سے فروغ وسائل انسانی کا سب سے بڑا عمل یہ ہے کہ آدمی اپنے آپ کو ازسر نو دریافت (rediscover) کرے۔ وہ پھر سے اپنی معرفت حاصل کرے۔ اسی خود دریافت کردہ معرفت میں اعلی انسانی ترقی کا راز چھپا ہوا ہے۔
واپس اوپر جائیں

کنڈیشننگ کا مسئلہ

پیغمبر اسلام کی پیدائش 570 ء میں مکہ میں ہوئی۔ آپ نے نبوت کا مشن 610ء میں شروع کیا۔ 632ء میں مدینہ میں آپ کی وفات ہوئی۔ وفات سے کچھ ماہ پہلے، آپ نے حجۃ الوداع کے موقع پر اس وقت کے اہل اسلام کو عمومی خطاب کیا، جو بالواسطہ طور پر پوری امت مسلمہ سے خطاب کے ہم معنی تھا۔اس خطاب کے بارے میںایک روایت ان الفاظ میں آئی ہے :أن رسول اللہ صلى اللہ علیہ وسلم خطب الناس یوم النحر فقال:یا أیہا الناس أی یوم ہذا؟، قالوا:یوم حرام، قال:فأی بلد ہذا؟، قالوا:بلد حرام، قال:فأی شہر ہذا؟، قالوا:شہر حرام ، قال:فإن دماءکم وأموالکم وأعراضکم علیکم حرام، کحرمة یومکم ہذا، فی بلدکم ہذا، فی شہرکم ہذا، فأعادہا مرارا، ثم رفع رأسہ فقال:اللہم ہل بلغت، اللہم ہل بلغت - قال ابن عباس :فوالذی نفسی بیدہ، إنہا لوصیتہ إلى أمتہ، فلیبلغ الشاہد الغائب، لا ترجعوا بعدی کفارا، یضرب بعضکم رقاب بعض (صحیح البخاری، حدیث نمبر1739)۔
عبد اللہ ابن عباس سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یوم النحر کے دن خطبہ دیا۔ آپ نے پوچھاکہ اے لوگو ، یہ کون سا دن ہے ؟ لوگوں نے جواب دیا یہ یوم حرام ہے، آپ نے پوچھا کہ یہ کون سا شہر ہے ؟ لوگوں نے جواب دیا یہ شہر حرام ہے، آپ نے پوچھا کہ یہ کون سا مہینہ ہے ؟ لوگوں نے جواب دیا یہ حرام کا مہینہ ہے۔ آپ نے فرمایا تمہارا خون اور تمہارے مال اور تمہاری آبرو تم پر حرام ہے، جس طرح یہ دن تمہارے اس شہر میں اور تمہارے اس مہینہ میں حرام ہے۔ آپ نے یہ کلمات چند بار دہرائے۔ پھر اپنا سر آسمان کی طرف اٹھا کر فرمایا اے اللہ، کیا میں نے پہنچا دیا۔ اے اللہ، کیا میں نے پہنچا دیا۔ عبد اللہ ابن عباس نے کہا، قسم اس ذات کی جس کے قبضہ میں میری جان ہے، آپ نے اپنی امت کو یہی وصیت فرمائی تھی کہ جو لوگ حاضر ہیں وہ ان لوگوں کو پہنچادیں جو یہاں موجود نہیں ہیں، میرے بعد تم لوگ کفر کی طرف نہ لوٹ جانا کہ تم میں سے بعض ، بعض کی گردن مارنے لگے۔
اس حدیث میں کفر کا لفظ شدت اظہار کی بنا پر ہے۔ باعتبار حقیقت اس سے مراد یہ ہے کہ دور جاہلیت کی طرف لوٹ نہ جانا۔ اسلام سے پہلے عرب میں جو دور تھا، اس کو جاہلیت کا دور کہا جاتا ہے۔ اس زمانے میں عرب میں قبائلی دور (tribal age) قائم تھا۔ قبائلی دور کا کلچر قتل و قتال کا کلچر تھا۔ ابوتمام حبیب بن أوس الطائی نے اپنے انتخابی مجموعہ دیوان الحماسہ میںایک جاہلی شاعر کا ایک شعر اس طرح نقل کیا گیا ہے:
وأحیاناً على بکرٍ أخینا إذا ما لم نجد إلا أخانا
یعنی اور کبھی ہم اپنے بھائی بکر سے لڑ جاتے ہیں۔جب کہ ہمیں لڑنےکے لیے اپنےبھائی کے سوا کوئی اور نہیں ملتا۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مذکورہ نصیحت کا پس منظر یہ ہے کہ یہ لوگ جن کی پرورش عرب کے قبائلی ماحول میں ہوئی ہے کہیں ایسا نہ ہو کہ وہ اپنی سابقہ کنڈیشننگ کو ڈی کنڈیشن نہ کر پائیں اور دوبارہ ان کے اندر جنگ و جدال کا کلچر شروع ہوجائے۔ ابتدائی دور کے اہل ایمان کے لیے اس کنڈیشنگ کا مطلب عرب کے قدیم ماحول کی کنڈیشننگ ہے۔ اس کنڈیشننگ کی بنا پر ان کے اندر بعد کے زمانے میں لڑائیاں شروع ہوگئیں۔ موجودہ زمانے کے مسلمان جودوبارہ جنگ و تشدد کے کلچر میں مشغول ہیں، وہ بھی اسی کنڈیشننگ کی بنا پر ہیں۔ فرق یہ ہے کہ موجودہ زمانے کے مسلمانوں کی کنڈیشننگ تاریخی کنڈیشننگ (historical conditioning) ہے۔
عباسی دور میں جو کتابیں تیار ہوئیں، وہ اس تاریخی کنڈیشننگ کا ذریعہ بن گئیں۔ اس زمانے میں یہ ہوا کہ سیرت رسول کی کتابیں مغازی کے پیٹرن پر لکھی گئیں۔ مسلم تاریخ پوری کی پوری فتوح الشام اور فتوح البلدان کی زبان میں تیار ہوئی۔ بعدکا پورا لٹریچر عملاًاسی اسلوب میں ڈھل گیا۔ اس کی ایک مثال ایک مسلم شاعر کا یہ شعر ہے:
ابھی بھولے نہیں ہم خالد و طارق کے افسانے فتوحات صلاح الدیں ابھی زندہ ہیں دنیا میں
بعد کے زمانے میں مسلمانوں کے درمیان جو کتابیں لکھی گئیں، وہ تقریبا سب کی سب اسی پیٹرن پر لکھی گئیں، خواہ وہ منظوم کتابیں ہوں یا منثورکتابیں۔ بعد کےمسلمان پیدا ہوتے ہی اسی قسم کی کتابیں پڑھنے لگے۔ اس طرح وہ دوبارہ بذریعہ لٹریچر اسی قسم کی کنڈیشننگ میں مبتلا ہوگیے جس کو تاریخی کنڈیشننگ کہاجاسکتا ہے— موجودہ زمانے میں مسلمانوں کے اندر جو نفرت اور تشدد کی سوچ ہے، وہ اسی تاریخی کنڈیشننگ کا نتیجہ ہے۔
ڈی کنڈیشننگ کیا ہے۔ ڈی کنڈیشننگ کا عمل آدمی خود اپنے آپ پر کرتا ہے۔ ڈی کنڈیشننگ کو روایتی اصطلاح میں محاسبہ نفس کہا جاسکتا ہے۔ اس محاسبہ خویش (self-deconditioning) کی صورت یہ ہوتی ہے کہ آدمی خود اپنا بے لاگ مطالعہ کرے، اور اپنے آپ کو ان اثرات سے پاک کرے جو تاریخی طور پر اس کی سوچ کا حصہ بن گیے ہیں۔
مثلا مذکورہ معاملہ میں آدمی یہ سوچے کہ قتال کی نوعیت اسلام کی تعلیمات کی روشنی میں کیا ہے۔ پھر وہ پائے گا کہ قتال کوئی ابدی عمل نہیں۔ اس کا ایک اختتام (end) ہے۔ جیسا کہ قرآن میں آیا ہے:وَقَاتِلُوہُمْ حَتَّى لَا تَکُونَ فِتْنَةٌ (الانفال 39:) اور جیسا کہ قرآن میں آیا ہے: حَتَّى تَضَعَ الْحَرْبُ أَوْزَارَہَا (محمد: 4)۔
قرآن اور حدیث میں اس طرح کے متعدد حوالے موجود ہیں ، جو یہ بتاتے ہیں کہ قتال حسن لذاتہ نہیں ہے، بلکہ حسن لغیرہ ہے۔ یعنی اسلام میں قتال برائے قتال (qital for the sake of qital) نہیں ہے، بلکہ قتال کسی متعین سبب کے لیے ہے۔ جب یہ سبب ختم ہوجائے تو قتال بھی ختم ہوجائے گا۔ اس طرح سوچنے کے عمل کو اپنا محاسبہ کہا جاتاہے۔
موجودہ زمانے میں جو مسلمان یہ کررہے ہیں کہ وہ دوسری قوموں کو اپنا دشمن قرار دے کر ان کے خلاف متشددانہ کارروائی یا خودکش بمباری (suicide bombing)کررہے ہیں، وہ اگر اس طرح غور کریں تو یقیناً ان کا موجودہ سوچنے کا طریقہ بدل جائے گا۔ اسی کو ڈی کنڈیشننگ کہا جاتا ہے۔ اگر موجودہ زمانے کے مسلمان اس طرح بے لاگ انداز میں غور کریں تویقینا وہ ایک اور حدیث تک پہنچیں گے جو براہ راست طور پر اسی معاملے سے متعلق ہے۔ یہ حدیث بتاتی ہے کہ بعد کے زمانے میں ایک وقت آنے والا ہے، جب کہ ساری دنیا مویددین بن جائے۔ اس حدیث کے الفاظ یہ ہیں: إن اللہ عز وجل لیؤید الإسلام برجال ما ہم من أہلہ(المعجم الکبیر للطبرانی، حدیث نمبر14640)۔ مسند احمد میں یہ روایت اس طرح آئی ہے:إن اللہ سیؤید ہذا الدین بأقوام لا خلاق لہم (حدیث نمبر20454)۔ صحیح البخاری میں یہ روایت ان الفاظ میں ہے:إن اللہ لیؤید ہذا الدین بالرجل الفاجر(حدیث نمبر3062)۔
یہ حدیث مستقبل کے بارے میں پیغمبر اسلام کی ایک پیشگی خبر ہے۔ اس حدیث کی روشنی میں تاریخ کا مطالعہ کیا جائے تو معلوم ہوگا کہ رسول اور اصحاب رسول کی کوششوں سے ساتویں صدی عیسوی میں جو انقلاب آیا، اس کے بعد دنیا میں ایک تاریخی عمل (historical process) بڑے پیمانے پر جاری ہوگیا۔ اس تاریخی عمل میں نہ صرف مسلمان بلکہ دوسری سیکولر قومیں بالخصوص اہل مغرب بڑے پیمانے پر شریک ہوئیں۔ بیسویں صدی اس عمل کا نقطہ انتہا (culmination) تھا۔ اس عمل (process) نے انسانی تاریخ میں ایک نیا دور پیدا کردیا۔ اسی نئے دور کو حدیث میں دین کے حق میں تائید کا دور کہا گیا ہے۔
واپس اوپر جائیں

بارش کا آنا خدا کے منصوبے کا خاموش اعلان ہے۔ کسان اس خدائی اشارہ کو فوراً سمجھ لیتا ہے، اور اپنے آپ کو اس خدائی منصوبہ میں پوری طرح شامل کردیتا ہے۔ اس کا نتیجہ اس کو ایک لہلہاتی ہوئی فصل کی صورت میں واپس ملتا ہے۔ اسی طرح موجودہ زمانہ میں، ہزار سالہ عمل کے نتیجے میں، اللہ تعالی نے اپنے دین کے حق میں نئے مواقع کھولے ہیں۔ یہ مواقع کہ اقتدار کا حریف بنے بغیر توحید اور آخرت کی دعوت کو عام کیا جائے۔ (اسلام پندرھویں صدی میں)


واپس اوپر جائیں

قابل عمل طریقِ کار

پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے مشن کی غیر معمولی کامیابی کا اعتراف عام طور پر مورخین نے کیا ہے۔ امریکی مصنف ڈاکٹر مائکل ہارٹ نے اپنی کتاب دی ہنڈریڈ میں پیغمبر اسلام کو پوری انسانی تاریخ کا سب سے زیادہ کامیاب انسان بتایا ہے ۔ ان کے الفاظ یہ ہیں:
He was the only man in history who was supremely successful on both the religious and secular levels.
Michael H. Hart, The 100: A Ranking of the Most Influential Persons in History (New York: Simon &Schuster Ltd., 1993), 3.
اسی طرح انڈین مصنف ایم این رائے (وفات1954:)نے اپنی کتاب دی ہسٹاریکل رول آف اسلام میں پیغمبر اسلام کے انقلاب کے بارے میں یہ الفاظ لکھے:
The expansion of Islam is the most miraculous of all miracles. (M.N. Roy, The Historical Role of Islam [Bombay: Vora and Co. Publishers Ltd, 1938], 5.)
اس سلسلے میں اصل سوال یہ ہے کہ پیغمبر اسلام کو اپنے مشن میں یہ غیر معمولی کامیابی کس طرح حاصل ہوئی۔ اس کا جواب یہ ہے کہ اس خصوصی طریق کا ر کے ذریعے، جس کو قرآن میں صراطِ مستقیم (الفتح2:) کے نام سے بیان کیا ہے۔ مطالعے سے معلوم ہوتا ہےکہ اس طریقہ کی استثنائی صفت یہ تھی کہ وہ ایک کامل معنوں میں قابل عمل طریقہ (workable method) تھا۔
تاریخ میں بہت سی مثالیں ہیں، جب کہ لوگ ایک مقصد کے لیے اٹھے، انھوں نے غیر معمولی قربانیاں دیں، لیکن وہ اپنے مقصد کے حصول میں کامیاب نہیں ہوئے۔ پیغمبر اسلام کی استثنائی صفت ہے کہ آپ جس مقصد کے لیے اٹھے تھے، اس مقصد کو حاصل کرنے میں آپ پوری طرح کامیاب ہوگیے۔ اس کا سبب یہ تھا کہ آپ کا طریق کار ایک ایسا طریق کا ر تھا، جو ورک کرنے والا (workable) طریق کار تھا۔ جب کہ دوسرے لوگوں کا معاملہ یہ تھا کہ انھوں نے اپنے مقصد کے حصول کے لیے ایک ایسا طریق کار اختیار کیا جو قانون فطرت کے مطابق، ورک کرنے والا (workable) ہی نہ تھا۔
پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کا طریق کا ر اس لیے ورک کرنے والا طریق کار بن گیا کہ وہ مکمل طور پر حقیقت پسندی پر مبنی تھا۔ پیغمبر اسلام کے ذہن میں بلاشبہ اپنا ایک سوچا سمجھا آئڈیل تھا، لیکن اپنی حقیقت پسندی کی بنا پر انھوں نے یہ کیا کہ انھوں نے اپنی جدو جہد کے دوران اس طریقے کو اختیار کیا جو حالات کے لحاظ سے عملاً قابل عمل طریق کار تھا۔ آپ کی پالیسی کو ایک لفظ میں اس طرح بیان کیا جاسکتا ہے:
Ideologically, he was perfectly an idealist, but practically, he always adopted practical wisdom. Theoretically, he was an idealist, but practically, he was a pragmatic.
آؤٹ سورسنگ (outsourcing)
اس معاملے کی ایک مثال یہ ہے کہ پیغمبر اسلام نے 610 عیسوی میں مکہ میں توحید کا مشن شروع کیا۔ مکہ میں مقدس کعبہ تھا، جس کواب سے تقریبا چار ہزار سال پہلے پیغمبر ابراہیم نے ایک خدا کی عبادت کے لیے تعمیر کیا تھا۔ لیکن بعد کے زمانے میں مکہ میں دھیرے دھیرے شرک کے اثرات پھیل گیے۔ یہاں تک کہ بعد کے زمانے میں مکہ کےسرداروں نے کعبہ میں بتوں کو رکھنا شروع کردیا، جن کی تعداد بڑھتے بڑھتے تقریباً تین سو ساٹھ ہوگئی۔ پیغمبر اسلام کے لیے یہ منظر بے حد تکلیف دہ تھا۔ لیکن آپ نے اس معاملے میں مثبت (positive)طریقہ اختیار کیا۔
آپ نے دیکھا کہ ان بتوں کی وجہ سے وہاں روزانہ ایک مجمع ہوتا ہے۔ سارے عرب سے ان بتوں کے پرستار کعبہ کے پاس اکٹھا ہوتے ہیں۔ آپ نے ان پرستاروں سے ٹکراؤ نہیں کیا، بلکہ آپ نے اس موقعہ پر اس طریقے کو اختیار کیا ، جس کوآج کل کی زبان میں آؤ ٹ سورسنگ کہا جاتا ہے۔ یہ مجمع تمام تر غیر خدا پرستوں کا مجمع ہوتا تھا۔ آپ نے ان لوگوں کو مدعو کا درجہ دیا۔ اور ان کو اپنا آڈینس (audience) بنا لیا۔ آپ روزانہ وہاں جاتے اور ان کو قرآن پڑھ کر سناتے۔ چناں چہ سیرت کی کتابوں میں آتا ہے :وعرض علیہم الإسلام، وتلا علیہم القرآن(سیرۃ ابن ہشام، 1/428)۔
ری پلاننگ (re-planning)
قدیم مکہ میں آپ کی مخالفت بڑھتی چلی گئی۔ یہاں تک کہ مکہ کے سرداروں نے آپ کو یہ الٹی میٹم دے دیا کہ یا تو آپ مکہ کو چھوڑ دیں، یا ہم آپ کو قتل کردیں گے۔ اس وقت آپ نے دوبارہ ٹکراؤ کا طریقہ اختیار نہیں کیا، بلکہ آپ نے ری پلاننگ کا طریقہ اختیار کیا۔ یعنی آپ نے مکہ سے ہجرت کرکے مدینہ کو اپنے مشن کا مرکز بنا لیا۔ اور مکہ کے بجائے مدینہ سے اپنے مشن کا سلسلہ جاری رکھا۔ یہ نیا منصوبہ کامیاب رہا، اور بہت جلد اسلام کی تحریک ایک نئے دور میں داخل ہوگئی۔ پہلے اگر آپ کا مشن ایک مقامی مشن تھا، تو اب وہ دھیرے دھیرے ایک انٹرنیشنل مشن بن گیا۔
پیس ایٹ اینی کاسٹ (peace at any cost)
تاہم آپ کی ہجرت کو قدیم مکہ کے سرداروں نے دل سے قبول نہیں کیا۔ انھوں نے آپ کے خلاف جنگی کارروائی شروع کردی۔ لیکن آپ نے دیکھا کہ دونوں فریقوں کے درمیان ٹکراؤ کا ماحول دعوت الی اللہ کے لیے قاتل ہے۔ دعوت کا کام ٹکراؤ کے ماحول میں انجام نہیں دیا جاسکتا۔ اس موقع پر آپ نے فیصلہ کیا کہ کوئی ایسی تدبیر کرنا چاہیے ، جس سے دونوں فریقوں کے درمیان امن کا ماحول قائم ہوجائے۔ اس مقصد کے لیے آپ نے فریق مخالف سے گفت و شنید (negotiation) شروع کردیا۔لیکن تجربے سے معلوم ہوا کہ فریق ثانی اس کے لیے راضی نہیں ہے کہ وہ دو طرفہ شرطوں پر امن کا معاہدہ کرے۔ آپ نے یہ طے کیا کہ فریق ثانی کی تمام شرطوں کو مان کر، ان سے یک طرفہ بنیاد ( unilateral basis) پر صلح کا معاہدہ کرلیا جائے۔اس طرح ہجرت کے چھٹے سال دونوں فریقوں کے درمیان وہ معاہدۂ امن طے پایا، جس کو صلح حدیبیہ (Hudaybiyah Agreement)کہا جاتا ہے۔ اس معاہدہ کو اس وقت کے اکثر لوگوں نے ذلت آمیز معاہدہ (humiliating agreement) قرار دیا۔ لیکن قرآن نے کہا کہ یہ فتح مبین (clear victory) ہے۔ اور چند سال کے بعد یہ ثابت ہوگیا کہ یہ معاہدہ اپنے نتیجے کے اعتبار سے یقیناً فتح مبین تھا۔
یہ چند مثالیں ہیں، جن سے اندازہ ہوتا ہے کہ پیغمبر اسلام کا طریقہ کیا تھا۔ ایک روایت کے مطابق، پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اتقوا فراسة المؤمن فإنہ ینظر بنور اللہ (سنن الترمذی، حدیث نمبر3127)۔ یعنی مومن کی فراست سے بچو، کیوں کہ مومن اللہ کے نور سے دیکھتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ مومن ذاتی جذبہ کے تحت کام نہیں کرتا، بلکہ وہ فطرت کے بارے میں خدا کے نقشۂ تخلیق کو دریافت کرتا ہے۔ اور اس کے مطابق اپنا منصوبہ بناتا ہے، اور جو لوگ اپنے کام کی پلاننگ اس طرح کریں ، وہ ضرور کامیابی کا درجہ پالیں گے۔
واپس اوپر جائیں

انگریزی کاایک مثل ہے:

Hitting the nail on the head
یعنی کیل کے عین سر پر مارنا۔ یہ مثل بہت بامعنی ہے۔ اس میں ایک مادی مثال کے ذریعہ انسانی کامیابی کا راز بتایا گیا ہے۔
یہ ایک معلوم حقیقت ہے کہ کیل جب کسی چیز پر ٹھونکی جاتی ہے تو اس کے ٹھیک سر پر ہتھوڑی ماری جاتی ہے۔ اگر ہتھوڑی کی مار ادھر ادھر پڑے تو وہ صحیح طور پر اندر نہیں داخل ہوگی، بلکہ ٹیڑھی ترچھی ہو کر رہ جائے گی۔اسی طرح زندگی کے معاملات میں یہ جاننا پڑتا ہے کہ ٹھیک ٹھیک وہ کون سا مقام ہے جہاں ضرب لگانی چاہیے۔ صحیح ضرب کے نتیجہ ہی کا دوسرا نام کامیابی ہے۔ (ڈائری، 1985)
واپس اوپر جائیں

عہد اسلام

قرآن و حدیث میں اسلام کے مستقبل کے بارے میں ایسی پیشین گوئیاں (predictions) موجود ہیں، جو بتاتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد جو زمانہ آنے والا ہے، وہ اسلام کا زمانہ ہوگا۔ مثلا ایک روایت ہے۔ صحابہ کہتے ہیں کہ ہم نے رسول اللہ سے شکایت کی، اس وقت آپ کعبہ کے سائے میں اپنی چادر کو تکیہ بنائے ہوئے لیٹےتھے۔ ہم نے کہا کہ کیا آپ ہمارے لیے اللہ سے مدد نہیں مانگتے، کیا آپ ہمارے لیے اللہ سے دعا نہیں کرتے۔ آپ نے فرمایا، تم سے پہلے جو لوگ تھے، ان کا یہ حال تھا کہ آدمی کو پکڑا جاتا، اس کے لیے زمین میں گڈھا کھودا جاتا، پھر اس کو اس میں ڈال دیا جاتا، پھر آرا لایا جاتا تھا اور اس کے سر پر چلایا جاتا تھا، اور اس کو دو ٹکرے کردیا جاتا تھا، اور(کبھی ایسا ہوتا کہ کسی آدمی کے جسم پر)لوہے کی کنگھی کی جاتی ، یہاں تک کہ وہ اس کے گوشت سے بڑ ھ کر اس کی ہڈی تک پہنچ جاتی تھی۔ مگر یہ چیز اس کو اس کےدین سے روکنے والی نہیں بنتی تھی۔
پھر آپ نے فرمایا:واللہ لیتمن ہذا الأمر، حتى یسیر الراکب من صنعاء إلى حضرموت، لا یخاف إلا اللہ، والذئب على غنمہ، ولکنکم تستعجلون۔یعنی خدا کی قسم یہ امر تکمیل تک پہنچے گا، یہاں ایک سوار صنعاء سے حضرموت تک سفر کرے گا، اور اس کو اللہ کے سوا کسی اور کا ڈر نہیں ہوگا، اور بھیڑیے کا اپنی بکریوں پر،مگر تم لوگ جلدی کررہے ہو۔ (صحیح البخاری، حدیث نمبر6943)۔
یہ قول رسول ایک پیشین گوئی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اسلام سے پہلے کی تاریخ میں جو اہل دین پر ظلم کیا جاتا تھا ، وہ اسلام کے بعد کی تاریخ میں اللہ کی مدد سے ختم ہوجائے گا۔ دوسرے لفظوں میں یہ کہ قبل از اسلام کا دور، اگر مخالف اسلام دور تھا تو بعد از اسلام کا دور، موافق اسلام کا دور ہوگا۔ ہمارے ایمان کا تقاضا ہے کہ ہم یہ مانیں کہ اسلام کے بعد کے زمانے میں یہ دور آیا۔ اب اس پیشین گوئی پر تقریبا ڈیڑھ ہزار سال گزر چکے ہیں۔ یقینی ہے کہ یہ دور تاریخ میں آچکا ہے۔ پھر کیا وجہ ہے کہ اہل اسلام اس دور کی آمد سے بے خبر ہیں۔
اس عظیم بے خبری کا سبب کیا ہے۔ اس کا سبب،حدیث کے مطابق یہ ہے کہ بعد کے زمانے کے اکثر لوگوں سے ان کی عقلیں چھن جائیں گی (تنزع عقول أکثر ذلک الزمان)سنن ابن ماجہ، حدیث نمبر3959۔اس بنا پر وہ اس قابل نہ رہیں گے کہ وہ کسی واقعہ کا صحیح تجزیہ کرکے اس کی حقیقت کو دریافت کریں۔ عقل کیا ہے۔ عقل اس صلاحیت کا نام ہے کہ آدمی غیر متعلق کو الگ کرکے متعلق کو جان سکے:
Wisdom is the ability to discover the relevant by sorting out the irrelevant.
ایک مثال سے اس کی وضاحت ہوتی ہے۔ مصرکے سید قطب مزید تعلیم کے لیے امریکا گیے۔ وہاں وہ تین سال رہے۔ انھوں نے امریکا کے بارے بیس صفحات پر مشتمل ایک کتاب لکھی۔ کتاب کا عربی نام یہ ہے، امریکا التی رایت:
The America I have Seen
یہ کتاب امریکہ کی منفی تصویر پیش کرتی ہے۔ اس کتاب کو پڑھنے کے بعد آدمی وہی رائے قائم کرے گاجو عام طور پر امریکا کے بارے میں عربوں کی رائے ہے۔ عرب عام طور پر امریکاکے بارے میں اپنی رائے، اس الفاظ میں بیان کرتے ہیں: امریکا عدو الاسلام رقم واحد (امریکا اسلام کا دشمن نمبر ایک ہے)۔ اس منفی رائے کا سبب یہ ہے کہ یہ لوگ امریکا کو ایک غیرمتعلق پہلو سے دیکھتے ہیں۔ جو لوگ امریکا کو اسرائیل کے زاویہ سے دیکھتے ہیں، وہ امریکا کو اسلام کا دشمن سمجھتے ہیں۔ اور جو لوگ امریکا اس کو اس کے کلچر کے اعتبار سے دیکھتے ہیں، وہ لوگ امریکاکو اباحیت (permissiveness )کا ملک سمجھتے ہیں۔ مگر یہ دونوں پہلو امریکا کے غیر متعلق پہلو ہیں۔ اس کا متعلق پہلو یہ ہے کہ امریکا میں سائنسی تحقیق (scientific research) کاسب سے زیادہ کام ہوا ہے۔ غیر متعلق پہلو سے دیکھنے میں امریکا ایک برا ملک نظر آتا ہے، لیکن اگر متعلق پہلو سے دیکھا جائے تو امریکا انسانیت کا محسن ملک نظر آئے گا۔
واپس اوپر جائیں

قتل کی سزا

امام ابن تیمیہ الحرانی ( 661-728 ھ)شام میں پیدا ہوئے۔ یہ مسلمانوں میں عام طور پر اہم ترین عالم کی حیثیت رکھتے ہیں۔ ان کو شیخ الاسلام کا لقب دیا گیا ہے۔ ان کی کتابیں کتب مراجع کی حیثیت رکھتی ہیں۔ ہماری آفس میں موجود مشہور عربی ڈیجیٹل لائبریری المکتبۃ الشاملۃ میں ان کی 154 عربی کتابیں ہیں۔
ایک عرب عالم محمد حبش کا ایک مقالہ انٹرنیٹ پر دیکھا جاسکتا ہے۔ اس مقالہ کا ٹائٹل یہ ہے: ابن تیمیة و428 فتوى بعنوان:(یستتاب وإلا قتل)۔انھوں نے ابن تیمیہ کی عربی کتابوں کا تفصیل کے ساتھ مطالعہ کیا ، اور اس مقالے میں انھوں نے ذکر کیا ہے کہ ابن تیمیہ نے اپنے نقطۂ نظر کے مطابق کن عمل کو مستوجب قتل جرائم قرار دیا ہے۔ یعنی کون سے ایسے جرائم ہیں جو ابن تیمیہ کے نزدیک مستوجب قتل کی حیثیت رکھتے ہیں۔محمد حبش اپنے مقالہ میں ابن تیمیہ کے الفاظ اس طرح نقل کرتے ہیں :’’یستتاب وإلا قتل‘‘، أو’’وإلا فإنہ یقتل‘‘(یعنی ایسے شخص سے توبہ طلب کی جائے گی، اور اگر اس نے توبہ نہیں کیا تو اس کو قتل کردیا جائے گا) ۔ ان کے مطابق، ابن تیمیہ کے مجموع فتاویٰ میں یہ جملہ دو سو مرتبہ ذکر ہوا ہے۔ اور اگر دوسری کتابوں کو شامل کرلیا جائے تو ایسے جرائم کی تعداد 428 ہوجاتی ہے۔ انٹرنیٹ پرملاحظہ ہو مذکورہ مضمون: ابن تیمیة و428فتوى بعنوان: (یستتاب وإلا قتل)۔
یہ کون سے جرائم ہیں۔ یہ سب کے سب اعتقادی جرائم (thought crime)ہیں۔ محمد حبش نے مثال کے طور پر ابن تیمیہ کے کچھ ایسے فتاویٰ نقل کیے ہیں:مثلاً جو شخص یہ نہ کہے کہ اللہ آسمانوں کے اوپر اپنے عرش پرہے تو اس سے توبہ طلب کی جائے گی، اور اگر اس نے توبہ نہیں کی تو اس کو قتل کیا جائے گا۔ جو شخص کسی سے کہے کہ میں نے تمھارے اوپر توکل کیا، یا مجھے تمھارے اوپر اعتماد ہے— تو اس سے توبہ طلب کی جائے گی، اور اگر اس نے توبہ نہیں کی تو اس کو قتل کردیا جائے گا۔ جس شخص کا یہ عقیدہ ہوکہ اولیاء میں سے کوئی ولی محمد کے ساتھ ہوگا جیسا کہ خضر موسیٰ کے ساتھ تھے، تو اس سے توبہ طلب کی جائے گی، اگر اس نے توبہ نہیں کیا تو اس کی گردن ماردی جائے گی۔ ایک بالغ انسان نے پانچ نمازوں میں سے کوئی ایک نماز نہیں ادا کی یا بعض متفق علیہ فرائض کو ترک کردیا تو اس سے توبہ طلب کی جائے گی، اور اگر توبہ نہیں کیا تو اس کو قتل کیا جائے گا۔ جس نے یہ نہ کہا کہ اللہ سات آسمانوںکے اوپر ہےتو وہ اپنے اس قول کی بنا پر کافر قرار پائے گا، اس کا خون مباح ہوگا، اس کی توبہ طلب کی جائے گی ، اگر توبہ نہیں کیا تو اس کی گردن ماردی جائے گا، اور اس کو کوڑا خانہ میں ڈال دیا جائے گا۔جو یہ کہے کہ قرآن (قدیم نہیں)حادث ہے تو وہ میرے نزدیک جہمیہ ہے، اس سے توبہ طلب کی جائے گی، اگر نہ کرے تو اس کی گردن ماردی جائے گی۔ جو یہ کہے کہ کسی صحابی یا تابعی، یا تبع تابعین نے کفار کے ساتھ مل کرجنگ کی تو وہ گمراہ بلکہ کافر ہے، واجب ہے کہ اس سے اس بات کی توبہ طلب کی جائے، اگر وہ توبہ نہ کرے تو اس کو قتل کردیا جائے۔جو مذکورہ باتوں کے صحیح ہونے کا اعتقاد رکھے، تو بلاشبہ وہ کافر ہے، واجب ہے کہ اس سے توبہ طلب کی جائے، اگر وہ توبہ نہ کرے تو وہ قتل کیا جائے گا۔ جو آدمی کچھ ظاہر و متواتر مباح چیزوں کے حلال ہونے کا انکار کرے ، جیسے روٹی، گوشت، اور نکاح وغیرہ تو وہ کافرمرتد ہے، اس سے توبہ طلب کی جائے گی، اگر توبہ نہ کرے تو قتل کردیا جائے گا۔ اور اگر اس کو دل میں چھپائے (یعنی گوشت ، روٹی، اور نکاح کا حرام ہونا) تو وہ زندیق و منافق ہے، اکثر علماء کے نزدیک اس سے توبہ قبول نہیں کی جائے گی، بلکہ اُس سے اگراِس کا اظہار ہوتو بلاتوبہ اسے قتل کیا جائے گا۔ جس شخص نے اس شریعت کو لا زم نہیں پکڑا، یا اس میں طعن کیا، یا اس سے کسی کے خروج کو صحیح کہا تو اس سے توبہ طلب کی جائے گی، اور اگر توبہ نہ کرے تو اس کو قتل کردیا جائے گا۔ جس نے یہ دعوی کیا کہ اللہ تک پہنچانے کے لیے اس کے پاس شریعت محمد ی کے علاوہ کوئی اور طریقہ ہے،جس سے و ہ اللہ کی رضا کو پاسکتا ہے تو وہ بھی کافر ہے، اس سے توبہ طلب کیا جائے گی، اور اگر توبہ نہ کرے تو اس کی گردن ماردی جائے گی۔ سانپ اور بچھو کا کھانا مسلمانوں کے اجماع سے حرام ہے، تو جس نے ان کو حلال سمجھ کر کھایا تو اس سے توبہ طلب کی جائے گی، اور اگر نہ کرے تو اس کو قتل کردیا جائے گا۔ جو یہ کہے کہ قرآن مخلوق ہے تو اس سے توبہ طلب کی جائے گی، اور اگر توبہ نہ کرے تو اس کو قتل کردیا جائے گا۔ جو یہ کہے کہ اللہ نے موسیٰ سے کلا م نہیں کیا تو اس سے توبہ طلب کی جائی گی اور اگر توبہ نہ کرے تو اس کو قتل کردیا جائے گا۔ (تکبیر قرآن میں لکھا ہوا نہیں ہے،اور مسلمانوں کا اس پر اتفاق ہے)تو جس شخص نے یہ خیال کیا کہ تکبیر (اللہ اکبر)قرآن سے ہے تو اس سے توبہ طلب کی جائے گی، اور اگر توبہ نہ کرے تو اس کو قتل کردیا جائے گا۔ جس نے نماز کو کسی کام سے یا شکار کی وجہ سے یا استاد کی خدمت ، وغیرہ کی وجہ سے موخّر کیا، یہاں تک کہ سورج غروب ہوگیا تو اس کو سزا دینا واجب ہے، بلکہ جمہور علماء کے نزدیک توبہ کے بعد اس کو قتل کرنا واجب ہے۔ جس شخص نے یہ کہا کہ مسافر پر رمضان کا روزہ رکھنا واجب ہے تو وہ دونوں گمراہ اور مسلمانوں کے اجماع کے مخالف ہیں، اس کے کہنے والے سے توبہ طلب کی جائے گی اور اگر نہ کرے تو قتل کردیا جائے گا۔
ابن تیمیہ کے یہ فتاویٰ ان کی ذاتی رائے پر مبنی نہیں ہے۔ بلکہ یہی عام طور پر بعد کے زمانے کے علماء اور فقہاء کا مسلک ہے۔ اسی بنا پر ایساہے کہ سات سو سال گزرنے کے بعد بھی کسی قابلِ ذکر عالم نے اس کے خلاف کوئی کتاب نہیں لکھی۔ بلکہ اس قسم کے دعوی کے باوجود ابن تیمیہ آج بھی اکابر علماء میںعظیم درجہ پائے ہوئے ہیں۔
ابن تیمیہ نے جن چیزوں پر قتل کا فتویٰ دیا ہے۔ ان میں سے کوئی ایک’’جرم‘‘ بھی قرآن و حدیث میں مذکور نہیں۔ پھر ابن تیمیہ اور دوسرے علماء نے کیوں ایسا کیا کہ جس جرم کے لیے قرآن و حدیث میں سزا مذکور نہیں، اس کے لیے انھوں نے شرعی اعتبار سے سزا مقرر کی۔ اس کا سبب یہ ہے کہ ان علماء نے سماجی جرم (social crime) اور اعتقادی جرم (thought crime) میں فرق نہیں کیا۔ اسلام کی تعلیم کے مطابق، سماجی جرم پر سخت سزائیں مقرر کی گئی ہیں۔ لیکن اعتقادی جرم اسلام کے نزدیک کوئی قابلِ سزا جرم ہی نہیں۔
اعتقادی جرم اپنی حقیقت کے اعتبار سے اللہ کی عطاکردہ آزادی کا غلط استعمال ہے۔ اس قسم کا غلط استعمال اگر وہ کسی کے خلاف جارح (harmful) نہ ہو تو وہ اس کے لیے قابلِ سزا فعل نہ ہوگا۔ جیسا کہ قرآن میں آیا ہے: فَمَنْ شَاءَ فَلْیُؤْمِنْ وَمَنْ شَاءَ فَلْیَکْفُر (18:29)۔
اصل یہ ہے کہ اسلام کے بعد کے زمانے میں دعوت کا تصور حذف ہوگیا۔ لوگ یہ سمجھنے لگے کہ جو شخص کوئی غلطی کرے، خواہ وہ غلطی قول کی ہو یا فعل کی، اس کو سخت سزا دی جائے گی۔؃ مگر یہ تصور سر تا سر قرآن و حدیث کے خلاف ہے۔ قرآن و حدیث کے مطابق، سماجی جرائم پر سزا ہے لیکن قولی انحراف پر ناصحانہ دعوت ہے، نہ کہ سزا۔
سخت سزا کا یہ تصور اسلام کے بعد کے زمانے میں پیدا ہوا ، جب کہ مسلمانوں کی اپنی سلطنت (political empire) قائم ہوچکی تھی۔ اسلام کے ابتدائی زمانے میں اس طرح کی صورتِ حال میں پرامن دعوتی جواب کا تصور تھا۔ بعد کے زمانے میں یہ تصور بن گیا کہ اب ہم کو طاقت حاصل ہے ، اس لیے ہم کو اقتدار کی سطح پر اس کا پرتشدد جواب دینا چاہیے۔ یہ تصور قرآن کے خلاف تھا۔ قرآن تمام تر پر امن دعوت کے تصور پر قائم ہے، نہ کہ پرتشدد سزا کے اصول پر۔ اس معاملے میں قرآن کی یہ آیت ایک رہنما اصول کی حیثیت رکھتی ہے: فَذَکِّرْ إِنَّمَا أَنْتَ مُذَکِّر، لَسْتَ عَلَیْہِمْ بِمُصَیْطِر (88:21-22)۔ پس تم یاد دہانی کردو، تم بس یاد دہانی کرنے والے ہو۔ تم ان پر داروغہ نہیں۔
قرآن کی اس آیت میں مصیطر کا لفظ استعمال کیا گیا ہے۔ مصیطر کا مطلب داروغہ ہے، یعنی جبری نفاذ کرنے والا۔ قرآن کی اس آیت میں مطلق طور پر یہ حکم دیا ہے کہ تمھاری ذمہ داری صرف یہ ہے کہ تم پر امن انداز میں لوگوں کو نصیحت کرتے رہو۔ تمھاری ذمہ داری یہ نہیں ہے کہ تم اپنی بات کو لوگوں کے اوپر جبری طور پر نافذ کرو۔یہ آیت ابدی طور پر اہل ایمان کو اس بات کا پابند بناتی ہے کہ اعتقاد کے معاملے میں ان کو ہرگز کسی شخص پر تشدد کرنے کا اختیار نہیں ہے۔ ان کی ذمہ داری صرف یہ ہے کہ وہ خیر خواہی کے جذبے کے تحت لوگوں کو نصیحت کریں۔ جو شخص نصیحت کو مان کر اپنی اصلاح کرے گا، وہ اللہ کے یہاں اس کا بدلہ پائے گا۔ اور جو شخص نصیحت کو نہ مانے اس کا معاملہ اللہ کے حوالے ہے۔
واپس اوپر جائیں

حضرت عائشہ کا نکاح

پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کا پہلا نکاح حضرت خدیجہ سے ہوا۔ خدیجہ مکہ کی ایک بااثر خاتون تھیں۔ اس بنا پر اس نکا ح سے پیغمبر اسلام کو مکہ میں ایک مضبوط سماجی بنیاد (social base) حاصل ہوگئی۔ مکہ میں یہ سماجی بنیاد آپ کو تقریبا 25 سال حاصل رہی۔ آپ ایک صاحب مشن تھے، اوراپنے مشن کو کامیابی کے ساتھ چلانے کے لیے ضروری ہے کہ صاحب مشن کو مضبوط سماجی بنیاد حاصل ہو۔
حضرت خدیجہ کی وفات کے بعد پیغمبر اسلام کا دوسرا نکاح حضرت عائشہ سے ہوا۔ یہ نکاح مکی دور کے آخری زمانے میں ہوا، اور ہجرت کے بعد مدینہ میں ان کی رخصتی ہوئی۔ اس وقت عائشہ کی عمر نو سال تھی، اور پیغمبر اسلام کی عمر 53سال۔ عمر کے اس فرق کو لے کر لوگوں کے درمیان بہت بحثیں جاری ہیں۔ لوگ طرح طرح کی تاویلیں کرتے ہیں، جن کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں ہوتا ہے۔
اصل یہ ہے کہ یہ معاملہ صرف نکاح کا معاملہ نہیں تھا، بلکہ حضرت خدیجہ کی وفات کے بعد بطور واقعہ یہ ایک نئی سوشل بنیاد حاصل کرنے کا معاملہ تھا۔ حضرت عائشہ سے نکاح کے بعد ، پیغمبر اسلام کو ان کے باپ کی صورت میں ایک نئی مضبوط تر بنیاد حاصل ہوگئی۔ جیسا کہ تاریخی طور پر معلوم ہے، حضرت ابوبکر صدیق آپ کی زندگی میں بھی آپ کے مضبوط ساتھی بنے رہے، اور آپ کی وفات کے بعد بھی انھوں نے اسلام کے ابتدائی دور میں اسلام کے استحکام (stability) کے لیے نہایت اہم رول ادا کیا۔
فطرت کے نظام کے تحت ہر انسان کو کامیاب زندگی کے لیے سماجی بنیاد کی ضرورت ہوتی ہے۔ قرآن کے مطابق یہ سماجی بنیاد دو طریقوں سے حاصل ہوتی ہے۔ ایک خونی رشتہ، اور دوسرا، نکاح کا رشتہ(الفرقان54:)۔ فطرت کے نظام کے تحت یہی دو چیزیں مضبوط سماجی بنیاد کا ذریعہ ہیں۔ہر انسان انھیں دو رشتوں کی مدد سے سماج میں مضبوط بنیاد حاصل کرتا ہے۔ اس سماجی بنیاد کی ضرورت ہر انسان کو ہوتی ہے، حتی کہ پیغمبر کو بھی۔یہ فطرت کا نظام ہے، اور فطرت کے نظام میں کوئی تبدیلی ممکن نہیں۔
قرآن کی ایک رہنما آیت ان الفاظ میں آئی ہے:وَہُوَ الَّذِی خَلَقَ مِنَ الْمَاءِ بَشَرًا فَجَعَلَہُ نَسَبًا وَصِہْرًا وَکَانَ رَبُّکَ قَدِیرًا (25:54)۔ یعنی اور وہی ہے جس نے انسان کو پانی سے پیدا کیا۔ پھر اس کو خاندان والا اور صہر والا بنایا۔ اور تمہارا رب بڑی قدرت والا ہے۔
قرآن کی اس آیت میں خالق نے انسان کے اوپر اپنی ایک نعمت کو بتایا ہے۔ انسان کے درمیان دو طریقوں سے تعلقات قائم ہوتے ہیں، ایک خونی رشتہ (blood relationship ) اور دوسرا صہر یعنی نکاح کا رشتہ (marriage relationship)۔ انھیں فطری بنیادوں پر انسانی سماج (human society) قائم ہے۔ اگر یہ دو فطری عوامل نہ ہوں تو انسان کی زندگی حیوان کی مانند جنگل کی زندگی بن جائے۔ یہ فطری تعلقات دنیا کی زندگی میں انسان کے لیے سماجی بنیاد فراہم کرتے ہیں۔ اس پہلو کی طرف اشارہ قرآن کی ایک آیت میںرھط (family)کے لفظ سے کیا گیا ہے۔ قرآن کی وہ آیت یہ ہے:قَالُوا یَاشُعَیْبُ مَا نَفْقَہُ کَثِیرًا مِمَّا تَقُولُ وَإِنَّا لَنَرَاکَ فِینَا ضَعِیفًا وَلَوْلَا رَہْطُکَ لَرَجَمْنَاکَ وَمَا أَنْتَ عَلَیْنَا بِعَزِیزٍ (11:91)۔یعنی انھوں نے کہا کہ اے شعیب، جو تم کہتے ہو، اس کا بہت سا حصہ ہماری سمجھ میں نہیں آتا۔ اور ہم تو دیکھتے ہیں کہ تو ہم میں کمزور ہے۔ اور اگر تمھارا خاندان نہ ہوتا تو ہم تم کو سنگسار کردیتے۔ اور ہم تمھیں صاحب حیثیت نہیں سمجھتے۔
قرآن کے اس حوالے سے مذکورہ توجیہہ کی تصدیق ہوتی ہے۔ مکی دور میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس قسم کی تائیدات برابر ملتی رہیں۔ پہلے بنو ہاشم، اس کے بعد خدیجہ کا خاندان ، اس کے بعد حضرت ابوبکر کا خاندان۔ یہ رسول اللہ کے لیے ایک فطری تائید تھی، جو نسبی اور صہری تعلقات کی بنیاد پر آپ کو حاصل ہوئی۔ حضرت عائشہ کے ساتھ آپ کے نکاح کو اس پس منظر میں دیکھا جائے تو وہ نہایت بامعنی نظر آئے گا۔ خاص طور پر حضرت ابوبکر صدیق کا معاملہ بہت زیادہ اہم ہے۔ وہ رسول اللہ کی زندگی میں آپ کے ایک اہم ساتھی بنے، اور رسول اللہ کی زندگی کے بعد بھی انھوں نےخلیفہ کی صورت میں اسلام کے استحکام کے لیے نہایت اہم رول ادا کیا۔
واپس اوپر جائیں

دجالیت کیا ہے

دجالیت کوئی بھیانک یا پر اسرار لفظ نہیں۔ دجالیت ایک معلوم حقیقت کا نام ہے۔ دجالیت عین وہی چیز ہے، جس کو قرآن میں تزئین اعمال (الانعام43:) کہا گیا ہے۔ مختصر الفاظ میں یہ کہا جاسکتا ہے کہ ایک بات کو ایسے ڈیسپٹو (deceptive) انداز میں بیان کرنا کہ ایک غلط بات، سننے والے کو درست نظر آنے لگے۔یہی تزئین ہے، اور اس آرٹ کو زیادہ ہنرمندی کے ساتھ کہنے کا نام دجالیت ہے۔
مثلا موجودہ زمانے میں کچھ مسلمان خودکش بمباری (suicide bombing)کرتے ہیں۔ اس طریقے کو جائز بتانے کے لیے وہ کہتے ہیں کہ جب قوم شدید خطرے کی حالت میں ہو تو قوم کو بچانے کے لیے خودکش بمباری جائز ہے۔ اس کی مثال وہ یہ دیتے ہیں کہ دوسری عالمی جنگ کے موقع پر جاپانیوں نے امریکا کے خلاف خود کش بمباری کا طریقہ اختیار کیاتھا۔ مگر یہ استدلال ایک مغالطہ پر قائم ہے۔ اس لیے کہ جاپانیوں کی خودکش بمباری (hara-kiri) سے جاپانی قوم اپنے دشمن کے مقابلے میں بچ نہ سکی ، بلکہ وہ اس جنگ میں بدترین شکست سے دوچار ہوئے۔ اس کے بعد خود جاپانیوں نے اس طریقے کو چھوڑدیا۔ اور اس کے بجائےپرامن انداز میں اپنی قومی ترقی کے لیے عمل کیا اور نہایت کامیاب رہے۔
اسی طرح موجودہ زمانے کے کچھ مسلمان اپنے مفروضہ دشمنوں کے خلاف تشدد کا طریقہ اختیار کیے ہوئے ہیں، چناں چہ ان کو دہشت گرد (terrorist) کہا جاتا ہے۔ اب اگر آپ کہیں کہ یہ دہشت گردی نہیں ہے، بلکہ وہ ظالم لوگوں کو ٹرارائز (terrorize) کرنا ہے۔ یہی بات پولیس کرتی ہے۔ وہ مجرموں (criminals) کا حوصلہ توڑنے کے لیے ان کو ٹرارائز کرتی ہے۔ جس طرح پولیس کے لیے یہ طریقہ ایک درست طریقہ سمجھا جاتا تھا، اسی طرح مسلمانوں کے لیے بھی یہ طریقہ ایک درست طریقہ ہے۔اسی طرح آپ مزید یہ کہیں کہ جو لوگ مسلمانوں کے تشدد پر ان کو دہشت گرد کہتے ہیں، وہ دہرا معیار کا شکار ہیں۔ کیوں کہ انڈیا کے بھگت سنگھ نے 1929میں نئی دہلی میں انگریزوں کی اسمبلی پر بم مارا۔مگر بھگت سنگھ کو دہشت گرد نہیں کہاجاتا، فریڈم فائٹر کہا جاتا ہے۔ اسی طرح مسلمانوں کو بھی دہشت گرد نہ کہیے، بلکہ ان کو انصاف کی لڑائی لڑ نے والا کہیے۔
اسی طرح آپ مسلمانوں کی خودکش بمباری کی وکالت کریں ، اور یہ کہیں کہ مسلمان جس اسپرٹ کے تحت یہ کام کررہے ہیں، وہ شہادت کی اسپرٹ ہے۔ اس لیے ان کی خودکش بمباری کا زیادہ درست نام استشہاد (طلب شہادت) ہے ۔مگر یہ بات ایک شدید مغالطہ پر مبنی ہے۔ کیوں کہ شہادت ایک اسلامی لفظ ہے۔ اور قرآن یا حدیث میں کہیں بھی ، یہ تعلیم نہیں ہے کہ اہل ایمان اپنےآپ کو مارکر شہید بنیں۔ اسلام میں شہید ہوجانا ہے، نہ کہ شہید کروانا۔
دجل بمعنی تزئین ہمیشہ دنیا میں جاری رہا ہے۔ حدیث میں یہ کہا گیا ہے کہ بعد کے زمانے میں ایک دجال (بڑا دجال)پیدا ہوگا۔ یہ بڑا دجال (the great deceiver) اپنی ذات کے اعتبار سے بڑا دجال نہیں ہوگا۔ بلکہ وہ زمانے کے اعتبار سے بڑا دجال ہوگا۔ یعنی اس کو ایک ایسا ترقی یافتہ زمانہ ملے گا، جب کہ وہ نئے وسائل کی مدد سے زیادہ بڑے درجے کی دجالی کرسکے گا۔
مثال کے طور پر دجال کے بارے میں حدیث رسول میں آیا ہے : ینادی بصوت لہ یسمع بہ ما بین الخافقین(کنزالعمال، حدیث نمبر39709) ۔ اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ دجال کوئی ہمالیائی شخصیت ہوگی، بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ دجال ایک ایسے زمانے میں ظاہر ہوگا، جب کہ عالمی مواصلات (global communication) کا دور آچکا ہوگا، اور وہ اپنے وقت کے وسائل کو استعمال کرکے عالمی سطح پر اپنی آواز پہنچاسکے گا۔
حدیث میں آتا ہے : مکتوب بین عینیہ ک ف ر (صحیح مسلم، حدیث نمبر2933)۔ یعنی دجال کی دونوں آنکھوں کے درمیان ک ف ر (کفر)لکھا ہوا ہوگا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ دجال اگرچہ اپنی غلط باتوں کو نہایت مزین کرکے پیش کرے گا، لیکن صاحب معرفت لوگ اس کی غلطی کو پہچان لیں گے، اس طرح وہ اس کی گمراہی سے بچ جائیں گے۔
واپس اوپر جائیں

تاجر کا معاملہ

تاجر کے بارے میں ایک روایت ان الفاظ میں آئی ہے:عن عبد اللہ بن أبی نہیک قال: لقینی سعد بن أبی وقاص فی السوق فقال:اتجار کسبة اتجار کسبة سمعت رسول اللہ صلى اللہ علیہ وسلم یقول:لیس منا من لم یتغن بالقرآن(مسند الحمیدی، حدیث نمبر77)۔ یعنی عبداللہ ابن ابی نہیک کہتے ہیں کہ سعد ابن ابی وقاص بازار میں ان سے ملے۔انھوں نے کہا: تم لوگ بہت کمائی کرنے والے تاجر بن گیے ہو، تم لوگ بہت کمائی کرنے والے تاجر بن گیے ہو۔ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ کہتے ہوئے سنا: وہ شخص ہم میں سے نہیں جس کو قرآن غنی نہ بنادے۔
اس حدیث کا یہ مطلب یہ نہیں کہ قرآن کے بعد مومن کو تجارت ترک کردینا چاہیے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں بہت سے صحابہ تجارت کرتے تھے۔ مثلا عثمان ابن عفان اور عبد الرحمن ابن عوف ، وغیرہ۔ امام الغزالی نے لکھا ہے: وکان أصحاب رسول اللہ یتجرون فی البر والبحر (احیاء علوم الدین، 2/63)۔ یعنی رسول اللہ کےاصحاب خشکی اور تری میں تجارت کرتے تھے۔
یہ حدیث نفس ِتجارت کی نسبت سے نہیں ہے۔ بلکہ وہ ان تاجروں کی نسبت سے ہے، جو تجارت کے کام میں اتنا زیادہ مشغول ہوجائیں کہ وہی ان کا سب سے بڑا کنسرن (concern) بن جائے۔ تجارت ہی ان کی دلچسپیوں کا واحد مرکز ہو۔ جو اپنی صلاحیتوں کو تمام تر تجارت میں لگا دے۔
تجارت یا کوئی اور معاشی ذریعہ برائے ضرورت ہوتا ہے، نہ کہ برائے مقصد۔ جو شخص تجارت کو ایک ذریعہ کے طور پر اپنائے، اسی کے ساتھ وہ دین کی ذمہ داریوں کو بھی ادا کرے تو وہ بلاشبہ ایک صحیح تاجر ہے۔ اس حدیث میں اس انسان کا ذکر ہےجو تجارت میں اتنا زیادہ مشغول ہو جائےکہ دینی کام میں اس کی رغبت باقی نہ رہے۔یعنی یہ حدیث نفی تجارت کے بارے میں نہیں ہے، بلکہ طریق تجارت کےبارے میں ہے۔مومن کو چاہیے کہ وہ دلچسپی کے درجے میں قرآن کو لے، اور ضرورت کے درجے میں معاشی سرگرمی کو۔
واپس اوپر جائیں

دین میں غلو

ایک روایت حدیث کی مختلف کتابوں میں آئی ہے۔ اس کا ترجمہ یہ ہے:دین میں غلو سےبچو ( إیاکم والغلو)کیونکہ تم سے پہلے جو لوگ تھے، وہ دین میں غلو کیوجہ سے ہلاک ہوگئے(مسند احمد، حدیث نمبر 3248)۔ غلو کا لفظی مطلب انتہاپسندی (extremism)ہے۔ انتہا پسندی ہمیشہ تباہی کا ذریعہ بنتی ہے۔ اصل یہ ہے کہ دین کے دو حصے ہیں۔ ایک ہے بنیادی حصہ (basics)، اور دوسرا ہے جزئی حصہ (non-basics)۔ دین کے بنیادی حصے پر اگر زور دیا جائے تو اس سے دین میں کوئی خرابی پیدا نہ ہوگی۔ لیکن جب دین کے غیر بنیادی حصہ پر زیادہ زور دیا جانے لگے تو اسی سے غلو پید ا ہوتا ہے،اور تباہی کا ذریعہ بن جاتا ہے۔مثلاً دین میں اصل اہمیت روح (spirit) کی ہے، اور اس کا جو فارم (form)ہے، وہ اصل کے مقابلے میں جزئی حیثیت رکھتا ہے۔ مثلاً نماز میں خشوع کی حیثیت بنیادی ہے، اور نماز کا جو فارم ہے، وہ اس کے مقابلے میں غیر بنیادی حیثیت رکھتا ہے۔ اگر نماز کے فارم پر بہت زیادہ زور دیا جانے لگے، اور اسی پر نماز کے ہونے یا نہ ہونے کا انحصار قرار پائے تو یہ غلو ہوگا۔ اس غلو کا نتیجہ یہ ہوگا کہ لوگ نماز کے فارم پر تو بہت زیادہ دھیان دیں گے، لیکن نماز کی روح ان کے یہاں عملاً غیر اہم بن جائے گی۔ اسی شدت پسندی کو حدیث میں ہلاکت کہا گیا ہے۔
دین کی رو ح ہمیشہ ایک ہوتی ہے۔ البتہ دین کے فارم میں فرق ہوتا ہے۔ دین کی روح پر اگر زور دیا جائے تو اس سے کوئی مسئلہ پیدا نہیں ہوگا۔ لیکن اگر اس کے فارم پر زیادہ زور دیا جانے لگے تو فرقے پیدا ہوجائیں گے۔ کیوں کہ روح میں یکسانیت ممکن ہے، لیکن فارم کے معاملے میں یکسانیت ممکن نہیں۔ اس لیے صحیح طریقہ یہ ہے کہ فارم کے معاملے میں تعدد (diversity) کے اصول کو مان لیا جائے۔ یعنی یہ بھی درست اور وہ بھی درست۔ مثلاً نماز میں آمین بالسر بھی درست اور آمین بالجہر بھی درست۔ مصافحہ میں، ایک ہاتھ سے مصافحہ کرنا بھی درست اور دو ہاتھ سے مصافحہ کرنا بھی درست، وغیرہ۔ اگر فارم میں تعدد کے اصول کو مان لیا جائے تو دین میں کبھی فرقہ بندی نہیں ہوگی۔
واپس اوپر جائیں

فقہ الاقلیات

موجودہ زمانے میں تحریر و تقریر کے مختلف موضوعات پیدا ہوئے ہیں، ان میں سے ایک وہ ہے جس کو فقہ الاقلیات کہا جاتا ہے۔ یعنی جو مسلمان کسی ملک میں اقلیتی گروہ (minority community) کی حیثیت سے رہتے ہیں، ان کے مسائل اور ان کا اسلامی حل۔ اس موضوع پر کثیر تعداد میں مضامین لکھے گیے ہیں، اور مستقل کتابیں شائع کی گئی ہیں۔ مثلا ڈاکٹریوسف القرضاوی کی کتاب فی فقہ الأقلیات المسلمة (دارالشروق، مصر2001، صفحات 200) – ۔
مسلم اقلیت کا لفظ ظاہر کرتا ہے کہ مسلمان دوسروں کے مقابلے میں کم ہیں۔ یہ ذہن مزید اضافہ کے ساتھ مسلمانوں کے اندر دوسروں کے خلاف شکایتی ذہن پیدا کرتاہے۔ اس کا آخری نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ مسلمانوں کے اندر سے دعوتی ذہن کا خاتمہ ہوجاتا ہے۔ کیوں کہ دعوتی ذہن اور شکایتی ذہن، دونوں ایک ساتھ جمع نہیں ہوسکتے۔دعوتی ذہن کا مطلب ہے دوسروں کے ساتھ برابر کی خیرخواہی۔ جب کہ اقلیتی ذہن عملاً اس قسم کی نفسیات کا خاتمہ کردیتا ہے۔
اقلیتی ذہن ہمیشہ حقوق طلبی کا ذہن پیدا کرتا ہے۔ دوسرے لفظوں میں دینے کا مزاج (giving spirit) کو ختم کرنا ہے، اور لینے کا مزاج (taking spirit) کو بڑھاوا دیناہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اقلیتی کمیونٹی اور اکثریتی کمیونٹی کی تفریق غیر فطری ہے۔ آپ قرآن کا مطالعہ کریں تو اس میں باربار انسان کا لفظ آتا ہے۔ قرآن میں انسان کا لفظ 64بار آیا ہے۔ گویا کہ قرآن کے مطابق ، پوری دنیا دار الانسان ہے، وہ اقلیت کی دنیا اور اکثریت کی دنیا نہیں۔
موجودہ زمانہ انٹرنیشنلزم کا زمانہ ہے۔ موجودہ زمانے کی اسپرٹ اس قسم کی تفریق کے خلاف ہے۔ ایسی حالت میں یہ ایک غیر فطری بات ہے کہ مسلمانوں کے اندر کمتری کا احساس جگایا جائے۔ صحیح طریقہ یہ ہے کہ مسلمان دوسروں کی مانند اپنے آپ کو انسان سمجھیں، اور سب کے ساتھ برابری کا تعلق قائم کریں۔
واپس اوپر جائیں

عورت کی تخلیق

عورت کے بارے میں ایک روایت حدیث کی مختلف کتابوں میں آئی ہے۔ ایک روایت کے الفاظ یہ ہیں:إنما مثل المرأة کالضِلَع، إن أردت إقامتہا کُسِرَت، وإن تستمتع بہا تستمتع بہا وفیہا عوج، فاستمتع بہا على ما کان منہا من عوج (صحیح ابن حبان، حدیث نمبر4180)۔ یعنی بے شک عورت کی مثال پسلی جیسی ہے۔ اگر تم اس کو سیدھا کرنا چاہو تو وہ ٹوٹ جائے گی، اور اگر تم اس سے فائدہ اٹھانا چاہو تو فائدہ اٹھاؤ گے، اور اس کے اندر ایک ٹیڑھ ہے۔ پس تم اس سےفائدہ اٹھاؤ، اس کے باوجود کے اس کے اندر ٹیڑھ ہے۔
اس روایت میں استمتاع کا لفظ آیا ہے۔ استمتاع کا لفظی مطلب ہے فائدہ اٹھانا۔ یہاں استمتاع سے مرادوہی ہے جس کو دوسرے الفاظ میں بذریعہ ایڈجسٹمنٹ فائدہ اٹھانا کہا جاتا ہے۔ یعنی اگر تم عورت کے ساتھ ری ایکشن (reaction) کا طریقہ اختیار نہ کرو، بلکہ اس کے ساتھ ایڈجسٹ کرتے ہوئے زندگی گزارو تو تم کامیاب رہو گے۔
اس حدیث میں ضلع (ٹیڑھ) کا لفظ تمثیل کے معنی میں آیا ہے۔ اس سے مراد ہے عورت کا فطری طور پر جذباتی (emotional) ہونا۔ حدیث میں شادی شدہ زندگی کا ایک کامیاب اصول بتایا گیا ہے۔ خالق نے عورت کو مرد کے ساتھی (partner) کے طور پر پیدا کیا ہے۔ لیکن مصلحت کا تقاضا تھا کہ عورت کے اندر sentimental مزاج رکھا جائے، اس مزاج کی بنا پر عورت کے اندر برداشت کا مادہ کم ہوتا ہے۔ وہ خلاف مزاج بات پر جلد جذباتی ہوجاتی ہے۔ مر د کو چاہیے کہ جب وہ دیکھے کہ عورت کسی معاملے میں جذباتی ہوگئی ہے۔ تو مرد اس کو عورت کی فطرت کے خانے میں ڈال دے، مرد ایسا نہ کرے کہ وہ اس کے جواب میں خود بھی جذباتی انداز اختیار کرے۔ اسی کو ایڈجسٹمنٹ کہا جاتا ہے۔ اور اس معاملے کا عملی حل صرف ایک ہے، اور وہ ایڈجسٹمنٹ ہے۔مرد کو چاہیے کہ وہ زندگی کو کامیاب بنانے کے لیے اس معاملے میں یک طرفہ طور پر ایڈجسٹمنٹ کا طریقہ اختیار کرے۔
واپس اوپر جائیں

غلطی کا اعتراف

غلطی انسان کی صفت ہے (to err is human)۔ عام طور پر لوگوں کا مزاج ہے کہ وہ اپنی غلطی کا کھلے انداز میں اعتراف نہیں کرتے۔ طرح طرح کے الفاظ بول کر وہ اس کی صفائی پیش کرتے رہتے ہیں۔ یہ عادت بہت زیادہ عام ہے۔ مگر یہ ایک مہلک عادت ہے۔ غلطی کا اعتراف اتنا زیادہ مفید ہے کہ اگر لوگ اس کو جانیں تو وہ اس کو اپنی ذہنی ارتقا کے لیے ایک سنہری موقع (golden chance) سمجھیں۔ اور ایک لمحےکی تاخیر کے بغیر فورا کہہ اٹھیں کہ میں غلطی پر تھا:
I was wrong
جب آپ یہ کہتے ہیں کہ میں غلطی پر تھا تو آپ اپنے ذہن کو ایک سگنل (signal) دیتے ہیں۔ یہ سگنل کہ علم کے بہت سے گوشے ایسے ہیں جہاں تک ابھی تمھاری پہنچ نہیں ہوئی۔ یہ سگنل آپ کے ذہن کو مثبت سمت میں متحرک کردیتا ہے۔ اس طرح آپ کے لیے ذہنی ارتقا (intellectual development) کا دروازہ کھل جاتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ہر بار جب آپ یہ کہتے ہیں کہ میں غلطی پر تھا تو ہر بار آپ اپنے ذہنی ارتقا کے لیے ایک تخلیقی دروازہ (creative door)کھول دیتے ہیں۔ آپ اپنے اندر ایک ایسا فکری عمل (intellectual process) جاری کردیتے ہیں، جو کسی اور طریقے سے جاری نہیں ہوسکتا۔ اس اعتبار سے غلطی کا اعتراف کرنا ایک موقع (opportunity) کو استعمال کرنا ہے۔ اور غلطی کا اعتراف نہ کرنا ، ایک موقع کو کھودینا ہے، جو دوبارہ کبھی آنے والا نہیں۔غلطی کا کھلا اعتراف کرنا، اس بات کی علامت ہے کہ آدمی کے اندر تواضع (modesty) کا مزاج ہے۔ اور تواضع اپنے آپ میں ذہنی اور روحانی ارتقا کا ایک عظیم خزانہ ہے۔ جو آدمی تواضع سے محروم ہے، وہ معرفت سے بھی محروم رہے گا۔ تواضع سے محرومی آدمی کے اندر ذہنی جمود (intellectual stagnation) پیدا کردیتی ہے۔ اور تواضع کا مزاج آدمی کے اندر ذہنی ارتقا کے دروازے کھول دیتا ہے، حتی کہ کوئی دروازہ اس کے لیے بند نہیں رہتا۔
واپس اوپر جائیں

تجربہ کی دنیا

ایک صاحب کو میں جانتا ہوں۔ ا ن کی پاس بزنس کی کوئی ڈگری نہیں، لیکن وہ ایک بزنس مین ہیں اور اپنے بزنس میں نہایت کامیاب ہیں۔ میں نے پوچھا کہ آپ کے پاس ایم بی اے (Master of Business Administration) کی ڈگری نہیں۔ لیکن آپ کامیابی کے ساتھ بزنس کررہے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ اس کا راز ہے، تجربہ (experience)۔ میرے پاس کالج کی ڈگری نہیں، لیکن میرے پاس تجربہ کی ڈگری ہے۔ میں نے اپنے تجربے سے وہ سب کچھ سیکھا جو دوسرے لوگ ڈگری کے ذریعہ حاصل کرنا چاہتے ہیں۔
یہ بات ہر شعبے کے لیے درست ہے۔ ہماری دنیا ایک وسیع درس گاہ ہے۔ اس درس گاہ میں ہر قسم کے تجربات پھیلے ہوئے ہیں۔ انسان کے اندر اگر سیکھنے کا جذبہ (learning spirit) ہو تو وہ دنیا کے تجربات سے وہ سب کچھ حاصل کرسکتا ہے، جس کے لیے لوگ یونیورسٹیوں میں داخلہ لیتے ہیں، اور بڑی بڑی ڈگریاں حاصل کرتے ہیں۔
خاندانی زندگی کا معاملہ ہویا بزنس کا معاملہ، سماجی زندگی ہو یا قومی زندگی۔ ہر جگہ، ہر دن مختلف قسم کے تجربات پیش آتے ہیں۔ اگر آدمی کھلے ذہن کے ساتھ زندگی گزارے، اور تجربات سےسبق سیکھے تو وہ ہر شعبے میں کامیاب زندگی گزار سکتاہے۔ آدمی کے اندر سیکھنے کا جذبہ موجود ہو تو وہ نہ صرف یہ کرے گا کہ اپنے تجربات سے سبق لے، بلکہ وہ دوسروں کے تجربات سے بھی بھر پور سبق لیتا رہے گا۔
تجربہ گویا عملی مطالعہ (practical study) ہے۔ ہر تجربہ عمل کی زبان میں کتاب زندگی کاایک صفحہ ہوتا ہے۔ ہر تجربہ عمل کی زبان میں کلاس روم کا ایک سبق ہوتا ہے۔ اس اعتبار سے پوری دنیا تجربات اور مشاہدات کی ایک عظیم لائبریری ہے۔ آپ اپنے ذہن کو کھلا رکھیے، آپ اپنے اندر سیکھنے کا مزاج (learning spirit) پیدا کیجیے، پھر آپ دیکھیں گے کہ پوری دنیا آپ کے لیے ایک عظیم تعلیمی درس گاہ بن گئی ہے۔
واپس اوپر جائیں

دیباچہ

زیر نظر کتاب راقم الحروف کی ان تحریروں کا مجموعہ ہے، جو ماہنامہ الرسالہ میں سوال و جواب کے کالم کے تحت چھپتے رہے ہیں۔ اس مجموعہ کو برادرم اصطفاء علی صاحب نے کولکاتا ٹیم کے تعاون سے تیار کیا ہے، اور کولکاتا ٹیم اس کو اپنے اہتمام کے ساتھ اس کو شائع کررہی ہے۔ ان لوگوں کی یہ کوشش بلاشبہ ایک مستحسن کوشش ہے۔ میری دعا ہے کہ اللہ تعالی ان تمام لوگوں کو اس کام کے لیے جزائے خیر عطا فرمائے، اور اس کے پڑھنے والوں کے لیے یہ مجموعہ ان کی زندگی کے لیے مفید ثابت ہو۔ آمین
سوال و جواب کا طریقہ بہت قدیم طریقہ ہے۔ یہ طریقہ اپنے اندر بہت سے فوائد رکھتا ہے۔ سوال کرنے والے کے لیے بھی ، اور جواب دینے والے کے لیے بھی۔ حقیقت یہ ہے کہ سوال و جواب ایک باہمی تعلم (mutual learning) کا طریقہ ہے۔ اس طریقے میں سائل اور مجیب دونوں کے لیے یہ موقع ہوتا ہے کہ وہ مزید مطالعہ کے ذریعہ اپنے علم میں اضافہ کریں۔ وہ زیر بحث مسئلے کے نئے گوشوں کو دریافت کریں۔ اس طرح یہ طریقہ طرفَین کے لیے فکری ارتقا (intellectual development) کا ذریعہ ہے۔
اسلام میں سوال کے بجائے تدبراور تفکر پر زور دیا گیا ہے۔ حضرت خضر کے ساتھ حضرت موسی جب سفر پر روانہ ہوئے تو حضرت خضر نے حضرت موسی سے کہا :فَلَا تَسْأَلْنِی عَنْ شَیْء (18:70)۔ یعنی تو مجھ سے کسی چیز کے بارے میں سوال نہ کرنا۔اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ سوال نہ کرو۔ بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ ذہن میں کوئی سوال آئے تو پہلےغور وفکر کرو۔ غور وفکر کرکے آدمی پہلے اپنے آپ کو ذہنی اعتبار سے تیار کرتا ہے۔ سوال کا جواب وہی شخص درست طور پر سمجھتا ہے، جو پہلے سے اپنے آپ کو ایک تیار ذہن (prepared mind) بنا چکا ہو۔
اس حقیقت کو حدیث میں ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے ۔ ایک صحابی کہتے ہیں : و عن کثرۃ السوال (مسند احمد، حدیث نمبر18232)۔ یعنی رسول اللہ نے زیادہ سوال سے منع کیا تھا۔سوال کی کثرت سے منع کرنے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ آدمی سوال نہ کرے۔ بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ آدمی پہلے خود سوال کے تقاضے کو پورا کرے، اس کے بعد وہ سوال کرے۔
اس معاملے میں صحیح طریقہ یہ ہے کہ سوال کرنے سے پہلے آدمی خود غور وفکر کرے۔ اس طرح اس کو ذہنی ارتقا (intellectual development) کا فائدہ حاصل ہوگا۔ اللہ تعالی نے انسان کے ذہن میں غیر معمولی صلاحیت پیدا کی ہے۔ یہ صلاحیت غور وفکر سے بڑھتی ہے۔ اپنے ذہن کو ترقی دینے کا صحیح طریقہ یہ ہے کہ آدمی مطالعہ اور غور وفکر کے ذریعہ اپنے ذہن کو تیار کرتا رہے۔ وہ اپنے اندر زیادہ سے زیادہ اخذ (grasp)کی صلاحیت پیدا کرے۔ وہ اپنے آپ کو اس قابل بنائے کہ کوئی شخص اس کے سوال کا جواب دے تو وہ اپنی طرف سے اس میں کچھ اضافہ کرسکے۔ حقیقی سائل وہ ہے جو جواب کو سن کر اس میں اپنی طرف سے اضافہ کرسکتا ہو۔
مذکورہ حدیث کا مطلب اگر لفظ بدل کربیا ن کیا جائے تو وہ یہ ہوگا— سوال کیوں کرتے ہو۔ اگر تمھارے ذہن میں کوئی سوال آیا ہے تو پہلے خود اپنے ذہن کو استعمال کرکے اس کا جواب معلوم کرنے کی کوشش کرو۔ سوال کو صرف سوال نہ سمجھو، بلکہ اس کو اپنے ذہنی ارتقا کا ذریعہ بناؤ۔ بات کو سن کر فوراً سوال کرنا، عجلت پسند ی کی علامت ہے۔ بات کو سن کر پہلے غور وفکر کرنا چاہیے۔ اگر غور وفکر سے وہ بات تک نہ پہنچے تو سمجھنا چاہیے کہ اس نے اپنے ذہن کو تیار کرنے میں کمی کی ہے۔ اس کی توجہ اس پر دینا چاہیے کہ وہ اپنے ذہن کو مزید تیار کرنے کی کوشش کرے۔
وحید الدین
نئی دہلی، 4 جنوری 2017
واپس اوپر جائیں

تعمیر کے لیے سب سے زیادہ جس کی ضرورت ہے، وہ ہے ایک سوچا سمجھا نقشۂ عمل، جس کے مطابق ہر ایک اپنے اپنے دائرہ میں سرگرم عمل ہو۔


واپس اوپر جائیں

سوال و جواب

سوال
قرآن کے مطابق، حضرت ابراہیم نے بتوں کو توڑا، مگرسیرت سے معلوم ہوتا ہے کہ پیغمبراسلام نے کعبہ میں بتوں کی موجودگی کو نظر انداز کیا۔جیسا کہ آپ نے بھی لکھا۔ قرآن کے مطابق تمام پیغمبر ہمارے لیے اسوہ ہیں۔ اس اعتبار سے یہ فرق سمجھ میں نہیں آیا۔ وضاحت فرمائیں۔ (عبد العزیز ایڈوکیٹ، کپواڑہ، کشمیر)
جواب
حضرت ابراہیم کی بت شکنی کا واقعہ دور دعوت کا نہیں ہے ، بلکہ وہ اتمام حجت کے بعد کا ہے۔ اتمام حجت کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ اب قوم میں کوئی ایمان لانے والا نہیں۔ جب کسی قوم کے بارے میں یہ نوبت آجائے تو وہاں حالات کے اعتبار سے مختلف صورتیں اختیار کی جاتی ہیں۔ انتہائی صورت حال میں کبھی اللہ ان کے خلاف سرزنش کے طور پر کوئی کارروائی کرسکتاہے، یا پیغمبر کوئی صورت بطور آخری حجت کے اختیار کرتا ہے۔ جیسا کہ حضرت ابراہیم نے بتوں کو توڑنے کی صورت میں کیا۔
کسی قوم میں جب دعوت کے امکانات موجود ہوں تو وہاں بت شکنی جیسی انتہائی تدبیر کے بارے میں سوچنا بھی شریعت دعوت میں امر ممنوع ہے۔ آپ جس زمانے میں ہیں، ہر جگہ دعوت کے مواقع کھلے ہوئے ہیں۔ آپ کے اپنے علاقے میں بھی اور دنیا کے دوسرے علاقوں میں بھی۔ ایسی حالت میں آپ کے لیے جائز نہیں کہ آپ بت شکنی اور قتال کی اصطلاح میں سوچیں۔ آپ کو صرف پرامن دعوت کی اصطلاح میں سوچنا چاہیے۔
دعوت کی آئڈیالوجی ہمیشہ ایک رہتی ہے، لیکن طریقہ کار (method) کا تعین حالات کے اعتبار سے ہوتا ہے۔ دعوت کا اصول یہ ہے کہ آخری حد تک مدعو کو اللہ کی طرف بلایا جائے۔ دورِ دعوت میں کوئی دوسری بات سوچنا بذات خود ایک مجرمانہ سوچ ہے۔ اس قسم کی سوچ کے لیے اسلام میں کوئی جواز نہیں۔
واپس اوپر جائیں

خبرنامہ اسلامی مرکز — 250

1۔ ترجمہ قرآن کا اٹالین ایڈیشن گڈورڈ بکس (نئی دہلی) سے شائع ہوچکا ہے۔ یکم جنوری 2017 کو صدر اسلامی مرکز نے اس کا اجراء کیا۔
2۔ 17 جنوری 2017 کوصدر اسلامی مرکز نے قرآن کے پرتگیز ترجمہ کا اجرا کیا۔ یہ ترجمہ گڈورڈ بکس نے طبع کروایا ہے، اور اسے یہاں سے حاصل کیا جاسکتا ہے۔
3۔ کولکاتا سی پی ایس ٹیم نے جناب اصطفاء علی صاحب کی نگرانی میں الرسالہ میں شائع شدہ صدر اسلامی مرکز کے سوال و جواب کو کتابی شکل میں شائع کیا ہے، صدر اسلامی مرکز نے اس پر ایک دیباچہ تحریر کیا ہے، وہ اس شمارے میں شامل ہے۔
4۔ ایک نئے ویب پورٹل پر صدر اسلامی مرکز کے مضامین آنے شروع ہو گیے ہیں، اس کا ایڈریس یہ ہے:
http://soulveda.com/viewauthor.php?uid=64
5۔ سیواگرام آشرم، واردھا، مہاراشٹر، اور مہاتما گاندھی کے مشن سے تعلق رکھنے والےدیگر مختلف ادارے (Sewagram Ashram Pratishthan, Sabarmati Ashram, Kasturaba Trust, Harijan Sewak Sangh, Akhil Bharatiya Nai Talim Samiti, Navjivan Prakashan, Gujarat Vidyapith and Sarva Seva Sangh) 2016تا 19 کے درمیان مہاتما گاندھی کے ڈیڑھ سو سالہ تقریب کا اہتمام کر رہے ہیں۔ اس کا نام ان لوگوں نے گاندھی 150 (Gandhi 150) ابھیان رکھا ہے۔ اس کا افتتاحی پروگرام22-21 فروری 2017 کو واردھا میں ہوا۔ اس موقعہ پران لوگوں صدر اسلامی مرکز کو بطور چیف گیسٹ مدعو کیا تھا۔ کسی وجہ سے صدر اسلامی مرکز اس پروگرام میں شریک نہیں ہو سکے، البتہ ایک پیغام لکھ کر بھیج دیا گیا، جو پروگرام میں موجود لوگوں کو سنایا گیا۔ الرسالہ کے آئندہ شمارہ میں اس پیغام کو شائع کیا جائے گا۔
6۔ فروری 2017 میں صحافت اور سیاست کے میدان سے تعلق رکھنے والی مختلف ہستیوں کو صدر اسلامی مرکز کا ترجمہ قرآن اور انگریزی کتابیں، دی پرافٹ آف پیس، قرانک وزڈم، اور لیڈنگ این اسپریچول لائف، بھیجی گئی تھیں۔ وہ لوگ یہ ہیں، مسٹر ایم جے اکبر، مرکزی وزیر، اور مشہور انگریزی صحافی، مس جیوتیہ باسو، مسٹر ارمان نیازی، مس شالینی کے شرما، اور مسٹر چراغ پاسوان (ایم پی، بہار)۔
7۔ فروری کے مہینہ میں ہی سی پی ایس دہلی و لکھنؤ کی ممبر مس سعدیہ خان نےسوشل میڈیا پلیٹ فارم، فیس بک اور انسٹا گرام پر ایک مقابلے کا انعقاد کیا تھا۔ اس میں یہ تھا کہ جو الرسالہ مشن کےبارے میں اچھا تاثر لکھے گا، اس کو صدر اسلامی مرکز کی دستخط کی ہوئی کتاب انعام کے طور پر دی جائے گی۔ اس مقابلے میں ملک و بیرون ملک سے مختلف لوگوں نے حصہ لیا، جن میں سے چار لوگوں کو منتخب کرکے بطور انعام دستخط شدہ پرافٹ آف پیس اور دوسری کتابیں روانہ کر دی گئیں ہیں۔
8۔ 25 دسمبر 2016 کوپونے ٹیم کی ماہانہ دعوہ میٹ عبد الصمد صاحب کے گھر پر ہوئی۔ آج کی دعوہ میٹ میں نوجوانوں کی دعوتی عمل کے لئے حوصلہ افزائی کے ٹاپک پر گفتگو ہوئی۔ اسی کے ساتھ الرسالہ سے ایک مضمون پڑھ کر سنایا گیا اور صدر اسلامی مرکز کی اردو کتاب یکساں سول کوڈ کے مراٹھی میں ہوئے ترجمہ پر گفتگو ہوئی جو کہ طبع ہو کر آچکی ہے۔ اس میٹ میں عبد الصمد، اختر امین، یونس میمن، رفیق مجاہد اور شریف خان صاحبان، وغیرہ نے شرکت کی۔
9۔ 30دسمبر کو ایم ایم ربانی ہای اسکول وجونیرکالج، ناگپور میںامریکا کی Goal for Girlsنامی این جی او دورہ پر آئی، اور اسکول کے بچوں سے تبادلہ خیال کیا۔اس موقع پر CPSناگپور کامٹی ٹیم کے ساجد احمد خان نے ان کے سامنے اسلام کامختصر تعارف پیش کیااورانھیں قران کا انگلش ترجمہ اور What is Islam پیش کیا۔ انھوں نے اس کوبہت خوشی سے قبول کیا۔
10۔ یکم جنوری 2017 کو ناگپور یونیورسٹی کے سابق وائس چانسلر جناب ہری بھاؤ کے ساتھ ساجد احمد خان صاحب (ناگپور ٹیم ) نے مذہب،امن اور باہمی ہم آہنگی پر تفصیلی گفتگو کی۔ اس کے بعد ان کو صدر اسلامی مرکز کے مراٹھی ترجمہ قرآن، ایج آف پیس، لائف آف پرافٹ محمد اور دوسرے دعوہ لٹریچر پیش کیے گیے۔ اس کے علاوہ ناگپور ٹیم کی ماہانہ میٹنگوں کا سلسلہ جاری ہے۔ جنوری میں یہ میٹنگ بابو بھائی ورک شاپ (ناگپور) میں ہوئی، اور ورکشاپ میں آنے والوں کے لیے وہاں ترجمہ قرآن اور دوسرے دعوتی لٹریچررکھے گیے۔
1 1۔ یکم جنوری 2017 کو صدر اسلامی مرکزسے ملنے کے لیے پروفیسر راہل رام گنڈم آئے۔ موصوف دلت اور مائنارٹی ڈپارٹمنٹ (جامعہ ملیہ اسلامی، دہلی)میں پروفیسر ہیں۔ اس موقع پراسلام کے موضوعات پر ڈسکشن ہوا۔ آخر میں جناب موصوف کو صدر اسلامی مرکز کی کتابوں کا ایک سیٹ بطور تحفہ دیا گیا۔ علاوہ ازیں جامعہ ملیہ کے مذکورہ ڈپارٹمنٹ کی لائبریری کے لیے صدراسلامی مرکز کی کتابوں کا سیٹ بطور تحفہ دیا گیا۔
12۔ کولکاتا سی پی ایس ٹیم نے آرٹ آف لیونگ کولکاتا یونٹ کے ممبران اور سماجی میدان میں کام کرنے والی دیگر تنظیموںکے ساتھ ایک انٹرایکٹو میٹنگ کا انعقاد کیاتھا۔ یہ میٹنگ ویسٹ بنگال اردو اکیڈمی کے سیمینار ہال میں 6 جنوری 2017 کو ہوئی۔ سی پی ایس ٹیم نے تمام لوگوں کے سامنے سی پی ایس کے مشن کوواضح کیا۔ اسے سن کر بیٹر انڈیا(Better India) کے رضاکاروں نے بتایا کہ جب بھی وہ کوئی پروگرام کریں گے تو ان کی تربیت کے لیے وہ صدر اسلامی مرکز کا ویڈیو ضرور چلائیں گے ۔ آخر میں یہ طے پایا کہ امن کے پیغام کے لیے اور ایک دوسرے کو سمجھنے کے لیے ہم ایک دوسرے سے ملتے رہیں گے تاکہ مستحکم تعلقات کی تعمیر ہو۔ اختتام پر تمام لوگوں کو ترجمہ قرآن اور پیس لٹریچر دیا گیا۔
13۔ 6 جنوری 2017 کو مارکوئٹ یونیورسٹی (Marquette University) امریکاکے دس طلبہ پروفیسر عرفان عمر کی رہنمائی میں اسلامی مرکز آئے۔ صدر اسلامی مرکز نے ان کو اسلام اور پیغمبر اسلام کی پرامن تعلیمات سے آگاہ کیا اور ان کے ساتھ انٹر ایکشن کیا۔ آخر میں ان کو دعوہ لٹریچر جیسے انگلش ترجمہ قرآن، لیڈنگ اے اسپریچول لائف، واٹ از اسلام، اسپرٹ آف اسلام میگزین، دی ایج آف پیس، قرآنک وزڈم وغیرہ پیش کیا گیا، جس کو انھوں نے بے حد خوشی کے ساتھ قبول کیا۔
14۔ 6 تا 19 جنوری 2017 چنئی میں سالانہ بک فیئر کا انعقاد کیا گیا تھا۔ اس میں گڈ ورڈ بکس چنئی نے اپنا اسٹال لگا یا۔ اسٹال پر بڑی تعدا میں ہندوستان اور سری لنکا کے زائرین آئے، اور انھوںنےانگریزی اورتمل ترجمہ قرآن و دیگر لٹریچر حاصل کیا۔ نیز نیشنل پبلشرز، چنئی نے صدر اسلامی مرکز کی اردو کتاب، یکساں سول کوڈ کا تمل میں ترجمہ کروا کر اس میلہ میں اجرا کیا۔ یہ ترجمہ سید فیض قادری (کوئمبتور) نے کیا ہے۔
15۔ ڈاکٹر محمد اسلم خان (سہارنپور) الرسالہ مشن کے بہت ہی متحرک ممبر ہیں۔صدر اسلامی مرکز سے ان کو کیا فائدہ حاصل ہوا، اس کو انھوں نے ان الفاظ میں تحریر فرمایا ہے:اگر میں مولانا کی کتابیں نہ پڑھتا تو میرے لیے یہ سمجھنا بے حد مشکل ہوتا کہ مجھے خدا نے کس لیے اس دنیا میں بھیجا ہے۔ میرے خیال میں مولانا دور جدید میں وہی کام کررہے ہیں جو کہ قدیم زمانے میں مجددِدین کیا کرتے تھے۔ ذیل میں ڈاکٹر محمد اسلم خان کے ذریعہ کیے ہوئے کچھ حالیہ دعوتی کاموں کاذکر کیا جارہا ہے:
■ 11 دسمبر 2016 کو سہارن پور میں سینٹ مرینا اکیڈمی کا افتتاح ہوا۔ اس میں سی پی ایس ٹیم نے سہارن پور رینج کے ڈی آئی جی کو قرآن پیش کیا۔ اسی کے ساتھ دوسرے مہمانوں کو دعوہ لٹریچر دیا گیا۔ مزید کتابیں اسکول کی ہیڈ مس ٹریس کو دی گئیں تاکہ وہ ان کتابوںکو دوسروں تک پہنچا دیں۔
■ 25 دسمبر 2016 کو کرسمس کی مناسبت سے سہارن پور میں موجود چرچ جیسے ڈینیل مسیح، سینٹ تھامس اور سنٹرل میتھوڈسٹ چرچ، وغیرہ کا سی پی ایس ٹیم نے دورہ کیا، اور شام کے وقت ان چرچوں کے وفود نے پیس ہال سہارنپور کا دورہ کیا اور وعدہ کیا کہ وہ سی پی ایس مشن میں اپنا پورا تعاون کریں گے۔ فادر دارا سنگھ قرآن کی تفسیر چاہتے تھے۔ فادر ڈینئل نے 10 قرآن کے نسخے لیے تاکہ وہ ان کو چرچ میں لوگوں کو دے سکیں۔ سی پی ایس ٹیم نے آئے ہوئے مہمانوں کوترجمہ قرآن، تذکیر القرآن اور دوسرے پیس لٹریچر کے علاوہ کرسمس کے موقعے پر تحفے دیے۔
■ 31 دسمبر 2016 کونئے سال کی مناسبت سے ضلع پریشد کی چیرمین محترمہ تسنیمہ بانوکی صدارت میں قومی ہم آہنگی کے موضوع پر پیس ہال (سہارن پور) میں ایک میٹنگ کا انعقاد ہوا۔ اس میں شہر کی ذی وقار ہستیوں نے شرکت کی اور مختلف مذاہب میں موجودہ باہمی بھائی چارہ اور آپسی محبت باتوں پر چرچا ہوئی۔ آخر میں صدر اسلامی مرکز کا ترجمہ قرآن اور دوسرے دعوتی لٹریچر لوگوں کے درمیان تقسیم کیے گیے۔
16. Aamir bin Yusuf, a CPS member from Karachi, called me while returning from an interfaith program at a Hindu temple. This was the first ever such interfaith program to be held in a Hindu temple in Pakistan since 1947. Aamir had interaction with various religious, political and community leaders. He introduced CPS to all. A lot of them are aware of the Maulana and his mission, some have read his literature and others have heard or watched Maulana's short audio/video clips that I post on their interfaith WhatsApp group. The leader of this group, Syed Yaqoob Ali Shah, is an avid reader of Maulana's literature. Aamir bin Yusuf had a very gratifying experience there and learnt few lessons through their interaction, such as not wasting food and maintaining neatness and so on. May God open up these kind of plenty opportunities for us to do dawah, delivering the message of tawhid. Ameen (Khaja Kaleemuddin, USA)
17. I am in receipt of a copy of The Quran. I wish to thank the Maulana for his hard work to produce a beautiful translation of the Quran in modern language, which is easy to understand for a common person. Also thanks to Dr. Farida Khanam for her contribution. I am sure all will benefit from this translation and will gain a proper understanding of Islam. Thank you again. (S. Awale, UK)
18. I have received the Holy Quran. I have been reading it everyday. I have finished about 35 books you sent me. The Quran is beautiful, and its message is to make mankind aware of God’s Creation plan, His purpose for mankind, and the importance for mankind to discover God’s Truth on a spiritual and intellectual plane. The Quran is directly from God, sent down to mankind, to direct us on the right path to perfection, to guide us through life successfully and into the afterlife! The Quran is a peaceful, and spiritual book that's filled with God's love and wisdom! Thank you so much for this wonderful free gift! The Quran has strengthened my faith, spirit and mentality! It has filled me with peace within and wisdom! I am also interested in obtaining more literature by the wonderful scholar Maulana Wahiduddin Khan. (Yvette Francine Gray, USA)
واپس اوپر جائیں