Pages

Tuesday, 13 February 2018

Al Risala | March 2018 (الرسالہ،مارچ)

-خصوصی شمارہ: امت مسلمہ کا فائنل رول


امت مسلمہ کا فائنل رول

The Final Role of Muslim Ummah
قرآن و حدیث کے مطالعے سے معلوم ہوتا ہے کہ امت مسلمہ کی تاریخ میں دو بڑے رول مقدر ہیں۔ ایک وہ رول جو اصحاب رسول کے ذریعہ انجام پایا۔ دوسرا وہ رول جس کے لیے حدیث میں اخوان رسول (مسند احمد، حدیث نمبر 12579) کے الفاظ آئے ہیں۔ تاریخ میں کوئی بڑا رول ہمیشہ لمبے تاریخی عمل کا نقطۂ انتہا (culmination) ہوتا ہے۔ اصحاب رسول کا رول اس تاریخ کا نقطۂ انتہا تھا، جو پیغمبر ابراہیم کے ذریعہ قدیم مکہ میں ساڑھے چار ہزار سال پہلے شروع ہوا، اور ساتویں صدی عیسوی میں اپنے نقطۂ انتہا (culmination) کو پہنچا۔ اصحابِ رسول وہ لوگ ہیں، جنھوں نے اس لمبے تاریخی عمل (historical process) کے ذریعہ پیدا ہونے والے حالات کو اپنی غیر معمولی جد و جہد کے ذریعہ اویل (avail) کیا۔
رسول اور اصحاب رسول کے ذریعہ تاریخ کا دوسرا عمل (process) شروع ہوا۔ یہ دوسرا تاریخی عمل مختلف حالات سے گزرتا ہوا، بیسویں صدی میں اپنے نقطۂ انتہا تک پہنچا۔ ماڈرن سیویلائزیشن اپنی حقیقت کے اعتبار سے اسی تکمیلی مرحلہ کا نام ہے۔ وہ تکمیلی مرحلہ جس میں توحید کے مشن کے لیے یہ ممکن ہوگیا کہ آفاق و انفس کی آیات (فصلت53:) بالفاظ دیگر سائنس کی دریافت کردہ دلائل ظاہر ہوں، جس کے ذریعہ توحید کو ناقابل انکار حقائق کی روشنی میں لوگوں کے لیے مبرھن کیا جاسکے۔
مواقع کو پہچاننے میں ناکامی
بیسویں صدی میں وہ وقت پوری طرح آچکا تھا، جب کہ امت مسلمہ سے مطلوب تھا کہ وہ نئے پیدا شدہ حالات کو پہچانیں، اور نئے مواقع کو اویل کرتے ہوئے اس کام کو انجام دیں، جس کو قرآن میں آفاق و انفس کی سطح پر اعلیٰ تبیین حق (فصلت53:) کا رول کہا گیا ہے۔ بظاہر یہی وہ رول تھا جس کو حدیث میں اخوان رسول کا رول بتایا گیا تھا۔ لیکن عین اسی وقت ایک برعکس واقعہ ظاہر ہوا۔ یہ واقعہ غالباً وہی تھا جس کو حدیث میں فتنۂ دھیماء کہا گیا ہے۔ یہ فتنۂ دھیماء (سیاہ فتنہ) ایک ایسا عمومی فتنہ ہوگا جس کو حدیث میں ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے:ثم فتنة الدہیماء، لا تدع أحدا من ہذہ الأمة إلا لطمتہ لطمة (سنن ابوداؤد، حدیث نمبر 4242)۔ یعنی پھردہیماء کا فتنہ ہوگا، اور وہ اس امت میں سے کسی ایک فرد کو بھی نہیں چھوڑے گا مگر وہ اس کو ہٹ (hit)کرے گا۔اس حدیث میں لطمۃ سے مراد غالباًلطمۂ نفرت ہے۔ یعنی اس فتنہ کا پھیلاؤ اتنا زیادہ ہوگا کہ امت کا ہر فرد اس سے شدید طور پر متاثر ہوجائے گا۔ وہ ہر فرد امت کو نفرت کا کیس بنا دے گا۔
یہ حادثہ اس طرح پیش آئے گا کہ جو مغربی قومیں حدیث کے الفاظ میں موید دین بن کر ابھریں گی، ان کے ساتھ ایک اور اتفاقی پہلو شامل ہوگا۔ وہ یہ کہ یہ مغربی قومیں ایک طرف موید دین تہذیب لے کر ظاہر ہوں گی، لیکن اسی کے ساتھ ان کی دوسری حیثیت یہ ہوگی کہ وہ اس سیاسی کلچر کی حامل ہوں گی، جس کو نو آبادیاتی نظام(colonialism) کہا جاتا ہے۔ نو آبادیاتی نظام ایک اتفاقی سبب (chance factor) کی بنا پر اس تائیدی تہذیب کا حصہ ہوگا۔ مگر مسلم رہنما دو چیزوں کو ایک دوسرے سے الگ کرنے کی پالیسی (delinking policy) اختیار نہ کرسکیں گے، اور سیاسی اختلاف کی بنا پر خود تائیدی تہذیب کے دشمن بن جائیں گے۔ مسلمانوں کایہ مزاج اتنا زیادہ بڑھے گا کہ امت کا کوئی فرد اس کی زد میں آنےسے محفوظ نہ رہے گا۔
اس کیفیت کو اگر نئے اصطلاح میں بیان کیا جائے تو اس کو ویسٹو فوبیا کہا جاسکتا ہے۔ یہی مغربی قومیں تھیں، جنھوں نے ایک طرف ماڈرن تہذیب کو وجود دیا، اور دوسری طرف یہی وہ قومیں تھیں، جو بعد کو نو آبادیاتی طاقتوں (colonial powers) کے نام سے ابھریں۔ انھوں نے ایک کے بعد ایک تمام مسلم سلطنتوں کو ختم کردیا۔ اس کے نتیجے میں یہ ہوا کہ مسلمان عمومی پیمانے پر سیاسی محرومی کا شکار ہوگئے۔ قدیم زمانے میں اس طرح کا واقعہ مقامی خبر (local event) بن کر رہ جاتا تھا۔ لیکن موجودہ زمانے میں جدید میڈیا کی بنا پر یہ سیاسی واقعہ اتنا پھیلا کہ کوئی مسلمان اس "حادثہ" سے بے خبر نہ رہا۔ چنانچہ ہر مسلم مرد اور عورت مغرب سے متنفر ہوگیا۔
اگر مسلم رہنما بروقت ڈی لنکنگ (delinking)کی حکمت کو اختیار کرتے، جیسا کہ اسلام کے دور اول میں پیغمبر اسلام نے کیا تھا۔ پیغمبر اسلام نے کعبہ کے اصنام اور ان کے لیے روزانہ اکٹھا ہونے والے زائرین (audience) کو ایک دوسرے سے الگ کیا تھا۔ اس طرح آپ نے ایسا دانش مندانہ طریقہ اختیار کیا، جو آخر کار فتح مبین (الفتح 1:) کا باب بن گیا۔ اگر وقت کے مسلم رہنما اس ڈی لنکنگ پالیسی کو اختیار کرتے تو مسلم امت عمومی نفرت کے فتنہ سے بچ جاتی، اور مغربی تہذیب کے ذریعہ پیدا ہونے والے تائیدی مواقع کو بھر پور طور پر اویل (avail) کرکے اس کارنامے کو انجام دیتی جس کو ایک برٹش مورخ ای ای کلیٹ (Ernest Edward Kellett) نے پیغمبر اسلام کی نسبت سے ان الفاظ میں بیان کیا ہے۔ انھوں نے ناموافق حالات کا مقابلہ اس عزم کے ساتھ کیا کہ ناکامی سے کامیابی کو نچوڑلیا:
He faced adversity with the determination to wring success out of failure. (A Short History of Religions by E.E. Kellet, pp. 331-32, Middlesex)
ویسٹو فوبیا
نفرتِ مغرب کے اس عمومی فتنے کو اگر ایک نیا نام دیا جائے تو وہ شاید ویسٹوفوبیا (westophobia) ہوگا ۔ یہی موجودہ زمانے کے مسلمانوںکا سب سے زیادہ عام مائنڈ سیٹ (mindset) ہے۔ یعنی مغربی قوموں کو اپنا دشمن سمجھنا، اور ان سے نفرت کرنا۔ نفرتِ مغرب کا یہ مزاج ابتداءاً نوآبادیات (colonialism) کے پس منظر میں پیدا ہوا۔ پھر وہ بڑھتے بڑھتے موجودہ زمانے کے مسلمانوں کا عام مزاج بن گیا۔ حتی کہ آج مسلم قوم کا مطلب یہ بن گیا کہ اپنے سوا دوسری تمام قوموں سے نفرت کرنا۔ مسلمانوں کے درمیان اس نفرت کلچر (culture of hate)کا معاملہ کوئی سادہ معاملہ نہ تھا۔
انیسویں صدی اور بیسویں صدی کا زمانہ وہ زمانہ ہے جب کہ اللہ نےایسے اسباب پیدا کیے کہ مغربی قوموں نے وہ رول ادا کیا، جس کو حدیث میں تائید دین کہا گیا ہے(المعجم الکبیر للطبرانی، حدیث نمبر14640) ۔ صلیبی جنگوںکے بعد ایسے حالات پیدا ہوئے کہ مغربی قومیں جنگ کے میدان سے ہٹ کر تسخیر فطرت کے میدان میں آگئیں ۔یعنی انھوں نے فطرت کے ان اسرار کو دریافت کرنا شروع کیا ،جن کو قرآن میں آیات (signs) کہا گیا ہے۔ اس معاملے کی پیشین گوئی قرآن میں کردی گئی تھی۔ قرآن میں یہ بتایا گیا تھا کہ مستقبل میں ایسا ہوگا کہ آفاق و انفس کی نشانیاں بڑے پیمانے پر ظاہر ہوں گی، اور وہ حق کی اعلیٰ تبیین کا رول انجام دیں گی(فصلت53:)۔حق کی تبیین کا کام انجام پانا، اپنے آپ میں یہ معنی رکھتا ہے کہ کوئی گروہ ہوگا ،جو حق کی تبیین کا یہ کام انجام دے۔ تمام قرائن یہ بتاتے ہیں کہ حق کی تبیین کا یہ کام انجام دینے والے وہی گروہ تھے، جن کو اہل مغرب کہا جاتا ہے۔رموز فطرت کی اس تسخیرکو موجودہ دور میں فطرت کے قوانین (laws of nature) کی دریافت کہا جاتا ہے۔ ان دریافتوں نے تاریخ میں پہلی بار اہل ایمان کو یہ موقع دیا تھا کہ وہ اسلام اور قرآن کی صداقت کو انسان کے مسلمہ عقلی معیار کی سطح پر ثابت کریں۔ یہی وہ چیز ہے جس کو قرآن میں تبیین حق کہا گیا ہے۔مگر مسلمان اس عمل کی انجام دہی میں کامل طور پر ناکام رہے۔ اس کا سبب تھا— مغرب یعنی مؤیدِ دین سے نفرت۔
مسلمان جس مغرب سے متنفر ہوگئے تھے، وہ وہی مویدِ دین تھے جن کی پیشین گوئی حدیث میں کردی گئی تھی۔ مگر نفرت کی نفسیات کی بنا پر موجودہ زمانے کے مسلمان خود اپنے حامیوں سے بے خبر ہوگئے۔مسلمانوں کے اندر مغرب کے خلاف نفرت کلچر (anti-West culture) کا مزاج اتنا زیادہ بڑھا کہ وہ یہ سوچ ہی نہیں سکے کہ اہل مغرب وہ لوگ ہیں جن کو حدیث میں پیشگی طور پردین کے مؤیدین کہا گیا ہے۔ یہ وہی چیز ہے جس کو ایک لفظ میں ویسٹو فوبیا (westophobia) کہا جاسکتا ہے۔ مسلمانوں کے اندر یہ ویسٹوفوبیا اتنا زیادہ بڑھا ہواہے کہ مسلمان صرف نفرتِ مغرب کو جانتے ہیں، وہ تائید مغرب سے بالکل بے خبر ہیں۔شاید آج کی دنیا میں کوئی ایک مسلمان بھی نہیں ملے گا، جو اس ویسٹوفوبیا یا مغرب سے نفرت کا شکار نہ ہوا ہو۔
اس کے نتیجہ کے طور پر یہ ہوا کہ مسلمان اپنی تاریخ کی سب سے بڑی محرومی کے شکار ہوگئے۔ موجودہ زمانے میں ویسٹوفوبیا کی بنا پر مسلمانوں کو دو بڑے نقصان اٹھانے پڑے۔ یہ ایک ایسی محرومی ہے جس سے بڑی کوئی محرومی مسلم امت کے لیے نہیں ہوسکتی۔ ان میں سے ایک یہ ہے کہ وہ مغربی قوموں کو اپنا دعوتی مخاطب نہ بنا سکے۔ کیوں کہ نفرت اور دعوت دونوں ایک ساتھ جمع نہیں ہوسکتے۔ جہاں نفرت ہوگی، وہاں دعوت کا ذہن نہیں ہوگا، اور جہاں دعوت کا ذہن ہوگا، وہاں نفرت کی نفسیات ختم ہوجائے گی۔ دوسرا نقصان یہ ہوا کہ مغرب جدید تہذیب کا چیمپین تھا۔ موجودہ زمانے کے مسلمان مغرب سے متنفر ہونے کی بناپر جدید تہذیب سے متنفر ہوگئے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ جدید تہذیب کے ذریعہ جو نئے مواقع (opportunities) کھلے تھے، وہ مسلمانوں کی نگاہوں سے اوجھل ہوگئے۔ اس بنا پر مسلمان موجودہ زمانے میں ایک پچھڑاہوا گروہ (backward community) بن کر رہ گئے۔
امت مسلمہ کی ذمہ داری
قرآن میں ایک آیت ان الفاظ میںآئی ہے:تَبَارَکَ الَّذِی نَزَّلَ الْفُرْقَانَ عَلَى عَبْدِہِ لِیَکُونَ لِلْعَالَمِینَ نَذِیرًا (25:1)۔یعنی بڑی بابرکت ہے وہ ذات جس نے اپنے بندے پر فرقان (قرآن)اتارا تاکہ وہ سارے عالم کے لئے خبر دار کرنے والابنے۔قرآن ساتویں صدی عیسوی کے ربع اول میں اترا۔ اس وقت پیشین گوئی (prediction) کی زبان میں یہ اعلان کیا گیا کہ قرآن سارے عالم میں پھیل جائےگا، یہاں تک کہ اس کا پیغام زمین پر بسنے والےہر مرد اور ہرعورت تک پہنچ جائے گا۔ یہی بات حدیث رسول میںاس طرح بیان کی گئی ہے:لا یبقى على ظہر الأرض بیت مدر، ولا وبر إلا أدخلہ اللہ کلمة الإسلام(مسند احمد، حدیث نمبر 23814)۔یعنی زمین پر کوئی چھوٹا یا بڑا گھر نہیں بچے گا، مگر اللہ اس کے اندر اسلام کا کلمہ داخل کر دے گا۔
یہ حدیث رسول پیشگی خبر کی زبان میں یہ بتارہی ہے کہ آخری دور میں امت کا فائنل رول کیا ہوگا۔ وہ رول یہ ہوگا کہ امت اپنے زمانے کےاعتبار سے ایک عالمی منصوبہ بندی کرے، اور مواقع کو استعمال کرتے ہوئے اللہ کے کلام (word of God) کو دنیا کے ہرگوشے میں پہنچادے۔ یہاں تک کہ کوئی عورت یا مرد اس سے بے خبر نہ رہے۔
اس حدیث میں کلمۃ الاسلام سے مراد قرآن ہے۔ قرآن کو ہر انسان تک پہنچانا کسی پر اسرار طریقے پر نہیں ہوگا۔ بلکہ وہ دوسرے واقعات کی طرح اسباب کے ذریعے ہوگا۔ بعد کے دور میں ایسے اسباب انسان کے دسترس میں آئیں گے، جن کو استعمال کرکے امت خدا کی کتاب کو تمام انسانوں تک پہنچادے ۔ قرآن کو سارے عالم تک پہنچانا ایک ایسا مشن ہے، جو امت مسلمہ صرف اپنی طاقت سے نہیں کرسکتی۔ اس لیے اللہ نے تاریخ کو اس طرح مینج (manage)کیا کہ دوسری قومیں بھی اس تاریخی مشن میں تائیدی رول (supporting role) ادا کریں۔ یہی بات مذکورہ حدیث رسول میں ان الفاظ میں بیان کی گئی ہے:إن اللہ لیؤید ہذا الدین بالرجل الفاجر (صحیح البخاری، حدیث نمبر3062)۔ یعنی اللہ ضرور اس دین کی تائید فاجر انسان کے ذریعے کرے گا۔ اس حدیث میں فاجر انسان سے مراد سیکولر انسان ہے۔ یعنی مستقبل میں ایسے لوگ اٹھیں گے، جو بظاہر اپنے مادی محرکات (commercial interest)کے تحت ایک عمل کریں گے۔ مگر یہ اسباب عملاً اہل دین کے لیے سپورٹر بن جائیں گے۔
اس حدیث میں سیکولر مؤید (supporter) سے مراد وہی واقعہ ہے، جس کو موجودہ زمانے میں مغربی تہذیب (western civilization) کہا جاتا ہے۔یہ ایک واقعہ ہے کہ مغربی تہذیب ایک مادی تہذیب ہے۔ اس نے اپنے مادی مقاصد کے لیے بہت سے نئے اسباب پیدا کیے۔ مگر یہ اسباب امکانی طور پر (potentially) قرآن کی عالمی اشاعت کا ذریعہ بن گئے۔
مغربی تہذیب کے بعد پہلی بار یہ ہوا کہ دنیا کا جغرافیہ پوری طرح ایک معلوم واقعہ بن گیا۔ مذہبی آزادی موجودہ زمانے میں انسان کا ایک مسلمہ حق (accepted right) بن گئی۔ موجودہ زمانے میں پرنٹنگ پریس اور الیکٹرانک کمیو نی کیشن جیسی چیزیں وجود میں آئیں، جن کے ذریعے پہلی بار عالمی ابلاغ (global communication)ممکن ہوگیا۔ لائبریری کلچراور کانفرنس کلچرجیسی چیزیں آخری حد تک عام ہوگئیں۔ سیاحت (tourism) کا ظاہرہ وجود میں آیا، جس کی صورت میں گویا مدعو خود داعی کے دروازے تک پہنچ گیا۔ لوگوں میں کھلا پن (openness)کا مزاج پیدا ہوا، جس کی بنا پر لوگ غیر متعصبانہ انداز میں مختلف مذاہب کا مطالعہ کرنے لگے، وغیرہ وغیرہ۔
اس طرح کے اسباب اہل دین کے لیے تائید (support) کی حیثیت رکھتے ہیں۔ ان کی وجہ سے تاریخ میں پہلی بار یہ ممکن ہوا ہے کہ اہل دین ان کو استعمال کرکے قرآن کے اعلان اور پیغمبر ِ اسلام کی پیشین گوئی کو واقعہ بنادیں۔ اب آخری وقت آگیا ہے کہ اہل دین ہر قسم کے منفی خیالات کو چھوڑ کر اٹھیں اور خالص مثبت ذہن کے تحت قرآن کو تمام انسانوں تک پہنچا دیں۔ تاکہ انسان اس خدائی ہدایت سے رہنمائی لے کر اپنی دنیا اور آخرت کو کامیاب بنا سکے۔ اکیسویں صدی میں قرآن کی عالمی تبلیغ کا مطلوب مشن آخری حد تک ممکن ہوچکا ہے۔ اس امکان کو واقعہ بنانے کی شرط صرف یہ ہے کہ امت مسلمہ نفرت اور تشدد کے کلچر کو مکمل طور پر ختم کردے۔ وہ پر امن ذرائع کو استعمال کرتے ہوئے، تمام قوموں تک قرآن کا پیغام پہنچادے۔
ہر انسان پیدائشی طور پر حق کا متلاشی ہے۔ ہر انسان اپنی فطرت کے زور پر حق کا طالب بنا ہوا ہے۔ لیکن موجودہ زمانے میں مسلمان اپنی غلط سوچ کے تحت نفرت اور تشدد کے کلچر میں مبتلا ہوگئے ہیں۔ اس کلچر نے داعی اور مدعو کے درمیان دوری کا ماحول قائم کردیا ہے۔ امت مسلمہ پر فرض کے درجے میں ضروری ہے کہ وہ یک طرفہ طور پر نفرت اور تشدد کے موجودہ کلچر کو ختم کردے، اور پوری طرح امن کا ماحول قائم کردے۔ اس کے بعد فطری طور پر ایسا ہوگا کہ قرآن کا پیغام ہر جگہ پہنچنے لگے گا۔ آج امت مسلمہ کو یہ کرنا ہے کہ وہ نفرت اور تشدد کے کلچر کو ختم کرکے امن کلچر کو اپنائے، اور دعوت کی پر امن پلاننگ (peaceful planning)کرے، اور خالص پرامن انداز میں سارے عالم تک اللہ کے پیغام کو پہنچادے۔ یہی امت مسلمہ کا فائنل رول ہوگا۔ اسی دعوتی رول کی ادائیگی کے نتیجے میں امت مسلمہ کو دوبارہ وہ سرفرازی حاصل ہوگی جس کا تاریخ کو انتظار ہے۔
مادی تہذیب
موجودہ زمانے میں ہم اپنے آپ کوجس تہذیب کے دور میں پاتے ہیں، اس تہذیب کو عام طور پرمغربی تہذیب (western civilization) کہا جاتا ہے۔ مگر اپنی حقیقت کے اعتبار سے یہ ایک مادی تہذیب (material civilization) ہے۔ یہ مادی تہذیب خدا کے تخلیقی نقشے کے مطابق ایک مقدرتہذیب تھی۔یہ تہذیب اپنی حقیقت کے اعتبار سے دین خداوندی کے لیےپوری طرح ایک موافق تہذیب ہے۔تاہم ہر دوسری چیز کی طرح اس تہذیب کے بھی مختلف پہلو ہیں۔ ضرورت ہے کہ اس تہذیب کے غیر متعلق پہلو (irrelevant part) کو نظر انداز کرکے اس کے متعلق پہلو (relevant part) کو دیکھا جائے۔
اس مادی تہذیب کا بالواسطہ حوالہ قرآن کی ایک آیت میں ملتا ہے، وہ آیت یہ ہے:سَنُرِیہِمْ آیَاتِنَا فِی الْآفَاقِ وَفِی أَنْفُسِہِمْ حَتَّى یَتَبَیَّنَ لَہُمْ أَنَّہُ الْحَقّ أَوَلَمْ یَکْفِ بِرَبِّکَ أَنَّہُ عَلَى کُلِّ شَیْءٍ شَہِیدٌ ُ (41:53)۔یعنی مستقبل میں ہم ان کو اپنی نشانیاں دکھائیں گے آفاق میں بھی اور خود ان کے اندر بھی۔ یہاں تک کہ ان پر ظاہر ہوجائے کہ یہ حق ہے۔ کیا یہ بات کافی نہیں کہ تیرا رب ہر چیز کا گواہ ہے۔ یہاں آیات سے مراد وہ قوانین فطرت ہیں جو تخلیقی طور پر اس دنیا میں ہمیشہ سے موجود تھے۔ ’’ہم نشانیاں دکھائیں گے‘‘ کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالی کچھ انسانوں کو توفیق دے گا کہ وہ فطرت کے مخفی قوانین (hidden laws of nature) کو دریافت کریں، اور اس طرح دین خداوندی کی تائید (support) کے لیے ایک عقلی بنیاد (rational base)فراہم ہو۔ اس تہذیب نے انسانی دنیا اور مادی دنیا میں چھپی ہوئی جن حقیقتوں کو دریافت کیا ہے، وہ سب بلاشبہ دینِ حق کی فکری تصدیق کرنے والی ہیں۔
موجودہ دنیا میں انسان کو آباد کرنے کا اصل مقصد یہ ہے کہ وہ معرفت (realization) کا سفر کرے، اور اپنی شخصیت کو اعلی ارتقاء کے درجے تک پہنچائے۔ اس تہذیب نے انسان کے لیے غور و فکر کا ایک نیا فریم ورک (framework) دیا۔ اس نے غورو فکر کے لیے انسان کو نئی معلومات (data) فراہم کیں۔ اس نے انسان کو نئے وسائل (resources) دیے۔ یہ تمام چیزیں اہل دین کے لیےتائیدی عنصر (supporting factor)کی حیثیت رکھتی ہیں، وہ اس لیے ہیں کہ انسان اپنے سفر معرفت کو زیادہ کامیابی کے ساتھ جاری رکھے، وہ اپنے آپ کومطلوبِ الٰہی کے مطابقـ ایک سیلف میڈ مین (self-made man) کی حیثیت سے ڈیولپ کرے۔
سائنس کی شہادت
انسان کی تخلیق کا مقصد قرآن میں ان الفاظ میں بتایا گیا ہے: وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْإِنْسَ إِلَّا لِیَعْبُدُونِ (51:56)۔ یعنی اور میں نے جن اور انسان کو صرف اس لیے پیدا کیا ہے کہ وہ میری عبادت کریں۔ لیعبدون کی تفسیر صحابی عبد اللہ بن عباس کے شاگرد مجاہد تابعی نے لیعرفون سے کی ہے (وقال مجاہد:إلا لیعبدون:لیعرفون)البحر المحیط، لأبی حیان الأندلسی، 9/562۔ یعنی اللہ کی عبادت کرنے کا مطلب ہے اللہ کی معرفت حاصل کریں۔ ابن کثیر نے اپنی تفسیر میں ابن جریج تابعی کے حوالے سے یہی بات نقل کی ہے۔قال ابن جریج:إلا لیعرفون (تفسیر ابن کثیر، 7/425)۔ ابن جرج نے کہا: تاکہ وہ میری معرفت حاصل کریں۔ اس معرفت کا تعلق انسان سے ہے۔
انسان ایک صاحب ارادہ مخلوق کی حیثیت سے پیدا کیا گیا ہے۔ انسان کی تعریف ان الفاظ میں کی جاتی ہے کہ انسان کے اندر تصوراتی سوچ (conceptual thinking) کی صلاحیت ہے۔ انسان کے لیے معرفت کا تعین اسی بنیاد پر کیا جائے گا۔ اس اعتبار سے انسان کے لیے معرفت کا معیار خود دریافت کردہ معرفت (self-discovered realization) ہے۔ یہی انسان کا اصل امتحان ہے۔ انسان کو یہ کرنا ہے کہ وہ اپنی سوچنے کی طاقت (thinking power) کو ڈیولپ کرے۔ یہاں تک کہ وہ اس قابل ہوجائے کہ وہ سیلف ڈسکوری کی سطح پر اپنے خالق کو دریافت کرلے۔
اس دریافت کے دو درجے ہیں۔ پہلا درجہ ہے کامن سنس کی سطح پر اپنے خالق کو دریافت کرنا، اور دوسرا درجہ ہے سائنس کی سطح پر اپنے خالق کو دریافت کرنا۔ پچھلے ہزارو ں سال سے انسان سے یہ مطلوب تھا کہ وہ اپنے کامن سنس کو بے آمیز انداز میں استعمال کرے۔ وہ اپنی فطرت کو پوری طرح بیدار کرے۔ اس طرح وہ اس قابل ہوجائے گا کہ وہ کامن سنس کی سطح پر اپنے خالق کی شعوری معرفت حاصل کرلے۔ اس دریافت کی صرف ایک شرط تھی، اور وہ ہے ایمانداری (honesty)۔ اگر آدمی کامل ایمانداری کی سطح پر جینے والا ہو تو یقینی طور پر کامن سنس اس کے لیے اپنے خالق کی دریافت کے لیے کافی ہوجائے گی۔
معرفت کی دوسری سطح ، سائنٹفک معرفت ہے۔ یعنی فطرت (nature) میں چھپی ہوئی آیات (signs) کو جاننا، اور ان کی مدد سے اپنے خالق کی عقلی معرفت (rational realization)تک پہنچنا۔ سائنٹفک معرفت کے لیے ضروری تھا کہ آدمی کے پاس غور و فکر کے لیے سائنس کا سپورٹنگ ڈیٹا موجود ہو۔ مجرد عقلی غور و فکر کے ذریعہ سائنٹفک معرفت کا حصول ممکن نہیں۔ سائنٹفک معرفت تک پہنچناکسی کے لیےصرف اس وقت ممکن ہے، جب کہ سائنس کا سپورٹنگ ڈیٹا موجود ہو۔ اس سائنٹفک ڈیٹا کے حصول کا واحد ذریعہ قوانین فطرت (laws of nature) کا علم ہے۔ قدیم زمانے میں انسان کو قوانین فطرت کا علم حاصل نہ تھا۔ اس لیے خالق کی سائنسی معرفت بھی انسان کے لیے ممکن نہ ہوسکی۔
خالق کی ایک سنت یہ ہے کہ وہ انسانی تاریخ کو مینج کرتا ہے، یعنی انسانی آزادی کو برقرار رکھتے ہوئے انسان کو منصوبۂ تخلیق کے مطابق مطلوب حالت تک پہنچاتا ہے۔ خالق اپنا یہ کام انسانی آزادی کو منسوخ کیے بغیر انجام دیتا ہے۔ یہ ایک بے حد پیچیدہ کام ہے، اور اس کو خالق کائنات ہی اپنی بر تر طاقت کے ذریعہ انجام دے سکتا ہے۔ ہمارا کام اس منصوبۂ خداوندی کو سمجھنا ہے، نہ کہ اس کے کورس کو بدلنے کی کوشش کرنا۔ کیوں کہ وہ ممکن ہی نہیں۔
قرآن کے ذریعہ اللہ تعالی نے بار بار اہل ایمان کو یہ بتایا تھا کہ کائنات انسان کے لیے مسخر کردی گئی ہے۔ تم ان تسخیری قوانین کو دریافت کرو، تاکہ تم معرفت کے اس درجے تک پہنچ سکو، جس کو سائنسی معرفت کہا جاتا ہے۔ مگر اہل ایمان اس کام کو کرنےمیںعاجز ثابت ہوئے۔ اس کے بعد اللہ نے اپنی سنت کے مطابق اس کام کے لیے ایک اور قوم کو کھڑا کیا (محمد38:) ۔ یہ یورپ کی مسیحی قوم تھی۔ایسا اس طرح ہوا کہ صلیبی جنگوں (Crusades) میں یورپ کی مسیحی قوم کو اتنی سخت شکست ہوئی کہ بظاہران کے لیےجنگ کا آپشن (option)باقی نہ رہا۔ اب عملاًان کےلیے اس کے سوا کوئی چارہ نہ تھا کہ وہ اپنے معاملے کی ری پلاننگ کریں ، اوراپنی کوشش کسی دوسرےمیدان میں جاری رکھیں۔ چناں چہ انھوں نے میدانِ جنگ کے بجائے قوانین فطرت (laws of nature) کے دریافت کی طرف بتدریج اپنی کوششوں کو ڈائیورٹ(divert) کردیا۔
اٹلی کے سائنسداں گلیلیو گلیلی (وفات1642:ء) کو فادر آف ماڈرن سائنس (the father of modern science) کہاجاتاہے۔ اس کا سبب یہ ہے کہ یہی وہ پہلا سائنس داں تھا جس سے ماڈرن سائنس کا سفر باقاعدہ صورت میں شروع ہوا۔ یہ عمل تقریباً چار سو سال تک جاری رہا۔ یہاں تک کہ بیسویں صدی میں وہ اپنی تکمیل تک پہنچ گیا۔ بیسویں صدی میں انسان کو وہ تمام سائنٹفک ڈیٹا حاصل ہوگئے، جو خالق کو سائنسی سطح یا ریشنل لیول پر دریافت کے لیے ضروری تھے۔
اللہ نے جس عالم کو تخلیق کیا، اس کے ہر جزء پر خالق کی شہادت ثبت (stamped) ہے۔ پھر اس نے اس علم سے فرشتوں کو واقف کرایا۔ اس کے بعد اس نے اس حقیقت کو چھپے طور پر (hidden form)اس کائنات میں رکھ دی، جس کو انسان خود سے دریافت کرسکتا تھا۔ یہی وہ چھپی حقیقت ہے جودریافت کے بعد ماڈرن سائنس کےنام سے جانی جاتی ہے۔
اہل اسلام کا کنٹری بیوشن
اب اہل ایمان کے لیے جو کرنے کا کام تھا ، وہ یہ تھا کہ وہ سائنٹفک معلومات کو اسلام کے لیے استعمال کریں۔وہ سائنٹفک معلومات (scientific knowledge) کو استعمال کرکے اپنی معرفت کو نئی مطلوب سطح تک پہنچا دیں، اور دوسروں کے لیے بھی اس معاملے میں رہنمائی کا رول ادا کریں۔ مگر تاریخ دیکھتی ہے کہ اہل اسلام اس معاملے میں مکمل طور پر ناکام ہوگئے۔ بیسویں صدی کے پورے دور میں پوری مسلم دنیا میں بظاہر ایک شخص بھی نظر نہیں آتا جس کو اس کام کا واضح شعور ہو، اور اس نے اس کام کو مطلوب صورت میں انجام دیا ہو۔ یہ کہنا صحیح ہوگا کہ مسلمان اس عظیم امکان سے مکمل طور پر بے خبر رہے۔ انھوں نے اس حقیقت کو جانا ہی نہیں کہ اللہ نے تاریخ کو مینج کرکے اس درجہ تک پہنچایا ہے کہ فطرت میں چھپی ہوئی آیات اللہ (signs of God) دریافت ہوکر سامنے آگئی ہیں۔ اس دریافت کا کام اہل مغرب نے نہایت اعلیٰ سطح پر انجام دے دیا ہے۔ اب مسلمانوں کو صرف یہ کرنا ہے کہ وہ اس سائنسی دریافت کوبھر پور طور پر دین خداوندی کی تائید کے لیے استعمال کریں۔ اس معاملے میں اب عملاً مسلمانوں کا کام بنیادی طور پر سیکنڈری ہے، نہ کہ پرائمری۔
اس معاملے میں غالباًامت کی سطح پر مسلمانوں کے کسی براہ راست کنٹری بیوشن کی نشاندہی نہیں کی جاسکتی۔ بظاہر چند افراد نے اس موضوع پر کچھ کام کیا ہے، لیکن وہ اصل مطلوب کی حیثیت سے کوئی قابل ذکر کام نہیں نظر آتا ہے۔ البتہ کچھ مسلم مترجمین نے مسیحی اہل علم کی کتابوں کے ترجمے کیے ہیں، جو یقینا اس معاملے میں اہمیت رکھتے ہیں۔ اس سلسلے میں ایک قابل ذکر کتاب وہ ہے جو چالیس مغربی سائنس دانوں کے مقالات پر مشتمل ہے۔ یہ کتاب انگریزی میں مندرجہ ذیل ٹائٹل کے ساتھ شائع ہوئی ہے:
The Evidence of God in an Expanding Universe (G. P. Putnam's Sons, 1958)
یہ کتاب اس موضوع پر ایک اہم کتاب ہے۔ اس کتاب کا عربی زبان میں ترجمہ ہوچکا ہے۔اس کا عربی ٹائٹل یہ ہے:اللہ یتجلی فی عصر العلم (مترجم: الدمرداش عبد المجید سرحان، مؤسسة الحلبى وشرکاہ للنشر والتوزیع، 1968)۔راقم الحروف اپنے بارے میں یہ کہہ سکتا ہے کہ میں نے اسی کام کو اپنا اصل موضوع بنایا۔ وسیع مطالعے کے بعد میں نے اس موضوع پر بہت سے مقالے اور کتابیں شائع کیں۔ ان میں سے ایک بڑی کتاب وہ ہے جو اردو زبان میں مذہب اور جدید چیلنج کے نام سے1966 میں شائع ہوئی۔اس کتاب کا عربی ترجمہ ڈاکٹر ظفر الاسلام خان نے کیا، وہ پہلی بار قاہرہ سے 1976میں چھپی ۔ یہ 196 صفحات پر مشتمل تھی۔اس کے بعد اس کے بہت سے ایڈیشن بار بار شائع ہوتے رہے ۔ اس کتاب کا انگریزی ترجمہ، گاڈ ارائزز (God Arises)کے نام سےڈاکٹر فریدہ خانم نے کیا۔ یہ کتاب 1987 میں پہلی بار دہلی سے چھپی۔
مسیحی اہل علم نے اس موضوع پر بلاشبہ قابل قدر کام کیا ہے۔ انھوںنے اس موضوع پر بڑی تعداد میں مقالے اور کتابیں شائع کی ہیں، جو بلاشبہ ہمارے لیے تائیدی سرمایہ کی حیثیت رکھتی ہیں۔ ان میں سے چند کتابوں کے نام یہاں لکھے جاتے ہیں:
The Intelligent Universe by Fred Hoyle, (Holt, Rinehart, and Winston, 1984)
The Cosmic Detective: Exploring the Mysteries of Our Universe by Mani Bhaumik, ‎Mani (Penguin Books India, 2008)
Science And The Unseen World by Arthur Stanley Eddington (Kessinger Publishing, 2004)
New Proofs for the Existence of God: Contributions of Contemporary Physics and Philosophy by Robert J. Spitzer, (2010)
How to Know God Exists: Scientific Proof of God, by Sr Ray Comfort (2008)
اس معاملے کا گہرائی کے ساتھ مطالعہ کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ مسلمانوں کی اس بے خبری کا سبب وہی عمومی فتنہ تھا جس کو حدیث میں فتنۃ الدہیما ء (سنن ابو داؤد، حدیث نمبر4242) کہا گیا ہے۔ فتنۃ الدُہیماء سے مراد نفرتِ مغرب کا عمومی فتنہ ہے۔ اس فتنہ کو زیادہ صحیح طور پر ویسٹو فوبیا (westophobia) کہا جاسکتا ہے۔ یہ پوری اسلامی تاریخ کی سب سے زیادہ تعجب خیز حقیقت ہے کہ اللہ رب العالمین نے جب سائنسی ترقی کے ذریعہ اعلیٰ معرفت کا دروازہ کھولا تو مسلمان اس حقیقت سے پوری طرح بے خبر ہو کر رہ گئے۔
حدیث میں آیا ہے :حبک الشیء یعمی ویصم (سنن ابوداؤد، حدیث نمبر 5130)۔ اس قول کو توسیع دے کر یہ کہا جاسکتا ہے کہ بغضک الشیء یعمی ویصم یعنی تمھارا کسی چیز سے نفرت کرنا تم کو اندھا اور بہرا بنادیتا ہے۔موجود ہ زمانے کے مسلمانوں میں بعض سیاسی اسباب سے اہل مغرب سے نفرت پیدا ہو گئی۔ اس بغض کے نتیجہ میں وہ اہل مغرب کے کنٹری بیوشن کو مثبت طور پر جاننے سے محروم ہوگئے۔ انھوں نے حالات کے دباؤ کے تحت مغربی تہذیب سے مادی فائدہ اٹھایا، لیکن وہ مغربی تہذیب کے اس پہلو سے بے خبر ہوگئے کہ مغربی تہذیب حدیث کی پیشین گوئی کے مطابق اسلام کے لیے ایک تائیدی تہذیب (supporting civilization) ہے۔ اس عمومی نفرت کا سب سے بڑا نقصان خود مسلمانوں کو ہوا۔ کیوں کہ اس بنا پر وہ اپنے اس اہم رول سے بے خبر ہوگئے کہ مغرب کی دریافت کردہ تائیدات کو لے کر وہ اسلام کی تبیین اعلیٰ عقلی سطح پر کرسکیں، اور اس طرح وہ اہم رول ادا کرسکیں جس کو حدیث میں شہادت اعظم کہا گیا ہے۔
حق کیا ہے
حق کیا ہے۔ حق اصلاً توحید کا دوسرا نام ہے۔ اس کے مقابلے میںجو چیز باطل ہے، وہ اصلاً شرک ہے۔ شرک یہ ہے کہ آدمی خالق کو چھوڑ کر مخلوقات کی پرستش کرنے لگے،یعنی فطرت کی پرستش (nature worship) ۔ خالق بظاہر دکھائی نہیں دیتا، لیکن مخلوق دکھائی دے رہی تھی۔ اس لیے انسان نے خالق کو چھوڑ کر مخلوق کی پرستش شروع کردی۔ یہی وہ حقیقت ہے جس کو قرآن میں ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے۔ اس کا ترجمہ یہ ہے: اور اس کی نشانیوں میں سے ہے رات اور دن اور سورج اور چاند۔ تم سورج اور چاند کو سجدہ نہ کرو بلکہ اس اللہ کو سجدہ کرو جس نے ان سب کو پیدا کیا، اگر تم اسی کی عبادت کرنے والے ہو(41:37)۔
مظاہر فطرت (nature) دکھائی دینے والی چیزیں ہیں۔ خاص طور پر سورج، چاند اور ستارے انسان کو نمایاں نظر آتے تھے، ان کے بارے میں انسان کے اندر استعجاب (sense of awe) پیدا ہوا۔ اس استعجاب کے تحت انسان نے ان کو برتر سمجھ کر پوجنا شروع کردیا۔ اس طرح قدیم زمانے میں مظاہر فطرت کو معبود مان کر ان کی پرستش کا کلچر دنیا میں رائج ہوا۔ یہ صورت حال پوری تاریخ میں برابر جاری رہی۔ خدا کے پیغمبر مسلسل طور پر خدا کی طرف سے یہ پیغام لے کر آئے کہ مخلوق کو چھوڑو، اور خالق کی عبادت کرو۔ مگر انسان ایسا نہ کرسکا۔ اسلام نے خالق کی پرستش کے اس کلچر کا آغاز کیا، اوراس کے بعد ماڈرن سائنس نےاس عمل کی تکمیل کی۔ماڈرن سائنس نے مشاہداتی سطح پر مظاہر فطرت کو معبودیت کے مقام سے ہٹا کر مخلوق کے مقام پر پہنچادیا ۔
یہ عمل سترھویں صدی عیسوی میں اٹلی کے سائنسداں گلیلیو گلیلی (Galileo Galilei) کی ریسرچ کے ذریعہ شروع ہوا، جب کہ گلیلیو گلیلی نےمشاہداتی بنیاد پر یہ ثابت کیا کہ زمین شمسی نظام کا سینٹر نہیں ہے، بلکہ وہ سورج کا ایک سیارہ (satellite) ہے۔ اس کے بعد 1969 میںنیل آرم اسٹرانگ ( 1930-2012– ) خلائی سفر کرکے چاند کی سطح پر پہنچا۔ اس نے بتایا کہ چاند کوئی روشن چیز نہیں، وہ بے نور پتھروں کا ملبہ ہے۔ اس کی روشنی اپنی نہیں، وہ سورج کے ریفلیکشن سے چمکتا ہے۔ اس کے بعد انسان نے بڑی بڑی رصدگاہیں بنائیں، اور بڑے پیمانے پر ریسرچ کیا۔ اس کے ذریعہ حتمی طور پر یہ معلوم ہوگیا کہ ستارے جو آسمان میں نظر آتے ہیں، وہ سب کے سب آگ کے ٹکڑے ہیں، اس کے سوا اور کچھ نہیں۔
اس طرح سائنسی ریسرچ نے مشاہداتی بنیاد پر یہ بتایا کہ خلا (space) میں جتنے بھی اجسام (bodies) ہیں، وہ سب کے سب یا تو آگ کے انگارے ہیں، یا پتھر کے ٹکڑے، اس سے زیادہ اور کچھ نہیں۔ مظاہر فطرت کی معبودیت کا تصور تمام تر توہم پرستی (superstition) کی بنیاد پر قائم تھا۔ سائنس نے توہم پرستی کے دور کو مکمل طور پر ختم کردیا۔ اس کے نتیجے میں یہ ہوا کہ مظاہر پرستی کا دور علمی طور پر ہمیشہ کے لیے ختم ہوگیا۔ یہی وہ بات ہے جو قرآن میں آفاق کی آیات کے ذریعے بتائی گئی ہے۔
اسی طرح قرآن میں بتایا گیا ہے کہ مستقبل میں انفس کی نشانیوں کے ذریعہ حق کی تبیین ہوگی۔انفس سے مراد انسان ہے ۔ آیاتِ انسان سے کس طرح حق کی تبیین ہوتی ہے۔ اس کا اشارہ ایک حدیث میں ملتا ہے۔ پیغمبر اسلام نے فرمایا:خلق اللہ آدم على صورتہ (صحیح البخاری، حدیث نمبر 6227)۔ یعنی اللہ نے آدم کو اپنی صورت پر پیدا کیا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ انسان ایک ایسا وجود ہے جس کا مطالعہ کرکے خالق کی پہچان حاصل ہوتی ہے۔ انسان کے اندر وہ تمام صلاحتیں چھوٹی سطح پر پائی جاتی ہیں، جو خالق کے اندر اعلیٰ سطح پر موجود ہیں۔ کائنات پوری کی پوری ایک مادی کائنات ہے۔ مگر کائنات کے اندر ایک ہستی ایسی پائی جاتی ہے، جس کو انسان کہا جاتاہے۔ انسان کے اندر دماغ (Mind) ہے، انسان دیکھنے اور سننے کی صلاحیت رکھتاہے، وہ اپنے ارادے سے کام کرتا ہے، انسان واحد مخلوق ہے جس کے اندر مَیں (I) کا شعور پایا جاتاہے، وغیرہ۔ غالباً اسی حقیقت کو قرآن میں ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے:بَلِ الْإِنْسَانُ عَلَى نَفْسِہِ بَصِیرَةٌ (75:14)۔ یعنی انسان اپنے وجود کو دریافت کرکے خالق کی دریافت تک پہنچ سکتا ہے۔مثال کے طور پر فرانسیسی فلسفی ڈیکارٹ (René Descartes) نے انسان کے وجود پر غور کیا۔ اس نے کہا کہ میں سوچتا ہوں، اس لیے میں ہوں:
I think, therefore, I am
اس اصول کی توسیع کرتے ہوئے یہ کہنا درست ہوگا کہ میں ہوں اس لیے خدا بھی موجود ہے:
I am, therefore, God is
اکیسویں صدی
خالق کی تخلیقی اسکیم (creation plan) ہمیشہ سے ثابت شدہ حقیقت تھی۔ لیکن بیسویں صدی کے بعد دنیا میں ایک نیا دور آیا ہے۔ جب کہ نظری حقیقتیں، مادی حقائق کی روشنی میں قابل فہم (understandable) بن گئیں۔ مثلا غیب پر ایمان قدیم زمانے میں ایک عقیدہ کی بات تھی۔ موجودہ زمانے میں کوانٹم فزکس (quantum physics) کی دریافت کے بعد یہ صرف نظری بات نہ رہی، بلکہ پرابیبیلٹی (probability) کے درجے میں تقریباً قابل یقین حقیقت کے درجہ تک پہنچ گئی۔ پرابیبلٹی جدید سائنس کا ایک اہم اصول ہے۔ کہا جاتا ہے:
Probability is less than certainty, but more than perhaps
موجودہ زمانے میں جن چیزوں کو سائنسی حقیقت (scientific fact) کہا جاتا ہے، ان سب کا معاملہ یہی ہے۔ ان میں سے ہر ایک پرابیبیلٹی کے درجے میںمسلمہ حقیقت بنی ہیں، نہ کہ مشاہدہ کے درجے میں۔ یہی معاملہ مذہبی عقائد یاتصورات کا ہے۔ اِس زمانے میں مذہبی تصورات اسی تسلیم شدہ درجے میں ثابت شدہ بن چکے ہیں، جس درجے میں مسلّمہ سائنسی حقائق ۔
اہل علم کی شہادت
زیر نظر موضوع سے متعلق قرآن کی ایک آیت ان الفاظ میں آئی ہے: شَہِدَ اللَّہُ أَنَّہُ لَا إِلَہَ إِلَّا ہُوَ وَالْمَلَائِکَةُ وَأُولُو الْعِلْمِ قَائِمًا بِالْقِسْطِ لَا إِلَہَ إِلَّا ہُوَ الْعَزِیزُ الْحَکِیمُ (3:18)۔ یعنی اللہ گواہی دیتا ہے کہ یقیناً اس کے سوا کوئی الٰہ نہیں اور فرشتے اور اہل علم میں سےجو انصاف پر قائم ہیں (وہ بھی یہی گواہی دیتے ہیں کہ) اللہ کے سوا کوئی الہ نہیں، وہ غالب ہے حکمت والا ۔
اللہ شہادت دیتا ہے کہ اس کے سوا کوئی الہ نہیں— اس کا مطلب یہ ہے کہ تخلیق کے ہر جزء پر خالق کی اسٹیمپ (stamp) لگی ہوئی ہے۔ تخلیق (creation) کا مطالعہ باعتبار حقیقت خالق کے عمل (act) کا مطالعہ ہے۔ تاہم اس معاملے میںسائنس کے آغاز پر ایک نا موافق حادثہ پیش آیا۔ وہ سائنٹفک کمیونٹی اور کرشچن چرچ کے درمیان ٹکراؤ تھا۔ اس کی تفصیل درج ذیل کتاب میں دیکھی جاسکتی ہے:
History of the Conflict Between Religion and Science by John William Draper (1874)
یہ تصادم سائنٹفک کمیونٹی اور کرسچن چرچ کے درمیان تھا۔ اس کے نتیجے میں یہ واقعہ پیش آیا کہ سائنٹفک کمیونٹی نے نیچر کے مطالعہ (باعتبار حقیقت تخلیق کےمطالعہ) میں تخلیق اور خالق کو ایک دوسرے سے ڈی لنک (delink) کردیا۔ وہ تخلیق کا مطالعہ خالق کے ریفرنس کے بغیر کرنے لگے۔ اس طرح سائنس بظاہر ایک سیکولر سبجکٹ بن گیا۔ حالاں کہ باعتبار حقیقت وہ مکمل طور پر ایک مذہبی سبجکٹ کی حیثیت رکھتی تھی۔
اس کے بعد دوسری غلطی مسلم علماء نے کی۔ انھوںنے سائنس کو ایک مادی سبجکٹ کا درجہ دے دیا، جس کا مذہب سے کوئی تعلق نہ ہو۔ حالاں کہ مسلم علماء کو کرنا یہ تھا کہ وہ اس ڈی لنکنگ کو ختم کردیں۔ وہ دنیا کو یہ بتائیں کہ سائنس جس مطالعے کو نیچر کا مطالعہ کہہ رہی ہے، وہ در اصل تخلیق کا مطالعہ ہے، اور تخلیق کا مطالعہ اپنے آپ تخلیق کے خالق کامطالعہ ہے۔
غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ مذکورہ آیت میں اولو العلم سے مراددین کے علماء نہیں ہیں، بلکہ طبیعیاتی سائنس کے علماء ہیں۔اٹلی کے سائنس داں گلیلیو گلیلی کے بعد دنیا میں ایک نیا دور آیا۔ اس کو سائنس کا دور (age of science) کہا جاتا ہے۔ اس دور میں خالص عقلی اصولوں کی روشنی میں مادی دنیا کا مطالعہ شروع ہوا۔ یہ مطالعہ تیزی سے بڑھا، یہاں تک کہ سائنس سب سے بڑا علمی شعبہ بن گیا۔ اس سائنسی مطالعے نے فطرت کے بہت سے وہ اسرار دریافت کیے، جو اب تک غیر دریافت شدہ حالت میں پڑے ہوئے تھے۔ یہ دریافتیں تخلیقی دنیا سے تعلق رکھتی تھیں۔ اس بنا پر ان کا تعلق براہ راست طور پرخالق کی معرفت سے تھا۔
سائنسی علوم کا مطالعہ اپنی حقیقت کے اعتبار سے خالق کی معرفت کا مطالعہ تھا۔ مگر سائنسدانوں نے اس مطالعے کو مکمل طور پر ایک سیکولر سبجکٹ کے طور پر کیا۔ تقریباً چار سو سال کے سائنسی مطالعے کے نتیجے میں جو سائنسی معلومات انسان کے علم میں آئی ہیں، وہ سب کی سب معرفت خداوندی کا دفتر ہیں۔ لیکن سائنسی دریافتوںکا یہ پہلو ابھی تک چھپا ہوا تھا۔ اس معاملے میں اب اہل اسلام کا رول یہ ہےکہ وہ اس کے ریفرنس(reference) کو بدلیں۔علوم فطرت کی جو دریافتیں اب تک سیکولر دریافتوں کی حیثیت سے سمجھی جاتی رہی ہیں، ان کو رب العالمین کی دریافت کا درجہ دے دیں۔ وہ سائنس کو اسلام کے علم کلام کی حیثیت سے لوگوں کے سامنےلائیں۔ان دریافتوں کی بنیاد پر وہ اسلام کا نیا علم کلام مدون کریں۔
سائنس سے معرفت تک
سائنس کیا ہے۔ سائنس در اصل ایک منظم علم کا نام ہے۔ سائنس سے مراد وہ علم ہے جس میں کائنات کا مطالعہ موضوعی طور پر ثابت شدہ اصولوں کی روشنی میں کیا جاتا ہے:
Science: the systematized knowledge of nature and the physical world.
کائنات کی حقیقت کے بارے میں انسان ہمیشہ غور و فکر کرتا رہا ہے۔ سب سے پہلے روایتی عقائد کی روشنی میں ، اس کے بعد فلسفیانہ طرز فکر کی روشنی میں، اور پھر سائنس کے مسلمہ اصولوں کی روشنی میں۔سائنس کا موضوع کائنات (physical world) کا مطالعہ ہے۔ تقریبا چار سو سال کے مطالعے کے ذریعے سائنس نے جو دنیا دریافت کی ہے، وہ استنباط (inference) کے اصول پر خالق کے وجود کی گواہی دے رہی ہے۔ لیکن غالباً کسی سائنسداں نے کھلے طور پر خدا کے وجود کا اقرار نہیں کیا ہے۔ ان کے بارے میں یہی کہا جاسکتا ہے کہ البرٹ آئن سٹائن(1879-1955) کی طرح ان کا کیس کھلے طور پر خدا کے انکار (atheism)کا کیس نہیں ہے، بلکہ ان کا کیس لا ادری (agnosticism) کا کیس ہے۔
طبیعیاتی سائنس کے میدان میں پچھلی چار صدیوں میں تین انقلابی ڈیولپمنٹ پیش آئے ہیں۔ اول، برٹش سائنس داں نیوٹن کا مفروضہ کہ کائنات کی بنیادی تعمیر ی اینٹ مادہ ہے۔ اس کے بعد بیسویں صدی کے آغاز میں جرمن سائنس داں آئن سٹائن کا یہ نظریہ سامنے آیا کہ کائنات کی تعمیری اینٹ توانائی ہے، اور اب آخر میں ہم امریکن سائنس داں ڈیوڈ بام کے نظریاتی دور میں ہیں، جب کہ سائنس دانوں کی زیادہ سے زیادہ تعداد یہ مان رہی ہے کہ کائنات کی بنیادی تعمیری اینٹ شعور ہے۔ یہ تبدیلیاں لازمی طور پر ایک نئے فلسفے کو جنم دیتی ہیں، جب کہ فلسفہ مادیت سے گزر کر روحانیت تک پہنچ گیا ہے:
In the realm of the physical science, we have had three major paradigm shifts in the last four centuries. First, we had the Newtonian hypothesis that matter was the basic building block of the universe. In the early twentieth century, this gave way to the Einsteinian paradigm of energy being the basic building block. And the latest is the David Bohm era when more and more scientists are accepting consciousness to be the basic building block. These shifts have had inevitable consequences for the New Age philosophy, which has moved away from the philosophy of crass materialism to that of spirituality.
وہ دور جس کو سائنسی دور کہا جاتا ہے، اس کا آغاز تقریبا سو سال پہلے مغربی یورپ میں ہوا۔ دھیرے دھیرے عمومی طور پر یہ تاثر بن گیا کہ سائنس حقیقت کو جاننے کا سب سے اعلیٰ ذریعہ ہے۔ جو بات سائنس سے ثابت ہوجائے، وہی حقیقت ہے، جو بات سائنسی اصولوں کے ذریعہ ثابت نہ ہو، وہ حقیقت بھی نہیں۔ابتدائی صدیوں میں سائنس خالص مادی علم کے ہم معنی بن گیا۔ چوں کہ مذہبی حقیقتیں مادی معیار استدلال پر بظاہر ثابت نہیں ہوتی تھیں، اس لیے مذہبی حقیقتوں کو غیر علمی قرار دے دیا گیا۔ لیکن علم کا دریا مسلسل آگے بڑھتا رہا، یہاں تک کہ وہ وقت آیا جب کہ خود سائنس مادی علم کے بجائے عملاً غیر مادی علم کے ہم معنی بن گیا۔
پچھلی صدیوں کی علمی تاریخ بتاتی ہے کہ سائنس کے ارتقا کے ذریعے پہلی بار استدلال کی ایسی علمی بنیاد وجود میں آئی جو عالمی طور پر مسلمہ علمی استدلال کی حیثیت رکھتی تھی، پھر اس میں مزید ارتقا ہوا، اور آخر کار سائنس ایک ایسا علم بن گیا جو مسلمہ عقلی بنیاد پر یہ ثابت کر رہا تھا کہ کائنات ایک بالاتر شعور کی کار فرمائی ہے۔ ایک سائنس داں نے کہا ہے — کائنات کا مادہ ایک ذہن ہے:
The stuff of the world is mind-stuff (Eddington)
مشہور سائنس داں ڈاکٹر اسٹیفن ہاکنگ نے کہا ہے :
There is a “grand design” to the universe, but it has nothing to do with God. Science is coming close to “The Theory of Everything,” and when it does, we will know the grand design. (Catherine Giordano: Here’s Why Stephen Hawking Says There Is No God [www.owlcation.com])
وہ ایک دوسری جگہ کہتے ہیں :
One can’t prove that God doesn’t exist, but science makes God unnecessary.
(www.en.wikipedia.org/wiki/The_Grand_Design_(book)
کوانٹم فزکس کے نظریے کو اگر اس معاملے پر منطبق کیا جائے تو یہ کہا جاسکتا ہے :
Probably, there is a God
یہ خالص سائنس کا موقف ہے۔ لیکن جہاں انسان کے وجدان (intuition) کا تعلق ہے۔ اس کی سطح پر خدا کا وجود اتنا ہی یقینی ہے، جتنا کہ انسا ن کا وجود۔
سائنس اور عقیدۂ خدا
1927 میں بلجیم کے ایک سائنس داں جارجز لیمٹری (Georges Lemaitre) نے بگ بینگ (Big Bang) کا نظریہ پیش کیا۔اِس نظریے پر مزید تحقیق ہوتی رہی، یہاں تک کہ اِس کی حیثیت ایک مسلّمہ واقعہ کی ہوگئی۔ آخر کار 1965 میں بیگ گراؤنڈ ریڈی ایشن (background radiation) کی دریافت ہوئی۔ اِس سے معلوم ہوا کہ کائنات کے بالائی خلا میں لہر دار سطح (ripples) پائی جاتی ہیں۔ یہ بگ بینگ کی شکل میں ہونے والے انفجار کی باقیات ہیں۔ اِن لہروں کو دیکھ کر ایک امریکی سائنس داں جویل پرائمیک (Joel Primack) نے کہا تھا کہ — یہ لہریں خدا کے ہاتھ کی تحریر ہیں:
The ripples are no less than the handwriting of God.
جارج اسموٹ 1945 میں پیداہوا۔ وہ ایک امریکی سائنس داں ہے۔ اس نے 2006 میں فزکس کا نوبل پرائز حاصل کیا۔ یہ انعام اُن کو ’کاسمک بیک گراؤنڈ ایکسپلورر، کے لیے کام کرنے پر دیاگیا۔ 1992 میں جارج اسموٹ نے یہ اعلان کیا کہ بالائی خلا میں لہردار سطحیںپائی جاتی ہیں۔ یہ بگ بینگ کی باقیات ہیں۔ اُس وقت جارج اسموٹ نے اپنا تاثر اِن الفاظ میں بیان کیا تھا — — یہ خدا کے چہرے کو دیکھنے کے مانند ہے:
George Fitzgerald Smoot III (born February 20, 1945) is an American astrophysicist and cosmologist. He won the Nobel Prize in Physics in 2006 for his work on the Cosmic Background Explorer. In 1992 when George Smoot announced the discovery of ripples in the heat radiation still arriving from the Big Bang, he said it was "like seeing the face of God". (God For The 21st Century, Templeton Press, May 2000)
جب یہ بات ثابت ہوجائے کہ کائنات کی تخلیق کے پیچھے ایک عظیم ذہن (mind) کی کار فرمائی ہے۔ کائنات کے اندر جو معنویت ہے، جو منصوبہ بندی ہے، جو بے نقص ڈزائن ہے، وہ حیرت انگیز طور پر ایک اعلیٰ ذہن کے وجود کو بتاتا ہے۔ کائنات میں ان گنت چیزیں ہیں۔ لیکن ہر چیز اپنے فائنل ماڈل پر ہے۔ کائنات میں حسابی درستگی اتنے زیادہ اعلیٰ معیار پر پائی جاتی ہے کہ ایک سائنس داں نے کہا کہ کائنات ایک ریاضیاتی ذہن (mathematical mind)کی موجودگی کا اشارہ کرتی ہے۔اس موضوع پر اب بہت زیادہ لٹریچر تیار ہوچکا ہے، جس کو انٹرنیٹ پر یا لائبریری میں دیکھا جاسکتا ہے۔ کائنات میں انٹلیجنٹ ڈیزائن ہونے کی ایک مثال یہ ہے کہ ہمارا سولر سسٹم جس میں ہماری زمین واقع ہے، وہ ایک بڑی کہکشاں (galaxy)کا ایک حصہ ہے۔ لیکن ہمارا شمسی نظام کہکشاں کے بیچ میں نہیں ہے، بلکہ اس کے کنارے واقع ہے۔ اس بنا پر ہمارے لیے ممکن ہے کہ ہم محفوظ طور پر زمین پر زندگی گزاریں، اور یہاں تہذیب (culture) کی تعمیر کریں:
The centre of the galaxy is a very dangerous place. Being in the outskirts of the galaxy, we can live safely from the hectic activities at the centre.
اس حکیمانہ واقعہ کا اشارہ قرآن میں موجود تھا۔ مگر موجودہ زمانے میں سائنسی مطالعے کے ذریعہ اس کی تفصیلات معلوم ہوئیں، جو گویا قرآن کے اجمالی بیان کی تفسیر ہے۔جب علم کا دریا یہاں تک پہنچ جائے تو اس کے بعد صرف یہ کام باقی رہ جاتا ہے کہ اس دریافت کردہ شعور یا اس ذہن کو مذہبی اصطلاح کے مطابق، خدا (God) کا نام دے دیا جائے۔
بے نقص کائنات
کائنات مکمل طور پر ایک بے نقص (zero-defect)کائنات ہے۔قرآن میں کائنات کے اس پہلو کو ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہےَ ۔ ان آیتوں کا ترجمہ یہ ہے: یعنی جس نے بنائے سات آسمان درجہ بدرجہ، تم رحمٰن کے بنانے میں کوئی خلل نہیں دیکھو گے، پھر نگاہ ڈال کر دیکھ لو، کہیں تم کو کوئی خلل نظر آتا ہے (ہَلْ تَرَى مِنْ فُطُور) ۔ پھر بار بار نگاہ ڈال کر دیکھو، نگاہ ناکام تھک کر تمہاری طرف واپس آجائے گی (67:3-4)۔
قرآن کی اس آیت میں کائنات کوبے فطور (flawless) کہا گیا ہے ۔ جس وقت قرآن میں یہ آیت اتری، اس وقت انسان کو معلوم نہ تھا کہ کائنات ایک بے نقص کائنات ہے۔ انسان سورج چاند کو دیکھتا تھا، سمندروں اور پہاڑوں کو دیکھتا تھا۔ اس سے اس کے اندر ایک تحیر کا احساس (sense of awe) پیدا ہوجاتا تھا۔ اس سے کائنات کی پرستش (nature worship) کا تصور پیدا ہوا۔ خالق کا جو اصل مقصود تھا، وہ یہ تھا کہ انسان کائنات کے بے فطور (flawless) پہلو کو جانے ، اور اس طرح خالق کی قدرت کو دریافت کرے۔ مگر ہزاروں سال تک کائنات کا یہ پہلو غیردریافت شدہ بنا رہا۔
پچھلے تقریباً چار سو سال کے درمیان سائنس کے میدان میں جو دریافتیں ہوئی ہیں، انھوں نے پہلی بار انسا ن کو بتایا کہ کائنات میں کمال درجے کی معنویت پائی جاتی ہے۔ کائنات ویل پلانڈ (well planned) کائنات ہے، کائنات ایک ویل مینجڈ (well managed) کائنات ہے، کائنات ایک ویل ڈیزائنڈ (well designed) کائنات ہے، کائنات ایک ویل ڈسپلنڈ (well disciplined) کائنات ہے۔ اب سائنسداں عام طور پر یہ مانتے ہیں کہ کائنات ایک انٹلجنٹ کائنات (intelligent universe) ہے۔ حتی کہ اب یہ ایک باقاعدہ موضوع بن گیا ہے، جس پر بہت سی کتابیں اور رسالے شائع کیے جارہے ہیں۔
نیوٹن کے زمانے میں کائنات کو ایک میکینیکل کائنات کہا جاتا تھا۔ لیکن مزید ریسرچ سے یہ نظریہ غلط ثابت ہوگیا۔ سائنس کے مختلف شعبوں میں جو ریسرچ ہوئی ہے، اس سے اب یہ بات تقریباً واقعہ (fact) بن چکی ہے کہ کائنات ایک ذہین کائنات (intelligent universe) ہے۔ کائنات کو ذہین کائنات ماننے کے بعد یہ معاملہ ایک لفظی مسئلہ بن جاتا ہے۔ کائنات کو ذہین کائنات ماننا دوسرے لفظوں میں یہ ماننا ہے کہ یہ کائنات ایک ذہین خالق کی تخلیق ہے۔ اس کے سوا اس کا کوئی اور مفہوم نہیں ہوسکتا۔ اس موضوع پر غالباً پہلی باقاعدہ کتاب فریڈ ہائل (Fred Hoyel) کی تھی، جس کا نام تھا ذہین کائنات:
The Intelligent Universe: A New View of Creation and Evolution (1983)
مگر اب ذہین ڈزائن کے موضوع پر بڑی تعداد میں کتابیں اورمقالے چھپ چکے ہیں۔ ان کتابوں اور مقالات کو کسی بڑی لائبریری میں یا انٹر نیٹ پر دیکھا جاسکتا ہے۔
کائنات کی توجیہہ
طبیعیات کے جدیدمطالعے سے معلوم ہوا ہے کہ تقریباً 14 بلین سال پہلے خلا میں ایک دھماکہ ہوا جس کو بگ بینگ کہاجاتاہے۔ یہ کائنات کا آغاز تھا۔ مطالعہ مزید بتاتاہے کہ دھماکے کے بعد ایک سیکنڈ کے اندر ایک اور واقعہ ہوا جس نے ذروں کو نہایت تیز رفتاری کے ساتھ خلا کی وسعت میں پھیلا دیا۔ اس کے بعد تدریجی طور پر موجودہ کائنات بنی۔
یہ انوکھے واقعات کیسے پیش آئے۔ اتفاق (accident) جیسے الفاظ اس کی توجیہہ نہیں کرسکتے۔ یہ ایک بے حد بامعنی واقعہ تھا اور صرف ایک بامعنی توجیہہ (meaningful explanation) ہی اِس واقعے کی تشریح کرسکتی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اِس قسم کی دریافتوں نے انسان کو معرفتِ الٰہی کے عین دروازے تک پہنچا دیا ہے۔ اب صرف اتنا ہی باقی ہے کہ لفظی طورپر اس کا اعتراف کرلیا جائے۔
Universe Origins: Giant Boost for Big Bang Theory
London: An international team of astrophysicists has discovered the signal left in the sky by the super-rapid expansion of space that would have occurred fractions of a second after everything came into being following the Big Bang. Announcing their finding over a global press call, scientists from Harvard Smithsonian Centre for Astrophysics said researchers from the BICEP2 (Background Imaging of Cosmic Extragalactic Polarization) collaboration have found this first direct evidence for this cosmic inflation, a theory pioneered by Prof Alan Guth among others. Almost 14 billion years ago the universe burst into existence in an extraordinary event that initiated the Big Bang, they said. It has been theorized that in the first fleeting fraction of a second the universe expanded exponentially in what is described as the first tremors of the Big Bang, stretching far beyond the view of our best telescopes. Their data also represents the first images of gravitational waves or ripples in space-time. The team analysed their data for more than three years in an effort to rule out any errors.They also considered whether dust in our galaxy could produce the observed pattern, but the data suggest this is highly unlikely. Harvard theorist Avi Loeb said this work offers new insights into some of our most basic questions: Why do we exist?? How did the universe begin??? These results not only offer strong evidence for inflation, they also tell us when inflation took place and how powerful the process was. These ground breaking results came from observations by the BICEP2 telescope of the cosmic microwave background a faint glow left over from the Big Bang. (The Times of India, New Delhi, March 19, 2014, p. 23)
کائنات کی معنویت
سائنس فطرت (nature) کے مطالعے کا نام ہے۔ فطرت میں وہ تمام چیزیں شامل ہیں، جن کو ہم کائنات کہتے ہیں۔ سائنسی مطالعے کا آغاز کچھ ابتدائی باتوں سے ہوا، لیکن یہ مطالعہ جتنا زیادہ بڑھتا گیا، اتنا ہی یہ ظاہر ہوتا گیا کہ کائنات ایک بے حد بامعنی کائنات ہے۔ کائنات کی کوئی بھی ایسی تشریح جو کائنات کی معنویت کے اعتراف پر قائم نہ ہو، وہ سائنسی تحقیقات سے مطابقت نہیں رکھتی۔
مثلاً سائنسی مطالعے کے ذریعے معلوم ہوا کہ کائنات کے اندر ایک ذہین ڈیزائن (intelligent design) ہے۔ اب اگر یہ نہ مانا جائے کہ کائنات کے پیچھے ایک ذہین ڈیزائنر (intelligent designer)کام کر رہا ہے تو کائنات کا نادر ظاہرہ ناقابلِ توجیہہ بن جاتاہے۔
اِسی طرح سائنس کے مطالعے نے بتایا کہ ہماری کائنات انسان کے لیےایک کسٹم میڈ (custom-made) کائنات ہے، یعنی وہ انسان جیسی مخلوق کے تقاضوں کے عین مطابق ہے۔ اب اگر ایک ایسے خالق کو نہ مانا جائے جس نے دو الگ الگ چیزوں کے درمیان مطابقت کو قائم کیا، تو اِس ظاہرے کی کوئی قابلِ فہم توجیہہ ممکن نہیں۔ اِسی طرح مختلف شعبوں میں سائنس کا مطالعہ بتاتا ہے کہ کائنات کے مختلف اجزا آپس میں بے حد مربوط ہیں، اور ان کے درمیان ایک انتہائی فائن ٹیوننگ (fine-tuning) پائی جاتی ہے تو اِس مائنڈ باگلنگ (mind-boggling) ظاہرے کی کوئی ہ ممکن نہیں۔
سائنس کوئی مذہبی سبجیکٹ نہیں، سائنس کا موضوع خالق کی دریافت نہیں۔ سائنس کا موضوع تخلیق (creation)کی دریافت ہے، لیکن تخلیق کے مطالعے میں خالق (Creator) کا مطالعہ اپنے آپ شامل ہے، اِس لیے تخلیق کا مطالعہ عملاً خالق کا مطالعہ بن گیا۔ سائنس نے اپنے مطالعے کے ذریعے جو چیزیں دریافت کیں، وہ سب خدائی نشانیوں کی دریافت کے ہم معنی بن گئیں، جن کو قرآن میں ’آیات اللہ‘  (signs of God) کہاگیا ہے۔ اِس اعتبار سے یہ کہنا درست ہوگا کہ تخلیق کی معنویت کی دریافت عملاً ایک بامعنی خالق کے وجود کی دریافت ہے۔
Fine-Tuning in the Universe: "There is plenty of good scientific evidence that our universe began about 14 billion years ago, in a Big Bang of enormously high density and temperature, long before planets, stars and even atoms existed. But what came before [The physicist Lawrence ] Krauss in his book discusses the current thinking of physicists that our entire universe could have emerged from a jitter in the amorphous haze of the subatomic world called the quantum foam, in which energy and matter can materialize out of nothing. Krauss’s punch line is that we do not need God to create the universe. The quantum foam can do it quite nicely all on its own. Aczel asks the obvious question: But where did the quantum foam come from? Where did the quantum laws come from? Hasn’t Krauss simply passed the buck? Legitimate questions. But ones we will probably never be able to answer. "...[The fine-tuning problem] For the past 50 years or so, physicists have become more and more aware that various fundamental parameters of our universe appear to be fine-tuned to allow the emergence of life — not only life as we know it but life of any kind. For example, if the nuclear force were slightly stronger than it is, then all of the hydrogen atoms in the infant universe would have fused with other hydrogen atoms to make helium, and there would be no hydrogen left. No hydrogen means no water. On the other hand, if the nuclear force were substantially weaker than it is, then the complex atoms needed for biology could not hold together. In another, even more striking example, if the "cosmic dark energyـ", discovered by scientists 15 years ago, were a little denser than it actually is, our universe would have expanded so rapidly that matter could never have pulled itself together to form stars. And if the dark energy were a little smaller, the universe would have collapsed long before stars had time to form. Atoms are made in stars. Without stars there would be no atoms and no life. So, the question is: Why? Why do these parameters lie in the narrow range that allows life. (Book: ‘Why Science Does Not Disprove God’ by mathematician Amir D. Aczel, who is currently researcher in the history of science at Boston University. The above are excerpts taken from a review on the book by physicist Alan Lightman for The Washington Post, April 11, 2014)
انسان کی مسلسل حفاظت
قرآن میں انسان کے بارے میںایک حقیقت کو ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے: قُلْ مَنْ یَکْلَؤُکُمْ بِاللَّیْلِ وَالنَّہَارِ مِنَ الرَّحْمَنِ بَلْ ہُمْ عَنْ ذِکْرِ رَبِّہِمْ مُعْرِضُونَ (21:42)۔ قرآن کو ماننے والےساتویں صدی عیسوی سے اس کو مانتے تھے۔ لیکن ان کا ماننا بطور عقیدہ تھا، وہ ایک معلوم حقیقت کے طور پر نہ تھا۔ فلکیاتی سائنس نے پہلی بار اس کو بطور حقیقت کے دریافت کیا۔ اس بارے میں قرآن کے ماننے والوں کا عقیدہ واقعاتی طور پر ایک معلوم حقیقت بن گیا۔ سائنس کے مطابق، زمین اپنی جسامت کے اعتبارسے کائنات میں ایک ذرے سے بہت زیادہ کم ہے،مگراس کے باوجودوہ ہماری تمام معلوم دنیاؤں میں اہم ترین ہے،کیونکہ ا س کے اوپرحیرت انگیزطورپروہ حالات مہیاہیں، جوہمارے علم کے مطابق اس وسیع کائنات میں کہیں نہیں پائے جاتے۔
سب سے پہلے زمین کی جسامت کولیجئے ،اگراس کاحجم کم یازیادہ ہوتاتواس پرزندگی محال ہوجاتی۔ مثلًاکرۂ زمین،اگرچاند اتناچھوٹاہوتا،یعنی اس کاقطرموجودہ قطرکی نسبت سے ایک چوتھائی 1/4ہوتاتواس کی کشش ثقل، زمین کی موجودہ کشش کا 1/6 رہ جاتی ، کشش کی اس کمی کانتیجہ یہ ہوجاتاکہ ہماری دنیاپانی اورہواکواپنے اوپرروک نہ سکتی ،جیساکہ جسامت کی اسی کمی کی وجہ سے چاندمیں واقع ہواہے۔چاندپراس وقت نہ توپانی ہے ،اورنہ کوئی ہوائی کرہ ہے۔ہواکاغلاف نہ ہونے کی وجہ سے چاند رات کے وقت بیحد سرد ہوجاتا ہے، اوردن کے وقت تنورکے مانندجلنے لگتاہے۔ اسی طرح کم جسامت کی زمین کشش کی کمی کی وجہ سے پانی کی اس کثیرمقدارکوروک نہ سکتی جوزمین پرموسمی اعتدال کوباقی رکھنے کاایک اہم ذریعہ ہے،اوراسی بناپرایک سائنس داں نے اس کوعظیم توازنی پہیہ (Great Balance Wheel) کانام دیاہے، اورہواکاموجودہ غلاف اڑکرفضامیں گم ہوجاتاتواس کاحال یہ ہوتاکہ اس کی سطح پردرجہ حرارت چڑھتاتوانتہائی حدتک چڑھ جاتا،اورگرتاتوانتہائی حدتک گرجاتا۔اس کے برعکس اگرزمین کاقطر موجودہ زمینی قطر کے مقابلے میں دگناہوتاتواس کی کشش ثقل بھی دگنی بڑھ جاتی، کشش کے اس اضافہ کانتیجہ یہ ہوتاکہ ہوا،جواس وقت زمین کے اوپرپانچ سومیل کی بلندی تک پائی جاتی ہے،وہ کھنچ کربہت نیچے تک سمٹ جاتی ،اس کے دباؤ میں فی مربع انچ 15تا30پونڈکااضافہ ہوجاتا،جس کانتیجہ مختلف صورتوں میں زندگی کے لئے نہایت مہلک ثابت ہوتا،اوراگرزمین کی جسامت سورج کےبرابر ہوتی اوراس کی کثافت برقرار رہتی تواس کی کشش ثقل دیڑھ سوگنابڑھ جاتی ،ہواکے غلاف کی دبازت گھٹ کرپانچ سومیل کے بجائے صرف چارمیل رہ جاتی ،نتیجہ یہ ہوتاکہ ہواکادباؤ ایک ٹن فی مربع انچ تک جاپہنچتا،اس غیر معمولی دباؤ کی وجہ سے زندہ اجسام کانشوونماممکن نہ رہتا،ایک پونڈوزنی جانورکاوزن ایک سوپچاس پونڈہوجاتا،انسان کاجسم گھٹ کرگلہری کے برابرہوجاتا،اوراس میں کسی قسم کی ذہنی زندگی ناممکن ہوجاتی ،کیونکہ انسانی ذہانت حاصل کرنے کے لئے بہت کثیر مقدار میں اعصابی ریشوں کی موجودگی ضروری ہے، اوراس طرح کے پھیلے ہوئے ریشوں کانظام ایک خاص درجہ کی جسامت ہی میں پایاجاسکتاہے۔
قرآن کی سائنسی تفسیر
قرآن کی ایک آیت ان الفاظ میں آئی ہے:أَوَلَمْ یَرَ الَّذِینَ کَفَرُوا أَنَّ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ کَانَتَا رَتْقًا فَفَتَقْنَاہُمَا وَجَعَلْنَا مِنَ الْمَاءِ کُلَّ شَیْءٍ حَیٍّ أَفَلَا یُؤْمِنُونَ (21:30)۔ یعنی کیا انکار کرنے والوں نے نہیں دیکھا کہ آسمان اور زمین دونوں بند تھے، پھر ہم نے ان کو کھول دیا۔ اور ہم نے پانی سے ہر جاندار چیز کو بنایا۔ کیا پھر بھی وہ ایمان نہیں لاتے۔
اس آیت کا مطلب یہ ہے کہ کائنات میں خود تخلیق کے اعتبار سے ایسی کھلی شہادت موجود ہیں، جو اس حقیقت کو ثابت کرتی ہیں کہ اس کائنات کا ایک خالق ہے۔ ساتویں صدی عیسوی میں جب کہ قرآن نازل ہوا، یہ آیت ایک پیشین گوئی کی حیثیت رکھتی تھی۔ مگر اب یہ آیت سائنسی طور پر ایک ثابت شدہ واقعہ بن چکی ہے۔ اس سائنسی دریافت کا معروف نام بگ بینگ (Big Bang) ہے۔ بیسویں صدی عیسوی کے ربع اول میں پہلی بار اس حقیقت کی دریافت ہوئی، اور پھر سائنسداں اس دریافت کی مزید تحقیق کرتے رہے، یہاں تک کہ اب بگ بینگ کا واقعہ سائنسی طور پر ایک ثابت شدہ واقعہ بن چکا ہے۔
اس دریافت کے مطابق، تقریبا تیرہ بلین سال پہلے خلا میں ایک بہت بڑا کاسمک بال (cosmic ball) ظاہر ہوا۔ اس کاسمک بال میں وہ تمام پارٹکل (particle)موجود تھے، جن کے مجموعے سے موجودہ کائنات بنی ہے۔ اس کاسمک بال میں ایک زبردست انفجار (explosion) ہوا۔ اس انفجار کے بعد ایک لمبی مدت کے دوران وہ پوری دنیا بنی، جس کو آج ہم کائنات کے نام سے جانتے ہیں۔بگ بینگ کا نظریہ اب ایک سائنسی واقعہ (scientific fact) کے طور پر تسلیم کرلیا گیا ہے۔ اس موضوع پر ہر انسائیکلوپیڈیا میں مواد موجود ہے۔ اس کے بارے میں بڑی تعداد میں کتابیں اور مقالات شائع ہوچکی ہیں۔ یہاں بطور مثال صرف ایک کتاب کا حوالہ دیا جاتا ہے:
Big Bang: The Origin of the Universe by Simon Singh (Harper Collins, 2005)
الہامی علم کی ضرورت
اللہ تعالی نے پیغمبروں کے ذریعہ انسان کی ہدایت کا ا نتظام کیا۔ پیغمبروں پر وحی آتی تھی، اور پھر وہ لوگوں کو اس علم سے واقف کراتے تھے۔ پیغمبرانہ رہنمائی کی ضرورت کیوں ہے۔ اس کا جواب قرآن میں یہ دیا گیا تھا :وَیَسْأَلُونَکَ عَنِ الرُّوحِ قُلِ الرُّوحُ مِنْ أَمْرِ رَبِّی وَمَا أُوتِیتُمْ مِنَ الْعِلْمِ إِلَّا قَلِیلًا (17:85)۔ یعنی اور وہ تم سے روح کے متعلق پوچھتے ہیں۔ کہو کہ روح میرے رب کے حکم سے ہے۔ اور تم کو بہت تھوڑا علم دیا گیا ہے۔
اس آیت میں روح سے مراد وحی ہے۔ اس آیت میں وحی کی ضرورت پر یہ دلیل دی گئی ہے کہ انسان کو تھوڑا علم دیا گیا ہے، وہ خود سے اپنی ہدایت کو دریافت نہیں کرسکتا۔ اس لیے وحی کے ذریعہ اس کو ہدایت نامہ بھیجا جاتا ہے، تاکہ وہ کامل رہنمائی کی روشنی میں دنیا میں اپنی زندگی گزار سکے۔ قرآن کا یہ بیان بظاہر صرف ایک بیان (statement) ہے۔ اس بیان کی عقلی تفسیر نزول قرآن کے وقت موجود نہ تھی۔ بعد کو جب سائنس کا علم وجود میں آیا، اور زندگی اور کائنات کے بارے میں سائنسی مطالعہ شروع ہوا تو ابتداء ًانسان نے سمجھا کہ اب ہمیں پیغمبرانہ ہدایت کی ضرورت نہیں۔ اب انسان خود اپنے علوم کے ذریعہ اپنے لیےکامل رہنمائی کو دریافت کرسکتا ہے۔ یہی وہ ذہن تھا، جس کے تحت برٹش فلسفی جولین ہکسلے (Julian Huxley) نے ایک کتاب لکھی، جس کا ٹائٹل یہ تھا:
Man Stands Alone (1941)
مگر کئی سو سال کی تحقیق کے بعد خود سائنسدانوں نے یہ اعتراف کیا کہ سائنس کے ذریعہ انسان کے لیے کامل ہدایت نامہ دریافت نہیں کیا جاسکتا۔ اس سلسلے میں مندرجہ ذیل کتاب کا مطالعہ کافی ہوگا:
The Limitations Of Science by J.W.N. Sullivan ( 1973)
اس کتاب میں مصنف نے تجزیہ کرکے بتایا ہے کہ سائنس کی محدودیت ہے۔ سائنس سچائی کا صرف جزئی علم دے سکتی ہے:
Science gives us but a partial knowledge of reality.
اس تجربے کے بعد اب انسان مجبور ہے کہ وہ پیغمبر کی اہمیت کو تسلیم کرے، اور یہ مانے کہ اس معاملے میںپیغمبر کے سوااس کے پاس کوئی اور بدل نہیں ہے۔
جنت انسان کا اصلی ہیبیٹاٹ (habitat)
انسان اپنی فطرت کے اعتبار سے ایک ایسی دنیا کا طالب ہے، جہاں وہ پر امن (peaceful) انداز میں رہ سکے۔ انسان کی پوری تاریخ یہ بتاتی ہے کہ انسان ہمیشہ ایک ایسی دنیا کی تلاش میں رہا ہے۔ لیکن عملاً وہ اس دنیا کو کبھی پا نہ سکا۔ موجودہ زمانے میں جدید ٹکنالوجی کے ذریعہ یہ ممکن ہوا کہ انسان مکمل تہذیب (civilization) کو وجود میں لائے۔ چناں چہ ساری کوششوں کے بعدیہ ممکن ہوگیا کہ انسان ایک کامل تہذیب کو وجود میں لائے۔ مگر جب یہ تہذیب عملاً بن چکی تو معلوم ہوا کہ وہ انسان کے لیے صرف ایک ناقص تہذیب ہے۔ قرآن کا یہ بیان تجرباتی سطح پر ایک ثابت شدہ واقعہ بن گیا :وَلَکُمْ فِیہَا مَا تَشْتَہِی أَنْفُسُکُمْ وَلَکُمْ فِیہَا مَا تَدَّعُونَ (41:31)۔
پہلے زمانے میں انسان صرف ضرورت (necessity) پر زندگی گزارتا تھا۔ پھر سہولت (comfort) کا دور آیا۔ اس کے بعد تہذیب نے لگزری (luxury) کے بے شمار سامان انسان کے لیے فراہم کردیے۔ لیکن کوئی بھی چیز انسان کے لیے ذہنی سکون (peace of mind) کا ذریعہ نہ بن سکا۔ انسان اپنی پیدائش کے اعتبار سے ایک آئڈیل دنیا (perfect world) کی تلاش میں ہے۔ مگر تجربے نے یہ بتایا کہ موجودہ دنیا کی محدودیت کی بنا پر یہاں کامل دنیا کی تعمیر ممکن نہیں۔ عام تصور کے مطابق، تہذیب کا یہ سفر ابھی جاری تھا۔ امریکا کے رائٹر الوین ٹافلر (Alvin Toffler) نے ایک کتاب چھاپی۔ اس کتاب کا ٹائٹل تھا:
Future Shock (1970)
اس کتاب میں انھوںنے یہ پیشین گوئی کی کہ انڈسٹریل ایج(industrial age)اب سپر انڈسٹریل ایج (super-industrial age)کی طرف بڑھ رہا ہے۔ مستقبل میں ایک نئی ترقی یافتہ دنیا وجود میں آئے گی، جب کہ انسان کے لیے اس کی طلب کو حاصل کرنا ممکن ہوجائے۔ لیکن اس کے بعد ہی سائنسدانوں نے یہ دریافت کیا کہ موجودہ زمین اپنے کاؤنٹ ڈاؤن (countdown)کے آخری مرحلے میں پہنچ رہی ہے۔ا کیسویں صدی کے آخر تک موجودہ زمین انسان کے لیے قابل رہائش (habitable) نہیں رہے گی۔ اس دریافت کے بعد اب یہ ناممکن ہوگیا کہ زمین کی بنیاد پر کوئی جنت جیسی اعلیٰ دنیا تعمیر کی جاسکے۔
مشہور برطانی سائنسداں، اسٹیفن ہاکنگ نے اس کا حل یہ بتایا ہے کہ اب انسان کو اپنے خوابوں کی تکمیل کے لیے اسپیس کالونی (space colony) بنانا چاہیے۔ مگر ہر شخص جانتا ہے کہ یہ تجویز ایک سائنس فکشن سے زیادہ کچھ نہیں۔
اسی طرح سائنس نے دریافت کیا کہ انسان اپنے پورے وجود کے ساتھ ایک کامل دنیا کا متلاشی ہے، لیکن موجودہ دنیا میں یہ کامل دنیا بننا ممکن نہیں۔ یہ دریافت بالواسطہ طور پر جنت جیسی ایک دنیا کی موجودگی کا ثبوت ہے۔ کیوں کہ جس دنیا میں ہر چیز اپنے فائنل ماڈل پر پائی جاتی ہو، وہاں جنت جیسی ایک دنیا کا ہونا، اپنے آپ میں ایک ثابت شدہ بات ہے۔ جنت اگر دکھائی نہیں دیتی تو اس کو نہ دکھائی دینے والی دنیا میں موجود ہونا چاہیے۔ جنت انسان کی طلب کا مطلوب ہے، اور کائنات کا مطالعہ جس بامعنی دنیا (meaningful world) کی نشاندہی کررہا ہے، اس میں علمی طور پر یہ ناممکن ہے کہ طلب تو پائی جائے، لیکن مطلوب موجود نہ ہو۔ یہ دریافت جنت کی موجودگی کا ایک استنباطی ثبوت (inferential proof) ہے۔
سائنس کا نظریاتی کنٹری بیوشن
اسلام کے لیے سائنس کا ایک کنٹری بیوشن وہ ہے جس کو نظریاتی کنٹری بیو شن کہا جاسکتا ہے۔ پچھلے تمام زمانوں میں قوموں کے اندر توہماتی طرز فکر کا رواج تھا۔ لوگوں کے اندر مبنی بر حقیقت سوچ موجود نہ تھی۔ توہماتی عقائد کے تحت لوگ طرح طرح کی بے بنیاد رائیں بنائے ہوئے تھے۔
اس کی ایک مثال گرہن کا مسئلہ ہے۔ کبھی کبھی ایسا ہوتا ہے کہ آسمان میں سورج گرہن یا چاند گرہن کا واقعہ پیش آتا ہے۔ اس معاملے میں لوگ توہماتی عقیدہ بنائے ہوئے تھے۔ مثال کے طور پر اس قسم کا ایک واقعہ ہجرت کے بعد مدینہ میں پیش آیا تھا۔ یہ سورج گرہن تھا، جو 10 ہجری میں پیش آیا تھا۔اسی تاریخ کو پیغمبر اسلام کے بیٹے ابراہیم کی وفات ہوئی تھی۔ قدیم زمانے میں یہ مانا جاتا تھا کہ گرہن اس وقت پڑتا ہے، جب زمین پر کوئی سنگین واقعہ پیش آئے۔ چناں چہ مدینہ کے لوگوں نے یہ کہنا شروع کیا کہ چوں کہ آج پیغمبر کے بیٹے کی وفات ہوئی ہے، اس لیے یہ گرہن پڑا ہے۔
پیغمبر اسلام کو جب یہ معلوم ہوا تو آپ نے لوگوں کو مدینہ کی مسجد میں اکٹھا کرکے ایک خطبہ دیا۔ اس کا ترجمہ یہ ہے :سورج اور چاند اللہ کی نشانیوں میں سے دو نشانیاں ہیں(آیتان من آیات اللہ)، ان کو نہ کسی کی موت سے گرہن لگتا ہے، اور نہ کسی کی زندگی سے۔ جب تم اس کو دیکھو تو اللہ کو یاد کرو (صحیح البخاری، حدیث نمبر 1052)۔
پیغمبر اسلام نے اپنے اس خطاب میں گرہن کو خدا کی ایک نشانی (sign of God) بتایا۔ اس کا مطلب یہ تھا کہ گرہن کا واقعہ کسی زمینی حادثہ کی بنا پر پیش نہیں آتا۔ بلکہ وہ خالق کے مقرر کیے ہوئے ابدی قانون کے تحت پیش آتا ہے۔ موجودہ زمانہ میں سائنسی مطالعہ کے تحت متعین طو رپر یہ معلوم ہوچکا ہے کہ گرہن کا واقعہ کیوں پیش آتا ہے:
An eclipse is a well-calculated alignment of three moving bodies of different sizes in the vast space at a particular point in time.
یہی معاملہ شرک کا ہے۔ شرک نام ہے خالق کو چھوڑ کر مخلوق کی پرستش کرنا۔ اسی کو انیمزم (animism) کہا جاتاہے۔ انیمزم کیا ہے۔ اس کا مطلب ہےفوق الفطری طاقت میں یقین رکھنا جو مادی کائنات کو آرگنائز کرتے ہیںاور زندگی دیتے ہیں:
The belief in a supernatural power that organizes and animates the material universe.
شرک دراصل تمام تر توہمات پر مبنی ایک عقیدہ ہے۔ اسی فکرکے تحت قدیم دنیا میں فطرت کی پرستش (nature worship) کا عقیدہ پیدا ہوا۔ فطرت کے تمام مظاہر انسان کے لیے پرستش کا موضوع (subject) بن گئے۔ مثلا سورج، چاند، ستارے، پہاڑ، سمندر، درخت ،وغیرہ۔قدیم زمانے میں پوری دنیا میں شرک چھایا ہوا تھا۔ اسلام کا مشن یہ تھا کہ اس توہماتی عقیدہ کا غلبہ ختم کردیا جائے۔ اصولی طور پر اسلامی تحریک نے اس کو انجام دیا۔ اسلام نے اعلان کیا کہ اس قسم کا عقیدہ ایک بے بنیاد عقیدہ ہے۔یہاں تک کہ دنیا میں شرک کا عقیدہ علمی طورپر ایک بے بنیاد عقیدہ بن کر رہ گیا۔
اس معاملے میں سائنس کا کنٹری بیوشن بہت اہم تھا۔ سائنس کا کنٹری بیوشن یہ ہے کہ اس نے مشاہداتی سطح (demonstrative level)پر ثابت کیا کہ یہ ایک غیر عقلی اور ایک بے اصل عقیدہ ہے۔ سائنس نے مشاہداتی سطح پر یہ ثابت کیا کہ پوری مادی دنیا ایٹم کا مجموعہ ہے، اور ایٹم کائنات کی مادی اکائی ہے۔ ایٹم نہ کوئی جاندار چیز ہے، اور نہ اس کے اندر کوئی فوق الفطری طاقت موجود ہے۔ مثال کے طور انسان قدیم زمانے سے چاند کی پرستش کرتا تھا، کیوں کہ اس نے اس کو خدا کا درجہ دے رکھا تھا۔ سائنس نے پہلے یہ ثابت کیا کہ چاند کوئی روشن کرہ نہیں، بلکہ وہ غیر روشن پتھروں کا ملبہ ہے۔ اس کی روشنی سورج کی روشنی کا ریفلیکشن ہے۔ یہ نظریہ 20 جولائی 1969 کو آخری طور پر بے بنیاد ثابت ہوگیا، جب کہ امریکی اسٹرانومر نیل آرم اسٹرانگ (1930-2012) خلائی سفر کرکے چاند کی سطح پر پہنچا، اور اس پر اپنا قدم رکھ دیا۔
20جولائی1969 کی رات کو راقم الحروف کو کسی وجہ سے ایک اخبار کے دفتر میں جانے کا اتفاق ہوا۔ اس وقت خبریں آرہی تھیں کہ کس طرح انسان چاند کی سطح پر پہنچ گیا۔ میری ملاقات ایک نیوز ایڈیٹر سے ہوئی۔ انھوں نے اس واقعہ کا ذکر کرتے ہوئے نہایت جوش کے ساتھ کہا کہ تھریلنگ خبریں آرہی ہیں۔ میرے دماغ میں آیا کہ یہ تھریلنگ خبریں نہیں ہیں، بلکہ ایک عجیب حقیقت کے اعلان کی خبریں ہیں، وہ یہ کہ چاند کوئی دیوتا نہیں ہے، بلکہ وہ ایک بے جان مادہ ہے۔ یہ در اصل چاند کا خالق ہے جو چاند کو اپنے کنٹرول میں لیے ہوئے ہے۔ آج شرک کا عقیدہ اصولی اعتبار سے آخری طور پر باطل ہو کر رہ گیا ہے۔
اہل ایمان، اہل تائید
پیغمبر اسلام کو اللہ نے اپنا آخری نبی (الاحزاب 40:)بنا کر بھیجا۔ نبی کی حیثیت سے آپ دنیا میں 23 سال رہے۔ آپ آخری نبی تھے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ آپ پر نبیوں کی فہرست ختم ہوگئی، لیکن آپ کی پیغمبرانہ رہنمائی قیامت تک جاری رہے گی۔ یہ ایک بہت بڑا منصوبہ تھا۔ اس مقصد کے لیے ضروری تھا کہ آپ کے بعد ایک ایسا عمل (process) جاری ہو، جو پوری تاریخ انسانی کے لیے رہنمائی کا کام کرتا رہے۔
پیغمبر اسلام کے بعد آپ کی تبلیغ کے تحت آپ کے اصحاب کی جماعت (ٹیم) بنی۔ پھر یہ مقدر کردیا گیا کہ اصحاب رسول کے بعد متبعین رسول ہر دور میں پیدا ہوں، اور وہ پیغمبر کی رہنمائی کو ہمیشہ تاریخ کے ہر دور میں جاری رکھیں۔ یہی وہ لوگ ہیں جن کو اہل ایمان کہا جاتا ہے۔
یہ کام بلاشبہ تاریخ کا سب سے بڑا کام تھا۔ اہل ایمان شاید اس کام کو تنہا انجام نہیں دے سکتے تھے۔ اس لیے اللہ نے ان کے ساتھ اہل تائید کا گروہ کھڑا کردیا۔ یہ گروہ ہر دور میں اپنا تائیدی رول ادا کرتا رہا ہے۔ لیکن بعد کے زمانہ میں تائید کا یہ کام بہت زیادہ بڑا بننے والا تھا۔ تائید کا یہ کام درحقیقت اہل ایمان کو مادی بنیاد فراہم کرنے کے ہم معنی تھا۔ اہل ایمان شاید اپنی آخرت پسندی کی بنا پر اس مادی بنیاد کو بطور خود بنانے کے قابل نہ تھے۔ اس لیے بعد کے دور میں تائید کے اس کام کے لیے زیادہ بڑے درجے کا اہتمام کیا گیا۔ اہل ایمان کے لیے دوسروں کی طرف سے یہی تائید کا معاملہ تھا، جس کو پیغمبر نے پیشگی طور پر بتا دیا تھا۔ پیشین گوئی کی یہ روایات حدیث کی اکثر کتابوں میں مستند طور پر موجود ہیں۔
اہل ایمان کے لیے دوسروں کی تائید کا یہ معاملہ اتنا اہم تھا کہ اس کو یقینی بنانے کے لیے اللہ نے پوری تاریخ کو مینج (manage) کیا۔ 12 ویں اور 13 ویں صدی میں جو صلیبی جنگیں ہوئیں، ان میں مسلم سلطنتیں اور مسیحی سلطنتیں بہت بڑے پیمانے پر ایک دوسرے سے ٹکرا گئیں۔ اس ٹکراؤ میں مسیحی قوموں کو اتنی بڑی شکست ہوئی کہ ان کے لیے جنگ کا آپشن ہی ختم ہوگیا۔ اس طرح حالات کے دباؤ نے یورپ کی مسیحی قوموں کو جنگ کے میدان سےہٹاکر سائنسی تحقیق کے میدان کی طرف موڑ دیا ۔ اس طرح اہل مغرب کے درمیان فطرت (nature) کی دریافت کا کام بڑے پیمانے پر شروع ہوا۔یہ کئی سو سال تک برابر جاری رہا۔ یہاں تک کہ اہل مغرب نے فطرت کے قوانین (laws of nature) کے ذریعہ اس جنگ کو امن کے میدان میں دوبارہ جیت لیا، جو اس سے پہلے وہ مسلح جنگ کے میدان میں ہار چکے تھے۔
قوانین فطرت کی دریافت کے میدان میں اہل مغرب مکمل طور پر کامیاب ہوئے۔ یہاں تک کہ انھوں نے تاریخ میں پہلی بار ترقی کا نیا دور پیدا کردیا، جس کو مغربی تہذیب (western civilization) کہا جاتا ہے۔اپنی ان کامیابیوں کے ذریعہ اہل مغرب فطری طور پرپوری دنیا کے قائد (leader) بن گئے۔ سیاسی معنوں میں نہیں، بلکہ غیر سیاسی معنوں میں۔ اہل مغرب کی ترقی مذہبی ترقی نہیں تھی، بلکہ اپنی حقیقت کے اعتبار سے سیکولر ترقی تھی۔ اس ترقی میں فطری طور پر ہر قوم کو حصہ ملا، اور اہل ایمان کو بھی۔ اس طرح ایسا ہوا کہ اہل ایمان کو کسی پیشگی منصوبہ بندی کے بغیر اہل مغرب کی سیکولر تائید (secular support) مل گئی۔ اس طرح اہل ایمان اس قابل ہوگئے کہ وہ دور جدید میں پیغمبر کے لائے ہوئے دین کو دوبارہ غیر سیاسی طور پر قائم کرسکیں، جس کو وہ پچھلی تاریخ میں سیاسی طور پر قائم کیے ہوئے تھے۔
اہل مغرب کی یہ سیکولر تہذیب بھی تاریخ کا وہ انقلابی واقعہ ہے جس کو حدیث میں غیر اقوام کے ذریعہ اہل اسلام کی تائید (support) قرار دیا گیا ہے(المعجم الکبیر، حدیث نمبر 4640)۔ اہل مغرب نے پیغمبر اسلام کے دین کی تائید میں جو کارنامے انجام دیے، وہ اتنے زیادہ ہیں کہ ان کی فہرست بنانا مشکل ہے۔ مثلاً اہل مغرب کے ذریعہ لائے ہوئے انقلاب کی وجہ سے یہ ممکن ہوا کہ اہل اسلام کو عالمی مواصلات (global communication) کا عظیم تحفہ ملا۔
اہل مغرب نے ہوائی جہاز رانی (aviation) کا عالمی نظام قائم کرکے اسلامی دعوت کو ایک نئے دور میں پہنچادیا۔ اہل مغرب نے عرب دنیا کے نیچے موجود پٹرول کو دریافت کیا، اور پھر اس کو کمرشیلائز کرکے اہل اسلام کو ایک نئی طاقتور معاشی بنیاد فراہم کردی۔ اہل مغرب نے پہلی عالمی جنگ، اور دوسری عالمی جنگ کے تجربات کے بعد اقوام متحدہ (UNO) قائم کیا، جس کے ذریعہ پہلی بار ایسا ہوا کہ عالمی امن کے تصور نے یونیورسل نارم (universal norm) کی حیثیت اختیار کرلی۔
اہل مغرب نے تاریخ میں پہلی بارجمہوریت (democracy) کا نظام قائم کیا، جس نے تاریخ میں پہلی بار پولٹیکل پاور اور مواقع (opportunities) کو ایک دوسرے سے الگ (delink) کردیا۔ اب پولیٹکل رولر کے پاس صرف ایڈمنسٹریشن کا شعبہ رہ گیا۔ اس کے علاوہ دوسرے تمام شعبے ہر انسان کے لیے آزادانہ طور پر کھل گیے۔ اس طرح اہل اسلام کو موقع مل گیا کہ وہ بلاروک ٹوک دینِ خداوندی کی اشاعت کی عالمی منصوبہ بندی کرسکیں۔ وہ تنظیم (organization) کے ذریعہ اپنا نان پولیٹکل ایمپائر دنیا میں قائم کرسکیں۔
اہل مغرب نے تاریخ میں پہلی بار پرنٹنگ پریس کا پورا نظام قائم کیا، جو اسلامی مشن کے لیے عین مطلوب حیثیت رکھتا ہے۔ قرآن میں بتایا گیا تھا کہ قرآن کے لیے سارے عالم کے لیے نذیر ہے(الفرقان1:)۔ مگر اس نشانہ کو قابل حصول نشانہ اہل مغرب نے اپنی تہذیب (civilization) کے ذریعہ بنایا۔ قرآن میں آفاق و انفس کی نشانیوں کے اظہار کو تبیین حق کا سب سے بڑا واقعہ بتایا گیا تھا (فصلت 53:)۔ یہ کام بھی اہل مغرب کی دریافت کردہ تہذیب کے ذریعہ قابل عمل بنا، وغیرہ۔
ایک حدیث رسول ان الفاظ میں آئی ہے : الحکمة ضالة المؤمن، حیثما وجد المؤمن ضالتہ فلیجمعہا إلیہ (مسند الشہاب القضاعی، حدیث نمبر 146)۔ یعنی حکمت مومن کا متاع گم شدہ ہے، مومن جہاں اپنی گم شدہ متاع کو پائے تو چاہیے کہ وہ اس کو اپنے پاس لے لے۔ پیغمبر کے بیان کردہ اس اصول کا اطلاق (application) اہل یورپ کی پیدا کردہ ماڈرن تہذیب پر بھی یقینی طور پر ہوتا ہے— مؤیدین کے گروہ نے اپنا کام انجام دے دیا ہے۔ اب اہل اسلام کو یہ کرنا ہے کہ وہ اس کام کو بطور مواقع (opportunities) دریافت کریں، اور ان کو پیغمبر کے دین کی حمایت میں استعمال کریں۔ یہ واقعہ اتنا بڑا ہے کہ اہل اسلام کو اس میں حقیقی دریافت ہوجائے تو ان کے تمام منفی خیالات (negative thought)مکمل طور پر ختم ہوجائیں، اور وہ کامل مثبت ذہن کے ساتھ جدید مواقع کو استعمال کرنے کی طرف دوڑ پڑیں۔
مغربی اقوام، دوست اقوام
نزول قرآن کے زمانے میں انسانی تاریخ جس مرحلے میں تھی، اس کے لحاظ سے اہل ایمان کو یہ فارمولا بتایا گیا کہ اگر کوئی بظاہرتم کو دشمن نظر آئے تو اس کے ساتھ تم ردعمل کا سلوک نہ کرو، بلکہ اس کے ساتھ یک طرفہ طور پر حسن سلوک کا طریقہ اختیار کرو۔ اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ تمھارا دشمن تمھارا دوست بن جائے گا(فصلت34:)۔ مگر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ حسن سلوک کا یہ طریقہ ایک وقتی تدبیر کا طریقہ تھا۔ اس کے بعد اللہ تعالی نے تاریخ میں ایسا عمل (process) جاری کیا ، جس کے نتیجے میں دنیا ایک نئے دور (age) میں داخل ہوگئی، جب کہ قومیں خود حالات کے تقاضے کے تحت عملاً اسلام کی مؤید (supporter) بن گئیں۔ یہ انسانی تاریخ میں ایک انوکھا انقلاب تھا۔ اس انقلاب کی پیشگی خبر پیغمبر اسلام نے اپنی امت کو دے دی تھی۔ یہ روایت حدیث کی اکثر کتابوں میں آئی ہے۔ صحیح البخاری کے الفاظ یہ ہیں:إِنَّ اللَّہَ لَیُؤَیِّدُ ہَذَا الدِّینَ بِالرَّجُلِ الفَاجِرِ (صحیح البخاری، حدیث نمبر 3062)۔ یعنی اللہ ضرور اس دین کی مدد فاجر انسان کےذریعہ کرے گا۔ یہاں غالباً فاجر کا لفظ اپنےلغوی معنی میں نہیں ہے، بلکہ فاجر انسان کا مطلب ہے سیکولر انسان۔ غیر مسلم اقوام کے ذریعہ اسلام کی تائید کی پیشین گوئی سب سے زیادہ مغربی اقوام پر صادق آتی ہے۔
مغربی اقوام نے غیر معمولی کوشش کے ذریعہ جو مادی تہذیب برپا کی، وہ اپنی حقیقت کے اعتبار سے پوری طرح مؤید اسلام تہذیب ہے۔ مغربی اقوام کا مؤید اسلام ہونا، عملاً ایک واقعہ بن چکا ہے۔ اب ضرورت صرف یہ ہے کہ مسلمان اس امکان کو جانیں، اور اس کو اویل (avail) کریں۔
اللہ کا طریقہ یہ ہے کہ وہ تمثیل کے ذریعہ حقیقتوں کو واضح کرتا ہے (البقرۃ26:)۔ چناں چہ اس معاملے میں اللہ نے ایک تاریخی مثال کے ذریعہ اہل ایمان کو بتایا کہ کس طرح مخالف قوم کو موافق قوم بنایا جاسکتا ہے۔ یہ مثال جاپان کی ہے، جو کہ بیسویں صدی میں پیش آئی۔ اب مسلمانوں کو یہ کرنا ہے کہ وہ جاپان کی سیکولر مثال کو اسلامائز کریں، اور اس کو اپنے حالات پر منطبق کریں۔
دوسری عالمی جنگ (1939-1945) سے پہلے جاپان میں امریکوفوبیا (Americophobia) کا غلبہ تھا۔ جاپانی قوم بطور خود امریکا کو اپنا دشمن سمجھتی تھی۔ جاپان کا امریکی فوبیا اتنا بڑھا کہ غالباً تاریخ میں پہلی بار جاپانی نوجوانوں نے امریکا کے خلاف خود کش بمباری کا طریقہ اختیار کیا۔ انھوں نے 1941 میں امریکا کے بحری اڈہ (پرل ہاربر) کو خود کش بمباری کے ذریعہ تباہ کردیا۔ اس کے بعد امریکا میں انتقامی جذبہ بھڑکا۔ انھوں نے 1945 میں جاپان کے دو شہروں(ہیروشیما، ناگاساکی) پر ایٹم بم گرائے۔ یہ اتنا شدید حملہ تھا کہ اس کے بعد جاپان کے لیے لڑائی کا آپشن (option) باقی نہ رہا۔
تاہم مختلف اسباب کے تحت جاپانی قوم نے اپنے آپ کو منفی رد عمل (reaction) سے بچایا۔انھوں نے غیر جانب دارانہ انداز میں سوچا تو وہ اس دریافت تک پہنچے کہ امریکا نہ کسی کا دشمن ہے، نہ کسی کا دوست۔ امریکا کا فارمولاصرف ایک ہے، اور وہ اس کا سیلف انٹرسٹ ہے۔ چناں چہ امریکا میں کہا جاتا ہے:
The business of America is business
چناں چہ جاپان نے یہ فیصلہ کیا کہ امریکا کو اپنا دوست ملک بنالیں تو امریکا بھی ہمیں اپنا دوست ملک بنالے گا۔ اس کے بعد جاپان نے یو ٹرن (u-turn) لیا۔ انھوں نے امریکا سے نزاع کی پالیسی کو یک طرفہ طور پر ختم کردیا۔ اس پالیسی نے جاپان کو یہ موقع دیا کہ وہ امریکا کے سپورٹ سے اپنی قومی ترقی کا سفر نہایت تیزی کے ساتھ جاری کرسکے۔ یہ پالیسی کامیاب رہی۔ یہاں تک کہ 25 سال بعد جاپان دنیا کے نقشے پر ایک نئی طاقت بن کر ابھرا۔ یہاں تک کہ وہ اقتصادی سوپر پاور (economic super-power) کے درجے تک پہنچ گیا۔
یہ تاریخی ظاہرہ (historical phenomenon) اہل اسلام کی رہنمائی کے لیے ابھرا ہے۔ اب مسلمانوں کو یہ کرنا ہے کہ وہ اپنے ویسٹوفوبیا (westophobia) کے ذہن کو مکمل طور پر ختم کردیں۔ وہ دل سے مغرب کو اپنا دوست قرار دیں۔ اگر مسلمان ایسا کرسکیں تو بہت جلد دنیا یہ واقعہ دیکھے گی کہ مسلمان دیگر اقوام کی تائید سے دنیا کے نقشے پر ایک نئی قوم بن کر ابھری ہے، جنگجو قوم نہیں بلکہ پرامن قوم کی حیثیت سے۔ پھر وہ واقعہ عالمی سطح پر پیش آئے گا، جس کا تاریخ کو لمبی مدت سے انتظار ہے۔ یعنی وہ واقعہ جس کی پیشین گوئی ساتویں صدی کے ربع اول میں قرآن میں ان الفاظ میں کی گئی تھی:تَبَارَکَ الَّذِی نَزَّلَ الْفُرْقَانَ عَلَى عَبْدِہِ لِیَکُونَ لِلْعَالَمِینَ نَذِیرًا (25:1)۔
ملت مسلمہ کی غفلت
سائنس (physical science) اپنی حقیقت کے اعتبار سے گویا اسلام کا علم کلام تھا۔ یہ اسلامی علم کلام کو قیاسی فلسفہ کے بجائے برہانیات پر قائم کرنا تھا، یعنی دلائل عقلیہ کی بنیاد پر۔ مگر عملاً یہ ہوا کہ سائنس کو سیکولر گروہ نے ہائی جیک کرلیا۔ اس کا سبب یہ تھا کہ مسلمان اپنی منفی سوچ کی بنا پر سائنس کی حقیقت کو سمجھ نہ سکے۔ وہ انتہائی بے بنیاد طور پر مغرب کی ہر چیز کے خلاف ہوگئے۔ یہاں تک کہ سائنس کے بھی۔ اگر مسلمانوں کا پڑھا لکھا طبقہ بر وقت اپنا رول ادا کرتا تو سائنس ربانی حقیقتوں کی دریافت کا علم بن جاتا۔ مگر مسلمانوں کی کوتاہی کی بنا پر ایسا نہ ہوسکا۔
اس معاملے میں ایک واقعہ یہاں بطور مثال نقل کیا جاتا ہے۔ یہ واقعہ عنایت اللہ خاں مشرقی (1888-1963) نے بیان کیا ہے۔ عنایت اللہ خان مشرقی اعلیٰ تعلیم کے لیےانگلینڈ گئے تھے۔ وہاں انھوں نے کیمبرج یونیورسٹی میںتعلیم حاصل کی۔ جس زمانے میں وہ وہاں تھے، اس وقت سر جیمز جینس کیمبرج یونیورسٹی میں اپلائڈ ریاضیات ( applied mathematics) کے پروفیسر تھے۔ عنایت اللہ خاں مشرقی نے سر جیمز جینس کے ساتھ اپنے طالب علمی کے زمانے کے ایک واقعہ کا ذکر ان الفاظ میںکیا ہے:
’’1909ء کاذکرہے، اتوارکادن تھا،اورزورکی بارش ہورہی تھی، میں کسی کام سے باہر نکلا تو جامعہ کیمبرج کے مشہورماہرفلکیات سرجیمزجینس(James Jeans) پرنظرپڑی جوبغل میں انجیل دبائے چرچ کی طرف جارہے تھے، میں نے قریب ہوکر سلام کیا،انھوں نے کوئی جواب نہ دیا،دوبارہ سلام کیاتووہ متوجہ ہوئے اورکہنے لگے، ’’تم کیاچاہتے ہو‘‘میں نے کہا،دوباتیں اول یہ کہ زورسے بارش ہورہی ہے اور آپ نے چھاتابغل میں داب رکھاہے،سرجیمزاپنی بدحواسی پرمسکرائے اور چھاتا کھول لیا،دوم یہ کہ آپ جیساشہرۂ آفاق آدمی گرجاگھرمیںعبادت کے لئے جارہاہے ،یہ کیا؟میرے اس سوال پرپروفیسرجیمزلمحہ بھرکے لئے رک گئے اورپھرمیری طرف متوجہ ہوکرفرمایا’’آج شام کوچائے میرے ساتھ پیو‘‘چنانچہ میںشام کو ان کی رہائش گاہ پہنچاٹھیک 4بجے لیڈی جیمزباہرآکرکہنے لگیں’’سرجیمزتمہارے منتظر ہیں‘‘ اندر گیا توایک چھو ٹی سی میزپرچائے لگی ہوئی تھی،پروفیسرصاحب تصورات میں کھوئے ہوئے تھے ،کہنے لگے’’تمہاراسوال کیاتھا‘‘ اورمیرے جواب کاانتظارکئے بغیراجرام آسمانی کی تخلیق،ان کے حیرت انگیزنظام، بے انتہا پہنائیوں اورفاصلوں ،ان کی پیچیدہ راہوں اورمداروں نیزباہمی کشش اورطوفان ہائے نورپروہ ایمان افروز تفصیلات پیش کیں کہ میرادل اﷲکی اس داستانِ کبریاوجبروت پردہلنے لگا، اوران کی اپنی کیفیت یہ تھی سرکے بال سیدھے اٹھے ہوئے تھے، آنکھوں سے حیرت وخشیت کی دوگونہ کیفیتیں عیاں تھیں ،اﷲ کی حکمت ودانش کی ہیبت سے ان کے ہاتھ قدرے کانپ رہے تھے ،اورآوازلرزرہی تھی، فرمانے لگے ’’عنایت اﷲ خاں!جب میںخداکے تخلیقی کارناموں پرنظرڈالتاہوں تومیری تمام ہستی کاہرذرہ میراہم نوابن جاتاہے ،مجھے بیحدسکون اورخوشی نصیب ہوتی ہے،مجھے دوسروں کی نسبت عبادت میں ہزارگنازیادہ کیف ملتاہے،کہوعنایت اﷲ خاں!تمہاری سمجھ میںآیاکہ میں گرجے کیوں جاتاہوں۔‘‘
علامہ مشرقی کہتے ہیں کہ پروفیسرجیمزکی اس تقریر نے میرے دماغ میں عجیب کہرام پیدا کردیا َیں نے کہا’’جناب والا!میں آپ کی روح افروزتفصیلات سے بے حد متاثر ہوا ہوں،اس سلسلے میں قرآن کی ایک آیت یادآگئی اگراجازت ہوتوپیش کروں ، فرمایا ’’ضرور‘‘ چنانچہ میں نے یہ آیت پڑھی:وَمِنَ الْجِبَالِ جُدَدٌ بِیضٌ وَحُمْرٌ مُخْتَلِفٌ أَلْوَانُہَا وَغَرَابِیبُ سُودٌ۔ وَمِنَ النَّاسِ وَالدَّوَابِّ وَالْأَنْعَامِ مُخْتَلِفٌ أَلْوَانُہُ کَذَلِکَ إِنَّمَا یَخْشَى اللَّہَ مِنْ عِبَادِہِ الْعُلَمَاءُ (35:27-28)۔
یہ آیت سنتے ہی پروفیسرجیمزبولے:’’کیاکہا،اﷲ سے صرف اہل علم ڈرتے ہیں ،حیرت انگیز،بہت عجیب، یہ بات جومجھے پچاس برس مسلسل مطالعہ ومشاہدہ کے بعدمعلوم ہوئی،محمد کوکس نے بتائی،کیاقرآن میں واقعی یہ آیت موجودہے، اگرہے تومیری شہادت لکھ لوکہ قرآن ایک الہامی کتاب ہے ،محمد ان پڑھ تھا ،اسے یہ عظیم حقیقت خودبخودمعلوم نہیں ہوسکتی ، اسے یقیناًاﷲ نے بتائی تھی،بہت خوب ،بہت عجیب۔ (نقوش شخصیات نمبر،صفحات9۔1208)
اصل یہ ہے کہ سائنسی علوم کو ایکزیکٹ سائنسز (exact sciences ) کہا جاتا ہے۔اس لیے کہ سائنسی علوم تمام تر ریاضیات (mathematics) پر مبنی ہوتے ہیں۔ یورپ میں جب سائنسی علوم پھیلے تو اس کے نتیجے میں اہل یورپ کے درمیان مبنی بر واقعیت سوچ (exact thinking) پیدا ہوئی۔ یہ طرز فکر اسلام اور قرآن کے عین موافق تھا۔ اس طرز فکر کی بنا پر اہل یورپ اسلام اور قرآن کی دعوت کے لیے بہترین مدعو بن گئے۔ اس وقت اگر اہل یورپ کو اسلام اور قرآن کی دعوت پہنچائی جاتی تو یقینی طور پر وہ اسلام اور قرآن کے لیے نہایت مثبت جواب (positive response) دیتے۔ مثالیں بتاتی ہیں کہ یورپ کے بہت سے افراد نے اس قسم کا رسپانس دیا۔ مگر عین اسی زمانے میں ساری دنیا کے مسلمان نفرت مغرب کی نفسیات میں مبتلا ہوگئے۔ اس کے نتیجے میں وہ اس دعوتی امکان کو اویل کرنے کےلیے ناکام ثابت ہوگئے۔ اگر ایسا ہوا ہوتا تو مغربی سائنس بلاشبہ اسلام کے لیے ایک تائیدی سائنس (supporting science) بن جاتا۔
اسی قسم کا ایک اور واقعہ یہاں نقل کیا جاتا ہے۔ یہ واقعہ مسلم یونیورسٹی علی گڑھ سے تعلق رکھنے والے پروفیسر رشید احمد صدیقی نے بیا ن کیا ہے۔ انھوں نے یہ واقعہ مضامین رشید میں نقل کیا ہے:
18 ءیا 19ء کا واقعہ ہے۔ یونین میں ام الالسنہ عربی پر خواجہ کمال الدین (1870-1932) کی اردو میںتقریر تھی۔ انھوں نے بڑی قابلیت اور اعتماد کے ساتھ تقریر شروع کی۔ مولانا سہیل کی آنکھوں میں تکلیف تھی۔ سردیوں کا زمانہ تھا، مولانا کو احباب اسپتال لائے تھے۔ یونین میں مجمع دیکھا تو کہا مولانا تکلیف نہ ہو تو ذرا تقریرسنتے چلیں۔ مولانا نے کہا اچھی بات ہے، لیکن آنکھوں میں تکلیف زیادہ ہے، جلد اٹھ آئیں گے۔ سب لوگ یونین میں آئے۔ مولانا سر سے پاؤں تک بڑے وزنی لبادے میں ملفوف تھے، سر پر اونی کنٹوپ تھا۔ آنکھوں پر پٹی بندھی ہوئی تھی، اور اس پر ہرے رنگ کا چھجا (شیڈ) لگا ہوا تھا۔ خواجہ صاحب نے کم و بیش دو گھنٹے تک تقریر کی۔ حاضرین محو حیرت تھے۔ تقریر ختم ہوئی تو وائس پریسیڈنٹ نے اعلان کیا کہ مولانا سہیل، فاضل مقرر کا طلبائے کالج کی طرف سے شکریہ ادا کریں گے۔ مولانا کے خلاف سازش کامیاب ہوئی۔ دوستوں اور ساتھیوں نے مولانا کو ہاتھوں ہاتھ ڈائس پر پہنچادیا۔ مولانا کی آنکھوں پر پٹی بندھی ہوئی تھی، میز کے پاس کھڑے کیے گئے۔ تھوڑی سی ناک، اس سے ذرا بڑی اور ہاتھ کی صرف انگلیاں دکھائی دے رہی تھیں۔ مولانا نے بےتکلف تقریر شروع کردی، اس اعتماد سے گویا تمام عمر اسی مبحث پر تیاری کی تھی۔ جو لوگ یونین کے مجمع سے واقف ہیں، وہ جانتے ہوں گے کہ اچھے مقرر کے بعد کسی اور کی تقریر سننے کے لیے کوئی نہیں ٹھیرتا، اور صدر کا شکریہ بھی اسی بدنظمی کا ایک سلسلہ ہوتا ہے۔ مولانا نے بھی ام الالسنہ عربی پر تقریر شروع کی۔ پون گھنٹہ تک تقریر کی، نئے نئے پہلوؤں سے موضوع پر روشنی ڈالی، نئی نئی مثالیں پیش کیں۔ تقریر اس درجہ دلنشیں اور کہیں کہیں اتنا شگفتہ بنادیا کہ خواجہ صاحب نے بے اختیار ہو کر مولانا کو گلے لگا لیا، اور فرمایا تمھارے ایسا جامع کمالات ساتھ کام کرنے والا مل جائے تو اسلام کا جھنڈا یورپ کی سب سے بلند چوٹی پر نصب کردوں۔ (مضامین رشید،علی گڑھ،1964 صفحہ 42-43)
مولانا اقبال احمد سہیل (1884-1955) اعظم گڑھ میں پیدا ہوئے۔ انھوں نے علی گڑھ یونیورسٹی سے ایم اے، ایل ایل بی تک تعلیم حاصل کی۔ وہ نہایت ذہین آدمی تھے۔ لیکن اس زمانے کے دوسرے مسلمانوں کی طرح وہ بھی انگریز سے اور یورپ سے نفرت کرتے تھے۔ ان کو اسلام دشمن سمجھتے تھے۔ اس بنا پر وہ خواجہ کمال الدین کی پیش کش کی اہمیت کو سمجھ نہ سکے۔ تعلیم کے بعد وہ علی گڑھ سے اعظم گڑھ چلے گئے، اور وہاں ضلع کی عدالت میں پریکٹس کرنے لگے۔ اسی حالت میں ان کا انتقال ہوگیا۔
امت کا انقلابی رول
قدیم زمانے میں امت محمدی کا رول یہ تھا کہ وہ دنیا سے شرک کاخاتمہ کرے۔ شرک یعنی بت پرستی کا خاتمہ کس اعتبار سے مطلوب تھا۔ بت پرستی کے کلچرکےاعتبار سے نہیں ،بلکہ اس کی فکری اساس (intellectual base) کے اعتبار سے۔ قدیم زمانے میں ہزاروں سال کے نتیجے میں لوگوں نے یہ تصور قائم کرلیا تھا کہ نیچر (مظاہر فطرت) کے اندر خدائی صفات (divinity) موجود ہے۔ یہی شرک کی فکری اساس تھی۔ قرآن ایک توحید کی کتاب ہے، جو شرک کے تصور کا بے بنیاد ہونا ثابت کرتا ہے۔ امت محمدی نے قرآن کی مدد سے یہ کیا کہ نیچر اور خدائی، دونوں کو ایک دوسرے سے الگ (detach) کردیا۔ اس کے بعد افکار کی دنیا میں رکاوٹ کا خاتمہ ہوگیا، اور پھر فطری طور پر ہر قسم کی ترقیوں کا دروازہ کھل گیا۔
اب ہم اکیسویں صدی میں ہیں۔ تقریباً پانچ سو سال کے عمل کےدوران ایک نئی فکری گمراہی وجود میں آئی ہے، یعنی الحادی فکر کا ظاہرہ۔ موجودہ زمانے میں مغرب کی قیادت میں سائنس کا علم وجود میں آیا، یعنی نیچر (فطرت) کے مطالعے کا علم۔ اس کے نتیجے میں وہ قوانین دریافت ہوئے جو نیچر میں ابتدائے تخلیق سے چھپے ہوئے تھے۔ پھرانسان کو ٹکنالوجی (technology) کا علم ہوا، جس سے پانچ سو سال پہلے کا انسان بالکل بے خبر تھا۔
سائنسی علم کیا ہے۔ یہ تخلیق (creation) میں چھپے ہوئے قوانین کو دریافت کرنے کا نام ہے۔ سائنس کے آغاز میں ایسے اسباب پیش آئے کہ انسان نے دوبارہ ایک غلطی کی۔ اس نے فکری طور پر خالق کو تخلیق سے الگ کردیا۔ انسان نے تخلیق (creation)کا نہایت وسیع مطالعہ کیا۔ لیکن یہ سارا مطالعہ خالق کے حوالےکے بغیر تھا۔ اس کے نتیجے میں علم کی دنیا میں ایک نئی برائی پیدا ہوئی، اور وہ تھی خالق (Creator) کو تخلیق (creation) سے الگ (detach) کردینا۔ اب امت محمدی کے اہل علم حضرات کا یہ کام ہے کہ وہ اس غلطی کی تصحیح کریں۔ وہ دنیا کو بتائیں کہ تخلیق کوئی الگ چیز نہیں ہے، وہ خالق کےتخلیقی عمل کا نتیجہ ہے۔
یہ ایک اہم تاریخی رول ہے، جو موجودہ زمانے میں مذہبی طبقے کے لیے مقدر ہے۔ مسیحی اہل علم نے اس عمل کا آغاز کردیا ہے۔ مسیحی اہل علم نے اس موضوع پر بڑی تعدادمیں کتابیں اور مقالے تیار کرکے شائع کیے ہیں۔ ان میں سے ایک اہم کتاب وہ ہے، جو سائنس کے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے چالیس امریکن سائنس دانوں کے مضامین پر مشتمل ہے۔ وہ کتاب یہ ہے:
The Evidence of God in an Expanding Universe, edited by John Clover Monsma (G. P. Putnam's Sons, 1958, pp. 250)
دوبارہ امت محمدی کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ اس فتنۂ الحاد کی فکری اساس کو بے بنیاد ثابت کریں۔ ان کی ذمہ داری یہ ہے کہ وہ قرآن کے ذریعہ اس فتنۂ الحاد کا خاتمہ کریں، جیسا کہ اس سے پہلے انھوں نے قرآن کی مدد سے فتنۂ شرک کا خاتمہ کیا تھا۔ اس معاملے میں ان کو مسیحی اہل علم کا احسان مند ہونا چاہیے کہ انھوں نے اس موضوع پر بقدر ضرورت ابتدائی کام انجام دے دیا ہے۔ اب امت محمدی کا کام یہ ہے کہ وہ اس کام کو تکمیل تک پہنچائے، اور اسی کے ساتھ ہر زبان میں قرآن کے ترجمہ کو تیار کرکے تمام انسانوں کے لیے اس کی رسائی ممکن بنادے۔
شہادت اعظم
حدیث رسول کے مطابق، تاریخ کے آخری دور میں امت مسلمہ کا ایک فائنل رول ہوگا، جس کو حدیث میں شہادت اعظم (صحیح مسلم، حدیث نمبر 2938) کہا گیا ہے،یعنی مبنی بر حجت دعوت حق کی ادائیگی۔ غالباً یہ شہادت اعظم وہی چیز ہے جس کو قرآن میں تبیین حق (فصلت53:) کہا گیا ہے۔ شہادت اعظم، اور تبیین حق دونوں میں مشترک بات یہ ہے کہ یہ رول حجت کی سطح پر انجام پائے گا۔
حجت (evidence) کیا ہے۔ حجت ہونا اس بات سے متعین ہوتا ہے کہ اس کا دلیل ہونا فریق ثانی کے نزدیک ثابت شدہ ہو۔ جو حجت فریق ثانی کے نزدیک مسلّم نہ ہو، وہ فریقین کے درمیان دلیل نہیں بن سکتی۔ دعوت کی تاریخ بتاتی ہے کہ قدیم زمانوں میں دعوت کے حق میں جو دلائل دیے گیے، وہ عملاً یک طرفہ تھے۔ یعنی داعی کے نزدیک وہ مسلّم تھے، لیکن مدعو کے نزدیک وہ مسلّم نہ تھے۔
بعد کے زمانوں میں اللہ تعالیٰ نے یہ چاہا کہ دعوت کے حق میں ایک ایسی دلیل استعمال کی جائے جو داعی اور مدعو دونوں کے درمیان یکساں طور پر مسلّم ہو۔ مثلاً سائنٹفک دور سے پہلے جب داعی یہ کہتا تھا کہ رب السموات والارض صرف ایک ہے۔ تو یہ ایک یک طرفہ بیان ہوتا تھا۔ دوسرے فریق کے لیے موقع تھا کہ چاہے وہ اس بیان کو مانے یا نہ مانے۔ مگر آج یہ بیان کہ رب السموات والارض یک طرفہ عقیدہ کی بات نہیں ہے، بلکہ دو طرفہ طور پر ثابت شدہ یونیورسل فیکٹ کی بات ہے۔ آج سائنٹفک مطالعے نے یہ بتایا ہے کہ پوری یونیورس ایک ہی قانون کے تحت عمل کررہی ہے۔ اس کو ایک سائنسداں نے واحد ڈور کا نظریہ (single-string theory) کہا ہے۔
یہی وہ منصوبۂ الٰہی ہے جس کا ذکر قرآن میں ان الفاظ میں آیا ہے:سَنُرِیہِمْ آیَاتِنَا فِی الْآفَاقِ وَفِی أَنْفُسِہِمْ حَتَّى یَتَبَیَّنَ لَہُمْ أَنَّہُ الْحَقُّ (41:53)۔ یہاں آفاق و انفس کی آیات سے مراد ایسے دلائل ہیں، جو دونوں فریقوں کے درمیان تسلیم شدہ ہوں۔کیوں کہ وہ عالمی قانون فطرت سے مستنبط ہیں۔ اس مقصد کے لیے اللہ نے تاریخ میں ایک نیا پراسس جاری کیا ہے۔ وہ پراسس تھا، فطرت (nature) میں انکوائری کا عمل جاری کرنا۔ اس مقصد کے لیے اللہ تعالیٰ نے یہ کیا کہ صلیبی جنگوں کے بعد مغربی قوموں کو سائنسی دریافتوں کی طرف موڑ دیا۔اس طرح تاریخ میں یہ واقعہ پیش آیا کہ تقریباً پانچ سو سال کے عمل کے بعد انسان نے فطرت میں چھپی ہوئی حقیقتوں کو دریافت کیا۔ یہ دریافتیں مسلّمہ سائنسی دریافتیں تھیں، جوریاضیاتی اصولوں پر مبنی تھیں۔ اس بنا پر یہ دریافتیں ہر ایک کےلے ناقابل انکار حقیقتیں بن گئیں۔
اس طرح تاریخ میں پہلی بار فطرت کی ایسی عالمی حقیقتیں دریافت ہوئیں ، جو ہر انسان کے لیے ناقابل انکار بن گئیں۔ اس بنا پر پہلی بار یہ ممکن ہوا کہ دوطرفہ مسلّمات کی بنیاد پر لوگوں کو حق کا پیغام دیا جائے۔اس طرح کی سائنسی دریافتوں کے نتیجے میں اب علمی اعتبار سے انسان کے لیے صرف توحید کا آپشن باقی رہا ہے۔ شرک یا انکار خدا کا آپشن اب انسان کے لیے موجود نہیں۔ موجودہ زمانے میں کچھ لوگوں نے ہیومنزم (humanism) کے آپشن کا دعوی کیا ہے، جس کا مطلب ہے:
The transfer of seat from God to man
مگر یہ صرف ایک دعوی ہے، جس کے پیچھے کوئی علمی دلیل موجود نہیں۔ برٹش فلسفی جولین ہکسلے اسی قسم کے مدعیوں میں سے ایک ہے۔ اس نے اس موضوع پر ایک کتاب لکھی ہے، جس کا ٹائٹل ہے:
Man Stands Alone by Julian Huxley (Harper, 1941, pp. 297)
اس کتاب کا موضوع اس کے ٹائٹل سے ظاہر ہے۔ اس کتاب کے جواب میں ایک امریکی سائنٹسٹ نے ایک مدلل کتاب تیار کرکے شائع کی۔ وہ کتاب یہ ہے:
Man Does Not Stand Alone by Abraham Cressy Morrison (Fleming H. Revell Company, 1944, pp. 107)
حقیقت یہ ہے کہ ماڈرن سائنس نے خالص دلیل کی سطح پر یہ ثابت کردیا ہے کہ اس کائنات کا ایک خالق ہے، اور وہ اللہ رب العالمین ہے۔ اب مسئلہ صرف یہ ہے کہ سائنٹفک کمیونٹی اس معاملے میں فریق بننے کو تیار نہیں۔ سائنٹفک کمیونٹی اس معاملے میں ان ڈفرنٹ (indifferent) رہنا چاہتی ہے۔ اس کی ایک مثال یہ ہے کہ ناسا کے ایک سائنسداں کو اس وجہ سے جاب سے نکال دیا گیا کہ وہ کائنات میں انٹلیجنٹ ڈیزائن کو مانتا تھا۔ اس کا یہ ماننا تھا کہ زندگی اتنی پیچیدہ ہے کہ اس کو نظریہ ارتقا سے حل نہیں کیا جاسکتا:
Nasa of America sued by scientist 'sacked for belief in intelligent design': Life is too complex to have developed through evolution alone. (www.telegraph.co.uk. [accessed: 25.01.2018])
حقیقت یہ ہے کہ فطرت کے بارے میں جو سائنٹفک دریافتیں ہوئی ہیں، انھوںنے حقیقت خداوندی کو اب ایک ثابت شدہ واقعہ بنا دیا ہے۔ اب ضرورت صرف یہ ہے کہ کوئی ان حقائق کو لے کر کھڑا ہو۔ امر واقعہ یہ ہے کہ یہ رول صرف اور صرف امت مسلمہ کے لیے مقدر ہے، جس کو قرآن میں امت وسط کہا گیا ہے(البقرۃ143:)۔ مگر امت مسلمہ اس رول کو اداکرنے میں اب تک ناکام ثابت ہوئی ہے۔ اس کا سبب صرف ایک ہے۔ وہ یہ کہ موجودہ مسلم کمیونٹی اپنے منفی نفسیات کی بنا پر اس مثبت رول کو ادا کرنے کے لیے نا اہل ہوگئی ہے۔ امت مسلمہ کے لیے فرض کے درجے میں ضروری ہے کہ وہ ہر قسم کی نفرت اور تشدد کی تمام سرگرمیوں کو یک طرفہ طور پر اور کلی طور پر ختم کردیں تاکہ وہ دنیا میں شہادت اعظم کے اس رول کو ادا کرنے کے اہل ہوجائیں، اور اس کے بدلے میں اللہ رب العالمین کے یہاں ابدی جنت کے مستحق قرار پائیں۔
٭ ٭ ٭٭ ٭ ٭
اسلام اصلاً ایک آئڈیا لوجی کا نام ہے۔ جب دلائل کی تائید اسلام کے حق میں ہو، تو اسلام کو غالب سمجھا جائے گا۔ دلائل کی یہ تائید پہلے بھی اسلام کے حق میں تھی، اور اب سائنسی حقائق کے ظہور کے بعد مزید اضافے کے ساتھ دلائل کی یہ تائید اسلام کو حاصل ہوچکی ہے۔اب جو سوال ہے، وہ صرف مسلمانوں کی اپنی ذمے داری کا ہے۔
واپس اوپر جائیں

Monday, 29 January 2018

Al Risala | February 2018 (الرسالہ،فروری)

4

-قرآن سے رہنمائی

5

- معرفت، نقطۂ آغاز

6

- معرفت کی اہمیت

7

- ابدی جنت

8

- و ٔ طا شدید

9

- حق کی دریافت

10

- اقشعرار کیا ہے

11

- اشمئزاز کیا ہے

12

- احسن العمل

13

- اللہ کی مدد

14

- مدرسہ کے طلبہ کے نام

15

- رب العالمین کا وجود

16

- گرہن، خالق کی ایک نشانی

18

- ایک انسانی کردار

19

- امت کی مسلسل اصلاح کا نظام

21

- جہاد کیا ہے

23

- دعوت ایک سنگین ذمہ داری

24

- اعلان کے بغیر معاہدہ

25

- ظن و تخمین

26

- قرآن میں تدبر

28

- وضوح کا مسئلہ

29

- یہ بھی جھوٹ ہے

30

- فطرت کا نظام

33

- اللہ اکبر کا غلط استعمال

34

- فساد فی الارض

35

- اجتماعی زندگی کا ایک اصول

36

- بڑا فتنہ

37

- فوکس کو سمیٹنا

38

- علمی انداز، صحافتی انداز

39

- اختلاف ایک رحمت

40

- عیب کا تحفہ

41

- مثبت فکر

42

- آج کی نوجوان نسلیں

43

- وقت کا استعمال

44

- غصہ کا مثبت پہلو

45

- ذہنی سکون

46

- خبرنامہ


قرآن سے رہنمائی

قرآن کی ایک آیت ان الفاظ میں آئی ہے: کِتَابٌ أَنْزَلْنَاہُ إِلَیْکَ مُبَارَکٌ لِیَدَّبَّرُوا آیَاتِہِ وَلِیَتَذَکَّرَ أُولُو الْأَلْبَابِ (38:29)۔ یعنی یہ ایک برکت والی کتاب ہے جو ہم نے تمہاری طرف اتاری ہے، تاکہ لوگ اس کی آیتوں پر غور کریں اور تاکہ عقل والے اس سے نصیحت حاصل کریں۔قرآن میں تدبر کا مطلب ہے، قرآن کی آیتوں پر غور کرنا۔ غور کرنے کا مقصد یہ بتایا گیا کہ قرآن کی آیتوں سے نصیحت لینا۔ دوسرے لفظوں میں یہ کہ قرآن کی آیتوں کا تطبیقی مفہوم (applied meaning) دریافت کرنا۔ ایک جنرل حکم کو پرسنلائز کرکے سمجھنا۔ اسی کو انسانی زبان میں نصیحت کہاجاتا ہے۔ گویا کہ تدبر کا مطلب ہے ایک اصولی حکم کو عملی نصیحت کے انداز میں ڈھالنا۔
مثلاً موجودہ زمانے کے مسلمان عام طور پر یہ شکایت کرتے ہیں کہ مغربی دنیا ان کی مخالف ہوگئی ہے۔ مخالفت کے اس کلچر کو وہ اسلاموفوبیا کا نام دیتے ہیں۔ اس مسئلے پر غور کرتے ہوئے جب آپ قرآن پر نظر ڈالیں گے تو آپ کے سامنے یہ آیت آئے گی: وَمَا أَصَابَکُمْ مِنْ مُصِیبَةٍ فَبِمَا کَسَبَتْ أَیْدِیکُمٍ (42:30)۔ یعنی اور جو مصیبت تم کو پہنچتی ہے تو وہ تمہارے ہاتھوں کے کیے ہوئے کاموں ہی سے پہنچتی ہے۔
اس آیت پر غور کیا جائے تو اس سے عبارت النص کے درجے میں یہ بات نکلتی ہے کہ ہر مصیبت جس کے لیےتم دوسروں کی شکایت کروگے، وہ تمھارے اپنے ہی کیے کا نتیجہ ہوگی۔اس لیے مصیبت کا سبب اپنے آپ کو سمجھو، نہ کہ دوسروں کو ۔ آیت پر مزید غور کیا جائے تو معلوم ہوگا کہ جس چیز کو مسلمان دوسروں کی طرف منسوب کرکےاسلاموفوبیا کہتے ہیں، وہ خود مسلمانوں کے اپنے عمل کا ردّعمل (reaction) ہوتا ہے۔ گویا کہ اسلاموفوبیا اپنی حقیقت کے اعتبار سے ویسٹوفوبیا (Westophobia) ہے۔ یعنی تدبر کا مطلب ہے آیت کا تطبیقی مفہوم دریافت کرنا،اور اس سے عملی نصیحت حاصل کرنا۔
واپس اوپر جائیں

معرفت، نقطۂ آغاز

دینی فکر کے بارے میں کچھ لوگ جوش و خروش کے ساتھ کہتے ہیں :التوحید اولاً ۔ یہ بات بظاہر درست ہے۔ لیکن یہ قرآن کے عین مطابق نہیں۔ قرآن کے مطابق، پہلے معرفت آتی ہے، اس کے بعد توحید آتی ہے۔ جیسا کہ حسب ذیل آیتِ قرآنی سے معلوم ہوتا ہے:وَإِذَا سَمِعُوا مَا أُنْزِلَ إِلَى الرَّسُولِ تَرَى أَعْیُنَہُمْ تَفِیضُ مِنَ الدَّمْعِ مِمَّا عَرَفُوا مِنَ الْحَقِّ (5:83)۔ یعنی اور جب وہ اس کلام کو سنتے ہیں جو رسول پر اتارا گیا ہے تو تم دیکھو گے کہ ان کی آنکھوں سے آنسو جاری ہیں، اس سبب سے کہ انھوں نے حق کو پہچان لیا۔
معرفت سے مراد ہے ذہن کو تیار کرنا۔ جب ذہن تیار ہوجائے، اس کے بعد ہی آدمی اس قابل ہوتا ہے کہ وہ توحید کو گہرائی کے ساتھ سمجھ سکے۔اسی بات کو ایک صحابی رسول، جندب بن عبد اللہ نے ان الفاظ میں بیان کیا ہے:کنا مع النبی صلى اللہ علیہ وسلم ونحن فتیان حزاورة، فتعلمنا الإیمان قبل أن نتعلم القرآن، ثم تعلمنا القرآن فازددنا بہ إیمانا (سنن ابن ماجہ، حدیث نمبر 61)۔ یعنی ہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے، اور ہم نوجوان تھے ۔ ہم نے ایمان سیکھا، قرآن سیکھنے سے پہلے۔ پھر ہم نے قرآن سیکھا، پس ہم نے اس کے ذریعہ سے ایمان میں اضافہ کیا۔
اس روایت میں ایمان سے مراد معرفتِ ایمان ہے۔ معرفت در اصل اس بات کا نام ہے کہ آدمی پہلے اپنے ذہن کو تیار کرے۔ اس کے بعد وہ اس قابل بن جاتا ہے کہ ایمان و اسلام کو بے آمیز صورت میں سمجھ سکے۔ معرفت گویا ذہنی تربیت کی ایک صورت ہے۔ آج کل کی زبان میں اس معاملے کو سمجھنے کے لیے اس کو ڈی کنڈیشننگ کہا جاسکتا ہے۔ اس اعتبار سے معرفت نقطۂ آغاز (starting point) ہے۔ جو لوگ التوحید أولًا کی بات کرتے ہیں، ان کو زیادہ درست طور پر المعرفۃ أولا کہنا چاہیے۔
واپس اوپر جائیں

معرفت کی اہمیت

ایک روایت حدیث کی مختلف کتابوں میں آئی ہے۔ اس کے الفاظ یہ ہیں:عن أبی ہریرة، قال: قال رسول اللہ صلى اللہ علیہ وسلم:کل کلام، أو أمر ذی بال لا یفتح بذکر اللہ، فہو أبتر - أو قال: أقطع -(مسند احمد، حدیث نمبر 8712)۔ یعنی ہر کلام، یا اہم معاملہ، جو اللہ کے ذکر سے نہ شروع کیا جائے، وہ دم بریدہ (بے جڑ)، یا ادھورا ہے۔
اس حدیث کا مطلب یہ ہے کہ اللہ رب العالمین اس کائنات کا خالق اور مالک ہے۔ وہ ہر اعتبار سے اس کائنات کی اصل ہے۔ اس دنیا کی ہر بات اللہ سے شروع ہوتی ہے، اور اسی کی طرف لوٹتی ہے۔ یہی حقیقت قرآن میں ان الفاظ میں بیان ہوئی ہے: ہُوَ الْأَوَّلُ وَالْآخِرُ وَالظَّاہِرُ وَالْبَاطِنُ وَہُوَ بِکُلِّ شَیْءٍ عَلِیمٌ (57:3)۔ اس بات کو دوسرے الفاظ میں اس طرح کہا جاسکتا ہے کہ اس دنیا کی ہر بات کا سرا (starting point) اللہ رب العالمین ہے۔ اللہ کی ذات کو لے کر مطالعہ کیا جائے تو ہر بات قابل فہم رہے گی، او ر اگر کسی اور بات کو لےکر مطالعہ کیا جائے تو کلام میں وضوح (clarity)ختم ہوجائے گا۔
انسانی علوم کی جتنی شاخیں ہیں، سب کا حاصل حقیقت تک پہنچنا ہے۔ اگر اللہ رب العالمین کی معرفت کو حاصل کرنے کے بعد حقیقتوں کو سمجھنے کی کوشش کی جائے تو ہر بات قابل دریافت بن جائے گی، اور اگر اللہ رب العالمین کی معرفت حاصل کیے بغیر حقیقت پر کلام کیا جائے تو ایسا طریقہ عملاً اندھیرے میں بھٹکنے کی مانند ہوگا۔ ایسے انسان کا کلام وضوح (clarity) سے خالی ہوگا۔ مذکورہ آیت میں وَہُوَ بِکُلِّ شَیْءٍ عَلِیم کا مطلب یہ ہے کہ ہر علم کا سرچشمہ اللہ رب العالمین کی ذات ہے۔اللہ کے بغیرہر علم بے علمی بن جاتا ہے۔ اردو شاعر، اکبر الہ آبادی نے جو بات فلسفی کی بارے میں کہی ہے، وہی ہر اس انسان پر صادق آتی ہے، جو اللہ کی معرفت حاصل کیے بغیر کلام کرنا شروع کردے:
فلسفی کو بحث کے اندر خدا ملتا نہیں ڈور کو سلجھا رہا ہے، اور سرا ملتا نہیں
واپس اوپر جائیں

ابدی جنت

قرآن میں بتایا گیا ہے کہ جنت کا انعام غیر ممنون انعام (endless reward) ہوگا۔ اس سلسلے میں قرآن میں چار جگہ اجر غیر ممنون کے الفاظ آئے ہیں۔ایک جگہ یہ حقیقت مندرجہ ذیل الفاظ میں بیان ہوئی ہے: وَأَمَّا الَّذِینَ سُعِدُوا فَفِی الْجَنَّةِ خَالِدِینَ فِیہَا مَا دَامَتِ السَّمَاوَاتُ وَالْأَرْضُ إِلَّا مَا شَاءَ رَبُّکَ عَطَاءً غَیْرَ مَجْذُوذٍ (11:108)۔ یعنی اور جو لوگ خوش بخت ہیں۔ وہ جنت میں ہوں گے، وہ اس میں رہیں گے جب تک آسمان اور زمین قائم ہیں، مگر جو تیرا رب چاہے، ایک عطیہ جو کبھی ختم ہونے والا نہیں۔
جنت کا غیر منقطع ہونا واضح ہے۔ کیوں کہ جنت رب العالمین کا عطیہ ہے، اور خدائے لامحدود کا عطیہ کبھی محدود نہیں ہوسکتا۔ یہ رب العالمین کی شان کے خلاف ہے کہ وہ کسی کو محدود عطیہ دے۔ محدود عطیے کا تصور اللہ رب العالمین کے کمتر اندازہ (underestimation) کے ہم معنی ہے، اور ایسا کبھی ہونے والا نہیں۔ اب سوال انسان کا ہے ۔ کیا یہ لامحدودیت جو اللہ کی نسبت سے ہے، وہ انسان کی نسبت سے بھی باقی رہے گی۔ اس کا جواب یہ ہے کہ ہاں۔ قرآن میں بتایا گیا ہے کہ جنت میں جب اہل جنت کو داخلہ مل جائے گا تو وہ کہیں گے: الْحَمْدُ لِلَّہِ الَّذِی أَذْہَبَ عَنَّا الْحَزَنَ (35:34)۔ یعنی شکر ہے اللہ کا جس نے ہم سے رنج کو ختم کردیا۔
اہل جنت کی طرف سے اظہارحمد ، یہ وقتی کلمہ نہیں ہے۔ یہ ابدی احساس حمد کی بات ہے۔ اہل جنت کی طرف سے احساس حمد ، بلاشبہ ایک تخلیقی احساس (creative feeling) کی بات ہے۔ یہ کریٹیو احساس انھوں نے دنیا کی زندگی میں حاصل کیا ہوگا۔ یہ کریٹیو احساسِ حمد جو جنت کے پانے سے پہلے بذریعہ معرفت اہل جنت کے اندر پرورش پائے گا، وہ اتنا طاقت ور ہوگا کہ وہ جنت کا ابدی عطیہ پانے کے بعد بھی برابر ایک اضافہ پذیرتجربہ کی حیثیت سے جاری رہے گا۔ جنت جس طرح ابدی ہوگی، اسی طرح جنت کے پانے پر احساسِ حمد بھی یقینی طور پر ابدی ہوگا۔
واپس اوپر جائیں

و ٔ طا شدید

پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم رات کے آخری حصے میں لمبی نمازیں پڑھتے تھے۔ اس نماز کے لیے قرآن میں وطأشدید (المزمل6:)کا لفظ آیا ہے۔ وطأ شدید کا مطلب ہے شدت کے ساتھ روندنا، یعنی مشقت کی حد تک اللہ کی عبادت کرنا۔ یہ فعل روحانی ترقی (spiritual development) کا اہم ذریعہ ہے۔ اپنی حقیقت کے اعتبار سے یہ ایک عام عمل ہے۔ عبادت کے حوالے سے اس کو قرآن میں وطأشدید کہا گیا ہے، اور عمومی حوالے سے اس کو حدیث میں بلاء شدید بتایا گیا ہے۔ اس سلسلے میں حدیث کے یہ الفاظ قابل غور ہیں:إن من أشد الناس بلاء الأنبیاء، ثم الذین یلونہم، ثم الذین یلونہم، ثم الذین یلونہم(مسند احمد، حدیث نمبر 27079) ۔ یعنی بیشک لوگوں میں سب سےزیادہ بلاء پیغمبروں پر آتی ہے، پھر وہ جو ان سے قریب ہیں، پھر وہ جو ان سے قریب ہیں، پھر وہ جو ان سے قریب ہیں۔
اصل یہ ہے کہ انسان کی فطرت کے اندر پیدائشی طور پر خالق کی معرفت رکھ دی گئی ہے۔ مگر یہ معرفت بالقوۃ (potential) انداز میں ہے۔ اس بالقوۃ کو بالفعل (actual) بنانے کے لیے ضرورت ہوتی ہے کہ انسان پر دباؤ (pressure) کے تجربات گزریں۔ یہی دباؤ کا تجربہ ہے جو کسی آدمی کےلیے بالقوۃ معرفت کو بالفعل معرفت بنا دیتا ہے۔ یہ تجربہ عام انسان کے لیے عمومی سطح پر پیش آتا ہے، اور پیغمبر وںکے لیے خصوصی سطح پر۔
اس بات کو دوسرے الفاظ میں اس طرح کہا جاسکتا ہے کہ معرفت کا علم آدمی کوکتابی مطالعے سے حاصل ہوجاتا ہے۔ لیکن دریافت (discovery) کے درجے میں معرفت کا حصول صرف اس وقت ممکن ہے جب کہ آدمی بلاء شدید کے مرحلے سے گزرے۔ بلاء شدید آدمی کو حساس بنا تی ہے۔حساسیت(sensitivity) آدمی کے اندر قوت اخذ (grasp) کا مادہ پیدا کرتی ہے۔ اس کے بعد آدمی اس قابل بن جاتا ہے کہ وہ ذاتی دریافت کے درجے میں معرفت کو حاصل کرسکے۔
واپس اوپر جائیں

حق کی دریافت

اسلام کا آغاز ایک دھماکہ خیز دریافت سے ہوتا ہے۔ اس دریافت کا ذکر قرآن میں آیا ہے۔ ان آیات کا ترجمہ یہ ہے: اور جب وہ اس کلام کو سنتے ہیں جو رسول پر اتارا گیا ہے تو تم دیکھو گے کہ ان کی آنکھوں سے آنسو جاری ہیں، اس سبب سے کہ انھوں نے حق کو پہچان لیا۔ وہ پکار اٹھے کہ اے ہمارے رب، ہم ایمان لائے۔ پس تو ہم کو گواہی دینے والوں میں لکھ لے۔ اور ہم کیوں نہ ایمان لائیں اللہ پر اور اس حق پر جو ہمیں پہنچا ہے جب کہ ہم یہ امیدرکھتے ہیں کہ ہمارا رب ہم کو صالح لوگوں کے ساتھ شامل کرے۔ (5:83-84)۔
یہ دھماکہ خیز تجربہ آدمی کو اپنے خالق کی دریافت تک پہنچاتا ہے۔ اس کے بعد فطری طور پر یہ ہوتا ہے کہ ایسا انسان ایک غور و فکر والا انسان بن جاتا ہے۔ اس واقعہ کا ذکر قرآن میں آیا ہے۔ ان آیات کا ترجمہ یہ ہے: آسمانوں اور زمین کی پیدائش میں اور رات دن کے باری باری آنے میں عقل والوں کے لئے بہت نشانیاں ہیں۔ جو کھڑے اور بیٹھے اور اپنی کروٹوں پر اللہ کو یاد کرتے ہیں اور آسمانوں اور زمین کی پیدائش میں غور کرتے رہتے ہیں۔ وہ کہہ اٹھتے ہیں اے ہمارے رب، تو نے یہ سب بےمقصد نہیں بنایا۔ تو پاک ہے، پس ہم کو آگ کے عذاب سے بچا۔ اے ہمارے رب، تو نے جس کو آگ میں ڈالا، اس کو تو نے واقعی رسوا کردیا۔ اور ظالموں کا کوئی مددگار نہیں۔ اے ہمارے رب، ہم نے ایک پکارنے والے کو سنا جو ایمان کی طرف پکار رہا تھا کہ اپنے رب پر ایمان لاؤ، پس ہم ایمان لائے۔ اے ہمارے رب، ہمارے گنا ہوں کو بخش دے اور ہماری برائیوں کو ہم سے دور کردے اور ہمارا خاتمہ نیک لوگوں کے ساتھ کر(3:190-193)۔
سچائی کو پانا آدمی کے لیے ایک دھماکہ خیز دریافت کے ہم معنی ہوتا ہے۔ اس کے بعد ایسا شخص سنجیدہ غور و فکر کرنے والا بن جاتا ہے۔اس کے بعد اس کے اندر ربانی شخصیت بننا شروع ہوجاتی ہے، جس کا آخری درجہ یہ ہے کہ اس کو ابدی جنت میں داخلہ مل جائے۔
واپس اوپر جائیں

اقشعرار کیا ہے

قرآن کی ایک آیت میں مومن کی صفت ان الفاظ میں بتائی گئی ہے:اللَّہُ نَزَّلَ أَحْسَنَ الْحَدِیثِ کِتَابًا مُتَشَابِہًا مَثَانِیَ تَقْشَعِرُّ مِنْہُ جُلُودُ الَّذِینَ یَخْشَوْنَ رَبَّہُمْ ثُمَّ تَلِینُ جُلُودُہُمْ وَقُلُوبُہُمْ إِلَى ذِکْرِ اللَّہِ ذَلِکَ ہُدَى اللَّہِ یَہْدِی بِہِ مَنْ یَشَاءُ وَمَنْ یُضْلِلِ اللَّہُ فَمَا لَہُ مِنْ ہَاد(39:23)۔ یعنی اللہ نے بہترین کلام اتارا ہے۔ ایک ایسی کتاب آپس میں ملتی جلتی، بار بار دہرائی ہوئی، اس سے ان لوگوں کے رونگٹے کھڑے ہوجاتے ہیں جو اپنے رب سے ڈرنے والے ہیں۔ پھر ان کے بدن اور ان کے دل نرم ہو کر اللہ کی یاد کی طرف متوجہ ہوجاتے ہیں۔ یہ اللہ کی ہدایت ہے۔ اس سے وہ ہدایت دیتا ہے جس کو وہ چاہتا ہے۔ اور جس کو اللہ گمراہ کردے تو اس کو کوئی ہدایت دینے والا نہیں۔
اقشعرار کا مطلب ہے شدت تاثر کے تحت جسم پر کپکپی کا طاری ہوجانا۔ یہ کیفیت ایک عام کیفیت ہے۔ مومن کے لیے ایسا اس وقت ہوتا ہے جب کہ اللہ کے خوف سے اس کے اندر شدید تاثر پیدا ہو۔ اس وقت عام فطری قانون کے تحت اس کے جسم پر کپکپی (shivering)کی کیفیت طاری ہوجائے گی۔ اس سے دل کے اندر نرمی پیدا ہوجائے گی۔ آدمی زیادہ قبولیت کے جذبے کے تحت اللہ کی باتیں سننے لگے گا۔اس کے برعکس، جس آدمی کے اندر اقشعرار کی یہ کیفیت نہ پیدا ہو، یہ اس بات کی علامت ہے کہ اس کے دل میں قساوت کی کمزوری پیدا ہوچکی ہے۔ وہ اللہ کی پکڑ کی باتیں سننے کے بعد بھی سخت دل بنا رہتا ہے۔
اس آیت کے آخری جزء کا ترجمہ یہ ہے: یہ اللہ کی ہدایت ہے۔اس سے اللہ ہدایت دیتا ہے جس کو وہ چاہتا ہے۔ اور جس کو اللہ گمراہ کردے تو اس کو کوئی ہدایت دینے والا نہیں۔ اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ اللہ قصداً کسی کو ہدایت دیتا ہے، اور کسی کو نہیں دیتا ہے۔ بلکہ ایسا انسان کی اپنی طرف سے ہوتا ہے، جو انسان سوچے اور نصیحت کو پکڑے، وہ ضرور ہدایت پائے گا، اور جو آدمی سوچ اور نصیحت سے خالی ہو، وہ اس کیفیت سے بھی خالی رہے گا۔
واپس اوپر جائیں

اشمئزاز کیا ہے

دل کی ایک کیفیت کو قرآن میں ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے: وَإِذَا ذُکِرَ اللَّہُ وَحْدَہُ اشْمَأزَّتْ قُلُوبُ الَّذِینَ لَا یُؤْمِنُونَ بِالْآخِرَةِ وَإِذَا ذُکِرَ الَّذِینَ مِنْ دُونِہِ إِذَا ہُمْ یَسْتَبْشِرُونَ (39:45)۔یعنی جب اکیلے اللہ کا ذکر کیا جاتا ہے تو ان لوگوں کے دل تنگ پڑجاتے ہیں جو آخرت پر ایمان نہیں رکھتے۔ اور جب اس کے سوا دوسروں کا ذکر ہوتا ہے تو اس وقت وہ خوش ہوجاتے ہیں۔
اشمئزازکا مطلب ہے دل کا تنگ ہونا (shrinking of the heart)۔ یہ ایک مخصوص نفسیاتی حالت کا نام ہے۔ جب کسی کا ذہن پیشگی طور پر متاثر ذہن بن جائے تواس کا حال یہ ہوتا ہے کہ اگر کوئی بات اس کے موافق ہو تو وہ اس کو سن کر خوش ہوگا، اور اگر اس کو محسوس ہوکہ مذکورہ بات اس کے اپنے مفروضہ کے مطابق نہیں ہے، تو اس کو سن کر اس کا دل تنگ ہوجائے گا۔یہی بات امر حق کے بارے میں بھی ہے۔ جس آدمی کے اندر اعتراف حق کا مادہ نہ ہو، وہ چیزوں کو اپنے مفروضا ت سے جانچے گا۔ اگر بیان کردہ بات اس کے مفروضات کے مطابق ہے تو وہ خوش ہوکر ا س کو مان لے گا۔ لیکن اگر بیان کردہ بات اس کے اپنے مفروضات کے مطابق نہ ہو، تو اس کو قبول کرنے کے معاملے میں اس کا دل تنگ ہوجائے گا۔ وہ اپنی بے اعترافی کو چھپانے کے لیے ایسی غیر متعلق باتیں بولے گا، جو صرف کہنے کے لیے ہوں گی، نہ کہ حقیقت کی ترجمانی کے لیے۔
اشمئزاز دراصل کبر کا ایک ظاہرہ ہے۔ یہ کیفیت اس وقت پیدا ہوتی ہے جب کہ کسی وجہ سے آدمی حق کو ماننا نہ چاہے۔ ایسے آدمی کا حال یہ ہوتا ہے کہ اگر اس کو دکھائی دے کہ حق اس کے مفروضات کی تصدیق کررہا ہے تو وہ خوش ہوتا ہے۔ اس کے برعکس، اگر وہ محسوس کرے کہ جو بات امر حق کے طور پر سامنے آئی ہے، وہ اس کی رائے کی تصدیق نہیں کرتی تو اس کو قبول کرنے کے لیے اس کا دل تنگ ہوجاتا ہے۔ وہ حق کو نہ ماننے کے لیے ایسی غیر متعلق باتیں بولنے لگتا ہے، جس کی صداقت پر خود اس کا دل مطمئن نہیں ہوتا۔ اسی حالت کا نام اشمئزاز ہے۔
واپس اوپر جائیں

احسن العمل

انسان کے بارے میں تخلیقی منصوبہ کو قرآن میں ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے: الَّذِی خَلَقَ الْمَوْتَ وَالْحَیَاةَ لِیَبْلُوَکُمْ أَیُّکُمْ أَحْسَنُ عَمَلًا (67:2)۔یعنی خالق نے موت اور زندگی کو پیدا کیا تاکہ وہ تم کو جانچے کہ تم میں سب سے اچھے عمل والا کون ہے ۔اس آیت کا مطلب یہ ہےکہ پیدا ہونےوالے انسانوں میں سے احسن العمل کا انتخاب کرنا۔
قرآن کی اس آیت کا مفہوم ایک اور آیت پر غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے۔ وہ آیت یہ ہے: مَنْ کَانَ یُرِیدُ حَرْثَ الْآخِرَةِ نَزِدْ لَہُ فِی حَرْثِہِ وَمَنْ کَانَ یُرِیدُ حَرْثَ الدُّنْیَا نُؤْتِہِ مِنْہَا وَمَا لَہُ فِی الْآخِرَةِ مِنْ نَصِیبٍ (42:20)۔ یعنی جو شخص آخرت کی کھیتی چاہے ہم اس کو اس کی کھیتی میں ترقی دیں گے۔ اور جو شخص دنیا کی کھیتی چاہے ہم اس کو اس میں سے کچھ دے دیتے ہیں اور آخرت میں اس کا کوئی حصہ نہیں۔
غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ موجودہ دنیا انسان کے لیے پودگاہ (nursery) کی مانند ہے۔پود گاہ میں یہ ہوتا ہے کہ پودے عمومی انداز میں پیدا کیے جاتے ہیں۔ پھر ان میں جو پودا تندرست ہوتا ہے، اس کو چھانٹ کر نکال لیا جاتا ہے تاکہ اس کو زیادہ اچھی زمین میں نصب کرکے زیادہ اچھے ماحول میں گرو (grow) کرنے کا موقع دیا جائے۔
یہی حیثیت انسان کی نسبت سے موجودہ دنیا کی ہے۔ موجودہ دنیا کی حیثیت انسان کے لیے نرسری (nursery) جیسی ہے۔ یہاں انسان کو پیدا کرکے بسایا جاتا ہے تاکہ ان میں سے جو انسان اپنے کو احسن العمل یعنی زیادہ صحت مند ثابت کرے، اس کو دنیا کی نرسری سے نکال کر آخرت کے ہیبیٹاٹ (habitat) میں نصب کردیا جائے، یعنی ابدی جنت میں۔ گویا کہ موجودہ دنیا کی زندگی نرسری کی زندگی ہے، اور آخرت کے ہیبیٹاٹ کی زندگی ابدی جنت کی زندگی ہے۔ یہ بلاشبہ حیات انسانی کے لیے بہترین اسکیم ہے۔
واپس اوپر جائیں

اللہ کی مدد

قدیم مصر میں جب بنی اسرائیل پر فرعون کا ظلم بہت بڑھ گیا۔ اس وقت پیغمبر موسیٰ نے اپنی قوم کو نصیحت کرتے ہوئے کہا: اِسْتَعِینُوا بِاللَّہِ وَاصْبِرُوا إِنَّ الْأَرْضَ لِلَّہِ یُورِثُہَا مَنْ یَشَاءُ مِنْ عِبَادِہِ وَالْعَاقِبَةُ لِلْمُتَّقِینَ (7:128)۔ یعنی اللہ سے مدد چاہو اور صبر کرو۔ زمین اللہ کی ہے، وہ اپنے بندوں میں سے جس کو چاہتا ہے اس کا وارث بنا دیتا ہے، اور آخری کامیابی اللہ سے ڈرنے والوں ہی کے لئے ہے۔
اللہ سے مدد کی دعا کرنا، بندے اور خدا کے درمیان کا معاملہ ہے۔ اس معاملے میں صبر کی تلقین کیوں کی گئی۔ صبر کا دعا سے کیا تعلق ہے۔ یہ ایک بے حد اہم بات ہے۔ اگر آدمی دعا کی اس حقیقت کو نہ جانے تو وہ دعا کے بعد مایوسی کا شکار ہوسکتا ہے۔ دعا کا معاملہ یہ نہیں ہے کہ اللہ سے آپ دعا کریں، اور اللہ فوراً آپ کی مطلوب چیز اٹھا کر آپ کو دے دے۔اگر آپ کی دعا واقعۃً ایک سچی دعا ہے، تب بھی اللہ مینج (manage) کرکے آپ کی دعا کو پورا کرتا ہے۔ دعا کو پورا کرنے کے لیے اللہ کو بہت سے انسانوں کی سرگرمیوں کو مینج کرنا ہوتا ہے۔ وہ اس کا منصوبہ بناتا ہے تاکہ قوانین فطرت کو باقی رکھتے ہوئے آپ کی طلب کو پورا کرے۔ اس کے لیے ضرورت ہوتی ہے کہ اجتماعی تقاضوں کے درمیان ایک شخص کی انفرادی سطح پر دادرسی کی جائے۔ اس کے لیے ضرورت ہوتی ہے کہ انسانی تاریخ کے مجموعی سفر کو جاری رکھتے ہوئے استثنائی طور پر ایک فرد کی ضرورت کو پورا کیاجائے۔
دعا کرنے والا تو اپنے ذاتی ارادے کے اعتبار سے دعا کرتا ہے۔ لیکن اللہ رب العالمین کو یہ کرنا ہے کہ وہ دوسروں کی سرگرمیوں کو منسوخ کیے بغیر فرد کی استثنائی حاجت پوری کرے۔ یہی وہ صورت حال ہے، جس کے لیے بندے کو دعا کے بعد صبر کرنا پڑتا ہے۔ دعا کے بعد صبر کرنا گویا اللہ رب العالمین کو ضروری وقت دینا ہے— صبر دعا کا لازمی حصہ ہے۔
واپس اوپر جائیں

مدرسہ کے طلبہ کے نام

حضرت ابو ذر رضی اللہ عنہ کے حوالے سے ایک طویل روایت حدیث کی کتابوں میں آئی ہے۔ اس میں دیگر باتوں کے علاوہ مسلم عاقل کی صفات بھی بیان کی گئی ہیں۔ ان میں سے ایک یہ کہ اس کو اپنے زمانہ سے باخبر ہونا چاہئے ( أن یکون بصیرا بزمانہ)۔صحیح ابن حبان ،حدیث نمبر 361۔یہ ایک بے حد اہم ہدایت ہے۔ آپ کو چاہئے کہ آپ صرف واقفِ دین نہ بنیں، بلکہ اسی کے ساتھ واقفِ زمانہ بھی بنیں۔ اس کے بعد ہی آپ موجودہ زمانہ میں دین کی صحیح خدمت کر سکتے ہیں۔
واقف زمانہ بننے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ آپ اپنی کمیونٹی کے خلاف ہونے والے ’’ظلم اور سازش‘‘ کو جاننے والے بن جائیں۔ یہ میرے نزدیک سطحیت ہے، نہ کہ علم۔ یعنی یہ ظواہر کو جاننا اور حقائق سے بے خبر رہنا ہے۔ علم بلا شبہ یہ ہے کہ آدمی اصل حقیقت کو جانے، نہ یہ کہ اس کی نگاہ ظاہری چیزوں پر اٹک کر رہ جائے۔اگریہ مان لیا جائے کہ دوسری قومیں مسلمانوں کے خلاف سازش اور ظلم میںمصروف ہیں، تب بھی اصل جاننے کی بات یہ ہے کہ وہ کیا اسباب ہیں جنہوں نے ان قوموں کو یہ حیثیت دے دی ہے کہ وہ ہمارے خلاف کامیاب سازشیں کرسکیں۔ وہ ہمارے خلاف اپنے منصوبوں کی کامیاب تعمیل کریں اور ہمارے تمام اعاظم و اکابر اس کو روکنے میں مکمل طورپر عاجز ثابت ہوں۔
موجودہ زمانہ میں مسلمانوں کی اصل کمی یہ ہے کہ وہ عصر حاضر سے ناواقف (unaware) ہیں۔ وہ ماضی کو جانتے ہیں، مگر حال کی انہیں مطلق خبر نہیں۔ ان میںسے کوئی شخص اگر کچھ جانتاہے تو وہ بھی کچھ ظاہری چیزوں کو جانتا ہے، نہ کہ گہرے معنوں میں حقیقی حالات کو۔ دینی مدرسوں کے طلبہ اگر صرف ’’حیوان کا سب‘‘ بن کر نہیں رہنا چاہتے، بلکہ یہ چاہتے ہیں کہ وہ اپنی صلاحیتوں کو مفید طورپر لگائیں تو ان پر لازم ہے کہ وہ عصر حاضر کو اس کی گہرائیوں کے ساتھ جانیں، وہ موجودہ زمانہ کی ان تبدیلیوں سے واقفیت حاصل کریں جنہوں نے ہمارے مروجہ طریقوں کو عملی اعتبار سے بالکل غیر موثر بنا دیا ہے۔
واپس اوپر جائیں

رب العالمین کا وجود

سائنسی مطالعے (scientific studies)سے یہ معلوم ہوا ہے کہ کائنات کی ہر چیز ناقابل فہم حد تک عجیب ہے۔ خواہ میکرو ورلڈ (macro world) کا معاملہ ہو یا مائکرو ورلڈ (micro world)کا معاملہ۔ ہر چیز انسان کے لیےمائنڈ باگلنگ (mind-boggling) حد تک عجیب ہے، اس لیےانسانی عقل کے لیے ناقابل فہم بھی۔ انسان پہلے پہاڑ جیسی بڑی بڑی چیزوں کو دیکھ کر حیران ہوتا تھا۔موجودہ دور میں کوانٹم میکانکس (quantum mechanics) کے مطالعہ کے بعد اب سب ایٹمک پارٹکل (subatomic particle) کا معاملہ اس سے بھی عجیب حقیقت کے طور پر سامنے آیا ہے۔
اس سائنسی مطالعے سے معلوم ہوا کہ خدا کے وجود کو ماننا بظاہر جتنا عجیب ہے۔ اتنا ہی عجیب ہر چیز کو ماننا ہے۔ اس دنیا کی ہر چیز حتی کہ سب ایٹمک پارٹکل بھی مائنڈ باگلنگ حد تک عجیب ہیں۔ خالص منطقی اعتبار سے اس پر غور کیا جائے تو یہ کہنا صحیح ہوگا — اگر ہم خدا کے وجود کو مان لیں تو بقیہ تمام چیزیں قابل توجیہہ (explainable) بن جاتی ہیں، اور اگر ہم خدا کے وجود کو نہ مانیں تو اس دنیا کی ہر چیز ناقابل فہم رہتی ہے۔ حتی کہ سب ایٹمک پارٹکل جیسی چیز بھی جس کو ایک سائنس داں نے امکانی لہریں (waves of probability) کہا ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ ہم اپنے وجود کو ماننے پر مجبور ہیں۔ اسی طرح ہم اس کو بھی ماننے پر مجبور ہیں کہ ہم اپنے سے باہر ایک کائنات کو تسلیم کریں۔ یہ ایک ایسی بدیہی حقیقت ہے، جس کا انکار کسی انسان کے لیے ممکن نہیں۔ قدیم یونان کا ایک فلسفی ایک مرتبہ جاکر درخت کے اوپر بیٹھ گیا۔ کسی نے اس کو درخت کے اوپر دیکھ کر پوچھا کہ تم کون ہو۔ فلسفی نے جواب دیا کہ یہی تو نہیں معلوم کہ میں کون ہوں۔ اگر میں جانتا کہ میں کون ہوں تو میں درخت کے اوپر نہ چڑھتا۔ خدا کے وجود کو ماننا آدمی کو صاحب یقین بنا دیتا ہے، اور خدا کے وجود کا انکار انسان کوفلسفی کی طرح یقین کی کیفیت سے دور کردیتا ہے۔
واپس اوپر جائیں

گرہن، خالق کی ایک نشانی

7 اگست 2017کو چاند گرہن (lunar eclipse)پڑا۔ یہ ایک جزئی (partial) چاند گرہن تھا۔ اس کے بعد 21 اگست 2017کو سورج گرہن (solar eclipse) پڑا ، اور زمین کے بہت بڑے رقبے میں اس کا مشاہدہ کیا گیا۔
اس قسم کا واقعہ ہجرت کے بعد مدینہ میں پیش آیا تھا۔ یہ سورج گرہن تھا، جو 10 ہجری میں پیش آیا تھا۔اسی تاریخ کو پیغمبر اسلام کے بیٹے ابراہیم کی وفات ہوئی تھی۔ قدیم زمانہ میں یہ مانا جاتا تھا کہ گرہن اس وقت پڑتا ہے، جب زمین پر کوئی سنگین واقعہ پیش آئے۔ چنانچہ مدینہ کے لوگوں نے یہ کہنا شروع کیا کہ چوں کہ آج پیغمبر کے بیٹے کی وفات ہوئی ہے، اس لیے یہ گرہن پڑا ہے۔ پیغمبر اسلام کو جب یہ معلوم ہوا تو آپ نے اعلان کیا کہ لوگ مدینہ کی مسجد میں اکٹھا ہوجائیں۔
اس کے بعد آپ نے مدینہ کی مسجد میں خطبہ دیا:إن الشمس والقمر آیتان من آیات اللہ، لا یخسفان لموت أحد ولا لحیاتہ، فإذا رأیتم ذلک، فاذکروا اللہ (صحیح البخاری، حدیث نمبر 1052)۔ یعنی سورج اور چاند اللہ کی نشانیوں میں سے دو نشانیاں ہیں، ان کو نہ کسی کی موت سے گرہن لگتا ہے، اور نہ کسی کی زندگی سے۔ جب تم اس کو دیکھو تو اللہ کو یاد کرو۔
پیغمبر اسلام نے اپنے اس خطاب میں گرہن کو خدا کی ایک نشانی (sign of God) بتایا۔ اس کا مطلب یہ تھا کہ گرہن کا واقعہ کسی زمینی حادثہ کی بنا پر پیش نہیں آتا۔ بلکہ وہ خالق کے مقرر کیے ہوئے ابدی قانون کے تحت پیش آتا ہے۔ موجودہ زمانہ میں سائنسی مطالعہ کے تحت متعین طو رپر یہ معلوم ہوچکا ہے کہ گرہن کا واقعہ کیوں پیش آتا ہے:
Eclipse is a well-calculated alignment of three moving bodies of different sizes in the vast space at a particular point in time.
چاند گرہن اور سورج گرہن کا واقعہ کیوں پیش آتا ہے۔ اس کا مقصد یہ ہے کہ انسان اس حیرتناک فلکیاتی واقعہ کو دیکھے، اور مشاہداتی سطح پر خالق کے کمال قدرت کو جانے، اور خالق کو دریافت کرکے خالق کی عظمت میں جینے والا بن جائے۔
اس انوکھے فلکیاتی مشاہدہ میں انسان کے لیے کیا سبق ہے۔ خالق کی عظمت ساری کائنات میں پھیلی ہوئی ہے۔ پہاڑ، سمندر، سولر سسٹم، کہکشانی نظام، اور اس طرح کے دوسرے مظاہرمسلسل طور پر انسان دیکھتا رہتا ہے۔ ان کو دیکھتے دیکھتے انسان یوزڈ ٹو (used to) ہوجاتا ہے۔ اس لیے خدا استثنائی طور پر کبھی کبھی سورج گرہن اور چاند گرہن کامنظر انسان کو دکھا تا ہے۔ تاکہ یکسانیت کی وجہ سے انسان کی سوچ میں جو ٹھہراؤ آگیا ہے،و ہ ٹوٹے، اور انسان دوبارہ تخلیقی انداز (creative mind) کے ساتھ خدا کی تخلیقات کا مشاہدہ کرسکے۔ انسان کا مزاج ہے کہ یوزڈ ٹو (used to) ہوتے ہوتے اس کے اندر جمود (stagnation) پیدا ہوجاتا ہے۔ خالق کی منشا ہے کہ یہ جمود ٹوٹے۔ انسان بیدار ذہن کے ساتھ دنیا میں جینے والا بن جائے۔
٭ ٭ ٭ ٭ ٭ ٭ ٭
میرا تجربہ ہے کہ لوگ دوسروں کے سامنے تجویزیں تو خوب پیش کرتے ہیں مگر یہ نہیںسوچتے کہ اس معاملے میں خود اُن کی اپنی ذمہ داری کیا ہے۔ ایک تعلیم یافتہ مسلمان میرے پاس آئے۔ انھوں نے کہا کہ آپ فلاں موضوع پر کتاب تیارکرکے اس کو چھاپئے۔ میں نے کہا کہ میںنے بہت سے دینی موضوعات پر کتابیں تیار کرکے چھاپی ہیں، ان کے سلسلے میں آپ نے کیا کیا۔ انھوں نے کہا کہ میں نے تو کچھ نہیں کیا۔ میںنے کہا کہ آپ پہلے چھپی ہوئی کتابوں کو پھیلا کر اپنی ذمے داری ادا کیجئے۔ اس کے بعد نئی کتابوں کی تجویز پیش کیجئے۔ اس قسم کا ذہن کوئی صحت مند ذہن نہیں۔
واپس اوپر جائیں

ایک انسانی کردار

ایک انسانی کردار کو قرآن میں ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے: لَا تَحْسَبَنَّ الَّذِینَ یَفْرَحُونَ بِمَا أَتَوْا وَیُحِبُّونَ أَنْ یُحْمَدُوا بِمَا لَمْ یَفْعَلُوا فَلَا تَحْسَبَنَّہُمْ بِمَفَازَةٍ مِنَ الْعَذَابِ وَلَہُمْ عَذَابٌ أَلِیمٌ (3:188)۔ یعنی جو لوگ اپنے ان کرتوتوں پر خوش ہیں اور چاہتے ہیں کہ جو کام انھوں نے نہیں کئے اس پر ان کی تعریف ہو، ان کو عذاب سے بری نہ سمجھو۔ ان کے لئے درد ناک عذاب ہے۔قرآن میں ایک اور جگہ ایسے لوگوں کے لیے یہ آیا ہے :یُخَادِعُونَ اللَّہَ وَالَّذِینَ آمَنُوا وَمَا یَخْدَعُونَ إِلَّا أَنْفُسَہُمْ وَمَا یَشْعُرُونَ (2:9)۔
کچھ لوگوں کا مزاج یہ ہوتا ہے کہ حقیقت کے اعتبار سے تو وہ بے مقصد انسان ہوتے ہیں۔ ان کو اپنے ذاتی انٹرسٹ کے سوا کسی اور چیز سے کوئی مطلب نہیں ہوتا۔ لیکن بڑے بڑے الفاظ بول کر ظاہر کرتے ہیں کہ وہ ایک بامقصد انسان ہیں۔ وہ ایک مقصد کے لیے جینے والے، اور ایک مقصد کے لیے مرنے والے ہیں۔ لیکن تجربے میں معلوم ہوتا ہے کہ ان کو اپنے ذاتی انٹرسٹ کے سوا کسی اور چیز سے کوئی مطلب نہیں۔ وہ بامقصد انسان نہیں ہیں، بلکہ وہ صرف مفاد پرست انسان (man of interest) ہیں۔ ان کا سول کنسرن عملاً صرف ذاتی انٹرسٹ ہے۔ لیکن الفاظ کی سطح پر وہ بے تکان یہ ظاہر کرتے ہیں کہ وہ بامقصد انسان ہیں، اور ان کا فیصلہ ہے کہ وہ مقصد کےلیے جئیں گے، اور مقصد کےلیے مریں گے۔
ایسے لوگوں کے بارے میں فرمایا کہ وہ چاہتے ہیں کہ ا ن کو ایسے کام کاکریڈٹ دیا جائے، جس کو انھوں نے انجام ہی نہیں دیا ہے۔ ایسے لوگ انسان کو بھی دھوکہ دے رہے ہیں، اور خدا کو بھی۔ لیکن ان کی یہ کوشش چلنے والی نہیں۔ قول کی سطح پر خواہ کچھ بھی وہ کہیں، لیکن عمل کی سطح پر وہ کہیں نہ کہیں ایکسپوز ہوجائیں گے۔ اس کے بعد ان کے ساتھ وہی معاملہ کیا جائےگا، جیسا کہ وہ حقیقۃً ہیں، نہ کہ جیسا کہ وہ اپنے آپ کو لفظوں کے ذریعہ ظاہر کررہے ہیں۔
واپس اوپر جائیں

امت کی مسلسل اصلاح کا نظام

امت مسلمہ کے داخلی نظام کے بارے میں قرآن میں جو ہدایات آئی ہیں۔ ان میں سے ایک آیت یہ ہے:وَلْتَکُنْ مِنْکُمْ أُمَّةٌ یَدْعُونَ إِلَى الْخَیْرِوَیَأْمُرُونَ بِالْمَعْرُوفِ وَیَنْہَوْنَ عَنِ الْمُنْکَرِ وَأُولَئِکَ ہُمُ الْمُفْلِحُونَ (3:104)۔ یعنی اور ضرور ہے کہ تم میں ایک گروہ ہو جو نیکی کی طرف بلائے، وہ بھلائی کا حکم دے اور برائی سے روکے اور ایسے ہی لوگ کامیاب ہیں۔
اس آیت میں ایک، منکم کا لفظ ہے، اور دوسرے، امۃ کا لفظ ۔ غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ منکم سے مراد پوری امت ہے، اور امۃ سے مراد امت کا ایک منتخب گروہ۔ بالفاظ دیگر منکم سے مراد امت کبیرہ ہے اور امۃ سے مراد امت صغیرہ ۔ یعنی مجموعی امت کی اصلاح کے لیے اس کے اندر ایک منتخب ٹیم ہونا چاہیے۔ اس ٹیم سے مراد وہی اصلاحی گروہ ہے جس کو یہود کی نسبت سے ربانی علماء (5:63) کہا گیا ہے۔ امتِ موسی کے درمیان ربانی علماءکا کام یہ تھا کہ وہ افرادِ امت کی ذہنی اصلاح کا کام کرتے رہیں۔ اسی طرح امتِ محمدی کے اندر ایک اصلاحی ٹیم موجود رہنا چاہیے جو امت کے افراد کو ہر حال میں درست فکر (right thinking) پر قائم رکھنے کا کام کرتی رہے۔
یہ ایک دوسطحی نظام ہے۔ پہلی سطح یہ ہے کہ امت کے اندر دین کی بنیاد پر ایک ڈھانچہ قائم رہے۔ اس ڈھانچے کے اجزاء مسجد ، مدرسہ، حج، اور دوسرے غیر سیاسی ادارے ہیں۔ یہ ادارے اس بات کی ضمانت ہیں کہ امت میںفارم کی سطح پر ایک ڈھانچہ ہمیشہ قائم رہے۔ اسی کے ساتھ یہ بھی ضروری ہے کہ امت کے اندر ربانی علماء کی ایک ٹیم موجود ہو، جو امت کے افراد کی مسلسل نگرانی کرے۔ اور افرادِ امت کی ذہنی بیداری کے اس کام کو ہر نسل میں زمانے کے مطابق جاری رکھے۔اس کام کو حدیث میں تجدیدِ امت (سنن ابوداود، حدیث نمبر4291) کہا گیاہے۔ امت کی ایک ضرورت یہ ہے کہ فارم کے اعتبار سے اس کا ڈھانچہ برابر قائم رہے۔ اور امت کی دوسری ضرورت یہ ہے کہ ہر نسل میں اس کے افراد کی مطابقِ حالات ذہنی تعمیر کی جاتی رہے۔
دو سطحی نظام کی ضرورت اس لیے ہے کہ فارم کی ایک مستقل صورت ہوتی ہے۔ مثلا پنج وقتہ نماز کا نظام یا سالانہ حج کا نظام ، وغیرہ ۔ یہ ہمیشہ ایک ہی ہیئت (form) پر قائم رہیں گے۔ دینی نظام کایہ پہلوعملی اعتبار سے ابدی ہے۔ اس ابدی پہلو کی طرف پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے ان الفاظ میں اشارہ کیا تھا: صلوا کما رأیتمونی أصلی (صحیح البخاری، حدیث نمبر 631)۔ اس حدیث کا مخاطب صرف صحابہ نہ تھے، بلکہ وسیع تر انداز میں اس کا خطاب پوری امتِ محمدی سے ہے۔
لیکن جہاں تک امت کے افراد کا معاملہ ہے، وہ ہمیشہ ایک حالت پر قائم نہیں رہتے۔ بلکہ نسل در نسل ان کے اندر تبدیلی آتی رہتی ہے۔دادا کے بعد باپ، باپ کے بعد بیٹا، بیٹے کے بعد پوتا، وغیرہ۔ بعد میں آنے والی نسلوں کو ہمیشہ مختلف حالات سے سابقہ پیش آتا ہے۔ نیزطول امد (الحدید16:57) کی بنا پر اسپرٹ کے اعتبار سے ان کی بعد کی نسلوں میں زوال آجاتا ہے۔ ایسے حالات میںضرورت ہوتی ہے کہ اسپرٹ کے اعتبار سے ان کو دوبارہ تازہ دم بنایا جائے۔
افراد کی اس ذہنی تعمیر کے تقاضے ہمیشہ بدلتے رہتے ہیں۔ مثلاً انیسویں صدی عیسوی میں دنیا میں ایک نیا دور آیا جس سے امت کےافراد بھی شدت کے ساتھ متاثر ہوئے۔ وہ دور یہ تھا کہ مغرب کی قومیں نئی طاقت کے ساتھ ابھریں۔ وہ پوری مشرقی دنیا پر سیاسی اور تہذیبی اعتبار سے چھاگئیں۔ اس زمانے کی دوسری قوموں کی طرح مسلم قومیں بھی اس کی زد میں آگئیں۔ اس انقلاب کے نتیجے میں امت کے افراد عمومی طور پر منفی ذہنیت (negative thinking)کا شکار ہوگیے۔
تاریخ بتاتی ہے کہ اس دورِ تبدیلی میں امتِ مسلمہ کے اندر’’ربانی علماء‘‘ کا کوئی گروہ نہیں اٹھا ، نہ عرب دنیا میں اور نہ غیرِ عرب دنیا میں۔ اس دور میں کرنے کا کام یہ تھا کہ امت کے افراد کو نئے دور کا صحیح مطالعہ کرایا جائے۔ ان کی منفی سوچ کو ختم کرکے دوبارہ ان کو مثبت سوچ پر قائم کیا جائے۔ ان کو یہ بتایا جائے کہ مغربی قومیںتمھاری دشمن یا حریف نہیں ہیں، بلکہ وہ تمھارے لیے مدعو کی حیثیت رکھتی ہیں۔ تم کو چاہیے کہ تم مغربی قوموں کے بارے میں رد عمل کا طریقہ اختیار نہ کرو، بلکہ ان کے مقابلے میں مثبت ذہن کے ساتھ دعوت کی پر امن منصوبہ بندی کرو۔
واپس اوپر جائیں

جہاد کیا ہے

جہاد کیا ہے، اس کو سمجھنے کے لیے سب سے پہلے یہ جاننا چاہئے کہ موجودہ زمانہ میں مسلمان جہاد کے نام پر جو کچھ کررہے ہیں، وہ جہاد نہیں ہے۔ یہ سب قومی جذبات کے تحت چھیڑی ہوئی لڑائیاں ہیں جن کو غلط طورپر جہاد کا نام دے دیا گیا ہے۔
جہاد اصلاً پُر امن جدوجہد کا نام ہے، وہ قتال کے ہم معنٰی نہیں۔ کبھی توسیعی استعمال کے طورپر جہاد کو قتال کے مفہوم میں بولا جاتا ہے۔ مگر لغوی مفہوم کے اعتبار سے جہاد اور قتال دونوں ہم معنٰی الفاظ نہیں۔ یہاں اس سلسلہ میں قرآن و حدیث سے جہاد کے بعض استعمالات درج کئے جاتے ہیں:
1۔ قرآن میں ارشاد ہوا ہے:وَالَّذِینَ جَاہَدُوا فِینَا لَنَہْدِیَنَّہُمْ سُبُلَنَا (29:69) ۔ یعنی جن لوگوں نے جہاد کیا ہماری خاطر تو ہم اُن کو اپنی راہیں دکھائیں گے۔اس آیت میںتلاشِ حق کو جہاد کہاگیا ہے۔ یعنی اللہ کو پانے کے لیے کوشش کرنا، اللہ کی معرفت حاصل کرنے کے لیے کوشش کرنا، اللہ کی قربت ڈھونڈھنے کے لیے کوشش کرنا۔ ظاہر ہے کہ اس جہاد کا قتال یا ٹکراؤ سے کوئی تعلق نہیں۔
2۔ اسی طرح قرآن میںارشاد ہوا ہے:وَجَاہَدُوا بِأَمْوَالِہِمْ (49:15)۔ یعنی وہ لوگ جنہوں نے اپنے مال سے جہاد کیا۔ اس آیت کے مطابق، اپنے مال کو اللہ کے راستہ میں خرچ کرنا ایک جہادی عمل ہے۔
3۔ اسی طرح قرآن میںارشاد ہوا ہے:وَجَاہِدْہُمْ بِہِ جِہَادًا کَبِیرًا (25:52) یعنی غیرمومنین کے ساتھ قرآن کے ذریعہ جہاد کرو۔ دوسرے لفظوں میں یہ کہ قرآن کی تعلیمات کو پھیلانے کے لیے پُر امن جدوجہد کرو۔
4۔ اسی طرح پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: المجاہد من جاہد نفسہ فی طاعة اللہ (مسند احمد، حدیث نمبر23958)۔ یعنی مجاہد وہ ہے جو اللہ کی اطاعت میں اپنے نفس سے جہاد کرے۔ اس سے معلوم ہوا کہ نفس کی ترغیبات سے لڑکر اپنے آپ کو سچائی کے راستہ پر قائم رکھنا جہاد ہے۔ ظاہر ہے کہ یہ لڑائی داخلی طورپر نفسیات کے میدان میں ہوتی ہے، نہ کہ خارجی طورپر کسی جنگ کے میدان میں۔
5۔ ایک روایت کے مطابق، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: الحج جہاد (ابن ماجہ، حدیث نمبر 2902)۔ یعنی حج جہاد ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ حج کا عمل ایک مجاہدانہ عمل ہے۔ حج کو مطلوب انداز میں انجام دینے کے لیے آدمی کو سخت جدو جہد کرنی پڑتی ہے۔
6۔ ایک روایت کے مطابق، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے والدین کی خدمت کے بارے میں فرمایا: ففیہما فجاہد (البخاری، حدیث نمبر 3004) یعنی تم اپنے والدین میںجہاد کرو۔ اس سے معلوم ہوا کہ ماں باپ کی خدمت کرنا جہاد کا ایک عمل ہے۔
اس طرح کی مختلف آیتیں اور حدیثیں ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ جہاد کا عمل اصلاً ایک پُرامن عمل ہے۔ وہ کسی مطلوب خدائی کام میں پُر امن دائرہ کے اندر جدوجہد کرنا ہے۔ جہاد کے لفظ کا صحیح ترجمہ پُر امن جدو جہد (peaceful struggle) ہے۔
٭ ٭ ٭ ٭ ٭ ٭ ٭
مسلمانوں اور غیر مسلموں کے درمیان تعلق کی فطری بنیاد یہ ہے کہ دونوں یکساں طورپر انسان ہیں۔ دونوں کے درمیان انسانیت کا ابدی رشتہ قائم ہے۔ انسانیت کا تعلق دونوں کے درمیان وہ فطری تعلق ہے جو کبھی اور کسی حال میں ٹوٹنے والا نہیں۔ ہر سماج میں اور ہر ملک میں یہ انسانی رشتہ یکساں طورپر برقرار رہتا ہے۔ یہ رشتہ وہ ہے جو پیدائش کے ساتھ ہی دونوں گروہوں کے درمیان اپنے آپ قائم ہوجاتا ہے۔ یہ ایک ایسا اٹل رشتہ ہے جو کبھی ٹوٹنے والا نہیں۔
واپس اوپر جائیں

دعوت ایک سنگین ذمہ داری

پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک حدیث پڑوسی کے بارے میںان الفاظ میں آئی ہے: کم من جار متعلق بجارہ یوم القیامة یقول یا رب ہذا أغلق بابہ دونی فمنع معروفہ(الادب المفرد للبخاری، حدیث نمبر111)۔ یعنی کتنے ہی پڑوسی ہیں، جو اپنے پڑوسی کو پکڑے ہوئے ہوں گے قیامت کے دن۔ وہ کہیں گے کہ اے میرے رب ، اس نے اپنا دروازہ میرے لیے بند رکھا، اور اپنی بھلائی کو مجھ سے روک دیا۔
یہاں معروف کا لفظ دینی ہدایت کے معنی میں آیا ہے۔یعنی ایک شخص قیامت کے دن رب العالمین سے اپنے پڑوسی کے بارے میں شکایت کرےگا کہ اس انسان کے پاس میری نجات کا راستہ تھا، مگر اس نے اپنے گھر کے دروازے کو میرے اوپر بند رکھا، اور اسلام کی دعوت مجھ کو نہیں دیا،جو آج میرے کام آتا، اور مجھ کو ابدی تباہی سے بچالیتا۔ اس حدیث میں ایک پڑوسی سے مراد وہ شخص ہے جو دنیا میں ایمان کا دعویٰ کرتا تھا، اور اس کے پاس اللہ کی ہدایت قرآن و سنت کی شکل میں موجود تھی۔ دوسرے پڑوسی سے مراد وہ انسان ہے جو اپنی بے خبری کی بنا پر صاحب ایمان نہ بن سکا۔ کیوں کہ اس کے مومن پڑوسی نے اس کی قابل فہم زبان میں اس کو اللہ کی ہدایت نہیں پہنچائی۔
یہ حدیث قیامت کے بارے میں ہے۔ قیامت میں کسی کو یہ محرومی نہیں ستائے گی کہ وہ دنیا میں مادی چیزوں کے پانے میں ناکام رہا ۔ کیوں کہ اب اس کا دور ختم ہوچکا ہوگا۔ قیامت میں کسی کوصرف یہ چیز تڑپائے گی کہ کاش میرے پڑوسی نے میری قابل فہم زبان میں مجھ کو ہدایت پہنچائی ہوتی تو میں اس پر ایمان لاتا، اور آج میں جنت میں داخلے سے محروم نہ رہتا۔ اس حدیث کو موجودہ زمانے کے لحاظ سے دیکھا جائے تو اس میں عام پڑوسی کے علاوہ الیکٹرانک پڑوسی (e-neighbour) بھی شامل ہوں گے۔کیوں کہ آج دُور کے پڑوسی کو ہدایت پہنچانا اتنا ہی آسان ہوگیا ہے، جتنا کہ قریبی پڑوسی کو پہنچانا۔
واپس اوپر جائیں

اعلان کے بغیر معاہدہ

قرآن کے بارے میں حدیث میں آیا ہے : لا تنقَضِی عَجائِبُہ (سنن الترمذی، حدیث نمبر2906) ۔ یعنی قرآن کے عجائبات کبھی ختم نہ ہوں گے۔ یہی بات سنت رسول کے بارے میں صادق آتی ہے۔ رسول اللہ کی سنتوں میں ایسے حکمت کے پہلو ہیں، جو کبھی ختم نہ ہوں گے، اورآپ کےپیرو اُن کو دریافت کرکے اُن سے رہنمائی حاصل کرتے رہیں گے۔ میرے مطالعے کے مطابق، اِنھیں سنتوں میں سے ایک سنت وہ ہے، جس کو بلااعلان معاہدہ (undeclared agreement) کہا جاسکتا ہے۔
اس معاملے کی ایک مثال یہ ہے کہ آپ کے زمانے میں مکہ میں کعبہ تین سو ساٹھ بتوں کا مرکز بنا ہوا تھا۔ اس بنا پر وہاں سارے عرب سے بتوں کے پرستار بتوں کی زیارت کے لیے آیا کرتے تھے۔ پیغمبر اسلام نے یہ حکمت اختیار کی کہ آپ کعبہ میں بتوں کی موجودگی کے بارے میں بلااعلان غیر جانب دار بنے رہے۔ اس طرح آپ کے اور بت کے پرستاروں کے درمیان گویا بلااعلان ایک معاہدہ ہوگیا۔ وہ یہ کہ رسول اللہ روزانہ کعبہ کے علاقے میں جاتے، اور وہاں بتوں کے پرستاروں کو آڈینس (audience) کے طور پر استعمال کرتے رہے۔اس حکمت نے رسول اللہ کے مخالفین کو عملاً آپ کاموید (supporter)بنا دیا۔
موجودہ زمانے کے مسلمان اس سنت سے بے خبر ہیں۔ اگر وہ اس حکیمانہ سنت کو جانیں، تو وہ آج بھی اس سنت کو زندہ کرسکتے ہیں، اور اس طرح یہ حیرت انگیز واقعہ پیش آسکتا ہے کہ جن لوگوں کو مسلمان اپنا دشمن سمجھے ہوئے ہیں، وہ دوبارہ ان کے موید (supporter) بن جائیں گے۔
یہ بھی غالباً اس مذکورہ حکمت کا ایک پہلو ہے، جو قرآن میں ان الفاظ میں بیان ہوا ہے:وَلَا تَسْتَوِی الْحَسَنَةُ وَلَا السَّیِّئَةُ ادْفَعْ بِالَّتِی ہِیَ أَحْسَنُ فَإِذَا الَّذِی بَیْنَکَ وَبَیْنَہُ عَدَاوَةٌ کَأَنَّہُ وَلِیٌّ حَمِیمٌ (41:34)۔
واپس اوپر جائیں

ظن و تخمین

ایک حدیث رسول ان الفاظ میں آئی ہے:إیاکم والظن، فإن الظن أکذب الحدیث (صحیح البخاری، حدیث نمبر5143)۔ یعنی تم گمان سے بچو، کیوں کہ گمان بہت بڑا جھوٹ ہے۔قرآن میں بھی یہ بات ان الفاظ میں آئی ہے: یَاأَیُّہَا الَّذِینَ آمَنُوا اجْتَنِبُوا کَثِیرًا مِنَ الظَّنِّ إِنَّ بَعْضَ الظَّنِّ إِثْمٌ (49:12) ۔ یعنی اے ایمان والو، بہت سے گمانوں سے بچو، کیوں کہ بعض گمان گناہ ہوتے ہیں۔
ظن کا الٹا یقین ہے۔ ایک ہے ظن کی بنیاد پر بولنا، اور دوسرا ہے یقین کی بنیاد پر بولنا۔ ظن کی بنیاد پر بولنا یہ ہے کہ ایک بات جس کے بارے میں آدمی کے پاس صرف ناقص معلومات ہو، مگر وہ اپنی ناقص معلومات کی بنیاد پر قیاس کرکے ایک بات بیان کرے۔ اس قسم کا ظن (گمان) ایک قسم کا جھوٹ ہے۔ کسی کو یہ حق نہیں ہے کہ وہ گمان اور قیاس کی بنیاد پر کسی کے بارے میں ایک رائے دے۔ دوسری صورت یہ ہے کہ آدمی مکمل معلومات اور پوری تحقیق کے بعد اپنی رائے دے۔ اس قسم کا بولنا سچ بولنا ہے۔آدمی کا یہ حق ہے کہ اگر اس کے پاس کسی چیز کے بارے میں پوری معلومات ہوں تو وہ اس کے بارے میں ایک رائے دے، لیکن ناقص معلومات کی بنیاد پر بولنا،یہ ہرگز کسی کا حق نہیں۔
یہ بات کوئی سادہ بات نہیں۔ اگر آدمی کامزاج یہ ہے کہ وہ ناقص معلومات اور مکمل معلومات میں فرق نہ کرے۔ اس کے پاس ناقص معلومات ہوں ، اور وہ اس طرح بولے جیسے کہ وہ علم کی بنیاد پر بول رہا ہے۔ ایسے آدمی کے اندر کمزور شخصیت (weak personality) بنے گی۔ اس کا ذہنی ارتقا رک جائے گا۔ وہ روحانی ترقی کے منازل طے کرنے سے محروم رہے گا۔ صحیح یہ ہے کہ آدمی کو جب کوئی بات پہنچے تو وہ غیر جانبدارانہ انداز میں اس کی تحقیق کرے۔ جو رائے قائم کرے، وہ حقیقی علم کی بنیاد پر ہو ، نہ کہ ظن و تخمین کی بنیاد پر۔ ایسے آدمی کے اندر انٹلکچول ڈیولپمنٹ کا عمل جاری رہے گا۔ وہ روحانی بلندی کے منازل طے کرتا رہے گا۔ یہاں تک کہ شخصی ارتقا کے آخری درجے تک پہنچ جائے گا۔
واپس اوپر جائیں

قرآن میں تدبر

قرآن کا طریق مطالعہ کیا ہو، اس کے بارے میں ایک آیت ان الفاظ میں آئی ہے:کِتَابٌ أَنْزَلْنَاہُ إِلَیْکَ مُبَارَکٌ لِیَدَّبَّرُوا آیَاتِہِ وَلِیَتَذَکَّرَ أُولُو الْأَلْبَابِ (38:29)۔ یعنی یہ ایک برکت والی کتاب ہے جو ہم نے تمہاری طرف اتاری ہے، تاکہ لوگ اس کی آیتوں پر غور کریں اور تاکہ عقل والے اس سے نصیحت حاصل کریں۔
قرآن انسانی زبان میں ہے۔ انسانی زبان کی صفت یہ ہے کہ اس میں کہی ہوئی کوئی بات اپنے آپ میں مکمل نہیں ہوتی۔ وہ پوری طرح اس وقت سمجھ میں آتی ہے جب کہ انسانی ذہن (reason) کو استعمال کرتے ہوئے اس پر غور کیا جائے۔ اسی لیے مذکورہ آیت میں آیات قرآنی سے نصیحت لینے کے لیے یہ شرط لگائی گئی کہ انسان، آیات کے ساتھ اپنی لُبّ (reason) کو استعمال کرتے ہوئے اس پر غور و فکر کرے۔ گویا کہ لُبّ کو استعمال کیے بغیر آیات سے تذکیر کا فائدہ حاصل نہیں ہوتا۔
مثال کے طور پر قرآن کی پہلی آیت یہ ہے:الْحَمْدُ لِلَّہِ رَبِّ الْعَالَمِینَ (1:1)۔ اس آیت کا لفظی ترجمہ یہ ہے: سب تعریف اللہ کے لئے ہے جو سارے جہان کا رب ہے۔ ایک شخص قرآن کو پڑھے تو اس کے ذہن میں یہ سوال آسکتا ہے کہ زندگی تو خود قرآن کے بیان کے مطابق، کبد (hardship) سے بھری ہوئی ہے۔ ہرانسان روزانہ کسی نہ کسی کبد کا تجربہ کر رہا ہوگا۔ ایسی حالت میں کوئی شخص دل کے سچے احساس کے ساتھ کیسے یہ کہہ سکتا ہے کہ ساری تعریف اللہ کے لیے ہے۔ گویا کہ انسان کو یہ کرنا پڑتا ہےکہ مشقتوں میں زندگی گزارتے ہوئے اللہ کو سچے دل سے قابل تعریف مانے۔ یعنی انسان کو خود اللہ کی تخلیق کے مطابق، مسلسل طور پر ایک تضاد کے درمیان جینا پڑتا ہے۔ ایسی حالت میں گہرے معنوں میں حمد کی اسپرٹ انسان کے اندر کیسے پیدا ہو۔
اس سوال کا جواب خود آیت میں موجود نہیں ہے۔ آیت میں صرف اتنا ہی ہے کہ اللہ اعلیٰ ترین معنوں میں ایک قابل تعریف ہستی ہے۔ لیکن اس آیت میں جو سوال چھپا ہوا ہے، اس کا جواب خود آیت میں موجود نہیں۔ اسی پوشیدہ سوال کا جواب معلوم کرنے کا نام تدبر ہے، اور تدبر کا یہ عمل لُبّ کے استعمال سے کیا جاتا ہے۔ اس نوعیت کے تدبر کے ساتھ جب آدمی قرآن کا مطالعہ کرتا ہے تو اس کے نتیجہ کے طور پر آدمی کو وہ چیز حاصل ہوتی ہے جس کو قرآن میں تذکیر یا نصیحت کہا گیا ہے۔
انسان جب اپنی لُبّ (reason) کو استعمال کرتے ہوئے قرآن کی اس آیت پر غور کرتا ہے تو اس پر یہ بات کھلتی ہے کہ انسان کی زندگی میں کبد (hardship) خود انسان کے خیر کے لیے ہے۔ وہ یہ کہ خالق نے انسان کو احسن تقویم (التین 4:) کے ساتھ پیدا کیا ہے۔ مگر یہ احسن تقویم بالقوۃ (potential) کے طور پر ہے، نہ کہ بالفعل (actual) کے طو رپر۔ انسان جب مسائل سے دوچار ہوتا ہے، تو اس کا ذہن ٹرگر(trigger)ہوتا ہے۔ اس کے ذہن کے بند دروازے کھلتے ہیں۔ اس کےاندر چھپی صلاحیتیں بیدار ہوتی ہیں۔ اس پہلو کو ذہن میں رکھتے ہوئے غور کیا جائے تو معلوم ہوگا کہ انسان کی زندگی میں کبد (trouble) کا ہونا خود بھی حمد کا ایک پہلو ہے۔ وہ اللہ کی صفت رحمت کی تشریح ہے۔
کلام کے تقاضے کے تحت ہمیشہ ایسا ہوتا ہے کہ ہر کلام میں کچھ باتیں مذکور ہوتی ہیں، اور کچھ غیر مذکور۔ ایسا ہمیشہ ہوتاہے، اس میں کوئی استثنا نہیں۔ قرآن میں تدبر یہ ہے کہ قرآن کی آیت میں جس بات کا ذکر ہوا ہے ، اس پر غور کرکے غیر مذکور بات کو دریافت کرنا، اور مذکور و غیرمذکور دونوں کو ملا کر آیت کے گہرے معنی تک پہنچنا۔ اسی کا نام تدبر ہے۔ یہ تدبر کوئی پر اسرار چیز نہیں۔ ایسا کلام کی عام صفت کے مطابق ہوتا ہے۔ اس تدبر کی ضرورت انسانی کلام میں بھی ہوتی ہے، اور خدائی کلام میں بھی۔ ا سی لیے قرآن میں کہا گیا ہے کہ اللہ کی کتاب کو اسی زبان میں بھیجا جاتا ہے، جو مخاطب کے لیے قابل فہم (understandable) ہو۔ یہی بات ہے جو قرآن میں ان الفاظ میں بتائی گئی ہے:وَمَا أَرْسَلْنَا مِنْ رَسُولٍ إِلَّا بِلِسَانِ قَوْمِہِ لِیُبَیِّنَ لَہُمْ (14:4)۔ اسی طرح ایک آیت یہ ہے: قُرْآنًا عَرَبِیًّا غَیْرَ ذِی عِوَجٍ لَعَلَّہُمْ یَتَّقُونَ (39:28)۔
واپس اوپر جائیں

وضوح کا مسئلہ

وضوح (clarity) فکر یا تقریر و تحریر کا بے حد اہم پہلو ہے۔ یہ در اصل وضوحِ بیان ہے جو کسی کلام کو موثر (effective) بناتا ہے۔ جو کلام وضوح بیان سے خالی ہو، وہ عملاً ایک بے نتیجہ کلام بن جائے گا۔ وہ کہنے والے کے لیے ایک کلام ہوگا، لیکن سننے یا پڑھنے والے کے لیے وہ غیرواضح الفاظ کا ایک مجموعہ۔وضوح کی شرط صرف ایک ہے۔ وہ یہ کہ تقریر و تحریر سے پہلے آدمی خود اپنی ڈی کنڈیشننگ کرے۔یہ حقیقت ہے کہ پیدا ہوتے ہی آدمی کی کنڈیشننگ شروع ہوجاتی ہے۔ اس حقیقت کو حدیث میں ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے:کل مولود یولد على الفطرة، فأبواہ یہودانہ، أو ینصرانہ، أو یمجسانہ (صحیح البخاری، حدیث نمبر1385)۔
ڈی کنڈیشننگ پہلے آدمی کی کنڈیشننگ کو ختم کرتی ہے۔ اس کے بعد انسان اس قابل بنتا ہے کہ وہ بے آمیز انداز میں سوچے۔ وہ آبجکٹیو انداز میں رائے قائم کرے۔ اس لیے جو لوگ اپنی ڈی کنڈیشننگ سے پہلے تقریر و تحریر کا عمل شروع کردیں، ان کا کیس کم و بیش putting the cart before the horse کا کیس بن جائے گا۔
اس معاملے کو استعارہ کی زبان میں اس طرح کہا جاسکتا ہے کہ انسان کی زندگی میں پہلے ’’غار حراء‘‘ کا مرحلہ آتا ہے۔ اس کے بعد اس کی زندگی میں ’’اقرأ ‘‘کا دور شروع ہوتا ہے۔ یعنی پہلے سیلف تھنکنگ (self thinking)کے ذریعہ اپنے دماغ میں وضوح لانا، اور اس کے بعد لکھنے اور بولنے کا عمل شروع کرنا۔ اسی بات کو صحابی رسول جندب بن عبد اللہ نے کہا ہے : کنا مع النبی صلى اللہ علیہ وسلم ونحن فتیان حزاورة، فتعلمنا الإیمان قبل أن نتعلم القرآن، ثم تعلمنا القرآن فازددنا بہ إیمانا (سنن ابن ماجہ، حدیث نمبر 61)۔ اس روایت میں غالباً اسی حقیقت کا ذکر ہے کہ ہم نے پہلے اپنے ذہن کی ڈی کنڈیشننگ کی۔ پھر ہم نے اپنے کو اس قابل بنایا کہ ہم قرآن کو واضح انداز میں سمجھیں۔
واپس اوپر جائیں

یہ بھی جھوٹ ہے

ایک روایت حدیث کی مختلف کتابوں میں آئی ہے، صحیح مسلم کے الفاظ یہ ہیں:کفى بالمرء کذبا أن یحدّث بکل ما سمع (صحیح مسلم، مقدمہ)۔ یعنی آدمی کے جھوٹا ہونے کے لیے یہ کافی ہے کہ وہ ہر سنی ہوئی بات کو بیان کرنےلگے۔ حدیث کے الفاظ یہ نہیں ہیں کہ جو آدمی جھوٹی بات کو بیان کرے، وہ جھوٹا ہے۔ بلکہ یہ فرمایا کہ سنی ہوئی بات کو بلا تحقیق بیان کرنے لگے۔
اس حدیث کا مطلب یہ ہے کہ سنی ہوئی بات کو بلا تحقیق بیان کرنا، گویا کہ جھوٹ بولنا ہے۔ اس کا سبب یہ ہے کہ عام طور پر لوگ کسی بات کو اس کی پوری شکل میں رپورٹ نہیں کرتے۔ بلکہ وہ یہ کرتے ہیں کہ معاملے کے کچھ پہلو کو بیان کرتے ہیں ، اور کچھ دوسرے پہلو کو چھوڑ دیتے ہیں۔ یہ طریقہ سخت بے احتیاطی کا طریقہ ہے۔ کیوں کہ اس طرح کی رپورٹ سے سننے والے کے اندر خلاف واقعہ رائے بنتی ہے۔
مثلا کچھ لوگ مسجد میں اکٹھا ہوئے، وہاں انھوں نے پرجوش تقریریں سنیں۔ اس کے بعد وہ جلوس کی شکل میں سڑک پر نکلے۔ اب اگر بتانے والا یہ بتائے کہ پولیس نے جلوس پر فائرنگ کی تو سننے والے کو یہ کرنا چاہیے کہ وہ پہلے اصل معاملے کی تحقیق کرے ،اس کے بعد وہ اصل معاملے کو بیان کرے۔ کیوں کہ عین ممکن ہے کہ پرجوش جلوس نے پہلے پولیس پر پتھر مارا ہو۔اس کے بعد جواب میں پولیس نے فائرنگ کی ہو۔ اگر ایسا ہو تو البادی اظلم کے اصول کے مطابق پتھر مارنے والا مجرم ہے، نہ کہ گولی چلانے والا۔
اس سلسلے میں قرآن کی ایک آیت یہ ہے:یَاأَیُّہَا الَّذِینَ آمَنُوا إِنْ جَاءَکُمْ فَاسِقٌ بِنَبَإٍ فَتَبَیَّنُوا أَنْ تُصِیبُوا قَوْمًا بِجَہَالَةٍ فَتُصْبِحُوا عَلَى مَا فَعَلْتُمْ نَادِمِینَ (49:6)۔یعنی اے ایمان والو، اگر کوئی فاسق تمہارے پاس خبر لائے تو تم اچھی طرح تحقیق کرلیا کرو، کہیں ایسانہ ہو کہ تم کسی گروہ کو نادانی سے کوئی نقصان پہنچا دو ، پھر تم کو اپنے کیے پر پچھتانا پڑے۔
واپس اوپر جائیں

فطرت کا نظام

فطرت کا ایک قانون قرآن میں ان الفاظ میں بیان ہوا ہے: وَلَنَبْلُوَنَّکُمْ بِشَیْءٍ مِنَ الْخَوْفِ وَالْجُوعِ وَنَقْصٍ مِنَ الْأَمْوَالِ وَالْأَنْفُسِ وَالثَّمَرَاتِ وَبَشِّرِ الصَّابِرِینَ ۔ الَّذِینَ إِذَا أَصَابَتْہُمْ مُصِیبَةٌ قَالُوا إِنَّا لِلَّہِ وَإِنَّا إِلَیْہِ رَاجِعُونَ ۔ أُولَئِکَ عَلَیْہِمْ صَلَوَاتٌ مِنْ رَبِّہِمْ وَرَحْمَةٌ وَأُولَئِکَ ہُمُ الْمُہْتَدُونَ (2:155-57)۔ یعنی اور ہم ضرور تم کو آزمائیں گے کچھ ڈر اور بھوک سے اور مالوں اور جانوں اور پھلوں کی کمی سے۔ اور ثابت قدم رہنے والوں کو خوش خبری دے دو۔ جن کا حال یہ ہے کہ جب ان کو کوئی مصیبت پہنچتی ہے تو وہ کہتے ہیں ہم اللہ کے ہیں اور ہم اسی کی طرف لوٹنے والے ہیں۔ یہی لوگ ہیں جن کے اوپر ان کے رب کی عنایتیں ہیں اور رحمت ہے۔ اور یہی لوگ ہیں جو راہ پر ہیں۔
ان آیات پر غور کرنے سے فطرت کا ایک قانون معلوم ہوتا ہے۔ اصل یہ ہے کہ خدا انسان کو پیدا کرکے اس سے غیر متعلق نہیں ہوگیا۔ چوں کہ یہ صرف خالق ہے، جس کو تمام حقیقتوں کا علم ہے، اس لیے یہ ضروری تھا کہ خالق اپنے علم کے مطابق، انسان کی رہنمائی بھی کرتا رہے۔ لیکن چوں کہ انسان کو ایک آزاد مخلوق کی حیثیت سے پیدا کیا گیا ہے، اس لیے یہ رہنمائی جزئی طور پر کتاب اللہ کی صورت میں دی گئی ہے، لیکن زیادہ وسیع پہلوؤں کے اعتبار سے وہ حالات کی زبان میں انسان کو فراہم کی جاتی ہے۔
اسی فطری رہنمائی کو یہاں مصیبت کے لفظ میں بیان کیا گیا ہے۔ انسان کو اس دنیا میں جن حالات میں زندگی گزارنا ہے، اس میں بار بار اس کو وہ چیز پیش آتی ہے، جس کو یہاں مصیبت (suffering) کہا گیا ہے۔ یہ مصیبت انسان کے لیےکوئی برائی (evil) نہیں ہوتی۔ نفسیات کی زبان میں وہ حالات کا دباؤ (compulsion) کے ہم معنی ہوتی ہے۔ دباؤ کے یہ حالات انسان کوعمل کا رخ (direction)دیتے ہیں۔ وہ انسان کو اپنے عمل کی ری پلاننگ (replanning) کی طرف لے جاتے ہیں۔ وہ انسان کی سوچ کو نیا زاویہ عطا کرتے ہیں۔ اس طرح انسان اس قابل ہوجاتا ہے کہ وہ اپنے عمل کا منصوبہ فطرت کے مطابق کرے۔ وہ فطرت کے نظام کو اختیار کرکے اپنے آپ کو کامیاب بنائے۔
حالات کے تحت جو دباؤ (pressure) پیش آتا ہے،وہ ہماری زندگی کا ایک لازمی حصہ ہے۔ البتہ دباؤ کی دو صورتیں ہیں۔ ایک ہے، کچل دینے والا دباؤ (crippling pressure)۔ یعنی وہ دباؤ جس کے بعد آدمی کام کرنے کے قابل نہ رہے۔ دوسرا دباؤ وہ ہے، جو اس سے کم ہو۔ یعنی نان کریپلینگ پریشر (non-crippling pressure)۔ ایسا دباؤ آدمی کی زندگی میں کچھ مسئلہ تو پیدا کرتا ہے، لیکن اس سے ایسا نہیں ہوتا ہے کہ اس کے بعد آدمی کام کرنے کے قابل نہ رہے۔ یہ دوسری قسم کا دباؤ ہمیشہ ایک مثبت دباؤ ہوتا ہے۔ آدمی کو چاہیے کہ وہ مثبت دباؤ کو پہچانے، اور اس سے پیدا ہونے والے مواقع کو استعمال کرے۔ اس طرح وہ زیادہ کام کرنے کے قابل بن جائے گا۔
مذکورہ آیت میں حالات کو اللہ کی طرف منسوب کرنا، محض عقیدہ کی بات نہیں ہے، بلکہ وہ خالق کے تخلیقی منصوبہ کی بات ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ خالق انسان کو پیدا کرنے کے بعد اس سے بے تعلق نہیں ہوگیا ہے، بلکہ وہ حالات پیداکرکے انسان کو برابر رہنمائی دیتا رہتا ہے۔ یہ انسان کا کام ہے کہ وہ حالات کو پڑھے، اور خالق کی خاموش زبان کو سن کر تخلیق کے منصوبہ کو سمجھے۔
اس سیاق (context) میں صبر کا مطلب ہے ، خالق کے مقرر کردہ نقشے کو پوری رضامندی کے ساتھ قبول کرنا، اور صلوات اور رحمت کا مطلب یہ ہے کہ جو لوگ خالق کے اس منصوبہ پر راضی ہوں، اور اس کے مطابق اپنے عمل کی منصوبہ بندی کریں، وہی وہ لوگ ہیں ، جو اس دنیا میں کامیابی حاصل کریں گے۔
اس معاملے کی ایک تاریخی مثال یہ ہے کہ قدیم مدینہ (یثرب) میں دو بڑے قبیلے تھے، اوس اور خزرج۔ یہ دونوں قبیلے ، قبائلی کلچر کی بنا پر بار بار آپس میں لڑتے رہتے تھے۔ اس باہمی لڑائی کے نتیجہ میں ان کی ترقی رکی ہوئی تھی۔ رسول اللہ کی ہجرت سے کچھ پہلے دونوں قبیلوں کے درمیان باہمی لڑائی ہوئی۔ اس لڑائی کو تاریخ میں یوم بعاث کہا جاتا ہے۔ حضرت عائشہ کہتی ہیں : کان یوم بعاث، یوما قدمہ اللہ لرسولہ صلى اللہ علیہ وسلم، فقدم رسول اللہ صلى اللہ علیہ وسلم وقد افترق ملؤہم، وقتلت سرواتہم وجرحوا، فقدمہ اللہ لرسولہ صلى اللہ علیہ وسلم فی دخولہم فی الإسلا م (صحیح البخاری، حدیث نمبر 3777)۔ یعنی بعاث کے واقعہ کو اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کے لیے پیدا کیا تھا،چنانچہ جب آپ مدینہ میں آئے تو یہ قبائل آپسی اختلاف کا شکار تھے، اور ان کے سردار کچھ قتل کئے جا چکے تھے ، اورکچھ زخمی ہوگئےتھے ، تو اللہ تعالیٰ نے اس کو آپ سے پہلے وقوع پذیر کیا تاکہ وہ اسلام میں داخل ہوجائیں ۔
اس روایت پر غور کرنے سے سمجھ میں آتا ہے کہ جو صورت قدیم مدینہ (یثرب) میں پیش آئی ، وہ کیا تھی۔ واقعہ یہ تھا کہ ہجرت رسول سے پانچ سال پہلے مدینہ کے دو قبائل، اوس اور خزرج میں باہمی جنگ ہوئی، اس میں ان کے بہت سے لوگ مارے گئے۔ اس حادثہ کے بعد اہل یثرب کے درمیان یہ ذہن پیدا ہوا کہ ہمارا موجودہ قبائلی کلچر ہمارے لیے مصیبت بن گیا ہے ۔اس وقت ان کو نظر آیا کہ اسلام ان کے لیے بہتر انتخاب (better option) ہے۔ واضح ہو کہ ہجرت سے پہلے اسلام یثرب میں پہنچ چکا تھا۔ چنانچہ جب رسول اللہ مدینہ میں داخل ہوئے تو بہت جلد آپ مدینہ والوں کے لیے قابل قبول (acceptable) بن گئے — یہ ایک مثال ہے کہ تاریخ میں کس طرح حالات کا دباؤ لوگوں کے لیے اس بات کا ذریعہ بن گیا کہ وہ اپنی سوچ کو بدلیں، اور جنگ کے بجائے امن کا طریقہ اختیار کریں۔
’’مصیبت‘‘ کا یہ فطری فارمولا افراد کے لیے بھی ہے، اور گروہوں کے لیے بھی۔ تاریخ میں بڑی تعداد میں ایسے افراد بھی ملیں گے، اور ایسے گروہ بھی جن پر مصیبت یا دباؤ کے یہ حالات پیش آئے۔ اس کے نتیجہ میں انھوں نے مسئلے پر دوبارہ غور کیا، اور نئے بہتر فیصلے تک پہنچے۔ حالات کا مطالعہ بتاتا ہے کہ دباؤ (pressure) کی صورت پیش نہ آتی تو افراد اور گروہ دونوں کے لیے کوئی نیا فیصلہ لینا ممکن نہیں ہوتا۔
واپس اوپر جائیں

اللہ اکبر کا غلط استعمال

ایک نیو ز میڈیا میں آئی ہے۔ ٹائمس آف انڈیا، نیو دہلی کے الفاظ میں وہ نیوز یہ ہے:
Venice Mayor: Shout Allahu Akbar and you will be shot
Venice’s controversial mayor has declared that anyone shouting “Allahu akbar” in the city’s famous St Mark’s Square will be shot “after three steps”. Luigi Brugnaro also said the Italian city was safer than Barcelona, where terrorists killed 13 people this month. .. According to The Times, Brugnaro said: “We keep our guard up... If anyone runs into St Mark’s Square shouting Allahu akbar we will take him down... A year ago, I said after four steps. Now, after three.” Defending his remarks at a conference, he added: “I have never been politically correct, I am incorrect. I would shoot, we would shoot.” Concrete barriers have been installed in some of Italy’s most famous sites in the wake of the Barcelona atrocity. Major tourist attractions in Milan, Rome, Bologna and Turin are all stepping up security in pedestrianised areas. Italy has not suffered any attacks on its territory , but IS has warned that the country is on its hit list. (TOI, 29 August 2017, p. 18)
اس خبر کو دیکھ کر شاید کچھ مسلمان یہ کہیں گے کہ یہ اسلام کے خلاف مغرب کی دشمنی کا ایک مزید ثبوت ہے۔ مگر سوال یہ ہے کہ اسلام تو مغرب میں بہت پہلے سے ہے۔ مگر کبھی کسی مغربی لیڈر نے اس قسم کی بات نہیں کہی۔ اصل یہ ہے کہ یہ تاریخ میں پہلی بار ہے کہ مسلمانوں کے کچھ گروپ اسلام کے نام پر ملیٹینسی چلاتے ہیں۔ وہ اللہ اکبر کہہ کر لوگوں کے اوپر بم مارتے ہیں۔ ایسی حالت میں یہ ایک فطری بات ہے کہ لوگ یہ سمجھیں کہ’’اللہ اکبر‘‘ اپنے ماننے والوں کو وائلنس سکھاتا ہے، اور یہ ایک حقیقت ہے کہ وائلنس کی بات کرنے والوں کے لیے آج کی دنیا میں کوئی جگہ نہیں ہے۔
مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ اس واقعہ پر ری ایکٹ نہ کریں، بلکہ یہ سوچیں کہ اس کا سبب یہ ہے کہ اسلام کی امیج خراب ہوگئی ہے۔ آج مسلمانوں کا سب سے بڑا فرض یہ ہے کہ وہ سوچیںکہ اب ہمیں دوبارہ یہ امیج بنانا ہے کہ اسلام ایک پیس فل مذہب ہے۔ اس کے سوا اس مسئلے کا کوئی اور حل نہیں۔
واپس اوپر جائیں

فساد فی الارض

قرآن کی سورۃ البقرۃ میں ایک کردار کو ان الفاظ میںبیان کیا گیا ہے:وَإِذَا قِیلَ لَہُمْ لَا تُفْسِدُوا فِی الْأَرْضِ قَالُوا إِنَّمَا نَحْنُ مُصْلِحُونَ (2:11)۔ یعنی جب اُن سے کہا جاتا ہے کہ تم زمین میںفساد نہ کرو تو وہ کہتے ہیں کہ ہم تو اصلاح کرنے والے لوگ ہیں۔قرآن کی اس آیت میںجس کردار کا ذکر ہے اُس سے مراد وہ لوگ ہیں، جو بظاہر ایک اصلاحی مقصد کے لیے سرگرم ہوں، مگر اُن کا طریقہ درست نہ ہو۔ اُن کا طریقہ ایساہو جوعملاً فساد اور بگاڑ پیدا کرنے والا ہے۔ یہاں فساد سے مراد یہ ہے کہ اُن کے طریقہ کے نتیجے میںلوگوں میںباہمی ٹکراؤ پیدا ہو۔ لوگ ایک دوسرے سے نفرت کرنے لگیں۔ لوگوں کے اندر اخلاقی احساس کمزور ہوجائے۔ لوگوں کے اندر منفی نفسیات پیدا ہوں۔ اس قسم کی تمام چیزیں فساد فی الأرض کی حیثیت رکھتی ہیں۔ کیوں کہ اس سے سماجی امن ختم ہوتا ہے۔ یہاں تک کہ لڑائی اور ٹکراؤ کی نوبت آجاتی ہے۔
اس سے معلوم ہوا کہ کسی عمل کے درست ہونے کے لیے صرف یہ کافی نہیں کہ بظاہر وہ ایک اچھے مقصد کے لیے شروع کیا گیا ہو۔ اسی کے ساتھ لازمی طورپر یہ دیکھنا ہوگا کہ اصلاح کے نام پر کی جانے والی سرگرمیاں کس قسم کا نتیجہ پیدا کرتی ہیں۔ اگر وہ لوگوں کے درمیان نفرت اور تناؤ اورلڑائی جیسی چیزیں پیدا کریں تو بظاہر اصلاح کا نام لینے کے باوجود اُن کی سرگرمیاں مفسدانہ سرگرمیاں ہی کہی جائیں گی۔ ایسے لوگ انسانیت کے مجرم قرار پائیں گے ،نہ کہ انسانیت کے مصلح اور خادم۔
کوئی بھی اصلاحی کام صرف اُس وقت اصلاحی کام ہے، جب کہ وہ امن او ر انسانیت کے دائرہ میںکیا جائے۔ اصلاح کے نام پر کیا جانے والا ہر وہ کام غلط ہے، جو سماجی امن کو درہم برہم کرے۔ جس کے نتیجہ میں جان اورمال کی تباہی ظہورمیں آئے۔ اصلاح کو اپنے نتیجہ کے اعتبار سے بھی اصلاح ہونا چاہیے۔ جو اصلاح اپنے نتیجہ کے اعتبار سے فساد ہو، وہ اپنی حقیقت کے اعتبار سے بھی فساد ہے، خواہ اُس کو کتنا ہی زیادہ خوب صورت الفاظ میں بیان کیا گیا ہو۔
واپس اوپر جائیں

اجتماعی زندگی کا ایک اصول

پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے مدنی دور میں صحابی ولید بن عقبہ اور بنو مصطلق کی نسبت سے ایک واقعہ پیش آیا (اس واقعہ کےلیے دیکھیں تفسیر ابن کثیر، تفسیر مظہری، وغیرہ) ۔اس واقعہ کے بعد قرآن میں مندرجہ ذیل آیت اتری جس میں اجتماعی زندگی کا ایک رہنما اصول بتایا گیا ہے۔ وہ آیت یہ ہے: یَا أَیُّہَا الَّذِینَ آمَنُوا إِنْ جَاءَکُمْ فَاسِقٌ بِنَبَإٍ فَتَبَیَّنُوا أَنْ تُصِیبُوا قَوْمًا بِجَہَالَةٍ فَتُصْبِحُوا عَلَى مَا فَعَلْتُمْ نَادِمِینَ (49:6)۔
ا س آیت میں بتایا گیا ہے کہ صرف سنی ہوئی بات پر کوئی اقدام نہ کیا جائے۔ کیوں کہ سنی ہوئی بات اکثر اصل واقعہ کا محرف بیان (distorted version) ہوتی ہے۔ اگر آپ صرف سن کر کسی بات کو مان لیں تو عین ممکن ہے کہ آپ کا رد عمل نادانی کا عمل ہو۔ اس لیے ضروری ہے کہ بات کو سننے کے بعد اس کی باقاعدہ تحقیق (scrutiny)کی جائے، اور پھر اس کے بارے میں کوئی رائے قائم کی جائے۔ ایسا کرنے کی صورت میں آپ اُس معاملہ میںصحیح رسپانس (response) دے پائیں گے۔
اجتماعی زندگی کےلیے یہ ایک اہم اصول ہے۔ ایسا نہ کرنے کی صورت میں یہ ہوگا کہ معاشرہ بگاڑ کا معاشرہ بن جائے گا— سن کر مان لینے کا نتیجہ یہ ہوگا کہ پہلے غلط فہمی پیدا ہوگی۔ اس کے بعد شکایت اور نفرت کا سلسلہ جاری ہوجا ئے گا۔ عمل اور ردعمل(reaction) کے نتیجے میں یہ سلسلہ بڑھتا رہے گا، یہاں تک کہ وہ بریک ڈاؤن (breakdown )تک پہنچ جائے گا۔
اس لیے ضروری ہے کہ سنی ہوئی بات کی بے لاگ انداز میں تحقیق کی جائے۔ تحقیق کے تقاضے کو پورا کیے بغیر کوئی رائے قائم نہ کی جائے۔ کسی بھی حال میں رد عمل کا طریقہ اختیار نہ کیا جائے۔ اس طرح کے معاملے میں جو روش اختیار کی جائے، وہ جذبات پر مبنی نہ ہو،بلکہ وہ حقیقت واقعہ پر مبنی ہو۔
واپس اوپر جائیں

بڑا فتنہ

پیغمبر اسلام کی طرف منسوب کرکے ایک روایت اس طرح آئی ہے: الامام الجائر خیر من الفتنۃ (ادب الدنیا و الدین للماوردی، صفحہ 219)۔ یعنی ظالم حکمراں فتنہ سے بہتر ہے۔یہاں ظالم سے مراد حقیقی ظالم نہیں ہے، بلکہ وہ حاکم ہے جس کو کچھ لوگ ظالم سمجھ لیں، اور ان کے خلاف لڑائی چھیڑ دیں۔ حکمراں سے لڑائی کوئی سادہ بات نہیں۔ یہ واقعہ اس وقت ہوتا ہے، جب کہ کچھ لوگ کسی حاکم کے خلاف شکایات کو لے کر اس کو ظالم بتائیں، اور ظالم کے ظلم کو ختم کرنے کے نام پر اس سے لڑائی چھیڑ دیں۔
ظاہر ہے کہ حاکم جب اپنے آپ کو خطرے میں محسوس کرے گا تو وہ اس کو مٹانے کے لیے اپنی پوری طاقت لگا دے گا۔ اس طرح یہ ہوگا کہ جو چیز پہلے صرف بظاہر ظلم تھی، وہ اب جنگ و قتل کی صورت اختیار کر لے گی۔ لوگ مارے جائیں گے، لوگ پکڑے جائیں گے، لوگوں کی آزادیاں چھینی جائیں گی، لوگوں کے اوپر نئی نئی پابندیاں عائد کی جائیں گی۔ مثلاً اگر وہ مسجد میں حاکم کے خلاف اپنی سرگرمیاں جاری کیےہوئے تھے، تو مسجد پر پابندی لگے گی،لوگ کتابوں میں حاکم کے خلاف باتیں چھاپ رہے تھے تو ایسی کتابیں ضبط کی جائیں گی۔ لوگ اگر جمعہ کے خطبے میں اس قسم کی باتیں کریں گے تو حکومت جمعہ کے خطبے کو اپنےچارج میں لے لے گی۔ اس طرح ظلم کے خلاف تحریک عملاً کاؤنٹر پروڈکٹو ثابت ہوگی۔ چھوٹے ظلم کے بعد بڑا ظلم پیدا ہوگا۔ لوگوں کی آزادیوں پر پابندی لگے گی۔ ظلم کے جواب میں تشدد پیدا ہوگا۔ اس لیے صحیح طریقہ یہ ہے کہ اگر کسی کو نظر آئے کہ حاکم ظلم کر رہا ہے تو وہ اس کے مقابلے میں صبر کی پالیسی اختیار کرے۔ وہ یا تو اس معاملے میں بالکل خاموش رہے، یا اگر وہ کچھ کہنا چاہتا ہے تو وہ ہر گز جوابی تحریک نہ چلائے، بلکہ تنہائی میں حکمراں سے مل کو اس کو نصیحت کرے۔ اس سے زیادہ کچھ کرنا ظلم میں اضافہ کے ہم معنی ہے۔
واپس اوپر جائیں

فوکس کو سمیٹنا

موجودہ زمانے میں مسلمانوں کے اندر بہت سی تحریکیں اٹھیں۔ یہ تحریکیں مثبت معنوں میں کوئی نتیجہ خیز کام نہیں کرسکیں۔ اس کا ایک سبب یہ تھا کہ تقریباً ہر ایک نے اپنے فوکس کو پھیلایا۔ انھوں نے جامعیت کے غلط تصور کے تحت بہت سے کاموں کو اپنے دائرے میں لے لیا۔ یہ کام کا صحیح طریقہ نہیں۔ کام کا صحیح طریقہ یہ ہے کہ فوکس کو سمیٹا جائے۔صرف فوکس کو سمیٹنے کی شکل میں کوئی بڑا کام ہوسکتا ہے۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے دور آخر کے لیے اہل ایمان کو یہ نشانہ دیا تھا، جب کہ آپ نےکہا تھا: لا یبقى على ظہر الأرض بیت مدر، ولا وبر إلا أدخلہ اللہ کلمة الإسلام (مسند احمد، حدیث نمبر 23814 ) ۔ یعنی روئے زمین پر کوئی چھوٹا یا بڑا گھر باقی نہیں بچے گا، مگر اللہ اس میں اسلام کے کلمہ کو داخل کردے گا۔اس حدیث میں ادخال کلمہ سے مراد عملاً ادخال قرآن ہے۔ یعنی قرآن کو ہر گھر میں اور ہر انسان تک پہنچایا جائے۔ گھر سے مراد رہائش گاہ نہیں ہے، بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ ہر تعلیم گاہ، ہر لائبریری ، ہر ادارہ،ہر ہوٹل، وغیرہ میں اس کو پہنچادینا۔
یہ حدیث بظاہر دور آخر کےلیے ہے، جب کہ کمیونی کیشن کا زمانہ آجائے۔ قرآن کو ہر زبان میں ترجمہ کرکے اس کو ہر گروہ کی قابل فہم زبان (understandable language) میں پہنچانا ممکن ہوجائے، خواہ پرنٹ ایڈیشن کے ذریعہ ہو یا الیکٹرانک ایڈیشن کے ذریعہ۔ مسلمان لمبے عرصے سے پولیٹکل ایمپائر کا خواب دیکھ رہے ہیں۔ اب وقت آگیا ہے کہ فوکس کو سمیٹا جائے، اور صرف ایک کام کو اپنا فوکس بنایا جائے، اور وہ ہے قرآن کے اشاعتی ایمپائر کا قیام۔ جیسا کہ عیسائیوں نے ویٹیکن کو بائبل کا اشاعتی ایمپائر بنا دیا ہے۔ دعوت کے پہلو سے اسلام کا نشانہ کنورزن یا پولیٹکل غلبہ نہیں ہے۔ بلکہ صرف پرامن طور پر ابلاغ (پہنچادینا) ہے۔ داعی کا کام پہنچا دینا ہے۔ اس کے بعد یہ مدعو کا معاملہ ہے کہ وہ اس کو قبول کرتا ہے یا نہیں۔قرآن میں یہ حکم 20 سے زائد مقامات پر ذکر کیا گیا ہے۔ان میں سے ایک یہ ہے:مَا عَلَى الرَّسُولِ إِلَّا الْبَلَاغُ (5:99)۔
واپس اوپر جائیں

علمی انداز، صحافتی انداز

قرآن میں ایک معاملے کو ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے: اللہ اس سے نہیں شرماتا کہ بیان کرے مثال مچھر کی یا اس سے بھی کسی چھوٹی چیز کی۔ پھر جو ایمان والے ہیں، وہ جانتے ہیں کہ وہ حق ہے ان کے رب کی جانب سے۔ اور جو منکر ہیں وہ کہتے ہیں کہ اس مثال کو بیان کرکے اللہ نے کیا چاہا ہے۔ اللہ اس کے ذریعہ بہت سے لوگوں کو گمراہ کرتا ہے اور بہت سے لوگوں کو اس سے راہ دکھاتا ہے۔ اور وہ گمراہ کرتا ہے ان لوگوں کو جو نافرمانی کرنے والے ہیں (2:26)۔
قرآن میں کسی معاملے کو واضح کرنے کے لیے مچھر اور مکڑی کی مثال دی گئی۔ اس کو دیکھ کر منکرین نے اس کا مذاق اڑایا۔ انھوں نے کہا کہ یہ کیسا قرآن ہے، جس میں مچھر اور مکڑی کی مثال دی جاتی ہے۔ اس کے جواب میں کہا گیا کہ یہ مت دیکھو کہ جو مثال دی گئی ہے، وہ کس چیز کی مثال ہے،بلکہ اس میں جو سبق ہے، اس سبق کو دیکھو۔
یہ واقعہ قدیم زمانے کے منکرین کا ہے۔ موجودہ زمانے میں بھی اس واقعہ کو دیکھا جاسکتا ہے۔ فرق صرف یہ ہے کہ موجودہ زمانے میں الفاظ بدل گئے ہیں۔ ذہن وہی ہے، البتہ وہ مختلف الفاظ میں ظاہر ہوتا ہے۔ مثلاً موجودہ زمانے میں آپ کسی سے ایک سچائی کی بات کہیں گے، تو وہ کہے گا کہ آپ کا اسلوب تو صحافتی اسلوب ہے۔ آپ کو چاہیے کہ جو بات کہیں ، علمی اسلوب میں کہیں۔ تب آپ کی بات میں وزن ہوگا۔
کوئی بات خواہ وہ بظاہر مذہبی ہو یا سیکولر اس کو بیان کرنے کے لیے بیان کرنے والا ایک اسلوب اختیار کرتا ہے۔ اس اسلوب میں دیکھنے کی بات یہ ہے کہ اس میں کتنا وضوح (clarity) ہے، وہ کتنا زیادہ انسانی ذہن کو ایڈریس کرتا ہے، اس میں سبق کا پہلو کتنا ہے۔ کسی بات کے سلسلے میں اصل اہمیت سبق کی ہے، نہ کہ کسی دوسری چیز کی۔اسلوب ہمیشہ اضافی ہوتا ہے، اور معنویت ہمیشہ حقیقی۔
واپس اوپر جائیں

اختلاف ایک رحمت

کائنات پر غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ کائنات کے مختلف اجزاء میں بہت زیادہ تنوع (diversity) پایا جاتا ہے۔ اس کے باوجود کائنات میںکامل توافق (harmony) موجود ہے۔ اس اعتبار سےکائنات ایک ماڈل ہے کہ کس طرح یہ ممکن ہے کہ کامل اختلاف کے باوجود آپس میں کامل اتحاد پایا جائے۔
انسانوں کے درمیان بھی اسی طرح اختلاف یا تنوع موجود ہے۔ مگر یہاں عملاً برعکس صورت حال پائی جاتی ہے۔ انسانوں کے درمیان اختلاف کی بنیاد پر ٹکراؤ ہے۔ اس کے نتیجہ میں انسانی سماج میں نفرت اور تشدد، یہاں تک کہ جنگ کی صورت حال پیدا ہوجاتی ہے۔ کائنات کے دو حصوں میں یہ فرق کیوں۔ مادی حصۂ کائنات میں اختلاف کے باوجود اتحاد پایا جاتا ہے۔ جب کہ انسانی دنیا میں اختلاف لوگوں میں ٹکراؤ کا سبب بن جاتا ہے۔ اس کا سبب یہ ہے کہ انسان اپنی خواہش پر چلتا ہے،کائنات کے ماڈل کو وہ نہیں اپناتا۔
کائنات کا ماڈل خالق کے تخلیقی منصوبہ پر مبنی ہے۔ خالق کی منشا کے مطابق مادی دنیا میں مختلف اجزاء کے متحد اور متوافق عمل سے اعلیٰ نتائج پیدا ہوتے ہیں۔ یہ ماڈل گویا ایک مظاہرہ ہے، جو بتاتا ہے کہ انسان بھی اسی یونیورسل ماڈل کو اختیار کرے۔ فطرت کے ماڈل کو اختیار کرنے ہی میں انسان کی اعلیٰ ترقی کا راز چھپا ہوا ہے۔
خالق نے انسان کو تنوع کے اصول پر پیدا کیا ہے۔ ہر عورت اور ہر مرد کے اندر الگ الگ صفات (qualities) پائی جاتی ہیں۔ لوگوں کو چاہیے کہ وہ اس مبنی بر تنوع تخلیق (diversity-based creation)کو دریافت کریں۔ وہ اس تنوع سے ٹکرانے کے بجائے اویل (avail) کرنے کا آرٹ سیکھیں۔ اس طرح انسان کے تمام معاملات اسی طرح درست طور پر قائم ہوجائیں گے، جیسا کہ کائنات کے بقیہ حصہ کے معاملات قائم ہیں۔ (سور ۃ اللیل آیت4 کا سبق)
واپس اوپر جائیں

عیب کا تحفہ

حضرت عمر فاروق ایسے انسان کو بہت پسند کرتے تھے، جو ان کو ان کی غلطی سے آگاہ کرے۔ اس سلسلےمیں ان کا ایک قول ان الفاظ میں نقل ہوا ہے: رحم اللّٰہ امرأً أہدى إلی عُیوبی (مرآة الزمان فی تواریخ الأعیان، 5/389)۔ یعنی اللہ اس انسان پر رحم کرے، جو مجھ کو میرے عیب کا تحفہ بھیجے۔
یہاں عیب سے مراد غلطی ہے۔ اگر کسی انسان سے کوئی غلطی ہوجائے، اور اس پروہ متنبہ نہ ہوسکے تو ووسرے انسان کا یہ فرض ہے کہ وہ خیرخواہی کے جذبہ کے ساتھ اس کی غلطی کی نشاندہی کرے۔ بتانے والا خیرخواہی کے ساتھ بتائے، اور سننے والا شکریہ کے ساتھ اس کو قبول کرے۔ جس سماج کے لوگوں میں یہ اسپرٹ ہو، وہ سماج ہمیشہ ترقی کرے گا۔ ایسے سماج کو کوئی چیز ترقی سے روکنے والی نہیں۔ غلطی کی نشاندہی ایک مثبت عمل ہے۔ یہ عمل فطری انداز میں ہونا چاہیے۔اس عمل کی صحیح اسپرٹ یہ ہے کہ نشاندہی کرنے والے کے اندر بڑائی کا جذبہ نہ ہو، اور جس انسان کو اس کی غلطی بتائی گئی ہے، وہ اس کو وقار کا مسئلہ نہ بنائے۔اس اسپرٹ کے ساتھ جب یہ کام کیا جائے تو یقینا ًغلطی کی نشاندہی ایک تحفہ کا معاملہ بن جائے گا۔
غلطی کی نشاندہی تحفہ کیوں ہے۔ وہ آدمی کو اس کی بھلائی کی طرف رہنمائی کرنے والا معاملہ ہے۔ غلطی کی نشاندہی کا مطلب یہ ہے کہ ایک شخص اپنے بھائی سے یہ کہے کہ تمھاری فلا ں عادت تمھاری ترقی میں رکاوٹ ہے، تم اپنے آپ کو اس عادت سے بچاؤ۔ تاکہ تمھاری ترقی کسی رکاوٹ کے بغیر جاری رہے۔ اکثر ایسا ہوتا ہے کہ آدمی کو اپنی غلطی دکھائی نہیں دیتی۔ ایسی حالت میں جو انسان اس کی غلطی سے باخبر ہو، اس کو چاہیے کہ وہ خیرخواہی کے جذبے کے ساتھ یہ بات اس کو بتائے۔ خیر خواہی کی علامت یہ ہے کہ آدمی اس معاملہ میں اتنا زیادہ سنجیدہ ہو کہ وہ اپنے ساتھی کی اصلاح کے لیے دعا کرنے لگے۔
واپس اوپر جائیں

مثبت فکر

دور اول کے مسلمانوں نے جو بے نظیر کامیابی حاصل کی اس کا سب سے بڑا راز یہ تھا کہ ان میں کا ہر فرد مکمل معنوں میں مثبت سوچ (positive thinking) کا مالک تھا۔ وہ ،قرآن کے مطابق عسر میں یسر کا پہلو تلاش کر لیتا تھا۔ وہ بظاہر شکست کے واقعہ میں فتح کا راز دریافت کر لیتا تھا۔ اس کے لئے پوری دنیا اپنی تمام وسعتوں کے ساتھ مثبت خوراک کا دستر خوان بن گئی تھی۔ مسلمانوں کا یہی مزاج تقریباً ہزار سال تک جاری رہا۔ انیسویں صدی میں جب مسلم سلطنتیں اہل مغرب کے ہاتھوں ٹوٹ گئیں تو اس کے بعد جو مسلم رہنما اٹھے وہ رد عمل کی نفسیات میں مبتلا ہو چکے تھے۔انہوں نے دور جدید کی مسلم نسلوں کو احتجاجی ذہن میں مبتلا کر دیا۔ ساری دنیا کے مسلمان ، خواص اور عوام دونوں احساس محرومی (persecution complex) میں مبتلا ہوگئے۔ اس نازک تاریخی موقع پر مسلم رہنمائوں کی اس غلطی کا نتیجہ یہ ہوا کہ مسلمان اس نفسیاتی پیچیدگی میں مبتلا ہوگئے جس کو انگریزی میں پیرا نوئیا(paranoia)کہاجاتاہے۔
قرآن میں بتایا گیا ہے کہ لوگوں کا حال یہ ہے کہ وہ گمراہی کا راستہ دیکھیں تو وہ اس کو اختیار کر لیںگے اور اگر وہ فلاح کا راستہ دیکھیں تو وہ اس کو اختیار نہ کریں گے (الاعراف 7:146)۔ اس کو دوسرے لفظوں میں یوں کہا جاسکتا ہے کہ لوگ منفی پکار کی طرف تیزی سے دوڑتے ہیں، مگر مثبت پکار کی طرف وہ اس طرح نہیں دوڑتے۔ اس کا سبب یہ ہے کہ منفی کلام حال کی زبان میں ہوتا ہے اور مثبت کلام ہمیشہ مستقبل کی زبان میں ، اور تاریخ کا تجربہ یہ ہے کہ مستقبل کی زبان سمجھنے والے ہمیشہ بہت تھوڑے ہوتے ہیں اور حال کی زبان سمجھنے والے ہمیشہ بہت زیادہ۔
اس دنیا میں ہر قسم کی ناکامیوں کا راز منفی طرز فکر ہے اور ہر قسم کی کامیابی کا راز مثبت طرز فکر۔ منفی طرز فکر ہر قسم کی دینی اور اخلاقی برائیوں کا سر چشمہ ہے اور مثبت طرز فکر اس کے مقابلے میں ہر قسم کے دینی اور دنیوی خیر کا سر چشمہ ۔
واپس اوپر جائیں

آج کی نوجوان نسلیں

موجودہ زمانے کے نوجوانوں کا مسئلہ صرف ایک ہے، اور وہ یہ کہ ان کے ذہن میں کچھ مثبت سوالات ہیں۔ مگر ہمارے رہنما ان سوالات کے جوابات منفی انداز میں پیش کررہے ہیں۔ یہ ایک تضاد کی صورت حال ہے، اور یہی تضاد آج کے نوجوانوں کا اصل مسئلہ ہے۔ آج کا نوجوان بھٹکا ہوا نوجوان نہیں ہے، بلکہ وہ متلاشی (seeker) نوجوان ہے۔
بے لاگ تجزیہ بتاتا ہے کہ آج کل کے نوجوانوں کا اصل مسئلہ یہ ہے کہ ان کے بزرگوں نے ان کو یہ بتایا کہ دور جدید ایک مخالفِ مذہب دور ہے۔ اس سوچ کے تحت ہمارے بزرگوں نے نوجوانوں کو یہ ٹارگٹ دیا کہ وہ دور جدید کو بدلیں۔ اس بنا پر ہماری کئی نسلیں خود ساختہ نظریہ کے تحت دور جدید سے لڑتی رہیں۔ لیکن عملاً ان کو ناکامی کے سوا کچھ اورنہیں ملا۔
اس مسئلے کا حل صرف ایک ہے، اور وہ یہ کہ ہمارے بزرگ کھلے طور پر اعتراف کریں کہ ان کی نشاندہی غلط تھی۔ وہ اعلان کریں کہ دور جدید جو سائنس کی دریافتوں کے تحت بنا ہے، وہ ایک موافق مذہب دور تھا، لیکن ہمارے بزرگوں نے خلاف واقعہ طور پر اس کو مخالف مذہب دور کی حیثیت دے دی، اور ہماری جدید نسل نےبے فائدہ طور پر اس کے خلاف نظری یا عملی جنگ چھیڑ دی۔ اس کے نتیجہ میں مایوسی کے سوا ان کو کچھ اور نہیں ملا۔
اب کرنے کا کام صرف یہ ہے کہ آج کے نوجوانوں کو یہ بتایا جائے کہ جدید دور ایک موافق مذہب دور ہے۔ جدید تہذیب ایک موافق مذہب تہذیب ہے۔ جدید دور نے ہمارے لیے نئے مواقع کھول دیے ہیں، جن کو اویل کرکے ہم تاریخ کی سب سے بڑی کامیابی حاصل کرسکتے ہیں۔ مثلا قدیم دور توہمات کا دور تھا، آج کا دور حقائق کا دور ہے۔ قدیم دور جبر کا دور تھا، آج کا دور آزادی کا دور ہے، وغیرہ۔ یہی وہ مقام ہے جہاں سے ہم نوجوانوں کو ایک نیا امید سے بھرا آغاز دے سکتے ہیں۔
واپس اوپر جائیں

وقت کا استعمال

ایک حدیث رسول ہے۔اس کا ترجمہ یہ ہے: اگر تم دیکھو کہ قیامت آگئی، اور تمھارے ہاتھ میں ایک پودا ہے، تو اس کو فوراً زمین میں گاڑ دو ( فلیغرسہا )۔مسند البزار، حدیث نمبر7408۔ اس حدیث رسول میں، ایک مثال کی صورت میں وقت کی اہمیت کو بتایا گیا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ وقت اتنا زیادہ قیمتی ہے کہ اگر تمھارے پاس وقت (time) کا ایک لمحہ (moment) ہو تب بھی ضرور اس کو استعمال (avail) کرو، تمھارا کوئی وقت غیر استعمال شدہ (unavail)نہ رہ جائے۔ تمھاری کوشش یہ ہونی چاہیے کہ وقت کا ہرلمحہ تمھارے لیے ایک کار آمد لمحہ بن جائے۔
مولانا شبلی نعمانی(1857-1914) نے 1892 میں ایک بحری سفر کیا تھا۔ اس سفر میں انڈیا سے نہر سوئز تک پروفیسر ٹی ڈبلیو آرنلڈ (1864-1930) ان کے ساتھ تھے۔ مولانا شبلی نے اپنی کتاب سفرنامہ روم و مصر و شام میں لکھا ہے کہ سفر کے دوران ایک بار سمندر میں سخت طوفان آگیا۔ ایسا معلوم ہوتا تھا کہ جہاز ڈوب جائے گا۔ اس وقت مولانا شبلی پروفیسر آرنلڈ کے کیبن میں گئے۔ انھوں نے دیکھا کہ پروفیسر آرنلڈ خاموشی کے ساتھ ایک کتاب پڑھ رہے ہیں۔ مولانا شبلی نے کہا کہ جہاز ڈوبنے والا ہے ، اور آپ کتاب پڑھ رہے ہیں۔ پروفیسر آرنلڈ نے اطمینان کے ساتھ جواب دیا کہ میں چاہتا ہوں کہ زندگی کا جو لمحہ باقی ہے، اس کو میں استعمال کرلوں۔
وقت سب سے بڑا سرمایہ ہے۔ مگروقت ہر لمحہ بھاگ رہا ہے۔ زمین کے سفر کی رفتار ایک ہزار میل فی گھنٹہ ہے۔ اس کے مقابلے میں روشنی کی رفتار ایک لاکھ چھیاسی ہزار میل فی سکنڈ ہے۔ وقت کی رفتار اس سے بھی زیادہ ہے۔ مزید یہ کہ جو وقت چلا گیا، وہ دوبارہ واپس آنے والا نہیں۔ جس آدمی کو اس حقیقت کا احساس ہو، وہ وقت کا ایک لمحہ بھی ضائع نہیں کرے گا۔ وہ چاہے گا کہ وہ دوڑتے ہوئے وقت کو پکڑے۔ وقت کو استعمال کیے بغیر اس کو ہرگز آگے نہ بڑھنے دے۔ ایسے ہی لوگ اپنی زندگی کو کارآمد بناتے ہیں۔ ایسے ہی لوگ کوئی بڑا کام کرنے میں کامیاب ہوتے ہیں۔
واپس اوپر جائیں

غصہ کا مثبت پہلو

غصہ کو عام طور پر ایک منفی ظاہرہ سمجھا جاتا ہے۔ لیکن غصہ کا ایک مثبت پہلو ہے۔ آدمی اگر غصہ کے وقت بے صبر ہوجائے تو غصہ اس کے لیے نقصان کی چیز بن جاتا ہے۔ لیکن آدمی اگر غصہ کے وقت خود کوکنٹرول کرے تو غصہ اس کے لیے ایک مثبت عمل بن جائے گا۔ غصہ اجتماعی زندگی کا ایک ظاہرہ ہے۔ آدمی اگر تنہائی کی زندگی گزاررہا ہو تو اس کو غصہ نہیں آئے گا۔ غصہ اس وقت آتا ہے جب کہ آدمی دوسروں کے درمیان ہو، اور دوسروں کی کوئی بات اس کو پسند نہ آئے ۔ اس وقت اس کے اندر غصہ بھڑکتا ہے۔ لیکن غصہ اپنی ذات میں کوئی برائی نہیں۔ غصہ اس وقت بری چیز بن جاتا ہے، جب کہ آدمی غصہ کے وقت ردعمل کا شکار ہوجائے۔ وہ غصہ کو مینج کرنے میں ناکام رہے۔
غصہ ایک فطری ظاہرہ ہے۔غصہ کسی آدمی کے لیے ایک شاکنگ تجربہ ہوتا ہے۔ جب کسی آدمی کو غصہ آتا ہے تو فطری طور پر اس کے اندر سے بڑی مقدار میں اینگر انرجی (anger energy) خارج ہوتی ہے۔ غلط یہ ہے کہ آدمی اپنی اینگر انرجی کو مینج نہ کرسکے۔ لیکن اگر آدمی اپنے اینگر انرجی کو مینج کرسکے تووہ اس کی فکری طاقت میں اضافہ کا ذریعہ بن جائے گی۔
جب کسی بات پر آدمی کو غصہ آتا ہے تو اس کے اندر سوچنے کا عمل (thinking process) بہت تیز ہوجاتا ہے۔ یہ ظاہرہ اس کی فکری طاقت کو بہت بڑھا دیتا ہے۔ وہ زیادہ گہرائی کے ساتھ سوچنے کے قابل ہوجاتا ہے۔اس کی قوت فیصلہ بہت بڑھ جاتی ہے۔ اس کی کارکردگی کی طاقت میں بہت اضافہ ہوجاتا ہے۔ اس کے اندر چھپی ہوئی توانائی شدت کے ساتھ جاگ اٹھتی ہے۔ اس کے دماغ کی بند کھڑکیاں کھل جاتی ہیں۔ وہ زیادہ گہرائی کے ساتھ سوچنے کے قابل ہوجاتا ہے۔جب غصہ آئے تو صرف یہ کیجیے کہ چپ ہوکر سوچنا شروع کردیجیے، او ر اس کے بعد فطری طور پر ایسا ہوگا کہ غصہ کے وقت ریلیز ہونے والی اینگر انرجی مثبت انرجی بن جائے گی۔
واپس اوپر جائیں

ذہنی سکون

زندگی میں سب سے پہلا سوال یہ ہے کہ انسان کے لئے سپریم چیز کیا ہے۔ میں اپنے تجربے کے مطابق کہہ سکتا ہوں کہ کسی انسان کے لئے سپریم چیز پیس آف مائنڈ ہے۔ کسی انسان کے لئے سپریم چیز نہ تو مَنی (money)ہے، نہ فیم (fame) ہے، نہ پاور (power)ہے، اور نہ شہرت (popularity) ۔ کسی انسان کے لئے سپریم یافت وہی چیز ہوسکتی ہے جو اس کو فل فل مینٹ (fulfillment)دے۔ اور تجربہ یہ ثابت کرتا ہے کہ پیس آف مائنڈ کے سوا کوئی اور چیز انسان کو فل فل مینٹ نہیں دیتی۔
پیس آف مائنڈ (peace of mind)کی یہ اہمیت کیوں ہے۔ اس کا سبب یہ ہے کہ پیس آف مائنڈ انسان کی نیچر کے مطابق ہے۔ انسان اپنی فطرت (nature) کے مطابق یہ چاہتا ہے کہ وہ آخری حد تک اپنے آپ کو مطمئن بنا سکے۔ مگر کسی انسان کو اطمینان صرف داخلی اچیومینٹ (achievement)پر ہوسکتا ہے، خارجی اچیومینٹ پر نہیں۔ اسی داخلی یافت کا دوسرا نام انٹلکچول ڈیولپمنٹ یا اسپریچول ڈیولپمنٹ ہے۔
امریکی دولت مند بل گیٹس (Bill Gates)نے ڈالر کے بارے میں اپنے تجربے کو ان الفاظ میں بیان کیا:
Once you get beyond a million dollars, it’s the same hamburger!
بل گیٹس نےجو بات ڈالر کے بارےمیں کہی ہے، وہی بات ہر خارجی اچیومینٹ کے لئے درست ہے۔ یہ خارجی اچیومینٹ خواہ دولت ہو، یا بزنس ہو، یا شہرت (fame)ہو، یا پولٹیکل پاور ہو، یا اور کوئی مادی چیز ہو۔ایسی حالت میں انسان کو چاہئے کہ وہ پیس آف مائنڈ کا فارمولا دریافت کرے۔ اور یہ مقصد صرف انٹلکچول ڈیولپمنٹ کے ذریعہ حاصل ہوسکتاہے— یعنی مطالعہ اورتفکر (contemplation) کے ذریعہ۔
واپس اوپر جائیں

خبرنامہ اسلامی مرکز — 257

قرآن کی عالمی اشاعت: سی پی ایس انٹرنیشنل کی یہ کوشش ہے کہ قرآن کے ترجمے اور دعوہ لٹریچر ہر زبان میں شائع کیے جائیں۔ تاکہ ہر انسان تک خدا کی بات اس کی قابل فہم زبان میں پہنچ سکے۔ اس کوشش کے نتیجہ میں ہندستان کی علاقائی زبانوں اور بین الاقوامی زبانوں میں قرآن کے ترجمے شائع ہو رہے ہیں۔ جن نیشنل زبانوں میں قرآن کے ترجمے شائع ہوچکے ہیں وہ یہ ہیں: ہندی (اردو داں طبقہ کے لیے)، ہندی (ہندی داں طبقہ کے لیے)، کنڑ، گجراتی، پنجابی، تیلگو، ملیالم، تامل، اردو، اور بنگلہ (طباعت کے مرحلہ میں)۔ نیز جن بین الاقوامی زبانوں میں ترجمے ہوئے ہیں، وہ یہ ہیں: انگلش، فرنچ، جرمن، ڈچ، اٹالین، اسپینش، رشین، پرتگیز، چائنیز، پولش اور نابینا لوگوں کے لیے بریل ترجمہ۔ خواہش مند، حضرات، جو قرآن کے عالمی اشاعت کا حصہ بننا چاہتے ہیں ، وہ گڈ ورڈبکس، یا سی پی ایس انٹر نیشنل (ای میل info@cpsglobal.org:) سے رابطہ قائم کریں۔
ایک خط: السلام علیکم، میرا نام زبیر ہے، میں افغانستان سے تعلق رکھتا ہوں۔ میرے بڑے بھائی، مولاناعبدالغفور پیروز کو دہشت گردوں نے مار ڈالا۔ انھوں نے صدر اسلامی مرکز کی تفسیر تذکیر القرآن کا مقامی زبان میں ترجمہ کیا ہے۔ یہ تفسیر ابھی تک طبع نہیں ہوئی ہے۔ مرحوم مولانا نے اللہ اکبر کا بھی ترجمہ کیاتھا، اور وہ مطبوع ہے۔ تفسیر بہت ضخیم ہے۔ آپ اسے چھاپیں اور ہمارے پاس بھیج دیں۔ ہمارے ایک ساتھی جلال الرحمن شرر کچھ عرصہ پہلے مولانا صاحب سے مل چکے ہیں۔ صدر اسلامی مرکز کی پشتو زبان میں ترجمہ شدہ کچھ کتابیں بھی انھوں نے آپ لوگوں کو دی تھیں، جن میں ایک امن عالم کا پشتو ترجمہ بھی ہے۔ میں کابل میں رہتا ہوں۔ اللہ سے دعا کیجیے کہ وہ اسلام کے صحیح پیغام کو افغانستان میں پھیلانے کی توفیق دے۔ آمین
ایک تجربہ: میرے گھر کے ایک فرد کو کینسر کی بیماری کے آخری درجہ میں ناگپور کے Snehanchal Palliative Care Centre میں داخل کیا گیا۔ میں نے وہاں یہ دیکھا کہ کس طرح اس دواخانہ میں مریضوں کی خدمت آخری حد تک کی جاتی ہے۔ انھیں ہمت دی جاتی ہے۔ وہ انہیں ہر طرح سے مثبت طریقے سے سوچنے کے قابل بناتے ہیں، اور دن میں دو بار سارے مریضوں کے لئے اجتماعی Prayer کی جاتی ہے جس میں خدائے واحد سے سب کے لئے خیر کی دعائیں کی جاتی ہیں۔میں نے سوچا انہیں CPS کا لٹریچر دینا چاہیے۔ جسےان لوگوں نے بہت خوشی سے قبول کیا۔ ادارہ کے ڈائرکٹر مسٹر نوین دیشپانڈے صاحب سے تفصیلی بات ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ آپ لوگ یہ بہت اچھا کام کر رہےہیں۔ لیکن یہ کبھی نہیں سوچنا کہ یہ کام آپ لوگ کر رہے ہو۔ہم بھی اپنے کام کے بارے میں ایسا نہیں سوچتے۔بلکہ یہ سارے خیر کے کام ہمارا خدا کر رہا ہے۔اپنی خصوصی مدد کے ساتھ وہ ہمیں اس کام کے لئے استعمال کر رہا ہے۔یہی ہماری خوش نصیبی ہے۔ ایک اور خاص بات انھوںنے مولانا صاحب کی کتاب، ’موت کی یاد‘کا مراٹھی ترجمہ دیکھ کر کہا کہ اس کتاب کو یہاں کے ہر مریض کو دے دیا جائے، یہ سب کے کام کی کتاب ہے۔ اس پورےواقعے سے مجھے یہ سبق ملا کہ ہمارا رب اپنے پیغام کو ہر خاص وعام تک پہنچا کر رہے گا، اور ہر داعی کے ساتھ اس کی خصوصی مدد شامل حال ہے۔(ساجد احمد خان CPS ناگپور،[Mob. 8237006029] (
قرآن کا ایک تجربہ: 15 نومبر 2017کو میں سورت سے ممبئی کے لئے روانہ ہوا۔ ٹرین میں میرے پاس دوغیر مسلم بھائی بیٹھے ہوئے تھے۔ دونوں کی عمریں 25 سے 30 کے درمیان رہی ہوگی۔ دونوںپڑھے لکھے تھے ۔میں جب بھی سفر پر جاتا ہوں انگلش قرآن کی کاپی ساتھ رکھتا ہوں، لیکن بہت کم ہی دینے کی ہمت کر پاتا ہوں ۔ اس دن بھی میں نے چاہا کے میں انھیں قرآن دوں۔ لیکن ہمت نہ کر پایا کہ اچانک ٹرین میں ایک حادثہ پیش آیا، اور ٹرین رک گئی۔ لوگ اترکر مرنے والے کی فوٹو لینے لگے۔ لیکن ان میں کا ایک شخص وہیں بیٹھا رہا، اور افسوس کرنے لگا۔ جب اس کا ساتھی آکر اسے فوٹو دکھانے لگا تو اس نے منع کردیا کہ میرے اندر اس کو دیکھنےکی ہمت نہیں ہے۔ میں نے سمجھ لیا کہ یہ بھی میری طرح رقیق القلب ہے ۔تھوڑی دیر کے بعد میں نے اپنی بیگ سے قرآن نکالا، اور پڑھنا شروع کیا۔ کچھ دیر پڑھنے کے بعد میں نے اسے ہاتھ ہی میں رہنے دیا، اور اللہ سے دعا کرنے لگا کہ اے اللہ، مجھ میں تو ہمت نہیں ہے تو کچھ ایسا کر کہ وہ خود مجھ سے قرآن مانگے ،اور ایسا ہی ہوا۔ اس نے مجھ سے قرآن لیا، اور بہت دیر تک قرآن پڑھتا رہا۔ اس کے بعد اس نے مجھ سے کہا کہ یہ تو بہت ہی آسانی سے سمجھ میں آ رہا ہے، اور پھر وہ قرآن کی فوٹو لینے لگا کہ میں اسے آرڈر سے منگوا لوں گا۔ میں نے اسے کہا کہ آپ اسے رکھ لیں، میرے پاس دوسری کاپی موجود ہے۔ اس نے وہ کاپی شکریہ کے ساتھ رکھ لی، اور مجھ سے پوچھا کہ اسے پڑھنے سے پہلے مجھے کیا کرنا پڑے گا، یعنی کس طرح رسپیکٹ دینی ہوگی ۔جب اس نے یہ کہا تو میرے پاس ایک ہی جواب تھا : یہ آپ کے ایشور کی کتاب ہے، یہی سمجھ کر پڑھیں۔اس طرح سےہم دونوں جدا ہو کر اپنی اپنی منزل پر چلے گئے۔ دوسرے دن جب میں نے اپنا موبائل دیکھا تو اللہ کا شکر ادا کیا۔ اس نے ذیل کا میسج بھیجا تھا:
Good morning, heartily thanks for the Quran …Prashant Somani
مولانا، اللہ آپ کو جزائے خیر دے ۔ رحمت والے دین سے متعارف آپ نے کرایا اللہ کے بندوں سے محبت کرنا یہ ہمارے دین کی تعلیم ہے لیکن اس تعلیم کا حقیقی مفہوم ہم نے آپ سے سیکھا ۔اللہ اس دعوت کی ذمہ داری کو ادا کرنے کی ہمیں توفیق دے ۔آمین (محمد انس ندوی، سورت ،گجرات [Mob. 9898217134])
درس قرآن : صدر اسلامی مرکز ہر اتوار کو درس قرآن دیا کرتے ہیں۔ ان تقاریر کو سی پی ایس انٹرنیشنل کی ویب سائٹ (www.cpsglobal.org)سے ڈاؤن لوڈ کرکے سنا جاسکتا ہے۔ اس درس قرآن کو سننے کے بعد کچھ لوگوں نے اپنے تاثرات بیان کیے ہیں، وہ ذیل میں دیے جارہے ہیں:
■ آپ کے آج (5 نومبر 2017) کے درس قرآن (سورہ البقرۃ آیات 3-1) سے یہ واضح ہوا کہ اجتماعی معاملات میں پریکٹکل وزڈم کو مد نظر رکھا جائے، نہ کہ آئڈیل کو۔اس کے لئے ضروری ہے کہ آدمی رجل واق بن کر رہے، ورنہ وہ حصائد لسان کا شکار ہو کر رہ جائے گا ۔ دوسری بات یہ کہ ھدی للمتقین کو جس طرح آپ نے بالکل نئے انداز میں بتایا ہے، ایک عالم دین کی حیثیت سے میں یہ کہہ سکتا ہوں کہ ایسا اس سے پہلے میں نے نہیں سنا، نہ کسی اور لٹریچر یہ بات پڑھی ہے ۔آپ نے جب یہ کہا کہ رسول اللہ نے 13 سال تک کعبہ میں بتوں کی موجودگی پر کچھ نہیں کہا— اس جملہ سے مجھے رسول اللہ کا اصل مشن کیا تھا واضح ہوا۔ وہ یہ کہ رسول اللہ دراصل انسان کو خدا سے جوڑنے کے لیے آئے تھے۔ آپ کا اصل فوکس انسان کا داخلی شعور تھا۔ انسان کو خدا سے جوڑنے کے لیے آپ کو بھیجا گیا تھا۔ یہی وجہ تھی کہ آپ تیرہ سال تک مکہ میں رہے، مگرآپ نے کعبہ میں بتوں کی موجودگی پر کوئی ایکشن نہیں لیا۔ بلکہ انسان کو شعور کی سطح پر خدا کی عظمت میں جینے والا بنانے میں لگے رہے۔ جب یہ بات مجھے سمجھ میں آئی تو اس کے بعد یہ بات سمجھ میں آئی کہ بالکل یہی اسلوب، یہی مقصد الرسالہ مشن کا بھی ہے۔ میں نے مولانا، آپ کو رسول اللہ کے نقشِ قدم پر چلتے ہوئے پایا ہے۔ جب سے الرسالہ مشن سے جڑا ہوں، اور آپ کی باتوں کو سن رہا ہوں اور پڑھ رہا ہوں تو یہی مجھے لگا ہے۔
رہی درس قرآن سے متعلق بات تو مولانا، آپ نے جو درسِ قرآن کا سلسلہ شروع کیا ہے۔ اس بارے میں مَیںیہ کہنا چاہوں گا کہ میں خود ایک مدرسہ کا فارغ ہوں۔ لیکن آپ جس طرح سے قرآن کی آیات کو واضح کر تے ہیں اور اسے ہماری روحانی غذا بناتے ہیں، ایسا میں نے نہیں دیکھا۔دیگر علماء کی کوشش یہ ہوتی ہے کہ سلف نے جس طرح سے آیات کی تفسیر کی ہے، وہ امانت داری کے ساتھ ہم تک پہونچائیں، بس۔ اس سے زیادہ اور کچھ نہیں۔ لیکن آپ ان آیات کو دور جدید پر منطبق کرتے ہیں، اور اسے ہمارے لیے روحانی غذا بنادیتے ہیں۔ اس کا فائدہ یہ ہوتا ہے کہ اسلام ہمارے لیے ہمارے اسلاف کی وراثت نہیں لگتا، بلکہ وہ ہماری ڈسکوری بن جاتا ہے۔ گویا اسلام میری اپنی دریافت ہے، نہ کہ کسی دوسرے کی طرف سے ملا ہوا ایک ورثہ۔ یہی وجہ ہے کہ آپ کی باتیں سن کر پڑھ کر اسلام مزید نکھر کر آتا ہے، وہ ہمارے لیے مزید دلچسپی اور شوق کا دین بن جاتا ہے۔ ہمیں اس دن بہت خوشی ہوتی ہے جب کہ اسلام کی کوئی بات ڈسکور ہوجائے، اسلام کی کوئی بات ہماری روحانی غذا بن جائے۔ اللہ مجھے الرسالہ مشن پر ثابت قدم رکھے۔ اور زیادہ سے زیادہ اعلی معرفت حاصل کرنے کی توفیق دے تاکہ جنت میں اعلی درجہ مل سکے، آمین۔ (مولانا عبد الباسط عمری، قطر)
■ اتوار (12 نومبر 2017)کے درس قران میں مولانا نے سورۃ البقرۃ کی آیت :انی جاعل فی الارض خلیفۃ(2:30)میں خلیفہ کی جو تشریح کی وہ میرے لیے بالکل نئی ہے، اوراس آیت کو ایک نئے اندازسے سمجھنے پر ابھارتی ہے۔ اس سے پہلے یہ آیت میرے لئے بہت زیادہ غیر واضح تھی۔خلیفہ کا مفہوم بہت ہی معنی خیز ہے ۔اس سے پہلے میرے نزدیک سیاسی خلافت کا ہی تصور تھا۔ علمی و فکری خلافت کا تسلسل اور آخر میں دین رب کا مستند ہونا پھر اس کی حفاظت کی خلافت اور س کی اشاعت کے مطلوب مواقع اور وسائل کی خلافت،وغیرہ۔ الغرض سیاسی خلافت کے علاوہ دینی اور دعوتی خلافت کا جو تصور آپ نے بیان کیا، یہ میرے لیے واضح ہوا۔ اگر میں اس وضاحت سے محروم رہتا تو مطلوب الٰہی کے بارے میں مشتبہ رہ کر ہلاک ہوجاتا۔حقیقت یہ ہے کہ جو لوگ بھی سیاسی خلافت کا جھنڈا اٹھائے ہوئے ہیں، وہ دین رحمت کو دین زحمت بنا رہے ہیں۔ دین کی سیاسی تعبیر کرنے والے مقصد تخلیق کو اسی آیت سے واضح کرتے ہیں ۔ مگر مفسرین کی ایک بڑی تعداد نے قوم در قوم اور نسل در نسل کی خلافت کو مانا ہے ۔اس سےیہ واضح ہوا کہ قران کی اس آیت سے علمی اور دعوتی خلافت کا استدلال ممکن ہے ،نہ کہ سیاسی اقتدار والی خلافت۔ اس کے بعد ایک اورچیز میرے لیے غیر واضح تھی۔ وہ یہ کہ خدا کےاس تخلیقی منصوبہ میں کسی قوم کا یا نسل کا یکے بعد دیگرے آنا، کیا ہے۔ اس میں کوئی بڑا معنوی مفہوم اور مقصود سمجھ میں نہیں آرہا تھا ۔جب آپ نے یہ کہا کہ انسان کی زندگی کے خاتمہ کے ساتھ ہی علمی ارتقاء کا انقطاع ہوجاتا تھا ۔ اس لیے یہ ضروری تھا کہ علم و فکر کی تسلسل کے لئے خلافت کا پروسس جاری کیا جائے۔ یہاں تک کے خدا کادین محفوظ اور مستند ہوگیا، اور اس کی حفاظت اور اشاعت کے لئے حالات اور وسائل میسر ہوگئے۔ ماضی کی اسلامی خلافتوں نے نسل درنسل پیغام رب کو محفوظ کرلیا، اور اہل یورپ کی ایجادات نے مستند دین کی حفاظت اور اشاعت کا سامان کردیا۔گویا علمی خلافت کا مطلوب رول ادا کرنے کے لیے سارے وسائل ملے ہوئے ہیں۔ ایسے میں خلافت کو عالمی اقتدار کے معنی میں لینا خدا کے منصوبہ کو جیوپرڈائز (jeopardize)کرنے کے ہم معنی ہے۔ یہ مفہوم مجھے پہلی مرتبہ واضح ہوا۔اگر یہ نہیں جانتا تو خدا کا مطلوب جانے بغیر ہلاک ہوجاتا۔کیونکہ اختیار کی اس دنیا میں اقتدار کی جنگ چھیڑنا یہی سیاسی خلافت کی تبلیغ ہے، مگر اس کو اقامت دین کا خوبصورت نام دے دیا گیا ہے۔اس لیے جو بھی اس آیت کی بنیاد پر سیاسی خلافت کی تحریک چلاتے ہیں، وہ غلطی پر ہیں۔یہ اپنے نتیجہ کے اعتبار سے دعوت دین کے لیےملے ہوئےمواقع کو موانع میں تبدیل کرنا ہے۔اس کے برعکس، آپ نے جو تصور خلافت دیا ، یعنی علمی اور فکری طور پر ایک دوسرے کا خلیفہ ہونا۔ اس سے تخلیق انسانی کی مثبت توجیہ مل جاتی ہے، اور مذہبی و سیکولر دونوں طبقۂ انسان کا اعتراف ہوجاتا ہے۔ نیز دور جدید کی معنویت سمجھ میں آجاتی ہے۔ اس سےپر امن ایکشن اور اقدام کا راستہ مل جاتا ہے۔ یعنی خدا کے دین کو ہر ایک کے لیے پر امن طریقہ سے اویلبل(available) کرانا، اور ادخال کلمہ فی کل البیوت کا فرض ادا کرنا ہے۔جزاک اللہ خیرا (مولاناسیداقبال احمدعمری، عمرآباد، تامل ناڈو[Mob. 9994436917])
■ مفسرین کا وہ اقلیتی گروپ جس نے خلیفہ اورخلافت کا سیاسی تصور ڈیولپ کیا تھا، انھوں نے لوگوں کے ذہنوں کو واقعی غوغائیت اور شورش پسندی سے بھردیاہے۔ لیکن اس کے مقابلے میں مفسرین کی وہ اکثریت جنھوں نے اس آیت کی تشریح یخلف بعضھم بعضا جیسے الفاظ سےکی تھی، انھوں نے بھی خلیفہ اورخلافت کےمفہوم کو غیرواضح اور نامکمل چھوڑ دیا تھا۔ ان دونوں کے برعکس، اتوار (12 نومبر 2017)کے درس قران میں آپ نے جو تشریح اور آیت کی واقعاتی توجیہ کی ، اس سے مجھے پہلی مرتبہ خلیفہ اورخلافت کےمفہوم کی صحت مند اور واضح توجیہ ملی، اور میرا دل مذہبی اور سیکولر لوگوں کے کنٹری بیوشن کو لے کر شکر کے جذبات سے معمور ہوا، اور دعوت و ربانیت کے عملی تسلسل کو ایک مثبت جہت ملی ۔(مولانا فیاض الدین عمری، گلبرگہ، کرناٹک [Mob. 9448651644])
■ Thank you for the Quran! I work for a charity named Prisoners Abroad which supports British citizens in prison around the world. A number of the people we help are British Muslims. As they are in prison in a foreign country, even if they have the funds to purchase the Quran, they are often unable to find one in English. This last Quran you had sent me, I was able to send on to a person we are helping in prison in Italy. He was ever so grateful, as in Italy they are only available in Arabic and Italian, and I am told that other English speakers in the prison also study it. I would like to request for a larger supply of Qurans for sending out to our Muslim clients who request for them. We get approximately one request a month, so a parcel of 12 would probably last us a year and provide those of Muslim faith much needed support while they serve their sentences. Many thanks and kind regards. (Lee Hunnisett Prisoner & Family Support Co-ordinator Prisoners, London)
■ I have immensely benefitted from your splendid literature. I have read almost 70% of your literature as a student. I usually go through Al-Risala, studying deeply every topic. It is replete with spiritual motivation, rational arguments and balanced analysis. l have gone through Tazkeerul Quran almost four times. It has a constructive approach, conceptual clarity and spiritual inspiration. It possesses a unique blend of knowledge and wisdom. Tazkeerul Quran is a unique commentary on the Quran that lays emphasis on dawah work and its prerequisites. Your literature emphasizes self-introspection and can help a person come out of frustration and negative thinking. It advocates universal peace and brotherhood. It creates a positive and constructive mindset. I am a teacher of Physics in a senior secondary CBSE-affiliated school. In search of truth, I tried to associate with other movements as well, but remained dissatisfied due to a lack of healthy and positive environment. It is only after going through your literature I came to know the fact that faith and belief are never traditional or ancestral, rather they are products of an intellectual discovery of God. I also distribute Al-Risala, Spirit of Islam, copies of the Quran and other suitable books from your literature. (Imteyaz Ahmad, Gaya, Bihar)
واپس اوپر جائیں