Pages

Sunday, 5 August 2018

Al Risala | September 2018 (الرسالہ،ستمبر)

4

-دین کا نقطۂ آغاز

5

- زندگی کا مقصد

6

- احسن العمل کون

8

- زندگی کا تصور

9

- عارفانہ صحبت کیا ہے

12

- اقفال قلب

13

- اللہ اکبر، اللہ اکبر

14

- شاکلہ کیا ہے

15

- عظمتِ خداوندی

17

- تخلیق کے دو ادوار

23

- انسان کا دماغ

24

- حاکم کی خیرخواہی

25

- اسلام کے نام پر غیر اسلام

26

- الاضحی، پیغمبر ابراہیم کا منصوبہ

28

- مصلح، متکلم، داعی

29

- ادّعا کا دور ختم

30

- امن کا راستہ

31

- عقل سے محرومی

32

- عورت کی تخلیق

33

- ازدواجی زندگی

34

- نیت پر حملہ

35

- آدابِ تنقید

36

- پازیٹیوزم

37

- پریکٹکل وزڈم

38

- بے باکی یا دانش مندی

39

- بہت دن کم رہا

40

- بڑا آدمی کون

41

- آنکھوں کے بغیر

42

- باس از آلویز رائٹ

43

- سیکولرزم کیا ہے

44

- ایک سوال

46

- خبرنامہ اسلامی مرکز


دین کا نقطۂ آغاز

قرآن کی پہلی آیت یہ ہے:الْحَمْدُ لِلَّہِ رَبِّ الْعَالَمِینَ (1:2)۔ یہ آیت بتاتی ہے کہ دین کا نقطۂ آغاز اللہ رب العالمین کی دریافت پرمبنی ہے۔ یعنی اہلِ دین کو چاہیے کہ وہ سب سے پہلے اللہ رب العالمین کی معرفت حاصل کریں۔ اس کے بعد وہ دینی زندگی کی تعمیر کریں۔ اس ترتیب کو اختیار کرنے سے انسان کے اندر حقیقی معنی میں دینی شخصیت بنے گی۔ اس کے برعکس، کوئی دوسری ترتیب اختیار کی جائے تو دینی شخصیت کی تعمیر و تشکیل نہ ہوسکے گی۔
انسان کی حکومت کا جب آپ تصور کرتے ہیں، تو آپ کے ذہن میں یہ نقشہ آتا ہے کہ ایک بااقتدار صدر یا وزیر اعظم ملک کی زمامِ کار اپنے ہاتھ میں لیے ہوئے ہے، اور پورے ملک کو اپنے نقشے کے مطابق کنٹرول کررہا ہے۔
یہی معاملہ زیادہ بڑے پیمانے پر اور کامل صورت میں اللہ رب العالمین کا ہے۔ اللہ اس دنیا کا حاکم اعلیٰ ہے۔ وہ پوری دنیا، خواہ وہ مادی دنیا ہو یا انسانی دنیا، اس کا کنٹرول اپنے ہاتھ میں لیے ہوئے ہے۔ لیکن دونوں میں ایک فرق ہے۔ جہاں تک مادی کائنات کا معاملہ ہے، اللہ رب العالمین اس دنیا کو مکمل طور پر اپنے ہاتھ میں لیے ہوئے ہے۔ اس کے برعکس، انسانی دنیا کے معاملے میں جزوی طور پر انسان کو آزادی دے دی گئی ہے۔ انسان سے یہ مطلو ب ہے کہ وہ خود انضباطی (self-imposed discipline) کے تحت اللہ رب العالمین کے آگے جھک جائے۔ انسان کو حکومت الٰہیہ قائم کرنا نہیں ہے، بلکہ اپنے آپ کو حکومت الٰہیہ کا پابند بنانا ہے۔
دین کا یہی آغاز امتِ مسلمہ سے مطلوب ہے۔ بظاہر یہ سمجھا جاتا ہے کہ مدرسوں میں دین کی تعلیم و تربیت دی جاتی ہے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ یہاںدرست ترتیب کے ساتھ کام نہیں ہو رہا ہے۔ یعنی مدارس کا طریقہ ہے مسائل کی پابندی سکھانا، جب کہ قرآن کے مطالعے سے معلوم ہوتا ہے کہ دین کا نقطۂ آغاز معرفتِ رب ہے، یعنی اللہ رب العالمین کی دریافت، اور انسانی شخصیت کی تعمیر۔
واپس اوپر جائیں

زندگی کا مقصد
قرآن میں بتایا گیا ہے کہ انسان کے پیدا کرنے والے نے اس کو کَبَد (البلد،90:4) میں پیدا کیا ہے، انسان کے لیے یہ مقدر ہے کہ اس کو مختلف قسم کی مصیبتیں (البقرۃ،2:155) آئیں، اسی طرح بتایا گیا ہے کہ انسا ن کو خُسران میں پیدا کیا گیا ہے(العصر، 103:2)، زندگی کا سفر انسان کے لیے مشقت کا سفر (الانشقاق،84:6) ہے، انسان کو پیدا کرنے کے بعد خالق نے اس کو اسفل سافلین میں ڈال دیا (التین،95:5)، وغیرہ۔
ایک طرف قرآن میں اس قسم کے بیانات ہیں۔ دوسری طرف قرآن میں بتایا گیا ہے کہ انسان ایک مکرم مخلوق (الاسراء،17:70) ہے، انسان کو احسن تقویم (التین،95:4) کے ساتھ پیدا کیا گیا ہے، وغیرہ۔ ان دونوں قسم کی آیتوں میں تطبیق کیا ہے۔ اس کا جواب جنت کے تصور میں ملتا ہے۔ اس سلسلے میں قرآن کی ایک آیت یہ ہے: فَلَا تَعْلَمُ نَفْسٌ مَا أُخْفِیَ لَہُمْ مِنْ قُرَّةِ أَعْیُنٍ جَزَاءً بِمَا کَانُوا یَعْمَلُونَ (32:17)۔ اسی طرح ہے:وَلَکُمْ فِیہَا مَا تَشْتَہِی أَنْفُسُکُمْ وَلَکُمْ فِیہَا مَا تَدَّعُونَ (41:31)، اور فرمایا:وَفِیہَا مَا تَشْتَہِیہِ الْأَنْفُسُ وَتَلَذُّ الْأَعْیُنُ وَأَنْتُمْ فِیہَا خَالِدُونَ (43:71)۔
حقیقت یہ ہے کہ موجودہ دنیا کی مصیبتیں انسان کی تربیت کے لیے ہیں ، نہ کہ تکلیف کے لیے ۔ خالق نے ایک معیاری دنیا بنائی ہے، جنت۔ یہی جنت کی دنیا انسان کا اصل مسکن (habitat) ہے۔ موجودہ دنیا اس لیے بنائی گئی ہے تاکہ انسان اپنے آپ کو احسن العمل (best in conduct)ثابت کرے(الملک،67:2)۔ موجودہ دنیا کی مصیبتوں کا جواب یہ ہے کہ یہی واحد طریقہ ہے جس کے ذریعہ انسان کو تربیت یافتہ انسان بنایا جائے، ان کو اس قابل بنایا جائے کہ وہ جنت میں داخلے کے مستحق ٹھہریں۔ ہر بڑی کامیابی سے پہلے مشقت کا ایک دور آتا ہے۔ یہ مشقت کا دور انسان کی تیاری اور تربیت کے لیےہوتا ہے۔ اگر یہ دور نہ آئے تو انسان کامیابی کو سنبھالنے کے قابل نہیں بنے گا۔ یعنی پہلے تربیتی دور سے گزر کر اپنے آپ کو اہل ثابت کرنا، اور اس کے بعد ابدی جنت میں داخلہ پانا۔
واپس اوپر جائیں

احسن العمل کون

قرآن کی ایک آیت ان الفاظ میں آئی ہے: الَّذِی خَلَقَ الْمَوْتَ وَالْحَیَاةَ لِیَبْلُوَکُمْ أَیُّکُمْ أَحْسَنُ عَمَلًا (67:2)۔اس آیت کے مطابق، تخلیقِ انسانی کا مقصد پوری تاریخ سے ایسے افراد کا انتخاب ہے، جو عمل کے اعتبار سے احسن ہونے کا ثبوت دیں۔ یہاں عمل کا لفظ اپنے جامع معنی میں ہے، یعنی عمل کی ہر قسم کے اعتبار سے احسن۔
انسان کو عمل کے کن پہلوؤں کے اعتبار سے احسن ثابت ہونا چاہیے۔ یہ بات قرآن کی دوسری آیتوں پر غور کرنے سے سمجھ میں آتی ہے۔ مثلاً یہ کہ اس انتخابِ افراد کا مقصد کیا ہے۔ قرآن کی دوسری آیتوں کے مطالعے سے معلوم ہوتا ہے کہ آخرت کی دنیا میں خدا کی ایک قربت گاہ (التحریم، 66:11) ہوگی۔جس کے لیے پوری تاریخ سے بہترین افراد کا انتخاب کیا جائے گا۔ اس قربت گاہ کو بتانے کے لیے دوسری جگہ یہ الفاظ آئے ہیں: إِنَّ الَّذِینَ قَالُوا رَبُّنَا اللَّہُ ثُمَّ اسْتَقَامُوا تَتَنَزَّلُ عَلَیْہِمُ الْمَلَائِکَةُ أَلَّا تَخَافُوا وَلَا تَحْزَنُوا وَأَبْشِرُوا بِالْجَنَّةِ الَّتِی کُنْتُمْ تُوعَدُونَ ۔ نَحْنُ أَوْلِیَاؤُکُمْ فِی الْحَیَاةِ الدُّنْیَا وَفِی الْآخِرَةِ وَلَکُمْ فِیہَا مَا تَشْتَہِی أَنْفُسُکُمْ وَلَکُمْ فِیہَا مَا تَدَّعُونَ۔ نُزُلًا مِنْ غَفُورٍ رَحِیمٍ (41:30-32) ۔ یعنی جن لوگوں نے کہا کہ اللہ ہمارا رب ہے، پھر وہ ثابت قدم رہے، یقیناً ان پر فرشتے اترتے ہیں اور وہ ان سے کہتے ہیں کہ تم نہ اندیشہ کرو اور نہ رنج کرو اور اس جنت کی بشارت سے خوش ہوجاؤ جس کا تم سے وعدہ کیا گیا ہے۔ ہم دنیا کی زندگی میں تمہارے ساتھی ہیں اور آخرت میں بھی۔ اور تمہارے لیے وہاں ہر چیز ہے جس کا تمہارا دل چاہے اور تمہارے لیے اس میں ہر وہ چیز ہے جو تم طلب کرو گے۔ بخشنے والے، مہربان کی طرف سے مہمانی کے طور پر۔
اس سے معلوم ہوا کہ یہ قربت گاہ جنت ہوگی،جو گویاخدائی ضیافت (hospitality) کا مقام ہوگا۔یہاں انسان کو ہر قسم کا فل فلمنٹ (fulfilment)حاصل ہوگا۔ یہ اعلیٰ اقامت گاہ فرشتوں کے انتظام میں بنے گی۔ قرآن کی دوسری آیتوں کو ملا کر دیکھا جائے تو یہ بھی معلوم ہوجاتا ہے کہ ان منتخب افراد کی صفات کیا ہوں گی۔ اس سلسلے میں چند آیتیں یہ ہیں:
1۔ احسن باعتبار معرفت : مِمَّا عَرَفُوا مِنَ الْحَقِّ(5:83)
2۔ احسن باعتبار کلام:وَجَادِلْہُمْ بِالَّتِی ہِیَ أَحْسَنُ (16:125)
3۔ احسن باعتبار اخلاق :ادْفَعْ بِالَّتِی ہِیَ أَحْسَنُ (41:34)
4۔ احسن باعتبار ہمسائگی:وَحَسُنَ أُولَئِکَ رَفِیقًا (4:69)
5۔ احسن باعتبار سلوک:لَا یَسْمَعُونَ فِیہَا لَغْوًا وَلَا تَأْثِیمًا (56:25)، وغیرہ۔
اس قسم کی صفات جنت میں جاکر انسان کے اندر پیدا نہیں ہوں گے، بلکہ اسی دنیا میں انسان کو اپنے اندر یہ صفات پیدا کرنا ہے۔ یعنی ان پہلوؤں کے اعتبار سے جو لوگ موجودہ دنیا کی زندگی میں احسن العمل ثابت ہوں، وہ اللہ کی نظر میں قابلِ انتخاب افراد ہیں۔ فرشتوں کے ریکارڈ کے مطابق، ایسے لوگوں کو منتخب کرکے ایک ایسی دنیا میں جمع کیا جائے گا، جو ابدی ہوگی، اور عَرْضُہَا السَّمَاوَاتُ وَالْأَرْضُ (3:133)کی مصداق ہوگی۔ یعنی جس کی وسعت آسمانوں اور زمین کے برابر ہے۔
اہلِ سائنس نے ارض و سماء کی جو تاریخ دریافت کی ہے، اس سے معلوم ہوتا ہے کہ خالقِ کائنات نے ایک عالم کی تخلیق کی۔ اس عالم میں وہ ساری خوبیاں موجود تھیں، جو انسان جیسی کوئی مخلوق سوچ سکتا ہے۔ لیکن اس وسیع دنیا میں بظاہر رہنے والے لوگ موجود نہ تھے۔ اس کے بعد خالق نے انسان کو پیدا کیا۔ انسان کو مکمل آزادی دے کر سیارۂ ارض پر بسنے کا موقع دیا۔ آزاد ماحول کی یہ دنیا گویا ایک عظیم انسانی نرسری (nursery) تھی۔ اس میں ہر عورت اور مرد کو یہ موقع دیا گیا کہ وہ اپنے آپ کو گرو (grow) کرے، اور یہ ثابت کرے کہ وہ مطلوب معیار کے مطابق پورا اترتا ہے یا نہیں۔ یہ کام فرشتوں کی نگرانی میں پوری تاریخ میں جاری رہا۔ اس تاریخ کے آخر میں یہ ہوگا کہ تمام پیدا ہونے والے عورتوں اور مردوں کو اکٹھا کیا جائے گا، اور فرشتوں کے ریکارڈ کے مطابق، ان میں سے مطلوب افراد کا انتخاب ہوگا، اور ان کو یہ موقع دیا جائے گا کہ وہ جنت کے باغوں میں داخل ہوجائیں، اور ابدی طور پر وہاں ایک ایسی دنیا میں رہیں، جہاں ان کے لیے نہ حزن ہوگا اور نہ خوف (یونس، 10:62)۔
واپس اوپر جائیں

زندگی کا تصور

مسلح جہاد (armed struggle) اسلام میں کوئی اثباتی حکم نہیں ہے، بلکہ وہ ایک سلبی حکم ہے۔ مسلح جد و جہد کو اثباتی حکم کی حیثیت دینا ، یہ تمام تر بعد کی پیداوار ہے۔ اس کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں۔ کمیونسٹ نظریے کے مطابق مسلح جدو جہد یہ ہےکہ قائم شدہ سسٹم کو بزور توڑا جائے، اور اس کی جگہ دوسرا مطلوب سسٹم قائم کیا جائے۔ مگر اس قسم کے تصور کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں۔
اسلام مبنی بر نظام (system based) تصور نہیں ہے، بلکہ وہ مبنی بر فرد (individual based) تصور ہے۔ اسلام کا اصل مقصد تزکیۂ افراد ہے(طہ، 20:76)، نہ کہ تزکیۂ نظام۔ اسلام کے نزدیک کرنے کا اصل کام یہ ہےکہ ہر فرد کے اندر یہ محرک پیدا کیا جائے کہ وہ اپنا تزکیہ کرے۔ یعنی اپنے اندر درست سوچ (right thinking) پیدا کرنا، اپنے اندر ذہنی ارتقا (intellectual development) کا عمل جاری کرنا۔ اپنے آپ کو ایسی شخصیت کی حیثیت سے تیار کرنا ، جو جنت کی معیاری دنیا میں بسائے جانے کے قابل ہو۔جنت میں ایسے افراد کو جگہ ملے گی، جو حسنِ رفاقت (النساء، 4:69) کی صلاحیت رکھتے ہوں۔ اسی معیار کے مطابق اپنے آپ کو مثبت انداز میں تیار کرنا۔ یہی اسلامی عمل کا اصل نشانہ ہے۔
اسلام کے مطابق، زندگی کا تصور یہ ہے کہ انسان کے دورِ حیات کے دو حصے ہیں۔ ایک، قبل از موت دور، اور دوسرا، بعد از موت دور۔ قبل از موت دور کی حیثیت تیاری کی ہے، اور بعد از موت دور کی حیثیت تیاری کے مطابق اپنے عمل کا انجام پانے کی۔ تمثیل کی زبان میں یہ کہا جاسکتا ہے کہ قبل از موت دورِ حیات گویا ایک نرسری (nursery) ہے۔ یہاں انسان کوآزادی کے ساتھ پودے کی مانند اُگنے کا موقع دیا جاتا ہے۔ بعد از موت دور کی حیثیت گویا ھیبیٹاٹ کی ہے۔ خالق کی اسکیم یہ ہے کہ نر سری میں اُگے ہوئے صحت مند پودے کو نکال لیا جائے، اور اس کو ابدی ھیبیٹاٹ میں نصب کردیا جائے۔اس اعتبار سے موجودہ دنیا زندگی کا آغاز ہے، اور بعد کی دنیا زندگی کا انجام۔
واپس اوپر جائیں

عارفانہ صحبت کیا ہے

سچی صحبت وہ ہے، جو معرفت کی صحبت بن گیا ہو۔مثلاً قرآن میں ایک واقعے کا ذکر ان الفاظ میں آیا ہے:وَإِذَا سَمِعُوا مَا أُنْزِلَ إِلَى الرَّسُولِ تَرَى أَعْیُنَہُمْ تَفِیضُ مِنَ الدَّمْعِ مِمَّا عَرَفُوا مِنَ الْحَقِّ یَقُولُونَ رَبَّنَا آمَنَّا فَاکْتُبْنَا مَعَ الشَّاہِدِینَ۔ وَمَا لَنَا لَا نُؤْمِنُ بِاللَّہِ وَمَا جَاءَنَا مِنَ الْحَقِّ وَنَطْمَعُ أَنْ یُدْخِلَنَا رَبُّنَا مَعَ الْقَوْمِ الصَّالِحِینَ (5:83-84)۔ یعنی جب وہ اُس کلام کو سنتے ہیں جو رسول پر اتارا گیا ہے تو تم دیکھو گے کہ ان کی آنکھوں سے آنسو جاری ہیں، اس سبب سے کہ انھوں نے حق کو پہچان لیا۔ وہ پکار اٹھتے ہیں کہ اے ہمارے رب ہم ایمان لائے۔ پس تو ہم کو گواہی دینے والوں میں لکھ لے۔ اور ہم کیوں نہ ایمان لائیں اللہ پر اور اس حق پر جو ہمیں پہنچا ہے جب کہ ہم یہ آرزو رکھتے ہیں کہ ہمارا رب ہم کو صالح لوگوں کے ساتھ شامل کرے ۔
قرآن کے اس حصے میں ایک صحبتِ رسول کا ذکر ہے۔ اُس صحبتِ رسول میں کچھ لوگوں نے پیغمبر کی زبان سے قرآن کا ایک حصہ سنا۔ قرآن کے اس حصے کو سن کر ان کو معرفتِ رب کا تجربہ ہوا۔ یہ تجربہ اتنا گہرا تھا کہ وہ ان کی آنکھوں سے آنسوؤں کی صورت میں بہہ پڑا۔ یہ ایک عارفانہ سنت رسول کا بیان ہے۔ جس طرح رسول اللہ کی دوسری سنتیں قابلِ اتباع ہیں، اسی طرح آپ کی یہ سنت بھی اس قابل ہے کہ وہ اہلِ دین کی مجلسوں میں زندہ ہو۔قرآن کا سچا تذکرہ وہی ہے، جو لوگوں کے دل و دماغ کو ہلادے۔ جو سننے والے کے اندر معرفت کا طوفان پیدا کردے۔ جو آنسوؤں کی صورت میں آنکھوں کے راستے بہہ پڑے۔
انسان کے جسم سے بہت سی چیزیں نکلتی ہیں، مثلاً آنسو،پسینہ، وغیرہ۔ ان میں آنسو ایک مختلف چیز ہے۔ آنسو انسان کے جسم سے نکلنے والا سب سے زیادہ خالص (purest) مادہ ہے۔ آنسو ایک ایسی چیز ہے، جو صرف اس وقت نکلتا ہے، جب کہ آدمی کو معرفت کا تجربہ ہوجائے۔ آنسو بندے کی طرف سے اپنے رب کے لیے سب سے زیادہ خالص تحفہ (purest gift)ہے جو کبھی ردّ (reject) نہیں ہوتا۔اسی لیے آنسو صرف اللہ کے لیے ہے، آنسو کسی غیر اللہ کودینے کی چیز نہیں۔
قرآن میں مذکورہ واقعے میں اس لمحے کا ذکر ہے، جب کہ ایک متلاشی (seeker) انسان ایک صاحبِ معرفت انسان سے ملتا ہے۔ یہ ملنا کوئی سادہ ملنا نہیں ہوتا، بلکہ وہ ذہنی طوفان (brainstorming) کا ایک لمحہ ہوتا ہے۔ یہ ایک ایسا لمحہ ہوتا ہے، جب کہ دو سچے انسانوں کے درمیان ربانی ملاقات کا عمیق تجربہ ہوتا ہے۔ اس ملاقات میں ایک تیسری ہستی شامل ہوجاتی ہے، اور وہ اللہ رب العالمین کے فرشتے ہیں۔ فرشتوں کی شمولیت کی بنا پر یہ ملاقات ایک ربانی قربت کا لمحہ بن جاتی ہے۔ اس ربانی ملاقات کے دوران دینے اور پانے کاایسا تجربہ مل جاتا ہے، جس میںتبادلے کا ذریعہ الفاظ نہ ہوں ، بلکہ آنسو ہوں۔ جب کہ دلوں کے دروازے کھل جائیں، اور دماغ کی کھڑکیاں اس طرح کھل جائیں کہ اس کا کوئی دروازہ بند نہ رہے ۔
یہ رسول اللہ کی ایک صحبت کا واقعہ ہے، جو قدیم مدینہ میں پیش آیا۔ یہ واقعہ صرف مقدس کلام نہیں ہے، بلکہ وہ ایک سنتِ رسول کا کیفیاتی بیان ہے۔ جس طرح رسول اللہ کی دوسری سنتیں قابلِ اتباع ہیں، اسی طرح آپ کی عارفانہ سنتیں بھی اس قابل ہیں کہ وہ اہلِ دین کی مجلسوں میں زندہ ہوں۔ایک صاحبِ معرفت عالم کی صحبت ایک زندہ صحبت ہے۔ وہ حاضرین کے اندر ذہنی طوفان (brainstorming) کا سبب بن سکتی ہے۔
آپ کسی عالم کی کتاب پڑھیں، اس سے بھی آپ کو فائدہ ہوگا۔ لیکن جب آپ ایک سچے عالم کی صحبت میں بیٹھتے ہیں، تو یہ بیٹھنا، آپ کے لیے ایک زندہ تجربہ بن جاتا ہے۔ کتاب اگر آپ کو معلومات دیتی ہے تو ایک عارف کی صحبت سے آپ کو حکمت (wisdom) کا خزانہ مل سکتا ہے۔کتاب کا مطالعہ آپ کی واقفیت میں اضافہ کرتا ہے۔ لیکن ایک عارف کی صحبت آپ کو بتاتی ہے کہ معرفت کا زلزلہ کیا چیز ہے۔ سچی صحبت وہ ہے، جو معرفت کی صحبت بن جائے، جس سے آپ کو رزقِ رب ملنے لگے۔
رزقِ رب
مریم بنت عمران (وفات 100یا 120 ء)ایک ربانی خاتون تھیں، وہ ایک یہودی خاندان میں فلسطین میں 20 ق م میںپیدا ہوئیں۔ان کے تذکرےکے ضمن میںقرآن میں بتایا گیا ہے فَتَقَبَّلَہَا رَبُّہَا بِقَبُولٍ حَسَنٍ وَأَنْبَتَہَا نَبَاتًا حَسَنًا وَکَفَّلَہَا زَکَرِیَّا کُلَّمَا دَخَلَ عَلَیْہَا زَکَرِیَّا الْمِحْرَابَ وَجَدَ عِنْدَہَا رِزْقًا قَالَ یَا مَرْیَمُ أَنَّى لَکِ ہَذَا قَالَتْ ہُوَ مِنْ عِنْدِ اللَّہِ إِنَّ اللَّہَ یَرْزُقُ مَنْ یَشَاءُ بِغَیْرِ حِسَابٍ (3:37)۔ پس اس کے رب نے اس کو اچھی طرح قبول کیا اور اس کو عمدہ طریقے سے پروان چڑھایا اور زکریا کو اس کا سرپرست بنایا۔ جب کبھی زکریا ان کے پاس حجرے میں آتا تو وہ وہاں کچھ رزق پاتا۔ اس نے پوچھا: اے مریم، یہ چیز تمھیں کہاں سے ملتی ہے۔ مریم نے کہا یہ اللہ کے پاس سے ہے۔ بیشک اللہ جس کو چاہتا ہے بےحساب رزق دے دیتا ہے۔
قرآن کی اس آیت میں رزق کا لفظ مادی رزق کے معنی میں نہیں ہے۔ اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ جاڑے کے موسم میں گرمی کا رزق اور گرمی کے موسم میں جاڑے کا رزق۔ بلکہ ا س کا مطلب یہ ہے کہ معرفت کا رزق، اللہ کی دریافت کا رزق۔ حضرت زکریا کا سوال تعجب کے طور پر نہیں ہوتا تھا، بلکہ شکر کے طور پر ہوتا تھا۔
اس رزق سے مراد وہ رزق ہے، جو اللہ کی یاد سے انسان کو ملتا ہے، جو آخرت کی یاد سے انسان کو حاصل ہوتا ہے۔ جو اس یاد سے انسان کو ملتا ہے، جس کا ذکر قرآن میں ان الفاظ میں آیا ہے:إِنَّ فِی خَلْقِ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَاخْتِلَافِ اللَّیْلِ وَالنَّہَارِ لَآیَاتٍ لِأُولِی الْأَلْبَابِ ، الَّذِینَ یَذْکُرُونَ اللَّہَ قِیَامًا وَقُعُودًا وَعَلَى جُنُوبِہِمْ وَیَتَفَکَّرُونَ فِی خَلْقِ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ رَبَّنَا مَا خَلَقْتَ ہَذَا بَاطِلًا (3:190-91)۔
عارفانہ صحبت اس صحبت کا نام ہے، جس میں صرف اللہ کی اور آخرت کی باتیں ہوں، جس میں صرف جنت اور جہنم کی باتیں ہوں۔ جس صحبت سے اللہ رب العالمین کی یاد دلوں میں آئے، جو انسان کے دل و دماغ کو اللہ رب العالمین کی باتوں سے بھر دے۔
واپس اوپر جائیں

اقفالِ قلب

قرآن کی ایک تعلیم سورہ محمد میں ان الفاظ میں آئی ہے:أُولَئِکَ الَّذِینَ لَعَنَہُمُ اللَّہُ فَأَصَمَّہُمْ وَأَعْمَى أَبْصَارَہُمْ ۔أَفَلَا یَتَدَبَّرُونَ الْقُرْآنَ أَمْ عَلَى قُلُوبٍ أَقْفَالُہَا (47:23-24)۔ یعنی یہی لوگ ہیں جن کو اللہ نے اپنی رحمت سے دور کیا، پس ان کو بہرا کردیا اور ان کی آنکھوں کو اندھا کردیا۔ کیا یہ لوگ قرآن میں غور نہیں کرتے یا ان کے دلوں پر تالے لگے ہوئے ہیں۔
یہاں قلب سے مراد عقل ہے، اور اقفال سے مراد وہ چیزیں ہیں، جو انسان کے لیے صریح غور وفکر میں مانع بن جاتی ہیں، مثلاً جمود، تعصب، وغیرہ۔ دل کے لیے سب سے بڑا قفل متعصبانہ سوچ (biased thinking) ہے۔ اگر آدمی کسی ایسے ماحول میں دیر تک رہے، جہاں اس کی تربیت اس طرح ہوجائے کہ وہ موضوعی ذہن (objective mind) کے ساتھ چیزوں کو نہ دیکھ سکے۔ متعصبانہ سوچ میں وہ کنڈیشنڈ (conditioned) ہوجائے تو وہ ایسا ہوجائے گا، گویا کہ اس کی عقل پر ایک تالا لگ گیا ہے۔ وہ چیزوں کو کھلے ذہن کے ساتھ سوچنے کے قابل نہیں رہا ہے۔
متعصبانہ طرزِ فکر دراصل کنڈیشنڈ طرزِ فکر کا نام ہے۔ آدمی جس ماحول میں دیر تک رہے، اس ماحول کے تحت اس کے اندر بہت متاثر طرز فکر بن جاتا ہے۔ اس کا ذہن صرف ایک رخ پر سوچنے لگتا ہے، اس کا ذہن دوسرے رخ پر سوچنے کے قابل نہیں رہتا۔ اس کا حل صرف ایک ہے، اور وہ ہے اپنا محاسبہ کرکے اپنی کمزوری کو دریافت کرنا، اور اس کو بے رحمی کے ساتھ توڑ کر اپنے آپ کو فطرت پر قائم کرنا۔
دلوں کا قفل ماحول کے اثر سے لگتا ہے۔ اس قفل کو کھولنے کا ایک ہی ذریعہ ہے، اور وہ محاسبہ (introspection) ہے۔ غیر جانبدارانہ محاسبہ واحد چیز ہے، جس کے ذریعے آدمی اپنے آپ کو اقفالِ قلب سے بچا سکے ۔ دوسری کوئی چیز انسان کو اس مسئلے سے بچانے والی نہیں۔ محاسبہ کیا ہے۔یہ ایک لفظ میں خود اپنے خلاف سوچنے(anti-self thinking) کا نام ہے۔
واپس اوپر جائیں

اللہ اکبر، اللہ اکبر

اللہ اکبر نماز کا سب سے زیادہ اہم حصہ ہے۔ اذان اور نماز دونوں کو ملا کر دیکھا جائے تو پانچ وقت کی نمازوں میں اللہ اکبر کا کلمہ روزانہ تقریباً تین سو بار دہرایا جاتا ہے، یعنی ہر پانچ منٹ کے بعد ایک بار۔ گویا ایک مسلمان اپنی پوری زندگی میں سب سے زیادہ جوکلمہ سنتا یا بولتا ہے، وہ اللہ اکبر کا کلمہ ہے، یعنی اللہ سب سے بڑا ہے۔
اِس سے معلوم ہوا کہ دینِ اسلام میں سب سے زیادہ اہمیت اِس بات کی ہے کہ ایک مسلمان، اللہ کی عظمت کو دریافت کرے۔ اللہ کی عظمت اس کے شعور کا سب سے زیادہ اہم حصہ ہو۔ اللہ کی عظمت اس کے تفکیری عمل (thinking process) میں اِس طرح شامل ہوجائے کہ وہ کسی بھی حال میں اللہ کی عظمت کے احساس سے غافل نہ ہو۔
اللہ اکبر کا کلمہ کسی انسان کی زندگی میں ایک شاہِ ضرب (master stroke)کی حیثیت رکھتا ہے۔ اگر حقیقی معنوں میں کسی انسان کو اللہ کی دریافت ہوجائے تو اس کے بعد اس کی زندگی میں سب سے بڑا مثبت بھونچال آجائے گا۔ وہ پورے معنوں میں ایک نیا انسان بن جائے گا۔ اللہ اس کی سوچ کا واحد مرکز بن جائے گا۔ اس کی زندگی پورے معنوں میں ایک خدا رخی زندگی بن جائے گی۔
ایسے انسان کا معاملہ یہ ہوگا کہ اللہ اس کا سپریم کنسرن (supreme concern) بن جائے گا۔ اللہ کے سوا ہر چیز اس کی زندگی میں سکنڈری حیثیت اختیار کرلے گی۔ اس کے اندر مادی طرزِ فکر کا خاتمہ ہوجائے گا۔ اس کی سوچ قومی سوچ کے بجائے اصولی سوچ بن جائے گی۔ وہ آخرت کی کامیابی کا حریص بن جائے گا۔ وہ منفی سوچ سے مکمل طورپر پاک ہوجائے گا۔ اس کی شخصیت کامل معنوں میں ایک متواضع (modest)شخصیت بن جائے گی۔ اس کے اندر سے کِبر (arrogance) کا خاتمہ ہوجائے گا — اللہ اکبر ایک اعتبار سے عقیدہ ہے اور دوسرے اعتبار سے وہ ایک شخص کی زندگی کا کامل طریقہ۔حقیقت یہ ہے کہ اللہ اکبر خلاصۂ ایمان ہے۔
واپس اوپر جائیں

شاکلہ کیا ہے

انسان کی ذہنی ساخت (mindset) کے بارے میں قرآن کا ایک بیان ان الفاظ میں آیا ہے: قُلْ کُلٌّ یَعْمَلُ عَلَى شَاکِلَتِہِ فَرَبُّکُمْ أَعْلَمُ بِمَنْ ہُوَ أَہْدَى سَبِیلًا (17:84)۔ یعنی کہو کہ ہر ایک اپنے شاکلہ پر عمل کر رہا ہے۔ اب تمھارا رب ہی بہتر جانتا ہے کہ کون زیادہ ٹھیک راستے پر ہے۔
شاکلہ کے لفظی معنی طریقے کے ہیں، یعنی طریقِ فکر (way of thinking)۔ قرآن میں شاکلہ سے مراد وہ طریقہ ہے، جو ہر انسان کے مزاج کا حصہ ہوتا ہے۔ اب دیکھیے کہ وہ کون سا طریقہ ہے۔ یہ بات ایک حدیثِ رسول سے معلوم ہوتی ہے، جس کا ترجمہ یہ ہے: ہر پیدا ہونے والا فطرت پر پیدا ہوتا ہے، پھر اس کے والدین اس کو یہودی یا نصرانی یا مجوسی بنا دیتے ہیں۔(صحیح البخاری، حدیث نمبر1385 )۔اس حدیثِ رسول کی روشنی میں آیت کا مفہوم متعین کیا جائے تو اس آیت میں موجود اھدی سبیلا سے مراد الفطرۃ ہے، یعنی وہ مزاج یا مائنڈ سیٹ (mindset) جو انسان کو پیدائش سے ملتا ہے۔ یہی اصل فطری مزاج ہے۔ لیکن انسان پیدا ہونے کے بعد ایک ماحول میں رہتا ہے۔ اس ماحول کے اثر سے ہر انسان کی ایک مزاج سازی ہونے لگتی ہے۔ اس مزاج سازی کو آج کل کی زبان میں کنڈیشننگ کہہ سکتے ہیں۔ پھر دھیرے دھیرے ایسا ہوتا ہے کہ اس کی کنڈیشننگ اس پر چھاجاتی ہے۔ اس کی سوچ کنڈیشنڈ سوچ بن جاتی ہے۔
حدیثِ رسول میں یہودی، نصرانی، اور مجوسی کےالفاظ آئے ہیں۔ یہ الفاظ مطلق معنی میں نہیں ہیں، بلکہ علامتی معنی میں ہیں ۔ یعنی آپ کسی ماحول میں جاتے ہیں تو اسی کے مطابق آپ کی کنڈیشننگ شروع ہوجاتی ہے،یہاں تک کہ دھیرے دھیرے انسان اپنے قریبی ماحول کے مولڈ (mould) میں ڈھل جاتا ہے۔ پیدائش کے وقت ہر انسان اپنے فطری ماڈل پر ہوتا ہے، لیکن وہ ماحول سے متاثر ہوکر اسی ماحول میں ڈھلنا شروع ہوجاتا ہے۔آدمی کا پہلا کام یہ ہے کہ وہ اپنی اس کنڈیشننگ کو ڈی کنڈیشنڈ کرے، اپنے آپ کو ماحول کے مولڈ سے نکال کر باہر کرے۔
واپس اوپر جائیں

عظمتِ خداوندی

پیغمبر ِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے معراج کے سلسلے میں جو باتیں بیان کی ہیں، ان میں سے ایک یہ ہے: فَلَمَّا نَزَلْتُ إِلَى السَّمَاءِ الدُّنْیَا، نَظَرْتُ أَسْفَلَ مِنِّی فَإِذَا أَنَا بِرَہْجٍ وَدُخَانٍ وَأَصْوَاتٍ ، فَقُلْتُ:مَا ہَذَا یَا جِبْرِیلُ؟ قَالَ:ہَذِہِ الشَّیَاطِینُ یَحُومُونَ عَلَى أَعْیُنِ بَنِی آدَمَ، أَنْ لَا یَتَفَکَّرُوا فِی مَلَکُوتِ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ، وَلَوْلَا ذَلِکَ لَرَأَوْا الْعَجَائِبَ (مسند احمد، حدیث نمبر 8640)۔ یعنی جب میں آسمانِ دنیا کی طرف اترا تو میں نے اپنے نیچے کی طرف دیکھا۔ تو میں نے پایاکہ وہاں غبار، دھواں، اورشور ہے۔ میں نے کہا: جبریل، یہ کیا ہے۔ جبریل نے کہا: یہ شیاطین ہیں، جو بنی آدم کی آنکھوں پر منڈلا رہے ہیں، تاکہ انسان آسمانوں اور زمین کی ملکوت میں تفکر نہ کریں۔ اگر ایسا نہ ہوتا تو انسان عجائب دیکھتے۔
اس حدیث میں عجائب سے مراد عالم فطرت کے ونڈرس (wonders of nature) ہیں۔ نیچر کے یہ مشاہدات اللہ رب العالمین کی تخلیق کے مشاہدات ہیں۔ ان مشاہدات کو دیکھنے سے اللہ رب العالمین کی عظمت کا تجربہ ہوتا ہے۔ مگر تاریخ کا تجربہ بتاتا ہے کہ اس معاملے میں شیطان غالب آیا، اورشاید وہ پیغمبروں کے سوا ہر ایک کے لیے ان عجائبات کو دیکھنے کی راہ میں مانع بن گیا۔
اس معاملے میں علمائے دین کی تاریخ نہایت عجیب منظر پیش کرتی ہے۔ بڑے بڑے علماے دین میں سے شاید کوئی بھی شخص نہیں جو ان عجائبِ قدرت کو دیکھے، اور ان سے اللہ رب العالمین کا تجربہ حاصل کرے۔ دوربین (telescope) کے وجود میں آنے سے پہلے بھی تاریخ ایسے کسی عالمِ دین کی خبر نہیں دیتی، اور دور بین کے وجود میں آنے کے بعد بھی ایسا کوئی عالمِ دین تاریخ کے تذکرے میں موجود نہیں ہے۔ یہی وجہ ہے کہ تاریخ میں علماے فنّیات تو بہت ملتے ہیں، لیکن عجائبِ فطرت کا کوئی عالم موجود نہیں۔ معرفت کی کتاب ایسے باب سے یکسر خالی ہے۔ اس حدیث میں شیطان کے شورو شغب وغیرہ سے مراد شاید اہلِ مغرب کے خلاف مسلمانوں کے اندر عمومی سطح پر منفی نفسیات کا پیدا ہونا ہے۔
شیاطین کا آنکھوں پر منڈلانا (to hover about) بہت بامعنی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ فطرت کے مظاہر کو مقدس بنا کر انسان سے یہ اسپرٹ چھین رہے ہیں کہ وہ فطرت کے مظاہر پر آزادانہ غور وفکر کریں۔ جو خالق کی معرفت کا سب سے بڑا ذریعہ ہے۔ یہی وہ چیز ہے، جس کو قرآن میں فتنہ (الانفال، 8:39) کہا گیا ہے۔ اس فتنہ کو اسلام نے ختم کیا ہے۔ یعنی اسلام کے ذریعے وہ پراسس شروع ہوا ، جس نے فطرت کے مظاہرکو تقدس (holiness)کے مقام سے ہٹا کر ریسرچ کا موضوع (subject of research) بنا دیا۔ دوسرے الفاظ میں دونوں کو ایک دوسرے سے ڈی لنک (delink) کردیا ۔
اس کے بعد تاریخ میں ایک نیا عمل (process) جاری ہوا۔ اب فطرت کے مظاہر کی آزادانہ ریسرچ (objective research) ہونے لگی۔ مختلف اسباب کی بنا پر یہ کام تمام تر اہل مغرب نے انجام دیا۔ یہ عمل گلیلیو اور نیوٹن کے زمانے میں شروع ہوا۔ اسی عمل (process) کا نقطۂ انتہا وہ ظاہرہ تھا، جس کو تہذیب (civilization) کہا جا تا ہے۔
مغربی تہذیب دراصل اللہ کے تخلیقی عجائب (wonders of creation) کا نام تھی۔ اس تہذیب کے تحت جو سائنس پیدا ہوئی، وہ در اصل وہی چیز تھی، جس کے ذریعے وہی کام انجام پایا جس کو قرآن میں تبیین ِحق (فصلت،41:53) کہا گیا ہے، یعنی خالق کی معرفت بذریعہ تخلیق۔ جیسا کہ حدیث میں پیشین گوئی کے طو رپر آیا ہے:إِنَّ اللَّہَ لَیُؤَیِّدُ ہَذَا الدِّینَ بِالرَّجُلِ الفَاجِرِ (صحیح البخاری، حدیث نمبر 3062)۔ یعنی اللہ اس دین کی مدد فاجر آدمی سے کرے گا۔
مگر معاملہ یہ پیش آیا کہ جس چیز پر مسلمان بھڑک گئے، وہ ان کا فاجر ہونا تھا۔حالاں کہ اس حدیث کا مطلب یہ تھا کہ کلچرل اعتبار سے اگرچہ وہ ایسی باتوں میں مبتلا ہوں گے، جوبرا ہوگا، مگر وہ جو کام انجام دیں گے، وہ اسلام کی تائید کا کام بن جائے گا۔ یعنی اس سے تبیینِ حق کا دروازہ کھلےگا، اور معرفتِ حق کو اعلیٰ پیمانے پر سمجھنا ممکن ہوجائے گا۔
واپس اوپر جائیں

تخلیق کے دو ادوار

تاریخ بتاتی ہے کہ انسان پر ترقی کے دو دور گزرے ہیں۔ ایک وہ ترقی جو فطرت کے دائرے میں انسان کو حاصل ہوئی ۔ دوسری وہ ترقی جو بعد کو انسان نے فطرت کے اندر چھپی ہوئی طاقتوں کو دریافت کرکے حاصل کیا ۔ پہلے دور کو تخلیقِ اول (first creation)کا دور کہا جاسکتا ہے۔ دوسرے دور کو تخلیقِ ثانی (second creation) کا دور کہنا درست ہوگا۔ یہ دونوں دورخود تخلیق کا حصہ ہیں۔ لیکن پہلادور اگر تخلیق کا براہ راست حصہ تھا، تو دوسرا دور تخلیق کا بالواسطہ حصہ ۔
تخلیق کے ان دونوں ادوار کا ذکر قرآن کی اس آیت میں آیا ہے: وَالْخَیْلَ وَالْبِغَالَ وَالْحَمِیرَ لِتَرْکَبُوہَا وَزِینَةً وَیَخْلُقُ مَا لَا تَعْلَمُونَ (16:8) ۔ یعنی اور اللہ نے گھوڑے اور خچر اور گدھے پیدا کیے تاکہ تم ان پر سوار ہو اور زینت کے لئے بھی، اور وہ اور بھی چیزیں پیدا کرے گا جو تم نہیں جانتے:
And (He has created) horses, mules and donkeys so that you may ride them and that they may serve as means of adornment (for you) as well and He will create that you do not know.
اس آیت کےدو حصے ہیں۔ اس کے پہلے حصے میں تین فطری چیزوں کا ذکر ہے، گھوڑا، خچر، اور گدھا۔ان تینوں چیزوں کا ذکر یہاںعلامتی معنی میں ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ نے انسان کو جب پیدا کیا تو ابتدائی دور میں اس کو ہر قسم کی سہولتیں فطرت کے دائرے میں عطا کی۔مثلاً سواری اور باربرداری کے لیے حیوانات، پانی کے لیے دریا اور چشمہ کا پانی، غذا کے لیے زمین کی فطری پیداوار، وغیرہ۔ یہ گویا تخلیقِ اول کا دور تھا۔ قرآن کی آیت کے مطابق، اسی کے ساتھ اللہ نے زمین کے اندر بہت سی اور چیزیں بالقوۃ (potential) طور پر رکھ دیں۔ اس کو آج کل کی زبان میں ٹکنالوجی کہا جاتا ہے۔ ٹکنالوجی زندگی کے تمام ترقیاتی سہولتوں کو کوَر (cover)کرتی ہے۔ مگر یہ ٹکنالوجی قانونِ فطرت کی شکل میں پوشیدہ طور پر ہماری دنیا میں موجود تھی۔ انسان کو اللہ نے عقل دی۔ عقل کے ذریعہ انسان نے فطرت کے ان قوانین کو دریافت کرکے ان کو قابلِ استعمال بنایا۔ یہاں تک کہ ترقی کرتےکرتے ٹکنالوجیکل تہذیب (technological civilization) وجود میں آئی۔ اس ٹکنالوجیکل تہذیب کو تخلیق کا دوسرا دور یا تخلیقِ ثانی کہا جاسکتا ہے۔
اس ٹکنالوجیکل تہذیب میں بیک وقت دو پہلو شامل تھے۔ ایک پہلو یہ تھا کہ اس کے ذریعےانسا ن کو نئی مادی سہولتیں حاصل ہوئیں۔ مثلاً گھوڑے کی جگہ سواری کے لیے موٹر کار اور ہوائی جہاز، وغیرہ۔ اسی کے ساتھ تخلیق ثانی کا ایک اور زیادہ اہم پہلو تھا۔ وہ یہ کہ اس کے ذریعے خدا کے دین پر عمل کرنا زیادہ وسیع تر دائرے میں ممکن ہوگیا۔ تہذیب کا یہ دوسرا پہلو وہ ہے،جس کو دورِ اول کے اہلِ ایمان کی ایک قرآنی دعا میں مستقبل کی زبان میں اس طرح بیان کیا گیا تھا: رَبَّنَا وَلَا تَحْمِلْ عَلَیْنَا إِصْرًا کَمَا حَمَلْتَہُ عَلَى الَّذِینَ مِنْ قَبْلِنَا َ (2:286) ۔ یعنی اے ہمارے رب، ہم پر وہ بوجھ نہ ڈال جیسا بوجھ تو نے ڈالا تھا ہم سے اگلوں پر۔
دین کے اعتبار سے تہذیبی ترقیوں کے دو پہلو تھے۔ ایک، نظریاتی پہلو اور دوسرا، عملی پہلو۔ نظریاتی پہلو یہ تھا کہ تہذیب کے دور میں جو سائنسی دریافتیں ہوئیں، وہ نئی قوت کے ساتھ اسلام کی علمی تصدیق بن رہی تھیں۔ تہذیب کے اس پہلو کا اشارہ قرآن کی اس آیت میں پیشگی طور پر کیا گیا تھا: سَنُرِیہِمْ آیَاتِنَا فِی الْآفَاقِ وَفِی أَنْفُسِہِمْ حَتَّى یَتَبَیَّنَ لَہُمْ أَنَّہُ الْحَقُّ (41:53)۔ یعنی مستقبل میں ہم ان کو اپنی نشانیاں دکھائیں گے آفاق میں بھی اور خود ان کے اندر بھی۔ یہاں تک کہ ان پر ظاہر ہوجائے گا کہ یہ حق ہے۔
قرآن اللہ کے دین کا مستند اعلان ہے۔ قرآن ساتویں صدی عیسوی میں نازل ہوا۔ قرآن میں دینِ خداوندی کے صداقت کے دلائل موجود تھے۔ مگر وہ بظاہر سادہ فطری اسلوب میں تھے۔ اللہ نے مادی دنیا کے اندر بہت سے امکانات قوانینِ فطرت (laws of nature) کی صورت میں پوشیدہ طور پر رکھ دیے تھے۔ مثلاً پانی کے اندر اسٹیم پاور، وغیرہ۔ اسی کے ساتھ انسان کو عقل دی، جس کے ذریعے وہ ان قوانین ِفطرت کو دریافت کرے، اور ان کو اپنے لیے استعمال کے قابل بنائے۔ ان قوانین کو دریافت کرکے ایک نئی تہذیب (civilization)کو وجود میں لانے کے لیے لمبی مدت درکار تھی۔ اس عمل پر تقریباً ہزار سال گزرگئے۔ یہ عمل مختلف مراحل کے ساتھ جاری رہا، یہاں تک کہ وہ چیز وجود میں آئی جس کو جدید تہذیب (modern civilization) کہا جاتا ہے۔
حضرت نوح نے قدیم زمانےمیں جب ایک بڑی کشتی بنائی تو اس کے بارے میں قرآن میں یہ الفاظ آئے ہیں:فَأَوْحَیْنَا إِلَیْہِ أَنِ اصْنَعِ الْفُلْکَ بِأَعْیُنِنَا وَوَحْیِنَا (23:27) ۔ یعنی ہم نے اس کو وحی کی کہ تم کشتی تیار کرو ہماری نگرانی میں اور ہماری وحی کے مطابق۔ غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ غالباً یہی معاملہ جدید تہذیب کی تشکیل کے ساتھ بھی پیش آیا۔ حضرت نوح نےملائکہ کی مدد سے کشتی بنائی تھی۔ اسی طرح دورِ جدید میں انسانوں نے اللہ کی خصوصی رہنمائی (divine inspiration) کے تحت تہذیب کی تشکیل کی۔ گویا اللہ نے انسان کو الہامی زبان میں دوبارہ یہ کہہ کر حکم دیا تھا:اصنع الحضارۃ باعیننا و وحینا۔ یعنی ہماری نگرانی میںاورہمارے انسپریشن (inspiration) کے تحت تہذیب کی تشکیل کرو۔اسی کو جدید اصطلاح میں سرنڈیپٹی (serendipity) کہا جاتا ہے۔
تہذیب کی تشکیل کا یہ کام ایک بے حد تخلیقی کام ہے۔ اس کے لیے ضروری تھا کہ دوسری قوموں کو اس کی تعمیر و تشکیل میں شامل کیا جائے۔ اس واقعے کا ذکر پیشگی طور پر حدیث میں بیان کردیا گیا تھا۔ اس حدیث کا ترجمہ یہ ہے : اللہ تعالی اسلام کی تائید ایسے لوگوں کے ذریعے کرے گا جو اہلِ دین میں سے نہ ہوں گے(المعجم الکبیر للطبرانی، حدیث نمبر 14640)۔
نبوت محمدی کا ظہور
پیغمبرِ اسلام کا ظہور ساتویں صدی عیسوی کے رُبعِ اول میں ہوا۔ خدا کے منصوبہ کے مطابق، یہ ایک فرد (خاتم النبیین) کے ظہور کا معاملہ نہ تھا۔ بلکہ ایک نئے تاریخی دور کو پیدا کرنے کا معاملہ تھا۔ یہ انقلابی دور مختلف مراحل سے گزرتے ہوئے، بیسویں صدی عیسوی کے آخر میں مکمل ہوا۔ اس انقلاب کے پہلے مرحلے میں جو رول مطلوب تھا، وہ زیادہ تر اہل ایمان کے ذریعے وجود میں آیا۔ وہ رول یہ تھا کہ اسلام کو سماجی اور سیاسی اعتبار سے استحکام (stability)حاصل ہوجائے، قرآن محفوظ ہوجائے، امتِ مسلمہ کی تشکیل عمل میں آجائے، علوم ِاسلامی کی تدوین وقوع میں آجائے، دینِ توحید کا تسلسل اسی طرح قائم ہوجائے جس طرح اس سے پہلے دینِ شرک کا تسلسل تاریخ میں قائم ہوگیا تھا، وغیرہ۔
اس سلسلے میں دوسرا کام جو مطلوب تھا، وہ دینِ اسلام کی عالمی اشاعت تھی۔ دینِ اسلام کی اس عالمی اشاعت کے لیے ابتدائی زمانےمیں حالات مساعد نہ تھے۔ تہذیب ِجدید نے بالواسطہ طور پر اس کام کو انجام دیا۔ تہذیبِ جدید کے ذریعے دنیا میں ایک طرف پرنٹنگ پریس اور مواصلاتی دور (age of communication) وجود میں آیا، دنیا میں مکمل معنوں میں مذہبی آزادی کا دور آیا، فطرت (nature)میں موافق اسلام چھپے ہوئے حقائق دریافت ہوئے اور عمومی طور پر وہ ہر ایک کی دسترس میں آگئے، دنیا میں پہلی بار کامل معنوں میں کھلاپن (openness) کا دور آیا، دنیا میں پہلی بار یہ ممکن ہوا کہ ہر آدمی کے لیے مواقع (opportunities)  کے دروازے مکمل طور پر کھل گئے۔ صرف ایک شرط کے ساتھ کہ آدمی تشدد (violence) سے مکمل طور پر پرہیز کرے۔
اس معاملے کا ایک اہم پہلو یہ تھا کہ دنیا میں کمیو نی کیشن کا دور آیا، فاصلہ کا مسئلہ ختم ہوگیا۔ اور بعید مقام تک پیغام رسانی آخری حد تک آسان اور قابل عمل ہوگئی۔ یہ پہلو دعوت کے اعتبار سے بے حد اہم تھا۔ چنانچہ قرآن میں اس آنے والے انقلاب کی طرف پیشگی طور پر اشارہ کردیا گیا تھا۔ یہ اشارہ اس واقعہ کی صورت میں تھا جس کو قرآن میں اسراء (بنی اسرائیل،17:1) کہا گیا ہے۔
مکی دور کے آخری زمانے میں وہ واقعہ پیش آیا، جب کہ پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کو پراسرار طور پر مکہ سے یروشلم لے جایا گیا۔ مکہ سے یروشلم اور پھر یروشلم سے مکہ واپس لایا گیا۔ یہ سفر دو طرفہ اعتبار سے تقریباً 4000 کلو میٹر کا سفر تھا۔قرآن میں اس سفر کو ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے: سُبْحَانَ الَّذِی أَسْرَى بِعَبْدِہِ لَیْلًا مِنَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ إِلَى الْمَسْجِدِ الْأَقْصَى الَّذِی بَارَکْنَا حَوْلَہُ لِنُرِیَہُ مِنْ آیَاتِنَا (17:1)۔ یعنی پاک ہے وہ جو لے گیا ایک رات اپنے بندے کو مسجد حرام سے دور کی اس مسجد تک جس کے ماحول کو ہم نے بابرکت بنایا ہے، تاکہ ہم اس کو اپنی کچھ نشانیاں دکھائیں۔
اس سفر میں آپ کو جو نشانی (sign) دکھائی گئی وہ یروشلم کی کوئی چیز نہ تھی، بلکہ اس سے مراد وہی چیز تھی جس کو قرآن میں اسرا کہا گیا ہے۔ یعنی مکہ اور یروشلم کے درمیان تیز رفتار سفر۔ اس تیز رفتار سفر کا تجربہ اُس وقت آپ کو علامتی طور پر کرایا گیا ۔ اس کا مقصد پیشگی طور پر اُس واقعے کو بتانا تھا، جو آپ کے بعد تاریخ میں مواصلاتی دور (age of communication) کی صورت میں پیش آنے والا تھا۔ یہ مواصلاتی دور جو جدید تہذیب کے ذریعے دنیا میں آیا،وہ اسلام کے دعوتی مشن کے لیے ایک بہت بڑا موافق پہلو تھا۔ اس انقلاب نے عملی طور پر اس بات کو ممکن بنادیا کہ اسلام کا پیغام تیز رفتار ذرائع سے ساری دنیا میں پہنچایا جاسکے۔
اسلام کا مطلوب
اسلام کا اصل مطلوب کوئی نظام قائم کرنا نہ تھا، اور نہ اسلام کا نشانہ یہ تھا کہ ساری دنیامیں اسلام کی سیاسی حکومت قائم کی جائے۔ یہ سب مبتدعانہ تصورات (innovated concepts) ہیں، جو بعد کے دور میں پیدا ہوئے۔ اسلام کا اصل نشانہ صرف ایک تھا، اور وہ وہی ہے، جس کو قرآن میں ان الفاظ میں بیان کیا گیاہے: رُسُلًا مُبَشِّرِینَ وَمُنْذِرِینَ لِئَلَّا یَکُونَ لِلنَّاسِ عَلَى اللَّہِ حُجَّةٌ بَعْدَ الرُّسُلِ(4:165) ۔ یعنی اللہ نے رسولوں کو خوش خبری دینے والے اور آگاہ کرنے والا بنا کر بھیجا، تاکہ رسولوں کے بعد لوگوں کے پاس اللہ کے مقابلے میں کوئی حجت باقی نہ رہے۔
اسلام کا یہ دعوتی نشانہ قدیم زمانے میں صرف محدود طور پر انجام دینا ممکن تھا۔ بعد کو ترقیات کے دور میں یہ امکان پوری طرح وقوع میں آنے والا تھا ،تاکہ اسلام کا یہ نشانہ عالمی سطح پر بلا روک ٹوک انجام پائے۔ اس حقیقت کو قرآن وحدیث میں مختلف الفاظ میں پیشگی طور پر بتادیا گیا تھا۔ اس سلسلے میں ایک حدیث ان الفاظ میں آئی ہے: لَا یَبْقَى عَلَى ظَہْرِ الْأَرْضِ بَیْتُ مَدَرٍ، وَلَا وَبَرٍ إِلَّا أَدْخَلَہُ اللہُ کَلِمَةَ الْإِسْلَامِ (مسند احمد، حدیث نمبر23814)۔ یعنی زمین کی سطح پر کوئی چھوٹا یا بڑا گھر نہیں بچے گا، مگر یہ کہ اللہ اس کے اندر اسلام کا کلمہ داخل کردے گا۔
اسلام اکیسویں صدی میں
اب اسلام کی تاریخ اکیسویں صدی میں ہے۔ آج کا سب سے بڑا کام یہ ہے کہ اسلام کے دعوتی مشن کی منصوبہ بندی (planning) جدید حقائق کی روشنی میں کی جائے۔ جدید پیدا شدہ مواقع (opportunities) کو پوری طرح اسلام کے پرامن عالمی مشن کے لیے استعمال کیا جائے۔ قرآن میں اعلان کیا گیا تھا :تَبٰرَکَ الَّذِی نَزَّلَ الْفُرْقَانَ عَلَى عَبْدِہِ لِیَکُونَ لِلْعَالَمِینَ نَذِیرًا (25:1) ۔ یعنی بڑی بابرکت ہے وہ ذات جس نے اپنے بندے پر فرقان اتارا تاکہ وہ جہان والوں کے لئے ڈرانے والا ہو۔ اس آیت کے مطابق، یہ مطلوب تھا کہ قرآن کے پیغام کو تمام اہلِ عالم تک پہنچایا جائے، اور یہ کام تمام قوموں کی اپنی قابل فہم زبان میں انجام دیا جائے۔ جیسا کہ قرآن میں بتایا گیا ہے: وَمَا أَرْسَلْنَا مِنْ رَسُولٍ إِلَّا بِلِسَانِ قَوْمِہِ لِیُبَیِّنَ لَہُمْ ُ (14:4) ۔ یعنی اور ہم نے جو پیغمبر بھی بھیجا اس قوم کی زبان میں بھیجا، تاکہ وہ ان سے بیان کردے ۔
قرآن کا یہ نشانہ سفر کرتے ہوئے اب اکیسویں صدی عیسوی میں اپنے آخری دور میں پہنچ گیا ہے۔اب ضرورت یہ ہےکہ قرآن کو تمام قوموں کی قابل فہم زبانوں میں ترجمے کرکے ان کو تمام لوگوں تک پہنچایا جائے۔ دسمبر 2015 میں راقم الحروف کا ایک سفر کناڈا کے لیے ہوا تھا۔ وہاں میں نے تعلیم یافتہ مسلمانوں کے ایک اجتماع میں تقریر کرتے ہوئے اس پہلو کا ذکر کیا اور کہا :
What a thrilling idea that in the 21st century, we are in a position to complete the unfinished target of the Quran!
٭ ٭ ٭ ٭ ٭ ٭ ٭
جس طرح خالص دینی معاملات میں اصلاح کا آغاز توبہ سے ہوتا ہے، اُسی طرح قومی اور سیاسی زندگی میں بھی کوئی نیا بہتر آغاز رجوع و اعتراف کے ذریعے ہوتا ہے۔ ماضی کی غلطیوں کو مانے بغیر مستقبل کی کامیاب منصوبہ بندی ممکن نہیںہوتی، اور اِس معاملے میں کوئی استثناء نہیں۔
واپس اوپر جائیں

انسان کا دماغ

انسان نے پانی کے بارے میں بوائنسی (buoyancy)کے قانون کو دریافت کیا، اور پھر اس کے مطابق، کشتیاں بنائیں، اور سمندروں میں بآسانی وہ بڑے بڑے سفر کرنے لگا۔ اسی طرح انسان نے اپنے دماغ کو استعمال کرکے یہ دریافت کیا کہ الیکٹرسٹی کا مطلب ہے الیکٹران کا بہاؤ :
Electricity means flow of electrons
اس دریافت کے بعد انسان نے ڈائنمو (dynamo) بنایا، اور پھر اس میں میگنیٹک فیلڈ (magnetic field) پیدا کرکے یہ انتظام کیا کہ بجلی پیدا ہو، اور بڑے پیمانے پر اس کا استعمال ممکن ہوجائے۔ اسی طرح انسان نے مزید یہ کیا کہ ڈائنمو کے اندر میگنیٹک فیلڈ پیدا ہو، اور وہاں بجلی کی کرنٹ پہنچائی جائے تو وہاں مادے میں حرکت پیدا ہوجائے گی۔ انسان نے کامیابی کے ساتھ ایسا کیا ، اور اس کے ذریعے بے شمار بڑے بڑے فائدے حاصل کیے، وغیرہ، وغیرہ۔
یہ واقعات امکانی طور پر ہمیشہ سے موجود تھے، لیکن عملاً وہ پچھلے پانچ سو سال سے پہلے لامعلوم مدت تک واقعہ (actual)نہ بن سکے۔ ایسا کیوں کر ہوا۔ سائنس کے مورخین یہ کہتے ہیں کہ ایسا اتفاقات (accident) کے ذریعے ہوا۔ مگر صحیح بات یہ ہے کہ یہ ویسا ہی تھا، جیسے قدیم زمانے میں کشتی کا بننا۔ پیغمبر نوح کی کشتی کے بارے میں قرآن میں آیا ہے : وَاصْنَعِ الْفُلْکَ بِأَعْیُنِنَا وَوَحْیِنَا (11:37)۔ میں سمجھتا ہوں کہ یہی واقعہ پوری تہذیب کے بارے میں درست ہے۔ اللہ نے فرشتوں کو انسان کا معلم بنا دیا، اور پھر انسان سے کہا :اصنع الحضارۃ باعیننا، و وحینا۔
سائنسی تحقیقات کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ اکسیڈنٹ کے ذریعے ہوا، صحیح یہ ہے کہ یہ واقعات فرشتوں کی مدد سے انجام پائے۔ ورنہ انسان خود اپنی آزادانہ عقل سے کچھ نہیں کرسکتا تھا۔ جیسا کہ پچھلے لاکھوں سال تک وہ اس معاملے میں کچھ نہ کرسکا۔ یہی وہ واقعہ ہے، جس کو اتفاق کا نتیجہ قرار دے کر serendipity کی اصطلاح وضع کی گئی ہے۔
واپس اوپر جائیں

حاکم کی خیرخواہی

ایک حدیثِ رسول ان الفاظ میں آئی ہے:مَنْ أَرَادَ أَنْ یَنْصَحَ لِسُلْطَانٍ بِأَمْرٍ، فَلَا یُبْدِ لَہُ عَلَانِیَةً، وَلَکِنْ لِیَأْخُذْ بِیَدِہِ، فَیَخْلُوَ بِہِ، فَإِنْ قَبِلَ مِنْہُ فَذَاکَ، وَإِلَّا کَانَ قَدْ أَدَّى الَّذِی عَلَیْہِ لَہُ (مسند احمد، حدیث نمبر 15333)۔ یعنی جو یہ چاہے کہ وہ صاحبِ امر کو اس کے کسی فعل پر خیرخواہانہ نصیحت کرے تو وہ علانیہ طور پر ایسانہ کرے، بلکہ وہ اس کا ہاتھ پکڑے،اور اس کو تنہائی میں لے جائے۔ اگر حاکم اس کی بات کو قبول کر لے تو بہتر ہے، ورنہ اس نے حاکم کے تعلق سے اپنا فرض ادا کردیا۔
حاکم کو اس کی کسی غلطی پر نصیحت کرنا،بلاشبہ ایک اچھا کام ہے۔ لیکن انسان کو چاہیے کہ وہ ایسا کام ہمیشہ نتیجے کو دیکھ کر کرے۔ اگر وہ علانیہ طور پر صاحبِ امر کو نصیحت کرے گا تو عین ممکن ہے کہ وہ بھڑک اٹھے، اور ایسا کوئی اقدام کرے جو دونوں کے درمیان ٹکراؤ کا سبب بن جائے، اور نصیحت کاؤنٹر پروڈکٹیو (counter-productive) بن جائے۔ اس لیے آدمی کو چاہیے کہ وہ ہمیشہ نتیجے کو ملحوظ رکھتے ہوئے نصیحت کرے۔ نتیجہ خیز نصیحت ایک ثواب کا کام ہے، لیکن جو نصیحت ٹکراؤ کا سبب بن جائے، وہ باعتبارِنتیجہ نصیحت نہیں ہے، بلکہ فتنہ انگیزی ہے۔
یہ بات بے حد حکمت پر مبنی ہے کہ صاحبِ امر اگر نصیحت کو قبول کرلے تو ناصح کو اللہ کا شکر اداکرنا چاہیے کہ اس کو ایک نیک کام کرنے کی توفیق ملی، اور اگر وہ نصیحت قبول نہ کرے تو ناصح پر لازم ہے کہ وہ اس کے بعد چپ ہوجائے۔ کیوں کہ ناصح کا جو فریضہ تھا، اس کو ناصح نے ادا کردیا۔ اگر صاحبِ امر نصیحت قبول نہ کرے تو اس کے بعد اس کا اعلان کرنا، یا اس کے خلاف تنقید کی مہم شروع کرنا، نصیحت نہیں ہے، بلکہ اپنے نتیجہ کے اعتبار سے وہ فتنہ انگیزی ہے، اور فتنہ انگیزی اپنے آپ میں ایک بہت بڑا گنا ہ ہے۔ اس سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ صاحب امر اگر غلطی کرے تو اس کو خیر خواہانہ نصیحت کرنا ہے۔ ایسی حالت میں ناصح اگر یہ کرے کہ وہ صاحبِ امر کے خلاف ہتھیار اٹھالے، یا وہ اس کے خلاف اپوزیشن کی تحریک چلائے تو خود ناصح نے ایک ناقابلِ معافی گناہ کا کام کیا۔
واپس اوپر جائیں

اسلام کے نام پر غیر اسلام

امت کے دورِ زوال کے بارے میں ایک روایت حدیث کی مختلف کتابوں میں آئی ہے۔ ایک روایت کے الفاظ یہ ہیں: إِنَّ أَوَّلَ مَا یُکْفَأُ - قَالَ زَیْدٌ:یَعْنِی فی الْإِسْلَامَ - کَمَا یُکْفَأُ الْإِنَاءُ یَعْنِی الْخَمْرَ . فَقِیلَ:کَیْفَ یَا رَسُولَ اللَّہِ وَقَدْ بَیَّنَ اللَّہُ فِیہَا مَا بَیَّنَ؟ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ صَلَّى اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ:یُسَمُّونَہَا بِغَیْرِ اسْمِہَا فَیَسْتَحِلُّونَہَا(سنن الدارمی، حدیث نمبر 2145)۔ یعنی بے شک ( اسلام میں)پہلا (بگاڑ) اوندھاکرنے کی صورت آئے گا ، جیسے برتن اوندھا کیا جاتا ہے، (اور وہ شراب ہوگی)۔ پوچھا گیا کہ ایسا کس طرح ہوگا، حالاں کہ اللہ نے (دین میں )اس کو بیان کردیا جیسا کہ بیان کردیا ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا: لوگ اس کا نام بدل کر کچھ اور نام رکھ دیں گے، پھر وہ اس کو جائز کرلیں گے۔
اس حدیثِ رسول میں خمر (شراب ) کا لفظ علامتی معنوں میں آٰیا ہے۔ یعنی دورِ زوال میں امت کے اندر خواہش پرستی کا دور آجائے گا۔ لوگ دین پر چلنے کے بجائے، اپنی خواہشات پر چلنے لگیں گے۔ اگر کوئی چیز بظاہر ممنوع (prohibited) ہوگی، تو لوگ نام بدل کر اس کا اسلامی نام رکھ لیں گے، اور پھر وہ اس کو جائز کرلیں گے۔ مثلا قوم پرستی کا نام اسلامی حمیت، شادی کی مسرفانہ دھوم کا نام مسنون نکاح،کلچرل رواج کا نام دینی شناخت، وغیرہ۔
موجودہ زمانے میں اس بگاڑ کی ایک عام صورت وہ ہے ، جس کا تعلق دعوت و تبلیغ سے ہے۔ موجودہ زمانے میںمسلمانوں کی شکست خوردہ نفسیات کونہایت منظم (organized)انداز میں ایکسپلائٹ کیا جاتا ہے، اور اس کا نام رکھ دیا جاتا ہے دعوت و تبلیغ۔ کچھ لوگ جن کے اندر قوت کلام ہوتی ہے، اور جو مارکٹنگ (marketing)کا فن جانتے ہیں، وہ اس قسم کے مناظرہ (debate) کو ایک باقاعدہ پروفیشن کے طور پر اختیار کرلیتے ہیں، اور لوگوں کو یقین دلاتے ہیں کہ وہ دعوت و تبلیغ کا کام کررہے ہیں۔
واپس اوپر جائیں

الاضحی، پیغمبر ابراہیم کا منصوبہ

11 ستمبر 2001 کو نیو یارک میں ایک ہولناک واقعہ ہوا، جس کو عام طور پر نائن الیون کہا جاتا ہے۔ اس دن کچھ مسلم نوجوانوں نےچار ہوائی جہازوں کو ہائی جیک کیا، اور ان میں سے دو کو نیویارک کے ورلڈ ٹریڈ سینٹر سے ٹکرادیا۔ اس کے نتیجے میں 104 منزل کا ٹاور فوراً تباہ ہوگیا۔ اس حادثے میں تقریباً تین ہزار آدمی فوری طور پر ہلاک ہوگئے۔ اس واقعہ میں ملوث انیس مسلم ہائی جیکر بھی ہلاک ہوگئے۔چار مسلمان جنھوں نے جہاز کو آخری مرحلہ میں چلایا تھا ، ان کے نام یہ ہیں: محمد عطا، مروان الشحی ، ہانی حنجور، زیاد جراح۔
یہ واقعہ گیارہ ستمبر 2001 کو نیویارک میں ہوا تھا۔ سال 1437 ھ میں کیلنڈر کے اتفاق کی بنا پر عید الاضحی اسی تاریخ (9/11)کےقریب ہوئی ہے۔مگر منصوبے کےاعتبار سے دیکھاجائے تو دونوں واقعے میں فرق ہے۔پہلےواقعہ میںانسان کو ہلاک کرنے کا منصوبہ تھا، تو عید الاضحی کی ابراہیمی یادگار انسان کو زندگی دینے کا منصوبہ ہے۔ اس لحاظ سے عید الاضحی مسلمانوں کو یاد دلارہی ہے کہ تم انسان کی ہلاکت کا منصوبہ چھوڑو ، اور انسان کو زندگی دینے کا منصوبہ بناؤ۔ قرآن کی ایک آیت میں دونوں قسم کے منصوبے کے فرق کو اس طرح بتایا گیا ہے۔ اس آیت کا ترجمہ یہ ہے: اسی سبب سے ہم نے بنی اسرائیل پر یہ لکھ دیا کہ جو شخص کسی کو قتل کرے، بغیر اس کے کہ اس نے کسی کو قتل کیا ہو یا زمین میں فساد برپا کیا ہو تو گویا اس نے سارے آدمیوں کو قتل کر ڈالا اور جس نے ایک شخص کو بچایا تو گویا اس نے سارے آدمیوں کو بچا لیا۔ (المائدہ،5:32)
پیغمبر ابراہیم بن آزر تینوں سامی مذاہب یہودیت، عیسائیت، اور اسلام کے مورث اعلیٰ تھے۔ وہ عراق کے قدیم شہر اُر (Ur)میں پیدا ہوئے۔ وہ 175 سال زندہ رہے، اور 1985 ق م میں ان کی وفات ہوئی۔ وہ پورے معنوں میں ایک مین آف مشن تھے۔ انھوں نے اپنی لمبی عمر میں اپنا مشن عراق میں اور اطراف کے علاقے میں چلایا۔ مگر اپنے خاندان کے چند افراد (بیوی، بھتیجا،بیٹا) کے سوا کوئی ان کو ساتھی نہیں ملا۔ ان کا مشن تاریخ میں امن کا دور لانا تھا ۔ مشن کے اس انجام کا سبب یہ تھا کہ اس زمانے میں ساری دنیا کے انسانوں میں قبائلی کلچر (tribal culture) کا رواج تھا۔ اس کلچر کے تحت لوگ مسلسل طور پر آپس میں لڑتے رہتے تھے۔ اس کے سوا کسی اور کلچر کو وہ جانتے ہی نہ تھے۔ اس کا نتیجہ یہ تھا کہ قدیم زمانے میں دنیا میں کوئی بڑا تعمیری کام نہ ہوسکا۔ قدیم زمانے کے انسان نے لڑائی کی تاریخیں تو بنائی لیکن وہ امن کی تاریخ بنانے میںناکام رہے۔
اللہ کی ہدایت کے مطابق، حضرت ابراہیم نے ایک نیا منصوبہ بنایا۔ وہ تھا، خصوصی تربیت کے ذریعے ایک نئی نسل بنانا۔ یہ صحرائی تربیت (desert therapy) کا طریقہ تھا۔ چنانچہ انھوں نے اپنی بیوی ہاجرہ اور اپنے بیٹے اسماعیل کو لاکر عرب کے غیر آباد صحرا میں بسا دیا۔ یہاں نسل در نسل ڈی کنڈیشننگ کے ذریعے ایک نئی نسل بنی جس کو بنو اسماعیل کہا جاتا ہے۔
یہ نسل تاریخ کی پہلی امن پسند نسل تھی۔ اس واقعے کا ذکر قرآن کی ایک آیت میں اس طرح کیا گیا ہے:وَاعْتَصِمُوا بِحَبْلِ اللَّہِ جَمِیعًا وَلَا تَفَرَّقُوا وَاذْکُرُوا نِعْمَتَ اللَّہِ عَلَیْکُمْ إِذْ کُنْتُمْ أَعْدَاءً فَأَلَّفَ بَیْنَ قُلُوبِکُمْ فَأَصْبَحْتُمْ بِنِعْمَتِہِ إِخْوَانًا وَکُنْتُمْ عَلَى شَفَا حُفْرَةٍ مِنَ النَّارِ فَأَنْقَذَکُمْ مِنْہَا کَذَلِکَ یُبَیِّنُ اللَّہُ لَکُمْ آیَاتِہِ لَعَلَّکُمْ تَہْتَدُونَ (3:103)۔ یعنی اور سب مل کر اللہ کی رسی کو مضبوط پکڑ لو اور پھوٹ نہ ڈالو۔ اور اللہ کا یہ انعام اپنے اوپر یاد رکھو کہ تم ایک دوسرے کے دشمن تھے۔ پھر اس نے تمھارے دلوں میں الفت ڈال دی۔ پس تم اس کے فضل سے بھائی بھائی بن گئے۔ اور تم آگ کے گڑھے کے کنارے کھڑے تھے تو اللہ نے تم کو اس سے بچا لیا۔ اس طرح اللہ تمھارے لئے اپنی نشانیاں بیان کرتا ہے تاکہ تم راہ پاؤ۔
صحرائی تربیت کے ذریعے پیدا ہونے والا یہی وہ امن پسند گروہ ہے، جس کو پیغمبرِ اسلام نے بامقصد بنیاد پر منظم کیا۔ اور پھر ان کو لے کر وہ انقلاب برپا کیا جو تاریخ کا پہلا مبنی بر امن انقلاب تھا۔ اس امن پسند گروہ کی جدو جہد کے ذریعے تاریخ میں ایک نیا پراسس شروع ہوا، جو اس پر امن دور تک پہنچا، جس کو جدید دور (modern age)کہا جاتا ہے۔
واپس اوپر جائیں

مصلح، متکلم، داعی

اسلام 610 عیسوی میں عرب میں شروع ہوا۔ اکیسویں صدی میں دنیا میں اسلام کو ماننے والوں کی تعداد تقریباً ایک بلین اسی لاکھ (1.8 billion)ہے۔ آج مسلمان دنیا کے تقریبا ًہر ملک میں پائے جاتے ہیں۔ اس مجموعے کو امتِ مسلمہ کہا جاتا ہے۔ امتِ مسلمہ کے لیے کام کرنے کے مختلف میدان ہیں۔
ایک کام امت کی اخلاقی اصلاح اور مادی تعمیر کا کام ہے۔ آج کی زبان میں اس کو مسلم ایمپاورمنٹ (Muslim empowerment)کہا جاتا ہے۔ یہ کام کا وہ میدان ہے، جس میں مصلحین تعلیم، اقتصادیات اور سماجی ترقی(social uplift) کے میدان میں کام کرتے ہیں۔اس کام کو دوسرے لفظوں میں تعمیرِ ملت کا کام بھی کہا جاتا ہے۔
دوسرا میدان وہ ہے، جس میں کام کرنے والوں کو متکلم کہا جاتا ہے۔ اس میدان میں کام کرنے والے عقلی دلائل کی روشنی میں اسلام کی برتری ثابت کرتے ہیں۔ اسی کام کا ایک شعبہ وہ بھی ہے، جس کو مناظرہ (debate) کہا جاتا ہے۔ جس دور میں جو عقلی معیار رائج ہو، اس کے اعتبار سے یہ کام انجام دیا جاتا ہے۔
تیسرا کام وہ ہے جس کو قرآن میں دعوت الی اللہ کہا گیا ہے۔ اسی کے ساتھ قرآن میں انذار و تبشیر کے الفاظ آئے ہیں۔ یہ کام پوری طرح آخرت رخی (akhirah-oriented) کام ہے۔ اس کام کے موضوعات اللہ کی معرفت ، جنت کا تعارف، اور آخرت کے اعتبار سے مزکیّٰ شخصیت (purified personality) بنا نا ہے۔
یہ تینوں کام اپنی اپنی جگہ مطلوب کام ہیں۔ لیکن ہر کام کی نوعیت الگ ہے۔ نوعیت کے اس فرق کوذہن میں رکھنا ضروری ہے۔ ورنہ کوئی بھی کام درست طور پر انجام نہیں پاسکتا۔ آدمی کو ایسا ہرگز نہیں کرنا چاہیے کہ وہ ایک میدان والا کام کررہا ہو، اور دوسرے میدان کے کام کا دعویٰ کرے۔
واپس اوپر جائیں

اِدّعا کا دور ختم

موجودہ زمانے کو عقلیت کا دور (age of reason) کہا جاتا ہے۔ اس کا ایک پہلو یہ ہے کہ موجودہ زمانے میں ادّعا (claim) کے لیے کوئی جگہ نہیں۔ موجودہ زمانے میں صرف ان لوگوں کو قبولیت حاصل ہوسکتی ہے، جو عقل کے معیار پر اپنا جواز (validity) ثابت کریں، جن کے پاس صرف اِدًعا (claim) ہو، ان کو موجودہ زمانے میں صرف دماغی مریض کے اسپتال میں جگہ ملے گی، اور کہیں نہیں۔
موجودہ زمانے میں یہ کہنا کہ میں مجدد ہوں، میں مہدی ہوں، میں مسیح ہوں، وغیرہ صرف اس بات کا ثبوت ہے کہ آدمی موجودہ زمانے کے حالات سے بالکل بے خبر ہے۔ وہ ایسی بولی بول رہا ہے، جس کو موجودہ زمانے میں کوئی قبول کرنے والا نہیں۔ ایسے لوگوں کا کیس خلافِ زمانہ روش (anachronism) کا کیس ہے۔
اسی طرح یہ بات بھی موجودہ زمانے میں ناقابلِ قبول ہے کہ میں وقت کا نپولین ہوں، میں وقت کا نیوٹن ہوں، میں وقت کا آئنسٹین ہوں، وغیرہ۔ اسی طرح اس قسم کے القاب بھی غیر زمانی القاب ہیں کہ غزالی زماں، رازی دوراں، بیہقی وقت ، یا یہ کہ فلاں شخص عہد ساز شخصیت کا حامل ہے، وغیرہ۔ یعنی موجودہ زمانے میں کوئی یہ کہے کہ میں ایسا ہوں، میں ویسا ہوں،یافلاں شخص وقت کا یہ ہے،اور فلاں شخص وقت کا وہ ہے، تو کوئی شخص اس کو قابلِ غور نہیں سمجھے گا۔
آج کا دور سائنسی استدلال کا دور ہے۔ آج کے زمانے میں بات کو فرد کے حوالے سے نہیں مانا جاتا ہے، بلکہ دلیل کے حوالے سے مانا جاتا ہے۔حدیث میں آیا ہے :مَنْ کَانَ یُؤْمِنُ بِاللَّہِ وَالیَوْمِ الآخِرِ فَلْیَقُلْ خَیْرًا أَوْ لِیَصْمُت (صحیح البخاری، حدیث نمبر 6018)۔یعنی جو آدمی اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہے، وہ بھلی بات کہے یا چپ رہے۔ آج کا انسان کہے گا کہ تمھارے پاس اگر مبنی بر عقل (reason based) کوئی بات ہے تو بولو، ورنہ چپ رہو۔
واپس اوپر جائیں

امن کا راستہ

جن علاقوں میں تشدد (violence) کے واقعات ہورہے ہیں، ان علاقوں کے لیڈر یہ کہتے ہیں کہ اس علاقے میں امن اس وقت قائم ہوگا جب کہ اس علاقے کے عوام کی جائز خواہشات کو پورا کیا جائے۔ جب تک اس علاقے کے عوام کو ان کا حق نہ دیا جائے، وہاں کبھی امن قائم نہیں ہوسکتا۔
یہ بات جو کہی جاتی ہے، وہ گرامر کے اعتبار سے درست ہے، لیکن حقیقت کے اعتبار سے وہ بالکل بے بنیاد ہے۔ تاریخ میں کبھی اس قسم کا امن قائم نہیں ہوا۔ تاریخ میں اگر کبھی امن قائم ہوا ہے، تو وہ ہمیشہ عوامی مطالبات کو چھوڑنے کی بنیاد پر ہوا ہے، نہ کہ ان کو پانے کی بنیاد پر۔
اسلام کے دورِ اول میں پیغمبرِ اسلام اور مکہ کے قریش کے درمیان نزاع قائم تھی۔ دس سالہ ناجنگ معاہدہ ، صلحِ حدیبیہ کے ذریعے اس نزاع کا خاتمہ ہوا، اور علاقے میں امن قائم ہوا۔ مگر یہ امن قریش کی شرطوں پر قائم ہوا تھا، نہ کہ اہل ایمان کی شرطوں پر۔ حتی کہ اس امن کو پانے کے لیے پیغمبرِ اسلام کو معاہدہ کی دستاویز سے بوقتِ معاہدہ رسول اللہ کا لفظ مٹانا پڑا تھا۔ امن کبھی اپنی شرطوں کی بنیاد پر نہیں ہوتا، بلکہ وہ فریقِ مخالف کی شرطوں کو مان کر ہوتا ہے۔
آج کی دنیا میں جہاں جہاں تشدد کے واقعات ہورہے ہیں، وہ سب اسی لیے ہورہے ہیں کہ لوگ اس شرط کو نہیں جانتے، وہ امن کے لیے اس شرط کا مطالبہ کرتے ہیں کہ ان کی مانگ کو پورا کیا جائے۔ یہ ایک ایسی شرط ہے، جو پر جوش تقریروں میں تو دہرائی جاسکتی ہے، لیکن حقیقت کی دنیا میں ان کو قائم کرنا ناممکن ہے۔ ایسا امن نہ دنیا میں کبھی قائم ہوا، اور نہ وہ کبھی قائم ہوسکتا ہے، جن شرطوں کو پورا کرنا رسول اللہ کے زمانے میں ممکن نہیں ہواتھا، اس کو اب کیسے ممکن بنایا جا سکتا ہے۔
یہ ایک حقیقت ہے کہ امن کا قیام جہاد و قتال کے ذریعے کبھی نہیں ہوتا۔ امن کا قیام ہمیشہ حقیقتِ واقعہ کے اعتراف (acceptance of reality) کی بنیاد پر ہوتا ہے۔حقیقت کو حقیقت کے ذریعے بدلا جاسکتا ہے، نہ کہ پرجوش نعروں کے ذریعے۔
واپس اوپر جائیں

عقل سے محرومی

امت پر جب عمومی بے عقلی کا دور آئے گا تو قانونِ دفع ( البقرۃ، 2:251) کا تقاضا ہوگا کہ اللہ اپنے ایک خاص بندے کو بھیجے جو کامل عقل سے بہرہ ور ہوگا، اور اللہ کی خصوصی نصرت سے سچائی کو کھولے گا،جو کہ صحیح کو صحیح بتائے گا ،اور غلط کا غلط ہونا واضح کرے گا۔ اللہ کا یہ منصوبہ ایک حدیث رسول میں بیان کیا گیا ہے۔ اس کا ترجمہ یہ ہے : زمین کو عدل و انصاف سے بھر دے گا، جیسا کہ وہ پہلے ظلم و زیادتی سے بھری ہوئی تھی(سنن ابی داؤد، حدیث نمبر 4282)۔
اس حدیث میں عدل سے مراد عدل کا نظام نہیں ہے۔ اسی طرح ظلم سے مراد ظلم کا نظام نہیں ہے۔ بلکہ عدل سے مراد عدل کی بات ہے، اور ظلم سے مراد ظلم کی بات ہے۔ اِسی طرح ارض سے مراد ساری زمین (globe) نہیں ہے بلکہ ارض سے مراد ارضِ مسلم ہے۔ یعنی مسلم دنیا میں جب ہر طرف بےعقلی کی باتیں ہونے لگیں گی، تو وہ انسان لوگوں کو ہر پہلو سے عقل کی بات بتائے گا۔ وہ نظریاتی اعتبار سے، نہ کہ عملی اعتبار سے، مسلم دنیا کو بتائے گا کہ عقل کے مطابق سوچنا کیا ہے اورعقل کے مطابق کرنا کیا ہے۔ وہ انسان کوئی حکومت نہیں قائم کرے گا بلکہ وہ ایک نظریاتی دور لائے گا۔
یہ کوئی پر اسرار بات نہیں ہے، بلکہ یہ فطرت کا نظام ہے۔ یہ فطرت کا نظام ہے کہ ہر بار جب لوگوں کی سوچ بگڑ جاتی ہے، اوراس کے نتیجے میں عمل میں بگاڑ آجاتا ہے، تو اس وقت اللہ کی توفیق سے ایسے افراد اٹھتے ہیں، جو لوگوں کو صحیح طرز فکر دیں، جو لوگوں کی کنڈیشنڈ تھنکنگ کو کنڈیشننگ سے پاک کریں، اور صحیح انداز میں سوچنے والا بنائیں۔ ایسا اس لیے ہوتا ہے کہ انسانی سوچ خواہ کتناہی بگڑ جائے لیکن انسان کا ضمیر (conscience) پھر بھی زندہ رہتا ہے۔ یہ ضمیر انسانی معاشرے کے بگاڑ کو کلی بگاڑ بننے نہیں دیتا ۔ ایک حد کے بعد ضمیر جاگ اٹھتا ہے، اور معاشرے کے اندر اینٹی بگاڑ کا پراسس شروع ہوجاتا ہے۔جو ہر رکاوٹ کے باوجود فطرت کی رہنمائی میں جاری رہتا ہے۔ یہاں تک کہ بگاڑ کے بعد اصلاح کا دور آجاتا ہے۔
واپس اوپر جائیں

عورت کی تخلیق

عورت کے بارے میں ایک روایت حدیث کی مختلف کتابوں میں آئی ہے۔ صحیح ابن حبان کے الفاظ یہ ہیں:إِنَّمَا مَثَلُ الْمَرْأَةِ کَالضِّلَعِ، إِنْ أَرَدْتَ إِقَامَتَہَا کُسِرَتْ، وَإِنَّ تَسْتَمْتِعْ بِہَا تَسْتَمْتِعْ بِہَا وَفِیہَا عِوَجٌ، فَاسْتَمْتِعْ بِہَا عَلَى مَا کَانَ مِنْہَا من عوج(صحیح ابن حبان، حدیث نمبر 4180)۔ یعنی عورت کی مثال پسلی کی مانند ہے۔ اگر تم چاہو اس کو سیدھا کرنا تو تم اس کو توڑ دو گے۔ اور اگر تم اس سے فائدہ اٹھانا چاہو تو فائدہ اٹھاؤگے، اور اس کے اندر ایک ٹیڑ ھ ہے، پس تم اس کی ٹیڑھ کے باوجود اس سے فائدہ اٹھاؤ (تو تم اس سے فائدہ پاؤ گے)۔
اس حدیث میں عوج (ٹیڑھ) سے مراد یہ نہیں ہے کہ عورت کے اندر کوئی تخلیقی کجی ہے۔ یہ در اصل تمثیل کی زبان ہے۔ یعنی اس سے مرادوہ مخصوص مزاج ہے، جو عورتوں کے اندر پایا جاتا ہے۔ عورت اپنے مزاج کے اعتبار سے جذباتی (emotional) ہوتی ہے۔ اسی جذباتی مزاج کو پسلی سے تعبیر کیا گیا ہے۔
جذباتی مزاج کیا ہے۔ وہ یہ ہے کہ کسی بات کو عقلی طور پر سوچنے سے پہلے بھڑک اٹھنا۔ کوئی بات مزاج کے خلاف ہو تو ٹھنڈے طریقے سے سوچے بغیر رائے قائم کرلینا۔ کسی بات پر اتنا شدید ہوجانا کہ سمجھنے سمجھانے کا دروازہ بند ہوجائے۔کسی معاملے کو نتیجے کے اعتبار سے نہ دیکھنا، بلکہ صرف جذباتی پہلو سے سوچنا۔ اپنے کو صحیح اور دوسرے کو غلط سمجھ لینا۔ اس قسم کی تمام باتیں جذباتیت (emotionalism) سے تعلق رکھتی ہیں۔
جو آدمی اس طرح کی جذباتیت کا شکار ہوجائے، اس کو صرف اپنے موافق بات سمجھ میں آتی ہے۔اس کے خلاف کوئی بات اس کو سمجھ میں نہیں آتی ہے۔ جو بات اپنے مزاج کےخلاف نظر آئے، اس پر وہ سوچنے کے لیے تیار نہیں ہوتا۔ایسے آدمی کو نرمی سے سمجھایا جاسکتاہے۔ لیکن اس کو سختی سے سمجھانا، ممکن نہیں ہوتا۔
واپس اوپر جائیں

ازدواجی زندگی

ایک شادی شدہ جوڑے سے میری ملاقات ہوئی۔ان کو نصیحت کرتے ہوئے میں نے کہا کہ شادی شدہ زندگی یہ ہے کہ دو آدمی سنجیدہ فیصلہ کرتے ہیں کہ وہ باہم مل کر زندگی کا مشترک سفر طے کریں گے۔ یہ سفر پورا کا پورا تجربات کی صورت میں گزرتا ہے۔ کبھی خوش گوار تجربہ اور کبھی نا خوش گوار تجربہ۔
آپ دونوں کو میری نصیحت صرف ایک ہے۔ وہ یہ کہ جب اس مشترک سفر میں آپ دونوں کو کوئی خوش گوار تجربہ گزرے تو اس پر اللہ رب العالمین کا شکر ادا کیجیے، اور اپنے سفر کو مثبت ذہن کے ساتھ جاری رکھیے۔ اس کے برعکس، اگر آپ کو اس سفر میں کوئی نا خوش گوار تجربہ پیش آئے تو اس سے کوئی سبق سیکھنے کی کوشش کیجئے۔ کیوں کہ ہر نا خوش گوار تجربہ ہمیشہ ایک نیا سبق لے کر آتا ہے۔ وہ اس لیے ہوتا ہے کہ آپ سفر کا اگلا مرحلہ زیادہ بہتر طور پر گزاریں۔
شادی شدہ زندگی اجتماعیت کی اکائی ہے۔ آپ انفرادی زندگی اپنی مرضی کے مطابق گزار سکتے ہیں۔ لیکن اجتماعی زندگی میں دوسروں سے نبھانا ضروری ہوجاتا ہے۔ دوسروں سے نبھانے کا آرٹ سیکھے بغیر اجتماعی زندگی کامیاب نہیں ہوسکتی، خواہ شادی شدہ زندگی ہو یاکوئی اور سماجی زندگی۔
شادی شدہ زندگی صرف شادی کے لیے نہیں ہوتی۔ بلکہ وہ تجربہ سیکھنے کے لیے ہوتی ہے۔ وہ اس لیے ہوتی ہے کہ آدمی یہ سیکھے کہ دوسروں کے ساتھ کامیاب زندگی گزارنے کا طریقہ کیا ہے۔ تجربہ ہمیشہ کئی قسم کا ہوتا ہے۔ تجربے کی زندگی میں خوشگوار واقعات بھی پیش آتے ہیں،اور ناخوشگوار بھی۔ تاہم ہر تجربے میں کوئی نہ کوئی سبق ضرور موجود ہوتا ہے۔ کبھی ایک نئے اصول کی دریافت کی صورت میں ، اور کبھی کسی عملی رہنمائی کی صورت میں ، اور دونوں بلاشبہ یکساں طور پر مفید ہے۔جس آدمی کی زندگی تجربہ سے خالی ہو،اس کی زندگی حکمت (wisdom) سے خالی ہو گی۔
واپس اوپر جائیں

نیت پر حملہ

تنقید (criticism) کے دو طریقے ہیں۔ ایک ہے کسی آدمی کے قول پر ثابت شدہ حقائق کی روشنی میں علمی تجزیہ (analysis)کرنا۔ ایسا تجزیہ جس میں آدمی کی نیت زیر بحث نہ آئی ہو، بلکہ صرف اس کے نقطۂ نظر کاموضوعی (objective) انداز میں جائزہ لیا گیا ہو۔ یہ طریقہ ایک جائز طریقہ ہے۔ قرآن یا حدیث کا کوئی حوالہ ایسا نہیں ہے، جو اس طریقے کو دینِ اسلام کے خلاف بتاتا ہو۔
دوسرا طریقہ یہ ہے کہ کسی آدمی کی طرف ایک ایسی بات کو منسوب کرنا، جس کے بارے میں کوئی ثابت شدہ حوالہ ایسا موجود نہ ہو کہ اس نے جو کچھ کہا یا لکھا ہے، وہ قصداً (intentionally) کہا یا لکھاہے، بلکہ وہ ناقد کا اپنا مفروضہ ہو۔ ایسی تنقید اسلام میں بلاشبہ جائز نہیں ، اور آدمی کو اس دوسرے قسم کی تنقید سے کامل پرہیز کرنا چاہیے۔
مذکورہ تقسیم میں دوسری قسم کی تنقید بے حد خطرناک ہے۔ اگر کوئی شخص ایسی تنقید کا ارتکاب کرے، تو اس کو ڈرنا چاہیے کہ اس کی وجہ سے وہ خود اللہ کی پکڑ میں نہ آجائے۔کیوں کہ حدیث سے غیر مشتبہ طور پر اس کا باطل ہونا ثابت ہوتا ہے۔ اس سلسلے میں ایک حدیث یہاں نقل کی جاتی ہے۔ ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ روایت ہے:أَنَّ النَّبِیَّ صَلَّى اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَقُولُ:لاَ یَرْمِی رَجُلٌ رَجُلًا بِالفُسُوقِ، وَلاَ یَرْمِیہِ بِالکُفْرِ، إِلَّا ارْتَدَّتْ عَلَیْہِ، إِنْ لَمْ یَکُنْ صَاحِبُہُ کَذَلِکَ(صحیح البخاری، حدیث نمبر 6045)۔ یعنی نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا کہ اگر کوئی کسی شخص پر کفر یا فسق کا الزام لگائے، تو وہ خود کہنے والے کی طرف لوٹ جائے گا، اگر دوسرا شخص ایسا نہ ہو۔
کفر یا فسق اپنی حقیقت کے اعتبار سے کوئی خارجی واقعہ نہیں۔ بلکہ اس کا تعلق آدمی کی اپنی نیت سے ہے۔ اس لیے کسی کو کافر یا فاسق کہنا ، اس کی نیت پر حملہ بن جاتا ہے۔ اس لیے کسی کو کافر یا فاسق کہنا کسی حال میں جائز نہیں۔ یہ تمام تر اللہ رب العالمین کا معاملہ ہے، وہ انسان کے بیان کا معاملہ نہیں۔
واپس اوپر جائیں

آدابِ تنقید

تنقید (criticism) ایک جائز فعل ہے۔ ہر شخص کو یہ حق ہے کہ وہ کسی دوسرے شخص پر تنقید کرے۔ لیکن تنقید کا ایک متعین اصول ہے۔ متعین اصول کے مطابق جو تنقید کی جائے، وہ ایک جائز تنقید ہے۔ لیکن جس تنقید میں متعین اصول کی رعایت نہ ہو، وہ تنقید نہیں، بلکہ تنقیص ہے۔ اسلام کی تعلیمات کے مطابق، تنقید بلاشبہ جائز ہے، لیکن تنقیص بلاشبہ ایک ناجائز فعل ہے۔
جائز تنقید اور ناجائز تنقید یا تنقیص میں کیا فر ق ہے۔ ناجائز تنقید یہ ہے کہ آپ کسی شخص کے اوپر تنقید کریں، لیکن یہ تنقید آپ اپنے الفاظ میں کریں۔ یعنی ایسا ہو کہ تنقید تو دوسرے کی ہو، اور الفاظ اس کے اپنے ہوں تو ایسی تنقید جائز نہیں۔ اس کے مقابلے میں اگر آپ ایسا کریں کہ کسی شخص کے اوپرتنقید کریں، تو اس کے اپنے ثابت شدہ الفاظ پر مبنی ہو ۔ایسی تنقید ایک جائز تنقید ہے ۔مثلاً آپ کسی شخص کے بارے میں یہ کہیں کہ اس کے اندر قول و فعل کا تضاد ہے، تو یہ تنقید صرف اس وقت جائز ہوگی، جب کہ آپ زیر تنقید شخص کے قول یا فعل سے اس قسم کا ثابت شدہ حوالہ پیش کریں۔ اگر آپ کے پاس ثابت شدہ حوالہ نہ ہو تو آپ کو ایسی تنقید کرنے کا ہر گز کوئی حق نہیں۔
اسی طرح اگر آپ کسی کے بارے میں یہ کہیں کہ وہ قرآن و حدیث کا نام لیتا ہے، لیکن بات خود اپنی پیش کرتا ہے تو آپ کو اس روش کی کم از کم ایک متعین اور محدد (specific)مثال پیش کرنی ہوگی۔ ثابت شدہ مثال کے بغیر ایسی تنقید صرف ایک بے بنیاد الزام ہے، وہ ہرگز تنقید نہیں۔
اسی طرح اگر آپ کسی کے بارے میں یہ کہیں کہ اس کے پاس ڈبل معیار ہوتا ہے، ایک معیار اپنے لیے، اور دوسرا معیار دوسروں کے لیے۔ تو یہ تنقید بھی صرف اس وقت ایک جائز تنقید ہے، جب کہ زیر بحث شخص کے بارے میں ایک ثابت شدہ مثال دیں، ایسی مثال جو ناقابل تردید حوالوں پر مبنی ہو۔ صرف ایسی تنقید ، تنقید ہے۔ جس تنقید کے ساتھ ایسا ثبوت موجود نہ ہو، وہ سبّ شتم اور عیب جوئی اور الزام تراشی ہے، نہ کہ واقعی معنوں میں ایک جائز تنقید۔
واپس اوپر جائیں

پازیٹیو تھنکنگ، پازیٹیوزم

پازیٹیو تھنکنگ اور پازیٹیوزم (positivism)، دونوں ہم معنی الفاظ نہیں ہیں۔ پازیٹیو تھنکنگ انگریزی ڈکشنری کا ایک عام لفظ ہے، جب کہ پازیٹیوزم ایک خالص فلسفیانہ اصطلاح (philosophical term)ہے۔ پازیٹیو تھنکنگ کا مطلب ہے، مثبت طرزِ فکر، یعنی منفی طرزِ فکر سے پاک سوچ۔ یہ اس انسان کی صفت ہے، جو بے آمیز سوچ (unbiased thinking) کا مالک ہو، جو شکایتی نفسیات سے پاک ہو۔
اس کے برعکس، پازیٹیوزم ایک فلسفیانہ اصطلاح (term) ہے۔ پازیٹیوزم کا بانی فرانسیسی ماہر سماجیات اور فلسفی آگسٹ کامٹے (Auguste Comte) ہے۔یہ نظریہ انیسویں صدی کے وسط میں فروغ پایا۔ پازیٹیوزم کے مطابق، واحد مستند علم، سائنس کا علم ہے، اور یہ علم خالص سائنسی طریقے سے نظریات کے مثبت تصدیق سے حاصل ہوسکتا ہے:
Positivism is the view that the only authentic knowledge is scientific knowledge, and that such knowledge can only come from positive affirmation of theories through strict scientific method.
مثبت طرز فکر (positive thinking)ایک علاحدہ اصطلاح ہے۔ یہ سنجیدہ انسان کی ایک صفت ہے۔ ایسا انسان، جو بے آمیز انداز میں سوچتا ہے، جو موضوعی (objective)انداز میں رائے قائم کرتا ہے، اس کی رائے مبنی بر حقیقت رائے ہوتی ہے، اس کی رائے بے لاگ رائے ہوتی ہے، اس کا نقطۂ نظر خالص فکری نقطۂ نظر ہوتاہے۔ اس طرزِ فکر کو دوسرے الفاظ میں ایز اٹ از تھنکنگ (as it is thinking) کہا جاسکتا ہے، یعنی کسی کمی زیادتی کے بغیر عین حقیقتِ واقعہ کے مطابق سوچنا۔ پازیٹیو تھکنگ ایک عام فکر ہے، جب کہ پازیٹیوزم ایک فلسفیانہ اسکول کا نام ہے۔ پازیٹیوزم کے مطابق، معتبر علم صرف سائنسی علم ہی ہے۔
واپس اوپر جائیں

پریکٹکل وزڈم

عملی دانش مندی در اصل حسنِ تدبیر کا دوسرا نام ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ایک روش جو بظاہر نظری اعتبار سے درست نہ ہو، اس کو دانش مندانہ تدبیر کے طور پر اختیار کرنا، تاکہ عملی اعتبار سے کوئی غیر مطلوب نتیجہ سامنے نہ آئے۔ مثلاً آپ کے اور کسی شخص کے درمیان پراپرٹی کو لے کر ایک نزاع قائم ہوجائے۔اس وقت آپ اس پر مقدمہ بازی کا طریقہ اختیار نہ کریں، بلکہ کچھ نقصان اٹھا کر آؤٹ آف کورٹ سیٹلمنٹ کرلیں، تو یہ پریکٹکل وزڈم کی ایک مثال ہوگی۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں اس کی ایک مثال یہ ہے کہ جب حدیبیہ کا معاہدہ لکھا جانے والا تھا تو آپ نے لکھایا : ہَذَا مَا صَالَحَ عَلَیْہِ مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللہِ ، تو اس پر فریق ثانی نے اعتراض کیا کہ ہم آپ کو پیغمبر نہیں مانتے، آپ محمد بن عبد اللہ لکھیے۔ آپ اس پر راضی ہوگئے ،اور معاہدے کے کاغذ پر لکھوایا: محمد بن عبداللہ(مسند احمد، حدیث نمبر3187)۔ یہ پریکٹکل وزڈم کی ایک مثال تھی۔
سلطان ٹیپو میسورکی ایک بڑی سلطنت کا مالک تھے۔ ان کا مقابلہ ایسٹ انڈیا کمپنی کی فوجوں سے ہوا۔ ٹیپو سلطان کے لیے اس وقت دو آپشن تھے۔ ایک یہ کہ وہ برٹش فوجوں سے صلح کرلے، اور دوسرا یہ کہ وہ برٹش فوجوں سے لڑائی کا طریقہ اختیار کرے۔ٹیپو سلطان نے ٹکراؤ کا طریقہ اختیار کیا۔ اس وقت اس نے یہ مشہور جملہ کہا تھا:شیر کی ایک دن کی زندگی ، گیدڑ کی سو سالہ زندگی سے بہتر ہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ 4 مئی، 1799 کو سرنگاپٹنم میں دورانِ جنگ اس کے قتل کے ساتھ اس کی حکومت بھی ختم ہوگئی۔ اس کے برعکس مثال حیدر آباد کے نظام کی ہے۔ ان کے سامنے بھی برٹش فوجوں سے لڑائی کا چیلنج تھا۔ مگر انھوں نے برٹش فوجوں سے لڑائی نہیں کی، بلکہ برٹش فوجوں سے صلح کرلی۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ حیدر آباد کی ریاست تقریباً دو سو سال تک قائم رہی، اور اس مدت میں اس نے بہت سے مفید کام کیے۔ اس مثال میں برٹش فوجوں سے صلح کرلینا، پریکٹکل وزڈم کا معاملہ تھا، اور برٹش فوجوں سے لڑجانا، پریکٹکل وزڈم کے خلاف ایک معاملہ تھا۔
واپس اوپر جائیں

بے باکی یا دانش مندی

ایک مسلم رہنما کی تعریف میں ایک مضمون دیکھا۔ اس کا ایک جملہ یہ تھا— انہوں نے ملکی مسائل کے ساتھ ساتھ ہندستانی مسلمانوں کے مخصوص مسائل کے بارے میں گہرائی سے غور وفکر کیا، اورہمیشہ پوری بے باکی سے اس پر اظہارِ خیال کیا۔
مشہور شخصیتوں کے بارے میں اکثر اس طرح کا جملہ لکھا اور بولا جاتا ہے۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ مسائل پر بے باکی کے ساتھ اظہارِ خیا ل کرنا، کوئی کام نہیں۔ عملی اعتبار سے دیکھا جائے تو اس طرح کے بےباکانہ اظہارِ خیال کا کوئی فائدہ نہیں۔ صحیح یہ ہے کہ صورتِ حال کا گہرائی کے ساتھ مطالعہ کیا جائے۔ پھر مواقع کی دریافت کی جائے، لوگوں کو بتایا جائے کہ مسائل کے باوجود کون سے مواقع موجود ہیں، جن کو اویل (avail) کرکے ترقی کی طرف کامیاب سفر جاری کیا جاسکتا ہے۔’’بے باکانہ اظہارِ خیال‘‘ دراصل ری ایکشن (reaction) کا دوسرا نام ہے، اور ری ایکشن کا طریقہ صرف مسائل میں اضافہ کرنے والا ہے، نہ کہ مسائل میں کمی کرنے والا۔
اس قسم کے بے باکانہ اظہارِ خیال کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ لوگوں کے اندر منفی سوچ پیدا ہوجاتی ہے۔ پھر منفی سوچ بڑھتے بڑھتے تشدد کی سوچ اختیار کرلیتی ہے۔ لوگ ذہنی طور پر اس قابل نہیں رہتے کہ وہ حقیقت پسندانہ انداز میں سوچیں، اور حقیقت پسندانہ انداز میں اپنے عمل کا منصوبہ بنائیں۔
مبنی بر مسائل سوچ (problem-based thinking) کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ آدمی کا ذہن منفی ذہن بن جاتاہے۔ وہ دوسروں کی مفروضہ یا غیر مفروضہ زیادتیوں پر سوچتا ہے، لیکن خود اپنی کوتاہیوں کا جائزہ نہیں لیتا۔ اس کے اندر یہ ذہن بن جاتا ہے کہ ہر معاملے میں غلطی دوسروں کی ہے، میری کوئی غلطی نہیں۔ ہر مسئلے کے ذمے دار دوسرے لوگ ہیں، میں ذمے دار نہیں۔ اس قسم کی ذہن سازی الٹی ذہن سازی ہے۔ ایسی ذہن سازی قوم کی خدمت نہیں ہے، بلکہ وہ قوم کو غلط رہنمائی کرنے کے ہم معنی ہے۔
واپس اوپر جائیں

بہت دن کم رہا

میر تقی میر ایک اردو شاعر تھے۔وہ آگرہ میں 1723 ء میں پیدا ہوئے، اور لکھنؤ میں 1810ء میں 87 سال کی عمر میں ان کی وفات ہوئی۔ ان کا ایک شعر یہ ہے:
صبح گزری شام ہونے آئی میر تو نہ چیتا اوربہت دن کم رہا
یہ شعر میں نے اپنی نوجوانی کی عمر میں پڑھا تھا۔ اس وقت میں یوپی کے ایک گاؤں میں رہتا تھا۔ اب میں خود بڑھاپے کی عمر کو پہنچ کر اسی تجربے سے گزر رہا ہوں، جو تجربہ اردو شاعر کو پیش آیا تھا۔ مجھے ایسا محسوس ہوتا ہے، جیسے کہ بڑھاپے کی بات کو کہنایا لکھنا اور چیز ہے، لیکن بڑھاپے کی عمر کا تجربہ کرنا، بالکل مختلف چیز ہے۔ نوجوانی کی عمر میں جب میں نے یہ شعر پڑھا تھا، تو یہ صرف ایک شعر معلوم ہوتا تھا۔ لیکن آج جب میں اس شعر کو پڑھتا ہوں، تو وہ ایک حقیقت معلوم ہوتا ہے۔ اب واقعۃً یہ محسوس ہوتا ہے کہ لمبی عمر گزرگئی، اور اب کرنے کے لیے بہت کم وقت باقی رہا۔
ایک بار بیرونی سفر کے دوران میری ملاقات سپریم کورٹ کے ریٹائرڈ جج جسٹس ہنسراج کھنہ سے ہوئی، وہ ریٹائر ہونے کے بعد دلی میں رہتے تھے، اور 2008 میں ان کا انتقال ہوگیا۔ دورانِ سفر ان سے جو باتیں ہوئیں، ان میں سے ایک یہ تھی کہ انھوں نے بتایا کہ جے آر ڈی ٹاٹا (1904-1993)بڑھاپے کی عمر میں میرے پاس قانونی مشورے کے لیے کبھی کبھی آتے تھے۔ ایک بار جے آر ڈی ٹا ٹا نے ان سے کہا تھا: کھنہ صاحب، مُولیہ (capital)تو کھا چکا ہوں، اب بیاج پر جی رہا ہوں۔
بے خبر انسان کے لیے موت صرف زندگی کے خاتمے کا نام ہے، لیکن جو انسان حقیقت سے باخبر ہو، وہ سوچے گا کہ زندگی کے پچھلے دن تو میں کھو چکا، اب زندگی کے چند دن جو باقی ہیں، کیا میں ان کو اویل کرسکتا ہوں۔ کیا یہ ممکن ہے کہ میں غفلت کی زندگی کو اپنے آخری دنوں میں ہوشمندی کی زندگی بنا لوں۔
واپس اوپر جائیں

بڑا آدمی کون

ایک صاحب نے کہا کہ میں اپنے بیٹے کے مستقبل کے بارے میں زیادہ پرامید نہیں۔ اس کے اندر میں فائٹنگ اسپرٹ (fighting spirit) نہیں پاتا، اور دنیا میں ترقی کے لیے فائٹنگ اسپرٹ ضروری ہے۔ میں نے کہا کہ مجھے آپ کی اس رائے سے اتفاق نہیں۔ اس دنیا میں ترقی کے لیے زیادہ بڑی صفت خود اعتمادی (self confidence) ہے۔خود اعتمادی کا مطلب ہےاپنے بل پر کام کرنا، دوسرے پر بھروسہ کرکے چھلانگ نہ لگانا۔ فائٹنگ اسپرٹ والا آدمی اکثر یہ غلطی کرتا ہے کہ وہ ایسی چیز سے ٹکرا جاتا ہے، جو اس کی طاقت سے زیادہ ہو۔
اس کی ایک مثال امریکا کے محمد علی کلے (1942-2016)کا کیس ہے۔ وہ اپنی حد پر قائم نہیں رہا، وہ مس ایڈوینچرزم کا شکار ہوا۔ یہاں تک کہ پارکنسن کا مریض بن گیا، اور اپنے آپ کو کنگ آف دی ورلڈ کہنے والا انسان بےبسی کی حالت میں مرگیا۔ اس کے برعکس، دوسری مثال جے آر ڈی ٹاٹا (1904-1993)کی ہے۔وہ ویزن والا انسان تھا۔ وہ مسلمہ طور پر خود اعتمادی کی صلاحیت رکھتا تھا۔ اس نے نہایت درست پلاننگ کی، اور صنعت کے میدان میں بڑی ترقی حاصل کی، وہ دنیا سے گیا تو اس نے اپنے پیچھے ایک صنعتی ایمپائر چھوڑا۔
عام طور پر ایسا ہوتا ہے کہ آدمی کے اندر ایک ممیز صلاحیت ہوتی ہے، تو اسی کے ساتھ کچھ مشترک صلاحیتیں ہوتی ہیں۔ مثلاً ایک ایڈونچرسٹ آدمی آسانی سے مس ایڈونچرزم کا شکار ہوجاتا ہے۔ مگر جس آدمی کے اندر خود اعتمادی کی صلاحیت ہو، وہ عام طور پر حقیقت پسند بھی ہوتا ہے۔ اس بنا پر اکثر ایسا ہوتا ہے کہ اس کا منصوبہ حقیقت پسندانہ منصوبہ ہوتا ہے۔ اس بنا پر اس کے بارے میں زیادہ امید کی جاسکتی ہے کہ وہ غیر حقیقت پسندانہ منصوبہ سے اپنے آپ کو بچائے گا۔ کامیابی کے لیے صرف ایک صلاحیت کافی نہیں ہوتی۔ بلکہ یہ ضروری ہوتا ہے کہ آدمی کے اندر مجموعی اعتبار سے کچھ مثبت صلاحیتیں موجود ہوں۔
واپس اوپر جائیں

آنکھوں کے بغیر

مرکزِ اطلاعات، فلسطین کی رپورٹ کےمطابق، مراکش کے جنوبی شہر یرکان سے تعلق رکھنے والا عبدالرحمن اوزار نابینا ہونے کے باوجود متعدد عالمی زبانوں فرانسیسی، جرمن، انگریزی، اور اسپانوی وغیرہ میں ماہر ہے۔ پیدائش کے دو ماہ بعد ایک بیماری کے سبب وہ بصارت سے محروم ہوگیا، لیکن اس کا نابینا پن اس کے حصولِ علم کی راہ میں حائل نہیں ہوا۔ میٹرک تک ممتاز نمبروں سے کامیابی نے اس کے حوصلوں کو مہمیز کیا۔ قاضی عیاض یونیورسٹی ، مراکش میں فرانسیسی ادب کی تعلیم کے لیے داخلہ لیا، طب کی تکمیل کے بعد اسلامیات میں گریجویشن اور اس کے بعد قوانینِ اسلامی میں ڈاکٹریٹ کی سند حاصل کی۔ اس کے علاوہ موسیقی اور انفارمیشن ٹکنالوجی کا کورس کیا۔ وہ حافظ بھی ہے۔(اخبار مشرق، دہلی، بحوالہ ماہنامہ معارف، اعظم گڑھ،فروری 2018) ۔
یہ واقعہ انسان کے پوٹنشیل کو بتاتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ہر انسان بے پناہ امکانات کے ساتھ پیدا ہوتا ہے، کوئی انسان محروم انسان کی حیثیت سے پیدا نہیں ہوتا، محرومی کسی واقعہ کا نتیجہ نہیں ہے، وہ صرف بے خبری کا نتیجہ ہے۔ حتی کہ کوئی حادثہ انسان کے لیےفطری امکانات کو ختم نہیں کرتا۔ شرط صرف یہ ہے کہ آدمی بے حوصلہ نہ ہو، بلکہ اپنے فطری امکانات کو دریافت کرے، اور مثبت ذہن کے ساتھ اس کی منصوبہ بندی کرے۔ تاریخ میں ایسی مثالیں بہت ہیں، جب کہ ایک مرد یا عورت کو کوئی حادثہ پیش آیا۔ اس حادثہ نے اس کو بظاہر معذور (disabled) بنا دیا۔ لیکن انسان نے اپنی ری پلاننگ کی۔ اس نے اپنے عمل سے یہ ثابت کیا کہ اگر چہ بظاہر وہ ایک معذور انسان ہے، لیکن وہ ایک اور پہلو سے پوری طرح ڈفرنٹلی ایبلڈ انسان (differently abled person) ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اس دنیا میں انسان کا سفر کبھی رکتا نہیں۔ اگر اس کی پہلی پلاننگ نتیجہ خیز ثابت نہ ہو، تو وہ دوسری پلاننگ (re-planning) کے ذریعہ اپنے آپ کو کامیاب بنا سکتا ہے۔ بشرطیکہ وہ ہررکاوٹ کے بعد اپنے سفر کو از سر نو جاری رکھنے کا آرٹ جان لے۔
واپس اوپر جائیں

باس از آلویز رائٹ

باس از آلویز رائٹ(Boss is always right)—کمپنی کلچر کا ایک بنیادی اصول ہے۔ اس اصول کے بغیر کوئی اجتماعی کام نظم و ضبط کے ساتھ انجام نہیں دیا جاسکتا۔ اسی لیے ہر اجتماعی کام میں ایک شخص کو ذمہ دارِ اعلی بنایا جاتا ہے۔ مزید یہ کہ ذمے دارِ اعلی پر اعتماد کرنا پڑتا ہے کہ وہ صحیح فیصلہ لے گا۔ بوقتِ فیصلہ باس کو کلی اختیار حاصل ہوتا ہے۔ البتہ یہ صحیح ہے کہ بعد کو باس کا احتساب کیا جائے، اور باس سے یہ درخواست کی جائے کہ وہ اپنے فیصلے کا جواز ذمے دار لوگوں کو بتائے۔
جو شخص کسی کمپنی میں کوئی جاب کرے، اس کے لیے لازم ہے کہ وہ باس از آلویز رائٹ کے اصول کو بلاشرط مانے۔ اس اصول کے معاملے میں کسی شخص کا کوئی استثنا نہیں۔ کیوں کہ اس معاملے میں اگر استثنا کے اصول کو مانا جائے، تو کمپنی کا کام درست طور پر انجام نہیں دیا جاسکتا۔ جو آدمی کسی کمپنی میں جاب کررہا ہو، اس کو یہ اختیار تو حاصل ہے کہ وہ جاب کو چھوڑدے، لیکن اس کو یہ اختیار حاصل نہیں کہ وہ باس از الویز رائٹ کے اصول کو ماننے سے انکار کردے، یا جاب پر رہتے ہوئے،اس کی خلاف ورزی کرے۔
باس از الویز رائٹ کوئی عقیدے کی بات نہیں، یہ ایک پریکٹکل وزڈم کی بات ہے۔کوئی آدمی جو کسی کمپنی میں جاب کررہا ہو، یہ اس کی ذاتی ذمے داری ہے کہ وہ کمپنی کے قواعد کو جانے، وہ کمپنی کے اصول و ضوابط کو پوری اسپرٹ کے ساتھ اپنائے۔ کوئی شخص جو کمپنی کے جاب میں ہو، اگر وہ اس اصول کی خلاف ورزی کرے، تو اس کو لازماً اس کا نقصان بھگتنا پڑے گا۔ یہ کمپنی کے اپنے اوپر ہے کہ وہ اس معاملے میں کارکن کو اس کی غلطی پر سزا دے، یا وہ اس کو معاف کردے۔اسی طرح یہ کارکن کی اپنی ذمے داری ہے کہ وہ کمپنی کے ضوابط سے مکمل طور پر باخبر رہے، تاکہ وہ پوری طرح ان ضوابط کا پابند ہو سکے۔ اس معاملے میں کارکن کی طرف سے کوئی عذر قابل قبول نہیں۔ اس معاملے میں کارکن کی صرف ذمے داری ہے، کارکن کا کوئی ناقابل تنسیخ حق (irrevocable right) نہیں۔
واپس اوپر جائیں

سیکولرزم کیا ہے

ایک صاحب نے آپ کے تعلق سے لکھا ہےکہ مولانا وحید الدین خان اپنی تصنیف ’’مسائلِ اجتہاد‘‘ میں لکھتے ہیں:’’حقیقت یہ ہے کہ سیکولرزم کوئی مذہبی عقیدہ نہیں۔ سیکولرزم کا مطلب لامذہبیت نہیں بلکہ مذہب کے بارے میں غیر جانب دارانہ پالیسی اختیار کرنا ہے۔ یہ ایک عملی تدبیر ہے۔ اس کا مقصد یہ ہے کہ مذہبی نزاع سے بچتے ہوئے سیاسی اور اقتصادی امور میں مشترک بنیاد پر ملک کا نظام چلایا جائے۔‘‘ اسلام، سیرتِ رسولؐ اور صحابہ کرام رضوان اللہ اجمعین پر درجنوں کتابیں تحریر کرنے اور منفرد انداز میں تفسیرِ قرآن لکھنے والے جناب مولانا وحید الدین خان صاحب نے سیکولرزم کی جو تعریف (definition) کی ہے، اسے نہ تو نظرانداز کیا جا سکتا ہے اور نہ ہی اس سے صرفِ نظر کیا جانا چاہیے۔ گزارش مگر یہ ہے کہ ہمیں شیخی مارنے سے پرہیز کرتے ہوئے تحمل سے دوسرے کا نقطۂ نظر بھی سننے کا حوصلہ رکھنا چاہیے۔یہاں میرا سوال یہ ہے کہ واقعی کیا سیکولر زم کا مطلب لا مذہبیت نہیں، اس معاملے میں آپ کی رائے کیا ہے؟ (محمد محب اللہ،دہلی)۔
اس کا جواب یہ ہے کہ کچھ مسلم رہنما جو شاید سیکولرزم کے حقیقی معنی سے بے خبر تھے، انھوں نے سیکولرزم کا ترجمہ لامذہبیت یا لادینیت کے لفظ سے کردیا۔ یہیں سے یہ غلطی پیدا ہوئی۔ حقیقت یہ ہے کہ سیکولرزم کا تعلق صرف پریکٹکل وزڈم سے ہے۔سیکولر زم کا صحیح مطلب ہے -مذہبی امور میں ناطرف داری (non-interference) کا کلچر، اورہر ایک کے لیے یکساں مواقع فراہم کرنا:
Secularism seeks to ensure and protect freedom of religious belief and practice for all citizens. It is simply a framework for ensuring equality throughout society - in politics, education, the law and elsewhere - for believers and non-believers alike.
www.secularism.org.uk/what-is-secularism.html
جو لوگ خود ساختہ طور پر مذہب میں پالٹکس کو شامل کرتے ہیں، ان کو یہ تعریف موافق نہیں آتی۔ مگر یہ ان کا ذاتی مسئلہ ہے، علمی اعتبار سے یہ کوئی مسئلہ نہیں۔
واپس اوپر جائیں

ایک سوال

Your analysis of our current circumstances and proposed solutions based upon it, are very logical, practicable and bound to produce results if followed in true spirit. Your guidance for Pakistani citizens on how to participate in these elections so that an honest and God-fearing team may come forth to lead the whole nation and the country to the right direction and the right path is highly required. It might prove quite beneficial for, at least, all those people, who want to use this voting opportunity to develop a better situation. Thanks. (M. Iqbal, Pakistan)
جواب
اس کا سوال کا جواب ایک حدیث رسول میں ملتا ہے۔ اس حدیث کے الفاظ یہ ہیں: عَنْ أَبِی بَکْرَةَ، عَنِ النَّبِیِّ صَلَّى اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ:کَمَا تَکُونُونَ یُوَلَّى أَوْ یُؤَمَّرُ عَلَیْکُمْ (مسند الشہاب القضاعی، حدیث نمبر 577)۔ یعنی ابوبکرۃ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں ، آپ نے کہا: جیسے تم ہوگے،ویسے ہی حاکم تمھارے اوپر ہوں گے۔
اس حدیثِ رسول پر غور کیجیے۔ اس حدیثِ رسول سے ایک اہم سیاسی اصول معلوم ہوتا ہے۔ اس حدیثِ رسول میں کما تکونون کا مطلب یہ ہے کہ جیسا معاشرہ ہوگا، اور یولی او یومرکا مطلب ہے حکمراں۔ مزید غور کیجیے تو اس کا مطلب یہ سمجھ میں آتا ہے کہ جیسا تمھارا معاشرہ ہوگا، ویسے ہی تمھارے حکمراں ہوں گے۔
اب اس حدیث کا مطالعہ ایک آیت کی روشنی میں کیجیے۔ آیت کے الفاظ یہ ہیں: وَأَمْرُہُمْ شُورَى بَیْنَہُمْ (42:38)۔ یعنی وہ اپنا کام آپس کے مشورے سے کرتے ہیں۔ آیت اور حدیث میں فطرت کا ایک قانون بیان ہوا ہے۔ وہ یہ کہ حکومت ایک معاشرتی پروڈکٹ ہے۔ یعنی حکومت اصلاً معاشرے سے بر آمد ہوتی ہے، نہ کہ بیلٹ باکس سے۔ اس لیے لوگوں کو چاہیے کہ وہ جس قسم کی حکومت چاہتے ہوں، ویسا معاشرہ بنانے کی کوشش کریں۔ یعنی پر امن انداز میں افراد پر عمل کرکے معاشرے کی تشکیل کرنا۔ اس معاملے میں صحیح ترتیب یہ ہے — پہلے پرامن انداز میں افراد کی تعمیر، پھر معاشرے کی تشکیل، پھر حکومت کا قیام۔
پاکستان کا اصل مسئلہ یہ ہے کہ 1947 میں جو پاکستان بنا تو تمام رہنماؤں نے یہ سمجھ لیا کہ ایک اسلام پسند قوم وجود میں آگئی ہے۔ اب کرنے کا کام صرف یہ ہے کہ حکومت کی سیاسی زمامِ کار اس قوم کے حوالے کردی جائے۔ یہ مفروضہ سراسر بے بنیاد تھا۔ حقیقت کے اعتبار سے جو چیز وجود میں آئی تھی، وہ جغرافیہ کی زمینی تقسیم تھی، نہ کہ بامقصدقوم کی تشکیل۔ لیکن تمام لیڈروں نے یہ سمجھ لیا کہ وہ بیلٹ باکس سے مطلوب حکومت نکال سکتے ہیں۔ مگر آدھی صدی سے زیادہ مدت کی سرگرم کوشش کے باوجود نتیجے کے اعتبار سے کچھ بھی حاصل نہیں ہوا۔
1971 میں مَیں نے پاکستان کا سفر کیا تھا۔ اس وقت میں نے لاہور میں مولانا ابوالاعلیٰ مودودی کی قیام گاہ پر دوبار ان سے ملاقات کی تھی۔دورانِ گفتگو میں نے کہا تھا کہ آپ کی اسٹریٹیجی نتیجہ خیز ہونے والی نہیں۔ میرے الفاظ میں آپ کی اسٹریٹیجی یہ ہے کہ مسلم لیگ نے اسلامی پاکستان کے نام پر مسلم قوم کے اندر جو ٹیمپو (tempo) پیدا کیا ہے، آپ اس کو اپنی تحریک کے لیے استعمال کرسکتے ہیں۔ مگر یہ ناممکن ہے کہ ٹیمپو کوئی پیدا کرے، اور اس کو استعمال کوئی دوسرا کرے۔ یہ ٹیمپو یا تو مسلم لیگ کے لیے استعمال ہوگا، یا وہ استعمال ہی نہیں ہوگا۔ اس وقت مولانا مودودی نے میری رائے سے اتفاق نہیں کیا، اور پوری طاقت کے ساتھ الیکشن میں کود پڑے۔ انھوں نے پاکستان میں چار بار باقاعدہ طور پر الیکشن میں حصہ لیا، مگر ہر بار الیکشن میں ان کو مکمل ناکامی ہوئی۔ ان کا مفروضہ ایک بے بنیاد مفروضہ ثابت ہوا۔
اہل پاکستان کے لیے اس معاملے میں کوئی شارٹ کٹ نہیں ہے ۔ وہ اپنی جدو جہد کو الیکشن سے شروع نہیں کرسکتے۔ انھیں ہر حال میں یہ کرنا ہوگا کہ وہ سیاسی ٹکراؤ کا طریقہ چھوڑیں، اور کامل معنوں میں پر امن انداز میں پاکستانی قوم کی تعمیر کریں، یعنی تعلیم اور تربیت کے ذریعے۔ پاکستان میں مطلوب حکومت ایک تیار شدہ معاشرے سے برآمد ہوگی، نہ کہ سیاسی ٹکراؤ سے۔
واپس اوپر جائیں

خبرنامہ اسلامی مر کز- 263

■ دعوتی اسفار:سینٹر فار اسلامک ریسرچ اینڈ اسٹڈیز (CIRS) کی جانب سے 7جنوری 2018 کو ایک سیمینار سماجی عدل اور مساوات کے عنوان سے محمڈن اسپورٹنگ کلب ،ساکچی ،جمشید پور میں منعقد کیا گیا۔ ادارہ کی طرف سے حافظ ابو الحکم محمد دانیال (صدر سینٹر فار پیس اینڈ آبجیکٹو سٹڈیز بہار و جھارکھنڈ )کو مدعو کیا گیا ۔اس دعوت پر ابوالحکم محمد دانیال صاحب نے جمشید پور کا دوروزہ سفر کیا ، اور سیمینار میں جمشید پور ٹیم کے ہمراہ شرکت کی اور موضوع پر خطاب کیا ۔سیمینار میں اعلی تعلیم یافتہ برادران وطن بھی بڑی تعداد میں موجود تھے۔جنہوں نے خطاب کو بہت پسند کیا۔پروگرام کے بعد حاضرین کو سیرت رسول(اردو ، ہندی)،The Age of Peaceاور Leading A Spiritual Life بطور اسپریچول گفٹ دیا گیا۔ دوسرے دن ۸جنوری کو الحراء لائبریری میں ایک نشست ’’دعوت کا طریقۂ کار‘‘ پر ہوئی۔جس میں جناب حافظ ابوالحکم محمد دانیال صاحب نے سوال و جواب کے انداز میں گفتگو کی ۔اس کے بعد جناب ایاز صاحب کی رہائش گاہ پر مختلف لوگوں کے ساتھ میٹنگیں ہوئیں، جن میں الرسالہ مشن پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔ اس کے بعد 13 سے 15 جنوری 2018 کو ارریہ اور پورنیہ کا تین روزہ دعوتی سفر ہوا۔ اس دعوتی سفر میں 3 اجتماعات کیے گئے اور 5 نشستیں ٹیم کی تربیت کیلئے رکھی گئیں ۔تین اجتماعات میں سے دواعلیٰ تعلیم یافتہ برادرانِ وطن کے لیے تھا، اور ایک مسلمانوں کے لیے۔ تمام پروگراموں کے بعد شرکت کرنے والے لوگوں کے درمیان ترجمہ قرآن و سیرت کی کتابیں اور دیگر دعوتی لٹریچر گفٹ کیے گئے ۔ اس سفر میں حافظ ابو الحکم محمد دانیال صاحب کے ساتھ پٹنہ سے محمد عزیز الرحمن، محمد ثناءاللہ، محمد شہادت علی، محمد مشتاق، محمد حارث شریک ہوئے، اور ڈاکٹر محمد کمال ،محمد عقیق اور ڈاکٹر عمر صاحبان، ارریہ سے شریک ہوئے۔
■ 4 مارچ 2018 کو سی پی ایس ممبئی ٹیم نے پونے کا سفر کیا۔ یہ سفر سوئزر لینڈ کے مسٹر حسنو (Husnu)سے ملاقات کی غرض سے کیا گیا تھا۔مسٹر حسنونے ابتدائی ایام میں یورپین ممالک کے اندر قرآن ڈسٹریبیوشن میں سی پی ایس انٹرنیشنل کی مدد کی تھی۔ وہ دو مہینے کے لیے پونے آئے ہوئے تھے۔ ان سےممبئی ٹیم کی تقریباً ڈیڑھ گھنٹے کی ملاقات رہی۔ ان سے صدر اسلامی مرکز کے کتابوں اور دعوہ لٹریچر کو جرمن زبان میں ٹرانسلیٹ کرنے پر گفتگو ہوئی، اور ان کو بتایا گیا کہ فی الحال ہمارے پاس صرف جرمن ترجمۂ قرآن اور واٹ از اسلام ہیں۔ انھوں اپنی فیملی کے ساتھ سی پی ایس کا بھرپور تعاون کرنے کا وعدہ کیا اور ساتھ ہی انھوں نے جرمن حکومت کے اعلىٰ عہدیداروں کے درمیان دعوہ ورک کرنے کی خواہش ظاہر کی ہے۔
■ 25 مارچ 2018 کو ممبئی کے مشہور تعلیمی ادارہ انجمن اسلام کے کالیسکر ٹیکنکل کیمپس (پنویل، نئی ممبئی)میں انجینیرنگ، فارمیسی اور ایگریکلچر کے گریجویٹس کے اعزاز میں ایک پروگرام کا انعقاد ہوا۔ اس میں مہمانِ خصوصی مرکزی وزیر برائے اقلیتی امور مختار عباس نقوی تھے۔ اس میں سی پی ایس ممبئی کے ممبر محبوب ہنٹگی نے شرکت کی، اور اپنے بھائی، ڈاکٹر عبد الرزاق ہنٹگی، جو کہ اس کیمپس کے ڈائریکٹر ہیں، کے تعاون سے وزیر موصوف، معزز شخصیات اورتمام مہمانوں کو ترجمۂ قرآن اور دعوتی لٹریچر پیش کیا۔ تمام لوگوں نے بہت خوشی اور شکریہ کے ساتھ قبول فرمایا۔ اسی طرح انھوں نے 3 مئی 2018 کو ایک لائبریری کو تراجم قرآن (انگلش، ہندی، مراٹھی، کنڑا، تیلگو اور پنجابی) بطور تحفہ دیا ۔ لائبریرین ایک پنجابی لیڈی ہیں۔محبوب صاحب نے لائبریرین کو بتایا کہ پنجابی ترجمہ بھائی ہرپریت سنگھ نے کیا ہے، اور وہ دمدمہ صاحب کے جتھے دار ہیں، تو ان کا جواب تھا کہ پھر تو قرآن میں ضرور کچھ اہم بات ہوگی ۔
■ ساری دنیا میں قرآن کو پڑھنے کا رجحان بڑھتا جارہا ہے۔ نومبر 2017 کے خبرنامہ میں یہ بتایا گیا تھا کہ ایمسٹرڈم کے ہوٹل میرٹ (Marriott) نے ڈاکٹر ثانی اثنین خان ( ٹرسٹی سی پی ایس انٹرنیشنل، وڈائریکٹر گڈورڈبکس ،نئی دہلی)سے یہ درخواست کی تھی کہ ان کو اپنے ہوٹل روم کے لیے ترجمۂ قرآن چاہیے۔ اس وقت ان کو فوراً مطلوب تعداد میں ترجمۂ قرآن بھیج دیا گیا تھا۔ لیکن دنیا میں قرآن کو پڑھنے کا رجحان اتنا زیادہ بڑھ چکا ہے کہ ہوٹل میں ٹھہرنے والے لوگ ہوٹل سے قرآن اٹھا کر لے گئے۔ اس کے بعد 15مارچ 2018 کو دوبارہ ہوٹل مینیجر کا ای میل آیا ہے کہ ان کو دوبارہ 100 کاپی ترجمۂ قرآن چاہیے۔ ان کو دوبارہ ترجمہ قرآن بھیج دیا گیا ہے:
I really need more copies of the Koran. Many guests are taking away Koran copies with them. Many rooms are without the Koran. Can we get 100 copies. (Charith Perera, Manager, Courtyard by Marriott Amsterdam Airport)
■ 25 مارچ 2018 بزم ادب کامٹی کے زیر اہتمام کتابوں کے اجرا کی ایک تقریب کامٹی میں منعقد کی گئی۔ اس تقریب میں لفٹننٹ کرنل توقیر منتخب صاحب، سینئر سیکورٹی آفیسر آرڈیننس فیکٹری ناگپور، نے بحیثیت مہمان خصوصی شرکت کی۔ تقریب کے اختتام پر موصوف کوانگریزی ترجمۂ قرآن، واٹ از اسلام، دی ایج آف پیس، اسپرٹ آف اسلام، انسان اپنے آپ کو پہچان اور خاندانی زندگی، کتابیں پیش کی گئیں۔ انہوں نے اسے خوشی سے قبول کیا۔ دورانِ گفتگو انہوں نے کہا کہ وہ مولانا وحید الدین خان صاحب کو جانتے ہیں ۔ محمد عرفان رشیدی صاحب (سی پی ایس ناگپور و کامپٹی) نے ان سے کہا کہ آپ نے اپنی تقریر میں امتِ مسلمہ کو فرقہ بندی سے گریز کرنے اور متحد رہنے کے لئے کہا ہے۔ مولانا وحید الدین خان صاحب کا قول ہے کہ اختلاف کو ختم نہیں کیا جاسکتا، اختلاف کے باوجود متحد رہنا سیکھیے ۔ جواباً انہوں نے کہا بالکل درست بات ہے ایک خاندان میں دوبھائیوں کے خیالات مختلف ہوتے ہیں، لیکن وہ متحد رہتے ہیں ۔
■ مسٹر جاوید احمد (سی پی ایس، کولکاتا) کے ایک فعال ممبر ہیں۔ مارچ (2018) کے مہینے میں ان کا اپنے آبائی وطن نوادہ، بہار جانا ہوا۔ وہاں انھوں نے اپنی بھتیجی مز شبینہ پروین کے ساتھ ناردی گنج کے انگلش اسکول کے اساتذہ کو انگلش بک لٹس کا ایک ایک سٹ بطور تحفہ دیا گیا، جسے ان تمام لوگوں نے خوشی اور شکریہ کے ساتھ قبول کیا۔ اسی کے ساتھ انھوں نے اپنے گاؤں کے لوگوں کو بھی کتابیں دیں،اور مشنری اسکول سینٹ جوزیف (ناردی گنج) کے پرنسپل کو انگلش قرآن اور ریلٹی آف لائف بطور گفٹ دیا، جسے انھوں نے شکریہ اور مسرت کے ساتھ قبول کیا۔
■ مسٹر رفیق احمد تاشے والا(۹۸۴۴۱۳۹۶۱۱)، رانی بنور ،کرناٹکا سے تعلق رکھتے ہیں۔ وہ ایک متحرک سی پی ایس ممبر ہیں۔ پیشے سے اسکول ٹیچر ہیں، وہ خود بھی ماہنامہ الرسالہ پڑھتے ہیں، اور بڑی تعداد میں دوسروں کو پڑھنے کے لیے دیتے ہیں۔ مثلاً انھوں نےمارچ 2018 میں ماہنامہ الرسالہ کی100 کاپیاں اردو داں طبقے میں تقسیم کی ہیں۔ اسی طرح غیر مسلموں کے درمیان بڑی تعداد میں کنڑا ترجمہ قرآن تقسیم کیا ہے۔ مسٹر رفیق بطور خاص ٹیچروں کے درمیان کام کرتے ہیں۔
■ محمد یونس لٹیانی صاحب ( 09131251641) کا تعلق بھوپال، مدھیہ پردیش سےہے۔وہ الرسالہ مشن کے پرانے ممبر ہیں، اور بہت عرصے سے دعوہ ورک کر رہے ہیں۔ ان کےدعوہ ورک کا ایک طریقہ یہ ہے کہ اگر وہ شادی کی کسی محفل میں شرکت کرتے ہیں، تو وہ وہاں اپنی جیب خاص سے کثیر تعداد میں مختلف زبانوں میں قرآن اور دعوہ لٹریچر تقسیمِ کرتے ہیں۔ مثلاً مؤرخہ 17 مارچ 2018کو دہلی میں اورمؤرخہ 26 مارچ 2018 کو بیتیا بہار میںشادی کی دو تقاریب میں انہوں نے قرآن اور دیگر دعوہ لٹریچر مدعوین کے درمیان تقسیم کیے ۔ موصوف کا یہ طریقۂ کار ہمارے لیے بہت inspiring ہے ۔
■ رشین کلچرل سینٹر( رشین کونسلیٹ ،چنئی) نے الور پیٹ، چنئی میں 7 اپریل 2018 کو ایک تقریب منعقد کی تھی۔ اس موقع پر سی پی ایس (چنئی) کے کلو ندیم صاحب نے اس پروگرام میں شرکت کی، اوردیگر لوگوں کے علاوہ نائب کونسل (کلچرل ) مسٹر میخائل گورباتوف (Mikhail Y. Gorbatov) کو ترجمہ قرآن بطور تحفہ دیا۔
■ سی پی ایس سہارن پورکی خصوصیت یہ ہے کہ وہ ان جگہوں پر بھی دعوتی کام کرتی ہے، جہاں عام داعی نہیں جاسکتا۔ مثلا ً 7 اپریل 2018کوزی میڈیا کے ڈائریکٹر مسٹر پردیپ دیانا، اور مسٹر راکیش سریواستو ڈاکٹر محمد اسلم خاں کو زی میڈیا کے شو میں شرکت کے لیے دعوت دینے آئے تھے۔ ان کو سی پی ایس کا لٹریچر بطور تحفہ دیا گیا، جسے ان لوگوں نے شکریے کے ساتھ قبول کیا۔ 15اپریل 2018 کو سہارن پور کے ایس ایس پی شری ببلو کمار کو ڈاکٹر محمد اسلم خاں اور ڈاکٹر سفینہ تبسم نے ترجمۂ قرآن اور قرآن کی ایک آیت کے ترجمے کا ایک خوبصورت فریم بطور تحفہ دیا۔ ایس ایس پی صاحب کے ساتھ آئے ہوئے عملے کے 20 افراد کو بھی قرآن و دیگر لٹریچر دیے گئے۔ یہ پروگرام نیشنل میڈیکل کالج، سہارن پور میں ہوا۔ 25 اپریل 2018 کو یوپی کے منسٹر اور سہارن پور کے ایم ایل اے جناب سنجے گرگ کو سی پی ایس کا لٹریچر دیا گیا۔ ایم ایل اے صاحب نے یہ وعدہ کیا ہے کہ وہ سی پی ایس کے پر امن مشن میں ہر وقت تعاون کے لیے تیار ہیں۔
■ فرات انسٹیٹیوٹ (Euphrates Institute) ایک امریکی این جی او ہے، جو عالمی پیمانے پر سماجی امن اور مذہبی رواداری کے لیے کام کرتا ہے۔ انھوں نے 13 اپریل 2018 کو سی پی ایس انٹرنیشنل کو اپنے ایک ورکشاپ کے لیے مدعو کیا تھا۔ امریکا سے جن ممبران نے شرکت کی، وہ یہ ہیں: مسٹر خواجہ کلیم الدین، اور مز کوثر اظہار، اور انڈیا سے بذریعہ انٹرنیٹ جنھوں نے شرکت کی، وہ یہ ہیں: مسٹر رجت ملہوترا، اور مز ماریہ خان۔ پروگرام بہت کامیاب رہا، اورتمام اسلام، امن، عورت، وغیرہ کے موضوع پر سن کر بہت خوش ہوئے۔ لکچر کے بعد سوال و جواب بھی ہوا۔ ورکشاپ کا یہ پروگرام لائیو کاسٹ ہوا، اور دنیا کے مختلف مقامات پر سنا گیا۔
■ رامانوجن کالج (دلی یونیورسٹی)کے ادارہ تبت ہاؤس کلچرل سینٹر اور سینٹر فار ایتھکس اینڈ ویلوز نے عالمی اخلاقیات پر دوسرا کانکلیو14۔15 اپریل 2018 کو انڈیا ہیبٹاٹ سینٹر، نئی دہلی منعقد کیا تھا۔ اس کا عنوان تھا: پرسپیکٹیو آف ایموشنل انٹیلیجنس اِن ایجوکیشن ۔ اس پروگرام کے ایک پینل ڈسکشن میں سی پی ایس انٹرنیشنل کو اِس موضوع پر اسلامی نکتہ نظر رکھنے کے لیے مدعو کیا گیا تھا۔ سی پی ایس انٹرنیشنل کی جانب سے ڈاکٹر نغمہ صدیقی نے اس موقع پر اسلام کا نقطۂ نظر پیش کیا، اورشرکاء کے درمیان انگریزی ترجمۂ قرآن اور دعوہ لٹریچر تقسیم کیا گیا۔
■ 24 اپریل 2018 کو ساہتیہ اکیڈمی دہلی کی جانب سے ایک کثیر المذاہب پروگرام کا انعقاد کیا گیا۔ اس پروگرام کا ٹاپک تھا: قدیم کتابوں میں صفائی کا تصور(The Concept of Cleanliness in Ancient Texts)۔ اس پروگرام میں خطاب کرنے کے لیے سی پی ایس ممبر ڈاکٹر فریدہ خانم کو بھی دعوت نامہ ملا تھا۔ انھوں نے مذکورہ عنوان کے تحت قرآن اور حدیث کی روشنی میں صفائی کی اہمیت کو واضح کیا جسے سامعین نے کافی پسند کیا۔ آخر میں ترجمہ قرآن اور دعوتی لٹریچر لوگوں میں تقسیم کیے گئے، جنھیں تمام لوگوں نے نہایت خوشی اور احترام سے قبول کیا۔
■ سی پی ایس علما ٹیم نے 11 تا 14 مئی 2018 دہلی کا دورہ کیا، اور صدر اسلامی مرکز کی صحبت میں رہ کر مختلف امور میں رہنمائی حاصل کی۔ یہ ٹیم 8 علما ے دین پر مشتمل تھی۔
■ مسٹر کنال دیشپانڈے پونے سے تعلق رکھتے ہیں۔ وہ بطور سیاحت کشمیر گئے۔ وہاں ان کی ملاقات ایک کشمیری مسلمان، مسٹر ایوب سے ہوئی۔ مسٹر ایوب نے ان سے خواہش ظاہر کی کہ وہ انھیں ترجمۂ قرآن گفٹ کرنا چاہتے ہیں۔ اس کے لیے مسٹر ایوب نے کشمیر ٹیم کے مسٹر حمید اللہ حمید صاحب سے گفتگو کی۔ اسی اثنا میں مسٹر کنال اپنا رابطہ نمبر ایوب صاحب کو دے کر اپنے وطن واپس آگئے۔ مسٹر حمید اللہ حمید نے سی پی ایس پونے کے جناب عبد الصمد صاحب سے رابطہ کیا ، اور قرآن پہنچانے کی درخواست کی۔ چنانچہ عبد الصمد صاحب نے 20 مئی 2018 کو مسٹر کنال دیشپانڈے کومراٹھی ترجمۂ قرآن، دی ایج آف پیس اور دوسری دعوتی کتابیں پہنچائی۔ اسی دن عبدالصمد صاحب نے مہارشٹر کے مشہور میڈیا گروپ ساکال کے بکس اور پبلیکیشن مینیجر مز ایشویریہ کمتھکال کو بھی مراٹھی ترجمۂ قرآن اور دیگر دعوہ لٹریچر دیا۔
■ 31 مئی 2018 کو سی پی ایس (دہلی) کے متحرک ممبر مسٹر رجت ملہوترا فلائٹ کے ذریعے دہلی سے امرتسر جارہے تھے۔ اسی فلائٹ میں مرکزی وزیر برائے ہیومن ریسورس ڈیولپمنٹ مسٹر پرکاش جاوڈکر بھی سفر کررہے تھے۔ مسٹر رجت ملہوترا نے اس موقع کو استعمال کرتے ہوئے انگریزی ترجمۂ قرآن کی ایک کاپی مسٹر جاوڈکر کویہ کہتے ہوئے پیش کی کہ یہ ہماری طرف سے آپ کے لیے اسپریچول گفٹ ہے۔ انھوں نے ہاتھ جوڑ کر ترجمہ ٔقرآن کا نسخہ لیا اور شکریہ اداکیا۔
■ صدر اسلامی مرکز کی فکر پر دنیا کے مختلف ممالک میں اکیڈمک ریسرچ کا کام ہور ہا ہے۔ مثلاً مسٹر فیصل شہزاد سرگودھا یونیورسٹی، پاکستان سے صدر اسلامی مرکز کے سفرناموں پر ایم فل کا مقالہ لکھ رہے ہیں۔ اسی طرح عرب نوجوان یحیٰ بن حبیب عبد اللطیف تیونس کی زیتونیہ یونیورسٹی سے جولائی 2018 میں اپنا پی ایچ ڈی کا مقالہ مکمل کرچکے ہیں۔ ان کے مقالے کا عنوان تھا: تجدید علم الکلام عند وحید الدین خان ۔ریسرچ کا کام انھوں نے دکتور محمد المستیری کی نگرانی میں مکمل کیا۔
■ Br. Khaja Kaleemuddin, We just received two pallets of the Quran before our major event. We are very excited. May Allah reward you and all your dawah team in the US and in India. Special thanks and prayer for our Sheikh Maulana Wahiduddin. May God keep him always in good health and always increase him in knowledge and wisdom and accept his services for conveying the message of Truth. Please covey our salaam to him from Why Islam team in Los Angeles. (Br. Hussain)
■ I had an incredible experience. I lost my hand luggage in the domestic airport and hunting it across airport made me the last person to reach the boarding gate. And there was a VIP entering the same time. It was none other than Ram Vilas Paswan. I quickly took out a copy of the Quran and gave it to him. When he saw what it was, he humbly accepted and asked if he could contact me. I said details of the translator are printed and he is my Guru Maulana Wahiduddin Khan. It was God who made me forget my hand luggage so I could meet him in the end. It was a radio and it was lying for two hours in the same place I forgot it. And I was surprised it went in unnoticed by all passengers and high security. God is with us. (Asad Pervez, New Delhi)
واپس اوپر جائیں

Wednesday, 18 July 2018

Al Risala | August 2018 (الرسالہ،اگست)

4

-حج کی تاریخ

7

- قربانی اور اسلام

22

- انا کی قربانی

23

- اصحابِ رسول

30

- ملتِ ابراہیم

31

- حج کی اجتماعی اہمیت

36

- حج کی اسپرٹ

38

- حقیقی اہمیت

39

- حج: ایک انتباہ

40

- حج کا فائدہ

42

- حج کی معنویت

44

- حج بیت اللہ کے بعد

45

- اخوانِ ابرہیم ، اخوانِ محمد

46

- خبرنامہ اسلامی مرکز —


حج کی تاریخ

حج ایک عالمی اجتماعی عبادت ہے۔ اس کی تاریخیں قمری مہینے کے مطابق مقرر کی گئی ہیں۔ حج کے مراسم مکہ اور اس کے آس پاس کے مقامات پر پانچ دنوں کے اندر 8 ذی الحجہ سے 12 ذی الحجہ تک ادا کیے جاتے ہیں۔حج کی تاریخ پیغمبر ابراہیم اور پیغمبر اسماعیل کی زندگی سے وابستہ ہے۔
اللہ کا یہ منصوبہ تھاکہ توحید کی بنیاد پر ایک انقلاب برپا کیا جائے۔ اِس مقصد کے لیے قدیم دور میں اللہ نے بہت سے پیغمبر بھیجے۔ مگر اِن پیغمبروں کے ذریعے کوئی ٹیم نہیں بنی۔ اِس لیے قدیم زمانے میں مطلوب انقلاب برپا نہ ہوسکا۔ اس کے بعد اللہ تعالی نے حضرت ابراہیم کے ذریعے ایک نیا منصوبہ بنایا۔ اِس منصوبے کے تحت حضرت ابراہیم نے اپنی بیوی ہاجرہ اور اپنے بچے اسماعیل کو عرب کے صحرا میں بسا دیا۔ اِس واقعے کی طرف قرآن میں اِن الفاظ میں اشارہ کیاگیاہے: رَبَّنَآ اِنِّىْٓ اَسْکَنْتُ مِنْ ذُرِّیَّتِیْ بِوَادٍ غَیْرِ ذِیْ زَرْعٍ عِنْدَ بَیْتِکَ الْمُحَرَّم(14:37)۔
ہاجرہ کے شوہر حضرت ابراہیم بن آزر تقریباً ساڑھے چار ہزار سال پہلے عراق میں پیدا ہوئے اور 175 سال کی عمر پا کر اُن کی وفات ہوئی۔ اُنہوں نے اپنے زمانے کے لوگوں کو توحید کی دعوت دی۔ مگر شرک اور بُت پرستی کا غلبہ ان لوگوں کے ذہن پر اتنا زیادہ ہوگیا تھا کہ وہ توحید کے پیغام کو قبول نہ کر سکے۔ حضرت ابراہیم نے ایک سے زیادہ جنریشن تک لوگوں کو توحید کا پیغام دیا۔ مگر اس زمانے میں شرک ایک تہذیب کی صورت اختیار کرکے لوگوں کی زندگی میں اس طرح شامل ہوچکا تھا کہ وہ اس سے الگ ہو کر سوچ نہیں سکتے تھے۔ پیدا ہوتے ہی ہر آدمی کو شرک کا سبق ملنے لگتا تھا۔ یہاں تک کہ ماحول کے اثر سے اُس کا ذہن پوری طرح شرک میں کنڈیشنڈ ہوجاتا تھا۔
اُس وقت اللہ تعالیٰ کے حکم سے حضرت ابراہیم نے ایک نیا منصوبہ بنایا۔ وہ منصوبہ یہ تھا کہ متمدّن شہروں سے باہر غیر آباد صحرا میں ایک نسل تیار کی جائے۔ اسی مقصد کے لیے حضرت ابراہیم نے ہاجرہ اور اسماعیل کو مکہ میں آباد کیا۔اِس صحرائی ماحول میںلمبی مدت تک توالد وتناسل کے ذریعے ایک جان دار قوم تیارہو ئی۔ اِسی قوم کے اندر پیغمبر ِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی پیدائش ہوئی۔ پھر اِسی قوم کے اندر کام کرکے وہ ٹیم بنی جس کو اصحابِ رسول کہا جاتا ہے۔
پیغمبر ِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے مشن کے تحت جو عظیم تاریخ بنی، وہ تمام تر منصوبۂ الٰہی کے تحت بنی۔ پیغمبر ِ اسلام سے پہلے ہزاروں سال کے درمیان خدا کی طرف سے بہت سے پیغمبر آئے۔ اِن پیغمبروں کے زمانے میں توحید کا اعلان توہوا، لیکن توحید کی بنیاد پر کوئی اجتماعی انقلاب نہ آسکا، جب کہ اللہ تعالی کو مطلوب تھا کہ پیغمبر کے ذریعے ایک ایسا موحدانہ انقلاب برپا ہو جو شرک کے دور کو ختم کرے اور توحید کا دور دنیا میں لے کر آئے۔ آخر کار اللہ تعالی کی یہ منشا ہوئی کہ وہ تاریخ میں مداخلت کرے اور خصوصی نصرت کے ذریعے وہ انقلاب برپا کرے جو کہ اللہ کے تخلیقی منصوبے کے تحت ضروری تھا۔ اللہ تعالی کے عام منصوبے کے مطابق، اِس منصوبے کی تکمیل اسباب کی صورت میں کی گئی۔ خاتم النبیین محمد صلی اللہ علیہ وسلم اِس انقلاب کی بنیادی کڑی تھے۔
اللہ تعالی کے اِس خصوصی منصوبے کا آغاز چار ہزار سال پہلے حضرت ہاجرہ، حضرت ابراہیم اور حضرت اسماعیل کے ذریعے عرب کے صحرا میں ہوا۔ اِس منصوبے کے تحت لمبی مدت کے دوران ایک خصوصی نسل تیار کی گئی جس کو بنو اسماعیل کہاجاتاہے۔ اِس نسل کی اعلی خصوصیات کی بنا پر ایک مستشرق نے اس کو ہیروؤں کی ایک قوم (a nation of heroes) کا لقب دیا ہے۔ اِسی خصوصی نسل میں پیغمبر ِ اسلام اور آپ کے اصحاب پیداہوئے۔ اِس کے بعد اللہ کی برتر تدبیر کے تحت بہت سے موافق حالات ظہور میں آئے۔ یہ اپنے آغاز سے انجام تک، ایک انتہائی اعلی نوعیت کا خدائی منصوبہ تھا۔ پیغمبر ِ اسلام اور آپ کے اصحاب کے ذریعے جو عظیم اسلامی تاریخ بنی، وہ در اصل اِسی منصوبۂ الٰہی کا نتیجہ تھی۔
قرآن میں اِس حقیقت کو نہایت واضح الفاظ میں بیان کیا گیا ہے کہ پیغمبر اور اصحابِ پیغمبر کے زمانے میں جو تاریخی انقلاب آیا، وہ کسی فرد کا شخصی کارنامہ نہ تھا، بلکہ وہ براہِ راست طورپر اللہ کے ایک برتر منصوبے کا نتیجہ تھا۔ اِس سلسلے میں قرآن کی دو آیتیں یہ ہیں:یُرِیدُونَ لِیُطْفِئُوا نُورَ اللَّہِ بِأَفْوَاہِہِمْ وَاللَّہُ مُتِمُّ نُورِہِ وَلَوْ کَرِہَ الْکَافِرُونَ ۔ ہُوَ الَّذِی أَرْسَلَ رَسُولَہُ بِالْہُدَى وَدِینِ الْحَقِّ لِیُظْہِرَہُ عَلَى الدِّینِ کُلِّہِ وَلَوْ کَرِہَ الْمُشْرِکُونَ(61:8-9)۔ یعنی یہ لوگ چاہتے ہیں کہ وہ اللہ کے نور کو اپنے منہ سے بجھا دیں، حالاں کہ اللہ اپنے نور کو پورا کرکے رہے گا، خواہ یہ منکروں کو کتنا ہی ناگوار ہو۔وہ اللہ ہی ہے جس نے اپنے رسول کو ہدایت اور دینِ حق کے ساتھ بھیجا، تاکہ اللہ اس کو سب دینوں پر غالب کردے، خواہ یہ مشرکوں کو کتنا ہی ناگوار ہو۔
پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اِس حقیقت کو بار بار نہایت واضح الفاظ میں بیان فرمایا ہے۔ اِس کی ایک مثال یہ ہے کہ آپ کے مشن کے آغاز کے تقریباً 20 سال بعد مکہ فتح ہوا، جو کہ اُس وقت پورے عرب میں ہر اعتبار سے مرکز کی حیثیت رکھتا تھا۔ روایات میں آتا ہے کہ فتحِ مکہ کے وقت جب آپ فاتحانہ حیثیت سے مکہ میں داخل ہوئے تو احساسِ تواضع کے باعث آپ کی گردن جھکی ہوئی تھی، حتی کہ لوگوں نے دیکھا کہ آپ کی داڑھی کجاوے کی لکڑی کو چھورہی ہے۔ اُس وقت کعبہ کے دروازے پر کھڑے ہو کر آپ نے جوخطبہ دیا، اُس میں یہ الفاظ تھے:لَا إِلَہَ إِلَّا اللَّہُ وَحْدَہُ، صَدَقَ وَعْدَہُ، وَنَصَرَ عَبْدَہُ، وَہَزَمَ الْأَحْزَابَ وَحْدَہُ( سنن أبی داؤد،حدیث نمبر 4547)۔ یعنی ایک اللہ کے سوا کوئی اللہ نہیں۔ اللہ نے اپنا وعدہ سچ کر دکھایا۔ اللہ نے اپنے بندے (محمد) کی نصرت کی اور اللہ نے دشمن کی جماعتوں کو تنہا شکست دے دی۔
٭ ٭ ٭ ٭٭
’’لبیک‘‘ یعنی ’’میں حاضر ہوں‘‘، کہنے کامطلب یہ نہیں ہے کہ میں مکہ میں رہنے کے لیے حاضر ہوں۔ یہ وطن چھوڑ کر آنے کا کلمہ نہیں، بلکہ روش چھوڑ کر آنے کا کلمہ ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ میں تیری فرمانبرداری کے لیے حاضر ہوں۔ میں اس کے لیے تیار ہوں کہ تو جو حکم دے، اس پر میں دل و جان سے قائم ہوجاؤں۔’’لبیک‘‘کا اقرار آدمی حج کے مقام پر کرتا ہے، مگر ا س کی عملی تصدیق وہاں سے لوٹ کر اس کو اپنے وطن میں کرنی پڑتی ہے، جہاں اس کو روز وشب میں اپنی زندگی گزارنا ہے۔
واپس اوپر جائیں

قربانی اور اسلام

حج اور عید اضحی کے موقع پر تمام دنیا کے مسلمان ایک مخصوص دن میں خدا کے نام پر جانور کی قربانی کرتے ہیں۔ یہ قربانی عام زندگی سے کوئی علیحدہ چیز نہیں، اس کا تعلق انسان کی تمام زندگی سے ہے۔ اِس کا مطلب یہ ہے کہ اہلِ ایمان کو چاہیے کہ وہ قربانی کی اسپرٹ کے ساتھ دنیا میں رہیں۔ قربانی کی اسپرٹ تمام اسلامی اعمال کا خلاصہ ہے۔
قرآن میں بتایا گیا ہے :وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْإِنْسَ إِلَّا لِیَعْبُدُونِ (51:56) ۔یعنی اور میں نے جن اور انسان کو صرف اس لیے پیدا کیا ہے کہ وہ میری عبادت کریں ۔ عبادت کی حقیقت کیا ہے۔ اس کو پیغمبر ِاسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے ان الفاظ میں بیان کیا ہے:أَنْ تَعْبُدَ اللَّہَ کَأَنَّکَ تَرَاہُ، فَإِنْ لَمْ تَکُنْ تَرَاہُ فَإِنَّہُ یَرَاکَ (صحیح البخاری، حدیث نمبر 50 ؛صحیح مسلم، حدیث نمبر 8)۔ یعنی تم اللہ کی عبادت اس طرح کرو، گویا کہ تم اس کو دیکھ رہے ہو، اور اگر تم اس کو نہیں دیکھتے تو وہ تم کو دیکھتا ہے۔
اِس حدیثِ رسول سے معلوم ہوتا ہے کہ قرآن کے تصورِ عبادت کے مطابق، انسان کے لیے زندگی کا صحیح طریقہ کیا ہے۔ وہ طریقہ یہ ہے کہ انسان، خدا کی ہستی کو اِس طرح دریافت کرے کہ اُس کو ہر لمحہ خدا کی موجودگی (presence) کا احساس ہونے لگے۔
اس کا شعور اِس معاملے میں اتنا بیدار ہو جائے کہ اس کو ایسا محسوس ہونے لگے گویا کہ وہ خدا کو دیکھ رہا ہے۔ یہ احساس اس کی پوری زندگی کو خدائی رنگ میںرنگ دے۔ اس کے ہر قول اور ہر عمل سے ایسا محسوس ہونے لگے جیسے کہ وہ خدا کو دیکھ رہا ہے، جیسے کہ وہ جو کچھ کر رہا ہے، خدا کی براہِ راست نگرانی کے تحت کررہا ہے۔ اِسی زندہ شعور کے ساتھ زندگی گزارنے کا نام عبادت ہے۔ یہ درجہ کسی آدمی کو صرف اُس وقت ملتا ہے، جب کہ اس نے خدا کو اپنا واحد کنسرن (sole concern) بنالیا ہو۔
ارکانِ اسلام اور حج
عبادت کا تعلق انسان کی پوری زندگی سے ہے۔ ان میں سے پانچ چیزیں بنیادی عبادت کی حیثیت رکھتی ہیں۔ وہ پانچ چیزیں کیا ہیں، ان کو پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے ان الفاظ میں بیان کیا ہے:بُنِیَ الإِسْلاَمُ عَلَى خَمْسٍ:شَہَادَةِ أَنْ لاَ إِلَہَ إِلَّا اللَّہُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّہِ، وَإِقَامِ الصَّلاَةِ، وَإِیتَاءِ الزَّکَاةِ، وَالحَجِّ، وَصَوْمِ رَمَضَانَ(صحیح البخاری، حدیث نمبر 8) یعنی اسلام کی بنیاد پانچ چیزوں پر قائم ہے۔اِس بات کی گواہی دینا کہ ایک خدا کے سوا کوئی معبود نہیں۔ اور محمد، اللہ رسول ہیں۔ اور نماز قائم کرنا، اور زکوٰۃ ادا کرنا، اور حج پورا کرنا،اور رمضان کے روزے رکھنا۔
یہ گویا کہ پانچ ستون (pillars) ہیں جن کے اوپر اسلام کی عمارت کھڑی ہوتی ہے۔ عمارت ایک دکھائی دینے والی چیز ہے۔اِس حدیث میں عمارتی ڈھانچے کو بطور تمثیل استعمال کرتے ہوئے اسلام کی حقیقت کو بتایا گیا ہے۔ جس طرح ستونوں کے بغیر کوئی عمارت کھڑی نہیں ہوتی، اسی طرح ان پانچ ارکان کے بغیر اسلام کا قیام بھی نہیںہوتا۔ اسلام کو قائم کرنے کا مطلب یہ ہے کہ ان پانچ ستونوں کو زندگی میں قائم کیا جائے۔
اسلام کے ان پانچ ارکان کی ایک اسپرٹ ہے، اور ایک اس کا فارم ہے۔ اس میں شک نہیں کہ اصل اہمیت ہمیشہ اسپرٹ کی ہوتی ہے، لیکن فارم بھی یقینی طورپر ضروری ہے۔ جس طرح جسم کے بغیر روح نہیں، اسی طرح فارم کے بغیر اسلام بھی نہیں۔ اِس معاملے میں بھی اسپرٹ کا اہتمام بہت ضروری ہے، لیکن یہ اہتمام فارم کے ساتھ ہوسکتاہے، فارم کے بغیر نہیں۔
کلمۂ توحید
ان ارکان میں سے پہلا رکن کلمۂ توحید ہے۔ اس کلمہ کا ایک فارم ہے اور اسی کے ساتھ اس کی ایک اسپرٹ ہے۔ اس کا فارم یہ ہے کہ آپ عربی کے مذکورہ الفاظ (کلمۂ شہادت) کو اپنی زبان سے ادا کریں ۔ کلمہ کی اسپرٹ معرفت ہے، یعنی خدا کو دریافت کے درجے میں پالینا۔ کلمۂ توحید کی وہی ادائیگی معتبر ہے جو معرفت کی بنیاد پر ہو۔ معرفت کے بغیر کلمہ پڑھنا صرف کچھ عربی الفاظ کا تلفّظ ہے، وہ حقیقی معنی میں کلمۂ توحید نہیں۔
یونان کے قدیم فلسفی ارشمیدس (Archimedes) کو یہ جستجو تھی کہ کشتی پانی کے اوپر کیسے تیرتی ہے۔ وہ اس کی تلاش میںتھا۔ ایک دن وہ پانی کے حوض میں لیٹا ہوا نہا رہا تھا۔ اچانک اس کو فطرت کے اس قانون کی دریافت ہوئی جس کو بائنسی (law of buoyancy) کہاجاتا ہے۔ اس وقت اس کے اندر اہتزاز(thrill) کی کیفیت پیدا ہوئی۔ وہ اچانک حوض سے نکلا، اور یہ کہتا ہوا بھاگا کہ: میں نے پالیا، میں نے پالیا(Eureka, Eureka)۔
اِس مثال سے سمجھا جاسکتا ہے کہ کلمہ کی ادائیگی کیا ہے۔ کلمۂ توحید کی ادائیگی دراصل داخلی معرفت کا ایک خارجی اظہار ہے۔ یہ حکم بلا شبہ اسلام کے ارکان میں اولین اہمیت کا حامل ہے، لیکن یہ اہمیت اس کی داخلی معرفت کی بنا پر ہے، نہ کہ صرف لسانی تلفظ کی بنا پر۔
نماز
اسلام کا دوسرا رکن نماز ہے۔ دوسرے ارکان کی طرح نماز کا بھی ایک فارم ہے۔ جیسا کہ معلوم ہے، یہ فارم قیام اور رکوع اور سجود پر مبنی ہے۔ اسی کے ساتھ نماز کی ایک اسپرٹ ہے، وہ اسپرٹ سرنڈر (surrender) ہے، یعنی اپنے آپ کو پوری طرح خدا کے حوالے کردینا۔ خدا کو کامل معنوں میں اپنا مرکز ِ توجہ بنا لینا۔ پورے معنوں میں خدا رخی زندگی (God-oriented life)اختیار کرلینا۔اِسی اسپرٹ کادوسرا نام قرآن میں ذکر ِ کثیر (الاحزاب،33:41) ہے، یعنی خدا کو بہت زیادہ یاد کرتے ہوئے زندگی گزارنا۔ نماز کا مقصد بھی قرآن میں ذکر بتایاگیا ہے (طٰہٰ،20:14) ذکر کامطلب رسمی طورپر صرف کسی قسم کی تسبیح خوانی نہیں، بلکہ ہر موقع پر سچے احساس کے ساتھ خدا کو یاد کرتے رہنا ہے۔
آدمی جب دنیا میں زندگی گزارتا ہے تو وہ مختلف قسم کے مشاہدات اور تجربات سے گزرتا ہے۔ اس وقت اس کے اندر وہ چیز پیدا ہونا چاہیے جس کو قرآن میںتوسّم (الحجر،15:75) کہاگیا ہے، یعنی ہر دنیوی تجربے کو خدا ئی تجربے میں کنورٹ کرتے رہنا۔ ہر چیز سے ربّانی غذا حاصل کرتے رہنا۔ حقیقی نماز وہی ہے جو آدمی کے اندر یہ ذہن پیدا کردے کہ وہ ہر چیز سے اپنے لیے توسّم کی غذا حاصل کرتا رہے۔ نماز کے فارم کے ساتھ جب یہ اسپرٹ شامل ہوجائے تب کسی آدمی کی نماز حقیقی نماز بنے گی، ورنہ حدیثِ رسول کی زبان میں، اس سے کہہ دیا جائے گا:ارْجِعْ فَصَلِّ فَإِنَّکَ لَمْ تُصَلِّ ( صحیح البخاری،حدیث نمبر 757) یعنی جاؤ پھر سے نماز پڑھو، کیوں کہ تم نے نماز نہیں پڑھی۔
روزہ
اسلام کے ارکان میں سے تیسرا رُکن روزہ (صوم)ہے۔ روزہ کا فارم یہ ہے کہ آدمی صبح سے شام تک کھانا اور پینا چھوڑ دے۔ وہ اپنے دن کو بھوک اور پیاس کی حالت میں گزارے۔ روزہ کی اسپرٹ صبر(patience)ہے۔ حدیث میںآیا ہے:ہُوَ شَہْرُ الصَّبْرِ(صحیح ابن خزیمہ، حدیث نمبر 1887)۔ یعنی رمضان کا مہینہ صبر کا مہینہ ہے۔
صبر کیا ہے۔ صبر کا مطلب یہ ہے کہ آدمی دنیا میں سلف ڈسپلن (self-discipline) کی زندگی گزارنے لگے۔ وہ اپنی خواہشوں پرروک لگائے۔ وہ اشتعال انگیزی کے باوجود مشتعل نہ ہو۔ وہ اپنی انا کو گھمنڈ نہ بننے دے۔ وہ لوگوں کے درمیان نوپرابلم (no problem) انسان بن کر رہے۔ سماجی زندگی میں جب اس کو کوئی شاک (shock)لگے تو وہ اس شاک کو اپنے اوپر سہے، وہ اس کو دوسرے تک پہنچنے نہ دے۔
زکوٰۃ
اسلام کا چوتھا رکن زکوٰۃ ہے۔ زکوٰۃ کا فارم یہ ہے کہ آدمی اپنی کمائی کے ایک حصے سے اپنی ضرورتوں کو پورا کرے، اور اپنی کمائی کا کچھ حصہ خدا کے حکم کے مطابق، وہ دوسرے انسانوں پر خرچ کرے۔ یہ زکوٰۃ کا فارم ہے۔ زکوٰۃ کی اسپرٹ انسان کی خیر خواہی ہے، یعنی تمام انسانوں کو اپنا سمجھنا۔ حقیقی معنوں میں انسان دوست رویہ (human-friendly behaviour) اختیار کرنا۔ صرف اپنے لیے جینے کے بجائے، ساری انسانیت کے لیے جینا۔ آدمی اگر زکوٰۃ کی رقم دے دے، لیکن دل سے وہ انسانوں کا خیر خواہ نہ بنے تو اس کی زکوٰۃ ادھوری زکوٰۃ مانی جائے گی۔ ایسے آدمی کی زکوٰۃ پورے معنوںمیں زکوٰۃ نہیں ہوگی(البقرۃ، 2:264)۔
حج
اسلامی ارکان میںسے پانچواں رکن حج ہے۔ حج کے لفظی معنی ہیں قصد کرکے ایک جگہ سے دوسری جگہ جانا۔ شرعی اصطلاح میں، حج سے مراد وہ عبادتی سفر ہے جس میں آدمی اپنے وطن سے نکل کر مکہ (عرب) جاتا ہے اور وہاں ماہِ ذو الحجّہ کی مقرر تاریخوںمیں حج کے مراسم ادا کرتاہے اور خدا کے نام پر جانور کو قربان کرتا ہے۔ یہ حج کا فارم ہے ۔ حج کی اسپرٹ قربانی (sacrifice) ہے۔ حج کا فارم اور حج کی اسپرٹ دونوں جب کسی کی زندگی میںاکھٹا ہوں تو وہ حج کی عبادت کرنے والا قرار پاتاہے۔
حج کے دوران منٰی کے مقام پر تمام حاجی، جانور کی قربانی پیش کرتے ہیں۔ انھیں تاریخوں میں دنیا بھر میں مختلف مقامات پر مسلمان عید اضحی مناتے ہیں۔ عید اضحی گویا کہ حج کی عبادت میں ایک قسم کی جُزئی شرکت ہے۔ عید اضحی کے ذریعے تمام دنیا کے مسلمان مکہ میں کیے جانے والے حج کے ساتھ اپنی وابستگی کا اظہار کرتے ہیں۔
پیغمبر ِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا : یَا رَسُولَ اللَّہِ مَا ہَذِہِ الْأَضَاحِیُّ؟ قَالَ:سُنَّةُ أَبِیکُمْ إِبْرَاہِیمَ (سنن ابن ماجہ، حدیث نمبر 3127)۔ یعنی اے خدا کے رسول، یہ قربانیاں کیا ہیں۔ آپ نے جواب دیا کہ یہ تمھارے باپ ابراہیم کی سنت ہے ۔ اِس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ حج کے زمانے میں جو قربانی دی جاتی ہے، وہ اُس طریقے پر عمل کرنے کے لیے ہوتی ہے جس کا نمونہ حضرت ابراہیم نے قائم کیا تھا۔
اِس لیے حج اور قربانی کی حقیقت کو جاننے کے لیے ضروری ہے کہ اس پہلو سے پیغمبر ِ خدا، حضرت ابراہیم کی زندگی کا مطالعہ کیا جائے۔ اِس مطالعے سے نہ صرف یہ ہوگا کہ ہم کوحج اور قربانی کا تاریخی پس منظر معلوم ہوگا، بلکہ اس کی اصل حقیقت کو سمجھنا بھی ہمارے لیے ممکن ہوجائے گا۔ حج یا عیداضحی میں قربانی دراصل حضرت ابراہیم کی سنت کو دوبارہ زندہ کرنے کا عہد ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ حضرت ابراہیم کی زندگی کی روشنی میں قربانی کی حقیقت کو سمجھنے کی کوشش کی جائے۔
حضرت ابراہیم علیہ السلام
حضرت ابراہیم 1985ق م میں عراق کے قدیم شہر اُر (Ur) میں پیدا ہوئے۔ انھوں نے 175 سال سے زیادہ عمر پائی۔ ’’اُر‘‘ قدیم عراق کی راجدھانی تھا۔ مزید یہ کہ یہ علاقہ قدیم آباد دنیا (میسو پوٹامیا) کا مرکز تھا۔ حضرت ابراہیم نے اپنی تمام اعلیٰ صلاحیتوں اور کامل درد مندی کے ساتھ اپنے معاصرین کو توحید کی طرف بلایا۔ اس وقت کے عراقی بادشاہ نمرود(Nimrod) تک بھی اپنی دعوت پہنچائی۔ لیکن کوئی بھی شخص آپ کی دعوت کو قبول کرنے کے لیے تیار نہ ہوا، حتی کہ آپ جب اتمامِ حجت کے بعد عراق سے نکلے تو آپ کے ساتھ صرف دو انسان تھے— آپ کے بھتیجے او ر آپ کی اہلیہ۔
حضرت ابر اہیم سے پہلے، مختلف زمانوں اور مختلف علاقوں میں خدا کے پیغمبر آتے رہے اور لوگوں کو توحید کی دعوت دیتے رہے۔ لیکن ان تمام پیغمبروں کے ساتھ یکساں طورپر یہ ہوا کہ لوگ ان کا انکار کرتے رہے۔ انھوںنے پیغمبروں کا استقبال استہزا( یٰسٓ،36:30)کے ساتھ کیا۔
حضرت ابراہیم کے اوپر پیغمبر کی تاریخ کا ایک دور ختم ہوگیا۔ اب ضرورت تھی کہ دعوت الی اللہ کی نئی منصوبہ بندی کی جائے۔ اس منصوبہ کے لیے اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم کا انتخاب کیا۔ چنانچہ حضرت ابراہیم اپنی بیوی ہاجرہ اور چھوٹے بچے اسماعیل کے ساتھ عراق سے نکلے، اور مختلف شہروں سے گزرتے ہوئے آخر کار وہاں پہنچے جہاں آج مکہ آباد ہے۔ ایک روایت سے معلوم ہوتا ہے، آپ کا یہ سفر فرشتہ جبرئیل کی رہنمائی میںطے ہوا (تاریخ الطبری، 1/254)۔
ہاجرہ پیغمبر ابراہیم کی بیوی تھیں۔ اُن سے ایک اولاد پیدا ہوئی جس کا نام اسماعیل رکھا گیا۔ ایک خدائی منصوبہ کے تحت، حضرت ابراہیم نے ہاجرہ اوراُن کے چھوٹے بچے (اسماعیل) کو عرب میں مکہ کے مقام پر لے جاکر بسا دیا جو اُس وقت بالکل غیر آباد تھا۔ اس واقعہ کے بارہ میں قرآن میںمختصرطورپر یہ حوالہ ملتا ہے:
’’اور جب ابراہیم نے کہا، اے میرے رب، اس شہر کو امن والا بنا اور مجھ کو اور میری اولاد کو اس سے دور رکھ کہ ہم بتوں کی عبادت کریں۔ اے میرے رب، ان بتوں نے بہت لوگوں کو گمراہ کردیا۔ پس جس نے میری پیروی کی وہ میرا ہے، اور جس نے میرا کہا نہ مانا تو تو بخشنے والا، مہربان ہے۔ اے ہمارے رب، میں نے اپنی اولاد کو ایک بے کھیتی کی وادی میں تیرے محترم گھر کے پاس بسایا ہے۔ اے ہمارے رب، تاکہ وہ نماز قائم کریں۔ پس تو لوگوں کے دل ان کی طرف مائل کردے اور اُن کو فروٹس (fruits) کی روز ی عطا فرما، تاکہ وہ شکرکریں‘‘ (14:35-37)۔
ہاجرہ کے بارے میں قرآن میں صرف مختصر اشارہ آیا ہے۔ تاہم حدیث کی مشہور کتاب صحیح البخاری میں ہاجرہ کے بارے میں تفصیلی روایت موجود ہے۔ یہ روایت یہاں نقل کی جاتی ہے:
’’عبد اللہ بن عباس کہتے ہیں کہ عورتوں میں سب سے پہلے ہاجرہ نے کمر پٹّہ باندھا تاکہ سارہ کو اُن کے بارے میں خبر نہ ہوسکے۔ پھر ابراہیم، ہاجرہ اور اُن کے بچے اسماعیل کو مکہ میں لے آئے ۔ اُس وقت ہاجرہ اسماعیل کو دودھ پلاتی تھیں۔ ابراہیم نے ان دونوں کو مسجد کے اوپری حصہ میں ایک بڑے درخت کے نیچے بٹھا دیا جہاں زمزم ہے۔ اُس وقت مکہ میں ایک شخص بھی موجود نہ تھا اور نہ ہی وہاں پانی تھا۔ ابراہیم نے کھجور کا ایک تھیلا اور پانی کی ایک مشک وہاں رکھ دیا اور خود وہاں سے روانہ ہوئے۔ ہاجرہ اُن کے پیچھے نکلیں اور کہا کہ اے ابراہیم، ہم کو اس وادی میں چھوڑ کر آپ کہاں جارہے ہیں، جہاں نہ کوئی انسان ہے اور نہ کوئی اور چیز۔ ہاجرہ نے ابراہیم علیہ السلام سے یہ بات کئی بار کہی اور ابراہیم نے ہاجرہ کی بات پر کوئی دھیان نہیں دیا۔ ہاجرہ نے ابراہیم سے کہا کہ کیا اللہ نے آپ کو اس کا حکم دیا ہے۔ ابراہیم نے کہا کہ ہاں۔ ہاجرہ نے کہا پھر تو اللہ ہم کوضائع نہیں کرے گا (إذَن لا یُضَیِّعُنَا)۔ ہاجرہ لوٹ آئیں۔ ابراہیم جانے لگے۔ یہاں تک کہ جب وہ مقامِ ثنیہ پر پہنچے جہاں سے وہ دکھائی نہیں دیتے تھے تو اُنہوں نے اپنا رخ ادھر کیا جہاں اب کعبہ ہے اور اپنے دونوں ہاتھ اُٹھا کر یہ دعا کی کہ: اے ہمارے رب، میںنے اپنی اولاد کو ایک ایسی وادی میں بسایا ہے جہاں کچھ نہیں اُگتا، یہاں تک کہ آپ دعا کرتے ہوئے لفظ یشکرون تک پہنچے۔
ہاجرہ اسماعیل کو دودھ پلاتیں اور مشک میں سے پانی پیتیں۔ یہاںتک کہ جب مشک کا پانی ختم ہوگیا تو وہ پیاسی ہوئیں اور ان کے بیٹے کو بھی پیاس لگی۔ انھوں نے بیٹے کی طرف دیکھا تو وہ پیاس سے بے چین تھا۔ بیٹے کی اس حالت کو دیکھ کر وہ مجبور ہو کر نکلیں۔ انھوں نے سب سے قریب پہاڑ صفا کو پایا۔ چنانچہ وہ پہاڑ پر چڑھیں اور وادی کی طرف دیکھنے لگیں کہ کوئی شخص نظر آجائے۔ وہ کسی کو نہ دیکھ سکیں۔ وہ صفا سے اتریں۔ یہاں تک کہ جب وہ وادی تک پہنچیں تو اپنے کُرتہ کا ایک حصہ اُٹھایا پھر وہ تھکاوٹ سے چور انسان کی طرح دوڑیں۔ وادی کو پار کرکے وہ مروہ پہاڑ پر آئیں۔ اُس پر کھڑے ہو کر اُنہوں نے دیکھا تو کوئی انسان نظر نہ آیا۔ اس طرح اُنھوں نے صفا و مروہ کے درمیان سات چکر لگائے۔ عبد اللہ بن عباس کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ لوگ ان دونوں کے درمیان سعی کرتے ہیں۔ پھر وہ مروہ پر چڑھیں۔ اُنہوں نے ایک آواز سُنی۔ وہ اپنے آپ سے کہنے لگیں کہ چپ رہ۔ پھر سُننا چاہا تو وہی آواز سُنی۔ اُنہوں نے کہا کہ تو نے اپنی آواز مجھ کو سنا دی تو اس وقت ہماری مدد کرسکتا ہے۔ دیکھا تو مقام زمزم کے پاس ایک فرشتہ ہے۔ فرشتہ نے اپنی ایڑی یا پنکھ زمین پرمارا، پانی نکل آیا۔ ہاجرہ اُس کو حوض کی طرح بنانے لگیں اور ہاتھ سے اُس کے گرد مینڈ کھینچنے لگیں۔ وہ پانی چلّو سے لے کر اپنی مشک میں بھرتیں۔ وہ جس قدر پانی بھرتیں چشمہ اُتنا ہی زیادہ اُبلتا۔ ابن عباس کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ ہاجرہ پر رحم کرے، اگر وہ زمزم کو اپنے حال پر چھوڑ دیتیں، یا آپ نے یہ فرمایا کہ اگر وہ چلّو بھر کرپانی نہ لیتیں تو زمزم ایک بہتا چشمہ ہوتا۔ہاجرہ نے پانی پیا اور اپنے بیٹے کو پلایا۔ فرشتہ نے ہاجرہ سے کہا کہ تم ضائع ہونے کا اندیشہ نہ کرو۔ یہ اللہ کا گھر ہے۔ یہ بچہ اور اُس کے باپ دونوں اس گھر کو بنائیں گے اور اللہ اپنے گھر والوں کو ضائع نہیں کرتا۔ اُس وقت گھر (کعبہ) ٹیلے کی طرح زمین سے اونچا تھا۔ سیلاب آتا اور وہ اس کے دائیں بائیں جانب سے نکل جاتا۔ کچھ دنوں تک ہاجرہ نے اسی طرح زندگی گزاری۔ یہاںتک کہ جُرہُم قبیلہ کے کچھ لوگ یا جرہم کے گھر والے کَدا ءکے راستہ سے آرہے تھے۔ وہ مکہ کے نشیبی حصہ میں اُترے۔ اُنھوں نے وہاںایک پرندہ کو دیکھا جو گھوم رہا تھا۔ وہ کہنے لگے کہ یہ پرندہ تو پانی پر گھومتا ہے۔ ہم اس وادی میں رہے ہیں اور یہاں پانی نہ تھا۔ اُنہوں نے ایک یا دو آدمی کو خبر لینے کے لیے وہاں بھیجا۔ اُنہوں نے پانی دیکھا۔ وہ واپس لوٹ کر گئے اورلوگوں کو پانی کی خبر دی۔ وہ لوگ بھی آئے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہاجرہ پانی کے پاس تھیں۔ اُنہوں نے ہاجرہ سے کہا کہ کیا تم ہم کو یہاں ٹھہرنے کی اجازت دیتی ہو۔ ہاجرہ نے کہا کہ ہاں لیکن پانی پر تمہارا کوئی حق نہیں۔ اُنہوں نے کہا کہ ہاں۔ عبد اللہ بن عباس کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہاجرہ خود چاہتی تھیں کہ یہاں انسان آباد ہوں۔ اُن لوگوں نے یہاں پر قیام کیا اور اپنے گھر والوں کو بھی بُلا بھیجا، وہ بھی یہیں ٹھہرے۔ جب مکہ میں کئی گھر بن گئے اور اسماعیل جوان ہوگئے اور اسماعیل نے جرہم والوں سے عربی زبان سیکھ لی۔ جرہم کے لوگ اُن سے محبت کرنے لگے تو اُنہوں نے اپنی ایک لڑکی سے اُن کا نکاح کردیا۔ ہاجرہ کا انتقال ہوگیا۔ جب اسماعیل کا نکاح ہوچکا تو ابراہیم اپنی اولاد کو دیکھنے آئے۔ اُنہوں نے وہاں اسماعیل کو نہیں پایا۔ چنانچہ اُن کی بیوی سے اُن کے بارہ میں پوچھا۔ اُس نے کہا کہ وہ ہمارے لیے رزق کی تلاش میں نکلے ہیں۔ ابراہیم نے اُس سے اُن کے گزر بسر اور حالت کے بارہ میں پوچھا۔ اُس نے کہا کہ ہم تکلیف میں ہیں۔ ہم بہت زیادہ تنگی میں ہیں۔ اُس نے ابراہیم سے شکایت کی۔ ابراہیم نے کہا کہ جب تمہارے شوہر آئیں تو تم اُن کو میرا سلام کہنا اور اُن سے یہ بھی کہنا کہ وہ اپنے دروازہ کی چوکھٹ کو بدل دیں۔ جب اسماعیل آئے۔ اُنھوں نے کچھ محسوس کرلیا تھا۔ اُنھوں نے کہاکہ کیا تمہارے پاس کوئی آیا تھا۔ اُس نے کہا کہ ہاں۔ ایک بوڑھا شخص اس اس صورت کا آیا تھا۔ اُنہوں نے آپ کے بارہ میں پوچھا، میں نے اُن کو بتایا۔ اُنہوں نے مجھ سے پوچھا کہ ہماری گزرکیسے ہوتی ہے۔ میں نے کہا کہ بڑی تکلیف اور تنگی سے۔ اسماعیل نے کہا کہ کیا اُنہوں نے تم سے اور کچھ کہا ہے ۔ اُس نے کہا کہ ہاں۔ اُنھوں نے مجھ سے آپ کو سلام کہا ہے اور یہ بھی کہا ہے کہ اپنے دروازہ کی چوکھٹ کو بدل دو۔ اسماعیل نے کہا کہ وہ میرے باپ تھے۔ انھوں نے مجھ کو حکم دیا ہے کہ میں تم کو چھوڑ دوں۔ تم اپنے گھر والوں میں چلی جاؤ۔ اسماعیل نے اُس کو طلاق دے دی۔ اور جرہم کی ایک دوسری عورت سے اُنہوں نے نکاح کرلیا۔ ابراہیم اپنے ملک میں ٹھہرے رہے جس قدر اللہ نے چاہا۔ اس کے بعد ابراہیم اسماعیل کے یہاں آئے تو پھر اُن کو نہیں پایا۔ وہ اسماعیل کی بیوی کے پاس آئے اور اُس سے اسماعیل کے بارہ میں پوچھا۔ اُس نے کہا کہ وہ ہمارے لیے رزق کی تلاش میں نکلے ہیں۔ ابراہیم نے کہا کہ تم لوگ کیسے ہو۔ اس نے کہا کہ ہم لوگ خیریت سے ہیں اورکشادگی کی حالت میں ہیں۔ اُس نے اللہ عزّوجل کی تعریف کی۔ ابراہیم نے کہا کہ تمہارا کھانا کیا ہے۔ اُس نے کہا کہ گوشت۔ ابراہیم نے کہا کہ تم کیا پیتے ہو۔ اُس نے کہا کہ پانی۔ ابراہیم نے دعا کی کہ اے اللہ، تو اُن کے گوشت اور پانی میں برکت دے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اُس وقت مکہ میں اناج نہ تھا۔ اور اگر وہاںاناج ہوتا تو ابراہیم اس میں بھی برکت کی دعا کرتے۔ مکہ کے علاوہ کسی دوسرے ملک کے لوگ اگر گوشت اور پانی پر گزر کریں تو وہ اُن کو موافق نہ آئے۔ ابراہیم نے کہا کہ جب تمہارے شوہر آئیں تو تم اُن کو میرا سلام کہنااور میری طرف سے اُن کو یہ حکم دینا کہ وہ اپنے دروازے کی چوکھٹ کو باقی رکھیں۔ پس جب اسماعیل آئے تو اُنہوں نے کہا کہ کیا تمہارے پاس کوئی شخص آیا تھا۔ اُس نے کہا کہ ہاں، ہمارے پاس ایک اچھی صورت کے بزرگ آئے تھے اور اُس نے آنے والے کی تعریف کی۔ اُنہوں نے مجھ سے آپ کے بارہ میں پوچھا تو میں نے اُنہیں بتایا۔ اُنہوں نے مجھ سے دوبارہ ہمارے گزر بسر کے بارہ میں پوچھا۔ میںنے اُنھیں بتایا کہ ہم خیریت سے ہیں۔ اسماعیل نے کہا کہ کیا انھوں نے تم سے کچھ اور بھی کہا ہے۔ اُس نے کہا کہ ہاں۔ اُنہوں نے آپ کو سلام کہا ہے اور آپ کو حکم دیا ہے کہ آپ اپنے دروازہ کی چوکھٹ کو باقی رکھیں۔ اسماعیل نے کہا کہ وہ میرے باپ تھے اور تم چوکھٹ ہو۔ اُنھوں نے مجھ کو حکم دیا ہے کہ میں تمہیں اپنے پاس باقی رکھوں۔ پھر ابراہیم اپنے ملک میں ٹھہرے رہے جب تک اللہ نے چاہا۔ اس کے بعد وہ آئے اور اسماعیل زمزم سے قریب ایک درخت کے نیچے بیٹھے ہوئے اپنے تیر درست کررہے تھے۔ جب اسماعیل نے ابراہیم کو دیکھا تو وہ کھڑے ہوگئے۔ پس انھوںنے وہی کیا جو ایک باپ اپنے بیٹے سے اور ایک بیٹا اپنے باپ سے کرتا ہے۔ ابراہیم نے کہا کہ اے اسماعیل، اللہ نے مجھ کو ایک حکم دیا ہے۔ اسماعیل نے کہا کہ پھر جو آپ کے رب نے حکم دیا ہے اُسے کر ڈالیے۔ ابراہیم نے کہا کہ کیا تم میری مدد کروگے۔ اسماعیل نے کہا کہ میں آپ کی مدد کروں گا۔ ابراہیم نے کہا کہ اللہ نے مجھ کو یہ حکم دیا ہے کہ میں یہاں ایک گھر بناؤں اور ابراہیم نے اس کے گرد ایک بلند ٹیلہ کی طرف اشارہ کیا۔ اُس وقت اُن دونوں نے گھر کی بنیاد اٹھائی۔ اسماعیل پتھر لاتے تھے اور ابراہیم تعمیر کرتے تھے، یہاں تک کہ جب دیوار اونچی ہوگئی تو اسماعیل یہ پتھر (حجرِ اسود) لائے اور اُس کو وہاں رکھ دیا۔ ابراہیم اُس پتھر پر کھڑے ہو کر تعمیر کرتے تھے اور اسماعیل اُن کو پتھر دیتے تھے۔ اور وہ دونوں کہتے تھے : اے ہمارے رب، تو ہماری طرف سے یہ قبول کر، بیشک تو بہت زیادہ سننے والا اور بہت زیادہ جاننے والا ہے۔ پس وہ دونوں تعمیر کرتے اور اس گھر کے ارد گرد یہ کہتے ہوئے چکر لگاتے کہ اے ہمارے رب، تو ہماری طرف سے یہ قبول کر۔ بیشک تو بہت زیادہ سننے والا اور بہت زیادہ جاننے والا ہے‘‘۔ (صحیح البخاری، حدیث نمبر3364 )
ذبحِ عظیم
اسی دوران یہ واقعہ پیش آیا کہ حضرت ابراہیم نے خواب میں دیکھا کہ وہ اپنے بیٹے اسماعیل کو اپنے ہاتھ سے ذبح کررہے ہیں۔ اس خواب کے مطابق، حضرت ابراہیم اپنے بیٹے کو ذبح کرنے کے لیے تیار ہوگئے۔ لیکن یہ ایک تمثیلی خواب تھا، یعنی اس کا مطلب یہ تھا کہ اب خدائی منصوبہ کے مطابق، اپنے بیٹے کو توحید کے مشن کے لیے وقف (dedicate) کردو، ایک ایسا مشن جو عرب کے بے آب وگیاہ صحرا میں شروع ہونے والا تھا۔
قرآن کی سورہ نمبر 37 میں حضرت ابراہیم کے واقعے کا ذِکر ہے۔ آپ نے اپنے ایک خواب کے مطابق، اپنے بیٹے اسماعیل کو ذبح کرنے کے لیے زمین پر لٹا دیا۔ اُس وقت، اللہ تعالیٰ کی طرف سے فرشتے نے بتایا کہ تمھاری قربانی قبول ہوگئی، اب تم بیٹے کے بدلے ایک دنبہ ذبح کردو۔ چنانچہ آپ نے ایسا ہی کیا۔ اُس موقع پر قرآن میں یہ آیت آئی ہے:وَفَدَیْنَاہُ بِذِبْحٍ عَظِیمٍ(37:107)۔ یعنی ہم نے اسماعیل کو ایک عظیم قربانی کے ذریعے بچا لیا۔
اِس آیت میں ذِبح عظیم (عظیم قربانی) کا لفظ اسماعیل کے لیے آیا ہے، نہ کہ دنبہ کے لیے۔ دنبہ کو حضرت ابراہیم نے بطور فدیہ ذبح کیا، اور اسماعیل کو ایک عظیم تر قربانی کے لیے منتخب کرلیا گیا۔ یہ عظیم تر قربانی کیا تھی، وہ یہ تھی کہ اِس کے بعد اسماعیل کو اپنی ماں ہاجرہ کے ساتھ مکہ کے صحرا میں آباد کر دیا گیا، تاکہ اُن کے ذریعے سے ایک نئی نسل تیار ہو۔ اُس وقت یہ علاقہ صرف صحرا کی حیثیت رکھتا تھا۔ وہاں اسبابِ حیات میں سے کوئی چیز موجود نہ تھی۔ اِس لیے اس کو قرآن میں ذبحِ عظیم کا درجہ دیاگیا ۔یہ عظیم قربانی، اللہ تعالیٰ کا ایک منصوبہ تھا، جس کو فرزند ِ ابراہیم (اسماعیل) کے ذریعے عرب کے صحرا میں عمل میں لایا گیا۔ قرآن (ابراہیم،14:37) میںاِس واقعے کا ذکر مختصر اشارے کے طورپر آیا ہے اور حدیث میںاس کا ذکر تفصیل کے ساتھ ملتا ہے۔
قرآن میںحضرت ابراہیم کے اس خواب کا ذکر سورہ نمبر 37 میںآیا ہے۔ اس میں بتایا گیا ہے کہ پیغمبر ابراہیم نے خواب کے بعد جب اپنے بیٹے کو قربان کرنا چاہا تو اس وقت خدا کے فرشتے نے آپ کو بتایا کہ آپ بیٹے کے فدیہ کے طورپر ایک دنبہ ذبح کردیں۔ چنانچہ حضرت ابراہیم نے ایسا ہی کیا (الصافات،37:107)، اور جیسا کہ صحیح البخاری کی روایت سے معلوم ہوتا ہے، اس کے بعد حضرت ابراہیم نے اپنی بیوی ہاجرہ اور اپنے بیٹے اسماعیل کو عرب کے ایک صحرائی مقام میں آباد کردیا۔ یہ وہی مقام تھا جہاں اب مکہ آباد ہے۔ اسی مقام پر بعد کو حضرت ابراہیم اور آپ کے بیٹے اسماعیل نے کعبہ کی تعمیر کی، اور حج کا نظام قائم فرمایا۔
علامتی ذبیحہ
ہاجرہ اوراسماعیل کو صحرا میں اس طرح آباد کرنے کا مقصد کیا تھا۔ اس کا مقصد تھا ایک نئی نسل بنانا۔ اس زمانے کی شہری آبادیوں میں مشرکانہ کلچر مکمل طورپر چھاچکا تھا۔اس ماحول میں جو بھی پیدا ہوتا وہ مشرکانہ کنڈیشننگ کا شکار ہوجاتا۔ اس بنا پر اس کے لیے توحید کے پیغام کو سمجھنا ممکن نہ رہتا۔ متمدن شہروں سے دور صحرا میں ہاجرہ اور اسماعیل کو اس لیے بسایا گیا تاکہ یہاں فطرت کے ماحول میںان کے ذریعہ سے ایک نئی نسل تیار ہو، ایک ایسی نسل جو مشرکانہ کنڈیشننگ سے پوری طرح پاک ہو۔ تو الد وتناسل کے ذریعہ یہ کام جاری رہا یہاںتک کہ بنو اسماعیل کی قوم وجود میں آئی۔
اسی قوم کے اندر 570 ء میں پیغمبر اسلام محمد بن عبداللہ بن عبد المطلب پیدا ہوئے۔ محمدصلی اللہ علیہ وسلم کو 610 ء میں اللہ تعالیٰ نے نبی مقرر کیا۔ اس کے بعد آپ نے توحید کے مشن کا آغاز کیا۔ بنو اسماعیل کے اندر سے آپ کو وہ قیمتی افراد ملے جن کو اصحابِ رسول کہاجاتا ہے۔ ان لوگوں کو ساتھ لے کر آپ نے تاریخ میں پہلی بار یہ کیا کہ توحید کی دعوت کو فکری مرحلے سے آگے بڑھا کر انقلاب کے مرحلے تک پہنچایا۔
حضرت ابراہیم کے ذریعے جو عظیم دعوتی منصوبہ زیر عمل آیا، حج کی عبادت گویا اسی کاایک ریہرسل ہے۔ ذو الحجہ کے مہینے کی مخصوص تاریخوں میں ساری دنیا کے مسلمان اکھٹا ہو کر ریہرسل کے روپ میں اس تاریخ کو دہراتے ہیں جو حضرت ابراہیم اور ان کی اولاد کے ساتھ پیش آئی۔
اس طرح تمام دنیا کے مسلمان ہر سال اپنے اندر یہ عزم تازہ کرتے ہیں کہ وہ پیغمبر کے اس نمونہ کو اپنے حالات کے مطابق، مسلسل دہراتے رہیں گے۔ ہر زمانے میں وہ دعوت الی اللہ کے اس عمل کو مسلسل زندہ رکھیں گے، یہاں تک کہ قیامت آجائے۔
اس ابراہیمی عمل میں قربانی کو مرکزی درجہ حاصل ہے۔ یہ ایک عظیم عمل ہے جس کی کامیاب ادائیگی کے لیے قربانی کی اسپرٹ ناگزیر طورپر ضروری ہے۔ اس قربانی کی اسپرٹ کو مسلسل طورپر زندہ رکھنے کے لیے حج کے زمانے میں منیٰ میں، اورعیداضحی کی صورت میں تمام دنیا کے مسلمان اپنے اپنے مقام پرجانور کی قربانی کرتے ہیں اور خدا کو گواہ بنا کر اس اسپرٹ کو زندہ رکھنے کا عہد کرتے ہیں۔حج اور عید اضحی کے موقع پر جانور کی جو قربانی کی جاتی ہے، وہ دراصل جسمانی قربانی کی صورت میں با مقصد قربانی کے عزم کے ہم معنی ہے۔ یہ دراصل داخلی اسپرٹ کا خارجی مظاہرہ ہے:
It is an external manifestation of an internal spirit.
آدمی کے اندر پانچ قسم کے حواس (senses)پائے جاتے ہیں۔ نفسیاتی تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ جب کوئی ایسا معاملہ پیش آئے جس میں انسان کے تمام حواس شامل ہوں تو وہ بات انسان کے دماغ میں زیادہ گہرائی کے ساتھ بیٹھ جاتی ہے۔ قربانی کی اسپرٹ کو اگر آدمی صرف مجرد شکل میں سوچے تو وہ آدمی کے دماغ میں بہت زیادہ ذہن نشین نہیں ہوگی۔ قربانی اسی کمی کی تلافی ہے۔
جب آدمی اپنے آپ کو وقف کرنے کے تحت جانور کی قربانی کرتا ہے تو اس میں عملاً اس کے تمام حواس شامل ہوجاتے ہیں۔ وہ دماغ سے سوچتا ہے، وہ آنکھ سے دیکھتا ہے، وہ کان سے سنتا ہے، وہ ہاتھ سے چھوتا ہے، وہ قربانی کے بعد اس کے ذائقے کا تجربہ بھی کرتا ہے۔ اس طرح اس معاملے میں اس کے تمام حواس شامل ہوجاتے ہیں۔ وہ زیادہ گہرائی کے ساتھ قربانی کی اسپرٹ کو محسوس کرتا ہے، وہ اِس قابل ہوجاتا ہے کہ قربانی کی اسپرٹ اس کے اندر بھر پور طورپر داخل ہوجائے، وہ اس کے گوشت کا اور اس کے خون کا حصہ بن جائے۔
قربانی کی حقیقت
حج یا عید ِاضحی کے موقع پر جانور کی قربانی دی جاتی ہے۔ اس قربانی کے دو پہلو ہیں۔ ایک اس کی اسپرٹ، اور دوسرے اس کی ظاہری صورت۔اسپرٹ کے اعتبار سے قربانی ایک قسم کا عہد (pledge) ہے۔ قربانی کی صورت میں عہد کا مطلب ہے عملی عہد (pledge in action) ۔ عہد کے اس طریقے کی اہمیت کو عمومی طورپر تسلیم کیاجاتا ہے۔ اس میں کسی کو بھی کوئی اختلاف نہیں۔
یہاں اس نوعیت کی ایک مثال دی جاتی ہے، جس سے اندازہ ہوگا کہ قربانی کا مطلب کیا ہے۔ نومبر 1962 کا واقعہ ہے۔ ہندستان کی مشرقی سرحد پر ایک پڑوسی طاقت کی جارحیت کی وجہ سے زبردست خطرہ پیداہو گیا تھا۔ سارے ملک میں سنسنی خیزی کی کیفیت چھائی ہوئی تھی۔
اُس وقت قوم کی طرف سے جو مظاہرے ہوئے، اس میں سے ایک واقعہ یہ تھا کہ احمد آباد کے 25 ہزار نوجوانوں نے مشترکہ طورپر یہ عزم کیا کہ وہ ملک کے بچاؤ کے لیے لڑیں گے اورملک کے خلاف باہر کے حملے کا مقابلہ کریں گے، خواہ اسی راہ میں ان کو اپنی جان دے دینی پڑے۔ یہ فیصلہ کرنے کے بعد انھوں نے یہ کیا کہ ان میں سے ہر شخص نے اپنے پاس سے ایک ایک پیسہ دیا اور اس طرح 25 ہزار پیسے جمع ہوگئے۔ اس کے بعد انھوںنے اپنے ان پیسوں کو اس وقت کے وزیر اعظم پنڈت جواہر لال نہرو کی خدمت میں پیش کیا۔ پیسہ دیتے ہوئے انھوںنے ہندستانی وزیر اعظم سے کہا کہ یہ 25 ہزار پیسے ہم 25 ہزار نوجوانوں کی طرف سے اپنے آپ کو آپ کے حوالے کرنے کا نشان ہیں:
To give ourselves to you
مذکورہ نوجوانوں نے اپنی قربانی کا علامتی اظہار 25 ہزار پیسوں کی شکل میں کیا۔ 25 ہزار پیسے خود اصل قربانی نہیں تھے۔ وہ اصل قربانی کی صرف ایک علامت(token) تھے۔ یہی معاملہ جانور کی قربانی کا ہے۔ قربانی کے عمل میں جانور کی حیثیت صرف علامتی ہے۔ جانور کی قربانی کے ذریعے ایک مومن علامتی طورپر اس بات کاعہد کرتا ہے کہ وہ اسی طرح اپنی زندگی کو خدا کی راہ میں پوری طرح لگادے گا۔ اسی لیے قربانی کے وقت یہ کہا جاتا ہے: اللَّہُمَّ مِنْکَ وَلَکَ (سنن ابوداؤد، حدیث نمبر 2795)۔یعنی اے خدا یہ تو نے ہی دیا تھا، اب میں اس کو تیرے سپرد کرتا ہوں۔
٭ ٭ ٭ ٭٭
حج کا اثر یہ ہونا چاہیے کہ حاجی کا ذہن خدا رخی ذہن ہو جائے۔ اس کوخدا کی یاد آنے لگے۔ اس کا دماغ خدا کی باتوں سے بھر جائے۔ اب تک اس کی سوچ اگر اپنی ذات کی طرف چل رہی تھی تو اب اس کی سوچ خدا کی طرف چل پڑے۔
واپس اوپر جائیں

انا کی قربانی

قرآن کی سورہ الزخرف میں فطرت کا ایک قانون اِن الفاظ میں بیان کیا گیا ہے:وَرَفَعْنَا بَعْضَہُمْ فَوْقَ بَعْضٍ دَرَجَاتٍ لِیَتَّخِذَ بَعْضُہُمْ بَعْضًا سُخْرِیًّا(43:32)۔یعنی ہم نے ایک کو دوسرے پر فوقیت دی ہے، تاکہ وہ ایک دوسرے سے کام لیں۔قرآن کی اِس آیت میں سادہ طورپر طبقاتی تفاوت یا طبقاتی امتیاز کی بات نہیں کہی گئی ہے، بلکہ اِس آیت میں طبقاتی حکمت کی بات کہی گئی ہے۔ اِس دنیا میں کوئی بڑا کام صرف اجتماعی کوشش سے ہوسکتا ہے، اور اجتماعی کوشش مفید طورپر صرف اُس وقت وجود میں آتی ہے، جب کہ افرادِ اجتماع کسی ایک شخص کو اپنا لیڈر بنانے پر پوری طرح راضی ہوجائیں۔ اجتماعی کوشش نام ہے— لیڈر کا ماتحت بن کر کوشش کرنے کا۔ جو لوگ اِس اصول پر راضی نہ ہوں، وہ کبھی کوئی بڑا کام نہیں کرسکتے۔
قرآن کی اِس آیت سے سکنڈری رول (secondary role) کی اہمیت معلوم ہوتی ہے۔ اگر ایک سو آدمیوں کا اجتماع ہے تو اس میں 99 لوگوں کو سکنڈری رول پر راضی ہونا پڑتا ہے، اس کے بعد ہی یہ ممکن ہوتا ہے کہ ایک شخص لیڈر بن کر اپنا قائدانہ رول ادا کرسکے۔ اِس اصول کا مظاہرہ روزانہ نمازِ باجماعت کی شکل میں کیا جاتا ہے۔ نماز باجماعت یہ پیغام دیتی ہے کہ— اپنے میں سے ایک شخص کو آگے کھڑا کرکے سب کے سب بیک سیٹ (back seat) پر چلے جاؤ، ایک شخص کو امام بنا کر سب کے سب اس کے مقتدی بننے پر راضی ہوجاؤ۔سکنڈری رول کا معاملہ صرف ایک عملی بندوبست کا معاملہ ہے۔ جہاں تک اہمیت کی بات ہے، سکنڈری رول کی اہمیت قائدانہ رول سے بھی زیادہ ہے۔ قائدانہ رول ادا کرنے والے کو اگر ایک کریڈٹ ملے گا تو سکنڈری رول ادا کرنے والے کو ڈبل کریڈٹ دیا جائے گا۔ کیوں کہ سکنڈری رول ادا کرنے والا شخص، اپنا رول ادا کرنے کے ساتھ مزید یہ کرتا ہے کہ وہ اپنی انا کو قربان کردیتا ہے۔ انا کی قربانی کے بغیر سکنڈری رول کی ادائیگی ممکن نہیں، اور اناکی قربانی بلا شبہ تمام قربانیوں میں سب سے بڑی قربانی ہے۔
واپس اوپر جائیں

اصحابِ رسول

چار ہزار سال پہلے حضرت ابراہیم عراق کے قدیم شہر اُر (Ur) میں پیدا ہوئے۔ وہاں انھوں نے اپنی معاصر قوم کے درمیان اپنا دعوتی مشن جاری کیا۔ لیکن آپ کی قوم کی کنڈیشننگ اتنی زیادہ پختہ ہوچکی تھی کہ وہ آپ کے پیغام کو ماننے کے لیے تیار نہیں ہوئی۔ اِس کے بعد اللہ تعالیٰ کے حکم سے آپ نے ایک نیا منصوبہ شروع کیا۔ اِس منصوبے کا آغاز اِس طرح ہوا کہ آپ اپنی اہلیہ ہاجرہ اور اپنے چھوٹے بیٹے اسماعیل کو عرب کے صحرا میں لے گئے اور وہاں اُنھیں اِس غیر آباد ماحول میں بسا دیا۔
اِس خصوصی منصوبے کے ذریعے عرب میںایک نئی نسل پیدا ہوئی۔ اِسی نسل میں 570 عیسوی میں پیغمبرِ اسلام محمد صلی اللہ علیہ وسلم پیدا ہوئے۔ اِسی نسل میں سے وہ لوگ پیدا ہوئے جن کو اصحابِ رسول کہاجاتاہے۔ اصحابِ رسول دراصل پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے معاصر اہلِ ایمان تھے۔ اصحابِ رسول کو قرآن میں خیر ِ امت (آلِ عمران،3:110) کہاگیا ہے۔ اصحابِ رسول امتیازی اوصاف کے حامل تھے۔ ان کی صفتیں قرآن میں مختلف مقامات پر آئی ہیں۔ اِس سلسلے میں قرآن کی ایک آیت یہاں نقل کی جاتی ہے:
مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللَّہِ وَالَّذِینَ مَعَہُ أَشِدَّاءُ عَلَى الْکُفَّارِ رُحَمَاءُ بَیْنَہُمْ تَرَاہُمْ رُکَّعًا سُجَّدًا یَبْتَغُونَ فَضْلًا مِنَ اللَّہِ وَرِضْوَانًا سِیمَاہُمْ فِی وُجُوہِہِمْ مِنْ أَثَرِ السُّجُودِ ذَلِکَ مَثَلُہُمْ فِی التَّوْرَاةِ وَمَثَلُہُمْ فِی الْإِنْجِیلِ کَزَرْعٍ أَخْرَجَ شَطْأَہُ فَآزَرَہُ فَاسْتَغْلَظَ فَاسْتَوَى عَلَى سُوقِہِ یُعْجِبُ الزُّرَّاعَ لِیَغِیظَ بِہِمُ الْکُفَّارَ وَعَدَ اللَّہُ الَّذِینَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ مِنْہُمْ مَغْفِرَةً وَأَجْرًا عَظِیمًا (48:29)۔ یعنی محمد، اللہ کے رسول ہیں۔ جو لوگ اُن کے ساتھ ہیں، وہ منکروں پر سخت ہیں اور آپس میں مہربان ہیں۔ تم ان کو رکوع میں اور سجدہ میں دیکھوگے۔ وہ اللہ کا فضل اور اس کی رضا مندی کی طلب میں لگے رہتے ہیں۔ ان کی نشانی ان کے چہروں پر ہے، سجدہ کے اثر سے۔ ان کی یہ مثال تورات میں ہے۔ اور انجیل میں ان کی مثال یہ ہے کہ جیسے کھیتی، اُس نے اپنا انکھوا نکالا، پھر اس کو مضبوط کیا، پھر وہ موٹا ہوا اور پھر وہ اپنے تنے پر کھڑا ہوگیا۔ وہ کسانوں کو بھلا لگتا ہے، تاکہ اُن سے منکروں کو جلائے۔ اُن میں سے جو لوگ ایمان لائے اور نیک عمل کیا، اللہ نے اُن کے لیے معافی کا اور بڑے اجر کا وعدہ کیا ہے۔
قرآن کی اِس آیت میں اصحابِ رسول کے امتیازی اوصاف کو دو تاریخی پیشین گوئیوں کے حوالے سے بیان کیا گیا ہے۔ ایک پیشین گوئی وہ جو تورات میں آئی ہے، اور دوسری پیشین گوئی وہ ہے جس کا ذکر انجیل میں موجود ہے۔ تورات میں اصحابِ رسول کا پیشگی ذکر اِن الفاظ میں آیا ہے کہ وہ دس ہزار قدسیوں کے ساتھ آیا :
He came with ten thousands of saints (Deuteronomy 33:2)
بائبل کے اِس حوالے کے مطابق، اصحابِ رسول قدسی کردار (saintly character) کے حامل تھے۔ اصحابِ رسول کی یہ قدسی صفات مذکورہ قرآنی آیت کے مطابق، حسب ذیل ہیں:
والذین معہ
اِن صفات میں پہلی صفت وہ ہے جس کی طرف ’’معہ‘‘کے لفظ میں اشارہ کیاگیا ہے، یعنی پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کا ساتھ دینے والے۔ یہ ساتھ انھوںنے کب دیا تھا۔ انھوںنے پیغمبر اسلام کا یہ ساتھ اُس وقت دیا تھا، جب کہ آپ کی ذات کے ساتھ ابھی تاریخی عظمت جمع نہیں ہوئی تھی۔ انھوںنے پیغمبر اسلام کو خالص جوہر (merit) کی بنیاد پر پہچانا، انھوں نے بظاہر ایک معمولی شخصیت کو غیر معمولی شخصیت کے روپ میں دریافت کیا، انھوں نے تاریخی اعتراف (historical recognition) کے درجے تک پہنچنے سے پہلے آپ کی حیثیت کا اعتراف کیا۔ انھوں نے دورِ عظمت سے پہلے پیغمبر کو اس وقت پہچانا، جب کہ اُس کی ذات ہر قسم کی ظاہری عظمت سے پوری طرح خالی تھی۔
انھوں نے محمد بن عبداللہ بن عبد المطلب کو خدا کے نمائندہ کی حیثیت سے دریافت کرکے اُس کے آگے اپنے آپ کو پوری طرح سرینڈر کردیا، اصحابِ رسول نے ساعتِ عُسرت (التوبۃ،9:117) میں پیغمبر اسلام کا ساتھ دیا۔ یہ ساتھ دینا اُسی وقت ممکن تھا، جب کہ اصحابِ رسول مذکورہ امتیازی صفت کے حامل ہوں۔
أشداء علی الکفار
اصحابِ رسول کی دوسری صفت کو قرآن میں’’أشداء علی الکفار‘‘کے لفظ میں بیان کیاگیا ہے۔ اہلِ کفر پر شدید ہونے کا مطلب یہ ہے کہ وہ اہلِ باطل کے مقابلے میں غیر اثر پذیر (unyielding) کردار کے حامل تھے، مروّجہ افکار، ان کو متزلزل نہیں کرسکتے تھے، وقت کی غالب تہذیب اُن کو مرعوب کرنے والی نہ تھی، مفادات کا نظام ان کو اپنی راہ سے ہٹا نہیں سکتا تھا۔ اصحابِ رسول کی دریافتِ حقیقت اتنی زیادہ گہری تھی کہ وہی اُن کی پوری شخصیت کا واحد غالب عنصر بن گئی۔
رحماء بینہم
اصحابِ رسول کی تیسری صفت کو قرآن میں ’’رحماء بینہم‘‘کے الفاظ میں بیان کیاگیا ہے، یعنی آپس میں ایک دوسرے کے لیے آخری حد تک ہمدرد اور خیر خواہ ہونا۔ اِس صفت کی غیرمعمولی اہمیت اُس وقت سمجھ میں آتی ہے جب کہ اِس حقیقت کو سامنے رکھا جائے کہ اصحابِ رسول کے درمیان وہ تمام اختلافات (differences) موجود تھے جو ہر انسانی گروہ کے درمیان فطری طورپر پائے جاتے ہیں۔ اِس کے باوجود وہ بنیانِ مرصوص (الصّف،61:4) کی طرح باہم متحد رہے، انھوں نے اِس صلاحیت کا ثبوت دیا کہ وہ اختلاف کے باوجود آپس میں متحد ہوسکتے ہیں، وہ شکایتوں کے باوجود ایک دوسرے کے خیرخواہ بن سکتے ہیں، وہ منفی اسباب کے باوجود اپنے اندر مثبت شخصیت کی تعمیر کرسکتے ہیں۔ اصحابِ رسول کی یہی صفت تھی جس کی بنا پر وہ توحید پر مبنی وہ انقلاب لاسکے جس نے تاریخ کا رخ موڑ دیا۔
تراھم رکعاً سجداً
اصحابِ رسول کی چوتھی صفت کو ’’تراھم رکعاً سجداً‘‘کے الفاظ میں بیان کیا گیا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اصحابِ رسول کامل طورپر اللہ کے آگے جھکے ہوئے تھے، ان کے اندر کامل درجے میں خود سپردگی کا مزاج پیدا ہوگیا تھا، اللہ کی کبریائی کی معرفت ان کو اتنے بڑے درجے میں حاصل ہوئی تھی، جب کہ انسان شعوری طورپر اللہ کی قدرتِ کاملہ کا ادراک کرلیتا ہے اور اس کے اندر اپنے عاجزِ مطلق ہونے کا شعور اِس طرح پیدا ہوجاتا ہے کہ وہ اپنی پوری شخصیت کے ساتھ اللہ کے آگے جھک جاتا ہے۔ اس کے دل ودماغ میں اللہ کی بڑائی کے سوا کوئی اور بڑائی باقی نہیں رہتی، اس کا واحدکنسرن (sole concern) اللہ وحدہ لاشریک بن جاتا ہے۔ یہی توحید ِ کامل ہے، اور اصحابِ رسول اِس توحید ِ کامل میں آخری درجے پر پہنچے ہوئے تھے۔
یبتغون فضلاً من اللہ ورضواناً
اصحابِ رسول کی پانچویں صفت وہ ہے جس کو قرآن میں ’’یبتغون فضلاً من اللّٰہ ورضواناً‘‘ کے الفاظ میں بیان کیاگیا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اصحابِ رسول کی معرفت نے اُن کے اندر اللہ کی ذات پر کامل یقین پیدا کردیا تھا، وہ اللہ پر کامل اعتماد (confidence) والے بن گئے تھے، وہ یہ سمجھنے لگے تھے کہ دینے والا بھی اللہ ہے اور چھیننے والا بھی اللہ، کامیابی کا سرا بھی اللہ کے ہاتھ میں ہے اور ناکامی کا سرا بھی اللہ کے ہاتھ میں۔ وہ ہر دوسری چیز سے زیادہ اللہ پر بھروسہ کرنے والے بن گئے تھے، اُن کی امیدیں اور آرزوئیں تمام تر اللہ پر منحصر ہوگئی تھیں۔
سیماہم فی وجوہہم من أثر السجود
اصحابِ رسول کی چھٹی صفت کو قرآن میں’’سیماہم فی وجوہہم من أثر السجود‘‘ کے الفاظ میں بیان کیا گیا ہے۔ اس سے مراد یہ ہے کہ اصحابِ رسول کی دریافتِ حقیقت نے اُن کے اندر آخری حد تک وہ صفات پیدا کردی تھیں جن کو سنجیدگی (sincerity) اور تقویٰ اور تواضع کہاجاتا ہے۔ یہی کمالِ انسانیت کی پہچان ہے، یہی وہ صفات ہیں جو کسی انسان (man)کو اعلیٰ انسان(super man) بناتی ہیں۔ اِن صفات کی حامل شخصیت کو ربانی شخصیت (divine personality) کہا جاتا ہے۔ اصحابِ رسول بلاشبہ اِن صفات میں کمال درجے پر تھے۔
اِس کے بعد اصحابِ رسول کی اُس خصوصیت کو بیان کیاگیا ہے جس کا ذکر انجیل میں حضرت مسیح کی زبان سے اِن الفاظ میں آیا ہےکہ اُس نے ایک اور تمثیل ان کے سامنے پیش کرکے کہا کہ آسمان کی بادشاہی اُس رائی کے دانے کی مانند ہے جس کو کسی آدمی نے لے کراپنے کھیت میں بودیا۔ وہ سب بیجوں سے چھوٹا تو ہے، مگر وہ جب بڑھتا ہے تو سب ترکاریوں سے بڑا اور ایسا درخت ہوجاتا ہے کہ ہوا کے پرندے آکر اس کی ڈالیوں پر بسیرا کرتے ہیں:
Another parable he put forth to them, saying: “The kingdom of heaven is like a mustard seed, which a man took and sowed in his field, which indeed is the least of all the seeds, but when it is grown, it is greater than the herbs and becomes a tree, so that the birds of the air come and nest in its branches”. (Matthew 13: 31-32)
اصحابِ رسول کی جو صفت تورات میں مختصراً اور قرآن میں تفصیلاً بیان کی گئی ہے، اُس کا تعلق اصحابِ رسول کی انفرادی خصوصیات سے ہے۔ یہ اعلیٰ خصوصیتیں ہر صحابی کے اندر کامل درجے میں پائی جاتی تھیں۔ اِن خصوصیات نے ہر صحابی کو، ایک مستشرق کے الفاظ میں، ہیرو (hero) بنا دیا تھا۔
اصحابِ رسول کی دوسری صفت جو انجیل اور قرآن دونوں میںآئی ہے، وہ تمثیل کی صورت میں اُس اجتماعی انقلاب کو بتاتی ہے جو اصحابِ رسول کے ذریعے برپا ہوا تھا۔ یہ تمثیل ایک درخت کی صورت میں ہے۔ اِس درخت کا بیج پیغمبرِ اسلام کی پیدائش سے ڈھائی ہزار سال پہلے صحرائے عرب میں لگایا گیا تھا۔ اس کا آغاز حضرت ابراہیم اور حضرت ہاجرہ اور حضرت اسماعیل کی قربانیوں کے ذریعے ہوا تھا۔ یہ پودا نسل درنسل بڑھتا رہا۔
اصحابِ رسول اِسی تاریخی نسل کا اگلا حصہ تھے۔ اصحابِ رسول نے غیر معمولی قربانی کے ذریعے یہ کیا کہ انھوں نے توحید کے نظریے کو فکری انقلاب کے دور تک پہنچا دیا۔ اِس فکری انقلاب کے بعد تاریخ بشری میں ایک نیا پراسس جاری ہوا۔ بعد کی عالمی تبدیلیاں اِسی انقلابی عمل کا نتیجہ تھیں۔ فرانسیسی مؤرخ ہنری پرین (وفات1935) نے اِس انقلابی واقعے کا اعتراف اِن الفاظ میں کیا ہے — اسلام نے زمین کے نقشے کو بدل دیا، تاریخ کے روایتی دور کا کامل خاتمہ ہوگیا:
Islam changed the face of the globe, the traditional order of history was overthrown.
یعجب الزرّاع
’’یعجب الزرّاع‘‘کے لفظ میں ایک تاریخی پس منظر کی طرف اشارہ ہے۔ رسول اور اصحابِ رسول کے پہلے کی جو دعوتی تاریخ ہے، اُس میں بار بار ایسا ہوا کہ خدا کے داعیوں نے دعوت کا بیج ڈالا، لیکن وہ بڑھ کر ایک شاداب درخت نہ بن سکا۔ یہ واقعہ پہلی بار اصحابِ رسول کے ذریعے پیش آیا۔ دعوت کے عمل میں یہ ارتقا سارے زمین وآسمان کے لیے بے پناہ مسرت کا باعث تھا،جو دعوتِ توحید کو ایک شاداب باغ کی صورت میں دیکھنے کے لیے ہزاروں سال سے اس کا انتظار کررہے تھے۔
لیغیظ بہم الکفار
’’لیغیظ بہم الکفار‘‘کا مطلب یہ ہے کہ وہ اہلِ باطل جو حق کا فروغ دیکھنا نہیں چاہتے تھے، اُن کے لیے حق کے فروغ کا یہ عظیم واقعہ بے پناہ مایوسی کا سبب بن گیا۔ ان کی ہزاروں سال کی خوشیاں خاک میں مل کر رہ گئیں۔ ان کا یہ حوصلہ آخری طورپر ختم ہوگیا کہ وہ حق کو ہمیشہ مغلوب رکھیں گے اور اس کو کبھی ابھرنے کا موقع نہ دیں گے۔ اِس مایوسی میں دونوں گروہ یکساں طورپر شریک تھے، باطل پرست انسان بھی، اور ابلیس کا دشمن ِ حق قافلہ بھی، حق کی یہ کامیابی دونوں ہی کے لیے ان کے منصوبوں کے خاتمہ کے ہم معنی بن گئی۔
ایمان اور عمل صالح
مذکورہ آیت میں آخری بات یہ کہی گئی ہے کہ— اُن میں سے جو لوگ ایمان لائے اور انھوں نے نیک عمل کیا، اللہ نے ان سے معافی کا اور بڑے اجر کا وعدہ کیا ہے۔ یہ بشارت براہِ راست طورپر اصحابِ رسول کے لیے ہے اور بالواسطہ طورپر قیامت تک کے اُن تمام لوگوں کے لیے ہے جو اصحابِ رسول کے رول کو دریافت کریں اور بعد کے زمانوں میں اس کا تسلسل جاری رکھیں۔ تسلسل کو جاری رکھنے کا یہ عمل کوئی سادہ عمل نہیں ۔ اِس کے لیے ایسے افراد درکار ہیں جن کے اندر تخلیقی فکر ہو اور جن کے اندر مجددانہ صلاحیت ہو۔ بعد کی نسلوں میں جو لوگ ایمان اور عملِ صالح کی اِس اعلیٰ صلاحیت کا ثبوت دیں گے، وہ سب مذکورہ قرآنی بشارت میں شامل ہوتے چلے جائیں گے۔
٭ ٭ ٭ ٭٭
اس ابراہیمی منصوبے پر غور کیجیے تو معلوم ہوگا کہ حضرت ابراہیم کی قربانی، قربانی برائے دعوت تھی۔اس کا مطلب یہ تھا کہ عراق کے تجربے کی روشنی میں عرب میں ایک نیا دعوتی منصوبہ بنایا جائے، جو نتیجہ کے اعتبار سے زیادہ موثر ثابت ہو۔ جانور کے ذبیحہ کی صورت میں اس منصوبہ میں شامل افراد کو پیشگی یہ بتایا گیا کہ تم کو اس منصوبہ کی کامیاب تکمیل کے لیے ایک ایسے پرمشقت کورس سے گزرنا ہوگا، جو گویا ذبیحہ (slaughter) جیسے تجربہ کےبرابر ہوگا۔اب وقت آگیا ہے کہ مسلمان دوبارہ حضرت ابراہیم کی اس تاریخ کو دہرائیں ۔ موجودہ زمانہ میں وہ دوبارہ یہ کریں کہ شکایت کے ذہن کو مکمل طور پر ختم کردیں۔ وہ ردعمل کی سرگرمیوں سے مکمل طور پر اپنے کو بچائیں۔ وہ تشدد کی سرگرمیوں کو چھوڑ کر پرامن دعوت کا منصوبہ بنائیں۔ وہ دوبارہ جذبات کی قربانی کا ثبوت دیں۔ موجودہ زمانے میں بھی بظاہر تمثیلی قربانی کا سلسلہ جاری رہے گا، لیکن اسپرٹ کے اعتبار سے ان کو اپنے آپ کو مکمل طور پر بدلنا ہوگا۔ ابراہیم اور اسماعیل کے زمانے میں اگر ڈیزرٹ تھراپی کا طریقہ اختیار کیا گیا تھا تو اب مسلمانوں کو صبر تھراپی (sabr therapy) کا طریقہ اختیار کرنا ہوگا۔
واپس اوپر جائیں

ملتِ ابراہیم

ایک صاحب نے لکھا ہے کہ قرآن میں ایک سے زیادہ بار اتباع ملتِ ابراہیم کا حکم دیا گیاہے۔ یہ ملتِ ابراہیم کیا ہے؟ براہ کرم واضح کریں(ایک قاری الرسالہ، لکھنؤ)۔
اس سوال کا جواب یہ ہے کہ وہ چیز جس کو ہم ملتِ ابراہیم یا ابراہیمی ملت کہتے ہیں، وہ وہی ہے جس کا دوسرا نام اسلام ہے۔ اصل یہ ہے کہ اس وقت دنیا میں تین بڑے آسمانی مذاہب ہیں — دین یہود، دین نصاریٰ، اور دین محمد۔ان تینوں مذاہب کے مورث اعلیٰ حضرت ابراہیم تھے۔اسی لیے حضرت ابراہیم کوقرآن میں امام الناس (البقرۃ، 2:124) کہا گیا ہے۔ تینوں مذاہب کے بانی حضرت ابراہیم کی نسل سے تعلق رکھتے ہیں۔ حضرت ابراہیم کی اسی جامعیت کی بنا پر قرآن میں ان کو امۃ (النحل، 16:120)کہا گیا ہے۔
حضرت ابراہیم تقریباًچار ہزار سال پہلے قدیم عراق میں پیدا ہوئے۔حضرت ابراہیم ایک صاحبِ کتاب پیغمبر تھے(الاعلیٰ، 87:19)۔ اگرچہ ان کی کتاب آج محفوظ نہیں۔ اسی طرح بقیہ تینوں مذاہب کے انبیامیں سے حضرت موسی، اور حضرت مسیح صاحب کتاب پیغمبر تھے۔ تاہم ان کی کتابیں بھی آج پوری طرح محفوظ حالت میں نہیں ہیں۔
حضرت محمد نے اسی بارے میں یہ کہا کہ میں اسی دین کو لے کر آیا ہوں جس دین کو لے کر حضرت ابراہیم آئے تھے(النحل، 16:123)۔ اس اعتبار سے رسول اللہ کا مشن دینِ ابراہیم کی تجدید کا مشن تھا۔ رسول اللہ کو یہ خصوصیت حاصل ہوئی کہ آپ کا لایا ہوا دین ہر اعتبار سے محفوظ دین تھا، اور اب حق کے متلاشی کو اسی دینِ محمدی کی طرف رجوع کرنا ہے۔ کیوں کہ اب اللہ کا دین اپنی محفوظ حالت میں صرف دینِ محمدی میں پایا جاتا ہے۔مکہ کے قریش اگرچہ عملاً شرک پر قائم تھے، لیکن وہ اپنے مذہب کو حضرت ابراہیم کے ساتھ وابستہ کرتے تھے۔ اس لیے وسیع تر پہلو سے قریش بھی اس خطاب میں شامل ہیں۔یہود و نصاریٰ اس خطاب میں براہ راست طور پر شامل تھے، اور قریش بالواسطہ طور پر۔
واپس اوپر جائیں

حج کی اجتماعی اہمیت

حج اسلام کی ایک نہایت اہم سالانہ عبادت ہے۔ وہ قمری کیلنڈر کے آخری ماہ ذو الحجہ میں ادا کیا جاتاہے۔ حج کی عبادت کے مراسم بیت اللہ (مکہ) میں یا اس کے آس پاس کے مقامات پر ادا کیے جاتے ہیں جو عرب میں واقع ہے۔ اس عبادت کو تمام عبادت کا جامع کہا جاتا ہے۔ چنانچہ اس میںہر قسم کے عبادتی پہلو پائے جاتے ہیں۔ انہی میں سے ایک اجتماعی پہلو بھی ہے۔ حج کی عبادت میں اجتماعیت کا پہلو بہت نمایاں طو پر موجود ہے۔ انسائیکلو پیڈیا بریٹانیکا (1984) میں حج کی تفصیل دیتے ہوئے یہ جملہ لکھاگیا ہے:
About 2,000,000 persons perform the Hajj each year, and the rite serves as a unifying force in Islam by bringing followers of diverse background together in religious celebration. (V.IV, p. 844)
تقریباً دو ملین آدمی ہر سال حج کرتے ہیں اور یہ عبادت مختلف ملکوں کے مسلمانوں کو ایک مذہبی تقریب میں یکجا کر کے اسلام میں اتحادی طاقت کا کام کرتی ہے۔
قرآن میں حج کا حکم دیتے ہوئے یہ الفاظ آئے ہیں:وَإِذْ جَعَلْنَا الْبَیْتَ مَثَابَةً لِلنَّاسِ وَأَمْنًا(2:125)۔ یعنی خدا نے بیت اللہ کو لوگوں کے لیے مثابہ بنایا اور اس کو امن کی جگہ بنا دیا۔ مثابہ کے معنٰی عربی زبان میں تقریباً وہی ہیں جس کو آج کل کی زبان میں مرکز کہا جاتا ہے۔ یعنی وہ جگہ جہاں لوگ جمع ہوں۔ جس کی طرف سب لوگ رجوع کریں، جو سب کا مشترک مرجع اور شیرازہ ہو۔
حج کی عبادت کے لیے ہر سال ساری دنیا کے مسلمان مکہ آتے ہیں۔ 2012 میں ان کی تعداد تقریباً3 ملین تھی۔ حج کے موسم میں مکہ اور اس کے آس پاس ہر طرف آدمی ہی آدمی دکھائی دینے لگتے ہیں۔ یہ لوگ مختلف زبانیں بولتے ہیں۔ ان کے حلیے الگ الگ ہوتے ہیں۔ مگر یہاں آنے کے بعد سب کی سوچ ایک ہوجاتی ہے۔ سب ایک اللہ کی عبادت کرتے ہیں۔ حج کے دوران وہ ان کی تمام توجہ کا مرکز بنا رہتا ہے۔ اس طرح حج ایک ایسی عبادت بن جاتا ہے جو اپنے تمام اعمال اور تقریبات کے ساتھ انسان کو اجتماعیت اور مرکزیت کا سبق دے رہا ہے۔
حج کی تاریخ حضرت ابراہیم اور حضرت اسماعیل کی زندگی سے وابستہ ہے۔ یہ دونوں ہستیاں وہ ہیں جن کو نہ صرف مسلمان خدا کا پیغمبر مانتے ہیں بلکہ دوسرے بڑے مذاہب کے لوگ بھی ان کو عظیم پیغمبر تسلیم کرتے ہیں۔ اس طرح حج کے عمل کو تاریخی طور پر تقدس اور عظمت کا وہ درجہ مل گیا ہے جو دنیا میں کسی دوسرے عمل کو حاصل نہیں۔
حضرت ابراہیم قدیم عراق میں پیدا ہوئے۔ حضرت اسماعیل ان کے صاحبزادے تھے۔ اس وقت عراق ایک شاندار تمدن کا ملک تھا۔ آزر حضرت ابراہیم کے والد اور حضرت اسماعیل کے دادا تھے۔ ان کو عراق کے سرکاری نظام میں اعلیٰ عہد یدار کی حیثیت حاصل تھی۔ حضرت ابراہیم اور حضرت اسماعیل کے لیے عراق میں شاندار ترقی کے اعلیٰ مواقع کھلے ہوئے تھے۔ مگر عراق کے مشرکانہ نظام سے وہ موافقت نہ کرسکے۔ ایک خدا کی پرستش کی خاطر انہوں نے اس علاقہ کو چھوڑ دیا جو کئی خداؤں کی پرستش کا مرکز بنا ہوا تھا۔ وہ عراق کے سرسبز ملک کو چھوڑ کر عرب کے خشک صحرا میں چلے گئے جہاں کی سنسان دنیا میں خالق اور مخلوق کے درمیان کوئی اور چیز حائل نہ تھی۔ یہاں انہوں نے ایک خدا کے گھر کی تعمیر کی۔
حضرت ابراہیم اور حضرت اسماعیل کے اس عمل کو دوسرے لفظوں میں اس طرح بیان کیا جاسکتا ہے کہ انہوں نے کئی خداؤں کو اپنا مرجع بنانے کے بجائے ایک خدا کو اپنا مرجع بنایا۔ اور اس مقصد کے لیے بیت اللہ (کعبہ) کی تعمیر کی جو خدائے واحد کی عبادت کا عالمی مرکز ہے۔ یہی مرکزِ توحید حج کے مراسم کی ادائیگی کا مرکز بھی ہے۔
حج کی عبادت میں جو مراسم ادا کیے جاتے ہیں ان کے بعض پہلوؤں کو دیکھیے۔ حج کے دوران حاجی سب سے زیادہ جو کلمہ بولتا ہے وہ یہ ہے:
لبیک اللہم لبیک، لبیک لا شریک لک لبیک، إن الحمد والنعمة لک والملک، لا شریک لک ۔ ( حاضر ہوں خدایا، میں حاضر ہوں۔ حاضر ہوں۔ تیرا کوئی شریک نہیں۔ میں حاضر ہوں۔ تعریف اور نعمت تیرے ہی لیے ہے، اور بادشاہی بھی، تیرا کوئی شریک نہیں۔)
حاجی کی زبان سے بار بار یہ الفاظ کہلوا کر تمام لوگوں کے اندر یہ نفسیات پیدا کی جاتی ہے کہ بڑائی صرف ایک اللہ کی ہے۔ اس کے سوا جتنی بڑائیاں ہیں سب اس لیے ہیں کہ وہ سب اسی ایک عظیم تر بڑائی میں گم ہو جائیں۔ یہ احساس اجتماعیت کا سب سے بڑا راز ہے۔ اجتماعیت اور اتحاد ہمیشہ وہاں نہیں ہوتا جہاں ہر آدمی اپنے کو بڑا سمجھ لے۔ اس کے برعکس جہاں تمام لوگ کسی ایک کے حق میں اپنی انفرادی بڑائی سے دست بردار ہو جائیں وہاں اتحاد اور اجتماعیت کے سوا کوئی اور چیز پائی نہیں جاتی ۔ بے اتحادی بڑائیوں کی تقسیم کا نام ہے اور اتحاد بڑائیوں کی وحدت کا۔
اسی طرح حج کا ایک اہم رکن طواف ہے۔ دنیا بھر کے لوگ جو حج کے موسم میں مکہ میں جمع ہوتے ہیں وہ سب سے پہلے کعبہ کا طواف کرتے ہیں۔ یہ اس بات کا عملی اقرار ہے کہ آدمی اپنی کوششوں کا مرکز و محور صرف ایک نقطہ کو بنائے گا۔ وہ ایک ہی دائرہ میں حرکت کرے گا۔ یہ عین وہی مرکزیت ہے جو مادی سطح پر نظامِ شمسی (solar system) میں نظر آتی ہے۔ نظامِ شمسی کے تمام سیارے ایک ہی سورج کو مرکزی نقطہ بنا کر اس کے گرد گھومتے ہیں۔ اسی طرح حج یہ سبق دیتا ہے کہ انسان ایک خدا کو اپنا مرجع بنا کر اس کے دائرے میں گھومے۔
اس کے بعد حاجی صفا اور مروہ کے درمیان سعی کرتا ہے۔ وہ صفا سے مروہ کی طرف جاتا ہے اور پھر مروہ سے صفا کی طرف لوٹتا ہے۔ اس طرح وہ سات چکر لگاتا ہے۔ یہ عمل کی زبان میں اس بات کا سبق ہے کہ آدمی کی دوڑ دھوپ ایک حد کے اندر بندھی ہوئی ہونی چاہیے۔ اگر آدمی کی دوڑ دھوپ کی کوئی حد نہ ہو تو کوئی ایک طرف بھاگ کر نکل جائے گا اور کوئی دوسری طرف۔ مگر جہاں دوڑ دھوپ کی حد بندی کر دی گئی ہو وہاں ہر آدمی بندھا رہتا ہے۔ وہ بار بار وہیں لوٹ کر آتا ہے جہاں اس کے دوسرے بھائی اپنی سرگرمیاں جاری کیے ہوں۔
یہی حج کے دوسرے تمام مراسم کا حال ہے۔ حج کے تمام مراسم مختلف پہلوؤں سے ایک ہی نشانہ پر چلتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ ایسا معلوم ہوتا ہے جیسے کوئی ربانی مقناطیس ہے جو ’’لوہے‘‘ کے تمام ٹکڑوں کو ایک نقطہ پر کھینچتے چلا جارہا ہے۔
مختلف ملکوں کے یہ لوگ جب مقامِ حج کے قریب پہنچتے ہیں تو سب کے سب اپنا قومی لباس اتار دیتے ہیں اور سب کے سب ایک ہی مشترک لباس پہن لیتے ہیں جس کو احرام کہا جاتا ہے۔ احرام باندھنے کا مطلب یہ ہے کہ بغیر سلی ہوئی ایک سفید چادر نیچے تہمد کی طرح پہن لی جائے اور اسی طرح ایک سفید چادر اوپر سے جسم پر ڈال لی جائے۔ اس طرح لاکھوں انسان ایک ہی وضع اور ایک ہی رنگ کے لباس میں ملبوس ہو جاتے ہیں۔
یہ سارے لوگ مختلف مراسم ادا کرتے ہوئے بالآخر عرفات کے وسیع میدان میں اکھٹا ہوتے ہیں۔ اس وقت ایک عجیب منظر ہوتا ہے۔ ایسا معلوم ہوتا ہے جیسے انسانوں کے تمام فرق اچانک مٹ گئے ہوں۔ انسان اپنے تمام اختلافات کو کھو کر خدائی وحدت میں گم ہوگئے ہیں۔ تمام انسان ایک ہوگئے ہیں جیسے ان کا خدا ایک ہے۔
عرفات کے وسیع میدان میں جب احرام باندھے ہوئے تمام حاجی جمع ہوتے ہیں اس وقت کسی بلندی سے دیکھا جائے تو ایسا نظر آئے گا کہ زبان، رنگ، حیثیت، جنسیت کے فرق کے باوجود سب کے سب انسان بالکل ایک ہوگئے ہیں۔ اس وقت مختلف قومیتیں ایک ہی بڑی قومیت میں ضم ہوتی ہوئی نظر آتی ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ حج اجتماعیت کا اتنا بڑا مظاہرہ ہے کہ اس کی کوئی دوسری مثال غالباً دنیا میں کہیں اور نہیں ملے گی۔
کعبہ مسلمانوں کا قبلۂ عبادت ہے۔ مسلمان ہر روز پانچ وقت اس کی طرف رُخ کرکے نماز پڑھتے ہیں۔ گویا ساری دنیا کے مسلمانوں کا عبادتی قبلہ ایک ہی ہے۔ عام حالت میں وہ ایک تصوراتی حقیقت ہوتا ہے۔ مگر حج کے دنوں میں مکہ پہنچ کر وہ ایک آنکھوں دیکھی حقیقت بن جاتا ہے۔ ساری دنیا کے مسلمان یہاں پہنچ کر جب اس کی طرف رُخ کر کے نماز ادا کرتے ہیں تو محسوس طورپر دکھائی دینے لگتا ہے کہ تمام دنیا کے مسلمانوں کا مشترک قبلہ ایک ہی ہے۔
کعبہ ایک چوکور قسم کی عمارت ہے۔ اس عمارت کے چاروں طرف گول دائرہ میں سارے لوگ گھومـتے ہیں جس کو طواف کہا جاتا ہے۔ وہ صف بہ صف ہو کر اس کے گرد گول دائرہ میںلوگوں کو ایک ہونے اور مل کر کام کرنے کا سبق دیتے ہیں۔ وہ ایک آواز پر حرکت کرنے کا عملی مظاہرہ ہیں۔
ایکتا کے اس عظیم تربیتی نظام ہی کا یہ بھی ایک ظاہری پہلو ہے کہ تمام لوگوں سے ان کے انفرادی لباس اُتروا کر سب کو ایک ہی سادہ لباس پہنا دیا جاتا ہے۔ یہاں بادشاہ اور رعایا کا فرق مٹ جاتا ہے۔ یہاں مشرقی لباس اور مغربی لباس کے امتیازات فضا میں گم ہو جاتے ہیں۔ احرام کے مشترک لباس میں تمام لوگ اس طرح نظر آتے ہیں جیسے کہ تمام لوگوں کی صرف ایک حیثیت ہے۔ تمام لوگ صرف ایک خدا کے بندے ہیں۔ اس کے سوا کسی کوکوئی اور حیثیت حاصل نہیں۔
حج کے مقرر ہ مراسم اگرچہ مکہ میں ختم ہو جاتے ہیں مگر بیشتر حاجی حج سے فارغ ہو کر مدینہ بھی جاتے ہیں۔ مدینہ کا قدیم نام یثرب تھا۔ مگر پیغمبر ِ اسلام نے اپنی زندگی کے آخری زمانے میں اس کو اپنا مرکز بنایا۔ اس وقت سے اس کا نام مدینۃ النبی (نبی کا شہر) پڑ گیا۔ مدینہ اسی کااختصار ہے۔ مدینہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بنائی ہوئی مسجد ہے۔ یہاں آپ کی قبر ہے۔ یہاں آپ کی پیغمبرانہ زندگی کے نشانات بکھرے ہوئے ہیں۔
ان حالات میں حاجی جب مدینہ پہنچتے ہیں تو یہ ان کے لیے مزید اتحاد اور اجتماعیت کا عظیم سبق بن جاتا ہے۔ یہاں کی مسجد نبوی میں وہ اس یاد کو تازہ کرتے ہیں کہ ان کا رہنما صرف ایک ہے۔ وہ یہاں سے یہ احساس لے کر لوٹتے ہیں کہ ان کے اندر خواہ کتنے ہی جغرافی اور قومی فرق پائے جاتے ہوں، انہیں ایک ہی پیغمبر کے بتائے ہوئے راستہ پر چلنا ہے۔ انہیں ایک مقدس ہستی کو اپنی زندگی کا رہنما بنانا ہے۔ وہ خواہ کتنے ہی زیادہ اور کتنے ہی مختلف ہوں، مگر ان کا خدا بھی ایک ہے اور ان کا پیغمبر بھی ایک۔
واپس اوپر جائیں

حج کی اسپرٹ

قرآن میں حج کے تعلق سے دو آیتیں آئی ہیں۔ ان کا ترجمہ یہ ہے: لوگوں میں حج کا اعلان کردو، وہ تمہارے پاس آئیں گے۔ پیروں پر چل کر اور دبلے اونٹوں پر سوار ہو کر جو کہ دور دراز راستوں سے آئیں گے۔ تاکہ وہ اپنے فائدہ کی جگہوں پر پہنچیں اور چند معلوم دنوں میں ان چوپایوں پر اللہ کا نام لیں جو اس نے انھیں بخشے ہیں(22:27-28)۔یہاں منافع سے مرادایمانی منافع ہیں۔حج کے موقع پر ان ایمانی منافع کا ذریعہ وہ چیزیں ہیں، جن کو قرآن میں دوسرے مقام پر شعائر اللہ (البقرۃ، 2:158) کہا گیا ہے، یعنی اللہ کی یادگاریں۔ اللہ کی یادگاروں سے مراد توحید کے مشن کی وہ تاریخی یادگاریں ہیں، جو پیغمبروں کے ذریعے اس علاقے میں قائم ہوئیں۔ حج کے موقع پر جو مراسم ادا کیے جاتے ہیں، وہ سب اسی پیغمبرانہ تاریخ کی یاد دہانی کے لیے ہیں۔
احرام کا مطلب یہ ہے کہ مادی کلچر سے نکل کر آدمی ربانی کلچر میں داخل ہوگیا۔ صفا اور مروہ کے درمیان سعی کرکے حاجی اس عہد کی تجدید کرتا ہے کہ وہ اُمّ ِاسماعیل کی طرح اپنے آپ کو دینِ توحید کے لیے وقف کرے گا۔ جمرات پر کنکریاں مار کر وہ علامتی زبان میں یہ کہہ رہا ہوتاہے کہ میں اسی طرح شیطان کو اپنے آپ سے دور بھگاؤں گا، جس طرح پیغمبر ابراہیم نے شیطان کو اپنے آپ سے دور بھگایا ۔ قربانی کرکے حاجی یہ عہد کرتا ہے کہ وہ مادہ پرستی کو چھوڑ کر خدا پرستی کی زندگی اختیار کرے گا۔ عرفات کے میدان میں اکھٹا ہو کر تمام حاجی اس وقت کو یاد کرتے ہیں، جب میدانِ محشر میں اپنا حساب دینے کے لیے حاضر کیے جائیں گے۔آخر میں حاجی پیغمبر ِ اسلام کی اس پکار کو لے کر واپس ہوتا ہے ، جو پیغمبر ِ اسلام نے 1400 سال پہلے کہا تھا:إِنَّ اللہَ عَزَّ وَجَلَّ بَعَثَنِی رَحْمَةً لِلنَّاسِ کَافَّةً، فَأَدُّوا عَنِّی (المعجم الکبیر للطبرانی، 20/8)۔ یعنی اللہ نے مجھے تمام لوگوں کے لیے رحمت بنا کر بھیجا ہے، اس لیے تم میری طرف سے تمام انسانوں کو میرا پیغام پہنچادو۔ اس میں سبق کا پہلویہ ہے کہ اے مسلمانو، تم لوگ خدا کے دین کی عالمی پیغام رسانی میں سر گرم ہوجاؤ۔ تمھاری دوڑ دھوپ، تمھارا ٹھہرنا اور چلنا، تمھارا چپ ہونا اور بولنا، سب کچھ اسی دعوتی مشن کے لیے وقف ہوجائے۔
حج کو افضل عبادت کہا گیا ہے۔ یہ کوئی پراسرار بات نہیں ہے۔ بلکہ یہ ایک معلوم حقیقت ہے۔ حج کی سالانہ عبادت کے دوران جو عمل کیے جاتے ہیں، ان پر غور کرنے سے یہ واضح ہوتا ہے کہ حج اپنے کثیر فوائد کی بنا پر اس قابل ہے کہ اس کو افضل عبادت کہا جائے۔حج میں ساری دنیا کے مسلمان مختلف علاقوں سے چل کر کعبہ کی سرزمین میں پہنچتے ہیں۔ یہ سفر پتھروں کا سفر نہیں ہوتا، بلکہ زندہ انسانوں کا سفر ہوتا ہے، ایسے انسان جو دیکھنے اور سننے اور سمجھنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ اس طرح جب یہ لوگ حج کے موسم میں دنیا کے مختلف علاقوں سے نکل کر حجاز کی طرف روانہ ہوتے ہیں، تو اس کا فطری نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ ایک عالمی ہل چل وجود میں آجاتی ہے۔ اس اعتبار سے حج کے بارے میں یہ کہا جاسکتا ہے کہ وہ عالمی سطح پر انسانوں کا ایک عبادتی موبلائزیشن ہے۔
تقریباً نصف کروڑ کی تعداد میں جب اہلِ ایمان اپنے گھروں سے نکل کر حج کے سفر پر روانہ ہوتے ہیں، تو اس دوران بار بار ان کا انٹرایکشن دوسروں سے ہوتا ہے۔ اس انٹرایکشن کے دوران اپنے آپ ایسا ہوتا ہے کہ مختلف ملکوں کے لوگوں کے درمیان اسلام کے تعارف کا عمل شروع ہوجاتا ہے۔ حاجی کو ا س سفر کے دوران نئی نئی چیزیں دیکھنے کو ملتی ہیں۔ اس سے اُس کے تجربات میں اضافہ ہوتا ہے۔ اس دوران اُس کی زندگی مختلف مراحل سے گزرتی ہے۔ اس طرح حج کا سفر اس کے لیے دینی سیاحت کے ہم معنی بن جاتا ہے۔ اس سفر کے دوران باربار دوسرے حاجیوں سے اس کے اختلافات ہوتے ہیں۔ مگر قرآن کی آیت (2:197)وَلَا جِدَالَ فِی الْحَجِّ (حج میں لڑائی جھگڑانہیںہے) کے تحت وہ ان اختلافات پر تحمل کا طریقہ اختیار کرتا ہے۔ اس طرح حج اس کے لیے اختلاف کے باوجود اتحاد کی تربیت بن جاتا ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ حج ایک جامع عبادت ہے۔ حج کا عمل ایک ایسی تربیت ہے، جس میں وہ تمام پہلو شامل ہوجاتے ہیں، جو اسلام میں ہر فرد سے مطلوب ہیں۔ تاہم حج کے فائدے صرف اس انسان کو ملتے ہیں، جو زندہ شعور کے ساتھ حج کرے۔
واپس اوپر جائیں

حقیقی اہمیت

پیغمبر اسلام کے طریقہ کا ایک پہلو یہ تھا کہ آپ کی نظر ہمیشہ حقائق پر ہوتی تھی،نہ کہ ظواہر پر۔ ظواہر میں اگر بے خبری کی بنا پر کوئی فرق ہوجائے تو اس کو آپ ناقابل لحاظ سمجھتے تھے۔ البتہ حقیقی اہمیت والی باتوں کے بارے میں آپ کا رویہ ہمیشہ بہت سخت ہوتا تھا۔
پیغمبر اسلام کے آخری حج کا ایک واقعہ البخاری ، مسلم، ابو داؤد میںتھوڑے تھوڑے لفظی فرق کے ساتھ آیا ہے۔ یہ آپ کی زندگی کا آخری سال تھا۔ آپ حج کا فریضہ ادا کرنے کے بعد منیٰ میں بیٹھے ہوئے تھے۔ لوگ آپ کے پاس آتے اور حج کے مسائل دریافت کرتے۔ کوئی کہتا کہ مجھے مسئلہ معلوم نہ تھا چنانچہ میںنے ذبح کرنے سے پہلے بال منڈوا لیا۔ کوئی کہتاکہ میںنے رمی سے پہلے نحر (قربانی) کرلی، وغیرہ۔ آپ ہر ایک سے کہتے کہ کرلو، کوئی حرج نہیں۔ اسی طرح بار بارلوگ آتے رہے اور تقدیم اور تاخیر کی بابت سوال کرتے رہے۔ آپ ہر ایک سے یہی کہتے کہ کوئی حرج نہیں، کوئی حرج نہیں، (لَا حَرَجَ لَا حَرَجَ)مسند احمد، حدیث نمبر 1857۔
ابو داؤد کی روایت (نمبر 2015) میں مزید ان الفا ظ کا اضافہ ہے: کر لو کوئی حرج نہیں۔ حرج تواس شخص کے لیے ہے جو ایک مسلمان کو بے عزت کرے۔ ایسا ہی شخص ظالم ہے۔ یہی وہ شخص ہے جس نے حرج کیا اور ہلاک ہوا۔
دین میں اصل اہمیت معانی کی ہے، نہ کہ ظواہر کی۔ ایک شخص ظاہری چیزوں کا زبردست اہتمام کرے مگر معنوی پہلو کے معاملے میں وہ غافل ہو تو ایسا شخص اسلام کی نظر میں بے قیمت ہوجائے گا۔اللہ ہمیشہ آدمی کی نیت کو دیکھتا ہے۔ نیت اگر اچھی ہے تو ظاہری چیزوں میںکمی یا فرق کو نظر انداز کردیا جاتا ہے۔ لیکن اگر آدمی کی نیت اچھی نہ ہو تو اللہ کی نظر میں اُس کی کوئی قیمت نہیں، خواہ اُس نے ظواہر کے معاملے میں کتنا ہی زیادہ اہتمام کررکھا ہو۔ ظاہری خوش نمائی سے انسان فریب میں آسکتا ہے مگر ظاہری خوش نمائی کی خدا کے نزدیک کوئی وقعت نہیں۔
واپس اوپر جائیں

حج: ایک انتباہ

ایک حدیث ان الفاظ میں آئی ہے :یأتی علی الناس زمانٌ یحجّ أغنیاء الناس للنزاہۃ، وأوساطہم للتّجارۃ، وقرّاؤہم للرّیاء والسُمعۃ، وفقراء ہم للمسئلۃ (کنز العُمّال، حدیث نمبر12363)۔ یعنی لوگوں پر ایک ایسا زمانہ آئے گا، جب کہ مال دار لوگ تفریح کے لیے حج کریں گے، اور اُن کے درمیانی درجے کے لوگ تجارت کے لیے حج کریں گے، اور ان کے علما دکھاوے اور شہرت کے لیے حج کریں گے، اور ان کے غریب لوگ مانگنے کے لیے حج کریں گے۔
یہ حدیث بہت ڈرا دینے والی ہے۔ اس کی روشنی میں موجودہ زمانے کے مسلمانوں کو خاص طور پر اپنا احتساب کرنا چاہیے۔ اُنھیں غور کرنا چاہیے کہ اُن کا حج اِس حدیثِ رسول کا مصداق تونہیں بن گیا ہے۔ مال دار لوگ سوچیں کہ ان کے حج میں تقویٰ کی اسپرٹ ہے ، یا سیر و تفریح (outing) کی اسپرٹ۔ عام لوگ یہ سوچیں کہ وہ دینی فائدے کے لیے حج کرنے جاتے ہیں یا تجارتی فائدے کے لیے۔ علما غور کریں کہ وہ عبدیت کا سبق لینے کے لیے بیت اللہ جاتے ہیں، یا اپنی پیشوایانہ حیثیت کو بلند کرنے کے لیے۔ اِسی طرح غریب لوگ سوچیں کہ حج کو انھوں نے خدا سے مانگنے کا ذریعہ بنایا ہے، یا انسانوں سے مانگنے کا ذریعہ۔
اِس حدیثِ رسول میں پیشین گوئی کی زبان میں بتایا گیا ہے کہ امت پر جب زوال آئے گا تو اُس وقت لوگوں کا حال کیا ہوگا۔ دورِ عروج میں امت کا حال یہ ہوتا ہے کہ دین کا روحانی پہلو غالب رہتا ہے اور اس کا مادّی پہلو دبا ہوا ہوتا ہے۔ دورِ زوال میں برعکس طورپر یہ ہوتا ہے کہ لوگوں کے درمیان دین کا روحانی پہلو دب جاتا ہے اور اس کا مادّی پہلو ہر طرف نمایاں ہوجاتا ہے۔ پہلے دور میں، تقویٰ کی حیثیت اصل کی ہوتی ہے اور مادّی چیزیں صرف ضرورت کے درجے میں پائی جاتی ہیں۔ اس کے برعکس، دورِزوال میں مادی چیزیں اصل بن جاتی ہیں اور کچھ ظاہری اور نمائشی چیزوں کا نام تقویٰ بن جاتا ہے۔ یہی معاملہ حج اور عمرہ کے ساتھ بھی پیش آتا ہے اور اسلام کی دوسری عبادات کے ساتھ بھی۔
واپس اوپر جائیں

حج کا فائدہ

ایک روایت کے مطابق، پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ایک مومن جب حج ادا کرکے اپنے گھر واپس لوٹتا ہے تو وہ اس دن کی طرح ہوجاتا ہے جب کہ اس کی ماں نے اس کو جنم دیا تھا (رَجَعَ کَیَوْمِ وَلَدَتْہُ أُمُّہُ) صحیح البخاری، حدیث نمبر 1820۔
He returns after Hajj like a newborn child.
اِس حدیث کو سمجھنے کے لیے ایک اور حدیث کو دیکھیے۔ ایک اور روایت کے مطابق، پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہر پیدا ہونے والا فطرت پر پیدا ہوتا ہے۔ پھر اس کے والدین اس کو یہودی اور مجوسی اور نصرانی بنا دیتے ہیں(صحیح البخاری،حدیث نمبر 1385)۔
ان دونوں حدیثوں پر غور کرنے کے بعد معلوم ہوتاہے کہ حج کی عبادت اگر صحیح اسپرٹ کے ساتھ کی جائے تو وہ حاجی کے لیے وہی چیز بن جاتی ہے جس کو آج کل کی زبان میں ڈی کنڈیشننگ (de-conditioning) کہا جاتاہے۔
اصل یہ ہے کہ اپنے ماحول کے اعتبار سے ہر آدمی کی کنڈیشننگ ہوتی رہتی ہے۔ حج کی عبادت اس کنڈیشننگ کو توڑنے کا ذریعہ ہے۔ حج ایک ایسا کورس ہے جو ہر آدمی کی کنڈیشننگ کو ختم کرکے اس کو دوبارہ اس کی اصل فطرت پر پہنچا دیتا ہے۔ دوسرے لفظوں میں یہ کہ جو شخص اس سے پہلے مسٹر کنڈیشنڈ (Mr Conditioned) تھا، وہ اب مسٹر نیچر (Mr Nature) بن جاتا ہے۔حج کا یہ فائدہ صرف اس شخص کو ملتا ہے جو حج کی پوری اسپرٹ کے ساتھ حج کی عبادت انجام دے۔ جو آدمی صرف حج کے ظاہری مراسم ادا کرے، اس کے لیے حج صرف ایک آؤٹنگ (outing) ہے، اس سے زیادہ اور کچھ نہیں۔
حج کے بعد
پیغمبرِاسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی عمر کے آخری حصہ میں حج ادا فرمایا۔ اس موقع پرتقریباً تمام صحابہ موجود تھے۔ حج کے دوران آپ نےیوم النحرکو ایک خطبہ دیا۔ یہ خطبہ حجۃ الوداع کے نام سے مشہور ہے۔اِس خطبہ میں آپ نے اپنے اصحاب (معاصر اہلِ ایمان) کو مخاطب کرتے ہوئے کہا:فَلْیُبَلِّغِ الشَّاہِدُ الغَائِبَ(صحیح البخاری، حدیث نمبر1741)۔یعنی جو یہاں موجود ہے، وہ ان تک پہنچادے جو یہاں نہیں ہے۔
غالباً پیغمبرِ اسلام کے اس حکم کا یہ نتیجہ تھا کہ اس کے بعد تمام لوگ دعوت الی اللہ کے پیغمبرانہ کام میں لگ گئے۔ انھوں نے اس وقت کی آباددنیا کے بڑے حصہ میں دین کا پیغام پہنچا دیا۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ حج کا خاتمہ دراصل ایک نئے عمل کا آغاز ہے۔ جہاں حج کے مراسم ختم ہوتے ہیں، وہاں سے ایک اور زیادہ بڑا حج شروع ہوجاتا ہے۔ یہ دعوت الی اللہ ہے۔ گویا کہ حج ایک ٹریننگ ہے اور دعوت الی اللہ اس ٹریننگ کا عملی استعمال۔
ایک حدیث کے مطابق، حج کے مراسم حضرت ابراہیم کی زندگی کے مختلف مراحل کا علامتی اعادہ ہیں۔ حضرت ابراہیم کی پوری زندگی دعوت الی اللہ کی زندگی تھی۔ یہی طریقہ ہر مومن کو اپنی زندگی میں اختیار کرنا ہے۔ مثلاً احرام کیا ہے۔ وہ سادہ زندگی کی علامت ہے۔ طواف سے مراد ڈیڈیکیشن (dedication) ہے۔ سعی اس بات کا پیغام ہے کہ مومن کی دوڑ دھوپ خدا کی طرف ہونی چاہیے۔ جانور کا ذبیحہ قربانی والی زندگی کی تعلیم ہے۔ رمیِ جمرات کا مطلب یہ ہے کہ آدمی شیطان کو اپنے آپ سے دور بھگائے۔ لبیک لبیک کہتے ہوئے عرفات کے میدان میں پہنچنا خدا کے سامنے حاضری کو یاد دلاتا ہے، وغیرہ۔
حج بڑا حج ہے اور عمرہ چھوٹا حج۔ دونوں کا پیغام ایک ہے۔ شریعت کی یہ منشا نہیں کہ لوگ بار بار حج اور عمرہ کرتے رہیں۔ شریعت کی منشا یہ ہے کہ لوگ ایک بار حج اور عمرہ کرنے کے بعد اس کی اسپرٹ کے مطابق زندگی گزاریں اور اس کے پیغام کو ساری دنیا میں پہنچائیں۔
٭ ٭ ٭ ٭٭
اسلامی زندگی کا خلاصہ یہ ہے کہ اپنے آپ کو کنٹرول میں رکھ کر زندگی گزاری جائے۔
واپس اوپر جائیں

حج کی معنویت

کچھ لوگ مجھ سے ملے۔ انھوں نے کہا کہ ہمارے لیے دعا کیجیے، ہم نے بائیسکل کے ذریعہ حج کرنے کا پروگرام بنایا ہے۔ اس سے پہلے بھی حاجیوں کاکئی گروپ مجھ سےملا ہے، جو اسی قسم کی باتیں کرتا تھا۔ مثلاً کوئی بتاتا تھاکہ ہم اونٹ کے ذریعے حج کا سفر کرنے جارہے ہیں، کوئی بتاتا تھا کہ ہم پیدل حج کا سفر کرنے جارہے ہیں، وغیرہ۔ یہ لوگ حج کی صورت (form) کو جانتے ہیں، مگر وہ حج کی معنویت کو نہیں جانتے۔ قرآن میں آیا ہے کہ حج کے لیے سفر کرو، اور اس کے منافع (الحج، 22:28) کو حاصل کرو۔ منافع کا لفظی مطلب ہے فائدہ (benefit)۔ لیکن اس کا مطلب مادی فائدہ نہیں ہے، بلکہ معنوی فائدہ ہے۔ یعنی حج سے حکمت (wisdom) کا سبق حاصل کرو، حج سے زندگی کی حکمتیں دریافت کرو، حج کی عبادت پر غور کرکے اس سے رازِ حیات کو جانو۔
مثلاً آپ حج کے لیے مکہ جائیں اور کعبہ کا طواف کرتے ہوئے آپ دیکھیں کہ کعبہ کی ابراہیمی عمارت اب وہاں موجود نہیں ہے۔ پیغمبر ابراہیم نے کعبہ کو لمبی صورت میں بنایا تھا، جب کہ موجودہ کعبہ چوکور صورت میں ہے، جو کہ قدیم مکہ کے لوگوں نے بطور خود تعمیر کیا تھا۔ قدیم کعبہ کی تقریباً ایک تہائی جگہ حطیم کی صورت میں غیر مسقف پڑی ہوئی ہے۔ پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ نے اِسی کعبہ کا طواف کیا۔ انھوں نے کعبہ کو دوبارہ ابراہیمی صورت میں بنانے کی کوشش نہیں کی۔
یہ واقعہ بتاتا ہے کہ پیغمبر اسلام کی ایک سنت وہ ہے جس کو اسٹیٹس کوازم کہا جاسکتا ہے۔ یعنی موجود حالت پر تعمیرِ نو کی کوشش کرنا۔ گویا کہ موجود حالت کو بدلنے کی تحریک چلانا، سنتِ رسول نہیں ہے۔ بلکہ سنتِ رسول یہ ہے کہ موجود حالت کو چھیڑے بغیر نئی تعمیر کا منصوبہ بنایا جائے۔ موجودہ زمانے کی مسلم تحریکیں سب کی سب اس کی خلاف ورزی کر رہی ہیں۔ ہر تحریک کے لیڈر یہ چاہتے ہیں کہ پہلے حالتِ موجودہ (statusquo) کو بدلیں ، اس کے بعد اپنے منصوبہ کے مطابق تعمیرِ نو کا کام کریں، یہ طریقہ بلاشبہ سنتِ رسول کے خلاف ہے۔
اصل یہ ہے کہ ملت کی تعمیرِ نو کا کام مکمل معنوں میں ایک مثبت کام ہے۔ جب آپ دیکھیں کہ صورت موجودہ یہ ہے کہ ملت کے معاملات پر عملاً کسی گروہ کا قبضہ قائم ہے تو ایسی حالت میں تعمیرِنو کا منصوبہ کامیاب طور پر صرف اس وقت کیا جاسکتا ہے، جب کہ اس کو غیر نزاعی منصوبہ کی بنیاد پر انجام دیا جائے۔ اگر نئے قائدین یہ چاہیں کہ پہلے قابض گروہ سےلڑ کر اس کو ہٹائیں، وہ پہلے اسٹیٹس کو کو بدلیں، اور اس کے بعد نئی تعمیر کا آغاز کریں تو ایسا منصوبہ ہمیشہ ٹکراؤ سے شروع ہوگا۔ ایسے منصوبہ کا آغاز تخریب سے شروع ہوگا، نہ کہ تعمیر سے۔ چنانچہ ایسا منصوبہ اپنے آغاز ہی میں نزاعی (controversial) بن جائے گا۔ لوگوں کی طاقت غیر ضروری قسم کے ٹکراؤ پر چلنے لگے گی۔
اس کے برعکس، اگر اسٹیٹس کو کو برقرار رکھتے ہوئے اپنا کام شروع کردیا جائے تو نزاع کی نوبت نہیں آئے گی، بلکہ تعمیر کا کام اول دن سے تعمیر کے اصول پر جاری ہوجائے گا۔ اب ایک لمحہ بھی تخریب میں ضائع نہیں ہوگا۔
٭ ٭ ٭ ٭٭
مکّہ عرب کا مرکزی شہر تھا۔ قریش نے مکّہ میں دار الندوہ قائم کررکھا تھا۔ دار الندوہ گویا قبائلی پارلیامنٹ تھی۔یہاں تمام اہم اُمور کے فیصلے کیے جاتے تھے۔ پیغمبرِ اسلام کے دادا عبدالمطلب دارالندوہ کے ممتاز ممبروں میں سے ایک تھے۔عام رواج کے مطابق، ایک حوصلہ مند لیڈر کے لیے پہلا ٹارگیٹ یہ تھا کہ وہ دار الندوہ کا رُکن بننے کی کوشش کرے۔ جو گویا اُس وقت کے عرب میں سیاسی طاقت کے مرکز کی حیثیت رکھتا تھا۔لیکن پیغمبرِ اسلام نے دار الندوہ میں داخلے کی کوئی کوشش نہیں کی۔ حتی کہ اُنہوں نے یہ مطالبہ بھی نہیں کیا کہ اپنے دادا عبد المطلب کی خالی سیٹ اُنہیں دی جائے۔دار الندوہ کے معاملے میں پیغمبرِ اسلام نے وہ پُر امن طریقہ اختیار کیا جس کو اسٹیٹس کوازم کہا جاتا ہے۔ یعنی صورتِ موجودہ سے ٹکراؤ نہ کرنا، بلکہ جو صورتِ موجودہ ہے اس کو علی حالہٖ قبول کرلینا۔ مگر پیغمبرِ اسلام کا اسٹیٹس کوازم سادہ طورپر صرف اسٹیٹس کوازم نہ تھا بلکہ وہ مثبت اسٹیٹس کوازم (positive status quoism) تھا۔ یعنی وقت کے نظام سے ٹکراؤ کیے بغیر موجود مواقع کو دریافت کرکے اُسے استعمال کریں ۔ اس طریقِ کار کو فارمولا کی زبان میں اس طرح کہاجاسکتا ہے:
Ignore the problems, avail the opportunities.
واپس اوپر جائیں

حج بیت اللہ کے بعد

قرآن کی سورہ البقرۃمیں حج کا حکم آیا ہے، اس سلسلۂ کلام کی ایک آیت یہ ہے: فَإِذَا قَضَیْتُمْ مَنَاسِکَکُمْ فَاذْکُرُوا اللَّہَ کَذِکْرِکُمْ آبَاءَکُمْ أَوْ أَشَدَّ ذِکْرًا( 2:200)۔ پھر جب تم اپنے حج کے مناسک پورے کرلو تو اﷲ کو یاد کرو جس طرح تم پہلے اپنے باپ دادا کو یاد کرتے تھے، بلکہ اس سے بھی زیادہ۔حج کے مناسک کی ادائیگی کے بعد زیادہ سے زیادہ اللہ کا ذکر کرنے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ کلماتِ ذکر کا بکثرت ورد کیا جائے۔ بلکہ اس سے مراد دعوت الی اللہ ہے۔ یعنی حج کی ابراہیمی سنت کی ادائیگی کے ذریعے جو اسپرٹ تم نے اپنے اندر پیدا کی ہے اس کو لے کر دنیا میں پھیل جاؤ اور اللہ کے پیغام کو دنیا میں بسنے والے تمام انسانوں تک پہنچادو۔اور ہر سال حج کے بعد یہی دعوتی کام کرتے رہو۔
حج کے بعد کے عمل سے مراد دعوت یعنی تمام انسانوں کو خدا کے کریشن پلان سے آگاہ کرنا ہے۔ اس تفسیر کا ماخذ خود سنتِ رسول ہے۔ روایت میں آتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اصحاب کے ساتھ حجۃ الوداع کا فریضہ ادا کیا۔ پھرحج سے واپسی کے بعد آپ مدینہ آئے وہاں آپ نے ایک مفصل خطاب میں اپنے اصحاب کو یہ پیغام دیا:إن اللہ بعثنی رحمة وکافة(للناس)، فأدوا عنی یرحمکم اللہ، ولاتختلفوا علی کما اختلف الحواریون على عیسى بن مریم (سیرت ابن ہشام: 2/607)۔ بیشک اللہ نے مجھے بھیجا ہے رحمت بنا کر اور تمام انسانوں کے لیے، تو تم میری طرف سے لوگوں کو پہنچادو، اللہ تمھارے اوپر رحم فرمائے، اور تم میرے ساتھ اختلاف نہ کرو جیسا عیسی بن مریم کے حواریوں نے کیا ۔
امتِ مسلمہ کا مشن دعوت الی اللہ ہے۔ حج کا مقصد یہ ہے کہ امت کے افراد ہر سال مکہ کے تاریخی مقام پر مجتمع ہوں، یہاں وہ مختلف اعمال کے علامتی اعادہ کے ذریعے پیغمبر کی دعوتی سنت کو یاد کریں۔ اور پھر دعوت الی اللہ کی اسپرٹ کو لے کر دنیا میں پھیل جائیں، جیسا کہ اصحابِ رسول اس دعوتی مقصد کے لیے دنیا میں پھیلے تھے۔
واپس اوپر جائیں

اخوانِ ابرہیم ، اخوانِ محمد

پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم 570 عیسوی میں مکے میں پیدا ہوئے، اور 632 عیسوی میں مدینے میں آپ کی وفات ہوئی۔آپ کا زمانہ پیغمبر ابراہیم علیہ السلام سے تقریباً ڈھائی ہزار سال بعد کا زمانہ ہے۔ آپ پیغمبر ابراہیم کی دعا (سورۃ البقرۃ،2:129)کے نتیجہ میں پیدا ہوئے۔ قرآن میں آپ کے بارے میں ایک آیت آئی ہے، جس کا ترجمہ یہ ہے: پھر ہم نے تمہاری طرف وحی کی کہ ابراہیم کے طریقے کی پیروی کرو جو یکسو تھا اور وہ شرک کرنے والوں میں سے نہ تھا(16:123)۔
یہ کوئی سادہ بات نہیں، یہ در اصل ایک تاریخی حقیقت کا اعلان ہے۔ پیغمبر اسلام اور آپ کے اصحاب وہ لوگ تھے، جن پر ایک تاریخ منتہی (culminate) ہوئی تھی۔ پیغمبر ابراہیم نے اپنی غیر معمولی قربانی کے ذریعے مکے میں ایک تاریخی عمل (historical process) کا آغاز کیا تھا۔ یہ تاریخی عمل اپنے فطری مراحل سے گزرتے ہوئےچھٹی صدی عیسوی میں اپنے نقطۂ انتہا (culmination) تک پہنچا تھا۔ اس وقت عرب میں وہ مخصوص افراد پیدا ہوئے، جو اپنے رول کی بنا پر رسول اور اصحابِ رسول کہے جاتے ہیں۔
رسول اور اصحابِ رسول کی قربانیوں کے ذریعے ساتویں صدی عیسوی میں ایک اور تاریخی عمل (historical process) شروع ہوا۔ اس تاریخی عمل کی تکمیل پر دوبارہ تقریباً ہزار سال کا زمانہ گزرا۔ بیسویں صدی عیسوی میں یہ عمل اپنی تکمیل کو پہنچ گیا۔ اب دوبارہ ایک ایسے گروہ کی ضرورت ہے، جو اس بات کا مصداق ہو کہ بعد کو بننے والا تاریخی عمل اس پر منتہی ہوا ہو۔ اصحابِ رسول کے بعد یہ دوسرا گروہ ہوگا، جس کو حدیثِ رسول میں پیشگی طور پر اخوانِ رسول (صحیح مسلم، حدیث نمبر 249) کا نام دیا گیا ہے۔ گویا کہ پیغمبرِ اسلام اور آپ کے اصحاب اخوانِ ابراہیم تھے، اور بعد کو بننے والا گروہ اخوانِ محمد ہوگا۔ اخوانِ ابراہیم نے دعوتی مشن کو آگے بڑھایا تھا، اب اخوانِ محمد اسی دعوتی مشن کو اگلے مرحلے تک پہنچائیں گے۔
واپس اوپر جائیں

خبرنامہ اسلامی مرکز — 262

■ دعوہ ورک کرتے ہوئے یہ محسوس ہوا کہ مدعو کی طرف سے ہمیں کوئی منفی ردعمل کا تجربہ نہیں ہوا۔ اس کے برعکس، مسلمانوں کی طرف سے کچھ اعتراضات کا سامنا کرنا پڑا۔ اس کی وجہ یہ سمجھ میں آئی کہ آج کا مدعو غیر یقینی کی حالت میں زندگی گزار رہا ہے۔ اسے اپنے بہترین عبدی احساسات کی تکمیل کے لئے کوئی اطمینان بخش مرکز یا ہستی کی تلاش ہے جو اسے صرف اسلام کی تعلیمات میں دکھائی دیتی ہے۔ جب کہ موجودہ مسلمانوں کی یہ حالت ہے کہ وہ روایتی انداز کے دین کو پاکر اطمینان کی حالت میں ہیں۔ اپنے ذہنی کشکول سے باہر نکلنے کی انہیں ضرورت محسوس نہیں ہوتی۔ اس لئے اس طرح کا ردِّعمل ظاہر کرتے ہیں۔ گویا کہ عام فہم الفاظ میں مدعو کی حالت ایک بھوکے پیاسے شخص جیسی ہے کہ وہ اس روحانی غذا کو خوشی سے قبول کر لیتا ہے۔ جب کہ مسلمانوں کی حالت ایسی ہے کہ ان کا پیٹ بھرا ہے، اور وہ ہر نئی غذا میں پسند یعنی choice کو ترجیح دیتے ہیں۔ اللہ ہم سب کو دین کا حقیقی فہم عطا فرمائے ۔ آمین (ساجد احمد خان، ناگپور)
■ سی پی ایس ٹیم (گیا) کے ذریعے انڈیا کے تین مقامات پر غیرمسلم حضرات ترجمۂ قرآن تقسیم کرتے ہیں۔دوسرے الفاظ میں یہ لوگ خدا کے پیغام کو خدا کے بندوں تک پہنچاتے ہیں۔ان کے نام یہ ہیں: مسٹر پینو مارتھی راجیش (آندھرا پردیش)، مسٹر سورو بنرجی (جھارکھنڈ)، مسٹرشنکر بھارتی (بودھ گیا)۔ یہ تمام حضرات گیا ٹیم سے مختلف زبانوں : اردو، ہندی، انگلش، اورتیلگو وغیر ہ میں تراجم قرآن حاصل کرتے ہیں، اور ان کو مسلم و غیرمسلم دونوں کے درمیان تقسیم کرتے ہیں۔اس کے علاوہ گیا ٹیم (8122773742) پورے ہندوستان میں تراجم قرآن فری آف کاسٹ(free of cost) بذریعہ پوسٹ بھیجتی ہے۔
■ کولکاتا کی معروف ناخدا مسجد میں میڈیا پرسنز کا آنا جانا لگا رہتا ہے۔ رمضان (2018) کے موقع پر ایک نئی شروعات اس مسجد میں ہوئی ۔ کولکاتا ٹیم کے جناب بشیر احمد (کولکاتا ٹیم رابطہ نمبر ۹۸۳۱۳۴۵۶۸۵)نے ان تمام جرنلسٹوں کو ترجمۂ قرآن اور دعوتی کتابیں دینے کا اہتمام کیا، جن کو تمام جرنلسٹوں نے بہت خوشی اورشکریے کے ساتھ لیا۔ ایک جرنلسٹ نے قرآن لینے کے دو دن بعد دوبارہ بشیر صاحب کو دیکھا تو بہت گرمجوشی سے ملے، اور ان کو یاد دلایا کہ آپ نے مجھے قرآن دیا تھا، آپ کابہت بہت شکریہ۔ نا خدا مسجد میں صحافیوں کے آنے کا مقصد اسلام کی عملی تصویر، مثلاً نماز کو دنیا کے سامنے پیش کرنا ہوتا ہے۔
■ سی پی ایس انٹرنیشنل کے مختلف حلقوں کی طرف سے ساری دنیا میں بذریعہ پوسٹ قرآن مہیا کرایا جاتا ہے۔ اس کی صورت یہ ہے کہ سی پی ایس انٹر نیشنل کی ویب سائٹ (www.cpsglobal.org) اور گڈ ورڈ بکس (www.goodwordbooks.com) پر لوگ فارم پُر کرتے ہیں، اس کے بعد ان کو مختلف زبانوں میں تراجم قرآن بھیجا جاتے ہیں۔یہ اصل میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اس پیشین گوئی کو حقیقت بنانے کی کوشش ہے، جس میں کہا گیا ہے کہ اللہ اسلام کے کلمہ کو ہر گھر میں داخل کرے گا(مسند احمد، حدیث نمبر 23814)۔ نیز یہ کہ غیر مسلم اسلام کو اس کے اصل سرچشمہ سے دریافت (discover)کریں، اورمسلمان اسلام کی دریافتِ نو (re-discover) کریں۔ مذکورہ ویب سائٹس پر روزانہ بے شمارتعداد میں تراجم قرآن کی درخواست آتی ہیں،اور ان کو فری آف کاسٹ (free of cost)قرآن بھیجا جاتا ہے۔مثلاً سی پی ایس (پونے) کے بزرگ ممبر جناب عبد الصمد صاحب نے مختلف مذاہب کے 5 لوگوں کو بذریعہ پوسٹ قرآن روانہ کیا ہے۔اسی طرح سی پی ایس کے تمام چیپٹرس کے ذریعہ یہ سلسلہ قائم ہے کہ وہ مفت میں تراجمِ قرآن بذریعہ پوسٹ بھیجتے ہیں۔اس سلسلے میں بہت سارے لوگ قرآن ملنے کے بعد اپنے اپنے تاثرات دیتے رہتے ہیں۔ ان میں سے ایک ذیل کا تاثر ہے، جو کہ سی پی ایس انٹرنیشنل (امریکا چیپٹر) کو موصول ہوا ہے:
I appreciate your sending me a free Quran. It's quite alright if it takes a while to arrive here. In the meantime, I have, as you suggested, downloaded the e-book version, and availed myself of other resources on your website as well. I am also bookmarking the website you are showing me where I can watch videos by Wahiduddin Khan. On the day that I found your website, I also went to YouTube and found the CPS International page there, where I can also watch his videos. Thank you for this service you provide. I am a student living on federal loans, and have very little money to live on, so I don't have money to purchase a Quran right now. In the future when my schooling is over and I have more time available, I may well choose to help you distribute al-Quran. Sincerely, (Sam Bailey, USA)
■ اس کے علاوہ بہت سارے لوگ اپنے قرآن پڑھنے کا جو ریزن بھی بتاتے ہیں، اس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ آج کی دنیا اسلام اور قرآن کو اپنی قابل فہم زبان میں سمجھنا چاہتی ہے۔مثلاًذیل میں دیے جا ر ہے کمنٹس کو پڑھیے:
٭ Interested to get more knowledge about Islam.(Mr. Sukhdev Raj, NSW, Australia)
٭ Very eager to learn about the Quran. (Ms. Jeanine Jenkins, Arizona, USA)
٭ I am a Chaplain at Wildwood Correctional complex and wish to provide information on all religions. (Mr. David De Podesta, Alaska, US)
٭ I wish to know much about the Quran and the Muslim faith. (Mr. Gabriel Aondoaseer Agir, Nigeria)
٭ Assalam Alaykum, I am a physician in Gainesville Florida and was approached by the Chaplain of one of the hospitals in town to supply Quran translations for patients. Please let me know how I can order these and provide them to these patients. Thank you and Jazak Allah khair for your efforts.(Dr. Geoffrey Panjeton, Florida)
٭ I would like to learn the teachings of the Quran and the Islamic way of life. So, please send me a copy of the Quran. Basically, I am from Tamilnadu, India, and am living in the USA for the past two months. (Mr. CHANDRASEKAR ARUMUGAM, Georgia, US)
٭ I belong to Hinduism, but I believe in only one God. So I want to read and understand the Quran. (Mr. ROHIT PAL, New Delhi)
٭ I have a few non-Muslim friends who would like to read the Quran. (Mr. Javid Bofi, United Kingdom)
٭ The Quran in Arabic available in Doha is difficult to read for a non-Arab. (Mian Hakim, Doh, Qatar)
٭ I felt very happy to know that you are sending Quran copies free. Thre are two of my friends who are non-muslim. They always wanted me to give them the Quran to read and understand but I was scared to give them. But now I can happily gift them the Quran. (Sana Aliya, Tumakuru, Karnataka)
٭ I actually recite the Quran, but since I received education at an English High school, I am unable to read Urdu, but because of our parents’ guidance, I have learnt Arabic. But I do not want to only recite the Quran, I also want to understand it. So having an English Quran is a good step I have taken. I would also love to distribute the Quran. (Ms. Kainath Shaikh, Mumbai)
٭ I need to have a translation of the Quran so that I may understand it from its depth. I want it because I want to understamd it in my language so I may follow God’s instructions. (Ms. Shumaila Arif, Kanpur)
٭ I am a Sikh, but I always had interest in knowing about other religions. I am verycurious to know about Islam more. (Ms. Baljinder Kaur, Jalandhar)
٭ I really wanted to know the meaning of the Quran, but I had no source to read it. I would be happy if I get a copy of the Quran. (Ms. Ashrin Qureshi, Mumbai)
٭ I would like to receive the Quran in German because I have a friend who is very much interested in Islam and she would like to read this in German. (Ms. Rubya Samsoedien, Dublin, IRELAND)
٭ I am currently in the midst of a spiritual journey that seems not to be ending any time soon. Currently I am reading the Old Testament, then moving on to finally the Quran. I study religion at my university and hope to gain as much spiritual knowledge as possible from the big three monotheisms. (Mr. Jack Betkowski, North Carolina, United States)
٭ We live in Brisbane, Australia. We need Quran for distribution to non-Muslims. There is a huge of demand of the Quran for non-Muslims. We asked about the Quran in few mosques here, like Lutwyche Mosque and Morokka Mosque. They said that they do not have enough copie of the Quran. So we seek 100 copies of English translation of the Quran. (Mohammad Rasel, QLD, Australia)
٭ میں نے قرآن پڑھا ہے، لیکن سمجھا نہیں ہے۔ میں اسے سمجھنا چاہتی ہوں۔ میرا ایک ہی بیٹا ہے، میں چاہتی ہوں کہ وہ بھی قرآن کو صرف پڑھے نہیں، بلکہ اس کو سمجھے، تاکہ اسے جینے میں آسانی ہو۔مجھے مولانا وحید الدین صاحب کی باتیں کافی سمجھ میں آتی ہیں، ان کی باتوں سے میرے سوچنے کا نظریہ بدل گیا ہے۔ یوٹیوب پر میں ان کے ویڈیو دیکھتی ہوں۔ اب قرآن سمجھنا ہے، کیوں کہ پڑھنا کافی نہیں ہے، بلکہ اسے سمجھنا ضروری ہے۔(فیروزہ شیخ، ممبئی)
٭ I have read many books and articles and listened to several audios/videos. I have been inspired by Maulana Wahiduddin Khan. Maulana has clarified many of my misconceptions about Islam and taught the true objective and purpose of Islam. (Mr. Irfanuddin Syed, Mumbai)
٭ I am very inspired by Ustadh Wahiduddin and more devoted to maintaining the deen in my life. Thank you. (Mr. Thomas Steele, Arizona, United States)
٭ By your spriitual guidance lives of many are changing. (Mr. Aejaz Ahmed, Aurangabad)
٭ I like the site (www.cpsglobal.org), because it let me know about Islam. (Mr. Salami Saburi, Nigeria)
■ اوپر مذکور طریقہ سے نہ صرف نان مسلم تک قرآن کا پیغام پہنچایا جاتا ہے، بلکہ بہت سارے ایسے مسلمان بھی ملتے ہیں، جو دعوت کا کام کرنا چاہتے ہیں۔ اس تعلق سے مسٹر طارق بدر (سی پی ایس، پاکستان)نے ذیل کا ای میل روانہ کیا ہے:
Mr. Shahid of CPS Pakistan provided help and support in the Islamabad Book Fair which was held in April 2018. When the book fair started, he, his wife and his full team were available for collecting books and setting up the stall. He is the one who took full responsibility for managing the book fair at the Islamic University where Saifullah and I could not go. It was God’s help at the right time, and I was surprised how these book fairs were managed so smoothly. Such events make me realize that CPS mission is indeed the true mission. Every single person who approaches us is an asset for the mission. (Tariq Badar, CPS Pakistan)
■ سی پی ایس انٹرنیشنل کی طرف سے ایک پروگرام یہ شروع کیا گیا ہے کہ کالج کے طلبہ کے اندر روحانیت اور مذہبی اقدار کیسے پیدا ہو، ان کے مائنڈ کی ری انجنیرنگ کیسےکی جائے۔ اس سلسلے کا ایک تین ماہی پروگرام رام انوجن کالج، نئی دہلی میں 5 فروری 2018 کو شروع کیا گیا تھا۔ اس کے افتتاحی پروگرام میں پروفیسر ایس پی اگروال اور کالج کے سینٹر آف ایتھکس اینڈ ویلیوز کے ڈائریکٹر ڈاکٹر ٹی کے مشرا نے شرکت کی۔ 26 اپریل 2018 کو یہ پروگرام اختتام پذیر ہوا۔ اس موقع پر پروگرام میں شریک ہونے والےکالج 35 اسٹوڈنٹ نے نہایت اچھا تاثر دیا۔ ان میں سے کچھ ذیل میں درج ہیں:
٭ I believe in one God to whom we are accountable. (Akash Kumar).
٭ The Creator—the Almighty—has created this universe as a place where individuals perform their duties and live in society establishing humanity and spreading the Divine message of the Almighty. (Ashish Verma)
٭ The objective of the Culture of Peace Program is the development of individual minds on positive lines towards achieving personal and community betterment. (Rajdeep Singh Thakur)
٭ Ego is not good for our life because it destroys our natural personality. So we have to set aside our ego if we want to gain success in life. (Shivangi Pandey)
٭ I am a bit stubborn about my approach in life. But this program helped me to see people with a different persepctive. (Phuhar Kaushik)
■ در اسلامی مرکز کی تقاریر و تحریروں کو یوٹیوب ، اور فیس بک وغیرہ پر کثرت سے سنا اور پڑھا جاتا ہے۔ اس کو پڑھنے کے بعد بہت سارے لوگ اپنا تاثرلکھتے ہیں۔ ذیل میں ان میں سے کچھ نقل کیے جاتے ہیں:
٭ How nice to discover this teacher today, through the CPS International website. More of the leaders in all the religions need to begin teaching peace, and grounding this in the sort of authentic faith that gives respect and kindness toward those who practice or believe differently. I'll be interested to hear a lot more from Maulana Khan.(Samuel Bailey)
٭ I am new to Islam, thank you for sharing this video. It was so poignant and uplifting. Thank you for showing me another way to touch that place deep inside of me that touches Allah. (Bruce Steven Trahan)
٭ I am really overwhelmed. So long never get such inspiration for cleaning up my heart. Thanks a lot for this precious video.(AI Amin Khan)
■ سعودی عرب سے مز امۃ البشریٰ معز لکھتی ہیں کہ وہ دمام کے المُنی انٹرنیشنل انڈین اسکول میں تین سال پہلے میں جاب کرتی تھیں۔وہاں جاب چھوڑ دینے کے بعد ایک دن میں نےاسکول جاکر وہاں کے پرنسپل سے ملاقات کیا، اور کہا کہ میں یہاں دسویں کلاس کے تمام طلبہ کو قرآن کا ہندی اور انگلش ترجمہ دینا چاہتی ہوں۔ پرنسپل بہت خوش ہوئے، اور کہا کہ آپ بہت صحیح وقت پر آئی ہیں۔ کل دسویں کلاس کے طلبہ کی الوداعی تقریب ہے، آپ آئیں، اور ہر طلبہ کو دیں۔ آج (8 فروری 2018) کو میں قرآن کے ترجمے لے کر اسکول گئی، اور اسکول انتظامیہ کی جانب سے تمام اسٹوڈنٹ کو اکیڈمک سارٹیفکٹ کے ساتھ اسپریچول گفٹ قرآن بھی دیا گیا۔
واپس اوپر جائیں