Pages

Tuesday, 16 October 2018

Al Risala | November 2018 (الرسالہ،نومبر)

4

- اسلام کا رول

5

- ایک تقابل

6

- بڑھاپے کا دور

8

- دین اور تاریخ

9

- خدا موجود ہے

10

- سائنسی تحقیقات

11

- اولاد ایک فتنہ

12

- کنڈیشننگ کا مسئلہ

14

- دورِ امن کی طرف

16

- دورِ زوال کی ایک علامت

17

- دعوت کا اصول

18

- تزکیہ اور دعوت

20

- درسِ قرآن

21

- کفالت کا انتظام

22

- دعا، شعور دعا

23

- فضیلت کا تصور

25

- حدیثِ جبریل کا پیغام

26

- دین کے تقاضے

28

- خدا کی پہچان

30

- عصری اسلوب، غیر عصری اسلوب

32

- ما کان و ما یکون

33

- مشرق سے مغرب کی طرف

34

- مذہبی انتہا پسندی

36

- ظالم اور مظلوم کا معاملہ

37

- باقی ماندہ پر پلاننگ

40

- دو قسم کے مسئلے

41

- صحیح طرزِ فکر

42

- سلیقہ ٔ حیات

43

- ہر انسان کا معاملہ

44

- منصوبہ بند کام

46

- چپ کا راز

47

- انٹلکچول پارٹنر

48

- ترقی کا سفر

49

- آزادی کا دور

50

- ایک نصیحت


اسلام کا رول

قدیم زمانے میں ہزاروں سال سے دنیا میں شرک کا غلبہ تھا۔ شرک کیا ہے۔ شرک دراصل فطرت کی پرستش (nature worship) کا دوسرا نام ہے۔ اس حقیقت کی طرف قرآن کی اس آیت میں اشارہ کیا گیا ہے: لَا تَسْجُدُوا لِلشَّمْسِ وَلَا لِلْقَمَرِ وَاسْجُدُوا لِلَّہِ الَّذِی خَلَقَہُنَّ (41:37) ۔ خالق نے فطرت (nature) کے اندر عظیم ٹکنالوجی رکھی تھی۔ یہ ٹکنالوجی گویا سویلائزیشن کا انفراسٹرکچر تھا۔ مگر انسان لمبی مدت تک اس نعمت سے بے خبر رہا۔
اسلام کے ذریعے جو مبنی بر توحید انقلاب آیا۔ اس نے تاریخ میں پہلی بار یہ کیا کہ نیچر اور ورشپ دونوںکو ایک دوسرے سے الگ (delink) کردیا۔ اس کے بعد تاریخ میں ایک نیا پراسس جاری ہوا۔ اب نیچر تحقیق کا موضوع (object of investigation) بن گئی، جو کہ اسلام سے پہلے پرستش کا موضوع (object of worship) بنی ہوئی تھی۔ اسی پراسس کے آخری مرحلے میں وہ چیز ظہور میں آئی جس کوماڈرن تہذیب کہا جاتا ہے۔ اس انقلاب سے پہلے اقتصادیات کا بنیادی ذریعہ زراعتی زمین (agricultural land) تھی۔ اسی زرعی زمین سے انسان کو سب کچھ ملتا تھا۔ قدیم زمانے میں جو لڑائیاں ہوتی رہیں، وہ اسی زرعی زمین پر قبضے کے لیے ہوا کرتی تھیں۔
جدید تہذیب کے نتیجے میں ایک نیا دور آیا۔ جس کو صنعتی دور (industrial age)کہا جاتا ہے۔ اب اقتصادیات کا سب سے بڑا ذریعہ انڈسٹری بن گئی، اور صنعت کے لیے زمین پر سیاسی قبضے کی ضرورت نہیں ۔ اس طرح جدید صنعتی دور نے عملی طور پر جنگ کو بےفائدہ بنا دیا، اور دنیا میں ایک نیا دور آیا، جس کو دورِ امن (age of peace) کہا جاتا ہے۔اس دورِ امن کو پیدا کرنے کا ذریعہ بظاہر صنعتی انقلاب تھا۔ مگر صنعتی انقلاب (industrial revolution) کو جس چیز نے پیدا کیا، وہ اسلام تھا۔ اسلام اس دورِ امن کا نظریاتی بانی ہے، اور جدید سویلائزیشن اس دور کو عملی طور پر وجود میں لانے والا ہے۔
واپس اوپر جائیں

ایک تقابل

قرآن میں انسان کے بارے میں بتایا گیا ہے کہ وہ غیب کی بات کو نہیں جانتا: قُلْ لَا أَمْلِکُ لِنَفْسِی نَفْعًا وَلَا ضَرًّا إِلَّا مَا شَاءَ اللَّہُ وَلَوْ کُنْتُ أَعْلَمُ الْغَیْبَ لَاسْتَکْثَرْتُ مِنَ الْخَیْرِ وَمَا مَسَّنِیَ السُّوءُ (7:188)۔ یعنی کہو، میں مالک نہیں اپنی جان کے بھلے کا اور نہ برے کا مگر جو اللہ چاہے۔ اور اگر میں غیب کو جانتا تو میں بہت سے فائدے اپنے حاصل کرلیتا اور مجھے کوئی نقصان نہ پہنچتا۔
یہ انسان کا معاملہ ہے۔ انسان خواہ وہ عام انسان ہو یا پیغمبر ،وہ غیب (unseen) کو نہیں جانتا۔ یعنی کل کیا ہوگا، اس سے انسان بے خبر ہوتا ہے۔ انسان آج کے علم کے تحت ایک کام کرتا ہے، لیکن کل کیا ہونے والا ہے، اس سے انسان مکمل طو رپر بے خبر ہوتا ہے۔ انسان کے لیے یہ ممکن نہیں ہے کہ وہ آئندہ آنے والے نقصان سے خود کو بچالے۔
اس کے مقابلے میں اللہ کا معاملہ یہ ہے کہ وہ علام الغیوب ہے۔ انسان اور خدا کے درمیان اس فرق سے ایک تقابل کا اصول ملتا ہے۔انسان کا کوئی کام خالی از نقص (free from defect) نہیں ہوتا ہے۔ اس کے برعکس، اللہ رب العالمین کی تخلیق کے جو نمونے ہمارے سامنے ہیں، وہ کامل معنوں میں نقص سے خالی ہیں۔ انسان کی کوئی بھی انڈسٹری نقص (defect) سے پاک نہیں ہوتی، لیکن اللہ رب العالمین کا بنایا ہوا، شمسی نظام (solar system) مکمل طو رپر زیرو ڈیفکٹ مینجمنٹ (zero defect management) کا نمونہ ہے۔ یہ فرق خالق کے وجود کا ایک یقینی ثبوت ہے۔
اس لیے بیسویں صدی میں ترقی یافتہ ملکوں نے بہت زیادہ کوشش کی کہ وہ اپنی انڈسٹری میں زیرو ڈیفکٹ مینجمنٹ کا نظام قائم کریں، جیسا کہ وہ فطرت (nature) کی دنیا میں عملاً قائم ہیں۔ مگر اس معاملے میں ان کو مکمل ناکامی ہوئی، اور آخر میں یہ مان لیا گیا کہ انسان کا بنایا ہوا کوئی نظام زیرو ڈیفکٹ نظام نہیں ہوسکتا۔ یہ فرق خالق کے وجود کا ایک یقینی ثبوت ہے۔
واپس اوپر جائیں

بڑھاپے کا دور

زندگی میں آدمی کے لیے بہت سے مسئلے آتے ہیں۔ مثلاً بیماری، حادثہ، نقصان، وغیرہ۔ لیکن بڑھاپا ایک بالکل مختلف قسم کا مسئلہ ہے۔ بڑھاپا گویا خاتمۂ حیات کا نام ہے۔ بڑھاپا ہمیشہ پائنٹ آف نو ریٹرن (point of no return) پر آتا ہے۔ بڑھاپا ہر اعتبار سے انسان کے لیے صرف ایک مسئلہ ہے۔
لیکن بڑھاپے کا ایک مثبت پہلو ہے، جو صرف بڑھاپے سے حاصل ہوتا ہے، اور وہ عجز (helplessness)کی دریافت ہے۔ عجز کی دریافت دوسرے اسباب سے بھی جزئی طور پر ہوتی رہتی ہے، لیکن کامل معنوں میں عجز کی دریافت صرف بڑھاپے سے حاصل ہوتی ہے۔ کیوں کہ بڑھاپاکسی آدمی کو اس وقت آتا ہے، جب کہ اس کا جسم ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوجائے۔انسان کا جسم فطری طور پرایک بہترین ساخت پر قائم ہے۔ اس جسم کو تقریباً 80 آرگن (organs)نہایت اعلیٰ مینجمنٹ کے ساتھ چلارہے ہیں۔ عمر کے بڑھنے کے ساتھ یہ آرگن جزئی یا کلی طور پر اپنا فنکشن بند کردیتے ہیں۔اس فنکشن کو دوبارہ جاری نہیں کیاجا سکتا۔ کسی آرگن کے فیل ہونے کا آخری نتیجہ موت ہوتا ہے۔
عجز بلاشبہ حقیقت اعلیٰ کی دریافت ہے۔ حقیقت اعلیٰ کی دریافت کے بغیر انسان کی شخصیت ایک ناقص شخصیت ہوتی ہے۔ ناقص شخصیت کا مکمل ہونا، صرف اس وقت ہوتا ہے، جب کہ انسان بڑھاپے کی عمر کو پہنچ جائے۔ بڑھاپے کا دور سب سے بڑی دریافت کا دور ہے۔ لیکن عملاً یہ ہوتا ہے کہ بوڑھا انسان صرف ایک بات کو جان پاتاہے۔ وہ یہ ہے کہ اس کو نظر انداز (neglect)کیا جارہا ہے۔ بوڑھا انسان مسلسل طور پر صرف شکایت (complaint) میں جیتا ہے۔ کم از کم میں نے کسی بوڑھے انسان کو نہیں پایا، جو بڑھاپے کی عمر کو پہنچنے کے باوجود شکایت کی نفسیات سے بچا ہوا ہو۔
اگر غور سے دیکھا جائے تو اکثر حالت میں ایسا ہوتا ہے کہ مادی اعتبار سے انسان کا جسم اگرچہ بوڑھا ہوجاتا ہے، لیکن اس کا ذہن بدستور کام کرتا رہتا ہے۔ مزید یہ کہ اس کا ذہن پہلے سے بہتر ہوجاتا ہے۔ کیوں کہ اس کے ذہن میں تجربات کا اضافہ ہوجا تاہے۔ انسا ن اس قابل ہوجاتا ہے کہ وہ زیادہ گہرے انداز میں معاملات پر رائے قائم کرسکے۔ پہلے اگر وہ صرف جاننے والا تھا، اب وہ ایک دانش مند انسان بن جاتا ہے۔ وہ اس قابل ہوجاتا ہے کہ وہ زیادہ بصیرت افروز انداز میں معاملات پر اپنی رائے دے سکے۔ وہ لوگوں کو زیادہ صائب (rational) انداز میں درست مشورہ دے سکے۔ بوڑھا انسان ایک پختہ (mature) انسان ہوتا ہے۔ وہ اپنے تجربات کی بنا پر اس قابل ہوتا ہے کہ وہ لوگوں کو زیادہ نتیجہ خیز رہنمائی دے سکے۔
انسان کی سب سے بڑی دریافت یہ ہے کہ وہ اپنے خالق کو ڈسکور کرے۔ یہ دریافت ہر لمحے ہوسکتی ہے۔ لیکن عملاً یہ ہوتا ہے کہ آدمی بڑھاپے سے پہلے بُھلاوَہ کلچر میں جیتا ہے۔ وہ بھلاوہ کلچر سے صرف اُس وقت باہر نکلتا ہے، جب کہ وہ بڑھاپے کی عمر کو پہنچے۔ جب اس کے آرگن کام کرنا بند کرنے لگیں۔ یہی اصلی عجز کی دریافت کا وقت ہوتا ہے، اور یہی وہ وقت ہوتا ہے، جب کہ انسان شعوری طور پر قادرِ مطلق خدا کو دریافت کرے، لیکن انسان اپنی بے خبری کی بنا پر یہ کرتاہے کہ اپنی زندگی کے پہلے دور میں وہ بے خبری (unawareness) میں جیتا ہے، اور دوسرے دور میں شکایت کی نفسیات میں۔ اس طرح انسان اپنی طاقت کے دور کو بھی کھودیتا ہے، اور اپنے ضعف کے دور کو بھی۔
بڑھاپے کی عمر پختگی (maturity) کی عمر ہوتی ہے۔ اس زمانے میں انسان کا تجربہ (experience) بڑھ جاتاہے۔ انسان اس قابل ہوتا ہے کہ وہ زیادہ معلومات کی روشنی میں غور وفکر کرے۔ یہ چیزیں انسان کی عقل میں اضافہ کرتی ہیں۔ انسان اس قابل ہوجاتا ہے کہ وہ لوگوں کو زیادہ دانش مندانہ رائے دے سکے۔ عمر رسیدہ آدمی سماج میں اس قابل ہوتا ہے کہ وہ زیادہ دینے والا (giver) بن کر رہ سکے۔ بوڑھا آدمی اگر صرف ایک کام کرے کہ وہ ایک ایسی کتاب لکھے، جس میں اس نے اپنی زندگی کے تجربات بیان کیے ہوں، تو ہر آدمی اپنی سوسائٹی کا ایک عظیم دینے والا (great giver) بن کر دنیا سے رخصت ہوگا۔
واپس اوپر جائیں

دین اور تاریخ

قرآن میں حج کا حکم دیتے ہوئے ایک بات آئی ہے۔ اس آیت کا ترجمہ یہ ہے: لوگوں میں حج کا اعلان کردو، وہ تمہارے پاس آئیں گے۔ پیروں پر چل کر اور دبلے اونٹوں پر سوار ہو کر جو کہ دور دراز راستوں سے آئیں گے (22:27)۔ قرآن کی اس آیت میں حج کے لیے پیدل یااونٹ یا اونٹنی کی سواری کا ذکر زمانی سبب سے ہے، یعنی یہ الفاظ قدیم زمانے کی نسبت سے ہیں، وہ علی الاطلاق طور پر حج کی عبادت کا حصہ نہیں ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ موجودہ زمانے میں جب ہوائی جہاز کا دور آیا، تو تمام علما نے ہوائی جہاز کے ذریعے حج کا سفر شروع کردیا، اور کسی کو اس پر اعتراض نہیں ہوا۔
قرآن میں اس طرح کے اور بھی احکام ہیں، جو زمانی سبب سے ہیں، نہ کہ نماز اور روزہ کی طرح عبادت کے طور پر۔ اسی فہرست میں جہاد بمعنی قتال بھی شامل ہے۔ پیغمبر اسلام کی آمد جس زمانے میں ہوئی، اس زمانے میں کسی بڑے مقصد کو حاصل کرنے کے لیے مسلح جدو جہد کا عام رواج تھا۔ اس بنا پر صحابہ کو قتال کے عمل میں شریک ہونا پڑا۔ اس کے بعد دنیا میں بہت بڑے بڑے انقلابات ہوئے، یہاں تک کہ اب ساری دنیا میں امن کا دور آگیا۔ اب کسی مقصد کو حاصل کرنے کے لیے پرامن جدو جہد کی ضرورت ہوتی ہے، اب قتال اس معاملے میں غیرمتعلق لفظ بن چکا ہے۔
دوسری عالمی جنگ کا خاتمہ ، دورِ جنگ کا خاتمہ تھا۔ 1945 میں اقوام متحدہ (UNO) قائم ہوئی، جو گویا جنگ کے خاتمےکا عالمی اعلان تھا۔ دوسری عالمی جنگ میں جن قوموں نے عملا ً جنگی سرگرمیوں میں حصہ لیا تھا، ان سب نے دورِ جنگ کے خاتمے کے چارٹر پر اپنا دستخط ثبت کردیا۔ مثلا ً فرانس، برطانیہ، جرمنی، جاپان، وغیرہ۔ اب اگر دنیا میں کہیں جنگ ہوتی ہے، تو وہ صرف دفاع (defence) کے لیے ہوتی ہے۔ اب اقدامی جنگ (offensive war) عملاً مکمل طور پر ختم ہوچکی ہے— اب مقابلے کا میدان سائنس اور ٹکنالوجی ہے۔ اب انڈسٹری، اور اقتصادیات جیسے میدانوں میں قوموں کے فیصلے ہوتے ہیں۔
واپس اوپر جائیں

خدا موجود ہے

نظام الدین ویسٹ میں ہمارے آفس کے قریب ایک پارک ہے۔ ایک عورت وہاں اپنے بچوں کے ساتھ آئی۔ کچھ دیر وہ پارک میں ٹھہری، پھر بچوں کو چھوڑ کر کسی کام سے باہر جانے لگی۔ اس وقت چھوٹی لڑکی اماں اماں کہہ کر رونے لگی۔ لڑکے نے کہا کہ کیوں روتی ہو۔ لڑکی نے جواب دیا کہ میری ماں چلی گئی۔ اس کے جواب میں لڑکے نے کہا : ماں کے جانے پر روتی کیوں ہو، میں جو ہوں۔
تمثیل کی زبان میں یہ واقعہ مسلمانوں کی موجودہ حالت کو بتاتا ہے۔ مسلمان ساری دنیا میں براہ راست یا بالواسطہ طور پر شکایت کی بولی بول رہے ہیں۔ وہ اپنے آپ کو مظلوم بتاکر احتجاج کررہے ہیں۔ یہ حال دنیا کے تمام مسلمانوں کا ہے۔ مسلمان اس وقت ساری دنیا میں تقریباً ایک سو بیس کروڑ ہیں۔ مگر اس معاملے میں شاید کسی مسلمان کا کوئی استثناء نہیں۔
قرآن میں آیا ہے کہ اللہ تمھارے قریب ہے۔ تم اللہ کو پکارو وہ تمھاری پکار کا جواب دے گا (غافر ، 40:60)۔ قرآن کی یہ آیت گویا خاموش زبان میں کہہ رہی ہے کہ تم مظلومیت کی فریاد کیوں کر رہے ہو۔ اللہ موجود ہے، تم اللہ رب العالمین کو پکارو، وہ تمھاری پکار کا جواب دے گا۔قرآن کی اس طرح کی آیات کی موجودگی کے باوجود جو لوگ احساسِ مظلومیت یا احساس محرومی میں جی رہے ہوں، وہ بلاشبہ قرآن کی اس آیت کے مصداق ہیں: وَمَنْ کَانَ فِی ہَذِہِ أَعْمَى فَہُوَ فِی الْآخِرَةِ أَعْمَى وَأَضَلُّ سَبِیلًا (17:72)۔ یعنی جو شخص اس دنیا میں اندھا رہا، وہ آخرت میں بھی اندھا رہے گا اور وہ بہت دور پڑا ہوگا راستے سے۔
مسلمانوں کا اس طرح اپنی مظلومیت کی داستان بیان کرنا، کوئی سادہ بات نہیں۔ وہ اللہ پر بے اعتمادی کا اظہار ہے۔ وہ اس بات کا ثبوت ہے کہ لوگوں نے اللہ کی معرفت حاصل نہیں کی، وہ اللہ کے بارے میں یقین سے محروم ہیں۔ ایسے لوگوں کو خود اپنی اصلاح کرنی چاہیے ، نہ کہ دوسروں کے خلاف احتجاج۔
واپس اوپر جائیں

سائنسی تحقیقات

الرسالہ کے ایک قاری لکھتے ہیں: قرآن کی ایک آیت ہے، جس میں یہ مطالبہ کیا گیا ہے کہ ابتدائے تخلیق کیسے ہوئی، اس پر غور و فکر کریں: قُلْ سِیرُوا فِی الْأَرْضِ فَانْظُرُوا کَیْفَ بَدَأَ الْخَلْق (29:20) ۔ یعنی کہو کہ زمین میں چلو پھرو، پھر دیکھو کہ اللہ نے کس طرح خلق کو شروع کیا۔اس پر علمی ڈیٹا تو دورِ جدید میں میسر ہوا ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ قرآن کے خطاب کو سمجھنے کے لیے سائنسی تحقیقات کی بھی اہمیت ہے۔ ایسا سمجھنا کہاں تک درست ہے۔ (حافظ سید اقبال احمد عمری، چنئی، تامل ناڈو)
اس معاملے میں آپ نے لفظ’’بھی‘‘ استعمال کیا ہے۔ مجھے اس سے اتفاق نہیں ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اس معاملے میں سائنس پر مبنی جو تحقیقات ہوئی ہیں، وہ سب بلاشبہ اسلام کا حصہ ہیں۔ یہ تحقیقات جو تمام ترمیتھمیٹکس پر مبنی ہوتی ہیں، وہ بلاشبہ قرآن کے اس حکم کی تعمیل کی حیثیت رکھتی ہیں۔ حدیث کی مختلف کتابوں میں یہ روایت آئی ہےکہ غیر اہلِ ایمان دین کی تائید کریں گے (المعجم الکبیر للطبرانی، حدیث نمبر 14640)۔ مبنی بر میتھمیٹکس اہل سائنس کی تحقیقات اسی تائیدِ دین کا حصہ ہیں۔ سائنس کی ایک تحقیقات وہ ہیں، جوریاضیات (mathematics) پر مبنی ہیں، ان کو ایکزیکٹ سائنسز (exact sciences) کہا جاتا ہے۔ اس نوعیت کی تحقیقات بلاشبہ اسلامی تحقیقات کا حصہ ہیں۔ ان تحقیقات کو قرآن فہمی کا ذریعہ بنانا، اسی طرح درست ہے، جس طرح دوسرے فنون کو قرآن فہمی کے لیے بجا طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔
میرے نزدیک ان سائنسی تحقیقات میں نظریۂ ارتقا شامل نہیں ۔ نظریۂ ارتقا ایکزیکٹ سائنسز کا حصہ نہیں ہے۔ کیوں کہ وہ میتھ میٹکس پر مبنی کوئی علم نہیں۔ اس کی بنیاد کچھ ایسی چیزوں پر مبنی ہے، جو اپنی حقیقت کے اعتبار سے قیاس کا درجہ رکھتی ہیں۔ محققین نظریۂ ارتقا کو میتھمیٹیکل سائنس کا درجہ نہیں دیتے، بلکہ اس کو قیاسی علم کا درجہ دیتے ہیں۔
واپس اوپر جائیں

اولاد ایک فتنہ

قرآن کے مطابق مومن وہ ہے جس کے لیے اللہ رب العالمین اس کا واحد کنسرن بن جائے۔ کوئی بھی دوسری چیز جو انسان کو حبِّ شدید میں مبتلا کردے، وہ اس کے لیے فتنہ ہے، اور قرآن میں حکم دیا گیا ہے کہ انسان اس فتنہ کا شکار ہونے سے بچے۔ اس سلسلہ کی ایک متعلق آیت یہ ہے:یَا أَیُّہَا الَّذِینَ آمَنُوا إِنَّ مِنْ أَزْوَاجِکُمْ وَأَوْلَادِکُمْ عَدُوًّا لَکُمْ فَاحْذَرُوہُمْ (64:14)۔ یعنی اے ایمان والو، تمہاری بعض بیویاں اور بعض اولاد تمہارے دشمن ہیں، پس تم ان سے ہوشیار رہو۔
اولاد کیوں ایسی چیز ہے جس سے آدمی کو پر حذر (beware) رہنےکا حکم دیا گیا ہے۔ ایسا کیوں ہے۔ اس کا سبب یہ ہے کہ انسان سے سب سے زیادہ جو چیز مطلوب ہے۔ وہ یہ ہے کہ انسان اللہ رب العالمین کو اپنا سول کنسرن (sole concern) بنائے۔ اس کو حب شدید کا تعلق صرف اللہ رب العالمین سے ہو۔ کسی اور سے حب شدید کا تعلق ہونا، بلاشبہ شرک کی قسموں میں سے ایک قسم ہے۔
کسی عورت یا مرد کے پاس دوسرے کو دینے کے لیے جو سب سے بڑی چیز ہے، وہ حب شدید (البقرۃ، 2:165) ہے۔ کسی انسان کے پاس اس کا سب سے بڑا تحفہ محبت ہے۔ اگر وہ اپنے دوست کو سب کچھ دے، لیکن قلبی محبت نہ دے تو اس نے اپنے دوست کو وہی چیز نہ دی، جو سب سے زیادہ دینے کے قابل چیز تھی۔
اس لیے کسی شخص کا اصل معبود وہی ہے جس کو اس نے اپنے حب شدید کا مرکز بنایا۔ جس نے کسی کو اپنے قلبی تعلق کا تحفہ دیا، وہی اس کا معبود ہے۔ ایسا آدمی اگر زبان سے اللہ کو اپنا معبود بتاتا ہے، لیکن اس کا قلبی تعلق کسی اور سے ہے تو وہ لِمَ تَقُولُونَ مَا لَا تَفْعَلُونَ (الصف، 61:2)کا مصداق ہے۔ قلبی تعلق کسی اور کو دینا، اور زبان سے اللہ کو اپنا معبود بتانا ایک ایسی چیز ہے ،جو اللہ کے یہاں قبولیت کا درجہ پانے والی نہیں۔ محبت کا معیار قلبی تعلق ہے، نہ کہ زبانی الفاظ ۔
واپس اوپر جائیں

کنڈیشننگ کا مسئلہ

ایک حدیث رسول ان الفاظ میں آئی ہے: کُلُّ مَوْلُودٍ یُولَدُ عَلَى الفِطْرَةِ، فَأَبَوَاہُ یُہَوِّدَانِہِ، أَوْ یُنَصِّرَانِہِ، أَوْ یُمَجِّسَانِہِ (صحیح البخاری، حدیث نمبر 1385)۔ یعنی ہر پیدا ہونے والا، فطرت پر پیدا ہوتا ہے، پھر اس کے والدین اس کو یہودی یا نصرانی یا مجوسی بنادیتے ہیں۔ اس حدیث رسول میں زندگی کی ایک حقیقت کو تمثیل کی زبان میں بتایا گیا ہے۔ اس اعتبار سے یہ حدیث ہر انسان کے لیے ہے، وہ صرف یہودی یا نصرانی یا مجوسی کے لیے نہیں ہے۔
علم نفسیات کے مطابق، ہرانسان کنڈیشننگ کا کیس ہوتا ہے۔ پیدا ہونے کے اعتبار سے وہ فطرت صحیح پر پیدا ہوتا ہے، لیکن پیدا ہوتے ہی وہ اپنے ماحول سے متاثر ہونا شروع ہوجاتا ہے۔ اس اثرپذیری (conditioning) کا نتیجہ آخر کار یہ ہوتا ہے کہ ابتدا میں اگر وہ مسٹر نیچر (Mr. Nature) تھا تو جلد ہی بعد وہ مسٹر کنڈیشنڈ (Mr. Conditioned) کی صورت اختیار کرلیتا ہے۔ دھیرے دھیرے وہ ماحول سے متاثر ہو کر ماحول کا پروڈکٹ بن جاتا ہے۔
اس نفسیاتی حقیقت کا تقاضا ہے کہ ہر آدمی سب سے پہلے اپنے تاثر پذیری کو ختم کرے۔ وہ اپنے آپ کو مسٹر کنڈیشنڈ کی حالت سے نکال کر مسٹر ڈی کنڈیشنڈ (Mr. Deconditioned) بنائے ۔ یہ عمل پہلے اس کے ماں باپ کو کرنا ہے، اور اس کے بعد خود ہر آدمی کا یہ کام ہے کہ وہ اس عمل کو اس کے تکمیلی مرحلے تک پہنچائے۔
کوئی انسان جب اپنی ماںکے پیٹ سے نکل کر باہر کی دنیا میں آتا ہے، تو وہ اپنی فطری حالت پر ہوتا ہے۔ پورے معنوں میں اس وقت وہ نیچر کا پروڈکٹ ہوتا ہے۔ لیکن پیدائش کے بعد اس کو جو دنیا ملتی ہے، وہ ایک بالکل مختلف دنیا ہوتی ہے۔ دنیا میں اس کوایک انسانی کلچر کے درمیان رہنا پڑتا ہے۔ وہ ہر لمحہ اس خارجی دنیا سے متاثر ہوتا رہتا ہے۔ یہاں تک کہ اس کا حال یہ ہوتا ہے کہ وہ جسمانی اعتبار سے اگرچہ بظاہر فطری انسان ہوتا ہے، لیکن عادات اور اپنی سوچ کے اعتبار سے وہ ایک ایسا انسان بن جاتا ہے، جو پورے معنوں میں ماحول کی پیداوار (product) ہوتا ہے۔
انسان کا پہلا دور حیات وہ ہے، جب کہ وہ ماں کے پیٹ میں بن کر تیار ہوتا ہے۔ اس کا دوسرا دورِ حیات وہ ہے، جو ماں کے پیٹ کے باہر انسانوں کی تیار کی ہوئی دنیا میں بنتا ہے۔ اس دوسرے دورحیات میں ہر انسان کی پہلی ڈیوٹی یہ ہے کہ وہ اس حقیقت کو شعوری طور پر دریافت کرے۔ اس دریافت کے بعد ہی یہ ممکن ہے کہ آدمی اپنے اندر مطلوب شخصیت کی تعمیر کرے۔ وہ اپنے آپ کو مسٹر کنڈیشنڈ کی حالت سے نکال کر مسٹر ڈی کنڈیشنڈ کی حالت میں پہنچائے۔
مسٹر ڈی کنڈیشنڈ بننا ایک سخت قسم کا تربیتی عمل ہے۔ اس تربیتی عمل کو کامیابی کے ساتھ چلانے کے لیے آدمی کو اپنا محاسب آپ بننا پڑتا ہے۔ اس عمل کی کامیابی کے لیے ضروری ہوتا ہے کہ آدمی اپنے اندر اینٹی سیلف تھنکنگ (anti-self thinking) کی صلاحیت پیدا کرے، وہ اپنی ہیمرنگ (hammering)آپ کرنے کا فن جانے۔ وہ اپنا آئینہ خود اپنے آپ کو بنائے۔
اپنا محاسبہ آپ کے معاملے میں تربیت کا طریقہ یہ ہے کہ آدمی اپنے آپ کا بے رحم محاسب بن جائے۔ اپنی تربیت کا آغاز خودی اور اسرار خودی کا فلسفہ جاننے سے نہیں ہوتا ، بلکہ اپنی کمیوں کو جاننے سے ہوتا ہے۔ اپنی تعریف سننے سے نہیں ہوتا، بلکہ اپنے خلاف شدید تنقید سننے سے ہوتا ہے۔ اس عمل کو میں اپنے الفاظ میں سیلف ہیمرنگ (self hammering) سے تعبیر کروں گا۔ سیلف ہیمرنگ واحد عمل ہے، جو انسان کو اس قابل بناتا ہے کہ وہ اپنے آپ کو کنڈیشننگ سے باہر لائے، وہ اپنے آپ کو کنڈیشننگ سے نکال کر ایک نیا انسان بنائے۔
ایک انسان وہ ہے جو ماں کے پیٹ سے پیدا ہوتا ہے۔ لیکن یہی مکمل انسان نہیں۔ اس کے بعد انسان کا خود اپنا کام ہے کہ وہ اپنے کو فطرتِ خداوندی پر قائم کرے۔ یہ کام اسی وقت ہوسکتا ہے کہ جب انسان اپنا محاسب آپ بن جائے۔ اس کام کے بغیر ہر انسان ایک نامکمل انسان ہے، وہ مکمل انسان نہیں۔ یہ گویا اپنی تعمیر آپ کرنے کا کام ہے۔
واپس اوپر جائیں

دورِ امن کی طرف

قرآن میں اصحاب رسول کو ایک حکم اِن الفاظ میں دیاگیا تھا:وَقَاتِلُوہُمْ حَتَّى لَا تَکُونَ فِتْنَةٌ وَیَکُونَ الدِّینُ کُلُّہُ لِلَّہِ (8:39)۔ یعنی ان سے جنگ کرو یہاں تک کہ فتنہ نہ رہے اور دین سب اللہ کا ہو جائے۔ قرآن کی اس آیت کے دو حصے ہیں۔ پہلے حصہ میں کہاگیا ہے کہ’’ جنگ کرو تاکہ فتنہ نہ رہے‘‘،اور دوسرے حصہ کے الفاظ یہ ہیں کہ ’’ دین سب اللہ کا ہو جائے‘‘۔ اس سے معلوم ہوا کہ پہلے مطلوب کے لیے لڑنا ہوگا اور اس کے بعد دوسرا مطلوب اپنے آپ حاصل ہوجائے گا۔
غور کرنے سے معلوم ہوتاہے کہ ابتدائی تخلیق کے مطابق انسانی دنیا میں حالت فطری قائم تھی، اور حالتِ فطری امن کی حالت ہے۔ بعد کو دنیامیں مطلق العنان بادشاہوں (despotic kings) کا زمانہ آیا۔ انھوں نے یہ کیا کہ حالتِ فطری کو ختم کرکے اس کی جگہ غیر فطری حالت قائم کردی، یعنی مذہبی جبروتشدد کی حالت۔ یہ حالت اللہ کو منظور نہ تھی۔ اللہ نےاصحابِ رسول کو حکم دیا کہ جن لوگوں نے انسانی دنیا میں خود ساختہ طورپر جبر وتشدد کی حالت قائم کررکھی ہے، اس کو بزور ختم کردو تاکہ دوبارہ انسانی دنیا میں حالتِ فطری قائم ہوجائے۔
قدیم زمانے میں مذہبی تشدد (religious persecution) اِس بنا پر قائم تھا۔ اصحابِ رسول نے اپنے زمانے کے ارباب اقتدار سے جنگ کی۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ دنیا میں ایک نیادور آگیا۔ یعنی جنگ کے دور کے بجائے امن کا دور۔ تاریخ میں کوئی بڑا واقعہ اچانک نہیں ہوتا بلکہ وہ تاریخی عمل (historical process) کی صورت میں ابتدائی حالت سے شروع ہو کر تکمیل کی حالت تک پہنچتا ہے۔ تاریخ میں اس دور امن کا آغاز اہل اسلام نے کیا تھا۔ بعد کے زمانہ میں آزادی اور جمہوریت (freedom and democracy) کا جو دور آیا وہ اسی آغاز کا منتہا (culmination) ہے۔
اکیسویں صدی میں اب ہم اسی دور امن میں جی رہے ہیں۔ اب قرآن کے الفاظ میں ’’دین سب کا سب اللہ کے لیے‘‘ ہوچکا ہے۔ یعنی یہ ممکن ہوگیا ہے کہ یہ امن کے طریقِ کار (peaceful method) کو استعمال کرتے ہوئے ہر مقصد کو نارمل کورس (normal course) میں حاصل کرلیا جائے۔اسلام ایک مشن ہے، توحید کا مشن ۔قدیم زمانہ میں اس مشن کو جاری کرنے کے لیے سخت رکاوٹیں پیش آتی تھیں۔ اب یہ ممکن ہوگیا ہے کہ رکاوٹوں کے بغیر اسلام کے مشن کو جاری کیا جائے۔ موجودہ زمانہ میں جو لوگ اسلام کا نام لیتے ہیں اور اسی کے ساتھ جنگ اور تشدد کا طریقہ اختیار کرتےہیں وہ اپنے اس عمل سے یہ ثبوت دے رہے ہیں کہ وہ دورِ جدید سے پوری طرح بے خبر (unaware) ہیں۔ ان کا کیس جہاد کا کیس نہیں ہے ،بلکہ بے خبری(unawareness)کا کیس ہے۔
قرآن کی مذکورہ آیت میں قتال کا لفظ مطلق معنوں میں نہیں ہے۔ یعنی اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ اپنے گھر سے تلوار لے کر نکلو اور سب کو مارنا شروع کردو۔ جنگ در اصل آخری چارۂ کار کانام ہے۔ چنانچہ عرب میں ایسا نہیں ہوا کہ قرآن اترتے ہی رسول اللہ نے فوراً تلوار سنبھالی اور جنگ شروع کردی۔بلکہ جو واقعہ پیش آیا، وہ یہ ہے کہ نبوت ملنے کے بعد آپ نے اس مشن کو ممکن دائرے میں شروع کیا، مثلاً پہلے خاموشی کے ساتھ ممکن دائرے میں لوگوں کو سمجھانا بجھانا۔ اس کے بعد ٹکراؤ سے اعراض (avoid) کرتے ہوئے لمبی مدت تک پرامن انداز میں تبلیغ و دعوت کا کام کرنا۔ اگر فریقِ ثانی جنگ چھیڑنا چاہتا ہے توخاموش منصوبہ بندی کے ذریعے ایسا طریقہ اختیار کرنا کہ جھڑپ (skirmishes) پر معاملہ ختم ہوجائے۔ خون بہانا، اور متشددانہ کارروائی کرنے سے آپ نے آخری حد تک پرہیز کیا۔ گہرائی کے ساتھ دیکھا جائے تو آپ کی قربانی سب سے زیادہ صبر کرنے کی قربانی تھی، نہ کہ جنگ و قتال کرنا۔ آپ کے مشن میں قتال بطور اقدام نہیں تھا، بلکہ بطور دفاع تھا۔
* *** * *****
ایک مستشرق نے پیغمبر اسلام کے بارے میں کہا ہے کہ پیغمبر اسلام نے دشواریوں کا مقابلہ اِس عزم کے ساتھ کیا کہ آپ نے ناکامی سے کامیابی کو نچوڑلیا۔اس کا مطلب یہ ہے کہ آپ نے پرابلم کے درمیان موجود مواقع کو تلاش کیا، پھر مواقع کو استعمال کرکے پرابلم کو اپنے ترقیاتی سفر کا زینہ بنالیا۔
واپس اوپر جائیں

دورِ زوال کی ایک علامت

پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک حدیث ان الفاظ میں آئی ہے:یَخْرُجُ فِیکُمْ قَوْمٌ تَحْقِرُونَ صَلاَتَکُمْ مَعَ صَلاَتِہِمْ، وَصِیَامَکُمْ مَعَ صِیَامِہِمْ، وَعَمَلَکُمْ مَعَ عَمَلِہِمْ، وَیَقْرَءُونَ القُرْآنَ لاَ یُجَاوِزُ حَنَاجِرَہُمْ، یَمْرُقُونَ مِنَ الدِّینِ کَمَا یَمْرُقُ السَّہْمُ مِنَ الرَّمِیَّةِ(صحیح البخاری، حدیث نمبر 5058)۔ یعنی ابو سعید الخدری سے روایت ہے کہ انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ نے کہا تمھارے درمیان ایسے لوگ ظاہر ہوںگے، جن کی نمازوں کے آگے تم اپنی نمازوں کو،اور اپنے روزوں کو ان کے روزوں کے آگے، اور اپنے اعمال کو ان کے اعمال کےآگے کمتر سمجھوگے۔ وہ قرآن پڑھیں گے لیکن وہ ان کے حلق سے نہیں اترے گا، وہ لوگ دین سے نکل جائیں گے جیسے تیر کمان سے نکلتا ہے۔
یہ حدیث رسول ایک قسم کی پیشین گوئی ہے۔ یہ ظاہرہ ہے، جو اس وقت پیدا ہوتا ہے، جب کہ امت کے افراد میں اسپرٹ کا خاتمہ ہوجائے، اور فارم کی دھوم دھام اپنی آخری حد تک بڑھ جائے۔ یہ اس وقت ہوتا ہے، جب کہ امت کے افراد داخلی اسپرٹ کی کمی کی تلافی خارجی ظواہر کے اضافے سے کرنے لگیں۔جب معانی کی کمی الفاظ میں اضافہ کی صورت اختیار کرلے، جب لوگ خاموشی کی اہمیت سے بے خبر ہوجائیں، اور کلام کی اہمیتِ کثرت کو اس کا بدل سمجھ لیں۔ جب لوگوں کے اندر داخلی محاسبہ (internal introspection) کا شعور باقی نہ رہے، البتہ خارجی اظہار کی نمائش میں خوب اضافہ ہوجائے، جب انسان چپ رہنے کو کم سمجھے، اور بولنے کو بڑی چیز سمجھنے لگے۔
حدیث میں آیا ہے کہ تم (اصحاب رسول)اپنے اعمال کو ان کے اعمال کے سامنے کمتر سمجھوگے۔ اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ صاحب ِمعرفت ایسا سمجھنے لگیں گے۔ بلکہ یہ بات در اصل ان لوگوں کی نسبت سے کہی گئی ہے، جو اپنے شعور کی کمی کی بنا پر ظاہر اور باطن میں فرق نہ کر سکیں گے۔ وہ ظواہر کی کثرت کو دیکھ کر یہ گمان کرلیں گے کہ ان کے اندر داخلی حقیقت بھی موجود ہے۔
واپس اوپر جائیں

دعوت کا اصول

دعوت کے ابتدائی دور میں سورہ المدثر نازل ہوئی۔ اس میں رسول اللہ کو حکم دیتے ہوئے یہ الفاظ آئے ہیں:وَالرُّجْزَ فَاہْجُر(74:5)۔ یعنی اور گندگی کو چھوڑ دو۔رُجز کا لفظی مطلب گندگی ہے۔ یہاں رجز اپنے لفظی معنی میں نہیں ہے۔ بلکہ اس معنی میں ہے کہ ایسے فعل سے اعراض کرو، جو باعتبارِ نتیجہ رجز تک پہنچنے والا ہو۔ امام رازی نے اس آیت کی تفسیران الفاظ میںکی ہے:کُلَّ مَا یُؤَدِّی إِلَى الرُّجْزِ فَاہْجُرْہُ (تفسیر الرازی، 30/699)۔ یعنی ہر وہ چیز جو رجز تک پہنچانے والی ہو، اس کو چھوڑ دو۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اس آیت میں رجز کا لفظ باعتبار نتیجہ ( in terms of result) ہے۔ یعنی جو چیز بظاہر غلط نہ ہو، لیکن نتیجہ کے اعتبار سے وہ غلط انجام تک پہنچانے والی ہو، ا س کو چھوڑ دو۔
مثلاً جب پیغمبر اسلام نے توحید کا مشن مکہ میں شروع کیا۔ اس وقت کعبہ میں تقریباً تین سو ساٹھ بت رکھے ہوئے تھے۔ یہ پیغمبرِ توحید کے لیے بظاہر ایک ناقابل قبول بات تھی۔ لیکن پیغمبر اسلام اگر ان بتوں کے خلاف کوئی سخت طریقہ اختیار کرتے تو یقیناً اس سے لوگوں کے جذبات بھڑک اٹھتے۔ وہ اس کے ری ایکشن میں تشدد کا طریقہ اختیار کرتے۔ اس طرح مکہ میں امن کا ماحول ختم ہوجاتا، اور دعوت کے بجائے ٹکراؤ کا ماحول شروع ہوجاتا۔ اس کے نتیجے میں ایک رجز وجود میں آتا، یعنی مکہ میں ٹکراؤ کا ماحول قائم ہوجانا ۔ اس کے بعد یہ ہوتا کہ بتوں کی زیارت کے نام سے جو مکہ میں پورے عرب سے آمدو رفت ہوا کرتی تھی، بند ہوجاتی۔ اس طرح پیغمبر اسلام کو سارے عرب کے آڈینس (audience)مکہ میں نہیں مل پاتے، اور عملاً پرامن دعوت کا خاتمہ ہوجاتا۔
کسی عمل کی صحت کا معیار یہ ہے کہ وہ الٹا نتیجہ والا (counter-productive) ثابت نہ ہو۔ وہ مطلوب نتیجہ تک پہنچے، نہ کہ غیر مطلوب نتیجہ تک۔ وہ پرابلم کو ختم کرے، نہ کہ پرابلم میںاور اضافہ کرے۔اس لیے ضروری ہے کہ ہر اقدام سے پہلے، اس کی بہت سوچی سمجھی منصوبہ بندی کی جائے۔ بغیر سوچے سمجھے اقدام کرنا، اسلام میں جائز نہیں ۔
واپس اوپر جائیں

تزکیہ اور دعوت

مولانا محمود حسن دیوبندی کا واقعہ ہے۔ وہ 1920 ءمیں مالٹا کی جلاوطنی سے واپس آئے۔ اس کے بعد دیوبند میں ان کی ایک مجلس ہوئی۔ اس مجلس میں انھوں نے درسِ قرآن کی بات کہی ۔ان کے شاگرد رشید مفتی محمد شفیع صاحب اُس مجلس کی روداد اِن الفاظ میںبیان کرتے ہیں:
مالٹا کی قید سے واپس آنے کے بعدایک رات بعدِ عشاء (حضرت) دارالعلوم (دیوبند) میں تشریف فرما تھے۔ علما کا بڑا مجمع سامنے تھا، اس وقت فرمایا کہ’’ہم نے مالٹا کی زندگی میں دو سبق سیکھے ہیں ...میں نے جہاں تک جیل کی تنہائیوں میں اس پر غور کیا کہ پوری دنیا میں مسلمان دینی اور دنیوی ہر حیثیت سے کیوں تباہ ہورہے ہیں تو اس کے دو سبب معلوم ہوئے۔ ایک، ان کا قرآن کو چھوڑدینا، اوردوسرا، آپس کے اختلاف اور خانہ جنگی۔ اس لیے میں وہیں سے یہ عزم لے کر آیاہوں کہ اپنی باقی زندگی اس کام میں صرف کروں کہ قرآن کریم کو لفظاً اور معناً عام کیا جائے، بچوں کے لیے لفظی تعلیم کے مکاتب ہر بستی میں قائم کیے جائیں، بڑوں کو عوامی درس قرآن کی صورت میں اس کے معنی سے روشناس کرایا جائے، اور قرآنی تعلیمات پر عمل کے لیے آمادہ کیاجائے ۔ٗٗ(جماعت شیخ الہند اور تنظیم اسلامی، ڈاکٹر اسرار احمد، صفحہ 346)۔
شیخ الہند کے ان الفاظ پر اب تقریباً سو سال گزر چکے ہیں۔ اس مدت میں شیخ الہند کی مذکورہ رہنمائی کو بے شمار لوگوں نے اختیار کیا، اور سارے ملک میں قرآن پر مبنی تحریکیں چلائی گئیں۔ لیکن اگر بے لاگ انداز میں نتیجے کا جائزہ لیا جائے تو نتیجے کے اعتبار سے یہ تحریکیں صفر (zero) ثابت ہوئیں۔ حقیقت یہ ہے کہ مذکورہ نظریے کے اعتبار سے غالباً کسی بھی قابلِ ذکر واقعے کی نشاندہی نہیںکی جاسکتی۔
اس کا سبب کیا ہے۔ اس کا سبب خود تشخیص کی غلطی ہے۔ یعنی قرآن کی اشاعت کے جس پیٹرن کو اختیار کیا گیا، وہ یہ تھا کہ قدیم کتب میں تفسیرِ قرآن کے لیے جو انداز اختیار کیا گیا ہے،ا س کو ایز اٹ از (as it is) عوام میں پھیلانا۔ قدیم کتابوں میں تفسیر قرآن کا جو پیٹرن پایا جاتا ہے، وہ درس و تدریس کے لیے موزوں ہے، لیکن اصلاح و تربیت کے لیے یہ پیٹرن موزوں نہیں۔
اصلاح و تربیت کے لیے جو پیٹرن مفید ہے، وہ صرف ایک ہے، اور وہ ہے تطبیقی انداز (applied pattern)۔ اب ہم ایک نئے زمانے میں جی رہے ہیں، نئے زمانے کے لحاظ سے مفید پیٹرن صرف وہ ہے، جو نئے حالات میں پیدا ہونے والے اذہان کو ایڈریس کرنے والا ہو۔ بعض حضرات، جنہوں نے قدیم پیٹرن کو بدلا، وہ صرف یہ تھا کہ انھوں نے فنی انداز کے بجائے سیاسی انداز (political pattern) اختیار کرلیا۔ اس قسم کی تبدیلی منفی نتائج تو پیدا کرسکتی تھی، لیکن مثبت نتائج کبھی بھی سیاسی پیٹرن سے حاصل نہیں کئے جاسکتے۔
مثلاً جن لوگوں نے تفسیرِ قرآن کا سیاسی پیٹرن اختیار کیا، انھوں نے یہ کیا کہ جہاد و قتال سے متعلق قرآن کی آیتوں کو برٹش ایمپائر اور مغربی تہذیب پر منطبق کرکے پر زور تحریکیں چلائیں، اور سیاسی جدو جہد کو قرآ ن کا مطلوب کام قرار دیا۔ یہ اسلوب بلاشبہ آخری حد تک غیر متعلق (irrelevant) تھا۔ اس لیے اس کا مثبت نتیجہ نہ نکلنے والا تھا، اور نہ نکلا۔اس کے برعکس، اگر یہ حضرات دعوت کا اسلوب اختیار کرتے تو یقیناً ان کی کوششوں کے مثبت نتائج بر آمد ہوتے۔
مسلم رہنماؤ ں نے قرآن کے درس کا دعوتی انداز اختیار نہیں کیا۔ البتہ میرے علم کے مطابق ایک برطانی مستشرق پروفیسر ٹی ڈبلیو آرنلڈ نے 388صفحات پر مشتمل ایک جامع کتاب تیار کی، جو دی پریچنگ آف اسلام (The Preaching of Islam) کے نام سے 1896 میں شائع ہوئی۔ اس کتاب کا مقصد یہ تھا کہ اس زمانے کے مسلمانوں کو راغب کیا جائے کہ وہ اسلام کی اشاعت کے لیے پرامن دعوتی اسلوب کو اختیار کریں۔مگر عجیب بات ہے کہ اس درست مشورے کو کسی قابل ذکر آدمی نے اختیار نہیں کیا، بلکہ ا س کو برطانی سازش کا حصہ سمجھ کر ردکردیا۔
قرآن کی روشنی میں اسلام کا مقصد اصلاً صرف یہ ہے— اپنے لیے تزکیہ اور دوسروں کے لیے دعوت الی اللہ۔
واپس اوپر جائیں

درسِ قرآن

قرآن میں ایک حکم ان الفاظ میں آیا ہے: وَلَا تَسُبُّوا الَّذِینَ یَدْعُونَ مِنْ دُونِ اللَّہِ فَیَسُبُّوا اللَّہَ عَدْوًا بِغَیْرِ عِلْمٍ(6:108)۔ یعنی اور اللہ کے سوا جن کو یہ لوگ پکارتے ہیں، ان کو گالی نہ دو ورنہ یہ لوگ حد سے گزر کر جہالت کی بنا پر اللہ کو گالیاں دینے لگیں گے۔
اس آیت میں سبّ نہ کرنے کا یہ حکم اصحاب رسول کو دیا گیا تھا۔ یہ بات واضح ہے کہ اصحاب رسول مشرکین کے الٰہ کے خلاف سب و شتم کی زبان استعمال نہیں کرسکتے تھے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ مشرکین کے الٰہ کے خلاف ایسی باتیں کہنےسے بچا جائے،جو ان کے نزدیک شتم کے ہم معنی ہو، جس کو سن کر وہ اشتعال انگیزی کرنے لگیں۔ جب ایسا ہوگا تو اس کےجواب میں تم بھی کچھ کہو گے۔ اس طرح چین ری ایکشن (chain reaction) شروع ہوجائے گا۔ اور پھریہ ہوگا کہ دعوت الی اللہ کا کام ہونے کے بجائے ایک دوسرے کے خلاف ضد، اور نفرت، اور تشدد شروع ہوجائے گا۔ اس طرح دعوت کا پرامن ماحول ختم ہوجائے گا۔ اس لیے اس غیر مطلوب انجام سے بچو تاکہ دعوت کا کام معتدل انداز میں جاری رہے۔
قرآن کے اس طریقۂ درس کو اپلائڈ (applied)درس قرآن کہا جاسکتا ہے۔ عام طور پر ایسا ہوتا کہ درس قرآن کےحلقوںمیں یہ انداز اختیارنہیں کیا جاتا ۔ اس لیے درس قرآن کو سن کر عام طور پر ایسا ہوتا ہے کہ لوگوں کے اندر غیر مطلوب مزاج پیدا ہوجاتا ہے،یا عدم وضوح کی بنا پر سرے سے کوئی مزاج ہی نہیں بنتا۔ درس قرآن ایک خالص مثبت کام ہے۔اس کو وضوح (clarity)کی زبان میں ہونا چاہیے۔ یہ کام موثر انداز میں صرف اس وقت ہوسکتا ہے، جب کہ لوگوں کے اندر تیار ذہن موجود ہو۔ ورنہ لوگ درس کو خود اپنے ذہن کے ساتھ سنیں گے، اور ہر درس ان کے لیے خود اپنے کنڈیشنڈ ذہن کی تقویت کا ذریعہ بن جائے گا۔درس قرآن کا مقصد برکت کا حصول نہیں ہے، بلکہ یہ ہے کہ لوگوں کو واضح ہدایت ملے۔ لوگ اپنے ر وزمرہ کے مسائل میں روشنی حاصل کریں۔
واپس اوپر جائیں

کفالت کا انتظام

حضرت مریم بنت عمران کا ذکر قرآن میں تفصیل سے آیا ہے۔ قرآن میں بتایا گیا ہے کہ اللہ تعالی نے حضرت مریم کے ساتھ خصوصی نصرت کا معاملہ کیا۔ اسی میں سے ایک نصرت وہ ہے جس کے لیے قرآن میں یہ الفاظ آئے ہیں:وَکَفَّلَہَا زَکَرِیَّا (3:37)۔ یعنی زکریا پیغمبر نے حضرت مریم کی کفالت (معاشی ضروریات کا انتظام)کیا۔ قدیم زمانہ زراعت کا زمانہ تھا۔ قدیم زمانے میں وسائل اس کے پاس ہوتے تھے، جس کے پاس زراعت ہو۔ جو شخص اپنی کفالت آپ کرنا چاہتا تھا، وہ بھیڑ بکری پالنے جیسا کام کرتا تھا۔ جیسا کہ حضرت موسی کے قصے میں مدین کے شیخ کبیر (القصص،28:23)کا واقعہ بیان ہوا ہے۔
موجودہ زمانہ اس اعتبار سے ایک نیا زمانہ ہے۔ موجودہ زمانے میں صنعتی انفجار (industrial explosion) کی وجہ سے ایک نیا وسیع تر معاشی نظام وجود میں آیا ہے۔ اس نئے نظام کے تحت ہر شخص کے لیے یہ موقع پیدا ہو گیا ہے کہ وہ کچھ نہ کچھ کام کرکے اپنے لیے معاشیات کا انتظام کرے۔ مثلاً بزنس ، کمپنی کی ملازمت، آفس کی ملازمت، مختلف قسم کے اداروں کی ملازمت، وغیرہ۔ اسی طرح فری لانسنگ کےذریعے کمانے کے بہت سے طریقے وجود میں آئے ہیں۔ آج کل تقریباً ہر شخص اپنے لیے کوئی نہ کوئی روزگار پارہا ہے، جس میںکام کرکے وہ اپنی ضروریات فراہم کرتا ہے، بشرطیکہ اس کے اندر کسی نوعیت کی پروفیشنل صلاحیت موجود ہو۔
یہ آج کے انسان کے لیے شکر کا ایک آئٹم ہے۔ قدیم زمانے میں یہ آئٹم موجود نہ تھا، یا اگر موجود تھا تو بہت زیادہ محدود اعتبار سے۔ موجودہ زمانے میں کامل وسعت کے ساتھ یہ مواقع کھل گئے ہیں۔ اس طرح انسان کی کوششوں کے ذریعہ آج کی دنیا میں شکر خداوندی کا ایک نیا آئٹم پیدا ہوا ہے۔ یہ مختلف قسم کے تاریخی انقلابات کا نتیجہ ہے۔ لوگوں کو چاہیے کہ وہ اس اعتبار سے اللہ رب العالمین کا شکر کرنا سیکھیں، اور اس طرح اپنے آپ کو مثبت سوچ والا انسان بنائیں۔
واپس اوپر جائیں

دعا، شعور دعا

دعا اسلام میں ایک عظیم عمل ہے۔ دعا کے بارے میں حدیث میں مختلف الفاظ آئے ہیں۔ مثلاً بے شک دعا ہی عبادت ہے (سنن ابن ماجہ، حدیث نمبر 3828)۔ایک روایت کا ترجمہ یہ ہے: دعا عبادت کا مغز (مُخّ)ہے(سنن الترمذی، حدیث نمبر 3371) ۔ایک روایت میں یہ ہے:لَا یَرُدُّ الْقَدَرَ إِلَّا الدُّعَاءُ (مسند احمد، حدیث نمبر 22044)۔ یعنی تقدیر کو دعا ٹال دیتی ہے۔ایک حدیث کا ترجمہ یہ ہے: دعا مومن کا ہتھیار(الدُّعَاءُ سِلَاحُ الْمُؤْمِنِ)ہے، دین کا ستون ہے، اور آسمانوں اور زمین کا نور ہے (مستدرک الحاکم، حدیث نمبر1812)۔ ایک حدیث کےالفاظ یہ ہیں:الدُّعَاءَ یَنْفَعُ مِمَّا نَزَلَ وَمِمَّا لَمْ یَنْزِلْ، فَعَلَیْکُمْ بِالدُّعَاءِ عِبَادَ اللہ (مسند احمد، حدیث نمبر 22044)۔یعنی دعا فائدہ دیتی ہے، ان چیزوں میں جو نازل ہوئی ہے، اور ان میں بھی جو نہیں ہوئی، تو اللہ کے بندو، تم ضرور دعا کرو۔
مگر دعا صرف الفاظِ دعا کی تکرار کا نام نہیں ہے۔ بلکہ دعا کے ساتھ دعا کرنے والے کے اندر ایک پراسس شروع ہوجاتا ہے۔ مثلاً بندے اور خدا کے درمیان مناجات، بندے کے اندر رب کی یاد، بندے کی روحانیت میں اضافہ، بندے کے اندر ایمانی ارتقا،اپنے رب سے قربت، وغیرہ۔ اس پورے عمل کو ایک لفظ میں حرکیات دعا (dynamics of dua) کہا جاسکتا ہے۔ یہاں تک کہ کبھی اللہ جبریل سے کہہ دیتا ہے کہ اے جبریل میرے بندے کی دعا قبول کرنے میں جلدی نہ کر۔ کیوں کہ مجھے اس کی آواز پسند ہے۔ یعنی بندے کے اندر دعا کا عمل اضافہ پذیر حالت میں جاری ہے۔
قرآن و حدیث کے حوالے سے معلوم ہوتا ہے کہ دعا صرف مانگنے اور پانے کا نام نہیں ، بلکہ دعا روحانی ارتقا کا ایک عمل ہے۔ کامیاب دعا وہ ہے، جس کے اندر دعا کا شعور شامل ہو۔ کامل دعا وہ ہے، جو اعلی ذہنی ارتقا کے نتیجہ میں ظہور میں آئے۔ کامل دعا وہ ہے، جس میں بندہ صرف اپنی حاجت کو نہ جانے، بلکہ وہ اپنے رب کی معرفت حاصل کرے۔حقیقی دعا وہی دعا ہے، جب کہ دعابندۂ عارف کے لیے ایک اعلی تجربہ کی حیثیت اختیار کرلے،جب کہ بندے کا وجود خود بھی دعا میں ڈھل گیا ہو۔
واپس اوپر جائیں

فضیلت کا تصور
کسی عمل کے افضل عمل ہونے کا تصور قرآن میں موجود نہیں ہے۔ قرآن کے مطابق، کوئی عمل اپنی داخلی اسپرٹ کے اعتبار سے بڑا عمل ہوسکتا ہے، محض فارم کے اعتبار سے کوئی عمل بڑا عمل نہیں۔ عمل پر فضیلت کا ذکر حدیث میں آیا ہے، لیکن وہ زیادہ مستند نہیں۔ خود محدثین کے اعتراف کے مطابق فضلیت کی روایتوں کو زیادہ قابل اعتماد نہیں سمجھا جاسکتا۔
جیسا کہ معلوم ہے محدثین رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی کسی روایت کو لینے کے بارے میں بہت زیادہ سخت ہیں۔ مثلاً امام بخاری نے 600,000 حدیثیں جمع کی ، لیکن اپنی مشہور کتاب صحیح البخاری میں انھوں نے ان میں سے صرف کچھ ہزار احادیث کو لیا،جن کی تعداد ابن الصلاح اور النوی کے مطابق 7275ہے۔ مگر فضیلت کی روایتوں کے بارے میں محدثین نے ایسا رویہ اختیار نہیں کیا۔
تیسری صدی ہجری کے مشہور محدث عبد الرحمن ابن مہدی (وفات 198:ھ)نے محدثین کے مسلک کو بیان کرتے ہوئے کہا:إِذَا رَوِینَا، عَنِ النَّبِیِّ صَلَّى اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فِی الْحَلَالِ، وَالْحَرَامِ، وَالْأَحْکَامِ، شَدَّدْنَا فِی الْأَسَانِیدِ، وَانْتَقَدْنَا الرِّجَالَ، وَإِذَا رَوِینَا فِی فَضَائِلِ الْأَعْمَالِ وَالثَّوَابِ، وَالْعِقَابِ، وَالْمُبَاحَاتِ، وَالدَّعَوَاتِ تَسَاہَلْنَا فِی الْأَسَانِیدِ(مستدرک الحاکم، حدیث نمبر 1801)۔ یعنی جب ہم نے نبی صلى اللہ علیہ وسلم سے حلال و حرام اور احکام کی روایتیں لیں، تو ہم نےاسانید کے معاملے میں سختی سے کام لیا، رجال پر نقد کیا، اور جب ہم نے فضائل اعمال، ثواب و عقاب، مباحات و دعا کی روایتیں بیان کی تو اس کی اسناد میں تساہل سے کام لیا۔
دو قسم کی حدیثوں کے معاملے میں محدثین کا یہ مسلک علمی اعتبار سے ناقابل تسلیم ہے۔ اس لیے کہ جب کسی قول کو حدیث رسول بتایا جائے تو اس کا مطلب یہ ہوا کہ وہ قول امت کے لیے یکساں طور پر رسول اللہ کا قول بن جاتا ہے۔ خواہ وہ ایک حکم کے بارے میں ہو یا دوسرے حکم کے بارے میں۔ ایسی حالت میں کسی کو یہ حق نہیں کہ وہ حدیث کے معاملے میں اس قسم کی تفریق کو درست قرار دے۔ ایک قسم کی حدیث کے معاملے میں شدت، اور دوسری قسم کی حدیث کے معاملے میں تساہل ۔ جہاں تک میں جانتا ہوں اس تفریق کو درست قرار دینے کے لیے قرآن یا حدیث میں کوئی حوالہ موجود نہیں۔ اصولی طور پر یہ بات بلااختلاف درست ہے کہ رسول اللہ کی تمام حدیثوں کو یکساں معیار پر جانچنا چاہیے۔
حدیث کے معاملے میں اس قسم کا تساہل اختیارکیا گیا تاکہ اس سے لوگوں کو عمل کے لیے ترغیب ملےگی۔ مگر یہ قیاس درست نہیں۔ اس لیے کہ انسانی نفسیات کے اعتبار سے دیکھا جائے تو اس سے ان کے اندر الٹا مزاج پیدا ہوگیا۔ ان کے اندر سہل پسندی (easygoing attitude) کا مزاج پیدا ہوگیا۔ یعنی وہ چھوٹے چھوٹے اعمال پر بڑے بڑے انعام کی امید قائم کرنے لگے، جس کو قرآن میں امانی کہا گیا ہے۔
مزید غور کیجیے، فضائل کی روایتوں میں تساہل کا معاملہ عملاً کس قسم کی روایتوں کے بارے میں آتا ہے۔ وہ اعمال کی داخلی روح کے بارے میں نہیں آتا، بلکہ اعمال کے ظواہر کے بارے میں آتا ہے۔ مثلاً اس طرح کی کتابوں میں جو ابواب ہوتے ہیں، وہ محبتِ خدا کی فضیلت یا رسول کی فضیلت یا دعوت کے لیے باخع (الشعراء، 26:3)بن جانے کی فضیلت کے بارے میں نہیں ہیں۔
اس کے برعکس ، فضائل اعمال کی روایتیں معمولی قسم کے اعمال کے بارے میں آتی ہیں۔ مثلاً فلاں وقت نماز پڑھنے کی فضیلت، فلاں دن روزے رکھنے کی فضلیت، فلاں کلمہ اتنی بار پڑھ لینے سے جنت مل جائے گی،وغیرہ ۔
٭ ٭ ٭ ٭ ٭ ٭ ٭
اگر کسی شخص کے پاؤں میں کانٹا چبھ جائے تو اس کے بعد وہ ہر لمحہ اس کے درد کو محسوس کرتا رہے گا۔ اِسی طرح انسان کو ہر لمحہ خدا کی کسی نہ کسی رحمت کا تجربہ ہوتا ہے۔ صبح وشام کا کوئی لمحہ بھی اِن تجربوں سے خالی نہیں ہوتا۔ جس آدمی کو خدا کی شعوری معرفت حاصل ہوجائے، وہ ہر لمحہ اِن ربانی تجربات کو محسوس کرتا رہے گا۔ یہ تجربہ ہر لمحہ خدا کی یاد میں ڈھلنے لگے گا۔خدا کی اسی دوامی یاد کا نام ذکر کثیر ہے۔
واپس اوپر جائیں

حدیث ِ جبریل کا پیغام

حدیث کی کتابوں میں ایک حدیث، حدیث جبریل کے نام سے مشہور ہے۔ ،معروف سعودی عالم ابن عثیمین نے تحقیق کر کے بتایا ہے کہ حدیث جبریل کا واقعہ مدینہ میں پیش آیا تھا۔ واقعات بتاتے ہیں کہ وہ زمانہ اہل اسلام کے لیے ہر اعتبار سے مظلومیت کا زمانہ تھا۔ جن چیزوں کو آج مظلومیت کا نام دیا جاتا ہے، وہ سب وہاں پورے معنوں میں موجود تھے، مگر آپ حدیث رسول کےمطابق دیکھیے تو اس میں مظلومیت کا کوئی ادنیٰ اشارہ آپ کو نہیں ملے گا۔
اس حدیث میں اسلام، ایمان، احسان، اور علامات قیامت کا ذکر ہے، لیکن مظلومیت کا اشارے کے درجے میں بھی کوئی ذکر نہیں۔ حالاں کہ حدیث میں رسول اللہ کی زبان سےیہ الفاظ ہیں : ذَاکَ جِبْرِیلُ أَتَاکُمْ یُعَلِّمُکُمْ أَمْرَ دِینِکُمْ(سنن الترمذی، حدیث نمبر2610)۔ یعنی وہ جبریل تھے، جوآئےتاکہ تم کو تمھارے دین کی تعلیم دیں ۔
اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ مظلومیت کی بات امر ِدین میں سے نہیں ہے۔ اس کا تعلق قومی شکایت سے ہوسکتا ہے، لیکن خدا اور رسول کے دین سے اس کا کوئی تعلق نہیں۔ موجودہ زمانے میں مفروضہ مظلومیت کے حوالے سے مسلمان اپنے مفروضہ ظالموں کے خلاف جو بددعائیں کرتے ہیں، ان کا بھی دین سے کوئی تعلق نہیں ہے۔
اسی طرح موجودہ زمانے کے مسلمانوں کا حال دیکھتے ہوئے یہ کہا جاسکتا ہے کہ براہ راست طور پر جبریل کی شرکت سے جو اجتماع مدینہ میں ہوا تھا، اس میں سب سے زیادہ اہمیت کے ساتھ خلافت کے موضوع پر تذکرہ ہونا چاہیے تھا۔ لیکن آپ حدیث جبریل کو بار بار پڑھیے، آپ حیرت انگیز طور پر یہ دیکھیں گے کہ اس حدیث میں اشارہ اور کنایہ کے انداز میں بھی خلافت کے مسئلے کا کوئی ذکر نہیں۔ اس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ خلافت کا معاملہ مسلمانوں کی اپنی ایجاد ہے، نہ کہ دینِ اسلام کا کوئی حکم یا تقاضا۔
واپس اوپر جائیں

دین کے تقاضے

قرآن کا مطالعہ کیا جائے تو ایک مسلم کے لیے متعین طور پر دین کے تین تقاضے معلوم ہوتے ہیں۔ وہ تین تقاضے یہ ہیں— (1) معرفت، (2) اقامت، (3) شہادت۔ یہ تینوں تقاضے قرآن اور حدیث میں واضح طور پر موجود ہیں۔ اس سلسلے میں یہاں قرآن کی کچھ آیتیں نقل کی جاتی ہیں۔
(1)معرفت کے سلسلے میں قرآن کی متعلق آیات یہ ہیں:وَإِذَا سَمِعُوا مَا أُنْزِلَ إِلَى الرَّسُولِ تَرَى أَعْیُنَہُمْ تَفِیضُ مِنَ الدَّمْعِ مِمَّا عَرَفُوا مِنَ الْحَقِّ یَقُولُونَ رَبَّنَا آمَنَّا فَاکْتُبْنَا مَعَ الشَّاہِدِینَ ۔ وَمَا لَنَا لَانُؤْمِنُ بِاللَّہِ وَمَا جَاءَنَا مِنَ الْحَقِّ وَنَطْمَعُ أَنْ یُدْخِلَنَا رَبُّنَا مَعَ الْقَوْمِ الصَّالِحِینَ (5:83-84)۔ یعنی اور جب وہ اس کلام کو سنتے ہیں جو رسول پر اتارا گیا ہے تو تم دیکھو گے کہ ان کی آنکھوں سے آنسو جاری ہیں، اس سبب سے کہ انھوں نے حق کو پہچان لیا۔ وہ پکار اٹھتے ہیں کہ اے ہمارے، رب ہم ایمان لائے۔ پس تو ہم کو گواہی دینے والوں میں لکھ لے۔ اور ہم کیوں نہ ایمان لائیں اللہ پر اور اس حق پر جو ہمیں پہنچا ہے جب کہ ہم یہ آرزو رکھتے ہیں کہ ہمارا رب ہم کو صالح لوگوں کے ساتھ شامل کرے۔
ایک شخص کے لیے ایمان کا آغاز یہ ہے کہ و ہ پوری سنجیدگی کے ساتھ قرآن کا مطالعہ کرے۔ اس مطالعے کے ذریعہ اس کو اسلام کی معرفت(دریافت) حاصل ہو۔ یہ معرفت اتنی گہری ہو کہ اس کی آنکھوں سے آنسو بہہ پڑیں۔ اس کا ذہن اس طرح ایڈریس ہو کہ اس کو محسوس ہو کہ میں نے اپنی تلاش کا جواب پا لیا ہے۔ یہ دریافت اتنی گہری ہو کہ وہ اس کی سچائی کا گواہ بن جائے۔
(2) اقامت دین کےسلسلے میں قابلِ مطالعہ آیت یہ ہے: شَرَعَ لَکُمْ مِنَ الدِّینِ مَا وَصَّى بِہِ نُوحًا وَالَّذِی أَوْحَیْنَا إِلَیْکَ وَمَا وَصَّیْنَا بِہِ إِبْرَاہِیمَ وَمُوسَى وَعِیسَى أَنْ أَقِیمُوا الدِّینَ وَلَا تَتَفَرَّقُوا فِیہِ (42:13)۔ یعنی اللہ نے تمہارے لیے وہی دین مقرر کیا ہے جس کا اس نے نوح کو حکم دیا تھا اور جس کی وحی ہم نے تمہاری طرف کی ہے اور جس کا حکم ہم نے ابراہیم کو اور موسیٰ کو اور عیسیٰ کو دیا تھا کہ دین کو قائم رکھو اور اس میں اختلاف نہ ڈالو۔
یہاں اقامت کا مطلب پیروی ہے۔ اس آیت کا مطلب یہ ہے کہ وہ دین جو مشترک طور پر تمام پیغمبروں کو دیا گیا، وہ ایک ہی دین ہے۔ وہ توحید پر مبنی ہے۔ ہر فرد مسلم کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس مشترک دین کو مانے، اور بھرپور طور پر اس کی پیروی کرے۔
(3)مومن کی تیسری ذمہ داری قرآن کی اس آیت سے معلوم ہوتی ہے:وَکَذَلِکَ جَعَلْنَاکُمْ أُمَّةً وَسَطًا لِتَکُونُوا شُہَدَاءَ عَلَى النَّاسِ وَیَکُونَ الرَّسُولُ عَلَیْکُمْ شَہِیدًا (2:143)۔ یعنی اور اس طرح ہم نے تم کو بیچ کی امت بنا دیا تاکہ تم ہو بتانے والے لوگوں پر، اور رسول ہو تم پر بتانے والا۔ قرآن کی اس آیت کے مطابق، امت محمدی بیچ کی امت ہے۔ یعنی امت محمدی کو یہ کرنا ہے کہ وہ خدا کی ہدایت کو پیغمبر اسلام سے لے کر تمام انسانوں تک اس کی قابلِ فہم زبان میں پہنچائے۔
ان پہلوؤں میں دعوت کا پہلو ایک ایسا پہلو ہے، جو جتنا دوسروں سے تعلق رکھتا ہے، اتنا ہی وہ اپنے آپ سے تعلق رکھتا ہے۔ دعوت کے کام میں انٹریکشن کا عمل بھی بار بار پیش آتا ہے۔ یہ انٹرایکشن آدمی کو موقع دیتا ہے کہ وہ اپنا مطالعہ کرے۔ وہ اپنی شخصیت کی تعمیر کرے۔ وہ سیکھنے اور سکھانے (mutual learning) کے عمل کو لامتناہی طور پر بڑھاتا رہے۔ دعوت کا کام صرف اناؤنسمنٹ (announcement) کا کام نہیں ہے، وہ ایک ہمہ جہتی عمل ہے۔ اس میں براہ راست یا بالواسطہ طور پر زندگی کا ہر پہلو شامل ہوجاتا ہے۔ دعوت ایک ایسا کام ہے، جو آدمی کو ایک زندہ درس گاہ کا رکن بنا دیتا ہے۔
یہ تین پہلو تین نکاتی معیار ہیں۔ آدمی کو چاہیے کہ وہ ان تین پہلوؤں سے اپنے آپ کو جانچتا رہے۔ وہ ان تین پہلوؤں کے اعتبار سے اپنا محاسبہ (introspection)کرتا رہے۔ بلکہ زیادہ اچھا یہ ہے کہ ہر عورت اور مرد اپنے پاس ایک ڈائری رکھے۔ اس ڈائری میں وہ اپنا جائزہ لکھتا رہے۔ یہ ڈائری اس کے لیے ایک آئینہ ہوگی، جو اس کو بتائے گی کہ اس نے ہر دن کیا کھویا اور کیا پایا۔اس نے ہر دن کیا سیکھا ،اور کیا سیکھنے سے وہ محروم رہا۔
واپس اوپر جائیں

خدا کی پہچان

حضرت موسی بنی اسرائیل کے ایک پیغمبر تھے۔ ان کو طور پہاڑپر خدا سے کلام کا تجربہ ہوا۔ قرآن کے مطابق، اس وقت انھوں نے کہا : رَبِّ أَرِنِی أَنْظُرْ إِلَیْکَ(7:143)۔ یعنی اے میرے رب مجھے اپنے آپ کو دکھا کہ میں تجھ کو دیکھوں:
My Lord, show Yourself to me so that I may look at You.
تاریخ کا تجربہ ہے کہ ہر پیدا ہونے والا انسان شعوری یا غیر شعوری طو رپر ایک طلب لے کر پیدا ہوتا ہے۔ وہ یہ کہ انسان اپنے خالق (creator) کو دیکھے۔ حتٰی کہ پیغمبر بھی اس معاملے میں مستثنیٰ نہیں۔ مگر انسان کی آنکھ اپنے جیسی مخلوق کو دیکھ سکتی ہے، لیکن خالق کو براہ راست دیکھنا،اس کے لیے ممکن نہیں۔ خالق کو موجودہ دنیا میں براہ راست دیکھنے کے لیے انسان کو دوسرا خدا بننا پڑے گا، اور دوسرا خدا بننا کسی انسان کے لیےممکن نہیں۔ حتی کہ پیغمبر کے لیے بھی نہیں۔
اس سلسلے میں ایک روایت ان الفاظ میں آئی ہے:عَنْ مَسْرُوقٍ، قَالَ:قُلْتُ لِعَائِشَةَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا: یَا أُمَّتَاہْ ہَلْ رَأَى مُحَمَّدٌ صَلَّى اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ رَبَّہُ؟ فَقَالَتْ:لَقَدْ قَفَّ شَعَرِی مِمَّا قُلْتَ، أَیْنَ أَنْتَ مِنْ ثَلاَثٍ، مَنْ حَدَّثَکَہُنَّ فَقَدْ کَذَبَ ، مَنْ حَدَّثَکَ أَنَّ مُحَمَّدًا صَلَّى اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ رَأَى رَبَّہُ فَقَدْ کَذَبَ، ثُمَّ قَرَأَتْ:لاَ تُدْرِکُہُ الأَبْصَارُ وَہُوَ یُدْرِکُ الأَبْصَارَ وَہُوَ اللَّطِیفُ الخَبِیرُ [6:103]، وَمَا کَانَ لِبَشَرٍ أَنْ یُکَلِّمَہُ اللَّہُ إِلَّا وَحْیًا أَوْ مِنْ وَرَاءِ حِجَابٍ [42:51](صحیح البخاری، حدیث نمبر 4855)۔ یعنی مسروق (تابعی)کہتے ہیں کہ میں نے عائشہ سے کہا کہ اے ماں ، کیا محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے رب کو دیکھا ہے۔عائشہ نےکہا: تم نے جو کہا اس سے میرے بال کھڑے ہوگئے۔ تین باتوں کے بارے میں تم کہاں ہو، جس نے تم سے یہ تین باتیں کہیں، اس نے جھوٹ کہا۔ (ان میں سے ایک یہ کہ ) جو تم سے یہ کہے کہ رسول اللہ نے اپنے رب کو دیکھا ہے ، اس نے جھوٹ کہا۔ پھر یہ آیت پڑھی: نگاہیں اس کا ادراک نہیں کرتیں، مگر وہ نگاہوں کا ادراک کر تا ہے۔ وہ بڑا باریک بیں اور بڑا باخبر ہے۔ اس کے بعد یہ آیت پڑھی: اور کسی آدمی کی یہ طاقت نہیں کہ اللہ اس سے کلام کرے، مگر وحی کے ذریعہ سے یا پردے کے پیچھے سے۔
یہ ایک حقیقت ہے کہ انسان اپنے خالق کو براہ راست طو رپر دیکھ نہیں سکتا۔ مگر انسان یقینی طور پر دیکھنے جیسے تجربہ کے ذریعہ خالق کے وجود پر تیقن حاصل کرسکتا ہے۔ اس کے لیے خالق نے ایک ماڈل پیدا کیا ہے۔ یہ ماڈل تیقن بغیر رویت (conviction without observation) کا ماڈل ہے۔ یہ ماڈل وہی ہے، جس کو ہم ماں (mother) کہتے ہیں۔ ہر انسان کامل تیقن کے ساتھ اپنی ماں کو ماں سمجھتا ہے، حالاں کہ کسی نے بھی یہ نہیں دیکھا کہ وہ اپنے ماں کے پیٹ سے پیدا ہوا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ہر بچہ پیدا ہونے کے وقت بظاہر آنکھ لے کر پیدا ہوتا ہے، لیکن پیدا ئش کے وقت وہ اپنی آنکھ سے کسی چیز کو دیکھنے کے قابل نہیں ہوتا۔
ماں کا تجربہ ہر انسان کے لیے ایک معلوم ماڈل ہے۔ کوئی بھی انسان اس ماڈل سے بے خبر نہیں۔ اس ماڈل کی صورت میں ہر پیدا ہونے والاانسان، عورت ہو یا مرد، یہ جانتا ہے کہ فلاں عورت میری ماں ہے۔ یہ یقین ایک ایسے ماڈل کے ذریعہ ہوتا ہے، جو ہرمشاہدے سے بلند ہے۔ یہ ماڈل ہے یقین بغیر رویت (conviction without observation) کا ماڈل ۔ یہ ماڈل اتنا زیادہ یقینی ہے کہ کوئی شخص اپنی فطرت پر قائم رہتے ہوئے، اس سے انکار نہیں کرسکتا۔ اسی لیے حضرت عائشہ نے وہ بات کہی، جو مذکورہ روایت کی صورت میں حدیث کی کتابوں میںموجود ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ یہ ماڈل اتنا زیادہ مبنی بر حق ماڈل ہے کہ ایک سچا مومن اس کو سنے تو اس کے بدن کے رونگٹے کھڑے ہوجائیں۔ اس ماڈل کے باوجود جو عورت یا مرد یہ مطالبہ کرے کہ خدا اگر ہے تو اس کو مجھے براہ راست دکھاؤ۔ یہ مطالبہ اتنا زیادہ بے بنیاد اوراتنا زیادہ غیر منطقی (illogical) ہے کہ اس کو سن کر ایک سچے انسان کے بدن کے رونگٹے کھڑے ہوجائیں۔اس کے بدن پر لرزہ طاری ہوجائے، وہ کھڑا ہے تو گر پڑے، وہ بول رہا ہے تو خاموش ہوجائے، اس کی زبان بولنے سے عاجز ہوجائے۔
واپس اوپر جائیں

عصری اسلوب، غیر عصری اسلوب

ایک صاحب نے یہ سوال کیا ہے کہ اسلام کا عصری اسلوب کیا ہے، اور غیر عصری اسلوب کیا ہے۔ اس کی وضاحت فرمائیں۔(حافظ سید اقبال احمد عمری، عمر آباد، تامل ناڈو)
اس سوال کا جواب یہ ہے کہ عصری اسلوب کسی نئے اسلوب کا نام نہیں ہے۔ یہ درحقیقت قدیم مسئلے کو جدید الفاظ میں بیان کرنا ہے۔ یہ وہی چیز ہے، جس کو سابق مہتمم دار العلوم دیوبند، مولانا قاری محمد طیب صاحب (1897-1983ء) نے ان الفاظ میں بیان کیا تھا: مسائل قدیم ہوں، اور دلائل جدید ہوں۔ قاری محمد طیب صاحب کا یہ جواب بالکل صحیح جواب تھا۔ کیوں کہ ہمیشہ ایسا ہوتا ہے کہ بیان کرنے کا اسلوب بدلتا ہے، جہاں تک اصل بات کا تعلق ہے، وہ بدستور اپنی اصل حالت پر باقی رہتی ہے۔
مثال کے طور پر گرہن (eclipse) کا واقعہ لیجیے۔ زمین پر سورج گرہن اس وقت لگتا ہے جب چاند دورانِ گردش زمین اور سورج کے درمیان آ جاتا ہے، جس کی وجہ سے سورج کا مکمل یا کچھ حصہ دکھائی دینا بند ہو جاتا ہے۔اسی طرح زمین کا وہ سایہ جو زمین کی گردش کے باعث کرہ زمین کے چاند اور سورج کے درمیان آ جانے سے چاند کی سطح پر پڑتا ہے اور چاند تاریک نظر آنے لگتا ہے۔ یہی چاند گرہن کہلاتا ہے۔
اصل یہ ہے کہ زمین اور چاند تاریک کرے ہیں۔ اور یہ دونوں سورج سے روشنی حاصل کرتے ہیں۔ زمین سورج کے گرد اپنے مدار پر گھومتی ہے اور چاند زمین کے گرد اپنے مدار پر گھومتا ہے۔ یہ سال میں دو مرتبہ ایک دوسرے کے سامنے آ جاتے ہیں جس سے ایک کا سایہ دوسرے پر پڑتا ہے۔ چاند پر سایہ پڑتا ہے تو چاند گرہن اور سورج پر پڑتا ہے تو سورج گرہن کہلاتا ہے۔
رسول کے زمانے میں ایک بار گرہن کا واقعہ پیش آیا، اتفاق سے اسی دن رسول اللہ کے صاحبزادے ابراہیم کی وفات ہوئی تھی۔ اس وقت لوگوں نے قدیم ذہن کے تحت کہا کہ یہ گرہن پیغمبر کے بیٹے کی وفات کی وجہ سے لگا ہے۔ رسول اللہ کو معلوم ہوا تو آپ نے لوگوں کو مسجد میں اکٹھا کیا، اور کہا:إِنَّ الشَّمْسَ وَالقَمَرَ آیَتَانِ مِنْ آیَاتِ اللَّہِ، لاَ یَخْسِفَانِ لِمَوْتِ أَحَدٍ وَلاَ لِحَیَاتِہِ، فَإِذَا رَأَیْتُمْ ذَلِکَ فَاذْکُرُوا اللَّہَ (صحیح البخاری،حدیث نمبر 5197)۔ یعنی سورج اور چاند اللہ کی نشانیوں میں سے دو نشانیاں ہیں، یہ دونوں گرہن زدہ نہیں ہوتے ہیں کسی کی موت یا زندگی پر۔ جب تم اس کو دیکھو تو اللہ (کی قدرت )کو یاد کرو۔
رسول اللہ نے جس بات کو آیت کی زبان میں بیان کیا تھا،اسی کو آج معنی خیز الائنمنٹ (alignment) کی زبان میں بیان کیا جائے گا۔یعنی گرہن کا واقعہ تین متحرک باڈی(سورج، زمین، چاند) کے ایک سیدھ میں آجانے کی بنا پر پیش آتا ہے۔ بیک وقت تین متحرک غیر مساوی کروں کا معنی خیز انداز میں ایک سیدھ میں آجانا، بلاشبہ خالقِ کائنات کا ایک انوکھا معجزہ ہے، اور اس اعتبار سے وہ ایک عظیم نشانی ہے۔
٭ ٭ ٭٭٭٭٭
موجودہ دنیا اِس ڈھنگ پر بنی ہے کہ یہاں ہمیشہ مسائل موجود رہتے ہیں۔ مسائل، زندگی کا ایک ایسا حصہ ہیں جن کوکسی بھی حال میں زندگی سے جُدا نہیںکیا جاسکتا۔ ایس حالت میں صحیح طریقہ یہ نہیں ہے کہ مسائل سے بے فائدہ طورپر لڑائی جاری رکھی جائے، بلکہ صحیح طریقہ یہ ہے کہ حُسنِ تدبیر سے مسائل کو مواقع میں تبدیل کردیا جائے۔ پیغمبر اسلام کی پوری زندگی حُسن تدبیر کی مثال ہے۔ اِس معاملے کی تفصیل جاننے کے لیے ملاحظہ ہو راقم الحروف کی کتاب— مطالعۂ سیرت:
The Prophet Muhammad: A Simple Guide to His Life
واپس اوپر جائیں

ما کان و ما یکون

ایک روایت الفاظ کے فرق کے ساتھ مختلف کتب حدیث میں آئی ہے۔ ایک روایت کے الفاظ یہ ہیں:صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللہِ الْفَجْرَ، وَصَعِدَ الْمِنْبَرَ فَخَطَبَنَا حَتَّى حَضَرَتِ الظُّہْرُ، فَنَزَلَ فَصَلَّى، ثُمَّ صَعِدَ الْمِنْبَرَ، فَخَطَبَنَا حَتَّى حَضَرَتِ الْعَصْرُ، ثُمَّ نَزَلَ فَصَلَّى، ثُمَّ صَعِدَ الْمِنْبَرَ، فَخَطَبَنَا حَتَّى غَرَبَتِ الشَّمْسُ، فَأَخْبَرَنَا بِمَا کَانَ وَبِمَا ہُوَ کَائِنٌ(صحیح مسلم، حدیث نمبر 2892)۔ یعنی رسول اللہ نے ہم کو فجر کی نماز پڑھائی، اور منبر پر چڑھے اور ہمیں خطبہ دیا۔ یہاں تک کہ ظہر کا وقت آگیا۔ آپ اترے۔ نماز پڑھی پھر منبر پر چڑھے، پھر ہم کو خطبہ دیا، یہاں تک کہ عصر کا وقت آگیا۔ پھر اترے، نماز پڑھی، پھر منبر پر چڑھے، اور ہم کو خطبہ دیا۔ یہاں تک کہ سورج غروب ہوگیا۔ (اس میں) آپ نے ہمیں ماکان و مایکون (جو ہو چکا ہے، اور جو کچھ ہونے والا ہے) کی خبر دی۔
یہ حدیث رسول پوری انسانی تاریخ یا کائنات کی پوری تاریخ کے بارے میں نہیں ہے۔ یہ دراصل امت مسلمہ کے لیے بطورِ نصیحت ہے۔ وہ اس لیے ہے کہ رسول اللہ کی وفات کے بعد امت مسلمہ میں جو حالات پیش آئیں گے، اس میں مسلمانوں کو کیا کرنا چاہیے۔ مزید یہ کہ یہ حالات دوسری روایتوں میںکتب حدیث کے مختلف ابواب میںمتفرق طور پر بیان ہوچکے ہیں۔ غالباً اس روایت کے مطابق ایسا ہوا کہ آپ نے ان واقعات کو ایک دن اجمالی طور پر بیان کردیا۔
پیغمبر اسلام نے امت کے بعد کے حالات کو کیوں اتنا زیادہ بیان کیا ۔ اس کی وجہ غالباً یہ تھی کہ آپ کے بعد کوئی اورنبی آنے والا نہ تھا، جو پیغمبرانہ سطح پر حالات کے بارے میں بر وقت رہنمائی دے۔ اس لیے آپ نے ماکان و ما یکون کو اپنے اصحاب کے واسطے سے پوری امت کو پیشگی طور پر بتا دیا تاکہ امت متنبہ ہوجائے، اور ہر صورتِ حال میں غور وفکر کرکے اپنے لیے رہنمائی دریافت کرلے۔تاہم ان روایتوں میں کچھ باتیں تمثیلی اسلوب میں ہیں، اور کچھ باتیں غیر تمثیلی اسلوب میں۔ ان روایتوں کوسمجھنے کےلیے اس حقیقت کو جاننا بہت زیادہ ضروری ہے۔
واپس اوپر جائیں

مشرق سے مغرب کی طرف

آخری زمانے میں پیدا ہونے والے واقعے کا ذکر ایک حدیث آیا ہے، اس کا ترجمہ یہ ہے: ایک آگ مشرق سے نکلے گی، اور لوگوں کو جمع کرکے لے جائے گی مغرب کی طرف(مسند احمد، حدیث نمبر12057)۔یہ حدیث ایک بڑے واقعے کا حصہ ہے۔غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ واقعہ شیطان کے اس چیلنج کا ایک حصہ ہے، جو اس نے آغازِ حیات میں کیا تھا۔ آیت کا ترجمہ یہ ہے: اس نے کہا، ذرا دیکھ، یہ شخص جس کو تو نے مجھ پر عزت دی ہے اگر تو مجھ کو قیامت کے دن تک مہلت دے تو میں تھوڑے لوگوں کے سوا اس کی تمام اولاد کو کھا جاؤں گا (17:62)۔
قرآن کی اس آیت کی روشنی میں انسانی تاریخ پر غور کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ شیطان نے انسان کو بہکانے کے لیے تاریخ میں دو بڑے فتنے کھڑے کیے ہیں۔ ایک وہ جس کا ذکر قرآن میں میں آیا ہے۔ اس کا ترجمہ یہ ہے: میرے رب، انھوں نے بہت سے لوگوں کو گمراہ کیا ہے (14:36)۔ قرآن کی اس آیت میں گمراہی کے پہلے دور کا ذکر ہے، جب کہ شیطان نے لوگوں کو نیچر ورشپ (nature-worship) کے فتنے میں ڈالا، یعنی لوگوں کو یہ یقین دلایا کہ نیچر میں خدائیت (divinity) ہے۔ دورِ اول میں رسول اور اصحاب رسول نے یہ کیا کہ ایک ایسا انقلاب برپا کیا جس نے نیچر اور ڈیونیٹی (nature and divinity) کو ایک دوسرے سے ڈی لنک کردیا۔ اس طرح نیچر ورشپ کا دور نظری طور پر ہمیشہ کے لیے دنیا سے ختم ہوگیا۔
اس ضمن میں دوسرا فتنہ یہ ہے کہ اللہ نے سائنس کو پیدا کیا دین کی معرفت کے طور پر۔ لیکن ابلیس نے سائنس کے دو پہلو کردیے۔ ایک، نظری سائنس (basic science) ، جس سے خدا کی معرفت حاصل ہوتی ہے۔ اس کے مقابلے میں دوسراہے اپلائڈ سائنس۔ تمام مادی فائدے اپلائڈ سائنس سے حاصل ہوتے ہیں۔ اس وجہ سے سارے لوگ اپلائڈ سائنس کی طرف جارہے ہیں، اب بہت کم لوگ نظری سائنس کی طرف جاتے ہیں ۔ کیوں کہ اس میں مادی فائدہ نہیں۔
واپس اوپر جائیں

مذہبی انتہا پسندی

مذہبی انتہاپسندی (religious extremism) کیا ہے۔ مذہبی انتہاپسندی در اصل نتیجہ ہے شفٹ آف ایمفیسس (shift of emphasis) کا ۔ مذہب کی ایک اسپرٹ ہے۔ مثلاً نماز کی اسپرٹ خشوع ہے۔ خشوع پر خواہ جتنا زیادہ زور دیا جائے، اس سے مسائل نہیں پیدا ہوں  گے۔اسی کے ساتھ مذہب کا ایک فارم ہے۔مثلاً رفع یدین اور ترک رفع یدین، یہ مسئلہ فارم کا مسئلہ ہے۔ اس پر اگر زور دیا جائے تو لوگوں میں شدید اختلاف پیدا ہوجائے گا۔یعنی مذہب کی اسپرٹ پر اگر زور دیا جائے تو اس سے کوئی نقصان نہیں ہوگا۔ لیکن اگر مذہب کے فارم پر زور دیا جانے لگے تو اس سے مذہبی انتہا پسندی پیدا ہوگی، جو بڑھ کر تشدد کی صورت اختیار کر لے گی۔
اسلام کی تاریخ میں اس کی مثال یہ ہے کہ فقہ میں عبادت کے فارم پر زور دیا گیا تو اس سے مختلف فقہی مسالک بن گیے۔ جو بڑھتے بڑھتے متشددانہ فرقوں میں تقسیم ہو گئے۔ دوسر ی مثال ، اس کے مقابلے میں یہ ہے کہ صوفیا نے عبادت کی اسپرٹ پر زور دیا ۔ مگر تصوف کے حلقوں میں انتہا پسندی نہیں آئی۔ حالاں کہ یہاں بھی تصوف کے مختلف حلقے اور گروہ موجود تھے۔
قرآن کو آپ پڑھیں تو قرآن میں سارا زور اسپرٹ پر دکھائی دے گا، فارم پر نہیں۔ بلکہ قرآن میں فارم کا ذکر اتنا کم ہے ، گویا کہ نہیں ہے۔ اس لیے قرآن کی بنیاد پر فرقے نہ بن سکے، جب کہ فقہ کی بنیاد پر کثرت سے فرقے بن گیے۔
اس مذہبی انتہاپسندی کا دوسرا پہلو یہ ہے کہ عقیدہ کے معاملہ میں تکفیر اور تفسیق کا طریقہ رائج ہو جائے۔ ایک عقیدہ والے کو کافر بتایا جائے، اور دوسرے عقیدہ والے کو مسلم کہا جائے۔ یہ بھی شفٹ آف ایمفیسس (shift of emphasis)کی ایک صورت ہے۔ چنانچہ جن لوگوں نے ایسا کیا، انھوں نے مسلم ملت میں کوئی تعمیری اضافہ تو نہیں کیا۔ البتہ ایک گروہ کو کافر بتانا اور دوسرے گروہ کو مشرک بتانے کے طریقہ نے ملت واحدہ کو امت متفرقہ بنا دیا۔
مذہب کے دائرہ میں اختلافات اسی طرح پیدا ہوتے ہیں، جس طرح زندگی کے دوسرے دائروں میں۔ لیکن صحیح یہ ہے کہ اختلاف کو ڈسکشن اور ڈائیلاگ کا موضوع بنایا جائے، نہ کہ ردّو قبول کا موضوع۔ اختلاف کے معاملے میں صحیح طریقہ یہ ہے کہ اس کو آزادیٔ رائے (freedom of expression) کا ظاہرہ سمجھا جائے، نہ کہ حق و باطل کا ظاہرہ۔
حقیقت یہ ہے مذہب کا ایک فارم ہے اور ایک اس کی اسپرٹ ہے۔ جب مذہب کے فارم پر زور دیا جائے تو اس سے مذہبی انتہا پسندی(religious extremism) پیدا ہوتی ہے۔ اب کچھ لوگ ایک فارم پر زور دیتے ہیں، اور کچھ لوگ دوسرے فارم پر۔ اسی سے مذہبی انتہا پسندی پیدا ہوتی ہے، جو بڑھ کر تشدد تک پہنچ جاتی ہے۔
دوسری صورت یہ ہے کہ مذہب میں سارا زور اسپرٹ پر دیا جائے۔ اسپرٹ اصل ہو، اور فارم کی حیثیت اضافی ہو۔ جب ایسا ہو تو مذہب میں رواداری (tolerance) آئے گی۔ لوگ فارم کےاختلاف کے بارے میں توسع پسند بن جائیں گے۔ ان کا ذہن یہ ہوگا کہ یہ بھی ٹھیک ہے، وہ بھی ٹھیک ہے۔ مثلاً نماز میں آمین بالسر بھی ٹھیک ہے، اور آمین بالجہر بھی ٹھیک ہے۔ اس توسع پسندی سے لوگوں میں روادار ی آئے گی، اور انتہاپسندانہ مزاج کا خاتمہ ہوگا۔
پہلے زمانے میں مذہبی انتہا پسندی کا مزاج زیادہ تر فقہی مسائل کے بارے میں ہوتا تھا۔ موجودہ زمانے میں یہ مسئلہ سیاست تک پھیل گیا ہے۔ سیاست میں اگر یہ مزاج ہو کہ ایک سیاسی ڈھانچہ بھی ٹھیک ہے، اور دوسرا سیاسی ڈھانچہ بھی ٹھیک ہے۔ مثلاًسیاسی نظام میں انتخابی ڈھانچہ بھی درست ہے، اور غیر انتخابی ڈھانچہ بھی درست۔ تو لوگوں کے اندر سیاسی رواداری پیدا ہوگی۔ اور اگر لوگوں کے اندر یہ مزاج بنادیا جائے کہ ایک سیاسی ڈھانچہ صحیح ہے، اور دوسرا سیاسی ڈھانچہ غلط ۔ اس کے نتیجے میں سیاسی عدم رواداری پیدا ہوگی، جو آخر کار تشدد تک پہنچ جائے گی۔
*************
یہ فطرت کا قانون ہے کہ منفی عمل سے کبھی مثبت نتیجہ برآمد نہیں ہوسکتا۔
واپس اوپر جائیں

ظالم اور مظلوم کا معاملہ

قرآن کی ایک آیت میں مظلوم کا معاملہ بیان کیا گیا ہے۔ اس کے الفاظ یہ ہیں:لَا یُحِبُّ اللَّہُ الْجَہْرَ بِالسُّوءِ مِنَ الْقَوْلِ إِلَّا مَنْ ظُلِمَ وَکَانَ اللَّہُ سَمِیعًا عَلِیمًا (4:148)۔ یعنی اللہ پسند نہیں کرتا ظاہر کرنا بری بات، مگر جس پر ظلم ہوا ہو ، اور اللہ سننے والا، جاننے والا ہے۔قرآن کی اس آیت کے مطابق مظلوم کے لیے جائز ہے کہ وہ ظالم کے خلاف بولے۔ مگر یہ جواز رخصت کے درجے میں ہے، عزیمت کے درجے میں نہیں۔ اگر کوئی شخص ظلم پر بدلہ لینا چاہے تو اس کے لیے لازم ہوگا کہ وہ ٹھیک اتنا ہی بدلہ لے جتنا کہ اس پر ظلم کیا گیا ہے۔اگر وہ ظلم سے زیادہ کرے گا تو خدا کی نظر میں وہ خود ظالم بن جائے گا۔
اسی لیے رسول اور اصحابِ رسول نے کبھی ظلم پر بدلہ نہیں لیا، بلکہ ان کا رویہ قرآن کے اس حکم کے تحت تھا : وَإِذَا مَا غَضِبُوا ہُمْ یَغْفِرُونَ (42:37)۔ یعنی اور جب ان کو غصہ آتا ہے تو وہ معاف کردیتے ہیں ۔ دوسرے لفظوں میں یہ کہ ایمان کا اعلیٰ درجہ یہ ہے کہ آدمی ظالم کو معاف کردے۔یہی اعلیٰ اخلاق ہے۔ اعلیٰ اخلاق کا فائدہ یہ ہے کہ آدمی ظالم کو معاف کرکے اس کو اپنے لیے نیکی میں کنورٹ کردیتا ہے۔ اعلیٰ اخلاق کی نسبت سے دیکھا جائے تو مظلومیت نیکی کمانے کا ایک موقع ہے۔ ظلم کے باوجود ظالم کو معاف کردینا، بلاشبہ ایک عظیم نیکی ہے۔
دعوت اور داعی کی نسبت سے دیکھا جائے تو یہ اورزیادہ اہم بات ہے۔ داعی اگر ظالم کو معاف کردے تو اس کا فائدہ یہ ہوتا ہے کہ مظلوم اور ظالم کے درمیان معتدل ماحول قائم ہوجاتا ہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ پہلے اگر دونوں کے درمیان ظالم اور مظلوم کا تعلق تھا، تو اب دونوں کے درمیان داعی اور مدعو کا تعلق قائم ہوجاتا ہے۔ ظالم کو معاف کرنا، عملاً دعوت کے مواقع کھول دیتا ہے۔ظلم پر فریاد کرنا صرف ایک رخصت کا معاملہ ہے۔ جب کہ ظلم کو معاف کردینا، داعی کا اخلاق ہے، یعنی با اصول انسان کا اخلاق۔
واپس اوپر جائیں

باقی ماندہ پر پلاننگ

قرآن میں بتایا گیا ہے کہ انسان کو ہمیشہ کوئی نہ کوئی نقصان (loss) پیش آتا ہے۔اسی میں سے ایک ہے مال و جائداد کا نقصان (البقرۃ ، 2:155)۔عام طور پر یہ ہوتا ہے کہ اس طرح کی صورت حال پیش آنے پر لوگ صرف ایک ہی بات جانتے ہیں، اور وہ ہے کھوئے ہوئے کو دوبارہ حاصل کرنا۔ اس طریقے کو اختیار کرنے میں یہ ہوتا ہے کہ آدمی کو اپنے عمل کا آغاز ہمیشہ ٹکراؤ (confrontation) سے کرنا پڑتا ہے۔ یعنی قابض سے لڑکر کھوئے ہوئے کو دوبارہ حاصل کرنا، اور پھر اپنی تعمیر کا کام کرنا۔ اس طریقۂ کار کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ آدمی کے وقت اور توانائی کا ایک بڑا حصہ منفی سرگرمیوں میں گزرجاتا ہے، اور مثبت تعمیر کے لیے اس کے پاس کم وقت بچتا ہے۔
اس مسئلے کا حل کیا ہے۔ اس مسئلے کا حل اسلام میں یہ بتایا گیا ہے کہ باقی ماندہ حصہ پر پلاننگ (planning on the basis of the remaining part) کا طریقہ اختیار کیا جائے۔ یہ مسئلہ اللہ کی نظر میں اتنا زیادہ اہم ہے کہ اس کو ایک ابدی اصول کی صورت میں مکہ میں کعبہ کی تاریخ کے ساتھ قائم کردیا گیا۔ قرآن میں حج کا حکم دیتے ہوئے بتایا گیا ہے کہ لوگ حج کے لیے مکہ آئیں، اور یہاں اپنے نفع کا مشاہدہ کریں۔ قرآن میں حج کا حکم دیتے ہوئے یہ بیان آیا ہے: وَأَذِّنْ فِی النَّاسِ بِالْحَجِّ یَأْتُوکَ رِجَالًا وَعَلَى کُلِّ ضَامِرٍ یَأْتِینَ مِنْ کُلِّ فَجٍّ عَمِیق۔ لِیَشْہَدُوا مَنَافِعَ لَہُمْ (22:27-28)۔ یعنی اور لوگوں میں حج کا اعلان کردو، وہ تمہارے پاس آئیں گے۔ پیروں پر چل کر اور دبلے اونٹوں پر سوار ہو کر جو کہ دور دراز راستوں سے آئیں گے۔ تاکہ وہ ان فوائد کو دیکھیں۔
قرآن کی اس آیت کو جب کعبہ کی تاریخ کے ساتھ جوڑ کر دیکھا جائے، تومعلوم ہوتا ہے کہ یہ منافع (benefits) کیا ہیں، جن کا مشاہدہ حاجی کو مکہ میں کرنا ہے۔جیسا کہ معلوم ہے کعبہ کو عالمی عبادت کے مرکز کے طور پر پیغمبر ابراہیم نے چار ہزار سال پہلے مکہ میں بنایا تھا۔ بعد کو جب رسول اللہ کی عمر 35 سال تھی، اس وقت قدرتی آفات اور حادثات کی وجہ سے کعبہ کی عمارت بہت بوسیدہ ہوچکی تھی۔ اس وقت قریشِ مکہ نے کعبہ کو دوبارہ تعمیر کرنے کا فیصلہ کیا۔لیکن جب قریش نے کعبہ کی تعمیر کا کام کیا تو انھوں نے کعبہ کی ابراہیمی عمارت میں سے دو تہائی حصے پر ہی کعبہ کی عمارت بنائی، اوربقیہ ایک تہائی (1/3) حصہ خالی چھوڑ دیا ۔ اسی خالی حصے کو حطیم کہا جاتا ہے۔موجودہ کعبہ کی عمارت قریش ِمکہ کےتعمیر کے مطابق ہے۔
پیغمبر اسلام کو 8 ہجری میں مکہ پر فتح حاصل ہوئی، تو آپ نے کعبہ کی اس تعمیر کو بدستور باقی رکھا، جو قریش ِ مکہ نے کی تھی( صحیح البخاری، حدیث نمبر 1584؛ صحیح مسلم، حدیث نمبر 1333)۔اب ساری دنیا کے حاجی جس کعبہ کا طوا ف کرتے ہیں، وہ پیغمبر ابراہیم اور پیغمبر اسماعیل کا تعمیر کردہ ابتدائی کعبہ نہیں ہے، بلکہ اصل کعبہ کا باقی ماندہ پارٹ ہے، جس کو قریشِ مکہ نے حالتِ شرک میں تعمیر کیا تھا۔
پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے پورے مشن میں اسی اصول کی پیروی کی۔ پیغمبر اسلام کو جب مکہ سے ہجرت کرنا پڑا ، اور مدینہ کو آپ نے اپنا مرکز بنایا تو یہ گویا ارض مقدس کے باقی ماندہ حصہ (remaining part) کی بنیاد پر اپنے مشن کو جاری رکھنا تھا۔ یہ طریقہ نتیجہ کے اعتبار سے نہایت کامیاب رہا۔پیغمبر اسلام کو جب حالات کے تحت مکہ کو چھوڑ کرمدینہ جانا پڑا، اس وقت آپ نے شکایت کی کوئی بات نہیں کہی، بلکہ آپ نے برعکس طور پر یہ کہا: أُمِرْتُ بِقَرْیَةٍ تَأْکُلُ القُرَى، یَقُولُونَ یَثْرِبُ، وَہِیَ المَدِینَةُ(صحیح البخاری، حدیث نمبر 1871)۔ یعنی مجھے ایک بستی کا حکم دیا گیا، جو بستیوں کو کھا جائے گی، لوگ اس کو یثرب کہتے ہیں، اور وہ مدینہ ہے۔
اس حدیث میں مدینہ کا حوالہ شہرِ مدینہ کی فضیلت کے طور پر نہیں ہے، بلکہ وہ باقی ماندہ پر پلاننگ کی اہمیت کے طور پر ہے۔ یعنی مکہ سے ہجرت کے بعد جو کچھ ملے گا، وہی ساری دنیا میں خدائی مشن کے پھیلنے کا ذریعے بنے گا۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی تاریخ بتاتی ہے کہ مدینہ آکر یہاں کے آزادانہ ماحول میں آپ نے اپنے مشن کی ری پلاننگ (replanning) کی۔ یعنی باقی ماندہ حصہ (remaining part) کی بنیاد پر پلاننگ ۔ تاریخ بتاتی ہے کہ یہ طریقہ نہایت کامیاب رہا۔
باقی ماندہ پر پلاننگ (planning on the remaining part) کے اصول کی یہ ایک مذہبی مثال تھی۔ اگر گہرائی کے ساتھ دیکھا جائے تو سیکولر تاریخ میں فطرت کے اس اصول کی مثالیں موجود ہیں۔ حالیہ تاریخ میں اس کی ایک کامیاب مثال جرمنی کی ہے۔
جیسا کہ معلوم ہے، دوسری عالمی جنگ (1939-1945) ہوئی تو جرمنی اس جنگ کا سب سے زیادہ سرگرم ممبر تھا۔ مگر جنگ ختم ہوئی تو جرمنی ایک شکست خوردہ ملک تھا۔ حتی کے جرمنی نے اپنے ملک کا ایک تہائی حصہ کھودیا تھا، جو اب ایسٹ جرمنی کے نام پر اس کے دشمنوں کے قبضے میں جاچکا تھا۔ مگرجنگ کے بعد جرمنی نے ایسا نہیں کیا کہ جرمنی کے کھوئے ہوئے حصہ کو پانے کے لیے نفرت اور تشدد کا ایک نیا سلسلہ شروع کردے۔ اس کے برعکس، یہ ہوا کہ جرمنی نے اپنے باقی ماندہ حصہ (remaining part of Germany) کو اپنی توجہ کا مرکز بنالیا۔ اس نے پوری یکسوئی کے ساتھ ویسٹ جرمنی کی تعمیر نو شروع کردی۔ یہاں تک کہ بہت جلد یہ انقلابی واقعہ پیش آیا کہ جرمنی ایک نئی صنعتی طاقت بن کر ابھرا۔ یہاں تک کہ یوروپ کا سب سے زیادہ ترقی یافتہ ملک بن گیا۔
موجودہ زمانے کے مسلم رہنما تقریباً سب کے سب شکایت اور احتجاج کی بولی بولنے میں لگے ہوئے ہیں۔ وہ یہ اعلان کررہے ہیں کہ وہ دوسری قوموں کے ظلم کا شکار ہیں۔ ان کے خلاف سازشیں کی جارہی ہیں، اور اس بنا پر وہ آج کی دنیا میں اپنا جائز مقام پانے سے محروم ہوگئے ہیں۔ مظلومیت پر فریاد کا یہ ذہن اتنا عام ہے کہ شاید پوری مسلم دنیا میں اس میں کوئی استثنا نہیں ہے۔ مگر اصل واقعہ اس کے برعکس ہے ۔ موجودہ زمانے کے مسلمانوں نے نہ کعبہ کے پیغام کو اپنایا، اور نہ قوموں کی سیکولر تاریخ سے سبق سیکھا۔
مسلمان موجودہ زمانے میں جس محرومی کی شکایت کررہے ہیں، اس کا سبب صرف ایک ہے، اور وہ ہے خود اپنی غفلت کی قیمت ادا کرنا۔ یعنی مسلمانوں نے یہ نہیں کیا کہ وہ حاصل شدہ حصہ کو لے کر اپنی قومی تعمیر کی پلاننگ کریں۔ بلکہ جو کچھ ان کے ہاتھ سے نکل چکا ہے، ان کو لے کر وہ پلاننگ کررہے ہیں۔موجودہ زمانے میں مسلمانوں کے ساتھ جو کچھ پیش آرہا ہے، وہ صرف اسی غلطی کا نتیجہ ہے۔ وہ ہرگز کسی کی دشمنی یا سازش کا نتیجہ نہیں۔
واپس اوپر جائیں

دو قسم کے مسئلے

اجتماعی زندگی میں جو مسئلے پیش آتے ہیں، وہ عام طور پر دو قسم کے ہوتے ہیں— مبنی بر غصہ، مبنی بر انٹرسٹ۔ ایک قسم کامسئلہ وہ ہے، جو اس لیے پیدا ہوتا ہے کہ آپس کے تعلقات میں کبھی کوئی بات ایک شخص کو بری لگتی ہے، اور وہ افنڈ (offend) ہوجاتا ہے۔ ایسا غصہ ہمیشہ وقتی ہوتا ہے۔ آپ صرف یہ کیجیے کہ اعراض (avoidance)کا طریقہ اختیار کرتے ہوئے وقت گزرنے دیجیے۔ وقت کے گزرنے پر وہ اپنے آپ ختم ہوجائے گا۔ وہ ایسا ہوجائے گا، جیسے کہ وہ تھا ہی نہیں۔ ایسے مسئلے کے لیے صرف یہ کافی ہے کہ آدمی وقتی طور پر چپ ہوجائے۔ جو مسئلہ صرف چپ ہوجانے سے ختم ہوجانے والا ہو، اس میں الجھ کر انسان کیوں اس کو سنجیدہ انداز میں لے، اور اس کو لمبا بنائے۔
دوسرا مسئلہ وہ ہے جو مبنی بر انٹرسٹ ہوتا ہے۔ یعنی ایک آدمی آپ سے اس لیے غصہ ہوتا ہے کہ آپ اس کو وہ چیز نہیں دے رہے ہیں، جو چیز وہ چاہتا ہے کہ اس کو ملے۔ ایسا غصہ بہت دیر پا ہوتا ہے۔ وہ صرف اس وقت ختم ہوتا ہے، جب کہ فریقِ ثانی کو ا س کی مطلوب چیز مل جائے۔ اس طرح کے مسئلے میں دانش مندی کی بات یہ ہے کہ آدمی اصولی طور پر پریکٹکل وزڈم (practical wisdom)کا طریقہ اختیار کرے۔یعنی وہ فوراً یک طرفہ (unilateral)بنیاد پر معاملے کو ختم کردے۔ وہ اس کو اپنے حق(right) کامسئلہ نہ سمجھے۔ بلکہ اس معاملے میں غیر ضروری ٹکراؤ سے بچ کر اپنے آپ کو مزید نقصان سے بچالے۔
ایسے معاملے میں دیکھنے کی چیز صرف یہ ہوتی ہے کہ کیا قابل عمل ہے، اور کیا قابل عمل نہیں۔ جو قابل عمل ہو، اس کو اختیار کیجیے، خواہ بظاہر وہ آپ کے موافق ہو یا آپ کے خلاف۔ ایسے معاملے میں صرف یہ دیکھنا چاہیے کہ نتیجہ کے اعتبار سے کیا طریقہ ممکن ہے، اور کیا طریقہ ممکن نہیں۔ ایسے معاملے میں آپ صرف یہ کیجیے کہ ممکن کو اپنا لیجیے، اور جو عملاً ناممکن ہے، اس کو چھوڑ دیجیے۔ کیوں کہ ناممکن پر اصرار کرنے سے صرف نزاع میں اضافہ ہوتا ہے۔
واپس اوپر جائیں

صحیح طرزِ فکر

صحیح طرز فکر (right thinking) حکیمانہ طرز فکر کی ایک اعلیٰ قسم ہے۔ اصل یہ ہے کہ ہم جس دنیا میں جیتے ہیں، یا صبح و شام گزارتے ہیں، اس میں چیزیں الگ الگ نہیں ہیں، بلکہ مخلوط (mixed) حالت میں ہیں۔ اس بنا پر بظاہر چیزوں کے بارے میں صحیح رائے قائم کرنا مشکل ہوجاتا ہے۔ چیزوں کے بارے میں صحیح رائے اس وقت قائم ہوتی ہے، جب کہ آپ چیزوں کو الگ الگ کرکے دیکھ سکیں۔ اس تجزیاتی مطالعے کے بغیر آدمی کے اندر صحتِ فکر پیدا نہیں ہوسکتی، وہ مبنی بر واقعہ سوچ کا حامل نہیں بن سکتا۔
مثلاً ایک شخص اپنے بارے میں یا اپنی کمیونٹی کے بارے میں یہی کہے گا کہ ہمارے اوپر ظلم ہورہا ہے۔ اگر اس سے یہ کہا جائے کہ تمھارے باپ دادا کا جو اسٹینڈرڈ تھا، کیا تمھارا اسٹینڈرڈ اس سے کم ہے۔ وہ جواب دے گا کہ نہیں اس سے تو بہت اچھا ہے۔ مثلاً میرے باپ دادا بائیسکل پر سفر کرتے تھے، آج میں کار پر سفر کرتا ہوں۔ میرے دادا کے زمانے میں بچے معمولی مدرسے میں پڑھتے تھے، آج وہ شہر کے ایک اچھے انگریزی اسکول میں پڑھ رہے ہیں۔ میرے دادا کچے گھر میں رہتے تھے، آج میں اور میرے بچے پکے گھر میں رہ رہے ہیں، وغیرہ۔ اب اگر آپ اس سے پوچھیں کہ جب تمھاری فیملی کا اسٹینڈرڈ پہلے کے مقابلے میں بہت زیادہ بہتر ہے، تو ظلم کہاں ہورہا ہے۔ اب وہ حیران ہوجائے گا، اور کہے گاکہ میں نے اس اعتبار سے کبھی نہیں سوچا۔
اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ اصل مسئلہ کہاں ہے۔ اصل مسئلہ خارج میں نہیں ہے، بلکہ داخل میں ہے۔ لوگوں کے اندر صحیح طرز فکر نہیں ہے۔ اس لیے لوگ شکایت میں جی رہے ہیں، حالاں کہ انھیں شکر میں جینا چاہیے۔ صحیح طرزِ فکر تجزیاتی فکر کا نام ہے۔ اگر آپ کے اندر ڈی ٹیچڈ تھنکنگ (detached thinking)ہو، اگر آپ تجزیاتی انداز میں سوچنا جانتے ہوں، تو آپ درست طرزِ فکرکے حامل بن سکتے ہیں۔
واپس اوپر جائیں

سلیقہ ٔ حیات

مسلم رہنماؤں کی شاید سب سے بڑی غلطی یہ ہے کہ انھوں نے امت کو حرام و حلال کا مسئلہ تو بتایا، لیکن یہ بتانے میں ناکام ہوگئے کہ جینے کا سلیقہ کیا ہے۔ جس طریقہ کو سیکولرزم کہہ کر مسلمان اس سے نفرت کرتے ہیں، وہ کوئی حرام و حلال کی چیز نہیں ہے، بلکہ یہ ہے کہ لوگوں کو جینے کا پرامن سلیقہ بتایا جائے۔ زندگی میں یہی کافی نہیں ہے کہ آپ حرام و حلال کو جانیں، بلکہ یہ بھی ضروری ہے کہ آپ جینے کا سلیقہ جانیں۔
مثلاً ایک شخص آپ کے رسول کے خلاف کوئی ایسی بات کہے، جو آپ کو پسند نہ ہو تو آپ یہ مت کہیے کہ وہ شاتم ہے، بلکہ یہ کہیے کہ اس کی رائے میری رائے سے مختلف ہے۔ کوئی شخص آپ کی رائے سے الگ اپنی رائے بنائے تو آپ اس کے قتل کا فتویٰ مت دیجیے، بلکہ اس کو صرف اختلاف رائے کے درجے میں رکھیے، اور اس کو پرامن انداز میں سمجھانے کی کوشش کیجیے۔
یہ عجیب بات ہے کہ یہ غلطی ان لوگوں نے کی جو امت میں ٹرینڈ سیٹر (trendsetter)کی حیثیت رکھتے تھے۔ مثلاً ایک بڑے عالم نے ایک کتاب لکھی۔ اس کا ٹائٹل یہ مقرر کیا: الصارم المسلول علی شاتم الرسول۔ اس کتاب نے امت کو یہ اصول دیا کہ جہاں تم دیکھو کہ کوئی شخص تمھارے رسول کے خلاف شتم کر رہا ہے تو اس کے خلاف تلوار لے کر کھڑے ہوجاؤ۔ یہ اصول بلاشبہ اسلام کے دعوتی تصور کے خلاف ہے۔
دعوت وتبلیغ کے اصول کا یہ تقاضا ہےکہ اگر کوئی شخص آپ کو ایسا ملے جو آپ کے پیغمبر کے خلاف کلام کررہا ہو تو آپ اس سے مل کر اس کے نقطۂ نظر کو معلوم کریں۔ اس کو دلیل سے اپنی بات سمجھائیں۔ اس کی سوچ کو درست کرنے کی کوشش کریں، نہ کہ اس کی گردن کو اس کے جسم سے جدا کردیں۔ پر امن طریقہ (peaceful method) درست طریقۂ حیات ہے۔ اس کے برعکس، زور و جبر اور نفرت کا طریقہ سلیقہ مندی کے خلاف ہے۔
واپس اوپر جائیں

ہر انسان کا معاملہ

ہر انسان پر وہ وقت آنے والا ہے، جب کہ وہ موجودہ دنیا میں نہ رہے۔ ہر آدمی پر وہ وقت آئے گا، جب کہ وہ اپنے آپ کو ایسے حال میں پائے، جہاں ایک طرف اس کی ماضی کی یادیں ہوں، جو اس کا ساتھ چھوڑ کر چلی گئیں، اور دوسری طرف آگے کی وہ دنیا ہو، جو اس کے سامنے انفولڈ (unfold) ہورہی ہو۔ آج انسان ماضی اور حال کے درمیان جی رہا ہے۔ پھر وہ وقت آنے والا ہے، جب کہ ماضی اور حال دونوں اس کا ساتھ چھوڑ دیں گے۔ وہ ایک بھولی ہوئی کہانی بن کر رہ جائے گا۔ اردو کے ایک شاعر تھے میر تقی میر(1723-1810) ،انھوں نے ایک شعر کہا تھا:
صبحِ پیری شام ہونے آئی میر تو نہ چیتایاں بہت دن کم رہا
یہ شعر انھوں نے اپنے بارے میں کہا تھا، جب کہ وہ عمر کا بڑا حصہ گزار کر اپنے آخری دور میں پہنچ چکے تھے۔ تمثیل کی زبان میں ہر آدمی کے بارے میں یہی کہا جاسکتا ہے کہ پیدا ہوکر وہ بڑھاپے کی عمر کو پہنچا، اور پھر اس پر موت کا فیصلہ آیا، اور وہ اپنی زندگی کے دورِ اول کو چھوڑ کر اپنی زندگی کے دوسرے دور میں پہنچ گیا۔
زندگی کا یہ سفر کیا ہے۔ انسان کہاں سے آتا ہے، اور وہ کہاں چلا جاتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ انسان ایک آغاز اور ایک انجام کے درمیان ہے۔ لیکن کوئی نہیں جانتا کہ یہ آغاز کیا ہے، اور اس کا انجام کیا ہوگا۔ہر انسان کا پہلا کام یہ ہے کہ وہ زندگی کے اِس سفر کے بارے میں سوچے۔ وہ زندگی کی کہانی پڑھ کر اس کی حقیقت کو دریافت کرے۔ وہ جانے کہ زندگی کے سفر میں آج وہ کہاں کھڑا ہوا ہے، اور کل اپنے آپ کو وہ کس مقام پر پائے گا۔
اس دریافت کے بعد ہر آدمی کے لیے دوسرا کام یہ ہے کہ وہ اپنی زندگی کی نتیجہ خیز پلاننگ کرے۔ وہ اپنے آج کو اپنے کل کے لیے استعمال کرے۔ آدمی اپنی زندگی کا ایسا منصوبہ بنائے کہ اس کا حال اس کے مستقبل کے لیے مفید ثابت ہو۔
واپس اوپر جائیں

منصوبہ بند کام

انجینیرٔ س انڈیا لیمیٹیڈ (Engineers India Limited) ایک پبلک سیکٹر کمپنی ہے۔ اس کا قیام 1965 میں عمل میں آیا۔ یہ ایک انٹرنیشنل ادارہ ہے، اس کا ہیڈ آفس دہلی میں ہے۔ یہ ادارہ عالمی سطح پر پٹرولیم مصنوعات وغیرہ کے میدان میں انجینیرٔ نگ اور ٹکنیکل سروس مہیا کرتا ہے۔ غالباً 1970 ء کی بات ہے، میری ملاقات اس ادارے کے ایک سینئر افسر سے ہوئی۔ وہ گرین پارک (نئی دہلی) میں رہتے تھے۔ بات چیت کے دوران میں نے کہا کہ ترقی کے لیے سب سے زیادہ اہم چیز ہارڈ ورک (hard work) ہے۔ انھوں نے جواب دیا:نہیں، یہ پرانے زمانے کا تصور (concept) ہے۔ آج کے زمانے میں ترقی کے لیے سب سے زیادہ اہم چیز پلاننگ ہے۔ اب ترقی کا راز منصوبہ بندی ہے، نہ کہ صرف ہارڈ ورک۔
یہ نہایت درست بات ہے۔ پہلے زندگی سادہ تھی۔ کام کا دائرہ محدود ہوتا تھا۔ آدمی اپنے قریبی دائرے میں محنت کرکے کمائی کرسکتا تھا۔ مگر آج زندگی کا دائرہ بہت وسیع ہوچکا ہے۔ آج کی سوسائٹی ایک کامپلکس سوسائٹی ہے۔ آج انسان کو مسابقت میں جینا پڑتا ہے۔ آج بہت سے نئے تقاضے وجود میں آئے ہیں، جن کو پورا کیے بغیر کوئی شخص بڑی کامیابی حاصل نہیں کرسکتا۔
مثلاً انڈیا کو لیجیے۔ انڈیا کو 1947 میں آزادی ملی۔ اس کے بعد عام تصور کے مطابق، مسلمانوں کو بہت سے مسائل کا سامنا کرنا پڑا۔ ایسے ماحول میں مسلمانوں کے جو رہنما اٹھے، وہ سب کے سب ری ایکشن کی بولی بولنے لگے۔ ہر ایک یہ کہنے لگا کہ مسلمانوں پر ظلم ہورہا ہے، مسلمان امتیاز (discrimination) کا شکار ہورہے ہیں، مسلمان ایک مظلوم کمیونٹی کی حیثیت اختیار کرچکے ہیں۔ اس سوچ کے ساتھ آزادی کے بعد پچاس برس تک بہت کام کیا گیا۔ مگر سب کا سب بے فائدہ رہا۔ بظاہر’’ہارڈ ورک‘‘ کے باوجود مسلمانوںکو کوئی فائدہ نہ مل سکا۔
اس کا سبب یہ ہے کہ مسلم رہنما ؤں نے بظاہر ہارڈ ورک تو بہت کیا، لیکن ان کے ہارڈ ورک میں منصوبہ بندی شامل نہ تھی۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ مسلمان صرف قربانیاں دیتے رہے، لیکن ان کے حصے میں کچھ نہ آیا۔ ا س کا راز یہ ہے کہ مسلم رہنماؤں نے مسلمانوں کو منصوبہ بندی کا طریقہ نہیں بتایا۔ منصوبہ بند کام کا طریقہ یہ تھا کہ مسلم رہنما حالات کا گہرا مطالعہ کرتے۔ وہ یہ دریافت کرتے کہ انڈیا میں قانون فطرت کے مطابق، مسائل (problems)کے ساتھ کیا کیا مواقع پائے جاتے ہیں۔ فطرت کے اس قانون کو قرآن میں ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے:إِنَّ مَعَ الْعُسْرِ یُسْرًا (94:6)۔ یعنی بیشک مشکل کے ساتھ آسانی ہے۔
مثال کے طور پر انڈیا میں مسلمانوں کے لیے بظاہر کچھ مشکلات تھیں، لیکن اسی کے ساتھ انڈیا میں کچھ ایسے میدان تھے، جو پوری طرح مسلمانوں کے لیے کھلے ہوئے تھے۔جیسے ایجوکیشن کا میدان۔ یہ میدان مسلمانوں کے لیے اسی طرح مکمل طور پر کھلا ہوا تھا، جس طرح دوسرے گروہوں کے لیے۔ مگر مسلم رہنماؤں نے انتہائی بے خبری کے ساتھ یہ کیا کہ وہ ریزرویشن کا جھنڈا لے کر کھڑے ہوگئے۔ ان کا نعرہ یہ تھا کہ مسلمانوں کو ریزرویشن دو، کیوں کہ مسلمان اس ملک میں ریزرویشن کے بغیر ترقی نہیں کرسکتے۔ یہ نعرہ فطرت کے قانون کے خلاف تھا۔ کیوں کہ اس دنیا میں کوئی گروہ فیور (favour) کے ذریعے ترقی نہیں کرسکتا۔ وہ صرف کامپٹیشن میں اپنے آپ کو اہل ثابت کرکے کامیاب ہوسکتا ہے۔
دنیا کے بنانے والے نے اس دنیا کو چیلنج (challenge) کے اصول پر بنایا ہے۔ اس کے سوا ہر دوسرا اصول انسان کا خود ساختہ اصول ہوگا، جو کبھی عمل میں آنے والا نہیں۔ مسلمانوں کے لکھنے اور بولنے والے طبقے کو صرف یہ کرنا تھا کہ وہ مسلمانوں کو چیلنج کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار کرے۔ مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ منصوبہ بند طریقے سے اپنے آپ کو اتنا زیادہ تیار کریں کہ وہ ہر چیلنج کا مقابلہ مثبت انداز میں کرسکیں۔ یہ طریقِ کار اس وقت کامیاب ہوسکتا ہے، جب کہ مسلمان ری ایکشن اور شکایت کا طریقہ مکمل طو رپر چھوڑ دیں۔وہ اپنی حالت کی ذمے داری خود قبول کریں، نہ کہ اس کو دوسرے کے اوپر ڈالیں۔
واپس اوپر جائیں

چپ کا راز

ایک بار ایک سفر کے دوران میں کسی ایر پورٹ پر تھا۔ وہاں ایک جاپانی مسافر سے ملاقات ہوئی، وہ ایک نوجوان تھا، اور کسی یونیورسٹی میں ریسرچ کر رہا تھا۔ گفتگو کے دوران اس نے کہا کہ میرے ریسرچ کا موضوع خاموشی (silence) ہے۔ پھر اس نے کہا کہ کیا آپ اسلام سے خاموشی کے موضوع پر کوئی ریفرینس بتا سکتے ہیں۔میں نے کہا ، ہاں۔ میں نے کہا کہ اس موضوع پر میں پیغمبر اسلام کا ایک قول آپ کو سناتا ہوں، پھر میں نے یہ حدیث اس کو سنائی: مَنْ صَمَتَ نَجَا (سنن الترمذی، حدیث نمبر 2501)۔ یعنی جس نے خاموشی اختیار کی، وہ نجات پاگیا۔جاپانی نوجوان اس بات کو سن کر بہت خوش ہوا۔ اس نے اس حدیث کو فوراً اپنی ڈائری میں نوٹ کیا، اور کہا کہ اس حوالے کو میں اپنے تھیسِس میں شامل کروں گا۔
چپ رہنا کوئی سادہ بات نہیں ۔ چپ رہنا دو آپشن میں سے ایک آپشن کو چھوڑنا،ا ور دوسرے آپشن کو اختیار کرنا ہے۔ یعنی بولنے کا آپشن نہ لینا، اورخاموشی کا طریقہ اختیار کرنا۔جب کوئی آدمی ایسا کرتا ہے تو وہ در اصل بولنے کے بجائےسوچنے کا طریقہ اختیار کرتا ہے۔ وہ دوسروں کی بات سن کر ان کے تجربے سے فائدہ اٹھاتا ہے۔ وہ اپنی عقل میں اضافہ کرتا ہے۔ وہ رد عمل کے طریقے کو چھوڑ کر مثبت عمل کا طریقہ اختیار کرتا ہے۔ جب آپ نہیں بولتے ہیں، تو آپ سوچتے ہیں، اور جب آپ سوچتے ہیں تو آپ اپنے ذہنی ارتقا (intellectual development) میں اضافہ کرتے ہیں۔
حقیقت یہ ہے کہ بولنا آسان ہے، مگر نہ بولنا ایک مشکل کام ہے۔ بولنے کے لیے سوچنے کی ضرورت نہیں۔ جو بھی آپ کے حافظے میں الفاظ ہیں، ان کو دہرانا شروع کردیجیے، اور پھر نطق وجود میں آجائے گا۔ لیکن جب آپ نہ بولیں، تو آپ کا ذہن فوراً سوچنا شروع کردیتا ہے، وہ مختلف باتوں کا موازنہ کرتا ہے۔ وہ حال کے ساتھ مستقبل کو اپنی سوچ میں شامل کرتا ہے۔ وہ اقدام کے ساتھ انجام پر غور کرتا ہے۔
واپس اوپر جائیں

انٹلکچول پارٹنر

خاموشی کی صفت کوئی سادہ بات نہیں۔ یہ کسی عورت اور مرد کے لیے ایک دریافت کا ذریعہ ہے۔ جب آپ نہ بولیں،تو فطری طور پر آپ اپنا انٹلکچول پارٹنر تلاش کرنے لگتے ہیں۔ اس وقت آپ دریافت کرتے ہیں کہ آپ کے قریب آپ کا ایک انٹلکچول پارٹنر ہر وقت موجود ہے۔ یہ آپ کی زندگی کا ساتھی (آپ کی رفیقۂ حیات) ہے۔ اس طرح خاموشی آپ کو ایک نئی دریافت تک پہنچا دیتی ہے۔ حالات کے تقاضے کے تحت مرد اپنی رفیقۂ حیات کو، اور عورت اپنے رفیقِ حیات کو از سرِ نو دریافت (rediscover) کرتے ہیں۔ اس طرح دونوں اپنا ایک نیا ساتھی دریافت کرتے ہیں، جو اگر چہ ان کے پاس موجود تھا، لیکن وہ اس کو دریافت کرنے میں کامیاب نہیں ہوئے تھے۔ یہ دریافت بلاشبہ تمام دریافتوں سے بڑی دریافت ہے۔
تبادلۂ خیال (discussion) ایک نہایت قیمتی چیز ہے۔ اس سے آدمی اپنے علم اور تجربے میں اضافہ کرتا ہے۔ اس سے آدمی اپنی شخصیت کو زیادہ بامعنی بناتا ہے۔ اس ڈسکشن کے لیے آپ کے پاس ہر وقت ایک معاون موجود ہے۔ خاموشی کے لمحات آپ کو بتاتے ہیں کہ وہ قیمتی ساتھی آپ کے پاس ہر وقت موجود ہے ۔ آپ اس موقع کو بھر پور طور پر اویل (avail) کیجیے۔
ہر عورت اور مرد کے پاس اس کے رفیقِ حیات کی صورت میں زندگی کا ایک سب سے زیادہ قیمتی سرمایہ ہے، مگر عجیب بات ہے کہ اسی سرمائے سے تمام لوگ بے خبر رہتے ہیں۔ نکاح کا نظام ایک فطری نظام ہے۔ جو ہر آدمی کو ایک فطری نظام کے تحت یہ موقع دیتا ہے کہ وہ اپنی زندگی کا ایک ساتھی پالے۔ ایک ایسا ساتھی جو اس کا سب سے زیادہ قریبی ساتھی ہو، اور زندگی کے آخری لمحہ تک اس کا ساتھی بنا رہے۔ انسان کو فطری نظام کے تحت ایک ایسا ساتھی درکار ہے، جو اس کے لیے سب سے بڑا راز دارِ حیات ہو، جو اس کے لیے خوشی او ر غم میں شریک ہو، جو ہر صور تِ حال میں اس کا قریبی مدد گار ہو۔ نکاح کا نظام ہر عورت اور مرد کو یہی ساتھی عطا کرتا ہے۔
واپس اوپر جائیں

ترقی کا سفر

اسلام چھٹی صدی عیسوی کے نصف اول میں عرب میں آیا۔ اس وقت مذہبی جبر (religious persecution)کا زمانہ تھا۔ اس کے برعکس، موجودہ زمانے میں کامل مذہبی آزادی کا دور ہے۔ابتدائی زمانہ میں موجود سبب (age factor) کی بنا پر اسلام کی تاریخ میں کچھ ایسی باتیں شامل ہوگئیں، جو صرف وقتی تھیں، ابدی نہ تھیں۔ آج جو شخص اسلام کی تاریخ کا مطالعہ کرے ، اس کے لیے ضروری ہے کہ وہ اس فرق کو سمجھے، اوراس فرق کو ملحوظ رکھتے ہوئے اپنے عمل کی منصوبہ بندی کرے۔
مثلاً آج کسی شخص یا جماعت کو یہ حق نہیں ہے کہ وہ کسی کے اوپر تشدد کرے۔ خواہ وہ شخص اس کے مخالف بول رہا ہویا اس کے موافق۔ آج ہر شخص کو کامل آزادی ہے کہ وہ اپنے نقطۂ نظر کا اظہار کرے۔ آزادیٔ اظہار رائے (freedom of expression) آج کا ایک ناقابل تنسیخ حق ہے۔ یہ حق ہر شخص کو کسی پیشگی معاہدے کے بغیر حاصل ہے۔ یہ حق بلاشبہ دور جدید کی بہت بڑی نعمت ہے۔ کسی صاحب مشن کے لیے یہ ایک ایسی نعمت ہے، جو تاریخ میں پہلی بار حاصل ہوئی ہے۔ البتہ اس کی ایک شرط (condition) ہے۔ وہ یہ کہ آپ کامل طور پر پرامن انداز میں اپنا کام کریں۔ کسی دوسرے کے اوپر ہرگز کسی بھی قسم کا تشد د نہ کریں، نہ لفظی اور نہ عملی۔
اس سے بحث نہیں کہ دوسرا شخص اپنے خیالات کے اظہار کے لیے کون سی زبان استعمال کرتا ہے۔ زبان یا الفاظ کے استعمال کے لیے ہر شخص کو کامل آزادی حاصل ہے۔ مشہور امریکن مقولے کے مطابق،اس کی یہ آزادی صرف اس وقت ختم ہوتی ہے، جب کہ وہ آپ کی’’ناکـ ‘‘کو ٹچ کرے:
Your freedom ends where my nose begins
یہ آزادی اہل مشن کے لیے بلاشبہ ایک عظیم نعمت ہے۔بشرطیکہ وہ ا س کی شرط کو پورا کرتے ہوئے اس کا استعمال کرے۔
واپس اوپر جائیں

آزادی کا دور

ایک مرتبہ مغرب کے ایک سفر کے دوران میری ملاقات ایک مغربی اسکالر سے ہوئی۔ میں نے ان سے پوچھا کہ دنیا میں تہذیب کا دور جو آیا ہے، وہ کیسے آیا ۔ اس نے کہا کہ فرانس میں جمہوریت کا دور آنے کے بعد اس انقلاب کے بعد پہلی بار یہ ہوا کہ اختلاف رائے (dissent) کو ایک ناقابل تنسیخ حق کا درجہ مل گیا۔ جب ایسا ہوا تو دنیا میں آزادیٔ فکر کا دور آگیا۔ اس آزادیٔ فکر سے تمام ترقیاں وجود میں آئیں۔ اس آزادیٔ فکر سے لوگوں کو موقع ملا کہ وہ ہر شعبے میں آزادانہ طور پر تلاش و جستجو کریں، اس طرح علم کے بند دروازے کھل گئے، اور ہر قسم کی ترقیاں بلاروک ٹوک ہونے لگیں۔
ترقی ایک فکری عمل ہے۔ فکری عمل کی کامیابی کے لیے ضروری ہے کہ انسان کو آزادانہ طور پر اپنا عمل کرنے کا موقع ملے۔ آزادیٔ فکر کے بغیر علم کے تمام دروازے بند رہتے ہیں، جب کہ آزادیٔ فکر کے ماحول میں علم کے تمام دروازے کھل جاتے ہیں۔ قدیم زمانے میں لمبی مدت تک علم کو ترقی نہیں ہوئی۔ اس کا سبب یہی تھا کہ اہل علم کے لیے آزادانہ جستجو کے مواقع حاصل نہ تھے۔ جدید دور میں جب آزادانہ فکر کے مواقع کھلے تو ہر شخص مسابقت کی دوڑ میں مشغول ہوگیا۔ اس طرح تدریجی پراسس کے تحت علم کی دنیا میں ترقیاں ممکن ہوگئیں۔
علمی ترقی دراصل انسان کے پوٹنشل (potential)کو بروئے کار لانے کا نام ہے، اور پوٹنشل کو بروئے کار لانے کا یہ معاملہ صرف آزادانہ ماحول میں ممکن ہوتا ہے۔ جہاں آزادی نہ ہو، وہاں علمی اور فکری ترقی بھی رک جائے گی۔اس معاملے میں کسی کے خلاف جارحیت ایک ایسی چیز ہے، جس پر پابندی لگائی جائے ۔ اس معاملے میں صحیح اصول یہ ہے کہ جب تک آپ پرامن انداز میں اپنا کام کررہے ہیں،تو آپ کو کامل آزادی حاصل رہے گی، آپ کی آزادی پر باپندی صرف اس وقت لگ سکتی ہے، جب کہ آپ کسی دوسرے شخص کے خلاف جارحیت کا انداز اختیار کریں۔ مثلا ًمارنا، پیٹنا، یا تشدد کرنا، وغیرہ۔
واپس اوپر جائیں

ایک نصیحت

29جولائی 2018 کو ایک نوجوان سے ملاقات ہوئی۔ ان کو نصیحت کرتے ہوئے میں نے کہا: میری پہلی نصیحت آپ کو یہ ہے کہ اگر آپ کے پاس کوئی اچھا عذر ہو تب بھی آپ اس کو استعمال نہ کیجیے۔ اِس کا مطلب یہ ہے کہ فرض کیجیے کہ آپ سے ایک غلطی ہوگئی، اور آپ کا احساس یہ ہے کہ اس کی ایک معقول وجہ تھی۔ ایسے موقعے پر عام طور سے یہ ہوتا ہے کہ لوگ فوراً عذر پیش کرنے لگتے ہیں کہ فلاں وجہ سے ایسا ہوا، اور فلاں وجہ سے ایسا ہوا— ہوئی تقصیر تو کچھ باعث تقصیر بھی تھا۔
یہ طریقہ مکمل طور پر تر ک کرنا ہے۔ آپ صرف یہ دیکھیے کہ کیا دوسرے لوگ اس کو غلطی بتا رہے ہیں۔ اگر آپ کے نزدیک وہ غلطی نہ ہو، تب بھی فوراً اس کو مان لیجیے۔ کوئی عذر پیش کرکے اپنے آپ کو بری الذمہ ثابت کرنے کی کوشش نہ کیجیے۔ جب بھی کسی شخص کو آپ سے شکایت ہوجائے تو ہمیشہ اپنی غلطی کو آپ دریافت کیجیے۔ دوسرے کی غلطی بتانے کے بجائے، خود اپنی غلطی کو دریافت کرنے کا طریقہ اختیار کیجیے۔ایسے موقعے پر اگر کچھ اور آپ کی سمجھ میں نہ آئے تو آپ دوسرے شخص کے لیے دعا کرنا شروع کردیجیے۔ یہ بھی نہ ہوسکے تو اپنے آپ سے یہ بتائیے کہ دوسرے شخص نے آپ کے ساتھ جو قابل شکایت بات کی ہے، وہ جان بوجھ کر نہیں کی ہے، بلکہ بے خبری کی بنا پر کی ہے۔
یہ سمجھ لیجیے کہ دوسرے کی غلطی بتانے سے کبھی شکایت کا ماحول ختم نہیں ہوتا۔ اس کے برعکس، اگر اعتراف کا طریقہ اختیار کریں، تو اس کا فوری فائدہ آپ کو یہ حاصل ہوتا ہے کہ آپ اور دوسرے شخص کے درمیان چین ری ایکشن (chain reaction) کی صورت حال بننے نہیں پاتی۔ بلکہ بات وہیں کہ وہیں ختم ہوجاتی ہے۔یاد رکھیے، زندگی جینے کے لیے ہے، اور اعتراف کا طریقہ آپ کو یہ موقع دیتا ہے کہ آپ کسی رکاوٹ کے بغیر زندگی کے مواقع کو آخری حد تک اَویل (avail)کرسکیں۔ زندگی ایک چانس ہے۔ کوئی اس کو افورڈ نہیں کرسکتا کہ وہ اس چانس کو کھودے۔ یہ چانس آپ کے دروازے کو صرف ایک بار کھٹکھٹاتا ہے۔
واپس اوپر جائیں

Tuesday, 4 September 2018

Al Risala | October 2018 (الرسالہ،اکتوبر)

4

-شخصیت کی تعمیر

5

- انسان کی عبدیت

6

- معرفت کا کلمہ

9

- جنت کا معاملہ

10

- رزق کا معاملہ

11

- حکومتِ الٰہیہ یا حکومتِ انسانیہ

12

- حکم صرف اللہ کا

13

- خدا اور انسان

14

- معرفتِ الٰہی

15

- امت کی حالت زار

16

- امت میں قتال

19

- صلح پہلا آپشن

20

- تقویٰ بقدر استطاعت

22

- والرجز فاھجر

23

- دنیا اور آخرت

24

- ایمان کے بعد ایمان

26

- خدا کی دریافت

28

- منصوبۂ تخلیق

29

- مصیبت کیوں

30

- داعی کی اسپرٹ

31

- علما کا مقام

32

- قناعت کا سبق

33

- مشورے کی اہمیت

34

- موت کی یاد

35

- زندگی کے قیمتی سال

36

- باہمی انحصار کا دور

37

- غیر عملی نشانہ

38

- ظلم یا چیلنج

39

- دینی شناخت

40

- فطرت کو موقع دو

41

- غصے کا ظاہرہ

42

- شادی شدہ زندگی

43

- عذر کیا ہے

44

- پانے میں کھونا

45

- تخلیقی مشورہ

46

- خبرنامہ اسلامی مر کز


شخصیت کی تعمیر

انسان فطرت کا ایک اعلیٰ عطیہ ہے۔انسان کے اندر ہر قسم کی اعلیٰ صلاحیت فطری طور پر موجود ہوتی ہے۔ لیکن انسان کے اندر جو صلاحیت ہے، وہ پوٹنشل (potential) کے روپ میں ہے۔ اس پوٹنشل کو ایکچول (actual) بنانا، انسان کا اپنا کام ہے۔ انسان کی اس پیدائشی نوعیت کو سمجھنے کے لیے قرآن کی ان دو آیتوں کا مطالعہ کیجیے: أَلَمْ تَرَ کَیْفَ ضَرَبَ اللَّہُ مَثَلًا کَلِمَةً طَیِّبَةً کَشَجَرَةٍ طَیِّبَةٍ أَصْلُہَا ثَابِتٌ وَفَرْعُہَا فِی السَّمَاءِ ۔ تُؤْتِی أُکُلَہَا کُلَّ حِینٍ بِإِذْنِ رَبِّہَا وَیَضْرِبُ اللَّہُ الْأَمْثَالَ لِلنَّاسِ لَعَلَّہُمْ یَتَذَکَّرُونَ (14:24-25) ۔ یعنی کیا تم نے نہیں دیکھا، کس طرح مثال بیان فرمائی اللہ نے کلمۂ طیبہ کی۔ وہ ایک پاکیزہ درخت کی مانند ہے، جس کی جڑ زمین میں جمی ہوئی ہے اور جس کی شاخیں آسمان تک پہنچی ہوئی ہیں۔ وہ ہر وقت اپنا پھل دیتا ہے اپنے رب کے حکم سے، اور اللہ لوگوں کے لیے مثال بیان کرتا ہے تاکہ وہ نصیحت حاصل کریں۔
قرآن کی یہ آیت تمثیل کی زبان میں بتارہی ہے کہ انسانی شخصیت کی تعمیر کا اصول کیا ہے۔ اس آیت میں شجرۂ طیبہ سے مراد صحت مند پودا (healthy plant) ہے۔ صحت مند پودے کو جب زمین میں نصب کردیا جائے تو وہ فوراً زمین اور فضا سے اپنی غذا لینا شروع کردیتا ہے۔ یہ سلسلہ جاری رہتا ہے، یہاں تک کہ وہ ایک پورا درخت بن جاتا ہے۔ یہی معاملہ ایک انسانی وجود کا ہے۔ انسان جب پیدا ہوتا ہے، وہ ایک بالقوۃ انسان کی مانند ہوتا ہے۔ پھر وہ اپنے ماحول سے ہر قسم کی غذا لینا شروع کرتا ہے۔ یہاں تک کہ وہ بڑھتے بڑھتے ایک پورا انسان بن جاتا ہے۔ اس کے اندر وہ تمام عملی اور اخلاقی صفات پیدا ہوجاتی ہیں، جو اس کو اس زمین پر ایک صحت مند زندگی گزارنے کے لیے درکار ہیں۔ انسان کو چاہیے کہ وہ زمین پر موجود تمام امکانات کو اپنے لیے استعمال کرے، اور اپنے آپ کو اللہ کا مطلوب انسان بنائے۔ وہ یہ ہےکہ عملی زندگی میں ہر موقعے پر وہ مطلوب رسپانس (required response) دے، جس کے لیے اس کے خالق نے اس کو موجودہ دنیا میں بھیجا ہے۔
واپس اوپر جائیں

انسان کی عبدیت

قرآن کی سورہ بنی اسرائیل میں واقعۂ اسراء کا ذکر کرتے ہوئے آیا ہے :سُبْحَانَ الَّذِی أَسْرَى بِعَبْدِہِ (17:1)۔ یعنی پاک ہے وہ جو لے گیا ایک رات اپنے عبد کو۔ عبد کا مطلب معروف مفہوم کے مطابق غلام (slave) نہیں ہے، بلکہ اس کا مطلب عارف باللہ (realized person)ہے۔ یعنی وہ انسان جو معرفت کا سفر طے کرتے ہوئے اپنے آپ کو معرفت کے اعلیٰ درجے تک پہنچائے۔ یہ کسی شخص کا ذہنی اور روحانی سفر ہے۔ یہ معرفت کے سفر کا وہ درجہ ہے، جب کہ انسان اپنے آپ کو انٹلکچول دریافت (intellectual discovery) کے درجے تک پہنچاتا ہے، اور اپنے رب سے قربت کا مقام حاصل کرتا ہے۔
یہ ایک واقعہ ہے کہ اللہ رب العالمین انسان کا خالق ہے۔ اللہ رب العالمین نے انسان کو بہترین تخلیق کے ساتھ پیدا کیا۔ اللہ رب العالمین نے انسان کے لیے ایک ایسی کائنات بنائی، جو پورے معنوں میں کسٹم میڈ (custom-made) یونیورس ہے۔انسان کو ایک ایسی دنیا عطا کی، جہاں وہ لامحدود حد تک اپنے ارتقا کا سفر جاری رکھ سکے۔ اس حقیقت کے ادراک کے بعد جو شکر گزار بندہ بنتا ہے، اسی کا نام عبد ہے۔ عبدیت اس بات کا نام ہے کہ انسان اپنی حقیقت اور اپنے رب کی حقیقت کو معرفت کے درجے میں پالے۔ یہ پانا اتنا مؤثر ہو کہ اس کی شخصیت معرفت رب میں ڈھل جائے۔
عبدیت کسی انسان کے لیے درجۂ کمال تک پہنچنے کا نام ہے۔ اسی طرح رب اس دریافت کا نام ہے کہ انسان اپنے رب کو خالق اور محسن کی حیثیت سے درجۂ شعور میں دریافت کرے۔ عبد، انسانی شعور کے اعلیٰ مقام تک پہنچنے کا نام ہے، اور رب کی معرفت خالق کی ہستی کا کامل درجے میں ادراک کرنے کا نام ہے۔ عبد اور رب کے درجے کو سمجھنے کے لیے غلام اور آقا کے الفاظ ناکافی ہیں۔ یہ معرفت کی ڈکشنری کے الفاظ ہیں۔ ان کو صرف عارفانہ ذہن کے ذریعے ہی سمجھا جاسکتا ہے۔
واپس اوپر جائیں

معرفت کا کلمہ

ایک روایت حدیث کی مختلف کتابوں میں آئی ہے۔ یہاں اس کا ترجمہ نقل کیا جاتا ہے: عبد اللہ بن عمرو ابن العاص روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا:اللہ قیامت کے دن میری امت کے ایک فرد کو تمام مخلوق کے سامنے لائے گا، پھر اس کے (اعما ل کا )ننانوے رجسٹر (ایک روایت میں ہے : جس میں اس کی خطائیں ہوں گی)،اس کے سامنے کھولا جائے گا، ہر رجسٹر انتہائےنظر کے مثل ہوگا ( فَیَنْشُرُ عَلَیْہِ تِسْعَةً وَتِسْعِینَ سِجِلًّا کُلُّ سِجِلٍّ مِثْلُ مَدِّ البَصَر)، پھر اللہ پوچھے گا: کیا تم ان میں سے کسی چیز کا انکار کرتے ہو ؟کیا اعمال لکھنے والے محافظ فرشتوں نے کچھ ظلم کیاہے، وہ کہے گا :نہیں، اے رب۔ پھر اللہ کہےگا :کیا تمھارے پاس اس کا کوئی عذر ہے (ایک روایت میں ہے : یا کوئی نیکی ہے، وہ آدمی متحیر ہوجائے گا، اور) کہے گا: نہیں، اے رب۔ پھرا للہ کہے گا:(ایک روایت میں ہے: ہم اپنے پاس تمھاری نیکیاں نہیں دیکھتے ہیں)،لیکن ہمارے پاس تمھاری ایک نیکی ہے اور آج کے دن تم پر کوئی ظلم نہیں ہوگا ( وَإِنَّہُ لَا ظُلْمَ عَلَیْکَ الْیَوْمَ)، پھر ایک بطاقہ (کارڈ)نکالا جائے گا(ایک روایت میںہے: انگلی کے بقدر)، جس میںہوگا:أَشْہَدُ أَنْ لَا إِلَہَ إِلَّا اللَّہُ وَأَشْہَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہُ وَرَسُولُہُ ۔ اللہ کہے گا: اس کو وزن کرو۔ بندہ کہے گا :اے رب،اس کارڈ کی کیا حیثیت ہے، ان رجسٹروں کے مقابلے میں( یَا رَبِّ مَا ہَذِہِ الْبِطَاقَةُ، مَعَ ہَذِہِ السِّجِلَّات)؟ کہا جائے گا کہ آج کے دن تم پر کوئی ظلم نہیں کیا جائے گا، اور پھر تمام رجسٹروں کو ایک پلڑے میںرکھ دیا جائے گا،اور اس کارڈ کو دوسرے پلڑے میں، تمام رجسٹرہلکے ہوجائیں گے، اور کارڈ والاپلڑابھاری ہوجائے گا۔ بیشک اللہ کے نام کے مقابلے میں کوئی چیز بھاری نہیں (فَلاَ یَثْقُلُ مَعَ اسْمِ اللہِ شَیْءٌ) ۔(سنن الترمذی، حدیث نمبر 2639؛ مسند احمد، حدیث نمبر 6994؛ المجالسۃ وجواہر العلم، حدیث نمبر 2295؛ الشریعۃ للآجری، حدیث نمبر 902؛ المعجم الکبیر للطبرانی، 13/19/30)
اس حدیث میں بتایا گیا ہے کہ اس آدمی کے پاس ایک بطاقہ ہوگا، جس میں لکھا ہوگا: أَشْہَدُ أَنْ لَا إِلَہَ إِلَّا اللَّہُ وَأَشْہَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہُ وَرَسُولُہ ُ ۔ یعنی میں شہادت دیتا ہوں کہ نہیں ہے کوئی معبود سوائے اللہ کے، اور میں شہادت دیتا ہوں کہ محمد اس کے بندے اور اس کے رسول ہیں۔ یہ کلمہ اتنا زیادہ بھاری ہوگا کہ اس کی خطاؤں کا ڈھیر اس کے مقابلے میں کم ہوجائے گا، اور یہ کلمہ بھاری ہوجائے گا۔
مذکورہ حدیث کی مزید وضاحت ایک اور روایت پر غور کرنے سےہوتی ہے۔اس طویل روایت کے متعلق جزء کا ترجمہ یہ ہے:ابوہریرہ سے روایت ہے کہ پیغمبر اسلام اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مرتبہ ان سے کہا کہ میرا جوتا لے کر یہاں سے باہر جاؤ، اور جو شخص تمھیں دل کے یقین کے ساتھ لا الٰہ الّا اللہ کہتا ہوا ملے، اس کو جنت کی بشارت دے دو ( فَمَنْ لَقِیتَ مِنْ وَرَاءِ ہَذَا الْحَائِطَ یَشْہَدُ أَنْ لَا إِلَہَ إِلَّا اللہُ مُسْتَیْقِنًا بِہَا قَلْبُہُ، فَبَشِّرْہُ بِالْجَنَّة) ۔ ابو ہریرہ کہتے ہیں کہ میں جوتا لے کر باہر نکلا تو میری ملاقات سب سے پہلے عمر (ابن الخطاب) ہوئی۔ عمر نے کہا: اے ابوہریرہ ! تمھارے ہاتھ میں یہ جوتے کیسے ہیں ؟ میں نے کہا یہ اللہ کے رسول کے جوتے ہیں۔ آپ نے مجھے یہ پیغام دے کر بھیجا ہے کہ جو مجھے دل کے یقین کے ساتھ اس بات کی گواہی دیتا ہوا ملے کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی معبود نہیں، اس کو جنت کی بشارت دے دوں۔ عمر نے یہ سن کر ہاتھ سے میرے سینے پر زور سے مارا، جس سے میںزمین پر گرپڑا۔ عمر نے کہا: اے ابوہریرہ ! لوٹ جاؤ۔ میں لوٹ کر رسول اللہ کے پاس پہنچا اور میں رو پڑنے کے قریب تھا۔ میرے پیچھے عمر بھی آپہنچے۔ رسول اللہ نے کہا: اے ابوہریرہ ! کیا بات ہے ؟ میں نے کہا: میری ملاقات عمر سے ہوئی، اور جو پیغام آپ نے مجھے دے کر بھیجا تھا میں نے ان کو بتایا۔ انہوں نے میرے سینے پر زور سے مارا، جس سے میں زمین پر گرپڑا ،اور اس نے کہا:واپس جاؤ۔ رسول اللہ نے کہا: اے عمر،تم نے ایسا کیوں کیا ؟ عمر نے کہا: اے اللہ کے رسول ! میرے ماں باپ آپ پر قربان ! کیا آپ نے ابوہریرہ کو اپنے دونوں جوتے دے کر حکم دیا تھا کہ جو شخص دل کے یقین کے ساتھ لا الہ الا اللہ کہے اس کو جنت کی بشارت دے دو۔ آپ نے کہا: ہاں ! عمر نے کہا: آپ ایسا نہ کریں، میں ڈرتا ہوں کہ لوگ اسی پر بھروسہ نہ کرلیں۔ اُن کو چھوڑ دیجیے،عمل کرنے کے لیے(فَلَا تَفْعَلْ، فَإِنِّی أَخْشَى أَنْ یَتَّکِلَ النَّاسُ عَلَیْہَا، فَخَلِّہِمْ یَعْمَلُون)۔ رسول اللہ نے کہا: لوگوں کو چھوڑدو(فَخَلِّہِمْ)۔ صحیح مسلم، حدیث نمبر31۔
دونوں روایتوں پر غور کرنے سے سمجھ میں آتا ہے کہ بطاقے میں جس کلمۂ شہادت کا ذکر ہے، وہ باعتبار الفاظ نہیں ہے، بلکہ وہ باعتبارِ معنی ہے۔ شہادت کا کلمہ باعتبارِ حقیقت بلاشبہ اتنا زیادہ بھاری ہے کہ اس کی وجہ سے پہاڑ پھٹ پڑا، اور پیغمبرموسٰی بیہوش ہوکر گرپڑے (الاعراف، 7:143)۔
مذکورہ روایت میں کسی انسان کا جو بطاقہ نکلا تھا، وہ غالباً معرفت کا بطاقہ تھا۔ اس انسان سےاگرچہ بڑی تعداد میں خطائیں سرزد ہوئی تھیں، لیکن اس پر کوئی وقت ایسا گزرا، جب کہ اس کے اوپر نہایت شدت کے ساتھ خطا کا احساس طاری ہوا۔اس وقت شہادتِ حق کا اعتراف اس کی زبان سے اتنی زیادہ طاقت کے ساتھ نکلا، جو اس کی تمام خطاؤں پر بھاری ہوگیا۔ خطاؤں کے شدید احساس سے اس کا سینہ پھٹ پڑا۔ شہادت کا اعتراف اس کی زبان سے سیلاب بن کر نکل پڑا، جس سے زمین و آسمان دہل اٹھیں۔ غالباً اس کی وہ کیفیت ہوئی ہوگی، جو قرآن میں ان الفاظ میں بیان ہوئی ہے:إِنَّمَا الْمُؤْمِنُونَ الَّذِینَ إِذَا ذُکِرَ اللَّہُ وَجِلَتْ قُلُوبُہُمْ وَإِذَا تُلِیَتْ عَلَیْہِمْ آیَاتُہُ زَادَتْہُمْ إِیمَانًا وَعَلَى رَبِّہِمْ یَتَوَکَّلُونَ (8:2)۔ یعنی ایمان والے تو وہ ہیں کہ جب اللہ کا ذکر کیا جائے تو ان کے دل دہل جائیں اور جب اللہ کی آیتیں ان کے سامنے پڑھی جائیں تو وہ ان کا ایمان بڑھا دیتی ہیں اور وہ اپنے رب پر بھروسہ رکھتے ہیں۔ یہی وہ بطاقہ ہے، جس کا ذکر اوپر کی روایت میں آیا ہے۔ بطاقہ (کارڈ )کا واقعہ غالباً اسی حقیقت کا ایک ڈیمانسٹریشن (demonstration)ہوگا۔
٭ ٭ ٭ ٭ ٭ ٭ ٭
جنت کی دنیا میں انسان کامل آزادی کے ساتھ رہے گا، لیکن وہ اتنا زیادہ پختہ اور اتنا زیادہ با شعور ہوگا کہ وہ کسی بھی حال میںاپنی آزادی کا غلط استعمال نہیں کرے گا۔ وہ پوری طرح آزاد ہوتے ہوئے بھی پوری طرح ڈسپلن میں رہے گا۔یہی وہ انسان ہے جس کے سلیکشن کے لیے موجودہ زمینی سیّارہ بنایا گیا۔
واپس اوپر جائیں

جنت کا معاملہ

علامہ ابن القیم کا ایک قول ہے:فإِنَّہُ لَا نَعِیمَ لَہُ وَلَا لَذَّةَ، وَلَا ابْتِہَاجَ، وَلَا کَمَالَ، إِلَّا بِمَعْرِفَةِ اللَّہِ وَمَحَبَّتِہِ، وَالطُّمَأْنِینَةِ بِذِکْرِہِ، وَالْفَرَحِ وَالِابْتِہَاجِ بِقُرْبِہِ، وَالشَّوْقِ إِلَى لِقَائِہِ، فَہَذِہِ جَنَّتُہُ الْعَاجِلَةُ، کَمَا أَنَّہُ لَا نَعِیمَ لَہُ فِی الْآخِرَةِ، وَلَا فَوْزَ إِلَّا بِجِوَارِہِ فِی دَارِ النَّعِیمِ فِی الْجَنَّةِ الْآجِلَةِ، فَلَہُ جَنَّتَانِ لَا یَدْخُلُ الثَّانِیَةَ مِنْہُمَا إِنْ لَمْ یَدْخُلِ الْأُولَى۔وَسَمِعْتُ شَیْخَ الْإِسْلَامِ ابْنَ تَیْمِیَّةَ قَدَّسَ اللَّہُ رُوحَہُ یَقُولُ: إِنَّ فِی الدُّنْیَا جَنَّةً مَنْ لَمْ یَدْخُلْہَا لَمْ یَدْخُلْ جَنَّةَ الْآخِرَةِ(مدارج السالکین،جلد 1، صفحہ 452)۔ میر ا سوال یہ ہے کہ کیا جو لوگ جنۃ العاجلہ ، یعنی دنیا کی جنت کو پائے، اس کے لیے یقینی ہے کہ وہ آخرت کی جنت بھی پائے گا۔(حافظ سید اقبال احمد عمری، عمر آباد، تامل ناڈو)
میرے نزدیک یہ ایک مشکل سوال ہے۔ اس لیے کہ اگرچہ بظاہر ایک درست بات معلوم ہوتی ہے، لیکن دوسری طرف دیکھا جائے تو اس معاملے کی ایک مختلف تصویر سامنےآتی ہے، اور وہ یہ کہ جنت کے معاملے میں شک کا معاملہ شاید کبھی ختم نہیں ہوگا، جب تک کہ انسان جنت میں عملاً داخل نہ ہوجائے۔ کیوں کہ ایک حدیث ِ رسول ہےکہ تم میں سے کسی کو ہر گز اس کا عمل نجات نہیں دلا سکتا( لَنْ یُنَجِّیَ أَحَدًا مِنْکُمْ عَمَلُہ)۔ لوگوں نے کہا: آپ بھی نہیں، اے خداکے رسول۔ آپ نے کہا: میں بھی نہیں، مگر یہ کہ اللہ نے مجھے اپنی رحمت سے ڈھانک لیا ہے، تو خود کوسیدھے راستے پر رکھو، میانہ روی اختیار کرو، صبح و شام کی عبادت کرو، اور رات کے کچھ حصے میں۔ میانہ روی اختیار کرو، میانہ روی۔ تم مراد کو پہنچ جاؤگے (صحیح البخاری، حدیث نمبر 6463) ۔
یہ معاملہ ایک بے حد نازک معاملہ ہے، چنانچہ میں نے اپنی ایک کتاب میں اس طرح لکھا ہے: یہ محبت اور خوف کا ایک ایسا مقام ہے، جس میں آدمی جس سے ڈرتا ہے، اسی کی طرف بھاگتا ہے، جس سے چھننے کا خطرہ محسوس کرتا ہے، اسی سے پانے کی بھی امید رکھتا ہے۔ یہ ایک ایسا اضطراب ہے، جو سراپااطمینان ہے، اور ایسا اطمینان ہے، جو سراپا اضطراب ہے۔
واپس اوپر جائیں

رزق کا معاملہ

قرآن کی ایک آیت ان الفاظ میں آئی ہے:وَمَا تَدْرِیْ نَفْسٌ مَّاذَا تَکْسِبُ غَدًا وَمَا تَدْرِیْ نَفْسٌۢ بِاَیِّ اَرْضٍ تَمُوْتُ (31:34)۔ یعنی اور کوئی شخص نہیں جانتا کہ کل وہ کیا کمائی کرے گا، اور کوئی شخص نہیں جانتا کہ وہ کس زمین میں مرے گا۔ اسی بات کو ایک حدیث میں ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے:إنَّ جِبْرِیلَ عَلَیْہِ السَّلَامُ أَلْقَى فِی رُوعِیَ أَنَّ أَحَدًا مِنْکُمْ لَنْ یَخْرُجَ مِنَ الدُّنْیَا حَتَّى یَسْتَکْمِلَ رِزْقَہُ، فَاتَّقُوا اللَّہَ أَیُّہَا النَّاسُ، وَأَجْمِلُوا فِی الطَّلَبِ(مستدرک الحاکم، حدیث نمبر2136) ۔ یعنی جبریل نے میرے دل میں یہ بات ڈالی کہ تم میں سے کوئی اس دنیا سے ہرگز نہیں جاسکتا، یہاں تک کہ وہ اپنے رزق کو مکمل کردے، اے لوگو، اللہ کا تقویٰ اختیار کرو، اور طلب میں خوبصورتی پیدا کرو۔
قرآن کی اس آیت اور اس حدیثِ رسول کا مطالعہ کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ انسان کی معاش کا معاملہ خالق کی طرف سے طے ہوتا ہے، نہ کہ انسان کے باپ کی طرف سے۔ موجودہ زمانہ اس معاملے کا ایک مظاہرہ (demonstration) ہے۔ موجودہ زمانے میں تقریباً ہر جگہ یہ منظر دکھائی دے رہا ہے کہ باپ اندھا دھند کماتا ہے۔ اس کا یہ کمانا، اور گھر بنانا ، اس لیے ہوتا ہے کہ اس کے بچے اس کے اندر آرام کی زندگی گزاریں۔ لیکن ہر ایک کے ساتھ یہ واقعہ پیش آتا ہے کہ باپ کی بنائی ہوئی دنیا میں رہنا، ان کو نصیب نہیں ہوتا۔ وہ عملاً اس دنیا میں جیتا اور مرتا ہے، جو اس نے خود بنائی تھی۔ گہرائی کے ساتھ دیکھا جائے تو صرف ایک نسل میں زندگی کا سارا نقشہ بدل جاتا ہے۔ باپ نے کچھ چاہا تھا، اور عملاً کچھ اور ہوا۔
اس عام تجربے سے معلوم ہوتا ہے کہ باپ کا کام یہ نہیں ہے کہ وہ رازق بننے کی کوشش کرے۔ باپ کا کام صرف یہ ہے کہ وہ اپنی اولاد کو زندگی کا شعور دے۔وہ اپنی اولاد کو رازِ حیات بتائے۔ وہ اپنی اولاد کو خالق کا تخلیقی نقشہ بتائے، نہ یہ کہ یہ وہ خود خالق کی سیٹ پر بیٹھ جائے۔ باپ کچھ بھی کرے، لیکن عملاً وہی ہوگا، جو خالق نے مقدر کیا ہے۔
واپس اوپر جائیں

حکومتِ الٰہیہ یا حکومتِ انسانیہ

اگر آپ دنیا میں حکومت ِ الٰہیہ قائم کرنے کی تحریک چلائیں، تو اپنی حقیقت کے اعتبار سے وہ حکومت الٰہیہ نہیں ہوگی، بلکہ وہ حکومتِ الٰہیہ کے نام پر انسانی حکومت قائم کرنے کی تحریک ہوگی۔ یہ دنیا پوری کی پوری حکومت ِ الٰہیہ کی دنیا ہے۔ قرآن میں بار بار یہ بات کہی گئی ہے کہ زمین و آسمان کا خالق صرف ایک اللہ ہے، اور اسی کے ہاتھ میں پوری کائنات کا اقتدار ہے۔
اس قسم کی ایک آیت وہ ہے، جس کو آیت الکرسی (البقرۃ، 2:255)کہا جاتا ہے۔ آیت الکرسی گویا اسی حاکم مطلق کاشاہانہ منشور ہے۔ اس منشور میں کائنات کے مقتدرِ اعلی کی طرف سے یہ اعلان کیا گیا ہے :وَسِعَ کُرْسِیُّہُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضُ (2:255)۔ یعنی اس کی حکومت آسمانوں اور زمین پر چھائی ہوئی ہے:
His throne extends over the heavens and the earth.
یہ کائنات پوری کی پوری حکومتِ الٰہیہ کی کائنات ہے۔ پورے زمین و آسمان میں اسی ایک اللہ کی حکومت ہے۔ اس حکومت میں کوئی اس کا شریک نہیں۔انسان کے لیے جائز حکومت کی صرف ایک صورت ہے ۔ وہ یہ کہ وہ محدود معنٰی میں انتظامیہ (administration) ہو، نہ کہ معروف سیاسی تصور کے مطابق، ایک بااقتدار حکومت۔
دنیا میں انسان کو اگر حکومت ملتی ہے، تو وہ بطور امتحان (test) ہے۔ دنیا میں اگر کوئی انسانی حکومت قائم ہوتی ہے ، تو وہ بطور ٹیسٹ ہے(الانعام، 6:165)۔ یہ امتحانی دور صرف قیامت تک کے لیے ہے۔ اس کے بعد اللہ تعالی حکومتِ انسانی کے اس دور کو ختم کردے گا۔ اس حقیقت کا اعلان ایک حدیث میں کیا گیا ہے۔ اس حدیث کا ترجمہ یہ ہے: قیامت کے دن اللہ زمین کو مٹھی میں لے لے گا، اور آسمان کو اپنے دائیں ہاتھ میں لپیٹ لے گا، پھر کہے گا، میں بادشاہ ہوں، کہاں ہیں زمین کے بادشاہ (صحیح مسلم، حدیث نمبر 2787)۔
واپس اوپر جائیں

حکم صرف اللہ کا

قرآن کی ایک آیت ان الفاظ میں آئی ہے:إِنِ الْحُکْمُ إِلَّا لِلَّہِ أَمَرَ أَلَّا تَعْبُدُوا إِلَّا إِیَّاہُ (12:40)۔ یعنی اقتدار صرف اللہ کے لیے ہے۔ اس نے حکم دیا ہے کہ اس کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو۔ قرآن کی اس آیت میں جس حکم کا ذکر ہے، وہ ایک عبادتی حکم ہے، وہ کوئی سیاسی حکم نہیں ہے۔ یعنی اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ خدا کی حکومت بزور ساری دنیا میں قائم کرو۔ بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ خود اپنے آپ کو کامل معنوں میں اللہ کا عبادت گزار بناؤ۔
قرآن کی یہ آیت بتاتی ہے کہ ایک فرد دنیا میں کس طرح رہے۔ اللہ کی عبادت گزاری کا عمل اللہ کی معرفت سے شروع ہوتا ہے۔ انسان پہلے غور و فکر کے ذریعے اللہ رب العالمین کو معرفت کے درجے میں دریافت (discover) کرتا ہے۔ وہ مخلوقات کی دنیا میں خالق کی کارفرمائی کا شعوری علم حاصل کرتا ہے۔ وہ اپنے وجود سے لے کر خارجی دنیا تک ہر جگہ خالق کی کارفرمائی کو دیکھتا ہے۔ وہ دریافت کرتا ہے کہ اس دنیا میں وہ محکوم ہے، وہ حاکم نہیں ہے۔ اس کے لیے حقیقت پسند رویہ صرف سبمیشن (submission) ہے، یعنی وہ اپنے آپ کو اللہ رب العالمین کے سامنے سرینڈر (surrender)کرے۔ وہ بظاہر با اختیار ہونے کے باوجود اللہ کے سامنے بے اختیار ہوکر جھک جائے۔
اسی کا نام معرفت ہے۔دینِ خداوندی کا آغاز معرفت سے ہوتا ہے۔ انسان پہلے اپنی عقل کو استعمال کرکے اللہ رب العالمین کو دریافت کرتا ہے، اور اس کے بعد اس کے تقاضے کے طور پر وہ اللہ رب العالمین کا تابعدار بنتا ہے۔ اس کی سوچ ،اس کا شعور، اس کے جذبات، سب اللہ کے آگے جھک جاتے ہیں۔ وہ سب سے زیادہ اللہ سے محبت کرنے والا بن جاتا ہے۔ اس کا سول کنسرن (sole concern) صرف اللہ رب العالمین بن جاتا ہے۔ جب کوئی شخص اس طرح عبادت کلچر میں ڈھل جائے، تو وہی وہ انسان ہے، جس کو قرآن میں ربانی انسان کہا گیاہے (آل عمران، 3:79)۔
واپس اوپر جائیں

خدا اور انسان

تخلیق کا یہ عجیب معاملہ ہے کہ تخلیق کے واقعات ہر جگہ دکھائی دیتے ہیں، لیکن خالق مکمل طور پر ناقابلِ مشاہدہ ہے۔انسان جب پیدا ہوتا ہے تو وہ شعوری یا غیر شعوری طور پر اپنے خالق کی تلاش میں رہتا ہے، جس طرح کوئی بچہ اپنی گم شدہ ماں کی تلاش میں رہتا ہے۔ لیکن ساری عمر تلاش کرنے کے باوجود انسان اپنے خالق سے بے خبر رہتا ہے۔ وہ اپنے ماں باپ کو جانتا ہے، لیکن وہ اپنے خالق کو نہیں جانتا ۔ اس حقیقت کوفانی بدایونی (1879-1961) نے اس عارفانہ شعر میں بیان کیا ہے:
مجھے بلا کے یہاں آپ چھپ گیا کوئی میں وہ مہماں ہوں، جسے میزباں نہیں ملتا
انسان اگر اپنے خالق کو دیکھ لے، تو وہ اپنے خالق کو اس سے زیادہ مانے گا، جتنا وہ اپنے ماں باپ کو مانتا ہے۔ مگر ایسا نہیں ہوتا۔ اِس کا سبب کیا ہے۔ غالباً خالق چاہتا ہے کہ وہ اپنے بندے کو ایک سرپرائز (surprise) دے۔ وہ اچانک اپنے بندے کے سامنے ظاہر ہو۔ خدا یہ چاہتا ہے کہ وہ اپنے بندے کو ایک ناقابلِ بیان استعجاب (sense of awe) کا تجربہ کرائے۔ خدا یہ چاہتا ہے کہ وہ اپنے بندے کو سب سے بڑی خوشی کا تحفہ دے۔ وہ چاہتا ہے کہ بندہ جب اپنے خدا کو پائے تو وہ اس کے لیے سادہ طور پر صرف پانا نہ ہو، بلکہ وہ اس کے لیے حیرت ناک خوشی کا ایک ایسا تجربہ ہو، جس کو کسی انسان نے نہ دیکھا، اور نہ سنا، اور نہ کسی انسان کے دل پر اس کا تصور گزرا۔
تاہم یہ پر استعجاب تجربہ صرف اس انسان کے حصے میں آئے گا، جو اپنے رب کا سچا متلاشی بنا ہو۔جس کا جینا اور مرنا اپنے رب کے لیے ہو۔جس کی راتیں اور دن اس کی یاد میں بسر ہوں، اور اس کے انتظار میں گزرے ہوں۔ جس نے خدا کو اس طرح تلاش کیا، جس طرح کوئی چھوٹا بچہ اپنی ماں کو اس وقت تلاش کرتا ہے، جب کہ وہ کسی بھیڑ میں اس سے بچھڑ گئی ہو۔ خدا کو پانے کی خوشی اس انسان کے لیے مقدر ہے، جو موجودہ دنیا میں حقیقی معنوں میں خدا کا متلاشی (seeker) بن کر رہا ہے۔ جو لوگ خدا کی یاد میں تڑپے ہوں، وہی وہ لوگ ہیں، جو خدا کو پانے کی خوشی میں حصے دار بنیں گے۔
واپس اوپر جائیں

معرفتِ الٰہی

معرفت کیا ہے۔ معرفت یہ ہے کہ ایک انسان غور و فکر کے ذریعے یہ جان لے کہ اس دنیا کا ایک خالق (Creator) ہے۔ وہ خالق ایک زندہ ہستی ہے۔ وہ کائنات میں اسی طرح موجود ہے، جس طرح سورج ایک روشن حقیقت کے طور پر موجود ہے۔ اس دریافت کے مطابق، خدا صرف ایک عقیدہ نہیں ہے، بلکہ وہ ایک زندہ حقیقت ہے۔ وہ ایک صاحبِ اقتدار ہستی ہے۔ اس حقیقت کو قرآن میں ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہےکہ وَسِعَ کُرْسِیُّہُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْض (2:255):
His throne extends over the heavens and the earth
مومن (believer) کے اندر خدا کا وجود اس طرح ایک زندہ حقیقت کے طور پر ہونا چاہیے کہ خدا کے تصور سے اس کی وہ حالت ہوجائے، جس کو قرآن میں ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے: إِنَّمَا الْمُؤْمِنُونَ الَّذِینَ إِذَا ذُکِرَ اللَّہُ وَجِلَتْ قُلُوبُہُمْ وَإِذَا تُلِیَتْ عَلَیْہِمْ آیَاتُہُ زَادَتْہُمْ إِیمَانًا(8:2)۔ یعنی ایمان والے تو وہ ہیں کہ جب اللہ کا ذکر کیا جائے تو ان کے دل دہل جائیں اور جب اللہ کی آیتیں ان کے سامنے پڑھی جائیں تو وہ ان کا ایمان بڑھا دیتی ہیں :
True believers are those whose hearts tremble with awe at the mention of God, and whose faith grows stronger as they listen to His revelations.
انسان اس دنیا میں اپنے آپ کو ایک زندہ وجود کے طور پر پاتا ہے۔ اسی طرح اس کو زیادہ برتر معنوں میں اس حقیقت کا ادراک ہونا چاہیے کہ یہاں اسی طرح ایک اورزیادہ برتر ہستی موجود ہے۔ اس کو زندہ خدا کا اتنا زیادہ یقین ہونا چاہیے کہ اس کو بالفرض اپنے آپ پر شک ہو، تو ہو، لیکن اللہ رب العالمین کے وجود پر ادنی درجے میں بھی اس کے اندر کوئی شک پایا نہ جائے۔ اس کو اس بات کازندہ یقین ہو کہ وہ ہر لمحہ اللہ کی پکڑ میں ہے۔ یہ یقین و ایمان کسی کو غور و فکر کے ذریعے حاصل ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ یقین کے لیےکوئی دوسرا ذریعہ نہیں۔
واپس اوپر جائیں

امت کی حالت ِزار

آج کل تمام دنیا میں مسلمانوں کی سوچ یہ ہے کہ وہ امتِ مسلمہ کی حالت ِزار کو بیان کرتے ہیں، اورپھر یہ اعلان کرتے ہیں کہ فلاں دشمنِ اسلام طاقت اس کی ذمہ دار ہے۔ مسلمانوں کے لکھنے اور بولنے والے تقریباً سب کے سب یہی بولی بولتے ہیں اور یہی بات لکھتے ہیں۔ حالت ِزار کا یہ تصور اگر درست ہے تو قرآن و سنت کے مطابق، مسلم مقرر اور محرر کو یہ کرنا چاہیے کہ وہ یہ دریافت کریں کہ امتِ مسلمہ سے خدا کی نصرت کیوں اٹھ گئی۔ اس معاملے میں کسی دشمن کا انکشاف کرنا، یقینی طور پر خلافِ اسلام فعل ہے۔
اس نقطۂ نظر کی تائیدمیں بہت سےواضح نصوص موجود ہیں۔ مثلاً قرآن کی اس آیت پر غور کیجیے: یَاأَیُّہَا الَّذِینَ آمَنُوا عَلَیْکُمْ أَنْفُسَکُمْ لَا یَضُرُّکُمْ مَنْ ضَلَّ إِذَا اہْتَدَیْتُمْ (5:105)۔ یعنی اے ایمان والو، تم پر لازم ہے کہ تم اپنی فکر کرو ۔ کوئی گمراہ ہوا تو اس سے تمہارا کچھ نقصان نہیں اگر تم ہدایت پر ہو۔اس آیت کے مطابق مسلمانوں کو چاہیے کہ جب بھی ان کی زندگی میں کوئی مسئلہ پیدا ہو تو اس کا سبب خود اپنے اندر تلاش کریں، کسی دوسرے پر اپنے مسئلے کی ذمہ داری ڈالنے کی کوشش نہ کریں۔
یہ رب العالمین کی قائم کردہ فطرت کا اٹل قانون ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ سبب ہمیشہ آدمی کے اندر ہوتا ہے، نہ کہ اس کے باہر۔ جو لوگ ایسا کریں کہ وہ اپنے باہر سبب ڈھونڈ کر اس کو برا بتائیںیا اس کے خلاف لڑائی چھیڑیں، تو ایسا طریقہ ان کو کوئی فائدہ دینے والا نہیں۔ کیوں کہ اصل سبب تو اندر ہے، اور وہ باہر کے کسی مفروضہ دشمن پر ساری ذمہ داری ڈال رہے ہیں۔ یہ طریقہ خداکی دنیا میں کبھی کارآمد ہونے والا نہیں۔
تشخیص (diagnosis) اگر صحیح ہو تو اس کی بنیاد پر کی ہوئی تجویز (prescription) مفید ہوتی ہے۔ اس کے برعکس اگر تشخیص درست نہ ہو تو اس کی بنیاد پر جو تجویز کی جائے گی، وہ بھی بے اثر ثابت ہوگی۔ یہ ایک اٹل اصول ہے، اور اس اصول میں کوئی استثنا نہیں۔
واپس اوپر جائیں

امت میں قتال

پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشین گوئیوں میں سے ایک پیشین گوئی یہ ہے کہ بعد کے زمانے میں امت کے اندر قتال کا کلچر جاری ہوجائےگا، اور قتال کا یہ کلچر قیامت تک جاری رہے گا۔ یہ روایت حدیث کی مختلف کتابوں میں آئی ہے۔ ایک روایت کے الفاظ یہ ہیں:إِذَا وُضِعَ السَّیْفُ فِی أُمَّتِی لَمْ یُرْفَعْ عَنْہَا إِلَى یَوْمِ الْقِیَامَةِ (سنن ابو داؤد، حدیث نمبر4252)۔یعنی جب میری امت میں تلوار رکھ دی جائے گی تو وہ اس سے قیامت تک نہیں اٹھائی جائے گی۔
امت کے بارے میں یہ حدیث ایک پیشین گوئی کے طور پر آئی ہے۔ اس لحاظ سے امتِ مسلمہ کے بعد کے تاریخی واقعات کی بنیاد پر اس حدیث کی تشریح کی جائے گی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جس وقت یہ بات کہی ، اس وقت اس کا مصداق موجود نہ تھا۔ یہ مصداق آپ کے بعد امت کے اندر پیدا ہوا۔ اس لیے اس حدیث کی تشریح کا صحیح طریقہ یہ ہے کہ امت کے بعد کے زمانے میں اس کا مصداق تلاش کیا جائے، اور پھر اس کی روشنی میں اس حدیث کی شرح کی جائے۔
اب دیکھیے کہ قرآن میں قتال کا حکم کس سیاق (context) میں آیا ہے۔ یہ بات قرآن کی اس آیت سے معلوم ہوتی ہے:وَقَاتِلُوہُمْ حَتَّى لَا تَکُونَ فِتْنَةٌ وَیَکُونَ الدِّینُ کُلُّہُ لِلَّہِ (8:39)۔ یعنی اور ان سے جنگ کرو، یہاں تک کہ فتنہ باقی نہ رہے، اور دین سب اللہ کے لیے ہوجائے۔قرآن کی اس آیت میں قتال کا حکم بھی ہے، اور یہ بھی ہے کہ یہ قتال کب تک جاری رکھنا ہے۔ اس آیت میں فتنہ کا لفظ استعمال ہوا ہے۔ فتنہ کا لفظی مطلب ہے، سونے کو آگ میں ڈال کر تپانا ۔ اسی سے اس لفظ کو ستانے کے مفہوم میں استعمال کیا جانے لگا۔ قرآن کی اس آیت میں فتنہ کا لفظ مذہبی ایذا رسانی (religious persecution)کے معنی میں آیا ہے۔
پیغمبرِ اسلام سے پہلے دنیا میں مذہبی رواداری (religious tolerance) کا وجود نہ تھا۔ اس زمانے میں غالب گروہ کے خلاف مذہب اختیار کرنے والے کو مذہبی ایذا رسانی کا شکار بنایا جاتاتھا۔ یہ کلچر خالق کے تخلیقی نقشے (creation plan) کے خلاف تھا۔ چنانچہ رسول اور اصحابِ رسول کو یہ حکم دیا گیا کہ مذہبی ایذا رسانی (فتنہ) کے خلاف جنگ کرکے اس کو ختم کردو۔ تاکہ تخلیقی نقشہ کے مطابق دنیا میںمذہبی آزادی کا دور آجائے۔
پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کا زمانہ ساتویں صدی عیسوی کے رُبعِ اول کا زمانہ ہے۔ اس وقت جب رسول نے مذہبِ توحید کا مشن شروع کیا تو وہ لوگ آپ کے خلاف ہوگئے، جو مذہبِ شرک پر قائم تھے۔ انھوں نے آپ کے خلاف تشدد اور جنگ کا طریقہ اختیار کیا۔ اس طرح دونوں گروہوں کے درمیان ٹکراؤ ہوا، جو آخر کار یہاں تک پہنچا کہ مذہبی ایذا رسانی کا دور ہمیشہ کے لیے ختم ہوگیا۔ ساتویں صدی عیسوی سے اب تک کی تاریخ بتاتی ہےکہ مذہب کے نام پر ایذا رسانی کا دور اس طرح ختم ہوا کہ وہ دوبارہ عمومی کلچر کے طور پر دنیا میں رائج نہ ہوسکا۔
اس سے معلوم ہوا کہ اسلام میں قتال (جنگ) کا حکم ایک عارضی(temporary) سبب سے تھا۔ جب یہ سبب ختم ہوجائے تو قتال کا حکم بھی عملاً موقوف ہوجائے گا۔ یہی اسلام کی تاریخ میں پیش آیا۔ اسلام کے ابتدائی دور میں ، ماضی کے تسلسل کے تحت جنگ کی صورت پیش آئی ۔ مگر جنگ کا یہ حکم عارضی تھا۔ قرآن کے الفاظ میں جب محاربین اپنا اوزار رکھ دیں(محمد، 47:4)، تو جنگ کا خاتمہ ہوگیا، اور اس کے بعد وہ اصل کام شروع ہوگیا جو اسلام کا مستقل حکم تھا، یعنی دعوت الی اللہ۔ اس کے بعد انیسویں صدی کا زمانہ جب شروع ہوا تو یہ زمانہ حقیقت میں جنگ سے بیزاری اور مذہبی آزادی کو بطور نارم (norm)ماننے کا زمانہ تھا، مگر مسلمانوں نے دوبارہ ایک جنگ شروع کردی۔ بظاہر یہی وہ جنگ ہے جس کا اشارہ بطور پیشین گوئی مذکورہ بالا حدیث ِرسول میں کیا گیا تھا۔ اور اس پیشین گوئی کے مطابق، بظاہر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اس جنگ کا خاتمہ ہونے والا نہیں۔ یہاں تک کہ قیامت آجائے اور خود دنیا کا خاتمہ ہوجائے۔
امت میں یہ دوسرے دور کا جو قتال وجود میں آیا، اس کاکوئی تعلق قرآن کے حکمِ قتال (الانفال، 8:39) سے نہیں ہے۔ یہ خود ساختہ نظریے کے تحت وجود میں آیا ہے۔ قرآن میں قتال کا حکم ختمِ فتنہ (الانفال ، 8:39) کے لیے تھا۔ اس کے برعکس، بعد کے زمانے میں جو قتال امت میں جاری ہوا، وہ مسلم رہنماؤں کے بیان کے مطابق ختم اعدا(to finish the enemies) کے لیے ہے۔ مگر ختم اعدا کے لیے جنگ کرنے کا کوئی تصور اسلام میں نہیں ۔
قرآن کی صراحت کے مطابق، عداوت جنگ کا اشو نہیں ہے، بلکہ وہ دعوت کا اشو ہے۔ مسلمانوں کو اگر کوئی شخص یا گروہ بظاہر دشمن دکھائی دے تو اس سے وہ لڑائی نہیں چھیڑ سکتے۔ ان کو صرف یہ کرنا ہے کہ وہ اس پر پرامن انداز میں دعوت الی اللہ کا کام کریں۔یہ حکم قرآن کی ایک آیت سے نہایت واضح طور پر معلوم ہوتا ہے:وَلَا تَسْتَوِی الْحَسَنَةُ وَلَا السَّیِّئَةُ ادْفَعْ بِالَّتِی ہِیَ أَحْسَنُ فَإِذَا الَّذِی بَیْنَکَ وَبَیْنَہُ عَدَاوَةٌ کَأَنَّہُ وَلِیٌّ حَمِیمٌ (41:34)۔ یعنی بھلائی اور برائی دونوں برابر نہیں، تم جواب میں وہ کہو جو اس سے بہتر ہو پھر تم دیکھو گے کہ تم میں اور جس میں دشمنی تھی، وہ ایسا ہوگیا جیسے کوئی دوست قرابت والا۔
موجودہ زمانے میں مسلمان دشمنانِ اسلام کے نام سے جو مسلّح جنگ چھیڑے ہوئے ہیں، وہ ہرگز قرآن یا اسلام کے مطابق نہیں ہے۔ یہ مسلمانوں کے اپنے خودساختہ جواز (self-styled justification) کی بنیاد پر ہے۔ یہ لوگ قرآن و حدیث کی غلط تشریح کے ذریعے اس کو درست ثابت کررہے ہیں۔ یہ طریقہ غلطی پر سرکشی کا اضافہ ہے۔
اسی غلط توجیہات کی بنیاد پر ہم یہ دیکھ رہے ہیں کہ ان متشددانہ کوششوں کا انجام بالکل برعکس صورت میںنکل رہا ہے۔ مسلمان مسلسل طور پر ذلت آمیز شکست کا تجربہ کررہے ہیں۔ ان کوششوں کا بے نتیجہ ہونا، بلکہ کاؤنٹر پروڈکٹیو (counter-productive) ثابت ہونا اس بات کا ثبوت ہے کہ وہ اللہ کی مرضی کے مطابق نہیں۔ کیوں کہ قرآن میں بار بار یہ وعدہ کیا گیا ہے کہ اگر تم اللہ کے راستے میں کوشش کروگے تو تمہاری کوشش اللہ کی نصرت سے ضرور کامیاب ہوگی۔ اس یقین دہانی کے باوجود مسلمانوں کا ناکام ہونا، اس بات کا ثبوت ہے کہ وہ غلطی پر ہیں، اور غلطی کرنے والے کے لیے توبہ ہے، نہ کہ اپنی غلطی کو مزید جاری رکھنا۔
واپس اوپر جائیں

صلح پہلا آپشن

ایک حدیث رسول ان الفاظ میں آئی ہے:عَنْ عَلِیِّ بْنِ أَبِی طَالِبٍ، قَالَ:قَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّى اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ:إِنَّہُ سَیَکُونُ بَعْدِی اخْتِلافٌ، أَوْ أَمْرٌ، فَإِنِ اسْتَطَعْتَ أَنْ تَکُونَ السِّلْمَ، فَافْعَلْ (مسند احمد، حدیث نمبر695)۔یعنی علی ابن ابی طالب سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میرے بعدعنقریب امت میں اختلافات ہوں گے،یا کچھ معاملات پیش آئیں گے۔ اگر تمہارے لیے ممکن ہو کہ تم صلح کو اختیار کرو، تو ضرور ایسا کرو۔
اس حدیث ِرسول میں بتایا گیا ہے کہ جب اختلاف پیدا ہو تو اس وقت دانش مند آدمی کے لیے پہلا آپشن (option) کیا ہوتا ہے۔ وہ یہ کہ فریقِ ثانی کی شرطوں کو قبول کرتے ہوئے اس سے صلح کرلی جائے۔ اس کا سبب یہ ہے کہ اجتماعی اختلافات کبھی معیار (ideal) کی بنیاد پر طے نہیں ہوتے۔ اختلاف کے معاملے میں انتخاب (option) دو بہتر کے درمیان نہیں ہوتا، بلکہ چھوٹے شر (lesser evil)اور بڑے شر (greater evil)کے درمیان ہوتا ہے۔ اگر آدمی چھوٹے شر پر راضی نہ ہو تو اس کے بعد اس کو جس چیز پر راضی ہونا پڑتا ہے، وہ بڑا شر ہے۔اسی کو حضرت عمر نے خیر الشرین کہا ہے۔
دانش مند آدمی وہ ہےجو صلح کو بڑی چیز سمجھے، نہ کہ اپنے مفروضہ آئڈیل کو ۔ آدمی کو جاننا چاہیے کہ اجتماعی معاملات میں ہمیشہ صرف ایک چیز قابلِ عمل (workable) ہوتی ہے، اور وہ پریکٹکل وزڈم (practical wisdom) ہے، نہ کہ آئڈیل وزڈم (ideal wisdom)۔ آئڈیل وزڈم وہ ہے جو اعلیٰ اصول کے مطابق درست نظر آئے۔ اس کے برعکس پریکٹکل وزڈم وہ ہے، جو عملی طور پر قابل حصول ہو۔ موجودہ دنیا میں ہر انسان کو آزادی حاصل ہے، مگر آئڈیل وزڈم اس دنیا میں قابلِ حصول نہیں ، بلکہ اس دنیا میں جو چیز قابلِ حصول ہے، وہ صرف پریکٹکل وزڈم ہے۔ اسی حقیقت کو جاننے کا نام دانش مندی ہے، اور اس حقیقت سے بے خبری کا نام بے دانشی۔
واپس اوپر جائیں

تقویٰ بقدرِ استطاعت

قرآن کی ایک آیت کا ایک جزءیہ ہے: فَاتَّقُوا اللَّہَ مَا اسْتَطَعْتُمْ(64:16)۔ یعنی پس تم اللہ کا تقویٰ اختیار کرو، جہاں تک ہوسکے۔ اتقوا للہ کا مطلب یہ نہیں ہے کہ بطور حکم اللہ سے ڈرو، بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ سے ڈرنے والے بنو۔تفکر و تدبر کے ذریعے اپنے ذہن کو اس طرح تیار کرو کہ وہ بطور مزاج اللہ سے اندیشہ رکھنے والا بن جائے۔ تقویٰ کسی آدمی کے اندر تربیت کے ذریعے آتا ہے، تقویٰ کوئی ایسی چیز نہیں ، جو خود بخود آدمی کے اندر بطور عطیہ موجود ہو۔ اس حقیقت کو ملحوظ رکھتے ہوئے غورکیجیے تو آیت کا مطلب یہ سمجھ میں آئے گا کہ اپنے آپ کو تقویٰ کے لیے تیار کرو۔ اپنی سوچ کو متّقیانہ سوچ بناؤ۔ اپنے مزاج کو متقیانہ مزاج بناؤ۔ اپنے آپ کو تربیت دے کر ایسا بناؤ کہ تم ہر صورتِ حال میں مثبت رسپانس (positive response) دینے والے بن سکو۔ تقویٰ ایک حاصل کردہ صفت ہے، تقویٰ کوئی ایسی صفت نہیں، جو انسان کو اپنے آپ مل جائے۔
مثال کے طور پر قرآن کی ایک آیت یہ ہے: یَاأَیُّہَا الَّذِینَ آمَنُوا کُونُوا قَوَّامِینَ لِلَّہِ شُہَدَاءَ بِالْقِسْطِ وَلَا یَجْرِمَنَّکُمْ شَنَآنُ قَوْمٍ عَلَى أَلَّا تَعْدِلُوا اعْدِلُوا ہُوَ أَقْرَبُ لِلتَّقْوَى (5:8)۔ اس آیت کا مطلب یہ ہے کہ کوئی قوم آپ کے ساتھ دشمنی کا معاملہ کرے تو ایسے موقعے پر عدل کی روش پر قائم رہنا، یہ تقویٰ ہے۔ اس قسم کا تقویٰ کب پیدا ہوتا ہے۔ وہ اس وقت پیدا ہوتا ہے، جب کہ آدمی کا ذہن اتنا زیادہ تربیت یافتہ ہو کہ وہ ایسا نہ کرے کہ پیش آنے والے واقعے پر بھڑک اٹھے، بلکہ وہ اپنے آپ کو ردّعمل سے بچائے، وہ بے لاگ (objective) انداز میں سوچے کہ میرے ساتھ جو کیا گیا ہے، وہ جوابی کارروائی (retaliation) کی بنا پر تو نہیں۔ اگر ایسا ہے تو ایک متقی انسان خود اپنے آپ کو ذمے دار ٹھہرائے گا۔ وہ سوچے گا کہ آئندہ مجھے ایسی روش سے اپنے آپ کو بچانا ہے، جو فریقِ مخالف کے اندر جوابی ذہن پیدا کرےکہ وہ انتقامی ذہن کے ساتھ میرے خلاف کارروائی کرنے لگے۔ اس لیے مجھے ایسا نہیں کرناہے کہ میں جوابی ذہن کے تحت بھڑک اٹھوں، اور جو غلطی میری ہے، اس کا الزام دوسرے کو دینا شروع کردوں۔
یہ تقویٰ یا متقیانہ روش ہے۔ اس قسم کا تقویٰ کسی آدمی کے اندر فوری طور پر ایک بٹن دباکر پیدا نہیں ہوتا۔انسان کو اپنے آپ کو تربیت دے کر اس قسم کی متقیانہ روش کے لیے تیار کرنا پڑتا ہے۔ اس لیے آیت کا یہ لفظ کہ متقیانہ روش پر قائم رہو، کا مطلب یہ ہے کہ متقیانہ روش کے لیے اپنے آپ کو تیار کرو۔ اپنے ذہن کو منفی ذہن بننے سے بچاؤ، اپنے ذہن میں شکایتی نفسیات پیدا نہ ہونے دو۔ عقلی غور و فکر کے ذریعے اس حقیقت کو دریافت کرو کہ جو معاملہ پیش آتا ہے، وہ یک طرفہ سبب سے نہیں پیش آتا۔ اس کا سبب ہمیشہ دو طرفہ ہوتا ہے۔ اس لیے تقویٰ یہ ہے کہ آدمی اپنی جانب کی غلطی سے خود کو بچائے۔ گویا تقویٰ محاسبۂ خویش کا ایک مثبت نتیجہ ہے۔
تقویٰ اس طرح اچانک نہیں پیدا ہوتا کہ اب تک آپ کا ذہن ایک سوئچ (switch) کے تحت کام کررہا تھا،اب آپ اپنی انگلی کے ذریعے دوسرے سوئچ کو دبادیں ، اور آپ کے اندر متقیانہ روش پیدا ہوجائے۔ تقوی ایک تھنکنگ پراسس (thinking process) کا نتیجہ ہے۔ جس آدمی نے اپنے اندر یہ پراسس جاری نہ کیا ہو، اس کے اندر تقویٰ بھی پیدا نہیں ہوگا۔
فاتَّقُوا اللَّہَ مَا اسْتَطَعْتُم کا مطلب یہ ہے — اخلاص کے ساتھ تم جتنا زیادہ اپنے آپ کو تقویٰ کے لیے تیار کرو گے، اللہ تعالی اس کو قبول فرمائے گا، اور مزید کی توفیق دے گا۔ تقویٰ کوئی جامد چیز نہیں ہے۔ تقویٰ ایک ارتقا پذیر صفت ہے۔ تقویٰ ایک درخت کی مانند ہے۔ تقویٰ کا درخت آدمی خود اپنے اندر لگاتا ہے۔ اس کے بعد اخلاص کے بقدر مزید اس کو توفیق حاصل ہوتی ہے، اور پھر اللہ کی توفیق سے یہ درخت بڑھتا رہتا ہے، یہاں تک کہ اس کا معاملہ وہ ہوجاتا ہے، جوقرآن میں ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے: أَلَمْ تَرَ کَیْفَ ضَرَبَ اللَّہُ مَثَلًا کَلِمَةً طَیِّبَةً کَشَجَرَةٍ طَیِّبَةٍ أَصْلُہَا ثَابِتٌ وَفَرْعُہَا فِی السَّمَاءِ ۔تُؤْتِی أُکُلَہَا کُلَّ حِینٍ بِإِذْنِ رَبِّہَا وَیَضْرِبُ اللَّہُ الْأَمْثَالَ لِلنَّاسِ لَعَلَّہُمْ یَتَذَکَّرُونَ (14:24-25)۔ وہ ہر وقت پر اپنا پھل دیتا ہے اپنے رب کے حکم سے— اس کا مطلب یہ ہے کہ جس درجے کی متقیانہ شخصیت ، اسی درجے کا متقیانہ کردار۔
واپس اوپر جائیں

والرُجز فاھجر

پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے 610 عیسوی میں مکہ میں اپنے مشن کا آغاز کیا۔ آپ کا مشن مبنی بر توحید مشن تھا۔ آپ کا کام یہ تھا کہ آپ لوگوں کو بتائیں کہ صرف ایک اللہ کی عبادت کرو، اللہ کے سوا کسی اور کی عبادت نہ کرو۔ اُس وقت عملی طور پر یہ صورت حال تھی کہ مکہ میں حضرت ابراہیم کا تعمیر کردہ کعبہ تھا، جو ایک اللہ کی عبادت کے لیے بنایا گیا تھا۔ حضرت ابراہیم نے یہ کعبہ تقریباً چار ہزار سال پہلے مکہ کے مقام پر بنایا تھا، لیکن بعد کومکہ کے لوگوںمیں بت پرستی آگئی۔ انھوں نے کعبہ کی عمارت میں بت رکھنا شروع کردیا۔ یہاں تک کہ کعبہ میں بتوں کی تعداد تقریباً تین سو ساٹھ ہوگئی۔
اسی کے ساتھ دوسری صورت حال یہ تھی کہ عرب کے مختلف حصوں سے لوگ کعبہ کی زیارت کے لیے برابر آتے رہتے تھے۔ کعبہ میں رکھے ہوئے تین سو ساٹھ بت در اصل مختلف قبائل کے بت تھے۔ اپنے بتوں کی زیارت کے لیے وہاں ہر دن عربوںکا مجمع اکٹھا ہوتا تھا۔ گویا کہ اس وقت ایک طرف کعبہ میں بتوں کی موجودگی کا مسئلہ تھا، اور دوسری طرف کعبہ کے پاس جمع ہونے والے لوگ تھے، جو رسول اللہ کے لیے عملاً فطری آڈینس (audience) کی حیثیت رکھتے تھے۔
یہ حالات تھے جب کہ قرآن میں سورہ المدثر نازل ہوئی۔ اس سورہ میں پیغمبر اسلام کو حکم دیا گیا کہ تم انذار (دعوت الی اللہ) کا کام کرو، اور جہاں تک کعبہ میں بتوں کی موجودگی کا معاملہ تھا، اس کے بارے میں یہ آیت اتری: وَالرُّجْزَ فَاہْجُرْ (74:5)یعنی اور گندگی کو چھوڑ دے۔
قرآن کی اس آیت میں فاھجر کا لفظ استعمال ہوا ہے۔ عربی زبان میں ھجر یھجُر کا مطلب اعراض (avoidance) ہے۔ یعنی نظر انداز کرنا۔ قرآن کی اس آیت میں پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ حکیمانہ طریقۂ کار (wise method) بتایا گیا کہ کعبہ میں بتوں کی موجودگی کو عارضی طور پر نظر انداز کرو، اور ان کی وجہ سے کعبہ کے پاس جو مجمع اکٹھا ہوتا ہے ، اس کو اپنے لیے بطور آڈینس (audience) استعمال کرو۔
واپس اوپر جائیں

دنیا اور آخرت

انسان موجودہ دنیا میں پیدا ہوتاہے۔ یہاں وہ اپنے صبح وشام گزارتا ہے۔ مختلف تجربات کے دوران یہاں اس کی زندگی کا سفر جاری رہتا ہے۔ ان تجربات کے ذریعے شعوری یا غیر شعوری طورپر انسان کا ذہن یہ بن جاتا ہے کہ یہی موجودہ دنیا حقیقی دنیا ہے۔ اس کے مقابلے میں اس کو محسوس ہوتاہے کہ آخرت کی دنیا تصوراتی دنیا (imaginary world) ہے۔دونوں دنیاؤں کے درمیان بظاہر اس فرق کی بنا پر یہ ہوتا ہے کہ انسان کا تفکیری عمل (thinking process) موجودہ دنیا کے لیول پر جاری ہوجاتاہے۔ اس کی سوچ اور اس کی منصوبہ بندی میں عملاً آخرت کا کوئی مقام باقی نہیں رہتا۔
یہ انسان کے لئے سب سے بڑا مسئلہ ہے۔ وسیع تر انجام کے اعتبار سے صحیح یہ ہے کہ انسان کے اندر آخرت رخی سوچ (Akhirat-oriented thinking)بنے، نہ کہ دنیا رخی سوچ۔انسان کو اس معاملے میں بے راہ روی سے بچانے کے لئے فطرت نے یہ انتظام کیا ہے کہ موجودہ دنیا کو مسائل کی دنیا (دار الکبد) بنا دیا۔ یہ مسائل انسان کے لئے اسپیڈ بریکر (speed breaker) کی حیثیت رکھتے ہیں۔ یہ مسائل اس لئے ہیں کہ انسان موجودہ دنیا کو حقیقی دنیا نہ سمجھے، بلکہ آخرت کے اعتبار سےاپنی زندگی کی تعمیر کرے۔
زندگی کی یہی حقیقت ہے جس کو قرآن میں اس طرح بیان کیا گیاہے:وَلَنَبْلُوَنَّکُمْ بِشَیْءٍ مِنَ الْخَوْفِ وَالْجُوعِ وَنَقْصٍ مِنَ الْأَمْوَالِ وَالْأَنْفُسِ وَالثَّمَرَاتِ وَبَشِّرِ الصَّابِرِینَ۔ الَّذِینَ إِذَا أَصَابَتْہُمْ مُصِیبَةٌ قَالُوا إِنَّا لِلَّہِ وَإِنَّا إِلَیْہِ رَاجِعُونَ ۔ أُولَئِکَ عَلَیْہِمْ صَلَوَاتٌ مِنْ رَبِّہِمْ وَرَحْمَةٌ وَأُولَئِکَ ہُمُ الْمُہْتَدُونَ (2:155-157)۔ یعنی اور ہم ضرور تم کو آزمائیں گے کچھ ڈر اور بھوک سے اور مالوں اور جانوں اور پیداوار کی کمی سے۔ اور ثابت قدم رہنے والوں کو خوش خبری دے دو ۔ جن کا حال یہ ہے کہ جب ان کو کوئی مصیبت پہنچتی ہے تو وہ کہتے ہیں ہم اللہ کے ہیں اور ہم اسی کی طرف لوٹنے والے ہیں۔ یہی لوگ ہیں جن کے اوپر ان کے رب کی شاباشیاں ہیں اور رحمت ہے۔ اور یہی لوگ ہیں جو راہ پر ہیں۔
واپس اوپر جائیں

ایمان کے بعد ایمان

قرآن کی ایک رہنما آیت ان الفاظ میں آئی ہے: یَا أَیُّہَا الَّذِینَ آمَنُوا آمِنُوا بِاللَّہِ وَرَسُولِہِ وَالْکِتَابِ الَّذِی نَزَّلَ عَلَى رَسُولِہِ وَالْکِتَابِ الَّذِی أَنْزَلَ مِنْ قَبْلُ وَمَنْ یَکْفُرْ بِاللَّہِ وَمَلَائِکَتِہِ وَکُتُبِہِ وَرُسُلِہِ وَالْیَوْمِ الْآخِرِ فَقَدْ ضَلَّ ضَلَالًا بَعِیدًا (4:136)۔ یعنی اے ایمان والو، ایمان لاؤ اللہ پر اور اس کے رسول پر اور اس کتاب پر جو اس نے اپنے رسول پر اتاری اور اس کتاب پر جو اس نے پہلے نازل کی۔ اور جو شخص انکار کرے اللہ کا اور اس کے فرشتوں کا اور اس کی کتابوں کا اور اس کے رسولوں کا اور آخرت کے دن کا تو وہ بہک کر دور جا پڑا۔
اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ اہلِ ایمان کو ایمان لانے کے بعد دوبارہ ایمان لانا ہے۔ ایک حدیثِ رسول میں اس حقیقت کو ان الفاظ میں بتایا گیا ہے :قَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّى اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: جَدِّدُوا إِیمَانَکُمْ ، قِیلَ:یَا رَسُولَ اللہِ، وَکَیْفَ نُجَدِّدُ إِیمَانَنَا؟ قَالَ:أَکْثِرُوا مِنْ قَوْلِ لَا إِلَہَ إِلَّا اللہُ (مسند احمد،حدیث نمبر8710)۔ یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا کہ تم لوگ اپنے ایمان کی تجدید کرو، پوچھا گیا: اے خدا کے رسول ہم اپنے ایمان کی تجدید کیسے کریں۔ آپ نے کہا: لا الہ الا اللہ کو زیادہ سے زیادہ ادا کرو۔
روایتوں سے معلوم ہوتا ہے کہ صحابہ کا طریقہ یہ تھا کہ وہ اجتماعی طور پر بیٹھ کر اپنے ایمان کا دوبارہ چرچا کرتے تھے۔اس معاملے پر غور کرنے سے سمجھ میں آتا ہے کہ ایمان کا مطلب یہ نہیں ہے کہ چند قانونی الفاظ ہیں، ان کو اگر آدمی نے دہرادیا تو اس کو ایمان حاصل ہوگیا۔ بلکہ ایمان ایک ایسی حقیقت کا اقرار ہے، جس کی گہرائیاں کبھی ختم نہیں ہوتی ہے۔ جیسا کہ حدیث میں آیا ہے: وَلاَ تَنْقَضِی عَجَائِبُہُ (سنن الترمذی، حدیث نمبر 2906)۔ یعنی اس کے عجائبات ختم نہیں ہوتے۔
اسی حقیقت کو قرآن میں دوسرے مقام پر ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے:لِیَزْدَادُوا إِیمَانًا مَعَ إِیمَانِہِمْ (48:4)۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ایمان ابتدائی طور پر اقرار کا نام ہے۔ لیکن اپنے توسیعی معنی میں وہ مسلسل غور و فکر کا موضوع ہے۔ آدمی جب ایمان پر مسلسل غور فکر کرے، وہ ایمان کو تدبر کا موضوع بنائے تو اس کو بار بار اس معاملے میں نئی حقیقتوں کی ری ڈسکوری ہوتی رہتی ہے۔ وہ بیان کردہ ایمان کو ذاتی اعتبار سے اپنے لیے ری ڈسکوری بناتا ہے۔ اس طرح اس کا ایمان اس کے لیے ری ڈسکورڈ (rediscovered) ایمان بن جاتا ہے۔ یہ ری ڈسکورڈ ایمان ہی وہ چیز ہے جو مومن کے یقین کو بڑھاتا رہتا ہے۔ یہاں تک کہ اس کا اقرار کامل یقین کے درجے تک پہنچ جاتا ہے۔
ابتدائی طور پر ایمان ایک عمومی حقیقت کا اقرار ہے۔ لیکن ایمان کو ری ڈسکور کرنا، آدمی کے ایمان کو ایک نیا درجہ عطا کرتا ہے۔ ایسے آدمی کے ساتھ یہ واقعہ پیش آتا ہے کہ جو ایمان اس کے لیے ابتدائی طو رپر محدود اقرار کے درجے میں تھا، وہ اس کے لیے لا محدود یقین کے ہم معنی بن جاتا ہے۔
ایمان جس آدمی کو حاصل ہوجائے، اس کے لیے اس کا ایمان ایک مسلسل غور و فکر کا موضوع بن جاتا ہے۔ ایمان اس کے ذہن کے لیے ایک ایسا طوفان بن جاتا ہے، جو مسلسل طو رپر اس کو تدبر کرنے والا بنادے۔ تدبر کے ذریعے ایما ن کے نئے نئے پہلو اس پر کھلتے ہیں، وہ بار بار اپنے ایمان کو دریافت کرتا ہے۔ اس طرح وہ اپنے ایمان کی تجدید کرتا رہتا ہے۔ یہ عمل (process) برابر جاری رہتا ہے۔ اسی مسلسل ایمان کو قرآن میں ایماناً مع ایمانہم (الفتح،48:4) کےالفاظ میں بیان کیا گیا ہے۔ گویا ایمان کوئی جامد چیز نہیں ہے، بلکہ وہ اضافہ پذیر چیز ہے۔
٭ ٭ ٭ ٭ ٭
کسی آدمی نے حقیقی اسلام کو پایا ہے یا نہیں، اُس کا معیار صرف ایک ہے، اور وہ فکرِآخرت ہے۔ جس آدمی کا اسلام اُس کے اندر گہرے طورپر آخرت کی فکر پیدا کردے، اُسی نے فی الحقیقت اسلام کو پایا۔ جس آدمی کا اسلام اُس کو جہنم کے بھڑکتے ہوئے شعلوں کو نہ دکھائے، اُس نے اسلام کو پایا ہی نہیں۔اُس نے کسی اور چیز کو پایا ہے اور غلطی سے وہ یہ سمجھ رہا ہے کہ اُس نے اسلام کو پالیا ہے۔
واپس اوپر جائیں

خدا کی دریافت

جس دنیا کو ہم جانتے ہیں، اور جس دنیا میں ہم رہتے ہیں، وہ دنیا اسپیس اور ٹائم (space and time) کی دنیا ہے۔ہماری تمام معلوم چیزیں اسی اسپیس اور ٹائم کے اندر پائی جاتی ہیں۔ ہم تمام معلوم چیزوں کو اسپیس اور ٹائم کی بنیاد پر جانتے ہیں۔ مثلاً فلاں چیز یہاں ہے، اور فلاں چیز وہاں ہے۔ فلاں چیز مغرب میںہے، اور فلاں چیز مشرق میں ہے، وغیرہ۔ ہماری تمام معلوم کائنات اسی طرح اسپیس اور ٹائم کے حوالے سے ہماری دریافت کا حصہ بنتی ہے۔
ان تمام چیزوں میں جن کو ہم جانتے ہیں، یا جن کو ہم جاننا چاہتے ہیں، ان میں سے صرف ایک چیز استثناء کی حیثیت رکھتی ہے۔ وہ زمان و مکان سے سے ما ورا (beyond space and time) ہے۔یہ خدا ہے، جو کہ استثنا کی حیثیت رکھتا ہے۔ خدا کا یہی واحد استثنا ہونا، خدا کو سمجھنے ، اور اس کو یقین کرنے میں مانع ہے۔ خدا کا beyond space and time ہونا، انسان کے لیے خداپر یقین کرنے میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ قدیم عقلیات میں اس کا کوئی جواب نہیں تھا۔ جدید سائنسی عقلیات (scientific rationalism) میں پہلی بار اس کی بابت ایک امکان کی خبر ملی ہے۔ موجودہ زمانے میں سائنس نے قیاس کے درجے میں اس کی خبر دی ہے۔ آئنسٹین کا نظریہ جنرل تھَیری آف ریلیٹیوٹی(general theory of relativity) اسی سے تعلق رکھتا ہے۔
میٹر(matter) کی تلاش کے معاملے میں انسان جس آخری حد پر پہنچا ہے، وہ سب ایٹمک پارٹکل (subatomic particle) ہے۔ سب ایٹمک پارٹکل کی دریافت نے تھیَری آف نالج میں انقلابی تبدیلی کی ہے۔ اب علم کی دنیا میں یہ مان لیا گیا ہے کہ سب ایٹمک پارٹکل جو میٹر (matter) کی فائنل انٹٹی (entity) ہے، وہ براہ راست طور پر قابلِ دریافت نہیں ہے۔ ہم صرف اس کی بالواسطہ دریافت تک پہنچ سکتے ہیں، جو کہ ایفکٹ (effect) تک پہنچ کر ختم ہوجاتی ہے۔ ناقابلِ مشاہدہ سب ایٹمک پارٹیکل اپنی حرکت کے دوران ھیٹ (heat)پیدا کرتے ہیں۔ یہ ھیٹ میٹر کا وہ ایفکٹ ہے، جس کے ذریعے میٹر کا وجود دریافت ہوتا ہے۔ اسی طرح خالق (creator) کا ایفکٹ (effect) مخلوق (creation) ہے۔ یہاں بھی مخلوق (creation) کے ذریعے بالواسطہ طور پر خالق (creator) کی دریافت ہوتی ہے۔ اس دریافت سے تھیَری آف نالج میں ایک تبدیلی آئی ہے۔ اب امکانیات (probability) کو نالج تک پہنچنے کا ایک مستند (authentic) ذریعہ مان لیا گیا ہے۔ اب یہ کہا جارہا ہے :
Probably there is this and that
مزید یہ کہ
Probability is less than certainty but more than perhaps.
اب خدا میں یقین کی بنیاد یہ ہے کہ آدمی اپنے مائنڈ کو اتنا زیادہ ارتقا یافتہ (develop) بنائے کہ وہ جب یہ کہے :
Probably there is a God
تو وہ اس قول کو اس حقیقت میں ڈھال سکے :
Certainly, there is a God
اب پرابیبلیٹی (probability)کو سرٹینٹی (certainty)کی زبان میں دریافت کرنا ہے، جو شخص پرابیبلیٹی کی زبان کوسرٹینٹی (certainty)میں ڈھال سکے، وہی صاحبِ یقین انسان ہے۔ کوئی انسان پرابیبلٹی کو سرٹینٹی (certainty)کے درجے میں کس طرح دریافت کرے، اس کا ذریعہ میتھڈ (method)کی تبدیلی نہیں ہے، بلکہ اس کا ذریعہ یہ ہے کہ آپ خود اپنے ذہن کو اتنا زیادہ ارتقا یافتہ بنائیں کہ آپ پرابیبلٹی کو یقین (certainty) کے درجے میں دریافت کریں۔ یہ خود اپنے مائنڈ کو ڈیولپمنٹ کا معاملہ ہے، نہ کہ میتھڈ میں تبدیلی کا معاملہ۔ یہ منطق (logic) کو ریڈ یفائن (redefine)کرنے کا معاملہ ہے، جو شخص منطق کو ریڈ یفائن کرسکے، وہ اپنے یقین کو بحال کرنے میں کامیاب ہوجائے گا۔ قدیم زمانہ یونانی لاجک کا زمانہ تھا، اور موجودہ زمانہ سائنٹفک لاجک کا زمانہ ہے۔
واپس اوپر جائیں

منصوبۂ تخلیق

قرآن میں بتایا گیا ہے کہ خالق نے انسان کو بہترین ساخت کے ساتھ پیدا کیا ہے، پھر اس کو اسفل سافلین میں ڈال دیا(التین، 95:4-5)۔اس آیت کا مطلب وہی ہے، جو بائبل میں تمثیل کی زبان میں اس طرح آیا ہے: تم نے بہت سا بویا، پر تھوڑا کاٹا(حجی، 1:6)۔
اس کا مطلب یہ ہے کہ انسان کی ساخت اور تخلیقی پلان میں فرق ہے۔ اس دنیا میں انسان زیادہ چاہے گا، مگر ا س کو کم ملے گا۔ انسان زیادہ کا منصوبہ بنائے گا، لیکن عملاً اس کو اپنے منصوبے سے کم ملےگا۔ انسان اجر غیر ممنون چاہے گا، لیکن اس کو صرف اجر ممنون ملے گا۔ انسان اپنی خواہش کے مطابق چاہے گا، لیکن وہ اس دنیا میں رازق کی تقسیم کے مطابق پائے گا۔ انسان اپنے حوصلے کے مطابق چاہے گا، لیکن اس کو خالق کے مقدرات کے مطابق حاصل ہوگا۔
چاہنے اور پانے میں یہ فرق کیوں ہے۔ وہ اس لیے ہے کہ انسان سوچے ، وہ غور کرکے اس فرق کی حکمت کو دریافت کرے۔ انسان اگر ایسا کرے، تو وہ جانے گا کہ خالق کے نقشے کے مطابق دنیا کا ایک ’’آج‘‘ہے، اور اس کا ایک ’’کل‘‘ ہے۔ آج کی دنیا عمل کے لیے ہے، اور کل کی دنیا عمل کا انجام پانے کے لیے ہے۔ آج کی دنیا بونے کے لیے ہے، اور کل کی دنیا اس کا پھل کاٹنے کے لیے ہے۔
ہر عورت اور مرد کو چاہیے کہ وہ خالق کے اس نقشۂ تخلیق کو جانے،اور اس کا اعتراف کرے کہ اس دنیا کو بنانے والا وہ نہیں ہے، بلکہ اس کو بنانے والا کوئی اور ہے۔ دنیا ہر حال میں خالق کے نقشے کے مطابق چلے گی، اس کے اپنے نقشے کے مطابق نہیں چل سکتی ،تو وہ اس کے مطابق اپنی زندگی کی منصوبہ بندی کرے۔ وہ اس حقیقت کو جانے کہ وہ خدا کی دنیا میں جو کچھ پائے گا، خالق کی تقسیم کے مطابق پائے گا۔ انسان اگر خالق کے نقشے کو مان کر چلے، تو اس کے لیے کامیابی ہے، اور اگر وہ اس نقشے سے انحراف کرے، تو وہ ہرگز کامیاب ہونے والا نہیں۔
واپس اوپر جائیں

مصیبت کیوں

قرآن کی کئی آیتیں ایسی ہیں، جن میں بتایا گیا ہے کہ دنیا میں انسان کو طرح طرح کی مصیبتیں پڑیں گی، طرح طرح کے مسائل پیش آئیں گے۔اس کا سبب یہ ہے کہ دنیا کے خالق نے دنیا کو دار الکبد (البلد،90:4) کے طور پر بنایا ہے۔ یہ ایک ایسا معاملہ ہے، جس سے کوئی شخص بچ نہیں سکتا۔ مصیبت (suffering) اس دنیا کی زندگی کا ایک لازمی حصہ (integral part) ہے۔ آخرت سے پہلے یہ حالت کبھی ختم ہونے والی نہیں۔
اس کاسبب یہ ہے کہ مشکلات کا تجربہ انسان کے اندر حساسیت (sensitivity) پیدا کرتا ہے، اور حساسیت انسان کے اندر اخذ (grasp) کی صلاحیت پیدا کرتا ہے۔ اگر انسان کے اندر حساسیت نہ ہو، تو وہ حیوان کی مانند ہو کر رہ جائے گا۔ موجودہ دنیا ایک جنگل کی مانند ہے۔ اس دنیا میں انسان کو افکار کے جنگل کے درمیان جینا پڑتا ہے۔ اس بنا پر اس بات کی ضرورت ہوتی ہے کہ انسان کے اندر شدید حساسیت پیدا ہو، تاکہ وہ ایک چیز اور دوسری چیز کے درمیان فرق کرے۔ وہ متعلق (relevant) اور غیر متعلق میں فرق کرکے ایک کو دوسرے سے الگ کرسکے۔ یہ تفریق بہت زیادہ اہم ہے۔ اسی تفریق (differentiation) سے انسان کے اندر عقلی ارتقا ہوتا ہے۔
اگر آدمی کے اندر حساسیت نہ ہو، تو وہ ایک چیز اور دوسری چیز کے درمیان فرق نہیں کرے گا۔ وہ حکمت (wisdom) کی دریافت سے محروم رہے گا۔ اس کی باتوں میں وضوح (clarity) نہیں ہوگا۔ اس کی سوچ الجھے ہوئے دھاگے کی مانند ہوگی۔اسی لیے رسول اللہ نے اس دعا کی تعلیم دی ہے : أَرِنَا الْأَشْیَاءَ کَمَا ہِیَ(تفسیر الرازی، 1/119)۔ یعنی اے اللہ مجھے چیزوں کو ویسے ہی دکھا ، جیسا کہ وہ ہیں۔ایز اٹ از (as it is)دیکھنے کی یہ صلاحیت کسی کے اندر حساس ذہن کے بغیر پیدا نہیں ہوتی۔اس قسم کا ذہن پیدا ہونے کی شرط صرف ایک ہے، وہ یہ کہ ناموافق تجربہ پیش آنے کی صورت میں انسان اپنے کو شکایتی ذہن سے بچاسکے۔
واپس اوپر جائیں

داعی کی اسپرٹ

سورہ الانعام ایک مکی سورہ ہے۔ مکی دور میں پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کو سخت مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ اس وقت مکہ کے لوگ مشرکانہ مذہب پر تھے، اور پیغمبرِ اسلام کا مذہب توحید پر مبنی تھا۔ اس بنا پر وہ لوگ ابتدا میں آپ کے مخالف بن گئے۔ ان حالات میں قرآن کی یہ آیت اتری:قُلْ أَغَیْرَ اللَّہِ أَتَّخِذُ وَلِیًّا فَاطِرِ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَہُوَ یُطْعِمُ وَلَا یُطْعَمُ قُلْ إِنِّی أُمِرْتُ أَنْ أَکُونَ أَوَّلَ مَنْ أَسْلَمَ (6:14)۔ یعنی کہو، کیا میں اللہ کے سوا کسی اور کو مددگار بناؤں جو کہ وجود میں لانے والا ہے آسمانوں اور زمین کا۔ اور وہ سب کو کھلاتا ہے اور اس کو کوئی نہیں کھلاتا۔ کہو مجھ کو حکم ملا ہے کہ میں سب سے پہلے اسلام لانے والا بنوں۔
پیغمبرِ اسلام کا یہ کلمہ شک کا کلمہ نہیں تھا، بلکہ عزم کا کلمہ تھا۔ یہ اپنی دعوت میں یقین کا اضافہ تھا۔ قرآن کی یہ آیت مین آف مشن (man of mission) کی اسپرٹ کو بتارہی ہے۔ مین آف مشن کی اسپرٹ ہوتی ہے، آئی ول ڈو اٹ (I will do it)۔ دوسرے لفظو ں میں اس آیت کا مطلب یہ تھا — کوئی توحید پر نہ چلے تب بھی میں اس پر چلوں گا، کوئی توحید کو نہ اپنائے تب بھی میں اس کو اپناؤں گا، کوئی توحید پرست نہ بنے تب بھی میں اکیلا توحید پرست بنوں گا، کوئی اس مشن کے لیے نہ اٹھے تب بھی میں اس کے لیے اٹھوں گا۔
دعوت کا کام ہمیشہ داعی کے یقین پر مبنی ہوتا ہے۔ اجتماعی زندگی میں جو کام بھی کیا جائے، اس کے لیے ناقابلِ شکست یقین کی ضرورت ہوتی ہے۔ ناقابلِ شکست یقین کے بغیر کوئی کام کامیابی کے درجے تک نہیں پہنچتا۔ اس قسم کا جملہ ناقابلِ شکست یقین کا اظہار ہوتا ہے، اور داعی کے اندر ناقابلِ شکست یقین کا پایا جانا، دعوت کی کامیابی کا یقینی ذریعہ ہے۔ داعی ٔ وقت کی زبان سے اس قسم کا جملہ دوسرے الفاظ میں اسی عزم کا اظہار ہوتا ہے، جس کو آئی وِل ڈو اسپرٹ (I will do spirit) کہا جاتا ہے۔
واپس اوپر جائیں

علما کا مقام

علما کے بارے میں ایک حدیث رسول ان الفاظ میں آئی ہے: إِنَّ العُلَمَاءَ وَرَثَةُ الأَنْبِیَاءِ، إِنَّ الأَنْبِیَاءَ لَمْ یُوَرِّثُوا دِینَارًا وَلاَ دِرْہَمًا إِنَّمَا وَرَّثُوا العِلْمَ، فَمَنْ أَخَذَ بِہِ أَخَذَ بِحَظٍّ وَافِرٍ (سنن الترمذی، حدیث نمبر2682؛ سنن ابو داؤد، حدیث نمبر 3641)۔ یعنی بیشک علما ابنیا کے وارث ہیں، انبیا نے دینار و درہم کی وراثت نہیں چھوڑی، بیشک انھوں نے علم کی وراثت چھوڑی ہے، پس جس نے اس کو لیا ، اس نے بڑا حصہ پایا۔
اس حدیث میں علما سے مراد سند یافتہ علما نہیں ہیں، بلکہ وہ افراد ہیں، جو حقیقی معنوں میں اہل علم کا درجہ رکھتے ہوں۔ جن کو معرفت کے درجے میں ایمان حاصل ہوا ہو، اور پھر کثرتِ مطالعہ کے ذریعے وہ اس درجے تک پہنچے ہوں، جس کو ایک مشہور قول میں ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے: یک من علم را، دہ من عقل می باید ( ایک من علم کے لیے دس من عقل چاہیے)۔ یعنی صاحبِ معرفت و بصیرت انسان۔ اس معنی میں جو لوگ اہلِ علم ہیں، وہ اپنے علم و معرفت کی بنا پر اس قابل ہوجاتے ہیں کہ وہ دین کا صحیح فہم حاصل کریں، اور دین کو ہر زمانے میں مطلوب انداز میں دنیا کے سامنے پیش کریں۔
اس حدیث میں عالم سے مراد پروفیشنل عالم نہیں ہے، بلکہ عالم سے مراد صاحبِ معرفت عالم ہے۔ یہ وہ علما ہیں، جن کو ان کے علم ِدین نے اس آیتِ قرآن کا مصداق بنا دیا ہو: وَالَّذِینَ آمَنُوا أَشَدُّ حُبًّا لِلَّہِ (2:165)۔ یعنی جو ایمان لائے، وہ اللہ سے سب سے زیادہ محبت کرنے والے ہیں۔اس سے مراد وہ اہلِِ علم ہیں، جن کے علم نے ان کا یہ حال کر دیا ہو کہ اللہ رب العالمین ان کا سب سے بڑا کنسرن بن گیا ہو۔ اس سے مراد وہ لوگ ہیں، جو صرف صاحبِ معلومات نہ ہوں، بلکہ گہرے معنی میں صاحبِ بصیرت بن چکے ہوں۔ اس سے مراد وہ عالم ہیں، جو لکھنے اور بولنے سے پہلے سجدے میں گر کر اللہ سے یہ دعا کرتے ہیں: یَا مُعَلِّمَ إبْرَاہِیمَ عَلِّمْنِی (اعلام الموقعین لابن القیم، 4/198)۔
واپس اوپر جائیں

قناعت کا سبق

قرآن میں بتایا گیا ہے کہ اللہ رب العالمین نے جب انسان اول، آدم اور ان کی بیوی کو پیدا کیا تو دونوںکو جنت میں بسا دیا۔ اس وقت اللہ نے جنت میں ایک درخت نامزد کردیا، اور کہا کہ اس درخت کے پاس نہ جانا اور اس کا پھل نہ کھانا۔مگر کچھ عرصے کے بعد دونوں میں اس کی رغبت پیدا ہوئی اور وہ ممنوعہ درخت (forbidden tree) کے پاس چلے گئے اور اس کا پھل کھالیا۔ اس کے بعد دونوںکو موجودہ دنیا (planet earth) پر بھیج دیا گیا۔ اس واقعے میں تمام انسانوں کے لیے بہت بڑا سبق ہے۔ یہ واقعہ تمثیل کی زبان میں بتاتا ہے کہ اس دنیا میں انسان کو صرف ’’کچھ‘‘ ملے گا ، اس کو ’’سب کچھ‘‘ نہیں مل سکتا۔ سب کچھ صرف اہلِ جنت کے لیے مقدر ہے۔ اسی اصول کا نام قناعت (contentment)ہے۔ اگر دیکھا جائے تو انسان ہر دور میں اس اصول سے غافل رہا ہے۔ وہ جزء کو پاتا ہے، اس کے باوجود وہ کُل کی طرف دوڑتا ہے۔
قناعت کا برعکس لفظ حرص (greed) ہے۔ خالق کے مقرر کردہ نقشے کے مطابق اس دنیا میں کسی آدمی کو یا کسی گروپ کو صرف جزء (part) مل سکتا ہے۔ جو آدمی یا گروپ کُل کی طرف دوڑے، وہ کبھی اپنے نشانے کو حاصل نہیں کرسکتا۔ حریص آدمی کے لیے اس دنیا میں صرف عدمِ آسودگی (discontentment) مقدر ہے۔ اس کے برعکس، قانع آدمی کے لیے اس دنیا میں آسودگی (contentment) مقدرہے۔ یہی فطرت کا قانون ہے۔ جو فرد یا گروہ فطرت کے اس قانون کو سمجھے، اور اس پر چلے، وہی اس دنیا میں کامیاب ہوگا۔ جو فطرت کے اس قانون کو نہ سمجھے، اور خود ساختہ نشانے کی طرف دوڑے، وہ خدا کی اس دنیا میں کبھی کامیاب نہیں ہوسکتا۔
جو آدمی قناعت کا طریقہ اختیارکرے، خدا کی پیدا کی ہوئی پوری دنیا اس کی مؤید (helper) بن جاتی ہے۔ اس کے برعکس، جو لوگ حرص کا طریقہ اختیار کریں، وہ گویا فطرت کے قانون سے لڑرہے ہیں۔ ایسے لوگوں کے لیے صرف یہی مقدر ہے کہ وہ اپنا نشانہ کبھی پورا نہ کرسکیں۔
واپس اوپر جائیں

مشورے کی اہمیت

مشورے کی اہمیت کے بارے میں ایک حدیثِ رسول ان الفاظ میں آئی ہے: کَانَ أَبُو ہُرَیْرَةَ یَقُولُ:مَا رَأَیْتُ أَحَدًا أَکْثَرَ مُشَاوَرَةً لِأَصْحَابِہِ مِنْ رَسُولِ اللَّہِ صَلَّى اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ (صحیح ابن حبان، حدیث نمبر 4872)۔ یعنی ابوہریرہ کہا کرتے تھے کہ میں نے کسی کو نہیں پایا جو اپنے اصحاب سے اتنا زیادہ مشورہ کرتا ہو، جتنا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کیا کرتے تھے۔
مشورہ فطرت کا ایک حکیمانہ اصول ہے۔ مشورہ بظاہر دوسرے سے کیا جاتا ہے، لیکن نتیجےکے اعتبار سے مشورہ کا مطلب ہے، خود اپنے ذہن (mind) کے بند گوشوں کو کھولنا ہے۔ مشورہ کا مقصد اپنے ذہن کو متحرک (active) کرنا ہے۔ مشورہ کوئی یک طرفہ عمل نہیں ۔ مشورہ اپنی حقیقت کے اعتبار سے ایک مشترک ڈسکشن (mutual discussion) ہے۔ مشورے کا مقصد اپنے سوچنے کے دائرے کو بڑھانا ہے۔ مشورہ اپنی حقیقت کے اعتبار سے اپنے آپ کو انفرادیت کے دائرے سے نکال کر آفاقیت کے دائرے میں لانا ہے۔ مشورہ ذہنی ارتقا (intellectual development) کا ایک مؤثر ذریعہ ہے۔مشورہ اپنے تجربے میں دوسرے کے تجربے کو شامل کرنا ہے۔
مشورے کا ایک اخلاقی پہلو بھی ہے۔ مشورے سے تعلقات میں اضافہ ہوتا ہے۔ مشورہ اس بات کا ذریعہ ہے کہ آدمی خول (cell) میں رہنے والا نہ بنے۔مشورہ آدمی کو اس قابل بناتا ہے کہ وہ انفرادی عقل (individual wisdom) کے دائرے سے نکل کر عالمی عقل (universal wisdom) میں جینے والا بن جائے۔ خلیفہ ثانی عمر فاروق کے بارے میں آتا ہے : کان یتعلم من کل احد۔ یعنی وہ ہر ایک سے سیکھتے تھے۔ تعلم اپنی حقیقت کے اعتبار سے ایک مشورہ ہے۔ اس روایت کو لفظ بدل کر اس طرح کہا جاسکتا ہے کہ کان یشاور من کل احد۔یعنی وہ ہر ایک سے مشورہ کرتے تھے۔ مشورے کا مطلب اپنی عقل میں دوسرے کی عقل کو شامل کرنا ہے۔
واپس اوپر جائیں

موت کی یاد

قرآن میں انسان کے بارے میں ایک سنگین حقیقت کا اعلان ان الفاظ میں کیا گیا ہے:کُلُّ نَفْسٍ ذَائِقَةُ الْمَوْتِ(3:185)۔ اس حقیقت کے بارے میں حدیثِ رسول میں یہ الفاظ آئے ہیں:أَکْثِرُوا ذِکْرَ ہَادِمِ اللَّذَّاتِ، الْمَوْتَ (سنن ابن ماجہ، حدیث نمبر4258)یعنی موت کو بہت زیادہ یاد کرو جو لذتوں کو ڈھادینے والی ہے۔
ھادم اللذات کو اگر لفظ بدل کر کہا جائے تو وہ یہ ہوگا کہ موت کی یاد سوپر ڈی کنڈیشننگ (super deconditioning) کا ذریعہ ہے۔ ہر آدمی ضرور اپنے ماحول کی کنڈیشننگ کا شکار ہوتا ہے۔ چنانچہ ہر عورت اور مردلازمی طور پر مسٹر کنڈیشنڈ یا مس کنڈیشنڈ بن جاتے ہیں۔ یہی وہ حقیقت ہے جس کو حدیث میں ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے:کُلُّ مَوْلُودٍ یُولَدُ عَلَى الفِطْرَةِ، فَأَبَوَاہُ یُہَوِّدَانِہِ، أَوْ یُنَصِّرَانِہِ، أَوْ یُمَجِّسَانِہِ (صحیح البخاری، حدیث نمبر 1385)۔
اس عمومی کنڈیشننگ کی بنا پر ہر آدمی کی یہ ضرورت ہے کہ وہ شعور کی عمر کو پہنچنے کے بعد اپنی ڈی کنڈیشننگ کرے۔ ڈی کنڈیشننگ کا یہ عمل (process) عام حالت میں بہت سست ہوتا ہے۔ لیکن موت کا واقعہ ایک دھماکہ خیز واقعہ ہے ۔ آدمی کے اندر اگر موت کی سچی یاد پیدا ہوجائے تو ایک لمحے کے اندر اس کی کنڈیشننگ ٹوٹ جائے گی ۔ موت کی یاد آدمی کو ایک لمحے میں دوبارہ اس کی فطری حالت پر قائم کردیتی ہے۔ ایک لمحے میں آدمی پورے معنوں میں حقیقت پسند (realist) بن جاتا ہے۔ ایک لمحے میں آدمی ایسا ہوجاتا ہے کہ موت کا مسئلہ اس کا واحد کنسرن (sole concern) بن جائے۔
موت کی یاد ہر آدمی کے لیے ایک جبری مصلح کی حیثیت رکھتی ہے۔وہ آدمی کو مجبور کرتی ہے کہ وہ اپنا مصلح آپ بن جائے۔ وہ انتہائی حد تک بے لاگ انداز میں اپنا محاسبہ کرنے لگے۔ وہ سب سے زیادہ اپنے آپ کو آخرت رخی شخصیت بنالے۔
واپس اوپر جائیں

زندگی کے قیمتی سال

آدمی کی اوسط عمر اس دنیا میں تقریباً ستر سال ہے۔ بڑھاپے کی عمر کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ اولڈ از گولڈ(old is gold)۔ یہ قول لفظ بلفظ صحیح ہے۔ بڑھاپے کی عمر میں آدمی سب سے زیادہ اس پوزیشن میں ہوتا ہے کہ وہ اپنے بعد والوں کے لیے اپنا بہترین (best) دوسروں کو دے سکے— زیادہ معلومات، زیادہ تجربہ، زیادہ دانش مندی، زندگی کی زیادہ بہتر پلاننگ۔یہ سنہری موقع ہر اس انسان کے لیے ہے، جس کی عمر زیادہ ہوجائے، بشرطیکہ وہ اس دنیا میں با اصول انسان (man of principle) بن کر زندگی گزارے:
(1) وہ صحت کے فطری اصول کا پابند ہو، تاکہ وہ اپنی عمر کے آخر دور تک دنیا میں قابلِ کار بنا رہے۔
(2) وہ سادہ زندگی گزارے، اوراپنے آپ کو اسراف سے بچائے۔
(3) وہ کسی حال میں اپنے آپ کو کسی غلط عادت میں مبتلا نہ ہونے دے۔
(4) وہ ہر حال میں مثبت سوچ (positive thinking) کا طریقہ اختیار کرے، حتی کہ وہ منفی تجربہ کو مثبت سبق میں تبدیل کرسکے۔
(5) وہ کسی سے امید نہ رکھے۔
(6) وہ اس دنیا میں دینے والا بن کر رہے، نہ کہ لینے والا۔
(7) وہ غصہ سے اس طرح بچے، جس طرح کوئی شخص اپنے آپ کو سانپ بچھوسے بچاتا ہے۔
(8) وہ سچے دل سے لوگوں کا خیرخواہ بنے۔
(9) اگر اس سے کوئی غلطی ہوجائے، تو وہ فوراً اپنی غلطی کا اعتراف کرلے، ایسا ہرگز نہ کرے کہ اپنی غلطی کے لیے عذر (excuse) پیش کرنا شروع کردے۔
(10) وہ لوگوں کے درمیان ہمیشہ متواضع(modest) بن کر رہے۔
واپس اوپر جائیں

باہمی انحصار کا دور

موجودہ زمانہ ایک نیا زمانہ ہے۔ موجودہ زمانے میں ایسے تقاضے وجود میں آئے ہیں، جو پہلے کبھی موجود نہ تھے۔ جو شخص موجودہ زمانے میں رہنمائی کا کام کرنا چاہے، اس کو سب سے پہلے یہ کرنا چاہیے کہ خالص موضوعی ذہن (objective mind) کے ساتھ مطالعہ کرکے نئے زمانے کو سمجھے ، اس کے بعد رہنمائی کا کام کرے۔ اس قسم کی تیاری کے بغیر جو لوگ رہنمائی کے منصب پر کھڑے ہوجائیں، وہ بلاشبہ لوگوں کو بھٹکانے کا کام کررہے ہیں۔ ایسے لوگوں کے لیے یہ کہنا صحیح ہوگا کہ ان پر فرض ہے کہ وہ چپ رہیں، نہ کہ حقیقت سے واقفیت کے بغیر بولنا شروع کردیں۔
ان نئے تقاضوں میں سے ایک تقاضا یہ ہے کہ موجودہ زمانے میں جو صنعتی انقلاب آیا ہے، اس نے اجتماعی زندگی میں ایک نیا دور پیدا کردیا ہے۔ اس دور کو ایک لفظ میں باہمی انحصار کا دور (age of interdependence) کہا جاسکتا ہے— لیڈر کو ووٹر کی ضرورت ہے، تاجر کو کسٹمر کی ضرورت ہے، ڈاکٹر کو مریض کی ضرورت ہے، میڈیا کو ویورس (viewers) کی ضرورت ہے، وغیرہ۔اس نئے تقاضے نے ایک نیا کلچر پیدا کیا ہے۔ اس نئے کلچر کو میوچول انٹرسٹ (mutual interest) کا کلچر کہہ سکتے ہیں۔ ہر ایک کو دوسرے کی ضرورت ہے، ہر ایک کاکام دوسرے پر اٹکا ہوا ہے۔
اس صورتِ حال نے موجودہ زمانے میں ایک نیا جبر (compulsion) پیدا کیا ہے۔ ہر ایک مجبور ہے کہ وہ پر امن طریقے سے رہے، ہر ایک مجبور ہے کہ وہ دوسرے کا احترام کرے۔تاکہ ہر ایک کو دوسرے سے اس کا فائدہ ملتا رہے۔مگر اس دور میں صرف مسلمان ہیں، جن کو ان کے نام نہاد لیڈروں نے اس حقیقت سے بے خبر بنا رکھا ہے۔ مثلاً مسلمانوں نے کشمیر میں ہنگامہ کرکے، وہاں سیب کا بزنس ختم کردیا، مصر میں مسلمانوں نے ہنگامہ کرکے وہاں سے سیاحت کا بزنس ختم کردیا، وغیرہ۔ موجودہ زمانے میں تشدد کی سیاست ایک کاؤنٹر پروڈکٹیو سیاست ہے، مگر لوگ اس حقیقت کو نہیں جانتے، اس لیے وہ خلاف زمانہ حرکت (anachronistic culture) میں مبتلا ہیں۔
واپس اوپر جائیں

غیر عملی نشانہ

رشید کوثر فاروقی (ایم اے انگلش ) ایک باصلاحیت آدمی تھے۔ وہ شعر اور نثر دونوں میں اپنے جذبات کا اظہار کرتے تھے۔ ان کا خاص ذوق ظلم کے خلاف احتجاج تھا۔ انڈیا میں جب ایمرجنسی (1975 to 1977) نافذ کی گئی تھی، تو وہ اس کے مخالف بن گئے۔ اس سلسلے میں ان کی ایک نظم اُس زمانے میں کافی مشہور ہوئی تھی۔ اُس کا ایک شعر یہ تھا:
دماغ بیچئےورنہ اتارلینگے یہ سر دلیل سوچ کہ ہر ظلم کو روا کہیے
رشید کوثر فاروقی اسی قسم کے انقلابی ، زیادہ صحیح الفاظ میں ریڈیکل خیالات میں جیتے رہے۔ یہاں تک کہ 74 سال کی عمر میں مایوسی کی حالت میں اپنے وطن سیتاپور میں 2007 میں ان کا انتقال ہوگیا۔ آخری زمانے میں انھوں نے ایک نظم لکھی تھی، اس کا ایک شعر یہ تھا:
زیست کا راز کھلا گردش ایام کے بعد اِس کہانی کا تو آغاز تھا انجام کے بعد
ایسے بہت سے لوگ ہیں جو اعلیٰ صلاحیت رکھتے تھے۔ انھوں نے جوش کے تحت اپنے لیے کچھ انقلابی نشانے بنائے۔ مگر آخری وقت میں اُن کو معلوم ہوا کہ ان کے نشانے غیر عملی اور ناقابل حصول تھے۔ اسی قسم کے ایک مسلم لیڈر نے آخری زمانے میں اپنے بارے میں کہا تھا:
وہ محروم تمنا کیوں نہ سوئے آسماں دیکھے کہ جو لمحہ بہ لمحہ اپنی کوشش رائیگاں دیکھے
یہ انجام اکثر ان لوگوں کا ہوا ہے، جو غیر معمولی صلاحیت کے حامل تھے ۔ مگر ان کے اندر غیرحقیقی سوچ پیدا ہوگئی۔ انھوں نے اپنے لیے ایسے نشانے بنائے، جو قانونِ فطرت کے تحت پورے ہونے والے نہ تھے۔ نتیجہ یہ ہوا کہ وہ احساسِ ناکامی کے ساتھ دنیا سے چلے گئے۔ ایسے لوگوں کے لیے صحیح یہ تھا کہ وہ اپنی سوچ کی غلطی کا کھلا اعتراف کریں۔ تاکہ دوسروں کو ان کی زندگی سے سبق ملے۔ لیکن عملاً یہ ہوا کہ وہ سارا الزام دوسروں پر دیتے رہے۔ یہاں تک کہ وہ دنیا سے رخصت ہوگئے، مگر دنیا کو جو کچھ وہ دے سکتے تھے، وہ اس کو نہ دے سکے۔
واپس اوپر جائیں

ظلم یا چیلنج

کچھ لوگ جوش کے ساتھ کہتے ہیں کہ ’’120، 130 کروڑ کی آبادی میں صرف 1 کروڑ ظلم کے خلاف کھڑے ہوجائیں، ممکن نہیں کہ ظلم باقی رہے‘‘— یہ بات صرف ایک خطابت (rhetoric) ہے، اس بات کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں۔ موجودہ زمانے میں جو شخصیتیں یا جماعتیں معروف ہیں، وہ اپنے جو کارنامے بیان کرتے ہیں، ان کا مجموعہ 1 کروڑ سے بہت زیادہ ہوتا ہے۔ یعنی ایک کروڑ آدمی آج بھی مفروضہ ظلم کے خلاف کھڑے ہوئے ہیں۔ پھر اس کا نتیجہ کہاں ہے۔ اصل یہ ہے کہ ظالم اور مظلوم کا مفروضہ ہی غلط ہے۔آج کی دنیا میں نہ کوئی ظالم ہے، اور نہ کوئی مظلوم ہے۔ ہر آدمی کو عمل کرنے کا پورا موقع ملا ہوا ہے۔ جو لوگ اس مقابلے میں پیچھے رہ جاتے ہیں، وہ اپنے کو مظلوم بتا کر یہ کہتے ہیں کہ ظالم لوگوں نے ہمیں پیچھے کردیا ہے۔ظالم اور مظلوم کا مفروضہ نااہل رہنماؤں کا پیدا کردہ ہے۔ جو لوگ نااہلی کے باوجود رہنمائی کے میدان میں کھڑے ہونا چاہتے ہیں۔ ان کو سب سے زیادہ آسان یہ بات نظر آتی ہے کہ وہ ظلم و مظلومیت کا افسانہ گھڑیں، اور اس طرح ایک طبقہ کے درمیان کچھ شہرت (popularity) حاصل کریں۔
جو لوگ ایسی باتیں کرتے ہیں، ان کو چاہیے کہ وہ مواقع کو دریافت کریں ، اور مواقع کو بتاکر لوگوں کی مثبت رہنمائی کریں۔ فطرت کے قانون کے مطابق،مسائل خواہ کتنے ہی زیادہ ہوں، مواقع ہمیشہ موجود ہوتے ہیں۔ رہنما کا کام مواقع کی دریافت ہے۔ مسائل کا نام لے کر ان کے خلاف احتجاج کرنا کوئی کام نہیں۔ یہ رہنمائی کے نام پر لوگوں کو بھٹکانے کے سوا اور کچھ نہیں۔ ایسے ہی لوگوں کے بارے میں حدیث میں یہ کہا گیاہے — کہنے کے قابل کوئی بات ہو تو کہو، ورنہ چپ رہو:مَنْ کَانَ یُؤْمِنُ بِاللَّہِ وَالیَوْمِ الآخِرِ فَلْیَقُلْ خَیْرًا أَوْ لِیَصْمُتْ(صحیح البخاری، حدیث نمبر 6018) ۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جس آدمی کے اندر ذمہ داری کا احساس ہو گا، اس کا حال یہ ہوگا کہ کہنے کے قابل کوئی بات ہوگی تو وہ کہے گا، ورنہ وہ چپ رہے گا۔
واپس اوپر جائیں

دینی شناخت

مسلمانوں کا لکھنے اور بولنے والا طبقہ ایک بات نہایت دھوم سے کہتا ہے۔ وہ ہے، مسلمانوں کی دینی شناخت کا تحفظ۔ اس معاملے کا تجزیہ کیا جائے تو معلوم ہوگا کہ دینی شناخت عملاً کلچرل شناخت کا دوسرا نام ہے۔ دینی شناخت کوئی قرآن و سنت کی اصطلاح نہیں ہے۔دینی شناخت اپنی حقیقت کے اعتبار سے کلچرل شناخت کا نام ہے، اور مسلمانوں کی کوئی ایک کلچرل شناخت نہیں ہوسکتی۔ آپ اگر دنیا کا سفر کریں،اور ہر ملک کے مسلمانوں کا جائزہ لیں، تو ہر ملک کے مسلمانوں کی کلچرل پہچان الگ الگ ہوگی۔ شناخت (identity)کا تعلق فارم سے ہے، اور فارم کبھی ایک نہیں ہوسکتا۔
مسلمانوں کی نسبت سے جو مسئلہ ہے، وہ شناخت کا تحفظ نہیں ہے، بلکہ قرآن و سنت کا احیا (revival) ہے۔ مسلمانوں کی اصل ضرورت یہ ہے کہ ان کے اندر معرفت والا ایمان پیدا کیا جائے۔ ان کے اندر وہ ایمان پیدا کیا جائے، جس کو قرآن میں ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے: وَالَّذِینَ آمَنُوا أَشَدُّ حُبًّا لِلَّہِ (2:165)۔ یعنی جو ایمان لائے، وہ اللہ سے سب سے زیادہ محبت کرنے والے ہیں۔ اسی طرح :وَلَمْ یَخْشَ إِلَّا اللَّہَ (9:18)۔ یعنی وہ صرف اللہ سے ڈرتے ہیں۔
شناخت کا تصور فارم پر مبنی ہے۔ فارم کا تعلق دین سے نہیں ہوتا، بلکہ حالات سے ہوتا ہے۔ سماجی حالات اور جغرافی حالات،اس کا تعین کرتے ہیں۔ اس وقت مسلمانوں میں جس چیز کی کمی ہے، وہ فارم کی نہیں ہے، بلکہ ربانی اسپرٹ کی ہے۔ اسلام فارم پر مبنی کلچر نہیں ہے، بلکہ اسلام ربانی اسپرٹ پر مبنی دین کا نام ہے۔ آج ضرورت ربانی اسپرٹ کو زندہ کرنے کی ہے، نہ کہ فارم کو زندہ کرنا۔
ربانی اسپرٹ یہ ہے کہ اہلِ ایمان اللہ سے ڈرنے والے ہوں، وہ اللہ کو اپنا سول کنسرن (sole concern) بنائیں، وہ دینی اقدار (Islamic values) کو اختیار کریں، ان کے اندر قابل پیشین گوئی کردار (predictable character) پایا جاتا ہو، ان کے افراد کے اندر امانت (honesty) ہو، ان کے اندر انسانوں کے لیے خیر خواہی پائی جاتی ہو۔
واپس اوپر جائیں

فطرت کو موقع دو

ترقی کے ہر میدان میں عمل کا صحیح طریقہ یہ ہے کہ فطرت کو کام کرنے کا موقع دیا جائے۔ فطرت کے راستے میں اگر رکاوٹ نہ ڈالی جائے تو ہر کام نہایت درست طریقے سے ہوگا۔ فرد کی ترقی یا سماج کی ترقی کا راز یہ ہے کہ فطرت کو آزادانہ طور پر کام کرنے کا موقع دیا جائے۔ فطرت کا طریقہ یہ ہے— کم سے کم مداخلت، زیادہ سے زیادہ آزادی۔
مثلاً اگر بچے کے ساتھ لاڈ پیار نہ کیا جائے، تو بچہ ذاتی محرک کے تحت ہر کام اچھی طرح انجام دیتا رہے گا۔ سماجی عمل میں مداخلت نہ کی جائے تو سماج چیلنج - رسپانس (challenge-response) کے پراسس کے تحت اپنے آپ ترقی کرتا رہے گا۔ حقیقت یہ ہے کہ فطرت سے بڑا کوئی معلم نہیں۔ فطرت سے بڑا کوئی منصوبہ ساز نہیں۔ جس طرح بہتا ہوا پانی اپنے آپ اپنا راستہ بنالیتا ہے، اسی طرح فطرت اپنے آپ ترقی کا راستہ تلاش کرلیتی ہے۔
فطرت (nature) خالق کی تربیت یافتہ رہنما ہے۔ فطرت کو پیدائشی طور پر معلوم ہے کہ اس کو کس طرح چیلنج کا سامنا کرنا ہے۔ اس کو کیا کرنا ہے، او ر کیا نہیں کرنا۔ فطرت کو معلوم ہے کہ مسائل کے درمیان کس طرح مواقع کو تلاش کرنا ہے، اور اس کو منصوبہ بند انداز میں کیسے اپنی موافقت میں اویل (avail) کرنا ہے۔ فطرت ایک خود کار معلم ہے۔ جس طرح جسم کے ’’ڈاکٹر‘‘کو معلوم ہے کہ اس کو جسم کا داخلی نظام کس طرح چلانا ہے، اسی طرح فطر ت کو معلوم ہے کہ خارجی مواقع کی تنظیم کرتے ہوئے کس طرح اس کو اپنے موافق استعمال کرنا ہے۔
کسی ملک کو ترقی کی طرف لے جانے کے لیے سرکاری پلاننگ کی ضرورت نہیں ہے، بلکہ آزادانہ ماحول کی ضرورت ہے۔ آزادانہ ماحول میں مسابقت (competition) کا رجحان اپنے آپ ملک کا رہنما بن جاتا ہے۔ کسی ملک کی ترقی کے لیے سرکاری کنٹرول کی ضرورت نہیں ہے، بلکہ یہ ضرورت ہے کہ فطرت کو آزادانہ طور پر کام کرنے کا موقع دیا جائے۔
واپس اوپر جائیں

غصے کا ظاہرہ

غصہ (anger) کیا ہے۔ غصہ دراصل جذباتی ہیجان کا دوسرا نام ہے، جو ذہن (mind) کو نہایت گہرائی کے ساتھ متحرک کرنے والا ہے:
Anger is an emotional outburst that triggers deeper parts of the mind.
انسان کا ذہن بے شمار صلاحیتوں کا مالک ہے، مگر عام حالت میں ذہن کے بیشتر حصے خوابیدہ حالت میں رہتے ہیں۔ غصہ آدمی کے ذہن کے تمام حصوں کو متحر ک اور بیدار کردیتا ہے۔ غصہ وقتی طور پر manکوsuper man بنا دیتا ہے۔ غصہ ور آدمی نارمل حالات کے مقابلے میں زیادہ سوچنے والا بن جاتا ہے۔ غصہ ایک ایسی حالت کا نام ہے، جیسے کوئی غیر متحرک بم اچانک پھٹ پڑے۔
غصہ کے وقت آدمی کے ذہن کے بہت سے گوشے کھل جاتے ہیں، جو عام حالت میں بند پڑے ہوئے تھے۔غصہ آدمی کے تجزیہ (analysis)کرنے کی صلاحیت کو بڑھا دیتا ہے۔ غصہ اپنی ذات میں کوئی برائی کی چیز نہیں۔ غصہ کے لیے یہ ضرورت نہیں کہ اس کو ختم کیا جائے، بلکہ غصہ کو کنٹرول کرنے کی ضرورت ہے۔ جب غصہ آئے تو آپ صرف یہ کیجیے کہ غصہ کو چینلائز (channelize) کرنے کی کوشش کیجیے، یعنی غصہ کو تعمیری رخ کی طرف موڑ دیجیے۔
غصہ کو تعمیری رخ پر موڑنا کوئی مشکل کام نہیں ہے۔ آپ کو صرف یہ کرنا ہے کہ جب آپ کو غصہ آئے تو آپ چپ ہوجائیں۔ چپ ہوتے ہی اپنے آپ غصے کا رخ بدلنا شروع ہوجائے گا، اور پھر آپ کو یہ موقع مل جائے گاکہ آپ غصے کو تعمیری رخ دے دیں۔ غصے کے وقت ایک بے حد قیمتی چیز آدمی کے دماغ سے ریلیز ہوتی ہے۔ اس کو اینگر انرجی (anger energy)کہا جاتاہے۔ اینگرانرجی آپ کے جسم سے نکلنے والی سب سے بڑی طاقت کانام ہے۔ اینگر انرجی کو برباد ہونے سے بچائیے۔ اینگر انرجی کو صحیح رخ پر موڑ دیجیے۔ اینگر انرجی کو منضبط (controlled) انداز میں استعمال کیجیے،ا ور پھر غصہ آپ کے لیے ایک صحت مند ظاہرہ بن جائے گا۔
واپس اوپر جائیں

شادی شدہ زندگی

تجربہ بتاتا ہے کہ اکثر شادی ، شادی کے بعد پرابلم شادی بن جاتی ہے۔ ایک صاحب نے کہا کہ میری شادی لو میرج تھی، مگر عملاً یہ ہوا کہ شادی سے پہلے میرا جہاز ہوا میں اڑ رہا تھا، اور شادی کے بعد میرا جہاز کریش ہو کر زمین پر گر پڑا۔ یہ ظاہرہ اتنا زیادہ عام ہے کہ اس میں مشکل سے کوئی استثنا تلاش کیا جاسکتا ہے۔ ایسا کیوں ہے۔ اس کا سبب یہ ہے کہ شادی سے پہلے انسان اپنے گھر میں خونی رشتے دار (blood relationship) کے درمیان ہوتا ہے۔ شادی کے بعد اچانک اس کو غیر خونی رشتے دار (non-blood relationship) کے درمیان زندگی گزارنا پڑتا ہے۔ لوگ عام طو رپر اس فرق کے ساتھ ایڈجسٹ نہیں کرپاتے،اس لیے اختلافات پیدا ہوتے ہیں، جو کبھی کبھی بریک ڈاؤن (breakdown) کی حد تک پہنچ جاتے ہیں۔
خالق نے انسانی زندگی کو جس اصول پر بنایا ہے، اس میں یکسانیت (uniformity) نہیں ہے، بلکہ عدم ِیکسانیت (dis-uniformity) ہے۔ یہ فطرت کا قانون ہے۔ وہ ہر جگہ اور ہمیشہ پایا جاتا ہے۔ اس قانون کا مقصد یہ ہے کہ دو مختلف انسان اپنی مختلف صلاحیتوں کو متحدہ طور پر استعمال کرکے زیادہ مفید انداز میں سماجی زندگی کا حصہ بنیں۔ اگر لوگ اس راز کو سمجھیں تو وہ اپنی افادیت کو ڈبل بنا لیں گے۔ وہ اپنی افادیت میں بہت زیادہ اضافہ کرلیں گے۔ وہ زندگی کی گاڑی کو زیادہ تیز رفتاری کے ساتھ چلانے میں کامیاب ہوجائیں گے۔
فطرت کا یہ قانون دو مختلف صلاحیت کے انسانوں کو یہ موقع دیتا ہے کہ وہ اپنی مختلف صلاحیتوں کو مشترک طور پر استعمال کرکے اپنے آپ کو سماج کا زیادہ مفید عنصر بنا سکیں۔ وہ اپنی افادیت کو ملٹی پلائی (multiply) کرلیں۔اس معاملے میں مشہور انگریزی مقولہ صادق آتا ہے:
If everyone thinks alike, no one thinks very much.
یعنی ہر آدمی یکساں طور پر سوچے تو کوئی شخص زیادہ نہیں سوچے گا۔
واپس اوپر جائیں

عذر کیا ہے

عذر (excuse) کی حقیقت یہ ہے کہ آدمی جب کوئی ضروری کام انجام نہ دے سکے، تو اپنی اس غلطی کا جواز (justification) بیان کرنے کے لیے اس کا کوئی ایسا سبب بیان کرے، جو صرف ایک کہنے کی بات ہو، اس کا کوئی حقیقی سبب نہ ہو۔ گویا عذر اپنی حقیقت کے اعتبار سے ہمیشہ ایک بے بنیاد سبب (false excuse) ہوتا ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ زندگی کبھی عذر سے خالی نہیں ہوسکتی۔ عذر زندگی کا ایک لازمی حصہ ہے۔ اس لیے عذر کبھی سچا عذر نہیں ہوتا۔ انسان کا کام یہ ہے کہ وہ عذر کو عذر نہ بنائے، بلکہ منصوبہ بندی کے ذریعے عذر کو عملا غیر موثر بنادے۔
مثلا آپ کواپنے وعدے کے مطابق کہیں جانا تھا، اور پھر روانگی سے کچھ پہلے بارش شروع ہوجائے۔ اب ایک انسان وہ ہے جو بارش کو عذر بنا کر گھر میں بیٹھ جائے۔ ایسا آدمی ایک کمزور آدمی ہے۔ سچا انسان وہ ہے جو ایسے موقع پر مینج (manage) کرنے کا طریقہ اختیار کرے۔ وہ یاتو چھتری کا استعمال کرکے ٹھیک ٹائم پر اپنے وعدہ کے مقام پر پہنچے، اور اگر بالفرض وہ ایسا نہیں کرسکتا تو بارش ہونے کی صورت میں وہ فوراً صاحب ملاقات کو فون کرے، اور اس کو موجودہ صورتِ حال سے واقف کرائے۔
اس دنیا میں کوئی عذر حتمی عذر نہیں ہے۔ ہر عذر مینیجیبل عذر(manageable excuse) ہوتا ہے۔عذر انسان کے لیے عمل میں رکاوٹ نہیں ہے، بلکہ ذہن کو زیادہ متحرک کرنے کا ایک موقع ہے۔ با اصول آدمی وہ ہے، جو عذر پیش آنے کی صورت میں اپنے ذہن کو استعمال کرکے مزید غور کرے۔ وہ عذر کو مینج (manage) کرکے اس کو حل کرنے کی تدبیر دریافت کرے۔ وہ عذر کو تدبیر ِکار کا مسئلہ سمجھے، نہ یہ کہ اس کو ناقابلِ حل مسئلہ سمجھ کر بے عملی کا طریقہ اختیار کرے۔ عذر نئی تدبیر کا طالب ہے، نہ کہ کام نہ کرنے کا بہانہ۔
واپس اوپر جائیں

کھونے میں پانا اور پانے میں کھونا

زندگی میں دو قسم کے واقعات پیش آتے ہیں۔ زندگی میں آدمی کچھ حاصل کرتا ہے، اور کبھی ایسا ہوتا ہے کہ وہ کچھ کھودیتا ہے۔ دونوں قسم کے واقعات زندگی کا لازمی حصہ ہیں ۔کسی بھی شخص کی زندگی ان سے خالی نہیں ہوتی۔ جب آپ زندگی میں کچھ حاصل کرتے ہیں تو یہ یاتو آپ کی منصوبہ بندی کا نتیجہ ہوتا ہے، یا کچھ اتفاقی واقعات آپ کے لیے مساعد (support)بن جاتے ہیں، اس لیے آپ کو کامیاب کردیتے ہیں۔جب آپ کامیاب ہوں تو یہ دریافت کیجیے کہ آپ کی کامیابی میں کن عوامل (factors)کا دخل ہے۔ ان عوامل کو اگر آپ دریافت کرسکیں تو آپ زندگی کی ایک حکمت (wisdom) کو دریافت کریں گے، جس کو آپ اپنی بعد کی زندگی میںبھی استعمال کرسکتے ہیں۔ یہ عوامل ایک اعتبار سے فطری عوامل ہوتے ہیں، اور دوسرے اعتبار سے وہ زندگی کی حکمت کو بتاتے ہیں۔
یہی معاملہ کھونے کا ہے۔ جب آپ کھوتے ہیں، وہ سادہ معنوں میں کھونا نہیں ہوتا، بلکہ آپ کے لیے ایک تجربہ (experience) ہوتا ہے۔ کھونے کی صورت کو آپ تجربے میں ڈھال دیجیے۔ اس طرح کھونا بھی آپ کے لیے ایک اعتبار سے پانا بن جائے گا۔ زندگی کی حکمت اگر آپ کے لیے ایک ریڈی میڈ وزڈم ہے، تو تجربہ آپ کے لیے ایک ذخیرہ کیے ہوئے (stored) وزڈم کی حیثیت رکھتا ہے۔ زندگی ایک نازک آرٹ ہے۔ زندگی میں پانا بھی آپ کے لیے کھونا بن سکتا ہے، اور اسی طرح کھونا بھی آپ کے لیے پانا بن سکتا ہے۔ اگر آپ پانے کے واقعے میں وزڈم کا عنصر دریافت نہ کرسکیں، تو آپ نے کوئی بڑی چیز نہیں پائی۔ آپ زندگی کے حاشیے پر پہلے بھی تھے، اور اب بھی وہیں پڑے ہوئے ہیں۔ اسی طرح اگر آپ کھونے کے واقعے کو تجربے میں نہ ڈھال سکے تو آپ ڈبل محرومی کا شکار ہوگئے۔ ایک تو وہ جس کو آپ نے کھودیا، اور دوسرا وہ جس کو آپ کھونے کے باوجود پاسکتے تھے، اس کو بھی آپ پانے سے محروم رہے۔
واپس اوپر جائیں

تخلیقی مشورہ

اگر آپ کسی کو اس کی کمی بتائیں ، تو آپ نے اس کو کچھ نہیں دیا ، بلکہ اس سے کچھ چھین لیا۔ اس کو آپ نے کمتری کے احساس میں مبتلا کردیا۔ اس کے بجائے، اگر آپ کی ملاقات کسی نوجوان سے ہو، اور آپ اس سے کہیں کہ زندگی میں ٹاپر (topper)بنو، تو آپ نے اس سے ایک اچھی بات کہی۔ لیکن آپ کا یہ قول کوئی تخلیقی مشورہ (creative advice) نہیں ہے۔ تخلیقی ایڈوائس وہ ہے، جو سننے والے کے اندر کوئی نیا داعیہ (incentive) پیدا کرے۔
مثلاً اگر آپ نوجوان سے یہ کہیں کہ تم ابھی زندگی کے ابتدائی مرحلے میں ہو، تم کو چاہیے کہ تم سب سے پہلے اپنا مطالعہ کرکے یہ معلوم کرو کہ تمھارے اندر کون سی خاص صلاحیت ہے۔ کیوں کہ خالق جب ایک انسان کو پیدا کرتا ہے، تو وہ اس کو کوئی خاص صلاحیت عطا کرتا ہے، تاکہ وہ دنیا میں کوئی نادر (unique)کام انجام د ے سکے، ایسا کام جو کسی نے اب تک انجام نہیں دیا۔ جو آدمی اپنی اس صلاحیت کو دریافت کرے، وہ ضرور کامیاب ہوگا، کیوں کہ ایسا کرکے وہ اپنے خالق کی خصوصی مدد کا مستحق بن جاتا ہے۔ پھر اس خاص صلاحیت کے مطابق، اپنے عمل کی پلاننگ (planning) کرو۔ تمھارے لیے یہ بھی ضروری ہے کہ تم اپنے آپ کو ڈسٹریکشن (distraction) سے بچاؤ۔ کیوں کہ ڈسٹریکشن تم کو بھر پور پلاننگ سے محروم کردے گا۔ اگر کسی نوجوان کو یہ مشورہ دیں تو یہ ایک تخلیقی مشورہ ہوگا۔
تخلیقی مشورہ صرف مشورہ نہیں ہے، بلکہ وہ لائحۂ عمل بھی ہے۔ وہ آدمی کو صرف بتاتا نہیں ہے، بلکہ وہ آدمی کی مدد بھی کرتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ تخلیقی مشورہ وہ سب سے زیادہ قیمتی چیز ہے، جو ایک آدمی کسی دوسرے آدمی کو دے سکتا ہے۔ کسی کو تخلیقی مشورہ دینا کوئی آسان کام نہیں۔ تخلیقی مشورہ وہی آدمی دے سکتا ہے، جو اپنے آپ کو اس مقصد کے لیے تیار کرے، جو دوسرے انسان کا سچا خیرخواہ ہو، جو خود پہلے وہ کام کرے، جس کا مشورہ وہ دوسرے آدمی کو دے رہا ہے۔
واپس اوپر جائیں

خبرنامہ اسلامی مر کز- 264

٭ سی پی ایس انٹرنیشنل کے تحت جو اہم کام ہو رہا ہے ، وہ ہے دنیا کے تمام انسانوں تک خدا کا پیغام ان کی قابلِ فہم زبانوں میں پہنچ جائے۔ اس سلسلے میں گڈ ورڈ بکس کی یہ کوشش رہی ہے کہ زیادہ سے زیادہ زبانوں میں قرآن کے ترجمے شائع کیے جائیں۔ اب تک گڈ ورڈ بکس سے 20 سے زائد تراجم قرآن نیشنل و انٹرنیشنل زبانوں میں چھپ چکے ہیں۔ اب اس سلسلے میں ایک اورترجمہ شامل ہوچکا ہے۔ فلپینو زبان (Filipino language) میں قرآن کا ترجمہ چھپ چکا ہے۔فلپینو زبان فلپائن کی قومی زبان ہے۔نیز سنہالی زبان میں ترجمۂ قرآن حاصل ہوچکا ہے، اور جلد ہی اس کی چھپائی کا کام بھی شروع ہونے کی امید ہے۔ واضح ہو کہ سنہالی یا ‎‎سنہالا‎‎ زبان سری لنکا کی ایک اہم زبان ہے۔
٭  5 مئی 2018 کو مشہور رائٹر اور سابق صحافی مسٹر آسولڈ پریرا (Oswald Pereira) صدر اسلامی مرکز کو اپنی کتاب بطور تحفہ دینے کے لیے آئے۔ انھوںنے ایک کتاب ترتیب دی ہے،اس کتاب کا نام ہے How to Create Miracles in Our Daily Life ۔اس کتاب میں انھوں نے صدر اسلامی مرکز کے چھ مضامین شائع کیے ہیں۔ یہ کتاب اسپریچوالٹی کے موضوع پر ہے۔
٭ 5 مئی 2018 کو انٹرنیشنل پیمانے پر امن اور روحانیت کے لیے کام کرر ہے تین لوگوں کا ایک گروپ صدر اسلامی مرکز سے ملنے کے لیے ان کے آفس نظام الدین ویسٹ میں آیا۔ ان تینوں کے نام یہ ہے: مز لکشمی مینن، مسٹر بین بولر (Ben Bowler) اور مز ینیی (Yanni)۔ یہ پیس اور اسپریچوالٹی کے معاملات میں سی پی ایس انٹرنیشنل کے ساتھ مل کر کام کرنا چاہتے ہیں۔ ان لوگوں سے مختلف موضوعات پر گفتگو ہوئی، اور آخر میں انھیں صدر اسلامی مرکز کی انگریزی کتابوں کا ایک ایک سٹ دیا گیا۔
٭ جناب عیاض احمد، سی پی ایس جمشید پور 31مئی 2018کو اطلاع دیتے ہیں کہ ٹیم ممبر جناب خالد صاحب (فاؤنڈر و صدر MSITI مینگو) نے سن رائز فاؤنڈیشن کی صدر مز دیپیکا موئترا کو ترجمۂ قرآن دیا۔ مز موئترا اسلام سے بہت متاثر ہیں، اور رمضان کے کچھ روزے بھی رکھتی ہیں۔ان کا کہنا ہے کہ اس سے ان کو بہت شانتی ملتی ہے۔اسی طرح 9 جون 2018 کو ایک دوسرے ٹیم ممبر مسٹر شہنواز قمر نے جمشید پور کی مشہور شاعرہ مسز نرملا ٹھاکر کو ترجمہ ٔ قرآن بطور رمضان گفٹ دیا۔ جسے انھوں نے بہت ہی خوشی اور شکریے کے ساتھ لیا۔
٭ جناب ڈاکٹر محمد اسلم خان صاحب کی اطلاع کے مطابق، 4 جون 2018کو سی پی ایس سہارن پور کی جانب سے مسٹر پون کمار (آئی اے ایس)، مسٹر راہل پانڈے (آئی اے ایس) کو صدر اسلامی مرکز کی کتاب، گاڈ ارائزز(God Arises) اور دوسری کتابیں بطور تحفہ دی گئیں۔ مسٹر پون کمار بذاتِ خود کئی کتابوں کے مصنف اورایک متلاشیٔ حق انسان ہیں۔
٭ خواجہ کلیم الدین صاحب (سی پی ایس امریکا) کی اطلاع کے مطابق 7 جون 2018 کو انھیں ایک چرچ میں دعوت دی گئی، تاکہ وہ وہاں موجود کرسچین سامعین کے ساتھ اسلام کے تعلق سے انٹرایکشن کریں۔ انھوں نے وہاں شرکت کی، اور تمام لوگوں سے تبادلۂ خیال کیا، اور تمام لوگوں کو صدر اسلامی مرکز کی انگریزی کتاب ، لیڈنگ اے اسپریچول لائف بطور گفٹ دیا۔ واضح ہو کہ وہاں سامعین کی تعداد 30 تھی۔
 ٭ ۸جون 2018 کو گڈورڈ بکس کے ڈائریکٹر اور سی پی ایس انٹرنیشنل ، نئی دہلی کے ٹرسٹی مسٹر ثانی اثنین خان نے سی پی ایس دہلی کی ممبر مز ماریہ خان کے ساتھ امریکن سفارت خانہ (نئی دہلی) میں منعقدہ افطار پارٹی میں شرکت کی، اور امریکی سفیر اور دیگر ڈپلومیٹ کو انگریزی ترجمہ قرآن بطور گفٹ دیا۔ جب سفارت خانے کے ذمے داران سے سی پی ایس انٹرنیشنل کی سرگرمیوں پر گفتگو ہوئی تووہ لوگ اس بات پر راضی ہوگئے ہیں کہ آئندہ سال سے افطار پارٹی کے موقع پر سی پی ایس انٹرنیشنل (دہلی)کی ممبر مز ماریہ خان کو وہ رمضان کے موضوع پر تقریر کے لیے دعوت بھی دیں گے۔
٭ سی پی ایس انٹرنیشنل، نئی دہلی کے ممبران نے اس مرتبہ عید(2018) کی نماز پارلیمنٹ ہاؤس اسٹریٹ کی مسجد میں ادا کی، اور وہاں آنے والے تمام لوگوں کو ترجمہ قرآن اور صدر اسلامی مرکز کی دیگرکتابیں بطور تحفہ دیں۔ جن لوگوں نے یہ تحفہ حاصل کیا، ان میں مسٹر غلام نبی آزاد، مسٹر شہنواز حسین، وغیرہ سیاسی لیڈران بھی شامل ہیں۔ واضح ہو کہ سی پی ایس انٹرنیشنل ہر سال عید الفطر اور عید الاضحیٰ کے موقعے کو بطور دعوتی مواقع استعمال کرتی ہے، اور مسلمان و غیر مسلموں کے درمیان ترجمۂ قرآن و دیگر دعوتی لٹریچر تقسیم کرتی ہے۔
٭ 16 جون 2018 کو سردار موہندر سنگھ (ڈائریکٹر بھائی ویر سنگھ ساہتیہ سدن، دہلی ) نے عید کی مبارک باد دینے کیے صدر اسلامی مرکز سے ملاقات کی۔ اس وقت ان کو پنجابی ترجمۂ قرآن اور دوسری کتابیں بطور تحفہ دی گئیں۔ سردار موہندر سنگھ نے صدر اسلامی مرکز کی کتابوں کے ریویو میں تعاون کرنے کی خواہش ظاہر کی ہے۔
٭ سی پی ایس امریکا کے متحرک ممبر ڈاکٹر وقار عالم صاحب نے رمضان کے موقع پر دعوت کا یہ طریقہ اختیار کیا کہ انگریزی ترجمۂ قرآن کے ساتھ کچھ گفٹ آئٹم رکھ کر تمام یہود و کرسچین پڑوسیوں کو ان کے گھر جاکر یہ گفٹ دیا۔ تمام لوگوں نے بہت ہی خوشی اور شکریے کے ساتھ یہ گفٹ قبول کیا۔ کئی لوگوں نے ترجمہ قرآن دیکھ کر بہت زیادہ خوشی کا اظہار کیا۔
٭Mr Cem Simsek ترکی کے ایک لائسنس یافتہ ٹورسٹ گائڈ ہیں۔ وہ استانبول میں گائڈ کا کام کرتے ہیں، اور پچھلے سات سالوں سے وہ اپنے ٹورسٹوں کے درمیان دعوتی کام بھی کرتے ہیں۔ وہ اپنے ٹورسٹوں کو اسلام کا تعارف کرواتے ہیں، اور ان کو ترجمۂ قرآن دیتے ہیں۔
٭ اسلامی مرکز کا مشن نہ صرف انڈیا میں پھیل رہا ہے، بلکہ پڑوسی ملک پاکستان میں بھی الرسالہ مشن کو بڑے پیمانے پر پذیرائی مل رہی ہے۔ پاکستان کے مختلف ناشرین کتب صدر اسلامی مرکز کی کتابوں کو شائع کر رہےہیں۔ان کے علاوہ سی پی ایس پاکستان کی صورت میں ایک مضبوط ٹیم وجود میں آچکی ہے، جس کے ذریعے اسلامی مرکز کی اردو میگزین، ماہنامہ الرسالہ اور انگلش میگزین اسپرٹ آف اسلام پاکستان میں چھاپی جاتی ہیں، اورپاکستان میں انھیں بڑے ذوق و شوق سے پڑھا جاتا ہے۔اس کے علاوہ صدر اسلامی مرکز کی کتابیں بڑے ذوق و شوق سے پڑھی جاتی ہیں۔ان کے ذریعے اسلامی مرکز کا پیغام پاکستان کے کونے کونے میں پہنچ رہا ہے۔ذیل میں پاکستان کے چند قارئین کا تاثر دیا جا رہا ہے:
■ جناب طارق بدر صاحب (کو آرڈی نیٹر، سی پی ایس، پاکستان) لکھتے ہیں: پاکستان میں مختلف مقامات کا سفر کرنے کےبعد میں نے یہ جانا کہ مولانا کی فکر کی قبولیت ان کی ذاتی مقبولیت سے زیادہ ہے۔تقریباً تمام علمائے کرام ان سے واقف ہیں، اور ان کی تصانیف کا مطالعہکرچکے ہیں۔حتیٰ کہ آپ سے اختلاف کرنے والے علما بھی دین کے لیےآپ کی خدمات کا اعتراف کیے بغیر نہیں رہتے ۔ہمارے پاس مولانا کی 20 مختلف عنوانات پر ایسی کتابیں ہیں جن کو جامعہ اشرفیہ (لاہور) پاکستان نے شائع کیا ہے۔ یہ ادارہ پاکستان میں دیوبندی مکتبۂ فکر کا ایک بہت بڑا طباعتی ادارہ ہے۔ پچھلے سال انہوں نے 2000 کے قریب مولانا کی کتابیں ہمیں عطیہ کیں، جن میں ظہور اسلام، اسلام اور عصر حاضر، دین کی سیاسی تعبیر وغیرہ شامل ہیں۔ہمیں چاہیے کہ اس قسم کےمواقع سے فائدہ اٹھائیں، اور اس مشن کو آگے بڑھائیں۔
■ مولانا کی کتابوں کے مطالعہ سے یہ فائدہ ہواہے کہ آخرت اور مابعد الموت کے بارے میں میرے اندر فکری بیداری پیدا ہوئی ہے، اور عمل کو شعوری انداز میں کرنے کی کوشش کرنے لگا ہوں۔ مولانا کی کتابوں سے میرے اندر وہ استعداد ہوگئی ہے، جس سے جدید تعلیم یافتہ حضرات میری باتوں کو سمجھ سکیں۔ جمعہ کے بیان میں ان مثالوں کو بیان کرنےسے لوگوں کےدلوں میں دین پر عمل کرنے کاشوق پیداہوگیا ہے۔ مجھے دعوت دینے کے طریقے آگئے ہیں،اورمسائل کو نظر انداز کرکے مواقع پہچاننے کا ذہن میرے اندر مولانا کی کتابوں سے آیا ہے۔ اس طرح کے بے شمار فائدے ہیں، جو میں نے حضرت کی کتابوں وتصنیفات کے مطالعے سے حاصل کی ہیں۔اللہ ہمیں مزید استفادہ کرنے کی توفیق دے (محمد صدیق، امام مسجد، کوئٹہ)
■ میرا تعلق ایک مذہبی گھرانے سے ہے۔مجھے بچپن سے مذہبی لٹریچر کو پڑھنے کا شوق تھا۔میرے والد کا تعلق جماعتِ اسلامی سے تھا۔ میں نے بچپن میں جماعتِ اسلامی کے کسی میگزین میں پہلی مرتبہ مولانا کا نام تعبیر کی غلطی کے کتاب کے حوالے سے سنا تھا۔ لیکن اس وقت کتاب تک رسائی نہ ہوسکی۔2015 میں اس کتاب تک رسائی ہوئی۔ اس کتاب کے مطالعے نے مجھے بے حد متاثر کیا۔چنانچہ میں نے مولانا کی مزید کتابیں ڈاؤنلوڈ کیں، اور ان کا مطالعہ کیا،تو مجھے لگا کہ میں ایک نئی دنیا سے متعارف ہو گیا ہوں۔اس کے بعد میں نے مولانا کی انٹرنیٹ پر موجود تمام تقریروں کو ڈاؤنلوڈ کرکے سنا، جس سے مجھے کافی فائدہ ہوا۔اس وقت میں ابوظہبی میں Quran distributer ہوں، اوراپنے دوستوں کو مولانا کی کتابیں دے کر انھیں ان کا مطالعہ کرنے پر ابھارتا ہوں۔ حقیقت یہ ہے کہ مولانا کے لٹریچر نے میری زندگی کا رخ تبدیل کیا ۔میں پہلےسیاسی اسلام کاکو ماننے والا تھا، اب میں خود کو ایک داعی سمجھتا ہوں۔ اس کے علاوہ جو تبدیلیاں میرے اندر پیدا ہوئی ہیں، ان میں سے چند یہ ہیں: (1)میں ایک شعوری مسلمان بن گیا ہوں۔ (2)میرے اندر غیر مسلم کے لیے خیرخواہی پیدا ہوئی ہے۔ (3)دعوت کی اسپرٹ پیدا ہوئی۔ (4)آخرت کی جواب دہی کا شدید احساس ۔ (5)میرے اندر صبر اور برداشت کا مادہ پیدا ہوا ہے۔ (6)معمولی لغزش کے بارے میں بھی میں بہت حساس ہوگیا ہوں۔ (7)تکبر کے بجائےتواضع کو اپنا چکاہوں۔ (8)نمازوں کو خشوع و خضوع کے ساتھ ادا کرنا۔ (9)دنیا سے بے رغبتی۔ (10)میرے اندر سے نفرت اور انتقام کا جذبہ حیرت انگیز حد تک کم ہوچکا ہے۔ (11)اور سب سے بڑھ کریہ کہ اب میں چھوٹی چھوٹی چیزوں کے بارے میں بھی تدبر اور توسم کا طریقہ اختیار کرتا ہوں۔یہ تمام خصائص میری زندگی کا اثاثہ ہیں۔اس لیے میں مولانا کا بہت احسان مند ہوں۔محمد عامر قریشی (کوھاٹ پاکستان)، مقیم حال ابو ظہبی۔
■ مولانا صاحب کی تعلیم میں ایک سبق بہت نمایاں ہے ۔ وہ یہ کہ معاملات کو گہرے تدبر ، غیر جانبدارانہ انداز میں ، اور سچائی کے ایک طالب علم کی طرح دیکھنا ، سننا اور پڑھنا چاہیے۔ یہی وجہ ہے کہ مولانا صاحب کی تحریروں کی ریکارڈنگ کر کےلوگوں کے درمیان پھیلانے کی کوششیں کرتا ہوں تاکہ جس علم و حکمت سے مجھے فائدہ پہنچ رہا ہے، ان کو دوسرے لوگوں تک بھی آواز کی صورت میں منتقل کرسکوں ۔ (ڈاکٹر خالد سعید، کراچی)
■ مولانا ایک ایسے صوفی ہیں جنہوں نے اللہ سے قربت کا بہت ہی آسان راستہ بتایا ہے ، اس میں نہ ہی تصوف کی پیچیدگیاں ہیں اور نہ ہی کوئی ابہام۔ مولانا کے نظریے کی یہ خاص بات ہے کہ آپ صرف اور صرف توحید کے قائل ہیں۔ پیری مریدی سے نکل کر صرف اور صرف اللہ کی ذات سے مضبوط رشتہ قائم کرنا ، آپ کی تعلیم کا خاصہ ہے۔ (عبد الغفور کندی، کے پی کے)
■ مولانا کی باتیں حوصلہ افزا اور دل و دماغ کو تازگی بخشتی ہیں۔ ان کی ہر تحریر منفی جذبات کے خلاف اینٹی بائیوٹک کی طرح کام کرتی ہیں ۔ اللہ ہمیں عمل کی توفیق عطا فرمائے، آمین (احمد شاہ جمالی، ڈی جے خان)
■ اگر ہم اپنے ارد گرد موجود اسلامی سوچ(روایتی مذہبی سوچ) کا جائزہ لیں تو ایک منفی سوچ پیدا ہوتی ہے۔ یوں لگتا ہے کہ جیسے ہر جگہ اسلام سے نفرت اور مسلمانوں سے دشمنی ہے، لیکن جب ہم مولانا کی تحریروں کو پڑھتے ہیں تو ایک positive احساس بیدار ہوتا ہے، جو بتاتا ہے کہ ہمارے لیے موجودہ زمانے میں کیا مواقع ہیں، اور ہمارےطرز عمل میں غلطی کیا ہے،جس کوہمیں درست کرنے کی ضرورت ہے۔ مولانا کی تحریریں فطری انداز میں کلام کرتی ہیں۔ میں جب کبھی مولاناکو پڑھتا ہوں، مجھے اپنے اندر ایک سکون محسوس ہوتا ہے، یوں لگتا ہے جیسے مجھے میری کھوئی ہوئی کوئی چیزمل گئی یا میں نے اپنی تلاش کا حقیقی حل پا لیا۔ (فیصل عبد الرشید، کراچی)
■ کن الفاظ کے ساتھ مولانا وحیدالدین صاحب کا شکریہ ادا کیا جائے۔ بات اگر کی جائے ان کی تحریروں اور ان کے پیغامات کی تو لاجواب۔ مولانا تو اندھیرے میں امید کا چراغ اور مایوسی میں امید و حوصلہ دینے والے شخص ہیں۔ اگر ایک شخص زندگی کی بازی ہار بیٹھا ہو، اور وہ خودسوزی کے لے تیار ہو ، اس وقت مولانا صاحب کا ایک قول ایسےانسان کو زندگی کی امید دینے کے لیے کافی ہے۔مولاناہار کر جیتنے کا پیغام دیتے ہے ،میل جول اور اتفاق و بھائی چارےکا درس دیتے ہیں ۔خود اعتمادی کا بیج بوتے ہوئے اپنی ذات کی پہچان کرواتے ہیں۔اس عظیم انسان کے کام تاریخ میں ہمشہ زندہ و جاوید رہیں گے۔ (شہزادہ بابل جان، کوئٹہ)
■ مولانا صاحب کی تحریروں کو پڑھنے سے پہلے میرے اندر بہت ہی زیادہ منفی سوچ موجود تھی، مولانا کو پڑھنے کے بعد میرے اندر بہت زیادہ بدلاؤ آیا ہے۔ منفی سوچ مثبت سوچ میں بدل چکی ہے۔ (حسن افضل، ملتان)
■   مولانا کی تحریر کا فوکس امن ہے ، شروع میں یہ بہت broad term محسوس ہوا۔ وقت کے ساتھ ساتھ امن کی اہمیت ذاتی زندگی میں روشناس ہونا شروع ہوئی ۔ پھرپیغمبر اسلام کی زندگی کو جیسے مولانا نے لکھااس سے امن کا مطلب بہت clear ہوتا چلا گیا۔ صبر ، بردباری ، صاف دلی ، اللّہ کی بندگی ، اللّہ کی مخلوق کی خدمت ، اصل جہاد ہے۔ مولانا نے ان دینی اصطلاحات کے درست معنی کو سمجھانے کی کامیاب کوشش کی ۔ جب سوچ کو درست سمت میں فوکس کر دیا جائے تو علم کے راستے خود کھلتے ہیں۔ مولانا نے سمت بھی دکھائی ہے،اور فوکس بھی رکھا ہے۔ اسی وجہ سے نظریات اور مقصد حیات اللّہ کے دین کے مطابق ڈھالنے میں بہت آسانی ہونے لگی۔ سکون سچ سے ملتا ہے۔ ایسے میں قران کا سچ اصل حقیقت سے بیان کر کے سکون کے متوالوں کو ایک راہ دکھا دی ہے۔ ایک مرتبہ کا واقعہ ہے ، مولانا کے ایک کتابی سٹال کے دوران انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی میں اسٹیج پر شور و غل سن کر ایک صاحب نے مجھے کہا کہ ان لوگوں نے مولانا کو نہیں پڑھا، اس لیے شور کر رہے ہیں ۔ اگر پڑھ لیں تو خاموش ہو جائیں گے۔ اس سے بڑا کیا change ہوگا کہ مولانا کی تحریر انسان کو بولنا نہیں، سکونِ خاموشی سکھاتی ہے۔ مولانا کی تحریروں اور لیکچرز سے میں اور میری اہلیہ نے اپنے آپسی ، دنیوی اور معرفتی معمولات کو بہت improve کیا ہے۔ جزاک اللّہ ۔ ( شاہد رانا، اسلام آباد)
واپس اوپر جائیں