Pages

Thursday, 1 September 2022

Al Risala | September-October 2022 (الرسالہ،ستمبر۔اکتوبر)

4

-شکر کا عمل

5

- شکر ایک اعلیٰ عبادت

10

- شکر کی اہمیت

11

- شکر:ایک قربانی کا عمل

12

- شکر سے اضافہ

13

- صبر وشکر

15

- شکر کی تربیت

17

- انسان اور نظامِ ربوبیت

18

- سب کچھ خدا کا عطیہ

20

- شکر کے دو درجے

22

- جذباتِ شکر کی بیداری

23

- شکر کا احساس

24

- اعلیٰ شکر

25

- شکر ِقلیل، شکر ِکثیر

26

- شکر سب سے بڑی عبادت

28

- شکر میں جینا سیکھیے

29

- محرّک شکر

30

- فخر اور شکر

31

- انسان کا اعتراف

32

- دور شکر

33

- شکر، نہ کہ شکایت

35

- اضافۂ ایمان

37

- شکر کا ایک آئٹم

38

- بولنے کی صلاحیت

39

- شکر کی نفسیات میں جینا

40

- شکر اور ناشکری

41

- شکر یاسرکشی

42

- شکر اور سنجیدگی

45

- ناشکری نہیں

46

- دورِسائنس، دور شکر

47

- عالمی شکر

49

- میں خداکا کتنا مقروض ہوں

50

- شکر کی حقیقت


شکر کا عمل

قرآن کا آغاز بسم اللہ سے ہوتا ہے۔ بسم اللہ کے بعد سب سے پہلی آیت یہ ہےالْحَمْدُ لِلَّہِ رَبِّ الْعَالَمِینَ۔یعنی، شکر ہے خداوندِ عالم کے لیے۔قرآن کی اِس آیت سے شکر کی اہمیت معلوم ہوتی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اسلام کے تمام اعمال میںشکر ہی ایک ایسا عمل ہے، جس کو انسان اپنی نسبت سے اعلیٰ ترین صورت میں کرسکتاہے۔ دوسرے تمام اعمال، مثلاً عبادت اور اخلاق اور معاملات کی ادائیگی میں مختلف اسباب سے کچھ نہ کچھ کمی رہ جاتی ہے۔ لیکن شکر کا تعلق دل اور دماغ سے ہے اور جس چیز کا تعلق دل اور دماغ سے ہو، اُس کے بارے میں یہ ممکن ہوتاہے کہ آدمی اُس کو کامل ترین صورت میں ادا کرسکے۔ یہاں وہ اپنے تمام جذبا ت اور اپنی ساری سوچ کو خدا کے سامنے پیش کرسکتا ہے۔ یہ خصوصیت صرف شکر کو حاصل ہے۔
شکر کیا ہے، شکر دراصل اعتراف کا دوسرا نام ہے۔ انسانی معاملات میں جس چیز کو اعتراف کہاجاتاہے، اُسی کا نام خدائی معاملے میں شکر ہے۔ ہر آدمی کے لیے یہ ضروری ہے کہ وہ اپنے شعور کو اتنا زیادہ بیدار کرے کہ ہر ملی ہوئی چیز اُس کو کامل معنوں میں خدا کا عطیہ دکھائی دے۔ وہ کامل جذبۂ اعتراف کے ساتھ یہ کہہ سکے کہ خدایا، تیرا شکر ہے۔ خدا کی نعمتوں اور رحمتوں کا کامل احساس کرکے یہ کہہ پڑنا کہ الحمد للہ ربّ العالمین، یہی شکر ہے اور یہ شکر بلا شبہ سب سے بڑی عبادت ہے۔
موجودہ دنیا میں وہ چیز بہت بڑے پیمانے پر موجود ہے جس کو لائف سپورٹ سسٹم کہا جاتا ہے۔ یہاں کی ہر چیز اِس طرح بنائی گئی ہے کہ وہ کامل طورپر انسان کے لیے موافق اسباب کی حیثیت رکھتی ہے۔ ایسی حالت میں یہ ہونا چاہیے کہ انسان جب اِس دنیا میں چلے پھرے اور اس کو استعمال کرے تو وہ شکر اور اعتراف کے جذبے سے سرشار ہو۔ موجودہ دنیا کی تمام قیمتی چیزیں انسان کو سرتاسر مفت میں ملی ہوئی ہیں، سچا شکر ہی اِن چیزوں کی قیمت ہے۔ جو آدمی یہ قیمت ادا نہ کرے، اُس کی حیثیت اِس دنیا میں غاصب کی ہے، اور غاصب کے لیے بلا شبہ سزا ہے، نہ کہ انعام۔ شکر کے احساس کے بغیر اِس دنیا میں رہنا بلا شبہ ایک ناقابلِ معافی جرم کی حیثیت رکھتا ہے، عورت کے لیے بھی اور مرد کے لیے بھی۔
واپس اوپر جائیں

شکر ایک اعلیٰ عبادت

شکر کیا ہے۔ شکر اُس داخلی کیفیت کا نام ہے جو کسی نعمت کے گہرے احساس سے آدمی کے اندر پیدا ہوتی ہے۔ انگریزی میں اس کو گریٹ فُل نیس (gratefulness) کہاجاتا ہے۔ عربی زبان کی مشہور ڈکشنری لسان العرب (جلد4، صفحہ 423)کے مطابق ، احسان کی معرفت اور اس کے تذکرے کا نام شکرہے (الشُّکْرُعِرْفانُ الإِحسان ونَشْرُہ)۔ راغب الاصفہانی کی کتاب المفردات فی غریب القرآن (صفحہ 265) میں بتایا گیا ہے کہ شکر کا مطلب ہے— نعمت کے بارے میں سوچنا اور اس کا اظہار کرنا (الشُّکْرُتصوّر النّعمة وإظہارہا)۔ مفسر القرطبی نے لکھا ہے — وَالشُّکْرُ مَعْرِفَةُ الْإِحْسَانِ وَالتَّحَدُّثُ بِہِ (تفسیر القرطبی، جلد2، صفحہ172)۔شکر نام ہےاحسان شناسی کا اور اس کے اعتراف کا ۔
نعمت کا اعتراف (acknowledgement)ایک اعلیٰانسانی صفت ہے۔ یہ اعتراف جب خدا کی نسبت سے ہو تو اِسی کا نام شکر ہے۔ انسان کے اوپر خدا کی نعمتیں سب سے زیادہ ہیں، اِس لیے انسان کو چاہیے کہ وہ سب سے زیادہ خداوند ِ ذوالجلال کا شکر ادا کرے۔ حدیث میں آیا ہے کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ نے اپنی ایک دعا میں فرمایارَبِّ اجْعَلْنِی لَک شَکَّارًا (سنن ابن ماجہ، حدیث نمبر 3831؛ سنن الترمذی،حدیث نمبر3551 ؛ مسند احمد،حدیث نمبر1997) ۔یعنی اے میرے رب! تو مجھ کو اپنا بہت زیادہ شکر کرنے والا بنا۔
قرآن میں بار بار یہ کہا گیا ہے کہ اے لوگو! خدا کے شکر گزار بندے بنو۔ مثلاً میٹھے پانی کا ذکر کرنے کے بعد اللہ تعالیٰ نے فرمایافَلَوۡلَا ‌تَشۡکُرُونَ(56:70)۔ یعنی، تم شکر کیوں نہیں کرتے۔ انسان سے جو چیز سب سے زیادہ مطلوب ہے، وہ یہی شکر ہے۔ شیطان کی ساری کوشش یہ ہوتی ہے کہ وہ انسان کو شکر کے راستے سے ہٹا دے۔قرآن کے مطابق، آغازِ حیات میںاُس نے خدا کو چیلنج کرتے ہوئے کہا تھا کہ میں انسانوں کو بہکاؤں گا، یہاں تک کہ تو اُن میں سے اکثر لوگوں کو اپنا شکر گزار نہ پائے گا— وَلَا تَجِدُ أَکْثَرَہُمْ شَاکِرِینَ
And you will not find most of them grateful (7:17)
قرآن میں مختلف انداز سے یہ بات کہی گئی ہے کہ خدا کے بندوں میں بہت کم ایسے لوگ ہیں جو شکر کرنے والے ہیں وَقَلِیلٌ مِنْ عِبَادِیَ الشَّکُورُ(34:13)۔ شکر کا مطلب اگر یہ ہو کہ آدمی زبان سے شکر کے الفاظ بولتا رہے، تو ایسے لوگ ہمیشہ بہت زیادہ رہے ہیں اور آج بھی وہ بہت زیادہ ہیں۔ ایسے لوگ بے شمار ہیں جو اپنی گفتگو کے دوران بار بار الحمد للہ، اللہ کا شکر ہے اور اللہ کا فضل ہے، جیسے الفاظ بولتے رہتے ہیں۔ ایسی حالت میں دنیا بظاہر شکر کرنے والوں سے بھری ہوئی ہے، پھر مذکورہ قرآنی بیان کا کیا مطلب ہے کہ لوگوں میں بہت کم ہیں جو شکر کرنے والے ہیں۔
اصل یہ ہے کہ شکر کی دو قسمیں ہیں— لسانی شکر، اور قلبی شکر۔ لسانی شکر کو نارمل شکر، اور قلبی شکر کو تھِرلنگ (thrilling) شکر کہہ سکتے ہیں۔ خدا کی خدائی شان کے مطابق، شکر صرف وہ ہے جو تھرلنگ شکر ہو۔ نارمل شکر صرف ایک لِپ سروس (lip-service) ہے۔ اِس قسم کا شکر خدا کو مطلوب نہیں۔ اِسی کے ساتھ ضروری ہے کہ خدا کے لیے انسان کا شکر ایک اضافہ پذیر شکر ہو۔ جو شکر ایک حالت پر قائم ہوجائے، وہ ایک جامد شکر ہے۔ اور جامد شکر وہ شکر نہیں جو خدا کے نزدیک مطلوب شکر کی حیثیت رکھتا ہے۔
تھرلنگ شکر صرف اُس شخص کو ملتا ہے جو خدا کے احسانات (blessings)پر مسلسل غور کرتا رہے۔ انسان کے اوپر خدا کے احسانات لامحدود ہیں۔ اِس لیے جوآدمی اِس پہلو سے غور وفکر کرتا رہے، وہ ہر وقت ایک نئے خدائی احسان کو دریافت کرے گا، وہ ہر وقت ایک نئے سبب ِ شکر کا تجربہ کرے گا۔ اس کے یہ تجربات کبھی ختم نہ ہوں گے۔ اِس لیے اس کے اندر شکرِ خداوندی کا احساس بھی مسلسل طورپر زندہ رہے گا۔
میں اپنے دفتر میں بیٹھا ہوا تھا۔ اچانک ٹیلی فون کی گھنٹی بجی۔ میں نے سوچا کہ انسان کی قوتِ سماعت بھی کیسی عجیب ہے کہ اس کے کان میں بے شمار قسم کی آوازیں آتی ہیں۔ وہ ہر آواز کو ممیّز (differentiate) کرکے اس کو الگ سے پہچان لیتا ہے۔ اس کے بعد میں نے اپنے ایک ہاتھ کو حرکت دی اور بات کرنے کے لیے ریسیور کو اٹھایا۔ دوبارہ میں نے سوچا کہ میرے جسم میں بہت سے اعضا ہیں، لیکن میرے دماغ نے صرف ایک عضو (ہاتھ) کو متحرک کیا کہ وہ ریسیور کو اٹھائے۔ اِس عمل میں آنکھ کا بھی ایک حصہ تھا، کیوں کہ اگر آنکھ اپنا عمل نہ کرتی تو مجھے یہ معلوم ہی نہ ہوتا کہ ریسیور کہاں ہے۔
جب میں نے ٹیلی فون پر بات کرنا شروع کیا تو معلوم ہوا کہ ٹیلی فون کے دوسری طرف جو آدمی ہے، وہ انگریزی زبان میں بول رہا ہے۔ میںاس کی بات کو پوری طرح سمجھ رہا تھا۔ میںنے سوچا کہ میری مادری زبان اردوہے، اور دوسرے شخص کی زبان انگریزی۔ میںکسی بات کو صرف اُس وقت سمجھ پاتا ہوں، جب کہ میںاس کو اردو الفاظ میں ڈھال لوں۔ میںنے سوچا کہ دماغ کیسی عجیب نعمت ہے۔ جو اپنے اندر یہ انوکھی صلاحیت رکھتا ہے کہ وہ انگریزی الفاظ کو فی الفور(instantly) اردو میں ڈھال دے۔ اور اِس طرح متکلم کی بات کو بلاتاخیر میرے لیے قابلِ فہم بنادے۔
اِس طرح کی بہت سی باتیں اُس وقت میرے ذہن میں آتی رہیں۔ میں ایک طرف دور کے ایک شخص سے ٹیلی فون پر بات کررہا تھا اور دوسری طرف، عین اُسی وقت میں خدا کے بارے میں تھرلنگ شکر کا تجربہ کررہا تھا۔ یہ تجربہ اتنا زیادہ شدید تھا، جیسے کہ شکر کا ایک دریا میرے سینے میں جاری ہوگیا ہو۔اِسی طرح ہر لمحہ انسان کو ایسے تجربات پیش آتے ہیں جن کے اندر شکر کا سمندر چھپا ہوا ہوتا ہے۔ اِس اعلیٰ شکر تک آپ کی رسائی صرف غور وفکر کے ذریعے ہوسکتی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ سوچ ہی اعلیٰ شکر کا دروازہ ہے۔ جس آدمی کے اندر سوچ نہ ہو، اس کے اندر شکر بھی نہ ہوگا۔ ایسا آدمی ہر چیز کو فارگرانٹیڈ (for granted) لیتا رہے گا۔
جو انسان چیزوں کو فار گرانٹیڈ طور پر لے گا، وہ خدا کی نعمتوں کی کوئی قدر نہیں کرے گا، وہ شکر کے سمندر کے درمیان رہتے ہوئے بھی تھرلنگ شکر کا تجربہ نہیں کرے گا۔یہی وہ لوگ ہیں جن کے بارے میں قرآن میںآیا ہے —
لَہُمۡ قُلُوبٌ لَّا یَفۡقَہُونَ بِہَا وَلَہُمۡ أَعۡیُنٌ لَّا یُبۡصِرُونَ بِہَا وَلَہُمۡ ءَاذَانٌ لَّا یَسۡمَعُونَ بِہَآۚ أُوْلَٰٓئِکَ کَٱلۡأَنۡعَٰمِ ‌بَلۡ ‌ہُمۡ أَضَلُّۚ أُوْلَٰٓئِکَ ہُمُ ٱلۡغَٰفِلُونَ(7:179)۔ یعنی، ان کے دل ہیں جن سے وہ سمجھتے نہیں، ان کی آنکھیں ہیں جن سے وہ دیکھتے نہیں، ان کے کان ہیں جن سے وہ سنتے نہیں۔ وہ ایسے ہیں جیسے چوپائے، بلکہ ان سے بھی زیادہ بےراہ۔ یہی لوگ ہیں غافل۔
اصل یہ ہے کہ ہر چیز کے دو پہلو ہوتے ہیں۔ ایک، اس کا ابتدائی اور ظاہری پہلو۔ اور دوسرا، اس کا زیادہ گہرا پہلو۔ چیزوں کا ظاہری پہلو ہر آدمی کو کسی کوشش کے بغیر اپنے آپ دکھائی دیتا ہے۔ لیکن اس کا جو گہرا پہلو ہے، وہ صرف سوچنے کے بعد کسی کو سمجھ میںآتا ہے۔ اعلیٰ شکر کا تجربہ کرنے کے لیے آدمی کو یہ کرنا پڑتا ہے کہ وہ چیزوں کے گہرے پہلو پر غور کرے، تاکہ وہ ایک معمولی چیز کو غیر معمولی روپ میں دیکھ سکے
It is the result of taking an ordinary thing as extraordinary.
ایک دن مجھے پیاس لگی۔ میرے سامنے میز پر شیشے کا ایک گلاس پانی سے بھرا ہوا رکھا تھا۔ میں نے اس کو اپنے ہاتھ میں لیا تو اس کو دیکھ کر میرے دماغ میں ایک فکری طوفان برپا ہوگیا۔ اچانک ایک پوری تاریخ میرے ذہن میںآگئی۔ میری زبان سے نکلا کہ خدایا، تیرا شکر ہے کہ تونے پانی جیسی نعمت انسان کو عطا کی۔ یہ کوئی سادہ بات نہیں تھی۔ یہ ایک سپر(super) شکر تھا، جس نے میری پوری شخصیت میں طوفان برپا کردیا تھا۔میں نے سوچا کہ کئی بلین سال پہلے ایسا ہوا کہ دو گیسوں، آکسیجن اور ہائڈروجن، کے ملنے سے پانی جیسی سیّال چیز بنی۔ یہ پانی گہرے سمندروں میںذخیرہ ہوگیا۔ اِس کے بعد خدا نے تحفّظاتی مادّہ (preservative) کے طورپر اِس میں دس فی صد نمک ملا دیا۔ یہ پانی براہِ راست طورپر انسان کے لیے ناقابلِ استعمال تھا۔ اِس کے بعد خدا نے ایک عالمی نظام کے تحت، پانی کو نمک سے الگ کرنے کے لیے، اِزالۂ نمک (desalination)کا ایک آفاقی عمل جاری کیا۔ اِس کے بعد یہ ہوا کہ سمندروں کا کھاری پانی، میٹھا پانی بن کر بارش کی صورت میں ہم کو حاصل ہوگیا۔
یہ ایک مثال ہے جس سے اندازہ ہوتاہے کہ تھرلنگ شکر کی توفیق کسی آدمی کو کس طرح حاصل ہوتی ہے۔ اِس کا واحد ذریعہ سوچ ہے۔ یہ دراصل سوچ ہے جو آدمی کو اِس قابل بناتی ہے کہ وہ سپر شکر کا ہدیہ اپنے رب کے حضور پیش کرے۔ سوچ کے سوا کوئی بھی دوسری چیز نہیں ہے جو آدمی کو اُس اعلیٰ شکر کا تجربہ کرائے جو کہ خدا کو انسان سے مطلوب ہے۔
جیسا کہ اوپر عرض کیا گیا، پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا کرتے ہوئے فرمایا ربّ اجْعَلنِی لَک شکّاراً۔ کوئی انسان، شَکَّار یا بہت زیادہ شکر کرنے والا کیسے بنتا ہے۔ اس کا طریقہ یہ نہیں ہے کہ آدمی شکر کے کلمہ کو ہزاروں بار دہرائے، یا اور کوئی وظیفہ پڑھے۔ اِس کوحاصل کرنے کا واحد ذریعہ غوروفکر ہے۔ مذکورہ دعا کا مطلب یہ ہے کہ خدایا، تو مجھ کو ربّانی غور وفکر کی توفیق دے، تاکہ میرے اندر اعلیٰ شکر کی کیفیات پیدا ہوں، جو کہ حقیقی معنوں میں کسی انسان کو خدا کا شکر گزار بندہ بناتی ہیں۔آپ قرآن کا مطالعہ کریں تو آپ پائیں گے کہ قرآن میں شکر کو صبر کے ساتھ جوڑا گیا ہے۔ مثلاً قرآن میں دنیا کی نعمتوں کا ذکر کرتے ہوئے ارشاد ہوا ہےإِنَّ فِی ذَلِکَ لَآیَاتٍ لِکُلِّ صَبَّارٍ شَکُورٍ (31:31)۔ یعنی، اِس میں نشانیاں ہیں ہر اُس انسان کے لیے جو بہت زیادہ صبر کرنے والا اور بہت زیادہ شکر کرنے والا ہو۔اِس قسم کی آیات پرغور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ قانونِ الٰہی کے مطابق، اعلیٰ شکر کی توفیق صرف اُن لوگوں کو ملتی ہے جو بہت زیادہ صبر کرتے ہوئے اِس دنیا میں زندگی گزاریں۔
ایسا کیوں ہے۔ اِس کا سبب یہ ہے کہ موجودہ دنیا میں انسان کو مکمل آزادی دی گئی ہے۔ اکثر ایسا ہوتا ہے کہ انسان اپنی آزادی کا غلط استعمال کرتا ہے۔ اِس بنا پر یہاں مختلف قسم کی برائیاں (evils)پیدا ہوجاتی ہیں۔ یہ صورتِ حال خدا کے قانون کی بنا پر ہے، انسان اس کو بدلنے پر قادر نہیں۔ اِس معاملے میں انسان کو ایک ہی اختیار (option) حاصل ہے، وہ یہ کہ وہ صبر وبرداشت سے کام لے، تاکہ وہ دنیا میں نارمل طریقے سے رہ سکے۔
شکر ایک ایسا جذبہ ہے جو صرف ایک ایسے مائنڈ میں پیدا ہوتاہے جو کامل طور پر مثبت (positive) ہو، کسی بھی قسم کا منفی فکر(negative thought) اس کے ذہن میں موجود نہ ہو۔ مثبت ذہن کا آدمی ہی خدا کی توفیق سے اعلیٰ شکر ادا کرنے کے قابل ہوتاہے۔ صبر دراصل شکر کی قیمت ہے۔ جو آدمی یہ قیمت ادا نہ کرے، وہ شکر جیسی اعلیٰ عبادت بھی انجام نہیں دے سکتا۔
واپس اوپر جائیں

شکر کی اہمیت

طاغوت کا لفظی مطلب ہے، حد سے تجاوز کرنے والا۔ قرآن میں یہ لفظ شیطان کے لیے آیا ہے۔ کیوں کہ اس نے اللہ رب العالمین سے بغاوت کی۔شیطان کی سب سے بڑی کوشش یہ ہے کہ وہ انسان کو شکایتی ذہن میں مبتلا کرکے اللہ سے دور کردے۔ شیطان نے آدم کی تخلیق کے وقت اللہ رب العالمین کو چیلنج کرتے ہوئے کہا تھا وَلَا تَجِدُ أَکْثَرَہُمْ شَاکِرِینَ (7:17)۔ یعنی، تو اکثر انسانوں کو اعتراف کرنے والا نہ پائے گا۔
دین کا خلاصہ اللہ سے تعلق ہے۔ اللہ سے تعلق اگر انسان کو دریافت کے درجے میں حاصل ہوا ہو تو انسان کے اندر اپنے آپ میں یہ واقعہ ہوجاتا ہے کہ وہ اپنے پورے دل وجان کے ساتھ اِن انعامات کے منعم (giver) کا اعتراف کرے۔اس کے برعکس، جہاں اللہ کا اعتراف (شکر) نہ ہو، یقینی طور پر وہاںاللہ سے حقیقی تعلق بھی نہ ہوگا۔انسان کے اندر اللہ کے شکر کا جذبہ کیسے پیدا ہوتا ہے۔وہ تدبر و تفکر سے پیدا ہوتا ہے۔ اصل یہ ہے کہ اِس دنیا میں انسان کو اپنے وجود سے لے کر لائف سپورٹ سسٹم (life support system) تک جو چیزیں ملی ہیں، وہ سب کا سب اللہ کا یک طرفہ عطیہ ہیں۔ اس دریافت کے بعد انسان کے اندر اپنے مُنعم حقیقی کے لیے اعتراف (acknowledgement) کا جذبہ ابھرتا ہے۔ اللہ رب العالمین کے اِسی اعتراف کا مذہبی نام ’شکر‘ ہے۔
تعلق باللہ فقہی یا قانونی حکم کے طور پر کسی کے اندر پیدا نہیں ہوتا، بلکہ وہ دریافت کے نتیجے کے طو رپر پیدا ہوتا ہے۔اگر ایسا ہوکہ بندے کے اندر ڈسکوری کے درجے میں اللہ سے تعلق پیدا ہو تو اس کے بعد اپنے آپ اس کے نتائج ظاہر ہوں گے، اس کی سوچ میں تعلق باللہ کی جھلک دکھائی دے گی۔ تعلق باللہ کا ایک ظاہرہ شکر(acknowledgement) ہے۔ اور جب اس قسم کا شکر کسی کو حاصل ہوجائے تو فطری طور پر اس کے اندر غور و فکر کا مزاج پیدا ہوتا ہے ، یعنی وہ ہمیشہ اللہ رب العالمین کے بارے میں غور وفکر کرتا رہے۔ معرفت اسی غور وفکر کا نتیجہ ہے۔ اسی لیے دین میں تدبر یا غور و فکر کی اہمیت بہت زیادہ ہے۔
واپس اوپر جائیں

شکر: ایک قربانی کا عمل

شکر سب سے بڑی عبادت ہے۔ شکر جنت کی قیمت ہے۔ شکر کے بغیر ایمان نہیں۔ شکر کے بغیر سچی خدا پرستی نہیں۔ شکر کے بغیر آدمی اُن اعلیٰ کیفیات کا تجربہ نہیں کرسکتا جس کو قرآن میں ربّانیت (آل عمران،2:79) کہاگیا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ دین داری کی اصل روح شکر ہے۔ شکر کے بغیر دین داری ایسی ہی ہے جیسے پھل کااوپری چھلکا۔
لیکن شکر محض زبان سے کچھ الفاظ ادا کردینے کا نام نہیں، شکر ایک قربانی کا عمل ہے، بلکہ سب سے بڑی قربانی کا عمل۔ جو آدمی سب سے بڑی قربانی دینے کے لیے تیار ہو، وہی اُس شکر کا تجربہ کرسکتا ہے جو خدا کو مطلوب ہے۔
اصل یہ ہے کہ موجودہ دنیا میںہر انسان کسی نہ کسی اعتبار سے احساسِ محرومی کا شکار ہوتاہے۔ ہر انسان کے دل میںکسی نہ کسی کے خلاف منفی جذبات موجود رہتے ہیں۔ ہر انسان مختلف اسباب سے شکایت اور نفرت کی نفسیات میں جینے لگتا ہے۔ یہی وہ صورتِ حال ہے جو شکر کو کسی انسان کے لیے مشکل ترین کام بنا دیتی ہے۔ آدمی زبان سے شکر کے الفاظ بولتا ہے، لیکن اس کا دل حقیقی جذباتِ شکر سے بالکل خالی ہوتا ہے۔
ایسی حالت میں صرف وہی انسان شکر کا عمل کرسکتاہے جس کا شعور اتنا زیادہ بیدار ہوچکا ہو کہ وہ ناشکری کے اسباب کے باوجود شکر کرسکے، جو منفی خیالات کے جنگل میں رہتے ہوئے مثبت احساس میں جینے والا بن جائے۔ وہ اپنے اندر سے ڈھونڈ ڈھونڈ کر خلافِ شکر چیزوں کو نکالے، وہ اپنے اندر حقیقی جذباتِ شکر کی تخلیق کرسکے۔
شکر ایک عبادت ہے جو ہر حال میں مطلوب ہے۔ جو آدمی یہ سمجھے کہ شکر اُس وقت کرنا ہے جب کہ ہر چیز اُس کو اس طرح حاصل ہوجائے جیساکہ وہ انھیں حاصل کرنا چاہتاتھا، ملی ہوئی چیز اُس کی مرضی کے مطابق اُس کو مل جائے۔ ایسا آدمی کبھی شکر کرنے والا نہیں بن سکتا۔ خدا کا حقیقی شکر گزار وہی ہے جو شکایت کے باوجود شکر گزاری کار از دریافت کرے۔
واپس اوپر جائیں

شکر سے اضافہ

قرآن کی سورہ ابراہیم میں ارشاد ہوا ہےوَإِذْ تَأَذَّنَ رَبُّکُمْ لَئِنْ شَکَرْتُمْ لَأَزِیدَنَّکُمْ وَلَئِنْ کَفَرْتُمْ إِنَّ عَذَابِی لَشَدِیدٌ (14:7) ۔یعنی،اور جب تمھارے رب نے تم کو آگاہ کردیا کہ اگر تم شکر کروگے، تو میں تم کو زیادہ دوں گا۔ اور اگر تم ناشکری کروگے، تو میرا عذاب بڑا سخت ہے
And remember also the time when your Lord declared: ‘If you are grateful, I will surely bestow more favours on you; but if you are ungrateful, then know that My punishment is severe indeed’ (14:7)
قرآن کی اِس آیت میں نعمت میں اضافہ سے مراد یہ ہے کہ دنیا کی زندگی میں جو انسان خدا کی نعمتوں کا سچا شکر ادا کرے گا، اُس کو آخر ت میں جنت کی صورت میں حقیقی طور پرزیادہ بڑا انعام دیا جائے گا۔حقیقت یہ ہے کہ انسان کو اس کی ذات کے اعتبار سے یا خارجی دنیا کے اعتبار سے جو چیزیں ملی ہیں، ان میں سے ہر چیز اس کے لیے عظیم نعمت (great blessing) ہے۔ انسان سے یہ مطلوب ہے کہ وہ چیزوں کو فار گرانٹیڈ (for granted) نہ لے، بلکہ وہ ان کو شعوری طورپر دریافت کرے۔ وہ ان نعمتوں کے لیے کامل معنوںمیں خالق کا اعتراف (acknowledgement) کرے۔
شکر دراصل اعتراف کا دوسرا نام ہے۔ نعمت کے ملنے پر منعم کا اعتراف سب سے بڑی عبادت ہے۔ اور یہی عبادت وہ چیز ہے جو کسی انسان کو جنت کا مستحق بنائے گی۔نعمت کا احساس کس طرح ہوتا ہے۔ انسان کے اندر خالق نے ایک فیکلٹی رکھی ہے، اس کو احساسِ لذت (sense of enjoyment) کہتے ہیں۔
کائنات میں انسان واحد مخلوق ہے جو لذت کا احساس رکھتا ہے۔ موجودہ دنیا میں انسان کو عارضی طورپر اِسی لیے رکھا گیا ہے کہ وہ لذتوں کو محسوس کرکے خدا کاشکر اداکرے۔ جو انسان اِس دنیا میں حقیقی شکر کا ثبوت دے گا، وہ اگلی دنیا میںابدی جنت میں بسایا جائے گا، جہاں وہ اپنے احساسِ لذت کی کامل تسکین پاسکے۔ موجودہ دنیا انسان کے لیے عارضی شکر کا مقام ہے۔ یہی عارضی شکر وہ قیمت ہے جو کسی انسان کو ابدی جنت میں داخلے کا مستحق بناتی ہے۔
واپس اوپر جائیں

صبر وشکر

اکتوبر 1988 میں میرا کابل کے لیے ایک سفر ہوا۔میں نظام الدین ویسٹ نئی دہلی اپنےآفس سے ایر پورٹ کے لیے روانہ ہوا توسڑک کے دونوں طرف سرسبز درختوں کی قطاریں مسلسل چلی جا رہی تھیں ۔ اس کو دیکھ کر مجھے شارجہ کا ایک صحرائی منظر یاد آیا۔ 1984 کے شارجہ کے سفر میں الشیخ علی المحویتی (قاضی شارجہ) مجھے اپنے رہائشی مکان پر لے گئے تھے جو شہرسے تقریباً25 کیلومیٹر کے فاصلہ پر واقع تھا۔ یہ سفر پورا کا پورا صحرا کے ریتیلے میدان میں طے ہوا تھا۔ دہلی کا سفر سرسبز ماحول میں تھا تو شارجہ کا یہ سفر صحرائی ماحول میں۔ اس دنیا میں ’’درخت‘‘ اس لیے ہیں کہ آدمی ان کو دیکھ کر شکر کرے، اور’’صحرا ‘‘ اس لیے ہیں کہ آدمی ان کو دیکھ کر صبر کر نا سیکھے۔ آدمی دونوں قسم کی چیزوں کو دیکھتا ہے مگروہ ان سے نہ شکر کا سبق لیتا ہے اور نہ صبرکا ۔
مومن انسان کا معاملہ اس کے برعکس ہوتا ہے۔ صحابیٔ رسول صہیب رومی (وفات 38 ھ) کی ایک روایت کے مطابق، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مومن کا معاملہ بڑا عجیب ہے۔ اس کا ہر معاملہ اس کے لیے خیر ہے۔ اور ایسا مومن کے سوا کسی اور کے لیے نہیں ۔اگر اس کو آرام ملتا ہے تو (وہ اللہ کی حمد کرتا ہے، اور) شکر کرتا ہے۔ پس وہ اس کے لیے خیر بن جاتا ہے۔ اور اگر اس پر مصیبت آتی ہے تو وہ(اللہ کی حمد کرتا ہے، اور ) صبر کرتا ہے۔ پس وہ اس کے لیے خیر بن جاتا ہے
عَنْ صُہَیْبٍ، قَالَقَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّى اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَعَجَبًا لِأَمْرِ الْمُؤْمِنِ، إِنَّ أَمْرَہُ کُلَّہُ خَیْرٌ، وَلَیْسَ ذَاک لِأَحَدٍ إِلَّا لِلْمُؤْمِنِ، إِنْ أَصَابَتْہُ سَرَّاءُ (وفی روایۃ لاحمد حَمِدَ ‌رَبَّہُ ‌وَ) شَکَرَ، فَکَانَ خَیْرًا لَہُ، وَإِنْ أَصَابَتْہُ ضَرَّاءُ، (وفی روایۃ لاحمد وَإِنِ أصَابَتْہُ مُصِیبَةٌ حَمِدَ رَبَّہُ وَ) صَبَرَ فَکَانَ خَیْرًا لَہُ (صحیح مسلم، حدیث نمبر2999؛ مسند احمد، حدیث نمبر 1487)۔
The affair of the believer is truly strange. Every situation proves good for him and this is special to a believer alone. If he finds himself in a pleasant situation, he is thankful to God, and that is good for him. If he is faced with unpleasant situation he keeps patience and again that is good for him.
اللہ کی حمد وہی کرسکتا ہے جومنفی نفسیات سے خالی ہو۔مومن کے ساتھ دو طرفہ خیر کا یہ معاملہ کسی پر اسرار سبب سے نہیں ہوتا ، وہ مکمل طورپر ایک معلوم سبب کے تحت پیش آتا ہے۔ اصل یہ ہے کہ مومن اس انسان کا نام ہے جس کو دریافت کی سطح تک خدا کی معرفت حاصل ہوئی ہو۔ ایسے انسان کے اندر ایک ذہنی انقلاب آجاتا ہے۔ اس کے اندر شعوری بیداری کی صفت پیدا ہو جاتی ہے۔ وہ اس قابل ہوجاتا ہے کہ معاملات اور تجربات کو حقیقت کی نظر سے دیکھے۔ وہ وقتی جذبات سے بلند ہو کر معاملہ کی گہرائی کو سمجھ سکے۔
مومن اپنی اس حقیقت شناسی کی بنا پر اس قابل ہوجاتا ہے کہ وہ جس تجربہ سے بھی گزرے وہ اس کو مثبت نتیجہ میں تبدیل کرسکے۔ وہ ہر واقعہ میں خدا کی کارفرمائی کو دیکھے۔ وہ ذاتی تجربہ کو خدا کے تخلیقی نقشہ میں رکھ کر دیکھ سکے۔ مومن کی یہی وہ صفات ہیںجو اس کے اندر یہ با معنٰی صلاحیت پیدا کردیتی ہیں کہ اس کو جب خوشی اور راحت کا تجربہ ہو تو وہ سرکش نہ بن جائے۔وہ اس کو خدا کا عطیہ سمجھ کر خدا کی خدائی کا اعتراف کرے۔ اسی اعتراف خداوندی کا نام شکر ہے۔ شکر بلاشبہ ایک عظیم عبادت ہے۔
تاہم دنیا کی زندگی میں آدمی کو ہمیشہ خوش گوار تجربے نہیں ہوتے۔ بار بار ایسا ہوتا ہے کہ آدمی کو ناخوش گوار تجربات سے گزرنا پڑتا ہے۔ اس وقت مومن کی شعوری بیداری اس کو اس سے بچا لیتی ہے کہ وہ اس پر شکایت یا فریاد کرنے لگے۔ وہ ناخوش گوار تجربہ کو خدا کے تخلیقی نقشہ کے مطابق سمجھتا ہے۔ وہ ناخوش گوار تجربہ کو ایک فطری عمل سمجھ کر اس سے یہ یقین حاصل کرتا ہے کہ یہ ایک وقتی چیز ہے۔ حالات یقیناً بدلیں گے اور وہ جلدہی مجھ کو زیادہ بہترزندگی عطا کریں گے، خواہ آج کی دنیا میں یا آج کے بعد بننے والی دوسری ابدی دنیا میں۔
حقیقت یہ ہے کہ صبر بھی شکر ہی کی ایک صورت ہے۔ ناخوش گوار صورت حال کو رضامندی کے ساتھ قبول کرنا اور اس کو خدا کی طرف سے آیا ہوا مان کر مثبت ذہن کے تحت اس کا استقبال کرنا یہی صبر ہے۔ اور یہ صبر ہمیشہ شاکرانہ قلب سے ظاہر ہوتا ہے۔ ناشکری سے بھرا ہوا دل کبھی صبر کا ثبوت نہیں دے سکتا۔
واپس اوپر جائیں

شکر کی تربیت

شکر کا مزاج کیسے پیدا ہوتا ہے، اس کو ایک واقعہ سے سمجھا جاسکتا ہے۔ ایک صاحب سے ملاقات ہوئی۔ دوران گفتگو انھوں نے کہا کہ ہمارے یہاں اسلامی ذہن بنانے کے لیے بے شمار سرگرمیاں جاری ہیں، مگر پچاس سالہ کوششوں کے باوجود اب تک اسلامی انداز میں لوگوں کی ذہنی تربیت نہ ہوسکی ۔ میں نے کہا کہ مجھے آپ کے بیان کے نصف ثانی سے اتفاق ہے۔ مگر مجھے اس کے نصف اول سے اتفاق نہیں ۔صرف اسلام کا نام لینے سے اسلامی تربیت نہیں ہوتی۔ اصل یہ ہے کہ اسلامی ذہن بنانے کے لیے صحیح رخ میں کوشش نہیں کی گئی ۔ جب سمت درست نہ ہو تو مطلوب نتیجہ کیسے نکل سکتا ہے ۔ اسلامی مزاج بنانے کی ابتدا خدا کی معرفت اور خدا کے شکر کا مزاج پیدا کرنے سے ہوتی ہے۔
یہ مزاج کیسے پیدا ہوتا ہے۔اس کو ایک مثال سے سمجھا جاسکتا ہے۔ پاکستان سے شائع ہونے والے پندرہ روزہ المنبر کے شمارہ 25 ستمبر1991 میں ’’ ضیاءالحق شہید فاؤنڈیشن‘‘ کے زیراہتمام ہونے والی کانفرنس کا تفصیلی تذکرہ کیا گیا تھا۔ اس میں یہ بھی کہا گیا تھا کہ ’’ ضیاء الحق فاونڈیشن کو فوری طور پر قوم کے کردار اور فکر کی تہذیب و تربیت کا کام شروع کرنا چاہیے‘‘۔
مگر محض اس طرح اسلام کا نام لینے سے خدا کی معرفت اور اسلامی کر دار پیدا نہیں ہوسکتا۔ اس کے لیے ضرورت ہو تی ہے کہ لوگوں کو حیات و کائنات کا اس طرح مطالعہ کرایا جائے کہ ان کے گرد و پیش کی پوری دنیا ان کے لیے رزق ربانی کا دسترخوان بن جائے، تاکہ انسان خدا کی بلیسنگ کے ذریعہ خدا کی معرفت حاصل کرے، اور خدا کا شکر گزار بنے۔مگر مذکورہ میگزین میں سابق صدر جنرل ضیاء الحق صاحب کے تذکرہ کے تحت درج ہے کہ ’’یہ شہید صدر ہی تھے جن کی بدولت (سویت یونین ٹوٹنے کے بعد)قرآن مجید کے لاکھوں نسخے روس میں تقسیم ہوتے رہے‘‘(صفحہ 22)۔ المنبر میں دعوتی عمل کے واقعہ کو تمام تر ایک انسان کی بدولت ظہور میں آنے والا واقعہ بتایا گیا ہے۔
اسی واقعہ کا ذکر الرسالہ (نومبر1990 ،صفحہ27) میں بھی کیا گیا ۔ سوویت سسٹم کا تجزیہ کرتے ہوئے راقم الحروف نے لکھا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی اعلیٰ تدبیروں کے ذریعہ حالات میں وہ تبدیلی پیدا کی جس کے نتیجہ میں سوویت یونین کی آہنی دیواریں ٹوٹ گئیں اور وہاں اسلام کا داخلہ ممکن ہو گیا ۔
کوئی واقعہ پیش آئے تو اس کو دیکھنے کے دو طریقے ہیں— اس واقعہ کو اکابر قوم یا قومی ہیرو کے خانے میں ڈال کر دیکھنا۔ اس کے برعکس، دوسرا طریقہ ہے اس واقعہ کوخدا کے خانہ میں ڈال کر دیکھنا ۔الرسالہ کے مضمون کو پڑھ کر آدمی کے اندرشکر خدا وندی کا جذ بہ امنڈے گا۔ مزیداس کے اندر یہ جذبہ ابھرے گا کہ موجودہ زمانہ میں اسلامی دعوت کے نئے امکانات پیدا ہوئے ہیں، ہم کو چاہیے کہ ہم ان کو استعمال کریں ۔ جب کہ المنبر کے بیان سے صرف ہیروورشپ کا جذبہ ابھرے گا، اس کے سوا اور کچھ نہیں۔ اس سے آپ اندازہ کرسکتے ہیں کہ اسلامی تربیت کے لیے مسلمانوں کا موجودہ طریقہ کس طرح ناکافی ہے۔
ـــــــــــــــــــــــــــــــ
جمہوریہ مالدیپ بحر ہند میں واقع جزائر پر مشتمل ایک ملک ہے۔ دسمبر1987 میں مالدیپ کے لیے میرا ایک سفر ہوا۔ یہ سفر ایک انٹر نیشنل اسلامک کا نفرنس میں شرکت کے لیے تھا جس کا اہتمام حکومت مالدیپ کے تعاون سے کیا گیا تھا۔ 5 دسمبر1987 کی صبح کو فجر سے پہلے گھر سے روانہ ہونا تھا ۔4 دسمبر کی شام کو مختلف کاموں میں دیر ہوگئی اور میں ساڑھے بارہ بجے سے پہلے بستر پر نہ جاسکا ۔ سوتے وقت دل سے دعا نکلی کہ خدا یا مجھے تین بجےجگا دیجیے۔ تاخیر کی وجہ سے نیند بھی کسی قدر دیر میں آئی، اور میں سو گیا۔ میں بالکل گہری نیند سورہا تھا کہ خلاف معمول اچا نک نیند کھل گئی ۔ دیکھا تو گھڑی کی ایک سوئی تین پر تھی اور دوسری سوئی بار ہ پر۔میں نے اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کیا۔ دل نے کہا کہ اللہ کی مدد ٹھیک اپنے وقت پر آتی ہے ، اگر چہ انسان اپنی عجلت پسندی کی وجہ سے گھبرا اٹھتا ہے اور سمجھتا ہے کہ شاید خدا کی مدد آنے والی نہیں۔
واپس اوپر جائیں

انسان اور نظامِ ربوبیت

انسان ایک مکمل وجود ہے، مگر اِسی کے ساتھ وہ مکمل طورپر خارجی سہارے کا محتاج وجود ہے۔یعنی، انسان کو اپنے وجود کی تکمیل کے لیے ہر لمحہ ایک مددگار نظام درکار ہے۔ اِس نظام کے بغیر وہ اپنے وجود کو باقی نہیں رکھ سکتا۔اس حقیقت کو قرآن میں ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے یَاأَیُّہَا النَّاسُ أَنْتُمُ الْفُقَرَاءُ إِلَى اللَّہِ (35:15)یعنی،اے لوگو، تم اللہ کے محتاج ہو۔
اِس مددگار نظام کا نام نظامِ ربوبیت ہے، یعنی رب العالمین کا قائم کردہ نظام۔مثلاًانسان کے اندر نظامِ ہضم(digestive system) ہے، مگر غذائی اشیا کی سپلائی باہر سے ہوتی ہے۔ انسان کے اندر نظامِ تنفس (respiratory system )ہے، مگر آکسیجن اس کو خدا کے کارخانے سے ملتا ہے۔ انسان کے پاس نظامِ بصارت ہے، مگر وہ روشنی خداکی طرف سے آتی ہے جس کے بغیر وہ دیکھ نہیں سکتا۔ انسان کے پاس نظامِ سماعت ہے، مگر اُس ہوا کو چلانے والا خدا ہے جس کے ذریعہ انسان کے کانوں تک آواز پہنچتی ہے، وغیرہ۔انسانی وجود کے اندر اِس قسم کے بہت سے نظام ہیں، مگر ہر نظام اپنی کارکردگی کے لیے خارجی مدد کا محتاج ہے۔ یہ مختلف قسم کے خارجی نظام جن پر انسانی زندگی کا انحصار ہے۔ ان کے مجموعہ کو لائف سپورٹ سسٹم کہا جاتاہے۔ یہ اگر سسٹم موجود نہ ہو تو انسان کا پورا وجود بے معنی ہوجائے گا۔
مچھلی پانی کے باہر مسلسل تڑپتی رہتی ہے۔ ایسا اس لیے ہوتاہے کہ اس کو زندہ رہنے کے لیے آکسیجن کی ضرورت ہے اور مچھلی صرف پانی سے آکسیجن لے سکتی ہے۔ مچھلی کی یہ مثال ہر آدمی کے لیے بہت زیادہ سبق آموز ہے۔ ہر وقت انسان کو سوچنا چاہیے کہ خدا اگر لائف سپورٹ سسٹم یا بالفاظ دیگر اپنے نظامِ ربوبیت کو واپس لے لے تو میراکیا حال ہوگا۔قرآن میں ہےبتاؤ، اگر اللہ قیامت کے دن تک تم پر ہمیشہ کے لیے رات کردے تو اللہ کے سوا کون معبود ہے جو تمہارے لیے روشنی لے آئے۔ تو کیا تم لوگ سنتے نہیں(28:71)۔یہ سوچ اگر آدمی کے اندر حقیقی طورپر پیدا ہوجائے تو یہی ایک بات اس کے اندر تمام اعلی انسانی قدروں (human values) کو پیدا کرنے کا ذریعہ بن جائے گی۔ مثلاً تواضع (modesty) ، شکر، عفو ودرگزر، خیر خواہی، انصاف، وغیرہ۔
واپس اوپر جائیں

سب کچھ خدا کا عطیہ

1938 میں عرب میں پٹرولیم کی دریافت ہوئی ۔ اس کے بعد عربوں کی زندگی کا نقشہ بدل گیا۔ ایک عرب بدو کا واقعہ ہے، وہ پہلے معمولی خیمے میں رہتا تھا۔ اُس کی زندگی کاانحصار تمام تر اونٹ کے اوپر تھا، پھر اچانک اُس کے پاس پٹرول کی دولت آگئی۔ اس کے ایک دوست نے اس کے لیے سوئٹزرلینڈ میں جدید طرز کا ایک شان دار مکان خریدا۔ عرب بدو ہوائی جہاز سے سفر کرکے وہاں پہنچا اور اپنے خوب صورت مکان کو دیکھا تو اس کو یقین نہیں آتا تھا کہ یہ اُسی کا مکان ہے۔ اس کو ایسا محسوس ہوا جیسے کہ وہ کوئی خواب دیکھ رہا ہے۔
وہ اپنے مکان کی دیوار اور اس کے فرنیچر کو ہاتھ سے چھو کر دیکھتا تھا کہ وہ سچ مچ اپنے مکان میں ہے، یا وہ خواب میں کوئی تصوراتی محل دیکھ رہا ہے۔ بہت دیر کے بعد جب اس کو یقین ہوا کہ یہ ایک حقیقی مکان ہے اور وہ اُسی کا اپنا مکان ہے تو وہ خوشی کے آنسوؤں کے ساتھ سجدے میں گر پڑا اور دیر تک اِسی حالت میں پڑا رہا۔
یہ کیفیت جو ایک عرب بدو کے اوپر گزری، یہی کیفیت ہر انسان کے اوپر بہت زیادہ بڑے پیمانے پر گزرنا چاہیے۔ اس لیے کہ موجودہ دنیا کی صورت میںہر انسان کو وہی چیز ملی ہوئی ہے، جو عرب بدو کو سوئٹزر لینڈ کے مکان کی صورت میں ملی۔ سوئٹزر لینڈ کا مکان عرب بدو کے لیے جتنا عجیب تھا، اس سے بے شمار گُنا زیادہ عجیب موجودہ کائنات ہے جو کوئی قیمت ادا کیے بغیر ہر اِنسان کو ہر لمحہ ملی ہوئی ہے۔ ہر انسان کاکیس مزید اضافے کے ساتھ وہی ہے جو مذکورہ عرب بدو کا کیس تھا۔ حقیقت یہ ہے کہ ہر انسان، کامل طورپر عاجز اورمحروم انسان ہے۔ اس فطری حقیقت کو قرآن میں اس طرح بیان کیا گیا ہےاے لوگو! تم سب اللہ کے محتاج ہو(35:15)۔پھر اس کو موجودہ دنیا کی صورت میں سب کچھ دے دیا جاتا ہے۔ فطرت اپنے تمام خزانوں کے ساتھ تاحیات اس کی خدمت گزار بن جاتی ہے ۔
انسان کا پیدا ہونا ایک حیرت ناک عجوبہ ہے۔ انسان اگر اپنے بارے میں سوچے تووہ ایک ایک چیز پر دہشت زدہ ہو کر رہ جائے گا۔ ایک ایسا انسان جوزندگی رکھتا ہے، جس کے اندر دیکھنے اور سننے کی صلاحیت ہے، جو سوچتا ہے اور چلتا ہے، جو منصوبہ بناتا ہے اور اس کو اپنے حسب منشا عمل میں لاتا ہے۔ یہ سب اتنی زیادہ انوکھی صفات ہیں جو انسان کو اپنے آپ بلا قیمت ملی ہوئی ہیں۔ انسان اگر اِس پر سوچے تو وہ شکر کے احساس میں ڈوب جائے۔
پھر یہ دنیا جس کے اندر انسان رہتا ہے، وہ حیرت ناک حد تک ایک موافقِ انسان دنیا ہے۔ زمین جیسا کُرہ ساری وسیع کائنات میںکوئی دوسرا نہیں۔ یہاں پانی ہے، یہاں سبزہ ہے، یہاںہواہے، یہاںدھوپ ہے، یہاں کھانے کا سامان ہے اور دوسری اَن گنت چیزیں خالق کے یک طرفہ عطیے کے طورپر موجود ہیں۔ یہ چیزیں زمین کے سوا کہیں اور موجود نہیں۔
اگر آدمی اِس حقیقت کو سوچے تو وہ مذکورہ عرب بدو کی طرح، شکر کے احساس سے، سجدے میں گرپڑے، مگر ایسا نہیں ہوتا۔ اِس کا سبب یہ ہے کہ انسان دنیا کی چیزوں کو فارگرانٹیڈ (for granted) طور پر لیے رہتاہے۔ وہ شعوری یا غیر شعوری طورپر یہ سمجھتا ہے کہ جوکچھ ہے، اُس کو ہونا ہی چاہیے۔ جوکچھ اُس کو ملا ہوا ہے، وہ اُس کو ملنا ہی چاہیے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں انسان کا امتحان ہے۔
انسان کو چاہیے کہ وہ اِس معاملے میں اپنے شعور کو زندہ کرے۔ وہ بار بار سوچ کر اِس حقیقت کو سمجھے کہ وہ سرتا پا ایک عاجز مخلوق ہے۔ اس کو جو کچھ ملا ہوا ہے، وہ مکمل طورپر خدا کے دینے سے ملا ہے۔ خدا اگر نہ دے تو اُس کو کچھ بھی ملنے والا نہیں۔ جو چیزیں انسان کو بظاہر اپنے آپ مل رہی ہیں، اُن کو وہ اِس طرح لے، جیسے کہ وہ ہر وقت براہِ راست خدا کی طرف سے بھیجی جارہی ہیں۔ وہ ملی ہوئی چیزوں کو دی ہوئی چیزوں کے طور پر دریافت کرے۔
خدا کا مطلوب انسان وہ ہے جو اپنے ذہن کو اتنا زیادہ بیدار کرے کہ وہ بظاہر اسباب کے تحت ملنے والے سامانِ حیات کو بلااسباب خدا کی طرف سے ملاہوا سمجھے، وہ معمول(usual) کو خلافِ معمول (unusual) کے طورپر دیکھ سکے، وہ غیب کو شُہود کے درجے میں دریافت کرے۔ یہی وہ لوگ ہیں جن کو آخرت میںخدا کا دیدار نصیب ہوگا اور یہی وہ لوگ ہیں جو خدا کے پڑوس میںبنائی جانے والی ابدی جنت میں جگہ پائیں گے۔
واپس اوپر جائیں

شکر کے دو درجے

اِس دنیا میں انسان کو اپنے وجود سے لے کر لائف سپورٹ سسٹم (life support system) تک جو چیزیں ملی ہیں، وہ سب کا سب اللہ کا عطیہ ہیں۔ انسان کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنے پورے دل وجان کے ساتھ اِن کے منعم (giver) کا اعتراف کرے۔ اِس اعتراف کا مذہبی نام ’شکر‘ ہے۔اِس کے دو درجے ہیں— ایک، نارمل شکر یانارمل اعتراف (normal acknowledgement)۔ دوسرا، تخلیقی شکر یا تخلیقی اعتراف (creative acknowledgement) ۔ نارمل شکر کی مثال یہ ہے کہ آپ کو پیاس لگی۔ آپ نے گلاس میں پانی لے کر اس کو پیا۔ اِس سے آپ کو سیرابی حاصل ہوئی اور پھر آپ نے کہا کہ خدایا، تیرا شکر ہے کہ تو نے مجھ کو پانی دیا جس سے میں اپنی پیاس بجھاؤں۔
تخلیقی شکر کی مثال یہ ہے کہ آپ نے جب پانی پیا تو آپ کو پانی کی وہ پوری تاریخ یاد آگئی جو جدید سائنس نے دریافت کی ہے، یعنی تقریباً 15 بلین سال پہلے وسیع خلا میں بے شمار ستارے (stars) وجود میں آئے۔ پھر ایک عرصے کے بعد لٹل بینگ (little bang) ہوا، جس سے موجودہ نظامِ شمسی وجود میں آیا۔ اِس کے بعد زمین کی سطح پر بہت بڑی مقدار میں ہائڈروجن گیس اور آکسیجن گیس کے بادل چھاگئے، پھر دو گیسوں کے ملنے سے وہ استثنائی چیز وجود میں آئی جس کو ’’پانی‘‘ کہاجاتا ہے۔ پھر یہ پانی سمندروں میں کھاری پانی کی حیثیت سے جمع ہوگیا، پھر بارش کے نظام کے تحت، اِس کھاری پانی کا ازالۂ نمک (desalination) ہوا۔ اِس طرح ہمیں وہ میٹھا پانی حاصل ہوا جس سے ہم اپنی پیاس بجھائیں اور دوسرے کام کریں۔ مثلاً زراعت، وغیرہ۔
پانی کے معاملے میں پہلی صورت نارمل شکر کی ہے اور دوسری صورت تخلیقی شکر کی۔ دوسرے الفاظ میں، پہلا شکر اگر صرف شکر ہے تو دوسرا شکر برتر شکر۔ شکر اور برتر شکر کا یہی معاملہ دوسری تمام چیزوں کے بارے میں پیش آتا ہے۔
اِسی طرح اِس معاملے کی ایک مثال خون (blood) ہے۔ انسان جو غذا اپنے جسم میں داخل کرتا ہے، وہ ایک پیچیدہ نظام کے تحت خون میں تبدیل ہوتی ہے، پھر یہ خون ایک اور پیچیدہ نظام کے تحت سارے جسم میں رگوں کے ذریعے مسلسل دوڑتا ہے۔ یہ بلاشبہ ربوبیت کے نظام کی ایک اعلیٰ مثال ہے۔ خون کا بننا، خون کا مسلسل گردش کرنا اور خون کی صفائی کا انتظام، وغیرہ۔ یہ سب چیزیں انسان کو خدا کی نعمتیں یاد دلاتی ہیںاور وہ اللہ کے لیے سراپا شکر میں ڈھل جاتا ہے۔
قدیم زمانے میں خون کا تصور صرف یہ تھا کہ وہ ایک سرخ سیال ہے جو جسم کی طاقت کے لیے جسم کے اندر گردش کرتا رہتا ہے۔ پھر یہ دریافت ہوئی کہ خون دو قسم کے ذرات سے مل کر بنتا ہے— سرخ ذرات (red blood corpuscles)، اور سفید ذرات (white blood corpuscles) ۔ اب یہ دریافت ہوئی ہے کہ خون میں اِس کے سوا، ایک اور خورد بینی ذرہ ہوتا ہے۔ اس کو پلیٹ لیٹس (platelets) کانام دیاگیاہے۔ یہ تیسرا ذرہ انسان کی زندگی اور صحت کے لیے بےحد اہم ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ خون ہراعتبار سے، اللہ تعالیٰ کی ایک عظیم نعمت ہے۔ اِس نعمت کا احساس آدمی کے اندر شکر وحمد کے چشمے جاری کردیتا ہے۔
اِس قسم کے بے شمار انتظامات ہیں جن کے اوپر انسان کی زندگی قائم ہے۔ یہ نظام براہِ راست خدا کی قدرت کے تحت قائم ہے اور اِسی کو قرآن میں ربوبیت کہاگیاہے۔ یہ نظامِ ربوبیت تمام تر اللہ کی جانب سے قائم ہے۔ انسان سے یہ مطلوب ہے کہ وہ ربوبیت کے اِس نظام سے واقفیت حاصل کرے اور پورے معنوںمیں اللہ کا شاکر بندہ بن کر اِس دنیا میں رہے۔
قرآن میں بتایا گیاہے کہ رب صرف اللہ ہے اور اُسی کی ربوبیت اِس دنیا میں قائم ہے (6:164)۔اِسی طرح فرمایا کہ حکم صرف اللہ کا ہے اور تمام چیزیں اُسی کے زیر حکم ہیں(12:40)۔ یہ دونوں الفاظ (رب اور حکم) اللہ کی ذات کی نسبت سے قرآن میںآئے ہیں، اس کا کچھ بھی تعلق سیاسیات یا معاشیات سے نہیں ہے۔مگر موجودہ زمانے میں کچھ لوگوں نے یہ کیا کہ انھوں نے مذکورہ الفاظ قرآن سے لیے اور اس کے اندر اپنے خود ساختہ مفہوم کو شامل کردیا۔ یہ گویا کہ ’رب‘ اور’ حکم‘ کے لفظ کو سیاسی بنانا (politicisation) تھا۔ قرآنی الفاظ میں اِس قسم کا خود ساختہ مفہوم شامل کرکے انھوں نے یہ اعلان کیا کہ مسلمان کا یہ مشن ہے کہ وہ دنیا میں نظامِ ربوبیت یا نظامِ حاکمیت قائم کرے۔ یہ بلا شبہ ایک غیرعلمی بات ہے۔ اس کی غلطی اتنی زیادہ واضح ہے کہ وہ بداہۃً ہی قابلِ رد ہے۔
واپس اوپر جائیں

جذباتِ شکر کی بیداری

حضرت عبد اللہ بن عمر سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے روزہ رکھ کر شام کو پانی سے افطار کیا تو آپ کی زبان سے یہ الفاظ نکلے ذَہَبَ الظَّمَأُ وَابْتَلَّتِ الْعُرُوقُ، وَثَبَتَ الْأَجْرُ إِنْ شَاءَ اللہُ(سنن ابو داؤد،حدیث نمبر2357) ۔یعنی، پیاس چلی گئی اور رگیں تر ہو گئیں اور روزے کا اجر ان شاء اللہ ثابت ہوگیا۔
پانی ایک غیر معمولی قسم کی نعمت ہے۔ پانی پر انسانی زندگی کا انحصار ہے۔ پانی نہیں تو زندگی نہیں۔ مگر عام حالات میں پانی کی اِس خصوصی نعمت کا احساس نہیں ہوتا۔ مگر ایک آدمی جب روزہ رکھ کر سارے دن پانی کا استعمال نہ کرے اور اُس پر پیاس کا تجربہ گزرے، اُس وقت جب آدمی پانی پیتا ہے تو اس کو محسوس ہوتا ہے کہ پانی کیسی عجیب نعمت ہے۔
اُس وقت آدمی کے تمام احساسات جاگ اٹھتے ہیں۔ وہ سوچتا ہے کہ کس طرح دو گیسوں کے ملنے سے سیال (liquid)پانی بن گیا۔ اتھاہ مقدارمیں پانی کے ذخیرے زمین کے اوپر جمع ہوگئے، پھر پانی سے زندگی کی تمام ضرورتیں پوری ہوگئیں۔ انھیں میں سے ایک یہ ہے کہ پانی آدمی کی پیاس کو بجھاکر اس کے لیے زندگی کا سبب بنتا ہے۔یہ احساسات جب جاگتے ہیں تو نہ صرف یہ ہوتا ہے کہ آدمی کی پیاس بجھتی ہے، بلکہ اِسی کے ساتھ شکر ِخداوندی کا ایک دریا آدمی کے اندر رواں ہوجاتا ہے۔
اللہ، انسان کا منعمِ حقیقی ہے۔ اللہ نے انسانوں کو ان گنت نعمتیں عطا کی ہیں۔ ان نعمتوں پر اللہ کا حقیقی شکر ادا کرنا، اللہ کی سب سے بڑی عبادت ہے۔ روزہ کے ذریعہ جب انسان کے اندران نعمتوں کا احساس جگایا جاتا ہے تو آدمی کا شعور بیدار ہوجاتا ہے۔ وہ غفلت سے باہر آجاتا ہے۔ وہ احساسِ نعمت سے سرشار ہوکر حقیقی معنوں میں اللہ کا شکر گزار بندہ بن جاتا ہے۔روزہ ،جذباتِ شکر کی بیداری کا ذریعہ ہے۔ انسان ہر وقت انعاماتِ خداوندی کے سمندر میں رہتا ہے، مگر عام حالات میں اس کو ان نعمتوں کا شعوری احساس نہیں ہوتا۔ روزہ آدمی کو اس قابل بناتا ہے کہ وہ اِن نعمتوں کو ازسرِ نو دریافت کرکے اپنے رب کی اعلیٰ معرفت حاصل کرے۔
واپس اوپر جائیں

شکر کا احساس

اگر آپ لذیذ کھانا کھائیں اور اس کو کھا کرلپ سروس کے طور پر الحمد للہ کہیں تو یہ حیوانی درجے کا شکر ہے۔ کیوں کہ یہ مشاہدہ اور ذائقہ پر مبنی ہے، اور مشاہدہ اور ذائقہ کے درجے کا شکر صرف حیوانی درجے کا شکر ہے، وہ اعلیٰ انسانی درجے کا شکر نہیں۔
اعلیٰ درجے کا شکر یہ ہے کہ جب کھانا آپ کے سامنے آئے تو اس کو دیکھ کر خدا کا پورا تخلیقی نظام آپ کو یاد آجائے۔ آپ سوچیں کہ یہ تمام غذائی چیزیں پہلے غیر غذائی چیزیں تھیں۔ خدا نے ایک برتر عمل (process) کے ذریعے ایک عظیم واقعہ برپا کیا۔ وہ تھا غیر غذا (non-food) کو غذا (food) میں تبدیل کرنا۔ اِس طرح ایک کائناتی عمل کے ذریعے یہ تمام غذائی چیزیں وجود میں آئیں۔
پھر آپ یہ سوچیں کہ یہ غذائی چیزیں اپنی ابتدائی صورت میں میرے لیے توانائی (energy) کا ذریعہ نہیں ہوسکتی تھیں۔ چنانچہ خدا نے مزید یہ کیا کہ اُس نے میرے جسم کے اندر ایک پیچیدہ قسم کا نظام ہضم (digestive system) رکھ دیا۔ یہ نظامِ ہضم ایک خود کار نظام ہے۔ جب میں کوئی چیز کھاتا ہوں تو یہ نظام ہضم اِن غذائی چیزوں کو حیرت انگیز طورپر زندہ خلیات(living cells) میں تبدیل کردیتا ہے، پھر یہ زندہ خلیات میرے جسم میں گوشت اور خون جیسی چیزوں میں ڈھل جاتے ہیں۔ یہ سوچ کر آپ کے اندر شکر کا گہرا احساس پیدا ہوگا، جس کو الفاظ میں ظاہر کرنے کے لیے آپ خود کو عاجز پائیں گے۔
اِس مثال سے اندازہ ہوتا ہے کہ انسانی شکر کیا ہے اور حیوانی شکر کیا۔ اگر آپ کے اندر صرف حیوانی درجے کا شکر ہے توآپ ہمیشہ ناشکری کے احساس میں جئیں گے۔ شکر کے اعلیٰ احساس میں جینے کے لیے انسانی درجے کا جذبۂ شکر درکار ہے۔ مگر یہی وہ چیز ہے جو دنیا میں سب سے زیادہ کم پائی جاتی ہےوَقَلِیل ‌مِّنۡ ‌عِبَادِیَ ٱلشَّکُورُ ( 34:13)۔انسان سے اللہ تعالیٰ کو جو شکر مطلوب ہے، وہ انسانی درجے کا شکر ہے۔ صرف حیوانی درجے کا شکر انسان جیسی مخلوق سے قابلِ قبول نہیں ہوسکتا۔
واپس اوپر جائیں

اعلیٰ شکر

شیطانی اغوا کا اصل نشانہ یہ ہے کہ وہ انسان کو شکر کے راستے سے ہٹا دے (الاعراف،7:17)۔ ہدایت اور گم راہی دونوں کا اصل خلاصہ یہی ہے۔ ہدایت یہ ہے کہ آدمی شکر کے احساس میں جینے والا ہو۔ اِس کے مقابلے میں، گم راہی یہ ہے کہ آدمی کا دل شکر کے جذبات سے خالی ہوجائے۔ شیطان یہی کام ہمیشہ کرتا رہا ہے، لیکن بعد کے زمانے میں شیطان کے لیے یہ ممکن ہوجائے گا کہ وہ لوگوں کو زیادہ بڑے پیمانے پر شکر ِ خداوندی کے راستے سے ہٹا سکے۔ اِسی لیے حدیث میں اِس فتنے کو دجّال یا دجّالیت سے تعبیر کیا گیا ہے۔
شکر کیا ہے۔ شکر دراصل، خدا کی نعمتوں کے اعتراف (acknowledgement) کا دوسرا نام ہے۔ یہ شکر ہر زمانے میں انسان سے مطلوب تھا۔ پچھلے زمانے میں بھی اور موجودہ زمانے میں بھی۔ کسی انعام پر مُنعم کا اعتراف کرنا، ایک فطری انسانی جذبہ ہے۔ لیکن اعتراف کے لیے ہمیشہ کسی پوائنٹ آف ریفرنس (point of reference) کی ضرورت ہوتی ہے۔ مثلاً جب آپ کھانے کی کوئی چیز کھاتے ہیں، تو آپ کو فوڈ آئٹم کی صورت میں شکر، یا اعتراف کا ایک پوائنٹ آف ریفرنس مل جاتا ہے اور آپ کہتے ہیں کہ خدایا، تیرا شکرہے کہ تو نے مجھے یہ چیز کھانے کے لیے عطا کی۔
لیکن ایک شخص جو جدید علم نباتات (Botany) اور جدید علم زراعت (Agriculture) اور جدید علم باغبانی (Horticulture) سے واقف ہو، اس کے لیے یہ ممکن ہوجائے گا کہ وہ کسی فوڈ آئٹم کی معنویت کو ہزاروں گُنا زیادہ اہمیت کے ساتھ دریافت کرسکے۔ اِس طرح اس کا احساسِ شکر، عام انسان کے مقابلے میں بہت زیادہ بڑھ جائے گا۔ جب وہ کہے گا کہ خدایا، تیرا شکر ہے کہ تو نے مجھے کھانے کے لیے یہ فوڈ آئٹم دیا، تو وہ ایک عظیم اہتزاز (super thrill) کے جذبے کے تحت، وہ الفاظ بولے گا جس کا تجربہ پہلے کسی انسان کو نہیں ہوسکتا تھا۔پہلا شخص جس حقیقت کو صرف ذائقہ لسانی کی سطح پر جانے گا، دوسرا شخص اس کو وسیع تر علم سائنس کی سطح پر دریافت کرے گا۔ پہلے شخص کا اعتراف اگر ایک سادہ اعتراف ہوگا، تو دوسرے شخص کا اعتراف ایک ہمالیائی اعتراف بن جائے گا۔
واپس اوپر جائیں

شکر ِقلیل، شکر ِکثیر

ایک روایت کے مطابق، پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مَنْ لَمْ یَشْکُرِ الْقَلِیلَ، لَمْ یَشْکُرِ الْکَثِیرَ(مسند احمد،حدیث نمبر18449 ) یعنی جو شخص کم پر شکر نہیں کرے گا، وہ زیادہ پر بھی شکر نہیں کرے گا۔ اِس حدیثِ رسول میں فطرت کے ایک قانون کو بتایا گیا ہے۔ وہ قانون یہ ہے کہ چھوٹے واقعے کو یاد کرنے سے بڑے بڑے واقعات ذہن میں تازہ ہوجاتے ہیں۔
نفسیاتی مطالعہ بتاتا ہے کہ انسان کے دماغ میں بہت سے الگ الگ فولڈر (folder) ہوتے ہیں۔ مثلاً محبت کا فولڈر، نفرت کا فولڈر، اعتراف (acknowledgement)کا فولڈر، ظلم کا فولڈر، وغیرہ۔ جوچیزیں انسان کے تجربے اورمشاہدے میں آتی ہیں،اُن کو دماغ الگ الگ کرکے ان کے متعلق فولڈر میں ڈالتا رہتا ہے۔ آدمی جب کسی ایک واقعے سے متاثر ہو تو اُس وقت انسان کا دماغ ٹریگر (trigger) ہوجاتاہے اور پھر فوری طورپر ایسا ہوتا ہے کہ اُس سے متعلق (relevant) فولڈر کھل جاتا ہے اور اس نوعیت کے تمام واقعات آدمی کے ذہن میںتازہ ہوجاتے ہیں۔
فطرت کا یہ قانون شکر اور اعتراف کے معاملے میں بھی بے حد اہمیت رکھتا ہے۔ مثلاً آج آپ کو ایک موبائل ملا۔ اُس سے آپ نےکسی دوسرے مقام پر موجود ایک شخص سے بات کی۔ اُس وقت آپ نے سوچا کہ پہلے زمانے میں ایک آدمی کو کسی دوسرے پر موجود آدمی سے رابطہ قائم کرنے میں کتنی مشکلیں پیش آتی تھیں۔ اِس پر آپ نے گہرے تاثر کے ساتھ خدا کا شکر ادا کیا تو اس کے بعد فوراً یہ ہوگا کہ آپ کا دماغ ٹریگر ہوجائے گا۔ اُسی وقت دماغ کا وہ فولڈر کھل جائے گا، جس میں آپ کی پوری زندگی میں پیش آنے والے شکر واعتراف کے تمام آئٹم محفوظ ہیں۔فطرت کے اِس نظام کے تحت ایسا ہوتا ہے کہ شکر کے چھوٹے واقعے کی یاد، شکر کے دوسرے تمام واقعات کو یاد دلا دیتا ہے۔ اِس طرح شکر کا چھوٹا واقعہ بڑے شکر کا سبب بن جاتاہے، یہاں تک کہ آدمی کے دل میں شکر کا چشمہ جاری ہوجاتا ہے۔ شکر کا احساس خدا سے آدمی کے تعلق کو بڑھاتا رہتا ہے، یہاں تک کہ وہ اعلیٰ معرفت کے درجے تک پہنچ جاتا ہے۔
واپس اوپر جائیں

شکر سب سے بڑی عبادت

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک حدیث مختلف کتابوں میں آئی ہے ۔ مثلاً صحیح البخاری (حدیث نمبر 6490)، صحیح مسلم ( حدیث نمبر 2963)جامع الترمذی ( حدیث نمبر 2513)، سنن ابن ماجہ (حدیث نمبر 4142) ،وغیرہ۔ مسند احمد کے الفاظ یہ ہیںانْظُرُوا إِلَى مَنْ أَسْفَلَ مِنْکُمْ، وَلَا تَنْظُرُوا إِلَى مَنْ ہُوَ فَوْقَکُمْ، فَہُوَ أَجْدَرُ أَنْ لَا تَزْدَرُوا نِعْمَةَ اللہِ۔ قَالَ أَبُو مُعَاوِیَةَ ۔ عَلَیْکُم(مسند احمد،حدیث نمبر10246)۔ یعنی، تم اس کو دیکھو جوتم سے نیچے ہے اورتم اس کونہ دیکھو جوتم سے اوپر ہے ، کیوںکہ اس طرح تم اپنے اوپر اللہ کی نعمت کوکم نہیں سمجھوگے ۔
اس حدیث کی مزید تشریح ایک اورحدیث سے ہوتی ہے ۔ ایک مرفوع روایت کے مطابق رسول اللہ علیہ وسلم نے فرمایا خَصْلَتَانِ ‌مَنْ ‌کَانَتَا ‌فِیہِ کَتَبَہُ اللہُ شَاکِرًا وَصَابِرًا ، مَنْ نَظَرَ فِی دِینِہِ إِلَى مَنْ ہُوَ فَوْقَہُ ، وَنَظَرَ فِی دُنْیَاہُ إِلَى مَنْ ہُوَ دُونَہُ ، فَحَمِدَ اللہَ ، کَتَبَہُ اللہُ شَاکِرًا صَابِرًا وَمَنْ نَظَرَ فِی دُنْیَاہُ إِلَى مَنْ ہُوَ فَوْقَہُ فَأَسِفَ عَلَى مَا فَضَّلَہُ اللہُ عَلَیْہِ ، لَنْ یَکْتُبَہُ اللہُ شَاکِرًا وَلَا صَابِرًا (مسند الشامیین للطبرانی، حدیث نمبر 505)۔یعنی، دوصفتیںہیں جوکسی کے اندرہوں تو اللہ اس کو شاکر اورصابر لکھ دیتاہے ۔ جواپنے دین کے معاملہ میںاس کو دیکھے جواس کے اوپرہے، اوردنیا کے معاملہ میں اس کو دیکھے جواس سے کم ہے پھر وہ اللہ کا شکراداکرے، اللہ اس کو شاکر اورصابر لکھ دیتاہے ۔ اورجواپنے دنیا کے معاملہ میں اس کو دیکھے جواس سے بڑھ کرہے پھروہ اس پرافسوس کرے جو مادی برتری اللہ نے اس کے مقابل کو دی تواللہ اس کو ہرگز شاکرو صابرنہیں لکھے گا۔
شکر سب سے بڑی عبادت ہے ۔ کسی بندے سے جوچیز سب سے زیادہ مطلوب ہے وہ یہ ہے کہ وہ اللہ کو ایک عظیم منعم کے طورپر دریافت کرے ۔ اللہ کی نعمتوں کے احساس سے اس کاسینہ بھراہواہو ۔ اس کی روح میں شکر کاابدی چشمہ جاری ہوجائے۔وہ اللہ کو ایک ایسی ہستی کے طورپرپائے جو اس پر بے پایاں نعمتوں کی بارش کررہاہے ۔ یہ شعور اتنا زیادہ قوی ہوکہ کسی بھی حال میں اس کاسینہ شکر خدا وندی کے احساس سے خالی نہ ہو۔
مگر یہ کوئی آسان بات نہیں ۔ اپنے آپ کوشکر کے جذبہ سے سرشار رکھنے کے لیے یہ ضروری ہے کہ آدمی کاشعور اس معاملہ میں پوری طرح زندہ ہو ۔ وہ اس کامسلسل اہتمام کرے ۔ وہ کسی ایسے خیال کو اپنے دل میں جگہ نہ دے جواس کے جذبۂ شکر کومجروح کرنے والاہو۔ وہ سب کچھ برداشت کرلے مگر وہ اپنے جذبۂ شکر کاانحطاط (erosion)کبھی برداشت نہ کرے۔ موجودہ دنیا میں فطری طورپر ہمیشہ ایسا ہو تاہے کہ لوگوں کے درمیان نا برابری قائم رہتی ہے ۔ اس بنا پر ہرآدمی یہ محسوس کرتاہے کہ مادی اعتبارسے کوئی اس سے کم ہے اورکوئی اس سے زیادہ ۔ اب اگر آدمی اپنامقابلہ اس شخص سے کرے جوبظاہر اس سے زیادہ ہے تواس کے اندر کمتری کااحساس پیدا ہوگا اور اس کاجذبۂ شکر دب کررہ جائے گا۔ اس لیے آدمی کوایسا کبھی نہیں کرنا چاہیے کہ وہ اپنا موازنہ (comparison) اس سے کرے جومادی اعتبارسے بظاہر اس سے زیادہ ہے ۔ اس کے بجائے آدمی کویہ کرنا چاہیے کہ وہ اپنا موازنہ (comparison)ان لوگوں سے کرے جومادی اعتبارسے ا س سے کم ہیں ۔ اس طرح اس کاجذبۂ شکر زندہ رہے گا ۔ اس کا دل کبھی نعمت کے احساس سے خالی نہ ہوسکے گا۔
موجودہ دنیا میں ہمیشہ ایساہو تاہے کہ تمام لوگ مادی اعتبارسے یکساں نہیں ہو تے ۔ کوئی زیادہ ہو تاہے اورکوئی کم ، کوئی پیچھے ہوتاہے اورکوئی آگے ، کوئی طاقت ورہوتاہے اورکوئی کمزور ۔ اس قسم کے تمام فرق امتحان کی مصلحت کی بنا پر ہیں ۔ ان کا مقصد یہ ہے کہ آدمی مختلف قسم کے حالات سے گزرے ، مگروہ حالات سے متاثرہوئے بغیر اپنے ایمانی شعور کوزندہ رکھے ۔ وہ ناشکری والے حالات سے دوچار ہو، پھربھی اس کے شکر کے جذبہ میں کوئی کمی نہ آئے ۔ وہ بے اعترافی کی صورتِ حال سے گزرے ، مگر وہ اپنے اعتراف کی صفت کو نہ کھوئے ۔ وہ منفی جذبات پیدا کرنے والے حالات سے دوچارہو ، اس کے باوجود وہ اپنے آپ کو مثبت طرز فکر پرقائم رکھے ۔ شکر وہ سب سے قیمتی متاع ہے جس کو انسان اپنے رب کے سامنے پیش کرسکتاہے ۔ ایسی حالت میںعقل مند انسان وہ ہے جو اپنے سینہ کو شکر کے احساس سے خالی نہ ہونے دے ، حتی کہ انتہائی غیرموافق صورت حال میں بھی ۔
واپس اوپر جائیں

شکر میں جینا سیکھیے

کسی انسان کو شکر کا اعلیٰ درجہ کیسے حاصل ہوتا ہے۔مئی 2012 میں میں نے ترکی کا سفر کیا۔ وہاں مجھ کو جو پانی پینے کے لیے دیا گیا، وہ پانی اتنا زیادہ فریش (fresh) تھا، اور پینے میں اتنا زیادہ میرے اعلیٰ ذوق کےعین مطابق تھا ۔ میں نے پانی کا گلاس میز پر رکھ دیا، اور سوچنے لگا کہ خالق نے یہ کیسے جانا کہ میرے بندے کو ایسا پانی چاہیے، اور اس نے فرشتوں کو حکم دیا کہ میرے بندے کی عین طلب کے مطابق، اس کو پانی فراہم کریں۔
کوئی چیز پُرلذت اِسی لیے ہے کہ ہمارے اندر لذت کا احساس موجود ہے۔ اگر لذت کا احساس نہ ہو، تو کوئی بھی چیز لذت کا ذریعہ نہیں بن سکتی۔سائنسی ریسرچ سے معلوم ہوا ہے کہ انسان کی زبان میں تقریباً دس ہزار ذائقہ خانے (taste buds) ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ انسان کے اندر جتنے ذائقہ خانے ہیں، ان کے عین مطابق خدا نے ہمارے آس پاس کی دنیا میں فل فلمینٹ (fulfillment ) کا سامان بھی مہیا کردیا ہے۔ یہ خدا کی قدرت کا انتہائی انوکھا ظاہرہ ہے۔ کیوں کہ انسان کا معاملہ یہ ہے کہ وہ کسی ذائقے کو اس وقت جانتا ہے، جب کہ وہ خود اس کا تجربہ کرے۔ ذاتی تجربے کے بغیر کسی ذائقے کو جاننا انسان کے لیے ممکن نہیں۔
ایک سنجیدہ انسان جب دنیا میں کسی ذائقے کا تجربہ کرتا ہےتو یہ احساس اس کو شکر کے اتھاہ جذبے سےسرشار (overwhelm) کردیتا ہے۔ وہ چاہتا ہے کہ وہ اس منعم کا اعتراف کرے، لیکن وہ محسوس کرتا ہے کہ اس کے پاس وہ الفاظ نہیں، جن کے ذریعے وہ اس عظیم نعمت کا اعتراف کرسکے۔ یہ اس کے لیے ایک ناقابلِ تصور تجربہ ہوتاہے۔ اسی تجربے کا نام شکر ہے۔
یہ تجربہ اتنا زیادہ اعلی ہوتاہےکہ منعم کےلیےزبان سےشکر کی ادائیگی کےہر الفاظ اس کو کمتر لگنے لگتے ہیں۔ وہ چاہتا ہےکہ اس کی پوری شخصیت ایک زبان بن جاتی، اور وہ اپنے پورے وجود کے ساتھ اپنے رب کا شکر ادا کرتا۔ اس کا پورا وجود شکر کے احساس میں ڈھل جاتا ، اوروہ زبان سے شکر کے الفاظ بولنے والا نہیں، بلکہ سراپا شکر میں جینے والا انسان بن جاتا۔
واپس اوپر جائیں

محرّک شکر

تقریباً تیرہ بلین سال پہلے سولر سسٹم وجود میں آیا۔ اس وقت زمین کے اوپر صرف گیس تھی۔ پھر گیس کے ذریعے پانی بنا۔ پانی کا فارمولا H2O ہے، یعنی زمین میں ایسے مالیکیول (molecule) رکھ دیے گئے، جس میں ہائڈروجن کے دو ایٹم ہوتےتھے، اور آکسیجن کا ایک ایٹم۔ اس طرح زمین کے اوپر پانی وجود میں آیا۔ یہ پانی بڑے پیمانے پر سمندر کی گہرائیوں میں جمع ہوگیا۔ ابتدامیں نیچر نے اس پانی میں حفاظتی مادہ (preservative) کے طور پر نمک (salt) شامل کیا ۔ یہ نمک آمیزپانی براہ راست طور پر انسان کے لیے قابل استعمال نہ تھا۔ پھر زمین کے اوپرسورج کی حرارت اور پانی کے تعامل سے حیرت انگیز طور پر بارش کا انتظام ہوا۔ فطری طور پر نمک کا وزن زیادہ تھا، اور پانی کا وزن کم۔ چنانچہ جب سمندرکی سطح پر سورج کی حرارت پہنچی تو سمندر کا پانی فطری قانون کے تحت ازالۂ نمک (desalination) کے پراسس سے گزر ا،یعنی پانی بھاپ بن کرنمک سےالگ ہوگیا ۔ نمک سمندر میں رہ گیا، اور پانی بھاپ بن کر فضا میں بلندہوا، وہاں وہ بادل بنااور آخر کار وہ پانی بارش کی صورت میں دوبارہ زمین پر برسا۔ اس پانی نے زمین کو سیراب کیا، اور چشموں اور دریاؤں کی صورت میں محفوظ ہوگیا۔
فطرت کے نظام کے تحت یہ ایک سائکل (cycle) ہے، جو مسلسل طور پر جاری ہے۔ پانی کا یہی نظام ہے، جس نے زمین کو انسان کے لیے حیات بخش سیارہ بنا کر رکھا ہے۔ اگر یہ نظام نہ ہو تو انسان زمین کے اوپر زندہ سماج نہ بنا سکے۔ زمین پر تہذیب کی تشکیل پانی کے بغیر ناممکن ہو جائے۔ اس پورے عمل پر غور کیا جائے ،تو اس میں حکمت کے اتنے زیادہ پہلو ہیں، جو انسان کے لیے مائنڈ باگلنگ ظاہرہ (mind-boggling phenomena) کی حیثیت رکھتے ہیں۔ قدیم زمانے کا انسان ان حقیقتوں سے بے خبر تھا، مگر اب سائنسی مطالعے کے ذریعے یہ حقیقتیں انسان کے علم میں آگئی ہیں۔ ان حقیقتوں کو جاننا انسان کے لیے اتھاہ خزانے کی حیثیت رکھتا ہے۔ غالباً یہی وہ عظیم حقیقت ہے، جس کو قرآن میں ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے وَإِنْ تَعُدُّوا نِعْمَةَ اللَّہِ لَا تُحْصُوہَا (16:18)۔ یعنی، اگر تم اللہ کی نعمتوں کو گنو تو تم ان کو گن نہ سکو گے۔
واپس اوپر جائیں

فخر اور شکر

ایک تعلیم یافتہ مسلمان نے پُر اعتماد لہجے میں کہا — میں پورے فخر اور شکر کے ساتھ کہتا ہوں کہ اللہ تعالی نے مجھے فلاں دینی ماحول میں پیدا کیا، اور اس نے مجھے فلاں ادارے میں تعلیم وتربیت حاصل کرنے کا موقع عطا فرمایا، وغیرہ۔
یہ کسی ایک شخص کی بات نہیں۔ اِس قسم کی بات بہت سے لوگ اپنے اپنے انداز میں کہتے ہیں۔ یہ الفاظ بظاہر خوب صورت معلوم ہوتے ہیں، لیکن وہ انتہائی بے معنیٰ ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ فخر اور شکر دونوں دو مختلف جذبات ہیں۔ جہاں فخر ہوگا، وہاں شکر نہیں ہوگا اور جہاں شکر ہوگا، وہاں فخر نہیں ہوگا۔ جو لوگ ایسے الفاظ بولیں، ان کے اندر فخر تو ہوسکتا ہے، لیکن حقیقی شکر کا جذبہ ان کے اندر ہرگز موجود نہیں ہوسکتا۔
شکر کیا ہے۔ شکر دراصل، خداوند ِ ذوالجلال کی نعمتوں کا اعتراف ہے۔ خداوند ِ ذوالجلال کی نعمت کا احساس فوراً ہی آدمی کے اندر اپنی بے مائگی کا احساس پیدا کردیتا ہے اور اپنی بے مائگی کے احساس کے بعد کوئی شخص کبھی فخر کا تحمل نہیں کرسکتا۔ اِس قسم کے احساس کے بعد آدمی اپنے آپ کو ’’بے کچھ‘‘ کے مقام پر پاتا ہے اور خداوندذوالجلال کو ’’سب کچھ‘‘ کے مقام پر۔ جو آدمی اس قسم کی نفسیات کا حامل ہو، اس کے لیے فخر ایک مضحکہ خیز لفظ بن جائے گا۔ ایسا آدمی سب کچھ بھول کر شکر ِ خداوندی کے جذبے سے سرشار ہوجائے گا۔اس کے اندر فخر جیسی چیز کے لیے کوئی جگہ نہ ہوگی۔ شکر کی توفیق ہمیشہ عجز کامل کی سطح پر ہوتی ہے جس آدمی کے اندر عجز کامل کی اعلیٰ ربانی صفت نہ ہو، وہ شکر کا تجربہ بھی نہیں کرسکتا۔
فخر کے ساتھ شکر کا لفظ بولنا، بتاتا ہے کہ ایسا آدمی، امتحان کی اصطلاح میں، مائنس مارکنگ (minus marking) کا مستحق ہے۔ ایسا کہنے والا شخص اِس بات کا ثبوت دے رہا ہے کہ وہ فخر اور شکر دونوں کی اصل حقیقت سے بے خبر ہے۔ وہ نہ فخر کی نفسیات کو جانتا ہے اور نہ شکر کی نفسیات کو۔ اگر وہ دونوں کی حقیقت سے باخبر ہوتا تو وہ اِس طرح، فخر اور شکر کے متضاد الفاظ کو ایک ساتھ نہ بولتا۔ حقیقت یہ ہے کہ شکر ہمیشہ نفیِ فخر کی زمین پر پیدا ہوتا ہے، نہ کہ اثباتِ فخر کی زمین پر۔
واپس اوپر جائیں

انسان کا اعتراف

عَنْ أَبِی ہُرَیْرَةَ، قَالَقَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّى اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَمَنْ لَمْ یَشْکُرِ النَّاسَ، لَمْ یَشْکُرِ اللہَ (مسند احمد،حدیث نمبر 7504)۔یعنی، ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ نے فرمایا  جو آدمی لوگوں کا شکر نہ کرے، وہ خدا کا شکر بھی نہیں کرے گا۔
شکر ایک کیفیت کا نام ہے۔ یہ کیفیت کسی آدمی کے دل میں پیدا ہو جائے تو وہ منقسم ہو کر نہیں رہ سکتی۔ اگر وہ ایک معاملہ میں ظاہر ہوگی تو یہ ناممکن ہے کہ وہ اسی قسم کے دوسرے معاملہ میں ظاہر نہ ہو۔ جب آدمی ایک کا شکر گزار ہوگا تو وہ دوسرے کا بھی ضرور شکرگزار ہوگا۔
بندہ کا احسان آنکھ سے دکھائی دیتا ہے، وہ ایک براہ راست تجربہ ہے۔اس کے برعکس، خدا کا جو احسان ہے وہ ظاہری آنکھ سے دکھائی نہیں دیتا، وہ آدمی کے لیے براہِ راست تجربہ نہیں۔خدا کے احسان کو سوچ کر جاننا پڑتا ہے۔ بندہ کے احسان کو آدمی بذریعہ مشاہدہ جانتا ہے اور خدا کے احسان کو بذریعہ تفکر۔جو آدمی براہِ راست مشاہدہ میں آنے والے واقعہ کا احساس نہ کر سکے، وہ ایسے واقعہ کو کیوں کر محسوس کرے گا جو بالواسطہ غور وفکر کے ذریعہ معلوم کیا جا سکتا ہے۔
کوئی احسان کرنےوالا جب احسان کرتا ہے تو آدمی اس کے احسان کا اعتراف اس لیے نہیں کرتا کہ وہ سمجھتا ہے کہ اس طرح میں محسن کی نگاہ میں چھوٹا ہو جاؤں گا۔ حالانکہ ایسا کر کے وہ خود اپنا نقصان کرتا ہے۔اس کے بعد وہ اپنے ضمیر کی نگاہ میں چھوٹا ہو جاتا ہے۔ وہ اپنے ضمیر کے نزدیک کم بن جاتا ہے۔ اور بلاشبہ اپنے ضمیر کے نزدیک کم ہونا، دوسرے کے نزدیک کم ہونے سے زیادہ سخت ہے۔
اس سے بھی زیادہ بڑا نقصان یہ ہے کہ بندوں کے احسان نہ ماننے سے آدمی کے اندر بے اعترافی کا مزاج بنتا ہے۔ اولاً وہ انسان کا اعتراف نہیں کرتا۔ اور اس کے بعد اس کا بگڑا ہوا مزاج اس کو یہاں تک لے جاتا ہے کہ وہ رب العالمین کا بھی سچا اعتراف نہیں کر پاتا۔ اور بلاشبہ اس سے زیادہ گھاٹا اٹھانے والا اور کوئی نہیں جو اپنے رب کا اعتراف کرنے سے عاجز رہے۔
واپس اوپر جائیں

دور شکر

نومبر 1992 میں میرا ایک سفر ناگپور کے لیے ہوا۔ 8نومبرکو میں نے فجرکی نماز نظام الدین کی سات سو سالہ قدیم کالی مسجد میں پڑھی تھی ۔ پھر ظہرکی نماز میں نے دہلی ایرپورٹ پرپڑھی ، اور عصر کی نماز ناگپور پہنچ کر ادا کی ۔ بظاہر یہ ایک سادہ سا واقعہ ہے جو ہر روز بہت سے مسلمانوں کے ساتھ پیش آتا ہے۔ مگر جب میں نے غور کیا تو مجھے اس چھوٹے سے واقعہ میں بہت بڑا سبق چھپا ہوا نظر آیا۔ اس کامطلب یہ تھا کہ میں دہلی میں بھی اسلامی عبادت کرنے کے لیے آزاد تھا۔ اسی طرح میں راجدھانی کے ایر پورٹ پر بھی اسلامی عبادت آزادانہ طور پر کر سکتا تھا۔ اور دہلی سے گیارہ سو کیلومیٹر دور ناگپور میں بھی یہ آزادی حاصل تھی کہ میں اطمینان کے ساتھ اسلام کے بتائے ہوئے طریقہ کے مطابق اللہ کی عبادت کروں ۔
پھر اس کا مقابلہ میں نے قدیم مکی دور سے کیا جب کہ اسلام کا ابتدائی زمانہ تھا۔ اس وقت پیغمبر اسلام اور اہل اسلام کو یہ آزادی حاصل نہ تھی کہ کھلے طور پر وہ نماز ادا کرسکیں۔ حتی کہ نماز باجماعت ادا کرنے کے مواقع بھی اس وقت موجود نہ تھے مگر آج تمام مسلمانوں کو مکمل طور پر دینی آزادی حاصل ہے ۔
یہ واقعہ میرے لیے ایک علامت بن گیا جس میں مجھے اسلام کی تاریخ آگے کی طرف سفر کرتی ہوئی نظر آنے لگی ۔ مجھے دکھائی دیا کہ آج مسلمانوں کی حالت لائق شکر ہے، نہ کہ لائق شکایت ۔ آج ہم اسلام کے حوصلہ افزا مرحلہ میں ہیں، نہ کہ حوصلہ شکن مرحلہ میں ۔
میں نے سوچا کہ جدید تہذیب نے انسانوں (بشمول مسلمان)کے لیے ہر اعتبار سے کتنی زیادہ آسانیاں پیدا کر دی ہیں ۔ اس کے باوجود انسان خدا کا شکر ادا نہیں کرتا۔موجودہ زمانہ میں جو چیز سب سے زیادہ اٹھ گئی ہے وہ شکر ہے۔ سائنسی دریافت ،صنعتی انفجار، اور مذہبی آزادی کے اس دور میں یہ ہونا چاہیے تھا کہ انسان ہمیشہ سے زیادہ شکر کرنے والا بن جائے ، مگربرعکس طور پر ایسا ہوا کہ وہ ہمیشہ سے زیادہ ناشکری کرنے و الا بن گیا۔ اس معاملہ میں مسلمانوں اور غیر مسلمانوں کا کوئی فرق نہیں ہے۔
واپس اوپر جائیں

شکر، نہ کہ شکایت

5 ستمبر(2003) کو جمعہ کا دن تھا۔ میں نے نظام الدین کی کلاں (کالی) مسجد میں نماز ادا کی۔ امام صاحب نے خطبہ سے پہلے اپنی تقریر میں بتایا کہ 1947 میں یہ مسجد کچھ ہندوؤں کے قبضہ میں چلی گئی تھی۔ ہم نے دوبارہ قبضہ کرکے اس کو آباد کرنا چاہا تو پولیس کیس بن گیا اور عدالتی کارروائی کی نوبت آگئی۔ عدالت کے سامنے یہ سوال تھا کہ کیا 15 اگست 1947 سے پہلے یہ عمارت ایک مسجد تھی اور وہ مسجد کے طورپر استعمال ہوتی تھی۔ ہندو جج نے تین آدمیوں کی گواہی پر مسجد کے حق میں اپنا فیصلہ دیا۔یہ تینوں دہلی کے تین ہندو تھے۔ ان میں سے ایک بر ہمن تھا، دوسرا بنیا اور تیسرا ہریجن۔
کلاں (کالی) مسجد تقریباً 800 سال پہلے تغلق دور میں بنائی گئی تھی۔ میں 1983 سے اس مسجد میں نماز پڑھتا رہا ہوں۔ پہلے یہ مسجد تقریباً کھنڈر کی حالت میں تھی۔ اب یہاں مسجد کی شاندار عمارت کھڑی ہوئی ہے۔ یہ ایک علامت ہے جو بتاتی ہے کہ اس ملک میں ملت مسلمہ کا مستقبل دن بدن بہتر حالت کی طرف جارہا ہے۔
اسی طرح کا واقعہ ہے۔ اپریل 1996 کو میرٹھ اور اس کے اطراف کے لیے میرا سفر ہوا۔ 12 اپریل کو جمعہ کا دن تھا۔ سردھنہ کی جامع مسجد میں میں نے اپنے مقامی ساتھیوں کے ساتھ جمعہ کی نماز پڑھی ۔ کافی بڑی مسجد ہے ،اندر سے باہر تک نمازیوں سے بھری ہوئی تھی ۔ میں نے سوچاکہ موجودہ مسلمانوں سے جو سب سے بڑی چیز اٹھ گئی ہے وہ شکرِ خداوندی کا جذبہ ہے ۔ چنانچہ ایک مسجد کے ساتھ کسی وجہ سے کوئی ناخوش گوار واقعہ پیش آجائے تو ہر زبان اور ہر قلم اس کے پرجوش تذکرہ میں مصروف ہو جاتا ہے۔ مگر اس ملک میں لاکھوں مسجد یں شاندار طور پر آباد ہیں اور اس کے تذکرہ میں کوئی رطب اللسان نہیں ۔
مجھے یاد آتا ہے کہ 40 سال پہلے میں یوپی میں اپنے آبائی گاؤں، بڈھریا، ضلع اعظم گڑھ، میں رہتا تھا۔ میرے گھر کے قریب ایک مسجد تھی۔ اس میں اکثر ایسا ہوتا تھا کہ میں ہی مؤذن ہوتا تھا اور میں ہی امام اور مقتدی۔ خاص طورپر عشاء کی نماز مجھے اس طرح پڑھنا ہوتا تھا کہ میں لالٹین لے کر مسجد جاتا جو گاؤں کے باہر کھیتوں کے کنارے واقع تھی۔ رات کے سنسان ماحول میں عشاء کی نماز پڑھنا بڑا عجیب تجربہ تھا۔ اس وقت وہاں میرے ساتھ کوئی اور نمازی نہیں ہوتا تھا۔ میں خود ہی اذان دیتا اور خود ہی تکبیر کہہ کر جماعت کے طورپر نماز ادا کرتا اور پھر لالٹین لے کر واپس اپنے گھر آجاتا۔
مگر اب40 سال کے بعد مسجد سمیت یہ پوری جگہ نہایت با رونق ہوگئی ہے۔ اب وہاں مسجد سے متصل سڑک گزررہی ہے۔ بجلی اور ٹیلی فون آچکا ہے۔ مسجد کے بالکل سامنے ایک معیاری اسکول قائم ہوگیا ہے۔ اب یہاں رات دن چہل پہل رہتی ہے۔
اس قسم کے واقعات ہر جگہ پیش آرہے ہیں۔ ان واقعات میں نہایت امید افزا پیغام چھپا ہوا ہے۔ مگر عجیب بات ہے کہ موجودہ زمانہ میں تمام مسلمان، مذہبی اور غیر مذہبی دونوں، شکایت کی بولی بولتے ہیں۔ مجھے اپنے تجربہ میں پوری مسلم دنیا میں کوئی شخص نہیں ملا جو شکایت سے خالی ہو، اورحقیقی طورپرشکر کے جذبہ سے سرشار ہوکر حمد کلچر یا مثبت سوچ میں جیتاہو۔
ــــــــــــــــــــــــــــ
اردو کے ایک مرثیہ گونے قدیم زمانہ میں حضرت حسین اور ان کے خاندان کے لوگوں کے سفر کا نقشہ کھینچتے ہوئے کہا تھا کہ خدا نے فرشتوں کو حکم دیا کہ زمین کو مختصر کر کے ان کا راستہ آسان بنا دو 
طنابیں کھینچ کر کم کر زمیں کو کہ ہو وے راہ کم ان مہ جبیں کو
آج اللہ تعالیٰ نے ہر آدمی کے لیے ’’زمین کی طنابیں کھینچ کر‘‘سفر کو مختصر بنا دیا ہے، یعنی جدید وسائل کے ذریعہ فاصلوں کو کم کردیا ہے ۔ مثلاًہوائی جہاز کی سواری آج بہت زیادہ عام ہوچکی ہے۔ اس لیے لوگوں کو اس کے غیر معمولی پن کا احساس نہیں ہوتا ۔ حقیقت یہ ہے کہ ہوائی جہاز اللہ تعالیٰ کی ایک عظیم نعمت ہے ۔ ہوائی جہاز نے آج لمبے سفروں کو ہر آدمی کے لیے ممکن بنا دیا ہے۔ ورنہ قدیم زمانے میں بہت ہی کم افراد لمبے سفر کا حوصلہ کرسکتے تھے۔ مگر قرآن کے مطابق، انسانوں میں سب سے کم وہ لوگ ہیں جو قابل شکر باتوں کو شدت کے ساتھ محسوس کریں اور شکر کے جذبات سے سرشار ہو جائیں (سبا،34:13) ۔
واپس اوپر جائیں

اضافۂ ایمان

سائنسی اندازہ کے مطابق،سورج ہماری زمین سے تقریباًنو کرورتیس لاکھ میل دور ہے۔ سورج ہماری زمین سے ایک لاکھ تیس ہزارگنا بڑا ہے۔ سورج زمین کی مانند ٹھوس نہیں ہے، بلکہ وہ پورا کا پورا ایک عظیم دہکتا ہوا شعلہ ہے۔ اس کی گرمی گیارہ ہزار ڈگری فارن ہائٹ ہے۔ یہ گرمی اتنی زیادہ ہے کہ سخت ترین مادہ بھی اس میں پگھلے بغیر نہیں رہ سکتا۔ زمین اگر اس کے قریب کی جائے تو وہ ایک سکنڈ سے بھی کم عرصے میں پگھل کر گیس بن جائے گی۔
سورج کیسے چمکتا ہے اور کیسے اتنی بڑی مقدار میں وہ روشنی اور گرمی دے رہا ہے۔ قدیم خیال یہ تھا کہ سورج مسلسل جل رہا ہے، جیسے کوئی لکڑی یا کوئلہ جلتا ہے۔ مگر جب فلکیاتی تحقیق سے معلوم ہوا کہ وہ ہزاروں ملین سال سے اسی طرح روشن ہے تو یہ خیال غلط ثابت ہوگیا۔ سورج میںاگر کوئی مادہ جل رہا ہوتا تو اب تک سورج بجھ چکا ہوتا، کیوں کہ کوئی چیز اتنی زیادہ لمبی مدت تک جلتی ہوئی حالت میں نہیںرہ سکتی۔
اب سائنس دانوں کا نظریہ یہ ہے کہ سورج کی گرمی اُسی قسم کے ایک عمل (process) کا نتیجہ ہے جو ایٹم بم کے اندر وقوع میں آتا ہے، یعنی سورج، مادہ کو توانائی میں تبدیل کرتا ہے۔ یہ عمل جلنے سے مختلف ہے۔ جلنا مادہ کو ایک صورت سے دوسری صورت میں تبدیل کرتا ہے، مگر جب مادہ کو توانائی میں بدلا جائے تو بہت زیادہ توانائی صرف تھوڑے سے مادہ کے ذریعہ حاصل کی جاسکتی ہے۔ مادہ کا ایک اونس اتنی زیادہ توانائی پیدا کرسکتا ہے جو ایک ملین ٹن سے زیادہ چٹان کو پگھلا دے
The sun changes matter into energy. This is different from burning. Burning changes matter from one form to another. But when matter is changed into energy, very little matter is needed to produce a tremendous amount of energy. One ounce of matter could produce enough energy to melt more than a million tons of rock.
کائنات میں ا س قسم کی ان گنت نشانیاں پائی جاتی ہیں۔ یہ نشانیاں بتاتی ہیں کہ کائنات کے پیچھے ایک عظیم خالق کی ہستی کام کررہی ہے۔ عظیم خالق کے بغیر کبھی اس قسم کی عظیم تخلیق ظہور میں نہیں آسکتی۔قرآن میں بار بار کائناتی نشانیوں پر غور کرنے کے لیے کہا گیا ہے۔ یہ غور وفکر ایک خالص دینی عمل ہے، وہ مومن کے ایمان میں غیر معمولی اضافے کا سبب بنتا ہے، وہ مومن کے شکر کے جذبے کو بے پناہ حد تک بڑھا دیتا ہے۔
ــــــــــــــــــــــــــــ
جولائی 2001 میں میرا ایک سفر سوئٹزرلینڈ کے لیے ہوا۔ ہمارا جہاز 25 جولائی کی صبح کو ٹھیک وقت پر زیورک ، سوئٹزر لینڈ پہنچ گیا۔ جہاز جب ایر پورٹ کے قریب پہنچ کر نیچے اترا تو چاروں طرف سرسبز مناظر دکھائی دے رہے تھے۔ یہ ایک خوبصورت دنیا تھی جو گویا فطرت کے سبزہ زار ماحول میں بنائی گئی تھی۔ اس کو دیکھ کر میری زبان سے نکلا
It is like seeing paradise from a distance.
مجھے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ اللہ نے ایک نہایت حسین اور معیاری دنیا بنائی جہاں انسان ابدی طورپر پر مسرت زندگی گزار سکے۔ یہ جنت ہے ۔پھر اس نے ایک اور دنیا موجودہ زمین کی صورت میں بنائی۔ ہماری زمین ساری کائنات میں ایک انتہائی انوکھا استثنا ہے۔ جیسا کہ قرآن میں بتایا گیا ہے،یعنی اس دنیا میں جنت کے مشابہ تمام چیزیں رکھ دی گئی ہیں (البقرہ ، 2:25)۔ گویا موجودہ دنیا آخرت کی کا مل جنت کا ایک ناقص تعارف ہے۔ یہ دنیا انسان کو اس لیے دی گئی ہے تاکہ وہ اس کے اندر جنت کی ابتدائی جھلک دیکھے اور پھر اس کا شکر ادا کر کے ابدی جنت کا مستحق بنے ۔ اس حقیقت کی طرف قرآن میں ان الفاظ میں اشارہ کیا گیا ہے لَئِن شَکَرۡتُمۡ لَأَزِیدَنَّکُمۡ (14:7)۔ یعنی، اگر تم شکر کرو گے تو میں تم کو (جنت کی صورت میں)زیادہ دوں گا۔
واپس اوپر جائیں

شکر کا ایک آئٹم

ایک روایت کے مطابق، پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا إِذَا عَطَسَ أَحَدُکُمْ فَلْیَقُلْالحَمْدُ لِلہِ، وَلْیَقُلْ لَہُ أَخُوہُ أَوْ صَاحِبُہُیَرْحَمُکَ اللہُ، فَإِذَا قَالَ لَہُیَرْحَمُکَ اللہُ، فَلْیَقُلْ یَہْدِیکُمُ اللہُ وَیُصْلِحُ بَالَکُمْ(صحیح البخاری،حدیث نمبر 6224 )۔یعنی، جب تم میں سے کسی شخص کو چھینک آئے تو وہ کہے الحَمْدُ لِلہِ (اللہ کا شکرہے)۔ اُس وقت اس کا ساتھی یہ کہے یَرْحَمُکَ اللہُ (اللہ کی رحمت ہو تم پر)۔ اس کے بعد چھینکنے والا کہےیَہْدِیکُمُ اللہُ وَیُصْلِحُ بَالَکُمْ (اللہ تم کو ہدایت دے اور تمھارے حالات کو درست کردے)۔
چھینک آنے پر الحمد للہ کہنا محض کوئی رسمی بات نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ چھینک آنا شکر کا ایک آئٹم ہے۔ یہ بات ایک تازہ تحقیق سے علمی طورپر ثابت ہوئی ہے۔ اِس تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ چھینک کوئی بری چیز نہیں، وہ فطرت کا ایک عمل ہے۔ چھینک سے جسم میں تازگی آتی ہے
Sneezing revives your body: A sneeze is your body’s way of rebooting naturally and patients with disorders of the nose such as sinusitis sneeze more often as they can’t reboot easily, a new study said. Researchers from the University of Pennsylvania found that our noses require ‘‘reboot’’ by the pressure force of a sneeze. (The Times of India, New Delhi, August 2, 2012, p. 15)
اِس سے معلوم ہوا کہ چھینک آنا کوئی سادہ بات نہیں، چھینک آنا بھی شکر کا ایک آئٹم ہے۔ ہر چھینک پورے جسم کو تازگی عطا کرتی ہے۔ مزید یہ کہ چھینک اللہ کی نعمتوں کی ایک یاد دہانی ہے۔ چھینک کے ذریعے ایک انسان اللہ کی ایک نعمت کو یاد کرکے جب اُس پر شکر ادا کرتاہے تو اُس وقت اس کا ذہن بیدار ہوجاتا ہے۔ اِس ذہنی بیداری کی بنا پر انسان کو شکر کے دوسرے آئٹم بھی یاد آنے لگتے ہیں۔ شکر کے ایک آئٹم پر شکر کرکے آدمی شکر کے دوسرے آئٹم پر بھی شکر کرنے کے قابل ہوجاتا ہے۔
واپس اوپر جائیں

بولنے کی صلاحیت

ایک تعلیم یافتہ مسلمان سےملاقات ہوئی،وہ دعوت کے کام کو اہم کام سمجھتے تھے۔ انھوں نے کہا کہ مجھے یہ دیکھ کر بہت افسوس ہوتا ہے کہ مدارس کے علما میں دعوت کا شوق نہیں۔ وہ بس مدرسے کے کام میں لگے رہتے ہیں، اور اسی کو سب کچھ سمجھتے ہیں۔
ان کی باتیں سن کر مجھے محسوس ہوا کہ ان کے اندر بہت اچھا اسپیکنگ پاور ہے۔ میں نے ان سے کہا کہ آپ مدارس کے لوگوں کو دیکھ کر منفی احساس میں مبتلا ہورہے ہیں، آپ ایسا کیجیے کہ مدارس کے لوگوں کو لے کر مت سوچیے، بلکہ خود اپنے آپ کو لے کر سوچیے۔ اگر آپ خود اپنے آپ کو لے کر سوچیں تو آپ دریافت کریں گے کہ آپ کو اللہ تعالی نے بہت اچھا اسپیکنگ پاور دیا ہے۔ آپ اپنی اس صلاحیت کو دعوت کے کام میں استعمال کیجیے، اور مجھے یقین ہے کہ سارے شہر میں آپ سے اچھا اسپیکر نہ ہوگا۔
آپ کے اندر بولنے کی فطری صلاحیت بہت اعلیٰ درجے میں موجود ہے۔ اب آپ صرف اتنا کیجیے کہ دعوت کے موضوع پر اپنا مطالعہ بڑھائیے۔ آپ دعوت کے اعتبار سے اپنے آپ کو مزید تیار کیجیے، اور پھر دعوت کے میدان میں کام کرنا شروع کردیجیے۔ میں نے کہا کہ آپ اکیلے ہی، ان شاءاللہ، دعوتی کام کے لیے کافی ہیں۔ آپ اپنے آپ کو لے کر سوچیے، آپ دوسروں کو لے کر سوچنا بند کر دیجیے، اور پھر آپ کو کسی سے شکایت نہ ہوگی۔
لوگوں میں یہ غلطی بہت عام ہے۔ لوگوں کا حال یہ ہے کہ اپنے آپ کو لے کر نہیں سوچتے، بلکہ دوسروں کو لے کر سوچتے ہیں۔ اس طرزِ فکر کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ لوگوں کے اندر منفی نفسیات پیدا ہوجاتی ہے۔اگر وہ مثبت نفسیات میں جینے والے بن جائیںتو خدا کے وعدہ کا مستحق بن سکتے ہیں،جو قرآن میں ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے لَئِنْ شَکَرْتُمْ لَأَزِیدَنَّکُم (14:7)یعنی، اگر تم شکر کرو گے تو میں تم کو زیادہ دوں گا۔ لیکن وہ غیر ضروری طور پر اپنے آپ کو اس نعمت سے محروم کرلیتے ہیں۔ شکر میں جینے والا انسان بننے کے لیے ضروری ہے کہ آدمی مثبت سوچ میں جینے والا انسان بنے۔
واپس اوپر جائیں

شکر کی نفسیات میں جینا

مسلمان ہر روز اپنی نماز میں قرآن کی یہ آیت پڑھتے ہیں الْحَمْدُ لِلہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ (1:1)۔ یعنی ساری حمد صرف اللہ کے لیے ہے جوسارے جہان کا رب ہے۔ حمد کی حقیقت شکر ہے۔ "ساری حمد اللہ کے لیے ہے"کا مطلب یہ ہے کہ سارا شکر اللہ کے لیے ہے۔
قرآن کی اس آیت کا تقاضا یہ نہیں ہے کہ اس کو صرف زبان سے پڑھ دیا جائے، بلکہ وہ ایک تربیت کا کلمہ ہے۔ وہ ہر روز مسلمان کو ایک حقیقت کی یاد دلاتاہے۔ وہ یہ کہ انسان کو چاہیے کہ وہ روزانہ پیش آنے والے واقعات پر غور کرے۔ وہ واقعات کی ایسی مثبت توجیہ (positive explanation) تلاش کرے، جو اس کو ہر حال میں شکر کرنے والا انسان بنا دے، وہ ہردن اس احساس سے بھرا رہے کہ کائنات کا خالق ایک نہایت مہربان خالق ہے، وہ ہر وقت خالق کے لیے اور تمام انسانوں کے لیے شکر واعتراف کا رسپانس (response) دیتا رہے۔
قرآن کی یہ آیت مومن کی حقیقی تصویر کو بتارہی ہے۔ سچا مومن وہ ہے جو الحمد للہ کی نفسیات میں جیے۔ اس کے برعکس، جو انسان عملاً لا حَمدَ للہکی نفسیات میں جیتا ہو، وہ سچا مومن نہیں۔ وہ زبان سے تو الحمد للہ کہتا ہے، لیکن اس کا دل شکایتی مزاج کی بنا پرعملاً یہ کہہ رہا ہوتا ہے کہ لا حَمدَ للہ، یعنی اللہ کے لیے کوئی حمد نہیں۔ یہ نفسیات منافقت کی نفسیات ہے، نہ کہ ایمان کی نفسیات۔
اس معاملہ کا تعلق حالات کی توجیہ سے ہے۔ جو آدمی حالات کی مثبت توجیہ کرے، وہ الحمد للہ کی نفسیات میں جیے گا، اور جو آدمی حالات کی مثبت توجیہ نہ کرسکے، وہ لاحَمدَ لِلہ کی نفسیات میں جینے والا انسان بن جائے گا۔ الْحَمْدُ لِلہِ شکر کا کلمہ ہے اور لاحَمدَ لِلہ ناشکری کا کلمہ۔گویا کہ الحمد للّٰہ کہنے سے پہلے ایک اور چیز مطلوب ہے،اور وہ ہے الحمد للّٰہ کی شعوری معرفت۔جو آدمی الحمد للّٰہ کہنے سے پہلے اس کی شعوری معرفت حاصل کرچکا ہو، وہی درست طورپر الحمد للہ کہے گا، اور جو آدمی اس شعوری معرفت سے خالی ہو، اس کی زندگی میں الحمد للہ ایک حقیقت کے طورپر شامل نہیں ہوسکتا۔
واپس اوپر جائیں

شکر اور ناشکری

پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں ایک غزوہ پیش آیا جس کو غزوۂ حنین کہا جاتا ہے۔ اس غزوہ میں کافی بھیڑ بکری غنیمت کی صورت میں حاصل ہوئیں۔ رسول اللہ نے غنیمت کا سامان مہاجرین میں تقسیم کردیا اور انصار کو کچھ نہیں دیا(وَلَمْ ‌یُعْطِ ‌الْأَنْصَارَ شَیْئًا)۔ یہ دیکھ کر انصار کے کچھ افراد کو شکایت پیداہوئی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو معلوم ہوا تو آپ نےانصار کے لوگوں کو جمع کرکے ایک تقریر کی۔ آپ نے فرمایا کہ اے انصار! کیا تم اس پر راضی نہیں ہو کہ لوگ بھیڑ بکری لے جائیں اور تم اللہ کے رسول کو اپنے ساتھ لے جاؤ( أَتَرْضَوْنَ أَنْ یَذْہَبَ النَّاسُ بِالشَّاةِ وَالبَعِیرِ، وَتَذْہَبُونَ بِالنَّبِیِّ صَلَّى اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ إِلَى رِحَالِکُمْ ) صحیح البخاری، حدیث نمبر4330 ۔
اس کا مطلب دوسرے لفظوں میں یہ تھا کہ دوسروں کو اگر میں نے بھیڑ بکری دی ہے تو تم کو تو میں نے خود اپنے آپ کو دے دیا ہے، یعنی اللہ کے رسول کو۔
یہ انسان کی عام کمزوری ہے کہ وہ اپنے ملے ہوئے کو نہیں دیکھ پاتا اور دوسرے کو جو کچھ ملے وہ اس کو بہت زیادہ نظر آتا ہے۔ فطرت کے قانون کے مطابق ہمیشہ ایسا ہوتا ہے کہ ملی ہوئی چیز بظاہر زیادہ ہوتی ہے، اور نہ ملی ہوئی چیز بظاہر کم۔ ایسی حالت میں مذکورہ قسم کا مزاج بے حد خطرناک ہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ آدمی کے اندر سے شکر کا جذبہ نکل جائے گا، وہ ناشکری میں جینے لگے گا۔ اور یہ نقصان بلاشبہ تمام نقصانات سے زیادہ ہے۔ جو چیز آدمی کے اندر ناشکری پیدا کرے اس کے غلط ہونے میں کوئی شک نہیں۔
دین میں سب سے زیادہ اہمیت یہ ہے کہ انسان اپنے رب کا شکر گزار بندہ بنے۔ اس کے صبح و شام شکر کی نفسیات میں بسر ہوتے ہوں۔ لیکن ضروری ہے کہ آدمی اس معاملے میں اپنے شکر کی حفاظت کرے۔ شکر کی حفاظت کرنے سے شکر باقی رہے گا، اور حفاظت نہ کرنے سے شکر کا احساس آدمی کے اندر سے رخصت ہوجائے گا۔ایسا اسی وقت ہو سکتا ہے ، جب کہ آدمی ہر لمحہ اپنا نگراں بنا رہے۔
واپس اوپر جائیں

شکر یاسرکشی

ایک اچھی چیز آپ کو ملتی ہے ۔ اس کواگرآپ اپنی محنت اورقابلیت کانتیجہ سمجھیں توآپ کے اندر سرکشی کاجذبہ پیداہوگا۔ اوراگر آپ اس کو خد اکی طرف سے ملی ہوئی چیز سمجھیں تو آپ کے اندر شکر کاجذبہ جاگ اٹھے گا۔ پہلی کیفیت کانام گمراہی ہے اوردوسری کیفیت کانام ہدایت یابی ۔
موجودہ دنیاکو امتحان(test) کی مصلحت کے تحت بنایاگیاہے ۔دنیا کے تمام واقعات بلاشبہ اللہ کی مرضی سے اورا س کی پلاننگ کے تحت سے ہورہے ہیں ۔ مگر تمام واقعات پراسباب کاپردہ ڈال دیاگیاہے ۔ آدمی کا امتحان یہ ہے کہ وہ اسباب کے ظاہری پردہ کوہٹا کر اصل واقعہ کودیکھے اوراس پرایمان لائے ۔
آپ کے اندر ایک چیز کی طلب پیداہوتی ہے ۔ آپ اس کے لیے کوشش شروع کرتے ہیں۔آپ کی کوشش مختلف مراحل سے گزرتی ہے ۔ کہیں آپ اپنا ذہن استعمال کرتے ہیں کہیں اپنی عملی طاقت لگاتے ہیںاورکہیں اپنا اثاثہ خرچ کرتے ہیں ۔ اس طرح بظاہراسباب وعلل کے راستہ سے گزرتی ہوئی آپ کی کوشش اپنے انجام تک پہنچتی ہے ۔ آپ اپنے مقصود کوپالیتے ہیں ۔
اب اگر آپ کوصرف ظاہربیںنگاہ حاصل ہے تو آپ اپنی کامیابی کواپنی کوشش کانتیجہ سمجھیںگے لیکن اگرآپ کووہ نگاہ حاصل ہو جوباتوں کواس کی گہرائی کے ساتھ دیکھ سکے تو آپ جان لیں گے کہ جوہوا وہ خد کے کیے سے ہوا ، یہ میراکوئی ذاتی کارنامہ نہیں ۔
یہی وہ مقام ہے جہاں آدمی کاامتحان ہورہاہے ۔ آدمی پرلازم ہے کہ وہ ظاہری پردہ کو پھاڑ کر اندرونی حقیقت کو دیکھے ۔ بظاہر اپنے ہاتھ سے ہونے والے کام کے بارے میں یہ دریافت کرے کہ وہ حقیقت میں خدا کے ذریعہ انجام پارہاہے ۔
جولوگ اس بصیرت کاثبوت دے سکیں وہی معرفت والے لو گ ہیں اورجولوگ اس بصیرت کاثبوت نہ دیں وہی وہ لوگ ہیں جو معرفت سے محروم رہے۔
واپس اوپر جائیں

شکر اور سنجیدگی

قرآن کی سورہ الاحقاف میں ایک بندہ صالح کی دعا ان الفاظ میں آئی ہےرَبِّ أَوۡزِعۡنِیٓ أَنۡ أَشۡکُرَ نِعۡمَتَکَ ٱلَّتِیٓ ‌أَنۡعَمۡتَ عَلَیَّ وَعَلَىٰ وَٰلِدَیَّ وَأَنۡ أَعۡمَلَ صَٰلِحٗا تَرۡضَىٰہُ وَأَصۡلِحۡ لِی فِی ذُرِّیَّتِیٓ إِنِّی تُبۡتُ إِلَیۡکَ وَإِنِّی مِنَ ٱلۡمُسۡلِمِینَ(47:15)۔ یعنی، اے میرے رب، مجھے توفیق دے کہ میں تیرے احسان کا شکر ادا کروں جو تو نے مجھ پر کیا اور میرے ماں باپ پر کیا اور یہ کہ میں وہ نیک عمل کروں جس سے تو راضی ہو۔ اور میری اولاد میں بھی مجھ کو نیک اولاد دے۔ میں نے تیری طرف رجوع کیا اور میں فرمان برداروں میں سے ہوں۔
سورہ النمل (آیت19)میں الفاظ کے جزئی فرق کے ساتھ یہی دعا حضرت سلیمان علیہ السلام کے حوالہ سے آئی ہے۔اس دعا کے ذریعہ ایک سنجیدہ انسان (sincere person) کو یہ تعلیم دی گئی ہے کہ جب اس کو نعمت ملے تو اس کا حال کیا ہونا چاہیے۔ عام طور پر لوگوں کا حال یہ ہوتا ہے کہ جب ان کو کوئی نعمت(favor) ملتی ہے تو وہ اس کا کریڈٹ خدا کو نہیں دیتے ہیں، بلکہ اپنی ذات کو اس کا کریڈٹ دیتےہیں۔ اس قسم کا کوئی بڑاواقعہ ایک عام انسان کو فخر و غرور میں مبتلا کرنے کے لیے کافی ہوتا ہے۔ مگرایک بندہ صالح ، جس کو خدا کی معرفت حاصل ہوئی ہو، اللہ سے تعلق قائم ہونے کے بعد اس کے اندر اپنے مُنعم حقیقی کے لیے اعتراف (acknowledgement) کا جذبہ ابھرتا ہے۔ وہ نعمت کو دیکھ کر سراپا شکر بن جاتا ہے۔ جو کچھ بظاہر اس کو ذاتی محنت سے حاصل ہوتا ہے اس کو بھی وہ پورے طور پر خدا کے خانہ میں ڈال دیتا ہے۔ یہی ہرسنجیدہ انسان کا طریقہ ہونا چاہیے۔ اِسی اعتراف کا شرعی نام شکر ہے۔ یعنی کسی نعمت کے حصول پر مُنعِم کے لیےدل کی گہرائی سے قدردانی کا اظہار ہے
deep appreciation for kindness received
جہاں شکر نہ ہو، یقینی طور پر وہاں دین بھی نہ ہوگا۔اس دنیا کے اندر شکر کے آئٹم اتنے زیادہ ہیں کہ ان کو گنا نہیں جاسکتا ہے(النحل، 16:18)۔ اگر انسان سنجیدہ (sincere) ہوتو نعمت کا احساس انسان کے اندر شکر وحمد کے چشمے جاری کردیتا ہے۔ یہی اللہ سے تعلق کا خلاصہ ہے۔
انسان کے اندر یہ کمزوری ہے کہ اس کی نفسیات میں کسی کیفیت کا تسلسل باقی نہیں رہتا۔ انسان سے یہ مطلوب ہے کہ وہ ہمیشہ شکرِ خداوندی کی کیفیات میں زندگی گزارے۔ اِس لیے انسان پر مختلف قسم کے ناخوشگوار حالات لائے جاتے ہیں، تاکہ اس کے ذریعے سے انسان کے اندر نعمت اور منعم کی اہمیت کا احساس ابھرے۔ تاکہ آدمی کبھی شکر کی کیفیت سے خالی نہ ہونے پائے، وہ اِس دنیا میں رہتے ہوئے ہر تجربے کے بعد شکر کا رسپانس (response) دیتا رہے۔
اِس دنیا میں انسان کو اپنے وجود سے لے کر لائف سپورٹ سسٹم (life support system) تک جو چیزیں ملی ہیں، وہ سب کا سب اللہ کا عطیہ ہیں۔ انسان کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنے پورے دل وجان کے ساتھ اِن انعامات کے منعم (giver) کا اعتراف کرے۔
بے خبرانسان
نومبر2004 میں بمبئی (ممبئی)کے لیے میرا ایک سفر ہوا۔ اس سفر میں ایک بڑا عبرت ناک واقعہ معلوم ہوا۔ ممبئی میں نیتومانڈکے نامی ایک ڈاکٹر تھے۔ 2003 میں ان کا انتقال ہوگیا۔ وہ امراضِ قلب کے بہت بڑے ماہر سمجھے جاتے تھے۔ سرجری میں اُن کو کمال حاصل تھا۔ انہوں نے بہت سے دل کے مریضوں کی کامیاب سرجری کی تھی۔ آخر میں اُن کو اپنے فن پر بہت غرور آ گیا تھا۔یہاں تک کہ وہ خدا کے منکربن گئے ۔
ایک صاحب نے بتایا کہ ڈاکٹر صاحب نے ایک بار ایک مسلم خاتون کے دل کا آپریشن کیا۔ آپریشن سے صحتیابی کے بعد مسلم خاتون نے ڈاکٹر صاحب سے ملاقات کی، اور بات کرتے ہوئے یہ کہا کہ خدا کا شکر ہے کہ آپریشن کامیاب رہا۔ ڈاکٹر صاحب نے کہا اس میں خدا کی کیا بات ہے۔ تم پیسہ دو اور میں تم کو صحت دوں گا
Give me money and I will give you cure.
وہ ایک آپریشن کا معاوضہ تین لاکھ روپیے لیتے تھے۔ عجیب بات یہ ہے کہ خود اُن کا انتقال دل کے دورے میں ہوا۔ وہ اپنی قیمتی کار میں سفر کررہے تھے، ہندو جا ہاسپٹل پہنچے کہ اچانک اُن پر دل کا دورہ پڑا۔ ان کو فوراً اسپتال لے جایا گیا، اتفاق سے وہاں اُس وقت جو عملہ تھا وہ ان کو پہچانتا نہ تھا۔ چنانچہ اسپتال میں ان کے ساتھ بے توجہی کا معاملہ ہوا۔ وہ بے بسی کے ساتھ چلّاتے رہے کہ میں ڈاکٹر مانڈکے ہوں۔ مگر عدم واقفیت کی بنا پر وہاں بَر وقت ان کا صحیح علاج نہ ہوسکا اور اسپتال ہی میں ان کا خاتمہ ہوگیا۔
ممبئی کے ایک دوسرے سرجن، ڈاکٹر کامران سے ملاقات ہوئی۔انھوںنے بتایا کہ انسان کے جسم میں ایک خاص عنصر ہوتا ہے۔ یہی آپریشن کے بعد اندمال (healing)کا سارا کام کرتا ہے۔ اگر یہ عنصر نہ ہوتو تمام سَرجن بے روزگار ہوجائیں۔ ڈاکٹر مانڈکے اگر اِس پوری حقیقت پر غور کرتے تو وہ ہر سرجری کے بعد اپنے عجز کو دریافت کرتے۔ لیکن غور و فکر نہ کرنے کی وجہ سے وہ برعکس طورپر سرجری کے واقعے میں اپنی مہارت دیکھتے رہے۔ اس لیے ایسا ہوا کہ جس واقعے میں انہیں عجز کی غذا مل رہی تھی، اُس سے وہ غلط طورپر کبر کی غذا لیتے رہے اور آخر کار اسی بے خبری کے ساتھ اُن کا خاتمہ ہوگیا۔
موجودہ زمانے میں یہ مزاج بہت زیادہ عام ہوچکا ہے— نعمتوں کا استعمال، لیکن مُنعم کا اعتراف نہیں۔ہر انسان مکمل طورپر عاجز ہے مگر وہ اپنے آپ کو قادر سمجھ لیتا ہے۔ اس کا سبب یہ ہے کہ وہ غور و فکر سے کام نہیں لیتا۔حقیقت یہ ہے کہ اس دنیا میں ہر کام خارجی اسباب کی رعایت کے ذریعہ انجام پاتا ہے۔ آپ کی زندگی میں 99 فی صد سے زیادہ حصہ خدا کا ہے اور ایک فی صد سے بھی کم حصہ آپ کی اپنی کوشش کا۔ ایسی حالت میں انسان کے اندر اعتراف (شکر ) کا جذبہ خدا کے لیے ہوناچاہیے، نہ کہ اپنی ذات کے لیے۔ مگر عجیب بات ہے کہ اِس معاملے میں تمام دنیا کے لوگ بے خبری میں مبتلا ہیں۔
غور کیا جائے تو معلوم ہوگا کہ موجودہ زمانے میں خدا نے انسان کو نہایت قیمتی چیزیں عطا کی ہیں، جو قدیم زمانے میں بادشاہوں کو بھی حاصل نہیں تھیں۔ مگر میر ے تجربے کے مطابق، بیش تر لوگ ان کا صرف غلط استعمال کرتے ہیں۔ مثلاً جدید کمیونی کیشن خدا کی ایک عظیم نعمت ہے مگر غالباً اس نعمت کا تقریباً 95 فیصد حصہ صرف بے فائدہ یا غلط مقاصد کے لیے استعمال ہو رہا ہے۔ اور جہاں تک کہ اس نعمت پر شکر کا تعلق ہے وہ تو میں نے اپنے تجربے میں حقیقی طور پر کسی کے اندر پایا ہی نہیں، نہ مذہبی لوگوں میں اورنہ سیکولر لوگوں میں۔ اس معاملے میں دونوں کی حالت ایک ہے — اپنے دین کوجانچنے کا معیار یہ ہے کہ آپ دیکھیے کہ آپ کے اندر شکر کی نفسیات ہے یا نہیں۔
واپس اوپر جائیں

ناشکری نہیں

صحابی رسول ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ سلم نے فرمایا جب تم میں سے کوئی اپنے اوپر اللہ کی نعمت کا اندازہ کرنا چاہے تووہ اس کو دیکھے جواس سے کمتر ہو، وہ اس کو نہ دیکھے جو اس سے برتر ہو(عَنْ أَبَی ہُرَیْرَةَ یَقُولُقَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّى اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ إِذَا أَحَبَّ أَحَدُکُمْ أَنْ یَعْلَمَ قَدْرَ نِعْمَةِ اللہِ عَلَیْہِ، فَلْیَنْظُرْ إِلَى مَنْ ہُوَ تَحْتَہُ، وَلَا یَنْظُرْ إِلَى مَنْ ہُوَ فَوْقَہُ) الزہد والرقائق لابن المبارک، حدیث نمبر 1433۔
خدا کے منصوبۂ تخلیق کے مطابق، دنیا کی چیزوں کی تقسیم میں یکسانیت نہیں۔ یہاں کسی کو کم ملا ہے اور کسی کو زیادہ۔ کسی کو ایک چیز دی گئی ہے اور کسی کو دوسری چیز۔ اس صورت حال نے دنیوی معاملات میں ایک شخص اور دوسرے شخص کے درمیان فرق کر دیا ہے ۔ اب اگر آدمی اپنا مقابلہ اس شخص سے کرے جو بظاہر اس کو اپنے سے کم نظر آتا ہے تو اس کے اندر شکر کا جذبہ پیدا ہوگا۔ اس کے برعکس، اگر آدمی اپنا مقابلہ اس شخص سے کرنے لگے جو بظاہر اس کو اپنے سے زیادہ دکھائی دیتا ہے تو اس کے اندر ناشکری کا احساس ابھرے گا ۔ اس نفسیاتی خرابی سے بچنے کا آسان حل یہ بتایا گیا ہے کہ ہر آدمی اس کو دیکھے جو اس کے نیچے ہے ، وہ اس کو نہ دیکھے جو اس کے اوپر ہے ۔
شیخ سعدی نے لکھا ہے کہ میرے پاؤں میں جوتے نہیں تھے۔ میں نے کچھ لوگوں کو جوتا پہنے ہوئے دیکھا۔ مجھے خیال آیا کہ دیکھو ، خدا نے ان کو جوتا دیا اور مجھے بغیر جوتے کے رکھا۔ وہ اسی خیال میں تھے کہ ان کی نظر ایک شخص پر پڑی جس کا ایک پاؤں کٹا ہوا تھا۔ یہ دیکھ کر انھوں نے اللہ کا شکرادا کیا کہ اس نے انھیں اس سے بہتر بنایا اور ان کو دو تندرست پاؤں عطا کیے — اللہ تعالیٰ کو اپنے ہر بندہ سے یہ مطلوب ہے کہ وہ اس کا شکر گزار بنے۔ مگر موجودہ دنیا میں شکر گزار وہی شخص رہ سکتاہے جو اس اعتبار سے اپنا نگراں بن گیا ہو— ملے ہوئے پرشکر کا جذبہ آدمی کے اندر حوصلہ پیدا کرتا ہے ۔ نہ ملے ہوئےپر شکایت کا ذہن آدمی کو جھنجلاہٹ اور مایوسی میں مبتلا کر دیتا ہے ۔
واپس اوپر جائیں

دورِسائنس، دور شکر

ماہنامہ پاپولر سائنس نیو یارک (امریکا) سے شائع ہونے والی ایک میگزین ہے۔ یہ میگزین 1872 میں شروع ہوئی، اور آج تک جاری ہے۔ اس کے قدیم شمارے گوگل بکس میں موجود ہیں۔ اس کے ایک قدیم شمارہ (مارچ 1956 ، صفحہ 2 )میں ایک پیراگراف ان الفاظ میں تھا
From Atom to Star: Research at Bell Telephone Laboratories ranges from the ultimate structure of solids to the radio signals from outer space. Radio interference research created the new science of radio astronomy; research in solids produced the transistor and the Bell Solar Battery. Between atoms and stars lie great areas of effort and achievement in physics, electronics, metallurgy, chemistry and biology. Mechanical engineers visualize and design new devices.
اس مضمون میںایک امریکی کمپنی، بیل ٹیلیفون لیبوریٹری میں ہونے والی سائنسی ریسرچ کا ذکر کیا گیا ہے۔ یعنی ایٹم سےلے کر ستارے تک انسانی جدو جہد اورکارِنمایاں انجام دینے کے لیے فزکس، الیکٹرانکس،میٹالرجی، کیمسٹری،اوربایالوجی کا بہت بڑا میدان موجود ہے۔اس سائنسی لیبوریٹری میں میکانیکل انجینئر نئے آلات کا خاکہ بناتے ہیں اور ڈیزائن تیارکرتے ہیں۔
ایک سیکولر انسان کی حد یہاں پر ختم ہوجاتی ہے ۔ لیکن اہل ایمان کی ایک اور حد ہے۔ وہ ہے، کائناتی نشانیوں سے معرفت و شکر کی غذا حاصل کرنا۔ موجودہ زمانہ میں سائنسی ترقیوں نے ایک بہت بڑا کام انجام دیا ہے۔اس نے معرفت اور شکرکے لیے ایک نیا لامتناہی میدان کھول دیا ہے۔
مثلاً پرندوں کا فضا میں اڑنا قدرت الٰہی کی ایک عظیم نشانی ہے۔ قدیم زمانہ میں قدرت الٰہی کی اس نشانی (sign) کو صرف پراسرار عقیدہ کے تحت سمجھا جاتا تھا، مگر آج اس کو ایک سائنسی حقیقت کے طورپر سمجھا جاسکتا ہے۔ اب سائنسی دور میں ہم کہہ سکتے ہیں کہ آج جب ایک ہوائی جہازفضا میں اڑکر ایک جگہ سے دوسری جگہ پہنچتا ہے تو اس کے لیے ہوائی جہاز سے باہر ایک بہت بڑا انفراسٹرکچر درکار ہوتا ہے۔یہی معاملہ تمام کائناتی انفراسٹرکچر کا ہے،جوتمام نقائص سے پاک (zero-defect) ہو کر زمین کےلیے لائف سپورٹ سسٹم کا کام کررہا ہے۔ یہ بلاشبہ شکر کا بہت عظیم آئٹم ہے۔(ڈاکٹر فریدہ خانم)
واپس اوپر جائیں

عالمی شکر

اسلام میں انسانوں کا شکر ادا کرنے کو بہت زیادہ اہمیت دی گئی ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بار بار انسانوں کا شکر ادا کرنے کی تاکید کی ہے۔ مثلاً ایک حدیث رسول یہ ہے عَنْ أَبِی ہُرَیْرَةَ، عَنِ النَّبِیِّ صَلَّى اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ‌لَا ‌یَشْکُرُ ‌اللہَ مَنْ لَا یَشْکُرُ النَّاسَ(مسند احمد، حدیث نمبر 8019)۔ ابوہریرہ کی روایت کے مطابق، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا اس نے اللہ کا شکر ادا نہیںکیا ، جو انسانوں کا شکر ادا نہیں کرتا۔
اس حدیث کا ایک اور مطلب بھی ہے جو ابن الاثیر الجزری (وفات 606 ھ)نے ان الفاظ میں بیان کیا ہے‌أَن ‌اللہَ ‌لَا ‌یَقْبَلُ ‌شُکْرَ ‌الْعَبْدِ ‌عَلَى ‌إِحسانہ إِلیہ، إِذا کَانَ الْعَبْدُ لَا یَشکُرُ إِحسانَ النَّاسِ ویَکْفُر معروفَہم(جامع الاصول، جلد2، صفحہ 559)۔ یعنی،اللہ اس بندے کا شکر قبول نہیں کرے گاکسی احسان پر،اگر وہ بندہ انسانوں کے احسانات کا شکر ادا نہ کرے یا ان کے احسانات کا انکار کرے۔
غور سے دیکھا جائے تو اِس حدیث میں شکر کا ایک عالمی حکم بیان کیا گیا ہے، یعنی دنیا کے تمام انسانوں کا شکر گزار ہونا، اور ان کے لیے دل میں منفی سوچ نہ رکھنا۔ قدیم دور میںانسان ایک دوسرے پر محدود معنی میں نِربھَر (dependent)ہوتا تھا۔مگر دور جدید کو عالمی طور پر باہمی انحصار (global interdependence) کا دور کہا جاتا ہے۔ کوئی انسان کسی دوسرے انسان سے بے نیاز نہیں ، ہر انسان دوسرے انسان کا محتاج ہے۔ خواہ وہ ڈائریکٹ طور پرہو یا بالواسطہ طور پر۔
اسی حقیقت کو مولانا وحید الدین خاں صاحب نے ان الفاظ میں بیان کیا ہے اللہ نے انسانی تاریخ میں ایسے اسباب پیدا کیے کہ انسانوں کے درمیان ایک نئی ڈائیکاٹومی وجود میں آگئی۔ وہ تھی، دوست اور موید (supporter) کی ڈائیکاٹومی۔ یعنی جو لوگ دوست تھے، وہ تو دوست ہی تھے۔لیکن جو لوگ دوست نہ تھے، وہ عملاً موید (supporter) بن گئے۔یہ تبدیلی اس طرح آئی کہ جمہوریت (democracy) اور ٹکنالوجی کے ذریعہ ایسے حالات پیدا ہوئے کہ ہر آدمی کا مفاد دوسرے آدمی کے ساتھ جڑ گیا۔ پولیٹکل لیڈر کا انٹرسٹ ووٹر سے، اور ووٹر کا انٹرسٹ پولیٹکل لیڈر سے.... ٹیچر کا انٹرسٹ اسٹودنٹس سے، اور اسٹوڈنٹس کا انٹرسٹ ٹیچر سے، وغیرہ۔اس طرح دنیا میں ایک نیا باہمی انحصار کا کلچر (interdependent culture) وجود میں آیا (الرسالہ ستمبر 2017)۔
قدیم زمانے میں بھی انسان ایک دوسرے پر انحصار کرتا تھا، مگروہ بہت ہی محدود پیمانے پر تھا۔ موجودہ زمانہ میں یہ ظاہرہ، مولانا وحید الدین خاں صاحب کے الفاظ میں، ’’اپنے نقطۂ انتہا (culmination) کو پہنچ گیا ہے۔ موجودہ زمانہ مکمل طور پر باہمی مفاد (mutual interest) کے اصول پر قائم ہے۔ موجودہ زمانے میں صنعتی تہذیب کے پھیلاؤ کے نتیجے میں ایسا ہوا ہے کہ دنیا میں باہمی انحصار (interdependence) کا دور آگیا ہے۔ اب ہر ایک کو خود اپنے مفاد کے تحت دوسرے کی ضرورت ہے۔ مثلاً تاجر کو گراہک کی ضرورت ہے، اور گراہک کو تاجر کی۔ وکیل کو کلائنٹ کی ضرورت ہے اور کلائنٹ کو وکیل کی ۔ ڈاکٹر کو مریض کی ضرورت ہے، اور مریض کو ڈاکٹر کی۔ لیڈر کو ووٹر کی ضرورت ہے ،اور ووٹر کو لیڈر کی۔ کنزیومر کو بازار کی ضرورت ہے، اور بازار کو کنزیومر کی۔ کمرشیل سواری کو مسافر کی ضرورت ہے، اور مسافر کو کمرشیل سواری کی ۔ہوٹل کو سیاح کی ضرورت ہے، اور سیاح کو ہوٹل کی ۔ صنعت کو خریدار کی ضرورت ہے، اور خریدار کو صنعت کی ، وغیرہ‘‘۔ (الرسالہ ستمبر 2017)
اس واقعہ کی ایک مثال روس اور یوکرین کی جنگ ہے، جو فروری 2022 میں شروع ہوئی اور اس مضمون کے لکھے جانے تک 31 جولائی 2022 جاری ہے۔ اس جنگ کی وجہ سے پوری دنیا میں مہنگائی بڑھ چکی ہے۔حالاں کہ یوکرین اور روس زمین کے ایک محدود جغرافی رقبہ میں موجود ہیں۔ مہنگائی کا واقعہ عالمی طور پر باہمی ڈپنڈنسی کو ظاہر کرتاہے۔ اسی طرح سائنسی ٹکنالوجی تمام تر مغرب کی ایجاد ہے، مگر اس سے ساری دنیا فائدہ اٹھا رہی ہے۔ عالمی ڈپنڈنسی کی ایک اور مثال 2019 میں چین کے ایک شہر سے پھیلنے والی کرونا کی وباہے، جس نے دیکھتے ہی دیکھتے ساری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ پھر اس وبا سے بچاؤ کے لیے ہر انسان نے خود سے ویکسین تیار نہیں کی، بلکہ بعض ممالک کی کچھ کمپنیوں نےتیار کی، اور اس کو ساری دنیا کے انسانوں کو لگایا گیا، وغیرہ۔ عالمی انحصار(global interdependence) کا یہ ظاہرہ بتاتا ہے کہ موجودہ دور میں ہر انسان کو دوسرے انسان کا شکر گزار ہونا چاہیے۔(ڈاکٹر فریدہ خانم)
واپس اوپر جائیں

’’میں خداکا کتنا مقروض ہوں‘‘

یہ اٹلی کا واقعہ ہے۔ کورونا وائرس کا ایک 93 سالہ مریض جب اسپتال میں اچھا ہوگیا تو اسپتال والوں نے اس سے صرف ایک دن کا ونٹیلیٹر کا بل ادا کرنے کے لیے کہا، جو کہ 500 یوروتھا۔ مریض بے تحاشہ رونے لگا۔ ڈاکٹر گھبراگئے۔ انھوں نے کہا کہ آپ بل کے لیے پریشان نہ ہوں۔بوڑھے انسان نے جو جواب دیا، اس سے اسپتال کے ڈاکٹراوراسٹاف بھی رونے لگے۔اس نے کہا کہ میں اس رقم کے لیے نہیں رو رہا ہوں۔ میں آسانی سے پیسہ ادا کرسکتا ہوں۔ میں اس لیے رو رہا ہوں کہ میں 93 سال سے خدا کی اس صحت بخش ہوا میں سانس لے رہا ہوں، لیکن میں نے کبھی ا س کا بل ادا نہیں کیا۔لیکن اسپتال میںصرف ایک دن کے لیے ونٹیلیٹرکا استعمال کیاتو اس کا بل 5 سو یورو لگ رہا ہے۔ آپ سمجھ سکتے ہیں کہ میں خدا کا کتنا زیادہ مقروض ہوں۔ اس کے لیے کبھی خدا کا شکر ادا نہیں کیا۔
In Italy, a 93 year old gentleman was on the ventilator in ICU fighting for the Coronavirus and survived. When his Doctor told him that he is billed for 500 Euro for one day ventilator use, he cried. The Doctor tried to comfort him not to feel sad for the cost. What the old man responded made the hospital workers weep. The old man explained: "I don’t cry because of the money I have to pay. Thankfully I am able to afford it. I cry for another reason. I cry because I’ve just come to realize after all these many years on earth I’ve been breathing God’s air for 93 years, yet I have never had to pay for it. It seems it takes over Euro 500 to use a ventilator in the hospital for one day. Do you know how much I owe God Why haven’t I ever truly thanked Him all the days of my life for the miracle of this divine gift which I took for granted". (https://bit.ly/3oONJjW)
اِس دنیا میں انسان کو اپنے وجود سے لے کر لائف سپورٹ سسٹم تک جو چیزیں ملی ہیں، وہ سب کا سب اللہ کا یک طرفہ عطیہ ہیں۔ انسان کے لیے ضروری ہے کہ وہ پورے دل وجان کے ساتھ اِن انعامات کے منعم (giver) کا اعتراف (شکر) کرے۔ (ڈاکٹر فریدہ خانم)
واپس اوپر جائیں

شکر کی حقیقت

شکر یہ ہے کہ آدمی خدا کی نعمتوں کا اعتراف کرے۔ یہ اعتراف اصلاً دل میں پیدا ہوتا ہے۔ اور پھر وہ الفاظ کی صورت میں آدمی کی زبان پر آ جاتا ہے۔
انسان کو خدا نے بہترین جسم اور دماغ کے ساتھ پیدا کیا ۔ اس کی ضرورت کی تمام چیزیں افراط کے ساتھ مہیا کیں۔ زمین و آسمان کی تمام چیزوں کو انسان کی خدمت میں لگا دیا۔ زمین پر زندگی گزارنے یا تمدن کی تعمیر کرنے کے لیے جو جو چیزیں مطلوب تھیں، وہ سب وافر مقدار میں یہاں مہیا کر دیں۔انسان ہر لمحہ ان نعمتوں کا تجربہ کرتا ہے۔ اس لیے انسان پر لازم ہے کہ وہ ہر لمحہ خدا کی نعمتوں پر شکر کرے۔ اس کا قلب خدا کی نعمتوں کے احساس سے سرشار رہے۔
شکر کی اصل حقیقت اعتراف ہے۔ جس چیز کو انسان کے سلسلہ میں اعتراف کہا جاتا ہے اسی کا نام خدا کی نسبت سے شکر ہے۔ اعتراف کا لفظ انسان کے مقابلہ میں بولا جاتا ہے اور شکر کا لفظ خدا کے مقابلہ میں۔شکر تمام عبادتوں کا خلاصہ ہے۔ عبادت کی تمام صورتیں دراصل شکر کے جذبہ ہی کی عملی تصویر ہیں۔ شکر سب سے زیادہ جامع اور سب سے زیادہ کامل عبادت ہے۔ شکر خدا پرستانہ زندگی کا خلاصہ ہے۔
شکر کا تعلق انسان کے پورے وجود سے ہے۔ ابتدائی طور پر آدمی اپنے دل اور اپنے دماغ میں شکر کے احساس کو تازہ کرتا ہے، پھر وہ اپنی زبان سے بار بار اس کا اظہار کرتا ہے۔ اس کے بعد جب شکر کے جذبات قوی ہو جاتے ہیں تو انسان اپنے مال اور اپنے اثاثہ کو اظہار شکر کے طور پر خدا کی راہ میں خرچ کرنے لگتا ہے۔ اسی طرح اس کا جذبۂ شکر اس کو مجبور کرتا ہے کہ وہ اپنے وقت اور اپنی طاقت کو اس خدا کی راہ میں صَرف کرے جس نے اس کو وقت اور طاقت کا یہ سرمایہ دیا ہے۔ ہمارا وجود پورا کا پورا خدا کا دیا ہوا ہے۔ ہم ایک ایسی دنیا میں جیتے ہیں جو سب کا سب خدا کا عطیہ ہے۔ اسی حقیقت کے اعتراف اور اظہار کا دوسرا نام شکر ہے۔
(زیر نظر شمارہ شکر کے موضوع پر آنے والی نئی کتاب کے منتخب مضامین پر مشتمل ہے)
واپس اوپر جائیں

Friday, 1 July 2022

Al Risala | July - August 2022 (الرسالہ،جولائی، اگست)

4

-اللہ کی محبت

5

- طوفان کا سبق

6

- انسان کا درجہ

7

- ماننے سے پہلے تحقیق

8

- تنقید، تنقیص

9

- ڈی کنڈیشننگ کی ضرورت

10

- ایثارِ نفس

11

- لالچ کا نقصان

12

- اعلیٰ اخلاق

13

- ناپ تول میں فرق کرنا

14

- مشقتوں کے درمیان

15

- مشکل میں آسانی

16

- ایج شاک

18

- الفاظ، الفاظ، الفاظ

19

- مطالعۂ حدیث، شرح مشکاۃ المصابیح

26

- اللہ کی مدد

28

- مستقبل کی دنیا

31

- ذہن سازی، بزور نفاذ

33

- ایک سوال

35

- ڈائری 1986

42

- داعیانہ کردار

48

- خبرنامہ اسلامی


اللہ کی محبت

پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک حدیث ان الفاظ میں آئی ہےعَنْ أَبِی أُمَامَةَ، عَنِ النَّبِیِّ صَلَّى اللہ عَلَیْہِ وَسَلَّمْ، قَالَحَبِّبُوا اللہَ إِلَى عِبَادِہِ، یُحِبَّکُمُ اللہُ(المعجم الکبیر للطبرانی، حدیث نمبر 7461 )۔ یعنی ابو امامہ روایت کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کہااللہ تعالی کو لوگوں کے نزدیک محبوب بناؤ، اللہ تم لوگوں سے محبت کرے گا۔ایک اور روایت میں یہ اضافہ ہےوَحَبِّبُوا النَّاسَ إِلَى اللہِ یُحْبِبْکُمُ اللہُ (الاولیاء لابن ابی الدنیا، حدیث نمبر 43)۔ لوگوں کو اللہ کے نزدیک محبوب بناؤ، اللہ تم سے محبت کرے گا۔
یہ دراصل دعوت کا بیان ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ دعوتی کلام کو ایسے انداز میں ہونا چاہیے کہ اس سے لوگوں کے اندر اللہ کی محبت پیدا ہو۔ دعوت کا پر محبت اسلوب بلاشبہ سب سے زیادہ اعلیٰ اسلوب ہے۔ انسان کو پیدا ہونے کے بعد ہر لمحہ خدا کی نعمت کا تجربہ ہوتا ہے۔ یہاں تک کہ وہ دریافت کرتا ہے کہ پوری کائنات اس کےلیے کسٹم میڈ بنائی گئی ہے۔ جب انسان اس حقیقت کو دریافت کرے گا تو وہ فطری طور پر اس کائنات کے خالق سے محبت کرے گا۔ خاص طور پر اللہ کی نعمتوں کا ذکر کیا جائے تو بلاشبہ یہ انسان کے اندر اللہ کی محبت جگانے والی باتیں ہیں۔اسی طرح لوگوں کو قرآن کی یہ آیت سنائی جائے قُلْ یَاعِبَادِیَ الَّذِینَ أَسْرَفُوا عَلَى أَنْفُسِہِمْ لَا تَقْنَطُوا مِنْ رَحْمَةِ اللَّہِ إِنَّ اللَّہَ یَغْفِرُ الذُّنُوبَ جَمِیعًا إِنَّہُ ہُوَ الْغَفُورُ الرَّحِیمُ (39:53)۔ یعنی کہو کہ اے میرے بندو، جنھوں نے اپنی جانوں پر زیادتی کی ہے، اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہو۔ بیشک اللہ تمام گناہوں کو معاف کردیتا ہے، وہ بڑا بخشنے والا، مہربان ہے۔
اس سے لوگوں کے اندر اللہ کی بے پناہ محبت پیدا ہوگی۔ اس سے لوگوں کے اندر وہ اسپرٹ جاگے گی، جس کو پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے ان الفاظ میں بیان کیا ہے مَا أُحِبُّ أَنَّ لِیَ الدُّنْیَا وَمَا فِیہَا بِہَذِہِ الْآیَةِ(مسند احمد، حدیث نمبر 22362)۔ یعنی مجھے پسند نہیں ہے کہ اس آیت کے بدلے میرے پاس دنیا اور دنیا کی ساری چیزیںموجودہوں۔
واپس اوپر جائیں

طوفان کا سبق

30 مئی 2022 کو دہلی میں طوفان آیا، جس کی وجہ سے دہلی میں کافی نقصان ہوا۔ انگریزی روزنامہ ٹائمس ناؤ (Times Now) کی ویب سائٹ پریہ خبر اس عنوان کے تحت شائع ہوئی — شدید بارش اور اولوں کے طوفان نے دہلی اور این سی آر میں تباہی مچائی، بجلی کی سپلائی متاثر، کاریں ٹوٹے ہوئے درختوں کےنیچے دب گئیں
Power outages, cars trapped under fallen trees as heavy rain, hailstorm lash parts of Delhi-NCR (https://rb.gy/or3all)
اسی طرح مئی 2022 میں بہار میں طوفان آیا تھا، اس کی خبر اس طرح آئی تھی بہار شدید طوفان کی زد میں ہے، آسمانی بجلی گرنے سے بھاری نقصان ہوا۔ طوفان سے بہار کے 16 اضلاع میں موجود ہزاروں افراد متاثرہوئے ہیں۔ طوفانی ہواؤں کے باعث درجنوں مکانات تباہ ہوئے جب کہ ہزاروں افراد بے گھر ہوگئے ہیں (www.rb.gy/i20kry)۔ ایسی بے شمار مثالیں ہیں، جن سے معلوم ہوتا ہے انسان قدرتی آفات کے آگے کتنا بے بس ہوجاتا ہے۔
قدرتی آفات انسان کی نظروں کے سامنے رونما ہوتے ہیں۔وہ گھر جس کو ایک انسان محنت اور محبت سے بناتا ہے، اس کوقدرتی آفات اس طرح تہس نہس کردیتےہیں، جس طرح سرکاری مشنری غیرقانونی طور پر تعمیر شدہ گھروں کو توڑ دیتی ہے، اور انسان بالکل بے بس بنا ہواہوتا ہے، گویا کہ گھر پر اس انسان کا کوئی حق نہ ہو۔ وہ انسان انتہائی بے بسی کے ساتھ اپنے گھر کوٹوٹتے ہوئےدیکھتا رہتا ہے۔
یہ صرف طوفان کا معاملہ نہیں ہے، بلکہ انسان اگر غور کرے تو وہ ہر اعتبار سے عاجز ہے۔ وہ زمین پر موجود لائف سپورٹ سسٹم کے بغیر وہ ایک لمحہ بھی نہیں رہ سکتا ،یہاں تک کہ لائف سپورٹ سسٹم کے اندر بھی خالی آنکھوں سے نہ دکھائی دینے والا ایک حقیر وائرس (مثلاً کووڈ 19) اس کو بے بس اور لاچار کردیتا ہے۔یہ واقعات سبق دیتے ہیںکہ انسان دنیا کا ماسٹر نہیں ہے، اس دنیا کا ماسٹر اللہ رب العالمین ہے، جو اس کو چلا رہا ہے۔ انسان کے لیےیہی سزاوار ہے کہ وہ اس خالق کے آگے اپنے آپ کو سرینڈر کرے۔ (ڈاکٹر فریدہ خانم)
واپس اوپر جائیں

انسان کادرجہ

قرآن کی سورہ التین میں انسان کے بارے میں ایک فطری قانون بیان کیا گیا ہے۔ بعض تاریخی شہادتوں کو پیش کرتے ہوئے ارشاد ہوا ہےلَقَدۡ خَلَقۡنَا ٱلۡإِنسَٰنَ فِیٓ أَحۡسَنِ تَقۡوِیمٖ۔ ثُمَّ رَدَدۡنَٰہُ أَسۡفَلَ سَٰفِلِینَ۔ إِلَّا ٱلَّذِینَ ءَامَنُواْ وَعَمِلُواْ ٱلصَّٰلِحَٰتِ فَلَہُمۡ أَجۡرٌ غَیۡرُ مَمۡنُون ( 95:4-6)۔ یعنی، ہم نے انسان کو بہترین ساخت پر پیدا کیا۔ پھر اس کو سب سے نیچے پھینک دیا۔ مگر جو لوگ ایمان لائے اور صالح اعمال کیے تو ان کے لیے کبھی ختم نہ ہونے والا اجرہے۔
قرآن کی ان آیتوں میں جو بات کہی گئی ہے وہ یہ ہے کہ انسان اپنے امکان(potential) کے اعتبار سے اعلیٰ ترین مخلوق کادرجہ رکھتا ہے۔کوئی انسان، خواہ وہ مرد ہو یا عورت، اس دنیا میں جب آتا ہے، تو وہ لامحدود امکان (unlimited potential) لے کر آتا ہے۔ مگر اس امکانی درجہ تک صرف وہ لوگ پہنچیں گے جو خدا کے تخلیقی اسکیم کو شعوری طور پر سمجھیں اور اس کے مطابق اپنی زندگی کی منصوبہ بندی کریں۔ جو لوگ ایسا نہ کر سکیں وہ سارے امکان کے باوجود محرومی کا کیس بن کررہ جائیں گے۔
امکان خدا کا عطیہ ہے ۔ لیکن امکان کو پہچاننا، اور اس کوواقعہ بنانا ہمیشہ انسان کا اپنا کام ہوتا ہے۔ جو آدمی اپنے ذاتی حصہ کی ذمہ داری کو ادا کرنے میں ناکام رہے وہ ہمیشہ کے لیے ناکام ہو گیا، کوئی دوسری چیز اس کو اس انجام سے بچانے والی نہیں۔ انسان کو صرف اس اِمکان کو پہچاننا ہے ۔ پہچاننے کے بعد اس کے امکانا ت فطرت کے زور پر اَن فولڈ (unfold) ہونے لگتے ہیں، اور یہ سلسلہ تاعمر جاری رہتا ہے، وہ کبھی ختم نہیں ہوتا۔
اپنے امکان کو واقعہ بنا نے کے لیے پہلی شرط یہ ہے کہ آدمی غور وفکر کے ذریعہ اپنے بارے میں تخلیق کے نقشہ کو سمجھے۔ پھر وہ اس تخلیقی نقشہ سے کامل رعایت کرتے ہوئے اس کے مطابق اپنی عملی سرگرمیاں جاری کرے۔ وہ حق اور ناحق میں فرق کرنا جانے ، وہ ناحق سے دور رہتے ہوئے اپنے آپ کو حق کا پابند بنائے۔
واپس اوپر جائیں

ماننے سے پہلے تحقیق

قرآن کی سورہ الحجرات میں اجتماعی زندگی کے بارے میں ایک اصول بتایا گیا ہے۔ وہ یہ کہ کسی بات کو صرف سن کر نہ مان لیا جائے۔ مذکورہ آیت کاترجمہ یہ ہے’’ اے ایمان والو، اگرکوئی فاسق تمہارے پاس خبرلائے تو تم اچھی طرح تحقیق کرلیاکرو، کہیں ایسا نہ ہو کہ تم کسی گروہ کونادانی سے کوئی نقصان پہنچادو، پھر تم کو اپنے کیے پر پچھتا نا پڑے‘‘(49:6)۔
لوگ جب مل جل کر رہتے ہیں تو اجتماعی زندگی کے نتیجہ میں بہت سے مسائل پیدا ہوتے ہیں۔ ان میں سے ایک مسئلہ یہ ہے کہ ایک کو دوسرے کی طرف سے بار بار خبریں پہنچتی ہیں۔ ان خبروں پر سننے والے کاردعمل کیا ہونا چاہیے اسی کی با بت ایک اصول مذکورہ آیت میں بتایا گیا ہے۔ وہ اصول یہ ہے کہ سننے والا جب کسی بات کو سنے تو ماننے سے پہلے اس کی تحقیق کرے۔ تحقیق کے بغیر صرف سننے کی بنیاد پر کوئی رائے قائم نہ کی جائے۔
تجربہ بتا تا ہے کہ اکثرایک کی بات دوسرے تک صحیح شکل میں نہیں پہنچتی ۔ بات کو پہنچانے والا درمیانی شخص اکثربات کو بدل دیتا ہے۔ مزید یہ کہ ہر بات کاایک بیک گرائونڈیا موقع ومحل ہوتا ہے۔ مگر بات کو نقل کرنے والا اکثرایسا کرتا ہے کہ وہ بیک گرائونڈ کو بتائے بغیر مجردشکل میں بات کو بیان کر دیتا ہے۔ اس کانتیجہ یہ ہوتا ہے کہ بات اپنی اصل حقیقت کے اعتبار سے کچھ ہوتی ہے اور سننے والے تک پہنچ کر وہ کچھ اور ہوجاتی ہے۔ اس غلط فہمی کی بنا پر سننے والا آدمی غلط رائے قائم کرتا ہے اور غلط اقدام کر ڈالتا ہے جس کانتیجہ آخر کار اس صورت میں نکلتا ہے کہ آدمی اپنے کیے پر شرمندہ ہوتا ہے، حالاں کہ اب وقت اس کے ہاتھ سے نکل چکا ہوتا ہے۔
یہ مسئلہ ہر سماج میں پیش آتا ہے۔ اس کاحل صرف یہ ہے کہ آدمی اپنے اندر یہ مزاج بنائے کہ وہ صرف سن کر کسی بات کو نہ مان لے۔ ماننے سے پہلے وہ ضروری تحقیق کرے۔ اور اگر وہ تحقیق نہیں کر سکتا تو ایسی حالت میں اس کو یہ کرنا چاہیے کہ وہ سنی ہوئی بات کو بھلا دے۔ وہ اس پر نہ کوئی رائے قائم کرے اور نہ اس کی بنیاد پر کسی اقدام کامنصوبہ بنائے۔
واپس اوپر جائیں

تنقید، تنقیص

قرآن کی سورہ الحجرات میں اجتماعی زندگی کےکچھ آداب بتائے گئے ہیں۔ اس آیت کاترجمہ یہ ہے’’ اے ایمان والو، نہ مرددوسرے مردوں کامذاق اڑائیں ، ہو سکتا ہے کہ وہ ان سے بہتر ہوں۔ اور نہ عورتیں دوسری عورتوں کامذاق اڑائیں، ہو سکتا ہے کہ وہ ان سے بہتر ہوں۔ اور نہ ایک دوسرے کو طعنہ دو اور نہ ایک دوسرے کو برے لقب سے پکارو‘‘۔(49:11)
قرآن کی اس آیت میں اس اجتماعی مسئلہ کاذکر ہے جو اکثر ایک اور دوسرے کے درمیان اختلاف کی صور ت میں پیدا ہوتا ہے۔ اکثر ایسا ہوتا ہے کہ لوگ اختلاف پیش آتے ہی دوسرے کو غلط اور اپنے کو صحیح سمجھ لیتے ہیں۔ اس نفسیات کے تحت یہ ہوتا ہے کہ ایک آدمی دوسرے آدمی کامذاق اڑانے لگتا ہے۔ وہ اس کی طعنہ زنی کرتا ہے۔ وہ اس کو برے نام سے پکار نے لگتا ہے۔ وہ اس کو بدنام کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ یہ چیزیں سماج کے اندرنفرت پیدا کردیتی ہیں۔خوشگوار باہمی تعلقات کاخاتمہ ہوجاتا ہے۔ یہ ایک سماجی بگاڑ ہے جس کا برانتیجہ ہر ایک کو بھگتنا پڑتا ہے۔
اس مسئلہ کا حل یہ ہے کہ لوگ صرف رایوں کے اختلاف کی بنا پر ایک دوسرے کی ذات کے بارے میں برا گمان قائم نہ کریں۔ اختلاف کے وقت لفظی ریمارک دینے سے مکمل پر ہیز کریں۔ اس کے بجائے وہ ایسا کریں کہ جب کسی سے اختلاف پیدا ہو تو سنجید گی اور غیر جانبداری کے ساتھ اس پر غور کریں اور پھر اپنی بات کو دلیل کے انداز میں بیان کریں۔ علمی تنقید میں کوئی حرج نہیں ،مگر کسی کی ذات کی تنقیص یقینی طور پر بری چیز ہے اور انسان کی اجتماعی ترقی میں بہت بڑی رکاوٹ ہے۔
اجتماعی زندگی میں لوگوں کا سابقہ ایک دوسرے کے ساتھ جس چیز میں پڑتا ہے وہ زبان ہے۔ زبان کا غلط استعمال آپس میں تلخی پیدا کر دیتا ہے اور زبان کا درست استعمال آپس میں محبت کو بڑھاتا ہے۔ زبان سے آدمی صرف کچھ الفاظ بولتا ہے مگر یہ الفاظ عملی اعتبار سے بڑے بڑے نتائج پیدا کرتے ہیں، اچھے بھی اور برے بھی ، خواہ خاندانی زندگی ہو یا وسیع ترمعنوں میں سماجی زندگی، ہر جگہ زبان کا استعمال بے حد اہم حیثیت رکھتا ہے۔ اس لیے آدمی کو چاہیے کہ وہ زبان کے استعمال میں بے حد محتاط رہے۔
واپس اوپر جائیں

ڈی کنڈیشننگ کی ضرورت

قرآن کے مطابق، جنت میں داخلہ ان افراد کو ملے گا، جنھوں نے دنیا میں اپنا تزکیہ کیا ہوگا۔ مثلاً قرآن کی ایک آیت کے الفاظ یہ ہیںوَذَلِکَ جَزَاءُ مَنْ تَزَکَّى (20:76) ۔ یعنی ،اور یہ (جنت) جزاء ہے اس شخص کے لیے جس نے اپنا تزکیہ کیا۔اس آیت میںجس تزکیہ کا ذکرہے اس کو انسانی زبان میں ڈی کنڈیشننگ (deconditioning) سے تعبیر کیا جا سکتا ہے۔
ڈی کنڈیشننگ دوسرے الفاظ میں سیلف کریکشن (self-correction) کے عمل کا نام ہے۔ آدمی اپنے بچپن اور جوانی کی عمر میں ذہنی اعتبار سے غیر پختہ (immature) ہوتا ہے۔ اس زمانہ میں وہ تجزیہ کرنے اور صحیح اور غلط میں امتیاز کرنے کے قابل نہیں ہوتا۔ چنانچہ ہر آدمی اپنے ماحول کے اعتبار سے متاثر ذہن (conditioned mind)بن جاتا ہے۔اس حقیقت کو ایک حدیث میں اس طرح بیان کیا گیا ہے کہ ہر انسان پیدائشی طور پرفطرت صحیحہ پر ہوتا ہے۔ مگر ماحول سے متاثر ہو کروہ غیر فطری زندگی اختیار کرلیتا ہے(صحیح البخاری، حدیث نمبر1385)۔
اس کو نفسیات کی اصطلاح میں کنڈیشننگ(conditioning) کہتے ہیں۔اس کنڈیشننگ کی بنا پر آدمی اس قابل نہیں رہتا کہ وہ چیزوں کو بے آمیز صورت میں دیکھ سکے۔ وہ چیزوں کو ویسانہیں دیکھتا جیسا کہ وہ ہیں۔ بلکہ وہ چیزوں کو اس طرح دیکھتا ہے جیسا کہ اس کاذہن اس کو دکھانا چاہتا ہے۔اس لیے صحیح طرز فکر یاآبجیکٹیو تھنکنگ(objective thinking) کی صلاحیت پیدا کرنے کے لیے ضروری ہے کہ ہر آدمی اپنی ڈی کنڈیشننگ کرے ۔ وہ اپنے ذہن کے اوپر پڑے ہوئے مصنوعی پردوں کو ایک ایک کرکے ہٹادے، اور دوبارہ اپنے آپ کو فطری شخصیت بنائے۔خود احتسابی کایہ عمل ہر آدمی کو لازماً کرنا ہے۔ اس ڈی کنڈیشننگ کے بغیر کوئی آدمی اس قابل نہیں ہو سکتا کہ وہ حقیقت شناس بنے، وہ چیزوں کے بارے میں بالکل درست رائے قائم کر سکے۔دوسرے الفاظ میں، ڈی کنڈیشننگ کے بغیر کوئی انسان فطری شخصیت یامزکیٰ شخصیت نہیں بن سکتا ۔
واپس اوپر جائیں

ایثارِنفس

قرآن کی سورہ الحشر میں اعلیٰ انسانوں کی صفات بتائی گئی ہیں۔ ان اعلیٰ صفات میں سے ایک صفت ایثارِنفس ہے۔ اس سلسلہ میں قرآن کی آیت یہ ہےوَیُؤۡثِرُونَ عَلَىٰٓ أَنفُسِہِمۡ وَلَوۡ کَانَ بِہِمۡ خَصَاصَة (59:9)۔ یعنی، ’’ اور وہ دوسروں کو اپنے اوپر مقد م رکھتے ہیں۔ اگر چہ وہ خود ضرورت مند ہوں‘‘۔یہ آیت اگرچہ انصارِ مدینہ کے ریفرنس میں ہے، مگر اس کا حکم عام ہے۔
ایثارِنفس ایک اعلیٰ انسانی صفت ہے۔ ایثارِ نفس کا مطلب ہے ، اپنی ضرورت پر دوسرے کی ضرورت کو ترجیح دینا ۔ اپنے حق میں کمی کرکے دوسرے کاحق پورا کرنا۔ یہ صفت ایک فرد کے لیے اعلیٰ انسانیت کامظاہرہ ہے، اور سماجی اعتبار سے وہ سماج کی مجموعی ترقی کا ضامن ہے۔یہی وہ عالی حوصلگی ہے جو کسی گروہ کو تاریخ ساز گروہ بناتی ہے۔
انسانیت کی مجموعی ترقی کے لیے سب سے زیادہ جس چیز کی ضرورت ہے وہ یہی صفت ہے۔ جس سماج کے افراد میں یہ مزاج ہو کہ وہ اپنے آپ کو بھلا کردو سرے کی مدد کریں۔ وہ اپنی سیٹ کوخالی کر کے دوسرے کو بیٹھنے کی جگہ دیں۔ وہ دوسرے کی خوبی کا اعتراف کرکے اس کو آگے بڑھائیں تو ایسے سماج میں مجموعی ترقی کا عمل کامیابی کے ساتھ جاری رہتا ہے۔
جس سماج میں یہ صفت ہو اس میں آپس کی محبت بڑھے گی۔ لوگ ایک دوسرے کے لیے قربانی دینے کے لیے تیار رہیں گے۔ سماج کے لوگوں میں حسد اور بغض اور خود غرضی جیسی برائیوں کی جڑکٹ جائے گی ۔ ایسے سماج میں اعلیٰ اخلاقی اوصاف پرورش پائیں گے ۔ لوگوں کے دلوں میں ایک دوسرے کے لیے خیر خواہی ہو گی ۔ ایسا سماج گویا ایک خاندان کی مانند ہو گا جس میں لوگ بھائی بہن کی طرح مل کررہیں گے۔
ایثارِ نفس بظاہر ایک قربانی ہے۔ مگر اسی میں ذاتی فائدہ کا راز بھی چھپا ہوا ہے۔ جو آدمی دوسروں کے ساتھ ایثار کا معاملہ کرے وہ دوسروں کے دل کو جیت لیتا ہے، اور جب دلوں کو جیت لیا جائے تو اس کے بعد کوئی اور چیز جیتنے کے لیے باقی نہیں رہتی۔
واپس اوپر جائیں

لالچ کانقصان

قرآن میں ایک ایسی اخلاقی برائی کی نشاندہی کی گئی ہے جو انسان کی کامیابی میں بہت بڑی رکاوٹ ہے۔ قرآن کے الفاظ یہ ہیںفَٱتَّقُواْ ٱللَّہَ مَا ٱسۡتَطَعۡتُمۡ وَٱسۡمَعُواْ وَأَطِیعُواْ وَأَنفِقُواْ خَیۡرًا لِّأَنفُسِکُمۡۗ وَمَن یُوقَ ‌شُحَّ نَفۡسِہِ فَأُوْلَٰٓئِکَ ہُمُ ٱلۡمُفۡلِحُونَ (64:16)۔ پس تم اللہ سے ڈرو جہاں تک ہوسکے۔ اور سنو اور مانو اور خرچ کرو، یہ تمہارے لیے بہتر ہے، اور جو لوگ اپنے جی کے لالچ سے بچا لیے گئے تو وہی لوگ فلاح پانے والے ہیں۔
شُحّ نفس کا مطلب ہے حرص (greed)، یعنی اپنی ضرورت سے زیادہ کا خواہش مند ہونا۔یہ دراصل دل کی تنگی ہے۔ انسانوں میں دو قسم کے انسان ہوتے ہیں۔ تنگ دل اور فراخ دل۔ تنگ دل انسان وہ ہے جو اپنی ذات کے دائرہ میں محدود ہوکر سوچے۔جس کا مقصد صرف اپنی ذات کو فائدہ پہنچانا ہو۔ یہی وہ آدمی ہے جو لالچ یا شح نفس میں مبتلا ہوجاتا ہے۔
کوئی شخص جب بھی کوئی فائدہ حاصل کرتا ہے تو وہ سماج کے مجموعی تعاون کی مدد سے حاصل کرتا ہے۔ ایسی حالت میں لالچ یاتنگ دلی کامطلب یہ ہے کہ آدمی اپنے لیے تو سماج سے لینا چاہتا ہے مگر وہ خود سماج کو دینا نہیں چاہتا ۔ اس قسم کی خود غرضی کبھی کسی کے لیے مفید نہیں ہو سکتی ، نہ فرد کے لیے اور نہ قوم کے لیے۔یہ حقیقت ایک حدیثِ رسول میں ان الفاظ میں بیان کی گئی ہےالْیَدُ ‌الْعُلْیَا خَیْرٌ مِنَ الْیَدِ السُّفْلَى (صحیح البخاری، حدیث نمبر1427)۔ یعنی، دینے والا ہاتھ لینے والے ہاتھ سے بہتر ہے۔
اس دنیا میں کامیابی صرف وہ لوگ حاصل کرتے ہیں جو کھلا دل رکھتے ہوں۔ اس دنیا کا قانون یہ ہے کہ جتنا بڑا دل اتنی بڑی کامیابی ۔ بڑے دل والا آدمی اس بات کا حوصلہ رکھتا ہے کہ وہ دوسروں کی رعایت کرے۔ وہ دوسروں کو فائدہ پہنچا کر خوش ہو۔ وہ شکایت کے باوجود دوسروں کے ساتھ بہتر معاملہ کرے۔ وہ معاملات کو بلند سطح سے دیکھے ۔ جس آدمی کے اندر یہ اعلیٰ صفات ہوں وہ لوگوں کے درمیان باعزت درجہ حاصل کرلیتا ہے۔ اور جو آدمی دوسروں کے درمیان باعزت درجہ حاصل کرلے اس کی کامیابی کوکوئی روکنے والانہیں۔
واپس اوپر جائیں

اعلیٰ اخلاق

سورہ القلم میں اعلیٰ اخلاق اور بلند کر دار اختیار کرنے کی تعلیم دی گئی ہے اور اس کو انسانیت کا اعلیٰ مرتبہ قرار دیا گیا ہے۔ اس سلسلہ میں قرآن کی ایک آیت کے الفاظ یہ ہیںوَإِنَّکَ لَعَلَىٰ خُلُقٍ عَظِیمٍ(68:4)۔ یعنی، اور بے شک تم ایک اعلیٰ اخلاق پر ہو۔
افراد کے اندر اچھا اخلاق ہونا کسی سماج کو اچھا سماج بناتا ہے۔ اور افراد کے اندر برا اخلاق ہونا کسی سماج کو برا سماج بنا دیتا ہے۔ اخلاق دراصل، داخلی احساس کا خارجی اظہار ہے۔ داخلی سطح پر کوئی انسان جیسا ہوگا، اُس کا اثر اس کے خارجی برتاؤ پر پڑے گا۔
اس آیت میں بظاہر رسول سے خطاب ہے ۔مگر وہ ہر انسان کے لیے ایک عمومی تعلیم ہے۔ وہ ہر انسان کو اعلیٰ انسان بننے کی طرف رہنمائی کرتی ہے۔ اعلیٰ اخلاق سے مراد وہ اخلاق ہے جب کہ آدمی دوسروں کے رویہ سے بلند ہو کرعمل کرے۔ اس کا طریقہ یہ نہ ہو کہ برائی کرنے والوں کے ساتھ برائی اور بھلائی کرنے والوں کے ساتھ بھلائی ، بلکہ وہ ہر ایک کے ساتھ بھلائی کرے۔ خواہ دوسرے اس کے ساتھ برائی ہی کیوں نہ کررہے ہوں۔
اعلیٰ انسان کا اخلاق یہی دوسرااخلاق ہوتا ہے ۔ اس قسم کااخلاق کسی انسان کے بارے میں یہ ثابت کرتا ہے کہ وہ ایک بااصول انسان ہے۔ ایسا اخلاق اس بات کا ثبوت ہے کہ آدمی کی شخصیت حالات کی پیداوار نہیں بلکہ وہ خوداپنے اختیار کردہ اعلیٰ اصول کی پیداوار ہے۔ جس انسان کے اندر اس قسم کا اعلیٰ اخلاق ہو وہی حقیقی انسان ہے اور جس آدمی کے اندریہ اعلیٰ اخلاق نہ پایاجائے وہ انسان کی صورت میں ایک حیوان ہے اس سے زیادہ اور کچھ نہیں۔
اعلیٰ اخلاق کی صفت انسان کو حیوان سے جد اکرتی ہے۔ حیوان مساویانہ اخلاق کی سطح پر جیتے ہیں۔ کوئی ان کو نہ چھیڑے تووہ بے ضرررہیں گے اور اگر کوئی ان کو چھیڑدے تو وہ اس کے لیے ضرر رساں بن جائیں گے۔ اعلیٰ انسانی اخلاق یہ ہے کہ آدمی دوسرے کے رویہ سے بلند ہو کر اپنا رویہ بنائے۔ دوسرے لوگ خواہ اس کے ساتھ اچھے نہ ہوں مگر وہ ہمیشہ دوسروں کے ساتھ اچھا معاملہ کرے۔
واپس اوپر جائیں

ناپ تو ل میں فرق کرنا

قرآن کی کچھ آیتوں میں زندگی کی ایک حقیقت کوبیان کیا گیا ہے۔ ان آیتوں کے الفاظ یہ ہیں وَیۡلٌ لِّلۡمُطَفِّفِینَ ۔ ٱلَّذِینَ إِذَا ٱکۡتَالُواْ عَلَى ٱلنَّاسِ یَسۡتَوۡفُوْنَ ۔ وَإِذَا کَالُوہُمۡ أَو وَّزَنُوہُمۡ یُخۡسِرُونَ(83:1-3)۔ یعنی، خرابی ہے ناپ تول میں کمی کرنے والوں کی۔ جو لوگوں سے ناپ کرلیں تو پورالیں۔ اور جب ان کو ناپ کر یا تول کر دیں تو گھٹا کر دیں۔
قرآن کی ان آیتوں میں ناپ اور تول کی مثال سے ایک سماجی برائی کی نشاندہی کی گئی ہے۔قرآن میں اس کو تطفیف کے لفظ میں بتایا گیا ہے ۔ اس میں اس کردار کاذکرہے جس کایہ حال ہو کہ اس کو جب اپنے لیے لینا ہو تو وہ بھر پور طور پر لے۔ اور جب دوسروں کو دینا ہو تو وہ کمی کرکے دوسروں کو دے ۔ یہ تفریق ایک ایسی اخلاقی برائی ہے جو آدمی کو تباہی کے سواکہیں اور نہیں پہنچاتی۔
اس معاملہ کا تعلق زندگی کے تمام پہلوئوں سے ہے۔ مثلاً خوداپنی تعریف سننے کا حریص ہونا مگر دوسروں کی خوبیوں کا اعتراف کرنے میں بخل کرنا۔ اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے خوب ہوشیار ہونا مگر دوسروں کے مفاد کو سمجھنے کے لیے نادان بن جانا ۔ معاملات میں اپنے لیے رعایت چاہنا اور دوسروں کو رعایت دینے کے لیے تیار نہ ہونا۔ اپنی ذات کے معاملہ میں حساس ہونا اور جب معاملہ دوسروں کا ہو تو بے حس بن جانا۔ اپنے لیے انصاف چاہنا اور دوسروں کے ساتھ بے انصافی پرراضی رہنا۔ یہ تو جاننا کہ مجھے کیا پسند ہے ، مگر دوسروں کی پسند اور ناپسند کے بارے میں بے خبر رہنا۔ اپنی عزت خطرہ میں ہوتو اس کو برداشت نہ کرنا مگر دوسروں کی عزت پر حملہ ہو تو اس کے بارے میں بے حس بن جانا، وغیرہ۔
اپنے اور غیر میں اس قسم کا ہر فرق تطفیف ہے۔ جس آدمی کے اندر اس قسم کا مزاج ہووہ کبھی ترقی کے اعلیٰ درجہ پر نہیں پہنچ سکتا۔ اس قسم کامزاج آدمی کے اندر اعلیٰ صفات کی پرورش میں مستقل رکاوٹ ہے۔ اور جس آدمی کے اندر اعلیٰ صفات کی پرورش رک جائے اس کا انجام صرف یہ ہوتا ہے کہ وہ انسانی ترقی کے اعلیٰ مراحل طے کرنے سے محروم رہے اور آخر کار وہ اسی حال میں مرجائے۔
واپس اوپر جائیں

مشقتوں کے درمیان

قرآن کی سورہ البلد میں فطرت کا ایک قانون بتایا گیا ہے۔ اس قانون کا تعلق تمام انسانوں سے ہے، خواہ وہ مذہبی ہوں یا غیر مذہبی ، خواہ وہ بظاہر اچھے ہوں یا برے۔ اس سلسلہ میں قرآن کی آیت یہ ہے ’’ ہم نے انسان کو مشقت میں پیداکیاہے‘‘(90:4)۔
قرآن کے اس بیان کا مطلب یہ ہے کہ موجودہ دنیا کا نظام اس طرح بنا یا گیا ہے کہ یہاں انسان کے ساتھ بار بار پرمشقت حالات پیش آئیں، اس کو مختلف قسم کی مشکلات سے گزرنا پڑے۔ یہ فطرت کا ایک قانون ہے۔ کسی بھی تدبیر کے ذریعہ اس قانون کو بدلانہیں جا سکتا۔ ہر انسان کو لازماًاس امتحان سے گزرنا ہے۔ اس دنیا میں مشقتوں سے فرار ممکن نہیں۔
یہ ایک عام انسانی تجربہ ہے کہ زندگی مشقتوں سے خالی نہیں ۔ علمی تحقیقات سے بھی یہی ثابت ہوا ہے ۔ روسی ماہر نفسیات نمیلو(Anton Vitalievich Nemilov, 1879-1942)نے لکھا ہے — یہ ناقابل تصور ہے کہ انسانی زندگی المیہ سے خالی ہو 
Human life is unthinkable without tragedies, without the tragic element. The more highly developed and nearer to perfection man is, the greater are the possibilities for tragic conflicts. (Biological Tragedy of Woman, p. 13-14)
مشقت جب خود فطرت کے قانون کے مطابق ، انسا نی زندگی کا ایک لازمی حصہ ہے تو ہمیں اس کو مان کر اس کا حل تلاش کرنا چاہیے، نہ کہ اس کا انکار کر کے ۔ زندگی کو اس نہج پر کیوں بنا یاگیا۔ یہ خو دانسان کے فائدے کے لیے ہے۔ مشقتیں انسان کو انسان بناتی ہیں۔ جو انسان مشقتوں کاتجربہ نہ کرے وہ زندگی کی گہری حقیقتوں سے بے خبر رہے گا۔ مشقت ایک کورس ہے جو آدمی کو گہری حقیقتوں سے واقف کراتا ہے۔ وہ آدمی کے چھپے ہوئے امکانات کو ظہور میں لاتا ہے۔ وہ کسی آدمی کے لیے مہمیز کا کام کرتا ہے۔ مشقت زحمت میں رحمت (blessing in disguise) کے ہم معنی ہے۔ مشقت ہر قسم کی ترقیوں کازینہ ہے، جہاں مشقت نہیں وہاں ترقی بھی نہیں۔
واپس اوپر جائیں

مشکل میں آسانی

قرآن کی سورہ الانشراح میں موجودہ دنیا میں جاری فطرت کے ایک اٹل قانون کا بیان ہے۔ وہ قانون یہ ہے کہ اس دنیا میں ہر خاتمہ ایک نئے امکان کو لیے ہوئے ہوتا ہے۔ اس لیے یہاں کسی کے لیے کسی بھی حال میں مایوسی کی ضرورت نہیں۔ اس سلسلہ میں قرآن کابیان یہ ہے’’ پس مشکل کے ساتھ آسانی ہے۔ بے شک مشکل کے ساتھ آسانی ہے‘‘( 94:4-5)۔
قرآن کی اس آیت میں فطرت کے ایک راز کوکھولا گیا ہے۔ وہ راز یہ ہے کہ اس دنیا میں کوئی مسئلہ کبھی اکیلا نہیں آتا، اس کا حل بھی ساتھ آتا ہے۔ اس دنیا میں ہرڈس ایڈوانٹج (disadvantage) کے ساتھ ایڈوانٹیج (advantage)موجود ہے۔ اس دنیا میں ہر مائنس پوائنٹ (minus point) کے ساتھ پلس پوائنٹ شامل ہے۔ اس دنیا میں ہر نقصان کے ساتھ فائدہ کا ایک امکان چھپا ہوا ہے۔
مشکلات اپنی حقیقت کے اعتبار سے کوئی مصیبت یابرائی نہیں، مشکلات انسانی زندگی کے لیے ایک ترقیاتی کورس ہے۔مشکلات انسانی شخصیت کی تعمیر کرتی ہیں۔مشکلات کے درمیان انسان کو وہ سبق اور وہ تجربہ حاصل ہوتا ہے جو اس کے ذہنی ارتقاء کے لیے ضروری ہے۔مشکلات انسان کے ذہن کو جگاتی ہیں۔مشکلات انسان کو سنجیدہ بناتی ہیں۔ مشکلات انسان کو حقیقت پسند بنانے کاذریعہ ہیں۔ مشکلات سے گزرنے کے بعد انسان کے اندر وہ اعلیٰ صفات پیدا ہوتی ہیں جن کو احتیاط، ضبط نفس، ڈسپلن، احساس ذمہ داری اور اعتراف کہاجاتا ہے۔ جولوگ مشقت کے کورس سے نہ گزریں وہ سطحی انسان بن کررہ جائیں گے۔ ایسے لوگ انسانیت کے اعلیٰ درجہ تک نہیں پہنچ سکتے۔
موجودہ دنیا کا نظام اس طرح بنا یا گیا ہے کہ یہاں کوئی حالت یکساں طور پر باقی نہ رہے۔ یہاں ہمیشہ ایسا ہوتا ہے کہ حالات بدلتے رہتے ہیں۔ ہر تاریکی اپنے ساتھ روشنی لے آتی ہے۔ اس لیے آدمی کو چاہیے کہ اس کوکوئی سٹ بیک (setback) پیش آئے تو وہ نہ گھبرائے اور نہ وہ مایوس ہو۔ اگر وہ اپنے ہوش وحواس کو برقرار رکھے تو بہت جلد وہ دوبارہ اپنے حق میں ایک نیا امکان پالے گا۔ وہ اپنے عمل کی نئی منصوبہ بندی کرکے دوبارہ ترقی اور کامیابی کی منزل پرپہنچ جائے گا۔
واپس اوپر جائیں

ایج شاک

آئزک نیوٹن ( 1643-1727)کو ایپل شاک کا تجربہ پیش آیا۔ اس تجربے نے اس کو قوت کشش(gravity) کے انکشاف تک پہنچایا۔ یہ انکشاف انسانی تاریخ میں ایک عظیم دریافت کی حیثیت رکھتا ہے۔ اسی طرح بڑھاپا کسی انسان کے لیے ایک ایسا شاک ہے، جو اس کی پوری سوچ کو جگا دیتا ہے۔ اس سے آدمی اگر سبق سیکھے تو وہ انسان کو جنت تک پہنچا دےگا ۔ جیسا کہ حدیث میں آیا ہےطُوبَى لِمَنْ طَالَ عُمْرُہُ، وَحَسُنَ عَمَلُہُ(الزھد والرقائق لابن المبارک، حدیث نمبر 1340)۔ اس کے لیے خوش خبری ہے، جس کی عمر لمبی ہو، اور اس کے عمل اچھے ہوں۔
انسان پیدا ہوتا ہے تو وہ پاتا ہے کہ یہاں اس کے لیے ایک کسٹم میڈ یونیورس موجود ہے ۔ انسان کے لیے آکسیجن کا انتظام ہے، جس کے بغیر اس کی زندگی محال تھی۔ اس کے لیے پانی اور غذائی اشیا فراہم ہورہی ہیں۔ اس طرح کی چیزیں زمین پر اپنے آپ موجود ہیں ۔ اس کے علاوہ بے شمار چیزیں ہیں، جس کو انسان اپنی عقل اور تجربہ کے ذریعے دریافت کرتا ہے۔ مثلاً کمپیوٹر اور بجلی جیسی سائنسی ایجادات۔
مثلاًسائفَن صفائی کی ایک سادہ تکنیک ہے، جو واش روم میں کوئی مسئلہ پیدا کیے بغیر اس کی گندگی کو پوری طرح صاف کردیتا ہے۔ سائفن جیسی تکنیک جس کی مدد کے لیے زمین میں ایک طرف گریویٹیشنل پل کا نظام موجود ہے، اور دوسری طرف فضائی دباؤ (atmospheric pressure) ہے، جس کی وجہ سے انسان کے لیے یہ ممکن ہوتاہے کہ وہ آلودگی سے پاک زندگی گزارسکے۔
Siphon: a tube used to convey liquid upwards from a reservoir and then down to a lower level of its own accord. Once the liquid has been forced into the tube, typically by suction or immersion, flow continues unaided.
پیڑ پودے سے لے کر سائفن (siphon) اور کمپیوٹر تک ہر چیز خالق کی اعلیٰ منصوبہ بندی کی مثال ہے۔ سورج کی روشنی اور چڑیوں کا چہچہانا اور زمین پر اورسمندروں میں قسم قسم کے جاندار، وغیرہ۔ اس قسم کی ان گنت حیات بخش چیزیں اس کائنات میں ہیں، دنیا کا ہر انسان بلا استثنا ہر لمحہ جزئی یا کلی طور پر ان سے فائدہ اٹھا رہا ہے۔ جدید دور میں جس سائنسی برانچ کے ذریعہ ان حقائق کی اسٹڈی کی جاتی ہے، اس برانچ کو ایکولوجی (Ecology)کہتے ہیں۔یعنی وہ سائنسی طریقِ مطالعہ جس میں کسی ماحول میں رہنےوالےجاندار مخلوقات ( بشمول انسان )اور بے جان مخلوق ( پیڑ، پودے، پہاڑ وغیرہ)کے ایک دوسرے پر اثرات اورتعلقات کی تحقیق کی جاتی ہے
Ecology, also called bioecology, bionomics, or environmental biology, study of the relationships between organisms and their environment.
Ecology is the study of organisms and how they interact with the environment around them.
اللہ نے جس عالم کو تخلیق کیا، اس کے ہر جزء پر خالق کی شہادت ثبت (stamped) ہے۔یہ تخلیقات انسان کو اس کے خالق کی یاد دہانی کراتی ہیں۔ انسان کو یہ کرنا ہے کہ وہ کائناتی نشانیوں کے ذریعہ اللہ رب العالمین کو دریافت کرے۔ اس کی دریافت اتنی زیادہ گہری ہو کہ وہ أَنْ تَعْبُدَ اللہَ کَأَنّک تَرَاہُ(صحیح البخاری، حدیث نمبر50) کا کیس بن جائے۔ یعنی تم اللہ کی عبادت اس طرح کرو، گویا کہ تم اس کو دیکھ رہے ہو۔ بات صرف عبادت کی حد تک نہ ہو، بلکہ خدا اس کا واحد کنسرن (sole concern) بن جائے۔وہ ہر چیز میں اللہ کی کار فرمائی کا مشاہدہ کرے۔ اس کے لیے اللہ کا معاملہ صرف رسمی عقیدہ کا معاملہ نہ رہے، بلکہ اللہ اس کے لیےایک زندہ عقیدے کا معاملہ بن جائے۔
مگر انسان ان نشانیوں کے درمیان بے خبری کی زندگی گزارتا رہتا ہے۔ یہاں تک کہ وہ بوڑھا ہوجاتا ہے، اور پھر بڑھاپا اس کے لیے ایک شاکنگ تجربہ بن کر یاد دلاتا ہے کہ خالق کے کتنے انوکھے انعامات ہیں۔ مگر وہ اس کے ذریعے خدا کو جاننے کے معاملے میں اندھا بہرا بنا رہا ۔ اس کے بعد بڑھاپا آخری وارننگ کے لیے آتا ہے۔ حدیث میں ہےمَنْ عُمِّرَ سِتِّینَ سَنَةً، أَوْ سَبْعِینَ سَنَةً، فَقَدْ عُذِرَ إِلَیْہِ فِی الْعُمُرِ(مسند احمد، حدیث نمبر9251)۔ یعنی جس کوساٹھ سال یا ستر سال کی عمر دی گئی، اس کے لیے عمرکے معاملے میں عذر پورا کردیا گیا۔
جو خدائی نشانیوں (آیات) کے باوجود اس زمین پر بے خبر بنا رہے، اس کے بعداس کے لیے قیامت کا دھماکہ ہے ، جو انسان کوآخری طور پر جگاتا ہے۔ لیکن اس وقت انسان کا جاگنا اس کے کچھ کام نہیں آتا۔ (19 اگست 2020)
واپس اوپر جائیں

الفاظ، الفاظ، الفاظ

کچھ لوگ بولتے ہیں، وہ مسلسل طور پر بولتے ہیں، ان کے الفاظ کبھی ختم نہیں ہوتے۔ لیکن یہ الفاظ معانی سے خالی ہوتے ہیں۔ ان کے الفاظ میں نہ کوئی تجزیہ(analysis) ہوتا ہے، نہ کوئی وزڈم (wisdom) ، نہ کوئی گہری معنویت۔
یہ وہ لوگ ہیں، جن کے پاس الفاظ کا کبھی ختم نہ ہونے والا ذخیرہ ہوتا ہے، لیکن یہ الفاظ حکمت سے خالی ہوتے ہیں۔ آپ ان کی باتوں کو گھنٹوں سنتے رہیے، لیکن ان کی باتوں میں آپ کو کوئی حکمت یا کوئی لرننگ کی بات نہیں ملے گی۔ حتی کہ آپ اس سے بھی بے خبر رہیں گے کہ انھوں نے کیا کہا۔ ان کی باتوں میں آپ کو کوئی ٹیک اوے (takeaway)نہیں ملے گا۔ یہ وہ لوگ ہیں، جن کے پاس حافظہ (memory)ہوتا ہے، مگر ان کے پاس دانش مندی (wisdom) نہیں ہوتی۔ ان کے پاس گہرا مطالعہ نہیں ہوتا۔
فارسی کا ایک مثل ہے یک من علم را، دہ من عقل می باید۔ یعنی ایک من علم کے لیے دس من عقل چاہیے ۔یہ بات اس وقت پیدا ہوتی ہے، جب کہ آدمی بولنے سے زیادہ سوچے، وہ بولنے سے زیادہ تجزیہ کرے، اس کے اندر مثبت سوچ (positive thinking) پائی جاتی ہو، وہ نفرت اور تعصب سےخالی ہو، وہ چیزوں کو ان کی اصل حقیقت کے اعتبار سے دیکھنے لگے۔اس کے اندر وہ صفت موجودہ ہو ،جس کو حدیث میں دعا کی شکل میں ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہےاللَّہُمَّ أَرِنَا الْحَقَّ حَقًّا، وَارْزُقْنَا اتّباعہ، وأرِنَا البَاطِلَ بَاطِلاً،وَارْزُقْنَا اجْتِنَابَہ، وَلَا تَجْعَلْہُ مُلْتَبِسًا عَلَیْنَا فَنَضِلَّ (تفسیر ابن کثیر، 1/427)۔ یعنی اے اللہ، ہمیں حق کو حق کی صورت میں دکھا، اور اس کے اتباع کی توفیق دے، اور باطل کو باطل کی صورت میں دکھا، اور اس سے بچنے کی توفیق دے، اور اس کو ہمارے اوپر مبہم (ambiguous)نہ بنا کہ ہم گمراہ ہو جائیں۔ اسی طرح یہ دعااللَّہُمَّ أَرِنَا الْأَشْیَاءَ کَمَا ہِیَ (تفسیر الرازی، جلد 13، صفحہ 37) ۔ اے اللہ، مجھے چیزوں کو اسی طرح دکھا، جیسا کہ وہ ہیں۔
واپس اوپر جائیں

مطالعۂ حدیث

شرح مشکاۃ المصابیح
0001
عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اعمال کا دار ومدار نیتوں پر ہے۔ اور آدمی کے لیے وہی ہے جس کی اس نے نیت کی۔ پس جس آدمی کی ہجرت اللہ اور اس کے رسول کی طرف ہو تو اس کی ہجرت اللہ اور اس کے رسول کی طرف ہے۔ اور جس آدمی کی ہجرت دنیا حاصل کرنے کے لیے ہو یا کسی عورت سے نکاح کرنے کے لیے ہو تو اس کی ہجرت اسی چیز کے لیے ہے جس کی طرف اس نے ہجرت کی۔ (متفق علیہ)
ہر عمل کا ایک ظاہری نقشہ (form) ہوتاہے۔ مگر کوئی عمل صرف اپنے نقشہ یا خارجی صورت کے اعتبار سے مطلوب نہیں ہوتا۔ بلکہ ہر عمل کی قیمت اس داخلی کیفیت یا اس قلبی محرک کے اعتبار سے ہوتی ہے جو عمل کے وقت آدمی کے اندر پایا جائے۔ مثلاً ہجرت یا ترک وطن اگر کسی دنیوی مقصد کے لیے ہو تو آدمی کو صرف اس کا مطلوب دنیوی مقصد حاصل ہوگا۔ اور اگر اس کی ہجرت کسی دینی مقصد، مثلاً حق کی اشاعت کے لیے ہو تو ایسی صورت میں آدمی کو حق کی اشاعت کا انعام دیا جائے گا۔
0002
عمربن الخطاب رضی اللہ عنہ کہتےہیں  ایک دن جب کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تھے، اچانک ایک آدمی ہمارے سامنے آیا، بہت سفید کپڑوں والا اور بہت سیاہ بالوں والا۔ اس کے اوپر سفر کا کوئی نشان دکھائی نہیں دیتا تھا۔ اور ہم میں سے کوئی شخص اس کو پہچانتا نہ تھا۔ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھ گیا۔ اس نے اپنے گھٹنے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے گھٹنے سے ملادیے۔ اور اپنے دونوں ہاتھ آپ کے دونوں زانو پر رکھ دیے۔ اور کہا کہ اے محمد، مجھے اسلام کے بارےمیں بتائیے۔ آپ نے فرمایا اسلام یہ ہے کہ تم گواہی دو کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور یہ کہ محمد اللہ کے رسول ہیں۔ اور نماز قائم کرو۔ اور زکوة ادا کرو۔ اور رمضان کے روزے رکھو۔ اور بیت اللہ کا حج کرو اگر اس کی استطاعت رکھتے ہو۔ آنے والے آدمی نے کہا کہ آپ نے درست فرمایا۔ ہم کو اس آدمی پر تعجب ہوا کہ وہ پوچھتا بھی ہے اور تصدیق بھی کرتا ہے۔ آنے والے نے کہا کہ مجھے ایمان کے بارے میں بتائیے۔ آپ نے فرمایا یہ کہ تم ایمان رکھو اللہ پر اور فرشتوں پر اوراللہ کی کتابوں پر اور اس کے رسولوں پر اور آخرت کے دن پر اور تم ایمان رکھو تقدیر پر ، اس کے خیر پر اور اس کے شر پر۔ آنے والے نے کہا کہ آپ نے درست فرمایا۔ آنے والے نے کہا کہ اب مجھے احسان کے بارے میں بتائیے۔ آپ نے فرمایا یہ کہ تم اللہ کی عبادت اس طرح کرو گویا کہ تم اس کو دیکھ رہے ہو، پس اگر تم اس کو نہیں دیکھ رہے ہو تو وہ تم کو دیکھ رہا ہے۔ آنے والے نے کہا  اب مجھے قیامت کے بارے میں بتائیے۔ آپ نے فرمایا کہ پوچھا جانے والا اس معاملہ میں پوچھنے والے سے زیادہ باخبر نہیں۔ آنے والے نے کہاکہ پھر اس کی نشانیوں کے بارے میں بتائیے۔ آپ نے فرمایا، یہ کہ لونڈی اپنے آقا کو جنم دے۔ اور تم دیکھو کہ ننگے پاؤں، ننگے بدن والے مفلس، بکریوں کو چرانے والے، عمارتوں پر فخر کررہے ہیں۔ راوی کہتے ہیں کہ پھر آنے والا چلا گیا۔ میں کچھ دیر وہاں ٹھہرا۔ پھر آپ نے فرمایا کہ اے عمر، کیا تم جانتے ہو کہ یہ آنے والا آدمی کون تھا۔ میں نے کہا کہ اللہ اور اس کے رسول زیادہ جانتے ہیں۔ آپ نے فرمایا کہ یہ جبریل تھے۔ وہ آئے تاکہ تم کو تمہارا دین سکھائیں (مسلم)۔
یہ حدیث کسی تشریح کے بغیر واضح ہے۔ اس میں احسان کی بابت جو کچھ کہا گیا ہے اس کا مطلب یہ ہے کہ اعلیٰ عبادت وہ ہے جب کہ عبادت کے ساتھ گہری معرفت شامل ہو جائے۔ عابد کے اندر خدا کی موجودگی (presence) کا اتنا شدید احساس ہو گویا کہ وہ اس کو براہ راست دیکھ رہا ہے۔ اگر کسی کے اندر یہ اعلی معرفت موجود نہ ہو تو دوسرے درجہ میں یہ ہونا چاہیے کہ اس کو بالواسطہ معرفت کا درجہ حاصل ہو۔ اگر قلبی احساس کے اعتبار سے اس کو خدا کی قربت حاصل نہیں ہے تو وہ سوچ کے اعتبار سے اس کا تصور اپنے ذہن میں قائم کرے۔
اس حدیث میں اللہ رب العالمین کی موجودگی (presence of God) کے دو درجے بتائے گئے ہیں۔ ایک ہے، کیفیت کے درجے میں اللہ رب العالمین کی معرفت، اور دوسرا ہے، علم کے درجے میں یہ سوچ پیدا ہونا کہ میں اگر چہ اللہ کا مشاہدہ نہیں کرسکتا، لیکن اللہ خود اپنے مقام سے مجھ کو دیکھ رہا ہے۔ وہ مجھ سے کامل طور پر باخبر ہے۔
اسی طرح قیامت کا معاملہ یہ ہے کہ جن چیزوں کو اس حدیث میں قیامت کی ابتدائی نشانی بتایا گیا ہے۔ وہ علامتیں اگر ظاہر ہوجائیں تو انسان کو کم سے کم یہ کرنا ہے کہ وہ قیامت کے معاملے میں چوکنا ہوجائے۔ وہ مزید اضافے کے ساتھ قیامت کے بارے میں سوچنے لگے۔
0003
مذکورہ حدیث (0002)کو ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کسی قدر اختلاف کے ساتھ روایت کیا ہے۔ اس میں ہے کہ "اور جب تم دیکھو ننگے پاؤں، ننگے بدن، بہرے اور گونگے زمین کے بادشاہ ہیں۔ قیامت ان پانچ چیزوں میں سے ہے جن کے بارے میں خدا کے سوااور کوئی نہیں جانتا۔ پھر آپ نے قرآن کی آیت (31:34)تلاوت فرمائی بیشک اللہ ہی کو قیامت کا علم ہے اور وہی بارش برساتا ہے اور وہ جانتا ہے جو کچھ رحم میں ہے۔ اور کوئی شخص نہیں جانتا کہ کل وہ کیا کمائی کرے گا۔ اور کوئی شخص نہیں جانتا کہ وہ کس زمین میں مرے گا۔ بیشک اللہ جاننے والا، باخبر ہے(متفق علیہ) ۔
اس روایت میں قیامت کی پیشگی نشانیاں بتائی گئی ہیں۔ لوگوں کا شاندار عمارتیں بناکر ان پر فخر کرنا اور عوام کا بادشاہ بن جانا۔ یہ دونوں نشانیاں دراصل صنعتی دور کی پیشین گوئی ہیں۔ جدید صنعتی ترقیوں کے بعد دنیا میں ایک نیا انقلاب آیا ہے جس کو اقتصادی انفجار (economic explosion) کہاجاسکتا ہے۔ اس انقلاب نے ہر ایک کے لیے یہ ممکن بنا دیا ہے کہ وہ اپنے لیے پر فخر عمارتیں کھڑی کرسکے۔ اسی طرح جدید انقلابات کے نتیجہ میں وہ چیز ظہور میں آئی ہے جس کو ڈیموکریسی کہاجاتا ہے۔ اس نے پہلی بار یہ کیا کہ عوام کو حاکمیت کا حق دے دیا، جب کہ اس سے پہلے وہ شاہی خاندان کا حق سمجھا جاتا تھا۔
0004
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کہتےہیں کہ رسول اللہ صلى اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اسلام کی بنیاد پانچ چیزوں پر ہے۔ یہ گواہی دینا کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں۔ اور یہ کہ محمد اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں۔ اور نماز قائم کرنا۔ اور زکاة ادا کرنا۔ اور حج کرنا۔ اور رمضان کے روزے رکھنا (متفق علیہ)
اسلام کے پانچ ارکان جو حدیث میں بتائے گئے ہیں، ان میں سے ہر ایک کا ایک ظاہری فارم (form)ہے۔ شہادت کی ظاہری صورت زبان سے کلمہ کے الفاظ کی ادائیگی ہے۔ اسی طرح نماز اور زکاة اور حج اور روزہ کی ظاہری صورتیں ہیں جو کہ معلوم ہیں۔ اسی کے ساتھ ان میں سے ہر ایک کی ایک اسپرٹ یا داخلی کیفیت ہے۔ کلمہ کی داخلی حقیقت یہ ہے کہ آدمی کو شعوری دریافت کے درجہ میں اللہ کی وحدانیت اور محمد صلى اللہ علیہ وسلم کی پیغمبری کی معرفت حاصل ہوجائے۔ اسی طرح نماز کی حقیقت عجز اور خشوع ہے۔ زکاة کی حقیقت دوسرے انسانوں کے حق میں نفع بخشی ہے۔ حج کی حقیقت سارے اہل ایمان کا ایک فکری مرکز سے جڑ جانا ہے۔ روزہ کی حقیقت صبر ہے۔ یہ پانچ چیزیں گویا پانچ روحانی قدریں (spiritual values)ہیں۔ انہیں پانچ خصوصیات کے مجموعے سے وہ زندگی بنتی ہے جس کو اسلامی زندگی کہا جاتا ہے۔
0005
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ایمان کی 70 سے زیادہ شاخیں ہیں۔ ان میں سے اعلیٰ چیز یہ کہنا ہے کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور سب سے ادنیٰ یہ ہے کہ آدمی راستے کی تکلیف دہ چیز ہٹا دے اور حیا بھی ایمان کی ایک شاخ ہے۔ (متفق علیہ)
ایک آدمی کو جب ایمان کی معرفت حاصل ہوتی ہے تو اس کی زندگی کے ہر بڑے اور چھوٹے شعبہ میں اس کا اثر ظاہر ہونے لگتا ہے۔ اللہ کی نسبت سےاس کا اظہار اس طرح ہوتا ہے کہ اس کا سینہ اللہ کی صفاتِ کمال کے احساس سے بھر جاتا ہے۔ انسان کے لیے اس کا خیر خواہی کا جذبہ یہاں تک پہنچتا ہے کہ وہ نامعلوم راہ گیروں کی راہ کی رکاوٹوں کو بھی دور کرنے لگتا ہے۔ اس کی حساسیت اتنی زیادہ بڑھ جاتی ہے کہ وہ اپنی غلطی پر شرمندہ ہو اور صرف اس وقت مطمئن ہو جب کہ وہ اپنی غلطی کی تلافی کرلے۔
0006
عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مسلم وہ ہے جس کی زبان سے اور جس کے ہاتھ سے دوسرے مسلمان محفوظ ہیں۔ اور مہاجر (وطن چھوڑنے والا) وہ ہے جو اس چیز کو چھوڑ دے جس سے اللہ نے منع فرمایا ہے (البخاری) ۔ اور صحیح مسلم کی روایت میں یہ ہے کہ ایک آدمی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا کہ مسلمانوں میں کون بہتر ہے۔ آپ نے فرمایا کہ وہ جس کی زبان اور جس کے ہاتھ سے مسلمان محفوظ رہیں (مسلم)۔
ایک شخص جب سنجیدہ طور پر اور شعوری فیصلہ کے ساتھ اسلام کو اختیار کرتا ہےتو اس کے لازمی نتیجہ کے طورپر اس کی زندگی بدل جاتی ہے۔ اب وہ ایک با اصول انسان بن جاتاہے۔ وہ اپنے آپ کو خدا کے ماتحت سمجھنے لگتا ہے، نہ کہ اس سے آزاد۔ یہ تبدیلی اس کو مجبور کرتی ہے کہ وہ اپنی زبان اور اپنے ہاتھ کا استعمال ذمہ دارانہ طورپر کرے۔ اپنی زبان سے دوسروں کو دکھ پہنچانا یا اپنی طاقت کا بے جا استعمال کرنا اس کو ایسا معلوم ہونے لگتا ہے جیسے کہ یہ دوسروں کے خلاف اقدام نہیں ہے بلکہ خود اپنے خلاف اقدام ہے۔ کیوں کہ اس کو یقین ہوتا ہے کہ ایسا ہر فعل اس کو خدا کی پکڑ کا مستحق بنا دےگا۔
ہجرت محض ایک مقام کو چھوڑ کر دوسرے مقام پر جانے کا نام نہیں ہے بلکہ وہ اپنی حقیقت کے اعتبار سے غیر مطلوب روش کو چھوڑ کر مطلوب روش اختیار کرنے کا نام ہے۔ ہجرت کا انعام اسی شخص کو ملے گا جو ہر اس چیز کو چھوڑ دے جس سے خدا نے منع فرمایا ہے۔
0007
انس رضی اللہ عنہ کہتےہیں کہ رسول اللہ صلى اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم میں سے کوئی شخص اس وقت تک (مکمل)ایمان والا نہیں جب تک اس کا یہ حال نہ ہوجائے کہ میں اس کے لیے اس کے باپ اور اس کی اولاد اور تمام لوگوں سے زیادہ محبوب ہوجاؤں (متفق علیہ)۔
ایمان کا یہ فطری نتیجہ ہے کہ آدمی کو پیغمبرخدا صلى اللہ علیہ وسلم سے محبت ہوجائے ۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ایمان ایک عظیم نعمت ہے جو کسی آدمی کو گمراہی کی تاریکی سےنکال کر ہدایت کی روشنی میں لاتا ہے۔ جو اس کو جہنم کے راستوں سے ہٹا کر جنت کے راستوں پر گامزن کرتا ہے۔ ہدایت کی یہ نعمت کسی آدمی کو براہِ راست آسمان سے نہیں ملتی بلکہ پیغمبر خدا کے ذریعہ سے ملتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہرسچا مومن یہ محسوس کرتا ہے کہ خدا کےپیغمبر کا اس کے اوپر عظیم ترین احسان ہے۔ یہ احساس اس کو مجبور کرتا ہے کہ وہ خدا کے بعد سب سے زیادہ اس کے رسول سے محبت کرے۔ اس کے سینہ میں پیغمبر خدا کی محبت کا لازوال چشمہ جاری ہوجائے۔
0008
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلى اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تین چیزیں جس آدمی کے اندر ہوںوہ ایمان کی لذت کو پالے گا۔ جس کے لیے اللہ اور رسول تمام دوسری چیزوں سے زیادہ محبوب ہو جائیں۔ جو کسی بندے سے صرف اللہ کے لیے محبت کرے۔ جو کفر کی طرف دوبارہ لوٹنے کو اتنا ہی ناپسند کرے جتنا کہ وہ آگ میں ڈالے جانے کو ناپسند کرتا ہے، جب کہ اللہ نے اس کو اس سے بچا لیا (متفق علیہ)۔
ایمان یہ ہے کہ آدمی کو اس سچائی کی معرفت ہوجائے کہ اس دنیا میں خدا کا انکار سب سے بڑی محرومی ہے، اور خدا کا اقرار سب سے بڑی طاقت۔ ایسا ایمان جب کسی انسان کو دریافت کے درجہ میں حاصل ہوتا ہے تو وہ ایک مختلف انسان بن جاتا ہے۔ اس کے لیے سب سے زیادہ محبوب خدا و رسول بن جاتے ہیں۔ اور اس کے لیے سب سے ناپسندیدہ چیز یہ ہوجاتی ہے کہ وہ دوبارہ سچائی سے محروم ہو کر اس صورتِ حال سے دوچار ہوجائے جس میں وہ پہلے مبتلا تھا۔ اس احساس کی خارجی علامتوں میں سے ایک علامت یہ ہے کہ انسانوں سے اس کی محبت اور خیرخواہی تمام تر اسی ایمانی محبت کے تابع ہوجاتی ہے۔
0009
عباس بن عبد المطلب رضی اللہ عنہ کہتےہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس شخص نے ایمان کا مزہ چکھا جو اللہ کو اپنا رب بنانے پر راضی ہوگیا۔ اور اسلام کو اپنا دین بنانے پر اور محمد کو اپنا رسول بنانے پر (مسلم) ۔انسان پیدائشی طورپر سچائی کا متلاشی ہے۔ کسی انسان کی تلاش جب اس کو ایمان تک پہنچاتی ہے تو یہ واقعہ اس کے لیے سب سے بڑی طلب کو پالینے کے ہم معنی ہوتا ہے۔ وہ خدا کو اور خدا کے رسول کو اور خدا کے دین کو اپنے دل کی گہرائیوں میں اس طرح اتار لیتا ہے جیسے کہ اس کو کوئی بے حد لذیذ چیز مل گئی ہو۔
0010
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلى اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس ذات کی قسم جس کے قبضے میں میری جان ہے۔ کوئی بھی یہودی یا نصرانی جو میرے پیغام کو سنے پھر وہ مرجائے اور وہ اس پر ایمان نہ لایا ہو جس کو دے کر مجھے بھیجا گیا ہے تو وہ آگ والوں میں سے ہوگا۔ (مسلم)
پیغمبر اسلام کے بعد اب کسی کے لیے نجات کا واحد ذریعہ یہ ہے کہ وہ آپ پر ایمان لائے ا ور آپ کی بتائی ہوئی تعلیم پر عمل کرے۔ اب پچھلےمذاہب کی آسمانی کتابیں صرف گزری ہوئی تاریخ کا حصہ ہیں، نہ کہ خود انسانوں کے لیے خدا کے دین کا ماخذ۔ کیوں کہ پچھلے نبیوں کی تعلیمات اب صرف محرف (distorted )صورت میں باقی ہیں، جب کہ پیغمبر اسلام کا لایا ہوا دین ہر قسم کی تحریف سے مکمل طورپر پاک ہے۔ دین خداوندی کےغیر محرف ایڈیشن کی موجودگی میں اس کا محرف ایڈیشن اپنے آپ غیر معتبر ہوجاتا ہے
0011
ابو موسی اشعری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلى اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تین قسم کے لوگ ہیں جن کے لیے دوہر اجر ہے۔ اہل کتاب میں سے وہ شخص جو اپنے نبی پر ایمان رکھتا تھا پھر وہ محمد پر ایمان لایا۔ اور وہ مملوک غلام جو اللہ کا حق ادا کرے اور اسی کے ساتھ اپنے آقاؤں کا بھی۔ اور وہ آدمی جس کے پاس ایک باندی ہو جس سے وہ تمتع کرتا تھا پھر اس نے اس کی تربیت کی اور اچھی تربیت کی۔ اور اس نے اس کی تعلیم دی اور بہتر تعلیم دی ۔ پھر اس نے اس کو آزاد کیا اور اس سے نکاح کرلیا (متفق علیہ)۔
آدمی ایک کام کو جائز اور درست سمجھ کر اس میں مشغول ہو۔ تو وہ اس سے پوری طرح مانوس ہوجاتا ہے۔ اس کے لیے کسی نئی نیکی کو دریافت کرنا اور اس کو عملاً اختیار کرنا بظاہر ایک مشکل کام بن جاتا ہے۔ ایسی حالت میں جو آدمی اپنے مانوس دائرہ سے نکل کر ایک اور نیکی کو دریافت کرے اور اس کو اپنی زندگی میں شامل کرے اس نے گویا حق کے راستے میں دوہری منزلیں طے کیں۔ یہی وجہ ہے کہ ایسے آدمی کے لیے دوہرا انعام مقرر کیا گیا ہے۔
واپس اوپر جائیں

اللہ کی مدد

فطرت کا ایک قانون قرآن میں ان الفاظ میں بیان ہوا ہےیَاأَیُّہَا الَّذِینَ آمَنُوا إِنْ تَنْصُرُوا اللَّہَ یَنْصُرْکُمْ وَیُثَبِّتْ أَقْدَامَکُمْ (47:7)۔ یعنی اے ایمان والو، اگر تم اللہ کی مدد کرو گے تو وہ تمہاری مدد کرے گا اور تمہارے قدموں کو جمادے گا۔
اس حقیقت کو ایک حدیثِ رسول میں ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہےاحْفَظِ ‌اللہَ یَحْفَظْک ‌احْفَظِ ‌اللہَ تَجِدْہُ تُجَاہَک (مسند احمد، حدیث نمبر 2669)۔ یعنی اللہ کی حمایت کرو، اللہ تمھاری حفاظت کرے گا، اللہ کی حمایت کرو، تم اس کو اپنے سامنے پاؤگے۔ وفی روایۃاحْفَظِ اللہَ ‌یُکْرَمْ ‌مَا ‌بِک (الاِبانة لا بن بطة، حدیث نمبر 1504)۔یعنی، اللہ کی حمایت کرو، اللہ تم کو عزت عطا کرے گا۔
اللہ کی مدد یا اللہ کی حمایت کا مطلب ہے، اللہ کے مشن کو اپنا مشن بنانا، اور اپنی جان و مال کی طرح بلکہ ان سے بڑھ کر خدائی مشن کی حفاظت و اشاعت کرنا۔ اصل یہ ہے کہ واقعات کو ظہور میں لانے والا خدا ہے۔ مگر وہ واقعات کو اسباب کے پردہ میں ظہور میں لاتا ہے۔ یہی معاملہ دین کا بھی ہے۔ اللہ تعالیٰ کو یہ مطلوب ہے کہ باطل کا زور ختم ہو اور حق کو دنیا میں استحکام حاصل ہو۔ مگر اس واقعہ کو ظہور میں لانے کے لیے اللہ تعالیٰ کو کچھ ایسے افراد درکار ہیں جو اس خدائی عمل کا انسانی پردہ (human face) بنیں۔ یہی وہ معاملہ ہے جس کو یہاں خدا کی نصرت کرنا کہا گیا ہے۔
مجھے اپنی زندگی کا ایک واقعہ یاد آتا ہے، جس سے معلوم ہوتا ہے کہ خدا کے دین کی مدد کے معاملے میں خدا کی مدد کی حقیقت کیا ہے۔ غالباً 1948 کا واقعہ ہے۔ اس کو میں نے اپنی کتاب "قرآن کا مطلوب انسان" میں ان الفاظ میں نقل کیا ہےضلع اعظم گڑھ کے رُوواں نامی بستی کے باہر ایک باغ کے پاس کھلے میدان میں جماعت اسلامی کا ضلعی ماہانہ اجتماع ہورہا تھا۔ ظہر کاوقت تھا۔ اذان ہوچکی تھی، ایک بڑے درخت کے نیچے فرش بچھا ہوا تھا، جہاں کچھ لوگ سنتیں پڑھ رہے تھے، اور کچھ لوگ نماز کے وقت کا انتظار کررہے تھے۔ اتنے میں ایک حادثہ پیش آیا۔ اجتماع کے قریب ایک بڑا سا گڑھا تھا، جس کے عین کنارے سے راستہ گزرتا تھا۔ اس راستہ پر ایک بیل گاڑی جارہی تھی۔ جیسے وہ گڑھے کے کنارے پہنچی، اس کا ایک پہیہ پھسل گیا، اور پوری گاڑی کروٹ ہوکر گڑھے میں اس طرح گرگئی کہ ایک پہیہ اوپر کھڑا تھا، اور دوسرا نیچے دبا ہوا تھا۔ جیسے ہی ہم میں سے کچھ لوگوں کی نظر اس پر پڑی ، وہ اس کی مدد کے لیے دوڑ پڑے۔ گاڑی سامان سے لدی ہوئی تھی۔ بیل بھی گاڑی میں پھنسے ہوئے تھے۔ بظاہر سمجھ میں نہیں آتا تھا کہ یہ چند لوگ اس مسئلہ کو حل کیسے کرسکیں گے۔ مگر یہ سوچنے کا وقت نہیں تھا، بلکہ فی الفور اقدام کرنے کا وقت تھا۔ مدد کے لیے آنے والے فوراً بچاؤ کےکام میں لگ گئے۔ کچھ نے نیچے سے زور لگایا، اور کچھ نے اوپر سے پکڑ کر گاڑی کو اٹھانا شروع کیا۔ میں ان لوگوں کے ساتھ تھا، جو گاڑی کو نیچے سے اٹھانے کی کوشش کررہے تھے۔
اس کے بعد ایک حیرت انگیز واقعہ پیش آیا۔ یکایک ہم نے دیکھا کہ گاڑی اٹھا کر اوپر رکھ دی گئی ہے۔ چند آدمی جو اس کام میں لگے تھے، ان سب کا متفقہ احساس تھا کہ گاڑی ہم نے نہیں اٹھائی، بلکہ وہ تو کسی اور نے اٹھا کر رکھ دی ہے۔ نیچے ہاتھ دینے والوں کو ایسا لگ رہا تھا جیسے اوپر سے کوئی اس کو کھینچے چلاجارہا ہے، اور جو لوگ اوپر تھے ان کو ایسا محسوس ہورہا تھا گویا گاڑی نیچے سے اٹھتی چلی آرہی ہے۔
یہ واقعہ واضح (illustrate) کرتاہے کہ خدا کی مدد کا مطلب کیا ہے۔یہ میری زندگی کا ایک حقیقی تجربہ تھا۔ اس سے میں نے دریافت کیا کہ خدا کی نصرت کیسے آتی ہے۔اصل یہ ہے کہ دنیا میں خدا کی جو مدد آتی ہے، وہ ہمیشہ اسباب کے پردے میں آتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ انسان کو اپنی استطاعت کے مطابق پوری تدبیر کرنی پڑتی ہے۔ یعنی کام کو انجام دینے والےبظاہرہیومن فیس (human face) ہوتے ہیں، لیکن باعتبار حقیقت وہ منصوبہ اصلاً فرشتوں کے ذریعے انجام پاتا ہے ۔کیوں کہ یہ فرشتے ہیں، جواللہ کے حکم سے ساری دنیا کا نظام چلارہے ہیں۔
اب اگر کچھ انسان زمانی مواقع کے اعتبار سےخدا کے منصوبہ کو دریافت کریں، اور اس کے لیےجدوجہد کریں تو عین اسی وقت یہ ہوگا کہ خدا کے فرشتےخصوصی طور پروہاں آکراس انسان کی مدد کریں گے۔یہی مطلب ہےانسان کی جانب سے خدا کی نصرت کا، اور خدا کی جانب سے انسان کی مدد کا۔
واپس اوپر جائیں

مستقبل کی دنیا

Emerging New World
موجودہ زمانے میں دو مختلف آئڈیالوجی اُبھری— سیکولرآئڈیالوجی اور مذہبی آئڈیالوجی۔ سیکولرآئڈیالوجی سے مرادوہ آئڈیالوجی ہے جو خالصتاً انسانی عقل (reason) کی بنیاد پر بنائی گئی ہے۔ اِس کے مقابلے میں مذہبی آئڈیالوجی ہے، یعنی انسانی اضافوں سے پاک خدائی دین ،جو پیغمبر کی رہ نمائی کے تحت بنی۔ موجودہ زمانے کا یہ ایک عجیب ظاہرہ ہے کہ سیکولر آئڈیالوجی اب اپنی مایوسی کے آخری دور میں پہنچ رہی ہے۔ اِس کے برعکس، تمام قرائن (clues) بتارہے ہیں کہ مذہبی آئڈیالوجی نئی صبح کی مانند انسان کے اوپر طلوع ہونے والی ہے، بلکہ وہ طلوع ہوتی ہوئی دکھائی دیتی ہے۔
جدید مادّی ترقیوں کے بعد سیکولر مفکرین نے یہ یقین کرلیا کہ بہت جلد ہمارے سیّارۂ زمین (planet earth) پر وہ بہتر دنیا بننے والی ہے، جس کا خواب ہزاروں سال سے انسان دیکھتا رہا ہے۔ اِس آئڈیالوجی کی ایک نمائندہ کتاب فیوچر شاک (Future Shock) ہے، جس کو اُس کے مصنف الون ٹافلر (Alvin Toffler) نے پہلی بار 1970 میں شائع کیا۔یہ کتاب شائع ہوتے ہی بیسٹ سیلر بن گئی۔اِس کتاب میں مصنف نے یقین کے ساتھ یہ پیشین گوئی کی تھی کہ دنیا تیزی کے ساتھ انڈسٹریل ایج سے ترقی کرکے سُپر انڈسٹریل ایج میں داخل ہونے والی ہے۔ یہ سویلائزیشن کا اعلیٰ ترقی یافتہ مرحلہ ہوگا، جب کہ انسان کی تمام مادّی خواہشیں اپنا مکمل فلفل مینٹ (fulfillment) پالیں گی۔
مگر اکیسویں صدی کاآغاز اِس قسم کے تمام اندازوں کے خاتمے کے ہم معنی بن گیا۔ اب شدت کے ساتھ وہ ظاہرہ پیدا ہوا جس کو گلوبل وارمنگ کہاجاتا ہے۔ انڈسٹریل سرگرمیوں سے پیدا ہونے والی آلودگی (pollution) نے سیارۂ زمین پر ایسے حالات پیدا کیے، جب کہ یہ دنیا انسان کے لیے قابلِ رہائش (habitable) ہی نہیں رہے گی۔ میڈیا میں مسلسل یہ خبریں آرہی ہیں کہ تمام دنیا کے سائنس دانوں نے گہری ریسرچ کے بعد یہ پایا ہے کہ ہماری زمین میں موسمیاتی تبدیلی (climatic change) اِس خطرناک حد تک پہنچ گئی ہے کہ اب وہ ناقابلِ تبدیلی (irreversible) ہوچکی ہے۔
یہ سائنس کی زبان میں قیامت کی پیشین گوئی ہے، یعنی زمین پر موجودہ حالات کا خاتمہ اور ایک نئی تاریخ کا آغاز۔ نئی دہلی کے انگریزی اخبار ہندستان ٹائمس (18 نومبر 2007) نے گلوبل وارمنگ کے موضوع پر ایک رپورٹ شائع کی تھی۔ اِس رپورٹ کے عنوان کے لیے اُس نے بامعنی طور پر اِن الفاظ کا انتخاب کیا تھا— قیامت اب زیادہ دور نہیں
Doomsday not Far
یہ صورتِ حال ایک طرف سیکولر آئڈیالوجی کو منسوخ کررہی ہے، اور دوسری طرف وہ ہم کو یہ قرینہ (clue) دے رہی ہے کہ اِس معاملے میں مذہبی آئڈیالوجی زیادہ درست اور مبنی بَرحقیقت ہے۔ مذہبی آئڈیالوجی جو پیغمبروں کے ذریعے معلوم ہوئی، وہ یہ ہے کہ موجودہ سیارۂ زمین اِس لیے بنایا ہی نہیں گیا کہ یہاںانسان اپنے لیے مادی جنت کی تعمیر کرسکے۔ یہاں کے ناقص اسباب یقینی طور پر کسی مفروضہ مادی جنت کی تعمیر میں رکاوٹ ہیں۔
اِس معاملے میں درست اورمطابقِ واقعہ بات یہ ہے کہ موجودہ دنیا کے تمام اسباب، امتحانی پرچے (test papers) کی حیثیت رکھتے ہیں۔ موجودہ دنیا میں جو چیزیں انسان کو ملی ہیں، وہ بطور انعام نہیں ہیں۔ اگریہ چیزیں بطور انعام ہوتیں تو وہ اپنی ذات میںکامل ہوتیں۔ مگر جیسا کہ معلوم ہے، یہاں کی ہر چیز ناقص ہے اور اِن چیزوں کا ناقص ہونا یہ بتاتا ہے کہ یہی نظریہ درست ہے کہ یہ چیزیں امتحانی پرچے کی حیثیت رکھتی ہیں، وہ انسان کو انعام کے طورپر نہیں دی گئیں۔
یہ قرینہ (clue) یہ ثابت کرتا ہے کہ اِس معاملے میں پیغمبرانہ نظریہ ہی صحیح نظریہ ہے، یعنی یہ کہ موجودہ دنیا غیر معیاری دنیا (imperfect world) ہے۔ اِس کے بعد ایک اور دنیا بنے گی جو اِس دنیا کا معیاری ورزن (perfect version) ہوگا۔ موت کے بعد بننے والی اِس معیاری دنیا میں وہ لوگ جگہ پائیں گے جو موجودہ امتحانی دنیا میںاپنے آپ کو اس کا اہل ثابت کرچکے ہوں۔
اِس معاملے کا دوسرا پہلو یہ ہے کہ تمام سیکولر فلسفی اور مفکر اور سماجی رہنما ہزاروں سال سے یہ کوشش کرتے رہے ہیں کہ وہ موجودہ دنیا میں منصفانہ سماج (just society) بنائیں، مگر ساری کوششوں کے باوجود اُنھیں کامیابی نہ ہوسکی۔ برعکس طور پر یہ ہوا کہ ساری دنیا میںانارکی اور کرپشن اور استحصال(exploitation) اور بددیانتی پھیل گئی۔ موجودہ ترقی یافتہ دور میں اِس معاملے میںمزید اضافہ ہوا۔ حتی کہ تمام قرائن کے مطابق، اب یہ ناممکن ہوچکا ہے کہ منصفانہ سوسائٹی کی تعمیر کے مقصد کو حاصل کیا جاسکے۔ جدید ترقیوں نے لوگوں کے بگاڑ میں صرف اضافہ کیا، اِس کے سوا اور کچھ نہیں۔ اب صورتِ حال یہ ہے کہ انسان کا ضمیر ایک منصفانہ سماج چاہتا ہے۔ یہ ضمیر کبھی ختم نہ ہوسکا۔ یہ ضمیر جس طرح پہلے لوگوں کے اندر موجود تھا، اُسی طرح وہ آج بھی پایا جاتا ہے۔ اب موجودہ حالات میں منصفانہ سماج کا قیام عملاً ناممکن ہوچکا ہے۔ مثلاً موجودہ عدالتی نظام اتنا زیادہ بگڑ چکا ہے کہ اُس سے اب انصاف کی امید ہی نہیں کی جاسکتی۔ قوانین کی بھر مار کے باوجود صرف بے انصافیوں میںاضافہ ہورہا ہے۔
یہ معاملہ دوبارہ ایک قرینہ (clue) ہے جو پیغمبرانہ تصور کی تائید کرتا ہے، یعنی یہ کہ مجرموں کو سزا دینا اور سچے انسانوں کو اُن کے کیے کا انعام دینا، موجودہ محدود دنیا میں ممکن ہی نہیں۔ انسانی ضمیر کے اِس تقاضے کو پورا کرنے کے لیے ایک اور دنیا درکار ہے۔ ایک ایسی دنیا جہاں خود خدا ظاہر ہو کر سب کا حساب لے اورانصاف کو قائم کرے۔ یہ صورتِ حال اِس پیغمبرانہ تصور کی تائید کرتی ہے کہ موت کے بعد ایک یومُ الحساب (Day of Judgement) آنے والا ہے۔ اُس وقت خدائی طاقت کے ذریعے منصفانہ سماج کا وہ قیام ممکن ہوجائے گا، جو انسانی طاقت کے ذریعے موجودہ دنیا میں ممکن نہیںہوا تھا۔
پیغمبرانہ آئڈیالوجی کے مطابق، انسانی زندگی کے دو دَور ہیں— قبل از موت دورِ حیات، اور بعد از موت دورِ حیات۔ اب یہ آخری طورپر ثابت ہوچکا ہے کہ قبل از موت دورِ حیات اپنی محدودیتوں کی وجہ سے اُس کامل دنیا کی تعمیر کے لیے ناکافی ہے جو انسان کا ضمیر چاہتا ہے۔ یہ مطلوب دنیا بلا شبہ بنے گی، لیکن وہ موت کے بعد کے وسیع تر دورِ حیات ہی میں بن سکتی ہے— یہ مطلوب دنیا ایک زیرِ تعمیر دنیا (world in the making) ہے۔ اب وہ دن زیادہ دور نہیں، جب کہ یہ بننے والی مطلوب دنیا مکمل ہو کر ہمارے سامنے آجائے۔
واپس اوپر جائیں

ذہن سازی، بزور نفاذ

عائشہ بنت ابی بکر (وفات 58ھ)کو اسلام کی تاریخ میں خاتون‌ِاوّ‌ل‌(First Lady)کا مقام حاصل ہے۔ وہ خلیفۂ اوّل ابوبکر صدیق کی صاحبزادی تھیں پھر پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجۂ‌محترمہ‌بنیں‌۔وہ قرآن کی ایک بڑی عالمہ تھیں‌۔ علم حدیث میں ان کو مجتہدا نہ مقام حاصل تھا‌۔
عائشہ صدیقہ کوپیغمبراسلام‌صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس طویل عرصہ تک انتہائی قریبی صحبت کا موقع حاصل ہوا۔چنانچہ انھوں نے بہت سی گہری حکیمانہ باتیں دریافت کیں، ان میں سے ایک یہ ہے۔ عائشہ صد یقہ کہتی ہیں کہ قرآن میں سب سے پہلے وہ سورتیں نازل ہوئیں جن میں جنت اور جہنم کا ذکر تھا۔ یہاں تک کہ جب لوگ اسلام کی طرف مائل ہو گئے (حَتَّى إِذَا ثَابَ النَّاسُ إِلَى الْإِسْلَامِ)تو حرام اور حلال کے احکام اترے۔ اور اگر پہلے ہی یہ اتر تاکہ تم لوگ شراب نہ پیو تو ضرور وہ کہتے کہ ہم شراب نہ چھوڑیں گے اور اگر یہ اتر تا کہ تم لوگ زنا نہ کرو تو ضرور وہ کہتے کہ ہم کبھی زنا نہ چھوڑیں گے ( لاَ نَدَعُ الْخَمْرَ أَبَدًا‏وَ لاَ نَدَعُ الزِّنَا أَبَدًا)صحیح البخاری، حدیث نمبر 4993۔
مذکورہ روایت میں بے حد اہم بات بتائی گئی ہے۔یہ روایت بتاتی ہے کہ معاشرہ کی اصلاح کے لیے اسلام کا طریقہ کیا ہے۔ یعنی وہ طریقہ جس کے ذریعہ کسی معاشرہ میں مثبت اورحقیقی نتائج برآمد کیے جا سکتے ہیں اور انسانی معاشرہ میں حقیقی انقلاب لایا جاسکتا ہے۔ وہ طریقہ ایک لفظ میں یہ ہے کہ پہلے فکری مہم کے ذریعہ افراد کے ذہن کو بدلنا اور پھر قبولیت کے بعداجتماعی سطح پر احکامِ شریعت کو نافذ کرنا۔
عجیب بات ہے کہ یہ حقیقت عائشہ صد یقہ نے پیغمبراسلام‌صلی اللہ علیہ وسلم کی دس سالہ صحبت میں جان لی تھی اور امت کو اس سے باخبر کر دیا تھا۔ مگر موجودہ زمانہ کے مسلم رہنما اور مفکرین سارے قرآن و حدیث کو پڑھنے کے باوجوداس اہم حقیقت سے بے خبر رہے اور اب تک بے خبر ہیں ۔ وہ ایک کے بعد ایک مسلم ملکوں میں اقتدار پر قبضہ کر کے اچا نک اسلامی شریعت کے نفاد کی کوشش کررہے ہیں ۔ مگر ہر بار یہ نتیجہ سامنے آتا ہے کہ لوگ ، عائشہ صدیقہ کے الفاظ میں،یہ کہہ کرشرعی احکام قبول کرنے سے انکار کردیتے ہیں— ہم (اپنی پرانی روش)کبھی نہ چھوڑیں گے ۔ اس ناکامی کا سبب یقینی طور پر یہی ہے کہ ذہن سازی کا کام کیے بغیر شرعی احکام کو نافذ کرنے کی کوشش کی گئی۔
معاشرہ کی اصلاح کا نقطۂ آغاز(starting point)کیا ہے۔ اس کو پیغمبر اسلام کے واقعہ سے سمجھا جاسکتا ہے۔ ہجرت سے پہلے جب آپ مکہ میں تھے تو وہاں کے سرداروں نے آپ کو حکومت کی پیش کش کی۔انھوں نے کہاکہ اگر تم اس کے ذریعہ سے عزت چاہتے ہو تو ہم تم کو اپنا سرداربنالیں گےاور اگر حکومت چاہتے ہو تو ہم تم کو اپناحاکم بنانے کے لیے تیار ہیں( وَإِنْ کُنْتَ تُرِیدُ مُلکًا مَلَّکْنَاک عَلَیْنَا)۔ آپ نے فرمایا میں تمھارے اوپر حکومت نہیں چاہتا۔ لیکن اللہ نے مجھے تمھاری طرف بطور رسول بھیجا ہے(وَلَکِنَّ اللہَ بَعَثَنِی إلَیْکُمْ رَسُولًا)سیرت ابن ہشام، جلد1، صفحہ262-63۔ دوسرے الفاظ میں، تم لوگ میری بات سنو، اور خدا پر ایمان لاؤ۔
پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے اِس جواب سے اسلامی تحریک کا ایک اہم اصول معلوم ہوتا ہے۔ وہ یہ کہ اسلامی تحریک کا نقطۂ آغاز حکومت یا سیاسی اقتدار نہیں ہے، بلکہ اسلامی تحریک کا اصل نقطۂ آغاز فرد کی شخصیت میں تبدیلی لانا ہے، ایک ایک فرد کے ذہن کی تشکیل نو (re-engineering of the mind) کرنا ہے۔ اسلامی تحریک کا فارمولا دو نکات (points)پر مشتمل ہے— فرد کی شخصیت میں تبدیلی لانا، اور پولٹکل سسٹم کے معاملے میں حالتِ موجودہ کو تسلیم کر لینا
Change in personality, status quoism in political system
اسلامی تحریک کی یہی فطری ترتیب ہے۔ اگر اِس ترتیب کو بدل دیا جائے، یعنی اگر پولٹکل سسٹم کو بدلنے سے تحریک کا آغاز کیا جائے تو سوسال کی جدوجہد کے بعد بھی کوئی مثبت نتیجہ نکلنے والا نہیں۔ فرد کی تبدیلی سے آغاز کرکے نظام کی تبدیلی تک پہنچنا ممکن ہوتا ہے۔ لیکن اگر نظام کی تبدیلی سے آغاز کیا جائے تو ایسی تحریک کسی انجام تک پہنچنے والی نہیں۔ ایسی تحریک صرف تباہی میںاضافہ کرے گی، اِس کے سوا اور کچھ نہیں — حقیقت یہ ہے کہ ہر قسم کے بگاڑ کا تعلق سوچ سے ہے۔ اصلاح کا راز یہ ہے کہ انسانی سوچ میں تبدیلی لائی جائے۔ انسانی سوچ کو بدلے بغیر کوئی بھی اصلاح ممکن نہیں۔
واپس اوپر جائیں

ایک سوال

افغانستان میں طالبان اقتدار حاصل کرنے کے بعدیہ اعلان کررہے ہیں کہ وہ اسلامی قانون نافذ کریں گے۔ اِس کے بارے میں آپ کی رائے کیا ہے؟(ایک قاری الرسالہ، دہلی)
جواب
موجودہ زمانے میں افغانستان کے مسئلہ کو بہت بڑا مسئلہ سمجھا جاتا ہے ، لیکن حقیقت یہ ہے کہ یہ مسئلہ صرف اِس لیے پیدا ہوا کہ وہاں کے مسلم لیڈروں نے دانشمندی کا طریقہ اختیار نہیں کیا،نہ مذہبی لیڈروں نے اور نہ سیکولر لیڈروںنے۔اگر افغانستان میںسیاسی معاملے میں خیرالشّرَّین(دو برائیوں میں سے کمتربرائی)کو اختیار کرنے کا اصول اپنایا جاتا تو یہ مسئلہ بہت پہلے ختم ہو چکا ہوتا۔ یعنی سیاسی معاملے میں اسٹیٹس کوازم کا طریقہ اختیار کرنا، اور اپنی توانائی کو تخریب کے بجائے تعمیر میں لگانا۔
صحیح البخاری ( حدیث نمبر 4993)میں حضرت عائشہ کا بیان ذکرکیا گیا ہے، جس سے معلوم ہوتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پہلے دلوں کو بدلا، اس کے بعد شرعی قانون پر عمل کرنے کا حکم دیا۔دلوں کو بدلنا یعنی ذہن سازی کرنا۔ افغانستان کے طالبان اِس کے برعکس ، بم اور گن اور بندوق وغیرہ کے ذریعے اسلامی قانون نافذ کرنا چاہتے ہیں۔ یہی فرق یہ ثابت کرنے کے لیے کافی ہے کہ طالبان اسلامی قانون کے نفاذ میں کبھی کامیاب نہیں ہوں گے۔ وہ اپنی انتہا پسندانہ اور متشددانہ کاروائیوں کے ذریعے افغانستان میں جو چیز لائیں گے ، وہ صرف تباہی ہوگی۔وہ نہ کوئی دینی تربیت کر سکیں گے اور نہ کوئی مادی تعمیر۔
ذہن سازی کے بغیر اگر قانون نافذ کیا جائے تو اس کا انجام کیا ہوتا ہے، اس کو ذیل کے واقعہ سے سمجھا جاسکتا ہے۔انڈیا کےمشہورانگریزی صحافی مسٹر خشونت سنگھ (1915-2014)نے لکھا ہے کہ میں ہندستان سے پاکستان گیا۔ جب ہمارا ہوائی جہاز لاہور کی فضا میں پہنچا تو جہاز میں اناؤنسر نے اعلان کیا کہ پاکستان میں شراب ممنوع ہے۔ کوئی مسافر شراب کی بوتل کے ساتھ پاکستان میں داخل نہیں ہوسکتا۔آپ لوگوں میں سے جس شخص کے پاس شراب ہو وہ اس کو جہاز کے عملے کے پاس جمع کردے۔ مسٹر خشونت سنگھ نے لکھا ہے کہ میرے پاس شراب کی ایک بوتل تھی۔ یہ بوتل میں نے حسبِ اعلان ہوائی جہاز کے عملے کے حوالے کردیا۔ مگر اس کے بعد جب میں لاہور کے اندر داخل ہوا تو مجھے معلوم ہوا کہ بلیک مارکیٹ میں شراب نہایت فراوانی کے ساتھ بک رہی ہے، اور میں بلیک سے جتنی چاہے شراب خرید سکتا ہوں۔
یہ واقعہ میں نےایک عالم دین کو سنایا، اور کہا کہ موجودہ زمانے میں جن مسلم ملکوںمیں شراب بند کی گئی ہے، وہاں اس کا یہی انجام ہوا ہے۔ رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پہلے لوگوں کا ذہن بنایا اس کے بعد شراب کی حرمت کا اعلان کیا (مسند احمد، حدیث نمبر 8620)۔ اسی طرح موجودہ زمانے میں پہلے اس کے موافق ذہنی فضا بنانی پڑے گی۔ محض قانون کے زور پر لوگوں کو شراب نوشی سے روکا نہیں جاسکتا۔
انھوں نے کہا کہ مگر یہ طریقہ ہم کو اسلاف کے یہاں نہیں ملتا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد ایک ہزار سال تک قانون ہی کے زور پر شراب کو روکا جاتا رہا۔ ایسا نہیں کیا گیا کہ پہلے ذہنی فضا بنائی جائے اس کے بعد شراب پر پابندی لگائی جائے۔
میںنے کہا کہ پچھلے زمانے پر موجودہ زمانہ کو قیاس کرنا صحیح نہیں۔ اس لیے کہ پچھلا زمانہ وہ ہے، جب کہ اسلامی روایات کا تسلسل برابر جاری تھا۔ مگر موجودہ زمانے میں اسلامی روایات کا تسلسل یکسر ٹوٹ گیا ہے۔ اب دوبارہ وہی ضرورت پیش آگئی ہے، جو رسول اللہ کے زمانےمیں تھی۔ اب ہمیں دوبارہ اسلامی روایات قائم کرنی پڑیں گی، اس کے بعد ہی قانون کا نفاذ مفید ہوسکتا ہے۔ کیوںکہ قانون ہمیشہ روایات کے زورپر نافذ ہوتاہے، اورموجودہ زمانے میں شراب بندی کے قانون کے لیے روایات کا زور موجود نہیں ہے۔
اسلامی مشن کا نشانہ فرد (individual) کو ربانی انسان بناناہے، نہ کہ نظام (system) کو۔ اسلام کا مقصد انسان کا تزکیہ کرکے اس کو جنتی انسان بنانا ہے ، نہ کہ سسٹم کو اسلامائز کرنا۔ مثلاً تقویٰ، معرفت، دعوت، حسنِ اخلاق، خیرخواہی ، وغیرہ کا ذہن انسان کے اندر پیدا کرنا۔ جب انسان کے اندر یہ ذہن پیدا ہوجائے تو وہ خود بخود دوسرے اسلامی احکام کو مان لیتا ہے، جیسا کہ شراب کی حرمت کے واقعہ سے ثابت ہوتا ہے۔
واپس اوپر جائیں

ڈائری 1986

18جنوری1986
میری ڈائری میں2جولائی،1983 کی تاریخ میں ایک لمحاتی تجربہ ان الفاظ میں لکھا ہوا ہے آج میں صبح کے وقت دہلی میں اپنے کمرہ کے باہر سورج کی روشنی میں ایک کتاب پڑھ رہا تھا۔ اچانک میرے اوپر وہ تجربہ گزرا، جوگویا ایک حدیث قدسی کی تصدیق تھی۔
یہ قدسی حدیث الفاظ کے کچھ اختلاف کے ساتھ حدیث کی کئی کتابوںمیں بیان کی گئی ہے۔مثلاً صحیح البخاری، مسند احمد وغیرہ۔ ایک روایت کے الفاظ ہیں کہ اللہ تعالی نے فرمایا‌مَا ‌یَزَالُ ‌عَبْدِی ‌یَتَقَرَّبُ ‌إِلَیَّ ‌بِالنَّوَافِلِ ‌حَتَّى ‌أُحِبَّہُ، فَأَکُونَ أَنَا سَمْعَہُ الَّذِی یَسْمَعُ بِہِ، وَبَصَرَہُ الَّذِی یُبْصِرُ بِہِ، وَلِسَانَہُ الَّذِی یَنْطِقُ بِہِ، وَقَلْبَہُ الَّذِی یَعْقِلُ بِہِ(المعجم الکبیر للطبرانی، حدیث نمبر 7833)۔ یعنی، میرا بندہ برابر نوافل کے ذریعہ میرے قریب ہوتا رہتا ہے، یہاں تک کہ میں اس سے محبت کرتا ہو، پس میں اس کا سمع (کان) بن جاتاہوں جس سے وہ سنتا ہے، اور اس کی آنکھ بن جاتاہوں جس سے وہ دیکھتا ہے، اور اس کی زبان بن جاتاہوں جس سے وہ بولتا ہے، اور اس کا دل بن جاتاہوں، جس سے وہ سمجھتا ہے۔
اس حدیث میں انہی ایمانی کیفیات کو الفاظ کی شکل میں بتایا گیاہے جو ایک مومن بندے پر گزرتے ہیں۔ اس وقت مجھے محسوس ہوا کہ جیسے ایک لمحہ کے لیے میرا دیکھنا میرے لیے، بلاتشبیہ، خدا کا دیکھنا بن گیا ہے۔مگریہ تجربہ میرے لیے خدا کی ذات پر یقین میں اضافہ کا ذریعہ بن گیا۔میں نے کہا کہ خدایا، میں اپنے عاجز مطلق ہونے اور تیرے قادر مطلق ہونے کا اقرار کرتا ہوں اورتیری ساری صفات پر کامل یقین رکھتا ہوں ۔یہ رمضان1403ھ کی 21 تاریخ تھی۔اس دن شام کو میں نے افطار کرتے ہوئے پانی پیا۔ٹھنڈا شفاف پانی جب میرے حلق سے گزرا تو مجھ پر ایک عجیب لمحاتی احساس طاری ہوا۔مجھے ایسا محسوس ہوا کہ پانی کا گھونٹ میرے لیے ہدایت میں تبدیل ہو گیا۔پانی کا حلق سے اترنا میرے لیے ہدایت اترنے کے ہم معنیٰ بن گیا۔پانی اورہدایت میرے اندر تھوڑی دیر کے لیے ایک ہوگئے۔
ایک صاحب سے ان تجربات کا ذکر ہوا۔انہوں نے کہا کہ یہ وہی ڈاکٹرسی وی رمن (وفات 1970ء) والا معاملہ ہے۔نوبل انعام یافتہ سائنس داں ڈاکٹر رمن سے کسی نے کہا کہ سائنس دانوں کی دریافتوں کی تاریخ بتاتی ہے کہ وہ اکثر اتفاقاً ہوئی ہیں۔سائنس داں تجربات کرتا رہتا ہے کہ اتفاق سے کوئی چیز سامنے آ جاتی ہے اور وہ ایک نئی دریافت بن جاتی ہے۔ڈاکٹر رمن نے جواب دیا— ہاں،مگر ایسا اتفاق صرف سائنس دانوں ہی کو پیش آتا ہے
But it only happens to scientists
یہ تجربات اگرچہ لمحاتی ہوتے ہیں۔مگر یہ لمحات اسی شخص پر گزرتے ہیں جو برسوں سے اپنی زندگی اسی رخ پر لگائے ہوئے ہو۔
20جنوری1986
ایک اخبار میں آزادی سے پہلےکی ایک رپورٹ پڑھی کہ 1945 میں جنرل شاہ نواز خان (1914-1983)، کرنل پریم سہگل (1917-1992)،اور کرنل گربخش سنگھ ڈھلوں (1914-2006) گرفتار ہوئے تھے۔ان پر برطانوی راج کے خلاف بغاوت کا الزام تھا۔اس کے بعد مقدمہ چلا جس میں وہ رہا ہو گئے۔لال قلعہ سے رہائی کے بعد صبح سویرے وہ لاہور اسٹیشن پہنچے۔یہ 1946 کا واقعہ ہے۔اس روز لاہور اسٹیشن پر اتنی زبردست بھیڑ تھی جو اس سے پہلے کبھی نہیں دیکھی گئی۔لاہور اسٹیشن کی طرف جانے والی تمام سڑکیں ان لوگوں سے کھچا کھچ بھری ہوئی تھیں جو سہگل ، ڈھلوں اور شاہ نواز کی ایک جھلک دیکھنے کے لیے بے تاب ہو رہے تھے۔جب گاڑی پلیٹ فارم پر رکی تو عوام نے نعرہ لگایا
لال قلعہ سے آئی آواز سہگل ڈھلوں شاہ نواز
تینوں ہنستے ہوئے چہرے کے ساتھ ریل کےڈبے سے باہر آئے۔دوسرے ہی لمحے آزاد ہند فوج کے ان جیالوں کو پھولوں کے ہاروں سے اس طرح لاد دیا گیا کہ وہ پھولوں کے تین ڈھیر دکھائی دینے لگے۔سہگل، ڈھلوں،شاہ نواز، ہندوستان میں ہندو،سکھ،مسلم اتحاد حاصل کرنے کے مضبوط ارادے کے علامت تھے۔’’ہندو مسلم سکھ اتحاد‘‘ آزادی سے پہلے کے ہندوستان میںجتنا با معنٰی لگتا تھا آج وہ اتنا ہی بے معنی ہے۔اس کی وجہ یہ ہے کہ آزادی سے پہلے سب کا نشانہ خارجی اقتدار تھا۔آزادی کے بعد سب کا نشانہ داخلی مخالفت بن گیا۔جو لوگ خارجی نشانہ پر متحد تھے وہ داخلی نشانہ پر آتے ہی ایک دوسرے سے جدا ہو گئے۔صرف جدا نہیں ہوئے بلکہ آپس میں لڑنے لگے— اس دنیا میں وہی تحریک کامیاب ہو سکتی ہے جو انقلاب سے پہلے بھی تعمیری نشانہ دیتی ہو اور وہ انقلاب کے بعد بھی لوگوں کو تعمیری نشانہ دے۔ایسی تحریک صرف وہی ہو سکتی ہے جو آخرت کی بنیاد پر اٹھائی جائے۔
21جنوری1986
20جنوری 1986 کی صبح کو میں انڈین ایئر لائنز کی فلائٹ نمبر439 کے ذریعے دہلی سے حیدرآباد گیا اور 21 جنوری کی شام کوفلائٹ نمبر539 سے واپسی ہوئی۔دہلی سے حیدرآباد جاتے ہوئے جہاز کے اندر حسب معمول اعلانات شروع ہوئے۔اناؤنسر نے دوسری باتوں کے ساتھ کہا— کیپٹن مصطفیٰ جہاز کے پائلٹ ہیں
Captain Mustafa is in command
انڈین ایئر لائنز میں،میںنے بہت سفر کیے ہیں۔ مگر ’’کیپٹن مصطفیٰ‘‘ جیسا لفظ پہلی بار سننے میں آیا۔یہ اس بات کی علامت ہے کہ مسلمان اب اس ملک کی اعلیٰ سروسوں میں داخل ہونا شروع ہو گئے ہیں۔وہ تاریک ماضی سے نکل کر روشن مستقبل کی طر ف بڑھ رہے ہیں۔
جن لوگوں کے پاس مسلمانوں کے بارے میں صرف ’’نکالے جانے‘‘ کی خبریں ہیں، انہیں ’’داخل کیے جانے‘‘ کی خبروںکا بھی اظہار کرنا چاہیے تاکہ لوگوں کو تصویر کا دوسرا رخ معلوم ہو سکے۔ ہندوستان کے مسلم لیڈر ملک کے اندر اور ملک کے باہر صرف ایک ہی بات کرنا جانتے ہیں اور وہ تعصب اور امتیاز ہے۔وہ تصویر کے دوسرے رخ کا مطلق ذکر نہیں کرتے۔قرآن کے الفاظ میں یہ لوگ مطففین ہیں اور خدا کے قانون میں مطففین کے لیے ہلاکت ہے، نہ کہ نجات۔
اس سفر میں حیدرآباد میں ایک تجربہ گزرا جس کے بعد میری زبان پر یہ الفاظ تھے اس دنیا میں آدمی کو مستقبل کی خاطر ماضی کو بھولنا پڑتا ہے۔یہاں آدمی کو سبھی کچھ چھوڑنا پڑتا ہے تاکہ وہ دوبارہ پاسکے۔یہاں رکنا پڑتا ہے تاکہ از سر نو آگے بڑھنے کا راستہ کھلے۔یہاں دینا پڑتا ہے تاکہ دوبارہ اضافہ کے ساتھ مل سکے۔یہاں چپ رہنا پڑتا ہے تاکہ آدمی کوبولنے کے لیے الفاظ مل سکیں۔یہ دنیا کھو کر پانے کی جگہ ہے۔یہاں دے کر لیا جاتا ہے۔
اس سفر میں میرا ایک اورتاثر یہ ہے یہ ممکن ہے کہ آپ کسی چیز پر بلا استحقاق قبضہ کر لیں مگر یہ ناممکن ہے کہ آپ کسی چیز پر اپنے بلا استحقاق قبضہ کو باقی رکھ سکیں۔
22جنوری1986
ایک مقام کے مسلمان نے بتایا کہ ان کے یہاں عیدگاہ کی بنیاد ڈالی جا رہی تھی اور اس موقع پربستی میں شیرینی تقسیم ہونے والی تھی۔مذکورہ مسلمان نور محمد نے اپنے ایک ہندو پڑوسی سے کہا کہ تم بھی چلو اور اپنے حصے کی شیرینی حاصل کرو۔ہندو نے عذر کیا۔بار بار پوچھنے پر اس نے بتایا کہ ہم نے سنا ہے کہ تم لوگ مسجد اور عید گاہ کی نیو میں گائے کی سینگ ڈالتے ہو اور اس کا بال اس کے اندر دفن کرتے ہو۔ایسی حالت میں ایک ہندو کیسے وہاں جا سکتا ہے۔اس نے مزید کہا کہ عید گاہ کا مطلب ہم کو بتایا گیا ہے’’عید گائے‘‘۔یعنی جس کی بنیاد میں گائے دفن کی جائے وہ عید گاہ ہے۔ایک اور مسلمان نے بتایا کہ مسجد میں اذان ہو رہی تھی۔موذن نے کہا کہ’’اللہ اکبر،اللہ اکبر‘‘۔یہ سن کر ایک ہندو بولامیاں جی،اکبر بادشاہ تو کب کا مر گیا،ابھی تک تم لوگ اسی کو پکارے جا رہے ہو۔
یہ باتیں بظاہر بہت لغو معلوم ہوتی ہیں۔مگر اس کی ذمہ داری کم از کم 50 فیصد خود مسلمانوں پر بھی ہے۔مسلمانوں نے اسلام کا حقیقی تعارف اس ملک کی بڑی آبادی کے سامنے پیش نہیں کیا، مگراپنی جھوٹی سیاست سے ہزاروںانسان کےدلوں میں نفرت پیدا کی۔اسی کی وجہ سے ان کے درمیان ایسے قصے مشہور ہوئے۔جب دو قوموں میں نفرت ہو تو اسی طرح جھوٹی باتیں ایک دوسرے کے خلاف پنپنے لگتی ہیں۔
1947سے پہلے کا ایک واقعہ مجھے یاد ہے۔ایک کانگریسی مسلمان نے ایک مضمون شائع کیا۔یہ مضمون اصلاً ادب کے موضوع پر تھا۔مگر اس میں ضمناً انگریزی تہذیب کا بھی مذاق اڑایا گیا تھا۔مضمون نگار نے لکھا تھا کہ انگریزی زبان ایسی بری زبان ہے کہ اس میں جاکر سیدھے الفاظ بھی بگڑ جاتے ہیں۔مثلاً الہ آباد انگریزوں کی زبان میں آل بیڈ(Allahbad)بن جاتا ہے اور لالہ ان کی زبان میں پاپی(Poppy) کی صورت اختیار کر لیتا ہے۔
دوسروں کےبوائق (شر)سے اپنے آپ کو محفوظ رکھنے کی سب سے آسان تدبیر یہ ہے کہ اپنے بوائق سے دوسروں کو محفوظ رکھا جائے۔اس معاملہ میں شکایت اور احتجاج سے کوئی فائدہ نہیں۔
23جنوری1986
موجودہ زمانہ میں مسلمانوں کی بربادی کی واحد سب سے بڑی وجہ ان کا جھوٹا فخر ہے۔موجودہ زمانہ میں مسلمان دوسروں سے پیچھے ہو گئے۔وہ دور جدید میں ترقی کی بنیاد کھو بیٹھے۔مگر شاعروں اور خطیبوں نے انہیں جھوٹے فخر کی غذا دے کر مدہوشی میں مبتلا کردیا۔ظفر علی خان نے مولانا حالی کے خلاف بہت سی نظمیں لکھی تھیں۔ایک بار انہوںنے لکھا
ابتر ہمارے حملوں سے حالی کا حال ہے میدان پانی پت کی طرح پائمال ہے
حالی چونکہ پانی پت کے رہنے والے تھے اسی لیے ردیف و قافیہ ملا کر ان کے خلاف ایک شعر تیار ہو گیا۔انہی ظفر علی خاں کا ایک شعر ہے
چلے ہم لکھنؤ سے بارہ بنکی مسلماں سیر ہیں ہندو چھٹنکی
حقیقت کے اعتبار سے معاملہ اس شعر کے بالکل برعکس ہے۔مگر بارہ بنکی اور چھٹنکی (چھٹانک بھر ، معمولی، حقیر) کا قافیہ شاعر کے لیے کافی ہو گیا کہ وہ حقیقت واقعہ کے خلاف ایک بات ثابت کر کے لوگوںسے خراج تحسین حاصل کر سکے۔
24جنوری 1986
برادرم جناب محسن عثمانی صاحب سے ملاقات ہوئی۔انہوںنے ایک صاحب کا تاثر بیان کیا۔یہ تاثر انہیں کے الفاظ میں یہ تھا— ’’دوسرے علما کی تحریروں سے اسلاف پر اعتماد پیدا ہوتا ہے اوروحیدالدین خاں کی تحریروں سے اسلاف پر بے اعتمادی پیدا ہوتی ہے‘‘۔
میں نے کہا کہ یوں نہ کہیے۔ بلکہ اس طرح کہیے— ’’دوسرے علما کی تحریریں اسلاف تک پہنچا کر چھوڑدیتی ہیں اور وحیدالدین کی تحریریں آدمی کو آگے خدا تک لے جاتی ہیں‘‘۔
دور زوال میں ہمیشہ ایسا ہوتا ہے کہ قومیں خدا سے کٹ کر اپنے افراد پر اٹک جاتی ہیں۔وہ اپنے بزرگوں میں جینے لگتی ہیں۔بزرگوں کا تذکرہ، بزرگوں کی عظمت سے فخر کا جذبہ لینا،بزرگوں کی کہی ہوئی باتوں سے وابستہ ہو جانا،یہی بعد کے لوگوں کا دین ہوتا ہے۔ایسی حالت میں جب ان کے سامنے براہ راست خدا کی بڑائی بیان کی جاتی ہے اور ان کو براہ راست قرآن و سنت کی طرف بلایا جاتا ہے تو ایسے لوگ اس قسم کی باتوں سےاجنبیت محسوس کرتے ہیں۔ایسا دین ان کی سمجھ میں نہیں آتا۔
یہ ایک حقیقت ہے کہ میں اپنی تحریروں میں اپنی ذات کی طرف نہیں بلاتا بلکہ خدا کی طرف بلاتا ہوں۔پھر لوگوں کو کیوں یہ احساس ہوتا ہے کہ اس میں کوئی غلطی ہے۔کیا خدا کی طرف بلانا بھی ایسی چیز ہے جس میں کوئی غلطی ہو؟
25جنوری1986
آج پرنسپل نفیس احمد صدیقی(نظام الدین ایسٹ) تشریف لائے۔ان کے پاس السٹریٹڈ ویکلی (دسمبر1985) کی کاپیاں تھیں جن میں مسٹر ارون شوری (پیدائش 1941)نے مسلم پرسنل لا پر تین قسطوں میں مضمون شائع کیا ہےاور شاہ بانو کیس کے سلسلے میں سپریم کورٹ کے فیصلے کودرست ثابت کیا ہے۔ سپریم کورٹ نے یہ فیصلہ دیا تھا کہ شاہ بانو کو طلاق کے بعد ان کا شوہر پانچ سو روپے ماہانہ مستقل گزارہ دے۔
میں نے کہا کہ اس معاملے میں رائے قائم کرنے کے دو طریقے ہیں۔ایک نقلی ، دوسرا عقلی۔ نقلی اعتبار سے طلاق کے بعد گزارہ دینے کا اصول قطعاً ثابت نہیں ہوتا۔قرآن اور حدیث میں اس کی کوئی گنجائش نہیں۔تمام فقہا اس پر متفق ہیں کہ طلاق سے پہلے عورت کے لیے نفقہ ہے اور طلاق کے بعد عورت کے لیے متاع۔
شریعت میں نفقہ کا لفظ مینٹیننس(Maintenance)کے لیے ہے اور متاع کا لفظ پراوزن (Provision)کے لیے۔مگر ایک مولوی آدمی مینٹیننس کو وقتی رقم اور پراوزن کو مستقل گزارہ کے معنی میں بولے تو انگریزی داں طبقہ اس کا مذاق اڑائے گا۔مگر عربی الفاظ(نفقہ اور متاع) کے سلسلے میں انگریزی داں حضرات یہی غلطی کر رہے ہیں۔وہ قرآن سے متاع کا لفظ لیتے ہیں اور اس کو اس مفہوم میںاستعمال کرتے ہیں جس کے لیے شریعت میں نفقہ کا لفظ آیا ہے۔
دوسری بات میں نے یہ کہی کہ عقلی معیار پر ان حضرات کا نقطۂ نظر درست ثابت نہیں ہوتا۔جدید مغربی دنیا نے اس اصول کو اختیار کیا کہ مرد پر لازم ہے کہ وہ طلاق کے بعد بھی اپنی سابقہ بیوی کو گزارہ دے۔اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ مغربی سوسائٹی میںپچاس فیصد سے زیادہ لوگ بے نکاح عورتوں کے ساتھ رہنے لگے تاکہ علیحدگی کی صورت میں وہ عورت کو گزارہ دینے کے قانون سے بچ جائیں۔ یہ تجربہ ثابت کرتا ہے کہ طلاق کے بعد گزارہ کو لازم قرار دینا مسئلہ کو ختم نہیں کرتا بلکہ وہ مسئلہ کو اور بڑھا دیتا ہے۔
26جنوری 1986
عبداللہ مصطفی صاحب ایک امریکی نو مسلم ہیں۔ان کا سابق نام اسٹیواسکلر تھا اور ان کا سال پیدائش1947ہے۔انہوں نے 1969میں اسلام قبول کیا۔اسلام قبول کرنے کے بعد وہ گیارہ سال تک مختلف مسلم ملکوں کا سفر کرتے رہے۔اسی درمیان میں انہوں نے عربی اتنی سیکھ لی کہ وہ عربی زبان میں بخوبی گفتگو کر سکتے ہیں۔وہ موجودہ زمانہ کے مسلمانوں سے بے حد شاکی ہیں۔میں نے پوچھا کہ مسلم ملکوں کا سفر کرنے کے بعد آپ کا آخری تاثر کیا تھا۔انہوں نے جواب دیاکہ (مسلمانوں کو دیکھ کر) میں بہت زیادہ دل شکستہ ہوگیا تھا، یہاں تک کہ مجھے خیال ہونے لگا کہ میں اسلام سے نکل جاؤں گا
کنت محزوناً جداً حتی ظننت ان اخرج من الاسلام
ان کا خیال ہے کہ موجودہ زمانہ کے مسلمانوں کا اصل مرض پیرانوئیا (paranoia)ہے۔یعنی جھوٹی بڑائی کا جنون۔مسلمان فرضی طور پر اپنے کو بڑا سمجھتے ہیں اور جب دنیا ان کی فرضی بڑائی کو تسلیم نہیںکرتی تو وہ ساری دنیا کے خلاف جھنجھلاہٹ میں مبتلا ہو جاتے ہیں۔وہ ہر ایک کو شک کی نظر سے دیکھنے لگتے ہیں۔
وہ اردو نہیں جانتے، اس لیے ہمارے لٹریچر سے براہ راست واقفیت حاصل نہیں کر سکتے۔ تاہم کئی ملاقاتوں میں، میں نے اپنے لٹریچر کا خلاصہ ان کے سامنے رکھا۔وہ بہت متاثر ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ آپ کے جو افکار ہیں انہی افکار پر مبنی لٹریچر آج مغربی قوموں میں اسلام کے تعارف کے لیے درکار ہے۔
انہوں نے کہا کہ سید ابوالاعلیٰ مودودی اور سید قطب شہید وغیرہ کی کتابوں کے ترجمے انگریزی زبان میں کیے گئے ہیں،مگر وہ مغرب میں اس کی تبلیغ کے لیے کارآمد نہیں۔کیونکہ ان میں اسلام کو قومی فخر کے انداز میں پیش کیا گیا ہے، نہ کہ اس اصولی اور فطری انداز میں جیسے کہ آپ پیش کرتے ہیں۔
واپس اوپر جائیں

داعیانہ کردار

سی پی ایس انٹرنیشنل، نئی دہلی کی چیرپرسن ڈاکٹر فریدہ خانم نے سی پی ایس لیڈیز ٹیم کے ایک آن لائن پروگرام میں مندرجہ ذیل تقریر کی تھی
مولانا وحیدالدین خاں صاحب نے ایک جگہ لکھا ہے کہ "دعوت الی اللہ کا مشن اختیار کرنے کے لیے داعیانہ کردار ضروری ہے۔ جو شخص دعوتی عمل کا کریڈٹ لینا چاہتا ہو، اُس پر لازم ہے کہ وہ اپنے اندر داعیانہ کردار پیدا کرے"۔ہم داعیانہ کردار کو رسول اللہ ﷺ اور اصحابِ رسول کے نمونہ سے بہت اچھے طریقے سے سمجھ سکتے ہیں۔ رسول اللہ کے زمانے میں بار بار ایسا ہوتا تھا کہ مدعوغصہ ہوجاتے تھے۔ لیکن آپ اور آپ کےا صحاب اعراض کا طریقہ اختیار کرتے تھے۔
مثال کے طور پر مصعب بن عمیر خدا کا پیغام پہنچانے مدینہ گئے تھے ۔وہاں قبیلہ اوس کے ایک بڑے سردار اسید بن حضیر کو جب ان کی دعوتی سرگرمیوں کی خبر ہوئی تو بہت غصہ ہوئے کہ تم ہماری عورتوں اور ہمارے بچوں کو بہکانے آئےہو (فَوَقَفَ عَلَیْہِمَا مُتَشَتِّمًا، فَقَالَمَا جَاءَ بِکُمَا إلَیْنَا تُسَفِّہَانِ ضُعَفَاءَنَا) ۔ مصعب بن عمیر نے بہت ٹھنڈے طریقے سے جواب دیا کہ پہلے آپ تھوڑی دیر بیٹھ کر میری بات سنیں، پھر اس کے بعد آپ جو فیصلہ کریں وہ مجھے منظور ہوگا۔ اسید بن حضیر نے کہا کہ تم نے بہت انصاف کی بات کہی اور سننے کے لیے بیٹھ گئے۔ اس کے بعد مصعب بن عمیر نے قرآن کا ایک حصہ پڑھ کر سنایا۔ وہ خاموشی سے سنتے رہے اس کے بعد کہا’یہ کلام کتنا عمدہ اور کتنا اچھاہے‘(مَا أَحْسَنَ ہَذَا الْکَلَامَ وَأَجْمَلَہُ)، اور وہ مصعب بن عمیر کے ساتھی بن گئے (سیرت ابن ہشام، جلد1، صفحہ 436)۔ اس طرح بہت جلد مدینہ کے تمام باشندے آپ کے فولڈ میں آگئے۔
یہی سارے صحابہ کا طریقہ تھا، وہ غصے کا جواب غصے سے نہیں دیتے تھے۔ کیونکہ وہ اس بات کے بہت زیادہ حریص تھے کہ خدا کے بندوں کو خدا کا پیغام پہنچایا جائے۔اگر وہ غصہ کا طریقہ اختیار کرتے تو حالات دعوتی عمل کے لیے نارمل نہ ہوپاتے ۔ اس وجہ سے وہ ہر موقع پر اوائڈنس کا طریقہ اختیار کرتے تھے، اور آخری حد تک صبر و برداشت کے اصول پر قائم رہتے تھے۔
رسول اللہ کے زمانے میں اس قسم کی اور بھی مثالیں ملتی ہیں۔ فتح مکہ کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مختلف علاقوںمیں تبلیغی و فود بھیجے تھے ۔مثلاًآپ نے اپنے دو صحابہ حضرت ابو موسی اور حضرت معاذ بن جبل کو اسلام کی تبلیغ کے لیے یمن بھیجا۔ ان دونوں کو بھیجتے ہوئے آپ نے یہ نصیحت کی’’تم لوگ آسانی پیدا کرنا مشکل پیدا نہ کرنا، تم لوگ خوش خبری دینا، لوگوں کو متنفر نہ کرنا (یَسِّرَا وَلاَ تُعَسِّرَا، وَبَشِّرَا وَلاَ تُنَفِّرَا) ‘‘صحیح البخاری، حدیث نمبر 3038 ۔انھوں نے انتہائی نرمی سے لوگوں سے بات چیت کی۔ تمام لوگ متاثر ہوگئے، اور پیغمبر اسلام کے سچے ساتھی بن گئے۔
لیکن موجودہ دور میں معاملہ بالکل برعکس ہے۔ میری ایک دوست بتا رہی تھیں کہ انھوں نے اپنے بچے کے لیے ایک مولوی صاحب کو لگایا کہ وہ ان کو دین اسلام کی باتیں بتائیں۔ لیکن وہ آتے ہی بچوں کو جہنم سے ڈرانے لگے، ان کو ڈوز اینڈ ڈونٹز (do’s and don’ts) کی زبان میں دین کی باتیں بتانے لگے ۔یہ بچے انگلش اسکول کے پڑھنے والے تھے، ان کو اس قسم کی باتیں سمجھ میں نہیں آئیں، انھوں نے مولوی صاحب سے پڑھنے سے انکار کردیا ۔ اگر مولوی صاحب ان کو پیراڈائز کی باتیں بتاتے، دین کی باتوں کو ریزن آؤٹ کرکے بتاتے تو ان کے اندر دلچسپی پیدا ہوتی، اور وہ مولوی صاحب کی باتوں کو سمجھتے ۔ تو یہی وہ حکمت ہے،جس کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا کہ تم لوگ آسانی پیدا کرو، مشکل پیدا نہ کرو، لوگوں کو خوشخبری دو ،ان کو متنفر نہ کرو۔
اسلام دین فطرت ہے، وہ ہر آدمی کی فطرت کی آوازہے۔ اسلام کو قابلِ قبول بنانے کے لیے صرف اتنی بات کافی ہے کہ لوگوں سے معتدل تعلقات قائم کیے جائیں۔ اور اسلام کے مثبت پیغام سے انھیں با خبر کردیا جائے۔قرآن کی سورہ الاحزاب میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو خطاب کرتے ہوئے دعوت کے آداب بتائے گئے ہیں۔ اس کاایک جزء یہ ہے’’ان کے ستانے کو نظر انداز کرو، اور اللہ پر بھروسہ رکھو، اللہ بھروسے کے لیے کافی ہے (وَدَعْ أَذَاہُمْ وَتَوَکَّلْ عَلَى اللَّہِ وَکَفَى بِاللَّہِ وَکِیلًا)33:48۔ ‘‘
اس آیت کے مطابق، جب کوئی آدمی دعوتی کام کرے گا تو ضرور ایسا ہوگا کہ مدعو کی طرف سے زیادتیاں پیش آئیں گی۔ داعی کے لیے ضروری ہے کہ ان زیادتیوں کو نظر انداز کرے۔ مدعو اگر ہماری دعوت کو سن کر ردِ عمل کا اظہارکرتا ہے تو اسے اعراض کرتے ہوئے ہمیں اپنی دعوتی مہم کو جاری رکھنا ہے۔
قرآن کی سورہ طٰہٰ آیت 44میں بتایا گیاہے کہ اللہ تعالی نے جب حضرت موسی کو فرعون کی طرف اپنے پیغام کے ساتھ بھیجا تو ان کو بطور خاص یہ حکم دیا تھا’’پس اس سے نرمی کے ساتھ بات کرنا، شاید وہ نصیحت قبول کرے یا ڈر جائے۔‘‘ اب آپ سوچیے کہ ایسا جابر اور ڈکٹیٹر حکمراں، جس نے سب سے بڑا رب ہونے کا دعوی کیا تھا ۔ اس نے کہا تھاأَنَا رَبُّکُمُ الْأَعْلَى(79:24)۔یعنی، میں تمھارا سب سے بڑا رب ہوں۔ اس کے بارے میں بھی اللہ تعالی کہہ رہے ہیں کہ اس سے نرمی سے بات کرنا، جب کہ اللہ تعالی کے علم میں سب کچھ تھا کہ وہ سرکش ہے اور خدا کے پیغام کوماننے والا نہیں، پھر بھی اللہ نے اس کے ساتھ نرمی اختیار کرنے کا حکم دیا۔
لہٰذاداعی کے لیے ضروری ہے کہ وہ خدا کو بہت زیادہ یاد کرے اور وہ یہ سمجھ کر دعوت کا کام کرے کہ وہ خدا کا کام کررہا ہے۔ تو خدا کے کام میں اگر اس کو کوئی تکلیف پہنچے، کوئی مسئلہ پیدا ہوتاہے تو وہ ری ایکٹ نہیں کرے گا، وہ ہر حال میں خوشی خوشی کام کرے گا کہ اس نے اپنے رب کے لیے کام کیاہے۔ اگر آسانی سے کام ہوجاتا تو اس کا اتنا ثواب نہیں ہوتا۔ لیکن جب اس کے لیے کچھ مصیبت اٹھانا پڑے، کچھ تکلیف اٹھانا پڑے تو اس کا ثواب بہت زیادہ ہوگا۔
نرمی اس لیےہےکہ مدعو بھی انسان ہی ہے، اس کا غصہ جو دکھائی دیتا ہے وہ اس کا اوپری اوپری رویہ ہوتا ہے، اس کی اندرونی فطرت میں وہ صلاحیت موجود رہتی ہے کہ کوئی حق بات اگر معقول انداز میں کہی جائے تو اس کی فطرت اس کو مجبور کرے گی کہ وہ اس پر ٹھنڈے دل سے غور کرے۔ اس کے برعکس، اگر ہم بھی غصہ ہونے لگیں، ہم بھی اپنے ایگو سے مغلوب ہوکر کوئی ردعمل ظاہر کریں تو مدعو کا کانشنس نہیں جاگےگا، تاکہ وہ ایک ریشنل اور لاجیکل بات کو مان لےجو اس کی فطرت کی آواز ہے ۔ اس کو ایک ضد ہوجائے گی، اوروہ بات کو نارمل طریقےسے نہیں لے پائے گا۔
ایک بار میں نئی دہلی کے ایک پارک میں گئی ، جس کا نام لودھی گارڈن ہے۔ وہاں میں نے قرآن اور لٹریچر ایک سردار جی اور ان کی فیملی کو دینا چاہا۔ سردار جی نےسختی سے کہا کہ ہم کیوں لیں آپ کی کتاب، کیا آپ ہماری کتاب پڑھتی ہیں۔ ہم نے کہا کہ ہم ہرچیز پڑھتے ہیں آپ دیجیے۔ پھر انھوں نے کہ آپ ’ست سری اکال‘ کہیں گے۔ ہم نے کہا کہ ہاں ہم کہیں گے، ہم نے دہرا دیا۔ اسی طرح سے انھوں نے اپنے مذہب کی کئی باتیں پوچھیں ،اب وہ مجھے یاد نہیں، میں نے نرم انداز میں سب کا جواب دیا۔وہ لوگ بہت خو ش ہوگئے۔ سب نے ہماری کتابیں بہت خوشی خوشی لیں۔
قرآن کی سورہ النساء میں پیغمبر اسلام سے خطاب کرتے ہوئے کہا گیا ہےکہ جوتمھارے مخالفین ہیں، تم ان سے اعراض کرو اور ان کو نصیحت کرو، اور ان سے ایسی بات کہو جو ان کے دلوں میں اتر جائے(4:63)۔ "مخالفین سے اعراض کرو"کا مطلب یہ نہیں ہے کہ بحیثیتِ انسان ان کو کمتر سمجھ کر نظرانداز کرو، بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ ان کی مخالفت پر ری ایکٹ نہ کرو۔ یعنی مخالفت کا منفی اثر نہ لو۔ اور اگر تم نے ذرا بھی بحث ومباحثہ کیاتو ڈسکشن کا موضوع بدل جائے گا۔ اسی لیے اپنے موضوع پر قائم رہنے کے لیے ہمیں اعراض کرنا چاہیے، اسی وجہ سے بہت زیادہ اعراض کی تلقین کی گئی ہے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسلسل اعراض کرتے تھے، آپ کے صحابہ اعراض کرتے تھے۔ اِس کے لیے سب سے بڑی ضرورت یہ ہے کہ اپنی انا (ego) کو کنٹرول کیا جائے۔ اس کے بعد دعوت کے باقی سارے آداب خود بخود پیداہوجائیں گے۔
قرآن کی سورہ النحل میں ارشاد ہوا ہے کہ ’’اپنے رب کے راستے کی طرف حکمت اور اچھی نصیحت کے ساتھ بلاؤ اور ان سے اچھے طریقے سے بحث کرو‘‘ (16:125)۔ بحث (جدال احسن )کا مطلب ہےڈسکشن اور ڈائلاگ ۔ اچھے طریقے سے بحث کرو، یعنی اگر وہ غیر ضروری بحث کریں تب بھی تمہارا انداز نرم رہے۔ وہ ٹیڑھی بات کریں، تب بھی اس کا جواب سیدھے طریقے سے دیا جائے۔ ان کے سخت الفاظ سن کر بھی اپنی زبان سے نرم الفاظ نکالنا ہے۔ اگر دوسرا پرووک (provoke)کرنا چاہے تو بھی داعی کو پرووک نہیں ہونا ہے۔یہ داعی کا کردار ہے کہ مدعو کی طرف سے پیش آنے والی ہر تکلیف پر صبر کرے۔ مدعو سے حساب چکانے کے بجائے ایسے تمام معاملات کو خدا کے خانے میں ڈال دے۔ جو انسان صحیح معنی میں اللہ سے ڈرنے والا ہوتا ہے اس کے اندر یہ کردار پیداہوجاتا ہے ۔ اس کو یہ گہرا یقین ہوتاہے کہ یہ خدا کا پیغام ہے اور وہ خدا کے لیے یہ کام کررہا ہے تو اس کو ہر حالت میں اس کام کو بحسن خوبی انجام دینا ہے۔
ہر پیغمبر نے یہی کہا کہ میں تمہارے لیے ناصح ہوں اور امین ہوں۔ ناصح کالفظی مطلب ہے خیرخواہ، اور امین کا مطلب ہے امانت دار۔ خیر خواہی کا مطلب یہ ہے کہ وہ دوسرے کا ہمدرد ہو، وہ اس کا بھلا چاہنے والا ہو۔منصوبۂ تخلیق کے مطابق، وہ تمام انسانوں کو پرامن انداز میں ہدایت پہنچانے کا حریص ہو۔ یہ خیر خواہی اس کو مجبور کرتی ہے کہ وہ مدعو کی منفی روش سے بے پروا ہو کر یک طرفہ طور پر اس کی ہدایت کا حریص بنا رہے۔چنانچہ داعی اپنی تنہائیوں میں مدعو کے لیے دعا کرتاہے۔ وہ سوچتا ہے کہ میں کون سا انداز اختیار کروں کہ میری بات مدعو کے لیے زیادہ سے زیادہ قابلِ فہم ہوجائے۔ یہ ساری چیزیں اسی وجہ سے ہیں کہ اس کے اندر انسانی ہمدردی کا بہت گہرا جذبہ ہوتا ہے ۔ یہ چیز اس کو مدعو کی زیادتیوں کو نظر انداز کرنے والا بناتی ہے۔ اگر مدعو کڑوا بول بولے تب بھی داعی میٹھا بول بولتاہے۔اس بات کو آپ اس طرح سمجھ سکتے ہیں کہ جیسے اپنا بچہ ہوتا ہے کتنا ہی غلط کام کرے تو اسے نرمی سے سمجھایا جاتا ہے ،سختی نہیں کی جاتی ہے۔کیونکہ ماں باپ کو بچوں سے جو گہرا تعلق ہوتا ہے وہ والدین کو مجبور کرتا ہے کہ وہ بہت نرمی سے اپنے بچے کو سمجھائیں، تاکہ بات اس کے دل میں اتر جائے۔
یہی معاملہ داعی اور مدعو کا ہے۔ داعی کے دل میں مدعو کی شفقت اتنی بڑھی ہوئی ہونی چاہیے کہ وہ کسی بھی حال میں مدعو سے نفرت نہ کرے ۔ہر حال میں وہ اس کی ہدایت کا حریص ہو، تنہائیوں میں وہ اس کے لیے دعا کرے۔ایسی دعا ضرور قبول ہوتی ہے۔ ایسے بہت سے واقعات ہیں کہ دعا کرنے کے بعد جب دعوت دی گئی تو ان کے دل میں بات اتر گئی۔ مثلاً ابوہریرہ کی ماں کا واقعہ جو صحیح مسلم (حدیث نمبر 2491)میں بیان کیا گیا ہے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اور صحابہ کی پوری زندگی میں طرح طرح کی مثالیں پائی جاتی ہیں۔ ایک کتاب ہے حیاۃ الصحابہ، اس کے مصنف مولانا زکریا کاندھلوی صاحب ہیں۔ اس میں صحابہ کے بہت سے واقعات ہیں، یعنی وہ کتنا زیادہ اس بات کے لیے بے چین رہتے تھے کہ لوگوں کو کیسے ہدایت کا پیغام پہنچا یا جائے۔کیونکہ وہ یہ سمجھتے تھے کہ یہ خدا کا پیغام ہے اور اس کے پہنچانے پر ان کو خدا کے یہاں کتنا زیادہ اجر ملے گا۔ ان کے سامنے خدا اور اس کی جنت ہوتی تھی۔ اسی لیے وہ بے چین رہتے تھے کہ اس پیغام کولوگوں تک ہر حال میں پہنچانا ہے۔
سادگی ، سنسیرٹی (sincerity)، ماڈسٹی (modesty)اور انسانی خیرخواہی اور لوگوں کے ساتھ مل جل کر رہنا۔ یہ نمونے ہیں جو ہمیں صحابہ کی زندگیوں میں ملتے ہیں۔اس کے لیے صرف یہ شرط ہے کہ داعی اپنی انا کو ختم کردے، تواضع کے ساتھ رہے، اورسادگی (simplicity) کا طریقہ اپنائے ۔ صحابہ کرام نے اپنے زمانے میں دنیا کے بڑے حصے میں لوگوں کو اسلام کا پیغام پہنچا دیا تھا۔ان کی سادگی اور تواضع کو دیکھ کر لوگ متاثر ہوجاتے تھے۔ ان صفات کو ہمیں اپنی زندگی میں اپنانا ہوگا۔ ایک اچھا داعی بننے کے لیے یہ صفات نہایت ضروری ہیں۔ آج لوگ اپنے اور غیر (we and they) کی نفسیات میں جیتے ہیں۔ یہ روش خیر خواہی کی قاتل نفسیات ہے، یہ دعوتی عمل کے لیے انتہائی نقصان دہ روش ہے۔
ابتدائے اسلام میں جب مسلمان انڈیا آئے، تو وہ سب سے پہلے کیرالا آئے۔ وہاں انھوں نےقومی شناخت کے نام پر اپنے آپ کو مقامی آبادی سے الگ نہیں کیا، بلکہ وہ مقامی لوگوں سے مل جل کر رہے ، یہاں تک کہ انھوں نے مقامی عورتوں سے شادیاں بھی کیں۔ اس وجہ سے وہاں پر ان کے لیے خدا کا پیغام پہنچانابہت آسان ہوگیا ۔ اگر وہ اپنا الگ کلچر چلاتے، اپنے اور غیر کی نفسیات میں جیتے، جیسے آج کل مسلمان اپنا الگ کلچر چلاتے ہیں تو صحابہ قدیم دور میں دعوت کا کام نہیں کرپاتے۔ اپنے اور غیر کی نفسیات سے دوریاں بڑھتی ہیں۔ اس لیے ہمیں واپس جانا ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ، اور ان کے صحابہ کی زندگیوںکو جاننا ہے، وہاں سے اپنے لیے عملی نمونہ تلاش کرنا ہے۔ آج کے قومی رہنماؤں میں ایسی مثالیں نہیں ملیں گی ۔ وہاں آپ کو حقیقی اسلام نہیں ملے گا۔ اس وجہ سے آپ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت کو پڑھنا چاہیے،صحابہ کی زندگیوں کو پڑھنا چاہیے۔ اس سے آپ کی سمجھ میں آجائے گا کہ داعیانہ کردار کیا ہوتا ہے۔ (ڈاکٹر فریدہ خانم)
واپس اوپر جائیں

خبرنامہ اسلامی مرکز- 277

■ سی پی ایس انٹرنیشنل دہلی سے ہفتہ وار پروگرام کا سلسلہ جاری ہے جیسا کہ مولانا وحید الدین خاں صاحب کی حیات میں جاری تھا۔ یہ پروگرام اتوار کے دن ساڑھے دس بجے فیس بک (fb.com/maulanawkhan)پر لائیو دیکھا جاسکتا ہے۔ اس میں ڈاکٹر فریدہ خانم اور ڈاکٹر ثانی اثنین خان خطاب کرتے ہیں۔ 5 جون 2022 کو ڈاکٹر ثانی اثنین خان صاحب نے "پیغمبر یوسف کے قصہ کا سبق" کے عنوان سے خطاب کیا۔
■ گڈورڈ بکس، نئی دہلی نے دنیا کی 30 سے زیادہ زبانوں میں تراجم قرآن کے علاوہ بریل ترجمۂ قرآن بھی شائع کیا ہے۔ سی پی ایس دہلی کے ممبرمسٹر محمد عمار نے 7 دسمبر 2021 کو بلائنڈ ریلیف ایسوسی ایشن، نئی دہلی کی لائبریری کے لیے ایک بریل قرآن بطور گفٹ دیا۔ تاکہ وہ لوگ بھی خدا کے پیغام سے باخبر ہوں، جو دیکھنے کی صلاحیت سے محروم ہیں۔
■ دعوت امت مسلمہ کا مشن ہے۔ یہ عمل شعوری منصوبہ بندی چاہتا ہے۔ شعوری منصوبہ بندی کا مطلب ہے دعوت کو اپنی زندگی میں شامل کرلیا جائے۔اس تعلق سے یہاں ایک تجربہ کا ذکر کیا جاتا ہے۔21 اکتوبر 2021شہر وانمباڑی( تمل ناڈو) سے ایک صاحب کا کال آیا۔ انھوں نےبتایاکہ علاج کےلیے میرا ایک غیر مسلم ڈاکٹر سے اپوائٹمنٹ ہےاور میری خواہش ہے کہ میں انھیں انگریزی ترجمۂ قرآن دوں۔ اگر آپ کے پاس سعودی عرب کا انگریزی ترجمہ قرآن اویلیبل ہو تو برائے مہربانی مجھے ایک عدد دیجیے۔ یاددہانی کے لیے انھوں نے کئی مرتبہ فون بھی کیا۔ بہت تلاش کے بعد وہ ترجمۂ قرآن مل سکا۔ ویسے سی پی یس انٹرنیشنل کی جانب سے کئی زبانوں میں تراجم قرآن دستیاب ہیں۔مگر ان کے جذبے اور مطالبے کی قدر کرتے ہوئے میں سعودی عرب سے چھپے ہوئے قرآن کی تلاش میں تھا۔ جب مجھے یہ نسخہ مل گیا تو میںنے یہ کیا کہ گڈورڈ بکس سے طبع شدہ ترجمۂ قرآن بھی ساتھ لے گیا ۔ اورسعودی والے ترجمۂ قرآن کے ساتھ میں نے سی پی ایس کے ترجمۂ قرآن کی ایک کاپی بھی ان کو دی۔ وہ بہت خوش ہوئے اورکہا کہ سی پی ایس کا ترجمۂ قرآن ہینڈی اوربہت خوبصورت ہے۔ کیا اس کی مزید کاپیاںمجھے مل سکتی ہیں۔میں نے اس ترجمۂ قرآن کی مزید کاپیاں اور وہاٹ از اسلام نامی کتاب ان کو دے دی۔
اس واقعہ سے میری سمجھ میں آیا کہ دعوت کی شعوری منصوبہ بندی کا مطلب کیا ہے۔ یعنی ہم دنیا میں جہاں کہیں بھی ہوں، علاج ہو یا تجارت یاکوئی اور معاملہ، غیرمسلموںسے ہمارا تعلق لازمی طور پر قائم ہوتاہے۔ اگر پیشگی طور پر ہم کچھ پرنٹڈ دعوتی لٹریچرمثلاً ترجمہ قرآن ، وغیرہ اپنے پاس رکھ لیں تو ہر مسلم اپنا دعوتی رول ادا کرسکتا ہے۔ کیوں کہ مدعو تک خدا کا پیغام ، یعنی قرآن پہنچانا داعی کی ذمہ داری ہے۔مگر خدا کے پیغام کو ماننا یا اس کا انکار کرنا مدعو کے ہاتھ میںہے ۔ آپ کے پاس جو بھی ترجمۂ قرآن میسر ہو اس کو دینے کی کوشش کریں۔ شرط صرف یہ ہے کہ وہ مدعو کی قابلِ فہم زبان میں ہو۔ اگر امت مسلمہ اس دور میں صرف اتنا کام کردے تو یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے حجت تمام کرنے کے مترادف ہوگا (مولانا اقبال احمدعمری، عمرآباد، تامل ناڈو)۔
■ السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ، طارق بدر صاحب! اللہ تعالی آپ کو ڈھیر ساری خوشیاں نصیب کرے۔ کیوںکہ آپ مولانا وحید الدین صاحب کے مشن کو عام کرنے میں سرگرم ہیں۔ اللہ ہمیں بھی توفیق دے کہ ہم اس مشن کو دنیا کے کونے کونے تک پہنچائیں۔ اپنے ذاتی تجربہ کی بنیاد پر میں کہہ سکتا ہوں کہ اس میں ہماری فلاح ہے۔ جس طرح مولانا صاحب کو پڑھتے ہوئے میرے ایمان کو تقویت ملتی ہے، کسی اور عالم دین کو پڑھنے سے اس طر ح مجھے ایمانی تقویت نہیں مل پاتی ہے۔ میں مولانا صاحب کی فکر سے میں بہت زیادہ متاثر ہوں۔ اس لیے میں چاہتا ہوں کہ میں مولانا کی تعلیمات کو عام کروں۔ آج کے فتنہ وفساد والے دور میں میں مستقل طور پر اپنے آپ کو ان کی تعلیمات کو پھیلانے کے لیے لگانا چاہتا ہوں ۔ اس کے لیے مجھے آپ کے تعاون کی ضرورت ہے۔ میں چاہتا ہوں کہ آپ مجھے مولانا کی بنیادی فکر رکھنے والی تصانیف بھیج دیں(سجاد حمزہ، بونیر،کے پی کے)۔
■ الرسالہ ( اکتوبر - دسمبر 2021) مطالعہ کرنے کا موقع ملا ۔اس میں ایک مضمون ہے ’’الحاد یا ڈی کنڈیشننگ‘‘ ۔ یہ ایک مبنی بر حقیقت اور حکمت سے بھر پور مضمون ہے۔ اس مضمون میں جو کچھ کہا گیا ہے اس روشنی میں اپنے کچھ دعوتی تجربات شیئر کر رہا ہوں۔ گزشتہ رمضان میں قرآن کی کافی تعداد میں ریکوسٹ موصول ہوئیں۔ ناگپور ٹیم نے کچھ قرآن بذریعہ پوسٹ بھیج دیےاور بہت سے قرآن میں نے ساجد احمد خان صاحب کے ساتھ مل کر ذاتی طور پر پہنچائے۔ قرآن کی ریکوسٹ زیادہ تر سیکولر تعلیم حاصل کرنے والے اعلیٰ تعلیم یافتہ نوجوان لڑکیوں اور لڑکوں کی تھیں۔ اس میں لڑکیوں کی تعداد زیادہ تھی۔ ہمیں یہ دیکھ کر خوشی ہوئی کہ ان نوجوانوں میں قرآن کو سمجھنے کی چاہ بہت زیادہ ہے۔ اس لیے انہوں نے قابلِ فہم زبان میں قرآن کا مطالبہ کیا۔ بعض لڑکیوں نے تو یہاں تک کہا کہ ہماری تعلیم انگریزی زبان میں ہوئی ہے۔ قرآن کے ترجمے زیادہ تر اردو زبان میں ہیں، اس لیے قرآن کو سمجھنے کے لیے ہم نے اردو زبان سیکھی۔ اس تجربے سے مولانا صاحب کی اس بات کی تصدیق ہوتی ہے کہ ’’ ماڈرن ایجوکیشن کے ادارے اپنی حقیقت کے اعتبار سے ’ قتل گاہ‘ نہیں ہیں، بلکہ وہ تطہیر ذہن (ڈی کنڈیشننگ ) کے ادارے ہیں۔ ذہنی تطہیر کے اس عمل کی بنا پر ایسے لوگ اس قابل ہوگئے ہیں کہ وہ کسی بات کو زیادہ کھلے ذہن کے ساتھ سمجھ سکیں‘‘۔ بعض نوجوانوں سے گفتگو کے دوران یہ اندازہ ہوا کہ آبائی طور پر ملا ہوا مذہب شاید ان کے مائنڈ کو ایڈریس نہیں کر پا رہا ہے اور وہ اپنے مائنڈ کی ری انجینئرنگ کرکے اسلام کو ری ڈسکور کرنا چاہتے ہیں۔ مطلب یہ کہ بقول مولانا صاحب ’’ان کے گھر اور ان کے ماحول نے ان کے اندر اپنے آبائی مذہب کے لیے جو عقیدت پیدا کی تھی، اس کو جدید تعلیم نے ختم کر دیا، گویا کہ ان کی فطرت کے اوپر جو روایتی پردہ پڑگیا تھا، وہ ہٹ گیا اور وہ اپنی اصلی فطرت کے قریب آگئے‘‘۔ چنانچہ ناگپور ٹیم نےیہ پلان بنایا ہے کہ زیادہ سے زیادہ نوجوانوںتک سی پی ایس مشن کو پہنچایا جائے۔ قرآن کے لیے ریکوسٹ کرنے والے ان نوجوانوں کا ایک واٹس اپ گروپ بنایا گیا ہے جس میں مولانا وحید الدین خاں صاحب کے آڈیوز، وڈیوز اور مضامین شیئر کیے جاتے ہیں، جس سے ان کو مزید فائدہ حاصل ہوتا ہے (محمد عرفان رشیدی، کامٹی، ناگپور)۔
■ 1 نومبر 2021 سی پی ایس امریکا کے ایک ممبر نے ہارورڈ ڈیونٹی اسکول کیمبرج، بوسٹن کے سامنےتقسیم قرآن کا ایک اسٹال لگایا۔ کافی لوگ اسٹال پر آئے اور ترجمۂ قرآن اور اسلام کے تعارف پر مبنی لٹریچر حاصل کیا۔ایک اکیڈمک اسٹاف نے بتایا کہ وہ مولانا وحید الدین خاں صاحب کو پہلے سے جانتے ہیں، اور ان کی کتابیں پڑھ چکے ہیں (خواجہ کلیم الدین، امریکا) ۔
ث بتاریخ 5دسمبر سے 10 دسمبر 2021 تک آندھرا پردیش کے چند علاقوں ،بھیماورم، نڈدول، راجمندری، تانوکو اور وشاکھاپٹنم کادورہ ہوا، اورعلماحضرات سے ملاقاتیں ہوئیں۔ ان تمام حضرات کے ساتھ سی پی ایس مشن کے تعلق سے گفتگو ہوئی ۔ٹرین میں ایک خوشگوار تجربہ پیش آیا۔ اس بنا پرہم سفر غیر مسلموںکے درمیان آسانی سے دعوتی کام کا موقع ملا۔ ہوا یہ کہ ٹرین میں میرے پڑوس کی سیٹ پر کچھ غیر مسلم مسافر تھے۔ وہ یہ چاہتے تھے کہ میری سیٹ وہ لے لیں، اور مجھے کوئی اور سیٹ دیں۔ مگر مجھے دیکھ کر وہ کہنے میں جھجک رہے تھے۔ میں نے ان کے ارادہ کو سمجھ کر فوراً ان سے کہا کہ آپ پریشان نہ ہوں آپ جیسا چاہتے ہیں، وہ میں کردیتا ہوں ۔میں آپ کے لیے نوپرابلم پڑوسی بن کر رہوں گا۔یہ سن کر وہ بہت زیادہ خوش ہوئے، اور تمام لوگ میرے دوست بن گئے۔ انھوں خوشی خوشی میری باتیں سنی، اورترجمۂ قرآن کریم ، اور دیگردعوتی لٹریچر قبول کیا۔وشاکھاپٹنم میںسی پی ایس مشن کے ممبران عبد المبین صاحب، نورمحمد صاحب، ڈاکٹر یاسین اور عبدالشکور صاحب ان تمام سے ملاقات ہوئی۔ سب نے اپنے دعوتی تجربات بتائے اور خدا کے پیغام، قرآن کو ساری انسانیت تک پہنچانے کا ازسر نوعہد کیا۔ان حضرات سے جو گفتگو ہوئی وہ یہ تھی کہ دعوت میں استقامت کی ایک ہی شرط ہے۔ یعنی ہماری ذمہ داری یہی ہے کہ مدعو تک قرآن کا پیغام پہنچایا جائے اور ان کی ہدایت کے لیےاللہ سے دعا کرتے رہیں۔اس حقیقت کو ہم اصولی طور پر اچھی طرح جان لیں۔ اگراس سے زیادہ کوئی نتیجہ ہم چاہتے ہوں تو ہمیں مایوس ہونا پڑے گا ۔ کیوں کہ قرآن (28:56) کے مطابق، دعوت وتبلیغ ہماری ذمہ داری ہے ، مگرہدایت دینا اللہ کا معاملہ ہے۔ (مولانا اقبال احمدعمری، عمرآباد، تامل ناڈو)۔
ث 25 دسمبر 2021 کوکرسمس کے موقع پر گلمرگ میں سیاحوں کی کافی بھیڑ تھی۔ اس مناسبت سے سی پی ایس کشمیر کےتین ممبر ان حمید اللہ حمید صاحب، اعجاز احمد صاحب، اور مختار احمد صاحب گلمرگ گئے اور سیاحوں کے درمیان تراجم قرآن اور دیگر دعوتی لٹریچرتقسیم کیا ۔کافی اچھا رسپانس ملا ۔ گلمرگ کلب میں ایک ہفتہ کا Christmas and New year festival رکھا گیا تھا ،جس میں کثیر تعداد میں ممتاز شخصیات شریک ہوئے تھے۔ ان سب کو دعوتی لٹریچر پیش کیا گیا جو انہوں نےانتہائی خوشی اور شکریہ کے ساتھ قبول کیا۔
■ سی پی ایس (سہارنپور) کی ایک ٹیم نے ڈاکٹر محمد اسلم خان کی قیادت میں 31 مارچ 2022 کو نگینہ، دھام پور اور دیوبند کا دورہ کیا۔ دھام پور میں مختلف لوگوں سے ملاقاتیںہوئیں۔ مثلاً جناب ماہتاب صاحب (ممبر سی پی ایس دھام پور)، ڈاکٹر سکندر، ڈاکٹر ورما، ڈاکٹر سمن، ڈاکٹر آصف، مسٹر ارشاد ملتانی، مسٹر شاہنواز زیدی، ایڈووکیٹ نوید، اور مسٹر جاوید، وغیرہ۔ ان تمام لوگوں کے ساتھ سی پی ایس مشن کو لے کر گفتگو ہوئی، اور ان کو دعوتی لٹریچر دیا گیا۔ پھر وہاں سے دارالعلوم دیوبند میں جانا ہوا۔ وہاں کی لائبریری میں مولانا وحید الدین خاں صاحب کی کتابوں کا سٹ دیا گیا۔ اس کے علاوہ دیوبند میں موجود دیگر علما کرام سے ملاقاتیں ہوئیں۔
واپس اوپر جائیں