Pages

Monday, 1 March 2021

Al Risala | March 2021 (الرسالہ،مارچ)

4

-ڈائری سے انتخاب

48

- ایک داعی کی یاد میں


ڈائری سے انتخاب

30 مئی 1985
قدیم یونانی سوانح نگار اور فلاسفر پلوٹارک (Plutarch)کا ایک قول ہے، جس کا ترجمہ انگریزی زبان میں ان الفاظ میں کیا گیا ہے:
Courage consists not in hazarding without fear, but in being resolutely minded in a just cause.
یعنی ہمت اس کا نام نہیں کہ آدمی کسی مشکل میں بے خطر کود پڑے۔ بلکہ ہمت یہ ہے کہ آدمی ایک صحیح مقصد میں مستقل ارادہ کے ساتھ لگا ہو ۔
اکثر لوگ ہمت اور بے جا جوش میں فرق نہیں کرتے۔ یہی وجہ ہے کہ اکثر لوگ بے جا جوش کے تحت ظاہر ہونے والے واقعہ کو ہمت کا واقعہ سمجھ لیتے ہیں۔ حالاں کہ دونوں ایک دوسرے سے مختلف ہیں۔ہمت کے تحت اقدام سوچا سمجھا اقدام ہوتاہے اور بے جا جوش کے تحت اقدام محض وقتی جذبہ سے بھڑک کر کیا جانے والا اقدام۔ اول الذکر اپنی منزل کی طرف کامیاب سفر ہے، اور ثانی الذکر صرف بربادی کی خندق میںاحمقانہ چھلانگ ۔
31 مئی 1985
سمندر میں بڑی مچھلیاں چھوٹی مچھلیوں کو دوڑاتی ہیں۔ جنگل میں ہر وقت چھوٹے جانوروں کو بڑے جانوروں کا ڈر لگا رہتا ہے۔ یہی خدا کا نظام ہے۔ اگر مچھلیاںاور جانور خدا سے اس کی شکایت کریں تو خدا کا جواب یہ ہوگا:
میں نے جو سمندر اور جو جنگل بنائے ہیں وہ تو ایسے ہی ہیں۔ اگر تمھیں وہ منظور نہ ہوںتو تم اپنی مرضی کے مطابق دوسرے سمندر اور دوسرے جنگل بنالو۔
یہی معاملہ انسانوں کا ہے۔ انسانوں کی دنیا میں بھی ہمیشہ یہ مقابلہ (competition) جاری رہا ہے، او رجاری رہے گا۔ اس مقابلہ کی وجہ سے کوئی گِرتا ہے ،اور کوئی اٹھتا ہے۔ کسی کو جیت ملتی ہے، اورکسی کو ہار۔ انسان کے لیے لازم ہے کہ وہ اس سے مطابقت کرکے رہے۔ جو لوگ اس کو پسند نہ کریں، ان کے لیے دنیا کا نظام بدلا نہیں جاسکتا۔ ان کے لیے صرف ایک ہی راہ ہے، اور وہ یہ کہ وہ اپنی مرضی کے مطابق نئی دنیا تخلیق کریں۔ خدا کی دنیا میں تو ایسا ہونا ممکن نہیں۔
1 جون 1985
انسان کی اعلیٰ ترین تعریف میرے نزدیک یہ ہے کہ وہ دلیل کے آگے جھک جائے، وہ طاقت کے بغیر محض دلیل کی بنیاد پر حقیقت کا اعتراف کرلے۔
مگر میری زندگی کا سب سے زیادہ تلخ تجربہ یہ ہے کہ آدمی دلیل کے آگے نہیں جھکتا۔ وہ صرف طاقت کے زور کو جانتا ہے، وہ دلیل کے زور کو نہیں جانتا۔موجودہ دنیا میں آدمی دلیل کا انکار کرکے خوش ہوجاتا ہے، اور طاقت کا اعتراف کرکے اپنے کو عقل مند سمجھتا ہے۔ مگر یہ اتنا بڑا جرم ہے جو سب سے زیادہ خدا کے غضب کو دعوت دینے والا ہے۔
جو لوگ موجودہ دنیا میں دلیل کے آگے نہ جھکیں، وہ اپنے آپ کو اس خطرے میں مبتلا کرتے ہیں کہ آخرت کی دنیا میں انھیں فرشتوں کی طاقت کے آگے جھکایا جائے۔ مگر اُس دن کا جھکنا کسی کے کچھ کام نہ آئے گا۔ دلیل کے آگے جھکنا آدمی کے لیے جنت (Paradise)کا دروازہ کھولتا ہے۔ جب کہ طاقت کے آگے جھکنا صرف اس لیے ہوتا ہے کہ آدمی کو مجبور کرکے جہنم کے گڑھے میںدھکیل دیا جائے۔
دلیل کے آگے جھکنا خدا کے آگے جھکنا ہے۔ جو لوگ دلیل کے آگے نہ جھکیں، وہ گویا خدا کے آگے سرکشی کررہے ہیں۔ جو لوگ خدا کے آگے سرکشی کریں ، اور پھر اسی حال میں مر جائیں ،ان کو خدا کبھی معاف نہیں کرے گا۔
3 جون 1985
موجودہ دنیا کی تمام خرابیوں کی جڑ آزاد خیالی ہے۔ موجودہ زمانہ کے مفکرین آزادی کو خیر اعلیٰ (summum bonum) کہتے ہیں۔مگر یہی سب سے بڑا خیر سب سے بڑا شر بن گیا ہے۔ آزادی کے اس تصور نے انسان کو بالکل بے قید بنا دیا ہے۔ وہ کسی قسم کی اخلاقی پابندی کو اپنے لیے ضروری نہیں سمجھتا۔ اور جو لوگ اپنے آپ کو اضافی پابندیوں سے آزاد سمجھ لیں وہ جنگل کے جانوروں سے بھی زیادہ برے بن جاتے ہیں۔
آزادی کے نام پر پیدا شدہ اس بگاڑ کا سب سے زیادہ برا حصہ مسلمانوں کے حصے میں آیا ہے۔مسلمان اپنی قدیم تاریخ کے نتیجہ میں جھوٹے فخر کی نفسیا ت میں مبتلا تھے۔ جدید دور کی بے قید آزادی نے ان کے فکری زوال میں دُگنا اضافہ کردیا— آزاد خیالی اور پُر فخر نفسیات۔ یہ دونوں چیزیںجب یکجا ہوجائیں تو برائی اس آخری حد پر پہنچ جاتی ہے جس کے آگے اس کی کوئی اور حد نہیں۔
4 جون 1985
تقریباً1950 کی بات ہے۔ اس وقت میںاپنے بڑےبھائی کے کارخانہ لائٹ اینڈ کمپنی (قائم شدہ 1944)سے وابستہ تھا، اور کارخانہ کی ضرورت کے تحت اعظم گڑھ سے بنگلور جارہا تھا۔ اس لمبے سفر کے دوران میرے اندر ایک تجربے کا خیال پیدا ہوا۔ وہ یہ کہ میں کتنی زیادہ دیر تک بھوکا رہ سکتا ہوں۔ میںنے اس پر عمل شروع کردیا۔ ٹرین اسٹیشنوں پر رکتی۔ لوگ اتر کر کھاتے پیتے۔ مگر میں مسلسل فاقہ کررہا تھا۔ یہ فاقہ سراسر اختیاری تھا۔ کیوں کہ میری جیب میں اس وقت کافی رقم موجود تھی۔
کئی وقت کے فاقے کے بعد مجھے کافی کمزوری محسوس ہونے لگی۔ میں ایک بڑے اسٹیشن پر اترا۔ دوسرے مسافروں کے ساتھ میں بھی اسٹیشن کے ریسٹورنٹ میں داخل ہوا۔ وہاں بہت سے لوگ کرسیوں پر بیٹھے ہوئے کھاپی رہے تھے۔ میں بھی ایک کرسی پر بیٹھنے لگا۔ معاً مجھے محسوس ہوا کہ کوئی شخص مجھے پکڑ کر ہٹا رہا ہے۔ بات یہ تھی کہ مجھے ریسٹورنٹ میںداخل ہوتے ہی چکر آگیا، اور میں ایسی کرسی پر بیٹھنے لگا جس پر پہلے سے آدمی بیٹھا ہوا تھا۔ کسی آدمی نے مجھے ایک خالی کرسی پر بٹھایا، اور خود ہی میرے لیے کھانے کا آرڈر دیا۔ نیم بے ہوشی کی حالت میں میں نے کھانا کھایا۔ اس کے بعد غالباً دس روپیہ کا نوٹ دے کر روانہ ہونے لگا۔ دوبارہ ریستوران کے آدمی نے مجھے روکا اور بقیہ پیسے مجھے واپس کیے۔
اگلے دن میں بنگلور کی کسی سڑک پر چل رہا تھا کہ ایک آدمی نے میری پیٹھ پر ہاتھ رکھا۔ میںنے گھوم کر دیکھا تو وہ میرے لیے ایک اجنبی شخص تھا۔ پوچھنے پر اس نے بتایا کہ مذکورہ اسٹیشن کے ریسٹورنٹ میں جب میں کھانے کے لیے داخل ہوا تو وہ بھی وہاں موجود تھا۔ اس نے مسکراتے ہوئے کہا: اس وقت آپ کا حال دیکھ کر ہم نے یہی سمجھا تھا کہ آپ پیے ہوئے ہیں، اور مد ہوشی کی وجہ سے ایسا کررہے ہیں۔ میںنے اس آدمی کو بتایا کہ یہ وجہ نہ تھی۔ اصل بات یہ تھی کہ میں نے کئی وقت سے کچھ نہیں کھایا تھا، اس لیے مجھے چکر آگیا۔ اسی آدمی نے مجھے بتایا کہ ریسٹورنٹ میں آپ بھری ہوئی کرسیوں پر بیٹھ رہے ـتھے۔
میری زندگی میںاس طرح کے بہت سے عجیب عجیب واقعات ہیں۔ سلف میڈ مین (self made man) کا لفظ عام طورپر صرف معاشی تعمیر کے معنی میں بولا جاتا ہے۔ لیکن اس لفظ کا کامل مصداق اگر کوئی شخص ہوسکتا ہے تو یقیناً وہ میں ہوں۔ میں پورے معنوں میں ایک سلف میڈ مین ہوں۔ مجھ کو نہ خاندانی روایات نے بنایا ہے، اور نہ سماجی حالات نے۔ میںنے ہر اعتبار سے اپنے آپ کو خود بنایا ہے۔ تاریخ میں اس قسم کا کوئی دوسرا انسان اگر پایا جاتا ہو تو وہ میرے لیے ایک دریافت ہوگی۔
5 جون 1985
بظاہر سائنس خدا کے بارہ میں غیر جانب دار ہے۔ مگر یہ غیر جانب داری سراسر مصنوعی ہے۔ سائنسی مطالعہ واضح طورپر یہ بتاتا ہے کہ کائنات کا نظام ایسے محکم انداز میں بنا ہے کہ اس کے پیچھے ایک خالق کو مانے بغیر اس کی توجیہہ ممکن نہیں۔ سرجیمز جینز نے 1932 میںکہا تھا کہ بظاہر معلوم ہوتا ہے کہ کائنات کا نقشہ ایک خالص ریاضی داں نے تیار کیا ہے:
In 1932, Sir James Jeans, an astrophysicist said: “The universe appears to have been designed by a pure mathematician”. (Encyclopedia Britannica, 1984, 15/531)
سر جیمز جینز نے جو بات کہی تھی، دوسرے متعدد سائنس دانوں نے بھی مختلف الفاظ میں اس کا اقرار کیا ہے۔حقیقت یہ ہے کہ کائنات کا ریاضیاتی اصولوں پر بننا اور اس کا ریاضیاتی اصولوں پر حرکت کرنا اس بات کا ثبوت ہے کہ اس کے پیچھے ایک ایسا ذہن کام کررہا ہے، جو ریاضیاتی قوانین کا شعور رکھتا ہے۔
6 جون 1985
ایک مرتبہ میںعلی گڑھ گیا۔ وہاںمیری ملاقات ایک ’’ریٹائرڈ پروفیسر‘‘ سے ہوئی۔ انھوں نے مجھ سے کہا کہ میںنے انگریزی زبان میں ایک تفسیر لکھی ہے۔ آپ اس کی اشاعت کا انتظام کیجیے۔گفتگو کے دوران میں نے پوچھا کیا آپ عربی زبان جانتے ہیں۔ انھوںنے کہا کہ نہیں۔ میں نے کہا جب آپ عربی زبان نہیں جانتے تو آپ نے قرآن کی تفسیر لکھنے کی ذمہ داری کیوں لے لی۔ اس پر وہ بگڑ گئے۔ انھوںنے کہا کیا قرآن کی تفسیر لکھنا صرف مولویوں کی اجارہ داری ہے۔ کیا اللہ تعالیٰ نے مولویوں کو قرآن کی تفسیر لکھنے کا ٹھیکہ دے دیا ہے، وغیرہ۔
مسلمانوں کا عجیب مزاج ہے۔ ان کا ہر آدمی یہ سمجھتا ہے کہ میں ہر کام کرنے کا اہل ہوں۔ وہ نہایت آسانی سے ایک ایسا کام شروع کردیتا ہے، جس کے لیے ضروری علمی لیاقت اس کے اندر موجود نہ ہو۔ یہی وجہ ہے کہ موجودہ زمانہ میں مسلمان بے شمار کتابیں لکھ لکھ کر چھاپ رہے ہیں، مگر بہت کم ایسا ہوتا ہے کہ کسی کتاب میںواقعۃً قابل مطالعہ مواد پایا جائے۔
اللہ تعالیٰ نے کسی آدمی کو بے کار نہیںبنایا۔ ہر آدمی کسی خاص کام کی صلاحیت لے کر پیدا ہوتا ہے۔ ہر آدمی کے اندر فطری طورپر یہ استعداد موجود ہے کہ وہ کوئی بڑا کام کرسکے، بڑا کام شہرت کے اعتبار سے نہیں بلکہ اپنی نوعیت کے اعتبار سے ہے۔ہر آدمی کو چاہیے کہ وہ سب سے پہلے اپنے آپ کو جانے۔ وہ بے لاگ غور وفکر کے ذریعہ اس بات کو دریافت کرے کہ اس کو خدا نے کسی خاص کام کے لیے پیدا کیا ہے۔ اس کے بعد دوسرا مرحلہ محنت کا ہے۔
اپنے لیے صحیح ترین میدان کا تعین اور اس میدان میںمکمل جدوجہد، ان دو شرطوں کو پورا کیے بغیر ایک شخص کوئی قابل لحاظ کام نہیں کرسکتا۔ جو شخص اپنی زندگی کو کارآمد بنانا چاہتاہو اس پر لازم ہے کہ وہ ان دو شرطوں کو پورا کرے۔
7 جون 1985
خشکی کے اکثر جانور پانی میں تیرنا جانتے ہیں۔ وہ بآسانی ندی کے اِس طرف سے اُس طرف تیر کر جاسکتے ہیں۔ ان جانوروں کو یہ تیرنا کس نے سکھایا۔ جواب ہے کہ قدرت نے، یعنی وہ اپنی مقرر کردہ جبلت (instinct) کے تحت تیرتے ہیں۔
جانور جس طرح تیرنے کا ملکہ پیدائشی طورپر لے کر آتا ہے اسی طرح اپنی ضرورت کی دوسری چیزوں کو بھی وہ پیدا ہوتے ہی جان لیتا ہے۔ مثلاً گھر کیسے بنایا جائے۔ دشمنی سے کیسے بچا جائے۔ کون سی خوراک کھائی جائے اور کون سی خوراک نہ کھائی جائے۔ توالد و تناسل کے لیے کیا کیا جائے، وغیرہ۔ یہ سب باتیں ہر جانور پیدائشی طورپر جانتا ہے۔
انسان کا معاملہ اس سے مختلف ہے۔ انسان کو ہر بات سیکھنی پڑتی ہے۔ گھر کے اندر اور گھر کے باہر کی دنیا اس کے لیے تعلیم گاہ ہوتی ہے، جہاں وہ اپنی ضرورت کی تمام باتوں کو سیکھتا ہے۔جانور اورانسان کے درمیان یہ فرق بتاتا ہے کہ دونوں کا معاملہ ایک دوسرے سے مختلف ہے۔ جانور اپنے اعمال کے لیے جواب دہ نہیں۔ مگر انسان اپنے اعمال کے لیے جواب دہ ہے۔ انسان کا جواب دہ (accountable) ہونا خود انسان کی اپنی بناوٹ سے ثابت ہورہاہے۔
8 جون 1985
برطانی قوم کا ایک بڑا عجیب واقعہ ہے، جس میںدوسروں کے لیے زبردست سبق پایا جاتا ہے۔ سیکنڈ ورلڈ وار (1939-45) میں برطانیہ کے وزیر اعظم مسٹر ونسٹن چرچل (1874-1965) تھے۔ انھیں کی قیادت میں برطانیہ نے اس جنگ میںفتح حاصل کی تھی۔ مگر جنگ کے فوراً بعد جب برطانیہ میں الکشن ہوا تو اہل برطانیہ نے مسٹر چرچل کو الکشن میں شکست دے کر مسٹر کلیمنٹ اٹلی (1883-1967)کو ملک کا وزیر اعظم بنادیا۔ فاتح کو عین ا س کی فتح کے بعد معزول کردیا گیا۔
اس کی وجہ یہ تھی کہ اس وقت برطانیہ عظمی کے نوآبادیاتی علاقوں میں آزادی کی تحریک اپنے عروج پر پہنچ چکی تھی۔ جنگ کے بعد برطانیہ اس قابل نہ تھا کہ وہ ہندستان اور دوسرے نو آبادیاتی ممالک میں بزور اپنا اقتدار قائم رکھ سکے۔ برطانیہ کے باشعور طبقہ نے یہ فیصلہ کیا کہ نو آبادیاتی ممالک کو آزاد کردیا جائے۔ اس عمل کے لیے متشدد چرچل موزوں نہ تھے۔ بلکہ صلح پسند اٹلی موزوں تھے۔ چنانچہ اہل برطانیہ نے فاتح ہونے کے باوجود چرچل کو اقتدار سے ہٹا دیا اور مسٹر اٹلی کو ان کی جگہ ملک کا وزیر اعظم بنا دیا۔
مہاتما گاندھی (1869-1948) اور ہندستان کے دوسرے لیڈروں کے زمانے میں یہ واقعہ پیش آیا، اور اسی کے نتیجہ میں ملک بسہولت آزاد ہوگیا۔ مگر مہاتما گاندھی اور ان کے ساتھیوں نے خود اپنے لیے اس سے کوئی سبق نہیں لیا۔ہندستان میں جنگ آزادی کی قیادت شمالی ہند نے کی تھی۔ اس کے نتیجہ میں شمالی ہند کے لوگوں میں غیر معتدل قسم کا سیاسی مزاج بلکہ تخریبی مزاج پیدا ہوگیا۔ اس کے مقابلہ میں جنوبی ہند کا مزاج بالکل مختلف تھا۔ شمالی ہند میں اگر انتہا پسندانہ سیاست کا مزاج تھا تو جنوبی ہند میں مخصوص اسباب کے تحت حقیقت پسندانہ تعمیر کا مزاج۔
ان حالات میں مہاتما گاندھی کے لیے صحیح ترین بات یہ تھی کہ وہ آزاد ہندستان کا وزیر اعظم جنوبی ہند کے کسی شخص کو بنائیں۔ خوش قسمتی سے اس وقت کے جنوبی ہند میں سی راج گوپال اچاریہ (Chakravarti Rajagopalachari, 1878-1972) جیسا عظیم لیڈر موجود تھا۔ مگر مہاتماگاندھی نے جواہر لال نہرو کو آزاد ہندستان کا وزیر اعظم بنادیا۔ جن لوگوں نے جنگ کی قیادت کی تھی انھیں کو مہاتما گاندھی نے تعمیر کی قیادت بھی سونپ دی۔
مہاتما گاندھی نے آزادی ہند کی تحریک نہایت کامیابی کے ساتھ چلائی تھی مگر اسی کامیابی کے ساتھ وہ تعمیر ہند کی تحریک کی رہنمائی نہ کرسکے۔ مجھے یقین ہے کہ اگر مہاتما گاندھی نے شمالی ہند کے جواہر لال نہرو کے بجائے جنوبی ہند کے راجہ گوپال آچاریہ کو ملک کا وزیر اعظم بنایا ہوتا تو آج ہندستان کی تاریخ یقینی طور پر بالکل دوسری ہوتی۔
10 جون 1985
اقبال نے کہا تھا کہ مارکسزم جمع خدا، برابر اسلام:
Marxism + God = Islam
اسی بات کو ایک اور شخص نے زیادہ بھونڈے انداز میں اس طرح کہا ہے:
اسلام لنگڑا تھا، مارکسزم نے اس کو اس کا دوسرا پاؤں عطا کیا ہے۔
اس قسم کی باتیں جو لوگ کرتے ہیں، خواہ وہ اقبال ہوںیا غیر اقبال، ان کے متعلق میرا خیال یہی ہے کہ انھوں نے نہ مارکسزم کا گہرا مطالعہ کیا تھا، اور نہ اسلام کا۔ اگر وہ مارکسزم اوراسلام کو گہرائی کے ساتھ جانتے تو ہرگز وہ اس قسم کی بات نہیں کہتے۔
اقبال نے تہذیب حاضر کو خارجی مظاہر کی چمک (dazzling exterior) کہا تھا۔ ان کا مشہور شعرہے:
نظر کو خیرہ کرتی ہے چمک تہذیب حاضر کی یہ صناعی مگر جھوٹے نگوں کی ریزہ کاری ہے
مگر مجھے ایسا محسوس ہوتاہے کہ وہ خود بھی اسی جھوٹے نگوں کی چمک کا شکار رہے ۔اقبال کا مذکورہ فارمولا اور اسی طرح ان کے دوسرے بہت سے خیالات اس کی مثال ہیں۔ مثلاً جنت اور دوزخ کے بارے میں اقبال نے اپنے خطبات میں لکھا ہے:
Heaven and Hell are states, not localities.
یعنی جنت اور جہنم احوال ہیں، مقامات نہیں۔ اس طرح کی اور کئی باتیں ہیں، جو ظاہر کرتی ہیں کہ شاعرانہ تک بندیوں میں تو ضرور انھوںنے تہذیب حاضر کی مذمت کی، مگر ان کا حقیقی شعور تہذیب حاضر سے بلند ہو کر نہ سوچ سکا۔ وہ خود بھی تہذیب حاضر کی ظاہری چمک میں گم ہو کر رہ گئے۔
11جون 1985
پاکستان کے سابق وزیر اعظم مسٹر ذوالفقار علی بھٹو (1928-1979) کا نعرہ یہ تھا:
اسلام ہمارا دین،
جمہوریت ہماری سیاست،
سوشلزم ہماری معیشت ہے
مسٹر بھٹو کے اس نعرہ پر پاکستان کے مذہبی طبقہ کو سخت اعتراض تھا۔وہ کہتے تھے کہ مسٹر بھٹو نے اسلام کو تین حصہ میں بانٹ دیا ہے۔ ایک اسلام، دوسرے جمہوریت، تیسرے سوشلزم۔ جب کہ اسلام ایک مکمل نظام ہے۔ اس کا تعلق ہر شعبہ زندگی سے ہے۔ اس میں کسی قسم کی تقسیم نہیں کی جاسکتی۔ مسٹر بھٹو ایک بدنام شخص تھے۔ ان کی تقسیم فوراً لوگوں کو نظر آگئی۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ خود مذہبی طبقہ اس طرح تین تقسیم پر اپنے کو راضی کیے ہوئے ہے۔ اگر چہ اس کے الفاظ اس سے مختلف ہیں، جو مسٹر بھٹو نے استعمال کیے تھے۔
مذہبی افراد کی تقسیم کو اگر ہم لفظوں میں ظاہر کرنا چاہیں تو اس کو اس طرح بیان کیا جاسکتا ہے:
اسلام ہمارا دین ہے،
خودنمائی ہماری سیاست،
ذاتی مفاد ہماری معیشت ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ آج کی دنیا میں ہر شخص کا نظریہ حیات ایک ہی ہے، خواہ وہ مذہبی ہو یا غیر مذہبی۔ ایک آدمی اور دوسرے آدمی میں جو فرق ہے وہ الفاظ کا ہے، نہ کہ حقیقت کا۔ہر آدمی اپنے حسب حال الفاظ بولتا ہے۔ ہر لیڈر اس نعرہ کو اختیار کرلیتا ہے جو اس کے لیے مفید مطلب (convenient) ہو۔ اگر کئی الفاظ کو ایک لفظ میں سمیٹنا چاہیں تو یہ کہنا صحیح ہوگا کہ آج کی دنیا میں ہر شخص کا دین صرف ایک ہے، اور وہ ہے استحصال(exploitation)۔ بولے ہوئے الفاظ میں لوگوں کے دین ایک دوسرے سے مختلف نظر آتے ہیں۔ مگر حقیقت کے اعتبار سے ایک شخص اور دوسرے شخص کے درمیان کوئی فرق نہیں۔
13 جون 1985
صحابۂ کرام نے جو حدیثیں بیان کی ہیں وہ سب کی سب براہ راست رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہوئی نہیں ہیں۔ ان میںایسی حدیثیں بھی ہیں جن کو ایک صحابی نے دوسرے صحابی سے سنا اور صحابی کا نام لیے بغیر حدیث کو بیان کردیا۔ براء بن عازب (وفات 72 ھ)کہتے ہیں:مَا کُلُّ مَا نُحَدِّثُکُمْ عَنْ رَسُولِ اللَّہِ ، صَلَّى اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ سَمِعْنَاہُ مِنْہُ، مِنْہُ مَا سَمِعْنَاہُ، وَمِنْہُ مَا حَدَّثَنَا عَنْہُ أَصْحَابُہُ ، وَنَحْنُ لَا نُکَذِّبُ(فوائد الفریابی، اثر نمبر 34)۔ یعنی جو کچھ ہم تمھارے سامنے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں، وہ ہم نے آپ سے نہیں سنا۔ کچھ ہم نے آپ سے سنا ہے، اور کچھ اصحابِ رسول نے (آپ سے سن کر)بیان کیا ہے، اور ہم جھوٹ نہیں بولتے ہیں ۔
اس قسم کی روایت کو اصطلاح حدیث میں مرسل حدیث کہتے ہیں اور علما کا اتفاق ہے کہ صحابی کی مراسیل قابل اعتبار ہیں۔ امام موفق الدین عبد اللہ بن احمد بن قدامی المقدسی کہتے ہیں:مراسیل اصحاب النبی صلى اللہ علیہ و سلم مقبولة عند الجمہور (روضۃ الناظر وجنۃ المناظر، صفحہ 125)۔ یعنی اصحاب رسول صلی اللہ علیہ وسلم جمہور کے نزدیک مقبول ہیں۔
14 جون 1985
مولانا الطاف حسین حالی (1914۔1837) اور ڈاکٹر محمد اقبال (1877-1938) دونوں تقریباً ہم زمانہ ہیں۔ دونوں نے اشعار کےذریعے قوم کو پیغام دیا۔ مگر اقبال کو جو مقبولیت حاصل ہوئی وہ حالی کو حاصل نہ ہوسکی۔
حالی کی ’’مسدس حالی‘‘ بلاشبہ ایک بہترین نظم ہے۔ میرے نزدیک وہ اقبال کے اشعار سے زیادہ اہم ہے۔ اس کے باوجود کیوں حالی کو وہ مقبولیت نہیں ملی جو اقبال کو ملی۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ حالی کا کلام احتساب خویش (self-introspection)ہے، اور اقبال کا کلام احتساب غیر۔ حالی کا کلام درسِ عمل ہے، اور اقبال کا کلام درسِ فخر۔ حالی کے کلام میں کرکے پانے کا سبق ہے، اور اقبال کے یہاں کیے بغیر شاعرانہ ترنگوں (جذبات) میں سب کچھ مل رہا ہے۔ حالی بتاتے ہیں کہ تم دوسروں سے پیچھے ہوگئے ہو۔ اقبال یہ شراب پلاتے ہیں کہ تم سب سے آگے ہو، حتی کہ تمھارا وہ مقام ہے کہ خدا بھی تمھارے الفاظ کا انتظار کررہا ہے:
خدا بندے سے خود پوچھے بتا تیری رضا کیا ہے
حالی نے حقیقت پسندی کا سبق دیتے ہوئے کہا :
صدا ایک ہی رُخ نہیں ناؤ چلتی چلو تم ادھر کو ہوا ہو جدھر کی
اس کے برعکس، اقبال نے پر فخر طورپر اعلان کیا:
حدیثِ بے خبراں است کہ بازمانہ بساز زمانہ باتو نہ سازد تو بازمانہ ستیز
یعنی بے خبروں کی نصیحت ہے کہ اگرزمانہ تمہارے خلاف ہو تو تم بھی بدل کرزمانے کے ساتھ ہو جاؤ، اگرزمانہ ساتھ نہیں دیتا تو تم زمانے سے لڑکرزمانہ کو بدل دو۔
امت نے اقبال کی بات کو پکڑ لیا ، مگر خلاف زمانہ حرکت (anachronism) سے صرف امت کے نقصان میں اضافہ ہوا، اس سے امت کو کوئی مثبت فائدہ حاصل نہ ہوسکا۔قوم نے اگر حالی کے پیغام کو پکڑا ہوتا تو آج یقیناً اس کی تاریخ دوسری ہوتی۔ مگر قوم کی اکثریت اقبال کا کلام گنگناتی رہی۔ نتیجہ یہ ہوا کہ نصف صدی کے بعد بھی قوم کے پاس جھوٹے فخر اور خیالی پرواز کے سوا اور کوئی سرمایہ نہیں۔
15 جون 1985
مسلمانوں نے پچھلے دو سو برس کے اندر کوئی بھی ٹھوس تعمیری کام نہیں کیا۔ موجودہ زمانہ کا سب سے بڑا مسئلہ عقلی نقطۂ نظر کا غلبہ تھا۔ موجودہ زمانہ میں عقلی نقطۂ نظر نے ایک فکری انقلاب پیدا کیا ہے۔ اس انقلاب نے دینی عقائد کو دور جاہلیت کی چیز قرار دے کر ان کو تاریخ کے خانہ میں ڈال دیا۔ یہاں ضرورت تھی کہ مسلمان اٹھیں اور دینی عقائد اور تعلیمات کو دوبارہ عقلی بنیاد فراہم کریں۔ مگر اس پوری مدت میں منفی ہنگاموں کے سوا مسلمان اور کچھ نہ کرسکے۔
یہ ہماری خوش قسمتی ہے کہ زمانے میں تبدیلی واقع ہوئی اور دینی عقائد کو دوبارہ عقلی بنیاد فراہم ہونے کے امکانات پیدا ہوگئے۔ مگر یہ کام تمام تر عیسائی اور یہودی علماء نے انجام دیا۔ اس میں مسلمانوں کا ایک فی صد حصہ بھی نہیں۔جدیدسائنس نے خدا کو کائنات کے نقشہ سے حذف کردیا تھا۔ اب دوبارہ خدا کائنات کے نقشہ میں نظر آرہا ہے مگر اس عمل کو انجام دینے والے وہ لوگ ہیں، جن کے نام جیمز جینز اور اڈنگٹن جیسے ہیں۔
یہی معاملہ تمام دینی تعلیمات کا ہے۔ یہ ہماری خوش قسمتی تھی کہ دنیا میں دوسرے الہامی مذاہب (عیسائیت، یہودیت) بھی موجود تھے۔ اسلام اور ان مذاہب کے درمیان تعلیمات اور تاریخی شخصیتوں کا اشتراک ہے۔ اس لیے انھوں نے اپنی تعلیمات اور اپنی تاریخ کو عقلی اور سائنسی طورپر معتبر ثابت کرنے کے لیے جو تحقیقات کیں اس کا فائدہ بالواسطہ طورپر اسلام کے حصہ میں بھی آگیا۔ مثلاً علم الآثار کی تحقیق جس نے قرآن میں مذکور اقوام اور شخصیتوں کو تاریخ کی روشنی عطا کی۔ نظریۂ ارتقا کی تردید جس نے خالق کے عقیدہ کو دوبارہ بحال کیا۔ عورت اور مرد کے درمیان حیاتیاتی فرق کو ثابت کرنا جس نے خاندان کے بارے میں اسلامی قوانین کو دوبارہ اعتباریت (credibility) عطا کی۔ حتی کی اسلام کی قدیم عربی کتب کو مخطوطات کے دور سے نکال کر مطبوعات کے دورمیں داخل کرنا بھی انھیں عیسائیوں اور یہودیوں کا کارنامہ ہے۔ غالباً یہ کہنا صحیح ہوگا کہ اسلام کو سمجھنے کے لیے عربی زبان کے بعد سب سے زیادہ جس زبان میں اعلیٰ لٹریچر موجود ہے، وہ انگریزی زبان ہے۔ اس سلسلہ کی ایک دلچسپ حقیقت یہ ہے کہ سیرت کی مستند کتاب ،سیرت ابن ہشام کا مکمل ترجمہ پہلے انگریزی میں ہوا اور اس کے بہت دیر بعد کسی مسلم زبان میں۔
17 جون 1985
ہندستان ٹائمس میں ایک ہندو کا خط چھپا ہے۔ یہ خط ہندستان کے مسلمانوں کے معاملا ت سے متعلق ہے۔ مسلمان اس خط کو پسند نہیں کریں گے مگر میں سمجھتا ہوں کہ یہ خط صد فی صد (100%) درست ہے، وہ مسلمانوں کی حالت کی صحیح ترین ترجمانی ہے۔ہندو مکتوب نگا رنے لکھا ہے کہ ہندستان کے مسلمان اپنی زبوں حالی کا الزام ہندوؤں کو دیتے ہیں مگر حقیقت یہ ہے کہ اس کے ذمہ دارتمام تر خود مسلمان ہیں۔ اس نے مسلمانوں کی لیڈر شپ کو مسلمانوں کی بد حالی کا واحد ذمہ دار ٹھہرایا ہے۔
مکتوب نگار کا کہنا ہے کہ مسلمانوں کی بد حالی کا سبب یہ ہے کہ ان کے لیڈروں میں خود نمائی (self-glorification)کا جذبہ ہے۔ موجودہ زمانہ میں مسلمانوں کے تمام لیڈر خود نمائی (self glory) کے مرض میں مبتلارہے۔ وہ انھیں چیزوں میں دوڑتے ہیں جس میں نیوز ویلو ہو، جس میں ان کی ذات کو شہرت اور بڑائی حاصل ہو۔ یہی وجہ ہے کہ مسلمانوں کا کوئی لیڈر (سرسید کے واحداستثنا کے سوا) اس پورے دور میں کوئی حقیقی تعمیری کام (constructive) نہ کرسکا۔ ایسی حالت میں مسلمانوں کو اپنی بدحالی کا ذمہ دار اپنے آپ کوقرار دینا چاہیے، دوسروں کی شکایت کرنے سے کوئی فائدہ نہیں۔
مجھے مذکورہ ہندو مکتوب نگار کی رائے سے صد فی صد (100%) اتفاق ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ موجودہ زمانہ کے مسلمانوں کے اصل دشمن خود ان کے اپنے لیڈر ہیں۔ ان لیڈروں نے اپنی شخصی لیڈری کی خاطر قوم کو برباد کرکے رکھ دیا ہے۔ مسلمان جب تک اس اصل سبب کا اعتراف نہ کریں، وہ موجودہ زمانے میں اپنی جگہ حاصل نہیں کرسکتے۔
18 جون 1985
قدیم عرب کے لوگ اپنی صلاحیتوں کے اعتبار سے حیرت انگیز تھے۔ ان کی مختلف صلاحیتوں میں سے ایک اعلیٰ صلاحیت یہ تھی کہ وہ کم الفاظ میں نہایت با معنی بات کہنا جانتے تھے۔
جنگ جمل کے زمانہ میں حضرت علی نے دو آدمیوں کو کوفہ بھیجا کہ وہ ان کو تعاون پر آمادہ کریں۔ اس سلسلہ میں ایک روایت ان الفا ظ میں آئی ہے:لَمَّا بَعَثَ عَلِیٌّ عَمَّارَ بْنَ یَاسِرٍ وَالْحَسَنَ بْنَ عَلِیٍّ رَضِیَ اللہُ عَنْہُمْ إِلَى الْکُوفَةِ لِیَسْتَنْفِرَہُمْ ،خَطَبَ عَمَّارٌ فَقَالَ:إِنِّی لَأَعْلَمُ أَنَّہَا زَوْجَتُہُ فِی الدُّنْیَا وَالْآخِرَةِ ،وَلَکِنَّ اللہَ ابْتَلَاکُمْ بِہَا ، لَیَنْظُرَ إِیَّاہُ تَتَّبِعُونَ أَوْ إِیَّاہَا(السنن الکبریٰ للبیہقی، اثرنمبر 16717)۔ یعنی جب علی ابن ابی طالب نے عمار اور حسن کو کوفہ بھیجا تاکہ وہ انھیں جنگ میں نکلنے کے لیے ابھاریںتو عمار نے تقریر کرتے ہوئے کہا: میں جانتا ہوں کہ عائشہ دنیا اور آخرت میں تمھارے پیغمبر کی بیوی ہیں۔ مگر اللہ نے اس کے ذریعہ سے تم کو آزمایا ہے تاکہ دیکھے کہ تم علی کا ساتھ دیتے ہو یا عائشہ کا— اتنی نازک بات کواس سے زیادہ کم الفاظ میں شاید نہیں کہا جاسکتا۔
19 جون 1985
ہر دو آدمی کے درمیان ان کا خدا کھڑا ہوا ہے۔ خدا ہر وقت ہر آدمی کی بات سن رہا ہے تاکہ اس کے مطابق لوگوں کے درمیان انصاف کرے۔
اگر آدمی کو اس واقعے کا احساس ہو تو اس کا وہی حال ہوگا، جو ایک آدمی کا عدالت میں ہوتا ہے۔ عدالت میںہر آدمی بالکل ناپ تول کر بولتا ہے۔ کیوں کہ وہ جانتا ہے کہ اگر کوئی بات خلاف قاعدہ منھ سے نکل گئی تو وہ فوراً عدالت کی پکڑ میںآجائے گا۔ اسی طرح اللہ پر عقیدہ رکھنے والا جو کچھ بولتا ہے، اس احساس کے تحت بولتا ہے کہ خدا اس کو سن رہا ہے۔ یہ احساس اس کو مجبور کردیتا ہے کہ وہ کوئی غلط بات اپنے منھ سے نہ نکالے۔
انسان سے اگر غلطی ہوجائے اور وہ فوراً اس کا اعتراف کرلے توگویا کہ اس نے خدا کے سامنے اعتراف کیا۔ اور اگر وہ غلطی کا اعتراف نہ کرے تو گویا کہ اس نے خدا کے سامنے اپنی غلطی کا اعتراف نہیں کیا۔حقیقت یہ ہے کہ سارا معاملہ خدا کا معاملہ ہے۔ لوگ معاملات کو انسان کا معاملہ سمجھتے ہیں۔یہی وجہ ہے کہ وہ سرکشی اور بے انصافی کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ وہ غلطی کرکے بھی غلطی کا اعتراف نہیں کرتے۔
میرا مزاج یہ ہے کہ اگر میں کوئی خلافِ حق بات کہہ دوں اور اس کے بعد مجھے معلوم ہو کہ یہ بات حق کے خلاف تھی تو میں اس کو افورڈ (afford )نہیں کرسکتا کہ میں اس کا اعتراف نہ کروں۔ میں حق کے آگے جھک نہ جاؤں۔ اگر میں ایسا نہ کروں تو مجھے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ خدا خود ظاہر ہو کر میرے سامنے آیا اور کہا کہ میرے سامنے جھک جا اس کے باوجود میں خدا کے سامنے نہیں جھکا— حق کے سامنے نہ جھکنا ایسا ہی ہے گویا کسی کے سامنے خدا آیا، ا ور وہ اس کے سامنے نہیں جھکا۔
20 جون 1985
ایک شخص نے اپنا دل چسپ تجربہ ان الفاظ میں لکھا ہے:
“A fast way of becoming a millionaire”, read the ad in the newspapers. “For further particulars send a self-addressed stamped envelope along with Rs. 1". Intrigued, I sent off the money and received the following reply: “Start a scheme just like this one.” (Dilip Rendalkar, Secunderabad)
’’جلد کرورپتی بننے کا طریقہ‘‘ اس عنوان سے میںنے اخبارات میں ایک اشتہار پڑھا۔ اسی کے ساتھ اشتہارمیں یہ درج تھا کہ مزید تفصیلات کے لیے اپنا پتہ لکھے ہوئے لفافہ کے ساتھ ایک روپیہ بھیجیں۔ میرا اشتیاق بڑھا۔ میںنے مطلوبہ رقم بھیج دی۔ اس کے بعد مجھے ایک جواب ملا، جس میں یہ لکھا تھا— اسی طرح کی ایک اسکیم آپ بھی شروع کردیجیے۔
تجارت کے دو طریقے ہیں۔ ایک معروف تجارت، اور دوسری وہ جس کو جھوٹی امیدوں کی تجارت (false hopes business) کہا جاسکتا ہے۔ مذکورہ واقعہ "جھوٹی امیدوں کی تجارت" کی ایک دلچسپ مثال ہے۔
جھوٹی امیدوں کے بزنس کے سب سے بڑے تاجر موجودہ زمانہ میں ہمارے لیڈر ہیں۔ یہ لیڈر ایک بڑی سی امید دلا کر قوم کو اکسائیں گے۔ قوم ان کے الفاظ سے متاثر ہو کر دوڑ پڑے گی۔ وہ انھیں چندہ دے گی۔ ان کے جلسوںمیں لاکھوں کی تعداد میں جمع ہو کر ان کی امیج (image)بڑھائے گی۔ حتی کہ بے شمار لوگ ان کے الفاظ کے فریب میں آکر گولیاں کھائیں گے، اور اپنے کو برباد کریں گے۔
اس کے نتیجہ میں لیڈر کی لیڈری چمک اٹھے گی۔ اس کی قیادت کا شان دار مینار کھڑا ہوجائے گا۔ مگر قوم کے حصہ میں کچھ بھی نہ آئے گا۔ ٹھیک اسی طرح جیسے مذکورہ مثال میں لاکھوںآدمیوںنے اپنی جیب کی رقم کھو کر ایک شخص کو دولت مند بنا دیا، مگر خود کھونے والوںکے حصہ میں کچھ بھی نہ آسکا۔
21 جون 1985
چھوٹی انسائیکلو پیڈیا (ایک جلد والی) میں سے ایک وہ ہے جس کا نام ہے:
Pears' Cyclopaedia (London)
اس انسائیکلو پیڈیا میں مونو تھیئزم کے آگے حسب ذیل الفاظ لکھے ہوئے ہیں— توحید اس اصول کا نام ہے کہ یہاں صرف ایک خدا کا وجود ہے۔ خاص توحیدی مذہب عیسائیت ہے:
Monotheism, the doctrine that there exists but one God. The chief monotheistic religion is Christianity.
یہ انسائیکلو پیڈیا کا وہ ایڈیشن ہے جو 1948 میں چھپا تھا۔ دوسری جنگ عظیم سے پہلے مغربی دنیا میں جو لٹریچر تیار ہوا، اس میں اسی طرح اسلام کو حذف کردیا گیا تھا۔ اپنی اصل کے اعتبارسے بلاشبہ تمام مذاہب توحید کے مذاہب تھے۔ مگر یہ ایک حقیقت ہے کہ آج خالص توحیدی مذہب اسلام ہے۔ کیوں کہ دوسرے مذاہب اپنی ابتدائی حالت میں باقی نہیں ہیں۔
مغربی علما نے اب اپنی اس روش پر نظر ثانی شروع کردی ہے۔چنانچہ 1977 میں شائع ہونے والی ایک انسائیکلو پیڈیا— Collins Concise Encyclopedia (Glasgow) میں اس سلسلہ میں حسب ذیل الفاظ لکھے گئے ہیں کہ توحید اس عقیدہ کا نام ہے کہ یہاں صرف ایک خدا ہے جیسا کہ یہودیت اور عیسائیت اور اسلام میں مانا جاتاہے:
Monotheism, belief that there is only one God, as in Judaism, Christianity and Islam.
22جون 1985
اخبار ملاپ (نئی دہلی) آریہ سماجی حضرات کا اخبار ہے۔ اس میںایک بار ایک لطیفہ چھپا۔ وہ یہ تھا— ایک ہندو ایک بار اپنے ایک ہندو دوست کے یہاں گیا جو کٹر مذہبی تھا۔ میزبان نے کافی دیر تک کھانا پکوایا۔مہمان کا بھوک سے برا حال ہورہا تھا۔ آخر کار کئی گھنٹہ کے بعد میزبان نے کہا کہ اندر چلیے۔ وہ ان کے ساتھ اندر کی طرف چلے۔ یہاں تک کہ دونوں اس کمرے کے سامنے پہنچے جس کے اندر کھانا رکھا ہوا تھا۔ مہمان حسب عادت چلتاہوا اس طرح کمرہ میں داخل ہوا کہ پہلے چوکھٹ کو پار کر کے ایک پاؤں کمرے میں رکھا اور پھر اس کے بعددوسرا پاؤں۔ یہ دیکھ کر میزبان بگڑ گیا۔ اس نے کہا کہ تم نے سارا کھانا بھرشٹ کردیا۔ مہمان کی سمجھ میں نہیں آیا کہ اس نے کیا غلطی کی ہے۔ میزبان نے کہا کہ تم نے بہت بڑی غلطی کی ہے۔ تم نے سارا کھانا خراب کردیا۔ اب اس کو نہ تم کھاسکتے نہ میں کھاسکتا۔ مہمان جو بھوک سے بے تاب تھا، اس نے حیرانگی کے عالم میں پوچھا کہ آخر مجھ سے کیا غلطی ہوگئی ہے۔ میزبان نے کہا کہ تم رسوئی گھر میں ایک پاؤں آگے ایک پاؤں پیچھے کرکے داخل ہوگئے۔ تم کو یہ کرنا چاہیے تھا کہ دونوں پاؤں برابر کرکے ملاتے اس کے بعد چوکھٹ کے اوپر سے کود کر کمرے میں داخل ہوتے۔
مشرکانہ مذاہب میں اس قسم کی ظاہری رسموں کی بے حد اہمیت ہوتی ہے۔ بلکہ مشرکانہ مذہب سارا کا سارا رسوم ورواج ہی کے اوپر قائم ہوتاہے۔
24 جون 1985
مسلمانوں کے ایک قائد نے ہندستانی مسلمانوں کی پس ماندگی کا ذمہ دار ہندوؤں کو قرار دیتے ہوئے کہا کہ آزادی کے بعد مسلسل مسلمانوں کے ساتھ امتیاز کیا جارہا ہے۔ فرقہ وارانہ فسادات کا سلسلہ ختم نہیں ہوتا۔ ان چیزوں کی وجہ سے مسلمانوں کے اندر دفاعی ذہن پیداہوگیا ہے۔ ان کے اندر وہ مثبت ذہن پیدا نہیں ہوتا جو تعمیر و ترقی کے لیے ضروری ہے۔ انھوں نے ہندو جماعتوں سے اپیل کی کہ وہ مسلمانوں کے خلاف اپنی کارروائیوں کا سلسلہ بند کریں تاکہ مسلمان تعمیر و ترقی کی راہ میں آگے بڑھ سکیں۔
میں کہوں گا کہ مسلمانوں کی تعمیر کی راہ میں اصل رکاوٹ ہندو صاحبان نہیں ہیں بلکہ مذکورہ بالا قسم کے مسلم قائدین ہیں، جو مسلمانوں میں صحیح ذہن پیدا نہیں ہونے دیتے۔ یہ قائدین مستقل طورپر ایک ہی کام کررہے ہیں، اور وہ ہے ذہن کو بگاڑنا۔ ا س دنیا میں رکاوٹوں کے باوجود کام کیا جاتا ہے، نہ کہ رکاوٹوں کے بغیر۔ یہ دنیا کبھی رکاوٹوں سے خالی نہیں ہوسکی۔ اسی لیے رکاوٹوں کی شکایت کرنا ہی بے معنی ہے۔ ہمارا کام صرف یہ ہے کہ ہم رکاوٹوں کے اندر سے اپنے لیے امکان تلاش کریں۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے اصحاب کے لیے مکہ اور مدینہ میں جو رکاوٹیں تھیں، وہ ہماری رکاوٹوں سے ایک کرور گنا زیادہ تھیں۔ اس کے باوجود انھوں نے ’’تعمیر وترقی‘‘ کے کام کی صورتیں نکالیں۔ حتی کہ انھوں نے تاریخ کے رخ کو بدل دیا۔ اگر وہ قریش اور یہود اور منافقین سے مطالبہ کرتے کہ ہمارے راستہ کی رکاوٹیں ختم کرو تاکہ ہم تعمیری کام انجام دے سکیں تو نہ کبھی رکاوٹیں ختم ہوتیں، اور نہ کبھی تعمیری کام کا آغاز ہوتا۔
ہمارے قائدین کو چاہیے کہ وہ مسلمانوں کو رکاوٹوں کے باوجودکام کرنے کا سبق دیں۔ رکاوٹوں کے بغیر کام کا جو نسخہ وہ پیش کررہے ہیں، وہ کسی خیالی جزیرہ میں ممکن ہوسکتاہے۔ موجودہ مقابلہ کی دنیا میں ایسا ہونا ممکن نہیں۔
25 جون 1985
زندگی بے حد مشکل امتحان ہے۔ اس مشکل کا ایک پہلو یہ ہے کہ اکثر معاملات میں آدمی کو کٹھن فیصلہ لیناہوتا ہے، کبھی ایک طرف اور کبھی دوسری طرف۔ یہ طے کرنا کہ کب کس رُخ پر اقدام کیا جائے، یہ بے حد نازک اور مشکل کام ہے، بلکہ شاید اکثر اوقات میں انسانی عقل سے باہر۔ کیوں کہ صحیح فیصلہ لینے کے لیے مستقبل کو جاننے کی ضرورت ہوتی ہے، اور مستقبل کا علم اللہ کے سوا کسی کو نہیں۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک فیصلہ وہ ہے جو آپ نے صلح حدیبیہ کے وقت لیا اور دوسرا فیصلہ وہ ہے جو آپ نے فتح مکہ کے وقت لیا۔ دونوں دو انتہائی فیصلے تھے۔ صلح حدیبیہ کے وقت مکمل طورپر پیچھے ہٹنے کا فیصلہ کیا گیا اور فتح مکہ کے سفر میں مکمل طورپر آگے بڑھنے کا۔ دونوں انتہائی فیصلے تھے۔پیغمبر کا فیصلہ خدا کی وحی کی بنیاد پر تھا، اس لیے پیغمبر اسلام کے لیے ممکن تھا کہ وہ اس طرح کے انتہائی کٹھن معاملے میں صحیح فیصلہ لے سکے۔ مگر عام انسان کے لیے شاید یہ ممکن نہیں کہ وہ اس طرح کے انتہائی کٹھن فیصلے اتنے درست طور پر لے سکے۔ عام آدمی کے لیے ِ، پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت (صحیح البخاری، حدیث نمبر3560)کے مطابق، یہی راستہ ہے کہ وہ ممکن (possible)یا آسان تر کو پہچانے اور اس کو اختیار کرے۔
26 جون 1985
ایک صاحب تھے۔ ان کی کوئی خاص تعلیم نہ تھی۔ اردواخبارات اور اردو ریڈیو سن کر جو معلومات انھیں مل گئی تھیں وہی ان کا کل علمی اثاثہ تھا۔ غریب ہونے کی وجہ سے وہ اپنے بچوں کو بھی کسی قسم کی اعلیٰ تعلیم نہ دلا سکے۔
مگر ان صاحب کی ’’انا‘‘ یعنی ایگو (ego)بے حد بڑھی ہوئی تھی۔ وہ اپنے کو سب سے زیادہ قابل سمجھتے تھے۔ ان کا جھوٹا احساسِ برتری کسی کی علمیت تسلیم کرنے میں مسلسل مانع بنا ہوا تھا۔ حتی کہ اپنے جاہل بچوں میں بھی انھوں نے یہی ذہن پیدا کردیا۔ انھوں نے اپنے بچوں کو سکھایا کہ کوئی شخص تم سے کوئی بات پوچھے تو ایسا کبھی نہ کہو کہ ہم کو نہیں معلوم۔ چنانچہ ان کے بچوں کا ،جہالت کے باوجود ، یہ حال تھا کہ کوئی بات کہی جاتی تو فوراً بول اٹھتے: ہماں کو سب معلوم ہے(ہم کو سب معلوم ہے)۔
ایسا ہی کچھ حال موجود زمانہ کے ’’علما‘‘ کا ہوا ہے۔ ان کا مطالعہ نہایت محدود ہوتا ہے مگر ان کا ذہن مخصوص اسباب سے یہ بن جاتا ہے کہ ہم سب کچھ جانتے ہیں۔ مدرسوں کے ان پیدا شدہ علما سے گفتگو کیجیے ۔ وہ کبھی یہ نہ کہیں گے کہ یہ بات میں نہیں جانتا۔ وہ ہمیشہ یہ ظاہر کریں گے کہ وہ سب کچھ جانتے ہیں۔ ان علما کو غیر علما بنانے میں سب سے زیادہ دخل ان کی اسی ذہنیت کا ہے۔
’’ہم کو سب بات معلوم ہے‘‘ کا مزاج آدمی کو ہر بات سے بے خبر کررہا ہے، اور موجودہ زمانہ کے علما اس کی عبرت ناک مثال ہیں۔
28 جون 1985
بعض لوگ قرآن میں ’’اختلاف قرأت‘‘ کے مسئلہ کو لے کر قرآن کی حفاظت کو مشتبہ ظاہر کرتے ہیں۔ یہ سراسر مغالطہ ہے۔ان کو جاننا چاہیے کہ قرآن میں اختلافِ قرأت ہے، اختلافِ کتابت نہیں ہے۔ یعنی تمام دنیا کے سارے قرآن ایک ہی طرز پر لکھے جاتے ہیں۔ اس میں کسی کے یہاں کوئی اختلاف نہیں۔ اب جو فرق ہے وہ قرأت کا ہے۔ یعنی قرآن کو پڑھنے میں لوگ کئی آوازوں کے ساتھ پڑھتے ہیں۔ مثلاً کچھ عرب قبائل رب الناس کو رب النات پڑھتے تھے۔ کچھ لوگ رَبَّک کو رَبّش پڑھتے تھے، وغیرہ(البرھان فی علوم القرآن، جلد 1، صفحہ 220)۔
اختلاف قرأت، بالفاظ دیگر لہجہ کا اختلاف ہر زبان میں ہوتا ہے۔ مثلاً انگریزی کو لیجیے۔ poet کو تمام ملکوں میں اسی طرح لکھا جاتا ہے مگر اس کو پڑھنے میں فرق ہے۔ مثلاً امریکا کے لوگ اس کو پائٹ پڑھتے ہیں اور انگلینڈ کے لوگ پواِٹ کہتے ہیں۔ اسی طرح salt کو ہندستان میں سالٹ کہاجاتا ہے۔ مگر یہی لفظ برطانیہ میں سوٹ کی آواز میں پڑھا جاتا ہے۔ جب کہ لکھنے کے اعتبار سے ہر جگہ اس کو ایک ہی طریقہ سے لکھا جاتاہے۔
قرآن اپنی کتابت کے اعتبار سے بلا شبہ محفوظ ہے، اور صد فی صد(100%) محفوظ ہے۔ اب جو بعض فرق ہے وہ لہجہ اور تلفظ کا فر ق ہے۔ اور لہجہ اور تلفظ کا فرق فطری ہے، وہ نہ ختم ہوتا اور نہ اس سے کوئی خرابی واقع ہوتی ہے۔
29 جون 1985
مستشرقین نے حدیث کو مشتبہ ثابت کرنے کے لیے جن چیزوں کو بنیاد بنایا ہے، ان میں سے ایک حضرت ابو ہریرہ کی کثیر روایات ہیں۔ حضرت ابو ہریرہ نے ہجرت کے بعد اسلام قبول کیا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ آپ کی صحبت غزوہ خیبر کے بعد شروع ہوئی۔ اس اعتبار سے حضرت ابو ہریرہ کی صحبت رسول ان کثیر روایات کے لیے ناکافی ہیں جو ان سے مروی ہیں۔
حضرت ابو ہریرہ کی روایات کی تعداد 5374 ہے، جیسا کہ ابن حزم نے لکھا ہے۔ مگر یہ کثیر تعداد تکرار اسناد کی بنا پر ہے۔ محدثین کا طریقہ ہے کہ وہ احادیث کو طرق روایت کے اعتبار سے شمار کرتے ہیں۔ مثلاً حضرت ابو ہریرہ سے ایک حدیث کو چار آدمیوں نے سنا ہو اور وہ چاروں الگ الگ اس کو بیان کریں تو محدثین کے یہاں یہ ایک حدیث چار حدیث بن جائے گی۔
کچھ لوگوں نے اس کا جائزہ لیا ہے اور تکرار کو حذف کرکے روایات کی تعداد متعین کرنے کی کوشش کی ہے۔ وہ بتاتے ہیں کہ جب انھوںنے مکررات کو حذف کیا تو روایات ابوہریرہ کی اصل تعداد صرف 1336 رہ گئی۔
اس حقیقت کو سامنے رکھا جائے تو منکرین حدیث کا اعتراض بالکل بے حقیقت ثابت ہوجاتا ہے۔ کیوں کہ حضرت ابوہریرہ کی مدت صحبت کے اعتبار سے 1336 کی تعداد زیادہ نہیں۔ جب کہ یہ ثابت ہے کہ اسلام قبول کرنے کے بعد وہ اپنے قبیلے سے آکر مدینہ میں رہ گئے تھے اور مسجد نبوی میں قیام کی وجہ سے ان کو رسول اللہ کے ارشادات سننے کا موقع دوسروں سے زیادہ ملا تھا۔
تاریخ کی کتابوں میں ان کے بارے میں اس قسم کے الفاظ آئے ہیں:کَانَ مِن أحفظ أَصْحَاب رَسُول اللہ صلى اللہ عَلَیْہِ وَسلم وألزمہ لَہُ على شبع بَطْنہ وَکَانَت یَدہ مَعَ یَدہ یَدُور مَعَہ حَیْثُ مَا دَار إِلَى أَن مَاتَ رَسُول اللہ صلى اللہ عَلَیْہِ وَسلم(رجال صحیح مسلم لابن مَنْجُوَیہ، جلد2، صفحہ403، اثر نمبر 2161)۔ یعنی وہ اصحاب رسول میں سب سے زیادہ (حدیث کے) حافظ تھے، وہ بھوکے رہ کر بھی سب سے زیادہ آپ کے ساتھ رہے ، انھوں نے آپ کے ہاتھ میں اپنا ہاتھ ڈالا، اور جہاں آپ گئے وہاں وہ گئے، یہاں تک کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کا انتقال ہوگیا۔
1 جولائی 1985
اقبال نے نصف صدی سے بھی پہلے پر فخر طورپر یہ شعر کہا تھا:
ایک ولولۂ تازہ دیا میں نے دلوں کو لاہور سے تاخاک بخارا وسمرقند
اقبال کی موت (1937)کے تقریباً دس سال بعد ان کا یہ خواب بھی پورا ہوا کہ ایک آزاد مسلم اسٹیٹ (an independent Muslim State) پاکستان کے نام پر قائم ہوگیا۔ اقبال اگر مفکر پاکستان تھے تو جناح معمار پاکستان۔ قیام پاکستان کے بعد مسٹر محمد علی جناح نے ایک تقریر میں کہا تھا کہ خدا نے ہم کو ایک سنہرا موقع دیا ہے کہ ہم اپنے آپ کو ایک نئی قوم کا معمار ہونے کا اہل ثابت کریں۔ لوگوں کو یہ کہنے کا موقع نہ دیجیے کہ ہم اپنے آپ کو اس مہم کا اہل ثابت نہ کرسکے:
“God has given us a golden opportunity to prove our worth as architects of a new nation, and let it not be said that we didn’t prove equal to the task.”
پاکستان کے ایک اقبال اور جناح کے مداح لکھتے ہیں’’افسوس کہ علامہ اقبال پاکستان کے قیام سے لگ بھگ دس سال قبل ہی دنیا سے رخصت ہوگئے۔ قائداعظم مرحوم بھی قیام پاکستان کے بعد کل ایک سال زندہ رہے۔ ان کے بعد ان کی عظیم تحریک کا ثمرہ دوسروں نے اچک لیا‘‘۔
موجودہ زمانہ کے مسلمانوں کا یہ معاملہ بھی عجیب ہے کہ وہ خوش قسمتی کے ہجوم میں بد قسمتی کی تصویر بنے ہوئے ہیں۔ انھوںنے اتنا بڑا مفکر اسلام پیدا کیا ،جس نے سارے عالم اسلام میں نیا ولولہ پیدا کردیا۔ مگر اس نئے ولولہ کا عملی انجام یہ ہے کہ مفکر اسلام کے اپنے وطن (لاہور) میں بھی غیراسلام کے علم بردار اسلام کے علم برداروں کو شکست فاش دیے ہوئے ہیں۔ مسلمانوں نے موجودہ زمانہ میں بطور خود مفکر اعظم اور قائد اعظم پیدا کرلیے۔ مگر ان اعاظم(اکابر) کی کامیاب تحریکوں کا ثمرہ (result)وہ لوگ اچک لے گئے جو بالکل برعکس ذہن رکھتے تھے۔
2 جولائی 1985
ایس ٹی کو لرج(Samuel Taylor Coleridge, 1772-1834) ایک مشہور انگریزی شاعر ہے۔ اس کی ایک نظم کا عنوان ہے:
The Rhyme of the Ancient Mariner
اس نظم میں شاعر نے دکھایا ہے کہ ایک ملاح اپنے کسی گناہ کے سبب سمندر میںپھنس گیا ہے۔ اس کے پاس پینے کے لیے میٹھا پانی نہیں ہے۔ کشتی کے چاروں طرف سمندر کا پانی پھیلا ہوا ہے۔ مگر کھاری ہونے کی وجہ سے وہ اس کو پی نہیں سکتا۔ وہ پیاس سے بے تاب ہو کر کہتا ہے کہ ہر طرف پانی ہی پانی مگر ایک قطرہ نہیں جس کو پیا جاسکے:
Water, water, everywhere / Nor any drop to drink.
جو حال کولرج کے خیالی ملاح کا ہوا وہی حال امکانی طورپر اس دنیا میں تمام انسانوں کا ہے۔ انسان پانی کے بغیر زندہ نہیں رہ سکتا۔ مگر پانی کا تمام ذخیرہ سمندروں کی صورت میں ہے جن میں 1/10 حصہ نمک ملا ہوا ہے۔ اس بنا پر سمندر کا پانی اتنا زیادہ کھاری ہے کہ کوئی آدمی اس کو پی نہیں سکتا۔
اس کا حل قدرت نے بارش کی صورت میں نکالا ہے۔ سورج کی گرمی کے اثر سے سمندروں میں تبخیر (evaporation) کا عمل ہوتا ہے۔ سمندر کا پانی بھاپ بن کر فضا کی طرف اٹھتا ہے، مگر مخصوص قانونِ قدرت کے تحت اس کا نمک کا جزء سمندر میں رہ جاتا ہے، اور صرف میٹھے پانی کا جزء اوپر جاتا ہے۔ یہی صاف کیا ہوا پانی بارش کی صور ت میں دوبارہ زمین پر برستا ہے اور انسان کو میٹھا پانی عطا کرتا ہے جس کی اسے سخت ترین ضرورت ہے۔ بارش کا عمل ازالۂ نمک (desalination) کا ایک عظیم آفاقی عمل ہے۔ آدمی اگر صرف اس ایک واقعہ پر غور کرے تو اس پر ایسی کیفیت طاری ہو کہ وہ خداکے کرشموں کے احساس سے رقص کرنے لگے۔
3 جولائی 1985
قرآن میں متعدد مقامات پر یہ بات کہی گئی ہے کہ اللہ نے دودریا بنائے۔ ان کے درمیان ایک آڑ ہے جس کی وجہ سے وہ آپس میں نہیں ملتے۔
یہ ایک انتہائی حیرت ناک بیان ہے۔ نزولِ قرآن کے وقت ساری دنیا میں کوئی بھی شخص یہ نہیں جانتا تھا کہ پانی دو قسم کے ہیں اور وہ ایک دوسرے سے ملے بغیر بہتے ہیں۔ ایسے زمانہ میں قرآن میںاس قسم کی آیت کا ہونا واضح طو رپر اس بات کا ثبوت ہے کہ یہ خدائی کتاب ہے۔ کیوںکہ کوئی انسان اس راز سے واقف ہی نہ تھا کہ وہ اس کو بیان کرے۔
موجودہ زمانہ میں تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ یہ بات پانی کے کھار ی پن میں فرق سے پیدا ہوئی ہے۔ انسائکلو پیڈیا برٹانکا میں (Salinity Current) کے تحت درج ہے:
Saline water is denser than fresher water; when two water bodies converge, the more saline of the two flows beneath the less saline. Thus, a river flowing into the sea flows on the surface, sometimes for great distances; the Mississippi, for example, appears as a brown, freshwater stream in the blue waters of the Gulf of Mexico. (EB. VIII, p. 811)
کھاری پانی میٹھے پانی سے زیادہ کثیف (dense) ہوتاہے۔ جب دو پانی ملتے ہیں تو جو دونوں میں سے زیادہ کھاری ہوتا ہے وہ کم کھاری کے نیچے بہتا ہے۔ اس طرح سمندر میں بہنے والا ایک دریا سمندر کی سطح پر بہتا ہے۔ بعض اوقات بہت دور تک مثلاً مسیسپی میکسکو گلف کے نیلے پانی کے اوپر بادامی پانی کی شکل میں بہتا ہوا دکھائی دیتا ہے۔
4 جولائی 1985
اکثر باتیں بالکل سادہ اور فطری ہوتی ہیں مگران کو غیر ضروری طورپر پراسرار بنا دیا جاتاہے۔ مثلاً روایات میں آتا ہے کہ پیغمبر ابراہیم نے جب مکہ میں بیت اللہ کی تعمیر کی تو اللہ تعالیٰ نے حکم دیا کہ لوگوں کو پکارو ، تاکہ وہ یہاں حج کے لیے آئیں۔حضرت ابراہیم کو اندیشہ ہوا کہ میری آواز ہر جگہ کیسے پہنچے گی۔ خدا نے کہا کہ تم پکارو اور پہنچا نا ہمارا کام ہے( یَا رَبِّ، وَکَیْفَ أُبْلِغُ النَّاسَ وَصَوْتِی لَا یَنْفُذُہُمْ؟ فَقِیلَ:نَادِ وَعَلَیْنَا الْبَلَاغُ)۔ چنانچہ حضرت ابراہیم نے پکار کر کہا کہ لوگو! بیت اللہ کا حج کرنے کہ لیے آؤ۔ پھر پہاڑ جھک گئے اور آپ کی آواز ہر جگہ پہنچ گئی(تفسیر ابن کثیر، جلد5، صفحہ414)۔ اس واقعے کی اصل قرآن میں موجودہے :وَأَذِّنْ فِی النَّاسِ بِالْحَجِّ(22:27) ۔ یعنی اور لوگوں میں حج کا اعلان کردو، وہ تمہارے پاس آئیں گے۔
پیغمبر ابراہیم کی یہ بات اگر بالکل لفظی معنوں میں ہوتی تو رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو حجۃ الوداع کے موقع پر دوبارہ یہ اعلان کرنے کی ضرورت نہ ہوتی :أَیُّہَا النَّاسُ، إِنَّ اللہَ عَزَّ وَجَلَّ قَدْ فَرَضَ عَلَیْکُمُ الْحَجَّ فَحُجُّوا(مسند احمد، حدیث نمبر 10607)۔ یعنی اے لوگو، بے شک اللہ تعالی نے تم لوگوں پر حج فرض کیا ہے تو حج کرو۔
حضرت ابراہیم کا اعلان دراصل بات کو کہنے کا ایک اسلوب ہے۔ حضرت ابراہیم کا اعلان پراسس کی تکمیل اعلان نہیں تھا بلکہ وہ پراسس کے آغاز اعلان تھا۔ حضرت ابراہیم کے ذریعہ اس اہم اعلان کا آغاز کیاگیا۔ اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا اعلان فرمایا۔ اس کے بعد آپ کی امت کے لوگ نسل در نسل اعلان کررہے ہیں اور قیامت تک کرتے رہیں گے۔
اکثر غلط فہمی اسی لیے پیدا ہوتی ہے کہ لوگ ایک پراسس کے تحت جاری واقعات کوایک دوسرے سے ملا کر نہیں دیکھتے۔ مثلاً اس معاملہ میں وہ حضرت ابراہیم کے اعلان کو الگ واقعے کی حیثیت سے دیکھیں گے، اور پھر رسول اللہ کےاعلان کو الگ واقعہ سمجھیں گے۔ پھر ان دونوں کو الگ الگ واقعہ سمجھ کر لکھنا اور بولنا شروع کردیں گے۔ یہ غیر علمی نقطہ نظر ہے، اور اکثر حالات میں یہی غیر علمی نقطہ نظر لوگوں کے لیے اصل بات کو سمجھنے میں رکاوٹ بن جاتا ہے۔
5 جولائی 1985
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد جو حدیثیں وضع کی گئیں اس کے بہت سے محرکات تھے۔ ان میں سے ایک محرک دین کا مذاق اڑانا تھا۔مثلاًیہود ونصاری نے بعض چیزوں کو خودساختہ طور پر اپنا مذہبی شعار بنا لیا تھا۔اس معاملہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمانوں کو ہدایت کی کہ تم ان معاملات میں یہود ونصاری کا انداز اختیار نہ کرو بلکہ اس سے مختلف طریقہ اختیار کرو (خَالِفُوا الْیَہُودَ وَالنَّصَارَى)۔ صحیح ابن حبان، حدیث نمبر 2186۔
ایک شخص نے اس تعلیم کا مذاق اڑانے کے لیے ایک حدیث گھڑی اور کہا:قَالَ رَسُولُ اللَّہِ صَلَّى اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ:لَا تَقْطَعُوا اللَّحْمَ بِالسِّکِّینِ فَإِنَّہُ مِنْ صَنِیعِ الْأَعَاجِمِ( سنن ابوداؤد، حدیث نمبر3778) ۔ یعنی گوشت کو چھری سے نہ کاٹو، کیوں کہ یہ عجمیوں کا طریقہ ہے۔ پیغمبرِ  اسلام نے مذہبی شعار میں تشبہ سے منع کیا تھا۔ مگر کہنے والے نے ایک خود ساختہ مثال کے ذریعے اس کو مضحکہ خیز بنا دیا۔ اس قسم کی لاکھوں حدیثیں وضع کرکے لوگوں کے اندر پھیلا دی گئیں۔ تاہم اس سے دین محفوظ کو کوئی خطرہ نہیں۔
عباسی خلیفہ ہارون رشید (148-193ھ)کا واقعہ ہے۔ اس نے ایک حدیث وضع کرنے والے کو موت کی سزا دی تو اس نے کہاتھا:فأین أنت من ألف حدیثٍ وضعتُہا على نبیِّک؟ فقال لہ:أین أنت یا عدوَّ اللہ من أبی إسحاقَ الفَزاریّ وابن المبارک؟ فإنہما یتصفَّحانہا فیُخرجانہا حرفًا حرفًا (مرآة الزمان فی تواریخ الأعیان، جلد 13، صفحہ 117)۔ یعنی تم کیسے ایک ہزار حدیثوں کو نکالوگے، جو میں نے تمھارے نبی پر گڑھی ہے۔ تو ہارون رشید نے کہا اللہ کے دشمن تم ابو اسحاق الفزاری، اور ابن المبارک سے بچ نہیں سکتے، وہ دونوں اس کو غور سے دیکھیں گے، اور اس کو ایک ایک حرف کرکے نکال دیں گے۔یہ معاملہ صرف دو محدثین تک محدود نہیں ہے، ہارون رشید نے اس زمانے میں جاری ایک پراسس کی خبر دی، جس کو کثیر تعداد میں محدثین انجام دے رہے تھے۔
6 جولائی 1985
صحابہ کرام کے اقوال جو کتابوں میں آئے ہیں،وہ حد درجہ حکمت کی باتیں ہیں۔ یہ معلوم ہے کہ کسی صحابی نے بھی کسی یونیورسٹی میں تعلیم نہیں پائی تھی۔ پھر یہ علم ان کے اندر کہاں سے آیا۔ یہ علم ان کے اندر تقویٰ نے پیدا کیا۔ تقویٰ خود علم ہے۔جو شخص اللہ سے ڈرتا ہے اس کا سینہ علم کے لیے کھول دیا جاتا ہے۔ چنانچہ مسروق تابعی نے کہا:کَفَى بِالْمَرْءِ عِلْمًا أَنْ یَخْشَى اللَّہَ(الطبقات الکبریٰ لابن سعد، جلد6، صفحہ142)۔یعنی آدمی کے علم کے لیے کافی ہے کہ وہ اللہ سے ڈرے۔صحابہ کرام اس علم خاص کی اعلیٰ ترین مثال ہیں۔ حضرت عمر فاروق کا ایک قول ہے:مَنْ کَثُرَ ضَحِکُہُ قَلَّتْ ہَیْبَتُہُ، مَنْ مَزَحَ اسْتُخِفَّ بِہِ(المعجم الکبیر للطبرانی، اثرنمبر 2259)۔ یعنی جو آدمی زیادہ ہنسے اس کا رعب کم ہوجائے گا۔ اور جو شخص ہنسی مذاق کرے گا، وہ لوگوں کی نظر میں ہلکا ہوجائے گا۔
حضرت عمر کے اس قول میں جو حکمت ہے اس کی تشریح کی ضرورت نہیں۔
8 جولائی 1985
1976 میں طرابلس (لیبیا) میں ایک کانفرنس ہوئی تھی جس کا عنوان تھا:
Muslim Christian Dialogue
میں نے بھی کانفرنس کے دعوت نامہ پر اس میں شرکت کی۔ اس کانفرنس میں پیش آنے والے دلچسپ واقعات میں سے ایک واقعہ یہ ہے کہ مجھے قبض (constipation) ہوگیا اور کئی دن تک اجابت نہیں ہوئی تو میں ہوٹل کے اس کمرے میں گیا جہاں شرکاءِ کانفرنس کے لیے دواؤں کا انتظام تھا۔ وہاں جو ڈاکٹر صاحب ڈیوٹی پر تھے ان سے میں نے قبض کی دوا مانگی۔ایک کافی بڑے ہال میں دواؤں کا انبار لگا ہوا تھا۔ مگر ڈاکٹر صاحب دیر تک تلاش کرنے کے بعد بھی قبض کی کوئی دوا نہ پاسکے۔ میںنے ڈاکٹر صاحب سے کہا کہ آپ کے پاس اتنی ساری دوائیں ہیں اور قبض کی کوئی دوا آپ کے پاس نہیں۔ انھوںنے مسکراتے ہوئے جواب دیا : ہمارے پاس تو سب دست (diarrhea) کے مریض آرہے ہیں۔
میں نے اپنے اور دوسروں کے بارے میں غور کیا تو معلوم ہوا کہ اس فرق کی وجہ یہ تھی کہ میں بھوک سے کم کھاتا تھا اور دوسرے حضرات بھوک سے زیادہ۔ یہ ایک فائیو اسٹار ہوٹل تھا۔ کھانے کی چیزیں نہایت افراط کے ساتھ مہیا کی گئی تھیں۔ کھانے کے مخصوص اوقات کے علاوہ بار بار (refreshment)دیا جارہا تھا۔ میں نے دیکھا کہ لوگ خوب دھوم کے ساتھ کھا پی رہے ہیں۔ جب کہ میں اپنے مزاج کے مطابق زیادہ نہیں کھا پاتا تھا۔ دوسروں کو زیادہ کھانے کی وجہ سے دست ہوگیا اور مجھ کو کم کھانے کی وجہ سے قبض۔
9 جولائی 1985
سید ابو الاعلی مودودی کی کتاب ’’پردہ‘‘ پڑھ رہا تھا۔ قوانین فطرت کے باب میں حسب ذیل الفاظ لکھے ہوئے ملے:
وسیع کائنات میں ہر طرف بے شمار صنفی محرکات پھیلے ہوئے ہیں اور دونوں صنفوں کو ایک دوسرے کی طرف مائل کرتے ہیں۔ ہوا کی سرسراہٹ، پانی کی روانی، سبزہ کا رنگ پھولوں کی خوشبو، پرندوں کے چہچہے، فضا کی گھٹائیں، شب ماہ کی لطافتیں، غرض جمال فطرت کا کوئی مظہر اور حسن کائنات کا کوئی جلوہ ایسا نہیں ہے جو بالواسطہ یا بلاواسطہ داعیات صنفی کو حرکت میں لانے کاسبب نہ بنتا ہو۔
مصنف نے یہ بات اپنے خیال سے اچھے معنی میں لکھی اور اس سے اچھا معنی نکالنے کی کوشش کی ہے۔ مگرمیں نے اس کو پڑھا تو مجھے اپنے ذوق کے مطابق فطرت کا یہ حوالہ کچھ پسند نہیں آیا۔فطرت کے مناظر بے حد پرکشش ہیں۔ وہ آدمی کے اندر زبردست جذبہ ابھارتے ہیں۔ مگر اس معنی میں نہیں جس معنی میں مصنف نے لکھا ہے۔
مجھے فطرت کے مناظر بے حد پسند ہیں۔ میں گھنٹوں انھیں دیکھتا رہتا ہوں مگر مجھ کو یاد نہیں کہ میرے اندر مذکورہ بالا قسم کا جذبہ ابھرتا ہو۔ مجھ کو فطرت کے مناظر میں خدا کا جلوہ نظرآتا ہے۔ فطرت کو دیکھ کر مجھے خدا کی یاد آتی ہے۔شاعروں اور افسانہ نگاروں نے ضرور فطرت کو مذکورہ انداز میں پیش کیاہے۔ مگر یہ فطرت کا کمتر اندازہ ہے۔ فطرت کا اعلیٰ استعمال یہ ہے کہ آدمی اس کو دیکھ کر اس کے خالق کو یاد کرے۔ آدمی فطرت کے حسن کو دیکھے تاکہ یہ اس کے لیے ایک آئینہ بن جائے جس میں اس کو خالق کا چہرہ نظر آتا ہو۔
10 جولائی 1985
ولیم ہاورڈ ٹافٹ (William Howard Taft, 1857-1930) امریکا کے 27 ویں صدر تھے۔ ان کا زمانہ صدارت 1909 سے 1913 تک ہے۔ وائٹ ہاؤس (واشنگٹن) میں سخت حفاظتی انتظامات رہتے ہیں۔ اس کی وجہ سے صدر کو ایک لمحہ کے لیے بھی پرائیوسی (privacy)کی زندگی حاصل نہیں ہوتی۔ وہ ہر وقت نگرانوں کے پہرے میں گھرا ہوا ہوتا ہے۔ صدر ٹافٹ نے اس صورت حال کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ وائٹ ہاؤس دنیا کی وہ جگہ ہے جہاں آدمی سب سے زیادہ تنہا ہوتاہے:
White House is the loneliest place in the world.
یہ آدمی کی ایک ضرورت ہے کہ وہ پرائیوسی (privacy) حاصل کرسکے۔ وہ محسوس کرے کہ وہ اپنی دنیا میں ہے جہاں دوسروں کا دخل شامل نہیں۔ مگر ’’بڑے لوگ‘‘ اس سے محروم ہوتے ہیں۔ فطرت انسانی کی اِس طلب کا ان کے یہاں کوئی خانہ نہیںہوتا۔
یہ اور اس طرح کی دوسری چیزیں ان بڑے لوگوں کو مستقل طورپر اضطراب میں رکھتی ہیں۔ وہ اپنے ماحول سے کبھی مطمئن نہیں ہو پاتے۔ مگر اقتدار کا نشہ ایسی چیز ہے جو ہر چیز پر غالب آجاتا ہے۔ آدمی ہر حال میں اقتدار کے منصب پر بیٹھنا چاہتا ہے، خواہ اس کی وجہ سے اسے خود اپنی شخصیت کو قتل کر دینا پڑے۔
11 جولائی 1985
میری زندگی کے تجربات میں سے ایک تجربہ یہ ہے کہ کوئی شخص اپنی غلطی کا اعتراف نہیں کرتا۔ خواہ اس کی غلطی کو کتنے ہی زیادہ قوی دلائل کے ساتھ واضح کردیا جائے۔
اس سلسلے میں میرے بہت سے تجربات ہیں۔ایک دل چسپ واقعہ وہ ہے، جو مولانا عامر عثمانی (وفات 1975) سے متعلق ہے۔ 1963 میں میری کتاب ’’تعبیر کی غلطی‘‘چھپی تو لوگوں نے عامر عثمانی صاحب سے کہا کہ وہ اس کا جواب لکھیں۔ عامر عثمانی صاحب اکثر جماعت اسلامی کا دفاع کیا کرتے تھے، اور اپنے تفریحی انداز کی وجہ سے کافی پڑھے جاتے تھے۔ میری معلومات کے مطابق ابتدامیں انھوںنے گریز کیا۔ مگر جب لوگوں کا اصرار بڑھا تو انھوں نے ایک لمبا مضمون لکھا جو 1965 کے آغاز میں ان کے رسالہ تجلی (فروری- مارچ 1965، صفحہ 99-124)میں شائع ہوا۔ اس کا عنوان تھا: مولانا وحید الدین خانصاحب کی تعبیر کی غلطی۔
یہ مضمون واضح طورپر اس کا ثبوت تھا کہ عامر عثمانی صاحب اپنے آپ کو علم کے میدان میں عاجز پارہے ہیں۔ چنانچہ اس میں اصل نقطہ نظر کی علمی تردید کی کوشش نہیں کی گئی۔ البتہ مختلف انداز سے اس کا مذاق اڑایا گیا۔ اس کے جواب میں میں نے ایک مفصل مضمون لکھا جس کا عنوان تھا ’’تنقید یا مسخرہ پن‘‘ یہ مضمون اولاً ماہ نامہ نظام (کانپور) میں دسمبر 1965 میں شائع ہوا۔ اس کے بعد دوسرے جرائد میں نقل کیا گیا۔ میرے اس مضمون کی اشاعت کے بعد جناب عامر عثمانی مزید دس سال تک زندہ رہے۔ مگر وہ اس موضوع پر بالکل خاموش ہوگئے۔ پھر انھوں نے کبھی تعبیر کی غلطی کا رد کرنے کی کوشش نہیں کی۔
البتہ اس کے بعد انھوںنے تجلی کا ’’حاصل مطالعہ نمبر‘‘ نکالا۔ یہ نمبر جولائی- اگست 1966 پر مشتمل تھا۔ اس میں انھوںنے مولانا ابو الاعلیٰ مودودی سمیت متعدد شخصیتوں کی منتخب تحریریں شائع کیں اور ان پر تبصرے لکھے۔ مگر انھوں نے سب سے زیادہ شاندار ذکر راقم الحروف کا کیا۔ اس کتاب کا پہلا مضمون راقم الحروف کی کتاب ’’مذہب اور جدید چیلنج‘‘ سے متعلق تھا اس کے اعتراف میں انھوں نے اپنے وہ آخری الفاظ صرف کردئے جو ان کے پاس موجود تھے۔
جناب عامر عثمانی صاحب کا یہ مضمون ’’پچاس فی صد اعتراف‘‘ کا ثبوت ہے۔ مگر افسوس کہ دوسروں میں اتنے اعتراف کی بھی جرأت نہیں۔
12 جولائی 1985
میںجن لوگوں سے اپنی زندگی میںغیر معمولی طورپر متاثر ہوا ان میں سے سے ایک مولانا عبدالباری ندوی (1886-1976) ہیں۔ ان سے نہ صرف میری ملاقاتیں ہوئی ہیں بلکہ ایک مختصر عرصہ تک میںان کی رہائش گاہ پر مقیم بھی رہا ہوں۔
موصوف مولانا اشرف علی تھانوی کے خلیفۂ مجاز تھے۔ مولاناتھانوی نے ان کو رسمی بیعت کے بغیر مرید کیا تھا، یعنی مولانا اشرف علی تھانوی نے ان سے مجازی بیعت لی تھی۔ جن دنوں میں ان کے یہاں مقیم تھا (غالباً یہ 1967 کے اوائل کی بات ہے)،میںنے ایک روز ان سے کہا کہ آپ مجھے بیعت کرلیجیے۔ وہ مجھ سے بہت زیادہ خوش رہتے تھے۔ انھوں نے کہا کہ آپ پیدائشی صوفی ہیں۔ آپ کو ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر بیعت ہونے کی ضرورت نہیں۔ میںآپ کو اسی طرح اپنے حلقۂ بیعت میں لیتاہوں جس طرح مولانا تھانوی نے مجھ کو اپنے حلقۂ بیعت میں لیا تھا۔
مولانا عبد الباری ندوی میرے کام کے سلسلہ میں میری بہت حوصلہ افزائی فرمایا کرتے تھے۔ ایک بار انھوں نے مجھ کو ایک خط لکھا جس کا ایک جملہ یہ تھا:
باقی میرا خیال تو یہ ہے کہ آپ جدید طبقہ کی طرف مبعوث ہیں۔
مولانا عبد الباری ندوی کے بارے میں میں نے ایک مفصل مضمون لکھا تھا جس کا عنوان تھا ’’مسٹر مولوی‘‘۔ یہ الجمعیۃ ویکلی 7 مارچ اور 14 مارچ 1969 میں دو قسطوں میں چھپا تھا۔
13 جولائی 1985
میں 1948میں جماعت اسلامی سے متاثر ہواا ور جلد ہی اس کارکن بنالیا گیا۔ اس زمانے میں میرا قیام اعظم گڑھ میں تھا۔ میں وہاں کی مقامی جماعت سے وابستہ تھا، جس کے امیر اس وقت ماسٹر عبد الحکیم انصاری تھے۔1950 کے لگ بھگ زمانہ میںمیرا یہ خیال ہوا کہ میں پاکستان چلا جاؤں، اور وہاں پر کوئی کام کروں۔ رکن جماعت کی حیثیت سے میرے لیے ضروری تھا کہ میں امیر جماعت اسلامی ہند سے اس کی اجازت حاصل کروں۔ اس وقت مولانا ابواللیث اصلاحی ندوی جماعت اسلامی ہند کے امیر تھے۔ میںنے ان کو اجازت کے لیے خط لکھا تو انھوںنے اجازت نہ دی۔ ان کو یہ تردد تھا کہ میں پاکستان جاکر کوئی کام نہ کرسکوں گا، اور وہاں مشکلات میںپھنس جاؤں گا۔
اس خط وکتابت کا ذکر میں نے مقامی امیر ماسٹر عبد الحکیم انصاری صاحب سے کیا۔ وہ میری تجویز سے متفق ہوگئے ،اور کہا کہ میری رائے یہ ہے کہ آپ پاکستان چلے جائیں۔ وہاں آپ کو کام کے زیادہ مواقع ملیں گے۔
چوں کہ مولانا ابوللیث صاحب (امیر جماعت اسلامی ہند) مجھے منتقل ہونے کی اجازت نہیں دے رہے تھے اس لیے انھوںنے مولانا ابواللیث صاحب کے نام ایک سفارشی خط لکھا۔ اس خط میں میری تجویز کی پرزور تائید کرتے ہوئے انھوںنے جو کچھ لکھا اس میں سے ایک جملہ یہ تھا:
’’میں وحید الدین خاں کو عرصہ سے جانتا ہوں۔ میرا یقین ہے کہ وہ ان لوگوں میں سے ہیں جو ایک بار طے کرلیں تو ہمالیہ پہاڑ کو بھی اپنی جگہ سے کھسکا دیں‘‘۔
ماسٹر عبد الحکیم صاحب کا یہ خط مولانا ابواللیث صاحب کو بھیج دیا گیا۔ اس کو پڑھنے کے بعد انھوں نے مجھے اجازت دے دی۔ اگر چہ بعد کو خود میری رائے بدل گئی، اور میں پاکستان نہ جاسکا۔
15 جولائی 1985
دورِ اول کے مسلمانوں کی اٹھان تواضع (modesty) پر ہوئی تھی، موجودہ زمانہ کے مسلمانوں کی اٹھان فخر (pride)پر ہوئی ہے — ایک لفظ میں یہی وہ فرق ہے جس نے دورِاول کے مسلمانوں اور موجودہ زمانہ کے مسلمانوں کے درمیان وہ فرق پیدا کردیا ہے، جس کو آج ہم دیکھ رہے ہیں۔دورِ اول کے مسلمانوں کا آغاز خدا کی دریافت سے ہوا تھا۔ انھوں نے خدا کی عظمت وکبریائی کو اپنے دل و دماغ میں اتارا تھا۔ اس کے نتیجہ میں وہ سراپا تواضع بن گئے تھے۔ ان کا سینہ ذاتی بڑائی کے احساس سے آخری حد تک خالی تھا۔
اس کے برعکس، موجودہ زمانہ کے مسلمانوں میں دو بیماری اپنے ’’شاندار‘‘ ماضی کی دریافت سے آئی ہے۔ ایک، شبلی نے انھیں ’’ہیروان اسلام‘‘ کا تعارف کرایا۔دوسرا، اقبال نے ان کوماضی کی عظمت کے حصول کے لیے آفاقی بلند پروازی کا درس دیا۔ اسی طرح ہر ایک ماضی کی عظمتوں کو یاد دلا کر ان کے اندر جوش ابھارنے کی کوشش کرتا رہا۔ دورِ اول کے مسلمان ’’خدا کی عظمت‘‘ کی بنیاد پر کھڑے ہوئے تھے۔ موجودہ زمانہ کے مسلمان ’’اپنی تاریخ کی عظمت‘‘ کی بنیاد پر کھڑے ہوئے ہیں۔
یہی وہ بنیادی بات ہے جس نے دونوں گروہوں کی سوچ میں فرق پیدا کردیا ہے۔ دورِ اول کے لوگوں کو خدا کی عظمت کے احساس نے تواضع کا ذہن دیا تھا۔ موجودہ زمانہ کے مسلمانوں کو تاریخ کی عظمت کے احساس نے فخر کا ذہن دیا ہے۔ تواضع کا ذہن تمام خوبیوں کا سر چشمہ ہے، اس کے مقابلہ میں جھوٹا فخر (false pride) تمام خرابیوں کا سر چشمہ۔
موجودہ زمانہ کے مسلمانوں کی اصلاح کا مقام آغاز یہی ہے کہ ان کے اندر سے جھوٹے فخر کا مزاج ختم کیا جائے اور دوبارہ ان کے اندر تواضع کا مزاج پیدا کیا جائے۔
16 جولائی 1985
ہندستان کی وزارت خوراک کے فیصلہ کے تحت یہاں 10 ملین ٹن غلہ بطور بفر خوراک (buffer stock) رکھاجاتا ہے۔ مگر ہندستان کے اس 10 ملین غلہ کو حفاظت کے ساتھ رکھنے کا انتظام نہیں۔ چنانچہ غلہ چوری ہوتا ہے، چوہے کھاجاتے ہیں، کیڑے لگتے ہیں، برسات میں سڑ کر بے کار ہوجاتا ہے، وغیرہ۔اس کے خلاف ایک انگریزی اخبار نے مضمون لکھا جس کا عنوان تھا:
Cut the system to size
یعنی اتنا ہی غلہ رکھو جتنا انتظام کرسکتے ہو۔ یہ اصول زندگی کے تمام معاملات کے لیے ہے۔ اگر لفظ بدل کر اس طرح کہا جائے تو وہ اصول ہے — اپنے آپ کو حد واقعی کے اندر رکھو:
Cut yourself to size
انسان کی اکثرمصیبتیں صرف اس کا نتیجہ ہوتی ہیں کہ آدمی اپنے آپ کو حد واقعی کے اندر نہیں رکھتا۔ اگر لوگ اس اصول پر عمل کرنے لگیں تو زندگی کے اکثر مسائل اپنے آپ ختم ہوجائیں۔
17 جولائی 1985
شاہ محمد اسماعیل دہلوی (1779-1831)نے اپنی کتاب تقویۃ الایمان میں لکھا تھا:
’’اس شہنشاہ (باری تعالی) کی تو یہ شان ہے کہ ایک آن میں ایک حکم کن سے چاہے تو کرورڑوں نبی و جن وفرشتے، جبرئیل او رمحمد صلی اللہ علیہ وسلم کے برابر پیدا کرڈالے۔
یہ کتاب چھپی تو علما کی ایک فوج اس کے رَدّ میں اٹھ کھڑی ہوئی۔ علامہ فضل حق خیر آبادی (1797-1861) نے ایک کتاب لکھی، جس کا نام تھا امتناعِ نظر۔اس میں انھوں نے بتایا کہ مثل محمد ممتنع الوجود (ناممکن)ہے۔ یعنی محمد صلی اللہ علیہ وسلم نہ صرف نبی تھے بلکہ خاتم الانبیا تھے، اور خاتم الانبیا کا مرتبہ کسی ایک ہی شخص کو مل سکتاہے۔ اس لیے مثلِ محمد مقدرِ حق سبحانہ نہیں ہے۔ دوسرے لفظوں میںیہ کہ خاتم الانبیا کا مماثل (مانند)پیدا کرنے پر خدا قادر نہیں۔
اس پر مولانا حیدر علی رام پوری نے لکھا کہ ا بن عباس کا ایک اثر ہے جس کے مطابق اللہ نے سات زمینیں پیدا کی ہیں اور ہر زمین میں الگ الگ انبیاء ہیں(سَبْعَ أَرَضِینَ فِی کُلِّ أَرْضٍ نَبِیٌّ کَنَبِیِّکُمْ) مستدرک الحاکم، اثر نمبر 3822۔ اس اثر سے استناد کرکے انھوںنے کہا کہ اللہ مثل خاتم الانبیا پیدا کرنے پر قادر ہے۔ کیوں کہ جب سات زمینیں ہیں تو سات خاتم الانبیا کی ضرورت ہوئی۔
مرزا غالب (1797-1869)نے ایک اور نکتہ نکالا۔ انھوںنے کہا کہ موجودہ عالم میں تو ایک خاتم الانبیا کے سوا دوسرا خاتم الانبیا پیدا نہیں ہوسکتا۔ لیکن خدا اس پر قادر ہے کہ ایسا ہی ایک اور عالم پیدا کرے اور اس میںموجودہ عالم کے خاتم الانبیا کی طرح ایک اور خاتم الانبیا مبعوث فرمائے۔
اس طرح کی بحثیں برسہا برس تک جاری رہیں۔ دونوں طرف سے عجیب عجیب دلائل دیے جاتے رہے۔اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ دورِ زوال میںمسلمانوں کے ذہنی افلاس(intellectual dwarfism) کا حال کیا ہوگیا تھا۔ بے معنیٰ موشگافیوں کو وہ علم سمجھتے تھے اور بے فائدہ بحثوں میں اپنا وقت ضائع کرنے کو یہ سمجھتے تھے کہ وہ خدا کی راہ میں جہاد کررہے ہیں۔
18 جولائی 1985
دانیال لطیفی صاحب (پیدائش 1917) سپریم کورٹ کے سینئر ایڈووکیٹ (بیرسٹر)ہیں۔ ان کی تعلیم زیادہ تر انگلینڈ میںہوئی ہے۔ وہ 1928 سے 1939 تک تعلیم کے سلسلہ میں انگلستان میں رہے ہیں۔ انھوں نے انگلینڈ سے قانون کی ڈگری لی۔
انھوں نےتعلیم کے زمانے کا ایک واقعہ بتایا۔ ان کے ساتھ ایک انگریز نوجوان تھا، جس نے آکسفورڈ یونی و رسٹی میں قانون کی تعلیم حاصل کی۔ اس زمانہ میں نیر وبی کے لیے اعلیٰ تقررات لندن سے ہوا کرتے تھے۔ نیروبی میں ایک جج کی جگہ خالی ہوئی۔ اس کے لیے مذکورہ نوجوان مسٹر برسفورڈ نے درخواست دی۔اس کے بعد لارڈ چانسلر نے اس کو انٹرویو کے لیے بلایا۔ لارڈ چانسلر نے مسٹر برسفورڈ سے صرف ایک سوال کیا اور اس کے بعد ان کا تقرر کردیا۔
لارڈ چانسلر کے کمرے میں ایک بڑی سی تصویر لگی ہوئی تھی۔ اس نے نوجوان سے پوچھا، کیا تم جانتے ہو کہ یہ کس کی تصویر ہے۔ اس نے کہا ہاں۔ انھوںنے کہا کہ بتاؤ۔ نوجوان نے کہا کہ لارڈ کُک کی۔ لارڈ چانسلر نے کہا کہ تم نے صحیح بتایا۔ اب مجھے امید ہے کہ تم نیروبی میں جسٹس کی حیثیت سے اپنے فرائض کامیابی کے ساتھ انجام دے سکوگے۔
سراڈورڈ کُک (1552-1634) برطانیہ کی مشہور قانونی شخصیت ہیں۔ ان کا نام انگریزی میں (Coke) لکھا جاتاہے۔ بظاہر عام آدمی اس کو کوک پڑھے گا۔ مگر انگریز اس کا تلفظ کُک کرتے ہیں۔ لارڈ چانسلر نے یہی جاننے کے لیے مذکورہ سوال کیا تھا۔ جب اس نے دیکھا کہ نوجوان لارڈکُک کا صحیح تلفظ کررہا ہے تو اس نے اس کی بقیہ استعداد کا قیاس کرلیا اور اس کی درخواست منظور کرتے ہوئے اس کا تقرر کردیا۔
بعض چیزیں بظاہر چھوٹی ہوتی ہے۔ مگر وہ کسی بڑی چیز کی علامت ہوتی ہیں۔ اس بناپر چھوٹی ہونے کے باوجود ان کی اہمیت بڑھ جاتی ہے۔ یہی اصول تمام معاملات میں ہے۔ خواہ وہ دنیا کا معاملہ ہو یا دین کا معاملہ۔(83 سال کی عمر میں دانیال لطیفی صاحب کا انتقال 2000 میں ہوا۔)
19 جولائی 1985
امریکی نژاد برٹش رائٹراور نقاد لُگان پیرسال اسمتھ (Logan Pearsall Smith, 1865-1946) کا قول ہے کہ دو چیزیں ہیں جن کو زندگی کا مقصد بنانا چاہیے۔ اول، اس چیز کو حاصل کرنا جس کو تم چاہتے ہو، اس کے بعد اس سے فائدہ اٹھانا۔ انسانوں میں صرف انتہائی عقل مند لوگ ہی دوسری چیز کو حاصل کر پاتے ہیں:
There are two things to aim at in life: first to get what you want; after that to enjoy it. Only the wisest of mankind achieve the second.
یہ صورت حال کے عین مطابق ہے۔ بیشتر لوگوں کا یہ حال ہے کہ وہ رات دن محنت کرکے کسی نہ کسی طرح وہ چیز حاصل کرلیتے ہیں، جو وہ چاہتے ہیں۔ مگر جب اس سے فائدہ اٹھانے(enjoy) کا وقت آتا ہے تو ناکام ثابت ہو تے ہیں۔
طاقت ملنے کے بعد اس سے حقیقی فائدہ اٹھانے کے لیے ضروری ہے کہ آدمی کے اندر غرور نہ آئے۔ دولت ملنے کے بعد اس سے فائدہ اٹھانے کے لیے ضروری ہے کہ آدمی کے اندر سرکشی کا مزاج پیدا نہ ہو۔ علم حاصل کرنے کے بعد اس سے واقعی فائدہ حاصل کرنے کے لیے ضروری ہے کہ آدمی کے اندر برتری کا مزاج نہ آئے۔چوں کہ آدمی طاقت اور دولت اور علم کے بعد ان نفسیاتی خرابیوں سے اپنے آپ کو بچا نہیں پاتا، اس لیے وہ ملی ہوئی نعمت کواپنے لیے حقیقی طورپر مفید نہیںبنا پاتا۔
20 جولائی 1985
انسائیکلو پیڈیا برٹانیکا(1984) کی 30 جلدیں میرے پاس ہیں۔ اس میں ایک دلچسپ چیز یہ نظر آئی کہ متعدد جگہوں پر کسی اندراج کو مٹایا گیا ہے۔مثلاً جلد 5 صفحہ 557 پر جبریل (Jibril) کا تذکرہ ہے۔ یہاں ایک کالم کا تقریباً نصف حصہ کالے رنگ سے مٹایا گیا ہے۔ بظاہر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ یہ حضرت جبریل کی تصویر تھی جو چھاپنے کے وقت چھاپ دی گئی۔ اس کے بعد مسلمانوں (عربوں) کے اعتراض کی بنیاد پر مٹا دی گئی۔ مگر ضروری نہیں کہ تمام نسخوں میں اس کو مٹایا گیا ہو۔ عین ممکن ہے کہ صرف ان نسخوں میں مٹایاگیا ہو جو مشرقی ممالک کے لیے بھیجے گئے ہیں۔ اس انسائیکلوپیڈیا میں اس طرح کے بہت سے صفحات ہیں۔
22 جولائی 1985
ایک زندہ اور طاقتور خداپر یقین کرنا اتنا عجیب ہے کہ ماننے والے بھی اس کو نہیں مانتے اور جاننے والے بھی اس کو نہیںجانتے۔خدا مکمل طورپر ظاہر ہونے کے باوجود مکمل طورپر چھپا ہوا ہے۔ وہ اپنی تخلیق میں مکمل طورپر ظاہر ہے مگر اپنی ذات میںوہ مکمل طورپر پوشیدہ ہے۔ براہِ راست طورپر اس کا مشاہدہ موجودہ دنیا میں آخری حد تک ناممکن ہے۔ مگر بالواسطہ طورپر اس کا مشاہدہ آخری حدتک ممکن ہے۔یہی واحد وجہ ہے ،جس کی بناپر لوگ شخصیتوں میں اٹکے ہوئے ہوتے ہیں۔ خدا ان کو دکھائی نہیں دیتا، اور شخصیتیں ان کو دکھائی دیتی ہیں۔ مگر انسان کا اصل امتحان یہ ہے کہ وہ شخصیتوں کے تقدس کا پردہ پھاڑ کر خدا کو دیکھے۔
23 جولائی 1985
مسلم اہل علم نے اسلام اور مغربی تہذیب کے تقابل پر جو کتابیں لکھی ہیں، ان میں مشترک طورپر چند غلطیاں پائی جاتی ہیں:
(1) انھوںنے مغربی سماج کے چند واقعات کو لے کر اسے generalize کردیا ہے۔ اس طرح انھوں نے خاص کو عام بنانے کی غلطی کی ہے۔ اس قسم کی تحریروں کو پڑھ کر مسلمان خوش ہوسکتے ہیں۔ کیوںکہ انھیں یہ تسکین ملتی ہے کہ اُن کے ’’دشمن‘‘ کا سماج بہت بُرا سماج ہے۔ مگر ان تحریروں سے خود مغرب کے لوگ کوئی اچھا اثر نہیں لے سکتے۔
(2) دوسری چیز یہ کہ ان تحریروںمیں آئڈیالوجی کا تقابل پریکٹس (عمل) سے کیاگیا ہے۔ یعنی اسلام سے تو نظریات واقدار لی گئی ہیں اور جدید سماج سے ان کا عمل۔ یہ تقابل درست نہیں۔ تقابل ہمیشہ دو برابر کی چیزوںمیں ہوتا ہے۔ یعنی تقابل یا تو آئڈیالوجی سے آئڈیالوجی کا ہونا چاہیے یا پریکٹس سے پریکٹس کا۔
اس قسم کا غیر علمی لٹریچر دعوت کے لیے کبھی مفید نہیںہوسکتا۔ وہ مسلمانوں میں جھوٹا فخر پیدا کرسکتا ہے۔ مگر وہ دعوت عام کے لیے کارآمد نہیں۔
24 جولائی 1985
قرآن میں بہت سے پیغمبروں کا ذکر ہے۔ اس کا مقصد اہل ایمان کو ان کی زندگی سے سبق دینا ہے۔ مثلاًسلیمان علیہ السلام ایک اسرائیلی پیغمبر ہیں، ان کو اللہ تعالیٰ نے یہ خصوصیت دی کہ جنات کو ان کے لیے مسخر کردیا (الانبیاء، 21:81-82)۔ یہ چیز بعد کو یہود کے لیے فتنہ بن گئی۔ انھوںنے یہ سمجھا کہ حضرت سلیمان جو کچھ کرتے تھے، جادو اور عملیات کے زور پر کرتے تھے۔ چنانچہ یہود نے جادو اور عملیات میں مہارت حاصل کرنا شروع کردی۔ انھوںنے خدا کے دین کو جادو اور عملیات کا دین بنا کر رکھ دیا (البقرۃ، 2:102)۔
حضرت مسیح کا اصل کام دعوت تھا۔ دعوت کا تقاضا ہے کہ داعی یک طرفہ طورپر حسن اخلاق کا طریقہ اختیار کرے۔ چنانچہ حضرت مسیح نے اپنے پیروؤں کو رافت اوررحمت اور اعراض کی زبردست تاکید کی۔ بعد کو حضرت مسیح کے پیرو کار رافت ،رحمت اور اعراض کی دعوتی مصلحت کو سمجھ نہ سکے۔ انھوں نے اس کو اصل مطلوب سمجھ لیا اور اس میں مزید مبالغہ کرنا شروع کیا۔ یہاںتک کہ اعراض دنیا برائےاخلاق و دعوت کو انھوںنے ترکِ دنیا بمعنی رہبانیت بنادیا (الحدید، 57:27)۔
اسی طرح پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے اگر چہ اپنی زندگی کا ابتدائی نصف سے زیادہ حصہ دعوت پر زور دینے میں صرف کردیا۔ اس زمانہ میں آپ نے بھی صبر اور اعراض اور یک طرفہ حسن اخلاق کی تعلیم دی۔ مگر ہجرت کے بعد قریش کی جارحیت نے آپ کو دفاع پر مجبور کیا۔ اس وقت آپ کے اوپر قتال کی آیتیں اتاری گئیں۔ مدنی زندگی کا بیشتر حصہ جارحانہ کارروائیوں کا دفاع کرنے میں گزرا۔
مگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو شدید اندیشہ تھا کہ آپ کی امت بھی اس معاملہ میں فتنہ میں مبتلا ہوگی۔ جوچیز مشرکین اورکافروں کی جارحیت کے خلاف بطور دفاع فرض کی گئی تھی، اس کو مسلمان خود اپنی جنگ کے لیے استعمال کرنا شروع کردیں گے۔ آپ نے حجۃ الوداع کے خطبےمیں فرمایا:لاَ تَرْجِعُوا بَعْدِی کُفَّارًا، یَضْرِبُ بَعْضُکُمْ رِقَابَ بَعْضٍ(صحیح البخاری، حدیث نمبر 4403) ۔ یعنی میرے بعد تم لوگ کفر کی طرف نہ لوٹ جانا کہ تم میں سے بعض ، بعض کی گردن مارنے لگے۔
اس طرح کی کثیر حدیثیں ہیںجن میں مسلمانوں کو مطلق طورپر جنگ سے منع کیا گیا ہے۔ مگر خلیفہ سوم کے زمانہ ہی میں مسلمان اس فتنہ میں پڑ گئے۔ انھوںنے پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے سخت ترین انتباہ کے باوجود آپس میں لڑنا شروع کردیا اور کہا کہ یہ جہاد ہے۔ مگر یہ جہاد نہیںبلکہ بدعت تھی اور یہ بدعت آج تک مسلمانوں میں جاری ہے۔
25 جولائی 1985
کہاجاتا ہے کہ شہنشاہ اکبر نے اپنے لڑکے شہزادہ سلیم کی شادی میں اس کو چار سو ہاتھیوں کا تحفہ دیا۔ یہ چار سو ہاتھی دوہد (گجرات ) کے گھنے جنگلوں سے حاصل کیے گئے تھے۔ مگر آج گجرات کے اس علاقہ میں نہ کہیں گھنے جنگل نظر آتے ہیں، اورنہ ہاتھی۔
یہ ایک چھوٹی سی مثال ہے جس سے اندازہ ہوتاہے کہ زمانہ کس طرح بدلتا رہتاہے۔ ایک جگہ جہاں آج ’’جنگل‘‘ نظر آتا ہے وہاں کل ’’میدان‘‘ نظر آنے لگتا ہے۔ جہاں آج ہاتھیوں کے غول گھومتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں وہاں جب کل سورج نکلتاہے تو دیکھنے والے دیکھتے ہیں کہ وہاں انسان چل پھر رہے ہیں۔زمانہ کے اس بدلتے ہوئے روپ میں بے شمار نشانیاں ہیں۔ مگر نشانیوں سے وہی لوگ فائدہ اٹھاتے ہیں جو ان کی گہرائیوں میں جھانکنے کی بصیرت رکھتے ہوں۔
26 جولائی 1985
ایک صاحب قرآن کا درس دے رہے تھے۔درمیان میں یہ آیت آئی:یَاأَیُّہَا الَّذِینَ آمَنُوا لَا تَسْأَلُوا عَنْ أَشْیَاءَ إِنْ تُبْدَ لَکُمْ تَسُؤْکُمْ (5:101)۔ یعنی اے ایمان والو، ایسی باتوں کے بارے میں سوال نہ کرو کہ اگر وہ تم پر ظاہر کردی جائیں تو تم کو ناگوار گزریں۔
حاضرین میں سے ایک شخص نے پوچھا :جناب، اس آیت میں لفظ اَشْیَاءَ حرف جار (عَنْ) کے بعد آیا ہے۔ عربی قاعدہ کے مطابق یہاں اشیاء پر زیر ہونا چاہیے تھا۔ پھر اُس پر زبر کیوں ہے۔ یعنی وہ مکسور کے بجائے مفتوح کیوں ہے۔مفسر صاحب نے فوراً جواب دیا: میرے بھائی، یہی تو وہ بات ہے جس سے آیت میں پوچھنے سے منع کیا گیا ہے۔ پھر خود آیت جس سوال سے منع کررہی ہے وہی سوال آپ مجھ سے پوچھ رہے ہیں۔
یہ بظاہر ایک جواب ہے۔ مگر جو لوگ عربی زبان اور عربی نحو سے واقف ہیں وہ جانتے ہیں کہ یہ کوئی جواب نہیں۔ اسی طرح اکثر ایسا ہوتا ہے کہ آدمی سے ایک سوال پوچھا جاتا ہے، اور وہ اس کا ایک جواب دیتا ہے، اور اپنی لاعلمی سے وہ سمجھتا ہے کہ جواب ہوگیا۔ حالاں کہ جاننے والوں کے نزدیک وہ جواب نہیں ہوتا۔
27 جولائی 1985
ہنری پرین (Henri Pirenne) ایک مغربی مورخ ہے۔ وہ 1862 میں پیدا ہوا، اور 1935 میں اس کی وفات ہوئی۔ ہنری پرین نے باقاعدہ طورپر یہ نظریہ پیش کیا ہے کہ قدیم دنیا اور جدید دنیا کے درمیان انفصال (essential break) درحقیقت عرب فتوحات کے ذریعہ پیش آیا۔
Encyclopaedia Britannica (1984) Vol. 13, p. 155
ہنری پرین نے اپنی کتاب ہسٹری آف یورپ میں لکھا ہے کہ اسلام نے کرۂ ارض کے رخ کو بدل دیا۔ قدیم روایتی نظام کا خاتمہ کردیا گیا:
It (Islam) had sufficed to change the face of the globe...the traditional order of history was overthrown. (Henri Pirenne: A History of Europe, London, 1939, p. 46).
29 جولائی 1985
امریکی صحافی مسٹر بنجمن اسٹولبرگ(1891-1951)کا قول ہے — اکسپرٹ وہ شخص ہے جو بڑی غلطی کی اصلاح کے لیے چھوٹی غلطیوں کو نظر انداز کردے:
An expert is a man who avoids the small errors as he sweeps on to the grand fallacy. (Benjamin Stolberg)
بنجمن اسٹولبرگ نے یہ بات ٹکنکل اکسپرٹ کے لیے کہی ہے۔ مگریہی بات ہرمیدان عمل کے لیے صحیح ہے۔ آپ خواہ جس شعبہ میں بھی کام کررہے ہوں، اور جس مقصد کی تکمیل میںبھی لگے ہوئے ہوں، آپ کو یہ اصول اختیار کرنا ہوگا— زیادہ بڑے پہلوؤں پر نظر رکھنے کے لیے چھوٹے پہلوؤں کو نظر انداز کرنا۔
اس کی وجہ یہ ہے کہ آدمی یہ نہیں کرسکتا کہ وہ بیک وقت چھوٹے پہلوؤں اور بڑے پہلوؤں پر یکساں نظر رکھے۔ آدمی مجبور ہے کہ وہ ایک کی خاطر دوسرے کا نقصان گوارہ کرے۔ وہ بڑا فائدہ حاصل کرنے کی خاطر چھوٹے فائدوں کو نظر انداز کردے۔ جو شخص چھوٹی چھوٹی چیزوں کا نقصان برادشت نہ کرے، وہ اپنی زندگی میںکسی بڑی چیز کو حاصل کرنے میں ناکام رہے گا۔
30 جولائی 1985
ایک عربی میگزین میں یہ عبارت نظر سے گزری:دخل اعرابی علی بخیل فوجدہ یأکل خبزاً وعسلاً فأخفی الخبز فی حجرہ ولم یدعہ لتناول الطعام معہ. فما کان من الاعرابی الا ان تقدم الی اناء العسل وأخذ یأکل بلا خبز ۔ فقال لہ البخیل:ان العسل وحدہ یحرق القلب فأجابہ الأعرابی:نعم، ولکن قلبک لاقلبی۔یعنی ایک دیہاتی آدمی ایک بخیل کے پاس آیا۔ اس نے دیکھا کہ بخیل روٹی اور شہد کھارہا ہے۔ بخیل نے روٹی کو اپنی گود میں چھپا لیا اور دیہاتی کے لیے نہیں چھوڑا کہ وہ اس کے ساتھ کھاسکے۔ دیہاتی نے یہ کیا کہ وہ شہد کے برتن کی طرف بڑھا اور اس کو روٹی کے بغیر کھانے لگا۔ یہ دیکھ کر بخیل نے اس سے کہا کہ خالی شہد کھانا دل کو جلاتا ہے۔ دیہاتی نے جواب دیا، ہاں وہ جلاتا ہے، مگر وہ تمھارے دل کو جلاتا ہے، نہ کہ میرے دل کو۔
ممکن ہے کہ یہ واقعہ نہ ہو بلکہ محض لطیفہ ہو، قدیم زمانہ تمثیلات کا زمانہ تھا۔ لوگ اپنی باتوں کو کہانی کے روپ میں بیان کیا کرتے تھے۔ گمان غالب یہ ہے کہ کسی شخص نے ’’بخیل‘‘ کے کردار کو نمایاں کرنے کے لیے یہ قصہ گھڑا اور اس کو لوگوں کے درمیان پھیلا دیا۔
اخلاقی درس کی حد تک یہ بناوٹی قصے درست تھے۔ مگر اس کے بعد اپنے بڑوں کی بڑائی اور بزرگی ظاہر کرنے کے لیے طلسماتی قصے کہانیاں گھڑے جانے لگے۔ یہاں آکر یہ طریقہ سراسر غلط ہوگیا۔ کیوں کہ ان جھوٹے قصوں نے یہ تصور دیا کہ ’’بزرگ ایسے ہوتے ہیں‘‘ ۔ حالاں کہ حقیقت یہ ہے کہ کوئی انسان ایسا ہوتا ہی نہیں، اور نہ کوئی بزرگ کسی قسم کے بزرگی اور کرامات کے ساتھ پیدا ہوتاہے۔ مگر فرضی تصویر لوگوں کے لیے حقیقی تصویر بن گئی۔
31 جولائی 1985
قرآن کی ایک آیت ان الفاظ میں آئی ہے:لَقَدْ أَنْزَلْنَا إِلَیْکُمْ کِتَابًا فِیہِ ذِکْرُکُمْ أَفَلَا تَعْقِلُونَ (21:10)۔ یعنی ہم نے تمہاری طرف ایک کتاب اتاری ہے جس میں تمہاراذکر ہے، پھر کیا تم سمجھتے نہیں۔ بعض بزرگوں کے متعلق مشہور ہے کہ انھوںنے یہ آیت پڑھی تو ان کے ذہن میں آیا کہ قرآن میں جب اس کا ذکر ہے تو ہمارا بھی ذکر ہونا چاہیے۔ چنانچہ انھوںنے قرآن میںاپنا ذکر تلاش کرنا شروع کیا، اور اپنے حسب حال کوئی آیت ڈھونڈھ نکالی۔
اسی اصول کے تحت مجھے بھی یہ خیال ہوا کہ میں قرآن میںاپنا ’’ذکر‘‘ تلاش کروں۔ تلاش کرنے کے بعد قرآن کی جس آیت پر میرا ذہن رُکا وہ یہ تھی:وَآخَرُونَ اعْتَرَفُوا بِذُنُوبِہِمْ خَلَطُوا عَمَلًا صَالِحًا وَآخَرَ سَیِّئًا عَسَى اللَّہُ أَنْ یَتُوبَ عَلَیْہِمْ إِنَّ اللَّہَ غَفُورٌ رَحِیمٌ (9:102)۔ یعنی کچھ اور لوگ ہیں جنھوں نے اپنے قصوروں کا اعتراف کرلیا ہے۔ انھوں نے ملے جلے عمل کیے تھے، کچھ بھلے اور کچھ برے۔ امید ہے کہ اللہ ان پر توجہ کرے۔ بیشک اللہ بخشنے والا، مہربان ہے۔
قرآن کے نزدیک ہدایت یافتہ گروہ کے دو درجے ہیں۔ ایک وہ جنھوںنے واقعۃً پورے معنی میںعمل صالح کا ثبوت دیا ہو اور اپنے عمل صالح کی بنا پر وہ نجات کے مستحق قرار پائیں۔
قرآن کے مطابق دوسرے لوگ وہ ہیں، جو پورے معنوں میں عملِ صالح کا ثبوت نہ دے سکے۔ البتہ انھوں نے اپنی حیثیتِ واقعی کا اعتراف کیا ہو۔ جنھوں نے کامل شعور کے ساتھ اپنی کوتاہیوں اور کمزوریوں کو جانا اور کسی تحفظ کے بغیر کھلے طورپر اللہ کے سامنے اس کا اقرار کیا۔ یہ دوسرے لوگ بھی اپنے اقرار واعتراف کی بنیاد پر اللہ کے یہاں قابل نجات قرار پائیں گے۔
میںاللہ سے یہ امید کرتا ہوں کہ وہ مجھے دوسرے گروہ میں شامل کرے۔میرے پاس ’’عمل‘‘ کا سرمایہ نہیں، مگر غالباً میرے پاس ’’اعتراف‘‘ کا سرمایہ ہے۔ اللہ تعالیٰ نے مجھے یہ توفیق دی ہے کہ میں اپنی کمیوں اور کوتاہیوں کا آخری حد تک اعتراف کروں۔ یہی میرا سرمایہ ہے اس کے سوا میرے پاس اور کوئی سرمایہ نہیں۔
2 اگست1985
انسان کی گمراہی ہر دور میں ایک ہی رہی ہے— جوچیز خدا کی قدرت سے ہورہی ہے اس کو غیر خدا کی طرف منسوب کرنا۔ جب بھی انسان ایسا کرتا ہے تو اس کا نتیجہ یہ ہوتاہے کہ جس واقعہ کو دیکھ کر انسان پر خدا کی عظمت طاری ہونی چاہیے تھی، اس سے وہ غیر خدا کی عظمت میںگم ہوجاتا ہے۔
قدیم زمانہ میں انسان سورج کو پوجتاتھا۔ اس کی وجہ کیا تھی۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ انسان نے سورج سے روشنی اور حرارت نکلتے ہوئے دیکھا۔ اس نے سمجھا کہ یہ خود سورج ہے جو اپنی طاقت سے روشنی اور حرارت نکال رہا ہے۔ آدمی اگر روشنی اور حرارت کو خدا کی قدرت سے نکلنے والی چیز سمجھتا تو وہ خدا کے آگے جھک جاتا۔ مگر جب اس نے روشنی اور حرارت کو خود سورج سے نکلنے والی چیز سمجھا تو وہ سورج کے آگے جھک گیا۔
اسی طرح حضرت مسیح علیہ السلام نے معجزے دکھائے۔ یہ معجزے خدا کی قدرت سے تھے مگر بعد کے مسیحیوں نے اس کو خود حضرت مسیح کا اپنا کرشمہ سمجھ لیا۔ نتیجہ یہ ہوا کہ ان کے جذبات سب سے زیادہ حضرت مسیح سے وابستہ ہوگئے۔ انھوں نے حضرت مسیح کو خدا سمجھ کر ان کی پرستش شروع کردی۔
یہی معاملہ ایک اور شکل میں پیغمبر اسلام کے ساتھ پیش آیا۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعہ جو فتوحات ہوئیں، وہ پوری انسانی تاریخ کا سب سے زیادہ انوکھا واقعہ ہے۔ یہ واقعہ بھی یقینی طورپر خدائی قدرت سے پیش آیا، جیسا کہ قرآن میں بیان ہوا ہے(التوبۃ، 9:25-26)۔ مگر بعد کے مسلمانوں نے اس کو خود اپنے پیغمبر کا کرشمہ سمجھ لیا۔ جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ بعد کے زمانہ کے مسلمانوں میںخدا کی بڑائی کا احساس گھٹ گیا اور اپنے پیغمبر کی بڑائی کا احساس ہر چیز سے زیادہ چھاگیا۔ پچھلے ہزار سال کے اندر مسلمانوں نے اپنے پیغمبر کی عظمت پر بےشمار کتابیں نظم ونثر میں لکھی ہیں، مگر خدا کی عظمت پر ایک ہزار سال کے اندر وہ ایک بھی قابل ذکر کتاب تیار نہ کرسکے۔
3 اگست 1985
فرنچ رائٹر اور فلاسفر ژاں پال سارترے (Jean-Paul Sartre, 1905-1980) کا ایک قول ہےکہ تشدد صرف ان لوگوں کے لیے موزوں ہے، جو کھونے کے لیے کچھ نہ رکھتے ہوں:
Violence suits those who have nothing to lose.
یہ ایک نہایت حکیمانہ بات ہے۔ جب بھی ایک شخص تشدد کرتا ہے تو لازماً اس کونقصان اٹھانا پڑتا ہے۔ حتی کہ اس وقت بھی جب کہ اس نے اپنے حریف کے مقابلہ میں لڑائی جیت لی ہو۔
اس کی وجہ یہ ہے کہ جس شخص پر تشدد کیاگیا ہے ،وہ کوئی پتھر نہیں ہے، بلکہ انسان ہے، اور انسان ہمیشہ ردِّ عمل(reaction) ظاہر کرتا ہے۔ زیر ِتشدد آدمی تشدد کے جواب میں وہ سب کچھ کرتا ہے، جو اس کے بس میںہو۔ اگر وہ طاقت ور ہے تو وہ اپنے حریف کے مقابلہ میں براہ راست وار کرتاہے، اور اگر وہ طاقت ور نہیں ہے تب بھی کمینہ پن کا راستہ ہر ایک کے لیے کھلا ہوا ہے۔ طاقت ور آدمی جو کچھ کھلے طورپر کرسکتاہے وہی کمزور آدمی بھی کرسکتا ہے، اس فرق کے ساتھ کہ وہ جو کچھ کرتا ہے چھپے طور پر کرتا ہے۔
ایسی حالت میںتشدد صرف اس شخص کے لیے مفید ہے، جس کے پاس پھوس کا چھپر بھی نہ ہو، جس میںاس کا حریف رات کے وقت آکر آگ لگاسکے۔ اس کی جیب میں چند روپیے بھی نہ ہوں، جس کو کوئی اس سے چھین سکے۔زندگی کا اصل راز یہ ہے کہ آدمی فریق ثانی سے ٹکراؤ نہ کرتے ہوئے اپنی تعمیر کرے۔ حتی کہ فریق ثانی شرارت کرے تب بھی وہ اس کو نظر انداز کرے۔ تشدد کے نقصانات سے وہی شخص بچ سکتا ہے، جو اعراض کی حکمت کو جانتا ہو۔
5 اگست 1985
برٹش ہسٹورین جی ایم ٹریولیان (George Macaulay Trevelyan, 1876-1962) نے کہا کہ تعلیم نے ایسے بہت سے لوگ پیدا کر دیے ہیں جو پڑھ سکیں۔ مگر تعلیم ایسے لوگ پیدا نہ کرسکی، جو یہ فرق کرسکیں کہ کیا چیز پڑھنے کے قابل ہے ،اور کیا چیز پڑھنے کے قابل نہیں:
Education has produced a vast population able to read, but unable to distinguish what is worth reading.
تعلیم ایک وسیلہ ہے، جو آدمی کو پڑھنے کے قابل بناتا ہے۔ مگر آدمی کیا چیز پڑھے، اس کا فیصلہ وہ خود کرتا ہے۔ اگر اس کے مزاج میں سنجیدگی ہے تو وہ سنجیدہ لٹریچر پڑھے گا اور اگر اس کے مزاج میں سطحیت ہے تو وہ سطحی چیزوں کو پڑھ کر اپنے ذوق کی تسکین حاصل کرے گا۔
انسان کو تعلیم یافتہ بنانا اصل کام نہیں، انسان کو انسان بنانا اصل کام ہے۔ تعلیم یقیناً ایک ذریعہ ہے، مگر تعلیم بجائے خود مقصد نہیں۔
6 اگست 1985
میری زندگی کے تجربات میںسے ایک تجربہ یہ ہے کہ لوگوں کی ڈگریوں اور لوگوں کی معلومات میں تو اضافہ ہوتا رہتا ہے مگر ان کے فکر وشعور میں کوئی اضافہ نہیں ہوتا۔ میں جب کسی آدمی سے لمبے عرصہ کے بعد ملتا ہوں تو یہ تو معلوم ہوتا ہے کہ اس مدت میںاس نے کئی مزید ڈگریاں لے لی ہیں۔ مگر جب اس سے گفتگو کرتا ہوں تو معلوم ہوتا ہے کہ فکر وشعور کے اعتبار سے اب بھی وہ اسی مقام پر ہے جہاں وہ پہلے تھا۔
اس موضوع پر میںنے بہت سوچا کہ آخر شعوری ارتقا نہ ہونے کی وجہ کیا ہے۔ بالآخر میری سمجھ میں آیا کہ اس کی سب سے بڑی وجہ اپنے خلاف نہ سوچنا ہے، جس کو دینی اصطلاح میں احتساب کہاگیا ہے۔ تقریباً ہر ایک کا حال میں یہ پاتا ہوں کہ جیسے ہی کوئی ایسی بات کہی گئی ہو، جو اس کے اپنے خلاف ہو تو وہ فوراً ناراض ہوجاتا ہے۔ جو بات اپنے خلاف ہو،اس پر وہ معتدل انداز سے سوچ نہیں پاتا۔ میرے اندر خدا کے فضل سے بچپن سے یہ صلاحیت ہے کہ میں اپنے خلاف سوچتا ہوں۔ میرے خلاف کوئی بات کہی جائے تو میں کبھی اس پر برہم نہیں ہوتا۔ اور اگر بالفرض کبھی میرے اندر برہمی پیدا ہوجائے تو چند منٹ یا چند گھنٹوں کے اندر میں دوبارہ معتدل ہو کر اس پر غور کرنے لگتاہوں۔
مگر عجیب بات ہے کہ اپنی پوری زندگی میں مجھے کوئی ایسا شخص یاد نہیں جو اپنے خلاف سوچنے کی صلاحیت رکھتا ہو۔ ہر آدمی جو مجھے ملا وہ اپنے موافق سوچنے کا ماہر ملا۔ اقبال کا مرد مومن ان کی تشریح کے مطابق سلف تھنکر ہوتا ہے۔ مگر میںاس کو سطحی بات سمجھتا ہوں۔ میرے نزدیک زیادہ گہری بات یہ ہے کہ آدمی اینٹی سلف تھنکر (anti-self thinker)ہو۔
واپس اوپر جائیں

ایک داعی کی یاد میں

مسٹر اعجاز احمد (پیدائش 1963) کا 29 دسمبر 2020کو بنگلور کے ایک ہاسپٹل میں انتقال ہوگیا۔ انھوں نے1985میں آئی آئی ٹی کھرگپور ( IIT Kharagpur) سے گریجویشن مکمل کیا۔ اس کے بعد ONGC سے انھوں نے اپنے کیرئیر کی شروعات کی، اور 1995میں ان کو ایک فارِن کمپنی میں جاب مل گئی۔چوں کہ وہ سمندر آئل رگ (Sea Oil Rig)پر جاب کرتے تھے اس لیے ان کی جاب کی نوعیت کچھ اس طرح ہوتی کہ وہ مکمل ایک ماہ جاب پر ہوتے اور ایک ماہ گھر پر ہوتے۔
مسٹر اعجاز انتہائی محنتی اور ایک آنسٹ انسان تھے ۔ان کی زندگی کا فارمولا تھا— سادہ زندگی ، اونچی سوچ ۔انھوں نے نہ تو تعلیمی زمانے میں کوئی چھٹی لی، اور نہ ہی جاب کے زمانے میں کبھی کوئی چھٹی لی۔ یہاں تک کہ ڈیوٹی کے اوقات میں وہ اپنی فیملی سے فون پر بھی بات نہیں کرتے تھے۔ ایک مرتبہ ایسا ہوا کہ ان کے اکاؤنٹ میں غلطی سے ڈبل سیلری آگئی تو انھوںنے اس کو واپس کیا ۔اگرچہ اس کو لوٹانے کا جو پراسس (process)تھا وہ بہت ہی مشکل اور پیچیدہ تھا۔یہاں تک کہ خود کمپنی کے ایڈمنسٹریٹیو آفسرس (Administrative Officers )نےبھی انہیں یہ مشورہ دیا تھا کہ وہ خاموش ہوجائیں مگر انھوں نے ان کے اس مشورہ کو رد کردیا اور اس وقت تک چپ نہ بیٹھے جب تک کہ اسے لوٹا نہیں دیا۔
سی پی ایس مشن سے ان کا تعلق ان کی اہلیہ مزفاطمہ سارہ (پیدائش1967)کے ذریعے ہوا۔ سائنٹفک ذہن ہونے کی وجہ سےوہ سی پی ایس کے لٹریچر سے بہت زیادہ متأثر ہوئے ،اور اسلام کی پیس فل آئڈیالوجی کے معاملہ میں انھوں نے سی پی ایس مشن کا بھر پور ساتھ دیا۔ وہ اگرچہ 2000ہی سے اس مشن کے ساتھ تھے۔ مگر 2005 میں راقم الحروف نے بنگلور کا سفرکیا، جس کی تفصیل ماہنامہ الرسالہ مارچ 2006میں دیکھی جاسکتی ہے۔ اس کے بعد سے وہ مشن کو اورزیادہ گہرائی کے ساتھ سمجھنے لگے تھے۔
سی پی ایس مشن سےان کو بہت گہرا تعلق تھا۔ وہ مشن کے کاموں کے لیےاپنی اہلیہ کی بھی بہت زیادہ حوصلہ افزائی کرتے ، اورہر لمحہ مشن کے تعاون کے لیے تیار رہتے، جو مشکل ترین حالات میں بھی کمی کے بغیر جاری رہا۔ اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ 2015کے بعد جب آئل انڈسٹری کا ڈاؤن فال شروع ہوا تو ان کا ڈموشن ہوگیا ، اور ان کو انڈین کمپنی میں واپس بھیج دیا گیا۔اس کے باوجود مشن سے تعلق اور تعاون میں انھوں نے کوئی کمی نہیں کی ۔
مولانا عنایت اللہ عمری (پیدائش 1983) بنگلور میں مسٹر اعجاز اور ان کی اہلیہ مز فاطمہ سارہ کے ساتھ مل کر دعوتی کام کرتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ اعجاز صاحب اور ان کی اہلیہ، دونوں مولانا کے اس فارمولا پر عمل کرتے تھے — میاں بیوی ایک دوسرے کے انٹلکچول پارٹنر ہیں۔ چنانچہ اس کو لے کر وہ ہمیشہ تھرلڈ(thrilled) رہتے تھے ۔ ان دونوں کا یہ معمول رہا کہ وہ باہم قرآن میں تدبر کرتے ، اور الرسالہ کے مطالعہ کا اہتمام کرتے تھے ۔اسی طرح اعجاز صاحب کو یہ پسند تھا کہ وہ اللہ کے راستے میں سب سے اعلی کوالٹی کی چیزیں استعمال کریں، خواہ وہ آفس کا سٹ اپ (setup) ہو یا کتابوں کا ڈسٹری بیوشن ،کمپیوٹر سسٹم کی ضرورت ہو یا موبائل وین ، وغیرہ۔ ہر جگہ انھوں نے یہی کوشش کی کہ اعلیٰ کوالٹی کی چیزیں استعمال کی جائیں۔
مسٹر اعجاز کا ایک انتہائی اہم رول سی پی ایس مشن کے انگریزی میگزین اسپرٹ آف اسلام (www.spiritofislam.co.in) کی بنگلور سے اشاعت ہے۔ یہ میگزین مسٹر اعجاز اور ان کی اہلیہ مز سارہ فاطمہ کی ذاتی دلچسپی کی وجہ سے انتہائی عمدہ طباعت کے ساتھ شائع ہوتا رہاہے۔ کووڈ 19 کے بعد سے یہ ای میگزین (e-magazine)کی شکل میں نکل رہا ہے۔ انگریزی زبان پر ان کومہارت حاصل تھی۔میگزین کے آغاز جنوری 2013 سے لے کردسمبر 2020تک مسٹر اعجازمیگزین کے ایڈیٹوریل ٹیم کے بنیادی رکن تھے، اور جب بھی وہ گھر پر ہوتے باقاعدہ میگزین کی ایڈیٹنگ اور پروف ریڈنگ کرتےتھے۔ اس کے علاوہ راقم الحروف کی کتاب اظہارِ دین کے انگریزی ورزن کی بھی ایڈیٹنگ کررہےتھے۔ لیکن وہ اس کو مکمل نہ کرسکے ۔
بنگلور ٹیم کے دوسرے ساتھی مسٹر ابرار مدثر (پیدائش 1985) نے بتایا کہ اعجاز بھائی کی وفات کے بعد میں نے ان کی اہلیہ سارہ آپا کا رویہ دیکھا تو مجھے صحابہ کی زندگی یاد آگئی، جو مصیبت کے موقع پر صبر سے کام لیتے تھے۔ سارہ آپا نے پوری طرح اللہ کی سچی بندی ہونے کا حق ادا کیا۔صبر اور حوصلہ کے ساتھ انھوں نے ہم سب کو دلاسہ دیتے ہوئے کہا کہ آپ غم نہ کریں، وہ کسی نامعلوم (unknown) جگہ نہیں گئے ہیں،وہ اللہ کے کنگڈم (kingdom) میں گئے ہیں ، اللہ نے انھیںاپنے پاس بلا لیا ہے، جو اس دنیا سے بہت بہتر ہے۔اس دنیا کے اندر ان کے امتحان کا وقت اتنا ہی تھا۔ اس لیے ہمیں خدا کے کریشن پلان پر راضی ہونا ہے، اور صبر کا طریقہ اختیار کرنا ہے۔ انھوں نے دعوتی مشن کو جو تعاون دیا ہے، اس کو آگے بڑھانا اب ہماری ذمے داری ہے۔ وہ دیر تک معرفت اور ایمان کی باتیں کرتی رہیں، جس سے خود ہمارے ایمان میں تازگی پیدا ہوئی۔
اُس وقت سارہ آپا نےمزید کہا کہ میں اور میرے شوہر مولانا (راقم الحروف) کے ساتھ ایک مجلس میں تھے۔ ایک سوال کے جواب میں مولانا نے کہا کہ اگر میاں بیوی میں سے کسی ایک کا پہلے انتقال ہوجائے تو دوسرے کی ذمہ داری بڑھ جاتی ہے کہ وہ اپنے رفیقِ حیات کے حصے کا بھی دعوتی کام کرے ۔اس طرح وہ اپنے اور اپنے رفیق حیات کے گریڈ کو خدا کی نظر میں بڑھائے ۔اس لیےمیں نے فیصلہ کیا ہے کہ میں اپنے حصہ کا دعوتی کام کرنے کے ساتھ شوہر کے حصے کا بھی دعوتی کام کروں گی تاکہ میں اپنے ساتھ اپنے شوہرکے گریڈ کو بڑھا سکوں۔
مسٹر اعجاز کی وفات کی خبر سنی تو مجھے قرآن کی یہ آیت یاد آئی:یَاأَیُّہَا الَّذِینَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّہَ وَلْتَنْظُرْ نَفْسٌ مَا قَدَّمَتْ لِغَدٍ (59:18)۔ یعنی اے ایمان والو! اللہ سے ڈرو، اور ہر شخص دیکھے کہ اس نے کل کے لیے کیا بھیجا ہے— انسان کی کامیابی یہ ہے کہ وہ خدا کے منصوبۂ تخلیق کو یادرکھے، اور اس کے مطابق زندگی گزارے۔اللہ مرحوم کی لغزشوں کو معاف کرے، اور اپنی رحمت کے سائے میں جگہ دے (آمین) ۔
واپس اوپر جائیں

Monday, 1 February 2021

Al Risala | Februay 2021 (الرسالہ،فروری)

4

-قرآن کی دریافت

23

- قرآن اور بائبل

24

- ایک خط

26

- خواتین میں دعوت

28

- مقصد کی تلاش


قرآن کی دریافت

میری تاریخ پیدائش یکم جنوری 1925 ہے۔ میری باقاعدہ تعلیم ایک عربی مدرسہ میں ہوئی۔ اس مدرسے کے نصاب میں قرآن ایک مرکزی کتاب کی حیثیت سے شامل تھا۔مدرسے کی تعلیم سے فارغ ہونے کے بعد میں نے چاہا کہ قرآن کا مزید تفصیلی مطالعہ کروں۔ اس وقت میں اعظم گڑھ میں رہتا تھا۔ وہاں کے ادارہ دار المصنفین میں ایک اچھا کتب خانہ تھا۔ اس کتب خانے میں تقریباً تمام عربی تفاسیر موجود تھیں۔ میں نے وہاں کے کتب خانے میں عربی تفاسیر کی مدد سے قرآن کا مزید مطالعہ شروع کیا۔ کئی برس تک یہ سلسلہ جاری رہا۔ اس مطالعے سے میں نے جانا کہ قدیم عربی مفسرین کے نظریے کے مطابق، اہم اصول یہ ہے کہ آدمی ضروری فنون کے علاوہ قرآن کی آیتوں کا شان نزول یا سبب نزول جانے۔اس طرح قرآن فہمی کے لیے اہم بات شان نزول یا سبب نزول کا جاننا قرار پایا۔
قرآن فہمی کے لیے یہ شرط بظاہر نہایت اہم تھی۔ لیکن شعوری یا غیر شعوری طو رپر ہمیشہ میرے ذہن میں یہ خیال قائم رہا کہ شاید میں کوئی چیز مس (miss) کر رہا ہوں۔ جس کی وجہ سے قرآن کے زیادہ گہرے معانی تک پہنچنے میں میں کامیاب نہ ہوسکا۔ یہ بات میرے ذہن میں اس لیے آئی کہ قرآن میں بہت سی آیتیں ہیں، جن میں زمین و آسمان کی آیات (نشانیوں) کا حوالہ ہے، اور یہ کہا گیا ہے کہ ان آیات پر غور کرو۔ مگر مجھے کوئی عربی کتاب ایسی نہیں ملی، جس میں صحیح طور پر زمین و آسمان کی آیتوں کا تدبر و تفکر پر مبنی تفسیری مطالعہ کیا گیا ہو۔ جب کہ قرآن میں متعدد ایسی آیتیں ہیں، جو قاری کو اس کائناتی مطالعہ کی طرف اہمیت کے ساتھ متوجہ کرتی ہیں۔اس سلسلے میں چند آیات کا ذکر آگے آرہا ہے۔
قرآن کا مطالعہ
قرآن معروف معنوں میں ایک مذہبی کتاب نہیں ہے،جس سے مذہبی رسوم (rituals) کی ادائیگی کا طریقہ معلوم کیا جائے۔ بلکہ وہ ایک ایسی کتاب ہے، جس میں پوری انسانی زندگی کے لیے فکری اعتبار سےرہنما تعلیمات دی گئی ہیں۔قرآن کا انداز عام انسانی کتابوں سے مختلف ہے۔ عام انسانی کتابوں کے لیے ریڈنگ (reading) کا طریقہ اختیار کیا جاتا ہے۔ لیکن قرآن کے لیے یہ کرنا ہے کہ اس کا مطالعہ کرنے والا تذَکُّر وتدبر (ص،38:29) کا طریقہ اختیار کرے۔ اس کا سبب یہ ہے کہ قرآن اپنے اسلوب کے اعتبار سے ربانی حکمت کا مجموعہ (collection of divine wisdom) ہے۔ قرآن میں بیان کردہ حقائق کو سمجھنے کے لیے اسی اصول کو اختیار کرنا چاہیے۔
فکری سفر
قرآن کے بارے میں حدیث میں آیا ہے : وَلاَ تَنْقَضِی عَجَائِبُہ (سنن الترمذی، حدیث نمبر 2906)۔ یعنی اس کے عجائب (معانی) کبھی ختم نہ ہوں گے۔ اس سے معلوم ہوتا ہےکہ قرآن کے معانی کے مختلف پہلو ہیں۔ اہل علم ان پر غور کرکے ہمیشہ اس کے نئے نئے پہلو دریافت کرتے رہیںگے ۔یہ قرآن کے کلام الٰہی ہونے کا ایک واضح ثبوت ہے۔ اگر قرآنی آیتوں کے صرف چند پہلو ہوتے تو قرآن ایک محدود کتاب بن جاتا۔ لیکن قرآن کی آیتوں کے لامحدود پہلو ہیں تو قرآن ایک ابدی کتاب بن گیا ہے، جیسا کہ اللہ رب العالمین کی ذات ایک ابدی ذات ہے۔
قرآن میں بار بار کہا گیا ہے کہ قرآن کی آیتوں پر غور کرو۔ مثلاً: کِتَابٌ أَنْزَلْنَاہُ إِلَیْکَ مُبَارَکٌ لِیَدَّبَّرُوا آیَاتِہِ وَلِیَتَذَکَّرَ أُولُو الْأَلْبَابِ (38:29)۔ یعنی یہ ایک بابرکت کتاب ہے جو ہم نے تمہاری طرف اتاری ہے، تاکہ لوگ اس کی آیتوں پر غور کریں اور تاکہ عقل والے اس سے نصیحت حاصل کریں۔ قرآن کی آیتوں میں یہ غور و فکر صرف فنی معنی میں نہیں ہے۔ یعنی یہ اس لیے نہیں ہے کہ قاری آیت کے الفاظ کو حل کرے، اس کے گریمر وغیرہ کو دریافت کرے۔ بلکہ وہ دراصل اس لیے ہے کہ قاری قرآن کی آیتوں میں چھپے ہوئے سبق (lesson) کو تدبر و تفکر کے ذریعے دریافت کرے۔
مثلاًقرآن میں ایک آیت ان الفاظ میں آئی ہے: قُلْ سِیرُوا فِی الْأَرْضِ فَانْظُرُوا کَیْفَ بَدَأَ الْخَلْقَ ثُمَّ اللَّہُ یُنْشِئُ النَّشْأَةَ الْآخِرَةَ إِنَّ اللَّہَ عَلَى کُلِّ شَیْءٍ قَدِیرٌ (29:20)۔ یعنی کہو کہ زمین میں چلو پھرو، پھر دیکھو کہ اللہ نے کس طرح خلق کو شروع کیا، پھر وہ اس کو دوبارہ اٹھائے گا۔ بے شک اللہ ہر چیز پر قادر ہے۔ قرآن کی اس آیت میں سفر سے مراد نتیجۂ سفر ہے، نہ کہ صورتِ سفر۔جیسا کہ اس آیت کی تفسیر میں ابومنصور الماتریدی نے لکھا ہے:زمین میں چلنے اوردیکھنے کے حکم کا مطلب جسمانی طور پر سفر کرنا نہیں ہے، بلکہ اس کا مطلب ہے تخلیقات میں غور کرنا (أمر بإرسال الفکر فیہا)، مثلاً تخلیق کی ابتدا اورجو کچھ اس میں ہے، اس پر غور کرنا ،اور اس کا مطالعہ کرنا (تفسیر الماتریدی، جلد8، صفحہ 216)۔ مثلاً آپ نے ایک درخت کو دیکھا،اس سے آپ کا مائنڈ ٹریگر ہوا، آپ اس کے آغاز و انجام پر سوچنے لگے۔ آپ نے سوچا کہ زمین پر سوائل (soil) کیسے وجود میں آیا، زمین پر نباتات کی دنیا کیسے آباد ہوئی، انسان کی غذا اور دوسرے اسباب حیات کس طرح وجود میں آئے، وغیرہ۔ اس سوچ نے آپ کو نباتات (plant world) کی دنیا میں پہنچادیا۔پھر نباتات کے عالم کبیر (macro world)سے گزر کر آپ نباتا ت کے عالم صغیر (micro world)تک پہنچ گئے۔ نباتا ت کے آغاز سے لے کر اس کے اختتام تک آپ نے ایک پوری دنیا کی سیر کرڈالی۔
کائنات کے اس فکری سفر کے ذریعے آپ نے بہت سے حقائق دریافت کیے۔آپ نے بہت سے چھپے، اور کھلے حقائق کو ازسر نو دریافت کیا، وغیرہ۔یہی وہ حقیقت ہے، جس کا حوالہ قرآن کی مذکورہ بالا آیت میں دیا گیا ہے۔ یہی معرفت ہے۔ یعنی ان باتوںکو دریافت کرکے ان کو اپنے ذہن کی غذا بنانا۔یہی وہ چیز ہے، جس سے مومن کو معرفت کی غذا حاصل ہوتی ہے۔
قرآن عصر حاضر میں
قرآن ساتویں صدی عیسوی کے رُبع اول میں نازل ہوا۔ لیکن قرآن کا خطاب قیامت تک پیدا ہونے والے تمام انسانوں تک وسیع ہے۔ اس اعتبار سے قرآن کی کچھ آیتیں اس میں وہ ہیں جو ساتویں صدی میں پوری طرح قابل فہم تھیں، لیکن قرآن کی کچھ آیتیں ایسی ہیں ، جو پیشین گوئی (prediction) کی زبان میں ہیں۔ یعنی یہ آیتیں نزول کے اعتبار سے ساتویں صدی عیسوی میں نازل ہوئیں، لیکن خود قرآن میں ایسے اشارات موجود ہیں، جو بتاتے ہیں کہ یہ آیتیں صرف مستقبل میں پوری طرح قابل فہم ہوں گی۔ یعنی اپنے نزول کے اعتبار سے وہ ساتویں صدی عیسوی کی آیتیں ہیں۔لیکن اپنی معنویت کے اعتبار سے وہ بعد کے زمانے تک پھیلی ہوئی ہیں، اپنی تفسیر کے اعتبار سے وہ مستقبل میں پوری طرح قابل فہم ہوں گی۔ ان میں سے چند آیات یہ ہیں:
(1) سَیُرِیکُمْ آیَاتِہِ فَتَعْرِفُونَہَا (27:93)۔ یعنی عنقریب وہ تم کو اپنی نشانیاں دکھائے گا تو تم ان کو پہچان لو گے۔
(2) سَنُرِیہِمْ آیَاتِنَا فِی الْآفَاقِ وَفِی أَنْفُسِہِمْ حَتَّى یَتَبَیَّنَ لَہُمْ أَنَّہُ الْحَقُّ (41:53)۔ یعنی عنقریب ہم ان کو اپنی نشانیاں دکھائیں گے آفاق میں بھی اور خود ان کے اندر بھی۔ یہاں تک کہ ان پر ظاہر ہوجائے گا کہ قرآن حق ہے۔
(3) أَلَمْ تَرَ أَنَّ اللَّہَ أَنْزَلَ مِنَ السَّمَاءِ مَاءً فَأَخْرَجْنَا بِہِ ثَمَرَاتٍ مُخْتَلِفًا أَلْوَانُہَا وَمِنَ الْجِبَالِ جُدَدٌ بِیضٌ وَحُمْرٌ مُخْتَلِفٌ أَلْوَانُہَا وَغَرَابِیبُ سُودٌ ۔ وَمِنَ النَّاسِ وَالدَّوَابِّ وَالْأَنْعَامِ مُخْتَلِفٌ أَلْوَانُہُ کَذَلِکَ إِنَّمَا یَخْشَى اللَّہَ مِنْ عِبَادِہِ الْعُلَمَاءُ إِنَّ اللَّہَ عَزِیزٌ غَفُورٌ (35:27-28)۔ یعنی کیا تم نہیں دیکھتے کہ اللہ نے آسمان سے پانی اتارا۔ پھر ہم نے اس سے مختلف رنگوں کے پھل پیدا کر دیے، اور پہاڑوں میں بھی سفید اور سرخ، مختلف رنگوں کے ٹکڑے ہیں اور گہرے سیاہ بھی۔ اور اسی طرح انسانوں اور جانوروں اور چوپایوں میں بھی مختلف رنگ کے ہیں۔ اللہ سے اس کے بندوں میں سے صرف وہی لوگ ڈرتے ہیں جو علم والے ہیں۔ بیشک اللہ زبردست ہے، بخشنے والا ہے۔
(4)فَالْیَوْمَ نُنَجِّیکَ بِبَدَنِکَ لِتَکُونَ لِمَنْ خَلْفَکَ آیَةً وَإِنَّ کَثِیرًا مِنَ النَّاسِ عَنْ آیَاتِنَا لَغَافِلُونَ (10:92)۔یعنی پس آج ہم تیرے بدن کو بچائیں گے تاکہ تو اپنے بعد والوں کے لیے نشانی بنے، اور بیشک بہت سے لوگ ہماری نشانیوں سے غافل رہتے ہیں۔
ایک مثال
قرآن کے ان حوالوں کی اہمیت اس وقت مجھے زیادہ اہمیت کے ساتھ سمجھ میں آئی، جب میں نے مندرجہ ذیل کتاب پڑھی:
The Bible, the Qur'an and Science: The Holy Scriptures Examined in the Light of Modern Knowledge, by Maurice Bucaille, Robert Laffont, 1982, pp. 269
یہ کتاب اصلاً فرانسیسی زبان میں لکھی گئی تھی۔ اس کے بعد انگریزی، اور عربی وغیرہ متعدد زبانوں میں چھپ کر شائع ہوچکی ہے۔ اس کتاب میں تفصیل کے ساتھ بتایا گیا ہے کہ دو مغربی سائنسدانوں نے مصر جاکر فرعون کی لاش کو دریافت کیا، اور تحقیق کرکے ثابت کیا کہ یہ اسی فرعون کی لاش ہے، جو حضرت موسی کے زمانے میں سمندر میں غرق ہوا تھا۔ اس موضوع پر راقم الحروف نے کسی قدر تفصیل کے ساتھ اپنی کتاب عظمت قرآن میں لکھا ہے۔ اس مقالے کا ایک جزء یہاں نقل کیا جاتا ہے:
تیرھویں صدی قبل مسیح (13th century BC) میں مصر میں ایک بادشاہ حکومت کرتا تھا۔ اس کا نام مرنفتاح ( Merneptah) تھا۔ اس کا مقابلہ پیغمبر موسیٰ کے ساتھ پیش آیا۔ مگر قرآن بتاتا ہے کہ وہ پیغمبر موسیٰ کو کوئی نقصان نہ پہنچا سکا۔ البتہ وہ خود بحر احمر (Red Sea) میں غرق ہوگیا۔ قرآن میں بتایا گیا ہے کہ اس وقت اللہ تعالیٰ نے فرعون کو خطاب کرتے ہوئے فرمایا: فَالْیَوْمَ نُنَجِّیکَ بِبَدَنِکَ لِتَکُونَ لِمَنْ خَلْفَکَ آیَةً(10:92) ۔ یعنی پس آج ہم تیرے بدن کو بچائیں گے تاکہ تو اپنے بعد والوں کے لئے نشانی بنے۔
قرآن کی اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ فرعون کی موت کے بعد اس کی لاش نابود نہیں ہوئی، بلکہ وہ باقی رہی۔ بظاہر یہ ہونا چاہیے تھا کہ سمندر میں غرق ہونے کے بعد اس کی لاش سمندری جانور کھاجائے۔ جسم کی حیثیت سے اس کا وجود باقی نہ رہے۔ لیکن یہاں بتایا گیا کہ فرعون کا جسم بدستور موجود ہے، اور وہ بعد والوں کے لیے ایک عبرت کا نشان بنے گا۔ یہ واقعہ بعد کے لوگوں کے لیے مکمل طور پر ایک غیر معلوم واقعہ بن گیا۔ کسی کو بھی معلوم نہ تھا کہ فرعون کی لاش کہاں موجود ہے۔ تقریباً دو ہزار سال بعد قرآن عرب میں اترا۔ اس میں مذکورہ آیت شامل تھی۔ لیکن بوقت نزول کوئی مسلم یا غیر مسلم اس حقیقت کو جانتا نہ تھا۔ یہ حقیقت تاریخ کا ایک فراموش شدہ واقعہ بنا ہوا تھا۔
لیکن انیسویں صدی کے آخر میں سائنس کے ذریعہ یہ واقعہ پیش آیا کہ فرعون کی لاش دوبارہ انسان کے علم میں آگئی۔ قصہ یہ ہے کہ فرعون کے مرنے کے بعد آل فرعون نے اس کی لاش کو قدیم طریقے کے مطابق مومیائی کرکے محفوظ کردیا، اور اس کو اہرام مصر میں ایک تاریخی یادگار کے طور پر رکھ دیا۔ لیکن بعد کے زمانے میں کوئی بھی شخص اس حقیقت کو جانتا نہ تھا، نہ مصر کے اندر اور نہ مصر کے باہر۔
پروفیسروکٹر لاریٹ (Victor Loret) پہلا شخص ہے جس نے 1898 میں مصر کے ایک قدیم مقبرہ میں داخل ہو کر دریافت کیا کہ یہاں مذکورہ فرعون کی لاش ممی کی ہوئی موجود ہے۔ 8جولائی 1907کو الیٹ اسمتھ (Elliot Smith) نے اس لاش کے اوپر لپٹی ہوئی چادر کو ہٹایا۔ اس نے باقاعدہ سائنسی تحقیق کی، اور پھر 1912میں ایک کتاب شائع کی، جس کا نام ہے شاہی ممیاں(The Royal Mummies)۔ کاربن ڈیٹنگ کے ذریعے ثابت ہوگیا کہ یہ ممی کی ہوئی لاش اسی فرعون کی ہے جو تین ہزار سال حضرت موسیٰ کے زمانے میں غرق کیا گیا تھا۔ ایک مغربی مفکر کے الفاظ میں:
His earthly remains were saved by the Will of God from destruction to become a sign to man, as it is written in the Quran.
فرعون کا مادی جسم خدا کی مرضی کے تحت برباد ہونے سے بچا لیا گیا تاکہ وہ انسان کے لیے ایک نشانی ہو، جیسا کہ قرآن میں لکھا ہوا ہے۔بائبل اور قرآن اور سائنس (The Bible, the Quran and Science) کے مصنف ڈاکٹر موریس بوکائی (Maurice Bucaille) نے 1975 میں فرعون کی اس لاش کا معائنہ کیا۔ اس کے بعد انھوں نے اپنی کتاب میں اس پر جو باب لکھا ہے، اس کا خاتمہ ان الفاظ میں کیا ہے:
Those who seek among modern data for proof of the veracity of the Holy Scriptures will find a magnificent illustration of the verses of the Quran dealing with the Pharaoh’s body by visiting the Royal Mummies Room of the Egyptian Museum, Cairo!
وہ لوگ جو مقدس کتابوں کی سچائی کےلیے جدید ثبوت چاہتے ہیں، وہ قاہرہ کے مصری میوزیم میں شاہی ممیوں کے کمرے کو دیکھیں، وہاں وہ قرآن کی ان آیتوں کی شاندار تصدیق پالیں گے جو کہ فرعون کے جسم سے بحث کرتی ہے۔ (عظمت قرآن، صفحات 30-31)۔
قرآن کا موضوع
قرآن کے بارے میں ایک سوال یہ ہے کہ قرآن کا موضوع کیا ہے۔ بعض مفسرین نے لکھا ہے کہ قرآن کا موضوع انسان ہے۔ یہ بات جزئی طور پر درست ہوسکتی ہے۔ لیکن زیادہ صحیح بات یہ ہے کہ قرآن کا موضوع اللہ رب العالمین کا منصوبہ تخلیق ہے۔یعنی قرآن کا موضوع انسان کو یہ بتانا ہے کہ وہ اپنے رب کو کس طرح دریافت کرے، اور اپنے رب سے وہ ربط کس طرح قائم کرے، جس کو صِلَۃُ العَبْدِ بِرَبِّہ یا تعلق باللہ کہا جاتا ہے۔اسی کا نام معرفت ہے۔ اس معرفت کے لیے قرآن میں اشارات موجود ہیں۔
انسان کا کام یہ ہے کہ وہ قرآن سے ان اشارات کو جانے، اور ان کو مفصل معنی میں دریافت کرے۔ یہ اسی عمل کا تسلسل ہے، جو پیغمبر اسلام اپنے اصحاب کے ساتھ کیا کرتے تھے۔ ابوذرغفاری کہتے ہیں:تَرَکْنَا رَسُولَ اللہِ صَلَّى اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، وَمَا طَائِرٌ یُقَلِّبُ جَنَاحَیْہِ فِی الْہَوَاءِ، إِلَّا وَہُوَ یُذَکِّرُنَا مِنْہُ عِلْمًا، قَالَ:فَقَالَ صَلَّى اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ:مَا بَقِیَ شَیْءٌ یُقَرِّبُ مِنَ الْجَنَّةِ، ویُبَاعِدُ مِنَ النَّارِ، إِلَّا وَقَدْ بُیِّنَ لَکُمْ(المعجم الکبیر للطبرانی، حدیث نمبر 1647)۔ یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہم سے جدا ہوئے، اس حال میں کہ کوئی چڑیابھی فضا میں اپنے پروں کو پھڑپھڑاتی تھی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس سے ہم کو ایک علم کی یاد دلاتے تھے، اور آپ نے کہا:کوئی بھی چیز جو جنت سے قریب کرے یا آگ سے دور کرے، وہ تمھارے لیے بیان کردی گئی ہے۔
اس کا مطلب یہ ہے پیدا ہونے کے بعد انسان کے لیے خدا کی دریافت کے بے شمار آئٹم ہوتے ہیں ، اس دریافت کے ذریعے انسان اپنے خالق کو پہچانتا ہے۔ وہ اس پہلو پر غور و فکر کرکے ایک عارف انسان بنتا ہے۔ مثلاً انسان اگر غور کرے تو وہ پائے گا کہ جب وہ ماں کے پیٹ میں تھا، اس وقت وہ خارجی دنیا سے کٹا ہوا تھا۔ مگر اس وقت بھی ماں کے پیٹ میں اس کی ضرورت کی تمام چیزوں کی سپلائی جاری تھی۔ اس دریافت سے انسان کے اندر اپنے خالق کے لیے شکر کا جذبہ پیدا ہوتا ہے۔
اس کے بعد جب انسان مزید غور کرتا ہے تو وہ دریافت کرتا ہے کہ پیدا ہوکر وہ جس دنیا میں آیا ہے،وہاں پر اس کے خالق نے ایک انوکھا نظام قائم کر رکھا ہے، یعنی لائف سپورٹ سسٹم ۔ اس دنیا میں ہر چیز اس طرح بنائی گئی ہے کہ وہ انسان دوست ہے، نہ کہ انسان دشمن۔ ہر چیز کی تخلیق اس انداز میں ہوئی ہے کہ وہ انسان کے لیے نافع بنے، وہ انسان کے لیے نقصان دہ نہ بنے۔ مثلاً سورج کی روشنی فضا میں چھن کر آتی ہے، تاکہ وہ انسانوں کے لیے ضرر رساں نہ ہو۔اس طرح سورج زمین سے بہت ہی درست فاصلے پر ہے، تاکہ وہ انسان کے لیے صرف نفع بخش ہو، ضرر رساں نہ ہو، وغیرہ۔
پھر انسان جب مزید غور و فکر کرتا ہے، تو وہ اس دریافت تک پہنچتا ہے کہ یہ معاملہ کوئی محدود معاملہ نہیں ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ انسان کے باہر جو یونیورس ہے، وہ پوری کی پوری کسٹم میڈ یونیورس (custom-made universe) ہے، یعنی انسان اور کائنات دونوں ایک دوسرے کے لیے مثَنّی (counterpart) ہیں۔ کائنات انسانی تقاضوں کے عین مطابق ہے۔ دونوں کے درمیان کوئی ٹکراؤ نہیں۔ یہی وہ حقیقت ہے، جو قرآن میں ان الفاظ میں بیان کی گئی ہے: وَسَخَّرَ لَکُمْ مَا فِی السَّمَاوَاتِ وَمَا فِی الْأَرْضِ جَمِیعًا مِنْہُ إِنَّ فِی ذَلِکَ لَآیَاتٍ لِقَوْمٍ یَتَفَکَّرُونَ (45:13)۔ یعنی اس نے آسمانوں اور زمین کی تمام چیزوں کو تمہارے لیے مسخر کردیا، سب کو اپنی طرف سے۔ بیشک اس میں نشانیاں ہیں ان لوگوں کے لیے جو غور کرتے ہیں۔
انسان کے لیے سبق
قرآن کی سورہ الرحمن میں دو آیتیںان الفاظ میں آئی ہیں: کُلُّ مَنْ عَلَیْہَا فَان۔ وَیَبْقَى وَجْہُ رَبِّکَ ذُو الْجَلَالِ وَالْإِکْرَامِ (55:26-27)۔ یعنی جو بھی زمین پر ہے، وہ فنا ہونے والا ہے، اور تیرے رب کی ذات باقی رہے گی، عظمت والی اور عزت والی۔ ایک شخص کی عمر 90 سال ہوچکی ہو، اور وہ پیچھے مڑ کر دنیا کو دیکھے، جس سے گزرتے ہوئے وہ 90سال کی عمر کو پہنچا ہے تو اس کو اپنے تصور کی دنیا میں دکھائی دے گا کہ اس کے پیچھے دور تک وفات پانے والے انسانوں کی قبریں بنی ہوئی ہیں۔ یہ قبریں اتنی زیادہ ہوں گی کہ اس کی گنتی ختم ہوجائے گی، لیکن قبروں کی تعداد ختم نہ ہوگی۔ اس کو چشم تصور میں ایک ایسا منظر دکھائی دے گا، جس میں اس کے جیسے بے شمار لوگ کہہ رہے ہوں گےکہ مجھ کو دیکھو، ایک وقت تھا کہ میں بھی تمھاری طرح زمین پر چل پھر رہا تھا، آج صرف میری بھولی ہوئی یاد ہے، میں تم سے بہت دور ایک ایسی دنیا میں پہنچ چکا ہوں ، جہاں تم کوبھی ایک دن آنا ہے۔ تم کو چاہیے کہ تم سب سے زیادہ اس حقیقت پر غور کرو۔ دوسرے انسانوں کے انجام سے اپنے لیے سبق حاصل کرو۔
اس کے بعد اگر وہ آدمی اپنے تصور کی دنیا میں اللہ رب العالمین کو یاد کرے تو اس کو محسوس ہوگا کہ اللہ رب العالمین اپنے تمام جلال و کمال کے ساتھ ایک حی و قیوم ذات کی طرح موجود ہے۔ وہ ہر چیز سے بلند ہے۔ اس وقت اس کو قرآن کی یہ آیت یاد آئے گی: وَسِعَ کُرْسِیُّہُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ (2:255)۔ یعنی اس کی حکومت آسمانوں اور زمین پر چھائی ہوئی ہے:
His throne extends over the heavens and the earth
اس حقیقت پر سوچتے ہوئے جب وہ قرآن کے مذکورہ الفاظ کو دہرائے گاتو اپنی بے چارگی، اور اللہ کی عظمت کو سوچ کر اس کے جسم پر کپکپی طاری ہوجائے ۔ اس کو اللہ کی موجودگی (presence) کا اتنا شدید احساس ہوگا کہ وہ بے ساختہ طور پر سجدے میں گر پڑے گا۔
قرآن ایک عالمی کتاب
قرآن ساتویں صدی عیسوی میں اترا۔ قرآن سادہ طور پر ایک کتاب نہیں، وہ انسانوں کے لیے ابدی ہدایت کی ایک عالمی کتاب ہے۔ چنانچہ قرآن میں ساتویں صدی عیسوی میں یہ اعلان کیا گیا تھا:تَبَارَکَ الَّذِی نَزَّلَ الْفُرْقَانَ عَلَى عَبْدِہِ لِیَکُونَ لِلْعَالَمِینَ نَذِیرًا (25:1)۔ یعنی بڑی بابرکت ہے وہ ذات جس نے اپنے بندے پر فرقان اتارا تاکہ وہ جہان والوں کے لئے ڈرانے والا ہو۔
قرآن چونکہ تاریخ کے ابتدائی دور میں اترا تھا، اس لیے اپنے آپ اس کے اندر بہت سے تقاضے شامل تھے۔ مثلاً یہ کہ ابتدائی دور میں یہ مطلوب تھا کہ قرآن کے متن کو یاد کرکے اس کو محفوظ کیا جائے، تاکہ قرآن بعد کی نسلوں تک کامل حفاظت کے ساتھ پہنچ سکے۔ اسی طرح یہ بھی کہ کتابت کے فن کو ڈیولپ کیا جائے، کاغذ تیار کیا جائے، پرنٹنگ پریس وجود میں لایا جائے۔ قرآن کی زبان عربی کو اس طرح محفوظ کیا جائے کہ وہ قیامت تک قابل فہم زبان بنی رہے، قرآن کے اشارات کو تفصیل کی زبان میں بیان کیا جائے، قرآن سے متعلق علوم کو مدون کیا جائے، ایج آف کمیونی کیشن کو دنیا میں لایا جائے، دنیا میں مذہبی آزادی آئے، دنیا میںکشادہ دلی اور کھلا پن (openness) کا دور لایا جائے، قرآنی علوم کی بنیاد پر کتب خانہ وجود میں لایا جائے، قرآن کے ترجمے تمام زبانوں میں قابل فہم انداز میں تیار کیے جائیں، ایسے اسباب پیدا کیے جائیں کہ قرآن ساری دنیا میں قابلِ حصول بن جائے۔ یک طرفہ قربانی کے ذریعے امن کا دور (age of peace) لایا جائے، دنیا میں کامل معنوں میں مذہبی آزادی لائی جائے، لڑائی کے ماحول کو ہمیشہ کے لیے ختم کردیا جائے، وغیرہ۔
ان تقاضوں کی تکمیل کے بغیر یہ ناممکن تھا کہ قرآن ہر دور میں پوری دنیا کے انسانوں کے لیے نذیر (ہدایت نامہ) بنا رہے۔ قرآن کے نزول کے بعد جو تاریخی ترقیاں (historical development) ہوئیں، ان کو قرآن کی تفسیر میں شامل کیا جاتا رہے، تاکہ قرآن ہمیشہ لوگوں کے لیےایک زندہ کتاب بنا رہے۔
قرآن کو ایک ابدی کتاب کی حیثیت سے زندہ کتاب بنائے رکھنے کے لیے اس قسم کے بہت سے تقاضوں کو پورا کرنا ضروری تھا۔ یہ ایک ایسا کام تھا، جو نزول قرآن سے لے کر قیامت تک جاری رہے۔ امت محمدی جس کی حیثیت حامل قرآن کی تھی، وہ تنہا اس عالمی کام کو انجام نہیں دے سکتی تھی، اس لیے اللہ تعالی نے ایک عظیم منصوبہ بنایا۔ وہ منصوبہ یہ تھا کہ امت محمدی براہ راست طور پراس منصوبہ کے جاری رکھنے کی ذمے دار ہو۔ اسی کے ساتھ دنیا کی سیکولر قوموں کے لیے ایسے محرکات (incentives)پیدا کیے جائیں کہ وہ قرآن کے اس عالمی مشن کےلیے انفراسٹرکچرل سپورٹ (infrastructural support) بن جائیں۔
قرآن کی اس عالمی ذمے داری کا ذکر خود قرآن میں مختلف الفاظ میں آیا ہے۔ مثلاً قرآن کے متن کو محفوظ کرنا (الحجر، 15:9)، قرآن کو عالمی انذار کی کتاب بنانا (الفرقان، 25:1) ، آفاق و انفس کی ان آیات کو ظاہر کرنا، جو قرآن کی اعلیٰ تبیین کےلیے اللہ تعالیٰ نے پیشگی طور پر رکھ دیا تھا، وغیرہ وغیرہ (فصلت، 41:53)۔
محفوظ کتاب
قرآن ساتویں صدی عیسوی میں عرب میں اترا۔ اس کا متن عربی زبان میں ہے۔ اسکالرس کا اتفاق ہے کہ قرآن آج بھی اپنی اصل عربی متن کے ساتھ اسی طرح محفوظ ہے، جس طرح وہ ساتویں صدی عیسوی میں تھا۔ مثلاً سر ولیم میور (1819-1905) ایک اعلی تعلیم یافتہ انگریز مستشرق تھا ، جو برٹش حکومت کے دور میں غیر منقسم ہندوستان کی ایک ریاست کا گورنر مقرر ہوا ۔ سر ولیم میور نے ایک کتاب لکھی ، جس کا نام ’’لائف آف محمد‘‘تھا ۔ یہ انگریزی کتاب 1866میں چار جلدوں میں شائع ہوئی۔ قرآن کے بارے میں ان کا ایک اقتباس یہ ہے:
There is probably in the world no other work which has remained twelve centuries with so pure a text...We may, upon the strongest presumption, affirm that every verse in the Quran is the genuine and unaltered composition of Muhammad himself.
قرآن کے نزول کے وقت مختلف باتوں کے علاوہ یہ آیت بھی نازل ہوئی تھی: إِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّکْرَ وَإِنَّا لَہُ لَحَافِظُونَ (15:9)۔ یعنی یہ ذکر ہم نے اتاری ہے اور ہم ہی اس کی حفاظت کرنے والے ہیں۔یہ حفاظت صرف عربی متن کے اعتبار سے نہیں ہے، بلکہ وہ ایک جامع معنوں میں ہے۔ یعنی ہراعتبار سے حفاظت۔ قرآن کی یہ پیشین گوئی پوری طرح صحیح ثابت ہوئی ہے۔
مثلاً نزولِ قرآن کے وقت کی عربی زبان استثنائی طور پر آج بھی ایک قابل فہم زبان کی حیثیت سے دنیا میں موجود ہے۔ اسی طرح نزولِ قرآن کے وقت جو حالات تھے، وہ بھی سیرتِ رسول کی شکل میں آج تک محفوظ ہیں۔ نیز قرآن میں تاریخ کے جو حوالے دیے گئے تھے، وہ بعد کی تحقیق سے درست ثابت ہوئے۔ مثلاً فرعون کے غرق ہونے کے بعد اس کی لاش کا محفوظ ہونا(یونس، 10:92)۔
قرآن ایکسپلوزن
قرآن خدا کا آخری ہدایت نامہ (final guide book of God) ہے۔ نزولِ قرآن کی ابتدا میں اعلان کیا گیا تھا کہ قرآن اس لیے اترا ہے کہ وہ دنیا کے تمام انسانوں کے لیے نذیر(الفرقان، 25:1) بنے۔ نذیر کا مطلب ہے گائڈ بک (guide book) ۔ قرآن عالمی گائڈ بک اس معنی میں نہیں تھا کہ نزول قرآن کے بعد فورا ً وہ ساری دنیا میں خود بخود پھیل کر گائڈ بن جائے۔ خدا کا منصوبہ ہمیشہ تدریجی عمل (gradual process)کے طور پر ہوتا ہے۔ یہی خدائی قانون قرآن کے ساتھ بھی اختیار کیا گیا۔
قرآن کے اترتے ہی خدائی نظام کے تحت ایک عالمی پراسس جاری ہوا، جس کا نقطۂ انتہا (culmination)یہ تھا کہ ایک طرف قرآن محفوظ کتاب (preserved book) کی حیثیت اختیار کرلے، اور دوسری طرف انسانی دنیا میں وہ تمام اسباب مکمل صورت میں دستیاب ہوجائیں، جو قرآن کے عالمی ڈسٹری بیوشن کو ممکن بنادیں۔ تقریباً ہزار سال کے تاریخی عمل (historical process) کے بعد اکیسویں صدی میں یہ اپنی تکمیل تک پہنچا۔ اب اکیسویں صدی میں وہ تمام اسباب کامل صورت میں دستیاب ہوگئے، جو قرآن کی عالمی اشاعت یا عالمی ڈسٹری بیوشن کے لیے ضروری تھے۔
اسباب کے ڈیولپمنٹ کا منصوبہ اتنا بڑا تھا کہ صرف اہل ایمان اس کوروبعمل نہیں لاسکتے تھے۔ چنانچہ اللہ نے ایسے حالات پیدا کیے کہ دنیا کے تمام انسان اس کی تکمیل میں مصروف ہوگئے۔ یہی وہ واقعہ ہے جس کو حدیث میں تائید دین بذریعہ غیر اہل ایمان کے الفاظ میں بیان کیا گیا ہے۔ صحیح البخاری (حدیث نمبر 3062) میں اس کے لیےتائید دین بذریعہ رجل فاجر (إِنَّ اللَّہَ لَیُؤَیِّدُ ہَذَا الدِّینَ بِالرَّجُلِ الفَاجِرِ)کے الفاظ آئے ہیں۔ اس حدیث میں فاجر سے مراد سیکولر لوگ ہیں۔ ایک اور روایت میں اس کو’’غیر اہل دین‘‘کے الفاظ میں بیان کیا گیاہے:إِنَّ اللہَ عَزَّ وَجَلَّ لَیُؤَیِّدُ الْإِسْلَامَ بِرِجَالٍ مَا ھُمْ مِنْ أَھْلِہ (المعجم الکبیر للطبرانی، حدیث نمبر 14640)۔ گویا اللہ رب العالمین نے ایسے حالات پیدا کیے کہ پوری عالم انسانیت اس عمل کی تکمیل میں مصروف ہوگئی۔ وہ تمام ترقیاں جن کو کمیونی کیشن کہا جاتاہے، وہ اسی کا نتیجہ ہیں۔ اور اسی وجہ سے اس دور کو دورِ مواصلات (age of communication) کہا جاتا ہے۔
اہل کتاب سے استفادہ
قرآن میں ایک آیت ان الفاظ میں آئی ہے:وَمَا أَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِکَ إِلَّا رِجَالًا نُوحِی إِلَیْہِمْ فَاسْأَلُوا أَہْلَ الذِّکْرِ إِنْ کُنْتُمْ لَا تَعْلَمُونَ (16:43)۔ یعنی اور ہم نے تم سے پہلے بھی آدمیوں ہی کو رسول بنا کر بھیجا، جن کی طرف ہم وحی کرتے تھے، پس اہل علم سے پوچھ لو اگر تم نہیں جانتے۔اہل علم سے مراد مفسرین کے نزدیک اہل کتا ب ہیں۔’’پوچھ لو‘‘ کا مطلب مطلق معنی میں اہل کتاب کے پاس جاکر ان سے پوچھنا نہیں ہے، بلکہ توسیعی اعتبار سے اس کا مطلب یہ ہے کہ جس علم و تحقیق کے میدان میں مسلمان پیچھے رہ گئے ہیں، اس میں وہ اہل کتاب کی تحقیقات سے فائدہ اٹھائیں۔
مثلا ًیہ کہ قرآن میں بہت سی تاریخی حقیقتوں کا بیان ہے۔ پیغمبر نوح کی کشتی، پیغمبر ابراہیم ،پیغمبر موسیٰ (علیہم السلام( اور فرعون کا واقعہ، وغیرہ۔ یہ تاریخی حقیقتیں بائبل میں بھی مذکورہیں۔ دورِ جدید میں جو نئے سائنسی علوم وجود میں آئے ہیں، ان میں سے ایک علم الآثار (Archaeology) بھی ہے۔
آرکیا لوجی ایک ڈسپلن ہے، جس کے ذریعےماڈرن سائنسی اصول کی روشنی میں قدیم انسانی تاریخ، ثقافت اورمحفوظ رہ جانے والی باقیات (remnants) وغیرہ کا مطالعہ کیا جاتا ہے ۔ کتابت کے آغاز سے قبل قدیم حجری دور میں جو تہذیبیں دنیا میں موجود تھیں، ان کی تاریخ و ثقافت سے آگاہی حاصل کرنے کا ایک ہی ذریعہ ہے، یعنی آثارِ قدیمہ کی تلاش ۔
چنانچہ موجودہ زمانے میں جہاں دیگر علاقوں میں آثار قدیمہ پر سائنسی اصول کی روشنی میں کام ہوا ہے، وہیں ان علاقوں میں بھی کا م ہوا ہے، جو بائبل یا قرآن میں مذکور تاریخ سے تعلق رکھتے ہیں۔ مثلا کشتیٔ نوح کی ڈسکوری، حضرت ابراہیم کا مقام پیدائش اور مقام ہجرت، فرعون کی لاش ، وغیرہ۔ یہ کام زیادہ تر اہل کتاب، یہود اور کرسچن آرکیولوجسٹوں نے کیا ہے۔ اسی طرح جدید سائنسی تحقیقات جو خدا کے وجود کو ثابت کرتی ہیں، وہ بھی ان اہل کتاب نے دریافت کیے ہیں۔لیکن مسلمان اس میدان میں بہت پیچھے ہیں۔ اب مسلمان علما کے لیے یہ موقع ہے کہ وہ ان اہل کتاب کی تحقیقات سے فائدہ اٹھائیں، اور اپنے دین کو یقینِ مزید کی بنیاد فراہم کریں۔
امت محمدی کی ذمے داری
جہاں تک امت محمدی کی دینی اعتبار سے ذمے داریوں کا سوال ہے، وہ امت نے قدیم دور میں بخوبی طور پر انجام دیا ہے۔ لیکن دور جدید میں امت محمدی اس معاملے میں پیچھے رہ گئی۔ اس کا سبب یہ ہے کہ جدید دور میں ایسے ڈیولپمنٹ وجود میں آئے، جو سیکولر قوموں کے لیے ایک محرک بن گئے ۔ اس محرک کی بنا پر وہ ان تمام اسباب کو وجود میں لائے،جن کو سائنس اور ٹکنالوجی کی دریافت کہا جاتا ہے۔ یہ اسباب اپنی حقیقت کے اعتبار سے قرآن کے منصوبہ کی عالمی تکمیل کے لیے انفراسٹرکچرل سپورٹ کی حیثیت رکھتے ہیں۔انفراسٹرکچرل سپورٹ کا یہ کام تقریباً تمام تر مغربی قوموں نے انجام دیا ہے۔ انھوں نے غیرمعمولی کوشش اور ریسرچ کے ذریعے ان تمام اسباب کو ڈیولپ کیا، جو اس منصوبہ کی تکمیل کے لیے ضروری تھے۔
اسی کے ساتھ خالق کی جانب سے مزید یہ ہوا کہ اس نے عرب کی زمین کے نیچے پٹرول کے خزانے رکھ دیے۔ علم طبقات الارض کے ماہرین (geologist) اس کو جغرافی حادثہ (geological accident) کہتے ہیں، مگر حقیقت یہ ہے کہ عرب کی زمین کے نیچے پٹرول کے خزانے تخلیقِ خداوندی کا حصہ ہیں، جو اس لیے وجود میں آئے، تاکہ امت محمدی اس عظیم کام کی انجام دہی کے لیے ہر ممکن قیمت ادا کرسکے۔ لیکن عجیب بات ہے کہ اسی دور میں ایک حادثہ پیش آیا، جس کی خبر پیشگی طور پر پیغمبر اسلام  نے دے دی تھی۔یہ حادثہ فتنۂ دُہَیماء (سنن ابوداؤد، حدیث نمبر 4242)، یعنی کامل اندھیرا (utter darkness) کا فتنہ تھا۔
اس فتنے کی بنا پر مسلمان کامل طور پر اس سے بے خبر ہوگئے کہ سیکولر قوموں نے اللہ کی توفیق سے وہ تمام اسباب پیدا کردیے ہیں، جن کو استعمال کرکے شہادتِ اعظم (صحیح مسلم، حدیث نمبر 2938) کا کام انجام دیا جاسکتا ہے۔فتنۂ دہیماء کے بارے میں جو حدیثیں آئی ہیں، ان کا گہرا مطالعہ کیا جائے، تو معلوم ہوتا ہے کہ غالباًاس سے مراد نفرت مغرب (westophobia) کا فتنہ ہے۔ موجودہ زمانے کے مسلمان عالمی سطح پر ویسٹو فوبیا کا شکار ہوگئے۔ اس لیے وہ اس عظیم نعمت کو دریافت نہ کرسکے، تاکہ وہ اس کو دعوتی مواقع (opportunities) کے طور پر اَوِیل کرے۔
فتنۂ دہیماء یا ویسٹوفوبیا (westophobia) کے ظاہری اسباب کیا تھے۔ وہ یہ تھے کہ مغربی قوموں نے فطرت کے قوانین (natural laws) کو دریافت کیا، اور طاقت کے جدید خزانوں پر عملاً قابض ہوگئے۔ اس کے نتیجے میں مغربی قوموں اور مسلمانوں کے درمیان ایک نئی کروسیڈس (Crusades) وجود میں آگئی۔ تاریخ میں اس کو کلونیل ازم (colonialism)کا نام دیا گیا ہے۔ اس’’کروسیڈس‘‘میں مغربی قوموں کو فتح حاصل ہوئی۔ انھوں نے ایشیا اور افریقہ ، حتی کہ یورپ کی مسلم سلطنتوں کو زیر کرلیا۔ مثلاً عثمانی ایمپائر، مغل ایمپائر، وغیرہ۔ موجودہ زمانے کے مسلمان اس سیاسی محرومی کو برداشت نہ کرسکے، اور تقریباً تمام مسلمان مغرب کے خلاف نفرت یا تشدد میں مبتلا ہوگئے، جس کو ہم نے عمومی ویسٹوفوبیا کا نام دیا ہے۔
اس موقع پر مسلم رہنماؤں پر فرض کے درجے میں ضروری تھا کہ وہ مغربی تہذیب اور مغرب کے سیاسی غلبے کو الگ کرکے دیکھیں۔ مگر انھوں نے انتہائی بےخبری کی بنا پر دونوں کو ایک سمجھ لیا۔ مغربی تہذیب (western civilization)حدیث کی پیشین گوئی (صحیح البخاری، حدیث نمبر 3062؛ صحیح مسلم، حدیث نمبر111)کے مطابق، اسلام کے لیے تائیدی تہذیب (supportive civilization) کی حیثیت رکھتی تھی۔ مگر مسلم رہنماؤں نے مغربی تہذیب کو مغربی استعمار (western colonialism) کے ہم معنی سمجھ لیا۔
قرآن کی اشاعت
اس درمیان اللہ نے اپنے کچھ بندوں کو توفیق دی کہ وہ قرآن کا ترجمہ ہر زبان میں تیار کریں ۔ ایسا ترجمہ جو لوگوں کے لیے قابل فہم زبان (understandable language) میں ہو،اور ان تراجم کا مطبوعہ شکل (printed format) میں اور ڈیجیٹل شکل (digital format) میں ایڈیشن تیار کرکے ہر قوم میں منظم طور پر پہنچانے کا عمل شروع کیا جائے۔ ہمارے ادارے کے ذریعے اللہ کے فضل سے قرآن کے ڈسٹری بیوشن کا کام برابر کیا جاتا ہے۔ تقریباً تمام میجر زبانوں میں قرآن کا ترجمہ شائع ہوچکا ہے، اوردنیا کے مختلف حصوںمیں برابراس کے ڈسٹری بیوشن کا کام جاری ہے۔
یہ ایک ایسا کام ہے، جو میرے مطالعے کے مطابق، امت مسلمہ کا نمبر ایک کام ہے۔ امت مسلمہ کی ذمے داری ہے کہ وہ دنیا کی تمام زبانوں میں قابلِ فہم ترجمہ (understandable translation) تیار کرے، اور اس کو اچھی طباعت کے ساتھ لوگوں تک پہنچائے۔ پیغمبر ِاسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی آخری عمر میں حجۃ الوداع کے موقع پر اپنی آخری تقریر فرمائی۔ اس میں آپ نے ایک بڑے مجمع کو خطاب کرتے ہوئے کہا: کیا میں نے تم لوگوں کو اللہ کا پیغام پہنچادیا۔ لوگوں نے بلند آواز سے کہا کہ ہاں ہم گواہ ہیں کہ آپ نے اللہ کا پیغام پہنچادیا۔ اس کے بعد آپ نے آسمان کی طرف انگلی اٹھا کر کہا :اے اللہ تو گواہ رہ کہ میں نے لوگوں کو پہنچادیا ( أَلَا ہَلْ بَلَّغْتُ؟ قَالُوا:نَعَمْ، قَالَ:اللہُمَّ اشْہَد)صحیح مسلم، حدیث نمبر 1679۔
قرآن کی ایک آیت ان الفاظ میں آئی ہے: وَأُوحِیَ إِلَیَّ ہَذَا الْقُرْآنُ لِأُنْذِرَکُمْ بِہِ وَمَنْ بَلَغَ (6:19)۔ یعنی اور مجھ پر یہ قرآن اترا ہے، تاکہ میں تم کو اس سےآگاہ کر وں، اور وہ بھی (آگاہ کریں)جن کو یہ قرآن پہنچے۔ اس ریفرنس سے معلوم ہوا کہ امت کی ذمے داری خدائی پیغام کو انسانوں تک پہنچانا ہے، اوربرابراس مشن میں لگے رہنا ہے۔ امت کی ذمے داری یہ نہیں ہے کہ وہ تمام لوگوں کو کلمہ پڑھوائے۔ پہنچانے کے بعد ذمے داری ان لوگوں کی ہوجاتی ہے، جن کو اللہ کا پیغام پہنچا ہے (یٰس، 36:7)۔ پہنچانے کے بعد امت کی ذمے داری نارمل حالات کو برقرار رکھنا ہے، نہ کہ اس کو لوگوں کے دلوں میں اتارنا(القصص، 28:56)۔
یہ امت کی مزید ذمے داری ہے کہ وہ اپنے اور مدعو کے درمیان سننے اور سنانے کےماحول کو برقرار رکھیں(الانعام، 6:108)۔ اس معاملے میں امت کو شدت سے یہ اہتمام کرنا چاہیے کہ ان کے اور دوسروں کے درمیان مدعو فرینڈلی (madu-friendly) ماحول برقرار رہے۔ امت یہ کام مطلوب درجے میں اس وقت کرسکتی ہے، جب کہ وہ مدعو سے نفرت مکمل طور پر چھوڑ دے، اللہ کے پیغام کو قابلِ فہم زبان میں مدعو تک پہنچائے۔ مدعو فرینڈلی بیہیویر (madu-friendly behaviour) کو قائم رکھنا اتنا ہی ضروری ہے، جتنا کہ پیغام کو پہنچانا۔ اس معاملے میں فقہ کا یہ مسلمہ اصول اپلائی ہوتا ہے:مَا لَا یَتِمُّ الْوَاجِبُ دُونَہُ فَہُوَ وَاجِبٌ(الاحکام فی اصول الاحکام للآمدی، جلد 1، صفحہ 125)۔ یعنی جس کے بغیر کوئی واجب چیز پوری نہ ہو، وہ واجب ہے۔
قرآن سے دعوت
یہ ایک حقیقت ہے کہ اسلام کی اشاعت پورے دور میں قرآن کے ذریعے ہوئی۔ جو آدمی قرآن کو پڑھتا ہے، وہ پاتا ہے کہ قرآن مذہبی کتابوں میں ایک مختلف کتاب ( different book) ہے۔ قرآن ڈائریکٹ طور پر اللہ رب العالمین کی طرف سے انسان کو مخاطب کرتا ہے۔ مثلاً قرآن کا انداز کلام یہ ہوتا ہے کہ اے انسان، اے بنی آدم، وغیرہ۔ یہ ایک نہایت خصوصی انداز ہے۔ یہ انداز انسان کو متاثر کرتا ہے۔ وہ پاتا ہے کہ خدابراہ راست طور پر اس سے ہم کلام ہے۔ اسی طرح قرآن میں انسان کے مقصد حیات کے بارے میں بے حد تفصیل کے ساتھ بتایا گیا ہے۔ یہ اسلوبِ کلام صرف قرآن میں ملتا ہے۔
حتی کہ قرآن کی عربی زبان ایک معجزاتی زبان ہے۔ قرآن کی قرأت (recitation) اپنے آپ میں ایک بے حد موثر قرأت ہے۔ جو آدمی قرآن کی عربی زبان کو ایک قاری کے ذریعے سنتا ہے، وہ صرف سماعت کے ذریعے اس سے متاثر ہوجاتا ہے۔ اس سلسلے میں راقم الحروف کا چشم دید واقعہ ہے۔ یہ واقعہ راقم الحروف کے سفرنامے میں شائع ہوچکا ہے۔ اس کا متعلق حصہ یہاں نقل کیا جاتاہے ۔ یہ واقعہ ایک انٹرنیشنل سیمینار کا ہے، جو لیبیا میں 1976میں منعقد ہوا تھا۔ اس کا عنوان تھا:ندوۃ الحوار الاسلامی المسیحی(اسلام اور عیسائیت کے درمیان ڈائیلاگ)۔ اس سیمینار کا خاتمہ انجیل اور قرآن کی تلاوت پر ہوا۔ دونوں تلاوتیں ایک عیسائی عالم نے کی۔ پہلے اس نے انجیل (متی باب 25) عربی میں پڑھی۔ پڑھنے والا پادری نہایت خوش الحان تھا، اور خالص عربی لہجے میں پڑھ رہا تھا۔ اس کے بعد اس پادری نے قرآن (سورہ البقرۃ اور سورہ العلق ) کی کچھ آیات پڑھیں۔ دونوں تلاوتیں اس نے تجوید اور قرأت کے تمام قواعد کے ساتھ کیں۔ قرآن کو بسم اللہ الرحمن الرحیم کے ساتھ شروع کیا، اور آخر میں صدق اللہ العظیم کہا۔
اصل انجیل بلاشبہ ایک خدائی کتاب تھی۔ مگر اس کا موجودہ عربی ترجمہ ظاہر ہے کہ انسان کے قلم سے ہے۔ اس کے برعکس، قرآن کی زبان الہامی زبان ہے۔ جب دونوں کتابوں کے حصے ایک دوسرے کے ساتھ پڑھے گئے، تو یہ گویا خاموش اعلان تھا کہ یہ انسانی کلام ہے، اور وہ خدائی کلام۔ انجیل کی قرأت میں ساری کوشش کے باوجود وہ عظمت پیدا نہ ہوسکی۔ اس کے برعکس، قرآن حیرت انگیز طور پر ایک عظیم کلام کی مانند ہال کے اندر گونج رہا تھا۔ اس کی مجرد سماعت ہی یہ بتانے کے لیے کافی تھی کہ یہ ایک بلند تر خدائی کلام ہے، نہ کہ کوئی انسانی کلام۔
کانفرنس کی کارروائی ختم ہونے کے بعد تمام لوگ ایک بڑے ہال میں چائے پینے کے لیے جمع ہوئے۔ اس وقت کانفرنس کے آخری پروگرام کا اثر ابھی تمام لوگوں کے ذہنوں پر موجود تھا، جب کہ انجیل کی آواز پرقرآن کی آواز چھاگئی تھی، جیسے قرآن نے اس کو نگل لیا ہو۔اس وقت میں جس میز پر بیٹھا تھا، اتفاق سے اس کی دوسری جانب ایک نوجوان پادری تھے، جو ویٹیکن کے دوسرے وفد کے ساتھ آئے تھے۔ میں نے ان سے پوچھا کہ کیا آپ قرآن کو خدا کی کتاب مانتے ہیں، قرأت کے تاثر کے تحت (اس وقت )ان کی زبان سے بے ساختہ نکلا ،ہاں۔ (تفصیل کے لیے ملاحظہ ہوراقم الحروف کا سفرنامہ غیر ملکی اسفار، جلد اول، صفحات 17-18) ۔
قرآن اور وضو
حدیث کی کتابوں میں ایک واقعہ اس طرح آیا ہے: عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِیرِینَ؛ أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ، کَانَ فِی قَوْمٍ وَہُمْ یَقْرَؤُونَ الْقُرْآنَ. فَذَہَبَ لِحَاجَتِہِ، ثُمَّ رَجَعَ وَہُوَ یَقْرَأُ الْقُرْآنَ. فَقَالَ لَہُ رَجُلٌ:یَا أَمِیرَ الْمُؤْمِنِینَ. أَتَقْرَأُ وَلَسْتَ عَلَى وُضُوءٍ؟ فَقَالَ لَہُ عُمَرُ:مَنْ أَفْتَاکَ بِہذَا؟ أَمُسَیْلِمَةُ؟ (موطا امام مالک، اثر نمبر 684)۔ محمدبن سیرین سے روایت ہے، عمر بن الخطاب لوگوں کی ایک جماعت کے ساتھ تھے۔ وہ لوگ قرآن پڑھ رہے تھے۔ عمر اپنی حاجت کے لیے اٹھے۔ پھر (قضائے حاجت کے بعد)واپس آئے اور قرآن پڑھنے لگے۔ تو ایک آدمی نے کہا: اے امیر المومنین، آپ (قرآن) پڑھتے ہیں، جب کہ آپ وضو سے نہیں ہیں۔ عمر نے ان سے کہا: کس نے تم کو یہ فتویٰ دیا ہے؟ کیا مسیلمہ (کذّاب)نے ؟
اس روایت سے ثابت ہوتا ہے کہ یہ مسئلہ بالکل بے بنیاد ہے کہ قرآن کو چھونے کے لیے باوضو ہونا ضروری ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ قرآن کو چھونے کے لیے کوئی شرط نہیں ۔ کیوں کہ قرآن سب کے لیے ہے۔ ہدایت پائے ہوئے لوگوں کے لیے بھی، اور ہدایت کے طالب علموں کے لیے بھی۔ قرآن کے مطالعے کےلیے وضو کی شرط لگانا، ایک بے بنیاد شرط ہے۔ قرآن ہر حال میں پڑھا جاسکتا ہے، خواہ آدمی باوضو ہو، یا بے وضو۔ جس طرح حافظے سے قرآن کوپڑھنے کے لیے وضو کی شرط نہیں ہے، اسی طرح مصحف کو پڑھنے کے لیے بھی وضو کی شرط نہیں ہے۔ حضرت عمر فاروق کا یہ عمل اس معاملے میں ایک روشن حجت کی حیثیت رکھتا ہے۔
مولانا امین احسن اصلاحی نے تدبر قرآن میں سورہ الواقعہ (56)کی آیت 79کے تحت درست طور پر لکھا ہے کہ جن فقہا نے قرآن کی زبانی تلاوت یا اس کو ہاتھ لگانے تک کے لیے بھی طہارت کی وہ شرطیں عائد کی ہیں جو نماز کے لیے ضروری ہیں ان کے اقوال غلو پر مبنی ہیں۔ قرآن اللہ تعالیٰ کی کتاب ہے اس وجہ سے وہ ہر پہلو سے لائق تکریم ہے، لیکن وہ ہمارے لیے ہر قدم پر حق و باطل اور خیر و شر کے جاننے کا ذریعہ اخذ و استنباط کا حوالہ اور استدلال کا مرکز بھی ہے۔ اگر اس کو ہاتھ لگانے یا اس کی کسی سورة یا آیت کی تلاوت کرنے یا حوالہ دینے کے لیے بھی آدمی کا طاہرو مطہر اور باوضو ہونا ضروری قرارپا جائے تو یہ ایک ایسی تکلیف مالا یطاق ہوگی جو دین فطرت کے مزاج کے خلاف ہے۔ اس طرح کی غیر فطری پابندیاں عائد کرنے سے قرآن کی تعظیم کا وہی تصور پیدا ہوگا جس کی تعبیر سیدنا مسیح علیہ السلام نے یوں فرمائی ہے کہ تمہیں چراغ دیا گیا کہ ا س کو گھر میں بلند جگہ رکھو کہ سارے گھر میں روشنی پھیلے ،لیکن تم نے اس کو پیمانے کے نیچے ڈھانپ کر رکھا ہے۔
قرآن کا یہ استعمال ذاتی مطالعے کے لیے بھی کیا جاسکتا ہے، اور تبلیغ و دعوت کے لیے بھی۔ دونوں صورتوں میں وضو کی کوئی شرط نہیں ہے۔ آدمی باوضو ہو، تب بھی درست ہے، اور آدمی بے وضو ہو، تب بھی درست ہے۔ اگر وضو کی شرط لگائی جائے تو غیر مسلموں کو بطور دعوت قرآن پڑھنے کے لیے دینا عملاً ناممکن ہوجائے گا۔
واپس اوپر جائیں

قرآن اور بائبل

مستشرقین (Orientalists) کے ایک طبقہ کا معاملہ یہ ہے کہ اس نے بائبل اور قرآن دونوں کا مطالعہ کیا تو انھوں نے پایا کہ قرآن میں کئی چیزیں، خصوصا نبیوں کے حالات ایسے ہیں جو قرآن اور بائبل میں بظاہر مشترک ہیں۔ چوں کہ بائبل کا زمانہ قرآن سے پہلے کا زمانہ ہے۔ اس لیے ان مستشرقین نے یہ فرض کر لیا کہ قرآن کوئی مستقل کتاب نہیں، بلکہ وہ سابق کتاب بائبل سے ماخوذ ہے۔ایسی رائے رکھنے والے کچھ مستشرقین یہ ہیں:
Abraham Geiger, C C Torrey, Richard Bell, Torr Andre, Karl Ahrens, Wilhem Rodulph
مسلم اہل علم نے جب اس قسم کے مستشرقین کو پڑھا توانھوں نے رد عمل کے طور پر یہ کہنا شروع کیا کہ یہ مستشرقین متعصب ہیں۔ وہ اپنے اس متعصبانہ ذہن کی بنا پر چاہتے ہیں کہ قرآن کا درجہ گھٹائیں اور بائبل کا درجہ بڑھائیں۔ مگر مسلمانوں کا یہ رد عمل بھی اسی طرح خلاف واقعہ تھا، جس طرح مستشرقین کا یہ سمجھنا کہ قرآن صرف ایک ماخوذ کتاب ہے۔
اصل یہ ہے کہ اللہ نے جو انبیاء بھیجے ، وہ سب ایک ہی تعلیم کو لے کر آئے تھے۔ مگر قدیم زمانے میں کسی کلام کو محفوظ کرنے کا قابل اعتماد ذریعہ موجود نہ تھا۔ اس لیے پچھلی کتابیں صحت کے ساتھ محفوظ نہ رہ سکیں۔ اللہ نے ساتویں صدی عیسوی کے ربع اول میں قرآن کواتارا۔ یہ گویاپچھلی آسمانی کتابوں کا تصحیح شدہ نسخہ (corrected version) تھا۔ اسی بنا پر قرآن کو مُھَیْمِنْ (المائدۃ 48:) کہا گیا ہے۔ یہی اس معاملے میں حقیقت پسندانہ نقطہ نظر ہے۔ اس نقطہ نظر کے تحت بائبل اور قرآن کا مطالعہ کیا جائے تو قاری کے لیے یہ ممکن ہوجاتا ہے کہ وہ دونوں کے بارے میں منصفانہ رائے قائم کرسکے۔ہم کو چاہیے کہ ہم قرآن کے بارے میں جو رائے قائم کریں، وہ مبنی بر عدل ہو۔ اسی طرح بائبل کے بارے میں جو رائے قائم کریں وہ بھی مبنی بر عدل ہو۔
واپس اوپر جائیں

ایک خط

کل (16ستمبر 2020) کو ایک سلفی ساتھی سے فون پر گفتگو ہوئی۔ انھوں نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ مولانا وحیدالدین خان صاحب سے جڑنے کے بعد آپ ایک بڑے حلقے سے کٹ گئے۔ پہلے آپ عبودیت کے داعی تھے، ایک مسلم تنظیم کا آپ کو سپورٹ حاصل تھا، آپ لوگوں کا ہر جگہ آناجانا تھا، جس سےلوگوں میں دعوتی بیداری پیدا ہوتی تھی، وغیرہ وغیرہ۔
میں نے کہا کہ بات افسوس کرنے کی یا کسی حلقے سے کٹنے کی نہیں ہے، بلکہ اصل مسئلہ اپنی کمی کی اصلاح ہے، اور اتباعِ سُبُل کے بجائے صراطِ مستقیم (الانعام، 6:153)پر قائم رہنا ہے۔ رہا ہمارا دائرہ کار،تو وہ اپنےحقیقی مطلوب کے اعتبار سے بہت وسیع ہوگیا ہے۔ یعنی معرفت کے اعتبار سے ہمارا دائرہ کائناتی ہوگیا ہے، اور دعوت کے اعتبار سے اب وہ عالمی بن گیا ہے۔ اس حقیقت کو جدید دور کی نسبت سے مولانا نے واضح کیا ہے۔اس بات کو جاننے کے بعد ہر اعتبار سے ہمارا تعلق وسیع ہوگیا ہے۔ گویا اس وقت ہم کو مواقع کی لامحدود دنیا میسر ہے۔ یہ اللہ تعالی کا شکر ہے۔ جب کہ آپ جس حلقے کی بات کر رہے ہیں، اس میں معرفت کا عظیم تصور نہیں ہے، اور نہ ہی دعوت کی ذمےداری کا حقیقی منصوبہ ہے۔ یہی وہ کمی تھی ، جس کا ازالہ مطلوب تھا،اور یہ مطلوب ہمیں الرسالہ مشن کی شکل میں ملا ہے۔ لہٰذا ہمارا فیصلہ ہمارے ذاتی تلاش کی نسبت سے تھا، نہ کہ کسی جماعت کی نسبت سے ۔اب جس کے پاس اس بات کی اہمیت نہیں، ان کے ساتھ جڑنا گویا کائناتی معرفت اور عالمی دعوت سے کٹ جانا ہے، اورہم اس کا تحمل نہیں کرسکتے ہیں ۔
انہوں نے کہا کہ یہ بات صحیح ہے کہ مولانا اخوانی اور انقلابی ذہن کے نہیں ہیں ،امن کی بات کرتے ہیں۔ ہندوستان کے پس منظر کے اعتبار سے یہ بات ٹھیک ہے۔ میں نے اس بات پر کہا کہ مولانا کا ایک اور حقیقی پہلو ہے، جس کے بارےمیں آپ نہیں جانتے ہیں۔ میں نے ان سے کہا کہ سلفی حضرات خصوصی طور پر توحید کی بات کرتے ہیں، مگر ہم عرصے سے یہ جانتے ہیں کہ ان کے یہاں توحید کے نام پر صرف فنی بحثیں ہوتی ہیں۔مگر خدا کی عظمت اور اس کی ربوبیت کا اظہار ، جو اِس دور میں بڑے پیمانے پر ہوا ہے، اس کا احساس کسی سلفی کونہیں ہے ۔وہ قدیم بحثوں میں ہی مصروف ہیں، اور ان جدید استدلال اورسائنسی حقائق سے بے خبر ہیں، جن کا تعلق ازدیاد ایمان اور اثبات توحید سے ہے۔ دور جدید میں مولانا نے اللہ تعالی کی عظمت و معرفت کو بطور خاص اپنے مطالعے کا موضوع بنایا ہے،اوراپنی کتابوں اور خطابات میں اس کو واضح کیا ہے۔ مگر آپ حضرات اس بات سے بے خبر ہیں۔ میں نے ان سے کہا کہ ایک مرتبہ ایک بڑےسلفی عالم دین نے مولانا سے اختلاف کا سبب بتاتے ہوئے کہا تھا کہ جس شخص نے مسلمانوں کو خذلان (abandoned)میں مبتلا کیا، ہم اس کا ساتھ نہیں دیں گے۔ مگر انھوں نے یہ نہیں جانا کہ ہم کو اس شخص کا ساتھ دینا چاہیے، جس نے دور جدید میں خدا کی عظمت کا اظہار کیا ہے ،اور اس کے اثبات کے لیے مذہب اور جدید چیلنج اور اس جیسی بہت سی تحریریں لکھی ہے، اسی طرح سیاسی منہج کی جگہ تعبدی منہج کو واضح کیا ہے،اور اس تعلق سے تعبیر کی غلطی جیسی کتاب لکھی۔انہوں نے ایسا کیوں نہیں کہا۔ کیونکہ ان کے پاس حقیقی مسئلہ عبودیت نہیں ہے، بلکہ قومیت حقیقی مسئلہ ہے۔ اصل مسئلہ عظمتِ رب کا نہیں ہے،بلکہ عظمت قوم کا ہے ۔باقی باتیں جن کے بارے میں سلفی حضرات کو اعتراض ہوسکتا ہے،وہ ذیلی باتیں ہیں، حقیقی نہیں۔اس کے بعد بات ختم ہوگئی۔
اس گفتگو سے میرا احساس یہ ہے کہ لوگ مولانا کے بارے میں ادھر ادھر کی بات کرتے ہیں مگر معرفت اور دعوت کو لیکر بات نہیں کرتے۔ صرف اپنے قومی مسائل کو لیکر رائے قائم کرتے ہیں۔ یہ،میرے خیال میں، پچھلی قوموں کی اتباع ہے۔ جب بھی کوئی مصلح حقیقی دین کی طرف بلاتا ہے تو لوگ اپنے قومی مفادات کی نسبت سے اس کا تجزیہ کرتے ہیں، جب قوم کی پالیسیوں پر تنقید ہوتی ہے تو لوگ اس کو قوم کی بے عزتی سمجھتے ہیں، اور اس طریقے سے توحید اور دعوت کے بجائے قوم ان کا موضوع بن جاتا ہے۔(حافظ سید اقبال احمد عمری عمرآباد، تامل ناڈو)
اضافہ
اس مکتوب سے یہ اندازہ ہوتاہے کہ الرسالہ اپنے قاری کے اندر کس قسم کا ذہن بنا تا ہے۔ قرآن میں آیا ہے :کُلَّ یَوْمٍ ہُوَ فِی شَأْنٍ (55:29) ۔ یعنی ہر دن وہ ایک شان میں ہے ۔ اس آیت کا تقاضا ہے کہ ہر دن مومن کے لیے خدا کی عظمت کا ایک نیاپہلو دریافت ہو۔ اس وقت مومن یہ کہہ پڑے کہ یا للعجب! خدا کی عظمت کا ایک نیاپہلو جو اب تک میرے لیے نہیں کھلا تھا، آج وہ کھلا ہے۔
واپس اوپر جائیں

خواتین میں دعوت

عام طور پر ایسا ہوتا ہے کہ لوگ کام کے لیے کسی شخصیت کو اپنا ماڈل بنالیتے ہیں۔ مثلاً کوئی ابن تیمیہ کو اپنا ماڈل بنالیتا ہے اور کوئی غزالی کو اپنا ماڈل سمجھ لیتا ہے۔ اس کے بعد ایسا ہوتا ہے کہ ایسے لوگ اپنے ماڈل کو معیاری ماڈل سمجھ لیتے ہیں۔پھر جب وہ دیکھتے ہیں کہ ان کا گول ان کے معیار کے مطابق اچیویبل (achievable) نہیں ہے تو وہ ناامیدی کا شکار ہوجاتے ہیں، اورشعوری یا غیرشعوری طور پر وہ سمجھ لیتے ہیں کہ وہ کوئی قابلِ ذکر کام نہیں کرسکتے۔
الرسالہ مشن نے اس معاملے میں ایک اچھی مثال قائم کی ہے۔مز فہمیدہ خان (پیدائش 1964)ایک سیدھی سادی گھریلو خاتون ہیں۔ وہ فیض آباد میں رہتی ہیں،اور سی پی ایس کی ممبر ہیں۔وہ میری کتابوں کا مطالعہ کرتی ہیں، اورمیری تقریریں سنتی ہیں۔ کچھ دنوں کے لیے ان کا دلی آنا ہوا۔اس دوران انھوں نے میری سنڈے کلاسز اٹینڈ کیں۔ یہ ان کی زندگی کے لیے ایک ٹرننگ پوائنٹ ثابت ہوا۔ اس کلاس کے بعد ان کو یہ احساس ہوا کہ وہ دعوت کا کام پوری طرح نہیں کر پارہی ہیں۔ ان کے اندر زبردست جذبہ پیدا ہوا کہ انھیں دعوت کے لیے اور کوشش کرنی ہے۔ اس سلسلے میں انھوں نے اللہ سے بہت زیادہ دعا کی۔اس کے بعدان کے ذہن ایک نیا آئیڈیا آیا۔انھوں نے سی پی ایس کی خواتین ممبرس سے مل کر ایک واٹس ایپ گروپ بنایا، جس میں انھوں  نے الرسالہ مشن کی آئڈیالوجی کے مطابق آپس میں ڈسکشن شروع کیا۔
اس خواتین واٹس ایپ گروپ میں نہ صرف انڈیا بلکہ انڈیا کے باہر کی خواتین بھی شامل ہیں۔ یہ لوگ روزانہ آپس میں دین اور آدابِ زندگی کے تعلق سے پہلے ایک سوال رکھتی ہیں، جو ان کو روزمرہ کی زندگی میں پیش آیا ہو، یا جس پر ان کو clarity نہ ہو۔ پھر اس پر وہ آپس میں ڈسکشن کرتی ہیں۔ یہ ڈسکشن قرآن و حدیث اور الرسالہ کے مضامین پر بیس کرتا ہے، یا ذاتی تجربات پر ۔ اس سے ان کے بہت سے کنفیوزن دور ہوتے ہیں۔ اور دین کے بہت سے نئے نئے گوشے کھلتے ہیں، اور برابر ان کا انٹلکچول ڈیولپمنٹ ہوتا رہتا ہے۔مثلاً ڈاکٹر سفینہ تبسم (سہارن پور)نے یہ تاثر دیا:’’آج میں ڈسکشن میں زیادہ حصہ نہیں لے پائی، مگر سارے میسجز پڑھ کر بہت اچھا لگا۔ آج کا میرا ٹیک اوے یہ ہے کہ میں اپنی اور اپنی فیملی میں ایجوکیشن اور انٹلکچول ڈیولپمنٹ پر فوکس کروں گی، اور اس کام کو اس طرح آگے بڑھاؤں گی کہ وہ اگلی نسل تک چلتا رہے۔‘‘
مز عارفہ نصیر ( دہلی)لکھتی ہیں:’’میں ہر دن بہت سی نئی باتیں سیکھتی ہوں، اور پہلی بار ایسا ہورہا ہے کہ میں جو کچھ سیکھتی ہوں اس کو پریکٹس میں بھی لا رہی ہوں۔ بعض دفعہ تو مولانا اور آپ سب لوگوں کے لیے اللہ سے رو رو کر دعائیں کرتی ہوں۔‘‘ مز راضیہ خان لکھتی ہیں:’’مولانا صاحب جیسے اسکالر سے اللہ نے لرننگ کا موقع دیا۔ ہر دن اس گروپ کے ذریعے مولانا صاحب کو سنتی یا پڑھتی ہوں۔پھر اس پر ڈسکشن ہوتا ہے، جس سے نئے نئے پوائنٹ سامنے آتے ہیں۔ اس سے ذہن کھلتا ہے، سنبھلنے اور اصلاح کرنے کا موقع ملتا ہے۔ میں نے جب سے یہ گروپ جوائن کیا ہے، میری ٹینشن کم ہوئی ہے۔‘‘ اس ’’سی پی ایس لیڈیزگروپ‘‘ میں پوری دنیا کی سو سے زیادہ خواتین شامل ہیں، جواس کے ذریعےاپنی معرفت کا دائرہ بڑھاتی ہیں، اور یہ سمجھنے کی کوشش کرتی ہیں کہ دعوت کے کام کو کیسے آگے بڑھایاجائے۔پھر اس کو اپنے تعلقات والی خواتین کے ساتھ شیئر (share)کرتی ہیں۔
یہ واقعہ جب میں نے سنا تو مجھے ایک حدیثِ رسول یاد آئی ۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ پوری زمین کو میرے لیے، اور میری امت کے لیے مسجد اور پاک بنادیا گیا ہے(لِی وَلِأُمَّتِی مَسْجِدًا وَطَہُورًا)مسند احمد، حدیث نمبر 22137۔ توسیعی اعتبار سے اس کا مطلب یہ بھی ہے کہ اب ایسا زمانہ آنے والا ہے، جب کہ میری امت کے لوگ جس طرح مسجد میں آزادی کے ساتھ عبادت کا کام کرتے ہیں، اسی طرح آزادی کے ساتھ دنیا میں ہر جگہ دعوت اور عباد ت کا کام کرسکتے ہیں۔ یہاں تک کہ انٹرنیٹ کی ورچول دنیا (virtual world)میں بھی، یعنی فیس بک اور واٹس ایپ وغیرہ ۔
سی پی ایس خواتین کا یہ کام بلاشبہ ایک قابلِ تعریف کام ہے۔ اس طرح خواتین موجودہ دور میں دینی مشن کو آگے بڑھاسکتی ہیں۔ میں اللہ تعالی سے دعا کرتا ہوں یہ سی پی ایس لیڈیز گروپ گلوبل لیول پر دعوت کا بہت بڑا کام کرے، اللہ ان کی کوششوں کو قبول کرے، اور ان کی حفاظت کرے، آمین۔
واپس اوپر جائیں

مقصد کی تلاش

اس عظیم کائنات کو دیکھتے ہی سب سے پہلا سوال جو ایک سنسیر(sincere) انسان کے ذہن میں آتا ہے، وہ یہ کہ اس کا بنانے والا کون ہے اور وہ کون ہے، جو اس عظیم کارخانے کو چلا رہا ہے۔ پچھلے زمانوں میں انسان یہ سمجھتا تھا کہ بہت سی اَن دیکھی طاقتیںاس کائنات کی مالک ہیں۔ ایک بڑے خدا کے تحت بہت سے چھوٹے چھوٹے خدا اس کا انتظام کررہے ہیں۔ اب بھی بہت سے لوگ اس قسم کا عقیدہ رکھتے ہیں۔ مگر علمی دنیا میں عام طورپر اب یہ نظریہ ترک کیا جاچکا ہے۔ آج یہ ایک مردہ نظریہ ہے ،نہ کہ زندہ نظریہ ۔موجودہ زمانے کے وہ لوگ جو اپنے آپ کو ترقی یافتہ کہتے ہیں، اور جن کا خیال ہے کہ وہ جدید دور کے انسان ہیں۔ وہ شرک کے بجائے الحاد کے قائل ہیں۔ ان کا خیال ہےکہ کائنات کسی ذی شعور ہستی کی کارفرمائی نہیں ہے، بلکہ ایک اتفاقی حادثے کا نتیجہ ہے، اور جب کوئی واقعہ وجود میں آجائے تو اس کے سبب سے کچھ دوسرے واقعات بھی وجود میں آئیں گے۔ اس طرح اسباب و واقعات کا ایک لمبا سلسلہ قائم ہوجاتا ہے، اور یہی سلسلۂ اسباب ہے جو کائنات کو چلا رہا ہے۔ اس توجیہہ کی بنیاد دو چیزوں پر ہے۔ ایک ،اتفاق اور دوسرا، قانونِ علّت (law of causation) ۔
یہ توجیہہ بتاتی ہے کہ اب سے تقریباً دو لاکھ ارب (دو سو ٹریلین) سال پہلے کائنات کا وجود نہ تھا۔ اس وقت ستارے تھے ،اور نہ سیارے، مگر فضا (space) میں مادہ موجود تھا۔ یہ مادہ اس وقت جمی ہوئی ٹھوس حالت میں نہ تھا۔ بلکہ اپنے ابتدائی ذرّے یعنی برقیے (electrons) اور پروٹونوں کی شکل میں پوری فضائے بسیط (vast space) میں یکساں طورپر پھیلا ہوا تھا۔ گویا انتہائی چھوٹے چھوٹے ذرات کا ایک غبار تھا جس سے کائنات بھری ہوئی تھی۔ اس وقت مادہ بالکل توازن کی حالت میں تھا، اس میں کسی قسم کی حرکت نہ تھی۔ ریاضی کے نقطۂ نگاہ سے یہ توازن ایسا تھا کہ اگر اس میں کوئی ذرا سا بھی خلل(interruption) ڈال دے تو پھر یہ قائم نہیں رہ سکتا، یہ خلل بڑھتا ہی چلا جائے گا۔
اگر اس ابتدائی خلل کو مان لیجیے تو ان لوگوں کا خیال ہے کہ اس کے بعد کے تمام واقعات علم ریاضی کے ذریعے ثابت ہوجاتے ہیں۔ چنانچہ ایسا ہوا کہ مادے کے اس بادل میں خفیف سا خلل(minutest disruption) واقع ہوا، جیسے کسی حوض کے پانی کو کوئی ہاتھ ڈال کر ہلا دے۔ کائنات کی پرسکون دنیا میں یہ اضطراب کس نے پیدا کیا، اس کے بارے میں کچھ نہیں معلوم۔ لیکن خلل ہوا اور یہ خلل بڑھتا گیا۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ مادہ سمٹ سمٹ کر مختلف جگہوں میں جمع ہونا شروع ہوگیا۔ یہی وہ جمع شدہ مادہ ہے، جن میں سے بعض کو ہم ستارہ، بعض کو سیارہ اور بعض کو نیبولا (nebula) کہتے ہیں۔کائنات کی یہ توجیہہ سائنس کی طرف سے پیش کی گئی تھی۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ یہ توجیہہ نہایت کمزور توجیہہ ہے ، خود سائنس دانوں کو بھی اس پر کبھی شرحِ صدر حاصل نہ ہوسکا۔ یہ توجیہہ اس حقیقت کو تسلیم کرتی ہے کہ اسے نہیں معلوم کہ کائنات کو پہلی بار کس نے حرکت دی۔ مگر اس کے باوجود اٹھیسٹ لوگوں (atheists)کا دعوی ہے کہ انھوں نے کائنات کے محرّکِ اول کو معلوم کرلیا ہے، اور اس محرکِ اول کا نام ان کے نزدیک اتفاق ہے۔
سوال یہ ہے کہ جب کائنات میں صرف غیر متحرک مادہ تھا، اس کے سوا کوئی چیز موجود نہ تھی تو یہ عجیب وغریب قسم کا اتفاق کہاں سے وجود میں آگیا، جس نے ساری کائنات کو حرکت دے دی۔ جس واقعہ کے اسباب نہ مادہ کے اندر موجود تھے ،اور نہ مادہ کے باہر۔ وہ واقعہ وجود میں آیا تو کیسے۔ اس توجیہہ کا یہ نہایت دل چسپ تضاد ہے کہ وہ ہر واقعے سے پہلے ایک واقعہ کا موجود ہونا ضروری قرار دیتی ہے، جو بعد کو ظاہر ہونے والے واقعہ کا سبب بن سکے۔ مگر اس توجیہہ کی ابتدا ایک ایسے  واقعے سے ہوتی ہے، جس سے پہلے اس کا سبب موجود نہیں۔ یہی وہ بے بنیاد مفروضہ ہے، جس پر کائنات کی اتفاقی پیدائش کے نظریے کی پوری عمارت کھڑی کردی گئی ہے۔
پھر یہ کائنات اگر محض اتفاق سے وجود میں آئی ہے تو کیا واقعات لازمی طورپر وہی رخ اختیار کرنے پر مجبور تھے، جو انھوں نے اختیار کیا۔ کیا اس کے سوا کچھ اور نہیں ہوسکتا تھا۔ کیا ایسا ممکن نہیں تھا کہ ستارے آپس میں ٹکراکر تباہ ہوجائیں۔ مادہ میں حرکت پیدا ہونے کے بعد کیا یہ ضروری تھا کہ یہ محض حرکت نہ رہے، بلکہ ایک ارتقائی حرکت بن جائے، اور حیرت انگیز تسلسل کے ساتھ موجودہ کائنات کو وجود میں لانے کی طرف دوڑنا شروع کردے۔
آخر وہ کون سی منطق تھی، جس نے ستاروں کے وجود میں آتے ہی ان کو لامتناہی خلا میں نہایت باقاعدگی کے ساتھ پھرانا شروع کردیا ۔ پھر وہ کون سی منطق تھی، جس نے کائنات کے ایک بعید ترین گوشہ میں نظامِ شمسی کو وجود دیا۔ پھر وہ کونسی منطق تھی، جس سے ہمارے کرۂ ارض پر وہ عجیب وغریب تبدیلیاں ہوئیں، جن کی وجہ سے یہاں زندگی کا قیام ممکن ہوسکا،اور جن تبدیلیوں کا سراغ آج تک کائنات کی بے شمار دنیاؤں میں سے کسی ایک دنیا میں بھی معلوم نہیں کیا جاسکا ہے۔ پھر وہ کون سی منطق تھی، جو ایک خاص مرحلے پر بے جان مادہ سے جاندار مخلوق پیدا کرنے کا سبب بن گئی۔ کیا اس بات کی کوئی معقول توجیہہ کی جاسکتی ہے کہ زمین پر زندگی کس طرح اور کیوں وجود میں آئی، اور کس قانون کے تحت مسلسل پیدا ہوتی چلی جارہی ہے۔
پھر وہ کون سی منطق تھی، جس نےکائنات کے ایک چھوٹے سے رقبے میں حیرت انگیز طورپر وہ تمام چیزیں پیدا کردیں، جو ہماری زندگی اور ہمارے تمدن کے لیے درکار تھیں، پھر وہ کون سی منطق ہے، جو ان حالات کو ہمارے لیے باقی رکھے ہوئے ہے۔ کیا محض ایک اتفاق کا پیش آجانا، اس بات کی کافی وجہ تھی کہ یہ سارے واقعات اس قدر حسنِ ترتیب کے ساتھ مسلسل پیش آتے چلے جائیں، اور اربوں اور کھربوں سال تک ان کا تسلسل جاری رہے، اور پھر بھی ان میں کوئی فرق نہ آنے پائے۔ کیا اس بات کی کوئی واقعی توجیہہ کی جاسکتی ہے کہ محض اتفاق سے پیش آنے والے واقعےمیں لز وم کی صفت کہاں سے آگئی، اور اتنے عجیب وغریب طریقے پر مسلسل ارتقا کرنے کا رجحان اس میں کہاں سے پیدا ہوگیا۔
یہ اس سوال کا جواب تھا کہ کائنات کیسے پیدا ہوئی۔ اس کے بعد یہ سوال اٹھا کہ اس کا چلانے والا کون ہے۔ وہ کون ہے، جو اس عظیم کارخانے کو اس قدر منظم طریقے پر حرکت دے رہا ہے۔اس توجیہہ میں جس کو کائنات کا خالق قرار دیاگیاہے، اسی کو کائنات کاحاکم نہیں قرار دیا جاسکتا۔ یہ توجیہہ عین اپنی ساخت کے اعتبار سے دو خدا چاہتی ہے۔ کیوں کہ حرکتِ اول کی توجیہہ کے لیے تو اتفاق کا نام لیا جاسکتا ہے، مگر اس کے بعد کی مسلسل حرکت کو کسی حال میں بھی اتفاق نہیں کہا جاسکتا۔ اس کی توجیہہ کے لیے دوسرا خدا تلاش کرنا پڑے گا۔
اس مشکل کو حل کرنے کے لیے اصولِ تعلیل (principle of causation)پیش کیا گیا۔ جس کا مطلب یہ ہے کہ حرکتِ اول کے بعد کائنات میں علت اور معلول کاایک سلسلہ قائم ہوگیا ، جس کے نتیجے میں ایک کے بعد ایک تمام واقعات پیش آتے چلے جارہےہیں۔ اسی طرح جیسے بچّے بہت سے اینٹیں کھڑی کرکے کنارے کی ایک اینٹ گرا دیتے ہیں تو اس کے بعد کی تمام اینٹیں خود بخود گرتی چلی جاتی ہیں۔ جو واقعہ ظہور میں آتا ہے، اس کا سبب کائنات کے باہر کہیں موجود نہیں ہے، بلکہ ناقابلِ تسخیر قوانین کے تحت حالات ماقبل کا لازمی نتیجہ ہوتا ہے، اور یہ سابقہ حالات بھی اپنے سے پہلے واقعات کا لازمی نتیجہ تھے۔ اس طرح کائنات میں علّت اور معلول کا ایک لامتناہی سلسلہ قائم ہوگیا ہے۔ حتى کہ جس صورت میں تاریخِ عالم کا آغاز ہوا، اس نے آئندہ سلسلۂ واقعات کا قطعی فیصلہ کردیا ہے۔ جب ابتدائی صورت ایک دفعہ متعین ہوگئی تو قدرت صرف ایک ہی طریقے سے منزلِ مقصود تک پہنچ سکتی تھی۔ گویا کائنات جس روز پیدا ہوئی اس کی آئندہ تاریخ بھی اسی دن متعین ہوچکی ہے۔
اس اصول کو قدرت کا اساسی قانون مقرر کرنا سترہویں صدی کا ایک بہت بڑا واقعہ تھا۔ چنانچہ یہ تحریک شروع ہوئی کہ تمام کائنات کو ایک مشین ثابت کیا جائے۔ انیسویں صدی کے دوسرے نصف میں یہ تحریک اپنے پورے عروج پر آگئی۔ یہ زمانہ سائنس داں انجینئروں کا تھا، جن کی دلی خواہش تھی کہ قدرت کے مشینی ماڈل بنائے جائیں۔ اسی زمانے میں جرمن ماہر طبیعات ہیلم ہولٹز (Helm Holtz [1821-1894]) نے کہا تھا کہ تمام قدرتی سائنس کا آخری مقصد اپنے آپ کو میکانکس میں منتقل کرلینا ہے۔ اگرچہ اس اصول کے مطابق کائنات کے تمام مظاہر کی تشریح کرنے میںابھی سائنسدانوں کو کامیابی نہیں ہوئی تھی، مگر ان کا یقین تھا کہ کائنات کی تشریح میکانکی پیرائے میں ہوسکتی ہے۔ وہ سمجھتے تھے کہ صرف تھوڑی سی کوشش کی ضرورت ہے، اور بالآخر تمام عالم ایک مکمل چلتی ہوئی مشین ثابت ہوجائے گا۔
ان باتوں کا انسانی زندگی سے تعلق صاف ظاہر تھا۔ اصولِ تعلیل کی ہر توسیع اور قدرت کی ہر کامیاب میکانکی تشریح نے انسانی اختیار اور ارادےپر یقین کرنا محال بنادیا۔ کیوں کہ اگر یہ اصول تمام قدرت پر حاوی ہے تو زندگی اس سے کیوں مستثنىٰ ہوسکتی ہے۔ اس طرزِ فکر کے نتیجے میں سترھویں اور اٹھارھویں صدی کے میکانکی فلسفے وجود میں آئے۔ جب یہ دریافت ہوا کہ جاندار خلیہ (living cell) بھی بےجان مادہ کی طرح محض کیمیاوی جوہروں سے بنا ہے تو فوراً سوال پیداہوا کہ وہ خاص اجزاء جن سے ہمارے جسم ودماغ بنےہوئے ہیں، کیوں کر اصولِ تعلیل کے دائرے سے باہر ہوسکتے ہیں۔ چنانچہ یہ گمان کیا گیا، بلکہ بڑے جوش کے ساتھ دعوی کردیا گیا کہ زندگی بھی ایک خالص مشین ہے۔ یہاں تک کہا گیا کہ نیوٹن ( Isaac Newton [1642-1727]) ، باخ (Johann Sebastian Bach [1685-1750]) اور مائیکل اینجلو (Michelangelo [1475-1564]) کے دماغ کسی پرنٹنگ مشین سے صرف پیچیدگی میں مختلف تھے ،اور ان کا کام صرف یہ تھا کہ بیرونی محرکات کا مکمل جواب دیں۔
مگر سائنس اس سخت اور غیر معتدل قسم کے اصولِ تعلیل(principle of causation) کی اب قائل نہیں ہے۔نظریۂ اضافیت اصول تعلیل کو دھوکے (elusion) کے لفظ سے یاد کرتا ہے۔ انیسویں صدی کے آخر ہی میں سائنس پر یہ واضح ہوگیا تھا کہ کائنات کے بہت سے مظاہر، بالخصوص روشنی اور قوتِ کشش، میکانکی تشریح کی ہر کوشش کو ناکام بنا دیتے ہیں۔ یہ بحث ابھی جاری تھی کہ کیا ایسی مشین بنائی جاسکتی ہے، جو نیوٹن کے افکار، باخ کے جذبات اور مائیکل اینجلو کے خیالات کا اعادہ کرسکے۔ مگر سائنس دانوں کو بڑی تیزی سے یقین ہوتا جارہا تھا کہ شمع کی روشنی اور سیب کا گرنا کوئی مشین نہیں دہرا سکتی۔ قدیم سائنس نے بڑے وثوق سے اعلان کیا تھاکہ قدرت صرف ایک ہی راستہ اختیار کرسکتی ہے، جو اول روز سےعلت اور معلول کی مسلسل کڑی کے مطابق ابد تک کے لیے معین ہوچکا ہے۔ مگر بالآخر سائنس کو خود یہ تسلیم کرنا پڑا کہ کائنات کا ماضی اس قدر اٹل طورپر اس کے مستقبل کا سبب نہیں ہے، جیسا کہ پہلے خیال کیا جاتا تھا۔ موجودہ معلومات کی روشنی میں سائنس دانوں کی ایک بڑی اکثریت کا اب اس بات پر اتفاق ہے کہ علم کا دریا ہمیں ایک غیر میکانکی حقیقت (non-mechanical reality)کی طرف لیے جارہا ہے۔
کائنات کی پیدائش اور اس کی حرکت کے بارے میں یہ دونوں نظریے جو سائنسی ترقیوں کے ساتھ وجود میں آئے تھے، اب تک یقین کی دولت سے محروم ہیں۔ جدید تحقیقات ان کی بنیاد کو مضبوط نہیں بناتی، بلکہ اور کمزور کردیتی ہے۔ اس طرح گویا سائنس خود ہی اس نظریے کی تردید کررہی ہے، اب انسان دوبارہ اسی منزل پر پہنچ گیا ہے، جس کو چھوڑ کر اس نے اپنا نیا سفر شروع کیا تھا۔
معبود کی تلاش
یہ خالق کی تلاش کا مسئلہ تھا۔اس کے بعد دوسری چیز جو انسان جاننا چاہتا ہے وہ یہ کہ ’’میرا معبود کون ہے‘‘۔ اصل یہ ہے کہ انسان اپنی زندگی میںصریح طورپر ایک خلا(vacuum) محسوس کرتا ہے۔ مگروہ نہیں جانتاکہ وہ اس خلا کو کیسے پر کرے۔ یہی خلا کا احساس ہے جس کو میں نے ’’معبود کی تلاش‘‘ سے تعبیر کیا ہے۔ یہ احساس دو پہلوؤں سے ہوتا ہے۔اپنے وجوداور باہر کی دنیا پر جب ہم غور کرتے ہیں تو دو نہایت شدید جذبات ہمارے اندر پیدا ہوتے ہیں۔پہلا، شکر اور احسان مندی کا اور دوسرا، کمزوری اور عجز کا۔
ہم اپنی زندگی کے جس گوشے میں بھی نظر ڈالتے ہیں، ہمیں صاف دکھائی دیتا ہے کہ ہماری زندگی کسی کے احسانات سے ڈھکی ہوئی ہے۔ یہ دیکھ کر دینے والے کے لیے ہمارے اندر بے پناہ جذبۂ شکر امنڈتا ہے، اور ہم چاہتے ہیں کہ اپنی بہترین عقیدتوں کو اپنے محسن پر قربان کرسکیں۔ یہ تلاش ہمارے لیے محض ایک فلسفیانہ نوعیت کی چیز نہیں ہے ،بلکہ ہماری نفسیات سے اس کاگہرا تعلق ہے۔ یہ سوال محض ایک خارجی مسئلہ کو حل کرنے کا سوال نہیں ہے۔ بلکہ یہ ہماری ایک اندرونی طلب ہے، اور ہمارا پورا وجود اس سوال کا جواب معلوم کرنا چاہتا ہے۔
غور کیجیے، کیاکوئی سنجیدہ آدمی اس حقیقت کو نظر انداز کرسکتا ہے کہ وہ کائنات میں ایک مستقل واقعے کی حیثیت سے موجود ہے ۔حالاں کہ اس میں اس کی اپنی کوششوں کا کوئی دخل نہیں ہے۔ وہ اپنے آپ کو ایک ایسے جسم میں پارہا ہے، جس سے بہتر جسم کا وہ تصور نہیں کرسکتا۔ حالاں کہ اس جسم کو اس نے خود نہیں بنایا ہے۔ اس کو ایسی عجیب وغریب قسم کی ذہنی قوتیں حاصل ہیں، جو کسی بھی دوسرے جاندار کو نہیں دی گئی ہیں۔ حالاں کہ ان قوتوں کو حاصل کرنے کے لیے اس نے کچھ بھی نہیں کیا ہے، اور نہ وہ کچھ کرسکتا ہے۔ ہمارا وجود ذاتی نہیں ہے، بلکہ عطیہ ہے۔ یہ عطیہ کس نے دیا ہے، انسانی فطرت اس سوال کا جواب معلوم کرنا چاہتی ہے تاکہ وہ اپنے اس عظیم محسن کا شکر ادا کرسکے۔
پھر اپنے جسم کے باہر دیکھیے۔ دنیا میں ہم اس حال میں پیداہوتے ہیں کہ ہمارے پاس اپنا کچھ بھی نہیں ہوتا۔ نہ ہم کو کائنات کے اوپر کوئی اختیار حاصل ہے کہ ہم اس کو اپنی ضرورت کے مطابق بنا سکیں۔ ہماری ہزاروں ضرورتیں ہیں۔ مگر کسی ایک ضرورت کو بھی ہم خود سے پورا نہیں کرسکتے۔ لیکن ہم دیکھتے ہیں کہ دنیا میں حیرت انگیز طور پر ہماری تمام ضرورتوں کو پورا کرنے کا انتظام کیا گیاہے۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ کائنات اپنے تمام سازوسامان کے ساتھ اس بات کی منتظر ہے کہ انسان پیدا ہو، اور وہ اس کی خدمت میں لگ جائے۔
مثال کے طورپر آواز کو لیجیے، جس کے ذریعے سے ہم اپنا خیال دوسروں تک پہنچاتے ہیں۔ یہ کیسے ممکن ہوا کہ ہمارے ذہن میں پیداہونے والے خیالات زبان کا ارتعاش (wave)بن کر دوسرے کے کان تک پہنچیں اور وہ ان کو قابلِ فہم آوازوں کی صورت میں سن سکے۔ اس کے لیے ہمارے اندر اور باہر بے شمار انتظامات کیے گئے ہیں، جن میں سے ایک وہ درمیانی واسطہ ہے ،جس کو ہم ہوا کہتے ہیں۔ ہم جو الفاظ بولتے ہیں، وہ بے آواز لہروں (waves)کی صورت میں ہوا پر اسی طرح سفر کرتے ہیں، جس طرح پانی کی سطح پر موجیں پیدا ہوتی ہیں، اور بڑھتی چلی جاتی ہیں۔میرے منھ سے نکلی ہوئی آواز کے آپ تک پہنچنے کے لیے درمیان میں ہوا کا موجود ہونا ضروری ہے۔ اگر یہ درمیانی واسطہ نہ ہو تو آپ میرے ہونٹ ہلتے ہوئے دیکھیں گے، مگر میری آواز نہ سنیں گے۔ مثال کے طورپر شیشے کےایک بند برتن کے اندر برقی گھنٹی رکھ کر اسے بجایا جائےتو اس کی آواز صاف سنائی دے گی۔ لیکن اگر اس کے اندر کی ہوا کو پوری طرح نکال دیاجائے ،اور اس کے بعد گھنٹی بجائی جائے تو آپ شیشہ کے اندر گھنٹی کو بجتا ہوا دیکھیں گے، مگر اس کی آواز بالکل سنائی نہ دے گی۔ کیوں کہ گھنٹی کے بجنے سے جو لہر پیدا ہوتی ہے، اس کو آپ کے کانوں تک پہنچانے کے لیے شیشے کے برتن میں ہوا موجود نہیں ہے۔
مگر یہ ذریعہ بھی ناکافی ہے۔ کیوں کہ ہوا کے ذریعے ہماری آواز پانچ سکنڈ میں صرف ایک میل کا فاصلہ طےکرتی ہے۔ اس کے معنی یہ ہیں کہ ہوا کا ذریعہ صرف قریبی ماحول میں گفتگو کے لیے کار آمد ہے، وہ ہماری آواز کو دور تک نہیں پہنچا سکتا۔ اگر آواز صرف ہوا کے ذریعہ پھیلتی تو اس کو ایک جگہ سے دوسری جگہ پہنچانا ممکن نہ ہوتا۔ مگر قدرت نے اس کے لیے ہمیں ایک اور انتہائی تیز رفتار ذریعہ مہیا کیا ہے۔ یہ روشنی یا برقی رو ہے جس کی رفتار ایک سکنڈ میں ایک لاکھ چھیاسی ہزار میل ہے۔ وائرلیس(wireless)پیغامات میں اسی طریقے سے کام لیا جاتاہے۔ جب کوئی اسپیکر ریڈیو اسٹیشن میں لگے ہوئے مائکروفون کے قریب آواز نکالتا ہے تو مائکروفون آواز کو جذب کرکے اسے برقی رومیں تبدیل کردیتاہے، اور تار کے ذریعے اسی کو ٹرانس میٹر تک بھیج دیتاہے۔ٹرانسمیٹرآواز کے پہنچتے ہی فضا میں بہت ہی طاقت ور لہریں پیدا کردیتا ہے۔ اس طرح پانچ سکنڈ میں ایک میل چلنے والی آواز برقی لہروں میں تبدیل ہو کر ایک سکنڈ میں دو لاکھ میل کی رفتار حاصل کرلیتی ہے، اور لمحے بھر میں ساری دنیا میں پھیل جاتی ہے۔ یہی وائرلیس موجیں (wireless waves)ہیں، جن کو ہمارے ریڈیوسٹ کی آواز گیر مشین قبول کرکے بلند آواز میں ان کا اعادہ کردیتی ہے، اور پھر ہزاروں میل دور بولی ہوئی آواز کو ہم کسی تاخیر کے بغیر سننے لگتے ہیں۔اسی کی ایک ترقی یافتہ شکل موجودہ دور میں موبائل اور انٹرنیٹ کا سسٹم ہے۔ یہ ان بے شمار انتظامات میں سے ایک ہے ،جس کو میں نے بیان نہیں کیا ہے، بلکہ اس کا صرف نام لیا ہے۔ اگر اس کا اور دوسری چیزوں کا تفصیلی ذکر کیا جائے تو اس کے لیے کروروں صفحے درکار ہوں گے، اور پھر بھی ان کا بیان ختم نہ ہوگا۔
یہ عطیات جن سے ہر آن آدمی فائدہ اٹھارہا ہے، اور جن کے بغیر اس زمین پر انسانی زندگی اور تمدن کا کوئی تصور نہیںکیا جاسکتا۔ انسان جاننا چاہتا ہے کہ یہ سب کس نے اس کے لیے مہیا کیا ہے۔ ہر آن جب وہ کسی نعمت سے دوچار ہوتاہے تو اس کے دل میں بے پناہ جذبۂ شکر امنڈتا ہے، اور وہ چاہتا ہے کہ اپنے محسن کو پائے اور اپنے آپ کو اس کے قدموں میں ڈال دے۔ محسن کے احسانات کو ماننا، اس کو اپنے دل کی گہرائیوں میں جگہ دینا، اور اس کی خدمت میں اپنے بہترین جذبات کو نذر کرنا یہ انسانی فطرت کا شریف ترین جذبہ ہے۔ ہر آدمی جو اپنی زندگی اورکائنات پر غور کرتاہے، اس کے اندر نہایت شدت سے یہ جذبہ ابھرتا ہے۔ پھر کیا اس جذبے کا کوئی جواب نہیں۔ کیا انسان اس کائنات کے اندر ایک یتیم بچہ ہے، جس کے اندر امنڈتے ہوئے جذبات محبت کی تسکین کے لیے کوئی ہستی موجود نہ ہو۔ کیا یہ ایک ایسی کائنات ہے، جہاں احسانات ہیں مگر محسن کا پتہ نہیں۔ جہاں جذبہ ہے، مگر جذبے کی تسکین کا کوئی ذریعہ نہیں۔
یہ معبود کی تلاش کا ایک پہلو ہے۔ اس کا دوسرا پہلو یہ ہے کہ انسان کے حالات فطری طورپر تقاضا کرتےہیں کہ کائنات کے اندر اس کا کوئی سہارا ہو۔ اگر ہم آنکھ کھول کر دیکھیں تو ہم اس دنیا میں ایک انتہائی عاجز اور بے بس مخلوق ہیں۔ ذرا اس اسپیس کا تصور کیجیے جس میںہماری یہ زمین سورج کے گرد چکر لگارہی ہے۔ آپ جانتے ہیں کہ زمین کی گولائی تقریباً 25 ہزار میل ہے۔ اور وہ ناچتے ہوئے لٹو کی مانند اپنے محور پر مسلسل اس طرح گھوم رہی ہے کہ ہر 24 گھنٹے میں ایک چکر پورا ہوجاتا ہے۔ گویا اس کی رفتار تقریباً ایک ہزار میل فی گھنٹہ ہے۔ اسی کے ساتھ وہ سورج کے چاروں طرف اٹھارہ کرور ساٹھ لاکھ میل کے لمبے دائرہ میں نہایت تیزی سے دوڑ رہی ہے۔
اتھاہ اسپیس میں اس قدر تیز دوڑتی ہوئی زمین پر ہمارا و جود قائم رکھنے کے لیے زمین کی رفتار کو ایک خاص اندازے کے مطابق رکھا گیا ہے۔ اگر ایسا نہ ہو تو زمین کے اوپر انسان کی حالت ان کنکریوں کی مانند ہوجائے، جو کسی تیزی سے گھومتے ہوئے پہیے پر رکھ دیے گئے ہوں۔ اسی کے ساتھ مزید انتظام یہ ہے کہ زمین کی کشش ہم کو کھینچے ہوئے ہے، اور اوپر سے ہوا کا زبردست دباؤ پڑتا ہے۔ ہوا کے ذریعے جو دباؤ پڑرہا ہے ،وہ جسم کے ہر مربع انچ پر پندرہ پونڈ تک معلوم کیاگیا ہے، یعنی ایک اوسط آدمی کے سارے جسم پر تقریباً 280 من کا دباؤ۔ ان حیرت انگیز انتظامات نے ہم کو خلا میں مسلسل دوڑتی ہوئی زمین کے چاروں طرف قائم کر رکھا ہے۔
پھر ذرا سورج پر غور کیجیے۔ سورج کی جسامت آٹھ لاکھ 65 ہزار میل ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ ہماری زمین سے دس لاکھ گنا بڑا ہے۔ یہ سورج آگ کا دہکتاہوا سمندر ہے، جس کے قریب کوئی بھی چیز ٹھوس حالت میں نہیں رہ سکتی۔ زمین اور سورج کے درمیان اس وقت تقریباً ساڑھے نو کرور میل کا فاصلہ ہے، اگر اس کے بجائے وہ اس کے نصف فاصلہ پر ہو تو سورج کی گرمی سے چیزیں جلنے لگیں، اور اگر وہ چاند کی جگہ یعنی دو لاکھ چالیس ہزار میل کے فاصلے پر آجائے تو زمین پگھل کر بخارات میں تبدیل ہوجائے۔ یہی سورج ہے، جس سے زمین پر زندگی کے تمام مظاہر قائم ہیں۔ اس مقصد کے لیے اس کو ایک خاص فاصلے پر رکھا گیا ہے۔ اگر وہ دور چلا جائے تو زمین برف کی طرح جم جائے، اور قریب آجائے تو ہم سب لوگ جل بھن کر خاک ہوجائیں۔
پھر ذرا اس کائنات کی وسعت کو دیکھیے، اور اس قوتِ کشش پر غور کیجیے، جو اس عظیم کائنات کو سنبھالے ہوئے ہے۔ کائنات ایک بے انتہا وسیع کارخانہ ہے۔ اس کی وسعت کا اندازہ ماہرینِ فلکیات کے نزدیک یہ ہے کہ روشنی جس کی رفتار ایک لاکھ چھیاسی ہزار میل فی سکنڈ ہے۔ اس کو کائنات کے گرد ایک چکر طے کرنے میں کئی ارب برس درکار ہوں گے۔ یہ نظام شمسی جس کے اندر ہماری زمین ہے، بظاہر بہت بڑا معلوم ہوتا ہے، مگر پوری کائنات کے مقابلے میں اس کی کوئی حیثیت نہیں۔ کائنات میں اس سے بہت بڑے بڑے بے شمار ستارے لامحدود وسعتوں میں پھیلے ہوئے ہیں، جن میں بہت سے ستارےاتنے بڑے ہیں کہ ہمارا پورا نظام شمسی اس کے اوپرایک چھوٹے بال کی طرح رکھا جاسکتا ہے۔ جو قوتِ کشش ان بے شمار دنیاؤں کو سنبھالے ہوئے ہے، اس کی عظمت کا تصور اس سے کیجیے کہ سورج جس بے پناہ طاقت سے زمین کو اپنی طرف کھینچ رہا ہے، اور اس کی وسیع ترین فضا میں گر کر برباد ہو جانے سے روکتا ہے، یہ غیر مرئی طاقت اس قدر قوی ہے کہ اگر اس مقصد کے لیے کسی مادی شے سے زمین کو باندھنا پڑتا تو جس طرح گھاس کی پتیاں زمین کو ڈھانکے ہوئے ہیں،اسی طرح دھاتی تاروں سے کرۂ ارض ڈھک جاتا۔
ہماری زندگی بالکلیہ ایسی طاقتوں کے رحم وکرم پر ہے، جن پر ہمارا کوئی اختیار نہیں۔ انسان کی زندگی کے لیے دنیا میں جو انتظامات ہیں، اور جن کی موجودگی کے بغیر انسانی زندگی کا تصور نہیں کیا جاسکتا، وہ انتہائی اعلی پیمانے پر ہورہے ہیں۔ ان کو وجود میں لانے کے لیے اتنی غیر معمولی قوت تصرف درکار ہے کہ انسان خود سے انھیں وجود میں لانے کا تصور نہیں کرسکتا۔ موجودات کے لیے جو طریقِ عمل مقرر کیا گیا ہے، اس کا مقرر کرنا تو درکنار اس پر کنٹرول کرنا بھی انسان کے بس کی بات نہیں۔وہ دیکھتا ہے کہ اگر کائنات کی غیر معمولی قوتیں میرے ساتھ ہم آہنگی نہ کریں تو میں زمین پر ٹھہر بھی نہیں سکتا، اس کے اوپر ایک متمدن زندگی کی تعمیر تو بہت دور کی بات ہے۔
ایسی ایک کائنات کے اندر جب انسان اپنے حقیر وجود کو دیکھتاہے تو وہ اپنے آپ کو اس سے بھی زیادہ بے بس محسوس کرنے لگتاہے، جتنا کہ سمندر کی موجوں کے درمیان ایک چیونٹی اپنے آپ کو بچانے کی جدوجہد کررہی ہو۔ وہ بے اختیار چاہتا ہے کہ کوئی ہو،جو اس اتھاہ کائنات میں اس کا سہارا بن سکے۔ وہ ایک ایسی ہستی کی پناہ ڈھونڈھنا چاہتاہے، جو کائنات کی قوتوں سے بالا تر ہو، اور جس کی پناہ میں آجانے کے بعد وہ اپنے آپ کو محفوظ ومامون تصور کرسکے۔
اس جذبے کو معبود کی تلاش کا عنوان دیا جاسکتا ہے۔ معبود کی تلاش در اصل ایک فطری جذبہ ہے جس کا مطلب ایک ایسی ہستی کی تلاش ہے،جو آدمی کی محبت اور اس کے اعتماد کا مرکز بن سکے۔ انسان کے اندر تلاش کا یہ جذبہ جو ابھرتا ہے،اس کے اسباب انسانی نفسیات میں بہت گہرائی تک پھیلے ہوئے ہیں، وہ ایک ایسی ہستی کی تلاش میں ہے، جو ساری کائنات کو کنٹرول کرتی ہو۔ اس طلب کا جواب کسی جغرافیائی خطہ میں نہیں مل سکتا۔ یہ چیزیں ایک سماج کی تعمیر میں مدد دے سکتی ہیں۔ مگر وہ انسان کی تلاشِ معبود کے جذبے کی تسکین نہیں بن سکتیں۔ اس کے لیے ایک کائناتی وجود درکار ہے۔ انسان کو اپنی محبتوں کے مرکز کے لیے ایک ایسا وجود چاہیے، جس نے کائنات (universe) کو بنایا ہو۔ اپنے سہارے کے لیے اسے ایک ایسی طاقت کی تلاش ہے، جو کائنات کے اوپر با اختیارحکمراں ہو۔ جب تک انسان ایسے ایک وجود کو نہیں پائے گا، اس کا خلا (vacuum) بدستور باقی رہے گا، کوئی دوسری چیز اسے پُر (fill)کرنے والی نہیں بن سکتی۔
انجام کی تلاش
حقیقت کی تلاش کا تیسرا جزء اپنے انجام کی تلاش ہے۔ آدمی یہ جاننا چاہتا ہے کہ وہ کہاں سے آیا ہے، اور کہاں جائے گا۔ وہ اپنے اندر بہت سے حوصلے اور تمنائیں پاتا ہے، وہ معلوم کرنا چاہتا ہے کہ ان کی تسکین کس طرح ہوگی۔ وہ موجودہ محدود زندگی کے مقابلے میں ایک طویل تر زندگی چاہتا ہے، مگر نہیں جانتا کہ وہ اس کو کہاں پائے گا۔ اس کے اندر بہت سے اخلاقی اور انسانی احساسات (feelings) ہیں جو دنیامیں بری طرح پامال کیے جارہے ہیں۔ اس کے ذہن میں یہ سوال اٹھتاہے کہ کیا وہ اپنی پسندیدہ دنیا کو حاصل نہ کرسکے گا۔ یہ سوالات کس طرح انسان کے ذہن میں پیدا ہوتے ہیں، اور کائنات کا مطالعہ کس طرح اس کے ذہن میں یہ سوال پیدا کرتاہے، اس موقع پر اس کی تھوڑی سی تفصیل مناسب ہوگی۔
ماہرینِ حیاتیات کا خیال ہے کہ انسان اپنی موجودہ شکل میں تین لاکھ برس سے زمین پر موجود ہے۔ اس کے مقابلے میں کائنات کی عمر بہت زیادہ ہے، یعنی دو لاکھ ارب سال (200 ٹریلین سال)۔ اس سے پہلے کائنات برقی ذرات کے ایک غبار کی شکل میں تھی، پھر اس میں حرکت ہوئی، اور مادہ سمٹ سمٹ کر مختلف جگہوں میں جمع ہونا شروع ہوگیا۔ یہی وہ جمع شدہ مادہ ہے، جس کو ہم ستارے، سیارے ، اور نیبولا(nebula) کہتے ہیں۔ یہ مادی ٹکڑے گیس کے مہیب گولے کی شکل میں نامعلوم مدت تک فضا میں گردش کرتے رہے۔ تقریباً دو ارب سال پہلے ایساہوا کہ کائنات کاکوئی بڑا ستارہ فضا میں سفر کرتا ہوا آفتاب کے قریب آنکلا، جو اس وقت اب سے بہت بڑا تھا۔ جس طرح چاند کی کشش سے سمندر میں اونچی اونچی لہریں اٹھتی ہیں، اسی طرح اس دوسرے ستارے کی کشش سے ہمارے آفتاب پر ایک عظیم طوفان برپا ہوا، زبردست لہریں پیدا ہوئیں، جو رفتہ رفتہ نہایت بلند ہوئیں، اور قبل اس کے کہ وہ ستارہ آفتاب سے دور ہٹنا شروع ہو، اس کی قوتِ کشش اتنی زیادہ بڑھ گئی کہ آفتاب کی ان زبردست گیسی لہروں کے کچھ حصے ٹوٹ کر ایک جھٹکے کے ساتھ دور فضا میں نکل گئے۔ یہی بعد کو ٹھنڈے ہو کر نظام شمسی میں سورج کے گرد چکر لگانے والے اجسام (objects) بنے۔ اس وقت یہ سب ٹکڑے سورج کے گرد گھوم رہےہیں، اور ان ہی میں سے ایک ہماری زمین ہے۔
زمین ابتدا میں ایک شعلے کی حالت میں سورج کے گرد گھوم رہی تھی۔ مگر پھر فضا میں مسلسل حرارت خارج کرنے کی وجہ سے ٹھنڈی ہونا شروع ہوئی، یہ عمل کروروں برس ہوتا رہا یہاں تک کہ وہ بالکل سرد ہوگئی۔ مگر سورج کی گرمی اب بھی اس پر پڑ رہی تھی، جس کی وجہ سے بخارات اٹھنا شروع ہوئے، اور گھٹاؤں کی شکل میں اس کی فضا کے اوپر چھاگئے۔ پھر یہ بادل برسنا شروع ہوئے اور ساری زمین پانی سے بھر گئی۔ زمین کا اوپری حصہ اگرچہ ٹھنڈا ہوگیا تھا، مگر اس کا اندرونی حصہ اب بھی گرم تھا، جس کا نتیجہ یہ ہواکہ زمین سکڑنے لگی۔ اس کی وجہ سے زمین کے اندر کی گرم گیسوں پر دباؤ پڑا، اور وہ باہر نکلنے کے لیے بے قرار ہوگئیں۔ تھوڑے تھوڑے عرصے کے بعد زمین پھٹنے لگی۔ جگہ جگہ بڑے بڑے شگاف پڑ گئے، اس طرح بحری طوفانوں، خوفناک زلزلوں اور آتش فشاں دھماکوں میں ہزاروں سال گزر گئے۔ ان ہی زلزلوں سے زمین کا کچھ حصہ اوپر ابھر آیا اور کچھ حصہ دب گیا۔ دبے ہوئے حصوں میں پانی بھر گیا اور وہ سمندر کہلائے، اور ابھرے ہوئے حصوں نے براعظم کی صورت اختیار کی۔ بعض اوقات یہ ابھار اس طرح واقع ہوا کہ بڑی بڑی اونچی باڑھیں سی بن گئیں، یہ دنیا کے پہلے پہاڑ تھے۔ماہرینِ ارضیات کا خیال ہے کہ ایک ارب 23 کرورسال ہوئے، جب پہلی بار زمین پر زندگی پیدا ہوئی۔ یہ چھوٹے چھوٹے کیڑے تھے، جو پانی کے کنارے وجود میں آئے۔ اس کے بعد مختلف قسم کے جانور پیدا ہوتے اور مرتے رہے۔ کئی ہزار سال تک زمین پر صرف جانور رہے۔ اس کے بعد سمندری پودے نمودار ہوئے اور خشکی پر بھی گھاس اُگنا شروع ہوئی۔ اس طرح لمبی مدت تک بے شمار واقعات ظہور میں آتے رہے، یہاں تک کہ انسانی زندگی کے لیے حالات سازگار ہوئے اور زمین پر انسان پیداہوا۔
اس نظریے کے مطابق، انسان کی ابتدا پچھلے تین لاکھ سال سے ہوئی ہے۔ یہ مدت بہت ہی کم ہے۔ وقت کے جو فاصلے کائنات نے طے کیے ہیں، ان کے مقابلے میں انسانی تاریخ پلک جھپکنے سے زیادہ حیثیت نہیں رکھتی۔پھر اگر انسانیت کی اکائی کو لیجیے تو معلوم ہوگا کہ ایک انسان کی عمر کا اوسط سو سال سے بھی کم ہے۔ ایک طرف اس واقعے کو سامنے رکھیے، اور پھر اس حقیقت پر غور کیجیے کہ کائنات میںانسان سے بہتر کوئی وجود معلوم نہیں کیا جا سکا ہے۔ زمین وآسمان کی اربوں اور کھربوں سال کی گردش کے بعد جو بہترین مخلوق اس کائنات کے اندر وجود میں آئی ہے وہ انسان ہے۔مگر یہ حیرت انگیز انسان جو ساری دنیا پر فوقیت رکھتا ہے، جو تمام موجودات میں سب سے افضل ہے ،اس کی زندگی چند سال سے زیادہ نہیں۔ ہمارا وجود جن مادی اجزاء سے مرکب ہے، ان کی عمر تو اربوں اور کھربوں سال ہو، اور وہ ہمارے مرنے کے بعد بھی باقی رہ جائیں۔ مگر ان مادی اجزاء کی یکجائی سے جو اعلی ترین وجود بنتا ہے، وہ صرف سو برس زندہ رہے۔ جو کائنات کا حاصل (finest product) ہے ،وہ کائنات سے بھی کم عمر رکھتا ہے۔ تاریخ کے طویل ترین دور میں بے شمار واقعات کیا صرف اس لیے جمع ہوئے تھے کہ ایک انسان کو چند دنوں کے لیے پیدا کرکے ختم کردیاجائے۔
زمین پر آج جتنے انسان پائے جاتے ہیں ،اگر ان میں کا ہر آدمی چھ فٹ لمبا، ڈھائی فٹ چوڑا اور ایک فٹ موٹا ہو تو اس پوری آبادی کو بہ آسانی ایک ایسے صندوق میں بند کیا جاسکتا ہے، جو طول وعرض اور بلندی میںایک میل ہو۔ بات کچھ عجیب سی معلوم ہوتی ہے، مگر حقیقت یہی ہے۔ پھر اگر اس صندوق کو کسی سمندر کے کنارے لے جاکر ایک ہلکا سا دھکا دے دیں تو یہ صندوق پانی کی گہرائی میں جاگرے گا۔ صدیاں گزر جائیں گی، انسان کی نسل اپنے کفن میں لپٹی ہوئی ہمیشہ کے لیے پڑی رہے گی، دنیا کے ذہن سے یہ بھی محو ہوجائےگا کہ یہاں کبھی انسان کی قسم کی کوئی نسل آباد تھی۔ سمندر کی سطح پر اسی طرح بدستور طوفان آتے رہیں گے، سورج اسی طرح چمکتا رہے گا، کرۂ ارض اپنے محور پر بدستور چکر کرتا رہے گا، کائنات کی لامحدود وسعتوں میں پھیلی ہوئی بے شمار دنیائیں اتنے بڑے حادثے کو ایک معمولی واقعہ سے زیادہ اہمیت نہ دیں گی۔ کئی صدیوں کے بعد ایک اونچا سا مٹی کا ڈھیر زبان حال سے بتائے گا کہ یہ انسانی نسل کی قبر ہے، جہاں وہ صدیوں پہلے ایک چھوٹے سے صندوق میں دفن کی گئی تھی۔
کیا انسان کی قیمت بس اسی قدر ہے، مادہ کو کوٹیے، پیٹیے، جلایئے، کچھ بھی کیجیے، وہ ختم نہیں ہوتا۔ وہ ہر حال میں اپنے وجود کو باقی رکھتا ہے۔ مگر انسان جو مادہ سے برتر مخلوق ہے، کیا اس کے لیے بقا نہیں۔ یہ زندگی جو ساری کائنات کا خلاصہ ہے، کیا وہ اتنی بے حقیقت ہے کہ اتنی آسانی سے اسے ختم کیا جاسکتاہے۔ کیا انسانی زندگی کا منتہا (culmination) بس یہی ہے کہ وہ کائنات میں اپنے ننھے سے وطن میں چند دنوں کے لیے پیدا ہو، اور پھر فنا ہو کر رہ جائے۔ تمام انسانی علم اور ہماری کامرانیوں کے سارے واقعات ہمارے ساتھ ہمیشہ کے لیے ختم ہوجائیں، اور کائنات اسی طرح باقی رہ جائے گویا انسانی نسل کی اس کے نزدیک کوئی حقیقت ہی نہیں تھی۔
اس سلسلے میں دوسری چیز جو صریح طورپر محسوس ہوتی ہے، وہ یہ کہ اگر زندگی بس اسی دنیا کی زندگی ہے تو یہ ایک ایسی زندگی ہے، جس میں ہماری امنگوں کی تکمیل نہیں ہوسکتی۔ ہر انسان لامحدود مدت تک زندہ رہنا چاہتا ہے، کسی کو بھی موت پسند نہیں، مگر اس دنیامیں ہر پیدا ہونے والا جانتا ہے کہ وہ ایسی زندگی سے محروم ہے۔ آدمی خوشی حاصل کرنا چاہتا ہے، ہر آدمی کی یہ خواہش ہے کہ وہ دکھ درد اور ہر قسم کی تکلیفوں سے محفوظ رہ کر زندگی گزارے۔ مگر حقیقی معنوں میں کیا کوئی شخص بھی ایسی زندگی حاصل کرسکتاہے۔ہر آدمی یہ چاہتا ہے کہ اس کو اپنے حوصلوں کی تکمیل کا آخری حد تک موقع ملے، وہ اپنی ساری تمناؤں کو عملی صورت میں دیکھنا چاہتا ہے۔ مگر اس محدود دنیا میں وہ ایسا نہیں کرسکتا۔ ہم جو کچھ چاہتےہیں، یہ کائنات اس کے لیے بالکل محدود معلوم ہوتی ہے، وہ ہر چند قدم کے بعد ہمارا راستہ روک کر کھڑی ہوجاتی ہے، کائنات صرف ایک حد تک ہمارا ساتھ دیتی ہے، اس کے بعد ہم کو مایوس اور ناکام لوٹا دیتی ہے۔
سوال یہ ہے کہ کیا انسان غلطی سے ایک ایسی کائنات میں بھٹک کر آگیا ہے، جو دراصل اس کے لیے نہیں بنائی گئی تھی، اور جو بظاہر زندگی اور اس کے متعلقات سے بالکل بے پروا ہے۔ کیا ہمارے تمام جذبات وخیالات اور ہماری تمام خواہشیں غیر حقیقی ہیں، جن کا واقعی دنیا سے کوئی تعلق نہیں۔ ہمارے تمام بہترین تخیلات کائنات کے راستے سے ہٹے ہوئے ہیں، اور ہمارے ذہنوں میں بالکل الل ٹپ طریقے سے پیدا ہوگئے ہیں۔ وہ تمام احساسات جن کو لے کر انسانی نسل پچھلے ہزاروں سال سے پیدا ہورہی ہے، اور جن کو اپنے سینے میں لیے ہوئے وہ اس حال میں دفن ہوجاتی ہے کہ وہ انھیں حاصل نہ کرسکی، کیا ان احساسات کی کوئی منزل نہیں۔ کیا وہ انسانوں کے ذہن میں بس یونہی پیدا ہورہے ہیں، جن کے لیے نہ تو ماضی میں کوئی بنیاد موجود ہے، اور نہ مستقبل میں ان کا کوئی مقام ہے۔
ساری کائنات میں صرف انسان ایسا وجود ہے جو کل (tomorrow) کا تصور رکھتا ہے۔ یہ صرف انسان کی خصوصیت ہے کہ وہ مستقبل کے بارے میں سوچتا ہے اور اپنے آئندہ حالات کو بہتر بنانا چاہتا ہے۔ اس میں شک نہیں کہ بعض جانور مثلاً چیونٹیاں خوراک جمع کرتی ہیں، یا بیا (Baya) گھونسلے بناتا ہے۔ مگران کا یہ عمل غیر شعوری طورپر محض عادتاً ہوتاہے۔ان کی عقل اس کا فیصلہ نہیں کرتی کہ انھیں خوراک جمع کرکے رکھنا چاہیے تاکہ کل ان کے کام آسکےیا ایسا گھر بنانا چاہیے ،جو موسموں کے ردو بدل میں تکلیف سے بچائے۔ انسان اور دوسری مخلوقات کا یہ فرق ظاہر کرتا ہے کہ انسان کو تمام دوسری چیزوں سے زیادہ موقع ملنا چاہیے، جانوروں کے لیے زندگی صرف آج کی زندگی ہے، وہ زندگی کا کوئی کَل نہیں رکھتے، کیا اسی طرح انسانی زندگی کا بھی کوئی کل نہیں ہے۔ایسا ہونا فطرت کے خلاف ہے۔ کَل کا تصور جوانسان میں پایا جاتاہے، اس کا صریح تقاضا ہے کہ انسان کی زندگی اس سے کہیں زیادہ بڑی ہو جتنی آج اسے حاصل ہے۔ انسان ’’کل‘‘ چاہتا ہے مگر اس کو صرف ’’آج‘‘ دیا گیاہے۔
اسی طرح جب ہم سماجی زندگی کا مطالعہ کرتےہیں تو ہم کو ایک خلا(vacuum)کا زبردست احساس ہوتا ہے۔ ایک طرف مادی دنیا ہے، جو اپنی جگہ پر بالکل مکمل نظر آتی ہے۔ وہ ایک متعین قانون میں جکڑی ہوئی ہے، اوراس کی ہر چیز اپنے مقرر راستے پر چلی جارہی ہے۔ دوسرے لفظوں میں مادی دنیا ویسی ہی ہے، جیسی کہ اسےہونا چاہیے مگر انسانی دنیا کا حال اس سے مختلف ہے۔ یہاں صورتِ حال اس کے برعکس ہے جیسا کہ اسے ہونا چاہیے تھا۔
ہم صریحی طورپر دیکھتے ہیں کہ ایک انسان دوسرے انسان پر ظلم کرتاہے،اور دونوں اس حال میں مرجاتے ہیں کہ ایک ظالم ہوتا ہے، اور دوسرا مظلوم۔ کیا ظالم کو اس کے ظلم کی سزا اور مظلوم کو اس کی مظلومیت کا بدلہ دیے بغیر دونوں کی زندگی کو مکمل کہا جاسکتاہے۔ایک شخص سچ بولتا ہے اور حق داروں کو ان کے حقوق ادا کرتاہے، جس کے نتیجے میں اس کی زندگی مشکل کی زندگی بن جاتی ہے، دوسرا شخص جھوٹ اور فریب سے کام لیتا ہے، اور لوگوں کو اکسپلائٹ کرتاہے۔اس کے نتیجے میں اس کی زندگی نہایت عیش وعشرت کی زندگی بن جاتی ہے۔ اگر یہ دنیااسی حال میں ختم ہوجائے تو کیا دونوں انسانوں کے اس مختلف انجام کی کوئی توجیہہ کی جاسکتی ہے۔ ایک قوم دوسری قوم پر ڈاکہ ڈالتی ہے، اور اس کے وسائل وذرائع پر قبضہ کرلیتی ہے۔ اس کے باوجود دنیامیں وہی قوم نیک نام رہتی ہے۔ کیوں کہ اس کے پاس نشر واشاعت کے ذرائع ہیں،اور دبی ہوئی قوم کی حالت سے دنیا نا واقف رہتی ہے۔ کیوں کہ اس کی آہ کےلیے دنیا کے کانوں تک پہنچنے کا کوئی ذریعہ نہیں، کیا ان دونوں کی صحیح حیثیت کبھی ظاہر نہیں ہوگی۔
دو اشخاص یا دو قوموں میں ایک مسئلے پر اختلاف ہوتا ہے، اور زبردست کش مکش تک نوبت پہنچ جاتی ہے۔ دونوں اپنے آپ کو برسرحق کہتےہیں،اور ایک دوسرے کو انتہائی بُرا ثابت کرتے ہیں۔ مگر دنیا میں ان کے مقدمے کا فیصلہ نہیںہوتا، کیا ایسی کوئی عدالت نہیں ہے، جو ان کے درمیان ٹھیک ٹھیک فیصلہ کرسکے۔موجودہ دور کو ایٹمی دور کہاجاتاہے۔ لیکن اگر اس کو خود سری کا دور کہاجائے تو زیادہ صحیح ہوگا۔ آج کا انسان صرف اپنی رائے اور خواہش پر چلنا چاہتا ہے، خواہ اس کی رائے اور خواہش کتنی ہی غلط کیوں نہ ہو۔ ہر شخص غلط کار ہے،مگر ہر شخص پوری قوت کے ساتھ آوازلگا کر اپنے کو صحیح ثابت کررہا ہے۔ اخبارات میں لیڈروں اور حکمرانوں کے بیانات دیکھیے۔ ہر ایک انتہائی جسارت کے ساتھ اپنے ظلم کو عین انصاف اور اپنی غلط کاریوں کو عین حق ثابت کرتاہوا نظر آئے گا۔ کیا اس فریب کا پردہ کبھی چاک ہونے والا نہیں ہے۔
یہ صورتِ حال واضح طورپر ظاہر کررہی ہے کہ یہ دنیا نامکمل ہے۔ اس کی تکمیل کے لیے ایک ایسی دنیا چاہیے، جہاں ہر ایک کو اس کا صحیح مقام مل سکے۔مادی دنیا میں ہم دیکھتے ہیں کہ جہاں کوئی خلا ہے ،اس کو پُر کرنے کے اسباب موجود ہیں۔ مادی دنیا میں کہیں کوئی کمی نظر نہیں آتی ۔ اس کے برعکس، انسانی دنیا میں ایک زبردست خلا ہے۔ جس قدرت نے مادّی دنیا کو مکمل حالت میں ترقی دی ہے، کیا اس کے پاس انسانی دنیا کا خلا پر کرنے کا کوئی سامان نہیں ۔ ہمارا احساس بعض افعال کو اچھا اور بعض کو بُرا سمجھتاہے۔ہم کچھ باتوں کے متعلق چاہتے ہیں کہ اس کو ہونا چاہیے، اور کچھ باتوں کے متعلق چاہتےہیں کہ اس کو نہیں ہونا چاہیے۔ مگر ہماری فطری خواہش کے علی الرّغم وہ سب کچھ یہاں ہورہا ہے، جس کو انسانی فطرت برا سمجھتی ہے۔ انسان کے اندر اس طرح کے احساس کی موجودگی یہ معنی رکھتی ہے کہ کائنات کی تعمیر حق پر ہوئی ہے۔ یہاں باطل کے بجائے حق کو غالب آنا چاہیے۔ پھر کیا حق ظاہر نہیںہوگا۔ جو چیز مادی دنیا میں پوری ہورہی ہے، کیا وہ انسانی دنیا میں پوری نہیں ہوگی۔
یہی وہ سوالات ہیں، جن کے مجموعے کو میں نے اوپرانسانیت کے ’’ انجام کی تلاش‘‘ کہا ہے۔ ایک شخص جب ان حالات کو دیکھتاہے تو وہ سخت بے چینی میں مبتلا ہوجاتاہے۔ اس کے اندر نہایت شدت سے یہ احساس ابھرتا ہے کہ زندگی اگر یہی ہے، جو اس وقت نظر آرہی ہے تو یہ کس قدر لغو زندگی ہے۔ وہ ایک طرف دیکھتا ہے کہ انسانی زندگی کے لیے کائنات میں اس قدر اہتمام کیا گیا ہے۔ گویا سب کچھ صرف اسی کے لیےہے، دوسری طرف انسان کی زندگی اس قدر مختصر اور اتنی ناکام ہے کہ سمجھ میں نہیں آتا کہ اس کو کس لیے پیدا کیا گیا ہے۔ اس سوال کے سلسلے میں آج لوگوں کا رجحان عام طور پر یہ ہے کہ اس قسم کے جھنجھٹ میں پڑنا فضول ہے۔ یہ سب فلسفیانہ سوالات ہیں، اور حقیقت پسندی یہ ہے کہ زندگی کا جو لمحہ تمھیں حاصل ہے اس کو پرمسرت بنانے کی کوشش کرو۔ آئندہ کیا ہوگا یا جو کچھ ہو رہا ہے، وہ صحیح ہے یا غلط، اس کی فکر میں پڑنے کی ضرورت نہیں۔
اس جواب کے بارے میں کم از کم بات جو کہی جاسکتی ہے، وہ یہ کہ جو لوگ اس انداز میں سوچتے ہیں، انھوں نے ابھی انسانیت کے مقام کو نہیں پہچانا، وہ مجاز (illusion)کو حقیقت سمجھ لینا چاہتے ہیں۔ واقعات انھیں ابدی زندگی کا راز معلوم کرنے کی دعوت دے رہے ہیں۔ مگر وہ چند روزہ زندگی پر قانع ہوگئے ہیں۔ انسانی نفسیات کا تقاضا ہے کہ اپنی امنگوں اور حوصلوں کی تکمیل کے لیے ایک وسیع تر دنیا کی تلاش کرے، مگر نادان انسان روشنی کے بجائے اس کے سایے (shadow) کو کافی سمجھ رہے ہیں۔ کائنات پکار رہی ہے کہ یہ دنیا تمہارے لیے نامکمل ہے، دوسری مکمل دنیا کی کھوج لگاؤ۔ مگر ہمارا فیصلہ ہے کہ ہم اسی نامکمل دنیا میںاپنی زندگی کی عمارت تعمیر کریں گے، ہم کو مکمل دنیا کی ضرورت نہیں۔ حالات کا صریح اشارہ ہے کہ زندگی کا ایک انجام آنا چاہیے۔ مگر یہ لوگ صرف آغاز کو لے کر بیٹھ گئے ہیں، اور انجام کی طرف سے آنکھیں بند کرلی ہیں۔ حالاں کہ یہ اسی قسم کی ایک حماقت ہے، جو شتر مرغ کے متعلق مشہور ہے۔ اگر فی الواقع زندگی کا کوئی انجام ہے تو وہ آکر رہے گا، اور کسی کا اس سے غافل ہونا، اس کو روکنے کا سبب نہیں بن سکتا۔ البتہ ایسے لوگوں کے حق میں وہ ناکامی کا فیصلہ ضرور کرسکتا ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ موجودہ زندگی کو کُل زندگی سمجھنا، اور صرف آج کو پر مسرت بنانے کی کوشش کو اپنا مقصد بنا لینا بڑی کم ہمتی اور بے عقلی کی بات ہے۔ آدمی اگر اپنی زندگی اور کائنات پر تھوڑا سا بھی غور کرے تو اس نقطۂ نظر کی لغویت فوراً واضح ہو جاتی ہے۔ ایسا فیصلہ وہی کرسکتا ہے، جو حقیقتوں کی طرف سے آنکھ بند کرلے اور بالکل بے سمجھی بوجھی زندگی گزارنا شروع کردے۔
یہ ہیں وہ چند سوالات جو کائنات کو دیکھتے ہی نہایت شدت کے ساتھ ہمارے ذہن میں ابھرتے ہیں۔ اس کائنات کا ایک خالق ہونا چاہیے، مگر اس کے متعلق ہمیں کچھ نہیں معلوم۔ اس کا ایک چلانے والا اوراس کو سنبھالنے والا ہونا چاہیے، مگر ہم نہیں جانتے کہ وہ کون ہے۔ ہم کسی کے احسانات سے ڈھکے ہوئے ہیں، اور مجسم شکر وسپاس بن کر اس ہستی کو ڈھونڈھنا چاہتے ہیں،جس کے آگے اپنی عقیدت کے جذبات کو نثار کرسکیں۔ مگر ایسا کوئی وجود ہمیں نظر نہیں آتا۔ ہم اس کائنات کےاندر انتہائی عجز اور بے بسی کے عالم میں ہیں۔ ہم کو ایک ایسی پناہ کی تلاش ہے، جہاں پہنچ کر ہم اپنے آپ کو محفوظ تصور کرسکیں۔ مگر ایسی کوئی پناہ ہماری آنکھوں کے سامنے موجود نہیں ہے۔ پھر جب ہم اپنی زندگی اور اپنی عمر کو دیکھتے ہیں تو کائنات کا یہ تضاد ہم کو ناقابل فہم معلوم ہوتاہے کہ کائنات کی عمر تو کھربوں سال ہو، اور انسان جو کائنات کا خلاصہ (finest product)ہے، اس کی عمر صرف چند سال۔ فطرت ہم کو بےشمار امنگوں اور حوصلوں سے معمور کرے، مگر دنیا کے اندر اس کی تسکین کا سامان فراہم نہ کرے۔پھر سب سے زیادہ سنگین تضاد وہ ہے، جو مادی دنیا اور انسانی دنیامیں پایا جاتاہے۔ مادی دنیا انتہائی طورپر مکمل ہے۔ اس میں کہیں خلا نظر نہیں آتا، مگر انسانی زندگی میں زبردست خلا ہے۔ انسان کی حالت ساری مخلوق سے بدتر نظر آتی ہے۔ ہماری بد قسمتی کی انتہا یہ ہے کہ اگر پٹرول کاکوئی نیا چشمہ دریافت ہو یا بھیڑ بکریوں کی نسل بڑھے تو اس سے انسان خوش ہوتا ہے۔ مگر ایک انسان دوسرے انسان کوبرداشت کرنے کے لیے تیار نہیں۔
انسان کی نارسائی
یہ سوالات ہم کوچاروں طرف سے گھیرے ہوئے ہیں۔ وہ اندر سے بھی ابل رہے ہیں ،اور باہر سے بھی ہمیں گھیرے ہوئے ہیں، مگر ہمیں نہیں معلوم کہ ان کا جواب کیا ہے۔ یہ زندگی کی حقیقت معلوم کرنے کا سوال ہے، مگر کس قدر عجیب بات ہے کہ ہمیں زندگی تو مل گئی، مگر اس کی حقیقت ہمیں نہیں بتائی گئی ہے۔
اس حقیقت کی دریافت کے لیے جب ہم اپنی عقل اوراپنے تجربات کی طرف دیکھتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ اس کا صحیح اور قطعی جواب معلوم کرنا ہماری عقل اور ہمارے تجربے کے دائرے سے باہر ہے۔ اس سلسلے میں اب تک ہم نے جو رائیں قائم کی ہیں وہ اٹکل سے زیادہ حقیقت نہیں رکھتیں۔ جس طرح ہماری نظر کا دائرہ محدود ہے، اور ہم ایک مخصوص جسامت سے چھوٹی چیز کا مشاہدہ نہیں کرسکتے، اور ایک مخصوص فاصلے سے آگے کے اجسام کو نہیں دیکھ سکتے۔ اسی طرح کائنات کے متعلق ہمارا علم بھی ایک تنگ دائرے میں محدود ہے، جس کے آگے یا پیچھے کی ہمیں کوئی خبر نہیں۔ ہمارا علم نامکمل ہے، ہمارے حواس خمسہ(five senses) ناقص ہیں۔ ہم حقیقت کو نہیں دیکھ سکتے۔ میدہ اور کالک کو اگر ملایا جائے تو بھورے خاکستری رنگ کا ایک سفوف سا بن جاتا ہے، لیکن اس سفوف کا باریک کیڑا جو سفوف کے ذروں ہی کے برابر ہوتاہے، اور صرف خوردبین کی مدد سے دیکھا جاسکتا ہے، وہ اس کو کچھ سیاہ اور کچھ سفید رنگ کی چٹان سمجھتا ہے، اس کے مشاہدے کے پیمانے میں خاکستری سفوف کوئی چیز نہیں۔
نوعِ انسانی کی زندگی اُس مدت کے مقابلے میں جب کہ یہ کرۂ ارض وجود میں آیا، اس قدر مختصر ہے کہ کسی شمار میں نہیں آتی، اور خود کرۂ ارض کائنات کے اتھاہ خلامیں ایک ذرے کے برابر بھی نہیں۔ ایسی صورت میں انسان کائنات کی حقیقت کے بارے میں جو خیال آرائی کرتاہے، اس کو اندھیرے میں ٹٹولنے سے زیادہ اور کچھ نہیں کہا جاسکتا ۔ ہماری انتہائی لاعلمی فوراً ظاہر ہوجاتی ہے، جب ہم کائنات کی وسعت کا تصور کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔
اگر آپ اس بات کو سامنے رکھیں کہ سورج، سائنس داں کے اندازے کے مطابق، 4.603 بلین سال سے موجود ہے۔ اس زمین کی عمر جس پر ہم بستے ہیں، سائنس داں کے اندازے کے مطابق، 4.543 بلین سال ہے، اور زمین پر زندگی کے آثار نمایاں ہوئے تین کرور سال گزر چکے ہیں۔ مگر اس کے مقابلے میں زمین پر ذی عقل انسان کی تاریخ چند ہزار سال سے زیادہ نہیں تو یہ حقیقت عیاں ہوجاتی ہے کہ چند ہزار سال کا زمانہ جس میں انسان نے اپنی معلومات فراہم کی ہیں، اس طویل زمانے کا ایک بہت حقیر (tiny)جزء ہے، جو کہ دراصل کائنات کے اسرار کو معلوم کرنے کے لیے درکار ہے۔ کائنات کے بے حدطویل ماضی اور نا معلوم مستقبل کے درمیان انسانی زندگی محض ایک لمحے کی حیثیت رکھتی ہے۔ ہمارا وجود ایک نہایت حقیر قسم کا درمیانی وجود ہے، جس کے آگے اور پیچھے کی ہمیں کوئی خبر نہیں۔ ہماری عقل کوعاجزی کے ساتھ اعتراف کرنا پڑتا ہے کہ اس کائنات کی وسعت لامحدود ہے، اور اس کو سمجھنے کے لیے ہماری عقل اور ہمارے تجربے بالکل ناکافی ہیں۔ ہم اپنی محدود صلاحیتوں کے ذریعے کبھی بھی اس کو سمجھ نہیں سکتے۔ اب تک کی کوششوں کی ناکامی اس کو ثابت کرنے کے لیے بالکل کافی ہے۔
اس طرح ہمارا علم اور ہمارا مطالعہ ہم کو ایک ایسے مقام پر لاکر چھوڑ دیتےہیں، جہاں ہمارے سامنے بہت سے سوالات ہیں۔ ایسے سوالات جو لازمی طور پر اپنا جواب چاہتےہیں۔ جن کے بغیر انسانی زندگی بالکل لغو اور بے کار نظر آتی ہے۔ مگر جب ہم ان پر سوچنے بیٹھتے ہیں تو ہم کو معلوم ہوتا ہے کہ ہم اپنے ذہن سے ان کا جواب معلوم نہیں کرسکتے۔ ہم کو وہ آنکھ ہی نہیں ملی جس سے حقیقت کا مشاہدہ کیا جاسکے۔ اور وہ ذہن ہمیں حاصل نہیں ہے، جو براہِ راست حقیقت کا ادراک کرسکے۔
[یہ مضمون’’ حقیقت کی تلاش ‘‘کے نام سے شائع ہوچکا ہے، افادیت کے پیش نظر جزئی ترمیم کے بعد دوبارہ شائع کیا جارہاہے]
واپس اوپر جائیں