Pages

Saturday, 1 June 2019

Al Risala | June 2019 (الرسالہ،جون)

4

-قرآن کا مہینہ

6

- پوسٹ رمضان پلاننگ

7

- مجتہدانہ اسلوبِ دعوت

12

- دعوت کے تجربات

13

- جہاد کبیر

13

- نیا رجحان

15

- آفاقی سوچ

15

- فتویٰ یا دعوت

16

- تالیف قلب

17

- عسر میں یُسر

18

- دعوتی ماحول

18

- خیرخواہانہ دعوت

20

- جنت کی ضرورت

21

- مدعو انتظار میں

21

- خدا کا مستند پیغام

22

- سماجی میل جول

23

- تالیف قلب کی ایک مثال

23

- دعوتی تڑپ

24

- دعوت کیا ہے

25

- قول بلیغ

25

- فکری مستوی کے مطابق کام

25

- مذہب کی ضرورت

26

- دعوتی تیاری

28

- اکرامِ مسلم،اکرامِ انسانیت

29

- جدید دنیا میں دعوتی امکانات

29

- دعوت سے غفلت

30

- خواص میں دعوت

32

- خواص انتظار میں

33

- ایک دعوتی گفتگو

34

- دعوت کا ماحول

34

- مستقبل کو دیکھنا

35

- معاندانہ انداز، نارمل انداز

35

- بالواسطہ دعوت

36

- پیغمبر کا مشن

37

- انسانیت پنا، امت پنا

38

- دعوت کاایک عملی نمونہ

40

- جنت کا تعارف

41

- نفرت کی نفسیات

42

- سیاحت: دعوتی سفر

43

- مومن ایک با اصول انسان

44

- سوال وجواب


قرآن کا مہینہ

قرآن کی سورہ البقرۃ میں بتایا گیا ہے کہ قرآن رمضان کے مہینہ میں اترا۔ قرآن کے الفاظ یہ ہیں شَہْرُ رَمَضَانَ الَّذِی أُنْزِلَ فِیہِ الْقُرْآنُ ہُدًى لِلنَّاسِ وَبَیِّنَاتٍ مِنَ الْہُدَى وَالْفُرْقَانِ (2:185)۔ یعنی رمضان کا مہینہ جس میں قرآن اتارا گیا، ہدایت ہے لوگوں کے لاور کھلی نشانیاں راستہ کی اور حق اور باطل کے درمیان فیصلہ کرنے والا۔توسیعی مفہوم کے اعتبار سے اس آیت کا مطلب یہ ہے کہ رمضان کے مہینہ میں اہلِ ایمان کو سب سے زیادہ قرآن کا مطالعہ کرنا چاہیے۔
مطالعہ ٔ قرآن کے مقصد کو قرآن میں اس طرح بتایا گیا ہے: کِتَابٌ أَنْزَلْنَاہُ إِلَیْکَ مُبَارَکٌ لِیَدَّبَّرُوا آیَاتِہِ وَلِیَتَذَکَّرَ أُولُو الْأَلْبَابِ (38:29)۔یعنی یہ ایک بابرکت کتاب ہے جو ہم نے تمھاری طرف اتاری ہے، تاکہ لوگ اس کی آیتوں پر غور کریں اور تاکہ عقل والے اس سے نصیحت حاصل کریں۔ قرآن میں تدبر سے مراد قرآن پر عقلی غور و فکر ہے۔ اور عقلی غور و فکر کا مقصد یہ ہے کہ قرآن میں ذاتی نصیحت کے پہلوؤں کو دریافت کیا جائے۔ دوسرے الفاظ میں تدبر قرآن کا خاص مقصد ہے۔ قرآن کو ذاتی انطباق (self-application) کی نسبت سے دریافت کرنا۔
مثال کے طور پر آپ قرآن کا مطالعہ کرتے ہوئےقرآن کی اس آیت تک پہنچتے ہیں : إِلَّا تَنْصُرُوہُ فَقَدْ نَصَرَہُ اللَّہُ إِذْ أَخْرَجَہُ الَّذِینَ کَفَرُوا ثَانِیَ اثْنَیْنِ إِذْ ہُمَا فِی الْغَارِ إِذْ یَقُولُ لِصَاحِبِہِ لَا تَحْزَنْ إِنَّ اللَّہَ مَعَنَا (9:40) ۔ یعنی اگر تم رسول کی مدد نہ کرو گے تو اللہ خود اس کی مدد کرچکا ہے جب کہ منکروں نے اس کو نکال دیا تھا، وہ صرف دو میں کا دوسرا تھا۔ جب وہ دونوں غار میں تھے۔ جب وہ اپنے ساتھی سے کہہ رہا تھا کہ غم نہ کرو، اللہ ہمارے ساتھ ہے۔
قرآن کی اس آیت میں اس واقعہ کا ذکر ہے جو کہ ہجرت کے وقت پیغمبر اسلام صلى اللہ علیہ وسلم کے ساتھ پیش آیا۔ اس واقعے کو اپنے ذہن میں رکھ کر جب آپ اس آیت پر غور کریں گے تو آپ سوچیں گے کہ اللہ کی رحمت ہر چیز تک وسیع ہے (وَرَحْمَتِی وَسِعَتْ کُلَّ شَیْءٍ) الاعراف،7:156۔ اس لیے ضروری ہے کہ اللہ کی جو رحمت ہجرت کے زمانے میں غار ثور کی تنہائی میں پیش آئی، ضروری ہے کہ وہ پیغمبر کے ساتھیوں کے لیے بھی مقدر ہو۔
آپ اگر اپنے ذہن کی تربیت اس انداز سے کریں تو ایسا ہو سکتا ہے کہ اللہ کے راستے میں چلتے ہوئے کبھی آپ پر یہ وقت گزرے کہ جہاں آپ ہوں اور آپ کا ایک ساتھی ہو، اور پھر آپ کو یہ یاد آئے کہ اہلِ ایمان کے لیے قرآن میں یہ بشارت دی گئی ہے کہ ان کے اوپر اللہ کے فرشتے اترتے ہیں۔ اور ان سے کہتے ہیں کہ ہم تمھارے مددگار ہیں۔ قرآن کے الفاظ یہ ہیںإِنَّ الَّذِینَ قَالُوا رَبُّنَا اللَّہُ ثُمَّ اسْتَقَامُوا تَتَنَزَّلُ عَلَیْہِمُ الْمَلَائِکَةُ أَلَّا تَخَافُوا وَلَا تَحْزَنُوا وَأَبْشِرُوا بِالْجَنَّةِ الَّتِی کُنْتُمْ تُوعَدُونَ ، نَحْنُ أَوْلِیَاؤُکُمْ فِی الْحَیَاةِ الدُّنْیَا وَفِی الْآخِرَةِ(41:30-31)۔یعنی جن لوگوں نے کہا کہ اللہ ہمارا رب ہے، پھر وہ ثابت قدم رہے، یقیناً ان پر فرشتے اترتے ہیں اور ان سے کہتے ہیں کہ تم نہ اندیشہ کرو اور نہ رنج کرو اور اس جنت کی بشارت سے خوش ہوجاؤ جس کا تم سے وعدہ کیا گیا ہے، ہم دنیا کی زندگی میں تمہارے ساتھی ہیں اور آخرت میں بھی۔
ان باتوں کو سوچتے ہوئے عین ممکن ہے کہ آپ اپنے ساتھی سے کہہ اٹھیں کہ اندیشہ مت کرو اللہ ہمارے ساتھ ہے۔اور وہ واقعہ یاد کریں جو کہ غار ثور میں پیش آیا تھا۔غار ثور کا یہ واقعہ حدیث اور سیرت کی کتابوں میں بیان ہواہے۔اس موقع پر رسول اللہ نے جو کہا، وہ یہ تھا:یَا أَبَا بَکْرٍ مَا ظَنُّکَ بِاثْنَیْنِ اللہُ ثَالِثُہُمَا(صحیح مسلم، حدیث نمبر2381) َ۔یعنی اے ابوبکر، تمھارا اُن دو کے بارے میں کیا خیال ہے جن کا تیسرا اللہ ہو۔عین ممکن ہے کہ ایسے موقعہ پر آپ پر سکینہ نازل ہو اور اپنے ساتھی سے آپ یہ کہہ اٹھیں: یا صاحبی ،مَا ظَنُّکَ بِاثْنَیْنِ اللَّہُ ثَالِثُہُمَا۔ یعنی اے میرے ساتھی، تمھارا ان دو کے بارے میں کیا خیال ہے، فرشتہ جن کا تیسرا ہے۔
õõõõõ
علم کا آغاز معرفت ہے۔ معرفت کے بغیر علم ایک فن ہے۔ معرفت کے بعد علم وزڈم بن جاتا ہے۔ علم کے لیے معرفت کی اہمیت وہی ہے، جو اہمیت سائنس میں میتھمیٹکس کی ہے۔
واپس اوپر جائیں

پوسٹ رمضان پلاننگ

رمضان کا بہت زیادہ تعلق قرآن سے ہے— قرآن رمضان کے مہینہ میں اتارا گیا، رمضان کے مہینے میں روزہ کے علاوہ سب سے زیادہ زور قرآن کے مطالعے پر دیا گیا ہے، اعتکاف کا خاص مقصد یہی ہے کہ یکسو ہو کر قرآن کو پڑھا جائے، تراویح کا مقصد یہ ہے کہ اس مہینہ میں پورا قرآن آدمی کی نظر سے گزرجائے۔ تراویح گویا رمضان کے مہینہ میں قرآن کا اجتماعی مطالعہ ہے۔ رمضان کو اگر شہر القرآن (قرآن کا مہینہ) کہا جائے تو یہ درست ہوگا۔
اس کا مقصد کیا ہے۔ اس کا اصل مقصد یہ ہے کہ اہل ایمان رمضان کے مہینہ میں کامل یکسوئی کے ساتھ قرآن پڑھیں۔ اس کی آیتوں پر غور وفکر کریں۔ وہ یہ دریافت کریں کہ قرآن اس سے کس عمل کا تقاضا کرتا ہے۔
اس اعتبار سے اہلِ ایمان اگر قرآن کا گہرا مطالعہ کریں تو قرآن کی ایک آیت ان کے لیےبہت زیادہ توجہ کا سبب بن جائے گی۔ وہ آیت یہ ہے:تَبَارَکَ الَّذِی نَزَّلَ الْفُرْقَانَ عَلَى عَبْدِہِ لِیَکُونَ لِلْعَالَمِینَ نَذِیرًا (25:1)۔یعنی بڑی بابرکت ہے وہ ذات جس نے اپنے بندے پر فرقان اتارا تاکہ وہ جہان والوں کے لیے ڈرانے والا ہو۔ اس آیت پر غور کیجیے تو معلوم ہوگا کہ قرآن کے نزول کا مقصد شارع کے منصوبہ کے مطابق یہ تھا کہ قرآن دنیا کی تمام قوموں تک پہنچے۔
قرآن کی اس عمومی اشاعت کا کام کون کرے گا، اور کون قرآن کو ہر دور میں نسل درنسل انسانوں تک پہنچائے گا۔ یہ وہی لوگ ہیں جو یہ یقین رکھتے ہیں کہ قرآن اللہ کی کتاب ہے،یعنی اہل ایمان یا امتِ مسلمہ۔اہل ایمان پر فرض ہے کہ وہ ہر دور کے انسانوں تک قرآن کوپوری ذمہ داری کے ساتھ پہنچائیں۔ یہ کام لوگوںکی اپنی قابلِ فہم زبان میں کرنا ہوگا۔ اس کے بغیر لوگوں تک قرآن کو پہنچانے کی ذمہ داری ادا نہیں ہوسکتی۔موجودہ زمانے میں جدید کمیو نی کیشن نے اس کام کو پوری طرح قابلِ عمل بنا دیا ہے۔یہی اہلِ ایمان کی پوسٹ رمضان پلاننگ ہے۔
واپس اوپر جائیں

مجتہدانہ اسلوبِ دعوت

17مئی 2003 کو دہلی میں ایس آئی او (SIO) کے دفتر میں میرا ایک پروگرام تھا۔ یہاں مجھے اسلام پسند نوجوانوں سے گفتگو کا موقع ملا۔ ایک نوجوان مسٹر شمشاد احمد نے سوال کیا کہ آج کے تعلیم یافتہ طبقہ کو کس طرح موثر انداز میں اسلام کا پیغام پہنچایا جائے۔ یہی سوال زیادہ تر گفتگو کا موضوع رہا۔ میںنے کہا کہ عام طور پر یہ محسوس کیا جارہا ہے کہ اسلام آج کی دنیا میں کمتر ذہنی سطح کے لوگوں کی دلچسپی کا موضوع بن کر رہ گیا ہے، اعلیٰ ذہنی سطح کے لوگ اسلام کی طرف متوجہ نہیں ہوتے۔ اس کا سبب مدعو کے اندر نہیں بلکہ داعی کے اندر ہے۔
دعوت کے نام پر موجودہ زمانہ میں بہت سی سرگرمیاں جاری ہیں۔ مگر یہ سرگرمیاں وقت کے اعلیٰ فکر ی مستویٰ(intellectual level) کے مطابق نہیں۔ ان دعوتی سرگرمیوں میں کوئی فضائل کی کہانیاں سنا رہا ہے۔ کوئی فخر پسندی کی غذا دے رہا ہے۔ کوئی اسلام کو سیاسی غلبہ کا موضوع بنائے ہوئے ہے۔ کوئی ملی مسائل پرتقریر کرنے کو دعوت سمجھے ہوئے ہے۔ کوئی کمیونٹی ورک میںمشغول ہے اور اس کو دعوہ ورک کا نام دیے ہوئے ہے۔ اس قسم کا انداز اعلیٰ ذہنی سطح کے لوگوں کو اپیل نہیں کرسکتا اس لیے وہ اس کی طرف متوجہ بھی نہیں ہوتے۔
قرآن میںدعوتی کلام کا معیار یہ بتایا گیا ہے کہ وہ قُلْ لَہُمْ فِی أَنْفُسِہِمْ قَوْلًا بَلِیغًا (4:63)کا مصداق ہو، یعنی ان سے ایسی بات کہو جو ان کے دلوں میں اتر جائے۔ اس کا مطلب دوسرے الفاظ میں یہ ہے کہ وہ مخاطب کے ذہن کو ایڈریس کرے۔ موجودہ زمانہ کے داعیوں کا کلام جدید انسان کے ذہن کو ایڈریس نہیں کرتا۔ اس لیے اسلام ان کے لیے قابل غور چیز بھی نہیں بنتا۔ آج دنیا میں ہر جگہ لوگ اسلام قبول کررہے ہیں مگر یہ زیادہ تر متوسط طبقہ کے لوگ ہیں۔ بہت کم ایسے افراد ہوں گے، جو مثبت معنوں میںذہنی انقلاب کے بعد اسلام میں داخل ہوئے ہوں۔ جدید تاریخ میں ایسے قلیل افراد کی ایک مثال مجھے ڈاکٹر نشی کانت چٹوپادھیائے میں ملتی ہے۔ وہ ایک سچے متلاشی ٔ حق تھے۔انہوں نے اپنے گہرے ذاتی مطالعہ سے اسلام کو سمجھا اور اس کو قبول کیا۔ ان کا واقعہ میں نے اپنی کتاب (Islam Rediscovered) میں نقل کیا ہے۔
پچھلی صدیوں میں اور موجودہ زمانہ میں بڑی تعداد میں لوگ اسلام کے دائرہ میں داخل ہوئے۔ مگر یہ لوگ اسلام کی جدید تاریخ بنانے کا باعث نہ ہوسکے۔ مسلمانوں کی جدید نسلوں کا سفر بدستور زوال کی طرف جاری رہا۔ اس کا بنیادی سبب یہ ہے کہ یہ تمام نو مسلم ردِّ عمل کی نفسیات کے تحت اسلام میں داخل ہوئے۔مثال کے طورپر ڈاکٹر بی آر امبیڈکر اعلیٰ ذہنی صلاحیت کے آدمی تھے۔ وہ اسلام قبول کرنا چاہتے تھے۔ لیکن مہاتما گاندھی اوردوسرے ہندو لیڈروں کی مداخلت سے ایسا نہ ہوسکا۔ تاہم اگر وہ اسلام قبول کرتے تو مجھے اُمید نہیں کہ ان کا قبول اسلام مثبت معنوں میں کسی جدید اسلامی تاریخ کے آغاز کا سبب بن سکتا تھا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اسلام کی طرف ان کا میلان برہمنزم کے خلاف ردّ ِعمل کے تحت ہواتھا۔ایسی حالت میں اگر وہ اسلام قبول کر لیتے تب بھی صرف یہ ہوتا کہ وہ اسلام کے اسٹیج سے برہمنزم کے خلاف ایک محاذ کھول دیتے۔ مثبت معنوں میں وہ اسلام کی کوئی انقلابی خدمت نہ کر پاتے۔ جیسا کہ بدھزم کو قبول کرنے کے بعد اُنہوں نے کیا۔
اس معاملہ کی ایک مثال وہ تعلیم یافتہ نو مسلم افرادہیں جنہوں نے موجودہ زمانہ میں اسلام قبول کیا ہے۔ میرے علم کے مطابق، یہ سب کے سب ردّ عمل کی نفسیات کے تحت اسلام کی طرف آئے۔ اس لیے وہ مثبت معنوں میں اسلام کی جدید تاریخ بنانے کا ذریعہ نہ بن سکے۔ان میں سے کوئی مسلمانوں کے کسی کمیونٹی ورک میں لگا ہوا ہے، اور کوئی مفروضہ مسلم دشمنوں کے خلاف تقریر کررہا ہے۔موجودہ زمانہ کے معروف نو مسلموں میں سے اکثر کو یا تو میںنے سنا ہے یا پڑھا ہے یا ان سے ملاقات کی ہے۔ مگر میرے تجربہ کے مطابق، یہ سب لوگ کسی نہ کسی طور پر رد عمل کی نفسیات کے تحت اسلام کی طرف آئے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ قبول اسلام کے بعد بھی ان کے سینہ میں غیرقوموں کے خلاف کدورتیں ختم نہیں ہوئیں۔ وہ اب بھی ردّ ِعمل کی بولی بول رہے ہیں۔ مثلاً امریکا کے حمزہ یوسف اور سراج وھّاج، جرمنی کے مرادہاف مین، برطانیہ کے یوسف اسلام، ہندستان (کیرلا) کی ڈاکٹر ثریا ، وغیرہ۔
میرے مطالعہ کے مطابق،موجودہ زمانہ کے خود مسلم داعیوں اوررہنماؤں کا حال بھی تقریباً یہی ہے۔ موجودہ زمانہ میں جتنے بھی عرب یا غیر عرب علماء اور مفکرین اسلام کی خدمت کے لیے اُٹھے وہ کسی نہ کسی اعتبار سے ردِّ عمل کی نفسیات کے تحت اُٹھے۔ کوئی استعمار کے مسئلہ سے بھڑ ک اُٹھا۔ کوئی صہیونیت کی زمین سے اُبھرا۔ کسی کو مغربی تہذیب کے غلبہ نے بے چین کردیا۔ کوئی ہندو خطرہ یا غیرہندو خطرہ کے خلاف مجاہد بن گیا۔ کوئی مسلمانوں کی سیاسی مغلوبیت پر بے برداشت ہو کر تحریک چلانے لگا، وغیرہ۔ جب کہ داعی وہ ہے جو ابدی حقائق کی دریافت سے اُبھرے، نہ کہ وقتی مسائل کے ہنگاموں سے۔
دعوت کے مسئلہ کی وضاحت کرتے ہوئے میں نے کہا کہ دعوت کے دو مختلف اسلوب ہیں— مقلدانہ اسلوب اور مجتہدانہ اسلوب ۔ اس وقت دنیا کے مختلف حصوں میں جو دعوتی کوششیں ہورہی ہیں وہ سب کی سب مقلدانہ اسلوب پر ہو رہی ہیں۔ اس قسم کے اسلوب سے صرف تقلیدی مزاج کے لوگ ہی متاثر ہوسکتے ہیں، اور وہی اس سے متاثر ہورہے ہیں۔ جدید طبقہ مجتہدانہ اسلوب چاہتا ہے، مگر مجتہدانہ اسلوب میں دعوتی کام سرے سے نہیں ہو رہا ہے، اس لیے جدید طبقہ اسلام کی طرف مائل بھی نہیں ہو رہا ہے۔اس بنا پر اسلامی دعوت اور جدید طبقہ کے درمیان ایک قسم کا ذہنی بُعد (intellectual gap) پیدا ہوگیا ہے۔ دعوتی عمل کو تعلیم یافتہ طبقہ کے درمیان موثر بنانے کے لیے اس بُعد کو ختم کرنا ضروری ہے۔
پچھلے دنوں میری ملاقات بہار کے ایک صاحب ڈاکٹر اکرام الحق سے ہوئی۔ وہ ایم ڈی کی ڈگری لیے ہوئے تھے۔ انہیں اسلامیات کے مطالعہ کا شوق ہے۔ انہوں نے کہاکہ میں نے انگریزی اور اردو کی تقریباً تمام تفسیریں پڑھی ہیں مگر مجھے ان تفسیروں سے اطمینان نہیں ہوا۔ اس قسم کا احساس موجودہ زمانہ کے اکثر اعلیٰ تعلیم یافتہ لوگوں میں ہوتا ہے۔ اس کا سبب یہ ہے کہ تفسیریں زیادہ تر تقلیدی اسلوب میں لکھی گئی ہیں۔ میرے علم کے مطابق، حقیقی معنوں میں مجتہدانہ اسلوب میں کوئی تفسیر ابھی تک لکھی نہیں گئی ۔
میں نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ قرآن کی ایک آیت ہے:کُلَّمَا أَوْقَدُوا نَارًا لِلْحَرْبِ أَطْفَأَہَا اللَّہُ(5:64)۔یعنی جب کبھی وہ لڑائی کی آگ بھڑکاتے ہیں تو اللہ اس کو بجھا دیتا ہے۔ اس آیت میں جو بات کہی گئی ہے وہ جدید امن پسند طبقہ کے لیے بے حد پرکشش ہے، مگر کسی بھی عربی یا اردو یا انگریزی تفسیر میں اس کی معنویت کو کھولا نہیں گیا ہے۔ عام طورپر اس آیت میں قدیم یہود کے معاملہ کو بتایا جاتا ہے۔ گویا کہ تمام مفسرین اس آیت کو زمانی مفہوم میں لے رہے ہیں۔ اس طرح یہ آیت بظاہر قدیم زمانہ کی ایک گزری ہوئی داستان بن کر رہ گئی ہے۔ نتیجۃً خود قرآن بھی غیر جانبدار قاری کو زمانۂ ماضی کا ایک قصہ معلوم ہوتا ہے جس میں آج کے لیے کوئی رہنمائی موجود نہ ہو۔
قرآن کو سمجھنے کے لیے ایک اہم نکتہ یہ ہے کہ اس میں جو بات قدیم ریفرنس میں کہی گئی ہے، اس کوآج کا ایک مفسر جدید حوالہ (modern context) میں دیکھ سکے، وہ اس آیت کا نیاانطباق (reapplication) دریافت کرسکے۔اس اعتبار سے غور کیجیے تو قرآن کی مذکورہ آیت میں ایک ابدی اصول بتایا گیا ہے۔ وہ یہ کہ اہل اسلام کی پالیسی یہ ہونا چاہئے کہ دوسرے لوگ جنگ چھیڑیں تو وہ حسنِ تدبیر سے اس کو اوائڈکرنے کی کوشش کریں، نہ یہ کہ خود بھی جنگ میں الجھ جائیں:
Muslims must adopt the policy of avoiding war rather than of indulging in war.
موجودہ زمانہ میں ہم دیکھتے ہیں کہ مسلم اور نو مسلم دونوں کے درمیان کمیونٹی کاز (community cause) کی دھوم ہے۔ مگر ان میں سے کوئی بھی حقیقی معنوں میں ڈوائن کاز (divine cause) کے لیے تڑپنے والا ، اس کے لیے کام کرنے والا نظرنہیں آتا۔ حتیٰ کہ ہزاروں کتابیں ہرجگہ چھپ رہی ہیں، مگر میرے علم کے مطابق، کوئی بھی کتاب انسانیت عامہ کو موثر انداز میں خطاب کرنے والی نہیں۔
موجودہ زمانہ کا سب سے زیادہ اندوہناک واقعہ یہ ہے کہ مسلمانوں میںدعوت الی اللہ کا عمل سرے سے وجود ہی میںنہ آسکا۔ کچھ مسلمان یا مسلم جماعتیں بظاہر دعوت کے نام پر سرگرم ہیں، مگر یقینی طورپر وہ دعوت الی اللہ کا عمل نہیں۔ یہ لوگ اصلاًکوئی اور کام کررہے ہیں جس کا دعوت الی اللہ سے کوئی تعلق نہیں ہے اور اس کوانہوں نے دعوت کاعنوان دے دیا ہے۔
مسلمانوں کی موجودہ تاریخ کا دعوت الی اللہ سے خالی ہونا کوئی سادہ بات نہیں۔ اس کے اسباب نہایت گہرے ہیں۔ اصل یہ ہے کہ بعد کے زمانہ میں قرآن کی جو تفسیریں لکھی گئیں، یا جو اسلامی لٹریچر تیار ہوا، ان میںدعوت الی اللہ کو سرے سے حذف کردیا گیا۔ دعوت الی اللہ کیا ہے اور اس کے لازمی اجزاء کیا ہیں، یہ قرآن میںنہایت واضح طورپرموجود ہے۔ مگر بعد کے زمانہ میں جو تفسیریں لکھی گئیں ان میں یہ سب چیزیں یا تو منسوخ کردی گئیں یا ان کی تفسیر درست طورپر نہ ہوسکی۔
مثلاً دعوت کے لیے ضروری ہے کہ داعی دوسرے لوگوں کو اپنی قوم سمجھے، جیسا کہ قرآن کے بیان کے مطابق پیغمبروں نے سمجھا۔ مگر بعد کے زمانہ میں دوسرے گروہوں کو کافر قرار دے کر انہیں غیر قوم کے خانہ میں ڈال دیاگیا۔ اسی طرح دعوت کے لیے ضروری ہے کہ مدعوکی زیادتیوں پر یک طرفہ صبر کیا جائے۔مگر تفسیروں میں صبر کے حکم کو جہاد سے پہلے کے دور کی چیز قرار دے دیا گیا۔ اسی طرح دعوت کے لیے تالیف ِ قلب لازمی طورپر ضروری ہے۔ مگر بعد کی تفسیروں میں تالیف قلب کے اصول کو ہمیشہ کے لیے منسوخ قرار دے دیاگیا۔ دعوت کے لیے ضروری ہے کہ اس کو مَا أَسْأَلُکُمْ عَلَیْہِ مِنْ أَجْرٍ (الشعراء، 26:109)کے اصول پر چلایا جائے، یعنی میں تم سے اس دعوتی عمل پر کوئی اجر نہیں مانگتا ہوں۔ مگر موجودہ زمانہ میں دعوت کے ساتھ ملّی حقوق کی مطالباتی مہم کو جوڑ دیا گیا، وغیرہ۔شکایتی اور احتجاجی باتیں قاتل ِ دعوت ہیں، نہ کہ معاونِ دعوت۔
دعوت الی اللہ کے لیے قرآن کی شرطوں کو ملحوظ رکھے بغیر دعوت کا کام کرنا ایک مضحکہ خیز عمل ہے۔ اس کو دعوت الی اللہ کا مقدس نام ہر گز نہیں دیا جاسکتا۔ اس صورتِ حال کو بدلنے کے لیے ضروری ہے کہ مقلدانہ ذہن کو توڑ کر مجتہدانہ ذہن کے تحت سوچا جائے۔ اس کے بغیر دعوت الی اللہ کاعمل کبھی زندہ نہیں ہوسکتا۔
واپس اوپر جائیں

دعوت کے تجربات

قرآن میں ایک آیت ان الفاظ میں آئی ہے: قُلْ سِیرُوا فِی الْأَرْضِ ثُمَّ انْظُرُوا کَیْفَ کَانَ عَاقِبَةُ الْمُکَذِّبِینَ (6:11)۔ یعنی کہو، زمین میں چلو پھرو اور دیکھو کہ جھٹلانے والوں کا انجام کیا ہوا۔ اس آیت میں ارض (زمین) سے مراد وہی دنیا ہے، جہاں انسان زندگی گزارتا ہے۔ یہاں ارض سے مراد پچھلی قوموں کے معذب علاقے نہیں ہیں۔ معذب اقوام ،مثلاً قوم نوح، قوم عاد، قوم ثمود،اہل مدین، اور قوم لوط، وغیرہ ۔ بلکہ خدا کی پیدا کردہ زمین ہے، جو اپنے آپ میں ایک عبرت و نصیحت کی حیثیت رکھتی ہے۔ انسان کو چاہیے کہ وہ اس دنیا میں کھلی آنکھ کے ساتھ رہے۔ وہ دنیا کی تخلیقات میں خالق کو پہچانے۔
میری زندگی کا بڑا حصہ دعوتی اسفار میں گزرا ہے۔ اسفار کا یہ سلسلہ 1967 میں شروع ہوا۔ اس کے بعد مسلسل طور پر جاری رہا۔ یہ تجربات سفرنامے کی صورت میں پہلے الجمعیۃ ویکلی میں شائع ہوتے تھے۔ اس کے بعد یہ سفرنامے 1976 سے ماہنامہ الرسالہ میں شائع ہونا شروع ہوئے۔ یہ سفرنامے بعد کو کتاب کی صورت میں بھی چھپ کر شائع ہوچکے ہیں۔
ان اسفار کے دوران بار بار یہ تجربہ پیش آیا کہ قرآن کا پیغام ابھی تک زیادہ تر صرف عربی زبان میں دستیاب ہے۔ مختلف قوموں کی قابلِ فہم زبانوں میں قرآن کے ترجمے کا کام ابھی امت کے ذمے باقی ہے۔ ان تجربات کے دوران راقم الحروف نے فیصلہ کیا کہ امت کو عمومی طور پر اور اپنی دعوتی ٹیم کو خصوصی طور پر اس کے لیے آمادہ کیا جائے کہ وہ قرآن کی عالمی اشاعت کا نشانہ پورا کریں، تاکہ اس معاملے میں امت کے اوپر عائد ذمے داری اللہ کی توفیق سے انجام پائے۔ ان دعوتی اسفار میں میرے ساتھ جو تجربات گزرے ان میں سے کچھ آنے والے صفحات میں شامل ہیں۔ اللہ تعالی اس مجموعے کی اشاعت کے مقصد کو پورا فرمائے۔
3مارچ 2019 وحید الدین ، نئی دہلی
واپس اوپر جائیں

جہادِ کبیر

سوئزرلینڈ کے سفر میں 26جولائی 2001کی صبح کو ناشتہ پر ایک صاحب سے گفتگو ہوئی۔ میں نے کہا کہ قرآن میں پیغمبر کو حکم دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ:وَجَاہِدْہُمْ بِہِ جِہَادًا کَبِیرًا (25:52)۔ اس آیت کا ترجمہ یہ ہے کہ تم ان کے ساتھ قرآن کے ذریعہ جہاد کبیر کرو۔ ظاہر ہے کہ جہادِ کبیر کے لیے قوت کبیر درکار ہے۔ آپ کسی سے یہ نہیں کہہ سکتے کہ تم پنسل کے ذریعہ بڑی لڑائی کرو۔ اس سے یہ اندازہ ہوتا ہے کہ اللہ کی نظر میں قرآن خود ایک بڑی طاقت ہے۔ گویا اس آیت کا مطلب یہ ہے کہ بڑا جہاد کرو بڑی طاقت کے ذریعہ جیسا کہ قرآن ہے:
Do great jihad with the great power of the Quran.
اس سے مزید یہ نکلتاہے کہ نظریہ کی طاقت تمام طاقتوں سے زیادہ بڑی طاقت ہے۔ اگر ایسا نہ ہو تو قرآن کے ذریعہ جہاد کبیر کا حکم دینے کا کوئی مطلب نہیں۔ میں نے مزید کہا کہ یہ ایک ثابت شدہ حقیقت ہے کہ نظریاتی طاقت سیاسی طاقت سے بہت زیادہ بڑی ہے:
Ideological power is greater than political power.
واپس اوپر جائیں

نیا رجحان

27 جولائی 2001کی شام کو کھانے کی میز پر ایک عیسائی پادری سے ملاقات ہوئی۔ ان کا نام رائے من پانیکر(Raimon Panikkar) تھا۔ ان کی عمر 83 سال ہوچکی ہے۔ وہ اسپین میں بارسلونا کے پاس ٹیورٹٹ(Tavertet) کے مقام پر رہتے ہیں۔ وہ صوفی اسلام سے متاثر ہیں۔ ان سے میں نے پوچھا کہ اسپین میں اسلام کے بارے میں کس قسم کی رائے پائی جاتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کچھ لوگ غلط فہمی کا شکار ہیں۔ میں نے کہا کہ کس قسم کی غلط فہمی ۔ انہوں نے کہا کہ میڈیا میں پرتشدد جہاد کی جو خبریں آتی ہیں، ان کو وہ پسند نہیں کرتے۔ میں نے کہا کہ جہاد کے نام پر تشدد کی تحریکیں مسلمانوں کی قومی تحریک کا نتیجہ ہیں، وہ اسلام کی تعلیم کا نتیجہ نہیں۔
انہوں نے بتایا کہ ان سب کے باوجود اسپین میں بہت سے لوگ اسلام قبول کر رہے ہیں۔ اسلامی کتابوں کے ترجمے اسپینی زبان میں شائع کیے جا رہے ہیں۔ میں نے پوچھا کہ جو لوگ اسلام قبول کررہے ہیں ان کو اسلام کا کون سا پہلو زیادہ متاثر کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جہاں تک میرا اندازہ ہے اسلام کی سادگی (simplicity)لوگوں کو خصوصیت کے ساتھ اسلام کی طرف مائل کررہی ہے۔
اسلام کا بنیادی عقیدہ توحید ہے۔ یعنی ایک خدا کا تصور ۔ اس کے مقابلہ میںموجودہ مسیحی عقیدہ تثلیث پرقائم ہے۔ مسیحی عقیدہ کے مطابق، تثلیث (trinity)کا مطلب یہ نہیں کہ خدا تین ہے۔ بلکہ اس کا مطلب تین میں ایک اور ایک میں تین(three in one, one in three) ہے۔ یہ غیرریاضیاتی عقیدہ اتنا پیچیدہ اور اس قدر ناقابل فہم ہے کہ مسیحی علماء بھی اس کی تشریح کرنے سے عاجز ہیں۔
میری لڑکی ڈاکٹر فریدہ خانم نے بتایا کہ جب وہ دہلی یونیورسٹی میں انگلش لٹریچر سے ایم اے کر رہی تھی تو ایک بار کسی کتاب میں تثلیث کا ذکر آیا۔ انہوں نے اپنے مسیحی استاد (پروفیسر جارج) سے پوچھا کہ تثلیث کے عقیدہ کا مطلب کیا ہے۔ عیسائی پروفیسر نے کچھ دیر سوچا، اس کے بعد کہا کہ اگر تم پوچھو تو میں نہیں جانتا اور اگر تم نہ پوچھو تو میں جانتا ہوں:
If you ask me I do not know, if you do not ask me I know.
رائے من پانیکر نے دوسرے موقع پر بتایا کہ اسپین میں اسلام کے مطالعہ کا نیا رجحان پیدا ہوا ہے۔ چنانچہ اسپینی زبان میںاسلامی کتابوں کے ترجمے کیے جارے ہیں ،اور لوگ اسلام قبول کر رہے ہیں ۔ میں نے پوچھا کہ اسلام سے ان کی دلچسپی کا سبب کیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ خاص وجہ اسلام کی تعلیمات کی سادگی ہے۔ اس کی وجہ سے ہر آدمی فوراً اسلام کو سمجھ لیتا ہے۔ جب کہ دوسرے مذہبوں کی تعلیمات بہت پیچیدہ ہیں۔ دوسری بات انہوں نے یہ بتائی کہ دوسرے مذاہب کے برعکس، اسلام نے خدا کو ایک گوشہ میں نہیں ڈالا جیسا کہ دوسرے مذاہب میں کیا گیا ہے۔
Islam has not reduced God to a corner.
میں نے ان سے پوچھا کہ اسلام کے بارے میں لوگوں میں کس قسم کی غلط فہمی پائی جاتی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ خاص طورپر جہاد کے بارے میں۔ اس کی وجہ سے عام طورپر لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ اسلام تشدد کا مذہب ہے۔ میںنے کہا کہ موجودہ زمانہ میں سب سے بڑا جہاد یہ ہے کہ اسلام کے بارے میں غلط فہمی کو دور کیا جائے۔ یہ کام دوطریقوں سے کیا جانا چاہیے ایک یہ کہ اسلام کو اس کی صحیح صورت میں پیش کیا جائے اور دوسرے یہ کہ مسلمان اپنی ان متشددانہ کارروائیوں کو بند کر دیں، جو وہ اسلامی جہاد کے نام پر کر رہے ہیں۔(ماہنامہ الرسالہ، سفرنامہ سوئزرلینڈ، مارچ 2002)
واپس اوپر جائیں

آفاقی سوچ

بھوپال کے سفر (نومبر 2001)میں مسٹر راجیندر سنگھ نے ایک ملاقات میں کہا کہ اگر آج کے مسلمانوں کا ذہنی کینواس(canvas) بڑا ہوجائے تو کوئی ان کی ترقی کو روک نہیں سکتا۔ انہوں نے مزید کہا کہ آج کل کے مسلمانوں کا مزاج یہ ہے کہ تھوڑی معلومات کے باوجود وہ اسلام کی بات کرتے ہوئے مدعیانہ انداز میں بولنے لگتے ہیں۔ وہ اپنے خیال میں اتنا گم رہتے ہیں کہ ان کو یہ احساس نہیں ہوتا کہ سننے والے پر ان کے اس انداز کا الٹا اثر پڑے گا۔
میرے نزدیک یہ بات بالکل درست ہے۔ اسلام ایک آفاقی مذہب ہے۔ وہ اپنے ماننے والوں کے اندر آفاقی ذہن بناتا ہے۔ مگر آج کل کے مسلمان اپنی زوال یافتہ نفسیات کی بنا پر تنگ نظری کا شکار ہوگئے ہیں۔ وہ خود اپنی بنائی ہوئی دنیا میں جیتے ہیں۔ انہیں اپنے سے باہر کی دنیا کی کوئی خبر نہیں۔ مسلمانوں کا یہی مزاج، موجودہ زمانہ میںاسلام کی بدنامی کا سبب ہے، نہ کہ اسلام کی اصولی تعلیمات ۔ اسلام کے اشاعتی سیلاب کو جس چیز نے روک دیا ہے، وہ مسلمانوں کا یہی غیر آفاقی مزاج ہے۔ موجودہ زمانہ کے مسلمانوں کی تحریروں اور تقریروںسے ایسا اندازہ ہوتا ہے کہ صرف ان کی اپنی کمیونٹی ہی ان کا کنسرن (concern)ہے، وسیع تر انسانیت ان کا کنسرن ہی نہیں۔
واپس اوپر جائیں

فتویٰ یا دعوت

بھوپال کے سفر میں مولانا اختر قاسمی نے پوچھا کہ فتویٰ کی شرعی حیثیت کیا ہے۔ موجودہ زمانہ میں طرح طرح کے فتوے جاری کیے جاتے ہیں جن میں لوگوں کو یہ ہدایت کی جاتی ہے کہ وہ ایسا کریں، ایسا نہ کریں۔ ایسے فتوے کس حد تک درست ہیں۔
میںنے کہا کہ فتویٰ کا مطلب رائے (opinion) ہے۔ فتویٰ کا مطلب یہ ہے کہ کوئی شخص ایک عالم کے پاس آیا۔ اس نے عالم کے سامنے اپنا ایک مسئلہ بیان کیا، اور اس مسئلہ کے بارے میں شریعت کا حکم جاننا چاہا۔ اس طرح کے سوال پراپنے علم کے مطابق، شرعی حکم بتانا یہ فتویٰ ہے۔
مگر ہمارے یہاں فتویٰ کی ایک اور قسم رائج ہوگئی ہے جو یقینی طورپر غیر شرعی ہے۔ وہ یہ کہ کوئی مفتی یا مفتیوں کا کوئی بورڈ بطور خود یہ فتویٰ جاری کرتا ہے کہ جس کی داڑھی ایک مشت سے چھوٹی ہو اس کے پیچھے لوگوں کے لیے نماز پڑھنا جائز نہیں۔ فلاں ملک اسلام دشمن ہے اس کی مصنوعات کو خریدنا جائز نہیں، وغیرہ۔ یہ دوسری قسم کا فتویٰ حقیقتاً فتویٰ نہیں، وہ یکطرفہ طورپر ہدایت جاری کرنا ہے، اور اس قسم کی ہدایت جاری کرنے کا اختیار ایک قائم شدہ حکومت کو ہے، نہ کہ کسی مفتی کو۔
صحابہ اور تابعین کی مثال بتاتی ہے کہ وہ حاکمانہ ہدایت کبھی جاری نہیں کرتے تھے۔ اس کے بجائے وہ دعوت و تبلیغ کا کام کرتے تھے۔ مثلاً اگر لوگ داڑھی کی سنت میں غفلت برت رہے ہوں تو صحابہ و تابعین کی سنت کے مطابق، ایسے لوگوں کے درمیان دعوت و تبلیغ کا کام کرنا چاہیے، نہ کہ بائیکاٹ کا فتویٰ صادر کرنا۔ مزید یہ کہ باعتبارِ نتیجہ اس قسم کا فتویٰ سراسر لاحاصل ہے۔ انسان کی اصلاح قلب و ذہن کے بدلنے سے ہوتی ہے، نہ کہ فتاویٰ جاری کرنے سے۔ خود ہندستان کی مثال بتاتی ہے کہ اہلِ بدعت کے خلاف لمبی مدت تک فتاویٰ جاری کرنے کے باوجود کوئی مسلمان بدعت سے تائب نہیں ہوا، مگر تبلیغی جماعت کی دعوتی کوششوں سے بہت سے بدعتی اپنے فعل سے تائب ہوگئے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ تبلیغی جماعت والوں نے فتویٰ کے بجائے نصیحت و تربیت کا انداز اختیار کیا۔ اس کے نتیجہ میں لوگوں کے دل بدلے اور وہ بدعات سے تائب ہوگئے۔(ماہنامہ الرسالہ، سفرنامہ بھوپال، مئی 2002)
واپس اوپر جائیں

تالیفِ قلب

برطانیہ کے سفر (ستمبر 2001)کا ایک واقعہ یہاں قابلِ ذکر ہے۔ ایک تعلیم یافتہ غیر مسلم نے بتایا کہ ایک مسلمان عالم ایک بار ان کے یہاں آئے۔ یہاں کمرے کی دیوار پر ایک کیلنڈر لٹک رہا تھا، جس پر ایک ہندو دیوی کی تصویر چھپی ہوئی تھی۔ مذکورہ شخص نے بتایا کہ نماز کا وقت آیا، تو مولانا صاحب نے اپنی شیروانی اتار کر کیلنڈر کے اوپر لٹکادی۔ اس وجہ سے اس کی تصویر شیروانی کے نیچے چھپ گئی۔ اس کے بعد مولانا صاحب نے میرے کمرے میں نماز ادا فرمائی۔
اس واقعے کا حوالہ دیتے ہوئے میں نے کہا کہ مولانا موصوف نے جو کچھ کیا بجائے خود درست تھا۔ مگر سوچنے کی بات یہ ہے کہ ایک طرف یہ نمونہ ہے، اور دوسری طرف یہ مختلف مثال ہے کہ قدیم مکہ میں 360 بت رکھے ہوئے تھے۔ پیغمبر ِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم وہاں روزانہ نماز ادا کرتے، مگر آپ نے ایسا نہیں کیا کہ پہلے ان بتوں کے اوپر چادر لٹکائیں، اور پھر وہاں نماز ادا کریں۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس عمل سے ایک اہم دعوتی حکمت معلوم ہوتی ہے۔ دعوت کا کام کرنے کے لیے ایک بے حد ضروری شرط یہ ہے کہ داعی کے اندر ناخوشگوار باتوں کو نظر انداز کرنے کا مزاج موجود ہو۔ وہ ان چیزوں سے پاک ہو، جو مدعو کی نظر میں کٹرپن، تنگ نظری، اور عدمِ رواداری بن جاتی ہے۔ دعوتی کام کے لیے رواداری لازمی شرط ہے۔ داعی کے اندر اگر رواداری کا مزاج نہ ہو تو وہ کامیاب داعی نہیں بن سکتا۔
واپس اوپر جائیں

عسر میں یُسر

11ستمبر 2001 کو نیو یارک اور واشنگٹن میں جو بھیانک واقعہ ہوا، اس کے نتیجے میں ساری دنیا کا میڈیا اسلام کو ٹررزم (terrorism) کے روپ میں دیکھنے لگا۔ مگر اس عسر میں بھی یُسر کا ایک پہلو نکل آیا۔ رپورٹیں بتاتی ہیں کہ اس کے بعد لوگوں کے اندر اسلام کے بارے میں تجسس (curiosity)کا ذہن پیدا ہوا۔ چنانچہ پوری دنیا میں بڑے پیمانے پر اسلام کا مطالعہ کیا جانے لگا۔ خود اس وقت کے امریکی صدر بش نے واشنگٹن کے اسلامک سینٹر کی زیارت کی۔ کہاجاتا ہے کہ اس وقت کے برطانوی وزیراعظم ٹونی بلیر نے اس دوران دوبار قرآن کا مطالعہ کیا ہے۔ جرمنی سے آئے ہوئے مسٹر فاروق نے بتایا کہ 11 ستمبر کے واقعہ کے بعد قرآن کے جرمن ترجمہ کی مانگ اتنی زیادہ بڑھی کہ مارکٹ سے جرمن ترجمہ کی کاپیاں ایک ہفتے کے اندر ختم ہوگئیں۔ یہی معاملہ اکثر مقامات پر پیش آیا۔
اس طرح کی مختلف مثالیں دیتے ہوئے میں نے کہا کہ قرآن میں ارشاد ہوا ہے کہ فَلَا تَخْشَوْہُمْ وَاخْشَوْنِ (5:3)۔ یعنی پس تم ان سے نہ ڈرو، صرف مجھ سے ڈرو۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اسلام کے ظہور کے بعد اب دنیا سے خشیتِ انسانی کا دور ختم ہوگیا، اب دنیا خشیت ربانی کے دور میں داخل ہوچکی ہے۔ اب ہمیں صرف یہ کرنا ہے کہ اللہ کے ساتھ اپنے معاملہ کو درست رکھیں۔ جہاں تک انسان کا معاملہ ہے، اس کو اللہ نے خود نظامِ فطرت کے تحت پیشگی طور پر ہمارے موافق بنادیا ہے۔ (ماہنامہ الرسالہ، برطانیہ کا سفر، ستمبر 2002)
واپس اوپر جائیں

دعوتی ماحول

برمنگھم میں کئی چھوٹی بڑی مسجدیں ہیں۔ برمنگھم میں قیام (ستمبر 2001)کے دوران ایک سڑک سے گزرتے ہوئے ایک بڑی مسجد نظر آئی۔ اس کے اوپر جلی حرفوں میں لکھا ہوا تھا— قرآن پڑھیے، جو کہ آخری عہد نامہ ہے:
Read Al-Qur’an, the Last Testament.
مسجد کی بیرونی سمت میں لگا ہوا یہ بورڈ علامتی طور پر یہ بتارہا تھا کہ مغربی دنیا میں اسلام کی تبلیغ کے کھلے مواقع موجود ہیں۔ ان مواقع کو استعمال کرنے کی شرط صرف ایک ہے، اور وہ یہ کہ مسلمان اپنی کسی روش سے داعی اور مدعو کے درمیان نفرت کی فضا قائم نہ کریں۔ معتدل فضا میں اسلام کی اشاعت ہوتی ہے، اور نفرت اور تناؤ کی فضا میں اسلام کی اشاعت کا عمل رک جاتا ہے۔
واپس اوپر جائیں

خیرخواہانہ دعوت

جون 2002 میں میں نے رشی کیش کا سفر کیا ۔اس سفر میں میرا تاثر یہ ہے کہ برادرانِ وطن سیکڑوں سال سے توہماتی عقائد اور روایات میں پھنسے ہوئے ہیں۔ مگر مسلمان ان کی ہدایت کے لیے نہیں تڑپے۔ ان کی خیر خواہی نے انہیں بے چین نہیںکیا۔ خود ہندوؤں میں ایسے لوگ اٹھے جنہوں نے محدود طورپر اصلاح کی کوششیں کیں۔ مثلاً کبیر نے اس سلسلہ میں بہت سی باتیں کہیں۔ ان کا ایک شعر یہ ہے:
ماتھے تِلک ہاتھ مَلبانا
لوگن رام کھلونا جانا
آریہ سماج کی تحریک بھی اسی نوعیت کی ایک ادھوری تحریک تھی۔ گرونانک کی تحریک اپنی اصل نوعیت کے اعتبار سے غیر خداؤں کی پرستش کے بجائے ایک خدا کی پرستش کاپیغام تھا۔ اقبال نے گرونانک کے بارے میں یہ شعر کہاتھا:
نانک نے جس چمن میں وحدت کا گیت گایا
میرا وطن وہی ہے میرا وطن وہی ہے
مسلمانوں کے پاس محفوظ آسمانی کتاب کی صورت میں کامل سچائی موجود تھی، مگر مسلمان برادران وطن کی اصلاح کے لیے کچھ نہ کرسکے۔ رشی کیش میں گفتگو کے دوران بہت سے ہندوؤں نے مجھ سے اسلام کے مطالعہ کی خواہش ظاہر کی۔ میں سمجھتا ہوں کہ کسی حقیقی اصلاحی کوشش کے لیے گہری خیرخواہی درکار ہوتی ہے۔ وہ خیر خواہی جو شکایتوں کے باوجود نہ ٹوٹے، بیٹے کے ساتھ ماں کی محبت کی طرح جو ہر حال میں قائم رہے۔ بد قسمتی سے مسلمانوں کے اندر برادران وطن کے لیے اس قسم کی خیرخواہی موجود نہ تھی۔ مسلم سلطنت کے دور میںوہ ہندوؤں کو کمتر سمجھتے رہے، اور 1947کے بعد وہ ہندوؤں سے اپنے سینہ میں نفرت اور شکایت لیے ہوئے ہیں، اور جو لوگ اس طرح کی نفسیات میںمبتلا ہوں وہ کبھی اصلاح و دعوت کاکوئی گہرا کام نہیں کرسکتے۔
1947 سے پہلے کے دور میں مسلم صوفیوں نے ضرور کچھ مفید کام کیے، مگر جہاں تک مسلم علماء کا تعلق ہے، وہ اس سلسلہ میںکوئی قابل قدر خدمت انجام نہ دے سکے۔ کچھ لوگوں نے ہندستان کو دارالحرب بتا کر مسلمانوں کے اندر منفی نفسیات پیدا کی۔کچھ لوگوں نے ہندوؤں کے ’’مسلم ملچھ‘‘ کے تصور کا مقابلہ کرنے کے لیے ’’ہندو کافر‘‘کا نظریہ پھیلایا۔ کچھ لوگوں نے بت شکنی کے نام پر ایسے کام کیے جو اپنے نتیجہ کے اعتبار سے صرف دل شکنی کے ہم معنٰی تھے۔
مگر حیرت کی بات یہ ہے کہ ساری مسلم دنیا میںکوئی بھی عالم یا غیر عالم نہیں جو ان مسلم رہنماؤں سے یہ کہے کہ تم اپنی قومی لڑائی کو انتہائی ناعاقبت اندیشانہ طورپر یہ مجرمانہ رنگ دے رہے ہو کہ ہندوؤں کی مسلم نفرت یا اسلام نفرت اس حد تک بڑھ جائے کہ وہ معتدل ذہن کے ساتھ اسلام کے پیغام کو سننے کے قابل ہی نہ رہیں۔ مجھے یاد آتا ہے کہ میرے بچپن کے زمانہ میں کچھ علماء نے ’’تبلیغ‘‘ کے نام پر مناظرہ بازی کی مہم شروع کر رکھی تھی۔حالانکہ اس قسم کی مہم کو تبلیغ کے بجائے اینٹی تبلیغ کہنا زیادہ صحیح ہوگا۔
مثلاً ایک مناظر عالم کو جوش آیا۔ انہوں نے ایک کتاب تیار کی جس کانام انہوں نے ’’کفر توڑ‘‘ رکھا ۔ اس کے جواب میںایک ہندو مناظر نے کتاب شائع کی جس کا نام تھا ’’کفر توڑ کا بھانڈا پھوڑ‘‘۔ یہ وہ زمانہ تھا جب کہ اردو زبان عمومی طورپر ہندواور مسلمان دونوں کی مشترک زبان تھی۔ گویا داعی اور مدعو کے درمیان وہ لسانی بعد (language gap) موجود نہ تھا جو آج پایا جاتا ہے۔ مگر اس سنہری زمانہ کو خیر خواہانہ دعوت کے بجائے مناظرہ بازی کے لیے استعمال کیا گیا، جس کا نقصان صرف یہ ہوسکتا تھا کہ برادرانِ وطن متنفر ہو کر اسلام سے کچھ اور دور ہوجائیں۔ اس قسم کی کوششوں نے یہی کارنامہ انجام دیا۔
واپس اوپر جائیں

جنت کی ضرورت

رشی کیش کے پروگرام میں جین مذہب کے کئی لوگ آئے ہوئے تھے۔ ایک جینی پیشوا جو اپنے منہ پر پٹّی لگائے ہوئے تھے ان سے گفتگو ہوئی۔ گفتگو کے دوران انہوں نے کہا کہ میں ان لوگوں سے کہتا ہوں کہ آپ مندر بنانا چھوڑ و، انسان بناؤ۔ میںنے پوچھا کہ انسان بنانے کا فارمولا کیا ہے۔ انہوںنے کہا کہ اپنی خواہشوں (desires) کو ہلاک کرنا۔ انہوں نے بتایاکہ جینی طریقہ کے مطابق، منہ پٹّی باندھنا اسی باپرہیز زندگی کی ایک علامت ہے۔
میںنے کہا کہ دوسرے لفظوں میں، آپ کا نظریہ، سلف کنٹرول کا نظریہ ہے۔مگر سوال یہ ہے کہ کوئی شخص سلف کنٹرول کیوں کرے۔ کوئی شخص اپنی طاقتور خواہشوں کو کیوں دبائے۔ انسان کو سلف کنٹرول پرآمادہ کرنے کے لیے ایک زیادہ بڑا محرک درکار ہے۔ اس سلسلہ میں میں نے انہیں اسلام کے نظریۂ جنت سے متعارف کرایا۔(ماہنامہ الرسالہ، رشی کیش کا سفر، جنوری2003)
واپس اوپر جائیں

مدعو انتظار میں

رشی کیش کا یہ سفر میرے لیے ایک نیا تجربہ تھا۔ وہاں جس ہندو سے بھی اسلام پر گفتگو ہوئی اُس نے دلچسپی کے ساتھ اُس کو سنا۔ کئی لوگوں کو کتابیں دی گئیں جن کو اُنہوں نے شوق کے ساتھ لیا اور پڑھنے کا وعدہ کیا۔ یہاں مجھے چند بار عمومی خطاب کا موقع ملا۔ اپنے خطابات میں میںنے اسلام کو دینِ رحمت کی حیثیت سے پیش کرنے کی کوشش کی۔
میرا تجربہ ہے کہ موجودہ زمانہ کے تعلیم یافتہ لوگ اس کو بہت بُرا مانتے ہیں کہ اُن کے اوپر مذہبی کٹّرپن کا الزام آئے۔ اس لیے وہ اپنے مذہب کے سوا دوسرے مذہب کی بات کو توجہ کے ساتھ سنتے ہیں۔ یہ زمانی مزاج ہم کو موقع دیتا ہے کہ ہم دینِ حق کی دعوت کو موافق ماحول میں پیش کرسکیں۔(ماہنامہ الرسالہ، رشی کیش کا سفر، جنوری2003)
واپس اوپر جائیں

خدا کا مستند پیغام

فروری 1999 میں میں نے ٹریونڈرم (کیرالا) کا سفر کیا تھا۔28 فروری 1999 ء کی صبح کو ساڑھے پانچ بجے میں دہلی ایرپورٹ پہنچا۔ یہ نیا ائر پورٹ اس طرح بنایا گیا ہے کہ وہ ایک بہت بڑے ہال کی مانند ہے۔ میں اُس کے اندر کھڑا ہوا تو اُس کی وسعت میرے ذہن میں صحرائے حیات کی وسعت میں تبدیل ہوگئی۔
میں نے سوچا کہ موجودہ دنیا میں انسان گویا ایک عظیم صحرا میںکھڑا ہوا ہے۔ وہ رازِ حیات جاننا چاہتا ہے مگر کوئی Zدرخت یا پہاڑ اُس سے نہیں بولتا۔ کوئی ستارہ یا سیّارہ اُس سے ہم کلام نہیں ہوتا۔ اس خاموش دنیا میں وہ حیران کھڑا ہوا ہے۔ اس کے بعد اس کے سامنے خدا کا پیغمبر آتا ہے۔ وہ کہتا ہے کہ میں خدا کا فرستادہ ہوں اور تم کوخدا کا یہ پیغام دیتا ہوں۔
انسان کے لیے یہ کیسی عجیب راحت ہے۔ عقیدہ کے اعتبار سے یہاں بہت سے پیغمبر آئے۔ مگر ان کی شخصیت اور ان کا پیغام تاریخ کے اندھیروں میں گم ہے۔ یہاں صرف ایک ہی قابل یقین پیغمبر ہے اور وہ محمد بن عبداللہ بن عبد المطلب ہیں۔ ایک متلاشی روح کے لیے یہ بلا شبہ ایک عظیم نعمت ہے۔ ڈاکٹر نشی کانت چٹوپادھیائے نے لمبی تلاش کے بعد جب پیغمبر اسلام کو پایا تو وہ چیخ اٹھے:
What a relief to find after all a truly historical Prophet to believe in.
واپس اوپر جائیں

سماجی میل جول

میں نے بار بار ایسی کانفرنسوں میں شرکت کی ہے جہاں ساری کارروائی انگریزی میں ہوئی ہے۔ ایسے مواقع پر زیادہ تر میں اپنی تقریر لکھے ہوئے پیپر کی صورت میں کرتا تھا اور جزئی طورپر انگریزی میں کلام کرتا تھا۔ شانتی گری آشرم (کیرالا) میں لوگ یا تو ملیالم جانتے ـتھے یا انگریزی۔ اس لیے یہاں پوری مدت میں انگریزی ہی میں بولنا اور گفتگو کرنا پڑا۔ اس موقع پر پہلی بار مجھے اپنی اس استعداد کا تجربہ ہوا کہ میںخدا کے فضل سے انگریزی میںبے تکلف بول سکتا ہوں، اور بے تکلف تقریر کرسکتا ہوں۔ اس ذاتی تجربہ نے میرے دعوتی جذبہ میں ایک نیاحوصلہ پیدا کردیا۔
یہاں کانفرنس کی وجہ سے تعلیم یافتہ ہندو بڑی تعداد میںاکٹھا تھے۔ ان سے بڑے پیمانہ پر انٹرایکشن ہوا۔ اندازہ ہوا کہ لوگ عجیب عجیب قسم کی غلط فہمیوں میں پڑے ہوئے ہیں۔ موسیٰ کی ابتدائی عمر فرعون کے محل میں گزری۔ اس لیے موسیٰ کے بارے میں یہ لوگ سمجھتے ہیں کہ وہ اعلیٰ نسل میںپیدا ہوئے۔ مسیح نے مچھیروں کے درمیان کام کیا اس لیے اُنہوں نے سمجھ لیا کہ وہ نچلے طبقہ میں پیدا ہوئے۔
اسی طرح پیغمبر ِ اسلام کو اپنے وطن مکہ سے ہجرت کرنا پڑا، اس لیے اُنہوں نے سمجھ لیا کہ پیغمبر ِ اسلام نے مظلوم اور ناکام حالت میں وفات پائی۔ ضرورت ہے کہ اسلام کے بارے میں ہر قسم کی معلوماتی کتابیں بڑے پیمانہ پر تیار کرکے پھیلائی جائیں۔ اسی کے ساتھ بڑے پیمانہ پر مسلم اور غیر مسلم کا انٹرایکشن ہو۔ ڈائیلاگ کیے جائیں۔ تعلیمی اداروں میںدونوں گروہ کے لوگ بڑی تعداد میں تعلیم حاصل کریں۔ تاہم صرف کتابیں چھاپنا کافی نہیں۔ زندگی کی سرگرمیوں میں دونوں کی شرکت ضروری ہے۔ (ماہنامہ الرسالہ، کیرلاکا سفر، فروری2003)
واپس اوپر جائیں

تالیفِ قلب کی ایک مثال

کیرلا کے لوگ (اور اسی طرح پورے جنوبی ہند کے لوگ) بے حد صفائی پسندہیں۔ صفائی ان کے کلچر میںشامل ہے۔ یہاںکے گھراور راستے بے حد صاف ہوتے ہیں۔ آپ اگر اچانک کسی گھر یاکسی بستی میںجائیں تو آپ اس کو ہمیشہ صاف ستھرا پائیں گے۔ وہ گھروں کے اندر جوتا پہننا پسند نہیں کرتے۔ چنانچہ گھر میں داخل ہونے سے پہلے جوتا اتار دیاجاتاہے۔ میںنے یہاں کی ایک مجلس میں اس کا ذکر کرـتے ہوئے پیغمبر ِ اسلام کی یہ حدیث سنائی: الطُّہُورُ شَطْرُ الْإِیمَانِ (صحیح مسلم، حدیث نمبر223)۔ اس کا ترجمہ میںنے اس طرح کیا:
Cleanliness is a part of religion.
لوگ اس حدیث کو سن کر بہت خوش ہوئے۔ ان کے چہرے سے ایسا محسوس ہوا جیسے وہ خوش ہو رہے ہوں کہ خدا بھی ان کی تائید کر رہاہے۔ (ماہنامہ الرسالہ، کیرلاکا سفر، فروری2003)
واپس اوپر جائیں

دعوتی تڑپ

آشرم سے واپسی میں ہم لوگ ڈاکٹر گوپی ناتھ کے مکان میں تھوڑی دیر کے لیے ٹھہرے۔ اس وقت میری آنکھوں سے مسلسل آنسو جاری تھے۔ کئی لوگ وہاں موجود تھے۔ لوگ چاہتے تھے کہ میںکچھ کہوں۔ مگر میں جذبات سے اتنازیادہ مغلوب تھا کہ میںکچھ نہ بول سکا۔ میں سوچ رہا تھا کہ موجودہ زمانہ اتنا زیادہ مختلف زمانہ ہے کہ آج شاید ایک شخص صرف ’مہدی‘‘ بن سکتا ہے وہ ’’ہادی‘‘ نہیں بن سکتا۔ میرے دل میںانسانیت کی تڑپ طوفان بن کر ہلچل برپا کئے ہوئے تھی۔ مگر سمجھ میں نہیں آتا کہ آج کے انسان کو کس طرح خدا سے ملایا جائے۔ آج کے انسان کو کس طرح خدا کا پیغام پہنچایا جائے۔
موجودہ زمانہ میںغیر مسلم تو کیا، مسلمان بھی سچائی سے آخری حد تک دو رہیں۔ ہر آدمی مادیات میں گم ہے۔ ربانیات کی نہ کسی کو معرفت ہے اور نہ کسی کو سننے کی فرصت۔ڈاکٹر گوپی ناتھ نے اپنے گھر میںایک میز پر طرح طرح کے کھانے کی چیزیں اور مشروب رکھے، مگر میں نہ کھا سکا اورنہ کچھ پی سکا۔ میری آنکھوں سے مسلسل آنسو بہہ رہے تھے۔ میں سوچ رہا تھا کہ کاش میرے پاس طاقت ہوتی اور میں انسانوں کے اجتماع میں داخل ہو کر امریکی سائنس داں کی طرح مائک چھین لیتا اور چلّا کر کہتا :
Stop everything, I want to inform you the law of the universe.
وہ لوگ بھی کیسے عجیب ہوں گے جوہادی بننے کے دعویدار ہوں حالانکہ وہ مہدی بھی نہ ہوں۔ جو معلم بنے ہوئے ہوں حالانکہ وہ متعلم بھی نہ ہوں۔ جو اپنے کو پانے والے کے روپ میں ظاہر کرتے ہوں حالانکہ وہ ڈھونڈنے والے بھی نہ ہوں۔ جو خدا کو جاننے کے دعویدار ہوںحالانکہ انہوں نے اپنے آپ کو بھی نہ جانا ہو۔(ماہنامہ الرسالہ، کیرلاکا سفر، فروری2003)
واپس اوپر جائیں

دعوت کیا ہے

حیدر آباد کے سفر (دسمبر 2002)میں کچھ مسلم نوجوانوں سے بات کرتے ہوئے میںنے کہا کہ دعوت کاکام آدمی کو فطرت کے راستہ پرلے آنا ہے۔ اس کا مقصد کنڈیشننگ کو ختم کرکے انسان کو اپنی فطرت پرقائم کرنا ہے، مسلم وغیرمسلم دونوں کا مسئلہ یہی ہے:
Dawah is de-conditioning, both of Muslims as well as of non-Muslims.
حدیث میںبتایا گیا ہے کہ ہر انسان اپنی فطرت پر پیدا ہوتا ہے۔ پھر اُس کے ماں باپ اُس کو یہودی اور نصرانی اور مجوسی بنا دیتے ہیں (کُلُّ مَوْلُودٍ یُولَدُ عَلَى الفِطْرَةِ، فَأَبَوَاہُ یُہَوِّدَانِہِ، أَوْ یُنَصِّرَانِہِ، أَوْ یُمَجِّسَانِہِ)صحیح البخاری، حدیث نمبر 1385۔ اس حدیث سے معلوم ہوا کہ عام انسان اپنے ماحول سے متاثر ہو کر سچائی سے ہٹ جاتا ہے۔ اسی طرح مسلمانوں کے بارہ میں قرآن و حدیث سے ثابت ہے کہ بعد کے زمانہ میں وہ، دوسری امتوں کی طرح خود ساختہ دین کو دین سمجھ کر اُس پر قائم ہوجائیں گے۔ اس اعتبار سے دونوں ہی گروہوں کا کیس اپنے اپنے لحاظ سے کنڈیشننگ کا کیس ہے۔ اور دونوں ہی کے سلسلہ میں یہ کرنا ہے کہ اُن کی کنڈیشننگ کو ختم کر کے اُنہیں اپنی اصل حالت کی طرف لوٹایا جائے۔
واپس اوپر جائیں

قول بلیغ

حیدر آباد کے سفر (دسمبر 2002)میںہندوؤں کی ایک مجلس میںمیں نے اسلامی تعلیمات کا تعارف پیش کیا۔ لوگوں نے بہت غور سے سُنا۔ آخر میں ایک تعلیم یافتہ ہندو نے کہا کہ آپ اسلام کو اس طرح پیش کرتے ہیں کہ وہ لوگوں کے لیے سہج سوئکاریہ ہو جائے۔ یعنی اسلام کو ماننا اُن کے لیے آسان ہوجائے۔
واپس اوپر جائیں

فکری مستوی کے مطابق کام

موجودہ زمانہ میں مسلمانوں کی اصلاح اور اسلام کے احیائےو کا جو کام کرنا ہے وہ تقلیدی انداز میں نہیں ہوسکتا۔ آج ہزاروں تحریکیں اس مقصد کے لیے سرگرم ہیں مگر مطلوب نتیجہ بر آمد نہیں ہورہا ہے۔ اُس کا خاص سبب یہی ہے۔ آج ضرورت ہے کہ اسلام کی تعلیمات کو وقت کے فکر ی مستویٰ (intellectual level) پر پیش کیا جائے تاکہ وقت کا کارفرما طبقہ اُس کو اپنا سکے۔ ہماری موجودہ تحریکیں اسلام کو وقت کے فکری مستویٰ پر پیش نہیں کررہی ہیں اس لیے عوامی طبقہ کے کچھ لوگ تو ضرور اُن کے گرد اکٹھا ہو رہے ہیں مگر اعلیٰ طبقہ کے لوگ اُنہیں قابل توجہ نہیں سمجھتے۔ حالاں کہ جب تک اعلیٰ طبقہ کے لوگ متوجہ نہ ہوں اسلام کی نئی تاریخ بنائی نہیں جاسکتی۔
واپس اوپر جائیں

مذہب کی ضرورت

حیدر آباد کے سفر (دسمبر 2002)میںایک تعلیم یافتہ ہندو نے گفتگو کے دوران کہا کہ آپ لوگ خدا اور روحانیت کی بات کرتے ہیں، لیکن آج کا ایک انسان جس کے پاس پیسہ ہے اور جس کو مادّی سہولتیں حاصل ہیں وہ کہتا ہے کہ ہم کو خدا اور روحانیت کی کیا ضرورت ۔ ہم جو کچھ چاہتے ہیں وہ سب کچھ ہم کو اس کے بغیر ملا ہوا ہے۔ پھر کیوں خدا اور روحانیت جیسی چیزوں میںاپنے دماغ کو الجھائیں۔
میںنے کہا کہ آپ کو جوچیز ملی ہوئی ہے وہ کیا ہے۔ وہ صرف وہ چیزیں ہیں جو آپ کے جسم کو آرام دے سکیں۔ مگر یہ تو زندگی کی حیوانی سطح ہے۔ کوئی بھی حیوان اس قسم کی زندگی حاصل کرسکتا ہے۔ انسان کی اصل عظمت یہ ہے کہ وہ دماغ رکھتا ہے۔ جسم تو صرف اس دماغ کی سواری ہے۔ انسان کی اصل ترقی اس میں ہے کہ اُس کا دماغ ترقی کرے۔ اگر جسم فربہ ہوجائے اور دماغی سطح پر کوئی ترقی نہ ہو توایسی ترقی کی کوئی قیمت نہیں۔ خدا اور روحانیت کا راستہ اسی دماغی ترقی کو حاصل کرنے کا ذریعہ ہے۔میںنے کہا کہ آپ جیسے لوگ یہ کرتے ہیں کہ وہ مخصوص تعلیم اور ٹریننگ کے ذریعہ دماغ کے ایک حصہ کو ترقی یافتہ بنا لیتے ہیں۔ یہ دماغ کا پروفیشنل حصہ ہے۔ ایسے لوگ پروفیشنل اعتبار سے ذہین معلوم ہوتے ہیں۔ مگر دماغ کے دوسرے فکری پہلوؤں کے اعتبار سے وہ بالکل غیر ترقی یافتہ حالت میں پڑے رہتے ہیں۔
واپس اوپر جائیں

دعوتی تیاری

اس سفر میں ایک صاحب نے اپنی روداد بتائی۔اس سے موجودہ زمانہ کے تعلیم یافتہ مسلمانوں کے مزاج کا اندازہ ہوتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ٹرین کے ایک سفر میںان کی ملاقات ہندو لیڈر ڈاکٹر پروین توگڑیا سے ہوئی ۔ اس طرح انہیں ڈاکٹر توگڑیا سے تقریباً تین گھنٹہ بات چیت کرنے کا موقع ملا۔ اسلام کی امتیازی حیثیت کو بتاتے ہوئے انہوں نے ڈاکٹر توگڑیا سے کہا :
Islam was the culmination of the evolution of religion.
میںنے کہا کہ یہ بات صحیح نہیں۔ اسلام ارتقائی مذہب نہیں ہے بلکہ وہ مذہب کا محفوظ ایڈیشن ہے۔ قرآن میں کئی مقامات پر پیغمبر اسلام کو مخاطب کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ تم پچھلے نبیوں کی پیروی کرو۔ مثلاً فَبِہُدَاہُمُ اقْتَدِہْ (6:90)۔ اگر اسلام مذہب کی ارتقائی صورت ہو تو پچھلے پیغمبروں کی پیروی کا حکم ایک ناقابلِ فہم حکم بن جائے گا۔ اسی طرح اسلام کی خصوصیت بتاتے ہوئے انہوں نے ڈاکٹر توگڑیا سے کہا کہ محمدصلی اللہ علیہ وسلم کا ظہور اس وقت ہوا جب کہ زمانہ میں مکمل تبدیلی آگئی تھی، اور انسانی ذہن اتنا ترقی کر چکا تھا کہ خالص تعقل کی سطح پر وہ خدا کی معرفت حاصل کرسکے:
Human intelligence had developed sufficiently enough to recognize God through reason.
میں نے کہا کہ یہ ایک مغالطہ آمیزبات ہے ۔اس لیے کہ ساتویں صدی عیسوی میں انسانی علم ابھی روایتی دور میں تھا۔ انسانی علم کا روایتی دور سے نکل کر سائنسی دور میں پہنچنا مسلّمہ طورپر بہت بعد کو ہوا۔ اب اس معیار کے مطابق، کہنے والا کہہ سکتا ہے کہ اسلام دورِ قدیم کا مذہب ہے، وہ دور جدید کا مذہب نہیں۔اُنہوں نے بتایا کہ گفتگو کے دوران ڈاکٹر توگڑیا نے کہا کہ اسلام تشدد کا مذہب ہے، اور مسلم تاریخ خون سے لکھی گئی ہے۔ یہ سُن کر مذکورہ مسلمان نے اس کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ کیاآپ اس معاملہ میں دوسرے مذاہب کی تاریخ کو جانتے ہیں۔ اُن کی تاریخ بھی اگر زیادہ نہیں تو اس سے کم خونی نہیں۔ ان کے الفاظ یہ تھے:
I countered by asking if he was aware of the history of other religions. They too were not less bloody if not more.
یہ جواب کا وہ طریقہ ہے جس کو الزامی جواب کہا جاتا ہے۔ وہ اُس آدمی کے لیے مفید نہیں جو دین حق کی نمائندگی کر رہا ہو۔ اسلام ہر حال میں با اصول کردار کا حکم دیتا ہے۔ دوسروں کا غلط رویّہ اسلام کے لیے کبھی مثال نہیں بن سکتا۔ ڈاکٹر توگڑیا کے مذکورہ بیان کا صحیح جواب یہ تھا کہ—اسلام اصولی حیثیت سے ایک پُر امن مذہب ہے۔ البتہ مسلمان، خاص طور پر مسلم حکمراں، تشدد کے مرتکب ہوئے ہیں۔ مگر آپ کو چاہیے کہ اسلام اور مسلمان میں فرق کریں۔ اسلام کو سمجھنے کے لیے اسلام کی تعلیمات کو دیکھیں، نہ کہ مسلمانوں کے عمل کو۔
انہوں نے اپنی گفتگو کی تفصیلی رپورٹ دینے کے بعد آخر میں کہا کہ جب میںنے مسلمانوں میں ریفارم کی ضرورت کو تسلیم کیا تو اس موقع پر ڈاکٹر توگڑیا نے آپ کا نام لیا اور آپ کی کوششوں کے بارہ میں اپنی پسندیدگی کا اظہار کیا۔ اس موقع پر مذکورہ مسلمان کے الفاظ یہ تھے:
Dr. Togadia asked me about you. He said he had not met Maulana Wahiduddin but his colleagues had. He was aware of your views and appreciated them.
اپنے تجربہ کے مطابق، میں ایسے بہت سے مسلمانوں کو جانتا ہوں۔ اسلام کے بارے میں ان کا علم محدود ہے۔ وہ اسلام کے بارے میں جب بولتے ہیں تو وہ اسلام کی یا تو غلط نمائندگی کرتے ہیں یا ناقص نمائندگی۔ ایسے مسلمانوں سے میں کہتا ہوں کہ وہ دو میں سے ایک کا انتخاب کریں۔ یا تو وہ اپنے دوسرے کاموں کو چھوڑ کر ساری زندگی مطالعہ اور تحقیق میں لگائیں تا کہ وہ اسلام کی صحیح نمائندگی کے قابل ہوسکیں، اور اگر ان کے پاس اتنا وقت نہیں ہے تو دوسری صورت ان کے لیے یہ ہے کہ اگر کسی عالم نے اپنی پوری زندگی صرف کرکے اسلام پر ایسا لٹریچر تیا رکیا ہے، جس کا اعتراف دوسرے بھی کرتے ہوں تو وہ اس لٹریچر کو استعمال کریں، اور خود لکھنے اور بولنے کے بجائے اُس کی کتابیں دوسروں کو پڑھنے کے لیے دیں۔ مگر بدقسمتی سے ان لوگوں نے تیسری صورت کا انتخاب کر رکھا ہے۔ اور اس طرح کے معاملہ میں تیسرا انتخاب ہمیشہ غلط ہوتا ہے۔
واپس اوپر جائیں

اکرامِ مسلم، اکرامِ انسانیت

حیدرآباد کے اس سفر میں ایک صاحب نے ملاقات کی اور کہا کہ آپ غیر مسلموں میں دعوت کی بات کرتے ہیں۔ غیر مسلموں میں دعوت کا کام کس طرح کیا جائے۔ میں نے کہا کہ دعوت کا عمل گہری خیر خواہی کے جذبہ کے تحت انجام پاتا ہے۔ اور جہاںگہری خیر خواہی ہووہاں یہ پوچھنے کی ضرورت نہیں ہوتی کہ ہم یہ کام کیسے کریں۔
میں نے کہا کہ کیا کوئی ماں کسی سے پوچھنے جائے گی کہ میںاپنے بیٹے کی خدمت کس طرح کروں۔ کیا کوئی باپ کسی سے پوچھنے جائے گا کہ میں اپنی اولاد کے ساتھ پدری حقوق کس طرح ادا کروں۔ ماں اور باپ خود اپنی قلبی محبت کے تحت یہ جان لیتے ہیں کہ اُنہیں اپنے بیٹے اور بیٹی کے ساتھ کیا کرنا ہے۔ اسی طرح جو لوگ انسان کی محبت میں تڑپیں، جن کے دل میںیہ درد ہوکہ اُن کے آس پاس کے لوگ جہنم میں نہ جائیں، اُنہیں کسی سے یہ پوچھنے کی ضرورت نہیں کہ وہ لوگوں کی اصلاح و دعوت کا کام کس طرح کریں۔ اُن کا داخلی جذبہ ہی اُنہیں یہ بتانے کے لیے کافی ہو گاکہ اُنہیں اپنی دعوتی ذمّہ داری کو کس طرح ادا کرنا چاہیے۔ مگر بد قسمتی کی بات یہ ہے کہ موجودہ زمانہ کے مسلمان اکرامِ مسلم کو جانتے ہیں، اکرامِ انسان کی اہمیت سے شعوری طورپر وہ باخبر ہی نہیں۔
واپس اوپر جائیں

جدید دنیا میں دعوتی امکانات

حیدرآباد کے اس سفر میں ایک تعلیم یافتہ مسلمان سے گفتگو ہوئی۔ میں نے اُنہیں انگریزی میں چھپا ہوا ایک انویٹیشن دکھایا۔ اس میں مجھے تقریر کرنے کے لیے بلایا گیا تھا۔ یہ دعوت نامہ دی انلا\ئٹینمنٹ فاؤنڈیشن (The Enlightenment Foundation) کی طرف سے تھا۔
اس میٹنگ کا موضوع یہ تھا کہ میںکون ہوں( Who Am I) میںنے کہا کہ اس طرح کے ادارے بڑی تعداد میں تقریباً ہر شہر میں قائم ہیں۔اس میں شرکت کرنے والوں کو پوری آزادی ہوتی ہے کہ وہ اپنے نقطۂ نظر سے زیر بحث موضوع پر بولے، اور اپنے علم کے مطابق، سوال کا جواب دے۔ اس طرح گویا ہر شہر میںایک قسم کا دعوتی میدان کھلا ہوا ہے۔ تعلیم یافتہ مسلمان وہاں جاکر آزادانہ طور پر اپنی بات پیش کرسکتے ہیں، بشرطیکہ اُن کا انداز خالص علمی ہو۔ مناظرہ کا انداز، سیاسی پروپیگنڈے کا انداز یا قومی وکالت کا انداز نہ ہو۔ اس امکان کو اگر استعمال کیا جائے تو ہر شہر میں خاموش انداز میں دعوت کا کام شروع ہوجائے گا۔ مگر موجودہ مسلمانوں میں چونکہ دعوتی جذبہ نہیں اس لیے اُنہوں نے نہ اس جدید امکان کو جانا، اور نہ اُس کو استعمال کیا۔
واپس اوپر جائیں

دعوت سے غفلت

میں یہ بات بار بار لکھ چکا ہوں کہ موجودہ زمانہ میں مسلمانوں کو جو مسائل پیش آرہے ہیں وہ سادہ طورپر صرف مسائل نہیں ہیں۔ وہ خدا کی تنبیہہ (warning) ہیں۔ یہ مسائل مسلمانوں کو جھنجھوڑ کر یاد دلا رہے ہیں کہ تم اگر تباہی سے بچنا چاہتے ہو تو اپنی دعوتی ذمہ داری کو پورا کرو۔ یہ حقیقت میں نے قرآن سے اخذ کی ہے۔ جیسا کہ قرآن میںآیا ہے، اہلِ ایمان کے لیے عصمت من الناس کا راز تبلیغ ما انزل اللہ میںہے (المائدہ، 5:67)۔
موجودہ زمانہ کے مسلمان نہایت جوش و خروش کے ساتھ ’’تحفظ ختم نبوت‘‘ کی تحریک چلاتے ہیں۔ مگر اس قسم کی تحریکیں مضحکہ خیز حد تک بے معنٰی ہیں۔ ختم نبوت کے تحفظ کی ذمہ داری تو خود اللہ نے لے رکھی ہے پھر مسلمان اس میںکیا رول ادا کرسکتے ہیں۔ اس قسم کی تحریک اتنا ہی بے معنٰی ہے جتنا کہ شمس و قمر کے تحفظ کی تحریک چلانا۔
حقیقت یہ ہے کہ مسلمانوں کی ذمہ داری ختمِ نبوت کا تحفظ نہیںہے بلکہ ختم نبوت کی دعوتی ذمہ داریوں کو ادا کرنا ہے۔ ختم ِ نبوت کے بعد وہ مقام ِنبوت پر ہیں۔ مسلمانوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ دعوت الی اللہ کا وہ کام کریں جو پہلے پیغمبر کے ذریعہ انجام پاتا تھا: لِیَکُونَ الرَّسُولُ شَہِیدًا عَلَیْکُمْ وَتَکُونُوا شُہَدَاءَ عَلَى النَّاسِ(22:78)۔ یعنی تاکہ رسول تم پر گواہ ہو اور تم لوگوں پر گواہ بنو۔
قرآن اور حدیث اور سیرت کا میں نے جو گہرا مطالعہ کیا ہے اس کی بنیاد پر میں پورے یقین کے ساتھ کہہ سکتا ہوں کہ امت محمدی صرف نماز روزہ کی ادائیگی سے خدا کے یہاں بری الذمہ نہیں ہوسکتی۔ حتیٰ کہ خود ساختہ نظریات کے تحت موجودہ زمانہ میں اسلامی جہاد اور اسلامی سیاست کے جو ہنگامے مسلم دنیا میں جاری ہیں وہ بھی ہر گز اس کی نجات کا ضامن نہیں بن سکتے۔ مسلمانوں پر فرض کے درجہ میں ضروری ہے کہ وہ غیر مسلموں تک اسلام کا پیغام پہنچائیں۔ اور اس کے تمام آداب و شرائط کے ساتھ اس کو مسلسل انجام دیں۔ دعوتی فرض کی انجام دہی کے بغیر مسلمانوں کا امت ِمحمدی ہونا ہی مشتبہ ہے۔اور جب اصل حیثیت ہی مشتبہ ہو تو انعامات کس بنیاد پر دیے جائیں گے۔
واپس اوپر جائیں

خواص میں دعوت

انگریزی میگزین انڈیا ٹوڈے (2 دسمبر2002)دیکھا۔ اُس کے صفحہ 66-67 پر برطانی جرنلسٹ َسرمارک ٹلی (Mark Tully) کی تازہ کتاب پر تبصرہ شائع ہوا تھا۔ 302 صفحہ کی یہ کتاب پنگوئن بُکس نے چھاپی ہے۔ کتاب کا نام یہ ہے:
India in Slow Motion (2002)
اس کتاب میں انٹروڈکشن کے علاوہ گیارہ ابواب ہیں۔ اس کا پہلا باب رام کی نئی دریافت (The Reinvention of Ram)کے بارے میں ہے اور آخری باب کاعنوان ہے، گم شدہ جنت (Paradise Lost)۔ کتاب کا ایک باب صوفیوں اور اُن کے عقائد کے بارے میں ہے۔ اس باب کا عنوان یہ ہےThe Sufis and a Plain Faith :
اس کتاب کی ترتیب کے دوران سَرمارک ٹلی نے راقم الحروف کا دوبار انٹرویو لیا تھا۔ کتاب کے مذکورہ باب میں اُنہوں نے تفصیل کے ساتھ میرے خیالات کا ذکر کیا ہے جو کتاب کے صفحہ 156 سے لے کر161 تک موجودہے۔
سر مارک ٹلی نے اپنی کتاب میں لکھا ہے کہ اُن کو یہ خیال ہوا کہ وہ اپنی کتا ب میں اسلامی تصوف (Sufi Faith) پر ایک باب شامل کریں۔ اس سلسلہ میں انہوں نے سب سے پہلے یہ کوشش کی کہ تبلیغی جماعت کے مرکز میں جاکر موضوع کے بارے میں معلومات حاصل کریں۔ مگر وہ لوگ اس سلسلہ میں انتہائی حد تک غیر معاون (unhelpful)ثابت ہوئے۔ حتیٰ کہ انہوں نے یہ بتانے سے بھی انکار کردیا کہ دوسرا کون مسلمان اس معاملہ میں ان کے لیے مدد گار ہوسکتا ہے۔ (صفحہ 155)
سرمارک ٹلی نے لکھا ہے کہ اس کے بعد اُنہوں نے مجھ سے کہا کہ آپ کوشش کیجیے تاکہ تبلیغ کاکوئی آدمی مل جائے جس سے میںتبلیغ کے بارے میں معلومات لے سکوں۔ ان کے کہنے پر میںنے کوشش کی لیکن مجھے کامیابی نہ ہوسکی۔ میںنے ان کو ٹیلیفون کیا اور اس سلسلہ میں معذوری ظاہر کی۔ اس کی رپورٹ سر مارک ٹلی نے ان الفاظ میں لکھی ہے:
(Maulana) agreed but a few days later rang me back to confess failure. ‘These people are not living in this century’, he said. ‘They don't know what the media is.’ (p. 161)
اس کے بعد وہ میرے پاس آئے اور مجھ سے صوفی ازم پر تفصیلی انٹرویو لیا۔ اس سلسلہ میںانہوں نے جو کچھ لکھا ہے اس کے چند جملے یہ ہیں:
Maulana Wahiduddin Khan proved far more approachable. When we rang him he willingly agreed to see us both, and there was no question of Gilly (my wife) not being welcome. (P. 156)
موجودہ زمانہ کے مسلم مصلحین نے تقریباً مشترک طورپر یہ غلطی کی ہے کہ اُنہوں نے عوام کو اپنی کوششوں کا نشانہ بنایا۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ موجودہ زمانہ میں اسلام کی نمائندگی صرف عوام کی سطح پر ہوسکی۔ جہاں تک خواص کا تعلق ہے، وہ اسلام سے تقریباً بے بہرہ ہو کر رہ گئے۔
میں اپنے ذاتی تجربہ کی بنا پر کہہ سکتا ہوں کہ موجودہ زمانہ کے خواص (تعلیم یافتہ طبقہ) میں اسلام کا پیغام انتہائی حد تک قابلِ قبول بن چکا ہے، بشرطیکہ اس طبقہ کے سامنے اسلام کو اُس کی قابلِ فہم زبان میں پیش کیا جائے۔ بد قسمتی سے موجودہ زمانہ کے مسلم مصلحین لسانِ قوم میں بولنے کی صلاحیت نہیں رکھتے۔ اس معاملہ میں اُن کی بے خبری کا حال یہ ہے کہ اُنہوں نے اکبر الٰہ آبادی جیسے ایک شاعر کو لسان العصر کا خطاب دے دیا۔ حالاں کہ اکبر الٰہ آبادی نہ تو عصر کو جانتے تھے، اور نہ اُن کی زبان لسان العصر کا مصداق تھی۔
واپس اوپر جائیں

خواص انتظار میں

اس سلسلے کا ایک سبق آموز ذاتی تجربہ یہ ہے کہ میںنے انگریزی اخبار کے لیے ایک مضمون تیار کیا۔ یہ مضمون واضح طورپر موجودہ زمانہ کے ہندو گروؤں اور سوامیوں کے خلاف تھا۔ اس مضمون کا عنوان یہ تھا:
The Role of Spirituality in De-stressing the Human Mind.
آج کل ہندو سوامی اور ہندو گرو ملک میں اور ساری دنیا میں بہت بڑے بڑے آشرم چلا رہے ہیں۔ یہاں میڈیٹیشن کی مخصوص تکنیک کے ذریعہ لوگوں کے ذہنی تناؤ کو دور کیا جاتا ہے۔ میرا مضمون اس کے سراسر خلاف تھا۔ انگریزی اخبار کے دفتر میںجب میرا مضمون پہنچا تو وہاں کے ذمہ داروں کے درمیان اس پر بحث ہوئی۔ ایک ہندو صحافی نے کہا کہ یہ مضمون تو ہماری بنیاد کو ڈھارہا ہے۔ دوسرے ہندو صحافیوں نے جواب دیا کہ ہمیں اس سے بحث نہیں۔ یہ مضمون سائنسی اور منطقی دلائل سے بھر پور ہے۔ اس لیے ہم اُس کو اپنے اخبار میں چھاپیں گے۔ چنانچہ یہ مضمون بعینہٖ دہلی کے مشہور انگریزی اخبار ہندستان ٹائمس (31دسمبر2002) میں چھپا تھا۔
سچائی اور کنفیوژن
احمد آباد کے سفر (جنوری 2003)میںایک صاحب سے بات کرتے ہوئے میںنے کہا کہ میں نے اپنی زندگی میں کئی ایسے افراد دیکھے جو بے حد شریف تھے۔ وہ اعلیٰ انسانی اوصاف کے حامل تھے۔ اس کے باوجود وہ سچائی کو نہ پاسکے۔ اس کا سبب میرے تجربہ کے مطابق، ذہنی انتشار (confusion) ہے۔ سوال یہ ہے کہ کنفیوژن کسی کو کیوں ہوتا ہے۔ میرے نزدیک اس کا سبب یہ ہے کہ لوگوں کا دماغ زیادہ تر معلومات کا جنگل ہوتا ہے۔ وہ ایسا نہیں کر پاتے کہ تحلیل و تجزیہ (analysis) کرکے مختلف معلومات سے ایک نتیجہ نکال سکیں۔ وہ متعلق اور غیر متعلق، کا فرق سمجھیں۔ وہ بنیادی اور غیر بنیادی میں تمیز کرسکیں اور پھر مختلف معلومات کو ہضم کرکے صحیح نتیجہ نکالیں۔ اسی ناکامی کی بنا پر ایساہوتا ہے کہ لوگوں کا معلوماتی ذخیرہ اُن کو صرف کنفیوژن تک پہنچاتا ہے، وہ اُنہیں فکری پختگی عطا نہیں کرتا۔
اسی قسم کے ایک صاحب کا معاملہ یہ ہے کہ وہ کافی ذہین او رتعلیم یافتہ ہونے کے باوجود سخت ذہنی انتشار میں مبتلا رہتے ہیں۔ یہاں تک کہ وہ مسکّن (tranquilizer) استعمال کرکے سوتے ہیں۔
واپس اوپر جائیں

ایک دعوتی گفتگو

احمد آباد کے سفر (جنوری 2003)میں محمد حسن جوہر صاحب کے گھر پر کچھ تعلیم یافتہ ہندوؤں سے ملاقات ہوئی۔ مسٹر چونی اور مسٹر ویدیا، وغیرہ۔ اُن کا ایک سوال یہ تھا کہ خدا کا تصور اسلام میں کیا ہے۔ میں نے کہا کہ اسلام میںادوئت واد کا تصور نہیں ہے۔ بلکہ اسلام میں دوئت واد کا تصور ہے، یعنی خالق اورمخلوق دونوں ایک نہیں ہیں، بلکہ دونوں ایک دوسرے سے مکمل طورپر الگ ہیں۔ اس سلسلہ میں میںنے توحید کے عقیدہ کی کچھ تفصیل بیان کی۔
ان کا ایک سوال یہ تھا کہ آپ لوگ قرآن کو آخری کتاب مانتے ہیں جو کہ چودہ سو سال پہلے اُتاری گئی۔ انسان کے حالات تو بار بار بدلتے رہتے ہیں۔ پھر بدلے ہوئے حالات میں دوسری کتاب کیوں ضروری نہیں۔ اُنہوں نے کہا کہ اس عقیدہ سے تو ذہنی ارتقا رک جاتا ہے جب کہ ہندو ازم میںایسا عقیدہ نہ ہونے کی وجہ سے ذہنی ارتقاء جاری رہتا ہے۔
میں نے کہا کہ یہ صحیح ہے کہ ہم قرآن کو آخری کتاب مانتے ہیں۔ مگر اسی کے ساتھ اسلام کی ایک اہم تعلیم وہ ہے جس کو اجتہاد کہا جاتا ہے۔ اجتہاد کا مطلب یہ ہے کہ بدلے ہوئے حالات میں اسلام کی ابدی تعلیمات کا از سرِ نو انطباق(re-application) دریافت کیاجائے۔ اس طرح اجتہاد کا اصول اسلام کی ابدیت کو مسلسل باقی رکھتا ہے۔(ماہنامہ الرسالہ،احمدآبادکا سفر، مئی2003)
واپس اوپر جائیں

دعوت کا ماحول

میرٹھ (یوپی) کے سفر (اگست 2003) میں 6 ستمبر کی رات کومحمد ساجد صاحب کے مکان پر کئی ہندو اور مسلمان اکٹھا ہوئے۔ ان سے دیر تک باتیں ہوتی رہیں۔6 ستمبر کی شام کے کھانے میں مسلمانوں کے ساتھ کئی ہندو بھی شریک تھے۔ ایک صاحب نے کہا کہ یہ علامتی طورپر گویا مستقبل کے ہندستان کی ایک تصویر ہے۔ یعنی وہ ہندستان جب کہ مسلمان اور ہندو دونوں بھائی بھائی کی طرح مل کر رہیں گے۔ وہ ایک ساتھ بیٹھیں گے اور ایک ساتھ کھانا کھائیں گے۔جب ایسا ہوگا تو یہ صرف سماجی معنوں میں میل ملاپ کا واقعہ نہ ہوگا، بلکہ وہ ایک ایسا انٹر یکشن ہوگا جو فطری انداز میں دینِ حق کے تعارف کا ذریعہ بن جائے گا۔
اسلامی تاریخ کے مطالعہ سے میں نے پایا ہے کہ اسلام کا سب سے زیادہ تعارف جس ذریعہ سے ہوا وہ نارمل ماحول میں انٹریکشن یا باہمی اختلاط سے ہوا۔ مسلمانوں اور غیر مسلموں کا اختلاط جب بھی ہوا وہ اسلام کے تعارف کا باعث بنا۔ ہمارے مشن کا خاص مقصد یہ ہے کہ مسلمانوں اور غیرمسلموں کے درمیان کھلے ماحول میں پر امن ڈائیلاگ ہونے لگے۔
واپس اوپر جائیں

مستقبل کو دیکھنا

میرٹھ کے سفر میں ایک مجلس میں سوالات کے وقفہ کے دوران ایک صاحب نے کچھ انتہا پسند ہندو لیڈروں کا نام لے کر کہا کہ ہندوؤں کے دل میں اسلام اور مسلمانوں کے خلاف نفرت ہے پھر اس مسئلہ کا حل کیا ہے۔ اس موقع پر ہمارے ساتھی مسٹر رجت ملہوترہ بھی شریک تھے۔ انہوں نے کہا کہ مجھ کو دیکھیے ، میں اس سوال کا ایک عملی جواب ہوں۔
میں ایک ہندو فیملی میں پیدا ہوا۔ دو سال پہلے میں ویسا ہی ہندو تھا جیسا کہ آپ نے فرمایا۔ مگر آج میں پوری طرح بدل چکا ہوں۔ آج میرے دل میں اسلام سے اتنا ہی پیار ہے جتنا کسی مسلمان کو ہوسکتا ہے۔ میرے اندر یہ تبدیلی الرسالہ مشن کی وجہ سے آئی۔ میں پچھلے دو سال سے الرسالہ مشن میں شریک ہوں، اور باقاعدہ اسلام کا مطالعہ کررہا ہوں۔ خدا کے فضل سے وہ تمام نفرتیں اور بدگمانیاں میرے دل سے ختم ہوچکی ہیں، جو اس سے پہلے میرے اندر موجود تھیں۔ آپ یہ نہ دیکھئے کہ آدمی آج کیسا ہے، بلکہ یہ دیکھئے کہ وہ کل کیسا ہوسکتا ہے۔
واپس اوپر جائیں

معاندانہ انداز، نارمل انداز

7 ستمبر کی صبح کو میری قیام گاہ پر کچھ مسلمان بیٹھے ہوئے تھے۔ اس موقع پر ان بعض ہندوؤں کا ذکر ہوا جنہوں نے کل شام کے جلسے میں کچھ ٹیڑھے قسم کے سوالات کئے تھے۔ ایک صاحب نے کہا کہ جلسہ کے بعد میری ملاقات اسی قسم کے ایک ہندو سے ہوئی۔ یہ ہندو کل شام کے جلسہ میں بظاہر بہت معاندانہ انداز میں بول رہا تھا۔ مگر جلسہ کے بعد وہ آپ کے سامنے آیا اور آپ کو پرنام کیا۔ پھر میں اُس سے ملا تو اُس نے مجھ سے نارمل انداز میں بات کی۔ یہ قصّہ بتاتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کچھ لوگوں کا یہ مزاج ہوتا ہے کہ وہ جب کسی میٹنگ میں آتے ہیں تو صرف بولنے کے لیے بولتے ہیں، ورنہ ان کے دل کے اندر کچھ بھی نہیں رہتا۔
اس معاملہ کا ایک پہلو یہ بھی ہے کہ اس قسم کے افرادکے دل میں شکایت کا لاوا بھرا ہوا ہے۔ ان کو ایک ایسا موقع مل جاتا ہے جہاں وہ اپنے لاوے کوباہر لا سکتے ہیں۔ اس طرح یہ ہوتا ہے کہ ان کے دل کی بھڑاس نکل جاتی ہے۔(ماہنامہ الرسالہ،میرٹھ کا سفر، اپریل2004)
واپس اوپر جائیں

بالواسطہ دعوت

ڈاکٹر کرشن کمار گپتا سے ملاقات ہوئی۔ وہ آج کل اردو سیکھ رہے ہیں۔ انہوں نے ملاقات میں کئی باتیں بتائیں۔میری ایک کتاب کے بارے میں انہوں نے کہا کہ اس میں میں نے ایک حدیث پڑھی ہے جس سے مجھے جھوٹ کی ایک نئی قسم معلوم ہوئی ہے۔ وہ یہ ہے کہ آدمی کوئی بات سنے اور تحقیق کے بغیر اس کو پھیلانے لگے۔ اس حدیث کے عربی الفاظ یہ ہیں :کَفَى بِالْمَرْءِ کَذِبًا أَنْ یُحَدِّثَ بِکُلِّ مَا سَمِع(صحیح مسلم، حدیث نمبر 5)۔ (ماہنامہ الرسالہ،میرٹھ کا سفر، اپریل2004)
واپس اوپر جائیں

پیغمبر کا مشن

میرٹھ میں کچھ تعلیم یافتہ ہندوؤں سے بات کرتے ہوئے میںنے کہا کہ تاریخ بتاتی ہے کہ ہمیشہ دو قسم کے لیڈر دنیا میںر ہے ہیں۔ ایک وہ جن کو ریفارمر کہا جاسکتا ہے، اور دوسرے وہ جن کو پرافٹ (پیغمبر)کہا جاتا ہے۔ دونوں میں فرق یہ ہے کہ ریفارمر کا نظریہ انسان بمقابلۂ انسان (man versus man) کے اصول پر مبنی ہوتا ہے اور پرافٹ کا نظریہ انسان بمقابلۂ خدا (man versus God) کے اصول پر قائم ہے۔ ریفارمر کا طریقہ ہمیشہ انسانوں میں دو متحارب گروہ بناتا ہے۔ ریفارمر یہ کرتا ہے کہ وہ انسانیت کے ایک گروہ کو معصوم کے طورپر لیتا ہے اور دوسرے گروہ کو خطاوار کے طور پر۔ اور پھر وہ مفروضہ معصوم گروہ کو مفروضہ خطا وار گروہ سے ٹکرادیتا ہے۔
مثلاً فرانس کے سیاسی ریفارمر روسو نے انسانیت کو سیاسی مظلوم اور سیاسی ظالم کے نام سے دوگروہوں میں بانٹا۔ چنانچہ روسو کی کتاب معاہدۂ عمرانی (Social Contract) اس جملہ سے شروع ہوتی ہے— انسان آزاد پیدا ہوا تھا مگر میںاُس کو زنجیروں میں جکڑا ہوا پاتا ہوں:
Man was born free. But I find him in chains.
اس قسم کا نظریہ ہمیشہ انسانیت کو بانٹتا ہے۔ وہ انسانوں کے درمیان گروہی نزاع پیدا کرتاہے۔ وہ انسانوں کے درمیان نفرت اور تناؤ جیسے منفی جذبات پیدا کرتا ہے۔ پیغمبر کے طریقہ کی مثال دیتے ہوئے میں نے کہا کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: الْخَلْقُ عِیَالُ اللَّہِ (سارے انسان خدا کی فیملی ہیں)مسند البزار، حدیث نمبر 6947۔ اس نظریہ میں ایک طرف خدا ہوتا ہے اور دوسری طرف تمام انسان۔ اس طرح یہ نظریہ تمام انسان کو ایک اُصول پر متحد کردیتا ہے۔ آپس میں ایک دوسرے کے لیے مثبت جذبات فروغ پاتے ہیں، نہ کہ منفی جذبات۔
واپس اوپر جائیں

انسانیت پنا، امت پنا

ایک صاحب سے گفتگو کرتے ہوئے میںنے کہا کہ ’’امت پنا‘‘ کا تصور اسلام کی آفاقی روح کے خلاف ہے۔ اسلام کی اصل روح ’’انسانیت پنا‘‘ ہے نہ کہ ’’امت پنا‘‘۔ اس معاملہ میں موجودہ مسلمانوں کا مزاج دعوت کے راستہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ جب تک یہ مزاج نہ بدلے، حقیقی معنوں میں دعوت کا کام نہیں ہوسکتا۔(ماہنامہ الرسالہ،میرٹھ کا سفر، اپریل2004)
داعیانہ سوچ
واردھا کے سفر (نومبر 2003) میںایک صاحب مجھ سے ملاقات کے لیے آئے ۔اُنہوں نے دوسری باتوں کے علاوہ یہ بھی کہا کہ آپ کے بارے میں لوگ کہتے ہیں کہ آپ مسلم دشمن طاقتوں کے آلۂ کار ہیں۔ میں نے پوچھا کہ اس الزام کا ثبوت کیا ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ لوگ بتاتے ہیں کہ آپ اُن لوگوں کے جلسوں میں جاتے ہیں۔ اُن کے پروگراموں میں شریک ہوتے ہیں۔ حالاںکہ مسلم دشمن طاقتوں سے ہم کو دور رہنا چاہئے۔میں نے کہا کہ یہ الزام صرف غلط فہمی پر قائم ہے۔ چوںکہ موجودہ مسلمانوں میں دعوتی ذہن نہیں، وہ صرف قومی ذہن کے تحت سوچنا جانتے ہیں۔ اس لیے وہ ہمارے مِشن کو سمجھ نہیں پاتے۔ اصل یہ ہے کہ ہمارا مِشن دعوت الی اللہ کا مِشن ہے۔ ہم خدا کے پیغام کو خدا کے بندوں تک پہنچانا چاہتے ہیں۔ ظاہر ہے کہ یہ کام ’’مسلم وار تحریک‘‘ کے ذریعہ نہیں ہوسکتا۔ مسلم وار تحریک کے ذریعہ مسلمانوں کی اصلاح کا کام ہوسکتا ہے، نہ کہ غیر مسلموں میں اسلام کا پیغام پہنچانے کا کام۔
داعی ہر ایک کو انسان کی صورت میں دیکھتا ہے۔ وہ اس کا تحمل نہیں کرسکتا کہ انسانوں کو دوست اور دشمن کے الگ الگ خانوں میں تقسیم کرے۔ وہ کچھ لوگوں کو بطور خود مسلم دوست بتاکر اُن سے قریب ہو، اور کچھ لوگوں کو بطور خود مسلم دشمن قرار دے کر اُن سے دور ہوجائے۔ چوںکہ موجودہ مسلمانوں کا ذہن دعوتی ذہن نہیں ہے، اس لیے وہ مسلم وار تحریک کی اہمیت کو فوراً سمجھ لیتے ہیں۔ اگر اُن کے اندر دعوتی ذہن ہوتا تو وہ جان لیتے کہ اس مقصد کے لیے ہمیں ہندو وار تحریک، کرشچین وار تحریک، حتّٰی کہ یہودوار تحریک چلانا چاہیے۔ ہم نے اپنے مِشن کے تحت اسلام پر تعارفی لٹریچر بڑی تعداد میں چھاپا ہے۔ ہم اس لٹریچر کو غیر مسلموں تک پہنچانے کی مسلسل کوشش کرتے ہیں۔ اس دعوتی کوشش کا ایک جزء یہ ہے کہ جب دوسرے مذہب کے لوگ کوئی پروگرام کرتے ہیں اور مجھ کو بلاتے ہیں تو میں وہاں جاتا ہوں، اور موضوع کی نسبت سے وہاں اسلام کا تعارف پیش کرتا ہوں۔
واپس اوپر جائیں

دعوت کاایک عملی نمونہ

واردھا کی اس کانفرنس میں24 نومبر 2003 کا دن اسلام کے لیے خاص تھا۔ اس میں مَیں واحد اسپیکر تھا۔ پروگرام کی ترتیب اس طرح بنائی گئی کہ دوپہر سے پہلے کے سیشن میں میں نے اسلام پر ایک تعارفی تقریر کی جو تقریباً ڈیڑھ گھنٹہ جاری رہی۔ دوپہر بعد کاسیشن سوال و جواب کے لیے رکھا گیا تھا۔ حاضرین کی طرف سے اسلام پر مختلف قسم کے سوالات کئے گئے جن کے میں نے جواب دئے۔
اپنی تقریر میں میں نے پہلے قرآن و حدیث کی روشنی میں اسلام کا سادہ تعارف پیش کیا۔ اس کے بعد یہ بتایا کہ فنڈمنٹلزم وہی چیز ہے، جس کو قرآن و حدیث میں غلو کہا گیا ہے۔ اور غلو (extremism) کو اسلام میں ہلاکت خیز برائی بتایا گیا ہے۔ اس کے بعد میں نے یہ بتانے کی کوشش کی کہ اسلام کے مطابق، پر امن سماج بنانے کا فارمولا کیاہے۔
سوال و جواب کے سیشن میں لوگوں نے کافی دلچسپی کے ساتھ حصہ لیا۔ بہت سے سوالات کئے گئے جن کا میں نے جواب دیا۔ایک سوال یہ تھا کہ میڈیا کے مطابق، اسلامی مدرسوں میں ٹررزم کی تعلیم دی جاتی ہے ،اور وہاں ٹررسٹ تیار کئے جاتے ہیں۔ میں نے اس سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ میں خودمدرسہ کاایک پروڈکٹ ہوں۔ میں یہ کہہ سکتا ہوں کہ مدرسہ کا کوئی تعلق ٹررزم سے نہیں ہے۔ کم از کم انڈیا میں مجھے کوئی ایسا مدرسہ معلوم نہیں جہاں مدرسہ کے نظام کے تحت ٹررزم کی تعلیم دی جاتی ہو۔ مدرسہ میں کیسے لوگ تیار کئے جاتے ہیں، اس کا اندازہ مجھ کو دیکھ کر آپ کرسکتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ مدرسہ صرف مذہبی تعلیم کے لیے ہے۔ وہاں کے نصاب یا وہاں کے نظام کا کوئی بھی تعلق اس چیز سے نہیں جس کو آج کل ٹررزم کہا جاتا ہے۔
ایک نوجوان نے کہا کہ ہم نے کتاب میں پڑھا ہے کہ اسلام کے پیغمبر نے خود حملہ کیا اور لڑائی کی پھر آپ کیسے کہتے ہیں کہ پیغمبر اسلام ایک امن پسند انسان تھے۔ اس کا جواب دیتے ہوئے میں نے پوچھا کہ آپ نے یہ بات کس کتاب میں پڑھی ہے۔ وہ کسی کتاب کا نام نہ بتاسکے۔ میں نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ یہ بات واقعہ کے خلاف ہے۔ پیغمبر اسلام نے کبھی ایسا نہیں کیا کہ وہ خود کسی کے اوپر حملہ کریں۔ ان کی پالیسی ہمیشہ یہ ہوتی تھی کہ اگر فریق ثانی کی طرف سے جارحیت ہو تو اپنے بچائو کے لیے جنگ کی جاسکتی ہے۔ آپ نے دفاعی جنگ بھی اس وقت کی جب کہ اس کے سوا کوئی اور صورت باقی نہیں رہی تھی۔ مگر جہاں تک خود اپنی طرف سے حملہ کرنے کی بات ہے تو پیغمبر نے نہ ایسا کبھی کیا اور نہ انہوں نے اس کی تعلیم دی۔
میں نے اپنی تقریر میں آغازِ اسلام کی مختصر تاریخ بتائی۔ پیغمبر اسلام کے مکی دور اور مدنی دور کا تذکرہ کیا۔ قرآن اور حدیث سے متعارف کرنے کی کوشش کی۔ اسلام کی تعلیمات کا خلاصہ پیش کیا۔ آخر میں میں نے کہا کہ اسلام کو درست طور پر سمجھنے کے لیے ضروری ہے کہ آپ اسلام اورمسلمانوں میں فرق کریں۔ آپ اسلام کو قرآن اور حدیث کی روشنی میں سمجھنے کی کوشش کریں۔ آپ ایسا ہرگز نہ کریں کہ مسلمان جو کچھ کرتے ہیں اُس کو دیکھ کر سمجھ لیں کہ اسی کا نام اسلام ہے۔
دوپہر بعد کا پروگرام سوال و جواب کے لیے تھا۔ اس میں شرکاء نے اپنے اپنے سوالات اسلام کے بارے میں پیش کیے۔ میں نے دیکھا کہ لوگ ایک سوال اور ایک جواب کے اُصول پر سختی سے کار بند ہیں۔ کسی نے بھی میرے جواب کے بعد دوبارہ سوال کرنے کی کوشش نہیں کی۔
ایک سوال یہ تھا کہ مسلمان اپنے عقیدہ کے مطابق، ہندوئوں کو کافر سمجھتے ہیں۔ ایسی حالت میں ہندوئوں اور مسلمانوں کے درمیان نارمل تعلقات کیسے قائم ہوسکتے ہیں۔ میں نے کہا کہ اسلام کی تعلیم کے مطابق، ہندو یا دوسرے مذہبی گروہ کافر نہیں ہیں، بلکہ وہ انسان ہیں۔ قرآن میں بار بار لوگوں کو خطاب کرتے ہوئے اے انسان، اور اے انسانو، کے الفاظ آئے ہیں۔ پیغمبر کے اصحاب پیغمبر کی وفات کے بعد عرب کے باہر ایشیا اور افریقہ کے مختلف ملکوں میں پھیل گئے۔ ہرجگہ اُنھوں نے یہ کیا کہ وہاں کے باشندے خود اپنے آپ کو جو نام دیے ہوئے تھے وہی نام اصحابِ پیغمبر نے بھی اُنہیں دیا۔ مثلاً مسیحی کو مسیحی، یہود کو یہود، رومی کو رومی، مجوس کو مجوس، بدھسٹ (بوذا) کو بدھسٹ، وغیرہ۔
یہی اس معاملہ میں اسلام کا طریقہ ہے۔ ہندستان میں مختلف مذہبوں کے ماننے والے لوگ بستے ہیں۔ اسلام کے مطابق، مسلمانوں پر لازم ہے کہ وہ ہرگروہ کو اُسی نام سے پکاریں، جو اُن کا اپنا اختیار کردہ نام ہے۔ مثلاً ہندو، سکھ، مسیحی، پارسی، جینی، وغیرہ۔ مسلمانوں کو ہرگز یہ حق نہیں کہ وہ ان گروہوں کو کافر کے لفظ سے پکاریں۔ یہی اس معاملہ میں اسلام کی تعلیم ہے۔
گاندھیائی سینٹر میں میری تقریر کے بعد جو سوالات ہوئے وہ زیادہ تر اسی قسم کے سوالات تھے جو دوسرے غیر مسلم اجتماعات میں کئے جاتے ہیں۔ مثلاً بابری مسجد، برقعہ، مدرسوں میں عسکری تربیت وغیرہ۔ اسی قسم کا تجربہ مجھے مسلمانوں کے اجتماعات میں بھی ہوا۔ مسلمانوں کے اجتماع میں جب میں تقریر کرتا ہوں اور اس کے بعد سوال کا وقفہ دیا جاتا ہے تو وہاں بھی زیادہ تر ایک ہی قسم کے سوالات کئے جاتے ہیں۔ مثلاً بابری مسجد، فرقہ وارانہ فساد، وندے ماترم، مسلم پرسنل لا وغیرہ۔ میں نے سوچا کہ آخر لوگ یکساں قسم کے سوالات کیوں کرتے ہیں۔ میری سمجھ میں آیا کہ اس کا راز اخبارات ہیں۔ مسلمان اور غیر مسلم دونوں اخباروں کے ذریعہ اپنی رائے بناتے ہیں۔ اخباروں میں عام طور پر جو باتیں آتی رہتی ہیں وہی باتیں ان کے ذہن میں ہوتی ہیں، اور انہی کے بارے میں وہ سوال کرتے ہیں۔ یہ طریقہ ذہنی ارتقاء کے لیے بہت بڑی رکاوٹ ہے۔
واپس اوپر جائیں

جنت کا تعارف

25 نومبر کو دوپہر بعد کے سیشن میں ڈاکٹر ہیمنت شاہ کی تقریر تھی۔ انھوں نے جین ازم کے نقطۂ نظر سے خطاب کیا۔ خطاب کے بعد سوال و جواب کا وقفہ تھا۔ انھوں نے اپنے خطاب میں یہ کہا تھا کہ پیس قائم کرنے کے لیے سب سے زیادہ ضروری چیز برداشت (restraint) ہے۔ برداشت کرنے والے کو پیس آف مائنڈ ملتا ہے جو کہ جین ازم میں انسانی ترقی کا اعلیٰ درجہ ہے۔
اس سلسلہ میں میں نے سوال کرتے ہوئے کہا کہ آپ کا یہ کہنا صحیح ہے کہ برداشت سے پیس حاصل ہوتا ہے۔ مگر سوال یہ ہے کہ کوئی برداشت کیوں کر ے۔ برداشت میں کچھ چھوڑنا پڑتا ہے۔ اور انسان چھوڑنے پر اسی وقت راضی ہوتا ہے جب کہ اس کو کوئی اس سے بڑی چیز مل رہی ہو۔ میں نے کہا کہ اسلام میں بھی صبر و برداشت کا اصول ہے۔ اسلام میں اس کا انعام یہ بتایا گیا ہے کہ ایسے آدمی کو ابدی جنت (eternal paradise)بطور انعام ملے گی۔ مگر آپ جس چیز کو انعام بتاتے ہیں وہ صرف پیس آف مائنڈ ہے۔ انسان کا نفسیاتی مطالعہ بتاتا ہے کہ آدمی صرف پیس آف مائنڈ کے نام پر اپنے مادی حقوق کو چھوڑنے پر راضی نہیں ہوتا۔ اسلام ضبط (restraint) کی زندگی کا انعام جنت کی اٹرنل ورلڈ کی شکل میں دیتا ہے۔حقیقت یہ ہے کہ اسلام میں ضبط و تحمل کی تعلیم بھی ہے، اور اسی کے ساتھ ضبط و تحمل کا محرک بھی۔ جب کہ دوسرے مذہبی یا غیر مذہبی نظاموں میں یہ ہے کہ وہ ضبط و تحمل کی تلقین تو کرتے ہیں، مگر وہ اس کے لیے کوئی محرک (incentive) پیش نہیں کرپاتے، اورمحرک کے بغیر صرف تلقین کی عملی طور پر کوئی اہمیت نہیں۔
واپس اوپر جائیں

نفرت کی نفسیات

موجودہ زمانہ میں ساری دنیا میں مسلمانوں کا حال یہ ہے کہ وہ شکایت اور احتجاج کی نفسیات میں جیتے ہیں۔ اس کا نقصان یہ ہے کہ موجودہ مسلمان دوسری قوموں کو اپنا دشمن سمجھنے لگے ہیں۔ اس منفی نفسیات کا سب سے بڑا نقصان یہ ہوا ہے کہ مسلمانوں کے اندر دعوت کا مزاج ختم ہوگیا ہے۔ دعوت ایک ایسا عمل ہے جو محبت اور خیر خواہی کی نفسیات کے تحت ظاہر ہوتا ہے۔ نفرت کی نفسیات کے تحت کبھی دعوت کا عمل ظہور میں نہیں آتا۔
عملی دعوت
ایک ہندو خاتون جو واردھا کی کانفرنس میں شریک تھیں انھوں نے کہا کہ میں یہ جاننا چاہتی ہوں کہ نماز کیسے پڑھی جاتی ہے۔ ان کا نام کوکِلّا اپادھیائے تھا۔ وہ پروفیسر ایس اے اپادھیائے کی بیوی تھیں۔ وہ بمبئی سے آئی تھیں (Tel. 23803811)
24 نومبر کی شام کو وہ میرے کمرے میں آئیں۔ میں نے وضو کیا اور ان کے سامنے دو رکعت نماز بلند آواز سے پڑھی۔ وہ بہت غور سے اس کو دیکھتی رہیں اور اس سے کافی متاثر ہوئیں۔ انھوں نے اسلام پر کتابیں پڑھنے کی خواہش ظاہر کی۔ ان کوہمارے یہاں کی چھپی ہوئی چند انگریزی کتابیں دی گئیں۔ اسی طرح اور بھی کئی لوگوں کو کتابیں دی گئیں۔ مثلاً ڈاکٹر نتین ویاس جو بڑودہ یونیورسٹی میں ڈپارٹمنٹ آف فلاسفی کے ہیڈ ہیں۔ (ماہنامہ الرسالہ ، واردھا کا سفر، جولائی2004)
واپس اوپر جائیں

سیاحت: دعوتی سفر

ایک حدیث رسول ان الفاظ میں آئی ہے: عَنْ أَبِی أُمَامَةَ، أَنَّ رَجُلًا قَالَ: یَا رَسُولَ اللَّہِ، ائْذَنْ لِی فِی السِّیَاحَةِ، قَالَ النَّبِیُّ صَلَّى اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ:إِنَّ سِیَاحَةَ أُمَّتِی الْجِہَادُ فِی سَبِیلِ اللَّہِ تَعَالَى(سنن ابو داؤ، حدیث نمبر 2486)۔ یعنی ابو امامہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے کہا: اے خدا کے رسول، مجھے سیاحت کی اجازت دیجیے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا: بیشک میری امت کی سیاحت اللہ کے راستے میں جہاد ہے۔
اس حدیث میں جہاد کا لفظ مسلح قتال کے معنی میں نہیں لیا جاسکتا۔ اس لیے کہ مسلح قتال ایک فرد کا عمل نہیں ہے، وہ ایک اجتماعی عمل ہے، جو ایک قائم شدہ حکومت کے نظم کے تحت انجام دیا جاتا ہے۔ جب کہ اس حدیث میں جس عمل کا ذکر ہے، وہ ایک انفرادی عمل ہے۔ جہاد بمعنی قتال اجتماعی عمل ہوتا ہے، نہ کہ کوئی انفرادی عمل۔
حقیقت یہ ہے کہ اس حدیث میں سیاحت سے مراد دعوتی سفر ہے۔ دعوت کی دو صورتیں ہیں۔ ایک یہ ہے کہ آدمی مقامی طور پر کسی سے مل کر اس کو توحید اور آخرت کا پیغام دے۔ دوسری صورت یہ ہے کہ آدمی سفر کرکے ایک مقام سے دوسرے مقام پر جائے، اور توحید اور آخرت کا پیغام ان غیر ہم وطنوں کو پہنچائے۔
دعوتی سفر کسی سفر کے دوران اتفاقی ملاقات کے ذریعے بھی ہوسکتا ہے۔ دوسری صورت یہ ہے کہ ایک مومن ذاتی طور پر یا اجتماعی طور پر منصوبہ بند انداز میں ایک مقام سے دوسرے مقام کا سفر کرے۔ وہ دعوتی ضرورت کے تحت تیاری کرے، اور منصوبہ بند انداز میں مقام سفر کے لوگوں تک دعوت اور آخرت کا پیغام دے، خواہ زبانی طور پر یا لٹریچر کے ذریعے یا مدعو کی زبان میں قرآن کا ترجمہ ڈسٹری بیوٹ کرنے کی صورت میں ۔سفر کے ذریعے دعوت کا دوسرا نام دعوہ آن دی موو (dawah on the move) ہے۔
واپس اوپر جائیں

مومن ایک با اصول انسان

عمر آباد سے مولانا سید اقبال احمد عمری کا پیغام موصول ہوا ہے جس میں وہ لکھتے ہیں کہ جا معہ دارالسلام عمر آباد کے سابق ناظم (پرنسپل )مولانا خلیل الرحمن اعظمی عمری کی پیدائش 2جنوری 1935کو عمر آباد میں ہوئی، اور 25 جون 2017کو ان کا انتقال ہوا۔مولانا خلیل الرحمن اعظمی عمری بہت سی خوبیوں کے مالک تھے۔ نظم و ضبط کے معاملے میں بلا مبالغہ آپ نے طلبہ کی کئی نسلوں کو متأثر کیا ہے ۔ آخری ملاقات میں ایک ساتھی نے ان سے کہا کہ شیخ آپ کی نظامت بہت سخت تھی، مولانا کا جواب تھا کہ سخت نہیں بلکہ پابند تھی۔
حدیث ،نصرت بالرعب،کا مطلب مولانا مرحوم یہ بتایا کرتے تھے کہ اس سے مراد بااصول زندگی ہے۔ اصول پسند انسان سے اکثر لوگ ہیبت میں رہتے ہیں، امت اگر اصولی طور پر معاملہ کرے تو یقیناً وہ ترقی کے میدان میں آگے بڑھ سکتی ہے۔
اصول پسندی بلاشبہ کسی انسان کی سب سے بڑی خوبی ہے۔ اصول پسندی ایک جامع اخلاقی صفت ہے۔ جس کے اندر اصول پسندی ہے، اس کے اندر تمام اخلاقی اوصاف موجودہیں۔ ایسا آدمی ایک لفظ میں قابل پیشین گوئی کردار (predictable character) کا حامل ہوتا ہے۔ اصول پسند آدمی وہ ہے، جس کے بارے میں پیشگی طور پر یہ اندازہ کیا جاسکے کہ کس صورت حال میں وہ کس طرح کا رد عمل ظاہر کرے گا۔ اصول پسند انسان جیسا اپنے لیے ہوتا ہے، ویسا ہی وہ دوسروں کے لیے بھی ہوتا ہے۔ اصول پسند انسان دوسروں کے نفع اور نقصان کو بھی اتنا ہی اہمیت دیتا ہے، جتنا خود اپنے نفع اور نقصان کو۔ اصول پسند انسان اپنے عہد کا پابند ہو تا ہے۔ اصول پسند انسان جب بولتا ہے تو سوچ کر بولتاہے، اور جب وہ کرتا ہے تو کرنے سے پہلے سوچتا ہے، پھر کرتا ہےجو اس کو کرنا ہے۔ اصول پسند انسان آخری حد تک ایک سنجیدہ انسان ہوتا ہے۔ اصول پسندی بلاشبہ مومن کا کردار ہے۔ اصول پسند انسان وہ ہے جو قولاور عمل کے تضاد سے پاک ہوتا ہے۔
واپس اوپر جائیں

سوال و جواب

سوال
یہاں ہمارے ساتھی اس بات سے منفی (negative) ہورہے ہیں کہ وہ دعوتی کام کرتے ہیں، لیکن لوگ تبدیل نہیں ہوتے ہیں۔ اس کا حل کیا ہو، اور اپنے دعوتی ساتھیوں کو کیسے سمجھایا جائے۔ (طارق بدر، پاکستان)
جواب
جو لوگ دعوت کے معاملے میں اس طرح کی منفی بات کہتے ہیں، ان کو قرآن کا مطالعہ کرنا چاہیے۔ قرآن میں نبیوں کا تذکرہ ہے۔ انبیا ء وہ لوگ ہیں، جو دعوت کا معیاری ماڈل تھے۔ انھوں نے جب لوگوں کے سامنے دعوت پیش کی تو اکثریت نے منفی رد عمل کا اظہار کیا۔ چنانچہ قرآن میں اس تجربے کو ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے: یَاحَسْرَةً عَلَى الْعِبَادِ مَا یَأْتِیہِمْ مِنْ رَسُولٍ إِلَّا کَانُوا بِہِ یَسْتَہْزِئُونَ (36:30)۔یعنی افسوس ہے بندوں کے اوپر، جو رسول بھی ان کے پاس آیا وہ اس کا مذاق ہی اڑاتے رہے۔ اس آیت کا مطلب یہ ہے کہ دعوت کے مقابلے میں منفی رد عمل کے باوجود انبیاء اپنا دعوتی کام کرتے رہے۔ انھوں نے لوگوں کی شکایت نہیں کی، اور نہ اپنا دعوتی کام چھوڑا۔ اس کا سبب یہ تھا کہ انبیاء جو دعوتی کام کرتے تھے، وہ مدعو کے لیے نہیں کرتے تھے، بلکہ اللہ کے لیے کرتے تھے۔
ہمارا عقیدہ ہے کہ انبیاء دعوت کے کام میں ماڈل کی حیثیت رکھتے ہیں۔ اس لیے جو لوگ دعوت کا کام کریں، ان کو چاہیے کہ وہ ہمیشہ اس ماڈل کو اپنے سامنے رکھیں۔مثلاً پیغمبر اسلام آخری پیغمبر ہیں۔ آپ کی مثال بتاتی ہے کہ دعوت کا ایک اصول ری پلاننگ ہے۔ مکی دور کا طریقہ موثر نہیں ہوا، تو آپ نے دعوت کا دوسرا منصوبہ بنایا، اور یہ دوسرا منصوبہ اتنا زیادہ کامیاب ہوا کہ پوری قوم نے ان کی دعوت کو قبول کر لیا۔ اس نمونے سے معلوم ہوتا ہے کہ دعوت کا ایک اصول ری پلاننگ ہے۔ اگر ایک طریقہ (method) موثر نہ ہو، تو داعی کو چاہیے کہ وہ دوسرے طریقہ کا تجربہ کرے۔ عین ممکن ہے کہ دوسرا طریقہ اللہ کی مدد سےکامیاب ثابت ہو۔  
سوال
ایک سلفی عالم نے تقریر کی کہ چند لوگوں کا منہج دعوت کلام وفلسفہ اور اسلوب عصر حاضر ہے۔ مگر سلفیوں کا استدلال وحی کے مطابق ہے۔ پھر یہ آیت پڑھی:قُلْ إِنَّمَا أُنْذِرُکُمْ بِالْوَحْیِ (21:45)یعنی کہو کہ میں بس وحی کے ذریعہ سے تم کو آگاہ کرتا ہوں، لا بالکلام ولا بالفلسفة (علم الکلام اور فلسفہ سے نہیں)۔اس پر میرا سوال یہ ہے کہ عصرحاضر کا ایک داعی اسلوب عصر کو اپناتا ہے تو کیا اس کو فلسفہ کہا جائے گا، اور اس کو وحی سے إنذار نہ کرنے کا ہم معنی قرار دیا جائے گا؟ (حافظ سید اقبال احمد عمری، تامل ناڈو)
جواب
’’وحی کے ذریعہ یا وحی کے موافق انذار‘‘ کسی مخصوص مسلک کے مطابق انذار نہیں ہے۔ اس میں سارا قرآن شامل ہے ۔ مثلاً قرآن کی ایک آیت یہ ہے:سَنُرِیہِمْ آیَاتِنَا فِی الْآفَاقِ وَفِی أَنْفُسِہِمْ حَتَّى یَتَبَیَّنَ لَہُمْ أَنَّہُ الْحَقُّ (41:53)۔ اس آیت کے مطابق، آفاق و انفس کے مطالعے سے معلوم ہونے والی تمام نشانیاں اس میں شامل ہیں۔ آپ انفس اور آفاق کا مطالعہ کریں، اور اس سے حاصل کردہ معلومات کو اپنی دعوت میں استعمال کریں تو وہ سب انذار بالوحی میں شمار ہوگا۔ اگر آپ غور کیجیے تو آفاق و انفس کی نشانیوں میں سارے ثابت شدہ علوم شامل ہوجاتے ہیں۔ انذار بالوحی کسی فقہی مسلک پر مبنی انذار نہیں ہے، بلکہ سارے حقائق فطرت اس میں شامل ہیں۔
اسی طرح قرآن کی ایک آیت یہ ہے: وَمَا أَصَابَکُمْ مِنْ مُصِیبَةٍ فَبِمَا کَسَبَتْ أَیْدِیکُمْ وَیَعْفُو عَنْ کَثِیرٍ (42:30) ۔ اس آیت کے مطابق، اگر آپ ایسا کریں کہ مسلمانوں کو نصیحت کریں کہ دوسرے کے ظلم کی شکایت کرنا چھوڑیں ۔ہر ایسے تجربے کو خود اپنے محاسبہ کے خانے میں ڈالیں تو یہ بھی انذار بالوحی ہوگا، کیوں کہ قرآن سارا کا سارا وحی ہے، اور وحی یہ بتاتی ہے کہ جو مصیبت کسی کو پیش آتی ہے، وہ اس کی اپنی ہی کمزوریوں کی بنا پر ہوتی ہے۔ ایسی حالت میں مسلمانوں کے قومی مسائل کا ذمہ دار دوسروں کو قرار دینا ، وحی کے خلاف ہے، اور مسلمانو ں کو خود اپنی اصلاح کی ترغیب دینا، وحی کے مطابق ہے۔ کیوںکہ قرآن کی یہ آیت ہم کو ایسا ہی بتار ہی ہے۔
اسی طرح قرآن کی ایک آیت یہ ہے: وَقُلْ لَہُمْ فِی أَنْفُسِہِمْ قَوْلًا بَلِیغًا (4:63)۔ یعنی اور ان سے ایسی بات کہو جو ان کے دلوں میں اتر نے والی ہو۔ اس آیت میں قول بلیغ کا مطلب یہ ہے کہ دعوت کا کام اس طرح کرو کہ پہلے مدعو کا مطالعہ کرو، مدعو کے ذہن کو سمجھو، اور پھر ایسے انداز میں اس سے بات کہو، جو اس کے ذہن کو ایڈریس کرنے والی ہو۔ قرآن کی اس آیت کے مطابق، سارے انسانی علوم دعوت میں شامل ہوجاتے ہیں۔ مدعو کی نفسیات کو جاننے کے لیے جس علم کی ضرورت ہو، وہ سب علم دعوت کا مطلوب علم بن جاتا ہے۔ داعی کی یہ ذمہ داری بن جاتی ہے کہ وہ حسب استطاعت ہر اس علم سے واقفیت حاصل کرے، جو مدعو کو مطمئن کرنے والا ہو،حتی کہ حدود کے اندر کلام اور فلسفہ اور عصری اسلوب بھی۔
قرآن کی ایک آیت یہ ہے:وَلَا تَسُبُّوا الَّذِینَ یَدْعُونَ مِنْ دُونِ اللَّہِ فَیَسُبُّوا اللَّہَ عَدْوًا بِغَیْرِ عِلْمٍ (6:108)۔ قرآن کی اس آیت میں یہ حکم دیا گیا ہے کہ ایسی بات نہ کہو، جو مدعو کو مشتعل کرنے والی ہو۔ اس آیت کے مطابق، ہم کو بہت زیادہ محتاط زبان میں کلام کرنا چاہیے۔ اشتعال دلانے والا کلام (provocative speech) سے مکمل احتراز کرنا چاہیے۔ اگر غور کیجیے تو آج کل مسلمانوں کا سارا لکھنے اور بولنے والا طبقہ مدعو کے خلاف لکھنے اور بولنے میں مصروف ہے۔ اس لیے ضرور ی ہے کہ لوگوں کو بتایا جائے کہ تمھیں اس آیت کے مطابق، لکھنا اور بولنا چاہیے۔
انذار بالوحی کسی محدود اسلوب کلام کا نام نہیں ہے۔ اس میں سارا قرآن، ساری حدیث، ساری سنت شامل ہے۔ اس کے مطابق مسلم رہنماؤں کو چاہیے کہ وہ جدال احسن کا طریقہ اختیار کریں (النحل، 16:125)۔ وہ مناظرہ بازی کو بالکل ختم کردیں۔ وہ عادلانہ کلام کا طریقہ اختیار کرے، وہ عدل کے خلاف ہر گز نہ جائے(المائدہ، 5:8)، الغاء فی الکلام نہ کریں(فصلت، 41:26)، یعنی عیب زنی کا طریقہ اختیار نہ کریں۔ اس طرح کی سینکڑوں باتیں ہیں، جو انذار بالوحی میں شامل ہیں۔ جب کہ مسلمان عام طور پر اس کے خلاف طریقہ اختیار کیے ہوئے ہیں۔ اس لیے ان تمام باتوں کے لیے مسلمانوں کو نصیحت کرنا انذار بالوحی میں شامل ہے۔
سوال
انسان کے اندر گویا ایک پیمانہ رکھ دیا گیا ہےجس کو ہم ضمیر کہتے ہیں جس کے ذریعے وہ اچھائی اور برائی میں تمیز کر سکے۔ یہاں پر یہ بات سمجھ آتی ہے کہ عام حالات میں اپنے عمل کا ذمہ دار خود انسان ہے، اور نتیجہ کے طور پر جزا اور سزا کا حق دار بھی۔ دوسرا ہے عقیدہ کا معاملہ, جو انسان کو اکثر وراثت اور ماحول سے ملتا ہے۔اسلام میں ہم کو بتایا جاتا ہے کہ ان معاملات میں جن کے اندر انسان کو تمیز حاصل ہے، ہوسکتا ہے اس کی غلطی پر اس کو معاف کردیا جائے، اور وہیں عقیدہ کے معاملہ میں جہاں کسی طرح کے شکوک کا سامنا ہے یہ کہا جاتا ہے کہ اس کو رعایت نہیں دی جائے گی۔ کیا کچھ غیر مناسب نہیں لگتا۔ (ایک قاریٔ الرسالہ، ممبئی)
جواب
یہ سوال ایک غلط مفروضہ پر قائم ہے۔ سوال میں کہا گیا ہے کہ عقیدہ کا معاملہ انسان کو اکثر وراثت اور ماحول سے ملتا ہے۔یہ جملہ ایک غلط بنیاد پر قائم ہے۔ عقیدہ کا معاملہ ہرگز وراثت اور ماحول کا معاملہ نہیں ہے، بلکہ وہ سنجیدہ غور و فکر کے بعد حاصل ہونے والے یقین کا معاملہ ہے۔ آدمی کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ ہر قسم کی کوشش کے ذریعہ اپنے عقیدہ کو درست بنائے۔ کیوں کہ اللہ کے یہاں صرف درست عقیدہ ہی قبول کیا جائے گا۔ غلط عقیدہ اللہ کے یہاں قابل قبول نہ ہوگا۔
آپ کا یہ جملہ بھی درست نہیں ہے کہ ان معاملات میں جن کے اندر انسان کو تمیز حاصل ہے، ہوسکتا ہے اس کی غلطی پر اس کو معاف کردیا جائے۔ حقیقت یہ ہے کہ کسی غلطی کی معافی اپنے آپ نہیں ہوجاتی، کسی غلطی کی معافی صرف اس وقت ہوتی ہے، جب کہ آدمی کو اس پر ندامت (repentance) ہو، وہ دل سے توبہ کرے۔ وہ اپنی زندگی کے لیے نیا فیصلہ لے۔ اس کو قرآن میں توبۂ نصوح (التحریم، 66:8) کہا گیا ہے۔ توبۂ نصوح کے بغیرغلطی ، غلطی ہی رہے گی۔ توبۂ نصوح کے بغیر ہرگز کوئی غلطی معاف نہ ہوگی۔
سوال
ایک صاحب اپنے بارے میں لکھتے ہیں:مزاج کاملیت پسند ہے، جو جذباتی نقصان ہوگیا، دل آج تک اسی میں پھنسا ہوا ہے۔ کچھ اسباب کی بنا پر معاشرے میں جو مل رہا ہے، وہ دل سے قبول تو نہیں، لیکن کیا صبر کرکے جو مل رہا ہے اس پر گزارا کیا جائے، یہ سوچ کر کہ جو ملا ہے وہ اسی دنیا تک ہے۔ اور من پسند چیز آخرت میں ملے گی۔ (ایک قاری الرسالہ، پاکستان)
جواب
آپ نے جس تجربے کا ذکر کیا ہے، اس کا تعلق آخرت سے یا جنت سے نہیں ہے۔ اس کا تعلق صرف دنیا کے بارے میں قانونِ فطرت سے ہے۔ موجودہ دنیا کا معاملہ یہ ہے کہ ہر آدمی پیدائشی طور پر حوصلہ مند (ambitious)پیدا ہوتا ہے۔ لیکن اس عارضی دنیا میں محدودیت (limitations) کا قانون ہے۔ اس لیے یہاں ہر شخص کو اس کے اپنے حوصلے کی نسبت سے کم ملتا ہے۔ تاریخ میں کوئی بھی شخص ایسا پایا نہیں جاتا، جس نے اپنے حوصلے کے بقدر دنیا کو حاصل کیا ہو۔
اس حقیقت کی بناپر اس دنیا میں انسان کے لیے دانشمندی یہ ہے کہ وہ — حقیقت پسند بنے، یعنی زیادہ چاہے، مگر کم پر راضی ہوجائے۔ موجودہ دنیا کا یہ قانون قرآن میں اس طرح بیان کیا گیا ہے۔ اس آیت کے الفاظ یہ ہیں:وَلَنَبْلُوَنَّکُم بِشَیْءٍ مِّنَ الْخَوْفِ وَالْجُوعِ وَنَقْصٍ مِّنَ الْأَمْوَالِ وَالْأَنفُسِ وَالثَّمَرَاتِ ۗ وَبَشِّرِ الصَّابِرِینَ (2:155)۔ یعنی اور ہم ضرور تم کو آزمائیں گے کچھ ڈر اور بھوک سے اور مالوں اور جانوں اور پھلوں کی کمی سے۔ اور ثابت قدم رہنے والوں کو خوش خبری دے دو ۔
یہ آیت موجودہ دنیا کے مادی قانون کو بتا رہی ہے۔ اس دنیا میں ایسا ہوگا کہ یہاں انسان کو مختلف پہلوؤں سے نقصان کا تجربہ ہوگا۔ کسی شخص کے لیے اس دنیا میں نقصان سے بچنا ممکن نہیں، نہ صالح لوگوں کے لیے ،اور نہ غیر صالح لوگوں کے لیے۔ایسی حالت میں انسان کے لیے صرف ایک چوائس ہے، اور وہ صبر ہے۔ صبر کوئی بزدلی کی بات نہیں۔ صبر دانش مندی کی بات ہے۔ صبر کا مطلب ہے، اپنی زندگی کی منصوبہ بندی ملے ہوئے پر کرنا، اور جو نہیں ملا اس کو خدا کی اسکیم آف تھنگس (scheme of things) کے خانے میں ڈال دینا ہے۔ یعنی جو ملا اس کو اپنا سمجھنا، اور جو نہیں ملا اس کے بارے میں اس اصول پر راضی ہوجانا کہ وہ خدا کا فیصلہ تھا، اور خدا کے فیصلے کو کوئی بدل نہیں سکتا۔
سوال
میں خدا سے کوئی قلبی تعلق محسوس نہیں کرتا، صرف جنت کی لالچ یا جہنم کا خوف مجھے عبادت کی جانب مائل کرتا ہے۔ اسی طرح میرا یہ سوال بھی ہے کیا اچھے اعمال کی بنیاد پر صرف جنت ملے گی، دنیا میں جو آرزوئیں ادھوری رہ گئی تھیں، وہ نہیں ملیں گی۔( جہانزیب کمال، کراچی)
جواب
پہلے سوال کا جواب یہ ہے کہ آپ جو بات کہہ رہے ہیں وہ انسانی نفسیات کے خلاف ہے۔ اس لیے مجھے شک ہے کہ آپ نے خود اپنے آپ کو دریافت نہیںکیا۔ اللہ رب العالمین اور جنت دونوں کو ماننا ایک دوسرے سے متعلق ہیں۔ جو آدمی اللہ رب العالمین کا طالب ہو گا، وہ اسی کے ساتھ جنت کا طالب بھی بن جائے گا۔ دونوں عقیدے ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں۔ جنت کا طالب ہونا، اور خدا سے بے تعلق ہونا دو متضاد حالتیں ہیں۔ کیوں کہ جنت ایک مطلوب چیز ہے، اور اس مطلوب کو دینے والا (giver) صرف اللہ رب العالمین ہے۔ ایسی حالت میں بالکل فطری بات ہے کہ آپ دونوں کو لیں،یا دونوں کو چھوڑ دیں۔
دوسرے سوال کا جواب یہ ہے کہ جنت ان افراد کے لیے ہے جو اپنے آپ کو اس کا مستحق ثابت کریں۔ جو افراد اپنے اندر جنتی شخصیت بنائے، وہی جنت میں بسائے جانے کے قابل ٹھہریں گے۔ یہ مبہم قسم کے اعمال کا معاملہ نہیں ہے، بلکہ اپنی شخصیت کی تعمیر کا معاملہ ہے۔
دنیا کی آرزوئیں پوری ہوئیں یا نہیں ۔ یہ اصل مسئلہ نہیں ہے، اصل مسئلہ یہ ہے کہ کسی آدمی نے جنت کے معیارکے مطابق اپنے آپ کو مستحق امیدوار (deserving candidate) بنایا یا نہیں بنایا۔ جنت میں جو افراد داخل کیے جائیں گے، وہ کبھی اس احساس سے دوچار نہ ہوں گے کہ اس کی فطری آر زوئیں پوری نہیں ہوئیں۔کیوں کہ جنت میں جو اعلیٰ معیار کی نعمتیں ملیں گی، اس میں وہ پوری طرح اس کے خواہش کی تکمیل موجودہوگی۔
õõõõõ
ایک نوجوان عالم دین، محمد طلحہ ندوی(بجنور) 26 مارچ 2019کو صدر اسلامی مرکز سےملنے کے لیے ان کے آفس میں آئے ، اور نصیحت کی درخواست کی، تو صدر اسلامی مرکز نے ان کو یہ نصیحت کی
(1) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث کے مطابق آپ ٹھہر ٹھہر کر بولنا سیکھیں، کبھی تیز تیز نہ بولیں، تاکہ سننے والا ہر بات کو پکڑتا چلاجائے، یہی طریقہ رسول اللہ کا تھا أَنَّ النَّبِیَّ صَلَّى اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، کَانَ یُحَدِّثُ حَدِیثًا لَوْ عَدَّہُ العَادُّ لَأَحْصَاہُ(صحیح البخاری، حدیث نمبر3567؛ صحیح مسلم، حدیث نمبر2493)۔ یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کوئی بات اس طرح بولتے تھےکہ اگر کوئی گننے والا گننا چاہتا تو شمار کرلیتا۔
(2) سیاسی مسائل، اور شکایت کے مسائل اور دینی اختلاف کے مسائل پر بولنا بالکل چھوڑ دیں،ان کو ممنوعات کلام میں شمار کریں۔اگر آپ نے ان دونصیحتوں پر عمل کیا، تو ان شاء اللہ، آپ ایک نئے انسان بن جائیں گے۔
نوٹ ہر انسان کو اس کے خالق نے کسی خاص صلاحیت کے ساتھ دنیا میں بھیجا ہے۔ انسان کو چاہیے کہ وہ اپنے اس عطیۂ الٰہی کو دریافت کرے، اور اس کو منصوبہ بند انداز میں استعمال کرے۔
واپس اوپر جائیں

Wednesday, 1 May 2019

Al Risala | May 2019 (الرسالہ،مئی)

4

-معرفت حق

5

- خدا کی معرفت

6

- افضل ایمان

7

- حبّ شدید صرف اللہ سے

8

- حمد خداوندی

9

- توحید کا مقام

10

- ذکر کثیر کیا ہے

11

- سجدہ ذریعۂ قربت

12

- انسان کے لیے سبق

13

- شکر کا آئٹم

14

- ایمان بالغیب

15

- ایمان باللہ

16

- اقشعرار کیا ہے

17

- اسمِ اعظم

19

- جنت، جنت

20

- جنت کس کے لیے

21

- خالق اور مخلوق

22

- خدا اور انسان

23

- خدا کا وجود

24

- انسان کی تخلیق

26

- ایمان کا ذائقہ

28

- خدا کی پہچان

30

- خدا کی دریافت

35

- عجز کا اصول

37

- خوف کی نفسیات

38

- حکمت کا سر چشمہ

39

- فوق الفطری حکم

41

- عارف انسان

43

- معرفت کا سفر

44

- مومن کون

45

- مسخر کائنات

45

- پرزنس آف گاڈ

47

- تخلیق میں تنوع

48

- ربانی شخصیت

49

- اللہ کا تخلیقی منصوبہ

50

- زندہ شخصیت


معرفت حق

قرآن میں ایک گروہ کے قبول اسلام کا ذکر کیا گیا ہے، اس کے الفاظ یہ ہیں:وَإِذَا سَمِعُوا مَا أُنْزِلَ إِلَى الرَّسُولِ تَرَى أَعْیُنَہُمْ تَفِیضُ مِنَ الدَّمْعِ مِمَّا عَرَفُوا مِنَ الْحَقِّ یَقُولُونَ رَبَّنَا آمَنَّا فَاکْتُبْنَا مَعَ الشَّاہِدِینَ ۔ وَمَا لَنَا لَا نُؤْمِنُ بِاللَّہِ وَمَا جَاءَنَا مِنَ الْحَقِّ وَنَطْمَعُ أَنْ یُدْخِلَنَا رَبُّنَا مَعَ الْقَوْمِ الصَّالِحِینَ (5:83-84)۔ یعنی اور جب انھوں نےاس کلام کو سنا، جو رسول پر اتارا گیا ہے تو تم دیکھو گے کہ ان کی آنکھوں سے آنسو جاری ہوگئے، اس سبب سے کہ انھوں نے حق کو پہچان لیا۔ وہ پکار اٹھے کہ اے ہمارے رب ہم ایمان لائے۔ پس تو ہم کو گواہی دینے والوں میں لکھ لے۔
قرآن کیا ہے۔ قرآن فطرت انسانی کا بیان ہے۔ جو لوگ اس فطرت کو زندہ رکھیں، جو حق کے متلاشی ہوں، جو تخلیق خداوندی میں غور کرنے والے ہوں، ان کی فطرت زندہ فطرت ہوتی ہے۔ وہ جب اللہ کے کلام کو سنتے ہیں، تو وہ ان کو اپنے دل کی آواز معلوم ہوتا ہے۔ وہ اللہ کے کلام میں اپنے فطرت کی آواز سن لیتے ہیں۔ ان کو اللہ کا کلام اپنی فطرت کا کاؤنٹر پارٹ (counterpart) نظر آتا ہے۔ اللہ کا کلام ان کے لیے سچائی کی دریافت بن جاتا ہے۔ معرفت کے اس تجربے کا ذکر قرآن کی ایک اور آیت میں اس طرح کیا گیاہے۔
اس آیت کا ترجمہ یہ ہے: اللہ آسمانوں اور زمین کی روشنی ہے۔ اس کی روشنی کی مثال ایسی ہے جیسے ایک طاق اس میں ایک چراغ ہے۔ چراغ ایک شیشہ کے اندر ہے۔ شیشہ ایسا ہے جیسے ایک چمک دار تارہ۔ وہ زیتون کے ایک ایسے مبارک درخت کے تیل سے روشن کیا جاتا ہے جو نہ شرقی ہے اور نہ غربی۔ اس کا تیل ایسا ہے گویا آگ کے چھوئے بغیر ہی وہ خود بخود جل اٹھے گا۔ روشنی کے اوپر روشنی۔ اللہ اپنی روشنی کی راہ دکھاتا ہے جس کو چاہتا ہے۔ اور اللہ لوگوں کے لئے مثالیں بیان کرتا ہے۔ اور اللہ ہر چیز کو جاننے والا ہے (24:35) - سچائی کی اسی دریافت کا نام معرفت ہے۔ جو لوگ اس معرفت پر کھڑے ہوجائیں ، وہ اللہ کے مومن بندے ہیں۔
واپس اوپر جائیں

خدا کی معرفت

انسان پیدائشی طور پر ایک متلاشی (seeker)انسان ہے۔ اس کی تلاش کا اصل مرکز صرف ایک ہے، اور وہ ہے اپنے خالق کو دریافت کرنا۔ انسان جب اپنے آپ کو دیکھتا ہے، اور اپنے آس پاس کی دنیا کو دیکھتا ہے تو ہر طرف اس کو تخلیق کے کرشمے دکھائی دیتے ہیں۔ اس کے اندر فطری طور پر یہ سوچ جاگ اٹھتی ہے کہ میرا اور اس دنیا کا خالق کون ہے، اور اس سے میرا تعلق کیا ہے۔
آپ ایک کھلے میدان میں کھڑے ہوں تو آپ کو بے شمار چیزیں دکھائی دیں گی۔ آپ دیکھیں گے کہ آپ کے اوپر سورج چمک رہا ہے، چاروں طرف آپ کے لیےہرے بھرے درخت اُگے ہوئے ہیں۔ آپ کو مسلسل طور پر آکسیجن سپلائی کیا جارہا ہے، جو آپ کے لیے زندگی بخش سانس کا ذریعہ ہے۔ آپ دیکھیں گے کہ دریاؤں اور سمندروں میں آپ کے لیےپانی کے بھاری ذخیرے موجود ہیں۔ آپ کو نظر آئے گا کہ زمین (soil) آپ کے لیے بڑی مقدار میں اناج اور پھل اُگارہے ہیں۔ آپ دریافت کریں گے کہ پوری یونیورس آپ کے لیے ایک کسٹم میڈ یونیورس (custom-made universe) ہے، وغیرہ۔
غور و فکر کے ذریعے آپ جانیں گے کہ اس دنیا میں کوئی ہے، جو دینے والا (giver) ہے۔ سارے انسان اس کے مقابلے میں لینے والے (taker) کی حیثیت رکھتے ہیں۔ انسان کے اپنے وجود سے لے کر باہر کی پوری دنیا تک ہر چیز آپ کو اسی حقیقت کی گواہی دیتی ہوئی نظر آئے گی۔ یہ معرفت کا آغاز ہے۔ اس طرح کے تجربے کے دوران آخر کار آپ اللہ رب العالمین کو دریافت کرتے ہیں۔ یہ دریافت آپ کے وجود کا سب سے بڑا حصہ بن جاتی ہے۔ یہ دریافت آپ کے لیےماسٹر اسٹروک ثابت ہوتی ہے۔یہ دریافت آپ کی سوچ کو بدل دیتی ہے۔ آپ کے اندر پورے معنوں میں خدا رخی فکر پیدا ہوتی ہے۔ آپ کی ہر بات میں اللہ کی محبت اور اللہ کا خوف پیدا ہوجاتا ہے۔ آپ کے اندر ایک نیا ذہن جاگ اٹھتا ہے، جس کو عارفانہ ذہن کہتے ہیں -اسی کا نام معرفت خداوندی ہے۔
واپس اوپر جائیں

افضل ایمان

ایک حدیث رسول ان الفاظ میں آئی ہے:عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ قَالَ:قَالَ رَسُولُ اللَّہِ صَلَّى اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ:إِنَّ أَفْضَلَ الْإِیمَانِ أَنْ تَعْلَمَ أَنَّ اللَّہَ مَعَکَ حَیْثُمَا کُنْتُ (المعجم الاوسط للطبرانی، حدیث نمبر 8796)۔ یعنی عبادہ بن الصامت سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا: بیشک افضل ایمان یہ ہے کہ تم یہ جانو کہ یقیناً اللہ تمھارے ساتھ ہے، تم جہاں بھی ہو۔
اس حدیث میں علم کا لفظ آیا ہے۔ یہاں علم سے مراد معرفت ہے۔ ایسی معرفت کسی انسان کو کیسے حاصل ہوتی ہے۔ وہ اس ایمان کے ذریعے حاصل ہوتی ہے، جو آدمی کو دریافت (discovery) کے ذریعے حاصل ہوا ہو۔ جب ایک آدمی غور و فکر کی زندگی اختیار کرتا ہے۔ وہ دنیا میں اس طرح زندگی گزارتا ہے کہ اللہ کی تخلیقات میں برابر سوچتا رہتا ہے۔ اس کا ایمان صرف عقیدہ نہیں ہوتا، بلکہ وہ اس کے لیے تدبر (contemplation) بن جاتاہے۔اس تدبرسے اس کو برابر تخلیقات میں اللہ کے وہ کرشمے دریافت ہوتے رہتے ہیں، جن کو قرآن میں آلاء اللہ کہا گیا ہے۔یہی وہ دریافتیں ہیں، جو ایک مومن انسان کو عارف انسان بنادیتی ہے۔
اس معرفت کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ وہ ہر لمحہ اللہ کی یاد میں جینے لگتا ہے۔ اس کو ہر لمحہ اللہ کی موجودگی (presence) کا تجربہ ہوتا رہتا ہے۔ اس کو محسوس ہوتا ہے کہ وہ برابر اللہ کے ساتھ ہے، اور اللہ اس کے ساتھ ہے۔ افضل ایمان کا مطلب دوسرے لفظوں میں یہ ہے کہ اللہ کےنزدیک مطلوب ایمان۔ اللہ کا مطلوب ایمان یہ نہیں ہے کہ آدمی تلفظ کے صحت کے ساتھ کلمہ کے الفاظ کو اپنی زبان سے ادا کرلے۔ بلکہ اللہ کا مطلوب ایمان یہ ہے کہ آدمی ایمان کی معنوی حقیقت میں جینے لگے۔ ایمان اس کے لیے حدیث کے الفاظ میں ذائقہ (taste)بن جائے (صحیح مسلم، حدیث نمبر34)۔ ایمان اس کے لیے غذا کا درجہ حاصل کرلے۔ ایمان اس کے لیے روحانی توانائی (spiritual energy) کی حیثیت اختیار کرلے۔
واپس اوپر جائیں

حبّ شدید صرف اللہ سے

قرآن میں مومن کا یہ معیار بتایا گیا ہے کہ مومن وہ ہے، جس کو اللہ رب العالمین سے حب شدید کا تعلق قائم ہوجائے:(ترجمہ) کچھ لوگ ایسے ہیں جو اللہ کے سوا دوسروں کو اس کا برابر (equal) ٹھہراتے ہیں۔ وہ ان سے ایسی محبت رکھتے ہیں جیسی محبت اللہ سے رکھنا چاہیے۔ اور جو اہل ایمان ہیں، وہ سب سے زیادہ اللہ سے محبت کرنے والے ہیں (2:165)۔ یہ حب شدید اس طرح پیدا نہیں ہوتا کہ آدمی صحت مخارج کے ساتھ کلمہ پڑھ لے۔ بلکہ حب شدید معرفت شدید کی بنیاد پر وجود میں آتا ہے۔ آدمی جب اللہ رب العالمین کو اس طرح دریافت کرے کہ اس کے اندر اپنے رب سے نہایت گہرا تعلق پیدا ہوجائے۔ اس کے اندر اللہ کے سوا کسی اور سے گہرا قلبی تعلق باقی نہ رہے۔ اس کو صرف اللہ سے محبت ہو، اور صرف اللہ سے خوف ہو۔ اسی گہرے تعلق باللہ کا نام حب شدید ہے۔
حب شدید کیا ہے، اس کا تجربہ مجھے ایک واقعہ سے ہوا۔ میں ایک صاحب کے پاس بیٹھا ہوا تھا۔ وہ نارمل انداز میں مجھ سے بات کر رہے تھے۔ اس وقت ان کے بیٹے کا ٹیلیفون آگیا، جو باہر کے ملک میں رہتا تھا۔ باپ کی حیثیت سے ان کو اپنے بیٹے سے نہایت گہرا تعلق تھا۔ جب انھوں نے ٹیلیفون اٹھایا ، اور بیٹے سے بات کرنے لگے تو میں نے دیکھا کہ وہ بار بار’’ہاں میرے بیٹے، ہاں میرے بیٹے‘‘ کہہ رہے تھے۔ اس وقت وہ کرسی پر بیٹھے ہوئے تھے۔ میں نے دیکھا کہ شدت جذبات کے تحت وہ کرسی سے اٹھ کر کھڑے ہوگئے ہیں، اور کھڑے ہوکر اپنے بیٹے سے بات کرنے لگے۔ بظاہر ایسا معلوم ہوتا تھا کہ اس وقت وہ صرف اپنے بیٹے کو جانتے ہیں۔ وہ بھول گئے ہیں کہ ان کے سوا کوئی اور بھی ان کے پاس موجود ہے۔ محبت کا یہی وہ درجہ ہے، جس کو حضرت مسیح نے ان الفاظ میں بیان کیا ہے- خداوند اپنے خدا سے، اپنے سارے دل، اور اپنی ساری جان اور اپنی ساری عقل سے محبت رکھ:
You shall love the Lord your God with all your heart, and with all your soul, and with all your mind. (Matthew 22:37)
واپس اوپر جائیں

حمد خداوندی

قرآن کی پہلی آیت یہ ہے:الْحَمْدُ لِلَّہِ رَبِّ الْعَالَمِینَ (1:1)۔ یعنی سب تعریف اللہ کے لئے ہے جو سارے جہان کا مالک ہے۔ اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ رب العالمین نے انسان کو جو نعمتیں (blessings)دی ہیں، ان کے جواب میں انسان سے کیا رسپانس مطلوب ہے۔ یہ حمد کا رسپانس ہے۔ حمد کا مطلب شکر اور تعریف کے الفاظ میں بیان کیا جاتا ہے۔ مگر انسانی استعمال کے اعتبار سے شاید زیادہ بامعنی لفظ ہےاعتراف (acknowledgement)۔ یعنی ان نعمتوں کو دریافت کرنا، اور دل کے سچے جذبہ کے ساتھ ان کا اعتراف کرنا۔
اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ زبان سے شکر یا تعریف کا لفظ بول دیا جائے۔ اعتراف کا آغاز دریافت (discovery) سے ہوتا ہے۔ پہلے انسان ان نعمتوں کو دریافت کرتا ہے، اس کے بعد اس کے دل میں اعتراف کا جذبہ امڈتا ہے، اور پھر ان وفور جذبات کا اظہار مختلف الفاظ کی صورت میں بے ساختہ طور پر اس کی زبان سے نکل پڑتا ہے۔ گویا شکر وہ ہے، جس کے اندر گہرے جذبات کا طوفان شامل ہو۔ شکر وہ ہے، جو دل کو تڑپادے، جو آنسوؤں کی صورت میں امڈ پڑے۔ شکر وہ ہے، جس کے اندر انسان کی پوری شخصیت شامل ہوجائے۔
شکر یہ نہیں ہے کہ زبان سے کچھ الفاظ بول دیے جائیں۔ شکر گہرے اعتراف کا دوسرا نام ہے۔ ایک شاعر نے ایک گہرے جذبے کا ذکر کرنا چاہا، تو اس کی زبان سے یہ الفاظ نکلے:
اس بات کے کہنے کو کہاں سے جگر آئے
حقیقت یہ ہے کہ سچا اعتراف وہ ہے، جس کے احساس سے آدمی کا دل پھٹنے لگے، جس کو بیان کرنے کے لیے انسان کی ڈکشنری کے الفاظ ناکافی نظر آئیں۔ سچا اعتراف انسان کی پوری شخصیت کا اظہار ہوتا ہے۔سچے اعتراف میں آنکھ کے آنسو، اور زبان کے الفاظ اس طرح ایک دوسرے میں شامل ہوجاتے ہیں کہ ان کو الگ کرنا ناممکن ہوجاتا ہے۔
واپس اوپر جائیں

توحید کا مقام

ایک حدیث رسول ان الفاظ میں آئی ہے:عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ:قَالَ رَجُلٌ لِلنَّبِیِّ صَلَّى اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ:مَا شَاءَ اللہُ وَشِئْتَ۔قَالَ:جَعَلْتَ لِلَّہِ نِدًّا بَلْ مَا شَاءَ اللہُ وَحْدَہُ (المعجم الکبیر للطبرانی، حدیث نمبر 13005)۔ یعنی ایک آدمی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا، جو اللہ چاہے اور جوآپ چاہیں۔ یہ سن کر آپ نے کہا: کیا تو نے مجھے اللہ کے برابر کردیا۔ بلکہ جو اللہ اکیلا چاہے۔
ند کا معنی ہے برابر (equal)۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ اللہ کی عظمت اتنی زیادہ ہے کہ کوئی ہستی کسی ادنی پہلو سے بھی اس کے ہمسر نہیں ہوسکتی۔ جو آدمی اللہ کی غیر مشترک عظمت کا حقیقی شعور رکھتا ہو، وہ اس معاملے میں اتنا زیادہ حساس ہوگا کہ وہ اللہ کے ساتھ کسی کو ضمیر (pronoun)کی شکل میں بھی برابر کرنا گوارا نہیں کرسکتا۔ قرآن کی مختلف آیتوں میں اللہ کی عظمت کا بیان ہوا ہے، مثال کے طور پر آیۃ الکرسی (البقرۃ، 2:255) ۔ آپ آیۃ الکرسی کو سمجھ کر پڑھیں تو آپ کا دل دہل اٹھے گا۔ مثلاً اللہ کی عظمت کے بارے میں آیۃ الکرسی کے ان الفاظ کو پڑھیے -وَسِعَ کُرْسِیُّہُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ:
His throne extends over the heavens and the earth.
زمین و آسمان ناقابل قیاس حد تک وسیع ہے۔ اس عظیم کائنات کو اللہ رب العالمین ہر لمحہ سنبھالے ہوئے ہے۔اسی حقیقت کو قرآن میں ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے:یَسْأَلُہُ مَنْ فِی السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ کُلَّ یَوْمٍ ہُوَ فِی شَأْنٍ(55:29)۔ یعنی اسی سے مانگتے ہیں جو آسمانوں اور زمین میں ہیں۔ ہر روز اس کا ایک کام ہے۔
یہ معاملہ عقل کو چکرانے (mind-boggling)کی حد تک عظیم ہے۔ ایک اردو شاعر نے 1857 ء میں دلی کی بربادی کویاد کرتے ہوئے یہ کہا تھا:
اس بات کو کہنے کے لیے کہاں سے جگر آئے
اللہ رب العالمین کی عظمت کے بارے میں یہ بات بے شمار گنا حد تک بڑی ہے۔
واپس اوپر جائیں

ذکر کثیر کیا ہے

قرآن کی کئی آیتوں میں کہا گیا ہے کہ اللہ کا ذکر کثیر کرو۔ مثلا یَا أَیُّہَا الَّذِینَ آمَنُوا اذْکُرُوا اللَّہَ ذِکْرًا کَثِیرًا (33:41)۔ یعنی اے ایمان والو، اللہ کو بہت زیادہ یاد کرو۔ اللہ کے ذکر کثیرکا مطلب یہ نہیں ہے کہ زبان سے بار بار اللہ اللہ دہراؤ، یا بار بار زبان سے اس طرح کے الفاظ بولو کہ الحمد للہ، سبحان اللہ، ماشاءاللہ، وغیرہ۔
اللہ کے ذکر کثیر کا مطلب مخصوص الفاظ کی تکرار نہیں ہے۔ بلکہ اس کا مطلب معنوی اعتبار سے اللہ بار بار عارفانہ رسپانس (realized response) دینا ہے۔ یہ معرفت کا ایک کلمہ ہے، نہ کہ حروف تہجی کے کچھ کلمات کی لفظی تکرار۔ ایک حدیث سے اس مفہوم کی تائید ہوتی ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اہلیہ ، عائشہ آپ کے بارے میں فرماتی ہیں:کَانَ النَّبِیُّ صَلَّى اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَذْکُرُ اللہَ عَلَى کُلِّ أَحْیَانِہِ(صحیح مسلم، حدیث نمبر 373)۔یعنی نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہر وقت اللہ کو یاد کرتے تھے۔اس کا مطلب یہ ہے کہ ہر موقع (occasion) پر آپ کو اللہ کی یاد آئے۔ ہر تجربہ آپ کے لیے ایک پوائنٹ آف ریفرینس بن جائے، جس کو لے کر آپ اللہ کو بار بار یاد کرتے رہیں۔ ذکر اللہ کی معرفت کی بنیاد پر زبان سے جاری ہونے والا ایک کلمہ ہے، وہ الفاظ کی تکرارنہیں ۔
مثلاً آپ رات کو بستر پر گئے، اور آپ کو نیند آگئی ۔ اس وقت آپ کو یہ یاد آیا کہ اللہ نے نیند کی صورت میں کیسی عجیب نعمت عطا کی ہے کہ دن بھر کی تکان کے بعد انسان سوجاتا ہے، اور پھر وہ صبح کو تازہ دم ہوکر اٹھتا ہے۔ اسی طرح رات کے وقت آپ کو اندھیرے کا تجربہ ہوا ، پھر صبح ہوئی ، اور دوبارہ روشن سورج نکل آیا۔ اس وقت آپ کو یاد آیا کہ اللہ نے سورج کی شکل میں کتنی بڑی نعمت انسان کو دی ہے۔ ذکر کثیر در اصل ذہنی ارتقا (intellectual development) کا نتیجہ ہے۔ اگر آپ کا ذہن ایک عارفانہ ذہن (realized mind) ہوتو زندگی کا ہر تجربہ آپ کو اللہ کی یاد دلائے گا، اور آپ اللہ کا اعتراف مختلف عارفانہ ذہن کے ساتھ کرتے رہیں گے۔ یہی ہے اللہ کا ذکر کثیر۔
واپس اوپر جائیں

سجدہ ذریعۂ قربت

قرآن میں ایک آیت ان الفاظ میں آئی ہے:کَلَّا لَا تُطِعْہُ وَاسْجُدْ وَاقْتَرِبْ (96:19)۔ یعنی ہرگز نہیں، اس کی بات نہ مان اور سجدہ کر اور قریب ہوجا۔ قرآن کی اس آیت میں سجدہ سے مراد اس کا فارم نہیں ہے، بلکہ اس سے مراد وہ سجدہ ہے، جو سجدہ کی اسپرٹ سے بھرا ہوا ہو۔ سجدہ ایک علامتی فعل ہے۔ سجدہ کسی بندہ کی طرف سے اس بات کی علامت ہے کہ وہ آخری حد تک یکسو ہو کر اللہ کو یاد کرنے والا بن گیا ہے۔ اس نے آخری حد تک اپنے آپ کو اللہ کی طرف متوجہ کر لیا ہے۔ سجدہ اس بات کا عملی عزم ہے کہ بندہ اپنی یکسوئی میں کسی بھی بات سے ڈسٹریکٹ ہونے والا نہیں۔
لا تطعہ (اس کی اطاعت نہ کرو)- یہاں اطاعت کا لفظ شدتِّ اظہارکے معنی میں ہے۔ وہ بندہ کے اس عزم کو بتاتا ہے کہ بندہ اس حد تک یکسو ہو چکا ہے کہ اللہ کے معاملے میں کوئی شیطانی وسوسہ یا کسی انسان کی غوغا آرائی اس کو ڈسٹریکٹ کرنے والی نہیں ۔ اس کی سوچ اللہ والی سوچ ہوگی۔ اس کے جذبات اللہ والے جذبات ہوں گے۔ اس کا رخ اللہ کی طرف ہوگا۔ اس کی تمنائیں اللہ کے لیے وقف ہوں گی۔ وہ سوچے گاتو اللہ کے لیے سوچے گا، اور کرے گا تو اللہ کے لیےکرے گا۔ سجدہ سپردگی (submission) کی علامت ہے۔ کسی کے آگے سر زمین پر رکھنا اس بات کا اظہار ہے کہ آدمی نے پوری طرح اپنے آپ کو اللہ کے حوالے کردیا ہے ۔سر زمین پر رکھنے کے بعد آدمی کے پاس کوئی چیز حوالہ کرنے کے لیے باقی نہیں رہتی۔
جب آدمی اپنا سر زمین پر رکھتا ہے تو یہ اس کے لیے سپردگی اور سرینڈر (surrender) کے معاملے میں کامل یکسوئی کا اظہار ہوتا ہے۔ سجدہ اس بات کی علامت ہے کہ بندہ نے انسانوں سے اپنی سوچ کو ہٹا لیا ہے۔ اس نے پورے معنوں میں خدا رخی زندگی (God-oriented life) اختیار کر لی ہے۔ اس نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ وہ کسی بھی ڈسٹریکشن کی بات کو یہ موقع نہیں دے گا کہ وہ اس کو خدا رخی زندگی سے ہٹائے۔
واپس اوپر جائیں

انسان کے لیے سبق

قرآن میں ایک بات ان الفاظ میں آئی ہے:بَلِ الْإِنْسَانُ عَلَى نَفْسِہِ بَصِیرَةٌ ، وَلَوْ أَلْقَى مَعَاذِیرَہُ (75:14-15)۔ یعنی بلکہ انسان خود اپنے اوپر گواہ ہے ، چاہے وہ کتنے ہی بہانے پیش کرے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ انسان کی تخلیق اس انداز میں ہوئی ہے کہ اگر وہ عذر (excuse) کا شکار نہ ہو، تو وہ خود اپنی تخلیق پرغور کرکے بڑی بڑی باتیں سیکھ سکتا ہے۔ اس کی زندگی خود ایک لائبریری ہے۔ اپنے مطالعہ سے خود وہ اپنے لیے بڑے بڑے سبق دریافت کرسکتا ہے۔ مثلاً حدیث میں آیا ہے کہ اللہ نے انسان کو اپنی صورت پر پیدا کیا ہے(صحیح البخاری، حدیث نمبر6227)۔ یعنی انسان کو وہ صلاحیتیں بہت ہی چھوٹے پیمانے پر دی گئی ہیں، جو صفات بہت زیادہ بڑے پیمانے پر اللہ رب العالمین کی ہیں۔
انسان جب اس کائنات کو دیکھتاہے ، تو اس کو یہ نظرآتا ہے کہ پوری کائنات نہایت منصوبہ بند انداز میں چل رہی ہے۔ سورج ہمیشہ ٹھیک اپنےوقت پر نکلتا ہے، اور متعین وقت پر غروب ہوجاتا ہے۔ اسی طرح پوری کائنات زیرو ڈیفکٹ مینجمنٹ کے اصول پر چل رہی ہے۔ اس کے برعکس، انسان کے انتظام میں ہمیشہ نقائص موجود رہتے ہیں۔ انسان اگر اس معاملے کا مطالعہ تقابلی انداز میں کرے، تو وہ خود اپنے مطالعہ کے ذریعے خدائے برتر کے وجود کو دریافت کرلے گا۔ یہ دریافت اس کو یہ کہنے پر مجبور کردے گی:أَفِی اللَّہِ شَکٌّ فَاطِرِ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ(14:10)۔اگر آدمی کے اندر یہ صلاحیت ہو کہ وہ قرآن و حدیث کی باتوں کو اپنے الفاظ میں ڈھال سکے، تو اس کی دریافت اس کے لیے ری ڈسکوری بن جاتی ہے۔ وہ مذکور باتوں کو زیادہ موثر انداز میں دریافت کرنے لگتا ہے۔ مثلاً قرآن میں آیاہے، اس کا ترجمہ یہ ہے: اس نے تم کو ہر اس چیز میں سے دیا جو تم نے مانگا (14:34)۔ اگر آپ کے پاس اپنے مطالعے کے مطابق، یہ لفظ موجود ہو کہ انسان جب پیدا ہوتا ہے تو وہ اپنے آپ کو ایک ایسی دنیا میں پاتا ہے، جو ہیومن فرینڈلی دنیا ہے۔ اس کا احساسِ شکر بہت زیادہ بڑھ جائے گا۔
واپس اوپر جائیں

شکر کا آئٹم

تقریباً تیرہ بلین سال پہلے سولر سسٹم وجود میں آیا۔ اس وقت زمین کے اوپر صرف گیس تھی۔ پھر گیس کے ذریعے پانی بنا۔ پانی کا فارمولا H2 O ہے، یعنی اس زمین میں ایسے مالیکیول رکھ دیئے گئے، جس میں ہائڈروجن کے دو ایٹم ہوتےتھے، اور آکسیجن کا ایک ایٹم۔ اس طرح زمین کے اوپر پانی وجود میں آیا۔ یہ پانی بڑے پیمانے پر سمندر کی گہرائیوں میں جمع ہوگیا۔ ابتدامیں نیچر نے اس پانی میں حفاظت ( preservation) کے طور پر نمک (salt) شامل کیا ۔ یہ نمک آمیزپانی براہ راست طور پر انسان کے لیے قابل استعمال نہ تھا۔ پھر زمین کے اوپرسورج کی حرارت اور پانی کے تعامل سے حیرت انگیز طور پر بارش کا انتظام ہوا۔ فطری طور پر نمک کا وزن زیادہ تھا، اور پانی کا وزن کم۔ چنانچہ پانی جب سورج کی حرارت سے بھاپ بنا، تو فطری قانون کے تحت نمک الگ ہوگیا،ا ور پانی الگ۔ پھر یہ ڈیسالینیٹڈ پانی (desalinated water) ہلکا ہونے کی بنا پر فضا میں بلند ہوا، اور پھر آخر کار فطرت کے قانون کے مطابق وہ پانی بارش بن کر زمین پر برسا۔ اس پانی نے زمین کو سیراب کیا، اور چشموں اور دریاؤں کی صورت میں محفوظ ہوگیا۔
فطرت کے نظام کے تحت یہ ایک سائکل (cycle) ہے، جو مسلسل طور پر جاری ہے۔ پانی کا یہی نظام ہے، جس نے زمین کو انسان کے لیے حیات بخش سیارہ بنا کر رکھا ہے۔ اگر یہ نظام نہ ہو تو انسان زمین کے اوپر زندہ سماج نہ بنا سکے۔ زمین پر تہذیب کی تشکیل پانی کے بغیر ناممکن ہو جائے۔ اس پورے عمل پر غور کیا جائے ،تو اس میں حکمت کے اتنے زیادہ پہلو ہیں، جو انسان کے لیے مائنڈ باگلنگ ظاہرہ (mind-boggling phenomena) کی حیثیت رکھتے ہیں۔ قدیم زمانے کا انسان ان حقیقتوں سے بے خبر تھا، مگر اب سائنسی مطالعے کے ذریعے یہ حقیقتیں انسان کے علم میں آگئی ہیں۔ ان حقیقتوں کو جاننا انسان کے اتھاہ خزانے کی حیثیت رکھتا ہے۔ غالباً یہی وہ عظیم حقیقت ہے، جس کو قرآن میں ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے:وَإِنْ تَعُدُّوا نِعْمَةَ اللَّہِ لَا تُحْصُوہَا (16:18) ۔
واپس اوپر جائیں

ایمان بالغیب

اسلام کی ایک تعلیم قرآن میں ان الفاظ میں آئی ہے: الم ،ذَلِکَ الْکِتَابُ لَا رَیْبَ فِیہِ ہُدًى لِلْمُتَّقِینَ ۔ الَّذِینَ یُؤْمِنُونَ بِالْغَیْبِ (2:1-3)۔ یعنی الم، یہ اللہ کی کتاب ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں۔ راہ دکھاتی ہے ڈر رکھنے والوں کو، جو یقین کرتے ہیں بن دیکھے۔
اس آیت میں ایمان بالغیب سے مراد بلائنڈ فیتھ (blind faith) نہیں ہے، بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ ایمان جو مطالعہ اور غور و فکر کے نتیجے میں مومن کے اندر بطور واقعہ وجود میں آئے۔ایمان ابتدائی طور پر ایک حقیقت کو ماننے کا نام ہے۔انسان جب اس حقیقت کو مان لے تو فطری طو رپر اس کے اندر ایک پراسس شروع ہوجاتا ہے۔ جب ایک انسان اللہ کے وجود کو مان لے، تو فطری طور پر ایسا ہوتا ہے کہ وہ اللہ کے بارے میں ہر ممکن ذریعے سے مطالعہ اور تحقیق شروع کردیتا ہے۔ یہاں تک کہ وہ اس حد تک پہنچ جاتا ہے، جس کو دریافت (discovery) کہا جاتا ہے۔ یہ وہ درجہ ہے، جب کہ مومن کا لفظی اقرار اس کی پوری ہستی کا لازمی حصہ بن جاتا ہے۔
اللہ کے بارے میں اس کی دریافت اس حد تک پہنچ جاتی ہے کہ وہ گویا کہ اس کو دیکھنے لگتا ہے(أَنْ تَعْبُدَ اللَّہَ کَأَنَّکَ تَرَاہُ) صحیح البخاری، حدیث نمبر50 ۔ بظاہر نہ دیکھتے ہوئے بھی وہ اس پر دیکھنے کی مانند یقین کرنے لگتا ہے۔ قرآن کی ایک آیت سے اس معاملے کی مزید وضاحت ہوتی ہے۔ اس آیت کا ترجمہ یہ ہے: جو کھڑے اور بیٹھے اور اپنی کروٹوں پر اللہ کو یاد کرتے ہیں اور آسمانوں اور زمین کی پیدائش میں غور کرتے رہتے ہیں۔ (وہ کہہ اٹھتے ہیں) اے ہمارے رب، تو نے یہ سب بےمقصد نہیں بنایا(3:191) ۔ اس آیت کو دیکھیے، ایک سچے انسان کے لیے غور و فکر کے بعد یہ واقعہ پیش آتا ہے کہ وہ ’’کہہ اٹھتے ہیں‘‘، لیکن قرآن میں ’’کہہ اٹھتے ہیں‘‘ کو حذف کردیا گیا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ایمان کے بعد ان کے اندر غور وفکر کا جو گہرا پراسس جاری ہوتا، وہ نتیجے تک پہنچتے پہنچتے اتنا شدید ہوتا ہے کہ گویا وہ چیخ اٹھتے ہیں:رَبَّنَا مَا خَلَقْتَ ہَذَا بَاطِلًا ۔
واپس اوپر جائیں

ایمان باللہ

اللہ پر ایمان اللہ کی معرفت سے شروع ہوتا ہے، یعنی اللہ رب العالمین کی شعوری دریافت سے ۔ یہ حقیقت قرآن کی آیت کے مطالعے سے معلوم ہوتی ہے:وَإِذَا سَمِعُوا مَا أُنْزِلَ إِلَى الرَّسُولِ تَرَى أَعْیُنَہُمْ تَفِیضُ مِنَ الدَّمْعِ مِمَّا عَرَفُوا مِنَ الْحَقِّ یَقُولُونَ رَبَّنَا آمَنَّا فَاکْتُبْنَا مَعَ الشَّاہِدِینَ (5:83)۔ یعنی اور جب وہ اس کلام کو سنتے ہیں جو رسول پر اتارا گیا ہے تو تم دیکھو گے کہ ان کی آنکھوں سے آنسو جاری ہیں، اس سبب سے کہ انھوں نے حق کو پہچان لیا۔ وہ پکار اٹھتے ہیں کہ اے ہمارے رب ہم ایمان لائے۔ پس تو ہم کو گواہی دینے والوں میں لکھ لے۔
ایمان قبول کرنے کے بعد جب کوئی انسان اللہ رب العالمین کو شعوری دریافت کے درجے میں پاتا ہے، تو اس کے بعد اس کے اندر ایک ذہنی عمل (intellectual process) شروع ہوجاتا ہے۔ اس عمل کا حوالہ قرآن میں ان الفاظ میں دیا گیا ہے:أَلَمْ تَرَ کَیْفَ ضَرَبَ اللَّہُ مَثَلًا کَلِمَةً طَیِّبَةً کَشَجَرَةٍ طَیِّبَةٍ أَصْلُہَا ثَابِتٌ وَفَرْعُہَا فِی السَّمَاءِ ۔ تُؤْتِی أُکُلَہَا کُلَّ حِینٍ بِإِذْنِ رَبِّہَا وَیَضْرِبُ اللَّہُ الْأَمْثَالَ لِلنَّاسِ لَعَلَّہُمْ یَتَذَکَّرُونَ (14:24-25)۔ یعنی کیا تم نے نہیں دیکھا، کس طرح مثال بیان فرمائی اللہ نے کلمۂ طیبہ کی۔ وہ ایک پاکیزہ درخت کی مانند ہے، جس کی جڑ زمین میں جمی ہوئی ہے اور جس کی شاخیں آسمان تک پہنچی ہوئی ہیں۔ وہ ہر وقت پر اپنا پھل دیتا ہے اپنے رب کے حکم سے۔ اور اللہ لوگوں کے لئے مثال بیان کرتا ہے تاکہ وہ نصیحت حاصل کریں۔
قرآن کی اس آیت میں بتایا گیا ہے کہ جب کسی انسان کو دریافت (discovery)کے درجے میں ایمان ملتا ہے تو اس کا فطری نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ آدمی کے اندر ایک پراسس جاری ہوجاتا ہے، وہ اس قابل ہوجاتا ہے کہ ہر تجربے اور مشاہدے کو اپنی شخصیت کے ارتقا کا جزء بنا سکے۔ اس طرح یہ عمل (process) جاری رہتا ہے۔ یہاں تک کہ اس کی شخصیت ایک ربانی شخصیت بن جاتی ہے۔
واپس اوپر جائیں

اقشعرار کیا ہے

قرآن کی ایک آیت میں مومن کی صفت ان الفاظ میں بتائی گئی ہے:اللَّہُ نَزَّلَ أَحْسَنَ الْحَدِیثِ کِتَابًا مُتَشَابِہًا مَثَانِیَ تَقْشَعِرُّ مِنْہُ جُلُودُ الَّذِینَ یَخْشَوْنَ رَبَّہُمْ ثُمَّ تَلِینُ جُلُودُہُمْ وَقُلُوبُہُمْ إِلَى ذِکْرِ اللَّہِ ذَلِکَ ہُدَى اللَّہِ یَہْدِی بِہِ مَنْ یَشَاءُ وَمَنْ یُضْلِلِ اللَّہُ فَمَا لَہُ مِنْ ہَادٍ (39:23)۔ یعنی اللہ نے بہترین کلام اتارا ہے۔ ایک ایسی کتاب آپس میں ملتی جلتی، بار بار دہرائی ہوئی، اس سے ان لوگوں کے رونگٹے کھڑے ہوجاتے ہیں جو اپنے رب سے ڈرنے والے ہیں۔ پھر ان کے بدن اور ان کے دل نرم ہو کر اللہ کی یاد کی طرف متوجہ ہوجاتے ہیں۔ یہ اللہ کی ہدایت ہے۔ اس سے وہ ہدایت دیتا ہے جس کو وہ چاہتا ہے۔ اور جس کو اللہ گمراہ کردے تو اس کو کوئی ہدایت دینے والا نہیں۔
اقشعرار کا مطلب ہے شدت تاثر کے تحت جسم پر کپکپی (shivering)کا طاری ہوجانا۔ یہ کیفیت ایک عام کیفیت ہے۔ مومن کے لیے ایسا اس وقت ہوتا ہے جب کہ اللہ کے خوف سے اس کے اندر شدید تاثر پیدا ہو۔ اس وقت عام فطری قانون کے تحت اس کے جسم پر کپکپی کی کیفیت طاری ہوجائے گی۔ اس سے دل کے اندر نرمی پیدا ہوجائے گی۔ آدمی زیادہ قبولیت کے جذبے کے تحت اللہ کی باتیں سننے لگے گا۔اس کے برعکس، جس آدمی کے اندر اقشعرار کی یہ کیفیت نہ پیدا ہو، یہ اس بات کی علامت ہے کہ اس کے دل میں قساوت کی کمزوری پیدا ہوچکی ہے۔ وہ اللہ کی پکڑ کی باتیں سننے کے بعد بھی سخت دل بنا رہتا ہے۔
اس آیت کے آخری جزء کا ترجمہ یہ ہے: یہ اللہ کی ہدایت ہے۔اس سے اللہ ہدایت دیتا ہے جس کو وہ چاہتا ہے۔ اور جس کو اللہ گمراہ کردے تو اس کو کوئی ہدایت دینے والا نہیں۔ اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ اللہ قصداً کسی کو ہدایت دیتا ہے، اور کسی کو نہیں دیتا ہے۔ بلکہ ایسا انسان کی اپنی طرف سے ہوتا ہے، جو انسان سوچے اور نصیحت کو پکڑے، وہ ضرور ہدایت پائے گا، اور جو آدمی سوچ اور نصیحت سے خالی ہو، وہ اس کیفیت سے بھی خالی رہے گا۔
واپس اوپر جائیں

اسمِ اعظم

ایک حدیث رسول ان الفاظ میں آئی ہے:سَمِعَ النَّبِیُّ صَلَّى اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ رَجُلًا یَقُولُ: اللَّہُمَّ إِنِّی أَسْأَلُکَ بِأَنَّکَ أَنْتَ اللَّہُ الْأَحَدُ الصَّمَدُ، الَّذِی لَمْ یَلِدْ وَلَمْ یُولَدْ، وَلَمْ یَکُنْ لَہُ کُفُوًا أَحَدٌ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ صَلَّى اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ:لَقَدْ سَأَلَ اللَّہَ بِاسْمِہِ الْأَعْظَمِ، الَّذِی إِذَا سُئِلَ بِہِ أَعْطَى، وَإِذَا دُعِیَ بِہِ أَجَابَ (سنن ابن ماجہ، حدیث نمبر 3857)۔ یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک آدمی کو کہتے ہوئے سنا، اے اللہ میں تجھ سے سوال کرتا ہوں، کیوں کہ تو ہی اللہ ہے، اکیلا، ہر ایک کی ضرورتوں کو پوری کرنے والا، جس نے کسی کو پیدا نہیں کیا، اور نہ ہی وہ پیدا کیا گیا، اور اس کے برابر کوئی نہیں۔ یہ سن کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا: اس نے اللہ کو اس کے اسم اعظم کے ساتھ پکارا ہے، جس کے ذریعے سے جب مانگا جائے توو ہ عطا کرے،ا ور جب دعا کی جائے تو قبول ہو۔
یہ کون سی دعا ہے۔ یہ دعا رٹے ہوئے الفاظ کی تکرار نہیں ہے، نہ اس کا کوئی ’’رسمی نصاب‘‘ ہے۔ یہ دعا کی وہ قسم ہے جس میں بندہ اپنی پوری ہستی کو انڈیل دیتا ہے۔ جب بندے کی آنکھ سے عجز کا وہ قطرہ ٹپک پڑتا ہے جس کا تحمل زمین اور آسمان بھی نہ کرسکیں۔ جب بندہ اپنے آپ کو اپنے رب کے ساتھ اتنا زیادہ شامل کردیتا ہے کہ ’’مانگنے والا‘‘ اور ’’دینے والا‘‘ دونوں ایک ترازو پر آجاتے ہیں۔ یہ وہ لمحہ ہے جب کہ دعا ،محض لغت کا ایک لفظ نہیں ہوتا، بلکہ وہ ایک شخصیت کے پھٹنے کی آواز ہوتی ہے۔ اُس وقت خدا کی رحمتیں اپنے بندے پر ٹوٹ پڑتی ہیں۔ بندگی اور خدائی دونوں ایک دوسرے سے راضی ہوجاتے ہیں۔ قادرِ مطلق ،عاجزِ مطلق کو اپنی رحمت کے سائے میں لے لیتا ہے۔
یہ زبان وہ ہے، جس کو انگریزی کے حوالے سے لینگویج آف انڈراسٹیٹمنٹ (language of understatement) کہا جاتا ہے۔ اس کے مقابلے میں اردو کے انشاء پردازوں کی زبان لینگویج آف اووراسٹیٹمنٹ (language of overstatement) کہی جاسکتی ہے۔وہ لوگ جو اردو زبان میں پلے بڑھے ہوں، جن کا اسلوب اردو زبان کے ماحول میں بنا ہو، وہ لینگویج آف انڈرسٹیٹمنٹ بولنے کے لیے نااہل ہوتے ہیں۔
لینگویج آف اوورا سٹیٹمنٹ کا معاملہ سادہ معاملہ نہیں ہے۔ اس کے نتیجے میں جو مزاج بنتا ہے، وہ کبر خفی (hidden arrogance)کا مزاج کہا جاسکتا ہے۔ ایسے لوگ اس کےلیے نااہل ہوجاتے ہیں کہ وہ اسم اعظم کی زبان بولیں، اور اسم اعظم کے لب و لہجہ میں سوچیں۔ پروفیسر ہمایون کبیر نے انڈیا ونس فریڈم (India Wins Freedom)کے مقدمے میں بجا طور پر لکھا ہے کہ انگریزی زبان بنیادی طور پر لینگویج آف انڈر اسٹیٹمنٹ ہے:
English, on the other hand, is essentially a language of understatement.
اس کے مقابلے میں اردو زبان لینگویج آف اوور اسٹیٹمنٹ ہے۔ جو لوگ اردو زبان کے ماحول میں رہتے ہوں، وہ اس فرق کو سمجھنے کے لیے تقریباً نا اہل ہوجاتے ہیں۔ مثلاً غالباً 1940 کی بات ہے، اس وقت میں ایک مدرسے میں پڑھتا تھا۔ یہ آزادی کی جدو جہد کا زمانہ تھا۔ ہمارے مدرسے کے ایک بڑے استاد نے ایک بار تقریر کرتے ہوئے کہا: انگریز ساری دنیا کا مکھن کھا گئے۔ جو لوگ اس طرح کی زبان کو لکھیں یا پڑھیں، وہ شعوری یا غیر شعوری طور پر کبر خفی کا شکار بن جاتے ہیں۔ وہ باتوں کو ایز اٹ از (as it is) سمجھنے کے لیے نااہل ہوجاتے ہیں۔ اردو زبان کا یہ ایک عام مسئلہ ہے۔ یہی سبب ہے کہ اردو ریڈر شپ میں عام طور پر حقیقت پسندی کا مزاج موجود نہیں ہوتا۔اردو ریڈر شپ کی یہ کمزوری ہے کہ وہ صرف ہائی پروفائل (high profile)کے اسلوب کو جانتی ہے، لو پروفائل (low profile)کے اسلوب کو وہ سرے سے جانتی ہی نہیں۔ حالاں کہ ہائی پروفائل لوگوں کے اندر جذباتی مزاج پیدا کرتا ہے، اور جذباتی مزاج کامیابی تک پہنچنے کے لیے مستقل رکاوٹ ہے۔
اس معاملے کا بہت گہرا تعلق دعا سے ہے۔ کیوں کہ وہ آدمی جو لینگویج آف اوور سٹیٹمنٹ سے مانوس ہو، وہ عجز کی نفسیات سے خالی ہوجائے گا، وہ عجز کی زبان میں دعا کرنے کے قابل نہیں رہے گا۔ ایسا آدمی ہائی پروفائل میں بولے گا، اور ہائی پروفائل میں سوچے گا،اور ہائی پروفائل اور عجز کا شعور دونوں ایک جگہ جمع نہیں ہوسکتے۔
واپس اوپر جائیں

جنت، جنت

جنت رب العالمین کا پڑوس ہے (التحریم،66:11)۔جنت ان لوگوں کے لیے ہے، جو دنیا میں خداوند رب العالمین کی یاد میں جینے والے ہوں، وہی لوگ ابدی جنت میں بسائے جائیں گے۔جہاں ان کو خداوندِ رب العالمین کی قربت حاصل ہوگی۔ جو لوگ منفی سوچ (negative thinking) میں جینے والے ہوں، وہ دنیا میں بھی خداوند رب العالمین کی قربت سے محروم رہیں گے، اور آخرت میں بھی۔
موجودہ دنیا تربیت گاہ ہے، اور آخرت کی دنیا تربیت یافتہ لوگوں کا مقام۔ جنت میں صرف منتخب افراد رہائش کا درجہ پائیں گے۔ وہ لوگ جو دنیا کی زندگی میں اپنے آپ کو اس قابل ثابت کریں کہ وہ منظم زندگی گزارنا جانتے ہیں، جن کے اندر قابلِ پیشین گوئی کردار موجود ہے۔ جنت میں ان لوگوں کو داخلہ ملے گا، جو اپنے عمل سے یہ ثابت کریں کہ ان کے اندر تخلیقی (creative)صلاحیت موجود ہے، جو یہ ثابت کریں کہ وہ آزادی کے باوجود ذمے دارانہ زندگی (disciplined life) کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ جنت ان لوگوں کے لیے ہے، جو پورے معنی میں باشعور ہوں، جو پورے معنیٰ میں بے مسئلہ انسان ہوں، جو اپنے اندر سیلف کنٹرول (self-control) کی صلاحیت رکھتے ہوں۔
جنت کے بارے میں قرآن میں آیا ہے :حَسُنَ أُولَئِکَ رَفِیقًا (4:69)۔ یعنی کیسی اچھی ہے ان کی رفاقت۔ اس سے معلوم ہوا کہ جنت حسنِ رفاقت (excellent companionship) کی دنیا ہے۔ دنیا میں اسی کا امتحان ہورہا ہے۔ یہاں یہ دیکھا جارہا ہے کہ وہ کون شخص ہے، جو اس بات کا ثبوت دیتا ہے کہ اجتماعی زندگی میں اس کے اندر سیلف ڈسپلن کی صفت اعلی درجے میں پائی جاتی ہے، جو کسی کے دباؤ کے بغیر دوسروں کے لیے بہترین ہمسایہ بن کر رہنے والا ہے۔ جس آدمی کے اندر حسن رفاقت کی صفت ہو، جو کسی دباؤ کے بغیر سیلف ڈسپلن کے ساتھ ہر حال میں رہ سکتا ہو، ایسے ہی لوگ ہیں، جو جنت میں داخلے کے لیے منتخب کیے جائیں گے۔
واپس اوپر جائیں

جنت کس کے لیے

ایک حدیث رسول میں طالب جنت کے لیے یہ الفاظ آئے ہیں:مَا رَأَیْتُ... مِثْل الجَنَّةِ نَامَ طَالِبُہَا (سنن الترمذی، حدیث نمبر 2601)۔ یعنی میں نے نہیں دیکھا، جنت جیسی چیز، جس کا طالب سورہا ہے۔اس سے معلوم ہوا کہ جنت اس کے لیے ہے، جو سراپا طالب جنت بن جائے۔ جو جنت کی حقیقت کو اتنی زیادہ گہرائی کے ساتھ دریافت کرے کہ جنت اس کا انتظار بن جائے۔ وہ جنت کی یاد میں سوئے، اور جنت کی یاد میں جاگے۔ جس کا احساس یہ بن جائے کہ اللہ نے اگر اس کو جنت نہ دی تو اس کا حال کیا ہوگا۔ اگر وہ آخرت میں جنت سے محروم ہوجائے، تو اس کا کتنا زیادہ برا حال ہوجائے گا۔ اس کے لیے زندگی کتنی بڑی مصیبت بن جائے گی۔
جنت کا طالب وہ ہے، جو جنت کو دیکھے بغیر جنت کو دیکھنے لگے۔ جو جنت کو پانے سے پہلے جنت کا طالب حقیقی بن جائے۔ طالبِ جنت کی تصویر قرآن کی ایک آیت میں اس طرح بیان کی گئی ہے: وَیُدْخِلُہُمُ الْجَنَّةَ عَرَّفَہَا لَہُمْ (47:6)۔ یعنی اور ان کو جنت میں داخل کرے گا جس کی اس نے انھیں پہچان کرا دی ہے۔ اس آیت میں جنت کی معرفت کو اللہ کی طرف منسوب کیا گیا ہے۔ مگر وہ مومن کی صفت ہے۔ مومن وہ ہے، جو جنت کو اس طرح دریافت کرے کہ جنت اس کا شوق بن جائے۔ اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ جنت کیا ہے، اس سے لوگوں کو پیشگی طور پر آگاہ کردیا گیا ہے۔ بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ صاحب ایمان جنت کے بارے میں اپنی معرفت کو اتنا زیادہ بڑھاتا ہے کہ جنت اس کے لیے پیشگی طور پر ایک معلوم چیز بن جاتی ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ جنت ایک ایسا مطلوب ہے، جو اپنی نوعیت کے اعتبار سے طالبِ جنت کا مثنی (counterpart) ہے۔ وہ فطری طور پر انسان کا ایک معلوم مسکن ہے۔ گویا کہ جنت انسان کے لیے ہے، اور انسان جنت کے لیے۔ لیکن جنت کا شوق جنت کے حصول کے لیے کافی نہیں، اس کے لیے ضروری ہے کہ آدمی ضروری تیاری کرے۔
واپس اوپر جائیں

خالق اور مخلوق

تخلیق (creation)کا وجود خالق (Creator)کے وجود کا ثبوت ہے۔ انسان اگرچہ براہ راست طو رپر خالق کو نہیں دیکھتا، لیکن بالواسطہ طو رپر وہ ہر لمحہ خالق کو دیکھ رہا ہے۔ اس دنیا کی ہر چیز اپنے خالق کی ریمائنڈر (reminder) ہے۔ ہر چیز، خواہ وہ چھوٹی ہو یا بڑی، خاموش زبان میں کہہ رہی ہے کہ ایک خالق ہے، جس نے مجھ کو وجود بخشا ہے۔ میرا ہونا، اپنے آپ میں خالق کے ہونے کا ثبوت (proof) ہے۔
انسان کی یہ کمزوری ہے کہ وہ چیزوں کو فار گرانٹیڈ (for granted) لیتا رہتا ہے۔ انسان جب کسی چیز کو بار بار دیکھتا ہے، تو وہ سمجھ لیتا ہے کہ وہ اس کے لیے موجود ہے۔ انسان اپنی اس کمزوری کی بنا پر خالق کے وجود(existence of Creator) کو ایک زندہ وجود کا درجہ نہیں دے پاتا۔ خالق کو بظاہر مانتے ہوئے بھی، وہ اس کو زندہ یقین کی حیثیت سے اختیار نہیں کرپاتا۔ اس کمی کی بنا پر ایسا ہوتا ہے کہ خدا کو وہ اپنی زندگی میں سپریم کنسرن (supreme concern) کی حیثیت سے شامل نہیں کرپاتا۔
اس کمزوری کی بنا پر ایسا ہوتا ہے کہ بظاہر اگرچہ وہ خدا کو مانتا ہے، لیکن اس کی روزمرہ کی زندگی اس طرح گزرتی ہے کہ جیسے خدا اس کی زندگی میں صرف ایک بے روح ضمیمہ (spiritless appendix) کی حیثیت رکھتا ہے۔ اس کے لیے خدا کو ماننا بھی ایسا ہی ہے، جیسے کہ خدا کا نہ ماننا۔ اپنڈکس کا آپریشن کردیا جائے تو اس کے بعد بھی انسان بدستور ویسا ہی باقی رہتا ہے، جیسا کہ وہ پہلے تھا۔ اس کے لیے خدا کا معاملہ بھی ایسا ہی ہے۔خالق کو زندہ یقین کی حیثیت سے اپنی زندگی میں شامل کرنا، اپنے آپ نہیں ہوتا، بلکہ اس کے لیے ایک مسلسل قسم کا تھنکنگ پراسس درکار ہے۔ نان اسٹاپ تھنکنگ پراسس (non-stop thinking) کے بغیر ایسا نہیں ہوسکتا کہ کسی شخص کی زندگی میں خالق ایک زندہ ہستی کے طور پر شامل ہوجائے۔
واپس اوپر جائیں

خدا اور انسان

انسان جب پیدا ہوتا ہے تو وہ دھیرے دھیرے زبان سیکھتا ہے ۔ اس طرح وہ یہ شعور حاصل کرتا ہے کہ وہ ایک انسان ہے۔ اسی حقیقت کو زیادہ فلسفیانہ انداز میں فرانسیسی مفکر ، ڈیکارٹ (1596) نے ان الفاظ میں بیان کیا ہے — میں سوچتا ہوں، اس لیے میں ہوں:
I think, therefore, I exist
یہ ذاتی شعور کے ذریعہ اپنے وجود کا یقین ہے۔ اس کے بعد آدمی ایک سیارہ (planet earth) پر زندگی گزارتا ہے۔ وہ دھیرے دھیرے یہ یقین حاصل کرتا ہے کہ میرا ایک وطن ہے، جو زمین پر واقع ہے۔ آدمی کو جس طرح یہ مبنی بر مشاہدہ یقین اپنی ذات کے بارے میں ہوتا ہے، اسی طرح اس کو اپنے وطن ، زمین کے بارے میں بھی ہوتا ہے۔
یہ شعوری ارتقا کا ایک معاملہ ہے۔ یہ شعوری ارتقا جس طرح آدمی کو اپنے وجود کا یقین دیتا ہے۔ اسی طرح وہ اس کو یہ یقین دیتا ہے کہ یہاں ایک زمین ہے، جس میں وہ دوسرے انسانوں کے ساتھ آباد ہے۔ اس زمین میں لائف سپورٹ سسٹم کے تمام آئٹم موجود ہیں۔ شعور کا یہ فطری ارتقا پھر اس درجہ کو پہنچتا ہے کہ آدمی یہ دریافت کرتا ہے کہ جس طرح میرا ایک وجود ہے، اسی طرح میرے خالق کا بھی یقینی طور پر ایک وجود ہے۔ انسان جب خالق کے وجود کو دریافت کرلے تو اس کو بقیہ تمام چیزوں کی توجیہہ (explanation) مل جاتی ہے۔ اور اگر وہ خالق کے وجود سے بے خبر رہے تو اس کے لیے ہر چیز غیر توجیہہ شدہ (unexplained) بنی رہتی ہے۔
اس کے بعد آدمی قرآن میں یہ پڑھتا ہے کہ اہل جنت کو جب اگلے دور حیات میں جنت ملے گی تو وہ کہیں گے کہ یہ جنت تو ہمارے لیے زمین کے متشابہ جنت ہے (البقرۃ، 2:25) ۔ یہ ایک فطری دریافت کا معاملہ ہے۔ یہ فطری پراسس (natural process) ہے جو آدمی کو ہر قابل دریافت چیز کی ڈسکوری تک پہنچادیتا ہے۔
واپس اوپر جائیں

خدا کا وجود

خدا کی دریافت انسان کے لیے معرفت کا آغاز ہے۔ جو شخص اللہ رب العالمین کو دریافت کرلے، اس نے تمام حقیقتوں کو دریافت کرلیا، اوراس نے حقیقت کے سرے کو پالیا۔خدا کی دریافت کے بغیر ہر چیز غیر دریافت شدہ بنی رہتی ہے۔ خدا کی دریافت کرنے کے بعد ہر چیز دریافت شدہ بن جاتی ہے۔ خدا کو دریافت کرتے ہی انسان کو وہ شاہ کلید (master key) مل جاتی ہے، جس کے بعد اس کے لیے ہر چیز کو دریافت کرنا ممکن ہوجاتا ہے۔ خدا کو دریافت کرتے ہی اس کے ذہن کے تمام دروازے کھل جاتے ہیں، یہاں تک کہ کوئی دروازہ اس پر بند نہیں رہتا۔
خدا کی دریافت کسی انسان کے لیے اتنا ہی آسان ہے، جتنا خود اپنی دریافت۔ اسی لیے کہا گیا ہے :مَنْ عَرَفَ نَفْسَہُ فَقَدْ عَرَفَ رَبَّہُ (حلیۃ الاولیاء، 10/208)۔ یعنی جس نے اپنے آپ کو دریافت کیا، اس نے اپنے خدا کو دریافت کرلیا۔اس قول کو ایک حدیث پر غور کرکے سمجھا جاسکتا ہے۔ اس حدیث کے الفاظ یہ ہیں:خَلَقَ اللَّہُ آدَمَ عَلَى صُورَتِہ (صحیح البخاری، حدیث نمبر 6227)۔ یعنی اللہ نے آدم کو اپنی صورت پر پیدا کیا۔
اس کا مطلب غالباً یہ ہے کہ اللہ رب العالمین کے اندر جو صفات رب کی سطح پر ہیں، وہی صفات بندے کے اندر انسان (مخلوق)کی سطح پر رکھی گئی ہیں۔ اس بنا پر یہ ممکن ہے کہ آدمی ایک سے دوسرے کو سمجھے۔ وہ اپنی معرفت حاصل کرکے اللہ رب العالمین کی معرفت تک پہنچ جائے۔ اگر آدمی ایسا کرے تو اس کے لیے اللہ کی یاد ، اللہ سے دعا کرنا، اللہ کا تصور قائم کرنا، آسان ہوجائے گا۔
مثلاً انسان اپنے ساتھ کسی کی شرکت کو پسند نہیں کرتا۔ اس کو غیرت آتی ہے کہ اس کے ساتھ کوئی انسان اس کا شریک بن جائے۔ اس تجربے سے انسان کو یہ سبق لینا چاہیے کہ اللہ رب العالمین بدرجہا زیادہ اس صفت کا حامل ہوگا۔ انسان اگر سنجیدہ ہوتو یہ اصول اس کے لیے خدا کی معرفت میں بہت زیادہ مددگار بن جائے گا۔
واپس اوپر جائیں

انسان کی تخلیق

علم فلکیات (astronomy) کے موضوع پر ہر زبان میں بڑی تعداد میں کتابیں موجود ہیں۔ آپ فلکیات کے موضوع پر کوئی کتاب پڑھیے، تو آپ کو معلوم ہوگا کہ کائنات (universe) ناقابل قیاس حد تک بڑی کائنات ہے۔ وہ متحرک ستاروں اور سیاروں سے بھری ہوئی ہے۔ لیکن مطالعہ بتاتا ہے کہ کائنات نہایت عظیم ہونے کے باوجود ایک بے خطا کائنات (flawless universe) ہے۔ کائنات ریاضیاتی صحت (mathematical precision)کے اصول پر قائم ہے۔ کائنات کی اس حقیقت کا حوالہ خود قرآن میں ایک ناقابل انکارحقیقت کے طور پر کیا گیا ہے (الملک، 67:3-4)۔
اس کے بعد آپ انسانی دنیا کو دیکھیے، تو آپ کو دونوں دنیاؤں میں ایک عجیب فرق دکھائی دے گا۔ انسانی دنیا برعکس طور پر مصائب (suffering) سے بھری ہوئی ہے۔ یہ مصائب اتنے زیادہ عام ہیں کہ ہر عورت اور ہر مرد کو اپنی زندگی میں اس کا تجربہ ہوتا ہے۔ اس فرق پر غور کرتے ہوئے، مجھے ایک واقعہ یاد آیا۔ یہ واقعہ غالباً 1972 کا ہے، جب کہ میں نے احمد آباد کا ایک سفر کیا تھا۔ ’احمد آباد کا سفر‘ کے عنوان سے یہ واقعہ الجمعیۃ ویکلی میں شایع ہوچکا ہے۔
اس سفر کے دوران میری ملاقات ایک نوجوان انجینئر سے ہوئی۔ اس نے جلد ہی شہر احمد آباد میں ایک فیکٹری لگائی تھی۔ یہ فیکٹری بظاہر نہایت اعلیٰ معیار پر قائم کی گئی تھی۔ نوجوان نے اپنی فیکٹری کے مختلف حصوں کو دکھاتے ہوئے کہا کہ ہماری فیکٹری جدید معیار پر قائم کی گئی ہے۔ مگر ابھی تک ہمارے پاس کوئی کوالیفائڈ مینیجر نہیں ۔ اس واقعہ کا ذکر کرتے ہوئے اس نے یہ جملہ کہا —اپنی تو لیمیٹیشنس (limitations)آجاتی ہیں مینیجمنٹ سائڈ پر۔
اس واقعہ کو یاد کرتے ہوئے میری زبان پر یہ جملہ آگیا کہ کیا خدانخواستہ خالق کا معاملہ بھی ایسا ہی ہے، کیا خالق کی لیمیٹیشنس آجاتی ہیں انسان کی سائڈ پر۔اس سوال پر غور کرتے ہوئے میری سمجھ میں آیا کہ ایسا نہیں ہوسکتا ۔ کیوں کہ خود قرآن کے مطابق، انسان کو اس کے پیدا کرنے والے نے احسن تقویم (التین،95:4) کے ساتھ پیدا کیا۔ خالق کائنات نےانسان کے لیے اعلیٰ ترین انجام مقدر کیا ہے، یعنی ابدی جنتوں میں داخلے کا انعام ۔
اس پہلو پر غور کرتے ہوئے سمجھ میں آیا کہ انسان کے ساتھ جو پوری کائنات سے الگ معاملہ کیا گیا ہے، یعنی مصیبت (البقرۃ،2:156) کا معاملہ۔ وہ انسان کی بہتری کے لیے کیا گیا ہے۔ انسان کی زندگی ایک سفر ہے، دنیا سے جنت کا سفر۔ یہ سفر انسان کے لیے ایک تربیتی سفر ہے۔ انسان کے لیے اس سفر کے دوران ایک تربیتی کورس مقدر کیا گیا ہے۔ انسان کے لیے یہ مقدر کیا گیا ہے کہ وہ اس تربیتی کورس سے کامیاب ہوکر نکلے۔ تاکہ جب اس کا یہ تربیتی دور ختم ہو تو وہ اپنے آپ کو جنت کے گیٹ پر کھڑا ہوا پائے۔
انسان کے بارے میں خالق کے اس تخلیقی نقشہ (creation plan) کا تقاضا ہے کہ انسان اپنی ساری توجہ اپنی زندگی کے اس پہلو پر مرتکز کردے۔ وہ اپنی زندگی کے ہر لمحے کو اس مقصد کے لیے استعمال کرے کہ وہ اپنے آپ کو ایک تربیت یافتہ انسان بنانے میں کامیاب ہوسکے۔ قرآن میں اس حقیقت کو بار بار بتایا گیا ہے۔ اس سلسلے میں تین آیتیں یہ ہیں:وَلَقَدْ خَلَقْنَا الْإِنْسَانَ وَنَعْلَمُ مَا تُوَسْوِسُ بِہِ نَفْسُہُ وَنَحْنُ أَقْرَبُ إِلَیْہِ مِنْ حَبْلِ الْوَرِیدِ ۔ إِذْ یَتَلَقَّى الْمُتَلَقِّیَانِ عَنِ الْیَمِینِ وَعَنِ الشِّمَالِ قَعِیدٌ۔ مَا یَلْفِظُ مِنْ قَوْلٍ إِلَّا لَدَیْہِ رَقِیبٌ عَتِیدٌ (50:15-18)۔ یعنی اور ہم نے انسان کو پیدا کیا اور ہم جانتے ہیں ان باتوں کو جو اس کے دل میں آتی ہیں ۔ اور ہم رگِ گردن سے بھی زیادہ اس سے قریب ہیں ۔جب دو لینے والے لیتے رہتے ہیں جو کہ دائیں اور بائیں طرف بیٹھے ہیں ۔ کوئی لفظ وہ نہیں بولتا مگر اس کے پاس ایک مستعد نگراں موجود ہے۔
جنت انسان کا ہیبیٹاٹ (habitat) ہے۔ جنت انسان کا فطری مسکن ہے۔ جنت وہ مقام ہے جہاں انسان کو ہر اعتبار سے کامل فل فل منٹ (fulfillment)ملے گا۔ جنت ہی وہ مقام ہے جس کو پانے کے لیے ہر مرد و عورت کو عمل کرنا چاہیے (الصافات، 37:61)۔
واپس اوپر جائیں

ایمان کا ذائقہ

کسی کھانے کی چیز کو آپ اپنے ہاتھ میں لیں، تو آپ کو اس کا کوئی ذائقہ محسوس نہیں ہوگا۔ لیکن جب کھانے کی اسی چیز کو آپ اپنے منھ میں ڈالتے ہیں تو آپ کو مختلف قسم کے خوشگوارذائقے محسوس ہوتے ہیں، مثلاً کھٹا، میٹھا، نمکین وغیرہ۔ اس کا سبب یہ ہے کہ زبان میں چھوٹے چھوٹے ذائقہ خانے (taste buds) ہوتے ہیں۔ جب کوئی ذائقہ خانہ اس کے مزاج کی چیز کا تجربہ کرتا ہے تو انسان فوراً اس کے ذائقے کو محسوس کرنے لگتا ہے۔ یہ ذائقہ خانے فطری طور پر کسی کی زبان میں کم ہوتے ہیں، اور کسی کی زبان میں زیادہ۔ چنانچہ ان ذائقہ خانوں کی تعداد تقریباً دو ہزار سے لے کر دس ہزار تک شمار کی گئی ہے۔یہ ذائقہ خانے استعمال کرنے کی بنا پر زندہ (alive) رہتے ہیں۔ لیکن جب ان کو استعمال نہ کیا جائے تو یہ کند (dul) ہوجاتےہیں۔
یہ مادی ذائقہ کا معاملہ ہے۔ اسی طرح انسان کے اندر زیادہ اعلیٰ درجے کے روحانی ذائقہ خانے (spiritual taste buds) بھی ہوتے ہیں۔ جو لوگ اپنے اس روحانی ذائقہ خانے کو استعمال کریں اور اس کو ڈیولپ کرتےرہیں، وہ روحانی ذائقوں کو بھی اسی طرح زیادہ لطیف انداز میں محسوس کریں گے، جس طرح کوئی شخص مادی ذائقے کو محسوس کرتا ہے۔ مثلاً اللہ سے محبت یا اللہ سے تعلق ایک ذائقہ ہے۔ اس ذائقے کے بہت سے درجے ہیں۔ جو آدمی ان ذائقوں کو ڈیولپ کرے، اور ان کو محفوظ رکھے تو وہ ہر ربانی آئٹم کے تجربے پر اس کا ذائقہ پاتا رہے گا۔ یہ روحانی ذائقہ خانے تعداد میں کم بھی ہوسکتے ہیں، اور اتنے زیادہ بھی کہ ان کا شمار کرنا ناممکن ہوجائےگا۔مادی ذائقہ خانے ہوں یا روحانی ذائقہ خانے دونوں ڈیولپ کرنے سے زندہ رہتے ہیں، اور اگر ان کو ڈیولپ نہ کیا جائے تو وہ کند ہوجاتے ہیں۔
یہی وہ حقیقت ہے، جو ایک حدیث رسول میں ان الفاظ میں آئی ہے:ذَاقَ طَعْمَ الْإِیمَانِ مَنْ رَضِیَ بِاللہِ رَبًّا، وَبِالْإِسْلَامِ دِینًا، وَبِمُحَمَّدٍ رَسُولًا (صحیح مسلم، حدیث نمبر 34)۔ یعنی اس نے ایمان کا ذائقہ چکھا، جو اللہ کو رب مان کر راضی ہوا، اور اسلام کو دین مان کر، اور محمد کو نبی مان کر۔
ان ذائقوں کی شدت مختلف انداز میں ظاہر ہوتی ہے۔ مثلاً کسی شخص کو کھانے کی کوئی اچھی چیز ملے تو اس کو کھاکر وہ بہت زیادہ خوش ہوجائے گا، اس کی زبان سے واؤ (wow) یا ونڈرفل (wonderful) جیسے الفاظ نکل پڑتے ہیں۔ وہ خوشی سے جھوم اٹھتا ہے۔ اسپریچول ذائقے کا معاملہ اس سے مختلف ہے۔ مثلاً کسی کو اللہ سے تعلق کا اعلی تجربہ ہو، تو اس قسم کا اعلیٰ تجربہ پیش آئے گا، جس کو قرآن کی مختلف آیات میں ذکر کیا گیا ہے۔ مثلا ً إِنَّمَا الْمُؤْمِنُونَ الَّذِینَ إِذَا ذُکِرَ اللَّہُ وَجِلَتْ قُلُوبُہُمْ وَإِذَا تُلِیَتْ عَلَیْہِمْ آیَاتُہُ زَادَتْہُمْ إِیمَانًا وَعَلَى رَبِّہِمْ یَتَوَکَّلُونَ (8:2)۔ یعنی ایمان والے تو وہ ہیں کہ جب اللہ کا ذکر کیا جائے تو ان کے دل دہل جائیں اور جب اللہ کی آیتیں ان کے سامنے پڑھی جائیں تو وہ ان کا ایمان بڑھا دیتی ہیں اور وہ اپنے رب پر بھروسہ رکھتے ہیں۔ اسی طرح یہ آیت ہے: الَّذِینَ قَالَ لَہُمُ النَّاسُ إِنَّ النَّاسَ قَدْ جَمَعُوا لَکُمْ فَاخْشَوْہُمْ فَزَادَہُمْ إِیمَانًا وَقَالُوا حَسْبُنَا اللَّہُ وَنِعْمَ الْوَکِیلُ (4:173)۔ یعنی جن سے لوگوں نے کہا کہ بلاشبہ لوگوں نے تمہارے خلاف بڑی طاقت جمع کرلی ہے اس سے ڈرو، لیکن اس چیز نے ان کے ایمان میں اور اضافہ کردیا اور وہ بولے کہ اللہ ہمارے لئے کافی ہے اور وہ بہترین کارساز ہے۔
انسان کی شخصیت میں شاید سب سے زیادہ خالص (pure) چیز آنسو ہے۔ آنسو ہمیشہ دل کی گہرائیوں سے نکلتے ہیں۔ انسانی جسم میں ہاضمے کا جو پیچیدہ عمل ہوتا ہے، اس سے انسان کے جسم میں جو مختلف قسم کی رقیق اشیا پیدا ہوتی ہیں، ان میں سب سے زیادہ لطیف چیز آنسو ہیں۔ جب کبھی ایسا ہوتا ہے کہ انسان محبت خداوندی کے کسی لطیف ذائقے کو محسوس کرتا ہے تو وہ محبت کے آنسو کی شکل میں اس کی آنکھوں سے ابل پڑتا ہے۔ اس ظاہرے کا ذکر قرآن میں ان الفاظ میں آیا ہے: وَإِذَا سَمِعُوا مَا أُنْزِلَ إِلَى الرَّسُولِ تَرَى أَعْیُنَہُمْ تَفِیضُ مِنَ الدَّمْعِ مِمَّا عَرَفُوا مِنَ الْحَقِّ یَقُولُونَ رَبَّنَا آمَنَّا فَاکْتُبْنَا مَعَ الشَّاہِدِینَ (5:83)۔یعنی جب وہ اس کلام کو سنتے ہیں جو رسول پر اتارا گیا ہے تو تم دیکھو گے کہ ان کی آنکھوںسے آنسو جاری ہیں، اس سبب سے کہ انھوں نے حق کو پہچان لیا۔ وہ پکار اٹھتے ہیں کہ اے ہمارے رب ہم ایمان لائے۔ پس تو ہم کو گواہی دینے والوں میں لکھ لے۔
واپس اوپر جائیں

خدا کی پہچان

خدا کو پہچاننے کے بہت سے پہلو ہیں۔ اگر کوئی خدا کو پہچاننا چاہے، تو ان پہلوؤں سے خدا کو دریافت کرسکتا ہے۔ ان میں سے ایک یہ ہے کہ فطرت کے نظام کا تقابل انسانی نظام سے کیا جائے۔
محمّد بن الحسن الفتال (وفات 508ھ) ایک مشہور عالم ہیں، ان کی ایک مشہور کتاب ہے، اس کا نام ہے روضة الواعظین۔ انھوں نے اس کتاب میں علی ابن ابی طالب کے حوالے سے ان کا ایک قول نقل کیا ہے:قال أبو جعفر :قام رجل، فقال: یا أمیر المؤمنین بماذا عرفت ربک؟ قال:بفسخ العزائم ومنع الہمة لما ان ہممت بأمر فحال بینی وبین ہمتی، وعزمت فخالف القضاء عزمی، علمت أن المدبر غیری (روضۃ الواعظین، صفحہ نمبر 30)۔ یعنی ابوجعفر نے کہا: ایک آدمی کھڑا ہوا، اس نے پوچھا: اے امیر المومنین، آپ نے اپنے رب کو کیسے پہچانا۔ علی نے کہا: پختہ عزم کے ٹوٹنے ، اور ارادے کےناتمام رہنے سے۔ میں نے ایک کام کرنے کا ارادہ کیا توکوئی میرے اور میرے ارادے کے درمیان حائل ہوگیا۔ میں نے ایک عزم کیا، تو تقدیر میرے عزم کے خلاف گئی۔ اس سے میں نے یہ جانا کہ تدبیر کرنے والا میرے علاوہ کوئی اور ہے۔
اس کا مطلب یہ ہے کہ میں نے اپنے رب کو پہچانا اپنے منصوبوں کے ٹوٹنے سے۔اس بات کو آج کل کی زبان میں اس طرح کہا جاسکتا ہے کہ تقابل (comparison) کے اصول کو اپلائی کرکے اللہ کی معرفت حاصل کرنا ہے۔ یعنی خدا کے منصوبے جو فطرت (nature) میں کام کر رہے ہیں، ان کا تقابل انسان کے منصوبوں سے کیا جائے۔ اس تقابل سے معلوم ہوتا ہے کہ رب العالمین کے منصوبے زیرو ڈیفکٹ مینجمنٹ (zero-defect management) کی سطح پر جاری ہیں۔ اس کے برعکس، انسان کے منصوبے سب کے سب کوشش کے باوجود زیرو ڈیفکٹ کے معیار پر پورے نہیں اترتے۔ موجودہ زمانے میں یہ دریافت ہوئی کہ فطرت (nature) کے تمام منصوبے زیرو ڈیفکٹ مینجمنٹ کی سطح پر چل رہے ہیں۔ مغرب کے ترقی یافتہ ملکوں میں کوشش کی گئی کہ انسان کی صنعت بھی زیرو ڈیفکٹ مینجمنٹ کے اصول پر چلائی جائے۔ لیکن اس معاملے میں کامل ناکامی ہوئی۔ یہ معاملہ انسان کی نگرانی میں چلنے والے بڑے سے بڑے آرگنائزیشن سے لے کر انفرادی سطح پر جاری تمام منصوبو ں میں دیکھا جاسکتا ہے۔
اس کی ایک مثال یہ ہے کہ میرے دفتر میں کچھ لوگ ملاقات کے لیے آئے۔ ان کے لیے چائے منگائی گئی۔ چائے پینے کے بعد چائے کے تمام برتن ایک ٹرے(tray)میں رکھ دیے گئے۔ یہ ٹرے میز کے ایک طرف رکھی ہوئی تھی۔ کسی وجہ سے پوری ٹرے فرش پر گر پڑی۔ ٹرے میں موجود ٹی سیٹ کے تقریبا دو درجن آئٹم تھے۔ سب کے سب نیچے گر کر ٹوٹ گئے۔اس تجربے کو آپ ایک اصول کے تحت لائیے:
In comparison that you understand
رب العالمین بیشمار چیزوں کو مینج کررہا ہے۔ لیکن کہیں بھی کوئی نقص نہیں، آتا۔ جیسا کہ قرآن میں آیا ہے:الَّذِی خَلَقَ سَبْعَ سَمَاوَاتٍ طِبَاقًا مَا تَرَى فِی خَلْقِ الرَّحْمَنِ مِنْ تَفَاوُتٍ فَارْجِعِ الْبَصَرَ ہَلْ تَرَى مِنْ فُطُورٍ ۔ ثُمَّ ارْجِعِ الْبَصَرَ کَرَّتَیْنِ یَنْقَلِبْ إِلَیْکَ الْبَصَرُ خَاسِئًا وَہُوَ حَسِیرٌ (67:3-4)۔ یعنی جس نے بنائے سات آسمان اوپر تلے، تم رحمٰن کے بنانے میں کوئی خلل نہیں دیکھو گے، پھر نگاہ ڈال کر دیکھ لو، کہیں تم کو کوئی خلل نظر آتا ہے۔ پھر بار بار نگاہ ڈال کر دیکھو، نگاہ ناکام تھک کر تمہاری طرف واپس آجائے گی۔اس خدائی مینجمنٹ کے مقابلے میں انسانی کوششوں کو دیکھئے۔انسان جب ایسا کرتا ہے تو وہ بہت ساری چیزوں کو کھودیتا۔ اب انسان غور کرے گا تو اس کو یہ دریافت ہوگا کہ اس کائنات کا بہت بڑا حی و قیوم خدا ہے۔
٭ ٭ ٭ ٭ ٭ ٭
خدا مشاہدہ (observation) میں نہیں آتا مگر خدا تجربہ کے اعتبار سے ضرور ایک معلوم حقیقت ہے۔ انسان کے اندر اگر حقیقت پسندانہ مزاج ہو تو بلا شبہ وہ خدا کے وجود کا اقرار کرے گا۔
واپس اوپر جائیں

خدا کی دریافت

انسان کی تاریخ میں غالباً ایک ایسا واقعہ ہے، جو سب سے بڑی حقیقت ہونے کے باوجود عملاً ایک غیر دریافت شدہ حقیقت (missing discovery) بن گیا۔ انسان نے خدا کی تخلیق کو دریافت کیا، لیکن انسان خود خالق کو دریافت کرنے میں ناکام رہا۔ بظاہر خدا (God) اہل مذاہب کا سب سے بڑا موضوع (subject) رہا۔ لیکن اہل مذاہب کے یہاں خدا فنی (technical)بحثوں کا موضوع بن گیا۔ اہل مذاہب عملاً خدا کو ایک حی و قیوم (the Living, the All-Sustaining) خدا کے طور پر دریافت کرنے میں ناکام رہے۔
اہل مذاہب نے خدا کو اقراری ایمان کا حصہ تو بنایا، لیکن وہ ایسے خدا کو دریافت نہ کرسکے، جو ان کے لیے حبّ شدید اور خوف شدید کا ذریعہ (source) بن جائے۔ اللہ رب العالمین نے پانچ سو سال پہلے طبیعی سائنس (physical science)کو وجود بخشا۔ سائنس اس معاملے میں ایک تائیدی علم کی حیثیت سے ابھرا۔ سائنس اپنی حقیقت کے اعتبار سے تائیدی ڈیٹا (supporting data) کی حیثیت رکھتا تھا۔ لیکن اہل مذاہب اس حقیقت کو دریافت نہ کرسکے۔ انھوں نے سائنس کو مذہب کا ایک شعبہ سمجھنے کے بجائے، میتھمیٹکس کا ایک شعبہ سمجھا، اور اس کو سیکولر علم کے خانے میں ڈال دیا۔
مذہب انسان کو خدا کا عقیدہ دیتا ہے۔ لیکن خدا کو کامل معنوں میں ایک زندہ حقیقت بنانے میں سائنس کے علوم ایک مددگار علم کی حیثیت رکھتے ہیں۔ اگر آدمی صحیح ذہن کے ساتھ سائنس کو پڑھےتو سائنس اس کے مذہبی ادراک میں اضافہ کرنے کا سبب بن جائے گا۔جو لوگ اس معاملے میں تجربہ کرنا چاہتے ہیں، ان سے میں کہوں گا کہ پہلے آپ مذہبی کتابوںکا مطالعہ کرکے اپنے اندر خدا کا عقیدہ پیدا کیجیے، اس کے بعد آپ حسب ذیل کتابوں کا مطالعہ کیجیے:
The Evidence of God in an Expanding Universe, by John Clover Monsma, published by G.P. Putnam's Sons
(اردو ترجمہ:’خدا موجود ہے‘، مرکزی مکتبہ اسلامی پبلشر، نئی دہلی)
God Arises, by Maulana Wahiduddin Khan, published by Goodword Books, New Delhi (’ مذہب اور جدید چیلنج‘:اردو ترجمہ)
فطرت کا قانون
قرآن کی ایک آیت ان الفاظ میں آئی ہے:قُلْ لَا أَمْلِکُ لِنَفْسِی نَفْعًا وَلَا ضَرًّا إِلَّا مَا شَاءَ اللَّہُ وَلَوْ کُنْتُ أَعْلَمُ الْغَیْبَ لَاسْتَکْثَرْتُ مِنَ الْخَیْرِ وَمَا مَسَّنِیَ السُّوءُ(7:188)۔ یعنی کہو، میں مالک نہیں اپنی جان کے بھلے کا اور نہ برے کا مگر جو اللہ چاہے۔ اور اگر میں غیب کو جانتا تو میں بہت سے فائدے اپنے لئے حاصل کرلیتا اور مجھے کوئی نقصان نہ پہنچتا۔
قرآن کی یہ آیت بظاہر پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کو خطاب کررہی ہے۔ لیکن وہ اپنے عمومی انطباق کے اعتبار سے ساری انسانی تاریخ پر محیط ہے۔حقیقت یہ ہے کہ اس دنیا میں فائدہ اور نقصان کا تعلق بہت زیادہ مستقبل بینی سے ہے۔ اگر آدمی مستقبل کو جانے تو وہ بڑے بڑے فائدے حاصل کرسکتا ہے۔ لیکن مستقبل کو نہ جاننے کی بنا پر انسان کو نقصان اٹھانا پڑتا ہے۔یہ معاملہ عام انسانی زندگی کا معاملہ ہے۔ اس لحاظ سے یہ آیت پوری انسانی تاریخ کو بیان کررہی ہے۔
یہاں ایک تقابل کے ذریعے بہت بڑی حکمت معلوم ہوتی ہے۔ وہ یہ کہ انسان کا معاملہ یہ ہے کہ وہ اپنے معاملات کی ایسی منصوبہ بندی نہیں کرسکتا، جس میں اس کو نقصان نہ پیش آئے۔ انسان کی ہر منصوبہ بندی میں کچھ نہ کچھ کمی رہ جاتی ہے، اس لیے انسان کو بار بار نقصان اٹھانا پڑتا ہے۔ اس کے برعکس، کائنات کا معاملہ ہے۔ کائنات اللہ رب العالمین کی تخلیق ہے۔ کائنات میں ہر لمحہ بے شمار سرگرمیاں جاری ہیں۔ مثلاً سورج روزانہ اپنے مقررہ وقت پر نکلتا ہے۔ حتیٰ کہ شمسی نظام کا ایسا المنک (almanac) بنایا جاتا ہے، جو ہزاروں سال کی مدت تک ٹھیک ٹھیک نقشہ پیشگی طور پر بتاتا ہو۔ اس کے برعکس، انسان کسی بھی حال میں اس قسم کی بے عیب منصوبہ بندی (zero-defect management)پر قادر نہیں۔ یہ تقابل اللہ رب العالمین کے وجود کا ایک بین ثبوت ہے۔ایک طرف انسان کا معاملہ ہے کہ وہ زیرو ڈیفکٹ مینجمنٹ پر قادر نہیں، دوسری طرف خالق کائنات نے زیرو ڈیفکٹ مینجمنٹ کا نظام مسلسل طور پر کائنات میں قائم کررکھا ہے۔تقابل کا اصول (تعرف الاشیاء باضدادہا) کو اپلائی کیجیے تو اس سے آپ کی معرفت رب میں بے پناہ اضافہ ہوجائے گا۔
زیرو ڈیفکٹ کائنات
سیکنڈ ورلڈ وار (1939-1945) کے زمانے میں ایک تصور پیدا ہوا، جس کو زیرو ڈیفکٹ مینجمنٹ کہا جاتا ہے۔اس موضوع پر بہت سے آرٹکل اور بہت سی کتابیں شائع ہوئیں۔ جلد ہی یہ تصور ترقی یافتہ ملکوں میں تیزی سے پھیل گیا۔کئی ملکوں، مثلا ًامریکا اور جاپان، وغیرہ میں اس تصور کو بڑے پیمانے پرعمل میں لانے کی کوشش کی گئی۔ لیکن لمبے تجربے کے بعد یہ مان لیا گیا کہ زیرو ڈیفکٹ مینجمنٹ کا تصور ناقابل حصول ہے۔اس موضوع پر انٹرنیٹ میں کافی مواد موجود ہے۔ آپ نمونے کے طور پر حسب ذیل آرٹکل پڑھ سکتے ہیں:
The Concept of Zero Defects in Quality Management by Chandana Das (www.simplilearn.com)
دور جدید میں صنعتی اعتبار سے ترقی یافتہ ملکوں میں بڑے پیمانے پر یہ کوشش کی گئی کہ زیرو ڈیفکٹ مینجمنٹ قائم کیا جائے۔ اس موضوع پر بڑی تعداد میں ریسرچ ہوئی اور کتابیں لکھی گئیں۔بیسویں صدی کے تقریباً پورے دور میں یہ کام جاری رہا۔ مگر اس مقصد میں مکمل ناکامی ہوئی۔ حالاں کہ دورِ جدید کے انتہائی ترقی یافتہ ملکوں نے اس عمل میں حصہ لیا۔ مثلاً امریکا اور جاپان وغیرہ۔ دوسری طرف عین اسی وقت دور جدید کے سائنسی مطالعے سے یہ ثابت ہوا ہے کہ فطرت کا نظام، مثلاً ستاروں اور سیاروں کی گردش ،وغیرہ، انتہائی حد تک بے خطا انداز میں قائم ہیں۔ اگر آپ یہ جاننا چاہیں کہ کل ٹھیک ٹھیک کس وقت سورج نکلے گا، اور کس وقت ٹھیک وہ غروب ہوگا، تو آپ آج ہی اس کو نہایت درست انداز میں معلوم کرسکتے ہیں۔
ایک طرف یہ تجربہ ہے کہ انسانی دنیا میں زیرو ڈیفکٹ مینجمنٹ کا تصور مکمل طور پر ناکام ہوچکا ہے، اور دوسری طرف انسان کے سوا جو مادی دنیا ہے، اس میں یہ تصور کامل طور پر موجود ہے۔ مثلاً اگر آپ یہ جاننا چاہیں کہ 15 اپریل 2025 کو سورج کب طلوع ہوگا، اور کب غروب ہوگا تو پیشگی طور پر آپ یہ معلوم کرسکتے ہیں کہ 15 اپریل کو دہلی میں سورج کے طلوع اور غروب کا وقت حسب ذیل ہوگا:
طلوع آفتاب (Sun rise) 05:56
غروب آفتاب (Sun set) 18:46
سورج کے طلوع و غروب کےبارے میں یہ وقت اسی صحت (accuracy) کے ساتھ ساری دنیا کے بارے میں معلوم کیا جاسکتا ہے۔ اسی طرح پوری مادی دنیاکا نظام کامل صحت کے ساتھ چل رہا ہے۔ مادی دنیا کی سائنس کو اسٹرانومی ، فزکس، کیمسٹری، وغیرہ کہا جاتا ہے۔ اس مادی دنیا کا ریکاڑد ہزاروں سال پہلے، اور ہزاروں سال بعد تک معلوم کیا جاسکتا ہے، اور کسی ادنی فرق کے بغیر وہ یہی رہے گا۔ اس دنیا کے بارے میں اب تک کوئی فرق ریکارڈ نہیں کیا گیا ہے۔
آپ غور کیجیے کہ وہ مادی دنیا جو براہ راست خالق کے مینجمنٹ کے تحت چل رہی ہے، وہ شروع سے اب تک اسی زیرو ڈیفکٹ مینجمنٹ کے اصول پر قائم ہے۔ اس کے مقابلے میں انسان کی دنیا میں ، انسان جو منصوبہ بناتا ہے، مثلاً انڈسٹری کی دنیا ، وہاں انتہائی کوشش کے باوجود زیرو ڈیفکٹ مینجمنٹ کا نظام قائم نہ ہوسکا۔ یعنی ایک طرف اسپیس میں ڈیوائن مینجمنٹ کو دیکھیے، جو زیرو ڈیفکٹ مینجمنٹ کے اصول پر مسلسل چل رہا ہے۔ دوسری طرف ہیومن مینجمنٹ کو دیکھیے۔ اس دوسری دنیا میں تقریباً ایک صدی کی مسلسل کوشش کے باوجودد زیرو ڈیفکٹ مینجمنٹ کا نظام قائم نہ ہوسکا۔اس معاملے میں اگر آپ کو ہیومن مینجمنٹ کا تجربہ جاننا ہو، تو آپ انٹرنیٹ پر موجود اس مضمون کو پڑھیے:
Zero Defects, a term coined by Mr. Philip Crosby in his book "Absolutes of Quality Management" has emerged as a popular and highly-regarded concept in quality management—so much so that Six Sigma is adopting it as one of its major theories. Unfortunately, the concept has also faced a fair degree of criticism, with some arguing that a state of zero defects simply cannot exist. Others have worked hard to prove the naysayers wrong, pointing out that “zero defects” in quality management doesn’t literally mean perfection, but rather refers to a state where waste is eliminated and defects are reduced. It means ensuring the highest quality standards in projects. What Do We Mean by Zero Defects: From a literal standpoint, it’s pretty obvious that attaining zero defects is technically not possible in any sizable or complex manufacturing project. (www.simplilearn.com. accessed on 13.03.19)
اب اس دو طرفہ تجربے کے اوپر مشہور فارمولے کو منطبق (apply) کیجیے کہ چیزیں اپنے ضد سے سمجھ میں آتی ہیں(تعرف الاشیاء باضدادہا):
in comparison that you understand
قرآن کی مختلف آیتوں میں اس بات کی طرف اشارہ کیا گیا ہے کہ انسان کی دنیا میں انسان جو نظام بناتا ہے، اور انسان کے باہر بقیہ کائنات میں جو نظام ہے، دونوں میں تقابل (comparison)کرکے دیکھو۔ یہ تقابلی مطالعہ(comparative study) بتائے گا کہ دونوں دنیاؤں میں بنیادی فرق ہے۔ انسان کی دنیا میں انسان جو نظام بناتا ہے، اس میں ساری کوشش کے باوجود زیرو ڈیفکٹ مینجمنٹ کا نظام قائم نہ ہوسکا۔ یہاں تک کہ یہ مان لیا گیا کہ انسان کی دنیا میں اس تصور کا حصول ممکن نہیں۔ دوسری طرف خدا کی قائم کردہ مادی دنیا میں یہ تصور پوری تاریخ میں انتہائی صحت (accuracy) کے ساتھ قائم ہے۔
اس فرق پر جب مذکورہ فارمولا کو منطبق کیا جائے تو خود انسانی تجربے کے مطابق یہ ثابت ہوتا ہے کہ اس کائنات کا مالک ایک برتر ہستی ہے، یعنی اللہ رب العالمین۔ انسان کی دنیا اور فزیکل سائنس (exact sciences) کی دنیا میں جو فرق ہے، وہ فرق خدا کے وجود کا ایک قطعی ثبوت ہے۔ یہی وہ حقیقت ہے، جس کو قرآن میں ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے:الَّذِی خَلَقَ سَبْعَ سَمَاوَاتٍ طِبَاقًا مَا تَرَى فِی خَلْقِ الرَّحْمَنِ مِنْ تَفَاوُتٍ فَارْجِعِ الْبَصَرَ ہَلْ تَرَى مِنْ فُطُورٍ ۔ ثُمَّ ارْجِعِ الْبَصَرَ کَرَّتَیْنِ یَنْقَلِبْ إِلَیْکَ الْبَصَرُ خَاسِئًا وَہُوَ حَسِیرٌ (67:3-4) ۔ یعنی جس نے بنائے سات آسمان اوپر تلے، تم رحمٰن کے بنانے میں کوئی خلل نہیں دیکھو گے، پھر نگاہ ڈال کر دیکھ لو، کہیں تم کو کوئی خلل نظر آتا ہے۔ پھر بار بار نگاہ ڈال کر دیکھو، نگاہ ناکام تھک کر تمہاری طرف واپس آجائے گی۔
اسی طرح ایک آیت یہ ہے: أَفَلَمْ یَنْظُرُوا إِلَى السَّمَاءِ فَوْقَہُمْ کَیْفَ بَنَیْنَاہَا وَزَیَّنَّاہَا وَمَا لَہَا مِنْ فُرُوجٍ (50:6)۔ یعنی کیا ان لوگوں نے اپنے اوپر آسمان کو نہیں دیکھا، ہم نے کیسا اس کو بنایا اور اس کو رونق دی اور اس میں کوئی رخنہ نہیں۔ موجودہ زمانے میں کائنات کے بے خطا نظام کی یہ دریافت اللہ رب العالمین کی ایک صفت کو ثابت شدہ بنا رہی ہے۔ اور وہ ہے: لَا تَأْخُذُہُ سِنَةٌ وَلَا نَوْمٌ (2:255)۔ یعنی اس کو نہ اونگھ آتی ہے اور نہ نیند۔
٭ ٭ ٭ ٭ ٭ ٭
قرآن میں ہے کہ پیغمبر موسیٰ نے خدا کو دیکھنا چاہا،لیکن اپنی محدودیت کی بنا پر وہ خدا کو دیکھ نہیں سکے (الاعراف، 7:143)۔ اس واقعے پر غور کیجیے تو معلوم ہوتا ہے کہ انسان خدا کی ذات کو دیکھ نہیں سکتا۔ البتہ وہ اس کی صفات کا تجربہ کرسکتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ انسا ن اللہ کی تخلیق پر غور کرے، تو وہ تخلیق کا علم حاصل کرسکتا ہے۔ یعنی خدا کی تخلیق کے ذریعے خدا کے وجود کی معرفت حاصل کرسکتا ہے۔ اس میں خدا کی معرفت حاصل کرنے کا طریقہ بتایا گیا ہے۔ انسان کو چاہیے کہ وہ خدا کی صفات کا مطالعہ کرکے خدا تک پہنچے۔ انسان کے لیے ناممکن ہے کہ وہ خدا کی ذات کا براہ راست مطالعہ کرکے وہ خدا کا عارف بن جائے۔ فلاسفہ اور صوفیا ، دونوں نے یہ غلطی کی کہ انھوں نے خدا کا براہ راست مطالعہ کرکے خدا کو جاننا چاہا۔ مگر وہ اس میں کامیاب نہیں ہوئے۔سائنس نے خدا کے مطالعے کا بالواسطہ طریقہ اختیار کیا، اور اس میں کامیابی حاصل کی۔مثلاً بگ بینگ (Big Bang) کے مطالعے کے ذریعے یہ دریافت کرنا کہ کائنات تقریباً تیرہ بلین سال پہلے وجود میں آئی، وغیرہ۔
واپس اوپر جائیں

عجز کا اصول

عجز کا مطلب لفظی اعتبار سے بے طاقتی (helplessness) ہے۔ لیکن اسلام میں عجز کا مطلب اس سے زیادہ ہے۔ اسلام کے مطابق، عجز ایک مثبت قدر (positive value) کانام ہے۔ عجز ایک اعلیٰ دریافت ہے، جو ایمان کے بعد کسی شخص کو حاصل ہوتا ہے۔خالق کی اعلیٰ صفت یہ ہے کہ وہ قادر مطلق ہستی (all-powerful being) ہے۔ اس کے مقابلے میں عجز بندے کی صفتِ حقیقی کا نام ہے۔ بندہ جب خالق کے مقابلے میں اپنی حقیقی حالت کو دریافت کرتا ہے، تو اسی کا دوسرا نام عجز ہے۔
عجز سب سے بڑی عبادت ہے۔ عجز عبادت کا مغز (essence) ہے۔ عجز انسان کی خودشناسی کا اعلیٰ درجہ ہے۔ عجز یہ ہے کہ آدمی اپنی حقیقتِ واقعی کو دریافت کرلے۔ عجز یہ ہے کہ آدمی خالق کے مقابلے میں اپنی حیثیتِ اصلی کا شعور حاصل کرلے۔عجز کمزوری کا نام نہیں ہے۔ عجز یہ ہے کہ آدمی اپنے آپ سے باخبر ہوجائے۔ عجز یہ ہے کہ آدمی مین کٹ ٹو سائز (man cut to size)بن جائے۔عجز عبدیت کی تکمیل ہے۔ عجز خدا سے قربت کی آخری حالت ہے۔ عجز خدا شناسی کا اعلیٰ درجہ ہے۔ عجز بے طاقتی کا ظاہرہ نہیں، بلکہ عجز خدا سے قربت کا ایک ظاہرہ ہے۔
قرآن میں مومن کی ایک صفت ان الفاظ میں بتائی گئی ہے:وَلَمْ یَخْشَ إِلَّا اللَّہَ (9:18)۔ یعنی وہ اللہ کے سوا کسی سے نہ ڈرے۔ اس آیت میں ڈرنے کا مطلب معروف معنی میں ڈرنا نہیں ہے، بلکہ اللہ کو اپنا سول کنسرن (sole concern) بنانا ہے۔ جب کوئی شخص اللہ کو اپنا سول کنسرن بنا لے، تو اس کے بعد انسان کی جو داخلی حالت ہوتی ہے، اسی کانام عجز ہے۔ عجز کو محسوس کیا جاسکتا ہے، لیکن عجز کا خارجی مظاہرہ شاید ممکن نہیں۔ عجز کی سب سے بڑی صفت یہ ہے کہ وہ اللہ کو انووک (invoke)کرنے والا ہے۔ کیوں کہ عجز اپنی آخری حد پر پہنچ کر سفارش بن جاتا ہے۔
واپس اوپر جائیں

خوف کی نفسیات

بیسویں صدی عیسوی مسلم دنیا کے لیے تحریکوں کی صدی (century of milli activities) ہے۔ اس پوری صدی کے اندر مسلم دنیا کے ہر حصے میں کوئی نہ کوئی بڑا مسلم رہنما سرگرم عمل نظر آتا ہے۔ ان تحریکوں کا خلاصہ کیا جائے تو سب کا قدر مشترک ایک ہوگا۔ وہ ہے خوف کی نفسیات۔ ہر مسلم رہنما کسی نہ کسی دشمن کے خوف کو لے کر مسلمانوں کو اس کے خلاف عمل پر ابھاررہا ہے۔کہیں نو آبادیاتی طاقتوں کے خلاف، کہیں اسرائیل کے خلاف، کہیں ہندو اکثریت کے خلاف، کہیں ظالم قوم کے خلاف، کہیں مغربی طاقتوں کے خلاف، کہیں صہیونیت کے خلاف، وغیرہ۔
یہ ایک عام تجربہ ہے کہ لوگوں کو محبت انسانی کے اوپر اٹھایا جائے تو کبھی ایسی تحریک کو کامیابی حاصل نہیں ہوتی۔ اس کے برعکس، جو لیڈر لوگوں کو خوف کی نفسیات پر ابھارے، اس کے جھنڈے کے نیچے بےشمار لوگوں کی بھیڑ اکٹھا ہوجاتی ہے۔ اس کا سبب یہ ہے کہ انسان کے اندر اپنے خالق و منعم کا خوف پیدائشی طور پر موجود ہے۔ انسان فطری طور پر اس احساس میں جیتا ہے کہ جس خالق نے ہم کو تمام نعمتیں دی ہیں، اگر وہ ان نعمتوں کو چھین لے تو ہمارا کیا انجام ہوگا۔ یہ نفسیات انسان کے اندر خالق کی نسبت سے رکھی گئی ہے۔ مگر غیر دانش مند لیڈر اپنے انٹرسٹ کے لیے اس نفسیات کو مفروضہ انسانی دشمنوں کے خلاف استعمال کرتے ہیں۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ پوری انسانی تاریخ ایک عظیم نقصان سے دو چار ہورہی ہے۔ خوف کی نفسیات جو انسان کے اندر خدا کی نسبت سے رکھی گئی تھی، وہ انسان کی نسبت سے استعمال ہونے لگی۔ جس نفسیات کا نتیجہ یہ ہونا چاہیے کہ انسان کے اندر خدا رخی مزاج بنے، وہ انسان کے خلاف منفی مزاج پیدا کرنے کا ذریعہ بن گیا۔
انسان خالق سے ڈرے تو اس کے نتیجے میں اس کے اندر یہ نفسیات جاگتی ہے کہ وہ اپنے آپ کو انسان دوست آدمی بنائے۔ اس کے برعکس، جب یہ نفسیات انسان کی نسبت سے استعمال ہونے لگے تو ہر آدمی دوسرے کو اپنا دشمن سمجھ کر اس سے نفرت کرنے لگتا ہے۔
واپس اوپر جائیں

حکمت کا سر چشمہ

قرآن کی ایک آیت ان الفاظ میں آئی ہے:وَاتَّقُوا اللَّہَ وَیُعَلِّمُکُمُ اللَّہُ وَاللَّہُ بِکُلِّ شَیْءٍ عَلِیمٌ (2:282)۔ یعنی اور اللہ سے ڈرو، اللہ تم کو سکھاتا ہے اور اللہ ہر چیز کا جاننے والا ہے۔ اس آیت سے معلوم ہوا کہ تقویٰ علم یعنی حکمت کے حصول کا ذریعہ بنتا ہے۔ ایسا کیوں کر ہوتا ہے۔ اس کی حقیقت ایک حدیث کے مطالعے سے معلوم ہوتی ہے۔ ایک روایت کے مطابق، پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نےکہا: رَأسُ الحِکمَة مَخافَةُ اللَّہِ عز وجل (شعب الایمان للبیہقی، حدیث نمبر 730) ۔ یعنی حکمت کا سرا ، اللہ کا خوف ہے۔
خوف خدا کیا ہے! خوف خدا در اصل یہ ہے کہ آدمی کو اللہ رب العالمین کی دریافت اس طرح ہوجائے کہ اس کو برابر خدا کی موجودگی (presence of God) کا تجربہ ہونے لگے۔ جس آدمی کو اپنی زندگی میں اس طرح کا زندہ تجربہ ہونے لگے، وہ مسلسل طور پر اس احساس میں جینے لگتا ہے کہ خدا اس سے پوری طرح باخبر ہے، اور وہ انسان کے تمام قول و فعل کا حساب لے گا۔
جو آدمی اس طرح موجودگی ٔرب کے احساس میں جینے لگے، اس کے لیے یہ ناممکن ہوجاتاہے کہ وہ اپنی زندگی کے معاملات میں بے خوفی کی زندگی گزارے۔ وہ ہر قول اور فعل سے پہلے ہمیشہ یہ سوچے گا کہ کیا میں اللہ رب العالمین کے سامنے اپنے اس قول و فعل کے لیے مبرر (justification) دے پاؤں گا۔ کیا اللہ اپنے علم کی روشنی میں مجھ کو درست قرار دے گا، یا ایسا ہوگا کہ اللہ مجھ کو پوچھے گا کہ تم نے ایسا کیوں کہا ، تم ایسا کیوں بولے، تم نے ایسا فعل کیوں انجام دیا، وغیرہ۔ یہ احساس آدمی کو خود اپنے اوپر نگراں بنا دے گا۔دوسرے خواہ اس سے پوچھیں یا نہ پوچھیں، وہ خود اپنے آپ سے پوچھے گا کہ تم نے ایساکیوں کہا، تم نے ایسا کیوں کیا۔ جب آدمی کے اندر ایسی حساسیت جاگ اٹھے تو اس کے اندر خود بخود موضوعی سوچ (objective thinking) پیداہوجاتی ہے، وہ وہی بولتا ہے، جو اس کو بولنا چاہیے، وہ وہی کرتا ہے، جو اس کو کرنا چاہیے۔
واپس اوپر جائیں

فوق الفطری حکم

قرآن میں ایک فطری قانون کو ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے : إِنِ الْحُکْمُ إِلَّا لِلَّہِ أَمَرَ أَلَّا تَعْبُدُوا إِلَّا إِیَّاہُ ذَلِکَ الدِّینُ الْقَیِّمُ وَلَکِنَّ أَکْثَرَ النَّاسِ لَا یَعْلَمُونَ (12:40)۔ یعنی حکم صرف اللہ کے لئے ہے۔ اس نے آرڈر دیا ہے کہ اس کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو۔ یہی سیدھا دین ہے۔ مگر بہت لوگ نہیں جانتے۔
اس آیت میں حکم کا لفظ بطور خبر (information) ہے، جب کہ عبادت کا لفظ بطور انشاء ہے۔ خبر کا مطلب ہے،کسی ہونےوالے واقعہ کے بارے میں انفارمیشن دینا،اطلاع کرنا، اور انشاء کا مطلب ہے، کسی بات کے کرنے یا نہ کرنے کا مطالبہ کرنایاحکم دینا ۔اس آیت میں یہ خبر دی گئی ہے کہ کائنات میں حکم یعنی الفطری اقتدار (supernatural sovereignty) صرف اللہ کا ہے، اور وہ بالفعل ازل سے ابد تک قائم ہے، اوربحیثیت مقتدر اعلیٰ ا س کا امر یہ ہے کہ انسان صرف اسی کی عبادت کرے، اس کے علاوہ کسی اور کی عبادت نہ کرے۔قرآن کی اس آیت سے حکومت الٰہیہ کا نظریہ نکالنا سر تا سر بے بنیاد ہے۔ یہ خبر کو انشاء بنانے کے ہم معنی ہے۔ ایسا کرنا مذموم تفسیر بالرائے کی ذیل میں آتا ہے۔
اصل یہ ہے کہ اللہ کا حکم ساری کائنات میں بالفعل قائم ہے، نہ کہ انسان اس کو قائم کرے۔یہ معاملہ خبر کا معاملہ ہے، نہ کہ انشاء کا معاملہ۔ انسان کو یہ کرنا ہے کہ وہ اللہ رب العالمین کو دریافت کرے۔ اس کی دریافت اتنی زیادہ گہری ہو کہ وہ أَنْ تَعْبُدَ اللَّہَ کَأَنَّکَ تَرَاہُ(صحیح البخاری، حدیث نمبر50) کا کیس بن جائے۔ یعنی تم اللہ کی عبادت اس طرح کرو، گویا کہ تم ا س کو دیکھ رہے ہو۔ بات صرف عبادت کی حد تک نہ ہو، بلکہ وہ اپنی پوری زندگی اسی میں جینے لگے۔ اس کا جینا، اور اس کا مرنا، سب کا سب اللہ رب العالمین کے لیے ہوجائے۔ وہ ہر چیز میں اللہ کو دیکھے، وہ ہر چیز میں اللہ کی کار فرمائی کا مشاہدہ کرے، وہ اس طرح کامل معنوں میں اللہ کا عبد بن جائے، جیسے کہ وہ اس کو دیکھ رہا ہے۔ اس کے لیے اللہ کا معاملہ صرف رسمی عقیدہ کا معاملہ نہ رہے، بلکہ اللہ اس کے لیےایک زندہ عقیدہ کا معاملہ بن جائے، جیسا کہ آیت الکرسی میں بیان کیا گیا ہے۔ آیت الکرسی ایک لمبی آیت ہے اس کا ترجمہ یہ ہے:
اﷲ، اس کے سوا کوئی معبود نہیں۔ وہ زندہ ہے، سب کا تھامنے والا۔ اس کو نہ اونگھ آتی ہے اور نہ نیند۔ اسی کا ہے جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے۔ کون ہے جو اس کے پاس اس کی اجازت کے بغیر سفارش کرے۔ وہ جانتا ہے جو کچھ ان کے آگے ہے اور جو کچھ ان کے پیچھے ہے، اور وہ اس کے علم میں سے کسی چیز کا احاطہ نہیں کرسکتے مگر جو وہ چاہے۔ اس کی حکومت آسمانوں اور زمین پر چھائی ہوئی ہے۔ وہ تھکتا نہیں ان کے تھامنے سے۔ اور وہی ہے بلند مرتبہ، بڑا۔
اللہ کی دریافت انسان کے لیے ویسے ہی ایک حقیقت ہے، جیسے کہ کسی سائنسی حقیقت کو دریافت کرنا۔ مثلاً انسان جب آسمان کی طرف دیکھتا ہے، اور وہ پاتا ہے کہ کہکشائیں (galaxies)، اور سورج ، چاند اور پورا شمسی نظام (solar system) نہایت صحت (accuracy) کے ساتھ چل رہا ہے۔ صبح کو سورج کا نکلنا، اور شام کو سورج کا ڈوبنا انتہائی صحت کے ساتھ پیش آتا ہے۔ ملین اور بلین سال کے اندر بھی اس میں کوئی فرق نہیں آتا ۔ وہ دریافت کرتا ہے کہ کائنات مسلسل طور پر پھیل رہی ہے۔
چاروں طرف اس کا یہ پھیلنا (expansion)انتہائی صحت (precision) کے ساتھ پیش آرہا ہے۔ متحرک ملکی وے (Milky Way)کے حاشیہ پر پورا شمسی نظام اس طرح قائم ہے کہ شمسی نظام بھی حرکت میں ہے، اور کہکشاں بھی حرکت میں ہے، اور یہ پورا واقعہ حد درجہ صحت کے ساتھ پیش آرہا ہے۔ملین اور بلین سال کے اندر بھی اس میں کوئی فرق نہیں آتا۔ اس طرح کے متحرک نظامات خلا (space) کے اندر پھیلے ہوئے ہیں۔ ہر ایک مسلسل طور پر بے حد تیز رفتار حرکت کی حالت میں ہے۔ مگر ان میں کبھی کوئی ادنیٰ درجہ کا ٹکراؤ نہیں ہوتا۔ یہ پورا نظام انتہائی صحت کے ساتھ متحرک ہے۔
واپس اوپر جائیں

عارف انسان

قرآن میں ایک واقعہ کا ذکر ان الفاظ میں آیا ہے:وَإِذَا سَمِعُوا مَا أُنْزِلَ إِلَى الرَّسُولِ تَرَى أَعْیُنَہُمْ تَفِیضُ مِنَ الدَّمْعِ مِمَّا عَرَفُوا مِنَ الْحَقِّ یَقُولُونَ رَبَّنَا آمَنَّا فَاکْتُبْنَا مَعَ الشَّاہِدِینَ، وَمَا لَنَا لَا نُؤْمِنُ بِاللَّہِ وَمَا جَاءَنَا مِنَ الْحَقِّ وَنَطْمَعُ أَنْ یُدْخِلَنَا رَبُّنَا مَعَ الْقَوْمِ الصَّالِحِینَ (5:83-84)۔ یعنی اور جب انھوں نے اس کلام کوسنا جو رسول پر اتارا گیا ہے تو تم دیکھو گے کہ ان کی آنکھوں سے آنسوبہہ پڑے، اس سبب سے کہ انھوں نے حق کو پہچان لیا۔ وہ پکار اٹھتے ہیں کہ اے ہمارے رب، ہم ایمان لائے۔ پس تو ہم کو گواہی دینے والوں میں لکھ لے۔ اور ہم کیوں نہ ایمان لائیں اللہ پر اور اس حق پر جو ہمیں پہنچا ہے جب کہ ہم یہ آرزو رکھتے ہیں کہ ہمارا رب ہم کو صالح لوگوں کے ساتھ شامل کرے۔
یہ واقعہ ایک مسیحی گروپ کا ہے، جو پیغمبر اسلام سے ملنے کے لیے حبش سے مدینہ آئے تھے۔ اس مثال کے ذریعہ یہ معلوم ہوتا ہے کہ کلام الٰہی کا سننا ،ان کے لیے ایک گہراروحانی تجربہ (spiritual experience) بن گیا۔ اس روحانی تجربے کی کچھ علامتیں یہ ہیں - (1) گہرے تاثر کے ساتھ کلام اللہ کو سننا۔ (2) اس کے ذریعہ وحی الٰہی کی پہچان ہوجانا۔ (3)اس کو سننے کے بعد آنکھوں سے آنسو جاری ہونا۔ (4) معرفت کے زیر اثر یہ کہہ اٹھنا کہ خدایا ہم نے اس حق کو قبول کیا۔ (5)سننے کے بعد دل سے اس کی تصدیق کرنے والے بن جانا ۔ (6)کسی چیز کو قبول حق کی راہ میں رکاوٹ نہ بننے دینا۔ (7) کلام اللہ کو سنتے ہی یہ طلب پیدا ہوجانا کہ وہ اس گروہ میں شامل ہوجائیں، جنھوں نے اس کلام کو سن کر فوراً مثبت رسپانس (positive response) دیا۔ اس تاثر کا تعلق یکساں طور پرسماعت قرآن سے بھی ہے، اور مطالعہ قرآن سے بھی۔
یہ تمام علامتیں ایک لفظ میں معرفت قرآن کی علامتیں ہیں۔ اصل یہ ہے کہ قرآن پورا کا پورا فطرت کی زبان میں ہے۔ قرآن ہر آدمی کے لیے اس کی فطرت کا مثنیٰ (counterpart) ہے۔ قرآن کا سننا ہر آدمی کے لیے اس کی داخلی شہادت بن جاتا ہے۔ خاص طور پر جو لوگ اپنی فطرت کو زندہ رکھیں، ان کے لیے تو قرآن ایسی کتاب ہے کہ اس کو پڑھتے یا سنتے ہی انھیں محسوس ہوتا ہے کہ ان کی فطرت میں چھپی ہوئی روشنی اچانک روشن ہوگئی ۔ یہی وہ حقیقت ہے جو قرآن میں ان الفاظ میں بیان کی گئی ہے:یَکَادُ زَیْتُہَا یُضِیءُ وَلَوْ لَمْ تَمْسَسْہُ نَارٌ نُورٌ (24:35)۔ یعنی اس کا تیل ایسا ہے گویا آگ کے چھوئے بغیر ہی وہ خود بخود جل اٹھے گا۔
اس فطری مطابقت کی بنا پر ایسا ہوتا ہے کہ جس آدمی کو قرآن کی سچی معرفت ہوجائے، اس کے لیے قرآن معرفت حق (realization of truth)کا ذریعہ بن جاتا ہے۔ اس کے بعد اس کی سوئی ہوئی فطرت بیدار ہوجاتی ہے۔ اس کے اندر ایک نئی ربانی شخصیت کی تعمیر شروع ہوجاتی ہے۔ یہ تعمیر شخصیت بڑھتے بڑھتے یہاں تک پہنچ جاتی ہے کہ ساری کائنات اس کے لیے رزق ربانی کا دسترخوان بن جاتی ہے۔
قرآن میں اس نوعیت کے حوالے کثرت سے موجود ہیں۔ ان کا مطالعہ کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ جس انسان کی زندگی میں قرآن اس طرح داخل ہوکہ اس کی فطرت کے تمام دروازے کھل جائیں، اس کی دماغ کی تمام کھڑکیاں خدائی الہامات (divine inspiration) کوبے روک ٹوک وصول کرنے لگیں۔ ایسا انسان ایک نیا انسان بن جاتا ہے۔ قرآن اس کے لیے ہوجاتا ہے، اور وہ قرآن کے لیے۔
یہ ضروری نہیں ہے کہ آپ عربی زبان میں فنی مہارت پیدا کریں، اور پھرمفروضہ علوم قرآن کے عالم بن جائیں تو آپ کو فہم قرآن حاصل ہو۔ بلکہ فہم قرآن یہ ہے کہ قرآن آپ کو اتنی گہرائی کے ساتھ متاثر کرے کہ آپ کی فطرت کی کھڑکیاں کھل جائیں۔ آپ قرآن کو ساری کائنات میں پڑھنے لگیں۔ جس طرح پھولوں میں شہد کی مکھی کے لیے نکٹر ہوتا ہے، اسی طرح مومن کے لیے ساری دنیا میں حق کا نکٹر (nectar of truth) موجود ہے۔ قرآن جب کسی انسان کو اس طرح متاثر کرے کہ کائنات میں چھپے ہوئے حق کے نکٹر اس کو ملنے لگیں، تو اس کے بعد اس کے اندر ایک نئی شخصیت بننے لگتی ہے، ربانی شخصیت، جس کو جنت کے ابدی باغوں میں جگہ دی جائے۔
واپس اوپر جائیں

معرفت کا سفر

حدیث کی کتابوں میں ایک روایت پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف منسوب کی گئی ہے۔ اس کے الفاظ یہ ہیں: لو عرفتم اللہ حق معرفتہ لمشیتم على البحور، ولزالت بدعائکم الجبال، ولو خفتم اللہ حق مخافتہ لعلمتم العلم الذی لیس معہ جہل، ولکن لم یبلغ ذلک أحدا، قیل:یا رسول اللہ ولا أنت؟ قال:ولا أنا، اللہ عز وجل أعظم من أن یبلغ أحد أمرہ کلہ (کنزالعمال، حدیث نمبر 5893)۔ یعنی اگر تم اللہ کی معرفت حاصل کرلو، جیسا کہ اس کی معرفت کا حق ہے، تو ضرور تم سمندروں میں چلنے لگو گے، اور تمھاری دعا سے پہاڑ زائل ہوجائے گا، اور اگر تم اللہ سے ڈرو، جیسا کہ اس سے ڈرنے کا حق ہے، تو ضرور تمھیں وہ علم حاصل ہوجائے گا، جس کے ساتھ کوئی جہل نہ ہو، لیکن کوئی اس تک نہیں پہنچا۔ کہا گیا: آپ بھی نہیں اے خدا کے رسول، آپ نے کہا: نہیں، میں بھی نہیں۔ اللہ تعالی اس سے بہت عظیم ہے کہ کوئی اس کے تمام معاملات تک پہنچ جائے۔
مذکورہ اس حدیث میں جو بات کہی گئی ہے، وہ کوئی پراسرار بات نہیں ہے۔ وہ دراصل ایک اہم حقیقت کو بتارہی ہے۔ وہ یہ کہ انسان کو جو عقل دی گئی ہے، وہ صرف زمان ومکان (time and space) کے اندر سوچ سکتی ہے اور زمان ومکان کے اندر واقع چیزوں کو جان سکتی ہے۔ لیکن اللہ رب العالمین کا معاملہ یہ ہے کہ وہ زمان ومکان سے ماورا (beyond space and time) ہے۔
یہ انسان کا سب سے بڑا امتحان ہے۔ انسان کی عقل اگر چہ زمان ومکان کے اندر کام کرتی ہے، لیکن اس سے مطلوب ہےکہ وہ زمان ومکان سے ماورا حقیقت کو دریافت کرے اور اُس پر ایمان لائے۔ اِسی دریافت کے لیے انسان کو وہ صلاحیت دی گئی ہے جس کو تصوراتی فکر (conceptual thinking) کہاجاتا ہے۔ اِس دریافت تک پہنچنے ہی کا نام اعلی معرفت ہے۔ جو انسان اپنے ’تصوراتی فکر، کو بھر پور طورپر استعمال کرے اور زمان ومکان کے ماورا حقیقت کو شعوری طورپر دریافت کرے، وہی وہ عارف انسان ہے جس کے لیے آخرت میں جنت کے دروازے کھولے جائیں گے۔
واپس اوپر جائیں

مومن کون

مومن کی صفت قرآن میں یہ بتائی گئی ہے:وَلَمْ یَخْشَ إِلَّا اللَّہَ (9:18)۔ یعنی مومن وہ ہے جس کی معرفت اس کو بہت زیادہ اللہ سے ڈرنے والا بنا دے۔ مومن آخری حد تک ایک حساس انسان (sensitive person) ہوتا ہے۔ مومن کی بڑھی ہوئی حساسیت اس کو اس سے روکتی ہے کہ وہ کوئی ایسا کام کرے جو سنجیدہ (sincere) انسان کا کام نہ ہو۔ جو اصول پسندی کے معیار پر پورا نہ اترے۔
مومن اگر کوئی وعدہ کرلے تو اس کو اس وقت تک چین نہیں آتا جب تک وہ اپنے وعدہ کو پورا نہ کرلے۔ مومن کی وجہ سے اگر کسی کا کچھ خرچ ہوا ہے تو مومن کو اس وقت تک چین نہیں آتا جب تک اس خرچ کی تلافی نہ ہوجائے۔ مومن کی زبان سے اگر کوئی غلط بات نکل جائے تو اس وقت تک اس کو نیند نہیں آتی جب تک وہ اپنی غلطی کا کھلا اعلان نہ کردے۔ مومن اگر انسانوں کی رعایت سے کوئی بے حقیقت بات کہہ دے تو اس وقت تک وہ تڑپتا رہتا ہے، جب تک وہ اس سے رجوع کرکے اپنے آپ کو اللہ کے سامنے مبرر (justified) نہ بنالے۔
مومن کی تعریف قرآن میں ان الفاظ میں کی گئی ہے:إِنَّمَا الْمُؤْمِنُونَ الَّذِینَ إِذَا ذُکِرَ اللَّہُ وَجِلَتْ قُلُوبُہُمْ وَإِذَا تُلِیَتْ عَلَیْہِمْ آیَاتُہُ زَادَتْہُمْ إِیمَانًا وَعَلَى رَبِّہِمْ یَتَوَکَّلُونَ (8:2)۔ یعنی ایمان والے تو وہ ہیں کہ جب اللہ کا ذکر کیا جائے تو ان کے دل دہل جائیں اور جب اللہ کی آیتیں ان کے سامنے پڑھی جائیں تو وہ ان کا ایمان بڑھا دیتی ہیں اور وہ اپنے رب پر بھروسہ رکھتے ہیں۔
مومن کون ہے۔ مومن وہ ہے جس کو اللہ رب العالمین کی معرفت ڈسکوری کے درجہ میں حاصل ہوجائے۔ جو اس طرح اللہ کو ماننے والا بن جائے، جیسے کہ وہ اس کو دیکھ رہا ہے۔ جس کی شخصیت پورے معنوں میں خدا رخی شخصیت (God-oriented personality) بن جائے، جو ہر لمحہ اس حقیقت کو یاد رکھے :یَوْمَ یَقُومُ النَّاسُ لِرَبِّ الْعَالَمِینَ (83:6)۔
واپس اوپر جائیں

مسخر کائنات

قرآن میں دو درجن سے زیادہ آیتیں ہیں، جن میں بتایا گیا ہے کہ زمین و آسمان کو اللہ نے انسان کے لیے مسخر کردیا ہے۔مسخر کرنے کا مطلب ہے تابع کردینا، یا سبجکٹ (subject)بنا دینا۔ زمین و آسمان کا مطلب ہے کائنات۔ کائنات کوانسان کے لیے مسخر کردینا، انسان کے اوپر خالق کی بہت بڑی نعمت ہے۔ اسی تسخیر کی وجہ سے پوری کائنات کسٹم میڈ یونیورس (custom-made universe) بنی ہوئی ہے۔
اس تسخیرکے دو پہلو ہیں۔ اس کا ایک پہلو یہ ہے کہ جس کو فوق الفطری سطح پر تابع بنانا کہا جاسکتا ہے۔ یعنی انسان کی مرضی کے بغیر اپنے آپ کائنات کے تمام اجزاء کا انسان کی خدمت میں لگا رہنا۔ اس کائنات میں کوئی چیز انسان کی دشمن نہیں، کائنات کی ہر چیز انسان کے موافق بنی ہوئی ہے۔ انسان کی مرضی کے بغیر ہر چیز انسان کی خدمت کررہی ہے۔
تسخیر کا دوسرا مطلب یہ ہے کہ اللہ نےکائنا ت کو معلوم فطری قوانین کا تابع بنا دیا ہے۔ اس طرح یہ ممکن ہوگیا ہے کہ انسان فطرت کے ان قوانین کو دریافت کرے، اور ان کو اپنے مقصد کے لیے استعمال کرے۔ مثلاً بجلی کے قانون کو دریافت کرکے بجلی کو اپنے لیے مفید بنانا۔ ہوائی جہاز کے قانون کو دریافت کرکے ہوائی جہاز کو اپنی سواری کے لیے استعمال کرنا، وغیرہ۔
کائنات ناقابل قیاس حد تک عظیم ہے۔ کائنات کی عظمت خالق کی عظمت کا ایک تعارف ہے۔ انسان کو اگر اس عظمت کی معرفت ہوجائے، تو وہ کامل معنوں میں سبمیشن (submission) کی زندگی اختیارکرلے گا۔ انسان کے لیے ناممکن ہوجائے گا کہ وہ زمین پر سرکشی کا طریقہ اختیارکرے۔ انسان فساد کا طریقہ چھوڑ کر کامل معنوں میں اطاعت الٰہی کی زندگی اختیار کرلے گا۔ اسی زندگی کا شرعی نام تقویٰ کی زندگی ہے۔ ایسے ہی متقیوں کے لیے آخرت میں ابدی جنت کی خوشخبری ہے۔
واپس اوپر جائیں

پرزنس آف گاڈ

کوفی انّان (1938-2018) اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل تھے۔ 18اگست کو 80 سال کی عمر میں ان کا انتقال ہوگیا ۔ ان کی موت پر مختلف لوگوں نے تبصرہ کیا ہے۔ اقوام متحدہ کے موجودہ سکریٹری جنرل مسٹر انتونیو گو ٹیرش نے ان کی موت پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا — بہت سے پہلوؤں سے کوفی انّان (اپنے آپ میں ) اقوام متحدہ تھے:
In many ways, Kofi Annan was the United Nations. (The Times of India, New Delhi, Aug 19, 2018, p. 20)
اس کا مطلب یہ ہے کہ کوفی انّان کی پرسنالٹی ایک ٹاورنگ (towering)پرسنالٹی تھی۔ وہ جب اقوام متحدہ میں ہوتے تھے، تو ان کی وجہ سے ایسا معلوم ہوتا تھا کہ پوری اقوام متحدہ ان سے بھری ہوئی ہے۔ اس ریمارک کو میں نے پڑھا تو میں نے محسوس کیا کہ یہ بات زیادہ درست طور پر اللہ رب العالمین کے لیے صادق آتی ہے۔
صبح کے وقت جب آپ کسی کھلی جگہ پر ہوں، اور کھلے آسمان میں کائنات کے منظر کو دیکھیں ، توواضح طور پر معلوم ہوگا کہ ساری کائنات خدا کی عظمت سے بھری ہوئی ہے۔اس کو قرآن میں ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے:إِنَّ قُرْآنَ الْفَجْرِ کَانَ مَشْہُودًا (17:78)۔ یعنی بیشک فجر کی قرأت مشہود ہوتی ہے۔ یہی بات قرآن کی ایک اور آیت میںقیامت کی نسبت سے ان الفاظ میں آئی ہے:وَمَا قَدَرُوا اللَّہَ حَقَّ قَدْرِہِ وَالْأَرْضُ جَمِیعًا قَبْضَتُہُ یَوْمَ الْقِیَامَةِ وَالسَّمَاوَاتُ مَطْوِیَّاتٌ بِیَمِینِہ(39:67)۔جب انسان کو اللہ رب العالمین کی حقیقی معنوں میں دریافت ہوتی ہے، اس وقت انسان کو پرزنس آف گاڈ (presence of God) کا احساس ہونے لگتا ہے۔اسی حقیقت کی طرف حدیث جبریل میں ان الفاظ میں اشارہ کیا گیا ہے:أَنْ تَعْبُدَ اللَّہَ کَأَنَّکَ تَرَاہُ، فَإِنْ لَمْ تَکُنْ تَرَاہُ فَإِنَّہُ یَرَاکَ (صحیح البخاری، حدیث نمبر 50)۔یعنی تم اللہ کی عبادت اس طرح کرو، گویا تم اس کو دیکھ رہے ہو، اور اگر تم نہیں دیکھتے ہو تو وہ تم کو دیکھتا ہے۔
واپس اوپر جائیں

تخلیق میں تنوع

قرآن میں مختلف مقامات پر انسان کی تخلیق کا قصہ بیان ہوا ہے۔ ان میں سے ایک جزء کا ترجمہ یہ ہے: جب تمھارے رب نے فرشتوں سے کہا کہ میں مٹی سے ایک بشر بنانے والا ہوں۔ پھر جب میں اس کو درست کر لوں اور اس میں اپنی روح پھونک دوں تو تم اس کے آگے سجدے میں گر پڑنا۔ پس تمام فرشتوں نے سجدہ کیا۔ مگر ابلیس کہ اس نے گھمنڈ کیا اور وہ انکار کرنے والوں میں سے ہوگیا۔ اللہ نےفرمایا کہ اے ابلیس، کس چیز نے تجھ کو روک دیا کہ تو اس کو سجدہ کرے جس کو میں نے اپنے دونوں ہاتھوں سے بنایا۔ یہ تو نے تکبر کیا یا تو بڑے درجہ والوں میں سے ہے۔ اس نے کہا کہ میں آدم سے بہتر ہوں۔ تو نے مجھ کو آگ سے پیدا کیا ہے، اور اس کو مٹی سے۔ (38:71-76)
یہاں یہ بات قابلِ غور ہے کہ ابلیس نے اپنی افضلیت کا دعویٰ خود اپنی زبان سے کیا تھا۔ اس کے برعکس، انسان کا معاملہ یہ ہے کہ اس کی افضلیت کا بیان خود خالق نے اپنی زبان سے کیا ہے۔ ابلیس کی بات خود ساختہ دعویٰ کی ہے۔ جب کہ انسان کی افضلیت کا اعلان خود خالق کائنات نے کیا ہے۔اللہ اور ابلیس کے درمیان اس مکالمے سے کئی باتیں سامنے آتی ہیں۔ انھیں میں سے ایک یہ بھی ہے کہ اللہ کا جو منصوبہ ترقی کے بارے میں ہے، وہ اختلاف (diversity)سے تعلق رکھتا ہے، نہ کہ یکسانیت سے۔ جہاں یکسانیت ہوگی، وہاں ارتقا رک جائے گا، اور جہاں اختلاف پایا جائے، وہاں ارتقا جاری رہے گا۔
اس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ اللہ کو تنوع پسند ہے۔ یکسانیت اللہ کو پسند نہیں۔ اگر یکسانیت اللہ کو پسند ہوتی تو فرشتہ، جنات اور انسان سب کو اللہ یکساں بنا دیتا۔ سب کی سوچ، سب کا ذوق، سب کا عمل ، بالکل ایک طرح کا ہوجاتا۔ مگر اس دنیا کے خالق کو تنوع پسند ہے، نہ کہ یکسانیت۔ یہ فطرت کا قانو ن ہے، اور فطرت کے قانون میں کوئی تبدیلی ممکن نہیں۔اسی فطری حقیقت کو اردو کے مشہور شاعر ذوق نے ان الفاظ میں بیان کیا ہے:
گلہائے رنگ رنگ سے ہے زینتِ چمن اے ذوؔق اس جہاں کو ہے زیب اختلاف سے
واپس اوپر جائیں

ربانی شخصیت

قرآن میں ایک حکم ان الفاظ میں آیا ہے:کُونُوا رَبَّانِیِّینَ (3:79)۔ یعنی رب والے بنو۔ اس سے مراد وہ انسان ہے جس کی شخصیت کی تعمیر اللہ رب العالمین کی معرفت کی بنیاد پر ہوئی ہو۔ جو اللہ رب العالمین میں جینے والا انسان ہو۔ علی ابن طالب نے ربانی کا مطلب بتاتے ہوئے کہا: ہم الذین یغذّون الناس بالحکمة، ویربّونہم علیہا (زاد المسیر، 1/298)۔ یعنی ربانی وہ لوگ ہیں جو انسانوں کو حکمت کی غذا دیں،اور حکمت کی بنیاد پر لوگوں کی تربیت کریں۔
ربانی سے مراد رب والا انسان (man of God) ہے۔ یعنی وہ انسان جس کے اندر پختگی کی عمر کو پہنچنے کے بعد تلاش کی اسپرٹ جاگے۔ وہ غور و فکر کے ذریعہ اللہ رب العالمین کو دریافت کرے۔ اس کی دریافت اتنی گہری ہوکہ وہی اس کی شخصیت بن جائے۔ وہ رب العالمین کی یاد میں جینے لگے۔ وہ رب العالمین کی یاد کو لے کر جاگے، اور رب العالمین کی یاد کو لے کر سوئے۔ اس کی دریافت اس کی شخصیت میں اتنی گہرائی کے ساتھ شامل ہوجائے کہ وہ اللہ رب العالمین سے سب سے زیادہ محبت کرنے والا بن جائے، اور اللہ رب العالمین سے سب سے زیادہ اندیشہ کرنے والا بن جائے۔ اس کی یہ کیفیت اتنا زیادہ بڑھے کہ اللہ رب العالمین اس کا واحد کنسرن (sole concern) بن جائے۔
ربانی انسان کا یقین رب العالمین کے لیے اتنا بڑھ جاتا ہے کہ رب العالمین سے اس کی سرگوشیاں (whisper) ہونے لگتی ہیں، جیسا کہ حدیث میں آیا ہے:یُنَاجِی رَبَّہُ (صحیح البخاری، حدیث نمبر 413)۔ یعنی وہ اپنے رب سے سرگوشی کرتا ہے۔ یہ سرگوشی دوطرفہ ہوتی ہے۔ یعنی وہ اپنے رب کے ذکر اور دعا میں مشغول ہوتا ہے، اور رب کی طرف سے انسپریشن (inspiration) کی زبان میں جواب آنے لگتا ہے، جیسا کہ قرآن میں آیا ہے: وَإِذَا سَأَلَکَ عِبَادِی عَنِّی فَإِنِّی قَرِیبٌ أُجِیبُ دَعْوَةَ الدَّاعِ إِذَا دَعَانِ (2:186)۔ربانی انسان در اصل اعلیٰ درجے کا عارف انسان ہوتاہے، یعنی صاحب معرفت انسان۔
واپس اوپر جائیں

اللہ کا تخلیقی منصوبہ

اللہ رب العالمین جو کائنات کا خالق ہے، اس نے ہر چیز کو اعلیٰ منصوبے کے تحت بنایا ہے۔ اس حقیقت کو قرآن میں ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے:صُنْعَ اللَّہِ الَّذِی أَتْقَنَ کُلَّ شَیْءٍ (27:88)۔ یعنی یہ اللہ کی کاریگری ہے جس نے ہر چیز کوکامل خوبی کے ساتھ بنایاہے:
Such is the work of God, Who has created all things in perfect order .
پیڑ پودے سے لے کر سائفن (siphon) اور کمپیوٹر تک ہر چیز اسی اعلیٰ منصوبہ بندی کی مثال ہے۔ اس دنیا میں ہر آدمی جزئی یا کلی طور پر ان اعلیٰ تخلیقات سے فائدہ اٹھا رہا ہے۔ اس واقعے کا تقاضا ہے کہ آج کی دنیا میں سب سے زیادہ شکر ِ خداوندی کا ظاہرہ پایا جائے۔ لیکن شاید یہی وہ چیز ہے جو دنیا میں سب سے کم پائی جاتی ہے۔ اس کمی کا سبب یہ ہے کہ سورج، چاند اور ستارے (مخلوقات) بظاہر دکھائی دیتے ہیں، لیکن خالق (Creator) محسوس انداز میں دکھائی نہیں دیتا۔اس ظاہرے کی بنا پر انسان نے یہ فرض کرلیا کہ جو چیز مشاہدے میں آئے، وہ اپنا وجود رکھتی ہیں، اور جو چیزمشاہدے میں نہ آئے، اس کا کوئی وجود بھی نہیں۔مگر جدید زمانے میں سائنسی مطالعہ نے بتایا ہے کہ جو چیزیں بظاہر دکھائی دیتی ہیں، وہ بھی گہرے تجزیہ کی سطح پر غیر مشہود بن جاتی ہیں۔ اس حقیقت کو مشہور سائنس داں سر آرتھر ایڈنگٹن اور دوسرے مصنفین نے اپنی کتابوں میں لکھا ہے۔ مثلا ًملاحظہ ہوسر آرتھر ایڈنگٹن کی کتاب:
Science and the Unseen World, Macmillan [US], 1929.
موجودہ زمانے میں تخلیق (nature) کے بارے میں بہت زیادہ معلومات حاصل ہوئی ہیں۔ یہ ساری معلومات گویا کہ شکر کے آئٹم ہیں۔ مگر عجیب بات ہے کہ نئی معلومات نے شکر خداوندی میں اضافہ نہیں کیا۔ اس کا سبب یہ ہے کہ لوگ چیزوں کو مادی معنی میں لے لیتے ہیں، ان واقعات میں معرفت کا جو نکٹر (nectar) ہے، اس کو دریافت کرنے میں وہ ناکام ثابت ہوئے ہیں۔ شہد کی مکھی جانتی ہے کہ ا س کو باغ کے پھولوں سے نکٹر (nectar) لینا ہے۔ مگر انسان اس راز سے بے خبر ہے۔
واپس اوپر جائیں

زندہ شخصیت

ایک بزرگ کا قول ہے:من عاش للہ لایموت ابدا۔ یعنی جس نے اللہ کے لیے زندگی گزاری ، وہ ہمیشہ زندہ رہے گا۔ یہ قول ایک عارف انسان کا قول ہے۔ اس قول کے پہلے حصے میں عیش کا لفظ حقیقی معنی میں آیا ہے۔ا س کے دوسرے حصے میں موت کا لفظ تمثیل کے معنی میں استعمال ہوا ہے۔ یعنی جو انسان اللہ کی یاد میں جینے لگے، اس کو ایک ابدی رزق مل جاتا ہے۔ اس کو ہمیشہ کے لیے ایک زندہ شخصیت حاصل ہوجاتی ہے۔ اس کا دل و دماغ کبھی جمود (stagnation) کا شکار نہیں ہوتا۔ اس کے دن بھی زندہ دن ہوتے ہیں، اور اس کی راتیں بھی زندہ راتیں۔اس کے برعکس جو شخص اللہ کی یاد میں نہ جیے، وہ گویا ایک مردہ انسان ہے، وہ زندگی کی حقیقی نعمت سے آشنا نہیں۔
زندگی اور موت کے معاملے میں انسان کے لیے صرف ایک آپشن ہے۔ وہ یہ کہ وہ خالق کے فیصلے پر راضی ہوجائے۔ خالق کے فیصلے پر راضی نہ ہونا، ایک ایسے آپشن کی طرف بھاگنا ہے، جو کسی کے لیے قابلِ حصول ہی نہیں ۔ اس معاملے میں خالق کے فیصلے پر راضی ہونا کیا ہے، اور خالق کے فیصلے کے خلاف بھاگنا کیا ہے۔ وہ یہ ہے کہ آدمی اپنی زندگی کا منصوبہ خالق کے نقشے کے مطابق بنائے۔ وہ خالق کے نقشے پر پورا اترنے کی کوشش کرے۔ اس کے برعکس، اگر انسان خود اپنے بنائے ہوئے نقشے پر چلنا چاہے ، تو وہ ناممکن کی طرف دوڑنے کے ہم معنی ہے۔ آدمی کو چاہیے کہ اس معاملے میں حقیقت پسند بنے، وہ ہرگز حقیقت کے خلاف چلنے کی کوشش نہ کرے۔
اس دنیا کا جو خالق ہے، وہی اس کا مالک بھی ہے۔ دنیا پر سارا اختیار خالق کا ہے۔ اس دنیا میں کامیابی اس کے لیے ہے، جو خالق کے فیصلے پر راضی ہوجائے، جو انسان خالق کے فیصلے کو چھوڑ کر اپنے راستے پر چلنا چاہے، اس کے لیے بربادی کے سوا اور کچھ نہیں۔ خالق کے فیصلے پر راضی ہونے کا مطلب ہے— آخرت رخی زندگی (Akhirat-oriented life) گزارنا۔ اس کے برعکس، دوسرا طریقہ یہ ہے کہ آدمی اپنی مرضی کی طرف دوڑے، مگر ایسی دوڑ انسان کو کہیں پہنچانے والی نہیں۔
واپس اوپر جائیں