Pages

Sunday, 1 December 2019

Al Risala | December 2019 (الرسالہ،دسمبر)

4

- اللہ کی معرفت

5

- انسان کی تخلیق

6

- اعترافِ خطا

8

- شکر میں جینا سیکھیے

9

- دنیا کی مصیبت

10

- دو واقعات

11

- رسول اللہ کی سنت

12

- حدیثِ تجدید

13

- مشن کا مستقبل

14

- مضاہاۃ اغیار

15

- اعلیٰ انسان

16

- اصلاح کا آغاز

17

- رد عمل، منصوبہ بندی

18

- اسلامی طرزِ فکر

19

- اسلام دورِ جدید میں

22

- دعوتِ عام کی ذمہ داری

24

- قتال کا معاملہ

25

- تحریر کی ایک صفت

26

- آزمائش کس لیے

28

- عقیدہ اور بین اقوامی معاملات

33

- اسلوبِ کلام

35

- مدعیانہ زبان، علمی زبان

36

- ادبی انقلاب

41

- ایک خط

43

- سوال وجواب

47

- خبرنامہ اسلامی مرکز


اللہ کی معرفت


اللہ کی معرفت بلاشبہ انسان کا سب سےبڑا عمل ہے۔ اللہ کی معرفت ابدی جنت کی قیمت ہے۔ معرفت دین کا آغاز ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایسا ہی ہے، جیسے مغز کے بغیر پھل۔ اللہ کی معرفت بلاشبہ سب سے زیادہ آسان کام ہے۔ لیکن اسی کے ساتھ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ معرفت کا حصول بلاشبہ دین میں سب سے زیادہ مشکل کام ہے۔ معرفت کے مشکل ہونے کا سبب یہ ہے کہ معرفت اگرچہ اللہ رب العالمین کی معرفت کا نام ہے۔ لیکن معرفت پورے معنی میں ادراک کا نتیجہ ہوتی ہے۔ معرفت اپنی حقیقت کے اعتبار سے سیلف ڈسکورڈ (self discovered) حقیقت کا نام ہوتی ہے۔ اسی لیے کسی عارف نے کہا ہے 
خود کوزہ و خود کوزہ گر و خود گِلِ کوزہ
یعنی وہ خود ہی کوزہ ہے، خود ہی کوزہ بنانے والا اور خود ہی کوزہ کی مٹی۔اس کا مطلب یہ ہے کہ معرفت کے حصول میں آدمی کو خود اپنا جج بننا پڑتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ معرفت اصلاً اللہ کی معرفت کا نام ہے۔ لیکن اس معرفت کا آغاز خود اپنی ذات کی معرفت سے ہوتا ہے۔ کسی عارف نے درست طور پر کہا ہے مَنْ عَرَفَ نَفْسَہُ فَقَدْ عَرَفَ رَبَّہ(حلیۃ الاولیاء، جلد10، صفحہ208)۔ یعنی جس نے اپنے آپ کو جان لیا، اس نے اپنے رب کو جان لیا۔ حدیث میں آیا ہے  خَلَقَ اللَّہُ آدَمَ عَلَى صُورَتِہِ (صحیح البخاری، حدیث نمبر 6227)۔ یعنی اللہ نے آدم کو اپنی صورت پر پیدا کیا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ تم اپنی ذات کے عارف بنو، اپنے خالق کے عارف بن جاؤ گے۔
اللہ کی معرفت کے لیے لازمی شرط یہ ہے کہ آدمی اپنے آپ کو زیادہ سے زیادہ حقیقت شناس (realist) بنائے۔ وہ اپنے آپ کو کٹ ٹو سائز (cut to size) بنائے۔وہ یہ جانے کہ اللہ قادرِ مطلق ہے،اور وہ صرف عاجزِ مطلق کی حیثیت رکھتا ہے۔ جب انسان اپنے آپ کو حقیقت واقعہ کی سطح پر پہنچائے، تب وہ اس قابل ہوتا ہے کہ اس کو خدا کی معرفت حاصل ہوسکے۔
واپس اوپر جائیں

انسان کی تخلیق

قرآن کی سورہ الاحزاب میںانسان کی تخلیق کی نوعیت کو بیان کیا گیا ہے۔ان آیتوں کا ترجمہ یہ ہے: ہم نے امانت کو آسمانوں اور زمین اور پہاڑوں کے سامنے پیش کیا تو انھوں نے اس کو اٹھانے سے انکار کیا اور وہ اس سے ڈر گئے، اور انسان نے اس کو اٹھا لیا۔بے شک وہ ظالم اور جاہل تھا۔ تاکہ اﷲ منافق مردوں اور منافق عورتوں کو اور مشرک مردوں اور مشرک عورتوں کو سزادے۔ اور مومن مردوں اور مومن عورتوں پر توجہ فرمائے۔ اور اﷲ بخشنے والا ،مہربان ہے۔( 33:72-73)
قرآن کی اس آیت میںانسان کی منفرد نوعیت کو بتایا گیا ہے۔ کائنات کی بقیہ تمام چیزوں کا معاملہ یہ ہے کہ ان کو کوئی اختیار حاصل نہیں۔ اللہ کو یہ مطلوب ہوا کہ وہ ایک صاحبِ اختیار مخلوق پیدا کرے۔ اس منصوبے کے تحت اللہ نے انسان کو پیدا کیا۔ مذکورہ آیت میں امانت سے مراد اختیار (freedom of choice) ہے۔ اس منصوبے کے تحت انسان کو صلاحیتیں دی گئیں، ان کا فطری نتیجہ یہ تھا کہ انسان ایڈونچرسٹ (adventurist) بن گیا۔ یہی وہ حقیقت ہے، جس کو ظلوم و جہول کے الفاظ سے تعبیر کیا گیا ہے۔
انسان کو امانت کی نعمت دینا، انسان کے لیے عظیم رحمت کا معاملہ تھا۔ اس امانت (اختیار) کو پاکر یہ اندیشہ تھا کہ انسان بگاڑ کا شکار ہو جائے، ان احوال کے اندر ہی وہ مطلوب انسان بنتا ہے، جس کو قرآن میں مومن کہا گیا ہے۔ انسان فرشتہ نہیں، انسان لازمی طور پر غلطی کرتا ہے، لیکن انسان کی عظمت یہ ہے کہ وہ ہر غلطی کے بعد ندامت (repentance) میں مبتلا ہوتا ہے۔ وہ توبہ کرتا ہے، یعنی وہ یوٹرن لیتا ہے۔ اس معاملے میں اللہ کا وعدہ ہے کہ وہ انسان سے توبہ کو قبول فرمائے گا۔ مزید یہ کہ غلطی کرنا اور پھر توبہ کرنا کوئی سادہ بات نہیں۔ یہ ایک ذہنی عمل (intellectual process) ہے، اس کے دوران انسان کی شخصیت اعلی ترقی کے مدارج طے کرتی ہے، اور آخر کار جنت میں داخلے کا مستحق بن جاتی ہے۔
واپس اوپر جائیں

اعترافِ خطا

توبہ کیا ہے۔ توبہ کا مطلب ہے غلطی کرنے کے بعد دوبارہ حق کی طرف واپس لوٹنا۔ ایک شخص اگر نیک عمل پر قائم ہو، تو یہ بلاشبہ ایک ثواب کی بات ہے۔ لیکن اگر ایک شخص سچائی پر قائم ہو، اور پھر اس کے اندر ڈی ریلمنٹ (derailment)ہو ، وہ بھٹک کر غلط راستے پر چلاجائے، اور پھر دوبارہ صحیح راستے کی طرف لوٹے تو یہ اور بھی زیادہ بڑا عمل ہے۔ اس سلسلے میں ایک حدیث رسول ان الفاظ میں آئی ہے:
عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ، قَالَ:قَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّى اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ:کَیْفَ تَقُولُونَ بِفَرَحِ رَجُلٍ انْفَلَتَتْ مِنْہُ رَاحِلَتُہُ، تَجُرُّ زِمَامَہَا بِأَرْضٍ قَفْرٍ لَیْسَ بِہَا طَعَامٌ وَلَا شَرَابٌ، وَعَلَیْہَا لَہُ طَعَامٌ وَشَرَابٌ، فَطَلَبَہَا حَتَّى شَقَّ عَلَیْہِ، ثُمَّ مَرَّتْ بِجِذْلِ شَجَرَةٍ فَتَعَلَّقَ زِمَامُہَا، فَوَجَدَہَا مُتَعَلِّقَةً بِہِ؟قُلْنَا: شَدِیدًا، یَا رَسُولَ اللہِ فَقَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّى اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: أَمَا وَاللہِ لَلَّہُ أَشَدُّ فَرَحًا بِتَوْبَةِ عَبْدِہِ، مِنَ الرَّجُلِ بِرَاحِلَتِہِ (صحیح مسلم، حدیث نمبر2746)۔ یعنی براء بن عازب سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے پوچھا: تم اس آدمی کی خوشی کے بارے میں کیا کہو گے، جس سے اس کی سواری ریگستان میں نکیل کی رسی کھینچتی ہوئی بھاگ جائے، اور وہاںاس کے لیے کھانے پینے کی کوئی چیز نہ ہو، اور اس سواری پر اس کا کھانا پینا بھی ہو، اور وہ اسے تلاش کرتے کرتے تھک جائے، پھر وہ سواری ایک درخت کے تنے کے پاس سے گزرے ،جس سے اس کی لگام اٹک جائے ،اور اس آدمی کو وہاں اٹکی ہوئی مل جائے؟ ہم نے کہا: اے اللہ کے رسول اس کو بہت زیادہ خوشی ہوگی، رسول اللہ نے کہا:خدا کی قسم، اللہ اپنے بندے کی توبہ سے اس آدمی کی سواری مل جانے کی خوشی سے بھی زیادہ خوش ہوتا ہے۔
اس حدیثِ رسول سے معلوم ہوتا ہے کہ حق کی طرف واپسی آدمی کو ڈبل ثواب کا مستحق بناتی ہے۔ جب آدمی حق کو قبول کرنے کا عمل کرتا ہے، تو وہ اپنے آپ کو ایک ثواب کا مستحق بناتا ہے، اس کے بعد اگر وہ بھٹک جائے، اور دوبارہ حق کی طرف واپس آئے، تو وہ زیادہ بڑے ریوارڈ کا مستحق بن جاتا ہے۔ کیوں کہ اس نے حق کو دوبارہ دریافت (rediscover) کیا۔
دریافت نو (rediscovery) کا انعام زیادہ اس لیے ہے کہ ایسا آدمی اپنی معرفتِ حق میں اضافہ کرتا ہے۔ وہ ایک دریافت پر دوسری دریافت کا اضافہ کرتا ہے۔ وہ اپنے ذہنی ارتقا کے راستے میں ایک اور منزل طے کرتا ہے۔ ایسے آدمی کا کیس یہ ہے کہ پہلے اگر وہ سادہ معنوں میں حق کی طرف سفر کررہا تھا، تو اب وہ حق کی طرف چھلانگ (jump) کرکے آگے بڑھتا ہے۔ پہلے اگر اس کی معرفت ایک سادہ معرفت تھی، تو اب اس کی معرفت ایک زندہ معرفت بن جاتی ہے۔
حق کی طرف دوبارہ لوٹنا اس بات کی علامت ہے کہ آدمی نے حق کو دوبارہ دریافت کیا، اس نے اپنی دریافت اول پر دریافت ثانی کا اضافہ کیا۔اس نے ثبوت دیا کہ وہ تخلیقی ذہن (creative mind) کا مالک ہے۔
٭ ٭ ٭٭٭٭
راقم الحروف کا ایک سفر ترکی کے لیے ہوا۔ یکم مئی 2012 کی صبح کو دہلی سے روانگی ہوئی اور 7مئی 2012 کی صبح کو دہلی واپسی ہوئی۔ یہ نئے تجربات سے بھرا ہوا ایک سفر تھا۔ اس میں سے ایک یہ تھا کہ دورانِ پرواز جب کھانا دیاگیا تو اس سے پہلے خوب صورت چھپا ہوا مینو (Menu) دیا گیا۔ اس پر لکھا ہوا تھا— بادلوں کے اوپر ہمارے رستوراں میں آپ کا سواگت ہے:
Welcome to our restaurant above the clouds!
اِس کو دیکھ کر ایسا محسوس ہوا کہ یہ جنتی مہمان نوازی کی ایک جھلک ہے۔ یہ اعلیٰ مہمان نوازی (high hospitality) دنیا میں غیر معیاری صورت میں حاصل ہوتی ہے۔ آخرت میں وہ اللہ کے منتخب بندوں کو معیاری صورت میں حاصل ہوگی۔
واپس اوپر جائیں

شکر میں جینا سیکھیے

ریسرچ سے معلوم ہوا ہے کہ انسان کی زبان میں تقریباً دس ہزار ذائقہ خانے (taste buds) ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ انسان کے اندر جتنے ذائقہ خانے ہیں۔ ان سب کے مطابق، ہمارے آس پاس کی دنیا میں فل فلمینٹ (fulfilment ) کا سامان بھی موجود ہے۔ یہ معرفت کا ایک اعلیٰ درجہ ہے۔ کیسے ایسا ہوا ۔ کیوں کہ انسان کا جو تجربہ ہم نے کیا ہے، وہ یہ ہے کہ انسان کسی ذائقے کو اس وقت جانتا ہے، جب کہ اس کا تجربہ کرے۔ ذاتی تجربے کے بغیر کسی ذائقے کو جاننا یہ انسان کی طاقت سے باہر ہے۔
ایسی حالت میں انسان جب دنیا میں جیتا ہے، اور زندگی کے دوران کسی ذائقے کا تجربہ کرتاہے، وہ شکر کے جذبے سے اوور ویلم (overwhelm) ہو جاتا ہے۔ وہ چاہتا ہے کہ وہ اس نعمت کا اعتراف کرے، لیکن وہ محسوس کرتا ہے کہ اس کے پاس وہ الفاظ نہیں ہیں، جن کے ذریعے وہ اس عظیم نعمت کا اعتراف کرسکے۔ یہ اس کے لیے ایک مائنڈ باگلنگ (mind boggling) تجربہ ہوتاہے۔ اسی تجربے کا نام شکر ہے۔
میں ترکی گیا، تو وہاں مجھ کو جو پانی پینے کے لیے دیا گیا، وہ پانی اتنا زیادہ فریش (fresh) تھا، اور پینے میں اتنا زیادہ میرے اعلیٰ ذوق کے مطابق تھا کہ میں نے پانی کا گلاس میز پر رکھ دیا، اور یہ سوچنے لگا کہ خالق نے کیسے یہ جانا کہ میرے بندے کو ایسا پانی چاہیے، اور اس نے فرشتوں کو حکم دیا کہ میرے بندے کے عین طلب کے مطابق، اس کو پانی فراہم کرو۔
یہ تجربہ اتنا زیادہ اعلیٰ تجربہ ہے کہ انسان اس تجربے سے گزرتے ہوئے اتنا اوورویلم ہوجائے گا کہ شکر کا لفظ بولنا اس کو اتنا کم لگے کہ وہ چاہے گا کہ میری شخصیت پوری کی پوری زبان ہوتی، اور میں اپنے پورے وجود کے ساتھ اپنے رب کا شکر ادا کرتا۔ میرا پورا وجود شکر کے احساس میں ڈھل جاتا ۔ میں شکر کرنے والا نہیں، بلکہ شکر میں جینے والا انسان بن جاتا۔
واپس اوپر جائیں

دنیا کی مصیبت

قرآن ذکر کی کتاب ہے۔ قرآن کا مقصد انسان کو خالق کے منصوبۂ تخلیق سے آگاہ کرنا ہے۔ اس سلسلے میںقرآن کی ایک رہنما آیت ان الفاظ میں آئی ہے وَمَا أَصَابَکُمْ مِنْ مُصِیبَةٍ فَبِمَا کَسَبَتْ أَیْدِیکُمْ وَیَعْفُو عَنْ کَثِیرٍ (42:30)۔ یعنی تم پر کوئی سختی آئے ، وہ بدلہ ہے اس کا جو کمایا تمہارے ہاتھوں نے اور وہ درگزر کرتا ہے بہت سی چیزوں سے ۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ مصیبت کا کوئی تجربہ جو آدمی کو پیش آتا ہے، وہ آدمی کے اپنے ہی کیے ہوئے کا نتیجہ ہوتا ہے، کسی دوسرے انسان کے ظلم کا نتیجہ نہیں ہوتا۔ تاہم کچھ مصیبتیں واقع ہونے سے پہلے قانونِ فطرت کے تحت ٹال دی جاتی ہیں۔اس کا مطلب یہ ہے کہ جب بھی آدمی پر کوئی مصیبت پڑے تو اس کا سارا فوکس خود اپنی ہی غلطی کو تلاش کرنے پر مرتکز ہونا چاہیے۔ کیوں کہ اس کے اپنے سوا کوئی اور اس مصیبت کا سبب بطور واقعہ ہے ہی نہیں۔
اس کا مطلب یہ ہوا کہ آدمی اگر اپنی مصیبت کا الزام دوسروں کو دے، تو وہ بے بنیاد الزام ہوگا، کیوں کہ کوئی دوسرا موجود ہی نہیں، جس نے وہ مصیبت آپ پر ڈالی ہے۔انسان پر کوئی دنیوی مصیبت پڑے، تو اس کا سارا دھیان خوداپنی کوتاہی کو تلاش کرنے پر لگانا چاہیے،نہ کہ کسی دوسرے کے ظلم کو دریافت کرنا۔ معاملات کو اپنی ذات کے اعتبار سے سوچا جائے، تو خود احتسابی پیدا ہوتی ہے، اور جب معاملات کو دوسرے کی نسبت سے سوچا جائے، تو شکایت او ر نفرت کا جذبہ ابھر تا ہے۔ خود احتسابی اصلاح ہے، او ر شکایت صرف بے فائدہ رد عمل۔
مصیبت اپنی حقیقت کے اعتبار سے ایک تجربہ (experience) ہے۔ مصیبت کو جب صرف مصیبت سمجھا جائے، تو بے نتیجہ افتاد ہوگی۔ لیکن جب مصیبت کو تجربہ بنادیا جائے، تو مصیبت آدمی کے لیے سبق کا ذریعہ بن جائے گی۔ ہر مصیبت میں ایک سبق موجود ہوتا ہے، اس سبق کو دریافت کیجیے۔ اس کے بعد کوئی مصیبت مصیبت نہ رہے گی۔
واپس اوپر جائیں

دو واقعات

دنیا میں دو واقعات ایسے ہیں، جن کا وقت آخری حد تک غیر معلوم ہوتا ہے۔ انسان کی اپنی ذات کے اعتبار سے موت، اور خارجی دنیا کے اعتبار سے زلزلہ۔ یہ دونوں واقعات ایسے ہیں، جو پیشگی اطلاع کے بغیر آتے ہیں۔ علم انسانی کے پاس کوئی ایسا ذریعہ نہیں، جس سے ہم پیشگی طور پر موت یا زلزلے کی آمد کو جان سکیں۔
یہ نظام براہ راست طور پر خالق کا مقرر کردہ نظام ہے۔ یہ نظام اس لیے رکھا گیا ہے کہ انسان ہمیشہ الرٹ رہے۔ آدمی ہمیشہ ہوشمندانہ زندگی گزارے۔ آدمی اپنی زندگی کا ایک لمحہ بھی ضائع نہ کرے۔ انسان ہر لمحے کو اس طرح استعمال کرے کہ حاصل شدہ وقت کے علاوہ دوسرا وقت کبھی حاصل ہونے والا ہی نہیں۔
اس اعتبار سے موت اور زلزلہ دونوں انسان کے لیے یاددہانی (reminder) ہیں۔ یہ فطری قانون انسان کو وہ واقعات بتاتے ہیں، جو اس کے لیے ذاتی طور پر قابل دریافت نہیں۔ موت اور زلزلہ۔ یہ دونوں انسان کو علامتی طور پر یہ بتاتے ہیں کہ انسان کے لیے کچھ چیزیں ایسی ہیں، جو قابلِ دریافت (discoverable)ہیں، اور کچھ چیزیں ایسی ہیں، جو انسان کے لیے قابلِ دریافت نہیں۔ یہ علم انسان کو مسلسل طور پر بیداری کی حالت میں زندگی گزارنے پر مجبور کردیتا ہے۔ انسان مجبور ہوجاتا ہے کہ وہ سوچنے والی زندگی گزارے۔ وہ غفلت کی حالت میں پڑا نہ رہے۔
غفلت کی حالت میں رہنے کا موقع انسان کے لیے نہیں ۔ غفلت کا نقصان یہ ہے کہ آدمی اپنی زندگی کے مقصد کو نہ جانے۔ وہ اپنے مقصد کی تکمیل سے محروم رہے، اور بیداری کی حالت میں رہنے کا مطلب یہ ہے کہ آدمی اپنی زندگی کے مقصد کو جانے، اور اپنی پوری کوشش کرکے اس کو مکمل کرے۔اس دنیا میں انسان کے لیے ایک ہی چوائس ہے، اور وہ ہے حالت بیداری میں اپنے آپ کو رکھنا، اور غفلت سے اپنے آپ کو مکمل طو ر پر بچانا۔
واپس اوپر جائیں

رسول اللہ کی سنت

پیغمبر ِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے حجۃ الوداع کے موقع پر ایک خطاب کیا تھا۔ اس خطاب میں مختلف باتوں کے علاوہ امت مسلمہ کو یہ رہنمائی بھی دی تھی یَا أَیُّہَا النَّاسُ إِنِّی قَدْ تَرَکْتُ فِیکُمْ مَا إِنِ اعْتَصَمْتُمْ بِہِ فَلَنْ تَضِلُّوا أَبَدًا کِتَابَ اللَّہِ وَسُنَّةَ نَبِیِّہِ(مستدرک الحاکم، حدیث نمبر 318)۔ یعنی اے لوگو، میں نےتمھارے درمیان چھوڑا ہے، جس کو تم پکڑے رہوگے، تو تم ہرگز گمراہ نہ بنوگے، کبھی بھی— یہ اللہ کی کتاب، اور اس کی نبی کی سنت ہے۔
یہ صرف ایک حدیث نہیں ہے، بلکہ یہ رسول اللہ کی ایک قابلِ اعادہ (repeatable) سنت کا بیان ہے۔ چنانچہ رسول اللہ کے بعد اس سنت پرعمل جاری ہوگیا۔ رسول اللہ کے بعد امت پوری طرح اس سنت کے مطابق سرگرمِ عمل ہوگئی۔ سیرت لکھی گئی، مسجد بنے، مدرسے بنے، وغیرہ۔ یہاں تک کہ امتِ محمدی ایک زندہ امت بن گئی۔
رسول اللہ نے ایک قائم شدہ امت چھوڑی ہے، اس کے لیے مقدر ہے کہ وہ تسلسل کے ساتھ قیامت تک جاری رہے ۔امت رسول اللہ کی مستند نمائندہ بن کر اس کے مشن کو لے کر قیامت تک چلتی رہے ۔ رسول اللہ کے مشن کو لے کر چلنے کا مطلب کیاہے۔ یہ ہے دعوت الی اللہ کے مشن کو قیامت تک جاری رکھنا۔ امت محمدی کی حیثیت داعی گروہ کی ہے، اور دوسری قوموں کی حیثیت مدعو اقوام کی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ دونوں کے درمیان تعلق داعی مدعو کا تعلق ہے، حریف اور رقیب کا تعلق نہیں۔
یہ تعلق عملاً ایک دوسرے کے درمیان خیرخواہی کا تعلق ہے۔ اس کا تقاضا یہ ہے کہ داعی مدعو کے تعلق کو ہمیشہ زندہ رکھا جائے۔ اس کو کبھی حریف اور رقیب کا تعلق نہ بننے دیا جائے۔ امت کو ایک طرف زندہ حالت میں قائم رکھنا ہے، اور دوسری طرف برابر اس تعلق کو اپڈیٹ (update) کرتے رہنا ہے، یعنی بدلے ہوئے حالات کے مطابق، اس کی افادیت کو زندہ رکھنا۔
واپس اوپر جائیں

حدیثِ تجدید

امتِ محمد ی میں بعد کے زمانے میں تجدید کا عمل جاری ہوگا۔ اس عمل کا اشارہ قرآن میں موجودہے(الحدید، 57:16-17)۔ اس حقیقت کو ایک حدیثِ رسول میں ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے عَنْ أَبِی ہُرَیْرَةَ، عَنْ رَسُولِ اللَّہِ صَلَّى اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ:إِنَّ اللَّہَ یَبْعَثُ لِہَذِہِ الْأُمَّةِ عَلَى رَأْسِ کُلِّ مِائَةِ سَنَةٍ مَنْ یُجَدِّدُ لَہَا دِینَہَا (سنن ابو داؤد، حدیث نمبر 4291)۔ یعنی ابو ہریرہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا بیشک اللہ اس امت کے لیے مبعوث کرے گا، ہر صدی کے سرے پر کسی کو جو اُن کے لیے ان کے دین کی تجدید کرے گا۔
اس روایت میں شارحین نےزیادہ تر شخصیت پر فوکس کیا ہے، یعنی انھوں نے بتایا ہے کہ کوئی مجدد کامل ہوگا، کوئی الف ثانی کا مجدد ہوگا، کوئی مجدد تفسیر ہوگا، کوئی مجدد فقہ ہوگا، وغیرہ۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ اس حدیث میں ایک تاریخی عمل کا ذکر ہے، نہ کہ شخصیت کی فضیلت کا بیان۔
اصل یہ ہے کہ اسلام کے اندر ہمیشہ دعوت کا عمل جاری ہوتا ہے۔ اس دعوتی عمل کے دوران امت اور دوسرے گروہوں کے درمیان اختلاط (interaction) ہوتاہے۔ اس اختلاط کے دوران امت محمدی کے افراد دوسروں کا اثر قبول کرتے ہیں۔اس تاثر پذیری کے درمیان ایسا ہوتا ہے کہ امت بار بار اپنی پٹری سے اتر جاتی ہے۔ اس وقت امت کے کچھ اہل علم اٹھتے ہیں، اور امت کی گاڑی کو دوبارہ پٹری پر چلانے کی کوشش کرتے ہیں، اسی عمل کا نام تجدید ہے۔
مثلاً پہلےدور میں امت پیس فل دعوت کی پٹری سے ہٹ کر جنگ کی پٹری پر چلنے لگی، اس وقت کچھ علما نے امت کو یہ بتایا کہ جنگ اسلام میں حسن لذاتہ نہیں ہے، وہ حسن لغیرہ ہے۔ اسی طرح جب ماس کنورزن کا زمانہ آیا تو اس کے اثر سے مسلمانوں میں فرقے بن گئے ۔ اس وقت ابن عبد البر نے کتاب لکھی جامع بیان العلم و فضلہ۔ اس میں انھوں نے لکھا کہ امت میں اختلافات توسع (diversity)کی مثالیں ہیں، نہ کہ توحُّد کی مثالیں ، وغیرہ۔
واپس اوپر جائیں

مشن کا مستقبل

مشن کے بعض افراد نے یہ خدشہ ظاہر کیا کہ میرے بعد مشن کہیں ٹوٹ پھوٹ کا شکار نہ ہو جائے۔ میں نے اس پر غور کیا تو میری سمجھ میں آیا کہ ان حضرات کا شبہ اس لیے ہے کہ وہ غالباً دوسرے مشن پر قیاس کرتے ہوئے اس مشن کو مبنی بر فارم مشن سمجھ رہے ہیں، اور جیسا کہ تجربہ ہے ، مبنی بر فارم مشن کچھ عرصے کے بعد ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوجاتا ہے۔
مگر اس معاملے میں سنتِ رسول میں ہمارے لیے ایک مثال ہے۔ میرا خیال ہے کہ حدیثِ قرطاس اسی معاملے میں رہنمائی کرنے کے لیے ہے۔ حدیث قرطاس کوئی پر اسرار چیز نہیں تھی، بلکہ وہی تھی، جو ایک حدیث سے معلوم ہوتی ہے۔ اس حدیث کے الفاظ یہ ہیں:تَرَکْتُ فِیکُمْ أَمْرَیْنِ لَنْ تَضِلُّوا مَا تَمَسَّکْتُمْ بِہِمَا:کِتَابَ اللہِ وَسُنَّةَ نَبِیِّہِ (موطا امام مالک، حدیث نمبر 1874)۔ یعنی میں نے تمھارے درمیان دو چیزیں چھوڑ ی ہیں۔ تم گمراہ نہ ہوگے، جب تک تم اس کو پکڑے رہوگے— اللہ کی کتاب اور اس کے رسول کی سنت۔
اس حدیث کے مطابق، ہدایت یہ ہے کہ پیش آمدہ معاملات میں سنجیدگی کے ساتھ قرآن وحدیث کا حکم معلوم کیا جائے،اور اس کو اختیار کرلیا جائے۔ اس کے برعکس گمراہی یہ ہے کہ اپنے معاملات میں قرآن وحدیث کے سوا دوسری چیزوں سے رہ نمائی لی جانے لگے۔اس حدیث میں اسلام کے معاملہ کو بتایا گیاہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعے اللہ نے کامل ہدایت کا انتظام فرمایا۔ اب جو لوگ اس ہدایت سے فیض حاصل کریں گے، ان کے لیے کامیابی ہے، اور جو لوگ اس کی پیروی نہ کریں، وہ ابدی ناکامی کا شکار ہو کر رہ جائیں گے۔
امتِ محمدی کی حیثیت یہ ہے کہ وہ خدائی مدد کے تحت ایک محفوظ امت کی حیثیت رکھتی ہے۔ یہ خود اللہ رب العالمین کا کنسرن ہے کہ یہ امت ختم نہ ہو، تاکہ خاتم النبیین کی نمائندگی مسلسل طور پر جاری رہے، اس کا تسلسل کبھی توٹنے نہ پائے۔
واپس اوپر جائیں

مضاہاۃ اغیار

امت کے زوال کے زمانے میں جو باتیں پیش آتی ہیں، ان میں سے ایک وہ ہے جس کو قرآن میں مضاہاۃ (التوبۃ،9:30) کہا گیا ہے۔ مضاہاۃ کا مطلب مشابہت کرنا (to imitate) ہے۔ یہ ظاہرہ ہمیشہ غالب قوم کے مقابلے میںہوتا ہے۔ یعنی مرعوبیت کی نفسیات کے تحت کسی قوم کے کلچر یا اس کےطریقِ فکر کا پیرو بننا۔ اس مضاہاۃ کی کوئی واحد متعین صورت نہیں۔ ہر زمانے میں اپنے دور کے لحاظ سے اس کی مختلف صورتیں ہو سکتی ہیں۔
مثلاً موجودہ زمانے میں جدید تہذیب کے ظہور کے بعد ترقی یافتہ قوموں کے درمیان ایک فکر پیدا ہوئی ہے، جس کو انسانی تکریم (human dignity) کہا جاتا ہے۔ یہ تصوُّر آزادی کے معاملے میں انتہاپسندی(extremism) کے نتیجے میں آیا ہے۔ آج کے انسان کا یہ کہنا ہے کہ وہ کامل طور پر آزاد ہے۔ اس کی مشابہت میں مسلمان بھی اسی قسم کی بولی بولنے لگے ہیں۔ مگر ا س کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں۔
اسلام کا اصول تمام تر دعوت الی اللہ پر مبنی اصول ہے۔اسلام کا واحد کنسرن یہ ہے کہ دعوت الی اللہ کے مواقع کھلے رہیں۔ اہل ایمان کے لیے یہ موقع ہو کہ وہ لوگوں کو اللہ رب العالمین کی طرف بلاتے رہیں۔ اگر اہل اسلام کےلیے دعوت الی اللہ کے مواقع موجود ہوں، تو کسی اور سیاسی یا غیر سیاسی تقاضے کو لے کر مطالبے کی تحریک چلانا، اہلِ ایمان کے لیے جائز نہیں۔
ان کے لیے موقع ہو کہ وہ دعوت کا کام کرسکتے ہیں، تو ان کے لیے علاحدہ مسلم لینڈ کے نام سے کوئی تحریک چلانا درست نہیں۔ اگر مسلمان ایسا کریں، تو ان کو اللہ کی مدد حاصل نہ ہوگی، اور جب اللہ کی مدد حاصل نہ ہوگی، تو وہ کبھی اپنے مطالبے میں کامیاب نہیں ہوں گے۔ اہل ایمان پر اللہ کی مدد ضرور آتی ہے، لیکن اللہ کی مقرر کردہ صراطِ مستقیم پر، نہ کہ کسی اور چیز پر۔ اس دنیا میں اہل ایمان کی صرف ذمے داریاں ہی ذمے داریاں ہیں، ان کا کوئی حق نہیں۔
واپس اوپر جائیں

اعلیٰ انسان

دین کی راہ میں قربانی سے عام طور پر جسمانی یا مالی قربانی مراد لی جاتی ہے۔ لیکن بعض اوقات اس کا تقاضا ہوتا ہے کہ اپنی ذات کے تقاضوں کی قربانی پیش کی جائے ۔ کیوں کہ اس طرح کی قربانی کے بغیر دین کا کوئی بڑا کام نہیں کیا جاسکتا۔ جتنی بڑی قربانی اتنا ہی بڑا کام۔
ہر آدمی دو قسم کے تقاضوں کے درمیان جیتا ہے— ذاتی تقاضے اور مشن کے تقاضے۔ ذاتی تقاضے اپنی ذات کے محدودمفاد کے درمیان جینے کے لیے ہوتے ہیں، اور مشن کے تقاضے انسانیت کے وسیع تر مفاد کے لیے ہوتے ہیں۔ عام آدمی اپنی ذات یا اپنی فیملی کے تقاضے پورے کرنے کے لیے جیتا ہے۔ اس کی زندگی اپنے آپ سے شروع ہوتی ہے، اور اپنے آپ ہی پر ختم ہوتی ہے۔
لیکن جس شخص کواس کاغور وفکر مین آف مشن (man of mission)بنادے، جو اپنی ذات سے اوپر اٹھ کر اعلیٰ مشن کے لیے جینے والا بن جائے۔ اس کی زندگی بالکل بدل جاتی ہے۔ بظاہر وہ دوسرے انسانوں جیسا ہوتا ہے، لیکن حقیقت کے اعتبار سے وہ ایک مختلف انسان بن جاتا ہے۔ اس کی سوچ، اس کی دوڑ دھوپ، اس کی توانائی کا استعمال اپنی ذات سے اوپر اٹھ کر اعلیٰ مشن کے لیے وقف ہوجاتا ہے۔ اگر وہ مومن ہے، تو اللہ رب العالمین کے لیے، اگر وہ عام انسان ہے، تو اس کی توجہات کا مرکز انسانی بہبود بن جاتاہے۔
انسان دراصل وہی ہے، جو مین آف مشن ہو۔ جس کے مطالعہ اور غورو فکر نے اس کو عمل کا ایک برتر نشانہ دے دیا ہو۔ جس کے صبح و شام ایک اعلیٰ مقصد کے لیے وقف ہوگئے ہوں۔ جس کے فکر اور عمل کا مرکز ایک برتر مقصد بن گیا ہو۔ جو اسی مقصد کو لے کر رات کو سوئے، اور اسی مقصد کو لے کر صبح کو اٹھے۔ جو ٹھہرے تو اسی مقصد کے لیے، اور چلے تو اسی مقصد کے لیے۔ یہی وہ انسان ہے، جو صحیح معنوں میں انسان کہے جانے کا مستحق ہے۔ عام انسان اپنے ماحول کی پیداوار ہوتا ہے۔ جو کلچر اس کو اپنے ماحول سے ملا، اسی کو وہ اپنا کلچر بنالیتا ہے۔
واپس اوپر جائیں

اصلاح کا آغاز

عام طور پر دیکھا گیا ہے کہ لوگ اصلاح کا آغاز تنقیدی عمل سے کرتے ہیں۔ اس کے نتیجے میں یہ ہوتا ہے کہ شروع ہی میں فریقین کے درمیان نزاع کا ماحول بن جاتا ہے، اور پھر اصلاح کا کام صحیح انداز سے نہیں ہو پاتا۔ صحیح طریقہ یہ ہے کہ اصلاح کا آغاز ایڈجسٹمنٹ (adjustment)سے کیا جائے۔اس معاملے میں ایڈجسٹمنٹ دراصل غیر نزاعی (non-controversial) طریقے کا دوسرا نام ہے۔ اجتماعی اصلاح کا صحیح طریقہ یہ ہے کہ آدمی اپنے ماحول میں عمل کا آغاز نزاع سے نہ کرے، اس کے برعکس، وہ یہ کرے کہ موافق پہلو سے اپنے عمل کا آغاز کرکے بتدریج غیر موافق پہلو کی طرف جائے۔
جو شخص بھی اپنے ماحول میں اصلاح کا کام کرنا چاہتا ہو، اس کو ہمیشہ نتیجہ خیز (result oriented) طریقہ اختیار کرنا چاہیے، یعنی جو طریقہ مفید نتیجہ پیدا کرے، اس کے مطابق اپنے عمل کی منصوبہ بندی کرنا، اور جوطریقہ مثبت نتیجہ پیدا نہ کرے، اس سے درگزر کرنا۔ تجربہ بتاتا ہے کہ نزاعی طریقہ ہمیشہ بے نتیجہ رہتا ہے، اور غیر نزاعی طریقہ ہمیشہ مفید نتیجہ پیدا کرتاہے۔
اصلاح کا کام عملاً یہ ہے کہ دوسرا آدمی اپنے خلاف بات کو سنے ، اور اس کو اپنائے۔ اس لیے اصلاح کا عمل ہمیشہ ذاتی احتساب بن جاتا ہے، اور ذاتی احتساب ایک ایسی چیز ہے، جو کبھی نزاعی انداز میں کامیاب نہیں ہوتی۔ ذاتی احتساب کے عمل کو نتیجہ خیز بنانے کے لیے ضروری ہے کہ جو کچھ کیا جائے، وہ غیر نزاعی انداز میں کیا جائے۔
اس سلسلے کے تمام تجربات یہ بتاتے ہیں کہ جب بھی نزاع کا طریقہ اختیار کیا گیا، تو اختلاف بڑھا، اور جب بھی غیر نزاعی طریقہ اختیار کیا گیا تو لوگوں کے اندراصلاح کا عمل جاری ہوا۔ یہ نتیجہ اپنے آپ میں اس بات کا ثبوت ہے کہ غیر نزاعی طریقہ ہمیشہ نتیجہ خیز ہوتا ہے، اور نزاعی طریقہ ہمیشہ بے نتیجہ بن کر رہ جاتا ہے۔
واپس اوپر جائیں

رد عمل، منصوبہ بندی

انیسویں صدی اور بیسویں صدی میں مسلمانوں کے لیے کچھ نئے حالات پیدا ہوئے۔ ہمارے مصلحین ان حالات کے جواب میں پرجوش طور پر کھڑے ہوگئے۔ بظاہر ان کے حلقۂ عمل مختلف تھے، لیکن خلاصے کے طور پر دیکھا جائے تو ہر ایک کا کیس عملا ًایک تھا، اور وہ تھا رد عمل (reaction) کا کیس۔ میرے علم کے مطابق، کسی نے ایسا نہیں کیا کہ وہ حالات کا مطالعہ کھلے ذہن کے ساتھ کریں، وہ مثبت ذہن کے ساتھ حالات کو سمجھنے کی کوشش کریں، اور پھر کسی تاثر پذیری کے بغیر خالص قرآن و سنت کی روشنی میں اپنا لائحہ عمل طے کریں۔
سنتِ رسول کے مطابق، کرنے کا کام یہ تھا کہ حالات کے اندر مواقع کو تلاش کیا جائے، اور اس کے مطابق، اپنے عمل کی منصوبہ بندی کی جائے۔ لیکن ہر ایک نے یہ کیا کہ وہ ری ایکشن کے طور پر کھڑا ہوگیا، اور وقتی جذبے کے تحت ایک عمل شروع کردیا۔ میرے علم کے مطابق، ان میں سے کوئی ایسا نہ کرسکا کہ وہ سنت رسول کا گہرا مطالعہ کرکے مبنی بر مواقع اپنے عمل کا نقشہ بنائے۔ اسی لیے اس ردعمل کا کوئی فائدہ نہیں ہوا۔ کیوں کہ مثبت فائدہ ردّعمل کے ذریعے حاصل نہیں ہوتا، بلکہ گہری منصوبہ بندی کے ذریعے حاصل ہوتا ہے۔
مثلاً بہت سے لوگوں نے قوم کی تعلیم کا منصوبہ بنایا، لیکن ان کی تعلیم کا مقصد زیادہ تر یہ تھا کہ کچھ کتابیں تیار کرکے پڑھادی جائیں۔ ان حضرات کی تعلیم میں ایک اہم چیز مفقود تھی، اور وہ ہے اسٹرکٹ کامپٹیشن(strict competition )۔ یہ لوگ جن کو تعلیمی ریفارمر کہا جاتا ہے، وہ تقریباً سب کے سب فیور (favour) کو جانتے تھے، حالاں کہ اس معاملے میں اصل چیز کامپیٹیشن ہے، نہ کہ فیور (favour)۔ امریکا میں ہر میدان میں یہ اصول ہے کہ کمپیٹ یا پیرش(compete or perish)، یعنی مقابلہ کرو، یا ختم ہوجاؤ۔ عام زبان میں اس کو کرو یا مرو(do or die) کہاجاتا ہے۔
واپس اوپر جائیں

اسلامی طرزِ فکر

زندگی ہر ایک کے لیے مسائل کا مجموعہ ہے۔ زندگی کبھی مسائل سے خالی نہیں ہوسکتی۔ کسی انسان کے لیے یہاں تک کہ پیغمبر کے لیے بھی یہ آپشن (option) نہیں ہےکہ پہلے زندگی کو بے مسئلہ زندگی بناؤ، اس کے بعد اپنا کام کرو۔ اس دنیا میں ہر ایک کے لیے ایک ہی آپشن ہے، اور وہ یہ ہے کہ مسائل میں سلیکٹیو (selective) انداز اختیار کرے، یعنی کچھ مسائل کو انتظار کے خانے میں ڈالے، اور کچھ مسائل کو اپنی توجہ کا مرکز بنائے۔
اسلام کی تعلیم کے مطابق، اس معاملےمیں ایک سچے مسلم کےلیے صرف ایک آپشن ہے۔ وہ یہ کہ ایک مسلم دعوت الی اللہ کو اپنا کنسرن (concern) بنائے، اور دوسری تمام چیزوں کو اللہ رب العالمین کے حوالے کردے۔ یہ معاملہ اتنا زیادہ اہم ہے کہ اس معاملے میں کوئی عذر (excuse) حقیقی عذر (genuine excuse) نہیں۔
عام طور پر لوگوں کا طریقہ یہ ہے کہ وہ اس معاملے میں دعوت الی اللہ کے علاوہ کسی اور چیز کو اپنا کنسرن بناتے ہیں، اور عذر(excuse) کے طو رپر کسی دنیوی اصول کا حوالہ دیتے ہیں۔مثلاً حق خود ارادیت (self determination) ، انسانی حقوق (human rights)، وغیرہ۔ مگر یہ تمام حوالے درست نہیں۔ ان معاملات میں اسلام کا اصول ایک لفظ میں یہ ہے  أَدُّوا إِلَیْہِمْ حَقَّہُمْ، وَسَلُوا اللَّہَ حَقَّکُم (صحیح البخاری، حدیث نمبر 7052)۔ ادا کروان کو ان کا حق ، اورمانگو اپنا حق اللہ سے۔
اس کا مطلب یہ ہے کہ اجتماعی معاملات میں مومن کی منصوبہ بندی یک طرفہ طور پر ذاتی ذمے داری کے اصول پر ہے، دوسروں سے حقوق طلبی کے اصول پر نہیں۔ اس دنیا میں مومن کو صرف اپنی ذمے داری کی ادائیگی پر دھیان دینا ہے، مومن کا یہ طریقہ نہیں کہ کسی غیر اسلامی اصول کا حوالہ دے کر دوسروں سے اپنے حقوق کا مطالبہ شروع کردے۔ اس معاملے میں مومن کا طریقہ تمام تر آخرت رخی (Akhirah oriented)ہے، نہ کہ دنیا رخی۔
واپس اوپر جائیں

اسلام دورِ جدید میں

اسلام آخری دین ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ وہ اپنے وجود کے اعتبار سے قیامت تک باقی رہے۔ اسی لیے دین کا تحفظ بھی ایک ضروری اور مطلوب کام ہے۔ موجودہ زمانہ کی بعض تحریکوں نے اس اعتبار سے یقیناً مفید خدمات انجام دی ہیں۔ وہ اسلام کے فکری اور عملی نقشہ کی محافظ ثابت ہوئی ہیں۔ بعض ادارے قرآن اور حدیث اور اسلامی مسائل کے علم کو زندہ رکھے ہوئے ہیں۔ بعض جماعتیں اسلامی عبادات کے ڈھانچہ کو ایک نسل سے دوسری نسل تک پہنچانے کا کام کررہی ہیں۔ کچھ اور ادارے قرآن وحدیث کا متن صحت وصفائی کے ساتھ چھاپ کر ہر جگہ پھیلا رہے ہیں۔ یہ تمام کام بجائے خود مفید ہیں، مگر بہر حال وہ تحفظ دین کے کام ہیں نہ کہ دعوتِ دین کے کام۔ جہاں تک اسلام کو دعوتی قوت کی حیثیت سے زندہ کرنے کا سوال ہے وہ موجودہ زمانہ میں ابھی تک واقعہ نہ بن سکا۔ حتی کہ بظاہر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ لوگوں کو شاید اس کا شعور بھی نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ وہ اکثر ایسے کاموں کو اسلامی دعوت کا عنوان دے دیتے ہیں، جن کا اسلامی دعوت سے کوئی تعلق نہیں ہوتا۔
موجودہ زمانہ میں کسی حقیقی اسلامی کام کے آغاز کی پہلی شرط یہ ہے کہ ہم اس صورت ِحال کو ختم کریں جس نے ساری دنیا میں اسلامی تحریک کو سیاسی تحریک کے ہم معنی بنا رکھا ہے۔ مسلمان ہر ملک میں وقت کے حکمرانوں کے خلاف شور وشر برپا کرنے میں مشغول ہیں۔ کہیں ان کی یہ تحریک غیر مسلم اقتدار کے خلاف برپا ہے، اور کہیں وہ ایک اسلامی سیاسی فلسفہ کے زیر سایہ کام کررہی ہے، اور کہیں فلسفہ اور نظریہ کے بغیر متحرک ہے۔ کہیں اس نے ملی عنوان اختیار کررکھا ہے، اور کہیں نظامی عنوان۔ تاہم سارے فرق واختلاف کے باوجود نتیجہ سب کا ایک ہے — حریفوں کے خلاف محاذ آرائی میں ضائع کرتے رہنا۔ اس اعتبار سے دیکھیے تو مسلمانوں نے موجودہ زمانہ میں بالکل الٹی کارکردگی کا ثبوت دیا ہے۔ خدانے دعوتِ حق کی راہ سے سیاسی رکاوٹ کو دور کرکے انھیں موقع دیا تھا کہ وہ آزادانہ حالات میں خدا کے تمام بندوں تک خدا کا پیغام پہنچا دیں۔ وہ خدا کے بندوں کو خدا کی اس اسکیم سے باخبر کردیں، جس کے تحت اس نے انسان کو پیدا کیا ہے، اور جس کے مطابق وہ ایک ایک شخص کا حساب لینے والا ہے۔ مگر انھوں نے دوبارہ نئے نئے عنوان سے اپنے خلاف سیاسی رکاوٹیں کھڑی کرلیں۔ خود ساختہ سیاسی جہاد میں ہر ایک مشغول ہے۔ مگر دعوتی جہاد میں اپنا حصہ ادا کرنے کی فرصت کسی کو نہیں۔
قرآن میں ہے کہ اللہ اس کی مدد کرتا ہے جو اللہ کی مددکرے (الحج، 22:40)۔ ہر دور میں خدا اپنے دین کے حق میں کچھ امکانات کھولتاہے۔ اس وقت ضرورت ہوتی ہے کہ کچھ لوگ ہوں جو خدا کے اشارہ کو سمجھیں، اور خدا کے منصوبہ میں اپنے آپ کو شامل کردیں۔ صحابہ کرام وہ خوش نصیب لوگ ہیں، جنھوں نے اپنے زمانہ میں خدائی منصوبہ کو سمجھا، اور اپنے آپ کو پوری طرح اس کے حوالہ کردیا۔ اس کا نتیجہ وہ عظیم انقلاب تھا جس نےانسانی تاریخ کے رخ کو موڑ دیا۔
بارش کا آنا خدا کے ایک منصوبہ کا خاموش اعلان ہے۔ وہ اعلان یہ ہے کہ آدمی اپنا بیج زمین میں ڈالے تاکہ خدا اپنے کائناتی انتظام کو اس کے موافق کرکے اس کے بیج کو ایک پوری فصل کی صورت میں اس کی طرف لوٹائے۔ کسان اس خدائی اشارہ کو فوراً سمجھ لیتا ہے، اور اپنے آپ کو اس خدائی منصوبہ میں پور ی طرح شامل کردتیا ہے۔ اس کا نتیجہ ایک لہلہاتی ہوئی فصل کی صورت میں اس کو واپس ملتاہے۔ اسی طرح موجودہ زمانہ میں، ہزار سالہ عمل کے نتیجہ میں، اللہ تعالی نے اپنے دین کے حق میں کچھ نئے مواقع کھولے تھے۔ یہ مواقع کہ اقتدار کا حریف بنے بغیر توحید اور آخرت کی دعوت کو عام کیا جائے۔ جو کام پہلے معجزاتی سطح پر انجام دینا پڑتاتھا، اس کو عام طبیعیاتی استدلال کی سطح پر انجام دیا جائے۔ جو کام پہلے تعصب کے ماحول میں کرنا پڑتا تھا، اس کو مذہبی رواداری کے ماحول میں کیا جائے۔ جو کام پہلے ’’حیوانی رفتار‘‘ سے کیا جاتا تھا اس کو ’’مشینی رفتار‘‘ کے ساتھ انجام دیا جائے۔
یہ موجودہ زمانہ میں خدا کا منصوبہ تھا۔ خدا نے سارے بہترین امکانات کھول دیے تھے، اور اب صرف اس کی ضرورت تھی کہ خدا کےکچھ بندے ان کو استعمال کرکے ان امکانات کوواقعہ بننے کا موقع دیں۔ مگر مسلم قیادت خداکے اس منصوبہ میں شامل ہونے کے لیے تیار نہ ہوئی۔ اس نے نئے نئے عنوانات کے تحت وہی سیاسی جھگڑے دوبارہ چھیڑ ددیا، جن کو خدا نے ہزار سالہ عمل کے نتیجہ میں ختم کیا تھا۔ انھوں نے اسلامی دعوت کو سیاسی اور قومی دعوت بنا کر دوبارہ اسلام کو اقتدار کاحریف بنا دیا اور کہا کہ یہی عین خدا کا پسندیدہ دین ہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ مدعو قوموں کے ساتھ ہر جگہ بالکل بے فائدہ قسم کی مقابلہ آرائی شروع ہوگئی، اور سارے نئے امکانات غیر استعمال شدہ حالت میں پڑے رہ گئے۔مسلمانوں اور دیگر قوموں کے درمیان داعی اور مدعو کا رشتہ قائم نہ ہوسکا۔
کام کی ایک سوسال سے بھی زیادہ لمبی مدت مسلمانوں نے کھو دی۔ یہاں تک کہ شیطان نے بیدار ہو کر قدیم شرک کی جگہ جدید شرک (کمیونزم) کی صورت میں کھڑا کردیا۔ اب کم از کم کمیونزم کے زیر تسلط علاقوں میں دوبارہ کام کرنے کی وہی مشکلات پیدا ہوگئی ہیں، جو اس سے پہلے شرک کے زیر تسلط علاقوں میں پائی جاتی تھیں۔مثلاً چائنا، اور نارتھ کوریا، وغیرہ۔ تاہم غیر کمیونسٹ دنیا میں اب بھی کام کے مواقع کھلے ہوئے ہیں،اور یہاں پندرھویں صدی ہجری میں اس صالح جدوجہد کا آغاز کیاجاسکتا ہے، جو چو دھویں صدی ہجری میں نہ کیا جاسکا۔
٭ ٭ ٭٭٭٭
■ تدبیری واپسی منصوبہ بند اقدام کا پہلا مرحلہ ہے۔
ثخدا حالات کی زبان میںبولتا ہے۔ عقل والے اس کو سن کر رہنمائی حاصل کرتے ہیں، اور جوبے بصیرت ہوں، وہ تاریکیوں میں بھٹکتے ہیں۔
ثحقیقت کو اگر آپ اختیارانہ طور پر نہ مانیں، تو آخر کار آپ کو اسے مجبورانہ طور پر ماننا پڑے گا۔
ثحقیقی کام اور غیر حقیقی کام کا فرق یہ ہے کہ حقیقی کام ہمیشہ نتیجہ خیز ثابت ہوتا ہے، اور غیر حقیقی کام ہمیشہ بے نتیجہ ہوکر رہ جاتا ہے۔
واپس اوپر جائیں

دعوتِ عام کی ذمہ داری

بیان کیا جاتا ہے کہ پچھلے انبیاء مقامی آبادیوں کے لیے آئے۔ وہ جس قوم میں پیدا ہوئے وہی قوم اُن کی دعوت کامیدان ہوتی تھی۔ مگر پیغمبر آخر الزماں صلی اللہ علیہ وسلمکے بعد کوئی اور پیغمبر آنے والا نہ تھا، اس لیے آپ ساری دنیا کے لیے داعی اور منذر بنا کر بھیجے گئے(الفرقان، 25:1)۔ اسی لیے پیغمبراسلام کے لیے قرآن میں یہ الفاظ آئے ہیں:وَمَا أَرْسَلْنَاکَ إِلَّا رَحْمَةً لِلْعَالَمِینَ (21:107)۔ یعنی ہم نے تم کو تمام دنیا والوں کے لیے رحمت بنا کر بھیجا ہے۔
یہ بات اہل اسلام کے لیے فخر یا فضیلت کی بات نہیں ہے۔ بلکہ وہ ایک سنگین ذمہ داری کی بات ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ دوسرے پیغمبروں کی امتوں کی دعوتی ذمہ داری اگر مقامی دائرہ تک محدود رہتی تھی، تو امتِ محمدی کی ذمہ داری سارے عالم تک پھیلی ہوئی ہے۔ اُمّتِ محمدی کا اُمّتِ محمدی ہونا صرف اُس وقت متحقّق ہو سکتا ہے، جب کہ وہ تمام دنیا کی قوموں کے اوپر اپنی دعوتی ذمہ داری کو ادا کرے۔ اس دعوتی عمل کے بغیر اُس کا اُمتِ محمدی ہونا ہی مشتبہ ہے (الانعام، 7:19؛ یوسف، 12:108)۔ مزید یہ کہ اس دعوتی ذمہ داری کا مطلب یہ نہیں ہے کہ اُمت کے لوگ تمام دنیا میں مسلم رخی تحریکیں چلائیں، بلکہ اُنہیں لازمی طورپر غیر مسلم رخی تحریکیں چلانا ہے۔ مسلم رخی تحریک یا ملت رخی تحریک امت کا داخلی مسئلہ ہے، جب کہ غیر مسلم رخی تحریک، خارجی معنوں میں اُمّت کی لازمی ذمے داری ہے۔
علمائے اسلام کا اس امر پر اتفاق ہے کہ دعوت کے بغیر جہاد نہیں۔ ابن رشد نے الفصل الرابع فی شرط الحرب کے تحت لکھا ہے: فَأَمَّا شَرْطُ الْحَرْبِ فَہُوَ بُلُوغُ الدَّعْوَةِ بِاتِّفَاقٍ، أَعْنِی أَنَّہُ لَا یَجُوزُ حِرَابَتُہُمْ حَتَّى یَکُونُوا قَدْ بَلَغَتْہُمُ الدَّعْوَةُ، وَذَلِکَ شَیْءٌ مُجْمَعٌ عَلَیْہِ مِنَ الْمُسْلِمِینَ؛ لِقَوْلِہِ تَعَالَى:وَمَا کُنَّا مُعَذِّبِینَ حَتَّى نَبْعَثَ رَسُولا[الاسراء،17:15](بدایۃ المجتہد۱؍۳۸۶)۔ یعنی جنگ کی شرط متفقہ طورپر یہ ہے کہ ان لوگوں تک دعوت پہنچ چکی ہو۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ان سے اس وقت تک جنگ جائز نہیں جب تک کہ انہیں دعوت نہ پہنچ جائے۔
اس معیارکی روشنی میں دیکھیے تو معلوم ہوگا کہ پچھلے تقریباً تین سو سال سے مسلم رہنما جہاد کے نام پر غیر قوموں سے جو لڑائیاں لڑ رہے ہیں ان میں سے کوئی بھی جہاد نہیں۔ اور اس کی سادہ سی وجہ یہ ہے کہ یہ لڑائیاں دعوت و تبلیغ کے بغیر لڑی گئیں۔ مثلاً شاہ ولی اللہ دہلوی کی (بالواسطہ) جنگ مراٹھوں سے، شہیدَین کی جنگ سکھوں سے، علمائے ہندکی جنگ انگریزوں سے، عربوں کی جنگ اسرائیلیوں سے، پاکستانیوں اور کشمیریوں کی جنگ ہندوستانیوں سے، فلپائنی مسلمانوں کی جنگ وہاں کے عیسائیوں سے، چیچن مسلمانوں کی جنگ روسیوں سے، وغیرہ۔
یہ اور موجودہ زمانے کی دوسری لڑائیاں جو مسلم رہنما لڑتے رہے یا لڑ رہے ہیں، ان میں سے کوئی بھی جہاد فی سبیل اللہ نہیں۔ کیوں کہ یہ لڑائیاں دعوت و تبلیغ کی شرط کے بغیر شروع کردی گئیں۔ یہی وجہ ہے کہ موجودہ زمانہ کی یہ تمام لڑائیاں حبط اعمال کا شکار ہوگئیں۔ مسلمانوں کی یک طرفہ تباہی کے سوا ان کا اور کوئی نتیجہ بر آمد نہیں ہوا۔
کسی غیر مسلم قوم کے خلاف جہاد(بمعنٰی قتال) چھیڑنے کے لیے یہ وجہ کافی نہیں ہے کہ اس نے مسلمانوں پر ملک و مال کے اعتبار سے کوئی نقصان پہنچایا ہو۔ ایسے کسی مسئلہ کے حل کے لیے پر امن تدبیر ہے، نہ کہ متشددانہ جنگ۔ غیر مسلموں کے سلسلہ میں مسلمانوں کی اول و آخر ذمے داری دعوت و تبلیغ ہے۔ جہاد (بمعنٰی قتال) صرف مخصوص اور متعین شرطوں ہی پر جائز ہے، اور موجودہ زمانہ میں یہ شرطیں کسی بھی مقام کے مسلمانوں کے حق میں موجود نہیں۔
کسی قوم کے خلاف دعوت کے بغیر جہاد چھیڑنانہایت سنگین ذمہ داری ہے۔ حضرت یونس علیہ السلام نے صرف یہ کیا تھا کہ دعوت کی تکمیل سے پہلے انہوں نے اپنی مدعو قوم سے ہجرت کا معاملہ کیا تو اللہ نے ان کی پکڑ کی۔ اب وہ لوگ جنہوں نے سرے سے دعوت کا عمل ہی نہ کیا ہو، اور پھر صرف مادّی نزاع کی بنا پر اپنی مدعو قوم کے خلاف مسلّح جنگ چھیڑ دیں، اُن کا معاملہ حضرت یونس کے مقابلہ میں اللہ کی نظر میں کتنا زیادہ سنگین ہوگا، اس کا تصور بھی لرزا دینے کے لیے کافی ہے۔
واپس اوپر جائیں

قتال کا معاملہ

قرآن میں ایک آیت اس طرح آئی ہے:إِنَّ اللَّہَ یُحِبُّ الَّذِینَ یُقَاتِلُونَ فِی سَبِیلِہِ صَفًّا کَأَنَّہُمْ بُنْیَانٌ مَرْصُوصٌ (61:4)۔ یعنی اللہ ان لوگوں کو پسند کرتا ہے جو اس کے راستہ میں اس طرح مل کر لڑتے ہیں گویا وہ ایک سیسہ پلائی ہوئی دیوار ہیں۔ یہ آیت مطلق معنی میں قتال کی فضیلت نہیں بتاتی ۔ بلکہ وقتی ضرورت کے تحت پیش آنے والے حالات کو بیان کرتی ہے۔
اس آیت کا مطلب یہ نہیں ہے کہ قتال (لڑائی) ابدی طور پر اللہ کے نزدیک ایک محبوب فعل ہے۔ بلکہ اس میں وقت کے ایک تقاضے کا ذکر ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ آیت کے نزول کے وقت جب کہ ختمِ فتنہ کے لیے دفاعی طو رپر جنگ ہورہی تھی، اس وقت سب سے زیادہ مطلوب فعل یہ تھا کہ جنگ کے محاذ پر اہلِ ایمان کی صفوں کو تقویت دینے کے لیے مخالف طاقتوں سے جنگ کی جائے۔ تاکہ تاریخ کا منصوبہ مکمل ہو، اور دنیا میں دعوت کا وہ پرامن دور آئے، جو کہ فطرت کے نظام کے مطابق، خالقِ فطرت کو مطلوب ہے۔
متحد ہو کر لڑنے کا مطلب یہ ہے کہ چوں کہ فتنہ پسند طاقتوں نے متحدہ طاقت کے ذریعے ناقابل تقسیم طاقت کی صورت اختیار کرلی ہے۔ اس لیے اس متحد فتنہ کو ختم کرنے کے لیے جوابی اتحاد کی ضرورت ہے، ورنہ وہ کبھی ختم نہیں ہوگا۔ یہاں فتنہ سے مراد مذہبی جبر (religious persecution ) کا فتنہ ہے۔ اب یہ فتنہ (religious persecution ) عملا ًختم ہوچکا ہے۔ اس لیے اس کے خلاف متحدہ جنگ کی ضرورت بھی عملاً باقی نہیں رہی۔
موجودہ دور امن کا دور ہے۔ اس دورکو قرآن کی ایک اور آیت کے مطالعے سے زیادہ واضح طو رپر سمجھا جاسکتا ہے۔ آیت کے الفاظ یہ ہیں وَإِنْ جَنَحُوا لِلسَّلْمِ فَاجْنَحْ لَہَا وَتَوَکَّلْ عَلَى اللَّہِ إِنَّہُ ہُوَ السَّمِیعُ الْعَلِیمُ (8:61)۔ یعنی اور اگر وہ صلح کی طرف جھکیں تو تم بھی اس کے لیے جھک جاؤ اور اللہ پر بھروسہ رکھو۔ بیشک وہ سننے والا، جاننے والا ہے۔
واپس اوپر جائیں

تحریر کی ایک صفت

تحریر کی ایک صفت وہ ہے، جس کو ادبی اعتبار سے روانی (fluent language) اور مضمون کے اعتبار سے بندھی ہوئی زبان (compact language) کہا جاتا ہے۔ یہ کسی تحریر کی ایک خصوصی صفت ہے۔ یہ صفت جس تحریر میں ہو، وہ سمجھنے کے اعتبار سے زود فہم (easily understandable)ہوگی،اور پڑھنے کے اعتبار سے دلچسپ مطالعہ (interest reading) کی صفت کا حامل ہوگی۔
یہ کسی محرر کی ایک امتیازی صفت ہے۔ یہ صفت کسی مصنف میں اس وقت پیدا ہوتی ہے، جب کہ کثرت مطالعہ کی وجہ سے وہ اپنے موضوع پر پوری طرح حاوی (be in control) ہوجائے۔ متعلقہ موضوع پر اس کا مطالعہ اتنا جامع ہو کہ وہ جب لکھے ، اور بولے تو وہ زیر بحث موضوع کا کامل احاطہ کیے ہوئے ہو۔
جس تحریر میں یہ صفت ہو، اس کے اندر بہت زیادہ وضوح (clarity) ہوگا۔ جو شخص اس کو پڑھے گا، وہ کسی مقام پر اٹکے بغیرصاحب تحریر کی بات کو بخوبی طور پر سمجھ لے گا۔ یہ کسی تحریر کی ایک اعلیٰ صفت ہے۔ یہ اعلیٰ صفت کسی شخص کے اندر اس وقت پیدا ہوتی ہے، جب کہ کثرتِ مطالعہ کی وجہ سے زیرِ بحث مضمون پوری طرح اس کی گرفت میں آجائے۔ کثرتِ مطالعہ کی وجہ سے اٹ پٹاپن اس کی تحریر سے ختم ہوجائے۔ وہ جو کچھ کہے یا لکھے، وہ دوسروں کے لیے دو اور دوبرابر چار کی طرح واضح ہوجائے۔ اس کا کلام پوری طرح گنجلک سے خالی ہو۔ کلام کی اس صفت کو ہندی میں سرل بھاشاکہا جاتا ہے۔
یہ مطالعہ علمی ہونا چاہیے، نہ کہ صحافتی۔ علمی مطالعہ وہ ہے، جو موضوعی (objective)ہو، جو سنجیدہ ہو۔جو کسی تعصب (bias) کے بغیر کیا گیا ہو، جس مطالعے میں سائنٹفک ٹمپر (scientific temper) کی صفت پائی جائے۔
واپس اوپر جائیں

آزمائش کس لیے

قرآن میں بتایا گیاہے کہ اہل ایمان کو آزمائش پیش آئی۔ سخت آزمائش کے بعد وہ جنت کےانعام کے لیے منتخب کیے گئے۔ یہ حقیقت قرآن کی دو آیتوں کے مطالعےسے معلوم ہوتی ہے۔ ان میں سے ایک آیت کا ترجمہ یہ ہے کیا تم نے یہ سمجھ رکھا ہے کہ تم جنت میں داخل ہوجاؤ گے، حالاں کہ ابھی تم پر وہ حالات گزرے ہی نہیں جو تمہارے اگلوں پر گزرے تھے۔ ان کو سختی اور تکلیف پہنچی اور وہ ہلا مارے گئے، یہاں تک کہ رسول اور ان کے ساتھ ایمان لانے والے پکار اٹھے کہ اللہ کی مدد کب آئے گی۔ یاد رکھو، اللہ کی مدد قریب ہے۔ (2:214)
اس سلسلے میں دوسری آیت کا ترجمہ یہ ہے یہاں تک کہ جب پیغمبر مایوس ہوگئے، اور وہ خیال کرنے لگے کہ ان سے جھوٹ کہا گیا تھا، تو ان کو ہماری مدد آپہنچی۔ پس نجات ملی جس کو ہم نے چاہا اور مجرم لوگوں سے ہمارا عذاب ٹالا نہیں جاسکتا۔ (12:110)
دعوت الی اللہ کا مشن جنت کی طرف سفر کا مشن ہے۔ یہ سفر مومن کی تربیت کے لیے ہوتا ہے۔ اللہ رب العالمین کو یہ مطلوب ہے کہ اللہ نے اس کے لیے جو نعمت سے بھری کائنات بنائی ہے،اس کو وہ دریافت کرے۔ وہ ایمان کے اعتبار سےسیلف ڈسکوری (self discovery) کی سطح پر کھڑا ہو۔ یہ سیلف ڈسکوری جنت کی قیمت ہے۔
جنت کا یہ سفر سخت امتحان کے مراحل سے گزرتا ہے۔ ان سخت مراحل سے گزرے بغیر انسان کے اندر وہ شخصیت تیار نہیں ہوتی، جس کو قرآن میں حسنِ رفاقت کی صفت بتایا گیا ہے۔ یہی وہ صفت ہے، جو کسی کو جنت کا مستحق بناتی ہے۔ یہ حقیقت قرآن میں ان الفاظ میں آئی ہے وَحَسُنَ أُولَئِکَ رَفِیقًا (4:69)۔ یعنی کیسی اچھی ہے ان کی رفاقت۔
اصل یہ ہے کہ انسان کی پیدائش کا مقصدصرف ایک ہے، اور وہ عبادت گزاری ہے (الذاریات، 51:56)۔ عبادت کی حقیقت کیا ہے، اس کو راقم الحروف نے اپنی کتاب الاسلام میں ان الفاظ میں لکھا ہےعبادت کا اصل مطلب خدا کے آگے پستی اور عاجزی اختیار کرنا ہے۔ خدا کی عبادت کرنا، خدا کے آگے اپنے آپ کو انتہائی حد تک بچھا دینا ہے۔ پھر عبادت کا یہ عمل جس ہستی کے آگے ہوتاہے، وہ چوں کہ کوئی ظالم و جابر ہستی نہیں، بلکہ انتہائی حد تک شفیق ہستی ہے، اور ہمارے اوپر اس کے بے پایاں احسانات ہیں، اس لیے اظہارِ عجز کے اندر لازمی طور پر محبت کی شان پیدا ہوجاتی ہے۔ بندے کا خدا سے تعلق اپنی حقیقت کے اعتبار سے ایک انتہائی محبوب ہستی سے عجز کا تعلق ہے۔ عین اس وقت جب بندہ شدتِ خوف سے کانپ رہا ہوتا ہے، جب خدا کے تصور سے اس کی آنکھوں سے آنسو نکل پڑتے ہیں، اس وقت بھی اس کا حال یہ ہوتا ہے کہ اس کے بہترین جذباتِ محبت اپنے رب کے لیے وقف ہوتے ہیں، وہ انتہائی اشتیاق کے ساتھ خدا کی طرف لپک رہا ہوتا ہے۔ وہ ایک درد انگیز محبت کی اعلی ترین کیفیت میں اپنے آپ کو لپٹا ہواپاتا ہے۔ خدا کے سامنے عاجزی اختیار کرنا، بلاشبہ اس سے انتہائی خوف کی بنا پر ہوتا ہے، مگر یہ خوف کوئی ایسی چیز نہیں، جو کسی ڈراؤنی شئے کو دیکھ کر آدمی کے اندر پیدا ہوتا ہے۔یہ انتہائی امید اور انتہائی اندیشہ کی ایسی ملی جلی کیفیت ہے، جس میں بندہ کبھی یہ طے نہیں کرپاتا کہ دونوں میں سے کس کو فوقیت دے۔ یہ محبت اور خوف کا ایک ایسا مقام ہے، جس میں آدمی جس سے ڈرتا ہے، اسی کی طرف بھاگتا ہے، جس سے چھننے کا خطرہ محسوس کرتا ہے، اسی سے پانے کی امید رکھتا ہے۔ یہ ایک ایسا اضطراب ہے، جو سراپا اطمینان ہے، اور ایسا اطمینان ہے، جو سراپا اضطراب ہے۔ (الاسلام، صفحہ 7)
حقیقت یہ ہے کہ ایمان ایک انوکھی آزمائش کا معاملہ ہے۔ اس معاملے میں انسان کو ایک ایسے امتحان سے گزرنا ہوتا ہے، جو بیک وقت امید اور خوف کے دوطرفہ جذبات کے درمیان سے گزرتا ہے۔آدمی کو ہر لمحہ یہ احساس ہوتا ہے کہ اس کا سفر امید کا سفر ہے، اسی کے ساتھ ہر لمحہ اس کو یہ ڈر ہوتا ہے کہ اس کو کچھ نہیں معلوم کہ بالآخر کیا ہونے والا ہے۔ یہ امید اور خوف کی دو طرفہ کیفیت کے درمیان گزرنے والا سفر ہے۔ اس سفرمیں ہر وقت انسان امید میں بھی ہوتا ہے، اور اسی کے ساتھ خوف میں بھی۔
واپس اوپر جائیں

عقیدہ اور بین اقوامی معاملات

ہجرت نبوی کے چھٹے سال حدیبیہ کا واقعہ پیش آیا۔ اسلام میں حدیبیہ کا واقعہ ایک تاریخ ساز واقعہ ہے۔ حدیبیہ کا واقعہ پورے معنوں میں ایک سنت رسول ہے۔ حدیبیہ کے موقعہ پر جو واقعات پیش آئے۔ ان میں سے ایک واقعہ وہ ہے جو بین اقوامی معاملات کے لیے ایک بنیادی اصول کی حیثیت رکھتا ہے۔
حدیبیہ کے موقعہ پر رسول اللہ اور قدیم مکہ کے مشرک لیڈروں کے درمیان صلح کی گفت و شنید (negotiation) شروع ہوئی۔ یہ گفت و شنید تقریباً دوہفتہ تک جاری رہی۔ جب اس کی شرطیں طے ہوگئیں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک کاغذ پر صلح نامے کے دستاویز لکھوانا شروع کیا۔ آپ نے علی بن ابی طالب سے کہا:اکْتُبْ یَا عَلِیُّ:ہَذَا مَا صَالَحَ عَلَیْہِ مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللَّہِ (اے علی لکھو،یہ وہ شرائط ہیں جس پر محمد رسول اللہ نے صلح کی )۔ سہیل بن عمرو جو اس وقت مشرک قیادت کی نمائندگی کررہے تھے، انھوں نے کہا کہ ہم آپ کو اللہ کا رسول نہیں مانتے، آپ وہ لکھیے جس کو ہم مانتے ہیں(اکْتُبْ فِی قَضِیَّتِنَا مَا نَعْرِفُ) ۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس اعتراض کو مان لیا ،اور کہا خدا کی قسم میں جانتا ہوں کہ میں اللہ کا رسول ہوں، لیکن اے علی تم ’’رسول اللہ‘‘ کا لفظ مٹاؤ اور اس کی جگہ لکھو ’’محمد بن عبد اللہ‘‘ ۔ علی ابن ابی طالب نے ایسا کرنے سے انکار کردیا۔اس کے بعد روایت کے الفاظ یہ ہیں:فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ صَلَّى اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ:أَرِنِی مَکَانَہُ، حَتَّى أَمْحُوَہُ، فَمَحَاہُ، وَکَتَبَ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہ (تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا ، مجھے اس لفظ کی جگہ دکھاؤ، تاکہ میں خود اس کو مٹادوں، پھر رسول اللہ نے خود اپنے ہاتھ سے اس لفظ کو مٹادیا، اس کے بعد علی نے اس جگہ پرمحمد بن عبد اللہ لکھا)۔ تفصیل کے لیے دیکھیے صحیح البخاری(حدیث نمبر 3184)،صحیح مسلم(حدیث نمبر1783-1784)، مسند احمد (حدیث نمبر 16800) ، صحیح ابن حبان(حدیث نمبر 4869)، وغیرہ۔
یہ واقعہ دوسری سنتوں کی طرح ایک سنت رسول ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے اس معاملے میں ڈی لنکنگ (de-linking) کی پالیسی اختیار کی۔ آپ نے عقیدہ اور بین اقوامی معاملے کو ایک دوسرے سے الگ کردیا۔ آپ نے فریقِ ثانی کے مسلّمہ کے مطابق معاہدہ لکھوایا، نہ کہ خود اپنے عقیدہ کے مطابق۔
اسی طرح کی ایک مثال یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے آخری زمانے میں عرب کے دو آدمیوں نے نبوت کا دعوی کیا تھا۔ ایک یمامہ کا مسیلمہ بن حبیب، اور دوسرا صنعاء کا اسود بن کعب عنسی۔ مسیلمہ نے 10ہجری میں ایک خط رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بھیجا۔ اس خط کامضمون یہ تھا: اللہ کے رسول مسیلمہ کی جانب سے اللہ کے رسول محمد کے نام، سلام علیک، اما بعد، بے شک میں نبوت کے معاملے میں آپ کے ساتھ شریک کیاگیا ہوں، اس لیے نصف زمین ہمارے لیے اور نصف زمین قریش کے لیے۔ مسیلمہ کی طرف سے دو قاصد اس کا یہ خط لے کر مدینہ آئے۔ ان کا نام ابن النواحہ اور ابن اُثال تھا۔ جب مسیلمہ کے دونوںقاصد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے، تو رسول اللہ نے کہا کیا تم دونوں بھی وہی کہتےہو جو وہ کہتا ہے۔ دونوں نے کہا کہ ہاں۔ آپ نے فرمایا کہ اگر یہ بات نہ ہوتی کہ قاصدوں کو قتل نہیں کیا جاتا تو میں تم دونوں کی گردنیں کٹوادیتا (لَوْلَا أَنَّ الرُّسُلَ لَا تُقْتَلُ لَضَرَبْتُ أَعْنَاقَکُمَا)۔راوی حضرت عبد اللہ بن مسعود کہتے ہیں : فَجَرَتْ سُنَّةً أَنْ لَا یُقْتَلَ الرَّسُولُ ۔ یعنی پھر یہ سنت جاری ہوگئی کہ قاصدوں کو قتل نہیں کیاجائے گا(دیکھیے،سنن ابو داؤد، حدیث نمبر 2761،مسند احمد، حدیث نمبر 3708)۔
ان سننِ رسول سے اسلام کا ایک نہایت اہم اصول معلوم ہوتاہے۔ان سےیہ اصول اخذ ہوتا ہے کہ اہل ایمان عقیدہ کے معاملے میں اپنے عقیدہ پر قائم رہیں گے۔ لیکن جہاں تک بین اقوامی معاملات کا تعلق ہے، اس میں اہل ایمان بین اقوامی اصولوں (international norms) کو اسی طرح مانیں گے، جس طرح دوسرے لوگ ان کو مانتے ہیں۔ یہ اصول ان تمام معاملات پر قابلِ عمل ہوگا جو بین اقوامی تعلقات پر مبنی ہیں۔
اس کا مطلب یہ ہے کہ بین اقوامی معاملات میں بین اقوامی رواج پر عمل کیا جائے گا۔ ہر زمانہ میں بین اقوامی تعلقات کے لیے کچھ رواج ہوتے ہیں۔ موجودہ زمانےمیں بھی اس قسم کے بہت سے رواج ہیں۔ اب اقوامِ متحدہ نے ان کو زیادہ منظم صورت دے دی ہے۔ اس قسم کے تمام رواج مسلم ملکوں میں بھی اسی طرح قابلِ احترام ہوں گے، جس طرح غیر مسلم ملکوں میں ان کو قابلِ احترام سمجھا جاتاہے۔ البتہ اگر اس قسم کے معاملات میں کوئی ایسی چیز یا رواج پایا جائے، جو صراحةً حرام ہو۔ مثلاً بین اقوامی میٹنگوں میں شراب پیش کرنا، تو اس مخصوص جز کی حد تک اس کی پیروی نہیں کی جائے گی۔
بیسویں صدی کے وسط میں اقوامِ متحدہ (United Nations) کی تشکیل ہوئی۔ تمام قوموں نے اس تنظیم کی ممبر شپ قبول کی ۔ اس تنظیم کے تحت10 دسمبر 1948 کو ایک منشور تمام قوموں کے اتفاقِ رائے سے منظور کیا گیا۔ جس کا ٹائٹل یہ تھا— دی یونیورسل ڈکلریشن آف ہیومن رائٹس 
The Universal Declaration of Human Rights (UDHR)
اب یہی منشور تمام قوموں کے اوپر نافذ ہوگا۔ اس معاملے میں کسی ملک کے لیے اپنی الگ پالیسی بنانے کا جواز نہیں۔یہ منشور مسلم ملکوں کے لیے بھی اسی طرح قابلِ عمل ہے، جس طرح وہ غیر مسلم ملکوں کے لیے قابلِ عمل ہے۔
انھیں معاملات میں سے ایک معاملہ وہ ہے، جس کو اقلیاتی حقوق (minority rights) کہا جاتا ہے۔ مسلم ملکوں میں غیر مسلم لوگ ایک مذہبی اقلیت کے طور پر آباد ہیں۔ اسی طرح غیر مسلم ملکوں میں مسلمان ایک مذہبی اقلیت کے طور پر رہتے ہیں۔ ان دونوں معاملات میں یکساں طور پر بین اقوامی اصول کی بنیاد پر معاملہ کیا جائے گا۔
مروجہ مسلم فقہ میں اس معاملے میں ذمی کا تصور پایا جاتا ہے۔ ذمی کا مطلب ہے پروٹکٹڈ کمیونٹی (protected community)،یعنی مسلم ملکوں میں رہنے والی غیر مسلم اقلیت ۔ موجودہ فقہ کے مطابق، اس ذمہ (protection) کے عوض ذمی لوگوں کو ایک مخصوص ٹیکس (جزیہ)ادا کرنا ہوتا ہے۔ ذمی کے تصور کو اسلامی عقیدہ کی طرح ایک ابدی تصور سمجھا جاتا ہے، مگر یہ درست نہیں۔
موجودہ زمانے میں شہریت (citizenship) کا جو تصور ہے۔ اس کے مطابق، جدید ذہن کے لیے ذمی کا تصور بالکل ناقابل قبول ہے۔ خود مسلمان خواہ ذمی کے تصورکو کتنا ہی زیادہ اعلی تصور بتائیں، وہ جدید ذہن کے لیے ایک توہین آمیز اصطلاح ہے۔ ان کے نزدیک اس کا مطلب یہ ہے کہ مسلم ملک میں رہنے والے غیر مسلم کا جو مقام ہے وہ ثانوی درجے کے شہری (second class citizen) کا مقام ہے۔ جدید ذہن کے نزدیک اگرچہ پیغمبر اسلام نے حجۃ الوداع کے موقعہ پر مساوات انسانی کا اعلان کیا۔ لیکن جہاں تک مسلم ریاست کا تعلق ہے، اس کے اندر غیرمسلموں کو مساوی درجہ حاصل نہیں۔ ان کے لیے صرف یہ چوائس ہے کہ وہ یاتو مسلم ریاست میں ثانوی درجے کی شہری بن کر رہیں یا ریاست کو چھوڑ کر باہر چلے جائیں۔
مگر حقیقت یہ ہے کہ اس معاملے میں اسلام کا اصول وہی ہوگا، جو عالمی قانون کے مطابق، تمام قوموں کا اصول ہے۔ اس کی اصل خود دورِ اول میں موجود ہے۔پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم جب مدینہ پہنچے، تو آپ نے وہاں کے لوگوں سے ایک معاہدہ کیا۔اس کو اسلام کی تاریخ میں صحیفۃ المدینہ کے نام سے جانا جاتا ہے۔ اس میں یہود کے تعلق سےیہ الفاظ ہیںوَإِنَّ یَہُودَ ... أُمَّةٌ مَعَ الْمُؤْمِنِینَ، لِلْیَہُودِ دِینُہُمْ، وَلِلْمُسْلِمَیْنِ دِینُہُم(سیرت ابن ہشام، جلد1، صفحہ503)۔ یعنی بیشک یہود...،مومنین کے ساتھ، ایک امت ہیں۔ یہود کے لیے ان کا دین ہے، اور مسلمانوں کے لیے ان کا دین۔اس کا مطلب یہ ہے کہ نئےشہری انتظام کے تحت دونوں کادرجہ یکساں ہوگا۔ گویا کہ یہ عین وہی چیز ہےجس کو موجودہ زمانے میں یکساں شہریت (equal citizenship) کہا جاتا ہے۔
مسلم فقہ کا ایک مسلم اصول یہ ہےالأحکامُ تتغیَّرُ بتغیُّرِ الزَّمانِ والمکانِ(تیسیر علم الفقہ للعنزی)۔ یعنی زمان و مکان کے بدلنے سے احکام بدل جاتے ہیں۔ اس اصول کے انطباق کی مثالیں ماضی میں بھی ہیں اور حال میں بھی ۔ماضی میں اس کی مثال بنی قریظہ کے لیے سفر کا واقعہ ہے(صحیح البخاری، حدیث نمبر 946)۔
حال کی نسبت سے اس اصول کے انطباق کی متعدد مثالیں موجود ہیں۔ مثال کے طور پر قرآن میں ہے کہ حج کے لیے مکہ آنے والے اونٹ پر سفر کرکے آئیں گے(الحج، 22:27)۔مگر آج تمام مسلمان، علماء اور غیر علماء ہوائی جہاز سے سفر کرکے مکہ پہنچتے ہیں۔ اسی طرح قرآن میں مسلم حکومت کو یہ حکم دیا گیا ہے کہ قوت کے لیے خیل (cavalry) فراہم کرو(الانفال، 8:60)۔ لیکن آج مسلم حکومتیں جدید اسلحہ فراہم کرتی ہیں، وغیرہ۔ موجودہ زمانہ مکمل طور پر ایک بدلا ہوا زمانہ ہے۔ ضرورت ہے کہ عقیدہ کے سوابقیہ معاملات میں بھی حسب ضرورت اس کو اختیار کیا جائے۔
اسلامی احکام کے دو حصےہیں۔ ایک وہ جن کا تعلق الدین (الشوری، 42:13)سے ہے۔ اور اس کا دوسرا حصہ وہ ہے جس کا تعلق شریعت (المائدہ ، 5:48) سے ہے۔ الدین کا حصہ ابدی ہے۔ اس میں کسی تبدیلی کی اجازت نہیں۔ لیکن شریعت کا حصہ ابدی نہیں، وہ حالات کے مطابق بدلا جاسکتاہے۔ یہ تبدیلی اجتہاد کی شرطوں کے مطابق کی جائے گی۔
٭ ٭ ٭٭٭٭
■ دنیا میں ہر آدمی کے لیے کوئی نہ کوئی نقصان مقدر ہے۔ دانش مند وہ ہے، جو نقصان کو خدا کا فیصلہ سمجھ کر اس پر راضی ہوجائے۔
ثپرامن جدو جہد کا نام جدو جہد ہے، متشددانہ جدو جہد سرے سے کوئی جدو جہد ہی نہیں۔
ثدشمن سے مقابلہ کرنے کی سب سے زیادہ کامیاب تدبیر یہ ہے کہ دشمن کو اپنا دوست بنالیا جائے۔
ثدوسروں کو دوست بنانے کی سب سے زیادہ آسان تدبیر یہ ہے کہ آپ دوسروں سے نفرت کرنا چھوڑ دیجیے۔
ثآپ دوسروں کی ضرورت بن جائیں، تو آپ کو دوسروں سے شکایت نہ ہوگی۔
واپس اوپر جائیں

اسلوبِ کلام

شاعری کی بنیاد تخیل پر ہے۔ تخیل میں کوئی خارجی چیز آدمی کی سوچ کی حد بندی کرنے کے لیے نہیں ہوتی۔ اسی لیے شاعر خیالی پرواز میں جو چاہتا ہے کہتا چلاجاتا ہے (أَلَمْ تَرَ أَنَّہُمْ فِی کُلِّ وَادٍ یَہِیمُونَ)الشعراء، 26:226۔
اس کے برعکس سائنس کی بنیاد فطرت پر ہے۔ فطرت (nature) ایک متعین حقیقت کا نام ہے۔ فطرت کی دنیا میں تمام واقعات انتہائی معلوم اور متعین اصولوں کی بنیاد پر ظہور میں آتےہیں۔ یہی وجہ ہے کہ سائنس داں کی زبان شاعر کی زبان سے بالکل مختلف ہوتی ہے۔ شاعر کو لفظوں کے انتخاب میںاحتیاط کی ضرورت نہیں۔ اس کی فکری اڑان اس سے کچھ بھی کہلوا سکتی ہے۔ مگر سائنس داں انتہائی محتاط زبان استعمال کرنے پر مجبور ہے۔ وہ سختی کے ساتھ اس کا اہتمام کرتاہے کہ اس کی زبان میں فنی صحت اور ریاضیاتی قطعیت موجود ہو۔ جدید سائنس کا ظہور یورپ میں ہوا، اور وہیں اس کی ترقی ہوئی۔ پچھلے کئی سو سال کا زمانہ ایساہے جب کہ مغربی دنیا میں سائنس کو سب سے زیادہ غلبہ حاصل رہاہے۔ مغرب کی جدید تہذیب مکمل طورپر سائنس کے زیر اثر بنی ہے۔ اسی کے اثر سے مغرب کی زبانوں میں محتاط اسلوب اور حقیقت نگاری کا انداز پیدا ہوگیا ہے۔
سائنس داں جس شعبۂ علم میں کام کرتاہے، اس کے عین تقاضے کے طورپر وہ ایسا کرتاہے کہ اپنے خیالات کو محتاط زبان (guarded language) میں ظاہر کرتا ہے۔ جب مغربی انسان کے نزدیک سائنس کی اہمیت بڑھی، تو اسی کے ساتھ قدرتی طورپر یہ ہوا کہ زبان میں وہی طرز پسند کیا جانے لگا جو سائنس دانوں کا طرز تھا۔ اس طرح وہ زبان وجود میں آئی جس کو ہم نے محتاط زبان کا نام دیا ہے۔
اس کی مثال یہ ہے کہ ریمزے میکڈونلڈ (1866-1937)ایک برطانی لیڈر تھے، جو بعد کو وہاں کے وزیر اعظم بنے ۔ان کو عوامی تقریروں کا خاص ملکہ تھا،جس میں معنی کم اورالفاظ زیادہ ہوتےہیں۔ ان کا تعلق انگلینڈ کی لیبرپارٹی سے تھا، جو سرونسٹن چرچل کی حریف تھی۔ چنانچہ لارڈ ونسٹن چرچل نے ایک بار ریمزے میکڈونلڈ پر طنز کرتے ہوئے کہا:
He is a man with the gift of compressing the largest amount of words into the smallest amount of thoughts.
یعنی وہ ایسی خصوصیت کے انسان ہیں، جو زیادہ سے زیادہ الفاظ میں کم سے کم معانی کا استعمال کرتے ہیں۔
واپس اوپر جائیں

مدعیانہ زبان، علمی زبان

ایک بات وہ ہے، جو مدعیانہ زبان میں کہی جائے، اور دوسری بات وہ ہے جو علمی زبان میں کہی جائے۔ مدحیہ قصائد سب کے سب مدعیانہ زبان میں لکھے گئے ہیں۔ یعنی لفظی دعوی مگر اس کی دلیل موجود نہیں ہے۔ مثلا دہلی کے پرانے قلعےمیں ایک میوزیم ہے۔ ایک بار میں وہاں گیا تو دیکھا کہ اس میں ایک ٹوٹا ہوا پتھر رکھا ہوا ہے، جس پر لکھا ہوا ہے: ہمیشہ باد بزیر سپہر بو قلموں (آسمان کے نیچے ہمیشہ اس کی رونق قائم رہے)۔ یہ پتھر مغل دور کے کسی محل میں لگا ہوا تھا۔ مگر آج اس محل کا کہیں وجود نہیں ۔
مدعیانہ کلام میں کسی دلیل کی ضرورت نہیں ہوتی۔ اگر آدمی کے پاس الفاظ ہوں، تو وہ شاندار الفاظ کے ذریعہ ایسا دعوی کرسکتا ہے، جس کا حقیقت کی دنیا میں کوئی وجود نہیں۔ مثلاً ایک باپ کہہ سکتا ہے کہ میرا بیٹا تاریخ کا سب سے بڑا عالم ہے۔ اس طرح کے دعوے کے لیے الفاظ کافی ہیں۔ خواہ دلیل کے اعتبار سے سرے سے اس کی کوئی حقیقت نہ پائی جاتی ہو۔ اس کے مقابلے میں ،علمی زبان وہ ہے، جو تمام تر دلائل پر قائم ہے، جس کی حقیقت کو ہر آدمی جانچ کر سمجھ سکتا ہو۔ راقم الحروف نے جدیدیات کے مطالعے کے دوران ایک کتاب پڑھی۔ کتاب کا ٹائٹل یہ ہے
The Great Intellectual Revolution, by John Frederick West, J. Murray, 1965, pp. 132
جو آدمی جدید دور کو سمجھنا چاہتا ہے اس کو یہ کتاب ضرور پڑھنا چاہیے۔ اس کتاب میں بتایا گیا ہے کہ سائنس کا دور آنے کے بعد جس طرح دوسرے انقلابات ہوئے، ان میں سے ایک انقلاب وہ ہے، جس کا تعلق طرزِ بیان سے ہے۔ اب علم کی دنیا میں ایک نیا طرز بیان رائج ہوا ہے، جو تمام تر قدیم طرز سے مختلف ہے۔ اس طرز بیان کو ایک لفظ میں مبنی بر حقیقت (fact based)طرز بیان اور دوسرے الفاظ میں اس کو سائنٹفک طرز بیان کہا جاسکتا ہے۔
واپس اوپر جائیں

ادبی انقلاب

نیوٹن (1727۔1642) کی دریافتوں کے نتیجہ میں جو عظیم ذہنی انقلاب ہوا، اس کے بعد یورپ میں ایک ترقی یافتہ تکنیک وجود میں آئی، اور پھر مطالعہ کے قطعی طریقے (exact methods)پیدا ہوئے، جن کو مسائل پر منطبق کیا جانے لگا۔ اس نہج نے فلسفہ، الہیات اور سیاسیات کے طریق مطالعہ کو متاثر کیا۔ اس باب میں ہم ادب پر اس انقلاب کے اثرات کا مطالعہ کریں گے۔
سائنسی علم (scientific knowledge) سے پیدا شدہ صورت حال نے لکھنے والوں پر قابل لحاظ اثر ڈالا ہے۔شکسپیئر(1616۔1564) جو کچھ پورے اعتماد اور سنجیدگی کے ساتھ لکھ سکتاتھا، وہ ملٹن (1674۔1608) کے لیے ناممکن اور الگزینڈر پوپ (1744۔1688) کے لیےناقابل قیاس تھا، اگر چہ ادبی صلاحیتوں (literary talents) کے اعتبار سے تینوں یکساں بلندی کے انسان تھے۔ شکسپیئر کو تینوں میں سب سے اونچا مقام حاصل ہوا۔ اس کی کم ازکم جزئی وجہ یہ تھی کہ اسے ایک خوش قسمت عہد (fortunate period) ملا۔ وہ انگریزی زبان کے ایک عظیم دورکے آغاز میں اور عظیم ذہنی انقلاب سے پہلے پیداہوا۔ جس زمانہ میں اس نے اپنی تحریریں لکھیں، اس وقت استعار اتی انداز اہمیت رکھتا تھا، جو نیوٹن کے بعد اسے پھر حاصل نہ ہوسکا۔
تمثیل موجودہ زمانہ میں دو قسم کی ہوسکتی ہے۔ ایک تمثیل وہ ہے ،جو سائنس داں کے لیے عملی نمونہ (working model) کا کام دیتی ہے۔ ایٹم کا قدیم تصور کہ وہ بالکل گول ہے، انتہائی سخت ہے۔ اسی قسم کا ایک ماڈل تھا۔ بعد کو ردر فورڈ (1938۔1871) کا ایٹمی تصور بھی اس کی ایک مثال تھا، جس کے مطابق اس کے اندر ایک ایٹمی نیوکلیس تھا، جو مثبت برقی چارج رکھتا تھا، اور اس کے گرد الکٹران (electron) سیاروں کی طرح حرکت کررہے تھے۔ تمثیل کی یہ قسم تجزیات سے حاصل شدہ علم کے خلاصہ کے لیے استعمال ہوتی ہے۔ اگر اندازہ درست ثابت ہو تو ماڈل باقی رہتا ہے، اور اگر اندازہ درست ثابت نہ ہو تو ماڈل کی یا تو تصحیح کی جاتی ہے یا اسے ختم کردیا جاتا ہے۔
ادبی کنایہ (literary analogy) جو عام طورپر تشبیہ کی شکل میں ہوتا ہے، اس کا مقصد بالکل مختلف ہوتا ہے۔ یہ اس لیے وضع کیا جاتا ہے کہ قاری کو ایک بیان کی صداقت کے بارے میں ایک دلچسپ مثال کے ذریعےمتاثر کیا جائے۔ سائنسی ماڈل کے مقابلہ میں یہ بالکل وقتی نوعیت کی چیز ہے۔ سائنسی ماڈل سائنس داں کے اندازوں کو ظاہر کرنے کے لیے اس وقت تک استعمال کیاجاتا ہے، جب تک وہ غلط ثابت نہ ہوجائے۔ مزید یہ کہ ادبی تمثیل اپنی ذات میں کوئی ایک چیز نہیں ہے۔ دوسرے لفظوں میں یہ کہ وہ حقیقی نہیں سمجھی جاتی۔
تاہم عظیم ذہنی انقلاب سے پہلے یہ دو قسم کی تمثیلات ایک دوسرے سے بالکل الگ الگ نہیں تھیں۔ یہ سمجھا جاتا تھا کہ اخلاقی نظام ہر اعتبار سے نہایت گہرائی کے ساتھ طبیعی دنیا سے مربوط ہے۔ جب شکسپیئراپنے ایک ڈرامہ کے کردار کی زبان سے فوجی نظم وضبط پر استدلال کرتےہوئے اس سے کہتا ہے کہ سورج سیاروں کے درمیان کمانڈر کی سی پوزیشن رکھتا ہے تو وہ محض ایک تشبیہ نہیں دیتا بلکہ اپنے یقین کے مطابق وہ کائنات کی فطرت کے بارہ میں ایک صحیح سائنسی بیان دیتا ہے۔ یہ خدائی نظام کا ایک جز تھا کہ سورج سیاروں کے اوپر حکمراں ہو، اور اسی طرح Agamemnon یونانیوں کے اوپر حکومت کرے، اور ان دونوں میں سے کسی کی حکمرانی میں بھی فرق آنا وسیع تر کائنات میں خلل پیدا کرنے کا سبب بن سکتا تھا:
The rise of science led to a separation of reason from emotion: and naturally enough, an age of prose followed an age of poetry. (p. 108)
سائنس کے عروج نے عقل اور جذبات کو ایک دوسرے سے الگ کردیا، اور فطری طور پر شاعری کے دور کی جگہ نثر کے دور نے لے لی۔
سترھویں صدی کے وسط سے پہلے نثر بھی رنگین اور شاعرانہ طرز کی ہوتی تھی۔ سویفٹ (1745۔1667) اور اڈیسن (1719۔1672) کے وقت سے یہ محض سخن سازی سمجھی جانے لگی۔ ماقبل سائنس کے استعاراتی انداز کی ایک مثال لائلی (1606۔1554) کی کتاب (Euphues) میں ملتی ہے۔ یہ کتاب پہلی بار 1579 میں شائع ہوئی۔ اس وقت وہ ایک پسندیدہ کتاب تھی ،اپنے اسٹائل کے اعتبار سے بھی اور اخلاقی مضامین کے اعتبار سے بھی۔1636تک وہ بار بار چھپتی رہی۔ اس کے بعد عام قارئین میں اس نے اپنی جاذبیت کھودی اور محض ایک ادبی عجوبہ (literary curiosity)بن کر رہ گئی۔
1650 تک ایک شخص انگلش لٹریچر میں عالم خیال اور عالم فطرت کے درمیان کاملیت (wholeness) پاتا ہے ۔ اس صدی کے وسط سے دونوں کے درمیان خلیج پیدا ہونا شروع ہوئی، اور آرٹ اور سائنس کی تقسیم کی شکل میں د ونوں الگ الگ ہوگئے۔اس کے بعد انگریزی میں ایک سادہ اور استعارہ اور کنایہ سے خالی انداز پیدا ہونے لگا، جس کی سب سے بڑی وجہ یورپ میں سائنس کی طرف بڑھتا ہوا رجحان تھا۔
سادگیٔ اظہار (simplicity of expression) پیداہونے کی اور بھی وجہیں تھیں۔ مثلاً سترہویں صدی میں جب تعلیم بڑھی، تو یونان اور لاطینی کلاسیکل کتابوں کے مقابلہ میں لوگ زیادہ تر فلکیات، بحریات، جہاز سازی اور گھڑی سازی کے مطالعے میں دلچسپی لینے لگے۔ اس طرح فطری طورپر سادہ زبان کا رجحان بڑھا۔ کیونکہ یہ مضامین شاعرانہ طرز کے ادب میں بیان نہیں کیے جاسکتے تھے۔ پچھلے سو برس میں اخبار کی زبان بھی اس سے متاثرہوئی ہے۔ تعلیمی انفجار (literary explosion) کے بعد عوامی صحافت (popular journalism) پیدا ہوئی، اور اسٹائل میں سادگی آتی چلی گئی۔ سترھویں صدی کے بعد پیدا ہونے والے ادب کو ٹھیک ٹھیک حقائق (precise facts) بیان کرنے تھے۔ اس لیے سادہ اندازِ بیان کا پیدا ہونا بالکل فطری تھا۔
سپراٹ (Sprat) نے 1667میں (History of Royal Society) لکھی،اور اس میں نثر کے اسٹائل کے اصول مقرر کیے۔ اس میں اس نے لکھا کہ ہم کو فطری طرز کلام (natural way of speaking) اختیار کرنا چاہیے جس میں ریاضیاتی ڈھنگ کی واقعیت ہو، اور لفظی رنگینیوں سے خالی ہو۔1664 میں رائل سوسائٹی نے بالقصد ایک کمیٹی قائم کی جس کا مقصد یہ تھا کہ انگریزی زبان کے اسٹائل میں اصلاح کی کوشش کرے۔
اس وقت کے یورپ میں عوامی لہر پوری طرح شعر، استعارہ اور شاعرانہ نثر (poetic prose) کے خلاف تھی۔ فلاسفہ عام طورپر اس طرح کے بیان کو سچائی (truth)میں ایک رکاوٹ سمجھتے تھے۔ ہابس (1679۔1588) کے نزدیک وہ سیدھے فکر (straight thinking)میں خلل پیدا کرنے والا تھا۔ روسو (1712-1778) نے کہا تھا کہ ڈیکارٹ (1596-1650) کے فلسفہ نے شاعری کو قتل کردیا ہے۔ جان لاک (1632-1704) نے صاف طورپر کہا کہ شاعری خوبصورت تصویروں کا مجموعہ ہے ،مگر وہ بنیادی طورپر گمراہ کن ہے۔
ملٹن آخری شاعر تھا جو قدر کی نگاہ سے دیکھا گیا، اور سرٹامس براؤن (1682-1606) شاید آخری شخص تھا ،جس نے اس طرز کی نثر لکھی۔ ٹامس براؤن ایک تعلیم یافتہ شخص تھا۔ مگر وہ قدیم طرز کی زبان استعمال کرتا تھا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ وہ خواہش کے باوجود رائل سوسائٹی کا فیلو نہ بنایا جاسکا۔ اس وقت کے اہلِ فکر ایک ایسی نثر وجود میں لانا چاہتے تھے جو فلسفۂ فطرت کے نئے میکانکی تصور سے ہم آہنگ ہو:
They were interested in the development of prose style in accordance with new mechanical concepts of natural philosophy. (p. 117)
نثر میں سادگی پیدا کرنے کی تحریک کا سہرا خاص طور پر جان ڈرائڈن (1631-1700) کے سر ہے۔ اس نے مسلسل اس کی تبلیغ کی، اور خود سادہ نثر استعمال کی۔ یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ جدید انگریزی درحقیقت ڈرائڈن کی زبان ہے۔
اٹھارویں صدی کو ’’ایج آف ریزن‘‘ کہاجاتا ہے۔ نیوٹن کے بعد محسوس کیاگیا کہ جس طرح عالم افلاک میں نظم وضبط ہے، اسی طرح لٹریچر کو بھی نظم وضبط کا پابند ہونا چاہیے۔ اڈمنڈ والر (1606-1687) اور ڈرائڈن نے شاعرانہ زبان کے ذریعہ تاثیر پیدا کرنے کے بجائے یہ کوشش کی کہ متوازن خیالات (well-balanced thoughts) کو معتدل اور مناسب زبان میں ادا کرکے یہ فائدہ حاصل کیاجائے۔
اڈیسن (1672-1719) نے اپنی کتاب (The Spectator) میں انھیں خیالات کی وکالت کی۔اس ادبی تحریک (literary move) نے ارسطو کو دوبارہ اہمیت کا مقام دے دیا۔ پوپ نے فطرت (nature)کی پیروی کی تلقین کی، انگریزی شاعر ورڈسورتھ (William Wordsworth)کی بیان کردہ فطرت کی نہیں، بلکہ وہ فطرت جس کو نیوٹن نے دریافت کیا تھا۔
ولیم بلیک(1757-1827) نے اس کے خلاف احتجاج کیا۔ وہ شاعر (poet)کو اسی قسم کی ایک مخلوق سمجھتا تھا، جیسے قدیم اسرائیلی پیغمبر۔ اسی طرح ورڈسورتھ (1770-1850) نے بھی اس کے خلاف احتجاج کیا۔ اس نے کہا کہ حقیقت کی کچھ اور قسمیں ہیں، جو ان مادی صداقتوں کے علاوہ ہیں، جن کو سائنس داں بیان کرتے ہیں۔ یہ دوسری قسم کی صداقتیں وہ ہیں جن تک صرف شاعر کی پہنچ ہوسکتی ہے۔
رومانوی تحریک (Romantic Movement) ایک معنی میں نیوٹنی قطعیت (Newtonian Certainty)کے خلاف شاعرانہ رد عمل تھی، اور ہابس کے خلاف جس نے کہا تھا کہ انسان بنیادی طورپر ایک مشین ہے۔رومانیت (Romanticism) ایک قسم کی فراریت (escapism) تھی۔ رومانیت شاعری کے اندر 1798 سے جنگ عظیم 1914-18 تک رہی۔
اب یورپ میں تین سو سالہ دور کا ردعمل ہورہا ہے۔ صنعتی دور کی خشکی سے اکتا کر وہ سائنس کے ساتھ آرٹ کی اہمیت کو بھی تسلیم کررہا ہے۔ سترھویں صدی میں سائنس نے زبردست ترقی کی تھی۔ آرٹ نے بھی قدیم زمانہ میں بہت بلند مقام حاصل کیا تھا۔ ہوسکتا ہے مستقبل میں وہ دوبارہ اپنے مقام پر لوٹ آئے۔
(جان فریڈرک ویسٹ (John Frederick West) کی کتاب دی گریٹ انٹلکچول ریولیوشن کے ایک باب استعارہ کی موت [The Death of Metaphor] کا ترجمہ)
واپس اوپر جائیں

ایک خط

برادرم مولانا سید اقبال احمدعمری ، السلام علیکم و رحمۃ اللہ وبرکاتہ
یہ خط میں آپ کو 11 ستمبر2019 کی شام کو لکھ رہا ہوں۔ میں کئی مہینے سے بیماری کے دور سے گزر رہا تھا۔ آخر کار ہمارے ساتھیوں نے فیصلہ کیا کہ مجھ کو دلی کے سب سے اچھے اسپتال میں لے جائیں۔میں اس کےلیے راضی نہیں تھا۔ کیوں کہ نوجوانی کی عمر سے میں یہ سنتا تھا کہ اسپتال انسان کے لیے کوئی اچھی جگہ نہیں ہے۔ مثلاً مشہور اردو شاعر اکبر الہ آبادی نے جدید دور کے بارے میں طنزیہ انداز میں لکھا تھا
ہوئے اس قدر مہذب کبھی گھر کا منہ نہ دیکھا کٹی عمر ہوٹلوں میں مرے اسپتال جا کر
انڈیا کے ایک مشہور عالم دین کے قریبی لوگ بتاتے ہیں کہ وہ یہ کہا کرتے تھے کہ اللہ سے یہ دعا کرنی چاہیے کہ وہ اسپتال کی زندگی سے بچائے۔ اسی طرح مجھے انڈیا کے دو بزرگوں کے بارے میں معلوم ہے کہ وہ علاج کے لیے امریکا گئے۔ جب وہ روانہ ہونے لگے، تو ان کے معتقدین نے ان کو مشورہ دیا کہ حضرت امریکا میں یہودی ڈاکٹر ہوتے ہیں۔آپ یہودی ڈاکٹروںسے ہرگز علاج مت کیجیے گا۔ کیوں کہ یہودی اسلام اور مسلمانوں کے دشمن ہوتے ہیں۔
یہ بات مضحکہ خیز حد تک غیر واقعی ہے۔ موجودہ زمانہ پروفیشنلزم کا زمانہ ہے۔ مسلمانوں کے دررمیان اس قسم کا ماحول اس بات کے لیے رکاوٹ بن گیا ہے کہ وہ جدید ترقیوں سے فائدہ اٹھائیں۔ وہ اپنے مائنڈ سیٹ کے مطابق جدید ترقیوں سے الرجک ہوگئے ہیں۔ان حضرات کو یہ معلوم ہی نہیں کہ موجودہ زمانہ پروفیشنلزم (professionalism) کا زمانہ ہے۔ اب یہودی ڈاکٹر یہود کی حیثیت سے علاج نہیں کرتے، اب کرشچن ڈاکٹر کرشچن کی حیثیت سے کسی انسان کا طبی معاینہ نہیں کرتا، بلکہ خالص پروفیشنل انداز میں وہ اس کام کو انجام دیتا ہے۔
آج کا ایک ڈاکٹر جو کام کرتا ہے، وہ مذہبی عقیدے کی بنیاد پر نہیں کرتا، وہ انتہائی پیشہ ورانہ انداز میں اس کو انجام دیتا ہے۔ جب وہ اپنا کام انجام دیتا ہے، تو اس کے ذہن میں صرف پروفیشنل تقاضےموجود ہوتے ہیں، کسی بھی غیر پروفیشنل تقاضے سے ان کا ذہن مکمل طور پرخالی ہوتا ہے۔
جدید ترقی کیا ہے۔ وہ دراصل خدا کے پیدا کیے ہوئے امکانات کو دریافت کرکے ان کو استعمال کرنا ہے۔ یہ ترقیاں کوئی غیر اسلامی ترقیاں نہیں ہیں، بلکہ وہ خود خدا کی تخلیق کا حصہ ہیں۔ مسلمانوں نے اس حقیقت کو سمجھنے میں بہت زیادہ دیر کی ، اب انھیں بلاتاخیراس حقیقت کو سمجھنا چاہیے، تاکہ وہ مزیدنقصان سے بچ جائیں۔
یہ پروفیشنلزم ایک نیا ظاہرہ ہے جو موجودہ زمانے میں پیدا ہوا ہے، مگر امت کے لوگ خاص طور پر علما اس سے مکمل طور پر بے خبر ہیں۔ اسی لیے وہ دورِ جدید کے بارے میں ایسی رائے قائم کرتے ہیں، جو مضحکہ خیز حد تک غیر و اقعی ہوتی ہے۔اس معاملے میں صحیح طریقہ یہ ہے کہ آدمی حقیقت پسند بنے، وہ کسی انسان کے بارے میں تجربے (experience) کی بنیاد پر رائے قائم کرے، نہ کہ عقیدے کی بنیاد پر۔ یہ معاملہ خالص غیرمذہبی (secular) معاملہ ہے، اس کا مذہبی عقیدے سے کوئی تعلق نہیں۔ انسان کو چاہیے کہ وہ دورِ جدید کی اس حقیقت کو دریافت کرے، تاکہ وہ غلط فہمی کی دنیا میں جینے سے بچ جائے۔
٭ ٭ ٭٭٭٭
■ زندگی میں بار بار فیصلہ لینا پڑتا ہے، نئے حالات میں جو لوگ نیا فیصلہ نہ لے سکیں، وہ اس دنیا میں ناکام ہوکر رہ جائیں گے۔
■ دعوت دوسروں کے حق میں اپنی خیر خواہی کا اظہار ہے، نہ کہ دوسروں کے اوپر اپنی برتری کا اظہار۔
■ دعوت دراصل مدعو سے محبت کا ایک اظہار ہے۔ چوں کہ لوگوں کے سینوں میں دوسرے کے لیے محبت نہیں، اس لیے لوگوں کے سینوں میں دعوت کی تڑپ بھی نہیں ۔
■ جو انسان سے محبت کرتا ہے،وہ خدا کا محبوب بنتا ہے، اور جو شخص خدا کا محبوب بنتا ہے، اسی کو آخرت میں جنت میں داخلہ ملے گا۔
واپس اوپر جائیں

سوال و جواب

سوال
ایک قاری الرسالہ لکھتے ہیں کہ کچھ دنوں پہلے مہاراشٹر کے ایک مقام پر ان کا جانا ہوا تھا۔ وہاں ناروے کے کچھ عیسائی مشنری لوگوںسے ملاقات ہوئی۔ گفتگو کے دوران انھوں نے یہ دو سوال کیے: (1) جنت(paradise) میں داخلے کا معیار (criterion)کیا ہے۔ (2) آپ کے پاس روحانیت (spirituality) کی تعریف کیا ہے۔ (حافظ سید اقبال احمد عمری، عمر آباد، تامل ناڈو)
جواب
(1) جنت اعلیٰ درجے کا پرامن (peaceful)معاشرہ ہے۔ جنت میں اسی کو داخلہ ملے گا، جو اپنے ہم سایہ لوگوں (neighbours)کے ساتھ کامل معنی میں پرامن انداز میں رہ سکیں۔ اس کا ہر عمل قابل پیشین گوئی کردار (predictable character ) کا حامل ہو۔ جو لوگ اپنے آپ کو دنیا کی زندگی میں اس انداز میں تیار کریں، وہ آخرت میں جنت میں داخلے کا ریوارڈ پائیں گے۔
(2) روحانیت کسی پراسرار صفت کا نام نہیں ہے۔ روحانیت کامل طور پر مثبت انداز میں ذہنی ارتقا کا نام ہے۔عام طور پر یہ سمجھا جاتا ہے کہ روحانیت مبنی بر قلب ڈیولپمنٹ کا نام ہے۔ مگر صحیح بات یہ ہے کہ روحانیت مبنی بر ذہن ارتقا کا نام ہے۔
سوال
میں ایک عرصے سے آپ کے مضامین اردو اور انگریزی میں پڑھتا ہوں، اورانٹرنیٹ پر آپ کی تقریریں سنتا ہوں۔ میرا سوال یہ ہے کہ الہام کی حقیقت کیاہے؟ یہ وحی سے کس طرح جدا ہے؟(اظہر مبارک، بھاگل پور، بہار)
جواب
اس معاملے پر غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ جس طرح وحی کی دوقسمیں ہیں— وحی متلو، اور وحی غیر متلو۔ اسی طرح الہام کی بھی دو قسمیں ہیں —— اجتہاداور انسپریشن (inspiration)ہے۔ یہ دو قسم کے معاملات پیغمبر کے ساتھ بھی ہوتے ہیں، اور غیر پیغمبر کے ساتھ بھی۔
اس کی مثالیں غور کرنے سے سمجھ میں آتی ہیں۔ مثلاً مکی دور میں پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک نہایت غیر معمولی قسم کی حکیمانہ تدبیر اختیار کی، جس کوڈی لنکنگ(delinking) کہا جاسکتا ہے، یعنی مکہ کے بت پرست زائرین سے ٹکراؤ نہ کرنا، بلکہ ان کو دعوت کے آڈینس (audience)کے طو رپر استعمال کرنا۔ یہ ایک غیر معمولی تدبیر تھی، اور اتنی اعلیٰ تدبیر ربانی الہام کے بغیر نہیں ہوسکتی۔ الہام کی یہ قسم ایسے اہل ایمان کو نصیب ہوتی ہے، جو ری ایکشن کی نفسیات سے اپنے آپ کو کامل طور پر بچائیں۔ بدقسمتی سے مسلم علما نے اس اعلیٰ حکمت کو نہیں سمجھا، اس لیےوہ ایسے الہام کے وعایۃ (container)بھی نہیں بنے۔
ہمارے علما کے لیے اس سے مشابہ حالات پیدا ہوئے، لیکن ہمارے علما نے حدیث کو حکمت (wisdom) کے طورپر نہیں لیا، بلکہ فقہی مسائل کے ماخذ کے طور پر لیا۔ اس لیے ان کا معاملہ یہ ہوا کہ وہ نبوی حکمت کو سمجھنے سے قاصر رہے، وہ خود ساختہ طور پرمسائل میں ترجیحات تلاش کرنے میں الجھ کر رہ گئے۔ جس چیز کو علما ترجیحی قول کہتے ہیں، وہ صرف حکمت نبوی کی دریافت میں محرومی کا نام ہوتا ہے— وحی سے مراد ہےلفظی انسپریشن، جو فرشتوں کے ذریعہ انبیا کو ہوتا ہے۔ اس کے مقابلے میں الہام سے مراد ہے، اجتہادی انسپریشن۔
سوال
ایک قاری الرسالہ لکھتے ہیںسورہ یوسف احسن القصص ہے۔ لیکن دوسرے انبیاء کے مقابلے میں اس میں انذار و تبشیر کا کوئی نمایاں پہلو نظر نہیں آتا۔ حالاں کہ انبیاء کرام کا اصل مقصد یہی ہے۔ وضاحت مطلوب ہے۔ (سید فیض احمد قادری، کوئمبٹور، تامل ناڈو)
جواب
حضرت یوسف کا قصہ جو قرآن میں بیان ہوا ہے، وہ ایک مخصوص پہلو سے بیان ہوا ہے۔ اس میں انذار و تبشیر کا معاملہ شامل نہیں ۔ اس معاملے میں اللہ تعالی کو ایک خاص رہنما ئی دینا مطلوب تھا۔ غالباً اسی بنا پر یہ ہوا کہ حضرت یوسف ،جو کہ مصر سے باہر ایک گاؤں میںپیدا ہوئے تھے، ان کو وہاں سے مصر میں لایا گیا، جہاںایک متمدن حکومت قائم تھی۔کیوں کہ یہ مثال مصر جیسے متمدن مقام میں قائم ہوسکتی تھی۔ تاکہ ایک مثال کی صورت میں ایک سنت رسول قائم ہو ،وہ یہ کہ اس طرح کی صورت حال میں اہل ایمان کو کیا کرنا چاہیے، یعنی جب داعی ایک ایسے مقام پر ہو، جہاں ایک قائم شدہ حکومت موجود ہو، تو وہاں طریقِ کار(method) کیا ہونا چاہیے۔ وہ طریقہ ایک لفظ میں پریکٹکل وزڈم (practical wisdom) پر مبنی ہونا چاہیے۔یہ پریکٹکل وزڈم کیا ہے، اس کو حضرت یوسف کی مثال کے ذریعے اس سورت میں بیان کیا گیاہے۔
سور ہ یوسف میں احسن القصص کا لفظ اپنے کامل معنی میں نہیں ہے، بلکہ وہ طریقِ کار کے معنی میں ہے، یعنی حضرت یوسف نے اپنے زمانے میں دعوت کا جو طریقہ (method)اختیار کیا، وہ بہترین طریقہ تھا۔ مزید غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ’’ بہترین طریقہ‘‘ سے متعین طور پر مراد غیر نزاعی طریقہ (non-confrontational method) ہے۔
حضرت یوسف کا اختیار کردہ غیر نزاعی طریقہ کیا تھا۔ وہ یہ تھا کہ حضرت یوسف نے بادشاہ سے تخت اقتدار چھوڑنے کا مطالبہ نہیں کیا، بلکہ صرف یہ کیا کہ مصر کے خزائن ارض (زرعی معاملہ [agricultural land]) کا انتظام حضرت یوسف کے حوالے کردیا جائے۔ وہ انتظام کیا تھا، اس کو قرآن میںان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے یوسف نے کہا کہ تم سات سال تک برابر کھیتی کرو گے۔ پس جو فصل تم کاٹو، اس کو اس کی بالیوں میں چھوڑ دو مگر تھوڑا سا جو تم کھاؤ۔ اس کے بعد سات سخت سال آئیں گے۔ اس زمانہ میں وہ غلہ کھالیا جائے گا جو تم اس وقت کے لیے جمع کرو گے، بجز تھوڑا سا جو تم محفوظ کرلو گے۔ پھر اس کے بعد ایک سال آئے گا جس میں لوگوں پر مینھ برسے گا۔ اور وہ اس میں رس نچوڑیں گے۔ (12:47-49)
بادشاہ مصر کے ساتھ حضرت یوسف کا معاملہ کیا تھا، اس کو قرآن میں ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے اور بادشاہ نے کہا، اس کو میرے پاس لاؤ۔ میں اس کو خاص اپنے لیے رکھوں گا۔ پھر جب یوسف نے اس سے بات کی تو بادشاہ نے کہا ائْتُونِی بِہِ أَسْتَخْلِصْہُ لِنَفْسِی فَلَمَّا کَلَّمَہُ قَالَ إِنَّکَ الْیَوْمَ لَدَیْنَا مَکِینٌ أَمِینٌ۔ قَالَ اجْعَلْنِی عَلَى خَزَائِنِ الْأَرْضِ إِنِّی حَفِیظٌ عَلِیمٌ ٌ (12:54-55)۔ یعنی اس کو میرے پاس لاؤ۔ میں اس کو خاص اپنے لیے رکھوں گا۔ پھر جب یوسف نے اس سے بات کی تو بادشاہ نے کہاآج سے تم ہمارے یہاں معزز اور معتمد ہوئے۔ یوسف نے کہا  مجھ کو ملک کے خزانوں پر مقرر کردو۔ میں نگہبان ہوں اور جاننے والا ہوں۔
بائبل(پیدائش، 41:40) میں اس طریقے کو ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے ——سو تُو میرے گھر کا مختار ہوگا، اور میری ساری رعایا تیرے حُکم پر چلے گی ۔ فقط تخت کا مالِک ہونے کے سبب سے میں بُزرگتر ہوں گا:
You shall be in charge of my house, and all my people are to obey your commands. Only with regard to the throne will I be greater than you. (Genesis 41:40)
سوال
مجھے نہیں معلوم میں کہاں سے شروع کروں۔ میں جب سولہ سال کی تھی، تو میں نے اپنے اکیس سالہ بھائی کو کھودیا، اس کے فوراً بعد میرے والدین فوت ہوگئے۔ شادی کے بعد میرے دو بھائی (brothers in law) اپنے پیچھے دو لڑکیوں کو چھوڑ کر انتقال کرگئے۔ ایسی کٹھن صورت حال میں میں کیا کروں۔ کیا آپ مجھے کوئی دعا پڑھنے کی نصیحت کریں گے۔ (مز ثنا خان، پاکستان)
جواب
آپ کو جو صورتِ حال پیش آئی ہے، وہ آپ کے لیے ایک نعمت ہے۔ دنیا کے سہارے کا رہنا یا نہ رہنا، دونوں اللہ کے فیصلے ہیں۔ جب آپ دیکھیں کہ دنیا کےسہارے آپ سے ٹوٹ رہے ہیں، تو اس کو پازیٹیوسنس میں لیں۔ اس کو یہ سمجھ لیجیے کہ یہ اللہ رب العالمین کا آپ کے لیے منصوبہ ہے کہ آپ رب العالمین سے جڑیں، زیادہ سے زیادہ آپ اس کی رحمت کے مستحق بنیں۔ آپ کے اندر زیادہ سے زیادہ اسپریچول ڈیولپمنٹ ہو۔ یہ سب باتیں شکر کی باتیں ہیں ، نہ کہ شکایت کی باتیں۔
واپس اوپر جائیں

خبرنامہ اسلامی مرکز- 270

ثنیشنل انوائرمنٹل انجنئرنگ ریسرچ انسٹیٹیوٹ(NEERI Nagpur) میں دعوتی تجربہ: ایم ایم ربانی جونئرکالج کامٹی سے طلبہ کومرکزی حکومت کے ادارہ National Environmental Engineering Research Institute میں 15 جولائی 2019 کومدعو کیا گیا تھا۔ ہم نے طے کیا کہ اس ٹرپ کو اپنے لیے دعوہ ٹرپ بنایاجائے۔ ملک کے نامور سائنس داں ڈاکٹر این کے سنگھ اس پروگرام کے خاص اسپیکر تھے، اس کے علاوہ اور بھی کئی ماہر سائنس داں اور اعلیٰ تعلیم یافتہ افراد شریک ہونے والے ہیں۔ جب ہم لوگوں نے پروگرام انتظامیہ سے اپنے پیس اور اسپریچول مشن کا تذکرہ کیا اور تمام لوگوں کو ترجمہ قرآن اور اسپریچول لٹریچر دینے کا اپنا ارادہ ظاہر کیا ،تو منتظمین بہت خوش ہوئے، اور یہاں تک معاونت کی کہ مجھے دعوت دی کہ آپ اپنے مشن کا تعارف اسٹیج پر آکر کرائیں۔ یہ ہمارے لیے بالکل غیر متوقع تھا۔ یقینی طور پر یہ صرف اللہ رب العالمین کی مدد تھی۔ میں نے مختصراًسی پی ایس مشن کا تعارف اور مقصد پیش کیا، اور ڈائس پر موجود سبھی شخصیات کو انگلش قران اور دیگر دعوتی لٹریچر پیش کیا۔ خاص طور سے ڈاکٹر این کے سنگھ کو انگریزی ترجمہ قرآن اور گاڈ ارائزز (God Arises)دیا گیا۔ انہوں نے بہت ہی خوشی سے قبول کیا۔ دیگر افراد میں ڈاکٹر اپادھیائے ، ڈاکٹر پوروہت(Dr Purohit) ڈاکٹر کمبھارے(Dr Kumbhare) ، وغیرہ، سب کو انگلش ترجمۂ قران اوردی ایج آف پیس (The Age of Peace) کے ساتھ دیگر دعوتی کتابیں پیش کی گئیں۔ اسٹیج سے نیچے آنے کے بعد سامعین میں سے کئی افراد نے ہماری ٹیم سے رجوع کیا، اور اپنے لیے بھی انگلش ،ہندی ،اور مراٹھی میں قران کی درخواست کی، جو کہ ہم نے انہیں دےدیا۔ دو تجربات ایسے پیش آئے، جن سے میں تھرلڈ (thrilled)ہوں۔ ایک، اس پروگرام کی شوٹنگ کرنے والے کیمرہ مین مسٹر انِل نے میرے پاس آکر کہا : سر، کیا یہ کتابیں مجھے بھی مل سکتی ہیں، اور جب میں نے انہیں مراٹھی قران پیش کیا تو انہوں نے بہت ہی ادب سے ترجمہ قرآن کو اپنے سر، پر رکھ لیا۔ اس وقت کے تاثرات بیان کرنے کے لیے میرے پاس الفاظ نہیں ہیں۔
اس پروگرام کا ایک دوسرا تجربہ یہ ہے کہ سامعین میں ایک ڈاکٹر ٹھاکرے صاحب ملے، جنھوں نے تقریباً ایک گھنٹے تک ہمارا انتظار کیا، اور ملنے پر کہنے لگے میں نے اپنی تمام سروس امریکہ اور افریقی ممالک میں کی ہے، اور اب میں شانتی کے پرچار میں لگا ہوا ہوں، میرے اس مشن کے ساتھ ناگپور یونیورسٹی کے سابق وائس چانسلر جناب پٹھان صاحب جڑے ہیں، جو کہ ابھی پونا میں مقیم ہو گئے ہیں۔ میں ان سے آپ کی بات کروادیتا ہوں، آپ ان سے مل کر اس کام کو آگے بڑھائیے۔ پھر اسی وقت انہوں نے بات بھی کروادی، اور اپنا مقصد بھی بتا دیا۔ پٹھان صاحب نے کہا آپ پونا آکر مجھ سے ملیے، کیوں کہ میں نے مولانا صاحب کو پڑھا ہے، اور ان سے کامل اتفاق رکھتا ہوں۔ (ساجد احمد خان، ناگپور- کامپٹی)
■ ڈاکٹر محمد اسلم خان(سی پی ایس سہارن پور چیپٹر) بھائی چارے کے انداز میں زندگی گزارتے ہیں،اور ہر ایک سے وہ اپنائیت کے انداز میں بھید بھاؤ کے بغیر ملتے ہیں۔ اس وجہ سے وہ ہر جگہ آسانی کے ساتھ دعوتی کام کرلیتے ہیں۔ مثلاً 27اگست 2019 کو اتراکھنڈ کے چیف منسٹر جناب ترویندر سنگھ راوت نے ڈاکٹر اسلم خان کو خاص اعزاز سے نوازا۔ اس موقع پر انھوں نے پروگرام میں موجود تمام لوگوں بشمول سی ایم اتراکھنڈ کو ترجمۂ قرآن بطور ہدیہ دیا۔ اس کے بعد دوبارہ 5 اکتوبر 2019 کو اتراکھنڈ میں ایک پروگرام میں سی پی ایس سہارن پور سے ڈاکٹر محمد اسلم خان، مسٹرمحسن بلال، مسٹر دانش خان، ڈاکٹر تاثیر ،وغیرہ، نے شرکت کی۔ اس پروگرام میں بھی اتراکھنڈ کے موجودہ سی ایم ترویندر سنگھ راوت ، سابق سی ایم ہریش راوت، بی جے پی صدر اتراکھنڈ و دیگر سیاسی، اور سماجی، اور بیوروکریسی سے منسلک افراد موجود تھے۔ اس پروگرام میں بھی تمام لوگوں کو ترجمۂ قرآن اور دوسرے دعوتی لٹریچردیے گئے، جن کو تمام لوگوں نے شکریے کے ساتھ قبول کیا، اور اس کام کو مزید آگے بڑھانے میں مدد کا وعدہ کیا۔
ثمز نکیتا نائر نے نئی دہلی سے شائع ہونے والے انگریزی میگزین ایکوئیٹر لائن (Equator Line) کے لیے صوفی ازم اور اسلام کے موضوع پر صدر اسلامی مرکز کا انٹرویو لیا۔ یہ انٹرویو 21 ستمبر 2019 کو لیا گیا۔ انٹرویو کے بعد مز نائر کو انگریزی ترجمۂ قرآن اور دوسرے دعوتی لٹریچر بطور گفٹ دیے گئے۔
ثیکم اکتوبر 2019کو عیسائی مشنری ادارہ ودیا جیوتی کالج آف تھیولوجی (نئی دہلی)کے طلبا کی ایک جماعت کو سی پی ایس انٹرنیشنل نئی دہلی کے تین ممبران، ڈاکٹر فریدہ خانم، ڈاکٹر ماریہ خان، اور مولانا فرہاد احمد نے مختلف اسلامی موضوعات پر خطاب کیا، اور خطاب کے بعد سوال جواب کا بھی سیشن ہوا۔ چائے کے وقفے میں کئی طلبا نے کہا کہ میں اسلام کے تعلق سے منفی سوچ کا شکار تھا، لیکن آج آپ لوگوں نے جو بتایا ہے، اس سے میرا ذہن اسلام کے لیے بالکل مثبت ہوگیا ہے۔ تمام سامعین کو انگریزی ترجمۂ قرآن اور دوسرے دعوتی لٹریچر دیے گئے۔
ثSouth Asian Jesuit Assistance secretariat for Interreligious Dialogue کے ایک پروگرام میں سی پی ایس انٹرنیشنل (دہلی) کی چیر پرسن ڈاکٹر فریدہ خانم کو اپنے ممبران کے ساتھ مدعو کیا گیا تھا۔ اس پروگرام میں ساؤتھ ایشیا کے تمام بڑے عیسائی پادری جمع تھے۔ ڈاکٹر فریدہ خانم نے وہاں پر اسلام اورانٹرفیتھ (Interfaith)کے موضوع پر ایک تقریر کی، جسے تمام لوگوں نے بہت دلچسپی سے سنا۔سی پی ایس انٹرنیشنل نئی دہلی کے ممبران نے تمام سامعین کو انگریزی ترجمۂ قرآن اور دوسرے دعوتی لٹریچر دیے۔ یہ پروگرام سینٹ زیوئرس سینئر سیکنڈری کالج نئی دہلی میں11 اکتوبر 2019 کو ہوا تھا۔
ثوینکوور (Vancouver) کناڈا کے صوبے برٹش کولمبیا کا ایک ساحلی شہر ہے۔ یکم اکتوبر 2019 کو مز کوثر اظہار اور مز گل زیبا احمد (سی پی ایس انٹرنیشنل، امریکا) نے اس شہر کا سفر کیا۔ مقصد تھا، دعوتی سیاحت۔ وہ جس ہوٹل میں ٹھہری تھیں، اس کی انتظامیہ سے قرآن رکھنے کی بات کی، وہ لوگ راضی ہوگئے، اور کہا کہ آپ ہمیں 118 روم کے لیے اسی تعداد میں قرآن دیجیے۔ مطلوبہ تعداد انھیں دے دی گئی۔ اس کے علاوہ انھوں نے وہاں مختلف سیاحوں کو بھی قرآن دیا۔ ان دونوں خواتین داعیوں کے لیے یہ سفر دعوتی تجربہ سے بھرپور سفر رہا۔
■ 9 اکتوبر 2019 کو ساجد احمد خان کے اسکول میں کامپٹی پولیس اسٹیشن کے انسپکٹر مسٹر دیوی داس کاتھلے اسکول کے پرنسپل کے پاس آئے۔ اس وقت ان کو ساجد خان صاحب نے مراٹھی ترجمۂ قرآن اور دوسرے دعوتی لٹریچر دیے۔ مراٹھی ترجمۂ قرآن اور کتاب خاندانی زندگی کو دیکھ کر وہ بہت زیادہ خوش ہوئے، اور کہا کہ اب مجھے پولیس اسٹیشن آنے والے مسلمانوں کے درمیان فیصلہ کرنے میں آسانی ہوگی۔ دوران گفتگو جب ساجد صاحب نے کہا کہ میں آپ کے پولیس اسٹیشن آکر تمام اسٹاف کو قرآن اور اسلام کی کتابیں دینا چاہتا ہوں، تو انھوں نے خوشی سے کہا کہ ضرور آئیں، آپ کا ہر وقت استقبال ہے۔
■ السلام علیکم، مولانا صاحب اللہ پاک آپ کو ایمان اور صحت کے ساتھ سلامت رکھے۔ میں آپ کے آباواجداد کے علاقے سوات ملاکنڈ سے تعلق رکھتا ہوں۔ آپ کی تفسیر تذکیرالقران اور دیگر کتابوں سے مجھے ایمانی قوت حاصل ہوتی ہے۔ پاکستان میں ہم طارق بدر صاحب کے ساتھ مل کر سی پی ایس انٹرنیشنل کے کاموں کو پوری دلجمعی کے ساتھ آگے بڑھانے کی کوشش کررہے ہیں۔ آپ ہم لوگوں کے لیے دعا کریں۔(سردار عطاء الرحمن عثمان خیل)
■ Hello, I'd like to first share how I ended up with this translation of the Quran. I am a refugee from Bosnia, very strong Muslim roots. Muslim parents, I always said “I cannot touch religion until that is understandable to me.” For the last 7 years, I thought my life was hell but now in hindsight I see what it really was .I have numerous copies of the Kuran courtesy of My father but I never bothered with them because one quick glance and the truth in truth form did not resonate with me. While I was in Istanbul in 2013, I picked up a free copy at a mosque, never touched it until about a week ago, it really does call to you, I am still reading it (backwards seems to somehow make more sense to me), but this entire time I am thinking this translation is not like the others and this led me to CPS. I believe this is the true message. I suppose my question is this, does the center offer any type of exchange program where a person can come and learn a bit more. I've looked at the ambassador options, this will not satisfy my thirst for knowledge in the way I need it to unfold more within me. Thank you for taking the time to read my message, I look forward to any insights you may be able to provide . Peace & Love to you. (Edita Sehic)
■ My changing perspectives of Islam: As a child in my mind, Islam was merely that ‘burqa religion. As a slightly older child, it also became the nice, fun religion at Eid time because hospitable Muslim neighbours and friends shared their delicious festive fare with us. But, on reading the history of the Mogul invaders of India, I wondered whether they were cruel or fanatical, or both. Was it their mis-zeal, to convert or destroy the infidels by jihad? In later years I wondered whether certain parts of the Quran lent themselves to such mis-interpretation which led the followers of Islam to perpetrate such atrocities as forcible conversion and disrespect for Hindu belief and sentiment by razing the temples. Having read Sir Maulana Khan’s treatises, I am convinced that the true spirit of Islam is non-violent, peaceful and respectful. I quote Sir, Khan “Only a defensive war is permitted in Islam. Follow one religion and respect all. Jihad is the inner battle against non-spiritual urges, and, Do not judge Islam by what some Muslims do. All religions teach love, peace, forgiveness and the glory of God. I enjoy living in a multi-religious country and have nice friends of all religions. My vision of tomorrow’s world is one in which all of us will believe in the true, relevant message which is the universal heritage of mankind. We pray for a richer, peaceful world where there is greater interaction, understanding, harmony and friendship between peoples.(Mrs. Ramadevi Lingaraju)
■ مجھے الرسالہ باقاعدگی سے ہر ماہ موصول ہوتا ہے۔میں الحمد للہ الرسالہ کے پیغام کو عام کرنے میں اپنی صلاحیتوں اور توانائیوں کو صرف کرتا ہوں، چونکہ میں ایک ٹرینر ہوں اور ہفتہ بھر میں پندرہ بیس تعلیمی اداروں میں ٹریننگ سیشن کرنے جاتا ہوں ،ساتھ ہی ساتھ مجھے مختلف ٹی وی مارننگ شوز میں مدعو کیا جاتا ہے۔میں ہر جگہ اور مقام پر الرسالہ کے پیغام کو عام کرتا ہوں۔(خواجہ مظہر صدیقی ،کالم نگار نوائے وقت، ڈائریکٹر ارتقاء آرگنائزیشن پاکستان)
■ ’’اللہ اکبر‘‘ مولانا کی عجیب کتاب ہے۔ کئی دفعہ پڑ ھنے کے باوجود ہر دفعہ نیا کیف و سرور ملتا ہے، اور مولانا صاحب کےلیے دل سے بار بار دعا نکلتی ہے ۔اللہ مولانا کو دراز عمر اور صحت نصیب فرمائے آمین (مفتی محمد، سوات)
ثخصوصی شمارہ :جنت کی دنیا (الرسالہ ستمبر 2019) میں حضرت نے جنت کی سیر کرائی ہے، اور ایسی عمدہ تشریح پیش کی ہے، جن سے اعتقادی اصلاح بھی ہوتی ہے، اور عملی بھی۔ خاص کر دنیاکی زندگی کےفانی اور ناپائیدار ہونے اور آخرت کی زندگی کےباقی اوردائمی ہونے کااستحضارودھیان پیدا ہوتاہے۔ استعدادللموت قبل الموت کی فکر مضبوط انداز میں پیدا ہوجاتی ہے۔اللہ ہمیں مزید استفادے کی توفیق عطاء فرمائے۔ (محمد صدیق، بلوچستان)
■ الرسالہ، ستمبر 2019 کو پڑھتے ہوئے جب میں اس جملہ پر پہنچا تو جھوم اٹھا’’جنت کے تصور کو انسانی تاریخ کی خوبصورت تعبیر کہا جائے‘‘(صفحہ 4)۔ یہ ایک الہامی احساس سے بھر پور جملہ ہے۔ مولانا کا وصف یہ ہے کہ جس گہرائی سے بات کرتے ہیں، اسی گہرائی سے رگ جاں میں اتر جاتی ہے۔ ستمبر کے شمارے نے جنت کا ایک نیا تصور مجھے دیا ہے، اور یہی اصل بات ہے جو مولانا کی ہر تحریر میں موجود رہتی ہے۔ تاہم مولانا کی باتوں کو سمجھنے کے لیے وسعتِ دل اور کشادہ احساس کی ضرورت ہوتی ہے۔ (محمد ادیب، ملتان)
واپس اوپر جائیں

Friday, 1 November 2019

Al Risala | November 2019 (الرسالہ،نومبر)

4

-سچائی کا سفر

5

- حق کی تلاش

6

- خدا کی دریافت

12

- بے نقص کائنات

14

- زیرو ڈفکٹ کائنات

18

- کائنات بول رہی ہے

25

- ذہین کائنات

26

- کائنات کی توجیہہ

28

- سائنس سے معرفت تک

32

- کائنات کی معنویت

37

- خدا کا وجود

39

- خدا کا وجوداور سائنس

44

- خدا ——انسانی فطرت کی آواز ہے

48

- کائناتی نشانیاں

49

- ایک تجربہ


سچائی کا سفر

سچائی کا سفر ایک فطری سفر ہے۔ وہ اتنا آسان ہے کہ ہر آدمی عین اپنے پاس سے اس کو شروع کرسکتا ہے۔ مثلاً بیان کیا جاتا ہےکہ ایک عرب بدو سے سوال کیا گیا مَا الدَّلِیلُ عَلَى وُجُودِ الرَّبِّ تَعَالَى؟ فَقَالَ:یَا سُبْحَانَ اللَّہِ إِنَّ البعر لیدل عَلَى الْبَعِیرِ، وَإِنَّ أَثَرَ الْأَقْدَامِ لَتَدُلُّ عَلَى الْمَسِیرِ، فَسَمَاءٌ ذَاتُ أَبْرَاجٍ، وَأَرْضٌ ذَاتُ فِجَاجٍ، وَبِحَارٌ ذَاتُ أَمْوَاجٍ أَلَا یَدُلُّ ذَلِکَ عَلَى وجود اللطیف الخبیر؟(تفسیر ابن کثیر، جلد1، صفحہ106)۔ یعنی رب العالمین کے وجود کی دلیل کیا ہے؟ اس نے کہاسبحان اللہ، مینگنی اونٹنی پر دلالت کرتی ہے، قدم کے نشان چلنے والے پر دلالت کرتے ہیں، تو برجوں والا آسمان، اور کشادہ راستوں والی زمین ، اور موجوں والے سمندر ،کیااس ذات پر دلالت نہیں کریں گے، جو بڑا باریک بیں اور بڑا باخبر ہے؟یہ واقعہ ایک عام انسان کا واقعہ ہے۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ خالق کی پہچان کا معاملہ اتنا زیادہ آسان ہے کہ ہر انسان اپنی فطرت کے تقاضے کے طور پر وہ اپنی قریب ترین مثال سے سمجھ سکتا ہے۔ خالق کی دریافت کے لیے کسی لائبریری میں جانے کی یا کسی دور کا سفر کرنے کی ضرورت نہیں۔ شرط یہ ہے کہ آدمی متلاشی (seeker)ہو۔
مثلاً ایک آدمی نے سوال کیا کہ ہم خدا کو کیسے پہچانیں۔ میں نے کہا آپ اپنے ہاتھ اور پاؤں کی انگلیوں کو دیکھیے۔ اگر ایسا ہوتا کہ ہاتھ کی انگلیاں چھوٹی چھوٹی ہوتی، اور پاؤں کی انگلیاں بڑی بڑی ہوتی تو زندگی کتنی مشکل ہوجاتی۔ اتنی گہری پلاننگ صرف خلاق اور رزاق ہی کرسکتا ہے۔اگر آپ ایک ایسے خدا کو نہ مانیں، جو خلاق اور رزاق ہے، تو آپ ہر معلوم چیز کو سمجھنے سے قاصر رہیں گے۔خدا کو پہچاننا اتنا ہی آسان ہے، جتنا کہ خود اپنے آپ کو پہچاننا۔اس قسم کی دریافت کو کامن سنس کی سطح پر خالق کی دریافت کہاجاتا ہے۔ لیکن دریافت کی ایک اور سطح ہے، جو جدید دور میں انسان نے ڈسکور کی ہے، اور وہ ہے سائنسی دلائل کے ذریعے خالق کی دریافت۔ اس حقیقت کی طرف قرآن میں اشارہ کیا گیا ہے (فصلت، 41:53)۔ آج انسان ان دلائل کے ذریعے آسانی کے ساتھ خدا کو دریافت کر سکتا ہے۔
واپس اوپر جائیں

حق کی تلاش

حق کی تلاش ایک فطری تلاش ہے۔ انسان جب پیدا ہوتا ہے، تو وہ سب سے پہلے یہ جاننا چاہتا ہے کہ وہ کیا ہے، وہ کیسے وجود میں آیا، دنیا میں اس کی معنویت کیا ہے۔ اسی کا نام حق کی تلاش ہے۔ یہ ہمیشہ تمام پیدا ہونے والے انسانوں کی مشترک تلاش رہی ہے۔ شاید کوئی بھی انسان اس اسپرٹ سے خالی نہیں۔ کسی نے اس تلاش کو فلسفیانہ تلاش کا درجہ دیا، کوئی اس کو صوفیانہ تلاش سمجھا، کسی نے اس کو مراقبہ (meditation) کے ذریعے دریافت کرنا چاہا، کسی نے یہ سمجھا کہ روحانی ریاضت کے ذریعے وہ اس کو پاسکتا ہے، کسی نے کسی اور طریقے سے اس منزل تک پہنچنے کی کوشش کی۔
جہاں تک راقم الحروف کا اندازہ ہے ، اٹلی کے سائنسداں گلیلیو (1564-1642ء) کے زمانے سے اس تلاش نےایک نیا انداز اختیار کیا۔ اب یہ ہوا کہ اس تلاش کا کمیاتی پہلو (quantitative aspect)، اور اس کا کیفیاتی پہلو (qualitative aspect) ایک دوسرے سے الگ کردیا گیا۔ یہی دور اب تک جاری ہے۔
خورد بین اور دوربین کی دریافت نے اس تلاش میں ایک نئے دور کا اضافہ کیا ہے۔ اب انسان نے یہ جانا کہ اس سوال کا کیفیاتی پہلو (qualitative aspect) عملاً قابلِ دریافت نہیں ہے، لیکن اس کا کمیاتی پہلو (quantitative aspect) بڑی حد تک قابل دریافت ہے۔ اب یہ ہوا کہ دونوں پہلو ایک دوسرے سے الگ ہوگئے۔ کیفیاتی پہلو کچھ مخصوص لوگوں کی دریافت کے موضوع کی حیثیت سے باقی رہا۔ لیکن جہاں تک کمیاتی پہلو کا سوال ہے، سائنس دانوں کی پوری جماعت اس کی دریافت میں مشغول ہوگئی۔ اسی کو آج ہم سائنس کہتے ہیں۔
پھر اس قابلِ مشاہدہ پہلو کے دو حصے ہوگئے۔ ایک وہ جس کو نظری سائنس کہا جاتا ہے، اور دوسرا وہ جس کو تطبیقی سائنس (applied science) کہا جاتا ہے۔ یہ دونوں پہلو ایک دوسرے سے جدا بھی ہیں، اور ایک دوسرے سے ملے ہوئے بھی۔
واپس اوپر جائیں

خدا کی دریافت

Discovery of God
خدا کی فلسفیانہ تلاش (philosophical pursuit of God) کی تاریخ قدیم یونان کے دور تک جاتی ہے۔ سمجھا جاتا ہے کہ پہلا یونانی فلاسفر تھیلز آف میلٹس (Thales of Miletus)تھا، جس کا زمانہ 624-546 قبل مسیح ہے۔ فلسفہ (philosophy) اپنی حقیقت کے اعتبار سے خالق کی تلاش کا نام ہے۔لیکن فلسفہ کبھی خالق کی دریافت میں کامیاب نہ ہوسکا۔ فلسفہ کا موضوع وجود ہے
Philosophy is the study of general and fundamental questions about existence, knowledge, values, reason, mind, and language.
یہ فلسفہ کے مضمون کا ظاہری بیان ہے۔ لیکن اپنی حقیقت کے اعتبار سے فلسفہ خدا (supreme truth)کی علمی تلاش کا دوسرا نام ہے۔ تمام فلسفی کسی نہ کسی عنوان کے تحت حقیقت کی تلاش میں سرگرداں تھے، لیکن کوئی فلسفی اپنی تلاش میں کامیاب نہ ہوسکا۔ برطانی فلسفی برٹرینڈ رسل (1872-1970) کے بارے میں اس کے ایک سوانح نگار نے لکھا ہے کہ برٹرینڈ رسل ایک ایسا فلسفی تھا، جو اپنا کوئی فلسفہ ڈیولپ نہ کرسکا
Bertrand Russell was a philosopher of no philosophy
مگر یہ صرف ایک فلسفی کی بات نہیں۔ بلکہ تمام فلسفیوں کا معاملہ اپنی حقیقت کے اعتبار سے یہی ہے۔ حقیقت اعلیٰ (supreme reality) ہر فلسفی کی تلاش کا موضوع رہا ہے، لیکن کوئی فلسفی اپنی تلاش کا جواب نہ پاسکا۔
اس ناکامی کا راز یہ ہے کہ فلسفیوں کو اپنی تلاش کے لیے صحیح میتھڈالوجی کی دریافت نہ ہوسکی۔ قرآن میں صحیح طریق کار (methodology)کی نشاندہی کی گئی تھی، لیکن اس میتھڈالوجی کو انسان صرف اس وقت دریافت کرسکا، جب کہ اٹلی کے سائنس داں گلیلیو گلیلی (1564-1642)نے دوربین کو فلکیاتی مطالعے کےلیے استعمال کیا۔ گلیلیو گلیلی کو ماڈرن سائنس کا موجد (father of modern science) کہا جاتا ہے۔ جدید سائنس کا آغازاس وقت ہواجب انسان نے 1608ء میں ابتدائی طور پر دوربین ایجاد کی۔ گلیلیو نے 1609ءمیں دوربین کو مزید ڈیولپ کیا، اور پہلی بار دوربین کے ذریعے شمسی نظام (solar system) کا مطالعہ کیا۔
اس معاملے کا آغاز حقیقۃً ساڑھے تین ہزار سال پہلے پیغمبر موسی کے تجربےسے ہوا۔ یہ قصہ قرآن میں ان الفاظ میں بیان ہوا ہے
وَلَمَّا جَاءَ مُوسَى لِمِیقَاتِنَا وَکَلَّمَہُ رَبُّہُ قَالَ رَبِّ أَرِنِی أَنْظُرْ إِلَیْکَ قَالَ لَنْ تَرَانِی وَلَکِنِ انْظُرْ إِلَى الْجَبَلِ فَإِنِ اسْتَقَرَّ مَکَانَہُ فَسَوْفَ تَرَانِی فَلَمَّا تَجَلَّى رَبُّہُ لِلْجَبَلِ جَعَلَہُ دَکًّا وَخَرَّ مُوسَى صَعِقًا فَلَمَّا أَفَاقَ قَالَ سُبْحَانَکَ تُبْتُ إِلَیْکَ وَأَنَا أَوَّلُ الْمُؤْمِنِینَ (7:143)۔
یعنی اور جب موسیٰ ہمارے وقت پر آگیا اور اس کے رب نے اس سے کلام کیا تو اس نے کہا، مجھے اپنے کو دکھا دے کہ میں تجھ کو دیکھوں۔ فرمایا، تم مجھ کو ہرگز نہیں دیکھ سکتے۔ البتہ پہاڑ کی طرف دیکھو، اگر وہ اپنی جگہ قائم رہے تو تم مجھ کو دیکھ سکو گے۔ پھر جب اس کے رب نے پہاڑ پر اپنی تجلّی ڈالی تو اس کو ریزہ ریزہ کردیا، اور موسیٰ بےہوش ہو کر گرپڑا۔ پھر جب ہوش آیا تو بولا، تو پاک ہے، میں نے تیری طرف رجوع کیا اور میں سب سے پہلے ایمان لانے والا ہوں۔
فلاسفہ خدا کی تلاش میں تو سرگرداں رہے، لیکن وہ کبھی یقین کے درجے میں خدا کی دریافت تک نہ پہنچ سکے۔ اس کا سبب یہ تھا کہ ان کا طریقہ غیر عملی تھا، فلسفیانہ طریقے پر خدا تک پہنچنے والے تمام اہل علم خدا کی تلاش کے لیے صحیح میتھڈ (right method) دریافت نہ کرسکے۔ یہ تمام لوگ خدا کو براہ راست دیکھنا چاہتے تھے، حالاں کہ خدا کی معرفت صرف بالواسطہ انداز میں ممکن تھی۔
ہر ایک نے یہ چاہا کہ وہ خدا کو براہ راست طور پر دریافت کریں، جیسے وہ عالم خلق کی دوسری چیزوں کو دریافت کرتے ہیں ۔ لیکن یہ طریقہ خالق (خدا) کے معاملے میں قابل عمل نہ تھا۔ اس لیے وہ کامیاب بھی نہیں ہوا۔ سیکولر فلاسفہ اور مذہبی متکلمین دونوں کا کیس اس معاملے میں ایک ہی ہے۔
اس معاملے کا صحیح طریق کار کیا ہے۔ اس کی رہنمائی تاریخ میں پہلی بار اسرائیلی پیغمبر حضرت موسی کے قصے میں ملتی ہے۔ پیغمبر موسی ساڑھے تین ہزار سال پہلے قدیم مصر میں پیدا ہوئے۔ ان کا قصہ تفصیل کے ساتھ قرآن میں آٰیا ہے۔ ان کے ساتھ یہ واقعہ کوہ طور پر پیش آیا، جو صحرائے سینا میں 2285 میٹر کی بلندی پر واقع ہے۔ اس واقعہ پر غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ انسان خدا کو براہ راست نہیں دیکھ سکتا۔ خدا کے وجود کا علم انسان کو صرف بالواسطہ طور پر حاصل ہوتا ہے، یعنی تخلیق (creation)پر غور کرکے خالق (Creator)کے علم تک پہنچنا۔ پیغمبر موسی کے تجربے کی صورت میں یہ رہنمائی تاریخ میں ساڑھے تین ہزار سال سے موجود تھی، لیکن اہل علم کبھی اس طریقہ کار (methodology)کو اختیار نہ کرسکے۔ وہ بدستور اس کوشش میں لگے رہے کہ وہ خالق کو براہ راست دریافت کرسکیں۔
حدیث کی مشہور کتاب صحیح البخاری میں ایک روایت ان الفاظ میں آئی ہےإِنَّ اللَّہَ لَیُؤَیِّدُ ہَذَا الدِّینَ بِالرَّجُلِ الفَاجِرِ (صحیح البخاری، حدیث نمبر3062)۔یعنی بیشک اللہ ضرور ہی اس دین کی تائید فاجر آدمی کے ذریعے کرے گا۔ اس حدیث میں الرجل الفاجر سے مراد سیکولر انسان ہے۔ اس طرح حدیث میں مستند طور پر یہ سراغ (clue) موجود تھا کہ اس معاملے میں ایک سیکولر انسان ہوگا جو ابتدائی رہنمائی فراہم کرے گا۔ لیکن فلاسفہ اور مسلم متکلمین دونوں اس معاملے میں صحیح رہنمائی تک نہ پہنچ سکے۔
راقم الحروف لمبی مدت تک اس موضوع پر غور کرتا رہا ہے،اور آخر کار اس دریافت تک پہنچا کہ صحیح البخاری میں جس الرجل الفاجر (سیکولر انسان) کا ذکر ہے، وہ غالباًاٹلی کا سائنسداں گلیلیو گلیلی (Galileo Galilei) ہے، جو چار سو سال پہلے پیدا ہوا۔ اس معاملے میں گلیلیو کا رول چونکہ براہ راست نہیں تھا، بلکہ بالواسطہ تھا۔ یعنی اس کی دریافت سے بالواسطہ طور پر اس سوال کا جواب مل رہا تھا کہ خدا کی دریافت تک پہنچنے کا طریق کا ر (method) کیا ہے۔
گلیلیو گلیلی کے زمانے میں ایک واقعہ ہوا، جس کو نیوٹن کے ایپل شاک (apple shock) کی طرح ٹیلی شاک (tele-shock) کہا جاسکتا ہے، یعنی دوربین کی دریافت۔آئن سٹائن نے لکھا ہے کہ گلیلیو جدید سائنس کا بانی تھا
Galileo was the “father of modern science.”
یہ ایک حقیقت ہے کہ گلیلیو سے سائنس میں نئے دور کا آغاز ہوا ہے۔ لیکن اس دور کے آغاز کا اصل سبب یہ تھا کہ اس زمانے میں دور بین (telescope) کو 1608 میں ابتدائی طور پر ہالینڈ میں ایجاد کر لیا گیا تھا۔ اس کے بعد 1609 میں گلیلیو نے اس دوربین کا ترقی یافتہ ورزن (developed version)خود سے تیار کیا،اورپہلی بار دور بین کو استعمال کرکے شمسی نظام (solar system)کا جزئی مشاہدہ کیا ۔ اس مطالعے کے ذریعے گلیلیو نے پہلی بار یہ دریافت کیا کہ ارسطو کا قدیم نظریہ غلط تھا کہ سورج زمین کے گرد گھومتا ہے۔ بلکہ صحیح بات یہ ہے کہ زمین سورج کے گرد گھومتی ہے۔
اس نظریے کو علم کی زبان میں ہیلیو سینٹرک تھیَری (heliocentric theory) کہاجاتا ہے۔ جب کہ اس سے پہلے دنیا میں جیو سینٹرک تھیَری (geocentric theory) کا رواج تھا۔ اس لحاظ سے یہ کہنا صحیح ہوگا کہ جس طرح نیوٹن کی کشش ثقل کا نظریہ ایپل شاک کے واقعے کے بعد دریافت ہوا ، اسی طرح گلیلیو کی دریافت کا آغاز’’ٹیلی شاک‘‘ کے بعد پیش آیا۔ یہی واقعہ جدید سائنس (modern science)کے آغاز کا سبب بنا۔ دوسرے الفاظ میں یہ کہا جاسکتا ہے کہ دور بین کی ایجاد سے نئے سائنسی دور کا آغاز ہوا، اور اس امکان کو پہلی بار جس نے استعمال کیا، وہ اٹلی کا سائنس داں گلیلیو گلیلی تھا۔
گلیلیو کو جدید سائنس کا بانی اس لیے کہاجاتا ہے کہ گلیلیو نے ایک چیز کو دوسری چیز سے ڈی لنک (delink) کردیا۔ اس تعلق سے ڈاکٹر الکسس کیرل(1873-1944) لکھتے ہیں— گلیلیو نے چیزوں کی ابتدائی صفات کو، جو ابعاد اور وزن پر مشتمل ہیں، اور جن کی آسانی سے پیمائش کی جاسکتی ہے، ان ثانوی صفات سے الگ کردیا، جو شکل، رنگ اور بو وغیرہ سے تعلق رکھتی ہیں، اور جن کی پیمائش نہیں کی جاسکتی۔ کمیت کو کیفیت سے جدا کردیا
Galileo, as is well known, distinguished the primary qualities of things, dimensions and weight, which are easily measurable, from their secondary qualities, form, colour, odour, which cannot be measured. The quantitative was separated from the qualitative. The quantitative, expressed in mathematical language, brought science to humanity. The qualitative was neglected. (Man, the Unknown, New York, 1939, p. 278)
کیفیاتی پہلو (qualitative aspect) کو کمیاتی پہلو (quantitative aspect) سے الگ کرنے کے معاملے کو الکسس کیرل نے بظاہر ایک منفی واقعے کے طور پر بیان کیا ہے، لیکن اپنی حقیقت کے اعتبار سے یہی وہ واقعہ ہے، جو سائنس میں نئے انقلاب کا سبب بنا۔ اس علاحدگی (delinking) نے سائنسی تحقیق کے بند دروازے کو کھول دیا، جو فلسفہ کے زیر اثر سائنس پر بند پڑا ہوا تھا۔ اس کے بعد ہر سائنسی شعبہ ، فزکس(physics)، فلکیات(astronomy)، کیمسٹری (chemistry)،وغیرہ ، میں تحقیقات ہونے لگی۔ ان تحقیقات کا براہ راست تعلق مذہب سے نہ تھا، مگر بالواسطہ طور پر وہ پوری طرح مذہب سے تعلق رکھتا تھا۔ اب یہ ہوا کہ سائنس کے شعبوں میں آزادانہ طور پر تحقیق ہونے لگی۔ اس طرح جو سائنسی دریافتیں ہوئیں، وہ بالواسطہ طور پر خدا کے وجود کو ثابت کرنے والی تھیں۔
عملی طور پر گلیلیو گلیلی کے اس طریقِ کار کا مطلب تھا — اشیاء کے قابل مشاہدہ جزء (observable aspect)کو اشیاء کے ناقابل مشاہدہ جزء (unobservable aspect)سے الگ کردینا۔ اس سے پہلے اہل علم دونوں کو ایک دوسرے سے ڈی لنک (delink) نہیں کرسکے تھے۔ وہ ناقابل مشاہدہ پہلو کی دریافت میں مشغول ہونے کی بنا پر قابل مشاہدہ پہلو کی دریافت سے محروم بنے ہوئے تھے۔ اب یہ ہوا کہ سارا فوکس چیزوں کے قابل مشاہدہ پہلو پر آگیا۔ اس طرح یہ ممکن ہوگیا کہ قابل مشاہدہ پہلو کو دریافت کرکے ناقابل مشاہدہ پہلو تک پہنچنا ممکن ہوجائے۔ دوسرے لفظوں میں یہ کہ علمی طور پر یہ ممکن ہوگیا کہ قابل مشاہدہ مخلوق کو دریافت کرکے ناقابل مشاہدہ خالق کی بالواسطہ معرفت حاصل کی جاسکے،یعنی وہ طریقہ جس کو استنباطی طریقہ (inferential method) کہا جاتا ہے۔
سائنسی تحقیق میں اس طریق کار کے استعمال کے نتیجے میں بالواسطہ انداز میں خدائی حقیقتیں قابل دریافت ہوگئیں۔ چنانچہ بیسویں صدی میں اس موضوع پر بڑی تعداد میں مقالات اور کتابیں لکھی گئی ہیں۔یہاں اس قسم کی صرف ایک کتاب کا حوالہ دیا جاتا ہے
The Evidence of God in an Expanding Universe: Forty American Scientists Declare Their Affirmative Views on Religion (John Clover Monsma, G. P. Putnam's Sons, 1958, pp. 250(
اس کتاب کا عربی زبان میں ترجمہ ہوچکا ہے۔اس کا عربی ٹائٹل یہ ہے:اللہ یتجلی فی عصر العلم (مترجم: الدمرداش عبد المجید سرحان، مؤسسة الحلبى وشرکاہ للنشر والتوزیع، 1968)۔
راقم الحروف اپنے بارے میں یہ کہہ سکتا ہے کہ میں نے اسی کام کو اپنا اصل موضوع بنایا۔ وسیع مطالعے کے بعد میں نے اس موضوع پر بہت سے مقالے اور کتابیں شائع کیں۔ ان میں سے ایک بڑی کتاب وہ ہے جو اردو زبان میں مذہب اور جدید چیلنج کے نام سے1966 میں شائع ہوئی۔اس کتاب کا عربی ترجمہ ڈاکٹر ظفر الاسلام خان نے کیا۔ عربی ٹائٹل کا نام ہے الاسلام یتحدی۔ یہ عربی ورزن پہلی بار قاہرہ سے 1976میں چھپا اور یہ 196 صفحات پر مشتمل تھا۔اس کے بعد اس کے بہت سے ایڈیشن بار بار شائع ہوتے رہے ۔ اس کتاب کا انگریزی ترجمہ، گاڈ ارائزز (God Arises)کے نام سےشائع ہوا۔ یہ کتاب 1987 میں پہلی بار دہلی سے چھپی۔
ان دو پہلوؤں کی تفریق (delinking) کے بعد جو سائنسی معلومات سامنے آئیں، ان کو استعمال کرکے مذہب کی صداقت از سرِ نو ثابت شدہ بن گئی۔ اس موضوع پر راقم الحروف نے کثیر تعداد میں مضامین لکھے ہیں۔ اگلے صفحات پر اس قسم کی کچھ مذہبی صداقتوںکا ذکر کیا جاتا ہے۔
واپس اوپر جائیں

بے نقص کائنات

کائنات مکمل طور پر ایک بے نقص (zero-defect)کائنات ہے۔قرآن میں کائنات کے اس پہلو کو ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہےَ ۔ ان آیتوں کا ترجمہ یہ ہے: یعنی جس نے بنائے سات آسمان درجہ بدرجہ، تم رحمٰن کے بنانے میں کوئی خلل نہیں دیکھو گے، پھر نگاہ ڈال کر دیکھ لو، کہیں تم کو کوئی خلل نظر آتا ہے (ھَلْ تَرَى مِنْ فُطُور) ۔ پھر بار بار نگاہ ڈال کر دیکھو، نگاہ ناکام تھک کر تمہاری طرف واپس آجائے گی (67:3-4)۔
قرآن کی اس آیت میں کائنات کوبے فطور (flawless) کہا گیا ہے ۔ جس وقت قرآن میں یہ آیت اتری، اس وقت انسان کو معلوم نہ تھا کہ کائنات ایک بے نقص کائنات ہے۔ انسان سورج چاند کو دیکھتا تھا، سمندروں اور پہاڑوں کو دیکھتا تھا۔ اس سے اس کے اندر ایک تحیر کا احساس (sense of awe) پیدا ہوجاتا تھا۔ اس سے کائنات کی پرستش (nature worship) کا تصور پیدا ہوا۔ خالق کا جو اصل مقصود تھا، وہ یہ تھا کہ انسان کائنات کے بے فطور (flawless) پہلو کو جانے ، اور اس طرح خالق کی قدرت کو دریافت کرے۔ مگر ہزاروں سال تک کائنات کا یہ پہلو غیردریافت شدہ بنا رہا۔
پچھلے تقریباً چار سو سال کے درمیان سائنس کے میدان میں جو دریافتیں ہوئی ہیں، انھوں نے پہلی بار انسا ن کو بتایا کہ کائنات میں کمال درجے کی معنویت پائی جاتی ہے۔ کائنات ویل پلانڈ (well planned) کائنات ہے، کائنات ایک ویل مینجڈ (well managed) کائنات ہے، کائنات ایک ویل ڈیزائنڈ (well designed) کائنات ہے، کائنات ایک ویل ڈسپلنڈ (well disciplined) کائنات ہے۔ اب سائنسداں عام طور پر یہ مانتے ہیں کہ کائنات ایک انٹلجنٹ کائنات (intelligent universe) ہے۔ حتی کہ اب یہ ایک باقاعدہ موضوع بن گیا ہے، جس پر بہت سی کتابیں اور رسالے شائع کیے جارہے ہیں۔
نیوٹن کے زمانے میں کائنات کو ایک میکینیکل کائنات کہا جاتا تھا۔ لیکن مزید ریسرچ سے یہ نظریہ غلط ثابت ہوگیا۔ سائنس کے مختلف شعبوں میں جو ریسرچ ہوئی ہے، اس سے اب یہ بات تقریباً واقعہ (fact) بن چکی ہے کہ کائنات ایک ذہین کائنات (intelligent universe) ہے۔ کائنات کو ذہین کائنات ماننے کے بعد یہ معاملہ ایک لفظی مسئلہ بن جاتا ہے۔ کائنات کو ذہین کائنات ماننا دوسرے لفظوں میں یہ ماننا ہے کہ یہ کائنات ایک ذہین خالق کی تخلیق ہے۔ اس کے سوا اس کا کوئی اور مفہوم نہیں ہوسکتا۔ اس موضوع پر غالباً پہلی باقاعدہ کتاب فریڈ ہائل (Fred Hoyle) کی تھی، جس کا نام تھا ذہین کائنات:
The Intelligent Universe: A New View of Creation and Evolution (1983)
مگر اب ذہین ڈزائن کے موضوع پر بڑی تعداد میں کتابیں اورمقالے چھپ چکے ہیں۔ ان کتابوں اور مقالات کو کسی بڑی لائبریری میں یا انٹر نیٹ پر دیکھا جاسکتا ہے۔
٭ ٭ ٭٭ ٭
ایک سائنس داں، پروفیسر کارل ٹرال نے کہا— میری زندگی کا حاصل بحیثیت سائنٹسٹ اور جغرافیہ داں یہ ہے کہ میں زیادہ سے زیادہ خالق کا شکر گذار ہوگیا ہوں۔
“The fruit of my life as scientist and geographer is to have become more and more deeply grateful to our Creator.”
Prof. Carl Troll was president of the International Geographical Union from 1960 to 1964
سائنس داں جب قدرت کا مطالعہ کرتا ہے تو اس کے اندر قدرت کی عظمت کا بے پناہ احساس ابھرتا ہے۔ اس کا اندرونی وجود اُس ہستی کے آگے جھک جاتا ہے، جس نے اتنی با معنی کائنات بنائی ۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ موجودہ دور میں خدا کے انکار کا ذہن سائنس دانوں نے نہیں بنایا۔ یہ دراصل کچھ ملحد فلاسفہ تھے جنھوں نے سائنسی دریافتوں کو غلط رخ دے کر اس سے خود ساختہ طورپر انکار خدا کا مطلب پیدا کیا۔ حالاں کہ یہ سائنسی دریافتیں زیادہ درست طورپر اقرار خدا کی طرف اشارہ کررہی تھیں۔
واپس اوپر جائیں

زیرو ڈفکٹ کائنات

سیکنڈ ورلڈ وار (1939-1945) کے زمانے میں ایک تصور پیدا ہوا، جس کو زیرو ڈیفکٹ مینجمنٹ کہا جاتا ہے۔اس موضوع پر بہت سے آرٹکل اور بہت سی کتابیں شائع ہوئیں۔ جلد ہی یہ تصور ترقی یافتہ ملکوں میں تیزی سے پھیل گیا۔کئی ملکوں، مثلا ًامریکا اور جاپان، وغیرہ میں اس تصور کو بڑے پیمانے پرعمل میں لانے کی کوشش کی گئی۔ لیکن لمبے تجربے کے بعد یہ مان لیا گیا کہ زیرو ڈیفکٹ مینجمنٹ کا تصور ناقابل حصول ہے۔اس موضوع پر انٹرنیٹ میں کافی مواد موجود ہے۔ آپ نمونے کے طور پر حسب ذیل آرٹکل پڑھ سکتے ہیں:
The Concept of Zero Defects in Quality Management by Chandana Das (www.simplilearn.com)
دور جدید میں صنعتی اعتبار سے ترقی یافتہ ملکوں میں بڑے پیمانے پر یہ کوشش کی گئی کہ زیرو ڈیفکٹ مینجمنٹ قائم کیا جائے۔ اس موضوع پر بڑی تعداد میں ریسرچ ہوئی، اور کتابیں لکھی گئیں۔بیسویں صدی کے تقریباً پورے دور میں یہ کام جاری رہا۔ مگر اس مقصد میں مکمل ناکامی ہوئی۔ حالاں کہ دورِ جدید کے انتہائی ترقی یافتہ ملکوں نے اس عمل میں حصہ لیا۔ مثلاً امریکا اور جاپان، وغیرہ۔ دوسری طرف عین اسی وقت دور جدید کے سائنسی مطالعے سے یہ ثابت ہوا ہے کہ فطرت کا نظام، مثلاً ستاروں اور سیاروں کی گردش ،وغیرہ، انتہائی حد تک بے خطا انداز میں قائم ہیں۔ اگر آپ یہ جاننا چاہیں کہ کل ٹھیک ٹھیک کس وقت سورج نکلے گا، اور کس وقت ٹھیک وہ غروب ہوگا، تو آپ آج ہی اس کو نہایت درست انداز میں معلوم کرسکتے ہیں۔
ایک طرف یہ تجربہ ہے کہ انسانی دنیا میں زیرو ڈیفکٹ مینجمنٹ کا تصور مکمل طور پر ناکام ہوچکا ہے، اور دوسری طرف انسان کے سوا جو مادی دنیا ہے، اس میں یہ تصور کامل طور پر موجود ہے۔ مثلاً اگر آپ یہ جاننا چاہیں کہ 15 اپریل 2025 کو سورج کے طلوع ہونے، اور غروب ہونےکا وقت کیا ہوگا تو پیشگی طور پر آپ یہ معلوم کرسکتے ہیں کہ 15 اپریل 2025کو دہلی میں سورج کے طلوع اور غروب کا وقت حسب ذیل ہوگا:
طلوع آفتاب (Sun rise) 05:56 غروب آفتاب (Sun set) 18:46
سورج کے طلوع و غروب کےبارے میں یہ وقت اسی صحت (accuracy) کے ساتھ ساری دنیا کے بارے میں معلوم کیا جاسکتا ہے۔ اسی طرح پوری مادی دنیاکا نظام کامل صحت کے ساتھ چل رہا ہے۔ مادی دنیا کی سائنس کو اسٹرانومی ، فزکس، کیمسٹری، وغیرہ کہا جاتا ہے۔ اس مادی دنیا کا ریکاڑ ہزاروں سال پہلے، اور ہزاروں سال بعد تک معلوم کیا جاسکتا ہے، اور کسی ادنی فرق کے بغیر وہ یہی رہے گا۔ اس دنیا کے بارے میں اب تک کوئی فرق ریکارڈ نہیں کیا گیا ہے۔
آپ غور کیجیے کہ وہ مادی دنیا جو براہ راست خالق کے مینجمنٹ کے تحت چل رہی ہے، وہ شروع سے اب تک اسی زیرو ڈیفکٹ مینجمنٹ کے اصول پر قائم ہے۔ اس کے مقابلے میں انسان کی دنیا میں ، انسان جو منصوبہ بناتا ہے، مثلاً انڈسٹری کی دنیا ، وہاں انتہائی کوشش کے باوجود زیرو ڈیفکٹ مینجمنٹ کا نظام قائم نہ ہوسکا۔ یعنی ایک طرف اسپیس میں ڈیوائن مینجمنٹ کو دیکھیے، جو زیرو ڈیفکٹ مینجمنٹ کے اصول پر مسلسل چل رہا ہے۔ دوسری طرف ہیومن مینجمنٹ کو دیکھیے۔ اس دوسری دنیا میں تقریباً ایک صدی کی مسلسل کوشش کے باوجودد زیرو ڈیفکٹ مینجمنٹ کا نظام قائم نہ ہوسکا۔اس معاملے میں اگر آپ کو ہیومن مینجمنٹ کا تجربہ جاننا ہو، تو آپ انٹرنیٹ پر موجود اس مضمون کو پڑھیے:
Zero Defects, a term coined by Mr. Philip Crosby in his book “Absolutes of Quality Management” has emerged as a popular and highly-regarded concept in quality management—so much so that Six Sigma is adopting it as one of its major theories. Unfortunately, the concept has also faced a fair degree of criticism, with some arguing that a state of zero defects simply cannot exist. Others have worked hard to prove the naysayers wrong, pointing out that “zero defects” in quality management doesn’t literally mean perfection, but rather refers to a state where waste is eliminated and defects are reduced. It means ensuring the highest quality standards in projects. What Do We Mean by Zero Defects: From a literal standpoint, it’s pretty obvious that attaining zero defects is technically not possible in any sizable or complex manufacturing project.
(www.simplilearn.com. accessed on 13.03.19)
اب اس دو طرفہ تجربے کے اوپر مشہور فارمولے کو منطبق (apply) کیجیے کہ چیزیں اپنی ضد سے سمجھ میں آتی ہیں(تعرف الاشیاء باضدادہا):
It is in comparison that you understand
قرآن کی مختلف آیتوں میں اس بات کی طرف اشارہ کیا گیا ہے کہ انسان موجودہ دنیا میں جو نظام بناتا ہے، اور انسان کے باہر بقیہ کائنات میں جو نظام ہے، دونوں میں تقابل (comparison) کرکے دیکھو۔ یہ تقابلی مطالعہ(comparative study) بتائے گا کہ دونوں دنیاؤں میں بنیادی فرق ہے۔ انسان کی دنیا میں انسان جو نظام بناتا ہے، اس میں ساری کوشش کے باوجود زیروڈیفکٹ مینجمنٹ کا نظام قائم نہ ہوسکا۔ یہاں تک کہ یہ مان لیا گیا کہ انسان کی دنیا میں اس تصور کا حصول ممکن نہیں۔ دوسری طرف خدا کی قائم کردہ مادی دنیا میں یہ تصور پوری تاریخ میں انتہائی صحت (accuracy) کے ساتھ قائم ہے۔
اس فرق پر جب مذکورہ فارمولا کو منطبق کیا جائے تو خود انسانی تجربے کے مطابق یہ ثابت ہوتا ہے کہ اس کائنات کا مالک ایک برتر ہستی ہے، یعنی اللہ رب العالمین۔ انسان کی دنیا اور فزیکل سائنس (exact sciences) کی دنیا میں جو فرق ہے، وہ فرق خدا کے وجود کا ایک قطعی ثبوت ہے۔ یہی وہ حقیقت ہے، جس کو قرآن میں ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے:الَّذِی خَلَقَ سَبْعَ سَمَاوَاتٍ طِبَاقًا مَا تَرَى فِی خَلْقِ الرَّحْمَنِ مِنْ تَفَاوُتٍ فَارْجِعِ الْبَصَرَ ہَلْ تَرَى مِنْ فُطُورٍ۔ ثُمَّ ارْجِعِ الْبَصَرَ کَرَّتَیْنِ یَنْقَلِبْ إِلَیْکَ الْبَصَرُ خَاسِئًا وَہُوَ حَسِیرٌ(67:3-4) ۔ یعنی جس نے بنائے سات آسمان اوپر تلے، تم رحمٰن کے بنانے میں کوئی خلل نہیں دیکھو گے، پھر نگاہ ڈال کر دیکھ لو، کہیں تم کو کوئی خلل نظر آتا ہے۔ پھر بار بار نگاہ ڈال کر دیکھو، نگاہ ناکام تھک کر تمہاری طرف واپس آجائے گی۔
اسی طرح ایک آیت یہ ہے:أَفَلَمْ یَنْظُرُوا إِلَى السَّمَاءِ فَوْقَہُمْ کَیْفَ بَنَیْنَاھَا وَزَیَّنَّاھَا وَمَا لَہَا مِنْ فُرُوجٍ (50:6)۔ یعنی کیا ان لوگوں نے اپنے اوپر آسمان کو نہیں دیکھا، ہم نے کیسا اس کو بنایا اور اس کو رونق دی اور اس میں کوئی رخنہ نہیں۔ موجودہ زمانے میں کائنات کے بے خطا نظام کی یہ دریافت (discovery)اللہ رب العالمین کی ایک صفت کو ثابت شدہ بنا رہی ہے، اور وہ ہے: الْحَیُّ الْقَیُّومُ لَا تَأْخُذُہُ سِنَةٌ وَلَا نَوْمٌ(2:255)۔ یعنی وہ زندہ ہے، سب کا تھامنے والا۔ اس کو نہ اونگھ آتی ہے ،اور نہ نیند۔
٭٭٭٭٭
موجودہ زمانے کے سائنس دانوں نے جن چیزوں کی کھوج کی ہے، ان میں سے ایک بالائی تہذیب (alien civilizations)ہے۔ زمین پر انسانی تہذیب کے علاوہ کیا خلا میں کوئی اور تہذیب ہے، جو ہم سے زیادہ ترقی یافتہ ہے۔ پچھلے 25 برسوں کے سائنسی مطالعے نے کافی حد تک یہ امکان ظاہر کیا ہے کہ کائنات میں ہمارے علاوہ دوسری ’’ٹکنکل سولائزیشن‘‘ بھی ہوسکتی ہے۔
اس قیاس کی وجہ یہ ہے کہ سائنس دانوں کو کائنات میں ماورائی ذہانت (extraterrestrial intelligence) کے آثار ملے ہیں۔ ان آثار کا نتیجہ یہ ہونا چاہیے تھا کہ خدا کے وجود پر لوگوں کا یقین بڑھتا، مگر غیر خدا پرستانہ ذہن کا یہ کرشمہ ہے کہ وہ ماورائی ذہانت کو انسانی ذہانت سمجھ رہے ہیں۔ جو حقیقۃً خدا کا وجود ثابت کررہی ہے، اس کو اس معنی میںلے رہے ہیں کہ کائنات میں کسی سیارہ پر انسانی تہذیب جیسی کوئی اور تہذیب موجود ہے۔ حالاں کہ کائنات میں ’’ذہانت‘‘ کے آثار کا ملنا، اور ذہانت کا نظر نہ آنا، یہ ثابت کرتا ہے کہ یہ ذہانت اپنی نوعیت کے اعتبار سے غیر انسانی اور غیر مرئی (invisible)ہے، نہ کہ انسان کی طرح دکھائی دینے والی۔ (ڈائری، 7 جنوری 1984)
واپس اوپر جائیں

کائنات بول رہی ہے

کیرالا کے عیسائی مشن نے ایک کتابچہ شائع کیا ہے جس کا نام ہے:
Nature and Science Speak about God
اخباری سائز کی اس 28 صفحے کی کتاب میں کائنات کے متعلق سائنسی دریافتوں کے حوالے سے یہ واضح کیا گیا ہےکہ خدا کا وجود ایک حقیقت ہے اور اسے کسی طرح جھٹلایا نہیں جاسکتا— بچھو،بھڑاور اسی طرح کے بہت سے دوسرے پانی اور خشکی کے جاندار ہیں جو ڈنک مار کر دشمن کا مقابلہ کرتے ہیں یا شکار کو قابو میں لاتے ہیں۔ ان کے ڈنک کی نوک پر ایک نہایت چھوٹا سوراخ ہوتا ہے جس کے ذریعہ وہ ایک قسم کا زہر اپنے دشمن کے جسم میں داخل کردیتے ہیں۔ یہ سوراخ اگر ڈنک کے بالکل سرے پر ہوتا تو ڈنک چبھوتے وقت سوراخ بند ہوجاتا۔ اس کے علاوہ خود چبھونے میں ڈنک زیادہ اچھی طرح کام نہ کرتا۔ یہی وجہ ہے کہ ڈنک کی نوک کا سوراخ ہمیشہ ذرا سا ترچھا ہوتا ہے۔ ٹھیک اسی طرح جیسے ڈاکٹر کی سرینج (syringe) میں ہوتا ہے۔‘‘ یہ ایک بہت چھوٹی سی مثال ہے۔ اسی طرح جس چیز کو دیکھیے اس کے اندر ایک نہایت ذہین نقشہ سازی نظر آئے گی۔ کائنات کوڑا کرکٹ کا ایک بے ترتیب انبار نہیں ہے، بلکہ اس کے اندر زبردست مقصدیت اور نظم پایا جاتا ہے۔ کیا ایک شعور ی منصوبہ بندی کے بغیر ایسا ہوسکتا ہے۔
دیمک اپنے قدکے مقابلے میں ہزار گنا بڑا مکان بناتے ہیں۔ اگر ہم اپنی جسامت کی نسبت سے اتنا بڑا مکان بنائیں تو ہم کو ایک میل سے بھی زیادہ اونچی تعمیر کرنی پڑے گی۔ دیمک لکڑی میں رہ سکتے ہیں اور اسی کے اندر اپنے مکانات تراشتے ہیں ان کی زندگی کے مطالعہ سے بے شمار حیرت انگیز واقعات سامنے آئے ہیں۔ صرف ایک مثال لیجیے۔ دیمک لکڑی کو کھاتے ہیں۔ پتھر کے بعد لکڑی تمام معلوم چیزوں میں سب سے زیادہ عسیر الہضم (indigestible)ہے، مگر دیمک کے لیے یہ کوئی مشکل کام نہیں۔ وہ اس مقصد کے لیے مخصوص جبڑے رکھتے ہیں جو آرے کا کام دینے کے ساتھ ساتھ پیسنے کا کام بھی کرتے ہیں۔ تاہم لکڑی خواہ کتنی ہی پیس ڈالی جائے، وہ بہر حال لکڑی ہی رہے گی، اور پیٹ میں جاکر غذا کی ضرورت پوری کرنے کے بجائے صرف بدہضمی پیدا کرے گی۔ پھر کیا چیز ہے، جو دیمک کی مدد کرتی ہے۔ اس کام کے لیے دیمک کی آنتوں میں نہایت چھوٹےچھوٹے خوردبینی کیڑے موجود ہیں۔ یہ کیڑے نگلی ہوئی لکڑی پر مخصوص عمل کرکے اس کے اندر ایسی تبدیلیاں پیدا کردیتے ہیں کہ وہ ہضم ہو کر جزو بدن ہوسکے۔ یہ حیرت انگیز انتظام کون کرتاہے۔
مرغی کے انڈے پر غور کیجئے۔ ہر ایک انڈے میں سات ایسی مختلف خصوصیات پائی جاتی ہیں، جو اتنی اہم ہیں کہ ان میں سے ایک بھی اگر نہ ہو تو انڈا، انڈا نہ رہے گا — چونے کا خول،خول کے اندر مسامات جو ہوا کو گزرنے کا راستہ دیتے ہیں، پتلی جھلی جو اَستر کی طرح چاروں طرف ہوتی ہے، زردی اور سفیدی جو خول کےاندر بچے کی غذا ہیں، بچے کا جرثومہ، تار جو جرثومے کو صحیح رُخ پر باقی رکھتے ہیں۔ان میں سے کسی ایک چیز کو انڈے سے الگ کردیجیے، اور انڈا کبھی بھی چوزے کی پرورش گاہ نہیں بن سکے گا۔ کیا یہ سات مختلف چیزیں محض اتفاق سے یکجا ہوگئی ہیں، ’’اتفاق‘‘ ان سات مختلف چیزوں کی موجودگی کی تشریح نہیں کرسکتا، جو ٹھیک اور بالکل صحیح حالت میں پائی جارہی ہیں۔ اس سے زیادہ عجیب بات یہ ہے کہ اتفاق سے صرف یہی چیزیں کیوں اکھٹا ہوئیں۔ کیوں نہ درخت کی پتّی ، کوئی لکڑی، پتھر کا ایک ٹکڑا اور اس طرح کی ہزاروں چیزیں جن کا موجود ہونا ممکن تھا خول کے اندر آگئیں، جن میں سے کوئی ایک چیز بھی اگر وہاں ہوتی تو وہ سارے انڈے کو برباد کردیتی۔ سب سے زیادہ عجیب بات یہ ہے کہ جب مرغی کا بچہ اس قابل ہوجاتا ہے کہ انڈے سے باہر نکلے، اس وقت اس کی چونچ پر ایک چھوٹی سی سخت سینگ ظاہر ہوتی ہے۔ اس کی مدد سے وہ اپنے خول کو توڑ کر باہر آجاتا ہے۔ سینگ اپنا کام پورا کرکے بچہ کی پیدائش کے چند دن بعد خود بخود جھڑ جاتی ہے۔
خود اپنے وجود پر غور کیجیے۔ انسان کو جو جسم حاصل ہے وہ کس قدر حیرت انگیز ہے۔ دماغ کو دیکھیے۔ ایک ایسا ٹیلی فون اکسچینج جو ہر آن زمین کے تمام مردوں، عورتوں اور بچوں سے تعلق جوڑے ہوئے ہو، ان سے پیغامات وصول کرتا ہو اور ان کے نام پیغام بھیجتا ہو، اگر آپ ایک ایسے ٹیلی فون اکسچینج (exchange)کا تصور کرسکیں تو آپ دماغ کے ناقابل یقین حد تک پیچیدہ نظام کا صرف ایک ہلکا سا اندازہ کرسکتے ہیں۔
آپ کے دماغ(brain)کے اندر تقریباً ایک ہزار ملین عصبی خانے (nerve cells) ہیں۔ ہر خانے سے بہت باریک تار نکل کر تمام جسم کے اندر پھیلے ہوئے ہیں جن کو عصبی ریشے (nerve fibres) کہتے ہیں۔ ان پتلے ریشوں پر خبر وصول کرنے اور حکم بھیجنے کا ایک نظام تقریباً ستر میل فی گھنٹہ کی رفتار سے دوڑتا رہتا ہے۔
دل کو دیکھیے، اس کا اوسط قد چار انچ لمبا اور ڈھائی انچ چوڑا ہوتا ہے۔ اس کا وزن آٹھ اونس سے زیادہ نہیں ہوتا مگر انسانی جسم کا یہ چھوٹا سا پمپ رات دن مسلسل چلتا رہتا ہے۔ اس کی حرکت دن میں ایک لاکھ بار ہوتی ہے اور وہ ہر تیرہ سکنڈ میں تقریباً ایک گیلن خون سارے جسم میں بھیج دیتا ہے۔ ایک سال میں دل جتنا خون پمپ کرتا ہے وہ اتنا ہوتا ہے جو ایک ایسی ٹرین کو پوری طرح بھر سکے، جو 65 بڑے بڑے تیل کے ویگن لیے ہوئے ہو۔ دل کی اس حیرت انگیز کارکردگی کو حاصل کرنے کے لیے عجیب وغریب ہنر مندی کے ساتھ اس کو موزوں ترین بنایا گیا ہے۔
کائنات میں اس طرح کی بے شمار چیزیں ہیں جن کی صرف فہرست بنانے کے لیے ایک پوری لائبریری کی ضرورت ہوگی، جب کہ انسان کا علم کائنات کے موجود حقائق کی نسبت سے کچھ بھی نہیں ہے۔ جو کچھ ہم نے دیکھا ہے، اس سے کہیں زیادہ ہے وہ چیز جس کو دیکھنا ابھی باقی ہے۔
یہ حیرت انگیز کاریگری، یہ مکمل منصوبہ بندی، یہ اعلی ترین ذہانت کیا محض اتفاق (chance) سے وقوع میں آگئی ہے۔ بے شک بعض اوقات محض اتفاق سے بھی کوئی واقعہ ظاہر ہوجاتا ہے۔ مثلاً ہوا کا ایک جھونکا کبھی سرخ گلاب کے زیرہ (pollen) کو اڑا کر سفید گلاب پر ڈال دیتا ہے، جس کے نتیجے میں زرد رنگ کا پھول کھلتا ہے۔ مگر اس قسم کا اتفاق محض جزوی اور خفیف تبدیلیاں پیدا کرسکتا ہے۔ وہ صرف اس مخصوص رنگ کے گلاب کی توجیہہ کرتا ہے، نہ کہ وہ گلاب کے پورے وجود کا سبب ہے۔ اتفاق ہر گز اس کی توجیہہ نہیں کرسکتا کہ ایک مخصوص قسم کا نظام اس قدر تسلسل کے ساتھ کیوں جاری ہے۔ وہ ہم کو نہیں بتاتا کہ ہماری دنیا میں باقاعدگی اور تنظیم کیوں پائی جاتی ہے۔’’اتفاق‘‘ کا عمل کبھی بھی یکساں طور پر نہیں ہوسکتا۔ اتفاق کے لیے ممکن نہیں ہے کہ جو کچھ آج ہوا اسی کو کل بھی وجود میں لائے۔ پھر کیوں تمام چیزیں ہمیشہ یکسانیت کے ساتھ ایک ہی شکل میں ظاہر ہورہی ہیں۔ ان میں نظم اور باقاعدگی کیوں پائی جاتی ہے۔
کچھ دھات کے ٹکڑے ہوا میں اچھالے جائیں تو کیا یہ ممکن ہے کہ وہ ڈھلے ہوئے حروف کی شکل میں زمین پر گریں اور گرتے ہی ایک بامعنی عبارت کی شکل میں کاغذ کے صفحہ پر اکھٹاہوجائیں۔ اگر ایسا محض اتفاق سے نہیں ہوسکتا تو یہ کیوں فرض کرلیا گیا ہے کہ اتنی بڑی دنیا اتنی حیرت انگیز خصوصیات کے ساتھ محض اتفاق سے وجود میں آگئی ہے۔ ایک نظریہ جس کو کسی تجربہ گاہ میں ثابت نہیں کیا جاسکتا اس کو علمی طور پر منوانے کی کیا دلیل ہے۔
دوسری توجیہہ جس پر مادہ پرست علماء انحصار کرتے ہیں وہ قانونِ قدرت (nature)ہے۔ ’’مرغی کے انڈوں سے بچے کیوں 21روز میں نکلتے ہیں، اور شتر مرغ کے انڈوں سے 45 روز میں۔‘‘ اس طرح کے بے شمار سوالات ہیں جن کا جواب مادی علماء کے نزدیک یہ ہے کہ ’’یہ ایک قانونِ فطرت ہے۔‘‘ بظاہر یہ ایک توجیہہ ہے مگر درحقیقت یہ جواب صرف ایک واقعہ کو بیان کرتا ہے۔ قانونِ فطرت کا لفظ بول کر ہم صرف کائنات کے نظم اور اس کی کارکردگی کا اعتراف کرتے ہیں۔ یہ لفظ اس کی توجیہہ نہیں کرتا کہ یہ نظم اور کارکردگی کیوں قائم ہے۔ یہ لفظ صرف یہ بتاتا ہے کہ چیزیں ہمیشہ ایک متعین اصول کے تحت وجود میں آتی ہیں اور ہمیشہ اسی طرح وجود میں آئیں گی۔ اس سے یہ نہیں معلوم ہوتا کہ جو کچھ ہورہا ہے، وہ کیوں ہورہا ہے۔ وہ واقعہ کا سبب نہیں بتاتا بلکہ صرف واقعہ کی تصویر پیش کرتاہے۔
اگر آپ کسی ڈاکٹر سے پوچھیں کہ خون سرخ کیوں ہوتا ہے تو وہ جواب دے گا کہ اس کی وجہ یہ ہے کہ خون میں نہایت چھوٹے چھوٹے سرخ اجزاء ہوتے ہیں(ایک انچ کے ساتھ ہزار ویں حصے کے برابر) جن کو سرخ ذرات کہاجاتا ہے۔
’’درست، مگر یہ ذرات سرخ کیوں ہوتے ہیں؟‘‘
’’ان ذرات میں ایک خاص مادہ ہوتاہے جس کا نام ہیموگلوبن (haemoglobin) ہے، یہ مادہ جب پھیپھڑے میں آکسیجن جذب کرتا ہے تو سرخ ہوجاتا ہے۔‘‘
’’ٹھیک ہے، مگر ہیموگلوبن کے حامل سرخ ذرات آخر کہاں سے آئے۔‘‘
’’وہ آپ کی تِلّی (spleen)میں بن کر تیار ہوتے ہیں۔‘‘
ڈاکٹر صاحب! جو کچھ آپ نے فرمایا، وہ بہت عجیب ہے، مگر مجھے بتائیے کہ ایسا کیوں ہے کہ خون، سرخ ذرّات، تلّی اور دوسری ہزاروں چیزیں اس طرح ایک کُل کے اندر باہم مربوط ہیں، وہ اس قدر صحت کے ساتھ یک جا ہوکر کیسے عمل کرتی ہیں کہ میں سانس لیتا ہوں، میں دوڑتا ہوں، میں بولتا ہوں، میں زندہ ہوں۔‘‘
’’یہ قدرت کا قانون ہے۔‘‘
’’وہ کیا چیز ہے جس کو آپ قانونِ قدرت کہتے ہیں۔‘‘
’’اس سے میری مراد طبیعی اور کیمیاوی طاقتوں کا اندھا عمل ہے۔‘‘
’’مگر کیا وجہ ہے کہ یہ اندھی طاقتیں ہمیشہ ایسی سمت میں عمل کرتی ہیں، جو انھیں ایک متعین انجام کی طرف لے جائے۔ کیسے وہ اپنی سرگرمیوں کو اس طرح منظم کرتی ہیں کہ ایک چڑیا اُڑنے کے قابل ہوسکے، ایک مچھلی تیر سکے اور ایک انسان اپنی مخصوص صلاحیتوں کے ساتھ وجود میں آئے۔‘‘
’’میرے دوست ، مجھ سے یہ نہ پوچھو، سائنس داں صرف یہ بتا سکتا ہے کہ جو کچھ ہورہا ہے وہ کیا ہے۔ اس کے پاس اس سوال کاجواب نہیں ہے کہ جو کچھ ہورہا ہے وہ کیوں ہو رہا ہے۔‘‘
یہ سوال وجواب موجودہ سائنس کی حقیقت واضح کررہا ہے۔ بے شک سائنس نے ہم کو بہت سی نئی باتیں بتائی ہیں۔ مگر اس نے جو کچھ بتایا ہے وہ صرف کچھ ہونے والے واقعات ہیں۔ وہ واقعات کیوں کر ہورہے ہیں اس کا جواب سائنس کے پاس نہیں ہے۔ ایک مکھی کے نازک اعضاء کس طرح کام کرتے ہیں۔ بے شک سائنس نے اس سلسلے میں ہم کو بہت کچھ بتایا ہے، مگر وہ کون ذہن ہے، جس نے سوچا کہ مکھی کو ان نازک اعضاء کی ضرورت ہے، اور اس کو کمال کاریگری کے ساتھ ایسے اعضا فراہم کیے۔ کائنات کے نظم اوراس کی موزونیت کی تشریح کرنے کے لیے اور یہ بتانے کے لیے کہ مختلف قسم کی بے شمار اندھی طاقتیں ایک مخصوص انجام کی طرف اپنا عمل کیوں کرتی ہیں — ہم کو ان طاقتوں کی موجودگی کے سوا کس چیز کی ضرورت ہے۔ ایک بچھے ہوئے بستر کی تشریح محض اس طرح نہیں ہوسکتی کہ آپ چادر، تکیہ اور پلنگ کے نام لے لیں۔ ایک محل، نام ہے لاکھوں اینٹیں اور دوسری چیزیں اپنے صحیح ترین مقام پر نصب ہونے کا۔ انسانی جسم کے کسی چھوٹے سے چھوٹے عضو کے وجود میں آنے کے لیے ضروری ہے کہ کروروں ایٹم ایک منفرد اور مخصوص ترتیب کے ساتھ یک جا ہوں۔ اندھی طاقتیں ہر گز اس طرح کی مقصدیت کا اظہار نہیں کرسکتیں، وہ واقعات کے اندر معنویت اور ہم آہنگی پیدا نہیں کرسکتیں۔
حقیقت یہ ہے کہ فطرت کا قانون کائنات کا ایک واقعہ ہے، وہ کائنات کی توجیہہ نہیں ہے۔ یہ ایک ایسا واقعہ ہے جو خود اپنے وجود کے لیے ایک توجیہہ کا طالب ہے۔ اس موقع پر مصنف کے الفاظ نقل کرنے کے قابل ہیں۔ وہ لکھتا ہے— قانونِ قدرت کائنات کی تشریح نہیں کرتا۔ وہ خود اس کا طالب ہے کہ اس کی تشریح کی جائے
Nature does not explain, she is herself in need of an explanation.
اس کا مطلب یہ ہے کہ کسی چیز میں معنویت کا ہونا، اس بات کا صریح ثبوت ہے کہ اس کے پیچھے کوئی ذہن کام کررہا ہے۔زندگی کا جرثومہ جو ایک مرد کے جسم میں پرورش پاتا ہے، وہ جسم کے دوسرے خلیوں (cells)کے بالکل مشابہ ہوتا ہے، مگر اس میں دوسرے خلیوں سے بالکل مختلف خصوصیت ہوتی ہے، اس کے اندر یہ صلاحیت ہوتی ہے کہ عورت کے ایک خلیہ سے ہم آہنگ ہو کر مکمل طورپر ایک نیا انسان وجود میں لاسکے۔ یہ کس طرح ممکن ہوتاہے کہ دو خلیے جن میں سے ہر ایک دو بالکل مختلف جسموں میں پرورش پاتے ہیں، وہ اس قدر حیرت انگیز طورپر باہم مل کر عمل کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ کیا ایک تخلیقی ذہن کی کارفرمائی تسلیم کیے بغیر اس کی تشریح کی جاسکتی ہے۔
کائنات میں ایک تخلیقی ذہن کو ماننا محض ایک بے بنیاد روایت کو ماننا نہیں ہے۔ دراصل بہت سے ناگزیر نتائج ہم کواس عقیدہ تک پہنچاتےہیں، بے شمار علمی حقیقتیں ہم کو مجبور کرتی ہیں کہ ہم کائنات کے پیچھے ایک ذہن کی کارفرمائی تسلیم کریں۔ ٹھیک اسی طرح جیسے ریڈیو کی آواز ہم کو یہ ماننے پر مجبور کرتی ہے کہ ہم کچھ لہروں کی موجودگی تسلیم کریں، حالانکہ ہم ان لہروں کو بالکل نہیں دیکھتے۔ گلاس میں شکر ڈالیں تو تھوڑی دیر میں وہ اس طرح گھل مل جائے گی کہ آنکھوں کو دکھائی نہیں دے گی۔ مگر زبان سے چکھ کر آپ پانی میں شکر کی موجودگی کو معلوم کرسکتے ہیں۔ اسی طرح خدا آنکھوں کو نظر نہیں آتا مگر جب ہم اپنے گردوپیش کی دنیا کا مطالعہ کرتے ہیں تو ہمارا وجدان (intuition)پکار اٹھتا ہے کہ بےشک یہاں ایک خداہے، اس کے بغیر موجودہ کائنات وجود میں نہیں آسکتی تھی۔
حقیقت یہ ہے کہ علم کے اضافہ نے انسان کو خدا سے دور نہیں کیا بلکہ اور اس کے قریب کیا ہے۔ خدا کے وجود پر شک کرنا محض اپنی جہالت کا اعلان کرنا ہے۔ پاسچر کا قول کس قدر صحیح ہے جس کو مصنف نے کتاب کے صفحہ اول پر درج کیاہے:
A smattering of science turns people away from God—Much of it brings them back to Him.
معمولی علم آدمی کو خدا سے دور کرتاہے، زیادہ علم اس کو خدا سے قریب کرنے والا ہے۔
٭٭٭٭٭
موجودہ زمانہ کے ماہرین نے اندازہ لگایا ہے کہ انسان کے دماغ (brain) میں جو پارٹیکل ہیں وہ پوری کائنات کے مجموعی پارٹیکل سے بھی زیادہ ہیں۔ انسانی دماغ کی استعداد بے پناہ ہے مگر کوئی بڑے سے بڑا انسان بھی اب تک اپنے دماغ کو دس فی صد سے زیادہ استعمال نہ کرسکا۔
حقیقت یہ ہے کہ آدمی ایک امکان ہے۔ مگر موجودہ دنیا اپنی محدودیتوں کے ساتھ اس امکان کے ظہور کے لیے ناکافی ہے۔ انسانی امکان کے ظہور میں آنے کے لیے ایک لامحدود اور وسیع تر دنیا درکار ہے۔
جنت کی دنیا، ایک اعتبار سے، اسی لیے بنائی گئی ہے کہ وہاں آدمی کے امکانات پوری طرح ظہور میں آسکیں۔
واپس اوپر جائیں

ذہین کائنات

نظام شمسی سورج اور ان تمام غیر روشن اجرام فلکی کے مجموعے کو کہتے ہیں، جو براہ راست یا بالواسطہ طور پر سورج کی ثقلی گرفت (gravitational pull)میں ہیں،اور سورج کے اردگرد اپنے مخصوص مدار میں گھوم رہے ہیں۔معلوم نظام شمسی ابھی تک صرف ایک ہے، جس میں ہماری زمین واقع ہے۔ تاہم علمائے فلکیات کا قیاس ہے کہ اس قسم کے مزید ایک ملین نظام شمسی کائنات میں ہوسکتے ہیں۔
کہکشاں اس مجموعہ کو کہتے ہیںجس میں روشن ستارے ایک خاص نظام کے اندر گردش کررہے ہیں۔ ہماری قریبی کہکشاں (Milky Way) جورات کے وقت لمبی سفید دھاری کی شکل میں دکھائی دیتی ہے، اس کے اندر تقریباً ایک کھرب ستارے ہیں۔ ہمارا نظام شمسی(solar system) اسی میں واقع ہے۔
سورج ہماری کہکشاں کی پلیٹ پر اپنے تمام سیاروں کو لیے ہوئے 175 میل فی سکنڈ کی رفتار سے گردش کررہا ہے۔ یہ کہکشاں اتنی وسیع ہے کہ سورج کے اس تیز رفتار سفر کے باوجود کہکشاں کے مرکز کے گرد ایک چکر کو پورا کرنے میں ہمارے نظام شمسی کو 20 کروڑ سال لگ جاتے ہیں۔ اس قسم کی ایک بلین سے زیادہ کہکشائیں وسیع کائنات میں پائی جاتی ہیں، اور ہر کہکشاں کے اندر کئی بلین انتہائی بڑے بڑے ستارے موجود ہیں۔
کہکشاں کے اندر ستارے انتہائی بعید فاصلوں پر واقع ہیں۔ ہمارے سورج سے قریب ترین ستارے کی روشنی جو ایک لاکھ چھیاسی ہزار میل فی سکنڈ کی رفتار سے سفر کررہی ہو، زمین تک اس کے پہنچنے میں 4 سال سے بھی زیادہ وقت لگ جاتا ہے۔
اجرامِ سماوی کے اتنے بڑے نظام کو کیا چیز تھامے ہوئے ہے، فلکیات دانوں کے نزدیک وہ اجرام سماوی کی باہمی کشش ہے۔ کیسی عجیب بات ہے کہ ’’اجرام سماوی کی باہمی کشش‘‘ کے لفظ کی معنویت کوآدمی سمجھ لیتا ہے۔ مگر ’’خدا‘‘ کے لفظ کی معنویت اس کی سمجھ میں نہیں آتی۔
واپس اوپر جائیں

کائنات کی توجیہہ

طبیعیات کے جدیدمطالعے سے معلوم ہوا ہے کہ تقریباً 14 بلین سال پہلے خلا میں ایک کاسمک بال تھا، اس کاسمک بال میں دھماکہ ہوا جس کو بگ بینگ کہاجاتاہے۔ یہ کائنات کا آغاز تھا۔ مطالعہ مزید بتاتاہے کہ دھماکے کے بعد ایک سیکنڈ کے اندر ایک اور واقعہ ہوا جس نے ذروں کو نہایت تیز رفتاری کے ساتھ خلا کی وسعت میں پھیلا دیا۔ اس کے بعد تدریجی طور پر موجودہ کائنات بنی۔
ایٹمی ذرات کے رفتار میں تبدیلی ایک بے حد انوکھا واقعہ ہے۔ یہ واقعہ اپنے آپ نہیں ہوسکتا۔ یہ ایک انٹروینر (intervener) کو بتاتا ہے۔ اتفاق (accident) جیسے الفاظ اس کی توجیہہ نہیں کرسکتے۔ یہ ایک بے حد بامعنی واقعہ تھا اور صرف ایک بامعنی توجیہہ (meaningful explanation) ہی اِس واقعے کی تشریح کرسکتی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اِس قسم کی دریافتوں نے انسان کو معرفتِ الٰہی کے عین دروازے تک پہنچا دیا ہے۔ اب صرف اتنا ہی باقی ہے کہ لفظی طورپر اس کا اعتراف کرلیا جائے۔
Universe Origins: Giant Boost for Big Bang Theory
London: An international team of astrophysicists has discovered the signal left in the sky by the super-rapid expansion of space that would have occurred fractions of a second after everything came into being following the Big Bang. Announcing their finding over a global press call, scientists from Harvard Smithsonian Centre for Astrophysics said researchers from the BICEP2 (Background Imaging of Cosmic Extragalactic Polarization) collaboration have found this first direct evidence for this cosmic inflation, a theory pioneered by Prof Alan Guth among others. Almost 14 billion years ago the universe burst into existence in an extraordinary event that initiated the Big Bang, they said. It has been theorized that in the first fleeting fraction of a second the universe expanded exponentially in what is described as the first tremors of the Big Bang, stretching far beyond the view of our best telescopes. Their data also represents the first images of gravitational waves or ripples in space-time. The team analysed their data for more than three years in an effort to rule out any errors.They also considered whether dust in our galaxy could produce the observed pattern, but the data suggest this is highly unlikely. Harvard theorist Avi Loeb said this work offers new insights into some of our most basic questions: Why do we exist ? How did the universe begin??? These results not only offer strong evidence for inflation, they also tell us when inflation took place and how powerful the process was. These ground breaking results came from observations by the BICEP2 telescope of the cosmic microwave background, a faint glow left over from the Big Bang. (The Times of India, New Delhi, March 19, 2014, p. 23)
٭ ٭ ٭٭ ٭
بظاہر سائنس خدا کے بارہ میں غیر جانب دار ہے۔ مگر یہ غیر جانب داری سراسر مصنوعی ہے۔ سائنسی مطالعہ واضح طورپر یہ بتاتا ہے کہ کائنات کا نظام ایسے محکم انداز میں بنا ہے کہ اس کے پیچھے ایک خالق کو مانے بغیر اس کی توجیہہ ممکن نہیں:
In 1932, Sir James Jeans, an astrophysicist said: “The universe appears to have been designed by a pure mathematician”. (Encyclopedia Britannica [1984] 15/531)
یعنی سرجیمز جینز نے 1932 میںکہا تھا کہ بظاہر معلوم ہوتا ہے کہ کائنات کا نقشہ ایک خالص ریاضی داں نے تیار کیا ہے۔
سر جیمز جینز نے جو بات کہی تھی، دوسرے متعدد سائنس دانوں نے بھی مختلف الفاظ میں اس کا اقرار کیا ہے۔حقیقت یہ ہے کہ کائنات کا ریاضیاتی اصولوں پر بننا، اور اس کا ریاضیاتی اصولوں پر حرکت کرنا، اس بات کا ثبوت ہے کہ اس کے پیچھے ایک ایسا ذہن کام کررہا ہے، جو ریاضیاتی قوانین کا شعور رکھتا ہے۔
واپس اوپر جائیں

سائنس سے معرفت تک

سائنس کیا ہے۔ سائنس در اصل ایک منظم علم کا نام ہے۔ سائنس سے مراد وہ علم ہے جس میں کائنات کا مطالعہ موضوعی طور پر ثابت شدہ اصولوں کی روشنی میں کیا جاتا ہے:
Science: the systematized knowledge of nature and the physical world.
کائنات کی حقیقت کے بارے میں انسان ہمیشہ غور و فکر کرتا رہا ہے۔ سب سے پہلے روایتی عقائد کی روشنی میں ، اس کے بعد فلسفیانہ طرز فکر کی روشنی میں، اور پھر سائنس کے مسلمہ اصولوں کی روشنی میں۔سائنس کا موضوع کائنات (physical world) کا مطالعہ ہے۔ تقریباً چار سو سال کے مطالعے کے ذریعے سائنس نے جو دنیا دریافت کی ہے، وہ استنباط (inference) کے اصول پر خالق کے وجود کی گواہی دے رہی ہے۔ لیکن قدیم زمانے میں غالباً کسی سائنسداں نے کھلے طور پر خدا کے وجود کا اقرار نہیں کیا ہے۔ ان کے بارے میں یہی کہا جاسکتا ہے کہ البرٹ آئن سٹائن (1879-1955) کی طرح ان کا کیس کھلے طور پر خدا کے انکار (atheism)کا کیس نہیں ہے، بلکہ ان کا کیس لا ادری (agnosticism) کا کیس ہے۔
طبیعیاتی سائنس کے میدان میں پچھلی چار صدیوں میں تین انقلابی ڈیولپمنٹ پیش آئے ہیں۔ اول، برٹش سائنس داں نیوٹن کا مفروضہ کہ کائنات کی بنیادی تعمیر ی اینٹ مادہ ہے۔ اس کے بعد بیسویں صدی کے آغاز میں جرمن سائنس داں آئن سٹائن کا یہ نظریہ سامنے آیا کہ کائنات کی تعمیری اینٹ توانائی ہے، اور اب آخر میں ہم امریکن سائنس داں ڈیوڈ بام کے نظریاتی دور میں ہیں، جب کہ سائنس دانوں کی زیادہ سے زیادہ تعداد یہ مان رہی ہے کہ کائنات کی بنیادی تعمیری اینٹ شعور ہے۔ یہ تبدیلیاں لازمی طور پر ایک نئے فلسفے کو جنم دیتی ہیں، جب کہ فلسفہ مادیت سے گزر کر عملا ًروحانیت تک پہنچ گیا ہے:
In the realm of the physical science, we have had three major paradigm shifts in the last four centuries. First, we had the Newtonian hypothesis that matter was the basic building block of the universe. In the early twentieth century, this gave way to the Einsteinian paradigm of energy being the basic building block. And the latest is the David Bohm era when more and more scientists are accepting consciousness to be the basic building block. These shifts have had inevitable consequences for the New Age philosophy, which has moved away from the philosophy of crass materialism to that of spirituality.
وہ دور جس کو سائنسی دور کہا جاتا ہے، اس کا آغاز تقریباً سو سال پہلے مغربی یورپ میں ہوا۔ دھیرے دھیرے عمومی طور پر یہ تاثر بن گیا کہ سائنس حقیقت کو جاننے کا سب سے اعلیٰ ذریعہ ہے۔ جو بات سائنس سے ثابت ہوجائے، وہی حقیقت ہے، جو بات سائنسی اصولوں کے ذریعہ ثابت نہ ہو، وہ حقیقت بھی نہیں۔ابتدائی صدیوں میں سائنس خالص مادی علم کے ہم معنی بن گیا۔ چوں کہ مذہبی حقیقتیں مادی معیار استدلال پر بظاہر ثابت نہیں ہوتی تھیں، اس لیے مذہبی حقیقتوں کو غیر علمی قرار دے دیا گیا۔ لیکن علم کا دریا مسلسل آگے بڑھتا رہا، یہاں تک کہ وہ وقت آیا جب کہ خود سائنس مادی علم کے بجائے عملاً غیر مادی علم کے ہم معنی بن گیا۔
سائنس اور عقیدۂ خدا
پچھلی صدیوں کی علمی تاریخ بتاتی ہے کہ سائنس کے ارتقا کے ذریعے پہلی بار استدلال کی ایسی علمی بنیاد وجود میں آئی جو عالمی طور پر مسلمہ علمی استدلال کی حیثیت رکھتی تھی، پھر اس میں مزید ارتقا ہوا، اور آخر کار سائنس ایک ایسا علم بن گیا جو مسلمہ عقلی بنیاد پر یہ ثابت کر رہا تھا کہ کائنات ایک بالاتر شعور کی کار فرمائی ہے۔ ایک سائنس داں نے کہا ہے —کائنات کا مادہ ایک ذہن ہے:
The stuff of the world is mind-stuff (Eddington)
1927 میں بلجیم کے ایک سائنس داں جارجز لیمٹری (Georges Lemaitre) نے بگ بینگ (Big Bang) کا نظریہ پیش کیا۔اِس نظریے پر مزید تحقیق ہوتی رہی، یہاں تک کہ اِس کی حیثیت ایک مسلّمہ واقعہ کی ہوگئی۔ آخر کار 1965 میں بیگ گراؤنڈ ریڈی ایشن (background radiation) کی دریافت ہوئی۔ اِس سے معلوم ہوا کہ کائنات کے بالائی خلا میں لہر دار سطح (ripples) پائی جاتی ہیں۔ یہ بگ بینگ کی شکل میں ہونے والے انفجار کی باقیات ہیں۔ اِن لہروں کو دیکھ کر ایک امریکی سائنس داں جویل پرائمیک (Joel Primack) نے کہا تھا— یہ لہریں خدا کے ہاتھ کی تحریر ہیں:
The ripples are no less than the handwriting of God.
جارج اسموٹ 1945 میں پیداہوا۔ وہ ایک امریکی سائنس داں ہے۔ اس نے 2006 میں فزکس کا نوبل پرائز حاصل کیا۔ یہ انعام اُن کو ’کاسمک بیک گراؤنڈ ایکسپلورر، کے لیے کام کرنے پر دیاگیا۔ 1992 میں جارج اسموٹ نے یہ اعلان کیا کہ بالائی خلا میں لہردار سطحیںپائی جاتی ہیں۔ یہ بگ بینگ کی باقیات ہیں۔ اُس وقت جارج اسموٹ نے اپنا تاثر اِن الفاظ میں بیان کیا تھا— یہ خدا کے چہرے کو دیکھنے کے مانند ہے:
George Fitzgerald Smoot III (born February 20, 1945) is an American astrophysicist and cosmologist. He won the Nobel Prize in Physics in 2006 for his work on the Cosmic Background Explorer. In 1992 when George Smoot announced the discovery of ripples in the heat radiation still arriving from the Big Bang, he said it was “like seeing the face of God.” (God For The 21st Century, Templeton Press, May 2000)
مشہور سائنس داں ڈاکٹر اسٹیفن ہاکنگ نے کہا ہے :
There is a ‘‘grand design” to the universe, but it has nothing to do with God. Science is coming close to “The Theory of Everything” and when it does, we will know the grand design. (Catherine Giordano: Here’s Why Stephen Hawking Says There Is No God [www.owlcation.com])
وہ ایک دوسری جگہ کہتے ہیں
One can’t prove that God doesn’t exist, but science makes God unnecessary. (www.en.wikipedia.org/wiki/The_Grand_Design_(Book)
کوانٹم فزکس کے نظریے کو اگر اس معاملے پر منطبق کیا جائے تو یہ کہا جاسکتا ہے :
Probably, there is a God
یہ خالص سائنس کا موقف ہے۔ لیکن جہاں انسان کے وجدان (intuition) کا تعلق ہے۔ اس کی سطح پر خدا کا وجود اتنا ہی یقینی ہے، جتنا کہ انسا ن کا وجود۔
جب یہ بات ثابت ہوجائے کہ کائنات کی تخلیق کے پیچھے ایک عظیم ذہن (mind) کی کار فرمائی ہے۔ کائنات کے اندر جو معنویت ہے، جو منصوبہ بندی ہے، جو بے نقص ڈزائن ہے، وہ حیرت انگیز طور پر ایک اعلیٰ ذہن کے وجود کو بتاتا ہے۔ کائنات میں ان گنت چیزیں ہیں۔ لیکن ہر چیز اپنے فائنل ماڈل پر ہے۔ کائنات میں حسابی درستگی اتنے زیادہ اعلیٰ معیار پر پائی جاتی ہے کہ ایک سائنس داں نے کہا کہ کائنات ایک ریاضیاتی ذہن (mathematical mind)کی موجودگی کا اشارہ کرتی ہے۔
اس موضوع پر اب بہت زیادہ لٹریچر تیار ہوچکا ہے، جس کو انٹرنیٹ پر یا لائبریری میں دیکھا جاسکتا ہے۔ کائنات میں انٹلیجنٹ ڈیزائن ہونے کی ایک مثال یہ ہے کہ ہمارا سولر سسٹم جس میں ہماری زمین واقع ہے، وہ ایک بڑی کہکشاں (galaxy)کا ایک حصہ ہے۔ لیکن ہمارا شمسی نظام کہکشاں کے بیچ میں نہیں ہے، بلکہ اس کے کنارے واقع ہے۔ اس بنا پر ہمارے لیے ممکن ہے کہ ہم محفوظ طور پر زمین پر زندگی گزاریں، اور یہاں تہذیب (culture) کی تعمیر کریں:
The centre of the galaxy is a very dangerous place. Being in the outskirts of the galaxy, we can live safely from the hectic activities at the centre.
اس حکیمانہ واقعہ کا اشارہ قرآن میں موجود تھا۔ مگر موجودہ زمانے میں سائنسی مطالعے کے ذریعہ اس کی تفصیلات معلوم ہوئیں، جو گویا قرآن کے اجمالی بیان کی تفسیر ہے۔جب علم کا دریا یہاں تک پہنچ جائے تو اس کے بعد صرف یہ کام باقی رہ جاتا ہے کہ اس دریافت کردہ شعور یا اس ذہن کو مذہبی اصطلاح کے مطابق، خدا (God) کا نام دے دیا جائے۔
واپس اوپر جائیں

کائنات کی معنویت

سائنس فطرت (nature) کے مطالعے کا نام ہے۔ فطرت میں وہ تمام چیزیں شامل ہیں، جن کو ہم کائنات کہتے ہیں۔ سائنسی مطالعے کا آغاز کچھ ابتدائی باتوں سے ہوا، لیکن یہ مطالعہ جتنا زیادہ بڑھتا گیا، اتنا ہی یہ ظاہر ہوتا گیا کہ کائنات ایک بے حد بامعنی کائنات ہے۔ کائنات کی کوئی بھی ایسی تشریح جو کائنات کی معنویت کے اعتراف پر قائم نہ ہو، وہ سائنسی تحقیقات سے مطابقت نہیں رکھتی۔
مثلاً سائنسی مطالعے کے ذریعے معلوم ہوا کہ کائنات کے اندر ایک ذہین ڈیزائن (intelligent design) ہے۔ اب اگر یہ نہ مانا جائے کہ کائنات کے پیچھے ایک ذہین ڈیزائنر (intelligent designer)کام کر رہا ہے تو کائنات کا نادر ظاہرہ ناقابلِ توجیہہ بن جاتاہے۔
اِسی طرح سائنس کے مطالعے نے بتایا کہ ہماری کائنات انسان کے لیےایک کسٹم میڈ (custom-made) کائنات ہے، یعنی وہ انسان جیسی مخلوق کے تقاضوں کے عین مطابق ہے۔ اب اگر ایک ایسے خالق کو نہ مانا جائے جس نے دو الگ الگ چیزوں کے درمیان مطابقت کو قائم کیا، تو اِس ظاہرے کی کوئی قابلِ فہم توجیہہ ممکن نہیں۔ اِسی طرح مختلف شعبوں میں سائنس کا مطالعہ بتاتا ہے کہ کائنات کے مختلف اجزا آپس میں بے حد مربوط ہیں، اور ان کے درمیان ایک انتہائی فائن ٹیوننگ (fine-tuning) پائی جاتی ہے تو اِس مائنڈ باگلنگ (mind-boggling) ظاہرے کی کوئی توجیہہ ہونی چاہیے۔
سائنس کوئی مذہبی سبجیکٹ نہیں، سائنس کا موضوع خالق کی دریافت نہیں۔ سائنس کا موضوع تخلیق (creation)کی دریافت ہے۔ لیکن تخلیق کے مطالعے میں خالق (Creator) کا مطالعہ اپنے آپ شامل ہے۔ اِس لیے تخلیق کا مطالعہ عملاً خالق کا مطالعہ بن گیا۔ سائنس نے اپنے مطالعے کے ذریعے جو چیزیں دریافت کیں، وہ سب خدائی نشانیوں کی دریافت کے ہم معنی بن گئیں، جن کو قرآن میں ’آیات اللہ‘ (signs of God) کہاگیا ہے۔ اِس اعتبار سے یہ کہنا درست ہوگا کہ تخلیق کی معنویت کو دریافت کرنا عملاً ایک بامعنی خالق کے وجود کی دریافت ہے۔
Fine-Tuning in the Universe: “There is plenty of good scientific evidence that our universe began about 14 billion years ago, in a Big Bang of enormously high density and temperature, long before planets, stars and even atoms existed. But what came before [The physicist Lawrence] Krauss in his book discusses the current thinking of physicists that our entire universe could have emerged from a jitter in the amorphous haze of the subatomic world called the quantum foam, in which energy and matter can materialize out of nothing. Krauss’s punch line is that we do not need God to create the universe. The quantum foam can do it quite nicely all on its own. Aczel asks the obvious question: But where did the quantum foam come from? Where did the quantum laws come from? Hasn’t Krauss simply passed the buck? Legitimate questions. But ones we will probably never be able to answer.” ...[The fine-tuning problem] For the past 50 years or so, physicists have become more and more aware that various fundamental parameters of our universe appear to be fine-tuned to allow the emergence of life - not only life as we know it but life of any kind. For example, if the nuclear force were slightly stronger than it is, then all of the hydrogen atoms in the infant universe would have fused with other hydrogen atoms to make helium, and there would be no hydrogen left. No hydrogen means no water. On the other hand, if the nuclear force were substantially weaker than it is, then the complex atoms needed for biology could not hold together. In another, even more striking example, if the “cosmic dark energy” discovered by scientists 15 years ago, were a little denser than it actually is, our universe would have expanded so rapidly that matter could never have pulled itself together to form stars. And if the dark energy were a little smaller, the universe would have collapsed long before stars had time to form. Atoms are made in stars. Without stars there would be no atoms and no life. So, the question is: Why? Why do these parameters lie in the narrow range that allows life. (Book: ‘Why Science Does Not Disprove God’ by mathematician Amir D. Aczel, who is currently researcher in the history of science at Boston University. The above are excerpts taken from a review on the book by physicist Alan Lightman for The Washington Post, April 11, 2014)
سائنس کی شہادت
انسان کی تخلیق کا مقصد قرآن میں ان الفاظ میں بتایا گیا ہے: وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْإِنْسَ إِلَّا لِیَعْبُدُونِ (51:56)۔ یعنی میں نے جن اور انسان کو صرف اس لیے پیدا کیا ہے کہ وہ میری عبادت کریں۔ لیعبدون کی تفسیر صحابی عبد اللہ بن عباس کے شاگرد مجاہد تابعی نے لیعرفون سے کی ہے (وقال مجاہد:إلا لیعبدون:لیعرفون)البحر المحیط، لأبی حیان الأندلسی، 9/562۔ یعنی اللہ کی عبادت کرنے کا مطلب ہے اللہ کی معرفت حاصل کریں۔ ابن کثیر نے اپنی تفسیر میں ابن جریج تابعی کے حوالے سے یہی بات نقل کی ہے۔قال ابن جریج:إلا لیعرفون (تفسیر ابن کثیر، 7/425)۔ ابن جریج نے کہا: تاکہ وہ میری معرفت حاصل کریں۔ اس معرفت کا تعلق انسان سے ہے۔
انسان ایک صاحب ارادہ مخلوق کی حیثیت سے پیدا کیا گیا ہے۔ انسان کی تعریف ان الفاظ میں کی جاتی ہے کہ انسان کے اندر تصوراتی سوچ (conceptual thinking) کی صلاحیت ہے۔ انسان کے لیے معرفت کا تعین اسی بنیاد پر کیا جائے گا۔ اس اعتبار سے انسان کے لیے معرفت کا معیار خود دریافت کردہ معرفت (self-discovered realization) ہے۔ یہی انسان کا اصل امتحان ہے۔ انسان کو یہ کرنا ہے کہ وہ اپنے سوچنے کی طاقت (thinking power) کو ڈیولپ کرے۔ یہاں تک کہ وہ اس قابل ہوجائے کہ وہ سیلف ڈسکوری کی سطح پر اپنے خالق کو دریافت کرلے۔
اس دریافت کے دو درجے ہیں۔ پہلا درجہ ہے کامن سنس کی سطح پر اپنے خالق کو دریافت کرنا، اور دوسرا درجہ ہے سائنس کی سطح پر اپنے خالق کو دریافت کرنا۔ پچھلے ہزارو ں سال سے انسان سے یہ مطلوب تھا کہ وہ اپنے کامن سنس کو بے آمیز انداز میں استعمال کرے۔ وہ اپنی فطرت کو پوری طرح بیدار کرے۔ اس طرح وہ اس قابل ہوجائے گا کہ وہ کامن سنس کی سطح پر اپنے خالق کی شعوری معرفت حاصل کرلے۔ اس دریافت کی صرف ایک شرط تھی، اور وہ ہے ایمانداری (honesty)۔ اگر آدمی کامل ایمانداری کی سطح پر جینے والا ہو تو یقینی طور پر کامن سنس اس کے لیے اپنے خالق کی دریافت کے لیے کافی ہوجائے گی۔
معرفت کی دوسری سطح ، سائنٹفک معرفت ہے۔ یعنی فطرت (nature) میں چھپی ہوئی آیات (signs) کو جاننا، اور ان کی مدد سے اپنے خالق کی عقلی معرفت (rational realization) تک پہنچنا۔ سائنٹفک معرفت کے لیے ضروری تھا کہ آدمی کے پاس غور و فکر کے لیے سائنس کا سپورٹنگ ڈیٹا موجود ہو۔ مجرد عقلی غور و فکر کے ذریعہ سائنٹفک معرفت کا حصول ممکن نہیں۔ سائنٹفک معرفت تک پہنچناکسی کے لیےصرف اس وقت ممکن ہے، جب کہ سائنس کا سپورٹنگ ڈیٹا موجود ہو۔ اس سائنٹفک ڈیٹا کے حصول کا واحد ذریعہ قوانین فطرت (laws of nature) کا علم ہے۔ قدیم زمانے میں انسان کو قوانین فطرت کا علم حاصل نہ تھا۔ اس لیے خالق کی سائنسی معرفت بھی انسان کے لیے ممکن نہ ہوسکی۔
خالق کی ایک سنت یہ ہے کہ وہ انسانی تاریخ کو مینج کرتا ہے، یعنی انسانی آزادی کو برقرار رکھتے ہوئے انسان کو منصوبۂ تخلیق کے مطابق مطلوب حالت تک پہنچاتا ہے۔ خالق اپنا یہ کام انسانی آزادی کو منسوخ کیے بغیر انجام دیتا ہے۔ یہ ایک بے حد پیچیدہ کام ہے، اور اس کو خالق کائنات ہی اپنی بر تر طاقت کے ذریعہ انجام دے سکتا ہے۔ ہمارا کام اس منصوبۂ خداوندی کو سمجھنا ہے، نہ کہ اس کے کورس کو بدلنے کی کوشش کرنا۔ کیوں کہ وہ ممکن ہی نہیں۔
قرآن کے ذریعہ اللہ تعالی نے بار بار اہل ایمان کو یہ بتایا تھا کہ کائنات انسان کے لیے مسخر کردی گئی ہے۔ تم ان تسخیری قوانین کو دریافت کرو، تاکہ تم معرفت کے اس درجے تک پہنچ سکو، جس کو سائنسی معرفت کہا جاتا ہے۔ مگر اہل ایمان اس کام کو کرنےمیںعاجز ثابت ہوئے۔ اس کے بعد اللہ نے اپنی سنت کے مطابق اس کام کے لیے ایک اور قوم کو کھڑا کیا (محمد،47:38) ۔ یہ یورپ کی مسیحی قوم تھی۔ایسا اس طرح ہوا کہ صلیبی جنگوں (Crusades) میں یورپ کی مسیحی قوم کو اتنی سخت شکست ہوئی کہ بظاہران کے لیےجنگ کا آپشن (option)باقی نہ رہا۔ اب عملاًان کےلیے اس کے سوا کوئی چارہ نہ تھا کہ وہ اپنے معاملے کی ری پلاننگ کریں ، اوراپنی کوشش کسی دوسرےمیدان میں جاری رکھیں۔ چنانچہ انھوں نے میدانِ جنگ کے بجائے قوانین فطرت (laws of nature) کے دریافت کی طرف بتدریج اپنی کوششوں کا رخ موڑ (divert) دیا۔
اٹلی کے سائنسداں گلیلیو گلیلی (وفات1642ء) کو فادر آف ماڈرن سائنس ( father of modern science) کہاجاتاہے۔ اس کا سبب یہ ہے کہ یہی وہ پہلا سائنس داں تھا جس سے ماڈرن سائنس کا سفر باقاعدہ صورت میں شروع ہوا۔ یہ عمل تقریباً چار سو سال تک جاری رہا۔ یہاں تک کہ بیسویں صدی میں وہ اپنی تکمیل تک پہنچ گیا۔ بیسویں صدی میں انسان کو وہ تمام سائنٹفک ڈیٹا حاصل ہوگئے، جو خالق کو سائنسی سطح یا ریشنل لیول پر دریافت کرنے کے لیے ضروری تھے۔
اللہ نے جس عالم کو تخلیق کیا، اس کے ہر جزء پر خالق کی شہادت ثبت (stamped) ہے۔ پھر اس نے اس علم سے فرشتوں کو واقف کرایا۔ اس کے بعد اس نے اس حقیقت کو چھپے طور پر (hidden form)اس کائنات میں رکھ دی، جس کو انسان خود سے دریافت کرسکتا تھا۔ یہی وہ چھپی حقیقت ہے جودریافت کے بعد ماڈرن سائنس کےنام سے جانی جاتی ہے۔
٭٭٭٭٭
شہد کے بارے میں انگریزی کا ایک مضمون پڑھا اس میں دوسری باتوں کے ساتھ یہ بھی لکھا ہوا تھاکہ تقریباً 550 شہد کی مکھیاں مسلسل مشغول رہ کر بیس لاکھ سے زیادہ پھولوں کا رس چوستی ہیں تب ایک پاؤنڈ شہد تیار ہوتا ہے۔
Some 550 busy bees have to dip their snouts into as many as 2.5 million flowers to make just one pound of honey.
شہد کی مکھی کے اندر بے شمار نشانیاں (signs)ہیں۔ مذکورہ واقعہ ان میں سے صرف ایک ہے۔ آدمی اگر اس پر غور کرے تو وہ خالق کے کمالات کے احساس سے سرشار ہو جائے۔
واپس اوپر جائیں

خدا کا وجود

خدا کی معرفت اول دن سے میری تلاش کا مرکز رہاہے۔ میرا دن اور میری راتیں اسی تلاش میں گزری ہیں یہاں تک کہ شاید میں یہ کہہ سکتا ہوں کہ میںنے خدا کو پالیا ہے۔
1960 کے آس پاس کی بات ہے۔ میںاپنے بڑے بھائی کے گھر 9 بدرقہ روڈ اعظم گڑھ میں تھا۔ وہاں میری ملاقات شاہ نصیر احمد صاحب سے ہوئی۔ گفتگو کے دوران اچانک انھوںنے کہا: کیا انسان خداکو دیکھ سکتا ہے۔ میری زبان سے نکلا۔ کیا آپ نے ابھی تک خدا کو نہیں دیکھا۔ اس طرح کے تجربات میری زندگی میں بہت زیادہ ہیں ۔ تاہم خداکو دیکھنا مجازی معنی میں ہے، نہ کہ حقیقی معنی میں۔ کیونکہ حقیقی معنی میں اللہ رب العالمین کو دیکھنا اس دنیامیں کسی انسان کے لیے ممکن نہیں۔
میںنے ایک مرتبہ کسی مضمون میں لکھا تھا —خدا کو ماننا عجیب ہے لیکن خدا کو نہ ماننا اس سے بھی زیادہ عجیب ہے۔ جب میں خدا کو مانتا ہوں تو میں زیادہ عجیب کے مقابلہ میں کم عجیب کو ترجیح دیتاہوں
To believe in God is strange, but not believing in God is stranger. When I say that I believe in God I prefer the less strange than the more strange.
البرٹ آئن سٹائن کے ایک جرمن دوست نے اس سے پوچھا کیا آپ اتھیسٹ (atheist) ہیں۔ اس نے کہا کہ نہیں۔ تم مجھ کو زیادہ صحیح طورپر اگناسٹک (agnostic) کہہ سکتےہو۔ اگناسٹک کا مطلب متشکک ہے۔ یعنی کہنے والا یہ کہہ رہا ہے کہ میں نہ یہ کہہ سکتاہوں کہ خدا نہیں ہے، اور نہ یہ کہہ سکتا کہ خدا ہے۔ اس جملہ کا نفسیاتی تجزیہ کیا جائے تو وہ یہ ہوگا کہ خدا کے انکار کے حق میں میرے پاس کوئی دلیل نہیں۔ البتہ سائنٹفک دلائل (scientific evidence) اس معاملہ میں اتنے زیادہ ہیں کہ میں یہ بھی کہنے کی پوزیشن میں نہیں ہوں کہ خدا نہیں ہے۔
آئن اسٹائن کا یہ جملہ ففٹی ففٹی کا جملہ نہیں ہے بلکہ اس کا مطلب یہ ہے :
I can say that probably there is a God but I cannot say in certain terms, 'Yes there is certainly a God'.
کوانٹم فزکس (quantum physics) کی اصطلاح میں میں کہوں گا کہ آئن سٹائن کا یہ کہنا خدا کے اقرار کے ہم معنى ہے۔ کیوں کہ سب ایٹمک پارٹیکل (subatomic particle) کی دریافت کے بعدکوانٹم فزکس میں پرابیبلٹی (probability) کو یقین کے قریب کا درجہ دے دیا گیا ہے۔ اب یہ کہا جاتا ہے :
Probability is less than certainty but certainty is more than perhaps.
٭٭٭٭٭
انسان کے لیے سب سے زیادہ اہم چیزدریافت ہے۔ دریافت ہی سے دنیا کی ترقیاں بھی ملتی ہیں اور دریافت ہی سے آخرت کی ترقیاں بھی۔قرآن کا مطلوب انسان وہ ہے، جو غیب پر ایمان لائے (البقرۃ، 2:3)۔ غیب پر ایمان لانا کیا ہے۔ یہ دوسرے لفظوں میں نا معلوم کو معلوم بنانا ہے۔ یعنی وہی چیز جس کو موجودہ زمانہ میں دریافت (discovery) کہا جاتا ہے۔
دنیوی ترقی کے رازوں کو خدا نے زمین وآسمان کے اندر چھپا دیا ہے۔ انھیں رازوں کو قوانین فطرت (laws of nature) کہا جاتا ہے۔ سائنس میں انھیں رازوں (یا قوانین فطرت) کو دریافت کیا جاتا ہے۔ جوقوم ان رازوں کو دریافت کرے وہ دوسروں سے آگے بڑھ جاتی ہے۔ جیسا کہ موجودہ زمانہ میں ہم مغربی اقوام کو یا ایشیا میں جاپان کی صورت میں دیکھ رہے ہیں۔ ترقی یافتہ قوموں (developed countries) کو تمام ترقیاں ان کی انھیں دریافتوں کی بنیاد پر حاصل ہوئی ہیں۔
اسی طرح عالم آخرت کو اللہ تعالیٰ نے انسان کی نظروں سے پوشیدہ کردیا ہے۔ اب انسان کو اسے دریافت کرنا ہے۔ جوچیز غیب میں ہے اس کو شہود میں لانا ہے۔ اسی دریافت یا اکتشاف کا نام ایمان ہے۔ جو شخص اس ایمان میں جتنا زیادہ آگے ہوگا وہ آخرت میں اتنا ہی زیادہ ترقی اور کامیابی حاصل کرے گا۔
واپس اوپر جائیں

خدا کا وجوداور سائنس

آئن اسٹائن کے بارے میں لوگوں کے درمیان کنفیوژن (confusion)پایا جاتا ہے۔ کچھ لوگ سمجھتے ہیں کہ آئن اسٹائن کا کیس منکرِخدا (atheist) کا کیس تھا۔ کچھ دوسرے لوگ اس کے برعکس رائے رکھتے ہیں۔ مگر آئن اسٹائن کے مختلف بیانات کا مطالعہ کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ آئن اسٹائن منکرِ خدا نہیں تھا، بلکہ وہ خدا کے وجود کے بارے میں شک کی کیفیت میں مبتلا تھا۔
1945 میں امریکی بحریہ کے ایک جونیر افسر گائے رینر(Guy Raner) نے خط کے ذریعہ آئن اسٹائن سے سوال کیا تھا — کیا آپ ڈکشنری کے مفہوم کے اعتبار سے، منکرِ خدا ہیں، یعنی وہ آدمی جو خدا کے وجود میں عقیدہ نہیں رکھتا۔ اِس کے جواب میں آئن اسٹائن نے لکھا کہ آپ مجھ کو لاادریہ کہہ سکتے ہیں، مگر میں پروفیشنل قسم کے منکر خدا سے اتفاق نہیں رکھتا:
In 1997, Skeptic, a hard unbelief science magazine, published for the first time a series of letters Einstein exchanged in 1945 with a junior officer in the US navy named Guy Raner on the same topic. Raner wanted to know if it was true that Einstein converted from atheism to theism when he was confronted by a Jesuit priest with the argument that a design demands a designer and since the universe is a design there must be a designer. Einstein wrote back that he had never talked to a Jesuit priest in his life but that from the viewpoint of such a person, he was and would always be an atheist. He added it was misleading to use anthropomorphical concepts in dealing with things outside the human sphere and that we had to admire in humility the beautiful harmony of the structure of this world as far as we could grasp it. But Raner persisted.''Are you from the viewpoint of the dictionary,'' he wrote back, ''an atheist, one who disbelieves in the existence of a God, or a Supreme Being.'' To this Einstein replied: ''You may call me an agnostic, but I do not share the crusading spirit of the professional atheist whose fervour is mostly due to a painful act of liberation from the fetters of religious indoctrination received in youth.'' (The Times of India, New Delhi, May 18, 2012)
عقیدۂ خدا کے بارے میں آئن اسٹائن کا جو موقف ہے، وہی موقف تقریباً تمام سائنس دانوں کا ہے۔ خدا سائنسی مطالعہ (scientific study) کا موضوع نہیں۔ پھر کیا وجہ ہے کہ سائنس داں خدا کا انکار نہیں کرتے، وہ اپنے آپ کو زیادہ سے زیادہ لا ادریہ (agnostic) بتاتے ہیں، یعنی ایک ایسا موقف جب کہ انسان نہ انکار کرنے کی پوزیشن میں ہو اور نہ اقرار کرنے کی پوزیشن میں۔
یہ صحیح ہے کہ سائنس کے مطالعے کا موضوع مادی دنیا (material world) ہے، مگر مادی دنیا کیا ہے، وہ خالق کی تخلیق (creation) ہے، اِس لیے سائنس کا مطالعہ بالواسطہ طورپر خالق کی تخلیق کا مطالعہ بن جاتا ہے۔ ایک سائنس داں خالق کے عقیدے کا انکار کرسکتاہے، لیکن تخلیقات میں خالق کی جو نشانیاں (signs) موجود ہیں، اُن کا انکار ممکن نہیں۔
اصل یہ ہے کہ سائنس نے جس مادّی دنیا (physical world) کو دریافت کیا ہے، اس میں حیرت انگیز طورپر ایسی حقیقتیں پائی جاتی ہیں جو اپنی نوعیت میں غیر مادی ہیں۔ مثلاً معنویت، ڈزائن، ذہانت اور بامقصد پلاننگ، وغیرہ۔ مادی دنیا کی نوعیت کے بارے میں یہ دریافت گویا خالق کے وجود کی بالواسطہ شہادت ہے۔خدا کے وجود کے بارے میں رائے قائم کرنے کے لیے ایک سائنسی طریقہ یہاں قابلِ انطباق (applicable) ہے، وہ یہ کہ یہ دیکھا جائے کہ سائنس کی دریافت کردہ دنیا کس نظریے کی تصدیق کررہی ہے، انکارِ خدا کے نظریے کی تصدیق یا اقرارِ خدا کے نظریے کی تصدیق۔اِس اصولِ استدلال کو سائنس میںویری فکیشن ازم (verificationism) کہا جاتا ہے۔
سائنس میں استدلال کا ایک اصول ہے، جس کو اصولِ مطابقت(principle of compatibility) کہا جاتا ہے۔ اِس کا مطلب یہ ہے کہ ایک نظریہ جو بذاتِ خود قابلِ مشاہدہ نہ ہو، لیکن وہ مشاہدہ کے ذریعے دریافت کردہ معلومات سے مطابقت رکھتا ہو، تو اِس بالواسطہ شہادت کی بنا پر اِس نظریے کو حقیقت کا درجہ دے دیا جائے گا۔ جس نظریے کے حق میں اِس قسم کی مطابقت موجود ہو، اس کو بالواسطہ تصدیق کی بنا پر بطور حقیقت تسلیم کرلیا جائے گا۔ سائنس کے اِس اصول استدلال کو اگر عقیدۂ خدا کے معاملے میں منطبق کیا جائے تو اصولی طورپر خدا کا عقیدہ ایک ثابت شدہ عقیدہ بن جاتا ہے۔جو سائنس داں اپنے کیس کو لا ادریہ (agnosticism)کا کیس بتاتے ہیں، وہ شعوری یا غیرشعوری طورپر فرار کا طریقہ اختیار کیے ہوئے ہیں۔ وہ خود اپنے علم کے مطابق، خدا کا انکار نہیں کرسکتے، وہ کہہ دیتے ہیں کہ ان کا کیس لا ادریہ (agnostic) کا کیس ہے۔
عقیدۂ خدا اور سائنس
خالص سائنسی نقطۂ نظر کے مطابق، خدا کے وجود کا کوئی ثبوت نہیں۔ سائنس نے اپنے طریقِ مطالعہ کے ذریعے جس چیز کو دریافت کیا ہے، وہ ہے— الیکٹران (electron) اور نیوٹران (neutron) اور پروٹون(proton)۔ مگر اِسی کے ساتھ یہ واقعہ ہےکہ اب تک کسی سائنس داں نے الیکٹرانس اور نیوٹرانس اور پروٹانس کو نہیں دیکھا ہے، نہ آنکھ سے اور نہ خورد بین سے، پھر سائنس داں اُن کے وجود پر یقین کیوں رکھتے ہیں۔ سائنس داں کے پاس اِس کا جواب یہ ہے کہ اگرچہ ہم اُن کو براہِ راست نہیں دیکھتے، لیکن ہم اُن کے اثرات (effects) کو دیکھ رہے ہیں:
Though we cannot see them, we can see their effects.
مزید مطالعہ بتاتا ہے کہ یہ مسئلہ صرف کاز اینڈ افیکٹ (cause and effect) کا مسئلہ نہیں ہے۔ اِس سے زیادہ اہم بات یہ ہے کہ خود سائنس کے مطالعے سے معلوم ہوا ہے کہ کائنات میں اعلی درجے کی ذہانت (intelligence)ہے۔ کائنات میں اعلی درجے کی ہم آہنگی (harmony) ہے۔ کائنات میں اعلی درجے کی منصوبہ بندی (planning) ہے۔ اس بات کو ٹاپ کے سائنس دانوں نے تسلیم کیا ہے۔ مثلاً جیمس جینز، آرتھر ایڈنگٹن، البرٹ آئن اسٹائن، ڈیوڈ فوسٹر (David Foster) اور فریڈ ہائل(Fred Hoyle)، وغیرہ۔ اب یہ بات ثابت ہوگئی ہے کہ، ایک سائنس داں کے الفاظ میں، کائنات کی جنس ،ذہن (mind-stuff) ہے:
Molecular biology has conclusively proved that the “matter of organic life, our very flesh, really is mind-stuff.”
عقیدۂ خدا اور سائنس کے معاملے میں زیادہ صحیح بات یہ ہے کہ یہ کہا جائے کہ مذہب میں جس خدا کو بطور عقیدہ پیش کیاگیا تھا، وہ اگر چہ سائنس کا براہِ راست موضوع نہیں، لیکن سائنس کی دریافتیں بالواسطہ طورپر عقیدہ خدا کی علمی تصدیق (affirmation) کی حیثیت رکھتی ہیں۔ سائنس نے خدا کے عقیدے کو ثابت نہیں کیا ہے، البتہ یہ کہنا درست ہے کہ سائنس نے عقیدہ خدا کے ثبوت کا ڈیٹا فراہم کردیا ہے۔
سائنس کے اسٹینڈرڈ ماڈل میں ایک چیز مسنگ لنک (missing link) کی حیثیت رکھتی تھی۔ یہ ماڈل فعل (action) کو بتاتا تھا، مگر وہ فاعل (actor) کو نہیں بتاتا تھا۔ اس کے مقابلے میں، قرآن کائنات کا جوماڈل دے رہاہے، اس میں فعل اور فاعل دونوں موجود ہیں۔ دوسرے لفظوں میں یہ کہ قرآن میں سبب (cause) کے ساتھ مسبّب (causative factor) کو بھی بتایا گیاہے۔ سائنس جب فعل (ذہانت) کی تصدیق کررہی ہے تو منطقی طورپر اِس کا جواز نہیں کہ وہ فاعل (ذہن) کی تصدیق نہ کرے۔
خدا کا وجود
البرٹ آئن اسٹائن (Albert Einstein) اگرچہ ایک یہودی خاندان میں پیداہوا تھا، لیکن سائنسی مطالعے کے بعد وہ خدا کے وجود کے بارے میں تشکیک میں مبتلا ہوگیا۔ اپنی وفات سے ایک سال پہلے 3 جنوری 1954 کو اس نے ایک اسرائیلی فلسفی ایرک (Eric B. Gutkind) کو جرمن زبان میں ایک خط لکھا۔ اِس خط کا ایک جملہ یہ تھا— خدا کا لفظ اس کے سوا کچھ اور نہیں کہ وہ صرف انسانی کمزوریوں کی ایک پیداوار ہے:
The word God was nothing more than the expression and product of human weaknesses.
آئن اسٹائن نے جس چیز کو ’’انسانی کمزوری‘‘ بتایا ہے، وہ کمزوری نہیں ہے، بلکہ وہ انسان کی ایک اعلی خصوصیت ہے۔ اِس خصوصیت کو درست طورپر اِن الفاظ میں بیان کیا گیا ہے کہ انسان ایک توجیہہ طلب حیوان (explanation-seeking animal)ہے۔ انسان کی یہی خصوصیت تمام علمی ترقیوں کی بنیاد ہے۔ اِسی خصوصیت کی بنا پر انسان چیزوں کی توجیہہ تلاش کرتاہے، اور پھر وہ بڑی بڑی ترقیوں تک پہنچتا ہے۔ انسان کے اندر اگر یہ خصوصیت نہ ہوتی تو انسانی تہذیب (human civilization) پوری کی پوری غیر دریافت شدہ حالت میں پڑی رہتی۔
خود آئن ا سٹائن کے بارے میں بتایا جاتا ہے کہ اپنی عمر کے آخری 30 سال کے دوران وہ ایک سوال کا سائنسی جواب پانے کی کوشش کرتا رہا، مگر وہ اِس میں کامیاب نہ ہوسکا۔ یہ سوال آئن اسٹائن کے الفاظ میں، یونی فائڈ فیلڈ تھیوری (unified field theory)کی دریافت ہے۔ سائنسی اعتبار سے یہ سوال اتنا زیادہ اہم ہے کہ آج وہ تمام نظریاتی سائنس دانوں کی توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے۔ اب اِس سوال کو عام طورپر تھیوری آف ایوری تھنگ (Theory of Everything)کہاجاتا ہے۔
یہ ’تھیوری آف ایوری تھنگ‘ کیا ہے۔ یہ دراصل ایک ایسا ریاضیاتی فارمولادریافت کرنا ہے جو تمام کائناتی مظاہر کی سائنسی توجیہہ کرسکے۔ تھیوری آف ایوری تھنگ کا مطلب ہے:
Theory that explains everything.
ایک سائنسی ادارہ (European Organization for Nuclear Research) کے تحت سوئزر لینڈ میں ایک پروجیکٹ قائم کیاگیا۔ اس کا نام یہ تھا— لارج ہیڈرون کولائڈر (Large Hadron Collider)۔ یہ پروجیکٹ 1998 میں قائم کیا گیا۔ اِس پروجیکٹ پر ایک سو ملین ڈالر خرچ ہوئے۔ اِس میں دنیا کے ایک سو ملک اور دس ہزار سائنس دانوں اور انجینئروں کا تعاون شامل تھا۔ اگر چہ یہ پروجیکٹ کامیاب نہ ہوسکا، تاہم اس کا مقصد بھی یہی تھا کہ ’تھیوری آف ایوری تھنگ‘ کو دریافت کیاجائے۔
’تھیوری آف ایوری تھنگ، یا زیادہ درست طورپر، ایکسپلنیشن آف ایوری تھنگ کی تلاش پر تقریباً 90 سال گزر چکے ہیں، مگر اِس معاملے میں سائنس دانوں کو کامیابی حاصل نہ ہوسکی۔ اِس کا سبب یہ ہے کہ مظاہرِ کائنات کی توجیہہ خدا کے وجود کو مان کر حاصل ہوتی ہے۔ کوئی ریاضیاتی فارمولا کبھی اِس کا جواب نہیںبن سکتا۔ ریاضیاتی فارمولے میں اِس سوال کا جواب تلاش کرنا ایسا ہی ہے جیسے پیاس کو بجھانے کے لیے پانی کے سوا کسی اور چیز کو اس کا ذریعہ بنانے کی کوشش کرنا۔
واپس اوپر جائیں

خدا ——انسانی فطرت کی آواز ہے

1۔ فرانس کی ایک فلم ایکٹرس گائنالولوبرائیگیڈا (Gina Lollobrigida) جنوری 1975ء میں ہندستان آئی تھی۔ ایک پریس کانفرنس میں ایک اخباری رپورٹر سے اس کا سوال وجواب یہ تھا:
To a question whether she believed in God, Gina said: I beleive in God, I believe in God, more when I am on an aeroplane. (The Times of India, 3 January 1975)
ایک سوال کے جواب میں کہ کیا وہ خدا کو مانتی ہے، گائنا نے کہا: میں خدا کو مانتی ہوں، میں خدا کو مانتی ہوں، اس وقت اور بھی زیادہ جب میں ہوائی جہاز میں ہوتی ہوں۔
آدمی جب ہوائی جہاز میں اڑ رہاہو تو اس وقت وہ مکمل طورپر ایسے خارجی اسباب کے رحم وکرم پر ہوتا ہے جن کے توازن میں معمولی فرق بھی اس کو ہلاک کرنے کے لیے کافی ہے۔ انسان کی یہی بے چارگی سمندری سفروں میں بھی ہوتی ہے۔ قرآن میں ارشاد ہوا ہے:’’کیا تم دیکھتے نہیں کہ کشتی سمندر میں اللہ کے فضل سے چلتی ہے، تاکہ وہ تمہیں اپنی قدرتیں دکھائے۔ در حقیقت اس میں نشانیاں ہیں ہر اس شخص کے لیے جو صبر اور شکر کرنے والا ہو۔ اور جب سمندر میںان لوگوں کو موجیں بدلیوں کی طرح گھیر لیتی ہیںتو یہ اللہ کو پکارتے ہیں، اپنے دین کو اسی کے لیے خالص کرکے۔ پھر جب وہ بچا کر انھیں خشکی تک پہنچا دیتا ہے تو ان میں سے کوئی اعتدال پر رہتا ہے، اور ہماری نشانیوں کا انکار وہی کرتا ہے جو بد عہد اور ناشکرا ہے (31:31-32)۔
کوئی شخص خواہ کتنا ہی سرکش اور منکر کیوں نہ ہو، جب مشکل حالات پڑتے ہیں تو وہ بے اختیار خدا کو پکار اٹھتا ہے۔ یہی اس بات کا ثبوت ہے کہ خدا انسانی فطرت کی آواز ہے۔
2۔ روس میں اشتراکی انقلاب اکتوبر 1917ء میں آیا، اورتقریباً 74 سالوں کے بعد 1991 میں وہ ٹوٹ گیا۔اس درمیان اشتراکی حکومت نےمیڈیا، اور اسکول کو اینٹی مذہب پروپیگنڈے سے فلڈ (flood)کردیا۔ اس کے بعد حکومت روس نے یہ دعوی کیا کہ قدیم مذہبی نظام مکمل طورپر ختم کردیا گیا ہے۔
اشتراکی نظریے کے مطابق مذہب، سرمایہ داری نظام کا ضمیمہ (appendix)تھا۔ سرمایہ داری نظام کے خاتمہ کے بعد قدرتی طورپر اس کے ضمیمہ کو بھی ختم ہوجانا چاہیے۔ روسی حکومت کا دعوی ہے کہ اس نے سرمایہ داری نظام کو روس سے ختم کردیا ہے۔ مگر حیرت انگیز بات ہے کہ مذہب اب بھی وہاں زندہ ہے۔ حتی کہ روس کی جدید نسل میں دوبارہ مذہب پروان چڑھ رہا ہے۔
— اس سلسلہ میں ایک دلچسپ واقعہ روسی ڈکٹیٹر مارشل اسٹالن (1879-1964ء)کا ہے۔ اسٹالن خدا کا منکرتھا۔ مگر اس کی زندگی میں ایسے واقعات ہیں جو ثابت کرتے ہیں کہ مشکل اوقات میں وہ بے اختیار خدا کو یاد کرنے لگتا تھا۔ ونسٹن چرچل ( 1874-1965) نے دوسری جنگ عظیم کے موقع پر اگست 1942ء میں ماسکو کا سفر کیا تاکہ ہٹلر کے خلاف دوسرا محاذ (سکنڈ فرنٹ) قائم کرنے کے لیے روسی لیڈروں سے گفتگو کرے۔ چرچل نے اس سلسلہ میں اتحادیوں کا فوجی منصوبہ اسٹالن کے سامنے رکھا، جس کا خفیہ نام ٹارچ(Torch)رکھاگیا تھا۔ اسٹالن چونکہ خود بھی ہٹلر کی بڑھتی ہوئی یلغار سے خائف تھا، اس نے اس فوجی منصوبہ میں گہری دلچسپی لی۔ چرچل کا بیان ہے کہ منصوبہ کی تشریح کے ایک خاص مرحلہ پر جب کہ اسٹالن کی دلچسپیاں اس سے بہت بڑھ چکی تھیں۔ اس کی زبان سے نکلا —خدا اس منصوبہ کو کامیاب کرے:
“May God prosper this undertaking”
(Winston S. Churchill, The Second World War, (Abridgement) Cassell & Company, London, 1965, p. 603)
— سویتلانہ (Svetlana Alliluyeva) روسی ڈکٹیٹر اسٹالن کی بیٹی تھی۔ اس کی پیدائش 1926 کوہوئی، اشتراکی دنیا سے مایوس ہو کر 1966میں وہ ہندستان آئی تھی۔ پھر وہ یورپ چلی گئی، اور 2011 میں اس کی وفات ہوئی۔
اس نے عیسائیت کو اختیار کرلیا تھا۔ اپنے سچائی کے تلاش کا واقعہ لکھتے ہوئےوہ اپنی کتاب ’’صرف ایک سال‘‘ ( Only One Year) میں لکھتی ہے کہ میں ماسکو میں غیر مطمئن تھی ،اور اپنے قلب کی تسکین کے لیے کوئی چیز ڈھونڈ رہی تھی۔ وہ چیز مجھے بائبل کے ان جملوں میں مل گئی — اے خداوند! تو میری روشنی اور نجات دہندہ ہے۔ مجھے تو کسی سے بھی نہیں ڈرنا چا ہئے۔ خداوند میری زندگی کے لیے محفوظ پناہ گا ہ ہے۔ پس میں کسی بھی شخص سے خوف نہیں کھا ؤ ں گا۔ ہو سکتا ہے کہ شریر لوگ مجھ پر چڑھا ئی کریں۔ہو سکتا ہے کہ وہ مجھ پر حملہ کریں گے ، اور مجھے نیست و نابود کر دیں گے،لیکن وہ ٹھو کر کھا ئیں گے اور گریں گے۔ اگر چاہے پو را لشکر بھی مجھ کو گھیر لے، میں نہیں ڈروں گا، اگر جنگ میں بھی لوگ مجھ پر حملہ کریں میں نہیں ڈروں گا
The Lord is my light and my salvation, whom shall I fear? The Lord is the stronghold of my life- of whom shall I be afraid? When the wicked advance against me, to devour me, it is my enemies and my foes, who will stumble and fall. Though an army besiege me, my heart will not fear ; though war break out against me, even then I will be confident. (Psalm, 27:1-3)
— اس سلسلہ میں ایک اور دلچسپ واقعہ وہ ہے جو1973 میں ہندستان میں پیش آیا۔ ایک روسی جہاز (Ilyushin Jet)ہندستان میں مغربی بنگال کی فضا میں پرواز کررہا تھا کہ اس کا انجن خراب ہوگیا۔ ہوا باز کی ساری کوششیں ناکام ہوگئیں، اورجہاز زمین پر گرپڑا۔ ہوا باز سمیت سارے مسافر جل کر ختم ہوگئے۔
چونکہ یہ حادثہ ہندستان کی سرزمین پر ہوا تھا، اس لیے بین الاقوامی قانون کے مطابق ہندستان کو اس کی تفتیش کرنی تھی۔ ہوائی جہازوں کا قاعدہ ہے کہ اس میں آواز ریکارڈ کرنے والی ایک خود کار مشین رکھی جاتی ہے، جس کو عام طورپر بلیکس باکس (Black Box) کہتے ہیں۔ یہ بلیک باکس ہوا باز اور کنٹرول ٹاور کے درمیان گفتگو کو ریکارڈ کرتا رہتاہے۔ اس کو ہوائی جہاز کی دُم میں رکھا جاتا ہے تاکہ ہوائی جہاز کے جلنے کے بعد بھی وہ بچ سکے۔
ہندستانی افسروں نے ہوائی جہاز کے ملبہ سے اس بلیک باکس کو حاصل کیا۔ جب اس بکس کا ٹیپ بجایا گیا تاکہ اس سے تفتیش میں مدد لی جاسکے تو معلوم ہوا کہ بالکل آخری لمحات میں روسی پائلٹ کی زبان سے جو لفظ نکلا، وہ یہ تھا— پیٹر ہم کو بچا
Peter save us.
واضح ہو کہ پیٹر یا پطرس حضرت عیسیٰؑ کے بارہ حواریوں میں سے ایک تھے، اور عیسائیوں کے یہاں بڑے بزرگ مانے جاتے ہیں۔
واپس اوپر جائیں

کائناتی نشانیاں

ایس ٹی کا لرج(1772-1834)ایک مشہور انگریزی تنقید نگار، فلاسفر اور شاعر ہے۔ اس کی ایک نظم کا عنوان ہے
The Rhyme of the Ancient Mariner
اس نظم میں شاعر نے دکھایا ہے کہ ایک ملاح اپنے کسی گناہ کے سبب سمندر میںپھنس گیا ہے۔ اس کے پاس پینے کے لیے میٹھا پانی نہیں ہے۔ کشتی کے چاروں طرف سمندر کا پانی پھیلا ہوا ہے۔ مگر کھاری ہونے کی وجہ سے وہ ان کو پی نہیں سکتا۔ وہ پیاس سے بے تاب ہو کر کہتا ہے — ہر طرف پانی ہی پانی، مگر ایک قطرہ نہیں جس کو پیا جاسکے
Water, water everywhere, / Nor any drop to drink.
جو حال کولرج کے خیالی ملاح کا ہوا، وہی حال امکانی طورپر اس دنیا میں تمام انسانوں کا ہے۔ انسان پانی کے بغیر زندہ نہیں رہ سکتا۔ مگر پانی کا تمام ذخیرہ سمندروں کی صورت میں ہے، جن میں 1/10 حصہ نمک ملا ہوا ہے۔ اس بنا پر سمندر کا پانی اتنا زیادہ کھاری ہے کہ کوئی آدمی اس کو پی نہیں سکتا۔
اس کا حل قدرت نے بارش کی صورت میں نکالا ہے۔ سورج کی گرمی کے اثر سے سمندروں میں تبخیر (evaporation) کا عمل ہوتا ہے۔ سمندر کا پانی بھاپ بن کر فضا کی طرف اٹھتا ہے مگر مخصوص قانون قدرت کے تحت اس کے نمک کا جزء سمندر میں رہ جاتا ہے ،اور صرف میٹھے پانی کا جزء اوپر جاتا ہے۔ یہی صاف کیا ہوا پانی بارش کی صور ت میں دوبارہ زمین پر برستا ہے، اور انسان کو میٹھا پانی عطا کرتا ہے، جس کی انسان کو سخت ترین ضرورت ہے۔
بارش کا عمل ازالۂ نمک (desalination) کا ایک عظیم آفاقی عمل ہے۔ آدمی اگر صرف اس ایک واقعہ پر غور کرے تو اس پر ایسی کیفیت طاری ہو کہ وہ خداکے کرشموں کے احساس سے رقص کرنے لگے۔
واپس اوپر جائیں

ایک تجربہ

18-22 اپریل 1986 کو میں نے بھوپال کا سفر کیا ۔ یہ سفر تامل ناڈو اکسپریس کے ذریعہ ہوا اور واپسی کا سفر بذریعہ ہوائی جہاز طے ہوا۔19 اپریل کی صبح کو سو کر اٹھا، تو ہماری ٹرین مدھیہ پردیش کے میدانو ں میں دوڑ رہی تھی۔ جگہ جگہ درخت اور سبزہ کا منظر تھا۔ صبح کا سورج بلند ہوکر پوری طرح فضا کو روشن کر رہا تھا۔ اس قسم کی ایک دنیا کا وجود میں آنا تمام عجائبات میں سب سے بڑا عجوبہ ہے۔ ایک ایسی دنیا جہاں پانی اور سبزہ ہو، جہاں سورج ایک خاص تناسب سے روشنی اور حرارت پہنچائے، جہاں بے شمار اسباب جمع ہوں، جس نے اس بات کو ممکن بنایا ہے کہ ایک ٹرین تیار ہو، اور زمین کی سطح پر تیز رفتاری کے ساتھ دوڑے۔
بنانے والے نے اس دنیا کو عجیب ڈھنگ سے بنایا ہے۔ یہاں واقعہ دکھائی دیتا ہے، مگر صاحبِ واقعہ نظر نہیں آتا۔ یہاں تخلیق (creation)کا منظر ہر طرف پھیلا ہوا ہے، مگر ان کے درمیان خالق (Creator)بظاہر کہیں موجود نہیں۔ اس صورتِ حال نے بہت سے لوگوں کو خد اکا منکر بنا دیا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ جب ہم خدا کو دیکھتے نہیں، تو ہم کیسے اسے مانیں، مگر خدا کے انکار کے لیے یہ بنیاد کافی نہیں۔
ہم جس ٹرین پر سفر کررہے ہیں وہ ایک بہت بڑی ٹرین ہے۔ وہ 110کیلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے مسلسل دوڑ رہی ہے۔ ہم اس کے اندر بیٹھے ہوئے منزل کی طرف چلے جارہے ہیں۔ بظاہر ہم ریل کے ڈرائیور کو نہیں دیکھتے۔ اس کا نام بھی ہم کو نہیں معلوم۔ مگر ہمیں یقین ہے کہ گاڑی کا ایک ڈرائیور ہے، اور وہی اس کو چلا رہا ہے۔
ہم کو یہ یقین کیوں ہے۔ منکر خدا کہیں گے، اس لیے کہ اگرچہ ہم ڈرائیور کو نہیں دیکھتے، مگر ہم اس کو دیکھ سکتے ہیں۔ ہمارے لیے یہ ممکن ہے کہ کسی بھی اسٹیشن پر اتر کر انجن کے پاس جائیں، اور وہاں اس کو دیکھیں۔ لیکن یہ محض ایک مغالطہ ہے۔ اگر ہم اسٹیشن پر اتر کر انجن کے پاس جائیں، اور گاڑی کے ڈرائیور کو دیکھیں تو ہم کیا چیز دیکھیں گے۔ ہم صرف ہاتھ پاؤں والے ایک جسم کو دیکھیں گے۔مگر کیا یہی دکھائی دینے والا جسم ہے جو گاڑی کو چلا رہا ہے۔ یقیناً نہیں۔ انجن کو چلانے والا دراصل ذہن ہے، نہ کہ ظاہری جسم۔ چنانچہ موت کے بعد ڈرائیور کا جسم پوری طرح موجود رہتاہے، مگر وہ گاڑی کو چلا نہیں پاتا۔ حقیقت یہ ہے کہ یہاں بھی وہی صورت حال ہے — ہم گاڑی کا ایک ڈرائیور مان رہے ہیں، بغیر اس کے کہ ہم نے ڈرائیور کو واقعی طورپر دیکھا ہو۔
موجودہ زمانہ کے منکرین خدا کہتے ہیں کہ یہ دنیا محض اتفاق سے بن گئی ہے۔ اس کا کوئی موجد اور خالق نہیں۔ مگر موجودہ کائنات جیسی با معنی کائنات کا محض اتفاق سے ظہور میں آنا ممکن نہیں۔ یہ ایسا ہی ہے جیسے کسی کباڑ خانہ میں دھماکہ ہونے سے ایک اکسپریس ٹرین برآمد ہوجائے یا اچانک ایک ہوائی جہاز بن کر ہوا میں اڑنے لگے۔
٭٭٭٭٭
لیوس ٹامس (Lewis Thomas) ایک امریکی سائنس داں اور فلسفی ہے۔اس کی پیدائش 1913 میں ہوئی، اور وفات 1993 میں ہوئی۔ بائیولوجی پر اس کی ایک کتاب ہے۔ اس کتاب میں اس نے زمین کی بابت یہ الفاظ لکھے ہیں— وہ خلا میں لٹکا ہوا، اور بظاہر ایک زندہ کرہ ہے
hanging there in space and obviously alive. (Lewis Thomas, The Fragile Species, Collier, 1993, p. 135)
یہ زمین (planet earth) کی نہایت صحیح تصویر ہے۔ زمین ایک اتھاہ خلا (vast space)میں مسلسل گردش کررہی ہے۔ اسی کے ساتھ زمین کے جو احوال ہیں، وہ انتہائی استثنائی طور پر ایک زندہ کرہ کے احوال ہیں۔ یہ چیزیں اتنی حیرت ناک ہیں کہ اگر ان کو سوچا جائے، تو رونگٹےکھڑے ہوجائیں، اور بدن میں کپکپی طاری ہوجائے۔ زمین میں اور بقیہ کائنات میں اتنی زیادہ نشانیاں ہیں کہ اگر کوئی آدمی ان میں سنجیدگی سے (sincerely) غور کرے، تو یہ کائنات اس کے لیے خدا کی معرفت اورجلال و جمال کا آئینہ بن جائے۔
واپس اوپر جائیں