Pages

Wednesday, 1 November 2006

Al Risala | November 2006 (الرسالہ،نومبر)

2

- نزولِ قرآن کا مہینہ

5

- زندگی کا مقصد

14

- قانونِ حیات

17

- قرآن اور امنِ عالم

21

- دولت کا مسئلہ

23

- مسلمان مسئلہ کیوں بن گیے

32

- ایک عظیم ایمانی صفت

35

- دعوہ ایمپائر

37

- فرق نہ سمجھنا

39

- انسانی اتحاد

41

- خبر نامہ اسلامی مرکز ۱۷۶


نزولِ قرآن کا مہینہ

رمضان کا مہینہ نزولِ قرآن کا مہینہ ہے۔ قرآن میں ارشادہوا ہے کہ— رمضان کا مہینہ جس میں قرآن اتارا گیا لوگوں کی ہدایت بناکر اور ہدایت اور حق و باطل کے درمیان امتیاز کے کھلے دلائل کے ساتھ ، پس جو کوئی تم میں سے اس مہینہ میں موجودہو وہ اس کے روزے رکھے (شہر رمضان الذی انزل فیہ القرآن ہدی للناس و بینات من الہدی والفرقان فمن شہد منکم الشہرفلیصمہ) البقرہ ۱۸۵
اس آیت سے رمضان میں روزہ کی سالانہ عبادت کی حقیقت معلوم ہوتی ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اسی قمری مہینہ میں قرآن کے نزول کا آغاز ہوا۔ قرآن جیسی الہامی کتاب کاانسان کو دیا جانا بلاشبہہ انسان کے اوپر بہت بڑا نعام تھا۔اس انعام کی شکر گزاری یہی تھی کہ اس مہینہ کو خصوصی طورپر اللہ کے ذکر اور اللہ کی عبادت میں گزارا جائے۔
یہاں قرآن کی تین خصوصیات بیان کی گئی ہیں۔ اول یہ کہ وہ لوگوں کے لیے رہنمائی ہے۔ قرآن ایک خدائی گائڈ بک ہے۔ وہ بتاتا ہے کہ موجودہ دنیا میں انسان کس طرح رہے کہ اس کو حقیقی کامیابی حاصل ہو۔
اس سلسلہ میں ایک بہت بنیادی بات یہ بتائی گئی کہ موجودہ دنیا نہ تو اہانت کی جگہ ہے اور نہ اکرام کی جگہ۔ یہاں کسی کو اگر سامان حیات کم ملے تو اس کو احساس کمتری میں مبتلا نہیں ہونا چاہیے۔ اسی طرح اگر کسی کو زیادہ ملے تو اس کے لیے بھی درست نہیں کہ وہ احساس برتری میں مبتلا ہوجائے۔ یہ دنیا حقیقتاًآزمائش کا مقام ہے۔ یہاں کی ہر حالت امتحان کی حالت ہے۔ اس لیے آدمی کی نظر اس پر ہونی چاہیے کہ اس نے اپنے ملے ہوئے حالات میں کیسا رد عمل پیش کیا ، نہ یہ کہ وہ دیکھنے لگے کہ خود حالات مادی معنوں میں کیسے تھے اور کیسے نہیں تھے۔
دوسری خصوصیت قرآن کی یہ ہے کہ اس میں جو ہدایت دی گئی ہے وہ ایسے واضح دلائل کے ساتھ دی گئی ہے جو عقل انسانی کے عین مطابق ہے۔ قرآن مجرد حکم نامہ نہیں ہے، اسی کے ساتھ اس میںاعلیٰ سطح پر عقلی اطمینان کا سامان بھی موجود ہے۔
مثال کے طورپر قرآن میںقاتل کے لیے قصاص کی سزا کا حکم دیاگیا ہے۔ یعنی مجرم کے ساتھ وہی معاملہ کرنا جس کا ارتکاب اس نے دوسرے انسان کے ساتھ کیا ہے۔ یہ حکم بظاہر سخت تھا۔ چنانچہ اس کے بعد اس کی عقلی توجیہ کرتے ہوئے فرمایا کہ: ولکم فی القصاص حیاۃ یا اولی الالباب (البقرہ ۱۷۹) یعنی ایک قاتل کو مارنا بہت سے لوگوں کو زندگی دینا ہے۔ کیوں کہ اس طرح تم پورے معاشرہ کو بچا لیتے ہو۔
قرآن کی تیسری خصوصیت یہ بتائی کہ وہ فرقان ہے۔ یعنی وہ حق اور باطل کے درمیان فرق کرنے والا خدائی معیار (criterion)ہے۔ وہ جھوٹ کی ملاوٹ سے پاک کرکے، سچ کو اس کے اصلی روپ میں پیش کرتا ہے۔
اس کی ایک مثال موسی علیہ السلام کا ید بضاء کا معاملہ ہے۔ بائبل میں اس کے بارہ میں یہودی عالموں نے لکھ دیا تھا کہ موسی نے اپنا ہاتھ اپنے سینہ پر رکھ کر اسے ڈھانک لیا۔ اور جب اس نے اسے نکال کر دیکھا تو اس کا ہاتھ کوڑھ سے برف کی مانند سفید تھا (خروج ۴:۶) یہ ایک خدا ئی معجزہ کی نہایت غلط تصویر تھی۔
چنانچہ قرآن میں اس کا ذکر کیا گیا تو اُس کو اِس طرح واضح کردیاگیا: واضمم یدک الی جناحک تخرج بیضاء من غیر سوء آیۃ اخری(طہ ۲۲) قرآن میں ید بیضاء کے ساتھ غیر سوء کی قید لگاکر اس لغو الزام کو دور کردیا گیا کہ حضرت موسیٰ کے ہاتھ کی سفیدی کسی بیماری کے سبب سے تھی بلکہ وہ آپ کی نبوت کے حق میں اللہ کی ایک عظیم نشانی تھی۔
نزول قرآن کے مہینہ میں روزہ رکھنے کا حکم دینے کا مقصد یہ ہے کہ خصوصی اہتمام کے ساتھ اس کتاب کو پکڑا جائے۔ اس مہینہ کو تمسک بالقرآن کا مہینہ بنا دیاجائے۔
روزہ دراصل یکسوئی کا ایک خصوصی طریقہ ہے۔ روزہ کی حقیقت یہ ہے کہ تمام غیر متعلق چیزوں سے کٹ کر آدمی ایک حقیقت اعلیٰ سے جڑ جائے۔ روزہ میں کھانا اور پانی چھوڑ دینا اس بات کی علامت ہے کہ بندہ اپنی بنیادی ضرورتوں تک کو بھول کر ہمہ تن قرآن اور صاحب قرآن کی طرف متوجہ ہوگیا ہے۔
رمضان کے مہینہ میں روزہ رکھ کر آدمی اپنے اندر روحانی طلب پیدا کرتا ہے۔ وہ قرآن میں غور کرکے اس سے اپنے لیے روحانی غذا لیتا ہے۔ وہ اللہ کے ذکر اور اللہ کی عبادت میں اپنے صبح وشام گزارتا ہے۔ خدا کی ہدایت ابتداء ً رمضان کے مہینہ میں اتری تھی، اب دوبارہ وہ قمری کیلنڈر کے اسی مہینہ میں مومن کے قلب میں اترتی ہے۔ خوش نصیب ہے وہ آدمی جو رمضان کے مہینہ کو اس ربانی طریقہ پر گزارے۔
واپس اوپر جائیں

زندگی کا مقصد

۱۱ مارچ ۲۰۰۶ کو شام کی فلائٹ سے میں حیدر آباد سے دہلی آرہا تھا۔ میرے ساتھ سی۔پی۔ایس ٹیم کے کئی اور افراد شامل تھے۔ اِس جہاز میں ایک خاتون نیہا بٹوارا (Neha Batwara) بھی سفر کررہی تھیں۔ ہماری ٹیم کے لوگ جہاز کے اندر مسافروں کے درمیان دعوہ ورک کررہے تھے۔ اس سلسلے میں انھوں نے مز نیہا سے بھی بات کی اور انھیں دعوتی پمفلٹ دیے۔ یہ خاتون دہلی ائر پورٹ پر اُتر کر اپنے وطن اَلور چلی گئیں۔ بعد کو حیدرآباد سے ان کا ایک خط مورخہ ۲۸ مارچ بذریعے ای میل موصول ہوا۔ وہ خط حسب ذیل تھا:
Respected Maulana!
I am Neha, working in an MNC for some people, it cannot be better than to get a job in top MNC just after graduation. But believe me, I am in search of a more purposeful life. That's why I am writing to you.
I met Priya Malik, Khalid Ansari and Sadia Khan on a flight to Delhi and could apparently see the difference your guidance has made to their lives.
Maulana, I know we have been created by God, and we all have a purpose here to fulfill on earth, which, if done, will be more satisfying than getting heaven after death.
The point where I am lacking is to know the purpose for which I have been sent here. I could not come to your class in Delhi, because my family was against going to some spiritual classes. You understand.
I will be grateful to you for the whole of my life if you could help me in any way. I am currently in Hyderabad.
Regards
Neha Batwara, Software Engg. MIEL
Hyderabad, Ext. 3355, Tel. 040-23308090
یہ خط سادہ طورپر صرف ایک خاتون کا خط نہیں ہے، بلکہ وہ ہر رُوح کی پکار ہے۔ یہ خط گویا ہر عورت اور مرد کے دل کی ترجمانی ہے۔ ہر انسان ایک بامقصد زندگی (purposeful life) کی تلاش میں ہے۔ یہ ہر انسان کی فطرت کی آواز ہے۔ لیکن لوگ یہ چاہتے ہیں کہ یہ بامقصد زندگی ان کو پوری طرح موت سے پہلے کے دورِ حیات میں مل جائے۔ موت کے بعد کے دورِ حیات کا نہ اُن کو شعور ہے اور نہ وہ اس کا انتظار کرنے کے لیے تیار ہیں۔
اِس سلسلے میں بنیادی سوال یہ ہے کہ آدمی اس بامقصد زندگی کو کہاں حاصل کرناچاہتا ہے۔ اپنی بنائی ہوئی دنیا میں یا خدا کی بنائی ہوئی دنیا میں ۔ ظاہر ہے کہ یہ مقصد اس کو خدا کی بنائی ہوئی دنیا میں حاصل کرنا ہے۔ کیوں کہ خود اپنی بنائی ہوئی دنیا اُس کے لیے سِرے سے موجود ہی نہیں۔
ایسی حالت میں یہ بالکل فطری بات ہے کہ آدمی سب سے پہلے یہ جانے کہ خدا کی بنائی ہوئی دنیا کے قوانین کیا ہیں اور اس کے بنانے والے نے کس تخلیقی منصوبے کے تحت اس کو بنایا ہے۔ کیوں کہ اس کی مطابقت کے بغیر وہ کسی بھی حال میں اپنا مقصد حاصل نہیں کرسکتا۔
اگر آپ کے پاس ایک اچھی کار ہو اور اس کو آپ سڑک پر دَوڑانا چاہیں تو آپ کو سب سے پہلے یہ جاننا ہوگا کہ جس ملک میںآپ اپنی گاڑی دوڑانا چاہتے ہیں وہاں لفٹ ہینڈ ڈرائیو(left-hand drive) کا اصول ہے یا رائٹ ہینڈ ڈرائیو(right-hand drive) کا۔ کامیاب سفر کے لیے اِس بات کو جاننا ضروری ہے۔ اگر آپ ایسا کریں کہ لفٹ ہینڈ ڈرائیو کے ملک میں اپنی گاڑی دائیں طرف دَوڑانے لگیں، یا رائٹ ہینڈ ڈرائیو کے ملک میں اپنی گاڑی بائیں طرف دوڑانے لگیں تو دونوں حالتوں میں آپ کامیاب سفر سے محروم رہ جائیں گے۔
یہی معاملہ زندگی کے وسیع تر سفر کا بھی ہے۔ انسان اپنی زندگی کا وسیع تر سفر کسی خلا میں یا خود اپنی بنائی ہوئی دنیا میں نہیں کرتا۔ وہ اپنا یہ سفر خدا کی بنائی ہوئی دنیا میں کرتا ہے۔ اِس لیے ہر عورت اور مرد کے لیے ضروری ہے کہ وہ خدا کے تخلیقی منصوبے کو سمجھے اور اس کے مطابق، اپنی زندگی کی تشکیل کرے۔ ایسا نہ کرنے کی صورت میں وہ اپنے آپ کو ناکامی سے نہیں بچا سکتا۔
خود انسان کا اپنا تجربہ اِس معاملے کو سمجھنے کے لیے کافی ہے۔ ہر انسان کا یہ مسئلہ ہے کہ اس کو پیاس لگتی ہے۔ وہ اپنی پیاس بجھانا چاہتا ہے۔ مگر یہ ایک معلوم بات ہے کہ ہر انسان اپنی پیاس بجھانے کے لیے پانی کو استعمال کرنے پر مجبور ہے۔ پانی کے سوا کسی اور چیز سے وہ اپنی ضرورت پوری نہیں کرسکتا۔ اِسی طرح انسان کو بھوک لگتی ہے۔ بھوک کے معاملے میں بھی انسان یہی کرتا ہے کہ وہ فطرت کی فراہم کردہ غذا کے ذریعے اپنی بھوک مٹائے۔ ہر انسان کو سانس لینے کے لیے آکسیجن کی ضرورت ہے۔ اس کے بغیر وہ زندہ نہیں رہ سکتا۔ ہر انسان آکسیجن لینے کے لیے اُسی نظام کو استعمال کرتا ہے جو اس کے باہر فطرت نے قائم کیا ہے۔ یہی تمام دوسری ضرورتوں کا معاملہ ہے۔
ٹھیک یہی معاملہ مقصدِ حیات کا بھی ہے۔ مقصدِ حیات کے معاملے میں بھی انسان کو اپنے خالق کے تخلیقی نقشہ (creation plan) کو جاننا ہے۔ اِس معاملے میں کوئی دوسرا متبادل، انسان کے لیے نہیں۔
قرآن خالقِ فطرت کی کتاب ہے۔ قرآن میں اِس سوال کا جواب اس کی سورہ نمبر ۱۰۳ میں دیاگیا ہے۔ قرآن کا یہ جواب اپنے مفہوم کے اعتبار سے یہ ہے:
History is a witness that man is in loss, except those who follow the course of life set by the Creator.
اِس اعتبار سے دیکھا جائے تو معلوم ہوگا کہ خالق نے انسان کی زندگی کو دو دَوروں میںتقسیم کیا ہے—قبل از موت دَور، اور بعد از موت دَور۔ موت سے پہلے کا دَور عمل کرنے کا دَور ہے اور موت کے بعد کا دَور عمل کا انجام پانے کا دَور۔ جو کچھ موت کے بعد ملنے والا ہے وہ موت سے پہلے نہیں مل سکتا۔ جو کچھ موت سے پہلے کرنا ہے اس کو کرنے کا موقع موت کے بعد باقی نہیں رہے گا۔
انسان کا مطالعہ بتاتا ہے کہ ہر انسان لامحدود خواہشوں (unlimited desires)کے ساتھ پیدا ہوتا ہے۔ یہ ڈیزائر ہر ایک کو بہت محبوب ہوتی ہیں۔ مگر یہ بھی ایک واقعہ ہے کہ پوری انسانی تاریخ میں کوئی ایک شخص بھی اپنی اِن خواہشوں کی تکمیل نہ کرسکا۔ مختلف انسانوں نے اپنی خواہشوں کی تکمیل کے لیے ساری عمر محنت کیا۔ بظاہر انھوں نے بڑی بڑی کامیابی حاصل کی۔ مگرہر ایک اِس حسرت کے ساتھ مرا کہ وہ اپنی خواہشوں کی تکمیل نہ کرسکا۔ آج کی دنیا میں وہ جس خوشی کو پانا چاہتا تھا اس کو پانے میں وہ ناکام رہا۔
دنیا کا مطالعہ بتاتا ہے کہ یہاں جوڑا(pair) کا اصول قائم ہے۔ یہاں ہر چیز اپنا جوڑا رکھتی ہے۔ ہر چیز اپنے جوڑے کے ساتھ مل کر اپنے وجود کی تکمیل کرتی ہے۔ یہ اصول عالمی سطح پر قائم ہے۔ زمین سے لے کر اسپیس تک ہر جگہ یہی نظام رائج ہے— نگیٹیو پارٹکل کا جوڑا پازیٹیو پارٹکل، نباتات میں میل سیکس اور فی میل سیکس، حیوانات میں مؤنث حیوان اور مذکر حیوان، انسان میں عورت اور مرد، وغیرہ۔
جوڑا یا زَوجین کا نظام تمام مخلوق میں عالمی سطح پر قائم ہے۔ اِس وسیع اور کامل نظام میں صرف ایک استثناء ہے اور وہ انسانی خواہشات کا ہے۔ ہر انسان خواہشات کا گہرا احساس لے کر پیدا ہوتا ہے۔ لیکن ہر انسان اپنی اِن خواہشات کی تکمیل کیے بغیر مرجاتا ہے۔ دنیا میں خواہش ہے مگر اس کا جوڑا، تکمیلِ خواہش یہاں موجود نہیں۔
یہ سوال اس دنیا میں آنے والے ہر عورت اور مرد کا سوال ہے۔ ہر پیدا ہونے والا اِس سوال کا جواب معلوم کرنا چاہتا ہے مگر اس سے پہلے کہ وہ اپنے سوال کا تشفی بخش جوا ب پائے وہ حسرت کے ساتھ اِس دنیا سے چلا جاتا ہے۔
امریکی مشنری بلی گرہم(Billy Graham) نے لکھا ہے کہ ایک بار اس کے پاس امریکا کے ایک عمر رسیدہ دولت مند کاارجنٹ مسیج آیا۔ بلی گراہم اپنے پروگرام کو ملتوی کرکے فوراً روانہ ہوگیے۔ وہ امریکی دولت مند کے گھر پہنچا تو اس کو ایک کمرے میں لے جایا گیا۔ وہاں اس کی ملاقات امریکی دولت مند سے ہوئی۔ امریکی دولت مند نے کسی تمہید کے بغیر کہا:
You see, I am an old man. Life has lost all meaning. I am going to take a fateful leap into the unknown. Young man can you give me a ray of hope.
بلی گرہم کے پاس اِس سوال کا کوئی تشفی بخش جواب نہ تھا۔ امریکی دولت مند جواب سے محرومی کا احساس لے کر مرگیا۔ خود بلی گرہم کا یہ حال ہوا کہ تازہ اطلاع کے مطابق، وہ شدید حادثے کا شکار ہو کر معذوری کی حالت میں بستر پر پڑا ہوا ہے، اور اپنے آخری انجام کے طورپر موت کا انتظار کررہا ہے۔
یہی معاملہ اِس دنیا میں ہر عورت اور مرد کا ہے۔ ہر ایک اپنی زندگی کا مقصد جاننا چاہتا ہے۔ ہر ایک، ایک پُر مسرت زندگی کی تلاش میں ہے۔ ہر ایک یہ چاہتا ہے کہ اس کو ایسی زندگی ملے جس میں اس کو پوری طرح فُل فلمینٹ(fulfillment)حاصل ہو۔ مگر ہر ایک کا انجام صرف ناکامی پر ختم ہورہا ہے۔واقعات بتاتے ہیںکہ ہر عورت اور مرد نے یہ سمجھا کہ دنیا کے مادّی سازوسامان ہی اصل ہیں۔ ہر ایک نے مادی سازوسامان اکھٹا کرکے اس کے ذریعے فل فلمینٹ کی زندگی حاصل کرنے کی کوشش کی۔ مگر کسی استثنا کے بغیر ایک شخص کو بھی مطلوب فل فلمینٹ حاصل نہ ہوسکا۔
ایسی حالت میں اصل مسئلہ یہ نہیں ہے کہ اِس ناکام تجربے کو دہرایا جاتا رہے۔ اب اِس معاملے میں اصل مسئلہ نظرثانی (reassessment) کا ہے۔ اب اصل کام یہ ہے کہ سنجیدگی کے ساتھ یہ سوچا جائے کہ دنیا کی قابلِ حصول مادّی چیزوں میں تو ثابت شدہ طورپر فل فلمینٹ کا سامان موجود نہیں۔ ایسی حالت میں پھر یہ سامان کہاں ہے۔ جب انسانی خواہش کا تسلسل جاری ہے تو یہ ماننا ہوگا کہ وہ ایک حقیقی چیز ہے، اور جب وہ ایک حقیقی چیز ہے تو یقینا اس کی تکمیل کا سامان بھی کائنات میں ہونا چاہیے۔
اِس معاملے کو سفر کی مثال سے سمجھا جاسکتا ہے۔ کوئی شخص جب سفر کرتا ہے، خواہ وہ ٹرین سے سفر کرے یا ہوائی جہاز سے، اس کے سفر کے دو مرحلے ہوتے ہیں۔ ایک ، وہ جب کہ وہ حالتِ سفر میں ہوتا ہے۔ دوسرا وہ جب کہ وہ اپنی منزل پر پہنچ جاتا ہے۔ کامیاب سفر کے لیے ضروری ہے کہ مسافر دونوں حالتوں کے فرق کو سمجھے۔ جو مسافر اِس فرق کو نہ جانے وہ ذہنی تناؤ کا شکار ہوجائے گا اور غیر ضروری پریشانی میں مبتلا ہوکر اپنی عقل کھو بیٹھے گا۔
صحیح مسافر وہ ہے جو سفر کو سفر سمجھے، وہ سفر کو منزل کی حیثیت نہ دے۔ یہ ایک فطری بات ہے کہ سفر کے دَوران وہ سہولتیں حاصل نہیں ہوتیں جو منزل پر پہنچ کر حاصل ہوتی ہیں۔ لیکن ہر مسافر اِس کو گوارا کرتا ہے۔ کیوںکہ اس کو یقین ہوتا ہے کہ سفر کی حالت ایک وقتی حالت ہے۔ آخر کار اس کا سفر ختم ہوگا اور وہ اپنی مطلوب منزل پر پہنچ جائے گا۔ منزل پر پہنچنے کے بعد اس کو وہ سب کچھ مل جائے گا جس کو وہ چاہتا تھا لیکن سفر کے دَوران وہ اُن کو حاصل نہ کرسکا۔
ہماری موجودہ زندگی بے حد مختصر مدت کے لیے ہوتی ہے۔ اس کا مختصر مدت کے لیے ہونا خود اِس بات کا ثبوت ہے کہ وہ دَورانِ سفر کی حالت ہے، وہ منزل پر پہنچنے سے پہلے کا لمحہ ہے۔ اِس بنا پر یہ ممکن نہیں کہ موجودہ مختصر زندگی میں ہم وہ تمام چیزیں پالیں جن کو ہم پانا چاہتے ہیں۔ یہ چیزیں بلا شبہہ ہم کو ملیں گی لیکن وہ منزل پر پہنچ کر ملیں گی، سفر کے درمیانی مرحلے میں وہ ہرگز ہم کو ملنے والی نہیں۔
جیسا کہ معلوم ہے، ہماری زندگی دو مرحلوں میں تقسیم ہے— موت سے پہلے کا مرحلہ اور موت کے بعد کا مرحلہ۔ موت سے پہلے کا مرحلہ گویا حالتِ سفر کا مرحلہ ہے، اور موت کے بعد کا مرحلہ گویا منزل پر پہنچنے کا مرحلہ۔ یہی وہ حقیقت ہے جس کو جاننا ہر انسان کے لیے ضروری ہے۔ یہی وہ حقیقت ہے جو ہر انسان کی زندگی کو بامعنیٰ بناتی ہے، جو ہر عورت اور مرد کو اُس مقصد سے متعارف کرتی ہے جو اس کی زندگی کو پوری طرح بامعنیٰ بنادے جو اس کو اطمینان کا سرمایہ عطا کرے۔
زندگی کی یہ توجیہہ اِس سوال سے جُڑی ہوئی ہے کہ موت کے بعد دوبارہ انسان زندہ ہوتا ہے۔ کیا موت کے بعد بھی اسی طرح زندگی ہے جس طرح موت سے پہلے ہم زندگی کا تجربہ کررہے ہیں۔ اس سوال کا جواب اثبات میں ہے۔ اِس سوال کا جواب ہم عین اُسی سائنسی طریقے کے ذریعے جان سکتے ہیں جس سائنسی طریقے سے دوسری حقیقتوں کو جانا جاتا ہے۔
حقیقتوں کو جاننے کے معاملے میں سائنٹفک متھڈ کیا ہے۔ وہ یہ نہیں ہے کہ جس بات کو جاننا ہے وہ اپنی کامل صورت میں سائنس داں کے سامنے آجائے۔ اگر یہ شرط ہوتو ساری حقیقتیں سائنسی طورپر غیر معلوم رہ جائیں ۔ علم کی ترقی رُک جائے۔ حقائق کی نسبت سے انسان ہمیشہ کے لیے اندھیرے میں پڑا رہے۔ کیوں کہ کوئی بھی حقیقت اِس طرح علم میں نہیں آتی کہ وہ پہاڑ کی طرح مشہود چیز کے طور پر سامنے آجائے۔
اِس کے بجائے جو ہوتا ہے وہ یہ ہے کہ مطالعے کہ دَوران سائنس داں کے سامنے ایک سُراغ (clue) آتا ہے۔ اِس سُراغ پر غور کرکے وہ ایک ایسی حقیقت تک پہنچتا ہے جو پہلے اس کو معلوم نہ تھی۔ اِس دنیا میں ہر حقیقت سراغ کی سطح پر دریافت ہوتی ہے۔ اِس دنیا میں سراغ ہی تمام حقیقتوں کی دریافت کی کنجی ہے۔
مثلاً سائنس میں اِس کو بطور حقیقت مان لیا گیا ہے کہ تیرہ بلین سال پہلے بِگ بینگ کا واقعہ پیش آیا۔ اِسی طرح سائنس میں یہ مان لیا گیا ہے کہ زمین پر حیاتیاتی ارتقا کا واقعہ ہوا۔ اسی طرح سائنس میں یہ مان لیا گیا ہے کہ ہماری کائنات ایک پھیلتی ہوئی کائنات (expanding universe) ہے، وغیرہ۔
اِس قسم کی حقیقتیں جو آج مسلّم حقیقت بن چکی ہیں وہ اِس طرح حقیقت نہیں بنیں کہ انسان نے اس کو مشاہداتی سطح پر دیکھ لیا۔ اِس کے بجائے جو کچھ ہوا وہ صرف یہ تھا کہ ایک سراغ انسان کے علم میںآیا۔ پھر اِس سراغ پر غور کرکے انسانی علم ایک بڑی حقیقت تک پہنچا۔ یہ بڑی حقیقت اگر چہ دکھائی نہیں دے رہی تھی مگر وہ موجود تھی۔ اس کی موجودگی کو بطور ایک واقعہ کے تسلیم کرلیا گیا۔ اگر چہ اِس سلسلے میں سُراغ کے سوا کوئی اور چیز انسان کے مشاہدے میں نہیں آئی تھی۔
یہی معاملہ موت کے بعد زندگی کا یا اگلے دَورِ حیات کا ہے۔ اگلے دَور حیات کے بارے میں بھی واضح سُراغ (clue) موجود ہیں۔ سراغ پر سنجیدگی کے ساتھ غور کیا جائے تو وہ ہمیں اِس یقین تک پہنچاتے ہیں کہ موت کے بعد بھی زندگی ہے۔ موت کے بعد بھی اِسی طرح ایک اور مرحلۂ حیات ہے جو لازمی طورپر ہر ایک کے سامنے پیش آئے گا۔
وہ سر اغ کیا ہے۔ مثلاً انسان کا جسم بے شمار خلیوں(cells) پر مبنی ہے۔ یہ خلیّے ہر وقت ٹوٹتے رہتے ہیں۔ دوسری طرف ہمارا نظامِ ہضم یہ کام کرتا ہے کہ جو کچھ ہم کھاتے ہیں وہ خلیّوں کی صورت اختیارکر لیتا ہے۔ ہمارا نظام ہضم گویا خلیہ ساز فیکٹری ہے۔ اِس نظام کے تحت یہ ہوتا ہے کہ عملاً تقریباً ہر دس سال میں ہمار ا پورا جسم بدل جاتا ہے۔ نیے خلیوں کے ساتھ مکمل طورپر ایک نیا جسم وجود میں آجاتا ہے۔
گویا کہ ہمارے جسم پر بار بار ’’موت‘‘ طاری ہوتی رہتی ہے۔ اس کے باوجود ہم دیکھتے ہیں کہ انسان کا ذہنی وجود نہیںمرا۔ یہ ایک معلوم حقیقت ہے کہ ذہنی وجود ہی انسان کا اصل وجود ہے۔ یہ ذہنی وجو بظاہر جسمانی موت کے باوجود یکساں طورپر باقی رہتا ہے۔ یہ ایک سراغ ہے جو بتاتا ہے کہ انسان اپنی اصل کے اعتبار سے ایک ابدی مخلوق ہے۔ اس کے ابدی وجود کا تھوڑا سا حصہ قبل ازموت مرحلۂ حیات میں ہے، اور اس کا بقیہ پورا حصہ بعد ازموت مرحلۂ حیات میں۔
اِسی طرح اِس معاملے کا ایک سُراغ یہ ہے کہ انسان کے اندر استثنائی طورپر عدل (justice) کا تصور پایا جاتا ہے۔ انسان اپنے فطری ذہن کے تحت، یہ چاہتا ہے کہ دنیا میں عدل قائم ہو۔ یعنی اچھا عمل کرنے والوں کو اچھا انجام ملے اور بُرا عمل کرنے والوں کو بُرا انجام ملے۔ اِس سرغ کو سامنے رکھ کر سوچا جائے تو انسانی ذہن اِس نتیجے تک پہنچتا ہے کہ موجودہ مرحلۂ حیات چوں کہ اپنی مدت کے اعتبار سے نہایت ناکافی ہے اس لیے بعد کے مرحلۂ حیات میںعدل کے تقاضے کی تکمیل ہو۔ بعد کے مرحلۂ حیات میں ہر انسان کو اس کے کیے کے مطابق، جزا یا سزا ملے۔
اِسی طرح اِس معاملے کا ایک سراغ یہ ہے کہ انسان پیدائشی طورپر معیاری دنیا (perfect world) چاہتا ہے۔ مگر موجودہ دنیا کی محدودیت (limitations) کی بنا پر یہاں مطلوب معیاری دنیا بن نہیں پاتی۔ اِس سراغ پر غور کرتے ہوئے انسانی ذہن اِس دریافت تک پہنچتا ہے کہ جو معیاری دنیا قبل ازموت مرحلۂ حیات میں محدود حالات کی بنا پر حاصل نہ ہوسکی وہ بعد از موت مرحلۂ حیات میں اپنی مطلو ب معیاری صورت میں حاصل ہوگی۔
اِسی طرح اِس معاملے میں ایک سراغ یہ ہے کہ انسان استثنائی طورپر ایک ایسی مخلوق ہے جو کَل (tomorrow) کا تصور رکھتا ہے۔ کسی بھی دوسرے حیوان یا غیر حیوان کے اندر کل کا تصور موجود نہیں۔ اِس سراغ کو لے کر غور کیا جائے تو یہ حقیقت واضح ہو تی ہے کہ موجودہ محدود حالات میں آدمی اپنی جس مطلوب دنیا کو نہیں پاتا اس کو وہ موت کے بعد آنے والے لا محدود مرحلۂ حیات میں پالے گا۔ یہ دنیا وہ ہوگی جہاں آدمی اپنے لیے پوری طرح فُل فلمینٹ کا تجربہ کرسکے گا۔
موت کے بعد معیاری دنیا بننا ویسا ہی ایک ثابت شدہ واقعہ ہے جیسا کہ دوسرے ثابت شدہ واقعات۔ تاہم مستقبل کی اِس معیاری دنیا میںہر ایک کو خود بخود جگہ نہیں مل جائے گی بلکہ صرف وہ عورت اور مرد اِس معیاری دنیا میں جگہ پائیں گے جو موت کے پہلے کی اِس دنیا میں اس کا استحقاق ثابت کرسکیں۔ یہ فطرت کا قانون ہے کہ ہر انعام مستحقین کو ملتا ہے۔ غیر مستحقین کے لیے کبھی کوئی بڑا انعام مقدر نہیں ہوتا۔
سوال یہ ہے کہ کسی شخص کے لیے اپنے آپ کو اس معیاری دنیا کا مستحق بنانے کا فارمولا کیا ہے۔ وہ فارمولا صرف ایک ہے، اور وہ ہے اپنے روح کی تطہیر (purification of soul) ۔
جو آدمی مستقبل کی اس معیاری دنیا میں اپنے لیے جگہ حاصل کرنا چاہتا ہو اس کو آج کی اِس دنیا میں یہ ثبوت دینا ہے کہ اس نے دکھائی دینے والی دنیا (seen world) میں نہ دکھائی دینے والی دنیا (unseen world) کو اپنی بصیرت سے جانا۔ اس نے کنفیوژن کے جنگل میں سچائی کو دریافت کیا۔ اس نے منفی تجربات کے ماحول میں اپنے آپ کو مثبت رویّے پر قائم رکھا۔ اس نے اپنے آپ کو حیوانی سطح سے اوپر اٹھایا اور انسانیت کی اعلیٰ سطح پر کھڑا کیا۔ اس نے اپنے آپ کو بے اعترافی، بددیانتی، سرکشی، خود غرضی، خواہش پرستی اور انانیت جیسی پست صفات سے بچایا۔ جو پورے دل اور جان کے ساتھ جنت کا طالب بنا۔ خلاصہ یہ کہ جس نے خدا رُخی زندگی(God-oriented life) کو پوری طرح اختیار کیا۔
یہ صفات رکھنے والے عورت اور مرد خلاصہ ٔ انسانیت ہیں۔ یہی وہ لوگ ہیں جومستقبل کی معیاری دنیا میںبسائے جانے کے لیے منتخب کیے جائیں گے۔ جو لوگ اس معیارپر پورے نہ اتریں ان کو رد کرکے کائناتی کوڑا خانے میں ڈال دیا جائے گا۔ جہاں وہ ہمیشہ کے لیے حسرت کی زندگی گذاریں گے۔ وہ کبھی اِس ذلّت اور حسرت کی زندگی سے نجات نہ پاسکیں گے۔
واپس اوپر جائیں

قانونِ حیات

قرآن کی سورہ نمبر دو میں زندگی کا ایک قانون ان الفاظ میں بتایا گیا ہے: کم من فئۃ قلیلۃ غلبت فئۃ کثیرۃ بإذن اللہ واللہ مع الصابرین۔ یعنی کتنے ہی چھوٹے گروہ بڑے گروہ پر غالب آئے ہیں، اللہ کے اِذن سے، اور اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے۔ (البقرہ: ۲۴۹)
قرآن کی اِس آیت میں اِذن سے مراد فطرت کا قانون (law of nature) ہے۔ یہ قانون، خالق فطرت نے قائم کیا ہے۔ اس لیے اُس کی حیثیت ایک حتمی قانون کی ہے۔ اس کو بدلنا کسی کے لیے ممکن نہیں۔ یہ قانون اُسی طرح عمل کرتا ہے جس طرح رات کے بعد دن کا آنا، اور دن کے بعد رات کا آنا۔
فطرت کا یہ قانون تاریخ میں بار بار واقعہ بنا ہے۔ بار بار ایسا ہوا ہے کہ ایک قلیل گروہ ایک کثیر گروہ پر غالب آیا ہے۔ مثلاً دَورِ اول میں مکّہ کے مسلمان جو مقابلۃً قلیل تعداد میں تھے وہ اپنے حریف پر غالب آئے جو مقابلۃً ان سے بہت زیادہ تھے۔ اِسی طرح موجودہ زمانے میں امریکا میں وہاں کے تاریکین وطن (emigrants)وہاں کے مقامی باشندوں کے مقابلے میں زیادہ ترقی کررہے ہیں۔ حالاں کہ تارکین وطن کم ہیں اور مقامی باشندے تعداد میں ان سے زیادہ ہیں، وغیرہ۔
اِس تاریخی ظاہرہ (phenomenon) پر موجودہ زمانے میں کافی مطالعہ کیا گیا ہے، اور واقعات کو لے کر اصول اخذ کیے گیے ہیں۔ اِس موضوع پر چھپنے والی کتابوں میں سے ایک کتاب وہ ے جو برطانی مؤرخ ٹائن بی (وفات : ۱۹۵۴) نے طویل مطالعے کے بعد تیار کی ہے۔ اس کا نام تاریخ کا مطالعہ ہے:
A Study of History, by Arnold Joseph Toynbee
اِس تاریخی مطالعے کے ذریعے معلوم ہوا ہے کہ جب بھی کسی علاقے میں ایسا ہوتا ہے کہ وہاں دوگروہ ہوں۔ ایک تعداد میں کم ہو اور دوسرا تعدادمیں زیادہ ہو۔ ایسے مقام پر خود فطری اسباب کے تحت، دونوں گروہوں کے درمیان دو مختلف قسم کا عمل (process) جاری ہوجاتا ہے۔ اقلیتی گروہ اپنے کو دفاعی پوزیشن میں محسوس کرتا ہے اِس لیے اس کے اندر یہ جذبہ اُبھرتا ہے کہ وہ اپنے حریف اکثریتی گروہ سے زیادہ محنت کرے۔ اس کو محسوس ہوتا ہے کہ زیادہ محنت کرکے ہی وہ اپنے بقا (survival) کا انتظام کرسکتا ہے۔ دوسری طرف اکثریتی گروہ کے اندر یہ احساس پیدا ہوتا ہے کہ وہ عددی اعتبار سے فریقِ ثانی کے مقابلے میں برتر ہے اس لیے اس کا مستقبل محفوظ ہے۔ اس کو کسی کی طرف سے کوئی خطرہ نہیں۔ اِس بے جا خود اعتمادی کی بنیاد پر اکثریتی گروہ کے اندر عمل کا جذبہ کمزور پڑجاتا ہے۔ وہ سمجھنے لگتا ہے کہ تمام حالات میری موافقت میں ہیں، میں کم عمل کرکے بھی زیادہ فائدہ حاصل کرسکتا ہوں۔
دونوں گروہوں کے درمیان اِس فرق کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ دونوں کے اندر خاموشی کے ساتھ دو مختلف عمل شروع ہوجاتا ہے۔ یہ دو طرفہ عمل ایک گروہ کے لیے ترقی کا ضامن بن جاتا ہے، اور دوسرے گروہ کے لیے تنزلی کا ضامن۔ فطرت کے قانون کا یہ نتیجہ ہوتا ہے کہ اقلیتی گروہ دن بدن تخلیقی اقلیت(creative minority) بننے لگتی ہے۔ اس کے برعکس، اکثریتی گروہ دن بدن غیر تخلیقی اکثریت(uncreative majority) بننے لگتی ہے۔ یہ عمل بلا اعلان خاموشی کے ساتھ جاری رہتا ہے یہاں تک کہ وہ واقعہ پیش آتا ہے جس کو قرآن کی مذکورہ آیت میں اکثریتی گروہ پر اقلیتی گروہ کے غلبے سے تعبیر کیا گیا ہے۔
قرآن کے مطابق، فطرت کا یہ قانون جس بنیادی اصول پر مبنی ہے وہ صبر (patience) ہے۔ صبر کوئی پسپائی نہیں، بلکہ وہ قانونِ فطرت سے ہم آہنگی اور منصوبہ بند عمل کا نام ہے۔ مذکورہ صورتِ حال میں ایسا ہوتا ہے کہ اکثریتی گروہ یہ محسوس کرتا ہے کہ اس کو صبر کی ضرورت نہیں ۔ اس کی عددی برتری اس کے لیے ہر چیز کا بدل ہے۔ لیکن اقلیتی گروہ کے افرادکے اندر اِس سے مختلف سوچ بنتی ہے۔ وہ شعوری یا غیر شعوری طورپر محسوس کرتے ہیں کہ موجودہ حالات میں ان کے لیے صرف ایک انتخاب ہے اور وہ صبر ہے۔ اِس طرح اقلیتی گروہ کے لیے صبر ایک جبری انتخاب (compulsive choice) بن جاتا ہے۔
اس طرح حالات کا دباؤ اقلیتی طبقے کو مجبور کرتا ہے کہ وہ ہر معاملے میں صبر کی پالیسی اختیار کرے۔ بظاہر اگر چہ وہ صبر کی روش کو ایک مجبوری کے تحت اختیار کرتا ہے لیکن صبر فطرت کا ایک عمومی قانون ہے۔ صبر کا طریقہ ہر حال میں مفید ہوتا ہے خواہ اس کو آزادانہ طور پر اختیار کیا جائے یا مجبورانہ طورپر، ٹھیک اسی طرح جیسے ٹانک کوئی شخص آزادانہ طورپر استعمال کرے یا مجبورانہ طورپر، ہر حال میں وہ اس کی صحت کے لیے مفید ثابت ہوگا۔
جب ایسا ہوتا ہے کہ اقلیتی گروہ صبر کی پالیسی پر قائم رہتا ہے تو فطرت کے نظام کے تحت، اس کے اندر کئی صفات پیدا ہوجاتی ہیں جو اس کی ترقی اور کامیابی کے لیے ضمانت کا کام کرتی ہیں۔
۱۔ موجودہ دنیا میں ہمیشہ کچھ نہ کچھ ناخوش گوار واقعات پیش آتے ہیں یا اشتعال انگیزی کی باتیں ہوتی ہیں۔ ایسی حالت میں صبر کی روش کا مطلب عملاً یہ ہوتا ہے کہ ناخوش گواریوں کے باوجود اعتدال پر قائم رہنا، اشتعال انگیزی کے باوجود مشتعل نہ ہونا، منفی اسباب کے باوجود مثبت روش پر قائم رہنا، اِسی کا نام صبر ہے۔ اِس اعتبار سے صبر کی پالیسی اقلیتی افراد کے لوگوں کو اُس چیز کا حامل بنا دیتی ہے جس کو بلند فکری (high thinking) کہا جاتا ہے۔ اِن لوگوں کے اندر اعلیٰ اخلاقیات کی پرورش ہوتی ہے۔ ان کے اندر وہ صلاحیت پیدا ہوتی ہے جس کو منصوبہ بند انداز میں کام کرنا کہا جاتا ہے۔ وہ شکایت اور احتجاج کو چھوڑ کر خود اپنے امکانات (potentials) کو بروئے کار لانے پر بھروسہ کرنے لگتے ہیں۔ اِس طرح صبر کی پالیسی اقلیتی گروہ کو تخلیقی گروہ بنانے کا سبب بن جاتی ہے۔
۲۔ صبر کی پالیسی کا یہ نتیجہ ہوتا ہے کہ اقلیتی گروہ کا وقت بے فائدہ کاموں میں استعمال ہونے سے بچ جاتا ہے۔ ان کا وقت اور ان کی توجہ زیادہ سے زیادہ تعمیری کاموں میں استعمال ہونے لگتی ہے۔ وہ زیادہ سے زیادہ داخلی استحکام میں مصروف ہو جاتے ہیں۔ اپنی نسلوں کی تعلیم، اپنے اداروں کی تنظیم، اپنے افراد کی تربیت، اقتصادی شعبوں میں زیادہ سے زیادہ مصروف ہونا، بے نتیجہ کاموں کو چھوڑ کر نتیجہ خیز (result-oriented) کاموں میں اپنے آپ کو لگانا، یہ گویا ان کا گروہی کلچر بن جاتا ہے۔
۳۔ اقلیتی گروہ کے اندر یہ تمام صفات فطری اسباب کے تحت پیدا ہوتی ہیں۔ یہ صفات اِس بات کی ضامن بن جاتی ہیں کہ وہ اقلیت میں ہونے کے باوجود ان لوگوں سے آگے بڑھ جائیں جو عددی اعتبار سے اکثریت کا درجہ رکھتے ہیں۔
واپس اوپر جائیں

قرآن اور امنِ عالم

امن کی تعریف، عدم جنگ(absence of war) سے کی جاتی ہے۔ مگر یہ امن کی منفی تعریف ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ امن ایک مثبت قدر کا نام ہے۔ ہر قسم کی تعمیری سرگرمی کے لیے ضروری ہے کہ سماج میں امن کی حالت قائم ہو۔ امن کے بغیر کسی صحت مند سماج کا قیام ممکن نہیں۔
امن کا تصور دنیا میں ہمیشہ پایا جاتا رہا ہے۔ اِس شعبۂ مطالعہ کے لیے ایک مخصوص اصطلاح بھی وضع کی گئی ہے، جس کو پیسفزم(Pacifism) کہاجاتا ہے۔ پیسفزم کے موضوع پر کثیر تعداد میں کتابیں لکھی گئی ہیں۔ حتی کہ اِس موضوع پر ایک مستقل انسائکلو پیڈیا چھپی ہے، جس کا نام یہ ہے:
An Encyclopaedia of Pacifism (1937)
تاہم قدیم زمانے میں امن کا تصور یہ تھا کہ وہ ایک ایسی حالت ہے جس کو کوئی حکومت اپنی طاقت کے زور پر قائم کرتی ہے۔ چنانچہ رومن امپائر کے عہد میں پیکس رومانا(Pax Romana) کی اصطلاح استعمال کی گئی۔ اِس کا مطلب یہ تھا کہ رومی اقتدار کے تحت قائم کیا ہوا امن۔ موجودہ زمانے میں جب امریکا کو سپرپاور کی حیثیت حاصل ہوئی تو پیکس امریکانا(Pax Americana) کا لفظ بولا جانے لگا۔ یعنی امریکا کے صنعتی دبدبے کے تحت قائم کیا جانے والا امن۔ امن کے معاملے میں اسلام نے جو فارمولا دیا ہے اس کو اِسی طرح پیکس اسلامیکا(Pax Islamica) کہا جاسکتا ہے۔
مہاتما گاندھی کو اِس باب میں ایک خصوصی اہمیت حاصل ہے۔ کیوں کہ انھوںنے ہتھیار کے استعمال کے بغیر انڈیا کو سیاسی آزادی دلائی۔ چنانچہ اِس موضوع کو لے کر کئی کتابیں لکھی گئی ہیں۔ مثلاً:
Mahatma Gandhi's Ideas, by C.F. Andrews.
Gandhi's Notions of Satyagraha, by Hannah Arendt.
مگر اس معاملے میں گاندھی کا کارنامہ ایک ادھوری نوعیت کا کارنامہ ہے۔ گاندھی نے انگریزوں کے خلاف آزادی کی جدوجہد میں ہتھیار کا استعمال نہیں کیا۔ مگر انھوںنے دوسرا کام یہ کیا کہ عوامی مظاہروں اور سول نافرمانی (civil disobedience) جیسے انتہا پسندانہ طریقوں کو اپنے مقصد کے لیے بھر پور طور پر استعمال کیا۔ اِس طریقِ کار کا منفی نتیجہ یہ ہوا کہ ہندستان سے انگریزوں کاسیاسی اقتدار تو ختم ہوا لیکن اسی کے ساتھ ملک میں نراج کا دَور دورہ ہوگیا۔ قانون شکنی کا مزاج عام ہوگیا۔ اسکولوں اور کالجوں میں تعلیم کی روایات ٹوٹ گئیں،وغیرہ۔ چنانچہ ۱۹۴۷ میں جو آزاد ہندستان بنا، وہ ایک ایسا ملک تھا جو امریکی پروفیسر گال بریتھ کے الفاظ میں حقیقی جمہوریت سے زیادہ ایک فنکشننگ انارکی(functioning anarchy)کے ہم معنی تھا۔
اصل یہ ہے کہ امن کے قیام کے لیے سب سے پہلے امن کا ایک قابل عمل فارمولا درکار ہے۔ ایک ایسا فارمولا جو لوگوں کی آزادی کو منسوخ کیے بغیر زیر عمل لایا جاسکے۔ جو موجود روایات کو توڑے بغیر امن کی حالت قائم کرے۔ جس کے ذریعے سماج میں کوئی نیا بگاڑ لائے بغیر امن کا حصول ممکن ہوسکے۔ امن کے لیے اِس قسم کا فارمولا پہلی بار قرآن میں پیش کیا گیا، اور پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو زیرِ عمل لاکر اس کا ایک باقاعدہ نمونہ تاریخ میں قائم کردیا۔
پیکس رومانا، اور پیکس امریکانا کو اگر سیاسی امن کہا جائے تو قرآن کے اصولِ امن کو اصلاحی امن کا نام دینا درست ہوگا۔ قرآن کا امن فارمولا اِس بات کو ممکن بناتا ہے کہ جبر اور بگاڑجیسی کوئی خرابی پیدا کیے بغیر امن کی حالت قائم کی جاسکے، یعنی وہ حالت جس میں ہر قسم کی تعمیری سرگرمیاں قابلِ عمل ہوجائیں۔
قر آن کے اِس امن فارمولے کو بتانے کے لیے میں نے اپنی کتاب اسلام ری ڈسکورڈ (Islam Rediscovered) میںایک اصطلاح استعمال کی ہے۔ یہ اصطلاح پازیٹیو اسٹیٹس کوازم (positive statusquoism) ہے۔ یعنی حالتِ موجودہ سے ٹکراؤ نہ کرنا، اور اس کے ہوتے ہوئے عین اُسی وقت جو امکانات(opportunities) پائے جارہے ہیں، ان کو اپنے حق میں استعمال کرنا۔ یہ ایک کامیاب فارمولا ہے جس کو قرآن میں انّ مع العسر یسرا کے الفاظ میں بیان کیاگیا ہے۔ یعنی مسائل کے ساتھ ہمیشہ مواقع بھی موجود رہتے ہیں، اس لیے مسائل کو نظر انداز کرو اور مواقع کو استعمال کرو:
Ignore the problems, avail the opportunities.
پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم انسانی تاریخ کے پہلے شخص ہیں جنھوں نے حقیقی معنوں میں امن کا سماج قائم کیا۔ اس سماج کے قیام میں پوری طرح مذکورہ قرآنی فارمولے کو استعمال کیاگیا تھا۔ پیغمبر اسلام کی زندگی گویا کہ امن کے اِس قرآنی فارمولے کی ایک عملی تفسیر ہے۔ آپ کی زندگی کے مطالعے سے ہم جان سکتے ہیں کہ یہ قرآنی فارمولا کس طرح زیر عمل لایا جاسکتا ہے۔
جیسا کہ معلوم ہے، پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے قدیم مکّہ میں ۶۱۰ عیسوی میں اپنی دعوتِ توحید کا آغاز کیا۔ اُس وقت مکّہ میںآپ کے لیے ایک سنگین مسئلہ تھا۔ آپ کا مشن یہ تھا کہ آپ کعبہ کو دوبارہ توحید کے عالمی مرکز کی حیثیت سے بحال کریں۔ مگر عملی صورتِ حال یہ تھی کہ کعبہ میں تین سو ساٹھ بُت رکھے ہوئـے تھے۔ اگر آپ ایسا کرتے کہ ’’بت شکنی‘‘سے اپنے کام کا آغاز کرتے تو اس کا انجام یہ ہوتاکہ آپ کی بُت شکنی عملاً امن شکنی کے ہم معنی بن جاتی۔ اِس قسم کی کوشش کے نتیجے میں جوچیز ظہور میں آتی وہ سماجی فساد ہوتانہ کہ سماجی امن۔ آپ نے قرآنی حکمت کے مطابق،اِس معاملے میں ڈی لنکنگ پالیسی (de-linking policy) اختیار کی۔ یعنی بُت کی موجودگی کے مسئلے کو بَروقت نظر انداز کرنا، اور بتوں کے باوجود آپ کے لیے وہاں کام کے جو مواقع موجود ہیں، اُن کو استعمال کرنا۔
کعبہ کے تین سو ساٹھ بت در اصل مختلف عرب قبائل میںپوجے جانے والے بت تھے۔ چنانچہ اِن قبائل کے افراد اپنے بتوں کی زیارت کے لیے برابر وہاں آتے رہـتے تھے۔ اِسی طرح خود اہلِ مکّہ کے لیے بھی کعبہ ایک مرکزِ اجتماع بنا ہوا تھا۔ جہاں وہ روزانہ اکھٹا ہوتے اور اپنے رواج کے مطابق، وہاں اپنے مذہبی مراسم ادا کرتے۔ اِس طرح کعبہ فطری طورپر ایک مقامِ اجتماع بن گیا۔
کعبہ میںرکھے ہوئے بُت بظاہر پیغمبر اسلام کے لیے ایک مسئلہ تھے، لیکن کعبہ کے صحن میں لوگوںکے اجتماع نے اِس مقام کو گویا کہ عربوں کی نیشنل اسمبلی کا درجہ دے دیا تھا۔ آپ نے کعبہ کے اِس دوگونہ پہلو کو سمجھا، اور بصیرتِ قرآنی سے کام لیتے ہوئے یہ کیا کہ آپ نے بتوں کی موجودگی کو وقتی طور پر نظر انداز کیا، اور انسانوں کی موجودگی کو اپنی دعوت کے لیے مقامِ خطاب کے طورپر استعمال کیا۔ چنانچہ آپ پُرامن طور پر وہاں جاتے اور لوگوں کو قرآن کے حصے پڑھ کر سُناتے۔ اِس طرح قرآن کا پیغام کسی ٹکراؤ کے بغیر خاموشی کے ساتھ عرب قبائل میں پہنچنے لگا۔
پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم تیرہ سال تک پُرامن پیغام رسانی کا یہ مشن چلاتے رہے۔ قریش نے دیکھا کہ لوگ آپ کے کلام سے متاثر ہو کر آپ کے دین میں داخل ہورہے ہیں، اِس لیے وہ آپ کے مخالف ہوگیے۔ یہ مخالفت اتنی زیادہ بڑھی کہ انھوں نے یہ فیصلہ کیا کہ سب مل کر آپ کو قتل کرڈالیں، اور اس طرح آپ کے مؤحّدانہ مشن کو ختم کردیں۔یہ ایک سنگین صورت تھی۔ آپ نے پیشگی طورپر اس کا اندازہ کرلیا اور مکّہ میں قیام کے زمانے ہی میں اپنے دو ساتھیوں کو مکّہ سے تین سو میل دور واقع شہر مدینہ بھیج دیا۔ یہ لوگ وہاں جاکر توحید کی پُرامن تبلیغ کرنے لگے۔ اُن کا طریقہ یہ تھا کہ وہ لوگوں کو قرآن پڑھ کر سناتے ۔ اِس لیے اُن کو مُقری کہاجانے لگا، یعنی پڑھ کر سنانے والا۔ اِس کوشش کا نتیجہ یہ ہوا کہ مدینہ کے لوگ تیزی سے اسلام قبول کرنے لگے۔ یہاں تک کہ مدینہ کے ہر گھر میں اسلام داخل ہوگیا۔
اس تجربے سے اندازہ ہوا کہ مدینہ کے حالات مکّہ کے حالات سے مختلف ہیں۔ چنانچہ پیغمبر اسلام نے فیصلہ کیا کہ وہ مکّہ والوں سے متشدّدانہ ٹکراؤکی نوبت نہ آنے دیں۔ اِس کے بعد آپ یک طرفہ فیصلے کے تحت، مکّہ کو چھوڑ کر مدینہ چلے گئے۔ اِس واقعہ کو اسلام کی تاریخ میں ہجرت کہا جاتا ہے۔ ہجرت کا مطلب ہے—تشدد کے مقام کو چھوڑ کر ایسی جگہ چلے جانا جہاں پُر امن طورپر کام کرنے کے مواقع پائے جاتے ہوں۔
پیغمبر اسلام نے پُر امن عمل کا یہی طریقہ اپنی پوری زندگی میں اختیار کیا۔ ہجرت کے بعد قریش نے آپ کے خلاف جنگی کارروائی شروع کی تو آپ ہر قیمت پر اس سے اعراض کرتے رہے۔ چند بار صرف اُس وقت محدودطور پر دفاعی جنگ کی نوبت آئی جب کہ فریقِ مخالف کے جارحانہ اقدام نے آپ کے لیے کوئی دوسرا راستہ نہیں چھوڑا تھا۔ آخر میں آپ نے خود اپنی طرف سے مخالف قبیلہ قریش سے امن کی بات چیت شروع کی۔ وہ لوگ ضد پر اُترآئے تو آپ نے اُن کی شرطوں کو یک طرفہ طورپر منظور کرتے ہوئے اُن سے ناجنگ معاہدہ(no war pact) کرلیا۔ اِس معاہدے کا خلاصہ یہ تھا کہ—دونوں فریق اپنے اپنے دائرے میں امن پر قائم رہیں گے اور دوسرے کے خلاف وہ کوئی متشددانہ کارروائی نہیںکریں گے— اِس معاملے کی تفصیل راقم الحروف کی کتاب ’ امنِ عالم‘ میں دیکھی جاسکتی ہے۔
واپس اوپر جائیں

دولت کا مسئلہ

امریکا کے انتہائی دولت مند لوگوں کے بارے میں ایک جائزہ شائع کیا گیا ہے۔ اس کا عنوان ہے ’’چاندی کے چمچہ سے محروم بچے‘‘(Off with Silver Spoon) ۔ اس میں بتایا گیا ہے کہ:
امریکا میں دولت ایک بیماری بن رہی ہے جس کو افلوئنزا (Affluenza) کا نام دیاگیاہے۔ وہاں کے دولت مند لوگ اس بیماری سے چھٹکارا پانے کی تلاش میں ہیں۔ ایک حالیہ مطالعہ کے مطابق، پانچ دولت مندوں میں سے ایک، اپنے بچوں کے لیے وراثت کو محدود کررہے ہیں تاکہ زندگی کی ہر چیز انھیں چاندی کی ٹرے میں رکھی ہوئی نہ مل جائے۔
اس سلسلے میں جن دولتمندوں کے نام دئے گئے ہیں ان میں سے چند یہ ہیں: بِل گیٹس، ٹیڈٹرنر، ہالی وڈ ہیروئن جیمی لی کرٹس اور کیتھرین زیٹا جونس وغیرہ۔ یہ سب لوگ ایسے اقدامات کررہے ہیں کہ ان کے بچے اَفلوئنزا کی بیماری سے محفوظ رہیں۔ یعنی زیادہ دولت سے جڑے ہوئے اخلاقی، جذباتی اور عملی مسائل۔
بل گیٹس کی بیوی ملینڈا (Melinda) کہتی ہیںکہ ہم نہیں چاہتے کہ ہمارے بچے مصنوعی بڑائی کے خول میں ایک بے مقصد زندگی گزاریں۔ بچوں کا نقصان خیراتی کاموں کے لیے نفع بن گیا ہے۔ چنانچہ کثیر دولت رکھنے والے اِن والدین نے مجموعی طورپر بارہ ارب پونڈ خیراتی کاموں کے لیے دئے ہیں:
Off with Silver Spoon
Protection from 'affluenza' is what American millionaires and billionaires are seeking now. According to a recent study, about one in five among them are limiting their children's legacies to assure that they don't get everything in life on a silver platter. From Bill Gates, media baron Ted Turner, to Hollywood stars Jamie Lee Curtis and Catherine Zeta-Jones, they are all taking steps to ensure that their children do not fall victim to affluenza— the moral, emotional and practical problems associated with having to much money. Says Bill Gates' wife, Melinda: “We don’t want our kids to lead a paranoid, pointless life.” And the kids’ loss is charity’s gain. Fo these super-rich parents have donated a total of £12 billion in charity. Life Positive Monthly, New Delhi, April 2002 (p. 86)
جو لوگ دولت سے محروم ہیں، وہ دولت کو ایک نعمت سمجھتے ہیں، لیکن جب کوئی شخص دولت کو پالیتا ہے تو دولت کا تجربہ اس کے پچھلے احساس کو بدل دیتا ہے۔ اب اس کو معلوم ہوتا ہے کہ اگر بے دولت ہونا ایک مسئلہ ہے تو دولت مند بننا بھی ایک مسئلہ ہے، بلکہ شاید شدید تر مسئلہ۔
ایک شخص جو ابتدا میں غریب تھا، بعد کو اس کے پاس کافی دولت آگئی۔ اس کے ماضی کے ایک دوست نے کہا کہ میں دیکھتا ہوں کہ جب سے تمھارے پاس دولت آئی ہے، تم کافی بدل گیے ہو۔ دولت مند آدمی نے اپنے دوست سے کہا—میرے اوپر دولت کی بجلی گری ہے، یہی میرا مسئلہ ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ اگر دولت ملنے سے پہلے آدمی کو اس کا تجربہ ہوجائے تو کبھی کوئی شخص دولت کی تمنا نہ کرے۔ وہ دولت کا حریص بننے کے بجائے قناعت کی زندگی کو اپنے لیے بہتر سمجھے۔
واپس اوپر جائیں

مسلمان مسئلہ کیوں بن گیے

پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی جو حدیثیں محفوظ حالت میں ہم تک پہنچی ہیں اُن میں سے کچھ حدیثیں وہ ہیں جن میں آپ نے اپنی امت کو مستقبل کے کچھ فتنوں سے پیشگی طورپر خبر دار کیا ہے۔ اس قسم کی حدیثوں میں سے ایک حدیث وہ ہے جس میںآپ نے فرمایا: واذا وضع السیف فی امتی لم یرفع منہا إلی یوم القیامۃ (ابو داؤد، کتاب الفتن، الترمذی ،کتاب الفتن، ابن ماجہ، کتاب الفتن، مسند احمد) یعنی میری امت کے اندر جب تلوار داخل ہوگی تو اس کے بعد وہ قیامت تک اُس سے اُٹھائی نہ جائے گی۔
سیف (تلوار) تشدد کی علامت ہے۔ اس قولِ رسول کا مطلب یہ ہے کہ امت مسلمہ کے اندر جب ایک بار متشددانہ طریقہ داخل کردیا جائے تو پھر وہ نسل در نسل جاری رہے گا۔ حتیٰ کہ اگر اس رجحان کو بدلنے کی خصوصی کوشش نہ کی گئی تو عین ممکن ہے کہ وہ برابر امت کے اندر جاری رہے، یہاں تک کہ قیامت آجائے۔ مسلمانوں کی تاریخ کو دیکھا جائے تو پیغمبر اسلام کی پیشین گوئی بالکل لفظی طورپر درست ثابت ہوتی ہے۔
جیسا کہ معلوم ہے، خلیفۂ ثالث عثمان بن عفان کے آخری زمانہ میں سیف، بالفاظ دیگر، متشددانہ طریق کار امت مسلمہ کے اندر داخل ہوا، اس کے بعد پھر وہ کبھی ختم نہ ہوسکا۔ اِس وقت سے لے کر آج تک پوری امت کا یہ حال ہے کہ اُس کے کچھ افراد اگر عملی تشدد میں مشغول ہیں تو اس کے کچھ افراد فکری تشدد میں ۔ کچھ لوگ اگر اپنے مفروضہ دشمنوں کے خلاف گن اٹھائے ہوئے ہیں تو دوسرے لوگ براہِ راست یابالواسطہ طورپر اس کی تصدیق اور تبریر کرنے میں مشغول ہیں۔
اصل یہ ہے کہ چودہ سو سال پہلے جب پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت ہوئی، اُس وقت عرب میں اور ساری دنیا میں مذہبی ایذا رسانی (religious persecution) کا زمانہ تھا۔ مروجہ مذہب کے لوگ جب بھی دیکھتے کہ کوئی فرد یا گروہ اُن سے الگ کوئی مذہب اختیار کررہا ہے تو وہ اُس کے سخت مخالف بن جاتے۔ مذہبی رواداری (religious tolerance) جو موجودہ زمانے میں دکھائی دیتی ہے، اس زمانہ میں اس کا سرے سے کہیں وجود نہ تھا۔
یہی زمانی رُکاوٹ ہے جس کا سامنا پیغمبر اسلام اور آپ کے ساتھیوں کو پیش آیا۔ لوگ پیغمبر اور آپ کے اصحاب کے ساتھ جارحیت کی حد تک ناروا داری کا معاملہ کرنے لگے۔ یہاں تک کہ آپ کو اور آپ کے اصحاب کو اپنے وطن مکہ سے نکل جانے پر مجبور کردیا۔ اس وقت قرآن میں یہ حکم دیاگیا کہ: وقاتلوہم حتی لا تکون فتنۃ ویکون الدین للہ (البقرہ ۱۹۳)
اس آیت میں فتنہ سے مراد یہی مذہبی ایذا رسانی (religious persecution) ہے۔ آیت کا مطلب یہ ہے کہ جو لوگ مذہب کے جائز معاملہ میں تمھارے خلاف تشدد کررہے ہیں اور جارحیت کی حد تک جاکرتمھارے خلاف رکاوٹیں کھڑی کررہے ہیں، اُن سے دفاعی جنگ لڑو، یہاں تک کہ مذہبی جبر(فتنہ) کی حالت ختم ہوجائے اور مذہبی آزادی کی حالت قائم ہوجائے۔ مذہبی جبر یا مذہبی ایذارسانی اپنے آپ میں ایک جارحانہ فعل ہے، اور دوسری جارحیت کی طرح، اس جارحیت کے خلاف جو جنگ کی جائے وہ بھی دفاعی جنگ ہے۔
پیغمبر اسلام اور آپ کے اصحاب نے یہی مدافعانہ جنگ کی۔ یہ گویا ایک قسم کا وقتی آپریشن تھا۔ یہ آپریشن بہترین تربیت یافتہ انسانوں کے ذریعہ کیاگیا، اور یہ آپریشن اصحاب رسول کی اگلی ہی نسل میں تقریباً مکمل ہوگیا۔
جیسا کہ معلوم ہے، یہ آپریشن ہجرت مدینہ کے بعد شروع ہوا ،پہلے عرب میںاور اس کے بعد ایرانی سلطنت اور بازنطینی سلطنت کے دائرہ میں۔ یہ آپریشن پیغمبر اسلام کے زمانہ میں شروع ہوا اورخلیفۂ ثانی عمر فاروق کے زمانہ میں وہ اپنی آخری تکمیل تک پہنچ گیا۔ یہ پورا کام خدا کی خصوصی مدد سے ہوا۔ یہی وجہ ہے کہ اتنا بڑا آپریشن صرف پچیس سال کے مختصر عرصہ میں مکمل ہوگیا۔ قتال فتنہ کی آیت کا یہ مفہوم دوسرے نصوص کے علاوہ، عبد اللہ بن عمرکی تشریح سے ثابت ہے، جو صحیح البخاری میںایک سے زیادہ مقامات پر آئی ہے۔
خلافت راشدہ کے بعد جب بنوامیّہ کی سلطنت شروع ہوئی تو عبد اللہ بن زبیر نے اس کے خلاف خروج کیا۔ اس کے نتیجہ میںعبد اللہ ابن زبیر اور بنو امیہ کے گورنر حجاج بن یوسف کے درمیان جنگ پیش آئی۔ عبداللہ بن عمر ایک سینئر صحابی کی حیثیت سے مکہ میں موجود تھے، مگر اُنھوں نے اس جنگ میںشرکت نہیں کی۔ عبداللہ بن زبیر کے کچھ ساتھی عبد اللہ بن عمر کے پاس گئے اور اس جنگ میں اُنھیں شرکت کی دعوت دی۔ اُن لوگوں نے قرآن کی آیت قتال فتنہ (الانفال ۳۹) کا حوالہ دے کر کہا کہ ہماری یہ جنگ قرآن کے اس حکم کے تحت ہے۔ حضرت عبد اللہ بن عمر نے کہا کہ تم لوگ غلط کہتے ہو۔ فتنہ کے خلاف جنگ سے مراد مذہبی تشدد کے خلاف جنگ تھی۔ ہم نے لڑ کر اس فتنہ کو ختم کردیا۔اب تم لڑ رہے ہو تاکہ جو فتنہ ختم ہوچکا ہے وہ دوبارہ نئے نام کے ساتھ لوٹ آئے (فتح الباری، جلد ۸، صفحہ ۳۲، ۱۶۰)
تاہم حضرت عبد اللہ بن عمر کے اس احتجاج کے باوجود امت کے اندر تشدد کا طریقہ جاری رہا، یہاں تک کہ وہ امت کی پوری تاریخ پر پھیل گیا۔ قتال فتنہ کے حکم سے مراد دراصل یہ تھا کہ مذہبی تشدد کے دور کو ختم کرکے مذہبی آزادی کا دور لایا جائے۔ مگر بعد کے دور میں اُس کو سیاسی معنی میں لے لیا گیا۔ اب اس کا مطلب یہ ہوگیا کہ دوسری قوموں کے اقتدار کو ختم کر کے مسلمانوں کا اقتدار دنیا میں قائم کیا جائے۔ یہ قرآنی حکم کے معاملے میں ایک انحراف تھا، تاہم یہ انحراف عمل میں آیا، حتی کہ وہ پوری مسلم تاریخ پر چھاگیا۔
سیاسی حوصلہ مندوں کو یہ نظریہ بہت موافق نظر آتا تھا۔ چنانچہ اُنھوں نے بہت جلد پورے زور کے ساتھ اس کو پکڑ لیا۔ یہ رجحان اتنا زیادہ بڑھا کہ اسلام عملاً کِشور کُشائی اور ملک گیری کا ایک مذہب بن گیا اور اسی کے ساتھ تشدد کا بھی۔ کیوں کہ کشور کُشائی اور ملک گیری کی مہم تشدد کے بغیر چلائی نہیں جاسکتی۔ سیاسی حوصلہ مندوں کے اس عمل میں چند چیزوں سے خصوصی نظریاتی مدد ملی۔ اس طرح اُنھیں اپنی عملی سیاست کے لیے نظریاتی جواز بھی حاصل ہوگیا۔
ایک یہ کہ قدیم زمانہ کے رواج کے مطابق، اسلام کی تاریخ سیاسی نمونہ پر لکھی گئی۔ خلافت عباسیہ سے لے کر بعد کے زمانہ تک جتنی بھی تاریخیں لکھی گئیں، وہ سب کی سب قدیم پیٹرن پر لکھی گئیں۔ قدیم پیٹرن میں جنگ و فتح اور سیاسی معرکہ آرائیوں کو سب سے زیادہ اہم سمجھا جاتا تھا اور انھیںکوتاریخ کی کتابوں میں ریکارڈ کیاجاتا تھا۔
ان سیاسی حوصلہ مندوں کو جن چیزوں سے نظریاتی تائید ملی، اُن میں سے ایک، تاریخ نویسی کا یہ قدیم طریقہ تھا۔ یہ تمام تاریخیں حقیقتاً مسلم بادشاہوں کی تاریخیں تھیں۔ اُن کی قائم کردہ ہر سلطنت خاندانی خلافت (dynasty) تھی۔ مگر ان تاریخوںکو ’’اسلامی تاریخ‘‘ کا نام دے دیاگیا۔ اس طرح مسلم خاندانوں کی یہ حکومتیں اسلامی حکومتیں قرار پائیں۔
اس سلسلہ میں دوسری نظریاتی تائید فقہ سے حاصل ہوئی۔ جیسا کہ معلوم ہے، یہ فقہ عباسی سلطنت کے دورمیں مرتب ہوئی۔ اس میں وقت کے رجحان کے مطابق، نہ کہ قرآن اور سنت کی تعلیم کے مطابق، ساری دنیا کو دو علاقوں میں تقسیم کردیاگیا، دار الاسلام اور دار الحرب۔
دار الاسلام سے مراد وہ زمینی علاقے تھے جہاں مسلمانوں کی حکومت قائم تھی۔ اور دار الحرب سے مراد وہ علاقے تھے جہاں مسلمانوں کی حکومت ’’ابھی‘‘ قائم نہیں ہوئی۔ یہ فرض کر لیاگیا کہ یہ تمام غیر مسلم علاقے گویا امکانی طورپر مسلمانوں سے حالت جنگ (potentially at war) میں ہیں، اس لیے ان کو دار الحرب کا نام دے دیا گیا۔
دار الحرب اور دار الکفر کی اصطلاحیں بلا شبہہ اجتہادی ہیں، وہ کسی نصّ صریح پر مبنی نہیں۔ جن لوگوں نے اپنے اجتہاد سے یہ اصطلاحیں وضع کیں وہ ایک حدیث کے مطابق، اس پر یقینا اجتہادی خطا کا اجر پائیں گے، مگر ان کو درست اجتہاد کا درجہ نہیں دیا جاسکتا۔ حقیقت یہ ہے کہ بلاد کی تقسیم کے لئے صحیح طورپر دو ہی ابدی اصطلاحیں ہیں، دارالدعوہ، اور دارالاسلام۔ جہاں اسلام کا حکم قائم ہو جائے وہ دارالاسلام ہے اور جہاں ایسا نہ ہو وہ دار الدعوہ ہے۔ ان کے سوا کوئی تیسری اور چوتھی اصطلاح اسلام کی تعلیم کے مطابق نہیں۔
اس معاملہ میں دور اول کو لیجئے۔ نبوت کے ابتدائی زمانہ میں مکہ اور مدینہ اور دوسرے تمام علاقے ایک ہی قسم سے تعلق رکھتے تھے۔ یہ سب کے سب دار الدعوہ تھے۔ ہجرت کے بعد مدینہ میںاسلام کا اقتدار قائم ہوگیا تو اس کے بعد مدینہ دار الاسلام بن گیا اور دوسرے علاقے، بشمول مکہ، دارالدعوہ کی حیثیت سے قائم رہے۔ اسی طرح عرب کے باہر کے ملکوں کی حیثیت بھی دارالدعوہ کی تھی۔ اس لئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان ملکوں کے حکمرانوں کو دعوتی مکاتیب روانہ کئے۔
بلاد کی اس تقسیم کا مطلب یہ نہیں ہے کہ دارالاسلام کے علاوہ جو علاقے ہیںان کو بھی سیاسی معنوں میں دار الاسلام بنانے کی کوشش کی جائے۔ اس قسم کا نظریہ سراسر بے بنیاد ہے۔ دیگر علاقوں کے لیے اہلِ اسلام کی ذمہ داری صرف دعوت ہے، اول بھی اور آخر بھی۔ پر امن دعوت کے سوا کسی بھی قسم کی دوسری کارروائی اہل اسلام کے لیے جائز نہیں۔
فقہ کی کتابوں میں،اور دوسرے موضوعات کی کتابوں میں عام طور پر بلاد الکفر اور بلاد الکفار کے الفاظ استعمال کئے جاتے ہیں۔ یہ اسلوب یقینی طورپر درست نہیں۔ غیر مسلم ملکوں کا ذکر ان کے اپنے معروف نام کے ساتھ کیا جانا چاہئے نہ کہ بلاد الکفر یا بلاد الکفار کے الفاظ میں۔ اس طرح کے معاملات میں ہمیں خود ساختہ طریقہ اپنانے کے بجائے انٹرنیشنل آداب کو اپناناچاہیے۔ اس سلسلہ میں بنیادی بات یہ ہے کہ اسلام دین فطرت ہے۔ ہر انسان کی جو فطرت ہے وہی خود اسلام بھی ہے۔ اس اعتبار سے یہ کہنا درست ہوگا کہ ہر انسان امکانی طورپر مسلم ہے:
Every human being is potentially Muslim.
ایسی حالت میں ہمارا نقطۂ نظر دوسرے انسانوں کے بارے میں وہی ہونا چاہئے جوخود مسلمانوں کے بارے میں ہوتا ہے۔ کیوں کہ یہ سارے انسان امکانی طورپر مسلم ہی ہیں۔ اسلام کی پوری تاریخ اس حقیقت کی گواہی دیتی ہے۔
اسی طرح دشمن اور دوست کی تقسیم بھی عمومی طور پر درست نہیں۔ ایک گروہ اگر یکطرفہ طورپر اہل اسلام پر حملہ کردے تو ایسی حالت میں اہل اسلام وقتی طورپر دفاع کی ذمہ داری کو پورا کریں گے۔ مگر بظاہر زیادتیوں کے باوجود ،کسی گروہ کو مستقل طورپر دشمن سمجھ لینا درست نہیں۔ قرآن کے مطابق، اہل اسلام کو چاہیے کہ وہ اپنے دشمن کو بھی امکانی طورپر اپنا دوست سمجھیں، وہ یکطرفہ حسن اخلاق کے ذریعہ اپنے دشمن کو اپنا دوست بنانے کی کوشش کریں(حٰم السجدہ ۳۴)
ہجرت کے بعد مدینہ جب دارالاسلام بن گیا تو اس کا مطلب یہ نہیں تھا کہ مکہ دارالکفر یا دار الحرب ہوگیا۔ بلکہ صحیح یہ ہے کہ ہجرت کے بعد مدینہ اگر بالفعل دار الاسلام تھا تو مکہ بالقوہ دار الاسلام، جیسا کہ بعد کی تاریخ سے ثابت ہوا۔ بلاد کی تقسیم کے بارے میں یہی صحیح اسلامی نقطۂ نظر ہے۔
یہاں یہ بات واضح رہے کہ بلاد کی یہ تقسیم مکمل طورپر غیر سیاسی معنوں میں ہے نہ کہ سیاسی معنوں میں۔ دوسرے اسباب کے علاوہ یہ دو اسباب، فقہ اور تاریخ، گویا اس مسلم سیاست کے لیے نظریاتی تائید کے ہم معنی بن گئے۔
انیسویں صدی کے آخر میں قدیم طرز کی مسلم سلطنتوں کا دور ختم ہوگیا۔ حالات کی اس تبدیلی کے بعد، مسلم دنیا میں یہ ذہن پیدا ہونا چاہیے تھا،انھیں اب نیے حالات کے مطابق، ازسرِ نو اپنی تیاری کرنا ہے، مگر عملاً ایسا نہیں ہوا۔ عین اُس وقت مسلمانوں میں وہ گروہ پیدا ہوا جس کو عام طورپر انقلابی مفکرین کہا جاتا ہے۔ ان لوگوں نے قدیم جارحانہ سیاست کے حق میں ایک اور نظریاتی تائید فراہم کردی۔یہ اسلام کی سیاسی تشریح تھی۔ ان لوگوں نے قرآنی آیتوں کی نام نہاد انقلابی تشریح کرکے بتایا کہ اسلام کا مقصد ساری دنیا میں اسلام کی حکومت قائم کرنا ہے۔ کسی مسلمان کا اسلام اُس وقت تک مکمل ہی نہیں، جب تک وہ ایسا نہ کرے کہ یا تو اسلام کی حکومت بالفعل قائم کردے یا اسی راہ میں وہ اپنے آپ کو قربان کردے۔
اس جدید تشریح نے مذکورہ قسم کی غلطی کو عملی انحراف سے بڑھا کر عقیدہ کا درجہ دے دیا اور اس طرح سیاسی تشدد کو یہ حیثیت دے دی کہ وہ کسی مسلمان کے لیے جنت کا سب سے زیادہ یقینی ٹکٹ ہے، اسلام کے نام پر تشدد کرنے والے مرد اور عورت سیدھے جنت میں پہنچ جائیں گے۔
فارسی کی ایک مثل ہے کہ پدرم سلطان بود۔ میرا باپ بادشاہ تھا۔ مذکور تفصیلات کو سامنے رکھا جائے تو یہ کہنا بالکل درست ہوگا کہ مسلمانوں کی ہزار سال کی تاریخ کا خلاصہ دو جملوں میں یہ ہے کہ دورِبادشاہت میں مسلمان اس احساس میں جی رہے تھے کہ پدرم سطان است،اور دور بادشاہت کے خاتمہ کے بعد اب وہ اس احساس میں جی رہے ہیں کہ پدرم سطان بود۔ یہی وجہ ہے کہ پہلے دور میں وہ دوسری قوموں سے اس لیے لڑ رہے تھے کہ وہ ان کی حاکمانہ حیثیت کو تسلیم کریں، اور اب اس لیے لڑرہے ہیں کہ وہ اُن کی کھوئی ہوئی حاکمانہ حیثیت کو اُن سے واپس لیں۔ یہی دو جملوں میں ہزار سالہ مسلم تاریخ کا خلاصہ ہے۔
اصل یہ ہے کہ جب فتنہ کاخاتمہ ہوا، دوسرے لفظوں میں یہ کہ جب مذہبی تشدد کا دور ختم ہوا اور مذہبی آزادی کا دور شروع ہوا تو اب ضرورت تھی کہ امن کے نظریہ پر اسلام کی پُرامن آئڈیالوجی کو واضح کیا جائے۔ یہ بتایا جائے کہ اسلام کاتشدد سے کوئی تعلق نہیں۔ اسلام کا اصل کنسرن صرف مذہبی آزادی کی حالت کا قائم ہونا ہے،اور وہ اب پوری طرح قائم ہوچکی ہے۔ اس لیے اب کرنے کا کام یہ ہے کہ مذہبی آزادی کو استعمال کرکے دعوت وتعمیر کے کام کی پُرامن منصوبہ بندی کی جائے، مگر عملاً ایسا نہیں ہوا۔
میرے علم کے مطابق، خلافت راشدہ کے بعد صرف دو مسلم شخصیتیں ہیں جنھوںنے اس راز کو سمجھا اور اس کا اعلان کیا۔ ایک، عبداللہ بن عمرصحابی، اور دوسرے،عمر بن عبدالعزیز تابعی۔ مگر یہ نظریہ عمومی قبولیت حاصل نہ کرسکا۔ وہ ایک انفرادی اظہار خیا ل بن کر رہ گیا۔
حضرت عبد اللہ بن عمر نے ابن زبیر کے زمانہ میں جو بات کہی تھی، اس کا مطلب یہ تھا کہ قرآن میں فتنہ سے مراد مذہبی تشدد تھا، وہ اب ختم ہوگیا ۔ اس لیے اب کسی اور چیز کو فتنہ بتا کر اس کے خلاف لڑائی چھیڑنا عملاً فتنہ کو نئے عنوان سے واپس لانے کا سبب بن جائے گا۔ یعنی آپ غیر اسلامی سیاست کو ختم کرنے کے نام پر حکمراں سے جنگ چھیڑیں گے۔ چونکہ آپ کی یہ جنگ اسلام کے نام پر ہوگی اس لیے حاکم آپ کی تشریح کے مطابق، اسلام کو اپنا حریف سمجھ لے گا اور غیر ضروری طورپر یہ کرے گا کہ جو لوگ اسلام کے نام پر تحریک اٹھائیں، اُنھیں اپنے لیے سیاسی خطرہ سمجھ کر وہ انھیں کچل دے۔ اس طرح فتنہ کی حالت نئے عنوان کے ساتھ دوبارہ تاریخ میں واپس آجائے۔
حضرت عمر بن عبد العزیز کو پانچواں خلیفۂ راشدکہا جاتا ہے۔ اُن کے زمانے میں عمومی طور پر امن کی حالت قائم ہوگئی تھی۔ چنانچہ غیر مسلم قومیں کثرت سے اسلام میں داخل ہونے لگیں۔ اُس وقت اُن کے ایک گورنر نے کہا کہ اسلام کی یہ توسیع اگر اسی طرح جاری رہی تو خراج کی رقم بہت کم ہوجائے گی اور ہمارا بیت المال خالی ہوجائے گا۔حضرت عمر بن عبد العزیز نے جواب دیا: ویحک ان محمداً بعث ہادیاً ولم یبعث جابیاً۔
اس سلسلہ میں سب سے زیادہ تباہ کن کردار موجودہ زمانہ کے نام نہاد انقلابی مفکرین نے ادا کیا ہے۔ اُنھوں نے اسلام کی خود ساختہ تشریح کرکے مسلمانوں کو بتایا کہ اسلام ایک مکمل سیاسی نظام ہے۔ اور اس مکمل سیاسی نظام کو عملاً نافذ کیے بغیر اُن کے اسلام کی تکمیل نہیں ہوگی۔ یہ غلط تشریح بعض اسباب سے ساری دنیا میں پھیل گئی۔ اب مسلمانوں کا حال یہ ہے کہ وہ مجنونانہ طورپر ساری دنیا سے لڑنے کے لیے کھڑے ہوگئے ہیں۔ اُن کے درمیان ایسے انتہاپسند علماء پیدا ہوگیے ہیں جو اس معاملہ میں خود کُش بم باری کو استشہاد (طلب شہادت) قرار دے رہے ہیں۔ وہ کہہ رہے ہیں کہ مفروضہ دشمن کو مارنے کے لیے تم خود کُش بم باری کی حد تک جاسکتے ہو اور اس طرح اپنی جنت کو یقینی بنا سکتے ہو۔
قرآن میں جہاد کا لفظ پُر امن جدوجہد کے معنی میں ہے۔ بعض اوقات جہاد کے لفظ کو توسیعی معنیٰ میں قتال یا پُر تشدد طریق کار کے لیے استعمال کیا گیا ۔ مگر بعد کے زمانہ میں جہاد کوعملاً قتال کا ہم معنیٰ بنا دگیا اور اُس کو عملی طورپر پُر تشدد طریق کار کے معنی میں استعمال کیا جانے لگا، جو کہ بلاشبہہ غلط تھا۔
صوفیا اسلام کے اسی پُر امن طریق کار کے نمائندے تھے۔ اُنھوں نے ساری دنیا میں بڑے بڑے دعوتی کام کئے۔ مگر پوری تاریخ میں جہاد (بمعنی قتال) کا تصور اتنا غالب تھا کہ صوفیاء کے طریقہ کو فراریت (escapism)کے ہم معنی سمجھا گیا۔ صوفیاء کے لیے یہ ممکن نہ ہوا کہ وہ پُر امن طریق کار کو ایک مکمل آئڈیالوجی کے طورپر مدلّل اور مفصل کرکے پیش کریں۔ اس لیے علمی اعتبار سے صوفیاء فراریت کے درجہ میں رہے، وہ اسلام کی مین اسٹریم کے نمائندہ نہ بن سکے۔
قرآن کے مطابق، یہ کہنا صحیح ہوگا کہ قتال سے مراد متشددانہ طریقِ کار ہے اور جہاد سے مراد پُر امن طریقِ کار۔ مگر عملاً یہ ہوا کہ جہاد کو قتال کے معنی میں استعمال کیا جانے لگا۔ اس طرح جہاد کے حوالہ سے پُر امن طریقِ کار کا تصور تاریخ سے عملی طور پر حذف ہوگیا۔
موجودہ دنیا مسابقت کے اصول پر چل رہی ہے۔ یہاں ہمیشہ ایک اور دوسرے کے درمیان نزاع کی صورت پیدا ہوتی ہے۔ ایسی صورت میں آدمی کے لیے صرف دو ممکن انتخاب ہے۔ ایک، حالتِ موجودہ (status quo) کو مان لینا۔ اور دوسرے، اگر وہ ماننا نہیں چاہتا تو دوسری صورت یہ ہے کہ مکمل طورپر پُر امن دائرہ میں رہتے ہوئے اپنی جدوجہد کو جاری کرنا۔ ان دو کے سوا جوصورت ہے وہ صرف مزید تباہی کی صورتیں ہیں، وہ یقینی طورپر کامیابی کی صورت نہیں۔
آج سب سے زیادہ ضروری یہ ہے کہ جہاد بالقرآن کے اصول کو عام کیا جائے۔ یعنی اسلام کو ایک پُرامن آئڈیا لوجی کے طورپر دنیا کے سامنے لایا جائے۔ مسلمانوں کو بتایا جائے کہ اسلام کا نشانہ اقتدار نہیں ہے، بلکہ دعوت ہے۔ اسلام میں دشمن سے لڑنا نہیں ہے بلکہ دشمن کو اپنا دوست بنانا ہے۔
اس مقصد کا تقاضا ہے کہ ایک طرف صبر کے ذریعہ مسلمانوں اور غیر مسلموں، بالفاظ دیگر، داعی اور مدعو کے درمیان معتدل فضا قائم کی جائے۔ اور دوسری طرف پُر امن دعوتی عمل کو لوگوں کے درمیان مؤثر طورپر چلایا جائے۔
واپس اوپر جائیں

ایک عظیم ایمانی صفت

ایمان کیا ہے، ایمان نام ہے خدا کو اس کی عظمتوں کے ساتھ دریافت کرنے کا۔ خدا کی عظمتوں کو دریافت کرنا، دوسرے اعتبار سے خوداپنے بے عظمت ہونے کو دریافت کرنا ہے۔ یہ دریافت آدمی کے اندر کامل تواضع(modesty) کی صفت پیدا کرتی ہے۔
تواضع کے فائدوں میں سے ایک فائدہ یہ ہے کہ وہ آدمی کو پورے معنوں میں علم کا طالب بنا دیتی ہے۔ اس دنیا میں سب سے بڑا جاننے والا وہ ہے جو اس احساس میں جینے لگے کہ میں نہیں جانتا۔ تواضع آدمی کے اندر یہی صفت پیدا کرتی ہے۔ تواضع آدمی کو اس قابل بنادیتی ہے کہ اس کا علمی سفر کسی رکاوٹ کے بغیر جاری رہے۔ اس کے اندر ذہنی ارتقا کا عمل (process) کبھی ختم نہ ہو۔
خلیفۂ ثانی عمر فاروق کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ ہر ایک سے علم حاصل کرتے تھے(کان یتعلم من کل احد) دوسرے لفظوں میں یہ کہ عمر فاروق کے اندر اضافۂ علم کا عمل (learning process) مسلسل جاری رہتا تھا، وہ کبھی بند نہیں ہوتا تھا۔
ایساکیوں ہوتا تھا۔ اس کا ایک عام طریقہ یہ تھا کہ عمر فاروق جب کسی سے ملتے تھے تو اپنی بات سنانے سے زیادہ وہ اس کی بات سننے کی کوشش کرتے تھے۔ وہ ہر ایک سے سوال کرکے اس کے تجربات اور معلومات سے فائدہ اٹھاتے تھے۔
یہ اضافۂ علم صرف اس لیے ممکن ہوتا تھا کہ وہ ایک بے حد متواضع آدمی تھے۔ وہ اپنی بڑائی میں جینے کے بجائے حق کی بڑائی میں جیتے تھے۔ اس نفسیات نے ان کو ابدی طورپر ایک طالب (seeker) بنا دیا تھا۔
حضرت عمر فاروق کے بارے میں روایات میں آیا ہے کہ کبھی ایسا ہوتا تھا کہ کسی وجہ سے ان کے کسی فیصلہ میں غلطی ہوجاتی تھی تو خواہ وہ غلطی کتنی ہی چھوٹی ہو وہ فوراً اس کو قبول کر لیتے اور کھلے طورپر انتہائی شدت کے ساتھ یہ کہہ پڑتے کہ —لولافلانٌ لہلک عمر (اگر فلاں شخص نہ ہوتا تو عمر ہلاک ہوجاتا)
اپنی غلطی کا اعتراف، مومن کے لئے عبادت کا درجہ رکھتا ہے۔ مومنانہ مزاج یہ ہے کہ کوئی چھوٹی غلطی ہو تب بھی وہ انتہائی الفاظ میں اس کا عتراف کرے۔ مومن اعتراف خطا کو عبادت سمجھتا ہے، اس لیے وہ اس سلسلہ میں کسی ادنیٰ کمی کو بھی گوارہ کرنے کے لیے تیار نہیںہوتا۔
واحد چیز جو غلطی کے اعتراف میں رکاوٹ بنتی ہے وہ کبر ہے۔ مومن کبر خفی اور کبر جلی دونوں سے پاک ہوتا ہے۔ اس لیے کوئی بھی چیز اس کے لیے اپنی غلطی کے اعتراف میں رکاوٹ نہیں بنتی۔مومن کا ذہن یہ ہوتا ہے کہ —اپنی غلطی کا فوراً اعتراف کرو، خواہ اس کے نتیجہ میں تم دوسروں کی نظر میں چھوٹے بن جاؤ۔
عمر فاروق کے اسوہ سے مزید یہ معلوم ہوتا ہے کہ اس معاملہ میں مومن کی حسّاسیت اتنی زیادہ بڑھی ہوئی ہوتی ہے کہ غلطی تو درکنار وہ شبہِ غلطی پر بھی تڑپ اٹھتا ہے اور کھلے لفظوں میں اپنی کوتاہی کا اعتراف کرلیتا ہے۔
اس کی ایک مثال یہ ہے کہ عمر فاروق کی خلافت کے زمانہ میں لوگ نکاح میں عورتوں کے مہر زیادہ باندھنے لگے۔ عمرفاروق نے ایک بار اپنے خطبہ میں لوگوں کے سامنے کہا کہ زیادہ مہر باندھنا اسلامی طریقہ کے خلاف ہے۔ تم لوگ ایسا نہ کرو۔ اگر کوئی شخص زیادہ مہر باندھے گا تو میں فاضل رقم ضبط کرکے اس کو بیت المال میں داخل کردوں گا۔ اس پر ایک بوڑھی عورت اٹھی اور اس نے کہا کہ اے عمر، تم کو ایسا کہنے کا کیا حق ہے، جب کہ خدا نے فرمایا ہے کہ اگر تم ایک بیوی کی جگہ دوسری بیوی بدلنا چاہو اور تم اس کو بہت سا مال دے چکے ہو تو تم اس میں سے کچھ واپس نہ لو۔ (وإن أردتم استبدال زوجٍ مکان زوجٍ واٰتیتم إحداہنّ قنطاراً فلا تأخذوا منہ شیئا، النساء ۲۰)
بوڑھی خاتون کا یہ حوالہ خالص منطقی اعتبار سے درست نہ تھا۔ کیوں اس آیت میں قنطار (مال کثیر) سے مراد مہر کے علاوہ مال ہے نہ کہ بوقت نکاح دی ہوئی مہر۔ مگر حضرت عمر کی حسّاسیت نے اس پہلو کو نظر انداز کردیا۔ یہ اگر چہ ان کی غلطی نہ تھی بلکہ یہ ایک شبہِ غلطی کا معاملہ تھا۔ اس کے باوجود اپنی متواضعانہ نفسیات کی بنا پر وہ منبر سے اتر پڑے اور کہا: کل الناس أفقہ منک یا عمر حتی العجائز( تمام لوگ ، اے عمر، تجھ سے زیادہ جانتے ہیں حتی کہ بوڑھیاں بھی)۔ایک دوسری روایت میں یہ الفاظ آئے ہیں: أصابت امرأۃ وأخطأ رجل(ایک عورت نے صحیح کہا اور عمر نے غلطی کی)۔
مومن کے لیے اپنی غلطی کا اعتراف در اصل اعلیٰ ترین عبادت کے ہم معنی ہوتا ہے۔ وہ اپنے کو خطاوار مان کر خدا کے بے خطا ہونے کا اقرار کرتا ہے۔ وہ اپنے کو چھوٹا بتا کر اس حقیقت کا اعلان کرتا ہے کہ بڑائی تو صرف ایک خدا کا حق ہے، کسی انسان کے لیے کوئی بڑائی نہیں۔
حقیقت یہ ہے کہ اس قسم کا کوئی موقع مومن کے لیے ایک نادر موقع ہوتا ہے، جب کہ وہ اپنی عبودیت کا ثبوت دے کر خدا کی قربت حاصل کرے۔ یہ مومن کے لیے ایک ایسے عمل کا موقع ہے جس سے زیادہ اور قیمتی موقع کوئی نہیں۔
معمولی حالات میں اپنی عبودیت کا اظہار بھی اگر چہ ایک اجرکا کام ہے، مگر وہ موقع جب کہ عبودیت کا اعتراف اپنی انا کو کچلنے کی قیمت پر ہو، وہ ایک ایسا انوکھا عمل ہے جس سے بڑا عمل اس زمین اور آسمان کے اندر کوئی نہیں۔
واپس اوپر جائیں

دعوہ ایمپائر

لکشمی نواس متّل ۱۹۵۰ میں راجستھان میں پیدا ہوئے۔ انھوں نے لندن میں اسٹیل انڈسٹری شروع کی۔ اِس میدان میں انھوں نے بہت ترقی کی، یہاں تک کہ اب ان کی متّل انڈسٹری (Arcelor Mittal) دنیا کی سب سے بڑی اسٹیل انڈسٹری بن گئی ہے۔ انھوں نے اِس میدان میں ساری دنیا میں نمبر ایک پوزیشن حال کرلی۔
لکشمی متّل نے دہلی کے انگریزی اخبار ٹائمس آف انڈیا کو انٹرویو دیا ہے جو اخبار کے شمارہ ۲ جولائی ۲۰۰۶ میں شائع ہوا ہے۔ اِس انٹرویو کا عنوان یہ ہے:
Mittal has a message for India: Go ahead and conquer the world.
میں نے اس رپورٹ کواخبار میں پڑھا تو اچانک میرے ذہن میں آیا کہ کیا وجہ ہے کہ مادّی انڈسٹری کے میدان میں ایک آدمی اِس قسم کی بڑی بڑی بات بولتا ہے لیکن مذہب کے میدان میں کسی کے پاس بولنے کے لیے اس قسم کے الفاظ نہیں۔ حالاں کہ مذہب کے اندر دلوں کو جیتنے کی طاقت ہے۔ اِس اعتبار سے یہ کہا جاسکتا ہے کہ:
Go ahead and conqure the people of the world.
اِس پر غور کرتے ہوئے میری سمجھ میںآیا کہ اس فرق کا سبب یہ ہے کہ آج مذہب کے نام سے لوگوں کو صرف اس کی ایک کم تر صورت(reduced form) لوگوں کے سامنے ہے۔ مثلاً مسٹر لکشمی متل، اسٹیل کو ایک عالمی انڈسٹری کا موضوع سمجھتے ہیں۔ جب کہ مذہب کا تصور ان کے ذہن میں یہ ہے کہ کچھ توہماتی عقائد کو مان لیا جائے، اور کچھ بے روح رسموں کو وقتی طورپر ادا کرلیا جائے۔ اس قسم کے کم تر مذہب کے لیے کسی کے دل میں یہ جذبہ نہیں ابھر سکتا کہ وہ اس کو لے کر اٹھے اور عالمی سطح پر کوئی فاتحانہ کارنامہ انجام دے سکے۔
اِس معاملے میںمسلمانوں کا حال بھی دوسروں سے کچھ مختلف نہیں۔ مسلمان جس اسلام کو اعتقادی طورپر مانتے ہیں وہ مکمل طورپر ایک محفوظ دین ہے۔ وہ تمام انسانوں کے دلوں کی آواز ہے۔ وہ ہر انسان کی روحانی تلاش کا جواب ہے۔ وہ انسان کے لیے جنت کا دروازہ کھولنے والا ہے۔ اِس میں ذہنی انقلاب کا پورا سامان موجود ہے۔ اسلام کی یہی خصوصیات ہیں جس کی بنا پر پیغمبر اسلام نے ساتویں صدی عیسوی میںاپنے عرب مخاطبین سے کہا تھا:
کلمۃ واحدۃ تعطونیہا تملکون بہا العرب وتدین لکم بہا العجم (البدایۃ والنہایۃ، جلد ۲، صفحہ ۱۲۳) یعنی میں تم سے صرف ایک بات کا مطالبہ کرتا ہوں، اگر تم اس کو مان لو تو تم سارے عرب کے مالک بن جاؤگے اور عجم تمھاری اطاعت کریںگے۔
مگر آج کے مسلمان ایسا نہیں کہہ سکتے۔ اور اگر بالفرض وہ ان الفاظ کو دہرائیں تو سننے والا اس کو کوئی اہمیت نہیں دے گا۔ کیوں کہ آج اسلام کے نام سے جو مذہب لوگوں کے سامنے ہے وہ اُسی طرح ایک بگڑا ہوا مذہب ہے جس طرح دوسرے اہل مذاہب نے اپنے مذہب کو بگاڑ رکھا ہے۔ مسلمانوں کے پاس عملاً جو اسلام ہے، وہ اسلام ایک کم تر فارم (reduced form) ہے۔ یہ کم تردرجے کا اسلام نہ تو خود مسلمانوں میں کوئی جوشِ عمل پیدا کرسکتا ہے، اورنہ اِس قابلِ ہے کہ اس کو اہلِ دنیا کے سامنے پیش کیا جائے اور وہ اس سے متأثر ہوکراس کو اپنا دین بنا لیں۔
واپس اوپر جائیں

فرق نہ سمجھنا

ایک دن کا واقعہ ہے۔ میں شہر سے دورایک کھُلے مقام پر بیٹھا ہوا تھا۔ صبح سویرے کا وقت تھا۔ چاروں طرف سرسبز مناظر تھے۔ تازہ اور خالص ہوا کے نرم جھونکے آرہے تھے۔ اس بے آمیز ہوا میں سانس لینا نہایت خوش گوار معلوم ہورہا تھا۔ میرے اوپر ایک سرور کی کیفیت طاری تھی۔ مجھے شبلی نعمانی کا ایک شعر یاد آیا جس کو انھوں نے اسی قسم کے فکری ماحول سے متاثر ہو کر کہا تھا:
ہے ہوا میں شراب کی تاثیر بادہ نوشی ہے باد پیمائی
اُس وقت میرے ساتھ یونیورسٹی کے ایک استاذ وہاںموجودتھے۔ میں نے کہا کہ جس دنیا میں اتنی خوشگوار ہوا موجودہو وہاں کسی کو شراب پینے کی کیا ضرورت۔ میری بات سُن کر اُنھوں نے کہا: کیا معلوم، وہ لوگ دونوں چیزیں لے رہے ہوں۔
میں نے کہا کہ آپ کا یہ جُملہ گریمر کے لحاظ سے درست ہے،مگر وہ معنی کے اعتبار سے درست نہیں۔ میںنے کہا کہ آپ نے شراب اور ہوا دونوں کو برابر قرار دے دیا۔ حالاں کہ ہوا ایک صحت مند انتخاب (healthy option) ہے۔ جب کہ شراب ایک مہلک چیز ہے، وہ سرے سے کوئی صحت مند انتخاب (option)ہی نہیں۔ میرے کہنے کا مطلب یہ ہے کہ جب اس دنیا میں ایسی چیزیں موجود ہوں جو کسی نقصان کے بغیر آپ کو سرور دے سکتی ہیں تو ایسی چیزمیں سرور تلاش کرنے کی کیا ضرورت جس میں اگر بالفرض کوئی وقتی سرور ہو تب بھی وہ اس قیمت پر ہوتا ہے کہ وہ آدمی کی صحت کو تباہ کردے۔
اکثر حالات میں فکری غلطی کا سبب یہ ہوتا ہے کہ آدمی ایک چیز اور دوسری چیز میں فرق نہیں کرپاتا۔ وہ صحت مند مشغولیت اور مضر مشغولیت میں فرق نہ کرنے کی وجہ سے دونوں کو برابر کا درجہ دے دیتا ہے، اور مضر چیز میں بھی اُسی طرح مشغول ہوجاتا ہے جس طرح اُسے صحت مند چیز میں مشغول ہونا چاہیے۔ وہ اُس وقت تک متنبہ نہیں ہوتا جب تک اُس کے غلط انتخاب کا بُرا نتیجہ آخری طورپر اس کے سامنے نہ آجائے۔
ایک دوسری مثال سے اس معاملے کو سمجھیے۔ایک تعلیم یافتہ مسلمان نے ایک اعتراض کا جواب دینے کی کوشش کی ہے۔ اُنھوں نے یہ اعتراض نقل کیا ہے کہ اسلام ایک کامل اور مکمل نظام حیات ہے۔ پھر ایسا کیوں ہے کہ پچھلے چودہ سو سال کی مدّت میں بہت کم لمحات ایسے آئے ہیں جن کے بارے میں یہ کہا جاسکے کہ اسلامی نظام عملاً دنیا میں قائم ہوا۔ کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ اسلام ناقابلِ عمل نظام ہے۔ اس اعتراض کے جواب میں اُن کا کہنا یہ ہے کہ دوسرے نظام مثلاً اشتراکی نظام بھی عملاً کبھی کامل صورت میں قائم نہ ہوسکا۔ اس سلسلہ میں وہ اشتراکیت کے بارے میں لکھتے ہیں:
’’اشتراکی انقلاب برپا کرنے کے لیے اس نظریہ کے علم برداروں نے زبردست جدوجہد کی اور جان ومال کی ہر قربانی دی۔ حالانکہ وہ غیر طبقاتی معاشرہ جس کی خوش خبری کارل مارکس نے دی تھی، نہ پہلے کبھی دنیا میں وجود میںآیا اور نہ کمیونسٹ انقلاب پر تقریباً سو سال گزر جانے کے بعد کہیں قائم ہوا، بلکہ عوام، زار کی شہنشاہیت سے نکل کر انتہائی بے رحم آمریت کے پنجے میں گرفتار ہوگئے‘‘۔ (ماہنامہ میثاق، اپریل ۲۰۰۲، صفحہ ۷۸)
یہ ایک غلط تقابل ہے۔ اشتر اکیت ایک غیر فطری نظام ہے اس لیے وہ نہ قائم ہوا اور نہ کبھی وہ قائم ہوسکتا ہے۔ اُس کے قائم نہ ہونے کا سبب یہ ہے کہ عملی طور پر اُس کا قائم ہونا ممکن ہی نہیں۔ اس کے مقابلے میں اسلام ایک فطری نظام ہے، وہ مکمل طورپر قابلِ عمل ہے۔ مگر معترض کی غلطی یہ ہے کہ وہ اس کو ایک غلط معیار(criterion) سے جانچ رہے ہیں۔
صحیح یہ ہے کہ اسلام کا نشانہ فرد ہے، نہ کہ سیاسی اور اجتماعی نظام۔ اسلام کا مقصد یہ ہے کہ فردِ انسانی کے اندر اللہ کا خوف اور اللہ کی محبت پیدا کی جائے تاکہ وہ قول و عمل میںاللہ کی منشاء کے مطابق، زندگی گزارے۔ سیاسی اور اجتماعی نظام اسلامی مشن کا براہِ راست نشانہ نہیں۔ اس لیے اسلام کے قابلِ عمل ہونے کا معیار انفرادی زندگی ہے، نہ کہ اجتماعی اور سیاسی نظام۔
واپس اوپر جائیں

انسانی اتحاد

انسانی اتحاد ہزاروں سال سے اعلیٰ ترین دماغوں کا خواب رہا ہے۔ تمام اصلاح پسند لوگ ہمیشہ یہ سوچتے رہے ہیں کہ مختلف انسانی گروہوں میں کس طرح اتحاد اور یگانگت پیدا کی جائے۔ مگر واقعات بتاتے ہیں کہ یہ کوششیں نہ صرف عملی نتیجہ پیداکرنے میں ناکام رہیں بلکہ اس مقصد کے لیے کوئی قابلِ عمل فارمولا بھی اب تک وضع نہ کیا جاسکا۔
اس ناکامی کا سبب یہ ہے کہ تقریباً تمام اہلِ دماغ اس معاملہ میں غیر عملی طرزِ فکر کا شکار رہے ہیں۔ مختلف مفکرین اور مصلحین اس معاملہ میں جو کچھ کہتے رہے ہیں، وہ بعض ظاہری یا جزئی فرق کے ساتھ صرف ایک ہے۔ ان لوگوں نے دیکھا کہ انسانوں کے درمیان مختلف قسم کے فرق پائے جاتے ہیں،خاص طورپر مذہبی فرق۔ انھوںنے کہا کہ یہ فرق کسی حقیقی اختلاف پر مبنی نہیں ہیں۔ بلکہ وہ صرف تنوع کو بتاتے ہیں۔ یعنی ایک واحد حقیقت کا مختلف صورتوں میں ظاہر ہونا۔
یہ نظریہ کبھی بھی مختلف لوگوں کے لیے بڑے پیمانے پر قابل قبول نہ ہوسکا۔اس کی وجہ یہ ہے کہ مختلف مذہبوں میں فرق کا پایا جانا، حقیقی اختلاف کی بنا پر ہے نہ کہ تنوع کی بنا پر۔ مثال کے طورپر کچھ لوگ خدا کو ایک مستقل اور باشعور ہستی کے طورپر مانتے ہیں۔ اور کچھ دوسرے لوگوں کے نزدیک خدا کا لفظ محض ایک علامتی قدر(symbolic value) کی حیثیت رکھتا ہے۔ کیوں کہ ان کے نزدیک اس کا کوئی حقیقی یا مستقل وجود نہیں ہے۔ یہ دو انتہائی متضاد نظریات ہیں جن کوکسی بھی طرح ثابت نہیں کیا جاسکتا۔
انسانی اتحاد کا صحیح اور ممکن فارمولا یہ ہے— ایک کو ماننا اور دوسرے کا احترام کرنا:
Follow one and respect all.
یہ فطرت کا ایک اصول ہے جس پر انسانی زندگی کا پورا نظام چل رہا ہے۔ بقیہ تمام معاملات میں ہمارا طریقہ یہی ہے۔ایسی حالت میں عقل اور فکر کا یہ تقاضا ہے کہ مذہب کے معاملہ میں بھی اسی اصول کو اختیار کر لیا جائے۔
انسانی اتحاد کا اوّل الذکرفارمولا بظاہر اپنے اندر ایک سماجی قدر(social value) رکھتا ہے مگر بالفرض وہ حاصل ہوجائے تب بھی وہ ایک اور عظیم تر چیز کی نفی کی قیمت پر حاصل ہوگا، اور وہ سچائی ہے۔ ہر انسان کی یہ فطر ی اور لازمی ضرورت ہے کہ اس کو یہ یقین ہو کہ میںنے سچائی کو پالیا ہے، میں سچائی پر کھڑا ہوا ہوں۔ یہ کسی فرد کے لیے اس کا اعلیٰ ترین اثاثہ ہے۔ یہ موجودہ دنیا میں کسی فرد کے لیے پُراعتماد زندگی کی ضمانت ہے۔ مگر مذکورہ قسم کا فارمولا انسان سے اس کا یہ فکری اثاثہ چھین لیتا ہے۔
جو معاشرہ اوّل الذکرفارمولے کی بنیاد پر بنے اس کے افراد صرف مادی حیوان کے مانند زندگی گزاریں گے۔ ان کا عقیدہ اپنے اندر صرف اضافی قدر(relative value) رکھنے والا ہوگا۔ ان کی اخلاقیات کی حیثیت صرف سماجی آداب(social manners) کی ہوگی۔ فوری خوشی (immediate pleasure) حاصل کرنے کے سوا ان کی زندگی کا کوئی اور مقصد نہ ہوگا۔ ان کی سرگرمیوں کا مرکز و محور مادی ضرورتیں ہوں گی نہ کہ اعلیٰ آئڈیل۔ ان کی زندگی میں کوئی معرفت (discovery) نہ ہوگی جس کو انھوںنے تلاش کے بعد پایا ہو اور جو انھیںیہ احساس عطا کرے کہ انھوں نے اس حقیقت اعلیٰ کو پالیا ہے جس کو ان کی روح تلاش کررہی تھی۔
اتحاد انسانی کا اوّل الذکرفارمولا صرف ایک سوشل فارمولا ہے۔وہ لوگوں کے ساتھ مل جل کر رہنے کی ایک اسکیم ہے۔ مگر یہ اسکیم کسی سماج میںاس قیمت پر قائم ہوتی ہے کہ اس کے افراد میں ذہنی ارتقاء (intellectual development) کا عمل رک جائے۔
واپس اوپر جائیں

خبر نامہ اسلامی مرکز 176

۱۔ شانتی گری آشرم(انسٹی ٹیوشن ایریا، نئی دہلی) میں ۶ مئی ۲۰۰۶ کو ایک پروگرام ہوا۔ صدر اسلامی مرکز کو اس میں بطور چیف گیسٹ بلایا گیا تھا۔ انھوںنے اپنی تقریر میں امن کی اہمیت کو بتایا، اور یہ بتایا کہ اسلام میں امن پر بہت زیادہ زور دیاگیا ہے۔ اِس پروگرام میں زیادہ تر تعلیم یافتہ ہندو شریک ہوئے۔ ان میں اکثریت کیرالا والوں کی تھی۔ اس میں سی پی ایس ٹیم کے افراد بھی شریک ہوئے۔ تقریر کے بعد انھوں نے حاضرین سے اسلام کے موضوع پر گفتگو کی۔ اس کے علاوہ اسلامی بروشر اور اسلامی پمفلٹ بھی انھیں مطالعے کے لیے دئے گئے۔
۲۔ لائف پازٹیو(نئی دہلی) کی طرف سے انڈیا ہیبی ٹٹ سنٹر کے ہال میں ۲۴ مئی ۲۰۰۶کو ایک سیمنارہوا۔ اس میں مختلف مذاہب کے نمائندے شریک ہوئے۔ ہر مذہب کے نمائندے کے لیے مشترک ٹاپک یہ تھا—آپ کے مذہب میں اسپریچولٹی کا تصور کیا ہے۔ صدر اسلامی مرکز کو بھی اس میں شرکت کی دعوت دی گئی۔ انھوں نے اسلام اور روحانیت کے موضوع پر ایک تقریر کی۔ یہ پروگرام انگریزی زبان میں ہوا۔ تقریر کا خلاصہ یہ تھا کہ روحانیت کا ہم معنیٰ لفظ اسلام میں الربّانیۃ ہے، یعنی خدارخی زندگی۔ تقریرمیں بتایا گیا کہ اسلام میں روحانیت کوئی پُر اسرار چیز نہیں ہے۔ بلکہ اس کا تعلق روز مرّہ کی زندگی سے ہے۔ روز مرہ کی زندگی میں روحانی اور انسانی اقدار کے ساتھ زندگی گذارنا، یہی اسلامک اسپریچویلٹی ہے۔ اِس موقع پر سی پی ایس انٹرنیشنل کی ٹیم بھی اس پروگرام میں شریک ہوئی۔انھوں نے لوگوں سے ملاقاتیں کیں اور دعوتی پمفلٹ لوگوں کو پڑھنے کے لیے دیے۔ لوگوں نے اس کو بہت شوق کے ساتھ لیا۔
۳۔ سائی انٹرنیشنل سینٹر (نئی دہلی) میں ۲۵ مئی ۲۰۰۶ کو ایک اجتماع ہوا۔ اس میں مختلف اسکولوں کے پرنسپل شریک ہوئے۔ صدر اسلامی مرکز کو یہاں خطاب کرنے کی دعوت دی گئی۔ ان کی تقریر کا موضوع یہ تھا:
Human Values in Islam
اِس موضوع پر انھوں نے ۴۵ منٹ تقریر کی۔ اس کے بعد سوال اور جواب کا پروگرام ہوا۔ لوگوں کے بیان کے مطابق، یہ پروگرام کافی کامیاب رہا۔ سی پی ایس کی ٹیم نے بھی اس موقع پر یہاں شرکت کی اور دعوتی بروشر اور پمفلٹ لوگوں کے درمیان تقسیم کیے۔ لوگوں نے اس کو بہت شوق سے لیا اور اس سے اپنی دلچسپی ظاہر کی۔
۴۔ اسٹوڈینٹس اسلامک آرگنائزیشن آف انڈیا (SIO) کی طرف سے ایک آل انڈیا پروگرام ہوا۔ اس میں ایس آئی او کے منتخب افراد شریک ہوئے۔ یہ ایک ہفتے کا پروگرام تھا۔ اس کی کارروائی ہمدرد پبلک اسکول (نئی دہلی) میں ہوئی۔ صدر اسلامی مرکز کو اس میں شرکت کی دعوت دی گئی۔ انھوںنے یکم جون ۲۰۰۶ کو وہاں کے ہال میںایک تقریر کی اس تقریر کا موضوع یہ تھا:
How to Realize God
تقریرکے بعد سوال اور جواب کا پروگرام تھا۔ اس پروگرام میں سی پی ایس کی ٹیم کے افراد نے بھی شرکت کی، اور طلبا کے درمیان دعوہ بروشر تقسیم کیے۔ طلباء نے اس کو شوق کے ساتھ لیا اور اپنی دل چسپی کا اظہار کیا۔
۵۔ گلوبل ایکسپوزیشن اینڈ مینیجمنٹ سروس پرائیویٹ لمیٹڈ (نیپال) گذشتہ ۹ برس سے نیپال کی راجدھانی کاٹھمنڈو میں ’نیپال بک فئر‘‘ کا اہتمام کررہا ہے۔ ۲ جون تا ۱۰ جون ۲۰۰۶ء اس کا دسواں بک فئر تھا۔ اِس دسویں بک فئر میں پہلی بارگڈ ورڈ بُکس نئی دہلی (Goodword Books) کی طرف سے وہاں اسلامی بک اسٹال لگایا گیا۔ لوگوں نے کافی دلچسپی لی۔ اور قرآن کے نسخے اور دیگر اسلامی کتابیں خریدیں۔ اسلام کے بارے میں معلومات حاصل کرنے والوں کو صدر اسلامی مرکز کی دعوتی کتابیں اور سی پی ایس انٹرنیشنل کے بر وشر دیے گیے۔ نیپال کے وزیر تعلیم نے بھی اس بک اسٹال کا معائنہ کیا،اور بک فئر میں اسلامی کتابوں کی موجودگی پر اپنی خوشی کا اظہار کیا۔ انھیں ترجمۂ قرآن (انگریزی) کا ایک نسخہ اور سی پی ایس کے بر وشر اور کچھ مزید دعوتی کتابیں دی گئیں، جن کو انھوں نے ادب اور احترام کے ساتھ قبول کیا۔
۶ ۔ این ڈی ٹی وی (نئی دہلی) کے اسٹوڈیو میں ۱۵ جون ۲۰۰۶ کو لائیو ٹیلی کاسٹ کے تحت ایک انٹرویو نشر کیاگیا۔ اس کے اینکر مسٹر پنکج تھے، اور جواب دینے والوں میں صدر اسلامی مرکز اور مسٹر پربھاش جوشی۔ موضوع یہ تھا کہ عبادت گاہوں میںکیا خواتین جاسکتی ہیں۔ اس کے علاوہ یہ کہ خواتین کا درجہ عمومی طورپر اسلام میں کیا ہے۔ قرآن اور حدیث کی روشنی میں اس کا جواب دیاگیا۔
۷۔ انگریزی روزنامہ دکن ہیرالڈ(Deccan Herald) کے چیف کرسپانڈنٹ مسٹر او۔پی۔ورما (مقیم دہلی) نے ۱۹ جون ۲۰۰۶ کو صدر اسلامی مرکز کا تفصیلی انٹرویو رکارڈ کیا۔ وہ ایک کتاب لکھ رہے ہیں جس کا موضوع دوستی (friendship) ہے۔ وہ اِس کتاب میں یہ ثابت کرنا چاہتے ہیں کہ تمام مذاہب کی تعلیم ایک ہے، اس لیے تمام مذاہب کے درمیان دوستی عین فطری ہے۔ جواب میں ایک بات یہ کہی گئی کہ مذاہب میں یکسانیت یا عدم یکسانیت فلسفۂ مذہب کا موضوع ہے، دوستی کے مسئلے سے اس کا کوئی تعلق نہیں ہے۔ آپ دیکھتے ہیں کہ مختلف مذاہب کے لوگ ہی ایک دوسرے سے نہیں لڑتے، بلکہ خود ایک مذہب کے لوگ آپس میں لڑتے ہیں۔ مثال کے طورپر مہابھارت کی لڑائی میں دونوں فریق ہندو تھے، اس کے باوجود وہ آپس میں لڑے۔ اسی طرح پاکستان اور بنگلہ دیش دونوں کا مذہب ایک ہے لیکن ۱۹۷۱ میں دونوں کے درمیان سخت لڑائی ہوئی۔ اس لیے دوستی کا صحیح فارمولا یہ نہیں ہے کہ مذہبوں کے درمیان مین کارڈ(main card) ایک بتایا جائے، بلکہ اس کا فارمولا باہمی احترام ہے یعنی:
Follow one and respect all.
۸۔ دہلی کے ہندی روزنامہ ہندستان کے نمائندہ مسٹر فضلِ غفران نے ۲۰ جون ۲۰۰۶ کو اپنے اخبار کے لیے صدر اسلامی مرکز کا ایک تفصیلی انٹرویو لیا۔ اِس انٹرویو کا موضوع ’’مسلم سماج اور مسلم مسائل‘‘ تھا۔ اس سلسلے میں قرآن اور حدیث کی روشنی میں ان کے سوالات کی وضاحت کی گئی۔
۹۔ سائی انٹرنیشنل سنٹر(نئی دہلی) میں ۲۸ جون ۲۰۰۶ء کو ایک اجتماع ہوا۔ اس میں کیندریہ ودّیالیہ کے تمام اسکولوں کے پرنسپل شریک ہوئے۔ اس کی دعوت پر صدر اسلامی مرکز نے اس میں شرکت کی۔ وہاں انھوں نے ’’بیسک ہیومن ویلوز اِن اسلام‘‘ کے موضوع پر ایک تقریر کی۔ آخر میں سوال اور جواب ہوا۔ یہ پروگرام ایک گھنٹہ رہا۔ حاضرین نے سوال کیا کہ آپ جو افرادتیار کررہے ہیںوہ کس طرح کے لوگ ہیں۔ وہاں ہماری ٹیم کچھ لوگ موجود تھے۔ لوگوں کی فرمائش پر مسٹر رجت ملہوترا اور سعدیہ خان نے اس سلسلے میں اپنا تجربہ بتایا۔ اس کے علاوہ لوگوں کے درمیان سی پی ایس کے دعوہ پملفٹ اور بروشر تقسیم کیے گئے۔
۱۰۔ سنٹر فار کلچر رسورسز اینڈ ٹریننگ (CCRT) کے تحت نئی دہلی میں ایک پینل ڈسکشن ہوا۔ یہ ڈسکشن یونی سیف بلڈنگ(UNICEF) کے ہال میں ۳ جولائی ۲۰۰۶ کو ہوا۔ امریکا کے پروفیسروں کی ایک ٹیم انڈیا آئی تھی ۔ انھیں کی درخواست پر یہ پروگرام منعقد کیا گیا۔ صدر اسلامی مرکز نے ان کی دعوت پر اس میں شرکت کی۔ وہاں انھوں نے اسلام اور ہندستان کے موضوع پر ایک تقریر کی اور سوالات کے جوابات دئے۔ یہ پورا پروگرام انگریزی زبان میںہوا۔
۱۱ ۔ نیو ورلڈ موومنٹ(نئی دہلی) کے زیر اہتمام ۴ جولائی ۲۰۰۴ کو انڈیا انٹرنیشنل سنٹر میں ایک سیمنار ہوا۔ اس کے صدر سوامی اوم پورن سوتنتر تھے۔ ا س میں دہلی اور دہلی کے باہر کے اعلیٰ تعلیم یافتہ افراد شریک تھے۔ اس کا موضوع یہ تھا:
Integrated Model of Development
اس کی دعوت پر صدر اسلامی مرکز نے اس میں شرکت کی۔ انھوںنے موضوع پر اظہار خیال کرتے ہوئے بتایا کہ زیادہ صحیح طورپر اس کا عنوان یہ ہونا چاہیے:
Spiritual Model of Integrated Development
حدیث رسول کی روشنی میں انھوں نے بتایا کہ اختلاف زندگی کی ایک حقیقت ہے اس لئے صحیح طریقہ یہ ہے کہ امن کے اصول پر قائم رہتے ہوئے زندگی کا نقشہ بنایا جائے۔
۱۲۔ ۱۱جولائی ۲۰۰۶ کو ای ٹی وی(نئی دہلی) کی ٹیم نے صدر اسلامی مرکز کی گفتگو کی ویڈیو رکارڈنگ کی۔ سوالات کا تعلق، پاپولیشن ڈے سے تھا۔ جواب کے دوران بتایا گیا کہ پاپولیشن کنٹرول کاتعلق، فتاویٰ سے نہیںہے۔ اس کا تعلق، نیشنل پالیسی سے ہے۔ اِس معاملے میں حکومت جو پالیسی بنائے گی وہی مسلمانوں کی پالیسی بھی ہوگی۔ ان کی پالیسی اس سے الگ نہ ہوگی۔
۱۳۔ ترکی کا ایک ادارہ ہے اس کا نام یہ ہے:
Inter-civilizational Inter-cultural Dialogue for Understanding and Peace
اس کی شاخ انڈیا میں انسل بھون (نئی دہلی) میں قائم ہے۔ اس کے پریزیڈنٹ مسٹر بلند(Bulent Cantmur) ۱۱ جولائی ۲۰۰۶ کو اپنی ٹی وی ٹیم کے ساتھ مرکز میںآئے۔اور صدر اسلامی مرکز سے تفصیلی انٹرویو کی ویڈیو رکارڈنگ کی۔ سوالات کا تعلق، عالمی اسلامی تحریکیں، عالمی امن، مختلف مذاہب کے درمیان ہم آہنگی وغیرہ سے تھا۔ ان موضوعات پر تقریباً ڈیڑھ گھنٹے تک گفتگو ہوتی رہی۔ یہ پورا پروگرام انگریزی زبان میں تھا۔ ایک سوال کے جواب میں بتایا گیا کہ موجودہ زمانے کے مسلمانوں کو جاننا چاہیے کہ موجودہ زمانے کا سکولرنظام، عین وہی چیز ہے جو پیغمبر اسلام کے زمانے میں معاہدۂ حدیبیہ کی شکل میں پیش آیا تھا۔ یعنی ٹکراؤ کو اوائڈکرکے مواقع کو استعمال کرنا۔
۱۴۔ چینل ۷۔ٹی وی (نوئیڈا) کے اسپیشل کرسپانڈنٹ مسٹر آشیش جوشی نے ۱۸ جولائی ۲۰۰۶ کو صدر اسلامی مرکز کا ایک ویڈیو انٹرویو ریکارڈ کیا۔ سوال کا تعلق، اس مسئلے سے تھا کہ کیااردو تعلیم مسلمانوں کے مسئلے کا حل ہے۔ جواب میں بتایا گیا کہ نہیں۔اردو اب مسلمانوں کی کلچرل زبان بن چکی ہے۔ مسلم کلچر کے تحفظ کے لیے بلا شبہہ اس کی اہمیت ہے۔ لیکن تعلیم کا اصل مقصد یہ ہے کہ لوگوں کے اندر وقت کا شعور پیداہو۔ وہ وسیع تر ذہن کے ساتھ اپنے معاملات کو سمجھیں اور اس کی مؤثر منصوبہ بندی کریں۔ اِس مقصد کے لیے ماڈرن ایجوکیشن کی ضرورت ہے۔ ماڈرن ایوکیشن کے بغیر مسلمان کوئی بڑی کامیابی حاصل نہیں کرسکتے۔
۱۵۔ جَن مت ٹی وی (نئی دہلی ) کے کرسپانڈنٹ مسٹر سید مجیب امام نے ۱۹ جولائی ۲۰۰۶ کو اپنے ٹی وی کے لیے صدر اسلامی مرکز کا ویڈیو انٹرویو ریکارڈ کیا۔ سوالات کا تعلق اردو اسکول سے تھا۔ ایک سوال یہ تھا کہ مرکزی گورنمنٹ نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ جس ایریا میں مسلمان بارہ فیصد ہیں وہاں اردو میڈیم اسکول کھولے جائیں۔ کیا یہ مسلمانوں کا اپیزمنٹ (appeasement) ہے۔ جواب میں بتایا گیا کہ اپیزمنٹ ایک سیاسی اصطلاح ہے۔ پولٹکل زبان میں بولنا ہمارا طریقہ نہیں۔ البتہ یہ بات صحیح ہے کہ مسلمانوں کی ترقی کے لیے اصل ضرورت یہ ہے کہ ان کو ماڈرن ایجوکیشن میں لایا جائے۔ جس میں وہ پچھڑ گئے ہیں۔
۱۶۔ نئی دہلی کے انگریزی ماہ نامہ لائف پازیٹیو (Life Positive) کی نمائندہ مز جمنا (Jamuna Rangachari) نے ۲۸ جولائی صدر اسلامی مرکز کا ایک تفصیلی انٹرویو لیا۔ ان کے سوالات کا تعلق، زیادہ تر، اسلام اور اسلامی تعلیمات سے تھا۔ جو باتیں بتائی گئیں ان میں سے ایک یہ تھی کہ اسلام کی ابتدائی تین جنریشن صحیح اسلامی طریقے پر رہے گی۔ اِن تین جنریشن کو قُرونِ ثلاثہ یا قرونِ مشہود لہا بالخیر کہا جاتا ہے۔ پیغمبر اسلام نے فرمایا کہ ان تین کے بعد مسلمانوں میں بگاڑ آجائے گا جو قیامت تک جاری رہے گا۔ آج اسلام کے بارے میں جو غلط فہمیاں پھیلی ہوئی ہیں وہ وہی ہیں جن کا تعلق ابتدائی تین نسلوں کے بعد سے ہے۔ اگر آپ کو یہ سمجھنا ہے کہ اسلام کیا ہے، تو آپ ابتدائی تین نسلوں کو دیکھیے۔ یعنی دورِ رسالت، دور صحابہ، دورِ تابعین۔ بعد کے زمانے کو لے کر اسلام کے بارے میں رائے بنانا درست نہیں۔
۱۷۔ نئی دہلی کے این ڈی ٹی وی(NDTV) کی اسپیشل کرسپانڈنٹ اور اینکر مز نغمہ سحر نے ۳؍اگست ۲۰۰۶ کو صدر اسلامی مرکز کا ایک ویڈیو انٹرویو رکارڈ کیا۔ سوالات کا تعلق، اِس مسئلے سے تھا کہ آزادی (۱۹۴۷) کے بعد ہندستانی مسلمانوں کی حالت کیا ہے۔ جواب میں بتایاگیا کہ ہندستان کے مسلمان اِس ملک میں بہت ترقی کررہے ہیں۔ یہاں تک کہ ستّاون مسلم ملکوں سے بھی زیادہ۔ مسلمانوں کی ترقیاتی سرگرمیوں کی رپورٹ میڈیا میں نہیں آتی۔ اِس لیے وہ لوگ اس کو بہت کم جانتے ہیں جن کے لیے خبریں جانے کا ذریعہ صرف میڈیا ہے۔
۱۸۔ آل انڈیا ریڈیو (نئی دہلی) کے اسٹوڈیو میں ۳؍ اگست ۲۰۰۶ کی شام کو نرمل دیش پانڈے، وغیرہ نے شرکت کی۔ اس کی دعوت پر صدر اسلامی مرکز بھی اس میں شریک ہوئے۔ ڈسکشن کا موضوع آزادی اور قومی اتحاد تھا۔ صدر اسلامی مرکز نے پچھلے ساٹھ سال کے دوران ہونے والے اپنے تجربات بیان کیے۔ انھوں نے بتایا کہ مختلف گروہوں کے درمیان اتحاد، ہندستان کی قومی روایت میں شامل ہے۔
۱۹۔ مولانا شمس الدین ندوی بھوپالی تین مہینے (مئی، جون، جولائی ۲۰۰۶) کے لیے جاپان گئے تھے۔ وہاں ان کا قیام تویاما(Toyama) میں تھا۔ یہ شہر ٹوکیو سے پانچ سو کلومیٹر دور واقع ہے۔ ۳؍اگست ۲۰۰۶ کو نئی دہلی میں ان سے ملاقات ہوئی۔ مولانا شمس الدین ندوی نے بتایا کہ جاپان میں انھوں نے مختلف لوگوں کے درمیان الرسالہ مشن کا تعارف کرایا۔ ان کے ذریعہ سے الرسالہ مشن کی کتابوں کا دو مکمل سیٹ جاپان پہنچا ہے۔ اس طرح انشاء اللہ جاپان میں الرسالہ مشن کی اشاعت جاری رہے گی۔ ایک تعلیم یافتہ مسلمان، شاہد اعوان جو جاپان میں تجارت کرتے ہیں۔ انھوںنے ’’انسان کی منزل‘‘نامی کتاب پڑھ کر کہا کہ اس کتاب کو پڑھ کر کوئی بھی منکر، خدا کے وجود کا قائل ہوجائے گا۔ اس میں مولانا نے خدا کا نام ذکر کئے بغیر خدا کا مکمل تعارف پیش کردیا ہے‘‘۔مولانا شمس الدین ندوی نے جاپان میں قیام کے دوران ’’تذکیر القرآن ‘‘کے ذریعے وہاں کے لوگوں کے درمیان درس قرآن کا سلسلہ جاری رکھا۔
۲۰۔ ایک نئی کتاب تیار ہو کر پریس میں زیر طبع ہے۔ اس کا نام’’ہندــپاک ڈائری‘‘ ہے۔ یہ کتاب گویا برّ صغیر ہند کی سو سالہ تاریخ کا ایک مختصر جائزہ ہے۔ یہ کتاب ۲۶۴ صفحات پر مشتمل ہے۔ انشاء اللہ یہ کتاب بہت جلد شائع ہو کر منظر عام پر آجائے گی۔
واپس اوپر جائیں

Sunday, 1 October 2006

Al Risala | October 2006 (الرسالہ،اکتوبر)

2

- روزے کی حکمت

3

- نماز،قرآن میں

5

- دعوت اور داعی

7

- اخلاق، محفوظ انسانی سفر کا ضامن

11

- آئی ڈنٹٹی کی تلاش

15

- لائف بیانڈ لائف

18

- ڈائلاگ اسلام میں

23

- توہماتی دَور سے سائنسی دَور تک

26

- نئی منصوبہ بندی کی ضرورت

30

- مسلم ایمپاورمنٹ، یا سیلف ایمپاورمنٹ

33

- قیادت ناکام، مسلمان کامیاب

37

- عارضی دورِ حیات، ابدی دورِ حیات

38

- نعمت نہ کہ زحمت

39

- دانش مند باپ

40

- دعوت کی تاریخ

42

- سی پی ایس انٹرنیشنل


روزے کی حکمت

اسلام میں دو عبادت کو بنیادی عبادت کا درجہ دیا گیا ہے— نماز، اور روزہ۔ نماز علامتی طورپر اسلام کے مثبت احکام کو بتاتی ہے۔ اور روزہ بتاتا ہے کہ اہلِ ایمان کو کچھ باتوں سے پرہیز کرنا چاہیے۔ نماز عمل کی زبان میں یہ بتاتی ہے کہ اہلِ ایمان کے اندر تواضع، اطاعت، شکر، امن پسندی اور باہمی الفت کا مزاج ہونا چاہیے۔ اس کے مقابلے میں روزہ یہ بتاتا ہے کہ مسلمان وہ ہے جس کی زندگی پرہیزگاری کی زندگی ہو۔
حدیث میں آیا ہے کہ جب کوئی شخص روزہ رکھے تو وہ نہ گندی بات کرے اور نہ شور کرے۔ اگر کوئی شخص اس کو گالی دے تو وہ یہ کہہ دے کہ میں روزے دار ہوں۔
اِس کا مطلب یہ ہے کہ ر وزہ سیلف کنٹرول کی تربیت ہے۔ آدمی روزے کے زمانے میں جس طرح کھانے پینے کی چیزوں میںسیلف کنٹرول کا طریقہ اختیار کرتا ہے، اسی طرح اس کو اپنی پوری زندگی میں اخلاقی کنٹرول کا طریقہ اختیار کرناچاہیے۔ کوئی شخص اگر اپنے غلط رویّے سے اس کو بھڑکائے تب بھی اس کو چاہیے کہ وہ اپنے آپ کو بھڑکنے سے بچائے۔
اِسی طرح حدیث میں آیا ہے کہ جس شخص نے روزہ رکھا مگر ا س نے جھوٹ بولنا اور جھوٹ پر عمل کرنا نہ چھوڑا تو خدا کو اس کی ضرورت نہیں کہ وہ اپنا کھانا اور پینا چھوڑدے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ رمضان میں کھانا اور پانی چھوڑنا ایک علامتی ترک ہے۔ اس کا مقصد یہ ہے کہ آدمی ہر بُرائی کے معاملے میں ’’روزے دار‘‘ بن جائے۔ وہ غلط بات بولنا بھی چھوڑ دے، اور غلط کام کرنا بھی چھوڑ دے۔ یہی روزے کا اصل مقصد ہے۔
رمضان کا مہینہ ذاتی محاسبہ کا مہینہ ہے۔ یہ اپنے اوپر نظر ثانی کرنے کا مہینہ ہے۔ یہ اپنی اصلاح آپ کرنے کا مہینہ ہے۔ رمضان کے مہینے کا مقصد یہ ہے کہ آدمی اپنے آپ کو خدا کی نظر سے دیکھے نہ کہ صرف اپنی نظر سے۔
واپس اوپر جائیں

نماز، قرآن میں

قرآن کی سورہ نمبر ۲۹ میں بتایا گیا ہے کہ:إنّ الصلوٰۃ تنہیٰ عن الفحشاء والمنکر (العنکبوت: ۴۵) یعنی بے شک نماز فحش اور منکر باتوں سے روکتی ہے۔ اِس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ کوئی شخص نماز کے فارم کو دہرائے تو خود بخود اس کا یہ عملی نتیجہ ہوگا کہ وہ بُری باتوں اور بُرے کاموں سے رُک جائے گا۔ اگر ایسا ہوتا تو فارم والی نماز پڑھنے والے کروروں لوگ ہر بُری بات اور ہر بُرے کام سے رُکنے والے دکھائی دیتے۔ حالاں کہ ایسا نہیں۔
اصل یہ ہے کہ اِس آیت میں نماز سے مراد نماز کی اسپرٹ ہے۔ آیت کا مطلب یہ ہے کہ جب کسی انسان کے اندر نماز والی اسپرٹ پیدا ہوجاتی ہے تو اس کے اندر بُرائیوں سے بچنے کا مزاج پیدا ہوجاتا ہے۔ نفسیاتِ نماز اس کے لیے فحش اور منکر سے ناہی (restrict) کا ذریعہ بن جاتی ہے۔ نماز دراصل ایک تربیت ہے نہ کہ صرف ایک رسم۔ آیت میں دراصل تربیت یافتگانِ نماز کا ذکر ہے نہ کہ صرف رسمی طورپر فارم کو ادا کرنے والوں کا ذکر۔
اِس کا مطلب یہ نہیں کہ فارم کوئی غیر اہم چیز ہے۔ اصل یہ ہے کہ فارم داخلی اسپرٹ کا ایک خارجی ظہور ہے۔ جہاں اسپرٹ ہوگی وہاں یہ خارجی ظہور بھی یقینا پایا جائے گا۔ اِس معاملے کو اِس طرح بیان کیا جاسکتا ہے کہ نماز کا فارم، نماز کی اسپرٹ کا ظہور یا اسپرٹ اِن ایکشن (spirit in action) ہے۔
ہر عبادتی فارم کا معاملہ یہی ہے۔ اگر چہ عبادت میں اصل اہمیت اسپرٹ کی ہے، لیکن اسپرٹ جب زندہ ہو تو فطری طور پر وہ حرکت و عمل(activities) کی صورت میں ظاہر ہوتی ہے۔ نماز کے لیے آدمی جب وقت پر اٹھتا ہے، وہ وضو کرتا ہے، وہ مسجد جاتا ہے، وہ لوگوں کے ساتھ باجماعت نماز میں شریک ہوتا ہے اور پھر لوگوںسے مل کر وہ واپس آتا ہے، اور پھر یہی کام وہ روزانہ پانچ بار کرتا ہے تو اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ نماز کی عبادت، حرکت و عمل میں (activities) بدل جاتی ہے۔ اسپرٹ کے بغیر حرکت و عمل نہیں، اور حرکت و عمل کے بغیر اسپرٹ نہیں۔
اسپرٹ اِن ایکشن کے معاملے کو ایک مثال سے سمجھا جاسکتا ہے۔ مختلف ملکوں میں قومی دن منائے جاتے ہیں۔ مثلاً ہندستان میں ۱۵؍اگست کو یوم آزادی، ۲۶ جنوری کو یومِ جمہوریہ وغیرہ۔ بظاہر یہ کچھ رسمی تقریبات(celeberation) منانے کا دن ہوتا ہے۔ مگر ان کی اہمیت صرف اِن ظاہری تقریبات کی بنا پر نہیں بلکہ اُس داخلی اسپرٹ کی بنا پر ہوتی ہے، جس کے تحت ان کو منایا جاتا ہے۔
یہ داخلی اسپرٹ کیا ہے۔ یہ داخلی اسپرٹ حبُّ الوطنی ہے۔ یعنی وطن سے اپنے تعلق کو یاد کرنے کے لیے کچھ تاریخی دنوں میں بعض تقریبات منانا۔ اِس اعتبار سے ہندستان کے یومِ آزادی یا یومِ جمہوریہ کو حبّ الوطنی کا عمل (patriotis in action) کہا جاسکتا ہے۔
یہ معاملہ زندگی کی ہر سرگرمی سے تعلق رکھتا ہے۔ مثال کے طورپر آپ کا ایک دوست لمبے عرصے کے بعد آپ کے پاس آتا ہے اور آپ سے ملاقات کرتا ہے۔ دوست کو دیکھ کر آپ کے اندر محبت کا جذبہ بھڑک اٹھے گا۔ آپ اٹھ کر اس سے ملیں گے۔ اس سے معانقہ کریں گے۔ اس کو لے جاکر عزت کے ساتھ بٹھائیں گے۔ ٹیلی فون کے ذریعے دوسروں کو بتائیں گے کہ آپ کا فلاں دوست آیا ہوا ہے۔ اس کے لیے کھانے پینے اور آرام کرنے کا اہتمام کریں گے، وغیرہ۔
محبوب د وست کے لیے آپ کی یہ تمام سرگرمیاں عملاً محبت(love in action) کا مصدا ق ہیں۔آپ کی ظاہری سرگرمیاں گویا کہ داخلی محبت کا خارجی ظہور ہیں۔ محبت اگرچہ اصلاًایک داخلی حالت کا نام ہے، لیکن مذکورہ سرگرمیاں بھی اس کا لازمی جُز ہیں۔ دونوں کو ایک دوسرے سے الگ نہیں کیا جاسکتا—اِن مثالوں سے عبادت کی روح اور اس کے فارم کے باہمی تعلق کو سمجھا جاسکتا ہے۔
واپس اوپر جائیں

دعوت اور داعی

قرآن اور حدیث میں دعوت کے لیے دوسرا لفظ جو استعمال ہوا ہے وہ شہادت ہے۔ اِسی طرح داعی اور مدعو کے لیے جو دوسرے الفاظ استعمال ہوئے ہیں وہ شاہد اور مشہود کے الفاظ ہیں۔ یہ بات بہت با معنیٰ ہے۔ اس پر غور کرنے سے ایک نہایت اہم حقیقت سامنے آتی ہے۔
شاہد کا مطلب گواہ (witness) ہے۔ گواہ کون ہے۔ گواہ سے مراد وہ شخص ہے جس نے زیرِ بحث واقعہ کو دیکھا ہو، یا کسی چیز کے بارے میں وہ ابتدائی معلومات دے سکے:
Witness: a person who saw, or can give a first-hand account of something.
دعوت سے مراد یہ ہے کہ غیر مسلموں میں حق کا پیغام پہنچا یا جائے۔ جب مسلمانوں کو ان کی یہ دعوتی ذمے داری یاد دلائی جائے تو کہا جاتا ہے کہ اِس سلسلے میں پہلا کام خود مسلمانوں کی اصطلاح ہے۔ یعنی مسلم سماج اور مسلم ریاست کو صحیح اسلامی اصول پر قائم کرنا۔ کیوں کہ اگر مسلمان خود ہی بگڑے ہوئے ہوں اور اُن کے درمیان صالح معاشرہ او ر صالح نظامِ حکومت قائم نہ ہو تو غیر مسلموں کو کس طرح اسلام کی طرف بلایا جاسکتا ہے۔
یہ ایک غیر متعلق (irrelevant) بات ہے۔ کیوں کہ اسلامی دعوت کا مقصد یہ نہیں ہے کہ لوگوں کو مسلم سماج کی طرف بلایا جائے۔ اسلامی دعوت کا مقصد لوگوں کو مسلمانوں کی طرف بلانانہیں بلکہ اسلام کی طرف بلانا ہے۔ لوگوں کو یہ بتانا کہ ان کا ایک خدا ہے۔ لوگوں کو خدا کے کریشن پلان سے آگاہ کرنا، لوگوں کو جنت اور جہنم کی خبر دینا، لوگوں کو یہ بتانا کہ خدا ایک دن تم کو جمع کرے گا اور تمھارا حساب لے گا، اور پھر لوگوں کے لیے ان کے ریکارڈ کے مطابق، جنت یا جہنم کا فیصلہ کرے گا۔
گویا کہ دعوت کا نشانہ یہ ہے کہ جو لوگ دکھائی دینے والی دنیا(seen world) میں جیتے ہیں، ان کو یہ بتانا کہ یہاںایک نہ دکھائی دینے والی دنیا(unseen world) موجود ہے، اور تم کو آخر کار مرنے کے بعد اسی نہ دکھائی دینے والی ابدی دنیا کی طرف جانا ہے، اور اس کے تقاضوں کا سامنا کرنا ہے۔
اِس اعتبار سے دیکھیے تو دعوت کے عمل میں مسلمانوں کے معاشرے یا نظام کا صالح ہونا یا غیر صالح ہونا ایک غیر متعلق بات ہے۔ اِس معاملے میں اصل اہمیت صرف دوچیزوں کی ہے— استدلال اور یقین۔ ایک، یہ کہ داعی کے پاس ایسی دلیل کا سرمایہ موجود ہو جو مدعو کو مطمئن کرسکے۔ دوسری بات یہ کہ داعی کو خود سچائی کی اتنی گہری معرفت حاصل ہو کہ وہ پورے یقین کے ساتھ اس کی طرف دعوت دے سکے۔ اس کا یقین اتنا بڑھا ہوا ہو کہ جب وہ اس کے بارے میں بولے تو ایسا محسوس ہو کہ وہ لوگوں کو کسی ایسی چیز سے باخبر کررہا ہے جس کو اس نے خود دیکھا ہے۔
داعی جب دوسروں کے درمیان دعوت کا کام کرتا ہے تو اُس وقت نکتۂ دعوت کیا ہوتا ہے۔ اُس وقت اس کا نکتۂ دعوت یہ نہیں ہوتا کہ ہم نے اپنے یہاں ایک صالح نظامِ زندگی بنالیا ہے، تم اس کو دیکھو اور تم بھی ویسا ہی نظام اپنے یہاں بناؤ۔ داعی کا دعوتی نکتہ یہ نہیں ہوتا۔ داعی کا دعوتی نکتہ صرف یہ ہوتا ہے کہ خدا اور انسان کے درمیان کیا تعلق ہے، اور دعوت کے بعد کی زندگی میں انسان کے ساتھ کیا معاملہ پیش آنے والا ہے۔ اسی کو قرآن میںانذار اور تبشیر کہاگیا ہے۔ گویا کہ اسلام میں نکتۂ دعوت اس کا نظری پہلو ہے نہ کہ اس کا نظامی پہلو۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی پوری سیرت اِسی دعوتی نقطۂ نظر کی تائید کرتی ہے۔
واپس اوپر جائیں

اخلاق، محفوظ انسانی سفر کا ضامن

انسانی سماج کو ایک بہتر سماج بنانے کے لیے جو تعمیری اصول ہیں، انھیں اصولوں کو اخلاقی اقدار (moral values) کہا جاتا ہے۔ اِن اخلاقی اقدار کو اختیار کرنے سے انسانی سماج بہتر سماج بنتا ہے، اور ان کو چھوڑنے سے انسانی سماج برباد ہو کر رہ جاتا ہے۔ سماج کو اگر ٹرین سے تشبیہ دی جائے تو اخلاقی اقدار گویا ریل کی وہ پٹریاں ہیں جن کے اوپر سماجی ٹرین بھٹکے بغیر اپنا سفر کامیابی کے ساتھ طے کرتی ہے۔
یہ اخلاقی اقدار بنیادی طورپر یہ ہیں— امن، انصاف، محبت، سچائی، رواداری، خیر خواہی، عدم تشدد، صبر تواضع، عالمی اخوت اور اخلاقی سلوک، وغیرہ۔ یہ اخلاقی اقدار اتنی زیادہ مسلّم ہیں کہ تمام مذہبی اور روحانی نظاموں میں یکساں طورپر ان کی خصوصی تعلیم دی گئی ہے، اور ان کو انسانی ترقی کے لیے ضروری قرار دیا گیا ہے۔
اقدارکا یہی مجموعہ ہے جس کو اخلاق کہا جاتا ہے۔ یہی اخلاقی اصول انسان کے اندر اعلیٰ شخصیت بناتے ہیں۔ انھیں اخلاقی اصولوں کی پیروی سے کوئی سماج بہتر سماج بنتا ہے۔ انھیں اخلاقی اصولوں کی پیروی سے وہ سماجی مقاصد حاصل ہوتے ہیں، جن کو ہم انسانیت کی فلاح کے لیے ضروری سمجھتے ہیں۔
خدا نے اِن اقدار کو انسان کی فطرت میں اخلاقی حِس (moral sense) کے طور پر ودیعت کردیا ہے۔ ہر انسان اِن اخلاقی اصولوں کا شعور پیدائشی طورپر رکھتا ہے۔ تمام مذہبی اور روحانی نظام اِس کی تلقین کرتے ہیں۔ اسی کے ساتھ خدا نے کائنات کو اِس طرح بنایا ہے کہ وہ انسان کے لیے گویا ایک اخلاقی ماڈل بن گئی ہیں۔ جو چیز انسان کو خود اپنے ارادے کے تحت، عمل میں لانا ہے وہ چیز بقیہ کائنات میں خدا کے براہِ راست کنٹرول کے تحت زیر عمل آرہی ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ انسان اور کائنات دونوں کا اخلاقی نظام ایک ہے۔ بقیہ کائنات میں اس کا نام قانونِ فطرت (law of nature) ہے، اور انسانی دنیا میں اس کو اخلاقی اقدار (moral values) کہاجاتا ہے۔
انسان اور کائنات دونوں کو ایک خدا نے پیدا کیا ہے۔ دونوں کی کارکردگی کے لیے اس نے ایک ہی قانون مقرر کیا ہے ۔ فرق صرف یہ ہے کہ بقیہ کائنات میں یہ قانون براہِ راست طورپر خود خدا نے نافذ کررکھا ہے۔ لیکن انسان کو خدا نے یہ عزت دی ہے کہ اس کو آزاد اور خود مختار بنایا ہے۔ بہتر انسانی سماج بنانے کا راز یہ ہے کہ انسان اسی خدائی قانون کو خود اپنے ارادے سے اپنی زندگی میں نافذ کرے۔
خلامیں اَن گنت ستارے ہیں۔ ہر ایک نہایت تیزی کے ساتھ وسیع خلا میں گردش کررہا ہے۔ لیکن ان کے درمیان کبھی ٹکراؤ نہیں ہوتا۔ اِس کا راز یہ ہے کہ ہر ستارہ اور سیارہ اپنے اپنے مقرر مدار(orbit) پر گردش کرتا ہے۔ کوئی ستارہ دوسرے ستارے کے مدار میں داخل نہیں ہوتا۔ گردش کا یہ انضباطی اصول، ستاروں کے درمیان ٹکراؤ ہونے نہیں دیتا۔ یہی اصول، انسان کو اپنی زندگی میںاختیار کرنا ہے۔ ہر ایک کو چاہیے کہ وہ اپنی سرگرمیوں کو اپنے دائرے کے اندر محدود رکھے۔ اس کے بعد انسانی سماج میں کوئی ٹکراؤ نہیں ہوگا۔ یہی فارمولا پیس فُل سماجی تعلقات کا واحد فارمولا ہے۔
ہوائیں چلتی ہیں تو وہ نہایت تیزی کے ساتھ میدان سے گذرتی ہیں۔ یہاں سر سبز پودے ہوتے ہیں۔ یہ پودے ہواؤں کے طوفان میں نہیں ٹوٹتے۔ اس کا سبب یہ ہے وہ ہوا کے مقابلے میں کبھی نہیں اکڑتے۔ جب ہو اکا جھونکا آتا ہے تو پودا فوراً جھک کر ہوا کو گذرنے کا موقع دے دیتا ہے۔ یہی طریقہ انسان کو بھی اختیار کرنا چاہیے۔ انسان کو چاہیے کہ وہ سماجی زندگی میں اکڑ کے بجائے سمجھوتہ اور ایڈجسٹ مینٹ کا طریقہ اختیار کرے۔
پہاڑوں پر برف پگھلتی ہے اور اس سے چشمے جاری ہوجاتے ہیں۔ چشمے کے راستے میں بار بار پتھر آتے ہیں مگر چشمہ ایسا نہیں کرتا کہ پہلے وہ پتھر کو اپنے راستے سے ہٹائے اور پھر اس کے بعد اپنا سفر جاری کرے۔ بلکہ وہ مُڑ کر پتھر کے کنارے کی طرف سے اپنا راستہ بنا لیتا ہے، اور آگے کی طرف رواں ہوجاتا ہے۔ یہی طریقہ انسان کو بھی اختیار کرنا چاہیے۔ انسان کو چاہیے کہ وہ ٹکراؤ کو اوائڈ کرکے اپنا راستہ بنائے۔ نہ کہ وہ رُکاوٹ سے ٹکراؤ شروع کردے۔
درخت انسان کے لیے آکسیجن نکالتا ہے، اور ہوا اس کو لے کر اُسے انسان تک پہنچاتی ہے۔ لیکن درخت اور ہوا اپنے اس عمل کے لیے انسان سے اس کی کوئی قیمت نہیں مانگتے ۔ایسا ہی انسان کو کرنا چاہیے۔ انسان کو چاہیے کہ وہ دوسروں کے لیے نفع بخش بنے۔ اور اپنے اس عمل کے لیے لوگوں سے کسی قیمت کا تقاضا نہ کرے۔
گائے خدا کی ایک زندہ انڈسٹری ہے۔ گائے کو اس کا مالک گھاس کھلاتا ہے، لیکن گائے اس کے بدلے میںاپنے مالک کو دودھ لوٹاتی ہے۔ وہ دوسروں سے غیر دودھ (non-milk)کو لیتی ہے اور پھر ان کو اپنی طرف سے دودھ (milk) کا تحفہ واپس کرتی ہے۔ اسی طرح انسان کو چاہیے کہ جب بھی اس کو کسی سے منفی تجربہ ہو تواس کے جوا ب میں وہ اس کے ساتھ مثبت سلوک کی روش اختیا رکرے۔
کسی مقام پر چڑیاں بیٹھی ہوئی ہوں اور وہ زمین پر پڑے ہوئے دانے چُگ کر خوش خوش اس کو کھارہی ہوں۔ ایسی حالت میں آپ ان کی طرف ایک کنکر پھینک دیں۔ اس کے بعد آپ دیکھیں گے کہ چڑیاں اُڑ کر درخت کی شاخ پر پہنچ گئیں، اور دوبارہ وہاں چہچہانے لگیں۔ نفرت اور شکایت جیسی چیز کسی چڑیاں کے دل میں کبھی جگہ نہیں پاتی۔ یہی طریقہ انسان کا ہونا چاہیے۔ انسان کو بھی ایسا بننا چاہیے کہ جب کوئی شخص اس کو ستائے یا اس کو کوئی نقصان پہنچائے تو وہ نفرت اور شکایت کو اپنے دل میں جگہ نے دے۔ وہ منفی حالات کے باوجود اپنے آپ کو مثبت نفسیات پر قائم رکھے۔
دنیا کی تمام چیزیں قابلِ پیشین گوئی کردار (predictable character) کی حامل ہیں۔ اِس مادّی دنیا میں کوئی بھی چیز ایسی نہیں جو اِس معاملے میں استثناء کی حیثیت رکھتی ہو۔ مثلاً ستارے ہمیشہ اپنی مقرر رفتار پر پوری حتمیت کے ساتھ قائم رہتے ہیں۔ ببول کے بیج سے ہمیشہ ببول کا درخت نکلتا ہے اور انگور کے بیج سے ہمیشہ انگور کا درخت، وغیرہ۔ یہی کردار انسان کا بھی ہونا چاہیے۔ انسان کو بھی اس طرح قابلِ پیشین گوئی عمل کے معیار پر پورا اترنا چاہیے۔ قابلِ پیشین گوئی کردار یہ ہے کہ کسی صورتِ حال میں ایک حقیقی انسان سے جو امید کی جائے، وہ ہمیشہ اُس پر پورا اُترے۔
سورج مسلسل طورپر روشنی اور حرارت سپلائی کرتا ہے۔ اِس معاملے میں وہ اپنے اور غیر کے درمیان کوئی تفریق نہیں کرتا۔ وہ سب کو یکساں طورپر روشنی اور حرارت کا خزانہ پہنچاتا رہتا ہے۔ یہی کردار انسان کا بھی ہونا چاہیے۔ انسان کو چاہیے کہ وہ ہر یک کے لیے نفع بخش بنے۔ اپنوں کے لیے بھی اور غیروں کے لیے بھی۔ دوستوں کے لیے بھی اور دشمنوں کے لیے بھی۔ خوش گوار تعلق والوں کے لیے بھی اور ناخوش گوار تعلق والوں کے لیے بھی۔ یہی کسی انسان کے لیے اعلیٰ معیاری اخلاق ہے۔
شہد کی مکھی اپنے مقام سے اُڑ کر جنگل میں جاتی ہے۔ یہاں بہت سی مختلف قسم کی چیزیں ہیں۔ مثلاً لکڑی، کانٹا، جھاڑی اور گھاس، وغیرہ۔ لیکن شہد کی مکھی انتخابی طریقہ اختیار کرتی ہے۔ وہ ہر دوسری چیز سے اعراض کرکے سیدھے اُس پھول تک پہنچتی ہے جہاں سے اس کو میٹھا رس لینا ہے۔ یہی انتخابی طریقہ انسان کو بھی اختیار کرنا چاہیے۔ اس کو سماج میں اِس طرح رہنا چاہیے کہ وہ غیر مطلوب چیزوں سے اعراض کرکے۔ وہ ہر ناپسندیدہ چیز سے دور رہتے ہوئے اپنے مطلوب تک پہنچ جائے۔
انسان اور بقیہ کائنات میں ایک فرق ہے۔ وہ یہ کہ بقیہ کائنات نے جس کردار کو مجبورانہ طورپر اختیار کررکھا ہے، اُسی کردار کو انسان خود اپنی آزادی کے تحت اختیار کرے۔
بقیہ کائنات مجبورانہ اخلاق کی مثال ہے۔ مگر انسان کو اختیارانہ کردار کا نمونہ بننا ہے۔ اِس کا سبب یہ ے کہ بقیہ کائنات کے لیے نہ کوئی انعام ہے اور نہ کوئی سزا۔ لیکن انسان کے لیے خدا کا قائم کردہ قانون یہ ہے کہ جو شخص اِس مطلوب کردار کو اختیار نہ کرے وہ خدا کی طرف سے سزا پائے گااور جو شخص اپنی آزادی کا صحیح استعمال کرتے ہوئے اس مطلوب کردار کا حامل بن جائے اس کو خدا کی طرف سے ابدی انعام کا مستحق قرار دیا جائے گا۔ یہ امتیازی انعام اِس کائنات میں صرف انسان کے لیے مقدر ہے۔ کیوں کہ انسان خود اپنے اختیار سے وہ مطلوب روش اختیار کرتا ہے، جس کو بقیہ کائنات مجبورانہ طورپر اختیار کیے ہوئے ہے۔
واپس اوپر جائیں

آئی ڈنٹٹی کی تلاش

مَیں کون ہوں(who am I) ایک ایسا سوال ہے جو ہمیشہ سے انسان کی توجّہ کا مرکز رہا ہے۔ اِس سوال کو ایک لفظ میں آئی ڈنٹٹی کرائسس(identity crisis) کا نام دیا جاسکتا ہے۔ افکار کی تاریخ (history of thought) بتاتی ہے کہ اِس معاملے میں انسانی دماغ سب سے زیادہ جس تصور سے مسحور رہا ہے وہ وحدتِ وجود (monism) کا تصور ہے۔ ہندو ازم میں اس کو ادُوئت واد کہا جاتا ہے۔ اِس تصور کا مطلب یہ ہے کہ یہاں ایک عظیم پھیلی ہوئی طاقت ہے اور انسان اسی طاقت کا ایک جُزء ہے۔
فلسفہ اور مذہب دونوں میں یہ نظریہ ہمیشہ چھایا رہا ہے۔ مسلمانوں کے درمیان بھی بعد کے زمانے میں یہ نظریہ پھیل گیا۔ صوفیامیں خاص طورپر اور علماء میں عام طور پر اِس نظریے نے غیر معمولی مقبولیت حاصل کرلی۔مثنوی مولانا روم، جس کا ترجمہ مختلف زبانوں میں ہوچکا ہے، اورجو نہ صرف صوفیا بلکہ علماء میں بھی مقدس کتاب کے طورپر پڑھی جاتی رہی ہے، وہ پوری کی پوری وحدتِ وجود کے تصور پر لکھی گئی ہے۔
اِس بات کو اردو شاعر نے اِس طرح بیان کیا ہے:
نہ تھا کچھ تو خدا تھا، کچھ نہ ہوتا تو خدا ہوتا ڈبویا مجھ کو ہونے نے، نہ ہوتا میں تو کیا ہوتا
اصل یہ ہے کہ انسان جب پیدا ہو کر دنیا میں آتا ہے تو و ہ شعوری یا غیر شعوری طورپر اِس سوال سے دوچار ہوتا ہے کہ میں کون ہوں، میں کہاں سے آیا ہوں، اور میری منزل کیا ہے۔
پانچ ہزار سال پہلے یونانی فلسفیوں نے آئی ڈنٹٹی کرائسس کے اِس سوال پر غور کرنا شروع کیا۔ انھوں نے یہ فرض کیا کہ انسان ایک حقیقتِ کُلّی کا حصہ ہے۔ وہ صرف اس لیے اُس سے الگ ہوا ہے کہ ایک دن وہ دوبارہ اس سے مل جائے۔ انسان ایک الگ وجود کی حیثیت سے اپنی شناخت نہیں پارہا تھا۔ لیکن جب اس نے یہ مان لیا کہ وہ ایک عظیم تر حقیقتِ کلّی کا ذاتی جز ہے تو اس نے گویا اپنی شناخت پالی۔ کائنات کے اندر اس کو اپنی پہچان معلو م ہوگئی۔ یہ نظریہ بہت بڑے پیمانے پر پھیلا۔ یہی وہ نظریہ ہے جس کو مانزم اور ادوئت واد اور وحدتِ وجود کہا جاتا ہے۔
یہ ایک فطری حقیقت ہے کہ انسان اپنی ذات میں ایک نامکمل وجود ہے۔ وہ اپنی تکمیل کے لیے اپنی ذات سے باہر کسی اور چیز کو چاہتا ہے۔ یہ احساس ہر انسان کو مسلسل طورپر بے چین رکھتا ہے۔ جب انسان کو اپنی اِس تلاش کا جواب نہیں ملتا تو اس کا حال وہ ہو جاتا ہے جس کو سر جیمز جینز نے اِن الفاظ میں بیان کیا تھا— میں شاید بھٹک کر ایک ایسی دنیا میں آگیا ہوں جو میرے لیے بنائی نہیں گئی۔ اِسی احساس کی ترجمانی ایک اردو شاعر نے اِس طرح کی ہے:
مجھے بلا کے یہاں، آپ چھپ گیا کوئی وہ میہماں ہوں جسے میزباں نہیں ملتا
I was invited here, but when I came the invitee was absent. I am the guest who failed to find his host.
میں نے وحدتِ وجود کا تفصیل کے ساتھ مطالعہ کیا۔ مگر میں نے پایا کہ اِس پورے نظریے کے پیچھے کوئی حقیقی دلیل موجود نہیں۔ یہ پورا نظریہ صرف تمثیلات پر کھڑا کیاگیا ہے، اور تمثیل کسی بھی درجے میں منطقی دلیل کے قائم مقام نہیں۔ مثال کے طورپر ہندوازم کوماننے والے یہ دلیل دیتے ہیں کہ سمندر کا ایک قطرہ سمندر سے باہر ہو تب بھی وہ سمندر کا ایک حصہ ہوتا ہے۔ اِسی طرح انسان حقیقت کے سمندر کا ایک قطرہ ہے۔ جب تک وہ باہر ہے وہ ایک الگ قطرہ دکھائی دیتا ہے۔ لیکن جب وہ سمندر میں مل جائے تو اس کے بعد ایک الگ قطرے کی حیثیت سے اس کا کوئی وجود باقی نہیں رہتا۔ اسی بات کو مثنوی مولانا روم میںاِس طرح کہاگیا ہے:
بشنو ازنَے حکایت می کُند از جدائی ہا شکایت می کند
اصل یہ ہے کہ یہ سارا معاملہ ایک کنفیوژن کی وجہ سے پیدا ہوا ہے۔ انسان کے اندر اپنی شناخت کے حوالے سے جو بحران (crisis) پایا جاتارہا ہے وہ اِس لیے نہیں ہے کہ پانی کا قطرہ اپنے سمندر کی تلاش میں ہے، بلکہ وہ اِس لیے ہے کہ مخلوق اپنے خالق کو پہچاننا چاہتی ہے۔ اسی فرق کو نہ سمجھنے کی وجہ سے وہ نظریات پیدا ہوئے جن کو مانزم یا اِس طرح کے دوسرے الفاظ میں بیان کیا جاتا ہے۔
اِس معاملے پر قرآن کی روشنی میں غور کیجیے تو معلوم ہوتا ہے کہ بندے اور خدا کے درمیان ربط اپنے آپ میں ایک فطری حقیقت ہے۔ لیکن اِس ربط کا مطلب یہ نہیں ہے کہ پانی کا قطرہ سمندر میں مل کر ایک ہو جائے، بلکہ اس کا مطلب صرف قربت(nearness) ہے۔ انسان فطری طورپر اپنے اُس خدا کی قربت چاہتا ہے جس نے اس کو پیدا کیا، اور جو اس کو سب کچھ دینے والا اور اس کو سنبھالنے والا ہے۔
اِس قربت کو ماں اور بیٹے کی مثال سے سمجھا جاسکتا ہے۔ بیٹا اپنی ماں سے قریب ہونا چاہتا ہے۔ یہ بلا شبہہ اس کی سب سے بڑی خواہش ہے۔ لیکن اس خواہش کا مطلب یہ نہیں ہے کہ ماںاور بیٹا دونوں کی ذات ایک دوسرے میں مدغم ہوجائے، یہاں تک کہ بیٹے کا کوئی الگ وجود باقی نہ رہے۔ بیٹے کے اندر یہ خواہش سادہ طورپر صرف قربت کے معنیٰ میں ہے نہ کہ انضمام (merger) کے معنٰی میں۔
قرآن میں خدااور بندے کی دنیوی قربت کے معنی میں یہ آیت آئی ہے: واسجد واقترب (القلم)، اور آخرت میں خدا اور بندے کی قربت کا تصور اِس آیت سے معلوم ہوتا ہے: ربّ ابن لی عندک بیتاً فی الجنّۃ (التحریم ۱۱)
اِس بات کو دوسرے لفظوں میں اِس طرح بیان کیا جاسکتا ہے کہ دنیا کی زندگی میں خدا اور بندے کے درمیان روحانی ہم سائیگی (spiritual neighbourhood) کامعاملہ پیش آتا ہے اور آخرت کی زندگی میں خدا اور بندے کے درمیان مادّی ہم سائیگی (physical neighbourhood) کا تجربہ ہوگا۔ جو کہ انسان کے لیے تمام لذتوں سے زیادہ لذیذ ثابت ہوگا۔
اس معاملے پر مزید غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ خدا نے انسان کو پیدا کرکے جس دنیا میں اس کورکھا ہے وہ دنیا پورے معنوں میں اپنے خالق کاتعارف ہے۔ یہاں وسیع خلا ہے جو خالق کی ناقابلِ احاطہ ہستی کا گویا ایک تعارف ہے۔ یہاں روشن سورج اور روشن ستارے ہیں جو بتاتے ہیں کہ خالق کس طرح تمام موجودات کے لیے روشنی کا منبع ہے۔ یہاں اونچے پہاڑ ہیں جو خدا کی عظمت کا ایک علامتی اظہار ہیں۔ یہاں پانی کے اتھاہ سمندر ہیں جو خدا کی بے پایاں رحمت کی داستان سنارہے ہیں۔ یہاں سرسبز درخت ہیں جویہ بتارہے ہیں کہ خدا نے کس طرح ہماری زمین پر لائف سپورٹ سسٹم کا حیرت انگیز نظام قائم کر رکھا ہے، وغیرہ۔
انسان پیدائشی طورپر ایک عاجز مخلوق ہے۔ وہ اپنے عجزکی تلافی کے لیے اپنے سے بڑی کسی ہستی کو پانا چاہتا ہے۔ اِسی فطری احساس کی توجیہہ کرنے کی کوشش میں وحدتِ وجود کی قسم کے فلسفے بنے۔ مگر اِس احساس کا صحیح جواب یہ ہے کہ انسان خدا کی معرفت حاصل کرے۔ وہ خدا کی تخلیق میں غور و فکر کرکے خدا کی جھلکیاں دیکھے۔ وہ خدا کو دریافت کرنے کی سعادت حاصل کرے۔
قرآن کے مطابق، انسان کی زندگی کا ایک مختصر حصہ قبل از موت دورِ حیات میں رکھا گیا ہے، اور اس کا زیادہ بڑا حصہ بعد ازموت دَور میں رکھا گیا ہے۔ اِن دونوں دوروں میں کامیابی کا راز یہ ہے کہ مخلوق کو اپنے خالق کی قربت حاصل ہوجائے۔ یہ قربت، دنیا کی زندگی میںتصوّراتی قربت کی صورت میں حاصل ہوگی، اور آخرت کی زندگی میں حقیقی قربت کی صورت میں۔ دوسرے لفظوں میں یہ کہ دنیا کی زندگی میںآدمی کو خدا رُخی زندگی حاصل ہوجائے اور آخرت میں اس کو خدا کے پڑوس میں رہنے کی سعادت ملے۔
واپس اوپر جائیں

لائف بیانڈ لائف

Life Beyond Life
کیا موت کے بعد آدمی دوبارہ زندہ رہتا ہے۔ جواب یہ ہے کہ ہاں۔ موجودہ دنیا میں کسی بھی چیز کو ثابت کرنے کے لیے جس طرزِ استدلال کو معتبر سمجھا جاتا ہے، ٹھیک اسی طرزِاستدلال سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ موت کسی کے لیے زندگی کا خاتمہ نہیں۔ ہر عورت اور مرد کی زندگی ابدی ہے۔ موت کا مطلب صرف یہ ہے کہ آدمی ایک دورِ حیات سے نکل کر دوسرے دورِ حیات میں داخل ہوجاتا ہے۔
۱۔ علماء طبّ پہلے یہ خیال کرتے تھے کہ موت کا مطلب دل کی حرکت کا بندہوجانا ہے۔ مگر اب یہ نظریہ رد کیا جاچکا ہے۔ اب یہ مانا جاتا ہے کہ کوئی آدمی اُس وقت مرتا ہے جب کہ اس کے برین کا فنکشن رُک جائے۔ اس واقعہ کو بتانے کے لیے فنکشن کا لفظ درست نہیں۔زیادہ صحیح بات یہ ہے کہ یہ کہا جائے کہ برین کسی انسان کے لیے موجودہ دنیا میں اس کے سفر کا آخری اسٹیشن ہے۔
جیساکہ معلوم ہے، جب انسان کے ساتھ وہ واقعہ پیش آتا ہے جس کو کلنکل موت (clinical death) کہا جاتا ہے تو یہ ہوتا ہے کہ اس کے جسم سے روح نکل جاتی ہے، لیکن جہاں تک برین کا تعلق ہے، وہ بدستور ویسا ہی باقی رہتا ہے جیسا کہ وہ موت سے پہلے تھا۔ موت کے بعد برین کا ایک سیل(cell) بھی کم نہیں ہوتا۔
اس سے واضح طور پر معلوم ہوتا ہے کہ روح یا انسان کی شخصیت (personality) برین سے الگ اپنا ایک مستقل وجود رکھتی ہے۔ وہ کسی بھی اعتبار سے برین کا حصہ نہیں ۔
۲۔ اس سلسلے میں دوسری قابل لحاظ بات یہ ہے کہ مرنے والا انسان مرکر بظاہر ہمارے پاس سے چلا جاتا ہے۔ لیکن اس کے وجود کا کم از کم ایک حصہ دنیا میں باقی رہتا ہے۔ یہ اس شخص کی آواز ہے۔ اس کے مرنے کے بعد جب ہم کیسیٹ پر اس کی آواز سنتے ہیں تو ہم کسی شبہہ کے بغیر یہ جان لیتے ہیں کہ یہ آواز اُسی مرنے والے انسان کی آواز ہے۔
موت کے بعد کسی آدمی کی آواز کا ٹھیک اُسی طرح موجود رہنا، اِس بات کا کم ازکم ایک جزئی ثبوت ہے کہ انسان کی ہستی ایک غیر فانی ہستی ہے۔ انسان کی شخصیت کا اگر ایک جز ثابت شدہ طور پر موت کے بعد بھی باقی رہتا ہے تو اسی طرح یہ بھی ممکن ہے کہ انسان کی پوری ہستی بھی قابلِ اعادہ (repeatable) حالت میں باقی اور موجود ہو۔
اگر یہ کہا جائے کہ موت کے بعد کسی انسان کی آواز جو باقی رہتی ہے وہ صوتی لہروں (sound waves) کی شکل میں باقی رہتی ہے۔ جب کہ انسان ایک زندہ وجود ہے۔ مگر یہ اعتراض درست نہیں۔ اس لیے کہ اس دنیا میں ہر چیز لہروں ہی کا ایک مجموعہ ہے۔ اس دنیا میں جو چیزیں ہیں ان کی آخری ہیئت لہروں پر مشتمل ہے۔ میٹریل و رلڈ کی ہر چیز اپنے آخری تجزیے میں الکٹران ہے، اور الکٹران کے بارے میں سائنس داں یہ کہتے ہیں کہ وہ اس کے سوا اور کچھ نہیں کہ وہ اَمواج امکان (waves of probability) ہیں، اس سے زیادہ اور کچھ نہیں۔ پھر اگر اِس دنیا کی تمام چیزیں امواجِ امکان ہیں تو انسان کی شخصیت بھی اگر امواجِ امکان کی ایک صورت ہو تو اس کے وجود سے انکار کیسے کیا جاسکتا ہے۔
۳۔ حیاتیاتی سائنس بتاتی ہے کہ انسان کاوجود بے شمار چھوٹے چھوٹے سیل (cell)کا مجموعہ ہے۔ یہ سیل ہر وقت ٹوٹتے رہتے ہیں، اور نیا سیل پرانے سیل کی جگہ لیتا رہتا ہے۔ یہ عمل مسلسل جاری رہتا ہے۔ یہاں تک کہ پورے جسم کے تمام سیل بدل جاتے ہیں۔ گویا کہ معروف موت سے پہلے بھی انسان کا جسم برابر مرتا رہتا ہے۔
جسم میں سیل کے بدلنے (replacement) کا یہ عمل برابر جاری رہتا ہے۔ بار بار ایسا ہوتا ہے کہ کسی انسان کا سابقہ جسم مکمل طورپر مرجاتا ہے۔ اس کے باوجود ہم دیکھتے ہیں کہ آدمی کا حافظہ (memory) مستقل طورپر ایک حالت میں باقی رہتا ہے۔
اب سوال یہ ہے کہ جب جسم پر بار بار موت واقع ہوتی ہے تو انسان کا حافظہ کہاں باقی رہتا ہے۔ اگروہ جسم کے سیل پر موجود رہا ہو تو حافظے کو ختم ہوجانا چاہیے۔ لیکن سیل کے فنا ہونے کے باوجود حافظے کا باقی رہنا، اِس بات کا ثبوت ہے کہ انسان کی شخصیت، جسم سے ماورا ایک مستقل وجود ہے۔ وہ معروف موت کے باوجود اپنے آپ کو باقی رکھتی ہے۔
۴۔ اس سلسلے میں آخری اہم بات یہ ہے کہ دنیا میں کسی بات کو ثابت کرنے کے لیے جو طرزِ استدلال رائج ہے، اور جس معیار پر وضاحت کے بعد چیزیں ثابت شدہ مان لی جاتی ہیں، اسی معیار پر زندگی بعد موت کے ثبوت کا تقاضا بھی کیا جاسکتا ہے۔ کسی اور معیار پر زندگی بعد موت کے ثبوت کا تقاضا کرنا غیر علمی بات ہے۔ اس حقیقت کو ذہن میں رکھا جائے تو معلوم ہوگا کہ زندگی بعد موت بھی اسی طرح ایک ثابت شدہ واقعہ ہے جس طرح زندگی قبل موت ایک ثابت شدہ واقعہ سمجھی جاتی ہے۔ خالص منطقی اعتبار سے دونوں میں کوئی فرق نہیں۔
واپس اوپر جائیں

ڈائلاگ اسلام میں

ڈائلاگ (dialogue) یا مکالمہ دو شخصیتوں یا دو پارٹیوں کے درمیان بات چیت (conversation) کا نام ہے۔ ڈائلاگ کا مقصد یہ ہے کہ کسی اختلافی مسئلے کا پُر امن حل تلاش کیا جائے۔ قدیم بادشاہی دَور میں آزادانہ ڈائلاگ کا رواج نہ تھا۔ جب دنیا میں ڈیماکریسی آئی تو فطری طورپر لوگوں کے درمیان آزادانہ ڈائلاگ ہونے لگا۔ یہ ڈائلاگ سیاسی سطح پر بھی جاری ہوا، اور غیرسیاسی سطح پر بھی۔
ڈائلاگ دراصل انسانیت کو حیوانی دور سے اٹھا کر انسانی دور میں لانے کا نام ہے۔ انسانوں کے درمیان اختلاف ایک فطری چیز ہے۔ قدیم زمانے میں لوگ اختلاف کی باتوں پر لڑجاتے تھے۔ وہ اختلاف کو طے کرنے کا ایک ہی طریقہ جانتے تھے، اور وہ لڑائی تھی۔ لیکن ڈیماکریسی نے اِس طریقے کوختم کردیا، اور انسان کو جنگل کلچر کے دور سے نکال کر امن کلچر کے دور میں پہنچایا۔
ڈائلاگ یا پُر امن مکالمے کا طریقہ عین اسلام کا طریقہ ہے۔ اسلام کی بنیاد دعوت کے اصول پر قائم ہے، اور دعوت پُر امن گفت وشنید کا دوسرا نام ہے۔ اسلام میں تشدد مکمل طورپر ایک ممنوع فعل ہے۔ اس ممانعت میں صرف ایک استثناء ہے، اور وہ دفاع کا ہے۔ یہ دفاع، خارجی حملے کے وقت ہوتا ہے۔ اور دفاع کا یہ کام بھی صرف باقاعدہ طورپر قائم شدہ حکومت کرسکتی ہے۔ غیر حکومتی تنظیم، دفاع یا انصاف کے نام پر متشددانہ لڑائی لڑنے کا حق نہیں رکھتی۔
پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے ۶۱۰عیسوی میں عرب میں اپنا مشن شروع کیا۔ یہ مشن کیا تھا۔ وہ مشن یہ تھا کہ آپ اپنی آئڈیا لوجی کو لے کر لوگوں میں جائیں اور لوگوں سے اس کے بارے میں بات چیت کریں۔ ان کے اعتراضات کو سُنیں اور دلیل کے ذریعے اپنے نقطۂ نظر پر انھیں مطمئن کرنے کی کوشش کریں۔ پیغمبر اسلام پر جب وحی اترنا شروع ہوئی تو اس کے آغاز ہی میںآپ پر یہ آیت اتری: وأمابنعمۃ ربّک فحدث (الضحی: ۱۱) یعنی خدا کی طرف سے آپ کو جو نظریۂ حیات دیاگیا ہے، لوگوں کے درمیان اس کاچرچا کریں۔ آپ کا نظریۂ حیات توحید پر مبنی تھا، جب کہ اُس وقت عرب کے لوگ شرک پر عقیدہ رکھتے تھے۔ اس لیے فطری طورپر آپ کا مشن دو طرفہ گفت وشنید کا موضوع بن گیا۔ آپ لوگوں سے اپنی بات کہتے اور لوگوں کا رد عمل سنتے اور پھر اس کی مزید وضاحت کرتے۔ اِس طرح آپ کا مشن عملاً وہی چیز بن گیا جس کو موجودہ زمانے میں ڈائلاگ کہاجاتا ہے۔
اِس ڈائلاگ کو مفید بنانے کے لیے قرآن میں کچھ با معنیٰ اصول بتائے گیے ہیں۔ ان اصولوں میںسے کچھ اصولوں کا ہم یہاں تذکرہ کریں گے۔
۱۔ اس سلسلے میں قرآن کی ایک آیت وہ ہے جس کا ترجمہ یہاں درج کیا جاتا ہے: ’’اپنے رب کے راستے کی طرف حکمت اور اچھی نصیحت کے ساتھ بُلاؤ، اور اُن سے اچھے طریقے سے بحث کرو‘‘۔ (النحل: ۱۲۵)
اِس آیت میں بتایا گیا ہے کہ دوسروں سے تم جو گفتگو کرو وہ ’جِدال احسن‘ کے طریقے پر ہو۔ یعنی فریقِ ثانی سے تکرار نہ کرنا، بلکہ اس کے اختلاف کو سُن کر سنجیدگی کے ساتھ ایسی بات کہنا جو اس کے مائنڈ کو ایڈریس کرنے والی ہو۔ گفتگو محض بحث و مباحثے پر ختم نہ ہو بلکہ وہ ایک نتیجہ خیز انجام پر ختم ہو۔ بات چیت کے دوران حریفانہ اور رقیبانہ انداز اختیار نہ کیا جائے بلکہ علمی انداز اختیار کیا جائے۔
۲۔ اِس سلسلے میں دوسری آیت کا ترجمہ یہ ہے:
’’اور بھلائی اور بُرائی دونوں برابر نہیں، تم جواب میں وہ کہو جو اُس سے بہتر ہو۔ پھر تم دیکھو گے کہ تم میں اور جس میں دشمنی تھی،وہ ایسا ہوگیا جیسے کوئی دوست قرابت والا‘‘۔ (حم السجدہ: ۳۴)
قرآن کی اِس آیت میںبتایا گیا ہے کہ کوئی آدمی مسٹر دشمن نہیں۔ ہر آدمی امکانی طور پر مسٹر دوست ہے۔ اس لیے کہ ہر آدمی ایک ہی فطرت پر پیدا کیا گیا ہے، کئی فطرت پر نہیں۔ اِس قر آنی اصول سے معلوم ہوتا ہے کہ ڈائلاگ کا آغاز اِس طرح نہیں ہونا چاہیے کہ پہلے ہی سے دونوں فریق ایک دوسرے کے بارے میں ناامید بنے ہوئے ہوں۔ صحیح طریقہ یہ ہے کہ ڈائلاگ کا عمل پُرامید ذہن کے ساتھ کیا جائے نہ کہ ناامیدی اور مایوسی کے ذہن کے ساتھ۔
۳۔ اِس سلسلے میں قرآن کی ایک اور آیت کا ترجمہ یہ ہے:
’’کہو، اے اہلِ کتاب! آؤ ایک ایسی بات کی طرف جو ہمارے اور تمھارے درمیان مسلّم ہے کہ ہم خدا کے سوا کسی کی عبادت نہ کریں‘‘۔ (آل عمران: ۶۴)
اِس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ جب دو فریق کے درمیان بات چیت ہو تو اُس وقت موضوعِ گفتگو کا انتخاب کس طرح کرنا چاہیے۔ وہ یہ کہ گفتگو کا آغاز کنٹرورشل پہلو کو لے کر نہ کیا جائے بلکہ دونوں فریقوں کے درمیان کامن گراؤنڈ (کلمۂ سَواء) کی تلاش کی جائے، اور اِس کامن گراؤنڈ سے گفتگو کاآغاز کیاجائے۔ یعنی گفتگو کا طریقہ اختلاف سے اتفاق کی طرف نہ ہو بلکہ اتفاق سے اختلاف کی طرف ہو۔
۴۔ اِس سلسلے میں ایک اور قابلِ حوالہ آیت کا ترجمہ یہ ہے:
’’اور خدا کے سوا جن کو یہ لوگ پکارتے ہیں ان کوتم بُرا بھلا نہ کہو، ورنہ یہ لوگ حد سے گذر کر، جہالت کی بناپر، خدا کو بُرا بھلا کہنے لگیں گے‘‘۔ (الانعام: ۱۰۹)
قرآن کی اِس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ جب دوفریقوں کے درمیان ایک اختلافی موضوع پر ڈائلاگ ہو تو ضروری ہے کہ ڈائلاگ کے باہر موافقِ ڈائلاگ فضا کو باقی رکھا جائے۔ اگر ایسا ہو کہ دونوں فریقوں کا میڈیا ایک دوسرے کے خلاف نفرت کی باتیں پھیلا رہا ہو۔ دونوں طرف کے لوگ ایسی باتوں کا چرچا کرنے میں مصروف ہوں جس سے ایک دوسرے کے خلاف معاندانہ جذبات پیدا ہوتے ہیں تو ایسی غیر موافق فضا میں مفید ڈائلاگ نہیں ہوسکتا۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ ڈائلاگ کے نتیجہ خیز ہونے کا تعلق، صرف کمرۂ ڈائلاگ کی بات چیت پر منحصر نہیں ہوتا، بلکہ اِس پر منحصر ہوتا ہے کہ کمرۂ ڈائلاگ کے باہر جو فضا بنائی گئی ہے وہ ڈائلاگ کے حق میں ہے یا اس کے خلاف ہے۔
ڈائلاگ کا ایک اور اصول وہ ہے جو سنتِ رسول سے ثابت ہوتا ہے، یہ اصول حُدیبیہ کے معاہدے سے معلوم ہوتا ہے۔ یہ معاہدہ پیغمبر اسلام اور قریش کے درمیان لمبی بات چیت کے بعد طے پایا تھا۔ جیسا کہ تاریخ سے معلوم ہوتا ہے، یہ معاہدہ اِس طرح ممکن ہوا کہ پیغمبر اسلام نے قریش کی کئی شرطوں کویک طرفہ طورپر مان لیا۔ پیغمبر کی اِس سنت سے ڈائلاگ کا یہ اصول اخذ ہوتا ہے کہ دونوں فریق اپنے اپنے نقطۂ نظر کو دلیل کے ساتھ پیش کریں۔ لیکن اِسی کے ساتھ دونوں اِس بات کے لیے تیار رہیں کہ ڈائلاگ ہمیشہ لینے اور دینے (give and take) کے اصول کو اختیار کرکے کامیاب ہوتا ہے نہ کہ صرف لینے کے اصول پر اصرار کرنے سے۔عملی معاملات میں اسلام آخری حد تک لچک کے اصول کو پسند کرتا ہے۔
اسلامی تاریخ کے مطالعے سے معلوم ہوتا ہے کہ اسلام میں صرف ڈائلاگ کے اصول نہیں بتائے گیے ہیں بلکہ ڈائلاگ کے اصول کا عملی تجربہ بھی بار بار کیا گیا ہے۔ اسلامی تاریخ میں اِس کی بہت سی مثالیں موجود ہیں۔
پیغمبر اسلام نے اپنے مشن کے مکّی دو رمیں بار بار ڈائلاگ کے اصول پر عمل کیا۔ مثلاً ایک بار قریش نے اپنے سردار عقبہ بن ربیعہ کو اپنا نمائندہ بنا کر پیغمبر اسلام کے پاس بھیجا۔ تاکہ باہمی اختلاف کے موضوع پر بات چیت کرکے صُلح کا ماحول بنایا جائے۔ روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ عقبہ نے نہایت غور کے ساتھ آپ کی باتیں سنیں اور قریش کے پاس جاکر انھیں اِس سے آگاہ کیا۔ اِسی طرح ایک بار آپ کے چچا ابو طالب کی دعوت پر آپ اور قریش کے نمائندے اکھٹا ہوئے اور اختلافی موضوعات پر پُرامن انداز میں بات چیت ہوئی۔
اِسی طرح حدیبیہ کے موقع پر پیغمبر اسلام اور قر یش کے درمیان ایک گفت و شنید ہوئی۔ اِس کا سلسلہ تقریباً دو ہفتے تک جاری رہا۔ اِس کے بعد دونوں فریقوں کے درمیان وہ معاہدۂ امن طے پایا جس کو معاہدۂ حدیبیہ کہاجاتا ہے۔ یہ واقعہ بلاشبہہ پُرامن ڈائلاگ کی ایک کامیاب مثال ہے۔
اِسی طرح پیغمبر اسلام کی موجودگی میں تین مذہب—اسلام، مسیحیت اور یہودیت کے نمائندوں کے درمیان ڈائلاگ ہوا۔ یہ ٹرائلاگ (trilogue) مدینہ کی مسجد نبوی میں ہوا۔ عرب مصنفین نے اس کو مؤتمر الادیان الثلاثہ کانام دیا ہے۔یعنی تین مذہبوں کے درمیان ٹرائلاگ۔ غالباً یہ تاریخ کا پہلا ٹرائلاگ تھا جو مقدس عبادت خانے کے اندر ہوا۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ اسلام میں پُر امن گفت وشنید کو کتنی زیادہ اہمیت دی گئی ہے۔
اسلام کی تاریخ میں اِس طرح کی متعدد مثالیں موجود ہیں۔ یہ مثالیں اُس عہد زرّیں سے تعلق رکھتی ہیں جس کو عہدِ نبوت اور عہدِ صحابہ کہاجاتا ہے۔ اس لیے ڈائلاگ یا باہمی گفت وشنید کے اصول کو اسلام میں ایک مستند اصول کی حیثیت حاصل ہے۔
خلاصۂ کلام
اوپر کی گفتگو سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ اسلام کا طریقہ پُرامن ڈائلاگ کا طریقہ ہے۔قرآن میں بتایا گیا ہے کہ صلح کا طریقہ سب سے بہتر طریقہ ہے۔ (النساء: ۱۲۸) اِس طرح ایک اور آیت میںآیا ہے کہ اختلاف کے موقع پر باہمی گفت و شنید اور ثالثی کا طریقہ اختیار کرنا چاہیے۔(النساء: ۳۵) حدیث میں آیا ہے کہ دشمن سے مڈبھیڑ نہ کرو بلکہ اللہ سے عافیت مانگو (لاتتمنوا لقاء العدوّ وسئلوا اللہ العافیۃ)۔
اسلام کا مقصد ربّانی انقلاب لانا ہے۔ لوگوں کو خدا پرستانہ زندگی کی طرف بلانا ہے۔ ایک ایسا سماج بنانا ہے جہاں روحانی اور اخلاقی اور انسانی قدروں کا رواج ہو۔ اسلام ایک ایسے ماحول کا داعی ہے جہاں امن اور ٹالرنس اور محبت اور خیر خواہانہ تعلقات کا مزاج لوگوں کے اندر پایا جائے۔ جہاں نزاعات کو تشدد کے بغیر حل کیا جائے۔ یہی اسلام کی مطلوب دنیا ہے۔ ایسی دنیا صرف پُرامن ڈائلاگ کے ذریعے ہی قائم کی جاسکتی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اسلام عقیدے کے اعتبار سے توحید پر قائم ہے، اور طریقِ کار کے اعتبار سے پُرامن ڈائلاگ پر۔ یہی اسلامی تعلیمات کا خلاصہ ہے۔ اس کے سوا جو طریقہ ہے اس کو اسلام کا طریقہ نہیں کہا جاسکتا۔ (۲ جون ۲۰۰۶ء)
واپس اوپر جائیں

توہّماتی دَور سے سائنسی دَور تک

حضرت ابراہیم علیہ السلام ایک جلیل القدر پیغمبر تھے۔ وہ عراق میں پیدا ہوئے۔ پھر مصر اور فلسطین سے سفر کرتے ہوئے وہ عرب کے اس مقام پر پہنچے جہاں اب مکہ آباد ہے۔ اُس وقت یہ مقام ایک غیر آباد مقام تھا۔ رتیلے میدان اور خشک پہاڑوں کے سوا یہاں اور کوئی چیز موجود نہ تھی۔ یہاں انھوں نے اپنی اہلیہ ہاجرہ اور اپنے بیٹے اسماعیل کو بسا دیا۔
یہ چار ہزار سال پہلے کی بات ہے۔ یہ کوئی سادہ واقعہ نہ تھا۔ یہ دراصل ایک نیا دورِ تاریخ شروع کرنے کا منصوبہ تھا۔ یہ منصوبہ اب مختلف مراحل سے گذرتے ہوئے اپنی آخری تکمیل تک پہنچ چکا ہے۔
اصل یہ ہے کہ چار ہزار سال پہلے کی دنیا میں ہر طرف شرک کا غلبہ تھا۔ شرک دراصل فطرت پرستی کا نام ہے۔ انسان، سورج، چاند، ستارے، دریا، پہاڑ اور حیوانات، ہر چیز کو پوجتا تھا۔ وہ فطرت (nature)کو پرستش کی چیز بنائے ہوئے تھا۔
یہ صورت حال ترقی کی راہ میں رکاوٹ تھی۔ خالق نے فطرت (nature) کے اندر ہر قسم کی طاقتیں چھپا دی تھیں۔ ضرورت تھی کہ انسان ان کو دریافت کرکے انھیں استعمال کرے۔ لیکن انسان نے فطرت کو پرستش کی چیز بنا لیا۔ حتی کہ فطرت کی پرستش(nature worship) یا شرک، انسانی کلچر کا غالب حصہ بن گیا۔ پرستشِ فطرت کے اِس مزاج نے انسان کے اندر سے تسخیرِ فطرت کا ذہن ختم کردیا۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ فطرت کی طاقتوں کو دریافت کرکے، اس کو انسانی خدمت کے لیے استعمال کرنے کا ذہن عملاً ختم ہوگیا۔ اِس ماحول میں عابد ِفطرت پیدا ہونے لگے نہ کہ وہ لوگ جو کھُلے ذہن کے ساتھ تحقیق کرکے فطرت میں چھپے ہوئے رازوں کو دریافت کرسکیں۔
ان حالات میںضرورت تھی کہ ایک ایسی نسل پیدا کی جائے جو فطرت پرستی کے ذہن یا مشرکانہ تہذیب کے اثر سے خالی ہو۔ یہ کام کسی متمدن شہر میں نہیں ہوسکتا تھا۔ کیوں کہ اس زمانے میں ہر متمدّن شہر ، شرک (فطرت پرستی) کا مرکز بن چکا تھا۔ اِس بنا پر حضرت ابراہیم نے مکّہ کے غیر آباد علاقے کو منتخب کیا تاکہ یہاں کے کھُلے ماحول میں ایک نئی نسل پیدا کی جائے جو مشرکانہ تہذیب کے اثرات سے خالی ہو، اور اپنے بے آمیز ذہن کی بنا پر نئی تاریخ بنانے کا کام کرسکے۔
پیغمبر اسلام اسی علاقے میں ۵۷۰ عیسوی میں پیدا ہوئے۔ ۶۱۰ عیسوی میں آپ کو نبوت ملی۔ یہاں کی زندہ نسل جس کو بنو اسماعیل کہا جاتا ہے، اس میں کام کرکے آپ نے ایک طاقت ور ٹیم تیار کی۔ یہ ٹیم جس کو اصحابِ رسول کہا جاتا ہے اس نے غیر معمولی جدوجہد کے ذریعے قدیم دَور کے فطرت پرستانہ نظام (مشرکانہ نظام) کو توڑا، اور دوسرے دَورِ تاریخ کا آغاز کیا۔ یعنی وہ دَور جب کہ فطرت(nature) پرستش کے بجائے تسخیر کا موضوع بنے۔ یہ عمل ہزار سال تک جاری رہا۔ یہاںتک کہ موجودہ دور پیدا ہوا، جب کہ فطرت کا آزادانہ مطالعہ کرکے فطرت میں چھپے ہوئے رازوں کو دریافت کیا گیا۔ یہاں تک کہ وہ دَور آگیا جس کو سائنسی دَور یا جدید صنعتی دَور کہاجاتا ہے۔
اکیسویں صدی میںاب دنیا اپنی تاریخ کے تیسرے دَور میں پہنچ چکی ہے۔ اس دَور میں بیک وقت دو چیزیں پوری طرح ظاہر ہوچکی ہیں۔ ایک ہے، جدید مشینی سامانوں کے ذریعے نیے تمدنی اسباب کا پیدا ہونا۔ ان نیے تمدنی اسباب میں سب سے زیادہ اہم چیز جدید مواصلات (ماڈرن کمیونکیشن) ہے، اس کا نتیجہ یہ ہوا ہے کہ ساری دنیا ایک گلوبل ولیج بن گئی ہے۔ زمین کے ایک سرے سے دوسرے سرے تک سفر اور پیغام رسانی اتنا ہی آسان بن چکا ہے جتنا کہ پہلے ایک محلے کے اندر ممکن ہوتا تھا۔
جدید انقلاب کا دوسرا پہلو یہ ہے کہ خدائی سچائی آخری حد تک مُبرہن ہوچکی ہے۔ خدائی سچائی کے حق میں پہلے روایتی دلائل ہوا کرتے تھے۔ اب خدائی سچائی کو ثابت شدہ بنانے کے لیے سائنسی دلائل ظاہر ہوچکے ہیں۔ خدائی سچائی اب صرف ایک عقیدہ نہیں رہی بلکہ وہ سائنسی طورپر ایک ثابت شدہ واقعہ بن چکی ہے۔
یہ تیسرا دور لوگوں کو ایک نیے عمل کی دعوت دے رہا ہے۔ پہلے دور کا مطلوب کام نئی نسل بنانا تھا، وہ بنو اسماعیل کے ذریعے انجام پایا۔ دوسرے دور کا مطلوب کام ایک انقلاب لانا تھا، جس میں فطرت (نیچر) پرستش کے بجائے تسخیر کا موضوع بن جائے۔ یہ کام اصحاب رسول کے ذریعہ واقعہ بنا۔ تیسرے دور کا مطلوب کام یہ ہے کہ اب اکیسویں صدی میں عزم و یقین سے بھر پور ایک گروہ اٹھے۔ وہ جدید وسائل اور جدید دلائل کو استعمال کرکے خدائی سچائی کو عالمی سطح پر آشکارا کردے، تاکہ خدا کے بندے خدا کی رحمت کے سایے میں جینے کی سعادت حاصل کرسکیں۔
شاید انسانی تاریخ کا یہی وہ آخری دَور ہے جس میں دعوتِ نبوت کو انجام دینے والوں کے لیے حدیث میں اخوانِ رسول کا لفظ آیا ہے۔ اصحابِ رسول نے روایتی دَور میں اظہارِ دین کا کام انجام دیا تھا، اب اخوانِ رسول سائنسی دَور میں اظہارِ دین کے اسی کام کو انجام دیں گے۔ حدیث میں اخوانِ رسول کی بہت فضیلت بیان ہوئی ہے۔
رویاتی دور میں اظہارِ دین، اور سائنسی دو رمیں اظہارِ دین کے درمیان کیا فرق ہے، اس کو راقم الحروف نے اپنی کتابوں میںتفصیل کے ساتھ بیان کیا ہے۔ اس کی ایک مثال یہ ہے کہ قدیم روایتی دور میں انسان کا جو فریم ورک تھا اس کے مطابق، گرہن کے بارے میں قابل فہم طورپر صرف یہ کہا جاسکتا تھا کہ وہ خدا کی نشانیوں میں سے ایک نشانی ہے۔ لیکن موجودہ زمانے میں سائنسی فریم ورک کی روشنی میں اِس واقعے کو اور بھی زیادہ ایمان افروز انداز میں بیان کیا جاسکتا ہے۔ مثلاً یہ کہ زمین اور سورج اور چاند تین مختلف سائز کے متحرک اَجرام ہیں۔ مگر وسیع خلا میں ان کو ایک ناقابلِ قیاس حساب کے ذریعے ایک سیدھ میںلایا جاتا ہے جس کے نتیجے میں سورج گرہن اور چاند گرہن واقع ہوتا ہے:
It is a result of unimaginably well-calculated positioning of three different moving bodies in the vast space.
واپس اوپر جائیں

نئی منصوبہ بندی کی ضرورت

انیسویں صدی عیسوی میں یہ واقعہ ہوا کہ مغربی قومیں نئی قوتوں سے مسلّح ہو کر ابھریں، اور ایشیا اور افریقہ کے بڑے حصے پر چھا گئیں۔ یہ علاقہ وہی تھا جہاں مسلمان سیکڑوں سال سے حالتِ اقتدار میں رہ رہے تھے۔ مسلم دنیا کے رہنماؤں کے اندر اس صورت حال کے خلاف ردّ عمل پیدا ہوا۔ تقریباً ہر جگہ کسی نہ کسی صورت میں اس ردّ عمل کا اظہار ہونے لگا۔
یہ بات بے حد اہم ہے کہ اسی زمانے میں اِس سوال کو لے کر دو تحریکیں اٹھیں۔ ایک تحریک ۱۸۵۷ میں اٹھی۔ اس میں ہندو اور مسلمان دونوں شریک تھے۔ یہ تحریک مسلّح انقلاب پر یقین رکھتی تھی۔ چنانچہ انھوں نے یہ کوشش کی کہ اسلحے کی مدد سے انگریزوں کو ہندستان سے نکال دیں۔اِس جنگ میں ہندو اور مسلمان، دونوں کا بہت زیادہ جانی اور مالی نقصان ہوا۔لیکن یہ تحریک اپنے مقصد میں مکمل طورپر ناکام رہی۔
اِس مسلّح تحریک کے تقریباً ساٹھ سال بعد مہاتما گاندھی، سیاسی آزادی کی جدوجہد میں شریک ہوئے۔ ۱۹۱۹ء کے بعد وہ کانگریس کے سب سے بڑے لیڈر بن گیے۔
مہاتما گاندھی نے ۱۹۱۹ میں یہ اعلان کیا کہ وہ ہنسا (تشدد) میں یقین نہیں رکھتے۔ چنانچہ وہ آزادی کی تحریک کو مکمل طورپر اَہنسا (عدم تشدّد) کے اصول پر چلائیں گے۔ یعنی وائلنٹ متھڈ (violent method) کے بجائے پیس فُل متھڈ(peaceful method) کے ذریعے۔
جیسا کہ تاریخ سے معلوم ہوتا ہے، انگریزی حکومت ۱۸۵۷سے لے کر ۱۹۱۹ تک تحریکِ آزادی سے وابستہ لوگوں کو تشدد کے ذریعے کچلنے کی کوشش کرتی رہی۔ تحریک آزادی کے کارکنوں کا تشدد، انگریزوں کو یہ موقع دیتا رہا کہ وہ جوابی تشدد کے ذریعے اِس تحریک کو کچلنے کی کوشش کرتے رہیں۔ لیکن جب مہاتما گاندھی نے تشدد کا طریقہ ترک کردیا تو گویا کہ انھوںنے انگریزی حکومت سے تشدد کا جواز چھین لیا۔
مہاتما گاندھی کی امن پالیسی کے نتیجے میں جو حالات پیدا ہوئے اس کا ایک اندازہ اِس واقعے سے ہوتا ہے کہ اُس زمانے کے ایک انگریز کلکٹر نے اپنے برٹش سکریٹریٹ کو یہ میسیج بھیجا کہ— براہِ کرم، بذریعہ ٹیلی گرام یہ بتائیے کہ ایک شیر کو تشدد کے بغیر کس طرح ہلاک کیا جائے:
Kindly, wire instructions how to kill a tiger non-violently.
جیسا کہ تاریخ بتاتی ہے، متشددانہ طریقِ کار کے مقابلے میں پُر امن طریقِ کار اتنا زیادہ کامیاب رہا کہ صرف ۲۵ سال کے بعد ۱۹۴۷ میں انڈیا آزاد ہوگیا۔ ساٹھ سال کی پُر تشدد جدوجہد، آزادی کے حصول میں ناکام ثابت ہوئی۔ مگر بیس سال کی پُرامن جدوجہد، آزادی کے حصول میں پوری طرح کامیاب رہی۔
برِّ صغیر ہندمیں پیش آنے والے یہ دونوں واقعات، مسلم نقطۂ نظر سے بے حد اہم تھے۔ یہ واقعات بتارہے تھے کہ نوآبادیاتی دَور صرف سیاسی استیلاء کے ہم معنٰی نہیں ہے، اسی کے ساتھ وہ نیے عظیم تر امکانات بھی لے کر آیا ہے۔ اِن امکانات کا ایک اہم پہلو یہ ہے کہ اب نیے وسائل نے قدیم پُر تشدد طریقِ کار کے مقابلے میں پُر امن طریقِ کار کو زیادہ مؤثر بنادیا ہے۔ یہاں تک کہ اب یہ ممکن ہوگیا ہے کہ جو جنگ ہتھیاروں کی مدد سے جیتی نہیں جاسکتی تھی، اس کو امن کے ذرائع کی مدد سے شان دار طور پر جیت لیا جائے۔
یہ واقعہ ساری دنیا کے مسلم رہنماؤں کے لیے ایک چشم کُشا واقعے کی حیثیت رکھتا تھا۔ مگر میرے علم کے مطابق، ساری مسلم دنیا میں کوئی ایک بھی قابلِ ذکر مسلم رہنما نہیں تھا جو اِس واقعے سے سبق لے اور اس کی روشنی میں اپنی ملّی جدوجہد کی نئی منصوبہ بندی کرے۔ ہر جگہ کی مسلم تحریکیں بدستور اُسی متشددانہ طریقِ کار پر چلتی رہیں جس پر وہ پہلے چلتی تھیں۔ اِس تاریخ پر اب ڈیڑھ سو سال گذر چکے ہیں، لیکن کسی بھی علاقے کے مسلمانوں میں کوئی حقیقی مثبت تبدیلی دکھائی نہیں دیتی۔
مزید اندوہ ناک بات یہ ہے کہ مسلمان اپنے ذاتی معاملات کو تو مصالحت اور ایڈجسٹ مینٹ کے اصول پر چلاتے ہیں۔ لیکن جہاں تک قومی پالیسی کی بات ہے، ہر جگہ وہ تشدد اور انتہا پسندی کا طریقہ استعمال کررہے ہیں— یہ دوعملی بلا شبہہ اُن کے لیے پہلے سے بھی زیادہ ہلاکت خیز ہے۔
اِس صورتِ حال کا تقاضا ہے کہ مسلمان ساری دنیا میں اپنی تحریکوں پر نظر ثانی کریں۔ وہ نظری اعتبار سے اپنی سوچ کو بدلیں، اور عملی اعتبار سے اپنی تحریکوں کو متشددانہ طریقِ کار کے بجائے پُر امن طریقِ کار کے اصول پر چلائیں۔ موجودہ حالت میں مسلمانوں کے لیے اِس کے سوا کوئی اور انتخاب نہیں۔ یہاں میں مختصر طور پر بتاؤں گا کہ موجودہ حالت میں مسلمانوں کو اپنی نئی پالیسی کن خطوط پر بنانا چاہیے۔
۱۔ سب سے پہلی بات یہ ہے کہ واضح انداز میں اِس بات کا کھلا اعلان کیا جائے کہ انڈیا میں، اور دوسرے ملکوں میں مسلمانوں نے جو مسلّح تحریکیں شروع کیں، وہ ان کی بہت بڑی غلطی تھی۔ اِس اعتراف کے بعد یہ اعلان کیا جائے کہ تمام مسلّح تحریکوں کو بلا شرط یک طرفہ طورپر ختم کیا جاتا ہے۔ اِس قسم کا اعلان لازمی طورپر ضروری ہے۔ اس کے بغیر مسلمانوں کو کوئی نیانقطۂ آغاز ہی نہیں ملے گا۔
بد قسمتی سے اِس معاملے میں برعکس طریقہ اختیار کیا گیا۔ سلطان ٹیپو سے لے کر یاسر عرفات تک، پچھلے دو سو سال کے اندر جو ناکام لڑائیاں لڑی گئیں، اب تک ہمارے لکھنے اور بولنے والے ان کو گلوری فائی کرتے رہے ہیں۔ اِس کا نتیجہ یہ ہوا کہ تباہی کے واقعات مسلمانوں کی نظر میں فخر کے واقعات بن گیے۔ اس کی ایک مثال ’’علماء ہند کا شان دار ماضی‘‘ نامی کتاب ہے۔ اِس طرح کی تحریریں ساری دنیا میں شائع کی گئیں۔ اس کا نقصان یہ ہوا کہ مسلمان اپنی معکوس نتیجہ پیدا کرنے والی لڑائیوں پر نظر ثانی نہ کرسکے۔ کیوں کہ فخر اور نظر ثانی، دونوں ایک ساتھ جمع نہیں ہوسکتے۔
۲۔ ضرورت ہے کہ ہر جگہ تمام متشددانہ کارروائیوں کو یک لخت بند کرکے تعلیم کا کام شروع کیا جائے۔ خاص طور پر ماڈرن ایجوکیشن بہت ضروری ہے۔ مسلمانوں میں جب تک ماڈرن ایجوکیشن نہ آئے، وہ جدید مسائل کو سمجھ نہیں سکتے۔ اور جب مسائل کی نوعیت ہی معلوم نہ ہوتو ان کے حل کی کامیاب منصوبہ بندی کس طرح کی جاسکتی ہے۔
۳ ۔ مسلمان ساری دنیا میں جہاں جہاں زمین کے لیے لڑ رہے ہیں، اب وہ اِس معاملے میں اسٹیٹس کوازم(statusquoism) کی پالیسی اختیار کرلیں۔ یعنی حالتِ موجودہ کو علیٰ حالہ تسلیم کرنا، اور غیر نزاعی دائرے میں موجود مواقع کو پُر امن طورپر استعمال کرنے کی کوشش کرنا۔
۴۔ اسی کے ساتھ ضروری ہے کہ مسلمان اُس کام کو کریں جس کو اسلام میں دعوت الیٰ اللہ کہاگیا ہے۔ یعنی اسلام کے پیغام کو پُر امن طورپر غیر مسلم قوموں تک پہنچانا۔ دعوت کا کام کوئی محدود کام نہیں، دعوت کا کام پوری زندگی کے لیے ایک انقلابی عمل کی حیثیت رکھتا ہے۔ مسلمانوں میں اگر دعوت کا کام زندہ ہو جائے تو اس کے بعد دوسرے بہت سے مثبت واقعات وجود میں آئیں گے۔ مثلاً مسلمانوں کے اندر عالمی نقطۂ نظر پیدا ہوگا۔ ان کے روابط دوسری قوموں سے بہت زیادہ بڑھ جائیں گے۔ ان کے اندر تعلیم کا گہرا جذبہ پیدا ہوگا۔ وہ ایک متحرک قوم بن جائیں گے۔ ان کے اندر مثبت سوچ، تعمیری ذہن، تحمّل، رواداری اور انسانی احترام جیسی اعلیٰ صفات پیدا ہوں گی۔
واپس اوپر جائیں

مسلم ایمپاورمنٹ، یا سیلف ایمپاورمنٹ

۱۹۴۷ میں جب ہندستان آزاد ہوا تو مسلم سیاست کی نسبت سے جو سب سے بڑی غلطی ہوئی وہ یہ کہ ہندستان کے مسلمانوں کے اندر کوئی ایسی شخصیت یاتحریک نہیں اٹھی جو مسلمانوں میں اپنی ملّی تعمیر کے لیے صحت مند رجحان (healthy trend) قائم کرے۔ فوری ردّ عمل کے تحت، ہر باریش اور بے ریش رہنما نے مسلم حقوق کے نام پر مطالبات کی مہم شروع کردی۔ یہ ان لوگوں نے کیا جو ایک ایسے مذہب پر فخر کرتے تھے جس کی تعلیم یہ ہے کہ— دوسروں سے سوال نہ کرو بلکہ دوسروں کے لیے نفع بخش بن جاؤ، اس کے بعد تمہارے حقوق تم کو اپنے آپ مل جائیں گے۔
حال میں اِس قسم کے لوگوں کو اپنی بے نتیجہ مطالباتی مہم کو چلانے کے لیے ایک نیا خوب صورت لفظ مل گیا ہے، اور وہ مسلم ایمپاورمنٹ (Muslim Empowerment) ہے۔ ایمپاور یا ایمپاورمنٹ کا مطلب ہے اختیار دینا۔ کہا جاتا ہے:
Science empowers men to control natural forces more effectively.
مسلم ایمپاورمنٹ کا مطلب دوسرے لفظوں میں مسلم اَپ لفٹ (uplift) ہے، یعنی مسلمان جو مفروضہ طورپر ایک پچھڑی ہوئی کمیونٹی بن گیے ہیں، ان کو ایسے مواقع بہم پہنچانا کہ وہ اوپر اٹھیں اور دوسرے گروہوں کے برابر ہوجائیں۔ اِسی قسم کی تحریک عورتوں کے حوالے سے ویمن ایمپاورمنٹ (Women Empowerment) کے نام سے چل رہی ہے۔ وہاں بھی یہی تصور ہے کہ عورتیں سماجی زندگی میں مَردوں سے پیچھے ہوگئی ہیں۔ اب عورتوں کو ایسے مواقع فراہم کیے جائیں جن کے ذریعہ وہ زندگی کے مختلف شعبوں میں مَردوں کے برابر ہوجائیں۔
میرے نزدیک مسلم ایمپاورمنٹ کی تحریک ایک لفظی کھیل کے سوا اور کچھ نہیں۔ مسلم حقوق کے لیے مطالبات کی مہم پچھلی نصف صدی کے دوران مسلسل چلائی گئی ہے۔ یہ مہم اس سے پہلے مسلمانوں کے ’’اکابر‘‘ کے ذریعے چلائی گئی۔ لیکن وہ مکمل طورپر ناکام رہی۔ اب یہ مہم مسلمانوں کے ’’اصاغر‘‘ کے ذریعے چلائی جارہی ہے۔ ایسی حالت میں کیسے یہ امید کی جاسکتی ہے کہ اب وہ نتیجہ خیز ہوجائے گی۔
اس معاملے میں ناکامی کسی اتفاقی سبب سے نہیں ہوئی۔ اس کا سبب صرف ایک تھا، اور وہ یہ کہ یہ مطالباتی مہم، قانونِ فطرت کے خلاف تھی۔ اِس دنیا کے لیے فطرت کا اٹل قانون یہ ہے کہ —جو دے وہ پائے، اور جو نہ دے وہ پانے سے محروم رہے۔ فطرت کا یہی اصول قرآن کی اِس آیت میں بیان کیاگیا ہے: وأمّا ما ینفع الناس فیمکث فی الأرض (الرعد: ۱۷) یعنی جو دوسروں کے لیے نفع بخش بنتا ہے اُسی کو اِس دنیا میں قیام اور استحکام حاصل ہوتا ہے۔
حدیث میں آیا ہے کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اصحاب کو ہدایت دیتے ہوئے فرمایا: ولا تسئلنَّ أحداً شیئاً وإنّ سقط سوسطک (مسند احمد، جلد ۵، صفحہ ۱۸۱) اِس حدیث کو عام طورپر فضائل صحابہ میں شمار کیا جاتا ہے حالاں کہ اِس میں زندگی کا ایک قانون بتایا گیا ہے۔ وہ یہ کہ خدا کی اِس دنیا میں اگر کامیاب ہونا چاہتے ہو تو مانگنے کا مزاج اپنے اندر سے ختم کردو، اپنی ذاتی محنت کے بل پر اپنی زندگی کی تعمیر کرو۔
مسلم ایمپاورمنٹ کی بات کرنے والے لوگ دستورِ ہند کا حوالہ دیتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ ہماری مطالباتی مہم جائز ہے۔ کیوں کہ دستورِ ہند میں ملک کے شہریوں اور اقلیتوں کو جو حقوق دیے گیے ہیں ہم صرف یہ چاہتے ہیں کہ ان حقوق کو عملاً ہمیں دے دیا جائے۔
یہ بات گریمر کے اعتبار سے صحیح ہے۔ لیکن حقیقت کے اعتبار سے وہ سرتاسرغلط ہے۔ اِس ملک کا ہر آدمی جانتا ہے کہ دستورِ ہند، صرف ایک لفظی گُل دستہ ہے۔ بعض ٹکنکل دفعات کے سوا، اس میں لکھی ہوئی کوئی بات اب تک واقعہ نہیں بنی— دستورِ ہند کے مطابق، ملک کو فیر الکشن ملنا چاہیے، لیکن اب تک ملک اس سے محروم ہے۔دستور کے مطابق، ملک کو دیانت دار ایڈمنسٹریشن ملنا چاہیے، لیکن ملک کو صرف ایک کرپٹ ایڈمنسٹریشن ملا ہے۔ دستور ہند کے مطابق، دستور کے نفاذ کے پندرہ سال کے اندر سارے ملک کو تعلیم یافتہ ہوجانا چاہیے تھا، لیکن اب تک یہ خواب پورا نہیں ہوا۔ دستور نے ہندی زبان کو ملک کی قومی زبان کادرجہ دیا تھا لیکن عملاً ملک کے اوپر انگریزی زبان کا راج ہے، وغیرہ۔
دستور ِ ہند کی یہ ناکامی ایک معلوم اور مسلّم واقعہ ہے۔ ایسی حالت میں کس طرح ممکن ہے کہ دستورِ ہند ایک استثنائی معجزہ کے طورپر مسلمانوں کی خواہش کے مطابق، ان کے تمام حقوق کا پارسل انھیں رجسٹرڈ ڈاک کے ذریعہ روانہ کردے۔
جیسا کہ معلوم ہے، ہندستان میں مسلمانوں کے علاوہ اور کئی ’’اقلیتیں‘‘ بستی ہیں۔ مثلاً عیسائی، پارسی، سکھ اور جَین وغیرہ۔ یہ ایک معلوم حقیقت ہے کہ مسلمانوں کے علاوہ دوسری اقلیتوں کے حقوق پوری طرح محفوظ ہیں۔ عیسائی اِس ملک کے تعلیمی نظام پر چھائے ہوئے ہیں۔ پارسیوں نے اِس ملک میںاپنا انڈسٹریل ایمپائر بنا لیا ہے۔ سکھوں کی تعداد صرف دو فیصد ہے لیکن عملاً وہ ملک کی تقریباً بیس فیصد اقتصادیات کو کنٹرول کررہے ہیں۔ جینی فرقہ اتنا زیادہ خوش حال فرقہ ہے کہ اس کو کسی سے کچھ مانگنے کی ضرورت نہیں۔ اِن اقلیتوں نے یہ کامیابی خود اپنی جدوجہد کے ذریعہ حاصل کی ہے، وہ انھیں دستور کے عطیہ کے طورپر نہیں ملی۔
اِن مثالوں میں ایک اور مثال شامل کر لیجئے، اور وہ خود مسلمانوں کا وہ طبقہ ہے جو مسلمانوں کی محرومی کو لے کر اپنی تحریک چلا رہا ہے، اور مسلمانوں کو ایمپاور کرنا چاہتا ہے۔قریب سے دیکھیے تو یہ لوگ اپنی ذات کے اعتبار سے خود پوری طرح ایمپاور ہوچکے ہیں۔ ان کو وہ تمام مادّی چیزیں حاصل ہیں جن کودوسروں کے لیے فراہم کرنے کے نام پر وہ اپنی تحریکیں چلارہے ہیں۔
ایسی حالت میں مسلم ایمپاور منٹ کا نعرہ لگانے والوں کو چاہیے کہ وہ مسلمانوں کو یہ بتائیںکہ اِس ملک کی دوسری اقلیتوں اور خود مسلم ایمپاور منٹ کے لیڈروں نے کس طرح اِسی ملک میں اپنے تمام مطلوب مفادات حاصل کرلیے۔ انھیں چاہیے کہ مسلمانوں کو کا میابی کا یہ راز بتائیں تاکہ وہ اِس سے فائدہ اٹھا کر اپنے آپ کو کامیاب بنا سکیں۔
حقیقت یہ ہے کہ مسلم ایمپاورمنٹ کا اِشو، سیلف ایمپاورمنٹ کا اشو ہے۔ یعنی خود اپنی جدوجہد کے ذریعے اپنے آپ کو محرومی سے نکالنا اور اپنے آپ کو ترقی کے مقام تک پہنچانا۔ یہ سارا معاملہ داخلی جدوجہد کا ہے، نہ کہ خارجی مطالبات کا۔
واپس اوپر جائیں

قیادت ناکام، مسلمان کامیاب

۱۹۴۷ میں ہندستان آزاد ہوا۔ اُس وقت یہاں کے مسلمان، غالباً بلااستثنا، یہ سمجھ رہے تھے کہ اِس ملک میں اب مسلمانوں کا کوئی مستقبل نہیں۔ اُس زمانے میں مسلمانوں کے لکھنے اور بولنے والے جس قسم کی مایوس کُن باتیں کہہ رہے تھے اُس کی ایک علامتی مثال مسٹر خالد لطیف گابا (وفات ۱۹۸۱) کی انگریزی کتاب منفعل آوازیں (Passive Voices) ہے۔ اِس کتاب کے دیباچے میں انھوں نے لکھا تھا کہ— انڈیا کے مسلمانوں کی حالت کا خلاصہ بتانے کے لیے صرف یہ کہا جاسکتا ہے کہ وہ اِس ملک میں منفعل آوازیں بن چکے ہیں:
It would be difficult to sum up the status and conditions of Muslims in India better in two words "Passive Voices".
یہ آزادی کے بعد ہندستانی مسلمانوں کے بارے میں مسلم قیادت کا عمومی اندازہ تھا۔ مگر تجربہ بتاتا ہے کہ نتیجہ عملاً اس کے بالکل برعکس نکلا۔ آج ہندستان کے مسلمان اس ملک میں ہمیشہ سے زیادہ بہتر حالت میں ہیں، حتی کہ مغل دَور سے بھی زیادہ بہتر حالت میں۔ آج کے شہروں میں مسلمانوں کو جو مادّی سہولیات حاصل ہیں وہ مغل دور کے مسلمانوں کو بھی حاصل نہ تھیں۔
یہ ایک حقیقت ہے کہ ہندستان کے مسلمان موجودہ ستّاون مسلم ملکوں سے بھی زیادہ بہتر حالت میں ہیں۔ اس کی علامتی مثال یہ ہے کہ پاکستان کا مسلمان نیو کلیر سائنٹسٹ ڈاکٹر عبد القدیر خاں قید کی زندگی گذاررہا ہے۔ اس کے مقابلے میں انڈیا کا مسلمان نیوکلیر سائنٹسٹ ڈاکٹر عبد الکلام، ملک کی صدارت کے عہدے پر فائز ہے۔
اس طرح انڈیا کے حکیم عبد الحمید (وفات ۱۹۹۹) نے دہلی میں ہمدرد یونیورسٹی بنائی۔ اس کے بعد اپنی عمر طبعی کے مطابق، ان کی وفات ہوئی۔ اس کے برعکس، حکیم محمد سعید (وفات ۱۹۹۸) نے کراچی میں ہمدرد یونیورسٹی بنائی اور ان کے دفتر میں ان کو گولی مار کر ہلاک کر دیاگیا، وغیرہ۔
موجودہ ہندستان میں مسلمانوں کی جو ترقی یافتہ حالت ہے اس کی ایک مثال یہ ہے کہ ۱۹۶۷ میں جب میں دہلی آیا، اُس وقت دہلی میں یہ حالت تھی کہ جمعہ اور عیدین کے دن مسجد کے باہر کسی مسلمان کی کار دکھائی نہیں دیتی تھی۔ آج یہ حالت ہے کہ آپ جس مسجد میں جمعہ اور عیدین کی نمازادا کریں، وہاںآپ کو مسجد کے باہر مسلم کاروں کی لمبی قطاریں دکھائی دیں گی۔ میں ۱۹۸۳ میں نظام الدین ویسٹ (نئی دہلی) کی کالونی میں آیا۔ اُس وقت یہاں ہر طرف صرف ہندو دکھائی دیتے تھے۔ اب یہ حال ہے کہ کالونی کی بیش تر بلڈنگوں کو مسلمانوں نے بڑی بڑی قیمت دے کر خرید لیا ہے۔ یہاں کی سڑکوں پر رات، دن مسلمانوں کی کاریں دوڑتی ہوئی نظر آتی ہیں۔
اس معاملے کو ایک اور مثال سے سمجھیے۔ پروفیسر خورشید احمد (مقیم برطانیہ) نے اپنے ایک مضمون میں ڈاکٹر محمد حمید اللہ حیدرآبادی (وفات ۲۰۰۲) کے بارے میں ان کے حالات بتاتے ہوئے لکھا ہے کہ:
’’میرے استفسار پر ڈاکٹر محمد حمید اللہ نے ایک بار بتایا کہ ‘‘میں دولتِ آصفیہ (حیدرآباد) کے پاسپورٹ پر یورپ آیا تھا۔ پھر (پولیس ایکشن کے بعد) میری غیرت نے قبول نہ کیا کہ بھارت کا پاسپورٹ حاصل کروں…‘‘ان کی دینی حس اتنی بیدار تھی کہ حیدر آباد دکن سے یورپ جانے کے بعد مقبوضہ حیدرآباد دکن کبھی واپس نہ آئے۔ جب میں نے اصرار کیا کہ اسلامک فاؤنڈیشن لسٹر کے پروگرام میں شریک ہوں، تو بڑے دُکھے دل سے کہا کہ میں اُس انگلستان کی سرزمین پر قدم رکھنا پسند نہیں کرتا جس نے میرے آزاد ملک کو بھارت کی غلامی میں دے دیا۔ وہ کبھی برطانیہ نہ آئے‘‘ ۔(ماہ نامہ میثاق، لاہور، مئی ۲۰۰۳)
ڈاکٹر محمد حمید اللہ کے احساسات جو حیدر آباد کے بارے میں تھے وہی ۱۹۴۷ کے بعد تمام مسلم قائدین کے احساسات تھے۔ لیکن عملاً یہ ہوا کہ ۱۹۴۷ کے بعد حیدرآباد کے مسلمانوں نے غیر معمولی ترقی کی، ایسی ترقی جو انھیں سابق دولتِ آصفیہ کے زمانے میں بھی حاصل نہ تھی۔میں نے حیدرآباد کو ۱۹۴۷ سے پہلے بھی دیکھا تھا، اور آج کے حیدر آباد کو بھی میں نے کئی بار بار دیکھا ہے۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ آج حیدرآباد کے مسلمانوں نے اتنی زیادہ ترقی کی ہے جس کا تصور بھی ۱۹۴۷ سے پہلے کے مسلمان نہیں کرسکتے تھے۔
آج آپ حیدرآباد کے جس حصے میں جائیں وہاں آپ کو مسلمانوں کی شان دار دکانیں اور بڑے بڑے نو تعمیر رہائشی مکانات نظر آئیں گے۔ مسجدیں اور مدرسے اور مسلم ادارے اپنی شان دار بلڈنگوں کے ساتھ بتارہے ہوں گے کہ نیے حیدرآباد میںمسلمانوں کو غیر معمولی ترقیاں حاصل ہوئی ہیں۔
یہی حال پورے ملک کا ہے۔ اوپر میں نے ملک کے دو بڑے شہروں کا ذکر کیا ہے۔مشرقی یوپی میں میرا آبائی گاؤں ایک دور افتادہ گاؤں کی حیثیت رکھتا تھا۔ ۱۹۴۷ سے پہلے یہاں ترقی نام کی کوئی چیز موجود نہ تھی۔ مگر آج اِس گاؤں میںبجلی، ٹیلی فون اور سڑک جیسی چیزوں کی موجودگی بتارہی ہے کہ اب یہ گاؤں بھی ملکی ترقی کے نقشے پر آچکا ہے۔گاؤں میں شان دار مدرسہ اور شان دار اسکول قائم ہے۔ گاؤں میں ہر طرف پختہ مکانات نظر آتے ہیں، وغیرہ۔
یہی حالت آج پورے ملک میں مسلمانوں کی ہے۔ گاؤں سے لے کر شہر تک ہر جگہ مسلمان تیزی سے ترقی کررہے ہیں۔ وہ تجارت اور تعلیم اور دوسرے تر قیاتی شعبوں میں نمایاں طورپر آگے بڑھ رہے ہیں۔ یہ ایک ایسا واقعہ ہے جو انڈیا کے ہر شہر اور ہر علاقے میں دیکھا جاسکتا ہے۔ اگر کوئی مسلمان اِس حقیقت کا انکار کرے تو اس سے آپ صرف ایک سوال کیجئے کہ— تمھارے اپنے خاندان کی معاشی حالت ۱۹۴۷ سے پہلے کیا تھی، اور اب کیا ہے۔ یقینی طور پر اس کا جواب یہ ہوگا کہ آج میرا خاندان ۱۹۴۷ کے مقابلے میں بہت زیادہ بہتر حالت میں ہے۔ پہلے اگر ہمارے گھر کے لوگ سائیکل نشیں تھے تو اب وہ کار نشیں ہوگیے ہیں، وغیرہ۔
یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ ہندستان کے مسلم قائدین کے تمام مایوسانہ اندازوں کے سراسر خلاف، ہندستانی مسلمانوں کی حالت اتنی زیادہ بہتر کیسے ہوگئی ۔ یہ کوئی پُراسرار معاملہ نہیں۔ یہ تمام تر زمانی تبدیلی کا معاملہ ہے۔ ۱۹۴۷ سے پہلے کا انڈیا، بنیادی طورپر، زرعی دَور میںتھا۔ ۱۹۴۷ کے بعد کا انڈیا، بنیادی طورپر، صنعتی دور میں پہنچ چکا ہے۔ زرعی دور میں معاشی ذرائع صرف لینڈ لارڈ کے پاس ہوا کرتے تھے۔ صنعتی دور نے معاشی ذرائع کو ڈی سنٹرلائز(de-centralize) کردیا۔ اِسی زمانی فرق کا یہ نتیجہ ہے کہ آج معاشی اسباب تمام لوگوں کے لیے قابل حصول ہوگیے۔ اسبابِ معیشت کے اِس عمومی پھیلاؤ میں جس طرح دوسروں کو حصہ ملا، اُسی طرح مسلمانوں کو بھی اس میں حصہ ملا۔
موجودہ زمانے میں مسلمانوں کے ساتھ یہ المیہ پیش آیا کہ ان کے اوپر ایسے لوگ قائدبن گیے جو زمانی بصیرت سے مکمل طورپر خالی تھے۔ اپنی بے بصیرتی کی بنا پر وہ صرف ماضی کو دیکھ سکے۔ انھیں زمانے کی اُن انقلابی تبدیلیوں کی خبر نہ ہوسکی جو دورِ جدید کو مکمل طورپر بدل دینے والی تھیں۔ مسلمانوں کے یہ بے بصیرت قائدین، مسلمانوں کو منفی خبریں بتاتے رہے۔ جب کہ عین اسی وقت زمانے کے اندر ہونے والا تاریخی عمل ، پورے ملک اور پورے سماج کو ایک نیے ترقیاتی دور کی طرف لے جارہا تھا، جہاں معاشی مواقع ہر ایک کے لیے کھُل جائیں ، جہاں کوئی بھی شخص عمومی اقتصادی برسات میں حصہ پانے سے محروم نہ رہے۔
مسلمانوں کے نام نہاد قائدین، اپنی بے بصیرتی کی بنا پر منفی بولی بولتے رہے۔ دوسری طرف زمانی اسباب مسلمانوں کے لیے ترقی کے دروازے کھولتے رہے۔ یہی وہ دو طرفہ واقعہ ہے جس کا نتیجہ ہم آج اِس صورت میں دیکھ رہے ہیں کہ— مسلم قائدین مکمل طورپر ناکام ہیں، اور مسلم کمیونٹی مکمل طور پر کامیاب۔
واپس اوپر جائیں

عارضی دورِ حیات، ابدی دورِحیات

ایک طالب علم جب اپنی زندگی کے تعلیمی مرحلے میںہو تو اُس کی سوچ اُس سے مختلف ہوتی ہے جب کہ وہ اپنی تعلیم کو مکمل کرکے اپنے لیے ایک اچھا جاب حاصل کرلے۔ پہلے مرحلے میں وہ اِس طرح رہتا ہے جیسے کہ وہ ایک مسافر ہے۔ جب کہ دوسرے مرحلے میں وہ اِس طرح رہتا ہے جیسے کہ وہ اپنی منزلِ مقصود پر پہنچ گیا ہو۔ پہلے مرحلے میں وہ ہر چیز کو ایک وقتی چیز سمجھتا ہے۔ جب کہ دوسرے مرحلے میں وہ ہر چیز کو اِس حیثیت سے لیتا ہے جیسے کہ وہ اس کی زندگی کا مستقل حصہ ہو۔
یہی معاملہ وسیع تر معنوں میں، انسانی زندگی کا ہے۔ انسان کو ہمیشہ کی عمر دی گئی ہے۔ اس عمر کے دو حصے ہیں، قبل ازموت، اور بعد از موت۔ قبل ازموت، آدمی اپنے عارضی دَورِ حیات میں رہتا ہے۔ بعد از موت وہ اپنے ابدی دَور حیات میں پہنچ جاتا ہے۔ اگر یہ حقیقت آدمی کے اندر زندہ شعور کے طورپر موجود ہو تو یہی اس کی مکمل اصلاح کے لیے کافی ہوجائے۔
موجودہ دنیا کو مذہبی اصطلاح میں فتنے کی دنیا کہاگیا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ موجودہ دنیا ایک مغالطے کی دنیا (deceptive world) ہے۔ یہاں کی ہر چیز کسی نہ کسی اعتبار سے مغالطے کا رول (deceptive role) ادا کررہی ہے۔ یعنی موجودہ عارضی دنیا کو مستقل دنیا کے روپ میں دکھانا۔ موجودہ دنیا کی وقتی چیز کو مستقل چیز کی حیثیت سے متعارف کرنا۔فانی بدایونی ایک اردو شاعر تھے۔ انھیں اپنی زندگی میں کچھ ایسے تجربات پیش آئے جس نے انھیں بتایا کہ موجودہ دنیا ایک بے حقیقت دنیا ہے۔ یہاں کی ہر خوش نُمائی صرف ظاہری اور وقتی خوش نمائی ہے۔ اپنے اِس تجربے کو انھوں نے اِن الفاظ میں نظم کیا تھا:
فریبِ جلوہ اور کتنا مکمل، اے معاذ اللہ! بڑی مشکل سے دل کو بزمِ عالم سے اٹھا پایا
حقیقت یہ ہے کہ موجودہ دنیا کی ہر چیز مغالطہ آمیز ہے۔ وہ وقتی چیز کو مصنوعی طورپر ابدی رنگ میں دکھاتی ہے۔ کامیاب وہ ہے جو موجودہ دنیا کو عارضی دورِ حیات سمجھے، اور ناکام وہ ہے جو اِس دنیا کو ابدی دورِ حیات سمجھ لے۔
واپس اوپر جائیں

نعمت نہ کہ زحمت

زُہیر بن ابی سُلمیٰ (وفات: ۶۰۹ء) عرب جاہلیت کا مشہور شاعر تھا۔ ابن الاعرابی نے اس کے بارے میں کہا ہے: کان لزُہیر فی الشعر ما لم یکن لغیرہ(زہیر کا درجہ شعر میں وہ تھا جو کسی اور کو حاصل نہیں ہوا) ۔ اس کا ایک قصیدہ سبع معلّقہ میں شامل کیا گیا۔ زہیر نے اپنے ایک شعر میں کہا ہے کہ —میں زندگی کی مشقتوں سے اُکتا چکا ہوں، اور جو شخص اسی سال تک زندہ رہے گا، تیرے باپ کی قسم، وہ زندگی سے اکتا جائے گا:
سئمتُ تکالیف الحیاۃ ومن یعش ثمانین حولاً لاأبا لکََ یسأم
میری عمر اب اسّی سال سے زیادہ ہوچکی ہے۔اپنے تجربے کی روشنی میں میں کہہ سکتا ہوں کہ لمبی عمر بلاشبہہ جسمانی اعتبار سے ایک بوجھ بن جاتی ہے۔ لیکن ذہنی اعتبار سے وہ کوئی بوجھ نہیں بلکہ وہ ایک نعمت ہوتی ہے۔ کیوں کہ زیادہ عمر کا مطلب ہے—زیادہ علم، زیادہ تجربہ، زیادہ معرفت اور زیادہ بصیرت۔ یہ چیز جو لمبی عمر میں ملتی ہے وہ کسی کو کم عمری میں حاصل نہیں ہوتی۔آدمی اگر اس حقیقت کو سمجھے اور اپنے علم اور بصیرت کو مثبت طور پر استعمال کرے تو وہ نہ اُکتائے گا اور نہ مایوس ہوگا، بلکہ وہ نیے حوصلے کے ساتھ ازسرِ نو زندگی کا سفر شروع کردے گا۔
حقیقت یہ ہے کہ جس آدمی کے اندر دو صفتیں ہوں۔ ایک، امکاناتِ فطرت کا شعور اور دوسرے، انسان کے ساتھ گہری خیر خواہی۔ جس آدمی کے اندر یہ دو چیزیں ہوں وہ برعکس طورپر یہ سوچے گا کہ آج دنیا کو دینے کے لیے میرے پاس ہمیشہ سے زیادہ ہے۔ مجھے یہ کرنا چاہیے کہ میں اِس سرمایے کو تمام انسانوں کی امانت سمجھوں اور اس کو دوسروں تک پہنچانے میںاپنی بقیہ زندگی وقف کردوں۔زیادہ عمر ایک نعمت ہے، اپنے لیے بھی اور دوسروں کے لیے بھی ۔
اِس دنیا کا قانون یہ ہے کہ یہاں ہر ناموافق میں ایک موافق پہلو چھپا ہوا ہے۔ بڑھاپا اگر چہ انسان کے لیے بظاہر ایک غیر مطلوب چیز ہے۔ لیکن اس کے اندر ایک اعلیٰ درجے کی مطلوب چیز چھپی ہوئی ہے۔
واپس اوپر جائیں

دانش مند باپ

مختار الحسن رفیقی (پیدائش ۱۹۷۲) ایک ہونہار نوجوان ہیں۔ ان کی تعلیم جامعہ دار السلام عمر آباد میں ہوئی۔ ان کے والد مولانا محمدرفیق قاسمی ۱۹۹۸ میں دہلی سے کویت جارہے تھے۔ اس وقت انھوں نے اپنا بایوڈاٹا ان کو دیااور کہا کہ آپ کویت جارہے ہیں، وہاں کوشش کیجئے کہ مجھے کوئی جاب مل جائے۔ یہ بظاہر بیٹے اور باپ کا معاملہ تھا۔ باپ ہمیشہ بیٹے کے لیے نرم دل ہوتا ہے۔ لیکن یہاں بالکل برعکس واقعہ ہوا۔ باپ نے بیٹے کے بایو ڈاٹا کو اس کے سامنے ہی پھاڑ کر پھینک دیا اور کہا کہ میں اس کو نہیں لے جاسکتا۔ آپ اپنے اندر ایسی صلاحیت پیداکریں جس سے لوگ آپ کو بذات خود مدعو کریں۔
مختار الحسن رفیقی صاحب کو فطری طورپر اس واقعہ پر بہت غصہ آیا۔ وہ یہ سمجھے کہ میرے باپ کو مجھ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ ان کو میرے مستقبل کی کوئی فکر نہیں ہے۔ لیکن یہ واقعہ دراصل ایک دانشمند باپ کا واقعہ تھا۔ چنانچہ اس کے بعد یہ ہوا کہ مختار الحسن صاحب ہمیشہ سے زیادہ متحرک ہوگئے۔ان کی صلاحیتیں اس جھٹکے کے بعد جاگ اٹھیں۔ انھوں نے بزنس کے میدان میں کام شروع کردیا۔ اب وہ خدا کے فضل سے ممبئی میں ایک کمپنی میں مینیجر ہیں اور ایک کامیاب زندگی گزار رہے ہیں۔
عام طور پر باپ کا ذہن یہ ہوتا ہے کہ وہ اپنے بیٹے کے لیے ساری سہولتیں فراہم کرے۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ اِس دنیا میں نہ دینا بھی دینے کی ایک صورت ہے۔ جو باپ اپنے بیٹے کو کچھ نہ دے وہ اس کو زیادہ بڑی چیز دے دیتا ہے، اور وہ ہے خود کچھ کرنے کا جذبہ۔
اِس دنیا میں سب سے بڑی چیز یہ ہے کہ آدمی کے اندر عمل کا جذبہ جاگ اٹھے۔ اس کو کام کرنے کی دُھن لگ جائے۔ اس کے دماغ میں یہ بات بیٹھ جائے کہ میں اپنے ہی کیے کا نتیجہ پاؤں گا۔ کسی اور سے مجھے کچھ ملنے والا نہیں۔ ایسا آدمی ایک بے پناہ آدمی بن جاتا ہے۔ اس کی سوئی ہوئی صلاحیتیں جاگ اٹھتی ہیں۔ یہاں تک کہ پہلے کا زیرو آج کا ہیرو بن جاتا ہے۔
واپس اوپر جائیں

دعوت کی تاریخ

پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی اصل حیثیت یہ تھی کہ آپ حق کے داعی تھے۔ آپ کے بعد امتِ مسلمہ کی اصل ذمے داری بھی یہی ہے کہ وہ تمام قوموں تک اُس سچائی کو پہنچائے جو پیغمبر کے ذریعے اس کو ملی ہے۔ لیکن دعوت کا یہ کام اسلام کی تاریخ میں اپنے مطلوبہ انداز میں زیادہ نہ ہوسکا۔ دعوت کے اعتبار سے اسلام کی تاریخ کے تین دور ہیں:
۱۔ ایکٹیو دعوہ(active dawah)
۲۔ پَیسیو دعوہ(passive dawah)
۳۔ اینٹی دعوہ (anti dawah)
رسول اور اصحاب رسول کا زمانہ ایکٹیو دعوہ کا زمانہ تھا۔ اس زمانے میں براہِ راست طورپر دعوت الی اللہ کا کام کیاگیا۔ کسی بھی سیاسی یا غیر سیاسی آمیزش کے بغیر دعوت کا کام اس کی بے آمیز صورت میں انجام دیا گیا۔ یہ دعوت کے اعتبار سے اسلام کی تاریخ میں معیاری دور تھا۔
خلافتِ راشدہ کے بعد وہ دور آیا جب کہ دعوت کا براہِ راست کام تقریباً ختم ہوگیا۔ لیکن دعوت کاکام بالواسطہ انداز میں اب بھی پوری طرح جاری رہا۔ اب قرآن محفوظ ہوچکا تھا۔ حدیث مدوّن ہوگئی تھی۔ ایک مسلم سماج بڑے پیمانے پر بن گیا تھا۔ مسلم ادارے منظم کیے جاچکے تھے۔ عبادات کا نظام قائم ہوگیا تھا۔ اِس قسم کی چیزوں کے نتیجے میں یہ ہوا کہ دعوت کا کام خود اپنے زور پر برابر جاری رہا۔ اِس بعد کے زمانے میں اگر چہ مسلمان عملاً براہِ راست انداز میں دعوت کی مہم نہیں چلارہے تھے ، لیکن قائم شدہ ماحول کی بنا پر بالواسطہ انداز میں اسلام کا تعارف جاری تھا، اور اس کے نتیجے میں لوگ برابر اسلام میں داخل ہورہے تھے۔ اسی کو ہم نے پیسیو دعوہ کہا ہے۔ یہ کام مسلسل طورپر اٹھارہویں صدی عیسوی تک جاری رہا۔ اس کے بعد نو آبادیاتی نظام کے ظہور کی بنا پر اس کے اوپر روک لگ گئی۔
نوآبادیاتی نظام آٹھارہویں صدی میں مسلم دنیا میں داخل ہوا، اب مسلمانوں کے اندر غیر مسلموں کے خلاف منفی ذہن پیدا ہوگیا۔انھوں نے غیر مسلموں کے خلاف جگہ جگہ مسلّح جنگ چھیڑ دی۔ پورے مسلم سماج میں غیر مسلموں کے خلاف نفرت کا ماحول پیداہوگیا۔ یہ نفرت یا جنگ مدعوکے خلاف تھی۔ چنانچہ اس نے مسلمانوں کی طرف سے دعوت کے عمل کا خاتمہ کردیا۔ مدعو قوموں کے لیے مسلمانوں کے دل میں نُصح اور خیر خواہی کا جذبہ باقی نہیں رہا، وہ ان کو دشمن کی نظر سے دیکھنے لگے۔ ایسی حالت میں فطری طورپر دعوت کا کام جاری نہیں رہ سکا۔
رسول اور اصحاب رسول کے بعد مسلمان تقریباً ایک ہزار سال تک آپس میں لڑتے رہے۔ اِس لمبی مدت کا کوئی بھی لمحہ ایسا نہیں ہے جب کہ مسلمان مختلف گروہوں میں بٹ کر آپس میں لڑائی نہ کررہے ہوں۔ یہ آپس کی لڑائی بلا شبہہ غلط تھی، لیکن وہ پیسیو دعوہ کے عمل کے جاری رہنے میں کوئی رکاوٹ نہ بن سکی۔
اینٹی دعوہ کا دَور جو اٹھارہویں صدی میں شروع ہوا، وہ دعوت کے لیے قاتل کی حیثیت رکھتا تھا۔ باہمی لڑائیوں میں مسلمان قتل ہوتے تھے، لیکن مدعو کے خلاف لڑائی میں دعوت کا قتلِ عام ہونے لگا۔ اِس عمل کے نتیجے میں فطری طورپر دعوت کے عمل کو سخت نقصان پہنچا۔ یہی تیسرا دور ہے جس کو ہم نے اوپر کی تقسیم میں اینٹی دعوہ کا نام دیا ہے۔
مسلمان جب تک آپس میں لڑرہے تھے وہ خدا کی نظر میں صرف گنہ گار کی حیثیت رکھتے تھے۔ لیکن جب انھوں نے مدعو قوموں سے لڑنا شروع کیا تو وہ خدا کے غضب کا نشانہ بن گیے۔ قرآن اور حدیث کے مطابق، وہ لعنت کے مستحق قرا ر پائے۔
یہ تیسرا دَور بے حد خطرناک دور ہے۔ یہی وہ دَور ہے جب کہ خدا نے مسلمانوں کو ان کے دشمنوں کے حوالے کردیا۔ وہ ذلّت اور تباہی کے مستحق قرار پائے۔ دو سو سال سے بھی زیادہ مدّت سے مسلمانوں پر یہی دور گزر رہا ہے۔ عزت اور سرفرازی ان سے چھین لی گئی ہے۔ خدا نے انھیں ان کے دشمنوں کے حوالے کر دیا ہے۔ یہ صورتِ حال صرف اُس وقت ختم ہوگی جب کہ مسلمان اپنی مجرمانہ روش کی بھیانک غلطی کا اعتراف کریں، وہ مدعو کے خلاف اپنی نفرت اور اپنے تشدد کو یک طرفہ طورپر ختم کردیں۔
واپس اوپر جائیں

سی پی ایس انٹرنیشنل

سَروے بتاتا ہے کہ موجودہ زمانے میں تمام عورت اور مرد آئی ڈنٹٹی کرائسس کا کیس بنے ہوئے ہیں۔ اِس دنیا میں پیدا ہونے والے ہر چھوٹے اور بڑے انسان کا یہ حال ہوا ہے کہ وہ اپنی زندگی کو ایک کامیڈی کے روپ میں دیکھنا چاہتا تھا مگر موت نے بتایا کہ ہر ایک کے لیے صرف ٹریجڈی کا انجام مقدر تھا، ہر آدمی غیر حاصل شُدہ تمنّاؤں(unfulfilled desires) کا کیس بن کر رہ گیا۔ یہ بلا شبہہ انسانی تاریخ کا سب سے زیادہ دردناک سوال ہے جس کا جواب شعوری یا غیر شعوری طورپر تمام عورت اور مرد تلاش کررہے ہیں، اِس میں کسی کا کوئی استثناء نہیں۔تجربہ بتاتا ہے کہ ہر عورت اور مرد شعوری یا غیر شعوری طورپر کچھ سوالات سے دوچار رہتے ہیں—میں کون ہوں۔ میری پیدائش کا مقصد کیا ہے۔ یہ دنیا کس منصوبے کے تحت بنائی گئی ہے۔ موت کے بعدکیا ہونے والا ہے۔ اس دنیا کے بارے میں خدا کا کریشن پلان کیا ہے۔ یہ سوالات آئڈیالوجی آف لائف سے تعلق رکھتے ہیں۔ سی پی ایس انٹرنیشنل کا مقصد انھیں سوالات کا جواب فراہم کرنا ہے۔
سی پی ایس انٹرنیشنل (Centre for Peace and Spirituality)گویا ایک اسٹڈی فورم ہے۔ سی پی ایس، لٹریچر، میڈیا، آڈیو اور ویڈویو کیسٹ اور ویب سائٹ کے ذریعے یہ کوشش کررہا ہے کہ وہ پُرامن انداز میں سچائی کا پیغام لوگوں تک پہنچائے۔ سی پی ایس انٹرنیشنل گویا عالمی ڈائلاگ کا ایک اسٹیج ہے۔ وہ اِس لیے قائم کیا گیا ہے کہ لوگ اعلیٰ فکری سطح پر زندگی اور کائنات کے بارے میں ڈسکشن کریں اور اِس معاملے میں وہ کسی حتمی نتیجے تک پہنچنے کی کوشش کریں۔ سی پی ایس انٹرنیشنل ایک خالص دعوتی تحریک ہے۔ سی پی ایس انٹرنیشنل کا تعلق، سیاست سے نہ براہِ راست طورپر ہے اور نہ بالواسطہ طورپر۔
اصل یہ ہے کہ موجودہ زمانے میں سیاست ایک ثانوی چیز بن کر رہ گئی ہے۔ اب سیاست کا تعلق صرف ایڈمنسٹریشن سے ہے۔ زندگی کے دوسرے تمام شعبے سیاست کے دائرۂ عمل سے باہر ہوچکے ہیں، جب کہ قدیم زمانے میں ایسا نہ تھا۔
زندگی میں دو اہم شعبے ہیں۔ ایک ہے انتظامِ ملکی، اور دوسرا ہے انسان سازی۔ قدیم زرعی دَورمیں یہ دونوں شعبے ایک دوسرے سے ملے ہوئے تھے۔ موجودہ صنعتی اور سائنسی دَور میں یہ دونوں شعبے عملاً ایک دوسرے سے الگ ہوچکے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اب حکومت کو انتظامیہ (administration) کہاجاتا ہے۔ اب اگر کسی کو حکومتی عہدہ مطلوب ہو تو اس کو سیاست میں جانا چاہیے۔ لیکن جو لوگ انسانی ترقی سے دلچسپی رکھتے ہوں اُن کے لیے صحیح اور مفید طریقہ یہی ہے کہ وہ اقتدار سے باہر غیر سیاسی شعبوں کو اپنی جدوجہد کا نشانہ بنائیں۔
سی پی ایس انٹرنیشنل انسانی ترقی سے دل چسپی رکھتا ہے۔ اِس لیے ا س نے صرف غیر سیاسی شعبے کو اپنا میدان کار بنایا ہے۔ مثلاً ایجوکیشن، فارمل اور انفارمل دونوں، اسپریچول ڈیولپ مینٹ، تعمیر شعور، امن کا فروغ، پرنٹ میڈیا اور الکٹرانک میڈیا، ویب سائٹ، میٹنگ اور ڈائلاگ، فکری رہنمائی اور ذہنی انقلاب ، وغیرہ۔ یہی سی پی ایس کا اساسی مقصد ہے۔ ہمارا اصل کام فکری انقلاب لانا ہے۔ عملی انقلاب اِسی فکری انقلاب کا نتیجہ ہے۔ فکری انقلاب کے بغیر عملی نتائج پانا کسی بھی حال میں ممکن نہیں۔
سی پی ایس انٹرنیشنل امن اور روحانیت کے ربّانی اصولوں پر قائم کیاگیا ہے۔ سی پی ایس کا پیغام یہ ہے کہ آؤ ہم امن اور روحانیت کے اصولوں میں اپنی مطلوب آئڈیالوجی آف لائف کو تلاش کریں۔ سی پی ایس کو یقین ہے کہ انسان، امن اور روحانیت کے ربّانی اصولوں میں اپنے اُن سوالات کا جواب پاسکتا ہے جن کا جواب پانے کے لیے وہ لمبی مدت سے ناکام طورپر سرگرداں ہے، اور پھر زیادہ بہتر بنیادوں پر وہ اپنی زندگی کی تعمیر و تشکیل کرسکتا ہے۔
امن کے متعلق عام طورپر یہ سمجھا جاتا ہے وہ عدم جنگ (absence of war) کا نام ہے۔ مگر یہ امن کی ایک ناقص تعبیر ہے۔ صحیح یہ ہے کہ امن ایک مکمل کلچر کا نام ہے۔ امن ایک اصول حیات ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ عدم ٹکراؤ کی پالیسی اختیار کرتے ہوئے زندگی کی تعمیر وتشکیل کی جائے۔ میدانِ جنگ کے محدود دائرے سے باہر کی پوری زندگی امن کے دائرے میں داخل ہے۔
روحانیت کو عام طور پر ایک پُر اسرار ڈسپلن سمجھا جاتا ہے۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ روحانیت اِس سے زیادہ وسیع ہے۔ روحانیت در اصل، ربّانیت (divine cultrue) کانام ہے۔ روحانیت کا تعلق پوری انسانی زندگی سے ہے۔ روحانیت، دوسرے لفظوں میں، خدا رُخی زندگی(God-oriented life) کانام ہے۔ روحانیت یہ ہے کہ آدمی اعلیٰ شعوری سطح پر سچائی کی معرفت حاصل کرے۔ فکری عمل کے ذریعے وہ اپنے اندر ربّانی شخصیت پیدا کرے۔ وہ سچائی کو ابدی حقیقت کی صورت میں دریافت کرے۔ وہ محدود مادّی دنیا سے اوپر اٹھ کر سچائی کو اس کی آفاقی صورت میں پالے۔ وہ زندگی کی معنویت کو دریافت کرکے پوری طرح ایک بامقصد انسان بن جائے۔
سی پی ایس انٹر نیشنل اپنے فکر کے اعتبار سے ایک آفاقی تحریک ہے اور اپنے مزاج کے اعتبار سے وہ انسان فرینڈلی مزاج رکھتی ہے۔ سی پی ایس کا مقصد یہ ہے کہ انسان اپنے محدود دائرے سے اٹھ کر کائناتی کلچر کا حصہ بن جائے۔ وہ امن اور روحانیت اور حقیقت شناسی کی لامحدود دنیا میں جینے لگے۔
واپس اوپر جائیں