Pages

Saturday, 30 December 2017

Al Risala | January 2017 (الرسالہ،جنوری)


پیغمبرانہ حکمت

Prophetic Wisdom
قرآن میں پانچ مقامات پر آیا ہے کہ پیغمبر کا کام لوگوں کو حکمت کی تعلیم دینا ہے۔ حکمت کے لیے انگریزی زبان میں وزڈم (wisdom)کا لفظ استعمال ہوتا ہے۔ ڈکشنری میں تلاش کیا جائے کہ وزڈم متعین طور پر کیا ہےتو ڈکشنری میں اس کی کوئی واضح تعریف (definition) نہیں ملے گی۔ مثلا ڈکشنری یہ بتائے گی کہ وزڈم کامطلب ہے اچھا فیصلہ لینے کی صلاحیت :
The quality of having good judgement
مگر خودکسی آدمی کے اندر اچھا فیصلہ لینے کی یہ صلاحیت کیسے پیدا ہوتی ہے۔ اس کا کوئی واضح جواب ڈکشنری میں نہیں ملتا۔ یہاں تک کہ بعض اسکالر نے یہ کہہ دیا کہ وزڈم ان صلاحیتوں میں سے ایک ہے جن کی علمی تعریف کرنا مشکل ہے:
Wisdom is one of those qualities difficult to define (www.psychologytoday.com/basics/wisdom)
حکمت اگرچہ پیغمبر اسلام کی صفت ہے، لیکن راقم الحروف نے حدیث میں حکمت کی قولی تعریف تلاش کی تو مجھے کامیابی نہیں ملی۔ پھر میں نے ایک اور طریقہ اختیارکیا۔میں نے سوچا کہ جب پیغمبر اسلام ایک با حکمت انسان تھے تو ان کے عمل (practice) میں ضرور اس کی مثال ملے گی۔ یہ طریقہ کامیاب رہا۔ مجھے پیغمبر کے عملی اسوہ (نمونہ) سےمتعین طور پر یہ دریافت ہوئی کہ وزڈم کی علمی تعریف کیا ہے۔ میری دریافت کے مطابق وہ علمی تعریف یہ ہے — وزڈم اِس صلاحیت کا نام ہے کہ آدمی غیر متعلق پہلووں کو الگ کرکے متعلق پہلو کو دریافت کرسکے:
Wisdom is the ability to discover the relevant by sorting out the irrelevant.
پیغمبر اسلام کی زندگی اس اعتبار سے وزڈم کا کامل نمونہ ہے۔ آپ نے اپنی 23سالہ پیغمبرانہ حیات میں اسی وزڈم کو استعمال کیا، اور یہی وزڈم آپ کی اعلیٰ کامیابی کا خاص سبب تھا۔
پیغمبر اسلام پیغمبرِ فضلیت نہ تھے، بلکہ پیغمبرِ وزڈم تھے۔ پیغمبرِ فضیلت دوسروں کے لیے قابل تقلید نہیںہوتا، لیکن پیغمبرِ وزڈم ہونے کی وجہ سے ایسا ہوا کہ آپ کا نمونہ ہر انسان کے لیے قابل فخر بننے کے بجائےقابل تقلید بن گیا۔
مستقبل پر نظر
پیغمبر اسلام پر پہلی وحی 610 عیسوی میں آئی ہے۔ اس وقت آپ مکہ سے 2 میل کے فاصلے پر تنہاغار حراء میں تھے۔ اس وقت اللہ کی طرف سے فرشتہ جبریل آپ کے پاس آیا۔ فرشتہ نے پیغمبر اسلام سے کہا : اقرأ (اے محمد پڑھو)، آپ نے اس کے جواب میں کہا:ما أنا بقارئ (میں پڑھنا نہیں جانتا)،اس کے بعد جبریل نے آپ کو پکڑا ، اورزور سے اپنے سینے سے لگایا۔ جبریل نے دوبارہ پڑھنے کے لیے کہا ، پیغمبر اسلام نے دوبارہ وہی جواب دیا۔ یہ عمل تین بار ہوا۔اس کے بعدجبریل نے آپ کو سورہ علق کی ابتدائی پانچ آیتیں پڑھائیں، اور آپ نے جبریل کے بولےہوئے کلام کو دہرایا۔ (صحیح البخاری، حدیث نمبر 3)
اس واقعہ پر غور کرنے سے معلوم ہوتا ہےکہ نبوت کے اس پہلے تجربے میں آپ کو ایک عظیم سبق دیا گیا۔ وہ یہ کہ اپنے سفر میں حال کو نہ دیکھو، بلکہ مستقبل کو دیکھو، اپنے بالفعل (actual) کو نہ دیکھوبلکہ اپنے بالقوۃ (potential) کو دیکھو،زندگی میں یہ نہ دیکھو کہ کیا ہے بلکہ یہ دیکھو کہ کیا ہوسکتا ہے، زندگی میں کبھی یہ نہ سمجھو کہ فل اسٹاپ(۔) آگیا بلکہ ہمیشہ یہ یقین رکھو کہ زندگی میں کبھی کاما(،) ختم نہیں ہوگا، زندگی میں کبھی مایوس نہ ہو بلکہ ہمیشہ اپنے آپ کو پر امید بنائے رہو— پیغمبر اسلا م کی زندگی کا گہرائی کے ساتھ مطالعہ کیا جائے تو اقرأ کا یہ پہلا تجربہ آپ کی پوری زندگی میں کار فرما دکھائی دے گا۔
ہر مذہب کا احترام
پیغمبر اسلام جب چالیس سال کے ہوئے تو آپ پر پہلی وحی اتری۔ یہ تجربہ آپ کے لیے نہایت شدید تھا۔ اس سلسلے میں جو واقعات روایت کی کتابوں میں آئے ہیں، ان میں سے ایک یہ ہے کہ خدیجہ نے آپ سے کہا کہ چلیے میں آپ کو ورقہ بن نوفل کے پاس لے چلتی ہوں۔ دیکھیے وہ کیا کہتے ہیں۔ ورقہ بن نوفل مکہ کے باشندے تھے۔ ان کی عمر نوےسال ہوچکی تھی۔ وہ مکہ کے ان لوگوں میں سے تھے، جن کو حنفاء کہا جاتاتھا۔ انھوںنے عبرانی زبان سیکھی تھی، اور تورات و انجیل کا مطالعہ کیا تھا۔ چناں چہ وہ نصرانی ہوگئے تھے۔ ورقہ نے جب آپ کی بات سنی تو انھوں نے کہا:یہی وہ ناموس ہے، جو اللہ تعالیٰ نے موسیٰ پر نازل کیا تھا، کاش میں نوجوان ہوتا، کاش میں اس وقت تک زندہ رہتا، جب تمہاری قوم تمہیں نکال دے گی، تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا ! کیا وہ مجھے نکال دیں گے ؟ ورقہ نے جواب دیا، ہاں ! جو چیز تم لے کر آئے ہو، اس طرح کی چیز جو بھی لے کر آیا اس سے دشمنی کی گئی، اگر میں تیرا زمانہ پاؤں تو میں تیری پوری مدد کروں گا (صحیح البخاری، حدیث نمبر 3)۔
اس واقعے سے اندازہ ہوتا ہے کہ پیغمبر اسلام کے لائے ہوئے دین میں مذہبی منافرت (religious hatred) کے لیے کوئی جگہ نہیں تھی۔ آپ کے لایا ہوا دین ہر مذہب کے لوگوں کے لیے یکساں خیر خواہی پر مبنی تھا۔ مزید یہ کہ یہ واقعہ صرف اخلاقی واقعہ نہیں، وہ اعلیٰ درجے کی دانش مندی ہے۔ اس واقعہ سے معلوم ہوتاہے کہ پیغمبر اسلام کے مشن میں میوچول لرننگ (mutual learning)کی بہت زیادہ اہمیت ہے۔ اس ملاقات سے آپ کی پریشانی ختم ہوگئی، ورقہ بن نوفل کی باتوں سے آپ کو اپنے مشن کے بارے میں ایک نیا یقین حاصل ہوا۔ بعض سیرت نگاروں کے نزدیک ورقہ بن نوفل پہلے شخص تھے، جو آپ کے اوپر ایمان لے آئے۔
توحید کا مشن، بتوں سے اعراض
پیغمبر اسلام کا مشن توحید کا مشن تھا۔ اس معاملے میں مقدس کعبہ کی تطہیر اپنے آپ شامل تھی، جس کی عمارت میں اس زمانہ کے مشرک لوگوں نے تقریبا 360بت رکھ دیے تھے۔ مگر یہ بے حد اہم بات ہے کہ پیغمبر اسلام نے جب قدیم مکہ میں اپنے مشن کا آغاز کیا تو آپ نے کعبہ میں بتوں کی موجودگی کو مکمل طور پر نظر انداز کرتے ہوئے اپنا مشن چلایا۔
آپ نے یہ پالیسی اختیار کی کہ بتوں کی وجہ سے کعبہ کے پاس جو زائرین (visitors) جمع ہوتے تھے، ان کو بطور آڈینس (audience) استعمال کریں۔ چناں چہ آپ نے یہی کیا کہ روزانہ آپ کعبہ کے مقام کو جاتے ، اور وہاں بتوں کے مسئلے سے اعراض کرتے ہوئےموجود حاضرین کو پرامن طور پر توحید کا پیغام سناتے، جو کہ روزانہ سارے عرب سے وہاں اپنے بتوں کی زیارت کے لیےآیا کرتے تھے۔ یہی طریقہ آپ کا مکہ کے قیام کے آخر زمانے تک جاری رہا۔
پیغمبر اسلام کا یہ عمل اس بات کا ایک نمونہ ہے کہ آپ نے اس معاملے میں وزڈم کے مذکورہ اصول کو استعمال کیا۔ آپ کا مشن دعوت کا مشن تھا۔ اس لحاظ سےکعبہ میں بتوں کی موجودگی عملی اعتبار سے ایک غیر متعلق ایشو تھا، اس کے مقابلے میں قبائل کے زائرین کا اجتماع ایک متعلق پہلو کی حیثیت رکھتا تھا۔ چناں چہ آپ نے غیر متعلق پہلو کو وقتی طور پر نظر انداز کرتے ہوئے اس کے متعلق پہلو کو پرامن طور پر استعمال کیا۔
اگلی نسل تک سے امید رکھنا
پیغمبر اسلام کی ایک گفتگو اپنی اہلیہ عائشہ کے ساتھ ان الفاظ میں آئی ہے: حضرت عائشہ سے روایت ہے،انہوں نے پیغمبر اسلام سے کہا کہ کیا یوم احد سے بھی سخت دن آپ پر آیا ہے، آپ نے کہا کہ میں نے تمہاری قوم کی جو جو تکلیفیں اٹھائی ہیں وہ اٹھائی ہیں، اور سب سے زیادہ تکلیف جو میں نے اٹھائی وہ عقبہ کے دن (طائف کے سفر میں)تھی جب میں نے اپنے آپ کو ابن عبد یا لیل بن عبدکلال کے سامنے پیش کیا تو اس نے میرے ساتھ وہ نہیں کیا جو میں نے چاہا، میں رنجیدہ ہو کر سیدھا چلا، ابھی میں ہوش میں نہ آیا تھا کہ قرن الثعالب میں پہنچ کر میں نے اپنا سر اٹھایا تو بادل کے ایک ٹکڑے کو اپنے اوپر سایہ فگن پایا، میں نے دیکھا کہ اس میں جبریل تھے ،انہوں نے مجھے آواز دی اور کہا کہ اللہ تعالیٰ نے آپ سے آپ کی قوم کی گفتگو اور ان کا جواب سن لیا ہے، اب پہاڑوں کے فرشتہ کو آپ کے پاس بھیجا ہے تاکہ آپ ایسے منکروں کے بارے میں جو چاہیں حکم دیں۔ پھر مجھے پہاڑوں کے فرشتہ نے آواز دی اور سلام کیا پھر کہا کہ اے محمد ، یہ سب کچھ آپ کی مرضی ہے، اگر آپ چاہیں تو میں اخشبین نامی دو پہاڑوں کو ان منکروں پر لا کر رکھ دوں تو پیغمبر اسلام نے فرمایا (نہیں) بلکہ مجھے امید ہے کہ اللہ تعالیٰ ان منکروں کی نسل سے ایسے لوگ پیدا کرے گا جو صرف اسی کی عبادت کریں گے اور اس کے ساتھ بالکل شرک نہ کریں گے۔ (صحیح البخاری، حدیث نمبر3231)
اس کا مطلب یہ تھا کہ پیغمبر اسلام کا مشن انسان کی خیرخواہی کا مشن تھا۔ انسان کے ساتھ آپ کی خیرخواہی اتنی زیادہ بڑھی ہوئی تھی کہ اگر پہلی نسل آپ کے پیغام کو نہ سنے تو آپ اس کے لیے تیار تھے کہ ان کی اگلی نسلیں ان سے مختلف ثابت ہوں گی، اور آپ کے پیغام کو قبول کریں گی، اور آپ کے مشن میں آپ کی ساتھی بن جائیں گی۔
حالات سے اوپر اٹھ کر سوچنا
مکی دور میں پیغمبر اسلام کے ساتھ وہی سلوک کیا جاتا تھا، جو سلوک دوسرے پیغمبروں کے ساتھ کیا گیا، یعنی استہزا (الحجر 11:)۔ مگر پیغمبر اسلام کا طریقہ یہ تھا کہ وہ ہمیشہ منفی واقعات کا جواب مثبت انداز میں دیتے تھے۔ اس سلسلے میں ایک روایت حدیث کی کتابوں میں اس طرح آئی ہے، پیغمبر اسلام نے کہا :ألا تعجبون کیف یصرف اللہ عنی شتم قریش ولعنہم، یشتمون مذمما، ویلعنون مذمما وأنا محمد(صحیح البخاری، حدیث نمبر 3533)۔ یعنی کیا تم کو یہ بات عجیب نہیں معلوم ہوتی کہ اللہ مجھ سے قریش کے سب وشتم اور لعنت کو کس طرح دور کررہا ہے ۔ مجھے وہ مذمم کہہ کر شتم کرتے ہیں، مذمم کہہ کر وہ مجھ پر لعنت بھیجتے ہیں۔ حالانکہ میں تو محمد ہوں۔
اس کا مطلب یہ ہے کہ قریش کے لوگ اپنی بڑھی ہوئی مخالفت کی بنا پر اس کو پسند نہیں کرتے کہ وہ میرا اصل نام بولیں ، اور میرے خلاف جو کہنا چاہتے ہیں، وہ میرانام لے کرکہیں۔ انھوں نے مخالفت کے جوش میں بطور خود میرا نام محمدکے بجائے مذمم رکھ دیا، اور وہ مذمم کا نام بول کر میرا سب و شتم کرتے ہیں۔ یعنی وہ سب و شتم تو کرتے ہیں، لیکن جس شخص کی وہ سب و شتم کرتے ہیں، اس کا نام انھوں نے بطور خود مذمم رکھ دیا ہے۔ اس طرح ان کے اپنے کہنے کے مطابق ان کی بات کسی ایسے شخص پر پڑتی ہے جس کا نام مذمم ہو، وہ شخص جس کا نام محمد ہے اس پر ان کی بات پڑتی ہی نہیں۔
یہ اعلیٰ سوچ کی ایک انوکھی مثال ہے۔ پیغمبر اسلام چوں کہ مکمل طور پر مثبت سوچ پر قائم تھے۔ اس لیے انھوں نے ایک لطیف اسلوب میں قریش کے سب و شتم کو بے حقیقت کردیا۔ انھوں نے کہا کہ جب وہ میرا اصل نام لے کر مجھے کچھ نہیں کہتے تو وہ خود ہی اپنے سب و شتم کو کسی اور کے اوپر ڈال رہےہیں۔ یعنی کسی مفروضہ مذمم پر، نہ کہ اس شخص پر جس کا نام اس کے ماں باپ نے محمد رکھا ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ اسوۂ محمدی میں سب و شتم پر مشتعل ہونا نہیں ہے، اور نہ شاتم کو قتل کرنے کی کوشش کرنا ہے۔ بلکہ اس سے لطیف پیرائے میں اعراض کرنا ہے۔ یہ بلند اخلاقی کا معاملہ ہے، نہ کہ قانونی سزا کا معاملہ۔
مشن کی نئی پلاننگ
پیغمبر اسلام نے اپنا مشن قدیم مکہ میں شروع کیا۔ اس وقت قدیم مکہ شرک کا مرکز بنا ہوا تھا۔ اس لیے وہاں آپ کی شدید مخالفت ہوئی۔ یہاں تک کہ انھوں نے آپ کو الٹی میٹم دے دیا کہ آپ مکہ کو چھوڑ دیں، ورنہ ہم آپ کو قتل کردیں گے۔ ان حالات میں آپ نے مکہ کو چھوڑدیا، اور خاموشی کے ساتھ مدینہ آکر وہاں رہائش اختیارکرلی۔ ہجرت سے کچھ پہلے آپ نےاپنے اصحاب سے کہا تھا: أمرت بقریة تأکل القرى، یقولون یثرب، وہی المدینة (صحیح البخاری، حدیث نمبر 1871) ۔عام رواج کے مطابق کوئی شخص آسانی سے اپنا وطن نہیں چھوڑتا، بلکہ اس فیصلہ کو بدلوانے کی ہر کوشش شروع کردیتا ہے۔ مگر پیغمبر اسلام نےقدیم مکہ کے سرداروں کے اس فیصلہ کو قبول کرلیا، اور خاموشی سے مدینہ آکر آباد ہوگئے۔
اپنےنتیجے کے اعتبار سے دیکھیے تو یہ ایک نہایت حکیمانہ عمل تھا— یعنی اگر پہلا منصوبہ ورک نہ کرے تو لو پروفائل (low profile) کا طریقہ اختیار کرتے ہوئے خاموشی کے ساتھ اپنے عمل کا دوسرا منصوبہ بنانا۔ آپ نے ایسا ہی کیا، اور آپ نے پر امن طور پر مدینہ آکر یہاں از سر نو اپنے مشن کا منصوبہ بنایا۔ آپ کا یہ طریقہ اتنا کامیاب ہوا کہ صرف دس سال کے اندر پہلے مکہ اور پھر سارا عرب آپ کے دائرے میں آگیا۔
ایسے حالات میں عام طور پر لوگ جوابی ذہن کے تحت سوچتے ہیں، اور ٹکراؤ کا طریقہ اختیار کرتے ہیں۔ لیکن پیغمبر اسلام نے ٹکراؤ کے بجائے ری پلاننگ کا طریقہ اختیار کیا، اور تجربہ بتاتا ہے کہ آپ کا منصوبہ مکمل طور پر کامیاب رہا۔
ہر حال میں مثبت طرز فکر
پیغمبر اسلام نے قدیم مکہ میں اپنا مشن 610 عیسوی میں شروع کیا۔ اس وقت مکہ میں قبائلی کلچر (tribal culture) شدت کے ساتھ موجود تھا۔ وہاں کے لوگوں نے آپ کے ساتھ ہر قسم کا برا سلوک کیا۔ یہاں تک کہ تیرہ سال بعد آپ نے مجبور ہوکر اپنے وطن کو چھوڑ دیا، اور مکہ سے تقریبا 500 کلومیٹر کے فاصلے پر موجود مدینہ میں اپنے ساتھیوں کے ساتھ مقیم ہوگئے۔
یہ شدید ترین معنوں میں جلاوطنی کا کیس تھا۔ عام رواج یہ ہے کہ ایسے لوگ اپنے نئے وطن میں جاکر صرف ایک کام کرتے ہیں، اور وہ اپنے سابق ہم وطنوں کی برائیاں بیان کرنا۔ لیکن پیغمبر اسلام نے اس سے الگ ایک انتہائی طور پر مختلف طریقہ اختیار کیا۔ وہ یہ کہ آپ مدینہ جاکر اس طرح رہنے لگے، جیسے کہ مکہ میں آپ کے ساتھ کچھ بھی نہ ہوا ہو۔
سیرت ابن ہشام میں ہجرت کے بعد کےواقعات کا ذکر ہے۔اس کے تحت پیغمبر اسلام کے پہلے خطبہ کا ذکر ہے۔ اس باب کا پہلا پیراگراف ان الفاظ میں آیا ہے :أَوَّلُ خُطْبَةٍ خَطَبَہَا رَسُولُ اللَّہ ۔ یعنی پہلا خطبہ جو آپ نے مدینہ میں دیا۔
اس خطبہ کو جو پڑھے وہ حیرت انگیز طور پر پائے گا کہ اس خطبہ میں ان لوگوں کے خلاف کوئی شکایت کی بات نہیں ہے،جنھوں نے آپ کو اپنے وطن سے نکال دیا تھا۔عام رواج یہ ہے کہ ایسے موقع پر جلاوطن افراد اپنے نئے وطنی لوگوں کو ابھارتے ہیں تاکہ وہ ان کےساتھ اپنے قدیم ہم وطنوں کے خلاف جوابی کارروائی کریں۔ مگر پیغمبر اسلام نے اس قسم کی کوئی بات اشارے کی زبان میں بھی نہیں کی۔ اس خطبہ کا خلاصہ یہ تھا: فمن استطاع أن یقی وجہہ من النار ولو بشق من تمرة فلیفعل، ومن لم یجد فبکلمة طیبة (سیرت ابن ہشام، 1/500-1) ۔
خطبہ کے مذکورہ الفاظ پر غور کیجیے۔ اس کا خلاصہ دوسرے لفظوں میں یہ ہے —— دوسرے لوگ آپ کو’’آگ‘‘ میں دھکیلنے کی کوشش کررہے ہیں، لیکن آپ کا دل ان کی ہمدردی سے بھرا ہوا ہو۔ آپ ان کو یہ پیغام دیتے ہیں کہ اپنے آپ کو اللہ کی پکڑ سے بچاؤ۔ یہ ہے پیغمبرانہ حکمت۔ اس کا خلاصہ یہ ہے کہ جو لوگ آپ کے دشمن بنیں، آپ ان کے خیر خواہ بن جائیں۔ جو لوگ آپ پر ظلم کریں، آپ اللہ سے ان کے لیے اچھے اجر کے طالب بن جائیں۔ جو لوگ آپ کو نہ دیں، آپ ان کے لیے دینے والے (giver) بن جائیں، اور ا ن کے لیے داعی بن کر ان کے ساتھ مدعو فرینڈلی روش اختیار کریں۔ پیغمبر اسلام کی یہ روش صرف ایک اخلاقی روش نہیں ہے، بلکہ وہ اعلیٰ درجے کی دانش مندی کا معاملہ ہے۔
ٹکراؤ سے کامل پرہیز
پیغمبر اسلام جب مدینہ آئے تو وہاں دوسرے قبائل کے ساتھ یہود کے قبائل بھی آباد تھے۔ اس وقت مدینہ کی آبادی میں یہود تقریباً نصف حصہ تھے۔ وہ مدینہ کی معاشیات میں غالب حیثیت رکھتے تھے۔ ایسی حالت میں یہود سے ٹکراؤ کا طریقہ آپ کے مشن کی راہ میں مستقل مسئلہ بن سکتا تھا۔
اس معاملے کے حل کے لیے آپ نے وہ اصول اختیار کیا جس کو قرآن میں تالیف قلب (التوبہ60:) کہا گیا ہے۔ یعنی یہود کے ساتھ فرینڈلی بیہیویر(friendly behaviour) کا طریقہ۔ اس مقصد کے لیے آپ آخری حد تک گئے۔ جیسا کہ معلوم ہے یہود کے لیے عباد ت کا ایک قبلہ تھا، اور وہ قبلہ بیت المقدس تھا۔ پیغمبر اسلام جب مکہ میں تھے تو آپ کا قبلہ کعبہ تھا، مگر مدینہ پہنچے تو آپ نے بیت المقدس کو اپنے اور اپنے اصحاب کی عبادت کا قبلہ بنا لیا۔ ایسا آپ نے یہود کی تالیف قلب کے لیے کیا۔ جیسا کہ قرآن کی سورہ البقرۃ کی آیت 143 کے تحت مختلف مفسرین نے لکھا ہے کہ یہ یہود کی تالیف قلب کے لیے تھا، مثلا تفسیر الرازی (4/89)، و تفسیر النسفی(1/138)، وغیرہ۔ تالیف قلب کا مطلب ہے دل کو نرم کرنا ۔ دوسرے لفظوں میں یہ کہ مدینہ کے یہود سےقریبی تعلق جوڑتے ہوئے اپنا کام کرنا۔
یہ صرف یہود کا معاملہ نہیں۔ آپ نے اپنے مشن میں کبھی ٹکراؤ کا طریقہ اختیار نہیں کیا۔ آپ نے ہمیشہ یہ کیا کہ اپنےپڑوسی سے معتدل تعلقات رکھتے ہوئے اپنے مشن کا کام کرنا۔ آپ کا یہ طریقہ صرف عرب کے مشرکین کے ساتھ نہیں تھا، بلکہ عرب کی سرحد سے باہر بھی جو لوگ آباد تھے، ان کے ساتھ بھی آپ نے یہی طریقہ اختیار کیا۔ یعنی پڑوسی قبائل اور پڑوسی ملکوں کو وفود بھیجنا۔ وفود بھیجنا، آج کل کی اصطلاح میں گڈویل مشن (goodwill mission) کی حیثیت رکھتا ہے۔
پرامن تعلقات
پیغمبر اسلام جب مکہ سے ہجرت کرکے مدینہ پہنچے ۔ اس وقت مدینہ میں اسلام کافی پھیل چکا تھا۔ اس وقت آپ اپنے رفیق ابوبکر صدیق کے ساتھ مدینہ میں داخل ہوئے تھے۔ چناں چہ مدینہ والوں نے آپ دونوں کا استقبال یہ کہہ کر کیا کہ آمنین مطاعین (مسند احمد، حدیث نمبر12234) ۔ یعنی آپ دونوں یہاں مامون ہیں، اور ہمارے سردار ہیں۔ مگر پیغمبر اسلام نے مدینہ میں اپنی حکومت نہیں قائم کی، بلکہ آپ نے ایک صحیفہ (Madinah Declaration) جاری کیا، جس میں یہ درج تھا کہ للیہود دینہم، و للمسلمین دینہم(سیرۃ ابن ہشام1/503)۔ یعنی یہود کے لیے یہود کا دین ہے، اور مسلمانوں کے لیے مسلمانوں کا دین۔ آج کل کی زبان میں اس کو پرامن بقائے باہم (peaceful co-existence) کہا جاسکتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ پیغمبر اسلام کی پالیسی ہر صورت حال میں امن پسندی کی پالیسی ہوتی تھی۔ آپ نے کبھی اس کے خلاف عمل نہیں کیا۔
تجربہ بتاتا ہے کہ پر امن بقائے باہم انسانی تعلقات میں سب سے بہتر اصول کی حیثیت رکھتا ہے۔ اس اصول کو اختیار کرنے کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ ہر فریق کو مساوی طور پر آزادی حاصل ہوجاتی ہے۔ ہر فریق کو یہ موقع ہوتا ہے کہ وہ پر امن دائرے میں اپنی زندگی کی تعمیر کرے۔ غیر ضروری ٹکراؤ سے بچتے ہوئے ہر ایک اپنا سفر حیات طے کرے۔
مخالف پہلو کو موافق پہلو بنانا
پیغمبر اسلام کی نبوت کے تیرہ سال بعد ہجرت کا واقعہ پیش آیا۔ یعنی پیغمبر اسلام نے اپنا وطن مکہ چھوڑ دیا، اور مکہ سے تقریبا 500 کلو میٹر دور مدینہ میں اپنے اصحاب کے ساتھ آکر آباد ہوگئے۔ آپ کی ہجرت مزید ٹکراؤ کے لیے نہیں تھی۔ مگر قدیم مکہ کے قریش خاموش نہیںہوئے۔ انھوں نے فیصلہ کیا کہ یک طرفہ طور پر آپ کے خلاف اقدام کرکے آپ کے مشن کا کلی طور پر خاتمہ کردیں ۔ اس مقصد کے لیے انھوں نے مکہ کے تمام قبائل کی مدد سے ایک بڑامنصوبہ بنایا، تاکہ وہ پیغمبر اسلام کے مشن کوجڑ سے ختم کرسکیں۔ پھر ایک ہزار مسلح افرادکے ساتھ مکہ سے مدینہ پر حملہ کرنے کے لیے روانہ ہوئے۔
اس کے بعدراستہ میں بدر کے مقام پر 2ہجری میں دونوں فریقین کے درمیان مڈبھیڑ ہوئی۔ اس وقت اہل ایمان کو کامیابی حاصل ہوئی، اور ان کے ہاتھ تقریباً 70 مشرکین قید ہوگئے۔ ان کی رہائی کایہ فدیہ مقرر کیا گیا کہ وہ مدینہ کے بچوں کو لکھنا سکھادیں (فداءہم أن یعلموا أولاد الأنصار الکتابة) مسند احمد، حدیث نمبر2216 ۔
بدرمیں قیدکیے ہوئے مکہ کے یہ لوگ جنگی اصطلاح میں جنگی قیدی (prisoners of war) تھے۔ اس زمانے کےعام رواج کے مطابق پیغمبر اسلام یہ کرسکتے تھے کہ ان کو قتل کروادیتے۔ لیکن آپ نے انتقام سے اوپر اٹھ کر سوچا۔ اس طرح آپ کے لیے ممکن ہوا کہ یہاں اپنے ایک مائنس (minus)کو پلس (plus)میں بدل دیں۔ جو لوگ بظاہر آپ کے دشمن تھے، ان کو اپنے معاون کے طور پر استعمال کیا۔ یعنی دشمن کو اپنے بچوں کے لیے ٹیچر کے طور پر استعمال کیا۔ آپ کی اس پالیسی کے تحت مدینہ میں پہلا اسکول قائم ہوا، جس کے ٹیچر سب کے سب آپ کے دشمن گروہ سے تعلق رکھتے تھے۔
راستہ بدلنا
اسی طرح کا ایک اور واقعہ یہ ہے کہ پیغمبر اسلام ایک مرتبہ اپنے ساتھیوں کےساتھ سفر میں تھے۔ آپ کو یہ خبر ملی کہ راستے میں دوسری طرف سے مکہ کے خالد بن الولید آپ سے مقابلہ کرنے کے ارادے سے ایک مسلح دستہ لے کر آرہے ہیں۔ اس وقت آپ نے اپنے ساتھیوں سے کہا کہ تم میں سے کون ہےجو مجھے خالد کے راستے کے سوا کوئی اور راستے سے لے جائے(من رجل یخرج بنا على طریق غیر طریقہم التی ہم بہا)۔سیرت ابن ہشام، 2/309۔ ایک آدمی نے کہا کہ میں۔ چناں چہ آپ نے اس وقت اپنے سفر کا راستہ بدل دیا۔ اس کی وجہ سے آپ کے ساتھیوں اور خالد کے ساتھیوں میں مڈبھیڑ نہیں ہوئی۔
یہ اسی پیغمبرانہ حکمت کی ایک مثال ہے۔ عام طریقے کے مطابق آپ کو یہ کرنا چاہیے تھا کہ آپ اپنے ساتھیوں کو لے کر اسی راستے پر آگے بڑھیں، اور خالد سے ٹکراؤ کا راستہ اختیار کریں۔ مگر آپ نے اس معاملے میں ٹکراؤ کا طریقہ چھوڑ دیا، اور اعراض کا طریقہ اختیار کیا۔ اس طریقہ کو ایک لفظ میں پریکٹکل وزڈم(practical wisdom) کہہ سکتے ہیں۔ آپ کی زندگی کے واقعات کہتے ہیں کہ آپ نے ہمیشہ ایسا کیا کہ آپ نے آئڈیل وزڈم کو چھوڑا، اور پریکٹکل وزڈم کو اختیارکیا۔ آپ کو اپنے مشن میں جو غیر معمولی کامیابی حاصل ہوئی، اس کا سبب یقینی طور پر یہی پریکٹکل وزڈم ہے۔ تجربہ بتاتا ہے کہ آئڈیل وزڈم نتیجہ کی اعتبار سے بے فائدہ ٹکراؤ کی طرف لے جاتا ہے۔ اس کے برعکس، پریکٹکل وزڈم غیر ضروری نقصان سے بچا کر کامیابی کی منزل تک پہنچا دیتی ہے۔
پیغمبر اسلام کا طریقہ آپ کی پوری زندگی میں اسی وزڈم کے مطابق تھا۔ آپ ہمیشہ ہر معاملے میں پریکٹکل وزڈم پر چلے، اور یہی آپ کی اعلیٰ کامیابی کا راز تھا۔
انجام کو دیکھنا
پیغمبر اسلام کا یہی حکیمانہ طریقہ آپ کے پورے تیرہ سالہ مکی دور میں جاری رہا۔ اس معاملے کی ایک اور مثال یہ ہے کہ آپ کی نبوت کے انیسویں سال طویل گفت و شنید کے بعد قدیم مکہ کے لیڈروں کے ساتھ یہ طے ہوا کہ دونوں فریقوں کے درمیان دس سال کے لیے امن کا معاہدہ (treaty of peace) ہوجائے۔ حدیبیہ کے مقام پر یہ گفت و شنید ہورہی تھی۔ جب معاہدہ لکھنے کا وقت آیا تو آپ نے اس معاہدہ کے آغاز میں لکھوایا:اے علی لکھو، بسم اللہ الرحمن الرحیم، تو مکہ کے نمائندہ لیڈر سہیل بن عمرو نے کہا، ہم اس کو نہیں جانتے، آپ لکھیں، باسمک اللہم، آپ نے ایسا ہی کیا۔پھر آپ نے کہا، لکھو یہ وہ (دفعات) ہیں، جن پر محمد رسول اللہ نے سہیل بن عمر و سےصلح کی ۔ تو سہیل بن عمرو نے دوبارہ کہا ، اگر میں مانتا کہ آپ اللہ کے رسول ہیں تو میں آپ سے جنگ نہیں کرتا ،یعنی آپ "رسول اللہ" کا لفظ مٹائیں، آپ نے ایساہی کیا، اور کہا لکھو، یہ وہ دفعات ہیں، جن پر محمد بن عبد اللہ نے سہیل بن عمرو سے صلح کی کہ دس سال تک جنگ نہیں ہوگی، اس میں لوگ امن سے رہیں گے (مسند احمد، حدیث نمبر 18910)۔
اس معاہدہ کے معاملے میں متعلق پہلو یہ تھا کہ کسی بھی طریقے سے دونوں فریق کے درمیان امن قائم ہوجائے۔ اس معاملے میں یہ غیر متعلق پہلو تھا کہ معاہدہ میں کس قسم کے الفاظ لکھے جائیں۔ چناں چہ رسول اللہ نے یہ حکیمانہ طریقہ اختیار کیا کہ متعلق پہلو کو لیا، اور غیر متعلق پہلو کو نظر انداز کردیا۔ اس طرح یہ معاہدۂ امن کسی مزید رکاوٹ کے بغیر معتدل طور پر عمل میں آگیا۔
وقار کا مسئلہ نہ بنانا
قرآن میں اہل حکمت انسانوں کی صفت بتائی گئی ہے کہ وہ کسی مسئلہ کو وقار کا مسئلہ نہیں بناتے ہیں ۔ قرآن کی وہ آیت اس وقت نازل ہوئی تھی جب کہ حدیبیہ کا معاہدہ طے ہورہا تھا۔ اس وقت اصحاب رسول کا حال کیا تھا، اس کو قرآن میں ان الفاظ میں بتایا گیا ہے: إِذْ جَعَلَ الَّذِینَ کَفَرُوا فِی قُلُوبِہِمُ الْحَمِیَّةَ حَمِیَّةَ الْجَاہِلِیَّةِ فَأَنْزَلَ اللَّہُ سَکِینَتَہُ عَلَى رَسُولِہِ وَعَلَى الْمُؤْمِنِینَ وَأَلْزَمَہُمْ کَلِمَةَ التَّقْوَى وَکَانُوا أَحَقَّ بِہَا وَأَہْلَہَا وَکَانَ اللَّہُ بِکُلِّ شَیْءٍ عَلِیمًا (48:26)۔ یعنی جب انکار کرنے والوں نے اپنے دلوں میں حمیت پیدا کی، جاہلیت کی حمیت، پھر اللہ نے اپنی طرف سے سکینت نازل فرمائی اپنے رسول پر اور ایمان والوں پر، اور اللہ نے ان کو تقویٰ کی بات پر جمائے رکھا اور وہ اس کے زیادہ حق دار اور اس کے اہل تھے۔ اور اللہ ہر چیز کا جاننے والا ہے۔
جب کسی اختلافی معاملہ میں دو گروہوں کے درمیان بات ہورہی ہو تو عام طور پر ایسا ہوتا ہے کہ جو فریق قومی حمیت میں مبتلا ہو ، وہ چیزوں کو وقار کا مسئلہ (prestige issue) بنا لیتا ہے۔ اس بنا پر ایسے موقع پر پر امن معاہدہ عملا ً سخت مشکل بن جاتاہے۔ایسے موقع پر دانش مند گروہ وہ ہے جو چیزوں کو وقار کا مسئلہ نہ بنائے ۔ وہ اعلیٰ اخلاق کا طریقہ اختیار کرتے ہوئے، یک طرفہ طور پر صلح اور امن کا طریقہ اختیار کرنے کے لیے راضی ہوجائے۔ یہ لوگ دانش مند لوگ ہیں، اور ایسے ہی لوگ زندگی میں اعلیٰ کامیابی حاصل کرتے ہیں۔
شکایت کے بجائے تدبیر
پیغمبر اسلام کی زندگی کا ایک واقعہ یہ ہے کہ8 ہجری میں مکہ فتح ہوا۔ اس کے بعد آپ مکہ سے طائف کے لیے روانہ ہوئے۔ اس وقت آپ کے ساتھ تقریباً بارہ ہزار افراد تھے۔ درمیان میں ایک راستہ آیا، جس کو تنگ ہونے کی وجہ سے الضیقہ کہا جاتا تھا۔ آپ نے کہا: ما اسم ہذا الطریق ؟ فقیل لہ الضیقة ، فقال:بل ہی الیسرى (سیرت ابن ہشام، 2/482)۔ یعنی اس راستے کا نام کیا ہے، لوگوں نے کہا : ضیقۃ (تنگ)۔ آپ نے کہا نہیں بلکہ یہ یسریٰ (آسان)ہے۔
اس کے بعد غالباً آپ نے ایساکہا کہ اس وقت تم لوگ افقی دائرہ(horizontal way) میں پھیلے ہوئے ہو، تم ایسا کرو کہ عمودی طریقہ (vertical way) میں ہوجاؤ۔ یعنی قطار بنا کر گزرو۔ لوگوں نے ایسا ہی کیا، اور نہایت آسانی سے وہ راستہ پار ہوگئے۔
یہ آپ کی پیغمبرانہ حکمت کی مثال ہے۔ یعنی جب کوئی مشکل کا سامنا پیش آئے تو شکایت کا طریقہ اختیار مت کرو، بلکہ تدبیر کا طریقہ اختیار کرو۔ اگر تم ایسا کروگے تو بہت جلد تم کو ایک تدبیر دریافت ہوجائے گی، اور تم اس تدبیر کو اختیار کرکے آسانی کے ساتھ اپنا راستہ طے کرلوگے۔
عام طور پر لوگوں کا طریقہ یہ ہے کہ وہ چیزوں کو ان کے فیس ویلو (face-value) پر لیتے ہیں۔ یہ طریقہ وزڈم کے خلاف ہے۔ آدمی کو چاہیے کہ وہ چیزوں کو ان کی اصل حقیقت کے اعتبار سے لے۔ اس طرح مسئلہ کوئی مزید دشواری کے بغیر بآسانی حل ہوجائے گا۔
چین ری ایکشن سے بچنا
پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے8 ہجری میں مکہ فتح کیا۔ اس وقت آپ نے اعلان کروایاکہ جو اپنے گھروں میں چلاجائے وہ امن میں ہے، جو ہتھیار ڈال دے وہ مامون ہے۔ اس کے بعد قدیم مکہ کے لوگ کعبہ کےصحن میں اکٹھا ہوئے۔ اس وقت آپ نے ان سے پوچھا، تم لوگ کیا کہتے ہو، اور تمھارا کیا گمان ہے۔ انھوں نے جواب دیا، ہم آپ کو اپنا بھتیجا اوراپنے چچاکا شریف اور مہربان بیٹاسمجھتے ہیں، آپ نے کہا، میں وہی کہتاہوں جو یوسف نے کہا تھا: آج تم پر کوئی الزام نہیں، اللہ تم کو معاف کرے اور وہ سب مہربانوں سے زیادہ مہربان ہے(یوسف 92:)۔ تو وہ لوگ نکلے گویا کہ وہ قبروں سے نکلے ہوں، اور پھر وہ اسلام میں داخل ہوگئے (فخرجوا کأنما نشروا من القبور فدخلوا فی الإسلام ) السنن الکبریٰ للبیہقی، حدیث نمبر 18275 ۔
یہ وہ لوگ تھے، جنھوں نے پیغمبر اسلام کو اپنے وطن سے نکالا تھا، اور آپ کے خلاف بار بار لڑائیاں چھیڑیں تھیں۔ عام رواج کے مطابق، بلاشبہ وہ لوگ جنگی مجرم (prisoners of war) تھے۔ لیکن جب پیغمبر اسلام نےان کے خلاف کوئی انتقامی کارروائی نہیں کی۔ بلکہ ان کو پورے طور پر آزاد کردیا۔ یہ کوئی سادہ بات نہ تھی۔ ایسا کرکے آپ نے قدیم مکہ کے ان لوگوں کو دوبارہ جوابی انتقام سے بچالیا۔ اگر آپ ایسا نہ کرتے تو قبائلی کلچر کے مطابق وہاں چین ری ایکشن (chain reaction)شروع ہوجاتا، جو پھر کبھی ختم نہ ہوتا۔ جیسا کہ قدیم زمانے میں عام طور پر ہوا کرتا تھا۔
حقوق طلبی کی سیاست نہیں
سن 8 ہجری میں مکہ فتح ہوا، اور پیغمبر اسلام کے ساتھی دوبارہ اپنے قدیم وطن مکہ میں داخل ہوئے۔ ہجرت کے بعد مکہ میں ایسا ہوا تھا کہ کچھ اصحاب کے گھر اور جائداد کو اہل مکہ نے قبضہ کرلیا تھا۔ اب کچھ اصحاب رسول چاہتے تھے کہ وہ اپنے گھر اور جائداد کو لوگوں کے قبضے سے نکالیں، اور اس پر دوبار ہ اپنا قبضہ قائم کریں۔ مگر پیغمبر اسلام نے اپنے اصحاب کو اس کی اجازت نہ دی۔
اس سلسلہ میں ایک واقعہ یہ ہے کہ فتحِ مکہ کے موقع پر ابو احمد بن جحش آپ کے پاس آئے ، اور کہا کہ ان کے آبائی گھر پر ابوسفیان نے قبضہ کرکے اس کو فروخت کردیا ہے۔ پیغمبر اسلام نے ان سے کہا :إن صبرت کان خیرا لک، وکانت لک بہا دار فی الجنة(اگر تم صبر کروگے تو یہ تمھارے لیے بہتر ہے۔ اور اس کے بدلے میں تمھارے لیے جنت کا ایک گھر ہے) ۔ ابو احمد نے کہا: میں صبر کروں گا(أنا أصبر )چناں چہ انھوں نے اس کا خیال چھوڑ دیا (أخبار مکة وما جاء فیہا من الأثار للازرقی، 2/245 )۔
اس طرح کے واقعات سے اندازہ ہوتا ہے کہ پیغمبر اسلام کے طریقہ میں وہ طریقہ شامل نہیں جس کو حقوق طلبی کی سیاست کہا جاتا ہے۔ حقوق طلبی کی سیاست کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ دو فریقوں کے درمیان ایسے جھگڑےکھڑے ہوجاتے ہیں جو کبھی ختم نہیں ہوتے۔ اس قسم کی سیاست سے لوگوں کو ملتا تو کچھ بھی نہیں، لیکن وہ اس امکان کو کھو دیتے ہیں کہ نئے مواقع کو استعمال کرکے اپنے لیے بڑی بڑی ترقیاں حاصل کریں۔
پیغمبر اسلام اگر مکہ میں فتح حاصل ہونےکے بعد وہاں حقوق طلبی کی سیاست چلاتے تو اس کا نتیجہ یہ ہوتا کہ لوگوں کی ترجیحات (priorities) بدل جاتیں۔ فتح مکہ کے بعد اب اصل کام یہ تھا کہ مکہ کے لوگوں میں توحید کی اشاعت کی جائے۔ شرک کے دور کو ختم کرکے توحید کا دور لایا جائے۔ کعبہ کو اس کی ابراہیمی روایت پر قائم کیا جائے، جس کا عملا خاتمہ ہوگیا تھا۔ اگر مکہ میں حقوق طلبی کی سیاست چلائی جاتی تو یہ سارے کام معطل ہوجاتے، اور وہ ٹارگٹ ہی بدل جاتا، جس کے لیے پیغمبر اسلام نے وہاںاپنا مشن جاری کیا تھا۔
رجز سے اعراض کرو
پیغمبر اسلام نے جب قدیم مکہ میں اپنا مشن شروع کیا تو قرآن میں آپ کو ایک نصیحت ان الفاظ میں کی گئی کہ اے پیغمبر لوگوں کو اللہ کی طرف بلاؤ، اور رجز کو چھوڑ دو(المدثر5:)۔ رُجز کا لفظی مطلب گندگی (dirt) ہے۔ یہ گندگی کون سی تھی، جسے آپ کو چھوڑنے کا حکم دیا گیا۔ اس کو یہاں لفظوں میں نہیں بتایا گیا ہے، اس لیے اس کا مطلب آپ کے عمل کو دیکھ کر متعین کرنا ہوگا۔ یعنی آپ نے اپنی عملی زندگی میں کس چیز کو چھوڑا۔ وہی وہ گندگی ہے جس سے آپ کو اعراض کرنے کا حکم دیا گیا۔
اب دیکھیے کہ آپ نے جب قدیم مکہ میں اپنا مشن شروع کیا تو آپ نے کس چیز سےاعراض کرتے ہوئے اپنا مشن جاری کیا۔ وہ چیزیں وہ تھیں جو اس وقت آپ کی حالت کے اعتبار سے نتیجہ خیز نہیں تھیں۔مثلاً قدیم مکہ میں بہت سی برائیاں پھیلی ہوئی تھیں۔ جیسے شراب، وغیرہ۔ اب اگر شروع میں لوگوں کو اس سے روکتے تو اس کا کوئی نتیجہ نکلنے والا نہ تھا۔ اسی طرح قدیم مکہ میں کعبہ میں بہت سے بت رکھے ہوئے تھے۔ اگر آپ ان بتوں کو کعبہ سے نکالنے کی مہم چلاتے تو یقینی تھا کہ آپ کی مہم کامیاب نہ ہوتی۔ اس لیے آپ نے نتیجہ خیز اقدام اور بے نتیجہ اقدام میں فرق کیا، اور وقتی اعتبار سے بے نتیجہ کام میں اپنے آپ کو الجھائے بغیر اس کام میں محنت کی ، جس میں محنت سے مفید نتیجہ نکلنے والا تھا۔
آپ کی یہ پالیسی حدیث میں اس طرح آئی ہے:إنما نزل أول ما نزل منہ سورة من المفصل، فیہا ذکر الجنة والنار، حتى إذا ثاب الناس إلى الإسلام نزل الحلال والحرام، ولو نزل أول شیء:لا تشربوا الخمر، لقالوا: لا ندع الخمر أبدا، ولو نزل:لاتزنوا، لقالوا:لا ندع الزنا أبدا (صحیح البخاری، حدیث نمبر4993)۔ یعنی پہلے جو چیز نازل ہوئی،وہ مفصل کی سورت تھی ، جس میں جنت و دوزخ کا ذکر ہے ۔ یہاں تک کہ جب لوگو ں کا دل اسلام کی طرف رجوع ہو گیا، تب حلال وحرام کے احکام اترے ، اگر شروع ہی میں یہ اترتاکہ شراب نہ پیو تو لوگ ضرورکہتے ہم تو کبھی شراب پینا نہیں چھوڑیں گے ۔ اگر شروع ہی میں یہ اترتاکہ زنا نہ کرو تو لوگ ضرورکہتے کہ ہم تو زنا نہیں چھوڑیں گے۔
اس طریق عمل کو ایک لفظ میں یہ کہہ سکتے ہیں کہ حکیمانہ ترتیب کے ساتھ کام کرنا۔ جو کام انجام کے اعتبار سے ممکن ہو، اس کو کرنا، اور جس کام میں بر وقت نتیجہ نکلنے والا نہ ہو، اس کو مستقبل پر چھوڑ دینا— یہی پیغمبر کا طریقہ ہے، اور یہی دانش مندی کا طریقہ۔
ہائی پروفائل کا طریقہ نہیں
پیغمبر اسلام نے جب مکہ میں اپنا مشن شروع کیا تو تین سال تک آپ نے اس کا عام اعلان نہیں کیا۔ بلکہ صرف کچھ افراد سے خصوصی ملاقاتوں میں اپنی بات کہتے تھے۔ یہ سلسلہ تین سال تک جاری رہا۔ اس کے بعد آپ نے اعلان عام کیا(سیرۃ ابن ہشام، 1/262)۔ اسی طرح غزوہ خیبر میں آپ اپنے اصحاب کے ساتھ جارہے تھے، تو لوگوں نے ایک جگہ نعرہ بلند کرنا شروع کردیا۔ تو آپ نے کہا: إنکم لا تدعون أصم ولا غائبا، إنکم تدعون سمیعا قریبا وہو معکم (صحیح البخاری، حدیث نمبر4205)۔ یعنی تم لوگ کسی بہرے یا غائب کو نہیں پکار رہے ہو، بلکہ اس کو پکاررہے ہو جو سننے والا،قریب اور تمھارے ساتھ ہے۔
اس سے معلوم ہوا کہ اپنے مشن کے سلسلے میں پیغمبر اسلام کا طریقہ لو پروفائل میں کام کرنے کا طریقہ تھا، ہائی پروفائل میں کام کرنا پیغمبر اسلام کا طریقہ نہیں۔ یہ بہت اہم بات ہے۔ ہائی پروفائل میں کام کرنا، ہمیشہ مخالفین کے اندر اشتعال پیدا کرتا ہے۔ وہ ابتدائی دور ہی میں مشن کی مخالفت میں کھڑے ہوجاتےہیں، اور ہر ممکن کوشش کرتے ہیں کہ مشن آگے نہ بڑھنے پائے۔ اس کے برعکس، لوپروفائل میں صاحب مشن کو یہ موقع ملتا ہے کہ وہ تمام ممکن مواقع کو استعمال کرکے اپنا کام کرتا رہے۔ یہاں تک کہ اس کے مخالفین صرف اس وقت اس کا نوٹس لیں، جب کہ مشن اتنا مستحکم ہوچکا ہو کہ کسی مخالف کی مخالفت اس کو روکنے والی ثابت نہ ہوسکے۔ پیغمبر اسلام نے اپنے مشن کے پورے دور میں خاموش عمل کا یہی طریقہ اختیار کیا۔
فتنہ کو نہ بھڑکانا
ایک حکمت کی بات حدیث میں ان الفاظ میں آئی ہے:الفتنة نائمة لعن اللہ من أیقظہا (التدوین فی أخبار قزوین، أبو القاسم الرافعی، 1/291)۔ فتنہ سویاہوا ہے، اللہ نے اس پر لعنت کیا ہے جو اس کو جگائے۔ یہ حدیث رسول بتاتی ہے کہ اجتماعی زندگی کو پر سکون بنانے کے لیے دانش مندانہ اصول کیا ہے۔ وہ ہے سوئے ہوئے فتنہ کو نہ جگانا۔
یہاں فتنہ سے مراد انسان کی انا (ego) ہے۔ ایگو ایک سویا ہوا فتنہ ہے۔ اس کو چھوڑدیا جائے تو وہ سویا رہے گا، اور اگر اس کو چھیڑ دیا جائے تو وہ ایک شدید مسئلہ بن جائے گا۔ ایگو ایک پوٹنشیل (potential)فتنہ ہے، وہ واقعہ اس وقت بنتا ہے جب کہ اس کو چھیڑ کر جگا دیا جائے۔
انسان کی انا (ego) میں نفرت اور غصہ بھرا ہوا ہے۔ لیکن عام حالت میں وہ صرف بطور امکان ہوتا ہے۔ اس امکان کو واقعہ بنانا، خود صاحب ایگو کی طرف سے نہیں ہوتا ، بلکہ وہ دوسرے کی طرف سے ہوتا ہے۔ دوسرا آدمی چاہے تو اس امکان کو سویا ہوا رہنے دے، یا اس کو جگا کر اپنےلیے مسئلہ بنالے۔ اسی لیے کہا گیا ہے :
When one’s ego is touched, it turns into super ego, and the result is breakdown.
اجتماعی زندگی میں ہمیشہ ایسا ہوتاہے کہ ایک شخص کی بات دوسرے کے لیے ناپسند بن جاتی ہے۔ یہی لمحہ ہے جب کہ آدمی کا ایگو بھڑک اٹھتا ہے۔ لیکن پہلا آدمی اگر خاموشی اختیار کرلے تو دوسرے آدمی کا ایگو بھڑک کر رہ جائے گا۔ وہ بڑھ کر خطرناک مسئلہ نہیں بنے گا۔کامیاب زندگی کی حکمت یہ ہے کہ آدمی کسی شخص کے ایگو کو بھڑکنے نہ دے، وہ سوئے ہوئے ایگو کو سویا رہنے دے۔
کوئی دشمن نہیں
پیغمبر اسلام کو ایک دانش مندانہ طریقہ قرآن میں ان الفاظ میں بتایا گیا:وَلَا تَسْتَوِی الْحَسَنَةُ وَلَا السَّیِّئَةُ ادْفَعْ بِالَّتِی ہِیَ أَحْسَنُ فَإِذَا الَّذِی بَیْنَکَ وَبَیْنَہُ عَدَاوَةٌ کَأَنَّہُ وَلِیٌّ حَمِیمٌ (41:34)۔یعنی اور بھلائی اور برائی دونوں برابر نہیں، تم جواب میں وہ کہو جو اس سے بہتر ہو پھر تم دیکھو گے کہ تم میں اور جس میں دشمنی تھی، وہ ایسا ہوگیا جیسے کوئی دوست قرابت والا۔
قرآن کی اس آیت کے مطابق، انسانوں میں جو تقسیم ہے، وہ دوست اور دشمن کی نہیں، بلکہ دوست اور بالقوۃ دوست (potential friend) کی ہے۔ یعنی دانش مند انسان وہ ہے جو دوست اور دشمن کی بنیاد پر اپنا منصوبہ نہ بنائے، بلکہ اس کا منصوبہ اس سوچ کے تحت ہونا چاہیے کہ کچھ لوگ اگر بظاہر دوست ہیں تو دوسرے لوگ بالقوۃ دوست(potential friend) ہیں۔ اس لیے دانش مند انسان کی کوشش یہ ہونی چاہیے کہ مثبت منصوبہ بندی (positive planning) کے ذریعہ وہ بالقوۃ دوست کو بھی اپنا دوست بنا کر ان کو اپنے ساتھیوں میں شریک کرلے۔
اپنے زمانے کو جاننا
ایک حدیث رسول ان الفاظ میں آئی ہے:وعلى العاقل أن یکون بصیرا بزمانہ (صحیح ابن حبان، حدیث نمبر 361)۔ یعنی عقل مند وہ ہے جو اپنے زمانے سے با خبر ہو۔ یہاں زمانے سے مراد خارجی حالات ہیں ۔ آدمی عام طور پر اپنے آپ میں جیتا ہے۔ اپنے سے باہر کے حالات کی اس کو خبر نہیں ہوتی ہے۔ ایسے آدمی کا منصوبہ حالات سے ٹکراجائے گا۔ وہ اپنے منصوبہ کو کامیابی تک پہنچانے والا نہ بن سکے گا۔
اس دنیا میں آدمی ہمیشہ کچھ حالات کے درمیان ہوتا ہے۔ یہ حالات وہ خود نہیں بناتا، بلکہ خارج کا جو ماحول ہے، وہ ان حالات کی تشکیل کرتا ہے۔ یہ حالات اتنے طاقت ور ہوتے ہیں کہ آدمی ان کو بدلنے پر قادر نہیں ہوتا ہے۔ اگر آدمی اپنے حالات سے ٹکرا جائے تو وہ خود تو ٹوٹ جائے گا۔ لیکن حالات جیسے تھے، ویسے ہی رہیں گے۔ ایسی صورت حال میں دانش مندی یہ ہے کہ آدمی اپنے ساتھ دوسروں کو بھی جانے۔ وہ اپنی ذاتی خواہشوں کے ساتھ خارجی حالات کے تقاضوں سے باخبری حاصل کرے۔ ایسے آدمی کے لیے ممکن ہوگا کہ وہ اپنا منصوبہ صحیح اصولوں کی بنیاد پر بنائے۔ وہ حالات زمانہ کی رعایت کرتے ہوئے، اپنا سفر حیات کامیابی کے ساتھ طے کرے۔ اس قسم کی حقیقت پسندانہ منصوبہ بندی (realistic planning) کامیابی کا واحد یقینی راز ہے۔
غصہ سے بچو
ایک آدمی پیغمبر اسلام کے پاس آیا۔ اس نے کہا: أخبرنی بکلمات أعیش بہن ولا تکثر علی فأنسى؟ قال:اجتنب الغضب، ثم أعاد علیہ فقال:اجتنب الغضب(مسند احمد، حدیث نمبر23468)۔ یعنی مجھے ایسی بات بتائیے، جس میں مَیں جیوں، اور بات مختصر ہو تا کہ میں اس کو بھول نہ جاؤں۔ آپ نے کہا: غصہ سے بچو، اس نے اپنی بات کو دہرائی، آپ نےدوبارہ کہا: غصہ سے بچو۔
اس حدیث پر غور کیجیے تو معلوم ہوگا کہ غصہ تمام برائیوں کی جڑ ہے۔ غصہ کوئی آدمی دوسرے کے خلاف کرتا ہے۔ لیکن غصہ کا نقصان آدمی کو خود بھگتنا پڑتا ہے۔ غصہ آدمی کی سوچ کو غلط رخ پر موڑ دیتا ہے۔ عام حالت میں آدمی مثبت انداز میں سوچتا ہے۔ وہ معتدل انداز میں رائے قائم کرتا ہے۔ لیکن غصہ آتے ہی اس کی سوچ غیر معتدل ہوجاتی ہے۔ وہ حقیقت پسندانہ انداز میں سوچنے کے قابل نہیں رہتا ۔ جو آدمی غصہ میں مبتلا ہوجائے، وہ جذبات کے تحت ایسے فیصلے کرتا ہے، جو جذبات سے خالی آدمی کبھی نہیں سوچے گا۔
غصہ کا سب سے زیادہ تباہ کن انجام یہ ہے کہ غصہ ہمیشہ دو طرفہ بن جاتا ہے۔ آپ غصہ ہو کر دوسرے شخص کو بھی غضبناک بنادیتے ہیں۔ غصہ دوسرے شخص کو جوابی غصہ میں مبتلا کردیتا ہے۔ اس طرح غصہ اپنے نتیجہ کے اعتبار سے ردعمل (reaction) کا سبب بنتا ہے۔ آپ ایک ردعمل ظاہر کرتے ہیں، اس کے بعد دوسرا آدمی مشتعل ہوکر ردعمل کا طریقہ اختیار کرلیتا ہے۔ یہ عمل اور ردعمل باربار ہوتا ہے۔ یہاں تک کہ ردعمل ایک چین ری ایکشن (chain reaction) بن جاتاہے۔ اور جب کوئی چیز چین ری ایکشن بن جائے تو پھر اس کا خاتمہ آخری ہلاکت سے پہلے نہیں ہوتا۔
اس لیے غصہ کے بعد آدمی کے لیے جو صحیح رویہ ہے، وہ صرف ایک ہے۔ وہ ہے غصہ کو یک طرفہ طورپر ختم کردینا۔ یہی بات قرآن میں ان الفاظ میں کہی گئی ہے:وَإِذَا مَا غَضِبُوا ہُمْ یَغْفِرُونَ (42:37) ۔ یعنی جب ان کو غصہ آتا ہے تو وہ معاف کردیتے ہیں۔ غصہ کے نقصان سے بچنے کے لیے یک طرفہ صبر کے سوا کوئی اور راستہ نہیں۔
آسان کا انتخاب
پیغمبر اسلام کی زندگی کے ایک معمول کو پیغمبر اسلام کی زوجہ عائشہ ان الفاظ میں بیان کرتی ہیں:ما خُیّر رسول اللہ صلى اللہ علیہ وسلم فی أمرین إلا اختار أیسرہما (سنن ابو داؤد، حدیث نمبر 4785)۔یعنی جب بھی پیغمبر اسلام کو دو صورتوں میں ایک کا انتخاب کرنا ہوتا تو آپ ہمیشہ آسان کا انتخاب کرتے۔ اس سے معلو م ہوتا ہے کہ معاملات میں پیغمبر اسلام کی عام پالیسی کیا تھی۔ وہ تھی مشکل کے مقابلے میں آسان کا انتخاب کرنا۔
ہر صورت حال میں آدمی کے سامنے دو قسم کی چیزیں ہوتی ہیں۔ ایک، مسائل (problem)اور دوسرا، مواقع (opportunities)۔ اس وقت آدمی کے لیے یہ ممکن ہوتا ہے کہ وہ دونوں میں سے کسی ایک کا انتخاب کرے۔ پیغمبر اسلا م کا طریقہ یہ تھا کہ آپ ہمیشہ مواقع کو اویل (avail)کرنے کا انتخاب کرتے تھے، نہ کہ مسائل سے ٹکراؤ کرنا۔
یہاں آسان کا لفظ اور مشکل کا لفظ اپنے ظاہری معنی میں نہیں ہے۔ بلکہ وہ اپنے نتیجہ کے اعتبار سے ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ معاملات میں پیغمبر اسلام کی پالیسی یہ تھی کہ معاملات میں ایسے طریقہ کو اختیار کیا جائے جو قابل عمل (workable) ہو، جس پر کوئی نیا مسئلہ پیدا کیے بغیر عمل کرنا ممکن ہو۔ یہاں آسانی کا لفظ قابل عمل (workable) کے معنی میں ہے۔ یعنی ایسا طریقہ جس کو اختیار کرنے سے کوئی نیا مسئلہ پیدا نہ ہو، کوئی نیا مسئلہ پیدا کیے بغیر اس پر عمل کیا جاسکے۔
اس کے مقابلے میں ایک طریقہ وہ ہے جس پر عمل کرنے سے مسئلے میں اضافہ ہوتا ہو۔ایسا طریقہ آپ کبھی اختیار نہیں کرتے تھے۔ مثلا اگر ایک معاملے میں پر امن طریقہ اختیار کرنا ممکن ہو تو آپ کبھی تشدد کا طریقہ اختیار نہیں کرتے تھے۔ کیوں کہ پر امن طریقہ مسئلے میں اضافہ کیے بغیر قابل عمل ہوتا ہے، جب کہ تشدد کا طریقہ ہمیشہ مسئلہ میں اضافہ کرتا ہے۔ مثلاً پرتشدد طریقے میں تشدد پر نفرت کا اضافہ ہوتا ہے، وغیرہ۔
اگر آپ مسائل سے اپنا عمل شروع کریں تو فورا ہی آپ کا دوسروں سے ٹکراؤ ہوجائے گا۔ نامعلوم مدت تک آپ مسائل سے ٹکرانے میں لگے رہیں گے، اور یہ عمل مشتبہ رہے گا کہ آپ کے لیے مواقع کو اویل کرنے کا وقت آتا ہے یا نہیں۔ اس کے برعکس، اگر آپ مسائل سے اعراض کریں اور مواقع کو اویل کرنے سے اپنا عمل شروع کریں تو پہلے دن آپ کو اپنے عمل کا آغاز مل جائے گا۔ آپ پہلے دن سے مواقع کو اویل کرنا شروع کردیں گے۔ آپ کا ہر قدم آگے کی طرف جانے کے ہم معنی ہوگا۔ اسی کا نام منصوبہ بند عمل ہے۔ منصوبہ بند عمل ہمیشہ کامیاب ہوتاہے۔ اس کے برعکس، غیر منصوبہ بند عمل کے بارےمیں کچھ نہیں معلوم کہ اس کا انجام کیا ہوگا۔
انسان رخی طرز فکر
پیغمبر اسلام کا ایک واقعہ حدیث کی کتابوں میں ان الفاظ میں آیا ہے:کان سہل بن حنیف، وقیس بن سعد قاعدین بالقادسیة، فمروا علیہما بجنازة، فقاما، فقیل لہما إنہا من أہل الأرض أی من أہل الذمة، فقالا:إن النبی صلى اللہ علیہ وسلم مرت بہ جنازة فقام، فقیل لہ:إنہا جنازة یہودی، فقال:ألیست نفسا (صحیح البخاری، حدیث نمبر 1312)۔یعنی سہل بن حنیف اور قیس بن سعد رضی اللہ عنہما قادسیہ میں ایک جگہ بیٹھے ہوئے تھے ۔ اتنے میں کچھ لوگ ادھر سے ایک جنازہ لے کر گزرے تو یہ دونوں کھڑے ہو گئے ۔ لوگوں نے کہاکہ جنازہ تو ذمیوں کا ہے ( جوغیر مسلم ہیں )۔ اس پر انہوں نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے اسی طرح سے ایک جنازہ گزرا تھا ۔ آپ اس کے لیے کھڑے ہو گئے ۔ پھر آپ سے کہا گیا کہ یہ تو یہودی کا جنازہ تھا ۔ آپ نے فرمایا کیا وہ انسان نہیں ؟
اس حدیث سے ایک اہم بات معلوم ہوتی ہے، اور وہ سماجی دانش مندی(social wisdom) ہے۔ سماج یا انسانی اجتماع ہمیشہ مختلف قسم کے انسانوں کا مجموعہ ہوتا ہے۔ اس بنا پر یہ ممکن ہوتا ہے کہ لوگوں میں اختلافات پیدا ہوجائیں۔ لوگ کسی کو اپنا دشمن سمجھیں، اور کسی کو دوست، لوگ کسی کو اپنا سمجھیں اور کسی کو غیر، کسی کے بارے میں وہ مثبت ہوں اور کسی کے بارے میں منفی۔ یہ کلچر پورے سماج کو ابدی طور پر غیر معتدل سماج بناد یتا ہے۔
اس لیے اس طرح کی صورت حال کا بہترین حل یہ ہے کہ ہر انسان کو انسان سمجھا جائے۔ ہر انسان کے بارے میں انسان رخی رویہ(human-friendly behaviour) اختیار کیا جائے۔ ہر انسان کو اپنے جیسا انسان سمجھا جائے۔ اختلاف کے باوجود ایک دوسرے کی عزت (mutual respect) کا طریقہ اختیار کیا جائے۔
پیغمبر اسلام نے خود اپنے عمل سے اس کا نمونہ قائم کیا۔ جیسا کہ معلوم ہے مدینہ ایک مختلف مذاہب کا معاشرہ تھا۔ پیغمبر اسلام نے اپنے عمل سے یہ ماڈل قائم کیا کہ ہر ایک انسان کے ساتھ یکساں طور پر عزت کا معاملہ کرنا۔ ہر انسان کو یکساں طور پر ایک ہی خالق کا پیدا کیا ہوا انسان سمجھنا۔
یکساں طور پر ہر ایک سے باعزت سلوک کا معاملہ صرف اخلاقی بات نہیں۔ اس کا تعلق براہِ راست طور پر انسان کی ترقی سے ہے۔ ایسے ماحول میں سماج کا ہر فرد ایک دوسرے کا خیرخواہ ہوگا۔ ہر انسان قابل پیشین گوئی کردار (predictable character) کا مالک ہوگا۔ ہر انسان کو یہ موقع ہوگا کہ وہ خود بھی ترقی کرے، اور دوسروں کو بھی ترقی کا موقع دے۔ اس کے برعکس، اگر لوگ اس احساس میں جئیں کہ فلاں شخص ان کا اپنا ہے، اور فلاں شخص ان کا غیر۔ تو ایسے سماج کا ہر فرد اپنی سوچ کے اعتبار سے غیر معتدل ہوجائے گا۔ وہ خود بھی سماج کا ایک پرابلم ممبر (problem member) بنا رہے گا، اور دوسروں کو بھی بلا اعلان یہ دعوت دے گا کہ تم بھی سماج کے پرابلم ممبر بن جاؤ۔
قناعت واحد حل ہے
ایک حدیث رسول ان الفاظ میں آئی ہے:لو کان لابن آدم وادیان من مال لابتغى ثالثا، ولا یملأ جوف ابن آدم إلا التراب، ویتوب اللہ على من تاب (صحیح البخاری، حدیث نمبر 6436)۔ یعنی اگر انسان کے پاس مال کی دو وادیاں ہوں تووہ تیسری کا خواہشمند ہو گا، اور انسان کا پیٹ مٹی کے سوا اور کوئی چیز نہیں بھر سکتی ،اور اللہ اس شخص کی توبہ قبول کرتا ہے جو توبہ کرے ۔
انسان پیدائشی طور پر لامحدود کا طالب ہے۔ کوئی محدود چیز خواہ بظاہر کتنی ہی بڑی دکھائی دے، وہ کبھی انسان کو مطمئن کرنے والی نہیں۔انسان کو اس دنیا میں عملاً جو کچھ ملتا ہے، وہ ہمیشہ محدود ہوتا ہے۔ طلب اور مطلوب میں یہی تضاد ہے، جو ہمیشہ انسان کو غیر مطمئن رکھتا ہے۔
انسان کا یہ عدم اطمینان (discontentment) بے فائدہ نہیں۔ ا س کے پیچھے ایک اہم تخلیقی حکمت ہے۔ وہ حکمت یہ ہے کہ انسان اپنا مطلوب آخرت کو بنائے، نہ کہ دنیا کو۔ انسان کو پیدائشی طور پر معیار کا طالب (ideal seeking) بنا یا گیا ہے۔ جب کہ دنیا میں اس کے لیے جو قابل حصول چیزیں ہیں، وہ اس کی طلب سے بہت کم ہیں۔ آدمی بہت چاہتا ہے، مگر ہمیشہ اس کو کم ملتا ہے۔ آدمی ہمیشہ بہت زیادہ کا منصوبہ بنا تا ہے لیکن اپنے منصوبہ کی تکمیل سے پہلے انسان اس دنیا سے چلاجاتا ہے۔
طالب اور مطلوب میں یہ فرق اس لیے نہیں ہے کہ آدمی غیر مطئن بنا رہے۔ بلکہ وہ اس لیے ہے کہ انسان غور و فکر کے ذریعہ یہ دریافت کرے کہ اس کی طلب کا مطلوب کہاں ہے۔ جو آدمی اس طرح سوچے وہ دانشمندانہ سوچ کا حامل بنے گا۔ وہ اپنی زندگی کی صحیح منزل کو جان لے گا۔ وہ جان لے گا کہ اس کے مطلوب کا نہ ملنا ایک اہم حکمت کے سبب سے ہے۔ وہ اس لیے ہے کہ اس کا ذہن ہمیشہ متحرک رہے، وہ کبھی جمود کا شکار نہ ہونے پائے۔
دنیا میں انسان کا یہ عدم اطمینان اس کو ابدی جنت کا طالب بناتا ہے۔ وہ اس پر غور و فکر کرکے اپنے مقصد اصلی کو جان لیتاہے۔ وہ یہ جان لیتا ہے کہ اس کو کس طرح سچا طالب (true seeker) بننا چاہیے۔یہ چیز آدمی کو بھٹکنے سے بچا کر صحیح رخ پر سوچنے والا بنا دیتی ہے۔ جوآدمی اس طرح سوچے وہ کبھی منفی سوچ کا شکار نہ ہوگا، وہ ہمیشہ مثبت سوچ کا حامل بنا رہے گا، اور اس دنیا میں سب سے بڑی سوچ مثبت سوچ ہے۔
ہر ایک کے لیے خیر
ایک حدیث رسول ان الفاظ میں آئی ہے: المؤمن القوی، خیر وأحب إلى اللہ من المؤمن الضعیف، وفی کل خیر احرص على ما ینفعک، واستعن باللہ ولا تعجز، وإن أصابک شیء، فلا تقل لو أنی فعلت کان کذا وکذا، ولکن قل قدر اللہ وما شاء فعل، فإن لو تفتح عمل الشیطان(صحیح مسلم، حدیث نمبر 2664)۔ یعنی ضعیف مومن کے مقابلے میں قوی مومن کے لیے خیر ہے، اور وہ اللہ کے نزدیک زیادہ محبوب ہے، لیکن ہر ایک میں خیر ہے۔ حرص کرو اس کی جو تم کو فائدہ پہنچائے۔ اللہ سے مدد مانگو، کمزوری نہ دکھاؤ۔اگر تم کو نقصان پہنچے تو یہ نہ کہو کہ اگر میں نے ایسا کیا ہوتا تو ایسا ہوتا۔ لیکن کہو اللہ نے مقدر کیا تھا، اور اس نے جو چاہا، وہی ہوا۔ کیوں کہ’’اگر‘‘ شیطان کا دروازہ کھولتا ہے۔
اس حدیث سے تخلیق کی ایک حکمت معلوم ہوتی ہے۔ وہ یہ کہ بظاہر کوئی شخص کمزور دکھائی دے تو یہ کمزوری ایک اعتبار سے ہوگی، ہر اعتبار سے نہیں۔ یہ تخلیق کا اصول ہے کہ اگر آدمی ایک اعتبار سے کمتر ہوتا ہے تو کسی دوسرے اعتبار سے اسے برتر صلاحیت حاصل ہوتی ہے۔ مثلاً کوئی شخص جسمانی اعتبار سے ضعیف ہو تو وہ دماغ کے اعتبار سے قوی ہوگا۔ کوئی شخص یاد (memory) کے اعتبار سےکم ہو تو وہ تجزیہ (analysis) کے اعتبار سے زیادہ ہوگا۔ کوئی شخص بزنس کے اعتبار سے کم ہو تو وہ علم کے اعتبار سے زیادہ ہوگا، وغیرہ۔
موجودہ زمانے میں یہ بات ریسرچ سے ثابت ہوگئی ہےکہ کوئی شخص مطلق معنوں میں قوی یا ضعیف نہیں ہوتا۔ چناں چہ پہلے معذور کے لیے ڈس ایبلڈ (disabled) کا لفظ بولا جاتا تھا۔ مگر اب یہ لفظ متروک ہوگیا ہے۔ اب ایسے افراد کو ڈفرینٹلی ایبلڈ (differently abled) کہا جاتا ہے۔ یعنی ایک اعتبار سے معذور اور دوسرے اعتبار سے طاقت ور۔
تخلیق کے اس نظام کا تقاضا ہے کہ آدمی کو کسی بھی حال میں مایوس نہیں ہونا چاہیے۔ آدمی کو چاہیے کہ وہ اپنے ظاہر پر رائے قائم نہ کرے، بلکہ وہ زیادہ گہرائی کے ساتھ اپنے معاملے پر سوچے۔ آدمی کو چاہیے کہ وہ اپنے آپ کو دریافت (discover) کرے۔ وہ اپنے اندر چھپے ہوئے انسان کو جانے،اور اس کے مطابق اپنی زندگی کی منصوبہ بندی کرے۔
باشعور انسان کا معاملہ
ایک حدیث رسول ان الفاظ میں آئی ہے:عجبا لأمر المؤمن، إن أمرہ کلہ خیر، ولیس ذاک لأحد إلا للمؤمن، إن أصابتہ سراء شکر، فکان خیرا لہ، وإن أصابتہ ضراء، صبر فکان خیرا لہ (صحیح مسلم، حدیث نمبر2999)۔ اس حدیث میں مومن سے مراد معروف معنوں میں صاحب عقیدہ انسان نہیں ہے، بلکہ اس سے مراد باشعور انسان ہے۔ اس سے مراد وہ انسان ہے جو صاحب معرفت انسان ہو، جو تدبر اور تفکر کی صفت کا حامل ہو۔ جس نے مطالعہ اور غور و فکر کے ذریعہ اپنے آپ کو ایک تیار ذہن (prepared mind) بنا یا ہو۔
ایسا انسان ہر چیز میں اس کے اندر چھپی ہوئی تخلیقی حکمت کو دریافت کرلیتا ہے۔ وہ جان لیتا ہے کہ اس کے ساتھ جو معاملہ پیش آیا ہے ، اس کے اندر یقینا کوئی گہری حکمت موجود ہے۔ وہ چیزوں کو ذاتی نگا ہ سے نہیں دیکھتا، بلکہ تخلیق کی حکمت کے اعتبار سے دیکھتا ہے ۔ اس ربانی طرز فکر کا یہ نتیجہ ہوتا ہے کہ وہ منفی میں مثبت کو دیکھنے والا بن جاتاہے۔ وہ اپنے مائنس پوائنٹ میں اپنے پلس پوائنٹ کو دریافت کرلیتا ہے۔ وہ بظاہر ناامیدی میں امید کے پہلو کوجان لیتا ہے۔ وہ موت میں زندگی کا سرمایہ دریافت کرلیتا ہے۔وہ اپنی شعوری بلندی کی بنا پر شکست میں فتح کا راز دریافت کرلیتا ہے۔
چیزوں کو بے آمیز صورت میں دیکھنا
پیغمبر اسلام کی دعاؤں میں سے ایک دعا یہ تھی:اللہم، أرنا الحق حقا وارزقنا اتباعہ، وأرنا الباطل باطلا ووفقنا لاجتنابہ، ولا تجعلہ ملتبسا علینا فنضل، واجعلنا للمتقین إماما (تفسیر ابن کثیر، 1/571)۔ یعنی اے اللہ ہمیں حق کو حق کی صورت میں دکھا، اور اس کے اتباع کی توفیق دے، اور باطل کو باطل کی صورت میں دکھا، اور اس سے بچنے کی توفیق دے، اور اس کو ہمارے او پر ملتبس نہ کر کہ ہم گمراہ ہوجائیں، اور ہمیں متقیوں کا امام بنا۔ایک اور دعا ان الفاظ میں آئی ہے: اللہم أرنا الأشیاء کما ہی (تفسیر الرازی، 1/119)۔ یعنی اے اللہ، ہمیں چیزوں کو ویسا ہی دکھا جیسا کہ وہ ہیں۔
ان دونوں دعاؤں کا خلاصہ یہ ہے کہ انسان کے اندر یہ صفت پیدا ہو کہ وہ بے آمیز انداز میں سوچے۔ بے آمیز کا مطلب یہ ہے کہ آدمی ذہنی اعتبار سے اتنا زیادہ ترقی یافتہ ہو کہ وہ حق کو حق کی صورت میں دیکھ سکے، اور باطل کو باطل کی صورت میں دیکھے۔ وہ چیزوں کو ویساہی دیکھے، جیسا کہ وہ فی الواقع ہیں۔
یہ وہی سوچ ہے جس کو موضوعی سوچ (objective thinking) کہاجاتا ہے۔ یعنی اَیز اٹ از تھنکنگ (as it is thinking)۔آدمی کا معاملہ یہ ہے کہ وہ ہمیشہ کسی ماحول میں رہتا ہے۔ ماحول کے اثر سے اس کے اندر مختلف قسم کے جذبات پیدا ہوجاتے ہیں۔ وہ اپنے متاثر ذہن کے تحت چیزوں کے بارے میں رائے قائم کرنے لگتا ہے۔ یہی تمام خرابیوں کی جڑ ہے۔ اسی سے آدمی کے اندریہ کمزوری آجاتی ہے کہ وہ چیزوں کو ان کی حقیقت کے اعتبار سے نہیں دیکھ پاتا، بلکہ اپنے متاثر ذہن کے مطابق ایک خود ساختہ رائے بناتا ہے۔
جس انسان کے اندر ایز اٹ از تھنکنگ (as it is thinking)کی صفت ہو، وہ اس قابل ہوجاتاہے کہ مبنی بر حقیقت سوچے، مبنی بر حقیقت رائے قائم کرے، مبنی بر حقیقت منصوبہ بنائے۔یہ صفت کسی آدمی کو حکیم (man of wisdom) بناتی ہے، اور جو آدمی اس معنی میں حکیم (wise) ہو، وہی وہ انسان ہے جس کو سوپر مین (superman) کہا جاتا ہے۔
نزاع کا طریقہ نہیں
پیغمبر اسلام کو قرآن میں اپنے مشن کے سلسلے میں جو طریقہ بتایا گیا وہ یہ تھا کہ کسی بھی حال میں نزاع کا طریقہ اختیار نہ کرو، بلکہ یک طرفہ دانش مندی کے ذریعہ غیر نزاعی طریقہ اختیار کرو۔ اس سلسلے میں قرآن کی ہدایت ان لفظوں میں دی گئی ہے:لِکُلِّ أُمَّةٍ جَعَلْنَا مَنْسَکًا ہُمْ نَاسِکُوہُ فَلَا یُنَازِعُنَّکَ فِی الْأَمْرِ وَادْعُ إِلَى رَبِّکَ إِنَّکَ لَعَلَى ہُدًى مُسْتَقِیمٍ (22:67)۔ یعنی اور ہم نے ہر امت کے لئے ایک طریقہ مقرر کیا کہ وہ اس کی پیروی کرتے تھے۔ پس وہ اس معاملہ میں تم سے جھگڑا نہ کریں۔ اور تم اپنے رب کی طرف بلاؤ۔ یقیناً تم سیدھے راستہ پر ہو۔
اس کا مطلب یہ ہے کہ لوگ اپنی اپنی کنڈیشننگ (conditioning) کی بنا پر الگ الگ طریقہ اختیار کیے ہوئے ہوتے ہیں۔ تم ان کی کنڈیشننگ کو توڑو۔ اس طرح لوگ اپنی حالت فطری پر قائم ہوجائیں گے، اور یہ ممکن ہوجائے گا کہ اختلاف کے بجائے اتفاق کی بنیاد پر ان سے معاملہ کیا جائے۔
انجام دیکھ کر عمل کرنا
پیغمبر اسلام کا ایک واقعہ حدیث میں ان الفاظ میں آیا ہے: جاء رجل إلى النبی صلى اللہ علیہ وسلم فقال:بارک اللہ للمسلمین فیک، فخصنی منک بخاصة خیر، قال: مستوص أنت؟ أراہ قال:ثلاثا، قال:نعم، قال:اجلس، إذا أردت أمرا فتدبر عاقبتہ، فإن کان خیرا فأمضہ، وإن کان شرا فانتہ(الزھد والرقائق لابن المبارک، حدیث نمبر41)۔ ایک شخص نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، اس نے کہا: آپ کے ذریعہ اللہ مسلمانوں کو برکت دے۔ آپ مجھ کو اپنی طرف سےکسی خاص خیر کی نصیحت کیجیے۔ آپ نے کہا: کیاتم نصیحت چاہتے ہو، آپ نے یہ بات غالباًتین بار کہی، آدمی نے کہا: ہاں، آپ نے کہا: بیٹھ جاؤ، جب تم کوئی کام کرناچاہو، تو تم اس کے نتیجہ پر غور کرو، اگر اس میں خیر ہو تو اس کوکرو، اور اگروہ برا ہے تو اس سے رک جاؤ۔
اس حدیث کا مطلب یہ ہے کہ تم جو کام کرو،خوب سوچ سمجھ کرکر و۔ پہلے اس کے ہر پہلو پر غور کرو۔ بے لاگ انداز میں غور کرکے یہ سمجھو کہ وہ کام تمھارے لیے باعتبار انجام اچھا ہے یا برا۔ صرف جذبات کے تحت کوئی کام شروع نہ کرو، بلکہ اپنے اقدام کے تمام پہلوؤں پر غور و فکر کرنے کے بعد اس کی طرف آگے بڑھو۔ تمھارا ہر کام گہری سوچ کا نتیجہ ہو، نہ کہ محض جذبات کا نتیجہ۔
کام کرنے کے اس طریقے کو منصوبہ بند کام کہا جاتا ہے۔ منصوبہ بند کام کا اصول یہ ہے کہ پہلے سوچنا، اور پھر کرنا۔ جو آدمی کرنے کے بعد سوچے، وہ ایک غیر دانش مند آدمی ہے۔ اور جو آدمی کرنے سے پہلے سوچے، وہ ایک دانش مند آدمی۔
یہی درست اقدام کا دانش مندانہ اصول ہے۔ آدمی اگر ذاتی زندگی گزار رہا ہو تو اس کو زیادہ مسئلہ پیش نہیں آئے گا۔ لیکن جب آدمی کوئی عملی اقدام کرے تو اس کو بہت سے خارجی مسائل پیش آتے ہیں۔ ان خارجی مسائل کا پیشگی اندازہ کرنا، بہت ضروری ہے۔ جو آدمی خارجی مسائل کا پیشگی اندازہ کیے بغیر عملی اقدام کرے، وہ اپنے اقدام سے کچھ پائے گا نہیں۔ بلکہ اپنے نقصان میں صرف اضافہ کرنے کا سبب بنے گا۔
ابتدائی منصوبہ پر نظر ثانی
موجودہ دنیا میں کوئی آدمی پیشگی طور پر بالکل درست منصوبہ نہیں بنا سکتا۔ جب آدمی کسی عمل کو شروع کرتا ہے تو بعد کو ایسے حالات پیش آتے ہیں، جو تقاضا کرتے ہیں کہ اپنے عمل کو نتیجہ خیز بنانے کےلیے اپنے عمل کی ری پلاننگ کی جائے۔ پیغمبر اسلام کے حکیمانہ طریقے کا ایک جز ء یہ بھی تھا۔ آپ ہمیشہ اس کے لیے تیار رہتے تھے کہ اگر ابتدائی منصوبہ میں کوئی کمی نظر آئے تو دوبارہ زیادہ قابل عمل انداز میں نیا منصوبہ بنایا جائے۔
اس کی ایک مثال یہ ہےکہ پیغمبر اسلام نے مکہ میں 610 عیسوی میں اپنا مشن شروع کیا۔ اس وقت کے مکہ میں آپ کے مشن کے لیے موافق ماحول موجود نہ تھا۔ چناں چہ وہاں کے لوگوں کی اکثریت آپ کے خلاف ہوگئی۔آپ کے راستے میں طرح طرح کی رکاوٹیں ڈالنے لگے۔ اس وقت آپ نے اپنے دو ساتھیوں کو مدینہ بھیجا۔ تاکہ وہ اندازہ کریں کہ کیا مدینہ کے حالات مکہ کے مقابلے میں آپ کے لیے زیادہ موافق ہیں۔ یہ دونوں صاحبان مدینہ جاکر لوگوں کو قرآن پڑھ کر سناتے تھے۔ اس لیے ان کو مقری کہا جاتا تھا۔ مدینہ کے لوگ برعکس طور پر کسی رکاوٹ کے بغیر اسلام قبول کرنے لگے۔ بیعت عقبہ اولیٰ اور بیعت عقبہ ثانیہ کا واقعہ اسی زمانے میں پیش آیا۔
مدینہ کے بارے میں اس مثبت تجربے کے بعدنبوت کے تیرھویں سال آپ نے یہ فیصلہ کیا کہ آپ مکہ چھوڑ کر مدینہ چلے جائیں، اور از سر نو اپنے مشن کا آغاز کریں۔ اسی کا نام ری پلاننگ (replanning) ہے، اور ری پلاننگ پیغمبر اسلام کے طریقۂ کار کا ایک اہم جزء ہے۔
پیغمبر اسلام کا یہ طریقہ نہ تھا کہ اپنے عمل کا کوئی نتیجہ نکلے یا نہ نکلے بدستور اپنے عمل کو جاری رکھیں، اور جو لوگ بے نتیجہ کام میں مارے جائیں، ان کو شہید کا لقب دے کر اس بے نتیجہ کام کو گلوریفائی(glorify) کریں۔ پیغمبر اسلام کی ایک سنت ری پلاننگ ہے۔ پہلا منصوبہ اگر بے نتیجہ ثابت ہو تو اس کے بعد بھی اس منصوبے کو بدستور جاری رکھنا، وہ مکمل طور پر پیغمبر اسلام کی پالیسی کے خلاف تھا۔
تجربہ سے سبق لینا
رسول اللہ کی مکی زندگی کا ایک واقعہ حدیث کی کتابوں میں اس طرح آتا ہے:عن طلحة بن عبید اللہ، قال:مررت مع رسول اللہ صلى اللہ علیہ وسلم فی نخل، فرأى قوما یلقحون النخل، فقال:ما یصنع ہؤلاء؟ قالوا:یأخذون من الذکر فیجعلونہ فی الأنثى، قال:ما أظن ذلک یغنی شیئا، فبلغہم، فترکوہ، فنزلوا عنہا، فبلغ النبی صلى اللہ علیہ وسلم، فقال:إنما ہو الظن، إن کان یغنی شیئا فاصنعوہ، فإنما أنا بشر مثلکم، وإن الظن یخطئ ویصیب، ولکن ما قلت لکم:قال اللہ، فلن أکذب على اللہ (ابن ماجہ، حدیث نمبر 2470) ۔ یعنی طلحہ بن عبیداللہ کہتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک باغ میں سے گزرا۔ وہاں آپ نے دیکھا کہ کچھ لوگ کھجور کو پیوند لگا رہے ہیں، آپ نے پوچھا کہ یہ لوگ کیا کر رہے ہیں ؟ لوگوں نے کہا نر کا گا با لے کر مادہ میں ملاتے ہیں ، آپ نے کہا: میرے خیال سے اس کاکوئی فائدہ نہیں ہوتا۔ لوگوں کو آپ کی یہ بات معلوم ہوئی تو انہوں نے پیوند کاری (pollination) ترک کردی۔لیکن اس بار پھل کم ہوا ،آپ کو جب اس کا علم ہوا تو فرمایا وہ تو میرا خیال تھا ، اگر اس میں کچھ فائدہ ہے تو کرلیا کرو، میں بھی تمہاری مانند انسان ہوں۔اور خیال کبھی غلط ہوتا ہے کبھی صحیح ۔لیکن اگر میں تمہیں کہوں کہ اللہ نے فرمایا ، تو میں ہرگز اللہ پر جھوٹ نہ بولوں گا۔
اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ تجربہ سے سبق سیکھنا بھی دانش مندی کے حصول کا ایک درست ذریعہ ہے۔ تجربہ کوئی غیر متعلق چیز نہیں۔ تجربہ اپنی حقیقت کے اعتبار سے فطرت کے ایک قانون کی دریافت ہے۔ جب انسان کو کوئی نیا مفید طریقہ دریافت ہو تو اس کو چاہیے کہ وہ اسے فطرت کے قانون کا ایک حصہ سمجھے، اور اس کو فوراً اپنے منصوبہ میں شامل کرلے۔ یہی وہ حقیقت ہے جس کو حدیث رسول میں ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے: الکلمة الحکمة ضالة المؤمن، فحیث وجدہا فہو أحق بہا(سنن الترمذی، حدیث نمبر 2687)۔یعنی حکمت کی بات مومن کا گم شدہ مال ہے، وہ اس کو جہاں پائے، تو وہی اس کا زیادہ حق دار ہے۔ تجربہ کے معاملے میں آدمی کو یہ نہیں دیکھنا چاہیے کہ وہ اپنے لوگوں کا تجربہ ہےیا ا غیار کا تجربہ۔ ہر تجربہ فطرت کا ایک قانون ہے۔ تجربہ کے معاملے میں اپنے اور غیر کی کوئی تقسیم نہیں۔
حقیقت پسندانہ مزاج
پیغمبر اسلام نے اپنی امت کو ایک حکمت کی بات ان الفاظ میں بتائی:لا تطرونی، کما أطرت النصارى ابن مریم، فإنما أنا عبدہ، فقولوا عبد اللہ، ورسولہ (صحیح البخاری، حدیث نمبر 3445)۔ یعنی میرابیان بڑھا چڑھا کر نہ کرو، جیسے نصاریٰ نے عیسیٰ ابن مریم کابیان کیا ۔ میں تو صرف اس کا بندہ ہوں ، اس لئے یہی کہا کروکہ میں اللہ کا بندہ اور اس کا رسول ہوں ۔
کسی کا ذکر بڑھا چڑھا کر کرنا، یہ ایک ہلاکت خیز کلچر ہے۔ یہ کلچر پہلے پیغمبر سے شروع ہوتا ہے۔ اس کے بعد وہ ایک عام اسلوب بن جاتا ہے۔ اس سے قوموں میں حقیقت پسندانہ سوچ کا مزاج ختم ہوجاتا ہے۔ لوگوں کی سوچ، لوگوں کی منصوبہ بندی ، ہر چیز غیر حقیقت پسندانہ ہوکر رہ جاتی ہے۔ اس لیے پیغمبر اسلام نے اس کلچر سے اپنی امت کو شدت کے ساتھ روکا۔
یہ کلچر اس طرح آتا ہے کہ لوگ پہلے اپنے پیغمبر کو شہنشاہ کونین، اور سرور دوعالم جیسے مبالغہ آمیز انداز میں ذکر کرتے ہیں۔پھر یہ کلچر عام ہوکر دوسرے مفروضہ بڑوں کے لیے بولاجانے لگتا ہے۔ مثلاً امام، اکابر، شیخ العالم اور قائم الزماں، سید الملت، وغیرہ۔ یہ سب قصیدہ خوانی کی زبان ہے۔ اور قصیدہ خوانی کی زبان ہمیشہ لوگوں کے اندر تخلیقی فکر (creative thinking) کا عمل روک دیتی ہے۔ لوگ اجتہاد کے بجائے تقلید کا طریقہ اختیارکرلیتے ہیں۔ ایسے لوگوں کے اندر ماضی پر فخر اور حال پر قناعت کا مزاج چھا جاتا ہے۔ ایسے لوگ دوبارہ کوئی بڑا کام کرنے کے قابل نہیں رہتے۔ ان کا مزاج وہی بن جاتا ہے جس کو شاعر نے ان الفاظ میں بیان کیا تھا— کیا قدیم شعراء نے پیوند کے برابر کوئی جگہ چھوڑی ہے(ہل غادر الشعراء من متردم)۔
نتیجہ خیز طریقہ
قدیم مکہ میں آپ کے مخالفین کا ظلم بہت زیادہ بڑھ گیا تھا تو آپ کے اصحاب میںاس کے خلاف جوابی عمل کا ذہن پیدا ہوا۔ لیکن اس کے جواب میں پیغمبر نے جو طریقہ اختیار کیا، اس کا اندازہ اس واقعہ سے ہوتا ہے:قال عمر:یا رسول اللہ علام نخفی دیننا ونحن على الحق، ویظہر دینہم وہم على الباطل؟ قال:یا عمر إنا قلیل قد رأیت ما لقینا (السیرۃ النبویۃ لابن کثیر، 1/441)۔ یعنی عمر فاروق نے کہا، اے اللہ کے رسول ہم کیوں اپنے دین کو چھپائیں، حالاں کہ ہم حق پر ہیں، اور وہ اپنے دین کو ظاہر کریں حالاں کہ وہ باطل پر ہیں۔ آپ نے کہا: اے عمر ہم تھوڑے ہیں، اور تم نے دیکھا ہےجو ہمارے ساتھ ہورہا ہے۔
اس معاملےکی اصل یہ ہے کہ پیغمبر اسلام قدیم مکہ میں اپنا مشن اس انداز میں چلارہے تھے، جس کو لوپروفائل میں کام کرناکہا جاتا ہے۔ قدیم مزاج کے تحت عرب کے لوگ اس طریقے سے مانوس نہ تھے۔ وہ اس کو دب کر کام کرنا سمجھتے تھے۔ ان کی سوچ یہ تھی کہ ہم جب حق پر ہیں تو ہم لوگوں سے کیوں دب کر کام کریں۔
اس کے جواب میں پیغمبر اسلام نے کہا کہ ہم تھوڑے ہیں۔ اس کا مطلب یہ تھا کہ کام کرنے کا نتیجہ خیز طریقہ وہ ہے جب کہ اپنی طاقت کے مطابق کام کیا جائے۔ جو ش وخروش کے تحت بڑے بڑے اقدام کرنا، دانش مند آدمی کا طریقہ نہیں۔
ایک دانش مندانہ اصول
پیغمبر اسلام کی وفات 632 عیسوی میں ہوئی۔ آپ کے بعد اسلام کی تاریخ میں خلافت کا دور آیا۔ یہ دور تقریباً 33 سال چلا۔ آخر زمانے میں مسلمانوں میں باہمی قتال شروع ہوگیا۔ اس میں لوگ بڑی تعداد میں مارے گئے۔ اس کے بعد امیر معاویہ کا دور شروع ہوا، جو خلافت پر مبنی نہ تھا،بلکہ خاندانی حکومت (dynasty) کے طریقے پر مبنی تھا۔
خلافت کا طریقہ قرآن کی آیت وَأَمْرُہُمْ شُورَى بَیْنَہُمْ (42:38) کے اصول پر قائم تھا۔ یعنی لوگوں کے مشورے پر صاحب امر کا انتخاب۔ یہ عملا وہی طریقہ تھا جس کو موجودہ زمانے میں جمہوریت (democracy) کہا جاتا ہے۔ امیر معاویہ خود بھی ایک صحابی رسول تھے، اس کے علاوہ اس زمانے میں بڑی تعداد میں اصحاب رسول موجود تھے۔ لیکن تمام صحابہ اس تبدیلی پر راضی ہوگئے۔ صحابہ اور تابعین کے پورے دور میں اس کے خلاف بغاوت (revolt) نہیں ہوئی۔
حکومت کے نظام میں یہ تبدیلی اس وقت ہوئی جب کہ پیغمبر اسلام کے تربیت یافتہ اصحاب اور اصحاب کے تربیت یافتہ تابعین بڑی تعداد میں موجود تھے۔ نظام حکومت میں اس تبدیلی پر کوئی مخالفت نہیں ہوئی۔ مزید یہ کہ دور صحابہ کے بعد جو ادوار آئے، مثلاً محدثین کا دور، فقہاء کا دور، علماء کا دور، ان سب نے اس تبدیلی کو عملا قبول کرلیا۔
یہ تبدیلی پیغمبر اسلام کی تعلیمات سے انحراف کا نتیجہ نہ تھی۔ بلکہ وہ پیغمبر کی تعلیمات کے عین مطابق تھی۔ پیغمبر کی سیرت کے مطالعے سے معلو م ہوتا ہے کہ آپ کے اصولوں میں سے ایک اصول یہ تھا کہ— جب نظری حکمت (theoretical wisdom) قابل عمل نہ ہو تو اس وقت عملی حکمت (practical wisdom) کو اختیار کرلیا جائے۔ کیوں کہ اس طرح کے معاملے میں اصل مطلوب چیز استحکام (stability) ہے ۔ پیغمبر اسلام کے بعد جب لوگوں نے دیکھا کہ خلافت کے تحت سیاسی استحکام (political stability) حاصل نہیں ہوا، جب کہ خاندانی حکومت کے تحت سیاسی استحکام حالات کے اعتبار سے قابل عمل (workable) طریقہ ہے، تو انھوں نے یہ کیا کہ اس معاملے میں پہلے آپشن(first option) کے بجائے دوسرےآپشن (second option) کو اختیار کرلیا۔ اسی دانش مندی کا یہ نتیجہ تھا کہ اسلام کی تاریخ اس کے بعد مستحکم انداز میں بدستور تقریبا ہزار سال تک چلتی رہی۔
جیسا کہ معلوم ہے، بعد کے زمانے میں امت کے علماء نے اس اصول پر اتفاق کرلیا کہ قائم شدہ حکومت کے خلاف خروج کرنا حرام ہے۔ جیسا کہ امام النووی (وفات676:ھ) کے الفاظ ہیں:وأما الخروج علیہم وقتالہم فحرام بإجماع المسلمین وإن کانوا فسقة ظالمین(شرح صحیح مسلم للنوی،12/229)۔ اس مسئلہ میں علمائے امت کا یہ اجماع بلاشبہ نظری حکمت کی بنیاد پر نہ تھا، بلکہ وہ عملی حکمت(practical wisdom) کی بنیاد پر تھا۔
ایک اجتماعی حکمت
حدیث کی کتابوں میں رسول اللہ کے زمانے کا ایک واقعہ نقل کیا جاتا ہے۔ صحیح البخاری کے الفاظ یہ ہیں:أن أعرابیا بال فی المسجد، فثار إلیہ الناس لیقعوا بہ، فقال لہم رسول اللہ صلى اللہ علیہ وسلم:دعوہ، وأہریقوا على بولہ ذنوبا من ماء، أو سجلا من ماء، فإنما بعثتم میسرین ولم تبعثوا معسرین (صحیح البخاری، حدیث نمبر 6128)۔ یعنی ایک دیہاتی نے مدینہ کی مسجد میں پیشاب کر دیا ، لوگ اس کی طرف غصہ ہو کراس کوپکڑنے کے لیے بڑھے ، لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا: اسے چھوڑ دو اور جہاں اس نے پیشاب کیا ہے اس جگہ پر پانی بھرا ہوا ایک ڈول بہادو ، کیونکہ تم آسانی کرنے والے بنا کر بھیجے گئے ہو ، تنگی کرنے والے بنا کر نہیں بھیجے گئے ۔
اس واقعہ سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ اجتماعی معاملہ میں پیغمبر اسلام کا اصول کیا تھا۔ وہ اصول رعایت پر مبنی تھا۔ یعنی لوگوں کے ساتھ سخت گیری کا معاملہ نہ کرنا۔ بلکہ نرمی اور رعایت کا معاملہ کرنا۔ مزید اس واقعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ اجتماعی زندگی میں اگر کوئی ناخوش گوار واقعہ پیش آئے تواس کو وہیں کا وہیں ختم کردیا جائے، اس کو مزید بڑھنے کا موقع نہ دیا جائے۔ اس طرح کے واقعے میں ایسا ہوتا ہے کہ ابتدائی غلطی ہمیشہ ایک چھوٹی غلطی ہوتی ہے، لیکن اگر اس واقعے پر شدید رد عمل ظاہر کیا جائے تو ایک چھوٹا واقعہ بڑھ کر ایک بڑا واقعہ بن جائے گا۔ حتی کہ ایسا بھی ہوسکتا ہے کہ ایک چھوٹا واقعہ بڑھتے بڑھتے بڑے فساد کی صورت اختیار کرلے۔ اجتماعی معاملات میں اسلام کا طریقہ تیسیر کا طریقہ ہے، نہ کہ تعسیر کا طریقہ۔
پیغمبر اسلام، پیغمبر حکمت
قرآن میں پیغمبر اسلام کے بارے میں متعدد آیتوں میں یہ بات کہی گئی ہے کہ آپ کا ایک کام یہ تھا کہ آپ انسان کو خدا کی کتاب پہنچائیں۔ آپ کا دوسرا کام یہ تھا کہ آپ لوگوں کو حکمت کی تعلیم دیں۔ یہ دونوں کام ایک دوسرے سے الگ بھی تھے، اور ایک دوسرے سے متعلق بھی۔
حکمت کا لفظی مطلب ہے وزڈم (wisdom)۔ زندگی کے معاملات کو درست طور پر انجام دینے کے لیے سب سے زیادہ اہمیت جس چیز کی ہے، وہ وزڈم ہے۔ وزڈم ہو تو آدمی اس قابل ہوتا ہےکہ وہ درست منصوبہ بنائے، اور وزڈم نہ ہو تو وہ غلط منصوبہ بنائے گا، جو مسئلہ کو بڑھانے والا ہوگا، نہ کہ مسئلہ کو حل کرنے والا۔
انسان اپنی کمزوری کی وجہ سے اکثر حالات کا شکار ہوجاتا ہے۔ وہ متاثر ذہن سے سوچنے کی بنا پر صحیح فیصلہ نہیں لے پاتا۔ جہاں انتظار کی پالیسی اختیار کرنی چاہیے، وہاں وہ جلد بازی کا طریقہ اختیار کرتا ہے۔ جہاں پر امن تدبیر کے ذریعہ مسئلہ حل کرنا چاہیے، وہاں وہ تشدد کا طریقہ اختیار کرلیتا ہے۔ جہاں رد عمل (reaction) سے بچ کر اپنا منصوبہ بنانا چاہیے، وہاں وہ ردعمل (reaction) کا شکار ہوکر ایسا منصوبہ بناتا ہے جو مسائل میں صرف اضافے کا سبب بن جاتا ہے۔
اس طرح کے مواقع پر ضرورت ہوتی ہے کہ آدمی کے پاس دانش مندی کا اصول ہو۔ اس کے پاس ایک ایسا رہنما اصول ہو، جو اس کو ہر موقع پر درست راستے کی طرف رہنمائی کرتا رہے۔ اسی کا نام حکمت (wisdom) ہے، اور اسی حکمت کے اصول کو بتانا ، پیغمبر کا سب سے زیادہ اہم کام ہے۔
فرشتے کی حمایت
ایک حدیث رسول ان الفاظ میں آئی ہے:بینما رسول اللہ صلى اللہ علیہ وسلم جالس ومعہ أصحابہ وقع رجل بأبی بکر، فآذاہ، فصمت عنہ أبو بکر ثم آذاہ الثانیة، فصمت عنہ أبو بکر، ثم آذاہ الثالثة، فانتصر منہ أبو بکر، فقام رسول اللہ حین انتصر أبو بکر، فقال أبو بکر:أوجدت علی یا رسول اللہ؟ فقال رسول اللہ صلى اللہ علیہ وسلم:نزل ملک من السماء یکذبہ بما قال لک، فلما انتصرت وقع الشیطان، فلم أکن لأجلس إذ وقع الشیطان (سنن ابو داؤد، حدیث نمبر 4896)۔یعنی رسول اللہ ایک باراپنےاصحاب کےساتھ تھے کہ ایک شخص نے ابوبکر صدیق کو برا بھلا کہا اور ان کو تکلیف پہنچائی، ابوبکر صدیق خاموش رہے، اس نے پھر دوسری بار ابوبکر صدیق کو اسی طرح تکلیف دی ، ابو بکر صدیق پھربھی ان کے با رے میں خاموش رہے ،اس نے تیسری بار بھی تکلیف پہنچائی تو ابوبکر صدیق نے اسے جواب میں کچھ کہہ دیا۔ ابوبکر صدیق نے جواب دیا تو رسول اللہ اٹھ کھڑے ہوئے ۔ یہ دیکھ کر ابوبکر صدیق نے کہا یا رسول اللہ ، کیا آپ مجھ پر ناراض ہیں ؟ رسول اللہ نے کہا کہ آسمان سے ایک فرشتہ نازل ہوا وہ اس تکلیف پہنچانے والی کی تکذیب کرتا رہا، لیکن جب تم نے اسے جواب دے دیا تو شیطان آگیا ، اور جب شیطان آجائے تو میں بیٹھنے والا نہیں ۔
اس حدیث میں بظاہر ایک فرد کا واقعہ بیان ہوا ہے۔ لیکن اپنی حقیقت کے اعتبار سے وہ ایک عام واقعہ ہے۔ اس کا تعلق انفرادی معاملات سے بھی ہے، اور اجتماعی معاملات سے بھی۔ یہ فطرت کا ایک قانون ہے کہ جب کوئی شخص مظلوم ہو، اور اپنی طرف سے کوئی کارروائی نہ کرے تو فرشتہ اس کی طرف سے کارروائی کرنے کے لیے آجاتا ہے۔ لیکن اس کے برعکس، جب انسان اپنے معاملے کو خود اپنا معاملہ بنا کر جوابی کارروائی کرنا شرو ع کردے تو وہ اکیلا ہوجاتا ہے۔ جس آدمی کاساتھی فرشتہ ہو، وہ بلاشبہ سب سے زیادہ طاقت ور انسان ہے، اور جو آدمی اپنے معاملے کو خود اپنے ہاتھ میں لے لے تو اس وقت وہ ایک عام انسان بن جاتا ہے۔ اس کے بعد کچھ نہیں معلوم کہ وہ جیتے گا، یا فریق ثانی کے مقابلے میں ہار جائے گا۔ ایسی حالت میں وزڈم کیا ہے۔ وہ یہی ہے کہ آدمی خود کو طاقتور بنائے، کمزور نہ بنائے۔
سب سے زیادہ کامیاب طریقہ
پیغمبر اسلام کو قرآن میں جو حکمت کی باتیں بتائی گئی ہیں، ان میں سے ایک حکمت وہ ہے جو پیغمبر یوسف کے حوالے سے قرآن میں آئی ہے۔ پیغمبر یوسف کنعان میں پیدا ہوئے، جو اب الخلیل کے نام سے جانا جاتا ہے۔ ان کا زمانہ بقول اغلب 1910 تا 1800 ق م کا ہے۔ ان کے ساتھ کچھ خاندانی اسباب پیدا ہوئے، اور وہ فلسطین سے نکل کر مصر پہنچ گئے۔اس زمانے کا مصر کا بادشاہ ان سے متاثر ہوا، اور اس نے آپ کو اپنی سلطنت میں پورے ملک کی زراعت کا انچارج بنا دیا۔
پیغمبر یوسف ایک گاؤں سے نکل کر مصر پہنچے تھے۔ ان کو یہ غیر معمولی کامیابی کیسے حاصل ہوئی۔ اس کا راز یہ تھا کہ انھوں نے اس وقت کے بادشاہ مصر سے ٹکراؤ نہیں کیا، بلکہ ایسا طریقہ اختیار کیا ، جس کو پولیٹکل ایڈجسٹمنٹ کہا جاسکتا ہے۔ وہ پولیٹکل ایڈجسٹمنٹ یہ تھا کہ پیغمبر یوسف اِس پر راضی ہوگئے کہ حکومت کے تخت پر بادشاہ بدستور قائم رہے، لیکن ملک کے خزائن (زرعی نظام) پیغمبر یوسف کے ہاتھ میں ہو۔
یہ قصہ قرآن اور بائبل ، دونوں میں آیا ہے۔ بائبل (پیدائش، 41:40)میں اس کا ذکر ان الفاظ میں ہے: سو تو میرے گھر کا مختار ہوگا، اور میری ساری رعایا تیرے حکم پر چلے گی۔ فقط تخت کا مالک ہونے کے سبب سے میں بزرگ تر ہوں گا:
Only as regards the throne will I be greater than you. (Genesis 41:40)
پیغمبر یوسف کے قصے کو قرآن میں احسن القصص یعنی بہترین طریق کار(best method) قرار دیا گیا ہے۔ یہ بہترین طریق کار کیا تھا، جس نے پیغمبر یوسف کو قدیم مصر میں اعلیٰ مواقع عطا کردیے۔ وہ طریق کار ایک لفظ میں یہ تھا— سیاسی اقتدار کے ساتھ پولیٹکل اپوزیشن کے بجائے پولیٹکل ایڈجسٹمنٹ کا طریقہ اختیار کرنا۔ یہ طریقہ جو پیغمبر یوسف نے اختیار کیا، وہ قدیم زمانے میں بھی سب سے زیادہ کامیاب طریقہ تھا، اور موجودہ زمانے میں بھی وہ سب سے زیادہ کامیاب طریقہ ہے۔
دانش مندانہ پالیسی
پیغمبر اسلام نے ایک حکیمانہ نصیحت ان الفاظ میں کی ہے:لا ینبغی للمؤمن أن یذل نفسہ، قالوا:وکیف یذل نفسہ؟ قال:یتعرض من البلاء لما لا یطیق(سنن الترمذی، حدیث نمبر 2254)۔ یعنی کسی مومن کے لئے یہ جائز نہیں کہ و ہ اپنے آپ کو ذلیل کرے۔صحابہ نے پوچھا: کوئی شخص اپنے آپ کو کس طرح ذلیل کرتا ہے۔ آپ نے کہا:ایسے امرِ مشکل کا وہ سامنا کرے جس سے نمٹنے کی اس میں طاقت نہ ہو۔
زندگی میں ایسے مواقع پیش آتے ہیں، جب کہ آدمی کا سامنا ایسی صورت حال کے ساتھ ہوتا، جس کے بارے میں پیشگی طور پر یہ معلوم رہتا ہے کہ اگر اس کا سامنا کیا گیا تو اس کا نتیجہ یک طرفہ طور پر آدمی کی اپنی تباہی کی صورت میں ہوگا۔ اس طرح کا ٹکراؤ جو یک طرفہ طور پر آدمی کی ناکامی کا سبب بنے، وہ پیغمبر اسلام کے طریق کا ر کے عین خلاف ہے۔ پیغمبر اسلام کا طریق کا ر یہ ہے کہ آدمی غیرنزاعی انداز (non-confrontational method) اختیار کرتے ہوئے اپنا مقصد حاصل کرنے کی کوشش کرے۔ نزاعی طریقہ (confrontational method) کو اختیار کرنا پیغمبر اسلام کی سنت کے سراسر خلاف ہے۔ غیر نزاعی طریق کار آدمی کے لیے ہمیشہ نتیجہ خیز ثابت ہوتا ہے۔ اس کے برعکس، نزاعی طریق کار ہمیشہ آدمی کے لیے برعکس نتیجہ (counter productive) ثابت ہوتا ہے۔
معاملات کو خدا کی روشنی میں دیکھنا
پیغمبر اسلام کی ایک حدیث ان الفاظ میں آئی ہے: اتقوا فراسة المؤمن فإنہ ینظر بنور اللہ (سنن الترمذی، حدیث نمبر 3127)۔ یعنی مومن کی فراست سے بچو، وہ اللہ کی روشنی میں دیکھتا ہے۔ مومن وہ انسان ہے ، جس کی اعلیٰ دریافت اس کو کٹ ٹو سائز (cut to size) بنا دے۔ ایسا آدمی ایک متواضع انسان (modest person) ہوتا ہے۔ اس کا طریق فکر اس کو آخری حد تک حقیقت پسند انسان بنا دیتا ہے۔ ایسا انسان چیزوں کو ایز اٹ از (as it is) دیکھنے لگتا ہے۔ وہ حالات میں گھر کر نہیں سوچتا ہے، بلکہ وہ حالات سے اوپر اٹھ کر سوچتا ہے۔ وہ منفی سوچ (negative thinking) سے پوری طرح پاک ہوتا ہے۔ وہ احساس برتری کا شکار نہیں ہوتا۔ اس کی یہ صفات اس کو اس قابل بنادیتی ہیں کہ وہ اعلیٰ حکمت کے تحت سوچے اور اعلیٰ حکمت کے تحت فیصلہ کرے۔ مومن کی یہ صفات اس کو ناقابل تسخیر بنا دیتی ہے۔ وہ وہی کرتا ہے جو کرنا چاہیے، اور اس بات سے بچتا ہے، جس سے اسےبچنا چاہیے۔ اس بنا پر اس کا منصوبہ ہمیشہ حقیقت پسندانہ منصوبہ ہوتا ہے۔ مومن کی یہ صفات اس کو اس قابل بنا دیتی ہے کہ اس کا منصوبہ ہمیشہ کامیاب رہے۔ وہ کبھی خود پیدا کردہ ذلت کا شکار نہ ہو۔
چپ رہنا بھی کام ہے
پیغمبر اسلام نے اپنی امت کو ایک حکیمانہ نصیحت ان الفاظ میں بتائی ہے:إذا قلت لصاحبک یوم الجمعة:أنصت، والإمام یخطب، فقد لغوت (صحیح البخاری، حدیث نمبر 934)۔ یعنی جب امام جمعہ کا خطبہ دے رہا ہو اور تم اپنے پاس بیٹھے ہوئے آدمی سے کہو: چپ رہ، تو تم نے ایک لغو کام کیا ۔
اگر مسجد کا امام جمعہ کا خطبہ دے رہا ہے، اور اس وقت کوئی شخص بول پڑے تو سننے والے کو اشارے سے اس کو چپ کرانا چاہیے۔ اگر وہ خود بھی بول کر اس کو چپ کرائے تو یہ ایک لغو (nonsense)کام ہوگا۔ کیوں کہ پہلے صرف ایک آدمی بولنے والا تھا، اب بولنے والے دو ہوگئے۔ گویا مسئلہ میں اضافہ ہوگیا۔ اس قسم کا طریقہ بلاشبہ ایک لغو طریقہ ہے۔
اس حکمت کا تعلق صرف مسجد کی نماز سے نہیں ہے، بلکہ اس کا تعلق پوری زندگی سے ہے۔ اجتماعی زندگی میں بار بار ایسا ہوتا ہے کہ کسی معاملے میں دخل دینا، معاملےکواور زیادہ بگاڑنے کا سبب بن جاتا ہے۔ ایسے موقعوں پر دانش مندی یہ ہے کہ آدمی خاموشی کا طریقہ اختیار کرے، وہ ہر گز دخل اندازی کرکے معاملےکو زیادہ پیچیدہ نہ بنائے۔یہ ایک دانش مندی کی بات ہے کہ آدمی یہ جانے کہ کب اسے عمل کرنا ہے ، اور کب عمل نہیں کرنا ہے۔
آدمی کو چاہیے کہ وہ کسی معاملے میں انجام کو سوچے۔ وہ جانے کہ کب بولنا ہے، اور کب چپ رہنا ہے۔ کب آگے بڑھنا ہے، اور کب پیچھے ہٹ جانا ہے۔ کب اقدام کرنا ہے، اور کب اقدام سے آخری حد تک اپنے آپ کو بچانا ہے۔ کب جیتنےکی کوشش کرنا ہے، اور کب اپنی ہار مان لینا ہے۔ جو لوگ اس دانش مندی کے حامل ہوں، وہی اس دنیا میں کامیابی حاصل کرتے ہیں، اور جو لوگ اس دانش مندی سے بے خبر ہوں، ان کا انجام صرف یہ ہوتا ہے کہ وہ سوچے سمجھے بغیر کسی معاملے میں کود پڑیں، اور اس کے بعد جب فطری قانون کے تحت وہ بربادی سے دوچار ہوں تو دوسروں کے ظلم کے خلاف کبھی ختم نہ ہونے والی شکایت کا دفتر کھول دیں۔
انتظار کی حکمت
زندگی کی ایک حکمت پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے ان الفاظ میں بتائی ہے:أفضل العبادة انتظار الفرج (سنن الترمذی، حدیث نمبر 3571)۔ یعنی کشادگی کا انتظار کرنا، ایک افضل عبادت ہے۔ انسان جب کوئی کام کرتا ہے، تو اس میں ایک فیصد حصہ اس کی اپنی کوشش کا ہوتا ہے، اور ننانوے فیصد حصہ فطرت کے قانون (law of nature) کا۔ فطرت کا قانون خالق کا مقرر کردہ ہے، وہ اپنی رفتار سے چلتا ہے۔ ایسی حالت میں اگر انسان جلدی نہ کرے، اور انتظار کی پالیسی اختیار کرے تو گویا کہ وہ فطرت کے عمل (process) کی تکمیل کا انتظار کر رہا ہے۔ اس بنا پر اس کا انتظار ایک عبادت بن جاتا ہے۔ اس قسم کی عبادت ایک اعلیٰ درجے کی حکمت (wisdom)ہے۔
ایک مسیحی پادری اپنے گھر کے سامنے ایک ہرا بھرا درخت دیکھنا چاہتا تھا۔ انھوں نے یہ منصوبہ بنا یا کہ وہ ایک ہرا بھرا درخت لائیں ، اور اپنےگھر کے سامنے اس کو لگادیں۔ انھوں نے کچھ مزدوروں کی مدد سے ایسا ہی کیا۔ لیکن اگلی صبح کو جب وہ اٹھے تو درخت کے پتے مرجھا چکے تھے۔ چند دن کے بعد درخت پوری طرح سوکھ گیا۔ اس وقت ان کے ایک دوست ان سے ملنے کے لیے آئے۔ انھوں نے دیکھا کہ اس کا پادری دوست بہت زیادہ غمگین ہے۔ دوست نے اس کا سبب پوچھا۔ پادری نے کہا، میں جلدی میں ہوں، مگر خدا جلدی نہیں چاہتا:
I am in hurry, but God isn't
اس کا مطلب یہ تھا کہ خدا کے قانون کے مطابق، اپنے گھر کے سامنے ایک ہرا بھرا درخت دیکھنے کے لیے مجھے دس سال کا انتظار کرنا پڑے گا۔ اگر میں چاہوں کہ ایک دن کے اندر میرے گھر کے سامنے ہرا بھرا درخت کھڑا ہوجائے تو ایسا ہونا فطرت کے قانون کے مطابق ممکن نہیں ۔
آدمی کو چاہیے کہ جب وہ کوئی منصوبہ بنائے تو اپنی خواہش کی بنیاد پر منصوبہ نہ بنائے، بلکہ غور کرکے یہ سمجھے کہ فطرت کے قانون کے مطابق منصوبے کی تکمیل کے لیے کتنی مدت درکار ہے، اور اس مدت کو اپنے پروگرام کا جزء قرار دے۔ یہی اس دنیا میں دانش مندی کا اصول ہے۔
ٹکراؤ کے بغیر کامیابی
پیغمبر اسلام نے زندگی کی ایک حکمت کو ان الفاظ میں بتایا ہے: نصرت بالرعب على العدو (صحیح مسلم، حدیث نمبر 523)۔ یعنی مجھے رعب کے ذریعہ دشمن پر مدد دی گئی ہے۔ یہ پیغمبر کی فضیلت کی بات نہیں ہے، بلکہ فطرت کے قانون کے مطابق یہ اعلیٰ تدبیر کی بات ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ رد عمل (reaction) کے بجائے مثبت انداز میں اپنے عمل کا منصوبہ بناؤ۔ اس میں بتایا گیا ہے کہ اگر تمھیں کسی کی طرف سے عداوت کا سامنا ہو تو عداوت کے مقابلے میں جوابی عداوت کا طریقہ اختیار نہ کرو، بلکہ عداوت کے جواب میں پر امن تدبیر کا طریقہ اختیار کرو۔ پر امن تدبیر تم کو اس قابل بنائے گی کہ تم کسی ٹکراؤ کے بغیر صرف پر امن تدبیر سے کامیابی حاصل کرلو۔
یہ فطرت کا ایک قانون ہے۔ یہ حسن تدبیر کی اثر انگیزی کا معاملہ ہے، نہ کہ کسی پر اسرار فضلیت کا معاملہ۔ اس حقیقت کو قرآن میں ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے: وَلَا تَسْتَوِی الْحَسَنَةُ وَلَا السَّیِّئَةُ ادْفَعْ بِالَّتِی ہِیَ أَحْسَنُ فَإِذَا الَّذِی بَیْنَکَ وَبَیْنَہُ عَدَاوَةٌ کَأَنَّہُ وَلِیٌّ حَمِیمٌ (41:34)۔ یعنی بھلائی اور برائی برابر نہیں، تم دور کرو اس سے جو بہتر ہو، تو تم دیکھو گے کہ تمھارے اور جن کے درمیان دشمنی ہے وہ گویا قریبی دوست بن گیا۔
چھوٹی برائی پر راضی ہونا
پیغمبر اسلام کے معاصر اہل ایمان کو اصحاب رسول کہا جاتا ہے۔یہ اصحاب رسول مسلسل طور پر پیغمبر اسلام کے زیر تربیت تھے۔اصحاب رسول نے کچھ باتوں کو پیغمبر اسلام کی طرف منسوب کرکے ان کو قول رسول کے طور پر بیان کیا ہے، ان کو حدیث کہا جاتا ہے۔ اس کے سوا بہت سی باتیں ایسی ہیں، جن کو اصحاب رسول نے رسول کا حوالہ دیے بغیر اپنے طور پر بیان کی ہیں۔ اس قسم کی باتوں کو اَثر کہا جاتا ہے۔ سمجھا جاتا ہے کہ یہ باتیں بھی پیغمبر اسلام کی تعلیم کردہ باتیں ہیں۔ اگر چہ کتابوں میں وہ اَثارِ صحابہ کے طور پر نقل ہوئی ہیں۔
انھیں میں سے ایک وزڈم کی بات وہ ہے جو صحابی رسول حبیب بن خماشة کے حوالے سے حدیث کی کتابوں میں آئی ہے۔ اس اثر کے الفاظ یہ ہیں: من لا یرضى بالقلیل مما یأتی بہ السفیہ یرضى بالکثیر (المعجم الاوسط للطبرانی، اثر نمبر2258)۔ یعنی جو شخص نادان کے چھوٹے شر پر راضی نہ ہوگا، اس کو نادان کے بڑے شر پر راضی ہونا پڑے گا۔
یہ ایک دانشمندانہ اصول ہے۔زندگی میں کامیابی کے لیے یہ بے حد ضروری اصول ہے۔ اصل یہ ہے کہ خالق نے ہر انسان کو مکمل آزادی دی ہے۔ یہ آزادی براہ راست طور پر خالق کا ایک عطیہ ہے۔ کوئی بھی شخص اس آزادی کو انسان سے چھین نہیں سکتا۔ یہ آزادی برائے امتحان ہے۔ اللہ رب العالمین کو دیکھنا ہے کہ کون شخص اپنی ملی ہوئی آزادی کا صحیح استعمال کرتا ہے ، اور کون شخص اپنی آزادی کاغلط استعمال کرتا ہے۔اسی صحیح استعمال یا غلط استعمال پر انسان کے ابدی انجام کا فیصلہ ہونے والا ہے۔ یہ آزادی خالق کے تخلیقی منصوبہ کا ایک حصہ ہے، اور جو چیز تخلیقی منصوبہ کا حصہ ہو اس کو ختم کرنا کسی بھی شخص کے لیے ممکن نہیں۔
ایسی حالت میں انسان کے لیے صرف دو میں سےایک کا انتخاب (option) ہے۔ یا تو وہ دوسرے انسانوں کی آزادی کو روکنے کے لیے ہمیشہ ان سے لڑتا رہے ، اور کبھی کامیاب نہ ہوسکے ۔ دوسرا آپشن یہ ہے کہ آدمی اپنی عقل کو استعمال کرتے ہوئے آرٹ آف مینجمنٹ (art of management) کو سیکھے۔ وہ دوسروں کی ناپسندیدہ روش کو مینج کرتے ہوئے اپنا راستہ بنائے۔ یعنی وہی طریقہ جس کوشارع عام (public road) پر چلتے ہوئے ہر آدمی اختیار کرتا ہے، اورکامیابی کے ساتھ اپنی منزل تک پہنچتا ہے۔
اس اصول کواستعمال کرنے کی صورت میں کبھی کبھی ایسا بھی ہوگا کہ ایک آدمی کو دوسرے آدمی کی آزادی سے کچھ نقصان پہنچے گا۔ دانش مند آدمی کو چاہیے کہ وہ ایسے نقصان کو نظر انداز کرے۔اگر وہ ایسا کرے کہ اس قسم کے نقصان کو برداشت کرنے کے بجائے، اس پر لڑائی شروع کردے تو ایسا ٹکراؤ صرف اس کے نقصان میں اضافہ کرے گا۔ اس لیے دانش مندی کا اصول یہ ہے کہ کم نقصان پر راضی ہوجاؤ، تاکہ اپنے آپ کو بڑے نقصان سے بچا سکو۔
یہ اصول ایک عام اصول ہے۔ خاندانی زندگی میں بھی، سماجی زندگی میں بھی، اور قومی زندگی میں بھی۔ عقل مند آدمی کو چاہیے کہ وہ ایسے نقصان کو تجربہ (experience) کے خانے میں ڈال دے۔ وہ ایسے نقصان سے سبق سیکھے۔ وہ ایسے نقصان سے اپنے لیے بہتر منصوبہ بندی (planning)کا راز دریافت کرے۔
عقل مند کی پہچان
عمرو بن العاص پیغمبر اسلام کے ایک صحابی تھے۔ ان کا ایک قول کتابوں میں اس طرح نقل کیا گیا ہے:لیس العاقل الذی یعرف الخیر من الشر، ولکن العاقل الذی یعرف خیر الشرین (المجالسۃ و جواہر العلم، اثر نمبر670)۔ یعنی دانش مند آدمی وہ نہیں ہے، جو خیر اور شر کو جانے۔ لیکن دانش مند آدمی وہ ہے جو یہ جانے کہ دو شر میں سے بہتر کون سا ہے۔
صحابی رسول کا یہ قول زندگی کی ایک اہم حقیقت کو بتا تاہے۔ وہ یہ کہ زندگی میں انتخاب (option) خیر اور شر کے درمیان نہیں ہے، بلکہ یہ ہے کہ آدمی یہ جانے کہ کسی صورتِ حال میں اس کے لیے کمتر درجہ کی برائی (lesser evil) کیا ہے۔ مثلا سڑک پر آپ کی کسی سے ٹکر ہوگئی تو یہ کمتر درجہ کا مسئلہ ہے۔ لیکن ایسا ہونے پر اگر آپ کو غصہ آجائے، اور آپ لڑ نا شروع کردیں تو اس کے بعد دونوں کے درمیان لڑائی شروع ہوجائے گی۔ اور اس کا انجام یہ ہوگا کہ اس کے بعد آپ یا تو اسپتال میں ہوں گے یا قبرستان میں ۔ پہلے اگر آپ کا کپڑا پھٹ گیا تھا تو اب آپ کو ٹوٹے ہوئے ہاتھ پاؤںکا سامنا کرنا پڑے گا۔ پہلے اگر سڑک پر مسئلہ ختم ہو گیا ہوتاتو اب مسئلہ کورٹ میں جائےگا، اور سالوں تک کے لیے آپ کا سکون برہم ہوجائے گا۔
ایسا اس لیے ہے کہ دنیا میں ہر شخص اپنے قول و فعل کے لیے آزاد ہے۔ آپ کسی کے قول و فعل پر پابندی نہیں لگا سکتے۔ آپ اعراض کے اصول کو اختیار کرتے ہوئے دوسروں کی منفی کارروائی کے انجام سے خود کو بچاسکتے ہیں۔ اور اگر آپ اعراض کے اصول کو اختیار نہ کریں تو آپ کو ایسے انجام کا سامنا کرنا پڑے گا جس کی کوئی حد نہ ہوگی۔ اس دنیا میں عافیت کا اصول صبر ہے۔ صبر کے سوا جو طریقہ اختیارکیا جائے ،وہ مسئلہ کو صرف بڑھائے گا، وہ مسئلہ کو ختم کرنے والا نہیں۔
٭ ٭٭٭ ٭
موجودہ دنیا میں آدمی کے پاس بہت تھوڑا وقت ہے، اور اسی طرح بہت تھوڑے وسائل۔ ایسی حالت میں یہ ہر شخص کی لازمی ضرورت ہے کہ وہ اپنے وقت اور اپنے وسائل کو منظم انداز میں استعمال کرنا جانے۔ جو آدمی ایسا نہیں کرے گا اس کو آخر میں حسرت کے سوا اور کچھ نہیں ملے گا۔
مستقبل کی پلاننگ
مستقبل کی پلاننگ کے لیے پیشگی گائڈ لائن
پیغمبر اسلام کا ظہور ساتویں صدی عیسوی کے نصف اول میں ہوا۔ آپ خاتم النبیین (Final Prophet) ہیں، آپ کی نبوت کی عمر 23سال تھی۔ لیکن اللہ کی توفیق سےآپ نے امت محمدی کو پیشگی طور پر ایسی گائڈ لائن بتادی جو انسانی تاریخ کے آخری دور تک کو کور (cover) کرنے والی تھیں۔
پیغمبر اسلام نے امت محمدی کو جو گائڈ لائن دی، اس کا ایک حصہ ایسا تھا جو ہر زمانے کےلیے قابل تطبیق (applicable) تھا۔ یہ حصہ فقہ کی صورت میں مدون ہوگیا۔ مگر اسی کے ساتھ دوسرا حصہ وہ تھا جو مستقبل کے اعتبار سے تھا۔ اس حصہ میں پیغمبر اسلام نے معاصر زبان میں مستقبل کی باتیں کہیں۔ دوسرے لفظوں میں روایتی دور میں وہ باتیں کہیں جو بعد کو سائنٹفک ایج میں رہنما بننے والی تھیں۔ اس دوسرے حصہ کو سمجھنے کے لیے صرف قرآن و حدیث کا روایتی علم کافی نہیں۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ آدمی کو دور مابعد، دوسرے الفاظ میں سائنٹفک ایج (scientific age) کا گہرا فہم (deep understanding) حاصل ہو، دین کی صرف روایتی معرفت اس کے لیے کافی نہیں۔اس حیثیت سے یہاں موضوع کا ایک مختصر جائزہ پیش کیا جاتا ہے۔
اس پہلو سے غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ قرآن و سنت میں پہلی نوعیت کی باتیں حکم کی زبان میں ہیں۔ جب کہ دوسری نوعیت کی باتیں خبر کی زبان میں آئی ہیں۔ یہ فرق گویا ایک سراغ (clue) ہے جو زیر نظر پہلو کا مطالعہ کرنے میں مددگار ہوتا ہے۔
1 - مثلاً قرآن کی آیتوں میں سے ایک آیت یہ ہے:تَبَارَکَ الَّذِی نَزَّلَ الْفُرْقَانَ عَلَى عَبْدِہِ لِیَکُونَ لِلْعَالَمِینَ نَذِیرًا (25:1)۔ یعنی بڑی بابرکت ہے وہ ذات جس نے اپنے بندے پر فرقان اتارا تاکہ وہ جہان والوں کے لئے ڈرانے والا ہو۔
یہاں خبر کے اسلوب میں یہ کہا گیا ہے کہ قرآن عالمین (تمام اقوام عالم) کے لیے نذیر (warning) ہے۔ یہاں غور طلب ہے کہ ساتویں صدی عیسوی کے نصف اول میں وہ اسباب موجود ہی نہ تھے، جن کو استعمال کرکے تمام اقوام عالم تک قرآن پہنچایا جائے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ قرآن کی اس آیت کا متضمن مفہوم(implied meaning) یہ ہے کہ مستقبل میں ایک ایسازمانہ آئے گا، جب کہ مختلف زبانوں میں قرآن کے ترجمے تیارکرکے ان کو تمام قوموں تک ان کی قابل فہم زبانوں میں پہنچانا ممکن ہو جائے گا۔ اس وقت امت محمدی کے لیے ضروری ہوگا کہ وہ اس کا منصوبہ بنائے، اور اس کو اس کے تمام تقاضوں کے تحت انجام دے۔ ان الفاظ میں واضح طور پر اس دور کی طرف اشارہ ہے جب کہ دنیا میں پرنٹنگ پریس، اور کمیونی کیشن آچکا ہوگا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جب یہ دور آجائے تب امت محمدی پر اس دور کا استعمال برائے دعوت اسی طرح فرض ہوجائے گا جس طرح نماز اور روزہ ابدی طور پر فرض ہے۔
2 - قرآن میں اس نوعیت کی ایک اور آیت ان الفاظ میں آئی ہے: سَنُرِیہِمْ آیَاتِنَا فِی الْآفَاقِ وَفِی أَنْفُسِہِمْ حَتَّى یَتَبَیَّنَ لَہُمْ أَنَّہُ الْحَقُّ (41:53)۔یعنی آئندہ ہم ان کو اپنی نشانیاں دکھائیں گے، آفاق میں بھی اور انفس میں۔ یہاں تک کہ ان پر ظاہر ہوجائے گا کہ یہ حق ہے۔ یہاں آفاق سے مراد مادی دنیا(material world) اور انفس سے مراد انسانی دنیا (human world) ہے۔
قرآن کی اس آیت میں آنے والے سائنسی دور کی طرف اشارہ ہے۔ اس میں امت محمدی کو یہ رہنمائی دی گئی ہے کہ جب وہ سائنسی دور دنیا میں آجائے تو تم فور اًاس کو پہچان لینا، اور از سر نو سائنس کی دریافت کردہ حقائق کی روشنی میں اپنے دعوتی مشن کی منصوبہ بندی کرنا۔ تاکہ لوگوں کو ان کی اپنی مسلمہ عقلی بنیاد (rational ground) پر حقائق اسلام کا اظہار ہوجائے۔
3 - اسی طرح احادیث میں اس نوعیت کی مختلف پیشین گوئیاں آئی ہیں۔ مثلا ایک روایت کے مطابق قدیم مکہ کے قریش کے مطالبے پر آپ نے بتایا تھا : کلمة واحدة تعطونیہا تملکون بہا العرب، وتدین لکم بہا العجم (سیرت ابن ہشام،1/417)
اس حدیث پر غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ اس میں اس آنے والے دور کی طرف اشارہ ہے، جب کہ دنیا میں مکمل طور پر امن (peace) کا زمانہ آجائے گا۔ جب کہ یہ ممکن ہوجائے گا کہ کسی رکاوٹ کے بغیر توحید کی آئڈیا لوجی پر نان پولیٹکل ایمپائر قائم کیا جاسکے۔ یہ حدیث بتاتی ہے کہ جب وہ دور آجائے تو امت محمدی کو چاہیے کہ وہ نفرت اور تشدد اور جنگ کی تمام صورتوں کو یک طرفہ طور پر ختم کردے، اور پیدا شدہ مواقع کوپرامن طور پر استعمال کرتے ہوئےتو حید کی بنیاد پر ایک نان پولیٹکل ایمپائر (non-political empire)قائم کردے۔
4 - اسی طرح پیغمبر اسلام کی ایک روایت ان الفاظ میں آئی ہے:لا یبقى على ظہر الأرض بیت مدر ولا وبر إلا أدخلہ اللہ کلمة الإسلام (مسند احمد، حدیث نمبر 23865)۔ یعنی روئے زمین پر کوئی بھی چھوٹا یا بڑا گھر نہ بچےگا، مگر اس میں اللہ اسلام کا کلمہ داخل کردےگا۔
اس حدیث میں مستقبل کی امت محمدی کو یہ پیغام دیا گیا ہے کہ جب یہ دور آجائے تو تم اس دور کو پہچانو۔ اس وقت تم ان تمام سرگرمیوں کو بند کردو، جس سے اس دور کے مواقع کو استعمال کرنا تمھارے لیے ناممکن ہوجائے۔ اس وقت تم یک طرفہ منصوبہ بندی کے ذریعہ آنے والے مواقع کو پر امن طور پر استعمال کرو، اور دین اسلام کو ہر گھر میں پہنچادو۔ یہ دور جب آئے گا تو وہ اپنے آپ سب کچھ نہیں کر ڈالے گا، بلکہ امت محمدی کو اس وقت کی ضرورت کے مطابق، دانش مندانہ منصوبہ بندی کرنی پڑے گی۔
5 - دور دجال کی روایتوں میں سے ایک روایت وہ ہے جس میں دجا ل کے بارے میں بتایا گیا ہے کہ دجال جب بولے گا، اس کی آواز مشرق و مغرب میں سنائی دے گی۔ چوتھے خلیفہ علی بن ابی طالب، پیغمبر اسلام کا نام لیے بغیر دجال کے بارے میں کہتے ہیں:ینادی بصوت لہ یسمع بہ ما بین الخافقین (کنزالعمال، حدیث نمبر 39709) ۔ یعنی وہ ایسی آواز میں پکارے گا، جو مشرق و مغرب کے درمیان سنائی دے گی۔
محدثین کی تقسیم کے مطابق یہ ایک موقوف روایت ہے۔ لیکن تاریخی اعتبار سے دیکھیے تو یہ ایک ثابت شدہ روایت ہے۔ کیوں کہ ہم دیکھتے ہیں کہ بعد کے زمانے میں ایسے ذرائع وجود میں آئے، مثلاً انٹرنیٹ ۔ اب ایک انسان کے لیے یہ ممکن ہوگیا کہ وہ ایک جگہ سے بولے، اور اس کی آواز زمین کے کسی بھی حصہ میں سنائی دے۔ اس لحاظ سے اس روایت میں مستقبل کے ایک امکان کا ذکر ہے۔ یعنی اس دور کا ذکرہے جب کہ کسی بھی شخص کے لیے یہ ممکن ہوجائے کہ وہ زمین کے کسی بھی حصہ میں ایک دعوتی سینٹر بنائے، اور اس کے ذریعہ وہ دین حق کی باتوں کو اس طرح نشر کرے، کہ وہ ساری دنیا کے لوگوں کے لیے اس کا دیکھنا اور سننا پوری طرح ممکن ہوجائے۔
اس معاملے کا مطالعہ بتاتا ہے کہ اکیسویں صدی میں وہ دور پوری طرح آچکا ہے۔ اب کھلے طور پر یہ ممکن ہو گیا ہے کہ امت محمدی کے لوگ اٹھیں ، اور موجودہ زمانے کے مواقع (opportunities) کو استعمال کرتے ہوئے اس پیشین گوئی کو عالمی سطح پر واقعہ بنادیں، جو ان الفاظ میں آئی ہے:لیبلغن ہذا الأمر ما بلغ اللیل والنہار (مسند احمد، حدیث نمبر 16957)۔ یعنی یہ امر ضرور وہاں تک پہنچے گا، جہاں تک رات اور دن پہنچتے ہیں۔
ایک حدیث کے مطابق، دور آخر میں سب سے بڑا دعوتی واقعہ ظہور میں آئے گا۔ اس واقعہ کے لیے حدیث میں یہ الفاظ آئے ہیں:ہذا أعظم الناس شہادة عند رب العالمین (صحیح مسلم، حدیث نمبر 2938)۔ یعنی اللہ رب العالمین کے نزدیک یہ سب سے بڑی گواہی ہوگی۔ یہاں شہادت سے مراد دعوت ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ تاریخ کے آخری زمانے میں ایک ایسا عظیم دعوتی واقعہ پیش آئے گا، جو شہادت اعظم (greatest witness) کے ہم معنی ہوگا۔
شہادت اعظم کوئی پر اسرار واقعہ یا معجزاتی واقعہ نہیں ہوگا، بلکہ وہ قوانین فطرت کے مطابق انجام پائے گا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ انسانی تاریخ میں مسلسل طور پر تبدیلیاں واقع ہوتی ہیں۔ تبدیلیوں کے اس عمل کے بعد اس کے نقطۂ انتہا (culmination) کے طور انتہائی عظیم وسائل انسان کی دسترس میں آجائیں گے۔اس وقت فطری طور پر یہ ممکن ہوجائے گا کہ دعوت الی اللہ کے کام کو اس کی عظیم ترین صورت میں انجام دیا جاسکے۔
واپس اوپر جائیں

No comments:

Post a Comment