Pages

Monday, 29 January 2018

Al Risala | February 2017 (الرسالہ،فروری)

4

-قرآن سے رہنمائی

5

- معرفت، نقطۂ آغاز

6

- معرفت کی اہمیت

7

- ابدی جنت

8

- و ٔ طا شدید

9

- حق کی دریافت

10

- اقشعرار کیا ہے

11

- اشمئزاز کیا ہے

12

- احسن العمل

13

- اللہ کی مدد

14

- مدرسہ کے طلبہ کے نام

15

- رب العالمین کا وجود

16

- گرہن، خالق کی ایک نشانی

18

- ایک انسانی کردار

19

- امت کی مسلسل اصلاح کا نظام

21

- جہاد کیا ہے

23

- دعوت ایک سنگین ذمہ داری

24

- اعلان کے بغیر معاہدہ

25

- ظن و تخمین

26

- قرآن میں تدبر

28

- وضوح کا مسئلہ

29

- یہ بھی جھوٹ ہے

30

- فطرت کا نظام

33

- اللہ اکبر کا غلط استعمال

34

- فساد فی الارض

35

- اجتماعی زندگی کا ایک اصول

36

- بڑا فتنہ

37

- فوکس کو سمیٹنا

38

- علمی انداز، صحافتی انداز

39

- اختلاف ایک رحمت

40

- عیب کا تحفہ

41

- مثبت فکر

42

- آج کی نوجوان نسلیں

43

- وقت کا استعمال

44

- غصہ کا مثبت پہلو

45

- ذہنی سکون

46

- خبرنامہ


قرآن سے رہنمائی

قرآن کی ایک آیت ان الفاظ میں آئی ہے: کِتَابٌ أَنْزَلْنَاہُ إِلَیْکَ مُبَارَکٌ لِیَدَّبَّرُوا آیَاتِہِ وَلِیَتَذَکَّرَ أُولُو الْأَلْبَابِ (38:29)۔ یعنی یہ ایک برکت والی کتاب ہے جو ہم نے تمہاری طرف اتاری ہے، تاکہ لوگ اس کی آیتوں پر غور کریں اور تاکہ عقل والے اس سے نصیحت حاصل کریں۔قرآن میں تدبر کا مطلب ہے، قرآن کی آیتوں پر غور کرنا۔ غور کرنے کا مقصد یہ بتایا گیا کہ قرآن کی آیتوں سے نصیحت لینا۔ دوسرے لفظوں میں یہ کہ قرآن کی آیتوں کا تطبیقی مفہوم (applied meaning) دریافت کرنا۔ ایک جنرل حکم کو پرسنلائز کرکے سمجھنا۔ اسی کو انسانی زبان میں نصیحت کہاجاتا ہے۔ گویا کہ تدبر کا مطلب ہے ایک اصولی حکم کو عملی نصیحت کے انداز میں ڈھالنا۔
مثلاً موجودہ زمانے کے مسلمان عام طور پر یہ شکایت کرتے ہیں کہ مغربی دنیا ان کی مخالف ہوگئی ہے۔ مخالفت کے اس کلچر کو وہ اسلاموفوبیا کا نام دیتے ہیں۔ اس مسئلے پر غور کرتے ہوئے جب آپ قرآن پر نظر ڈالیں گے تو آپ کے سامنے یہ آیت آئے گی: وَمَا أَصَابَکُمْ مِنْ مُصِیبَةٍ فَبِمَا کَسَبَتْ أَیْدِیکُمٍ (42:30)۔ یعنی اور جو مصیبت تم کو پہنچتی ہے تو وہ تمہارے ہاتھوں کے کیے ہوئے کاموں ہی سے پہنچتی ہے۔
اس آیت پر غور کیا جائے تو اس سے عبارت النص کے درجے میں یہ بات نکلتی ہے کہ ہر مصیبت جس کے لیےتم دوسروں کی شکایت کروگے، وہ تمھارے اپنے ہی کیے کا نتیجہ ہوگی۔اس لیے مصیبت کا سبب اپنے آپ کو سمجھو، نہ کہ دوسروں کو ۔ آیت پر مزید غور کیا جائے تو معلوم ہوگا کہ جس چیز کو مسلمان دوسروں کی طرف منسوب کرکےاسلاموفوبیا کہتے ہیں، وہ خود مسلمانوں کے اپنے عمل کا ردّعمل (reaction) ہوتا ہے۔ گویا کہ اسلاموفوبیا اپنی حقیقت کے اعتبار سے ویسٹوفوبیا (Westophobia) ہے۔ یعنی تدبر کا مطلب ہے آیت کا تطبیقی مفہوم دریافت کرنا،اور اس سے عملی نصیحت حاصل کرنا۔
واپس اوپر جائیں

معرفت، نقطۂ آغاز

دینی فکر کے بارے میں کچھ لوگ جوش و خروش کے ساتھ کہتے ہیں :التوحید اولاً ۔ یہ بات بظاہر درست ہے۔ لیکن یہ قرآن کے عین مطابق نہیں۔ قرآن کے مطابق، پہلے معرفت آتی ہے، اس کے بعد توحید آتی ہے۔ جیسا کہ حسب ذیل آیتِ قرآنی سے معلوم ہوتا ہے:وَإِذَا سَمِعُوا مَا أُنْزِلَ إِلَى الرَّسُولِ تَرَى أَعْیُنَہُمْ تَفِیضُ مِنَ الدَّمْعِ مِمَّا عَرَفُوا مِنَ الْحَقِّ (5:83)۔ یعنی اور جب وہ اس کلام کو سنتے ہیں جو رسول پر اتارا گیا ہے تو تم دیکھو گے کہ ان کی آنکھوں سے آنسو جاری ہیں، اس سبب سے کہ انھوں نے حق کو پہچان لیا۔
معرفت سے مراد ہے ذہن کو تیار کرنا۔ جب ذہن تیار ہوجائے، اس کے بعد ہی آدمی اس قابل ہوتا ہے کہ وہ توحید کو گہرائی کے ساتھ سمجھ سکے۔اسی بات کو ایک صحابی رسول، جندب بن عبد اللہ نے ان الفاظ میں بیان کیا ہے:کنا مع النبی صلى اللہ علیہ وسلم ونحن فتیان حزاورة، فتعلمنا الإیمان قبل أن نتعلم القرآن، ثم تعلمنا القرآن فازددنا بہ إیمانا (سنن ابن ماجہ، حدیث نمبر 61)۔ یعنی ہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے، اور ہم نوجوان تھے ۔ ہم نے ایمان سیکھا، قرآن سیکھنے سے پہلے۔ پھر ہم نے قرآن سیکھا، پس ہم نے اس کے ذریعہ سے ایمان میں اضافہ کیا۔
اس روایت میں ایمان سے مراد معرفتِ ایمان ہے۔ معرفت در اصل اس بات کا نام ہے کہ آدمی پہلے اپنے ذہن کو تیار کرے۔ اس کے بعد وہ اس قابل بن جاتا ہے کہ ایمان و اسلام کو بے آمیز صورت میں سمجھ سکے۔ معرفت گویا ذہنی تربیت کی ایک صورت ہے۔ آج کل کی زبان میں اس معاملے کو سمجھنے کے لیے اس کو ڈی کنڈیشننگ کہا جاسکتا ہے۔ اس اعتبار سے معرفت نقطۂ آغاز (starting point) ہے۔ جو لوگ التوحید أولًا کی بات کرتے ہیں، ان کو زیادہ درست طور پر المعرفۃ أولا کہنا چاہیے۔
واپس اوپر جائیں

معرفت کی اہمیت

ایک روایت حدیث کی مختلف کتابوں میں آئی ہے۔ اس کے الفاظ یہ ہیں:عن أبی ہریرة، قال: قال رسول اللہ صلى اللہ علیہ وسلم:کل کلام، أو أمر ذی بال لا یفتح بذکر اللہ، فہو أبتر - أو قال: أقطع -(مسند احمد، حدیث نمبر 8712)۔ یعنی ہر کلام، یا اہم معاملہ، جو اللہ کے ذکر سے نہ شروع کیا جائے، وہ دم بریدہ (بے جڑ)، یا ادھورا ہے۔
اس حدیث کا مطلب یہ ہے کہ اللہ رب العالمین اس کائنات کا خالق اور مالک ہے۔ وہ ہر اعتبار سے اس کائنات کی اصل ہے۔ اس دنیا کی ہر بات اللہ سے شروع ہوتی ہے، اور اسی کی طرف لوٹتی ہے۔ یہی حقیقت قرآن میں ان الفاظ میں بیان ہوئی ہے: ہُوَ الْأَوَّلُ وَالْآخِرُ وَالظَّاہِرُ وَالْبَاطِنُ وَہُوَ بِکُلِّ شَیْءٍ عَلِیمٌ (57:3)۔ اس بات کو دوسرے الفاظ میں اس طرح کہا جاسکتا ہے کہ اس دنیا کی ہر بات کا سرا (starting point) اللہ رب العالمین ہے۔ اللہ کی ذات کو لے کر مطالعہ کیا جائے تو ہر بات قابل فہم رہے گی، او ر اگر کسی اور بات کو لےکر مطالعہ کیا جائے تو کلام میں وضوح (clarity)ختم ہوجائے گا۔
انسانی علوم کی جتنی شاخیں ہیں، سب کا حاصل حقیقت تک پہنچنا ہے۔ اگر اللہ رب العالمین کی معرفت کو حاصل کرنے کے بعد حقیقتوں کو سمجھنے کی کوشش کی جائے تو ہر بات قابل دریافت بن جائے گی، اور اگر اللہ رب العالمین کی معرفت حاصل کیے بغیر حقیقت پر کلام کیا جائے تو ایسا طریقہ عملاً اندھیرے میں بھٹکنے کی مانند ہوگا۔ ایسے انسان کا کلام وضوح (clarity) سے خالی ہوگا۔ مذکورہ آیت میں وَہُوَ بِکُلِّ شَیْءٍ عَلِیم کا مطلب یہ ہے کہ ہر علم کا سرچشمہ اللہ رب العالمین کی ذات ہے۔اللہ کے بغیرہر علم بے علمی بن جاتا ہے۔ اردو شاعر، اکبر الہ آبادی نے جو بات فلسفی کی بارے میں کہی ہے، وہی ہر اس انسان پر صادق آتی ہے، جو اللہ کی معرفت حاصل کیے بغیر کلام کرنا شروع کردے:
فلسفی کو بحث کے اندر خدا ملتا نہیں ڈور کو سلجھا رہا ہے، اور سرا ملتا نہیں
واپس اوپر جائیں

ابدی جنت

قرآن میں بتایا گیا ہے کہ جنت کا انعام غیر ممنون انعام (endless reward) ہوگا۔ اس سلسلے میں قرآن میں چار جگہ اجر غیر ممنون کے الفاظ آئے ہیں۔ایک جگہ یہ حقیقت مندرجہ ذیل الفاظ میں بیان ہوئی ہے: وَأَمَّا الَّذِینَ سُعِدُوا فَفِی الْجَنَّةِ خَالِدِینَ فِیہَا مَا دَامَتِ السَّمَاوَاتُ وَالْأَرْضُ إِلَّا مَا شَاءَ رَبُّکَ عَطَاءً غَیْرَ مَجْذُوذٍ (11:108)۔ یعنی اور جو لوگ خوش بخت ہیں۔ وہ جنت میں ہوں گے، وہ اس میں رہیں گے جب تک آسمان اور زمین قائم ہیں، مگر جو تیرا رب چاہے، ایک عطیہ جو کبھی ختم ہونے والا نہیں۔
جنت کا غیر منقطع ہونا واضح ہے۔ کیوں کہ جنت رب العالمین کا عطیہ ہے، اور خدائے لامحدود کا عطیہ کبھی محدود نہیں ہوسکتا۔ یہ رب العالمین کی شان کے خلاف ہے کہ وہ کسی کو محدود عطیہ دے۔ محدود عطیے کا تصور اللہ رب العالمین کے کمتر اندازہ (underestimation) کے ہم معنی ہے، اور ایسا کبھی ہونے والا نہیں۔ اب سوال انسان کا ہے ۔ کیا یہ لامحدودیت جو اللہ کی نسبت سے ہے، وہ انسان کی نسبت سے بھی باقی رہے گی۔ اس کا جواب یہ ہے کہ ہاں۔ قرآن میں بتایا گیا ہے کہ جنت میں جب اہل جنت کو داخلہ مل جائے گا تو وہ کہیں گے: الْحَمْدُ لِلَّہِ الَّذِی أَذْہَبَ عَنَّا الْحَزَنَ (35:34)۔ یعنی شکر ہے اللہ کا جس نے ہم سے رنج کو ختم کردیا۔
اہل جنت کی طرف سے اظہارحمد ، یہ وقتی کلمہ نہیں ہے۔ یہ ابدی احساس حمد کی بات ہے۔ اہل جنت کی طرف سے احساس حمد ، بلاشبہ ایک تخلیقی احساس (creative feeling) کی بات ہے۔ یہ کریٹیو احساس انھوں نے دنیا کی زندگی میں حاصل کیا ہوگا۔ یہ کریٹیو احساسِ حمد جو جنت کے پانے سے پہلے بذریعہ معرفت اہل جنت کے اندر پرورش پائے گا، وہ اتنا طاقت ور ہوگا کہ وہ جنت کا ابدی عطیہ پانے کے بعد بھی برابر ایک اضافہ پذیرتجربہ کی حیثیت سے جاری رہے گا۔ جنت جس طرح ابدی ہوگی، اسی طرح جنت کے پانے پر احساسِ حمد بھی یقینی طور پر ابدی ہوگا۔
واپس اوپر جائیں

و ٔ طا شدید

پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم رات کے آخری حصے میں لمبی نمازیں پڑھتے تھے۔ اس نماز کے لیے قرآن میں وطأشدید (المزمل6:)کا لفظ آیا ہے۔ وطأ شدید کا مطلب ہے شدت کے ساتھ روندنا، یعنی مشقت کی حد تک اللہ کی عبادت کرنا۔ یہ فعل روحانی ترقی (spiritual development) کا اہم ذریعہ ہے۔ اپنی حقیقت کے اعتبار سے یہ ایک عام عمل ہے۔ عبادت کے حوالے سے اس کو قرآن میں وطأشدید کہا گیا ہے، اور عمومی حوالے سے اس کو حدیث میں بلاء شدید بتایا گیا ہے۔ اس سلسلے میں حدیث کے یہ الفاظ قابل غور ہیں:إن من أشد الناس بلاء الأنبیاء، ثم الذین یلونہم، ثم الذین یلونہم، ثم الذین یلونہم(مسند احمد، حدیث نمبر 27079) ۔ یعنی بیشک لوگوں میں سب سےزیادہ بلاء پیغمبروں پر آتی ہے، پھر وہ جو ان سے قریب ہیں، پھر وہ جو ان سے قریب ہیں، پھر وہ جو ان سے قریب ہیں۔
اصل یہ ہے کہ انسان کی فطرت کے اندر پیدائشی طور پر خالق کی معرفت رکھ دی گئی ہے۔ مگر یہ معرفت بالقوۃ (potential) انداز میں ہے۔ اس بالقوۃ کو بالفعل (actual) بنانے کے لیے ضرورت ہوتی ہے کہ انسان پر دباؤ (pressure) کے تجربات گزریں۔ یہی دباؤ کا تجربہ ہے جو کسی آدمی کےلیے بالقوۃ معرفت کو بالفعل معرفت بنا دیتا ہے۔ یہ تجربہ عام انسان کے لیے عمومی سطح پر پیش آتا ہے، اور پیغمبر وںکے لیے خصوصی سطح پر۔
اس بات کو دوسرے الفاظ میں اس طرح کہا جاسکتا ہے کہ معرفت کا علم آدمی کوکتابی مطالعے سے حاصل ہوجاتا ہے۔ لیکن دریافت (discovery) کے درجے میں معرفت کا حصول صرف اس وقت ممکن ہے جب کہ آدمی بلاء شدید کے مرحلے سے گزرے۔ بلاء شدید آدمی کو حساس بنا تی ہے۔حساسیت(sensitivity) آدمی کے اندر قوت اخذ (grasp) کا مادہ پیدا کرتی ہے۔ اس کے بعد آدمی اس قابل بن جاتا ہے کہ وہ ذاتی دریافت کے درجے میں معرفت کو حاصل کرسکے۔
واپس اوپر جائیں

حق کی دریافت

اسلام کا آغاز ایک دھماکہ خیز دریافت سے ہوتا ہے۔ اس دریافت کا ذکر قرآن میں آیا ہے۔ ان آیات کا ترجمہ یہ ہے: اور جب وہ اس کلام کو سنتے ہیں جو رسول پر اتارا گیا ہے تو تم دیکھو گے کہ ان کی آنکھوں سے آنسو جاری ہیں، اس سبب سے کہ انھوں نے حق کو پہچان لیا۔ وہ پکار اٹھے کہ اے ہمارے رب، ہم ایمان لائے۔ پس تو ہم کو گواہی دینے والوں میں لکھ لے۔ اور ہم کیوں نہ ایمان لائیں اللہ پر اور اس حق پر جو ہمیں پہنچا ہے جب کہ ہم یہ امیدرکھتے ہیں کہ ہمارا رب ہم کو صالح لوگوں کے ساتھ شامل کرے۔ (5:83-84)۔
یہ دھماکہ خیز تجربہ آدمی کو اپنے خالق کی دریافت تک پہنچاتا ہے۔ اس کے بعد فطری طور پر یہ ہوتا ہے کہ ایسا انسان ایک غور و فکر والا انسان بن جاتا ہے۔ اس واقعہ کا ذکر قرآن میں آیا ہے۔ ان آیات کا ترجمہ یہ ہے: آسمانوں اور زمین کی پیدائش میں اور رات دن کے باری باری آنے میں عقل والوں کے لئے بہت نشانیاں ہیں۔ جو کھڑے اور بیٹھے اور اپنی کروٹوں پر اللہ کو یاد کرتے ہیں اور آسمانوں اور زمین کی پیدائش میں غور کرتے رہتے ہیں۔ وہ کہہ اٹھتے ہیں اے ہمارے رب، تو نے یہ سب بےمقصد نہیں بنایا۔ تو پاک ہے، پس ہم کو آگ کے عذاب سے بچا۔ اے ہمارے رب، تو نے جس کو آگ میں ڈالا، اس کو تو نے واقعی رسوا کردیا۔ اور ظالموں کا کوئی مددگار نہیں۔ اے ہمارے رب، ہم نے ایک پکارنے والے کو سنا جو ایمان کی طرف پکار رہا تھا کہ اپنے رب پر ایمان لاؤ، پس ہم ایمان لائے۔ اے ہمارے رب، ہمارے گنا ہوں کو بخش دے اور ہماری برائیوں کو ہم سے دور کردے اور ہمارا خاتمہ نیک لوگوں کے ساتھ کر(3:190-193)۔
سچائی کو پانا آدمی کے لیے ایک دھماکہ خیز دریافت کے ہم معنی ہوتا ہے۔ اس کے بعد ایسا شخص سنجیدہ غور و فکر کرنے والا بن جاتا ہے۔اس کے بعد اس کے اندر ربانی شخصیت بننا شروع ہوجاتی ہے، جس کا آخری درجہ یہ ہے کہ اس کو ابدی جنت میں داخلہ مل جائے۔
واپس اوپر جائیں

اقشعرار کیا ہے

قرآن کی ایک آیت میں مومن کی صفت ان الفاظ میں بتائی گئی ہے:اللَّہُ نَزَّلَ أَحْسَنَ الْحَدِیثِ کِتَابًا مُتَشَابِہًا مَثَانِیَ تَقْشَعِرُّ مِنْہُ جُلُودُ الَّذِینَ یَخْشَوْنَ رَبَّہُمْ ثُمَّ تَلِینُ جُلُودُہُمْ وَقُلُوبُہُمْ إِلَى ذِکْرِ اللَّہِ ذَلِکَ ہُدَى اللَّہِ یَہْدِی بِہِ مَنْ یَشَاءُ وَمَنْ یُضْلِلِ اللَّہُ فَمَا لَہُ مِنْ ہَاد(39:23)۔ یعنی اللہ نے بہترین کلام اتارا ہے۔ ایک ایسی کتاب آپس میں ملتی جلتی، بار بار دہرائی ہوئی، اس سے ان لوگوں کے رونگٹے کھڑے ہوجاتے ہیں جو اپنے رب سے ڈرنے والے ہیں۔ پھر ان کے بدن اور ان کے دل نرم ہو کر اللہ کی یاد کی طرف متوجہ ہوجاتے ہیں۔ یہ اللہ کی ہدایت ہے۔ اس سے وہ ہدایت دیتا ہے جس کو وہ چاہتا ہے۔ اور جس کو اللہ گمراہ کردے تو اس کو کوئی ہدایت دینے والا نہیں۔
اقشعرار کا مطلب ہے شدت تاثر کے تحت جسم پر کپکپی کا طاری ہوجانا۔ یہ کیفیت ایک عام کیفیت ہے۔ مومن کے لیے ایسا اس وقت ہوتا ہے جب کہ اللہ کے خوف سے اس کے اندر شدید تاثر پیدا ہو۔ اس وقت عام فطری قانون کے تحت اس کے جسم پر کپکپی (shivering)کی کیفیت طاری ہوجائے گی۔ اس سے دل کے اندر نرمی پیدا ہوجائے گی۔ آدمی زیادہ قبولیت کے جذبے کے تحت اللہ کی باتیں سننے لگے گا۔اس کے برعکس، جس آدمی کے اندر اقشعرار کی یہ کیفیت نہ پیدا ہو، یہ اس بات کی علامت ہے کہ اس کے دل میں قساوت کی کمزوری پیدا ہوچکی ہے۔ وہ اللہ کی پکڑ کی باتیں سننے کے بعد بھی سخت دل بنا رہتا ہے۔
اس آیت کے آخری جزء کا ترجمہ یہ ہے: یہ اللہ کی ہدایت ہے۔اس سے اللہ ہدایت دیتا ہے جس کو وہ چاہتا ہے۔ اور جس کو اللہ گمراہ کردے تو اس کو کوئی ہدایت دینے والا نہیں۔ اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ اللہ قصداً کسی کو ہدایت دیتا ہے، اور کسی کو نہیں دیتا ہے۔ بلکہ ایسا انسان کی اپنی طرف سے ہوتا ہے، جو انسان سوچے اور نصیحت کو پکڑے، وہ ضرور ہدایت پائے گا، اور جو آدمی سوچ اور نصیحت سے خالی ہو، وہ اس کیفیت سے بھی خالی رہے گا۔
واپس اوپر جائیں

اشمئزاز کیا ہے

دل کی ایک کیفیت کو قرآن میں ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے: وَإِذَا ذُکِرَ اللَّہُ وَحْدَہُ اشْمَأزَّتْ قُلُوبُ الَّذِینَ لَا یُؤْمِنُونَ بِالْآخِرَةِ وَإِذَا ذُکِرَ الَّذِینَ مِنْ دُونِہِ إِذَا ہُمْ یَسْتَبْشِرُونَ (39:45)۔یعنی جب اکیلے اللہ کا ذکر کیا جاتا ہے تو ان لوگوں کے دل تنگ پڑجاتے ہیں جو آخرت پر ایمان نہیں رکھتے۔ اور جب اس کے سوا دوسروں کا ذکر ہوتا ہے تو اس وقت وہ خوش ہوجاتے ہیں۔
اشمئزازکا مطلب ہے دل کا تنگ ہونا (shrinking of the heart)۔ یہ ایک مخصوص نفسیاتی حالت کا نام ہے۔ جب کسی کا ذہن پیشگی طور پر متاثر ذہن بن جائے تواس کا حال یہ ہوتا ہے کہ اگر کوئی بات اس کے موافق ہو تو وہ اس کو سن کر خوش ہوگا، اور اگر اس کو محسوس ہوکہ مذکورہ بات اس کے اپنے مفروضہ کے مطابق نہیں ہے، تو اس کو سن کر اس کا دل تنگ ہوجائے گا۔یہی بات امر حق کے بارے میں بھی ہے۔ جس آدمی کے اندر اعتراف حق کا مادہ نہ ہو، وہ چیزوں کو اپنے مفروضا ت سے جانچے گا۔ اگر بیان کردہ بات اس کے مفروضات کے مطابق ہے تو وہ خوش ہوکر ا س کو مان لے گا۔ لیکن اگر بیان کردہ بات اس کے اپنے مفروضات کے مطابق نہ ہو، تو اس کو قبول کرنے کے معاملے میں اس کا دل تنگ ہوجائے گا۔ وہ اپنی بے اعترافی کو چھپانے کے لیے ایسی غیر متعلق باتیں بولے گا، جو صرف کہنے کے لیے ہوں گی، نہ کہ حقیقت کی ترجمانی کے لیے۔
اشمئزاز دراصل کبر کا ایک ظاہرہ ہے۔ یہ کیفیت اس وقت پیدا ہوتی ہے جب کہ کسی وجہ سے آدمی حق کو ماننا نہ چاہے۔ ایسے آدمی کا حال یہ ہوتا ہے کہ اگر اس کو دکھائی دے کہ حق اس کے مفروضات کی تصدیق کررہا ہے تو وہ خوش ہوتا ہے۔ اس کے برعکس، اگر وہ محسوس کرے کہ جو بات امر حق کے طور پر سامنے آئی ہے، وہ اس کی رائے کی تصدیق نہیں کرتی تو اس کو قبول کرنے کے لیے اس کا دل تنگ ہوجاتا ہے۔ وہ حق کو نہ ماننے کے لیے ایسی غیر متعلق باتیں بولنے لگتا ہے، جس کی صداقت پر خود اس کا دل مطمئن نہیں ہوتا۔ اسی حالت کا نام اشمئزاز ہے۔
واپس اوپر جائیں

احسن العمل

انسان کے بارے میں تخلیقی منصوبہ کو قرآن میں ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے: الَّذِی خَلَقَ الْمَوْتَ وَالْحَیَاةَ لِیَبْلُوَکُمْ أَیُّکُمْ أَحْسَنُ عَمَلًا (67:2)۔یعنی خالق نے موت اور زندگی کو پیدا کیا تاکہ وہ تم کو جانچے کہ تم میں سب سے اچھے عمل والا کون ہے ۔اس آیت کا مطلب یہ ہےکہ پیدا ہونےوالے انسانوں میں سے احسن العمل کا انتخاب کرنا۔
قرآن کی اس آیت کا مفہوم ایک اور آیت پر غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے۔ وہ آیت یہ ہے: مَنْ کَانَ یُرِیدُ حَرْثَ الْآخِرَةِ نَزِدْ لَہُ فِی حَرْثِہِ وَمَنْ کَانَ یُرِیدُ حَرْثَ الدُّنْیَا نُؤْتِہِ مِنْہَا وَمَا لَہُ فِی الْآخِرَةِ مِنْ نَصِیبٍ (42:20)۔ یعنی جو شخص آخرت کی کھیتی چاہے ہم اس کو اس کی کھیتی میں ترقی دیں گے۔ اور جو شخص دنیا کی کھیتی چاہے ہم اس کو اس میں سے کچھ دے دیتے ہیں اور آخرت میں اس کا کوئی حصہ نہیں۔
غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ موجودہ دنیا انسان کے لیے پودگاہ (nursery) کی مانند ہے۔پود گاہ میں یہ ہوتا ہے کہ پودے عمومی انداز میں پیدا کیے جاتے ہیں۔ پھر ان میں جو پودا تندرست ہوتا ہے، اس کو چھانٹ کر نکال لیا جاتا ہے تاکہ اس کو زیادہ اچھی زمین میں نصب کرکے زیادہ اچھے ماحول میں گرو (grow) کرنے کا موقع دیا جائے۔
یہی حیثیت انسان کی نسبت سے موجودہ دنیا کی ہے۔ موجودہ دنیا کی حیثیت انسان کے لیے نرسری (nursery) جیسی ہے۔ یہاں انسان کو پیدا کرکے بسایا جاتا ہے تاکہ ان میں سے جو انسان اپنے کو احسن العمل یعنی زیادہ صحت مند ثابت کرے، اس کو دنیا کی نرسری سے نکال کر آخرت کے ہیبیٹاٹ (habitat) میں نصب کردیا جائے، یعنی ابدی جنت میں۔ گویا کہ موجودہ دنیا کی زندگی نرسری کی زندگی ہے، اور آخرت کے ہیبیٹاٹ کی زندگی ابدی جنت کی زندگی ہے۔ یہ بلاشبہ حیات انسانی کے لیے بہترین اسکیم ہے۔
واپس اوپر جائیں

اللہ کی مدد

قدیم مصر میں جب بنی اسرائیل پر فرعون کا ظلم بہت بڑھ گیا۔ اس وقت پیغمبر موسیٰ نے اپنی قوم کو نصیحت کرتے ہوئے کہا: اِسْتَعِینُوا بِاللَّہِ وَاصْبِرُوا إِنَّ الْأَرْضَ لِلَّہِ یُورِثُہَا مَنْ یَشَاءُ مِنْ عِبَادِہِ وَالْعَاقِبَةُ لِلْمُتَّقِینَ (7:128)۔ یعنی اللہ سے مدد چاہو اور صبر کرو۔ زمین اللہ کی ہے، وہ اپنے بندوں میں سے جس کو چاہتا ہے اس کا وارث بنا دیتا ہے، اور آخری کامیابی اللہ سے ڈرنے والوں ہی کے لئے ہے۔
اللہ سے مدد کی دعا کرنا، بندے اور خدا کے درمیان کا معاملہ ہے۔ اس معاملے میں صبر کی تلقین کیوں کی گئی۔ صبر کا دعا سے کیا تعلق ہے۔ یہ ایک بے حد اہم بات ہے۔ اگر آدمی دعا کی اس حقیقت کو نہ جانے تو وہ دعا کے بعد مایوسی کا شکار ہوسکتا ہے۔ دعا کا معاملہ یہ نہیں ہے کہ اللہ سے آپ دعا کریں، اور اللہ فوراً آپ کی مطلوب چیز اٹھا کر آپ کو دے دے۔اگر آپ کی دعا واقعۃً ایک سچی دعا ہے، تب بھی اللہ مینج (manage) کرکے آپ کی دعا کو پورا کرتا ہے۔ دعا کو پورا کرنے کے لیے اللہ کو بہت سے انسانوں کی سرگرمیوں کو مینج کرنا ہوتا ہے۔ وہ اس کا منصوبہ بناتا ہے تاکہ قوانین فطرت کو باقی رکھتے ہوئے آپ کی طلب کو پورا کرے۔ اس کے لیے ضرورت ہوتی ہے کہ اجتماعی تقاضوں کے درمیان ایک شخص کی انفرادی سطح پر دادرسی کی جائے۔ اس کے لیے ضرورت ہوتی ہے کہ انسانی تاریخ کے مجموعی سفر کو جاری رکھتے ہوئے استثنائی طور پر ایک فرد کی ضرورت کو پورا کیاجائے۔
دعا کرنے والا تو اپنے ذاتی ارادے کے اعتبار سے دعا کرتا ہے۔ لیکن اللہ رب العالمین کو یہ کرنا ہے کہ وہ دوسروں کی سرگرمیوں کو منسوخ کیے بغیر فرد کی استثنائی حاجت پوری کرے۔ یہی وہ صورت حال ہے، جس کے لیے بندے کو دعا کے بعد صبر کرنا پڑتا ہے۔ دعا کے بعد صبر کرنا گویا اللہ رب العالمین کو ضروری وقت دینا ہے— صبر دعا کا لازمی حصہ ہے۔
واپس اوپر جائیں

مدرسہ کے طلبہ کے نام

حضرت ابو ذر رضی اللہ عنہ کے حوالے سے ایک طویل روایت حدیث کی کتابوں میں آئی ہے۔ اس میں دیگر باتوں کے علاوہ مسلم عاقل کی صفات بھی بیان کی گئی ہیں۔ ان میں سے ایک یہ کہ اس کو اپنے زمانہ سے باخبر ہونا چاہئے ( أن یکون بصیرا بزمانہ)۔صحیح ابن حبان ،حدیث نمبر 361۔یہ ایک بے حد اہم ہدایت ہے۔ آپ کو چاہئے کہ آپ صرف واقفِ دین نہ بنیں، بلکہ اسی کے ساتھ واقفِ زمانہ بھی بنیں۔ اس کے بعد ہی آپ موجودہ زمانہ میں دین کی صحیح خدمت کر سکتے ہیں۔
واقف زمانہ بننے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ آپ اپنی کمیونٹی کے خلاف ہونے والے ’’ظلم اور سازش‘‘ کو جاننے والے بن جائیں۔ یہ میرے نزدیک سطحیت ہے، نہ کہ علم۔ یعنی یہ ظواہر کو جاننا اور حقائق سے بے خبر رہنا ہے۔ علم بلا شبہ یہ ہے کہ آدمی اصل حقیقت کو جانے، نہ یہ کہ اس کی نگاہ ظاہری چیزوں پر اٹک کر رہ جائے۔اگریہ مان لیا جائے کہ دوسری قومیں مسلمانوں کے خلاف سازش اور ظلم میںمصروف ہیں، تب بھی اصل جاننے کی بات یہ ہے کہ وہ کیا اسباب ہیں جنہوں نے ان قوموں کو یہ حیثیت دے دی ہے کہ وہ ہمارے خلاف کامیاب سازشیں کرسکیں۔ وہ ہمارے خلاف اپنے منصوبوں کی کامیاب تعمیل کریں اور ہمارے تمام اعاظم و اکابر اس کو روکنے میں مکمل طورپر عاجز ثابت ہوں۔
موجودہ زمانہ میں مسلمانوں کی اصل کمی یہ ہے کہ وہ عصر حاضر سے ناواقف (unaware) ہیں۔ وہ ماضی کو جانتے ہیں، مگر حال کی انہیں مطلق خبر نہیں۔ ان میںسے کوئی شخص اگر کچھ جانتاہے تو وہ بھی کچھ ظاہری چیزوں کو جانتا ہے، نہ کہ گہرے معنوں میں حقیقی حالات کو۔ دینی مدرسوں کے طلبہ اگر صرف ’’حیوان کا سب‘‘ بن کر نہیں رہنا چاہتے، بلکہ یہ چاہتے ہیں کہ وہ اپنی صلاحیتوں کو مفید طورپر لگائیں تو ان پر لازم ہے کہ وہ عصر حاضر کو اس کی گہرائیوں کے ساتھ جانیں، وہ موجودہ زمانہ کی ان تبدیلیوں سے واقفیت حاصل کریں جنہوں نے ہمارے مروجہ طریقوں کو عملی اعتبار سے بالکل غیر موثر بنا دیا ہے۔
واپس اوپر جائیں

رب العالمین کا وجود

سائنسی مطالعے (scientific studies)سے یہ معلوم ہوا ہے کہ کائنات کی ہر چیز ناقابل فہم حد تک عجیب ہے۔ خواہ میکرو ورلڈ (macro world) کا معاملہ ہو یا مائکرو ورلڈ (micro world)کا معاملہ۔ ہر چیز انسان کے لیےمائنڈ باگلنگ (mind-boggling) حد تک عجیب ہے، اس لیےانسانی عقل کے لیے ناقابل فہم بھی۔ انسان پہلے پہاڑ جیسی بڑی بڑی چیزوں کو دیکھ کر حیران ہوتا تھا۔موجودہ دور میں کوانٹم میکانکس (quantum mechanics) کے مطالعہ کے بعد اب سب ایٹمک پارٹکل (subatomic particle) کا معاملہ اس سے بھی عجیب حقیقت کے طور پر سامنے آیا ہے۔
اس سائنسی مطالعے سے معلوم ہوا کہ خدا کے وجود کو ماننا بظاہر جتنا عجیب ہے۔ اتنا ہی عجیب ہر چیز کو ماننا ہے۔ اس دنیا کی ہر چیز حتی کہ سب ایٹمک پارٹکل بھی مائنڈ باگلنگ حد تک عجیب ہیں۔ خالص منطقی اعتبار سے اس پر غور کیا جائے تو یہ کہنا صحیح ہوگا — اگر ہم خدا کے وجود کو مان لیں تو بقیہ تمام چیزیں قابل توجیہہ (explainable) بن جاتی ہیں، اور اگر ہم خدا کے وجود کو نہ مانیں تو اس دنیا کی ہر چیز ناقابل فہم رہتی ہے۔ حتی کہ سب ایٹمک پارٹکل جیسی چیز بھی جس کو ایک سائنس داں نے امکانی لہریں (waves of probability) کہا ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ ہم اپنے وجود کو ماننے پر مجبور ہیں۔ اسی طرح ہم اس کو بھی ماننے پر مجبور ہیں کہ ہم اپنے سے باہر ایک کائنات کو تسلیم کریں۔ یہ ایک ایسی بدیہی حقیقت ہے، جس کا انکار کسی انسان کے لیے ممکن نہیں۔ قدیم یونان کا ایک فلسفی ایک مرتبہ جاکر درخت کے اوپر بیٹھ گیا۔ کسی نے اس کو درخت کے اوپر دیکھ کر پوچھا کہ تم کون ہو۔ فلسفی نے جواب دیا کہ یہی تو نہیں معلوم کہ میں کون ہوں۔ اگر میں جانتا کہ میں کون ہوں تو میں درخت کے اوپر نہ چڑھتا۔ خدا کے وجود کو ماننا آدمی کو صاحب یقین بنا دیتا ہے، اور خدا کے وجود کا انکار انسان کوفلسفی کی طرح یقین کی کیفیت سے دور کردیتا ہے۔
واپس اوپر جائیں

گرہن، خالق کی ایک نشانی

7 اگست 2017کو چاند گرہن (lunar eclipse)پڑا۔ یہ ایک جزئی (partial) چاند گرہن تھا۔ اس کے بعد 21 اگست 2017کو سورج گرہن (solar eclipse) پڑا ، اور زمین کے بہت بڑے رقبے میں اس کا مشاہدہ کیا گیا۔
اس قسم کا واقعہ ہجرت کے بعد مدینہ میں پیش آیا تھا۔ یہ سورج گرہن تھا، جو 10 ہجری میں پیش آیا تھا۔اسی تاریخ کو پیغمبر اسلام کے بیٹے ابراہیم کی وفات ہوئی تھی۔ قدیم زمانہ میں یہ مانا جاتا تھا کہ گرہن اس وقت پڑتا ہے، جب زمین پر کوئی سنگین واقعہ پیش آئے۔ چنانچہ مدینہ کے لوگوں نے یہ کہنا شروع کیا کہ چوں کہ آج پیغمبر کے بیٹے کی وفات ہوئی ہے، اس لیے یہ گرہن پڑا ہے۔ پیغمبر اسلام کو جب یہ معلوم ہوا تو آپ نے اعلان کیا کہ لوگ مدینہ کی مسجد میں اکٹھا ہوجائیں۔
اس کے بعد آپ نے مدینہ کی مسجد میں خطبہ دیا:إن الشمس والقمر آیتان من آیات اللہ، لا یخسفان لموت أحد ولا لحیاتہ، فإذا رأیتم ذلک، فاذکروا اللہ (صحیح البخاری، حدیث نمبر 1052)۔ یعنی سورج اور چاند اللہ کی نشانیوں میں سے دو نشانیاں ہیں، ان کو نہ کسی کی موت سے گرہن لگتا ہے، اور نہ کسی کی زندگی سے۔ جب تم اس کو دیکھو تو اللہ کو یاد کرو۔
پیغمبر اسلام نے اپنے اس خطاب میں گرہن کو خدا کی ایک نشانی (sign of God) بتایا۔ اس کا مطلب یہ تھا کہ گرہن کا واقعہ کسی زمینی حادثہ کی بنا پر پیش نہیں آتا۔ بلکہ وہ خالق کے مقرر کیے ہوئے ابدی قانون کے تحت پیش آتا ہے۔ موجودہ زمانہ میں سائنسی مطالعہ کے تحت متعین طو رپر یہ معلوم ہوچکا ہے کہ گرہن کا واقعہ کیوں پیش آتا ہے:
Eclipse is a well-calculated alignment of three moving bodies of different sizes in the vast space at a particular point in time.
چاند گرہن اور سورج گرہن کا واقعہ کیوں پیش آتا ہے۔ اس کا مقصد یہ ہے کہ انسان اس حیرتناک فلکیاتی واقعہ کو دیکھے، اور مشاہداتی سطح پر خالق کے کمال قدرت کو جانے، اور خالق کو دریافت کرکے خالق کی عظمت میں جینے والا بن جائے۔
اس انوکھے فلکیاتی مشاہدہ میں انسان کے لیے کیا سبق ہے۔ خالق کی عظمت ساری کائنات میں پھیلی ہوئی ہے۔ پہاڑ، سمندر، سولر سسٹم، کہکشانی نظام، اور اس طرح کے دوسرے مظاہرمسلسل طور پر انسان دیکھتا رہتا ہے۔ ان کو دیکھتے دیکھتے انسان یوزڈ ٹو (used to) ہوجاتا ہے۔ اس لیے خدا استثنائی طور پر کبھی کبھی سورج گرہن اور چاند گرہن کامنظر انسان کو دکھا تا ہے۔ تاکہ یکسانیت کی وجہ سے انسان کی سوچ میں جو ٹھہراؤ آگیا ہے،و ہ ٹوٹے، اور انسان دوبارہ تخلیقی انداز (creative mind) کے ساتھ خدا کی تخلیقات کا مشاہدہ کرسکے۔ انسان کا مزاج ہے کہ یوزڈ ٹو (used to) ہوتے ہوتے اس کے اندر جمود (stagnation) پیدا ہوجاتا ہے۔ خالق کی منشا ہے کہ یہ جمود ٹوٹے۔ انسان بیدار ذہن کے ساتھ دنیا میں جینے والا بن جائے۔
٭ ٭ ٭ ٭ ٭ ٭ ٭
میرا تجربہ ہے کہ لوگ دوسروں کے سامنے تجویزیں تو خوب پیش کرتے ہیں مگر یہ نہیںسوچتے کہ اس معاملے میں خود اُن کی اپنی ذمہ داری کیا ہے۔ ایک تعلیم یافتہ مسلمان میرے پاس آئے۔ انھوں نے کہا کہ آپ فلاں موضوع پر کتاب تیارکرکے اس کو چھاپئے۔ میں نے کہا کہ میںنے بہت سے دینی موضوعات پر کتابیں تیار کرکے چھاپی ہیں، ان کے سلسلے میں آپ نے کیا کیا۔ انھوں نے کہا کہ میں نے تو کچھ نہیں کیا۔ میںنے کہا کہ آپ پہلے چھپی ہوئی کتابوں کو پھیلا کر اپنی ذمے داری ادا کیجئے۔ اس کے بعد نئی کتابوں کی تجویز پیش کیجئے۔ اس قسم کا ذہن کوئی صحت مند ذہن نہیں۔
واپس اوپر جائیں

ایک انسانی کردار

ایک انسانی کردار کو قرآن میں ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے: لَا تَحْسَبَنَّ الَّذِینَ یَفْرَحُونَ بِمَا أَتَوْا وَیُحِبُّونَ أَنْ یُحْمَدُوا بِمَا لَمْ یَفْعَلُوا فَلَا تَحْسَبَنَّہُمْ بِمَفَازَةٍ مِنَ الْعَذَابِ وَلَہُمْ عَذَابٌ أَلِیمٌ (3:188)۔ یعنی جو لوگ اپنے ان کرتوتوں پر خوش ہیں اور چاہتے ہیں کہ جو کام انھوں نے نہیں کئے اس پر ان کی تعریف ہو، ان کو عذاب سے بری نہ سمجھو۔ ان کے لئے درد ناک عذاب ہے۔قرآن میں ایک اور جگہ ایسے لوگوں کے لیے یہ آیا ہے :یُخَادِعُونَ اللَّہَ وَالَّذِینَ آمَنُوا وَمَا یَخْدَعُونَ إِلَّا أَنْفُسَہُمْ وَمَا یَشْعُرُونَ (2:9)۔
کچھ لوگوں کا مزاج یہ ہوتا ہے کہ حقیقت کے اعتبار سے تو وہ بے مقصد انسان ہوتے ہیں۔ ان کو اپنے ذاتی انٹرسٹ کے سوا کسی اور چیز سے کوئی مطلب نہیں ہوتا۔ لیکن بڑے بڑے الفاظ بول کر ظاہر کرتے ہیں کہ وہ ایک بامقصد انسان ہیں۔ وہ ایک مقصد کے لیے جینے والے، اور ایک مقصد کے لیے مرنے والے ہیں۔ لیکن تجربے میں معلوم ہوتا ہے کہ ان کو اپنے ذاتی انٹرسٹ کے سوا کسی اور چیز سے کوئی مطلب نہیں۔ وہ بامقصد انسان نہیں ہیں، بلکہ وہ صرف مفاد پرست انسان (man of interest) ہیں۔ ان کا سول کنسرن عملاً صرف ذاتی انٹرسٹ ہے۔ لیکن الفاظ کی سطح پر وہ بے تکان یہ ظاہر کرتے ہیں کہ وہ بامقصد انسان ہیں، اور ان کا فیصلہ ہے کہ وہ مقصد کےلیے جئیں گے، اور مقصد کےلیے مریں گے۔
ایسے لوگوں کے بارے میں فرمایا کہ وہ چاہتے ہیں کہ ا ن کو ایسے کام کاکریڈٹ دیا جائے، جس کو انھوں نے انجام ہی نہیں دیا ہے۔ ایسے لوگ انسان کو بھی دھوکہ دے رہے ہیں، اور خدا کو بھی۔ لیکن ان کی یہ کوشش چلنے والی نہیں۔ قول کی سطح پر خواہ کچھ بھی وہ کہیں، لیکن عمل کی سطح پر وہ کہیں نہ کہیں ایکسپوز ہوجائیں گے۔ اس کے بعد ان کے ساتھ وہی معاملہ کیا جائےگا، جیسا کہ وہ حقیقۃً ہیں، نہ کہ جیسا کہ وہ اپنے آپ کو لفظوں کے ذریعہ ظاہر کررہے ہیں۔
واپس اوپر جائیں

امت کی مسلسل اصلاح کا نظام

امت مسلمہ کے داخلی نظام کے بارے میں قرآن میں جو ہدایات آئی ہیں۔ ان میں سے ایک آیت یہ ہے:وَلْتَکُنْ مِنْکُمْ أُمَّةٌ یَدْعُونَ إِلَى الْخَیْرِوَیَأْمُرُونَ بِالْمَعْرُوفِ وَیَنْہَوْنَ عَنِ الْمُنْکَرِ وَأُولَئِکَ ہُمُ الْمُفْلِحُونَ (3:104)۔ یعنی اور ضرور ہے کہ تم میں ایک گروہ ہو جو نیکی کی طرف بلائے، وہ بھلائی کا حکم دے اور برائی سے روکے اور ایسے ہی لوگ کامیاب ہیں۔
اس آیت میں ایک، منکم کا لفظ ہے، اور دوسرے، امۃ کا لفظ ۔ غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ منکم سے مراد پوری امت ہے، اور امۃ سے مراد امت کا ایک منتخب گروہ۔ بالفاظ دیگر منکم سے مراد امت کبیرہ ہے اور امۃ سے مراد امت صغیرہ ۔ یعنی مجموعی امت کی اصلاح کے لیے اس کے اندر ایک منتخب ٹیم ہونا چاہیے۔ اس ٹیم سے مراد وہی اصلاحی گروہ ہے جس کو یہود کی نسبت سے ربانی علماء (5:63) کہا گیا ہے۔ امتِ موسی کے درمیان ربانی علماءکا کام یہ تھا کہ وہ افرادِ امت کی ذہنی اصلاح کا کام کرتے رہیں۔ اسی طرح امتِ محمدی کے اندر ایک اصلاحی ٹیم موجود رہنا چاہیے جو امت کے افراد کو ہر حال میں درست فکر (right thinking) پر قائم رکھنے کا کام کرتی رہے۔
یہ ایک دوسطحی نظام ہے۔ پہلی سطح یہ ہے کہ امت کے اندر دین کی بنیاد پر ایک ڈھانچہ قائم رہے۔ اس ڈھانچے کے اجزاء مسجد ، مدرسہ، حج، اور دوسرے غیر سیاسی ادارے ہیں۔ یہ ادارے اس بات کی ضمانت ہیں کہ امت میںفارم کی سطح پر ایک ڈھانچہ ہمیشہ قائم رہے۔ اسی کے ساتھ یہ بھی ضروری ہے کہ امت کے اندر ربانی علماء کی ایک ٹیم موجود ہو، جو امت کے افراد کی مسلسل نگرانی کرے۔ اور افرادِ امت کی ذہنی بیداری کے اس کام کو ہر نسل میں زمانے کے مطابق جاری رکھے۔اس کام کو حدیث میں تجدیدِ امت (سنن ابوداود، حدیث نمبر4291) کہا گیاہے۔ امت کی ایک ضرورت یہ ہے کہ فارم کے اعتبار سے اس کا ڈھانچہ برابر قائم رہے۔ اور امت کی دوسری ضرورت یہ ہے کہ ہر نسل میں اس کے افراد کی مطابقِ حالات ذہنی تعمیر کی جاتی رہے۔
دو سطحی نظام کی ضرورت اس لیے ہے کہ فارم کی ایک مستقل صورت ہوتی ہے۔ مثلا پنج وقتہ نماز کا نظام یا سالانہ حج کا نظام ، وغیرہ ۔ یہ ہمیشہ ایک ہی ہیئت (form) پر قائم رہیں گے۔ دینی نظام کایہ پہلوعملی اعتبار سے ابدی ہے۔ اس ابدی پہلو کی طرف پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے ان الفاظ میں اشارہ کیا تھا: صلوا کما رأیتمونی أصلی (صحیح البخاری، حدیث نمبر 631)۔ اس حدیث کا مخاطب صرف صحابہ نہ تھے، بلکہ وسیع تر انداز میں اس کا خطاب پوری امتِ محمدی سے ہے۔
لیکن جہاں تک امت کے افراد کا معاملہ ہے، وہ ہمیشہ ایک حالت پر قائم نہیں رہتے۔ بلکہ نسل در نسل ان کے اندر تبدیلی آتی رہتی ہے۔دادا کے بعد باپ، باپ کے بعد بیٹا، بیٹے کے بعد پوتا، وغیرہ۔ بعد میں آنے والی نسلوں کو ہمیشہ مختلف حالات سے سابقہ پیش آتا ہے۔ نیزطول امد (الحدید16:57) کی بنا پر اسپرٹ کے اعتبار سے ان کی بعد کی نسلوں میں زوال آجاتا ہے۔ ایسے حالات میںضرورت ہوتی ہے کہ اسپرٹ کے اعتبار سے ان کو دوبارہ تازہ دم بنایا جائے۔
افراد کی اس ذہنی تعمیر کے تقاضے ہمیشہ بدلتے رہتے ہیں۔ مثلاً انیسویں صدی عیسوی میں دنیا میں ایک نیا دور آیا جس سے امت کےافراد بھی شدت کے ساتھ متاثر ہوئے۔ وہ دور یہ تھا کہ مغرب کی قومیں نئی طاقت کے ساتھ ابھریں۔ وہ پوری مشرقی دنیا پر سیاسی اور تہذیبی اعتبار سے چھاگئیں۔ اس زمانے کی دوسری قوموں کی طرح مسلم قومیں بھی اس کی زد میں آگئیں۔ اس انقلاب کے نتیجے میں امت کے افراد عمومی طور پر منفی ذہنیت (negative thinking)کا شکار ہوگیے۔
تاریخ بتاتی ہے کہ اس دورِ تبدیلی میں امتِ مسلمہ کے اندر’’ربانی علماء‘‘ کا کوئی گروہ نہیں اٹھا ، نہ عرب دنیا میں اور نہ غیرِ عرب دنیا میں۔ اس دور میں کرنے کا کام یہ تھا کہ امت کے افراد کو نئے دور کا صحیح مطالعہ کرایا جائے۔ ان کی منفی سوچ کو ختم کرکے دوبارہ ان کو مثبت سوچ پر قائم کیا جائے۔ ان کو یہ بتایا جائے کہ مغربی قومیںتمھاری دشمن یا حریف نہیں ہیں، بلکہ وہ تمھارے لیے مدعو کی حیثیت رکھتی ہیں۔ تم کو چاہیے کہ تم مغربی قوموں کے بارے میں رد عمل کا طریقہ اختیار نہ کرو، بلکہ ان کے مقابلے میں مثبت ذہن کے ساتھ دعوت کی پر امن منصوبہ بندی کرو۔
واپس اوپر جائیں

جہاد کیا ہے

جہاد کیا ہے، اس کو سمجھنے کے لیے سب سے پہلے یہ جاننا چاہئے کہ موجودہ زمانہ میں مسلمان جہاد کے نام پر جو کچھ کررہے ہیں، وہ جہاد نہیں ہے۔ یہ سب قومی جذبات کے تحت چھیڑی ہوئی لڑائیاں ہیں جن کو غلط طورپر جہاد کا نام دے دیا گیا ہے۔
جہاد اصلاً پُر امن جدوجہد کا نام ہے، وہ قتال کے ہم معنٰی نہیں۔ کبھی توسیعی استعمال کے طورپر جہاد کو قتال کے مفہوم میں بولا جاتا ہے۔ مگر لغوی مفہوم کے اعتبار سے جہاد اور قتال دونوں ہم معنٰی الفاظ نہیں۔ یہاں اس سلسلہ میں قرآن و حدیث سے جہاد کے بعض استعمالات درج کئے جاتے ہیں:
1۔ قرآن میں ارشاد ہوا ہے:وَالَّذِینَ جَاہَدُوا فِینَا لَنَہْدِیَنَّہُمْ سُبُلَنَا (29:69) ۔ یعنی جن لوگوں نے جہاد کیا ہماری خاطر تو ہم اُن کو اپنی راہیں دکھائیں گے۔اس آیت میںتلاشِ حق کو جہاد کہاگیا ہے۔ یعنی اللہ کو پانے کے لیے کوشش کرنا، اللہ کی معرفت حاصل کرنے کے لیے کوشش کرنا، اللہ کی قربت ڈھونڈھنے کے لیے کوشش کرنا۔ ظاہر ہے کہ اس جہاد کا قتال یا ٹکراؤ سے کوئی تعلق نہیں۔
2۔ اسی طرح قرآن میںارشاد ہوا ہے:وَجَاہَدُوا بِأَمْوَالِہِمْ (49:15)۔ یعنی وہ لوگ جنہوں نے اپنے مال سے جہاد کیا۔ اس آیت کے مطابق، اپنے مال کو اللہ کے راستہ میں خرچ کرنا ایک جہادی عمل ہے۔
3۔ اسی طرح قرآن میںارشاد ہوا ہے:وَجَاہِدْہُمْ بِہِ جِہَادًا کَبِیرًا (25:52) یعنی غیرمومنین کے ساتھ قرآن کے ذریعہ جہاد کرو۔ دوسرے لفظوں میں یہ کہ قرآن کی تعلیمات کو پھیلانے کے لیے پُر امن جدوجہد کرو۔
4۔ اسی طرح پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: المجاہد من جاہد نفسہ فی طاعة اللہ (مسند احمد، حدیث نمبر23958)۔ یعنی مجاہد وہ ہے جو اللہ کی اطاعت میں اپنے نفس سے جہاد کرے۔ اس سے معلوم ہوا کہ نفس کی ترغیبات سے لڑکر اپنے آپ کو سچائی کے راستہ پر قائم رکھنا جہاد ہے۔ ظاہر ہے کہ یہ لڑائی داخلی طورپر نفسیات کے میدان میں ہوتی ہے، نہ کہ خارجی طورپر کسی جنگ کے میدان میں۔
5۔ ایک روایت کے مطابق، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: الحج جہاد (ابن ماجہ، حدیث نمبر 2902)۔ یعنی حج جہاد ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ حج کا عمل ایک مجاہدانہ عمل ہے۔ حج کو مطلوب انداز میں انجام دینے کے لیے آدمی کو سخت جدو جہد کرنی پڑتی ہے۔
6۔ ایک روایت کے مطابق، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے والدین کی خدمت کے بارے میں فرمایا: ففیہما فجاہد (البخاری، حدیث نمبر 3004) یعنی تم اپنے والدین میںجہاد کرو۔ اس سے معلوم ہوا کہ ماں باپ کی خدمت کرنا جہاد کا ایک عمل ہے۔
اس طرح کی مختلف آیتیں اور حدیثیں ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ جہاد کا عمل اصلاً ایک پُرامن عمل ہے۔ وہ کسی مطلوب خدائی کام میں پُر امن دائرہ کے اندر جدوجہد کرنا ہے۔ جہاد کے لفظ کا صحیح ترجمہ پُر امن جدو جہد (peaceful struggle) ہے۔
٭ ٭ ٭ ٭ ٭ ٭ ٭
مسلمانوں اور غیر مسلموں کے درمیان تعلق کی فطری بنیاد یہ ہے کہ دونوں یکساں طورپر انسان ہیں۔ دونوں کے درمیان انسانیت کا ابدی رشتہ قائم ہے۔ انسانیت کا تعلق دونوں کے درمیان وہ فطری تعلق ہے جو کبھی اور کسی حال میں ٹوٹنے والا نہیں۔ ہر سماج میں اور ہر ملک میں یہ انسانی رشتہ یکساں طورپر برقرار رہتا ہے۔ یہ رشتہ وہ ہے جو پیدائش کے ساتھ ہی دونوں گروہوں کے درمیان اپنے آپ قائم ہوجاتا ہے۔ یہ ایک ایسا اٹل رشتہ ہے جو کبھی ٹوٹنے والا نہیں۔
واپس اوپر جائیں

دعوت ایک سنگین ذمہ داری

پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک حدیث پڑوسی کے بارے میںان الفاظ میں آئی ہے: کم من جار متعلق بجارہ یوم القیامة یقول یا رب ہذا أغلق بابہ دونی فمنع معروفہ(الادب المفرد للبخاری، حدیث نمبر111)۔ یعنی کتنے ہی پڑوسی ہیں، جو اپنے پڑوسی کو پکڑے ہوئے ہوں گے قیامت کے دن۔ وہ کہیں گے کہ اے میرے رب ، اس نے اپنا دروازہ میرے لیے بند رکھا، اور اپنی بھلائی کو مجھ سے روک دیا۔
یہاں معروف کا لفظ دینی ہدایت کے معنی میں آیا ہے۔یعنی ایک شخص قیامت کے دن رب العالمین سے اپنے پڑوسی کے بارے میں شکایت کرےگا کہ اس انسان کے پاس میری نجات کا راستہ تھا، مگر اس نے اپنے گھر کے دروازے کو میرے اوپر بند رکھا، اور اسلام کی دعوت مجھ کو نہیں دیا،جو آج میرے کام آتا، اور مجھ کو ابدی تباہی سے بچالیتا۔ اس حدیث میں ایک پڑوسی سے مراد وہ شخص ہے جو دنیا میں ایمان کا دعویٰ کرتا تھا، اور اس کے پاس اللہ کی ہدایت قرآن و سنت کی شکل میں موجود تھی۔ دوسرے پڑوسی سے مراد وہ انسان ہے جو اپنی بے خبری کی بنا پر صاحب ایمان نہ بن سکا۔ کیوں کہ اس کے مومن پڑوسی نے اس کی قابل فہم زبان میں اس کو اللہ کی ہدایت نہیں پہنچائی۔
یہ حدیث قیامت کے بارے میں ہے۔ قیامت میں کسی کو یہ محرومی نہیں ستائے گی کہ وہ دنیا میں مادی چیزوں کے پانے میں ناکام رہا ۔ کیوں کہ اب اس کا دور ختم ہوچکا ہوگا۔ قیامت میں کسی کوصرف یہ چیز تڑپائے گی کہ کاش میرے پڑوسی نے میری قابل فہم زبان میں مجھ کو ہدایت پہنچائی ہوتی تو میں اس پر ایمان لاتا، اور آج میں جنت میں داخلے سے محروم نہ رہتا۔ اس حدیث کو موجودہ زمانے کے لحاظ سے دیکھا جائے تو اس میں عام پڑوسی کے علاوہ الیکٹرانک پڑوسی (e-neighbour) بھی شامل ہوں گے۔کیوں کہ آج دُور کے پڑوسی کو ہدایت پہنچانا اتنا ہی آسان ہوگیا ہے، جتنا کہ قریبی پڑوسی کو پہنچانا۔
واپس اوپر جائیں

اعلان کے بغیر معاہدہ

قرآن کے بارے میں حدیث میں آیا ہے : لا تنقَضِی عَجائِبُہ (سنن الترمذی، حدیث نمبر2906) ۔ یعنی قرآن کے عجائبات کبھی ختم نہ ہوں گے۔ یہی بات سنت رسول کے بارے میں صادق آتی ہے۔ رسول اللہ کی سنتوں میں ایسے حکمت کے پہلو ہیں، جو کبھی ختم نہ ہوں گے، اورآپ کےپیرو اُن کو دریافت کرکے اُن سے رہنمائی حاصل کرتے رہیں گے۔ میرے مطالعے کے مطابق، اِنھیں سنتوں میں سے ایک سنت وہ ہے، جس کو بلااعلان معاہدہ (undeclared agreement) کہا جاسکتا ہے۔
اس معاملے کی ایک مثال یہ ہے کہ آپ کے زمانے میں مکہ میں کعبہ تین سو ساٹھ بتوں کا مرکز بنا ہوا تھا۔ اس بنا پر وہاں سارے عرب سے بتوں کے پرستار بتوں کی زیارت کے لیے آیا کرتے تھے۔ پیغمبر اسلام نے یہ حکمت اختیار کی کہ آپ کعبہ میں بتوں کی موجودگی کے بارے میں بلااعلان غیر جانب دار بنے رہے۔ اس طرح آپ کے اور بت کے پرستاروں کے درمیان گویا بلااعلان ایک معاہدہ ہوگیا۔ وہ یہ کہ رسول اللہ روزانہ کعبہ کے علاقے میں جاتے، اور وہاں بتوں کے پرستاروں کو آڈینس (audience) کے طور پر استعمال کرتے رہے۔اس حکمت نے رسول اللہ کے مخالفین کو عملاً آپ کاموید (supporter)بنا دیا۔
موجودہ زمانے کے مسلمان اس سنت سے بے خبر ہیں۔ اگر وہ اس حکیمانہ سنت کو جانیں، تو وہ آج بھی اس سنت کو زندہ کرسکتے ہیں، اور اس طرح یہ حیرت انگیز واقعہ پیش آسکتا ہے کہ جن لوگوں کو مسلمان اپنا دشمن سمجھے ہوئے ہیں، وہ دوبارہ ان کے موید (supporter) بن جائیں گے۔
یہ بھی غالباً اس مذکورہ حکمت کا ایک پہلو ہے، جو قرآن میں ان الفاظ میں بیان ہوا ہے:وَلَا تَسْتَوِی الْحَسَنَةُ وَلَا السَّیِّئَةُ ادْفَعْ بِالَّتِی ہِیَ أَحْسَنُ فَإِذَا الَّذِی بَیْنَکَ وَبَیْنَہُ عَدَاوَةٌ کَأَنَّہُ وَلِیٌّ حَمِیمٌ (41:34)۔
واپس اوپر جائیں

ظن و تخمین

ایک حدیث رسول ان الفاظ میں آئی ہے:إیاکم والظن، فإن الظن أکذب الحدیث (صحیح البخاری، حدیث نمبر5143)۔ یعنی تم گمان سے بچو، کیوں کہ گمان بہت بڑا جھوٹ ہے۔قرآن میں بھی یہ بات ان الفاظ میں آئی ہے: یَاأَیُّہَا الَّذِینَ آمَنُوا اجْتَنِبُوا کَثِیرًا مِنَ الظَّنِّ إِنَّ بَعْضَ الظَّنِّ إِثْمٌ (49:12) ۔ یعنی اے ایمان والو، بہت سے گمانوں سے بچو، کیوں کہ بعض گمان گناہ ہوتے ہیں۔
ظن کا الٹا یقین ہے۔ ایک ہے ظن کی بنیاد پر بولنا، اور دوسرا ہے یقین کی بنیاد پر بولنا۔ ظن کی بنیاد پر بولنا یہ ہے کہ ایک بات جس کے بارے میں آدمی کے پاس صرف ناقص معلومات ہو، مگر وہ اپنی ناقص معلومات کی بنیاد پر قیاس کرکے ایک بات بیان کرے۔ اس قسم کا ظن (گمان) ایک قسم کا جھوٹ ہے۔ کسی کو یہ حق نہیں ہے کہ وہ گمان اور قیاس کی بنیاد پر کسی کے بارے میں ایک رائے دے۔ دوسری صورت یہ ہے کہ آدمی مکمل معلومات اور پوری تحقیق کے بعد اپنی رائے دے۔ اس قسم کا بولنا سچ بولنا ہے۔آدمی کا یہ حق ہے کہ اگر اس کے پاس کسی چیز کے بارے میں پوری معلومات ہوں تو وہ اس کے بارے میں ایک رائے دے، لیکن ناقص معلومات کی بنیاد پر بولنا،یہ ہرگز کسی کا حق نہیں۔
یہ بات کوئی سادہ بات نہیں۔ اگر آدمی کامزاج یہ ہے کہ وہ ناقص معلومات اور مکمل معلومات میں فرق نہ کرے۔ اس کے پاس ناقص معلومات ہوں ، اور وہ اس طرح بولے جیسے کہ وہ علم کی بنیاد پر بول رہا ہے۔ ایسے آدمی کے اندر کمزور شخصیت (weak personality) بنے گی۔ اس کا ذہنی ارتقا رک جائے گا۔ وہ روحانی ترقی کے منازل طے کرنے سے محروم رہے گا۔ صحیح یہ ہے کہ آدمی کو جب کوئی بات پہنچے تو وہ غیر جانبدارانہ انداز میں اس کی تحقیق کرے۔ جو رائے قائم کرے، وہ حقیقی علم کی بنیاد پر ہو ، نہ کہ ظن و تخمین کی بنیاد پر۔ ایسے آدمی کے اندر انٹلکچول ڈیولپمنٹ کا عمل جاری رہے گا۔ وہ روحانی بلندی کے منازل طے کرتا رہے گا۔ یہاں تک کہ شخصی ارتقا کے آخری درجے تک پہنچ جائے گا۔
واپس اوپر جائیں

قرآن میں تدبر

قرآن کا طریق مطالعہ کیا ہو، اس کے بارے میں ایک آیت ان الفاظ میں آئی ہے:کِتَابٌ أَنْزَلْنَاہُ إِلَیْکَ مُبَارَکٌ لِیَدَّبَّرُوا آیَاتِہِ وَلِیَتَذَکَّرَ أُولُو الْأَلْبَابِ (38:29)۔ یعنی یہ ایک برکت والی کتاب ہے جو ہم نے تمہاری طرف اتاری ہے، تاکہ لوگ اس کی آیتوں پر غور کریں اور تاکہ عقل والے اس سے نصیحت حاصل کریں۔
قرآن انسانی زبان میں ہے۔ انسانی زبان کی صفت یہ ہے کہ اس میں کہی ہوئی کوئی بات اپنے آپ میں مکمل نہیں ہوتی۔ وہ پوری طرح اس وقت سمجھ میں آتی ہے جب کہ انسانی ذہن (reason) کو استعمال کرتے ہوئے اس پر غور کیا جائے۔ اسی لیے مذکورہ آیت میں آیات قرآنی سے نصیحت لینے کے لیے یہ شرط لگائی گئی کہ انسان، آیات کے ساتھ اپنی لُبّ (reason) کو استعمال کرتے ہوئے اس پر غور و فکر کرے۔ گویا کہ لُبّ کو استعمال کیے بغیر آیات سے تذکیر کا فائدہ حاصل نہیں ہوتا۔
مثال کے طور پر قرآن کی پہلی آیت یہ ہے:الْحَمْدُ لِلَّہِ رَبِّ الْعَالَمِینَ (1:1)۔ اس آیت کا لفظی ترجمہ یہ ہے: سب تعریف اللہ کے لئے ہے جو سارے جہان کا رب ہے۔ ایک شخص قرآن کو پڑھے تو اس کے ذہن میں یہ سوال آسکتا ہے کہ زندگی تو خود قرآن کے بیان کے مطابق، کبد (hardship) سے بھری ہوئی ہے۔ ہرانسان روزانہ کسی نہ کسی کبد کا تجربہ کر رہا ہوگا۔ ایسی حالت میں کوئی شخص دل کے سچے احساس کے ساتھ کیسے یہ کہہ سکتا ہے کہ ساری تعریف اللہ کے لیے ہے۔ گویا کہ انسان کو یہ کرنا پڑتا ہےکہ مشقتوں میں زندگی گزارتے ہوئے اللہ کو سچے دل سے قابل تعریف مانے۔ یعنی انسان کو خود اللہ کی تخلیق کے مطابق، مسلسل طور پر ایک تضاد کے درمیان جینا پڑتا ہے۔ ایسی حالت میں گہرے معنوں میں حمد کی اسپرٹ انسان کے اندر کیسے پیدا ہو۔
اس سوال کا جواب خود آیت میں موجود نہیں ہے۔ آیت میں صرف اتنا ہی ہے کہ اللہ اعلیٰ ترین معنوں میں ایک قابل تعریف ہستی ہے۔ لیکن اس آیت میں جو سوال چھپا ہوا ہے، اس کا جواب خود آیت میں موجود نہیں۔ اسی پوشیدہ سوال کا جواب معلوم کرنے کا نام تدبر ہے، اور تدبر کا یہ عمل لُبّ کے استعمال سے کیا جاتا ہے۔ اس نوعیت کے تدبر کے ساتھ جب آدمی قرآن کا مطالعہ کرتا ہے تو اس کے نتیجہ کے طور پر آدمی کو وہ چیز حاصل ہوتی ہے جس کو قرآن میں تذکیر یا نصیحت کہا گیا ہے۔
انسان جب اپنی لُبّ (reason) کو استعمال کرتے ہوئے قرآن کی اس آیت پر غور کرتا ہے تو اس پر یہ بات کھلتی ہے کہ انسان کی زندگی میں کبد (hardship) خود انسان کے خیر کے لیے ہے۔ وہ یہ کہ خالق نے انسان کو احسن تقویم (التین 4:) کے ساتھ پیدا کیا ہے۔ مگر یہ احسن تقویم بالقوۃ (potential) کے طور پر ہے، نہ کہ بالفعل (actual) کے طو رپر۔ انسان جب مسائل سے دوچار ہوتا ہے، تو اس کا ذہن ٹرگر(trigger)ہوتا ہے۔ اس کے ذہن کے بند دروازے کھلتے ہیں۔ اس کےاندر چھپی صلاحیتیں بیدار ہوتی ہیں۔ اس پہلو کو ذہن میں رکھتے ہوئے غور کیا جائے تو معلوم ہوگا کہ انسان کی زندگی میں کبد (trouble) کا ہونا خود بھی حمد کا ایک پہلو ہے۔ وہ اللہ کی صفت رحمت کی تشریح ہے۔
کلام کے تقاضے کے تحت ہمیشہ ایسا ہوتا ہے کہ ہر کلام میں کچھ باتیں مذکور ہوتی ہیں، اور کچھ غیر مذکور۔ ایسا ہمیشہ ہوتاہے، اس میں کوئی استثنا نہیں۔ قرآن میں تدبر یہ ہے کہ قرآن کی آیت میں جس بات کا ذکر ہوا ہے ، اس پر غور کرکے غیر مذکور بات کو دریافت کرنا، اور مذکور و غیرمذکور دونوں کو ملا کر آیت کے گہرے معنی تک پہنچنا۔ اسی کا نام تدبر ہے۔ یہ تدبر کوئی پر اسرار چیز نہیں۔ ایسا کلام کی عام صفت کے مطابق ہوتا ہے۔ اس تدبر کی ضرورت انسانی کلام میں بھی ہوتی ہے، اور خدائی کلام میں بھی۔ ا سی لیے قرآن میں کہا گیا ہے کہ اللہ کی کتاب کو اسی زبان میں بھیجا جاتا ہے، جو مخاطب کے لیے قابل فہم (understandable) ہو۔ یہی بات ہے جو قرآن میں ان الفاظ میں بتائی گئی ہے:وَمَا أَرْسَلْنَا مِنْ رَسُولٍ إِلَّا بِلِسَانِ قَوْمِہِ لِیُبَیِّنَ لَہُمْ (14:4)۔ اسی طرح ایک آیت یہ ہے: قُرْآنًا عَرَبِیًّا غَیْرَ ذِی عِوَجٍ لَعَلَّہُمْ یَتَّقُونَ (39:28)۔
واپس اوپر جائیں

وضوح کا مسئلہ

وضوح (clarity) فکر یا تقریر و تحریر کا بے حد اہم پہلو ہے۔ یہ در اصل وضوحِ بیان ہے جو کسی کلام کو موثر (effective) بناتا ہے۔ جو کلام وضوح بیان سے خالی ہو، وہ عملاً ایک بے نتیجہ کلام بن جائے گا۔ وہ کہنے والے کے لیے ایک کلام ہوگا، لیکن سننے یا پڑھنے والے کے لیے وہ غیرواضح الفاظ کا ایک مجموعہ۔وضوح کی شرط صرف ایک ہے۔ وہ یہ کہ تقریر و تحریر سے پہلے آدمی خود اپنی ڈی کنڈیشننگ کرے۔یہ حقیقت ہے کہ پیدا ہوتے ہی آدمی کی کنڈیشننگ شروع ہوجاتی ہے۔ اس حقیقت کو حدیث میں ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے:کل مولود یولد على الفطرة، فأبواہ یہودانہ، أو ینصرانہ، أو یمجسانہ (صحیح البخاری، حدیث نمبر1385)۔
ڈی کنڈیشننگ پہلے آدمی کی کنڈیشننگ کو ختم کرتی ہے۔ اس کے بعد انسان اس قابل بنتا ہے کہ وہ بے آمیز انداز میں سوچے۔ وہ آبجکٹیو انداز میں رائے قائم کرے۔ اس لیے جو لوگ اپنی ڈی کنڈیشننگ سے پہلے تقریر و تحریر کا عمل شروع کردیں، ان کا کیس کم و بیش putting the cart before the horse کا کیس بن جائے گا۔
اس معاملے کو استعارہ کی زبان میں اس طرح کہا جاسکتا ہے کہ انسان کی زندگی میں پہلے ’’غار حراء‘‘ کا مرحلہ آتا ہے۔ اس کے بعد اس کی زندگی میں ’’اقرأ ‘‘کا دور شروع ہوتا ہے۔ یعنی پہلے سیلف تھنکنگ (self thinking)کے ذریعہ اپنے دماغ میں وضوح لانا، اور اس کے بعد لکھنے اور بولنے کا عمل شروع کرنا۔ اسی بات کو صحابی رسول جندب بن عبد اللہ نے کہا ہے : کنا مع النبی صلى اللہ علیہ وسلم ونحن فتیان حزاورة، فتعلمنا الإیمان قبل أن نتعلم القرآن، ثم تعلمنا القرآن فازددنا بہ إیمانا (سنن ابن ماجہ، حدیث نمبر 61)۔ اس روایت میں غالباً اسی حقیقت کا ذکر ہے کہ ہم نے پہلے اپنے ذہن کی ڈی کنڈیشننگ کی۔ پھر ہم نے اپنے کو اس قابل بنایا کہ ہم قرآن کو واضح انداز میں سمجھیں۔
واپس اوپر جائیں

یہ بھی جھوٹ ہے

ایک روایت حدیث کی مختلف کتابوں میں آئی ہے، صحیح مسلم کے الفاظ یہ ہیں:کفى بالمرء کذبا أن یحدّث بکل ما سمع (صحیح مسلم، مقدمہ)۔ یعنی آدمی کے جھوٹا ہونے کے لیے یہ کافی ہے کہ وہ ہر سنی ہوئی بات کو بیان کرنےلگے۔ حدیث کے الفاظ یہ نہیں ہیں کہ جو آدمی جھوٹی بات کو بیان کرے، وہ جھوٹا ہے۔ بلکہ یہ فرمایا کہ سنی ہوئی بات کو بلا تحقیق بیان کرنے لگے۔
اس حدیث کا مطلب یہ ہے کہ سنی ہوئی بات کو بلا تحقیق بیان کرنا، گویا کہ جھوٹ بولنا ہے۔ اس کا سبب یہ ہے کہ عام طور پر لوگ کسی بات کو اس کی پوری شکل میں رپورٹ نہیں کرتے۔ بلکہ وہ یہ کرتے ہیں کہ معاملے کے کچھ پہلو کو بیان کرتے ہیں ، اور کچھ دوسرے پہلو کو چھوڑ دیتے ہیں۔ یہ طریقہ سخت بے احتیاطی کا طریقہ ہے۔ کیوں کہ اس طرح کی رپورٹ سے سننے والے کے اندر خلاف واقعہ رائے بنتی ہے۔
مثلا کچھ لوگ مسجد میں اکٹھا ہوئے، وہاں انھوں نے پرجوش تقریریں سنیں۔ اس کے بعد وہ جلوس کی شکل میں سڑک پر نکلے۔ اب اگر بتانے والا یہ بتائے کہ پولیس نے جلوس پر فائرنگ کی تو سننے والے کو یہ کرنا چاہیے کہ وہ پہلے اصل معاملے کی تحقیق کرے ،اس کے بعد وہ اصل معاملے کو بیان کرے۔ کیوں کہ عین ممکن ہے کہ پرجوش جلوس نے پہلے پولیس پر پتھر مارا ہو۔اس کے بعد جواب میں پولیس نے فائرنگ کی ہو۔ اگر ایسا ہو تو البادی اظلم کے اصول کے مطابق پتھر مارنے والا مجرم ہے، نہ کہ گولی چلانے والا۔
اس سلسلے میں قرآن کی ایک آیت یہ ہے:یَاأَیُّہَا الَّذِینَ آمَنُوا إِنْ جَاءَکُمْ فَاسِقٌ بِنَبَإٍ فَتَبَیَّنُوا أَنْ تُصِیبُوا قَوْمًا بِجَہَالَةٍ فَتُصْبِحُوا عَلَى مَا فَعَلْتُمْ نَادِمِینَ (49:6)۔یعنی اے ایمان والو، اگر کوئی فاسق تمہارے پاس خبر لائے تو تم اچھی طرح تحقیق کرلیا کرو، کہیں ایسانہ ہو کہ تم کسی گروہ کو نادانی سے کوئی نقصان پہنچا دو ، پھر تم کو اپنے کیے پر پچھتانا پڑے۔
واپس اوپر جائیں

فطرت کا نظام

فطرت کا ایک قانون قرآن میں ان الفاظ میں بیان ہوا ہے: وَلَنَبْلُوَنَّکُمْ بِشَیْءٍ مِنَ الْخَوْفِ وَالْجُوعِ وَنَقْصٍ مِنَ الْأَمْوَالِ وَالْأَنْفُسِ وَالثَّمَرَاتِ وَبَشِّرِ الصَّابِرِینَ ۔ الَّذِینَ إِذَا أَصَابَتْہُمْ مُصِیبَةٌ قَالُوا إِنَّا لِلَّہِ وَإِنَّا إِلَیْہِ رَاجِعُونَ ۔ أُولَئِکَ عَلَیْہِمْ صَلَوَاتٌ مِنْ رَبِّہِمْ وَرَحْمَةٌ وَأُولَئِکَ ہُمُ الْمُہْتَدُونَ (2:155-57)۔ یعنی اور ہم ضرور تم کو آزمائیں گے کچھ ڈر اور بھوک سے اور مالوں اور جانوں اور پھلوں کی کمی سے۔ اور ثابت قدم رہنے والوں کو خوش خبری دے دو۔ جن کا حال یہ ہے کہ جب ان کو کوئی مصیبت پہنچتی ہے تو وہ کہتے ہیں ہم اللہ کے ہیں اور ہم اسی کی طرف لوٹنے والے ہیں۔ یہی لوگ ہیں جن کے اوپر ان کے رب کی عنایتیں ہیں اور رحمت ہے۔ اور یہی لوگ ہیں جو راہ پر ہیں۔
ان آیات پر غور کرنے سے فطرت کا ایک قانون معلوم ہوتا ہے۔ اصل یہ ہے کہ خدا انسان کو پیدا کرکے اس سے غیر متعلق نہیں ہوگیا۔ چوں کہ یہ صرف خالق ہے، جس کو تمام حقیقتوں کا علم ہے، اس لیے یہ ضروری تھا کہ خالق اپنے علم کے مطابق، انسان کی رہنمائی بھی کرتا رہے۔ لیکن چوں کہ انسان کو ایک آزاد مخلوق کی حیثیت سے پیدا کیا گیا ہے، اس لیے یہ رہنمائی جزئی طور پر کتاب اللہ کی صورت میں دی گئی ہے، لیکن زیادہ وسیع پہلوؤں کے اعتبار سے وہ حالات کی زبان میں انسان کو فراہم کی جاتی ہے۔
اسی فطری رہنمائی کو یہاں مصیبت کے لفظ میں بیان کیا گیا ہے۔ انسان کو اس دنیا میں جن حالات میں زندگی گزارنا ہے، اس میں بار بار اس کو وہ چیز پیش آتی ہے، جس کو یہاں مصیبت (suffering) کہا گیا ہے۔ یہ مصیبت انسان کے لیےکوئی برائی (evil) نہیں ہوتی۔ نفسیات کی زبان میں وہ حالات کا دباؤ (compulsion) کے ہم معنی ہوتی ہے۔ دباؤ کے یہ حالات انسان کوعمل کا رخ (direction)دیتے ہیں۔ وہ انسان کو اپنے عمل کی ری پلاننگ (replanning) کی طرف لے جاتے ہیں۔ وہ انسان کی سوچ کو نیا زاویہ عطا کرتے ہیں۔ اس طرح انسان اس قابل ہوجاتا ہے کہ وہ اپنے عمل کا منصوبہ فطرت کے مطابق کرے۔ وہ فطرت کے نظام کو اختیار کرکے اپنے آپ کو کامیاب بنائے۔
حالات کے تحت جو دباؤ (pressure) پیش آتا ہے،وہ ہماری زندگی کا ایک لازمی حصہ ہے۔ البتہ دباؤ کی دو صورتیں ہیں۔ ایک ہے، کچل دینے والا دباؤ (crippling pressure)۔ یعنی وہ دباؤ جس کے بعد آدمی کام کرنے کے قابل نہ رہے۔ دوسرا دباؤ وہ ہے، جو اس سے کم ہو۔ یعنی نان کریپلینگ پریشر (non-crippling pressure)۔ ایسا دباؤ آدمی کی زندگی میں کچھ مسئلہ تو پیدا کرتا ہے، لیکن اس سے ایسا نہیں ہوتا ہے کہ اس کے بعد آدمی کام کرنے کے قابل نہ رہے۔ یہ دوسری قسم کا دباؤ ہمیشہ ایک مثبت دباؤ ہوتا ہے۔ آدمی کو چاہیے کہ وہ مثبت دباؤ کو پہچانے، اور اس سے پیدا ہونے والے مواقع کو استعمال کرے۔ اس طرح وہ زیادہ کام کرنے کے قابل بن جائے گا۔
مذکورہ آیت میں حالات کو اللہ کی طرف منسوب کرنا، محض عقیدہ کی بات نہیں ہے، بلکہ وہ خالق کے تخلیقی منصوبہ کی بات ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ خالق انسان کو پیدا کرنے کے بعد اس سے بے تعلق نہیں ہوگیا ہے، بلکہ وہ حالات پیداکرکے انسان کو برابر رہنمائی دیتا رہتا ہے۔ یہ انسان کا کام ہے کہ وہ حالات کو پڑھے، اور خالق کی خاموش زبان کو سن کر تخلیق کے منصوبہ کو سمجھے۔
اس سیاق (context) میں صبر کا مطلب ہے ، خالق کے مقرر کردہ نقشے کو پوری رضامندی کے ساتھ قبول کرنا، اور صلوات اور رحمت کا مطلب یہ ہے کہ جو لوگ خالق کے اس منصوبہ پر راضی ہوں، اور اس کے مطابق اپنے عمل کی منصوبہ بندی کریں، وہی وہ لوگ ہیں ، جو اس دنیا میں کامیابی حاصل کریں گے۔
اس معاملے کی ایک تاریخی مثال یہ ہے کہ قدیم مدینہ (یثرب) میں دو بڑے قبیلے تھے، اوس اور خزرج۔ یہ دونوں قبیلے ، قبائلی کلچر کی بنا پر بار بار آپس میں لڑتے رہتے تھے۔ اس باہمی لڑائی کے نتیجہ میں ان کی ترقی رکی ہوئی تھی۔ رسول اللہ کی ہجرت سے کچھ پہلے دونوں قبیلوں کے درمیان باہمی لڑائی ہوئی۔ اس لڑائی کو تاریخ میں یوم بعاث کہا جاتا ہے۔ حضرت عائشہ کہتی ہیں : کان یوم بعاث، یوما قدمہ اللہ لرسولہ صلى اللہ علیہ وسلم، فقدم رسول اللہ صلى اللہ علیہ وسلم وقد افترق ملؤہم، وقتلت سرواتہم وجرحوا، فقدمہ اللہ لرسولہ صلى اللہ علیہ وسلم فی دخولہم فی الإسلا م (صحیح البخاری، حدیث نمبر 3777)۔ یعنی بعاث کے واقعہ کو اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کے لیے پیدا کیا تھا،چنانچہ جب آپ مدینہ میں آئے تو یہ قبائل آپسی اختلاف کا شکار تھے، اور ان کے سردار کچھ قتل کئے جا چکے تھے ، اورکچھ زخمی ہوگئےتھے ، تو اللہ تعالیٰ نے اس کو آپ سے پہلے وقوع پذیر کیا تاکہ وہ اسلام میں داخل ہوجائیں ۔
اس روایت پر غور کرنے سے سمجھ میں آتا ہے کہ جو صورت قدیم مدینہ (یثرب) میں پیش آئی ، وہ کیا تھی۔ واقعہ یہ تھا کہ ہجرت رسول سے پانچ سال پہلے مدینہ کے دو قبائل، اوس اور خزرج میں باہمی جنگ ہوئی، اس میں ان کے بہت سے لوگ مارے گئے۔ اس حادثہ کے بعد اہل یثرب کے درمیان یہ ذہن پیدا ہوا کہ ہمارا موجودہ قبائلی کلچر ہمارے لیے مصیبت بن گیا ہے ۔اس وقت ان کو نظر آیا کہ اسلام ان کے لیے بہتر انتخاب (better option) ہے۔ واضح ہو کہ ہجرت سے پہلے اسلام یثرب میں پہنچ چکا تھا۔ چنانچہ جب رسول اللہ مدینہ میں داخل ہوئے تو بہت جلد آپ مدینہ والوں کے لیے قابل قبول (acceptable) بن گئے — یہ ایک مثال ہے کہ تاریخ میں کس طرح حالات کا دباؤ لوگوں کے لیے اس بات کا ذریعہ بن گیا کہ وہ اپنی سوچ کو بدلیں، اور جنگ کے بجائے امن کا طریقہ اختیار کریں۔
’’مصیبت‘‘ کا یہ فطری فارمولا افراد کے لیے بھی ہے، اور گروہوں کے لیے بھی۔ تاریخ میں بڑی تعداد میں ایسے افراد بھی ملیں گے، اور ایسے گروہ بھی جن پر مصیبت یا دباؤ کے یہ حالات پیش آئے۔ اس کے نتیجہ میں انھوں نے مسئلے پر دوبارہ غور کیا، اور نئے بہتر فیصلے تک پہنچے۔ حالات کا مطالعہ بتاتا ہے کہ دباؤ (pressure) کی صورت پیش نہ آتی تو افراد اور گروہ دونوں کے لیے کوئی نیا فیصلہ لینا ممکن نہیں ہوتا۔
واپس اوپر جائیں

اللہ اکبر کا غلط استعمال

ایک نیو ز میڈیا میں آئی ہے۔ ٹائمس آف انڈیا، نیو دہلی کے الفاظ میں وہ نیوز یہ ہے:
Venice Mayor: Shout Allahu Akbar and you will be shot
Venice’s controversial mayor has declared that anyone shouting “Allahu akbar” in the city’s famous St Mark’s Square will be shot “after three steps”. Luigi Brugnaro also said the Italian city was safer than Barcelona, where terrorists killed 13 people this month. .. According to The Times, Brugnaro said: “We keep our guard up... If anyone runs into St Mark’s Square shouting Allahu akbar we will take him down... A year ago, I said after four steps. Now, after three.” Defending his remarks at a conference, he added: “I have never been politically correct, I am incorrect. I would shoot, we would shoot.” Concrete barriers have been installed in some of Italy’s most famous sites in the wake of the Barcelona atrocity. Major tourist attractions in Milan, Rome, Bologna and Turin are all stepping up security in pedestrianised areas. Italy has not suffered any attacks on its territory , but IS has warned that the country is on its hit list. (TOI, 29 August 2017, p. 18)
اس خبر کو دیکھ کر شاید کچھ مسلمان یہ کہیں گے کہ یہ اسلام کے خلاف مغرب کی دشمنی کا ایک مزید ثبوت ہے۔ مگر سوال یہ ہے کہ اسلام تو مغرب میں بہت پہلے سے ہے۔ مگر کبھی کسی مغربی لیڈر نے اس قسم کی بات نہیں کہی۔ اصل یہ ہے کہ یہ تاریخ میں پہلی بار ہے کہ مسلمانوں کے کچھ گروپ اسلام کے نام پر ملیٹینسی چلاتے ہیں۔ وہ اللہ اکبر کہہ کر لوگوں کے اوپر بم مارتے ہیں۔ ایسی حالت میں یہ ایک فطری بات ہے کہ لوگ یہ سمجھیں کہ’’اللہ اکبر‘‘ اپنے ماننے والوں کو وائلنس سکھاتا ہے، اور یہ ایک حقیقت ہے کہ وائلنس کی بات کرنے والوں کے لیے آج کی دنیا میں کوئی جگہ نہیں ہے۔
مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ اس واقعہ پر ری ایکٹ نہ کریں، بلکہ یہ سوچیں کہ اس کا سبب یہ ہے کہ اسلام کی امیج خراب ہوگئی ہے۔ آج مسلمانوں کا سب سے بڑا فرض یہ ہے کہ وہ سوچیںکہ اب ہمیں دوبارہ یہ امیج بنانا ہے کہ اسلام ایک پیس فل مذہب ہے۔ اس کے سوا اس مسئلے کا کوئی اور حل نہیں۔
واپس اوپر جائیں

فساد فی الارض

قرآن کی سورۃ البقرۃ میں ایک کردار کو ان الفاظ میںبیان کیا گیا ہے:وَإِذَا قِیلَ لَہُمْ لَا تُفْسِدُوا فِی الْأَرْضِ قَالُوا إِنَّمَا نَحْنُ مُصْلِحُونَ (2:11)۔ یعنی جب اُن سے کہا جاتا ہے کہ تم زمین میںفساد نہ کرو تو وہ کہتے ہیں کہ ہم تو اصلاح کرنے والے لوگ ہیں۔قرآن کی اس آیت میںجس کردار کا ذکر ہے اُس سے مراد وہ لوگ ہیں، جو بظاہر ایک اصلاحی مقصد کے لیے سرگرم ہوں، مگر اُن کا طریقہ درست نہ ہو۔ اُن کا طریقہ ایساہو جوعملاً فساد اور بگاڑ پیدا کرنے والا ہے۔ یہاں فساد سے مراد یہ ہے کہ اُن کے طریقہ کے نتیجے میںلوگوں میںباہمی ٹکراؤ پیدا ہو۔ لوگ ایک دوسرے سے نفرت کرنے لگیں۔ لوگوں کے اندر اخلاقی احساس کمزور ہوجائے۔ لوگوں کے اندر منفی نفسیات پیدا ہوں۔ اس قسم کی تمام چیزیں فساد فی الأرض کی حیثیت رکھتی ہیں۔ کیوں کہ اس سے سماجی امن ختم ہوتا ہے۔ یہاں تک کہ لڑائی اور ٹکراؤ کی نوبت آجاتی ہے۔
اس سے معلوم ہوا کہ کسی عمل کے درست ہونے کے لیے صرف یہ کافی نہیں کہ بظاہر وہ ایک اچھے مقصد کے لیے شروع کیا گیا ہو۔ اسی کے ساتھ لازمی طورپر یہ دیکھنا ہوگا کہ اصلاح کے نام پر کی جانے والی سرگرمیاں کس قسم کا نتیجہ پیدا کرتی ہیں۔ اگر وہ لوگوں کے درمیان نفرت اور تناؤ اورلڑائی جیسی چیزیں پیدا کریں تو بظاہر اصلاح کا نام لینے کے باوجود اُن کی سرگرمیاں مفسدانہ سرگرمیاں ہی کہی جائیں گی۔ ایسے لوگ انسانیت کے مجرم قرار پائیں گے ،نہ کہ انسانیت کے مصلح اور خادم۔
کوئی بھی اصلاحی کام صرف اُس وقت اصلاحی کام ہے، جب کہ وہ امن او ر انسانیت کے دائرہ میںکیا جائے۔ اصلاح کے نام پر کیا جانے والا ہر وہ کام غلط ہے، جو سماجی امن کو درہم برہم کرے۔ جس کے نتیجہ میں جان اورمال کی تباہی ظہورمیں آئے۔ اصلاح کو اپنے نتیجہ کے اعتبار سے بھی اصلاح ہونا چاہیے۔ جو اصلاح اپنے نتیجہ کے اعتبار سے فساد ہو، وہ اپنی حقیقت کے اعتبار سے بھی فساد ہے، خواہ اُس کو کتنا ہی زیادہ خوب صورت الفاظ میں بیان کیا گیا ہو۔
واپس اوپر جائیں

اجتماعی زندگی کا ایک اصول

پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے مدنی دور میں صحابی ولید بن عقبہ اور بنو مصطلق کی نسبت سے ایک واقعہ پیش آیا (اس واقعہ کےلیے دیکھیں تفسیر ابن کثیر، تفسیر مظہری، وغیرہ) ۔اس واقعہ کے بعد قرآن میں مندرجہ ذیل آیت اتری جس میں اجتماعی زندگی کا ایک رہنما اصول بتایا گیا ہے۔ وہ آیت یہ ہے: یَا أَیُّہَا الَّذِینَ آمَنُوا إِنْ جَاءَکُمْ فَاسِقٌ بِنَبَإٍ فَتَبَیَّنُوا أَنْ تُصِیبُوا قَوْمًا بِجَہَالَةٍ فَتُصْبِحُوا عَلَى مَا فَعَلْتُمْ نَادِمِینَ (49:6)۔
ا س آیت میں بتایا گیا ہے کہ صرف سنی ہوئی بات پر کوئی اقدام نہ کیا جائے۔ کیوں کہ سنی ہوئی بات اکثر اصل واقعہ کا محرف بیان (distorted version) ہوتی ہے۔ اگر آپ صرف سن کر کسی بات کو مان لیں تو عین ممکن ہے کہ آپ کا رد عمل نادانی کا عمل ہو۔ اس لیے ضروری ہے کہ بات کو سننے کے بعد اس کی باقاعدہ تحقیق (scrutiny)کی جائے، اور پھر اس کے بارے میں کوئی رائے قائم کی جائے۔ ایسا کرنے کی صورت میں آپ اُس معاملہ میںصحیح رسپانس (response) دے پائیں گے۔
اجتماعی زندگی کےلیے یہ ایک اہم اصول ہے۔ ایسا نہ کرنے کی صورت میں یہ ہوگا کہ معاشرہ بگاڑ کا معاشرہ بن جائے گا— سن کر مان لینے کا نتیجہ یہ ہوگا کہ پہلے غلط فہمی پیدا ہوگی۔ اس کے بعد شکایت اور نفرت کا سلسلہ جاری ہوجا ئے گا۔ عمل اور ردعمل(reaction) کے نتیجے میں یہ سلسلہ بڑھتا رہے گا، یہاں تک کہ وہ بریک ڈاؤن (breakdown )تک پہنچ جائے گا۔
اس لیے ضروری ہے کہ سنی ہوئی بات کی بے لاگ انداز میں تحقیق کی جائے۔ تحقیق کے تقاضے کو پورا کیے بغیر کوئی رائے قائم نہ کی جائے۔ کسی بھی حال میں رد عمل کا طریقہ اختیار نہ کیا جائے۔ اس طرح کے معاملے میں جو روش اختیار کی جائے، وہ جذبات پر مبنی نہ ہو،بلکہ وہ حقیقت واقعہ پر مبنی ہو۔
واپس اوپر جائیں

بڑا فتنہ

پیغمبر اسلام کی طرف منسوب کرکے ایک روایت اس طرح آئی ہے: الامام الجائر خیر من الفتنۃ (ادب الدنیا و الدین للماوردی، صفحہ 219)۔ یعنی ظالم حکمراں فتنہ سے بہتر ہے۔یہاں ظالم سے مراد حقیقی ظالم نہیں ہے، بلکہ وہ حاکم ہے جس کو کچھ لوگ ظالم سمجھ لیں، اور ان کے خلاف لڑائی چھیڑ دیں۔ حکمراں سے لڑائی کوئی سادہ بات نہیں۔ یہ واقعہ اس وقت ہوتا ہے، جب کہ کچھ لوگ کسی حاکم کے خلاف شکایات کو لے کر اس کو ظالم بتائیں، اور ظالم کے ظلم کو ختم کرنے کے نام پر اس سے لڑائی چھیڑ دیں۔
ظاہر ہے کہ حاکم جب اپنے آپ کو خطرے میں محسوس کرے گا تو وہ اس کو مٹانے کے لیے اپنی پوری طاقت لگا دے گا۔ اس طرح یہ ہوگا کہ جو چیز پہلے صرف بظاہر ظلم تھی، وہ اب جنگ و قتل کی صورت اختیار کر لے گی۔ لوگ مارے جائیں گے، لوگ پکڑے جائیں گے، لوگوں کی آزادیاں چھینی جائیں گی، لوگوں کے اوپر نئی نئی پابندیاں عائد کی جائیں گی۔ مثلاً اگر وہ مسجد میں حاکم کے خلاف اپنی سرگرمیاں جاری کیےہوئے تھے، تو مسجد پر پابندی لگے گی،لوگ کتابوں میں حاکم کے خلاف باتیں چھاپ رہے تھے تو ایسی کتابیں ضبط کی جائیں گی۔ لوگ اگر جمعہ کے خطبے میں اس قسم کی باتیں کریں گے تو حکومت جمعہ کے خطبے کو اپنےچارج میں لے لے گی۔ اس طرح ظلم کے خلاف تحریک عملاً کاؤنٹر پروڈکٹو ثابت ہوگی۔ چھوٹے ظلم کے بعد بڑا ظلم پیدا ہوگا۔ لوگوں کی آزادیوں پر پابندی لگے گی۔ ظلم کے جواب میں تشدد پیدا ہوگا۔ اس لیے صحیح طریقہ یہ ہے کہ اگر کسی کو نظر آئے کہ حاکم ظلم کر رہا ہے تو وہ اس کے مقابلے میں صبر کی پالیسی اختیار کرے۔ وہ یا تو اس معاملے میں بالکل خاموش رہے، یا اگر وہ کچھ کہنا چاہتا ہے تو وہ ہر گز جوابی تحریک نہ چلائے، بلکہ تنہائی میں حکمراں سے مل کو اس کو نصیحت کرے۔ اس سے زیادہ کچھ کرنا ظلم میں اضافہ کے ہم معنی ہے۔
واپس اوپر جائیں

فوکس کو سمیٹنا

موجودہ زمانے میں مسلمانوں کے اندر بہت سی تحریکیں اٹھیں۔ یہ تحریکیں مثبت معنوں میں کوئی نتیجہ خیز کام نہیں کرسکیں۔ اس کا ایک سبب یہ تھا کہ تقریباً ہر ایک نے اپنے فوکس کو پھیلایا۔ انھوں نے جامعیت کے غلط تصور کے تحت بہت سے کاموں کو اپنے دائرے میں لے لیا۔ یہ کام کا صحیح طریقہ نہیں۔ کام کا صحیح طریقہ یہ ہے کہ فوکس کو سمیٹا جائے۔صرف فوکس کو سمیٹنے کی شکل میں کوئی بڑا کام ہوسکتا ہے۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے دور آخر کے لیے اہل ایمان کو یہ نشانہ دیا تھا، جب کہ آپ نےکہا تھا: لا یبقى على ظہر الأرض بیت مدر، ولا وبر إلا أدخلہ اللہ کلمة الإسلام (مسند احمد، حدیث نمبر 23814 ) ۔ یعنی روئے زمین پر کوئی چھوٹا یا بڑا گھر باقی نہیں بچے گا، مگر اللہ اس میں اسلام کے کلمہ کو داخل کردے گا۔اس حدیث میں ادخال کلمہ سے مراد عملاً ادخال قرآن ہے۔ یعنی قرآن کو ہر گھر میں اور ہر انسان تک پہنچایا جائے۔ گھر سے مراد رہائش گاہ نہیں ہے، بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ ہر تعلیم گاہ، ہر لائبریری ، ہر ادارہ،ہر ہوٹل، وغیرہ میں اس کو پہنچادینا۔
یہ حدیث بظاہر دور آخر کےلیے ہے، جب کہ کمیونی کیشن کا زمانہ آجائے۔ قرآن کو ہر زبان میں ترجمہ کرکے اس کو ہر گروہ کی قابل فہم زبان (understandable language) میں پہنچانا ممکن ہوجائے، خواہ پرنٹ ایڈیشن کے ذریعہ ہو یا الیکٹرانک ایڈیشن کے ذریعہ۔ مسلمان لمبے عرصے سے پولیٹکل ایمپائر کا خواب دیکھ رہے ہیں۔ اب وقت آگیا ہے کہ فوکس کو سمیٹا جائے، اور صرف ایک کام کو اپنا فوکس بنایا جائے، اور وہ ہے قرآن کے اشاعتی ایمپائر کا قیام۔ جیسا کہ عیسائیوں نے ویٹیکن کو بائبل کا اشاعتی ایمپائر بنا دیا ہے۔ دعوت کے پہلو سے اسلام کا نشانہ کنورزن یا پولیٹکل غلبہ نہیں ہے۔ بلکہ صرف پرامن طور پر ابلاغ (پہنچادینا) ہے۔ داعی کا کام پہنچا دینا ہے۔ اس کے بعد یہ مدعو کا معاملہ ہے کہ وہ اس کو قبول کرتا ہے یا نہیں۔قرآن میں یہ حکم 20 سے زائد مقامات پر ذکر کیا گیا ہے۔ان میں سے ایک یہ ہے:مَا عَلَى الرَّسُولِ إِلَّا الْبَلَاغُ (5:99)۔
واپس اوپر جائیں

علمی انداز، صحافتی انداز

قرآن میں ایک معاملے کو ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے: اللہ اس سے نہیں شرماتا کہ بیان کرے مثال مچھر کی یا اس سے بھی کسی چھوٹی چیز کی۔ پھر جو ایمان والے ہیں، وہ جانتے ہیں کہ وہ حق ہے ان کے رب کی جانب سے۔ اور جو منکر ہیں وہ کہتے ہیں کہ اس مثال کو بیان کرکے اللہ نے کیا چاہا ہے۔ اللہ اس کے ذریعہ بہت سے لوگوں کو گمراہ کرتا ہے اور بہت سے لوگوں کو اس سے راہ دکھاتا ہے۔ اور وہ گمراہ کرتا ہے ان لوگوں کو جو نافرمانی کرنے والے ہیں (2:26)۔
قرآن میں کسی معاملے کو واضح کرنے کے لیے مچھر اور مکڑی کی مثال دی گئی۔ اس کو دیکھ کر منکرین نے اس کا مذاق اڑایا۔ انھوں نے کہا کہ یہ کیسا قرآن ہے، جس میں مچھر اور مکڑی کی مثال دی جاتی ہے۔ اس کے جواب میں کہا گیا کہ یہ مت دیکھو کہ جو مثال دی گئی ہے، وہ کس چیز کی مثال ہے،بلکہ اس میں جو سبق ہے، اس سبق کو دیکھو۔
یہ واقعہ قدیم زمانے کے منکرین کا ہے۔ موجودہ زمانے میں بھی اس واقعہ کو دیکھا جاسکتا ہے۔ فرق صرف یہ ہے کہ موجودہ زمانے میں الفاظ بدل گئے ہیں۔ ذہن وہی ہے، البتہ وہ مختلف الفاظ میں ظاہر ہوتا ہے۔ مثلاً موجودہ زمانے میں آپ کسی سے ایک سچائی کی بات کہیں گے، تو وہ کہے گا کہ آپ کا اسلوب تو صحافتی اسلوب ہے۔ آپ کو چاہیے کہ جو بات کہیں ، علمی اسلوب میں کہیں۔ تب آپ کی بات میں وزن ہوگا۔
کوئی بات خواہ وہ بظاہر مذہبی ہو یا سیکولر اس کو بیان کرنے کے لیے بیان کرنے والا ایک اسلوب اختیار کرتا ہے۔ اس اسلوب میں دیکھنے کی بات یہ ہے کہ اس میں کتنا وضوح (clarity) ہے، وہ کتنا زیادہ انسانی ذہن کو ایڈریس کرتا ہے، اس میں سبق کا پہلو کتنا ہے۔ کسی بات کے سلسلے میں اصل اہمیت سبق کی ہے، نہ کہ کسی دوسری چیز کی۔اسلوب ہمیشہ اضافی ہوتا ہے، اور معنویت ہمیشہ حقیقی۔
واپس اوپر جائیں

اختلاف ایک رحمت

کائنات پر غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ کائنات کے مختلف اجزاء میں بہت زیادہ تنوع (diversity) پایا جاتا ہے۔ اس کے باوجود کائنات میںکامل توافق (harmony) موجود ہے۔ اس اعتبار سےکائنات ایک ماڈل ہے کہ کس طرح یہ ممکن ہے کہ کامل اختلاف کے باوجود آپس میں کامل اتحاد پایا جائے۔
انسانوں کے درمیان بھی اسی طرح اختلاف یا تنوع موجود ہے۔ مگر یہاں عملاً برعکس صورت حال پائی جاتی ہے۔ انسانوں کے درمیان اختلاف کی بنیاد پر ٹکراؤ ہے۔ اس کے نتیجہ میں انسانی سماج میں نفرت اور تشدد، یہاں تک کہ جنگ کی صورت حال پیدا ہوجاتی ہے۔ کائنات کے دو حصوں میں یہ فرق کیوں۔ مادی حصۂ کائنات میں اختلاف کے باوجود اتحاد پایا جاتا ہے۔ جب کہ انسانی دنیا میں اختلاف لوگوں میں ٹکراؤ کا سبب بن جاتا ہے۔ اس کا سبب یہ ہے کہ انسان اپنی خواہش پر چلتا ہے،کائنات کے ماڈل کو وہ نہیں اپناتا۔
کائنات کا ماڈل خالق کے تخلیقی منصوبہ پر مبنی ہے۔ خالق کی منشا کے مطابق مادی دنیا میں مختلف اجزاء کے متحد اور متوافق عمل سے اعلیٰ نتائج پیدا ہوتے ہیں۔ یہ ماڈل گویا ایک مظاہرہ ہے، جو بتاتا ہے کہ انسان بھی اسی یونیورسل ماڈل کو اختیار کرے۔ فطرت کے ماڈل کو اختیار کرنے ہی میں انسان کی اعلیٰ ترقی کا راز چھپا ہوا ہے۔
خالق نے انسان کو تنوع کے اصول پر پیدا کیا ہے۔ ہر عورت اور ہر مرد کے اندر الگ الگ صفات (qualities) پائی جاتی ہیں۔ لوگوں کو چاہیے کہ وہ اس مبنی بر تنوع تخلیق (diversity-based creation)کو دریافت کریں۔ وہ اس تنوع سے ٹکرانے کے بجائے اویل (avail) کرنے کا آرٹ سیکھیں۔ اس طرح انسان کے تمام معاملات اسی طرح درست طور پر قائم ہوجائیں گے، جیسا کہ کائنات کے بقیہ حصہ کے معاملات قائم ہیں۔ (سور ۃ اللیل آیت4 کا سبق)
واپس اوپر جائیں

عیب کا تحفہ

حضرت عمر فاروق ایسے انسان کو بہت پسند کرتے تھے، جو ان کو ان کی غلطی سے آگاہ کرے۔ اس سلسلےمیں ان کا ایک قول ان الفاظ میں نقل ہوا ہے: رحم اللّٰہ امرأً أہدى إلی عُیوبی (مرآة الزمان فی تواریخ الأعیان، 5/389)۔ یعنی اللہ اس انسان پر رحم کرے، جو مجھ کو میرے عیب کا تحفہ بھیجے۔
یہاں عیب سے مراد غلطی ہے۔ اگر کسی انسان سے کوئی غلطی ہوجائے، اور اس پروہ متنبہ نہ ہوسکے تو ووسرے انسان کا یہ فرض ہے کہ وہ خیرخواہی کے جذبہ کے ساتھ اس کی غلطی کی نشاندہی کرے۔ بتانے والا خیرخواہی کے ساتھ بتائے، اور سننے والا شکریہ کے ساتھ اس کو قبول کرے۔ جس سماج کے لوگوں میں یہ اسپرٹ ہو، وہ سماج ہمیشہ ترقی کرے گا۔ ایسے سماج کو کوئی چیز ترقی سے روکنے والی نہیں۔ غلطی کی نشاندہی ایک مثبت عمل ہے۔ یہ عمل فطری انداز میں ہونا چاہیے۔اس عمل کی صحیح اسپرٹ یہ ہے کہ نشاندہی کرنے والے کے اندر بڑائی کا جذبہ نہ ہو، اور جس انسان کو اس کی غلطی بتائی گئی ہے، وہ اس کو وقار کا مسئلہ نہ بنائے۔اس اسپرٹ کے ساتھ جب یہ کام کیا جائے تو یقینا ًغلطی کی نشاندہی ایک تحفہ کا معاملہ بن جائے گا۔
غلطی کی نشاندہی تحفہ کیوں ہے۔ وہ آدمی کو اس کی بھلائی کی طرف رہنمائی کرنے والا معاملہ ہے۔ غلطی کی نشاندہی کا مطلب یہ ہے کہ ایک شخص اپنے بھائی سے یہ کہے کہ تمھاری فلا ں عادت تمھاری ترقی میں رکاوٹ ہے، تم اپنے آپ کو اس عادت سے بچاؤ۔ تاکہ تمھاری ترقی کسی رکاوٹ کے بغیر جاری رہے۔ اکثر ایسا ہوتا ہے کہ آدمی کو اپنی غلطی دکھائی نہیں دیتی۔ ایسی حالت میں جو انسان اس کی غلطی سے باخبر ہو، اس کو چاہیے کہ وہ خیرخواہی کے جذبے کے ساتھ یہ بات اس کو بتائے۔ خیر خواہی کی علامت یہ ہے کہ آدمی اس معاملہ میں اتنا زیادہ سنجیدہ ہو کہ وہ اپنے ساتھی کی اصلاح کے لیے دعا کرنے لگے۔
واپس اوپر جائیں

مثبت فکر

دور اول کے مسلمانوں نے جو بے نظیر کامیابی حاصل کی اس کا سب سے بڑا راز یہ تھا کہ ان میں کا ہر فرد مکمل معنوں میں مثبت سوچ (positive thinking) کا مالک تھا۔ وہ ،قرآن کے مطابق عسر میں یسر کا پہلو تلاش کر لیتا تھا۔ وہ بظاہر شکست کے واقعہ میں فتح کا راز دریافت کر لیتا تھا۔ اس کے لئے پوری دنیا اپنی تمام وسعتوں کے ساتھ مثبت خوراک کا دستر خوان بن گئی تھی۔ مسلمانوں کا یہی مزاج تقریباً ہزار سال تک جاری رہا۔ انیسویں صدی میں جب مسلم سلطنتیں اہل مغرب کے ہاتھوں ٹوٹ گئیں تو اس کے بعد جو مسلم رہنما اٹھے وہ رد عمل کی نفسیات میں مبتلا ہو چکے تھے۔انہوں نے دور جدید کی مسلم نسلوں کو احتجاجی ذہن میں مبتلا کر دیا۔ ساری دنیا کے مسلمان ، خواص اور عوام دونوں احساس محرومی (persecution complex) میں مبتلا ہوگئے۔ اس نازک تاریخی موقع پر مسلم رہنمائوں کی اس غلطی کا نتیجہ یہ ہوا کہ مسلمان اس نفسیاتی پیچیدگی میں مبتلا ہوگئے جس کو انگریزی میں پیرا نوئیا(paranoia)کہاجاتاہے۔
قرآن میں بتایا گیا ہے کہ لوگوں کا حال یہ ہے کہ وہ گمراہی کا راستہ دیکھیں تو وہ اس کو اختیار کر لیںگے اور اگر وہ فلاح کا راستہ دیکھیں تو وہ اس کو اختیار نہ کریں گے (الاعراف 7:146)۔ اس کو دوسرے لفظوں میں یوں کہا جاسکتا ہے کہ لوگ منفی پکار کی طرف تیزی سے دوڑتے ہیں، مگر مثبت پکار کی طرف وہ اس طرح نہیں دوڑتے۔ اس کا سبب یہ ہے کہ منفی کلام حال کی زبان میں ہوتا ہے اور مثبت کلام ہمیشہ مستقبل کی زبان میں ، اور تاریخ کا تجربہ یہ ہے کہ مستقبل کی زبان سمجھنے والے ہمیشہ بہت تھوڑے ہوتے ہیں اور حال کی زبان سمجھنے والے ہمیشہ بہت زیادہ۔
اس دنیا میں ہر قسم کی ناکامیوں کا راز منفی طرز فکر ہے اور ہر قسم کی کامیابی کا راز مثبت طرز فکر۔ منفی طرز فکر ہر قسم کی دینی اور اخلاقی برائیوں کا سر چشمہ ہے اور مثبت طرز فکر اس کے مقابلے میں ہر قسم کے دینی اور دنیوی خیر کا سر چشمہ ۔
واپس اوپر جائیں

آج کی نوجوان نسلیں

موجودہ زمانے کے نوجوانوں کا مسئلہ صرف ایک ہے، اور وہ یہ کہ ان کے ذہن میں کچھ مثبت سوالات ہیں۔ مگر ہمارے رہنما ان سوالات کے جوابات منفی انداز میں پیش کررہے ہیں۔ یہ ایک تضاد کی صورت حال ہے، اور یہی تضاد آج کے نوجوانوں کا اصل مسئلہ ہے۔ آج کا نوجوان بھٹکا ہوا نوجوان نہیں ہے، بلکہ وہ متلاشی (seeker) نوجوان ہے۔
بے لاگ تجزیہ بتاتا ہے کہ آج کل کے نوجوانوں کا اصل مسئلہ یہ ہے کہ ان کے بزرگوں نے ان کو یہ بتایا کہ دور جدید ایک مخالفِ مذہب دور ہے۔ اس سوچ کے تحت ہمارے بزرگوں نے نوجوانوں کو یہ ٹارگٹ دیا کہ وہ دور جدید کو بدلیں۔ اس بنا پر ہماری کئی نسلیں خود ساختہ نظریہ کے تحت دور جدید سے لڑتی رہیں۔ لیکن عملاً ان کو ناکامی کے سوا کچھ اورنہیں ملا۔
اس مسئلے کا حل صرف ایک ہے، اور وہ یہ کہ ہمارے بزرگ کھلے طور پر اعتراف کریں کہ ان کی نشاندہی غلط تھی۔ وہ اعلان کریں کہ دور جدید جو سائنس کی دریافتوں کے تحت بنا ہے، وہ ایک موافق مذہب دور تھا، لیکن ہمارے بزرگوں نے خلاف واقعہ طور پر اس کو مخالف مذہب دور کی حیثیت دے دی، اور ہماری جدید نسل نےبے فائدہ طور پر اس کے خلاف نظری یا عملی جنگ چھیڑ دی۔ اس کے نتیجہ میں مایوسی کے سوا ان کو کچھ اور نہیں ملا۔
اب کرنے کا کام صرف یہ ہے کہ آج کے نوجوانوں کو یہ بتایا جائے کہ جدید دور ایک موافق مذہب دور ہے۔ جدید تہذیب ایک موافق مذہب تہذیب ہے۔ جدید دور نے ہمارے لیے نئے مواقع کھول دیے ہیں، جن کو اویل کرکے ہم تاریخ کی سب سے بڑی کامیابی حاصل کرسکتے ہیں۔ مثلا قدیم دور توہمات کا دور تھا، آج کا دور حقائق کا دور ہے۔ قدیم دور جبر کا دور تھا، آج کا دور آزادی کا دور ہے، وغیرہ۔ یہی وہ مقام ہے جہاں سے ہم نوجوانوں کو ایک نیا امید سے بھرا آغاز دے سکتے ہیں۔
واپس اوپر جائیں

وقت کا استعمال

ایک حدیث رسول ہے۔اس کا ترجمہ یہ ہے: اگر تم دیکھو کہ قیامت آگئی، اور تمھارے ہاتھ میں ایک پودا ہے، تو اس کو فوراً زمین میں گاڑ دو ( فلیغرسہا )۔مسند البزار، حدیث نمبر7408۔ اس حدیث رسول میں، ایک مثال کی صورت میں وقت کی اہمیت کو بتایا گیا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ وقت اتنا زیادہ قیمتی ہے کہ اگر تمھارے پاس وقت (time) کا ایک لمحہ (moment) ہو تب بھی ضرور اس کو استعمال (avail) کرو، تمھارا کوئی وقت غیر استعمال شدہ (unavail)نہ رہ جائے۔ تمھاری کوشش یہ ہونی چاہیے کہ وقت کا ہرلمحہ تمھارے لیے ایک کار آمد لمحہ بن جائے۔
مولانا شبلی نعمانی(1857-1914) نے 1892 میں ایک بحری سفر کیا تھا۔ اس سفر میں انڈیا سے نہر سوئز تک پروفیسر ٹی ڈبلیو آرنلڈ (1864-1930) ان کے ساتھ تھے۔ مولانا شبلی نے اپنی کتاب سفرنامہ روم و مصر و شام میں لکھا ہے کہ سفر کے دوران ایک بار سمندر میں سخت طوفان آگیا۔ ایسا معلوم ہوتا تھا کہ جہاز ڈوب جائے گا۔ اس وقت مولانا شبلی پروفیسر آرنلڈ کے کیبن میں گئے۔ انھوں نے دیکھا کہ پروفیسر آرنلڈ خاموشی کے ساتھ ایک کتاب پڑھ رہے ہیں۔ مولانا شبلی نے کہا کہ جہاز ڈوبنے والا ہے ، اور آپ کتاب پڑھ رہے ہیں۔ پروفیسر آرنلڈ نے اطمینان کے ساتھ جواب دیا کہ میں چاہتا ہوں کہ زندگی کا جو لمحہ باقی ہے، اس کو میں استعمال کرلوں۔
وقت سب سے بڑا سرمایہ ہے۔ مگروقت ہر لمحہ بھاگ رہا ہے۔ زمین کے سفر کی رفتار ایک ہزار میل فی گھنٹہ ہے۔ اس کے مقابلے میں روشنی کی رفتار ایک لاکھ چھیاسی ہزار میل فی سکنڈ ہے۔ وقت کی رفتار اس سے بھی زیادہ ہے۔ مزید یہ کہ جو وقت چلا گیا، وہ دوبارہ واپس آنے والا نہیں۔ جس آدمی کو اس حقیقت کا احساس ہو، وہ وقت کا ایک لمحہ بھی ضائع نہیں کرے گا۔ وہ چاہے گا کہ وہ دوڑتے ہوئے وقت کو پکڑے۔ وقت کو استعمال کیے بغیر اس کو ہرگز آگے نہ بڑھنے دے۔ ایسے ہی لوگ اپنی زندگی کو کارآمد بناتے ہیں۔ ایسے ہی لوگ کوئی بڑا کام کرنے میں کامیاب ہوتے ہیں۔
واپس اوپر جائیں

غصہ کا مثبت پہلو

غصہ کو عام طور پر ایک منفی ظاہرہ سمجھا جاتا ہے۔ لیکن غصہ کا ایک مثبت پہلو ہے۔ آدمی اگر غصہ کے وقت بے صبر ہوجائے تو غصہ اس کے لیے نقصان کی چیز بن جاتا ہے۔ لیکن آدمی اگر غصہ کے وقت خود کوکنٹرول کرے تو غصہ اس کے لیے ایک مثبت عمل بن جائے گا۔ غصہ اجتماعی زندگی کا ایک ظاہرہ ہے۔ آدمی اگر تنہائی کی زندگی گزاررہا ہو تو اس کو غصہ نہیں آئے گا۔ غصہ اس وقت آتا ہے جب کہ آدمی دوسروں کے درمیان ہو، اور دوسروں کی کوئی بات اس کو پسند نہ آئے ۔ اس وقت اس کے اندر غصہ بھڑکتا ہے۔ لیکن غصہ اپنی ذات میں کوئی برائی نہیں۔ غصہ اس وقت بری چیز بن جاتا ہے، جب کہ آدمی غصہ کے وقت ردعمل کا شکار ہوجائے۔ وہ غصہ کو مینج کرنے میں ناکام رہے۔
غصہ ایک فطری ظاہرہ ہے۔غصہ کسی آدمی کے لیے ایک شاکنگ تجربہ ہوتا ہے۔ جب کسی آدمی کو غصہ آتا ہے تو فطری طور پر اس کے اندر سے بڑی مقدار میں اینگر انرجی (anger energy) خارج ہوتی ہے۔ غلط یہ ہے کہ آدمی اپنی اینگر انرجی کو مینج نہ کرسکے۔ لیکن اگر آدمی اپنے اینگر انرجی کو مینج کرسکے تووہ اس کی فکری طاقت میں اضافہ کا ذریعہ بن جائے گی۔
جب کسی بات پر آدمی کو غصہ آتا ہے تو اس کے اندر سوچنے کا عمل (thinking process) بہت تیز ہوجاتا ہے۔ یہ ظاہرہ اس کی فکری طاقت کو بہت بڑھا دیتا ہے۔ وہ زیادہ گہرائی کے ساتھ سوچنے کے قابل ہوجاتا ہے۔اس کی قوت فیصلہ بہت بڑھ جاتی ہے۔ اس کی کارکردگی کی طاقت میں بہت اضافہ ہوجاتا ہے۔ اس کے اندر چھپی ہوئی توانائی شدت کے ساتھ جاگ اٹھتی ہے۔ اس کے دماغ کی بند کھڑکیاں کھل جاتی ہیں۔ وہ زیادہ گہرائی کے ساتھ سوچنے کے قابل ہوجاتا ہے۔جب غصہ آئے تو صرف یہ کیجیے کہ چپ ہوکر سوچنا شروع کردیجیے، او ر اس کے بعد فطری طور پر ایسا ہوگا کہ غصہ کے وقت ریلیز ہونے والی اینگر انرجی مثبت انرجی بن جائے گی۔
واپس اوپر جائیں

ذہنی سکون

زندگی میں سب سے پہلا سوال یہ ہے کہ انسان کے لئے سپریم چیز کیا ہے۔ میں اپنے تجربے کے مطابق کہہ سکتا ہوں کہ کسی انسان کے لئے سپریم چیز پیس آف مائنڈ ہے۔ کسی انسان کے لئے سپریم چیز نہ تو مَنی (money)ہے، نہ فیم (fame) ہے، نہ پاور (power)ہے، اور نہ شہرت (popularity) ۔ کسی انسان کے لئے سپریم یافت وہی چیز ہوسکتی ہے جو اس کو فل فل مینٹ (fulfillment)دے۔ اور تجربہ یہ ثابت کرتا ہے کہ پیس آف مائنڈ کے سوا کوئی اور چیز انسان کو فل فل مینٹ نہیں دیتی۔
پیس آف مائنڈ (peace of mind)کی یہ اہمیت کیوں ہے۔ اس کا سبب یہ ہے کہ پیس آف مائنڈ انسان کی نیچر کے مطابق ہے۔ انسان اپنی فطرت (nature) کے مطابق یہ چاہتا ہے کہ وہ آخری حد تک اپنے آپ کو مطمئن بنا سکے۔ مگر کسی انسان کو اطمینان صرف داخلی اچیومینٹ (achievement)پر ہوسکتا ہے، خارجی اچیومینٹ پر نہیں۔ اسی داخلی یافت کا دوسرا نام انٹلکچول ڈیولپمنٹ یا اسپریچول ڈیولپمنٹ ہے۔
امریکی دولت مند بل گیٹس (Bill Gates)نے ڈالر کے بارے میں اپنے تجربے کو ان الفاظ میں بیان کیا:
Once you get beyond a million dollars, it’s the same hamburger!
بل گیٹس نےجو بات ڈالر کے بارےمیں کہی ہے، وہی بات ہر خارجی اچیومینٹ کے لئے درست ہے۔ یہ خارجی اچیومینٹ خواہ دولت ہو، یا بزنس ہو، یا شہرت (fame)ہو، یا پولٹیکل پاور ہو، یا اور کوئی مادی چیز ہو۔ایسی حالت میں انسان کو چاہئے کہ وہ پیس آف مائنڈ کا فارمولا دریافت کرے۔ اور یہ مقصد صرف انٹلکچول ڈیولپمنٹ کے ذریعہ حاصل ہوسکتاہے— یعنی مطالعہ اورتفکر (contemplation) کے ذریعہ۔
واپس اوپر جائیں

خبرنامہ اسلامی مرکز — 257

قرآن کی عالمی اشاعت: سی پی ایس انٹرنیشنل کی یہ کوشش ہے کہ قرآن کے ترجمے اور دعوہ لٹریچر ہر زبان میں شائع کیے جائیں۔ تاکہ ہر انسان تک خدا کی بات اس کی قابل فہم زبان میں پہنچ سکے۔ اس کوشش کے نتیجہ میں ہندستان کی علاقائی زبانوں اور بین الاقوامی زبانوں میں قرآن کے ترجمے شائع ہو رہے ہیں۔ جن نیشنل زبانوں میں قرآن کے ترجمے شائع ہوچکے ہیں وہ یہ ہیں: ہندی (اردو داں طبقہ کے لیے)، ہندی (ہندی داں طبقہ کے لیے)، کنڑ، گجراتی، پنجابی، تیلگو، ملیالم، تامل، اردو، اور بنگلہ (طباعت کے مرحلہ میں)۔ نیز جن بین الاقوامی زبانوں میں ترجمے ہوئے ہیں، وہ یہ ہیں: انگلش، فرنچ، جرمن، ڈچ، اٹالین، اسپینش، رشین، پرتگیز، چائنیز، پولش اور نابینا لوگوں کے لیے بریل ترجمہ۔ خواہش مند، حضرات، جو قرآن کے عالمی اشاعت کا حصہ بننا چاہتے ہیں ، وہ گڈ ورڈبکس، یا سی پی ایس انٹر نیشنل (ای میل info@cpsglobal.org:) سے رابطہ قائم کریں۔
ایک خط: السلام علیکم، میرا نام زبیر ہے، میں افغانستان سے تعلق رکھتا ہوں۔ میرے بڑے بھائی، مولاناعبدالغفور پیروز کو دہشت گردوں نے مار ڈالا۔ انھوں نے صدر اسلامی مرکز کی تفسیر تذکیر القرآن کا مقامی زبان میں ترجمہ کیا ہے۔ یہ تفسیر ابھی تک طبع نہیں ہوئی ہے۔ مرحوم مولانا نے اللہ اکبر کا بھی ترجمہ کیاتھا، اور وہ مطبوع ہے۔ تفسیر بہت ضخیم ہے۔ آپ اسے چھاپیں اور ہمارے پاس بھیج دیں۔ ہمارے ایک ساتھی جلال الرحمن شرر کچھ عرصہ پہلے مولانا صاحب سے مل چکے ہیں۔ صدر اسلامی مرکز کی پشتو زبان میں ترجمہ شدہ کچھ کتابیں بھی انھوں نے آپ لوگوں کو دی تھیں، جن میں ایک امن عالم کا پشتو ترجمہ بھی ہے۔ میں کابل میں رہتا ہوں۔ اللہ سے دعا کیجیے کہ وہ اسلام کے صحیح پیغام کو افغانستان میں پھیلانے کی توفیق دے۔ آمین
ایک تجربہ: میرے گھر کے ایک فرد کو کینسر کی بیماری کے آخری درجہ میں ناگپور کے Snehanchal Palliative Care Centre میں داخل کیا گیا۔ میں نے وہاں یہ دیکھا کہ کس طرح اس دواخانہ میں مریضوں کی خدمت آخری حد تک کی جاتی ہے۔ انھیں ہمت دی جاتی ہے۔ وہ انہیں ہر طرح سے مثبت طریقے سے سوچنے کے قابل بناتے ہیں، اور دن میں دو بار سارے مریضوں کے لئے اجتماعی Prayer کی جاتی ہے جس میں خدائے واحد سے سب کے لئے خیر کی دعائیں کی جاتی ہیں۔میں نے سوچا انہیں CPS کا لٹریچر دینا چاہیے۔ جسےان لوگوں نے بہت خوشی سے قبول کیا۔ ادارہ کے ڈائرکٹر مسٹر نوین دیشپانڈے صاحب سے تفصیلی بات ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ آپ لوگ یہ بہت اچھا کام کر رہےہیں۔ لیکن یہ کبھی نہیں سوچنا کہ یہ کام آپ لوگ کر رہے ہو۔ہم بھی اپنے کام کے بارے میں ایسا نہیں سوچتے۔بلکہ یہ سارے خیر کے کام ہمارا خدا کر رہا ہے۔اپنی خصوصی مدد کے ساتھ وہ ہمیں اس کام کے لئے استعمال کر رہا ہے۔یہی ہماری خوش نصیبی ہے۔ ایک اور خاص بات انھوںنے مولانا صاحب کی کتاب، ’موت کی یاد‘کا مراٹھی ترجمہ دیکھ کر کہا کہ اس کتاب کو یہاں کے ہر مریض کو دے دیا جائے، یہ سب کے کام کی کتاب ہے۔ اس پورےواقعے سے مجھے یہ سبق ملا کہ ہمارا رب اپنے پیغام کو ہر خاص وعام تک پہنچا کر رہے گا، اور ہر داعی کے ساتھ اس کی خصوصی مدد شامل حال ہے۔(ساجد احمد خان CPS ناگپور،[Mob. 8237006029] (
قرآن کا ایک تجربہ: 15 نومبر 2017کو میں سورت سے ممبئی کے لئے روانہ ہوا۔ ٹرین میں میرے پاس دوغیر مسلم بھائی بیٹھے ہوئے تھے۔ دونوں کی عمریں 25 سے 30 کے درمیان رہی ہوگی۔ دونوںپڑھے لکھے تھے ۔میں جب بھی سفر پر جاتا ہوں انگلش قرآن کی کاپی ساتھ رکھتا ہوں، لیکن بہت کم ہی دینے کی ہمت کر پاتا ہوں ۔ اس دن بھی میں نے چاہا کے میں انھیں قرآن دوں۔ لیکن ہمت نہ کر پایا کہ اچانک ٹرین میں ایک حادثہ پیش آیا، اور ٹرین رک گئی۔ لوگ اترکر مرنے والے کی فوٹو لینے لگے۔ لیکن ان میں کا ایک شخص وہیں بیٹھا رہا، اور افسوس کرنے لگا۔ جب اس کا ساتھی آکر اسے فوٹو دکھانے لگا تو اس نے منع کردیا کہ میرے اندر اس کو دیکھنےکی ہمت نہیں ہے۔ میں نے سمجھ لیا کہ یہ بھی میری طرح رقیق القلب ہے ۔تھوڑی دیر کے بعد میں نے اپنی بیگ سے قرآن نکالا، اور پڑھنا شروع کیا۔ کچھ دیر پڑھنے کے بعد میں نے اسے ہاتھ ہی میں رہنے دیا، اور اللہ سے دعا کرنے لگا کہ اے اللہ، مجھ میں تو ہمت نہیں ہے تو کچھ ایسا کر کہ وہ خود مجھ سے قرآن مانگے ،اور ایسا ہی ہوا۔ اس نے مجھ سے قرآن لیا، اور بہت دیر تک قرآن پڑھتا رہا۔ اس کے بعد اس نے مجھ سے کہا کہ یہ تو بہت ہی آسانی سے سمجھ میں آ رہا ہے، اور پھر وہ قرآن کی فوٹو لینے لگا کہ میں اسے آرڈر سے منگوا لوں گا۔ میں نے اسے کہا کہ آپ اسے رکھ لیں، میرے پاس دوسری کاپی موجود ہے۔ اس نے وہ کاپی شکریہ کے ساتھ رکھ لی، اور مجھ سے پوچھا کہ اسے پڑھنے سے پہلے مجھے کیا کرنا پڑے گا، یعنی کس طرح رسپیکٹ دینی ہوگی ۔جب اس نے یہ کہا تو میرے پاس ایک ہی جواب تھا : یہ آپ کے ایشور کی کتاب ہے، یہی سمجھ کر پڑھیں۔اس طرح سےہم دونوں جدا ہو کر اپنی اپنی منزل پر چلے گئے۔ دوسرے دن جب میں نے اپنا موبائل دیکھا تو اللہ کا شکر ادا کیا۔ اس نے ذیل کا میسج بھیجا تھا:
Good morning, heartily thanks for the Quran …Prashant Somani
مولانا، اللہ آپ کو جزائے خیر دے ۔ رحمت والے دین سے متعارف آپ نے کرایا اللہ کے بندوں سے محبت کرنا یہ ہمارے دین کی تعلیم ہے لیکن اس تعلیم کا حقیقی مفہوم ہم نے آپ سے سیکھا ۔اللہ اس دعوت کی ذمہ داری کو ادا کرنے کی ہمیں توفیق دے ۔آمین (محمد انس ندوی، سورت ،گجرات [Mob. 9898217134])
درس قرآن : صدر اسلامی مرکز ہر اتوار کو درس قرآن دیا کرتے ہیں۔ ان تقاریر کو سی پی ایس انٹرنیشنل کی ویب سائٹ (www.cpsglobal.org)سے ڈاؤن لوڈ کرکے سنا جاسکتا ہے۔ اس درس قرآن کو سننے کے بعد کچھ لوگوں نے اپنے تاثرات بیان کیے ہیں، وہ ذیل میں دیے جارہے ہیں:
■ آپ کے آج (5 نومبر 2017) کے درس قرآن (سورہ البقرۃ آیات 3-1) سے یہ واضح ہوا کہ اجتماعی معاملات میں پریکٹکل وزڈم کو مد نظر رکھا جائے، نہ کہ آئڈیل کو۔اس کے لئے ضروری ہے کہ آدمی رجل واق بن کر رہے، ورنہ وہ حصائد لسان کا شکار ہو کر رہ جائے گا ۔ دوسری بات یہ کہ ھدی للمتقین کو جس طرح آپ نے بالکل نئے انداز میں بتایا ہے، ایک عالم دین کی حیثیت سے میں یہ کہہ سکتا ہوں کہ ایسا اس سے پہلے میں نے نہیں سنا، نہ کسی اور لٹریچر یہ بات پڑھی ہے ۔آپ نے جب یہ کہا کہ رسول اللہ نے 13 سال تک کعبہ میں بتوں کی موجودگی پر کچھ نہیں کہا— اس جملہ سے مجھے رسول اللہ کا اصل مشن کیا تھا واضح ہوا۔ وہ یہ کہ رسول اللہ دراصل انسان کو خدا سے جوڑنے کے لیے آئے تھے۔ آپ کا اصل فوکس انسان کا داخلی شعور تھا۔ انسان کو خدا سے جوڑنے کے لیے آپ کو بھیجا گیا تھا۔ یہی وجہ تھی کہ آپ تیرہ سال تک مکہ میں رہے، مگرآپ نے کعبہ میں بتوں کی موجودگی پر کوئی ایکشن نہیں لیا۔ بلکہ انسان کو شعور کی سطح پر خدا کی عظمت میں جینے والا بنانے میں لگے رہے۔ جب یہ بات مجھے سمجھ میں آئی تو اس کے بعد یہ بات سمجھ میں آئی کہ بالکل یہی اسلوب، یہی مقصد الرسالہ مشن کا بھی ہے۔ میں نے مولانا، آپ کو رسول اللہ کے نقشِ قدم پر چلتے ہوئے پایا ہے۔ جب سے الرسالہ مشن سے جڑا ہوں، اور آپ کی باتوں کو سن رہا ہوں اور پڑھ رہا ہوں تو یہی مجھے لگا ہے۔
رہی درس قرآن سے متعلق بات تو مولانا، آپ نے جو درسِ قرآن کا سلسلہ شروع کیا ہے۔ اس بارے میں مَیںیہ کہنا چاہوں گا کہ میں خود ایک مدرسہ کا فارغ ہوں۔ لیکن آپ جس طرح سے قرآن کی آیات کو واضح کر تے ہیں اور اسے ہماری روحانی غذا بناتے ہیں، ایسا میں نے نہیں دیکھا۔دیگر علماء کی کوشش یہ ہوتی ہے کہ سلف نے جس طرح سے آیات کی تفسیر کی ہے، وہ امانت داری کے ساتھ ہم تک پہونچائیں، بس۔ اس سے زیادہ اور کچھ نہیں۔ لیکن آپ ان آیات کو دور جدید پر منطبق کرتے ہیں، اور اسے ہمارے لیے روحانی غذا بنادیتے ہیں۔ اس کا فائدہ یہ ہوتا ہے کہ اسلام ہمارے لیے ہمارے اسلاف کی وراثت نہیں لگتا، بلکہ وہ ہماری ڈسکوری بن جاتا ہے۔ گویا اسلام میری اپنی دریافت ہے، نہ کہ کسی دوسرے کی طرف سے ملا ہوا ایک ورثہ۔ یہی وجہ ہے کہ آپ کی باتیں سن کر پڑھ کر اسلام مزید نکھر کر آتا ہے، وہ ہمارے لیے مزید دلچسپی اور شوق کا دین بن جاتا ہے۔ ہمیں اس دن بہت خوشی ہوتی ہے جب کہ اسلام کی کوئی بات ڈسکور ہوجائے، اسلام کی کوئی بات ہماری روحانی غذا بن جائے۔ اللہ مجھے الرسالہ مشن پر ثابت قدم رکھے۔ اور زیادہ سے زیادہ اعلی معرفت حاصل کرنے کی توفیق دے تاکہ جنت میں اعلی درجہ مل سکے، آمین۔ (مولانا عبد الباسط عمری، قطر)
■ اتوار (12 نومبر 2017)کے درس قران میں مولانا نے سورۃ البقرۃ کی آیت :انی جاعل فی الارض خلیفۃ(2:30)میں خلیفہ کی جو تشریح کی وہ میرے لیے بالکل نئی ہے، اوراس آیت کو ایک نئے اندازسے سمجھنے پر ابھارتی ہے۔ اس سے پہلے یہ آیت میرے لئے بہت زیادہ غیر واضح تھی۔خلیفہ کا مفہوم بہت ہی معنی خیز ہے ۔اس سے پہلے میرے نزدیک سیاسی خلافت کا ہی تصور تھا۔ علمی و فکری خلافت کا تسلسل اور آخر میں دین رب کا مستند ہونا پھر اس کی حفاظت کی خلافت اور س کی اشاعت کے مطلوب مواقع اور وسائل کی خلافت،وغیرہ۔ الغرض سیاسی خلافت کے علاوہ دینی اور دعوتی خلافت کا جو تصور آپ نے بیان کیا، یہ میرے لیے واضح ہوا۔ اگر میں اس وضاحت سے محروم رہتا تو مطلوب الٰہی کے بارے میں مشتبہ رہ کر ہلاک ہوجاتا۔حقیقت یہ ہے کہ جو لوگ بھی سیاسی خلافت کا جھنڈا اٹھائے ہوئے ہیں، وہ دین رحمت کو دین زحمت بنا رہے ہیں۔ دین کی سیاسی تعبیر کرنے والے مقصد تخلیق کو اسی آیت سے واضح کرتے ہیں ۔ مگر مفسرین کی ایک بڑی تعداد نے قوم در قوم اور نسل در نسل کی خلافت کو مانا ہے ۔اس سےیہ واضح ہوا کہ قران کی اس آیت سے علمی اور دعوتی خلافت کا استدلال ممکن ہے ،نہ کہ سیاسی اقتدار والی خلافت۔ اس کے بعد ایک اورچیز میرے لیے غیر واضح تھی۔ وہ یہ کہ خدا کےاس تخلیقی منصوبہ میں کسی قوم کا یا نسل کا یکے بعد دیگرے آنا، کیا ہے۔ اس میں کوئی بڑا معنوی مفہوم اور مقصود سمجھ میں نہیں آرہا تھا ۔جب آپ نے یہ کہا کہ انسان کی زندگی کے خاتمہ کے ساتھ ہی علمی ارتقاء کا انقطاع ہوجاتا تھا ۔ اس لیے یہ ضروری تھا کہ علم و فکر کی تسلسل کے لئے خلافت کا پروسس جاری کیا جائے۔ یہاں تک کے خدا کادین محفوظ اور مستند ہوگیا، اور اس کی حفاظت اور اشاعت کے لئے حالات اور وسائل میسر ہوگئے۔ ماضی کی اسلامی خلافتوں نے نسل درنسل پیغام رب کو محفوظ کرلیا، اور اہل یورپ کی ایجادات نے مستند دین کی حفاظت اور اشاعت کا سامان کردیا۔گویا علمی خلافت کا مطلوب رول ادا کرنے کے لیے سارے وسائل ملے ہوئے ہیں۔ ایسے میں خلافت کو عالمی اقتدار کے معنی میں لینا خدا کے منصوبہ کو جیوپرڈائز (jeopardize)کرنے کے ہم معنی ہے۔ یہ مفہوم مجھے پہلی مرتبہ واضح ہوا۔اگر یہ نہیں جانتا تو خدا کا مطلوب جانے بغیر ہلاک ہوجاتا۔کیونکہ اختیار کی اس دنیا میں اقتدار کی جنگ چھیڑنا یہی سیاسی خلافت کی تبلیغ ہے، مگر اس کو اقامت دین کا خوبصورت نام دے دیا گیا ہے۔اس لیے جو بھی اس آیت کی بنیاد پر سیاسی خلافت کی تحریک چلاتے ہیں، وہ غلطی پر ہیں۔یہ اپنے نتیجہ کے اعتبار سے دعوت دین کے لیےملے ہوئےمواقع کو موانع میں تبدیل کرنا ہے۔اس کے برعکس، آپ نے جو تصور خلافت دیا ، یعنی علمی اور فکری طور پر ایک دوسرے کا خلیفہ ہونا۔ اس سے تخلیق انسانی کی مثبت توجیہ مل جاتی ہے، اور مذہبی و سیکولر دونوں طبقۂ انسان کا اعتراف ہوجاتا ہے۔ نیز دور جدید کی معنویت سمجھ میں آجاتی ہے۔ اس سےپر امن ایکشن اور اقدام کا راستہ مل جاتا ہے۔ یعنی خدا کے دین کو ہر ایک کے لیے پر امن طریقہ سے اویلبل(available) کرانا، اور ادخال کلمہ فی کل البیوت کا فرض ادا کرنا ہے۔جزاک اللہ خیرا (مولاناسیداقبال احمدعمری، عمرآباد، تامل ناڈو[Mob. 9994436917])
■ مفسرین کا وہ اقلیتی گروپ جس نے خلیفہ اورخلافت کا سیاسی تصور ڈیولپ کیا تھا، انھوں نے لوگوں کے ذہنوں کو واقعی غوغائیت اور شورش پسندی سے بھردیاہے۔ لیکن اس کے مقابلے میں مفسرین کی وہ اکثریت جنھوں نے اس آیت کی تشریح یخلف بعضھم بعضا جیسے الفاظ سےکی تھی، انھوں نے بھی خلیفہ اورخلافت کےمفہوم کو غیرواضح اور نامکمل چھوڑ دیا تھا۔ ان دونوں کے برعکس، اتوار (12 نومبر 2017)کے درس قران میں آپ نے جو تشریح اور آیت کی واقعاتی توجیہ کی ، اس سے مجھے پہلی مرتبہ خلیفہ اورخلافت کےمفہوم کی صحت مند اور واضح توجیہ ملی، اور میرا دل مذہبی اور سیکولر لوگوں کے کنٹری بیوشن کو لے کر شکر کے جذبات سے معمور ہوا، اور دعوت و ربانیت کے عملی تسلسل کو ایک مثبت جہت ملی ۔(مولانا فیاض الدین عمری، گلبرگہ، کرناٹک [Mob. 9448651644])
■ Thank you for the Quran! I work for a charity named Prisoners Abroad which supports British citizens in prison around the world. A number of the people we help are British Muslims. As they are in prison in a foreign country, even if they have the funds to purchase the Quran, they are often unable to find one in English. This last Quran you had sent me, I was able to send on to a person we are helping in prison in Italy. He was ever so grateful, as in Italy they are only available in Arabic and Italian, and I am told that other English speakers in the prison also study it. I would like to request for a larger supply of Qurans for sending out to our Muslim clients who request for them. We get approximately one request a month, so a parcel of 12 would probably last us a year and provide those of Muslim faith much needed support while they serve their sentences. Many thanks and kind regards. (Lee Hunnisett Prisoner & Family Support Co-ordinator Prisoners, London)
■ I have immensely benefitted from your splendid literature. I have read almost 70% of your literature as a student. I usually go through Al-Risala, studying deeply every topic. It is replete with spiritual motivation, rational arguments and balanced analysis. l have gone through Tazkeerul Quran almost four times. It has a constructive approach, conceptual clarity and spiritual inspiration. It possesses a unique blend of knowledge and wisdom. Tazkeerul Quran is a unique commentary on the Quran that lays emphasis on dawah work and its prerequisites. Your literature emphasizes self-introspection and can help a person come out of frustration and negative thinking. It advocates universal peace and brotherhood. It creates a positive and constructive mindset. I am a teacher of Physics in a senior secondary CBSE-affiliated school. In search of truth, I tried to associate with other movements as well, but remained dissatisfied due to a lack of healthy and positive environment. It is only after going through your literature I came to know the fact that faith and belief are never traditional or ancestral, rather they are products of an intellectual discovery of God. I also distribute Al-Risala, Spirit of Islam, copies of the Quran and other suitable books from your literature. (Imteyaz Ahmad, Gaya, Bihar)
واپس اوپر جائیں

No comments:

Post a Comment